FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

               (محرک: زیف سید (ظفر سید

فیس بک کے حاشیہ ادبی گروہ کے آن لائن مباحثے کا سکرپٹ

نظم کے نئے معمار کا چوتھا اجلاس پیشِ خدمت ہے۔ اس اجلاس کے لیے جناب ابرار احمد کی نظم سیربین منتخب کی گئی ہے جو شب خون شمارہ ۲۹۳ تا ۲۹۹ میں شائع ہوئی تھی۔ اس کی صدارت جناب جاوید انور کریں گے۔ نظم پر ابتدائی گفتگو جناب فیاض احمد وجیہہ فرمائیں گے۔

نوٹ: حاشیہ پر پیش کی جانے والی ایک حالیہ تجویز کے مطابق یہ نظم شاعر کے مشورے سے منتخب کی گئی ہے۔

ظفر سید

٭٭٭

 

سیر بین

ابرار احمد

الٹے سیدھے قدموں میں،

یہاں وہاں رکتا ہے کبھی

کبھی چل پڑتا ہے

بے خبری کی نیندوں کے آرام سے باہر

سونی دوپہروں کی خالی خاموشی میں

شام کے پھیکے بازاروں میں

اک بے مول محبت کی خوشبو سے پریشاں

اپنے سینے میں سہمے رازوں سے ہراساں

گرم و سرد ہواؤں کی یلغار کے آگے

اپنی میلی ذات کو اوڑھے

گھنٹی کی جھنکار میں اپنی بیٹھی ہوئی آواز ملا کر

کوئی صدائیں دیتا ہے

"ہے کوئی؟ زندہ ہے کوئی؟

جاگا ہے کوئی؟ سنتا ہے کوئی؟

ان قصبوں اور شہروں کے آسیب سے نکلو

اپنے گھروں کی مہک سے اور دھوئیں سے نکلو

اپنی دیواروں تک ٹھہری نظروں کے آشوب سے نکلو

لوٹو، اپنی حیرانی کی جانب لوٹو

اپنی رونق اپنی، اپنی ویرانی کو لوٹو

نکلو اس وحشت سے، تھوڑی دیر کو نکلو

آنکھیں رکھتے ہو تو دیکھو

دیکھو، دیکھنے والو، دیکھو۔۔۔

"طاقت ور کی منطق دیکھو

دنیا میں دہشت پھیلاتے آگ اگلتے بندر دیکھو

ان کے چکنے چہرے دیکھو

اپنی گردن دینے والے احمق دیکھو

اور پھر ان کی جنت دیکھو

انگلستان کا سبزہ دیکھو

دیوار چیں، اس کے لڑھکتے پتھر دیکھو

روس پہ جمتی برف کو دیکھو

ہن برساتے بادل دیکھو

سبز ملایا، سنگا پور کے جزیرے دیکھو

دیکھو اپنے خالی کھیسے

پھیلے ہوئے ہاتھوں کو دیکھو

دیکھو ملک عرب،کا صحرا

کوفہ اور بغداد کو دیکھو

اور جاپان کے پرزے دیکھو

دیکھو۔۔۔ وصل و فراق کی دنیا

ازل کی پیاس اور پانی دیکھو

یورپ اور امریکہ دیکھو

ایشیا اور افریقہ دیکھو

دیکھو، دیکھنے والو، دیکھو۔۔۔۔

"شاہ نجف کا روضہ دیکھو

عرش پہ جاتا گھوڑا دیکھو

کعبہ دیکھو، دیکھو، مسجد اقصیٰ دیکھو

بارہ دری مغلوں کی دیکھو

پنکھے جھلتی لاڈ لڈاتی باندی دیکھو

تاج محل اور مندر دیکھو

بھکشو، صوفی، سادھو اور قلندر دیکھو

گوری ملکہ کی بگھی کے پھیرے دیکھو

چھک چھک کرتا انجن دیکھو

موٹر دیکھو، چمنی دیکھو

پھر دھرتی پر کھنچتی ہوئی تحریریں دیکھو

لہو لہان ٹرینیں دیکھو

اپنی مٹی تج کر آنے والے دیوانوں کو دیکھو

ان کی خالی آنکھیں دیکھو

دیکھو قائد کی بے طاقتی

اور کرسی کی قوت دیکھو

شالیمار کا جوبن دیکھو

رنگ برنگی چڑیاں اور کبوتر دیکھو

یحییٰ خان اور بارہ من کی دھوبن دیکھو

دھان کے کھیتوں میں بھاری بوٹوں کا کیچڑ

خون کے رنگ میں نقشہ غائب ہوتا دیکھو

کچھ بے چین مسافر دیکھو

اکڑی گردن اور زہریلی آنکھیں دیکھو

اور پھانسی کے تختے دیکھو

تعزئیے اور جلوس کو دیکھو

کالے کپڑے اور لوگوں کا ماتم دیکھو

اور قدرت کے کرشمے دیکھو

عزت دیکھو، ذلت دیکھو

نفرت کی آندھی

چاہت کی بارش دیکھو

مٹی کے ڈھیر پہ گرتے آنسودیکھو

اور ہوا میں بکھرے ہوئے بے نام و نشاں جسموں کو دیکھو

اور ان کی تدفین کو دیکھو

کل عالم کی دلہن کو، اپنے وطن کو دیکھو

اس پر تازہ مشق ستم کی آڑی ترچھی لکیریں دیکھو

” رستے کدھر نکل جاتے ہیں

آسمان کا در ہے کہاں پر

جگنو، چاند،ستارے کیا ہیں

سورج کیوں بجھتا ہی نہیں ہے

پانی کی منزل ہے کدھر کو

ظالم و ظلم کا انت کہاں ہے

دھرتی کیوں پھٹی ہی نہیں ہے

منکر اور نکیر کو دیکھو

اور اپنی تقدیر کو دیکھو

اول کیا ہے، آخر کیا ہے

رخساروں کا سونا دیکھو اور بالوں کی چاندی دیکھو

دیکھو جہل کی، زر کی سبقت

دیمک لگی کتابیں دیکھو

بے کل عمر بتانے والی روحوں کی تنہائی کو دیکھو

ان،پر ہنستی دنیا دیکھو

اور ان کی محرومی دیکھو

اپنے پاگل من کو دیکھو

نانک دیکھو، بلھا دیکھو

خسرو دیکھو، خواجہ دیکھو

ملا اور تماشا دیکھو

دریاؤں کی روانی دیکھو

جذبوں کی طغیانی دیکھو

کھیڑوں کے پنجے میں روتی کر لاتی ہوئی ہیر کو دیکھو

وارث شاہ دلگیر کو دیکھو

اور اس کی تحریر کو دیکھو

لوح جہاں پر باہو اور حسین کے آنسو

پیر فرید کی ہوک کو دیکھو

دیکھو، دیکھنے والو دیکھو۔۔۔ "

شہری بابو، لڑکے بالے

بڑے گھروں سے جھانکنے والے

کالج اسکولوں کے بچے

دھول سے اٹے ہوئے میدانوں

صاف اور ستھری گلیوں میں

کہیں کشادہ رستوں پر

تانگے والے، ریڑھے والے

جم کے دکان چلانے والے

بیلوں کی جوڑی کے مالک

اپنے ماتھے پر لشکائے

کٹی ہوئی فصلوں کا سونا

پگڑی والے، شملے والے

پینٹوں اور قمیصوں والے

مل کر راس رچاتے آئے

گھنٹی کی آواز پہ چلتے، رکتے آئے

روتے آئے، ہنستے آئے

” زنخے اور مراثی دیکھو

برفی لڈو، پھول مکھانے

گرما گرم جلیبیاں دیکھو

دیکھو اونچے تختے اوپر نور جہاں کے شوخ سروں پر

گوٹا لگے ہوئے کپڑوں میں

ناچتی گاتی لڑکیاں رنگ برنگی

ٹکٹ کی کھڑکی، دھوم دھڑکا

لکی سرکس شیروں والی

چٹی چمڑی، ننگی خواہش

گول سڈول اٹھانیں دیکھو

رونے دیکھو، ہاسے دیکھو

رنگ برنگے کپڑے اور کپڑوں کے اندر

خوابوں کی تصویریں دیکھو اور ان کی تعزیریں دیکھو

دھیرج والی بیبیاں دیکھو

ان کی سرمہ لگی آنکھوں میں

آزادی کی تڑپ کے گہرے ڈورے دیکھو

دیکھو بوڑھے لاٹھی ٹیکتے، گرتے پڑتے

ان کا سہارا بننے والے بیٹے دیکھو

دھول اڑاتی کچ کچ کرتی لاری دیکھو

اور بے سمت مسافروں کی

میلی، حیراں آنکھیں دیکھو

سڑکیں دیکھو، کاریں دیکھو اور ان کی رفتاریں دیکھو

دیکھو ٹھنڈے ریستورانوں کے شیشوں کے اندر

باہر تپتے فٹ پاتھوں کی خلقت دیکھو

دیکھو اپنی حالت، اپنے آئندہ کی صورت دیکھو

اور کسی ان دیکھی دنیا میں بس جانے کی خواہش کے پھیرے دیکھو

مایوسی کے ڈیرے دیکھو

دیکھو پاس پڑوس کی آنکھیں

ان میں ٹھہرے آنسو دیکھو

انساں اور پرندے دیکھو

اپنی گلیاں، اپنے گھر اپنی دیواروں سے ٹکراتے

گرتے اٹھتے، روتے ہنستے بچے دیکھو

زندگیوں کے سستے پن پر

دلوں میں اترے ڈر کو دیکھو

گئے دنوں کی یادوں کی دیوار سے لگ کر

آنے والے کل کے رخ پر چادر دیکھو

روز ازل سے شام ابد تک

جو کچھ دیکھ نہیں سکتے ہو

اور جو کچھ دیکھ رہے ہو، دیکھو

دیکھو، دیکھنے والو، دیکھو

” آنکھ کی زد سے باہر کیا ہے

دل کی حد کے اندر کیا ہے

عکس ہے کیا شے، صورت کیا ہے

تو کیا چیز ہے خواہش کیا ہے

عمروں کی یہ گنتی کیا ہے

ماہ و سال، کلینڈر کیا ہے

شام و سحر کا چکر کیا ہے

سر میں کیا طوفان مچا ہے

اور سینے کے اندر کیا ہے

ظاہر کیا ہے

باطن کیا ہے

کون سا پل کیا کر جائے گا

کس لمحے کیا ہو جائے گا

کون کہاں پر مل جائے گا

کون کہاں پر کھو جائے گا

انہونی کے حیلے دیکھو

اپنی خاک کے ٹیلے دیکھو

دیکھو اس مٹی میں اپنی مٹی ملتے

اور اس دیش کی خوشبو کے سر چشمے دیکھو

قبریں دیکھو، کتبے دیکھو

دلوں میں ہر دم شور مچاتی دھول پہ گرتی شبنم دیکھو

دھند میں گرتی شکلیں دیکھو

جیتے جی بس دیکھتے جاؤ،

ہاتھ ملو اور دیکھتے جاؤ

دیکھتے جاؤ، چلتے جاؤ

دیکھو، دیکھنے والو۔۔۔ "

رنگ سے، نم سے خالی آنکھیں

بے کل اور متوالی آنکھیں

کسی فسوں میں کھوئی ہوئی ہیں

روئی ہوئی یا سوئی ہوئی ہیں۔۔

٭٭٭

 

محمد حمید شاہد: صدر محترم آپ کی وساطت سے جناب فیاض احمد وجیہہ سے ابتدائیہ کی درخواست ہے

اشعر نجمی: چلیے صاحب! اس بات کی تو کم از کم تصدیق ہو گئی کہ بھارت میں ایسا کوئی قابل ذکر شاعر نہیں ہے جس کی نظموں پر یہاں گفتگو ہو۔

جاوید انور: خواتین و حضرات، سب سے پہلے تو میں انتظامیہ کا شکریہ ادا کروں گا کہ مجھ ناچیز کو حاشیہ کے چوتھے اجلاس کی صدارت کے لئے منتخب کیا گیا- لیکن اس کا باقاعدہ آغاز کرنے سے پہلے میں دو باتیں کرنا ضروری سمجھتا ہوں-

 1- محمد حمید شاہد صاحب، معید رشیدی صاحب والے اجلاس میں بھی مجھے یہ بات بھلی معلوم نہیں ہوئی تھی اور اب اور زیادہ بری لگی ہے – کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر بات کرنے کی مجھے عادت ہے، سو میں انتہائی سیدھے سادھے انداز میں بات کر رہا ہوں- جب آپ نے مجھے صدارت کے لئے منتخب کیا ہے اور جب کہ میں ظفر صاحب سے یہ گذارش کر چکا ہوں کہ میں چونکہ جمعہ تک کچھ ذاتی مجبوریوں کی بنا پر یہاں نہیں ہوں اس لئے براہ کرم گفتگو کا آغاز جمعہ کو کیا جائے اور انہوں نے ایسا کرنے کی حامی بھر لی تھی ( ظفر صاحب دوبارہ مہربانی) تو صاحب صدر کی اجازت کے بغیر آپ کا کاروائی شروع کرنے کا اعلان مجھے بالکل نہیں بھایا- اگر صدارت میری ہے تو پھر صدارت میری ہے اور میں وعدہ کے مطابق آج جمعہ کے روز حاضر ہوں- آپ جانتے ہیں کہ میں آپ کا احترام ہی نہیں آپ سے محبت بھی کرتا ہوں-

 2- اشعر نجمی صاحب میں ادب اور خصوصی طور پر اردو ادب کو ہندوستانی، پاکستانی یا کشمیری اردو ادب میں بانٹنے کے کسی طور پر حق میں نہیں ہوں، کم از کم اس فورم پر- آپ دیکھ چکے ہیں کہ میں نے اس موضوع پر پہلے بھی براہِ راست بات کی تھی- بھارتی توپوں کے حوالے سے – اس موضوع پر یہاں، اسی فورم میں لیکن علیحدہ، گفتگو کی جا سکتی ہے – اور آپ اس گفتگو میں مجھے اپنے ساتھ کھڑا پائیں گے، یقین رکھیں-

 میرے خیال میں یہ دونوں باتیں گفتگو کے آغاز سے پہلے انتہائی ضروری تھیں- سو آئیں اب فیاض احمد وجیہ صاحب کی گفتگو سننے چلیں ابرار احمد کی نظم سیربین کے بارے میں-

 ابرار احمد ہماری نسل کے ایک انتہائی محترم نظم لکھنے والے ہیں، ان کے دو شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں اور نظم کے نقاد کی حیثیت سے بھی وہ اپنی پہچان بنا چکے ہیں- مجھے یقین ہے کہ آپ تمام خواتین و حضرات اس گفتگو میں شریک ہو کر محفل کی رونق بڑھائیں گے -۔

جاوید انور: اور ہاں، سیربین پاکستانی ادبی جریدے دنیا زاد اور ہندوستانی ادبی جریدے شب خون میں شائع ہو چکی ہے –

محمد حمید شاہد: جناب صدر آپ کا صدارتی لحن اچھا لگا، تاہم میں نے نظم اپ لوڈ ہونے کے چار گھنٹے بعد، جمعہ ہی کو آپ کی وساطت سے درخواست گزاری تھی، اس اشتیاق میں کہ بات شروع ہو، یقین رکھیے آپ کی صدارت میں مداخلت مقصود نہیں،

اشعر نجمی: جناب صدر! میں آپ کا شکر گذار ہوں کہ آپ نے میری بات کو ہمدردانہ انداز میں لیا۔ میں آپ سے سو فی صد متفق ہوں کہ ادب کو سرحدوں میں تقسیم نہیں کیا جانا چاہیے اور یہی وجہ میرے احتجاج کی بھی تھی۔ حاشیہ کے چار اجلاس مجھے یہ باور کرانے کے لیے کافی تھے کہ یا تو بھارت میں نظم کا کوئی نیا معمار نہیں ہے یا پھر ہم یہاں غیر پارلیمانی (یہ آپ ہی کی اصطلاح ہے ) رویے کو فروغ دینے کے مجرم ہیں۔ جناب صدر! مجھے آپ سے بھی پوری ہمدردی ہے کہ آپ کو خلعت صدارت پہنا کر تاج سے محروم رکھا گیا۔ لیکن کبیدہ خاطر نہ ہوں، کیوں کہ ہم مشرقی لوگوں میں ایسی منافقت عام بات ہے۔ اگر آپ نے احتجاج کرنے کی غلطی کی تو پھر آپ کی تحریروں میں املا کی مزید غلطیاں تلاش کی جا سکتی ہیں۔

فیاض احمد وجیہہ: میں جب بھی کسی متن کے اکتشاف میں قدم بڑھا نا چاہتا ہوں سوالات کی آندھی راستہ روک لیتی ہے۔ لیکن اسی درمیان کہیں سے متن کی متوقع ساخت بھی نگاہوں میں پھر جاتی ہے۔ اس لیے میں سو ا لات کو اس اکتشاف کا عنوان سمجھتا ہوں۔ جناب صدر اور خواتین و حضرات میں اسی عنوان سے اپنی بات شروع کر رہا ہوں۔ اس نظم کی قرأت میں اہل بینش کے لیے پہلا سوال یہ ہے کہ اس کی جمالیات کیا ہے ؟ اس کی فنی اور فکری ساخت میں وہ کون سی لکیریں ہیں جن کو یہ نظم نمایاں کرنا چاہتی ہے ؟ اس کی کوئی تخلیقی ساخت ہے بھی یا نہیں ؟کیا اس کی کوئی ’بے معنی ‘ ساخت بھی کہیں التوا میں ہے ؟ یہ سوالات نہیں اس نظم کی قرات کا جواز شاید ہیں۔ یہ بات اس لیے یہاں عرض کی گئی کہ معنی کی مطلق گردان اس متن کے سیاق میں بہت آسان ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی قباحت نہیں کہ معنی کی اس گردان کا کوئی بھی صیغہ اس کے فنی رکھ رکھاؤ کو قوت عطا نہیں کر سکتا۔ میں ذاتی طور پر اس کی قرأت کو محدود نہیں کرنا چاہتا لیکن اس کی شعریات کو تاثرات کی طول بیانی میں کہانی بنانے کے سخت خلاف ہوں۔ پیش نظر متن کی ساخت میں کئی مقام ایسے ہیں ( ؟ ) جو اس کی جمالیات کو ٹھیس پہنچاتے ہیں ؟ اس پر غور کرنا ضروری ہے ورنہ اس کی اجتماعی ساخت ہماری بحث کو فن کی ازلی منطق سے دور کر سکتی ہے۔ میں اپنے ابتدائیہ میں یہ بات ذرا کھل کر کہنا چاہتا ہوں کہ ’سیر بین ‘ کی لفظی قواعد کہاں کہاں ٹوٹ رہی ہے اس پر بھی یہاں ہمیں گفتگو کرنی چاہیے۔ اس لسانی شکست و ریخت کا کوئی تخلیقی جواز ہے یا واقعی اس میں کوئی نقص ہے۔ کہیں کہیں کوئی مصرعہ ہی بد ہئیت ہو گیا ہے یا اس میں بھی فن کار کی تخلیقی ہنر مندی کو دخل ہے۔ اس نظم کی لفظی قواعد میں کہیں کہیں حشو و زوائد کے نشان بھی ملتے ہیں اس کے علاوہ بعض مقامات ایسے ہیں جہاں کسی خاص لفظ کی موجودگی پر سوال قائم کیا جا سکتا ہے۔ ان باتوں کو اس نظم کے اسٹرکچر میں نمایاں کیے بغیر اس کی شعریات کا اکتشاف ممکن نہیں ہے۔ اس نظم کے سیاق میں ایک بڑا سوال یہ بھی ہے کہ کیا ترسیل بھی المیہ بن سکتی ہے ؟کیا ترسیل کے فریب کو توڑ کر فن کی جمالیات کو یہاں قائم کرنا آسان ہو گا۔ میں اس وقت بساط بھر اس کی ساخت کو سوال بنا کر پیش کر رہا ہوں۔ ان سوالات کی معنویت اور غیر معنویت پر مجھے ابھی کوئی اصرار نہیں۔ نظم کی اُجلی ساخت ہم سب کے سامنے ہے اس کو ہم اپنی ساخت میں کیسے ڈھالتے ہیں اسی سے بہت سی باتیں طے ہوں گی۔ اس گفتگو میں متن کو جتنی مرکزیت حاصل ہو گی تفہیم اتنی ہی عمدہ ہو گی۔ ان باتوں سے قطع نظر اس کی ایک متوقع ساخت جو میرے نزدیک اہمیت کی حامل ہے اس کو پیش کرتا ہوں۔

فیاض احمد وجیہہ: نظم کی بُنت میں شعوری یا غیر شعوری طور پر ایک خاص تکنیک کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس لیے اس میں ایک نوع کی روانی بھی ہے۔ اس نظم کی تکنیک میں ناستلجیائی کیف ان معنوں میں ہے کہ ہم ماضی میں اپنے اپنے گاؤں اور گلی محلہ کے ان ’ کرداروں ‘ کے ساتھ کھڑے ہیں جن کی حیرانی ابھی زندہ ہے۔ یاد کیجیے اس کاٹھ کے ڈبہ والے آدمی کو جو ساری دنیا کی سیر کرواتا تھا اور ہماری حیرانی کو آباد کرتا تھا۔ اس کی قصہ گوئی اور ٹھیٹ لسانی آہنگ کے ارضی نغمہ کے سایہ میں کاٹھ کے مختلف حصوں میں پیوست ہماری آنکھیں جس جمالیات کو متشکل کرتی ہیں وہ شاید اس زمانہ میں ناستلجیا ہی ہے۔ کا ٹھ کا ڈبہ لیے یہ آدمی کتنی زمینیں ناپتا تھا۔ صدائیں لگاتا تھا اور ایک نئی حیرانی میں ایسی شے فروخت کرتا تھا جس کو ہم خرید نہیں سکتے۔ ماضی کے اس کردار کی سائکی ہمارے ساتھ اتنی دور کیوں چلی آئی ؟ اس سوال میں اس نظم کی پوری ساخت پوشیدہ ہے۔ بیانیہ کا ہر آہنگ اس کردار کے پیٹ سے باہر نکل آیا ہے اس لیے اس نظم کی ساخت اپنی جمالیات کو چھپا لینے میں کامیاب بھی ہے۔ اسلوب کی آئر نی میں بھی نظم کے عرصہ کو دخل ہے۔ لہجہ کیوں تبدیل ہوا ہے اس کی تلخی میں جمالیات کا کون سا دائرہ ہے ؟ ان سب کے پس پردہ اس عرصہ کی ایک تخلیقی منطق ہے۔ یہ نظم تاریخ اور جغرافیہ کے التوائی نشانات سے کیوں گزرتی ہے ان سب کا تعین اس کی تکنیک نے کیا ہے۔ آج ہم جس کاٹھ کے ڈبہ والے آدمی کو Bioscope والا کہہ کر یاد کر رہے ہیں وہ اس معاشرہ سے کیوں گم ہو گیا ؟ اس سوال کو بھی اس نظم نے اپنی ساخت میں صد گونہ کامیابی سے چھپا لیا ہے۔ کیا یہاں ایک سچے آرٹسٹ اور قصہ گو کی گمشدگی میں اسلوب زیست کا تصور موجود نہیں ہے۔ شاید ان باتوں پر غور کرتے ہوئے ہم اس نظم کی ارضی جمالیات کو روشن کر سکتے ہیں۔ اس نظم کی تکنیک سے ہی اس کی فرضی ساخت وجود میں آئی ہے اور معنی اس کی مظہریت سے کسی قدر آزاد ہو کر فریب ہستی کے استعارہ میں ڈھل گیا ہے۔ اب وہ نئی ساخت کون سی ہے / ہو گی جو اس کی جمالیات کو بامعنی بنانے کی قوت اپنے اندر رکھتی ہے۔ اس کی تلاش و جستجو میں ہی اس کی قرأت کو روشن کرنے کی کوشش یہاں مقصود ہے۔ عصری علمیاتی زمرہ اس نظم کی مظہریت میں پوشیدہ ہے لیکن اس کی متوقع ساخت کب اور کہاں ٹوٹ سکتی ہے اس کو خاطر نشان رکھے بغیر معنی کی مطلق گردان کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے اس کی مظہریت کو رد کرتے ہوئے متن میں ان Circular Holes کا سراغ لگانا ہو گا جن سے ہماری آنکھیں دور ہو چکی ہیں۔ اس نظم کی مکمل تکنیک میں Slide Showکی ایک پوری کیفیت ہے۔ پہلے بند میں تشکیل کار کی بینائی ہمیں محسوس ہوتی ہے لیکن اس کے اسلوب میں وقت کو کردار بنا کر پیش کرنے کی کوشش میں ایک نوع کی بے تعلقی بھی در آئی ہے۔ اس بے تعلقی میں معنی کے نشانات کہاں واقع ہیں ان کو گرفت میں لینا ضروری ہے۔ اس کے بعد راوی وہی کردار ہے جس کی گمشدگی میں ناستلجیا بیانیہ کے پس پردہ موجود ہے۔ واقعہ تو یہ بھی ہے کہ اس کی متوقع ساخت میں ایک معاشرہ کی گمشدگی بھی تشکیل پذیر ہوتی ہے۔ اگر ان باتوں کو تسلیم کیا جائے تو مجھے یہ بھی عرض کرنا ہے کہ اس گمشدہ معاشرہ کا کردار توتمی علامت کا مظہر بھی ہے۔ اس سے کسی اسطور کی تشکیل ہوتی ہے یا نہیں اس پر بھی ہمیں غور کرنا چاہیے۔ میں نے اس کردار کو توتمی علامت کا مظہر یوں قرار دیا ہے کہ اس زمانہ میں اس کی حیثیت اس مخفی روح کی سی ہے جس سے ہمیں قوت حاصل ہو رہی ہے۔ اس طور پر یہ کردار ہمارے وقت کے آشوب کو اپنے تشخص میں سلب کرنا چاہتا ہے۔ نظم اپنے ابتدائیہ میں ہی بعض ایسے نشانات کو روشن کرتی ہے کہ ہم کھوئی ہوئی آنکھ کے مرثیہ میں آشوب کے مسلسل صیغہ کو محسوس کر لیتے ہیں۔ ہماری آنکھوں سے کوئی نقشہ کہیں گم ہو گیا ہے۔ اس لیے یہ کردار راوی کے بہ طور کتھا رسس کی منطق میں اپنے بیانیہ کے آہنگ کو ارضی بنا کر پیش کر رہا ہے۔ اپنی حیرانی کی جانب لوٹنے کی تلقین میں اس نے کئی سوال قائم کیے ہیں اور کہیں نہ کہیں زندگی اور اس کی فطرت میں پناہ لینے کو ہی زندگی کا نام دیا ہے۔ ہم اس کردار کے شعور میں شامل ہو کر ان باتوں کو زیادہ سمجھ سکتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں جن تناظرات کا ڈسکورس نظر آتا ہے وہ ہماری عصری زندگی کے بھید میں تاریخ اور جغرافیہ کی سیر بینی کا طالب ہے اس لیے راوی کے شعور میں ہی ہم اپنے تشخص پر اصرار کر سکتے ہیں۔ نظم اپنی مظہریت میں Humorous Situation کا بیان بھی ہے اس لیے صورتِ،واقعہ کی منطق پر سنجیدگی سے غور کیا جا نا چاہیے۔ راوی نظم کی متوقع ساخت میں ارضی آہنگ کا داعی ہے اس لیے ہم ساخت کی ثنویت کو ملاحظہ کیے بغیر کسی ڈسکورس کو عنوان نہیں بنا سکتے۔ اس وقت ابتدائیہ کے طور پر یہاں بعض باتیں عرض کی گئی ہیں۔ مجھے قوی امید ہے کہ آپ حضرات اس نظم کی شعریات کو مختلف جہات میں قائم کریں گے اور کسی مصلحت پسندی کو راہ دیے بغیر اپنے معروضات یہاں پیش کریں گے۔

فیاض احمد وجیہہ: ابتدائیہ کے ساتھ حاضر ہوں۔ ایک ساتھ پوسٹ نہیں ہوسکا اس لیے الگ الگ پوسٹ کیا گیا ہے۔ مؤدبانہ درخواست ہے کہ آپ لوگ اس کو ایک ساتھ پڑھیں۔

علی محمد فرشی: جنابِ صدر! آپ کی اجازت سے ملتمس ہوں کہ نظم پر باقاعدہ بحث کے آغاز سے قبل اشعر نجمی صاحب کی شکایت/ بدگمانی کو دور کرنا ضروری ہے، میں "حاشیہ” کے (محدود) ذمہ دار کی حیثیت سے اسے اپنا فرض سمجھتا ہوں اور اس فورم کی مختصر زندگی کی اطمینان بخش کارکردگی کو اس کے ایک عام رکن اور ادب کے ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے سراہنا بھی اپنی ذمہ داری خیال کرتا ہوں، جو ہم سے ڈھکی چھپی نہیں۔ خیال رہے کہ بہتری کی گنجائش ہر جگہ اور ہمیشہ رہتی ہے۔ اگر کہیں غلطی ہو رہی ہے تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اس کی اصلاح بھی ہو سکتی ہے۔

 جنابِ صدر! اگر چند حقائق کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ایسی بدگمانیاں دور نہ ہو سکیں۔

 1 یہ فورم اپنے ابتدائی دور سے گزر رہا ہے، اس کی روایت مستحکم ہونے میں کچھ وقت تو ضرور صرف ہو گا۔ حال ہی میں جناب ابرار احمد کی تجویز پر مجلس عاملہ کا قیام عمل میں آیا ہے۔ انھی کی یہ تجویز بھی یقیناً،ظفر سید صاحب کے زیرِ غور ہو گی کہ بھارت سے بھی مجلس عاملہ میں رکن شامل کیا جائے۔ میں بھی اس کی تائید کرتا ہوں حتمی فیصلہ تو حاشیہ کے منتظم جناب ظفرسید ہی کریں گے۔

 2 یہ بات کہ بھارت سے ابھی تک کوئی نظم کیوں نہیں لی گئی؟ ایک جواب تو یہ ہے کہ جب بھارت سے کوئی مجلس عاملہ کا رکن بن جائے گا تو وہاں سے بھی نظم آئے گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم درست سمت میں جا رہے ہیں۔ ابھی تک تو تنظیمی امور بھی طے نہیں ہوئے، لہٰذا اتنی عجلت میں کوئی نتیجہ اخذ کرنے سے اجتناب ضروری ہے۔

 3 ظفر صاحب کے پاکستان چلے آنے اور ان کے دور افتادہ علاقے میں ہونے کے باعث بھی کچھ امور میں خلل آیا ہے۔ ہمیں ان کی عارضی مشکلات کا احساس بھی کرنا چاہیے۔

 4 ایک مؤدبانہ التجا یہ بھی ہے کہ "منافقت” جیسے غیر پارلیمانی الفاظ سے گریز کرنا چاہیے۔ جناب فیاض احمد وجیہ نے اسی بد گمانی کو "مصلحت” میں پنہاں کر دیا ہے۔ جس کی وضاحت ضروری ہو تو ہو لیکن اس پر سیخ پا ہونے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

 5 میرے خیال میں، فورم کو، بھارتی بھائیوں کی جانب سے جن خدشات اور دوست نوازی کے (دبے لفظوں میں)الزامات کا سامنا ہے ان کا جائزہ لینا چاہیے۔ کسی کے تنقیدی طریقۂ کار سے اختلاف تو ہو سکتا ہے، ہونا بھی چاہیے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر کوئی رکن کسی فن پارے کے محاسن پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے تو وہ کسی مصلحت سے کام لے رہا ہے۔ ہمیں اس معاملے میں اس تنقیدی اصول کو ضرور پیشِ نظر رکھنا چاہیے کہ” تنقید کو اس غرض نہیں ہوتی کہ کسی نے کتنا "بُرا” تخلیق کیا ہے اسے تو”بہترین” سے سروکار ہوتا ہے۔ ” اب یہاں "حاشیہ” پر جو(تخلیق) نظم برائے تنقید منتخب کی جاتی ہے اس کا انتخاب ہی یہ بات طے کر دیتا ہے کہ اس کے محاسن کی تلاش ہی مطمحِ نظر ہے۔ یہ تو ممکن ہے کہ نظم کے انتخاب میں چوک ہو جائے اور مذکورہ اصول کا اطلاق نہ ہوسکے، ایسے میں قصور تو متن کا انتخاب کرنے والے کا ہو گا لیکن نزلہ شاعر پر گرے گا۔ اسی لیے میں اس حق میں نہیں ہوں کہ شاعر کو اپنی نظم کا انتخاب کرنے کا حق دیا جائے۔ یہ انتخاب ابتدائیہ نگار کا حق ہے، ظاہر ہے کہ وہ شاعر کی کسی بہترین نظم ہی کا انتخاب کرے گا اور اس کا مقدمہ لڑے گا۔ ہم نقاد کے انتخاب اور اس کے قائم کردہ مقدمے سے اختلاف کا حق رکھتے ہیں۔ تخلیق اور تنقید کو اسی طرح ایک دوسرے کی معاونت سے ایک دوسرے کی بہتری کے لیے کام کرنا چاہیے، اور اسی میں ہم سب کی بہتری ہے۔

محمد یامین: جناب صدر آپ کی اجازت سے فرشی صاحب سے مخاطب ہوں: فرشی صاحب نے آپ کے نوٹ میں "حامی” کو "ہامی” پڑھنے کا درست مشورہ دیا ہے۔ لیکن ان کو کیا معلوم۔ ہو سکتا ہے ظفر صاحب نے ” ہامی” نہ بھری ہو اور عجلت میں "حامی” بھر لی ہو۔ کیوں کہ جہاں وہ اس وقت تھے وہاں سگنل کم کم آتے ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے، جناب صدر آپ نے عجلت میں "ہامی” کو حامی سمجھ لیا ہو۔ اصل راز سے تو آپ ہی واقف ہیں۔

علی محمد فرشی: جنابِ صدر! میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا کہ یامین صاحب آخر کہنا کیا چاہتے ہیں؟ کیا ظفر صاحب نے مجھے اعتماد میں لے کر ہامی یا حامی بھری تھی؟ یعنی اصل راز سے کون واقف ہے ؟ یہاں "کون” معلوم نہیں کون ہے ؟ لگتا ہے انھوں نے غیر سنجیدہ انداز میں کوئی سنجیدہ بات کہہ دی ہے !

محمد حمید شاہد: جناب صدر، میری گزارش ہے کہ خدارا احباب کو نظم پر بات کرنے کی طرف راغب کریں۔ (اور یقین رکھیے کہ میری یہ درخواست آپ کی صدارت میں مداخلت نہیں ہے)،میں سمجھتا ہوں کہ صدر کا متحرک کردار ہی معزز ارکان حاشیہ کو اس بھرپور گفتگو کی جانب لا سکتا ہے جو اس شاعر کا حق ہے۔ جی صدر محترم اس نظم کے ساتھ ساتھ نظم کے اس نئے معمار کے ساتھ بھی زیادتی، جس کے بارے میں جیلانی کامران مرحوم نے بہ جا طور پر کہا تھا کہ َاس کی نظموں میں انسانی سرشت ایک نیا زائچہ تحریر کرتی ہے۔

پروین طاہر: اپرار احمد ایک صاحب اسلوب شاعر ہیں۔ ان کی نظموں کا اپنا ایک مخصوص سٹائل ہے۔ ان کی نظموں کی ایک مخصوص طوالت ہوتی ہے جو نظم کو بیک وقت کمپیکٹ اور پر اثر بناتی ہے۔ ان کی نظموں میں جذبے کی فراوانی ہوتی ہے۔ ہئیت، آرائش لفظ، زباں و بیاں ان کے ہاں ثانوی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔ ان کی نظموں کا غالب رجحان باطنی ہے۔ میں ان کی نظموں کی پرانی اور باقاعدہ قاری ہوں اس حیثیت سے مجھے ان کی یہ نظم ان کے اسلوب کی نمائندہ نظم نہیں لگی۔ میں معاشرتی، تاریخی اور سیاسی تفاعل والی نظموں کے خلاف نہیں مگر ابرار کا مجموعی مزاج ایسا نہیں اور مجھے اس بات بر اصرار ہے کہ وہ باطنی مزاج کا شاعر ہے۔ خارج سے کوئی چیز اس کی شاعری سے اسوقت انٹرایکٹ کرتی ہے جب اس انٹرایکشن کے نتیجے میں اس کے باطن پر براہ راست اثر پڑ رہا ہو۔ بہرحال ابرار کی یہ نظم ان سیال نظموں سے مختلف ہے جو دل اور آنکھ کو بھگونے کا سلیقہ جانتی ہیں۔ میری یہ رائے میری کم علمی، کور ذوقی، اور ابرار کی نظموں کو ان کے سابقہ آہنگ اور ان کے اور ان کے اصلی forte کی تلاش کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ اب امید ہے کہ جو صاحبان علم و دانش اس فورم میں تشریف رکھتے ہیں وہاس نظم کی پرتیں کھول ہماری نقد و نظر کی توسیع کریں گے

علی محمد فرشی: جنابِ صدر! آپ کہاں تشریف فرما ہیں؟ اجلاس شروع کرائیں، یعنی بحث کو یک جا اور یک سو کریں۔ رہ نمائی فرمائیں حجور، تا کہ کوئی سمت متعین ہو سکے۔ آپ کے غلام اسحٰق خان بننے کی خواہش تو پوری ہو گئی لیکن حاشیہ کسی فضل الٰہی کے دیدار سے بھی محروم ہے۔

تصنیف حیدر: صاحبِ صدر! پہلی بات تو اس بار نظم کے انتخاب سے یہ سمجھ میں آتی ہے کہ کبھی کبھی تخلیق کار تنقید کے لیے اپنے کسی ایسے فن پارے کو بھی پیش کرسکتا ہے جس پر بات یا تو نہیں ہونی چاہیے یا پھر اتنی نہیں ہونی چاہیے جتنی کہ حاشیہ جیسے سنجیدہ فورم پر ہوا کرتی ہے۔ میں ابرار احمد صاحب کی نظموں کو بہت پسند کرتا ہوں اور کوئی احمق ہی ہو گا جو یہ کہے کہ ابرار احمد اچھی نظم نہیں لکھتے ہیں۔ مگر اس نظم کے تعلق سے میں یہ بات بہت یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ابرار احمد وہ پہلے خوش نصیب شاعر تھے جن کی رضا مندی سے ان کی کسی نظم کو حاشیہ میں برائے تنقید پیش کیا گیا مگر اس انتخاب کے وقت ان کی دوسری اچھی نظمیں بد نصیبی کا شکار ہوئی ہیں۔ فیاض احمد وجیہ نے اپنے ابتدائیہ میں لکھا کہ کہیں کہیں کوئی مصرع ہی بد ہیئت ہو گیا ہے یا اس میں بھی نظم نگار کی تخلیقی ہنر مندی کارفرما ہے، نظم کے حوالے سے پروین طاہر نے بھی بالکل بے لاگ اور صحیح رائے دی ہے کہ یہ نظم ابرار احمد کی نمائندہ نظم کہلانے کے لائق ہرگز نہیں ہے۔ فیاض وجیہ نے نظم کے بنیادی کردار کو گلی گلی میں بائیسکوپ والے اس شخص سے تعبیر کیا ہے جس کو ذرا اور آگے جا کر ہمارے دور کے ایڈیٹ باکس سے بھی جوڑا جا سکتا ہے یعنی اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ جس چیز پر ہم دنیا بھر کی اچھی بری چیزیں دیکھتے ہیں وہ ہمیں ان چیزوں کی اصل خوبصورتی اور بدصورتی کا اندازہ لگانے کے لیے خود کو قریب سے دیکھنے کی دعوت دیتی رہتی ہے مگر نظم میں جس طرح ہمارے اس ایڈیٹ باکس کے ہزار ہا چینلز کے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے پے بہ پے نظروں سے گزرنے کو ’دیکھو ‘ کی گردان سے بوجھل اور ثقیل بنایا گیا ہے اس سے ہمارے عہد کے کس اچھوتے پہلو کو سامنے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے یہ راز نہیں کھلتا؟ اول بات تو یہ ہے کہ جس چیز کو شاعر ’دیکھنے کی دعوت دے رہا ہے وہی ہم روز دیکھ رہے ہیں، اگر یہ مان لیا جائے کہ شاعر ہمارے اندر دیکھنے کو استعارہ بنا کر غم کو محسوس کرنے، قدرتی مناظر سے محظوظ ہونے، مذہبی مقامات سے روحانی طور پر مستفید ہونے کی بات کر رہا ہے تو پھر اسے معلوم ہونا چاہیے کہ جذبات کے تجار نے اسی پیشے کو اپنایا ہوا ہے اور صارفیت کے علمبردار انہی تمام چیزوں کو دکھا کر، محسوس کرا کر، ہنسا کر، رلا کر خوب بیچ رہے ہیں۔ اس ایڈیٹ باکس کی تصدیق ابرار احمد کے مصرعے ’ اپنی دیواروں تک ٹھہری نظروں کے آشوب سے نکلو‘ سے بھی ہوتی ہے۔ نظم میں ابہام کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ مصرعے لکھے نہیں بلکہ ٹھونسے گئے ہیں۔ کتابوں سے اس عہد کا بیزار ہونا، امریکہ کا عراق و افغانستان پر بمباری کرنا، فیشن، مصروفیت، مختلف اقوام اور ان کے کلچر، مذہب، تصوف اور وہ بہت سی چیزیں جن کو دیکھنے اور محسوس کرنے کی اس نظم میں تلقین کی گئی ہے مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان تمام معاملات سے مربوط الفاظ استعمال کر کے شاعر نے صرف اور صرف نظم کو طویل کرنا چاہا ہے۔

جاوید انور: خواتین و حضرات، میں اپنی ایک روزہ غیر حاضری پر معذرت خواہ ہوں-

 فیاض احمد وجیہ صاحب نے نظم کی جمالیات اور ساخت کے بارے میں بہت اہم سوال اٹھائے ہیں- اب میں محمد حمید شاہد صاحب اور علی محمد فرشی صاحب سے گذارش کروں گا کہ وہ بات کو آگے بڑھائیں، خصوصی طور پر نظم کی ساخت اور اس میں کہی گئی بات کے حوالے سے -۔ ۔

محمد حمید شاہد: صدر محترم، میں نظم پر ضرور بات کرنا چاہوں گا مگر گزارش ہے کہ جو احباب گزشتہ نظم پر بات نہ کر پائے پہلے انہیں مدعو کیا جائے۔

 ایک وضاحت نظم نگار کی طرف سے، کہ نظم کا انتخاب انتظامیہ کا تھا تاہم اس باب میں ان سے رائے لے لئی گئی تھی۔ اور یہ کہ یہ ان کی پسندیدہ نظموں میں سے ایک ہے، جو شب خون کے اہم انتخاب میں چھپی تھی۔

 مجھے خوشی ہے کہ وجیہہ نے ابتدائیہ لکھا، تصنیف نے بات آگے بڑھائی، ستیہ پال آنند، نصیر احمد ناصر، رفیق سندیلوی، معید رشیدی، اقتدار جاوید ہم سب مل کر بات آگے بڑھا سکتے ہیں۔

نصیر احمد ناصر: جناب صدر! میں آپ کا بہت احترام کرتا ہوں اور ابرار بھی نہ صرف میرا دوست اور معاصر شاعر ہے بلکہ میرے پسندیدہ ترین شاعروں میں سے ہے، جس کی بیشتر نظمیں دل کو چھوتی ہیں۔ بہت سال پہلے ایک بہت اہم ناقد اور شاعر نے مجھ سے معاصر نظم گو شاعروں کی بابت جاننا چاہا تو میں نے سرفہرست ابرار کا نام رکھا اور پھر دیگر دوستوں کے نام لیے۔ اور اب بھی جب کوئی ستر کی دہائی کے بعد نظم کے اہم ترین شاعروں کی بابت پوچھتا ہے تو میں سب سے پہلے ابرار کا نام لیتا ہوں۔ مگر افسوس کہ زیر بحث نظم ابرار کا تخلیقی و شعری تجربہ نہیں بن سکی۔ اس میں شعری عنصر کا شدید فقدان ہے جو کسی شعری فن پارے کا بنیادی جوہر ہوتا ہے۔ جبکہ ابرار ایسا شاعر ہے جس کی نثری نظموں میں بھی شعری عناصر کی فراوانی ہوتی ہے۔ نظم کا اسٹرکچر بھی کمزور اور ڈھیلا ڈھالا ہے، فنی اور ہئیتی اعتبار سے بھی نظم کسی ہوئی نہیں، یہاں تک کہ عنوان بھی شاعر کی اپنی تخلیقی اختراع نہیں بلکہ موضوعی نوعیت اور ضرورت کے پیش نظر بی بی سی اردو سروس کے مشہور عالم پروگرام "سیر بین” کے نام پر رکھا گیا ہے۔ اسے پڑھ کر سوائے اس کے کہ مجھے اپنی ایک پرانی نظم "دیوار قہقہہ” اور چند برس قبل کی ایک نظم "ان فوکس” یاد آ گئیں، دل میں کوئی سرسراہٹ نہیں ہوئی۔ مجھے تو یقین ہی نہیں آتا کہ یہ نظم ابرار کی ہے۔ اور اب یہ جان کر مزید حیرت ہوئی ہے کہ یہ شاعر کی پسندیدہ نظموں میں سے ایک ہے۔ بہرحال یہ طلسم کدہ ء تخلیق ہے، کائنات فن ہے، جس میں تخلیق کار نویں آسمان پر ہوتا ہے اور نارسائی ہر قدم پر قاری کی آڑ میں آتی ہے، ممکن ہے بحیثیت قاری میرے ساتھ بھی یہی معاملہ ہو، لیکن میرے خیال میں یہ ابرار کی ایک کمزور نظم ہے اور شاید واحد نظم ہے جو ابرار کی نظموں کے عمومی معیار کے مطابق نہیں۔ ابرار اس نظم سے کہیں آگے کا شاعر ہے۔

اقتدار احمد: جنابِ صدر

 ابرار احمد کی نظم سیر بین کی سب سے بڑی خوبی اس کا اپنے سم پر واپس آنا ہے جب نظم اپنے سم پر واپس آتی ہے تو متکلم کی تفلیب ہو چکی ہوتی ہے اور گلی گلی، بازار بازار، ملک ملک، پھرنے والا شاعر میں تبدیل ہو چکا ہوتا ہے یہ اپنے معروض سے بھری ہوئ نظم ہے۔ کسی مفکر کا قول ہے کہ ہر فنکار کا ایک روحانی رُخ ہوتا ہے جو چیز اُس کی روحانی جدوجہد میں مدد نہ کرے وہ اسے دکھائی نہیں دیتی، جو احباب اس نظم کو اُس رُخ سے نہیں دیکھ رہے جو متکلم کا مطمح نظر ہے۔ تو وہ اس قابل نہیں رہتے کہ شاعر سے ہم آہنگ رہ سکیں۔

 یہ نظم پوری دنیا کے بالعموم اور برصغیر کے صدیوں پرانے اُلجھاووں سے بالخصوص معاملہ کرتی ہے۔ اس میں ذات کے حصے بخرے ہونے کا قصہ بھی ہے ا ور اپنے ملک کے دو ٹکرے ہونے کا نوحہ بھی۔

 میں چاہتا ہوں نظم کے متن پر بات کی جائے پھر دیکھیں کہ نظم کیا کوئی کروٹ بھی لیتی ہے۔ میں شاعر کو قطعاً نظر انداز کرنے کا قائل نہیں ہوں۔ میں میڈیم کو متن جتنی ہی اہمیت دینے کا قائل ہوں، اور میرا سروکار اسی سے ہے فیاض احمد و جیہ کی گفتگو کسی مبتدی کی گفتگو لگتی ہے اس ابتدائیہ سے آگے بڑھ کر نظم سے مکالمہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس نظم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ متکلم کے پیڈسٹل متعین ہونے کے باوجود وہ ہر دفعہ منظر تبدیل کرنے پر قادر ہے۔

جاوید انور: سو برادرم محمد حمید شاہد صاحب گزارش ہے کہ جو احباب گزشتہ نظم پر بات نہ کر پائے اگر وہ اب بھی بات نہیں کر رہے تو اس کا مطلب یہ تو نہ ہوا کہ جو لوگ پہلی نظموں پر بات کر چکے ہیں وہ بھی اب بات نہ کریں- اب تو اقتدار جاوید صاحب نظم کے کچھ اور معنوی پہلوؤں پر بھی گفتگو کر چکے ہیں- جی، شاہد صاحب بسم اللہ کیجئے، اس عرصے میں میں ان لوگوں کو یہاں لانے کی سعی کرتا ہوں، جو گذشتہ نظم پر بات نہ کر پائے – میرے خیال میں اس نظم کی تکنیک بہرحال ایک گفتگو کی حقدار ہے کہ اس میں صرف دیکھو کی تکرار ہی نہیں ایک روانی بھی ہے، ایک فطری روانی اور بہاؤ جو اردو نظم میں نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے اور ہمیں نظیر اکبرآبادی کی یاد دلاتا ہے -۔۔

محمد حمید شاہد: جناب صدر، اب جب کہ جناب وجیہہ کا ابتدائیہ میرے سامنے ہے جس میں اس نظم کے اسٹریکچر کو آڑے ہاتھوں لیا گیا ہے، تصنیف حیدر اور پروین طاہر کا یہ کہنا کہ حاشیہ کے لیے اس نظم کے انتخاب میں غلطی ہوئی ہے، علی محمد فرشی نے کھل کر یہ بات تو نہیں کہی مگر اپنے نوٹ سے یہی تاثر دیا ہے کہ نظم کا انتخاب درست نہ تھا، نصیر احمد ناصر کا رد عمل کچھ زیادہ شدید رہا انہوں نے نہ صرف اسے ایسی نظم قرار دیا جو ابرار کے عمومی معیار کو بھی نہیں چھوتی حتی کہ نصیر کو تو نہ صرف اپنی نظمیں "دیوار قہقہہ” اور "ان فوکس” یاد آ گئیں۔ میرے فوری مطالعہ کے لیے "دیوار قہقہہ” کا لنک میری فیس بک وال پر بھی فراہم کر دیا گیا۔ میں نے نصیر کی نظم پڑھی، وہی جس میں” دیکھو، دیکھو” کی تکرار ہے، مجھے نظم گتھی ہوئی اور اچھی لگی۔ لیکن صدر محترم مجھے کہنے دیجئے کہ "سیربین” کے حق میں نہ جانے والی اس ساری فضا میں مجھے ابرار احمد کے تخلیقی تجربے کے ساتھ کھڑا ہونے میں لطف آ رہا ہے۔ یاد رہے وہ سب جو ابرار احمد کی اس نظم کو رد کر رہے ہیں وہ عین اسی لمحے میں تسلیم بھی کر رہے ہیں کہ ابرار احمد اہم نظم نگار ہے۔

 جناب صدر، اجازت دیجئے کہ سب سے پہلے میں ن م راشد کی کتاب ’’ایران میں اجنبی‘‘ کے دیباچہ سے چند سطریں نقل کر دوں، اب اگر آپ مجھ سے پوچھیں گے کہ ایسا میں کیوں کر رہا ہوں، تو شاید شافی جواب نہ دے پاؤں، بس جی چاہ رہا ہے اور شدت سے جی چاہ رہا ہے کہ اسے ہو بہ ہو نقل کر دوں۔ میں دل کی مان رہا ہوں آپ میری مان کر اجازت دے دیجئے۔ ہاں تو راشد نے کہا تھا،

 ’’صحیح بات یہ ہے کہ قاری ہو یا نقاد، جب تک وہ شاعر کے ساتھ ایک حد تک ہم سفر ہونے پر آمادہ نہ ہو، اس کی زبان یا اس کے مزاج سے واقف نہیں ہو سکتا۔ وہ نقاد جن کا علم اور ذوق ’’بحر الفصاحت‘‘ یا ’’چہار مقالے‘‘ کے راستے ان تک پہنچا ہے، وہ جب تک اپنے علم کو تھوڑا سا فریب نہ دیں یا ایک حد تک اپنے علم کی شکست کا اعتراف نہ کریں، کبھی جدید شاعری کی کما حقہ، ترجمانی نہیں کر سکتے۔ جدید شاعری پر یہ اعتراض صحیح ہے کہ یہ سب کی شاعری نہیں۔ بے شک یہ ہر شخص کی شاعری نہیں،یہ صرف اس شخص کی شاعری ہے جس کا شعور نیا ہو۔‘‘

 اوہ، جب میں یہاں تک نقل کر گیا تو لگا ان میں ایک آدھ جملہ کچھ اچٹا،ہوا ہے، یا پھر ایسا نقل ہو گیا ہے جو میں یہاں درج نہیں کرنا چاہتا تھا۔ مثلاً ’’بحر الفصاحت‘‘ یا ’’چہار مقالے‘‘ والا جملہ، کہ اب تو جی کا جنجال ہو جانے والی نئی اصطلاحات کا زمانہ ہے لہذا وہ پرانے والا یعنی راشد کو خوش نہ آنے والا چلن یکسربدلا نہیں تو اس تنقید کا لسانی چولا بہ ہر حال بدل گیا ہے۔ خیر راشد سے شروع ہونے والی نئی نظم پر بات کا آغاز راشد ہی کی پرانی ہو جانے والی بات سے کر بیٹھا ہوں تو اس کا ایک جواز شاید یہ ہے کہ میں نے آنا فاناً ابرار احمد کی نظم ’’سیربین‘‘ کے مقابل نہیں ہوا۔ میں نے اسے محض متن نہیں سمجھا، اسے ادبی تخلیق جان کر اسے محترم جانا ہے اور اسے ’’ محض کاٹھ کے ڈبہ والے آدمی‘‘ کا المیہ نہیں جانا شاعر پر گزرنے والی واردات کے طور پر محسوس کیا ہے۔ مگر اس مرحلہ تک پہنچنے سے پہلے میں نے یہ حیلہ کیا ہے کہ دھپ سے اس نظم کی کائنات میں نہیں اترا، کسی بھی تعصب کو ایک طرف دھر کے اس کی زبان اور مزاج سے آگہی کے لیے شاعر کے مجموعی تخلیقی چلن کو سمجھنا چاہا ہے

محمد حمید شاہد: ۲

 ابرار احمد کی ١۹۹۷ میں منظر عام پر آنے والی نظموں کی کتاب ’’آخری دن سے پہلے‘‘ اگر آپ کے ذہن میں تازہ ہے اور اس کے بعد والی نظمیں بھی نگاہ میں ہیں تو مجھے یقین ہے کہ آپ میری طرح اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ ابرار کی نظم کا محبوب قرینہ یہ ہے کہ پہلے وہ باہر پھیلے منظر کو اپنی نظر میں بھر لیتا ہے، منظر پوری طرح نظر کلاوے میں نہ آئے تو وہ اپنے وجود کو متحرک کر کے پہلے منظر کا پراگا نکالتا اور نئے کی گنجائشیں پیدا کرتا چلا جاتا ہے۔ بکھری ہوئی زندگی کے بکھراؤ کو سمیٹنے کے لیے جس اسلوب کو اس نے اپنے اوپر روا رکھا، اس میں بکھرے ہوئے امیجز اور عام زبان سے شعری جمالیات کی تجسیم اور معنویت کی تشکیل ممکن ہو گئی ہے۔ ماننا ہو گا کہ عام درجے کے شاعر کو یہ قرینہ عزیز رکھنے پربکھیرسکتا ہے مگر لطف یہ ہے ابرار نے اسی قرینے سے بالعموم نیاپن اور تازگی اخذ کی ہے۔ یہی قرینہ زیر نظر نظم کا بھی ہے۔

 جناب وجیہہ نے بہ جا طور پر شناخت کیا کہ ابرار احمد کا ایک مسئلہ ناسٹلجیا بھی ہے۔ اس کا خود شاعر کو بھی احساس ہے اور اس نے اس کا اعلان ’’قدیم قصبے کے نام‘‘ انتساب میں یوں کر رکھا ہے،

 ’’ہم لوٹیں گے تیری جانب

 اور دیکھیں گے تیری بوڑھی اینٹوں کو‘‘

 اور

 ’’ہم آئیں گے

 تیرے مضافات میں

 مٹی ہونے کے لیے‘‘

 تاہم ’’بوڑھی اینٹوں‘‘ کو دیکھنے اور مٹی میں ’’مٹی ہونے‘‘ سے پہلے وہ نئی زمینوں اور نئے زمانوں کو اپنی پوری طرح پھیلی ہوئی نظر کے وسیلے سے ایک شدید دکھ اور حیرت کی طرح جھیل جانا چاہتا ہے۔

 ’’ ہوا ہر اک سمت بہہ رہی ہے

 جلو میں کوچے مکان لے کر

 سفر کے بے انت پانیوں کی تھکان لے کر

 جو آنکھ کے عجز سے پرے ہیں

 انہی زمانوں کا گیان لے کر

 ترے علاقے کی سرحدوں کے نشان لے کر

،۔۔۔۔۔۔‘‘

 ﴿ہوا ہر اک سمت بہہ رہی ہے ﴾

 تو یوں ہے کہ ’’ہوا‘‘ چوں ہمارے نظم نگار کے مزاج کے مطابق سیلانی ہوتی ہے لہذا اس کے محبوب استعاروں میں سے ایک ہو گئی ہے، اسی طرح نیند میں چلتے خواب ہوں یا بدلتے ہوئے موسم، لمس کا بہاؤ ہو یا دوریوں کا بھید ہو جانے والے سمندر، گہرے راستے ہوں یاکسی کے نم گیتوں سے ایسی دوری جو ابد تک چلی جاتی ہے اور ان دنوں کے تسلسل کی ایسی صراحی بھی کہ بہ قول اقبال جس میں سے نئے حوادث، قطرہ قطرہ ٹپک رہے ہوتے ہیں، یہ سب مل کر اس نظم نگار کا مزاج بناتے ہیں۔ اچھا اس باب کی ایک عمدہ مثال ابرار کی نظم ’’ہر روزَ‘‘ ہو سکتی ہے، جی یہ وہی نظم ہے جس میں

 ’’ہر روز کوئی قلم ٹوٹ جاتا ہے

 کوئی آنکھ پتھرا جاتی ہے

 کوئی روزن بجھ جاتا ہے

 کوئی دہلیز اکھڑ جاتی ہے

 کوئی سسکی جاگ اٹھتی ہے

،۔۔۔۔۔۔۔

 ہر روز کہیں کوئی چھت بیٹھ جاتی ہے

 کوئی درخت کٹ جاتا ہے

 کوئی خواب بکھر جاتا ہے

 کوئی آہٹ رخصت ہو جاتی ہے

،۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘

 ابرار احمد کے ہاں دنوں پر دن کا گرتے چلا جانا ایک واقعہ نہیں حادثہ ہے، ایسا حادثہ جو نیند اور نورستگی کی خوشبو میں سوئی ہوئی گھاس پر دوام چلنے کی للک رکھنے والوں کیلے نمناک آنکھوں سے دیکھنا لازم ہو جاتا ہے۔ آدمی کے اندر ہی اندر کوئی پہیا آپ ہی آپ گھوم جاتا ہے۔ موت بلاتی رہتی ہے مگر وہ شامیں نگاہ میں رہتی ہیں جن میں ہوائیں چل رہی تھیں، تو یوں ہے کہ ابرار کے اندر سے شاعری کا منظر نامہ نہیں اگتا، باہر سے بارش کر طرح اس کے وجود پر گرتا اور اسے بھگو دیتا ہے۔

محمد حمید شاہد: صدر محترم، میں نے اپنے تئیں ابرار احمد کے تخلیقی قرینے کو نشان زد کر دیا ہے۔ یہیں مجھے اصرار کے ساتھ یہ کہنا ہے کہ اگ میں آپ احباب کے اصرار پر یہ مان بھی لوں کہ زیر نظر نظم ’’سیربین‘‘ ابرار احمد کے تخلیقی مزاج کی نمائندہ نظم نہیں ہے تاہم یہ اس کے تخلیقی قرینے سے الگ پڑی ہوئی نظم بھی نہیں ہے۔ میرا خیال ہے اب ہم ان سوالات کے مقابل ہونے کے قابل ہو گئے ہیں جو احباب کی پر جوش دردمندی کی وجہ سے سامنے آئے۔ شروع میں یہ تقاضا بھی کیا گیا تھا کہ ان سوالات کے مقابل ’’مصلحت پسندی‘‘ کو راہ دیے بغیر ہوا جائے۔ اچھا جو مطالبہ کیا گیا میں نہیں سمجھتا کہ وہ کس حد تک پورا ہو پائے گا کہ تخلیق کے ساتھ جڑنے کی مصلحت مجھے ہمیشہ عزیز رہی ہے، نئے ناقدین قاری کے نقطہ نظر کی مصلحت سے جڑے ہوئے ہیں، شاعری کی روایت کو عزیز رکھنے والے ایک اور طرح کی مصلحت کے اسیر ہیں، وہ جنہیں راشد نے ’’بحر الفصاحت‘‘ یا ’’چہار مقالے‘‘ والا کہا ہے وہ اپنی مصلحت کیوں کر چھوڑ سکتے ہیں تو یوں ہے کہ راستہ تو انہیں مصلحتوں کے اندر سے پھوٹے گا لہذا اس طرح کے مطالبات بسا اوقات فقط بدگمانی سے زیادہ کچھ اور نہیں ہوتے۔ میں نظم ’’سیربینَ‘‘ پر بات کو ابھی تک مؤخر رکھنے پر خود کو یوں مجبور پاتا ہوں کہ مجھے اس فضا کو صاف کرنا ہے جو بے شمارسوالات کے بیچ گندھرا گئی ہے۔

 نئی نظم کی جمالیات پر پہلے جلسوں میں بھی خوب خوب بات ہو چکی اگرچہ میں ذاتی طور پر نظم کوایسا جمالیاتی صیغہ اظہار سمجھتا ہوں جس کے ریشے ریشے میں معنی پیوست ہوتے ہیں تاہم جہاں کہیں ترسیلی لہریں جمالیاتی دھارے کے اوپر بہنے لگتی ہیں یوں کہ معنی کے شفاف پانیوں کے اندر سے جمالیاتی دھارا جھلک دینے لگے تو مجھے وہ بھی لطف دے جاتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ جب میں نظم کے مختلف قرینے دیکھتا ہوں توتسلیم کرنا پڑتا ہے کہ نئی نظم کے کسی بھی عمدہ شاعر کو اپنے مزاج سے ہم آہنگ اور اسی کے زیر اثر معنی اور مواد کی ایک تراکیب واضح کرنی ہوتی ہے اس کے لیے وہ ساخت کے عام تصور کو توڑتا اور پھر سے اسے بناتا ہے۔

 ابرار کی نظم کی ایک ساخت تو وہی ہے جو ہمارے کمپیوٹر کے مانیٹر پر نظر آ رہی ہے مگر اس طرح کی نظموں کو اس ساخت سے الگ کر کے نہیں سمجھا چاہئے جو اس فضا کے اندر سے پھوٹتی ہے جسے شاعر نے تخلیق کیا ہوتا ہے اور اس کہانی سے بھی جڑی ہوتی ہے جس کے بیان ہمیں دل چسپی ہو نہ ہو وہ ہماری دل چسپی کھینچ لیتا ہے۔ خیر فن پارے پر بات مقصود ہو تو اس کی معنیاتی منطق سے کنی کاٹ کر آگے کیسے بڑھا جا سکتا ہے۔ اب اگر ابرار نے اپنی اس نظم میں خارج کے ایسے مظاہر پر نظر رکھی ہے جو انسانی تقدیر سے جڑے ہونے کی وجہ سے روح تک کو لرزا دیتے ہیں تو ہم اس کی طرف توجہ دیے بغیر محض نظم کے اسٹریکچر پر نظر کیسے جما کر رکھ سکتے ہیں۔ اس بار اتنا ہی۔

تصنیف حیدر: صاحب صدر! حمید شاہد صاحب کے بسیط تبصرے کے بعد اس نظم کو دوبارہ پڑھنے کی کوشش ہم سب کو کرنی چاہیے لیکن میرا سوال محض اتنا ہے کہ نظم کے مضامین و مظاہر کے بارے میں بات کرنے سے پہلے کیا ہمیں نہیں دیکھنا ہو گا کہ ان کو شاعر نے کس طرح منظوم کیا ہے۔ اقتدار جاوید نے لکھا ہے کہ فیاض وجیہ کی باتیں مبتدی کی طرح ہیں لیکن یہاں اس بات سے بحث نہیں ہونی چاہیے کہ باتیں مبتدی کی طرح ہیں یا منتہی کی طرح—-بات صرف اتنی ہے کہ جو سوال فیاض وجیہ نے قائم کیے ہیں ان کے جوابات دیے جائیں ورنہ ادھر ادھر کی باتیں کرنے سے صرف تلخیاں ہی پیدا ہوسکتی ہیں-لیکن بس اتنا کہنے دیجیے کہ اگر فیاض وجیہ کی گفتگو مبتدیانہ ہے تو ایسی گفتگو کی ادب کو ضرورت ہے کیونکہ وہ کم از کم متن پر سوالات قائم کروا کر کچھ سوچنے اور کہنے کے لیے اکساتی تو ہے – صاحب صدر اگر میری نیت پر شک نہ کیا جائے تو میں کہوں کہ جتنی باتیں فیاض وجیہ اور حمید شاہد نے اس متن پر کی ہیں اور کسی نے نہیں کیں بلکہ مجھ سمیت دوسرے احباب تو شاید یہی سمجھتے ہیں کہ ابرار صاحب کی اس نظم پر بات کرنے سے بہتر ہے کہ ان کی دوسری اچھی نظموں پر گفتگو کی جائے کیونکہ ایک آدھ کمزور نظم تو ہر اچھے جدید شاعر کے یہاں نکل آئے گی اور اگر پھر بھی کسی کو اس نظم کی تقویت پر اصرار ہے تو وہ نظم کی جمالیات پر اپنا کمنٹ پوسٹ کرے

پرو ین طاہر: صاحبان علم و دانش ہمارا ادب اسی لئے رو بہ زوال اور انحطاط پذیر ہو رہا ہے کہ ہمارے اندر برداشت اور رواداری ختم ہو چکی ہے۔ ہمارا رویہ علمی نہیں رہا سیکھنے سکھانے کی روایت کمزور پڑ چکی ہے۔ ہم صرف تعریف و تحسین سننے کے عادی ہو گئے ہیں۔ اگر ہمارے اندر تنقید کے دونوں پہلوؤں یعنی حسن و قبح کو ایک توازن کے ساتھ قبول کرنے کا حوصلہ نہیں تو ایسے فورم اور ان پر پیش کی جانے والی تخلیقات کا جواز باقی نہیں رہتا۔ ابرار ایک خوش قسمت انسان ہیں لوگ انہیں بحیثیت شاعر بے حد سراہتے اور چاہتے ہیں پھر کیا ہوا جو ایک ایسی نظم سامنے آ گئی جو میری ناقص رائے کے مطابق ان کے مجموعی شاعرانہ مزاج سے میل نہیں کھاتی اور ہم ان کی ایسی نظم کے عادی نہیں۔ کیا قارئین و ناقدین نے ایسی آراء میں شاعر محترم کے لئے چھپے پیار اور شاعر سے وابستہ توقعات کو محسوس نہیں کیا۔ اگر تخلیق کار کو کچھ سجیسٹ نہ کیا جس کے اس کی تخلیقی خیر خواہی نہ کی جا سکے تو فورم محض ایک انجمن ستائش بن کر رہ جائے گا۔ ہم سب ابرار کے مداح ہیں۔ کوئی بات اگر منشن ہوئی ہے تو ان کی بہتری، خیر خواہی کے لئے ہے۔ خدا را اسے تنقید کا مسئلہ رہنے دیں ذاتی انا کا مسئلہ نہ بنائیں۔ ابرار تو اس بحث میں حصہ نہیں لے سکتے ورنہ وہ خود ہماری مداحی اور نیک نیتی ی تصدیق کر دیتے۔۔

محمد حمید شاہد: صدر محترم، یہ جو میرے عزیز دوست تصنیف نے مشورہ دیا ہے کہ ” اس نظم کو دوبارہ پڑھنے کی کوشش ہم سب کو کرنی چاہیے‘‘ تو اس پر احباب کو توجہ دلانے کا مقام ہے۔ ( میں ایک بار پھر کہہ رہا ہوں کہ میں آپ کے منصب کو ہتھیا نہیں رہا محض توجہ دلا رہا ہوں) کہ اس طرح وہ شکایات رفع ہو سکتی ہیں جن کا ذکر پروین طاہر کے نوٹ میں ہے۔

جاوید انور: برادرم حمید شاہد، میں آپ کا دو طرح سے شکر گذار ہوں، ایک تو یہ کہ آپ نے نظم کو بڑی گہری نظر سے دیکھا اور دوسرے یہ کہ آپ اس مرحلے پر، جب میں خود کو انڈر پریشر محسوس کر رہا تھا، میری مدد کو آئے –

 نظم پر اب تک کی گفتگو کو میں ایک جاندار گفتگو کہوں تو کوئی غلط نہیں ہو گا کہ اختلاف اور اتفاق دونوں شدت سے آئے – فیاض احمد وجیہہ ساحب نے اس کو متن کے حوالے سے دیکھا، پہلے حصے میں اسی حوالے سے خوبصورت سوال اٹھائے، جن کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو ہونا ابھی باقی ہے، اور سیربین میں معنی اور متن کی ایک دوسرے سے مغائرت کو بنیادی نکتہ ٹھہرایا لیکن اسی گفتگو کے دوسرے حصے میں آپ نے متن ھی کو سیڑھی بنا کر ایک حسین معنوی دنیا کی سیر کروائی، پروین طاہرہ، تصنیف حیدر اور نصیر احمد ناصر نے اس نظم کو ابرار احمد کے مجموعی شعری تاثر کے تناظر میں دیکھا اور مذکورہ نظم کے بارے میں ایک طرح کی مایوسی کا اظہار کیا- یہاں شاعر کی اپنی پسند کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا- جب کہ محمد حمید شاہد نے نظم اور زیرِ بحث نظم کو ہی مرکز بنا کر انتہائی خوبصورت گفتگو کی اور سیر بین کو شاعر کی ایک مختلف لیکن خوبصورت نظم قرار دیا- انہوں نے نظم کی ساخت کو اس کے معروضی اور موضوعی حوالوں سے ہم آہنگ پایا-

 میں یہاں بات کو آگے بڑھانے کی بجائے کچھ دیر یہیں کھڑے رہنا پسند کروں گا اور محترمہ پروین طاہرہ، محترم تصنیف حیدر اور محترم نصیر احمد سے گذارش کروں گا کہ وہ نظم کو کچھ دیر کے کئے شاعر کے مجموعی کام سے علیحدہ ایک اکائی میں دیکھتے ہوئے، ان تنقیدی پیمانوں کے حوالے سے، جو ہر مختلف اور نئی نظم اپنے ساتھ لاتی ہے، اس نظم کے بارے میں اس نظم کی معنوی و ساختیاتی اکائی یا دوئی کو زیرِ بحث لائیں کہ فیاض صاحب اور حمید شاہد صاحب کی گفتگو یہاں مجھے ایک ہی سمت میں اور اس مقام پر الجھاووں کو سلجھاتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے – (میں نے جلدی میں لکھا ہے سو اگر املا کی کچھ غلطیاں نظر آئیں تو پیشگی معذرت)۔۔

جاوید انور:مقصود وفا، علی ارمان، رفیق سندیلوی اور معید رشیدی صاحبان کو میں ذاتی طور پر ایک سے زیادہ بار دعوت دے چکا ہوں، ہمیں اپنے علمی خیالات سے مستفید کرنے کی، شہزاد نئیر کو شمولیت اور گفتگو کی اور اب ان سے فورمل گذارش ہے کہ بھائی آئیں، ہم سب آپ کے علم سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں، اس کام میں کنجوسی سے کام مت لیں- آنند صاحب سے میں نے ان کے آپریشن کی وجہ سے گفتگو کی بات نہیں کی- اور اب پلیییییییز محترم مکرم علی محمد فرشی صاحب آپ بھی دیدار کرا ہی دیں، آپ کا کچھ نہیں جائے گا اور ہمارا بھلا ہو جائے گا، سو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔

جاوید انور: اشعر نجمی صاحب، اور آپ کہاں غائب ہو گئے ہیں سرکار۔۔

عارفہ شہزاد: صاحب صدر کی اجازت سے میں اس بحث میں حصہ لیتے ہوئے، علی الاعلان یہ کہنے کی جسارت کروں گی کہ میں وہ ہوں جسے اس نظم کی تقویت پر اصرار ہے کیوں کہ میرے پاس اس نمبر کی عینک ہے جو اس نظم کو ٹھیک اور اور واضح طور پر دیکھنے کے لیے ضروری ہے -تفنن بر طرف !اس رائے سے کسی کو اختلاف نہیں ہو گا کہ اگر نظم کی تنقید میں تناظر (perspective )ہی غلط ہو گا تو اس کے حسن و قبح کی جانچ پرکھ، مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہو جائے گی -اس نظم کو کس تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے ؟اس پر با لتفصیل روشنی ڈالنے سے پہلے، اس فورم میں اس کے خلاف جو "ملامتی فضا” تشکیل پا چکی ہے اس کا رد اور جواب لازم ہے تاکہ ا س نظم کو سمجھا اور سمجھایا جا سکے –

عارفہ شہزاد: ١- پہلا اعتراض یہ کیا گیا کہ نظم ابرار احمد کی نمائندہ نظموں میں سے نہیں !گویا ان کے خاص رنگ کی ترجمان نہیں ہے بلکہ یہ تک موشگافی ہوئی کہ اس کا انتخاب ہی غلط ہے -یا یوں کہہ لیں کہ اس کا متن، فنی و فکری اعتبار سے اس لائق ہی نہیں کہ اردو ادب کی اہم نظموں میں اس کا شمار ہو -تو عرض یہ ہے کہ ابرار احمد کے شعری مزاج کا تعین ہمارا یا اس فورم کا مقصد اولین نہیں ہے، یہ فورم اس لیے قایم ہوا کہ تنقید اس امر کا تعین کرے کہ اردو ادب میں کیا ایسا کچھ لکھا جا رہا ہے جسے عالمی ادب کے مقابل فخر سے پیش کیا جا سکے !ساختیاتی نظریے کو مرغوب رکھنے والوں کو تو با لخصوص میڈیم یعنی شا عر کی بات ہی نہیں کرنی چاہیے، صرف متن پیش نظر رکھا جائے کہ وہ کیا کہتا ہے ؟متن میں کیا کچھ ہے، اس میں کیا کیا فکری و فنی محاسن ہیں، ان پر تو میں بات کروں گی ہی مگر فی الحال اتنا کہنا چاہوں گی کہ اس نظم میں جس طرح نظم گو نے دائر ہ در دائرۂ خارج اور باطن کی قوسوں کو آپس ایک نقطے پر لا کر ملایا ہے اس سے نظم کی بنت ایک جیومیٹریکل حسن رکھتی ہے -نظم گو خارج کی دنیا سے ہوتا ہوا، داخل کی دنیا تک آتا ہے اور اپنا وہ دل ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے جس کی درد مندی اس نظم کی تاثیر کی صورت ایک ایک مصرعے سے چھلک رہی ہے !مگر ناقدان خوش بیان نے نظم کی تفہیم میں جو رویہ اپنایا ہے اس پر میر کا یہ مصرع صادق آتا ہے :

 دیدنی ہے شکستگی دل کی !

عارفہ شہزاد: اگر میر کا دل اس کی "دلی "تھی تو ابرار احمد کی نظموں کا دل یہ "سیر بین ” ہے یا یوں کہ لیجیے کہ سیربین کا یہ کردار(character )ہے جو ان کے کل کلام کا حاصل ہے، یہ وہ معجزہ فن ہے جس میں خون جگر کی نمود واضح ہے مگر اصحاب کا رویہ اس "دل ” کی تفہیم میں ایسا ہی ہے :”جو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا "ابرار احمد نے اگر کچھ اور نہ بھی لکھا ہوتا تو یہی ایک نظم انھیں اردو ادب کی تاریخ میں زندہ رکھنے کے لیے کافی و شافی ہے !میں نے کردار کی اہمیت کی طرف اس لیے با لخصوص اشارہ کیا کے یہ نظم نہ تو ساختیاتی تفہیم کی متقاضی ہے نہ جدیدی و مابعد جدیدی نظریات کی محتاج ہے بلکے اس کی تشریح، توضیح و تعبیر بلکہ محاکمے میں اگر کوئی کلید کآر گر ہو سکتی ہے تو وہ "تمثیل نگاری ” کی تکنیک ہے !جی ہاں یہ ایک تمثیل ہے، جس کا ایک مرکزی کردار ہے، جس کے مکالمے ہیں، جس کے گرد ایک منظرنامہ( Scene )بھی موجود ہے، جس کی حرکات و سکنات کی عکاسی بھی واضح ہے ِ نئی تھیوریوں کے نعرہ زنوں کو اگر یہ روایتی اصطلاح ناگوار گزرے تو معذرت کہ ادب میں روایت محض دفن کر نے کے لیے نہیں ہوتی بلکہ جدت کے ساتھ آمیز ہو کر چلے تو :”نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں !”اور ادب اسی سرشاری کی کیفیت کا ادراک اور اس میں دوسروں کی شراکت کے لطف سے حظ اندوز ہونے کا نام ہے ِ اور تنقید اس لطف کی تفہیم کی سعی کا نام ہے اور اس کا فریضہ ہے قاری کی رہنمائی، کہ کیا پڑھنے لائق ہے اور کسے پس انداز کر دیا جائے !یہ ادیبوں کو بھی راستہ دکھاتی ہے کہ کیا لکھا جائے ؟ جو معاشرے کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کرے -تو کیا یہ نظم ادب اور زندگی کے رابطوں کے استحکام کا باعث نہیں؟ یقیناً ہے !اپنی فنی پرداخت میں اس نظم کے ڈانڈے ن۔ م۔ راشد کے "ایران میں اجنبی "کے کیں تو ز سے جا ملتے ہیں اور جعفر طاہر کے کیں تو ز مشمولہ "ہفت آسمان ” کو بھی مت بھولیے گا !یہ کیں تو مذکورہ کیں تو ز سے منفرد اس لیے ہے کہ جعفر طاہر کا موضوع سات اسلامی ممالک کی تاریخ اور جغرافیے کا بیان ہے، ن۔م۔ راشد نے ایران کی سرزمین کے حوالے سے قلم اٹھایا ہے جب کہ ہمارے آج کے نظم گو نے اپنی زمین، اپنے ملک کی تاریخ، عالمی سیاست اور جنوبی ایشیا کے تناظر میں اس کی حیثیت کو نمایاں کیا ہے اور نئی تنقید اسی "مقامیت” کو آفاقیت گردانتی ہے -نیز ایسا ہی ادب عالمگیر کہلانے کا مستحق قرار پاتا ہے جو مقامیت کی کوکھ سے آفاقی جذبوں اور تاثیر کو جنم دے -میرا اس بات پر اصرار ہے کہ اس نظم کی دردمند لے، زمان و مکان کی قید سے ماورا ہے -ہرسرزمین اور ہر دور کا انسان جو سیاسی شکست و ریخت کے عمل سے گزر رہا ہو وہ اس درد کا شریک رہے گا -یہ نظم XYZکی کہانی ہو سکتی ہے، اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا !اصل شے ہے نظم کی بنت اور اس سے جنم لینے والی تاثیر جو آفاقی ہے –

 جب بھی ہر ادبی فن پارے کو ساختیات، جدیدیت یا ما بعد جدیدیت کے لگے بندھے پیمانے سے ناپنے کی کوشش کی جاتی ہے تو مجھے میٹرک کے وہ اساتذہ یاد آ جاتے ہیں جو ہر عشق مجازی کو عشق حقیقی ثابت کرنے پر تلے نظر آتے ہیں -ہر متن جدید تنقیدی نظروں سے نہیں سمجھا جا سکتا !دال ( signifier) اور مدلول (signified) کا حوالہ ہر متن میں دیا جانا ضروری تو نہیں، لانگ اور پارول کی تفسیریں ہر ادبی فن پارے پر منطبق نہیں ہوتیں !جاری ہے

عارفہ شہزاد:

 Respected Fellows! please don’t take any thing personal, i am just analysing what all of u said! and definitely i have a lot to say but urdu typing then posting is a bit difficult for me, so i will post the remaining early in the morning till then wait >>>

علی محمد فرشی: صاحبِ صدارت! مجھے تھوڑی سی مہلت دیں۔ جلد حاضری دوں گا۔

عارفہ شہزاد: جناب صدر !نظم کی تفہیم کے لئے جو تناظر درکار ہے وہ واضح ہو چکا، اس کے جملہ پہلوؤں کا احاطہ کرنے سے پہلے دیگر اعتراضات کا تجزیہ بھی ضروری ہے کہ یہ اپنی نہاد میں اعتراض براے اعتراض ہیں یا ان کے پیچھے کوئی منطق بھی ہے اور منطق دلیل مانگتی ہے !اور اس فورم پر مجھے سرسری بیانوں کے سوا کچھ نظرنہیں آیا !پہلا اعتراض انتخاب پر تھا، جس کا جواب دیا جا چکا اب بیچارے عنوان کا مقدمہ حاضر ہے !”سیر بین "اسم نکرہ ہے دنیا کے کسی ساتویں عجوبے کا نام نہیں کہ اسی سے مختص ہو کر رہ جائے !اردو لغت بورڈ کی مطبوعہ "اردو لغت "تاریخی اصول پر "کی جلد دواز دہم کے صفحه نمبر ٣٢١ رسالہ "مخزن "کے ١٩٠٨ کے شمارہ ٤٤ کے حوالے سے اس کا استعمال مذکور ہے نیز ١٩٧٥ میں کرنل محمّد خان کی” بسلامت روی ” میں بھی اس کے استعمال کا حوالہ دیا گیا ہے ِ مراد محض یہ ہے کہ ١٩٠٨ سے ١٩٧٥ تک اس لفظ کا استعمال ممنوع قرار نہیں پایا تو پھر اگر بی بی سی اردو والوں نے اپنے ایک پروگرام کا نام یہی رکھ لیا تو اس لفظ کے در آئندہ نسلوں پر بند کرنے کا سبب کیا ہے !سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں

جاوید انور: محترمہ عارفہ شہزاد جس جذباتی شدت سے نمودار ہوئی ہیں اس کا تقاضہ صرف یہی نہیں کہ ہم اگلے بنچوں پر بیٹھے ہوئے فرمانبردار طالب علموں کی طرح خاموشی سے ان کی گفتگو سنیں اور بستے سنبھال کر گھر یا گلی کا رخ کریں- بلکہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ اپنے دماغوں کے خلیوں میں جنبش پیدا کرنے اور ان کی باتوں پر غور و خوض کرنے کی کوشش کریں- اس سے پہلے کہ ان کی بات اپنا ہی پیرہن بن جائے، میں نے سعی کی ہے کہ اس سے کچھ قابلِ بحث نکتے آپ خواتین و حضرات کے دستر خوان پر سجاؤں تا کہ ماحول میں کچھ ہل چل پیدا ہو-

،‘‘ یہ فورم اس لیے قایم ہوا کہ تنقید اس امر کا تعین کرے کہ اردو ادب میں کیا ایسا کچھ لکھا جا رہا ہے جسے عالمی ادب کے مقابل فخر سے پیش کیا جا سکے !‘‘

،‘‘ ساختیاتی نظریے کو مرغوب رکھنے والوں کو تو با لخصوص میڈیم یعنی شاعر کی بات ہی نہیں کرنی چاہیے، صرف متن پیش نظر رکھا جائے کہ وہ کیا کہتا ہے !‘‘

،‘‘ اس نظم میں جس طرح نظم گو نے دائر ہ در دائرۂ خارج اور باطن کی قوسوں کو آپس ایک نقطے پر لا کر ملایا ہے اس سے نظم کی بنت ایک جیومیٹریکل حسن رکھتی ہے -‘‘

،‘‘ ابرار احمد نے اگر کچھ اور نہ بھی لکھا ہوتا تو یہی ایک نظم انھیں اردو ادب کی تاریخ میں زندہ رکھنے کے لیے کافی و شافی ہے !‘‘

،‘‘ اپنی فنی پرداخت میں اس نظم کے ڈانڈے ن۔ م۔ راشد کے "ایران میں اجنبی "کے کینتو ز سے جا ملتے ہیں اور جعفر طاہر کے کینتو ز مشمولہ "ہفت آسمان ” کو بھی مت بھولیے گا !‘‘

،‘‘ اس نظم کی دردمند لے، زمان و مکان کی قید سے ماورا ہے -‘‘

 خواتین و حضرات، خصوصٍاً فیاض احمد وجیہہ، تصنیف حیدر، پروین طاہرہ، نصیر احمد ناصر، محمد حمید شاہد اور عموماًٍ زیف، علی محمد فرشی، علی ارمان، جلیل عالی، معید رشیدی، رفیق سندیلوی، جلیل عالی، ناصر عباس نئیر اور باقی لوگ جو میری آواز سن رہے ہیں، میں آپ سب سے مخاطب ہوں۔۔

 عارفہ شہزاد: جناب صدر !میں دعوی سے کہتی ہوں کہ بی بی سی اردو کے پروگرام اور اس نظم کے انداز بیان میں زمین آسمان کا فرق ہے اور یہ بھی مت بھولیے کہ موازنہ ایک ہی ہیئت کی اشیا میں ہوا کرتا ہے نظم کا نظم سے موازنہ تو پڑھا تھا نظم کا ریڈیائی پروگرام سے محض نام کی مماثلت کی بنا پر تقابل شاید تنقید کی دنیا کا انوکھا واقعہ ہے ! اس سے صرف نظر کیجیے، آگے چلیں ساختیات کے محبان کے لئے لغت میں اس عنوان کے معانی کا مطالعہ دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا، سیر +بین =سیر بین، مرکب لفظ ہے -سیر بمعنی تماشا اور بین بمعنی دیکھنے والا -"فرہنگ عامرہ”از عبد اللہ خویشگی کے صفحہ ٣٥٤ پر اس کے دو معانی درج ہیں ١-تماشا دیکھنے والا ٢-تماشا دکھانے والا ———گویا جو خود بھی دیکھتا ہے اور دوسروں کو بھی دکھاتا ہے، وہ خارج سے بھی واسطہ رکھتا ہے اور داخل سے بھی بے خبر نہیں !”فرہنگ تلفظ "از شان الحق حقی کے صفحہ ٦٥٠ پر اس کا مطلب لکھا ہے "کانچ کے ٹکڑوں کا کھلونا "کیا کہتے ہیں ساختیات والے یہ "کانچ "کا "دال” کس چیز کا” مدلول "ہے ؟؟؟ایک بار پھر کلاسک سے رجو ع کیجیے :لے سانس بھی آھستہ کے نازک ہے بہت کام آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا دنیا کو آئنہ خانہ کہنا یا پھر دل کو شیشہ کہنا کہیں یہ دونوں معانی اس نظم میں آمیز تو نہیں ؟؟؟ہیں !!!جناب صدر !کہنے دیجیے کے اس نظم میں یہ دونوں معانی ساتھ ساتھ چلتے ہیں بس اس کی تفہیم کے لئے ضروری ہے کہ ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی

عارفہ شہزاد: جناب صدر !یہ بھی درست ہے کہ تنقید محض "دیدہ دل ” کی صلاحیت کو تسلیم نہیں کرتی !اسے دلائل سے واسطہ ہے سو اس کی تسلی کے لئے دلائل بھی موجود ہیں !ایک بار پھر لفظ کی ساخت پر غور کریں "سیر "سلوک کا بھی تو ایک مقام ہے !تصوف کی مشہور تصانیف”مصباح التعرف” اور "مکاشفات الاسرار "میں اس سے مراد لی گئی ہے "ایک تجلی سے دوسری تجلی میں جانا، ایک حالت سے دوسری حالت میں جانا، "اور اس نظم میں نظم گو نے دونوں قرینے ملحوظ رکھے ہیں !تکنیکی سطح پر بھی اور فکری سطح پر بھی۔ میں یہ نہیں کہہ رہی کہ نظم گو نے اس کا شعوری اہتمام کیا ہے، ہو سکتا ہے اسے خود بھی معلوم نہ ہو ! اور کیفیت وہ ہو کہ اقبال بھی اقبال سے آگاہ نہیں ہے !یہ نقاد کا فریضہ ہے کے متن کی ان وجدانی پرتوں کو بھی قاری تک پہنچائے -یہیں ساختیات کے لئے خوش آئند نکتہ ہے متن خود بول پڑا!جو متن خالق کی شرح کا محتاج نہ ہو اسے عظیم ماننے میں ساختیات والوں کو تامل نہیں ہونا چاہیے !

نصیر احمد ناصر: جناب صدر، آپ کے بار بار تخاطب سے حوصلہ پا کر ڈرتے ڈرتے کچھ کہنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ امید ہے کہ اسے جواب بر جواب نہیں سمجھا جائے گا۔ لفظ "سیربین” کے حوالے سے جو جوابی وضاحت کی گئی ہے اس پر عرض ہے کہ میرا جملہ یوں درج ہے، ” یہاں تک کہ عنوان بھی شاعر کی اپنی تخلیقی اختراع نہیں بلکہ موضوعی نوعیت اور ضرورت کے پیش نظر بی بی سی اردو سروس کے مشہور عالم پروگرام "سیر بین” کے نام پر رکھا گیا ہے۔ ” میں نے کہیں بھی اس لفظ کے استعمال پر اعتراض نہیں کیا اور نہ اس کا استعمال ممنوع قرار دیا ہے۔ ظاہر ہے الفاظ وہی ہوتے ہیں اور لغات میں بھی درج ہوتے ہیں، اپنے اندر بے شمار معانی رکھتے ہیں، بات ان کے تخلیقی استعمال کی ہے جو ہر شاعر کا اپنا زائیدہ ہوتا ہے۔ یہ ہر کوئی جانتا ہے کہ "سیربین” بی بی سی کا بہت مشہور و مقبول پروگرام ہے جسے ہم لڑکپن سے سنتے آئے ہیں اور اس پروگرام کی نوعیت بھی وہی ہے جو کم و بیش اس نظم کی ہے یعنی تماشا دیکھنا اور دکھانا۔ یہ بھی ہر کوئی جانتا ہے کہ اس پروگرام میں دنیا بھر میں ہونے والے واقعات یعنی "تماشوں” کی تفصیلات اور ان پر معروضی اور ان سائٹ تبصرے پیش کیے جاتے ہیں۔ لہذا نظم کا عنوان پڑھ کر اور پھر نظم پڑھ کر ریڈیائی پروگرام "سیربین” کا نام فوراً ذہن میں آ جانا قدرتی امر ہے۔ اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں اور نہ کسی دانستہ بدگمانی کا دخل ہے اور نہ اس سے لفظ کا استعمال ممنوع قرار پاتا ہے۔ اس میں کیا بری بات ہے۔

جاوید انور: ڈرتے ڈرتے کیوں نصیر صاحب؟۔۔

نصیر احمد ناصر: جناب صدر، اس کی تفصیل یہاں بیان کرنا مناسب نہیں۔ پھر کبھی سہی، جب آپ صدارت کے منصب سے فراغت پا کر مائی ڈیر جاوید بن جائیں گے

عارفہ شہزاد: اب آئیے براہ راست متن کی تفہیم تمثیل نگاری کے تناظر کو ملحوظ رکھتے ہوے کرتے ہیں – نظم کے متن پر اعتراض ہوا اس میں شعری عناصر کی کمی ہے !کونسے شعری عناصر ؟کیا تشبیہ ؟کیا استعارہ؟یا پھر تمثالیں؟کہیں ان مبہم تمثالوں کا تقاضہ تو نہیں نظم سے جو ِ ِ ِ ِ اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا !شکر ہے نظم ان جملہ علتوں سے پاک ہے !کہ یہ اس نظم کا تقاضہ ہی نہیں تھا اور نہ پرکھنے کا معیار !اس نظم کے محاسن جاننے ہیں تو "تمثیل نگاری "کے لوازمات ذہن میں تازہ کیجیے اور اس کسوٹی پر نظم کو پرکھئے !جاری ہے

نصیر احمد ناصر: جناب صدر، اتنی دھواں دھار تنقید میں مجھ جیسے کم علم اور معمولی لوگ ڈریں گے نہیں تو اور کیا کریں گے۔ آخر میں نے اسی زمیں پر انہی دوستوں کے درمیان رہنا ہے، زمان و مکاں سے ماورا تو ہونا نہیں۔ اس تنقید کو پڑھ کر مجھ پر یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ اس نظم کے ساتھ گویا اس کا ایک کردار جنرل یحیی خان بھی زمان و مکاں سے ماورا ہو گیا ہے۔ البتہ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ زمینی کرداروں اور علاقوں بشمول جنرل یحی خان کے حوالوں سے، زمین پر لکھی گئی یہ نظم زمان و مکاں سے ماورا ہو کر کہاں چلی گئی۔ ہمیں ورائے زمان و مکاں کا احوال کیسے پتہ چلے گا۔

عارفہ شہزاد:

Honourable fellows! i just read justification by my respected fellow naseer ahmad nasir sahib. If he is there i must say THATS THE SPIRIT SIR! here I am to learn from all of u, the worthy learned bodies, i was mistaken he is right. I can also take things wrong but I am never hesitant to admit my mistake in front of all. If it was permitted to delete my arguments from discussion, i would have preferred it but it will spoil the the sequence of discussion, therefore let the things move on, as they are. But before going ahead A BIG SORRY TO NASIR AHMAD NASIR if my words hurted his feeling.

نصیر احمد ناصر:

 It’s OK Arifa. Please carry on your discussion. I am not hurt by any of the critique, rather I am enjoying. Aur jab mein enjoy karnay lagta hoon to zamaan o makaan sa maawraa ho jata hoon. Please go ahead.

عارفہ شہزاد: محترم نصیر احمد ناصر صاحب !میں تو براہ راست متن کی طرف آنے والی تھی مگر اب پھر اعتراض اور رد اعتراض کا سلسلہ آغاز ہو چلا ہے !میرے الفاظ یہ تھے کہ نظم میں مقامیت ہے مگر تاثیر آفاقی ہے -یا یوں که لیں یحیی خان کی بجائے کوئی بھی الف، بے ‘جیم ہوسکتا تھا، کردار اہم نہیں، کردار سے وابستہ کہانی اصل علامت تشکیل دیتی ہے جو نظم کو استعاراتی سطح تک لے جاتی ہے اور یوں نظم میں وہ شعری محاسن بھی آ جاتے ہیں جن کی کمی کا گلہ ہے !جاری

نصیر احمد ناصر: عارفہ، میں دخل در معقولات کی معذرت چاہتا ہوں، آپ میری رائے کو اتنی اہمیت نہ دیں اور اپنا تنقیدی بیان بر متن جاری رکھیں، کیونکہ اس نظم میں متن ہی متن ہے۔ ویسے متن کے بھی کئی معانی ہیں، دیکھتے ہیں آپ کون سا معنی لاگو کرتی ہیں۔ بے جا مداخلت کی ایک بار پھر معذرت!,

عارفہ شہزاد: جناب صدر !متن راہ تک رہا ہے میں یہ جوابی سلسلہ یہیں منقطع کرتی ہوں مبادا مجھے بھی ان "ملامتی صوفیوں” میں شمار نہ کر لیا جائے جو تنقید کو جھپٹنے، پلٹنے اور پلٹ کر جھپٹنے کا عمل سمجھتے ہیں !آگے بڑھنے سے قبل ایک بار پھر معذرت اگر مجھے نظم کی تفہیم میں کوئی غلطی ہوئی ہو !مگر جو میں نے سمجھا، جو نظم نے مجھے سمجھایا وہ آپ تک پہنچانا، خالص اپنی تعصب سے پاک رائے کا اظہار میرا حق ہے –

عارفہ شہزاد:

 Worthy Fellows! for a beginner of computer like me, it is difficult to type, copy, paste for so long. Its 3 O’clock in the morning so i want permission to leave till tomorrow. My arguments about the TEXT of the poem are most awaited but to be continued till tomorrow.

محمد حمید شاہد: جناب صدر، ہے نا عجیب بات، کہ وہ نظم جس پر ہم بات کرنے کو بھی تیار نہ تھے اسے عارفہ نے نہ صرف ابرار احمد کی نظموں کا دل قرار دیا اس نظم کے کاٹھ کے ڈبے والے کردار کو شاعر کے کل کلام کا حاصل بھی کہہ دیا۔ ابرار نے اپنی اس نظم کو پسندیدہ نظموں میں سے ایک کہا تو احباب کا شدید رد عمل سامنے آیا جب کہ مزے کی بات یہ ہے کہ شمس الرحمن فاروقی نے جب شب خون کا چالیس سالہ بہترین تحریروں کا انتخاب چھاپا تو اس میں اس نظم کو چار صفحات دے دیے۔ عارفہ کا پر جوش تنقیدی دفاع ممکن ہے ان دوستوں کو ہضم نہ ہو جو اس نظم کو لائق اعتنا نہ جان کر اس پر یا تو بات کرنے سے ہچکچا رہے ہیں یا پھر اسے برملا رد کر رہے ہیں، فاروقی صاحب کے اس انتخاب میں اس نظم کے جگہ پا لینے کو کس کھاتے میں رکھا جائے گا؟ مجھے احباب کی تنقیدی بصیرت پر کوئی شک نہیں، مگر فاروقی کے تنقیدی فیصلوں کو بھی تو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ عارفہ کو اپنی بات مکمل کرنی چاہئیے اور دوسرے احباب یقیناً اب بات کرنے کی طرف مائل ہو گئے ہوں گے۔ نصیر احمد ناصر کا بات کرنا مجھے بہ طور خاص بہت اچھا لگا، اسی طرح ہم نظم کے نئے معماروں پر ایک بے لاگ مکالمہ قائم کر سکتے ہیں۔

محمد حمید شاہد: اور ہاں، یہاں صرف اردو رسم الخط میں ہی بات ہونی چاہئیے، جناب صدر

’’پروین طاہرہ‘‘ نہیں ’’ پروین طاہر‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے اچھے بھلے طاہر راٹھور بھائی اس ’’ ہ‘‘ لگنے پر خوب تلملا رہے ہوں گے۔

پروین طاہر: جی شاہد بھائی ہمارے اتنے پیارے طاہر کو طاہرہ بنا دیا جانا کوئی کم تشویش ناک بات نہیں:))) چلیں اسی بہانے سب کے ہونٹوں پر ہنسی تو آئی عارفہ بہنا آپ نے تو ایسی عینک لگائی کہ باقی سب کو اندھا قرار دے دیا۔ ہمیں آپ کی بصیرت افروز باتیں اچھی لگیں۔ مگر آپ نے جو سیر بین کو ان کی شاعری کا دل بنا ڈالا تو میں آپ کو ان کی وہ نظمیں تجویز کروں جو دلی معاملات کی سمت نما نہیں بلکہ سراپا دل ہیں۔ اور ان کی دوسری نظموں کو اچھا کہنے کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ ان کی یہ نظم بری ہے۔ آپ دوسروں کی پسند نا پسند کو کوٹ کئے بغیر بھی اس نظم پر اپنی بات اپنا اصرار جاری رکھ سکتی ہیں۔ ار یہ زیادہ علمی او خوشگوار رویہ ہوگا۔ اور شاہد بھائی عارفہ کا پر جوش دفاع مجھے اچھا لگا۔ اپنے نقطہ نظر پر کلئر ہونا چاہئے۔ آپ ایسی ’’دنفنتریاں’’ نہ چھوڑیں جو شرارت کا درجہ رکھتی ہوں:))))۔

عارفہ شہزاد: جناب صدر !آپ کی وساطت سے محترم احباب سے محض اتنی گزارش کروں گی کہ یونی ورسٹی میں تدریسی مصروفیت کے سبب اور کچھ ذاتی مصروفیت کی وجہ سے میرا نو بجے سے قبل آن لائن ہونا مشکل ہے، تب تک میں سن سکتی ہوں سنا نہیں سکتی !آپ احباب کی محبت کہ آپ نے میری باتوں کو قابل توجہ سمجھا، یاد رہے اگر میں نظم کے خلاف جانے والے کسی نکتے کا رد کرتی ہوں تو اس سے آپ کی علمی حیثیت اور مقام و مرتبے کو چیلنج کرنا مقصود نہیں ہے یہ ایک علمی بحث ہے، کوئی اگر اپنے موقف پر جما ہے تو اسے براہ راست مخاطب کرنے میں کیا حرج ہے ہے ؟اسی ذاتی انا کا مسلہ نہیں بنانا چاہیے – احباب گواہ ہیں کے میں نے تو محبت اور احترام کو نبھاتے ہوۓ ان باتوں پر بھی معذرت کر لی ہے جو بے دلیل نہیں ! مگر آپ بھی تو حوصلہ کیجیے نظم کی تفہیم کے لئے بصارتوں اور سماعتوں کے در وا کیجیے، اب میں اگر کسی خاص نکتے پر بات کروں یا اسے رد کروں تو ِ ِ ِ ِ روئے سخن کسی کی طرف ہو تو روسیاہ!یہ میں نہیں ہوں میری دلیل ہے جو آپ کے موقف کو چیلنج کرے گی !گویا متن کا جھگڑا ہے کلام سے نمٹایا جائے گا ! نہ آپ یہاں نہ میں—— صرف ایک علمی مکالمہ ! تو یہی سمجھیے کچھ بھی یہاں موجود نہیں سوائے متن کے ——–رہے نام متن کا۔۔۔۔۔

نصیر احمد ناصر: رہے نام متن کا! سبحان اللہ!! متن زندہ باد!!! شاعری جائے بھاڑ میں!!!! متن تو نثر میں بھی ہوتا ہے، پھر شاعری کی کیا ضرورت ہے۔ جو کچھ اس نظم میں اتنی تفصیل اور حشو و زوائد کے ساتھ بیان ہوا ہے وہ ایک مضمون میں انتہائی عمدگی سے بیان ہو سکتا ہے۔ آخر شاعر نے اسے نظمیہ آہنگ ہی میں کیوں لکھا ہے۔ کچھ تو وجہ ہو گی۔ جب کسی منظوم فن پارے پر بات ہو گی تو سب سے پہلے اس میں شاعری تلاش کی جائے گی۔ زبان و بیان کی بات ہو گی اور شاعری تلاش کرنے کا بھی یہ مطلب ہرگز نہیں کہ محض اسے عروضی پیمانوں پر ہی پرکھا جائے گا۔ جی نہیں! شعری فن پارے کی شعری جمالیات سے بھی حظ اٹھانا ضروری ہوتا ہے۔ کیا اخبار کی خبر یا حالات حاضرہ پر تبصرے کو صرف عروض کا جامہ پہنا دینے سے وہ شعری فن پارہ بن جائے گا۔ متن تو اس میں بھی ہوتا ہے۔ کچھ ایسی بات کیجئیے جو دل کو لگے۔ نظم کی خوبیوں پر ضرور بات کیجئیے تاکہ نا آگاہ آگاہ ہو سکیں لیکن نظم کی کچھ نا مطابق خامیوں کے دفاع پر اپنا تنقیدی فیول ضائع نہ کیجئیے۔ بدقسمتی سے اس نظم کی کمزوریوں پر بات کیے بغیر اس پر کوئی سنجیدہ مکالمہ قائم نہیں ہو سکتا۔ نظم انسانی قلم سے برآمد ہوئی ہے اور اسی دنیا اور اسی نوع انسان کی لیلا ہے، اس میں کسی مافوق الفطرت دنیا کے متون نہیں ہیں۔ شاعر اسی تماشا گاہ عالم پر تماشا کناں کسی گوشۂ عافیت کا خواہاں ہے۔ اسے کسی دیوتا یا خدا نے نہیں لکھا۔

علی محمد فرشی: جناب صدر! آپ کے زیرِ صدارت جاری "حاشیے ” کے اس اجلاس کو ایک تاریخی اعزاز بھی حاصل ہو گیا ہے، یعنی اس میں ایک نئی قسم کی تنقید وجود میں آ رہی ہے، مستقبل میں شاید اس کے لیے کوئی اصطلاح بھی وضح ہو جائے البتہ اُس وقت تک اِسے "خود کش تنقید” کے نام سے پکارنا مناسب رہے گا۔ خودکش تنقیدی حملے میں بسا اوقات شاعر تو بچ نکلتا ہے کہ ضروری نہیں نشانہ درست بیٹھے، اور بھی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں مثلاً کوئی دوسرا بھی اس کی زد میں آسکتا ہے۔۔۔۔۔۔ لیکن حملہ آور کا محفوظ رہنا صرف ایک ہی صورت میں ممکن ہے کہ وہ ذہنی دباؤ میں اپنے بم کی پِن نکالنا بھول جائے۔ لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ اب ایسے بموں کا فیشن نہیں رہا۔ اب ریموٹ کنٹرولڈ ٹیکنالوجی کا دور ہے۔۔۔۔۔ اور ریموٹ کنٹرول دور پناہ گاہ میں محفوظ کسی اور کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔

 صاحبِ صدارت! یہ خود کش حملے رکوائیے، تاکہ نظم پر کوئی سنجیدہ بات کرنے کا ماحول دستیاب ہو سکے۔ شکر کا مقام ہے کہ یہ ان کیمرہ اجلاس ہے ورنہ پوری دنیا ہمارا نظارہ کرتی۔

 جناب صدر! جلدی اپنی رٹ قائم کیجیے ورنہ ڈرون حملے بھی شروع ہو سکتے ہیں!

نصیر احمد ناصر: جناب صدر، اگرچہ میں اس نظم پر اپنی رائے دے چکا ہوں لیکن رخصت لینے سے پہلے آپ کی وساطت سے احباب سے گزارش ہے کہ اگر متن ہی پر بات کرنی ہے تو پھر اس نظم پر صحیح مکالمہ قائم کرنے کے لیے لمبی لمبی تاویلوں اور نظری تنقید کی تھیوریز آزمانے کے بجائے عملی تنقید سے کام لیا جائے۔ کیونکہ نظم کا متن سوشیو پولیٹکل، اور سوشیو اکنامک ہے، ڈیلفیائی نہیں، جمالیاتی بھی نہیں۔ اس میں عالمی سیاسی بساط ہے، نیو ورلڈ آرڈر ہے (جو اب خاصا پرانا ہو چکا ہے )، استعماری قوتیں اور ان کے مہرے ہیں، آمریت ہے، مارشل لا ہے، ملکوں اور سرحدوں کی جغرافیائی، معاشرتی، معاشی، ثقافتی تقسیم ہے، بلڈ بارڈرز ہیں، اجارہ داری ہے، انسانی المیوں کا ایک سلسلہ ہے جس میں طربیہ طنز بھی ہے، وغیرہ وغیرہ اور اس سب کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عظیم انسانی بے چینی کی لہر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نظم ایک سمٹاؤ کے بجائے بکھراؤ کے ساتھ چلتی ہے اور بعض جگہوں پر اپ سائیڈ ڈاؤن کی کیفیت سے دوچار بھی کرتی ہے۔ ایسی صورت حال میں بالخصوص کسی شعری فن پارے میں حالات و واقعات کا تسلسل اور کرونولاجیکل آرڈر اور کوئی مخصوص جمالیاتی آہنگ اور کوئی مربوط و منظم قسم کی نظریاتی دانش تلاش کرنا بے سود ہوتا ہے۔

عارفہ شہزاد: جناب صدر !چلیں کم از کم میری عاجزانہ اور مودبانہ عرض کے جواب سے یہ بات تو کھل کر سامنے آئی کہ نظم پر اصل اعتراض اس میں شعری محاسن کی کمی کا ہے، مگر سوال یہ ہے کون سے شعری محاسن ؟تشبیہ ؟استعارہ ؟تمثالیں ؟کیا نظم میں علامت کسی اور شے سے تشکیل نہیں پا سکتی ؟میں نے آغاز ہی میں عرض کیا تھا کہ اس نظم کی تفہیم میں رکاوٹ محض غلط تناظر کا انتخاب ہے !اس نظم کا مطالعہ”تمثیل نگاری "اور اس کے لوازمات کو پیش نظر رکھ کر کیا جانا چاہیے دیگر کوئی بھی پیمانہ اس کے لئے موزوں شاید ہی ہو -تمثیل کے لوازمات کیا ہیں اس پر چنداں بحث کی ضرورت نہیں، آپ سب کو معلوم ہے، کردار اور مکالمے، مزید براں منظر نامہ !شا عر ان سب کا امتزاج کس انداز میں پیش کرتا ہے یا با الفاظ دیگر اس کی کردار نگاری کا طریق کار کیا ہے ؟ان سب سوالات کی روشنی میں نظم کا تجزیہ، گرہیں کھولنے میں معاونت کرتا ہے۔ یہ طے ہے کے کردار نگاری اگر براہ راست ہونے کی بجائے با لواسطہ ہو تو کامیابی کے امکانات زیادہ روشن ہوتے ہیں -گویا شا عر اپنے بیان سے کرداروں کو متعارف کروانے کی بجائے اگر ان کے مکالموں اور، حرکات و سکنات کو وسیلہ بنائے تو نظم میں علامتیت پیدا ہو جاتی ہے ِ جو یقیناً شعری حسن ہے !آئیے پہلے اس نظم کے مرکزی کردار سے ملتے ہیں —-اسے ” داستان گو "کہا گیا مگر داستان میں تو فوق الفطرت عناصر ہوتے ہیں، بعید العقل واقعات ظہور پذیر ہوتے ہیں ِ ِ ِ اس نظم میں کسی کو کوئی داستان نظر آئی؟عالمی سیاست کی نیرنگیاں، برصغیر کی تقسیم، پاکستانی سیاسی تاریخ کے اتار چڑھاؤ، بنگلہ دیش کی علیحدگی کے سانحے اور عصر حاضر میں جنوبی ایشیا میں ہمسایہ ملک کے سامنے اپنی کم مائیگی کا احساس ِ ِ ِ اس نظم کا وہ وسیع کینوس ہے جسے قاری کے سامنے کم سے کم لفظوں میں پیش کرنا شاعر کی صلاحیتوں کا امتحاں تھا اور وہ اس میں کامیاب ٹھہرا ہے !ایک مصرعہ دیکھیے : روس پے جمتی برف کو دیکھو ِ ِ ِ ٹھنڈا ملک ہے اس پر برف تو جمے کی، سادہ سی جغرافیائی حقیقت ہے مگر کیا اس کا یہی مفہوم ہے ؟روس کی ٹھنڈی پڑتی معیشت کون بھول سکتا ہے جو متحدہ روس کی بکھرنے کا نتیجہ ہے !کیا مصرعے کی نہاد میں ان استعاروں کی پکار کوئی نہیں سن سکتا ؟کوئی ان شعری محاسن کا پارکھ نہیں ؟؟؟ذرا چند تراکیب پر غور کرتے جائیں کیا سب اکہری سطح کی حامل لگتی ہیں ؟آگ اگلتے بندر، اپنی گردن دینے والے احمق، انگلستان کا سبزہ، دیوار چین کے لڑھکتے پتھر، سبز ملایا، جاپان کے پرزے، مغلوں کی بارہ دری میں، لاڈ لداتی، پنکھے جھلتی باندی گوری ملکہ کی بگھی کے پھیرے، چھک چھک کرتا انجن، موٹر، چمنی یحییٰ خان اور بارہ من کی دھوبن، دھان کے کھیتوں میں بھاری بوٹوں کا کیچڑ، خوں کے رنگ میں غائب ہوتا نقشہ، پھانسی کے تختے !!!!!!متن پڑھتے چلے جایے ہر مصرع ایک نئی کہانی کی علامت، ایک نیا استعارہ!کیا یہ شعری محاسن نہیں ؟؟؟

 اب آئیے اس نظم کے مرکزی کردار کی طرف جس کے مکالمے اس نظم کو سمجھنے کی شاہ کلید ہیں ِ ان مکالموں پر طوالت، بلکہ تکرار کا اتہام ہے !!!یاد رہے یہ نظم کے مصرعوں کی تکرار نہ گنی جائے یہ اس کردار کے مکالموں کی تکرار ہے ِ یہ کردار کون ہے ؟ کیوں بار بار بات دہراتا ہے ؟؟؟یہ سیر بین ہے، میں خود بھی بچپن میں اس سے ملی تھی، ہمارے محلے کی گلی سے گزرا تھا آوازیں لگا رہا تھا "ویکھو جی !ویکھ جی !پیر فقیر دا دربار ویکھو !”میں نے اسے روکا تو وہ کتنا خوش ہوا تھا کہ اسے کوئی تماش بین مل گیا۔ ہوئی محنت وصول میاں!اس نظم کے سیر بین کا المیہ یہ ہے کہ تھک گیا کوچے کوچے کی گرد چھان آیا، مگر کوئی تماشا دیکھنے والا نہیں ملا !

 عارفہ شہزاد: جناب صدر یہی دکھ اسے ہزیان میں مبتلا کر رہا ہے -اس کی تکرار اس کی اندرونی شکست و ریخت کی عکاس ہے، اس بے ربطی میں بھی نفسیاتی منطق ہے -اس کردار کی موزونیت کا تقاضہ تھا جسے نظم گو نے بخوبی نبھایا ہے -پھر اس کا مقامی لب و لہجہ اس کے کردار کو اصلیت سے اور قریب کر دیتا ہے ——خالی کھیسے —-ہاسے —-لاڈ لداتی —–کر لاتی —-یہ سب لفظ مقامی لب و لہجے کی جھلک دکھاتے ہیں -شاید ناقدین کو ذیل کے مصرعوں جیسے مصرعے زائد لگے ہوں :

 برفی لڈو، پھل مکھانے —–گرما گرم جلیبیاں دیکھو

 لیکن کیا اس جیسے دیگر مصرعے بھی تماش گاہ کے منظر کو مکمل نہیں کر رہے ؟کیا یہ زندگی کو لا ابالی طریقے سے گزارنے والے لوگوں کا استعارہ نہیں بن گئے ؟؟؟

 ایک اور اعتراض اس نظم میں دیکھو کے لفظ کی تکرار پر ہی -میں پھر اسرار کروں گی کہ یہ تکرار اس نظم کے کردار کی موزونیت کا تقاضہ تھی ِ اگر تکرار نہ ہوتی تو اس کردار کے نفسیاتی ابال اور ہزیانی کیفیت کی اتنی عمدہ تصویر کشی نہ ہوتی !اس نظم کا موازنہ ” دیوار قہقہہ "سے کیا گیا ِ ِ ِ ِ اس نظم کی سادگی و پرکاری میں کلام نہیں مگر "سیر بین ” کی بے خودی و ہوشیاری بھی قبل داد ہے !

 دو اشیا کا موازنہ کرنے کے لئے لازم ہے کہ ان میں کئی باتیں مماثل ہوں، اسی صورت میں درجہ بندی ممکن ہے ِ نصیر صاحب کی مذکورہ نظم کی طوالت کم ہے، اس نظم کی زیادہ !دونوں کا بنیادی مزاج بھی فرق ہے -ایک تماشا دیکھ کر تضحیک آمیز قہقہے لگا رہا ہے۔ احساس کی منزل سے آگے نکل گیا ہے -جب کے اس نظم کا کردار اس دکھ میں کہیں گم ہو گیا ہے :

 رنگ سے، نم سے خالی آنکھیں

 روی ہوئی یا سو ہوئی ہیں

 میں نے ارادی طور پر بیچ کے دو مصرعوں کو الگ رکھا ہے :

 بے کل اور متوالی آنکھیں

 کسی فسوں میں کھوئی ہوئی ہیں

 کہ یہ الگ کردار کی آنکھیں ہیں -یہاں یہ اعتراض اٹھ سکتا ہے کہ شاعر نے تو ان کو الگ نہیں رکھا !منطقی بات ہے کیفیت کا فرق بتاتا ہے کہ دو مختلف کردار مذکور ہیں ِ یہاں تفہیم کے لیے ڈرامائی مفاہمتوں کی ضرورت ہے جو تربیت یافتہ قاری کی متقاضی ہیں!

عارفہ شہزاد: جناب صدر !اگر ایک نظم کو پڑھ کر محض ایک لفظ کی تکرار کی مماثلت کی بنا پر ان کی درجہ بندی کا امکان ہے تو مجھے اس تقابلی فہرست میں اقبال کے اس مصرعے کو بھی رکھنے دیجیے : کھول آنکھ زمین دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ ِ ِ ِ ِ کہ اس میرے میں بھی تو "سیر بین "اور "دیوار قہقہہ "کی طرح لفظ "دیکھو "کی تکرار ہے !محترم صدر صاحب!شاعری ان مل اور بے جوڑ چیزوں میں متخیلہ کی کارفرمائی سے ربط پیدا کر سکتی ہے یہ تنقید کا منصب نہیں کہ وہ ان مل اور بے جوڑ، مختلف مزاج کے حامل فن پاروں کا بے سود تقابل کرے -اس قسم کے مباحث سے ادب اور تنقید کی بہتری تو نہیں البتہ نقصان کا قوی اندیشہ ہے !اگر ایک نظم میں "دیکھو "کا لفظ آ چکا ہے تو در امکان تو پھر بھی کھلا رہتا ہے اور اگر صاحب تصنیف خود اپنی نظم کو عظیم قرار دینے لگے تو سماعتوں کو عجیب سا سنائی دیتا ہے !یہ تنقید کا فریضہ ہے اسے نقد و جرح کرنے دیجیے !ایسے نقاد کا انتظار کیجیے جو الٹے پاؤں لوٹ کر آپ کے تخلیقی تجربے کو سمجھ بھی سکے اور سمجھا بھی سکے !ورنہ اپنے منہ سے تعریف کا نتیجہ ناگواری کی صورت ہی برامد ہو گا !

نصیر احمد ناصر: جناب صدر میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ نظم زیر بحث اور "دیوار قہقہہ” کا موازنہ یا تقابل کہاں کیا گیا ہے۔ مجھے تو کہیں نظر نہیں آیا۔ کسی نظم کو پڑھ کر کسی اور نظم کا یاد آ جانا ان دونوں کا تقابل یا موازنہ نہیں ہوتا۔ بلاشبہ نظم زیر بحث اور "دیوار قہقہہ” اور "ان فوکس” ڈکشن میں مماثلت کے باوجود جداگانہ مزاج اور معانی کی نظمیں ہیں۔ یقیناً ڈکشن کی اس مماثلت ہی کے باعث میرا دھیان فوراً ان دو نظموں کی طرف گیا۔ لیکن میں نے ان کا موازنہ تو کہیں نہیں کیا اور نہ کسی اور دوست نے تقابل کی جرات کی ہے۔ بہتر ہوتا کہ عارفہ "ان فوکس” (جو ایک مختلف عنوان سے بھی شائع ہوئی ہے ) بھی پڑھ لیتیں، شاید ان کی تنقید نگاری کو موازنے کی مزید تحریک ملتی۔ جناب صدر، میرے ناقص خیال، علم اور تجربے کے مطابق تنقید ایک مشکل صنف ہے۔ یہ نہ تو بیان حلفی ہوتی ہے، نہ بیان صفائی اور نہ واعظ کی تقریر۔ یہ حقیقتاً ایک مشکل فن ہے جس میں دل، دماغ، بصارت، بصیرت، مطالعہ، مشاہدہ، تجربہ، وژن سب کچھ بڑا ہوتا ہے۔ میں تو اس میدان میں مبتدی ہوں، صاحب صدر، آپ کچھ روشنی ڈالیں تو ڈالیں!!!,

عارفہ شہزاد: جناب صدر !نظم کی تکرار اور بالخصوص "دیکھو "کی تکرار مجھے بھی اسی حصار میں لے رہی ہے یہ نظم جس طرح سے جانچے جانے کی مستحق تھی اس نگاہ سے کسی نے دیکھا ہی نہیں !متن کی قرت جس باریک بینی کا تقاضہ کر رہی تھی، افسوس ایسا ذمے درانہ انداز تنقید مجھے مفقود نظر آیا !سرسری جائزے ہمیشہ غلط محاکمے پر منتج ہوتے ہیں ِ مجھے اس فورم کے جملہ اراکین کی تنقیدی بصیرت پر شبہ نہیں، ان کی عظمتوں کے اونچے مینار کے سامنے میں اپنا قد بونا محسوس کرتی ہوں !مگر ذی وقار ناقدین کرام !خبردار کہ آپ تنقید کے اس ا علی مقام پر ہیں جہاں آپ کا ایک ایک لفظ لوگ موتی سمجھ کر چنتے ہیں، آپ کے نگاہ غلط انداز کی ذرا سی جنبش ادب کے راستوں کو الٹ پلٹ کر سکتی ہے !

جاوید انور: برادرم علی محمد فرشی، خودکش تنقید———— اگر آپ نظم پر بات کرنے میں ہچکچا رہے ہیں تو کم از کم اپنی اس اصطلاح پر ہی کھل کر بات کریں——

 نصیر احمد ناصر صاحب آپ نے تو خود کو تنقید میں مبتدی کہا ہے، میں تو اس میدان میں مبتدی بھی نہیں ہوں-

 اور محترمہ عارفہ شہزاد صاحبہ میں آپ کا انتہائی شکر گذار ہوں کہ آپ اس طرح کھل کر اور پورے جوش سے میدان میں اتری ہیں، لیکن آپ کی اس فصیح ا لبیانی سے مجھے خوف بھی آ رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی اور کو بات کرنے کا موقع ہی نہ ملے اور دو ہفتے گزر جائیں———-۔۔

تصنیف حیدر: عارفہ شہزاد کی اس طویل بحث سے تین باتیں سمجھ پایا ہوں۔ اول تو یہ کہ اس نظم میں جیومیٹریکل حسن ہے  (لیکن اس حسن کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں) دوئم یہ کہ یہ نظم ابرار صاحب کی وہ نظم ہے جس کے علاوہ ابرار صاحب اگر اور کچھ نہ لکھتے تو بھی اردو ادب کی تاریخ میں زندہ رہتے اور تیسرے یہ کہ اس نظم کو ساختیاتی تنقید بہت اچھی طرح سمجھ بھی سکتی ہے اور سمجھا بھی سکتی ہے – ایک بات اور سمجھ میں آئی کہ ہمارے ناقدین اگر ثابت کرنے پر آ جائیں تو کسی بھی یا کیسی بھی تخلیق کو مستحسن قرار دے سکتے ہیں- صدر محترم میں بس اتنی گزارش کرنا چاہوں گا کہ اتنی ساری باتوں کے بجائے اگر نظم کی جمالیات پر بات کی جاتی تو اچھا ہوتا کیونکہ جس طرح ہم لوگوں کو روس پہ جمی برف کا مطلب سمجھایا جا رہا ہے اگر اسی طرح گرما گرم جلیبیوں، ناچتی ہوئی لڑکیوں، گوٹا لگے کپڑوں، برفی، لڈو، پھول، زنخے اور مراثیوں کا مطلب بھی سمجھایا گیا تو بات بہت لمبی ہو جائے گی- یہ سب چیزیں تو ہم لوگ فرصت کے اوقات میں سمجھتے رہیں گے، کیونکہ سارے سیاسی، سماجی، تہذیبی معاملات تو میرے خیال میں ہم سب پر ہی روشن ہیں-اچھا عارفہ صاحبہ کبھی اس نظم کو آفاقی بتاتی ہیں اور کبھی اسے محض پاکستان کے مسائل کی عکاس کہتی ہیں یہ تو اسی طرح ہوا جس طرح کوئی شخص مرزا غالب کے علائی کو لکھے ہوئے خط میں موجود اس قطعے کا مطلب سمجھانے لگے جس میں انگریزوں کے ظلم کی روداد موجود ہے – مگر اس سے قطعے کے اچھے برے ہونے کا تنقیدی جواز کیا ہو گا؟ میں چاہتا ہوں کہ شاعری اور خبر کا فرق ملحوظ رکھا جائے تو عارفہ صاحبہ ہمارے اعتراضات کو سمجھ بھی سکتی ہیں اور ان کا بہتر جواب بھی دے سکتی ہیں-شاہد صاحب نے فاروقی صاحب کے انتخاب والی بات کہہ کر اچھا کیا ہے – میں ضرور مانتا ہوں کہ فاروقی صاحب کے پاس اس کا کوئی مضبوط جواز ہو گا مگر اسی انتخاب میں کچھ ایسی تخلیقات بھی ہو سکتی ہیں جن پر مجھے، شاہد صاحب کو یا کسی اور کو اعتراض ہونے کی گنجائش ہو

علی محمد فرشی: جنابِ صدر! میں نے کل آپ سے وعدہ کیا تھا کہ جلد حاضری دوں گا اس کے بعد آپ کا یہ طعنہ کہ میں نظم پر بات کرتے ہوئے ہچکچا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ میری سمجھ سے بالا ہے۔۔۔۔ آپ سے زیادہ اس بات سے کون آگاہ ہو گا کہ میں نظم فہمی کے اس سلسلے سے کس قدر مخلص ہوں۔ مجھے بتائیے کہ جب میں نے حاشیے کے دوسرے اجلاس کے لیے آپ کی نظم ” ہزارے کا مہمان کیا بولتا” کا انتخاب کر کے اس کا ابتدائیہ لکھا تھا تو کیا اس کا اعلان ہونے سے قبل آپ کو اس بات کا علم تھا؟ کیا میں نے آپ کی خوش نودی حاصل کرنے کے لیے ایسا کیا تھا؟ میں کسی کے دفاع کے لیے نہیں لکھتا نہ کسی تو کچلنے کے لیے قلم اٹھاتا ہوں۔۔۔۔۔ میں جو کچھ بھی لکھوں گا اپنے ضمیر کی آواز پر لکھوں گا۔ مجھے حیرت ہے کہ "خود کش تنقید” کا استعارہ آپ پر نہیں کھلا۔ ۔۔۔ آپ مجھے جس دنگل میں اتارنا چاہتے ہیں وہ نظم، فورم، صدرِ محترم اور معزز اراکین کے حق میں نہیں جائے گا۔۔۔ اور نہ میرے حق میں۔۔۔۔۔۔ اس سے زیادہ کیا وضاحت دی جا سکتی ہے۔ خدا آپ کی صدارت تا قیامت سلامت رکھے۔

جاوید انور: برادرم علی محمد فرشی، اور باقی پیارے دوستو، میرا خیال ہے کہ بحث کے آگے چلنے سے پہلے کچھ وضاحتیں صاحب صدر پر فوری فرض ہو گئی ہیں-

 علی محمد فرشی صاحب کا سوال ہے :

،‘‘ مجھے بتائیے کہ جب میں نے حاشیے کے دوسرے اجلاس کے لیے آپ کی نظم ” ہزارے کا مہمان کیا بولتا” کا انتخاب کر کے اس کا ابتدائیہ لکھا تھا تو کیا اس کا اعلان ہونے سے قبل آپ کو اس بات کا علم تھا؟ کیا میں نے آپ کی خوش نودی حاصل کرنے کے لیے ایسا کیا تھا؟‘‘

 نا صرف یہ کہ علی محمد فرشی سچ کہتے ہیں، بلکہ بات اس سے بھی بڑی ہے – لاہور سے سالزبرگ آتے ہوئے اسلام آباد میں 2-3 گھنٹے کے قیام کے دوران فرشی صاحب سے اپنی پہلی اور اب تک کی آخری ایک غیر ذاتی ملاقات میں میں نے متذکرہ نظم سنائی تو انہوں نے یہ نظم مجھ سے سمبل کے لئے لے لی، سمبل میں نمایاں شائع کی اور اس کے بارے میں کراچی تک کی کسی محفل میں تذکرے کا تراشہ مجھے اس طرح بھیجا کہ میری خوشی میں وہ دل سے شریک ہیں- انہوں نے مجھے فخر بخشا- علی بھائی اس لمحے تک میرے دل میں آپ کے احترام اور آپ سے پیار میں کوئی فرق نہیں آیا- اور آپ کی ایماندار نیت پر یقین میں بھی-۔ ۔۔

عارفہ شہزاد: جناب صدر !تصنیف صاحب کے کمنٹس سے مجھ پر یہ انکشاف ہوا ہے کہ ہمیں نظم کو نہیں سمجھنا نہ ہی اس کے متن کی علامتیت کی تفہیم اس فورم کا مقصد ہے !ہمیں ایک دوسرے کی دلیلوں کو رد کرنے میں ساری توانائیاں صرف کرنی ہیں!میری کل کی گفتگو کا ملخص بیان کرتے ہوے آپ نے جو نکات بیان کیے تھے وہ تصنیف صاحب کے گوش گزار بھی کر دیجیے تاکہ مجھ پر تضاد بیانی کا الزام نہ آئے ! میں نے مقامیت کی کوکھ سے جنم لینے والی، سیاسی شکست و ریخت کے عمل کے نتیجے میں نظم میں پیدا ہونے والی پر درد لے کی تاثیر کو آفاقی کہا تھا -واقعات کو نہیں -نظم کی تنقید میں آوٹ پٹ یعنی تاثیر یا اثر انگیزی اس کی کامیابی کی دلیل ہوتی ہے ان پٹ یا وہ واسطے نہیں جو کرافٹنگ کے لئے لیے جاتے ہیں -پابلو نرودا اور رسول حمزہ کی نظموں کو تو تصنیف صاحب مقامیت کے باوجود آفاقی مانیں گے مگر یہ نظم گو ٹھہرے بے چارے ابرار احمد صاحب ! بحث کے آغاز میں جب میں نے شمولیت اختیار کی تو جناب صدر !اس نظم پر کون بات کرنے کو تیار تھا ؟مجھے آپ کی پکارتی ہوئی آوازیں یاد ہیں، آپ نے نام لے لے کر پکارا کسی میں اتنی جرات تھی کہ نظم پر قائم کیے گیے سوالات کی آندھی کا سامنا کرتا ؟ اب آپ کو میری فصیح طول بیانی سے گلہ ہے تو حکم کیجیے اس نظم کی حمایت بند کر دوں یا تخریبی تنقید کر کے اس نظم کے ملبے پر کھڑے ہو کر اپنا ادبی قد بلند کر لوں ؟جیسا کے بیشتر اصحاب کی کوشش ہے !یہ نظم اتنی کمزور ہے تو حملے اتنے شدید کیوں ہیں ؟یاد رہے صاحب صدر !مضبوط دیواروں کو توڑنے کے لئے ہی زوردار ہتھوڑے چلائے جاتے ہیں !

 تصنیف صاحب کا علم ریاضی بھی خاصا کمزور لگتا ہے جو انھیں یہ نہیں معلوم کہ دو دائروں کے اتصالی نکتوں پر بہت خوبصورت پھول کی پنکھڑی نما پتی سی بنتی ہے اور یہ دو دائرے داخل اور خارج کے ہیں جنھیں شاعر نے اپنی کردار نگاری کی ہنر مندی کو بروئے کار لاتے ہوۓ ایک کردار میں سمو دیا ہے -اب انھیں یہ حسن نظر نہیں آتا تو یہی کہا جا سکتا ہے ِ ِ ِ ِ ِ حسن کے سمجھنے کو عمر چاہیے جاناں !اور تانیثیت جو ایک ما بعد جدیدی رویہ ہے وہ تو ویسے بھی اس نظریے کا علمبردار ہے کے فن پارے کی تحسین اور جمالیات کا ادراک صرف عورت کر سکتی ہے اب تصنیف صاحب کو یہ جما ل نظر نہیں آ رہا تو ان کا کیا قصور !

محمد حمید شاہد: جناب صدر، نصیر احمد ناصر سے ہماری طرف سے گزارش کریں کہ وہ گفتگو کا حصہ رہیں، ستیہ پال آنند جی اگر مختصر نوٹ کے لیے وقت نکال سکتے تو اچھا ہوتا۔ تصنیف جی، اگر فاروقی صاحب کے پاس بہ قول آپ کے کوئی مضبوط جواز ہو گا، تو پھر ہمارے پاس کیا جواز رہ جاتا ہے کہ ہم نظم پر اپنے اپنے دلائل کے ساتھ مگر ڈھنگ سے بات آگے نہ بڑھائیں، لازم نہیں ہے کہ ہم عارفہ کے دلائل سے مطمئن ہوں مگر انہیں سننا اور دلیل سے رد کرنا ہو گا۔ پروین جی آپ کی ’’دنفنتریاں’’ والی درفنتنیْ یا درفنطنی سمجھنے سے قاصر ہوں۔ صدر محترم عارفہ کو جس طرح آپ نے شٹ اپ کال دی ہے، یہ نامناسب ہے، نوجوانوں کو کھل کر اپنی بات کہنے دیں شاید اسی طرح ہماری اپنی لکنت دور ہو جائے۔ فرشی صاحب، واقعی ایک بار پھر آپ کی ضرورت ہے سنجیدہ نوٹ کے ساتھ، زیف، یامین، معید، کیا ہم آپ کے وسیلے سے نظم سے جڑ کر بات آگے بڑھا سکتے ہیں۔ یاد رہے حاشیہ کی پیشانی پر لکھا ہوا ہے ’’اردو شعر و ادب پر با مقصد اور سنجیدہ تنقید کا فورم‘‘۔

عارفہ شہزاد: جناب صدر !تصنیف sahab کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہمارے نقاد اگر کسی بات کو ثابت کرنے پر آئیں تو کسی کی بھی اور کیسی بھی تخلیق کو مستحسن ثابت کر سکتے ہیں -یہی بیان اگر الٹ دیا جائے تو ؟؟؟ہمارے نقاد ادب کا تاج محل تک ہتھوڑے برسا کر توڑنے پر قادر ہیں -جناب صدر مجھے کہنے دیجیے کہ ہمیں کلیم الدین جیسے نقادوں کی نہیں حسن عسکری جیسے نقادوں کی ضرورت ہے جو ادب کی تفہیم مخلصانہ و ہمدردانہ انداز میں کریں، تخریبی تنقید کے بل بوتے پر اپنے جھنڈے گاڑنے کی کوشش نا کریں -مزید یہ کہ فن پارے پر بحث اس مباحثے کا مقصد ہے جس کے لئے تصنیف صاحب کا مشورہ ہے کے اس کی تفصیلات میں جانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے !اسے الگ بیٹھ کر سمجھا جائے !یہاں مباحثہ نہیں مجادلہ چلے گا جس کا نتیجہ یہ ہے کچھ بزرگ کونے میں کھڑے تھر تھر کانپ رہے ہیں اور کچھ نے یہاں سے پاندان ہی اٹھا لیا ہے !

عارفہ شہزاد: جناب حمید شاہد صاحب کی شکر گزار ہوں، میں نے محترم جناب صدر صاحب کی شٹ اپ کال کو دل پر نہیں لیا کہ میں چیزوں کے مثبت پہلو دیکھنے کے حق میں ہوں -ہوسکتا ہے ان کے کہنے کا مقصد یہ ہو کہ دوسروں کو بھی موقع دیا جائے تو صاحبو !میں نے کسی کو کب روکا ہے ؟؟؟کوئی تو نظم پر بھی بولے ! کہ میری تو ساری تعبیریں ہی غلط ہیں !

جاوید انور: آپ مجھے جس دنگل میں اتارنا چاہتے ہیں وہ نظم، فورم، صدرِ محترم اور معزز اراکین کے حق میں نہیں جائے گا‘‘ (علی محمد فرشی)

 فرشی صاحب مجھے تا قیامت صدارت کی اگر خواہش تھی بھی تو ختم ہو چکی ہے – لیکن سوال یہ ہے کہ اس دنگل کے پیچھے کیا کوئی بھید ہے اور اگر ہے تو کیا ہے – میں یہ دنگل نہیں چاہتا، بالکل نہیں- لیکن دنگل کا سبب کون ہے – اگر نظم دنگل کا سبب ہے تو پھر تو یہ ایک مثبت بات ہے اور اگر کوئی اور عوامل ہیں تو ان کی مجھے بھی خبر ہونی چاہئے – ابرار احمد کو تو میں نے کبھی ایسے controversialنہیں دیکھا، تو پھر نظم ہی ہو سکتی ہے – اور اگر نظم پر بات کرنا دنگل میں آنا ہے تو پھر صاحبِ صدر بچارہ کہاں جائے -۔۔

تصنیف حیدر: صدر محترم میں عارفہ صاحبہ کی اس پر زور  تدلیل پر صاد کہتا ہوں میں مانتا ہوں کہ علم ریاضی میں ایسا ماہر نہیں ہوں کہ ان کی اصطلاح کو سمجھ سکتا- مجھے عارفہ صاحبہ کا اس نظم کا دفاع کرنا اچھا معلوم ہوا ہے مگر انہیں چاہیے کہ وہ ذرا اختصار سے کام لیں اور جو کہنا ہے جلد کہہ دیں تمہید میں زیادہ وقت صرف نہ کریں- وہ ایک اچھی نظم نگار ہیں اور ہو سکتا ہے کہ وہ اس نظم میں جو دیکھ رہی ہیں ہم لوگ نہ دیکھ سکے ہوں- میں تو بس اتنا جانتا ہوں کہ حاشیہ کے قواعد و ضوابط میں کہیں یہ نہیں لکھا ہے کہ یہاں محض ایسی ہی نظمیں پوسٹ کی جائیں گی جو اچھی ہوں یا یہاں پوسٹ کی جانے والی نظموں کو پسند کرنا ہر ناقد و شاعر کا فرض ہے – عارفہ صاحبہ جو کہنا چاہتی ہیں کہیں ہم لوگ غور سے سن رہے ہیں مگر اتنا فرق ملحوظ رکھیں تو بہتر ہے کہ ہم لوگ کسی کلاس میں بیٹھے ہوئے طالب علم نہیں ہیں- شاہد صاحب کی بات پر مجھے یہ خیال آتا ہے کہ حاشیہ میں کچھ ایسے افراد بھی ہیں جو فاروقی صاحب سے براہ راست بات کر کے اس نظم کو انتخاب کرنے کا جواز معلوم کر کے یہاں پوسٹ کرسکتے ہیں- اگر ایسا ہوسکے تو بات کرنے کے لیے شاید کوئی نیا نکتہ ہاتھ آسکے –

جاوید انور: پیارے دوستو، میرے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ ایک نظم پر گفتگو اس نفسیاتی دباؤ کا باعث بن سکتی ہے، صرف میرے ساتھ ہی نہیں، لگتا ہے ایسا بہت ساروں کے ساتھ ہو رہا ہے – اگر مجھ سے کوئی غلطیاں ہوئی ہیں تو میں سرِ عام معافی چاہتا ہوں اور تین چار گھنٹے کے لئے وقفے کی اجازت مانگتا ہوں، تا کہ ہم، میرے سمیت سارے، تھوڑی دیر کو ٹھنڈے دل سے سوچ سکیں، ریلیکس ہو سکیں اور پھر نظم پر سنجیدگی سے بات کر سکیں- مجھے آپ سب سے پیار ہے اور میں آپ سب کی انتہائی عزت کرتا ہوں اور مجھے کسی کی نیت پر کوئی شک نہیں اور کوئی اچھائی یا برائی مطلق اچھائی یا برائی نہیں ہوا کرتی-۔۔۔

اقتسار جاوید: جناب صدر میرا خیال ہے ڈرون حملہ رُک چکا ہے اور خُود کُش تنقید نے اپنا بوریا بستر باندھ لیا ہے لہذا مناسب ہے کہ اب نظم پر گفتگو کی جائے کرٹیسیاز کا مطلب ’فیصلہ  دینا‘ بھی ہوتا ہے، اور کرٹیسزم کا معانی ڈس اپروول بھی ہوتا ہے۔ حمید شاہد صاحب کے علاوہ کسی نے بھی ان معنوں سے اوپر اُٹھنے کی کوشش نہیں کی، اگر کوئی کسی کا دوست ہے یا کوئی کسی کا دوست نہیں، نظم کو اس سے کیا غرض؟ نظم تو یہیں ہے لوگ ادھر اُدھر ہو رہے ہیں ایک چو طرفہ لڑائی ہے جس میں کسی کو پتا نہیں چل رہا کہ کون مر رہا ہے اور کس کو مارا جا رہا ہے۔ نظم پر بات کے آغاز میں ہی منافقت جیسے لفظ اور ایک ایسے ابتدائیے سے کیا جس  میں تمام تر اشارے منفی تھے، وہ ہمدردی جو کسی بھی فن پارے کی درست معروضی تفہیم و تنقید کے لیے ضروری ہوا کرتی ہے جسے ہم کسی حد تک غیر جانبداری کا نام بھی دے سکتے ہیں سرے سے موجود ہی نہیں رہی اور گفتگو کو جملوں میں اُڑانے کی کوشش کی گئی۔ مجھے لگتا ہے منفی طرز عمل کا اصل نشانہ حاشیہ ہے یعنی نہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے۔

اور جنا ب صدر آب بھی گفتگو کو آگے بڑھانے میں ناکام رہے۔ رہی بات نظم کی تو جس قسم کی نظم آج کل لکھی جا رہی ہے اور معروف ادبی جرائد میں شائع کی جا رہی ہے اُس کو سامنے رکھتے ہوئے میں، سیر بین، کو ایک شاندار نظم ثابت کرسکتا ہوں۔

علی محمد فرشی:  جنابِ صدر! اس قدر تاخیر سے حاضر ہونے پر معذرت خواہ ہوں، باعثِ تاخیر میری حد درجہ بڑھی ہوئی ذاتی مصروفیت تھی، حاشا اس کے علاوہ اور کوئی عذر مانع نہیں تھا۔ البتہ ایک نکتے کی وضاحت اس لیے ضروری ہو گئی ہے کہ محمد حمید شاہد نے کچھ افشا کر دیا ہے اور کچھ اخفا میں رہ گیا ہے :

 ” تصنیف حیدر اور پروین طاہر کا یہ کہنا کہ حاشیہ کے لیے اس نظم کے انتخاب میں غلطی ہوئی ہے، علی محمد فرشی نے کھل کر یہ بات تو نہیں کہی مگر اپنے نوٹ سے یہی تاثر دیا ہے کہ نظم کا انتخاب درست نہ تھا”

 جنابِ صدر! اس بیان سے بدگمانی سر اٹھا سکتی ہے لہٰذا میں مذکورہ نوٹ سیاق و سباق کے ساتھ پیش کرنا چاہتا ہوں، خیال رہے کہ میں نے یہ نوٹ نظم پر باقاعدہ بحث شروع ہونے سے پہلے لکھا تھا، بھارتی بھائیوں کی بدگمانیاں رفع کرنے کی غرض سے۔ ( تفصیل وہاں ملاحظہ کی جا سکتی ہے )

،۔۔۔۔۔ ہمیں اس معاملے میں اس تنقیدی اصول کو ضرور پیشِ نظر رکھنا چاہیے کہ” تنقید کو اس سے غرض نہیں ہوتی کہ کسی نے کتنا "بُرا” تخلیق کیا ہے اسے تو”بہترین” سے سروکار ہوتا ہے۔ ” اب یہاں "حاشیہ” پر جو(تخلیق) نظم برائے تنقید منتخب کی جاتی ہے اس کا انتخاب ہی یہ بات طے کر دیتا ہے کہ اس کے محاسن کی تلاش ہی مطمحِ نظر ہے۔ یہ تو ممکن ہے کہ نظم کے انتخاب میں چوک ہو جائے اور مذکورہ اصول کا اطلاق نہ ہوسکے، ایسے میں قصور تو متن کا انتخاب کرنے والے کا ہو گا لیکن نزلہ شاعر پر گرے گا۔ اسی لیے میں اس حق میں نہیں ہوں کہ شاعر کو اپنی نظم کا انتخاب کرنے کا حق دیا جائے۔ یہ انتخاب ابتدائیہ نگار کا حق ہے، ظاہر ہے کہ وہ شاعر کی کسی بہترین نظم ہی کا انتخاب کرے گا اور اس کا مقدمہ لڑے گا۔ ہم نقاد کے انتخاب اور اس کے قائم کردہ مقدمے سے اختلاف کا حق رکھتے ہیں۔ "

 جنابِ صدر! "حاشیہ” کی انتظامی کمیٹی میں جب حمید شاہد نے بتایا کہ شاعر کا فیصلہ "سیربین” کے حق میں ہے۔ تو میں نے واقعی اس تجویز سے اختلاف کیا تھا، میری دلیل اس فورم کے مزاج اور ماحول سے متعلق تھی، جس طرح مشاعرے کی غزل حلقے کے اجلاس میں برائے تنقید پیش نہیں کی جا سکتی، اسی طرح حلقے کے تنقیدی اجلاس کے لیے موزوں نظم ضروری نہیں کہ "حاشیہ” کے لیے مناسب ہو۔ خاکم بہ دہن، میرا خدشہ درست ثابت ہوا۔ اور اب ہماری اکثریت ذہنی اذیت کا شکار ہے۔ چلیں تازہ حوصلوں کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں(جاری)

علی محمد فرشی: (۲)صاحبِ صدارت! شاعری کیا ہے ؟ اس سوال کا شافی جواب ادب کی تاریخ میں شاید اس کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں کہ” جو شاعر لکھ دے ” اب میرا پہلا سوال یہ ہے کہ کیا اس نظم کے لکھنے والے کو ہم شاعر مانتے ہیں؟ نصیر احمد ناصر بھی مانتے ہیں، جاوید انور بھی اور خاک سار بھی! میں نے ابرار کے صرف تین معاصر شاعروں کی گواہیاں پیش کی ہیں اس لیے کہ معاصر آسانی سے نہیں مانتے۔ ابرار احمد کے معاصرین بھی تہی دامن نہیں، نام گنوانے کی ضرورت نہیں، گزشتہ کسی اجلاس میں صدرِ محترم نے ان کی ایک فہرست دی تھی(میں ان کی بنائی ہوئی فہرست میں وحید احمد اور رفیق سندیلوی کو بھی شامل سمجھتا ہوں) یہ سب کے سب اپنے جداگانہ اسلوب اور (بنیادی /انفرادی)موضوعات کے باعث ایک دوسرے سے اتنے فاصلے پر ہیں کہ کوسوں سے ان کی الگ الگ شناخت ممکن ہے، تا حال یہ اعزاز ان سب کے لیے کچھ کم نہیں۔ شہنشاہیت کا زمانہ نہیں کہ ایک ہی ملک الشعرا ہو۔ خرابی یہیں سے شروع ہوتی ہے جب ہم سے کوئی ایک خود کو باد شاہ سمجھنے لگتا ہے۔ اپنے تئیں ایسا تصور کرنے میں کوئی مضائقہ بھی نہیں، اصل خرابی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ دوسروں کو بھی اس "راز” میں شریک کرنے لگتا ہے۔ اگرچہ معاصرانہ مسابقت ادب کے لیے ہمیشہ خوش آئند ہوتی ہے اور اگر معاصرین اسے مثبت رکھ سکیں تو اس میں سبھی کا بھلا ہوتا ہے لیکن یہاں استرداد کا رویہ نمایاں دکھائی دیا، نتیجتاً ردِ عمل میں جو حمایت آئی، اس کا بڑا حصہ بھی تنقیدی معیار کو نہیں چھو سکا۔۔۔ ( جاری ہے )

تصنیف حیدر: صاحب صدر! منفی ذہنیت کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ نظم پر تنقید کو حاشیہ پر تنقید کہہ کر ایک خراب ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسی غلط باتیں شرپسندی پر محمول کی جا سکتی ہیں- حاشیہ ہم سب کے لیے ادبی گفتگو کا ایک سنجیدہ پلیٹ فارم ہے اور تنقیدات کو حاشیہ کے خلاف نہ سمجھا جائے تو بہتر ہے – انتخاب پر بات کرنا ایک الگ مسئلہ ہے اس سے انتظامیہ پر کسی طرح کی انگشت نمائی مقصود نہیں جیسا کہ میں نے اپنے پہلے کمنٹ میں صراحت کر دی ہے اور اگر نظم کو خراب کہنے سے کوئی شخص یہ سمجھے کہ حاشیہ کے مقصد پر شک کیا جا  رہا ہے تو یہ اس کی زشت خیالی ہے – نظم پر بات کرنے کی تلقین کرنے سے بہتر ہے کہ اس کے اوصاف حمیدہ کو شمار کر کے لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ ان اہم نکات کی ترسیل بھی ہوسکے جو احباب کے دل میں ہیں کیونکہ ‘کرسکتا ہوں” سے تنقید کے میدان میں کام نہیں چلتا

علی محمد فرشی: (۳)  پروین طاہر نہ صرف نظم کی اچھی شاعرہ ہیں بلکہ اس کی ذہین پارکھ بھی۔ وہ شاعر کے کل کلام کو سامنے رکھ کر اس کے کسی فن پارے کا تنقیدی مطالعہ کرتی ہیں۔ شاید جلدی میں انھوں فیصلہ دے دیا تھا:

 "ان کی نظموں کا غالب رجحان باطنی ہے۔ میں ان کی نظموں کی پرانی اور باقاعدہ قاری ہوں اس حیثیت سے مجھے ان کی یہ نظم ان کے اسلوب کی نمائندہ نظم نہیں لگی۔ میں معاشرتی، تاریخی اور سیاسی تفاعل والی نظموں کے خلاف نہیں مگر ابرار کا مجموعی مزاج ایسا  نہیں اور مجھے اس بات بر اصرار ہے کہ وہ باطنی مزاج کا شاعر ہے۔

 حمید شاہد کا تنقیدی طریقۂ کار بھی نظم کو شاعر کی کلیت میں رکھ کر محاکمہ کرنے کا ہے۔ انھوں پروین طاہر کے جواب میں تھیسس قائم کیا ہے وہ قوی اور مدلل ہے :

 "ابرار کی نظم کا محبوب قرینہ یہ ہے کہ پہلے وہ باہر پھیلے منظر کو اپنی نظر میں بھر لیتا ہے، منظر پوری طرح نظر کلاوے میں نہ آئے تو وہ اپنے وجود کو متحرک کر کے پہلے منظر کا پراگا نکالتا اور نئے کی گنجائشیں پیدا کرتا چلا جاتا ہے۔ بکھری ہوئی زندگی کے بکھراؤ کو سمیٹنے کے لیے جس اسلوب کو اس نے اپنے اوپر روا رکھا، اس میں بکھرے ہوئے امیجز اور عام زبان سے شعری جمالیات کی تجسیم اور معنویت کی تشکیل ممکن ہو گئی ہے۔ ماننا ہو گا کہ عام درجے کے شاعر کو یہ قرینہ عزیز رکھنے پربکھیرسکتا ہے مگر لطف یہ ہے ابرار نے اسی قرینے سے بالعموم نیا پن اور تازگی اخذ کی ہے۔ یہی قرینہ زیر نظر نظم کا بھی ہے۔ "

 یہاں تک ایک بات تو واضح ہو گئی کہ "سیربین” ابرار احمد کی شعری اقلیم سے باہر کی شے نہیں۔ (جاری)

علی محمد فرشی: )۴)  صاحب صدر! ابھی تک اس نظم پر بڑا اعتراض اس کی جمالیات کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔ جمالیات نظم کے موضوع ہی سے پھوٹتی ہیں۔ اگر ہر تخلیق اپنا اسلوب اپنے ساتھ لاتی ہے تو پھر جمالیات کو اسلوب کا جز مان کر فن پارے کا مطالعہ کرنا ہو گا۔ کیا ہم "خضرِ راہ” سے میر کی کی جمالیات کا تقاضا کر سکتے ہیں؟ اور مجید امجد کی نظم "منٹو” کی جمالیات کی روشنی میں فیض کی نظم "تنہائی” کو پرکھ سکتے ہیں؟ یہ تو خیر خارجی پیمانے تھے۔ کسی ایک شاعر کی مختلف نظموں کی جمالیات کا یکساں ہونا بھی ضروری نہیں ہوتا۔ مثلاً میراجی کی نظم "یگانگت” کی جمالیات سے اس کی نظم "سمندر کا بلاوا” کو آنکا جا سکتا ہے۔ بعض اوقات کسی شاعر کے مجموعی جمالیاتی نظام سے اس کی کوئی ایک نظم انحراف بھی کر سکتی ہے، اس کے باوجود وہ اعلیٰ فن پارہ ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ احسان اکبر کی نظم کوئی "دابی پور کماد کی” ان کے جمالیاتی نظام سے یکسر منحرف ہو جاتی ہے۔

 جدید نظم نے جہاں نئی ہئیت کا چناؤ کیا وہیں پیش پا افتادہ زبان کو مسترد کر دیا تھا، اس معاملے میں مجید امجد،نم راشد اور میرا جی سے بھی کئی قدم آگے دکھائی دیتے ہیں۔ انھوں نے مقامی الفاظ کو شاعری کا حصہ بنا دیا۔ صاحبانِ علم کا اجتماع ہے مثالیں پیش کرنے کی ضرورت نہیں

 ۷۰ کے بعد ابھرنے والے لگ بھگ سبھی نظم نگاروں نے اس معاملے میں مجید امجد کے لسانی اجتہاد کو قبول کیا۔ کتابی جمالیات کی فوقیت سے انکار کیا اور موضوع سے قریب ترین زبان استعمال کی جس کے نتیجے میں جمالیاتی سطح نامانوس لگتی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ یہی نامانوسیت اس نظم کے رستے میں حائل ہو گئی ہے۔ ہمیں اپنے ذہن میں راسخ شدہ جمالیاتی معیار کو تھوڑی دیر کے لیے موقوف کر کے اس نظم کا مطالعہ کرنا ہو گاَ۔ (جاری ہے )

علی محمد فرشی: (۵)  جنابِ،صدر!”سیربین” کو میں نے طویل نظم کے طور پر پڑھا ہے، اس لیے نہیں کہ اس میں مصرعوں کی تعداد اسے طول دیتی ہے، بلکہ اس لیے کہ اس کا موضوعاتی پھلاؤاسے طویل نظم کے دائرے میں لے آتا ہے۔ قطع نظر معیار کے، اس حوالے سے بہت باتیں ہو چکی ہیںِ لہٰذا میں اس پر آپ احباب کا وقت برباد نہیں کروں گا۔ البتہ ان موضوعات کو جس طرح نظم کے کُل کا حصہ بنایا گیا ہے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ Scattered images سے اپنا تارو پود تیار کرتی ہے، لیکن کیا ان امیجز کے باہمی ربط کو قائم رکھنے کے لیے کوئی فنی قرینہ شاعر کے پاس نہیں؟ میں دیکھتا ہوں کہ نظم نے اپنی نامیاتی وحدت کو ایک نظر نہ آنے والے دھاگے میں پرو دیا ہے۔ یہ ظاہری بکھراؤ کیسے فنی بستگی میں ڈھل جاتا ہے، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ (جاری ہے )

علی محمد فرشی: (۶)  صاحب صدارت! دیکھنا یہ ہے کہ اس نظم میں لفظ ” دیکھو”کیا نظم کے حسن کو پامال کرتا ہے یا ہمیں ما بعد مصرعے تک پہنچانے میں معاون ثابت ہو کر اس کے فنی جمال میں اضافے کا باعث بن جاتا ہے۔ مجھے اس نظم کی قرأت کے دوران میں کہیں بھی اس حوالے سے اکتا ہٹ کا احساس نہیں ہوا۔ ہر مصرع دوسرے مصرعے کا ہاتھ تھامے ہوئے آگے بڑھتا ہے۔ (یہ ذوقی معاملہ تو ہو سکتا کہ کسی کو یہ تکرار ناگوار لگے لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ فن کی سطح سے گرا ہوا اصول ہے، اگر تکرار واقعی غیر فنی حربہ ہے تو پھر قافیے، ردیف والی ساری شاعری دریا برد کر دینا پڑے گی) "دیکھو” کے حوالے سے "دیوارِ قہقہہ” کا ذکر بھی اس بحث کا حصہ بنا۔ اور پھر اقبال کا حوالہ بھی بہ طور اس دلیل کے پیش ہوا کہ اولیت کو نہیں انفرادیت کو میزان بنانا چاہیے۔ "دیوارِ قہقہہ” کو زمانی اولیت حاصل ہے لیکن دونوں نظموں کا داخلی پیٹرن ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ دونوں نظموں کا موازنہ کرنے کی ضرورت اس لیے نہیں کہ ان میں سوائے "دیکھو” کے کوئی اور عنصر مشترک نہیں ملتا۔ دونوں نظمیں عمدہ ہیں، لیکن برادرانِ ملتِ ادب! تمھیں اتنی جلدی کیا ہے ؟ اس قضیے کا فیصلہ زمانہ بہت آسانی سے کر دے گا کہ ان میں سے کون سی نظم بڑی ہے ؟ میں آخر میں صفین سے مؤدبانہ التماس کرتا ہوں کہ اپنی اپنی سرحدوں پر واپس چلی جائیں تاکہ ہمارے صدر  صاحب بھی سکھ کا سانس لے سکیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاوید انور: علی محمد فرشی صاحب اس انتہائی خوبصورت گفتگو کا انتہائی شکریہ-۔۔

جاوید انور: معذرت خواہ ہوں، لیکن یہ وقفۂ صدارت ضروری تھا- اس عرصہ میں ہم نے علی محمد فرشی کی سنجیدہ لیکن غیر جذباتی رائے بھی پڑھ لی- میں سمجھتا ہوں کہ اس متوازی گفتگو میں جو دو انتہاؤں کی طرف بڑھ رہی تھی، مفاہمت غیر ممکن نہیں- شعر کی تفہیم کے سارے رستے جائز اور درست ہیں، اگر ہم شعر کے بارے میں سنجیدہ ہیں تو- سو فرشی صاحب کی اس گفتگو کے بعد میری درخواست ہے کہ ہم گفتگو کو نئے سرے سے شروع کریں- میں خود بھی حاضر رہوں گا اور ہم مل جل کر اب تک کی گفتگو سے، جسے ڈرون اور خودکش حملوں کے نام سے پکارا گیا، ایک تعمیری راستہ نکالیں گے، کہ وہ یہیں موجود ہے، علی محد فرشی کی گفتگو سے اس جانب واضح اشارے ملتے ہیں، سو آئیے خواتین و حضرات-۔۔

جلیل عالی: مرا خیال ہے اب مری معروضات درست جگہ پیسٹ ہو گئی ہیں۔

جاوید انور: محترم جلیل عالی کی رائے صحیح جگہ پر پہنچانے کی کوشش کر رہا ہوں:

 جلیل عالی: صدر محترم دوبارہ کوشش کر رہا ہوں دعا کریں پھر گڑ بڑ نہ ہو جائے۔ اختصار کے ساتھ عرض ہے کہ مرے خیال میں یہ نظم ” دیکھا ہے جو کچھ میں نے اوروں کو بھی دکھلا دے "کی دانش ورانہ آرزو سے متشکل ہوئی ہے۔ اس کا بیشتر حصہ افقی سمت میں پھیلا ہوا ہے۔ اگرچہ عم۔۔۔ودی جہت سے بھی تہی نہیں، مگر دونوں سطحوں میں تناسب کا تفاوت بہت ہے۔ اس طرح کی نظموں میں شعریت کے تسلسل کے ساتھ قاری کی توجہ جذب رکھنا خاصہ دشوار ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ نظم کا مرکزی کردار ابتدا میں گلی محلوں میں گھوم پھر کر لوگوں کو ‘سیربین ‘ دکھانے اور لبھانے والے ٹائپ کردار کے طور پر سامنے آتا ہے۔ مگر آگے جا کر وہ تاریخ اور زمانے کا قائم مقام ہو کر شاعر کی دانش ورانہ ذات کی نیابت کرنے لگ جاتا ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب معاملات بصارت سے آگے نکل کر بصیرت کی حدود میں داخل ہو جاتے ہیں۔ [ آسمان کا در ہے کہاں پر —منکر اور نکیر کو دیکھو/اور اپنی تقدیر کو دیکھو/اول کیا ہے آخر کیا ہے —–روز ازل سے شام ابد تک/جو کچھ دیکھ نہیں سکتے ہو /اور جو کچھ دیکھ رہے ہو دیکھو۔۔۔۔۔۔۔ آنکھ کی زد سے باہر کیا ہے / دل کی حد کے اندر کیا ہے —-اپنی خاک کے ٹیلے دیکھو] ایسے مقامات پر’ دیکھو ‘کا لفظ ‘سوچو’، ‘جانو’ اور ‘سمجھو’کے معانی اختیار کر جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اگرچہ شاعر نے نظم کے مختلف حصوں یا بندوں میں مضامین کی قسم بندی کے حوالے سے زیادہ تردد سے کام نہیں لیا تاہم ایک ڈھیلا ڈھالا سا التزام موجود بھی ہے۔ اس حوالے سے شاعر ہمیں عصر حاضر کے مقامی اور بین ا لاقوامی احوال، قومی اور بین الاقوامی تاریخ، طبقاتی اونچ نیچ، تقدیر و تاریخ سے پیدا ہونے والی انسانی و تہذیبی صورت حال، ازلی و ابدی سوالات اور ان کی مابعد ا لطبیعیاتی سطح کے رو برو لاتا ہے۔۔ ابرار احمد کا شمار دانشور شعرا میں ہوتا ہے۔ وہ حتی المقدور راست اظہار سے بچتے اور بیشتر ایمائی انداز اختیار کرتے ہیں۔ ان کی نظموں میں اگر کہیں بیانیہ ٹکڑے آتے بھی ہیں تو اپنی ناگزیریت اور تخلیقی جواز کے ساتھ آتے ہیں۔ البتہ اس نظم میں اس پہلو سے بھی تناسب والا مسئلہ ہے۔۔۔۔۔۔۔ لفظی تکرار کے علاوہ مضامین کی تکرار نے بھی نظم کی گوندھ کو متاثر کیا ہے۔ مثال کے طور پر "دل کی حد کے اندر کیا ہے "اور "اور سینے کے اندر کیا ہے "۔۔۔۔۔ "ماہ و سال کلینڈر کیا ہے "اور "شام و سحر کا چکر کیا ہے ” وغیرہ۔ اپنی تخلیقی جستوں کے باوجود نظم اپنے مناسب حجم سے ہٹی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔۔ ۔

جاوید انور: محمد حمید شاہد صاحب فرماتے ہیں:‘‘ خیر فن پارے پر بات مقصود ہو تو اس کی معنیاتی منطق سے کنی کاٹ کر آگے کیسے بڑھا جا سکتا ہے۔ اب اگر ابرار نے اپنی اس نظم میں خارج کے ایسے مظاہر پر نظر رکھی ہے جو انسانی تقدیر سے جڑے ہونے کی وجہ سے روح تک کو لرزا دیتے ہیں تو ہم اس کی طرف توجہ دیے بغیر محض نظم کے اسٹریکچر پر نظر کیسے جما کر رکھ سکتے ہیں۔ اس بار اتنا ہی۔‘‘

شاہد صاحب آپ بجا فرماتے ہیں- کسی بھی فن پارے کی معنیاتی منطق سے کنی کاٹ کر آگے نہیں بڑھا جا سکتا- لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر وہ حرف جو قرطاس تک آتا ہے اور ہر وہ رنگ جو کینوس پر ابھرتا ہے اور ہر وہ لے جو ہمارے کانوں کو چھوتی ہے، ہمیں اپنی معنوی منطق کی طرف کھینچتی ہے یا ہمیں تھوڑی یا زیادہ دیر کے لئے اپنی معنوی منطق کی ہمراہی و ہمدمی پر اکساتی ہے ؟

 نہیں—، مجھے یقین ہے آپ بھی یہی جواب دیں گے –

 تو پھر ادب و فن میں وہ کیا شے ہے جو معنی کو نا صرف مضبوطی اور پائیداری عطا کرتی ہے، بلکہ اپنی بنیادی خصوصیت کے طور پر سب سے پہلے قاری اور ناظر اور سامع کو اپنی اور اپنی درونی و موضوعی کہکشاؤں کی طرف بلاتی ہے – کیا فن پارے کے اپنی طرف بلانے کے اس عمل میں اس کی ساخت– رنگوں، آوازوں اور حرفوں اور لفظوں کی ہم آہنگی ( اور کبھی کبھار بے ڈھنگی ! آرتھوپیڈک اتحاد، انضمامِ بے ڈھب، بجز کراہت عدم تشدد، کہ دانت کھانے کے اور ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ افتخار جالب)) ہی اصل کردار ادا نہیں کرتی- اسی کو ہم فن کہتے ہیں، ساخت اور جمالیات کہتے ہیں-

روح تک لرزا دینے والے انسانی تقدیر کے ساتھ جڑے ہوئے تمام مظاہر اپنے تئیں کسی فن پارے کو عظیم تو کیا، قابلِ قدر تک بنانے کی اہلیت نہیں رکھتے، اور یہ بات آپ سب مجھ سے زیادہ جانتے ہیں کہ آپ مجھے سے زیادہ پڑھے اور سوچے ہوئے انسان ہیں-

سو نظمِ زیرِ بحث کی جمالیات کیا ہے ؟ اس کی ساخت اس کے معنوی جمال کی پیغامبری کا فریضہ نبھانے میں کس حد تک کامیاب ہوئی ہے ؟

 یہی وہ سوالات ہیں جو فیاض احمد وجیہہ صاحب نے اپنے ابتدائیے میں اپنے انداز میں اٹھائے ہیں اور انہیں کی طرف کچھ اشارے ہمیں ہمارے اب تک کے آخری رائے دہندہ یعنی جلیل عالی صاحب کی تحریر میں بھی ملتے ہیں- اور کیا ایسا نہیں کہ ہم نے اپنی شدت پسندی وجہ سے بوجوہ ان سوالات کے جواب ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کی-

یہ اور ایسے ہی سوالات ہیں، جن کی تلاش میں یہ نظم آپ کی اور معید رشیدی صاحب کی طرف دیکھ رہی ہے –

عارفہ شہزاد: جناب صدر! ہم سب کو اس نظم کی مل جل کر تفہیم کی کوشش کرنی ہے، اور اسی احساس کے تحت میں ایک بار پھر مداخلت کر رہی ہوں اور اس پر معذرت خواہ ہوں !مگر کہیں ایسا تو نہیں کہ نظم کو نہ سمجھنے کی شدت پسندی میں، ہم بنیادی سوالات کا جواب فراہم ہونے کے باوجود، ابھی تک تفہیمی مراحل میں غلطاں و پیچاں ہیں اور یہ استفسار پہ استفسار کیے چلے جا رہے ہیں کہ اس نظم کی شعری جمالیات کیا ہے ؟؟؟اس کے شعری محاسن کیا ہیں ؟؟؟

 ماقبل کی گفتگو میں واضح ہے، فرشی صاحب اور حمید شاہد صاحب کی تائید بھی شامل ہے کہ اس نظم کی شعری جمالیات تمثیل نگاری کی روایت سے منسلک ہے -تمثیل کی تکنیک کی تفہیم ہی وہ شاہ کلید (master key)ہے جس سے اس نظم کا ہر بند دروازہ کھلتا چلا جاتا ہے یوں اس سے افقی اور عمودی سمت میں توازن کے فقدان کا گلہ بھی جاتا رہتا ہے !

 یہ تو مانا گیا کہ اس نظم میں ایک کردار ہے مگر کبھی اسے داستان گو کہا گیا جس کی میں اوپر تردید کر چکی ہوں اب اسے "سیربین "کا کردار سمجھا جا رہا ہے جسے شا عر نے تخلیق کیا، اس کے مکالمے لکھے اور پھر اپنی یعنی شاعر کی دانش ورانہ نیابت کا فریضہ بھی سونپ دیا جو کردار نگاری کی موزونیت کے حوالے سے کھٹکتا ہے !سوال یہ ہے کہ شاعر نے متن میں کہیں ایک بار بھی اس کے لئے یہ واضح نام اختیار کیا ہے ؟نہیں !بلکہ متن تو یہ کہتا ہے :

 گھنٹی کی جھنکار میں اپنی بیٹھی ہوئی آواز ملا کر

 کوئی آوازیں دیتا ہے

 یہ "کوئی "کون ہے ؟؟؟

 جناب صدر!یہ شاعر ہے جس نے خود کو سیر بین کے قالب میں "ہم احساسی "(Empathy)کے الہامی جذبے کے تحت ڈھال لیا ہے -علم نفسیات کے مطابق یہ ایک اعصابی صورت حال (Nervous Condition)ہے ۔ شعرا میں یہ قوت عام انسانوں کی نسبت زیادہ ودیعت کی گئی ہے یہی وہ قوت ہے جسے افلاطون نے الہامی جنوں کا نام دیا ہے اور ارسطو اسے ہم احساسی کا نام دیتا ہے – Princeton Encyclopedia of Poetry and Poetics میں ذرا ہم احساسی کی تعریف دیکھیے بات زیادہ واضح ہو گی -لکھا ہے :

"Empathy is the projection of ourselves into or the identification of ourselves with objects either animate or inanimate —Empathy has been boldly conceived as the agent of our knowledge of nature and in regard to Poetics as the source of personification, or as the basis of all metaphor that endows the natural world with human life, thought and feeling —Empathetic identification depends upon motor- imagery, allied tactile and muscular impressions, with sensation of tension and release. Empathy is then relatively physical and instinctive”

 اس تعریف کی رو سے ہم احساسی اپنی شخصیت کا کسی دوسری شخصیت میں ادغام ہے یا اپنی شخصیت کو -کسی دوسری شخصیت سے مشخص(Identify) کرنا ہے اور ارسطو کی شعریات (POETICS)کے مطابق یہ تجسیم کا ذریعہ ہے یہ کسی حد تک جبلی جذبہ ہے شمس الرحمان فاروقی نے اپنے مضمون "ارسطو کا نظریہ ادب "میں اس کی بخوبی وضاحت کی ہے -چناں چہ اگر اس نظم میں یہ تکنیک مستعمل ہے تو یہ مسئلہ لا ینحل نہیں بننی چاہیے -سیدھی سی بات ہے کے شاعر نے خود کو سیر بین کے کر دارسے مشخص کر لیا ہے، اس کردار کے جملہ حرکات و سکنات گواہ ہیں کہ یہ جہاں خارج کی دنیا کا سیر بین ہے وہاں باطن کا بھی سفر کرتا ہے -تکنیکی سطح پر بھی اس کی یہ سیر کی کیفیت نہیں رکتی کبھی سراپا دانش ور شاعر کی صورت محو خود کلامی فلسفہ حیات کی مختلف گتھیاں سلجھانے کی سعی میں مصروف نظر آتا ہے اور کبھی سادہ لوح سیربین بن کر شیشے کے ٹکڑے پر ثبت تصویریں دیکھنے پر مائل کرنے کے لئے آوازے لگاتا پھرتا ہے -یہاں کائنات اور آئینہ خانہ کی تمثال بھی زیریں لہر کی صورت ساتھ ساتھ چلتی ہے جو نظم کی علامتیت اور نتیجتاًٍ جمالیاتی حسن میں اضافے کا موجب ہے –

 شاعر نے اس نظم میں فنی سطح پر جو تکنیک اپنائی ہے اسے میتھیو آرنلڈ کی شعری جمالیات، معروضی تلازمے (Objective Co-relative) کا نام دیتی ہے !اور متھیو آرنلڈ کے نزدیک فن کے اظہار کا واحد طریقہ ہی معروضی تلازمے کی تلاش ہے، آرنلڈ اپنے مضمون Hamlet and its problems’’’’میں لکھتا ہے :

"The only way of expressing emotions in form of art has been by finding an ‘Objective Co-relative’, in other words, a sat of objects a situation a chain of events which shall be the formula of that particular emotion such that when the eternal facts, which must terminate in sensory experience, have been given, the emotion is immediately evoked”

 جناب صدر! پڑھے لکھے دانش واروں کی اس محفل میں تدریسی انداز اپنانے پر معذرت خواہ ہوں کہ تنقیدی نظریات جب تک اپنے سیاق و سباق میں واضح نہ ہوں ان کا اطلاق اور تفہیم مشکل ہو جاتا ہے –

 جناب صدر !اب اگر ابرار احمد نے اپنی نظم سیر بین میں یہ پیرایہ اختیار کیا ہے یا یہ معروضی تلازمہ اپنایا ہے تو اسے نظم کی شعری جمالیات ماننے میں تامل نہیں ہونا چاہیے کہ اب تو مغربی ناقدین کی دلیلیں فراہم ہیں –

 انگریزی ادب میں براوننگ (Brownings)کے ہاں یہی ڈرامائی خود کلامیے کا انداز ملتا ہے -جدید اردو شاعر ی میں راشد کے ہاں یہ انداز سب سے نمایاں ہے -گویا نظم کی روایت میں یہ کوئی نیا تجربہ نہیں ہے کہ اس کی شعری جمالیات پہ سوال اٹھائے جائیں !

عارفہ شہزاد: کرداروں کے مکالموں میں شاعر کے فلسفہ حیات کے ورود کا کس حد تک امکان ہے اور کیا جواز اور گنجائش ہے اس کی تفصیل کے لئے عقیل احمد صدیقی کی کتاب "جدید اردو نظم نظریہ و عمل” دیکھی جا سکتی ہے، جو ١٩٩١ میں طبع ہوئی -کہنے کا مقصد محض اتنا ہے یہ کوئی نئے مباحث نہیں جنھیں اتنے اچنبھے کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے ِ

 نظم کے کردار کے مکالموں میں جو بے ربطی کی کیفیت لگتی ہے قبل ازیں اس کی نفسیاتی وجوہات بیان کی جا چکی ہیں -اس لئے پھر شاعر پر تکرار کا الزام منطق کو جھٹلانے کے مترادف ہے !

 ایک اور سوال اس نظم کی حد بندی کے اہتمام کے متعلق اٹھایا گیا اور وہ یہ کہ ڈھیلا ڈھالا سا اہتمام ہے !جناب صدر !اس نظم کے کل ٩ حصے ہیں اور ان میں جہاں مکالمہ یا خود کلامی کی تکنیک ہے واضح واوین لگانے کا التزام موجود ہے، یوں سمجھنا چنداں دشوار نہیں رہتا کہ یہ کس کے مکالمے ہیں !کہاں سے منظر نامہ شروع ہو رہا ہے اور کہاں شاعر کا اپنا تاثر جگہ پاتا ہے -بات ساری اس نظم کو تمثیل مان لینے پر منحصر ہے، ذہن خود بخود ڈرامائی مفاہمتوں پر آمادہ ہو جاتا ہے –

 نظم میں معنویاتی سطح پر ایک سوال جو شاید تفہیم کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہو وہ یہ ہو سکتا ہے کہ یہ کیا گورکھ دھندا ہے کبھی کردار اندر کی دنیا دکھا رہا ہے کبھی خارج کی سیر کرا رہا ہے، اس کا کیا تخلیقی جواز ہے ؟ جواب کے لئے تصوف کی "سیر "کی اصطلاح پر غور کریں، اس کے معنی میں جواز موجود ہے یا اسے بدھ مت کے نروان کے نظریے کو پیش نظر رکھ کر پرکھیے جواز خود ہی مل جائے گا ِ مکتی یا سکوں کی تلاش اور پھرلا حاصلی اس کردار کا المیہ ہے !

 نظم کی معنوی تکرار کی بھی نسشان دہی کی گئی، ایک بار پھر معافی چاہوں گی کہ یہاں بھی توضیح کے لئے علم لغت سے مفر نہیں محض اشارہ کافی ہے، دل اور سینے، شام و سحر کے چکر اور ماہ و سال کے کلنڈر میں جو لغوی فرق ہے جاننے والے جانتے ہیں !

 جناب صدر !اس نظم کی شعری جمالیات کا ایک اور واضح ثبوت ایلیٹ کا مضمون’’Three Voices of Poetry’’ ہے -جس میں وہ شاعری کی تین آوازیں قرار دیتا ہے پہلی قسم شاعر کی خود کلامی ہے دوسری وہ جس میں شاعر قارئین یا سا معین سے مخاطب ہوتا ہے اور تیسری قسم وہ ہے جس میں شاعر نہ تو خود سے باتیں کرتا ہے نہ قارئین ہی سے بلکہ وہ کردار متعارف کرتا ہے اور یہ کردار آپس میں گفتگو کرتے ہیں !کیا اس نظم میں ایلیٹ کی مبینہ کوئی بھی شعری آواز نہیں گونجتی ؟؟؟کیا اس میں یہ تینوں آوازیں تمثیلی حسن کے ساتھ گونج نہیں رہیں ؟صرف سماعتوں پہ لگی مروجہ معیارات کی مہریں نہ ہوں تو کچھ سننا دشوار نہیں !

جناب صدر !اس نظم کی خارجی جمالیات معنوی منطق سے پورے توازن سے مربوط ہے -بات صرف تنقید کے علوم اور روایت سے روشنی حاصل کرنے کی ہے نظم کی نام نہاد گپھائیں خود بخود روشن ہوتی چلی جائیں گی !

 اور اگر اس نظم کی جمالیات سے انکار کیا جا رہا ہے اور اسے معنوی منطق سے بعید قرار دیا جا رہا ہے تو ملٹن کی پیرا ڈائزلاسٹ اور ایلیٹ کی ویسٹ لینڈ کو بھی اسی زمرے میں رکھنا پڑے گا کیونکہ اپنے تشکیلی سانچے میں یہ نظم اسی روایت کا تسلسل ہے !

 اب آپ اصحاب پر منحصر ہے کہ ان دلیلوں کو مان لیں یا پھر رد میں محض سوال نہ اٹھائیں بلکہ دلیل دیں تاکہ باہمی افہام و تفہیم سے نظم کی تنقید اور محاکمے کا مقصد پورا ہونا ممکن ہو !

عارفہ شہزاد: جناب صدر !تین دن گزرے احباب سے میں نے نظم کے رد میں دلیل لانے کی گزارش کی تھی -"حاشیہ” پر چھائی اس خاموشی سے قرین قیاس تو یہی ہے کہ "خاموشی نیم رضامندی است "آج آخری دن ہے آپ کی جانب سے بھی پراسرار خاموشی چہ معنی دارد؟؟؟منصب صدارت کی پکار ہے !اگر کوئی نہی بولتا تو شک کا فائدہ دیتے ہوئے ہی زیر بحث نظم کی گردن زنی کا حکم واپس لے لیجیے !!!!کہ آج فیصلے کی گھڑی ہے۔ ۔۔۔

جاوید انور: محترمہ عارفہ، نظم کی گردن زنی ؟! آخری دن، فیصلے کا دن وغیرہ وغیرہ- ذرا جذباتی باتیں نہیں کیا- ہم کون ہوتے ہیں نظم پر آخری فیصلہ دینے والے – ہو سکتا ہے جسے ہم آپ انتہائی چھوٹی نظم سمجھتے ہوں، زمانہ اس کے بارے میں کوئی اور ہی فیصلہ کرے یا ہماری آپ کی نظر میں شہ پارہ نظم کو زمانہ ڈسٹ بن کے لائق بھی نہ سمجھے —————————–

جاوید انور: دوستو، خاموشی کے اس تسلسل میں رخنہ اب ابرار احمد ہی ڈال سکتے ہیں- اگر یہ نشست ایک ناکام نشست تھی اور اس کی وجہ ایک ناکام صدارت تھی، جیسا کہ محترم علی محمد فرشی کی ایک گفتگو سے ظاہر ہے، تو اس کی ذمہ داری میں اپنے کندھوں پر لیتے ہوئے محترم ابرار احمد سے گذارش کروں گا کہ وہ نا صرف اپنی نظم بلکہ اس پر ہونے والی گفتگو پر بھی اظہارِ خیال کریں- مہربانی-۔ ۔۔

علی محمد فرشی: صاحبِ صدر! آپ جانتے ہیں کہ منشا یاد صاحب کی اچانک وفات سے پوری ادبی دنیا گہرے سوگ میں مبتلا ہے۔ خاص طور پر یہاں راول پنڈی اسلام آباد میں تو ادبی برادری شدید صدمے سے دوچار ہے۔ میرے خیال میں ابھی اس اجلاس کو چند روز مزید جاری رہنا چاہیے۔ میری معلومات کے مطابق اتوار کو حمید شاہد اپنا نوٹ لکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد آپ دیکھ لیجیے گا کہ شاعر کو کب دعوتِ دینا چاہیے۔

محمد حمید شاہد: جناب صدر، ذرا رک جائیے، ابھی آپ کو اپنے سوالات کے جوابات سننا ہیں، منشا یاد کی رحلت، تدفین سے لے کر مقتدرہ اور حلقہ کے تعزیتی ریفرنسز تک سب میں مجھے شرکت کرنا تھی، ابھی تک اس دکھ سے سنبھلا بھی نہیں ہوں، تاہم کوشش ہو گی کہ کچھ نہ کچھ کہہ پاؤں ایک آدھ روز اور۔۔۔۔

محمد حمید شاہد: صدر محترم، آپ نے میری درخواست کو اس لائق بھی نہ جانا، کہ اس پر ’’ہاں‘‘ یا’’ نہ‘‘ میں سر ہلا دیتے، خیر، میں نے آپ کی خامشی کو اپنے ہاں کی دلہنوں والی’’ ہاں‘‘ سمجھا ہے اور اب آپ کے اٹھائے ہوئے سوالات پر کچھ عرض کرنے کی جسارت کر رہا ہوں، جس طرح کے لطف سے آپ کی تصویر مسکرا رہی ہے، مجھے اسی طرح کا لطف اور التفات، صدر محترم آپ کی جانب سے اور معزز اراکین حاشیہ کی جانب سے در کار ہو گا اور امید کی جانی چاہیے کہ یہ میسر رہے گا۔ جناب صدر آپ نے جو سوال ’’پیدا ‘‘فرمایا وہ ہو بہ ہو نقل کرتا ہوں:

 ’’شاہد صاحب آپ بجا فرماتے ہیں- کسی بھی فن پارے کی معنیاتی منطق سے کنی کاٹ کر آگے نہیں بڑھا جا سکتا- لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر وہ حرف جو قرطاس تک آتا ہے اور ہر وہ رنگ جو کینوس پر ابھرتا ہے اور ہر وہ لے جو ہمارے کانوں کو چھوتی ہے، ہمیں اپنی معنوی منطق کی طرف کھینچتی ہے یا ہمیں تھوڑی یا زیادہ دیر کے لئے اپنی معنوی منطق کی ہمراہی و ہمدمی پر اکساتی ہے ؟

 نہیں—، مجھے یقین ہے آپ بھی یہی جواب دیں گے –

 تو پھر ادب و فن میں وہ کیا شے ہے جو معنی کو نا صرف مضبوطی اور پائیداری عطا کرتی ہے، بلکہ اپنی بنیادی خصوصیت کے طور پر سب سے پہلے قاری اور ناظر اور سامع کو اپنی اور اپنی درونی و موضوعی کہکشاؤں کی طرف بلاتی ہے – کیا فن پارے کے اپنی طرف بلانے کے اس عمل میں اس کی ساخت– رنگوں، آوازوں اور حرفوں اور لفظوں کی ہم آہنگی ( اور کبھی کبھار بے ڈھنگی ! آرتھوپیڈک اتحاد، انضمام بے ڈھب، بجز کراہت عدم تشدد، کہ دانت کھانے کے اور ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ افتخار جالب) ہی اصل کردار ادا نہیں کرتی- اسی کو ہم فن کہتے ہیں، ساخت اور جمالیات کہتے ہیں-۔۔۔۔ روح تک لرزا دینے والے انسانی تقدیر کے ساتھ جڑے ہوئے تمام مظاہر اپنے تئیں کسی فن پارے کو عظیم تو کیا، قابل قدر تک بنانے کی اہلیت نہیں رکھتے، اور یہ بات آپ سب مجھ سے زیادہ جانتے ہیں کہ آپ مجھے سے زیادہ پڑھے اور سوچے ہوئے انسان ہیں-۔۔۔۔۔۔ سو نظم زیربحث کی جمالیات کیا ہے ؟ اس کی ساخت اس کے معنوی جمال کی پیغامبری کا فریضہ نبھانے میں کس حد تک کامیاب ہوئی ہے ؟‘‘

 اپنے نوٹ کے آخر میں آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ :

 ’’یہی وہ سوالات ہیں جو فیاض احمد وجیہہ صاحب نے اپنے ابتدائیے میں اپنے انداز میں اٹھائے ہیں اور انہیں کی طرف کچھ اشارے ہمیں ہمارے اب تک کے آخری رائے دہندہ یعنی جلیل عالی صاحب کی تحریر میں بھی ملتے ہیں- اور کیا ایسا نہیں کہ ہم نے اپنی شدت پسندی وجہ سے بوجوہ ان سوالات کے جواب ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کی- یہ اور ایسے ہی سوالات ہیں، جن کی تلاش میں یہ نظم آپ کی اور معید رشیدی صاحب کی طرف دیکھ رہی ہے ‘‘

 جناب صدر، آپ نے ہوشیاری سے میری بات کے سیاق کو کاٹ کر الگ رکھا، فرشی کی بات پر توجہ نہ دی، عارفہ کی دلیل کو اس کے جوش کا طعنہ دے کر دبا دیا، اور صرف وہ بات دہرا دی، جس کے جواب میں آپ بہ سہولت میری جانب سے بھی’’ نہیں‘‘ کہہ سکتے تھے، سو آپ نے اپنے ’’یقین ‘‘کے ساتھ اس ’’نہیں‘‘ کو اپنے نقطہ نظر سے پہلے ٹانک دیا۔ صدر محترم آپ کو یاد ہو گا کہ یامین اور فرشی کی نظموں کے علاوہ ’’ہزارے کا مہمان کیا بولتا ‘‘ پر بات کرتے ہوئے، میں نے ہر بار یہ گزارش کی تھی کہ ہر تخلیق کار کے مزاج اور فن پارے کی تخلیقی فضا سے مانوس ہوئے بغیر، تنقیدی فیصلے دینا خود تخلیقی عمل ہی کو لائق اعتنا نہ سمجھنے کے مترادف ہو گا۔

محمد حمید شاہد: ۲۔،۔ اور آپ کو یہ بھی یاد ہو گا کہ ’’ہزارے کا مہمان کیا بولتا‘‘ پر، وجیہہ نے کچھ اسی طرح کے سوالات اٹھائے تھے۔ آپ کو یاد نہیں تو لیجئے میں ملخص پیش کیے دیتا ہوں :

 ۱۔ کیا صرف معنی کی تشکیل ہی ادبی متن کا مسئلہ ہے ؟

 ۲۔ تخلیقی متن کے لسانی مواد پر ہماری توجہ کم کیوں ہے ؟

 ۳۔ نظم معنی تک رسائی حاصل کرنے کے لیے بیانیہ کے غیاب میں کسی متوقع ساخت کی تعمیر کیوں نہیں کرتی؟

 ۴۔ فوراً سے پیشتر نظم اور اس پر بات کرنے والے بھی معنی کی وہ کہانی سنانے لگتے ہیں جو نظم کی خارجی ساخت میں موجود ہے، کیوں ؟

 ۵۔ بلاشبہ اس نظم میں بہت کچھ ہے لیکن غور سے دیکھیے تو یہاں قصہ کہانی کے علاوہ کیا ہے ؟۔

 ۶۔ دراصل یہ نظم اپنے بعض ثقافتی نقوش کی وجہ سے سیاست کی اس سائکی کی طرف ہمارے ذہن کومائل کرتی ہے جس کو ہم ’آشوب‘ کا نام دے سکتے ہیں۔ کیا آشوب ذات کا یہ قصہ برصغیر کی سیاسی، سماجی اور مذہبی سائکی کو انگیز نہیں کرتا؟

 ۷۔ کیا اس نظم کا بیانیہ تمثیلی نہیں ہے ؟

 اور اس طرح کے سوالات قائم کرنے کے بعد وجیہہ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ :

 ۸۔ ’’اس نہج پر غور کیجیے تو یہاں نظم کی ساخت میں سب کچھ چھلاوہ معلوم ہو گا۔ ‘‘

 ۹۔ ’’اس نظم کی خارجی ساخت کچھ اس ڈھب کی ہے کہ ہم بہ آسانی ادبی اور تخلیقی آہنگ سے محرومی کا گلہ کرسکتے ہیں ‘‘

۱۰۔ ’’ اس کی خارجی ساخت کے پیش نظر میں بڑی آسانی سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس کا بیانیہ کا قابل توجہ نہیں ہے اول تو یہ بیانیہ ہے ہی نہیں اس کا لسانی مواد نظم کی مطلوبہ زبان کی نفسیات سے الگ ہے اس کے برتاؤ میں ایک طرح کی سطحیت نمایاں ہے۔ ‘‘ وغیرہ وغیرہ۔

 جناب صدر، جب آپ کی نظم پر بات مکمل ہوئی تھی تو، ہم ایسے سوالات کے نئی نظم میں کارفرما تخلیقی عمل سے پچھڑے ہوئے ہونے کو بہ سہولت نشان زد کر سکتے تھے اور تب مجھے گمان ہونے لگا تھا کہ ہم نئی نظم کی فضا سے جڑ کر آئندہ پیش ہونے والی نظموں پر بات کر سکیں گے۔ مگر ہوا یہ کہ وجیہہ نے ابتدائیہ میں بھی لگ بھگ انہی سوالات کو دہرا دیا، جن کے جوابات اب جناب صدر آپ کو’’ نیک مطلوب‘‘ ہو گئے ہیں۔ اچھا یہ سوالات آخر وجیہہ کا راستہ روک کر کیوں کھڑے ہو گئے ہیں ؟ یہ آپ بھی سوچتے ہوں گے جناب صدر، اور میں نے بھی اسے آنکنا چاہا ہے تو مجھے اس کا جواب وجیہہ کے نوٹ کے ابتدائی جملے ہی میں مل گیا ہے۔ لیجئے میں وجیہہ کا لکھا نقل کر رہا ہوں :

 ’’میں جب بھی کسی متن کے اکتشاف میں قدم بڑھا نا چاہتا ہوں سوالات کی آندھی راستہ روک لیتی ہے۔ ‘‘

 یہ جو اکتشاف ہے صاحب اس کی بابت یہ بات سمجھ لینے کی ہے کہ چاہے یہ ’’اکتشافی تنقید‘‘ والا ہی کیوں نہ ہو، ارادہ کر کے اور کوئی نیت باندھ کر اس میں قدم نہیں دھرے جا سکتے، کہ اکتشاف کو لپک کر اپنا کام کرنا ہوتا ہے۔ اگر اس میں لپک نہیں ہے، متن سے اٹھ کر آ لینے والی لپک، تو وہ کچھ اور ہو تو ہو، اکتشاف نہیں رہتا۔

محمد حمید شاہد: ۔۔۔۔۔۔ ۳،۔ تو یوں ہے صدر محترم کہ ہم نے اپنے ذہن میں قائم تنقیدی سانچے کے ساتھ اس نظم کے اکتشاف میں قدم بڑھائے ہیں اور اس کچل ڈالا ہے۔ لہذا نظم کی فضا کے اندر سے ابھرتے ہوئے جمالیاتی خطے، اس تند تنقیدی ریلے میں ڈوب سے گئے ہیں۔ میں کہہ آیا ہوں کہ ابرار احمد کی نظم’’سیربین‘‘ پر ابتدائی نوٹ میں لگ بھگ ان ہی جیسے سوالات کو دہرایا گیا ہے، جن کی فہرست میں’’ ہزارے کا مہمان کیا بولتا‘‘ والی گفتگو سے نکال کر اوپر درج کر آیا ہوں، یا ان ہی جیسے کچھ اور سوالات، مثلاً :

 ۱۔ اس نظم کی اس کی جمالیات کیا ہے ؟

 ۲۔ اس کی کوئی تخلیقی ساخت ہے بھی یا نہیں ؟

 ۳۔ پیش نظر متن کی ساخت میں کئی مقام ایسے ہیں ؟ جو اس کی جمالیات کو ٹھیس پہنچاتے ہیں ؟

 ۴۔ میں اپنے ابتدائیہ میں یہ بات ذرا کھل کر کہنا چاہتا ہوں کہ ’سیر بین ‘ کی لفظی قواعد کہاں کہاں ٹوٹ رہی ہے۔ اس لسانی شکست و ریخت کا کوئی تخلیقی جواز ہے یا واقعی اس میں کوئی نقص ہے۔

 ۵۔ بعض مقامات ایسے ہیں جہاں کسی خاص لفظ کی موجودگی پر سوال قائم کیا جا سکتا ہے۔

 ۶۔ کیا ترسیل کے فریب کو توڑ کر فن کی جمالیات کو یہاں قائم کرنا آسان ہو گا۔

 ۷۔ نظم کی اُجلی ساخت ہم سب کے سامنے ہے اس کو ہم اپنی ساخت میں کیسے ڈھالتے ہیں اسی سے بہت سی باتیں طے ہوں گی۔

 ۸۔ بیانیہ کا ہر آہنگ اس کردار کے پیٹ سے باہر نکل آیا ہے اس لیے اس نظم کی ساخت اپنی جمالیات کو چھپا لینے میں کامیاب بھی ہے۔

 یہ اور اس طرح کے سوالات اٹھانے کے بعد وجیہہ نے اگر پچھلی بار والی نظم کو ’’چھلاوہ‘‘ کہا تھا تو اس بار فیصلہ دیا ہے کہ اس کی ساخت فرضی ہے۔ وجیہہ کے الفاظ میں ہی :’’اس نظم کی تکنیک سے ہی اس کی فرضی ساخت وجود میں آئی ہے اور معنی اس کی مظہریت سے کسی قدر آزاد ہو کر فریب ہستی کے استعارہ میں ڈھل گیا ہے۔ ‘‘

 لیجئے مجھے یوں لگتا ہے کہ جس طرح، وجیہہ نے اپنے تنقیدی چلن کو ہی برقرار رکھا مجھے بھی اپنی باتیں لگ بھگ دہرا دینا ہوں گی۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ ہماری نئی ناقدہ عارفہ شہزاد نے اس باب میں بہت کچھ اپنے تند تنقیدی بیانات میں تفصیل سے بیان کر دیا ہے۔ اچھا اس طرح کی تند اور پر جوش تنقید ہمیں خوش نہیں آتی، تاہم اس میں سے جوش والے اور بہ قول محمد عمر میمن’’ غلبہ آور‘‘ جملے ( یہ اصطلاح میمن نے وارث علوی کی تنقید کی بابت واضح کی تھی) منہا کر لیں تو بھی ایک موقف باقی بچ رہتا ہے جو توجہ کے لائق ہے۔ قبل ازیں میں ایسی ہی لائق توجہ باتیں، اسی نوح کے تند جملوں کے باوجود معید رشیدی اور تصنیف حیدر کے ہاں میں دیکھ کران کا اعتراف سرعام کر آیا ہوں۔ چلئے آپ عارفہ کے موقف کو توجہ دینے پر آمادہ نہیں ہیں، نہ سہی، علی محمد فرشی کی بات کوتو آپ خود بھی سنجیدہ قرار دے چکے ہیں، اس پر ہی غور کر لیا ہوتا کہ وہاں ان سوالات کے جوابات موجود تھے، اور بات وہاں سے آگے بڑھائی جا سکتی تھی مگر افسوس ہم اس نوٹ کے بعد بھی ایسی فضا نہ بنا پائے کہ نظم پر ڈھنگ سے مکالمہ قائم ہو سکتا۔

 صدر محترم، جلیل عالی، پروین طاہر سمیت احباب کی جانب سے بار بار یہ کہا جاتا رہا کہ ’’سیربین‘‘ ابرار احمد کا قابل ذکر نظموں میں سے نہیں ہے، یا یہ کہ یہ اس کے تخلیقی چلن سے ہٹی ہو ئی نظم ہے۔ حال ہی میں ایک بار پھر میں نے ابرار کو جم کر پڑھا ہے اور اسی مطالعہ کی بنا پر پورے وثوق سے اپنا وہ موقف بھی بیان کر دیا، جس کا علی محمد فرشی نے اپنے نوٹ میں حوالہ دیا ہے۔ میں نے اس باب میں کچھ مثالیں بھی دی تھیں اب رہ گئی کوئی ایک نمائندہ نظم والی بات تو، صاحبو، کیا کسی ایک نظم سے کسی تخلیق کار کے پورے تخلیق مزاج کو آنکا جا سکتا ہے ؟۔ خیر ایک بات یہاں میں اب بھی وثوق سے کہوں گا کہ وہ شمس الرحمن فاروقی ہو یا حاشیہ، دونوں نے اسے ابرار احمد کی ایک خاص زمانی عرصہ میں سامنے آنے والی منتخب نظم گردانا ہے تو یہ فیصلہ اس کی ادبی وقعت اور مرتبے کی وجہ سے ہے۔ میں ذاتی طور پر ابرار احمد کی انیس سو ستانویں میں چھپنے والی نظموں کی کتاب ’’آخری دن سے پہلے ‘‘ سے نظم چننا چاہوں تو ’’تم کہاں تک گئے ‘‘ جیسی کومپیکٹ اور ذرا گہری نظموں کو چنوں گا مگر کوئی اب بھی مجھ سے پوچھے گزشتہ دس برس کی ابرار احمد کی لائق توجہ نظموں میں سب سے نمایاں کون سی ہے تو میرا جواب ہو گا ’’سیر بین ‘‘۔

محمد حمید شاہد: ۔۔۔ ۴  نظم ہوتی کیا ہے ؟۔ اس سوال کا جواب اب وہ نہیں رہا جو راشد، میرا جی اور مجید امجد کی نظم سے پہلے تھا۔ اس میں موجود کہانی پر برہم ہونے کا مطلب اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ ہم نظم کی نئی تخلیقی منطق سے ابھی تک ایک فاصلہ قائم رکھے ہوئے ہیں، خیر اوپر حاشیہ کے نئے پرانے اراکین کے مکالمے میں لگ بھگ یہ تو طے ہو چکا کہ اس نظم کی جمالیات کو اس نظم کے متکلم کردار جسے ابتدائیہ میں کاٹھ کے ڈبے والا کہا گیا ہے، کے حوالے کے بغیر سمجھا ہی نہیں جا سکتا۔ اور میں اوپر کہیں یہ عرض بھی کر آیا ہوں کہ ایک ساخت یہ کاٹھ والے ڈبے کے بیانیہ سے بن رہی ہے اور دوسری اس فضا سے، جسے نظم نگار نے تخلیق کیا، شاعر کا کمال یہ ہے کہ کاٹھ والے کی لسانی منطق بھی برقرار رہتی ہے اور اس عمومی بیانیہ سے ایک فضا بھی۔ اب آتا ہوں جلیل عالی کی اس بات کی طرف کہ جس کی طرف آپ نے مجھے متوجہ کیا یہی ناں کہ نظم میں ’’ تناسب والا مسئلہ‘‘ پیدا ہو گیا ہے یا ’’لفظی تکرار کے علاوہ مضامین کی تکرار نے بھی نظم کی گوندھ کو متاثر کیا ہے ‘‘ عالی نے اس باب میں "دل کی حد کے اندر کیا ہے "اور "اور سینے کے اندر کیا ہے "، "ماہ و سال کلینڈر کیا ہے "اور "شام و سحر کا چکر کیا ہے ” وغیرہ جیسی مثالیں دی ہیں۔ صدر محترم آپ نے بہ جا طور پر مجھے عالی کے بیان کی طرف متوجہ کیا تھا اور اس باب میں میرا پھر سے وہی موقف ہے جو ’’ہزارے کا مہمان کیا بولتا‘‘ کی بعض لفظیات کے دفاع کے وقت تھا یہی کہ اگر اس سب کواس فضا سے الگ کر کے دیکھیں گے، اس اس کردار کو بھلا کر جانچیں گے، جو اس نظم کی لسانی منطق ڈھال رہا ہے تو ہمیں بھی عالی کی طرح یہ نظم ’’اپنی تخلیقی جستوں کے باوجود نظم اپنے مناسب حجم سے ہٹی ہوئی ‘‘محسوس ہو گی۔ تاہم اس مانوس فضا میں رہ کر ہمارا تنقیدی فیصلہ وہی ہو گا جو فرشی نے بیان کر دیا ہے۔ لیجئے میں آپ کو یاد دلانے کے لیے ہو بہ ہو نقل کیے دیتا ہوں:

 ’’سیربین‘‘ کو میں نے طویل نظم کے طور پر پڑھا ہے، اس لیے نہیں کہ اس میں مصرعوں کی تعداد اسے طول دیتی ہے، بلکہ اس لیے کہ اس کا موضوعاتی پھلاؤاسے طویل نظم کے دائرے میں لے آتا ہے۔۔۔۔۔ ان موضوعات کو جس طرح نظم کے کُل کا حصہ بنایا گیا ہے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سکیٹرڈ امیجز سے اپنا تارو پود تیار کرتی ہے، لیکن کیا ان امیجز کے باہمی ربط کو قائم رکھنے کے لیے کوئی فنی قرینہ شاعر کے پاس نہیں؟ میں دیکھتا ہوں کہ نظم نے اپنی نامیاتی وحدت کو ایک نظر نہ آنے والے دھاگے میں پرو دیا ہے۔ یہ ظاہری بکھراؤ کیسے فنی بستگی میں ڈھل جاتا ہے، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ‘‘

 اچھا فرشی کی یہ بات بھی گرہ میں باندھ رکھنے کے لائق ہے کہ ’’ دیکھنا یہ ہے کہ اس نظم میں لفظ ’’ دیکھو‘‘ کیا نظم کے حسن کو پامال کرتا ہے یا ہمیں ما بعد مصرعے تک پہنچانے میں معاون ثابت ہو کر اس کے فنی جمال میں اضافے کا باعث بن جاتا ہے۔ مجھے اس نظم کی قرأت کے دوران میں کہیں بھی اس حوالے سے اکتا ہٹ کا احساس نہیں ہوا۔ ہر مصرع دوسرے مصرعے کا ہاتھ تھامے ہوئے آگے بڑھتا ہے۔ ‘‘

محمد حمید شاہد: ۔۔۔ ۵  تو یوں ہے صاحب صد ارت، کہ میں باتوں کو دہرانا نہیں چاہتا تھا مگر میرا معاملہ یہ ہے کہ اس نظم کے مرکزی کردار کی طرح میری دلیل بھی لگتا ہے ان سنی رہ جاتی ہے۔ جی وہی مرکزی کردار جو ’الٹے سیدھے قدموں میں، کبھی یہاں وہاں رکتا ہے اور کبھی چل پڑتا ہے۔ بے خبری کی نیندوں کے آرام سے باہر، سونی دوپہروں کی خالی خاموشی میں، شام کے پھیکے بازاروں میں مگر اک بے مول محبت کی خوشبو سے پریشاں اور اپنے سینے میں سہمے رازوں سے ہراساں۔ جناب صدر اس کی بیٹھی ہوئی آواز اس کی چغلی کھا رہی ہے کہ وہ مسلسل صدائیں دیتا آ رہا ہے اور اسے سننے والا کوئی نہیں۔ تو یوں ہے کہ جناب صدر کیا اس شخص کی لسانی منطق کو اس پوری نظم میں کہیں پس پشت ڈالا گیا ہے۔ لیجئے آپ والا کلیہ استعمال کر کے میں میں بھی کہے دیتا ہوں، ’’نہیں‘‘۔ اور ایسا میں آپ کی طرح یقین سے کہہ رہا ہوں۔ اسی منطق کے اندر وہ تکرار پھوٹی ہے جو عالی کو کھٹکتی ہے اور اسی سے وہ بیانیہ متشکل ہوا جس پر اعتراضات ابتدائیہ نگار سے اچک کر آپ نے میری جانب اچھال دیے ہیں۔

 اور ہاں جناب اب رہ گئی، تخلیقی عمل سے پچھڑی ہوئی اور کٹی ہوئی، کتابی تنقید اور وہ غلبہ آور تنقید جس کا آغاز وجیہہ سے شروع ہوا اور جناب صدر آپ کے سوالات میں چھپے موقف پر وہ انتہا کو پہنچی، تو یوں ہے کہ اس تنقیدی وتیرے سے توبیسویں صدی کی عظیم نظم ’’دی ویسٹ لینڈ ‘‘ تک کو لسانی منطق سے باہر پڑی ہوئی اورسدھائی ہوئی جمالیات کی پاس داری نہ کرنے والی نظم ثابت کیا جا سکتا ہے۔ جی ہاں، یہ بات میں نے ازراہ تفنن نہیں کہہ دی، اس طریقہ تنقید کے ’’ کاری ‘‘ ہونے کو نشان زد کر رہا ہوں۔ یقین نہ آئے تو یوں کیجئے کہ ابھی’’ گوگل‘‘ کر کے ’’دی ویسٹ لینڈ‘‘ کی کاپی حاصل کیجئے، ایک سے دس تک اوپر والے وجیہہ کے نقاط اس کے نیچے چپکا لیجئے، پہلے نظم پڑھیے اور پھر توجہ سے ان نقاط کو، نظم کہیں نہیں ٹھہرے گی۔ جناب صدر، ان دس میں سے آٹھ نقاط ایسے ہیں کہ بیشتر جدید نظموں کو اس فارمولا تنقید کے حوالے کر کے رد کیا جا سکتا ہے۔

 جناب صدر، میرا خیال ہے میں نے مقدور بھر آپ کے سوالات کا جواب دے دیا۔ اب صرف آپ سے یہ درخواست مقصود ہے کہ نظم کی فضا سے مانوس ہوئے بغیر تنقیدی فیصلے نہ دیجئے، کہ اس طرح ’’تخلیق کش‘‘ اور’’ خود کش تنقید‘‘ کی راہ ہم وار ہوتی ہے جو ادب کی تفہیم کے لیے ہر صورت میں نقصان دہ رہے گی۔ ایک تخلیق کار کی حیثیت سے یہ بات آپ کے گوش گزار کرتے ہوئے مجھے حجاب آ رہا ہے مگر حیف کہ مجھے یاد دلانا پڑ گیا ہے۔

جاوید انور: محترم حمید شاہد، چونکہ میں اتفاقاً اپنے کمپیوٹر پر بیٹھا ہوں، سو آپ کی بقیہ رائے پڑھنے سے پیشتر جواب دے رہا ہوں- نہیں ایسا نہیں کہ میں نے آپ کی درخواست کو ہاں یا ناں کے قابل نہیں سمجھا———– ایسا ممکن ہی نہیں میرے بھائی- ہاں، میں آج دو دن کے بعد یہاں بیٹھا آیا اور آپ کی اور فرشی صاحب کی رائے میں نے ابھی دیکھی ہے اور خوش ہوا ہوں- بسم اللہ۔۔۔۔ یاد صاحب کی رحلت کی خبر جب میں نے پڑھی تو اس وقت میں اپنی ایک رائے پوسٹ کر چکا تھا، آپ کو اور معید صاحب کو دعوت دینے والی- ہزاروں میل کی اس دوری سے، آپ کے ساتھ کوئی اور رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے، مجھے کوئی سمجھ نہیں آ رہی تھی، کہ اجلاس کو کچھ دیر کے لئے معطل کر دیا جائے یا——————– بہر حال میں آپ کے لئے سراسر گوش ہوں——–

جاوید انور: حمید صاحب یقین جانئے میں اس وقت اسی طرح مسکرا رہا ہوں، جیسے فیس بُک پر چسپاں اپنی تصویر میں اور آپ کی رائے پڑھ کر اس مسکراہٹ میں کچھ اور سکون اور مسرت آ گئی ہے – نہیں، حمید صاحب میں نے نظم کے بارے میں کوئی تنقیدی فیصلہ نہیں دیا-

،‘‘ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر وہ حرف جو قرطاس تک آتا ہے اور ہر وہ رنگ جو کینوس پر ابھرتا ہے اور ہر وہ لے جو ہمارے کانوں کو چھوتی ہے، ہمیں اپنی معنوی منطق کی طرف کھینچتی ہے یا ہمیں تھوڑی یا زیادہ دیر کے لئے اپنی معنوی منطق کی ہمراہی و ہمدمی پر اکساتی ہے ؟

 نہیں—، مجھے یقین ہے آپ بھی یہی جواب دیں گے‘‘

 میں ایک عمومی بات کی گئی ہے اور میرے خیال میں یہ وہی بات ہے جو آپ نے فیاض احمد وجیہہ کے ابتدائی جملوں‘‘ متن کے انکشاف‘‘ کے حوالے سے کی ہے – اور اس بات کی طرف اشارہ میں نے اپنی نظم ہزارے کا مہمان۔۔۔۔۔ پر بات کرتے ہوئے بھی کیا تھا، یعنی کون سا متن ہمیں کیوں خود پر بات کرنے پر مجبور کرتا ہے

 یہاں سے ہم کتابی تنقید پر بھی گفتگو آگے بڑھا سکتے ہیں لیکن ہماری گفتگو کا مرکز اس وقت ابرار احمد کی نظم سیر بین ہے، اور میرا خصوصی مخاطب یہاں متن کے حوالے سے تنقید کرنے والے دوست ہیں-

 فیاض صاحب کے سوالوں کو میں نے بھی اسی طرح دیکھا ہے، جیسے حمید شاہد صاحب نے – لیکن میں جو بار بار وجیہہ صاحب کے حوالے سے بات آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہوں اس کی وجہ ان کی گفتگو کا دوسرا حصہ ہے

جاوید انور: 2- ،‘‘ نظم کی بُنت میں شعوری یا غیر شعوری طور پر ایک خاص تکنیک کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس لیے اس میں ایک نوع کی روانی بھی ہے۔ اس نظم کی تکنیک میں ناستلجیائی کیف ان معنوں میں ہے کہ ہم ماضی میں اپنے اپنے گاؤں اور گلی محلہ کے ان ’ کرداروں ‘ کے ساتھ کھڑے ہیں جن کی حیرانی ابھی زندہ ہے‘‘

،‘‘ ماضی کے اس کردار کی سائکی ہمارے ساتھ اتنی دور کیوں چلی آئی ؟ اس سوال میں اس نظم کی پوری ساخت پوشیدہ ہے۔‘‘

،‘‘ اس نظم کی ساخت اپنی جمالیات کو چھپا لینے میں کامیاب بھی ہے۔‘‘

،‘‘ لہجہ کیوں تبدیل ہوا ہے اس کی تلخی میں جمالیات کا کون سا دائرہ ہے ؟‘‘

،‘‘ اس نظم کی مکمل تکنیک میں Slide Showکی ایک پوری کیفیت ہے۔ پہلے بند میں تشکیل کار کی بینائی ہمیں محسوس ہوتی ہے لیکن اس کے اسلوب میں وقت کو کردار بنا کر پیش کرنے کی کوشش میں ایک نوع کی بے تعلقی بھی در آئی ہے۔ اس بے تعلقی میں معنی کے نشانات کہاں واقع ہیں ان کو گرفت میں لینا ضروری ہے۔‘‘

،‘‘ میں نے اس کردار کو توتمی علامت کا مظہر یوں قرار دیا ہے کہ اس زمانہ میں اس کی حیثیت اس مخفی روح کی سی ہے جس سے ہمیں قوت حاصل ہو رہی ہے۔ اس طور پر یہ کردار ہمارے وقت کے آشوب کو اپنے تشخص میں سلب کرنا چاہتا ہے۔ نظم اپنے ابتدائیہ میں ہی بعض ایسے نشانات کو روشن کرتی ہے کہ ہم کھوئی ہوئی آنکھ کے مرثیہ میں آشوب کے مسلسل صیغہ کو محسوس کر لیتے ہیں۔ ہماری آنکھوں سے کوئی نقشہ کہیں گم ہو گیا ہے۔ اس لیے یہ کردار راوی کے بہ طور کتھا رسس کی منطق میں اپنے بیانیہ کے آہنگ کو ارضی بنا کر پیش کر رہا ہے۔‘‘

،‘‘ نظم اپنے ابتدائیہ میں ہی بعض ایسے نشانات کو روشن کرتی ہے کہ ہم کھوئی ہوئی آنکھ کے مرثیہ میں آشوب کے مسلسل صیغہ کو محسوس کر لیتے ہیں۔ ہماری آنکھوں سے کوئی نقشہ کہیں گم ہو گیا ہے۔ اس لیے یہ کردار راوی کے بہ طور کتھا رسس کی منطق میں اپنے بیانیہ کے آہنگ کو ارضی بنا کر پیش کر رہا ہے۔‘‘ (جاری)

جاوید انور: 3 ۔ نظم میں ایک نوع کی روانی، ماضی کے اس کردار کی سائکی کا اتنی دور تک چلا آنا، ساخت کا اپنی جمالیات کو چھپا لینا، لہجے کی تلخی کی جمالیات، وقت کو کردار بنا کر پیش کرنا اور کتھا رسس کی منطق میں اپنے بیانیہ کے آہنگ کو ارضی بنا کر پیش کرنا وغیرہ وہ نکتے ہیں جہاں فیاض احمد وجیہہ زیرِ تذکرہ نظم کے متن کے سہارے پہنچے ہیں اور میرے خیال میں یہ سارے کے سارے وہ مثبت نکتے ہیں جن پر ہم اب بھی اپنے اپنے ہتھیار ایک طرف رکھ کر ایک خوشگوار گفتگو کر سکتے ہیں-

 یہاں مسئلہ یہ ہوا کہ گفتگو نے آغاز ہی میں رد و قبول کا راستہ اختیار کر لیے – لیکن حمید شاہد صاحب اور علی محمد فرشی ساحب کی گفتگوئیں گواہ ہیں کہ اس مرحلے کے بعد نظم ہمیں اب خود پر ایک متوازن اور ٹھنڈی گفتگو کی طرف بلا رہی ہے –

 اور حمید شاہد صاحب جہاں تک عارفہ شہزاد صاحبہ کی گفتگو اور اس میں شامل جذبات کی بات ہے تو وہ بھی میں نا صرف اسی مسکراہٹ میں ڈوب کر پڑھی جس کا آپ نے تذکرہ کیا ہے، بلکہ اس میں بھی کم از کم میرے لئے بہت سارے اشارے ہیں، جن پر سوچنے اور بات آگے بڑھانے کے بے شمار امکانات شامل ہیں- مثلاً میں اس نظم پر بات کرتے ہوئے اگر پردیسی شاعروں کا تذکرہ کرتا تو ٹی ایس ایلیٹ اور دانتے کی بجائے والٹ وہٹمین اور ایلن گنزبرگ کی ہاؤل کا تذکرہ کرنا پسند کرتا کہ یہ نا صرف زبان کی روایتی جکڑ بندیوں کو توڑنے بلکہ اپنے آغاز میں سنگی زمین میں رخنہ ڈالنے والی اس قوت میں بھی مشابہ ہیں، جو اس ان کی روانی کا سبب بنتی ہے – لیکن یہ باتیں اور ان لوگوں کو جنہوں نے اس نظم کو رد کیا ہے، اس رویے کے استدلال کی دعوت میں کچھ دیر میں دوں گا، اگر اب آپ کی اس گفتگو اور میری خواہش پر کچھ اور لوگ بات کو آگے بڑھانا پسند کریں تو————

 حمید شاہد صاحب، پلیز مت بھولئے کہ میں پہلے بھی کھلے لفظوں میں آپ کے صاحبِ صدارت کی مدد کو آنے پر شکریہ ادا کر چکا ہوں اور ایک بار پھر آپ اور علی محمد فرشی کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور فیض احمد وجیہہ سمیت سب دوستوں کو جو گفتگو کے پہلے مرحلے میں کچھ کہہ چکے ہیں، یا نہیں اپنی رائے کے اظہار کی دعوت دیتا ہوں۔

ابرار احمد: جناب صدر ! اب بحث اختتام کو پہنچ چکی تو نظم کے چناؤ پر بات کرنا بے معنی ہے لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ اگر مجھے انتخاب کا حق پھر سے دیا جائے  تو میں "سیربین "ہی کو چنوں گا۔ مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ اس پر اس طرح کی بحث جنم لے گی۔ کسی مغربی نقاد نے کہہ رکھا ہے کہ سچا فن غصّہ اور شدید رد عمل پیدا کرتا ہے گویا یہ بھی اس کی سچائی کی ایک دلیل ہے۔ اس بحث میں غصہ ہی غالب رہا۔ ۔۔۔۔میں بات کروں گا اور امید ہے مجھے کچھ وقت دیا جائے گا

محمد حمید شاہد: لیجئے صاحب، جناب صدر کی دعوت پر میں فیاض احمد وجیہہ کے ابتدائی نوٹ کے ’’دوسرے ‘‘ حصوں کو بھی دیکھ لیتا ہوں۔

 ۱۔ ’’نظم کی بنت میں شعوری یا غیر شعوری طور پر ایک خاص تکنیک کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس لیے اس میں ایک نوع کی روانی بھی ہے۔‘‘

 یقیناً اسے نظم کی خوبی کہا جائے گا کہ اس میں ’’ایک نوع کی روانی‘‘ ہے۔ صدر محترم، یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ فن پارے میں روانی محض تیکنیک سے نہیں آتی، اس کے لیے لفظوں کو اپنی نشست پر بیٹھا ہوا ہونا چاہیے، صوتی آہنگ ایک خاص ادا سے چلے ورنہ رخنے ڈالے گا، سطروں سے پیوست معنوی نظام اور ڈیپ اسٹریکچر سے اچھلتا معنی کا دھارا اس روانی کے تاثر سے ہم آہنگ ہو جائے۔ جس ماحول سے نظم اٹھائی گئی ہے اور جن کرداروں سے بیان ہو رہی ہے لسانی قرینہ اس کے مطابق ہو، اب میں نہیں جانتا فاضل ناقد نے اس ’’نوع‘‘ کو کن معنوں میں لیا ہے ؟۔

 ۲۔ ’’ اس نظم کی تکنیک میں ناستلجیائی کیف ان معنوں میں ہے کہ ہم ماضی میں اپنے اپنے گاؤں اور گلی محلہ کے ان ’ کرداروں ‘ کے ساتھ کھڑے ہیں جن کی حیرانی ابھی زندہ ہے‘‘

 ناسٹلجیائی کیف کو فاضل ناقد نے درست درست نشان زد کیا تاہم میں اس باب میں اتنا اضافہ کروں گا کہ وقت کا لمحہ موجود بہت سیال ہوتا ہے ابھی نہیں تھا، ابھی نہیں ہے۔ وقت رواں رہتا ہے اور ماضی اور مستقبل کے بیچ حال عنقا ہوتا رہتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ادب اپنا بیشتر مواد ماضی سے اٹھاتا اور اسے مستقبل میں اچھالتا ہے۔ یہ حیرانی بھی ایسا ہی تخلیقی عنصر ہے جسے نظم نگار نے مستقبل میں اچھالا ہے، یوں یہ نظم محض ناسٹلجیائی بھی نہیں رہتی۔

 ۳۔ ’’ماضی کے اس کردار کی سائکی ہمارے ساتھ اتنی دور کیوں چلی آئی ؟ اس سوال میں اس نظم کی پوری ساخت پوشیدہ ہے۔‘‘

 جی ہاں یہ سوال اہم ہے کہ ماضی کی سائکی ہمارے ساتھ اتنی دور کیوں چلی آئی شاید اس لیے کہ آنے والا ہر لمحہ آدمی کے اندر ایک نئی طرح کا بکھراؤ اور شدید اضطراب انڈیل رہا ہے، نظم میں اس کا جواب بدلتے مناظر سے فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

 ۴‘‘ اس نظم کی ساخت اپنی جمالیات کو چھپا لینے میں کامیاب بھی ہے۔‘‘

،۔ کون سی جمالیات؟۔ بدصورتی اور بکھراؤ کی بھی اپنی جمالیات ہوتی ہے، جسے نظم نے اپنے اندر گم نہیں ہونے دیا، اپنے مزاج سے ابھارا ہے۔

 ۵۔ ’’ لہجہ کیوں تبدیل ہوا ہے اس کی تلخی میں جمالیات کا کون سا دائرہ ہے ؟‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ اس نظم کی مکمل تکنیک میں Slide Showکی ایک پوری کیفیت ہے۔ پہلے بند میں تشکیل کار کی بینائی ہمیں محسوس ہوتی ہے لیکن اس کے اسلوب میں وقت کو کردار بنا کر پیش کرنے کی کوشش میں ایک نوع کی بے تعلقی بھی در آئی ہے۔ اس بے تعلقی میں معنی کے نشانات کہاں واقع ہیں ان کو گرفت میں لینا ضروری ہے۔‘‘

 کردار کے مزاج کی تلخی تو آغاز ہی سے نظم کا حصہ رہی ہے، جس کی آواز چیختے چیختے بیٹھ گئی ہو اور اسے کسی جانب سے زندہ انسانوں کا ساردعمل نہ موصول ہوا ہو تو اس کا کہنا کہ ہے کوئی زندہ، اسی تلخی کو ظاہر کرتا ہے، فاضل ناقد نے کردار کو وقت کے روپ میں بہ جا طور پر دیکھا ہے۔ تاہم یہ وقت کی طرح چپکے سے ماضی کی کھائی میں نہیں گرتا کہ اسے تو صدا دیے چلا جانا ہے، کہ یہی اس کی زندگی کا وظیفہ ہے لہذا یہ تلخی اسے اس عمل مسلسل سے الگ نہیں ہونے دیتی اور یوں کئی مقامات پر تلخ جھنجھلاہٹ پسپا ہوتی رہتی ہے۔ اس کا یہ عمل مسلسل بے تعلقی کے تاثر کو بھی رفع کرتا ہے جس کی جانب فاضل ناقد نے اشارہ کیا ہے۔

 ۶۔ ’’ میں نے اس کردار کو توتمی علامت کا مظہر یوں قرار دیا ہے کہ اس زمانہ میں اس کی حیثیت اس مخفی روح کی سی ہے جس سے ہمیں قوت حاصل ہو رہی ہے۔ اس طور پر یہ کردار ہمارے وقت کے آشوب کو اپنے تشخص میں سلب کرنا چاہتا ہے۔ نظم اپنے ابتدائیہ میں ہی بعض ایسے نشانات کو روشن کرتی ہے کہ ہم کھوئی ہوئی آنکھ کے مرثیہ میں آشوب کے مسلسل صیغہ کو محسوس کر لیتے ہیں۔ ہماری آنکھوں سے کوئی نقشہ کہیں گم ہو گیا ہے۔ اس لیے یہ کردار راوی کے بہ طور کتھا رسس کی منطق میں اپنے بیانیہ کے آہنگ کو ارضی بنا کر پیش کر رہا ہے۔‘‘

 ہاں یہ کردار ایک حد تک ٹوٹم ہو گیا ہے کہ اس سے قوت کشید کی جا سکتی ہے مگر اسے مکمل طور پر ٹوٹمی علامت کہا نہیں جا سکتا کہ یہ ہمارے عہد کے آشوب کو سلب نہیں کرتا نمایاں کرتا ہے، اسے دباتا نہیں اچھالتا ہے، سو یوں ہے کہ اس طرح ہمارا کتھارسس نہیں ہوتا، ایک بے چینی سی وجود میں بھر جاتی ہے، بہ جا کہ نظم زمین سے جڑی ہوئی ہے اور نظر پھیلے ہوئے ارضی آشوب کو اپنے بیانیہ کا حصہ بنا رہی ہے تاہم باہر کا آشوب، اپنے ماحول کے وسیلے سے آدمی کے لہو میں اترتا رہتا ہے۔

 ان نکات کے لیے جناب وجیہہ، آپ کا شکریہ

محمد یامین: جناب صدر! میں حاشیے پر حاضر تو رہا لیکن جنگی صورت حال کی وجہ سے مورچے میں بند رہا ہوں۔ اب جب کہ حمید شاہد اور علی محمد فرشی کی کھینچی ہوئی سیز فائر لائن واضح نظر آتی ہے، پھر بھی یہ خوف دل میں چھپا ہے کہ جانے کب یہ مفاہمتی روش پامال ہو جائے۔ لیکن یہ خیال بھی امید کا چراغ روشن کرتا ہے کہ حاشیہ کی جمہوری اساس اسی لڑائی اور کش مکش سے مضبوط، اور مضبوط تر ہوتی چلی جائے گی۔ جناب حمید شاہد نے ہمیشہ کی طرح مدلل گفت گو کی ہے۔ انھوں نے نظم کی لسانی منطق کو سمجھانے کی سعی کی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس نظم کا کردار، اس کی بیٹھی ہوئی آواز اور اس شخص کی لسانی منطق اور اس منطق سے پھوٹی ہوئی تکرار نے نظم پر اعتراضات کی بارش کو ڈھلوانوں کی جانب کھسکا دیا ہے۔ نظم کا بیانیہ نظم کے اندر سے پھوٹا ہے کسی تنقیدی نظریے نے اسے جنم نہیں دیا۔ میں تو جیلانی کام ران کے خیال سے متفق ہوں کہ تنقید معانی دریافت کرنے کا وسیلہ ہے اور وسیلے سے زیادہ اس کی کوئی قیمت نہیں۔ جہاں تک نظم کے اعلیٰ اور ادنیٰ ہونے کا سوال ہے ضروری نہیں کہ ہر نظم بڑی نظم ہو کر ہی قبولیت کا درجہ حاصل کرے۔ کچھ نظمیں اپنے بیرون اور معروضی حالات کی ضرورت ہوتی ہیں۔ اور کچھ اپنے اندرون سے پھوٹی ہوئی فضا کی ترجمان۔ یوں نظمیں ان تقاضوں کی مناسبت سے الفاظ چنتی ہیں اور اسلوب بُنتی ہیں۔ نقادوں نے مسدس حالی کو اس کی مقبولیت کے باوجود درجہ اول کی تخلیق تسلیم نہیں کیا۔ کیوں کہ نئی تنقیدی نظریں اس نظم کو کتابی نظریے کی عینک سے دیکھتی ہیں اور یہ نہیں دیکھتیں کہ حالی نے مسدس سامعین کے حوالے سے لکھی تھی اور اس کا بڑا مقصد سامعین کو راغب کرنا تھا۔ اس لیے وہ اسلوب کارآمد نہ ہو سکتا تھا جسے نئی اردو شاعری استعمال کر رہی ہے۔ ابرار احمد کی” سیر بین”کو تماشا دیکھنے والوں، اور دکھانے والوں کے مروجہ لسانی اسلوب سے الگ کر کے دیکھنا سرا سر غلط ہے۔ جناب صدر! ادبی رسم و سلوک کو اس نظم کے اندرون تک قاری کی رسائی کو آسان بنانا چاہیے مشکل نہیں۔

پروین طاہر: صاحبان حاشیہ مجھے ابرار صاحب کا نظم کے چناؤ کے بارے میں نقطہ نظر بہت اچھا لگا۔ انسان کو اپنے سٹینڈز اپنی ترجیحات کے بارے میں کلئر ہونا چاہئے۔ ایک تخلیق کار جب کوئی فن پارہ تخلیق کر رہا ہوتا ہے تواس کے ذہن میںاس وقت نہ تو نقاد ہوتا ہے اور نہ ہی قاری یا ناظر۔ تخلیقی عمل خالصتاً ذاتی کتھارسس کا عمل ہوتا ہے۔ اس عمل میں قاری کی شرکت بعد کا مرحلہ ہے۔ در اصل شاعر کو اپنی تمام تخلیقات سے پیار ہوتا ہے کہ وہ ایک کرب کو سہہ کر وجود میں آتی ہیں۔ جہاں تک قاری کا معاملہ ہے وہ کسی فن پارے کو تخلیق کار کی طرح ماں کی آنکھ سے نہیں دیکھتا بلکہ ایک عاشق یا محبوب کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور یوں ایک آئڈیلسٹ کا رویہ اپناتا ہے۔ اور کسی قسم کی کمی بیشی کو برداشت نہیں کرتا۔ جبکہ نقاد کا نقطہ نظر ان دونوں کے بیچ کا ہوتا ہے غیر جذباتی غیر جانبدار۔ مجھے اعتراف ہے کہ میں نے سیربین کو قاری کی آنکھ سے دیکھا۔ اب جب کہ شاعر محترم نے نظم کے چناؤ پر اپنے نقطہ نظر کا اظہار کیا ہے تو اچھا لگا۔ اور یہ احساس ہوا کہ ہم سے شاید نظم کو ناقد کی آنکھ سے دیکھنے میں کوتاہی ہو۔ اب جب ابرار اپنی نظم پر بات کریں گے تو ہم ان کی بات کو پوری توجہ سے سنیں گے اور ان گیپس کو فل کرنے کی کوشش کریں گے جو تخلیق کار کے تخلیقی عمل اور فاری کے تخلیق مکرر کے درمیان موجود ہوتا ہے۔ ہمارے لئے ابرار کی اپنی بات بہت قیمتی ہو گی کیونکہ وہ تمام تنقیدی تھیوریز سے او تجزیاتی ٹولز سے کہیں بڑھ کر دل کی دلیل اور تخلیقی جواز پر مبنی ہو گی۔ اور امید ہے کہ ہم از سرنو ابرار کے تخلیقی عمل میں شریک ہو پائیں گے۔

ابرار احمد: میری معروضات کے بعد آنے والی آرا پر میں شکر گزار ہوں لیکن آپ سب مجھ سے کہیں زیادہ نظم کو، کسی بھی نظم کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

 اس لے میں نظم کی تفہیم یا شان نزول پر کچھ بھی نہیں کہوں گا اور اپنی معروضات کو اس پر ہونے والی گفتگو تک محدود رکھوں گا۔ اتنا ضرور کہوں گا کہ آخری  قہقہہ دلیل اور دانائی نے ہی لگایا۔ اس بحث نے حاشیہ کو حلقہ بنا دیا لیکن ایک فرق کے ساتھ۔ کہ وہاں شاعر بولتا تو نہیں، سامنے بیٹھا ضرور ہوتا ہے۔

 یہاں تو کچھ مقامات ایسے بھی آئے کہ مجھے لگا جیسے مجھے موجود تو کیا، زندہ بھی تصور نہیں کیا گیا۔ زندگی کا پتا بھی کیا ہے لیکن یہ کائنات کا تو یقیناً آخری  دن نہیں تھا۔ یاروں نے تو کمال کر دیا !!

ابرار احمد: جناب صدر !میں تسلیم کرتا ہوں کہ ممکن ہے نظم کی تخلیق یا بعد میں نظر ثانی کے دوران مجھ سے کوئی کوتاہی سر زد ہوئ ہو یا پھر میں اسے دشمن کی آنکھ سے دیکھنے

 سے قاصر رہا ہوں جو میرا وطیرہ ہے لیکن معاملہ اس کے بالکل الٹ بھی تو ہو سکتا ہے !

 نظم کا ابتدائیہ در اصل اس کے دفاع کا مقدمہ ہوا کرتا ہے کم از کم اس فورم کی حد تک۔ اس حوالے سے علی محمّد فرشی کی تشویش کی مجھے سمجھ نہیں آئی تھی لیکن ابتدائیہ  پڑھتے ہی اس کی تشویش بجا لگی لیکن مجھے یقین ہے کہ جو آرا سامنے آئیں اور جس طور آئیں نظم کوئی بھی ہوتی ہونا یہی تھا۔ چلیں یہ تو دیکھ لیا کہ وکیل صفائی، کیسے وکیل استغاثہ میں تبدیل ہوا کرتا ہے۔ ۔وجیہ صاحب نے نہایت ذہانت اور محنت سے (اسے محبت مت پڑھا جائے )ایک ایسا اشاریہ مرتب کیا جس میں سے نکلنے والے تمام راستے انہدام کی  منزلوں کو جاتے تھے۔ گو بعد میں ایسا ہو نہیں پایا پھر بھی کچھ دوست اس دھند کی لپیٹ میں آ گئے جو بعد میں کہیں دور جا کر چھٹی۔ ۔

ابرار احمد: اس سوالیہ تحریر کے ساتھ ہی پروین طاہر کا بیان آ گیا کہ یہ میری نمائندہ نظم نہیں۔ اس لیے کہ اس میں وہ باطنی آہنگ موجود نہیں جو دل کو چھوتا اور آنکھوں کو نم کرتا ہے۔

 اس صدمے سے سنبھل نہ پایا تھا کہ تصنیف حیدر صاحب نے صاف الفاظ میں وہ سب کہ دیا جو بوجوہ وجیہ صاحب نے ایمائی انداز میں کہا۔ میں نہیں جانتا کہ یہ محض اتفاق تھا

 یا کچھ اور۔ تصنیف تو اس قدر متحرّک رہے کہ لگتا تھا وہ تہیہ کر چکے کہ کسی بھی کلمہ خیر کو بچ کے جانے نہیں دینا۔ وارث علوی انہدام کے بے مثال نقاد ہیں اور مجھے  مسلسل یاد آتے رہے۔ وہ لکھتے ہی تب ہیں جب تہیہ کر چکے ہوں کہ نہیں چھوڑنا!!

 جن دوستوں نے اس نظم کو رد کرنے سے پہلے میری نظموں کی تعریف کی میں اسے اصل بات کہنے کے لیے بہانے سے زیادہ سمجھنے پر خود کو تیار نہیں پاتا۔اگر کوئی  شاعر واقعی اچھا ہے تو وہ اس لیے بھی اچھا ہے کہ اس نے اپنے لیے ایک معیار قائم کر رکھا ہے اور کمزور تخلیقی لمحوں میں بھی وہ اس سے نیچے نہیں آتا۔ اگر یہ نظم بری ہے تو پھر میری باقی شاعری کو بھی اسی کھاتے میں ڈالنا ہو گا

ابرار احمد: جناب صدر، جب فرشی نے "خود کش تنقید ” کی نشان دہی کی تو آپ فورا وضاحت طلب کرنے لگے لیکن آپ کو اپنے اختیارات کے استعمال کا اس وقت خیال تک نہیں آیا جب تضحیک آمیز زبان استمال کی گئی۔ وجوہات تک پہنچنا زیادہ مشکل نہیں لیکن ساتھ ساتھ ایک نو وارد عارفہ شہزاد کو نشانے پر رکھا گیا اور آپ روکنے کی بجائے  خود بھی اس میں شامل ہو گئے۔ کیا محض اس لیے کہ انہوں نے بغیر کسی تعارف یا مقصد کے آتے ہی نظم کا دفاع آغاز کیا اور کیا یہ اطوار ہم جیسے سینئر لکھنے والوں کو زیب دیتے تھے ؟وہ اس طرز عمل سے پریشان ہو کر حاشیہ کو چھوڑ گئیں۔

 "شاعری جائے بھاڑ میں "جیسے فرمودات پر کچھ مجھے ہی لکھنا ہو گا ‘تمام اہم نقاد جناب نصیر احمد ناصر سے پوچھ کر ہی شاعروں کی فہرست بناتے ہوں گے لیکن اگر مجھ پر یہ احسان کر چکے ہیں تو شکریہ کے ساتھ گزارش ہے کہ وہ آئندہ ایسی شفقت مت فرمائیں۔یہ بھی انہی کا امتیاز ہے کہ کوئی بھی نظم ان کے سامنے آ جائے  تو انھیں اپنی کوئی نہ کوئی نظم ضرور یاد آ جاتی ہے۔ آزمائش شرط ہے اور بڑے شاعروں کی یہی نشانیاں ہوا کرتی ہیں !

ابرار احمد: اور مجھے بات مکمل کرنے دیں کہ ٢ ہفتے آپ کی کسی بات کو میں نے روکا نہیں۔ پروین صاحبہ یقین جانیے میں آپ کے خلوص پر یقین اور آپ سے احترام کا رشتہ ہے جو کسی طرح سے کمزور نہیں پڑا۔ میں حدود میں رہ کر ہی بات کر رہا تھا۔ خاموش ہو جاتا ہوں اگر یہی مرضی ہے سب کی۔

پروین طاہر:

 sorry abrar i did not know the rules. if it is against any of the rules I can delete the post. mera maqsad apki baat ma rukawt dalna her giz nahi please carry on ur point of view.

ابرار احمد: پروین !آپ سادہ اور مخلص ہیں اور مجھے اس کے لیے کسی سے گواہی درکار نہیں اور یہ بھی کہتا چلوں کہ مجھے آپ کی دیانت اور وضع داری کی بابت نظم پر آپ کی رائے  سمیت کوئی شک نہیں اور نہ ہو گا

پروین طاہر:

 thanks abrar! please carry on۔۔۔۔۔۔۔۔

جاوید انور: ابرار احمد صاحب، کیا آپ اپنی بات مکمل کر چکے ہیں؟۔۔

علی محمد فرشی: جنابِ صدر! مجھے اور حمید شاہد کو ابرار احمد کا پیغام ملا ہے کہ ابھی ان کی بات جاری ہے۔ وہ کسی ایسی جگہ پر ہیں جہاں انٹر نیٹ سے استفادہ نہیں کر سکتے، اس لیے آپ سے مخاطب نہیں ہو سکتے، لہٰذا بالواسطہ اطلاع قبول ہو۔

جاوید انور: بہت مہربانی، فرشی صاحب۔۔

ابرار احمد: جناب صدر میں حاضر ہوں۔ گفتگو کے دوسرے رخ پر چند باتیں :جب میری نظم پر بحث شروع ہوئی تو عارفہ شہزاد ممبر نہیں تھیں۔ حمید شاہد تمہیدی گفتگو کر چکے  تھے مگر عارفہ نے آتے ہی جس ہنر مندی اور جذبے سے مدللل گفتگو تسلسل سے کرنا شروع کی تو یقین جانیے مجھے بہت حوصلہ ملا۔ حوالہ جات اور کاٹ دار جملوں سے انہوں نے بھرپور دفاع کیا سیربین کا، جو اس کی تفہیم میں کلیدی عنصر ثابت ہوا۔ کاٹ دار جملہ حمید شاہد نے بھی عمدگی سے لکھا اور میں اسے طنز کی بجائے  ایک ایسی خوبی سمجھتا ہوں جو مؤثر تنقیدی ٹول ہے۔ حمید شاہد نے نہایت قرینے سے بات کو مزید آگے بڑھایا۔ انہوں نے میرے مجموعی کام کے حوالے سے نظم کو کھولا۔

 اس خوبی کو گزشتہ اجلاس میں میری تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا حال آں کہ یہ ان کا تنقیدی قرینہ ہے۔ وہ افسانہ کے آدمی ہیں اس لیے نظم پر ان کا یوں جم کر بات کرنا نظم کی تنقید کے لیے ایک اچھی خبر ہے

ابرار احمد: علی محمّد فرشی نے اپنی تحریر میں جہاں نظم پر کارآمد بات کی وہیں جارحانہ ماحول کو تحلیل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اقتدار جاوید بھی موجود رہے، نصیر احمد ناصر اور پروین طاہر بھی۔ جلیل عالی محترم کی شمولیت میرے لیے خاص خوشی لے کر آئی اسی طرح یامین صاحب کی مہربانی کہ شریک ہوے۔ وجیہ صاحب نے جو لکھا وہ میری نظم پر لکھا اور تصنیف نے بھی جو کہا سیربین سے ہی متعلق تھا۔ ان تمام دوستوں کا شکریہ واجب ہے مجھ پر۔  یہ بحث رنگا رنگ اور پر لطف رہی۔ مجھے وہ دوست بھی اتنے ہی عزیز ہیں جنہوں نے تنقید کی جتنے باقی عزیز ہیں

ابرار احمد: ہمارے درمیان ادب قدر مشترک ہے اور کیا یہ کمال کی بات نہیں کہ اس پر آشوب دور میں ہم نے ادب جیسا روگ پال رکھا ہے۔ باقی چھوٹی موٹی لغزشیں، ہلکا پھلکا عدم توازن  اس تعلق سے یقیناً زیادہ اہم نہیں جو ہمارے درمیان ہے اور رہے گا۔ میری تحریر میں بھی کہیں یہ عدم توازن موجود ہے تو اسے دوست در گزر کریں۔ میرا دل معمور ہے خوشی سے اور محبت سے لب ریز۔ اور جناب صدر !آپ کا خصوصی شکریہ کہ ایک مشکل اور مصروف زندگی گزارتے ہوے بھی آپ نے میرے لیے اور میری نظم کے لیے وقت نکالا جو بطور ایک دوست کے میرا حق بھی تھا۔ تمام دوستوں کے شکریہ کے ساتھ میں تمام ہوتا ہوں !

محمد حمید شاہد: جناب صدر، ابرار احمد نے اگرچہ بہت کچھ کہہ دیا اور اب آپ صدارتی خطبہ عطا فرمانے جا رہے ہوں گے، مگر میں آپ کی وساطت سے ابرار احمد سے درخواست کرنا چاہوں گا کہ، ابھی اس نظم کے باب میں انہوں نے کچھ نہیں کہا۔ یہاں نظم نگار کو گفتگو کی محض اس لیے دعوت دی جاتی ہے کہ ہم تخلیق کار کو زندہ تخلیقی وجود سمجھتے ہیں اور اس کے تخلیقی تجربے کو اس کے حوالے سے بھی سمجھنا چاہتے ہیں۔

ابرار احمد: میں شاعر ہوں بس۔ سیدھا سادھا اور اپنے اندر کی آواز پر حاضر رہنے والا۔ ۔اپنی ہی نظم پر کچھ کہنے کی دوستوں نے دعوت دی تو گھبرا گیا ہوں۔

 شاید اپنی ہی نظم پر، نظم سے باہر نکل کر بات کرنا کم از کم مرے لیے ممکن بھی نہیں۔ عبد اللہ حسین نے غالباً "نشیب”۔ ۔ دیباچے میں لکھا ہے کہ ایک روسی رقاصہ سے کسی نے  رقص کی بابت پوچھا کہ تم رقص کیوں کرتی ہو ؟ تو وہ بولی "اگر مجھے پتا ہوتا تو میں رقص کرتی ہی کیوں ! ” تو دوستو، میں بھی نہیں جانتا۔ شاعری میرے لیے بہ قول نیرودا  کسی انجان گلی کا بلاوا ہی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ کدھر سے اور کیسے چلی آتی ہے کبھی افتاد کی صورت، کہیں آرام کی صورت۔

ابرار احمد: یہ نظم اسی وفور اور باطنی آہنگ سے پھوٹی ہے جس کی طرف پروین طاہر نے اشارہ کیا کہ کیفیت اور آمد کے بغیر لکھنے کا میں قائل نہیں ہوں۔  نظم کی بنت میں جن داخلی اور خارجی دائروں کا تذکرہ آیا، زبان کے جس بکھراؤ یا قرینے کی جانب اشارہ کیا گیا یہ میرا نہیں نقاد کا درد سر ہے۔

 یہ ضرور کہوں گا کہ ماضی وہ واحد زمانہ ہے جسے ہم جانتے ہیں۔ اسی کے وسیلے ہم حال اور مستقبل کی صورت گری کرتے ہیں۔ کسی بھی زبان کی شعری روایت اس کا ماضی ہی ہوا کرتی ہے۔ جس سے مستقبل کے راستے نکلتے چلے جاتے ہیں۔ اس لے اگر اس نظم کے مرکزی کردار کا تعلق ماضی سے ہے تو میں اسے ماضی کی سائیکی نہیں اس کا شعور قرار دوں گا جوہ ہماری رہنمائی کر سکتا ہے۔ اس کردار کی بیٹھی ہوئ آواز میری ہی ہے اور میں ماضی میں نہیں حال میں زندہ ہوں اور مستقبل کی جانب تشویش اور فکر مندی سے دیکھ رہا ہوں۔ اسی لے چیختا ہوں اور سنتا نہیں کوئی۔۔۔

ابرار احمد: اب یہ آواز کن گلی کوچوں، شاہراہوں، تاریخ کی رہ داریوں یا مستقبل کی دھندلی راہوں میں بھٹکتی پھرتی ہے اس کے لیے میری نظم ہی آپ کو بتا سکتی ہے کہ یہی اس کا کام ہے۔

 تخلیقی عمل بہت پیچیدہ اور پر اسرار عمل ہوا کرتا ہے جسے بیان کرنا مرے لیے ممکن نہیں۔ جیسی بھی ہے یہ نظم ہی میری وضاحت ہے اور دلیل۔ طاقت ہے اور یہی میری کم زوری۔  جن دوستوں کو نظم کا خارجی ڈھانچہ ہی نظر آیا میں ان سے درخواست ہی کر سکتا ہوں کہ چند لمحوں کو وہ اس کردار کی بیٹھی ہی آواز میں آواز ملا کر تو دیکھیں۔ وہاں جا کر تو دیکھیں جہاں میں موجود رہا اور آج بھی ہوں۔ شاید انھیں بھی وہ دکھ اپنے اندر اترتا محسوس ہو اور مخاطب لوگوں کی پتھریلی بے گانگی سے ان کی بھی ملاقات ہو جائے۔ ۔میں "سیربین ” سے  اسی طرح پیار کرتا ہوں جیسے اپنی باقی نظموں سے۔ ۔۔برادرم حمید شاہد کے خصوصی شکریے کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں۔

 ہمیں خبر نہیں کچھ، کون ہے، کہاں کوئی ہے

 ہمیشہ شاد ہو، آباد ہو، جہاں کوئی ہے !

ابرار احمد: جناب صدر ! آپ کو مخاطب کرنا بھول گیا۔ معذرت۔ ۔۔

نسیم سید: اس فورم کی کشش ہے کہ روزانہ ادھر سے گزرنا، رکنا اور اکثر دیر تک بیٹھے رہنا اچھا لگتا ہے۔ ۔ ایک عرض گزارنی تھی کہ اگر کسی طرح ممکن ہو تو comments کو مختصر الفاظ میں سمیٹنے کی کوشش کی جائے کہ اتنی لمبی گفتگو وہ بھی کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کے مشکل میں ڈال دیتی ہے اور ایک ہی نشست میں پڑھنا مشکل ہوتا ہے۔ ۔بہت خوب گفتگو رہی بہت ہی لاجواب ہے یہ سلسلہ۔ ۔۔۔

جاوید انور: سو پیارے دوستو، صدارتی محل کے باورچیوں کے تیار کردہ مرغن کھانوں کے زمانے ہوا ہوئے، پرسوں سے اپنے ہاتھوں پکا کر کھا رہا ہوں، آپ کو انتظار ہو گا کہ میں بھی اس سمے کچھ کہوں- آپ کو ایک دن اور انتظار کرنا ہو گا- اگلا اجلاس ویسے بھی، انتظامیہ کی طرف سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق، 15 نومبر سے شروع ہو گا- سو کل تک خدا حافظ- یہ نوٹ لکھنے کی ضرورت اس لئے محسوس ہوئی کہ یہ عہدہ سنبھالنے میں مجھے کچھ ناگزیر مجبوریوں کی بنا پر اگرچہ صرف چند گھنٹے کی دیر ہوئی تھی لیکن یہ قلیل عرصہ ہمارے کچھ دوستوں کو ناقابلِ برداشت طویل محسوس ہوا- امید ہے ان لفظوں سے ان کے انتظار کا درد کچھ کم ہو جائے گا اور میں کچھ اور کنکروں کی زد میں آنے سے بچ جاؤں گا-۔۔۔

جاوید انور: خواتین و حضرات، پیارے دوستو، میرے لئے اس مرحلے پر اس اجلاس کے بارے میں کچھ کہنا آسان کام نہیں- اگر میں اس ساری کارروائی کے دوران اپنے جذبات و خیالات کی طرف نگاہ دوڑاؤں تو ایک افسوس اور بے بسی کی صورتِ حال ہی نظر آتی ہے – آغاز ہی میں ایک طرف تو مجھے ایک دباؤ کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک غیر سنجیدگی کی فضا کا، جس کا اندازہ آپ کو ابتدائی پیغامات پڑھنے سے ہو جائے گا- جن کی ابتدا میرے نشستِ صدارت سنبھالنے سے اگر پہلے ہی نہیں تو اس کے ساتھ ہی ہو گئی تھی- فیاض احمد وجیہہ کو ابتدائیہ پڑھنے کی دعوت سے ان کے ابتدائیہ پڑھنے تک کتابت کی غلطیوں وغیرہ کے بارے میں استہزائیہ انداز کا اپنانا جس کی بازگشت ابتدائیے کے بعد تک جاتی محسوس ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایک اور ڈرامہ جو پسِ پردہ جاری تھا اور جس سے شائد آپ آگاہ نہیں مجھے بے حال کرنے کے لئے کافی تھا- مجھے یوں لگا کہ فیاض احمد وجیہہ کو جن لوگوں نے ابتدائیہ لکھنے کی دعوت دی تھی، انہی نے اس کے لکھے ہوئے ابتدائیے کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور یہ صورتِ حال میرے لئے انتہائی افسوس ناک تھی- اور ہندوستانی اور پاکستانی، نقادان اور نظم نگاران کے درمیان اس دراڑ کو، جس کی طرف میں نے اپنی ابتدائی گفتگو میں اشارہ کیا تھا، اور گہرا اور چوڑا کر رہی تھی-(جاری)۔۔

جاوید انور: سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ نظم سیربین کے بارے میں محترمہ پروین طاہر، محترم نصیر احمد ناصر اور برادرم تصنیف حیدر کی ابتدائی آراء بھی تنقیدی انداز لے کر آئیں- میں اب بھی یہی سمجھتا ہوں کہ ان تمام آرا میں مجھے کہیں بھی خلوص کی کمی محسوس نہیں ہوئی- اس موقع پر میں نے کوشش کی کہ وہ احباب جو گفتگو کو ایک اور زاویہ عطا کر سکتے ہیں، گفتگو میں شریک ہوں، لیکن ان کی طرف سے اس موقع پر کسی وجہ سے تاخیر ہوتی رہی ( مجھے ان کے خلوص میں پھر بھی کوئی شک نہیں) لیکن آخر آخر میں انہیں لوگوں سے مجھے انہیں دنگل میں اتارنے کی کوششوں کے طعنے سننا پڑے –

 میں ذاتی طور پر اس بات کا قائل ہوں اور یہ بات پہلے بھی کہیں کہہ آیا ہوں کہ تخلیق خالق سے جدا ہو جانے کے بعد بذاتہ ایک خودمختار شخصیت کا روپ دھار لیتی ہے اور ہمارا بحیثیت ایک تخلیق کار کے اخلاص یہی ہے کہ ہم اسے اسی حیثیت میں دیکھیں اور اس پر ہونے والی تنقید یا تحسین کو ذاتی سطح پر نہ لیں- لیکن گفتگو ( اور پسِ پردہ کھیل، جو میرے پاس محفوظ ہے اور جسے سرِ پردہ لانے کا میرا ابھی کوئی ارادہ نہیں) گواہ ہے کہ ایسا نہ ہو پایا اور عمل اور ردِ عمل کا نیوٹینین قانون لاگو ہونا شروع ہو گیا اور ہم رد و قبول کے دو متضاد سمتوں میں جانے والے رستوں پر چل پڑے –

 کسی تخلیق پر رد و قبول کے اس عمل کو بھی میں دراصل تخلیق کی کامیابی ہی سمجھتا ہوں۔ لیکن مجھے ایسا لگا کہ میرے دوستوں نے ایسا نہیں سمجھا اور یوں کئی دوست ناراض ہو کر ایک طرف بیٹھ گئے اور کئیوں نے گفتگو میں شامل ہونے سے ہی انکار کر دیا (تحریری ثبوت، شکریہ الیکٹرونک میڈیا!) میرے پاس محفوظ ہیں-

جاوید انور: سچی اور ایماندارانہ بات یہ ہے کہ مجھے انتظامیہ کے رویے نے مایوس کیا- یوں لگا جیسے وہ کم از کم میری صدارت کو ناکام بنانے کا تہیہ کئے ہوئے تھے ( خدا کرے میں غلط ہوں !) اور بھول رہے تھے کہ پچھلی قریب قریب تمام نشستوں میں ایسی صورتِ حال میں میں نے ہمیشہ ابلتے ہوئے جذبات کو خوشگوار درجۂ حرارت پر لانے کی کوشش کی-

 مختصر یہ کہ میں انتہائی خوش ہوں کہ اس صورتِ حال سے نکلنے کی گھڑی آ پہنچی ہے –

 ابرار احمد اپنی گفتگو میں مجھے اپنا دوستہ قرار دے چکے ہیں اور یہ بات سچ بھی ہے کہ آپ سب لوگوں میں ابرار وہ واحد شخص ہیں جنہیں میں ذاتی سطح پر جانتا ہوں اور ہماری پہلی ملاقات ہمارے ادبی کیرئیر کے انتہائی آغاز میں، 1975 یا 1976 میں ہوئی تھی اور ہم دونوں تقریباً ایک جیسے رستوں پر ( میڈیکل ڈاکٹر اور نظم نگاری) چلتے ہوئے یہاں تک پہنچے ہیں، جہاں ہم اب کھڑے ہیں- لیکن میں اس اجلاس کے دوران خالق کی بجائے تخلیق سے مخلص ہونے کا تہیہ کئے ہوئے تھا- اس عمل میں کئی بار مجھے ایسا لگا کہ یہ دوستی میرے ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسل رہی ہے -( اللہ کرے ایسا نہ ہو)- وہ جو بات علی محمد فرشی صاحب نے کہی ہے، یعنی ’ تنقید کو اس غرض نہیں ہوتی کہ کسی نے کتنا "بُرا” تخلیق کیا ہے اسے تو”بہترین” سے سروکار ہوتا ہے۔ ” سے بھی مجھے پوری طرح اتفاق نہیں یا شائد یہ کہنا بہتر ہو گا کہ میں اسے ذرا اور طرح سے سمجھتا ہوں- تنقید اگر برے کو برے نہیں کہے گی تو اس کے اچھے کو اچھا کہنے پر ہم کیسے اعتماد کر پائیں گے – میں سمجھتا ہوں کہ تنقید کا کام ان دونوں انتہاؤں کے درمیان کا ہے – یعنی اچھا اور برا کی بجائے کیا، کیوں اور کیسے جیسے سوالوں سے نپٹنا- اور یہاں میں پھر فرشی صاحب کے ہی ایک قول کی طرف آتا ہوں، یعنی<< اب یہاں "حاشیہ” پر جو(تخلیق) نظم برائے تنقید منتخب کی جاتی ہے اس کا انتخاب ہی یہ بات طے کر دیتا ہے کہ اس کے محاسن کی تلاش ہی مطمحِ نظر ہے۔ یہ تو ممکن ہے کہ نظم کے انتخاب میں چوک ہو جائے اور مذکورہ اصول کا اطلاق نہ ہوسکے، ایسے میں قصور تو متن کا انتخاب کرنے والے کا ہو گا لیکن نزلہ شاعر پر گرے گا۔ اسی لیے میں اس حق میں نہیں ہوں کہ شاعر کو اپنی نظم کا انتخاب کرنے کا حق دیا جائے۔ یہ انتخاب ابتدائیہ نگار کا حق ہے، ظاہر ہے کہ وہ شاعر کی کسی بہترین نظم ہی کا انتخاب کرے گا اور اس کا مقدمہ لڑے گا۔ << سو، کیا یہاں ابتدائیہ نگار کو یہ حق دیا گیا؟ اور اگر ایسا نہیں کیا گیا تو اس کے کہے کو انتظامیہ کی طرف سے بھی، جس نے اسے اس کام کے لئے منتخب کیا تھا، سنجیدگی سے کیوں نہیں لیا؟ مجھے امید ہے آئندہ نشستوں میں ان نکات پر غور کیا جائے گا-(جاری)

جاوید انور: تصنیف حیدر اور عارفہ شہزاد کے جذباتی رویوں سے مجھے خوشی ہوئی کہ‘‘ نئے دیوانوں کو دیکھیں تو خوشی ہوتی ہے — ہم بھی ایسے ہی تھے جب آئے تھے ویرانوں میں‘‘ – سو، محترمہ عارفہ شہزاد اگر آپ کو میرے کسی لفظ یا لہجے سے تکلیف پہنچی ہو تو میں دلی طور پر معذرت خواہ ہوں اور اگر آپ چاہیں تو میں ذاتی طور پر یا سرِ بزم اس کی وضاحت کو تیار ہوں-

 اب آتے ہیں نظم کی طرف- میری نظر میں یہ ایک اہم نظم ہے – میں بڑی یا چھوٹی جیسے لفظ یہاں استعمال نہیں کروں گا، کہ یہ میرا نہیں وقت کا کام ہے – اس نظم کی اہمیت دونوں سطحوں پر بنتی ہے – چاہے آپ اسے جدید نظم کے تناظر میں رکھ کر دیکھیں یا ابرار احمد کی اپنی شاعری کے پس منظر میں- میں سمجھتا ہوں کہ اپنی پہلی قرأت میں قاری کو اپنی جانب متوجہ کرنا اور اسے ساتھ بہائے لے جانا کسی تخلیق کی پہلی خوبی ( آخری نہیں) ہوتی ہے – اور سیربین کی اس خوبی سے انکار ممکن نہیں- دوسرا مرحلہ اس کا اپنے کو پھر پڑھوانا ہوتا ہے اور اس نظم کی پہلی قرأت کا ہمیں اس کی دوسری قرأت پر بھی ابھارنا ہے – اس کے بعد قاری کا سفر شروع ہوتا ہے اور یہاں متن اپنے تئیں خالق کی سطح پر ہی نہیں آتا بلکہ قاری کو بھی خالق کی سطح پر لے آتا ہے – اور یہ بات ہر نظم کی تقدیر میں نہیں لکھی ہوتی یا ہر نظم کی تقدیر میں ہر قاری کے لئے نہیں لکھی ہوتی- میں سمجھتا ہوں کہ موضوعی گہرائی نظم میں لائی نہیں جاتی بلکہ آتی ہے – پیارے ابرار احمد اور باقی دوستو مجھے بھی اپنے کچھ احباب کی طرح ایسا لگا کہ یہ خوبی اس نظم میں نہیں آئی- ( کیا شمس الرحمن فاروقی کا کسی نظم کو اپنے انتخاب میں شامل کرنا اس نظم کے شاہکار ہونے کا ثبوت ہے ؟ اور کیا اس انتخاب میں شامل تمام نظمیں شاہکار ہیں؟) سیربین میں اس گہرائی کی بجائے ایک وسعت پائی جاتی ہے اور اس بات کو، اگر یہ نظم میری نظم ہوتی تو، میں کبھی ذاتی سطح پر نہ لیتا اور ابرار احمد سے بھی امید رکھتا ہوں کہ ان لفظوں کو وہ ذاتی مسئلہ نہ بنائیں- اس نظم میں ان کا سفر عمودی (جو کہ ان کا خاصہ ہے اور جس کی طرف پروین طاہر، نصیر احمد ناصر اور تصنیف حیدر کے ساتھ ساتھ فیاض احمد وجیہہ نے پورے اخلاص کے ساتھ توجہ مبذول کروانے کی کوشش کی) کی بجائے افقی ہے – اور ابرار احمد کی اپنی شاعری کو پس منظر میں رکھیں تو یہی بات اس کو اہم بناتی ہے – آخری دن سے پہلے محمد حمید شاہد کی طرح میرے ساتھ بھی سفر میں ہے اور بتاتی ہے کہ یہ پہلی نظم ہے جس میں وہ اس طرح اپنی ذات سے باہر نکلنے کی کوشش کرتے ہیں- یا سیر بین والا اپنے تئیں اپنی ذات کا اسیر ایک فنکار ہمیں اپنی اپنی ذات سے باہر نکلنے پر اکساتا ہے – دوسری اہمیت جس کا میں نے کچھ دیر قبل تذکرہ کیا ہے اور جس کا تعلق اسے ہمعصر نظم کے تناظر میں دیکھنے کا ہے، اس نظم کی وہ خوبی ہے جسے میں نے ایک بار نظیر اکبرآبادی اور دوسری بار ایلن گنزبرگ کے حوالے سے دیکھا، یعنی اس کی روانی اور اس کا بہاؤ- اور اس طرز کی نظم مجھے ہمعصر اردو نظم میں کوئی اور نظر نہیں آتی- لیکن میری کم مائیگی کہ میں اسے علی محمد فرشی کی طرح ایک طویل نظم کی حیثیت میں نہیں پڑھ سکا مگر اس موقع پر میں اس بحث میں نہیں پڑوں گا- آخری بات، پیارے ابرار احمد، میرے خیال میں اس نظم کی طوالت اس کی قوت پر منفی طور پر اثر انداز ہو رہی ہے اور اگر میں یہ آخری فقرہ گول کر جاؤں تو مجھے تمہارے ساتھ، تمھاری نظم اور عمومی سطح پر نظم کے ساتھ اپنے مخلص ہونے پر شک ہونا شروع ہو جائے گا-

 سو پیارے دوستو اب میں آپ سے اجازت لوں گا، خدا حافظ-۔۔

جاوید انور: اگلے اجلاس کے لیے ہندوستان سے تعلق رکھنے والے شاعر جناب ستیہ پال آنند کا انتخاب کیا گیا ہے۔ ان کی نظم "اے حسن کوزہ گر” کا ابتدائیہ علی محمد فرشی لکھیں گے جب کہ اجلاس کی صدارت حمید شاہد صاحب فرمائیں گے۔ اور نئے اجلاس کی نئی تاریخ 15 نومبر مقرر کی گئی ہے۔ –

 خدا حافظ۔۔

ستیہ پال آنند: جاوید انور صاحب اور دیگر دوستو: مجھے شاید میرے نام کی وجہ سے "ہندوستان سے تعلق رکھنے والا” سمجھ لیا گیا ہے۔ میں پیدا پاکستان میں ہوا۔ سترہ برس کی عمر مین انڈیا پہنچا۔ تین دہائیاں وہاں رہا اور اب تین دہائیوں سے بیرون ملک میں ہوں۔ تو میں خود کو کس ملک سے تعلق رکھنے والا سمجھوں؟ مجھے خود کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ بہر حال ایک "بزرگانہ، مشفقانہ” رائے دوں گا (کیونکہ طبیعی اور ادبی عمر کی طوالت میں آپ سب سے بڑا ہوں۔ ) رائے یہ ہے۔ کسی بھی دوست کو "اردو یونیورس” کا باسی سمجھتے ہوئے اس کے ملک اور مذہب کا ذکر نہ کریں۔

ابرار احمد: جاوید میرے دوست !صدارت اب ہوئی ایک طرف تو یقین جانو کہ مجھے نظم پر ہونے والا کوئی حملہ خود پر حملہ نہیں لگا کہ اور تربیت کے ساتھ ساتھ مجھے حلقہ ارباب ذوق نے بھی بہت سکھایا ہے۔ تمہاری رائے میرے لیے بہت اہم ہے کہ تم، تم ہو۔ مجھے بھی کئی دوستیاں ہاتھ سے نکلتی نظر آئین لیکن ایسا ہوا نہیں ہے۔ مجھے صرف اس وقت دکھ ہوا جب یاروں نے زبان کے بارے میں اس نسبت کا دھیان نہیں کیا جس کی مجھے توقع رہی اور اس محبت کی کمی جو ہمارے درمیان ہے یا ہونی چاہیے۔ صاف بات یہی ہے کہ عدم توازن میں نے کچھ بھی دل میں نہیں رکھا اور جاوید ! صدارت کے  لیے میں نے ہی تمہارا نام تجویز کیا اور اس کئی مجھے خوشی ہے اور رہے گی۔اور تمہاری رائے جہاں مخلص ہے وہیں قابل احترام۔ ۔خوش رہو دوست۔ ۔۔۔یہ محض ایک نظم ہے،

 زندگی موت کا مسئلہ بالکل نہیں

اشعر نجمی: جاوید صاحب ( صدارتی تقریر کے بعد جناب صدر کہنا شاید مناسب نہیں)، آپ نے نہ صرف منصب صدارت کا حق ادا کر دیا بلکہ آپ کی حق گوئی اور راست بیانی نے میرے ساتھ شاید کئی دوسرے لوگوں کے بھی زخم خنداں پر صوف بھر دیا۔ ستیہ پال آنند صاحب ہمارے بزرگ اور زود گو شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے نام کا اعلان سن کر خوشی ہوئی۔ لیکن اس سے زیادہ خوشی آنند صاحب کے اس بیان کو پڑھ کر ہوئی جس کے تحت انھوں نے اپنے "ہندوستانی نہ ہونے ” کا اعتراف کر کے انتظامیہ کو مخمصے میں ڈال دیا اور یوں میرے سابقہ احتجاج کے رد عمل میں وہ توازن قائم ہوتے ہوتے رہ گیا، جس کا تقاضا میں نے کیا تھا۔

جاوید انور: محترم ستیہ پال آنند صاحب، میں تو خود اس معاملے میں آپ جیسے خیالات ہی رکھتا ہوں- مجھے انتظامیہ کی طرف سے جو الفاظ موصول ہوئے میں نے اسی طرح یہاں پیسٹ کر دئیے، یقین جانئے ایک لفظ بھی میرا اپنا نہیں، اگلی نشست کے بارے میں- میں تو خود سوچ رہا تھا، ہندوستانی شاعر ستیہ پال آنند لکھنے کے پیچھے کیا راز ہے – صحیح جواب تو انتظامیہ ہی دے سکتی ہے – شائد انتظامیہ اب ہنوستان کے کسی شاعر کی کوئی نظم یہاں پیش کرنا چاہتی ہو، لیکن جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں، یہ میری اپنی تھیوری ہے -۔۔

جاوید انور: مجھے کتابت کے بارے میں چونکہ بہت چوکنا کر دیا گیا ہے سو پلیز ھنوستان کو ہندوستان پڑھا جائے، شکریہ-۔

اقتدار جاوید:

Mohtram Anand sb kiya adbi takhleeq mein Mulk aur Mazhab aik bari aur purasrar quwwat k taur par apna role ada nae karta?

ستیہ پال آنند: جی، دونوں کرتے ہیں، لیکن مجھ جیسے اس شخص کا کیا علاج جو خود کو all faith man اور گلوبل شہری تسلیم کرتا ہو؟ ایسا شخص تو آپ کی منطق سے لا علاج ٹھہرا۔

پروین طاہر: آنند جی ہمیں آپکے پرو ہیومن خیالات پر فخر ہے آ پ ہمارے اور ہم آپ کے ہیں آپ کا تلہ گنگ اب بھی آپ کا ہے اور آپ کا منتظر رہتا ہے۔

اقتدار جاوید: محترمہ پروین طاہرہ صاحبہ!اگرتلہ گنگ جناب ستیہ پال آنند صاحب کا ہے تو گزارش ہے کہ تلہ گنگ اور اس علاقہ کی مٹی کی خوشبو سے کو ئی کیسے جان چھڑا سکتا ہے تو میرا کہنا غلط تو نہ ہوا یہی تو عرض د  وی

 ابرار احمد: یہاں اردو نظم پر بات ہوتی ہے اور علاقائی یا مذہبی حوالے جوہری اور ادبی حوالے سے غیر متعلق ہیں

علی محمد فرشی: جنرل ضیا الحق کی آمریت کے زمانے میں سرکار دربار سے فیض یاب ہونے والوں نے "پاکستانی ادب” کے عنوان سے ایک "تحریک” شروع کرنے کی کوشش کی تھی، مقصد واضح تھا کہ ادبی اذہان کو اصل موضوع سے ہٹا کر نئی جنگ میں الجھا دیا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی سلسلے کی ایک تقریب میں ڈاکٹر وزیر آغا کو بہ طور صدر مدعو کیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھنے ہم بھی گئے پہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آغا صاحب کی تقریر نے تو منتظمین کی جبینوں کو عرق آلود کر دیا۔۔۔ لفظ بہ لفظ یہ تقریر یاد نہیں البتہ ابتدائیہ اپنے لفظوں میں نقل کروں تو شاید بر محل ہونے کے ناتے خاصے کی شے ثابت ہو: ” میں سرگودھا کا رہنے والا ہوں لہٰذا میں سرگودھوی ہوں، سرگودھا پنجاب میں واقع ہے چناں چہ میں پنجابی ہوں، پنجاب پاکستان کا ایک صوبہ ہے اس اعتبار سے میں پاکستانی ہوں، پاکستان ایشیا میں واقع ہے تو میں ایشیائی بھی ہوں، ایشیا اس زمین کا جز ہے یوں میں ارضی ہوں، یہ زمین کائنات میں واقع ہے لہٰذا میں کائناتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "

 میرے خیال میں اصیل ادبی وجود زمین کے اُس ذرے سے (جسے اس کے تلوے چومتے ہیں ) کائنات کے امکانی سرے تک کا مکین ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تاہم میڈیم کا محتاج ہونے کے تعلق سے اُسے جس زبان میں لکھنے کا اختیار حاصل ہے وہ کسی کلچر کی پیداوار ہوتی ہے اور اس کلچر کے عقب میں کسی تہذیب کا کوڈ معانی کا طلسم کدہ کھولنے میں کلید کا کام کرتا ہے۔۔۔۔ زبان کی مابعد الطبیعیاتی سطح تک پہنچے بغیر کوئی متن "ادبی” ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لب لباب یہ ہے کہ "عالمیت” "مقامیت” کی نفی کر کے اپنا وجود برقرار رکھ ہی نہیں سکتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 جب تک حاشیہ پر نئی نظم زیرِ بحث نہیں آتی ہم اس موضوع پر گفت گو کر سکتے ہیں۔

جلیل عالی: دوستو مسئلہ تو اتنا سا تھا کہ کوئی لکھنے والا کس ملک سے تعلق رکھتا ہے۔ کسی ملک کا شہری ہونے میں معذرت کا کیا محل ہے -اس زمینی حقیقت کو تسلیم کر لینے سے ادب کی آفاقی جہت کہاں متاثر ہوتی ہے -ضمیر جعفری مرحوم نے درست کہا تھا کہ ادب کا نہیں ادیب کا وطن ہوتا ہے – ادب کی قومی و ملکی پہچان اور آفاقیت اپنے طور پر ایک الگ موضوع ہے -ریکارڈ کی درستی کے لئے علی محمد فرشی صاحب کے حضور عرض ہے کہ پاکستانی ادب کی بات محمد حسن عسکری اور ایم ڈی تاثیر نے کی تھی اور اس کا جواز آغا صاحب کے اس اقتباس میں بھی موجود ہے جو آپ نے نقل فرمایا ہے –

علی محمد فرشی: جنابِ عالی! آپ کی دور کی نظر بہت اچھی ہے، اس کی داد قبول فرمائیے۔ اس سے کیا انکار؟ میں نے تو اس جعلی "پاکستانی ادب” کی مارشل لائی "تحریک” کے دوران میں رونما ہونے والے ایک واقعہ کی یاد تازہ کی تھی۔۔۔ آپ واوین پر توجہ دے لیتے تو یہ غلط فہمی پیدا ہی نہ ہوتی۔ مجھے حیرت ہے کہ آپ اتنے قریب کی بات کیسے بھول گئے ! یہ "تحریک” چند ماہ بھی نہیں چلی تھی اس لیے آپ کے ذہن سے محو ہو گئی ہو گی۔ ایک تقریب میں تو یہ لوگ احمد فراز کو بھی، نیشنل سنٹر میں، کرسیِ صدارت پر بٹھانے میں کام یاب ہو گئے تھے۔۔۔۔ شاید اب آپ کو کچھ کچھ یاد آ جائے۔

اشعر نجمی: یہ آدرش وادی توجیہات کیا محض اپنے عمل کو justify کرنے کے لیے ہیں؟ میں تو ایلیٹ کی اس بات پر زیادہ یقین رکھتا ہوں کہ "شاعری حاسدانہ طور پر قومی ہوتی ہے "۔ (یہاں اہل نظر کو شاید یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ "حاسدانہ” کو وسیع تناظر میں لیا جائے )۔

اقتدار جاوید: محترم ابرار احمد اور علی محمد فرشی صاحبان

 بعض امور میں مذہب کی اخلاقیات (خواہ وہ کوئی بھی مذہب ہو ) نے جو حدود متعین کی ہیں ان سے ہم انحراف نہیں کرسکتے مثلاً Incest Dreadکو ہر مذیب میں بنیادی حیثیت حاصل ہے ہم حرمت والے رشتوں سے جنسی تعلق قائم نہیں کرتے مثلاً  ماں اور بہن اور وہ رشتہ جو ہم پر حرام ہے کے سامنے آتے ہی ممتا اور اس سے متعلقہ جذبات جنم لیتے ہیں۔ جنسی تحرک یا جانوروں کی عادات سے الگ کرنا ہمارا لاشعور مذہب کی وجہ سے سکھاتا ہے جانوروں میں ماں اور بہن کا تصور قطعاً جنم نہیں لیتا۔

 اگر وہ جگہ جہاں آپ پیدا ہوئے ہا اپ اس سے اوپر اٹھنا چاہتے ہیں تو لاشعوری پر اپ کی نظموں میں چنیوٹ کیوں چھب دکھاتا ہے اگر ہم چاہتے ہیں کہ بطور قوم ہمارا اقوام عالم میں ایک احترام بھرا تشخص ہو تو وہ ادب میں کیوں نہ ہو آپ رشین لٹریچر اور انڈین کلچر وغیرہ کو ایک علیحدہ اکائی تصور کرتے ہیں تو اپنے ادب کو "اپنا ادب ” کہنے میں کیا حرج ہے۔

آنند جی ممکن ہے راہ سلوک کی اخری منزل پر پہنچ چکے ہوں جہاں صرف ایک حقیقت سامنے رہ جاتی ہے۔ ان کے نکتہ نظر کو اس زاویہ سے بھی دیکھنا چاہیے۔

ابرار احمد: اقتدار ! تم ٹھیک کہتے ہو کہ لکھنے والا اپنی زمین اور روایات سے الگ ہو ہی نہیں سکتا لیکن ایک سطح پر آ کر وہ ایسا ادب تخلیق کر جاتا ہے جس کی عالم گیر حیثیت ہو جاتی ہے۔

 کون انکار کر سکتا ہے مقام کی اہمیت سے لیکن ادبی اقدار مقامیت سے اوپر اٹھ کر انسان سے مکالمہ استوار کرنے کا تقاضا بھی کرتی ہیں۔ لکھنے کی زبان ایک ہو تو ایک بڑے  تناظر میں ادب کی تقسیم مجھے زیادہ مناسب نہیں لگتی کہ ایسی صورت میں تہذیبی مماثلت بھی موجود ہوا کرتی ہے۔ جس طرف آپ نے اشارہ کیا وہ تخلیق کار کے تجربے کی بنیاد ہے اس کے کام کا حاصل نہیں۔ ۔کسی زبان کے بڑے لکھنے والے قید مقام کے باوجود اس سے کہیں اوپر بھی ہوا کرتے ہیں اسی لیے آفاقی حوالہ رکھتے ہیں۔ ۔

محمد یامین: جیلانی کام ران کے خیالات موضوع زیر بحث کے حوالے سے پیش ہیں۔

 • ہر ادب کی درست قد و قامت اسی ادب کے فکری پس منظر سے اخذ کی جاتی ہے اورکسی ایک ادب کو دوسرے ادب کے حوالے سے جانچنا اسی طرح نقصان دہ ہے جس طرح شیکسپئیر کو رومن اصولوں کی روشنی میں پرکھنا مشکل اور اصولی طور پر غلط ہے۔ ہر ادب اپنی تہذیبی ذمہ داریوں سے پیدا ہوتا ہے اور اس طرح اپنی وساطت سے اپنی تہذیب کے بلند ترین مقاصد کی نشان دہی کرتا ہے۔۔۔۔ یورپ کو افریقہ کے نقطۂ نظر سے، سنسکرت کے ادب کو مسلمانوں کے نقطۂ نظر سے اور مسلمانوں کے ادب کو کلیم الدین احمد کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو جواب میں سوائے الجبرے کی علامت "لا” کے کچھ حاصل نہ ہو گا۔

 • کوئی بھی ادب عالمی ادب نہیں کیوں کہ سارا عالم ایک زبان میں تخلیق نہیں کرتا۔ اور نہ جغرافیے اور تاریخ کی حقیقتیں ہی ہر جگہ یک ساں ہیں۔ کرہ ارض پر ایک انسان نہیں، لوگ رہتے ہیں۔ اور زمین کا نقشہ تہذیبوں کی تقسیم سے پیدا ہوتا ہے۔ عالمی ادب کا تصور مختلف ادبیات اور تہذیبوں کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے اور اس طرح جس انسان سے آشنا کرتا ہے اس میں لوگ شامل ہیں۔ ادب کا تنقیدی مطالعہ تہذیبی پس منظر کی نفی سے نہیں بل کہ اس پس منظر کے اقرار سے ممکن ہوتا ہے۔

 ‎٭٭٭

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید