FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

عہد نامہ قدیم

 

 

                   ۴۔کتاب تعداد (گنتی)

 

 

 

 

 

کتاب باب: / تعداد

 

 

 

 

باب:    1

 

 

 

1 خداوند نے  موسیٰ سے  خیمۂ اجتماع میں بات کی یہ سینائی کے  صحرا میں ہوئی۔ یہ بات بنی اسرائیلیوں کے  ساتھ مصر چھوڑنے  کے  بعد دُوسرے  سال کے  دُوسرے  مہینے  کے  پہلے  دن کی تھی۔ خداوند نے  موسیٰ سے  کہا :

2″ سبھی بنی اسرائیلیوں کو گِنو ہر ایک آدمی  کی فہرست اس کے  خاندان اور اس کے  خاندانی گروہ کے  ساتھ بناؤ۔

3 تم اور ہا رون اسرائیل کے  تمام مردوں کو گِنو گے  جن کی عمر بیس سال سے  زیادہ ہے۔ ( یہ وہ ہیں جو اسرائیل کی فو ج میں خدمت کرتے  ہیں ) ان کی فہرست ان کے  گروہ کے  مطابق بناؤ۔

4 ہر ایک خاندانی گروہ سے  ایک آدمی  تمہاری مدد کرے  گا۔ یہ آدمی  اپنے  خاندانی گروہ کا قائد ہو گا۔

5 تمہارے  ساتھ رہنے  اور تمہاری مدد کرنے  والے  آدمیوں کے  نام یہ ہیں :

6 شمعون کے  خاندانی گروہ سے  صُوری شدّی کا بیٹا سلُومی ایل۔

7 یہوداہ کے  خاندانی گروہ سے  عمّینداب کا بیٹا نحسون۔

8 اِشکار کے  خاندانی گروہ سے  ضُغر کا بیٹا نتنی ایل۔

9 زبولون کے  خاندانی گروہ سے  حیلون کا بیٹا الیاب۔

10 یُوسف کی نسل سے  افرا ئیم کے  خاندانی گروہ سے  عمّ یہود کا بیٹا الیسمع۔ منسی کے  خاندانی گروہ سے  فدا ہُصور کا بیٹا جملی ایل۔

11 بنیمین کے  خاندانی گروہ سے  جِد عونی کا بیٹا اِبدان۔

12 دان کے  خاندانی گروہ سے  عمّیشّدی کا بیٹا اخیعزر۔

13 آشر کے  خاندانی گروہ سے  عکران کا بیٹا فجعی ایل۔

14 جاد کے  خاندانی گروہ سے  دعُو ایل کا بیٹا اِلیاسف۔

15 نفتالی کے  خاندانی گروہ سے  عینان کا بیٹا اخِیرع۔”

16 یہ سبھی آدمی  جماعت میں سے  اپنے  آباء و اجداد کے  خاندانی گروہ کے  قائد چنے  گئے۔ یہ لو گ اسرائیل کے  قبیلوں کے  سردار تھے۔

17 موسیٰ اور ہارون نے  اُن آدمیوں ( بنی اسرائیلیوں ) کو جو  کہ چُن لئے  گئے  تھے  اپنے  ساتھ لیا۔

18 موسیٰ اور ہارون نے  تمام لوگوں کو دوسرے  مہینے  کے  پہلے  دن جمع کیا۔ پھر اس دن آدمیوں کا جن کی عمر بیس سال یا اس سے  زیادہ تھی ان کے  خاندان اور ان کے  قبیلوں کے  مطابق فہرست تیار کی۔

19 موسیٰ نے  بالکل ویسا ہی کیا جیسا خداوند کا حکم تھا۔ موسیٰ نے  لوگوں کو اس وقت گِنا جب وہ سینائی کے  صحرا میں تھے۔

20 روبن کے  خاندانی گروہ کو گنا  گیا  ( روبن اسرائیل کا پہلو ٹھا بیٹا تھا ) ان تمام آدمیوں کی فہرست تیار کی گئی جو بیس سال یا اس سے  زیادہ عمر کے  تھے  اور فوج میں خدمت کرنے  کے  قابل تھے۔ ان کی فہرست ان کے  قبیلوں اور ان کے  خاندانی گروہ کے  ساتھ تیار کی گئی۔

21 روبن کے  خاندانی گروہ سے  گِنے  گئے  آدمیوں کی تعداد ۴۶۵۰۰ تھی۔

22 شمعون کے  خاندانی گروہ کو گنا  گیا۔ بیس سال یا اس سے  زیادہ عمر والے  فوج میں خدمت کرنے  کے  قابل تمام آدمیوں کے  ناموں کی فہرست تیار کی گئی۔ ان کی فہرست ان کے  خاندان اور ان کے  خاندانی گروہ کے  مطابق تیار کی گئی۔

23 شمعون کے  خاندانی گروہ کو گِننے  پر تمام آدمیوں کی تعداد ۳۰۰, ۵۹ تھی۔

24 جاد کے  خاندانی گروہ کو گِنا  گیا۔ بیس سال یا اس سے  زیادہ عمر کے  اور فوج میں خدمت کرنے  کے  قابل تمام آدمیوں کے  ناموں کی فہرست تیار کی گئی۔ اُن کی فہرست اُن کے  خاندان اور خاندانی گروہ  کے ساتھ تیار کی گئی۔

25 جاد کے  خاندانی گروہ کو گِننے  پر مردوں کے  تعداد ۶۵۰,۴۵ تھی۔

26 یہوداہ کے  خاندانی گروہ کو گِنا  گیا۔ بیس سال یا اس سے  زیادہ عمر کے  لو گ اور فوج میں خدمت کرنے  کے  قابل تمام مردوں کے  ناموں کی فہرست تیار کی گئی۔ اُن کی فہرست اور اُن کے  خاندان اور اُن کے  خاندانی گروہ کے  ساتھ تیار کی گئی۔

27 یہوداہ کے  خاندانی گروہ کو گِننے  پر تمام تعداد ۶۰۰,۷۴ تھی۔

28 اِشکار کے  خاندان کو گنا  گیا۔ بیس سال یا اس سے  زیادہ عمر کے  اور فوج میں کام کرنے  کے  قابل تمام آدمی  کے  ناموں کی فہرست تیار کی گئی ان کی فہرست ان کے  خاندانی گروہ کے  ساتھ تیار کی گئی۔

29 اِشکار کے  خاندانی گروہ کو گننے  پر مردوں کی تعداد۴۰۰,۵۴ تھی۔

30 زبولون کے  خاندانی گروہ کو گنا  گیا۔ بیس سال یا اس سے  زیادہ عمرکے  اور فوج میں کام کرنے  کے  قابل سبھی آدمی  کے  ناموں کی فہرست تیار کی گئی۔ ان کی فہرست اُن کے  خاندان اور اُن کے  خاندانی گروہ کے  ساتھ تیار کی گئی۔

31 زبولون کے  خاندانی گروہ کو گننے  پر مردوں کی تعداد۴۰۰ ,۵۷ تھی۔

32 یوسف کی نسل سے  : افرائیم کے  خاندانی گروہ کو گنا گیا۔ بیس سال یا اس سے  زیادہ عمر کے  اور فوج میں خدمت کرنے  کے  قابل سبھی آدمیوں کے  ناموں کی فہرست تیار کی گئی۔ ان کی فہرست ان کے  خاندان اور ان کے  خاندانی گروہ کے  مطابق تیار کی گئی

33 افرائیم کے  خاندانی گروہ کو گننے  پر تمام مردوں کی تعداد ۵۰۰,۴۰ تھی۔

34 منسّی کے  خاندانی گروہ کو گنا گیا۔ بیس سال یا اس سے  زیادہ عمر کے  اور فوج میں خدمت کرنے  والے  تمام مردوں کے  ناموں کی فہرست تیار کی گئی۔ اُن کی فہرست اُن کے  خاندانی گروہ کے  مطابق تیار کی گئی۔

35 منّسی کے  خاندانی گروہ کے  آدمیوں کو گننے  کے  بعد اُن کی تعداد ۲۰۰,۳۲ تھی۔

36 بنیمین کے  خاندانی گروہ کو گنا  گیا۔ بیس سال یا اُس سے  زیادہ عمر اور فوج میں خدمت کرنے  کے  قابل تمام مردوں کے  ناموں کی فہرست تیار کی گئی۔ ان کی فہرست ان کے  خاندان اور ان کے  خاندانی گروہ کے  ساتھ تیار کی گئی۔

37 بنیمین کے  خاندانی گروہ کو گننے  پر مردوں کی تعداد ۴۰۰, ۳۵ تھی۔

38 دان کا خاندانی گروہ  گنا  گیا۔ بیس سال یا اُس سے  زیادہ عمر کے  اور فوج میں خدمت کرنے  کے  قابل تمام مردوں کے  ناموں کی فہرست تیار کی گئی۔ اُن کی فہرست اُن کے  خاندان اور اُن کے  خاندانی گروہ کے  ساتھ تیار کی گئی۔

39 دان کے  خاندانی گروہ کے  گننے  پر ساری تعداد ۷۰۰ , ۶۲ تھی۔

40 آشر کے  خاندانی گروہ کو گنا  گیا۔ بیس سال یا اُس سے  زیادہ عمر کے  اور فوج میں خدمت کرنے  کے  قابل تمام مردوں کے  ناموں کی فہرست تیار کی گئی۔ اُن کی فہرست اُن کے  خاندان اور اُن کے  خاندانی گروہ کے  ساتھ تیار کی گئی۔

41 آشر کے  خاندانی گروہ کو گننے  پر تمام مردوں کی تعداد ۵۰۰ ,۴۱ تھی۔

42 نفتالی کے  خاندانی گروہ کو گنا  گیا۔ بیس سال یا اُس سے  زیادہ عمر کے  اور فوج میں خدمت کرنے  کے  قابل تمام مردوں کے  ناموں کی فہرست تیار کی گئی۔ اُن کی فہرست اُن کے  خاندان اور خاندانی گروہ کے  ساتھ تیار کی گئی۔

43 نفتالی کے  خاندانی گروہ کو گننے  پر تمام مردوں کی تعداد ۴۰۰ ,۵۳ تھی۔

44 موسیٰ ہا رون اور اسرائیل کے  قائدین نے  اُن تمام مردوں کو گنا وہاں ۱۲ قائدین تھے۔ ( ہر خاندانی گروہ سے  ایک قائد تھا۔ )

45 اسرائیل کا ہر ایک مرد جو بیس سال یا اُس سے  زیادہ عمر کا  اور فوج میں کام کرنے  کے  قابل تھا گِنا گیا۔ اُن مردوں کی فہرست اُن کے  خاندانی گروہ کے  ساتھ تیار کی گئی۔

46 آدمیوں کی ساری تعداد ۵۵۰, ۶۰۳ تھی۔

47 لا وی کے  خاندانی گروہ سے  خاندانوں کی فہرست اسرائیل کے  دوسرے  آدمیوں کے  ساتھ تیار نہیں کی گئی۔

48 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا تھا۔

49 لا وی کے  خاندانی گروہ کے  مردوں کو تمہیں نہیں گِننا چاہئے۔

50 تم لاویوں کو معاہدہ کے  مقدس خیمہ اور اس کی چیزوں کے  لئے  ذمّہ دار مقرر کرو۔ وہ مقدس خیمہ اور اس کے  سامانوں کو ضرور لے  جائے  اور اپنے  خیموں کو مقدس خیمہ کے  اطراف لگائے  اور اس کی دیکھ بھال کرے۔

51 جب کبھی بھی مقدس خیمہ کو کھسکا یا جائے  تو صرف لا وی ہی اسے  اتا رے۔ اور اسی طرح جب کبھی بھی مقدس خیمہ کو کہیں لگایا جائے  تو صرف لا وی اسے  لگائے  گا۔ کوئی دوسرا شخص اگر خیمہ کے  نزدیک آئے  تو اسے  پھانسی دے  دی جائے۔

52 بنی اسرائیل اپنے  خیمے  الگ الگ گروہوں میں لگائیں گے۔ ہر ایک آدمی  کو اپنا خیمہ اپنے  خاندان کے  جھنڈے  کے  پاس لگانا چاہئے۔

53 لیکن لا وی کے  لوگوں کو اپنا خیمہ مقدس خیمہ کے  چاروں طرف ڈالنا چاہئے۔ اسے  معاہدہ کے مقدس خیمہ کی حفاظت کرنی چاہئے تا کہ خداوند کا غصّہ بنی اسرائیلیوں کی جماعت کے  خلا ف نہیں آئے  گا۔”

54 اس لئے  بنی اسرائیلیوں نے  اُن تمام چیزوں کو کیا جس کا حکم خداوند نے  موسیٰ کو دیا تھا۔

 

 

 

 

 

باب:    2

 

 

1 خداوند نے  موسیٰ اور ہا رون سے  کہا :

2″ بنی اسرائیلیوں کو خیمۂ اجتماع کے  چاروں طرف اپنے  خیمے  لگانے  چاہئے۔ ہر گروہ کا اپنا ایک خاص جھنڈا ہو گا اور ہر آدمی  کو اپنے  گروہ کے  جھنڈے  کے  قریب اپنا خیمہ لگانا چاہئے۔

3″ یہوداہ کے  خیمہ کا جھنڈا مشرقی جانب ہو گا۔ جدھر سورج نکلتا ہے۔ یہوداہ کے  لو گ وہاں خیمہ لگائیں گے۔ یہوداہ کے  لوگوں کے  قائد عمّینداب کا بیٹا نحسون ہے۔

4 وہ گروہ ۶۰۰,۷۴ آدمیوں پر مشتمل تھے۔

5″ اشکار کا خاندانی گروہ یہوداہ کے  لوگوں کے  ٹھیک بعد میں ہو گا۔ اشکار کے  لوگوں کا قائد سوار کا بیٹا نتنی ایل ہے۔

6 اُس گروہ میں ۴۰۰,۵۴ مرد تھے۔

7″ زبولون کا خاندانی گروہ اشکار کے  خاندانی گروہ کے  آگے  اپنا خیمہ لگائے  گا۔ زبولون کے  لوگوں کا قائد حیلون کا بیٹا الیاب ہے۔

8 اُس گروہ میں ۴۰۰, ۵۷ مرد تھے۔

9″ یہوداہ کی چھاؤنی میں ۴۰۰ ,۱۸۶ مرد تھے۔ ان لوگوں کی ترتیب ان کے  خاندانی گروہ کے  مطابق ہوئی تھی۔ جب وہ لوگ ایک جگہ سے  دوسری جگہ کا سفر کریں گے  تو یہوداہ کا گروہ سب سے  آگے  بڑھے  گا۔

10 روبن کا جھنڈا مقدس خیمہ کے  جنوب میں ہو گا۔ ہر ایک گروہ اپنے  جھنڈے  کے  پاس اپنا خیمہ لگائے  گا۔ روبن کے  لوگوں کا قائد شدّ یُور کا بیٹا الیصور ہے۔

11 اُس گروہ میں ۵۰۰’۴۶ مرد تھے۔

12″ شمعون کا خاندانی گروہ رُوبن کے  خاندانی گروہ کے  ٹھیک بعد اپنا خیمہ لگائے  گا۔ شمعون کے  لوگوں کا قائد  صُوری شدّی کا بیٹا سلوی ایل ہے۔

13 اُس گروہ میں ۳۰۰’۵۹ مرد تھے

14″ جاد کا خاندانی گروہ بھی شمعون کے  لوگوں کے  آگے  اپنا خیمہ لگائے  گا۔ جاد کے  لوگوں کا قائد دعوایل کا بیٹا اِلیاسف ہے۔

15 اُس گروہ میں ۶۵۰ ,۴۵ آدمی  تھے۔

16″ روبن کی چھاؤنی میں تمام گروہوں کے  ۴۵۰, ۱۵۱ آدمی  تھے۔ جب لوگ ایک جگہ سے  دوسری جگہ کا سفر کریں گے  تو سفر کرنے  والے  وہ دوسرے  گروہ ہوں گے۔

17″ جب خیمۂ اجتماع آگے  بڑھا یا جائے  تو لا وی دوسرے  چھاؤنیوں کے  بیچ میں اپنی چھاؤنی لگائے۔ وہ اسی ترتیب سے  سفر کرے  جس ترتیب سے  وہ اپنے  خیموں کو لگاتے  ہیں۔ ہر آدمی  اپنے  خاندان کے  جھنڈے  کے  ساتھ ہوں گے۔

18″ افرائیم کا جھنڈا مغرب کی طرف رہے  گا۔ افرائیم کے  خاندانی گروہ وہاں خیمہ لگائیں گے۔ افرا ئیم کے  لوگوں کا قائد عمّیہود کا بیٹا الیسمع ہے۔

19 اُس گروہ میں ۵۰۰ ,۴۰ مرد تھے۔

20″ منسی کا خاندانی گروہ افرائیم کے  خاندان کے  بالکل بعد اپنا خیمہ لگائے  گا۔ منسّی کے  لوگوں کا قائد فدا ہصور کا بیٹا جملی ایل ہے۔

21 اُس گروہ میں ۲۰۰ , ۳۲ مرد تھے۔

22 بنیمین کا خاندانی گروہ بھی افرائیم کے  خاندان کے  آگے  اپنا خیمہ لگائے  گا۔ بنیمین کے  لوگوں کا قائد جد عونی کا بیٹا اِبدان ہے۔

23 اُس گروہ میں ۴۰۰, ۳۵ مرد تھے۔

24″ افرائیم کی چھاؤنی میں ۱۰۰ ,۱۰۸ مرد تھے۔ جب لوگ ایک جگہ سے  دوسری جگہ کا سفر کریں گے  تو یہ تیسرا گروہ ہو گا۔

25″ دان کے  خیمہ کا جھنڈا شُمال کی طرف ہو گا۔ دان کے  خاندان کا گروہ وہاں خیمہ لگائے  گا۔ دان کے  لوگوں کا قائد عمّیشدّی کا بیٹا اخیعزر ہے۔

26 اس گروہ میں ۷۰۰ , ۶۲ مرد تھے۔

27″ آشر کا خاندانی گروہ دان کے  خاندانی گروہ کے  بعد اپنا خیمہ لگائے  گا۔ آشر کے  لوگوں کا قائد عکران کا بیٹا فجعی ایل ہے۔

28 اُس گروہ میں ۵۰۰,۴۱ مرد تھے۔

29″ نفتالی کا خاندانی گروہ بھی آشر کے  خاندانی گروہ کے  آگے  اپنا خیمہ لگائے  گا۔ نفتالی کے  لوگوں کا قائد عینان کا بیٹا اخیرع ہے۔

30 اُس گروہ میں ۴۰۰, ۵۳ مرد تھے۔

31″ دان کی چھاؤنی میں ۶۰۰, ۵۱ مرد تھے۔ جب لوگ ایک جگہ سے  دوسری جگہ کا سفر کریں گے  تو یہ آخری گروہ ہو گا۔ یہ اپنے  جھنڈے  کے  ساتھ چلے  گا۔”

32 یہ سب بنی اسرائیل تھے  جو اپنے  خاندان کے  مطابق گِنے  گئے  تھے۔ تمام چھاؤنی میں تمام خاندانی گروہوں کے  تمام آدمیوں کا ان کے  درجہ کے  مطابق فہرست تھی۔ فہرست بنائی گئی تمام آدمیوں کی تعداد ۵۵۰’۶۰۳ تھی۔

33 موسیٰ نے  اسرائیل کے  دوسرے  لوگوں میں لا وی نسل کے  لوگوں کو نہیں گِنا یہ خداوند کا حکم تھا۔

34 خداوند نے  موسیٰ کو جو کچھ کرنے  کے  لئے  کہا تھا ان سب کی تعمیل بنی اسرائیلیوں نے  کی۔ ہر ایک گروہ نے  اپنے  جھنڈے  کے  نیچے  اپنے  خیمے  لگائے  اور ہر ایک آدمی  اپنے  خاندان اور اپنے  خاندانی گروہ کے  مطابق ترتیب سے  سفر کیا۔

 

 

 

باب:    3

 

 

1 جس وقت خداوند نے  سینائی پہاڑ پر موسیٰ سے  بات کی اُس وقت ہا رون اور موسیٰ کے  خاندان کی تاریخ یہ ہے  :

2 ہا رون کے  چار بیٹے  تھے۔ نا داب پہلو ٹھا بیٹا تھا۔ اُس کے  بعد ابیہو، الیعزر اور اِتمر تھے۔

3 وہ سب مسح کئے  ہوئے  کاہن ہا رون کے  بیٹے  تھے۔ موسیٰ نے  ان لوگوں کو کاہنوں کے  طور پر خداوند کی خدمت کا کام انجام دینے  کے  لئے  مقرر کئے  تھے۔

4 لیکن ناداب اور ابیہو خداوند کی خدمت کرتے  وقت گناہ کرنے  کی وجہ سے  مر گئے۔ اُنہوں نے  خداوند کی قربانی چڑھائی لیکن انہوں نے  اُس آ گ کا استعمال کیا جس کے  لئے  خداوند نے  اجازت نہیں دی تھی۔ اُس طرح سے  ناداب اور ابیہو وہاں سینائی کے  صحرا میں مر گئے۔ اُن کے  بیٹے  نہیں تھے۔ الیعزر اور اتمر کاہن بنے  اور خداوند کی خدمت کرنے  لگے۔ وہ یہ کام اس وقت تک کرتے  رہے  جب تک اُن کا باپ ہا رون زندہ تھا۔

5 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

6″ لا وی کے  خاندانی گروہ کو ہا رون کے  سامنے  لاؤ۔ وہ لوگ ہا رون کے  مددگار ہوں گے۔

7 لا وی نسل ہا رون کی اُس وقت تک مدد کریں گے  جب وہ خیمۂ اجتماع میں خدمت کرے  گا۔ اور لا وی نسل سبھی بنی اسرائیلیوں کی اُس وقت مدد کریں گے  جس وقت وہ مقدس خیمہ میں عبادت کرنے  آئیں گے۔

8 لا وی لوگ خیمۂ اجتماع کی ہر ایک چیز کی حفاظت کریں گے۔ یہ اُن کا فرض ہے  لیکن لا وی لوگ اُن چیزوں کی دیکھ بھال کر کے  ہی لوگوں کی مدد اور خدمت کریں گے  جب وہ مقدس خیمہ میں عبادت کرنے  آئیں گے۔

9″ سبھی بنی اسرائیلیوں میں سے  لا وی لوگوں کو ہا رون اور اس کے  بیٹوں کی مدد کرنے  کے  لئے  مکمل طریقے  سے  الگ کرو۔

10″ تم ہا رون اور اُس کے  بیٹوں کو کاہن مقرر کرو گے۔ وہ اپنا فرض پو را کریں گے  اور کاہن کے  طور پر خد مت کریں گے  کوئی دوسرا آدمی  جو مقدّس چیزوں کے  قریب آنے  کے  لئے  سوچے  گا مار دیا جانا چاہئے۔”

11 خداوند نے  موسیٰ سے  یہ بھی کہا،

12″ دیکھو! اب میں نے  لاویوں کو سبھی بنی اسرائیلیوں میں سے  اپنی خدمت کے  لئے  اسرائیل کے  تمام پہلوٹھے  بیٹے  کی جگہ پر مخصوص کر لئے۔ اس لئے  لا وی میرے  ہوں گے۔

13″ جب تم مصر میں تھے  اور جب میں نے  مصر کے  لوگوں کے  پہلوٹھے  کو مار ڈالا تھا تو اس وقت میں نے  اسرائیل کے  تمام پہلوٹھے  بچوں کو اپنے  لئے  لے  لیا تھا۔ انسان اور حیوان دونوں کے  نر پہلوٹھے  کو اپنے  لئے  مخصوص کرتا ہوں۔ وہ سب میرا ہو گا، میں خداوند ہوں۔”

14 خداوند نے  پھر صحرائے  سینائی میں موسیٰ سے  بات کی خداوند نے  کہا۔

15″ لا وی نسل کے  تمام خاندانی گروہوں کو گِنو، صرف مردوں یا لڑکوں کو جو ایک مہینے  یا اُس سے  زیادہ کے  ہوں اُن کو بھی گِنو۔”

16 موسیٰ نے  خداوند کے  احکام کی تعمیل کی اور اُن تمام کو گِنا۔

17 لا وی کے  تین بیٹے  تھے۔ اُن کے  نام تھے  : جیر سون، قہات اور مراری۔

18 ہر ایک بیٹا خاندانی گروہوں کا قائد تھا۔ جیر سون کے  خاندانی گروہ تھے  : لِبنی اور سِمعی۔

19 قہات کے  خاندانی گروہ تھے  : عمرام اور اضہا ر، حبرون اور عُزّی ایل۔

20 مراری کے  خاندانی گروہ تھے  : محلی اور مُوشی۔ یہی وہ خاندان تھے  جو لا وی کے  خاندانی گروہ سے  تعلق رکھتے  تھے۔

21 لبنی اور سمعی کے  خاندان کا جیر سون کے  خاندانی گروہ سے  رشتہ تھا۔ وہ جیرسون نسل کے  خاندانی گروہ تھے۔

22 اُن دونوں خاندانی گروہوں میں ایک مہینے  سے  زیادہ عمر کے  لڑکے  یا مرد ۵۰۰,۷ تھے۔

23 جیر سون نسل کے  خاندانی گروہوں کو مغرب میں خیمہ لگانے  کے  لئے  کہا گیا۔ انہوں نے  اپنا خیمہ مقّدس خیمہ کے  پیچھے  لگا یا۔

24 جیرسون نسل کے  خاندانی گروہ کا قائد لا ایل کا بیٹا اِلیاسف تھا۔

25 خیمۂ اجتماع میں جیر سون نسل کے  لوگ مقدّس خیمہ، اور بیرونی خیمہ اور غلاف کی دیکھ بھال کرنے  کا کام کرتا تھا۔ وہ خیمۂ اجتماع کے  داخلی دروازہ کے  پر دے  کی بھی دیکھ بھال کرتے  تھے۔

26 وہ آنگن کے  دروازہ کے  پردہ کی بھی دیکھ بھال کرتے  تھے۔ یہ آنگن مقدس خیمہ اور قربان گاہ کے  چاروں طرف تھا۔ وہ رسّیوں اور پردوں سے  جڑے  ہر ایک کام کی دیکھ بھال کرتے  تھے۔

27 عمرام، اضہار اور عزّی ایل کے  خاندان قہات کے  خاندان سے  رشتہ رکھتے  تھے  وہ قہات خاندانی گروہ کے  تھے۔

28 اس خا ندانی گروہ میں ایک مہینے  یا اُس سے  زیادہ عمر کے  لڑکے  اور مرد ۰ ۳۰ تھے۔ قہات نسل کے  لوگوں کو مقدّس جگہ کی دیکھ بھال کا کام سونپا گیا۔

29 قہات کے  خاندانی گروہ کو مقدس خیمہ کے  جنوب کا حصّہ دیا گیا۔ یہ وہ علاقہ تھا جہاں انہوں نے  اپنے  خیمے  لگائے۔

30 قہات کے  خاندانی گروہ کا قائد عزّی ایل کا بیٹا الیصا فان بنا تھا۔

31 اُن کا کام مقدس صندوق، میز، شمعدان، قربان گا ہیں اور مقدس جگہ کے  برتنوں کی دیکھ بھال کرنا تھا۔ وہ پردہ اور ان کے  ساتھ استعمال میں آنے  وا لی تمام چیزوں کی بھی دیکھ بھال کرتے  تھے۔

32 لا وی خاندان کے  بزرگوں کا قائد ہا رون کا بیٹا الیعزر تھا۔ وہ کاہن تھا۔ الیعزر مقدس جگہ کی دیکھ بھال کرنے  والے  تمام لوگوں کا نگراں کار تھا۔

33 محلی اور مُوشیوں کے  خاندانی گروہ کا تعلق مراری خاندان سے  تھا۔ ایک مہینے  یا اُس سے  زیادہ عمر کے  لڑکے  اور مرد محلی خاندانی گروہ میں ۲۰۰,۶تھے۔

34  35 مراری گروہ کا قائد ابی خیل کا صُوری ایل تھا۔ اُس خاندانی گروہ کو مقدّس خیمہ کا شمالی حصّہ دیا گیا تھا۔ یہی وہ علاقہ ہے  جہاں انہوں نے  اپنا خیمہ لگایا۔

36 مراری لوگوں کو مقدّس خیمہ کے  ڈھانچے  کی دیکھ بھال کا کام سونپا گیا۔ وہ تمام چھڑوں، کھمبوں بنیادوں اور ہر وہ چیز جو مقدّس خیمہ کے  ڈھانچے  میں استعمال ہوئی تھی اس کی دیکھ بھال کرتے  تھے۔

37 وہ مقدس خیمہ کے  کھونٹیوں، بنیاد اور رسیوں سمیت آنگن کے  چاروں طرف کے  تمام کھمبوں کی دیکھ بھال کرتے  تھے۔

38 موسیٰ، ہارون اور اس کے  بیٹوں نے  مقدس خیمہ کے  مشرق میں اپنے  خیمے  لگائے۔ انہیں مقدس جگہ کی دیکھ بھال کا کام سونپا گیا تھا۔ انہوں نے  یہ سبھی بنی اسرائیلیوں کے  لئے  کیا۔ کوئی دوسرا شخص جو مقدس جگہ کے  قریب آتا پھانسی دے  دیا جاتا تھا۔

39 خداوند نے  لاوی خاندانی گروہ کے  ایک مہینے  یا اس سے  زیادہ عمر کے  لڑکوں اور مردوں کو گننے  کا حکم دیا۔ ان کی کل تعداد ۲۲،۰۰۰تھی۔

40 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،” اسرائیل میں ایک مہینے  یا اس سے  زیادہ عمر کے  تمام پہلوٹھے  لڑکے  اور مردوں کو گنو۔ ان کے  ناموں کی ایک فہرست بناؤ۔

41 اسرائیل کے  پہلوٹھے  بیٹوں کے  بدلے  میرے  لئے  لاویوں کو، اسرائیل کے  پہلوٹھے  مال مویشیوں کے  بدلے  لاویوں کے  مال مویشیوں کو لو۔ میں خداوند ہوں”

42 اس لئے  موسیٰ نے  وہ کیا جو خداوند نے  اسے  حکم دیا تھا۔ موسیٰ نے  اسرائیل کے  تمام پہلوٹھے  نر بچّوں کو گِنا۔

43 موسیٰ نے  سبھی پہلوٹھے  جن کی عمر ایک مہینہ یا اس سے  زیادہ تھی ان کی فہرست تیار کی۔ اس فہرست میں ۲۷۳,۲۲ نام تھے۔

44 خداوند نے  موسیٰ سے  یہ بھی کہا،

45″ میں خداوند یہ حکم دیتا ہوں۔ ‘اسرائیل کے  دُوسرے  خاندانوں کے  پہلوٹھے  مردوں کی جگہ پر لاوی نسل کے  لوگوں کو لو اور میں دوسرے  لوگوں کو جانوروں کی جگہ پر لاوی نسل کے  جانوروں کو لوں گا۔ لاوی میری نسل ہے۔

46 لاوی نسل کے  لوگ ۲۲۰۰۰ہیں اور دوسرے  خاندانوں کے  ۲۷۳۲۲ پہلوٹھے  بچّے  لاوی نسل کے  لوگوں سے  زیادہ ہیں اس طرح ۲۷۳پہلوٹھے  بچّے  لاوی نسل کے  لوگوں سے  زیادہ ہیں۔

47 دو سو تہتّر زائد اسرائیلی پہلوٹھوں میں سے  ہر ایک سے  پانچ مثقال چاندی لو۔ سرکاری ناپ کے  مطابق گرہ ایک مثقال کے  برابر ہوتا ہے۔

48 وہ چاندی ہارون اور اس کے  بیٹوں کو دو۔ یہ اسرائیل کے  ۲۷۳ لوگوں کے  فدیہ کے  لئے  قیمت ہے۔”

49 موسیٰ نے  ۲۷۳ آدمیوں کے  لئے  فدیہ کا رقم ان سے  جو تعداد میں زیادہ تھے  اور جن کو لاویوں نے  چھڑا یا تھا جمع کیا۔

50 موسیٰ نے  اسرائیل کے  پہلوٹھوں سے  چاندی اکٹھا کی اس نے  ۱۳۶۵ مثقال چاندی سرکاری ناپ کا استعمال کر کے  حاصل کی۔

51 موسیٰ نے  خداوند کی احکام کی تعمیل کی۔ موسیٰ نے  خداوند کے  حکم کے  مطابق وہ چاندی ہارون اور اس کے  بیٹوں کو دی۔

 

 

 

 

باب:    4

 

 

1 خداوند نے  موسیٰ اور ہارون سے  کہا،

2″قہات خاندانی گروہ کے  مردوں کو گِنو۔ (قہات خاندانی گروہ لاوی خاندانی گروہ کا ایک حصّہ ہے۔ )

3 اپنی خدمت کے  فرائض کو ادا کرنے  والے  جو ۳۰ سے  ۵۰ سال کی عمر کے  ہوں ان کو گِنو۔ یہ آدمی  خیمۂ اجتماع میں کام کریں گے۔

4 ان کا کام خیمۂ اجتماع کے  سب سے  مقدس چیزوں کی دیکھ بھال کرنی ہے۔

5″ جب بنی اسرائیل نئی جگہ کا سفر کا کریں تو ہارون اور اس کے  بیٹوں کو چاہئے  کہ مقدس خیمہ میں جائیں اور پردہ کو اُتاریں اور معاہدہ کے  مقدس صندوق کو اس سے  ڈھکیں۔

6 تب وہ ان سب کو عمدہ چمڑے  سے  بنے  غلاف سے  ڈھکیں۔ پھر وہ مقدس صندوق پر بچھے  چمڑے  پر پوری طر ح سے  ایک نیلا کپڑا پھیلائیں اور مقدس صندوق میں لگے  کڑوں میں ڈنڈے  ڈالیں گے۔

7″تب وہ ایک نیلا کپڑا مقدس میز کے  اوپر پھیلائیں گے۔ تب وہ اس پر تھالی، چمچے ، کٹورے  اور پینے  کا نذرانہ کے  لئے  مرتبان رکھیں گے۔ روٹی جو ہمیشہ وہاں رہتی ہے  وہ  بھی میز پر رکھی جائے۔

8 تب تم ان تمام چیزوں کے  اوپر ایک لال کپڑا ڈالو گے۔ تب ہر ایک چیز کو عمدہ چمڑے  سے  ڈھا نک دو تب میز کے  کڑوں میں ڈنڈے  ڈالو۔

9″تب شمعدان اور چراغوں کو نیلے  کپڑے  سے  ڈھا نکو۔ اس کے  ساتھ ہی گلگیروں، گلدانوں اور تیل کی تمام گھڑوں کو ڈھانکو۔

10 تب تمام چیزوں کو عمدہ چمڑے  میں لپیٹو اور انہیں لے  جانے  کے  لئے  استعمال میں آنے  والے  ڈنڈے  پر انہیں رکھو۔

11″ سنہری قربان گاہ پر ایک نیلا کپڑا پھیلاؤ اُسے  عمدہ چمڑے  سے  ڈھکو تب قربان گاہ کولے  جانے  کے  لئے  اس میں لگے  ہوئے  کڑوں میں ڈنڈے  ڈالو۔

12 مقدّس جگہ میں عبادت کے  استعمال میں آنے  وا لی تمام خاص چیزوں کو ایک ساتھ جمع کرو۔ انہیں ایک ساتھ جمع کرو اور ان کو نیلے  کپڑے  میں لپیٹو تب اُسے  عمدہ چمڑے  سے  ڈھا نکو اُن چیزوں کولے  جانے  کے  لئے  انہیں ایک ڈھانچے  پر رکھو۔

13″ کانسے  وا لی قربان گاہ سے  راکھ کو صاف کر دو اور اس کے  اوپر ایک بیگنی رنگ کا کپڑا پھیلاؤ

14 تب قربان گاہ پر عبادت کے  لئے  استعمال میں آنے  وا لی تمام چیزوں کو جمع کرو۔ آ گ کے  تسلے ، گوشت کے  لئے  کانٹے ، بیلچے  اور دھات کے  سلفچی اور ان تمام چیزوں کو کانسے  کی قربان گاہ پر رکھو۔ تب قربان گاہ کے  اوپر عمدہ چمڑے  کے  غلاف کو پھیلاؤ۔ قربان گاہ میں لگے  کڑوں میں ڈنڈے  کو پھنساؤتا کہ اسے  لے  جا یا جا سکے۔

15″ جب ہا رون اور اس کے  بیٹے  مقدس جگہ کی سبھی مقدس چیزوں کو ڈھانکنے  کا کام پو را کر لیں تب قہات خاندان کے  آدمی  اندر آ سکتے  ہیں۔ اور ان چیزوں کولے  جانا شروع کر سکتے  ہیں جب کبھی بھی چھاؤنی کو کھسکا یا جائے۔ اس طرح وہ ان مقدس چیزوں کو نہیں چھوئیں گے  اس لئے  وہ نہیں مریں گے۔

16″ کاہن ہا رون کا بیٹا الیعزر مقدس خیمہ اور مقدس جگہ اور اس کی ساری چیزوں کا پو را ذمّہ دار ہے۔ وہ چراغ کے  تیل، خوشبودار بخور، روزانہ کا اناج کا نذرانہ اور مسح کرنے  کے  تیل کا ذمّہ دار ہے۔”

17 خداوند نے  موسیٰ اور ہا رون سے  کہا،

18″ ہوشیار رہو۔ اُن قہات نسل کے  آدمیوں کو تباہ مت ہونے  دو۔

19 تمہیں یہ اس لئے  کرنا چاہئے تا کہ قہات نسل سب سے  مقدس جگہ تک جائیں اور مریں نہیں۔ ہا رون اور اس کے  بیٹوں کو اندر جانا چاہئے۔ اور ہر ایک قہات نسل کو بتا نا چاہئے  کہ وہ کیا کرے۔ انہیں ہر ایک آدمی  کو وہ چیزیں دینی چاہئے  جو اسے  لے  جانی چاہئے۔

20 اگر تم ایسا نہیں کرتے  ہو تو قہات نسل اندر جا سکتے  ہیں اور مقدّس چیزوں کو دیکھ سکتے  ہیں۔ اگر وہ ایک لمحہ کے  لئے  بھی اُن مقدّس چیزوں کی طرف دیکھتے  ہیں تو انہیں مرنا ہو گا۔”

21 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا۔

22″ جیر سون خاندان کے  تمام لوگوں کو گِنو۔ اُن کی فہرست خاندان اور خاندانی گروہ کے  مطابق بناؤ۔

23 اپنی خدمت کے  فرائض کو ادا کرنے  والے  تیس سال سے  پچاس سال تک کے  مردوں کو گنو۔ یہ لوگ خیمۂ اجتماع کی دیکھ بھال کی خدمت کا کام کریں گے۔

24″ جیر سون خاندان کو  یہی کرنا چاہئے۔ اور اُنہیں چیزوں کولے  کر چلنا چاہئے۔

25 انہیں مقدس خیمہ کے  پردہ، خیمۂ اجتماع کے  غلا ف اور عمدہ چمڑے  کے  غلاف کولے  کر چلنا چاہئے۔ انہیں آنگن کے  داخلہ دروازہ کے  پردہ کو بھی لے  کر چلنا چاہئے۔ انہیں خیمۂ اجتماع کے  دروازے  کے  پردہ کو بھی لے  کر چلنا چاہئے۔

26 انہیں آنگن کے  اُن پردوں کو جو مقدّس خیمہ اور قربان گاہ کے  اطراف لگے  ہوں لے   کرچلنا چاہئے۔ انہیں تمام رسّیاں اور پردہ کے  ساتھ استعمال میں آنے  والی سبھی چیزوں کو بھی لے  کر چلنا چاہئے۔ جیر سون نسل کے  لوگ ہراس چیز کے  لئے  جواب دہ ہوں گے  جسے  وہ لے  جاتے  ہیں۔

27 جیر سون لوگ ہا رون اور اس کے  بیٹوں کے  حکم کے  مطابق ان کو  سونپے  گئے  کام اور ہر چیز کولے  جانے  کا کام سمیت سارا کام انجام دیں گے۔

28 یہی کام ہے  جسے  جیر سون نسل کے  خاندانی گروہ کے  لوگوں کو خیمۂ اجتماع کے  لئے  کرنا ہے۔ ہا رون کا بیٹا اِتمر کاہن ان کے  کام کے  لئے  جواب دہ ہے۔”

29″ مراری خاندان گروہ کے  خاندانی گروہوں کو اور خاندانوں کے  سبھی مردوں کو گنو۔

30 خدمت کے  فرائض پو را کر چکے  تیس سال سے  پچاس سال کے  سبھی مردوں کو گنو۔ یہ لوگ خیمۂ اجتماع کے  لئے  خاص کام کریں گے۔

31 جب تم سفر کرو گے  تب ان کا یہ کام ہے  کہ خیمۂ اجتماع کے  تختے  کولے  کر چلیں۔ انہیں تختوں، کھمبوں اور خیمۂ اجتماع کی بنیادوں سے  جڑے  چیزوں کولے  چلنا چاہئے۔

32 انہیں آنگن کی چاروں طرف کے  کھمبوں کو بھی لے  چلنا چاہئے۔ انہیں اُن خیمہ کی کھونٹیاں، رسّیاں اور وہ سبھی چیزیں جن کا استعمال آنگن کے  چاروں طرف کے  کھمبوں کے  لئے  ہوتا ہے  لے  چلنا چاہئے۔ ناموں کی فہرست بناؤ اور ہر ایک آدمی  کو بتاؤ کہ اُسے  کیا کیا چیزیں لے  چلنا ہے۔

33 یہی وہ باتیں ہیں جسے  مراری نسل کے  لوگ خیمۂ اجتماع کے  کام میں خدمت کرنے  کے  لئے  کریں گے۔ ہا رون کا بیٹا اِتمر کاہن ان کے  کاموں کے  لئے  جواب دہ ہے۔”

34 موسیٰ ہا رون اور بنی اسرائیلیوں کے  قائدین نے  قہات نسل کے  لوگوں کو اُن کے  خاندان اور خاندانی گروہ کے  مطابق گنا۔

35 انہوں نے  ان لوگوں کو جو اپنی خدمت کے  فرائض ادا کر چکے  تھے  اور جو تیس سال سے  پچاس سال کی عمر کے  تھے  گِنا۔ ان لوگوں کو خیمۂ اجتماع کے  لئے  خاص کام کرنے  کو دیا گیا۔

36 قہات خاندانی گروہ میں جو اس کام کے  کرنے  کی قابلیت رکھتے  تھے۔ ۷۵۰,۲ مرد تھے۔

37 اس طرح قہات خاندان کے  اُن لوگوں کو خیمۂ اجتماع کا خاص کام کرنے  کے  لئے  دئیے  گئے۔ موسیٰ اور ہارون نے  اُسے  ویسا ہی کیا جیسا خداوند نے  موسیٰ سے  کرنے  کو کہا تھا۔

38 جیر سون خاندانی گروہ کو بھی گنا گیا۔

39 سبھی مرد جو اپنی خدمت کے  فرائض ادا کر چکے  تھے  اور تیس سال سے  پچاس سال کی عمر کے  تھے  گِنے  گئے۔ ان لوگوں کو خیمۂ اجتماع کے  لئے  خدمت کا خاص کام دیا گیا۔

40 جیر سون خاندانی گروہ کے  خاندان میں جو قابل تھے۔ وہ ۶۳۰,۲ مرد تھے۔

41 اس طرح اُن مردوں کو جو جیر سون خاندانی گروہ کے  تھے۔ خیمۂ اجتماع میں خدمت کا کام سونپا گیا۔ موسیٰ اور ہارون نے  اُسے  ویسا ہی کیا جیسا خداوند نے  موسیٰ کو کرنے  کے  لئے  کہا تھا۔

42 مراری خاندان اور خاندانی گروہ بھی گنے  گئے۔

43 سبھی مرد جو اپنی خدمت کا فرائض ادا کر چکے  تھے  اور تیس سال پچاس سال کی عمر کے  تھے  گِنے  گئے۔ ان آدمیوں کو خیمۂ اجتماع کے  لئے  خدمت کا خاص کام دیا گیا۔

44 مراری خاندانی گروہ کے  خاندانوں میں جو لوگ قابل تھے  وہ ۲۰۰, ۳ آدمی  تھے۔

45 اس طرح مراری خاندانی گروہ کے  ان لوگوں کو خاص کام دیا گیا۔ موسیٰ اور ہارون نے  اُسے  ویسا ہی کیا جیسا خداوند نے  موسیٰ سے  کرنے  کو کہا تھا۔

46 موسیٰ ہا رون اور بنی اسرائیلیوں کے  قائدین نے  لا وی نسل کے  خاندانی گروہ کے  تمام لوگوں کو گِنا۔ انہوں نے  ہر ایک خاندان اور ہر خاندانی گروہ کو گِنا۔

47 سبھی آدمی  جو خدمت انجام دینے  کے  قابل تھے  اور جو تیس سے  پچاس سال کی عمر کے  تھے  انہیں گنا  گیا۔ اُن آدمیوں کو خیمۂ اجتماع کے  لئے  خدمت کا کام دیا گیا۔ انہوں نے  خیمۂ اجتماع کولے  چلنے  کا کام تب کیا جب انہوں نے  سفر کیا۔

48 مردوں کی تمام تعداد ۵۸۰,۸ تھی۔

49 خداوند نے  یہ حکم موسیٰ کو دیا تھا۔ موسیٰ نے  ہر ایک آدمی  کو جسے  جو کام سونپا گیا اسے  کرنے  کے  لئے  اور جن چیزوں کو اسے  لے  جانا چاہئے  اسے  لے  جانے  کے  لئے  مقرر کیا کہ کیا کیا لے  کر چلنا چاہئے۔ اِس لئے  خداوند نے  جو حکم دیا تھا اس کے  مطابق سارے  کاموں کو انجام دیا گیا۔ سبھی مردوں کو گنا گیا۔

 

 

 

 

باب:     5

 

 

1 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

2″ میں بنی اسرائیلیوں کو حکم دیتا ہوں کہ وہ اپنے  خیموں کو سبھی بیماریوں سے  دور اور صاف رکھیں۔ بنی اسرائیلیوں سے  کہو کہ ہر اُس آدمی  کو جو چمڑے  کے  خطرناک بیماری میں مبتلا ہو اور وہ جس کے  بدن سے  پیپ بہتا ہو اور وہ جو کسی لاش کو چھُونے  کی وجہ سے  ناپاک ہو گئے  ہوں انہیں خیمہ سے  با ہر نکال دو۔

3 چا ہے  وہ مرد ہو یا عورت انہیں چھاؤنی سے  ضرور باہر نکال دوتا کہ میں جس چھاؤنی میں تمہارے  ساتھ ٹھہرتا ہوں وہ نا پاک نہ ہو جائے۔”

4 بنی اسرائیلیوں نے  خدا کا حکم مانا۔ انہوں نے  اس طرح کے  لوگوں کو چھاؤنی کے  با ہر بھیج دیا۔ انہوں نے  ایسا اس لئے  کیا کیونکہ خداوند نے  موسیٰ کو حکم دیا تھا۔

5 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا :

6″ بنی اسرائیلیوں کو یہ بتاؤ کہ جب کوئی آدمی  کسی دوسرے  آدمی  کا کچھ بُرا کرتا ہے  تو وہ خدا کے  خلاف گناہ کرتا ہے۔ وہ آدمی  قصور وار ہے۔

7 اس لئے  وہ آدمی  اپنے  کئے  ہوئے  گناہ کے  با رے  میں ضرور اقرار کرے  تب یہ آدمی  اپنے  کئے  گئے  بُرے  کام کا پو را ہرجانہ ادا کرے۔ اس ہرجانے  میں اس کا پانچواں حصّہ مِلاؤ اور اسے  اس آدمی  کو دے  جس کا بُراس نے  کیا ہے۔

8 لیکن جس آدمی  کا اُس نے  بُرا کیا ہے  اگر وہ مر جائے  اور اس مرنے  والے  کا کوئی قریبی رشتہ دار نہ ہو۔ تب ایسے  حالات میں بُرا کرنے  وا لا آدمی  خداوند کے  لئے  کاہن کو کفارہ دے  سکے  گا۔ اس کے  ساتھ وہ اپنا کفارہ پیش کرنے  کے  لئے  ایک مینڈھا لائے۔”

9 تمام مقدس نذرانہ جو بنی اسرائیل کاہن کو دیتا ہے  تو وہ کاہن کا ہو گا۔

10 ہر شخص اپنی جائیداد( مال مویشی دیگر سامان ) جو کہ اس کی ہے  وہ اسے  مقدس نذرانے  کے  طور پر جب کبھی بھی وہ چا ہے  پیش کر سکتا ہے۔ اور جو کچھ بھی کوئی شخص کاہن کو دیتا ہے  وہ کاہن کا ہو نا چاہئے۔”

11 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

12″ بنی اسرائیلیوں سے  یہ کہو کسی آدمی  کی بیوی شوہر کی اطاعت گذار نہیں بھی ہو سکتی ہے۔

13 ہو سکتا ہے  اس کے  کسی دوسرے  آدمی  کے  ساتھ جسمانی تعلقات ہوں اور اس بات کو اپنے  شوہر سے  چھپائے۔ ہو سکتا ہے  یہ کہنے  کے  لئے  کوئی گواہ بھی نہ ہو کہ اس نے  گناہ کیا ہے۔ اور جب وہ گناہ کر رہی تھی پکڑی بھی نہ گئی ہو۔ اور ہو سکتا ہے  وہ اپنے  گناہ کے  با رے  میں اپنے  شوہر پر  ظاہر بھی نہ ہوئی ہو۔

14 لیکن شوہر شبہ کر نا شروع کر سکتا ہے  کہ اس کی بیوی نے  اس کے  خلا ف گناہ کیا ہے  وہ اس کے  ساتھ حسد کر سکتا ہے  چا ہے  وہ سچ ہو یا نہ ہو۔

15 اگر ایسا ہوتا ہے  تو وہ اپنی بیوی کو کاہن کے  پاس لے  جائے۔ وہ اپنے  ساتھ آٹھ پیالے  بہترین جو کا آٹا نذرانہ لے  جائے۔ آٹے  پر تیل یا خوشبو نہیں ڈالنا چاہئے۔ یہ جو کا آٹا خداوند کو حسد کے  اناج کا نذرانہ کے  طور پر پیش کیا گیا۔ یہ اس لئے  پیش کیا گیا کیونکہ شوہر کو شبہ ہو گیا ہے۔ یہ اناج نذرانہ اس کے  گناہ کو ظاہر کرنے  کے  لئے  دیا گیا۔

16″ کاہن عورت کو خداوند کے  سامنے  لے  جائے  اور اسے  خداوند کے  سامنے  کھڑا کرے۔

17 تب کاہن کچھ مقدس پانی لے  اور اسے  مٹی کے  گھڑے  میں ڈالے۔ اور کاہن مقدس خیمہ کے  آنگن سے  کچھ دھول لے  اور اسے  پانی میں ڈالے۔

18 کاہن عورت کو خداوند کے  سامنے  کھڑا کرے۔ کاہن اس کے  بال کو کھولے  اور اناج کے  نذرانہ کو جسے  اس کے  مشکوک شوہر نے  دیا ہے  اس کے  ہاتھ میں اس کے  گناہ کو ظاہر کرنے  کے  لئے  رکّھے۔ اور کاہن اپنے  ہاتھ میں کڑوے  پانی کے  گھڑے  کو پکڑے  رکھے  جو کہ لعنت لائے  گا۔

19 تب کاہن عورت سے  کہے  کہ اسے  جھوٹ نہیں بولنا چاہئے۔ اسے  سچ بولنے  کا وعدہ کرنا چاہئے۔ کاہن اُس سے  کہے  گا،” اگر تم دوسرے  آدمی  کے  ساتھ نہیں سوئی ہو اور تم نے  اپنے  شوہر کے  خلاف جس کے  ساتھ تمہاری شادی ہوئی ہے  کوئی گناہ نہیں کیا ہے  تو یہ کڑوا پانی تم کو کسی طرح کا نقصان نہیں پہنچائے  گا۔

20″ لیکن اگر تم نے  اپنے  شوہر کے  خلا ف گناہ کیا ہے  اگر تم کسی دوسرے  مرد کے  ساتھ سوئی ہو تو تم پاک نہیں ہو۔ کیوں؟ کیونکہ جو تمہارے  ساتھ سو یا ہے  تمہارا شوہر نہیں ہے  اور اس نے  تمہیں ناپاک کیا ہے۔

21 تمہارے  اپنے  لوگ لعنت کے  لئے  تیرے  نام کا استعمال کریں  گے۔ تمہارا پیٹ پھول جائے  گا۔ اور تم کوئی بچہ پیدا نہیں کر سکو گی۔” تب کاہن اس عورت سے  خاص وعدہ کرنے  کو کہے۔ اسے  راضی ہو نا ہو گا کہ وہ ذلیل اور رسوا ہو گی اگر وہ جھوٹ بولتی ہے۔

22 کاہن کو کہنا چاہئے ،” تم اس پانی کو پیو گی یہ تمہارے  پیٹ میں جائے  گا۔ اگر تم نے  گناہ کیا ہے  تو تمہارا پیٹ پھول جائے  گا اور تم بچوں کو پیدا نہیں کر سکو گی اور اگر تمہارا کوئی بچہ پیٹ میں ہو تو پیدا ہونے  سے  پہلے  مر جائے  گا۔” تب عورت کو کہنا چاہئے ، ‘ آمین ‘ آمین۔ ‘

23″ کاہن کو ان لعنتوں کو چمڑے  کے  طومار پر لکھنا چاہئے  پھر اُسے  اُس تحریر کو کڑوے  پانی میں دھو نا چاہئے۔

24 تب عورت اس کڑوے  پانی کو پئے  گی۔ وہ پانی اس کے  جسم میں جائے  گا۔ اور اگر وہ قصور وار ہے  تو یہ پانی اس کو شدید درد میں مبتلا کرے  گا۔

25 تب کاہن حسد کے  اناج کا نذرانہ کو اس عورت سے  لے  گا اسے  خداوند کے  سامنے  اٹھائے  گا اور اسے  قربان گاہ تک لے  جائے  گا۔

26 تب کاہن اپنے  ہاتھوں میں مٹھی بھر اناج لے  گا اور اسے  قربان گاہ پر رکھے  گا۔ تب وہ اسے  جلائے  گا اس کے  بعد وہ عورت سے  پانی پینے  کو کہے  گا۔

27 جب وہ اس عورت کو پانی پینے  کو کہے  گا۔ اگر وہ عورت اپنے  شوہر کے  خلا ف گناہ کر چکی  ہے  تو وہ پانی جو لعنت کا سبب ہو گا اس کے  جسم کے  اندر جائے  گا اور اس کو شدید درد میں مبتلا کرے  گا اور اس کا پیٹ پھول جائے  گا۔ اور وہ بانجھ ہو جائے  گی۔ تمام لوگ اس کے  خلا ف ہو جائیں گے۔

28 لیکن اگر عورت نے  شوہر کے  خلا ف گناہ نہیں کیا ہے  تو وہ پاک ہے  پھر کاہن کہے  گا کہ وہ قصور وار نہیں ہے  اور بچوں کو پیدا کرنے  کے  قابل ہو گی۔

29 یہ قانون حسد کے  با رے  میں ہے ، اگر کوئی شادی شدہ عورت اپنے  شوہر کے  خلا ف گناہ کرتی ہے۔

30 یا اگر کوئی حسد کرتا ہے  اور اپنی بیوی کے  با رے  میں شک کرتا ہے  تو اسے  کاہن کو کہنا چاہئے  کہ وہ اس عورت کو خداوند کے  سامنے  کھڑا کرے۔ اور ان سب کارروائی کو کرے  یہی قانون ہے۔

31 شوہر کوئی بُرا کرنے  کا قصور وار نہیں ہو گا لیکن عورت اپنی مصیبت کے  لئے  مصیبت اٹھائے  گی۔”

 

 

 

 

باب:   6

 

 

1 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

2″ یہ باتیں بنی اسرائیلیوں سے  کہو۔ کوئی مرد یا عورت کچھ عرصہ کے  لئے  دوسرے  لوگوں سے  الگ رہنے  کی قسم کھائے۔ اس علیٰحدگی کی وجہ یہ ہے  کہ وہ آدمی  پوری طرح اپنے  آپ  کو اس وقت کے  لئے  خداوند کو وقف کر سکے۔ وہ آدمی  نذیری کہلائے  گا۔

3 اُس عرصہ میں آدمی  کو شراب یا کوئی زیادہ نشیلی چیز مئے  نہیں پینی چاہئے۔ آدمی  کو سرکہ یا کوئی زیادہ نشیلی مئے  کو نہیں پینا چاہئے۔ اس آدمی  کو مئے  نہیں پینا چاہئے۔ اور نہ انگور یا کشمش کھانی  چاہئے۔

4 اس علیٰحدگی کے  خاص عرصے  میں اس آدمی  کو انگور سے  بنی کوئی چیز نہیں کھانی چاہئے۔ اس آدمی  کو انگور کا بیج یا چھِلکا بھی نہیں کھانا چاہئے۔

5″ اس علیٰحدگی کے  عرصے  میں اس آدمی  کو اپنے  بال نہیں کاٹنے  چاہئے۔ اس آدمی  کو اس وقت تک پاک رہنا چاہئے  جب تک علیٰحدگی کا وقت ختم نہ ہو۔ اسے  اپنے  بال لمبے  ہونے  دینا چاہئے۔ اس آدمی  کے  بال خدا کو دیئے  گئے  اس کے  وعدہ کا ایک خاص حصّہ ہے۔ وہ اُن با لوں کو خدا کے  لئے  نذر کے  طور پر دے  گا اس لئے  وہ آدمی  اپنے  با لوں کو اُس وقت تک لمبا ہونے  دے  گا جب تک علیٰحدگی کا عرصہ ختم نہ ہو جائے۔

6″ اس علیٰحدگی کے  عرصہ میں نذیری کو کسی لاش کے  پاس نہیں جانا چاہئے۔

7 اگر اُس کے  اپنے  باپ یا اپنی ماں یا اپنے  بھائی یا اپنی بہن بھی مر جائے  تو اسے  ان سے  بھی نا پاک نہیں ہو نا چاہئے۔ کیونکہ اس کے  بال جسے  اس نے  خدا کو وقف کیا ہے  سر پر ہے۔

8 علیٰحدگی کے  پو رے  عرصے  کے  دوران وہ خداوند کے  لئے  مقدّس ہو گا۔

9″ یہ ممکن ہے  کہ نذیری کسی دوسرے  آدمی  کے  ساتھ ہو اور وہ دوسرا آدمی  اچانک مر جائے  تو اس مردہ آدمی  کی وجہ سے  وہ نذیری نا پاک ہو سکتا ہے۔ اور اگر ایسا ہوتا ہے  تو نذیری کو سر سے  اپنے  بال کٹوا لینے چاہئیں۔ وہ بال اُس کے  مخصوص وعدہ کا حصّہ تھا۔ اسے  اپنے  بال ساتویں دن خود  کو پاک کرنے  کے  لئے  کاٹنے چاہئیں  کیونکہ اسی دن وہ ناپاک ہوا تھا۔

10 تب آٹھویں دن اسے  دو فاختے  یا کبوتر کے  دو بچے  کاہن کے  پاس لا نا چاہئے  اسے  کاہن کو خیمۂ اجتماع کے  دروازے  پر دینا چاہئے۔

11 تب کاہن ایک کو گناہ کی قربانی کے  طور پر پیش کرے  گا۔ دوسرے  کو جلانے  کی قربانی کے  طور پر پیش کرے  گا۔ اس لئے  کاہن کو آدمی  کے  کئے  گئے  گناہ کے  لئے  کفّارہ دینا چاہئے۔ اس نے  گناہ کیا کیونکہ وہ لاش کے  پاس تھا۔ اس وقت وہ آدمی  پھر وعدہ کرے  کہ سر کے  بالوں کو خدا کو نذر کرے  گا۔

12 اس طرح سے  وہ علیٰحدگی کے  لئے  دوسری دفعہ اپنے  آپ  کو خداوند کے  حوالے  کر لے۔ ا آدمی  کو ایک سال کا ایک میمنہ لا نا چاہئے  وہ اسے  جُرم کا نذرانہ کے  طور پر پیش کرنا چاہئے۔ اس کے  علیٰحدگی کے  سبھی دن بھلا دیئے  جاتے  ہیں۔ اس آدمی  کو پھر سے  نئی علیٰحدگی شروع کرنی چاہئے۔ یہ ضرور کیا جانا چاہئے  کیونکہ وہ  علیٰحدگی کے  پہلے  عرصہ میں ایک مردہ جسم کی وجہ سے  نا پاک ہو گیا تھا۔

13″ جب آدمی  کی علیٰحدگی کا وقت پو را ہو تو اسے  خیمۂ اجتماع کے  دروازے  پر جانا چاہئے۔

14 وہاں وہ خداوند کو مندرجہ ذیل نذرانہ پیش کرے  :

15 بغیر خمیری روٹیوں کی ایک ٹوکری ( تیل ملا ہوا کیک اور تیل لگے  ہوئے  پھلکے  ) اناج کا نذرانہ اور مئے  کا کا نذرانہ جو ان سب قربانیوں کا ایک حصّہ ہے۔

16″ تب کاہن ان چیزوں کو خداوند کو دے  گا۔ کاہن گناہ کی قربانی اور جلانے  کی قربانی چڑھائے  گا۔

17 کاہن روٹیوں کی ٹوکری خداوند کو دے  گا۔ تب وہ خداوند کی ہمدردی کے نذرانہ کے  طور پر نر مینڈھے  کو مارے  گا۔ وہ خداوند کو اناج کا نذرانہ اور مئے  کا نذرانہ کے  ساتھ اسے  دے  گا۔

18″ نذیری کو خیمۂ اجتماع کے  دروازے  پر جانا چاہئے۔ وہاں اسے  اپنے  نذر کئے  ہوئے  بال کٹوانا چاہئیں۔ ان بالوں کو سلامتی کے  نذرانے  کے  طور پر دی گئی قربانی کے  نیچے  جلتی ہوئی آ گ میں ڈالا جانا چاہئے۔

19″ جب نذیری اپنے  بالوں کو کاٹ چکے  گا تو کاہن اسے  نر مینڈھے  کا ایک پکا ہوا کندھا اور ٹوکری سے  ایک بڑا اور ایک چھوٹا”کیک”دے  گا یہ دونوں بے  خمیری پھلکے  ہوں گے۔

20 تب کاہن ان چیزوں کو خداوند کے  سامنے  ہلائے  گا۔ یہ ایک لہرانے  کا نذرانہ ہو گا۔ یہ چیزیں پاک ہیں اور کاہن کی ہیں۔ نر مینڈھے  کا سینہ اور ران خداوند کے  سامنے  ہلائے  جائیں گے۔ یہ چیزیں بھی کاہن کی ہیں۔ اس کے  بعد نذیری مئے  پئے  گا۔

21″ یہ اُصول اُن آدمیوں کے  لئے  ہیں جو نذیری ہونے  کا وعدہ کرتے  ہیں۔ اس آدمی  کو خداوند کے  لئے  یہ قربانیاں دینی چاہئے  اگر کوئی آدمی  زیادہ دینے  کا وعدہ کرتا ہے  تو اسے  اپنے  وعدہ کو پو را کرنا چاہئے۔ لیکن اسے  کم سے  کم وہ تمام چیزیں دینی چاہئے  جو نذیری کے  اُصول میں لکھی ہوئی ہیں۔”

22 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا :

23″ ہا رون اور اس کے  بیٹوں سے  کہو کہ اس طریقے  سے  تمہیں بنی اسرائیلیوں کو دعا دینی چاہئے۔ تمہیں انہیں کہنا چاہئے  :

24 خداوند تم کو برکت دے  اور تمہاری حفاظت کرے۔

25 خداوند تم پر مہربان رہے  اور اچھا رہے۔

26 خداوند تم پر رحم کرے  اور تمہیں سلامتی دے۔”

27 تب خداوند نے  کہا،” اس طرح ہا رون اور اس کے  بیٹے  بنی اسرائیلیوں کو دعا دینے  کے  لئے  میرے  نام کا استعمال کریں گے  اور میں انہیں برکت دوں گا۔”

 

 

 

باب:   7

 

 

1 جس دن موسیٰ نے  مقدس خیمہ کو لگانا پو را کیا۔ اس نے  اسے  خداوند کے  لئے  وقف کیا۔ موسیٰ نے  خیمہ اور اس میں استعمال میں آنے  وا لی چیزوں پر چھڑکاؤ کیا۔ موسیٰ نے  قربان گاہ کا بھی چھِڑکاؤ کیا اور اس کے  ساتھ کی چیزوں کا بھی۔ جس سے  یہ ظاہر ہوتا تھا کہ یہ سب چیزیں خداوند کی ہیں اور اُس کی عبادت کے  لئے  استعمال کی جانی چاہئے۔

2 تب اسرائیل کے  قائدین نے  خداوند کو قربانیاں چڑھائیں۔ یہ اپنے  اپنے  خاندانوں کے  صدر تھے  جو اپنے  خاندانی گروہ کے  قائد تھے۔ انہی قائدین نے  لوگوں کو گنا تھا۔

3 یہ قائد خداوند کے  لئے  نذرانہ پیش کئے۔ وہ چاروں طرف ڈھکی ۶ گاڑیاں اور ۱۲ بیل لائے۔ ہر ایک قائد کی طرف سے  ایک بیل دیا گیا تھا اور ہر دو قائد کی طرف سے  ایک گاڑی دی گئی تھی۔ قائدین نے  مقدّس خیمہ پر خداوند کو یہ چیزیں دیں۔

4 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

5″ قائدین کی ان قربانیوں کو قبول کرو۔ یہ قربانیاں خیمۂ اجتماع کے  کام میں استعمال کی جا سکتی ہیں ان چیزوں کو لا وی نسل کے  لوگوں کو دو یہ انہیں اپنے  کام کرنے  میں مددگار ہوں گے۔”

6 اس لئے  موسیٰ نے  گاڑیوں اور بیلوں کو لیا اور ان چیزوں کو لا وی نسل کے  لوگوں کو دیا۔

7 اس نے  دو بیل اور چار گاڑیاں جیر سون نسلوں کو دی۔ انہیں اپنے  کام کے  لئے  اُن گاڑیوں اور بیلوں کی ضرورت تھی۔

8 تب موسیٰ نے  چار گاڑیاں اور آٹھ بیل مراری نسل کو دیں۔ انہیں اپنے  کام کے  لئے  ان گاڑیوں اور بیلوں کی ضرورت تھی۔ کاہن ہا رون کا بیٹا اِتمر اُن تمام آدمیوں کے  کام کے  لئے  جواب دہ تھا۔

9 موسیٰ نے  قہات نسلوں کو کوئی بیل یا کوئی گاڑی نہیں دی۔ اُن آدمیوں کو پاک چیزیں اپنے  کندھے  پرلے  جانی تھی۔ یہی کام اُن کو کرنے  کے  لئے  سونپا گیا تھا۔

10 جس دن قربان گاہ کے  لئے  چھِڑکاؤ کیا گیا اس دن وہ قربان گاہ کی تقدیس کے  لئے  تحفے  لائے۔ انہوں نے  اپنے  تحفوں کو قربان گاہ کے  سامنے  خداوند کے  حوالے  کیا۔

11 خداوند نے  پہلے  ہی موسیٰ سے  کہہ دیا تھا،” ہر روز ایک قائد قربان گاہ کی تقدیس کے  لئے  اپنا تحفہ ضرور لائے۔

12 بارہ قائدین میں سے  ہر ایک قائد اپنا اپنا تحفہ لا یا وہ تحفے  یہ ہیں :

13  اور اس کا ہدیہ یہ تھا مقدس کی مثقال کے حساب سے ایک سو تیس مثقال چاندی کا ایک طباق اور ستر مثقال چاندی کا ایک کٹورا ان دونوں میں نظر کی قربانی کے لیے تیل ملا ہوا میدہ بھرا تھا

14 دس مثقال سونے کا ایک چمچ جو بخور سے بھرا تھا

15 سو ختنی قربانی کے لیے ایک بچھڑا ایک مینڈھا اور ایک نر یکسالہ برہ

16 خطا کی قربانی کے لیے ایک بکرا

17 اور سلامتی کی قربانی کے لیے دو بیل پانچ مینڈھے پانچ بکرے پانچ نر یکسالہ برے۔ یہ عمینداب کے بیٹے نحسون کا ہدیہ تھا  سو پہلے یہوداہ کے قبیلے میں سے عمینداب کے بیٹے نحسون نے اپنا ہدیہ گذرانا

13 اور اس کا ہدیہ یہ تھا مقدس کی مثقال کے حساب سے ایک سو تیس مثقال چاندی کا ایک طباق اور ستر مثقال چاندی کا ایک کٹورا ان دونوں میں نظر کی قربانی کے لیے تیل ملا ہوا میدہ بھرا تھا

14 دس مثقال سونے کا ایک چمچ جو بخور سے بھرا تھا

15 سو ختنی قربانی کے لیے ایک بچھڑا ایک مینڈھا اور ایک نر یکسالہ برہ

16 خطا کی قربانی کے لیے ایک بکرا

17 اور سلامتی کی قربانی کے لیے دو بیل پانچ مینڈھے پانچ بکرے پانچ نر یکسالہ برے۔ یہ عمینداب کے بیٹے نحسون کا ہدیہ تھا۔

18 دوسرے دن صغر کے بیٹے نتنی ایل نےجو  اشکار کے قبیلہ کا سردار تھا اپنا ہدیہ گذرانا

19 اور اس کا ہدیہ یہ تھا مقدس کی مثقال کے حساب سے ایک سو تیس مثقال چاندی کا ایک طباق اور ستر مثقال چاندی کا ایک کٹورا ان دونوں میں نظر کی قربانی کے لیے تیل ملا ہوا میدہ بھرا تھا

20 دس مثقال سونے کا ایک چمچ جو بخور سے بھرا تھا

21 سو ختنی قربانی کے لیے ایک بچھڑا ایک مینڈھا اور ایک نر یکسالہ برہ

22 خطا کی قربانی کے لیے ایک بکرا

23 اور سلامتی کی قربانی کے لیے دو بیل پانچ مینڈھے پانچ بکرے پانچ نر یکسالہ برے۔ دن صغر کے بیٹے نتنی ایل کا ہدیہ تھا۔

24 اور تیسرے دن حیلون کے بیٹے الیاب نے جو زبولون کے قبیلہ کا سردار تھا اپنا ہدیہ گذرانا

25 اور اس کا ہدیہ یہ تھا مقدس کی مثقال کے حساب سے ایک سو تیس مثقال چاندی کا ایک طباق اور ستر مثقال چاندی کا ایک کٹورا ان دونوں میں نظر کی قربانی کے لیے تیل ملا ہوا میدہ بھرا تھا

26 دس مثقال سونے کا ایک چمچ جو بخور سے بھرا تھا ۔

27 سوختنی قربانی کے لیے ایک بچھڑا ایک مینڈھا اور ایک نر یکسالہ برہ

28 خطا کی قربانی کے لیے ایک بکرا

29 اور سلامتی کی قربانی کے لیے دو بیل پانچ مینڈھے پانچ بکرے پانچ نر یکسالہ برے یہ حیلون کے بیٹے الیاب کا ہدیہ تھا ۔

30 چوتھے دن شدیور کے بیٹے الیصور نے ھو روبن کے قبیلہ کا سردار تھا اپنا ہدیہ گذرانا

31 اور اس کا ہدیہ یہ تھا مقدس مثقال کے حساب سے ایک سو تیس مثقال چاندی کا ایک طباق اور ستر مثقال چاندی کا ایک کٹورا ان دونوں میں نذر کی قربانی کے لیے تیل ملا میدہ بھر ا تھا

32 دس مثقال سونے کا ایک چمچ جو بخور سے بھرا تھا

33 سوختنی قربانی کے لیے ایک بچھڑا ایک مینڈھا ایک نر یکسالہ برہ

34 خطا کی قربانی کے لیے ایک بکرا

35 اور سلامتی کی قربانی کے لیے دو بیل پانچ مینڈھے پانچ بکرے پانچ یکسالہ برے یہ شدیور کے بیٹے الیصور کا ہدیہ تھا

36 اور پانچویں دن صوری شدی کے بیٹے لومی ایل نے جو شمعون کے قبیلہ کا سردار تھا اپنا ہدیہ گذرانا

37   اور اس کا ہدیہ یہ تھا مقدس مثقال کے حساب سے ایک سو تیس مثقال چاندی کا ایک طباق اور ستر مثقال چاندی کا ایک کٹورا ان دونوں میں نذر کی قربانی کے لیے تیل ملا میدہ بھر ا تھا

38   دس مثقال سونے کا ایک چمچ جو بخور سے بھرا تھا

39   سوختنی قربانی کے لیے ایک بچھڑا ایک مینڈھا ایک نر یکسالہ برہ

40 خطا کی قربانی کے لیے ایک بکرا

41 اور سلامتی کی قربانی کے لیے دو بیل پانچ مینڈھے پانچ بکرے پانچ یکسالہ برے یہ شدیور کے بیٹے الیصور کا ہدیہ تھا یہ صوری شدی سلومی ایل کا ہدیہ تھا

42 اور چھٹے دن دعوایل کے بیٹے الیاسف نے جو جد کے قبیلہ کا سردار تھا اپنا ہدیہ گذرانا

43   اور اس کا ہدیہ یہ تھا مقدس مثقال کے حساب سے ایک سو تیس مثقال چاندی کا ایک طباق اور ستر مثقال چاندی کا ایک کٹورا ان دونوں میں نذر کی قربانی کے لیے تیل ملا میدہ بھر ا تھا

44 دس مثقال سونے کا ایک چمچ جو بخور سے بھرا تھا

45 سوختنی قربانی کے لیے ایک بچھڑا ایک مینڈھا ایک نر یکسالہ برہ

46 خطا کی قربانی کے لیے ایک بکرا

47 اور سلامتی کی قربانی کے لیے دو بیل پانچ مینڈھے پانچ بکرے پانچ یکسالہ برے یہ دعوایل کے بیٹے الیاسف کا ہدیہ تھا۔

48 اور ساتویں دن عمیہود کے بیٹے الیسع نے افرائیم کے قبیلہ کا سردار تھا اپنا ہدیہ گذرانا

49   اور اس کا ہدیہ یہ تھا مقدس مثقال کے حساب سے ایک سو تیس مثقال چاندی کا ایک طباق اور ستر مثقال چاندی کا ایک کٹورا ان دونوں میں نذر کی قربانی کے لیے تیل ملا میدہ بھر ا تھا

50 دس مثقال سونے کا ایک چمچ جو بخور سے بھرا تھا

51 سوختنی قربانی کے لیے ایک بچھڑا ایک مینڈھا ایک نر یکسالہ برہ ۔

52 خطا کی قربانی کے لیے ایک بکرا

53 اور سلامتی کی قربانی کے لیے دو بیل پانچ مینڈھے پانچ بکرے پانچ یکسالہ برے یہ عمیہود کے بیٹے الیسع کا ہدیہ تھا

54 اور آٹھویں دن فدا ہصور کے بیٹے جملی ایل نے جو منسی کے قبیلہ کا سردار تھا اپنا ہدیہ گذرانا

55 اور اس کا ہدیہ یہ تھا مقدس مثقال کے حساب سے ایک سو تیس مثقال چاندی کا ایک طباق اور ستر مثقال چاندی کا ایک کٹورا ان دونوں میں نذر کی قربانی کے لیے تیل ملا میدہ بھر ا تھا

56   دس مثقال سونے کا ایک چمچ جو بخور سے بھرا تھا

57   سوختنی قربانی کے لیے ایک بچھڑا ایک مینڈھا ایک نر یکسالہ برہ

58 خطا کی قربانی کے لیے ایک بکرا

59 اور سلامتی کی قربانی کے لیے دو بیل پانچ مینڈھے پانچ بکرے پانچ یکسالہ برے یہ فدا ہصور کے بیٹے جملی ایل کا ہدیہ تھا

60 اور نویں دن جدعونی کے بیٹے ابدان نے جو بنیمین کے قبیلہ کا سردار تھا اپنا ہدیہ گذرانا

61 اور اس کا ہدیہ یہ تھا مقدس مثقال کے حساب سے ایک سو تیس مثقال چاندی کا ایک طباق اور ستر مثقال چاندی کا ایک کٹورا ان دونوں میں نذر کی قربانی کے لیے تیل ملا میدہ بھر ا تھا

62   دس مثقال سونے کا ایک چمچ جو بخور سے بھرا تھا ۔

63 سوختنی قربانی کے لیے ایک بچھڑا ایک مینڈھا ایک نر یکسالہ برہ

64 خطا کی قربانی کے لیے ایک بکرا

65 اور سلامتی کی قربانی کے لیے دو بیل پانچ مینڈھے پانچ بکرے پانچ یکسالہ برے دن جدعونی کے بیٹے ابدان کا ہدیہ تھا

66 اور دسویں دن عمیشدی کے بیٹے اخیغرر نے جو دان کے قبیلہ کا سردار تھا اپنا ہدیہ گذرانا

67 اور اس کا ہدیہ یہ تھا مقدس مثقال کے حساب سے ایک سو تیس مثقال چاندی کا ایک طباق اور ستر مثقال چاندی کا ایک کٹورا ان دونوں میں نذر کی قربانی کے لیے تیل ملا میدہ بھر ا تھا

68   دس مثقال سونے کا ایک چمچ جو بخور سے بھرا تھا

69 سوختنی قربانی کے لیے ایک بچھڑا ایک مینڈھا ایک نر یکسالہ برہ

70 خطا کی قربانی کے لیے ایک بکرا۔

71 اور سلامتی کی قربانی کے لیے دو بیل پانچ مینڈھے پانچ بکرے پانچ یکسالہ برے دن دن عمیشدی کے بیٹے اخیغرر کا ہدیہ تھا

72 اور گیارہویں دن عکران کے بیٹے فجعی ایل نے جو آشر کے قبیلہ کا سردار تھا اپنا ہدیہ گذرانا

73   اور اس کا ہدیہ یہ تھا مقدس مثقال کے حساب سے ایک سو تیس مثقال چاندی کا ایک طباق اور ستر مثقال چاندی کا ایک کٹورا ان دونوں میں نذر کی قربانی کے لیے تیل ملا میدہ بھر ا تھا

74   دس مثقال سونے کا ایک چمچ جو بخور سے بھرا تھا

75   سوختنی قربانی کے لیے ایک بچھڑا ایک مینڈھا ایک نر یکسالہ برہ

76 خطا کی قربانی کے لیے ایک بکرا

77 اور سلامتی کی قربانی کے لیے دو بیل پانچ مینڈھے پانچ بکرے پانچ یکسالہ برے دن عکران کے بیٹے فجعی ایل کا ہدیہ تھا

78 اور بارہویں دن عینان کے بیٹے اخیرع نے جو بنی نفتالی کے قبیلہ کا سردار تھا اپنا ہدیہ گذرانا۔

79 اور اس کا ہدیہ یہ تھا مقدس مثقال کے حساب سے ایک سو تیس مثقال چاندی کا ایک طباق اور ستر مثقال چاندی کا ایک کٹورا ان دونوں میں نذر کی قربانی کے لیے تیل ملا میدہ بھر ا تھا

80   دس مثقال سونے کا ایک چمچ جو بخور سے بھرا تھا

81   سوختنی قربانی کے لیے ایک بچھڑا ایک مینڈھا ایک نر یکسالہ برہ

82 خطا کی قربانی کے لیے ایک بکرا

83 اور سلامتی کی قربانی کے لیے دو بیل پانچ مینڈھے پانچ بکرے پانچ یکسالہ برے دن عینان کے بیٹے اخیرع کا ہدیہ تھا۔٭

84 اس طرح یہ سب چیزیں بنی اسرائیلیوں کے  قائدین کے تحائف تھے۔ یہ چیزیں تب لائی گئیں جب موسیٰ نے  قربان گاہ کو خاص تیل ڈال کر موقوف کیا۔ وہ بارہ چاندی کی طشتریاں بارہ چاندی کے  کٹورے  اور بارہ سونے  کے  چمچے  لائے۔

85 چاندی کی ہر ایک طشتری کا وزن ۱۳۰ مثقال تھا۔ اور ہر ایک کٹورے  کا وزن ۷۰ مثقال تھا۔ چاندی کی طشتریاں اور چاندی کے  کٹوروں کا کُل وزن ۲۴۰۰ مثقال سرکاری وزن کے  مطابق تھا۔

86 خوشبو سے  بھرے  سونے  کے  چمچوں میں سے  ہر ایک کا وزن دس مثقال تھا۔ سونے  کے  بارہ چمچوں کا کُل وزن تقریباً تین پاؤنڈ تھا۔

87 جلانے  کے  نذرانے  کے  لئے  جانوروں کی کُل تعداد بارہ بیل بارہ مینڈھے  اور بارہ ایک سال کے  میمنے تھے۔ وہاں اناج کا نذرانہ بھی تھا۔ خداوند کو گناہ کا نذرانہ پیش کرنے  کے  لئے  بارہ بکرے  بھی تھے۔

88 اُن جانوروں کی تعداد جسے  قائدین نے  ہمدردی کا نذرانہ دینے  کے  لئے  دئیے  تھے  : ۲۴ بیل، ۶۰ مینڈھے ، ۶۰ بکرے  اور ۶۰ ایک سال کے  میمنے۔ قربان گاہ کی تقدیس کے  وقت یہ چیزیں قربانی کے  طور پر دی گئیں۔ یہ موسیٰ کے  ذریعہ مسح کرنے  کا تیل ان پر ڈالنے  کے  بعد ہوا۔

89 موسیٰ خیمۂ اجتماع میں خداوند سے  بات کرنے  گئے۔ اس وقت انہوں نے  اپنے  ساتھ بات کرتے  ہوئے  خداوند کی آواز سنی۔ وہ آواز معاہدہ کے  صندوق کے  اوپر کے  خاص سر پوش پر کے  دو کروبی فرشتوں کے  درمیان سے  آ رہی تھی۔ اسطرح خدا نے  موسیٰ سے  باتیں کیں۔

 

٭گوسپل گو سائٹ پر اس  حصے کا اردو ترجمہ نہیں دیا گیا ہے۔ یہاں  ورڈ پروجیکٹ کا ترجمہ دیا گیا ہے

 

 

 

 

باب:   8

 

 

1 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا

2″ ہا رون سے  بات کرو اور اُس سے  کہو شمعدان میں رکھے  سات چراغوں کو روشن کرے۔ یہ چراغ شمعدان کے  سامنے  کے  علاقے  کو روشن کرے  گا۔”

3 ہا رون نے چراغوں کو ٹھیک جگہ پر رکھا اور اُن کا رُخ ایسا کر دیا کہ اس سے  شمعدان کے  سامنے  کا علاقہ روشن ہو سکے۔ اس نے  موسیٰ کو دیئے  گئے  خداوند کے  حکم کی تعمیل کی۔

4 شمعدان سونے  کے  پتّروں سے  بنا تھا۔ سونے  کا استعمال بُنیاد سے  لے  کر اوپر سنہرے  پھو لوں تک کیا گیا تھا۔ یہ سب اسی طرح بنا تھا جیسا کہ خداوند نے  موسیٰ کو دکھا یا تھا۔

5 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

6″ لا وی کی  نسل کے  لوگوں کو اسرائیل کے  دوسرے  لوگوں سے  الگ لے  جاؤ ان لا وی نسل کے  لوگوں کو یاد کرو۔

7 انہیں پاک کرنے  کے  لئے  گناہ کے  نذرانے  سے  پانی لے  کر ان کے  اوپر چھڑکنا چاہئے۔ تب انہیں  اپنے  آپ  کو صاف کرنے  کے  لئے  اپنے پو رے جسم پر استرہ پھر وا نا پڑے  گا اور کپڑوں کو دھونا ہو گا۔

8″ تب وہ ایک نیا بیل اور اس کے  ساتھ استعمال میں آنے  وا لی اناج کی قربانی لیں گے  یہ اناج کی قربانی تیل ملا ہوا آٹا ہو گا۔ تب دوسرا  بیل گناہ کی قربانی کے  طور پر لو۔

9 لا وی خاندان کے  لوگوں کو خیمۂ اجتماع کے  سامنے  لاؤ۔ اور سبھی بنی اسرائیلیوں کو جمع کرو۔

10 تب تمہیں لا وی خاندان کے  لوگوں کو خداوند کے  سامنے  لانا چاہئے  اور بنی اسرائیل اپنا ہاتھ اُن پر رکھیں گے۔

11 تب ہا رون لا وی خاندان کے  لوگوں کو خداوند کے  سامنے  لائے  گا۔ وہ خدا کے  لئے  بنی اسرائیلیوں کے  ذریعہ لہرانے  کے نذرانہ کے  طور پر ہوں گے  اس طریقے  سے  لا وی خاندان کے  لوگ خداوند کا خاص کام کرنے  کے  لئے  تیار ہوں گے۔

12″ لاویوں سے  کہو کہ وہ اپنا ہاتھ بیلوں کے  سر پر رکھیں۔ ایک بیل خداوند کیلئے گناہ کے نذرانہ کے  طور پر ہو گا۔ دوسرا بیل خداوند کیلئے جلانے  کے نذرانے  کے  طور پر کام آئے  گا۔ یہ نذرانے  لاویوں کے  لئے  کفّارہ ہوں گے۔

13 لا وی نسل کے  لوگوں سے  کہو کہ وہ ہا رون اور اس کے  بیٹوں کے  سامنے  کھڑے  ہوں۔ تب خداوند کے  سامنے  لا وی نسل کے  لوگوں کو لہرانے  کی قربانی کے  طور پر پیش کرو۔

14 یہ لا وی کے  نسل کے  لوگوں کو پاک بنائے  گا۔ یہ دکھائے  گا کہ وہ خدا کیلئے  خاص طریقے  سے  استعمال ہوں گے  وہ اسرائیل کے  دوسرے  لوگوں سے  مختلف ہوں گے  اور لا وی نسل کے  لوگ میرے  ہوں گے۔

15″اس لئے  لا وی نسل کے  لوگوں کو پاک کرو اور انہیں خداوند کے  سامنے  لہرانے  کی قربانی کے  طور پر پیش کرو۔ جب یہ پورا ہو جائے  تو وہ آ سکتے  ہیں۔ اور خیمۂ اجتماع میں اپنا کام کر سکتے  ہیں۔

16 یہ لا وی نسل اسرائیل کے  وہ لوگ ہیں جو مجھ کو دیئے  گئے  ہیں۔ میں نے  انہیں اپنے  لوگوں کے  طور پر قبول کیا ہے۔ گزرے  زمانے  میں ہر ایک اسرائیل کے  خاندان میں پہلو ٹھا بیٹا مجھے  دیا جاتا تھا۔ لیکن میں نے  لا وی نسل کے  لوگوں کو اسرائیل کے  دوسرے  خاندانوں کے  پہلوٹھے  بیٹوں کی جگہ پر قبول کیا ہے۔

17 اسرائیل کا ہر وہ شخص جو اسرائیل کے  ہر ایک خاندان میں پہلو ٹھا ہے  میرا ہے۔ چا ہے  وہ آدمی  ہو یا جانور میرا ہے۔ میں نے  مصر میں سبھی پہلوٹھے  بچوں اور سبھی پہلوٹھے  جانوروں کو مار ڈالا تھا۔ اس لئے  میں نے  تمام پہلوٹھے  لڑکوں کو الگ کیا تا کہ وہ میرے  ہو سکیں۔

18 اب میں نے  لا وی نسل کے  لوگوں کولے  لیا ہے۔ میں نے  اسرائیل کے  دوسرے  لوگوں کے  خاندانوں کے  پہلوٹھے  بچوں کی جگہ ان کو قبول کیا ہے۔

19 میں نے  سبھی بنی اسرائیلیوں میں سے  لا وی نسل کے  لوگوں کو چُنا ہے۔ میں نے  انہیں ہا رون اور اُس کے  بیٹوں کو تحفہ کے  طور پر دیا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ خیمۂ اجتماع میں کام کریں۔ وہ سبھی بنی اسرائیلیوں کے  لئے  خدمت کریں گے۔ اور وہ ان قربانیوں کو کرنے  میں مدد کریں گے  جو بنی اسرائیلیوں کے  گنا ہوں کو پاک کرتا ہے۔ تب کوئی بڑی بیماری یا آفت بنی اسرائیلیوں کو نہیں ہو گی۔ جب وہ مقدس جگہ کے  پاس آئیں گے۔”

20 اس لئے  موسیٰ، ہا رون اور اسرائیل کے  سبھی لوگوں نے  خداوند کا حکم مانا۔ انہوں نے  لا وی نسل کے  ساتھ ویسا ہی کیا جیسا کہ خداوند نے  اس کے  ساتھ کام کرنے  کا موسیٰ کو حکم دیا تھا۔

21 لاویوں نے  اپنے  آپ  کو پاک کیا اور اپنے  لباسوں کو دھو یا۔ تب ہارون نے  انہیں خداوند کے  سامنے  لہرانے  کے نذرانہ کے  طور پر پیش کیا۔ ہارون نے  بھی ان تحفوں کو پیش کیا جسے  ان لوگوں کے  لئے  کفّارہ کے  طور پر پیش کیا گیا تھا تا کہ وہ پاک ہو جائیں

22 پاکی کے  بعد لا وی خاندان کے  لوگ اپنا کام کرنے  کے  لئے  خیمۂ اجتماع میں آئے۔ ہا رون اور اس کے  بیٹوں نے  اُن کی دیکھ بھال کی۔ وہ لا وی خاندان کے  لوگوں کے  کام کے  لئے  جواب دہ تھے۔ ہا رون اور اس کے  بیٹوں نے  اُن کے  احکام کی تعمیل کی جنہیں خداوند نے  موسیٰ کو دیا تھا۔

23 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا

24″لا وی نسل کے  لوگوں کے  لئے  یہ خاص حکم ہے  :ہر ایک لا وی نسل کا مرد جو پچیس سال یا اس سے  زیادہ عمر کا ہو ضرور آنا چاہئے  اور خیمۂ اجتماع کے  کاموں میں ہاتھ بٹانا چاہئے۔

25 جب کوئی آدمی  ۵۰ سال کا ہو جائے  تو اس کو اُن کاموں سے  سبکدوش ہو نا چاہئے  اسے  اور زیادہ دنوں تک کام نہیں کرنا چاہئے۔

26 بہرحال ۵۰ سال یا اس سے  زیادہ عمر کے  لوگ خیمۂ اجتماع میں نگہبان کے  طور پر اپنے  بھا ئیوں کی مدد کر سکتا ہے۔ لیکن وہ اور کوئی زیادہ بھاری کام نہیں کریں گے۔ اس لئے  تم یہ کام لاویوں سے  کرنا جب تم ان کا کام انہیں سونپو گے۔”

 

 

 

باب:   9

 

 

1 بنی اسرائیلیوں کے  مصر سے  آنے  کے  بعد دوسرے  سال کے  پہلے  مہینے  میں خداوند نے  صحرائے  سینائی میں بات کی۔ خداوند نے  موسیٰ سے  کہا

2″بنی اسرائیلیوں سے  کہو کہ وہ مقررہ وقت پر فسح کی تقریب منائیں۔

3 وہ مقّررہ وقت اس مہینے  کا چودھواں دن ہے۔ انہیں شام کے  وقت فسح کا کھانا کھانا چاہئے۔ اور وہ لوگ اسے  اس کے  تمام اُصول اور قانون کے  مطابق ہی کریں۔”

4 اس لئے  موسیٰ نے  بنی اسرائیلیوں سے  فسح کی تقریب منانے  کو کہا۔

5 اور لوگوں نے  شام کے  وقت سینائی کے  صحرا میں ویسا ہی کیا۔ یہ پہلے  مہینے  کا چودھواں دن تھا۔ بنی اسرائیلیوں نے  ہر ایک کام ویسا ہی کیا جیسے  خداوند نے  موسیٰ کو حکم دیا تھا۔

6 لیکن کچھ لوگ اس دن فسح کی تقریب نہیں منا سکے   کیونکہ وہ ایک لا ش کی وجہ سے  پاک نہیں تھے۔ اس لئے  وہ اس دن موسیٰ اور ہا رون کے  پاس گئے۔

7 اُن لوگوں نے  موسیٰ سے  کہا،” ہم لوگ ایک لاش کو چھونے  کی وجہ سے  ناپاک ہوئے  ہیں۔ لیکن ہم لوگوں کو مقرر وقت پر اسرائیلیوں کے  ساتھ خداوند کی قربانی پیش کرنے  کی اجازت کیوں نہیں دی گئی؟”

8 موسیٰ نے  اُن سے  کہا،” میں خداوند سے  اس معاملہ کے  با رے  میں پوچھوں گا۔”

9 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا :

10 بنی اسرائیلیوں سے  یہ باتیں کہو : یہ ہو سکتا ہے  کہ تم ٹھیک وقت پر فسح کی تقریب نہ منا سکو کیونکہ تم یا تمہارے  خاندان کا کوئی آدمی  لا ش کو چھونے  کی وجہ سے  نا پاک ہو یا ممکن ہے  کہ تم کسی سفر پر گئے  ہو تو بھی وہ شخص فسح کی تقریب نہیں منائے  گا۔”

11 تم فسح کی تقریب کو دوسرے  مہینے  کے  چودھویں دن شام کے  وقت مناؤ گے۔ اس موقع پر تم میمنہ بغیر خمیری روٹی اور کڑوا ساگ پات ضرور کھاؤ گے۔

12 اگلی صبح تک تمہیں اس میں سے  کوئی بھی کھا نا نہیں چھوڑنا چاہئے۔ تمہیں میمنے کی کوئی ہڈی نہیں  توڑنی چاہئے۔ اُس آدمی  کو فسح کے  تمام اُصولوں پر عمل کرنا چاہئے۔

13 لیکن کوئی بھی آدمی  جو فسح کی تقریب منانے  کا اہل ہو تو اسے  فسح کو صحیح وقت پر منا نا چاہئے۔ اگر وہ پاک ہے  اور سفر پر نہیں ہے  تب اس کو کوئی معافی نہیں۔ اگر وہ آدمی  جان بوجھ کر فسح کی تقریب کو صحیح وقت پر نہیں مناتا تو اس کو اس کے  لوگوں سے  الگ کر دیا جائے  گا۔ وہ قصور وار ہے  اور اسے  سزا دینی چاہئے۔ کیونکہ اُس نے  خداوند کو تحفہ مقررہ وقت پر پیش نہیں کیا۔

14″ اگر کوئی غیر ملکی جو تم لوگوں کے  بیچ مستقل طور پر رہ رہا ہے  وہ خداوند کی فسح کی تقریب منا نا چاہتا ہے  تو اسے  وہ کرنے  کی اجازت ہے۔ لیکن اسے  فسح کے  اصولوں کی پاسداری کرنا ہو گی۔ وہی اصول دوسروں کے  لئے  لا گو ہو گا جو تیرے  لئے  ہوتا ہے۔”

15 جس دن معاہدہ کا مقدس خیمہ لگا یا گیا تھا ایک بادل  نے اسے  ڈھک لیا تھا۔ پوری رات وہ بادل آ گ کی طرح دکھائی دیا۔

16 بادل ہمیشہ مقدس خیمہ کے  اوپر ٹھہرا رہا اور رات کو آ گ کی طرح دکھائی دیا۔

17 جب بادل مقدس خیمہ کے  اوپر اپنی جگہ سے  چلتا تھا تو اسرائیلی اس کے  ساتھ چلتے  تھے۔ جب بادل رُک جاتا تب بنی اسرائیل وہاں اپنا خیمہ ڈالتے  تھے۔

18 اس طرح سے  خداوند  نے بنی اسرائیلیوں کو سفر کرنے  کا حکم دیا۔ اور اس کے  حکم کے  مطابق ہی وہ لوگ رُکے  اور چھاؤنی لگائی۔ اور جب تک بادل چھاؤنی کے  اوپر ٹھہرا رہتا تھا، وہ لوگ اُسی جگہ پر چھاؤنی ڈالے  رہتے  تھے۔

19 کبھی کبھی بادل مقدس خیمہ کے  اوپر لمبے  عرصے  تک ٹھہرتا تھا اسرائیلی خداوند کا حکم مانتے  تھے  اور سفر نہیں کرتے  تھے۔

20 کبھی کبھی بادل مقدّس خیمہ کے  اوپر کچھ ہی دنوں کے  لئے  رہتا تھا۔ اور لوگ خداوند کے  حکم کی تعمیل کرتے  تھے۔ وہ بادل کی تقلید تب کرتے  جب وہ چلتا تھا۔

21 کبھی کبھی بادل صرف رات میں ہی ٹھہرتا تھا اور جب بادل اگلی صبح چلتا تھا تب لوگ اپنی چیزیں اکٹھی کرتے  تھے  اور اُس کے  مطابق عمل کرتے  تھے۔ رات میں یا دن میں اگر بادل چلتا تو لوگ اس کے  ساتھ چلتے  تھے۔

22 اگر بادل خیمہ کے  اوپر دو دن یا ایک مہینہ یا ایک سال ٹھہرتا تھا تو لوگ خداوند کے  حکم کی تعمیل کرتے  رہتے  تھے۔ وہ اسی جگہ چھاؤنی میں ٹھہرتے  تھے  اور تب تک نہیں چلتے  تھے  جب تک بادل نہیں چلتا تھا۔ جب بادل اپنی جگہ سے  اٹھتا اور چلتا تو لوگ بھی چلتے  تھے۔

23 اس طرح لوگ خداوند کے  حکم کی تعمیل کرتے  تھے۔ وہ وہاں چھاؤنی لگاتے  تھے  جس جگہ کو خداوند دکھاتا تھا۔ اور خداوند جب انہیں جگہ چھوڑنے  کے  لئے  حکم دیتا تھا تب لوگ بادل کی اِتباع کرتے  ہوئے  جگہ چھوڑتے  تھے۔ لوگ خداوند کے  حکم کی تعمیل کرتے  تھے۔ یہ حکم تھا جسے  خداوند نے  موسیٰ کے  ذریعے  انہیں دیا۔

 

 

 

باب:   10

 

 

1 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

2″ تمہیں چاندی کے  پتّر سے  دو بگل بنا نا چاہئے۔ یہ بِگل لوگوں کو ایک ساتھ بُلانے  اور انہیں اطلاع دینے  کے  لئے  استعمال کیا جائے  گا کہ کب جمع ہو نا ہے  اور کب چھاؤنی کو لے  کر چلنا چاہئے۔

3 جب تم اُن دونوں بِگلوں کو بجاؤ گے  تو سبھی لوگوں کو خیمۂ اجتماع کے  سامنے  تمہارے  آگے  جمع ہو جانا چاہئے۔

4 اگر تم صرف ایک بِگل بجاتے  ہو تو قائد ( اسرائیل کے  بارہ خاندانوں کے  صدر ) تمہارے  سامنے  جمع ہوں گے۔

5 جب تم بِگل کو تھوڑا سا پھو نکو گے  تو خیمۂ اجتماع کے  مشرق میں چھاؤنی ڈالے  ہوئے  خاندانوں کے  گروہ کو چلنا شروع کر دینا چاہئے۔

6 جب تم دوبارہ بِگل کو تھوڑا سا پھو نکو گے  تو جنوبی چھاؤنی کے  لوگوں کو چلنا شروع کر دینا چاہئے۔ جب بھی لوگ نیا سفر شروع کرنے  کے  لئے  تیار رہے  اس وقت بِگل کو تھوڑا سا پھونکنا چاہئے۔

7 جب تم سبھی لوگوں کو اِکٹھا کرنا چا ہو تو بِگل کو دوسرے  طریقے  سے  لمبی دھُن نکالتے  ہوئے  پھو نکو۔

8 صرف ہا رون کے  کاہن بیٹوں کو بِگل بجانا چاہئے۔ یہ اصول تم پر لا گو ہوتا ہے  اور مستقبل میں آنے  وا لی سبھی نسلوں کو پالن کر نا چاہئے۔

9″ اگر تم اپنے  ملک میں کسی دُشمن سے  لڑ رہے  ہو تو تم ان کے  خلا ف جانے  سے  پہلے  آ گا ہی کے  طور پر بِگل کو تھوڑا سا پھو نکو۔ تب تمہارا خداوند خدا تمہاری بات سُنے  گا اور وہ تمہیں تمہارے  دُشمنوں سے  بچائے  گا۔

10 اپنی کچھ خاص خوشی کے  وقت میں بھی تمہیں بِگل بجانا چاہئے۔ اپنی تقریب کے  موقع پر اور ہر مہینے  کے  شروع میں بِگل بجاؤ۔ اور جب تم جلانے  کا نذرانہ اور ہمدردی کا نذرانہ پیش کرو تو اس وقت بھی بِگل ضرور بجاؤ۔ یہ تمہارے  خداوند خدا کے  سامنے  یادگار ہو گا۔ میں تمہیں یہ کرنے  کا حکم دیتا ہوں۔ میں تمہارا خداوند خدا ہوں۔”

11 دوسرے  سال کے  دوسرے  مہینے  میں بنی اسرائیلیوں کے  مصر چھوڑنے  کے  بیسویں دن معاہدہ کے  خیمہ کے  اوپر سے  بادل اٹھا۔

12 اس لئے  سبھی بنی اسرائیلیوں نے  سینائی کے  ریگستان میں سفر کرنا شروع کیا۔ وہ ایک جگہ سے  دوسری جگہ کا سفر اُس وقت تک کرتے  رہے  جب تک بادل فاران کے  ریگستان میں نہ رُ کا۔

13 یہ پہلی بار تھا کہ لوگوں نے  اپنے  خیموں کو ویسے  ہی آگے  بڑھا یا جیسے  خداوند نے  موسیٰ کو حکم دیا تھا۔

14 پہلا گروہ یہوداہ کی چھاؤنی تھی۔ اُنہوں نے  اپنے  جھنڈے  کے  ساتھ سفر کیا۔ عمّینداب کا بیٹا نحسون اُس گروہ کا قائد تھا۔

15 اُس کے  بالکل بعد اِشکار کے خاندانی گروہ نے  سفر شروع کیا۔ ضُغر کا بیٹا نتنی ایل اُس گروہ کا قائد تھا۔

16 اور پھر زبولون کا خاندانی گروہ آیا۔ حیلون کا بیٹا اِہلیاب اُس گروہ کا قائد تھا۔

17 تب خیمۂ اجتماع اُتارے  گئے  اور جیر سون اور مراری خاندان کے  لو گ مقدّس خیمہ کولے  کر چلے۔ اس لئے  اُن خاندانوں کے  لوگ قطار میں دوسرے  نمبر پر تھے۔

18 تب اس کے  بعد رُوبن کے گروہ نے  اپنے  جھنڈے  کے  ساتھ سفر شروع کیا۔ شدّ یور کا بیٹا الیصور اس گروہ کا قائد تھا۔

19 اس کے  بالکل بعد شمعون کے  خاندان نے  سفر کیا صُوری شدّی کا بیٹا سلو می ایل اس گروہ کا قائد تھا۔

20 اور پھر جاد کا خاندانی گروہ سفر کرتا۔ دعو ایل کا بیٹا اِلیاسف اُس گروہ کا قائد تھا۔

21 تب قہات خاندان کے  لوگوں نے  سفر کیا  وہ اُن مقدّس چیزوں کولے  جا رہے  تھے  جو مقدس جگہ میں تھیں۔ نئی چھاؤنی کے  پہنچنے  سے  پہلے  مقدس خیمہ کو لگانے  کے  لئے  ان سامانوں کو لا رہے  تھے۔

22 اُس کے  ٹھیک بعد افرائیم کی چھاؤنی نے  اپنے  گروہ کے  مطابق سفر شروع کیا۔ انہوں نے  اپنے  جھنڈے  کے  ساتھ سفر کیا۔ پہلا گروہ افرائیم کا خاندانی گروہ تھا۔ عمّیہود کا بیٹا الیسمع اس گروہ کا قائد تھا۔

23 ٹھیک اُس کے  بعد منّسی کا خاندانی گروہ آیا۔ فدا ہُصور کا بیٹا جملی ایل اُس گروہ کا قائد تھا۔

24 تب بنیمین کے  خاندانی گروہ نے  سفر شروع کیا۔ جد عُونی کا بیٹا اِبدان اُس گروہ کا قائد تھا۔

25 اس کے  بعد دان کے خاندانی گروہ  نے اپنے  جھنڈے  کے  ساتھ سفر شروع کیا  وہ سبھی چھاؤنی کے  پیچھے پہریداری انجام دیتے۔ عمیّشدی کا بیٹا الیعزر اس گروہ کا قائد تھا۔

26 اس کے  ٹھیک بعد آشر کا خاندانی گروہ سفر کرتا۔ عکران کا بیٹا فجعی ایل اس گروہ کا قائد تھا۔

27 تب نفتا لی کا خاندانی گروہ سفر کرتا عینان کا بیٹا اخیرع اس گروہ کا قائد تھا۔

28 اسی طریقے  سے  بنی اسرائیل ایک جگہ سے  دوسری جگہ کا سفر کرتے  تھے۔

29 موسیٰ نے  رعوایل کے  بیٹے  حو باب مدیانی سے  کہا، ( رعُو ایل موسیٰ کا سُسر تھا۔ ) موسیٰ نے  حو باب سے  کہا،” ہم لوگ اس ملک کا سفر کر رہے  ہیں جسے  خدا نے  ہم لوگوں کو دینے  کا وعدہ کا تھا۔ اس لئے  ہم لوگوں کے  ساتھ آؤ۔ ہم لوگ تمہارے  ساتھ اچھا سلوک کریں گے۔ خداوند نے  بنی اسرائیلیوں کو اچھی چیزیں دینے  کا وعدہ کیا ہے۔”

30 لیکن حو باب نے  جواب دیا،”نہیں! میں تمہارے  ساتھ نہیں جاؤں گا۔ میں اپنے  ملک اور اپنے  لوگوں کے  پاس جاؤں گا۔”

31 تب موسیٰ نے  کہا،” ہمیں چھوڑو مت! تم جانتے  ہو ہمیں بیابان میں کہاں خیمہ لگانا ہے۔ تم ہما رے  رہنما ہو سکتے  ہو۔

32 اگر تم ہم لوگوں کے  ساتھ آتے  ہو تو خداوند جو بھی اچھی چیزیں دے  گا۔ اس میں ہم تمہیں بھی حصّہ دیں گے۔

33 اس لئے  وہ لوگ خداوند کے  پہاڑ سے  تین دن  تک سفر کئے۔ اس تین دن کے  سفر کے  دوران خداوند کے  معاہدہ کا مقدس صندوق چھاؤنی لگانے  کے  لئے  نئی جگہ کی تلا ش میں ان لوگوں کے  آگے  لے  جا یا جا رہا تھا۔

34 خداوند کا بادل ہر ایک دن اُن کے  اوپر تھا۔ جب کبھی وہ اپنی چھاؤنی چھوڑتے  تھے  تو اُن کو راستہ دکھانے  کے  لئے  بادل وہاں رہتا تھا۔

35 جب لوگ مقدس صندوق کے  ساتھ سفر شروع کرتے  تھے۔ اور مقدس صندوق چھاؤنی کے  باہر لے  جا یا جاتا تھا۔ موسیٰ ہمیشہ کہتا تھا،” اے  خداوند اُٹھ! تیرے  دُشمن بکھر جائیں۔ جو لوگ تیرے  خلا ف ہوں تیرے  سامنے  سے  بھاگ جائیں۔”

36 اور کبھی بھی جب مقدس صندوق کو اپنی جگہ پر واپس رکھا جاتا تھا تب موسیٰ ہمیشہ یہ کہتے  تھے ،” اے  خداوند! اسرائیل کے  لاکھوں لوگوں میں واپس آ۔”

 

 

 

 

باب:   11

 

 

1 اس وقت لوگوں نے  اپنی مصیبتوں کی شکایت کی۔ خداوند نے  اُن کی شکایتیں سُنی اور غصّہ ہو گیا۔ اس لئے  اس نے  چھاؤنی کے  دور افتادہ علاقے  میں آ گ بھیجی اور وہ علاقہ جل گیا۔

2 اس لئے  لوگوں نے  موسیٰ کو مدد کے  لئے  پُکا را موسیٰ نے  خداوند سے  دُعا کی اور آ گ کا جلنا بند ہو گیا۔

3 اس لئے  اس جگہ کو تبعیرہ کہا گیا۔ لوگوں نے  اُس جگہ کو یہی نام دیا کیونکہ خداوند نے  اُن کے  درمیان آ گ جلا دی تھی۔

4 اجنبی جو بنی اسرائیلیوں کے  ساتھ مل گئے  تھے  دوسری چیزیں کھانے  کی خواہش کرنے  لگے۔ جلد ہی بنی اسرائیلیوں نے  پھر شکایت کرنی شروع کی۔ لوگوں نے  کہا” ہم گوشت کھانا چاہتے  ہیں۔”

5 ہم لوگ مصر میں کھائی گئی مچھلیوں کو یاد کرتے  ہیں اُن مچھلیوں کی کوئی قیمت نہیں دینی پڑتی تھی۔ ہم لوگوں کے  پاس بہت سی ترکاریاں تھیں جیسے  ککڑیاں، خربوزے ، گندنے ، پیاز اور لہسن۔

6 لیکن اب ہم اپنی طاقت کھو چکے  ہیں۔ اُس منّ کے  سوا۔ ہم اور کچھ بھی نہیں کھا تے۔”

7 ( منّ دھنیا کے  بیج کے  جیسا تھا اور درخت کے  گوند جیسا تھا۔

8 لوگ اُسے  جمع کرتے  تھے  اور تب اسے  پیس کر آٹا بناتے  تھے  یا وہ اُسے  کچلنے  کے  لئے  چٹان کا استعمال کرتے  تھے  تب وہ اسے  برتن میں پکاتے  تھے۔ وہ اُس کے  کیک بناتے  تھے۔ کیک کا مزہ زیتون کے  تیل سے  پکی روٹی جیسا ہوتا تھا۔

9 ہر رات کو زمین جب شبنم سے  گیلی ہو تی تھی تو منّ زمین پر گِرتا تھا۔ )

10 موسیٰ نے  ہر خاندان کے  لوگوں کو اپنے  خیموں کے  دروازوں پر کھڑے  شکایت کرتے  سُنا۔ خداوند بہت غصّہ ہوا  اس سے  موسیٰ بہت پریشان ہو گئے۔

11 موسیٰ نے  خداوند سے  پو چھا،”اے  خداوند تیرے  خادم یعنی مجھ پر یہ مصیبت کیوں آئی؟ میں نے  کیا کیا ہے ؟ میں نے  کیا غلطی کی جو تجھے  خوش کرنے  میں ناکامہو گیا؟ تُو نے  مجھ پر ان سبھی لوگوں کی جواب دہی کا بوجھ کیوں ڈال  دیا؟”

12 کیا میں ان سبھی لوگوں کا باپ ہوں؟ کیا میں نے  ان کو پیدا کیا ہے ؟ تو نے  مجھے  انہیں اپنے  بازو میں لے  چلنے  کو، جیسا کہ دایہ اپنے  بچے  کو لے  کر چلتی ہے  اور اس  ملک میں لے  جانے  کو جو  تو نے  ہما رے  آباء و  اجداد کو دینے  کا وعدہ کیا تھا کیوں کہا؟

13 ان تمام لوگوں کے  لئے  میں گوشت کہاں سے  لاؤں گا؟ وہ لوگ شکایت کرتے  ہیں کہ ‘ہم لوگوں کو گوشت چاہئے ‘

14 میں اکیلا ان سب لوگوں کی دیکھ بھال نہیں کر سکتا۔ بوجھ میری برداشت کے  با ہر ہے۔

15 اگر تو ان لوگوں کی تکلیف مجھے  دینا پسند کرتا ہے  تو یہ بہتر ہو گا کہ تو مجھے  مار ڈال۔ اگر تو میرے  اوپر مہربان ہے  تو مجھے  مار ڈال۔ تب میری تکلیفیں ختم ہو جائیں گی۔”

16 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،” میرے  پاس اسرائیل کے  ایسے  ۷۰ بزرگوں کو لاؤ جن کو تو جانتا ہے  لوگوں کے  قائد اور اہلکار ہونے  کے  لئے  خیمۂ اجتماع میں آنے  دو اور اپنے  ساتھ کھڑا ہونے  دے۔

17 تب میں آؤں گا اور تم سے  باتیں کروں گا اور میں تم سے  کچھ روح کو لوں گا اور اسے  ان لوگوں کو دے  دوں گا۔ تب وہ لوگوں کی دیکھ بھال کرنے  میں تمہاری مدد کریں گے۔ اس طرح تم کو اکیلے  اُن لوگوں کے  لئے  ذمہ دار نہیں ہو نا پڑے  گا۔

18″ لوگوں سے  کہو کل کے  لئے  اپنے  آپ  کو تیار کریں۔ کل تم لوگ گوشت کھاؤ گے۔ خداوند نے  سُنا جب تم لوگ روئے  اور شکایت کی کہ کون ہم لوگوں کو گوشت دے  گا؟ ہم لوگوں کے  لئے  مصر اچھا تھا۔ اب خداوند تم لوگوں کو گوشت دے  گا اور تم لوگ اسے  کھاؤ گے۔

19 تم لوگ اسے  صرف ایک دن نہیں، دو، پانچ، دس یا بیس دن نہیں؟

20 تم لوگ وہ گوشت مہینے  بھر کھاؤ گے۔ تم لوگ وہ گوشت اس وقت تک کھاؤ گے  جب تک وہ تمہارے  نتھنوں سے  نہ نکلنے  لگے  اور جب تک تم اس سے  نفرت نہ کرنے  لگو کیونکہ تم لوگوں نے  خداوند سے  شکایت کی ہے۔ خداوند تم لوگوں میں گھومتا ہے  اور تمہاری ضرورتوں کو سمجھتا ہے۔ لیکن تم لوگ اس کے  سامنے  روئے ، چلّائے  اور شکایت کی یہ کہتے  ہوئے  کہ ہم لوگوں کو مصر چھوڑنے  پر کیوں مجبور کیا گیا تھا؟”

21 موسیٰ نے  کہا،” خداوند میرے  ساتھ ۶۰۰۰۰۰ آدمی  ہیں۔ اور تو کہتا ہے  میں انہیں پو رے  مہینے  کھانے  کے  لئے  گوشت دوں گا۔

22 اگر ہمیں سبھی مینڈھے  اور مویشی مار نے  پڑے  تو بھی اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو مہینے  بھر کھانے  کے  لئے  وہ کافی نہیں ہو گی۔”

23 لیکن خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،” خداوند کی طاقت کو کم نہ سمجھو تم دیکھو گے  کہ اگر میں کہتا ہوں کہ میں کچھ کروں گا تو اس کو میں کر سکتا ہوں۔”

24 اس لئے  موسیٰ لوگوں سے  بات کرنے  کے  لئے  باہر گئے۔ موسیٰ نے  انہیں وہ بتا یا جو خداوند نے  کہا تھا۔ تب موسیٰ نے  ۷۰ بزرگ قائدین کو جمع کیا۔ موسیٰ نے  انہیں خیمہ کے  چاروں طرف کھڑے  رہنے  کو کہا۔

25 تب خداوند ایک بادل میں اُترا اور اُس نے  موسیٰ سے  باتیں کی۔ اس نے  کچھ روح موسیٰ سے  لیا اور اس روح کو ۷۰ بزرگوں پر ڈال دیا۔ جب اُن میں روح آئی تو انہوں  نے  نبوت شروع کر دی  لیکن بعد میں پھر نبوت کبھی نہیں کی۔

26 بزرگوں میں سے  دو اِلد اد اور میداد خیمہ میں نہیں گئے۔ ان کے  نام بزرگ قائدین کی فہرست میں تھے۔ وہ خیمہ میں ہی رہے  لیکن رُوح اُن پر بھی آئی اور وہ بھی چھاؤنی میں نبوّت کرنے  لگے۔

27 ایک نوجوان دوڑا اور موسیٰ سے  بولا۔ اُس نے  کہا،” اِلداد اور میداد خیمہ میں غیب کی باتیں کر رہے  ہیں۔”

28 لیکن نون کے  بیٹے  یشوع نے  موسیٰ سے  کہا،” موسیٰ تمہیں ان کو روکنا چاہئے۔”( یشوع موسیٰ کی مدد کر رہا تھا جیسا کہ وہ ان کے  چُنے  ہوئے  جوانوں میں تھے۔ )

29 لیکن موسیٰ نے  جواب دیا،” کیا تمہیں ڈر ہے  کہ لوگ سو چیں گے  کہ اب میں قائد نہیں ہوں؟” میں چاہتا ہوں کہ خداوند کے  سبھی لوگ غیب کی باتیں کرنے  کے  اہل ہوں میں چاہتا ہوں کہ خداوند اپنی رُوح ان تمام پر بھیجے۔”

30 تب موسیٰ اور اسرائیل کے  قائد چھاؤنی میں واپس ہو گئے۔

31 پھر خدا نے  سمندر کی طرف سے  زور کی آندھی چلا ئی۔ آندھی نے  اس علا قے  میں بٹیروں کو پہنچا یا۔ بٹیرچھاؤنی کے  چاروں طرف اُڑ رہے  تھے۔ وہاں اتنی بٹیریں تھیں کہ زمین ڈھک گئی تھی۔ ہر سمت ایک دن  مسافت کی دوری تک بٹیریں پھیل گئی تھیں۔ زمین پر بٹیروں کی تین فُٹ اونچی پرت جم گئی تھی۔

32 لوگ باہر نکلے  اور سارا دن اور پو ی رات بٹیروں کو جمع کیا اور پھر پو رے  اگلے  دن بھی انہوں نے  بٹیریں جمع کیں۔ ہر ایک آدمی نے  ۶۰ بوشل یا اس سے  زیادہ بٹیریں جمع کیں۔ تب لوگوں نے  بٹیروں کو اپنی چھاؤنی کی طرف پھیلا یا۔

33 لوگوں نے  گوشت کھانا شروع کیا۔ لیکن خداوند نے  بہت غصّہ کیا جب گوشت ابھی ان کے  مُنہ میں ہی تھا اور لوگ اسے  ابھی کھا کر ختم بھی نہ کئے  تھے  کہ اس کے  پہلے  ہی خداوند نے  ایک بیماری لوگوں میں پھیلا دی۔

34 اس لئے  لوگوں نے  اُس جگہ کا نام” قبروت ہتساوہ” (نفسانی خواہشات کی قبر ) رکھا۔ انہوں نے  اس جگہ کو وہ نام اس لئے  دیا کہ یہ وہی جگہ ہے  جہاں انہوں نے  اُن لوگوں کو دفنا یا تھا جو گوشت کھانے  کی بے  حد خواہش رکھتے  تھے۔

35 قبروت ہتّا وہ سے  لوگوں نے  حصیرات کا سفر کیا  اور وہاں ٹھہرے۔

 

 

 

باب:   12

 

 

1 میریم اور ہا رون موسیٰ کے  خلا ف بات کرنے  لگے۔ انہوں نے  اس پر تنقید کی کیونکہ اس نے  ایتھوپین عورت سے  شادی کی تھی۔

2 انہوں نے  اپنے  آپ  میں کہا،” کیا خداوند صرف موسی ٰ کے  ذریعہ ہی لوگوں سے  بات کرتا ہے ؟ کیا وہ ہم لوگوں کے  ذریعے  لوگوں سے  بات نہیں کرتا۔” خداوند نے  یہ باتیں سُنی۔

3 ( موسیٰ بہت ہی خاکسار آدمی  تھے  وہ نہ ڈینگ ہانکتے  تھے  اور نہ ہی شیخی بگھارتے  تھے۔ وہ زمین کے  تمام لوگوں سے  زیادہ منکسر المزاج آدمی  تھے۔ )

4 اس لئے  خداوند اچا نک آیا اور موسیٰ ہارون اور میر یم سے  بولا۔ خداوند نے  کہا،” اب تم تینوں خیمۂ اجتماع میں آؤ۔” اس لئے  موسیٰ، ہا رون اور میر یم خیمہ میں گئے۔

5 تب خداوند بادل میں اُترا اور خداوند خیمہ کے  دروازہ پر کھڑا ہوا۔ خداوند نے  ہا رون اور میر یم کو اپنے  پاس آنے  کا حکم دیا۔ تب دونوں اس کے  قریب آئے۔

6 خدا نے  کہا،” میری بات سنو۔ جب میں تم لوگوں میں نبی بھیجوں گا تب میں خداوند اپنے  آپ  کو اس کو خواب میں دکھاؤں گا۔ اور میں اس سے  خواب میں بات کروں گا۔

7 لیکن میں نے  خادم موسیٰ کے  ساتھ ایسا نہیں کیا۔ وہ میرے  پو رے  گھر میں وفا دار ہے۔

8 جب میں اس سے  بات کرتا ہوں تو میں اس کے  رُو برو بات کرتا ہوں۔ میں جو بات کہنا چاہتا ہوں اسے  صاف صاف کہتا ہوں میں چھپے  جواب والے  خیالوں کو اس کے  سامنے  نہیں رکھتا ہوں۔ موسیٰ خداوند کی شکل کو دیکھ سکتا ہے۔ اس لئے  تم نے  میرے  خادم موسیٰ کے  خِلاف بولنے  کی ہمّت کیسے  کی؟”

9 تب خداوند ان کے  پاس سے  گیا لیکن وہ ان سے  بہت غصّہ میں تھا۔

10 بادل خیمہ سے  اٹھا تب ہارون مُڑا اور اس نے  میر یم کو دیکھا اور اس نے  دیکھا کہ میریم کو چمڑے  کی وبائی بیماری ہو گئی اس کی جلد برف کی طرح سفید تھی۔

11 تب ہارون نے  موسیٰ سے  کہا،” براہ کرم جناب ہم سے  جو بے  وقوفی کا گناہ سرزد ہوا ہے  اس کے  لئے  ہمیں معاف کریں۔

12 اس کی جلد کا رنگ اس پیدا ہوتے  ہوئے  بچے  کی طرح جس کا چمڑا آدھا کھایا ہوا ہوتا ہے  بدل نہ دے۔”

13 اس لئے  موسیٰ نے  خداوند سے  دُعا کی۔ خدا مہربانی کر کے  اُس کو شفاء دے۔

14 خداوند نے  موسیٰ کو جواب دیا اگر اس کا باپ اس کے  مُنہ پر تھو کے  تو وہ سات دن تک شرمندہ رہے  گی اس لئے  اس کو سات دن تک چھاؤنی سے  باہر رکھو پھر اس وقت کے  بعد وہ ٹھیک ہو جائے  گی۔ تب وہ خیمہ میں وا پس آ سکتی ہے۔

15 اس لئے  میر یم سات دن کے  لئے  خیمہ سے  باہر لے  جائی گئی۔ اور تب تک وہ وہاں سے  نہیں چلے  جب تک وہ پھر واپس نہ لا گئی۔

16 اس کے  بعد لوگوں نے  حصیرات کو چھوڑا اور فاران کے  ریگستان کا انہوں نے  سفر کیا لوگوں نے  اس ریگستان میں خیمے  لگائے۔

 

 

 

باب:   13

 

 

1 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

2″ کچھ آدمیوں کو ملک کنعان کی چھان بین کے  لئے  بھیجو۔ یہی وہ ملک ہے  جسے  میں بنی اسرائیلیوں کو دوں گا۔ ہر بارہ قبیلہ سے  ایک قائد کو بھیجو۔”

3 اس لئے  موسیٰ نے  خداوند کا حکم مانا۔ اس نے  فاران کے  ریگستان سے  قائدین کو بھیجا۔

4 اُن کے  نام یہ ہیں :

5 حوری کا بیٹا سافط شمعون کے  خاندانی گروہ سے۔

6 یفُنہ کا بیٹا کا لِب یہوداہ کے  خاندانی گروہ سے۔

7 یُوسف کا بیٹا اِجال۔ اِشکار کے  خاندانی گروہ سے۔

8 نون کا بیٹا ہو سیع افرا ئیم کے  خاندانی گروہ سے۔

9 رفو کا بیٹا فلتی۔ بنیمین کے  خاندانی گروہ سے۔

10 سُوری کا بیٹا جدّی ایل۔ زُ بولون کے  خاندانی گروہ سے۔

11 سُوسی کا بیٹا جدّی۔ یوسف کے  خاندانی گروہ سے ، جو کہ منّسی کے  خاندانی گروہ سے۔

12 جملی کا بیٹا عمّی ایل دان کے  خاندانی گروہ سے۔

13 میکائیل کا بیٹا ستُور آشِر کے  خاندانی گروہ سے۔

14 وفسی کا بیٹا نخبی نفتالی کے  خاندانی گروہ سے۔

15 ماکی کا بیٹا جیو ایل جاد کے  خاندانی گروہ سے۔

16 یہ ان آدمیوں کے  نام ہیں جنہیں موسیٰ نے  ملک کو دیکھنے  اور جانچ کرنے  کے  لئے  بھیجا۔ موسیٰ نے  نون کے  بیٹے  یشوع کا نام ہو سیعاہ رکھا۔

17 موسیٰ جب انہیں کنعان کی چھان بین کے  لئے  بھیج رہے  تھے۔ تب انہوں نے  کہا،” نیگیو کی وادی سے  ہو کر پہاڑی ملک میں جاؤ۔

18 یہ دیکھو کہ ملک کیسا دکھائی دیتا ہے۔ اور اُن لوگوں کی تفصیلات حاصل کرو جو وہاں رہتے  ہیں۔ وہ طاقتور ہیں یا کمزور ہیں؟” وہ تھوڑے  ہیں یا زیادہ تعداد میں ہیں؟”

19 اُس ملک کے  بارے  میں دریافت کرو جس میں وہ رہتے  ہیں کیا وہ اچھا ملک ہے  یا بُرا، کس طرح کے  شہروں میں وہ رہتے  ہیں؟ کیا وہ شہر فصیلدار ہیں؟ یا وہ غیر محفوظ گاؤں میں رہتے  ہیں۔

20 اور ملک کے  دوسری باتوں کے  متعلق بھی معلومات حاصل کرو۔ کیا زمین کسی چیز کے  اُگانے  کے  لئے  ٹھیک ہے ، کیا اُس زمین پر درخت ہیں؟ بلکہ اس ملک سے  کچھ پھل بھی لے  آؤ۔” ابھی یہ انگور کی فصل کی  پہلی  کٹائی کا موسم ہے۔

21 تب انہوں نے  ملک کی چھان بین کی۔ وہ صین ریگستان سے  رحوب تک گئے  جو کہ حمات کے  داخلے  کے  نزدیک ہے۔

22 وہ نیگیو سے  ہو کر اس وقت تک سفر کرتے  رہے  جب تک وہ حبرون شہر تک نہ پہنچے۔ حبرون مصر میں ضعن شہر کے  بسنے  کے  سات سال پہلے  بنا تھا۔ اخیمان، سیِسی اور تلمی جماعت کے  لوگ وہاں رہتے  تھے۔ یہ لو گ عناق کی نسل کے  تھے۔

23 تب وہ اس کال کی وادی میں گئے۔ وہاں انہوں نے  انگور کے  باغ سے  ایک شاخ توڑ لی۔ اُس شاخ پر انگور کا گچھا تھا۔ ان میں سے  دو آدمی  انگور کے  گچّھے  کو لا ٹھی کے  بیچ لٹکا کر لے  گئے۔ اس کے  ساتھ کچھ انار اور انجیر بھی لائے۔

24 اُس جگہ کا نام اس کال کی وادی تھا۔ کیونکہ یہ وہی جگہ ہے  جہاں بنی اسرائیلیوں نے  انگور کے  کچھ گچّھے  کاٹے  تھے۔

25 اُن آدمیوں نے  اس ملک کی چھان بین چالیس دن تک کی تب وہ خیمہ کو واپس آئے۔

26 وہ لوگ موسیٰ ہا رون اور دوسرے  بنی اسرائیلیوں کے  پاس قادِس گئے  یہ فاران کے  ریگستان میں تھا۔ تب انہوں نے  موسیٰ، ہا رون اور سبھی لوگوں کو جو کچھ وہ دیکھا تھا سب کچھ سُنایا۔ اور انہوں نے  اس ملک کے  پھلوں کو دکھایا۔

27 اُن لوگوں نے  موسیٰ سے  یہ کہا،” ہم لوگ اس ملک میں گئے  جہاں آپ  نے  ہمیں بھیجا تھا،” وہ ملک بے  حد اچھا ہے  یہاں دودھ اور شہد کی ندیاں بہہ رہی ہیں اور یہ اس ملک کا پھل ہے۔

28 لیکن وہاں جو لوگ رہتے  ہیں وہ بہت طاقتور اور مضبوط ہیں۔ ان کے  شہر مضبوطی کے  ساتھ محفوظ ہیں۔ اور ہم لوگ وہاں عناق کی کچھ نسلوں کے  ساتھ بھی ملے۔

29 عما لیقی لوگ نیگیو کی وادی میں رہتے  ہیں حتی، یبوسی اور عموری لوگ اس پہاڑ ی ملک میں رہتے  ہیں۔ اور کنعانی لوگ سمندر کے  کنا رے  اور دریائے  یردن کے  کنا رے  رہتے  ہیں۔”

30 تب کالب نے  موسیٰ کے  قریبی لوگوں  کوخاموش ہونے  کا کہا۔ کالب نے  کہا،” ہم لوگوں کو اس ملک میں جانا چاہئے۔ اور اسے  اپنے  قبضہ میں لینا چاہئے  اور ہم لوگ اسے  آسانی سے  فتح کر سکتے  ہیں۔”

31 لیکن جو آدمی  اس کے  ساتھ گیا تھا وہ بولا،” ہم لوگ ان لوگوں کے  خلاف لڑ نہیں سکتے  وہ ہم لوگوں کے  مقابلہ میں زیادہ طاقتور ہیں۔”

32 ان لوگوں نے  اسرائیلیوں کو اس ملک کے  بارے  میں جسے  وہ دیکھنے  گئے  تھے  بُری خبر دی۔ ان لوگوں نے  کہا،” وہ ملک جہاں ہم لوگ گئے  اور چھان بین کی  ایک ایسا ملک ہے  جو اپنے  باشندوں کو برباد کر دیتا ہے۔ اس ملک کے  لوگ قد و قامت میں بڑے  بڑے  ہیں۔

33 ہم لوگوں نے  عناق کی نسلوں کو دیکھا جو کہ نفیلیم سے  تھے۔ ان لوگوں کے  آگے  ہم لوگوں نے  اپنے  آپ  کو ٹڈا محسوس کیا۔ ان  کی کمیں گاہ میں ہم لوگ بہت کمتر تھے۔”

 

 

 

 

باب:   14

 

 

1 اُس رات خیمہ میں سب لوگوں نے  زور سے  رونا شروع کیا۔

2 سبھی بنی اسرائیلیوں نے  ہا رون اور موسیٰ کے  خلا ف پھر شکایت کی۔ سبھی لوگ ایک ساتھ آئے  اور موسیٰ اور ہا رون سے  انہوں نے  کہا،” ہم لوگوں کو مصر یا ریگستان میں مر جانا چاہئے  اپنے  نئے  ملک میں تلوار سے  مرنے  کی اس آرزو سے  بہت اچھا ہو تا۔

3 کیا خداوند ہم لوگوں کو اس نئے  ملک میں مرنے  کے  لئے  لا یا ہے ؟ ہماری بیویاں اور ہمارے  بچے  ہم سے  چھین لئے  جائیں گے۔ اور ہم تلوار سے  مار ڈالے  جائیں گے۔ یہ ہم لوگوں کے  لئے  اچھا ہو گا کہ ہم لوگ مصر کو واپس جائیں۔

4″ تب لوگوں نے  ایک دوسرے  سے  کہا،” ہم لوگوں کو دوسرا قائد منتخب کرنا چاہئے  اور مصر واپس جانا چاہئے۔”

5 تب موسیٰ اور ہا رون وہاں جمع سارے  بنی اسرائیلیوں کے  سامنے  جھک گئے۔

6 اس ملک کی چھان بین کرنے  والے  لوگوں میں سے  دو آدمی  اپنے  کپڑے  پھاڑ دیئے۔ کیونکہ وہ لو گ بہت غصّہ میں تھے۔ وہ دونوں نون کا بیٹا یشوع اور یُفنّہ کا بیٹا کا لب تھے۔

7 ان دونوں نے  وہاں جمع سبھی بنی اسرائیلیوں سے  کہا،” جس ملک کو ہم لوگوں نے  دیکھا ہے  وہ بہت اچھا ہے۔

8 اور اگر خدا ہم لوگوں سے  خوش ہے  تو وہ ہم لوگوں کو اس ملک میں لے  چلے  گا۔ وہ ملک کئی اچھی چیزوں سے  بھرا ہے۔ اور خداوند اس ملک کو ہم لوگوں کو دینے  کے  لئے  اپنی طاقت کا استعمال کرے  گا۔

9 لیکن تم کو خداوند کے  خلا ف نہیں جانا چاہئے۔ تم کو اس ملک کے  لوگوں سے  ڈرنا نہیں چاہئے۔ تم انہیں آسانی سے  شکست دے  دو گے۔ ان کے  پاس کوئی حفاظت نہیں ہے۔ انہیں محفوظ رکھنے  کے  لئے  ان کے  پاس کچھ نہیں ہے۔” لیکن ہم لوگوں کے  ساتھ خداوند ہے۔ اس لئے  اُن لوگوں سے  مت ڈرو۔”

10 تب سبھی بنی اسرائیل اُن دونوں آدمیوں کو پتھروں سے  مار ڈالنے  کی بات سوچی۔ لیکن خداوند کا جلال خیمۂ اجتماع میں ظاہر ہوا اور سبھی بنی اسرائیل اسے  دیکھ سکتے  تھے۔

11 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،” یہ لوگ اس طرح مجھ سے  کب تک نفرت کرتے  رہیں گے ؟ وہ ظاہر کرتے  ہیں کہ وہ مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے۔ وہ ظاہر کرتے  ہیں کہ انہیں میری قدرت پر بھروسہ نہیں۔ میں نے  کئی طاقتور نشانیاں دکھا یا۔ میں نے  ان کے  درمیان کئی عظیم کارنامے کیے اس کے  با وجود بھی وہ مجھ پر بھروسہ کرنے  سے  انکار کرتے  ہیں۔

12 میں ان لوگوں پر ایک بھیانک بیماری لاؤں گا اور انہیں تباہ کر دوں گا۔ تب تم سے  ایک قوم بناؤں گا وہ ان لوگوں سے  زیادہ بڑی اور طاقتور ہو گی۔”

13 تب موسیٰ نے  خداوند سے  کہا،” اگر تو ایسا کرتا ہے  تو مصر میں لو گ یہ سنیں گے  کہ تُو نے  اپنے  سبھی لوگوں کو مصر سے  باہر لانے  کے  لئے  ایسا کیا۔

14 اور مصر کے  لوگوں نے  اس کے  بارے  میں کنعان کے  لوگوں کو بتایا ہے۔ وہ پہلے  سے  ہی جانتے  ہیں کہ تو خداوند ہے۔ وہ جانتے  ہیں کہ تو اپنے  لوگوں کے  ساتھ ہے  اور وہ جانتے  ہیں کہ تو ہم لوگوں کے  بیچ آنکھوں کے  سامنے  ظاہر ہوا تھا۔ اس ملک میں رہنے  والے  لو گ اس بادل کے  بارے  میں جانتے  ہیں جو لوگوں کے  اوپر ٹھہرتا ہے۔ تُو نے  اس بادل کا استعمال دن میں اپنے  لوگوں کو راستہ دکھانے  کے  لئے  کیا اور رات کو وہ بادل لوگوں کو راستہ دکھانے  کے  لئے  آ گ بن جاتا ہے۔

15 اس لئے  تجھے  اب لوگوں کو مارنا نہیں چاہئے۔ اگر تو انہیں مارتا ہے  تو سب قومیں جو تیری قدرت کے  بارے  میں سُن چکے  ہیں کہیں گے ،

16 ‘ خداوند کو ان لوگوں کو اس ملک میں لے  جانا ممکن نہیں تھا جس ملک کو اس نے  انہیں دینے  کا وعدہ کیا تھا۔ اس لئے  خداوند نے  انہیں ریگستان میں مار دیا۔ ‘

17″ اس لئے  آقا، اب تجھے  اپنی طاقت دکھانی چاہئے ! تجھے  اسے  اسی طرح دکھانا چاہئے  جیسا دِکھانے  کے  لئے  تُو نے  کہا ہے۔

18 تو نے  کہا تھا خداوند آہستہ سے  غصّہ میں آتا ہے۔ خداوند محبت سے  بھر پور ہے۔ خداوند گناہ کو معاف کرتا ہے  اور ان لوگوں کو بھی معاف کرتا ہے  جو اُس کے  خلاف بغاوت کرتے  ہیں۔ لیکن خداوند اُن لوگوں کو ضرور سزا دے  گا جو قصور وار ہیں۔ خداوند نے  بچوں کو ان کے  پوتوں کو ان کے  پڑ پوتوں کو بھی گناہ کے  لئے  سزا دیتا ہے۔

19 اس لئے  ان لوگوں کو اپنی عظیم محبت دکھا۔ اُن کے  گناہ کو معاف کر اُن کو اسی طرح معاف کر جس طرح تو ان کو مصر چھوڑنے  کے  وقت سے  اب تک معاف کرتا رہا ہے۔”

20 خداوند نے  جواب دیا،” میں نے  لوگوں کو تمہارے  کہنے  کے  مطابق معاف کر دیا ہے۔

21 لیکن میں تم سے  سچ کہتا ہوں کیونکہ میں ابد الآباد ہوں۔ اور میری طاقت اس ساری زمین پر پھیلی ہوئی ہے۔ میں تم سے  وعدہ کروں گا۔

22 اُن لوگوں میں سے  کوئی بھی آدمی  جسے  میں مصر سے  باہر لا یا اس ملک کنعان کو نہیں دیکھے  گا۔ اُن لوگوں نے  مصر میں میرے  فضل اور میری بڑی نشانیوں کو دیکھا ہے۔ اور اُن لوگوں نے  ان عظیم کاموں کو دیکھا جو میں نے  ریگستان میں کیے۔ لیکن انہوں نے  میری مرضی کے  خلا ف کیا اور دس بار میری آزمائش کی۔

23 میں نے  ان کے  آباء و  اجداد سے  وعدہ کیا تھا۔ میں نے  انتظار کیا تھا کہ میں ان کو عظیم ملک دوں گا۔ لیکن ان میں سے  کسی بھی شخص کو جو میرے  خلا ف ہو چکا ہے  اس کو اس ملک میں داخل ہونے  نہیں دوں گا۔

24 لیکن میرا خادم کالب ان سے  مختلف ہے  وہ پوری طرح میرا کہا مانتا ہے  اس لئے  میں اسے  اس ملک میں لے  جاؤں گا۔ جسے  اس نے  پہلے  دیکھا ہے  اور اس کے  لوگ یہ ملک حاصل کریں گے۔

25 عما لیقی اور کنعانی لو گ وادی میں رہ رہے  ہیں اس لئے  تمہارے  جانے  کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ کل اُس جگہ کو چھوڑو اور ریگستان کی طرف بحیرہاحمر سے  ہو کر واپس ہو جاؤ۔”

26 خداوند نے  موسیٰ اور ہار ون سے  کہا،

27″ یہ لوگ کب تک میرے  خلاف شکایت کرتے  رہیں گے ؟ میں ان لوگوں کی شکایت اور تکلیف کو سُن چکا ہوں۔

28 اس لئے  اُن سے  کہو،” خداوند کہتا ہے  کہ وہ یقیناً ان کاموں کو کرے  گا۔

29 تم لوگوں کو اس کا سامنا کرنا ہو گا تم لوگوں کی لاشیں اس ریگستان میں پڑی رہیں گی۔ بیس سال سے  اوپر کا ہر  ایک آدمی  جسے  گِنا گیا تھا اور تم میں سے  ہر وہ آدمی  جس نے  خداوند کے  خلاف شکایت کی ریگستان میں مرے  گا۔۔

30 تم لوگوں میں سے  کوئی بھی کبھی اُس ملک میں داخل نہیں ہو گا جسے  میں نے  تم کو دینے  کا وعدہ کیا تھا۔ صرف یفنہ کا بیٹا کالب اور نون کا بیٹا یشوع اُس ملک میں دا خل ہوں گے۔

31 تم لوگ ڈر گئے  تھے  اور تم لوگوں نے  شکایت کی کہ اس نئے  ملک میں تمہارے  دُشمن تمہارے  بچوں کو چھین لیں گے۔ لیکن میں تم سے  کہتا ہوں کہ میں اُن بچوں کو اس ملک میں لے  جاؤں گا۔ وہ اُن چیزوں کو پو را کریں گے  جس کو تم نے  پورا کرنے  سے  انکار کیا تھا۔

32 جہاں تک تم لوگوں کی بات ہے  تمہارے  جسم اس ریگستان میں گِر جائیں گے۔

33″ تمہارے  بچے  یہاں ریگستان میں ۴۰ سال تک چرواہے  کے  طور پر زندگی گذاریں گے۔ وہ تمہارے  نا فرمانی کا نتیجہ جھیلیں گے۔ وہ اس ریگستان میں اُس وقت تک رہیں گے  جب تک تم سب یہاں مر نہیں جاؤ گے  اور تم سب کی لاشیں اُس ریگستان میں دفن نہ ہو جائیں گے۔

34 تم لوگ اپنے  گناہ کے  لئے  ۴۰ سال تک تکلیف اُٹھاؤ گے۔ ( تم لوگوں نے  اس ملک کی چھان بین میں جو چالیس دن لگائے  اس کے  ہر دن کے  لئے  ایک سال ہو گا ) تم لوگ جانو گے  کہ میرا تم لوگوں کے  خِلاف ہو نا کتنا بھیانک ہے۔

35″ میں خداوند ہوں اور میں نے  یہ کہا ہے  میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں اُن سبھی بُرے  لوگوں کے  لئے  یہ کروں گا۔ یہ لوگ میرے  خلاف ایک ساتھ آئے  اس لئے  وہ سبھی یہاں ریگستان میں مریں گے۔”

36 جن لوگوں کو موسیٰ نے  نئی ملک کی چھان بین کے  لئے  بھیجا وہ وہی تھے  جو واپس آئے  اور اسرائیلیوں کے  درمیان بُری خبر پھیلائی اور ان لوگوں کی شکایت کرنے  کا سبب بنا۔

37 وہی لوگ بنی اسرائیلیوں میں پریشانی پھیلانے  کے  ذمہ دار تھے۔ اس لئے  خداوند نے  ایک بیماری پیدا کر کے  اُن سب کو مر جانے  دیا۔

38 لیکن نون کا بیٹا یشوع اور یفنّہ کا بیٹا کالب اُن لوگوں میں سے  تھے  جنہیں اس ملک کی چھان بین کرنے  کے  لئے  بھیجا گیا تھا صرف وہی لوگ رہیں گے۔

39 موسیٰ نے  یہ سبھی باتیں بنی اسرائیلیوں سے  کہیں۔ لوگ بہت زیادہ دُکھی ہوئے۔

40 اگلے  دن بہت سویرے  لوگوں نے  اونچے  پہاڑی ملک کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ لوگوں نے  کہا،” ہم لوگوں نے  گناہ کیا ہے  ہم لوگوں کو دُکھ ہے  کہ ہم لوگوں نے  خداوند پر بھروسہ نہیں کیا۔ ہم لوگ اب اس جگہ پر جائیں گے  جسے  خداوند نے  ہم لوگوں کو دینے  کا وعدہ کیا ہے۔”

41 لیکن موسیٰ نے  کہا،”تم لوگ خداوند کے  حکم کی تعمیل کیوں نہیں کر رہے  ہو؟ تم لوگ کامیاب نہیں ہو سکو گے۔

42 اُس ملک میں داخل نہ ہو۔ خداوند تم لوگوں کے  ساتھ نہیں ہے۔ تم لوگ آسانی سے  اپنے  دُشمنوں سے  شکست کھا جاؤ گے۔

43 عمالیقی اور کنعانی لو گ وہاں تمہارے  خلا ف لڑیں گے۔ تم لوگ خداوند سے  پلٹ گئے  ہو اس لئے  وہ تم لوگوں کے  ساتھ نہیں ہو گا جب تم لوگ ان سے  لڑو گے  اور تم سبھی ان کی تلواروں سے  مارے  جاؤ گے۔”

44 لیکن لوگوں نے  موسیٰ پر بھروسہ نہیں کیا وہ لوگ اونچے  پہاڑی ملک کی طرف چلے  گئے۔ لیکن موسیٰ اور خداوند کا معاہدہ کا صندوق لوگوں کے  ساتھ نہیں گیا۔

45 تب عما لیقی اور کنعانی لوگ جو پہاڑی ملک میں رہتے  تھے۔ آئے  اور انہوں نے  بنی اسرائیلیوں پر حملہ کر دیا۔ عمالیقی اور کنعانی لوگوں نے  اُن کو آسانی سے  شکست دی اور حُرمہ تک ان کا پیچھا کیا۔

 

 

 

باب:   15

 

 

1 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

2″ بنی اسرائیلیوں سے  باتیں کرو اور ان سے  کہو، ‘ کب تم لوگ اس ملک میں داخل ہو گے  جسے  میں تم لوگوں کو رہنے  کے  لئے  دے  رہا ہوں،

3 جب تم اس ملک میں پہنچو گے۔ تب تم خداوند کو تحفے  پیش کرو گے۔ اس سے  نکلنے  والی بُو خداوند کو خوش کرنے  وا لی خوشبو ہے۔ تم اپنے  بھیڑوں اور جانوروں کے  جھنڈوں کا استعمال جلانے  کا نذرانہ، قربانیوں، خاص وعدوں اور رضاء کا نذرانہ اور تقریب کا نذرانہ کے  لئے  کرو گے۔

4″ اور اُس وقت جو اپنی نذر لائے  گا۔ اسے  خداوند کو اناج کا نذرانہ بھی دینا ہو گا۔ یہ اناج کا نذرانہ ایک کوارٹ ( ایک لیٹر ) زیتون کے  تیل میں ملے  ہوئے  آٹھ پیالے  عمدہ آٹا ہو گا۔

5 ہر ایک بار جب تم ایک میمنہ جلانے  کا نذرانہ یا قربانی کے  طور پر دو تو تمہیں ایک کوارٹ مئے  کا نذرانہ کے  طور پر تیار کرنی چاہئے۔

6″ اگر تم ایک مینڈھا دے  رہے  ہو تو تمہیں اناج کی قربانی بھی دینی ہو گی۔ یہ اناج کی قربانی ایک چوتھائی لیٹر زیتون کے  تیل میں ملی ہوئی ۱۶ پیالے  عمدہ آٹا ہو گا۔

7 اور تمہیں ایک چوتھائی لیٹر مئے  پینے  کا نذرانہ کے  طور پر تیار کرنی چاہئے۔ اِسے  خداوند کو پیش کیا جائے  گا۔ یہ خداوند کے  لئے  خوشگوار خوشبو ہے۔

8″ جب تم ایک بچھڑا جلانے  کا نذرانہ یا قربانی کے  طور پر منّت یا رضاء کا نذرانہ کو پو را کرنے  کے  لئے  خداوند کو پیش کرو۔

9 تو تمہیں بچھڑے  کے  ساتھ اناج کی قربانی بھی لانی چاہئے۔ اناج کی قربانی دو لیٹر زیتون کے  تیل میں ملی ہوئی

10 پیالے  اچھے  آٹے  کی ہونی چاہئے۔ ۱۰ دو لیٹر مئے  پینے  کا نذرانہ کے  طور پر پیش کرو۔ یہ نذرانہ تحفہ ہے  اور خداوند کے  لئے  ایک خوشگوار خوشبو ہے۔

11 ہر ایک بیل یا میمنہ یا بھیڑ یا بکری کے  لئے  تمہیں ایسا ہی کرنا چاہئے۔

12 جو جانور تم نذر کرو اُن میں سے  ہر ایک کے  لئے  کرو۔

13″ اس لئے  لوگ جب اپنا تحفہ پیش کریں گے  تو یہ خداوند کے  لئے  خوشگوار خوشبو ہو گی۔ اسرائیل کے  ہر ایک شہری کو ویسا ہی کرنا چاہئے  جس طرح میں نے  بتا یا ہے۔

14 اور مستقبل کے  سبھی دنوں میں اگر کوئی آدمی  جو اسرائیل کے  خاندان میں پیدا نہ ہو۔ اور تمہارے  درمیان رہ رہا ہو تو اسے  بھی اُن سب چیزوں کی تعمیل کرنی چاہئے  ان لوگوں کو ویسا ہی کرنا ہو گا جیسا میں نے  تم کو بتا یا ہے۔

15 اسرائیل کے  خاندان میں پیدا ہوئے  لوگوں کے  لئے  جو اصول ہوں گے  وہی اصول اُن نئے  لوگوں کے  لئے  بھی ہوں گے  جو تمہارے  درمیان رہتے  ہیں۔ یہ اُصول اب سے  مستقبل میں لا گو رہے  گا۔ تم اور تمہارے  درمیان رہنے  والے  خداوند کے  سامنے  معزز ہوں گے۔

16 اُس کا یہ مطلب کہ تمہیں ایک ہی قانون اور اصول کی تعمیل کرنی چاہئے  وہ قانون اور اصول اسرائیل کے  خاندان میں پیدا ہوئے  لوگوں کے  لئے  اور تمہارے  بیچ رہ رہے  غیر ملکیوں کے  لئے  ہے۔”

17 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

18″ بنی اسرائیلیوں سے  یہ کہو جب تم اس ملک میں پہنچو جس ملک میں میں تمہیں لے  جا رہا ہوں تو

19 جب تم اس ملک کا کھا نا کھاؤ تو کھانے  کا ایک حصّہ خداوند کو نذر کرو۔

20 جب تم اناج جمع کرو اور اسے  پیس کر آٹا بناؤ اور روٹی بنانے  کے  لئے  آٹا کو گوندھو تو اس گوندھے  ہوئے  آٹے  سے  پہلے  خداوند کو اناج کے  نذرانہ کے  طور پر دو گے۔ یہ ایسا نذرانہ جو کہ کھلیان سے  آتا ہے۔

21 یہ اصول ہمیشہ ہمیشہ کے  لئے  ہے۔ اس کا مطلب ہے  کہ اناج کو تم آٹے  کی شکل میں لاتے  ہو اس کی پہلی روٹی خداوند کو پیش کی جانی چاہئے۔

22″ ہو سکتا ہے  کہ تم خداوند کی طرف سے  موسیٰ کو دیئے  گئے  حکم پر عمل نہ کرنے  کی وجہ سے  غلطی کر جاؤ۔

23 خداوند یہ سارے  احکام موسیٰ کے  ذریعے  دیا۔ یہ احکام پہلے  دن ہی سے  شروع ہو گئے  تھے  جب انہیں دیا گیا تھا۔ اور یہ مستقبل میں ساری نسل میں لا گو رہے  گا۔

24 اس لئے  اگر تم کوئی غلطی کرتے  ہو اور احکام کی تعمیل کرنا بھول جاتے  ہو تو تم کیا کرو گے ؟ اگر یہ جماعت کی جانکاری کے  بغیر ہوتا ہے  تو سارے  اسرائیلیوں کو ایک ساتھ جمع ہو کر ایک بچھڑا جلانے  کی قربانی کے  طور پر پیش کرنا چاہئے  یہ خداوند کے  لئے  خوشگوار خوشبو ہے۔ بیل کے  ساتھ اناج کی قربانی اور مئے  کا نذرانہ ہدایت کے  مطابق دینا چاہئے۔ اور تمہیں ایک بکرا بھی گناہ کے  نذرانہ کے  طور پر دینا چاہئے۔

25″ اس لئے  کاہن لوگوں کو گناہوں سے  پاک کرنے  کے  لئے  ایسا کرے  گا۔ وہ سبھی بنی اسرائیلیوں کے  لئے  ایسا کرے  گا۔ لوگوں نے  یہ نہیں سمجھا تھا کہ وہ گناہ کر رہے  ہیں لیکن جب انہیں یہ معلوم ہوا تو خداوند کے  پاس نذر لائے  وہ ایک نذر اپنے  گناہ کے  لئے  اور ایک جلانے  کی قربانی کے  لئے  جسے  آ گ میں جلائی جانی تھی اس طرح لوگ معاف کئے  جائیں گے۔

26 اسرائیل کے  سبھی لوگ اور اُن کے  درمیان رہنے  والے  سبھی دوسرے  لوگ معاف کر دیئے  جائیں گے۔ وہ اس لئے  معاف کئے  جائیں گے  کیونکہ وہ نہیں جانتے  تھے  کہ وہ بُرا کر رہے  ہیں۔

27″ لیکن اگر ایک شخص غلطی کرتا ہے  تو اسے  ایک سال کی بکری کی قربانی گناہ کے  نذرانے  کے  طور پر پیش کرنا چاہئے۔

28 کاہن اسے  اس آدمی  کے  گناہوں کے  لئے  خداوند کو پیش کرے  گا اور اُس آدمی  کو معاف کر دیا جائے  گا۔ کیونکہ کاہن نے  اس کے  لئے  کفاّرہ ادا کیا ہے۔

29 یہ اُصول ہر اُس آدمی  کے  لئے  ہے  جو گناہ کرتا ہے  لیکن جانتا نہیں کہ بُرا کیا ہے۔ یہی اُصول اسرائیل کے  خاندان میں پیدا ہوئے  لوگوں کے  لئے  ہے  اور دوسرے  لوگوں کے  لئے  بھی جو تمہارے  درمیان رہتے  ہیں۔

30″ لیکن اگر کوئی شخص جان بوجھ کر گناہ کرتا ہے  تو وہ خداوند کو رسوا کرتا ہے۔ اس طرح کے  شخص اپنے  لوگوں سے  الگ تھلگ کر دیا جائے  گا۔ یہ اسرائیل کے  خاندان میں پیدا ہوئے  آدمی  اور اسرائیل کے  درمیان رہ رہے  غیر ملکی کے  لئے  بھی لا گو ہو گا۔

31 اس طرح کا شخص خداوند کے  احکام کو حقیر سمجھا۔ اُس نے  خداوند کے  حکم کی تعمیل نہیں کی ہے۔ اس طرح کے  شخص کو تمہارے  گروہ سے  الگ کر دیا جائے  گا۔ اور اسے  اس کے  جُرم کا ذمہ دار ٹھہرا دیا جائے  گا۔”

32 اُس وقت بنی اسرائیل ابھی تک ریگستان میں ہی رہتے  تھے۔ ایسا ہوا کہ ان لوگوں کو ایک آدمی  سبت کے  دن لکڑی جمع کرتے  ہوئے  ملا۔

33 جن لوگوں نے  اسے  لکڑی جمع کرتے  دیکھا وہ اسے  موسیٰ اور ہا رون کے  پاس لائے  اور سبھی لوگ چاروں طرف جمع ہو گئے۔

34 انہوں نے  اس آدمی  کو وہاں رکھا کیونکہ وہ نہیں جانتے  تھے  کہ اسے  کیسے  سزا دیں۔

35 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا”اس آدمی  کو مرنا چاہئے۔ سبھی لوگ خیمہ کے  باہر اسے  پتھر سے  ماریں گے۔”

36 اس لئے  لوگ اسے  چھاؤنی سے  باہر لے  گئے  اور اس کو پتھروں سے  مار ڈالا انہوں نے  یہ ویسا ہی کیا جیسا خداوند نے  موسیٰ کو حکم دیا تھا

37 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا۔

38″ بنی اسرائیلیوں سے  باتیں کرو اور اُن سے  یہ کہو : دھاگے  کے  کئی ٹکڑوں کو ایک ساتھ باندھ کر انہیں اپنے  لباس کے  کونے  پر باندھو۔ ایک نیلے  رنگ کا دھا گاسب ایسے گچھوں میں ڈالو تم انہیں اب سے  ہمیشہ کے  لئے  پہنو گے۔

39 تم لوگ اُن گچھوں کو دیکھتے  رہو گے  اور خداوند کے  تمام احکام کو یاد رکھو گے۔ اور ان کی تعمیل کرو گے۔ اور تم اپنے  جسم اور آنکھوں کی خواہشوں کی سبب زناکاری کے گناہوں کی وجہ سے  گمراہ نہیں ہو گے۔

40 تم ہمارے  سبھی احکامات کو یاد رکھو گے  اور اس پر عمل کرو گے۔ اور تم اپنے  خدا کے  لئے  مقدس رہو گے۔

41 میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔ وہ میں ہوں جو تمہیں مصر سے  باہر لا یا۔ تا کہ میں تمہارا خدا ٹھہروں۔ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔

 

 

 

باب:   16

 

 

1 قورح، داتن، ابیرام اور اون موسیٰ کے  خلا ف ہو گئے۔ قورح اِضہار کا بیٹا، اِضہار قہات کا بیٹا تھا اور قہات لاوی کا بیٹا تھا۔ اِہلیاب کے  بیٹے  داتن، اور ابیرام بھائی تھے۔ اور اون پلت کا بیٹا تھا داتن، ابیرام اور اون رُوبن کی نسل سے  تھے۔

2 اُن چار آدمیوں نے  اسرائیل کے  ۲۵۰ آدمیوں کو ایک ساتھ جمع کیا اور یہ موسیٰ کے  خلا ف آئے  یہ ۲۵۰ بنی اسرائیلیوں میں معزز قائد تھے۔ وہ لوگوں کی طرف سے  چُنے  گئے  تھے۔

3 وہ ایک گروہ کی حیثیت سے  موسیٰ اور ہارون کے  خلا ف بات کرنے  آئے  اُن آدمیوں نے  موسیٰ اور ہا رون سے  کہا،” ہم اُس سے  متفق نہیں جو تم نے  کیا ہے۔ اسرائیلی گروہ کے  تمام لوگ پاک ہیں۔ خداوند اُن کے  ساتھ ہے  تم اپنے  کو تمام لوگوں سے  اونچی جگہ پر کیوں رکھ رہے  ہو؟

4 جب موسیٰ نے  یہ بات سُنی تو وہ زمین پر گر گئے۔

5 تب موسیٰ نے  قورح اور اس کے  ساتھیوں سے  کہا،” کل صبح خداوند دکھائے  گا کہ کون آدمی  حقیقت میں اُس کا ہے  خداوند دکھائے  گا کہ کون آدمی  حقیقت میں پاک ہے  اور خداوند اسے  اپنے  قریب لے  جائے  گا۔ خداوند اس آدمی  کو چُنے  گا اور خداوند اس آدمی  کو اپنے  قریب لے  گا۔

6 اس لئے  قورح تمہیں اور تمہارے  تمام ساتھیوں کو یہ کرنا چاہئے  کہ تم آتش دان لو،

7 اس آتش دان کو کوئلے  کے  آ گ سے  بھرو اور پھر اس میں کل خداوند کے  سامنے  بخور رکھو۔ اس آدمی  کو جسے  خداوند چنے  گا وہی مقدس ہو گا۔ اے  لا وی کے  بیٹو! تم میں سے  بس وہ کافی ہے۔”

8 موسیٰ نے  قورح سے  یہ بھی کہا،”لاوی نسل کے  لوگو میری بات سُنو!

9 کیا یہ کافی نہیں ہے  کہ اسرائیل کے  خدا نے  تم لوگوں کو الگ اور خاص بنا یا ہے۔ تم لوگ باقی بنی اسرائیلی سے  مختلف ہو۔ خداوند نے  تمہیں اپنے  قریب کیاتا کہ تم خداوند کی عبادت میں بنی اسرائیلیوں کی مدد کے  لئے  خداوند کے  مقدس خیمہ میں خاص کام کر سکو کیا یہ تمہارے  لئے  کافی نہیں ہے ؟

10 خداوند نے  تمہیں اور دوسرے  تمام لا وی نسل کے  لوگوں کو اپنے  قریب لا یا ہے  لیکن اب تم کاہن بھی بننا چاہتے  ہو۔

11 تم اور تمہارے  ساتھی ایک ساتھ ہو کر خداوند کے  خلا ف میں آئے  ہو۔ کیا ہارون نے  کچھ بُرا کیا ہے ؟ نہیں تو پھر اُس کے  خلاف شکایت کرنے  کیوں آئے  ہو؟”۔

12 تب موسیٰ نے  اِلیاب کے  بیٹے  داتن اور ابیرام کو بُلا یا لیکن دونوں آدمیوں نے  کہا،” ہم لوگ نہیں آئیں گے !

13 تم ہمیں اُس ملک سے  باہر نکال لائے  ہو جو اچھی چیزوں سے  بھر پور تھا اور جہاں دودھ اور شہد کی ندیاں بہتی تھیں۔ تم ہم لوگوں کو یہاں ریگستان میں مار نے  کے  لئے  لائے  ہو اور اب تم دِکھانا چاہتے  ہو کہ تم ہم لوگوں پر زیادہ حق بھی رکھتے  ہو۔

14 ہم لوگ تمہارے  کہنے  کو کیوں مانیں؟ تم ہم لوگوں کو اس نئے  ملک میں نہیں لائے  جہاں ہر اچھی چیزیں موجود ہو۔ تم نے  وہ زمین نہیں دی جس کا خداوند نے  وعدہ کیا تھا۔ تم نے  ہم لوگوں کو کھیت یا انگور کے  باغ نہیں دیئے  ہیں۔ کیا تم لوگوں کو دھوکہ دینا جاری رکھو گے ؟ نہیں ہم لوگ تمہارے  ساتھ نہیں آئیں گے۔”

15 اس لئے  موسیٰ بہت غصّے  میں آئے  اس نے  خداوند سے  کہا،” اُن کی نذر ہی قبول نہ کر میں نے  اُن سے  کچھ نہیں لیا ہے۔ ایک گدھا تک نہیں اور میں نے  اُن میں سے  کسی کا بُرا نہیں کیا ہے۔”

16 تب موسیٰ نے  قورح سے  کہا،” تمہیں کل خدا کے  سامنے  کھڑا ہو نا چاہئے۔ ہا رون بھی تمہارے  ساتھ کھڑا ہو گا۔

17 تم میں سے  ہر ایک کو ایک برتن لا نا چاہئے  اور اُس میں بخور رکھنا چاہئے۔ یہ ۲۵۰ آتش دان قائدین کے  لئے  ہوں گے  اور ایک برتن اپنے  لئے  اور ایک ہا رون کے  لئے۔ ان سارے  برتن کو خداوند کے  سامنے  لے  جاؤ۔ تمہیں اور ہا رون کو فردا ً فرداً اپنے  برتن خداوند کے  سامنے  لے  جانا چاہئے۔”

18 اس لئے  ہر ایک آدمی نے  ایک ایک برتن لیا اور اس میں جلتے  ہوئے  بخور رکھے  تب وہ خیمۂ اجتماع کے  دروازے  پر کھڑے  ہوئے۔ موسیٰ اور ہا رون بھی وہاں کھڑے  ہوئے۔

19 قورح نے  اپنے  تمام ساتھیوں کو ایک ساتھ جمع کیا۔ یہ وہ آدمی  ہیں جو موسیٰ اور ہا رون کے  خلا ف ہو گئے  تھے۔ قورح نے  ان تمام کو خیمۂ اجتماع کے  دروازے  پر جمع کیا تب خداوند کا جلال وہاں پوری جماعت پر ظاہر ہوا۔

20 خداوند نے  موسیٰ اور ہارون سے  کہا،

21″ ان لوگوں سے  دُور ہٹو۔ میں اب انہیں پل بھر میں تباہ کرنا چاہتا ہوں۔”

22 لیکن موسیٰ اور ہا رون زمین پر گِر پڑے  اور چلّائے ،” اے  خداوند، سارے  لوگوں کی روحوں کا خدا مہربانی کر کے  اُس پو رے  گروہ پر غصّہ نہ کر۔ حقیقت میں ایک ہی آدمی نے  گناہ کیا ہے۔”

23 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

24″ لوگوں سے  کہو وہ قورح، داتن اور ابیرام کے  خیموں سے  دور ہٹ جائیں۔”

25 موسیٰ کھڑے  ہوئے  اور داتن اور ابیرام کے  پاس گئے۔ اسرائیل کے  تمام بزرگ اس کے  پیچھے  چلے۔

26 موسیٰ نے  لوگوں کو خبردار کیا اُن بُرے  آدمیوں کے  خیموں سے  دور ہٹ جاؤ اُن کی کسی چیز کو نہ چھو نا اور اگر تم لوگ چھوؤ گے  تو اِن کے  گنا ہوں کی وجہ سے  تباہ ہو جاؤ گے۔

27 اس لئے  لوگ قورح، داتن اور ابیرام کے  خیموں سے  دور ہٹ گئے۔ داتن اور ابیرام اپنے  خیمے  کے  با ہر اپنی بیوی بچے  اور چھوٹے  بچوں کے  ساتھ کھڑے  تھے۔

28 تب موسیٰ نے  کہا،” میں تمہیں ثبوت دوں گا کہ خداوند نے  مجھے  یہ تمام چیزیں کرنے  کے  لئے  بھیجا میں تم کو کہہ چکا ہوں میں یہ بتاؤں گا کہ وہ تمام چیزیں میرے  خیال کی نہیں ہیں۔

29 یہ آدمی  یہاں مر جائیں گے  لیکن اگر یہ عام طریقے  سے  مرتے  ہیں جیسا کہ عام آدمی  مرتے  ہیں تو یہ ظاہر ہو گا کہ خداوند نے  حقیقت میں مجھے  نہیں بھیجا۔

30 لیکن اگر خداوند ایک نئی چیز تخلیق کرے  تو تمہیں معلوم ہو گا کہ یہ آدمی  حقیقت میں خداوند کے  خلا ف گناہ کیا ہے۔ یہی ثبوت ہے  زمین پھٹ جائے  گی اور ان آدمیوں کو نگل لے  گی۔ وہ اپنی قبروں میں زندہ ہی جائیں گے  اور ان کی ہر ایک چیز اُن کے  ساتھ نیچے  چلی جائے  گی۔”

31 جب موسیٰ نے  اپنی باتیں کہنا ختم کیا، کہ ان لوگوں کے  پیروں کے  نیچے  زمین کھلی۔

32 یہ ایسا تھا جیسے  زمین نے  اپنا منہ کھو لا اور انہیں کھا گئی اور ان کے  سارے  خاندان، قورح کے  تمام آدمی  اور ان کی سبھی چیزیں زمین میں چلی گئیں۔

33 وہ زندہ  ہی قبر میں چلے  گئے  ان کی ہر ایک چیز ان کے  ساتھ زمین میں سما گئی۔ تب زمین اُن کے  اوپر سے  بند ہو گئی۔ وہ تباہ ہو گئے  اور اپنی جماعت سے  غائب ہو گئے۔

34 بنی اسرائیلیوں نے  تباہ شدہ لوگوں کا رو نا چِلّا نا سُنا اس لئے  وہ چاروں طرف دوڑ پڑے  اور کہنے  لگے “زمین ہم لوگوں کو بھی نگل جائے  گی۔”

35 تب خداوند سے  آ گ آئی اور اس نے  ۲۵۰ آدمیوں کو جو بخور نذر کر رہے  تھے  تباہ کر دیا۔

36 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

37″ہا رون کے  بیٹے  کاہن الیعزر سے  کہو وہ آ گ میں سے  بخور کے  برتن کولے  کر  خیمہ سے  دور کے  علا قے  میں اُن کوئلوں کو پھیلائے۔ بخور کے  برتن اب بھی پاک ہیں۔ یہ وہ برتن ہیں جو اُن آدمیوں کے  ہیں جنہوں نے  میرے  خلا ف گناہ کیا تھا۔ ان کے  گناہ کی قیمت ان کی زندگی ہو ئی۔ برتنوں کو پیٹ کر پتروں میں بدلو۔ ان دھا توں کے  پتروں کا استعمال قربان گاہ کو ڈھکنے  کے  لئے  کرو۔ وہ پاک تھے  کیونکہ انہیں خداوند کے  سامنے  پیش کیا گیا تھا۔ اُن چپٹے  برتنوں کو سبھی بنی اسرائیلیوں کے  لئے  عبرت بننے  دو۔”

38

39 تب کاہن الیعزر نے  کانسے  کے  ان تمام برتنوں کو جمع کیا جنہیں وہ لوگ لائے  تھے۔ وہ سبھی آدمی  جل گئے  تھے  لیکن برتن وہاں بچے  ہوئے  تھے۔ تب الیعزر نے  کچھ آدمیوں کو برتنوں کو پیٹ کر چپٹا کرنے  کے  لئے  کہا۔ تب اس نے  پیٹے  ہوئے  دھات کی اس چپٹی چادر کو قربان گاہ پر رکھا۔

40 اس نے  ویسے  ہی کیا جیسا خداوند نے  موسیٰ کے  ذریعہ حکم دیا تھا۔ یہ نشانی تھی جس سے  بنی اسرائیل یاد رکھ سکیں کہ صرف ہا رون کے  خاندان کے  آدمی  کو خداوند کے  سامنے  بخور نذر کرنے  کا حق ہے۔ اگر کوئی دوسرا  آدمی  خداوند کے  سامنے  خوشبو جلاتا ہے  تو وہ آدمی  قورح اور اس کے  ساتھیوں کی طرح ہو جائے  گا۔

41 اگلے  دن بنی اسرائیلیوں نے  موسیٰ اور ہا رون کے  خلا ف شکایت کی۔ انہوں نے  کہا” تم نے  خداوند کے  لوگوں کو مارا ہے۔”

42 موسیٰ اور ہا رون خیمۂ اجتماع کے  دروازے  پر کھڑے  تھے۔ لوگ اس جگہ پر موسیٰ اور ہا رون کی شکایت کرنے  کے  لئے  جمع ہوئے۔ لیکن جب انہوں نے  خیمۂ اجتماع کو دیکھا تو بادل نے  اسے  ڈھک لیا اور وہاں خداوند کا جلال ظاہر ہوا۔

43 تب موسیٰ اور ہا رون خیمۂ اجتماع کے  سامنے  گئے۔

44 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا۔

45″ ان لوگوں سے  دور ہٹ جاؤتا کہ میں ابھی انہیں تباہ کر سکوں۔”موسیٰ اور ہا رون منہ کے  بل زمین پر گر پڑے۔

46 تب موسیٰ نے  ہا رون سے  کہا”بخور دان لے  اور قربان گاہ سے  کوئلے  کی آ گ لے  کر اس میں ڈال۔ پھر اس میں بخور ڈالو اور لوگوں کے  گروہ کے  پاس جلدی جاؤ۔ اور ان لوگوں کے  لئے  کفارہ ادا کرو۔ کیونکہ خداوند ان پر غصّہ ہے۔ بیماری شروع ہو چکی ہے۔”

47 اس لئے  ہارون نے  موسیٰ کے  کہنے  کے  مطابق کام کیا۔ خوشبو اور آ گ کو لینے  کے  بعد وہ لوگوں کے  بیچ دوڑ کر پہنچا لیکن لوگوں میں بیماری پہلے  ہی شروع ہو چکی تھی۔ ہارون نے  لوگوں کے  کفارہ کے  لئے  بخور کا نذرانہ پیش کیا۔

48 ہا رون مرے  ہوئے  اور زندوں کے  بیچ میں کھڑا ہوا اور پھر بیماری رُک گئی۔

49 اس لئے  ۷۰۰’ ۱۴ لوگ اس بیماری کی وجہ سے  مر گئے۔ یہ سب لوگ قورح کے  سبب سے  مرنے  والوں کے  علاوہ تھے۔

50 تب ہارون خیمۂ اجتماع کے  دروازہ پر موسیٰ کے  پاس آئے  تو لوگوں کی بھیانک بیماری روک دی گئی۔

 

 

 

باب:   17

 

 

1 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا

2″ بنی اسرائیلیوں سے  کہو ۱۲ خاندانی گروہ سے  ۱۲ لکڑی کی چھڑیاں لو، ہر ایک قائد سے  ایک لکڑی کی چھڑی لو۔ اور ہر ایک آدمی  کی چھڑی پر اُس کا نام لکھ دو۔

3 لاوی کی چھڑی پر ہارون کا نام لکھو۔ ہر ایک ۱۲ خاندانی گروہ میں سے  وہاں ایک قائد ضرور ہونا چاہئے۔

4 اُن چھڑیوں کو معاہدہ کے  صندوق کے  سامنے  خیمۂ اجتماع میں رکھو۔ یہی وہ جگہ ہے  جہاں میں تم سے  ملتا ہوں۔

5 میں ایک آدمی  کو چُنوں گا۔ تمہیں معلوم ہو جائے  گا کہ کس آدمی  کو میں نے  چُنا ہے۔ کیونکہ اُس چھڑی میں نئی شاخیں آنی شروع ہوں گی۔ اس طرح میں لوگوں کو اپنے  اور تمہارے  خلاف ہمیشہ شکایت کرنے  سے  روک دوں گا۔”

6 اس لئے  موسیٰ نے  بنی اسرائیلیوں سے  باتیں کیں ہر قائد نے  اُسے  ایک چھڑی دی۔ ساری چھڑیوں کی تعداد ۱۲ تھی۔ ہر ایک خاندانی قائد کے  گروہ کی ایک چھڑی اُس میں تھی۔ ہارون کی چھڑی اس میں تھی۔

7 موسیٰ نے  گواہ کے  خیمۂ اجتماع میں خداوند کے  سامنے  چھڑیوں کو رکھا۔

8 اگلے  دن موسیٰ خیمہ میں داخل ہوا اُس نے  دیکھا کہ ہارون کی وہ چھڑی جو لاوی نسل کی تھی ایک ایسی تھی جس سے  نئی شاخیں اُگنی شروع ہوئی تھی۔ اُس چھڑی میں کلیاں، پھول اور بادام بھی لگ گئے  تھے۔

9 اس لئے  موسیٰ خداوند کی جگہ سے  تمام چھڑ یوں کو لایا موسیٰ نے  بنی اسرائیلیوں کو چھڑیاں دکھائیں اُن سب نے  چھڑیوں کو دیکھا اور ہر ایک مرد نے  اپنی چھڑی واپس لی۔

10 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا”ہارون کی چھڑی کو خیمہ میں معاہدے  کے  صندوق کے  سامنے  رکھ دو۔ یہ اُن لوگوں کے  لئے  انتباہ ہو گی جو ہمیشہ میرے  خلاف جاتے  ہیں۔ یہ میرے  خلاف اس کی شکایتوں کو روکے  گا۔ اس طرح وہ نہیں مریں گے۔

11 موسیٰ نے  ان احکامات کی تعمیل کی جو خداوند نے  دیئے  تھے۔

12 بنی اسرائیلیوں نے  موسیٰ سے  کہا”ہم جانتے  ہیں کہ ہم مریں گے  ہمیں تباہ ہونا ہی ہے۔

13 جو کوئی بھی خداوند کے  مقدس خیمہ کے  نزدیک جاتا ہے  ضرور مر جاتا ہے۔ کیا ہم سب لوگ فنا ہو جائیں گے۔”

 

 

 

باب:   18

 

 

1 خداوند نے  ہارون سے  کہا،” تم اور تمہارے  بیٹے  اور تمہارے  باپ کا خاندان مقدس جگہ سے  متعلق کئے  جانے  والے  کسی بھی بُرے  عمل کے  لئے  جواب دہ ہو گے۔ تم اور تمہارے  بیٹے  اُن بُرائیوں کے  لئے  جواب دہ ہو گے  جو کہانت کے  خلاف کی گئی ہے۔

2 دُوسرے  لاوی نسل کے  لوگوں کو اپنا ساتھ دینے  کے  لئے  اپنے  خاندانی گروہ سے  لاؤ۔ وہ تمہاری اور تمہارے  بیٹوں کی مدد معاہدے  کے  مقدس خیمہ کے  کاموں کے  کرنے  میں کریں گے۔

3 لاوی خاندان کے  وہ لوگ تمہارے  قابو میں ہیں۔ وہ اُن تمام کاموں کو کریں گے  جنہیں خیمہ میں کیا جانا ہے۔ لیکن اُنہیں قربان گاہ یا مُقدس جگہ کی چیزوں کے  پاس نہیں جانا چاہئے۔ اگر وہ ایسا کریں گے  تو مر جائیں گے۔ اور تم بھی مر جاؤ گے۔

4 وہ تمہارے  ساتھ ہوں گے  اور تمہارے  ساتھ کام کریں گے  وہ خیمۂ اجتماع کی دیکھ بھال کرنے  کے  جواب دہ ہوں گے۔ سب کام جنہیں خیمہ میں کیا جانا چاہئے  وہ کریں گے۔ دُوسرا  کوئی بھی اس جگہ کے  قریب نہیں جائے  گا۔ جہاں تم ہو۔

5 مقدّس جگہ اور قربان گاہ کی دیکھ بھال کرنے  کے  جواب دہ تم ہو۔ میں بنی اسرائیلیوں پر پھر غصّہ ہونا نہیں چاہتا۔

6 میں نے  لاویوں کو سبھی بنی اسرائیلیوں میں سے  چُنا ہے۔ وہ لوگ تمہارے  لئے  تحفہ ہیں۔ ان کا استعمال خداوند کی خدمت کے  کام اور خیمۂ اجتماع دونوں کے  لئے  کیا جا سکتا ہے۔

7 لیکن صرف تم اور تمہارے  بیٹے  ہی کاہن کے  طور پر مقدس مقام اور پردہ کے  پیچھے  کے  کام سے  متعلق خدمت کا کام کر سکتے  ہیں۔ تمہیں کام ضرور کرنا چاہئے۔ میں تمہیں کہانت تحفہ کے  طور پر دے  رہا ہوں۔ کوئی بھی دوسرا شخص جو مقدس مقام کے  نزدیک جائے  گا مارا جائے  گا۔”

8 تب خداوند نے  ہارون سے  کہا’ میں نے  اپنے  لئے  پیش کئے  گئے  نذرانوں کی ذمہ داری تم کو دی ہے۔ بنی اسرائیل جو تمام نذریں مجھ کو دیں گے  وہ میں تم کو دیتا ہوں۔ تم اور تمہارے  بیٹے  اُن نذروں کو آپس میں بانٹ سکتے  ہو۔ یہ ہمیشہ تمہاری ہو نگی۔

9 اُن تمام نذرانوں میں سب سے  مقدس نذرانہ میں تمہارا اپنا حصّہ ہو گا جو جلایا نہیں گیا ہے۔ لوگ میرے  پاس ایسا نذرانہ لاتے  ہیں جو ہمیشہ مقدّس ہے۔ یہ نذرانے  اناج کا نذرانہ، جرم کا نذرانہ اور گناہ کا نذرانہ ہو سکتا ہے۔ یہ سب چیزیں تمہارے  اور تمہارے  بیٹوں کے  لئے  سب سے  زیادہ مقدّس ہو گی۔

10 تمہیں ان سب چیزوں کو مقدّس جگہ میں کھا نا چاہئے۔ تمہارے  خاندان کا ہر آدمی  ان چیزوں کو کھائے  گا۔ تمہیں ان چیزوں کو سب سے  زیادہ مقدس ماننا چاہئے۔

11 اور وہ سب جو بنی اسرائیلیوں کے  ذریعے  لہرانے  کی قربانی کے  طور پر دی جائے  گی تمہاری ہی ہو گی میں اُسے  تم کو تمہارے  بیٹوں اور تمہاری بیٹیوں کو دیتا ہوں۔ یہ ہمیشہ کے  لئے  تمہارا حصّہ ہے۔ تمہارے  خاندان کا ہر ایک آدمی  جو پاک ہو گا اُسے  کھا سکتا ہے۔

12″اور میں سب سے  عمدہ زیتون کا تیل اور ساری نئی شراب اور اناج تمہیں دیتا ہوں یہ وہ چیزیں ہیں جو بنی اسرائیل مجھے ، اپنے  خداوند کو دیتے  ہیں۔ یہ پہلا نذرانہ ہے  جنہیں وہ اپنی فصل پکنے  پر جمع کرتے  ہیں۔

13 جب لوگ اپنی فصلیں جمع کرتے  ہیں تب لوگ پہلی چیز خداوند کے  پاس لاتے  ہیں یہ چیزیں میں تم کو دوں گا۔ اور ہر ایک آدمی  جو تمہارے  خاندان میں پاک ہے  اُسے  کھا سکے   گا۔

14″اور بنی اسرائیل میں ہر ایک چیز جو خداوند کو دی جاتی ہے  تمہاری ہے۔

15 کسی بھی خاندان کا پہلوٹھا بچّہ یا پہلوٹھا جانور خداوند کو پیش کیا جائے  گا اور وہ تمہارا ہو گا۔ لیکن تمہیں ہر پہلوٹھے بچّہ اور پہلوٹھے ناپاک نر جانور کے  بدلے  میں پیسہ قبول کرنا چاہئے۔ تب پہلوٹھا بچّہ پھر اُس خاندان کا ہو جائے  گا۔

16 جب وہ ایک مہینے  کا ہو جائے  تب تمہیں ان کے  لئے  کفّارہ لے  لینا چاہئے۔ اُس کی قیمت ۵ مثقال چاندی ہو گی۔ سرکاری ناپ کے  مطابق ایک مثقال بیس جیرہ کے  برابر ہوتا ہے۔

17″لیکن تمہیں پہلوٹھی گائے ، بھیڑ یا بکرے  کے  لئے  کفّارہ نہیں لینا چاہئے  یہ جانور مقدس ہے  اور اس کا خون چھڑکنا چاہئے  اور اس کی چربی کو ضرور جلانا چاہئے۔ یہ نذرانہ تحفہ ہے ، خداوند کے  لئے  خوشگوار خوشبو ہے۔

18 لیکن اُن جانوروں کا گوشت تمہارا ہو گا۔ ٹھیک ایسا ہی لہرانے  کے  نذرانے  کا سینہ اور دُوسری قربانیوں کی دائیں ران تمہاری ہو گی۔

19 کوئی بھی چیز جسے  لوگ مقدس نذرانے  کے  طور پر پیش کرتے  ہیں۔ میں، خداوند وہ تمہیں دیتا ہوں یہ تمہارا حصّہ ہے۔ یہ خداوند کے  ساتھ کیا گیا معاہدہ ہے  جو ہمیشہ قائم رہے  گا۔ یہ وعدہ تم سے  اور تمہاری نسلوں سے  کرتا ہوں۔”

20 خداوند نے  ہارون سے  یہ بھی کہا” تم کوئی زمین حاصل نہیں کرو گے  اور ایسی کوئی چیز نہیں رکھو گے  جیسی دوسرے  لوگ رکھتے  ہیں۔ میں خداوند تمہارا رہوں گا۔ بنی اسرائیلی وہ ملک حاصل کریں گے  جس کے  لئے  میں نے  وعدہ کیا ہے۔ لیکن تمہارے  لئے  میں ہی تمہارا تحفہ ہوں گا۔

21″بنی اسرائیلیوں کے  پاس جو کچھ ہو گا۔ وہ اس کا دسواں حصّہ دیں گے  میں یہ دسواں حصہ لاوی نسل کو دوں گا۔ یہ اُن کے  اُس کام کے  لئے  ادائیگی ہے  جو وہ خیمۂ اجتماع میں خدمت کرتے  ہیں۔

22 لیکن بنی اسرائیل کے  دوسرے  لوگوں کو خیمۂ اجتماع کے  قریب کبھی نہیں جا نا چاہئے۔ اگر وہ ایسا کرتے  ہیں تو وہ گناہ کے  قصور وار ہوں گے۔ اور وہ مر جائیں گے۔

23 جو لاوی نسل کے  لوگ خیمۂ اجتماع میں کام کر رہے  ہیں وہ اُس کے  خلاف کئے  گئے  گناہوں کے  لئے  جواب دہ ہیں۔ یہ اُصول ہمیشہ کے  لئے  رہے  گا۔ لاوی نسل کے  لوگ وہ زمین نہیں لیں گے  جو  میں نے  اِسرائیل کے  دوسرے  لوگوں کو دی ہے۔

24 لیکن بنی اسرائیلیوں کے  پاس جو کچھ ہو گا اُس کا دسواں حصہ مجھ کو دیں  گے۔ اس طرح میں لاوی نسل کے  لوگوں کو دسواں حصہ دوں گا۔ یہی وجہ ہے  کہ میں نے  لاوی نسل کے  لئے  کہا ہے  : وہ لوگ اس زمین کو نہیں پائیں گے  جو  میں نے  بنی اسرائیلیوں کو دینے  کا وعدہ کیا ہے۔”

25 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا

26″لا وی نسل کے  لوگوں سے  بات کرو اور اُن سے  کہو :۔ بنی اسرائیل اپنی ہر ایک چیز کا دسواں حصّہ خداوند کو دیں گے۔ وہ دسواں حصّہ لا وی نسل کا موروثی حصّہ ہو گا۔ لیکن تمہیں اُس دسویں حصّے  کا دسواں حصّہ خداوند کو پیش کرنا چاہئے۔

27 اور تمہارا یہ نذرانہ ایسا ہی سمجھا جائے  گا جیسا کہ تم نے  کھلیان سے  اناج کا نذرانہ اور مئے  کی کو لہو سے  مئے  کا نذرانہ پیش کیا تھا۔

28 اس طرح تم خداوند کو ویسے  ہی نذر دو گے  جس طرح اسرائیل کے  دوسرے  لوگ دیتے  ہیں۔ تم بنی اسرائیلیوں کا دیا ہوا دسواں حصّہ حاصل کرو گے۔ اور تب تم اس کا دسواں حصّہ کاہن ہا رون کو دو گے۔

29 جب بنی اسرائیل اپنی ہر ایک چیز کا دسواں حصّہ دیں تو تمہیں اُن میں سے  اچھا اور پاکیزہ حصّہ چُننا ہو گا وہی دسواں حصّہ ہے  جسے  تمہیں خداوند کو دینا چاہئے۔

30″ موسیٰ! لاویوں سے  یہ کہو کہ جب وہ اپنے  حاصل کئے  ہوئے  میں سے  سب سے  اچھا حصّہ پیش کرتا ہے  تو ایسا سمجھا جائے  گا جیسا کہ وہ مجھے  خود سے  پیدا کئے  ہوئے  اناج یا مئے  کا نذرانہ پیش کیا۔

31 جو بچ جائے  گا اسے  تم اور تمہارے  خاندان کے  آدمی  جہاں کہیں چا ہو کھا سکتے  ہیں۔ یہ تم لوگوں کے  اس کام کے  لئے  ادائیگی ہے  جو تم لوگ خیمۂ اجتماع میں کرتے  ہو۔

32 اور اگر تم ہمیشہ اس کا بہترین حصّہ خداوند کو دیتے  رہو گے  تو تم کبھی قصوروار نہیں ہو گے۔ تم بنی اسرائیلیوں کی مقدّس نذر کے  ساتھ گناہ نہیں کرو گے۔”

 

 

 

باب:   19

 

 

1 خداوند نے  موسیٰ اور ہا رون سے  بات کی اُس نے  کہا

2″ یہ شریعت اور قانون ہے  جس کا خداوند بنی اسرائیلیوں کو حکم دیتا ہے  کہ انہیں بے  عیب ایک لال گائے  لینی چاہئے۔ اُس گائے  کو کوئی کھرونچ بھی نہیں لگی ہونی چاہئے  اور اُس گائے  کے  کندھے  پر کبھی جوا نہیں رکھا گیا ہو۔

3 ایسی گائے  کاہن الیعزر کو دو۔ الیعزر گائے  کو چھاؤنی سے  باہر لے  جائے  گا اور وہ وہاں اسے  ذبح کرے  گا۔

4 تب کاہن الیعزر کو اس کا تھوڑا خون اپنی انگلیوں پر لگانا چاہئے۔ اور اسے  تھوڑا خون مقدّس خیمہ کی جانب چھڑکنا چاہئے  اسے  یہ سات بار کر نا چاہئے۔

5 تب پوری گائے  اس کے  سامنے  چمڑا گوشت خون اور گو بر سمیت جلانی چاہئے۔

6 تب کاہن کو دیودار کی لکڑی اور ایک زوفا کی شاخ اور لال رنگ کا کپڑا لینا چاہئے۔ کاہن کو اِن چیزوں کو اُس آ گ میں ڈالنا چاہئے  جس میں گائے  جل رہی ہو۔

7 تب کاہن کو اپنے  آپ  کو اور اپنے  کپڑوں کو پانی سے  دھو نا چاہئے  اور پھر اسے  خیمہ میں واپس آنا چاہئے۔ کاہن شام تک ناپاک رہے  گا۔

8 جو آدمی  گائے  کو جلائے  اسے  اپنے  آپ  کو اور اپنے  لباس کو پانی سے  دھونا چاہئے  وہ شام تک ناپاک رہے  گا۔

9″ تب ایک مرد جو پاک ہے  گائے  کی راکھ جمع کرے  گا وہ اس راکھ کو چھاؤنی کے  باہر ایک پاک جگہ پر رکھے  گا۔ یہ را کھ اس وقت استعمال میں آئے  گی جب لوگ اپنے  آپ  کی لا شوں کے  سبب سے  ہوئی ناپا کی کو پاک کریں گے۔ یہ گناہ کا نذرانہ ہے۔

10″ وہ آدمی  جس نے  گائے  کی را کھ  جمع  کی۔ اپنے  کپڑوں کو دھوئے  گا وہ شام تک ناپاک رہے  گا۔” یہ اُصول اسرائیل کے  شہریوں کے  لئے  ہے  اور یہ اُن ا جنبی غیر ملکیوں کے  لئے  بھی ہے  جو تمہارے  درمیان رہتے  ہیں۔

11 اگر کوئی آدمی  مرے  ہوئے  آدمی  کو چھوتا ہے  تو وہ سات دن کے  لئے  ناپاک ہو جائے  گا۔

12 اسے  خود کو تیسرے  دن اور پھر ساتویں دن خاص پانی سے  پاک کرنا چاہئے۔ تب وہ پاک ہو جائے  گا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے  تو وہ ناپاک رہ جائے  گا۔

13 اگر کوئی آدمی  کسی لاش کو چھوتا ہے  تو وہ شخص ناپاک ہو جاتا ہے۔ اگر وہ ناپاک شخص مقدس خیمہ میں جاتا ہے  تو وہ مقدس خیمہ بھی ناپاک ہو جاتا ہے۔ اس لئے  اس شخص کو بنی اسرائیلیوں سے  الگ کر دیا جائے  گا۔ اگر پاک کرنے  کا پانی اس شخص پر نہیں ڈالا گیا تو وہ ناپاک ہی رہے  گا۔”

14 یہ اُصول ان لوگوں سے  متعلق ہے  جو اپنے  خیموں میں مرتے  ہیں۔ اگر کوئی آدمی  خیمہ میں مرتا ہے  تو کوئی بھی آدمی  جو اس خیمہ میں داخل ہوتا ہے  وہ نا پاک ہو جاتا ہے۔ وہ سات دن تک ناپاک رہے  گا۔

15 کوئی بھی برتن جو بغیر ڈھکن وہاں رکھا جائے  گا ناپاک ہو جائے  گا۔

16 اگر کوئی شخص کھیت میں کسی کی لاش چھوتا ہے  جسے  کہ جنگ کے  دوران مار ڈالا گیا ہے  یا پھر کوئی بھی انسانی لاش کو چھوتا ہے  تو وہ سات دن کے  لئے  ناپاک ہو جائے  گا۔ اور اگر کوئی آدمی  مرے  ہوئے  آدمی  کی ہڈی چھوتا ہے  یا قبر کو چھوتا ہے  تو وہ سات دن کے  لئے  ناپاک ہو جائے  گا۔

17″ اس لئے  تمہیں جلائی ہوئی گائے  کی راکھ اس آدمی  کو  پاک کرنے  کے  لئے  دوبارہ استعمال کرنی چاہئے۔ بہتا ہوا پانی برتن میں رکھی ہوئی راکھ پر ڈالو۔

18 پاک آدمی  کو ایک زوفا کی شاخ لے کرپانی میں ڈبونی چاہئے۔ تب اسے  خیمہ پر برتنوں پر اور خیمہ میں جو آدمی  ہیں ان پر یہ پانی چھڑکنا چاہئے۔ تمہیں یہ اُن سبھی آدمیوں کے  ساتھ کرنا چاہئے  جو لاش کو چھوئیں گے۔ تمہیں یہ اس کے  ساتھ بھی کرنا چاہئے  جو جنگ میں مرے  آدمی  کی لاش کو چھوتا ہے۔ یا ان میں سے  کسی کے  ساتھ جو کسی مرے  ہوئے  آدمی  کی ہڈیاں یا قبر کو چھوتا ہے۔

19″ تب کوئی پاک آدمی  اس پانی کو ناپاک آدمی  پر تیسرے  دن اور پھر ساتویں دن چھڑکے۔ ساتویں دن وہ آدمی  پاک ہو جاتا ہے۔ اسے  اپنے  کپڑوں کو پانی سے  دھونا چاہئے۔ وہ شام کے  وقت پاک ہو جاتا ہے۔

20″اگر کوئی آدمی  ناپاک ہو جاتا ہے  اور اپنے  آپ  کو پاک نہیں کرتا ہے  تو اسے  بنی اسرائیلیوں سے  الگ کر دیا جائے  گا کیونکہ اس آدمی  پر وہ خاص پانی نہیں چھڑکا گیا۔ اس طرح کا ناپاک آدمی  مقدس خیمہ کو ناپاک کر سکتا ہے۔

21 یہ اُصول تمہارے  لئے  ہمیشہ رہیں گے۔ جو آدمی  اس خاص پانی کو چھڑکتا ہے۔ اسے  بھی اپنے  کپڑے  ضرور دھو لینے  چاہئے۔ کوئی آدمی  جو اس خاص پانی کو چھوئے  گا وہ شام تک ناپاک رہے  گا۔

22 اگر کوئی ناپاک آدمی  کسی چیز کو چھوئے  تو وہ بھی ناپاک ہو جائے  گا۔ اور کوئی چیز یا کوئی آدمی  اس کو چھوتا ہے  تو وہ شام تک ناپاک رہے  گا۔”

 

 

 

باب:   20

 

 

1 بنی اسرائیل صین کے  ریگستان میں پہلے  مہینے  میں پہنچے  لوگ قادِس میں ٹھہرے  وہیں مریم کی موت ہو گئی اور وہ وہیں دفنائی گئی۔

2 اُس جگہ پر لوگوں کے  لئے  زیادہ پانی نہیں تھا اس لئے  لوگ موسیٰ اور ہا رون کے  خلا ف شکایت کرنے  کے  لئے  جمع ہوئے۔

3 لوگوں نے  موسیٰ سے  بحث کی انہوں نے  کہا” کیا ہی اچھا ہوتا ہم اپنے  بھا ئیوں کی طرح خداوند کے  سامنے  مر گئے  ہو تے۔

4 تم خداوند کے  لوگوں کو اس ریگستان میں کیوں لائے ؟ کیا تم چاہتے  ہو کہ ہم اور ہما رے  جانور یہیں مر جائیں۔

5 تم ہم لوگوں کو مصر سے  کیوں لائے ؟ تم ہم لوگوں کو اُس بُری جگہ پر کیوں لائے ؟ یہاں کوئی اناج نہیں ہے  کوئی انجیر، انگور یا انار نہیں ہے  اور یہاں پینے  کے  لئے  پانی بھی نہیں ہے۔”

6 اس لئے  موسیٰ اور ہارون نے  لوگوں کو چھوڑا اور وہ خیمۂ اجتماع کے  دروازہ پر پہنچے۔ وہ زمین پر جھک گئے  تعظیمی سجدہ کیا اور ان پر خداوند کا جلال ظاہر ہوا۔

7 خداوند نے  موسیٰ سے  بات کی اس نے  کہا۔

8″ اپنے  بھائی ہا رون اور لوگوں کے  مجمع کو ساتھ لو اور اُس چٹان تک جاؤ اپنی چھڑی کو بھی لو۔ لوگوں کے  سامنے  چٹان سے  بات کرو تب چٹان سے  پانی بہے  گا اور تم وہ پانی اپنے  لوگوں اور جا نوروں کو دے  سکتے  ہو۔”

9 چھڑی خداوند کے  مقدس خیمہ میں تھی۔ موسیٰ نے  خداوند کے  کہنے  کے  مطابق چھڑی لی۔

10 تب اس نے  اور ہارون نے  لوگوں کو چٹان کے  سامنے  جمع کیا۔ تب موسیٰ نے  کہا،”تم لوگ ہمیشہ شکایت کرتے  ہو اب میری بات سُنو۔ کہا ہم اس چٹان سے  تمہارے  لئے  پانی بہائیں گے۔”

11 موسیٰ نے  اپنی چھڑی اٹھائی اور چٹان پر دو مرتبہ چھڑی  ماری۔ چٹان سے  پانی سے  بہنے  لگا۔ تمام لوگوں اور جانوروں نے  پانی پیا۔

12 لیکن خداوند نے  موسیٰ اور ہا رون سے  کہا” تم نے  مجھ پر یقین نہیں کیا اور بنی اسرائیلیوں کی  موجود گی میں مجھے  عزت نہیں بخشی، اس لئے  تم ان لوگوں کو اس ملک میں نہیں لے  جا پاؤ گے  جو  میں نے انہیں دینے  کا وعدہ کیا ہے۔ تم نے  لوگوں کو یہ نہیں بتا یا کہ تم نے  مجھ پر بھروسہ کیا میں ان لوگوں کو وہ ملک دوں گا جو  میں نے  دینے  کا وعدہ کیا ہے۔ لیکن اس ملک میں ان کو پہنچانے  والے  نہیں ہو گے۔”

13 اس جگہ کو مریبہ کا پانی کہا جاتا تھا۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں بنی اسرائیلیوں نے  خداوند کے  ساتھ بحث کی اور یہ وہ جگہ تھی جہاں خداوند نے  یہ دکھا یا کہ وہ مقدس تھی۔

14 جب موسیٰ قادس میں تھے  اس نے  کچھ آ دمیوں کو ادوم کے  بادشاہ کے  پاس پیغام کے  ساتھ بھیجا۔ پیغام یہ تھا :”تمہارے  بھائی بنی اسرائیل تم سے  یہ کہتے  ہیں، تم جانتے  ہو کہ ہم لوگوں نے  کتنی مشکلیں سہی ہیں۔

15 کئی سال پہلے  ہمارے  آباء و اجداد مصر چلے  گئے  تھے  اور ہم لوگ وہاں ان کے  پاس کئی سال رہے  مصر کے  لوگ ہم لوگوں کے  ساتھ ظلم کرتے  تھے۔

16 لیکن ہم لوگوں نے  خداوند سے  مدد کے  لئے  دُعا کی خداوند نے  ہم لوگوں کی دعا سنی۔ اور انہوں نے  ہم لوگوں کی مدد کے  لئے  ایک سفیر بھیجا خداوند ہم لوگوں کو مصر سے  باہر لا یا ہے۔” اب ہم لوگ یہاں قادس میں ہیں جہاں سے  تمہارا ملک شروع ہوتا ہے۔

17 مہربانی فرما کر اپنے  ملک سے  ہو کر ہم لوگوں کو سفر کرنے  دیں! ہم لوگ کسی کھیت یا انگور کے  باغ سے  ہو کر نہیں جائیں گے۔ ہم لوگ تمہارے  کسی کنوئیں سے  پانی نہیں پئیں گے۔ ہم لوگ صرف شاہراہوں سے  سفر کریں گے۔ ہم شاہراہوں کو چھوڑ کر دائیں یا بائیں نہیں بڑھیں گے۔ ہم لوگ اس وقت تک شاہراہ پر ہی رہیں گے  جب تک کہ تمہارے  علا قے  کو پار نہیں کر جا تے۔”

18 لیکن بادشاہ ادوم نے  جواب دیا”تم ہمارے  ملک سے  ہو کر سفر نہیں کر سکتے۔”اگر تم ہمارے  ملک سے  ہو کر سفر کرنے  کا خیال کرتے  ہو تو ہم لوگ آئیں گے  اور تم سے  تلواروں سے  لڑیں گے۔”

19 بنی اسرائیلیوں نے  جواب دیا”ہم لوگ اصل راستہ سے  سفر کریں گے  اگر ہم لوگ یا ہمارے  جانور سفر کے  دوران تمہارا تھوڑا بھی پانی پی لیں تو ہم لوگ اس کی قیمت ادا کریں گے۔ ہم لوگ صرف تمہارے  ملک سے  پیدل چل کر پار جانا چاہتے  ہیں اس سے  زیادہ اور کچھ نہیں چاہتے۔”

20 لیکن ادوم نے   جواب دیا”ہم اپنے  ملک سے  ہو کر تمہیں نہیں جانے  دیں گے۔”تب ادوم کے  بادشاہ نے  ایک بڑی اور طاقتور فوج جمع کی اور بنی اسرائیلیوں سے  لڑنے  کے  لئے  نکل پڑا۔

21 ادوم کے  بادشاہ نے  بنی اسرائیلیوں کو اپنے  ملک سے  سفر کرنے  سے  روک دیا اور بنی اسرائیل مُڑے  اور دوسرے  راستے  سے  چل پڑے۔

22 سبھی بنی اسرائیلیوں نے  قادِس سے  ہور پہاڑ تک سفر کیا۔

23 ہور پہاڑ ادوم کی سرحد پر تھا۔ خداوند نے  موسیٰ اور ہا رون سے  کہا۔

24″ہا رون کو اپنے  آباء و اجداد کے  ساتھ جا نا ہو گا یہ اس ملک میں نہیں جائے  گا جسے  دینے  کے  لئے  میں نے  بنی اسرائیلیوں سے  وعدہ کیا ہے۔ موسیٰ! میں تم سے  یہ کہتا ہوں کیونکہ تم اور ہارون نے  مریبہ کے  پانی کے  بارے  میں میرے  دیئے    حکم کی پوری طرح تعمیل نہیں کی۔

25″ہا رون اور اس کے  بیٹے  الیعزر کو ہور پہاڑ پر لاؤ۔

26 ہا رون کے  خاص لباس کو اس سے  لے  لو اور اس لباس کو اس کے  بیٹے  الیعزر کو پہناؤ۔ ہا رون وہاں پہاڑ پر وفات پائیں گے  اور وہ اپنے  آباء و اجداد کے  ساتھ ہو جائیں گے۔”

27 موسیٰ نے  خداوند کے  حکم کی تعمیل کی موسیٰ ہا رون اور الیعزر  ہور پہاڑ پر گئے  سبھی بنی اسرائیلیوں نے  انہیں جاتے  دیکھا۔

28 موسیٰ نے  ہا رون کے  لباس کو اتار لیا اور وہ لباس کو ہا رون کے  بیٹے  الیعزر کو پہنا یا۔ تب ہا رون پہاڑ کی چوٹی پر مر گیا۔ موسیٰ اور الیعزر پہاڑ سے  اتر آئے۔

29 تب سبھی بنی اسرائیلیوں نے  جانا کہ ہا رون مر گیا اس لئے  اسرائیل کے  ہر آدمی نے  ۳۰ دن تک سوگ منایا۔

 

 

 

 

باب:   21

 

 

1 عراد کنعانی باد شاہ نیگیو ریگستان میں رہتا تھا۔ اس نے  سُنا کہ بنی اسرائیل ا تھا رِم کو جانے  وا لی سڑک سے  آ رہے  ہیں۔ اس لئے  بادشاہ باہر نکلا اور بنی اسرائیلیوں پر حملہ کر دیا۔ اس نے  کچھ کو پکڑ لیا اور انہیں قیدی بنا یا۔

2 تب بنی اسرائیلیوں نے  خداوند سے  خاص وعدہ کیا:”اے  خداوند اُن لوگوں کو شکست دینے  میں ہماری مدد کر انہیں ہما رے  حوالے  کر اگر تو ایسا کرے  گا تو ہم اُن کے  شہروں کو پوری طرح تباہ کر دیں گے۔”

3 خداوند نے  بنی اسرائیلیوں کی دُعا سُنی۔ اور خداوند نے  بنی اسرائیلیوں سے  کنعانی لوگوں کو شکست دلوا ئی۔ بنی اسرائیلیوں نے  کنعانی لوگوں اور اُن کے  شہروں کو پوری طرح تباہ کر دیا۔ اس لئے  اُس کا نام”حُرمہ” (مکمل تباہی) پڑا۔

4 بنی اسرائیلیوں نے  ہور پہاڑ کو چھوڑا اور بحیرہ احمر کے  کنا رے  کنا رے  چلے۔ انہوں نے  ایسا اس لئے  کیاتا کہ وہ ادوم کہی  جانے  وا لی جگہ کی چاروں طرف جا سکیں۔ لیکن لوگوں کو صبر نہیں تھا۔ جس وقت وہ چل رہے  تھے  اس وقت وہ لمبے  سفر کے  خلا ف شکایت کرنا شروع کئے۔

5 لوگوں نے  خدا اور موسیٰ کے  خلاف باتیں کیں۔ لوگوں نے  کہا،” تم ہمیں مصر سے  باہر کیوں لائے  ہو؟ ہم لوگ یہاں ریگستان میں مر جائیں گے۔ یہاں روٹی نہیں ملتی۔ یہاں پانی نہیں ہے  اور ہم لوگ اس خراب کھانے  سے  نفرت کرتے  ہیں۔”

6 اس لئے  خداوند نے  لوگوں کے  درمیان زہریلے  سانپ بھیجے۔ سانپوں نے  لوگوں کو ڈسا اور ان میں سے  بہت سے  لوگ مر گئے۔

7 لوگ موسیٰ کے  پاس آئے  اور اس سے  کہا،” ہم جانتے  ہیں کہ جب ہم نے  خداوند اور تمہارے  خلاف شکایت کی تو ہم نے  گناہ کیا۔ خداوند سے  دعا کرو اس سے  کہو اُن سانپوں کو دور کرے۔” اس لئے  موسیٰ نے  لوگوں کے  لئے  دعا کی۔

8 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،” ایک کانسہ کا سانپ بناؤ اور اسے  ایک اونچے  ڈنڈے  پر رکھو۔ اگر کسی آدمی  کو سانپ کاٹے  تو اس آدمی  کو ڈنڈے  کے  اوپر کانسہ کے  سانپ کو دیکھنا چاہئے۔ تب وہ آدمی  نہیں مرے  گا۔”

9 اس لئے  موسیٰ نے  خداوند کی بات مانی اور ایک کانسہ کا سانپ بنا یا اور اسے  ایک ڈنڈے  پر رکھا۔ پھر جب کسی آدمی  کو سانپ کاٹتا تھا تو وہ ڈنڈے  کے  اوپر کے  سانپ کو دیکھتا تھا اور زندہ رہتا تھا۔

10 بنی اسرائیل سفر کرتے  رہے۔ اوبوت نامی جگہ پر خیمہ ڈالا۔

11 تب لوگوں نے  اوبوت سے  عیّ عباریم تک کا سفر کیا جو کہ موآب کی  مشرقی سرحد پر ہے  اور وہیں خیمہ لگایا۔

12 تب لوگوں نے  اس جگہ کو چھوڑا اور زرد وادی تک سفر کئے  اور وہاں خیمہ ڈالا۔

13 تب لوگوں نے  ارنون ندی کو پار کیا۔ اور انہوں نے  اس علا قے  کے  قریب خیمہ ڈالا۔ یہ عموریوں کے  قریب ریگستان میں تھا۔ ارنون ندی موآب اور عموری لوگوں کی سرحد تھی۔

14 یہی وجہ ہے  کہ خداوند کے  جنگ کی کتاب میں یہ الفا ظ لکھے  :

15 اور عار قصبہ تک جانے  وا لی وادی کے  کنا رے  کی پہاڑیاں۔ یہ ساری جگہیں موآب کی سرحد پر ہیں۔”

16 بنی اسرائیلیوں نے  اس جگہ کو چھوڑا اور انہوں نے  بیر ( کنواں ) تک کا سفر کیا۔ یہ ایک کنواں تھا جس کے  بارے  میں خداوند نے  موسیٰ سے  کہا :” یہاں تمام لوگوں کو جمع کرو اور میں انہیں پانی دوں گا۔”

17 تب بنی اسرائیلیوں نے  یہ گیت گایا :

18 عظیم لوگوں نے  یہ کنواں کھودا۔ عظیم قائدین نے  اس کنویں کو کھودا۔ انہوں نے  اسے  اپنی چھڑ یوں اور ڈنڈوں سے  کھودا۔ یہ ریگستان کی طرف سے  ایک تحفہ ہے ”

19 اس کے  بعد لوگوں نے ” متنہ” سے  نحلی ایل تک کا سفر کئے  تب انہوں نے  نحلی ایل سے  بامات کا سفر کئے۔

20 لوگوں نے  بامات سے  موآب کے  میدان میں وادی تک سفر کیا۔ اس جگہ پر پسگہ پہاڑ کی چوٹی ریگستان کے  اوپر دکھائی دیتی ہے۔

21 بنی اسرائیلیوں نے  کچھ آدمیوں کو عموری بادشاہ سیحون کے  پاس بھیجا اُن لوگوں نے  بادشاہ سے  کہا،

22″ اپنے  ملک سے  ہو کر ہمیں سفر کرنے  دو ہم لوگ کھیت یا انگور کے  باغ سے  ہو کر نہیں جائیں گے۔ ہم تمہارے  کسی کنویں سے  پانی نہیں پئیں گے  ہم لوگ صرف شاہی راستہ سے  سفر کریں گے۔ ہم لوگ تب تک اس سڑک پر ہی ٹھہریں گے  جب تک ہم لوگ تمہارے  ملک سے  ہو کر سفر پو را نہیں کر لیتے۔”

23 لیکن بادشاہ سیحون نے  بنی اسرائیلیوں کو اپنے  ملک سے  ہو کر سفر کرنے  کی اجازت نہیں دی۔ بادشاہ نے  اپنی فوج جمع کی اور ریگستان کی طرف چل پڑا وہ بنی اسرائیلیوں کے  خلا ف حملہ کر رہا تھا۔ یہض نام کی ایک جگہ پر بادشاہ کی فوج نے  بنی اسرائیلیوں کے  ساتھ جنگ کی۔

24 لیکن بنی اسرائیلیوں نے  بادشاہ کو مار ڈالا تب انہوں نے  ارنون کی ندی سے  لے  کر یبّوق تک قبضہ کر لیا۔ اس سلطنت میں بنی اسرائیلیوں نے  عمّون سلطنت کی سرحد تک زمین پر بھی قبضہ کر لیا۔ انہوں نے  اور زیادہ علاقہ پر قبضہ نہیں جمایا کیونکہ عمّونی لوگوں کی سرحد بہت مضبوط تھی۔

25 لیکن اسرائیل نے  عموری لوگوں کے  تمام شہروں پر قبضہ کر لیا اور ان میں بس گئے انہوں نے  حسبون شہر تک کے  اور اس کے  چاروں طرف کے  چھوٹے  چھوٹے  شہروں کو بھی شکست دی۔

26 حسبون وہ شہر تھا جس میں بادشاہ سیحون رہتا تھا۔ اس کے  پہلے  سیحون نے  موآب کے  بادشاہ کو شکست دی تھی۔ اور سیحون نے  ارنون کی ندی تک سارے  ملک پر قبضہ کر لیا تھا۔

27 یہی وجہ ہے  کہ گلو کار گیت گاتے  ہیں : آؤ! حسبون کو بنا یا جائے ، سیحون کے  شہر کو قائم کیا جائے۔

28 کیونکہ حسبون سے  آ گ باہر چلی گئی، سیحون شہر سے  شعلے  باہر چلے  گئے۔ آ گے  موآب کے  عار شہر کو اور ارنون کے  پہاڑی خداؤں کو تباہ کر دیا۔

29 اے  موآب! یہ تمہارے  لئے  بُرا ہے۔ کموس کے  لوگ تباہ کر دیئے  گئے  ہیں۔ اس کے  بیٹے  بھا گ کھڑے  ہوئے۔ عموری لوگوں کے  بادشاہ سیحون نے  ان کی بیٹیوں کو قیدی بنا یا۔

30 لیکن ہم نے  اُن عموریوں کو شکست دی۔ ہم نے  ان کے  حسبون سے  دیبون تک، میدیا کے  قریب شام سے  نفح تک شہروں کو مٹا یا۔

31 اس لئے  بنی اسرائیل عموریوں کے  ملک میں بس گئے۔

32 موسیٰ نے  جاسوسوں کو یعزیر شہر پر نگرانی کے  لئے  بھیجا۔ موسیٰ کے  ایسا کرنے  کے  بعد بنی اسرائیلیوں نے  اُس شہر پر قبضہ کر لیا۔ انہوں نے  اس کے  چاروں طرف کے  چھوٹے  چھوٹے  شہر پر بھی قبضہ جما یا۔ بنی اسرائیلیوں نے  اس جگہ پر رہنے  والے  عموریوں کو وہ جگہ چھوڑنے  پر دباؤ ڈالا۔

33 تب بنی اسرائیلیوں نے  بسن کی طرف جانے  وا لی سڑک پر سفر کیا۔ بسن کے  باد شاہ عوج نے  اپنی فوج اور بنی اسرائیلیوں کا مقابلہ کرنے  نکلا وہ ادر عی نام کے  علاقے  میں اُن کے  خلاف لڑا۔

34 لیکن خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،” اُس بادشاہ سے  مت ڈرو۔ میں تمہارے  ذریعے  اس کو شکست دوں گا۔ تم اس کی پوری فوج اور ملک کو حاصل کرو گے۔ تم اس کے  ساتھ وہی کرو جو تم نے  عموری بادشاہ سیحون کے  ساتھ کیا جو حسبون میں رہتا تھا۔”

35 بنی اسرائیلیوں نے  عوج کے  لوگوں اور اس کی فوجوں کو شکست دی۔ ان کے  تمام فوجوں اور بیٹوں کو شکست دے  دی گئی تھی کوئی بھی زندہ باقی نہیں بچا تھا۔ اس طرح سے  بنی اسرائیلیوں نے  اس پو رے  ملک پر قبضہ کر لیا۔

 

 

 

 

باب:   22

 

 

1 تب بنی اسرائیلیوں نے  موآب کے  میدان کا سفر کیا۔ انہوں نے  یردن ندی کے  پار یریحو کے  قریب خیمہ ڈالا۔

2 عموری لوگوں کے  ساتھ بنی اسرائیلیوں نے  جو کچھ کیا تھا صفور کے  بیٹے  بلق نے  اسے  دیکھا تھا۔ اور مو آب بہت زیادہ ڈرا ہوا تھا کیونکہ وہاں اسرائیل کے  بہت لوگ تھے۔ موآب بنی اسرائیلیوں سے  بہت ڈرا ہوا تھا۔

3

4 موآب کے  قائدین نے  مدیان کے  بزرگوں سے  کہا”لوگوں کا یہ بڑا گروہ ہمارے  چاروں طرف کی تمام چیزوں کو اس طرح تباہ کر دے  گا جیسے  کوئی گائے  میدان کی گھاس چرجا تی ہے۔”اس وقت صفور کا بیٹا بلق موآب کا بادشاہ تھا۔

5 اس نے  کچھ آدمیوں کو بعور کے  بیٹے  بلعام کو بُلانے  کے  لئے  بھیجا۔ بلعام ندی کے  قریب فتور نام کے  علا قے  میں تھا۔ بلق نے  کہا”لوگوں کی ایک نئی قوم مصر سے  آئی ہے۔ وہ اتنی زیادہ ہیں کہ پو رے  ملک میں پھیل سکتی ہیں۔ انہوں نے  ٹھیک ہمارے  پاس خیمہ ڈالا ہے۔

6 آؤ اور میری خاطر ان پر لعنت کرو کیونکہ وہ ہم سے  زیادہ طاقتور ہیں۔ تب میں ان لوگوں کو ہر اساں کروں گا اور انہیں ملک سے  باہر پھینک دوں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تم جس کسی کو بھی دعا دو گے  وہ برکت و فضل پائے  گا۔ اور جس کسی کو لعنت دو گے  وہ ملعون ہو گا۔”

7 موآب اور مدیان کے  بزرگ بلعام سے  بات چیت کرنے  گئے۔ وہ  اس کی خدمت کے  لئے  اپنے  ساتھ رقم اسے  دینے  کیلئے  لے  گئے  تب ان لوگوں نے  اسے  وہ سب کچھ بتا یا جو بلق نے  کہا تھا۔

8 بلعام نے  ان سے  کہا”یہاں رات رکو۔ میں خداوند سے  باتیں کروں گا۔ اور جو جواب وہ مجھے  دے  گا وہ تم سے  کہوں گا۔ اس لئے  اس رات موآبی لوگوں کے  قائد اس کے  ساتھ ٹھہرے۔

9 خدا بلعام کے  پاس آیا اور اس نے  پو چھا”تمہارے  ساتھ یہ کون لوگ ہیں؟”

10 بلعام نے  خدا سے  کہا”موآب کے  بادشاہ صفور کا بیٹے بلق نے  انہیں مجھے ایک پیغام دینے  کو بھیجا ہے۔

11 پیغام یہ ہے  :لوگوں کی ایک نئی قوم مصر سے  آئی ہے۔ وہ تعداد میں اتنی زیادہ ہیں کہ تمام ملک میں پھیل سکتی ہیں۔ اس لئے  آؤ اور میرے  لئے  ان پر لعنت کرو۔ تب ممکن ہے  کہ ان سے  لڑنے  میں کامیاب ہو سکوں۔ اور اپنے  ملک کو چھوڑنے  کے  لئے  اُن پر دباؤ ڈال سکوں۔”

12 لیکن خدا نے  بلعام سے  کہا” اُن کے  ساتھ مت جاؤ۔ تمہیں ان لوگوں پر لعنت نہیں کرنی چاہئے۔ کیونکہ ان پر میرا فضل و کرم ہے۔”

13 دوسرے  دن صبح بلعام اُٹھا اور بلق کے  قائدین سے  کہا”اپنے  ملک کو وا پس جاؤ۔ خداوند مجھے  تمہارے  ساتھ جانے  نہیں دے  گا۔”

14 اس لئے  موآبی قائدین بلق کے  پاس وا پس گئے  اور اس سے  انہوں نے  یہ باتیں کیں۔ انہوں نے  کہا”بلعام نے  ہم لوگوں کے  ساتھ آنے  سے  انکار کر دیا۔”

15 اس لئے  بلق نے  دوسرے  قائدین کو بلعام کے  پاس بھیجا اُس بار اُس نے  پہلی بار کے  مقابلہ میں بہت زیادہ آدمی  بھیجے  اور یہ قائد پہلی بار کے  قائدین کے  مقابلہ میں بہت زیادہ اہم تھے۔

16 وہ بلعام کے  پاس گئے  اور انہوں نے  اس سے  کہا” صفور کا بیٹا بلق تم سے  کہتا ہے  : مہربانی کر کے  یہاں آنے  سے  کسی کو روکنے  نہ دو۔

17 جو میں تم سے  مانگتا ہوں اگر تم وہ کرو گے  تو میں تمہیں بہت زیادہ معاوضہ دوں گا۔ آؤ ان لوگوں پر لعنت کرو اور میری مدد کرو۔”

18 لیکن بلعام نے  اُن لوگوں کو جواب دیا اس نے  کہا” مجھے  خداوند اپنے  خدا کا حکم ماننا چاہئے۔ میں اس کے  حکم کے  خلا ف کچھ نہیں کر سکتا۔ میں بڑا چھوٹا کچھ بھی اس وقت تک نہیں کر سکتا جب تک خداوند نہیں کہتا کہ اگر بادشاہ بلق اپنے  سونے  چاندی بھرے  خوبصورت گھر دے  تو بھی اپنے  خداوند کے  خلا ف کچھ نہیں کروں گا۔

19 لیکن تم بھی ان دوسرے  لوگوں کی طرح آج کی رات یہاں ٹھہر سکتے  ہو اور میں رات میں معلوم کروں گا کہ وہ مجھے  اور کچھ کہتا ہے۔”

20 اس رات خدا بلعام کے  پاس آیا۔ خدا نے  کہا”یہ لو گ تمہیں اپنے  ساتھ لے  جانے  کے  لئے  پھر سے  بُلانے  آ گئے  ہیں۔ اس لئے  تم ان کے  ساتھ جا سکتے  ہو لیکن تم صرف وہی کرو جو میں تم سے  کرنے  کو کہوں۔”

21 دوسری صبح بلعام اٹھا اور اپنے  گدھے  پر زین رکھی۔ تب وہ مو آبی قائدین کے  ساتھ گیا۔

22 بلعام اپنے  گدھے  پر سوار تھا اس کے  خادموں میں سے  دو اس کے  ساتھ تھے۔ جب بلعام سفر کر رہا تھا خدا اس پر غصّہ میں آ گیا۔ اس لئے  خداوند کا فرشتہ بلعام کے  سامنے  سڑک پر کھڑا ہو گیا۔ فرشتہ بلعام کو رو کنے  جا رہا تھا۔

23 بلعام کے  گدھے  نے  خداوند کے  فرشتہ کو سڑک پر کھڑا دیکھا۔ فرشتہ کے  ہاتھ میں ایک تلوار تھی۔ اس لئے  گدھا سڑک سے  مُڑا اور کھیت میں چلا گیا۔ بلعام فرشتہ کو نہیں دیکھ سکتا تھا اس لئے  وہ گدھے  پر بہت غصّہ کیا۔ اس نے  گدھے  کو مارا اور اسے  سڑک پر لوٹنے  پر مجبور کیا۔

24 بعد میں خداوند کا فرشتہ دوسری جگہ پر کھڑا ہوا جہاں سڑک تنگ ہو گئی تھی۔ یہ دو انگور کے  باغوں کے  درمیان کی جگہ تھی۔ وہاں سڑک کے  دونوں جانب دیواریں تھی۔

25 گدھے  نے  خداوند کے  فرشتے  کو پھر دیکھا۔ اس لئے  گدھا ایک دیوار سے  سٹ کر نکلا۔ اس سے  بلعام کا پیر دیوار سے  چھِل گیا۔ اس لئے  بلعام نے  اپنے  گدھے  کو پھر مارا۔

26 اس کے  بعد خداوند کا فرشتہ دوسری جگہ پر کھڑا ہوا۔ یہ دوسری جگہ تھی جہاں سڑک تنگ ہو گئی تھی۔ وہاں کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں گدھا مُڑ سکے۔ دائیں یا بائیں نہیں مُڑ سکتا تھا۔

27 گدھے  نے  خداوند کے  فرشتے  کو دیکھا اس لئے  گدھا بلعام کو اپنی پیٹھ پر لئے  ہوئے  زمین پر بیٹھ گیا۔ بلعام گدھے  پر بہت غصّہ میں تھا اس لئے  اس نے  اپنے  ڈنڈے  سے  اسے  پیٹا۔

28 تب خداوند نے  گدھے  کو بولنے  کی قوت دی” گدھے نے   بلعام سے  کہا تم مجھ پر کیوں غصّہ میں ہو؟ میں نے  تمہارے  ساتھ کیا کیا ہے ؟ تم نے  مجھے  تین بار مارا ہے۔”

29 بلعام نے  گدھے  کو جواب دیا”تم نے  دوسروں کی نظر میں مجھے  بے  وقوف بنا یا ہے  اگر میرے  ہاتھ میں تلوار ہو تی تو میں ابھی تمہیں مار ڈالتا۔”

30 لیکن گدھے  نے  بلعام سے  کہا،” میں تمہارا اپنا گدھا ہوں جس پر تم کئی برسوں سے  سواری کرتے  ہو اور تم جانتے  ہو کہ میں نے  ایسا اِس سے  پہلے  کبھی نہیں کیا ہے۔” یہ صحیح ہے ” بلعام نے  کہا۔

31 تب خداوند نے  بلعام کو سڑک پر کھڑے  فرشتہ کو دکھایا۔ بلعام نے  خداوند کا فرشتہ اور اس کی تلوار کو دیکھا تب بلعام نے  اپنا سر زمین کی طرف جھکا یا۔

32 تب خداوند کا فرشتہ بلعام سے  پو چھا”تم نے  اپنے  گدھے  کو تین بار کیوں مارا؟ میں خود تم کو روکنے  آیا ہوں کیونکہ تیرا راستہ میرے  بر خلا ف ہے۔

33 تیرے  گدھے  نے  مجھے  دیکھا اور وہ تین بار مجھ سے  مُڑا۔ اگر گدھا مُڑا نہ ہوتا تو میں تم کو مار ڈالا ہو تا۔ لیکن میں تمہارے  گدھے  کو نہیں مارتا۔”

34 تب بلعام نے  خداوند کے  فرشتے  سے  کہا،” میں نے  گناہ کیا ہے۔ میں یہ نہیں جانتا تھا کہ تم سڑک پر کھڑے  ہو۔ اگر میں بُرا کر ہا ہوں تو میں گھر واپس ہو جاؤں گا۔”

35 خداوند کے  فرشتے  نے  بلعام سے  کہا” نہیں! تم ان لوگوں کے  ساتھ جا سکتے  ہو۔ لیکن ہوشیار رہو۔ وہی باتیں کہو جو میں تم سے  کہنے  کے  لئے  کہوں گا۔ اس لئے  بلعام بلق کے  بھیجے  گئے  قائدین کے  ساتھ گیا۔

36 بلق نے  سُنا کہ بلعام آ رہا ہے  اس لئے  بلق اس سے  ملنے  کے  لئے  ارنون کی سرحد پر موآبی شہر کو گیا۔ یہ اس کے  ملک کا کو نہ تھا۔

37 جب بلق نے  بلعام کو دیکھا تو اس نے  بلعام سے  کہا” میں نے  اس سے  پہلے  تم کو آنے  کے  لئے  کہا تھا اور یہ بھی بتا یا تھا کہ یہ انتہائی اہم ہے۔ تم ہمارے  پاس کیوں نہیں آئے ؟ کیا یہ سچ ہے  کہ میں تجھے  معاوضہ یا انعام دینے  کے  قابل نہیں ہوں؟”

38 لیکن بلعام نے  جواب دیا” میں اب تمہارے  پاس آیا ہو ں۔ لیکن میں ڈرتا ہوں کہ میں شاید وہ نہ کر سکوں جو تم مجھ سے  کرنے  کی امید رکھتے  ہو۔ میں صرف وہی باتیں تم سے  کہہ سکتا ہوں جو خداوند خدا مجھ سے  کہنے  کو کہتا ہے ”

39 تب بلعام بلق کے  ساتھ قریہ حصریت کو گیا۔

40 بلق نے  کچھ مویشی اور کچھ بھیڑ یں قربانی کے  لئے  ذبح کیں۔ اس نے  کچھ گوشت بلعام اور کچھ اس کے  ساتھ کے  قائدین کو دیا۔

41 اگلی صبح بلق بلعام کو بامات بعل شہر لے  گیا۔ اس جگہ سے  وہ بنی اسرائیلیوں کی چھاؤنی کے  سب سے  نزدیکی حصّے  کو دیکھ سکتے  تھے۔

 

 

 

باب:   23

 

 

1 بلعام نے  کہا”یہاں سات قربان گا ہیں بناؤ اور میرے  لئے  سات بیل اور سات مینڈھے  تیار کرو۔”

2 بلق نے  وہ سب کیا جو بلعام نے  کہا تھا۔ تب بلعام نے  ہر ایک قربان گاہ پر ایک بیل اور ایک مینڈھے  کی قربانی کی۔

3 تب بلعام نے  بلق سے  کہا”اُس قربان گاہ کے  نزدیک ٹھہرو۔ میں دُوسری جگہ جاتا ہوں ہو سکتا ہے  خداوند وہاں آئے  اور مجھے  اطلاع دے  کہ مجھے  کیا کہنا چاہئے  تب میں تجھے  بتاؤں گا۔”تب بلعام ایک اُونچی جگہ پر گیا۔

4 خدا اُس جگہ پر بلعام کے  پاس آیا اور بلعام نے  کہا”میں نے  سات قربان گاہیں تیّار کیں اور میں نے  ہر ایک قربان گاہ پر ایک بیل اور ایک مینڈھے  کی قربانی پیش کی۔”

5 تب خداوند نے  بلعام کو وہ بتایا جو اُسے  کہنا چاہئے۔ تب خداوند نے  کہا”بلق کے  پاس جاؤ اور وہ باتیں کہو جو میں نے  کہنے  کے  لئے  بتائی ہیں۔”

6 اِس لئے  بلعام بلق کے  پاس واپس آیا۔ بلق جب قربان گاہ کے  پاس کھڑا تھا اور موآب کے  تمام قائدین اُس کے  ساتھ کھڑے  تھے۔

7 تب بلعام نے  اپنا پیغام سنایا :موآب کے  بادشاہ بلق نے  مجھے  ارام(سیریا) سے  بُلایا۔ مشرق کی پہاڑ سے  بلق نے  مجھ سے  کہا” آؤ اور میرے  لئے  یعقوب کے  خلاف کہو۔ آؤ اور بنی اسرائیلیوں کے  خلاف کہو۔”

8 خدا اُن کے  خلاف نہیں ہے  میں بھی ان کے  خلاف نہیں کہہ سکتا خداوند نے  ان کا برا ہونے  کے  لئے  نہیں کہا ہے  میں بھی ویسا نہیں کر سکتا۔

9 میں اُن لوگوں کو پہاڑ پر سے  دیکھتا ہوں۔ میں ایسے  لوگوں کو دیکھتا ہوں جو اکیلے  رہتے  ہیں۔ وہ لوگ اپنے  آپ  کو قوموں کا  حصّہ نہیں مانتے۔

10 یعقوب کے  لوگوں کو کون گِن سکتا ہے۔ وہ دھول کے  ذراّت سے  بھی زیادہ ہیں۔ بنی اسرائیلیوں کی چوتھائی کو بھی کوئی گِن نہیں سکتا۔ مجھے  ایک اچھے  آدمی  کی طرح مرنے  دو۔ میرا خاتمہ ان کی طرح ہونے  دو۔

11 بلق نے  بلعام سے  کہا”تم نے  ہمارے  لئے  کیا کیا ہے ؟ میں نے  تم کو اپنے  دشمنوں پر لعنت کرنے  کے  لئے  بُلایا تھا لیکن اس کے  بجائے  تم نے  انہیں دعا دی۔”

12 لیکن بلعام نے  جواب دیا،” مجھے  وہی کہنا چاہئے  جو خداوند مجھ سے  کہلوانا چاہتا ہے۔”

13 لیکن بلق نے  کہا،” اس لئے  میرے  ساتھ دوسری جگہ پر آؤ اس جگہ سے  تم لوگوں کو دیکھ سکتے  ہو۔ لیکن تم ان کے  ایک حصّہ کو ہی دیکھ سکتے  ہو۔ تم سبھی کو نہیں دیکھ سکتے۔ اور اس جگہ سے  تم میری خاطر ان پر لعنت کرو۔”

14 اِس لئے  بلق بلعام کو صوفیم کے  میدان میں لے  گیا یہ پسگہ پہاڑ کی چوٹی پر تھا۔ بلق نے  اس جگہ پر سات قربان گاہیں بنائیں۔ تب بلق نے  ہر ایک قربان گاہ پر قربانی کے  لئے  ایک بیل اور ایک مینڈھا پیش کیا۔

15 اِس لئے  بلعام نے  بلق سے  کہا”اس قربان گاہ کے  پاس کھڑے  رہو۔ میں اس جگہ پر خدا سے  ملنے  جاؤں گا۔”

16 اِس لئے  خداوند بلعام کے  پاس آیا اور اس نے  بلعام کو بتایا کہ وہ کیا کہے  تب خداوند نے  بلعام کو بلق کے  پاس واپس جانے  اور اُن باتوں کو کہنے  کو کہا۔

17 اس لئے  بلعام بلق کے  پاس گیا بلق جب قربان گاہ کے  پاس کھڑا تھا۔ موآب کے  قائد اُس کے  ساتھ تھے۔ بلق نے  اُسے  آتے  ہوئے  دیکھا اور پو چھا” خداوند نے  کیا کہا؟”

18 تب بلعام نے  یہ باتیں کہیں :”بلق کھڑے  رہو اور میری بات سنو۔ صفور کے  بیٹے  بلق میری بات سنو!

19 خدا انسان نہیں ہے۔ وہ جھوٹ نہیں کہے  گا۔ خدا انسان کا بیٹا نہیں اگر خداوند کہتا ہے  کہ وہ کچھ کرے  گا تو ضرور کرے  گا۔ اگر خداوند وعدہ کرتا ہے  تو اپنے  وعدے  کو ضرور پورا کرے  گا۔

20 خداوند نے  مجھے  انہیں دعا دینے  کا حکم دیا ہے۔ خداوند نے  اُنہیں خیر و برکت عطا کی ہے۔ اس لئے  میں اُسے  بدل نہیں سکتا۔

21 یعقوب کے  لوگوں میں کوئی قصور وار نہ تھا۔ بنی اسرائیل کوئی گناہ نہیں کئے  تھے۔ خداوند ان کا خدا ہے۔ اور وہ اُن کے  ساتھ ہے۔ اور بادشاہ کی للکار ان لوگوں کے  بیچ ہے۔

22 خدا اُنہیں مصر سے  باہر لایا۔ اِسرائیل کے  وہ لوگ جنگلی سانڈ کی طرح طاقتور ہیں۔

23 کوئی جادوئی قوّت نہیں جو یعقوب کے  لوگوں کو شکست دے  سکے۔ اِسرائیل کے  خلاف کوئی جادو استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ یعقوب اور بنی اسرائیلیوں کے  بارے  میں لوگ کہیں گے  :’دیکھو خدا کیسے  کیسے  عظیم کام کئے۔”

24 لوگ شیر ببّر کی طرح طاقتور ہوں گے۔ وہ شیر کی طرح لڑیں گے۔ وہ اس وقت تک آرام نہیں کریں گے  جب تک کہ وہ اپنے  شکار کو مار کر کھا نہ جائیں  اور اس کے  مردہ جسم سے  خون پی نہ جائیں۔”

25 تب بلق نے  بلعام سے  کہا” تم نے  اُن لوگوں کے  لئے  نہ دعا کی اور نہ ہی ان پر لعنت کی۔”

26 بلعام نے  جواب دیا میں نے  پہلے  ہی تم سے  کہہ دیا تھا”میں صرف وہی کہوں گا جو خداوند مجھ سے  کہنے  کے  لئے  کہتا ہے۔”

27 تب بلق نے  بلعام سے  کہا اس لئے  تم میرے  ساتھ دُوسری جگہ پر چلو ممکن ہے  کہ خدا خوش ہو جائے  اور تمہیں اس جگہ سے  بد دعا دینے  دے۔

28 اس لئے  بلق بلعام کو ہور پہاڑ کی چوٹی پرلے  گیا۔ یہ پہاڑ ریگستان کے  کونے  پر واقع ہے۔

29 بلعام نے  کہا”یہاں سات قربان گاہیں بناؤ تب سات سانڈ اور سات مینڈھے  قربان گاہوں پر قربانی کے  لئے  تیّار کرو۔”

30 بلق نے  وہی کیا جو بلعام نے  کہا۔ بلق نے  ہر ایک قربان گاہ پر ایک بیل اور ایک مینڈھے کی قربانی پیش کی۔

 

 

 

باب:   24

 

 

1 بلعام کو معلوم ہوا کہ خداوند اسرائیل کو فضل و برکت دینا چاہتا ہے۔ اسی لئے  بلعام کسی طرح کے  جا دو منتر کی طرف نہیں مُڑا جیسا کہ اس نے  پہلے  کیا تھا۔ بلکہ اس نے اپنا رُخ ریگستان کی طرف کر لیا۔

2 بلعام نے  ریگستان کے  پار تک دیکھا اور سبھی بنی اسرائیلیوں کو دیکھ لیا وہ الگ الگ اپنے  خاندانی گروہ کے  علا قے  میں خیمہ ڈالے  ہوئے  تھے۔ تب خدا کی روح بلعام پر آئی۔

3 اور بلعام نے  یہ الفاظ کہے  :”یہ پیغام بعور کے  بیٹے  بلعام کی طرف سے۔ میں جن چیزوں کے  متعلق کہہ رہا ہوں انہیں صاف دیکھ رہا ہوں۔

4 یہ الفا ظ ویسے ہی کہے  گئے  تھے  جیسا کہ میں نے  خدا کے  الفا ظ سنے  تھے۔ میں ان چیزوں کو دیکھ سکتا ہوں جن کی کہ خدا قادر مطلق نے  دیکھنے  کی اجازت دی ہے۔ میں ان چیزوں کا کہتا ہوں جسے  میں دیکھ سکتا ہوں۔ جب میں کھلی ہوئی آنکھوں سے  ان کے  سامنے  سجدہ کرتا ہوں۔

5″یعقوب کے  لوگو! تمہارے  خیمے  بہت خوبصورت ہیں۔ اے  بنی اسرائیلیو تمہارے  بسنے  کی جگہ بہت خوبصورت ہے۔

6 تمہارے  خیمے  وادی کی طرح ملک کے  ایک کونے  سے  دوسرے  کونے  تک پھیلے  ہوئے  ہیں۔ یہ ندی کے  کنا رے  اُگے  باغ کی طرح ہیں۔ یہ خداوند کی طرف سے  بوئی گئی فصل کی طرح ہے۔ یہ ندیوں کے  کنا رے  اُگے  دیو دار کے  خوبصورت درختوں کی طرح ہیں۔

7 تمہیں پینے  کے  لئے  ہمیشہ پانی ملے  گا۔ تمہیں فصلیں اُگانے  کے  لئے  موافق پانی ملے  گا۔ تمہارے  بادشاہ اجاج سے  بڑھ کر ہو گا۔ تیری سلطنت کو عروج حاصل ہو گا۔

8 خدا ان لوگوں کو مصر سے  باہر لا یا۔ وہ اتنے  طاقتور ہیں جیسے  کوئی جنگلی سانڈ۔ وہ اپنے  تمام دشمنوں کو شکست دیں گے۔ وہ اپنے  دُشمنوں کی ہڈیاں چور کر دیں گے۔ وہ اپنے  تیروں سے  دشمنوں کو مار ڈالیں گے۔

9″ وہ اُس شیر ببر کی طرح ہے  جو سو رہا ہے۔ کوئی آدمی  اتنی ہمت وا لا نہیں جو اسے  جگا دے۔ کوئی آدمی  جو تمہیں دعا دے  گا وہ دعا پائے  گا۔ اور کوئی آدمی  جو تمہیں لعنت دے  گا لعنت پائے  گا۔”

10 تب بلعام پر بلق بہت غصّہ ہو ا۔ بلق نے  بلعام سے  کہا” میں چاہتا ہوں کہ تم آؤ اور ہم لوگوں کے  دشمنوں پر لعنت کرو۔ لیکن تم نے  اُن کو دعا دی ہے۔ تم نے  انہیں تین بار دعا دی ہے۔

11 اب رخصت ہو اور گھر جاؤ۔ میں نے  کہا تھا کہ میں تمہیں بہت زیادہ معاوضہ دوں گا۔ لیکن خداوند نے  تمہیں انعام حاصل کرنے  سے  محروم کیا ہے۔”

12 بلعام نے  بلق سے  کہا”تم نے  آدمیوں کو میرے  پاس بھیجا۔ اُن آدمیوں نے  مجھ سے  آنے  کے  لئے  کہا لیکن میں نے  اُن سے  کہا۔

13 ‘ بلق اپنا سونے  چاندی سے  بھرا گھر مجھ کو دے  سکتا ہے  لیکن میں تب بھی صرف وہی بات کہہ سکتا ہوں۔ جسے  کہنے  کے  لئے  خداوند حکم دیتا ہے۔ میں اچھا یا بُرا بالکل کچھ نہیں کر سکتا۔ مجھے  وہی کرنا چاہئے  جو خداوند کا حکم ہو۔ ‘ کیا تمہیں یاد نہیں کہ میں نے  یہ باتیں تمہارے  لوگوں سے  کہیں؟

14 اب میں اپنے  لوگوں کے  بیچ جا رہا ہوں لیکن تم کو ایک بات کی ہدایت کر نا چاہتا ہوں۔ میں تم سے  کہنا چاہتا ہوں کہ مستقبل میں بنی اسرائیل تمہارے  لوگوں کے  ساتھ کیا کریں گے ؟”

15 تب بلعام نے  یہ باتیں کہیں” بعور کے  بیٹے  بلعام کے  یہ الفاظ ہیں : یہ اس آدمی  کے  الفاظ ہیں جو چیزوں کو صاف صاف دیکھ سکتا ہے۔

16 یہ اس آدمی  کے  الفا ظ ہیں جو خدا کی باتیں سنتا ہے۔ سچے  خدا نے  مجھے  علم دیا ہے۔ میں نے  وہ دیکھا ہے  جو  خدائے  تعالیٰ قادرِ مطلق نے  مجھے  دکھا نا چا ہا ہے۔ میں جو کچھ دیکھتا ہوں وہی سچائی کے  ساتھ کہتا ہوں۔

17″ میں خداوند کو دیکھتا ہوں لیکن اب نہیں۔ میں اس کو آتا ہوا دیکھتا ہوں لیکن جلد نہیں۔ یعقوب کے  خاندان سے  ایک ستارہ آئے  گا۔ بنی اسرائیلیوں میں سے  ایک نیا حاکم آئے  گا۔ وہ حاکم موآبی لوگوں پر ظلم کرے  گا اور اسے  مار ڈالے  گا۔ وہ حاکم شعیر کے  سبھی بیٹوں پر ظلم کرے  گا اور اسے  مار ڈالے  گا۔

18 ملک ادوم کی شکست ہو گی۔ نئے  بادشاہ کا دُشمن شعیر شکست کھا جائے  گا۔ بنی اسرائیل طاقتور ہو جائیں گے۔

19″ یعقوب کے  خاندان سے  ایک نیا حاکم آئے  گا۔ شہر میں زندہ بچے  تمام لوگوں کو تباہ کرے  گا۔”

20 تب بلعام نے  اپنے  عمالیقی لوگوں کو دیکھا اور ان سے  یہ باتیں کہیں :”سبھی قوموں میں عمالیق سب سے  پہلی قوم تھی۔ لیکن عما لیق بھی تباہ کیا جائے  گا۔”

21 تب بلعام نے  قینیوں کو دیکھا اور ان سے  یہ باتیں کہیں :”تمہیں بھروسہ ہے  کہ تمہارا ملک اسی طرح محفوظ ہے  جیسے  کسی اونچے  کھڑے  پہاڑ پر بنا گھونسلہ۔”

22 لیکن قینیو! تم تباہ کئے  جاؤ گے۔ اسور تمہیں قیدی بنائے  گا۔

23 تب بلعام نے  یہ الفاظ کہے  : کوئی آدمی  نہیں رہ سکتا جب خدا یہ کرتا ہے۔

24 پر کتّیم کے  ساحل سے  جہاز آئیں گے۔ وہ جہا ز اسور اور عبر کو شکست دیں گے۔ لیکن وہ لوگ بھی تباہ کر دئے  جائیں گے۔

25 تب بلعام اٹھا اپنے  گھر کو واپس ہو گیا اور بلق  نے بھی اپنا رستہ اختیار کیا۔”

 

 

 

باب:   25

 

 

1 بنی اسرائیل ابھی تک کاہنیا میں ٹھہرے  ہوئے  تھے۔ اس وقت وہ لوگ موآبی عورتوں کے  ساتھ جنسی گناہ کرنے  لگے۔

2 موآبی دشمنوں نے  مردوں کو آنے  اور اپنے  جھوٹے  خداؤں کو قربانی چڑھانے  میں مدد کرنے  کے  لئے  مدعو کیا۔ اس لئے  لوگوں نے  وہاں کھانا کھا یا اور جھوٹے  خداؤں کی عبادت کی۔ بنی اسرائیل اس طرح جھوٹے  خداؤں کی عبادت میں شامل ہوئے۔

3 بنی اسرائیل نے  بعل فغور کی عبادت کرنا شروع کر دی۔ اور خداوند ان پر بہت غصّہ ہوئے۔

4 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا”ان لوگوں کے  قائدین کو لاؤ۔ اب انہیں سب لوگوں کی آنکھوں کے  سامنے  مار ڈا لو۔ اور ان کی لا شوں کو سورج کی طرف رُخ کر کے  خداوند کے  سامنے  لٹکا دو۔ تب خداوند اسرائیل کے  لوگوں پر غصّہ نہیں کرے  گا۔”

5 اس لئے  موسیٰ نے  اسرائیل کے  منصفوں سے  کہا،” تم ان تمام لوگوں کو ڈھونڈ نکالو جو فغور کے  جھوٹے  خدا بعل کی عبادت میں شامل ہوئے  اور انہیں مار ڈالو۔”

6 اُس وقت موسیٰ اور اسرائیل کے  بزرگ( قائد) خیمۂ اجتماع کے  دروازہ پر ایک ساتھ جمع ہوئے  تھے۔ ایک اسرائیلی آدمی  ایک مدیانی عورت کو اپنے  بھا ئیوں کے  پاس اپنے  گھر لا یا۔ اُس نے  یہ وہاں کیا جہاں اسے  موسیٰ اور تمام قائدین دیکھ سکتے  تھے۔ موسیٰ اور قائدین خیمۂ اجتماع کے  دروازہ پر رو پڑے۔

7 کاہن ہا رون کے  پوتے  اور الیعزر کے  بیٹے  فیِنحاس نے  اسے  دیکھا اس لئے  اس نے  اجلاس چھوڑا اور اپنا بھا لا اٹھا لیا۔

8 وہ اسرائیلی آدمی  کے  پیچھے  پیچھے  اس کے  خیمہ میں گیا۔ تب اس نے  اسرائیلی مرد اور مدیانی عورت کو اپنے  بھالے  سے  مار ڈالا۔ اس نے  اپنے  بھالا ان دونوں کے  پیٹ کے  پار کر دیا۔ اس وقت بنی اسرائیلیوں میں ایک بڑی بیماری پھیلی ہوئی تھی۔ لیکن جب فیِنحاس نے  ان دونوں کو مار ڈالا تو بیماری رُک گئی۔

9 اس بیماری سے  24000 لوگ مر چکے  تھے۔

10 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا

11″ کاہن ہا رون کے  پوتے  اور الیعزر کے  بیٹے  فینحاس نے  بنی اسرائیلیوں کو میرے  غصّہ سے  بچایا۔ کیونکہ لوگوں کے  بیچ میری غیرت سے  اسے  غیرت آئی۔ اس لئے  میں نے  ان لوگوں کو پوری طرح سے  اپنی غیرت کے  جو ش میں تباہ نہیں کیا۔

12 اس لئے  فینحاس سے  کہو کہ میں اس کے  ساتھ ایک امن کا معاہدہ کرنا چاہتا ہوں۔

13 وہ اور اس کے  بعد کی نسل میرے  ساتھ ایک معاہدہ کرے  گی۔ اس کے  مطابق وہ ہمیشہ کاہن رہیں گے  کیونکہ وہ اپنے  خدا کے  لئے  غیرت مند تھا۔ اس طرح اس نے  بنی اسرائیلیوں کے  لئے  تلافی کی۔”

14 جو اسرائیلی مدیانی عورت کے  ساتھ مارا گیا تھا۔ اس کا نام زمری تھا وہ سُلو کا بیٹا تھا وہ شمعون کے  خاندانی گروہ کا قائد تھا۔

15 اور ماری گئی مدیانی عورت کا نام کزبی تھا۔ وہ صور کی بیٹی تھی وہ اپنے  خاندان کا صدر تھا۔ وہ مدیان میں ایک خاندانی گروہ کا قائد تھا۔

16 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا۔

17″مدیانی لوگ تمہارے  دشمن ہیں تمہیں ان کو مار ڈالنا چاہئے۔

18 انہوں نے  پہلے  ہی تم کو اپنا دشمن بنا لیا ہے۔ انہوں نے  تم کو دھو کہ دیا اور تم سے  اپنے  جھوٹے  خداؤں کی فغور میں عبادت کروائی اور انہوں نے  تم میں سے  غالباً ایک آدمی  کی شادی کز بی کے  ساتھ کرادی جو مدیانی قائد کی بیٹی تھی۔ یہی عورت ا س وقت ماری گئی جب اسرائیلی لوگوں میں خطرناک بیماری آئی۔ یہ بیماری اس لئے  پیدا کی گئی کیونکہ لوگ فغور میں جھوٹے  خداوند کی عبادت کر رہے  تھے۔”

 

 

 

باب:   26

 

1 بڑ ی بیماری کے  بعد خداوند نے  موسیٰ اور ہا رون کے  بیٹے  کاہن الیعزر سے  باتیں کیں۔

2 اس نے  کہا” سبھی بنی اسرائیلیوں کو گِنو۔ ہر ایک خاندان کو دیکھو اور بیس سال یا اس سے  زیادہ عمر کے  ہر ایک مرد کو گِنو۔ یہ وہ مرد ہیں جو اسرائیل کی فوج میں خدمت کرنے  کے  قابل ہیں۔”

3 اس وقت لوگ مو آب کے  میدان میں خیمہ ڈالے  تھے۔ وہ یریحو کے  نزدیک یردن ندی کے  پار خیمہ ڈالے  تھے۔ اس لئے  موسیٰ اور کاہن الیعزر نے  لوگوں سے  باتیں کیں۔

4 انہوں نے  کہا” تمہیں بیس سال یا اس سے  زیادہ عمر کے  لوگوں کو گِننا چاہئے۔ یہ وہ حکم تھا جو خداوند نے  موسیٰ کو تعمیل کرنے  کے  لئے  دیا تھا۔”یہی ان بنی اسرائیلیوں کی فہرست ہے  جو مصر سے  با ہر چلے  گئے  تھے  :

5 یہ رُوبن کے  خاندان کے  لوگ ہیں۔ یہ خاندان تھے  :

6 حصرون، حصرونی خاندان۔ کرمی، کر می خاندان۔

7 وہ خاندان رُوبن کے  خاندانی گروہ میں تھے  وہ کل ۷۳۰,۴۳ آدمی  تھے۔

8 فلو کا بیٹا اِلیاب تھا۔

9 اِلیاب کے  تین بیٹے  تھے۔ نمو ایل، داتن اور ابیرام۔ یاد رکھو داتن اور ابیرام وہ دو قائد تھے  جو موسیٰ اور ہا رون کے  خلا ف ہو گئے  تھے۔ وہ قورح کے  ساتھی تھے  اور قورح خداوند کے  خلا ف ہو گیا تھا۔

10 وہی وقت تھا جب زمین پھٹی تھی اور قورح اور اس کے  سب ساتھیوں کو نگل گئی تھی۔ اور کل ۲۵۰ مرد مر گئے  تھے۔ یہ سبھی بنی اسرائیلیوں کے  لئے  ایک انتباہ اورتا کید تھی۔

11 لیکن قورح کے  خاندان کے  دوسرے  لوگ نہیں مرے۔

12 شمعون کے  خاندانی گروہ کے  یہ خاندان تھے  :

13 زارح، زار حی خاندان۔ ساؤل، ساؤ لی خاندان۔

14 شمعون کے  خاندانی گروہ میں یہ خاندان تھے۔ اس میں کل ۲۰۰ ,۲۲ مرد تھے۔

15 جاد کے  خاندانی گروہ کے  یہ خاندان ہیں : صفون، صفونی خاندان۔ حجّی، حجّی خاندان۔ سونی، سونی خاندان۔

16 اُزنی، اُزنی خاندان۔ عیری، عیری خاندان۔

17 اُرود، اُرودی خاندان۔ اریلی، اریلی خاندان۔

18 وہ خاندان جاد کے  خاندانی گروہ میں تھے۔ اس میں کل ۵۰۰,۴۰ مردتھے۔

19 یہوداہ کے  خاندانی گروہ کے  یہ خاندان ہیں : سیلہ، سیلائی خاندان۔ فارص، فار صی خاندان۔ زارح، زارحی خاندان۔ ( یہوداہ کے  دو بیٹے  عیر اور اونان کنعان میں مر گئے  تھے۔ )

20  21 فارص کے  یہ خاندان ہیں : حصرون، حصرونی خاندان۔ حُمول، حُمو لی خاندان۔

22 وہ خاندان یہوداہ کے  خاندانی گروہ سے  تھے۔ ان کے  کُل مردوں کی تعداد ۵۰۰, ۷۶ تھی۔

23 اِشکار کے  خاندانی گروہ کے  خاندان یہ تھے  : تو لع، تو لعی خاندان۔ فوّہ، فوّ ہی خاندان۔

24 یسوب، یسو بی خاندان۔ سِمرون، سِمرونی خاندان۔

25 وہ خاندان اِشکار کے  خاندانی گروہ سے  تھے۔ ان میں سے  مردوں کی کل تعداد ۳۰۰، ۶۴ تھی۔

26 زبُولون کے  خاندانی گروہ کے  خاندان یہ تھے  : سرد، سردی خاندان۔ ایلون، ایلونی خاندان۔ یہیلی ایل، یہلی ایلی خاندان۔

27 وہ خاندان زبولون کے  خاندانی گروہ سے  تھے۔ ان میں کُل مردوں کی تعداد ۵۰۰، ۶۰ تھی۔

28 یوسف کے  دو بیٹے  منّسی اور افرا ئیم تھے۔ ہر ایک بیٹا اپنے  خاندانوں کے  ساتھ خاندانی گروہ بن گئے  تھے۔

29 منّسی کے  خاندان میں یہ تھے  : مکیر، مکیری خاندان ( مکیر جلعاد کا باپ تھا۔ ) جلعاد، جلعادی خاندان۔

30 جِلعاد کے  خاندان یہ تھے  : اِلیعزر، الیعزری خاندان۔ خلق، خلقی خاندان۔

31 اسری ایل، اسری ایلی خاندان۔ سِکم، سِکمی خاندان۔

32 سمیدع، سمیدعی خاندان۔ حِفر، حِفری خاندان۔

33 صلا فحاد حِفر کا بیٹا تھا۔ لیکن صلا فحاد کے بیٹے  نہیں تھے۔ اس کی   صرف بیٹیاں تھیں۔ اس کی بیٹیوں کے  نام محلا ہ، نو عاہ، حُجلا، مِلکاہ اور تِر ضاہ تھے۔

34 وہ سارا خاندان منّسی خاندانی گروہ میں تھا  اُن میں مردوں کی تعداد ۷۰۰, ۵۲ تھی۔

35 افرا ئیم کے  خاندانی گروہ کے  یہ خاندان تھے  : سو تلح، سو تلحی خاندان۔ بکر، بکری خاندان۔ تحن، تحنی خاندان۔

36 عیران سو تلح کے  خاندان سے  تھا۔ اس کا خاندان عیرنی تھا۔

37 وہ خاندان افرا ئیم کے  خاندانی گروہ میں تھا۔ ان میں مردوں کی کل تعداد ۵۰۰, ۳۲ تھی۔ وہ ایسے  سبھی لوگ ہیں جو یوسف کے  خاندانی گروہ کے  ہیں۔

38 بنیمین کے  خاندانی گروہ کے  خاندان یہ تھے  : بلع، بلعی خاندان۔ اشبیل، اشبیلی خاندان۔ اخیرام، اخیرا می خاندان۔

39 سُو فام، سُو فامی خاندان۔ حُو فام، حو فامی خاندان۔

40 بلع کے  خاندان میں یہ تھے  : ارد، اردی خاندان۔ نعمن، نعمانی خاندان۔

41 وہ سبھی خاندان بنیمین کے  گروہ سے  تھے۔ ان میں مردوں کی کُل تعداد ۶۰۰, ۴۵ تھی۔

42 دان کے  خاندانی گروہ میں یہ خاندان تھے  : سُو حام، سُو حا می خاندانی گروہ۔ وہ خاندان دان کے  خاندانی گروہ سے  تھے۔

43 سُو حامی خاندانی گروہ میں بہت سے  خاندان تھے  اُن میں مردوں کی کُل تعداد ۴۰۰,۶۴ تھی۔

44 آ شر کے  خاندانی گروہ کے  یہ خاندان تھے  : یمنہ، یمنی خاندان۔ اِسوی، اِسوی خاندان۔ بریعاہ، بر یعا ہی خاندان۔

45 بریعاہ کے  خاندان یہ تھے  : حِبر، حِبری خاندان۔ ملکی ایل، ملکی ایلی خاندان۔

46 ( آشر کی ایک بیٹی سارہ نام کی تھی۔ )

47 وہ خاندان آشر کے  خاندانی گروہ میں تھے۔ اس میں مردوں کی تعداد ۴۰۰, ۵۳ تھی۔

48 نفتالی کے  خاندان کے  گروہ کے  یہ خاندان تھے  : یحصی ایل، یحصی ایلی خاندان۔ جونی، جونی خاندان۔

49 یصر، یصری خاندان۔ سلیم، سلیمی خاندان۔

50 وہ خاندان نفتالی کے  خاندانی گروہ سے  تھے۔ اس میں مردوں کی تعداد۴۰۰ ,۴۵ تھی۔

51 اس طرح بنی اسرائیل کے  مردوں کی کل تعداد۷۳۰, ۰۱, ۶ تھی۔

52 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا۔

53 ہر ایک خاندانی گروہ کو زمین دی جائے  گی۔ یہ وہی ملک ہے  جس کے  لئے  میں نے  وعدہ کیا تھا۔ ہر ایک خاندانی گروہ ان لوگوں کے  لئے  زمین حاصل کرے  گا جنہیں گنا گیا۔

54 بڑا خاندانی گروہ زیادہ زمین پائے  گا۔ اور چھوٹا خاندانی گروہ کم زمین پائے  گا۔ لیکن ہر ایک خاندانی گروہ کو زمین ملے  گی جس کے  لئے  میں نے  وعدہ کیا ہے  اور جو زمین وہ پائیں گے  وہ ان کی گنی گئی تعداد کے  برا بر ہو گی۔

55 ہر ایک خاندانی گروہ کو قرعہ نکال کر زمین دی جائے  گی۔ اور وہ اپنے  خاندانی گروہوں کے  مطابق میراث پائیں گے۔

56 زمین بڑے  اور چھوٹے  ہر ایک خاندانی گروہ کو دی جائے  گی۔ اس کا فیصلہ کرنے  کے  لئے  تمہیں قرعہ ڈالنے  ہوں گے۔

57 لا وی کا خاندانی گروہ بھی گِنا گیا لا وی کے  خاندانی گروہ کے  یہ خاندان ہیں : جیر سون، جیر سونی خاندان۔ قہات، قہاتی خاندان۔ مراری، مراری خاندان۔

58 لا وی کے  خاندانی گروہ سے  یہ خاندان بھی تھے  : لبنی خاندان، حبرونی خاندان، محلی خاندان، مُوشی خاندان، قہات خاندان۔ عمرام قہات کے  خاندانی گروہ کا تھا۔

59 عمرام کی بیوی کا نام یو کبد تھا۔ وہ لا وی خاندانی گروہ کی تھی۔ اس کی باب:   مصر میں ہوئی تھی۔ عمرام اور یو کبد کے  دو بیٹے  ہا رون اور موسیٰ تھے۔ ان کی ایک بیٹی مریم بھی تھی۔

60 ہا رون، نا داب، ابیہو، الیعزر اور اِتمر کا باپ تھا۔

61 لیکن ناداب اور ابیہو مر گئے۔ وہ مر گئے  کیونکہ انہوں نے  خداوند کو آگ سے  نذر چڑھائی جو قبول نہیں ہو ئی۔

62 لا وی خاندانی گروہ کے  ایک ماہ یا اس سے  زیادہ عمر کے  نرینہ او لا دوں کی کل تعداد ۰۰۰, ۲۳ تھی۔ لیکن یہ لوگ اسرائیل کے  دوسرے  لوگوں کے  ساتھ نہیں گنے  گئے  تھے۔ وہ لوگ اس زمین کو نہیں پا سکے   جو  خداوند نے  دوسرے  لوگوں کو دینے  کا وعدہ کیا تھا۔

63 موسیٰ اور کاہن الیعزرنے  ان تمام لوگوں کو گنا۔ انہوں نے  بنی اسرائیلیوں کو مو آب کے  میدان میں گِنا۔ یہ دریائے  یردن کے  کنا رے  یر یحو کے  نزدیک تھا۔

64 بہت زمانہ پہلے  موسیٰ اور کاہن ہارون نے  بنی اسرائیلیوں کو سینائی کے  ریگستان میں گنا تھا۔ لیکن وہ سب مر چکے  تھے۔ مو آب کے  میدان میں موسیٰ نے  جن لوگوں کو گِنا وہ پہلے  گنے  گئے  لوگوں سے  مختلف تھے۔

65 یہ اس لئے  ہوا کہ خداوند نے  بنی اسرائیلیوں سے  یہ کہا تھا کہ وہ سبھی ریگستان میں مریں گے۔ صرف دو ہی آدمی  زندہ بچے  تھے  وہ یفُنّہ کا بیٹا کا لب اور نون کا بیٹا یشوع تھے۔

 

 

 

باب:   27

 

 

1 صلا فحاد حِفر کا بیٹا تھا۔ حِفر جلعاد کا بیٹا تھا۔ جِلعاد مکیر کا بیٹا تھا۔ مکیر منّسی کا بیٹا تھا۔ اور منسّی یوسف کا بیٹا تھا۔ صلا فحاد کی پانچ بیٹیاں تھیں۔ ان کے  نام محلا ہ، نو عاہ، حُجلا، مِلکاہ اور تِرضاہ تھے۔

2 یہ پانچوں عورتیں خیمۂ اجتماع میں گئیں اور موسیٰ، کاہن الیعزر، لوگوں کے  قائدین اور سب اسرائیلیوں کے  سامنے  کھڑی ہو گئیں۔ پانچوں لڑکیوں نے  کہا،

3″ ہما رے  باپ اس وقت مر گئے  جب ہم ریگستان میں سفر کر رہی تھیں۔ وہ ان لوگوں میں سے  نہیں تھے  جو قورح کے  گروہ میں شامل ہوئے  تھے۔ ( قورح وہی تھا جو خداوند کے  خلاف ہو گیا تھا۔ ) ہم لوگوں کا باپ اپنے  گناہ کے  سبب مرا۔ لیکن اس کا اپنا کوئی بیٹا نہیں تھا۔

4 اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمارے  باپ کا نام نہیں چلے  گا۔ یہ ٹھیک نہیں ہے  کہ ہمارے  باپ کا نام مٹ جائے۔ اس لئے  ہم لوگ یہ استدعا کرتے  ہیں کہ ہمیں بھی کچھ زمین دی جائے  جسے  ہما رے  باپ کے  بھائی پائیں گے۔”

5 اس لئے  موسیٰ نے  خداوند سے  پو چھا کہ وہ کیا کرے ؟

6 خداوند نے  ان سے  کہا

7″صلا فحاد کی بیٹیاں ٹھیک کہتی ہیں۔ تمہیں ان کے  چچاؤں کے  ساتھ ساتھ انہیں بھی زمین کا حصّہ ضرور دینا چاہئے  جو تم نے  ان کے  باپ کو دینا تھا۔

8″اس لئے  بنی اسرائیلیوں کے  لئے  اسے  اُصول بنا دو۔ ‘ اگر کسی آدمی  کے  بیٹے  نہ ہوں اور وہ مر جائے  تو ہر ایک چیز جو اس کی ہے  اس کی بیٹی کی ہو گی۔

9 اگر اس کی   کوئی بیٹی نہ ہو تو جو کچھ بھی اس کا ہے  اس کے  بھا ئیوں کو دیا جائے  گا۔

10 اگر اس کا کوئی بھائی نہ ہو تو جو کچھ بھی اس کا ہے  اس کے  باپ کے  بھا ئیوں کو دیا جائے  گا۔

11 اگر اس کے  باپ کا بھائی نہ ہو تو جو کچھ ا س کا ہے  اس کے  خاندان کے  قریبی رشتہ داروں کو دیا جائے  گا۔ بنی اسرائیلیوں میں اُصول ہو نا چاہئے۔ خداوند موسیٰ کو یہ حکم دیتا ہے۔ ‘

12 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا” اس پہاڑ کے  او پر چڑھو جو اعبار یم پہاڑوں  میں سے  ایک ہے۔ وہاں تم وہ ملک دیکھو گے  جو  میں نے  بنی اسرائیلیوں کو دیا ہے۔

13 جب تم اس ملک کو دیکھ لو گے  تب تم بھی اپنے  بھائی ہا رون کی طرح مر جاؤ گے۔

14 اس بات کو یاد کرو جب لوگ صین کے  ریگستان میں پانی کے  لئے  پانی کے  چشمہ پر غصّہ میں آئے  تھے۔ تم اور ہا رون دونوں نے  میرا حکم ماننا قبول نہ کیا تھا۔ تم لوگوں نے  میری عزت نہیں کی تھی۔ اور لوگوں کے  سامنے  مجھے  مقدس نہیں بتا یا تھا۔”( یہ پانی صین کے  ریگستان میں قادِس کے  مریبہ میں تھا۔ )

15 موسیٰ نے  خداوند سے  کہا

16″خداوند خدا ہے  وہی جانتا ہے  کہ لوگ کیا سوچ رہے  ہیں۔ اے  خداوند میری دُعا ہے  کہ تُو ان لوگوں کے  لئے  ایک قائد چُن۔

17 میں دُعا کرتا ہوں کہ خداوند ایک ایسا قائد چنے  گا جو آمد و رفت میں ان لوگوں کی رہنمائی بھیڑوں کی طرح کرے  گا۔ تب خداوند کے  لوگ بغیر چروا ہے  کی بھیڑوں جیسے  نہیں ہوں گے۔”

18 اس لئے  خداوند نے  موسیٰ سے  کہا” نون کا بیٹا یشوع، ایک حوصلہ مند آدمی  ہے  اس کولے  اور اس پر اپنا ہاتھ رکھ۔”

19 اسے  الیعزر کاہن اور پوری جماعت کے  سامنے  کھڑے  ہونے  کو کہو۔ تب اسے  نیا قائد بناؤ۔

20″ اپنا کچھ اختیار اسے  دے تا کہ ہر کوئی اس کا حکم مانے۔

21 اگر یشوع کوئی خاص فیصلہ کرنا چا ہے  گا تو اسے  کاہن الیعزر کے  پاس جانا ہو گا۔ الیعزر اُور یم کا استعمال خداوند کے  جواب کو جاننے  کے  لئے  کرے  گا۔ تب یشوع اور بنی اسرائیل وہ کریں گے  جو خدا کہے  گا۔ اگر خدا کہے  گا، ‘ جنگ کرنے  جاؤ۔ ‘ تو وہ جنگ کرنے  جائیں گے  اور اگر خدا کہے  ‘ گھر جاؤ’ تو گھر جائیں گے۔”

22 موسیٰ نے  خداوند کا حکم مانا موسیٰ نے  یشوع سے  کاہن الیعزر اور سبھی بنی اسرائیلیوں کے  سامنے  کھڑے  ہونے  کو کہا۔

23 تب موسیٰ نے  اپنے  ہاتھوں کو اس کے  سر پر یہ دکھانے  کے  لئے  رکھا کہ وہ نیا قائد ہے۔ اس نے  یہ ویسا ہی کیا جیسا خداوند نے  کہا تھا۔

 

 

 

باب:   28

 

 

1 تب خداوند نے  موسیٰ سے  بات کی اس نے  کہا

2″ بنی اسرائیلیوں کو یہ حکم دو ان سے  کہو کہ وہ ٹھیک وقت پر طے  کر کے  مجھے  خاص نذر چڑھائیں۔ ان سے  کہو کہ وہ اناج کی قربانی اور جلانے  کی قربانی چڑھائیں۔ خداوند جلانے  کی قربانیوں کی خوشبو کو پسند کرتا ہے۔

3 یہ تحفہ انہیں خداوند کو پیش کرنا چاہئے۔ انہیں بغیر عیب والے  ایک سال کے  دو میمنے  روزانہ قربانی کے  طور پر پیش کرنا چاہئیں۔ یہ ایک سلسلہ وار جلانے  کی قربانی ہے  یہ ان لوگوں کو روزانہ پیش کرنا چاہئے۔

4 دو میمنوں میں سے  ایک کو صبح چڑھاؤ اور دوسرے  کو شام کے  وقت۔

5 ایک لیٹر زیتون کے  تیل سے  ملے  ہوئے  آٹھ پیالے  عمدہ اناج کے آٹے  کا نذرانہ پیش کرو۔”

6 ( انہوں نے  سینائی پہاڑ پر روزانہ نذر دینا شروع کر دیا۔ خداوند نے  ان جلانے  کی قربانیوں کی خوشبو پسند کی تھی۔ )

7 لوگوں کو جلانے  کی قربانی کے  ساتھ مئے  کا نذرانہ بھی چڑ ھانا چاہئے۔ انہیں ہر ایک میمنے  کے  ساتھ ایک کوارٹ مئے  پیش کرنا چاہئے۔ یہ مئے  کا نذرانہ قربان گاہ پر ڈالو اور یہ خداوند کے  لئے  ایک نذرانہ ہو گا۔

8 دوسرا  میمنہ شام میں نذرانہ کے  طور پر پیش کرو۔ اور اسے  اس طرح پیش کرو جیسے  یہ صبح میں پیش کیا گیا تھا۔ مئے  کا نذرانہ بھی ضرور پیش کرنا چاہئے  یہ خداوند کے  لئے  ایک تحفہ، میٹھی خوشبو ہو گی۔”

9″ سبت کے  دن ایک سال کے  بغیر عیب کے  دو میمنے  زیتون کے  تیل کے  ساتھ ملے

4 کوارٹ عمدہ آٹا اناج کے  نذرانہ کے  لئے  اس کے  پینے  کے  نذرانے  کے  ساتھ تمہیں پیش کرنا ہو گا۔

10 یہ خاص نذرانہ ہر سبت کے  دن دیا جائے  گا۔ یہ نذرانہ روزانہ کے  نذرانے  کے  علا وہ ہو گا۔”

11″ ہر ایک مہینے  کے  پہلے  دن تم خداوند کو جلانے  کا نذرانہ چڑھاؤ گے۔ یہ نذرانہ دو بیل، ایک مینڈھا اور ایک سال کے  سات میمنوں کا ہو گا۔ سبھی بے  عیب ہوں گے۔

12 ہر ایک بیل کے  ساتھ زیتون کا تیل ملا ہوا چار کوارٹ عمدہ آٹا اناج کے  نذرانے  کے  لئے  پیش کرنا چاہئے۔ ہر ایک مینڈھا کے  ساتھ زیتون کا تیل ملا ہوا چار کوارٹ عمدہ آٹا اناج کے  نذرانہ کے  لئے  پیش کرنا چاہئے۔

13 ہر ایک میمنے  کے  ساتھ زیتون کے  تیل سے  ملے  ۲ کوارٹ عمدہ آٹے  کی قربانی پیش کرو۔ یہ خداوند کے  لئے  میٹھی خوشبو کے  ساتھ تحفہ ہو گا۔

14 مئے  کا نذرانہ میں ۲ کوارٹ مئے  ہر ایک بیل کے  ساتھ ایک چو تھائی کوارٹ مئے  ہر ایک مینڈھے  کے  ساتھ اور ایک کوارٹ مئے  ہر ایک میمنے  کے  ساتھ پیش ہو گا۔ یہ جلانے  کی قربانی ہے  جو سال کے  ہر ایک مہینے  چڑھائی جانی چاہئے۔

15 روزانہ جلانے  کی نذر اور مئے  کی نذر کے  علاوہ تمہیں ایک بکرا بھی روزانہ خداوند کو پیش کرنا چاہئے۔ یہ بکرا گناہ کا نذرانہ ہو گا۔

16″ پہلے  مہینے  کے  چودہویں دن خداوند کے  اعزاز میں فسح کی تقریب ہو گی۔

17 اس مہینے  کے  پندرہویں دن بے  خمیری روٹی کی دعوت شروع ہو تی ہے  یہ تقریب سات دن تک رہتی ہے۔ تم وہی روٹی کھا سکتے  ہو جو بے  خمیری ہو۔

18 اس تقریب کے  پہلے  دن تمہیں خاص اجلاس بلانا ہو گا۔ اس دن تم کوئی کام نہیں کر و گے۔

19 تم خداوند کو تحفے  پیش کر و گے۔ یہ جلانے  کی قربانی دو بیل، ایک مینڈھا اور ایک سال کے  ۷ میمنے  کی ہو گی۔ سبھی بے  عیب ہوں گے۔

20 ہر ایک بیل کے  ساتھ زیتون کے  تیل سے  ملے  ہوئے  ۶ کوارٹ اچھے  آٹے ، مینڈھے  کے  ساتھ زیتون کے  تیل سے  ملے  ہوئے  ۴ کوارٹ اچھے  آٹے  اور ہر ایک میمنے  کے  ساتھ دو کوارٹ زیتون کے  تیل سے  ملے  ہوئے  عمدہ آٹے  اناج کی قربانی کے  طور پر پیش کرنی چاہئے۔

21  22 تمہیں ایک بکرا بھی دینا چاہئے۔ وہ بکرا تمہارے  لئے  گناہ کی قربانی ہو گا۔ یہ تمہارے  گناہ کو مٹائے  گا۔

23 تم لوگوں کو وہ قربانیاں ان قربانیوں کے  علا وہ دینی چاہئے  جو تم ہر سویرے  جلانے  کی قربانی کے  طور پر دیتے  ہو۔

24″ اسی طرح تمہیں سات دن تک تحفہ پیش کرنا چاہئے۔ یہ خداوند کے  لئے  خوشگوار خوشبو ہے۔ تمہیں یہ نذر جلانے  کی قربانی کے  علا وہ دینی چاہئے  جو تم ہر روز مئے  کی قربانی کے  ساتھ دیتے  ہو۔

25″ تب فسح کی تقریب کے  ساتویں دن تم ایک خاص اجلاس بُلاؤ گے  اور اس دن تم کوئی کام نہیں کر و گے۔

26″ پہلے  پھل کی تقریب پر، ہفتے  کی تقریب پر تم خداوند کو نئی فصل سے  اناج کی قربانی پیش کرو۔ اس وقت تمہیں ایک خاص اجلاس بھی منعقد کرنا چاہئے۔ تم اس دن کوئی کام نہیں کرو گے۔

27 تم جلانے  کی قربانی خداوند کے  لئے  خوشگوار خوشبو کے  لئے  چڑھاؤ گے۔ تم بے  عیب ۲ سانڈ، ایک مینڈھا، اور ایک سال کے  ۷ میمنے  کی قربانی چڑھاؤ گے۔

28 تم ہر ایک سانڈ کے  ساتھ زیتون کے  تیل سے  ملے  ہوئے  ۶ کوارٹ اچھے  آٹے ، ہر ایک مینڈھے  کے  ساتھ ۴ کوارٹ،

29 اور ہر ایک میمنے  کے  ساتھ ۲ کوارٹ آٹے  کی نذر چڑھاؤ گے۔

30 تمہیں اپنے  لئے  کفارہ کے  طور پر بکرے  کی قربانی پیش کرنی چاہئے۔

31 تمہیں یہ نذر ہر دن کے  جلانے  کی قربانی اور اس کی اناج کی قربانی کے  علاوہ چڑھانی چاہئے۔ طے  کر لو کہ جانوروں میں کوئی عیب نہ ہو اور مئے  کا نذرانہ بھی جسے  تم پیش کرتے  ہو اس کے  ساتھ ہو۔

 

 

باب:   29

 

 

1″ ساتویں مہینے  کے  پہلے  دن ایک خاص اجلاس ہو گی تم اس دن کوئی کام نہیں کرو گے۔ وہ بگل بجانے  کا دن ہے۔

2 تم جلانے  کی قربانی، خوشگوار خوشبو خداوند کے  لئے  پیش کرو گے۔ تم بغیر عیب کا ایک سانڈ، ایک مینڈھا اور ایک سال کے  سات میمنوں کی قربانی چڑھاؤ گے۔

3 تم چھ کوارٹ زیتون کا تیل مِلا ہوا اچھا آٹا بیل کے  ساتھ اور چار کوارٹ مینڈھے  کے  ساتھ اور

4 سات میمنوں میں سے  ہر ایک کے  ساتھ دو کوارٹ آٹے  کی نذر چڑھاؤ گے۔

5 اس کے  علا وہ گناہ کی قربانی کے  طور ایک بکرا اپنے  آپ  کے  کفارے  کے  لئے  چڑھاؤ گے۔

6 یہ قربانی نئے  چاند کی قربانی اور اس کی اناج کی قربانی کے  علاوہ ہو گی۔ یہ اُصول کے  مطابق کی جانی چاہئے۔ انہیں آگ میں جلانا چاہئے۔ اس کی خوشبو خداوند کو خوش کرے  گی۔

7″ساتویں مہینے  کے  دسویں دن ایک خاص اجلاس ہو گااس دن تم روزہ رکھو گے  اور تم کوئی کام نہیں کرو گے۔

8 تم جلانے  کی قربانی، خوشگوار خوشبو خداوند کے  لئے  پیش کرو گے۔ تم بے  عیب ایک سانڈ، ایک مینڈھا اور ایک سال کے  سات میمنے  کی قربانی چڑھاؤ گے۔

9 تم ہر ایک بیل کے  ساتھ زیتون کے  تیل سے  ملے  ہوئے  چھ کوارٹ آٹے ، مینڈھے  کے  ساتھ ۴ کوارٹ آٹے،

10 اور ساتوں میمنوں کے  ہر ایک کے  ساتھ دو کوارٹ آٹے  کی قربانی چڑھاؤ گے۔

11 تم ایک بکرا بھی گناہ کی قربانی کے  طور پر چڑھاؤ گے  یہ کفّارہ کے  دن کی گناہ کی قربانی کے  علاوہ ہو گی۔ یہ دونوں قربانیاں بھی اناج اور مئے  کی قربانی کے  علاوہ ہوں گی۔

12″ ساتویں مہینے  کے  پندرہویں دن ایک خاص اجلاس ہو گی تم اس دن کوئی کام نہیں کرو گے۔ تم خداوند کے  لئے  سات دن تک تعطیل مناؤ گے۔

13 تم جلانے  کی قربانی چڑھاؤ گے  یہ خداوند کے  لئے  راحت افزاء خوشبو ہو گی۔ تم بے  عیب ۱۳ سانڈ، ۲ مینڈھے  اور ایک ایک سال کے  ۱۴ میمنے  قربانی چڑھاؤ گے۔

14 تم ۱۳ بیلوں میں سے  ہر ایک کے  ساتھ زیتون کے  تیل سے  ملے  ہوئے  ۶ کوارٹ آٹے ، دونوں مینڈھوں میں سے  ہر ایک کے  ساتھ ۴ کوارٹ زیتون کا تیل ملا ہوا آٹا اور

15 چودہ میمنوں میں سے  ہر ایک کے  لئے  ۲ کوارٹ آٹے  کی قربانی چڑھاؤ گے۔

16 تمہیں ایک بکرا بھی گناہ کی قربانی کے  طور پر پیش کرنا چاہئے۔ یہ دونوں قربانیاں روزانہ کی اناج کی قربانی اور مئے  کی قربانی کے  علاوہ ہوں گی۔

17″ دوسرے  دن تمہیں بے  عیب ۱۲ سانڈ، ۲ مینڈھے  اور ایک ایک سال کے  ۱۴ میمنوں کی قربانی چڑھانی چاہئے۔

18 تمہیں سانڈ، مینڈھے  اور میمنوں کے  ساتھ کافی مقدار میں اناج اور مئے  کی قربانی بھی چڑھانی چاہئے۔

19 تمہیں گناہ کی قربانی کے  طور پر ایک بکرے  کی بھی قربانی دینی چاہئے۔ یہ قربانیاں اناج اور مئی کی قربانی کے  علا وہ ہوں گی۔

20″ اس تعطیل کے  تیسرے  دن تمہیں بے  عیب ۱۱ سانڈ، ۲ مینڈھے  اور ایک ایک سال کے  ۱۴ بے  عیب میمنوں کی قربانی چڑھانی چاہئے۔

21 تمہیں بیلوں، مینڈھوں اور میمنوں کے  ساتھ کافی مقدار میں اناج اور مئے  کی قربانی بھی چڑھانی چاہئے۔

22 تمہیں روزانہ کے  قربانی کے  علاوہ گناہ کی قربانی کے  طور پر ایک بکرے  کی بھی قربانی دینی چاہئے۔

23″ اس تعطیل کے  چوتھے  دن بے  عیب ۱۰ سانڈ، ۲ مینڈھے  اور ایک ایک سال کے  ۱۴ میمنوں کی قربانی چڑھانی چاہئے۔

24 تمہیں بیلوں اور میمنوں کے  ساتھ کافی مقدار میں اناج اور مئے  کی قربانی چڑھانی چاہئے۔

25 تمہیں گناہ کی قربانی کے  طور پر ایک بکرے  کی بھی قربانی دینی چاہئے۔ یہ قربانیاں اور اناج کی قربانی اور مئے  کی قربانی کے  علاوہ قربانی ہو گی۔

26″ اس تعطیل کے  پانچویں دن تمہیں بے  عیب ۹ سانڈ، ۲ مینڈھے  اور ایک ایک سال کے  ۱۴ میمنے  کی قربانی چڑھانی چاہئے۔

27 تمہیں، بیلوں، مینڈھے  اور میمنوں کے  ساتھ کافی مِقدار میں اناج اور مئے  کی قربانی بھی چڑھانی چاہئے۔

28 تمہیں گناہ کی قربانی کے  طور پر ایک بکرے  کی قربانی بھی دینی چاہئے۔ یہ دی ہوئی قربانی اور اناج کی قربانی اور مئے  کی قربانی کے  علا وہ قربانی ہو گی۔

29″ اس تعطیل کے  چھٹے  دن تمہیں بے  عیب ۸ سانڈ، ۲ مینڈھے  اور ایک ایک سال کے  ۱۴ میمنے  کی قربانی چڑھانی چاہئے۔

30 تمہیں بیلوں، مینڈھوں اور میمنوں کے  ساتھ کافی مقدار میں اناج اور مئے  کی قربانی بھی چڑھانی چاہئے۔

31 تمہیں گناہ کی قربانی کے  طور پر ایک بکرے  کی بھی قربانی دینی چاہئے۔ یہ دینے  کی قربانی اناج کی قربانی اور مئے  کی قربانی کے  علا وہ نذر ہو گی۔

32″ اس تعطیل کے  ساتویں دن تمہیں بے  عیب ۷ سانڈ ۲ مینڈھے  اور ایک ایک سال کے  ۱۴ میمنے  کی قربانی چڑھانی چاہئے۔

33 تمہیں بیلوں مینڈھے  اور میمنوں کے  ساتھ کافی مقدار میں اناج اور مئے  کی بھی قربانی چڑھانی چاہئے۔

34 تمہیں گناہ کی قربانی کے  طور پر ایک بکرے  کی بھی قربانی دینی چاہئے  یہ دونوں قربانیاں اور اناج کی قربانی اور مئے  کی قربانی کے  علا وہ ہو گی۔

35 اس تعطیل کا آٹھواں دن تمہاری خاص اجلاس کا دن ہے۔ تمہیں اس دن کوئی کام نہیں کرنا چاہئے۔

36 تمہیں جلانے  کی قربانی بھی چڑھانی چاہئے۔ یہ آگ کے  ساتھ دی گئی قربانی ہو گی۔ یہ خداوند کے  لئے  راحت افزاء خوشبو ہو گی۔ تمہیں بے  عیب ایک سانڈ ایک مینڈھا اور ایک ایک سال کے  ۷ میمنے  قربانی کے  طور پر چڑھا نا چاہئے۔

37 تمہیں سانڈ مینڈھا اور میمنے  کے  لئے  کافی مقدار میں اناج اور مئے  کی بھی قربانی دینی چاہئے۔

38 تمہیں گناہ کی قربانی کے  طور پر ایک بکرے  کی بھی قربانی دینی چاہئے۔ یہ دونوں قربانیاں اور اناج کی قربانی اور مئے  کی قربانی کے  علا وہ ہونی چاہئے۔

39″ وہ خاص تعطیلات خداوند کے  اعزاز کے  لئے  ہے۔ ان منتوں اور تمہاری رضا ء کے  تحفوں کے  علا وہ تم جلانے  کی قربانی، ہمدردی کی قربانی، اناج کی قربانی اور مئے  کی قربانی جسے  کے  تم خداوند کو پیش کرتے  ہو، پیش کرو، اس کے  علاوہ ان خاص دنوں کو مناؤ۔”

40 موسیٰ نے  بنی اسرائیلیوں سے  اُن تمام باتوں کو کہا جو خداوند نے  اس کو حکم دیا تھا۔

 

 

باب:   30

 

 

1 موسیٰ نے  تمام اسرائیلی خاندانی گروہوں کے  قائدین سے  باتیں کیں۔ موسیٰ نے  خداوند کے  ان احکامات کے  بارے  میں ان سے  کہا :

2″ اگر کوئی آدمی  خدا سے  خاص وعدہ کرتا ہے  یا وہ آدمی  خدا کو کوئی خاص چیز پیش کرنے  کا وعدہ کرتا ہے  تو اسے  ویسا کرنے  میں ناکام نہیں ہو نا چاہئے۔ بلکہ اس آدمی  کو اس کئے  ہوئے  وعدے  کو پو را کرنا چاہئے۔

3 ہو سکتا ہے  کہ ایک نو جوان لڑکی اپنے  باپ کے  گھر میں رہتے  ہوئے کچھ خاص چیز خداوند کو نذر کرنے  کا وعدہ کر تی ہے  یا ہو سکتا ہے  کچھ نہیں کرنے  کا وعدہ کرتی ہے۔

4 اور اگر اس کا باپ اس وعدہ یا ممانعت کے  بارے  میں جو  کہ اس نے  خود اپنے  لئے  کیا ہے  سنتا ہے  اور خاموش رہ جاتا ہے  تو اس نو جوان لڑ کی کو وہ وعدہ ضرور پو را کرنا چاہئے  جن کا کہ اس نے  خود سے  ہی فیصلہ کیا ہے۔

5 لیکن اگر اس کا باپ اس کے  کئے  گئے  وعدہ یا ممانعت کے  بارے  میں سن کر اسے  قبول نہیں کرتا تو اس نوجوان لڑکی کو وہ وعدہ پو را نہیں کر نا ہے  کیونکہ اس کے  باپ نے  اسے  رو کا ہے۔ خداوند اسے  معاف کرے  گا۔

6″ہو سکتا ہے  کوئی عورت اپنی شا دی سے  پہلے  خداوند کو کچھ دینے  کا کوئی خاص وعدہ کرتی ہے  اور بعد میں ا سکی شادی ہو جا تی ہے۔

7 اور اگر اس کا شوہر کئے  ہوئے  وعدہ یا ممانعت کے  متعلق سُنتا ہے  اور خاموشی اختیار کرتا ہے  تو اس عورت کو اپنے  کئے  گئے  وعدہ کو پو را کرنا چاہئے۔

8 لیکن اگر اس کے  شوہر اس وعدہ یا ممانعت کے  با رے  میں سُنتا ہے  اور اسے  قبول نہیں کرتا تو عورت کو اپنے  کیا  گیا  وعدہ پو را نہیں کرنا پڑے  گا۔ اس کے  شوہر نے  اس کا وعدہ توڑ دیا اور اس نے  اس کی کہی ہوئی بات کو پو را نہیں کرنے  دیا۔ خداوند اسے  معاف کرے  گا۔

9″ کوئی بیوہ یا طلاق شدہ عورت خاص وعدہ کرتی ہے  اگر وہ ایسا کرتی ہے  تو اسے  بالکل اپنے  وعدہ کے  مطابق کرنا چاہئے۔

10 ایک شادی شدہ عورت خداوند کو کچھ چڑھانے  کا وعدہ کر سکتی ہے  یا ممانعت سے  اپنے  آپ  پر پا بندی عائد کر سکتی ہے۔

11 اگر اس کا شوہر اس کے  کئے  گئے  وعدہ کے  متعلق سنتا ہے  اور اسے  اس کے  وعدہ کو پو را کرنے  دیتا ہے  تو اسے  بالکل اپنے  کئے  گئے  وعدہ کو پو را کرنا چاہئے۔

12 لیکن اگر اس کا شوہر اس کے  کئے  گئے  وعدہ کے  بارے  میں سنتا ہے  اور اس کا وعدہ پو را کرنے  سے  انکار کرتا ہے  تو اسے  اپنے  کئے  گئے  وعدہ کو پو را نہیں کرنا پڑے  گا۔ اس پر کوئی ذمّہ داری نہیں ہو گی کہ اس نے  کیا وعدہ کیا تھا۔ اس کا شوہر اس وعدہ کو رد کر سکتا ہے  اگر اس کا شوہر وعدہ کو رد کرتا ہے  تو خداوند اسے  معاف کرے  گا۔

13 ایک شادی شدہ عورت خداوند کو کچھ چڑھانے  کا وعدہ کر سکتی ہے  یا ممانعت سے  اپنے  آپ  پر پا بندی عائد کر سکتی ہے۔ یا وہ خدا کو کوئی خاص وعدہ کر سکتی ہے۔ اس کا شوہر چا ہے  تو اس وعدہ کو پو را کرنے  کی اجازت دے  سکتا ہے  یا وہ اسے  مسترد کر سکتا ہے۔

14 شوہر اپنی بیوی کو کیسے  اپنا وعدہ پو را کرنے  دے  گا؟ اگر وہ کئے  گئے  وعدہ کے  بارے  میں سنتا ہے  اور نہیں روکتا ہے  تو عورت کو اپنے  کئے  گئے  وعدہ کے  مطابق کام کو پورا کرنا چاہئے۔

15 لیکن اگر شوہر کئے  گئے  وعدہ کے  بارے  میں سنتا ہے  اور انہیں روکتا ہے  تو اس کے  وعدہ توڑنے  کی جواب دہی شوہر پر ہو گی۔”

16 یہی حکم ہے  جسے  خداوند نے  موسیٰ کو دیا ہے۔ یہ حکم ایک آدمی  اور اس کی بیوی کے  بارے  میں ہے ، اور ایک باپ اور اس کی اُس بیٹی کے  متعلق ہے  جو اپنی جوانی میں ہو اور اپنے  باپ کے  گھر میں رہ رہی ہو۔

 

 

 

باب:   31

 

 

1 خداوند نے  موسیٰ سے  بات کی اس نے  کہا

2″ میں بنی اسرائیلیوں کے  ساتھ مدیانیوں نے  جو کیا ہے  اس کے  لئے  انہیں سزا دوں گا اس کے  بعد موسیٰ تو انتقال کر جائیں گے۔

3 اس لئے  موسیٰ نے  لوگوں سے  بات کی اُس نے  کہا”اپنے  کچھ مردوں کو جنگ کے  لئے  تیار کرو۔ خداوند ان آدمیوں کو مدیانیوں کو سزا دینے  کے  لئے  استعمال کرے  گا۔

4 ایسے  ایک ہزار مردوں کو اسرائیل کے  ہر ایک قبیلے  سے  چُنو۔

5 اسرائیل کے  تمام خاندانی گروہوں ۰۰۰, ۱۲سپاہی ہوں گے۔”

6 موسیٰ نے  ان ۰۰۰, ۱۲ مردوں کو جنگ کے  لئے  بھیجا اس نے  کاہن الیعزر کو اُن کے  ساتھ بھیجا۔ الیعزر نے  اپنے  ساتھ مقدس چیزیں سینگ اور بِگل لے  لیا۔

7 بنی اسرائیلی ان کے  ساتھ اسی طرح لڑے  جس طرح خداوند نے  موسیٰ کو حکم دیا تھا۔ انہوں نے  تمام مدیانی مردوں کو مار ڈالا۔

8 جن لوگوں کو انہوں نے  مار ڈالا اُن میں اعوّی، رقم، صُور، حور اور ربع یہ پانچ مدیانی بادشاہ تھے۔ انہوں نے  بعور کے  بیٹے  بلعام کو بھی مار ڈالا۔

9 بنی اسرائیلیوں نے  مدیانی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا یا۔ انہوں نے  ان کے  سارے  ریوڑ مویشیو ں کے  گلوں اور دوسری چیزوں کولے  لیا۔

10 تب انہوں نے  ان کے  سارے  خیموں اور شہروں میں آگ لگا دی جہاں وہ رہتے  تھے۔

11 انہوں نے  تمام لوگوں کو اور جانوروں کولے  لیا۔

12 اور انہیں موسیٰ، کاہن الیعزر اور سبھی بنی اسرائیلیوں کے  پاس لائے۔ وہ ان سبھی چیزوں کو اسرائیل کے  خیمہ میں لائے۔ جنہیں انہوں نے  وہاں حاصل کیا تھا۔ بنی اسرائیل موآب کے  وادی میں یردن ندی کے  کنا رے  یریحو میں خیمہ ڈالے  تھے۔

13 تب موسیٰ، کاہن الیعزر اور لوگوں کے  قائدین سپاہیوں سے  ملنے  کے  لئے  خیموں سے  باہر گئے۔

14 موسیٰ سپہ سالاروں پر بہت غصّہ میں تھا۔ وہ ایک ہزار سپاہیوں کے  فوج کے  سپہ سالاروں پر ایک سو سپاہی کے  پلٹن کے  کپتانوں پر غصّہ تھا جو کہ جنگ سے  آئے  تھے۔

15 موسیٰ نے  ان سے  کہا” تم لوگوں نے  عورتوں کو کیوں زندہ رہنے  دیا؟

16 دیکھو یہی وہ سب عورتیں ہیں جس کی وجہ سے  بلعام واقعہ میں اسرائیلی خداوند سے  مڑ گئے  اور فغور میں وہ خداوند کے  خلاف ہو گئے۔ جس سے  بنی اسرائیلیوں کو بھیانک آفتیں جھیلنی پڑیں تھیں۔

17 اب تمام مدیانی لڑکیوں کو مار ڈالو جو کسی آدمی کے  ساتھ رہی ہیں۔ ان تمام عورتوں کو مار ڈالو جن کا کسی مرد کے  ساتھ جنسی تعلق تھا۔

18 تم صرف ان تمام لڑ کیوں کو زندہ رہنے  دو جن کا کسی مرد کے  ساتھ جنسی تعلق نہیں ہوا ہے۔

19 تب دوسرے  آدمیوں کو مار نے  والے  تم لوگوں کو سات دن تک خیمہ کے  باہر رہنا پڑے  گا۔ تمہیں خیمہ سے  باہر رہنا ہو گا۔ اگر تم نے  کسی لاش کو چھوا ہے۔ تیسرے  دن تمہیں اور تمہارے  قیدیوں کو اپنے  آپ  کو پاک کرنا ہو گا۔ تمہیں وہی کام ساتویں دن پھر کر نا ہو گا۔

20 تمہیں اپنے  تمام کپڑے  دھونے  چاہئے۔ تمہیں چمڑے  کی بنی، بکری کے  بال سے  بنی لکڑی کی بنی چیزوں کو بھی دھونا چاہئے۔ پاک ہو جانا چاہئے۔”

21 تب کاہن الیعزر نے  سپاہیوں سے  بات کی اس نے  کہا،” یہ اُصول وہی ہیں جو خداوند نے  موسیٰ کو دیئے  تھے۔ وہ اصول جنگ سے  واپس آنے  والے  سپاہیوں کے  لئے  ہیں۔

22 لیکن جو چیز آگ میں ڈالی جا تی ہے  ان کے  لئے  الگ الگ اصول ہے۔ تمہیں سونا، چاندی، کانسہ، لوہا، ٹن اور سیسہ کو آگ میں ڈالنا چاہئے۔ کوئی سامان جو آگ برداشت کر سکتا ہے  اسے  صاف کرنے  کے  لئے  آگ میں ڈالنا چاہئے  اور اس کے  بعد اسے  صاف کرنے  والے  پانی سے  دھو کر صاف کرنا چاہئے۔ اور جو کچھ آگ برداشت نہیں کر سکتا اسے  پانی سے  دھو کر صاف کر نا چاہئے۔

23  24 ساتویں دن تمہیں اپنے  سارے  کپڑے  دھو نا چاہئے  تب تم پاک ہو جاؤ گے۔”

25 اس کے  بعد تم خیمہ میں آ سکتے  ہو۔ تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا۔

26″ تمہیں، کاہن الیعزر اور تمام قائدین کو چاہئے  کہ تم ان قیدیوں، جانوروں اور سبھی چیزوں کو گِنو جنہیں سپاہی جنگ سے  لائے  ہیں

27 ان چیزوں کا آدھا حصہ جنگ میں حصّہ لینے  والے  سپاہیوں کے  بیچ اور باقی آدھا حصّہ اسرائیل کی جماعت میں بانٹ دو۔

28 جو سپاہی جنگ میں حصّہ لینے  گئے  تھے۔ ان سے  خداوند کے  لئے  تحفہ لو۔ ہر پانچ سو چیزوں میں سے  ایک خداوند کا حصّہ ہو گا۔ اس میں آدمی  مویشی گدھے ، اور مینڈھے  شامل ہیں۔

29 سپاہیوں سے  مال غنیمت کی چیزوں میں سے  آدھا لو اور انہیں کاہن الیعزر کو خداوند کے  لئے  نذرانہ دو۔

30 اور پھر لوگوں کے  باقی بچے  آ دھی چیزوں میں سے  ہر پچاس چیزوں میں سے  ایک چیز لو۔ اس میں آدمی، مویشی، گدھا، مینڈھا یا کئی دوسرے  جانور بھی شامل ہیں۔ یہ حصّہ لا وی نسلوں کو دو کیونکہ لا وی نسل خداوند کے  مقدس خیمہ کی دیکھ بھال کرتے  ہیں۔”

31 اس طرح موسیٰ اور کاہن الیعزر نے  وہی کیا جو خداوند نے  موسیٰ کو حکم دیا تھا۔

32 سپاہیوں نے  ۷۵۶۰۰۰ مینڈھے ،

33 ۷۲۰۰۰ مویشی،

34 ۶۱۰۰۰ گدھے ،

35 ۳۲۰۰۰ عورتیں لوٹ لی تھیں۔ یہ ایسی عورتیں تھیں جن کا کسی مرد کے  سا تھ جنسی تعلق نہیں ہوا تھا۔

36 جو سپاہی جنگ میں گئے  تھے  انہوں نے  اپنے  حصّہ کی ۳۷۵۰۰۳مینڈھے  حاصل کئے۔

37 انہوں نے  ۶۷۵ مینڈھے  خداوند کو دیئے۔

38 سپاہیوں کو 36000 مویشی ملے  انہوں نے  ۷۲ خداوند کو دیئے۔

39 سپاہیوں نے  ۵۰۰,۳۰ گدھے  حاصل کئے۔ انہوں نے  خداوند کو ۶۱ گدھے  دیئے۔

40 سپاہیوں کو ۱۶۰۰ عورتیں ملیں۔ انہوں نے  ۳۲ عورتیں خداوند کو دیں۔

41 خداوند کے  حکم کے  مطابق موسیٰ نے  خداوند کے  لئے  دی گئی۔ اُن ساری نذروں کو کاہن الیعزر کو دے  دیا۔

42 تب موسیٰ نے  لوگوں  سے حاصل شدہ آدھے  حصّے  کو گنا۔ یہ وہ حصّہ تھا جسے  موسیٰ نے  جنگ میں حصّہ لینے  والے  سپاہیوں سے  لیا تھا۔

43 لوگوں نے  ۳۷۵۰۰۳مینڈھے ، ۳۶۰۰

44 مویشی،

45 ۳۰۵۰۰ گدھے ،

46 اور ۰۰۰ ,۱۶ عورتیں حاصل کیں۔

47 موسیٰ نے  ہر پچاس چیزوں پر ایک چیز خداوند کے  لئے  لی۔ اس میں جانور اور آدمی  دونوں شامل تھے۔ تب ان چیزوں کو اس نے  لا وی نسل کے  لوگوں کو دے  دیا۔ کیونکہ وہ خداوند کے  مقدس خیمہ کی دیکھ بھال کرتے  تھے۔ موسیٰ نے  یہ خداوند کے  حکم مطابق کیا۔

48 تب فوج کے  قائدین ایک ہزار سپاہیوں کے  سپہ سالار اور ایک سو سپاہیوں کے  سپہ سالار موسیٰ کے  پاس گئے۔

49 انہوں نے  موسیٰ سے  کہا”تیرے  خادم ہم لوگوں نے  اپنے  تمام سپاہیوں کو گنا ہے  ہم لوگوں میں سے  کوئی بھی کم نہیں ہے۔

50 اس لئے  ہم لوگ ہر ایک سپاہی سے  خداوند کی نذر لا رہے  ہیں۔ ہم لوگ سونے  کی چیزیں بازو بند، انگوٹھی، کان کی بالیاں اور ہار لا رہے  ہیں۔ خداوند کو یہ نذرانے  ہمارے  گنا ہوں کے  کفّارہ کے  لئے  ہے۔”

51 اس لئے  موسیٰ اور کاہن الیعزر نے  سونے  کے  تمام زیورات لے  لئے۔

52 ایک ہزار سپاہیوں اور ایک سو سپاہیوں کے  سپہ سالاروں نے  جو سونا جمع کیا اور خداوند کو دیا اس کا وزن تقریباً ۴۲۰ پاؤنڈ تھا۔

53 ہر سپاہی نے  جنگ میں حاصل شدہ چیزوں کا اپنا حصّہ اپنے  پاس رکھ لیا۔

54 موسیٰ اور الیعزر نے  ایک ہزار سپاہیوں اور ایک سو سپاہیوں کے  سپہ سالاروں سے  سونا لیا۔ تب انہوں نے  سونے  کو خیمۂ اجتماع میں رکھا۔ یہ نذرانے  ایک یاد گار کے  طور پر بنی اسرائیلیوں کے  لئے  خداوند کے  سامنے  تھے۔

 

 

 

باب:   32

 

 

1 رُوبن اور جاد کے  خاندانی گروہوں کے  پاس کافی تعداد میں مویشی تھے۔ ان لوگوں نے  یعزیر اور جِلعاد کے  قریب کی زمین کو دیکھا۔ انہوں نے  سوچا کہ وہ زمین ان کے  مویشیوں کے  لئے  ٹھیک ہے۔

2 اس لئے

3 انہوں نے  کہا”آپ  کے  خادم ہم لوگوں کے  پاس کافی تعداد میں مویشی ہیں اور وہ زمین جو  خداوند نے  اسرائیلی لوگوں کو جنگ میں دی ہے  مویشیوں کے  لئے  ٹھیک ہے۔ اس زمین میں عطا رات، دیبون، یعزیر، نِمرہ، حسبون، الیعا لی، شبام، نُبو اور بُعون شامل ہے۔

4  5 اگر آپ  کی خوشی ہو تو ہم لوگ چا ہیں گے  کہ یہ ملک ہم لوگوں کو دیا جائے۔ ہم لوگوں کو دریائے  یردن کی دوسری طرف نہ لے  جا یا جائے۔”

6 موسیٰ نے  روبن اور جاد کے  خاندانی گروہوں سے  پو چھا” کیا تم لوگ یہاں بسو گے ؟ اور اپنے  بھا ئیوں کو یہاں سے  جانے  اور جنگ کرنے  دو گے ؟

7 تم لوگ بنی اسرائیلیوں کو پست ہمت کیوں کرنا چاہتے  ہو؟ تم لوگ انہیں دریا پار کرنے  کے  لئے  سوچنے  نہیں دو گے۔ اور جو ملک خداوند نے  انہیں دیا ہے  اسے  نہیں لینے  دو گے۔

8 تمہارے  آباء و اجداد نے  میرے  ساتھ ایسا ہی کیا۔ قادِس بر نیع سے  میں نے  جاسوسوں کو ملک کی چھان بین کرنے  کے  لئے  بھیجا۔

9 وہ لوگ اِسکال وا دی تک گئے۔ انہوں نے  ملک کو دیکھا اور ان لوگوں نے  بنی اسرائیلیوں کو اس زمین کے  لئے  پست ہمت کیا۔ ان لوگوں نے  بنی اسرائیلیوں کو اس ملک میں جانے  کی خواہش پوری کرنے  نہ دی۔ جسے  خداوند نے  ان کو  دے  دیا تھا۔

10 خداوند لوگوں پر بہت غصّہ ہوئے  خداوند نے  یہ طے  کیا:

11 ‘ مصر سے  آنے  والے  لوگ اور بیس سال یا اس سے  زیادہ عمر کا کوئی بھی آدمی  اس ملک کو نہیں دیکھ پائے  گا۔ میں نے  ابراہیم، اسحاق اور یعقوب سے  یہ وعدہ کیا تھا۔ میں نے  یہ ملک ان آدمیوں کو دینے  کا وعدہ کیا تھا لیکن انہوں نے  میری مرضی کو پوری طرح نہیں مانا۔ اس لئے  وہ اس ملک کو نہیں پائیں گے۔

12 صرف قنزی یُفنّہ کا بیٹا کا لب اور نون کے بیٹے یشوع نے  خداوند کا صحیح طور پر حکم مانا۔ ‘

13″خداوند بنی اسرائیلیوں کے  خلاف بہت غصّے  میں تھا۔ اس لئے  خداوند نے  لوگوں کو چا لیس سال تک ریگستان میں رو کے  رکھا۔ خداوند نے  ان کو اس وقت تک وہاں رو کے  رکھا جب تک وہ لوگ جنہوں نے  خداوند کے  خلاف گناہ کئے  تھے  مر نہ گئے۔

14 اور اب تم لوگ وہی کر رہے  ہو جو تمہارے  آباء و  اجداد نے  کیا۔ اے  گنہگارو! کیا تم چاہتے  ہو کہ خداوند بنی اسرائیلیوں کے  خلا ف اور زیادہ غصّے  میں آئے ؟

15 اگر تم لوگ خداوند کے  راستے  پر نہ چلو گے  تو خداوند اسرائیل کو اور زیادہ وقت تک کیلئے ریگستان میں ٹھہرا دے  گا۔ تب تم ان تمام لوگوں کو تباہ کر دو گے۔

16 لیکن روبن اور جاد کے  خاندانی گروہ کے  لوگ موسیٰ کے  پاس گئے۔ اور انہوں نے  کہا”یہاں ہم لوگ اپنے  بچوں کے  لئے  شہر اور اپنے  جانوروں کے  جھُنڈ کے  لئے  بھیڑ شالہ بنائیں گے۔

17 تب ہمارے  بچے  ان دوسرے  لوگوں سے  محفوظ رہیں گے  جو

18 ہم لوگ اس وقت تک گھر واپس نہیں جائیں گے۔ جب تک ہر ایک آدمی  اسرائیل میں اپنی زمین کا حصّہ نہیں پا لیتا۔

19 ہم لوگ دریائے  یردن کے  مغرب میں کوئی زمین نہیں لیں گے۔ نہیں! ہم لوگوں کی زمین کا حصّہ دریائے  یردن کے  مشرق ہی میں ہے۔”

20 موسیٰ نے  ان سے  کہا”اگر تم لوگ یہ سب کرو گے  تو یہ زمین تم لوگوں کی ہو گی۔ لیکن تمہارے  سپاہیوں کو خداوند کے  سامنے  جنگ میں جانا چاہئے۔

21 تمہارے  سپاہیوں کو دریائے  یردن پار کر نا چاہئے  اور دشمن پر  اس ملک کو چھوڑنے  کے  لئے  دباؤ ڈالنا چاہئے۔

22 جب ہم سب کو زمین حاصل کرنے  میں خداوند مدد کر چکے  تب تم گھر واپس جا سکتے  ہو۔ تب خداوند اور اسرائیل تم کو قصور وار نہیں ٹھہرائیں گے۔ تب خداوند تم کو یہ ملک لینے  دے  گا۔

23 لیکن اگر تم یہ باتیں پوری نہیں کرتے  ہو تو تم لوگ خداوند کے  خلاف گناہ کرو گے  اور یہ اچھی طرح جان لو کہ تم اپنے  گناہ کے  لئے  سزا پاؤ گے۔

24 اپنے  بچوں کے  لئے  شہر اور اپنے  بھیڑوں کے  لئے  بھیڑ شالہ بناؤ۔ لیکن اس کے  بعد اسے  پورا کرو جو  کرنے  کا تم نے  وعدہ کیا ہے۔”

25 تب جاد اور روبن کے  خاندانی گروہ کے  لوگوں نے  موسیٰ سے  کہا”ہم آپ کے  خادم ہیں آپ  ہمارے  آقا ہیں۔ اس لئے  ہم لوگ وہی کریں گے  جو آپ  کہتے  ہیں۔

26 ہماری بیویاں، بچے  اور ہمارے  جانور جِلعاد شہر میں رہیں گے۔

27 لیکن تیرے  خادم ہم دریائے  یردن کو پار کریں گے۔ ہم لوگ خداوند کے  سامنے  اپنے  آقا کے  کہنے  کے  مطابق جنگ میں آگے  بڑھیں گے۔”

28 موسیٰ نے  کاہن الیعزر، نون کے  بیٹے  یشوع اور اسرائیل کے  خاندانی گروہ کے  تمام قائدین کو ان کے  مطابق اجازت دی۔

29 موسیٰ نے  ان سے  کہا”جاد اور روبن کے  سپاہی دریائے  یردن کو پار کریں گے۔ وہ خداوند کے  آگے  جنگ میں دھاوا بولیں گے۔ وہ ملک جیتنے  میں تمہاری مدد کریں گے  اور تم جلعاد کا علاقہ ان کے  حصہ کے  طور پر انہیں دو گے۔

30 لیکن اگر وہ مسلح سپاہی تمہارے  ساتھ نہیں بھیجتے  ہیں تو وہ ملک کنعان میں تمہارے  ساتھ میراث کو قبول کریں گے۔”

31 جاد اور روبن کے  لوگوں نے  جواب دیا،” ہم لوگ وہی کرنے  کا وعدہ کرتے  ہیں جو خداوند کا حکم ہے۔

32 ہم لوگ دریائے  یردن پار کریں گے  اور ملک کنعان پر خداوند کے  سامنے  دھاوا بولیں گے۔ اور ہمارے  ملک کا حصّہ دریائے  یردن کے  مشرق کی زمین ہو گی۔”

33 اس طرح موسیٰ نے  اس ملک کو جاد، روبن کے  خاندانی گروہ کو اور منسّی کے  خاندانی گروہ کے  آدھے  لوگوں کو دیا۔ منسّی یوسف کا بیٹا تھا۔ اس ملک میں عموریوں کے بادشاہ سیحون کی سلطنت اور بسن کے  بادشاہ عوج کی سلطنت شامل تھی۔

34 جاد کے  لوگوں نے  دیبون، عطارات، عروعیر،

35 عطرات، شوفان، یعزیر، یگبِہا،

36 بیت نمرہ اور بیت ہارن شہروں کو بنایا۔ انہوں نے  مضبوط چہار دیواری کے  ساتھ شہروں کو بنایا۔ اور اپنے  بھیڑوں کے  لئے  بھیڑ شالہ بھی بنائے۔

37 روبن کے  لوگوں نے  حسبون، الیعالی، قریتائم،

38 نُبو، بعل مُعون، شبماہ شہر بنائے۔ انہوں نے  جن نئے  شہروں کو پھر سے  بنایا۔ ان کے  پرانے  ناموں کا ہی استعمال کیا لیکن نُبو اور بعل مُعون کے  نئے  نام دیئے  گئے۔

39 منسّی کے  خاندانی گروہ کے  مکیر کی نسل جلعاد گئی۔ انہوں نے  ان عموریوں کو شکست دی جو وہاں رہتے  تھے  اور اسے  فتح کیا۔

40 اس لئے  منّسی کے  خاندانی گروہ کے  مکیر کو موسیٰ نے  جلعاد دیا اس لئے  اس کا خاندان وہاں بس گیا۔

41 منّسی کی اولاد یائیر نے  وہاں کے  چھوٹے  چھوٹے  شہروں کو شکست دی۔ تب اس نے  انہیں یائیر شہر  کا نام دیا۔

42 نوبح نے  قنات اور اس کے  پاس کے  چھوٹے  شہروں کو شکست دی۔ تب اس نے  اس جگہ کا نام اپنے  نام پر نوبح رکھا۔

 

 

 

باب:   33

 

 

1 موسیٰ اور ہارون نے  بنی اسرائیلیوں کو مصر سے  گروہوں میں نکالا یہ وہ جگہ ہے  جس کا انہوں نے  سفر کیا۔

2 موسیٰ نے  اس سفر کے  بارے  میں لکھا۔ موسیٰ نے  وہ باتیں لکھیں جنہیں خداوند چاہتا تھا جن جگہوں کا وہ لوگ سفر کئے  تھے  وہ یہ ہیں :

3 پہلے  مہینے  کے  پندرہویں دن انہوں نے  رعمسیس چھوڑا۔ فسح کی تقریب کے  بعد بنی اسرائیل فاتحانہ انداز سے  باہر گئے  اور مصری لوگ ان لوگوں کو دیکھ رہے  تھے۔

4 مصری اپنے  پہلوٹھے  بیٹوں کو دفنا رہے  تھے۔ جنہیں خداوند نے  مار ڈالا تھا۔ خداوند نے  مصر کے  دیوتاؤں کے  خلاف اپنا فیصلہ دکھایا تھا۔

5 بنی اسرائیلیوں نے  رعمسیس کو چھوڑا اور سکّات کا سفر کیا۔

6 سکّات سے  انہوں نے  ایتام کا سفر کیا وہاں پر لوگوں نے  ریگستان کے  کونے  پر خیمے  ڈالے۔

7 انہوں نے  ایتام کو چھوڑا اور فی ہخیروت کو گئے  یہ بعل صفون کے  پاس تھا۔ لوگوں نے  مجدال کے  پاس خیمے  ڈالے۔

8 لوگوں نے  فی ہخیروت چھوڑا اور سمندر کے  راستے  ریگستان کی طرف چلے۔ تب وہ تین دن تک ایتام کے  ریگستان سے  ہو کر چلے۔ لوگوں نے  مارہ میں خیمے  ڈالے۔

9 لوگوں نے  مارہ کو چھوڑا ایلیم گئے  اور وہاں خیمے  ڈالے  وہاں ۱۲ پانی کے  چشمے  تھے  اور ۷۰ کھجور کے  درخت تھے۔

10 لوگوں نے  ایلیم چھوڑا اور بحیر ہ احمر کے  پاس خیمہ ڈالے۔

11 لوگوں نے بحیر ہ احمر کو چھو را اور صین ریگستان میں خیمے  ڈالے۔

12 لوگوں نے  صین ریگستان کو چھوڑا اور دفقہ میں خیمے  ڈالے۔

13 لوگوں نے  دفقہ چھوڑا اور الوس میں خیمے  ڈالے۔

14 لوگوں نے  الوس چھوڑا اور رفیدیم میں خیمے  ڈالے  وہاں لوگوں کے  پینے  کے  لئے  پانی نہیں تھا۔

15 لوگوں نے  رفیدیم چھوڑا اور سینائی کے  ریگستان میں خیمے  ڈالے۔

16 لوگوں نے  سینائی کے  ریگستان کو چھوڑا اور قبروت ہتّا وہ میں خیمے  ڈالے۔

17 لوگوں نے  قبروت ہتّا وہ چھوڑا حصیرات میں خیمے  ڈالے۔

18 لوگوں نے

19 لوگوں نے  رِتمہ کو چھوڑا اور رمّون فارص میں خیمے  ڈالے۔

20 لوگوں نے  رمّون فارص کو چھوڑا اور لِبناہ میں خیمے  ڈالے۔

21 لوگوں نے  لِبناہ کو چھوڑا اور ریسّہ میں خیمے  ڈالے۔

22 لوگوں نے  ریسّہ کو چھوڑا اور قہلاتہ میں خیمے  ڈالے۔

23 لوگوں نے  قہلاتہ کو چھوڑا اور سافر پہاڑ پر خیمے  ڈالے۔

24 لوگوں نے  سافر پہاڑ کو چھوڑا اور حرادہ میں خیمے  ڈالے۔

25 لوگوں نے  حرادہ کو چھوڑا مقیلوت میں خیمے  ڈالے۔

26 لوگوں نے  مقیلوت چھوڑا اور تحت میں خیمے  ڈالے۔

27 لوگوں نے  تحت چھوڑا اورتا رح میں خیمے  ڈالے۔

28 لوگوں نے  تارح چھوڑا اور متقہ میں خیمے  ڈالے۔

29 لوگوں نے  متقہ چھوڑا اور حشمُونہ میں خیمے  ڈالے۔

30 لوگوں نے  حشمُونہ کو چھوڑا اور موسیروت میں خیمے  ڈالے۔

31 لوگوں نے  موسیروت کو چھوڑا اور بنی یعقان میں خیمے  ڈالے۔

32 لوگوں نے  بنی یعقان کو چھوڑا اور حور ہجدّد جاد میں خیمے  ڈالے۔

33 لوگوں نے  حور ہجدّد جاد کو چھوڑا اور یُو طباتہ میں خیمے  ڈالے۔

34 لوگوں نے  یو طباتہ کو چھوڑا اور عبرونہ میں خیمے  ڈالے۔

35 لوگوں نے  عبرونہ کو چھوڑا عصیُون جا بر میں خیمے  ڈالے۔

36 لوگوں نے  عصیّون کو چھوڑا اور صین ریگستان کے  قادِس میں خیمے  ڈالے۔

37 لوگوں نے  قادس کوچھوڑا اور ہور میں خیمے  ڈالے۔ یہ ملک ایدوم کی سرحد پر ایک پہاڑ تھا۔

38 کاہن ہا رون نے  خداوند کے  حکم کو مانا اور وہ ہور پہاڑ پر چڑھا۔ ہا رون پانچویں مہینے  کے  پہلے  دن وفات پائے۔ وہ بنی اسرائیلیوں کے  مصر چھوڑنے  کا چا لیسواں سال تھا۔

39 ہا رون جب ہور پہاڑ پر وفات پائے  تب وہ ۱۲۳ سال کے  تھے۔

40 عراد سر زمین کنعان کے  نیگیو ملک میں تھا۔ کنعانی بادشاہ نے  سُنا کہ  بنی اسرائیل آ رہے  ہیں۔

41 لوگوں نے  ہور پہاڑ کو چھوڑا اور صلمُونہ میں خیمے  ڈالے۔

42 لوگوں نے  صلمُونہ کو چھوڑا اور فونون میں خیمے  ڈالے۔

43 لوگوں نے  فونون کو چھوڑا اور اوبوت میں خیمے  ڈالے۔

44 لوگوں نے  اُوبوت کو چھوڑا اور عیّ عباریم میں خیمے  ڈالے۔ یہ ملک موآب کی سرحد پر تھا۔

45 لوگوں نے  عیّیم (عیّی عبریم) کو چھوڑا اور دیبون جدّ میں خیمے  ڈالے۔

46 لوگوں نے  دیبون جدّ کو چھوڑا اور علمون دبلہ تائم میں خیمے  ڈالے۔

47 لوگوں نے  علمون دبل تائم کو چھوڑا اور عباریم کی پہاڑیوں پر نُبو کے  قریب خیمہ ڈالے۔

48 لوگوں نے  عباریم کی پہاڑیوں کو چھوڑا اور موآب کے  وادی یردن میں خیمے  ڈالے  یہ یریحو کے  پاس تھا۔

49 انہوں نے  دریائے  یردن کے  پاس خیمے  ڈالے۔ اُن کے  خیمے  بیت یسِیموت سے  ابیل سطّیم کی چراگاہوں تک پھیلے  ہوئے  تھے۔ یہ عباریم موآب کے  میدانوں میں تھا۔

50 یریحو کے  پار وادی یردن کے  موآب کے  میدان میں خداوند نے  موسیٰ سے  بات کی اُس نے  کہا

51″بنی اسرائیلیوں سے  بات کرو اُن سے  یہ کہو : تم لوگ دریائے  یردن کو پار کرو گے  تم لوگ ملک کنعان میں جاؤ گے۔

52 تم لوگ ان لوگوں سے  زمین لے  لو گے  جنہیں تم وہاں پاؤ گے۔ تم لوگوں کو ان کی کھدی ہوئی مُورتیاں اور بُتوں کو تباہ کرنا چاہئے۔ تمہیں ان کی تمام اونچی جگہوں کو تباہ کر دینا چاہئے

53 تم وہ ملک لو گے  اور وہاں بسو گے  کیوں؟ کیونکہ یہ ملک میں تم کو دے  رہا ہوں۔ یہ تمہارے  خاندانوں کا ہو گا۔

54 تمہارا ہر ایک خاندان زمین کا حصّہ پائے  گا۔ تم اس بات کے  لئے  قرعہ ڈالو گے  کہ ملک کا کونسا حصّہ کس خاندان کو ملتا ہے۔ بڑے  خاندان زمین کا بڑا حصّہ پائیں گے  چھوٹے  خاندان ملک کا چھوٹا حصہ پائیں گے۔ زمین ان لوگوں کو دی جائے  گی جن کے  نام قرعہ کا فیصلہ ہو گا۔ ہر ایک خاندانی گروہ اپنی زمین پائے  گا۔

55″ تمہیں ان لوگوں کو سر زمین سے  باہر ہانک دینا چاہئے۔ اگر تم ان لوگوں کو اپنے  ملک میں ٹھہرنے  دو گے  تو وہ تمہارے  لئے  بہت پریشانیاں پیدا کریں گے۔ وہ تمہاری آنکھوں کے  لئے  کیل اور تمہارے  پہلوؤں کے  لئے  کانٹے  بن جائیں گے۔ وہ اس ملک میں بہت آفتیں لائیں گے  جہاں تم بسو گے۔

56 میں نے  تم لوگوں کو سمجھا دیا جو مجھے  ان کے  ساتھ کرنا ہے  اور میں تمہارے  ساتھ وہی کروں گا اگر تم لوگ ان لوگوں کو اپنے  ملک میں رہنے  دو گے۔”

 

 

 

باب:   34

 

 

1 خداوند نے  موسیٰ سے  بات کی اس نے  کہا”

2 بنی اسرائیلیوں کو یہ حکم دو : تم لوگ ملک کنعان میں آ رہے  ہو۔ جب تم کنعان میں آؤ گے ، تم پو رے  ملک پر قبضہ کر لو گے  جس کی یہ سرحد ہو گی :

3 جنوب میں تم لوگ ایدوم کے  قریب صین ریگستان کا حصّہ حاصل کر و گے۔ تمہاری جنوبی سرحد مردہ سمندر کے  مشرقی کنارے  سے  شروع ہو گی۔

4 یہ بچھوؤں کی راہ (اس کار پین پاس) کے  جنوب سے  گذرے  گی۔ یہ صین ریگستان سے  ہو کر قادِس برنیع تک جائے  گی۔ اور پھر حصر ادّار اور تب یہ عضمُون سے  گذرے  گی۔

5 عضمُون سے  سر حد مصر کی ندی تک جائے  گی اور اس کا آ خر بحیر ہ روم پر ہو گا۔

6 تمہاری مغربی

7 تمہاری شُما لی سر حد بحیر ہ روم سے  شروع ہو گی اور ہور پہاڑ تک جائے  گی۔

8 ہور پہاڑ سے  یہ حمات کو جائے  گی اور پھر صداد کو۔

9 اور یہ سرحد زِ فرون کو جائے  گی اور یہ حصر عینان پرختم ہو گی۔ اس طرح یہ تمہاری شما لی سر حد ہو گی۔

10 تمہاری مشرقی سرحد عینان پرشروع ہو گی اور یہ سفام تک جائے  گی۔

11 سفام سے  یہ سر حد عین کے  مشرق میں ربلہ تک جائے  گی۔ سر حد گلیلی سمندر کے  مشرقی کنا رے  سے  آگے  بڑھے  گی۔

12 تب سر حد دریائے  یردن کے  ساتھ سا تھ چلے  گی۔ اور مردہ سمندر پر جا کر ختم ہو گی۔ یہی تمہارے  ملک کے  چاروں طرف کی سرحدیں ہیں۔”

13 موسیٰ نے  بنی اسرائیلیوں کو حکم دیا :”یہی وہ زمین ہے  جو  تم لوگ تقسیم کرو گے۔ تم لوگ نو خاندانی گروہ اور منسی کے  آدھے  خاندانی گروہ کے  بیچ زمین تقسیم کرنے  کے  لئے  قرعہ ڈالو گے۔

14 رُوبن، جاد خاندانی گروہ کے  لوگ،منسی کے  آدھے  خاندانی گروہ کے  لوگوں نے  اپنی اپنی میراث لی۔

15 وہ ڈھائی خاندان گروہوں نے  یریحو کے  قریب دریائے  یردن کے  مشرق میں اپنی میراث حاصل کی۔”

16 تب خداوند نے  موسیٰ سے  بات کی اس نے  کہا۔

17″یہ وہ لوگ ہیں جو زمین بانٹنے  میں تمہاری مدد کریں گے۔ کاہن الیعزر،نون کا بیٹا یشوع۔

18 اور ہر ایک خاندانی گروہ سے  تم ایک قائد منتخب کرو گے۔ یہ لوگ زمین کی تقسیم کریں گے۔

19 قائدین کے  نام یہ ہیں :

20 شمعون کے  خاندانی گروہ عمّیہود کا بیٹا سموئیل۔

21 بنیمین کے  خاندانی گروہ سے  کسلُون کا بیٹا اِلیداد۔

22 دان کے  خاندانی گروہ سے  یگلی کا بیٹا بُقّی۔

23 منّسی کے  خاندانی گروہ سے  افود کا بیٹا حنّی ایل۔

24 افرائیم کے  خاندانی گروہ سے  سفتان کا بیٹا قمو ایل۔

25 زبولون کے  خاندانی گروہ سے  فرناک کا بیٹا الیصفن۔

26 اِشکار کے  خاندانی گروہ سے  عزّان کا بیٹا فلتی ایل۔

27 آشر کے  خاندانی گروہ سے  شلوی کا بیٹا اخیہود۔

28 نفتالی کے  خاندانی گروہ سے  عمّیہود کا بیٹا فدا ہیل۔”

29 خداوند نے  ان آدمیوں کو بنی اسرائیلیوں میں کنعان کی زمین بانٹنے  کے  لئے  حکم دیا۔

 

 

 

باب:   35

 

 

1 خداوند نے  موسیٰ سے  یریحو کے  نزدیک یردن ندی کے  دوسری طرف موآب کی وا دی میں بات کی۔ خداوند نے  کہا

2″ بنی اسرائیلیوں سے  کہو کہ وہ ملک کے  اپنے  حصّے  سے  کچھ قصبے  اور اپنے  چاروں طرف کی کچھ چرا گا ہیں لا وی لوگوں کو دیں۔

3 لا وی نسلیں ان شہروں میں رہ سکیں گے  اور تمام مویشی اور دوسرے  جانور جو لا وی نسلوں کے  ہوں گے۔ شہر کی چاروں طرف کی چرا گا ہوں میں چر سکیں گے۔

4 تم لا وی نسلوں کو اپنے  ملک کا کتنا حصّہ دو گے ؟ شہروں کی دیواروں سے  ۵۰۰, ۱ فٹ باہر تک ناپتے  جاؤ وہ تمام زمین لا وی نسلوں کی ہو گی۔

5 پوری زمین ۳۰۰۰  فٹ شہر کے  مشرق میں ۰۰۰, ۳ فٹ شہر کے  جنوب میں ۳۰۰۰فٹ شہر کے  مغرب میں ۳۰۰۰  فٹ شہر کے  شمال میں لا وی نسلوں کی ہو گی۔ اس زمین کے  درمیان شہر قائم ہو گا۔

6 سبھی شہروں میں یہ چھ شہر پناہ کے  شہر ہوں گے۔ اگر کوئی شخص کسی کو اتفاقاً مار ڈالتا ہے  تو وہ قتل کرنے  وا لا ان شہروں میں بھاگ کر جا سکتا ہے  اور محفوظ پناہ کھو ج سکتا ہے۔ ان چھ شہروں کے  علا وہ تم کو ۴۲ دوسرے  شہر لا وی لوگوں کو دینے  ہوں گے۔

7 اس طرح تم لا وی نسلوں کو ۴۸ شہر دو گے۔ تم ان شہروں  کے  چاروں طرف کی زمین بھی دو گے۔

8 اسرائیل کے  بڑے  خاندان زمین کا  بڑا  حصّہ دیں گے  اسرائیل کے  چھوٹے  خاندان زمین کا  چھوٹا  حصّہ  دیں گے۔ سب خاندانی گروہ لا وی نسلوں کو اپنی میراث سے  کچھ شہر لاویوں کو دیں گے۔”

9 تب خداوند نے  موسیٰ سے  بات کی اس نے  کہا

10 لوگوں سے  یہ کہو :”تم لوگ دریائے  یردن کو پار کرو گے  اور ملک کنعان میں جاؤ گے۔

11 تمہیں” محفوظ شہر” بنانے  کے  لئے  کچھ شہروں کو چننا چاہئے۔ اگر کوئی آدمی  اتفاقاً کسی کو مار ڈالتا ہے  تو وہ پناہ کے  لئے  ان پناہ کے  شہروں میں بھاگ کر جا سکتا ہے۔

12 وہ شخص اس کسی بھی آدمی  سے  محفوظ رہے  گا جو مقتول آدمی کے  خاندان کا ہو۔ جو اسے  ( جس شخص نے  اتفاقاً مار دیا تھا ) پکڑنا چاہتا ہو۔ وہ اس وقت تک محفوظ رہے  گا۔ جب تک عدالت میں ان کے  با رے  میں انصاف ہو نہیں جاتا ہے۔

13″ حفاظتی شہر” ۶ ہوں گے۔

14 ان شہروں میں ۳ شہر دریائے  یردن کے  مشرق میں ہوں گے  اور ۳ دوسرے  شہر ملک کنعان میں دریائے  یردن کے  مغرب میں ہوں گے۔

15 وہ شہر اسرائیل کے  شہریوں غیر ملکیوں اور مسافروں کے  لئے  محفوظ شہر ہوں گے۔ کوئی بھی آدمی  اتفاقاً کسی کو مار ڈالتا ہے  تو وہ ان پناہ کے  شہروں میں سے  کسی میں بھی پناہ پا سکتا ہے۔

16 اگر کوئی آدمی  کسی کو مار نے  کے  لئے  لوہے  کا ہتھیار استعمال میں لاتا ہے  تو وہ قاتل ہے  اور اُس آدمی  کو بھی مار دینا چاہئے۔

17 اور اگر کوئی آدمی  ایک پتھر اٹھاتا ہے  اور کسی کو مار ڈالتا ہے  تو وہ قاتل ہے  اور اُسے  بھی مار دینا چاہئے۔ پتھر اس طرح کا ہونا چاہئے  جسے  عام طور پر آدمیوں کو مار نے  کے  لئے  استعمال میں لایا جاتا ہے۔

18 اگر کوئی آدمی  کسی لکڑی کا استعمال کرتا ہے  اور کسی کو مار ڈالتا ہے  تو وہ قاتل ہے  اُسے  بھی مار دینا چاہئے۔ وہ لکڑی ایک ہتھیار کے  طور پر ہونی چاہئے  جس کا استعمال لوگ آدمیوں کو مار نے  کے  لئے  کرتے  ہیں۔

19 مقتول آدمی  کے  خاندان کا فرد اُس قاتل کا پیچھا کر سکتا ہے  اور اسے  مار سکتا ہے۔

20″کوئی آدمی  کسی پر حملہ کر سکتا ہے  اور اسے  مار سکتا ہے  یا کوئی آدمی  کسی کو دھکا دے  سکتا ہے  اور اسے  مار سکتا ہے  یا کوئی آ دمی کسی پر کچھ پھینک سکتا ہے  اور اسے  مار سکتا ہے۔ اگر اس آدمی نے  نفرت کی بنا پر یا جعل سازی کی بنا پر اس آدمی  کو مار ڈالا ہے تو اس آدمی  کو مار ڈالنا چاہئے۔ مقتول کے  خاندان کا کوئی فرد اس قاتل کا پیچھا کر سکتا ہے  اور اسے  مار سکتا ہے۔

21،  22″ لیکن ہو سکتا ہے  کہ کوئی آدمی  کسی کو اتفاقاً مار دے  حالانکہ وہ آدمی  اس سے  نفرت نہیں کرتا تھا۔ یہ حادثہ اتفاقاً ہو گیا۔ یا ہو سکتا ہے  کوئی آدمی  کچھ پھینکے  اور اتفاقاً اس سے  کوئی مر جاتا ہے ، حالانکہ اس کا مار نے  کا ارادہ نہیں تھا۔

23 یا ہو سکتا ہے  کوئی آدمی  بڑا پتھر پھینکے  اور پتھر کسی ایسے  آدمی  پر گر پڑے  جو اسے  نہ دیکھ رہا ہو اور اس سے  وہ مر جائے  حالانکہ اس آدمی نے  کسی کو مار نے  کا ارادہ نہیں کیا تھا اور نہ ہی مقتول آدمی  کے  ساتھ نفرت رکھتا تھا یہ صرف اتفاقاً ہو گیا۔

24 اگر ایسا ہو تو قبیلہ طے  کرے  کہ کیا کرنا چاہئے  قبیلہ کی عدالت طے  کرے  گی مقتول آدمی  کے  خاندان کا فرد اسے  مار سکتا ہے۔

25 اگر عدالت کا یہ فیصلہ ہے  کہ وہ زندہ رہے  تو اسے  اپنے  پناہ کے  شہر میں جانا چاہئے۔ اسے  وہاں اعلیٰ کاہن کے  مرنے  تک جس کا کہ مقدس تیل سے  مسح کیا گیا تھا رہنا چاہئے۔

26″اس آدمی  کو اپنے  ‘ حفاظتی شہر ‘ کی سرحدوں کے  باہر کبھی نہیں جانا چاہئے۔ اگر وہ سرحدوں کے  پار جاتا ہے  اور مقتول کے  خاندان کا فرد اسے  پکڑتا ہے  اور اس کو مار ڈالتا ہے  تو وہ فرد قتل کا قصوروار نہیں ہوتا۔

27

28 اس آدمی  کو جس نے  اتفاقاً کسی کو مار ڈالا ہو ‘ حفاظتی شہر ‘ میں تب تک رہنا پڑے  گا جب تک اعلیٰ کاہن وفات نہیں پا تا۔ اعلی ٰ کاہن کی  وفات کے  بعد وہ آدمی  اپنے  ملک کو واپس ہو سکتا ہے۔

29 یہ اصول ہمیشہ تمہارے  لوگوں کے  شہروں کے  لئے  ہوں گے۔

30″ قاتل کو تبھی موت کی سزا دی جا سکے   گی جب اس کے  خلا ف میں ایک سے  زیادہ گواہیاں ہوں گی۔ اگر ایک ہی گواہ ہو گا تو کسی آدمی  کو موت کی سزا نہیں دی جا سکے   گی۔

31″ اگر کوئی آدمی  قاتل ہے  تو اسے  مار ڈالنا چاہئے۔ دولت کے  بدلے  اسے  نہیں چھوڑنا چاہئے۔ اس قاتل کو مار دینا چاہئے۔

32″ اگر کسی آدمی نے  کسی کو مارا اور وہ بھاگ کر کسی ‘ پناہ کے  شہر ‘ میں گیا۔ تو اسے  رِہا کرنے  کے  لئے  اس سے  فدیہ نہ لو۔ اس آدمی  کو اس شہر میں تب تک رہنا پڑے  گا جب تک کاہن کا انتقال نہ ہو جائے۔

33″اپنا  ملک معصوم اور بے  گنا ہوں کو قتل کر کے  ناپاک مت کرو۔ کیونکہ خون زمین کو نا پاک کر دیتا ہے۔ اس کے  کفارے  کے  لئے  قاتل کو مار نے  کے  سوائے  اور کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

34 میں خداوند ہوں۔ میں بنی اسرائیلیوں کے  ساتھ تمہارے  ملک میں ہمیشہ رہتا رہوں گا۔ میں اس ملک میں رہتا رہوں گا۔ بے گناہ لوگوں کے  خون سے  اس کو نا پاک نہ کرو۔”

 

 

باب:   36

 

 

1 منسی یوسف کا بیٹا تھا۔ مکیر منسی کا بیٹا تھا۔ جِلعاد مکیر کا بیٹا تھا۔ جلِعاد خاندان کے  قائد موسیٰ اور اسرائیل کے  خاندانی گروہ کے  قائدین سے  بات کرنے  گئے۔

2 انہوں نے  کہا، ‘ جناب ‘ خداوند نے  حکم دیا ہے  کہ ہم لوگ اپنی زمین قرعہ ڈال کر حاصل کریں۔ اور جناب! خداوند نے  حکم دیا ہے  کہ صِلا فحاد کی زمین اس کی بیٹیوں کو ملے۔ صلا فحاد ہمارا بھائی تھا۔

3 یہ ہو سکتا ہے  کسی دوسرے  خاندانی گروہ کا آدمی  صلا فحاد کی بیٹی سے  شادی کرے۔ کیا وہ زمین ہما رے  خاندان سے  نکل جائے  گی؟ کیا اس دوسرے  خاندانی گروہ کے  آدمی  اس زمین کو حاصل کریں گے ؟ کیا ہم لوگ وہ زمین کھو دیں گے  جسے  ہم لو گوں نے  قرعہ ڈال کر حاصل کیا تھا؟

4 لوگ اپنی زمین بیچ سکتے  ہیں لیکن جوبلی سال میں ساری زمین اس خاندانی گروہ کو واپس ہو جا تی ہے  جو اس کا اصلی مالک ہوتا ہے۔ اس وقت صلا فحاد کی بیٹیوں کی زمین کون پائے  گا؟ اگر ویسا ہوتا ہے  تو کیا ہما را خاندان اس زمین سے  ہمیشہ کے  لئے  بے  دخل ہو جائے  گا؟”

5 موسیٰ نے  بنی اسرائیلیوں کو ایسا ہی حکم دیا جیسا کہ خداوند نے  اسے  حکم دیا تھا۔”یوسف کے  خاندانی گروہ کے  لوگ جو کہتے  ہیں وہ صحیح ہے۔

6 صلا فحاد کی بیٹیوں کے  لئے  خداوند کا یہ حکم ہے  :اگر تم کسی سے  شادی کرنا چاہتی ہو تو تمہیں اپنے  خاندانی گروہ کے  کسی مرد کے  ساتھ ہی شادی کرنی چاہئے۔

7 اس طرح بنی اسرائیلیوں میں زمین ایک خاندانی گروہ سے  دوسرے  خاندانی گروہ میں نہیں جائے  گی۔ ہر ایک اسرائیل اپنے  آباء و  اجداد کی زمین کو ہی اپنے  پاس رکھے  گا۔

8 اور اگر کوئی بیٹی باپ کی زمین حاصل کر تی ہے  تو اسے  اپنے  خاندانی گروہ میں سے  ہی کسی کے  ساتھ شادی کرنی چاہئے۔ اس طرح ہر ایک آدمی  وہی زمین اپنے  پاس رکھے  گا جو اس کے  آباء و  اجداد کی تھی۔

9 اس طرح بنی اسرائیلیوں کی میراث ایک خاندانی گروہ سے  دوسرے  خاندانی گروہ میں نہیں جائے  گی۔ اس طرح سے  ہر ایک اسرائیلی وہ زمین رکھے  گا جو اس کے  اپنے  آباء و  اجداد کی تھی۔

10 صِلا فحاد کی بیٹیوں نے  موسیٰ کو دیئے  گئے  خداوند کے  حکم کو قبول کیا۔

11 اس لئے  صِلا فحاد کی بیٹیاں محلا ہ، ترضا ہ، حُجلا ہ، مِلکاہ اور لو عاہ نے اپنے  چچیرے  بھا ئیوں کے  ساتھ شادی کی۔

12 ان کے  شوہر یوسف کے  بیٹے  منسی کے  خاندانی گروہ کے  تھے۔ اس لئے  ان کی زمین ان کے  باپ کے  خاندانی گروہ کی بنی رہی۔

13 اس طرح خداوند نے  یہ شریعت موسیٰ کو یریحو کے  پار دریائے  یردن کے  کنا رے  مو آب کے  علا قے  میں دی۔ اور موسیٰ نے  یہ شریعت اور احکامات بنی اسرائیلیوں کو دیے۔

٭٭٭

ماخذ:

http://gospelgo.com/a/urdu_bible.htm

پروف ریڈنگ: اویس قرنی، اعجاز عبید

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید