FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

فہرست مضامین

ادبی کتابی سلسلہ

عکاس انٹرنیشنل اسلام آباد

(۱۸)

http://akkas-international.blogspot.de/

مرتّب

ارشد خالد

امین خیال

سرکولیشن منیجر  :   نوید ارشد


 

اپنی بات

          عکاس کی کتاب نمبر ۱۸پیش ِخدمت ہے۔ اس بار افسانچے کے سفرکا ایک گوشہ بن گیا ہے۔ ’پوپ کہانی‘ کی ایجادکے نام سے ایک بچکانہ دعویٰ سامنے آیا۔ ہمیں ایسے کسی مدعی سے کوئی غرض نہ تھی لیکن انہوں نے  غیر ضروری اور بے جا اصرار کر کے ایسا ماحول بنا دیا کہ اس موضوع پربنیادی نوعیت کا مواد جمع کرنے کا موقعہ مل گیا۔ ’پوپ کہانی‘کے نام پر مغرب میں بیک وقت چھوٹی چھوٹی کہانیاں بھی لکھی گئیں اور معمول کے افسانوں پر بھی ’پوپ کہانی‘کا لیبل لگا کر انہیں پاپولر کہانی باور کیا گیا۔ یہ وہاں کے چند ایسے لوگوں کا کھیل تھا جنہیں بڑے ادبی حلقوں میں خاطر خواہ یا ان کی مطلوبہ پذیرائی نہیں مل سکی تھی۔ اس لحاظ سے یہ اُن لکھنے والوں کا آپسی اور کچھ نفسیاتی معاملہ تھا۔ جب افسانچے کے سفر کی روداد کے لیے میٹر جمع کرنا شروع کیا تو نئے لکھنے والے افسانہ نگاروں کے معمول کے افسانے بھی موصول ہوئے، اس طرح ان افسانوں کی ایک معقول تعداد اس گوشہ میں شامل کر لی گئی ہے۔ اب یہ حصہ افسانچے کا گوشہ ہو کر فکشن کا ایک عام گوشہ بھی بن گیا ہے۔ کسی کی بے جا حمایت یا مخالفت سے ہٹ کر جو دوست اس موضوع (افسانچہ اور پوپ کہانی کا فرق)پر کوئی بنیادی نوعیت کا واضح تفریقی نکتہ پیش کریں گے، یا پوپ کہانی اور افسانچے کے حوالے سے علمی بات کریں گے، ان سب کی آراء کا خیر مقدم کیا جائے گا۔

         ’’افسانچے کا سفر‘‘ترتیب دیتے ہوئے خیال آیا ہے کہ شخصی گوشوں کے ساتھ بعض اصناف کے گوشے بھی دئیے جا سکتے ہیں۔ خصوصاً ایسی ادبی اصناف جن پر کسی حیلہ جوئی سے ہاتھ مار کر دوسروں کی محنت کا سہرا اپنے سر سجانے کی کوشش کی جاتی ہے، ایسے رویوں کو زیادہ کھل کر سامنے لانے اور ان اصناف کی اصل روپ ریکھا کو اجاگر کرنا پیش نظر ہو گا۔ ان معاملات میں ہمیں علمی اختلاف رائے اورعلمی بددیانتی میں فرق کو واضح کرنا ہو گا۔

ارشد خالد

 

عامر سہیل (ایبٹ آباد)

ریسرچ اسکالر، ہزارہ یونیورسٹی

 فکرِ اقبال کی تفہیم اور مغالطے:چند معروضات

فکرِ اقبال کے حوالے سے جو ابتدائی کام سامنے آیا اُس میں منصفانہ تجزیات کم اور حاکمانہ فتاویٰ کا عمل دخل زیادہ رہا ہے۔ عہدِ اقبال میں ایسے مفکرین سامنے آ چکے تھے جن کی آرا ء بوجوہ حرفِ آخر کا درجہ رکھتی تھیں۔ جو جس نے کہہ دیا وہ سند بن گیا اور اُسی کی تکرار لازمی خیال کرتے ہوئے تحریری اور تقریری مظاہر اقبال شناسی کا درجہ اختیار کر گئے۔ اِن مباحث میں چند نکات پر اجماع کی کیفیت پیدا ہو گئی تھی یعنی:

   (۱)      فکرِ اقبال مغربی فلاسفہ کی مرہون ِ منت ہے۔

  (۲)     اقبال نے جدید علم الکلام کی بنیاد رکھی۔

  (۳)     اقبال اصلاً ایک متکلم ہے۔

  (۴)     اقبالی فکر اُصولِ تطبیق پر اُستوار ہے۔

(۵)      اقبال عشق کا پیغامبر اور عقل کا مخالف ہے۔

(۶)      اقبال کا جھکاؤ تصوف میں وحدت الوجود کی طرف ہے (یک رُخی تنقید نے علامہ کے مرشد رومی کو بھی وجودی قرار دیا ہے)

(۷)     اقبال اشتراکی نظام کے حامی اور مبلغ تھے۔

(۸)     اقبال جارحیت پسند تھے۔

(۹)     اقبال نے قدامت پسندی کو فروغ دیا۔

اِنہی مغالطوں کی بنیاد پر فکرِ اقبال کی عمارت اُٹھائی گئی جو بالآخر ایسے مقام پر آ کر رُک گئی جہاں سے صرف فکری تناقضات اور سطحی دعاوی کی آسان راہ نکلتی تھی، چنانچہ اُسی پر صاد کرتے ہوئے اقبال انڈسٹری کو فروغ دینے کا کام تیز تر ہوتا گیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ فکرِ اقبال کو یرغمال بنا دیا گیا ہے تو شاید زیادہ غلط نہیں ہو گا۔ اقبال کے ساتھ سب سے بڑی زیادتی یہ ہوئی کہ اُن کے اصل متون کو پسِ پشت ڈال کر من مانے عقائد و نظریات کو اُن سے بلا وجہ منسوب کر دیا گیا یا پھر مغربی فلاسفہ کے نظریات کو متن ِ اقبال سے زبر دستی برآمد کرنے کی روش کو’’ اقبال شناسی‘‘ کا نام دے کر غلطیہائے مضامین کا طومار باندھا گیا۔ حکیم الامت کے فکروفن پر لکھے جانے والے طویل الذیل مقالات نے عوام و خواص دونوں کو جادہِ مستقیم سے ہٹا کر عجب بھول بھلیوں میں مبتلا کر دیا۔ اب اصل اقبال کی تلاش ہی اصل مسئلہ ہے:

    ؎        حقیقت خرافات میں کھو گئی  ،    یہ اُمت روایات میں کھو گئی

ْٔٔٔٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓاقبال کی راست تفہیم میں حائل رکاوٹوں کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہو تا ہے کہ اس کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھی گئی تھی۔ اقبال جب اپنے انگریزی خطبات  ۱؎  پیش کرنے کے لیے مدراس گئے تو واپسی پر اُنہی خطبات کو علیگڑھ یونیورسٹی میں بھی سنایا جس میں آخری دن کی صدارت سیّد ظفر الحسن فرما رہے تھے، اُن کا یاد گار ِ زمانہ خطبۂ صدارت بعد میں آنے والے محققین اورناقدین کے لیے ایسا جادوئی نسخہ ثابت ہوا جس کی مد دسے اقبال جیسی انقلابی شخصیت کو متکلم کہنے کی مستقل روایت کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔ اس تاریخی خطبے کا جائزہ اور تجزیہ ضروری ہے کیوں کہ تفہیم ِ اقبال کے سلسلے میں اور خصوصاً اُن کے فکری نظام کے حوالے سے بیش تر غلط فہمیوں کا براہ ِ راست تعلق اسی خطبے  ۲؎ کے ساتھ ہے۔ اکثر ناقدین ِ اقبال کی تحریریں اسی نقطۂ نظر کی بازگشت ہیں، سیّد علی عباس جلالپوری کی کتاب ’’ اقبال کا علم ِ کلام‘‘اسی دبستانِ فکر کی نمایندہ او ر متنا زعہ فیہ  ۳؎  تصینف ہے۔ سیّد ظفر الحسن نے اپنے خطبے (نومبر۱۹۲۹ء ) میں کہا تھا:

"The profound insight of Dr. Iqbal both in the principles of Islam and in the principles of modern science and philosophy,his great and up to date knowledge of all that has a bearing on the point ,his keen acumen and capacity to construct a new system of thought ;in other words,his unique fitness to bring islam and philosophy to gether and in harmony,has induced him to carry out  the task anew which centuries ago our great Ulma like Nizam and Ashari set to themselves in the face of Greak science and philosophy.He has constructed in these lectures he has given us the foundations of a new illm-i-kalam which,Gentlemen,only he could do”(4)

محمد سہیل عمر نے اصل انگریزی متن کی جملہ صفات پوری صحت کے ساتھ اُردو ترجمے میں منتقل کر دی ہیں، محولہ بالا عبارت کا ترجمہ ملاحظہ ہو:

  ’’ ڈاکٹر اقبال کو اسلام اور جدید فلسفہ و سائنس کے اصولوں کی جو گہری بصیرت حاصل ہے اُن کے مالہ و ماعلیہ کے بارے میں اُنہیں جیسی تازہ ترین اور وسیع معلومات حاصل ہیں، ایک جدید نظام ِ فکر تعمیر کرنے کی جیسی مہارت اور استعداد اُنہیں میسر ہے بالفاظِ دیگر فلسفے اور اسلام کو ہم آہنگ کرنے اور تطبیق دینے کی جیسی بے مثل لیاقت اُن میں پائی جاتی ہے اس نے اُن کو آمادہ کیا کہ وہ اُس کام کو دوبارہ انجام دیں جو صدیوں پہلے یونانی فلسفہ و سائنس کے رو برو ہمارے علما، مثلاً نظام اور (ابوالحسن) اشعری نے اپنے لیے منتخب کیا تھا۔ اپنے ان خطبات میں انہوں نے ہمارے لیے ایک جدید علم کلام کی نیو رکھ دی ہے۔ حضرات یہ کام صرف وہی انجام دے سکتے تھے۔ ‘‘ (۵)

بس یہیں سے اقبال کو متکلم کہنے کا رواج ہوا اور ہر نئے آنے والے اقبال شناس اپنی ہمت کے مطابق حصہ ڈالتے چلے گئے۔ اب اس بات پر حیرت کا اظہار کیا جا سکتا پے کہ سادات قبلیے کے دو نمایا ں حکما (سیّد ظفر الحسن اور سیّد علی عباس جلالپوری) آخر اس کج فکری کا شکار کیسے ہوئے، بہت ممکن ہے کسی اقبال شناس نے مسئلہ زیر ِ بحث پر داد ِ تحقیق دی ہو!

اقبال نے اپنے تصوارت کی ترسیل و اشاعت کے لیے جو منظم و جامع نظام ِ فکر مرتب کیا اُس میں شامل کلامی مباحث کی نوعیت بنیادی نہیں اشاراتی ہے، وہاں جز بول کر جز ہی مراد لیا گیا ہے کُل نہیں۔ اگر اقبال اِن مباحث میں جز بول کر کُل مراد لیتے تو پھر اُن کا متکلم ہونا لازم آتا تھا، لیکن چونکہ ایسا نہیں ہوا لہٰذا اُن کو متکلم کہنا حقائق مسخ کرنے کے برابر ہے۔ ’’انگریزی خطبات‘‘ میں کہیں کہیں ایسے اشارے موجود ہیں جن کو ’’کُل‘‘ سمجھ کر اقبال شکنی کا حق ادا کیا گیا ہے۔

                ؎     حکیم میری نواؤ ں کا  راز  کیا  جانے

 ورائے عقل ہیں اہل ِ جنوں کی تدبیریں           (کلیات:ص۶۸۷)

اقبال کا اصل فکری کارنامہ یہ ہے کہ اُنھوں نے قدیم مشرقی دانش اور جدید فکری نظریات کو باہم یکجا کر کے ایک ترکیبی نظام وضع کرنے کی مستحن کوشش کی ہے اور اسے خودی کا نام دے کر باقی کائناتی مظاہرکو اسی فکر کا زائیدہ قرار دیا ہے۔ اس خودی کا تعارف اقبال کی زبانی سنئیے:

یہ موج ِ نفس  کیا  ہے  تلوار  ہے!

خودی کیا ہے ؟ تلوار  کی  دھار  ہے!

خودی کیا ہے؟  راز ِ درون ِ  حیات  !

خودی کیا  ہے؟  بیداریء کائنات!

ازل  اس  کے  پیچھے  ابد  سامنے!

نہ حد اس کے  پیچھے  نہ  حد سامنے!

سفر  اس  کا  انجام  و  آغاز  ہے

یہی  اس کی تقویم  کا  راز  ہے!

ازل  سے  ہے  یہ کشمکش  میں  اسیر

ہوئی خاک ِ آدم  میں  صورت  پذیر

خودی کا نشیمن ترے  دل  میں  ہے

فلک جس طرح آنکھ کے تل  میں ہے  (٭)

(کلیات:’’ ساقی نامہ‘‘ص ۴۱۹ تا ۴۲۰)

اب اُصولاً تو یہ ہونا چاہیے تھا فکرِ اقبال کو اُنہی کے پیش کردہ نظام میں رکھ کر تعبیر و تشریح کا کام آگے بڑھایا جاتا مگر ایسا ہوا نہیں، اس کے بجائے ہم مغربی مفکرین کی کتب ہائے جلیلہ سے من پسند اقتباس نقل کر کر کے حکیم الامت کا قد بڑھا نے میں مصروف رہے، کسی نے اتنی زحمت بھی گوارہ نہیں کی کہ اقبال کا اصل منہاج اور نظام کھوج لیا جائے اور یہ دیکھ لیا جائے کہ وہ کس سسٹم میں رہ کر بات کر رہے ہیں۔

اقبال کے فکری اُسلوب کی نوعیت کچھ ایسی ہے کہ جہاں وہ عقلیت پرست فلاسفہ کا فکری نظام اور ارسطو کی جامد منطق کو رد کرتا ہے وہاں فلسفیانہ تجریدات کو بھی لائق ِ توجہ نہیں سمجھتا۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اقبال کے ہاں مغربی فلاسفہ کی بازگشت سنائی دیتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں لینا چاہیے کہ اُنھوں نے دوسروں کے خیالات من و عن قبول کر کے اپنے لفظوں میں بیان کر دیے ہیں کیوں کہ ایسا ہونا قریب قریب نا ممکن ہے، ہر فکر اپنی ذات میں منفرد اور جدا گانہ اوصاف کی حامل ہوتی ہے۔ ایک فلسفی بیک وقت بہت سے فلاسفہ کے خیالات و نظریات اپنے نظام میں نہیں ٹھونس سکتا اگر وہ ایسا کرے گا تو وہاں اجتماع ِ ضدین کی ایسی ایسی صورتیں جنم لیں گی کہ اچھا خاصا فلسفہ بھٹیار خانہ بن کر رہ جائے گا اور تمام فلسفہ اس اُردو مثل کے مصداق ہو جائے گا کہ ’’ کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا بھان متی نے کنبہ جوڑا‘‘  ہاں البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر اقبال کے پیش ِ نظر کوئی واضح سماجی مشن نہ ہوتا تو پھر وہ بھی کانٹ اور ہیگل کی طرح دوسرے فلاسفہ کے نظام ہائے فکر سے فلسفے کی نئی نئی ترکیبی صورتیں وضع کرتے چلے جاتے۔

اقبال کو فلسفی نہ ماننے کی ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اُن کا فلسفہ منظم صورت میں دستیاب نہیں کیوں کہ وہ شاعر تھے اور اُن کا زیادہ تر علمی سرمایہ شاعری میں محفوظ ہے۔ اگر یہ بات وزن رکھتی ہے تو پھر سقراط کو ہم کس بنیاد پر فلسفی تسلیم کرتے ہیں ؟اُس نے تو کوئی کتاب نہیں لکھی۔ افلاطون کا تمام تر فلسفہ مکالمات کی صورت میں تحریر کیا گیا۔ فرانسیسی فلسفی گیبریل مارسل (Gabriel Marcel) نے اپنا فلسفہ خطبات، ڈراموں اور کہانیوں کی شکل میں لکھا ہے۔ سارتر نے ٹھوس نظری کتب لکھنے کے علاوہ فکشن کو بھی فلسفیانہ مقاصد کے لیے استعمال کیا، تا ہم کسی نے یہ اعتراض نہیں کیا کہ اُن کے علمی کاموں کی فلسفیانہ حیثیت ماند پڑ گئی ہے۔ اگر ہم مان لیں کہ فلسفیانہ افکار کو کسی بھی میڈیم میں پیش کیا جائے وہ فلسفہ ہی رہتا ہے کچھ اور نہیں بنتا تو مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ اقبال کے فکری نظام کو سمجھنے کی خاطر اُن تمام جالوں کو صاف کرنا ہو گا جو ماہرین ِ نے بڑی محنت سے تیار کیے ہیں۔ میں یہ کہنے کی جسارت بھی کروں گا کہ افکار ِ اقبال کی توضیح و تفہیم کے سلسلے میں ناقدین نے خاصی بے احتیاطی کا ثبوت دیا ہے۔ ایسی اعلیٰ و ارفعٰ فکر جو تحقیق، تجربے اور فکری جمال و انبساط جیسے عناصر سے مملو ہو، قوت ِ استد لال اور وجدان اُس کے ہمرکاب ہوں نیز بے نتیجہ تصورات کی نفی کرے اور انسان کا وقار بلند کرے اگر اس روشن فکر کو اصل مقام نہ دیا جائے توکیا یہ زیادتی نہیں ہو گی!

اقبال کے فکری نظام میں جہاں متقدمین اور متوسطین نے اپنا اپنا سلبی کردار ادا کیا وہاں معاصرین بھی اس دوڑ میں آگے آگے رہے۔

 غیر ملکی ’’مداحوں ‘‘ نے جب میدان گرم دیکھا تو وہ بھی محض اسلام دشمنی کا شوق پورا کرنے ادھر آ نکلے اور ایسے ایسے شگوفے چھوڑے جس کے باعث اقبال کی شخصیت اور فکر و فن کے بارے میں غلط فہمیاں عام ہونا شروع ہو گیئں۔ اگر غیر ملکی ناقدوں کی تحریروں کو نو آبادیاتی تناظر میں پرکھا جا ئے تو کئی چونکا دینے والے انکشاف سامنے آتے ہیں لیکن یہ پہلو ایک الگ اور مفصل مطالعے کا متقاضی ہے(۶)

اقبال شکنی کی روایت مستحکم کرنے والوں کی فہرست گر چہ طویل ہے لیکن چند نام گنوانے ضروری ہیں تا کہ سند رہے اور بوقت ِ ضرورت کام آئے۔ ان میں آر۔ اے نکلسن، ڈکنسن، ای ایم فاسٹر، کانٹ ویل سمتھ، پروفیسر گب، ہربرٹ ریڈ، ڈاکٹر آفاق فاخری، فراق گورکھ پوری، جوش ملیح آبادی، تارا چند رستوگی، میکش اکبر آبادی، مجنوں گورکھ پوری، جمیل مظہری، رالف رسل، عزیز احمد، حمید نسیم، سیّد علی عباس جلالپوری اور ڈاکٹر حکم چند نیر وغیرہ۔ اس طرز ِ فکر کی مزید توضیح درج ذیل مثالوں سے ہو سکتی ہے، فراق لکھتے ہیں :

    ’’  اقبال کے مداح اس سوال کا جواب نہیں دیتے کہ اسلام سے وابستہ ہوئے بغیر دنیا خوشحالی، ترقی اور اعلیٰ مقاصد سے ہم کنار کیوں نہیں ہو سکتی‘‘  (۷)

سیّد علی عباس جلالپوری اپنے مخصوص انداز میں کہتے ہیں :

       ’’  راقم کے خیال میں اقبال کا نظریۂ خودی بہ تمام و کمال فشٹے سے ما خوذ ہے۔ ۔ ۔ اقبال کا تصورِ ذات ِ باری سریانی ہے جو اسلام کے شخصی اور ماورائی تصور کے منافی ہے۔ اقبال نشٹے کے تتبع میں خودی مطلق کے قائل ہیں جس سے تمام خودیوں کا صدور ہو رہا ہے اور جو کائنات میں جاری و ساری ہے ‘‘ (۸)

کانٹ ویل سمتھ کے نزدیک اقبال اشتراکی، تجدد پسند، رجعت پسند اور ماضی پرست ہے۔ ای ایم فاسٹر نے فکری تناقض کا الزام لگایا۔ ڈاکٹر جمیل جالبی نے اپنی تصنیف ’’ پاکستانی کلچر‘‘ میں فکرِ اقبال کو نطشے اور بر گساں کا ملغوبہ قرار دیا۔ فراق گورکھپوری نے اقبال کی آفاقیت کو ہند و دھرم کا فیض ثابت کرنے پر زور دیا ہے۔ تارا چند رستوگی نے فلسفۂ اقبال کو مغربی دانشوروں کا عطیہ کہا ہے۔ سلیم احمد کو یہ گلہ ہے کہ اقبال کے ہاں تضاد بہت پایا جاتا ہے۔ علی سردار جعفری تو اقبال کے تمام فکری سرمائے کو اشتراکی نصب العین کی میراث مانتے ہیں۔ یہ سلسلہ بہت دور تک پھیلا ہوا ہے اور اس کج فکری کا آغاز عہد ِ اقبال میں ہو چکا تھا۔ مکاتیب اقبال پڑھ کر اندازہ ہو تا ہے کہ معاصرین کی غلط تعبیرات نے شاعرِ مشرق کو کتنا پریشان کیا ہو ا تھا۔

سیّد علی عباس جلاپوری کے الزامات اور فکری مغالطوں کا دائرہ خاصا وسیع ہے، وہ تاریخ ِ فلسفہ کے عمدہ انشا پرداز اور خالص عقلیت کے بلند پایہ مقلد تھے، اقبال کے ساتھ اُن کا فکری تصادم محض اس وجہ سے بھی تھا کہ اقبال کے ایک ہاتھ میں قرآن دوسرے میں مغربی علوم اور سر پر کلمہ طیّبہ کا تاج جگمگا رہا تھا۔ سیّد صاحب خود کو آزاد منش فلسفی سمجھتے تھے اور علم ِ فلسفہ کی کسی ایسی لگی بندھی تعریف  کے اسیر تھے جس کا محدود اطلاق صرف اُنہی کی ذات تک محدود تھا اور جو شخص اُس تعریف پر پورا نہ اُترتا وہ اُسے اقلیم ِ فلسفہ سے نکال کر متکلم کے عقوبت خانے میں ڈال کر عمر قید کی سزا سنا دیتے تھے۔ اُن کی کتاب ’’ اقبال کا علم ِ کلام‘‘ آج تک موضوع ِ بحث بنی ہوئی ہے۔ اس کتاب کا ایک ایک صفحہ اقبال کی اصل فکر کو منہدم کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ مذکورہ کتاب کا ایک باب بعنوان ’’ اقبال اور نظریۂ وحدت الوجود‘‘ اس حوالے سے قابل ِ ذکر ہے کہ یہاں اُنھوں نے اقبال کے فکری نظام کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے غلط فکری کو رہ دی ہے، اقتباس ملاحظہ ہو:

             ’’ سوال یہ پیدا ہو گا کہ اقبال نے شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کی تعلیمات کو کفر و زندقہ قرار دینے کے بعد شیخ کے ایک پیرو اور متبّع کو اپنا پیرو مرشد کیوں منتخب کیا؟ اقبال کے بعض شارحین نے بھی اس دقت کو محسوس کیا ہے دو ایک نے حتی المقدور اس اشکال کو رفع کرنے کی کوشش بھی کی ہے لیکن اس کوشش میں وہ مولانا روم کی وجودی الٰہیات سے مکمل طور پر قطع نظر کر لیتے ہیں، اور بار بار اُن کے قدر و اختیار، ارتقا اور تصورِ عشق کو معرض ِ بحث میں لاتے ہیں اور پھر اُن کی مطابقت اقبال کے افکار سے کرتے ہیں۔ حالانکہ کسی مفکر کے اخلاقی و عملی نقطۂ نظر کو اس کے الٰہیاتی نظریے سے جدا کر کے مطالعہ نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ اس کی اخلاقی قدریں اور عملی نصب العین اُس کی الٰہیات ہی سے متفرع ہوتے ہیں ‘‘۔ (۹)

  محولہ بالا اقتباس میں موجود تمام مقدمات اور نتائج صریحاً غلط اور گمراہ کُن ہیں۔ سیّد صاحب نے یہاں حسب روایت اجتہاد کی نسبت تقلید ہی کو ترجیح دی ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ ابن عربی اور رومی پر ہونے والی تحقیقات اور تنقیدات کو ہم آسانی کے لیے تین حصوں تقسیم کر سکتے ہیں :

 (۱)  روایتی انداز ِ فکر و نظر (جس میں ابن ِ عربی کو محض وحدت الوجود کا شارح سمجھا گیا اور اُن کے دیگر اہم افکار کو نظر انداز کر دیا گیا اور رومیؔ کی مثنوی کو بھی وجودی فکر کی بائبل کہہ دیا)

(۲)  مستشرقین کا تحقیقی اور تنقیدی کام( جس میں ایک مخصوص فکر اور نظریے کی ترجمانی کی جاتی ہے اور اکثر اوقات حقائق کو مسخ بھی کر دیا جاتا ہے، دور ِ جدید میں نوآبادیات کے اصل محرکات اور تناظرات پر خاصا کام ہو رہا ہے اُس میں مستشرقین کا ذہن کھل کر سامنے آ رہا ہے)

(۳)  اصل متن اور اصل فکر کی نمائندگی( جس میں معروضی حقائق کو پرکھ کر حکم لگایا جا تا ہے اور علمی تقاضوں کا بھرم قائم رہتا ہے)

سیّد علی عباس جلاپوری کا شمار پہلی قسم میں ہوتا ہے۔ اگر وہ مجتہد ہوتے تو رومی کو کسی قیمت پر وجودی نہ کہتے۔

  ؎             مشرب ِ او خورد و نوش و خواب نیست  پیر ِ رومیؔ  پیرک ِ  پنجاب  نیست

سیّد صاحب نے بھی روایتی تنقید کی پیروی کر کے جو ظلم کیا سو کیا مگر اپنے ساتھ دوسروں کو بھی لے ڈوبے۔ رومی کی مثنوی کو’’فصوص الحکم‘‘ جیسی کتاب خیال کرنا کم سوادی کی دلیل ہے۔ مثنوی کا اصل موضوع سعی و عمل اور جدوجہد ہے۔ مسلمان اپنے دور ِ انحطاط میں جب ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر ِ فردا تھے اور عمل کی قوت سے کامل بیگانگی کا اظہار کر چکنے کے بعد جبر و اختیار کی بحثوں میں روشن مستقبل تلاشنے میں سرگرداں تھے تو اُس بھٹکی قوم کو راہِ راست پر لانے کی خاطر رومیؔ کی مثنوی سامنے آتی ہے۔ سیّد صاحب اپنے اقتباس میں جن’’ اشکال‘‘  کا ذکر کر رہے ہیں اُ ن کا تعلق اقبال کے فلسفۂ خودی اور ابن ِ عربی کے وحدت الوجود کے ساتھ بنتا ہے، کیونکہ یہ دونوں نظریات اصل میں ایک دوسرے کے نقیض ہیں۔ یہ مسئلہ صرف اُسی کے ذہن میں پیدا ہو گا جو رومیؔ کو وجودی سمجھے گا اور جو رومیؔ کو وجودی سمجھے گا پھر اُس کے لیے یہ اشکال بھی پیدا ہوں گیں کہ اقبال کے فلسفۂ خودی میں اس کی گنجائش کیسے پیدا کی جائے ؟نیز پیر رومیؔ اور مریدِ ہندی کے باہمی تعلقات میں موافقت کی کون کون سی صورتیں بن سکتی ہیں ؟

اگر اس طر ح کے اُلجھاو پیدا نہ ہوتے تو اقبال کا فکری نظام وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنے خدوخال واضح کرتا چلا جاتا۔ ایسا ہر عظیم مفکر کے ساتھ ہوتا آیا ہے کہ اُس کے افکار زمانے کے ارتقائی سفر میں اپنے معنی کھولتے چلے جاتے ہیں۔ سقراط، افلاطون اور ارسطو ہوں یا گوتم بدھ، اوشو، آئن سٹائن، بھگت کبیر، ابن عربی اور مولانا روم، ان کا وژن ہم پر رفتہ رفتہ ہی وا ہوتا ہے۔ شرط یہی ہے کہ افکار کی اصلیت کو مسخ نہ کیا جائے اور حق دار کو اُس کا حق دیانت داری سے ادا کر دیا جائے۔ اقبال پر لکھی جانے والی ابتدائی کتب کو دیکھ کر اندازہوتا ہے کہ ناقدین کی رسائی اصل افکار تک تقریباً ہو چکی تھی لیکن وہ اقبال کی ہر فکر کو مشرق و مغرب کے کسی نہ کسی فلسفی کا فیض بھی قرار دیتے، اس کا خاصا نقصان ہوا، وہ ایسے کہ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم اور اس قبیل کے دیگر اقبال شناس چونکہ مغربی فلسفے کا وسیع پس منظر بھی رکھتے تھے لہٰذا انھوں نے اقبال کے بنیادی تصورات میں مغربی عناصر کا تڑکا لگا یا جس کی وجہ سے اقبال کی اصل فکر دب کر رہ گئی اور ہم ایک ایسی اقبال فکر سے متعارف ہوئے جو اپنے اصل پس منظر سے پوری طرح کٹ چکی تھی۔

غلط فکر ی کے اس رجحان نے رومیؔ کو بھی نہیں بخشا اور انھیں بھی وجودی بنا کو دم لیا۔ اقبال کے فکر و نظر کے ساتھ جو سلوک ہم نے روا رکھا اس جیسی کوئی اور مثال مشکل ہی سے ملے گی۔ جامعات میں ہونی والی تحقیق اندھے کی لاٹھی کا فریضہ انجام دے رہی ہے، جو بات جس نے کہہ دی وہ سند بن گئی اور اُسی کی تکرار کو تحقیق کا درجہ دے کا سند ِ دوام عطا کر دی گئی۔ اقبال کو اقبال کے حوالے سے سمجھا جانا چاہیے۔ اُن مآخذ کا کھوج لگایا جائے جو اُن کے فکری نظام میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ خدا لگتی بات تو یہ ہے کہ اقبال شناسی کو سندی تحقیق نے جو نقصان پہنچایا اتنا نقصان غیر سندی تحقیق سے بھی نہیں پہنچا:

   ؎             شیر مردوں سے ہو ا بیشۂ تحقیق تہی

رہ گئے صوفی و ملا کے غلام اے ساقی

نادان دوستوں کی فہرست اُس وقت تک نا مکمل رہے گی جب تک اُن شارحین کا تذکرہ نہ کیا جائے جن کی تشریحات نے فکر اقبال کو ہم سے کوسوں دور کر دیا، ویسے اس ضمن میں صرف یوسف سلیم چشتی کا نام بھی کافی ہے کہ اُنھوں نے اپنی تشریحی کتابوں کے ذریعے اقبال کو وحدت الوجود کا پرچارک بنا کر دم لیا۔ اُن کے نزدیک اقبال محض ایک وجودی صوفی ہے جو  ہفت افلاک کی سیر کرنے کے دوران عالم ِ لاہوت میں جو کچھ مشاہدہ کرتا ہے وہ بے کم وکاست اپنی شاعری میں بیا ن کر جاتا ہے۔ شارحین میں دو طرح کے لوگ شامل ہیں ایک تو وہ جنہوں نے شعری تخلیقات کو موضو ع بنایا اور دوسری قسم میں وہ ناقد شارح آ جاتے ہیں جو انگریزی خطبات تک محدود رہے۔ اِن دونوں گروہوں نے تشریحی کام کیا، کچھ بہتر تفہیما ت ضرور سامنے آئیں لیکن ایسے تصورات بھی در آئے جن کی وجہ سے فکرِ اقبال کو نقصان پہنچا۔

یہ اپنی جگہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اقبال کے انگریزی خطبات کا تا حال کوئی ایسا ترجمہ سامنے نہیں آیا جو اصل انگریزی متن کے مطابق ہو اور ہر خاص و عام کے لیے قابلِ استفادہ بھی ہو۔ ماضی میں ہونے والے تراجم میں سیّد نذیر نیازی کا ترجمہ اپنی تمام تر مشکلات کے باوجود  استعمال ہو رہا ہے۔ دیگر مترجمین میں شریف کنجاہی، ڈاکٹر وحید عشرت، ڈاکٹر سمیع الحق(انڈیا) اور شہزاد احمد کی کاوشیں لائق ِ توجہ ضرور ہیں لیکن مسائل ان میں بھی موجود ہیں۔ اقبال کا فکری نظام چونکہ انگریزی خطبات میں زیادہ وضاحت و صراحت کے ساتھ ہم سے مکالمہ کرتا ہے لہٰذا اس کا ایسا ترجمہ سامنے آنا ضروری ہے جو اقبال شناسی کے بنیادی تقاضے پورے کر سکے۔ ہمارے ہاں اقبال کی فلسفیانہ  اصطلاحات پر کام ہونا باقی ہے، ہر لکھاری اصطلاحات ِ اقبال کو من پسند معنوں میں برت رہا ہے جس کی وجہ سے اقبالی فکر کو کبھی تجریدی کہہ دیا جاتا ہے اور کبھی تشکیک پسندی کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔

اقبال کا  فلسفیانہ نظام ریاضیاتی یا تجریدی نہیں ہے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ وہ تجریدی فلسفے کی ناکامی پر نو حہ کناں ہیں تو شاہد غلط نہ ہو گا۔ اقبال کا فلسفہ انسانی ہستی کو ہر قسم کی بے توقیری، بے یقینی، ناکامی اور مایوسی سے باہر نکالتا ہے۔ اقبال کے نزدیک ایک فلسفی کی ذمہ داری یہ بھی بنتی ہے کہ وہ ایمان اور اعتماد کو فروغ دے، کائناتی مسائل کا فہم حاصل کرنے کے لیے جذبہ اور احساس کے ساتھ عقل و ہوش اور منطقی دلائل و استد لال سے بھی کام لے تا کہ انسانی صورت ِ حال میں بہتری کے امکانات روشن ہو سکیں۔ اقبال کے فکری رجحانات میں ایسے تمام صحت بخش عناصر ابتدا ہی سے موجود رہے ہیں جن کا براہِ راست تعلق انسانی شخصیت کی نشوونما اور ترقی کے ساتھ ہے۔ یہ اُن کی تخلیقی فکر کا کرشمہ ہے کہ اُن کے فکری نظام میں فلسفۂ مشرق و مغرب کے وہ تمام اوصاف جمع ہو گئے جو انسانی معاشرے کو رجائی نقطۂ نظر عطا کرتے ہیں۔

اقبال کو عام پڑھے لکھے طبقے سے دور کرنے کی غرض سے یہ غلط فہمی عام کر دی گئی کہ وہ عقل کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ افترا پردازی کا یہ عمل پیغام ِ اقبال کی راہ میں سدِ سکندری ثابت ہوا۔ فکرِ اقبال پر اتنا کام ہونے کے باوجود اب بھی کئی نقاد شاعر ِ مشرق کو عقل دشمن کہنا واجب سمجھتے ہیں : ع  ایسے ’’ناقد‘‘ کا کیا کرے کوئی۔ اقبال کے فکری نظام اور فکری منہاج کا راست مطالعہ ہی ہمیں یہ بتاتا ہے کہ وہ زندگی کی تمام سر گرمیوں میں عقل و خرد کے قائل رہے بلکہ مذہبی امور میں بھی عقلی عناصر کی شمولیت احسن خیال کرتے تھے۔ اس اہم نکتے کی مکمل وضاحت کی خاطر انگریزی خطبات کا ایک اقتباس پیش کرنا ضروری ہے:

” Religion is not physics or chemistry seeking an explanation of Nature in terms of causation;it really aims at interpreting a totally different religion of human experience,religious experience,the data of which cannot be reduced to the data of any other science.In fact,it must be said in justice to religion that it insisted on the necessity of concrete experience in religious life long before science  learnt to do so.The conflect between the two is due not to the fact that the one is,and the other is not, based on concrete experiences.Both seek concrete experience as a point of departure.Their conflect is due to the misapprehension that both interpret the same data of experience.We forget that religion aims at reaching the real significance of a special variety of human experience.”(10)

 یہ مان لینے میں کوئی حرج نہیں کہ اقبال نے انسانی مسائل کو بالکل اچھوتے انداز میں متعارف کرایا ہے۔ اُنھوں نے جس طرح روایتی افکارو نظریات سے بغاوت کر کے نئی نئی راہیں تلاشیں، بالکل اسی نہج پر اُن کے فکری نظام پر گفتگو ہونی چاہیے۔

اقبال نے اگر فلسفی کی حیثیت سے کسی خاص عقیدے کا دفاع کیا تو یہ اُن کا حق ہے، اور اگر اُنھوں نے عقیدہ پہلے وضع کیا اور ثبوت بعد میں مہیا کیے تو یہ بھی کوئی انہونی بات نہیں۔ کون سا ایسا آفاقی فلسفہ ہے جو عقیدہ یا نظر یہ وضع کیے بغیر آگے بڑھتا ہے!ہر فلسفی کچھ بیانات کو ابتدا ہی میں مان کر آگے چلتا ہے، محض خلا میں تو کوئی فکر وجود پذیر نہیں ہوتی۔ آزادانہ فکر کی حدود موجود ہیں اور ان کی پاسداری واجب۔ چاہے کوئی فلسفی مذہبی رجحانات کا حامل ہو، لا ادری(Agnostic) خیالات رکھتا ہو یا پھر برٹرینڈ رسل کی طرح ملحد اور متشکک، ہر ایک  فلسفیانہ طریق ِ کار میں برابر ہے۔ فلسفیانہ منہاج اوردلائل و نتائج کی وجہ سے خود بخود فرق قائم ہو جاتا ہے۔ علم ِ فلسفہ میں بھی مادر پدر آزادانہ فکر و جستجوکوئی وجود نہیں رکھتی۔

اقبال نے انسانی تجربے کو تشکیک کے ریگستانوں سے نکال کو یقین کے چمن زاروں میں پہنچایا، زبان اور صداقت کے باہمی رشتوں کو نئی توانائی اور رعنائی عطا کی، ورنہ ہمارے بہت سے مسلم فلاسفہ بھی مغربی اثرات کی وجہ سے زبان اور صداقت کے تمام تلازمات کو مشکوک مانتے ہیں۔ اقبال کے فلسفۂ اشتراک و رفاقت میں دوئی (Dualism) کا کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ اقبال کے فکری نظام میں نازک اور حسّاس انسانی روابط، تکریم ِ انسانیت، فرد کی ترقی، سماجی نشوونما، بلند نگاہی، وسعت ِ نظری، رواداری، عزت ِ نفس، جدید علوم سے وابستگی، خود شناسی اور بندگی جیسے اعلیٰ عناصر ایک خاص تناسب سے اپنی جگہ بناتے چلے جاتے ہیں۔ اقبال نے فلسفیانہ حدود میں رہتے ہوئے محکم نتائج مرتب کرنے کی روایت ڈالی ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اقبال کے فکری نظام کو فلسفہ و منطق اور مشرق و مغرب کی فلسفیانہ کتب کی بجائے تصانیف ِ اقبال سے اخذ کرنے کی طرف توجہ دیں۔ اقبال کو اقبال ہی کی مدد سے سمجھا جائے تو بات بنے گی ورنہ ’’ دریوزہ گرِ آتش بیگانہ‘‘ کی ابدی کیفیت سے الجھے رہیں گے۔

اقبال کا نظام ِ فکر اُصول ِ وحدت پر اُستوار ہے، جہاں مختلف علوم و فنون سے کشید کیا ہوا علم کُل (whole)  میں آ کر جذب ہو جاتا ہے۔ وہ ہر کار آمد خیال اور نظریے کو جذبے اور فکر کی دھیمی آنچ پر پکانے کے بعد اپنے نظام ِفکر کا حصہ بنا لیتے ہیں۔ اس ایجابی عمل کے دوران تقلید اور بھیڑ چال پر مشتمل فکری اصنام پاش پاش ہو تے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے تمام سلبی تصورات کو یک قلم مسترد کر دیا گیا جو انسان کی فکری نشو ونما میں سم ِ قاتل بنے ہوئے تھے۔ اُن کی فکر کا آئینہ روشن اور پائیدار ہے۔ جو کوئی اس آئینے میں جھانکے گا وہ اشیا کے اصلی خدو خال دیکھے گا۔

          آخر میں اس بات کا اعادہ بہت ضروری ہے کہ اقبال نے کانٹ اور ہیگل کی طرح منطقی دلائل و قضایا کے صغرے کبرے نہیں ملائے اور نہ محض ریاضیاتی فارمولوں کی مدد سے کائناتی سچائیاں دریافت کرنے پر زور دیا ہے۔ اقبال کا نامیاتی فلسفہ سماجیات کے زندہ مسائل کو زندگی بھری نظروں سے دیکھتا  اور محسوس کرتا ہے۔ انسانی وجود اُن کے ہاں بنیادی حقیقت ہے اور وہ کائنات کو بھی حق مانتے ہیں۔ وہ اپن فلسفۂ خود شناسی کے ذریعے در بدر بھٹکے انسان کو روشن منزل کی طرف گامزن دیکھنا چاہتے ہیں۔ انسان کی ناپائیداری اور عارضیت کی وجہ سے جو سطحی فلسفے وجود میں آئے اقبال نے اُن سب کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔ مسلم فکر میں اقبال نے حد درجہ منظم طریقے سے ذات کا گہرا شعور پید ا کیا۔ یہ شعور انسان کو فرشتوں سے افضل بناتا ہے اور وہ روشن راہ دکھاتا ہے جس پر چل کو انسان صحیح معنوں میں اشرف المخلوقات کا درجہ حاصل کرتا ہے۔ اقبال کی نظم ’’ نگاۂ شوق‘‘ ہمیں منزل کا راستہ بھی دکھاتی ہے:

یہ کائنات چھپاتی نہیں ضمیر  اپنا

کی ذرہ ذرہ میں ہے ذوق ِ آشکارائی!

کچھ اور ہی نظر آتا ہے کارو بار ِ جہاں

نگاہِ  شوق  اگر  ہو  شریک ِ  بینائی

اسی نگا ہ سے محکوم  قوم  کے  فرزند

ہوئے  جہاں میں سزاوار ِ کار فرمائی

اسی نگاہ  میں  ہے  قاہری و جباری

اسی نگا ہ میں ہے  دلبری  و  رعنائی

اسی نگاہ سے ہر ذرہ کو جنوں میرا

سکھا رہا ہے رہ و رسم ِ دشت پیمائی

نگاہ ِ شوق  میسر نہیں  اگر  تجھ کو

ترا وجود ہے قلب و نظر کی رسوائی

 (کلیات اقبال، ص۵۷۵)

٭٭٭

 

حواشی

  ۱؎  Reconstruction Of Religious Thought in Islam

۲؎  اس کا مکمل انگریزی متن دیکھنے کے لیے’’ المعارف، شمارہ ۳، (سن ِ اشاعت ندارد)، ادارہ ثقافت ِ اسلامیہ، لاہور کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے، محمد سہیل عمر کی کتاب ’’ خطبات ِ اقبال نئے تناظر میں ‘‘ ( اقبال اکادمی پاکستان، لاہور) میں اسی خطبۂ صدارت کا اُردو ترجمہ موجود  ہے۔

 ۳ ؎  ماضی میں جلالپوری صاحب کے یہی مقالات جب ’’فنون ‘‘میں قسط وار شائع ہو رہے تھے تو بشیر احمد ڈار نے اُن پر کڑی تنقید کی تھی۔ اس کے علاوہ بھی کئی دوسرے ناقدوں نے اِ ن کی کتاب کو ہدفِ تنقید بنایا لیکن محمد ارشا دصاحب کے موجودہ(فنون، شمارہ ۱۳۱ اور ۱۳۲) تنقیدی وتجزیاتی مقالات سب پر فوقیت رکھتے ہیں۔

۴؎    المعارف، شمارہ ۳، (سن ِ اشاعت ندارد)، ادارہ ثقافت ِ اسلامیہ، لاہور، ص۳۱۸

۵ ؎     محمد سہیل عمر، خطبات ِ اقبال نئے تناظر میں، اقبال اکادمی پاکستان، لاہور، طبع دوم(۲۰۰۲ئ) ص ۱۷۷

۶؎    ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے اس حوالے سے اپنی تصانیف میں کئی جگہ کھل کر اظہار ِ خیال کیا ہے۔

۷؎    Thus spoke Firaq  ص(۷۶)

۸؎     سیّد علی عباس جلالپوری، اقبال کا علم ِ کلام، مکتبہ خرد افروز، جہلم، طبع دوم، ستمبر ۱۹۸۷ء

۹؎      سیّد علی عباس جلالپوری، اقبال کا علم ِ کلام، مکتبہ خرد افروز، جہلم، طبع دوم، ستمبر ۱۹۸۷ء ص۹۵

۱۰؎    Reconstruction Of Religious Thought in Islam:Edited and Annotated by M.Saeed Sheikh,Iqbal Academy Pakistan,2nd Edition April 1989,p No 20

(٭)   اقبال کے فلسفۂ خودی کی وضاحت و صراحت کے لیے ’’اسرار ِ خودی‘‘ اور’’ رموزِ بے خودی‘‘ سے بکثرت مثالیں نقل کی جا سکتی ہیں، لیکن بخوف ِ طوالت محض سادہ امثال کو فو قیت دی گئی ہے، اور ویسے بھی اقبال کا تمام منظوم و منثور سرمایہ فکری اور منطقی اعتبار سے باہم مربوط ہے، جو مثال جہاں سے بھی درج کی جائے وہ اقبال کی مرکزی فکر سے پوری طرح ہم آہنگ ہوتی ہے جس میں نہ تو کوئی جھول ہے اور نہ تضاد۔

٭٭٭

 

میرا جی

جاتری

ایک آ گیا، دوسرا آئے گا، دیر سے دیکھتا ہوں یوں ہی رات اس کی گزر جائے گی، میں کھڑا ہوں یہاں کس لیے، مجھ کو کیا کام ہے، یاد آتا نہیں، یاد بھی ٹمٹماتا ہوا اک دیا بن گئی ہے، جس کی رکتی ہوئی اور جھجکتی ہوئی ہر کرن بے صدا قہقہہ ہے، مگر میرے کانوں نے کیسے اسے سن لیا۔ ۔ ایک آندھی چلی، چل کے مٹ بھی گئی، آج تک میرے کانوں میں موجود ہے سائیں سائیں مچلتی ہوئی اور ابلتی ہوئی، پھیلتی پھیلتی، ۔ ۔ دیر سے میں کھڑا ہوں یہاں، ایک آیا، گیا، دوسرا آئے گا، رات اس کی گزر جائے گی، ایک ہنگامہ برپا ہے دیکھیں جدھر، آرہے ہیں کئی لوگ چلتے ہوئے، آرہے جا رہے ہیں اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر۔ ۔ جیسے دل میں مرے دھیان کی لہر سے ایک طوفان ہے ویسے آنکھیں مری دیکھتی ہی چلی جا رہی ہیں کہ اک ٹمٹماتے دئیے کی کرن زندگی کو پھلستے ہوئے اور گرتے ہوئے ڈھب سے ظاہر کیے جا رہی ہے، مجھے دھیان آتا ہے اب تیرگی اک اجالا بنی ہے۔ مگر اس اجالے سے رستی چلی جا رہی ہیں وہ امرت کی بوندیں جنہیں میں ہتھیلی پہ اپنی سنبھالے رہا ہوں، ہتھیلی مگر ٹمٹماتا ہوا اک دیا بن گئی تھی، لپک سے اجالا ہوا، لو گری، پھر اندھیرا سا چھانے لگا، بیٹھتا بیٹھتا، بیٹھ کر ایک ہی پل میں اٹھتا ہوا، جیسے آندھی کے تیکھے تھپیڑوں سے دروازے کے طاق کھلتے رہیں، پھڑپھڑاتے ہوئے طائرِ زخمِ خوردہ کی مانند میں دیکھتا ہی رہا ایک آیا، گیا، ۔ ۔ ۔ دوسرا آئے گا، سوچ آئی مجھے، پاؤں بڑھنے سے انکار کرتے گئے، میں کھڑا ہی رہا، دل میں اک بوند نے یہ کہا رات یونہی گزر جائے گی، دل کی اک بوند کو آنکھ میں لے کے میں دیکھتا ہی رہا، پھڑ پھڑاتے ہوئے طائرِ احساس زخم خوردہ کی مانند دروازے کے طاق اک بار جب مل گئے، مجھ کو آہستہ آہستہ احساس ہونے لگا۔ ۔ اب یہ زخمی پرندہ نہ تڑپے گا لیکن مرے دل کو ہر وقت تڑپائے گا، میں ہتھیلی پہ اپنی سنبھالے رہوں گا وہ امرت کی بوندیں جنہیں آنکھ سے میری رسنا تھا، لیکن مری زندگی ٹمٹماتا ہوا اک دیا بن گئی، جس کی رکتی ہوئی اور جھجکتی ہوئی ہر کرن بے صدا قہقہہ ہے کہ اس تیرگی میں کوئی بات ایسی نہیں، جس کو پہلے اندھیرے میں دیکھا ہو میں نے، سفر یہ اجالے، اندھیرے کا چلتا رہا ہے۔ ۔ تو چلتا رہے گا، یہی رسم ہے راہ کی ایک آیا، گیا، دوسرا آئے گا، رات ایسے گزر جائے گی، ٹمٹماتے ستارے بتاتے تھے۔ رستہ کی ندّی بہی جا رہی ہے، بہے جا، اس الجھن سے ایسے نکل جا، کوئی سیدھا منزل پہ جاتا تھا لیکن کئی قافلے بھول جاتے تھے انجم کے دور یگانہ کے مبہم اشارے مگر وہ بھی چلتے ہوئے اور بڑھتے ہوئے شام سے پہلے ہی دیکھ لیتے تھے۔ مقصود کا بند دروازہ کھلنے لگا، مگر میں کھڑا ہوں یہاں، مجھ کو کیا کام ہے، میرا دروازہ کھلتا نہیں ہے، مجھے پھیلے صحرا کی سوئی ہوئی ریگ کا ذرّہ ذرّہ یہی کہہ رہا ہے کہ ایسے خرابے میں سوکھی ہتھیلی ہے اک ایسا تلوا کہ جس کو کسی خار کی نوک چبھنے پہ بھی کہہ نہیں سکتی مجھ کو کوئی بوند اپنے لہو کی پلا دو، مگر میں کھڑا ہوں یہاں کس لئے؟ کام کوئی نہیں ہے تو میں بھی ان آتے ہوئے اور جاتے ہوئے ایک دو تین۔ ۔ لاکھوں بگولوں میں مل کر یونہی چلتے چلتے کہیں ڈوب جاتا کہ جیسے یہاں بہتی لہروں میں کشتی ہر اک موج کو تھام کر لیتی ہے اپنی ہتھیلی کے پھیلے کنول میں، مجھے دھیان آتا نہیں ہے کہ اس راہ میں تو ہر اک جانے والے کے بس میں ہے منزل، میں چل دوں، چلوں۔ ۔ آئیے آئیے، آپ کیوں اس جگہ ایسے چپ چاپ، تنہا کھڑے ہیں، اگر آپ کہئے تو ہم اک اچھوتی سی ٹہنی سے دو پھول۔ ۔ بس بس مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، میں اک دوست کا راستہ دیکھتا ہوں۔ ۔ مگر وہ چلا بھی گیا ہے، مجھے پھر بھی تسکین آتی نہیں ہے کہ میں ایک صحرا کا باشندہ معلوم ہونے لگا ہوں خود اپنی نظر میں۔ مجھے اب کوئی بند دروازہ کھلتا نظر آئے۔ یہ بات ممکن نہیں ہے، میں ایک اور آندھی کا مشتاق ہوں جو مجھے اپنے پردے میں یکسر چھپا لے، مجھے اب یہ محسوس ہونے لگا ہے سہانا سماں جتنا بس میں تھا میرے وہ سب بہتا سا ایک جھونکا بنا ہے جسے ہاتھ میرے نہیں روک سکتے کہ میری ہتھیلی میں امرت کی بوندیں تو باقی نہیں ہیں، فقط ایک پھیلا ہوا، خشک، بے برگ، بے رنگ صحرا ہے جس میں یہ ممکن نہیں میں کہوں۔ ۔ ایک آیا، گیا، دوسرا آئے گا، رات میری گزر جائے گی۔

٭٭٭

 

ڈاکٹر حنا آفریں

اسسٹنٹ پروفیسر
اکادمی برائے فروغِ استعدادِ اردو میڈم اساتذہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی

میراجیؔ کی نظم  ’جاتری‘ :ایک تجزیاتی مطالعہ

                اس نظم کا عنوان ہی نظم کے  بنیادی مسئلے کی طرف ایک مبہم اشارہ کر دیتا  ہے۔ جاتری یعنی مسافر سے جو کیفیت پیش منظر میں ابھرتی ہے، وہ  ایک نوع کے عدمِ  استقلال، بے ثباتی اور اضطراب کی ہے۔ گرد و پیش میں پھیلی ہوئی پوری زندگی اس بے سکونی اور اضطراب کی زد پر ہے۔ کسی کیفیت کو نہ تو دوام ہے اور نہ ہی آرام۔ مسافرت کی حالت میں سبھی چیزیں رواں دواں اور آنی جانی ہوتی ہیں۔ اس سفر کا المناک پہلو یہ ہے کہ یہ سفر بھی طے شدہ منزل کے لیے ہونے کے بجائے بے سمت اور لایعنی ہے۔

        اس کیفیت کو گرفت میں لینے کے لیے شاعر نے نظم کے واقعات کے لیے جو محل وقوع منتخب کیا ہے اور جن کرداروں سے کام لیا ہے وہ نظم کی پوری فضا سے غایت درجہ ہم آہنگ ہیں۔ لایعنیت اور رائگانی کا جتنا شدید احساس ان کرداروں کے ذریعہ ممکن تھا۔ غالباً کسی دوسری طرح ممکن نہ ہوتا۔ دلچسپ صورتِ حال یہ ہے کہ وہ اعمال اور واقعات جو لذت و انبساط کا سر چشمہ ہیں۔ مخصوص سیاق و سباق میں انتہائی بے لطف اور بے معنی نظر آنے لگتے ہیں۔ شاعر نے جنسی جذبات اور جنسی عمل کے ذریعہ رائگانی اور بے معنویت کے اس احساس کو نہایت ہنر مندی سے اس نظم میں پیش کیا ہے جبکہ جنسی جذبہ انسانی کردار کا مرکز اور جملہ راحتوں سے بڑھ کر ہے بلکہ بعض اعتبار سے تو انسان کی شخصیت اور اس کی معاشرتی زندگی کی اساس یہی جذبہ ہے۔ جب  اس جذبے کی تسکین ہی بے معنی اور لاحاصل ہے تو ظاہر ہے انسانی وجود کی بنیادیں ہی خرابی کی زد پر ہو ں گی۔ اس طرح شاعر نے اس نظم میں مخصوص فضا، محل وقوع  اور مختلف کرداروں کی مدد سے بے لطفی اور بے معنویت کی مہیب صورتِ حال کو گرفت میں لینے کی کوشش کی ہے۔

        دوسری بات جو اس نظم کے سلسلے میں قابلِ توجہ ہے وہ یہ کہ نظم کی ہئیت اور اس کی ساخت اپنے انوکھے پن کی وجہ سے حیران کن ہے۔ میراجی ؔ نے اپنی بیشتر نظمیں ’نظم آزاد‘ کی ہئیت میں لکھی ہیں۔ جس میں مصرعے تو چھوٹے بڑے ہوتے ہیں لیکن اپنے آہنگ اور وزن کے سبب دیکھنے اور پڑھنے میں بھی خیال کی اکائی کے مطابق کوئی مصرعہ بڑا اور کوئی چھوٹا ہوتا ہے لیکن ارکان کی تکرار اور ان کا مخصوص وزن ظاہری سطح پر بھی شعری آہنگ کو قائم رکھتا ہے۔ اس نظم میں میراجی  ؔنے پہلی بار مصرعوں کو یکے بعد دیگرے مرتب انداز میں لکھنے کے بجائے نثر کی ہئیت میں اس طور پر لکھا ہے کہ نہ تو مصرعوں کی کوئی اکائی متعین ہو پاتی ہے اور نہ کہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ نظم کا ایک بند کہاں ختم ہو رہا ہے اور دوسرا بند کہاں شروع ہو رہا ہے۔ اس طرح خیالات، مصرعوں اور بندوں کی مدد سے چھوٹی بڑی اکائیوں میں تقسیم ہونے کے بجائے مسلسل ایک دوسرے سے مربوط ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ نظم اپنے اختتام کو پہنچ جاتی ہے۔ غرض مصرعوں کا آہنگ اور خیالات کی اکائی نہ صرف  ان میں وزن پیدا کرتی ہے بلکہ وزن کی تکرار اس کے غنائی تاثر کو بھی نمایاں کر دیتی ہے۔ نظم یہ تاثر بھی قائم کرتی ہے کہ ایک ہی خیال کی پیچیدگی اور تسلسل کو نہ تو مصرعوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی بندوں کی شکل میں ایک دوسرے سے الگ کیا جا سکتا ہے۔ گویا ساری باتیں اپنی جملہ تفصیلات اور انسلاکات کے ساتھ ایک متحد اکائی کی صورت میں بیان کر دی گئی ہیں اور نظم کو اسی ساخت میں قاری کو مقبول کرنا چاہئیے۔ نظم کے لکھنے کا یہ پیرایہ جس پر بہ ظاہر نثر کا دھوکا ہو۔ میرا جیؔ کی جدت پسند طبیعت کا نتیجہ ہے اور اس سے بھی نظم کا تاثر اور کیفیت خلق کرنے میں میرا جیؔ نے بڑا کام لیا ہے۔ نظم کی نثری ہیئت اور بیان کا تسلسل قاری کو چونکانے والا ہے۔ اس مخصوص ہیئت سے بھی نظم کی کیفیت اور اثر میں مدد لی گئی ہے۔

        نظم کے ابتدائی مصرعوں سے ہی اس بات کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ نظم کا ماحول اور اس کی فضا کسی ایسی جگہ سے متعلق ہے جہاں لوگوں کی آمد ورفت ہے اور یہ کہ کسی کی  بے کیف راتوں کے گزرنے کا بیان ہو رہا ہے اور یہ بھی نظم کی ابتدا میں ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ لوگوں کی  یہ آمدورفت پر خلوص رشتے کی حرارت سے خالی محض کاروباری اور بازاری آمدورفت ہے چنانچہ  ’ایک آیا گیا، دوسرا آئے گا‘  کا پیرایہ ان صاف ظاہر کرتا ہے کہ آنے اور جا نے وا لے یہ لوگ جذباتی رشتے کی حرارت سے یکسر محروم ہیں۔ یہ ساری آمدورفت ایک میکانکی عمل ہے۔ نظم کا کردار اس پورے منظر کو کسی شخص کی طرح دیکھتا  اور اس کا تجزیہ کرتا ہے۔ پہلے دو مصرعوں میں تین طرح کے کرداروں کا بیان ہے۔ ایک آنے جانے والے لوگ دوسرا وہ کردار جس کی رات یوں ہی گزر جائے گی اور تیسرا واحد متکلم جو دیر سے اس کوچے میں کھڑا ہے اور جسے خود نہیں معلوم کہ اسے کیا کام ہے؟ ان تینوں کرداروں کے عمل سے صورتِ حال کی بے کیفی اور لایعنیت عیاں ہے۔ ایک کا آنا جانا اور پھر کسی دوسرے کا اسی طرح آ نا ایک ایسا عمل ہے جس کے کوئی معنیٰ نہیں ہیں۔

        ’دیر سے دیکھتا ہوں، یوں ہی رات اس کی گزر جائے گی۔ میں کھڑا ہوں یہاں کس لئے، مجھ کو کیا کام ہے،  یاد آتا نہیں۔ ‘

                یہ بیان بھی ظاہر کرتا ہے کہ وقت کا یہ بہاؤ اس کردار کے لیے ایک جبر ہے جس پر اس کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ یوں ہی کا لفظ اس بے لطفی اور لایعنیت کو ظاہر کرتا ہے اور تیسرا کردار یعنی متکلم جس جگہ دیر سے کھڑا ہے اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ  یہاں کیوں اور کس طرح آیا ہے اور اس کی ضرورت کیا ہے؟ غرض لایعنیت اور بے کیفی کی عمومی فضا سے نظم کا آغاز ہوتا ہے۔

        تیسری اور چوتھی سطر میں شاعر یادوں کے حوالوں سے اپنے ماضی کے کسی تجربے کو یاد کرتا ہے جس کے نقوش اب دھندلے ہو چکے ہیں۔ سطریں ملاحظہ ہوں۔

        ’یاد بھی ٹمٹماتا ہوا اک دیا بن گئی ہے، جس کی رکتی ہوئی جھجھکتی ہوئی ہر کرن بے صدا قہقہہ ہے، مگر میرے کانوں نے کیسے اسے سن لیا۔ ایک آندھی چلی، چل کے مٹ بھی گئی۔ ‘

           ان سطور میں کردار کے ساتھ ماضی میں پیش آنے والے تجربے اور اس کی یادوں کی روشنی اس تک ایک بجھتے ہوئے چراغ کی طرح پہنچتی ہے یا ایک ایسے قہقہے کی طرح جو آواز سے محروم ہے۔ یاد کے ان دو صفات کا استعمال یاد کی صورتِ حال پر بھی روشنی ڈالتا ہے کہ یہ ایک رکتی اور جھجھکتی ہوئی کرن ہے، یا بے صدا قہقہہ ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی کرن جو ٹمٹماتی ہوئی ہو اور ایسا قہقہہ جس میں آواز تک نہ ہو وہ کھوکھلا اور بے معنیٰ ہو گا۔ اس طرح یہ مصرعے بھی بے لطفی اور بے معنویت کے رنگ کو اور بھی گہرا کر دیتے ہیں لیکن اس قہقہے کو نظم کا واحد متکلم سنتا ہے اور اس کی وجہ سے اسے اپنی زندگی کا کوئی ایسا تجربہ یاد آتا ہے۔ جو کبھی تیز آندھی کی طرح اس کے د ل و دماغ کو جھنجھوڑ چکا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ ان ہواؤں کی رفتار بھی مدھم پڑ چکی ہے۔ اس تجربے کی شدت آندھی کے لفظ سے ظاہر ہے کہ کس طرح اس نے اس کردار کے پورے وجود کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور مخصوص ماحول میں آندھی کا مفہوم بھی بڑی حد تک ظاہر ہو جاتا ہے کہ یہ ماضی کا کوئی ایسا تجربہ ہے جو زندگی میں معنیٰ پیدا کرتا ہے اور جس کی یادیں اب بھی کردار کے ذہن میں محفوظ ہیں چنانچہ اس آندھی کے لیے شاعر نے  ’مچلتی ہوئی اور ابلتی ہوئی پھیلتی پھیلتی ‘  کی جو صفات استعمال کی ہیں، اس سے بھی اس تجربے میں زندگی اور تحرک کی کیفیت کا اندازہ ہو جاتا ہے اور پھر جس جگہ یہ کردار کھڑا ہے اس کوچے میں زندگی کی بے معنویت کے مقابلے میں ماضی کے اس تجربے کی حرارت صاف طور پر محسوس ہوتی ہے کہ ایک وہ آندھی تھی جس کا نقش اب بھی کسی نہ کسی شکل میں متکلم کے دل و دماغ پر موجود ہے جبکہ دوسری طرف اتنی رونق، چہل پہل اور لوگوں کی آمدورفت کے باوجود پورا منظر نامہ بے روح اور بے جان ہے۔ بازارِ حسن کا یہ منظر بہ ظاہر بہت با رونق اور ہنگامہ خیز ہے۔ لوگوں کی آمدورفت، چہل پہل اور اژدحام کو شاعر نے نہایت ہنر مندی سے بیان کیا ہے اور اس کیفیت کے بیان کے لیے شاعر نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں، ان سے بھی اس کوچے کی رونق بلکہ افراتفری صاف ظاہر ہوتی ہے۔ یہ سطریں ملاحظہ ہوں۔

        ’ایک ہنگامہ برپا ہے دیکھیں جدھر، آرہے ہیں کئی لوگ چلتے ہوئے، اور ٹہلتے ہوئے، اور رکتے ہوئے، پھر سے بڑھتے ہوئے اور لپکتے ہوئے، آرہے جا رہے ہیں اِدھرسے اُدھر، اور اُدھر سے اِدھر۔ ‘

         اس پورے بیان سے ظاہر ہے کہ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کی کوئی مخصوص جہت نہیں ہے۔ ایک بے معنیٰ آمدورفت اسے اجتماع کے بجائے ایک بھیڑ میں تبدیل کر دیتی ہے۔ پھر طوائف کے کوچے میں جس طرح سے لوگ آتے ہیں، اس کی تصویر بھی آنکھوں کے سامنے گھوم جاتی ہے۔ کچھ لوگوں میں ایک جھجھک ہے، معاشرے کا خوف ہے۔ کبھی پاؤں رکتے ہیں اور کبھی خواہش آگے بڑھنے پر مجبور کرتی ہے۔ جھجھکنا اور بڑھنا ان کے باطن کی ایک آویزش ہے جو ان مصرعوں میں نمایاں ہو گئی۔ انھیں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو عادی ہو چکے ہیں اور اس کوچے میں بے تکلفی سے چل رہے ہیں۔ گویا ان کے لیے یہاں آنا کوئی نیا تجربہ نہیں ہے۔ اس منظر نے کردار کے ذہن میں خواہش اور یادوں کی ملی جلی کیفیت کے سبب ایک طوفان برپا کر دیا ہے اور وہ اپنے تخیل کی آنکھوں سے پوری تصویر اور اس پورے عمل کو دیکھ لیتا ہے جو طوائف کے بالاخانے پر ہو رہا ہے کہ چراغ کی کرنیں ایک خاص ہیئت میں زندگی کو خاص شکل میں ظاہر کر رہی ہیں۔ مثلاً

        ’اِک ٹمٹماتے دیے کی کرن زندگی کو پھسلتے ہوئے اور گرتے ہوئے ڈھب سے ظاہر کئے جا رہی ہے۔ ‘

        زندگی کے اظہار کی یہ صورت جنسی عمل کی ایک تصویر قاری کے سامنے پیش کر دیتی ہے چنانچہ اس پورے تصور سے شعری کردار بھی جنسی جذبے سے مغلوب ہو جاتا ہے اور ذہن میں چلنے والی اس آندھی سے نجات کی صورت خود بہ خود پیدا کر لیتا ہے۔ مایوسی کے عالم میں اس وقتی تسکین کو  ’اب تیرگی اک اجالا بنی ہے‘  کے پیرایے میں بیان کیا گیا ہے۔ اپنی جنسی آسودگی کے لیے کردار کیا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ اس کی واضح تصویر آئندہ سطروں میں موجود ہے۔ مثلاً

        ’اس اجالے سے رِستی چلی جا رہی ہیں وہ امرت کی بوندیں جنھیں میں ہتھیلی پہ اپنی سنبھالے رہا ہوں۔ ‘

        ’اس اجالے‘ یعنی تسکین میں امرت کے وہ قطرے رِس رہے ہیں، جو زندگی اور وجود کا بنیادی وسیلہ ہیں جنھیں یہ کردار اپنی ہتھیلیوں پر سنبھالتا ہے مگر ہتھیلی ان قطروں کے سبب ایسا چراغ بن گئی ہے جن میں آثارِ حیات کی کمی ہے بلکہ امرت کی یہ بوندیں اپنے مناسب محل میں استعمال نہ ہونے کے سبب ضائع اور رائگاں جاتی ہیں۔ رائگانی کے اسی احساس کی وجہ سے زندگی کے اس چراغ کو بجھتے ہوئے ایک دیے سے تعبیر کرتا ہے۔

                ’  ہتھیلی مگر ٹمٹماتا ہوا ایک دیا بن گئی تھی۔ ‘

        جنسی جذبے کی اس خودکار اور خود ساختہ وسیلے کے ذریعہ تسکین کی صورت کو شاعر نے نہایت خوبصورت بصری پیکروں کی مدد سے بیان کیا ہے کہ کردار کی ذہنی اور جسمانی کیفیت اس عمل کے وقت کیا ہوتی ہے۔ ’پھڑپھڑاتے ہوئے طائر ِ زخم خوردہ کی مانند میں دیکھتا ہی رہا‘  کا پیرایۂ اظہار لذت اور احساسِ محرومی کی ملی جلی کیفیت کو بڑی فنکاری سے نمایاں کر دیتا ہے اور اس پورے عمل کے بعد کردار جس احساسِ شکست اور محرومی سے دوچار ہے۔ اس کے پاؤں بڑھنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ وہ اپنی جگہ حسرت و یاس کے عالم میں کھڑا رہتا ہے اور اپنے دل سے باتیں کرتا ہے۔ مثال دیکھئے۔

                ’دل میں اک بوند نے یہ کہا، رات یوں ہی گزر جائے گی۔ ‘

        ملحوظ رہے کہ دل کی ظاہری شکل بھی کسی گرتے ہوئے قطرے کی مانند ہوتی ہے اور کردار کا اپنے دل سے مکالمہ یہ ہے کہ ’رات یوں ہی گزر جائے گی، زندگی یوں ہی گزر جائے گی‘ یوں ہی کی معنویت نظم میں اپنی تکرار کے سبب خصوصی توجہ چاہتی ہے۔ یوں ہی یعنی لاحاصل، بے نتیجہ اور بے کیف۔ دل کی یہ بوند کردار کی آنکھوں میں حسرت کے آنسو بن کر ٹمٹمانے لگتے ہیں۔ کسی زخمی پرندے کی طرح جو مضطرب اور بے چین ہے۔ زندہ ہے بھی اور نہیں بھی۔ مثال دیکھئے۔

        ’پھڑپھڑاتے ہوئے طائرِ زخم خوردہ کی مانند دروازے کے طاق اک بار جب مل گئے، مجھ کو آہستہ آہستہ احساس ہونے لگا۔ اب یہ زخمی پرندہ نہ تڑپے گا لیکن مرے دل کو ہر وقت تڑپائے گا۔ ‘‘

        شعری کردار کا بیان یہ ہے کہ یہ پرندہ اب شاید دوبارہ کبھی نہیں تڑپے گا لیکن اس کی محروم اور حسرت زدہ زندگی کی یادیں اسے تا حیات بے چین رکھیں گی۔ یہ کردار امرت کی ان بوندوں کو اپنی ہتھیلی پر سنبھالے رکھنے کا ایک عہد کرتا ہے۔ یہ غالباً اشارہ ہے اس بات کی جانب کہ اسے جنسی تسکین کی خاطر کسی مصنوعی اور بے جان عمل پر ہمیشہ انحصار کرنا ہو گا۔ کردار کی زندگی ایک ایسا چراغ ہے جو آثارِ حیات سے محروم ہے اور جس کی روشنی خود کردار پر ایک ایسا طنزیہ قہقہہ ہے جس کی صدائیں اس کردار کے دل میں بجھتی ہیں لیکن یہ گونج دوسروں کو سنائی نہیں دیتی کیونکہ یہ قہقہہ بے صدا ہے۔ اندھیرے اور اجالے کا یہ سفر فطرت کا قانون ہے اور اس راستے کی رسم بھی یہی ہے کہ لوگ آتے جا تے رہیں گے اور زندگی معمول کے مطابق یوں ہی رواں دواں رہے گی۔ نظم میں اس کردار کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ جنسی جذبے کی اس آویزش سے چھٹکارا پانا چاہتا ہے لیکن یہ ایسی آرزو ہے، جس سے نجات ممکن نہیں چنانچہ بہت سے قافلے اس راستے پر ایسے بھی گزرے ہیں جنھوں نے منزل تک پہنچنے کی راحت نہیں پائی لیکن شام ہونے سے پہلے پہلے ان کے لیے بھی  مقصود کا بند دروازہ کھلنے لگا ہے اور وہ سخت مشقت اور محرومی کے بعد کامرانی کی مسرت سے ہم کنار ہوئے ہیں۔ کردار کی بدنصیبی یہ ہے کہ

        ’میرا دروازہ کھلتا نہیں ہے، مجھے پھیلے صحرا کی سوئی ہوئی ریگ کا ذرہ یہی کہہ رہا ہے کہ ایسے خرابے میں سوکھی ہتھیلی ہے اک ایسا تلوا کہ جس کو کسی خار کی نوک چبھنے پہ بھی کہہ نہیں سکتی مجھ کو کوئی بوند اپنے لہو کی پلا دو۔ ‘

         کردار کے لیے زندگی پھیلا ہوا ایک صحرا ہے جہاں زندگی کے آثار دور دور تک نہیں ہیں۔ چاہے اور چاہے جانے کی خواہش سے محرومی کا اس سے زیادہ درد انگیز بیان اور کیا ہو گا کہ راستے میں پھولوں کی راحت تو کیا، کانٹوں کی نوک بھی اس کے حسرت زدہ دل کو میسر نہیں آتی۔ یہ کردار لاکھوں لوگوں میں شامل ہو کر ایک بے معنیٰ سفر کرتا اور راہ میں ہی کہیں ڈوب جاتا ہے۔ اس عالم ِ یاس میں اسے اپنی سوکھی ہتھیلی ایسے کنول کی مانند محسوس ہوتی ہے جو بہتی لہروں میں کھلا ہے۔ گویا اس کی یہی ہتھیلیاں اس کی تنہا جائے پناہ اور واحد سہارہ ہیں۔ اسی ذہنی کشمکش میں بازارِ حسن کا ایک دوسرا کردار نظم کے متکلم سے مخاطب ہوتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ آپ چپ چاپ تنہا کیوں کھڑے ہیں۔ یہ جگہ تو نا امیدی اور مایوسی کی نہیں۔ اس کوچے میں ہر شخص کامیاب اور با مراد ہے۔ آپ جو کانٹوں کی حسرت میں تنہا کھڑے مایوسی سے دوچار ہیں۔ فقط آپ کے حکم کی ضرورت ہے۔ اگر کہیں تو آپ کی خدمت میں بے مثال نرم و نازک ٹہنی پیش کی جا سکتی ہے جو آپ کے دل سے کانٹوں کی حسرت کو ہمیشہ کے لیے دور کر سکتی ہے۔ کردار اس کے جواب میں اس پیش کش کو نا منظور کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں یہاں اس غرض سے نہیں آیا۔ میں اپنے کسی دوست کا انتظار کر رہا ہوں۔ اس مکالمے کے بعد بھی اس کے دل کو سکون میسر نہیں آتا۔ وہ خود کو کسی ایسے صحرا کا باشندہ سمجھتا ہے جہاں کسی ٹہنی یا پھول کا ملنا نا ممکن ہے۔ مثلاً

        ’میں ایک صحرا کا باشندہ معلوم ہونے لگا ہوں خود اپنی نظر میں، مجھے اب کوئی بند دروازہ کھلتا نظر آئے، یہ بات ممکن نہیں ہے، میں اک اور آندھی کا مشتاق ہوں جو مجھے اپنے پردے میں یکسر چھپا لے۔ ‘

        نظم کے کردار کے لیے سبھی دروازے بند ہیں۔ اس کا گوہرِ مراد شاید اسے کبھی دستیاب نہ ہو سکے گا۔ اسے حسرت اس بات کی ہے کہ محبت کی کوئی تیز آندھی اس کے وجود کی بنیادوں کو ہلا دے، اسے اپنے محفوظ پردوں میں چھپا لے۔ زندگی کے سہانے منظر کسی بہتے ہوئے ہوا کے جھونکے کے مانند اس کی گرفت سے آزاد ہو چکے ہیں۔ امرت کی وہ بوندیں جو اس کی ہتھیلی پر وقتی مسرت کا واحد وسیلہ تھیں وہ بھی خشک ہو چکی ہیں اور نظم کے آخر میں کردار بے معنویت کے شدید احساس سے افسردہ اور دل گرفتہ ہے اس کی آنکھوں کے سامنے ایک ایسا مہیب صحرا ہے جس میں نہ تو کوئی رنگ ہے نہ زندگی کے آثار ہیں جو خشک اور بے برگ ہے۔ یہ صحرا اتنا ویران اور دل کو دہلا دینے والا ہے کہ کردار یہ بھی نہیں کہ سکتا کہ ’ ایک آیا گیا، دوسرا آئے گا۔ رات میری گزر جائے گی‘  گویا وقتی اور مصنوعی تماشے بھی دل کی تسکین کے لیے اس صحرا میں دستیاب نہیں ہیں۔

٭٭٭

 

ارشد خالد (اسلام آباد)

افسانچے کا سفر

                اردو کہانی نے داستانوں سے ہوتے ہوئے آج کے ناول اور مختصر افسانہ سے لے کر اردو افسانچہ تک ایک جان دار اور بھر پور سفر طے کیا ہے۔ جب داستان، ناول، ناولٹ، افسانہ اور افسانچہ کی عام فہم حد بندی کا سوال درپیش ہو تو فکشن کی ان قِسموں کو سمجھانے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ ان میں سے ہر ایک کے بارے میں عام فہم زبان میں نہ صرف ان کی حدود کی نشان دہی کی جا سکتی ہے بلکہ ان کے نین نقش بھی واضح کیے جا سکتے ہیں۔

             حالیہ دنوں میں اردو فکشن کی دنیا میں پاپولر میوزک کے انداز میں پوپ کہانی کا چرچا کیا جانے لگا ہے۔ اگر یہ واقعی کوئی نیا تجربہ ہوا ہے تو اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے۔ لیکن اگر پرانی شراب نئی بوتلوں میں پیش کر کے کسی نئی کمپنی کے نام کی مشہوری کرنا مقصود ہے تو اس سے بات نہیں بنے گی۔ پوپ کہانی کے مسئلہ کو کسی حد تک سمجھنے کی کاوش میں جناب مقصود الہٰی شیخ کا عمل دخل زیادہ رہا ہے۔ میں نے اس موضوع سے متعلق مواد جمع کرنا شروع کیا تو شروع میں ہی چند بنیادی سوالات نے روک لیا۔ ڈاکٹر انور سدید، علی سفیان آفاقی، سید ظفر ہاشمی، ڈاکٹر رضیہ اسماعیل، حیدر قریشی، ان سب کی تحریریں پڑھ کر چند بنیادی سوالات پیدا ہوئے۔ میں نے نو سوالات پر مشتمل ایک سوال نامہ تیار کر کے جناب مقصود الہٰی شیخ کی خدمت میں جواب کے لیے ارسال کیا۔ ان سوالات میں مجموعی طور پر یہ پوچھا گیا تھا کہ پوپ کہانی افسانہ اور افسانچہ سے کس حد تک مختلف ہے اور اس کی نوعیت کیا ہے؟جو پوپ کہانی افسانچہ نہیں بنتی نثری نظم جیسی کیوں بن جاتی ہے؟کیا صرف کسی چھوٹی بڑی کہانی یا تحریر کے ساتھ پاپولر لکھ دینے سے وہ کہانی یا تحریر پاپولر کہلائے گی؟ اگر یہ نام مغرب سے لیا گیا ہے تواس کا موجد کہلانے سے پہلے شروع میں اس کا اعتراف کیوں نہ کیا گیا؟ شاندار قسم کے افسانچوں کی موجودگی میں اگر یہ افسانچہ کی کوئی کم تر صورت ہے تو کوئی اس کا موجد کیوں کر بن سکتا ہے؟اگر کوئی موجد بنتا ہے توپھر اس کے نین نقش کو واضح کرنے اور اس کی صنفی حیثیت کو واضح کرنے کے لیے واضح بات کیوں نہیں کرتا؟۔

      سن ۶۲۰ قبل مسیح کییونانی کہانی کارAesop(تفصیل کے لیے وکی پیڈیاکو دیکھ سکتے ہیں )کے ہاں افسانچہ طرز کی منی کہانیاں ملتی ہیں جو دنیا کی متعدد زبانوں میں ترجمہ شدہ موجود ہیں۔ آج کے عہد کے لحاظ سے شیخ سعدی کی حکایات بھی افسانچے ہی تھیں۔ شیخ سعدی کے بعد عربی اور انگریزی میں خلیل جبران نے اور اردو میں منٹو نے ’’سیاہ حاشیے‘‘ میں افسانچے کو رواج دیا، لیکن ان ساریبڑی شخصیات نے اپنی اپنی زبانوں میں منی کہانی یا افسانچے کا موجد ہو کر بھی موجد ہونے کا دعویٰ نہیں کیا، پھر ایسی مہان ہستیوں کی تخلیقات کے بالمقابل بے چہرہ، بے شناخت ’’پوپ کہانی‘‘ کا موجد کہلانے پر اتنا اصرار کس لیے؟

     متعدد ناولز، ناولٹس اور افسانوی مجموعوں کے ساتھ ساتھ جوگندر پال کے افسانچوں کے چار مجموعے چھپ چکے ہیں۔ جو ان کے تخلیقی وفور کا اظہار ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ جناب مقصود الہٰی شیخ سنجیدگی سے علمی جواب دینے کی بجائے کبھی ناراض ہونے اور کبھی ’انڈر اسٹینڈنگ ‘کے ساتھ کچھ لکھنے پر آمادگی ظاہر کرنے لگتے ہیں۔ ابھی تک انہوں نے ’’پوپ کہانی‘‘ کی تعریف و توصیف میں صرف شاعرانہ مبالغہ آرائی کی ہے لیکن کوئی ایسی واضح بات نہیں کی جس سے ’’پوپ کہانی‘‘ کے نین نقش واضح ہو سکیں، اس کے خد و خال افسانہ اور افسانچہ سے الگ ہو کر دکھائی دے سکیں۔ ایک طرف موجد کہلانے کا بے معنی شوق، دوسری طرف پوپ کہانی کی شناخت کے سوالات پر اسے گرامر کہہ کر جان چھڑانے کا عمل۔ حقیقت یہ ہے کہ مغربی دنیا میں بھی پوپ کہانی کے نام پر جو کچھ لکھا گیا ہے وہ عام کہانی سے الگ کچھ بھی نہیں ہے۔ کسی انگریز نے اپنی کہانی کے ساتھ پوپ کا دُم چھلا لگایا ہے تو وہ کوئی ناکام کہانی کار ہو گا جس نے اپنی غیر مقبولیت کو ’’پوپ‘‘ کا لفظی سہارا دینے کی ناکام کوشش کی ہے۔ پاپولر نام شروع میں لگا لینے سے نہ تو آپ پاپولر کہانی لکھ سکتے ہیں اور نہ ہی کچھ ایجاد کرسکتے ہیں۔ ایسا کرنا ممکن ہے تو پھر پوپ کیوں ؟اپنی ہر تحریر سے پہلے ’’عظیم‘‘ لکھئے اور گھر بیٹھے ’’عظیم افسانہ نگار‘‘، ’’عظیم ناول نگار‘‘ بن جائیے۔ پاپولر ہونے سے عظیم ہونا زیادہ لطف و سرور دے گا۔ پاپولر کے مقابلہ میں عظمت کا خبط زیادہ مزہ دے گا۔

       اردو دنیا کا المیہ ہے کہ یہاں کے بعض ادیب محض لحاظ داری میں اور بعض ادیب ’’بین الاقوامی ادیب‘‘۱؎بننے کے شوق میں سنجیدگی سے حقائق جانے بغیر اورکسی مضبوط علمی و ادبی بنیاد کے بغیر ہی مغرب میں مقیم اردو ادیبوں کی بے جا حمایت و وکالت شروع کر دیتے ہیں۔ پوپ کہانی کے باب میں بھی کہیں لحاظ داری میں اور کہیں بین الاقوامی ادیب بننے کے شوق میں لوگوں نے موضوع کی بنیاد کو یکسر نظر انداز کر کے محض شخصی توصیف سے کام لیا ہے۔ لیکن اطمینان کی بات ہے کہ سنجیدہ اور اہم اہلِ ادب نے اس بے جا ’’ایجادِ من‘‘ کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔

        مقصود الہٰی شیخ صاحب نے جب بھی پوپ کہانی کے حوالے سے علمی جواب عنایت کیے پوپ کہانی کا ایک گوشہ بنا کر انہیں شائع کر دیا جائے گا۔ سرِ دست اس موضوع پر ابھی تک جو کچھ بکھرا ہوا موجود تھا، اس کا ایک مناسب انتخاب اور کچھ نیا یکجا کر کے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اگر اہلِ ادب ’’پوپ کہانی‘‘ کے نین نقش واضح کر سکیں اور اسے عام افسانہ اور عام افسانچہ سے الگ کر کے ظاہر کر سکیں تو ہم اس تجربہ کا تہہ دل سے خیر مقدم کریں گے۔ ایسا بنیادی کام نہیں ہوتا تو پھر امدادِ باہمی(ستائشِ باہمی) یعنی پی آر کے اس تماشے کا اتنا نوٹس لینا واجب ہو گیا تھا۔ اہلِ ادب کی جو بھی ایماندارانہ اور علمی رائے ہو گی اس کا خیر مقدم کیا جائے گا۔

         اس گوشہ میں جتنا میٹر سمایا ہوا ہے اسے کتابی صورت میں شائع کیا جائے تو’’پوپ کہانیاں ‘‘سے زیادہ ضخیم کتاب بن سکتی ہے۔ اگر یہ بحث علمی طور پر آگے بڑھی تو سارا میٹر اکٹھا کر کے کتابی صورت میں شائع کیا جا سکے گا۔ یہ سارا میٹر افسانچے کے سفر کی روداد بن جائے گا۔

٭٭

۱؎یہاں یہ وضاحت کر دوں کہ میرے کتابی سلسلہ کا نام شروع سے عکاس تھا۔ جب اسلام آباد سے ایک اور کتابی سلسلہ عکاس کا معلوم ہوا تو محض فرق واضح رکھنے کے لیے میں نے عکاس کا نام عکاس انٹرنیشنل رکھا تھا، یہ کسی بین الاقوامیت کا شوق نہیں، صرف ایک قباحت سے بچنے اور فرق واضح رکھنے کی کاوش تھی۔ (ارشد خالد)

٭٭٭

 

تاثرات :اردو افسانچہ  یا پوپیاں، پوپ کہانی، پاپ کہانی

مقصود الہٰی شیخ صاحب نے مجھے دس بارہ ’’پوپیاں ‘‘(انہوں نے پوپیاں ہی لکھا تھا)اس حکم کے ساتھ بھیجی تھیں کہ میں ان پر اپنی رائے لکھوں۔ میں نے ان کہانیوں میں کوئی بات ایسی نہ پائی جو فی الوقت اِدھر اُدھر دکھائی دینے والے افسانچوں، منی کہانیوں، یک سطری، دو سطری چٹکلوں سے مختلف ہو اور جس کی بنا پر انہیں الگ صنف قرار دیا جائے۔ ۔ ۔ ۔ پوپ کہانیوں کی نہ تو کوئی تعریف بیان کی ہے اور نہ ہی اس پر بحث کی ہے کہ ان کی ہئیت اور تیکنیک کیا ہے اور کن مخصوص معنوں میں یہ منی کہانیوں /افسانچوں سے مختلف ہیں۔ ۔ ۔ اگر ان پوپ کہانیوں کو الگ صنف مان بھی لیا جائے تو ہماری غیر مستند رائے یہ ہے کہ انہیں ’پوپ کہانیوں ‘ کے بجائے ’’پوپیاں ‘‘ہی کہا جائے ‘‘

سید ظفر ہاشمی ایڈیٹر گلبن لکھنؤ۔ بحوالہ کتاب ’’پوپ کہانیاں ‘‘مرتب کردہ مقصود الہٰی شیخ۔ ص۱۱۵

٭٭

       ’’مجھے خدشہ ہے کہ پوپ کہانی کی اصطلاح تا حال اپنے خدوخال سے محروم ہے اور شیخ صاحب نے جس قسم کی پوپ کہانیاں لکھی ہیں ان سے اولیت کا دعویٰ تو کر سکتے ہیں اور موجد بھی کہلا سکتے ہیں لیکن اس سے کہانی نئی جہت کی طرف بڑھتی نظر نہیں آتی اور۔ ۔ ۔ اس میں روایتی کہانی کا پورا سٹرکچر موجود ہے۔ ‘‘

’’ادب در ادب ‘‘تبصر ڈاکٹر انور سدید۔ مطبوعہ  ویکلی ندائے ملت لاہور۔ مئی ۲۰۱۱ء

٭٭

’’مسعود مفتی صاحب کے پیدا کئے ہوئے تاثر کی رو میں مقصود الہٰی شیخ کی پوپ کہانی پڑھی جو انہوں نے یوکے سے ارسال فرمائی ہے اور یوں ہے:      ’’اَن بھوک، مَن بھوک

                       وہ کھانے میں مشغول تھا، ایک لڑکی سامنے کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔

’’چلو گی؟‘‘

                        لڑکی نے کہا ’’پہلے مجھے روٹی کھلا دو‘‘

یقین جانئے کہ مسعود مفتی صاحب کے تاثر کی رو رک گئی۔ اور اس ’’پوپ کہانی‘‘ کا پاپ اپنی معنویت با انداز دگر کھولنے لگا۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ مقصود الہٰی شیخ  صاحب کو داد کس طرح دوں ؟‘‘

 مکتوب ڈاکٹر انور سدید۔ مطبوعہ ماہنامہ الحمرا لاہور۔ شمارہ فروری ۲۰۱۳ء

٭٭

         ’’ٹرکوں، بسوں اور رکشوں پر لکھے ہوئے کلمات پاپ لٹریچر میں اہمیت رکھتے ہیں اور بغیر کسی لٹریری اہمیت کے عامیانہ گفتگو کا حصہ بن گئے ہیں۔ مثال کے طور پر:یہ جینا بھی کیا جینا ہے، جہلم کے آگے دِینا ہے۔ یا پھر سب سے مشہور کلمہ ’’پپو یار تنگ نہ کر‘‘۔ اگر ساؤتھ ایشیا میں پاپولر آرٹ کی مثال دی جائے توسینما کے بورڈ، سلطان راہی اداکار کے گنڈاسے کا پکڑا ہوا خون میں لت پت سینما کی عمارت کو ڈھانپتا ہوا بورڈ، قلفی کی ریڑھیوں پر دنگلوں کے اشتہار یا گاماں پہلوان کا کندھے پر اُٹھایا ہو بھاری بھرکم چاندی کا گُرز، گھروں میں بیٹھنے والے کمروں (بیٹھک)میں دعا مانگتے ہوئے بچے کی تصویر یا مکہ معظمہ میں خانہ کعبہ کی تصویر کا مذہبی کیلنڈر یا ۱۹۶۵ کی جنگ کے مناظر میجر عزیز بھٹی یا سرور شہید کے پورٹریٹ پے مشتمل تصویریں۔ سب سے بڑی مثال رکشہ، بسوں اور ٹرکوں کی سجاوٹ کے منفرد ڈیزائن ہی پاپولر آرٹ کی مثال بنتے ہیں، مغرب میں پاپ آرٹ(pop art ) کو قبول کرنے کی وجہ سے اب ساؤتھ ایشیا میں ان آرٹ کے نمونوں کو آرٹ کے زمرے میں اہم مقام حاصل ہو رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں پوپ ادب کا حوالہ دیتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ لکھنے والے پر منحصر ہے کہ وہ جو کچھ کہنے جا رہا ہے وہ رکشا پر لکھے ہوئے پپو یار تنگ نہ کر کی سطح سے اوپر اُٹھ جائے!‘‘

ممتاز حسین کے مضمون ’’پپو یار تنگ نہ کر‘‘سے اقتباس  بحوالہ کتاب ’’پوپ کہانیاں ‘‘مرتب کردہ مقصود الہٰی شیخ

٭٭

        ویسے تو اردو نثری ادب، ناول، ناولٹ، افسانہ، افسانچہ کہانی بلکہ مختصر کہانی (یک سطری دویا سہ سطری) سے مالا مال ہے مگر کچھ عرصے سے ’’پوپ کہانی‘‘ کی بازگشت ادب کے ایوانوں میں سنائی دے رہی ہے اور ایک بحث سی چل نکلی ہے کہ آخر ’’پوپ کہانی‘‘ عام روایتی کہانی سے کس طرح الگ ہے کہ اسے ’’پوپ کہانی‘‘ کا نام دے کر اسے ایک نئی صنف تسلیم کر لیا جائے۔ آخر اس کی اپنی ہیئت، تکنیک اور پہچان کیا ہونی چاہیے کہ اسے دوسری نثری اصناف کے ہجوم میں الگ سے پہچانا جا سکے۔ جیسا کہ اردو شاعری میں غزل، نظم، آزاد نظم، نثری نظم، رباعی، ماہیا، دوہا، ہائیکو وغیرہ اپنی اپنی ہیئت اور تکنیک کی بنا پر ایک نظر میں ہی پہچان لی جاتی ہیں۔ تو اسی طرح ’’پوپ کہانی‘‘ کی پہچان کیا ہے؟ یعنی کونسی چیز ایک کہانی کو ’’پوپ کہانی‘‘ کا درجہ دیتی ہے۔

        اگر اس کہانی میں کوئی انفرادیت ہے تو پھر اس کا اپنا کوئی فارمیٹ ہے یا نہیں ؟ یا پھر صرف کسی بھی کہانی کے ساتھ ’’پوپ کہانی‘‘ کے الفاظ لکھ دینے سے کیا اس کے ایک الگ یا نئی صنف ہونے کا دعویٰ کیا جا سکتا ہے؟ ایسے بہت سے سوال ہنوز جواب طلب ہیں !

ڈاکٹر رضیہ اسماعیل کے مضمون پوپ میوزک سے پوپ کہانی تک‘‘سے اقتباس بحوالہ کتاب ’’کہانی بول پڑتی ہے‘‘

٭٭

      امریکن لٹریچر میں پوپ کہانی ایک نہایت پختہ نثری صنف کے طور پر پہلے سے ہی موجود ہے اور بہت عرصے سے لکھی اور پڑھی جا رہی ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ پوپ میوزک سے پہلے ہی امریکن لٹریچر میں ’’پوپ اسٹوری‘‘ بے حد مقبول ہو چکی تھی تو کچھ غلط نہ ہو گا بلکہ امریکہ میں ایک وقت ایسا تھا کہ پوپ میوزک کی بجائے پوپ اسٹوری زیادہ مقبول تھی اور اس کے رائٹرز راک اسٹارز کی طرح سیلبرٹی کا درجہ رکھتے تھے۔ جن میں ارنسٹ ہمنگوے(Ernest Hemengway) ایڈگرایلن پو(Edgar Alan Poe) ایف سکاٹ فٹزجیرالڈ(F. Scott Fitgerald) دیومس(Dumas) ار آیل سٹیونسن(R.L Stevenson) جیک لندن(Jack London) او ہنری(O,Henry) اور جارج سمنن(George Simenon) نے ناولوں کے ساتھ ساتھ بہت اچھی پوپ کہانیاں لکھ کر بے حد داد وصول کی۔ دی موسٹ ڈینجرس گیم(The most Dangerous game) اور لیڈی اور دی ٹائے گر  (The Lady or The Tiger) اعلیٰ درجے کی خالصتاً پوپ کہانیاں ہیں جو اپنے وقت میں بے حد مقبول ہوئیں۔

ڈاکٹر رضیہ اسماعیل کے مضمون پوپ میوزک سے پوپ کہانی تک‘‘سے اقتباس بحوالہ کتاب ’’کہانی بول پڑتی ہے‘‘

٭٭

         مصنفہ(رضیہ اسماعیل) امریکی پوپ سٹوری رائٹر کنگ وینکلس(King Wencles) سے متاثر ہوئی ہیں مگر یہ کہا نیا ں علامتی ہیں جبکہ ڈاکٹر صاحبہ کی کہانیاں واقعات کو براہِ راست اور اکہرے انداز میں بیان کرتی ہیں جن کے کردار خصوصاً نسوانی کردار ایک خاص کشش کے حامل ہیں۔

(ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا، بحوالہ کتاب ’کہانی بول پڑتی ہے‘ )

٭٭

مقصود الہٰی شیخ کی تحریر ’’کچھ ایجادِ نو پوپ کہانی کے بارے میں ‘‘اس مضمون میں جو باتیں لکھی ہیں وہ قبل از وقت ہیں۔ کچھ مبالغے سے کام لیا ہے۔ مضمون میں جسے اردو کی پہلی پوپ کہانی کہا ہے ملاحظہ کیجیے۔

’’تم نے۔ ۔ ۔ مجھ سے۔ ۔ ۔ جھوٹ کیوں بولا؟‘‘اگر یہی پوپ کہانی ہے تو پھر نثری نظم (نثم)کو کہاں رکھیں گے؟

مکتوب  نوید سروش۔ مطبوعہ ماہنامہ الحمراء لاہور۔ مئی ۲۰۱۲ء

٭٭

        مقصود الہٰی شیخ صاحب کی پوپ کہانی کا تذکرہ سن کر مجھے تو کچھ سمجھ میں نہیں آ  ٭٭یئہرہی۔ ’’اس نے مجھ سے جھوٹ بولا‘‘۔ ۔ اگر یہ ایک کہانی ہے تو پھر یہ پوپ کہانی نئی تو نہ ہوئی۔ یہ سلسلہ تو برسوں سے چلتا چلا آ رہا ہے۔ ایک کہانی بچپن میں یہ بھی ہم نے سن رکھی تھی۔

ایک تھا راجہ، ایک تھی رانی      دونوں مر گئے، ختم کہانی

  اگر پوپ کہانی اتنی پرانی چیز ہے تو ہمیں کیوں نہ پتہ چلا، کمال ہے۔ تو اس کا مطلب ہے مختصر کہانی کو ہی پوپ کہانی کہتے ہیں، لیکن کتنی مختصر؟۔ اور کیا پوپ کہانی کو توپ کہانی بھی سمجھا جا سکتا ہے؟مسئلہ بڑے ادیبوں اور نقادوں کے لیے چھوڑ دیتی ہوں۔ ایک بار ایک مختصر کہانی پڑھی تھی جو میں یہاں آپ سب کے ساتھ شئیر کرنا چاہتی ہوں۔ مجھے کم از کم بہت زیادہ پسند آئی۔ I was Born a Muslim. I was killed by a Taliban. Am I a Shaheed?

تو پھر کیا کہتے ہیں اس جدید دور کی جدید مختصر کہانی کے بارے میں شیخ صاحب؟اگر اتنی ننھی منی تحریریں کہانیاں ہیں تو بھئی ہم تو پھر ایک کروڑ کہانیاں لکھ چکے ہیں۔

مکتوب نیلم احمد بشیر۔ مطبوعہ ماہنامہ ا الحمرا  لاہور۔ شمارہ جون ۲۰۱۲

٭٭

       نیلم احمد بشیر نے پوپ کہانی پر اپنی رائے دی ہے، جس کا شیخ صاحب جواب دے سکتے ہیں۔ شیخ صاحب پرانے لکھاری ہیں۔ راوی اور مخزن نکالتے رہے ہیں۔ جب آپ ’’مخزن‘‘ کا آخری پرچہ نکال رہے تھے، میں نے اُن کو مشورہ دیا تھا کہ آپ پرچہ سالانہ نکالتے رہیں یہ آپ کو مصروف رکھے گا۔ آپ فارغ ہو کر کیا کریں گے؟وقت کاٹنا مشکل ہو جائے گا۔ لیکن لگتا ہے انہوں نے وقت کاٹنے کے لیے پوپ کہانیوں کا سہارا  لے لیا ہے۔

مکتوب لطیف راز۔ مطبوعہ ماہنامہ الحمراء لاہور۔ شمارہ  اگست ۲۰۱۲ء

٭٭

   پچھلے سال ایک معروف خاتون نے پوچھا تھا کہ یہ پوپ کہانی کیا چیز ہے، جس میں ہر فقرہ ایک کہانی بن جاتا ہے، اور ایسے لگتا ہے کہ وہ فقرہ بھی تقسیم در تقسیم سے گزر کر فریاد پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر اتنی تنگ نظری سے کام لے کر مجھے اتنا کم کیوں کیا جا رہا ہے؟۔ آخر میرا قصور کیا ہے؟۔ ناول سے افسانہ، افسانے سے افسانچہ، ننھی کہانی، اور اب حال یہ ہے کہ کمزور بصارت والا تو دیکھ ہی نہیں سکتاکہ وہ کہانی کہاں ہے؟میں نے صرف یہ کہا تھا کہ محترمہ اس کا جواب اس کے خالق جناب مقصود الہٰی شیخ صاحب ہی دے سکتے ہیں۔ ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی۔ ۔ ۔ مجھے یقین ہے کہ محترم  جناب مقصود الہٰی شیخ صاحب اب غالباً کفِ افسوس مل کر اُس گھڑی کو کوس رہے ہوں گے جب ان کے ذہنِ مبارک میں میرا نام آیا۔ لیکن میں ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ شیخ صاحب کی یہ نظر شفقت الحمراء پر کیوں پڑی؟      (لطیف راز)

 ( بریڈ فورڈمیں مقصود الہٰی شیخ صاحب نے تعزیتی اور سال گرہ کی مبارکبادی کی مشترکہ تقریب منانے کا اہتمام کیا، اس موقعہ پرلطیف راز کے بھیجے ہوئے پیغام سے اقتباس۔ مطبوعہ ماہنامہ الحمرا لاہور۔ شمارہ اپریل ۲۰۱۳ء .۔ ص ۹۴۔ اس تقریب کو تین فوت شدہ ادیبوں کی یاد میں اور محمد احمد سبزواری صاحب کی ۱۰۰ویں اور رسالہ الحمراء کی بارہویں سال گرہ کے طور پر ایک ساتھ منایا گیا، جو یقیناً ’’ فائیو ِان وَن ‘‘ قسم کی منفرد نوعیت کی تقریب تھی۔ )        ٭٭

     مقصود الہٰی شیخ کی پوپ کہانیاں پڑھیں مگر ان میں نئی بات کیا ہے؟سمجھ میں نہیں آئی۔ منٹو کے سیاہ حاشیے اپنی جگہ، کچھ اور لکھنے والوں نے بھی اس سانچے کو آزمایا ہے۔ منشا یاد نے بھی اپنے ایک مجموعے ’’اک کنکر ٹھہرے پانی میں ‘‘، ’’مٹھی بھر جگنو‘‘ کے عنوان کے تحت کچھ افسانچے شائع کیے ہیں۔

مکتوب نجم الحسن رضوی۔ مطبوعہ ماہنامہ الحمرا لاہور۔ شمارہ ستمبر ۲۰۱۲ء

٭٭

مقصود الہٰی شیخ صاحب کی پوپ کہانیاں ! صاحب یہ تو انہوں نے افسانچوں کو نیا نام دے دیا ہے۔ منٹو نے کئی افسانچے لکھے۔ جوگندر پال صاحب نے لکھے۔ خاکسار نے کوئی۱۲۰کے قریب ’پوپ کہانیاں ‘لکھی ہیں۔ ۔ ۔ مقصود شیخ صاحب کی مرضی کہ وہ انہیں پوپ کہانیاں کہیں یا ان کا پرانا نام افسانچے ہی چلنے دیں۔

مکتوب شمشاد احمد۔ مطبوعہ ماہنامہ الحمرا لاہور۔ شمارہ  اگست ۲۰۱۲ء

٭٭

      ’’پوپ کہانی، افسانہ، افسانچہ یا پارۂ لطیف سے یکسر جدا ہے۔ کچھ ہے تو اپنے گوناں گوں موضوعات اچانک آمد پر قلمبند کرنے کا نام ہے۔ جب قلم سے جڑا حساس دل کسی واردات کو تحریک و فیضان ملنے یا انسپائر ہونے پرسینے میں بند رکھنے کی بجائے عام فہم لفظوں میں سپردِ قرطاس کر دے  تو لفظوں کا یہی روپ پوپ کہانی ہے۔ یہی اس کا نیا پن یا اس میں ’’نیا‘‘ ہے۔ ‘‘۔ ۔ ۔

مقصود الہٰی شیخ۔ بحوالہ کتاب ’’پوپ کہانیاں ‘‘مرتب کردہ مقصود الہٰی شیخ۔ ص۵

       ’’یہ کیا ہے؟میرے نزدیک ایک آزاد افسانہ ہے، آزاد شاعری ہے، ادبِ لطیف ہے، قلب و سماعت پر سُرعت کے سے اترنے والی صدا ہے‘‘

مقصود الہٰی شیخ۔ بحوالہ کتاب ’’پوپ کہانیاں ‘‘مرتب کردہ مقصود الہٰی شیخ۔ ص۱۲۵

٭٭

       ’’ اگر یہ لفظ محض پاپولر کہلانے کی خواہش کا اظہار ہے تو بات بنتی دکھائی نہیں دیتی۔ کیونکہ پریم چند سے لے کر منٹو تک ہمارے ابتدائی اور اہم لکھنے والوں کی کہانیاں تو اردو میں مقبولیت کے سات آسمان چھو چکی ہیں۔ اور آج بھی کہانی پڑھنے والوں میں مقبول ہیں۔ ان سے زیادہ پاپولر کہانیاں کس نے لکھی ہیں !۔

         پوپ کہانی کے بنیادی خد و خال کو واضح کیے بغیر اور افسانہ و افسانچہ سے اسے الگ دکھائے بغیر اس کی شناخت کا مسئلہ پہلے قدم پر ہی رکا رہے گا۔ جہاں تک دوسرے بیان کردہ اوصاف کا تعلق ہے

٭٭

        ان اوصاف کی تو تخلیقی ادب کی تمام اصناف میں ایک جیسی اہمیت اور حیثیت ہے۔ اچانک آمد پر کچھ لکھنا یاکسی واردات کو تحریک ملنے پر لکھ دینا صرف فکشن میں نہیں دوسری تمام تخلیقی اصناف میں بھی ہوتا رہتا ہے۔ مقصود الہٰی شیخ نے ’’عام فہم لفظوں ‘‘ میں لکھنے کا ذکر بھی کیا ہے۔ انہوں نے خود زندگی بھر جو لکھا ہے وہ سارا عام فہم ہی ہے۔ سو یہ ساری لفظیات ادب کی جملہ اصناف پر عمومی طور پر لاگو کی جا سکتی ہے۔ مجھے احساس ہے کہ مقصود الہٰی شیخ بعض مخالفین کی مخالفت کے باعث اس موضوع پر لکھتے ہوئے تھوڑا سا غصہ میں آ جاتے ہیں۔ تاہم میں امید کرتا ہوں کہ وہ ایک مضمون ایسا ضرور لکھیں گے جس میں اپنے مخالفین کو یکسر نظر انداز کر کے ان لوگوں کے لیے پوپ کہانی کے خد و خال کو بیان کریں گے جو نیک نیتی کے ساتھ پوپ کہانی کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ پوپ کہانی، افسانہ اور افسانچہ سے کیونکر مختلف اور الگ ہے۔ اور اس کی کون سی خصوصیات ہیں جو ادب کی دوسری اصناف سے مختلف ہیں۔ یہ اعتراض نہیں، سوالات ہیں اور ان کا مقصد پوپ کہانی کی شناخت کو واضح طور پر سمجھنا ہے۔ کیونکہ عام فہم لفظوں میں لکھی جانے والی صنف کی شناخت بھی عام فہم /قابلِ فہم ہونی چاہیے۔ ‘‘

حیدر قریشی بحوالہ کتاب ’’کہانی بول پڑتی ہے‘‘ از ڈاکٹر رضیہ اسماعیل۔ ص  ۲۶، ۲۷       ٭٭٭

 

علی سفیان آفاقی اور مقصود الہٰی شیخ کی پیش کردہ دو کہانیاں  بلا تبصرہ

علی سفیان آفاقی کی اپنے بچپن میں سُنی ہوئی ایک پرانی’’ مختصر ترین کہانی‘‘

ایک پُر فضا باغیچے میں ایک لڑکا اور لڑکی بہت رومان انگیز باتیں کر رہے تھے۔

لڑکے نے لڑکی سے دریافت کیا۔ ’’مجھ سے شادی کرو گی؟‘‘

لڑکی نے جواب دیا ’’نہیں ‘‘

اور پھر وہ دونوں ہنسی خوشی رہنے لگے۔

٭٭

کتاب ’’پوپ کہانیاں ‘‘ میں شامل مقصود الہٰی شیخ کی آج کی پہلی پوپ کہانی

 

سلام تبدیلی

ایک روز:

گرل فرینڈ:میں چاہتی ہوں کہ اب ہم شادی کر لیں۔

بوائے فرینڈ:پھر وہی بحث۔ ۔ ۔ سبھی تو ناراض ہو جائیں گے، کیا نہیں ؟

گرل فرینڈ:چلو ہم مذہب تبدیل کر لیتے ہیں۔

بوائے فرینڈ: میں نہیں سمجھتا اس طرح مسئلہ حل ہو جائے گا۔

گرل فرینڈ:کوئی اینڈ(انت)ہو گا اس بحث کا؟آخر اس کا کبھی نتیجہ نکلے گا؟

٭٭

کچھ دیر خاموشی کے بعد

گرل فرینڈ:ہم دونوں کو صبح سویرے ہی کام پر جانا ہے، سو جاؤ۔ اس ویک اینڈ پر فیصلہ کریں گے۔

ویک اینڈ پر، بہت غور و خوض کے بعد دونوں نے باہمی رضامندی کے بعد اپنے اپنے والدین کو مشترکہ خط لکھا۔

(We Love You )وی لَو یو۔ ہم آپ کو ناراض نہیں کرنا چاہتے اس لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے، ہم شادی نہیں کریں گے۔ ہم نے شہر کے پوش علاقے میں ایک مکان دیکھا ہے۔ مارگیج منظور ہوتے ہی وہاں چلے جائیں گے اور اکٹھے رہیں گے!!

(یہ دونوں کہانیاں جناب مقصود الہٰی شیخ کی کتاب ’’پوپ کہانیاں ‘‘سے لی گئی ہیں۔ ۔ ارشد خالد)

٭٭٭

 

٭ات:خالد، نم عابدی: اعجاز عبید

مقصود الہٰی شیخ (بریڈ فورڈ)

پوپیاں۔ ۔ پوپ کہانیاں

      (انٹرنیٹ سے موصولہ:      ’’ایک تازہ کہانی جو ادب میں نو واردوں یا مذہبی کلچر سے قدرے کم واقف نوجوانوں کے لئے، شاید پیچیدگی لئے ہو مگر آپ مدعا پا لیں گے۔ ابھی نظر ثانی یا صاف کرنے کی نوبت نہیں آئی اسی لئے ریلیز بھی نہیں کی۔ عنوان بھی زیر غور ہے۔ م۔ ا۔ ش‘‘)

بلا عنوان

پہلی بار

اس نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے

اپنے گناہوں کی بخشش چاہی

کسی کے لئے کچھ نہیں مانگا

کسی لئے بھی کچھ نہیں چاہا

ناراض باپ

بد دعا بھی تو نہیں دے سکتا

٭٭

موسٰی (ع) پہاڑ پر گئے

ندا آئی

سنبھل کے

موسٰی کی ماں نہ رہی تھی

وہ پیچھے سجدے میں گر پڑتی تھی

کیا وہ بھی مر رہا ہے یا مر گیا ہے۔

٭٭

مِری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

لڑکا: سامنے بنچ پر کالے سیاہ لمبو کے ساتھ تمہاری دوست بیٹھی ہے نا؟

لڑکی: ہاں وہ میری دوست ہے۔ کیوں ؟

لڑکا: تم نے دیکھا وہ تمہاری دوست کو بُری طرح چوم رہا تھا۔

لڑکی: وہ اس کا دوست ہے۔ تم سے مطلب؟

لڑکا:کیا تم میری دوست بنو گی؟

٭٭

فرمائش

ایک بات کہوں ؟

تو کہو نا؟

تم مجھے پیاری لگتی ہو، کیوں ؟

میں کیا جانوں۔

تم سُندر بھی بہت ہو۔

بس اتنا ہی یا اور بھی کچھ کہنا ہے؟

ہاں !کہنا تو ہے۔

تو کہہ بھی چکو،

ذرا نزدیک آؤ!/اور ذرا

تمہارا منہ چوم لوں

٭٭٭

 

پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی

من نے

  من سے کہا

  سُستی دکھاتے ہو

   کیوں نہیں سُنتے!

   سوبار کہا ہے، سو بار کہیں گے

گیا وقت ہاتھ آتا نہیں۔

   بھئی!

   دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا

   ٹھیک ہے،

لکھنا مشکل، کہنا آسان

    سمجھا کرو جانم!

     عمل سے ہی یہ زندگی

    لاتی ہے شہرت بھی، دولت بھی

جی لگا کر،

    لڑکیاں لکھ رہی ہیں پوپ افسانے!

   کل البم آ جائے گا!

   تم دیکھتے رہنا، بس دیکھتے رہنا!!

٭٭٭

 

  حیدر قریشی (جرمنی)

پوپ کہانی کا قضیہ

         بہت سے ادبی معاملات ہوتے ہیں، جنہیں لکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد ہلکی سی دلچسپی کے ساتھ دیکھ کر اپنی دوسری ادبی ترجیحات میں مصروف ہو جاتی ہے۔ کبھی کبھار کسی طرف سے تحریک دلانے پر مزید غور کی طرف مائل بھی ہو نا پڑتا ہے۔ لیکن کسی بھی اشو کی بحث میں کسی ادیب کی شمولیت تب جاندار ہوتی ہے جب وہ اپنے اندر کی لگن کے ساتھ اس میں دلچسپی لیتا ہے۔ گزشتہ برس بریڈ فورڈ سے مقصود الہٰی شیخ صاحب کی جانب سے مجھے پوپ کہانی کے موضوع کی طرف توجہ دلائی گئی۔ میں نے ان کی کتاب ’’پوپ کہانیاں ‘‘پڑھ کر بذریعہ خط اپنی محتاط اور مختصر رائے سے آگاہ کیا۔ اسی دوران مجھے رضیہ اسماعیل کی زیر اشاعت کتاب ’’کہانی بول پڑتی ہے‘‘ کے مطالعہ کا موقعہ ملا۔ میں نے پوپ کہانی کے موضوع سے متعلق دونوں کتابوں کو مدِ نظر رکھ کر ایک مضمون لکھ دیا۔ ’’پوپ کہانی اور رضیہ اسماعیل کی کہانیاں ‘‘۔ اپنے مضمون میں جو کچھ لکھ چکا ہوں اور جن بنیادی سوالات کو اُٹھا چکا ہوں جب بھی ان کا کوئی علمی و ادبی جواب مل گیا، میں اس طرف پیش قدمی کرنے سے گریز نہیں کروں گا۔ ڈاکٹر رضیہ اسماعیل نے میرے پوپ کہانی کے بارے میں موقف کو جاننے کے باوجود کسی ناراضی کا اظہار نہیں کیا جبکہ مقصود الہٰی شیخ صاحب باقاعدہ اسے’’زوروں سے منوانے‘‘ کے لیے خط و کتابت کرنے لگے۔

         مقصود الہٰی شیخ صاحب کے خطوط میں کبھی تو محبت گہری ہونے لگتی اور کبھی برہمی کا اظہار ہونے لگتا۔ میں نے ان کی بعض سخت باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اصل موضوع پر توجہ مرکوز رکھنے کی کوشش کی۔ تمام تر خط و کتابت کے باوجود میرا ان خطوط کو چھپوانے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ لیکن وقفہ وقفہ کے بعد مقصود الہٰی شیخ صاحب کی طرف سے ایسا ’’محبت بھرا اصرار‘‘ شروع ہو جاتا ہے کہ مجھے کوئی ’’راہِ نجات‘‘ دکھائی نہیں دیتی۔ اب حال ہی میں ۲۸ مارچ ۲۰۱۳ء کو ان کی طرف سے پھر اصرار ہوا تو مجھے مناسب لگا کہ پوپ کہانی کے موضوع پر شیخ صاحب کے ساتھ جو خط و کتابت ہوئی ہے، اسے یک جا کر دیا جائے۔ اس سلسلہ میں ایک دو قباحتیں درپیش تھیں۔ بعض ای میلز میں برہمی کے اظہار کے طور کچھ نامناسب باتیں لکھی گئی تھیں۔ میں نے جواب میں ان باتوں کو بالکل نظر انداز کر دیا۔ پوپ کہانی میرا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ اس میں مجھے دلچسپی بھی نہ تھی۔ اس لیے میں نے ذاتیات میں الجھنے یا کسی ذاتی وضاحت کرنے سے گریز کیا۔ لیکن اب میں ساری خط و کتابت شائع کرنے لگا ہوں تاکہ پوپ کہانی کا قضیہ کھل کر سامنے آسکے۔ اسی دوران مجھے احساس ہوا کہ مقصود الہٰی شیخ صاحب کی جن سخت باتوں سے میں نے صرفِ نظر کیا تھا، ان کے بارے میں تھوڑی سی وضاحت کر دینا ضروری ہے کیونکہ اب یہ خطوط ذاتی ریکارڈ سے نکل کر ادبی ریکارڈ پر آرہے ہیں۔

      میں نے۱۱/اپریل ۲۰۱۲ء کو’’ کولکاتا اور دہلی کا سفر‘‘ کے عنوان سے ایک میل ریلیز کی تھی۔ اس پر مقصود الہٰی شیخ صاحب نے مسرت کا اظہار کیا۔ میں نے شکریہ کی ای میل بھیجی تو انہوں نے ۱۲/اپریل۲۰۱۲ء کو ایک تراشہ بھیج دیا جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ انہیں نومبر ۱۹۷۶ء میں ملکہ برطانیہ نے کسی شاہی دعوت میں مدعو کیا تھا۔ انہوں نے کسی ادبی تقریب کا ذکر کیا ہوتا تو انہیں جواب دیتا۔ ’’بزمِ شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی‘‘ والی بات تھی۔ سو میں نے جواب نہیں دیا۔ ۱۸/اپریل کو شیخ صاحب نے پھر وہی تراشہ بھیج دیا۔ تب میں نے انہیں اپنی ۱۹/اپریل ۲۰۱۲ء کی ای میل میں مختصراً لکھا کہ آپ نے ملکہ کا دعوت نامہ ارسال کیا ہے اور میں خود کو بادشاہ محسوس کر رہا ہوں۔ ساتھ ہی انہیں اپنی یادوں کے ایک باب کا لنک بھیج دیا۔ اس باب کے چند متعلقہ اقتباس یہاں درج کر رہا ہوں۔

      ’’میرے پیش نظر دو باتیں تھیں۔ ایک تو یہ کہ میں ایک طویل عرصے سے کبھی ایسا محسوس کیا کرتا ہوں کہ جیسے میں کسی پچھلے جنم میں بادشاہ/راجہ یا سردار قسم کی چیز تھا اور کبھی ایسے لگتا ہے کہ میں کوئی سادھو، سنت، فقیر یا ملنگ تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سیل کی کارکردگی کی اس تفصیل کے بیان سے یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ ہمارے اندر ہمارے آباء و  اجداد کی عادات و افعال کا کتنا بڑا حصہ موجود ہے۔ ان کے ذریعے ہمارے نانہال، ددھیال کے اعمال و عادات کا بہت سارا حصہ ہم میں منتقل ہو جاتا ہے۔ اپنے آپ کو کبھی کوئی مہاراجہ یا سرداراور کبھی کوئی ملنگ فقیر محسوس کرنا مجھے ایسے لگتا ہے جیسے میرے ددھیال، نا نہال میں سے کوئی ایسے رہے ہوں گے اور انہیں کی وہ بادشاہی اور فقیری میرے اندر بھی سرایت کر کے کسی نہ کسی رنگ میں میرے مزاج کا حصہ بنی ہوئی ہے۔  ‘‘

    ’’یہاں تک آتے آتے مجھے ایسا لگا ہے جیسے آج میرے اندر کے بادشاہ اور ملنگ میں لڑائی ہو گئی ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ بادشاہ جیت گیا ہے اور فقیر کو قبر میں ڈال دیا گیا ہے۔ لیکن فقیر کی تو قبر بھی زندہ رہتی ہے اور سانس لیتی ہے۔ اب میں نہ خود سے مزید مکالمہ کر سکتا ہوں نہ اپنے قارئین سے مزید گفتگو کی گنجائش ہے، بس خدا سے ایک سوال ہے۔

خداوندا! یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں       کہ درویشی بھی عیاری ہے، سلطانی بھی عیاری

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اپنی کہانی کا درویش بھی میں ہوں، سلطان بھی میں ہوں،

اور خدا کا سادہ دل بندہ بھی میں ہی ہوں۔ ‘‘

 (’’کھٹی میٹھی یادیں ‘‘ کے باب ’’زندگی در زندگی‘‘سے)

        یہ پس منظر اس لیے واضح کیا ہے کہ مقصود الہٰی شیخ صاحب کے پہلے خط میں جو نا مناسب الفاظ ملیں گے، ان کے پس منظر میں یہ ساری  پہلے والی خط و کتابت تھی۔ چونکہ شیخ صاحب میرے اشارے کا مطلب سمجھ ہی نہیں سکے تھے اس لیے انہیں لگا کہ میں اپنی کسی خودی میں گھرا ہوا ہوں، وغیرہ وغیرہ۔ شیخ صاحب نے کسی نئی، پرانی ادبی تقریب کا احوال بھیجا ہوتا تو اس پر خوشی کا اظہار کر سکتا تھا۔ بادشاہوں کے دعوت نامے پر کیا خوش ہوتا۔ یہ شخصی زندگی میں اعزاز ہو سکتا ہے لیکن ادب سے اس کا دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ پھر اتنا پرانا دعوت نامہ۔

      ایک دو وضاحتیں اور۔ ۔ ایک یہ کہ میں نے کبھی بھی مقصود الہٰی شیخ صاحب سے اپنی کسی تحریر پر داد نہیں چاہی، کبھی بھی نہیں، ۔ ۔ ۔ دوسری یہ کہ میں نے آج تک اس کا اظہار نہیں کیا لیکن آج یہاں لکھ رہا ہوں کہ مجھے بہت شروع کی ادبی عمر میں پاکستان میں اکیڈمی آف لیٹرز کی تقریب میں شرکت کا موقعہ ملا تھا اور ایوان صدر میں ہونے والی دعوت میں بھی شرکت کی تھی۔ چار افراد کی مجھے جو ٹیبل ملی تھی اس پر راغب مرادآبادی اور عطاء الحق قاسمی موجود تھے۔ تیس سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا، اسے کسی تفاخر کے اظہار کے طور پر کہیں بیان ہی نہیں کیا۔ ماریشس میں نائب صدر کی دعوت کا دعوت نامہ ہونے کے باوجود میں نے ایک اور ادبی کام کرنے کو ترجیح دی تھی، وہیں ہوتے ہوئے شریک نہیں ہوا تھا۔ اس کا ہلکا سا ذکر میرے ماریشس والے رپورتاژ میں موجود ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ میں اپنی فقیری میں خوش ہوں اور شاہوں کے ہاں جانے کی کوئی خاص خوشی نہیں ہوتی اور دوسروں کے معاملہ میں بھی یہی رویہ رہتا ہے۔ اس کے باوجود شیخ صاحب نے اس پس منظر میں میرے مزاج کو جانے بغیر اپنے پہلے خط میں جو کچھ لکھا ہے میں نے اس کا جواب نہیں دیا اور ان کی سخت باتوں کو نظر انداز کر دیا تھا۔ چونکہ اب یہ سارے خطوط چھپنے جا رہے ہیں تو مجھے مناسب لگا کہ اس سلسلہ میں یہ ہلکی سی وضاحت کر دوں۔

       ایک اور بات جو انہوں نے اپنی۱۸ /دسمبر ۲۰۱۲ء کی ای میل میں لکھی ’’شخصی کمزوریوں ‘‘کے حوالے سے تھی۔

میرا اشارہ صرف ان شخصی کمزوریوں کی طرف تھا جو پوپ کہانی کی خط و کتابت میں ان سے سر زد ہوتی جا رہی تھیں۔

ان پر تفصیلی لکھ سکنے کے باوجود میں نے صرف پوپ کہانی کے خد و خال جاننے پر اصرار کیا۔ مثلاً انہوں نے پوپ کہانی کو ’’ایجادِ من‘‘ قرار دیا۔ ایک چیز جس کی شناخت ہی نہیں ہے، صرف نام رکھ دینے سے بندہ اس کا موجد بن جائے تو کیا کہا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے بہت کچھ لکھا جا سکتا تھا، لکھا جا سکتا ہے، لیکن میں نے موجد بننے کی ان کی اس معصومانہ خواہش کو ان کی شخصی کمزوری شمار کر کے نظر انداز کر دیا۔ ایک زمانہ میں جب وہ مایوسی کی لپیٹ میں تھے، میں نے ان کی ہمت بندھانے کے لیے انہیں خط لکھا تھا۔ بعد میں یاد دلایا تو انہیں مایوسی یاد نہیں آئی اُلٹا وہ خود کو اسٹیج پر بیٹھا ہوا سمجھ کر مجھے پبلک میں بیٹھا ہوا سمجھنے لگے۔ حالانکہ میں ایسی تقریبات میں نہ اسٹیج پر ہوں نہ پبلک میں۔ اسی طرح کی چند اور کمزوریاں بھی ہیں جو ان خطوط کو پڑھنے والے، مطالعہ کے دوران خود بہتر طور پر سمجھ لیں گے۔ اس ساری خط و کتابت کے سلسلہ میں یہ چند وضاحتیں کرنا ضروری سمجھا تھا سو کر دی ہیں۔ اب آگے وہ خط و کتابت دیکھ لیں اور اپنے اپنے طور پر پوپ کہانی کے بارے میں جو چاہے رائے قائم کریں۔

        مجھے جس دن اپنے بنیادی سوالوں کے جواب کی صورت میں مناسب رہنمائی مل گئی، میں پوپ کہانی میں ضرور دلچسپی لوں گا۔ ابھی تو معاملہ اس خط و کتابت میں اُٹھائے گئے نکات تک ہی رُکا ہوا ہے۔      ٭٭٭

 

اردو میں پوپ کہانی کی کہانی

 نئی، پرانی خط و کتابت

مقصود الہٰی شیخ۔ ۔ ۔ حیدر قریشی

جناب! میں تو آپ کو دور سے جانتا ہوں مگر آپ کی بے نیازی کا جواز کبھی سمجھ میں نہ آیا۔ اب تو آپ فوراً ریسپانس دیتے ہیں۔ ہم متوازی چلتے ہوئے بھی ایک اور ایک گیارہ کا عمل اپنا سکتے تھے۔ یہ یورپ میں اردو کے لیے بہتر ہوتا۔ ۔ خیر اگر مگر کا جواب دیجیے گا کیونکہ میں اور آپ گیا وقت نہیں۔ آپ کو ماہیا کا جنون تھا، میں بھی ایک کمپینر ہوں بحوالہ پوپ کہانی۔ راجہ اور بادشاہ والی بات۔ ۔ پلیز ٹریس یور شجرہ۔ روٹس میں گھسنے سے بھی بہت کچھ پتہ چل سکتا ہے۔ آپ کھوجتے رہیے، ورنہ بندہ خود کو خودی میں خدا مانتا ہے۔ لگتا ہے آپ پی سی تیکنیک میں خاصے ماہر ہیں۔ اگر آپ ڈاؤن لوڈ کر لیں تو ہم جب کبھی موقعہ ہو گا تو اردو میں مراسلت کر سکتے ہیں۔ والسلام مقصود

پ۔ ن:داد چاہنے والوں کو داد دینی بھی چاہیے۔ مہربانی کر کے اپنی چاہ اور اپنی چاہت سے نکل کر دوسروں کو داد نہ سہی، دو چار لفظ لکھ کر اپنے تاثرات بھیجنا (کم از کم)مجھے اچھا لگے گا۔     ۱۹/اپریل ۲۰۱۲ء

٭٭

میرا خیال ہے کہ ہم ایک دو بار قریب آ کر پھر دور ہوئے ہیں۔ جن دنوں آپ بہت زیادہ ڈپریس تھے، میری آپ سے بہت اچھی خط و کتابت ہوئی تھی، پھر آپ ایک نئے جذبہ کے ساتھ اُٹھے۔ میں آپ کو بڑھتا ہوا دیکھتا رہا اور خوش ہوتا رہا کہ آپ کی ڈپریشن ختم ہو گئی ہے۔ انہیں دنوں میں آپ سے کہا تھا کہ اپنی کوئی کتاب بھیج دیں، میں پڑھ کر مضمون لکھ دوں گا۔ مقصد آپ کو متحرک کرنا تھا۔ آپ نے کتاب نہیں بھیجی، مجھے اصرار کرنا مناسب نہ لگا۔ اصل میں ایک دوسرے کے لیے اچھے جذبات رکھتے ہوئے بھی شاید کہیں مزاجوں کا فرق غیر ارادی طور پر روک بنا رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کوئی اور وجہ بھی ہو۔ بہر حال قسمت میں ایسا ہی ہونا تھا سو ہو گیا۔ اردو سکرپٹ میں تو ہم جب چاہیں خط و کتابت کر سکتے ہیں۔ آپ کی پوپ کہانیوں کو دیکھا تو ہے لیکن مجھے افسانچے اور ان کے فرق کا ابھی تک اندازہ نہیں ہو سکا۔ کسی مضمون میں اس فرق کو واضح کیا ہو تو عنایت کیجیے گا۔ میں اس فرق کو سمجھنا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد ہی کچھ عرض کر سکوں گا۔

آپ کا مخلص

 حیدر قریشی        ۱۹/اپریل ۲۰۱۲ء

٭٭

اسے کہتے ہیں یار زندہ صحبت باقی !۔

 میری یادداشت کمزور ہو گئی ہے۔ کبھی کبھی بڑی پشیمانی ہوتی ہے بندہ تپاک سے ملتا ہے اور میں کورے کاغذ کی مانند ہوتا ہوں جیسے، جیسے نہیں واقعی نہیں جانتا، پہچانتا۔ بس اب تو فوراً اقرارکرلیتا ہوں اور پوچھ لیتا ہوں کہ کچھ تعارف اور پرانی ملاقات یاد دلائیے۔ آپ کا پتہ نہیں، جرمنی کیا صورت حال تھی۔ میں تو ایسا صحافی ہو گیا تھا جسے اخباری اور سماجی مصروفیات نے ” پبلک مین ” بنا دیا تھا۔ آپ کو اندازہ ہو گا کہ جب آدمی اسٹیج پر ہوتا ہے تقریر کرتا ہے تو اسے سب دیکھ رہے ہوتے ہیں اور اپنی اپنی جگہ جان اور پہچان لیتے ہیں مگر وہ جم غفیر میں سے ایک آدمی پر نگاہ نہیں ٹکا سکتا تو بعد میں کیا پہچانے گا ؟ میرا خیال ہے آپ کی بات بھی درست ہے کہ باہمی احترام کے باوجود ہمارے مزاج ایک نہ تھے۔ آپ نے اس ناچیز پر مضمون لکھنا چاہا ہو گا۔ اب کیسے کہوں کہ میں کیوں چپ رہا؟ ہونا تو یہ چاہیئے تھا بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔ عادتاً میری خواہش ہوتی ہے کہ میرے کام پر رائے زنی ہو اور میں اس روشنی میں کچھ سیکھ کر اپنی مہم اور کام کو آگے بڑھاؤں۔ اردو میں کام سے زیادہ شخصیت پر فوکس کیا جاتا ہے۔  دراصل مجھے آپ کے حوالے سے جو بات یاد آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ آپ کی تحریریں ” راوی ” میں شائع کرتے ہوئے آپ نے میرا ایک آدھا مشورہ قبول کیا تھا۔ آپ کا پاکستان میں صحافت کا زیادہ تجربہ تھا مگر آپ نے فراخدلی سے میرا مشورہ مانا تھا۔ خصوصاً سوانح عمری کی ایک آدھ قسط ” راوی ” میں چھپی جس میں گھریلو اور نجی اشارے زیادہ تھے پھر شاید آپ نے کتاب چھپوا لی مگر” راوی ” سے سلسلہ ٹوٹ گیا  یا پرانی یادوں کے تعلق سے کوئی بات تھی۔ میرا تاثر یہی رہا کہ آپ ماھیا کی صنف منوانے میں جت گئے اور اس طوفان خیزی میں کہیں سے کہیں (بلندی پر) نکل گئے۔

 خیر، ۔ ، میں کمپوٹر تکنیک پر زیادہ حاوی نہیں۔ اس لئے آپ کو تازہ الحمراء  لاہور میں پوپ کہانی سے متعلق مضمون علیحدہ فارورڈ کرتا ہوں۔ دیکھیئے۔ میں نت نئے کمپیئن چلاتا ہوں۔ آج کل پوپ کہانی کا سلسلہ چل رہا ہے۔ آپ ضرور رائے دیجئے۔ کتاب کی فرمائش کی بات مجھے قطعی یاد نہیں آ رہی۔ آپ یہ مضمون دیکھئیے۔ اس کے بعد آپ نے کہا تو میں کتاب ” پوپ کہانیاں ” بھی ارسال کر دوں گا۔ میں یہ بھی معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ کبھی ” مخزن ” بھی ملا ؟ آپ نے اپنے رسالے میں کوئی تبصرہ کیا ہو تو مجھے اس کی پی ڈی ایف میں اٹیچمنٹ بنا کر بھیج دیجئے گا۔ مجھے غرض نہیں کہ کس انداز میں ای میل کرتے ہیں۔ بس میں آسانی سے کھول سکوں اور پڑھ سکوں۔ امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ آپ کے خط کا خلوص متاثر کر رہا ہے۔ انشاء اللہ اب رابطہ رہے گا۔ گھر میں سب کو درجہ بدرجہ سلام و دعا۔ والسلام، ۔            مقصود۔     ۱۹/اپریل ۲۰۱۲ء

٭٭

برادرم مقصود الہٰی شیخ صاحب    سلام مسنون

            مخزن ملتا رہا تھا۔ ایک بار آپ کی طرف سے ایک فارم بھی ملا تھا۔ مجھے یہ سلسلہ اچھا نہیں لگا تھا کہ تخلیق کار رقم دے کر چھپے اور نقاد کو پیسے دے کر اس سے لکھوایا جائے۔ اس لیے میں نے فون پر اچھے پیرائے میں معذرت کر لی تھی۔ آپ کا اصرار تھا کہ میں خط کا جواب لکھ دوں، اور میں ان تخلیق کاروں کی دلآزاری کا موجب نہیں بننا چاہتا تھا، جو اس طریق کے مطابق چھپ رہے تھے۔ ویسے ادبی رسائل کا ساتھ دینا، ان کے ساتھ مالی تعاون کرنا مناسب ہی نہیں بلکہ کسی حد تک ضروری بھی ہے۔ لیکن یہاں معاملہ تخلیق کار اور نقاد کے ساتھ رویوں کا تھا۔

جدید ادب میں ادبی رسائل پر تبصرے نہیں دئیے جاتے۔ صرف کتابوں پر ہی تبصرے کرتا ہوں۔

          جب میں نے آپ سے کوئی کتاب بھیجنے کو کہا تھا تاکہ مضمون لکھ دوں، تب آپ بہت زیادہ ڈیپریشن کا شکار تھے۔ آپ کے ایک دو مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے خط ملے تھے، ان کے نتیجہ میں میں نے چاہا تھا کہ آپ اس وقتی ذہنی دباؤ سے باہر آسکیں۔ تب میں نے آپ کو بہت اچھے خط بھی لکھے تھے۔ مقصد تو یہ تھا کہ آپ ڈیپریشن سے نکل کر ادبی طور پر متحرک ہو جائیں۔ سومیرے مضمون کے لکھے بغیر ہی یہ مقصد حاصل ہو گیا۔

    میری یادوں کا پہلا باب آپ نے بھی شائع کیا تھا، لیکن اس کا پہلا پیرا گراف حذف کر کے۔ ۔ ۔ اس کے بعد میری گلبن والوں سے بات ہو گئی تھی اور لگاتار یادوں کے گیارہ باب، دس قسطوں میں وہاں چھپے تھے۔ دس قسطوں کے بعد گلبن میں باقاعدہ لکھنے کا سلسلہ رک گیا۔ تاہم گاہے بگاہے جدید ادب ہی میں یادیں چھپتی رہیں اور اب تک یادوں کے مزید دس باب چھپ چکے ہیں۔ اور گیارھواں ان دنوں میں لکھ چکا ہوں، صرف اس باب کی نوک پلک سنوارنا باقی ہے۔ یہ سلسلہ رکا نہیں، بس چھپنے کے مقام بدلتے رہے ہیں۔

پوپ کہانی کے حوالے سے آپ کا مضمون ملا، غور سے پڑھ لیا۔ لیکن میرا سوال وہیں ہے۔ میں نے گزارش کی تھی کہ افسانچے اور پوپ کہانی میں کیا فرق ہے اور اسے کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟

یہ لگ بھگ ویسے ہی سوال جیسی صورت ہے جب ہم سے ماہیا اور ہائیکو میں فرق کی بابت پوچھا گیا تھا۔ ہماری طرف سے اس کا بڑی وضاحت کے ساتھ جواب دیا گیا تھا۔ افسانچے اور پوپ کہانی کے فرق کے سلسلہ میں بھی بات وضاحت کے ساتھ سامنے آنا ضروری ہے۔

اس مضمون کو پڑھنے کے بعد لگا کہ آپ اسے ایجادِ من خیال کرتے ہیں۔ مجھے خیال آتا ہے کہ انگریزی میں پوپ کہانیوں کے نام سے پہلے سے کچھ لکھا جا رہا ہے۔ یہاں اب ہلکا سا کنفیوژن پیدا ہو رہا ہے۔ مجھ پر الزام لگا تھا کہ میں ماہیا کا موجد بننا چاہتا ہوں۔ میں نے اس کی سختی سے تردید کی تھی اور پھر اردو میں اس کے بانی کی حد تک بھی سہرا ہمت رائے شرما کے سر باندھ دیا تھا۔ اس موضوع پر پوری کتاب لکھ دی تھی۔ اس کے بر عکس آپ اسے ایجادِ من قرار دے رہے ہیں۔ آپ کی ایجاد ہے تو اسے تسلیم کیا جانا چاہیے، لیکن اگر انگریزی سے اسے لیا گیا ہے تو پھر کچھ مارجن رکھنا مناسب ہو گا۔

ان دنوں اپنی یادوں کا نیا باب لکھنے کے ساتھ میرا جی نمبر کی تیاری میں مصروف ہوں۔ دنیا فیض اور راشد کی دھن میں انہیں فراموش کیے بیٹھی ہے۔ سوچا لوگ مشہور لوگوں کے نام پر کام کر کے  اپنی شہرت کماتے ہیں۔ ہم کسی گمنام اور نا مقبول بندے کے کام کو سامنے لاتے ہیں۔ سو اردو میں اہلِ ملامت کے امام میرا جی پر کام میں لگا ہوا ہوں۔ جون تک رسالہ چھاپنے کا ارادہ ہے۔ انشاء اللہ۔ امید ہے آپ ہر طرح صحت و عافیت سے ہوں گے۔

والسلام     آپ کا مخلص        حیدر قریشی        ۲۰/اپریل ۲۰۱۲ء

٭٭

پیارے حیدر قریشی صاحب، ۔

 مخزن ” پر تبصرہ کرنا نہ کرنا آپ کا حق اور صوابدید پر تھا۔ ” سائزکی بنیاد پر آپ نے اسے مجلہ یارسالہ سمجھا اور گریزاں رہے تو کوئی بات نہیں۔ شہاب نامہ کو کتاب سمجھا جائے یا رسالہ؟  مخزن کا ”  دی اینڈ ” ہو گیا۔ بحث میں پڑنا بیکار ہے۔  شکوہ نہ شکایت۔ آپ مطمئن رہیں۔  دوبارہ اس پر گفتگو نہ ہو گی۔

 میں حیران ہوں آپ نے ” مخزن ” کے پیچھے فکر کو قطعی نظر انداز کر دیا لہذا دوچار جملوں میں

۔ Writers’ Co-opکے قیام کی بابت عرض کرد وں۔ مغرب میں اردو قلمکاروں کی پہچان وطن عزیز میں ہونی چاہیئے۔ اس کو صورت دینے کے لئے صلاح مشورہ کیا گیا۔ مجھے ” راوی ” سے رٹائر ہوئے دو سال ہو چکے تھے مگر احباب نے بھلایا نہیں اور مجھ سے رابطے جاری رکھے تھے۔ میں خود ” مخزن ” جاری کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا چنانچہ تخمینہ منگوایا گیا اور (مختصراً) احباب کو دس دس پرچوں کی قیمت پیشگی بھیج کر منگوانے کے لئے کہا گیا۔ اس طرح دو مقصد حاصل کرنا مقصود تھا اول سرمایہ، دوم پرچے کی تقسیم۔ مجھے اپنے بیٹے کے ایئر لائن میں ہونے کی وجہ سے کم کرائے میں پاکستان جانے آنے کی سہولت حاصل تھی۔ پہلی مرتبہ میں تین ماہ کے لئے پاکستان کے مختلف شہروں میں پھرا۔ وہاں بے خبری کا عالم تھا اور کوئی یہاں والوں کو گھاس ڈالنے پر تیار نہ تھا ویسے میرا بس ہی نہ چلا میں تو اپنے  ہفت روزہ میں بھی لکھنے کا معاوضہ یا اعزازیہ دینے کو تیار تھا مگر ناخن ہی نہ ہوئے۔ اب مانے جانے نقادوں کی عزت و احترام ملحوظ رکھتے ہوئے ان کے قیمتی وقت کے مد نظر اعزازیہ کی صورت نکالی۔ ساتھ تحریراً کہا گیا کہ اپنی انٹی گریٹی قائم رکھتے ہوئے رائے زنی کیجئے تاکہ برطانیہ کے لکھنے والوں جن میں قیصر تمکین مرحوم اور ش صغیر ادیب مرحوم جیسے پہلے سے مسلمہ افسانہ نگار شامل تھے، وہ متفق رہے اور ساتھ چلے کہ مرکزی دھارے میں برطانیہ کے لکھنے والوں کی شمولیت کے لئے یہ قدم نا گزیر ہے۔ اس طرح ممکن ہے۔ لکھنے والے کا درجہ مقرر ہو سکے۔ اس کے نتیجے میں بعض لکھاری میدان چھوڑ کر بھاگ بھی گئے۔

  مجھے نہیں معلوم آپ نے کیسے سرمایہ مہیا کیا اور اپنا پرچہ چھاپا۔  ” کو آپ ” کی حد تک میں مطمئن ہوں کہ مقصد حاصل ہوا اور اس کے بعد وطن عزیز کے سالانہ ادبی جائزوں میں یہاں والوں کا نام آنے لگا۔ شاباش ہے یہاں والوں نے تنقید سنی اور آگے بڑھے اور کئی دوستوں نے مقام بنایا۔ اگر آپ کی نظر معاصر ادب و اشاعت پر ہے۔ تو میں بات یہیں ختم کرتا ہوں۔ برطانیہ کی حد تک یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ جن ” گل محمد ” قسم کے مخالفین نے حصہ نہیں لیا وہ خسارے میں رہے اور وہ برطانوی مقامیت جہاں ادبی رسالے سرے سے نہ تھے اور ” راوی ” بند ہو گیا تھا، باہر متعارف ہی نہ ہو پائے۔ آپ جانتے ہیں کہ میں نے ” راوی ” میں نئے لکھنے والوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی۔ آج وہ نئے، نئے نہیں، جانے مانے ہیں۔

       آپ میری ڈیپریشن کا ذکر کر رہے ہیں۔ اخبار کا دھندا ہی ایسا ہے کہ چنگا بھلا آدمی دیوالیہ ہو جائے۔ ہاں کئی مرتبہ مکان مارگیج رکھا، دیوالہ نہ نکالا اور صحافت نہ چھوڑی۔ میری یاد داشت کمزور ہے۔ آج یاد نہیں رہتا جبکہ پیدائش کے وقت کی بات یاد آ جاتی ہے۔ میں آپ کے خلوص اور نیک جذبے کی قدر کرتا ہوں کہ میرے خیالات سے اتفاق نہ کرتے ہوئے خیال رکھا اور مجھے حوصلہ افزا خط لکھے۔ اگر اس وقت کا میرا یا آپ کا اپنا خط کمپوٹر یا کسی کونے کھدرے میں محفوظ ہو تو بھیجئے گا۔ کیا خبر یادیں کھنگالنا مفید ثابت ہو۔ آپ نے اپنا قلم نہیں روکا اور لکھتے رہے۔ میں آپ کی ثابت قدمی اور ادبی میدان میں اونچا اٹھنے کی بابت سب نہیں تو بڑی حد تک کچھ نہ کچھ جانتا ہوں اور خوش ہوں کی آپ کی محنت رائگاں نہ گئی۔ آپ اپنی جگہ ضرور مسرور و مطمئن ہوں گے۔ میں آپ کی آئندہ کامیابیوں کے لئے دعا گو ہوں۔

        جہاں تک پوپ کہانی کا تعلق ہے۔ کیا آپ نے اس بارے میں ” ایوان اردو ”  جنوری یا اپریل تک چل رہی بحث دیکھی؟ ” گلبن ” میں تو تنقید دیکھی ہو گی۔ میرا جوابی حملہ بھی کہیں نہ کہیں چھپا دیکھا ہو گا۔ اگلے مہینے "ایوان اردو” والے پچھلے تین ماہ میں جو خطوط شائع ہوئے ان کے حوالے سے میرا جواب مضمون چھاپ رہے ہیں۔ آپ کو کوئی معلومات درکار ہوں تو بتائیے بھیج دوں گا  ویسے جمعہ کو میں نے ہوائی ڈاک سے آپ کو اپنی کتاب ” پوپ کہانیاں ” پوسٹ کر دی ہے۔ اس میں بہت سی اغلاط ہیں۔ آپ ان سے سہو نظر فرمائیے گا اور مدعا پر نگاہ رکھتے ہوئے بتائیے گا۔ آپ کی رائے میرے لئے قیمتی ہو گی۔ والسلام،    مقصود

 خط کل لکھنا شروع کیا تھا۔ طویل داستان اور مرحلوں کو سمیٹنا مشکل ہے۔ آپ اپنی بیتی بحوالہ رسالہ ضرور بتائیے۔ کاش ہم نے   experience share  کر کے ایک دوسرے کو فائدہ پہنچا یا ہوتا اور ایک دوسرے سے کچھ سیکھا ہوتا !!۔

 ۲۳/اپریل ۲۰۱۲ء

٭٭

برادرم مقصود الہٰی شیخ صاحب            سلام مسنون

آپ کی پہلی ای میل بھی مل گئی تھی اور اب دوسری استفسار والی میل بھی مل گئی ہے۔ استفسار والی میل کا جواب اسی جواب میں آ گیا۔ فون نمبر لکھ دیتا ہوں۔

آپ نے مخزن کے سلسلہ میں جو موقف اختیار کیا ہے، اسے آپ کی سوچ اور آپ کے زاویے سے درست سمجھتا ہوں۔ ہم نے بالکل ابتدائی ادبی زمانہ میں خانپور میں دو کتابیں اسی بنیاد پر شائع کی تھیں۔ تاہم جب جدید ادب کا اجرا کیا تھا تو ۸۰ صفحات کا شمارہ بھی اپنے ذاتی خرچ سے شائع کیا اور اب جرمنی سے جو رسالہ نکال رہا ہوں تو یہ بھی اپنی پاکٹ منی سے نکال رہا ہوں۔ سال بھر میں جتنی رقم بچا سکتا ہوں اس پر لگ جاتی ہے، اسی لیے جب مجھے کسی تقریب میں اپنے ذاتی خرچ پر بلایا جاتا ہے تو میں اس لیے معذرت کرتا ہوں کہ اتنے خرچ کی گنجائش نہیں ہے۔ یا رسالہ نکالوں یا تقریبات میں شرکت کروں۔ سو رسالہ نکالنا زیادہ مناسب لگتا ہے۔ ادبی کام کرنے کی توفیق ملنا سب سے بڑا ادبی انعام سمجھتا ہوں۔ ادب کی خدمت کرنے کا میرا کوئی دعویٰ نہیں ہے۔ میں صرف اپنی ادبی زندگی بسر کر رہا ہوں۔ عام زندگی کی طرح ادبی زندگی کی بھی اپنی ایک دنیا ہے۔

         آپ سے جو مراسلت ہوئی تھی، اس کی وجہ امریکہ سے سلطانہ مہر صاحبہ کا سوالنامہ تھا۔ میں نے آپ کو بھیجا تھا تو اس کے جواب میں  ۶ جنوری ۱۹۹۹ء کا لکھا ہوا آپ کا خط ملا تھا۔ آپ کے خط کا جواب میں نے ۸ جنوری کو فیکس سے بھیج دیا تھا۔ اس پر آپ کا ۹جنوری کا تحریر کردہ جواب ملا تھا۔ یہ مراسلت آپ کی اجازت سے ’’اردو دنیا‘‘ جرمنی کے شمارہ اگست ۲۰۰۰ء میں شائع بھی کر دی گئی تھی۔ آپ چاہیں تو وہ صفحہ سکین کر کے بھیج دوں گا۔

         پوپ کہانی کے سلسلہ میں میرا استفسار صرف اس کے خد و خال کی تفہیم کے لیے ہے۔ جوگندر پال جی کے افسانچے پڑھنے کے بعد افسانچے کا تصور واضح ہو چکا ہے۔ میں مختصر ترین پیرائے میں پوپ کہانی اور افسانچے کے فرق کو سمجھنا چاہتا ہوں اور اسی تناظر میں عام شارٹ سٹوری اور پوپ کہانی کے فرق کو جاننا چاہتا ہوں۔ اسے عام فہم انداز میں مختصراً لکھ دیں تو میرے جیسے کئی اور لوگوں کو بھی سمجھنے میں سہولت ہو جائے گی۔ ایوانِ اردو اور گلبن میرے پاس نہیں آتے۔ سو آپ کے مذکورہ مضامین اور جوابات میری نظر سے نہیں گزرے۔

         آپ کے نیک جذبات کے لیے بے حد شکر گزار ہوں۔ اللہ آپ کو صحت و عافیت سے رکھے، ہماری صحت، تندرستی کے لیے دعا فرماتے رہیے۔

آج کا باقی وقت اپنے سفر کی روداد کو مکمل کرنے کی کوشش کروں گا، امید ہے آج اسے مکمل کر ہی لوں گا۔ انشاء اللہ۔

والسلام     آپ کا بھائی      حیدر قریشی       ۲۳/اپریل ۲۰۱۲ء

٭٭

آپ کی ای میل مل گئی، شکریہ۔ ’’اردو دنیا‘‘کا پیج ارسال خدمت ہے۔ آپ اپنا فون نمبر لکھ بھیجئے۔

آپ کا  حیدر قریشی  ۲۳ اپریل ۲۰۱۲ء

٭٭

محبت نامے:’’اردو دنیا‘‘ جرمنی  کے شمارہ :اگست ۲۰۰۰ء  میں مطبوعہ پرانی خط و کتابت

یہ خط و کتابت مطبوعہ ’’اردو دنیا‘ ‘کے صفحہ کو سکین کر کے مقصود الہٰی شیخ صاحب کو بھیجی گئی۔

۶/۱/۹۹

حیدر قریشی صاحب   نیا سال مبارک

سلطانہ مہر صاحبہ کا براہِ راست اور اب آپ کی معرفت گوشوارہ سوالات ملا۔ بھائی! مجھ پر آج کل یاسیت طاری ہے۔ بیچ بیچ میں خوش بھی ہو لیتا ہوں کہ خالقِ دو جہاں ناشکرا نہ سمجھ لے۔ سچ پوچھئے تو سب باتیں لاحاصل نظر آتی ہیں۔ لکھنے لکھانے کے تعلق سے تازہ خیالات یہ ہیں کہ اس صدی کے دو ایک نام ہی رہ جائیں گے۔ جیسے دو صدی پہلے کا ’’غالب‘‘ چل رہا ہے۔ اپنی جگہ سوچتا ہوں کہ کون سا ایسا تیر مارلیا۔ نہ تین میں، نہ تیرہ میں۔ بس دل بھرا بھرا ہے۔ کوئی دلچسپی محسوس نہیں ہوتی۔ جہاں ضرورت محسوس ہوتی ہے وہاں فرض نبھانے کی کوشش کر گزرتا ہوں۔ بعد میں وہ بھی کمزور فضول دکھائی دیتی ہے۔ دیا بجھنے سے پہلے بھڑکتا ہے، یہاں اس کے بغیر ہی بجھ رہے ہیں۔

         بہر حال یاد فرمائی کے لئے ممنون ہوں۔ میں تو سمجھا تھا آپ نے بھی دوسروں کی طرح جیسے احمد سعید انور اور نعیمہ ضیاء الدین صاحبہ کی طرح منہ موڑ لیا۔ یہی سمجھا کہ اس دنیا میں جہاں کئی قسموں کے تعصب ہوتے ہیں ان میں مذہبی و فرقہ دارانہ زیادہ تگڑا ہوتا ہے۔ آپ کو تو ’’راوی‘‘ نے ہاتھوں ہاتھ لیا تھا۔ خیر۔ آپ بڑے جذبے سے ماہیے کا پرچم لہراتے بڑھ رہے ہیں۔ نوجوان ہیں، جذبہ ہے۔ آپ کی لگن قابلِ داد ہے۔ میرا خیال ہے یہ میدان آپ نے جیت ہی لیا ہے۔ امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔     مقصود الہٰی شیخ

نوٹ از ادارہ ’’اردو دنیا‘‘:خط دفتر ’’راوی‘‘ بریڈ فورڈ سے بھیجا گیا۔

٭٭

از جرمنی     محترم مقصود الہٰی شیخ صاحب        سلام مسنون

آپ کا ۶/جنوری کا تحریر کردہ عنایت نامہ ملا، شکریہ۔

آپ نے خود پر طاری جس یاسیت کا ذکر کیا ہے اس سے کسی نہ کسی مرحلے میں ہم سب کا واسطہ پڑتا ہے۔ سب کچھ لاحاصل یا بے معنی لگنے لگتا ہے۔ لیکن صرف ادب ہی کیوں ؟کیا یہ زندگی ہی بے معنی اور لا حاصل نہیں لگنے لگتی؟اول فنا، آخر فنا، اس کے باوجود اسی زندگی میں کتنی‘‘جان‘‘ہے!

ادب اور عبادت دونوں کو میں ’’فائدے ‘‘کے حساب سے نہیں سوچتا۔ عبادت محض جنت کے حصول کے لیے ہو تو یہ سیدھی سادی رشوت بن جاتی ہے، جبکہ عبادت جب بندے اور خدا کے درمیان تعلق کو قائم کرتی ہے تو عبادت کی لذت ہی اپنا اجر آپ بن جاتی ہے۔ ایسے ہی ادب کی تخلیق کا عمل خود ایک لذت آفریں عمل ہے تو پھر بے معنویت اور لا حاصلی کا احساس کیوں ؟ہاں جب بعض مخالفین، حاسدین حسد سے مغلوب ہو کر گھٹیا درجے کی مخالفت کرتے ہیں تو تھوڑا سا دُکھ ضرور ہوتا ہے، لیکن تب ہی یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ شاید خدا نے ہمیں اتنا کام کرنے کی توفیق بخش دی ہے کہ کم ظرف لوگ ہم سے حسد کرنے لگے ہیں۔ آپ نے اپنے افسانوں کے ذریعے بھی اور ’’راوی‘‘ کے ذریعے بھی ادب کی خدمت کی ہے۔ ان خدمات سے انکار کرنے والے ان خدمات کو مٹا تو نہیں سکتے۔ سو اُن لوگوں کو اُن کے حال پر چھوڑیں اور خدا کی دی ہوئی صلاحیتوں کو اس کی عطا کردہ توفیق کے مطابق بروئے کار لاتے رہیں۔ یہ نیکی ہے اور نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔

مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھا کریں۔ امید ہے سلطانہ صاحبہ سے آپ نے رابطہ کر لیا ہو گا۔ والسلام

 نیک تمناؤں کے ساتھ    حیدر قریشی      ۸  /۱/۹۹        (بذریعہ فیکس بھیجا گیا)

٭٭

۹/۱/۹۹

حیدر قریشی صاحب      سلام مسنون

آپ نے خط ملتے ہی جواب لکھ دیا۔ آپ کا خط میرے لئے تپتی دوپہر میں تازہ ہوا کا جھونکاہے۔ حوصلہ بندھا، میں کوشش کروں گا کہ آپ کی تسلی سے دیر تک تسکین حاصل کروں۔ زندگی اسی کا نام ہے، کبھی صبح اور کبھی شام ہے۔ میں تو ویسے بھی سمجھتا ہوں کہ شامِ زندگی آپہنچی۔ کوئی سدا نہ جیتا پے نہ کام ہی کرتا رہتا ہے پھر بھی آپ ایسے ہوشمند اور ذی شعور اس کے کام کا اقرار کریں تو محنت اکارت نہ جانے کا احساس جاں نواز اور مسرت بخش ثابت ہوتا ہے۔ بہت بہت شکریہ۔   آپ کا     مقصود الہٰی شیخ

پ/ت:سوتے کو جگانے والی ادبیت اس خط میں موجود ہے۔ انداز خوبسورت ہے اور تحریر جاندار! سلطانہ مہر صاحبہ کو ابھی کوائف نہیں بھیجے۔ کیا اسے آپ کی طرف سے تاکید سمجھوں ؟

٭٭

اس پرانی خط و کتابت کا مطبوعہ صفحہ مقصود الہٰی شیخ صاحب کو بھیجا گیا تو ان کی طرف سے یہ رسید ملی

حیدر بھائی!مختصر نامہ ملا، کیا آپ سے رؤف نیازی کے مضمون کا قفل(اٹیچ منٹ)کھل گیا۔ اگر آپ مصروف ہیں تو کتاب مل جانے پر اکٹھا جواب دیجئے گا۔ صحت و سلامتی کی دعا و سلام کے ساتھ۔

مقصود        ۲۳اپریل ۲۰۱۲ء

٭٭

مقصود الہٰی شیخ صاحب کی ایک اور ای میل:

معاف کیجئے گا اپنا فون نمبر لکھنا بھول گیا۔

گھر:

00 44 1274 495462

Mobile:- 00 44 7778 774 694

۲۳/اپریل۲۰۱۲ء

٭٭

برادرم مقصود الہٰی شیخ صاحب           سلام مسنون

آپ کی دونوں ای میلز مل گئیں، شکر گزار ہوں۔ فون نمبر محفوظ کر لیا ہے۔ میں اپنے سفر کی روداد کو فائنل کرنے میں منہمک ہو گیا تھا۔ اسے بروقت لکھ لینا ضروری تھا۔ سو اب اسی کام سے فارغ ہوا ہوں۔

        رؤف نیازی صاحب کا مضمون پڑھ لیا تھا۔ میرے سوالوں کا جواب کہیں ملا ہوتا تو شئیر کرتا۔ کسی فرصت میں اطمینان سے اس موضوع کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کریں گے۔ ہو سکتا ہے تب مجھے سمجھنے میں آسانی ہو جائے۔ بہت سے دوستوں کو جب ماہیا کا وزن عروضی حوالے سے بتاتا تھا تو انہیں کچھ سمجھ نہیں آتا تھا لیکن جب انہیں کوئی ماہیا گنگنا کر بتاتا تھا تو وہ فوراً سمجھ جاتے تھے۔ سو ہو سکتا ہے پوپ کہانی کو بھی میں منہ زبانی زیادہ مناسب طور پر سمجھ سکوں۔

     کل سے میری صبح سویرے کی ڈیوٹی شروع ہو رہی ہے۔ ۲۵ سے ۳۰ اپریل تک یہی ڈیوٹی رہے گی۔ یہ بہت تھکا دینے والی ڈیوٹی ہوتی ہے کیونکہ اس میں صبح سویرے جاگنا پڑتا ہے۔ بہر حال جیسے ہی وقت ملا میں خود آپ کو فون کروں گا۔ باقی ای میل سے تو ہمہ وقت رابطہ رہ سکتا ہے۔

باقی۔ ۔ ۔ ۔ باقی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ والسلام       آپ کا بھائی      حیدر قریشی       ۲۳ مارچ ۲۰۱۲ء

٭٭

حیدر بھائی،

 آپ کا ای میل مل گیا۔ ٹیلی فون نمبر نوٹ کر لیا ہے۔ پوپ کہانی کے بارے میں، میں قواعد بیان کرنے کا قائل نہیں اس لئے کیا عرض کروں ؟ کتاب مل جانے پر آپ کو اس کی شروعات کا پتہ چل جائے گا۔ میں نے انگریزی ادب زیادہ نہیں پڑھا اور جو ٹاواں ٹاواں پڑھا اس میں پوپ کا ذکر میرے علم سے باہر تھا لیکن کتاب میں ممتاز حسین صاحب کا مضمون اس پر روشنی ڈالتا ہے۔ اس وقت آپ کو پاکستانی نقاد جناب رؤف نیازی صاحب کا مضمون بھیج رہا ہوں۔ شاید آپ کو مطلوب نکتہ مل جائے۔ مجھے ” اردو دنیا ” میں ہماری مراسلت ضرور ارسال فرمائیے۔ میں ممنون ہوں گا۔ مجھے جیسے کوئی گم شدہ شے مل جائے گی کہ یہ گوشہ میرے ذہن سے مٹا ہوا ہے۔ اسی طرح ایک بار مشہور فنکار طلعت حسین ہمارے ” راوی ” کے دفتر میں آئے، سارا دن رہے۔ بی بی سی کے لئے میرا انٹرویو لیا۔ میرے بھائی (سالار) انعام عزیز مرحوم نے بھیجا تھا۔ میں اپنے تئیں ادب اور صحافت میں کمتری جانتا رہا ہوں۔ انٹرویو اس لئے دینے پر راضی ہوا کہ انعام صاحب بغیر جتائے اپنے دوست کا ٹی اے ڈی بنوانا چاہتے تھے۔ خیر یہ بات یونہی سی ہے اس لئے مجھے کیا پوچھا گیا یا کیا کہا گیا، کیا یاد رکھنا تھا ؟ دلچسپ بات یہ ہے کی ان کی آمد  ایک قصہ بن گئی۔ اس کا میرے دماغ میں کوئی نشان نہیں۔ گھر والے بتاتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ایسا ہوا ہو گا۔ یہ کہانی یوں شروع ہوتی ہے کہ ہمارا دفتر بہت بڑا تھا۔ ورکرز (اور اپنے لئے ایک کینٹین بھی بنوائی گئی تھی۔ دفتر کرائے پر تھا۔ فریدہ اپنے اور ورکرز کے لئے قبولی بنا رہی تھیں۔ طلعت صاحب نے دفتر میں گھستے ہی خوشبو سونگھی اور کہا بندے کو روک دیجئے ریستوران سے کچھ نہ منگوائیے۔ میں یہ قبولی ہی کھاؤ ں گا۔ وغیرہ۔ بہت سادہ مگر شاندار اور دلچسپ شخصیت ہیں۔ اب میں یہ واقعہ مزے لے لے کر سنتا ہوں۔ کچھ تفصیل آپ کو لکھ دی۔ دراصل میں ” راوی ” میں پوری طرح غرق تھا اور کچھ کیا ؟ سب کچھ آنکھوں سے اوجھل رہتا تھا۔ اب ہسپتال جانے کا وقت نزدیک آ رہا ہے۔ باقی پھر۔ والسلام، ۔              مقصود        ۲۳ اپریل۲۰۱۲ء

٭٭

آپ کی کتاب کا تحفہ مل گیا ہے۔ ممنون ہوں۔ یہ صرف رسید بھیج رہا ہوں۔ انشاء اللہ جلد آپ سے بات ہو گی۔

آپ کا بھائی  حیدر قریشی        ۲۷/اپریل ۲۰۱۲ء

٭٭

سہ ماہی’’ اردو‘‘ کے مدیر وسیم فرحت کارنجوی کے نام مقصود الہٰی شیخ صاحب کا ای میل جو مجھے بھی بھیج دیا گیا۔

جناب من

آج ادھر سہ ماہی ” اردو ”  کا سالنامہ ملا، ادھر آپ کو کتاب ”  پوپ کہانی – ۲ ” وصول ہو گی۔ کچھ ایسا ہی حسن اتفاق ہو اور ہمارے ستارے بھی ملتے رہیں۔ یو کے اور یورپ میں ابھی کتاب ایشوع نہیں ہوئی ہے۔

میں تھکن سے چور اور نزلے کھانسی سے مغلوب۳ ۲ دسمبر کو پہنچا ہوں۔ آتے ہی ڈاکٹر کے یہاں حاضری دی۔ پانچ روز کا انٹی بائیوٹک کورس رات پورا ہو جائے گا۔ خدا کرے میں اٹھ بیٹھوں۔

اسلام آباد میں کتاب پوپ کہانی۔ ۲ کی تقریب تعارف کے بعد پوپ کہانی کے حق میں کمپیئن تیز ہو گیا ہے۔ امید ہے آپ کو براہ راست رپورٹ آ چکی ہو گی۔ اپنی دلچسپی اور موضوع میں غرقابی کی بنا پر پہلے جناب حیدر قریشی کا مضمون پڑھا۔ تھک گیا، اس لئے مضمون بغور پڑھنے اور رسالہ کی خوبی و خوبصورتی کا مطالعہ اگلے دنوں پر اٹھا دیا لیکن یہ کہوں گا کہ آپ نے محنت کی ہے۔ اللہ اجر دے گا اور اس کے بندے داد۔ !!

حیدر قریشی صاحب کے مضمون پر رائے زنی قبل از وقت ہے مگر کہنا پڑے گا کہ (اس کا عتاب مجھ پر) پتہ نہ چلا انہوں نے مغرب و مشرق پر نگاہ کرتے ہوئے کس کا مقدمہ لڑا اور کس کے خلاف دلائل دئیے۔ شاید یہ اچھی تنقید کے ذیل میں آتا ہو۔ میں صاف بات اور بے لاگ تنقید کے حق میں ہوں۔ ۔ سمجھنے کی کوشش کروں گا۔ ہمت جمع کر سکا تو ان کو بھی پہلے تاثر یا رد عمل کے حوالے سے خط لکھوں گا۔ اپنی کتاب بھیجوں گا۔ وہ ہمیشہ کتاب و رسالہ سے نوازتے ہیں۔ پچھلے دو ماہ کی غیر حاضری سے رابطہ دھیما پڑ رہا تھا۔

والسلام۔       مقصود الٰہی شیخ، بریڈفورڈ (یوکے)۔        ۲۸ دسمبر ۲۰۱۲ء

٭٭

جنابِ من!    بالواسطہ مکتوب ملا اور بلا واسطہ جواب لکھ رہا ہوں۔

میں نے پوپ کہانی کے حوالے سے جو کچھ لکھا، اپنی سوجھ بوجھ کے مطابق ایمانداری سے لکھا۔ کسی پر عتاب کا میں نے سوچا بھی نہ تھا۔ بلکہ اس زاویے سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے جناب کی بہت سی شخصی کم زوریوں کو یکسر نظر انداز کر دیا تھا، انہیں اپنے مضمون میں اشارتاً بھی بیان نہ کیا تھا۔ تاہم اب اگر کسی مضمون میں مجھ پر کسی قسم کا غیر ضروری الزام آیا تو اپنی صفائی کے طور پر ان باتوں کا ذکر ضرور کروں گا، جن سے پہلے شعوری طور پر گریز کیا تھا۔ اب جواباً اور وضاحتاً ان باتوں کے ذکر سے واضح ہو جائے گا کہ میں نے پوپ کہانی کے مسئلہ پر اپنے ایماندارانہ خیالات کا اظہار کرتے ہوئے جن ضمنی باتوں سے صرفِ نظر کیا تھا، وہ اس موضوع کو سنجیدگی سے زیر بحث لانے کے لیے تھا، وگرنہ ان باتوں کی بھی ایک اہمیت تھی جنہیں نظر انداز کر دیا تھا۔

باقی میرا پوپ کہانی کے موضوع پر کسی سے کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ ایک نئی چیز لائی گئی اور اس کی طرف بار بار توجہ دلائی گئی تو اس کو جاننے اور سمجھنے کے لیے اگر کوئی سوال اٹھاتا ہے اور اچھے پیرائے میں اٹھاتا ہے تو اسے منفی رنگ میں لینا کوئی صحت مند رویہ نہیں ہو گا۔ بہر حال کسی علمی و ادبی موضوع پر بات آگے چلی اور اس میں مجھے کسی صفائی کی ضرورت پیش آئی تو انشاء اللہ دستیاب حقائق کی بنیاد پر جواب ضرور پیش کروں گا۔

مخلص         حیدر قریشی       ۲۸ دسمبر ۲۰۱۲ء

٭٭

میرے مخلص، میرے مہربان!۔

سنگ آمد و سخت آمد۔ یار! آپ تو بے بات تپ جاتے ہیں۔ بے عیب اللہ کی ذات ہے۔ میری جن شخصی کمزوریوں سے آپ واقف ہیں ان پر دلجمعی سے روشنی ڈالئیے۔ مجھے کوئی اعتراض نہ ہو گا۔ کسی مضمون کی ضرورت نہیں جب دل چاہے لکھئیے۔ آپ کی تسلی تشفی سے مجھے خوشی ہو گی۔ ۔

میں میکدے کی راہ سے ہو کر نکل گیا        ورنہ سفر حیات کا  کافی  طویل  تھا

آپ پل میں تولہ پل میں ماشہ ! من سے نکل گیا ہے۔ کیا کتاب بھیجوں یا پڑھنے کا وقت نہیں ہو گا؟ابھی نقاہت اور بیماری کی وجہ سے اسی تھوڑے لکھے کو زیادہ سمجھئے۔ والسلام۔ مقصود

پ۔ ت : اگر آپ نے اپنے خط کی نقل کرنجوی صاحب کو بھیجی ہے تو اس خط کی نقل بھی بے شک ارسال کر دیجئے۔       ۲۸/دسمبر۲۰۱۲ء

٭٭

محترمی مقصود الہٰی شیخ صاحب!

آپ نے کسی ایڈیٹر کو کوئی مکتوب لکھا تھا اور اچھے جذبے سے لکھا تھا تو مجھے اس کی کاپی نہیں بھیجنا چاہیے تھی۔ کاپی بھیجی تھی تو پھر اپنی طرف سے میرے لیے کچھ لکھ دینا چاہیے تھا، تاکہ مجھے بات کا اندازہ ہو جاتا۔

پوپ کہانی کی بحث میں جتنی میری شرکت ہوئی ہے، اس میں آپ کی طرف سے تحریک بھی دلائی گئی تھی، اور بات سے بات نکلتے ہوئے رضیہ صاحبہ کی طرف سے تحریک ملی تھی۔ آپ کے ساتھ اس ضمن میں جو خط و کتابت ہوئی تھی، اس میں کئی ایسی خامیاں تھیں، جنہیں میں تنقیص کے طور پر درج کر سکتا تھا۔ لیکن میں نے ان باتوں کو ضمنی حیثیت دے کر صرف پوپ کہانی کے خدوخال کی طرف توجہ مرکوز رکھی۔ اس میں آپ سے اختلاف کا پہلو نکلا تو اسے بھی احترام کے ساتھ ادبی زبان میں پیش کیا۔ سو میری طرف سے کسی پتھر کی توقع مت کیجیے، جیسے میں احترام کو ملحوظ رکھتا ہوں، آپ اسی طرح درگزر سے کام لیا کیجیے۔ کوئی ادبی بحث علمی دائرے میں چلانا چاہیں تو سر آنکھوں پر!کوئی اختلاف کی بات ادبی انداز میں آئے تو وہ بھی قبول۔ ۔ ۔ ۔ میں آپ کا یہ خط کسی دوست کو بھیجنا مناسب نہیں سمجھتا، کیونکہ پھر اس کا جواب بھی بھیجنا پڑے گا۔

آپ کی صحت، تندرستی کے لیے دعا گو ہوں۔ میری صحت تندرستی کے لیے بھی دعا کیجیے گا۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔

والسلام       آپ کا مخلص     حیدر قریشی      ۲۸/دسمبر ۲۰۱۲ء

٭٭

۲۸ مارچ ۲۰۱۳ء کی ای میل میں پھر میری رائے کے لیے تقاضا کیا۔ اس کے جواب میں میں نے مختصراً لکھا:

محترمی شیخ صاحب! یہ سب شیئر کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ اس ضمن میں آپ کی طرف سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، جس سے پوپ کہانی کی تفہیم کا سلسلہ آگے بڑھ سکتا۔ سو بات وہیں کی وہیں ہے۔ جیسے جس کے دھیان میں آئی۔ ۔ ۔ ۔ آپ کا مخلص حیدر قریشی       ۲۸ مارچ ۲۰۱۳ء

٭٭

اس کے جواب میں شیخ صاحب نے لکھا:

’’بھائی! کیا بات کرتے ہیں آپ؟۔ گرامر سے ہٹ کر کیا خیال کی کوئی اہمیت نہیں ؟آپ مایوس کر رہے ہیں۔       مقصود   ۲۸ مارچ ۲۰۱۳ء

٭٭٭

 

مصلح الدین مشرف شیخ سعدی ؒ شیرازی

حکایاتِ سعدی

(افسانچے کی ابتدائی صورت)

بادشاہ اور درویش

            ایک نیک آدمی نے خواب میں دیکھا کہ ایک بادشاہ جنت میں ہے اور ایک درویش دوزخ میں پڑا ہے۔ وہ سوچ میں پڑ گیا کہ لوگ تو یہ سمجھ رہے تھے کہ بادشاہ دوزخ میں ہو گا اور درویش جنت میں۔ لیکن یہاں تو معاملہ اس کے بر عکس نکلا۔ معلوم نہیں اس کا کیا سبب ہے۔

           غیب سے آواز آئی:یہ بادشاہ درویشوں سے عقیدت رکھتا تھا اس لیے بہشت میں ہے۔ اور اس درویش کو بادشاہوں کے تقرب کا بڑا شوق تھا، اس لیے جہنم میں ہے۔

٭٭

سود خور جہنم کا ایندھن

               کوئی سود خور سیڑھیوں سے گر پڑا اور گرتے ہی اس کا دَم مسافر ہو گیا۔ اس کا بیٹا کئی دن تک روتا رہا۔ بالآخر اس نے اپنے آپ کو سنبھالا اوردوستوں کی مجلسوں میں شرکت کرنی شروع کر دی۔ ایک رات باپ کو خواب میں دیکھا تو پوچھا کہ حساب کتاب سے کیسے خلاصی ہوئی۔

      اُس نے جواب دیا کہ بیٹا کچھ نہ پوچھو۔ میں سیڑھیوں سے زمین پر نہیں سیدھا جہنم میں گرا۔ گویا مرتے ہی جہنم میں پہنچ گیا۔ اب میں ہوں اور جہنم کے شعلے۔ اس نے کہا بیٹا! مجھ سے عبرت پکڑو۔ میں سود خوری کرتا رہا ہوں۔ تم ہر گز نہ کرنا۔ حرام خوری کی وجہ سے انسان سیدھا جہنم میں جاتا ہے۔

٭٭

قرض

        چند غریب کسی بنئے کے قرض دار ہو گئے تھے۔ بنیا روز تقاضے پر تقاضا کرتا اور ساتھ ہی سخت و سست سنا دیتا۔

مگر براشد کرنے کے سوا اور کیا کر سکتے تھے۔ ایک دانا نے واقعے سے واقف ہو کر کہا:’’نفس کو وعدے پر ٹالنا، بنئے کو روپوں کے وعدہ پر ٹالنے سے زیادہ آسان تھا۔

٭٭

 

پرہیز گاری

         ایک فقیر نے کسی نشہ مست درویش کو گرتے ہوئے دیکھا تو اپنی ظاہر داری پر مغرور ہو گیا۔ تکبر کی وجہ سے اس کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ وہ مدہوش درویش سر اُٹھا کر کہنے لگا:

اے پیر مرد! اگر خدا نے تجھے انعام کیا ہے تو اس کا شکریہ ادا کر۔ کیونکہ تکبر کرنے والے کو محرومی کے سوا کچھ نہیں ملتا۔

جیسے شیطان بھی تکبر سے مردود ہوا۔ کسی کو گرفتار دیکھ کر رک کرہنسنا نہ چاہئے۔ خدانخواستہ کل تم خود گرفتار ہو جاؤ۔

     کسی گنہگار کو دیکھ کر اپنی پرہیز گاری پر مغرور نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ تجھے پرہیزگاری کی توفیق بھی خدا نے دی ہے۔ اور فاسق پر پرہیزگاری کا دروازہ بھی اسی نے بند کیا ہے۔ اور اس کے برعکس بھی کر سکتا ہے۔

٭٭

غیبت اور بد گوئی حلال نہیں

         کوئی صوفی مذاق میں ایک لڑکے سے ہنسنے لگا۔ دوسرے درویشوں نے اس کی ہنسی کو بدکاری پر محمول کر کے چہ میگوئیاں شروع کر دیں کہ اس لڑکے سے اس کی نیت خراب ہے۔ یہ بات چلتی چلتی ایک صاحبِ نظر تک پہنچی تو اس نے کہا اپنے صوفی بھائی کی پردہ دری کرو۔ اگر مذاق حرام ہے تو غیبت اور بد گوئی بھی حلال نہیں۔

  اپنے ہم جماعت لوگوں کی غلطیوں سے درگزر کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس کی تشہیر کرنا در اصل اپنے گروہ کو ننگا کرنا ہے۔

٭٭

سونے کی اینٹ

          ایک پارسا کو سونے کی اینٹ کہیں سے مل گئی۔ دنیا کی اس دولت نے اس کے نورِ باطن کی دولت چھین لی اور وہ ساری رات یہی سوچتا رہا کہ اب میں سنگِ مر مر کی ایک عالی شان حویلی بنواؤں گا۔ بہت سے نوکر چاکر رکھوں گا، عمدہ عمدہ کھانے کھاؤں گا اور اعلیٰ درجے کی پوشاک سلواؤں گا۔ غرض تمول کے خیال نے اسے دیوانہ بنا دیا۔ نہ کھانا پینا یاد رہا اور نہ ذکرِ حق۔ صبح کو اسی خیال میں مست جنگل میں نکل گیا۔ وہاں دیکھا کہ ایک شخص ایک قبر پر مٹی گوندھ رہا ہے تاکہ اس سے اینٹیں بنائے۔ یہ نظارہ دیکھ کر پارسا کی آنکھیں کھل گئیں۔ اور اس کو خیال آیا کہ مرنے کے بعد میری قبر کی مٹی سے بھی لوگ اینٹیں بنائیں گے۔ عالی شان مکان، اعلیٰ لباس اور عمدہ کھانے سب یہیں دھرے رہ جائیں گے۔ اس لیے سونے کی اینٹ سے دل لگانا بیکار ہے۔ ہاں دل لگانا ہے تو اپنے خالق سے لگا۔ یہ سوچ کر اس نے سونے کی اینٹ کہیں پھینک دی اور پھر پہلے کی طرح زہد و قناعت کی زندگی بسر کرنے لگا۔

٭٭

غریب اور بہشت

          دو آدمی قبرستان میں بیٹھے تھے، ایک اپنے دولت مند باپ کی قبر پر اور دوسرا اپنے درویش باپ کی قبر پر۔

امیر زادے نے درویش لڑکے کو طعنہ دیا کہ میرے باپ کی قبر کا صندوق پتھر کا ہے۔ اس کا کتبہ رنگین اور فرش  سنگِ مرمر کا ہے اور فیروزے کی اینٹ اس میں جڑی ہوئی ہے۔ اس کے مقابلے میں تیرے باپ کی قبر کتنی خستہ حال ہے

کہ دو مٹھی مٹی اس پر پڑی ہے اور دو اینٹیں اس پر رکھی ہیں۔ درویش زادے نے جواب دیا یہ درست ہے لیکن یہ بھی تو سوچو کہ قیامت کے دن جب مردے قبروں سے اٹھائے جائیں گے، اس سے پہلے کہ تیرا باپ بھاری پتھروں کے نیچے جنبش کرے، میرا باپ بہشت میں پہنچا ہو گا۔

٭٭

قیمتی موتی

        بارش کا ننھا قطرہ بادل سے ٹپکا۔ جب اس نے سمندر کی چوڑائی دیکھی تو شرمندہ ہوا اور دل میں کہا کہ سمندر کے سامنے میری حیثیت کیا ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے تو میں نہ ہونے کے برابر ہوں۔ جب اس نے اپنے آپ کو حقیر جان کر دیکھا تو ایک سیپی(صدف) نے اس کو اپنے منہ میں لے لیا اور دل و جان سے اس کی پرورش کی۔ تھوڑے ہی دنوں میں یہ قطرہ ایک قیمتی موتی بن گیا اور بادشاہ کے تاج کی زینت بنا۔

٭٭

صدر

          حلب کے بازاروں میں ایک فقیر صدا لگاتا پھر رہا تھا:

’’دولت مندو!اگر تم میں انصاف ہوتا اور ہمیں صبر کی توفیق ہوتی تو دنیا سے سوال کی رسم ہی اُٹھ جاتی۔ ‘‘

٭٭

علم اور دولت

        مصر میں کسی جگہ دو بھائی رہتے تھے، ایک نے علم پڑھا اور دوسرا مال جمع کرتا رہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پڑھنے والا تو علامہ ہو گیا اور روپیہ جمع کرنے والا شاہی خزانچی بن گیا۔ ایک بار دولت مند نے عالم بھائی کی طرف حقارت سے دیکھا اور کہا ’’ہم تو خزانے کے مالک ہو گئے مگر تم مفلس ہی رہے۔ ‘‘۔ ۔ ۔ عالم بھائی نے کہا ’’بھائی جان! میں تو اس حال پر خدا کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے پیغمبروں کی میراث(علم کی دولت)عطا فرمائی ہے، مگر آپ ہیں کہ فرعون کی وراثت پر اترا رہے ہیں۔ ‘‘

٭٭

جوتا اور پاؤں

          زمانے کی گردش اور دنوں کی سختی سے میں کبھی دل شکستہ اور رنجیدہ نہیں ہوا مگر ایک بار ضرور ملال ہوا جب  میرے پاؤں میں جوتی نہ تھی اور نہ خریدنے کو جیب میں پیسہ تھا۔ میں حیران و پریشان کوفہ کی مسجد میں جا نکلا۔ دیکھتا کیا ہوں کہ ایک شخص کے پاؤں ہی نہیں ہیں۔ پس میں نے اپنے پاؤں کی سلامتی پر خدا کا شکر ادا کیا اور ننگے پاؤں رہنا ہی غنیمت سمجھا۔

٭٭

 

بے کار

        کسی لولے لنگڑے نے ایک کنکھجورے کو مار ڈالا۔

حالانکہ اس کے سینکڑوں پاؤں تھے مگر موت کے آگے سب بے کار ہو گئے۔

٭٭

موتی اور چنے

         ایک عرب نے بصرے کے جوہریوں کو اپنی سرگزشت سنائی کہ ایک بار جنگل میں ایسے وقت بھٹک گیا کہ کھانے پینے کا سامان ختم ہو چکا تھا اور سامنے موت نظر  آ رہی تھی۔ اتنے میں ایک تھیلی پر نظر پڑی۔ میں اس خوشی کو بھول نہیں سکتا جو اسے دیکھ کر مجھے حاصل ہوئی۔ میں نے سمجھا تھا کہ تھیلی میں بھنے ہوئے چنے ہیں۔ لیکن جب کھول کر دیکھا تو اس میں چنوں کی جگہ موتی تھے۔ اُس وقت مجھے جو رنج ہوا، وہ زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔

٭٭

جدا جدا فطرت

     ایک بادشاہ نے اپنا بیٹا ایک معلم کے سپرد کیا اور کہا کہ اس کی ایسی تربیت کر، جیسے اپنے حقیقی بیٹے کی کرتا ہے۔ معلم نے کئی برس نہایت تن دہی سے اس کی تربیت کی لیکن شہزادے پر کچھ اثر نہ ہوا اور وہ کورے کا کورا رہا۔ اس دوران معلم کے بیٹے پڑھ لکھ کر اعلیٰ درجے کے عالم و فاضل بن گئے۔ بادشاہ نے معلم سے باز پرس کی اور خشم آلود ہو کر کہا کہ’’ تو نے وعدہ خلافی کی ہے اور شرطِ وفا نہیں بجا لایا‘‘۔ معلم نے عرض کی:’’جہاں پناہ! میں نے شہزادے اور اپنے بیٹوں کی تربیت یکساں طور پر کی ہے۔ لیکن اس کا کیا علاج کہ ہر انسان کی فطری صلاحیت جدا جدا ہے۔ شہزادے میں فطری صلاحیت نہیں تھی، اس لیے کچھ حاصل نہ کر سکا۔ میرے بچوں میں فطری صلاحیت تھی وہ کہیں سے کہیں جا پہنچے‘‘۔ ۔ ۔ سونا چاندی پتھر سے نکلتا ہے لیکن ہر پتھر سے سونا چاندی نہیں نکلتا۔

٭٭٭

 

خلیل جبران

حکایات اور اقوال

(افسانچوں کی ایک اور ابتدائی صورت)

لین دین

      ایک شخص کے پاس اتنی سوئیاں تھیں کہ ان سے ایک وادی پُر ہو سکتی تھی۔ ایک دن(مسیح کی والدہ)مریم اس کے پاس آئی اور کہا :’’بھائی!میرے بیٹے کا لباس پھٹ گیا ہے، قبل اس کے کہ وہ ہیکل میں جائے، میں اس کا لباس  مرمت کرنا چاہتی ہوں۔ کیا تم مجھے ایک سوئی عنایت کر سکتے ہو؟۔ ۔ ۔ اُس نے مریم کو سوئی نہ دی لیکن لین دین کے متعلق ایک عالمانہ لیکچر دے کر کہا کہ جب تمہارا بیٹا ہیکل کو جانے لگے تو اسے میرا یہ وعظ سنا دینا۔

٭٭

نشاطِ نو

          کل رات میں نے ایک نئی قسم کی مسرت دریافت کی۔ اور جب میں نے اس کا پہلی بار مزہ چکھا تو نیکی اور بدی کے فرشتے میرے گھر کی طرف دوڑے۔ وہ میرے مکان کے دروازے پر ایک دوسرے سے ملے اور میری نئی مسرت کے متعلق جھگڑنا شروع کر دیا۔ ایک نے کہا یہ’ ’گناہ‘‘ ہے۔ دوسرے نے کہا نہیں یہ’’ نیکی ‘‘ہے۔

٭٭

دوسری زبان

     اپنی پیدائش کے تین دن بعد جب میں ریشمی پنگھوڑے میں پڑا اپنی ارد گرد کی دنیا کو حیرت سے دیکھ رہا تھا تو میری والدہ نے انا سے پوچھا ’’کیسا ہے میرا لال؟‘‘

      انا نے جواب دیا ’’بیگم صاحبہ بچہ بہت اچھا ہے، میں نے اسے تین بار دودھ پلایا ہے۔ میں نے آج تک ایسا بچہ نہیں دیکھا جو اتنا خوش ہو۔ ‘‘

     میں بے قرار ہو کر چلا اُٹھا ’’ماں یہ سچ نہیں۔ ۔ ۔ کیونکہ میرا بچھونا سخت ہے اور میں نے جو دودھ پیا ہے وہ میرے منہ کو کڑوا لگا ہے  اور چھاتی کی بد بو میرے لیے ایک عذابِ علیم ہے۔ میں بہت تکلیف میں ہوں ماں۔ ‘‘

لیکن میری بات نہ میری سمجھ سکی نہ انا۔ کیونکہ میں جس زبان میں بول رہا تھا وہ اِس دنیا کی زبان نہ تھی بلکہ ُاس دنیا کی زبان تھی جہاں سے سے میں آیا تھا۔

    اکیسویں دن ہمارے ہاں ایک کاہن آیا اور اس نے میری ماں سے کہا کہ’’ تمہیں خوش ہونا چاہیے کہ تمہارا بیٹا پیدائشی مومن ہے‘‘۔ مجھے حیرت ہوئی اور میں نے کاہن سے کہا ’’پھر تمہاری متقی والدہ کو افسوس ہونا چاہئے کیونکہ تم ایک پیدائشی مومن نہ تھے۔ ‘‘لیکن کاہن بھی میری زبان نہ سمجھ سکا۔

سات مہینوں کے بعد ایک منجم نے مجھے دیکھا اور میری ماں سے کہا ’’تمہارا بیٹا بہت بڑا سیاست داں اور جلیل القدر رہنما ہو گا۔ ‘‘۔ ۔ ۔ میں چیخ اُٹھا:’’یہ غلط پیش گوئی ہے ماں، کیونکہ میں ایک مغنی کے سوا کچھ نہ بنوں گا‘‘ لیکن اس عمر میں بھی میری زبان کسی کی سمجھ میں نہ آئی۔ اور مجھے سخت حیرت ہوئی۔ اور اب میری عمر تینتیس سال کی ہے۔

میری ماں، میری انا اور کاہن سب مر چکے ہیں لیکن وہ نجومی ابھی تک زندہ ہے اور کل مجھے معبد کے دروازے کے قریب ملا، جب ہم ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے تو اس نے کہا:’’میں شروع سے جانتا تھا کہ تم ایک مغنی بنو گے۔ اور میں نے تمہارے بچپن میں بھی یہی پیش گوئی کی تھی۔ ‘‘

              میں نے اس کی بات پر یقین کر لیا کیونکہ اب میں خود اپنی پہلی زبان بھول  چکا ہوں۔

٭٭

انار کی کلی

       ایک دفعہ جب میں انار کی کلی میں رہتا تھا تو میں نے ایک بیج کو یہ کہتے ہوئے سنا’’کسی دن میں ایک درخت بن جاؤں گا۔ ہوا میری ٹہنیوں میں گیت گائے گی۔ سورج کی کرنیں میرے پتوں پر رقص کریں گی۔ اور میں تمام موسموں میں خوبصورت اور طاقتور ہوں گا۔ ‘‘۔ ۔ ۔ ۔ پھر دوسرا بیج بولا:’’جب میں تمہاری طرح جواں تھا تو میرے بھی یہی خیالات تھے لیکن اب جبکہ میں تمام چیزوں کا صحیح اندازہ کر سکتا ہوں، میں محسوس کرتا ہوں کہ میری تمام توقعات غلط ثابت ہوئی ہیں۔ ‘‘ تیسرا بیج بولا ’’ہم میں کوئی بات ایسی نہیں جس سے ہمارا مستقبل شاندار معلوم ہو۔ ‘‘

  چوتھے نے کہا ’’لیکن ایک شاندار مستقبل کے بغیر ہماری زندگی محض ایک سوانگ ہو گی‘‘۔ ۔ پانچویں نے کہا ’’جب ہم نہیں جانتے کہ ہم کیا ہیں تو پھر اس بات پر بحث کرنے کی کیا ضرورت ہے کہ ہم مستقبل میں کیا بنیں گے۔ چھٹے نے جواب دیا ’’ہم جو کچھ ہیں وہی کچھ ہمیشہ رہیں گے‘‘۔ ۔ ۔ ۔ ساتویں نے کہا ’’مجھے آنے والے واقعات کا پورا علم ہے لیکن میں انہیں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ ‘‘اس کے بعد آٹھواں بولا، پھر نواں اور پھر دسواں۔ حتیٰ کہ تمام بیج اس بحث میں کود پڑے۔ مجھے ان لا تعداد آوازوں میں کسی کی بات بھلی معلوم نہ ہوئی  اس لیے میں نے اسی دن ایک شگوفے کے دل میں جگہ بنا لی، جس میں بیج بھی تھوڑے ہیں اور زیادہ بات چیت بھی نہیں کرتے۔

٭٭

دو پنجرے

      میرے باپ کے باغ میں دو پنجرے ہیں۔ ایک میں وہ شیر قید ہے جسے میرے باپ کے غلام نینوا کے صحراسے پکڑ کر لائے تھے۔ دوسرے میں ایک چڑیا ہے جو گانے سے قاصر ہے۔

         چڑیا ہر روز صبح کے وقت شیر سے کہتی ہے:’’بھائی قیدی ! صبح بخیر!!‘‘

٭٭

آنکھ

         ایک دن آنکھ نے کہا:’’میں ان وادیوں سے پرے نیلگوں دھند سے ڈھکے ہوئے پہاڑ کو دیکھ رہی ہوں۔

کیا وہ خوبصورت نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

     کان نے سنا اور تھوڑی دیر غور کرنے کے بعد کہا ’’لیکن پہاڑ ہے کہاں ؟مجھے تو اس کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ ‘‘

     پھر ہاتھ نے کہا ’’میں اسے چھونے اور محسوس کرنے کی بیکار کو شش کر رہا ہوں، مجھے کوئی پہاڑ نہیں ملتا۔ ‘‘

     ناک نے کہا ’’یہاں کوئی پہاڑ نہیں کیونکہ میں اسے سونگھ نہیں سکتی۔ ‘‘

آنکھ نے اپنی توجہ دوسری طرف کر لی۔ پھر وہ تینوں آنکھ کے حیرت انگیز تصورات پر بحث کرنے لگے۔ انہوں نے کہا

’’معلوم ہوتا ہے کہ آنکھ کو ضرور کچھ جنون ہو گیا ہے۔ ‘‘       ٭٭٭

 

سعادت حسن منٹو

افسانچے

کرامت

       لوٹا ہوا مال برآمد کرنے کے لئے پولیس نے چھاپے مارنے شروع کئے۔

لوگ ڈر کے مارے لوٹا ہوا مال رات کے اندھیرے میں باہر پھینکنے لگے۔ کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنا مال بھی موقعہ پا کر اپنے سے علیحدہ کر دیا تاکہ قانونی گرفت سے بچے رہیں۔

ایک آدمی کو بہت دقت پیش آئی۔ اس کے پاس شکر کی دو بوریاں تھیں جو اس نے پنساری کی دوکان سے لوٹی تھیں۔

ایک تو وہ جوں توں رات کے اندھیرے میں پاس والے کنویں میں پھینک آیا۔ لیکن جب دوسری اُٹھا کر اس میں ڈالنے لگا تو خود بھی ساتھ چلا گیا۔ شور سن کر لوگ اکٹھے ہو گئے۔ کنویں میں رسیاں ڈالی گئیں۔ دو جوان نیچے اترے اور اس آدمی کو باہر نکال لیا۔ لیکن چند گھنٹوں کے بعد وہ مر گیا۔

دوسرے دن جب لوگوں نے استعمال کے لئے اس کنوئیں میں سے پانی نکالا تو وہ میٹھا تھا۔

اسی رات اس آدمی کی قبر پر دئیے جل رہے تھے۔

٭٭

صدقے اس کے

   مجرا ختم ہوا۔ تماشائی رخصت ہو گئے تو استاد جی نے کہا:

سب کچھ لُٹا پٹا کر یہاں آئے تھے لیکن اللہ میاں نے چند دنوں میں ہی وارے نیارے کر دئیے۔

٭٭

اشتراکیت

     وہ اپنے گھر کا تمام ضروری سامان ایک ٹرک میں لدوا کر دوسرے شہر جا رہا تھا، کہ راستے میں لوگوں نے اسے روک لیا۔ ایک نے ٹرک کے مال و اسباب پر حریصانہ نظر ڈالتے ہوئے کہا ’’دیکھو یارکس مزے سے اتنا مال اکیلا اڑائے چلا جا رہا تھا۔ ‘‘

اسباب کے مالک نے مسکرا کر کہا ’’جناب یہ مال میرا اپنا ہے۔ ‘‘

 دو تین آدمی ہنسے’’ہم سب جانتے ہیں ‘‘۔

ایک آدمی چلایا ’’لوٹ لو یہ میرا آدمی ہے۔ ٹرک لے کر چوریاں کرتا ہے۔ ‘‘

٭٭

 

الہنا

’’دیکھو یار، تم نے بلیک مارکیٹ کے دام بھی لئے اور ایسا ردی پٹرول دیا کہ ایک دوکان بھی نہ جلی‘‘

٭٭

ہمیشہ کی چھٹی

’’پکڑ لو۔ ۔ پکڑ لو۔ ۔ دیکھو جانے نہ پائے۔ ‘‘

شکار تھوڑی دوڑ دھوپ کے بعد پکڑ لیا گیا۔ جب نیزے اس کے آر پار ہونے کے لئے آگے بڑھے تو اس نے لرزاں آواز میں گڑگڑا کر کہا:’’مجھے نہ مارو۔ ۔ مجھے نہ مارو۔ ۔ میں تعطیل میں اپنے گھر جا رہا ہوں۔ ‘‘

٭٭

سوری

چھُری پیٹ چاک کرتی ہوئی ناف کے نیچے تک چلی گئی۔ ازار بند کٹ گیا۔ چھری مارنے والے کے منہ سے دفعتاً کلمۂ تاسف نکلا۔ ’’چ۔ چ۔ چ، چ۔ ۔ ۔ ۔ مشٹیک ہو گیا۔ ‘‘

٭٭

بے خبری کا فائدہ

لبلبی دبی، پستول سے جھنجھلا کر گولی باہر نکلی۔ کھڑکی میں سے باہر جھانکنے والا آدمی اسی جگہ دہرا ہو گیا۔

لبلبی تھوڑی دیر کے بعد پھر دبی۔ ۔ ۔ دوسری گولی بھنبھناتی ہوئی باہر نکلی۔ سڑک پر ماشکی کی مشک پھٹی۔ اوندھے منہ گر ا اور اس کا لہو مشک کے پانی میں حل ہو کر بہنے لگا۔

لبلبی تیسری بار دبی۔ ۔ نشانہ چُوک گیا۔ گولی ایک گیلی دیوار میں جذب ہو گئی۔

چوتھی گولی ایک بوڑھی عورت کی پیٹھ میں لگی۔ وہ چیخ بھی نہ سکی اور وہیں ڈھیر ہو گئی۔

پانچویں اور چھٹی گولی بیکار گئی۔ کوئی ہلاک ہوا نہ زخمی۔ گولیاں چلانے والا بھنا گیا۔ دفعتاً سڑک پر ایک چھوٹا سا بچہ دوڑتا دکھائی دیا۔ گولیاں چلانے والے نے پستول کا منہ اس طرف موڑا۔ اس کے ساتھی نے کہا ’’یہ کیا کرتے ہو؟‘‘

گولیاں چلانے والے نے پوچھا ’’کیوں ؟‘‘

’’گولیاں تو ختم ہو چکی ہیں۔ ‘‘

’’تم خاموش رہو، اتنے سے بچے کو کیا معلوم ہے؟‘‘

٭٭٭

 

جوگندر پال (دہلی)

افسانچے

(اردو افسانچہ اپنے تخلیقی کمال پر)

 ار ے ہاں

     اس نے اپنی تلاش میں گھر بار تیاگ دیا اور چار کھونٹ گھومتا پھرا، اور تلاش کرتے کرتے بھول گیا کہ وہ کیا تلاش کئے جا رہا ہے۔ مگر ایک دن اچانک اپنے آپ کو پھر اپنے گھر کی چوکھٹ پر پا کر مسرت سے اس کی گھگی بندھ گئی، کہ وہ گھر ہی تو بھولے ہوئے تھا، اور یہیں لوٹ کر عین مین وہیں پہنچ گیا ہے جس مقام کو ڈھونڈنے یہیں سے نکل کھڑا ہوا تھا۔

٭٭

 گمشدہ

اُس کی ابھی آنکھ بھی نہ کھلی تھی کہ اُس نے ایک دم چیخ مار کر اپنی بیوی کو بلایا۔ وہ بیچاری سراسیمگی میں دوڑی دوڑی آئی۔ ’’کیا ہوا؟‘‘

’’اب کیا ہو گا؟‘‘اس کا پاگل پتی اُسے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگا

’’اپنا آپ تو میں اپنے خواب میں ہی چھوڑ آیا ہوں۔ ‘‘                         ٭٭

آج کے لوگ

ہاں، بھئی، ہاں میری موت واقع ہو لی تھی، مگر دیکھ لو، میرا دل کیسے دھائیں دھائیں دھڑکے جا رہا ہے۔

ہاں اور کیا؟پورے کا پورا مرچکا تھا مگر تم خود ہی دیکھ لو، جوں کا توں زندہ ہوں۔

کیسے کیا؟جیسے ہے، ویسے!۔ ۔ جیتے جی جب میرے دل کی دھڑکن میں خلل واقع ہوا تو ڈاکٹروں نے میرے سینے میں ایک پیس میکر(Pace Maker) فٹ کر دیا اور دعویٰ کیا کہ اب دَم نکل جانے پر بھی میرا دل جوں کا توں دھڑکتا رہے گا۔ سو جو ہے سو ہے۔ ۔ مر کھپ کر بھی۔ ۔ ۔ کیا؟۔ ۔ ۔ مرا کب؟۔ ۔ ۔ کتنے احمق ہو بھئی! جو مرگیا اسے کیا پتہ، وہ کب مرا؟۔ ۔ ہاں، بھئی، اب خدا کا ڈر کاہے کو؟مر کر خدا کے پاس تھوڑ اہی جانا ہے۔ ۔ ہاں اور کیا؟اب تو سدا اپنے ہی پاس رہنا ہے۔ ۔ ۔ ہیہ ہیہ ہا! ٹھیک کہتے ہو اب تو صرف اسی نیک کام سے نجات وابستہ ہے کہ اپنی مشین بگڑنے نہ دو۔

٭٭

اپنا اپنا

       ایک دفعہ سائبیریا کا ایک باشندہ ہمیں بتا رہا تھا۔ ’’پھر کیا ہوا کہ میرے دیکھتے ہی دیکھتے ایک عجیب و غریب اُڑن کھٹولا زمین پر اُتر آیا۔ اس اُڑن کھٹولے سے دو شکلیں باہر نکلیں۔ بڑی مختلف النوع مخلوق تھی۔ الٹا سیدھا لباس پہن رکھا تھا ا ور چہروں پو کوئی آلے جما رکھے تھے۔ ‘‘

’’کیا انہوں نے بھی آپ کو دیکھا؟‘‘

’’نہیں، میں پاس ہی جھاڑی میں چھپ گیا تھا۔ ۔ تھوڑی دیر میں دو میں سے ایک کا آلہ اس کے منہ سے گر کر سینے پر لٹکنے لگا۔ اتنا عجیب چہرہ تھا کہ میرے بیان سے باہر ہے۔ کچھ دیر وہ آپس میں باتیں کرتے رہے۔ ‘‘

’’کیا باتیں کرتے رہے؟‘‘

’’مجھے ان کی زبان تو نہیں آتی مگر جب ایک نے دوسرے کی طرف دیکھ کر چونکی چونکی آواز میں ایک جملہ بولا تو مجھے لگا، اس نے کہا ہے، بے وقوف اپنا آلہ جلدی سے منہ پر چڑھا لو، ورنہ آکسیجن کے زہر سے دَم توڑ دو گے۔ ‘‘

٭٭

محض

میں اپنے پیروں کے ٹکاؤ، ہاتھوں کی پینگ اور سر کی چھتری پر ہی اپنی ذات کو محمول کرنے لگا اور میری اصلی ذات سالہا سال بڑے صبر و سکون سے دو سرے عالم میں میرا انتظار کرتی رہی اور ہنستی رہی کہ میں اپنے آپ کو محض جوگندر پال سمجھ بیٹھا ہوں۔

٭٭

بسے ہوئے لوگ

     میرے ناول کے ہیرواور ہیروئن دونوں مجھ سے ناراض تھے، کیونکہ جب ان کی شادی کے اسباب آپ ہی آپ عین فطری طور پر انجام پار ہے تھے تو میں نے ان کا بنا بنایا کھیل چوپٹ کر دیا اور اپنی ترجیحوں کو ناول پر لاد کر انہیں آخری صفحے تک ایک دوسرے سے جدا کرنے پر اڑا رہا۔

        نہیں، میں ان دونوں کو بے حد عزیز رکھتا ہوں، مگر مشکل یہ ہے کہ اگر انہیں ایک دوسرے کے لیے جینے کا موقع فراہم کر دیتا ہے تو میری اپنی زندگی کے نشانے دھرے رہ جاتے۔ وہ بہر حال میرے کردار تھے اور جو اور جیسے تھے، میری ہی بدولت تھے اور انہیں یہی ایک چارہ تھا کہ میری زندگی کا اسباب کرتے رہیں۔

 مگر وہ دونوں تو موقع کی تاک میں تھے۔ ایک دن نظریں بچا کر اچانک غائب ہو گئے۔ میں نے ناول کے مسودے کی ایک ایک سطر چھان ماری اور مقام پر انہیں اپنے ناموں کی اوٹ میں ڈھونڈتا رہا، مگر وہ وہاں ہوتے تو ملتے۔

        مجھے بڑا پچھتاوا محسوس ہونے لگا۔

       اگر وہ مجھے کہیں مل جاتے تو میں فوراً ان کا نکاح پڑھوا دیتا۔ مگر اب کیاہوسکتا تھا؟ میں منھ سر لپیٹ کر پڑ گیا۔

        آپ حیران ہوں گے کہ کئی سال بعد ایک دن وہ دونوں بہ اتفاق مجھے اپنے ہی شہر میں مل گئے۔

        نہیں، وہ مجھے بڑے تپاک سے ملے اور اپنے گھر لے گئے۔

        میرے ناول کے پنوں سے نکلتے ہی انھوں نے اپنی شادی کی تدبیر کر لی تھی اور اتنے سال بعد اب تین پھول جیسے بچوں کے ماں باپ تھے اور ان کا گھر بار خوب آباد تھا۔

نہیں، انہیں اپنے سنسار میں اس قدر پھلتے پھولتے پا کر مجھے حوصلہ ہی نہ ہوا کہ انہیں ناول میں لوٹ آنے کو کہتا۔

٭٭

 

ہیرو

       میں اور کیا کرتا؟

      ہمیں اپنے نئے فیچر فلم کے لئے چند نئے چہروں کی ضرورت تھی اور ہماری فلم کمپنی کے مالک آپا صاحب نے مجھے کہہ رکھا تھا، دوسرے کسی بھی رول کے لئے جسے چاہو رکھ لو، مگر فلم کا ہیرو میرا اپنا ہی آدمی بنے گا۔

      آپا صاحب کا اپنا آدمی خصلتاً ولین تھا اور حالانکہ ہمارے فلم میں اس کا ہیرو بننا بالکل طے تھا، پھر بھی مجھے شاید ذہنی طور پر بدستور ہیرو کی تلاش تھی۔ یا کسے معلوم، کیا؟۔ ۔ میں نے کیا کیا کہ اپنی رو میں ایک ایسے نوجوان کو ولین کا رول سونپ دیا جو مجھے اپنے ہیرو کے مانند فطرتاً حسّاس، نیک طینت اور معصوم سا لگا۔

     ’’مگر میں۔ ۔ ۔ ‘‘اس نوجوان نے جھجک کر شاید تامل کا اظہار کرنا چاہا۔

    ’’میں وَیں کیا؟‘‘ میں جھلا گیا’’جب تک پورے ولین نہیں بنو گے، تمہیں ہیرو کون مانے گا؟‘‘

٭٭

کچّا پَن

     ’’بابا، تم بڑے میٹھے ہو۔ ‘‘

     ’’یہی تو میری مشکل ہے بیٹا۔ ابھی ذرا کچا اور کھٹا ہوتا تو جھاڑ سے جڑا رہتا۔ ‘‘

٭٭

موجود

        کیا مجال، کوئی جان پہچان والا مر جائے اور وہ اس کے جنازے میں شامل نہ ہو۔ مگر آج ہم اسی کا جنازہ لئے قبرستان کی طرف جا رہے ہیں، اور کسی نے آگے پیچھے دیکھتے ہوئے مجھ سے حیرت سے پوچھا ہے۔

’’تعجب ہے، آج وہ نہیں آیا!‘‘

٭٭

جیون کھیل تماشہ

       ’’میں سپنوں میں بہتر دِکھتا ہوں۔ ‘‘

      ’’مگر اس وقت تو آپ ہو بہو میرے سامنے موجود ہیں۔ ‘‘

      ’’کیا سپنے میں بھی سب کچھ ہو بہو نہیں ہوتا؟‘‘

      ’’مگر پھر آنکھ کھلتے ہی سب کچھ ایک دَم مٹی کیسے ہو جاتا ہے؟‘‘

      ’’ہاں بابا، جیسے آنکھ لگتے ہی ہم۔ ۔ ۔ ‘‘

٭٭

 

نیا آدمی

      موت گھبرا گئی کہ وہ اُس کی جان کیسے لے۔ وہ تو میری آمد سے پہلے ہی مَر چکا ہے۔ مگر وہ متعجب تھی کہ یکسر مَر جانے کے باوجود مرحوم عین مین چل پھر رہا تھا۔ موت کو اپنے چمتکار پر سراسیمہ پا کر مرحوم کا سینہ فخر سے پھول گیا۔

٭٭

بھوت بسیرا

’’ یا الٰہی، یہ ماجرا کیا ہے؟مہا نگر کے گھر گھر، جہاں بھی قدم رکھو، گھر خالی پڑا ہوتا ہے۔ آخر سب کے سب گئے کہاں ؟‘‘

’’ارے، اتنا بھی معلوم نہیں ؟سب کے سب ٹی وی کے ڈبے میں بند پڑے ہیں۔ ‘‘

’’پر۔ ۔ ۔ ۔ ؟‘‘

’’ارے بھائی، بھوتوں اور جنوں کا زمانہ ہے۔ ڈبوں اور بوتلوں میں بند نہ پڑے رہیں تو جان پر بَن آئے۔ ‘‘

٭٭٭

 

جوگندر پال

نہیں رحمن بابو

        میرے کلینک میں آج ایک روبو  آ نکلا، رحمن بابو، چیک اپ کے بعد میں نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو وہ بتانے لگا، میں تھکا تھکا رہنے لگا ہوں، ڈاکٹر۔

اور اس کی شکایت سن کر مجھے یہ فکر لا حق ہونے لگی کہ کہیں اس میں جان تو نہیں پڑ گئی۔

٭٭

نہیں، رحمن بابو، میں پاگل نہیں ہوں۔ ۔ ۔ کیا؟۔ ۔ ۔ اپنے آپ سے باتیں کیوں کرتا رہتا ہوں ؟تم ہی بتاؤ رحمن بابو، گم شدگان تک اور کیسے پہنچا جا سکتا ہے؟

٭٭

ہم سب ہم مذہب ہیں رحمن بابو،

مگر اس کا کیا کیا جائے کہ ہر کسی کو اپنی اپنی بساط کا ہی خدا ملتا ہے۔

٭٭

تمہاری رائے سے مجھے اتفاق ہے رحمن بابو۔

تم کہتے ہو، دشمن سے ہمیشہ دوستی سے پیش آؤ۔ میں نے ساری زندگی یہی کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ دشمن سے سدا دوستی سے ہی پیش آتے رہو تو وہ جیتے جی مر جاتا ہے۔ ۔ ۔ کیسے؟

ایسے بابو کہ میں بھی اپنے قابو میں کہاں تھا۔ مجھے یقین ہو گیا تھا کہ اپنا سب سے بڑا دشمن میں خود آپ ہوں۔ پھر بھی میں اپنے آپ سے دوستی سے پیش آتا رہا۔ حتیٰ کہ میری روح میرا جسم چھوڑ کر آسمان کو پرواز کر گئی۔

نہیں بابو، اب کیا ہو سکتا ہے؟ مرے ہوئے کو بھی کوئی زندہ کر سکتا ہے؟

٭٭

کیا سمجھنا چاہتے ہو رحمن بابو؟

ساری عمر سمجھ بوجھ سے ہی کام لے لے کر تو کنارے پر آ لگے ہو۔ اب آگے کی خبر لینا چاہتے ہو تو بے خبر ہو جاؤ۔

٭٭

      ’’میری ماں کو مَرے پندرہ برس ہو لیے ہیں رحمن بابو، آج میں نے اس کی تصویر دیکھی تو رنجیدہ ہو کر سوچنے لگا، تصویریں ہی اصل ہوتی ہیں جو رہ جاتی۔ ماں تو محض گمان تھی جو گزر گئی‘‘

٭٭

 

’’پہلے بھی لوگ جھوٹ بولا کرتے تھے رحمن بابو، مگر تھے بڑے ایمان پرست۔ اسی لیے عدالتوں نے فیصلہ کر لیا کہ ہر مقدمے سے پہلے اُنہیں خدا اور ایمان کی قسم کھانے کو کہا جائے۔ ۔ ۔ ہاں، یوں ہر مجرم مقدمہ شروع ہونے سے پہلے ہی دھر لیا جاتا۔

        ہاں اُسی وقت سے عدالتیں خدا کی قسم سے ہی ہر کیس کی چھان بین شروع کرتی آ رہی ہیں۔ ۔ ۔

        بجا کہتے ہو، بابو۔ اب تو خدا کی گواہی کا موقعہ پا کر مجرم اتنا کارگر جھوٹ بولتے ہیں کہ بے گناہ فوراً اپنے جرم کا اقبال کر کے عدالتی رحم کے لیے ہاتھ پھیلا دیتے ہیں۔ ‘‘

٭٭

       ’’ہاں، رحمن بابو، اُس غریب ماشکی کو یہ ڈیوٹی سونپی گئی ہے کہ ہفتے میں ایک بار ہمارے سیاسی نیتا کے بُت کو دھو کر صاف کر دیا جائے، تاکہ منہ کالا نہ پڑ جائے۔ کیا؟۔ ۔

    ہاں، نیتا لوگ خود آپ بھی تو بُت کے بُت ہوتے ہیں۔ ۔ ہاں، بابو، کچھ کرتے دھرتے تو ہیں نہیں، پھر بھی اُن کی تعریف کے نعرے سُن سُن کر کان پکنے لگتے ہیں۔

نہیں، بابو، غریب لوگ بے چارے کیا کریں ؟بُت اپنے منہ آپ تھوڑ اہی دھو سکتے ہیں، ماشکی نہ دھوئیں تو ہاتھ اُٹھا کر منہ کی کالک بھی نہ چھُپا سکیں۔ ‘‘

٭٭

         ’’نہیں رحمن بابو، اسے پتہ بھی نہ چلا اور مذہبی جنونیوں نے اسے ایک ہی وار میں ختم کر دیا۔ ۔ نہیں، اس میں ایک سانس بھی نہ بچا تھا، پھر کیا پیش آیا کہ جب اسے قبر میں لٹا دیا گیا اور ہم اس پر مٹی ڈالنے لگے تو وہ اچانک اُٹھ کر بیٹھ گیا اور ہمارے سامنے ہاتھ جوڑ جوڑ کر منت سماجت کرنے لگا، خدارا مجھے میری جان مت لو۔ ۔ خدارا۔ ۔ !

     نہیں، بابو، وہ سو فیصد مر چکا تھا مگر کیا ہوا کہ خوف کی شدت سے ہڑبڑا کر جی پڑا اور قبر میں بیٹھے بیٹھے فریادکیے گیا۔ ۔ خدا کے لیے۔ ۔ ۔ !

     نہیں، بابو، اُس وقت تو وہ بے خبری میں چل بسا تھا، اس وقت اسے خوف سے تھر تھر کانپتے ہوئے پا کر ہمیں یہی لگ رہا تھا کہ جان تو اس کی اب نکل رہی ہے۔ ‘‘

٭٭

        ’’نہیں مجھے ان سیدھے سادے قیدیوں کی کوئی فکر نہیں۔ یہ بے چارے تو دو یا دس سال کھلے کھلے اپنے کیے کی سزا بھگت کر مکت ہو جائیں گے، قابلِ رحم تو وہ سیاہ بخت ہیں جو تنگ و تاریک نظریوں کی کال کوٹھڑی میں اپنے نہ کیے کی سزا جھیل رہے ہیں۔ آؤ بابو، ان سیاہ بختوں کے حق میں دعا مانگیں۔ ‘‘

٭٭

’’میں نے ایک عمر اندھے پن میں ہی کاٹ دی رحمن بابو، لیکن جب ایک برٹش آئی بنک سے حاصل کی ہوئی آنکھیں میرے ساکٹس میں فِٹ کر دی گئیں تو مجھے دکھائی دینے لگا۔ اور میں سوچنے لگا، غیروں کا نقطۂ نظر اپنا لینے سے بھی اندھا پن دور ہو جاتا ہے‘‘

٭٭

       ’’رحمن بابو، آج صبح ہجڑوں کا ایک پورا ٹولہ تالیاں پیٹ پیٹ کر بخشش کی خاطراس عالیشان گھر کے سامنے آ بیٹھا۔ کسی نے انہیں وہاں سے اُٹھ جانے کو کہا۔ تمہیں معلوم نہیں کہ مالک مکان کا پورے کا پورا کنبہ ایک کار حادثے میں کام آ چکا ہے؟بے چارے کے آگے پیچھے کوئی نہیں رہا۔

مگر ہجڑے آئی پر آ جائیں بابو، تو ٹلتے تھوڑا ہی ہیں۔ ایک کو جو سوجھی تو اس نے جھوٹ موٹ کی آہ و زاری شروع کر دی اور پھر اس کے ساتھی بھی اس کے سُر میں سُر ملانے لگے۔ تعجب کی بات ہے بابو، ہجڑے شروع تو ہنسی مذاق میں رونے سے ہوئے پر سُر بندھتے ہی سب کے سب سچ مچ رونے لگے اور انجانے میں زارو قطار روتے چلے گئے۔ بھلا سوچو، بابو، کیوں۔ ‘‘

٭٭

’’نہیں، رحمن بابو، ایلورہ کے گپھاؤں میں تو پراچین کال کی مورتیاں چلتی پھرتی نظر آتی ہیں۔

نہیں، پہلے گُپھا میں ہی مَیں حیرت سے کھڑے کا کھڑا رہ گیا۔ اَن گنت اپسرائیں اور دیوتا باہم ناچ رہے تھے۔ ۔ نہیں بابو، سچ مچ ناچ رہے تھے اور ناچ ناچ کر بے سُدھ ہو رہے تھے۔

ہاں مجھے یہی لگا کہ وہ سب لوگ زندہ ہیں اور صرف ایک مَیں، مُورت کا مُورت!‘‘

٭٭

    ’’دیکھو، بابو، تمہارا بچہ آپ ہی آپ بے اختیار ہنسے جا رہا ہے۔ ۔ ہاں، ہر نوزائیدہ بچہ یہی کرتا ہے۔ لیٹے لیٹے آپ ہی آپ ہنسنے لگتا ہے۔ ۔ ہاں، رونے بھی لگتا ہے۔ ۔ کیوں ؟۔ ۔ کیونکہ وہ اپنے نئے جنم پر ابھی پچھلا جنم ہی جئے جا رہا ہوتا ہے۔ ۔ نہیں، اپنے بچے کو ہلا ہلا کر ڈسٹرب مت کرو۔ اِس وقت شاید وہ اپنے پوتے کو گود میں لئے کھلکھلا رہا ہو۔ ۔ ۔ ‘‘

٭٭

’’زندگی تو اٹوٹ ہے، اسے کوئی ایک جنم میں کیسے پورا کرے۔ ہاں، اسی لیے میرا کہنا ہے کہ میں ہی چیخوف ہوں، میں ہی پریم چند، میں ہی منٹو۔ ۔ ۔ اور وہ بھی کوئی، جسے ابھی پیدا ہونا ہے۔ ہاں بابو، میں اسی لیے بار بار جنم لیتا ہوں کہ اپنا کام پورا کر لوں مگر میرا کام ہر بار ادھورا رہ جاتا ہے۔ نہیں، اچھا ہی ہے کہ ادھورا رہ جاتا ہے، اسی لیے تو زندگی کو زوال نہیں، بابو۔ ‘‘

٭٭٭

 

شیخ سعدی، خلیل جبران اور سعادت حسن منٹو کی بیان کردہ مختصر ترین کہانیوں کی روایت کا تخلیقی عروج

منشا یاد (اسلام آباد)

افسانچے

مٹھی بھر جگنو

تتلی کی موت

        اس کی گلابی رنگت کی وجہ سے اسے روز کہہ کر پکارا جانے لگا۔ وہ بے حد خوبصورت او ر پھول کی طرح نازک بچی تھی۔ شادی کے دس بارہ برس بعد بڑی منتوں مرادوں کے بعد اس گھر کو اولاد کی خوشی نصیب ہوئی تھی۔ ماں باپ ہی نہیں، دادا، دادی، نانا، نانی اور چاچا، چاچی بھی اس سے بے پناہ پیا ر کرتے تھے اوراسے سات بیٹوں پر بھاری بیٹی قرار دیتے تھے۔ اسے جو بھی دیکھتا پیار کرنے لگتا۔ پہلے وہ ہاتھ پاؤں پر چلتی تھی مگر اب اس نے واکر کے سہارے کھڑا ہونا اور چلنا سیکھ لیا تھا۔ وہ جدھر جاتی گھرکے لوگ ضروری سے ضروری کام چھوڑ کر ا س کی طرف متوجہ ہو جاتے۔ ماں باپ اور عزیز و اقارب اس کے لیے کھلونوں اور خوبصورت ملبوسات کے ڈھیر لگاتے رہتے اور وہ جیسے تتلی کی طرح گھر بھر میں اڑتی پھرتی۔

        پھر ایک روز اس گھر کے قریب واقع قانون نافذ کرنے والے ایک ادارے پر دہشتگردو ں نے حملہ کر دیا اور عمارت کو دھماکے سے اُڑا دیا۔ بارود سے بھرے ہوئے ٹرک کا دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ آس پاس کے درختوں پر بیٹھی بہت سی چڑیا ں اور فاختائیں مر گئیں، پھولوں، کلیوں پر منڈ لاتے بھونرے اور تتلیاں پاش پاش ہو گئیں اور پنگھوڑے میں سوئی ہوئی پھول سی روز ہمیشہ کی نیند سو گئی۔

٭٭

دھماکہ

        ادھیڑ عمر کے ایک ملزم کو جو وضع قطع سے تعلیم یافتہ اور معزز لگ رہا تھا سہارا دے کر عدالت کے کٹہرے میں لایا گیا۔ منصف نے اس سے پوچھا ’’کیا آپ اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتے ہیں ؟‘‘

        ’’جناب اس کی ضرورت تو نہیں ‘‘ملزم نے اپنی سانس بحال ہونے پر کہا ’’میں پہلے ہی اقبالِ جرم کر چکا ہوں۔ میں اپنے اس فعل پر بے حد نادم ہوں۔ عدالت مجھے جو سزا دے گی مجھے قبول ہو گی۔ ‘‘

        ’’ہونا بھی چاہیے‘‘ منصف نے کہا ’’ایک پڑھا لکھا صاحب ِ اولاد اور سوسائٹی میں معزز سمجھا جانے والا شخص اس قدر ظالمانہ جرم کا ارتکاب کرے۔ کیا عدالت جان سکتی ہے کہ کن حالات میں آپ نے ایسا کیا؟‘‘

        ’’جناب ِ عالی میں دل کا مریض ہوں۔ کسی بری خبر، جذباتی صدمے یا اچانک دھماکے سے مجھے اختلاج ِ قلب ہونے لگتا ہے۔ گذشتہ شب ِ برات پر گلی کے لڑکوں کے پٹاخوں سے میری حالت غیر ہو گئی تھی اور مجھے ہسپتال میں داخل رہنا پڑا تھا۔ آپ جانتے ہیں کہ شبِ برات یا یوم ِ آزادی ایک دن کے لیے آتا ہے مگر محلے کے لڑکے کئی کئی روز تک دھما کے کرتے رہتے ہیں۔ اس بار انہیں پتہ چل گیا کہ میں دھماکوں سے پریشان ہوتا ہوں وہ اسے میری چڑ سمجھ کر زیادہ دھماکے کرنے لگے۔ میں نے دو ایک روز برداشت کیا پھر ان لڑکوں کے گھروں میں پیغام بھجوایا کہ وہ اپنے بچوں کو منع کریں کہ ان دھماکوں سے میری جان بھی جا سکتی ہے۔ مگر ان لڑکوں پر اس کا کوئی اثر ہوا نہ ہی ا ن کے والدین انہیں منع کرنے میں کامیاب ہوئے۔ بلکہ وہ چڑ کر ہمارے گھر کے اند ر بھی کریکر پھینکنے لگے۔

        جناب ِ والا!اس روز کمرے کی ایک کھڑکی کھلی تھی کیوں کہ ساری کھڑکیاں بند ہوں تو میرا دم گھٹنے لگتا پے۔ اچانک ایک کریکر سیدھا میرے کمرے میں آ کر پھٹا جس سے میں دہل گیا اور میری حالت غیر ہو گئی۔ غصّے او ربلڈ  پریشرکی زیادتی میں مجھے پتہ ہی نہ چلا کہ میں نے کب کھڑکی سے باہر ایک چھوٹے سے لڑکے کو کریکر پھینک کر بھاگتے ہوئے دیکھا اور خود بھی دھماکا کر دیا جو بارہ بور کا تھا۔

٭٭

حجاب

        ماں نے اسے کئی بار برقع اوڑھنے یا کم از کم حجاب پہننے کو کہا مگر وہ ٹال جاتی۔ دراصل وہ سمجھتی تھی کہ اسے اس کی ضرورت ہی نہ تھی۔ حالانکہ اس کی آنکھیں بے حد خوبصورت تھیں مگر سانولی رنگت، معمولی خدوخال اور چیچک زدہ چہرہ اس کے محافظ تھے۔ وہ جب اپنی کولیگ لڑکیوں سے سنتی کہ کس طرح لڑکے ان کا تعاقب کرتے اور ان کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے تو اسے رشک آتا۔ اسے حسرت ہی رہی کہ کبھی کوئی لڑکا اس کی طرف بھی توجہ دے۔ لیکن ایک روز وہ  دفتر کے قریب ویگن سے اُتری تو اس کے ساتھ ایک اور اجنبی لڑکی بھی ویگن سے اُتری جس نے حجاب پہنا ہوا تھا۔ وہ انٹرویو دینے اسی کے دفتر میں آ رہی تھی۔ اس کی آنکھیں اتنی پرکشش تھیں کہ اسے عدم کا ’’میکدے سے جو بچ نکلتا پے، تیری آنکھوں میں ڈوب جاتا پے‘‘ شعر یاد آ گیا۔ لیکن دفتر کے اندر آ کر اس نے نقاب ہٹایا تو اس کی شکل بے حد معمولی تھی۔ کیل مہاسوں سے بھرا ہوا چہرہ اور سانولی رنگت۔

        اس روز اس نے گھر آ کر اپنی امی سے کہا کہ آئندہ سے وہ بھی حجاب پہن کر دفتر جایا کرے گی۔

٭٭٭

ڈاکٹر رضیہ اسماعیل (برمنگھم)

تھرڈ ڈائمنشن  (Third Dimension)

عنائیہ کافی عرصہ سے آڈاپشن ایجنسی  کے ساتھ بحیثیت سوشل ورکر کام کر رہی تھی ڈیوٹی ڈیسک پر آج سارا دن اسے ہی رہنا تھا کیونکہ مسلمان آڈاپٹرز کی ریکروٹمنٹ کا ایک خاص کیمپین چلایا جا رہا تھا اور توقع تھی کہ اس ہفتے میں مسلمان آڈاپٹرز کی طرف سے کافی انکوائریرز آئیں گی۔

آڈاپشن ایجنسی کے پاس یوں تو بہت سے مسلمان بچے آتے رہتے تھے مگر یہ خالصتاً پاکستانی بچے نہیں ہوتے تھے۔ اکثر وبیشتر یہ ملٹی ایتھنک بیک گراؤنڈ کے بچے ہوتے یعنی اگر ماں انگریز ہوتی تو باپ پاکستانی، عراقی، ایرانی پورپین یا ایسٹ افریقہ سے تعلق رکھتا۔ کبھی کبھار ماں کا تعلق کثیر الثقافتی پس منظر سے ہوتا۔ مگر آڈاپشن کے لیے آنے والے اکثر خاندان پاکستانی مسلمان بیک گراؤنڈ سے تھے جس میں اکثریت کی خواہش ہوتی کہ وہ بہت چھوٹا بچہ ہی گود لیں اور وہ خالصتاً پاکستانی بیک گراؤنڈ سے ہو۔ یا پھر وہ پاکستان، انڈیا، یا بنگلہ دیش سے اپنے عزیزوں میں سے کسی کا بچہ گود لینا چاہتے تھے۔

آج بھی ڈیوٹی پر کیمپین کے نتیجے میں ایسی ہی انکوائریرز کی بھر مار تھی۔ عنائیہ تمام دن یہ بات دہراتے دہراتے تھک سی گئی تھی کہ ’’اگر بچے کے والدین حیات ہیں تو آپ ایسے بچے بیرون ملک سے گود نہیں لے سکتے۔ کیونکہ آڈاپشن ایجنسی کو ان کی اسسمنٹ کرنا ہو تی ہے اور ہم کبھی بھی اس بات کو پروموٹ نہیں کریں گے کہ بچہ کسی دوسرے بے اولاد جوڑے کو گفٹ کر دیا جائے۔ کیونکہ بچہ کوئی کموڈٹی تو نہیں ہے جسے تحفے میں دے دیا جائے۔ اس میں آگے چل کر بہت سی قباحتیں ہو جاتی تھیں اور ایسے بچے شدید عدم تحفظ کا شکار ہو جاتے کہ ان کے والدین نے صرف انہیں ہی کیوں اپنے باقی ماندہ خاندان سے اور خود سے جدا کر کے کسی اور کا گھر آباد کر دیا۔ اس کے علاوہ انٹرکنٹری آڈاپشن میں پندرہ سے بیس ہزار پونڈ کی لاگت بھی آتی ہے کیونکہ گود لینے والے خاندان کو آڈاپشن ایجنسی کی فیس، ٹریننگ کے اخراجات، وکیل کی فیس، ملک میں آنے جانے کا کرایہ۔ ایمرگریشن کے اخراجات سب خود ہی اٹھانے پڑتے جبکہ لوکل آڈاپشن کی صورت میں کوئی لاگت نہیں آتی۔ اور آڈاپشن کے تمام مراحل بھی کم وقت میں طے پاتے ہیں۔ ‘‘

آج صبح ہی صبح ایک انکوائری نے اس کا کافی وقت لے لیا۔ آڈاپشن کرنے والے پاکستانی جوڑے کا اصرار تھا کہ وہ بہت چھوٹا بچہ گود لینا چاہے تھے تاکہ وہ ’’اسے بریسٹ فیڈنگ کر سکیں تاکہ بچے سے والدہ کا حرمت کا رشتہ برقرار ہو سکے وگرنہ بڑے ہو کر تو وہ بچہ ماں کے لیے نامحرم ہی رہتا۔ ‘‘ عنائیہ ان کے مسئلے کو سمجھتی تھی اور کئی بار یہ بات آڈاپشن ایجنسی کے باس سے کہہ چکی تھی کہ جب تک وہ مسلمان بچوں کے آڈاپشن کے سلسلے میں باقاعدہ لائحہ عمل اختیار نہیں کریں گے۔ گود لینے والے مسلمان خاندان اس طرح کے بہت سے سوالات اٹھاتے رہیں گے۔ اور مسلمان بچوں کی مسلمان گھرانوں میں آڈاپشن تقریباً ناممکن ہو جائے گی۔ کئی بار اس نے تجاویز دیں کہ انہیں مقامی مساجد کے علماء اکرام سے اس سلسلے میں گفتگو کر کے مسئلے کی نوعیت بتا کر کوئی فتویٰ لینا چاہیے تاکہ آڈاپشن کرنے والے مسلمان جوڑے جائز شرعی تقاضوں کے مطابق اطمینان سے بچوں کو گود لے سکیں۔ مگر نتیجہ وہی ڈھاکے تین پات۔ ۔ ۔ صرف زبانی جمع خرچ ہوتا یعنی Lip service۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !

اور مسلمان جوڑوں کا مسئلہ جوں کا توں رہتا۔

ان حالات میں اکثر مسلمان بچے غیر مسلم گھرانوں کو گود دے دئیے جاتے کیونکہ ایجنسی کا موقف تھا کہ بچوں کو ایک پیار محبت کرنے والا خاندان چاہے جو اس کی مثبت نشوونما میں معاون ثابت ہو۔ مذہب کے بارے میں ان کا نقطہ نظر سیکولر تھا مگر عنائیہ کو اس بات سے بہت پریشانی لاحق ہوتی کہ غیر مسلم گھرانے ایک مسلمان بچے کو کب اسلامی تشخص کے ساتھ پروان چڑھائیں گے۔ بچہ مذہب سے دور ہو جائے گا اور کل کو وہ مذہبی اور ثقافتی شناخت کے مسئلے سے دوچار ہو جائے گا۔ مگر یہاں کس کو اس بات کی پرواہ تھی ایجنسی کا مقصد تو بچوں کے لیے ایسے خاندان تلاش کرنا تھا جو ان چکروں میں پڑے بغیر بچوں کو گود لے سکیں۔

آج ایجنسی کا دفتر بند ہونے میں تھوڑا ہی وقت رہ گیا تھا کہ ایک ایشیائی نوجوان آڈاپشن انکوائری کے لیے دفتر میں آ گیا۔ اس کی باڈی لینگوئج اور حرکات و سکنات سے لگ رہا تھا کہ اس کا تعلق تیسری ڈائمنشن سے ہے یعنی کہ وہ Gay ہے۔ مگر عنائیہ کچھ کنفویز سی لگ رہی تھی اس کی سیکیثولیٹی کے بارے میں تاہم ریسپشن پر موجود انگریز لڑکیوں کا خیال تھا کہ ’’وہ اصلی Gay  نہیں تھا بلکہ پوز کر رہا تھا۔ ‘‘ ’’اس میں بھلا پوز کرنے والی کونسی بات ہے؟‘‘ پھر عنائیہ کا ذہن الجھ سا گیا۔ بہر حال اس سے بات کرنا ضروری تھا۔ عنائیہ نے ریسپشن میں جا کر اپنا تعارف کروایا تو وہ بے حد خوش ہو گیا کہ سوشل ورکر اس کی ہم وطن تھی اور انگریزی کے علاوہ اردو اور پنجابی زبان بولنے میں بھی مہارت رکھتی تھی۔

عنائیہ اسے انٹرویو روم میں لے گئی اور انکوائری کے کاغذات مکمل کرنے کی غرض سے کئی سوالات کر ڈالے۔ ندیم نے بتایا کہ ’’اس کا تعلق پاکستان کے ایک بڑے شہر سے تھا اور وہ تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ اس کی منگنی اپنی کزن سے ہو چکی تھی مگر اسے عورتوں سے کوئی رغبت نہ تھی اس لیے اس نے ملک سے بھاگ کر یہاں آ کر پولیٹیکل اسائلم لے لی ہے۔ ‘‘

عنائیہ کا ذوق تجسس بڑھ رہا تھا تو اس نے مزید سوال کر دیا کہ ’’کیا اس کے گھر والوں کو علم ہے کہ وہ Gay  ہے؟‘‘ تو وہ کہنے لگا ’’نہیں یہ بات ان کے علم میں نہیں ہے اور میں بتا بھی نہیں سکتا تھا وگرنہ مجھے اتنے جوتے پڑتے کہ خدا کی پناہ۔ ۔ ۔ آپ کو تو پتہ ہے ناں باجی اسلام میں یہ منع ہے مگر میں کیا کروں۔ میری مجبوری ہے۔ مجھے صرف مرد ہی اچھے لگتے ہیں ‘‘اب وہ زیادہ تر گفتگو اردو میں ہی کر رہا تھا۔ ’’ میں شادی کر کے کسی عورت کی زندگی برباد کرنا نہیں چاہتا تھا اس لیے میں کچھ بتائے بغیر ملک چھوڑ کر آ گیا ہوں مگر میں باقاعدگی سے گھر والوں کو خرچہ بھیجتا رہتا ہوں۔ میں نے اپنے دوسری ذمہ داریوں سے منہ نہیں موڑا۔ ‘‘اس نے گویا ہمدردی سمیٹنے کے لیے مزید وضاحت کی۔

عنائیہ کی دل چسپی بڑھتی جا رہی تھی۔ اس نے مزید کریدا کہ ’’اس قسم کی زندگی گزارتے ہوئے کیا وہ آئسولیٹڈنہیں ہو جاتا یا ایسے مزید ایشائی لوگ موجود ہیں جن نے وہ اپنی نیٹ ورکنگ کر سکے؟‘‘ تو ندیم نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’’یہاں بہت سے ایشیائی مسلمان Gays ہیں اور باقاعدہ ان کے کلب ہیں جہاں ہم سب باقاعدگی سے ملتے ہیں۔ ’’اس وقت تمہارا کوئی پارٹنر ہے یا اکیلے ہی ہو۔ ‘‘عنائیہ نے آڈاپشن کے نقطہ نظر سے پوچھا کیونکہ اگر اس کا پارٹنر ہوتا تو اسے بھی آڈاپشن کے لیے اکٹھے درخواست دینا پڑتی۔ تاکہ ان دونوں کی اسسمنٹ اکٹھی کی جائے۔ ندیم نے بتایا کہ ’’اس کا پارٹنر اسے کچھ عرصہ پہلے چھوڑ گیا تھا اور آج کل وہ اکیلا ہی ہے۔ ‘‘ انکوائری مکمل کر کے عنائیہ نے اسے باقی کا طریق کار سمجھا دیا اور کہا کہ جلد ہی ایجنسی کی سوشل ورکر اس سے رابطہ کر کے مزید معلومات کے لیے گھر پر آئے گی۔ ‘‘

ندیم کے جانے کے بعد عنائیہ سوچتی رہی کہ لواطت کے بارے میں کتنی سخت وعید آتی ہے اسلام میں۔ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کا کیا حشر ہوا تھا؟ اس کا دل چاہتا تھا کہ ایسے کڑیل جوان کو اس قسم کی غیر اخلاقی زندگی سے روکے۔ جہنم کے عذاب کا خوف دلا کر باز رکھے مگر اس کی پروفیشنل مجبوریاں اسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتی تھیں۔

جب کبھی بھی ایجنسی میں GLB ٹریننگ ہوتی یعنی Gay, Lesbian and Bisexual تو وہ منافقوں کی طرح وہاں خاموش بیٹھی رہتی کیونکہ یہ سب اس کے اسلامی عقائد کے خلاف تھا اور وہ دل میں اس قسم کی جنسی زندگی کی قائل نہیں تھی مگر ’’ہر ایک کی اپنی اپنی زندگی ہے۔ اس میں میں کیا کر سکتی ہوں۔ ‘‘ عنائیہ نے بے چارگی سے سوچا۔

چند ہفتوں کے بعد ندیم کا فون آ گیا کہ باجی مجھے اب نیا پارٹنر مل گیا ہے میں نے اسے سمجھایا کہ اب نیا پارٹنرملنے کی صورت میں اسے کم از کم دو سال تک انتظار کرنا پڑے گا کیونکہ آڈاپشن میں آپسی تعلقات کے لیے یہ کم سے کم مدت رکھی گئی ہے تاکہ گود لینے والے جوڑے پہلے اپنے تعلق کو اچھی طرح سمجھ کر مضبوط کر سکیں۔ ندیم کی انکوائری بند کر دی گئی۔ چند مہینے کے بعد ندیم پھر ایجنسی کے دفتر آ گیا۔ اب کی بار اس کے ساتھ ایک اور لڑکا تھا۔ اس نے اس کا تعارف راشد کہہ کر کروایا۔ اس نے بتایا کہ وہ اس کا نیا پارٹنر تھا اور دونوں جلد ہی شادی کرنے والے تھے۔ ریسپشن میں کھڑے کھڑے باتیں کرنا مناسب نہ تھا کیونکہ سب ہی لوگ متوجہ ہو رہے تھے۔ اس لیے عنائیہ انہیں انٹرویو روم میں لے گئی تاکہ اطمینان سے بات کر سکے۔

عنائیہ کچھ متجسس تھی اور ان سے Gay میرج کے بارے میں مزید جاننا چاہتی تھی۔ بیٹھتے ہی اس نے سوال کیا کہ ’’کیا ایسی شادیوں میں بھی میاں بیوی کا کوئی تصور ہوتا ہے یا نہیں ؟‘‘ ندیم نے وضاحت کی کہ ’’ہاں بالکل ہوتا ہے جیسے میں بیوی ہوں گا اور راشد میرا خاوند ہو گا ہم اسے ٹاپ اور باٹم پوزیشن کہتے ہیں۔ میں سب بیوی والے کام کروں گا۔ ‘‘ عنائیہ نے پھر سوال کیا کہ ’’بیوی والے کام‘‘ سے اس کا کیا مطلب ہے؟ ’’کھانا پکانا۔ صفائی ستھرائی سودا سلف۔ بل اور اخراجات کا حساب کتاب وغیرہ وغیرہ۔ ‘‘ ندیم نے جواب دیا ’’اور بچے پیدا کرنا کہاں گیا جو کہ بیوی بننے والی عورت کا اہم فریضہ ہے اور عورت اگر ماں نہ بن سکے تو بانجھ عورت کو تو معاشرہ عورت تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیتا ہے۔ ‘‘ عنائیہ نے چبھتا ہوا سوال کر کے گویا ندیم کی دکھتی رگ پر  ہاتھ رکھ دیا تھا۔ ندیم نے شرمندگی سے جواب دیا۔ ’’باجی یہ تو ہماری مجبوری ہے ناں۔ اسی لیے تو ہم آڈاپشن کرنا چاہتے ہیں کیونکہ مجھے بچے بہت اچھے لگتے ہیں اور فطری طریقے سے تو ہم بچے پیدا نہیں کر سکتے۔ ‘‘ عنائیہ کا دل چاہا کہ اسے دو تھپڑ رسید کر کے کہے کہ ’’پھر یہ غیر فطری حرکتیں کیوں کر رہے ہو۔ کچھ خوف تمہیں آخرت کا ہے کہ نہیں !‘‘ مگر وہ خاموش رہی۔

اس تمام گفتگو کے دوران اس کا پارٹنر راشد بالکل خاموش تھا۔ اور اس نے گفتگو میں بالکل حصہ نہیں لیا حالانکہ ساری بات چیت اردو اور پنجابی میں ہو رہی تھی۔ عنائیہ نے مزید نوٹ کیا کہ راشد اس سے آئی کونٹیکٹ نہیں کر رہا تھا  بلکہ مسلسل زمین کی طرف سر جھکائے گھور رہا تھا۔ جس سے عنائیہ کو شک ہو رہا تھا کہ وہ واقعی Gay تھا یا۔ ۔ ۔ ؟  اس نے مزید کریدتے ہوئے راشد کے حالات کے بارے میں سوالات کرنے شروع کر دئیے تو ندیم نے بتایا کہ ’’وہ کچھ عرصہ پہلے ہی پاکستان سے یہاں آیا ہے اور پولیٹیکل اسائلم ویزے پر ہے۔ شادی کے بعد میں اس کے پرمنٹ ویزے کے لیے درخواست دوں گا۔ ‘‘

پہلی بار راشد نے زبان کھولی اور کہا ’’ہم دونوں چاہے شادی کر لیں لیکن میں اس کی اصلی شادی ضرور کرواؤں گا۔ ‘‘

راشد کا یہ جملہ عنائیہ کے لیے بہت بڑا سوال چھوڑ گیا کہ کیا یہ دونوں واقعی Gay ہیں یا پھر صرف پولیٹیکل اسائلم اور ویزے کے چکر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !!!

٭٭٭

 

ڈاکٹر رضیہ اسماعیل

ریورس گیئر (Reverse Gear)

روپا کو اس پر اسرار سی کائنات اور اس پر بسنے والے انسانوں کے بارے میں جاننے میں بچپن سے ہی بہت دل چسپی تھی۔ اس لیے اسے پامسٹری، ٹارو کارڈز۔ علم حروف اور علمِ نجوم کے بارے میں جہاں کہیں کوئی مواد نظر آ جاتا اسے پڑھے بغیر چین سے نہیں بیٹھتی تھی۔ ہر سال بڑے اہتمام سے نئے سال کے لیے ہاروسکوپ کی کتاب خرید کر دیکھتی کہ آنے والے سال کی پیشن گوئیاں کیا تھیں۔ اخباروں رسالوں میں چھپنے والے ’’ آپ کا ہفتہ کیسا ہو گا۔ ‘‘ کے صفحات ہمیشہ اس کی دل چسپی کا مرکز ہوتے مگر یہ الگ بات تھی کہ پڑھنے کے فوراً ہی بعد اسب اس کے ذہن سے محو ہو جاتا گویا اسے صرف پڑھنے کی حد تک دل چسپی تھی مگر عمل کا خانہ خالی ہی تھا۔

میں اکثر اس کی اس عادت سے چڑ جاتی تھی ’’کیا تم ہر وقت برجوں اور ستاروں کے چکر میں پڑی رہتی ہو۔ ‘‘ تو وہ ہنس کر جواب دیتی کہ ’’یار بس ذرا انٹرسٹنگ ہے اس میں کیا ہرج ہے ہم کون اس پر عمل کرنے جا رہے ہیں۔ ویسے تم اگر تھوڑا بہت علم نجوم کے بارے میں جان لو تو کوئی نقصان نہیں ہو جائے گا۔ کریکٹر ریڈنگ تو ہمیشہ بڑی زبردست ہوتی ہے ان کتابوں میں۔ کم از کم لوگوں کی شخصیت بارے میں کچھ معلومات ہی مل جاتی ہیں۔ ‘‘

آج کالج میں پورے دو پیریڈز فری تھے اور میری شامت  آ گئی تھی کیونکہ روپا کہیں سے علم نجوم کی دو موتی موٹی کتابیں اٹھا لائی تھی گویا آج اس نے علم نجوم پر مجھے لکچر دینے کا پورا پورا پروگرام بنا رکھا تھا۔

میں اگر اسے کہتی کہ یہ میرے مذہب کے خلاف ہے کہ ہم مستقبل کا حال جانتے پھریں تو وہ تنک کر کہتی کہ ’’مذہبی نقطہ نظر سے علم نجوم نہ تو مذہب کا حصہ ہے اور نہ ہی عقیدہ۔ ۔ ۔ ۔ فقط حساب کا ایک قاعدہ ہے۔ جیسے ہر شخص واچ دیکھ کر ٹائم بتا سکتا ہے۔ اسی طرح ستاروں کا حساب دیکھ کر یہ بتایا جا سکتا ہے کہ کون سا ستارہ کس برج میں ہے۔ اور اس وقت دنیا پر اپنے کیسے اثرات چھوڑ رہا ہے۔ ‘‘ وہ بالکل جوتشیوں کے سے انداز میں مجھے قائل کرنے کی کوشش کرتی۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے وہ بولی کہ ’’ستارے دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک سٹیشنری یعنی جامد اور دوسرے جو اپنے محور اور دوسرے ستاروں کے گرد گھومتے ہیں البتہ جامد ستاروں کے گرد گھومنے والے ستاروں نے اپنے ایسے مقام بنائے ہوئے ہیں جنہیں علم نجوم میں برج کہا جاتا ہے۔ اور کل بارہ برج ہیں۔ کچھ پتہ چلا تمہیں میڈم۔ ۔ ۔ ‘‘روپا نے اپنے علم کا روپ جھاڑتے ہوئے کہا۔

میں روپا کی ستاروں کے بارے میں ایوئرنس سے کچھ مرعوب سی ہو گئی تھی اور اس بارے میں کچھ مزید جاننے کی خواہش میرے اندر انگڑائیاں لینے لگی تھی۔

’’اچھا چلو بولو کیا کہتے ہیں تمہارے برج۔ ‘‘میں نے قدرے لاپرواہی سے کہا۔ تو روپا تو بس ایسی رواں ہوئی کہ وہ کہے اور سنا کرے کوئی۔ ۔ ۔ ’’ہاں تو میں بتا رہی تھی کہ کل بارہ برج ہوتے ہیں۔ اور ان کے مختلف نام ہیں۔ ہر برج ایک نہ ایک ستارہ کی ملکیت ہوتا ہے یعنی کوئی نہ کوئی اس کا حاکم یعنی رولنگ پلینٹ ہوتا ہے اور یہی برج انسانوں کی طرح آپس میں دوستی اور دشمنی بھی رکھتے ہیں۔ ‘‘ علم نجوم میں میری دلچسپی بڑھتی جا رہی تھی اور میں نے منہ سے کچھ کہے بغیر ہی روپا کی طرف پر شوق نگاہوں سے دیکھا تو وہ بغیر رکے کہنے لگی ’’ہرایرہ غیرہ نتھو خیرہ قسمت کا حال نہیں بتا سکتا۔ اس کے لیے علم نجوم سے پوری طرح واقفیت بے حد ضروری ہے کہ ایسے شخص کو برجوں اور ستاروں کے چکر کا علم پوری طرح آتا ہو اور اگر اس کا علم ادھورا اور ناقص ہو گا تو خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔ ‘‘ وہ اپنی ہی لہر میں بولے چلی جا رہی تھی۔

میں نے بے صبری سے پوچھا ’’برجوں اور ستاروں کے بارے میں کچھ اور بھی کہو گی کہ نہیں میڈم جوتشی‘‘ تو وہ زیر لب مسکرا کر گویا ہوئی ’’کل بارہ برج ہیں جن میں حوت، حمل، ثور، جوزا، سرطان، اسد، سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، دلو اور جدی ہیں۔ آسمان میں گھومنے والے سات ستارے ہیں۔ اور دو ستارے ان کے امدادی یعنی ہیلپرز ہیں۔ ان ستاروں میں سورج، قمر، مریخ، زحل، مشتری، عطارد، اور زہرہ ہیں جبکہ امدادی ستارے یورنیس اور نیپ چون ہیں اور ان تمام ستاروں اور برجوں کے یونانی زبان میں مختلف نشانات یعنی سمبل دئیے گئے ہیں۔ ’’How Interesting‘‘۔ ۔ ۔ میں اپنے ذوقِ جستجو کو مزید نہ چھپا سکی تو روپا خوش ہو کر بولی۔ ’’اب آئی ہو ناں سیدھی راہ پر میڈیم۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘بالکل جیسے ہم میں لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں اسی طرح ستاروں کی بھی دشمنیاں اور دوستیاں ہوتی ہیں۔ ‘‘ ’’اچھا تو بتاؤ کہ ہمارے ستاروں میں آپس میں دشمنی ہے کہ دوستی۔ ‘‘ میں نے بے صبری سے پوچھا۔

روپا میری بات سن کر کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ ’’خاک دوستی ہو گی ہر وقت تو تکرار ہوتی رہتی ہے۔ پھر بھی بتاتی ہوں۔ تمہارا برج جوزا ہے اور تمہارا حاکم ستارہ عطارد ہے۔ اور اس کے دوست ستارے قمر، زحل اور زہرہ ہیں۔ مریخ اور مشتری اس کے پکے دشمن۔ جبکہ سورج نہ اس کا دوست ہے نہ دشمن۔ ‘‘ میں نے جلدی سے لقمہ دیا روپا تمہارا ستارہ ضرور سورج ہی ہو گا کیونکہ کبھی تو تم بڑی دوستی بھگارتی ہو اور کبھی جانی دشمن نظر آتی ہو۔ ‘‘ ’’نہیں میڈم میرا ستارہ زہرہ ہے۔ دوست ہوں تمہاری بیوقوف لڑکی۔ ‘‘ اس نے جل کر کہا۔ بس تمہارا لیکچر پورا ہو گیا یا ابھی کچھ اور باقی ہے۔ ‘‘ میں نے ترکی بہ ترکی جواب دیا تو روپا بے صبری سے بولی۔ ’’ارے نہیں بھئی۔ ابھی تو بہت کچھ ہے بتانے لائق۔ ۔ ۔ جانا مت۔ ‘‘ وہ التجا کرتے ہوئے بولی۔

 ’’ان ستاروں کی رنگت بھی الگ الگ ہوتی ہے۔ جیسے سورج، سرخ اور قمر سفید ہوتا ہے۔ زہرہ سفید سیاہی مائل تو مریخ سرخ۔ مشتری پیلے رنگ کا جبکہ عطارد سبز اور زحل جیٹ بلیک ’’اوہو تو جبھی کہوں یہ سفید رنگت ہر وقت دھواں دھواں سی کیوں رہتی ہے۔ تمہاری زہرہ کی بچی۔ ۔ ۔ ۔ میں نے طنزاً کہا تو روپا کہاں پیچھے رونے والی تھی فوراً بولی اور تم عطارد کی اولاد ساون کے اندھے کی طرح تھیں ہر طرف ہرا ہی ہرا سوجھتا ہے۔ ‘‘ اس نے سبز رنگ پر بھرپور وار کیا۔ تو میں بجائے غصے میں آنے کے کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ ’’اور سنومیڈم ستارے مذکر اور مونث بھی ہوتے ہیں۔ ان کی نحوست بھی ہوتی ہے اور یہ الٹی چال بھی چلتے ہیں۔ ‘‘ روپا نے مزید علمیت بھگارتے ہوے کہا۔ ’’تمہارا ستارہ تو مذکر ہی ہو گا روپا جو ہر وقت جوشیلے مردوں کی طرح لڑائی جھگڑے پر آمادہ رہتی ہو۔ ‘‘ میں نے گویا اس کا مذاق اڑایا تو روپا تنک کر بولی ’’نہیں زہرہ مونث ستارہ ہے۔ یعنی خالص فیمنسٹ اور عطارد مخنث ہے یعنی نہ مرد نہ عورت۔ بس دونوں کے درمیان کی کوئی چیز ہے میرے بجائے تم اپنی فکر کرو جان من۔ ‘‘ روپا نے ہاتھ نچاتے ہوئے کہا۔ ’’یہ کیا بیہودگی ہے میں نے قدرے غصے سے کہا، تم بکواس کر رہی ہو۔ ‘‘ قسم لے لو ایسا ہی لکھا ہے کتاب میں۔ لو دیکھ لو۔ ‘‘ اس نے کتاب میرے آگے کرتے ہوئے کہا۔

مجھے کوئی کتاب نہیں دیکھنی ہے یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ ’’ہر عورت کے اندر کچھ مرد اور ہر مرد کے اندر کچھ عورت ہوتی ہے تو تمہارا ستارہ کونسی نئی بات بتا رہا ہے۔ افلاطون کی اولاد۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ اسی بحث و تکرار میں کافی وقت گزر چکا تھا۔ میں نے تقریباً اٹھتے ہوئے کہا کہ ’’بس اب اگلا پیریڈ شروع ہونے والا ہے۔ چلتے ہیں، آج کے لیے اتناہی کافی ہے۔ ‘‘

روپا نے جلدی سے میرا ہاتھ پکڑ کر گویا اٹھنے سے منع کر دیا۔ ’’ اب کیا ہے۔ ‘‘ میں ذرا جُز بُز ہو کر بولی۔ ’’مگر سب سے زیادہ دل چسپ بات ستاروں کے بارے میں تو تم نے سنی ہی نہیں۔ ‘‘ اب وہ کیا ہے۔ جلدی سے بتا دو۔ ‘‘ میں نے بے صبری سے کہا۔

’’ذرا دم تو لو۔ غور سے سننے والی بات ہے میڈم۔ ستارے سیدھی اور الٹی چال بھی چلتے ہیں۔ جب سیدھے جا رہے ہوں تو ایسی حالت کو مستقیم یعنی صراط مستقیم کہتے ہیں جیسے تم چلتی ہو۔ اسے ہندی زبان میں مارگی کہا جاتا ہے۔ مگر جب کوئی دوسرا ستارہ اپنی کشش سے سیدھی چال والے ستارے کو اپنی طرف کھینچتا ہے تو اس کی چال الٹ ہو جاتی ہے۔ جسے اردو میں رجعت، ہندی میں وکری اور انگریزی میں ریٹروگریڈ موومنٹ کہتے ہیں۔ جیسے گاڑی ریورس گیئر میں جاتی ہے۔ ‘‘’’ اچھا تو تم ہو وہ الٹی چال والا ستارہ جو مجھ جیسی سیدھی سی لڑکی کو اپنی کشش سے الٹا سیدھا کرتی رہتی ہو۔ ‘‘ میں نے مذاقاً کہا تو روپا برا سا مان گئی۔

’’ارے سوائے چاند اور سورج کے باقی سب ستارے الٹی سیدھی چال ہی چلتے ہیں۔ اس لیے تمہارے ستارے کی کشش مجھے بھی الٹی سیدھی کرتی رہتی ہے۔ صرف میں ہی مجرم نہیں ہوں۔ تم بھی برابر کی شریک ہو۔ ‘‘روپا نے گویا بدلہ لیتے ہوئے کہا تو ہم دونوں نے ہی زبردست قہقہہ لگا دیا۔ ’’اچھا تو اب چلو۔ پیریڈ تو مِس ہو گیا۔ گھر جلدی پنچنا ہے ورنہ اماں میری چال الٹی کر دیں گی۔ ‘‘ یہ کہہ کر میں تو وہاں سے گیٹ کی طرف بھاگی جہاں طارق بھیا نہ جانے کب سے گاڑی لیے میرا انتظار کر رہے تھے اور میں علم نجوم کی گتھیاں سلجھانے میں مصروف تھی۔

آج سڑک پر ٹریفک کا رش معمول سے کچھ زیادہ ہی تھا کیونکہ ایسٹر کی چھٹیوں کے لیے آج سکولوں کا آخری دن تھا اور حد نظر تک سڑک پر گاڑیوں کی طویل قطاریں نظر آ رہی تھیں۔ بھیا اپنی نئی نویلی دھان پان سی اسپورٹس منی کوپر بڑے اسٹائل سے چلا رہے تھے جبکہ مجھے اتنی ٹریفک سے سخت وحشت ہو رہی تھی کیونکہ اماں نے آج گھر جلدی آنے کے لیے کہا تھا۔ ’’پہلے تو روپا کی بچی کے ستاروں اور برجوں نے سارا وقت لے لیا اور اب ٹریفک نے گویا رینگنے کی قسم کھا رکھی تھی۔ ‘‘ میں منہ ہی منہ میں بڑبڑائی۔ یونہی چلتے رکتے ٹریفک ایک ڈھلوانی سڑک پر آ گئی۔ ہمارے بالکل آگے ایک بڑی سی لینڈ کروزر جا رہی تھی۔ تھوڑی ہی دیر بعد مجھے یوں لگا جیسے وہ گاڑی آگے کی بجائے پیچھے کی طرف آ رہی ہے یعنی ریورس گیئر۔ میں نے جلدی سے بھیا کو خبردار کیا کہ ’’صرف مجھے ہی ایسا لگ رہا ہے یا واقعی یہ گاڑی پیچھے کی طرف آ رہی ہے۔ ‘‘ بھیا نے یکدم ہارن بجانا شروع کر دیا کیونکہ گاڑی واقعی پیچھے آ رہی تھی۔ خدا جانے کیا معاملہ تھا۔ آگے والا ڈرائیور نشے میں تھا یا اناڑی تھا کہ اتنے ہارن بجانے کے باوجود لینڈ کروزر نے بھیا کی نئی نویلی گاڑی کا حشر کر دیا گویا ستارے الٹی چال چل رہے تھے۔

بھیا غصے میں پھنکارتے ہوئے گاڑی سے باہر نکلے تو دوسری طرف لینڈ کروزر سے نکلنے والی ایک ادھیڑ عمر ایشین عورت تھی۔ مجھے پورا یقین تھا کہ اگر عورت کی بجائے ڈرائیور مرد ہوتا تو بھیا اس کی ایسی خبر لیتے کہ وہ زندگی بھر کے لیے ڈرائیونگ کرنا بھول جاتا۔ مگر بھیا نے دھیرج رکھتے ہوئے خاتون سے اس کی انشورنس کی تفصیلات طلب کیں تو وہ بحث پر اتر آئی کہ ’’اس ملک میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے کہ اگر میں ریورس گیئر میں کسی گاڑی کو ٹکر ماروں تو میں ہرجانہ بھروں۔ ‘‘ اب تو بھیا کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا۔ ایسی احمقانہ بات سن کر میری تو ہنسی ہی نکل گئی۔

یہ محترمہ کہاں رہ رہی ہیں۔ انگلینڈ یا چیچو کی ملیاں۔ اور جس قانون کا یہ ذکر کر رہی ہیں۔ شاید انہوں نے اپنی کچن کیبنٹ میں بنایا ہے۔ اب تو بھیا کا پارہ بہت اونچائی پر جا رہا تھا۔ ’’قد سے بڑی گاڑی لے کر باہر نکلی ہو ڈرائیونگ تو سیکھ لینی تھی۔ اتنی ٹریفک میں تم ریورس گیئر کس خوشی میں لگا رہی تھیں کیا تمہیں نظر نہیں آ رہا تھا کہ پیچھے گاڑی ہے۔ ‘‘ بھیا اسے بے نقط سنا رہے تھے۔ ’’دراصل آپ کی گاڑی اتنی چھوٹی ہے کہ نظر ہی نہیں آئی۔ ‘‘ عورت نے دلیل پیش کی۔ بجائے کسی قسم کی شرمندگی یا افسوس کے وہ عورت عجیب ڈھٹائی سے باتیں کر رہی تھی۔

بھیا نے مزید انتظار نہ کرتے ہوئے پولیس کو فون کر نا چاہا تو اس عورت نے جھٹ سے پینترا بدل لیا۔ ’’دراصل میرا خاوند ہی انشورنس کے کام کو ڈیل کرتا ہے۔ مجھے اپنی انشورنس کمپنی کا علم نہیں ہے۔ مگر گھر  جا کر آپ کو فون کر کے بتا دوں گی۔ ‘‘ بھیا نے اپنا وزٹنگ کارڈ اسے دیا تو وہ اسے پڑھے پڑھتے چونک سی گئی۔ کنسلٹنٹ سائیکاٹرسٹ ’’تو آپ پاگلوں کے ڈاکٹر ہیں۔ اور مجھے بھی پاگل سمجھ کر مجھ پر چلاّ رہے ہیں۔ میں تو بس گاڑی کو ریورس گیئر میں ڈال کر ٹریفک میں سے نکلنا چاہ رہی تھی کہ آپ سے جا ٹکرائی۔

 ’’مجھے پورا یقین ہے کہ تم ضرور کسی دماغی خلفشار کا شکار ہو وگرنہ ایسی بیہودہ حرکت ٹریفک کے ایسے رش میں۔ کوئی سمجھ دار انسان نہیں کر سکتا۔ ‘‘ بھیا دھاڑے۔ ۔ ۔ ۔ میں نے مسکراتے ہوئے سوچا کہ آج تو واقعی ستارے الٹی چال چل رہے ہیں وگرنہ ایسی بھیڑ میں ریورس گیئر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !

٭٭٭

 

شاہد جمیل (گوجرانوالہ)

زندگی

 

          کُوڑے کے ڈھیر پر بائیں کروٹ کے بل دائیں بازُو اور ٹانگ کو ایل کی شکل میں پھیلا کر بوڑھا ڈیوڈ اس طرح لیٹا تھا جیسے اُس کے پہلو میں جُوس کے خالی ڈبے، بوتلیں، سٹرا، ٹِن  اور پھلوں کے چھِلکے نہیں بلکہ گورے پاؤں والی خود لیٹی ہو -پاؤں کے دُودھیا پنجے سے پھُوٹتی مِلکی روشنی کے انعکاس و انعطاف کے بِیچ نینو سیکنڈ کے کئی لاکھویں حِصّے میں جب وقت اِنفنِٹ ہو کر تازہ چرم کی طرح بان کی چار پائی پر پڑا سُوکھتا تھا، اُس خفیف وقفے کے بِیچ جو برقی پردوں کے باہم متصل ہونے کے درمیان بھی ضرور ہوا کرتا ہے، اُس کی نظر یکسر دُنیا و مافیہا کے معدُوم و معلُوم پر جا پڑی تھی – وہ دِن اور آج کا دِن، آدھے لوگ اُسے زندہ اور آدھے لوگ مُردہ تصور کرتے تھے – جب وہ کُوڑے کِرکٹ اور کباڑ خانوں میں سویا ہوتا تو مکھیاں اُس کے مُنہ پر کالے رنگ کا بیضوی ڈھکنا بنا دیتیں جِسے دیکھ کر آدھے لوگ اُسے مُردہ تصور کرنے میں حق بجانب تھے جبکہ آدھے لوگ جنہوں نے اُسے لنگڑی لات کے ساتھ کبھی منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرتے دیکھا تھا وہ بہرحال اُسے زندہ تصور کرنے پر مجبور تھے – اُس نے اپنے ساتھ ہونے والے واقعہ کے بعد ہمیشہ کیلئے سکول کی نوکری، گھر بار اور دوستوں کو تج دیا تھا – اور اب دُودھیا روشنی کی تلاش میں شہروں شہروں مارا  مارا  پھِرتا تھا – شیر ولِٹ بھی اُس کی تلاش کے کبھی نہ ختم ہونے والے سفر کا ایک پڑاؤ ہی تھی – وہ جِس شخص کا پیچھا کرنا شروع کرتا، پہلے تو وہ شخص اُسے اپنی شس جہات میں موجود پا کر پریشان ہوتا مگر پھر بار بار اُس کی مسکین اور روہانسی شکل دیکھ کر اُس کا ہمدرد بن جاتا – بے ضرر ایسا کہ اُس نے آج تک کِسی عورت کی آنکھوں کو تو کیا اُس کے جِسم کے اُوپری اور درمیانی حِصوں تک کو نہیں دیکھا تھا – اگر اُس کی آنکھیں کبھی بغاوت پر آمادہ ہو بھی گئیں تو وہ زیادہ سے زیادہ کِسی خوبصورت پاؤں پر جا کر رُک جاتیں، پُورا پاؤں بھی نہیں بلکہ اِس کے چوتھائی حِصّے یعنی پنجہ یا پب تک، یا پھر اس سے بھی کم کِسی پیر کے حلقۂ زنجیر سے مشابہ انگوٹھے تک – معدوم نے اپنی لاج چھپانے کیلئے اسے نجوم و شہاب کے اتنے سکے دیئے کہ جنہیں وہ جہاں چاہتا رکھ کر بھُول جاتا – لوگ اُسے سیف زبان اور سیف نظر کہنے پر تُلے ہوئے تھے اور شاید یہی وجہ تھی کہ اُس نے اپنے آپ کو لوگوں سے الگ تھلگ کر لیا تھا – آج وہ شیرولِٹ کا پیچھا کر رہا تھا – شیر ولِٹ عام شکل و صورت کی لڑکی تھی مگر اُس کیلئے شکل و صورت کی اہمیت ہی نہیں تھی، کسی خوبصورت پاؤں سے دُودھیا روشنی کے پھُوٹنے کے امکان کی بات تھی، ایک ایسا امکان جو برق رفتاری سے سمٹتے پردوں کے بیچ وقفے کی حیثیت رکھتا تھا – اِسی موجود مگر ناپید کے تعاقب میں وہ ستاروں اور سیاروں کی ریزگاری نچھاور کرتا ایک سمت کو گھِسٹتا اور گرتا پڑتا چلا جا رہا تھا – لیبارٹری کے مین گیٹ پر پہنچ کر اُس نے اپنے بلیک اینڈ وائٹ چیک والے پھٹے پرانے چکٹ کوٹ کی اندرونی جیب سے محدب عدسہ نکالا – یہ وہی عدسہ تھا جِسے اُس نے خانۂ عدم کی نامعلوم سمت والی دیوار سے اُچک لیا تھا اور جِس سے مشرقی و جنوبی ڈیوون (Devon)  کے لوگ چالیس سے سو میل تک کے رقبے پر پھیلے شیطانی پاؤں کے نشانات پہچاننے پر مصر تھے – شیرولِٹ کے پاؤں کے ابھی نہ پڑنے والے نشان بتا رہے تھے کہ وہ لیبارٹری ہی میں آئے گی – اُسے اب یہ مسئلہ درپیش تھا کہ وہ اندر کیسے جائے کیونکہ سکیورٹی گارڈ نے اُسے جب زمین پر بیٹھ کر عدسے سے کچھ دیکھتے پایا تو اُسے دیوانہ جان کر ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگا – ایک دم اُسے عدم کے فرش پر ڈھیر ہوا سیاہ مادہ یاد آ گیا – یہ ڈارک میٹر سیکورٹی گارڈ کی کائنات کا ستّر سے اسّی فیصد تھا مگر سیکورٹی گارڈ اس کو دیکھنے سے قاصر تھا، سیکورٹی گارڈ کی بے بسی کا سوچ کر اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ عود کر آئی اور اُس نے ہاتھ لمبا کر کے مادہ سیاہ کی ایک چٹکی بھری اور اپنے اُوپر چھڑک لی – اب وہ لٹک لٹک کر چلتا ہوا سیکورٹی گارڈ کے عقب سے لیبارٹری میں داخل ہو رہا تھا مگر سیکورٹی گارڈ کو اُس کی کانوں کان خبر نہ تھی – وہ اِسی حالت میں ڈاکٹر واٹسن کو گھُورتا ہوا تھوڑ ی دور پڑے لیدر کے صوفے میں دھنس گیا –

         نیو یارک، اکتوبر۲۰۰۷، پہلا ہفتہ، درجہ حرارت ۷ ڈگری سینٹی گریڈ، آب و ہوا! وہی بوجھل اور نم جو ساحلی اور جنگلاتی علاقوں کی ہوا کرتی ہے – وہ یعنی جیمز ڈیوی واٹسن نیو یارک کے ایک گاؤں لورل ہالو کی کولڈ سپرنگ ہار برلیبارٹری کے ایک وسیع کمرے میں اپنے سامنے بچھی لکڑی کی میز پر پڑے عمدہ پلاسٹک اور ایلومینیم تار سے بنے اُس ماڈل کو اُوپری اور ظاہری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا  جِسے وہ ہمیشہ دل کی نگاہوں سے دیکھتا آیا تھا – یہ ایک غیر معمولی بات تھی اور اِس کی وجہ شیرولِٹ کا صبح سویرے موصول ہونے والا فون تھا – شیرولِٹ ہنٹ گُروبے! دی ٹائمز میگزین کی رپورٹر – اخبار جوائن کرنے سے پہلے وہ مذکورہ بالا تعلیمی و تحقیقی ادارے کے کسی شعبے میں طالبعلم رہ چُکی تھی اور شاید اس انٹرویو کیلئے اُس کا انتخاب ہی اِس بنیاد پر ہوا تھا اور اخبار کے مدیر اور بورڈ کے دیگر تین ممبران نے اُس کے حق میں فیصلہ دیا تھا – دھوئیں کے مرغُولوں کی طرح نیچے سے اُوپر اُٹھتی ہوئی دوہری کمانی (The Double Helix) کی اِس ساخت میں اُس کی جان تھی -پھر اُسے روزی یاد آئی یعنی روز النڈ فرنکلن جِسے وہ بے تکلفی میں روزی کہا کرتا تھا اور پھر اُس کا وہ خط جو پیارے واٹسن سے شروع ہوا تھا اور بہترین خواہشات کی متمنی پر ختم ہوا – یہ صرف خط نہیں تھا بلکہ ایک ایکسرے محسوس ہوتا تھا جِس میں روزی اپنی آنکھوں سے مُسکرا رہی تھی جبکہ وہ یعنی ڈاکٹر واٹسن اپنے لمبے قد کے نصف تک شرمندگی سے جھُکا ہوا تھا – پھر ایک دم ایکسرے شیٹ میں ارتعاش پیدا ہوا اور جیسے ہی یہ کڑکڑاتی شیٹ سیدھی ہوئی ریمونڈ گو سلنگ بھی منظر میں داخل ہو گیا – شاید وہ روزی کی وجہ سے یہاں آیا تھا – روزی جِدھر بھی جاتی اُس کے قدم خود بخود اُس جانب اُٹھنا شروع ہو جاتے – وہ اُس کاپی ایچ ڈی سٹوڈنٹ بھی تھا اور اُس کی عقیدت بھری محبت کا شکار بھی – اس نے محبت کی اِس راہ میں فقط سوچنا اور اپنے ریسرچ ورک میں مصروف رہنا سیکھا تھا – وہ خود بھی بہت حیران تھا کہ اُن کی عمروں میں زیادہ فرق نہ ہونے کے باوجود اُس نے کبھی روزی کے بارے میں عورت کے نقطہ نظر سے نہیں سوچا -اِس کی ایک وجہ تو شاید یہ تھی کہ جب انسان کے پاس سوچنے کیلئے بڑے خیال اور کرنے کیلئے بڑے کام موجود ہوں تو اُس کا میلان ہیچ اور اوسط کاموں کی طرف راغب نہیں ہوتا اور دوسری وجہ اُستاد اور طالبعلم کا وہ فطری رشتہ کہ احترام جِس کا جزو لاینفک ہے – اور پھر وہ چالاک، اپنی خفّت ملی عیار ہنسی کو اپنے ہونٹوں میں بھینچتا ہوا مورس و کنز- اگرچہ اُس کی وفاداری کے سبب واٹسن اور کرِک نے اُسے نوبل لوریٹس میں شامل تو کروا دیا تھا مگر وہ اِاس ایکسرے شیٹ میں داخل ہونے سے قاصر تھا – یہ چھوٹی  سی شیٹ اُس کیلئے اجنبی باگھ کی راجدھانی سے کم نہ تھی – اُسے یوں لگتا تھا کہ اگر اُس نے اِس راجدھانی میں قدم رنجا ہونے کی کوشش کی تو اجنبیت کی مہک کے بھبھوکے اُسے اُڑا کر دور پھینک دیں گے – وہ اپنے تئیں کنارے ہی کنارے پشیمان کھڑا اُن لمحات کو کوس رہا تھا جب اُس نے روزی کے گھر میں اُس کی دراز سے انکسارِ امواج کے ایکسرے حقائق برائے ڈی این اے (X-Ray Diffraction data of DNA) چُرا کر جُوں کے توں واٹسن اور کرِک کی خدمت میں پیش کر دیئے تھے – کتنی تکلیف ہوئی ہو گی بیچاری  روزی کو کہ ایک جانب اووری میں چھُپی بیٹھی کینسر جیسی مُوذی بیماری کی صعوبت اور دوسری جانت خام آلات کے ذریعے مہینوں اور سالوں کی محنت سے حاصل کئے گئے حقائق (Data) کا زیاں – اب تو شاید وکنز کے عرق انفعال کے قطروں کی مہک واٹسن تک بھی پہنچ چکی تھی کہ اُس نے بھی ایکسرے شیٹ کے منظر سے باہر نکلنے میں ہی عافیت محسوس کی –

        واٹس کا خیال ایک بار پھر شیرولِٹ کے صبح سویرے موصول ہونے والے فون کی طرف لوٹ گیا -دوپہر ہونے کو آئی تھی اور اب وہ کِسی بھی وقت اُس سے انٹرویو لینے پہنچ سکتی تھی – پھر اچانک اُس کے دِل میں فکر مند کر دینے والا یہ خیال پیدا ہوا کہ جانے وہ اُس سے کِس طرح کے سوالات پُوچھے مگر جلد ہی اُس نے یہ بھی دریافت کر لیا کہ وہ دراصل اُس کی طرف سے پوچھے جانے والے سوالات کی وجہ سے پریشان نہیں تھا بلکہ وہ تو اُس جواب کی وجہ سے پریشان تھا جو وہ اپنی سٹیٹ منٹ کے طور پر اُس کو ریکارڈ کروانے والا تھا – اب اُس کی یاد میں اُس کے ذہن کے سوفٹ بورڈ پر تھمب پِن سے لٹکی سابقہ سٹیٹ منٹس گھوم گئیں جن کی بنا پر اُسے پہلے ہی بین الاقوامی طور پر کافی مخالفت کا سامنا تھا -اُس کے ذہن کے سوفٹ بورڈ کے دائیں اُوپری کونے میں تھمب پِن سے جو سٹیٹ منٹ اٹکی ہوئی تھی وہ اُسے غور سے پڑھنے لگا – وہ کئی بار اپنے لیکچروں میں جینیاتی انتخاب(Genetic Screening) اور جینیاتی انجینئرنگ (Genetic Engineering) بارے دلائل دے چکا تھا اور اُس کی دانست میں گھامڑ پن(Stupidity) ایک بیماری تھی اور دس فیصد گھامڑ ترین لوگوں کا علاج(Cure) ضروری تھا – اُس کا یہ بھی خیال تھا کہ خوبصورتی کو جینیاتی انجینئرنگ کے ذریعے پیدا کیا جا سکتا ہے جبکہ عُرف عام کا یہ کہنا تھا کہ اگر دنیا میں تمام لڑکیاں ہی خوبصورت ہو گئیں تو یہ دنیا اور فطرت کیلئے تباہ کُن ہو گا جبکہ اُس کے خیال میں ایسا ہونا دنیا اور فطرت کیلئے بہت اچھا تھا – اُس کا یہ بیان جلی حروف میں شائع ہوا تھا کہ اگر ہم اُس جین کا پتہ لگا لیں جو جنسیات سے متعلق ہے تو پھر ایک خاتون کو ہم جنس میلان والے بچے کی طرح موافق جنس میلان والے بچے کو بھی پیدا نہ کرنے کا اختیار  سے مشابہہونا چاہیئے- اخبار والوں نے تو خیر حسبِ توفیق و عادت اُس کے اِس بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا تھا جِس کی بنا پر علم الحیات کے ماہر رچرڈ ڈاؤ کنز کو اس کی تشریح بھی کرنی پڑی تھی تا ہم اس کا لُب لباب یہی تھا- موٹاپے کے مسئلے پر اُس کا داغا گیا بیان بھی تو یہیں کہیں اُس کے ذہن کے سوفٹ بورڈ پر تھمب پِن سے جھُول رہا تھا جِس میں اُس نے کہا تھا کہ آپ جب کبھی بھی موٹے لوگوں کا انٹرویو کرتے ہیں تو اچھا محسوس نہیں کرتے کیونکہ آپ یہ جانتے ہوتے ہیں کہ آپ اُنہیں محنتانے پر رکھنے والے نہیں – بورڈ پر انتہائی بائیں جانب۲۰۰۰ء کی اُس کانفرنس کی رپورٹ بھی لگی ہوئی تھی جس میں اُس نے جلد کی رنگت اور جنسیات کے باہمی تعلق کو بیان کرتے ہوئے اپنے اِس مفروضے کا اظہار کیا کہ گہری رنگت کے لوگوں میں جنسی شہوت زیادہ ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آپ نے لاطینی عاشق توسُنے ہونگے مگر انگریز عاشق نہیں ۔۔بوڑھا ڈیوڈ اپنی ٹیڑھی میڑھی ٹانگیں صوفے پر سمیٹے واٹسن کے ذہنی و فکر ی تذبذب سے محظوظ ہو رہا تھا اور دفعتاً اُس کا خیال عدم کی بے چھت سے بغیر زنجیر جھُولتے اُن جوابات کی طرف لوٹ گیا جو انسانی ذہن سے متعلق اُن سوالات پر مبنی تھے ہنوز جن کا جواب مٹی گارے سے بنی دنیا کے تیز ترین دماغوں سے اوجھل تھے – جوابات تو عجیب تھے ہی، سوالات بھی بظاہر کم عجیب نہ تھے – مثلاً یہ کہ دماغی عمل میں معلومات کی کوڈنگ کیسے ہوتی ہے، یادداشتیں کیسے محفوظ اور پنہاں ہوتی ہیں، انسان کی حالت آرام میں دماغ کیا اور کیسے عمل کرتا ہے، دماغ مُستقبل کے بارے میں کیسے سوچتا ہے، جذبات کیا ہیں، ذہانت کیا ہے، دماغ میں وقت کا اظہار کیسے ہوتا ہے، دماغ کیوں سوتا اور خواب دیکھتا ہے، دماغ کے مختلف نظام ہائے کار آپس میں کِس طرح منسلک ہوتے ہیں اور یہ کہ شُعور یت ہے کیا؟ جوابات والے چمچماتے مخطُوطے پڑھتے پڑھتے اُس کی آنکھیں چُندھیا گئیں اور اُس نے اپنے آپ کو بجلی سے زیادہ رفتار کے ساتھ کائنات کی ا تھاہ گہرائیوں میں گرتے محسوس کیا، وہ شاید گرتا ہی چلا جاتا یا پھر برمودہ مثلث میں گر کر ہمیشہ کیلئے غائب ہو جاتا اگر اُس کا ہاتھ سات سو پاؤنڈ کے رُکے ہوئے سیلنگ سٹون (Sailing Stone) میں نہ پڑ جاتا – واٹسن ابھی اپنے بیانات کی اُدھیڑ بُن میں اُلجھا تھا کہ اُسے دور سے لیبارٹری اٹنڈنٹ کی کسی خاتون سے خفیف سی گفتگو سنائی دی اور ساتھ ہی ہیل کی ٹِک ٹِک، اُس نے سوچا وہ آ گئی اورساتھ ہی نِکٹائی درست کرتے ہوئے میز کی دوسری جانب کرسی پر جا کر بیٹھ گیا –

        شیرولِٹ کے ہونٹوں پر بکھری مسکراہٹ اور اُس کی آنکھوں کی چمک اِس بات کی غماز تھی کہ وہ واقعی بہت خوش تھی – دنیا کی عظیم شخصیات کے انٹرویو کرنا اخبارات والوں کیلئے ہمیشہ سے کریز کا باعث رہے ہیں اور آج اُس کا یہ کریز پورا ہونے جا رہا تھا – اگرچہ اُس نے اِس انٹرویو کیلئے بہت تیاری کی تھی اور جینیاتی سائنس، مالیکیولر بیالوجی، زوالوجی، مقیاس الذہانت اور نسل اور ذہانت کے باہمی تعلق بارے حتی الوسع مطالعہ بھی کیا تھا – اِس کے ساتھ ساتھ اُس نے سوالات کی ایک لمبی مگر محتاط لِسٹ بھی تیار کی تھی اور سائنسی الفاظ و تراکیب کی شارٹ ہینڈ رائٹنگ کی پریکٹس بھی کی تھی – اُس کی تمام تیاری مگر اُس وقت دھری کی دھری رہ گئی جب واٹسن نے اُسے کہا کہ وہ آج کے انٹرویو میں سوالات کے جوابات دینے کی بجائے اپنی Perceptionسے متعلق گفتگو کرے گا اور گفتگو کے آخر میں Concluding statement ریکارڈ کروائے گا – شیرولِٹ کیلئے انٹرویو کا یہ انداز قدرے سہل تھا اور وہ گفتگو کو ٹیپ ریکارڈ رمیں ریکارڈ کرنے کے ساتھ شارٹ ہینڈ میں آسانی سے لکھ سکتی تھی – اِس سے پہلے کہ واٹس اپنی گفتگو کا آغاز کرتا، ڈیوڈ کی نظر گھُومتی گھماتی شیرولِٹ کے پیروں پر جا پڑی، جھنجھلاہٹ میں وہ زیر لب بڑبڑایا— دھت تیرے کی، شیرولِٹ نے نہ صرف یہ کہ بند جوتے پہنے ہوئے تھے بلکہ اُس کے ٹخنوں پر سکن کلر کے موزے بھی دکھائی دے رہے تھے – ڈیوڈ کی سعی سفر آغاز سے قبل ہی انجام تک پہنچ گئی تھی – وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا، اُس نے اِسی میں عافیت محسوس کی کہ وہ اپنے کانوں پر بڑی سماعتی ریڈیو دُور بین (Big Ear Radio Telescope) چڑھا لے جِس پر جیری آراہمن نے بُرج قوس کے قریبی ستاروں سےWOWکا سگنل سُنا تھا – اُسے TAOS HUMمیں دلچسپی نہ رہی تھی جب سے وہ اِن کے زمینی Low Pitchشور کی بجائے عدم کے لا محدود صحرا میں ان کی High Pitch دھڑ دھڑ سُن چکا تھا – اُس نے اپنے دونوں ہاتھ کانوں پر رکھے اور صوفے پر کروٹ لے کر لیٹ گیا – اب واٹسن گویا ہوا، میرا فوکس آج نسل اور ذہانت کے موضوع پر ہو گا – ڈی این اے کے دوہری کمانی والے سٹرکچر کو وضع کرنے کے دوران مذکورہ موضوع میرے زیرِ مطالعہ رہا – اپنے اصل بیان تک پہنچنے کیلئے مجھے اس موضوع کے پس منظر، اِس کی تاریخ اور متعلقات پر تفصیلی بات کرنا پڑے گی – اور ڈیئر  شیرولِٹ آپ کو اِن تمام تر تفصیلات کو سننے کی زحمت گوارا کرنا پڑے گی، اِس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں، آئی ایم سوری! شیرولِٹ نے کہا، نوسر! Its OK، آپ اپنی بات جاری رکھیں، میں آپ کی ساری باتیں سننے کیلئے ہمہ تن گوش ہوں – ڈاکٹر نے کہا ویل! تو میں اپنی بات شروع کرتا ہوں – نسل اور ذہانت کے باہمی تعلق پر مباحث کا آغاز آج سے ٹھیک ایک سو سال پہلے اُس وقت ہوا جب مقیاس الذہانت (Intelligence Quotient) عمل میں آیا – امریکہ میں مقیاس الذہانت کیلئے کئے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ افریقی نسب کے لوگوں کا اوسط سکوریورپ نسب کے لوگوں سے بہت کم ہے – اِسی طرح یہ کہ مشرقی ایشیاء کے لوگوں کی ذہانت کا لیول یورپ کے لوگوں سے بہت زیادہ ہے – نسلی ذہانت کا یہ فرق پوری طرح اپنے وثیقہ کے ساتھ محفوظ ہے مگر یہ بات الگ ہے کہ ریسرچرز اِس کی وجوہات بارے متفق نہیں ہو سکے – اِس ضمن میں یعنی اِن وجوہات سے متعلق اب تک چار قسم کے جائزے دنیا میں موجود ہیں – پہلا یہ کہ لوگوں کی ذہانت کے مابین فرق حقیقی ہے اور اِس کی وجوہات ماحولیاتی اور وراثتی فرق کی پیدا کردہ ہیں – دوسرا یہ کہ قوموں اور نسلوں میں اُن کی ذہانت اور قابلیت کے حوالے سے واضع فرق موجود ہے تا ہم اِس کی وجوہات معاشرتی اور ماحولیاتی عناصر کی مرہون منت ہیں – تیسرا خیال یہ ہے کہ کسی نسل اور ذہانت کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے اور ذہانت معلوم کرنے کیلئے جو طریقہ ہائے کار وضع کئے گئے ہیں وہ از خود ناقص ہیں – چوتھا خیال یہ ہے کہ نسل اور عام ذہانت کے تصورات بذات خود ناقص ہیں اسلئے نسلی یا گروہی تقابل بذاتِ خود بے معنی ہے –

           واٹسن اپنے دونوں ہاتھوں کی پوروں کو آپس میں ملاتے ہوئے بظاہر تو شیرولِٹ کی طرف دیکھ رہا تھا مگر اُس کا دماغ کسی گہری سوچ میں پڑا ہوا تھا کہ لیب اٹنڈنٹ نے اُن کے سامنے بلیک کافی کے دو مگ اور کچھ سینڈ وچ لا کر رکھ دیے – کافی کا مگ دیکھتے ہی شیرولِٹ نے کاپی پنسل ایک طرف رکھ دی اور ٹیپ ریکارڈر کا بٹن آف کر دیا- وقفے کے دوران اُن کے درمیان ہلکی پھلکی غیر رسمی گفتگو جاری رہی – شیرولٹ نے ڈاکٹر سے ان کی بیوی الزبتھ اور بیٹوں رُوفس اور ڈنکن بارے معلوم کیا جبکہ ڈاکٹر نے اُس سے اُس کی صحافتی مصروفیات بارے معلومات حاصل کیں – ڈاکٹر نے ہاتھ کے اشارے سے اپنی گفتگو دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ دیا اور بولا، امریکی ماہرین نفسیات کی تنظیم کا یہ کہنا ہے کہ اگرچہ مختلف نسلی گروہوں کے درمیان اُن کی ذہانت کے حوالے سے واضع فرق موجود ہے لیکن اِس کی وجوہات سے متعلق نہ تو کوئی ماحولیاتی توضیع موجود ہے اور نہ ہی کوئی ایسا تجرباتی و مشاہداتی مواد موجود ہے جِس کی بنیاد پر اِسے جینیاتی توضیع سے منسوب کیا جا سکے – یہاں مجھے اختلاف ہے کہ کیا اب جینیاتی توضیعات نفسیات دان کیا کریں گے – امریکی علم الانسان ( Anthropology) کے ماہرین کی تنظیم کا بھی یہ کہنا ہے کہ جانداروں کے علم حیاتیات کے مطابق واضع گروہوں میں مروجہ تقسیم کے مطابق اُن کی ذہانت کے فرق کو صراحت کے ساتھ بیان نہیں کیا جا سکتا – شیرولٹ نے نہایت ادب سے ڈاکٹر کی بات کو کاٹتے ہوئے کہا کہ یوں لگتا ہے جیسے آپ کی بات کا مرکز و محور مقیاس الذہانت ہے – اِس ضمن میں میں آپ کی توجہ مقیاس الذہانت کے مُوجد الفریڈ بائنٹ کے اُس بیان کی طرف مبذول کروانا چاہوں گی جس میں انہوں نے اپنے مقیاس کے استعمال سے متعلق یہ بھی واضع کیا کہ اِن ٹیسٹوں کو مادر زاد (Innate) ذہانت معلوم کرنے کیلئے استعمال نہ کیا جائے اور نہ ہی لوگوں کو لیبل کرنے کیلئے استعمال کیا جائے – ڈاکٹر اُس کی بات سُن کر سٹپٹا گیا – اُسے شاید اندازہ نہیں تھا کہ وہ اُس کے انٹرویو کیلئے اِس قدر تیاری کر کے آئی ہو گی – اُس نے اُس کی سنجیدہ بات کو ہنسی میں ٹالنا چاہا، کہنے لگا ہاں بھئی! وہ بھی تو ایک اِنسان ہی تھے اور اِنسانوں کی بے شمار ادیانی، اخلاقی، نفسیاتی اور معاشرتی مجبوریاں بھی ہوتی ہیں – میں یہ سمجھتا ہوں کہ اِنسانوں کی ذہنی صلاحیتوں کے فرق کو سامراجی نظاموں، لوگوں کو غلام بنائے رکھنے اور سوشل ڈارونزم کیلئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا، پھر جنگ عظیم اول میں مشرقی و جنوبی یورپ کے لوگوں کی انگریزی زبانی سے متعلق مشکلات و مسائل کو مد نظر رکھے بغیر اُنہیں امریکہ کے جنمی (Native) لوگوں سے ہیچ قرار دے دیا گیا – مگر میرا مطلب اور مقصد یہ نہیں ہے، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جینیاتی طور پر یہ فرق موجود ہے اور جینیاتی طور پراِسے Cureکیا جا سکتا ہے-

         اِس میں کوئی شک نہیں کہ۱۹۲۰ء سے لے کر ۱۹۳۰ء کے عرصے میں مفکرین اور سائنسدانوں نے عمدہ نسلِ انسانی پیدا کرنے کے علم(Eugenic) کو نسل اور جینیات سے منسوب کرنے کو یکسر مُسترد کر دیا اور بعد ازاں انہیں بنیادوں پر امریکی سپریم کورٹ نے متفرق پبلک سکولوں کے نظام کو ختم کر کے غریب افریقی طالبعلموں کیلئے ترجیحی تعلیمی پروگرام وضع کرنے کا کہا، یہ غالباً۱۹۵۴ء کی بات ہے –

    سب کچھ دُرست جا رہا تھا، پھر بھائی آرتھر جینسن نے اپنے مضمون میں پھر اس بحث کو اُجاگر کر دیا اور افریقی امریکن بچوں کی تعلیم سے متعلق اُس نے کہا کہ اُن کی بری پرفارمنس اُن کے جین کی وجہ سے ہے نہ کہ اُن کے گھریلو کم تعلیمی ماحول کی وجہ سے – اُس کے اِس بیان نے درسگاہی نظام میں پھر سے نئے تضاد کو جنم دیا – پھر اِس کے بعد تو یہ سلسلہ چل نکلا – آپ کو مارک سِنڈر مین اور سٹینلے رُتھمین کی کتاب  The IQ Controversyتو یاد ہی ہو گی، زیادہ دُور کی بات نہیں، ۱۹۸۸ء کی کتاب ہے بھئی جِس میں چھ سو نفسیات دانوں، معاشرتی علوم کے ماہرین اور ماہرین تعلیم سے سروے کیا گیا اور ان میں سے پینتالیس فی صد نے اِس رائے کا اظہار کیا کہ کالے گورے کی ذہنی صلاحیت کے فرق میں جینیاتی اور ماحولیاتی دونوں عناصر کارفرماہیں – اِسی طرح The g Factor, The Bell curveجیسی کتابوں نے بھی موروثیت کے نقطہ نظر کو پروموٹ کیا – اب ڈاکٹر نے ایک لمبی سانس لی، یُوں لگتا تھا جیسے مسلسل بولنے کی وجہ سے اُس کی سانس پھُول گئی ہو – اُس نے کچھ دیر کُرسی  پر بیٹھے بیٹھے سستانے کے انداز میں اپنے بازوؤں اور گردن کو ڈھیلا چھوڑ دیا اور جلد ہی شیرولِٹ کی طرف متوجہ ہو گیا -ہاں تو اس ساری گفتگو کے بعد میں اس بابت اپنا Point of viewآپ کے سامنے رکھتا ہوں، آپ اِس کو میرا بیان بھی کہہ سکتی ہیں ! "میں اندرونی طور پر افریقی امکان پر بہت رنجیدہ ہوں کیونکہ ہماری تمام معاشرتی پالیسیاں اِس بات پر بنیاد کرتی ہیں کہ ہم سب کی ذہانت ایک جیسی ہے جبکہ تمام مقیاس (Testing) کہتی ہے کہ نہیں، اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اِس Hot Potato کا حل انتہائی دشوار ہے – میری یہ امید اور خواہش ہے کہ ہر کوئی برابر ہے مگر یہ مشاہدہ اور تجربہ بھی کہ جو لوگ کالے ملازمین کے ساتھ ڈِیل کرتے ہیں اُن کیلئے یہ دُرست نہیں "- ڈاکٹر نے اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا تھا اور اب وہ قدرے مخمصے کے انداز میں اپنی کُرسی پر اِدھر اُدھر پہلو بدل رہا تھا – ڈیوڈ بھی صوفے پر ایک دم جھٹکے سے اُٹھ کر بیٹھ گیا اور واٹسن کی طرف دیکھتے ہوئے گنگنانے کے انداز میں بولا، ماں پر پُوت پِتا پر گھوڑا، بُہتا نئیں تو تھوڑا تھوڑا – اُس کے دماغ میں پھر سوالات کی ایک چین چل پڑی، کیا تھیوری آف ایوری تھنگ کا وجود ممکن ہے، سیاہ مادہ(Dark Matter)  کیا ہے، کشش ثقل کی مزید بہتر تھیوری کیا ہو سکتی ہے، بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کے تناظر میں کولڈ فیوژن کی کامیابی کے امکانات کیا ہیں – اُس نے اپنے سر کو زور سے جھٹکا اور ٹھنڈی آہ بھرتا اپنی نامعلوم منزل کے سفر پر روانہ ہوا – شیرولِٹ ایک بار پھر پنسل کاپی ایک طرف رکھتے ہوئے اور ٹیپ ریکارڈر کا بٹن بند کرتے ہوئے یہ سوچ رہی تھی کہ ڈاکٹر اگر اپنے مشاہدے و تجربے کو معاشرتی ارتقاء کے تناظر میں بیان کرتا تو کتنا ہی اچھا ہوتا مگر شاید وہ یہ سہرا ڈارون کے سر نہیں باندھنا چاہتا تھا-یُوں بھی ڈاکٹر کو ہر اِنسان کی طرح اپنے سر پر نئے نئے سہرے سجانے کا بہت شوق تھا – اِنسانی چہروں پر بندھے کئی سہروں کی سُنہری اور سیمیں لڑیوں سے منعکس ہوتی روشنی نے ایک لمحے کو شیرولِٹ کی آنکھیں چُندھیا دیں اور وہ واپس جانے کیلئے اُٹھ کھڑی ہوئی-

٭٭٭

 

ہرستجگنو)            جاز عبیدمدیر ارشد خالد

نصر ملک  (کوپن  ہیگن، ڈنمارک)

کیفے بہشت

        لوگو بھول جا ؤ۔ ۔ ۔ ۔

        بیوی کے ساتھ تنازع و شوریدہ سری اور بچوں کے ساتھ غصہ اور تو تکار سب فراموش کر دو۔ ۔ ۔ ۔

        ۔ ۔ ۔ ۔ قابل ادائے گی بِل، بنک کا قرض اور اس پر سود اور پھر اِس سود پر سود اور وہ اِن سب کی ادائے گی کی آخری حتمی منحوس تاریخیں، سب کچھ بھول جاؤ، لیکن کیسے؟ یہی تو وہ سب عوامل ہیں جو ایک چھوٹے آدمی کو بالکل بے یار و مددگار بنا دیتے ہیں اور وہ بے بس ہو جاتا ہے اور اپنے آپ کو ایک مکھی کی طرح،  وبِ عنکبوت میں پھنسا ہوا پاتا ہے۔

        وہ، امداد کے لیے درخواستوں کو رد کر دیا جانا بھول جائے اور سماجی سرکاری اداروں کی جانب سے اپنے لیے کسی بھی قسم کی مدد کی امید کی توقع نہ رکھے، کیا وہ ایسا کر سکتا ہے؟ ایک گھنٹے کے لیے ہی سہی یا پھر ایک دن یا ایک شام کے لیے!کیا وہ ایسا کر سکتا ہے!!کیا وہ واقعی میں اِن سے فرار حاصل کر سکتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ نشے میں دھت فرار جو کہ دماغ اور دانتوں دونوں کو جکڑ لیتا ہے۔ آگ، الاؤ کی صورت اختیار کر کے حقیقت کے روپ میں جب سامنے ہو تو پہلے ہی سے تھکا ہارا فرد تنگدستی و خستگی اور زبوں حالی کے شکنجے کی گرفت سے کیسے بچ سکتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ان سبھی کے ذہنوں میں یہی کچھ تو انھیں حواس باختہ کر رہا تھا۔

        وہ سبھی کیفے میں ایک چھوٹی سے میز کے اردگرد بیٹھے اپنے اپنے سگار، پائپ یا سگریٹوں کے کش لگاتے دھواں پھیلا رہے تھے۔

        ان میں سے کچھ ادھم مچانے والے،  کچھ بہت ہی خاموش طبع اور کچھ تنک مزاج، مشتعل کرنے اور بڑے زود حس قسم کے تھے۔ ۔ ۔ اس حد تک مشتعل کر دینے والے کہ وہ کسی معمولی سی بات پر بھی تب تک ہنگامہ کرنے کا موقع جانے نہیں دیتے تھے  جب تک کہ شراب  و الکوحل ان کے ذہنوں میں ابھرنے والی ان کی سوچ و فکر کو آسیب زدہ نہ کر دے اور وہ اپنے تمام محسوسات، اپنی سبھی نا امیدیوں و مایوسیوں اور قرضہ جات کی لمبی فہرستوں اور قرض خواہوں کے خوف کو تلخ شراب کے گھونٹوں سے حلق کے نیچے نہ اتار لیں۔ اور اس کے ساتھ ہی ان کے ہونٹوں پر نغمہ زندگی پوری تب و تاب کے ساتھ سرخ گلابوں کی طرح رنگ بکھیرنا شروع نہ کر دے۔

        پیٹر ہرکارے نے کیفے بہشت کا دروازہ کھولا اور ایک لمحے کے لیے دہلیز ہی پر کھڑے کھڑے ایک لمبی سانس لی۔ شراب کی بو اور سگاروں و سگریٹوں کے دم گھونٹ دینے والے دھوئیں نے اس کا استقبال کیا۔ ۔ ۔ ۔ اسے ایک کونے سے  ’’  بلئرڈ ‘‘ کے گولوں کے ایک دوسرے سے ٹکرانے کی آواز اور ساتھ ہی بلئرڈ کھیلنے والوں کے ہوہا کا شور سنائی دیا۔ ۔ ۔ ۔  بلئرڈ کا ایک گولا اسی کونے میں رکھے ہوئے ایک  پیانو پر جا گرا۔ ۔ ۔ ۔  پیٹر میزوں کے درمیان سے اپنے لیے رستہ بناتے ہوئے بوفے (کھانے)کی لمبی میز تک جا پہنچا جہاں اس نے کچھ  ’’تصویری جریدے ‘‘  رکھے اور وہاں کھڑے ہوئے کیفے کے مالک سے کچھ جملوں کا تبادلہ کیا۔ پیٹر کی آج کی ڈیوٹی کا وقت اب ختم ہو گیا تھا اور وہ اخباروں و رسالوں وغیرہ کے پیکٹ تقسیم کر چکا تھا۔

        ایک دوسری میز جہاں ابھی تک کوئی کھانا وغیرہ نہیں چنا گیا تھا، وہاں ایک آدمی بیٹھا، اپنی بائیں آنکھ کو پوری شدت کے ساتھ ملتے ہوئے ناراض اور غصے میں دکھائی دے رہا تھا۔ پیٹر اپنی میز کو ایک طرف دھکیلتے ہوئے اس کے قریب پہنچ کر رکا،  ’’کیا تمھاری آنکھ میں کوئی شے پڑ گئی ہے، اولسن؟ ‘‘  اس نے پوچھا۔

        ’’ہاں، کیا تم سمجھتے ہو کہ میں محض اپنی خوشی کے لیے اپنی آنکھ کو یوں مل رہا ہوں !کاش مجھے معلوم ہوتا کہ یہ منحوس شیطانی صورت کہاں سے آئی ہے؟ ‘‘  اولسن ابھی تک اپنی بائیں آنکھ مل رہا تھا۔

        ’’شیطانی صورت!۔ ۔ ۔ ۔ کیا یہ اتنی ہی بری ہے؟ ‘‘۔

        ’’ہاں، بالکل، یہ ایسی ہی ہے اور اگر تم جھینگے یہاں سے دور نہیں ہٹ جاتے ہو تو میں تمھیں لات مار کر دروازے سے باہر پھینک دوں گا۔ ۔ ۔ ۔  میں تم اور سبھی دوسروں سے سخت بیزار و تنگ ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

        ’’اوہ ہو ایک ہی بار یہ سب کچھ کہنا تو کسی بھی لحاظ سے ہرگز کم نہیں ہے‘‘۔

        ’’بکواس بند کرو، کیڑے!‘‘۔

        ’’ ارے اولسن، تم  تو ہمیشہ ہی سے ایک اچھے مہربان آدمی ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

        ’’جہنم کے کیڑے! شیطان کے چیلے!!تم کسے اچھا و مہربان کہہ رہے ہو؟ اگر یہ میں ہی ہوں تو تم اپنے کہے پر توجہ دو!‘‘۔

        ’’ہاں، لیکن یہ سب کچھ تو بس میرا مہربانہ و دوستانہ انداز تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

        ’’میں تمھیں مشورہ دیتا ہوں کہ اگر تم چاہتے ہو کہ تمھاری دونوں آنکھیں سلامت رہیں تو پھر اپنا یہ دوستانہ و ہمدردانہ انداز اپنے تک ہی رکھو‘‘۔

        ’’اولسن، سنو! تم میرے ساتھ ناراض ہو۔ تمھیں فیصلہ کرنا چاہیئے کہ تمھارے دماغ میں یہ کرچ کہاں سے آئی ہے؟ یہ جو کچھ تم نے کہا یہ ایک الزام ہی نہیں سنگین دھمکی بھی ہے۔ تم ایک خاص ذہن والے آدمی ہو لیکن تم اس سے کام نہیں لیتے ہو، تمھیں تو پادری کے طور پر کام کرنا چاہیئے۔ بلکہ تمھیں لاٹ پادری کے معاون کے طور پر کلیسائی امور چلانے کا کام کرنا چاہیئے، تم تو تمام جہنمی اشیا کو دیکھ لینے کی قدرتی صلاحیت رکھتے ہو‘‘۔

        ’’احمق!مورکھ کہیں کا!! ‘‘۔

        ’’تم نے احمق کہا؟ یہی تو ثابت کرتا اور امید دلاتا ہے کہ تم  میں کچھ کہنے کا حوصلہ ہے اور تم واقعی میں اپنے بارے میں سمجھداری سے کچھ کہہ سکتے ہو ‘‘۔

        ’’ہاں، ہاں، تم جاؤ، جہنم میں جاؤ!دفع ہو جاؤ!!‘‘۔

        ’’نہیں، نہیں، میرے مہربان اولسن،  بالکل نہیں، میں تو وہاں سے ہو بھی آیا ہوں۔ ہمارا مالک خداوند خدا اتنا مہربان تھا کہ اس نے مجھے وہاں سے واپسی کا ٹکٹ کٹوا دیا۔ اور اگر تم وہاں جانا چاہتے ہو تو تمھارے لیے ایک ٹکٹ کا تو بندوبست کیا ہی جا سکتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

        اچانک کیفے کے ایک دوسرے کونے سے چیخنے چلانے اور شور مچانے کی آوازیں سنائی دیں۔ وہاں دو آدمی اپنی اپنی شراب کے گلاسوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔

        ’’تم پیٹر، تم اُدھر کیا دیکھتے ہو؟ انھیں اپنا کام کرنے دو، وہ شاید خود ہی اِدھر ہمارے پاس آ جائیں ‘‘۔ اولسن گردن گھما کر انہیں دیکھتے ہوئے بولا۔

        پیٹر نے ان دونوں کو ہاتھ سے اشارہ کیا۔

        ’’میں آتا ہوں !، پیٹر بولا۔  میرے پاس تمھارے لیے ایک لفافہ ہے، تم خبریں تو جاننا ہی چاہتے ہو!‘‘۔

        ’’نہیں، یہ سیاہ لفظوں میں لکھی تازہ بھڑکتی خبریں تم اپنے پاس ہی رکھو لیکن تم چاہو تو ہمارے ساتھ شراب کا ایک گلاس پی سکتے ہو۔ ان میں سے ایک آدمی کیفے کے بیرے کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہوئے بولا۔  ’’ابے تم، بیرے، پیٹر کے لیے ایک گلاس شراب لانا‘‘۔

        پیٹر نے اولسن سے الوداعی مصافحہ کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ ۔ ۔ ۔

        ’’نہیں، شکریہ، اس کی کوئی ضرورت نہیں ‘‘۔ اولسن بولا۔  ’’تمھیں  ’’پیزا ٹاور ‘‘کی طرح جھکنے کی ضرورت نہیں ‘‘۔

        ’’ہاں لیکن ہم ایک دوسرے کو خوش کن انداز میں  خدا حافظ  تو کہہ ہی سکتے ہیں نا!‘‘۔ پیٹر نے اس کی بات کاٹ دی۔  ’’تم میرے کاروبار کو پسند نہیں کرتے نہ سہی، یہ ایک الگ معاملہ ہے‘‘۔

        ’’نہیں، بالکل نہیں، اس کا تمھیں اعتماد رکھنا چاہیئے، ہم کبھی بھی ایک نہیں ہو سکتے۔ یہی ایک ٹیکہ تو نہیں جو تم لیے پھرتے ہو اور جسے تم ایک  بہت بڑی خبر قرار دیتے اور سب کو پیش کرتے ہو۔ تم ہرکارے!‘‘۔

        ’’کونسی بہت بڑی خبر،  تم جسے ٹیکہ کہہ رہے ہو؟‘‘۔

        ’’سنو!، اگرچہ تم خبروں کی منڈی کے سب سے بڑے گروسر ہو لیکن تمھیں یہ تک معلوم نہیں کہ ہمارا خداوند خدا بیروزگار ہو چکا ہے اور شیطان کا کام بہت زیادہ بڑھ گیا ہے ‘‘۔

          ’’نہیں ! یہ تم کیا کہہ رہے ہو، شیطان کا کام بہت زیادہ بڑھ گیا ہے؟ خداوند خدا بیروزگار ہے اور شیطان کے پاس بہت زیادہ کام باقی پڑا ہے، میرے خیال میں یہ اخباروں میں تو نہیں چھپا۔ اس کا یوں کھلے بندوں تو اظہار نہیں کیا گیا لیکن اب میں سوچ سکتا ہوں ایسا کیوں ہے۔ شاید لوگ یہ خبر بین السطور پڑھ ہی لیں گے‘‘۔

        ’’اچھا، تو تم پیٹر، بین السطور ہی پڑھتے ہو!، ہاہا، ہاہا !!‘‘۔

        ’’ہاں، ہاں !، ہمیشہ وہیں تو سب سے بڑی خبر ہوتی ہے‘‘۔

         ’’اچھا تو پھر وہیں دیکھنا شاید تمھیں یہ بڑی خبر وہیں مل جائے کہ ہمارا خداوند خدا بیروزگار ہو چکا ہے!‘‘۔

        ’’نہیں، نہیں، میرے بھائی ایسا نہیں، میں جانتا ہوں کہ ایسا نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

        ’’یہ تم کیسے جانتے ہو؟ ‘‘۔

        ’’یہ تو میں از روئے ایمان کہہ رہا ہوں۔ میں نے صبح کی عبادت کے دوران بچشم تصور دیکھا تھا ‘‘۔

        ’’ہاں میں بھی تو عبادت میں شامل تھا۔ دوسری میز والا ایک آدمی ہاتھ میں شراب کا گلاس تھامے  پیٹر اور اولسن کی میز کے قریب ان کے سامنے کھڑا کہہ رہا تھا۔

        ’’ہاں ہاں، تم اور تمھارا خداوند خدا ایک دوسرے سے اس طرح کا تعلق رکھتے ہو جس طرح کا تعلق تمھارے اور پیٹر کے درمیان ہے‘‘۔ اولسن نے اس آدمی کے ہاتھ میں شراب کے گلاس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پیٹر کو بڑی گہری نگاہ سے دیکھتے ہوئے اسے ایک مسکراہٹ دی۔

        ’’ہاں یہ تو ہے!ہمارا تعلق ایسا ہی ہے جیسا کہ تم نے ابھی کہا ہے۔  اور ہاں میں تم سے یہ پوچھنا تو بھول ہی گیا ہوں کہ کیا تم بھی کبھی اسے کچھ کہنا چاہو گے۔ ۔ ۔ ۔ ؟‘‘

        ’’ہاں، تم اسے میرا سلام کہنا اور اگر وہ مجھ سے کبھی ملنا چاہیئے تو میرا ایڈریس بہت آسان ہے، شاہراہ کہکشاں نمبر ایک، ساتویں منزل۔ ۔ ۔ ‘‘

        ’’کیا میں اسے یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ وہ تمھارے ہاں آ بھی سکتا ہے اور تم اسے خوش آمدید کہو گے؟‘‘

        ’’نہیں !تم اب کچھ زیادہ ہی بولنے لگے ہو، ایسا نہیں ہو سکتا ‘‘۔

            ’’لیکن تمھیں اس کے لیے کوئی خاص  تردد تو کرنا نہیں پڑے گا اور نہ ہی کوئی زحمت اٹھانی پڑے گی‘‘۔

        ’’نہیں، نہیں، پیٹر تم ایک بات اچھی طرح سن لو، میں کبھی کسی کے لیے نہ تردد کرتا ہوں نا زحمت اٹھاتا ہوں اور میرا یہی اصول اس پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ۔ ۔ ۔  جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں، تمھیں اس کی ضرورت بھی نہیں لیکن۔ ۔ ۔ ۔ یہ بھی ہے کہ جب کوئی اس کی صحبت میں بیٹھا ہوا ہو تو وہ خوشی تو محسوس کرتا ہی ہے لیکن کچھ تھوڑی سی خجالت بھی محسوس کرتا ہے، تم سمجھ گئے ہو گے کہ انسان محسوس کرتا اور خوش ہوتا ہے کہ وہ کتنی اعلیٰ صحبت میں ہے لیکن خجالت و ندامت اس لیے محسوس ہوتی ہے کہ انسان یہ بھی سوچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ وہ جس کی صحبت میں ہے وہ اس کے بارے میں کچھ نہ کچھ تو پہلے ہی سے ضرور جانتا ہے حالانکہ اس نے یہ سب کچھ بڑے راز کے ساتھ صرف اپنے تک ہی محدود و محفوظ رکھا ہوتا ہے۔ اور جب انسان اس کی صحبت میں بیٹھا اپنی ان پوشیدہ باتوں کا اظہار کرنے لگتا ہے تو وہ جانتا ہے کہ جس کے سامنے وہ یہ سب کچھ کہہ رہا ہے وہ تو اسے پہلے ہی سے جانتا ہے تو پھر وہ سننے والا اسے دیکھ کر مسکرا دیتا ہے اور یوں پھر وہاں انسان کے لیے کسی خجالت و ندامت کی کوئی گنجائش نہیں رہتی‘‘۔

        ’’ہاں، پیٹر! یہ سب کچھ تمھارے لیے بہت بہتر ہے۔ تم تو ہمارے پروردگار کے بارے میں وہی باتیں کرتے ہو جو دیواروں پر لکھی ہوتی ہیں اور دن کے وقت جنہیں بلدیاتی کارکن چونا پھیر کر مٹا رہے ہوتے ہیں لیکن رات کو وہ پھر دیواروں پر ابھر آتی ہیں۔ لیکن کیا اب تم مجھے ایک بات  کہنے کی اجازت دیتے ہو؟۔ ۔ ۔ ۔ آخر جب وہی ہمارا پروردگار خداوند خدا ہے تو پھر وہ خود کو کچھ نہ کچھ تو ہماری جانب متوجہ کر سکتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ کیا خیال ہے تمھارا؟ ‘‘۔

        ’’ہاں، دیکھا نا، یہی تو ایک فرق ہے ہمارے پروردگار خداوند اور شیطان کے درمیان، کہ شیطان ہر جگہ لعنت برساتا اور فتنہ پیدا کرتا اور ہر جگہ حادثات کو جنم دیتا رہتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ صرف حادثات، صرف یہی کچھ تو ہے جو وہ سر انجام دے سکتا ہے۔ کیا ایک پادری کو اسے روکنا نہیں چاہیئے اور کیا اسے گرجے کے دروازے کی سیڑھیوں ہی سے نیچے نہیں گرا دینا چاہیئے لیکن ایسا ہوتا نہیں۔ ۔ ۔ ۔ پادری تو ایک طرف، خود خداوند خدا دروازے پر منتظر رہتا ہے کہ وہ  شیطان  ’’اندر ہی بند رہے‘‘،   خداوند اِسے یوں دیکھتا ہے کہ یہ فیصلہ خود لوگوں کو کرنا چاہیئے کہ وہ  اسے اپنے اندر رکھیں یا۔ ۔ ۔ ۔ ،  شیطان لوگوں کو غلام بناتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ خداوند خدا غلاموں کو آزاد انسان ہونا دیکھنا چاہتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ کیا تمھیں یہ اتنا بڑا فرق دکھائی نہیں دیتا!میں جانتا ہوں کہ وہ  شیطان کئی بار شاہراہ کہکشاں نمبر ایک، ساتویں منزل پر آیا اور وہاں سے گزرا ہے لیکن اب تم جا ؤ اور اسے آج شام اپنے اندر ہی بند رکھو، یہ تمھارا احسان ہو گا۔ آج کی صحبت کے لیے تمھارا بیحد شکریہ‘‘۔

ادھر دوسری طرف وہ دونوں آدمی اپنی میز پر بیٹھے ابھی تک سگاروں سے دھواں پھینک رہے تھے۔ ۔ ۔ ۔

ان میں سے ایک بولا، ’’آج پیٹر کے ساتھ اچھی ہوئی۔ ۔ ۔ ۔ وہ اپنے آپ کو کچھ کم نہیں سمجھتا، اور پھر ایک ہرکارے کے حیثیت میں تو وہ سمجھتا ہے کہ وہ ایک غیر معمولی فرد ہے جو ہر ایک سے آشنا ہے اور سب کچھ جانتا ہے‘‘

       ان دونوں کے شراب کے گلاس خالی پڑے تھے اور پیٹر ان کے قریب کھڑا انہیں دیکھتے ہوئے مسکرا رہا تھا۔

 ٭٭

     ایک فلسفی نے سٹرک کے خاکروب سے کہا:’’مجھے تجھ پر بڑا ترس آتا ہے اس لیے کہ تیرا ذریعہ معاش  بہت تنگ اور گندہ ہے۔ ‘‘

       خاکروب نے جواب دیا ’’جناب کا بہت بہت شکریہ۔ لیکن ذرا یہ فرمائیے کہ آپ کا ذریعۂ معاش کیا ہے؟‘‘

     فلسفی نے بڑے فخر سے کہا:’’میں لوگوں کو انسانی اخلاق و فطرت کا درس دیتا ہوں۔ اور ان کے اعمال و افعال، رجحانات و میلانات پر اعتقادی نظر ڈالتا ہوں۔ ‘‘

خاکروب ہنس پڑا اور اپنا جھاڑو سنبھالتا ہوا بولا:’’تو!غریب فلسفی!!آہ! بے چارہ فلسفی!!‘‘

خلیل جبران

کل شام میں نے فلسفیوں کا ایک گروہ دیکھا جو ٹوکریوں میں اپنے سر رکھے، شہر کے بازاروں میں آواز لگاتے پھر رہے تھے:’’فلسفہ لے لو! فلسفہ!!‘‘

 آہ !یہ بھوکے فلسفی پیٹ پالنے کے لیے اپنے سروں کی تجارت کرتے ہیں۔

خلیل جبران

٭٭٭

 

 شہناز خانم عابدی (کینیڈا )

گھلتا ملتا لہو

          لڑکی گاڑی روکنے کا اشارہ کرتے ہوئے پرنسپل صاحبہ کی گاڑی کے سامنے آ کر اس طرح کھڑی ہو گئی کہ ان کو اپنی گا ڑی کو لگام دینی  ہی پڑی۔ اگر لڑکی اس طرح نہیں کرتی تو وہ ہر گز گاڑی نہیں روکتیں خواہ وہ لڑکی کتنی ہی چیختی چلا تی۔ ایک تو وہ کالج کی لڑکیوں  پر اپنا دبدبہ قائم رکھنے کے لئے  انسانی اخلا قی روّیوں سے تجاوز کرنے سے پس و پیش نہیں کرنے  والی خاتون تھیں، دوسرے یہ کہ جس لڑکی نے ان کی گاڑی روکی تھی اس کا تعلق ایک ایسی طلبہ تنظیم سے تھا جس کے لئے ان کے دل میں کوئی نرم گوشہ نہ تھا۔ پاکستان بھر کی تمام درس گاہوں میں مستثنیات کو چھوڑ کر سبھی اساتذہ اپنے طلبہ کی مانند گروہی سیاست میں ملوث ا ور بٹے ہوئے تھے۔ وہ کالج کی سربراہ تھیں اور بظاہر ایک غیر ملوث، غیر جانبدار منتظم کا چولا پہنے پھرتی تھیں۔ اس زمانے میں طلبہ سیاست میں کراچی خون خرابے کی حد تک بڑھا ہو ا تھا۔

            انتہائی بے بسی کے عالم میں گاڑی روک کر انہوں نے لڑکی سے ڈانٹنے کے انداز میں پو چھا ’’ راستے  میں گاڑی رکوانے کی تمہیں ہمت کیسے ہو ئی۔ کل صبح بات نہیں کر سکتی تھیں۔ ‘‘

’’ سوری میڈم ! لڑکی گریہ کناں آواز میں بولی۔ میں نے مجبوری میں آپ کی گاڑی روکی۔ ‘’

’’ کیسی مجبوری۔ ‘‘ لڑکی کو دبتا ہو ا دیکھ کر پرنسپل نے گرجتے ہوئے پو چھا۔

     اسی دن کالج میں جب لڑکی کے مخالف سیاسی گروہ سے متعلق ایک مرد طالب علم لیڈر کمال جس کے سر بے شمار طلبہ کو گولی مار کر قتل کر نے کا خونی سہرا بندھا تھا پرنسپل صاحبہ کے دفتر میں گھس آ یا تو وہ کسی سوکھے پتے کی طرح لرز رہی تھیں اور اس سے اس طرح احکا مات لے رہی تھیں جیسے وہ پرنسپل ہو اور یہ خود کوئی معمولی چپرا سن۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے جاتے ہی نائب پرنسپل اور دیگر اسٹاف پرنسپل کے کمرے میں پہنچے تو انہیں اطمینان سے بیٹھا دیکھ کر حیران رہ گئے۔ پرنسپل نے ایسا رویہّ اپنا یا تھا جیسے کہ کچھ بھی خلافِ معمول نہیں ہو ا۔ جب کمرے سے سب لوگ چلے گئے  سوائے صرف ایک کے جو ہر معاملے میں ان کی ہم خیال رہتیں۔ اور بقول دیگر اساتذہ کے ان کی چمچی۔ ۔ رہ گئیں تو وہ  بولیں۔ ’’ کمال شیر کی طرح دھاڑ کر گیا ہے۔ ۔ ۔ ۔ کیا جوان ہے۔ ۔ ۔ ۔ اس کے آگے ان کے بکرے، بکر یاں کیا ٹکیں گے۔

’’  اللہ کرے ایسا ہی ہو میڈم۔ ۔ ۔ ۔ ان سب کا صفایا ہو جائے اور ان کے پارٹی آ فس، بینرز، وغیرہ سے ہماری  جان چھٹ جائے۔ ‘‘  پرنسپل کی چمچی نے ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا۔

’’ بس تھوڑے ہی دنوں کی بات ہے۔ اپنے کالج میں صرف اپنے ہی لو گوں کا پارٹی آفس ہو گا۔ پھر تم دیکھنا میں کس طرح پورے کالج میں اسٹو ڈنٹس اور اسٹاف سمیت ان لو گوں پر جھاڑو پھیرتی ہو ں۔ ۔ منحوس۔ ۔ ۔ کمینیاں۔ ۔ ۔ ‘‘  پرنسپل نے دوسری پارٹی کے خلاف زہر اگلا۔

’’ پھر بھی آپ یہ تو بتائیے کمال سے آ پ کی میٹنگ کیسی رہی۔ ‘‘ چمچی نے تجسس سے پو چھا

’’ ایک دم فرسٹ کلا س۔ میں نے اس کی ہر اسکیم پر ’ او کے ‘ کر دیا ہے۔ لیکن تم ذرا ہشیار  رہنا۔ ۔ ۔ میں سب سے یہی کہنے والی ہوں کہ میں نے کمال سے دو ٹوک کہہ دیا ہے کہ اگر اس نے اپنی سر گرمیاں بند نہیں کیں  تو میں سخت سے سخت اقدامات سے بھی گُریز نہیں کرونگی۔ ‘‘  پرنسپل صاحبہ نے راز دارانہ انداز میں اپنی چمچی کو یہ بات بتائی۔

’’ میڈم ! آپ اطمینان رکھئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرا آپ کے ساتھ ٹھہرنا مخالفین کو پسند نہیں آئے گا۔ میں چلتی ہوں طالبات اور اسٹاف میں آپ کی غیر جانبداری کا چرچا کر نے۔ ‘‘ چمچی نے پرنسپل سے اجازت لیتے ہوئے کہا۔

’’ میڈم  مجبوری یہ ہے۔ ۔ ۔ ۔ مجبوری یہ ہے میڈم۔ ۔ ۔ ۔ لڑکی رک رک کر، گھبرا کر، روتے ہوئے  بولی‘‘

’’ میڈم آج مجھے مار دیا جائے گا۔ ‘‘  بڑی مشکل سے لڑکی نے جملہ پورا کیا۔

’’ کیا بک رہی ہو۔ ۔ ۔ ؟ ہوش میں ہو۔ ۔ ۔ مار دیا جائے گا۔ ۔ ۔ پاگل۔ ۔ ۔ ہٹو گاڑی کے سامنے سے مجھے دیر ہو رہی ہے، کل بات کرنا۔ ‘‘وہ بریک سے پیر ہٹا نے کے لئے بے تاب تھیں۔

’’ میڈم۔ ۔ ۔ ۔ میڈم۔ ۔ ۔ یقین ما نئے  مجھے آج مار دیں گے۔ کمال کبھی بھی غلط دھمکی نہیں دیتا۔  مجھے بچا لیجئے۔ ۔ ۔ میڈم مجھے بچا لیجئے۔ آپ کو اللہ، رسول، کا واسطہ۔ آپ کو بی بی فاطمہ کا واسطہ۔ آپ کو آپ کی آل اولاد کا واسطہ۔ ! ‘‘

              پرنسپل نے ایک مر تبہ اس لڑکی کو گھور کر دیکھا، وہ سر سے پاؤں تک التجا ہو رہی تھی۔ اس نے واسطے بھی بڑے بڑے دیئے تھے۔ اولاد کا واسطہ بھی دیا تھا۔ وہ بے اولاد تھیں۔ لیکن انہوں نے اپنی بہن کی ایک لڑکی کو اپنی بیٹی بنا لیا تھا  اس کا نام رخشندہ تھا  اور  وہ اس سے بے حد محبت کرتی تھیں۔ اپنی زندگی کے لئے گھگیا تی ہو ئی لڑکی کی جگہ ایک لحظہ کے لئے ان کو رخشندہ کھڑی نظر آ ئی۔ ان کا ہاتھ کسی ریفلیکس ایکشن کے تحت دروازہ کھولنے کو ہو گیا لیکن دوسرے ہی لمحے انہوں نے اسے روک لیا اور لڑکی سے اسی سخت لہجے میں  بولیں۔

’’  اگر ایسا ہے بھی تو میں کیا کر سکتی ہوں۔ ؟ ‘‘

’’ میڈم مجھے گاڑی میں بٹھا لیجئے۔ ‘‘ لڑکی نے بھیک مانگنے کے سے لہجے میں کہا

’’ نہیں میں ایسا نہیں کر سکتی۔ ۔ احمق لڑکیوں کی احمقانہ باتوں سے میں متاثر نہیں ہو سکتی۔ ۔ ۔ تمہیں کوئی نہیں ما رے گا۔ ۔ ۔ گھر جاؤ۔ ۔ کل بات کرنا۔ ۔ ۔ مجھ جانے دو۔ ‘‘

ٍیہ کہہ کر پرنسپل صاحبہ نے  پیر بریک سے ہٹا کر ایکسیلیٹر پہ  رکھا، گاڑی کو گیئر میں ڈالا۔ لڑکی کے چہرے میں تغیر آ گیا۔ وہ پتھر کا ہو رہا تھا۔ لڑکی کے ہٹتے ہی پرنسپل نے گاڑی کو ہوا میں اڑانا شروع کر دیا۔ اگر چہ کہ پرنسپل صاحبہ گاڑی ہمیشہ درمیانی رفتار سے چلا نے کی عادی تھیں۔ لیکن آندھی اور طوفان کی رفتار سے گاڑی چلا تی ہو ئی وہ  اپنے بنگلے تک پہنچ گئیں۔ ان کا بنگلہ کالج سے تقریباً آدھے گھنٹے کی ڈرائیو پر تھا۔

       بنگلے پر پہنچتے ہی ان کے آنکھوں کے سامنے رخشندہ کھڑی نظر آئی۔ لیکن رخشندہ وہاں نہیں تھی۔  وہ میڈیکل کالج کی طالبہ تھی اس کی  واپسی  شام سے پہلے ممکن نہ تھی۔ پھر ان کے سامنے زندگی کی بھیک مانگتے ہوئے ان کی اپنی شاگرد کھڑی تھی۔ اگر چہ کہ وہ جس تنظیم کی کارکن تھی اس تنظیم کے لئے ان کے دل میں کوئی نرم گوشہ نہیں تھا لیکن پھر بھی پرنسپل نے یا ان کے اندر کسی اصل شخصیت نے  اچانک کوئی فیصلہ کیا۔ گاڑی کے اسٹیئرنگ نے گردش کی او ر گاڑی جس رفتار سے بنگلے کی سمت اڑتی آئی تھی، اسی رفتار سے کالج کی سمت اڑ گئی۔ کالج اور اس کے گرد و نواح کی گلیوں میں قدرے دھیمی رفتارسے گاڑی رینگتی رہی۔ ان کے کانوں میں لڑکی کی آواز گونج رہی تھی۔

’’  میڈم! یقین مانئے مجھے آج مار دیں گے، کمال کبھی غلط دھمکی نہیں دیتا۔ ‘‘

وہ بھی یہ بات اچھی طرح جانتی تھیں کہ کمال کبھی غلط دھمکی نہیں دیتا ہے۔ لڑکی کا کہیں نام و نشان نہ تھا۔

’’ اوہ  میرے خدا کہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ اس کے آگے سوچنے کی ان میں ہمت نہ تھی۔ انکا ذہن قریب کے پٹرول پمپ کی طرف گیا، وہاں سے ٹیکسی اور رکشا گزرتے تھے۔ شاید ایک آدھ بس کا بھی ادھر سے روٹ تھا۔ ۔ ۔ ۔ ذہن کے اشارے پرپرنسپل نے فیصلہ کیا، فیصلہ بالکل درست ثابت ہوا۔

       لڑکی پٹرول پمپ کے قریب کھڑی تھی اس نے اپنے سرکو  دوپٹے سے لپیٹ رکھا تھا اور اس طرح کھڑی تھی جیسے ’ ہونی ‘ پر اپنے آپ کو چھوڑ دیا ہو۔ پلک جھپکتے پرنسپل کی گاڑی لڑ کی کے پہلو میں پہنچ گئی۔ پرنسپل نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور زور سے چلّائیں۔ ’’ اندر آ جا ؤ۔ ‘‘

لڑکی جیسے چونک سی پڑی۔ وہ تو کسی اور دنیا میں جا چکی تھی۔ اس کو تو گاڑی کے قریب آ نے کا احساس بھی نہیں ہو ا تھا۔ پرنسپل کی آواز سے اس  کے اندر جان سی آ ئی۔ وہ دنیا میں لوٹ آ ئی اور جھپٹ کر گاڑی کے اندر ہو گئی۔ گاڑی نے اڑان لی لیکن جیسے ہی گاڑی پٹرول پمپ سے دور ہوئی اس پر گولیوں کی بوچھاڑ ہو گئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گولیاں اور گولیوں کی تڑاخ پڑاخ بند ہو گئی۔ لوگ اِدھر اُدھر سے، چوکنّا سے، خوف زدہ سے گاڑی کی طرف بڑھے۔ چلتی گاڑی رکی پڑی تھی۔ اس کو گیس پہنچانے والے پاؤں جامد ہو چکے تھے۔ پرنسپل کا سر اسٹیئرنگ سے ٹکا ہوا تھا، لڑکی کا سر پرنسپل کی گود میں پڑا تھا۔ گولیوں نے دونوں جا نب سے گاڑی اور گاڑی میں بیٹھی ہو ئی استاد اور شاگرد کے جسموں کو چھلنی کر دیا تھا۔ دونوں کے خون آپس میں گھُل مِل رہے تھے۔ اس سے قطع نظر کہ دونوں مختلف اور متصادم لسانی اور سیاسی دھڑوں سے تعلق رکھتی تھیں۔

٭٭٭

 

کاشف بٹ (حویلیاں )

ارتقاء

آج لیکچر کچھ زیادہ طویل نہیں ہو گیا۔۔؟

ہاں ۔۔ لیکن لیکچر کے دوران تم کہاں کھوئی ہوئی تھی؟

نہیں تو۔۔تم نے کیسے محسوس کیا؟

میں نے بارہا محسوس کیا کہ تم طاہر صاحب کی گفتگو سے زیادہ کھڑکی سے باہر کا نظارہ کرنے میں مصروف تھی۔

جبران! ۔۔پتہ نہیں کیوں میں طاہر صاحب کے نظریات سے متفق نہیں ہو پاتی۔ کبھی کبھی تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ بلاوجہ مجھ پہ وہ نظریات تھوپے جا رہے ہیں جن سے مجھے کوئی غرض نہیں۔

دیکھو مسکان! اگر تمہارا خیال ہے کہ طاہر صاحب اپنے نظریات کا پرچار کرتے ہیں تو اپنا نظریہ تبدیل کرو کیونکہ طاہر صاحب تو صرف استاد کا فرض سرانجام دے رہے ہیں۔ اُنہوں نے تو ہمیں وہی کچھ پڑھانا ہے جو نصاب میں موجود ہے۔ اب اگر کسی کو نصاب میں موجود کسی موضوع سے اختلاف ہے تو اُستاد کو تو مورد الزام نہیں ٹھہرا یا جا سکتا ناں ۔۔

تو کیا تمہیں اُن سے کوئی اختلاف نہیں ؟

مجھے نصاب سے بھی اختلاف نہیں اور ارتقاء کا موضوع تو میرا پسندیدہ مو ضوع ہے۔

جبران کیا تم بھی ڈارونزم سے متفق ہو؟

کسی حد تک۔۔

کیا مطلب کسی حد تک۔۔؟ Yesیا ں No۔۔ ایک جواب ہونا چاہیے۔ بیچ کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔

نہیں مسکان۔۔ ارتقائی نظریات ایسے نہیں ہیں کہ انہیں نفی یا اثبات کی بھینٹ چڑھا دیا جائے۔ انہیں سمجھنے اور پرکھنے کی ضرورت ہے۔ تم ایک بار اِن میں دلچسپی لے کر تو دیکھو۔

نہیں جبران! مجھے اِن بیکار کے نظریات سے کچھ واسطہ نہیں اور تمہیں میرا مشورہ ہے کہ تم بھی خواہ مخواہ اِن میں اپنی صلاحیتیں ضائع نہ کرو۔ ضروری نہیں ہے کہ امتحانات کے لیے اِن میں سر کھپایا جائے۔ سوال نامہ میں چالیس فیصد رعایت بھی ہوتی ہے۔

تم صرف امتحان پاس کرنے کے لیے مطالعہ کرتی ہو لیکن میرے ساتھ ایسا نہیں ہے۔ میں پورے نصاب کا تجزیاتی نظر سے مطالعہ کرتا ہوں۔

لیکن ہمارے نظامِ تعلیم میں تو نصاب کو امتحان کے زاویے سے ہی مرتب کیا جاتا ہے۔ تم کس دُنیا کے باسی ہو؟

تمہاری بات ٹھیک ہے مسکان۔۔ لیکن میں ایسا نہیں کرتا۔ بہرحال ہماری گفتگو کا موضوع آج کا لیکچر تھا تم ایک بار منصفانہ انداز میں ڈارونزم کا تجزیہ تو کرو۔

دیکھو جبران! مجھے اِس موضوع میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ پتا نہیں ڈارون کس ذہنی بیماری سے دوچار تھا جو ارتقاء کا نظریہ پیش کر بیٹھا۔ ہمارے نصاب پر انگریز کی پہلے کیا کم عنایات ہیں ؟

مسکان! شاید تمہیں علم نہیں ہے کہ ڈارون کوئی پہلا شخص نہیں ہے جس نے ارتقاء کا نظریہ پیش کیا اور نہ ہی یہ کسی انگریز کی عنایت ہے۔ خود ہمارے مسلمان مفکر ین ڈارون سے صدیوں پہلے ارتقاء پر اپنے نظریات پیش کر چکے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں۔

کیا واقعی۔۔؟ ایسا نہیں ہو سکتا۔

جی محترمہ! ایسا ہو چکا ہے۔ کیاتم نے مسلم  مفکرین کونہیں پڑھا؟

میرے پاس اتنا وقت کہاں کہ نصاب سے ہٹ کر کچھ پڑھ سکوں۔

تو پھر تم نے کیسے ارتقائی نظریات سے متعلق اپنی رائے قائم کر لی؟

کیونکہ ارتقائی نظریات مذہب سے متصادم ہیں۔

چلو ایک لمحے کو میں تمہاری بات سے اتفاق کر لیتا ہوں۔ لیکن مجھے یہ تو سمجھا دو کہ مذہب ہے کیا؟

نعوذ باللہ! کیسی باتیں کر رہے ہو جبران؟

کیوں ۔۔ کیا مطلب ’’کیسی باتیں کر رہے ہو؟‘‘۔ میں نے تو تم سے بس اتنا پوچھا ہے کہ مذہب کیا ہے اور یہ نعوذ باللہ کیوں کہا تم نے؟

جب تم ایسے لغو سوال پوچھو گئے تو کیا میں الحمد للہ کہوں گی؟ اچھا ذرا یہ تو بتاؤ کہ تمہارا مذہب کیا ہے؟

عجیب لڑکی ہو۔۔ میں مذہب کی معنویت پوچھ رہا ہوں اور تم مجھ سے پوچھ رہی ہو ’’تمہارا مذہب کیا ہے‘‘۔ میرا کوئی مذہب نہیں ہے۔

جبران۔۔توبہ کرو۔۔ یہ کفریہ کلمات ہیں۔

اِس میں کفر والی کیا بات ہے مسکان۔۔؟ میں نے اللہ اور رسول ﷺ کا انکار تو نہیں کیا۔ الحمد للہ میں مسلمان ہوں۔

مسلمان ہو تو پھر یہ کیوں کہا کہ ’’میرا کوئی مذہب نہیں ہے‘‘؟

کیوں ۔۔ مسلمان کا کوئی مذہب ہوتا ہے؟

جبران۔۔ ایک حد ہوتی ہے ۔۔ کیا اسلام مذہب نہیں ہے؟

نہیں ۔۔!!

جبران۔۔۔۔۔۔ چلو تم ہی بتا دو کہ اسلام کیا ہے؟

اسلام تو دین ہے ۔۔مسکان۔۔ دینِ کامل۔۔

تو دین اور مذہب میں فرق ہی کیا ہے۔۔ ایک ہی بات ہے دین ہو یا مذہب۔

نہیں مسکان۔۔ ایک بات نہیں ہے۔ دین اور مذہب میں بہت فرق ہوتا ہے۔ مذہب کبھی دین کے تقاضے پورے نہیں کر سکتا۔ دین تو ایک اللہ کی طرف بلاتا ہے اُس کے قوانین کے اتباع کا حکم دیتا ہے جبکہ مذہب تو انسان کی اختراع ہے۔ مذہب میں اللہ کے قوانین تو موجود ہوتے ہیں لیکن بشری اختراعات کے ساتھ۔۔ نہ کہ حقیقی حالت میں۔

یہ باتیں تم نے کہاں سے سیکھی ہیں ۔۔؟ پہلے تو کبھی تم نے مجھ سے ایسی بحثیں نہیں کیں۔

پہلے کبھی تم نے پوچھی بھی تو نہیں ۔۔

پوچھی تو میں نے آج بھی نہیں ہیں ۔۔

لیکن آغاز تو تم نے ہی کیا ہے ناں ۔۔ چاہے وہ طاہر صاحب کے لیکچر سے متعلق ہی تھا۔ بات سے بات نکلتی ہے۔ بس سمجھو آج ایسے ہی سہی یہ باتیں تو ہونی ہی تھیں۔ اور جہاں تک بات ہے کہ میں نے یہ باتیں کہاں سے سیکھی ہیں ۔۔ تو میری جان! ایسی باتیں سیکھی نہیں جاتیں بلکہ مشاہدے، مطالعے اور تجزیے کا ثمر ہوتی ہیں۔

ہاں یہ تو ہے۔۔ اچھا تو پھر تم اپنے مشاہدے، مطالعے اور تجزیے کی روشنی میں یہ بھی بتا دو کہ نظریۂ ارتقاء دینِ اسلام سے متصادم ہے کہ نہیں ؟

میرے نزدیک تو جواب نفی ہی ہے۔۔

تو کیا ڈارون ٹھیک کہتا ہے؟

دیکھو مسکان! بات صرف ڈارون کی نہیں ہے۔ ڈارون نے تو اپنا حصہ ڈالا ہے جسے ہم contributionکہتے ہیں۔

تو تم کہنا چاہتے ہو کہ ڈارون نے ارتقائی نظریہ پیش نہیں کیا؟

ہاں بالکل۔۔ ڈارونزم تو ارتقائی نظریات کا ایک حصہ ہے جبکہ ارتقائی عمل کی جانچ پڑتال کی اساس تو بہت پہلے پڑ چکی تھی۔ ڈارون کی اہمیت اِس بناء پر نہیں کہ اُس نے ارتقاء کا نظریہ پیش کیا بلکہ اُس کی اہمیت تو اِس بناء پر ہے کہ اُس نے اپنی تحقیق میں خاطر خواہ نتائج اخذ کیے ہیں۔ ورنہ ارتقاء کا موضوع ڈارون سے پہلے کوئی پوشیدہ موضوع نہ تھا۔ مفکرین ہر دور میں تخلیقِ کائنات کے متعلق سوچتے آئے ہیں اور ابھی سوچ رہے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ارتقائی عمل کے نہاں گوشے بھی عیاں ہوتے جائیں گے۔

تو کیا ابھی ارتقاء کا عمل مکمل طور پر واضح نہیں ہوا؟

واضح تو تب ہو کہ جب ارتقائی عمل رُک جائے۔ ہم تو اب بھی ارتقاء کے عمل سے گزر رہے ہیں۔

تو کیا انسان کی موجودہ حالت ارتقائی عمل کا انتہائی مقام نہیں ہے؟

ہے۔۔ ضرور ہے۔۔ لیکن صرف طبعی حالت میں۔ مابعد الطبعیات کے مدارج اب بھی ارتقاء کے عمل سے گزر رہے ہیں۔

لیکن مابعد الطبعیات کے مدارج میں ارتقائی عمل کی موجودگی کیونکر ممکن ہے؟

ممکن ہے۔۔ اور یہ عمل اُس وقت سے جاری ہے جب سے طبعی طور پر بلند ترین سطح پر ارتقاء کے نتیجے میں انسان کی موجودہ حالت سامنے آئی ہے اور یہ ارتقائی عمل اپنے تکامل کو کب پہنچے گا اِس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔

لیکن جبران ۔۔کبھی تو یہ ارتقائی عمل اپنی تکمیل کو پہنچے گا ناں !

ہاں ضرور۔۔

تب تو مفکرین کے لیے اِس موضوع میں کچھ اور کھوجنے کو نہیں رہے گا؟

مسکان ایسا نہیں ہے۔۔ ہم جب علم کی بات کرتے ہیں تو کوئی علم اپنی انتہائی سطح پہ ٹھہر نہیں جاتا بلکہ ایک اپنی کیفیت تبدیل کر لیتا ہے۔

تو کیا ہم کسی علم کی انتہائی سطح کو نہیں پہنچ پاتے؟

ہاں ۔۔ مسکان! ہمارے لیے کوئی بھی علم تب تک ہی اپنی انتہائی سطح پہ ہوتا ہے جب تک ہم اُس کے مزید گوشے تلاش نہیں کر پاتے۔

اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ارتقائی عمل بھی ایک مسلسل علم ہے جس سے شناسائی ہمیں کبھی حاصل نہ ہو پائے گی۔

تم نے ٹھیک کہا مسکان۔۔ لیکن ارتقائی عمل کی ایک خوبی اور بھی ہے۔

وہ کیا جبران۔۔؟؟

وہ یہ کہ جب ارتقائی عمل اپنی انتہائی سطح پہ پہنچے گا تو مفکرین کے پاس اتنی مہلت ہی نہیں ہو گی کہ وہ ارتقائی موضوعات پہ مزید بحث کر سکیں

وہ کیسے۔۔؟

وہ یوں کہ ارتقاء کے اس سفر کی تکمیل کے بعد ایک اور ارتقائی سفر شروع ہو جائے گا جسے تم سادہ لفظوں میں قیامت بھی کہہ سکتی ہو۔

تو کیا یہ ارتقائی عمل قیامت تک جاری رہے گا؟

بالکل مسکان۔۔ یہ عمل قیامت تک ہی جاری رہے گا۔

یعنی تم کہنا چاہتے ہو کہ ارتقاء کا نقطۂ عروج قیامت ہو گی؟

میرے نزدیک تو ایسا ہی ہے۔

لیکن جبران! ہم لوگ تو قیامت کے جن آثار سے واقف ہیں وہ تو کچھ اور ہیں۔

تم ٹھیک کہتی ہو! دراصل ہم نے قیامت کو صرف ایک پہلو سے دیکھا ہے۔۔ دُنیا میں نیکی اور گناہ میں کمی بیشی کے تناسب سے۔۔ اس کے علاوہ کسی اور جانب ہم نے توجہ ہی نہیں دی کیونکہ ہم نے اپنی فکری قوتوں کو کبھی استعمال ہی نہیں کیا اور یہی ہمارا المیہ ہے

جبران! تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ ہم جو باتیں پڑھتے یا سنتے رہے ہیں اُن میں صداقت نہیں ہے؟

میں نے ایسا نہیں کہا مسکان۔۔! اُن باتوں میں کسی حد تک صداقت ضرور ہے مگر ایسا نہیں کہ وہ سارے آثار جو عوام میں مقبول ہیں قیامت کے ہی ہوں یا اُن میں رتی برابر بھی فرق نہ ہو۔۔ انسان کو اللہ عزوجل نے فکری صلاحیتیں عطا کی ہیں اس لیے انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی بھی رائے کا تعین کرنے یا کسی بھی نظریے کو قبول کرنے کے لیے ان صلاحیتوں کو بروئے کار لائے۔

لیکن جبران! جو لوگ اپنی ان صلاحیتوں کو استعمال کرنے میں ناکام رہتے ہیں وہ بھی تو اپنی زندگی گزارتے ہی ہیں بالکل اسی طرح جیسے کوئی مفکر یا دانشور گزارتا ہے

ہاں ۔۔ گزارتے ہیں مگر دوسروں کے نظریات کے تحت۔۔ بناء کسی مشاہدے، مطالعے اور تجزیے کے۔۔ ایسے لوگ تمام عمر اپنے فیصلوں کے لیے دوسروں کے محتاج رہتے ہیں ۔۔ یہ جسے تم مذہب کہتی ہو اُس کا پرچار کرنے والے تفرقہ باز مولوی، محلات میں رہنے والے راجے مہاراجے، خانقاہوں میں شہنشاہ کی طرح بیٹھے موروثی پیر، پنچایت لگانے والے پنچ، قتل و غارت کے لیے جہاد کا نام استعمال کرنے والے نام نہاد مذہب کے ٹھیکیدار۔۔ یہ سب وہ لوگ ہیں جو اپنی فکری صلاحیتیں اپنے اغراض و مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور جو لوگ اپنی فکری صلاحیتیں استعمال کرنے سے قاصر رہتے ہیں وہ انہی کے محتاج ہوتے ہیں ۔۔ تم نے دیکھا نہیں کہ کس طرح لوگ منبر پہ بیٹھے مولوی کی بات کو من و عن تسلیم کر لیتے ہیں بناء یہ سوچے سمجھے کہ وہ جو کہہ رہا ہے اُس میں فلاح کا پہلو کتنا ہے اور انتشار کا کتنا۔۔ ایک راجہ جب اپنی بالکونی میں آتا ہے تو اُس کی رعایا اُس کے آگے سر جھکا کے کھڑی ہوتی ہے۔۔ کبھی تم نے غور کیا کہ اپنے راجے کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے عوام کے سر اُس کے قدموں سے کتنا نیچے ہوتے ہیں اور جب وہ کسی محفل میں جاتا ہے تو اُس کے سپاہی عوام کو اُس کے راستے کی گرد تک بھی نہیں پہنچنے دیتے۔۔ کبھی کسی خانقاہوں میں جا کر دیکھو ایک پیر کس طرح اپنے پاؤں پھیلا کے بیٹھا ہوتا ہے اور اُس کے مرید اپنے پیر صاحب کے پاؤں دابنے کے لیے باری کا انتظار کرتے رہتے ہیں ۔۔ کون سی نشہ آور شے نہیں ہے جو ان خانقاہوں میں نہیں ملتی۔۔کیا کبھی دین و مذہب یا باہمی بھائی چارے کا درس دیا انہوں نے۔۔ جرگے اور پنچایت کے نام پر ہمارے ہاں جو کچھ ہو رہا ہے اُس سے کون واقف نہیں ہے۔۔؟ صنفِ نازک کی عصمت ریزی کا جو تناسب پنچایت کے احکامات کی تکمیل میں قائم ہوا ہے وہ کسی بازارِ حسن میں بھی نہیں ملتا۔۔ اپنی خواہشات کی تکمیل اور اقتدار کے حصول کے لیے اسلحہ اٹھانے والوں کو تم کیا نام دو گی۔۔؟ کیا یہ سب وہ لوگ نہیں جو عوام میں مقبول بھی ہیں اور اُن کی توجہ کا مرکز بھی۔۔؟؟

واہ واہ کیا خوب بولتے ہو؟۔۔ جبران۔۔!!

میں بولتا نہیں ہوں مسکان۔۔ میں وہ ہی کہتا ہوں جو حقیقت میں یہاں ہے۔۔

لیکن اس سب کا حل کیا ہے۔۔؟

حل ہے مسکان۔۔ ہر مسئلہ کا حل ہے۔۔ جب لوگ اپنی فکری صلاحیتیوں کا مثبت استعمال شروع کر دیں گے تو یہ سب خود بخود ہی ٹھیک ہو جائے گا

اور اگر کسی نے ایسا نہ کیا تو۔۔؟

ایسا کرنا پڑے گا مسکان۔۔ کیونکہ یہ ارتقائی عمل کا وہ حصہ ہے جس سے ہر قوم اور قبیلے کو گزرنا ہے قیامت کی بڑی نشانی اس عمل کی تکمیل ہی تو ہے اور ہر قوم اور قبیلے کو قیامت تک کا سفر طے کرنا ہے

’’اور ایسی کوئی قوم یا قبیلہ نہیں جسے قیامت سے استثنیٰ حاصل ہو‘‘۔۔ طاہر صاحب کی آواز پہ پلٹ کر ہم دونوں نے دیکھا تو وہ ہماری پشت پہ موجود بنچ پہ بیٹھے مسکرا رہے تھے۔

٭٭٭

 

نجیب عمر ( کراچی)

عشق ایک ازلی جذبہ

جب اس کی آنکھ کھلی اس نے خود کو نرم خشک گھاس پر لیٹا ہوا پایا۔ وہ اس کے پہلو میں نہیں تھی۔ وہ تجسّس کے عالم میں غار کے دہانے تک آ گیا۔ قریب گرتے ہوئے آبشار میں وہ نہا رہی تھی اسے دیکھ کر مسکرائی اور اپنے پاس بلایا۔ آبشا ر کا پانی ٹھنڈا تھا لیکن انہوں نے جسم کی گرمی سے اس کا مقابلہ کیا اور اس وقت تک نہاتے اور نہلاتے رہے جب تک ان کے جسم برف نہیں ہو گئے۔ تھوڑی دیر وہ دھوپ میں خود کو خشک کرتے رہے۔ پھر اس نے اشارے سے بتایا کہ بھوک لگی ہے، اس کے ساتھی نے اسے تسلی دی اور بولا

’’ میں ابھی قریب کے جنگل سے کچھ پھل توڑ لاتا ہوں تمہیں ضرور پسند آئیں گے۔ اس کے بعد ہم شکار پر نکلیں گے اور کچھ نہ کچھ شکار کر لائیں گے جو چند دنوں کے لیے کافی ہو گا۔ ‘‘ اس نے کہا

’’ تم میرے ساتھ ہی رہنا۔ مجھے کچھ خوف ہے۔ مجھے لگتا ہے دو مخصوص آنکھیں ہمیں گھور رہی ہیں ‘ وہ دھوکے سے مجھے اپنے قبضے میں کرنا چاہتا پے۔ میں اس سے نفرت کرتی ہوں۔ تم نے بھی اسے دیکھا ہوا ہے اس کے پاس پتھر کے دو خطرناک ہتھیار ہیں جو تمہارے ہتھیارسے زیادہ مہلک ہیں۔ اس لیے ہمیں مستعد رہنے کی ضرورت ہے۔ ‘‘

’’ تم فکر نہ کرو میں موقع ملتے ہی اس کا کام تمام کر دوں گا۔ ہمیں اس کے علاوہ کسی اور سے کوئی خطرہ نہیں۔ وہ کیوں ہم دو پیار کرنے والوں کا دشمن ہو رہا ہے۔ اگر وہ تلاش کرے اور شرافت کا مظاہرہ کرے تو اسے بھی کوئی دوشیزہ مل سکتی ہے لیکن اس کی سوچ تخریب پر مشتمل ہے ‘تم نے اسے کہاں دیکھا۔ ‘‘

’’ میں ایک عورت ہوں میری حس تم سے تیز ہے۔ وہ اس وقت ہمارے آس پاس گھات لگائے ہوئے ہے ‘میں اسے محسوس کررہی ہوں۔ ‘‘دوشیزہ نے اسے جواب دیا۔

 وہ جنگل سے پھل توڑتے ہوئے بھی محتاط تھے۔ ا ب اپنے غار کی جانب لوٹ رہے تھے۔ اچانک ایک پتھر اس کے ساتھی کے سر پر لگا وہ چکر ا کر گر پڑا۔ درختوں کے درمیان سے وہی مکروہ چہرہ نمودار ہوا۔ اس نے دوشیزہ کو اپنے کاندھوں پر اٹھا کر غار کی جانب دوڑ لگا دی۔ دوشیزہ نے اس خبیث سے جان چھڑانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکی۔ اس نے اسے گھاس کے بستر پر پٹخ دیا اور اشاروں سے بتایا کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ دوشیزہ نے کہا

’’تم میرے جیتے جی ایسا نہیں کرسکتے۔ ‘‘

اس نے کہا ’’میں سب کچھ کرسکتا ہوں ‘میرے پاس بہتر ہتھیار ہیں اور چقماق بھی جو کسی با اختیار آدمی کی علامت ہوتی ہے‘ مجھے اپنی خواہش پوری کرنے دو میں تمہیں اس چقماق کا مالک بنا دوں گا۔ ‘‘

اس نے جواب دیا

’’ مجھے میرا ساتھی محبوب ہے اور یہ جسم اس کی امانت ہے۔ تم خیانت نہیں کرسکتے۔ ٹھیک ہے ہمارے پاس چقماق نہیں لیکن ہم پھر بھی خوش و خر م زندگی گزار رہے ہیں۔ ‘‘

 دوشیزہ نے دیکھا کہ اس پر باتوں کا کوئی اثر نہیں ہو رہا بلکہ وہ اس کی آبرو کے درپے ہے لہٰذا اس نے بڑی خاموشی سے ایک پتھر کو اپنی مٹھی میں بھینچ لیا اور اس کا انتظار کرنے لگی۔ وہ جیسے ہی اس پر جھکا جبکہ وہ اپنے ہتھیار سے بھی غافل ہوچکا تھا۔ اس نے پوری قوت سے اس کے سر پر ضرب لگائی۔ وہ ایک جانب لڑھک گیا۔ خون اس کے سر سے تیزی سے بہہ رہا تھا جسے دیکھ کر وہ قدرے خوفزدہ ہوا۔ موقع سے فائدہ اٹھاتے دوشیزہ نے اس کا ہتھیار اسی کے سینے میں اُتار دیا۔ وہ بری طرح کراہنے لگا۔

 وہ بھاگ کر غار سے باہر آئی اور اپنے ساتھی کی جانب لپکی جہاں اسے ہوش آ گیا تھا لیکن نقاہت غالب تھی۔ ا س نے پانی سے اس کا زخم دھویا اور اسے خوشخبری سنائی کہ اس نے اس مکار کو مار ڈالا ہے۔

’’ اب ہمارے پاس دو بہترین ہتھیار اور چقماق بھی ہے جس کی تمہیں عرصے سے تلاش تھی۔ آؤ اس سے پہلے کہ اس کی لاش تعفن پھیلائے اسے دریا برد کر دیتے ہیں۔ ‘‘

 اس نے دوشیزہ کو اپنی بانہوں میں بھر لیا اور کہا

’’ تم واقعی مجھ سے محبت کرتی ہو۔ میں بھی اسے مارنا چاہتا تھا لیکن تم مجھ سے بھی زیادہ بہادر ثابت ہوئیں۔ میں ہمیشہ تمہارا احسان مند رہوں گا۔ ‘‘

 یہ انسانی زندگی کا وہ دور تھا جب زبان ایجاد نہیں ہوئی تھی۔ مختلف آوازوں ‘ اشاروں ‘ کنایوں سے اپنا ما فی الضمیر بیان کیا جاتا تھا۔ لیکن محبت اور رقابت اس وقت بھی موجود تھی۔ انسان وفا کا پتلا بھی ہوتا تھا اور خطا کا بھی۔

٭٭٭

 

ساجد خاں (حویلیاں )

چھوٹے

        رات چھٹی بہت دیر سے ہوئی پھر سردی اور تھکاوٹ کی وجہ سے ساری رات بے خوابی کی کیفیت ہی رہی صبح ماں نے اندھیرے منہ اٹھا دیا اس کا پورا جسم تھکاوٹ سے چور  آرام کا طالب تھا۔ حسبِ دستور والدہ نے اپنا فریضہ سر انجام دیا مگر وہ حسبِ عادت آ ج اپنے فریضے کو سر انجام دینے سے قاصر تھا۔ پتلی اوڑھنی اوڑھ کے سونے اور سخت سردی کی وجہ سے اس کا سر بوجھل اور جسم اکڑا ہوا تھا۔ پھر نا چاہتے ہوئے اس نے ناشتہ کیا۔ ماں بار بار جلدی کام پرجانے کی دہائی دے رہی تھی۔ اسے ٹھنڈا پانی یاد آنے لگا۔ سردی کے سخت جھونکے اسے جانے سے بیزار کر رہے تھے۔ اس کے سامنے پورے دن کی مشقت گھومنے لگی۔ وہ ٹھنڈے برتن اُٹھائے گا  ساتھ والے کچن نما کمرے میں لے کر جائے گا۔ کمرے کی ٹھنڈک، پانی کی ٹھنڈک، موسم کی ٹھنڈک وہ سوچتے ہی آنکھیں بند کر کے لمبی نیند سو جانا چاہتا تھا مگر ما ں اصرار کر رہی تھی

کہ جاؤ، ، جلدی جاؤ، ، دیر ہو رہی ہے، ، ، ، ، ،

 وہ ماں کی طرف دیکھتا کبھی اپنی دن کی تھکان پر سوچتا۔ ۔ پھر وہ گھر سے باہر نکلا او سامنے سیڑھی پرجا بیٹھا۔ اس کے محلے کے لڑکے لڑکیاں صاف ستھرے کپڑے پہنے تیز قدموں اسکول کی جانب رواں دواں تھے، وہ ان کے گرم کوٹ، سویٹر، جرابیں، ٹوپیاں، کاندھے پر لٹکائے بستے دیکھنے لگا۔ تھوڑی دیر کیلئے اس کے جی نے بھی چاہا کہ وہ انکے ساتھ ہو جائے۔ پھر اس کی نظر سامنے کے بڑے ڈھیر پرجا ٹکی، سرخ و سفید رنگت، ، سرخی مائل آنکھیں، سنہری بالوں والی لڑکی اور لڑکا ہاتھ میں ایک  بڑاپلاسٹک کا مضبوط تھیلا لئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گندگی کو کبھی پاؤں تو کبھی ہاتھوں سے ادھر ادھر کر کے اپنے مقصد کی کوئی نہ کوئی شے اٹھا کر تھیلے میں ڈال لیتے۔ انھوں نے بھی چھوٹے کی طرح پتلے کپڑے، پاؤں میں کھلے منہ چپل ہی پہن رکھے تھے

جو سردموسم کا مقابلہ کرنے میں قاصر تھے۔

        سانولی رنگت، چہرے پر تھکاوٹ، کالی آنکھیں، نیند کی کمی سے سرخ، سیاہ لمبے بال، مگر کنگھی نہ کرنے کی وجہ سے بے ترتیب، ہاتھ میں ایک بڑا رومال جسمیں چھوٹا روٹیاں اور سالن باندھ کے لاتا۔ آج چھوٹے کا ہوٹل جانے کو جی نہیں کر رہا تھا۔ ماں گالیاں دیئے جا رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ارے چھوٹے جا جلدی کر۔ ۔ چھ بجے ہوٹل پہنچنا تھا سات یہاں ہی بجا دیئے۔ چھوٹا سنی ان سنی کر رہا تھا، جب والدہ مسلسل کہنے لگی تو وہ سیڑھی سے اٹھ کر قدرے دور حلوائی کے بنچ پر جا بیٹھا، ، ، دھوپ  میں اسے مزا آنے لگا۔

        آدھ گھنٹے بعد ہی ماں چادر اوڑھے سر پر آن پہنچی۔ ۔ ۔ ۔ ابھی تک یہاں ہی ہے اُٹھ جا ہو ٹل۔ ۔ ۔ ۔

ماں نے قدرے تُرش لہجے میں کہا۔ میں آج ہوٹل نہیں جاؤں گا ماں۔ چھوٹا لجاجت بھرے لہجے میں کہنے لگا۔

نہیں جائے گا تو کھائیں گے کیا؟۔ ماں نے ہاتھ سے پکڑتے ہوئے سمجھانے کی کوشش کی۔ ماں مجھے نیند آئی ہوئی ہے۔ چھوٹا روہانسی آواز میں التجا کرنے لگا۔

خیر ہے بیٹا آج چلا جا۔ ماں نے محبت سے سرپرہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ وہاں بہت کام اور سردی ہوتی ہے۔ ۔ ۔ ماں۔ چھوٹا رونے کو تھا

۔ ۔ ۔ ۔ بیٹا چھٹی جلدی کر لینا۔ ۔ ماں چھٹی جلدی مانگو تو وہ گالیاں دیتے ہیں۔ ۔ خیر ہے بیٹا آج جلدی آ کر خوب سونا۔ ماں چھوٹے کے چہرے پہ نظریں گاڑتے ہوئے کہنے لگی۔ چھوٹا نا چاہتے ہوئے بھی ہوٹل چل دیا۔ پانچ افراد پر مشتمل یہ خاندان کسمپرسی کی زندگی گزار رہا تھا۔ چھوٹا، چھوٹے کی ماں اور چھوٹے کی تین بڑی بہنیں۔ والد تین سال قبل دنیا سے منہ موڑ گیا۔ ساری ذمہ داری چھوٹے کیا ناتواں کندھوں پہ آن پڑی۔ ماں بھی محلے کے دو، تین گھروں میں برتن مانجھتی، کپڑے دھوتی، جھاڑو لگاتی، مگر مہنگائی کے سیلاب میں کہاں پوری پڑتی۔ چھوٹا سب کا چھوٹا تھا۔ گھر، محلے اور ہوٹل والے اسے چھوٹے کے نام سے ہی جانتے پہچانتے تھے۔

ماں چاہتی تھی کہ پڑھ لکھ جائے مگر گھر کا چولہا بھی تو جلانا تھا، وہ بچیوں کو سکول بھیجتی مگر وہ بھی اکثر گھر  پر ہی ہوتیں کبھی کاپی نہ ہوتی تو کبھی پنسل، کبھی کپڑے تو کبھی جوتے۔

        گیرج کے بڑے استاد نے ترش لہجے میں آواز دی، ، ، ، ، ، ، ، پپو، ، ، اوئے پپو، ،

ایک نو دس سال کا بچہ جی جناب کہتا ہوا بھاگا بھا گا آیا۔

پلاس دے۔ یہ لو استاد۔

اوئے چابی بھی پکڑا۔ یہ لو استاد۔

یہ لو استاد کے پتر۔ چھوٹی چابی دے نا

بہت سے اوزاروں سے وہ چابی ڈھونڈنے لگا۔ کہاں مر گیا ہے، استاد قدرے غصے سے بولا، ڈھونڈ رہا ہوں پپو نے جواب دیا۔ کہاں ڈھونڈ رہا ہے،

٭٭

پپو نے چابی استاد کی طرف بڑھا دی۔

        دوسری گاڑی کے نیچے سے آواز آئی پپو ادھر آ۔ ۔ ۔ ۔ آیا جناب۔ ۔ ۔ پپو اس جانب بھاگا۔ ۔ ۔ ۔ جا دکان سے سکریو اُٹھا لا۔ ۔ ۔ ۔ پپو سنتے ہی دکان کی جانب بھاگا جو کھڑے ٹرکوں سے پندرہ، بیس فٹ کے فاصلے پرتھی۔ جب پپو دکان پر پہنچا تو سامنے کی چارپائی پر چت لیٹے ڈرائیور نے کہا۔ پپو۔ جی استاد۔ ۔

جا ہوٹل پر دو چائے کا بول آ۔ ۔ ۔ پپو نے سکریو اُٹھا کر استاد کو تھما دیا اور سڑک کے پار ہوٹل پر چائے کا کہنے چل دیا۔ راستے میں اس نے ڈرائیور کو گالیاں بھی دیں جو پپو کے سوا کوئی بھی نہ سن پایا۔ ہوٹل پر پپو کا دوست چھوٹا بھی کام کرتا تھا۔ جب پپو ہوٹل منیجر کو دو چائے کا کہہ رہا تھا تو ہوٹل کے کونے میں چھوٹے بڑے برتنوں میں قدرے چھپا ہوا چھوٹا اُٹھا اس نے پپو کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور خود برتنوں میں چھپ گیا۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پپو چھوٹے کے پاس جا بیٹھا۔ چھوٹا خوشی سے کہنے لگا۔ ۔ پپو۔ آج  میں  جلدی چھٹی کروں گا۔

پھر یہ طے ہوا کہ دونوں جلدی چھٹی کریں گے اور جا کر کھیلیں گے۔ ان کے محلے کے سارے لڑکے شام کو کھیلتے۔ ۔ کبھی کبھار۔ ۔ پپو اور چھوٹا بھی ان کے ساتھ کھیل لیتے تھے۔ ۔

کس وقت چھٹی کی جائے کہ پیسے مل جائیں دونوں آپس میں طے کر نے لگے۔ چھوٹے کو ایک فکر ہوئی کہ ایسا نا ہو کے جلدی چھٹی سے سالن روٹیاں نا ملیں۔ جبکہ پپو کا یہ مسئلہ نہ تھا، پپو فارغ اوقات میں کسی بھی تھکے ڈرائیور کا سر، پاؤں دبا دیتا تو پانچ، دس روپے ڈرائیو اسے دے دیتا۔

        پھر پپو کے حالات چھوٹے سے یکسر مختلف تھے اس کا والد زندہ تھا یہ الگ بات ہے کہ وہ ہر وقت گھر میں لیٹا رہتا پھر پپو کے سر پر گھر کا بوجھ نہ تھا کیونکہ گھر میں ایک والد اور والد کے علاوہ بھلا تھا بھی کون، ، ، ، ، ، ، ، پپو کے والد کا اکثر بیوی سے  جھگڑا بھی رہتا اور وہ کبھی کسی کے ہاں تو کبھی کسی کے ہاں مہمان رہتی جب کبھی صلح ہوتی تو دو تین دن گھر میں سکون رہتا پھر نجانے کیا ہوتا، برتنوں کے ٹوٹنے کی آوازیں بلند ہوتیں برتن بھی کتنے تھے، دو سٹیل کے گلاس، چار پلیٹیں ایک جگ، ان پر اتنے گہرے نشانات  کہ جیسے کسی نے پتھروں تلے رکھ کر خوب درگت بنائی ہو۔ جب پپو اٹھ کے گیرج جانے لگا تو چھوٹا رازدارانہ لہجے میں کہنے لگا۔ ۔

پپو یار، ، اگر مجھے ہوٹل سے ترکاری اور روٹیاں نہ ملیں تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پپو نے کہا تو کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہہ دینا ہوٹل میں بچا ہی کچھ نہ تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔

چھوٹا قدرے سوچتے ہوئے کہنے لگا۔ ۔ ۔ ۔ یار بہنیں اور امی خفا ہوں گی۔ پپو نے بے زاری سے کہا کوئی بھی خفا نہیں ہوتا بس آج جا کر کھیلیں گے اب رنگ میں بھنگ نہ ڈال۔

میں بھی تو تیری وجہ سے جلدی چھٹی کر رہا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چھوٹا چاہتے نہ چاہتے حامی بھر گیا۔ پپو سڑک پار کر کے جونہی گیرج پہنچا تو استاد نے اس کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ رسید کر دیا۔ ۔ ۔ ۔ پپو کا سر چکرا گیا کان بھی بند محسوس ہونے لگا۔ کافی دیر تک اس کا کان سننے سے قاصر رہا۔ کدھر گئے استاد چلایا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چائے کا بتانے گیا تھا پپو روتے ہوئے کہنے لگا۔ ۔ ۔ چائے کا بتانے گئے تھے یا چائے بنانے۔ ۔ ۔ استاد غصے میں تھا۔ پپو نے خاموشی میں ہی عافیت سمجھی۔ جاؤ جا کر اوزار دھونے کیلئے پیٹرول لاؤ استاد نے پچاس روپے تھماتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پپو نے گیلن اٹھایا پیٹرول پمپ کی جانب چل دیا۔ جو کافی دور تھا۔ گھنٹے بعد واپسی ہوئی۔ پپو جاتے ہوئے گاڑیوں کے نمبر اور سامنے کی باڈی دیکھتا جب گاڑی گزر جاتی تو پچھلی جانب بنے نقش ونگار اور تصویروں پر نظر جا ٹھہرتی۔ ۔ ۔

 پپو جب پیٹرول لے کرواپس پہنچا تو استاد اور دیگر کاریگر کھانا کھا کر فارغ ہو چکے تھے۔ ۔

۔ پپو نے گیلن رکھا تو اسے کھانا کھا لینے کا حکم دیا گیا۔ پپو نے دوچار نوالے بچے سالن سے کھائے، چینک سے چائے انڈیلی اور روٹی کے ٹکڑے بھگو کر کھانے لگا۔ ۔ ۔ اتنے میں آواز آئی۔ پپو۔ ۔ جی استاد۔ ۔ کھانا جلدی کھا کے آؤ۔ آیا استاد۔ ۔ پپو جلدی جلدی نوالے منہ میں ڈالے جا رہا تھا۔ ۔

        ہوٹل میں چھوٹے نے سارے برتن مانجھ دیئے، نیچے بکھرا گند صاف کیا، بچی پتی کو نالی میں پھینک کر صفائی کر ڈالی، اب جھاڑو دینے لگا۔ جب سارا کام ختم ہو چکا تو ہوٹل مالک سے کہنے لگا۔ مجھے چھٹی دیں۔ گھر جلدی جانا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ہوٹل مالک جو تھوڑی ہی دیر پہلے ایک گاہک سے ریٹ پر توں تکرار کر چکا قدرے غصے سے کہنے لگا۔ ۔ چھٹی اور وہ بھی پانچ بجے ہوٹل کا پتا ہے کتنے بجے بند ہوتا ہے۔ ۔

وہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ مجھے گھر سے کہا گیا تھا کہ آج جلدی آنا۔

اچھا تو باقی برتن کو ن دھوئے گا۔ چھوٹا سوالیہ نظروں سے ہوٹل مالک کو دیکھنے لگا پھر نجانے اس کے دل میں کیا آیا۔ کاؤنٹر کھولا پچاس کا نوٹ چھوٹے کو تھماتے ہوئے کہا۔ ۔

 صبح جلدی آنا آج کی طرح دیر نہ کرنا جب چھوٹا ہوٹل سے نکلنے لگا تو اس کے جی نے چاہا کہ ہوٹل مالک اسے دوپہر کی بچی روٹیاں اور سالن دے دے۔ ۔ ۔

۔ ۔ ۔ مگر اس کی یہ خواہش۔ ۔ ۔ خواہش ہی رہی۔ ۔ ۔ وہ ہوٹل سے نکل کے سامنے گیرج کی جانب چلنے لگا سڑک پر کافی رش تھا۔ چھوٹا انہی سوچوں میں گم تھا کہ وہ گھر والوں سے سالن اور روٹی کی بابت کیا کہے گا۔ اسے جلدی چھٹی کرنا اچھا نہیں لگ رہا تھا وہ انہی سوچوں میں چلتے چلتے سڑک کے درمیان میں جا پہنچا۔ ایک تیز رفتار گاڑی اور ٹیک کرتے ہوئے چھوٹے کو کچلتی ہوئی آگے نکل گئی۔

گیرج کے سامنے کھڑے اور ہوٹل کے باہر بیٹھے لوگ چلا اُٹھے۔ سب چھوٹے کی جانب بھاگے۔ چھوٹا سڑک کے درمیان میں خون میں لت پت پڑا تھا، پپو بھیڑ کو چیرتا ہوا چھوٹے کے پاس جا  پہنچا۔ چھوٹے کا سر اپنے دامن میں بھر کے اس کے چہرے کو ہاتھوں میں لے کر کہنے لگا۔ چھوٹے آنکھیں کھول۔ وہ چھوٹے کومسلسل آنکھیں کھولنے کا کیے جا رہا تھا۔ ۔ چھوٹے۔ ۔ او چھوٹے۔ ۔ ۔ ۔ جبکہ چھوٹے کے منہ سے۔ ۔ ر۔ ۔ ۔ ر۔ ۔ رو۔ ۔ رو۔ روٹی۔ ۔ ۔ روٹی کے الفاظ نکلے۔

اس  وقت چھوٹے سے دور اس کی ماں چھوٹے کی صبح کی لجاجت بھری باتیں یاد کر کے خود کو اندر ہی اندر ٹوٹتا محسوس کر رہی تھی۔ ۔

٭٭

 

دردانہ نوشین خان  ( مظفر گڑھ)

کاخ اُمرا

      دروازہ پر لٹکا ٹاٹ کا پردہ، پرانی چارپائی پر بچھی پھیکی بد رنگ میلی چادر، دیوار پر اُکھڑتا چونا، بوسیدگی سے پیلے پڑتے چھوٹے بونے فرج میں رکھی پانی کی بوتلیں، اُکھڑتی اینٹوں کا غیر متوازی فرش اعلان کرتے تھے کہ یہ کا شانہ مفلسی ہے۔

      اس کاشانہ مفلسی میں ’’میں ‘‘ ایک عاقل بالغ خود مختار، بنیادی حقوق کی دعوی ٰ  دار، تعلیم یافتہ انسان۔ ۔ ۔ ۔ یہ الفاظ مجھے ایم اے سیا سیات نے سکھا دئیے ہیں جو میں نے پھٹیچر سے پرائیویٹ کالج کی ایونگ کلاس میں کی۔ مجھے اپنے طبقے کی لڑکیاں اچھی لگتی ہیں نہ لڑکے اور نہ ہی مرد، یہ سب اندر سے بھوکے لالچی باہر سے نا مکمل کٹے پھٹے فلسفی، ہمہ وقت  لجائے کترائے یا مشتعل، ۔ ۔ جھکے کندھے والے ان شرمساروں کے خواب ہمالیہ سے اونچے ہوتے ہیں۔ یہی وہ مخلوق ہے جو سوتی گودریوں میں ہے اور خواب محلات کے دیکھتی ہے۔ ۔ ۔ میرا اِن غریبوں شودوں سے کوئی رشتہ نہیں حالانکہ میں اور یہ ایک ہی شجرہ رکھتے ہیں، مجھے تو اپنا آپ عزیز ہے، تم ہی بتاؤ خود سے بڑھ کر  دیکھے جانے کے قابل کون بھلا؟۔ جب کوئی گروپ فوٹو آتا ہے تو ہم ان میں خود کو تلاش کرتے ہیں پھر ایک ایک گروپ والے کی نظر سے خود کو دیکھتے ہیں۔

     میرے ہونے کے کمال سے سب کے سب علوم نکلتے ہیں۔ ہر علم لوٹ کر مجھ تک آتا ہے، مجھے منہا کر کے دیکھو علم کی ویلیو زیرو ہے۔

       ’’ اری بکواس بند کر۔ پتا نہیں کہاں کی بات کہاں لے جاتی ہے، پہلے ہی گھر میں کھانے کو دھیلہ نہیں، آگے تیری دماغی خرابی کا علاج کہاں سے کروائیں گی‘‘

      یہ میری ہم عمر بھابھی نگینہ بولی ہے، بیچاری بی اے پاس جاہل۔ ۔ ۔

    ’’ کیا تم دھیلہ کھاتی ہو؟۔ ۔ دھیلے سے ناشتہ کرتی ہو یا لنچ۔ ۔ ۔ یا ڈنر۔ ۔ ۔ چچ چچ بھر تو تم بھوکوں مر گئی سمجھو کیونکہ دھیلہ تو عجائب گھر کی زینت ہو گیا ‘‘

          میں جھلنگا چار پائی میں پڑی تجمل حسین خان کا عیش کر رہی تھی بھابھی پتھر جیسے کالے صابن سے  میلے چیکٹ کپڑے دھو رہی تھی۔ رگڑتی، مسلتی، پٹختی، اُچھلتی سنبھلتی، نچوڑتی، مروڑتی ہائے بچاری۔ ۔ ہمارے ہاں واشنگ مشین ابھی ایجاد نہیں ہوئی۔ بھابی مجھے کہہ رہی ہے: ’’ اُٹھ کے ہنڈیا پکا لو۔ ابا کے کھانے کا ٹائم ہو جائے گا۔ ‘‘

        ’’ ابا کو کھانا ٹائم سے نہ ملا  تو کو نسی  قیامت آ جائے گی، ویسے زندگی میں کبھی اور کچھ انھیں ٹائم سے ملا ہے؟  گھر مکا ن پیسہ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘پھر بھا بھی کو سنجیدہ پا کر پوچھ لیا:’’ کیا  پکانا ہے وہی پیاز ہری مرچ کا شاندار مستاوا؟‘‘

     ’’ آلو بنا لو۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

        میں ایک لمبی آہ بھر کر اُٹھی ہوں تازہ دھُلے اینٹوں کے فرش پر چل رہی ہوں۔ اُٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو، کاخ امراء کے درو دیوار۔ ۔ ۔ ۔ ہلا دو۔

٭٭٭

 

کامل دنیا:خلیل جبران

اے گم شدہ روحوں کے خدا!تو جو خود دیوتاؤں میں کھویا ہوا ہے، میری آواز سُن!۔

ہاں ہم دیوانی اور آوارہ روحوں کی نگرانی کرنے والی ہستی!میرے الفاظ پر توجہ فرما!

میں ایک کامل قوم میں رہتا ہوں۔ میں جو ایک غیر مکمل ہستی ہوں، میں انسانیت کے پریشان اور منتشر عناصر کا مجموعہ ہوں۔ میں ایک کامل دنیا میں رہتا ہوں جس کے قوانین اور ضوابط مکمل ہیں۔ اور جن کے تصورات ضبطِ تحریر میں آسکتے ہیں۔ اے خدا!ان کی نیکیاں گنی ہوئی اور گناہ تُلے ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ لاتعداد ایسی چیزیں جو شام کے دھندلکے میں گناہ اور ثواب سے ماورا ہیں، شمار اور درج کی جاتی ہیں۔ یہاں دن رات چال چلن کے موسمی تغیرات میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔ اور انہیں خوب جانچ تول کر کڑے اصولوں کی زنجیر میں جکڑا جاتا ہے۔

کھانا، ۔ ۔ پینا، ۔ ۔ سونا اور اپنی عریانی کی پردہ پوشی کرنا۔ ۔ کام کرنا۔ ۔ ۔ کھیلنا۔ ۔ ۔ گانا، ناچنا اور گھڑیاں بجتے ہی چپ چاپ سو جانا۔ صرف ایک مقررہ مدت کے ساتھ غور و فکر کرنا۔ ۔ ۔ افق کے اس پار ایک خاص ستارہ کے طلوع ہونے پر غور و فکر کا سلسلہ بند کر دینا۔ ایک زیر لب تبسم کے ساتھ اپنے پڑوسی کو لوٹ لینا۔ ہاتھ کو شان سے ہلا کر خیرات کرنا۔ کسی کی جان بوجھ کر تعریف کرنا۔ دوسروں پر انتہائی چالاکی سے الزام عائد کرنا۔ کسی شخص کی زندگی کو ایک ہی لفظ میں تباہ کر دینا۔ اور جب دن بھر کا کام تمام ہو جائے تو نہایت عیاری سے ہاتھ دھو لینا۔ ایک مضبوط ارادے کے ساتھ محبت کرنا۔ ۔ بڑے تپاک سے شیطان کے ساتھ اتحاد کرنا۔ اور پھر سب کچھ بھول جانا۔ سوچ سمجھ کر کسی چیز کی تمنا کرنا۔ خندہ پیشانی سے ملول ہونا اور پیالہ خالی کر دینا تاکہ کل اسے پھر بھر دیا جائے۔

اے خدا! یہ تمام چیزیں پہلے ہی سے سوچی گئی ہیں۔ بڑی احتیاط کے ساتھ پیدا کی جاتی ہیں اور ان کی بڑے اہتمام کے ساتھ نگہداشت کی جاتی ہے۔ حکومت کے قوانین کی آڑ میں ان کا تحفظ کیا  جاتا ہے۔ مختلف ذرائع سے پاسبانی کی جاتی ہے۔ اور آخرکار طے شدہ منصوبے کے مطابق انہیں ذبح کر کے دفن کر دیا جاتا ہے۔ اور ان کی خاموش قبروں پر بھی جو انسانی دلوں میں جاگزیں ہوتی ہیں، نشان لگا دئیے جاتے ہیں۔ یہ ہے ہماری کائنات، ہماری متمدن دنیا جو عجائبات سے بھری ہوئی ہے۔ یہ ہے قادرِ مطلق کے باغ کا پختہ ثمر لیکن اے خدا!میں یہاں کیوں ہوں ؟۔ میں جو ناکام خواہشوں کا ناقص بیج ہوں۔ ایک آوارہ طوفان ہوں، ایک ٹوٹے پھوٹے سیارے کا ٹکڑا جو ہواؤں میں پریشان ہے۔ اور نہ مشرق کو تلاش کرتا ہے نہ مغرب کو۔

اے گم شدہ روحوں کے خدا! تو جو دیوتاؤں کے ہجوم میں گم ہے بتا میں یہاں کیوں ہوں ؟  ٭٭٭

 

محمد کاشف حنیف ( ہڑپہ اسٹیشن)

خلش

           عباس پور ریلوے اسٹیشن چوبیس گھنٹوں میں شاید ایک آدھ ریل گاڑی رکنے کے لیے بنایا گیا تھا جہاں سے شام ڈھلتے ہی کسی گاڑی کا ملنا مشکل ہوتا۔ ریلوے اسٹیشن سے ڈیڑھ دو کلو میٹر دور پرانی بستی میں رات کے سناٹے میں ہر طرف چھائی تاریکی ماحول کو پر اسرار بنا رہی تھی۔ پوری گلی میں وسط سے کچھ پہلے ایک چھوٹا بلب ضرور روشن تھا لیکن اس کی روشنی صرف کچھ ہی جگہ کا احاطہ کر پا رہی تھی اور یوں محسوس ہوتا تھا گویا یہ بلب مکان کی نشانی ہے کہ بلب والا مکان فلاں صاحب کا ہے۔ بلب کی روشنی صرف گلی کے درمیان میں تھی۔ اندھیرے کے بعد ملگجی روشنی اور پھر اندھیرا بالکل ایسا ہی لگ رہا تھاجیسے کسی پیدائشی غریب کی زندگی عسرت و ننگی سے شروع ہوئی ہو اور کچھ عرصہ حسین خواب کی مانند اچھے دن آنے اور گزر جانے کے بعد پھر وہی افلاس زدہ زندگی لوٹ آئی ہو۔

                گلی کی اندھیری نکڑ پر وہ تینوں شکاری کسی شکار کے منتظر تھے۔ اچانک گلی کی دوسری نکڑ سے ایک ہیولا نمودار ہوا اور چلتے چلتے روشنی میں آ پہنچا۔ وہ پچیس چھبیس سال کی ایک خوب روحسینہ تھی جس کے ہاتھ میں نیلے رنگ کا ایک بیگ تھا۔ لگتا تھا کہ وہ کافی دیر سے پیدل چل رہی ہے جس وجہ سے سانس تیز تیز چل رہی تھی لیکن منزل ابھی رسائی سے دور تھی۔ اتنا خوب صورت، جوان اور اکیلا شکار دیکھ کر شکاریوں کی آنکھوں میں چمک اور منہ میں پانی بھر آیا۔

          اندھیرے سے خوف زدہ لڑکی اتنی سہمی ہوئی لگ رہی تھی گویا پہلے سے جانتی ہو  کہ اس پر کیا بیتنے والی ہے۔ وہ بلب کی روشنی میں بننے والے اپنے ہی سائے کی طرف دیکھنے سے گریزاں تھی جیسے اس کا اپنا سایہ نہیں بل کہ ایک بہت بڑی بلا اسے کھا جانے کے لیے اس کے پہلو میں آن پہنچی ہو۔ روشنی کا سفر ختم ہوتے ہی اندھیرا اسے مکمل طور پر اپنی بساط لینے کو تیار تھا۔ اندھیرے میں ابھی اس نے بمشکل چند قدم ہی اٹھائے ہوں گے کہ گھات میں لگے شکاری اس پر پل پڑے۔ اس نے شکاریوں کے چنگل سے اپنی جان چھڑانے کی کوشش کی اور بھاگ کر گلی کی نکڑ مڑ جانا چاہی لیکن ایک شکاری کی مضبوط گرفت آڑے آ گئی۔ لڑکی نے چیخ مارنا چاہی لیکن آواز نرخرے میں دب کر رہ گئی۔ کچھ ہی دیر میں پھڑپھڑاتے ہوئے شکار نے آخری بار حرکت کی جیسے گل ہوتی ہوئی شمع آخری بار پھڑپھڑائے یا شاید ایسے ہی جیسے کوئی مرغی ذبح کرنے والے کے سامنے آخری وقت تک پھڑپھڑاتی ہے اور پھر تھک ہار کر ساکت ہو جائے۔ ایک چلتا پھرتا وجود پل بھر میں اس ظالم بھیڑیا سماج کو خیرباد کہہ چکا تھا۔ شاید اپنے وقت سے ر پہلے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شکاری اپنی ہوس بجھا کر وہاں سے غائب ہو چکے تھے۔

              مولوی کرامت علی فجر کی اذان دینے اور امامت کے لیے مسجد کی طرف جا رہے تھے کہ ملگجے اندھیرے میں اسے کسی وجود کا شبہ ہوا۔ پاس جا کر دیکھا تو انسانیت کے ہاتھوں بھنبھوڑی ہوئی لاش اپنے ساتھ ہونے والے بہیمانہ تشدد کی داستان سنا رہی تھی۔ مولوی کرامت نے مسجد میں اعلان کر دیا۔ آہستہ آہستہ گاؤں کے تمام لوگ لاش دیکھنے کے لیے اکٹھے ہو گئے۔ ہر آنکھ اشک بار ہو رہی تھی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس وہاں پہنچ گئی۔ اتنی دیر میں بوڑھا کریم بخش بھی اپنے بیٹے سمیت وہاں پہنچا۔ کریم بخش لاش دیکھتے ہی زمین پر گر گیا اور اس کی زبان سے ایک جملہ ادا ہوا :

   ’’میں اسے جانتا ہوں ‘‘

      اس سے آگے بوڑھے کریم بخش کی زبان اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ تھانے دار نوید بیگ نے کریم بخش سے تھانے آنے کو کہا اور سپاہیوں کو لاش سے متعلق ہدایات دیتا ہواواپس چلا گیا۔

          بوڑھے کریم بخش کے بیٹے افضل سمیت سارا گاؤں حیران تھا اور قیاس آرائیاں کر رہا تھا کہ کریم بخش کا لاش سے کیا تعلق ہو سکتا ہے۔ بوڑھا کریم بخش جس کے بارے میں سارا گاؤں جانتا تھا کہ اس کی کل کائنات صرف ایک بیٹا افضل ہے جس کی ماں اس کو جنم دینے کے کچھ دیر بعد چل بسی تھی۔ ہاں البتہ سال میں ایک آدھ بار کریم بخش حبیب نگر نامی گاؤں ضرور جایا کرتا تھا۔ جہاں اس کی بہن حمیداں رہا کرتی تھی۔

                      کریم بخش اپنے گاؤں کے چند معزز افراد کے ہمراہ تھانہ میں موجود تھا۔ اس کے مطابق مقتولہ کا نام رخسانہ تھا اور وہ کریم بخش کی بھانجی تھی۔ کریم بخش کی بہن حمیداں نے اپنی مرضی سے گاؤں کے ماسٹرعبدالرشید سے نکاح کر لیا تھاجس وجہ سے تمام برادری والوں نے اس سے ملنا جلنا ختم کر دیا تھا اور کریم بخش اپنی بہن کی اس حرکت پر لوگوں سے بہت سی باتیں سن چکا تھا۔ آخرکار اکتا کر کریم بخش اپنی بیوی کوساتھ لے کرعباس پور آ گیا۔ یہیں ناصرہ کے بطن سے افضل نے جنم لیا۔ ادھر رخسانہ کے پیدا ہونے کے کچھ عرصہ بعدماسٹر عبدالرشید کو دل کے دورے نے آ  لیا اور وہ جہان فانی چھوڑ کر چل بسا۔ حمیداں بے چاری ایک بچی کو لے کر پوری دنیا کا سامنا کرنے کے لیے تنہا رہ گئی۔ یہ سب کچھ دیکھ کر کریم بخش کا دل پسیجا اور اس نے حمیداں کو معاف کر دیا اور اس سے ملنا جلنا شروع کر دیا لیکن حمیداں کبھی عباس پور نہیں آئی تھی اور نہ ہی کبھی رخسانہ کو جانے دیا۔ رخسانہ کی پرورش کرنے کے لیے حمیداں نے ہر قسم کی محنت مزدوری کی، کپڑے سلائی کیے اورجھاڑوپونچھا تک کیا۔ رخسانہ پڑھ لکھ کر گاؤں کے اسکول میں استانی کے فرائض سر انجام دینے لگی۔

            کریم بخش نے بھی افضل کو کبھی حبیب نگر لے جانے کی غلطی نہ کی تھی کیوں کہ لوگوں کی زبان لمبی اور افضل کی برداشت کی حد بہت مختصر تھی۔ اب افضل پچیس چھبیس سال کا کڑیل جوان تھا۔ کریم بخش نے اس کی پرورش بڑے اچھے انداز میں کی تھی۔ لیکن اب اس کا اٹھنا بیٹھنا کچھ غلط لوگوں میں ہونے لگا تھاجس پر کریم بخش اسے اس کا برا بھلا سمجھاتا رہتا تھا۔ آخرکار اس نے سوچا کیوں نہ اس کی شادی کر دی جائے تاکہ وہ اپنے گھر بار والا ہو جائے۔

                     کچھ عرصہ قبل حمیداں کی وفات کی اطلاع کریم بخش کو پہنچی تو اس کا حبیب نگر جانا ہوا۔ رخسانہ کا تنہا ہونا کریم بخش کو دہلائے جا رہا تھا۔ آخر اس نے سوچاکہ کیوں نہ رخسانہ کا نکاح افضل سے کر دیا جائے۔ افضل اس ساری صورتِ حال سے بے خبر تھا لیکن کریم بخش کو اپنے خون پر پورا اعتبار تھا کہ وہ اس کی بات نہیں ٹالے گا۔ رخسانہ بھی اپنے ماموں کا گاؤں دیکھنا چاہتی تھی لہٰذا کریم بخش نے رخسانہ سے کہا کہ وہ کسی بھی دن سکول سے رخصت لے کر گاؤں آ جائے۔ اسی بہانے عباس پور بھی دیکھ لے گی اور افضل سے بھی مل لے گی۔ ویسے بھی اب اسے باقی کی تمام عمر عباس پور میں ہی گزارنا تھی۔

                قتل کی رات رخسانہ کریم بخش سے ملنے آئی تھی۔ اولاً تو ٹرین نے دیر کر دی دوسرا یہ کہ ریلوے اسٹیشن کا گاؤں سے فاصلہ اتنا طویل تھا کہ شام کے وقت وہاں سے پیدل چلتے تو گاؤں پہنچتے پہنچتے رات ہو ہی جاتی اسی لیے رخسانہ بھی رات کے وقت گاؤں پہنچی تھی اور گھر ڈھونڈتے ہوئے ظالم بھیڑیوں کے ظلم کا نشانہ بن گئی۔

                            ساری بات سننے کے بعد تھانے دار نے مزید کاروائی کے بارے میں کریم بخش سے پوچھا۔ کریم بخش شریف انسان تھا اور تھانے کچہریوں کے چکر میں نہیں پڑنا چاہتا تھا۔ ویسے بھی پوسٹ مارٹم کے نا م پر ہونے والی لاش کی بے حرمتی کے بارے میں جانتا تھا۔ اس   لیے مزید کاروائی سے انکار کر دیا۔ تھانے دار نے لاش کریم بخش کے حوالے کر دی اور اس کے کفن دفن کا انتظام کیا جانے لگا۔ جنازے میں حبیب نگر سے کچھ اور رشتہ دار بھی شریک ہوئے۔ ہر کوئی اس خاندان کی بپتا پر افسردہ تھا۔ کچھ دنوں تک کریم بخش بھی رو دھو کے چپ ہو گیاکہ شاید یہی مالکِ کل کائنات کی مرضی تھی۔ آہستہ آہستہ اس بات کو چھ ماہ کا عرصہ گزر گیا لیکن افضل کی آنکھوں میں ایک بے چینی سی لہراتی ہے جیسے اس کے اندر کوئی خلش اسے بار بار ستاتی ہو۔

                         آج حالات معمول پر ہیں لیکن بوڑھے کریم بخش کا بیٹا افضل، اسلم دھوبی کا بیٹاسلطان اوراس کا چچا زاد شیرو آج بھی ایک دوسرے سے نظریں نہیں ملا پاتے اور نہ ہی رات کو چوری چھپے گلی کی اندھیری نکڑ پر اکھٹے ہوتے ہیں۔

٭٭٭

       ذہانت اکثر و بیشتر ایک حجاب ہے۔ اگر تم اس کے چاک کرنے پر قادر ہو جاؤ توتمہیں ایک ہیجان آفرین عبقریت نظر آئے گی یا ایک فریبِ مہارت۔                                                                     خلیل جبران

 

افسانوں کے چند مجموعوں پر تبصرے

خواب کا رشتہ (شہناز خانم عابدی)

جوگندر پال

     شہناز خانم عابدی کو پڑھتے ہوئے اکثر معلوم ہوتا ہے گویا اسے آپ ہی آپ بنی بنائی کہانیاں سوجھ جاتی ہیں مگر ایسا نہیں ہوتا ہو گا۔ لکھنے سے پہلے اسے بھی ہم سب کی مانند بہت سوچنا ہوتا ہو گا اور کہانے کے فطرتی بہاؤ کا اہتمام کر پانے کے لئے بہت رک رک کر لکھنا ہوتا ہو گا۔ لکھی ہوئی رواں دواں کہانیاں اکثر ’’قیام‘‘ کی کیفیات سے عاری ہوتی ہیں۔ ’’ خواب کا رشتہ‘‘ ہی کو لے لیجئے اس کے مطالعہ سے قاری کو طبع زاد معانی کی ٹٹول ہونے لگتی ہے اور یوں گویا اس نے بھی کہانی کی تخلیق میں اپنی سا جھے داری نبھائی ہو۔ مجھے یقین ہے کہ شہناز خانم عابدی اپنی اس نمایاں خوبی کی بدولت اردو کہانی میں اہم رول اد ا کرے گی۔

       شہناز خانم عابدی  کے فن کا  ایک  پہلو یہ بھی ہے کہ ما نو وقوعہ  اس کے یہاں کہانی شروع کرنے سے پہلے ہی انجام پا چکا ہوتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ مگر نہیں اسے بھی سبھوں کی مانند موزوں وقوعوں کی تلاش میں بہت دقت کا سامنا رہتا ہو گا  تاہم اپنی یہ دقت ایک اچھے فنکار کی طرح وہ اپنے قاری تک نہیں پہنچنے دیتی  جو دلچسپ مطالعہ کی تیز روی میں کہانی کے اختتام سے پہلے کہیں دم نہیں لیتا۔

     رائٹر اگر اوریجنل ہو تو اپنی اوریجنلٹی سے بہ حسن و خوبی نمٹ پانے کے لئے  اسے بہت زیادہ اور لگا تار محنت اور زندگی کے مطالعہ سے کام لینا ہوتا ہے۔ خانم کی موجودہ تخلیقی بے چینیاں اس امر کی شاہد ہیں کہ اس کے شوق اور شدت میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا اور یوں وہ اپنے فکشن کی تخلیق کے اسباب تا دمِ آخر بنائے رکھے گی۔ کسی مصنف کے اوائل کی اچھی تحریریں اس تاثر کے باعث قابلِ اعتنا ہوتی ہیں کہ وہ اواخر تک آتے آتے ڈھیروں اور بھی اچھا لکھے گا۔ شہناز خانم عابدی  سے بھی ایسی توقعات باندھنا عین فطری معلوم ہوتا ہے۔ تخلیقی انہماک بڑا جان لیوا ہوتا ہے۔ خدا کرے اس کے انہماک میں انحطاط  واقع نہ ہو۔

        اردو کہانی کا یہ باب یقیناً  بڑا حوصلہ افزا ہے کہ ہمارے بعض لکھنے  والے برصغیر کے باہر بسے ہوئے ہیں اور یوں بھی ہماری کہانی کے وقوعی اور فکری اسباب میں وسعت پیدا ہو رہی ہے۔ خانم اور چند دیگر لکھنے والے اس تعلق سے بھی ہمارے افسانوی اسکوپ میں اضافہ کر رہے ہیں۔ نئے ادب کی زندگی پر بھر پور نظر رکھے بغیر بھی چارہ نہیں، خانم کے وقوعی اسباب میں ان امکانات کا بھر پور اسکوپ موجود ہے۔ طبع زاد کہانیاں زندگی  بسر کرنے کے باب سے بھی زیادہ کٹھن اور محنت طلب ہوتی ہیں، شہناز خانم عابدی کی موجودہ تخلیقی شرکتیں گواہی دیتی ہیں کہ وہ اوّل بھی تخلیق کار ہے اور آخر بھی۔ خدا  اُسے لکھنے کی صعوبت سے عہدہ برآ ہو پانے کے ذرائع اور ہمت عطا کرتا رہے۔

٭٭٭

 

    پرندے اب کیوں نہیں اڑتے (دیویندر اسر)

حیدر قریشی

   دیویندرا سرنے ترقی پسندی سے جدیدیت تک کا ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ سماجی انقلابی اور احتجاجی کہانیوں سے ہوتے ہوئے انہوں نے جدید افسانے کی منزل سر کی ہے۔ ان کے افسانوں کا تازہ مجموعہ ’’پرندے اب کیوں نہیں اڑتے‘‘سترہ افسانوں پر مشتمل ہے۔ کسی افسانہ نگار کے تازہ مجموعہ سے اس کی افسانہ نگاری کی تازہ صورت حال کا اندازہ کیا جاتا ہے لیکن زیرِ نظر مجموعہ میں دیویندراسر کے تازہ افسانوں کے ساتھ چند تھوڑے پرانے اور چند زیادہ پرانے افسانے بھی شامل ہیں۔ اس طرح یہ مجموعہ اپنے آپ میں دیویندراسر کی افسانہ نگاری کے ارتقائی عمل کی جھلکیاں بھی پیش کرتا ہے۔ زیادہ پرانے افسانوں میں ’’خونِ جگر ہونے تک ‘‘ اور شمع ہر رنگ میں جلتی ہے۔ ۔ ’’

      تھوڑے پُرانے افسانوں میں ’’میرا نام شنکر ہے‘‘ اور ’’پرندے اب کیوں نہیں اُڑتے‘‘ جیسے افسانے شامل ہیں جب کہ تازہ افسانوں میں ’’وے سائڈ ریلوے اسٹیشن۔ ‘‘آر کی ٹیکٹ‘‘ ’’جنگل ‘‘، ’’پرچھائیوں کا تعاقب‘‘اور ’’جیسلمیر‘‘جیسے افسانوں کے نام لئے جا سکتے ہیں۔ ’’پرچھائیوں کا تعاقب‘‘ کا ایک اقتباس دیکھیں :

        ’’تلاش کے اس عمل میں اس نے گم شدہ لوگوں کی تصویریں جمع کرنا شروع کر دیں۔ ان تمام لوگوں کی تصویریں جولا پتہ ہو جاتے ہیں۔ کسی کا قتل کر دیتے ہیں۔ یا خود کشی کر لیتے ہیں۔ گھر بار چھوڑ دیتے ہیں۔ سنیاس لے لیتے ہیں، تارک الدنیا ہو جاتے ہیں، بھیس بدل کر دو سری زندگی بسر کرنے لگتے ہیں۔ اسکول کا لج چھوڑ کر انقلابی بن جاتے ہیں یا اس عورت کی طرح کسی دُور افتادہ گاؤں میں آدمی واسیوں میں کام کرتے ہیں۔ وہ کیا چیز ہے جو لوگوں کو ایک زندگی بدل کر دوسری زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ یہ کیسا جنون ہے۔ !‘‘

وہ کیا چیز ہے جو لوگوں کو ایک زندگی بدل کر دوسری زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دیتی ہے اور کہیں بھی چین سے ٹکنے  نہیں دیتی۔ اسی چیز اور اسی اضطراب کی کھوج کا سفر دیویندراسر کے افسانوں میں دکھائی دیتا ہے۔ جدید اور جدید تر افسانے سے دلچسپی رکھنے والے اصحاب کے لیے دیویندراسر کے اس مجموعے کو نظر انداز کرنا بے حد مشکل ہو گا۔

٭٭٭

 

 بھاگتے لمحے (عبداللہ جاوید)

اے  خیام (کراچی)

اگر پاک و ہند کے علاوہ اردو کی دوسری بستیوں کی طرف توجہ کی جائے جہاں اردو زبان و ادب کی ترویج اور تسلسل کا عمل جاری ہے  تو کینیڈا کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہاں ایسے لکھنے والے تو موجود ہیں ہی جنہوں نے پاک و ہند میں لکھنے کی ابتدا کی تھی پھر کینیڈا کو اپنامستقر بنا لیا اور ایسے لکھنے والے بھی ملیں گے جنھوں نے وہیں لکھنے کا آغاز کیا اور خاصے معروف ہوئے۔ اس وقت عبداللہ جاوید کے افسانوں کا مجموعہ ’’ بھاگتے لمحے‘‘ میرے  زیرِ مطالعہ ہے۔ عبداللہ جاوید خاصے سینیئر لکھنے والے ہیں۔   ۴۰ کی  دہائی میں انہوں نے لکھنے کا آغاز کیا۔ بچوں کے لئے کہانیاں لکھیں، شاعری کی، خاکے لکھے، کالم نویسی کی، اور تنقیدی ادبی مضامین بھی لکھے۔ بہت سی کتابیں شائع ہوئیں اور بہت سی زیرِ طبع اور اشاعت کی منتظر ہیں۔ اردو کے ساتھ انگریزی زبان میں بھی یکسا ں قدرت رکھتے ہیں اس لئے انہوں نے دونوں زبانوں میں شاعری کی اور دونوں زبانوں میں افسانے لکھے۔ شاعری کے تو ان کے کئی مجموعے شائع ہوئے اور ایک مجموعہ ’’ موجِ صد رنگ‘‘ کے دو ایڈیشن شائع ہوئے۔ لیکن افسانوں کا ایک ہی مجموعہ ’’ بھاگتے لمحے‘‘  ۲۰۱۰؁ میں شائع ہوا۔

        عبداللہ جاوید کا اصلی نام محمد عبداللہ خان جاوید ہے۔ پہلے انھوں نے جاوید یوسف زئی کے نام سے قلمی نام اختیار کیا اور معروف رسالوں میں ان کے افسانے اسی نام سے شائع ہوئے۔ یہ سلسلہ تقریباً بیس سال تک چلتا رہا۔ پھر انہوں نے اس قلمی نام کو ترک کر دیا اور عبداللہ جاوید کے نام سے لکھنے لگے۔ جیسا کہ ابھی عرض کیا گیا ہے ’’ بھاگتے لمحے‘‘ عبداللہ جاوید کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ہے۔ اس مجموعے میں  ان افسانوں کو جگہ نہ مل سکی جو جاوید یوسف زئی کے نام سے لکھے گئے تھے۔ قاری کو اس کا اندازہ کرنا مشکل ہو گا کہ ان کا ارتقائی سفر کیسا رہا، آغاز میں انہوں نے کس طرح کے افسانے لکھے اور اب کس طرح کے افسانے لکھ رہے ہیں۔ یہ ان افسانوں کا ہی تسلسل ہے یا ان موضوعات اور اسلوب سے انحراف ہے یہ مجموعہ ان کے افسانوں کا انتخاب ہے جس میں ضروری تھا ان کے کچھ افسانے ابتدائی دور کے بھی شامل کئے جاتے۔

        اس مجموعہ میں ان کے بیس افسانے شامل ہیں۔ کچھ افسانے طویل ہیں اور کچھ مختصر۔ ہر افسانہ اپنے لئے خود سانچہ متعین کرتا ہے۔ کئی افسانے ایسے ہیں جو خود کلامی کے انداز میں لکھے گئے ہیں۔ یا ان کو بیان کرنے والا واحد متکلم کے صیغے میں موجود ہے۔ ان افسانوں کو پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ عبداللہ جاوید ایک مختلف اور بڑے وژن کے مالک ہیں۔ منفرد ہونا کوئی بڑی خوبی نہیں ہوتی۔ لیکن اس میں ایک نیا زاویہ، بڑا وژن، مختلف اسلوب بیان در آئے تو انفرادیت اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ عبداللہ جادید کے افسانوں میں ایک نیا ذائقہ ملتا ہے۔ اور ہر موضوع کے لئے وہ اپنا ایک زاویۂ نظر رکھتے ہیں۔ یہاں ان کے تمام بیس افسانوں کا جائزہ لینا تو مشکل ہو گا جب کہ سب افسانے کسی نہ کسی لحاظ سے اہم ضرور ہیں۔

        اس مجموعے کا پہلا افسانہ ’’ دختر آب‘‘ ہے جس میں بڑا بے باک  اور فطری لہجہ اختیار کیا گیا ہے آخر کے چند جملے قاری کا جھٹکا نہیں دیتے بلکہ ایسی جگہ لے جاتے ہیں جہاں اُسے بہت سے سوالوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کی یہ خوبی تقریباً ہر افسانے میں موجود ہے جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ اُسے نئے وژن سے دوچار کرتے ہیں۔ نئے اسلوب سے متعارف کرواتے ہیں۔ اسلوب تو زیادہ تر بیانیہ ہی ہے اور کسی کسی افسانے میں یہ طوالت بھی اختیار کر گیا ہے جو قدرے گراں گزرتا ہے۔ لیکن شاید افسانہ  نگار اپنی پوری بات اسی طرح کہہ سکتا ہے۔ ’’ ہونے کا درخت‘‘ ایسا افسانہ ہے جس پر ممکن ہے’ انشائیہ‘ کی چھاپ لگے لیکن اصل میں یہ Stream of consciousness کی تکنیک میں لکھے جانے والے افسانے کی بڑی اچھی مثال ہے۔ اس میں ایک ایسا بہاؤ اور ایسی لہر ہے جو قاری کو اپنے ساتھ لئے پھرتی ہے۔ ’’ دسواں مکان‘‘ نسبتاً ایک مختصر افسانہ ہے جس کے آخر کے چند جملے بڑی خوشگوار کیفیت سے دو چار کرتے ہیں۔ ’’ میری بیوی‘‘ میں پھر ایک بار افسانہ نگار کا وژن کھل کر سامنے آتا ہے۔ وہی بے باک بیانیہ، وہی بولڈ جملے، جو مجموعے کے پہلے افسانے ’’ دختر آب‘‘ میں نظر آیا۔

          اس تبصرے میں مجموعے کے تمام افسانوں کا ذکر اور ان کا تجزیہ تو ممکن نہیں لیکن اتنی بات تو پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ عبداللہ جاوید کا قلم نہ صرف یہ کہ ابھی تک تھکا نہیں بلکہ نت نئے Dimensions تلاش کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ اور کئی افسانوں  میں ایسی مثالیں نظر آتی ہیں جن کو بنیاد بنا کر کہا جا سکتا ہے کہ اردو افسانے کے فن کی وسعت کے لئے ابھی بڑی گنجائش موجود ہے۔

٭٭٭

 

کہانی بول پڑتی ہے (ڈاکٹر رضیہ اسماعیل)

ڈاکٹر نذر خلیق

  ڈاکٹر رضیہ اسماعیل کی نئی کتاب ’’کہانی بول پڑتی ہے‘‘ بک ہوم لاہور کے زیر اہتمام شائع ہو گئی ہے۔ ۱۳۶ صفحات پر مشتمل اس کتاب میں پوپ کہانی کے مسئلہ کو علمی سطح پر پیش کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر رضیہ اسماعیل نے’’ پوپ میوزک سے پوپ کہانی تک‘‘ کے عنوان سے اپنے مضمون میں اپنے موقف کو واضح کیا ہے۔ انہوں نے اپنی کہانیوں کے ساتھ امریکی پوپ کہانی کارکنگ وینکلس کی دو پوپ کہانیاں بھی ترجمہ کرا کے شامل کی ہیں۔ اس سے پوپ کہانی کے مرکز میں اس کی حیثیت کا اندازہ کرنے میں سہولت ہو جاتی ہے۔ پھر اسی حوالے سے اردو میں پوپ کہانی کی صورتِ حال کو مزید بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ حیدر قریشی کا مضمون ’’پوپ کہانی اور رضیہ اسماعیل کی کہانیاں ‘‘نہ صرف اس کتاب کی کہانیوں پر اظہار خیال ہے بلکہ انہوں نے پوپ کہانی کے بنیادی مسئلہ کی طرف بھی سنجیدگی کے ساتھ توجہ دلائی ہے۔ ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا کا مضمون’’ خواندنی اور جاذبِ نظر کہانیاں ‘‘بھی کتاب میں شامل ہے اور اس میں خواجہ محمد زکریا نے عمدہ پیرائے میں اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے۔

       افسانہ’’ مشین‘‘ اور’’ سرخ دروازہ‘‘ امریکی کہانی کار کنگ وینکلس کی تخلیقات ہیں۔ انہیں اردو میں اسماعیل اعظم نے ترجمہ کیا ہے۔ ان کے بعد ڈاکٹر رضیہ اسماعیل کی  مندرجہ ذیل بارہ کہانیاں شامل ہیں۔ تھرڈ ورلڈ گرل، ایئر فریشنر، آنر کلنگ، تھرڈ ڈائمنشن، گلاس کٹر، گاربیج، شادی ڈاٹ کوم، ریورس گیئر، پاکی، بھائی جان، ریڈیو کی موت، اور ٹک ٹک دیدم۔ آخر میں ڈاکٹر رضیہ اسماعیل کے بارے میں ’’ تعارف/تخلیقی اور ادبی سفر‘‘کے عنوان کے تحت ان کی اب تک کی ادبی و سماجی کار کردگی کی مختصراً نشان دہی کی گئی ہے۔

        امید ہے کہ ’’کہانی بول پڑتی ہے‘‘ کی اشاعت سے جہاں ڈاکٹر رضیہ اسماعیل کی افسانہ نگار کی حیثیت قائم ہو گی وہیں پوپ کہانی کے مسئلہ پر سنجیدہ بحث بھی ہو سکے گی۔ ایسی بحث جس کا مقصد پوپ کہانی کے بنیادی خد و خال کو اجاگر کرنا ہو۔

٭٭٭

 

بے سورج بستی ( حمیدہ معین رضوی)

مامون ایمن (امریکہ)

          اس کتاب کی مصنفہ تقریباً ینتالیس برس سے لندن میں رہ رہی ہیں۔ وہ  وہاں درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں۔ ( غیر ملکیوں کے اردو سیکھنے کے لیئے انھوں نے ایک  خاص نصاب اور  اس کے طریقہ تعلیم پہ مقالہ لکھا ہے۔ یہ پراجیکٹ گولڈ سمتھ یونیورسٹی اور کیمبرج  یونیور سٹی کے اشتراک سے تیار ہوا  تھا اور حمیدہ معین رضوی نے ایک اور اردو کی استادکوثر علی کے اشتراک سے یو نیورسٹی کے بتائے  ہوئے مقاصد اور رہنمائی میں اسے مکمل کیا تھا۔ برطانیہ کے اردو اساتذہ اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں )

     ’’ بے سورج بستی ‘‘ کا پیش لفظ معروف افسانہ نگار منشا یاد نے لکھا ہے، نیز اس کتاب پہ رائے دینے والوں میں محمد اقبال فہیم جوزی، کرنل غلام سرور ریٹائرڈ اور نثار ترابی بھی شامل ہیں۔ گیارہ افسانوں پر مشتمل یہ  کتاب تجربات سے گذرنے والے واقعات و حالات کو مشاہدے کے سانچے میں یوں ڈھالتی ہے کہ قاری ا ن تجربات اور مشاہدات کو اپنی ذات سے مربوط کرنے کا اعلان کرتا ہے۔ بہ الفاظ دیگر، فرد اپنے  زمانے سے منسوب سماج کے اجتماعی رنگ کا ایک جیتا جاگتا عکس نظر آتا پے، اس عکس میں دیس بھی ہے اور پردیس بھی۔ اس تیزی سے سکڑتی دنیا میں سفر کے دوش  پر سوار خواہشوں اور امیدوں کے جلو میں رواں، دواں مسافر اپنی صدیوں پرانی ثقافت کو ہجرت کی ایک ضرب سے توڑ نے کے باوجود خود کو اپنے ماضی سے جدا کرنے سے قاصر ہے۔ شعوری طور پہ بھی اور غیر شعوری طور پہ بھی۔ پاک و ہند کے تارکین وطن انگلستان میں انگریزی لباس پہنتے ہیں، وہاں کے شدید موسموں کا ہدف بھی بنتے ہیں، نسلی تعصب کا شکار بھی ہوتے ہیں آیندہ نسل کے ضیاع کے خدشات کا بھی مقابلہ کرتے ہیں۔ قرب میں دوری کے لمحات بھی دیکھتے ہیں، بجا لیکن وہ مجموعی طور پہ خود کو اپنے ماضی سے جڑا رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ دھوپ اور چھاؤں کی مسلسل جنگ میں ملوث ہونے کے باوجود خود کو بکھرنے سے بچانے کی کوششوں میں ذہنی طور  پہ بھی اور جسمانی طور پہ بھی مصروف رکھتے ہیں اور ایک دن دیارِ غیر کی اجنبیت میں آشنائی کا پیام پا کر، خاموشی سے تنہائی کی چادر اوڑھ کر ابد تک کی نیند سو جاتے ہیں۔ یوں کہیئے کہ ’’بے سورج بستی‘‘ ایسے  عنوان میں دو علامتیں ہیں۔ ’’بے سورج‘‘ اور ’’بستی‘‘۔ ان علامتوں میں پنہاں اور عیاں کہانیاں اشکوں اور مسکراہٹوں سے معمور راہیں ہیں۔ ان راہوں میں پائے جانے والے طوفان ہائے غبار اور موڑ توڑ تو مشترک ہو سکتے  ہیں لیکن ان گو دوں میں ہمکنے والی منزلیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

        حمیدہ معین رضوی کی تحریر میں الفاظ اپنے اپنے مفاہیم سے مصنفہ کے حسنِ انتخاب اور ذوقِ جواز کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ذرا ان الفاظ کے مناظر میں ان کے پس منظر کی اہمیت اور افادیت کے زاویئے سے ملاحظہ کیجیئے۔ ’چراغ‘، ’ وجود‘، ’ادراک‘، ’ لطافت‘، ’اٹوٹ‘، ’استعارہ‘، ’اجنبی ‘، ’ بہار ‘، ’زخم‘، ’ مسٗلہ‘۔ اس فہرست میں ’ باز گشت‘ کو بھی ایک نمائندہ حیثیت سے شامل کیجیئے۔

      مختصراً یہ کہیئے کہ ’’بے سورج بستی ‘‘ کے افسانے بہر صورت ’’باز گشت ‘‘کے آوازے ہیں۔ عہدَ حاضر میں تیزی سے بدلتی دنیا کے واقعات و حالات کے آوازے جذبات میں مقیم اور آنکھوں سے اوجھل ہو جانے والی پرانی تہذیب، رہن سہن، اور اقدار کے آوازے مغرب میں آباد، مشرق کی پروردہ حمیدہ معین رضوی نے اپنے افسانوں سے اردو زبان و ادب کے  چہرے وجدان سے روشن کر دیئے ہیں۔

٭٭٭

 

فرشتے کے آنسو (ڈاکٹر بلند اقبال)

تسلیم الٰہی زلفیؔ  (کینیڈا)

       ہم دیکھتے ہیں کہ اردو افسانہ نگاری مختلف تجرباتی مراحل طے کرنے کے بعد بالآخر کہانی کی طرف لوٹ آئی اور افسانہ نگاروں کی واپسی اِس امر کی دلالت کرتی ہے کہ انہوں نے کہانی پن کی بنیادی اور تاریخی حقیقت کو تسلیم کرلیا ہے اور اِس بات کا اعتراف بھی برملا ہو گیا ہے کہ کہانی اور انسان کا رشتہ صدیوں پرانا ہے۔ یہ جنم جنم کا ساتھ کبھی ختم نہیں ہوسکتا‘ کہانی انسان سے راز کہتی ہے‘ اس کے راز سُنتی ہے۔ ۔ یوں ایک ہمسفر دوست‘ ساتھی اور ہمراز کے طور پر کہانی انسان سے وابستہ رہتی ہے۔ کہانی سے تجریدیت تک کے سفر میں افسانہ نگاروں نے کھویا تو شاید کچھ نہیں ‘ لیکن حاصل بہت کچھ کیا ہے‘ اس کا اندازہ ہمیں ان کہانی کاروں کو پڑھ کر ہوتا ہے جنہوں نے روزِ اوّل سے ہی کہانی کی بنیادی حیثیت سے اپنا رشتہ استوار رکھا اور وہ رفتہ رفتہ کہانی کو مرحلہ وار جدیدیت سے ہم آہنگ کرتے رہے۔ خوبصورت کہانیوں کے مجموعہ ’’فرشتے کے آنسو‘‘ کے خالق ڈاکٹر بلند اقبال البتّہ اس بکھیڑے سے بچ گئے کہ انہوں نے ابھی پانچ سال قبل ہی اِس میدان میں قدم رکھا اور جدید تر کہانی لکھنے والوں میں شامل ہو گئے۔ ایک فزیشن ہونے کے ناتے انہوں نے اپنے مریضوں کی نبض پر اپنی انگلیاں رکھ کر ان کے مرض کی تشخیص کی اور پھر ان کے درد کا درماں بھی کیا۔ گویا معاشرے کے نبّاض مسیحا بن گئے۔ اور یہی وجہ ہے کہ جب انہوں نے ایک کہانی کار کی حیثیت سے‘ اپنے مشاہدے اور تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے ‘اِس میدان میں قدم رکھا تو ان کی کہانیوں کو ادبی حلقوں میں بالعموم اور با ذوق معاشرے میں بالخصوص بیحد پذیرائی مِلی۔

        بلند اقبال ایک ایسے قلم کار ہیں جنہوں نے کہانی پن میں نئے طرزِ احساس کو شامل کر کے جدید افسانے کو نئی جہت عطاء کی ‘ انہوں نے ایک طرف تو آج کے مشینی تہذیبی پھیلاؤ کو کہانی کا حصّہ بنایا اور دوسری طرف کہانی کہنے اور لکھنے کی فطری انداز کو اختیار کر کے روایت اور جدّت کا خوبصورت امتزاج پیش کیا اور یہ ثابت کیا کہ ابھی کہانی کا دامن اتنا وسیع ہے کہ اس میں بڑے بڑے موضوعات کو سمیٹا جا سکتا ہے۔

       ’’فرشتے کے آنسو‘‘ بلند اقبال کی زندہ کہانیوں کا ایسا مجموعہ ہے جنہیں پڑھتے ہوئے ہم خود کو ایک رواں دواں معاشرے میں سانس لیتے محسوس کرتے ہیں۔ عام فہم مشاہدوں اور زندگی کے عمومی تجربوں سے بڑے نتائج کی دریافت بلند اقبال کی کہانیوں کا بنیادی خاصہ ہے۔ بلند اقبال کی کہانیوں کے کردار بڑے شناسا اور ہماری زندگی کے جیتے جاگتے لوگ ہیں ‘ جن کی باتیں ہمیں اپنی توجہ کا مرکز بناتی ہیں اور ہم ان سے پوری کہانی میں خود محوِ کلام رہتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں تخلیق اور قاری کے درمیان کوئی دیوار حائل نہیں رہتی اور قاری کہانی کے ساتھ اس طرح پیوست ہو جاتا ہے کہ خود کو اس کہانی کا حصّہ سمجھتا ہے اور دراصل یہی اچھے تخلیق کار کی کامیابی کی دلیل ہوتی ہے۔ ’’فرشتے کے آنسو‘‘ میں بلند اقبال قدم قدم پر ایک کامیاب تخلیق کار کے طور پر خود کو تسلیم کرواتے ہیں۔ اردو افسانوں میں شاید یہ کتاب ان چند کتابوں میں سے ایک ہے جس میں کسی طرح کا غیر ضروری تکلّف یا اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا بلکہ اس کے برعکس ہر کہانی میں قاری کو اپنی ذات کے کسی گمشدہ گوشے سے آگاہی ہوتی ہے۔ اور یوں لگتا ہے مصنّف غیر محسوس طور پر قاری کو اپنے فن کا حصّہ بنا لیتا ہے اور دونوں کے مابین تخلیق ایک رابطے کا کام دیتی ہے۔

      بلند اقبال کا انداز نہایت سادہ اور بے تکلّفانہ ہے۔ سادگیٔ اظہار کے ساتھ معاشرتی مسائل کو مصوّر کرنے کا عمل اور فرد کی حیثیت کے لیے فنکارانہ تگ و دوجا بجا دکھائی دیتی ہے۔ بلندؔ کا موضوع موجودہ سماج میں گمشدہ فرد کی تلاش اور نئے انسان کے باطنی مسائل کو زیرِ بحث لانا ہے۔ ان کی کہانیوں کا ماحول فضاء اور تاثرات بہت خوشگوار اور صحت مند دکھائی دیتے ہیں۔ امید ہے کہ ان کی یہ فنکارانہ کاوش اردو کہانی نویسی میں ایک اہم باب کا اضافہ ثابت ہو گی اور کہانی نگاری کی روایت کو حقیقی معنوں میں عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرے گی۔

٭٭٭

 

خلیل جبران کی ایک نظم

(انگریزی سے اُردو ترجمہ۔ افسرمنہاس)

ترس آتا ہے ایسی قوم پہ!

جس کے عقائد بہت ہیں مذہب کوئی نہیں

ترس آتا ہے ایسی قوم پہ!

 وہ جو پوشاک پہنتی ہے خود تیار نہیں کر سکتی

اور جو اناج وہ کھاتی ہے خود اسے اُگا نہیں سکتی

اور اک ایسی شراب کی رسیا ہے

 جو اس نے آپ کشید نہیں کی

ترس آتا ہے ایسی قوم پہ!

غاصبوں اور درندوں کو  جو ہیرو کہتی ہے

اور شان و شوکت والے فاتحین کو اپنا داتا جانتی ہے

ترس آتا ہے ایسی قوم پہ!

خوابوں کو نفرت اور حقارت سے جو دیکھتی ہے

 (خوابوں کی تعبیر کی خواہش بھی نہیں کرتی)

جو بیدار نہیں ہے اورسمجھتی ہے کہ وہ بیدار  ہے

ترس آتا ہے ایسی قوم پہ!

کبھی جس کی آواز بلند نہیں ہوتی

سوائے اس لمحے

 جب ہمراہ  یہ کسی جنازے کے چلتی ہے

اور سوائے کسی کھنڈر پہ بیٹھ کے باتیں کرنے کے

کچھ بھی نہیں ہے جس کے پاس

اور کبھی نہیں کرتی جو بغاوت

جب تک اس کی گردن

 تختے اور تلوار کے بیچ نہ رکھ دی جائے

ترس آتا ہے ایسی قوم پہ!

جس  کے سیاسی رہنما  سب لومڑیاں ہیں

 اور فلسفہ دان مداری ہیں،

جن کا فن لفظوں کی پیوند کاری اور نقالی ہے

ترس آتا ہے ایسی قوم پہ!

جو ڈھول اور تاشوں سے

ہر ایک نئے حاکم کا کرتی ہے  استقبال

اور برا بھلا کہہ کے رخصت کرتی ہے

تاکہ ڈھول اور تاشوں سے

 ایک اور نئے حاکم کا کرے یہ استقبال

ترس آتا ہے ایسی قوم پہ!

جس کے دیدہ ور اور داناسالوں سے گونگے ہیں

اور جس کے قوی مرد

ابھی تک بچوں کے پنگھوڑوں میں ہیں

ترس آتا ہے ایسی قوم پہ!

جو فرقوں میں بٹی ہوئی ہے

اور ہر فرقہ اپنے آپ کو قوم سمجھتا ہے۔

٭٭٭

 

آج پھر اس سے ملاقات ہوئی

 ڈاکٹر وزیر آغا

آج پھر اس سے ملاقات ہوئی

باغ کے مغربی گوشے میں جھکے نیم کے چھتنار تلے

ایک بدرنگ سی چادر پہ وہ بیٹھا تھا

مجھے دیکھ کے سرشار ہوا

بھائی! کیسے ہو، نظر تم کبھی آتے ہی نہیں

آؤ کچھ دیر مِرے پاس تو بیٹھو، دیکھو

کیسے چپ چاپ ہے یہ باغ کا گوشہ جیسے

کسی موّاج سمندر میں جزیرہ کوئی

دُور وہ سُرمئی بادل کی فروزاں جھالر

جیسے، ہاں جیسے۔ ۔ مگر خیر کوئی بات نہیں

آؤ تم پاس تو بیٹھو میرے!

اور میں بیٹھ گیا

اُس کے ہونٹوں سے اترتے ہوئے

الفاظ کی چہکار میں تادیر میں خاموش رہا

کیسی چہکار تھی وہ

خشک شاخوں میں ہوا کا نوحہ

جیسے گرتے ہوئے پتوں کی لگاتار صدا!

دفعتاً سوچ کے اک اجنبی جھونکے نے مجھے چھیڑ دیا

جانے کب سے یہ مسافر ہے جزیرے میں مقید، تنہا

منتظر۔ ۔ ۔ آئے گی اک روز کہیں سے کشتی

بادباں ابر کا، چاندی کے چمکتے چپو

رسمساتی ہوئی اک نرم رسیلی آواز:

تو کہاں ہے۔ ۔ ۔ تو کہاں ہے کہ تجھے

ڈھونڈتے ڈھونڈتے میں ہار گئی۔ ۔ ۔ ہار گئی

اور بد رنگ سی چادر پہ وہ بیٹھا ہوا شخص

خواب میں بولتا جاتا تھا، سیّہ باسی لفظ

اُس کے سوکھے ہوئے ہونٹوں سے نکل کر ہر سّو

جھوٹے سکوں کا بناتے چلے جاتے تھے حصار!

آج پھر اس سے ملاقات ہوئی

وہیں، اس باغ کے گوشے میں

جھکے نیم کے چھتنار تلے

آج پھر اُس سے ملاقات ہوئی!

٭٭٭

 

ایوب خاور (لاہور)

ایک گونگی نظم

دل دھڑکتا ہے

مگر لفظ نہیں بن پاتا

ایک دکھ ہے جو کسی طور نہیں اب جاتا

بات ہونٹوں کے سرابوں میں پگھل جاتی ہے

ہاتھ آ جائے تو پوروں سے نکل جاتی ہے

درد کی اوٹ میں ٹھہری ہوئی خاموشی کو

کون اب مجھ سے سنے

میں نے جو خواب بنے

جن کے ہر تار میں اک نام پِر ویا میں نے

صبح کو شام کیا ہے میں نے

پھر بھی اظہار نہیں ہو پاتا

کوئی اقرار نہیں ہو پاتا

دل دھڑکتا ہے

مگر لفظ کسی طور نہیں بن جات

٭٭٭

 

غزل

حیدر قریشی (جرمنی)

اب تو جذبے زبان مانگتے ہیں

پَر بَریدہ اُڑان مانگتے ہیں

عشق کی پڑھنا چاہتے ہیں نماز

اور اِذنِ اذان مانگتے ہیں

دور سے صرف دیکھتے ہی رہیں

کب یہ ہفت آسمان مانگتے ہیں

ہم تہی دست آبروئے فقر

سود دے کر زیان مانگتے ہیں

دل کی اک بات کہنا ہے لیکن

پہلے جاں کی امان مانگتے ہیں

یا تو کچھ بھی نہیں ہیں مانگتے، یا

تیرے سارے جہان مانگتے ہیں

ایسی عمروں کے پیار تو حیدرؔ

جسم و جاں سے لگان مانگتے ہیں

٭٭٭

 

غزل

ناصر علی سید ( پشاور)

کب کہا تھا کہ مجھے وہم و گماں کھینچتا ہے

ہاں ترا ہجر مسلسل مری جاں کھینچتا ہے

تو کہ اس وادیِ حیراں میں الگ مجھ سے ہوا

نیلے پربت کو جہاں زرد دھواں کھینچتا ہے

جھیل اور چاند کے منظر میں اکیلا  ہوں کھڑا

یاد ہے تو نے کہا تھا یہ سماں کھینچتا ہے

کن خرابوں میں محبّت تری لے آئی ہے

دل مجھے روکتا ہے، کارِ جہاں کھینچتا ہے

آج آئینہ نے مجھ سے یہ عجب بات کہی

چہرہ بجھتا ہے تو پھر کارِ زیاں کھینچتا ہے

میں تو بس ایک ہی لمحے کا یہاں ہو جاتا

کشتیِ جاں کو مگر وقتِ رواں کھینچتا ہے

پا بجولاں میں چلا آ یا تو ہوں محفل میں

دیکھ دیوانے کو اب کون کہاں کھینچتا ہے

٭٭٭

 

غزل

سلطانہ مہر (انگلینڈ)

مانا کے تغیر سے بری ہم تو نہیں تھے

تم لوگ بھی انسان تھے، موسم تو نہیں تھے

دنیا کے حوادث بھی بنے میرا مقدر

میرے لیے اک آپ ہی کچھ کم تو نہیں تھے

آتی جو تری یاد تو ٹھوکر تو نہ کھاتی

پلکوں کے چراغ، اتنے بھی مدھم تو نہیں تھے

جب تک کہ نہ الجھے تھے ستائش کے بھنور میں

اپنے سے ہم اتنے کبھی برہم تو نہیں تھے

یہ درد کبھی چارہ گری کا نہ تھا خواہاں

یہ زخم کبھی تشنۂ مرہم تو نہیں تھے

کیا یہ بھی ضروری تھا کہ ہم کہتے زباں سے

فطرت کے اشارے شئے مبہم تو نہیں تھے

٭٭٭

 

غزل

رضیہ اسماعیل (برمنگھم)

بات پرانی ہو جاتی ہے

ایک کہانی ہو جاتی ہے

آس کی ٹوٹی ڈوری اک دن

پیار نشانی ہو جاتی ہے

ماں کے آنسو تکتے تکتے

بیٹی سیانی ہو جاتی ہے

اک خواہش کے پیچھے پیچھے

صرف جوانی ہو جاتی ہے

جیون جوتی جلتے جلتے

برف سے پانی ہو جاتی ہے  ٭٭٭

 

غزل

میثم علی آغا ( پسرور، سیالکوٹ)

قدم قدم پہ جہنم سہارتا ہوا میں

تمہارے ہجر سے خود کو گزارتا ہوا میں

یہ پور پور اذیت میں ڈالتے ہوئے تم

یہ سانس سانس محبت پکارتا ہوا میں

پھر ایک رات اذیت سے مر گیا تھا کہیں

تمہارے عشق کو اندر سے مارتا ہوا میں

عجب نہیں ہے کسی روز قتل ہو جاؤں

تمہاری جان کا صدقہ اتارتا ہوا میں

معاف کرنا ترا ساتھ دے نہیں پایا

پلٹ رہا ہوں محبت میں ہارتا ہوا میں

٭٭٭

 

غزل

راغب تحسین ( کوئٹہ)

تلاش کون کرے گا مجھے گماں سے پرے

میں چھپ گیا ہوں کہیں اپنے جسم و جاں سے پرے

بس ایک دھوپ کی شدت کے یاد کچھ بھی نہیں

تمام عمر گزاری ہے سائباں سے پرے

ذرا سی بات پہ ہم سے خدا گریزاں ہے

ذرا سی دیر کو سوچا تھا آسماں سے پرے

یہ التجا ہے کہ اُس غیر کے اشارے پر

کیا نہ جائے ہمیں بزمِ دوستاں سے پرے

یہ اور بات مہینوں نظر نہیں آتا

وہ رہ رہا ہے اگرچہ مِرے مکاں سے پرے

میں ان کے پاس جو بیٹھا تو ہنس کے یوں بولے

ضرور بیٹھئے لیکن ذرا یہاں سے پرے

٭٭٭

 

غزل

فاروق ساغر (برمنگھم)

امیرِ شہر سہی، بے بسوں سے ڈرتا ہے

وہ سنگ پوش مِرے آئنوں سے ڈرتا ہے

گو اس کو اپنے ستارے پہ ناز ہے لیکن

مِرے بنائے ہوئے زائچوں سے ڈرتا ہے

ملا ہے اب کے عجب ناخدا سفینے کو

کبھی بھنور سے، کبھی ساحلوں سے ڈرتا ہے

ہمارے جسم نہیں، صرف حوصلے دیکھو

وہ آفتاب سہی، جگنوؤں سے ڈرتا ہے

وہ شاہباز سے کیسے نظر ملائے گا

جو فاختاؤں کے کومل پروں سے ڈرتا ہے

نجانے کس لیے میرے دیار کا منصف

جبیں جبیں پہ لکھے فیصلوں سے ڈرتا ہے

وہ باغباں ہے تو صحنِ چمن میں کیوں ساغرؔ

نئی بہار، نئے موسموں سے ڈرتا ہے

٭٭٭

 

پروین شیر (ونی پیگ، کینیڈا)

قرطاس و قلم

کل تک جو ُاس کے حامی تھے

آج وہی منہ موڑ چکے ہیں

ُُُُٓاس کے خال و خد میں بیتی

رتوں کے داغ ابھر آئے ہیں

وہ اپنی ہی سست روی میں رینگ رہا ہے!

اب اک نیا توانا چہرہ

چاروں جانب چمک رہا ہے

سب اس کے دل دادہ ہو کر جھوم رہے ہیں

کہنہ وقت کے سچے ساتھی

اب بھی اس کی انگلی تھامے

کچے رستوں پر

آہستہ آہستہ چلتے رہتے ہیں

مست جوان کے ساتھی پختہ

چکنی سڑکوں پر سرعت سے

بھاگ رہے ہیں

گزرے وقت کے دائیں بائیں فرش پہ بکھرے

گرد آلودہ، کورے کاغذ

رنگ برنگے قلم پڑے ہیں

حاضر وقت کی گود میں بیٹھے

کمپیو ٹر کے تختۂ حرف پہ

رقصاں اک اک انگلی کی حرکت کو

حسرت سے تکتے رہتے ہیں !

٭٭٭

 

پروین شیر

سیڑھیاں

دوریوں کی دھند میں گُم

ہو چکا ہے کارواں اب

اُٹھ رہا ہے دور تک کالا دھواں جو

مُڑ کے اُس کو تک رہا ہے

گھُپ اندھیرے غار کی تہ میں اکیلی

ناتواں اک  زندگی پنجوں کے بل

پتھر کی اُونچی سیڑھیوں پر

ہانپتی کوشش کی بیساکھی کو تھامے

رینگتی ہے !

پانیوں کی آگ میں جھلسی ہوئی نظریں ٹکی ہیں

دور اُونچائی پہ دروازے سے آتی روشنی پر

چار سو بکھرے ہوئے بس

نا اُمیدی کے خس و خاشاک ہیں

اوپر کو جاتی ان گنت پتھر کی اُونچی

سیڑھیاں ہیں  ! !

٭٭٭

 

غزلیں

سدرہ سحرؔ عمران (کراچی)

کیا اضطرابی روح بدن میں اتار دی

کروٹ بدل بدل کے ہر اک شب گزار دی

پہلے تو ایک عمر کی تبلیغِ عشق، پھر

ہم پر خدائے ہجر نے وحشت اتار دی

ہر اک صدا پلٹ کے سماعت میں گڑ گئی

ویران جنگلوں میں تجھے جب پکار دی

اک یاد، بے جواز ہی پھرتی تھی جسم میں

بے چینیوں نے درد کے دھو کے میں مار دی

جس نے کیا تھا وصل کی لذت سے آشنا

اس کے عوض میں تو نے شب ِ انتظار دی

اے دل ! جو بس میں ہو تا تجھے رو ک لیتے ہم

تو نے ہمارے ہاتھ کب اپنی مہار دی ؟

٭٭٭

 

سدرہ سحرؔ عمران

اک کہانی کے اصولوں کے منافی نکلا

داستاں میں مرا کردار اضافی نکلا

مجھ کو لگتا تھا کہ تشہیر کی عادت ہے اسے

میں نے کھوجا تو وہ گمنام صحافی نکلا

 میں نے پوچھا کہ مری آنکھیں تمہیں کیسی لگیں ؟

لفظ ترچھے ہوئے ہونٹوں سے ’’غلافی ‘‘ نکلا

دل نے سر پھوڑ لیا درد کی دیواروں سے

اس کی شریانوں سے پھر خون بھی کافی نکلا

میں نے بے تابی سے خط کھول کے دیکھا تو سحرؔ

سادہ کاغذ پہ بس اک لفظ ’’معافی ‘‘ نکلا      ٭٭٭

 

سدرہ سحرؔ عمران

منزل کو باندھ پاؤں سے رستہ سمیٹ لا

اے دل گزیدہ ! آنکھ میں صحرا سمیٹ لا

خالی نہ لو ٹ شہر ِ محبت سے دل مرے

دامن میں وحشتوں کا گھرانہ سمیٹ لا

یا خواہشوں کے نام کا کشکول توڑ دے

یا اپنے خالی ہا تھ میں دنیا سمیٹ لیا

صاحب ! تماش بیں یہ بلا کے بخیل ہیں

دیں گے نہ پھوٹی کوڑی تماشا سمیٹ لا

دوزخ سی پیاس ہے یہ بجھے گی نہ عمر بھر

ہاتھوں میں اپنے خواہ تو دریا سمیٹ لا

دامن سے دھل سکیں گے نہ رسوائیوں کے داغ

گلیوں سے جا کے تو مرا قصہ سمیٹ لا

ہم کاغذی بدن کو تراشیں گے کس طر ح

دل ! چھوڑ یہ سوال تو چہرہ سمیٹ لا

وہ ایک پل جسے میں کہوں زندگی سحرؔ

دوراں کی گردشوں سے وہ لمحہ سمیٹ لا

٭٭٭

 

غزل

اکرام الحق سرشار ( چیچا وطنی)

پہلے میں دھوپ پاؤں تلے روند کر گیا

پھر راستے میں اپنے ہی سائے سے ڈر گیا

چلتا نہ تھا زمیں کی طرف دیکھ کر جو کل

ٹھوکر لگی کچھ ایسی کہ نشہ اتر گیا

یا اپنے سر کی خیر منا ورنہ جھوٹ بول

حق بات جس نے کی ہے یہاں دار پر گیا

یہ کیسے موسموں کا اثر آ گیا کہ اب

چہرے سے رنگ اور دعا سے اثر گیا

سرشارؔ اب پتنگ اڑانے سے فائدہ

سرشارؔ اب  بسنت کا موسم گذر گیا

٭٭٭

 

غزل

جوزف سی لعل معمور ( لاہور)

ایک ہی سمت ہے پرکار اپنی

تیز سے تیز ہے رفتار اپنی

کاش کچھ کام بھی ہم کر جاتے

زندگی گزری ہے بیکار اپنی

زخم کھایا نہیں اوروں سے کبھی

بڑی محتاط تھی گفتار اپنی

پھر نہ آیا وہ کبھی باتوں میں

بات جاتی رہی بیکار اپنی

اپنی کوشش تو ہے جاری معمور!

جانے کب مانے گی سرکار اپنی      ٭٭٭

 

غزلیں

محمد محمود احمد ( میانوالی)

اے حسن مجھے عشق میں سنجیدہ بنا دے

یارب مرے چہرے کو پسندیدہ بنا دے

مجذوب نے کر رکھا ہے مٹھی میں زمانہ

گدڑی سے نکالے تو جہاندیدہ بنا دے

وہ آنکھیں دھڑکنے ہی نہیں دیتیں دلوں کا

وہ چہرہ کہ ہر شہر کو شوریدہ  بنا دے

ساقی ترا میخانہ تو مکتب کی طرح ہے

تو فرد ہی ایسا ہے کہ فہمیدہ بنا دے

بے سود ہے محمودؔ یہاں بانگ درا بھی

یہ خاک ہی ایسی ہے کہ خوابیدہ بنا دے

٭٭٭

 

محمد محمود احمد

حقیقی شکل کہاں آپ نے دکھائی ہے

ابھی تو آپ کے چہرے سے آشنائی ہے

ابھی تو آپ کی آنکھوں میں ہم نہیں اترے

ابھی تو آپ کی پلکوں سے لو لگائی ہے

ابھی تو آپ کے ابرو کمان جیسے ہیں

ابھی تو خلق خدا کی بہت دہائی ہے

بلا رہا ہے مری کھردری ہتھیلی کو

نفیس ہاتھ ہے اور ہاتھ بھی حنائی ہے

ابھی تو آپ کے رخسار بھی عنابی ہیں

ابھی تو سرخ گلابوں کی شامت آئی ہے

اداس ہوں تو ہمیں یاد کرتا ہے محمودؔ

یہ بات ہم نے کئی بار آزمائی ہے

٭٭٭

 

غزلیں

راؤ افضل گوہر   (پھلروان۔ سرگودھا)

تم سے ایسے ہو گیا ہے رابطہ دیکھے بغیر

جس طرح ہم سانس لیتے ہیں ہوا دیکھے بغیر

پیڑ سے شاید پرندے کو محبت ہے بہت

شاخ پر آ بیٹھا ہے گھونسلہ دیکھے بغیر

کاش کوئی چھوڑ آئے اب تو منزل کی طرف

ہم تو گھر سے چل پڑے ہیں راستہ دیکھے بغیر

سو گئے کتنے ستارے بجھ گئے کتنے چراغ

آسماں پر چاند پہلی رات کا دیکھے بغیر

مجھ سے گوہرؔ چھپ نہیں سکتا مرے اندر کا شخص

میں اُسے پہچانتا ہوں آئنہ دیکھے بغیر

٭٭٭

 

راؤ افضل گوہر

سمجھو فلک سے کوئی اشارہ اترتا ہے

ورنہ کہاں زمیں پہ ستارہ اترتا ہے

ہم پر تو روز اُس کی عنایات کے طفیل

مانگے بغیر رزق ہمارا اترتا ہے

اس زندگی کو یوں ہی جھٹکنا محال ہے

یہ بوجھ مر کے جسم سے سارا اترتا ہے

اُس خواب کا اسیر ہوا ہوں کہ دن میں بھی

آنکھوں کو موند لوں تو نظارا اترتا ہے

گوہرؔ میں اپنے جسم سے خائف ہوں اس لئے

ہر روز اس مکاں سے گارا اترتا ہے          ٭٭٭

 

غزل

ساجدہ کاظمی (شکاگو۔ امریکا)

زخمِ دل نہ کریدئیے صاحب

قصۂ غم نہ چھیڑیئے صاحب

ہم نے ذکرِ وفا کیا ہے ابھی

بات کا رخ نہ موڑیئے صاحب

اور بھی لوگ سن رہے ہوں گے

شور اتنا نہ کیجئے صاحب

دل تو نازک ہے آبگینوں سے

شیشۂ دل نہ توڑیئے صاحب

آپ میرا مزاج کیا جانیں

میرے دل سے نہ کھیلئے صاحب

چھوڑ بھی دیجئے یہ مے نوشی

خود کو خود سے نہ مارئیے صاحب

٭٭٭

 

غزل

سیدکاشف ہاشمی (میانوالی)

فلک کی وسعتوں میں سائباں کا تذکرہ کیسا

مکیں کی بے ثباتی میں مکاں کا تذکرہ کیسا

جہاں ہم ہیں چلوساتھی وہیں کی بات کرتے ہیں

نہیں ہیں ہم جہاں تو پھر وہاں کا تذکرہ کیسا

مرے اطراف میں دیکھو مرے اپنوں کی چالیں ہیں

جب اپنے ہی مقابل ہوں اماں کا تذکرہ کیسا

تمہیں انکار ہے تو ہم عبث تکرار کرتے ہیں

نہیں کا ذکر جب اچھا تو ہاں کا تذکرہ کیسا

دیار عشق میں ہم بھی وفا امکان رکھتے تھے

اب اس پہلی محبت کے زیاں کا تذکرہ کیسا

اسی سے عہد باندھیں گے اسی کا تذکرہ ہو گا

سحر آثار ہیں  سید گماں کا تذکرہ کیسا

٭٭٭

 

غزل

شوق انصاری  ( فیصل آباد)

لوگ مجبوریوں پہ دھر لیتے

ہم اگر اعتبار کر لیتے

آپ پر تو گمان غالب تھا

آپ کیوں بات کا اثر لیتے

وقت کی تلخیاں بجا لیکن

یار ہی  اجتناب کر لیتے

دوستی کا بھرم ہی رہ جاتا

چھوڑتے وقت آنکھ بھر لیتے

اقربا پروری روا تھی شوقؔ

ورنہ ہم بھی وطن میں گھر لیتے

٭٭٭

 

غزل

ہدایت کاشف ( رحیم یار خان)

شام ہوتے ہی مجھے گھر کو پلٹنا پڑ گیا

دھوپ کے صحرا کو سائے میں سمٹنا پڑ گیا

آئینہ محدود اس کے ظرف کا تھا اس لئے

اس کی خاطر مجھ کو اپنے قد میں گھٹنا پڑ گیا

گفتگو میں اس کے لہجے کے تھے کتنے ذائقے

میری سوچوں کو کئی خانوں میں بٹنا پر گیا

اس کے چہرے اور مری نظروں کی قربت کیا ہوئی

درمیاں سے میری سوچوں کو بھی ہٹنا پڑ گیا

کیا غضب کا شخص تھا جس سے بگڑ کر ایک بار

زندگی ساری مجھے خود سے نمٹنا پڑ گیا

دیکھ لی جب میں نے یہ صحرا نوردی قیس کی

مجھ کو آخر دامن صحرا الٹنا پڑ گیا

رفتہ رفتہ ڈھل گئے غم روگ میں، اور آخرش

اس بساطِ زندگی کو ہی پلٹنا پڑ گیا

٭٭٭

 

غزل

ڈاکٹر فخر عباس   ( لاہور)

تم نے جادو آنکھ کا دیکھا نہیں

تم نے اَس کا دیکھنا دیکھا نہیں

اپنا چہرہ اِس طرف کرنا ذرا

میں نے اب تک آئینہ دیکھا نہیں

میں تو کب کا آ چکا ہوں شہر میں

تم نے میرا راستہ دیکھا نہیں

دیکھنے آئے ہو مجھ کو دور سے

شخص کوئی با وفا دیکھا نہیں ؟

جا رہے ہو اس نگر تو جان لو

ہم نے کوئی لوَٹتا دیکھا نہیں

اس نے دیکھا ہے مجھے زیر نقاب

میں نے اپنا دلربا دیکھا نہیں

کربلا والوں کو ہو میرا سلام

ایسا کوئی قافلہ دیکھا نہیں

٭٭٭

 

غزل

شاہین صدیقی (سلاؤ، انگلینڈ)

آنکھوں میں اک بہار کا موسم سجا رکھا

منظر ہر اک سنبھال کے ان میں سدا رکھا

انگلی سے لکھ لیا تھا جو لفظِ وفا کبھی

تختی پہ اپنے دل کی وہی بس لکھا رکھا

بلبل ہی کوئی نغمہ سنا جائے کیا عجب

ہر شاخ پر گلاب وفا کا کھِلا رکھا

آئے ہوا کے دوش پہ شاید کوئی پیام

یہ سوچ کے دریچۂ دل کو کھلا رکھا

آہٹ سنی تو در پہ تو سانسیں ٹھہر گئیں

اور دل کی دھڑکنوں کو بھی کم رُکا رکھا

اک انتظار ہی رہا، سوئے نہ رات بھر

ہر شب میں در پہ آنکھ کا ہم نے دیا رکھا

یہ گلشنِ خیال ہے شاہیںؔ کا تیرے نام

جس نے وفا کا نام بھی موجِ صبا رکھا

٭٭٭

 

غزل

پاکیزہ بیگ  (لندن)

ناکامیوں کی دار پہ لٹکا دیا مجھے

آخر مِرے خلوص نے بھی کیا دیا مجھے

میں زندگی کی ایک ہی منزل پہ رُک گئی

تیری صدا نے راہ پہ ٹھہرا دیا مجھے

وہ چاند تھا، کلی تھی کہ نرگس کا پھول تھا

اس کی نگاہِ ناز نے مہکا دیا مجھے

شامِ الم میں ہو گیا پت جھڑ کا سامنا

ٹھنڈی ہوا نے اور بھی مہکا دیا مجھے

وہ چاند بن کے خود تو گھٹاؤں میں چھپ گیا

اور جنگلوں کی رات  میں بھٹکا دیا مجھے

پاکیزہؔ جانے کون سی بجلی چمک گئی

کالی گھٹا نے آنکھ سے برسا دیا مجھے

٭٭٭

 

پروین لاشاری (برمنگھم)

کیوں دیر ہو گئی تم کو؟

آج پھر دیر ہو گئی تم کو

آج پھر نیند میری آنکھوں سے

اُڑ کے جانے کہاں پہ جا پہنچی

آج کیوں دیر ہو گئی تم کو؟

لوٹ کر کھڑکیوں سے آخری بار

اپنے بچوں کے پاس آ بیٹھی

وہ جو پلکوں کو موندے سوتے ہیں

اُن کے قدموں پہ رکھ کے سر اپنا

آج پھر پھوٹ پھوٹ کر روئی

آج پھر دیر ہو گئی تم کو!

٭٭٭

 

غزل

عاصم بخاری (پکی شاہ مردان، میانوالی)

سرگوشیاں سی کر رہی ہے رات چاند کی

سن تو سہی تو غورسے یہ بات چاند کی

سارے ستارے گاتے ہیں مل جل کے لوک گیت

کس دھوم سے نکلتی ہے بارات چاند کی

کرتا ہے غسل شام کو دریائے سندھ میں

کتنی ہیں دل پسندروایات چاند کی

تحلیل کر رہا ہوں میں اشکوں میں چاندنی

جاں سے مجھے عزیز ہے سوغات چاند کی

اپنے چمکتے چہرے سے زلفیں ہٹا بھی دو

واضح کرو زمیں پہ علامات چاند کی

عاصم محبتوں کے قبیلے کا ہے اصول

ہوتی نہیں ہے کوئی کبھی ذات چاند کی

٭٭٭

 

غزل

علی عرفان (پکی شاہ مردان، میانوالی)

عکس کا سحر چل نہ جائے کہیں

آئینہ ہی پگھل نہ جائے کہیں

میں ترے لمس سے گریزاں ہوں

یہ مرا جسم جل نہ جائے کہیں

بند آنکھوں سے دیکھنا ہو گا

عکس تیرا پھسل نہ جائے کہیں

اے غم ہجر کیا مصیبت ہے

آدمی ایک پل نہ جائے کہیں

تیرگی یہ چراغ سانبھ کے رکھ

یہ بھی آنکھیں بدل نہ جائے کہیں            ٭٭٭

 

غزل

علی اعظم بخاری (میانوالی)

لینے دے یاد یار ہمیں دم کسی طرح

بیٹھے ہوئے تھے بھولے اسے ہم کسی طرح

تیرے بغیر ہم کوئی مر تو نہیں گئے

ہم نے گزار لی ہے شب غم کسی طرح

کوئی چھپائے کیسے محبت کے راز کو

چھپتی نہیں گلاب میں شبنم کسی طرح

کچھ ابتدا میں ایسی کہیں بھول ہو گئی

جاتا نہیں فصیل کا یہ خم کسی طرح

جھانکا ہو جیسے چاند نے بدلی کی اوٹ سے

رخ سے ہٹے جو گیسوئے برہم کسی طرح

آسیب بن کے چھایا ہوا ہے جو دیر سے

اب تو ٹلے یہ درد کا موسم کسی طرح

کوئی تو جا کے چاند کو یہ بات  جا کہے

کٹتی نہیں ہے رات یہ اعظم کسی طرح

٭٭٭

 

غزل

ایم زیڈ کنول  (لاہور)

ہم نے اپنی بے بسی بھی دیکھ لی

جبر کی دریا دِلی بھی دیکھ لی

درد کی آنکھیں جھپکتی ہی نہ تھیں

زخم کی دیوانگی بھی دیکھ لی

پارہ  پار ہ   وحشتوں  کو کر دیا

ابَر کی آوارگی بھی دیکھ لی

چھِن گیا پھر زندگانی کا سکوں

عشق کی وارفتگی بھی دیکھ لی

خارزاروں کو لہو نہلا دیا

خوشبوؤں کی دوستی بھی دیکھ لی

حَبسِ دم نے معجزہ دِکھلا دیا

ابرِ باراں کی گلی بھی دیکھ لی

کر کے خوشبو کو کنولؔ نے آب آب

خاک کی شرمندگی بھی دیکھ لی

         ٭٭٭

 

ارشد نذیر ساحل (بارسلونا، سپین)

بحضور قتیل صداقتؑ

 سیاہ راتوں کا راج تھا

جب صداقتوں کے اجاڑرستوں پہ

مشعل حق اٹھا کے میرا حسین ؑ نکلا

اسے خبر تھی کہ دجل کے مکر کی ہوائیں ہیں بالمقابل

مگر نجابت لہو کی اس کو دیارِ کرب و بلا میں لائی

اور اس نے قرطاس کربلا پر

لہو سے اپنے یہی لکھا تھا

مجھے ابد تک فنا نہیں

مجھے ابد تک فنا نہیں

٭٭٭

 

جاوید احمد  ( کہوٹہ)

کھویا ہوا لمس

(والدہ مرحومہ کی یاد میں )

سمندر ایک ممتا کا تلاطم خیز تھا

اور میں۔ ۔ ۔ وفا بر دوش مٹی کی کھنک

تیرے اسی کھوئے ہوئے

اک لمس کو آواز دیتا ہوں

کہ جس کی اک مہک

میرے لہو کو

ہر سمے بیدار رکھتی ہے

٭٭٭

 

غزل

امجد مرزا امجد (لندن)

کیوں خون حسرتوں کا بہایا نہ جائے گا

یہ رازِ عشق تم سے چھپایا نہ جائے گا

نا کردہ جرم میرے مقدر میں لکھ دیا

کیا یہ بھی ہے لکھا کہ مٹایا نہ جائے گا؟

دل تھام لیں گے حشر کے میداں میں جا کے ہم

قاتل کا نام ہم سے بتایا نہ جائے گا

اے بے وفا ہزار کرے بے وفائی تُو

یہ نقشِ عشق دل سے مٹایا نہ جائے گا

یارب کبھی نہ ختم ہو یہ رات وصل کی

امجد کا ہاتھ پھر سے اُٹھایا نہ جائے گا          ٭٭٭

 

غزل

عبدالرب ثاقب (ڈڈلی، انگلینڈ)

زمیں نژاد ہیں اور آسماں میں رہتے ہیں

مکاں میں رہ کے بھی ہم لامکاں میں رہتے ہیں

نمک حرام ہیں غیروں کے گیت گاتے ہیں

خدا کو چھوڑ جو ذکرِ بتاں میں رہتے ہیں

ارادہ پینے کا ہے اور نہ کچھ پلانے کا

خیالی جام و سفال و مغاں میں رہتے ہیں

اگر نہ ظرف کشادہ تمہارے دوست کا ہو

تو جان لو وہ صفِ دشمناں میں رہتے ہیں

٭٭٭

 

طاہر حنفی ( اسلام آباد)

نا شناس ناموں کی امانت

دھوپ کے سمندر میں

برف کی صلیبوں پر

 خواہشوں کے تنکوں سے

 ایک لفظ لکھا تھا

لفظ جو امانت ہے

روشنی کی صبحوں کی

درد کے رفیقوں کی

پھول پھول شاخوں کی

 زرد زرد شاموں کی

 ناشناس ناموں کی

 لفظ جو صداقت ہے

ان کہے سوالوں کی

جاگتے خیالوں کی

 رینگتے اجالوں کی

کس طرح سمیٹے گا

میری  تیری نسلوں کو

 خواب کے جزیرے میں

 آنے والے لمحوں میں

لفظ جو دیانت ہے

لفظ جو امانت ہے

٭٭٭

 

غزل

مرزا فیصل ( رحیم یار خان)

وفا کی راہ میں سب کچھ لٹا کے دیکھتے ہیں

دیار یار پہ سر بھی جھکا کے دیکھتے ہیں

ہم ایسے لوگ ہیں اہل جفا کے دور میں بھی

چراغ پیار کا ہر سو جلا کے دیکھتے ہیں

ہمیں گلہ ہے کہ پورا نہیں اترتا تُو

اے یار جب بھی تجھے آزما کے دیکھتے ہیں

میں جن کے واسطے رو رو  دعائیں مانگتا ہوں

مجھے وہ ہاتھ میں پتھر اٹھا کے دیکھتے ہیں

قسم خدا کی ہمیں کچھ نظر نہیں آتا

تری گلی سے جو ہم دور جا کے دیکھتے ہیں

تمہارے بعد فقط رہ گئی ہے تنہائی

چلو اسے بھی گلے سے لگا کے دیکھتے ہیں

چھپا کے سب سے جو تصویر تو نے دی تھی ہمیں

چھپا کے رکھی ہے فیصلؔ، چھپا کے دیکھتے ہیں

٭٭٭

 

ارشد خالد (اسلام آباد)

مجھے تم یاد کر لینا

سنو! جب عہد فردا میں

کوئی مشکل تمہارے در پہ

دستک دے

کوئی ویرانیِ دل سی ابھر آئے نگاہوں میں

صدائے غم بکھر جائے فضاؤں میں

مجھے تم یاد کر لینا

٭٭٭

 

ارشد خالد

اختتام

شور نے

اپنی حد سے بڑھ کر،

خاموشی کو مار دیا ہے

میں نے جیون

 ہار دیا ہے

٭٭٭

 

غزلیں

عبداللہ جاوید ( کینیڈا)

بند  دروازے  کہاں  تک  کھولتے

کیا  زمیں  سے  آسماں تک  کھولتے

دائرہ   در  دائرہ     تھی      زند گی

دائروں  کو  ہم  کہاں  تک کھولتے

آپ نے  پوچھا  تو  ہو تا  دل  کا  حال

ہم زباں کیا  زخمِ  جاں  تک  کھولتے

کوئی   د ل  کا   راز داں   ملتا     اگر

چاک سینے  کے  دہاں  تک  کھولتے

عشق  کی  نشتر زنی    کا   حال تھا

یادِ  یارِ    مہر باں   تک  کھولتے

مہرباں  سورج  کے سا  رے  راز بھی

سایۂ   نا  مہرباں    تک  کھولتے

کشتیِ  عمرِ رواں  کا   باب      ہم

جنگ  باد  و   بادباں   تک کھولتے

ذہن  و  دل  کی  جستجو  کا   ما حصل

ما ورائے  بے  نشاں  تک  کھولتے

کھولتے  ہر  چیز  کے  سا  رے  پرت

سب   یقینو ں  کو گماں تک  کھولتے

لمحے  لمحے کو  رواں  رکھنے  کے  ساتھ

لا زماں  و   لا مکاں   تک  کھولتے

نقل  کی  بھی  نقل  تھے  جاویدؔ  جی

اصل کو   آ خر  کہاں  تک  کھولتے

٭٭٭

 

عبداللہ جاوید

بدن کے گھر سے نکل  جاؤں گا کسی لمحے

ڈھلان پر ہوں پھسل جاؤں گا کسی لمحے

ہوں مشتِ خاک تو اڑ جاؤں گا کسی لمحے

جو برف ہوں تو پگھل جاؤں گا کسی لمحے

بندھا ہوا ہوں شب و روز کے اجالوں سے

خود اپنی چھاؤں میں ڈھل جاؤں گا کسی لمحے

وہ سرد آگ ہے جس نے مجھے لپیٹا ہے

نظر نہ آئے گی جل جاؤں گا کسی لمحے

جو حرف حرف گزاری ہے زندگی اب تک

سو حرف حرف میں ڈھل جاؤں گا کسی لمحے

حصارِ زیست میں اک عمر کاٹ دی جاویدؔ

حصار سے بھی نکل جاؤں گا کسی لمحے

٭٭٭

 

عبداللہ جاوید

اگر سیلاب  کا  چہرا  نہ  دیکھا

تو گویا آپ نے دریا نہ دیکھا

رکھیں آنکھیں کھلیں گو ہم نے دل کی

مگر  دل  سا  کوئی  اندھا  نہ  دیکھا

عبث  تھا  بھا گنا  دنیا   کے   پیچھے

جو بھاگے ان نے پھر کیا کیا نہ دیکھا

فقیری  تو  گنوانے  کا   ہنر  ہے

وہ  پیالہ  کیا   جسے  ٹوٹا  نہ  دیکھا

پڑی  جب  روشنی  پرچھائیں  ناچی

کوئی  بھی  ناچنے   والا  نہ   دیکھا

رہے سب پیڑ کے سائے کے نیچے

کسی  نے  پیڑ  کو  جلتا   نہ  دیکھا

گلی  میں ہم  نے اکثر  دھوپ  تا پی

کسی  دیوار  کا   سا یہ  نہ   دیکھا

زمانے نے بہت سے لوگ دیکھے

کوئی مجھ سا، کوئی تجھ سا نہ دیکھا

وہ سب دیکھا فلک نے جو دکھایا

زمیں نے آج تک کیا کیا نہ دیکھا

  ( ق)

مگر  جو  آ دمی  دکھلا   رہا   ہے

زمیں نے آج تک سوچا نہ دیکھا

کبھی جاوید  یہ  دنیا  سے  پو چھو

یہاں کیا دیکھنا  تھا  کیا  نہ  دیکھا        ٭٭٭

عبداللہ جا وید

کون  واں  سارے  کا  سارا  جائے  گا

روح   کا  اک  استعا را  جائے   گا

جسم کو  دے  دیں  گے  مٹی  لو گ  باگ

چھوڑ کر پیارے  سے پیارا  جائے  گا

میں  نہ  ہوں گا  تو  کہاں،  آخر  کہاں

ذہن  کا   میرے  پٹا را   جائے   گا

کیا ہوا  لے  جائے  گی  سب  حرف  حرف

کیا  مرا  اک  اک  اشارا  جائے  گا

دل  کے  اندر  شہر  اک  آباد  ہے

کس  جگہ  یہ  دل  بچا را  جائے  گا

رابطہ  میرا  رہا،  کاغذ   کے    ساتھ

مجھ  کو  کاغذ  پر  اتارا   جائے    گا

 ( ق )

میرے  کاغذ  پر  اتر آنے  کے  بعد

کیا  مرے  کاغذ  کو  مارا  جائے  گا

جانے  کن  وقتوں  تلک  جاویدؔ   جی

تم کو لے کر وقت کا دھا را، جائے گا

٭٭٭

 

عبداللہ جاوید

ربِّ کریم

تیسری دنیا

تری دنیا نہیں

کیا تو اس کا پیدا کرنے،  پالنے والا نہیں

کیا تو اس کا ما لک و مختار،  رکھوالا نہیں

تیرے مہر  و  ماہ،  تارے اور جگنو

تیسری دنیا کو تیرا نور پہنچاتے نہیں

کیا ترے چاکر فرشتے

تیسری دنیا کے مسائل اور وسائل کے حوالوں سے

فلک سے تا بہ زمیں /زمیں سے تا بہ فلک

             آ تے اور جاتے نہیں

تیرے بادل

تیسری دنیا پہ۔ رحمت تیری/برساتے نہیں

تیرے ٹیلے اور چٹانیں

سلسلہ در سلسلہ پھیلے ہوئے

              نیچے اور اونچے پہاڑ

کہیں کہیں۔ برف کی پوشاک پہنے

اونچی، اونچی چو ٹیاں /اور ان کی کوکھ سے

تخلیق پاتیں ندیاں، ، رودکیں

چشمے،  دریا

نشیبوں کی طرف

(راستے میں۔ نمو کی بخششیں کر تے ہوئے )

ہر دم رواں

( اپنی قسمت کے بحر اور بحیروں کی طرف)

تیرے  پیڑ

پھول، پودے، جھاڑیاں اور کھیتیاں

تیسری دنیا میں یہ سب ہیں مگر

تیسری دنیا میں تیرا آ دمی، تیرا خلیفہ

زندگی کی کہنہ اور فرسودہ زنجیروں میں جکڑا

غلامی در غلامی در غلامی کے /دوائر کا اسیر

دیدہ و نا دیدہ پیہم ضرب کے زیرِ اثر

اپنی محنت کے ثمر

              ارزاں سے ارزاں بیچتا

اور کبھی بے  مُز دہی

بے فیض نا شکروں کو اپنا خون

اپنا پسینہ نذر کر تا

مفلسی کے دلدلوں میں /اپنی بیوی اور بچوں

 اپنے پیاروں اور دلداروں

چھوٹے بڑے کنبے کے لو گوں کو

                اپنے ساتھ لے کر

(بچنے  اور بچانے کی لا حا صل مساعی میں مگن )

ڈوبتا جاتا ہوا

اس کی اور اس کے چہیتوں کی

فریا دیں، دعائیں، منا جاتیں

با آواز اور بے آواز،  چیخیں

کیا یہ ممکن ہے کہ تیرے حیطۂ ادراک  سے

                          باہر ہوں، سب

یا تُو ان سے بے خبر ہو۔ ۔ ۔ ۔ ؟

٭٭٭

 

عبداللہ جا وید

غبارے پھوٹ جاتے ہیں

دریچوں اور دروازوں پہ ہاتھی

ایستادہ ہیں

درونِ قصر

دربارِ شاہی جیسا منظر ہے

یہاں دربار لگتے ہیں

مگر شاہی محل ہے یہ نہ ہی در بارِ شا ہی ہے

یہاں اقوامِ عالم کے نمائندے

بہم مل بیٹھتے ہیں اور

اپنے ملکوں کے اور عالم کے

مسائل پر

فروغِ مشورت کا اک ڈراما سا

          رچاتے ہیں

بظاہر زندہ لفظوں، گرم لفظوں کے

                   غبارے

نمائندوں  کے کھلے ذہنوں سے با ہر

 سقف تک پرواز کر تے ہیں

مگر ہر لفظ اوپر جاتے جاتے

سرد اور بے جان ہو کر نیچے گرتا

قوی ملکوں کے چیدہ، منتخب لوگوں کے بوٹوں کے تلے

نا بود ہو تا ہے

غبارے پھوٹ جاتے ہیں

٭٭٭

 

 عبداللہ جا وید

ڈرون حملہ

دھماکے، آگ  شعلے اور چیخیں

بسا گھر۔ ۔ ۔ ڈھیر ملبے میں بدلتا

دیئے چھاتی کو بچے کے لبوں میں

زن مردہ لئے

اک طفلِ زندہ

گری دیوار کے نیچے سسکتا

نا تواں۔ ۔ ۔ اور نیم جاں بوڑھا

ڈھیر ملبہ۔ ۔ ۔

ڈھیر ملبے میں دبی

لو ہو  سے  ر نگی

لا چار  لا شیں

کہیں  میلوں  پرے

شیطان  طیارے  چلاتیں

مہذب انگلیاں شاداں و فرحاں

٭٭٭

 

عبداللہ جا وید

بلند و بالا عمارتوں  سے

بلند و بالا عمارتوں  سے

             فلک  اگر ہم کلام ہو گا

تو اپنی حیرت کو دور کر نے

یہ پوچھتا وہ ضرور ہو گا

’’ جب آدمی کو ملی ہو ئی  ہے

زمین وافر رہن سہن کو

بلند و بالا عمارتوں کا جواز کیا  ہے۔ ؟‘‘

بلند و بالا عمارتو ں نے جواب

جو کچھ بھی دے دیا ہو

بلند و بالا عمارتوں کی چھتوں  نے

دیکھا ضرور ہو گا

فلک کی اونچائیوں کی جانب

نگاہِ حسرت سے

اور دل میں

کہا بھی ہو گا

’’ بلند و بالا ابھی کہاں ہم

 ابھی فلک ہم سے دور تر ہے، بلند تر ہے۔ !‘‘

فلک ابھی تک سرشتِ آدم سے بے خبر ہے

یہ آدمی کی سرشت میں ہے

بلند ہو نا

اور اپنی مٹّی بلند کر نا۔

٭٭٭

 

شہناز نبی (کولکاتا)

مسکن

آ

کہ اس دل میں تیرے لئے ہے بہت سی جگہ

 یہ تو دونوں کو معلوم ہے

 آرزوؤں کی کثرت سے تنگی کا مارا ہوا

حسرتوں سے پریشان ہے

اس کی بوسیدگی کے گواہ

محبت وفا دشمنی بغض کینہ حسد

یہ جہاں مختصر

اور تو عز و جل

پھر بھی اتنا یقیں کر ہی سکتا ہے تو

یہ وہ گھر ہے کہ جس میں اگر تو براجے

یہ تیرا بنے

اور تب تک رہے گا بسیرا ترا

جب تلک تو اسے

 اپنے رہنے کے قابل سمجھتا رہے!

٭٭٭

 

شہناز نبی

اے عنایت کی نظر

نہ مجھ میں ڈھونڈھ میرا دل

کہوں کیسے کہاں ہو گا

ترے ٹوٹے کھلونوں میں پڑا یہ سوچتا ہو گا

وہ جس کا مشغلہ ہے

کاغذی پیراہنوں میں پیکرِ تصویر رکھنا

خار و خس میں پھول بننا

کورے ماتھے پر نئی تحریر لکھنا

خواب چننا

جس نے اک چٹکی لہو سے رنگ دیا ہے سارا گلشن

ایک مٹھی خاک میں جس نے لگایا میرا پودا

 وہ اگر اک بار پھر سے

دیکھ لے میری طرف تو

منتشر اجزاء  میں ہو اک نظم پیدا

ہاں یہی ہو گا کہ بس رہ جائیں گی

چند اک خراشیں

٭٭٭

 

شہناز نبی

میں کیوں مانوں

میں کیوں مانوں

میرے سارے تیر ہوا میں رستہ بھولے

آسمان پر جگمگ کرتے

تارے اک اک کر کے ٹوٹے

نرمیلی مٹی کی خوشبو

پتھر میں پتھرا سی گئی ہے

میں کیوں مانوں

میرے کھیتوں کو اک آندھی چاٹ رہی ہے

میرے پاؤں کے نیچے دلدل

میرے سر پر کالا سایہ

میرے سورج چاند ہیں جھوٹے

 میرا سیارہ گہنایا

میری بستی گونگی بہری

چوپالوں کا راج ہے چوپٹ

میرا قبیلہ نا مردوں کا

میرا اک اک آنگن مرگھٹمیں کیوں مانوں ایسا ویسا

میں کیوں ہاروں کھیل سے پہلے

میری رگوں میں گرم لہو کا رقص

ابھی تک تابندہ ہے

میرے ذہن میں سوچ کی لہریں

اب بھی لیتی رہتیں کروٹ

میرے دل میں دھڑکن زندہ

٭٭٭

 

شہناز نبی

منتظم

ہمارے جیسے عجیب لوگوں کی رنجشوں کا

ملال کس کو

زمین کرتی ہے بین

آنسو فلک بہاتا ہے چپکے چپکے

فضا میں سسکی سی تیرتی ہے

ہیں سر بہ زانو تمام منظر

کہیں چھنی ہے کسی کی گڑیا

کہیں پھٹی ہیں نئی کتابیں

کسی کی شہ رگ پہ کوئی جھپٹا

کسی کی گلیوں میں خون بکھرا

سنا ہے ہم نے

کہ اس شجاعت پہ تمغہ ملے گا اس کو

بڑی نفاست سے اس نے چھانٹے ہیں اپنے ریوڑ

مویشی سارے بٹے ہوئے ہیں

بہ رنگ و ذات و نسل ان کے بنے طویلے

سب اپنی خوشیوں غموں کو بانٹیں گے اپنی حد میں

کہ بھیڑ بکری سے مل نہ پائے

نہ گائے بھینسوں میں ہوں کلیلیں

سنا ہے اس کے نظامِ ملکی پہ سب ہیں نازاں

اسے ہی بخشیں گے پھر سے وہ منصبِ ہزاری

ہمارے جیسے عجیب لوگوں کی آنکھوں میں

کیوں ہے اتنا پانی

٭٭٭

 

شہناز نبی

شہرِ آشوب

شہرِ آشوب

وہ کیسے گڈّے گڑیاں ہیں

بیاہ دینے سے پہلے ہی

کفن دے کر انہیں بچّے

سلا دیتے ہیں قبروں میں

وہ کیسا بچپنا ہے جو

بھٹکتا ہے دھوئیں میں

نور کے تڑکے

وہ جن پر بند ہیں دروازے کب سے

درسگاہوں کے

مہد میں ہی اٹھا لیتا ہے بندوقیں کھلونوں کی

وہ کیسی لوریاں ہیں جو

رجز میں ڈھلتی جاتی ہیں

وہ جن کی گنگناہٹ میں اچٹتی نیند کی تلخی

کبوتر آتے جاتے ہیں

غٹر غوں ان کی

ہنستے شہروں کو ویران کرتی ہے

سمندر کے سمندر سوکھتے جاتے ہیں

مرجھانے کو ہیں زیتون کی قلمیں

ہزاروں لاکھوں ہاتھوں میں

فقط اک دستخط لیکن

ابھی تک طے نہ ہو پایا

       کہ کن شرطوں پہ جینے کی اجازت ہو بنی نوع کو

٭٭٭

 

شہناز نبی

ٹوٹ رہی ہیں سب دیواریں

اب میرے اس کے بیچ کوئی دیوار کہاں

میں نے اس کو جی بھر دیکھا

اس نے بھی یوں مجھ کو بھینچا

میرے سینے کی سب آہیں

اک دم سے باہر آ نکلیں

میرے آنسو دریا بن گئے

خاموشی صحرا در صحرا

تنہائی پاتال تلک ہے

میرے اندر میرا کیا تھا

میرے باہر بھی میرا کیا

جس سے میرے زخم ہرے تھے

اس نے میرے درد ہرے ہیں

میری ٹوٹی پیالی میں اک جرعہ اس کی مدرا کا

میرے جھوٹے باسن میں

 اک لقمہ اس کے درشن کا

اس سے پوچھو

کب کب کیا کیا اور گذرنے والا ہے

میں تو بس اتنا ہی جانوں

        میرے ٹوٹے سپنے وہ پلکوں سے چننے والا ہے

میری تنہائی پہ

صدیوں تک وہ جگنے والا ہے

میری خاموشی کو لفظوں کے معنی پہنائے گا

         اک نہ اک دن مجھ سا بن کر وہ کتنا اترائے گا

٭٭٭

 

شہناز نبی

مرا دل نہ روئے

سفر میں یونہی

بادلوں سے جدا ہو کے بکھری  ہے بارش

بن کھلے پھول مرجھا کے

گرتے رہے ہیں زمیں پر

ہوائیں بنادستکوں کے گذرتی رہی ہیں

کہاسے میں لپٹے ہوئے آنگنوں سے

چاند

پچھلے پہر

یونہی مدقوق سی اک ہنسی پھینکتا ہے

خوابگاہوں کے عریاں دریچے تلک

قطرہ قطرہ ٹپکتی ہے شبنم

چٹانوں کی بے حس سطح پر

گرد میں اٹ کے بھی

کوئی پتہ

شعاعوں کو بانہوں میں لینے سے

ہرگز جھجکتا نہیں ہے

سفر میں عجب حادثے پیش آتے ہیں

 لیکن کوئی کتنا سوچے

یہ مانا گذرتے چلے جا رہے ہیں سبھی

منظروں کی طرح

اک صدی ایک لمحہ بنے

یا کہ لمحہ صدی/یا اکارت ہی جائے

یہ ہستی/مگر دل سے کہہ دو نہ روئے

٭٭٭

 

شہناز نبی

خموشی

خیال اس کے/زبان اس کی

نگاہوں پر بھی لگے تھے پہرے

اگر کھلو تو حرم کے اندر

جیو مروتو زنانیوں میں

زبان اس کی

خیال میرے( مگر ادھورے)

حدوں کے اندر ہو گفتگو سب

نپے تلے ہوں تمام جملے

اک ایک مصرع حجاب آگیں

زبان میری خیال میرے

مگر ابھی تک وہی اندھیرے

علامتوں کو زوال نہ ہو

نہ بدلے جائیں گے استعارے

کہ بحر و بر ہیں نگین اس کے

کہ صرف و نحو پہ اجارہ اس کا

وہی سناتا ہے فیصلے سب

اسی نے سانچے بنائے سارے

وہ حرفِ اول/وہ حرفِ آخر

چلو کچھ ایسا کریں

قفس کی اک ایک تیلی بکھر ڈالیں

        بے چارہ آدم /اسیرِ نطق و زباں ہے کب سے

         اسے خموشی کے گر سکھائیں

٭٭٭

 

شہناز نبی

جو کوئے یارسے نکلے

ہماری خواب گاہوں سے چرا کر لے گیا کوئی

طلسمی نیند کے جھونکے

وہ نقشِ پا

سفر کی کوئی شد بد بھی نہ تھی جن کو

نئے رستوں کی متلاشی

گریباں کی طلب

گردِ رہِ منزل

کہ دامن چاک کے خواہاں

ابھی تک ریشم و اطلس کے پردے سرسراتے ہیں

گلِ داؤدی بھینی خوشبوؤں سے گھر سجاتا ہے

مگر شوقِ طوافِ کوچۂ جاناں کی یورش میں

بکھرتے جاتے ہیں زنداں

سمٹتی جاتی ہے سیڑھی

صحن کچھ گھٹتا جاتا ہے

٭٭٭

 

شہناز نبی

ہم پتھر نہیں ہیں

جب وہ اپنے گھروں سے نکلے

ان کے سروں پہ کفن بندھا تھا

دلوں میں جوش

آنکھوں میں بے خوفی

قبیلے کی بزرگ ترین ہستی نے پکارنا چاہا

اپنی تلواریں لیتے جاؤ

لیکن ان کے پتھر ہونے کا ڈر تھا

جب وہ اپنی بستیوں سے نکلے

ان کے سینوں میں دبی ہوئی آہیں تھیں

ہونٹوں پہ لرزشیں

ہاتھ دعاؤں کے لئے دراز

اس نے پکارنا چاہا

اپنے رزم نامے لیتے جاؤ

لیکن خاموش رہی

جب وہ سرحدوں پہ پہنچے

ان کی آنکھوں میں تصویریں تھیں

دلوں میں حسرتیں

قدموں میں لغزشیں

اس نے بہت چاہا کہ انہیں نہ پکارے

اپنی لوریاں لیتے جاؤ

سبھوں نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا

اور کہا

ہم پتھر نہیں ہیں

٭٭٭

 

غزلیں

صادق باجوہ (میری لینڈ، امریکہ)

پھر سے  تنہائی در  و  بام    پہ منڈلائی ہے

وہی صَحرا  ہے  وہی   بادیہ  پیمائی    ہے

درد    خاموش  چلا  آتا  ہے  پا کر  تنہا

 شبِ فرقت میں کوئی  یاد  سی لہرائی  ہے

کیا   زمانہ  ہے کہے ظلم  کو دنیا احساں

کیسا  اندھیر ہے    ہر  قوم تماشائی  ہے

کس  کو    معلوم   نوِشتۂ ِ  مقدَّر کیا ہے

سَطوتِ  شاہی، کہیں  کاسۂ ِ رُسوائی   ہے

کوئی   بہلائے   دلِ  زار کو  آخر کب تک

ہمنشیں  ہے تو  فقط اک یہی  تنہائی ہے

زندگی  دیکھ !   ترا  ساتھ    نبھایا  ہم نے

عمر  بھر تجھ سے وفاؤں  کی قسم  کھائی ہے

ڈورسانسوں کی بندھی ہو تو غنیمت  صاؔدق

ٹوٹ جائے تو یہی  زیست کی   پسپائی ہے

٭٭٭

 

صادق باجوہ

بچ  سکیں  کیا  گردشِ       افلاک  سے

گم ہوئے کیا کیا گریباں چاک  سے

کچھ  خبر   شاید   ہماری  بھی  ملے

دیکھئے  گر    دیدۂ ِ   اِدراک   سے

اشک  کتنی  دیر  چنتے    ہی   رہے

آنکھ  کے  اس کاسۂ ِ  نمناک  سے

اتنی  چاہت  سے    نہ  دیکھا  کیجئے

ہو  نہ جائے  کچھ  دلِ بیباک  سے

کون  اس کو  روک  سکتا   تھا    بھلا

بڑھ گیا  آگے  جو      ہفت افلاک سے

حاصلِ    امیدِ   رحمت،      زندگی

شافعیِ  محشر    شہ ِ     لولاکؐ   سے

رعب و ہیبت دبدبوں کے سب نشاں

ہو   گئے  زیرِ  زمیں  خاشاک   سے

کیوں ہوئے جاتے ہو صاؔدق  بیقرار

کس   نے  دیکھا  دیدۂ ِ  غمناک سے

٭٭٭

 

صادق باجوہ

منائی غم  میں بھی جس کی خوشی، خوشی کی طرح

اسے  خبر  ہی  نہیں، کیا  ہے  دوستی کی طرح

کچھ  اِضطراب   میں  شاید کمی  نہیں  ہوتی

 نصیب میں    نہ ہو جس کی  خوشی خوشی  کی طرح

گزارے  مہر  و  وفا کے تھے جس پہ نذرانے

نظر کے سامنے   پھرتا     ہے   اجنبی کی  طرح

عجب  ہے   یاد کے ملبوس دھُل کے بھی اکثر

دبی  دبی  سی کچھ  مہکے ہے   بُو  کلی کی طرح

نقوش ذہن   و تصوّر میں  کچھ   بسے  ایسے

ہر  ایک راہ   دِکھائی   دے اس گلی  کی   طرح

وہ   شب گزیدہ  لرزتی   ہوئی  دئے کی  لَو

مسافرت  میں  رہی ساتھ  دوستی  کی طرح

چُبھن خلش  کی ستائے گی   عمر  بھر ان کو

نبھائیں دوستی    صاؔدق جو   دشمنی  کی  طرح

٭٭٭

 

صادق باجوہ

نہ جانے  کونسی  منزل کہاں ٹھکانہ ہے

ہر  ایک  گام  پہ  حائل مگر  زمانہ  ہے

ابھی  مسافتیں باقی  ہیں، منتظر منزل

کہیں سفر، کہیں رستوں نے آزمانا   ہے

رہیں جو  شام    و سَحر کی  گرفت سے آزاد

تو  دلفریب   بہت   دل کا  آشیانہ ہے

بَلائے  گردشِ  لیل و  نہار سے چھوٹیں

تو  عہدِ نَو کے  تقاضوں  کو  بھی نِبھانا  ہے

ہوئی   مزاج  شِناسی  سے  آشنائی   بھی

سنا   ہے    در پئے  آزار پھر  زمانہ ہے

بسی   ہو  تلخیِ ایّام  جب   نگاہوں  میں

حصولِ    حُسنِ          نظر   فکرِ  عارفانہ   ہے

عجب  یہ  سِرِّ  حقیقت  نما   ہے  دنیا میں

کہ  غم کے  ساتھ خوشی کا بھی آشیانہ  ہے

  ہر ایک دُکھ ہمیں  اپنا ہی دُکھ  لگے  صاؔؔدق

نہ جانے کب سے طبیعت یہ شاعرانہ ہے

٭٭٭

 

صادق باجوہ

کوئی  گلہ نہ شکایت ہے   کچھ   زمانے سے

 وفا کے دیپ  تو جلتے  ہیں جی جلانے سے

نہ جانے کب سے مکیں چھوڑ کر ہوا رخصت

جھلک  رہا  ہے  مگر  عکس  آشیانے سے

ہے مصلحت  کا  تقاضا   نہ جُنبِش ِ   لب ہو

یہ داغِ  ہجر تو  چھُپتے  نہیں  چھُپانے سے

گزرتا  وقت   مداوا  نہ  ہو  تو  پھر  اکثر

دُکھوں کا جھیلنا آساں کہاں بھُلانے   سے

اسیرِ دامِ   بَلا    واقفِ   خطا    ہو   کر

خبر  رِ ہائی   کی  سنتا  ہے  تازیانے  سے

متاعِ    مہر  و  وفا  گُل خلوص   و چاہت کے

لُٹائے پھرتے ہیں، شاید  نِبھے  زمانے سے

عجیب بات ہے  صاؔدق کہ دل کے اندر سے

کوئی    پکار  رہا  ہے    مجھے  بہانے  سے

٭٭٭

 

صادق باجوہ

بھولی  بِسری  ہوئی   ہر یاد   مٹا دی جائے

یہ ضروری   تو  نہیں  دل کو   سزا دی جائے

ہو اگر بس  میں  تو  تفریق  مٹا دی جائے

دل  تو کہتا ہے  عدو  کو بھی دعا  دی جائے

خواہشِ  چارہ گری  تشنہ رہے گی   جب تک

ڈوبتے  دل کی ذرا آس  بندھا   دی جائے

گو  مقدَّر کے  لکھے  پر بھی  یقیں ہے لیکن

کیوں  نہ خوابیدہ سی  تقدیر جگا  دی جائے

کوئی    واویلا   و مظلوم   دُہائی  سن کر

ڈھونڈ کر  منصفی   زنجیر  ہِلا  دی    جائے

چاہ  سے سَطوَتِ  شاہی کی  منازِل ہیں کٹھن

رَہروِ  زِیست  کو   تعبیر   بتا   دی جائے

طَلَب ِ آبِ  بقا     لے   تو   سکندر  کو گئی

گھُپ اندھیرے میں مگر کس کو صدا دی  جائے

پھر مسیح ہائے دُکھ    و    درد ہوئے ہیں  مصلوب

ہے حقیقت  ہی  یہ صاؔدق    تو بتا  دی جائے

٭٭٭

 

صادق باجوہ

تقصیر     مری   اِتنی   زیادہ   تو  نہیں تھی

تعزیر  بھی  مُنصِف  کا  اِرادہ  تو  نہیں تھی

ہم بھول بھی جائیں گے اِعادہ بھی  نہ ہو گا

  وہ  بات  مگر  اِتنی   بھی   سادہ  تو نہیں تھی

جاں   رکھ  کے ہتھیلی   پہ گزرتے  رہے راہی

کچھ  راہِ  محبت  بھی کشادہ   تو نہیں  تھی

تھا   فِدیۂ ِ جاں بخش   صِلہ صدیوں تلک ہے

تعبیر بھی اُس خواب   کی  سادہ  تو  نہیں تھی

بے  خوف  و   خطر جام  لگایا  تھا  لبوں سے

تھی موت   فقط تلخیِ   بادہ   تو   نہیں  تھی

آ جاتے  تو   اچھا   تھا  مگر  آپ کی مرضی

کہنے  کو  مسافت  یہ  زیادہ    تو  نہیں تھی

احساسِ جنوں  جب  ہوا  زنداں میں تو دیکھا

لپٹی  ہوئی   زنجیر   لِبا دہ   تو    نہیں  تھی

اک   عمر  گزاری  تو   یہ  عقدہ کھُلا  صاؔدق

انجامِ  سفر   منزلِ   جادہ    تو     نہیں   تھی

٭٭٭

 

صادق باجوہ

بے ربط سی  باتوں سے بھی بنتا ہے فسانہ

اے کاش! کبھی سوچ ہی لیتا یہ زمانہ

آزادیِ تحریر پہ قدغن بھی مسلسل

تعزیر کا منصف نے بھی ڈھونڈا ہے بہانہ

کچھ صورتِ اِظہارِ خیالات بھی ناپید

کچھ بندشِ بدنام پہ اِترائے زمانہ

جن سے تھے زمانے کو بچائے ہوئے بیٹھے

اُن تِیرِ حوادث کا بنا دل ہی نشانہ

ہر دور میں اک عہد کی تعمیر ہوئی ہے

ہر  عہد  ہے  اک   دور کی  تعبیر  نہ  جانا

اک عمر گزاری ہے ترے ناز اُٹھاتے

اے گردشِ ایّام ہمیں اب تو ستا نہ

کیوں دستِ ہُنر ہو گئے خاشاک سے صاؔدق

دیکھے تو سہی، سمجھے کبھی، یہ بھی زمانہ

٭٭٭

 

صادق باجوہ

 ملا  ہے جو کچھ عطا ہے اس کی، نہیں  ملا  تو  ملال  کیسا

فقط  ہے شکر و سپا س  واجب، لبوں   پہ لرزاں سوال کیسا

عجیب حسرت بھری اُٹھی ہے، نگہ نہ جانے کہاں کہاں سے

نظر میں جب تک سما  سکے  نہ، کمالِ  حسن و  جمال کیسا

سکندری ہو نصیب لایا، دلی مرادوں  کو جس  نے پا یا

 فلک نے مژدہ  جسے  سنایا، اسے ہو  حُزن و   ملال کیسا

نہیں ہے لغزش کوئی گوارا، ہوئی ہے قدغن  بھی آشکارا

ہے نارِ حسد و جلن نے مارا، اُٹھے ہے  دل سے اُبال کیسا

جسے  لگایا  ہو خود  خدا نے، شجر  وہ  بڑھتا   رہے گا  ہر دم

رہے گا  سر سبز، پُر  ثمر  بھی، عدو  کا قصدِ وبال کیسا

ہے سازِ ہستی  کا  مُنتہا  تو کمالِ رحم  و کرم  میں  پِنہاں

رہے  نہ  بخشش  کا کچھ سہارا، تو  ہو گا   اپنا مآل کیسا

اسی  بھروسے   پہ زندگی  کا  سفر  یہ کٹتا  رہا ہے صاؔدق

پڑے گی بوچھاڑ رحمتوں کی، تو فکرِ  رنج  و  ملال  کیسا

٭٭٭

 

صادق باجوہ

جس کو کہتے تھے خدا اس کو خدا سمجھا  نہیں

ہم نے اپنی زندگی کا مُدّعا سمجھا نہیں

کب سے فصلیں کاٹ کر پھر  خواہشیں بوتے رہے

جانکنی   کے  وقت  کو   وقت ِ قضا  سمجھا   نہیں

اس  قدر دُشنام  و  الزامات کی  بوچھاڑ  تھی

دل    نِگارِ   دہر  کے  ناز  و  ادا  سمجھا  نہیں

کیا کہیں جس پر   فدا ہم   جان   و  دل کرتے رہے

اس نے  بھی   شاید  ہمیں کچھ با   وفا سمجھا  نہیں

  ڈوب کر  بحرِ معاصی میں   نکلنے  کی   تڑپ

تھی  فقط وہ   اِبتدا  یا   اِنتہا   سمجھا     نہیں

عمر  بھر مانگا  کئے تھے کچھ  دعائیں رات  دن

 جب کھلا   بابِ دعا    وقتِ دعا  سمجھا    نہیں

رَہروِ راہِ وفا صاؔدق تھا غم سے آشنا

پَر زمانہ درد میں ڈوبی نَوا سمجھا نہیں

٭٭٭

 

غزلیں

بقا بلوچ (کوئٹہ)

یہ دل بھی عجب دل ہے اِسے چین کہاں ہے

جو سمت ہے ممنوع اُسی سمت رواں ہے

پھر دشت ہے اور قافلۂ تَشنہ لباں ہے

پھر سامنے کربل ہے وہی آہ و فغاں ہے

مت پوچھئے اِس دور کے انسان کی پہچان

اِس دور کا انسان تو بے نام و نشاں ہے

اب سانس بھی آرام سے میں لے نہیں سکتا

سینے میں سُلگتی ہوئی یادوں کا دھواں ہے

مہتاب کو معلوم ہے مہتاب سے پوچھو!

وہ خواب نما جھیل،  وہ قندیل کہاں ہے

افکار کبھی وقت کے تابع نہیں ہوتے

’’ اے بوڑھی صدی دیکھ مری سوچ جواں ہے ‘‘

اب شہر میں ٹھہریں کہ بیابان کو جائیں

تسکین کی صورت نہ یہاں ہے نہ وہاں ہے

اِس بار کروں ذات کا اثبات نہ کیونکر

اِس بار تو خود پر بھی مجھے تیرا گماں ہے

ہے اِیسے قبیلے سے بقاؔ اپنا تعلق!

جو اپنی روایات میں صد رشکِ جہاں ہے

٭٭٭

 

بقا بلوچ

جب سے وہ آیا ہے میرے دھیان میں

ذہن و دل ہیں عالمِ وجدان میں

ہم نے تیرا ذکر چھیڑا اور پھر

روشنی سی ہو گئی دالان میں

وہ گیا تو روح کو بھی لے گیا

بات کیا تھی دل کے اس مہمان میں

خود بخود خوابوں کے در کھلنے لگے

کون آیا عالمِ امکان میں

حسن پردے سے نکل کر اور بھی

ڈال دیتا ہے خلل ایمان میں

جب کیا گھاٹے کا سودا ہی کیا

عمر بھر ہم تو رہے نقصان میں

کُل اثاثہ چند سپنے ہیں بقاؔ

اور کیا رکھا ہے اب سامان میں

٭٭٭

 

بقا بلوچ

کیسا   لمحہ  آن   پڑ ا   ہے

ہنستا  گھر   ویران  پڑا  ہے

بستر  پر کچھ  پھول پڑے ہیں

آنگن میں  گلدان  پڑا  ہے

کرچی  کرچی  سپنے سارے

دل  میں  اک ارمان پڑا ہے

لوگ   چلے  ہیں  صحراؤں کو

اور  نگر  سنسان   پڑا   ہے

اک جانب اک نظم کے ٹکڑے

اک جانب  عنوان  پڑا   ہے

دل  میں ایک  الاؤ  ہے روشن

اس  میں  اک دیوان پڑا ہے

٭٭٭

 

بقا بلوچ

میں جو معراجِ ہُنر تک پہنچا

جانے کیا سوچ کے گھر تک پہنچا

اپنے کشکول میں حسرت لے کر

اک گداگر ترے در تک پہنچا

درد اُٹھا تھا مرے سینے میں

آخرِ کار جگر تک پہنچا

اب گلے ہنس کے لگا لو اِس کو

ایک الزام کہ سر تک پہنچا

اک تباہی مرے دل پر اُتری

اک تماشا مرے گھر تک پہنچا

اک دُعا میرے لبوں تک آئی

اک اثر اُس کی نظر تک پہنچا

جتنی آہیں مرے دل سے نکلیں

یا خدا! اُن کو اثر تک پہنچا

شاخ سے ٹوٹا ہوا پتّا ہوں

تُو مجھے میرے شجر تک پہنچا

ہم ستاروں کی خبر لائیں گے

یہ خبر! اہلِ خبر تک پہنچا

٭٭٭

 

بقا بلوچ

حریمِ جاں میں بھٹک رہا ہوں

میں قافلے سے بچھڑ گیا ہوں

دھُواں ہوں جلتے ہوئے مکاں کا

فضا میں تحلیل ہو رہا ہوں

تُو میری خوشیوں سے بے خبر ہے

میں تیرے دُکھ سے بھی آشنا ہوں

سماعتیں جن کی مر چکی ہیں

میں اُن کو آواز دے رہا ہوں

وہ مجھ کو تقسیم کر رہا ہے

میں جس کے غم سے جُڑا ہوا ہوں

نہ کوئی رستہ نہ کوئی منزل

عجیب راہوں پہ چل رہا ہوں

بقاؔ کوئی تو مجھے سمیٹے

میں بے تحاشا بکھر گیا ہوں

٭٭٭

 

بقا بلوچ

’’ سلال اکبر بگٹی کی یاد میں ‘‘

عید کے روز بھی کیا شہر ہے ویراں اپنا

ایک مقتل نظر آتا ہے گلستاں اپنا

ہائے وہ گل کہ معطر تھا زمانہ جس سے

ایسا مرجھایا ‘ چمن ہو گیا ویراں اپنا

ہر طرف خوف ہے،  دہشت کی فضا طاری ہے

کیا مقدر ہے یہی درد کا ساماں اپنا

اِس طرح راکھ ہوئے ایک ہی محفل کے چراغ

رزقِ شب ہو گیا اندازِ چراغاں اپنا

بجلیاں اپنے ہی دامن کو جلانے آئیں

اپنی بستی کو بہا لے گیا طوفاں اپنا

کسی دشمن کے سپاہی،  نہ کوئی فوجِ عُدو

اپنا ہی جسم تھا اور خنجرِ بُراں اپنا

کوئی بیگانہ جو ہوتا تو گلہ بھی کرتے

یاں تو اپنوں ہی نے لوٹا ہے شبستاں اپنا

پھر خوشی دور ہوئی شہرِ بلوچاں سے بقاؔ

پھر سے آباد ہوا شہرِ خموشاں اپنا

(شہادت:۲ جون ۱۹۹۲؁ء )

٭٭٭

 

بقا بلوچ

جتنے   منظر   دیکھے  ہم  نے

دل  کے  اندر  دیکھے  ہم نے

اُڑتی  خاک  زمیں  پر  دیکھی

رنگ  فلک  پر  دیکھے  ہم نے

تم نے صرف  کنارے  دیکھے

سات  سمندر  دیکھے  ہم نے

اب تک  جتنے  چہرے  دیکھے

تم  سے  کم  تر  دیکھے ہم نے

در  پر آنکھیں ،  آنکھ  میں  پانی

پانی  میں  گھر  دیکھے  ہم نے

دل کے سُونے دشت کے  اندر

اُجڑے  منظر  دیکھے  ہم نے

تم نے دیکھے خواب  خوشی  کے

غم  کے  نشتر  دیکھے  ہم  نے

٭٭٭

 

بقا بلوچ

وعدے جھوٹے قسمیں جھوٹی

دنیا  کی  سب  باتیں جھوٹی

کھینچی ہیں جو سچے  دل  سے

وہ بے  نام  لکیریں  جھوٹی

اُس کی  آنکھیں بول رہی ہیں

سب  خوش رنگ شبیہیں جھوٹی

امن کے سارے سپنے جھوٹے

سپنوں  کی  تعبیریں  جھوٹی

ہم  نے   جن  کو  سچا  جانا

اُن  کی  ساری  باتیں جھوٹی

آج  ہمیں  معلوم  ہوا ہے

گزرے کل کی  یادیں جھوٹی

دیکھو،   کان  نہ دھرنا  اِن  پر

دل  کی  سب آوازیں جھوٹی

بس  اک  پیار  کا بندھن سچا

او ر  بقاؔ   سب  رسمیں  جھوٹی

٭٭٭

 

بقا بلوچ

یقیں مجھ کو خدا پر آ گیا ہے

مسافر خود پلٹ کر آ گیا ہے

وہ محشر ہے بپا سینے کے اندر

کہ دل سینے سے باہر آ گیا ہے

میں جس سے آج تک بچتا رہا ہوں

وہ سیلِ غم مرے گھر آ گیا ہے

زمانہ دیکھتا ہے خواب جس کے

دل اُس دنیا سے ہو کر آ گیا ہے

میں صدیوں سے تمنائی تھا جس کا

وہ اک لمحہ میسر آ گیا ہے

سفیرانِ ہَوس کو یہ خبر دو!

محبت کا گداگر آ گیا ہے

بقاؔ جس سے نظر میں روشنی تھی

نگاہوں میں وہ منظر آ گیا ہے

٭٭٭

 

بقا بلوچ

کیا کہیں کیا حسن کا عالم رہا

وہ رہے اور آئنہ مدھم رہا

زندگی سے زندگی روٹھی رہی

آدمی سے آدمی برہم رہا

رہ گئی ہیں اب وہاں پرچھائیاں

اک زمانے تک جہاں آدم رہا

پاس رہ کر بھی رہے ہم دور دور

اِس طرح اُس کا مرا سنگم رہا

تُو مرے افکار میں ہر پَل رہی

میں ترے احساس میں ہر دم رہا

جی رہے تھے ہم تو دنیا تھی خفا

مر گئے تو دیر تک ماتم رہا

٭٭٭

 

غزلیں

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ (ڈیرہ غازی خاں )

رت جگے، آنسو، دعائے بے اثر ہے اور میں

عشق لا حاصل ہے، اک اندھا سفر ہے اور میں

چھوڑ کر آئی ہوں ہر منزل کو میں جانے کہاں

یہ دل سودائی اب تک بے خبر ہے اور میں

اب تلک رستے وہی اور عکس آنکھوں میں وہی

اور خود کو ڈھونڈتی میری نظر ہے اور میں

گم شدہ منظر میں اب تک ہے بھٹکتی زندگی

اجنبی رستوں کا اِک لمبا سفر ہے اور میں

آس اب بجھنے لگی ہے وہ لوٹ کر آئے نہیں

جھیل پر اب بھی وہ اِک تنہا شجر ہے اور میں

کیا کہوں شاہینؔ جس پر تھا بہت ہی اعتبار

وہ زمانے کیلئے اب معتبر ہے اور میں

٭٭٭

 

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

اجنبی شہر کی اجنبی شام میں

زندگی ڈھل گئی ملگجی شام میں

شام آنکھوں میں اتری اسی شام کو

زندگی سے گئی زندگی شام میں

درد کی لہر میں زندگی بہہ گئی

عمر یوں کٹ گئی ہجر کی شام میں

عشق پر آفریں جو سلامت رہا

اس بکھرتی ہوئی سرمئی شام میں

میری پلکوں کی چلمن پر جو خواب تھے

وہ تو سب جل گئے اُس بجھی شام میں

ہر طرف اشک اور سسکیاں ہجر کی

درد ہی درد ہے ہر گھڑی شام میں

آخری بار آیا تھا ملنے کوئی

ہجر مجھ کو ملا وصل کی شام میں

رات شاہینؔ آنکھوں میں کٹنے لگی

اس طرح گم ہوئی روشنی شام میں

٭٭٭

 

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

چاہتوں میں اُس کا اپنا ہی کوئی معیا ر تھا

عقل اُس کی تھی طلب، مجھ کو جنوں درکار تھا

کون تھا جو جل رہا تھا آپ اپنی آگ میں

کون تھا جو ظلمتوں سے بر سر ِ پیکار تھا

یوں نہ تھا وارفتگی سے ہم ہی بس چاہا کئے

لطف یہ ہے اُ س کو بھی ہم سے بہت ہی پیار تھا

ایک لمحہ تھا مری مٹھی میں جو آیا نہ تھا

اور اُس کو بھی تو بس لمحہ وہی درکار تھا

ہاتھ پر جس کے لہو تھا بے گناہوں کا یہاں

شہر میں وہ شخص ہی تو صاحبِ دستار تھا

یوں تو دنیا کے لئے ہم نے بہت کچھ پا لیا

بعد اُ س کے تھا اگر کچھ بھی تو بس بے کار تھا

ایک چاہت کب تلک لڑتی وہاں شاہین بس

جس طرف بھی دیکھئے اک مصر کا بازار تھا

٭٭٭

 

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

میں موسمِ وصل کے استعارے میں ہوں

ہاتھ میں رائے گاں سی لکیریں جو ہیں

آنکھ کے دشت میں یہ جو تصویر ہے

                  یہ جو تعزیر ہے

آسماں پر بکھرتے ستارے جو ہیں

موسمِ وصل کے استعارے  جو ہیں

              استخارے جو ہیں

اِن کو دیکھا کبھی

اِن کو جانچا کبھی

تو یہ جانا میں کب ان لکیروں میں ہوں

میں کہاں آسماں کے ستارے میں ہوں

اک شبِ ہجر ہے

اور شبِ ہجر کے میں خسارے میں ہوں

میں ابھی تک موسمِ وصل کے استعار ے میں ہوں

٭٭٭

 

فکریہ

اے شبِ تار  !

تجھ کو معلوم بھی ہے  ؟

تیری تاریکی میں دیئے جلانے والی

یہ تنہا لڑکی

اب تک اپنے ہاتھوں کی لکیروں سے

کیوں الجھتی ہے  ؟

کس کی راہ تکتی ہے  ؟

٭٭٭

 

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

عشق بستی بسانے والو

یہ عشق بستی بسانے والو

میری جو مانو تو لوٹ جاؤ

یہاں تو حاصل فقط زباں ہے

یہاں بھٹکتے ہر اک مسافرکے پاس دکھ ہے

جو خواب آنکھوں میں بچ گئے ہیں

اب ان کی بھی تو اساس دکھ ہے

اے خواب دنیا بسانے والو

وفا کے سپنے سجانے والو

ہے عشق کی بس یہی حقیقت

وفا کی اتنی سی قدرو قیمت

جو بِک گیا اس کا مول ہو گا

وہی ترازو کا تول ہو گا

وگرنہ سب کچھ ہی جھول ہو گا

محبتوں کے تمام دعوے

تمام قسمیں تمام وعدے سراب ہیں بس

اور ان کا حاصل عذاب ہیں بس

یہاں بھٹکنے سے پہلے بس اتنا سوچ لینا

فراق راتوں میں پیاسی یادوں کی تیرگی ہے

یہاں تو آنکھوں سے اشک گرتے ہیں

اشک آنکھوں سے زینہ زینہ اُتر کے اکثر

لبوں تک آتے ہی بس چھلکتے ہیں

اور جو پیاسے ہیں

بھیگی آنکھوں کے ساتھ صحرا میں

پانیوں کو تلاش کرتے ہیں

روز جیتے ہیں

روز مرتے ہیں

رگوں میں خون تو نہیں ہے

ویرانیاں بسی ہیں

دکھوں میں حیرانیاں بسی ہیں

ہمارے کشکول میں جو خوابوں کے کھوٹے سکے ہیں

اِک دوجے سے بس اُلجھتے ہیں

روز روتے ہیں

روز بلکتے ہیں

یہ عشق بستی بسانے والو

میری جو مانو تو لوٹ جاؤ

یہاں کی مٹی تو بانجھ ٹھہری

مت ایسی مٹی میں خود کو گھولو

خوشی کے در کو ذرا سا کھولو

نہ خود کو ان راستوں پہ رولو

کبھی اگر پیاس بڑھ بھی جائے

تو یاد کے سائباں کو کھولو

یہاں کھل کے رو لو

                 یہاں کھل کے رو لو

٭٭٭

تشکر: ارشد خالد جنہوں نے فائلیں فراہم کیں

ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

ادبی کتابی سلسلہ

عکاس انٹرنیشنل اسلام آباد

(۱۸)

http://akkas-international.blogspot.de/

مرتّب

ارشد خالد

امین خیال

سرکولیشن منیجر  :   نوید ارشد


اپنی بات

          عکاس کی کتاب نمبر ۱۸پیش ِخدمت ہے۔ اس بار افسانچے کے سفرکا ایک گوشہ بن گیا ہے۔ ’پوپ کہانی‘ کی ایجادکے نام سے ایک بچکانہ دعویٰ سامنے آیا۔ ہمیں ایسے کسی مدعی سے کوئی غرض نہ تھی لیکن انہوں نے  غیر ضروری اور بے جا اصرار کر کے ایسا ماحول بنا دیا کہ اس موضوع پربنیادی نوعیت کا مواد جمع کرنے کا موقعہ مل گیا۔ ’پوپ کہانی‘کے نام پر مغرب میں بیک وقت چھوٹی چھوٹی کہانیاں بھی لکھی گئیں اور معمول کے افسانوں پر بھی ’پوپ کہانی‘کا لیبل لگا کر انہیں پاپولر کہانی باور کیا گیا۔ یہ وہاں کے چند ایسے لوگوں کا کھیل تھا جنہیں بڑے ادبی حلقوں میں خاطر خواہ یا ان کی مطلوبہ پذیرائی نہیں مل سکی تھی۔ اس لحاظ سے یہ اُن لکھنے والوں کا آپسی اور کچھ نفسیاتی معاملہ تھا۔ جب افسانچے کے سفر کی روداد کے لیے میٹر جمع کرنا شروع کیا تو نئے لکھنے والے افسانہ نگاروں کے معمول کے افسانے بھی موصول ہوئے، اس طرح ان افسانوں کی ایک معقول تعداد اس گوشہ میں شامل کر لی گئی ہے۔ اب یہ حصہ افسانچے کا گوشہ ہو کر فکشن کا ایک عام گوشہ بھی بن گیا ہے۔ کسی کی بے جا حمایت یا مخالفت سے ہٹ کر جو دوست اس موضوع (افسانچہ اور پوپ کہانی کا فرق)پر کوئی بنیادی نوعیت کا واضح تفریقی نکتہ پیش کریں گے، یا پوپ کہانی اور افسانچے کے حوالے سے علمی بات کریں گے، ان سب کی آراء کا خیر مقدم کیا جائے گا۔

         ’’افسانچے کا سفر‘‘ترتیب دیتے ہوئے خیال آیا ہے کہ شخصی گوشوں کے ساتھ بعض اصناف کے گوشے بھی دئیے جا سکتے ہیں۔ خصوصاً ایسی ادبی اصناف جن پر کسی حیلہ جوئی سے ہاتھ مار کر دوسروں کی محنت کا سہرا اپنے سر سجانے کی کوشش کی جاتی ہے، ایسے رویوں کو زیادہ کھل کر سامنے لانے اور ان اصناف کی اصل روپ ریکھا کو اجاگر کرنا پیش نظر ہو گا۔ ان معاملات میں ہمیں علمی اختلاف رائے اورعلمی بددیانتی میں فرق کو واضح کرنا ہو گا۔

ارشد خالد

عامر سہیل (ایبٹ آباد)

ریسرچ اسکالر، ہزارہ یونیورسٹی

 فکرِ اقبال کی تفہیم اور مغالطے:چند معروضات

فکرِ اقبال کے حوالے سے جو ابتدائی کام سامنے آیا اُس میں منصفانہ تجزیات کم اور حاکمانہ فتاویٰ کا عمل دخل زیادہ رہا ہے۔ عہدِ اقبال میں ایسے مفکرین سامنے آ چکے تھے جن کی آرا ء بوجوہ حرفِ آخر کا درجہ رکھتی تھیں۔ جو جس نے کہہ دیا وہ سند بن گیا اور اُسی کی تکرار لازمی خیال کرتے ہوئے تحریری اور تقریری مظاہر اقبال شناسی کا درجہ اختیار کر گئے۔ اِن مباحث میں چند نکات پر اجماع کی کیفیت پیدا ہو گئی تھی یعنی:

   (۱)      فکرِ اقبال مغربی فلاسفہ کی مرہون ِ منت ہے۔

  (۲)     اقبال نے جدید علم الکلام کی بنیاد رکھی۔

  (۳)     اقبال اصلاً ایک متکلم ہے۔

  (۴)     اقبالی فکر اُصولِ تطبیق پر اُستوار ہے۔

(۵)      اقبال عشق کا پیغامبر اور عقل کا مخالف ہے۔

(۶)      اقبال کا جھکاؤ تصوف میں وحدت الوجود کی طرف ہے (یک رُخی تنقید نے علامہ کے مرشد رومی کو بھی وجودی قرار دیا ہے)

(۷)     اقبال اشتراکی نظام کے حامی اور مبلغ تھے۔

(۸)     اقبال جارحیت پسند تھے۔

(۹)     اقبال نے قدامت پسندی کو فروغ دیا۔

اِنہی مغالطوں کی بنیاد پر فکرِ اقبال کی عمارت اُٹھائی گئی جو بالآخر ایسے مقام پر آ کر رُک گئی جہاں سے صرف فکری تناقضات اور سطحی دعاوی کی آسان راہ نکلتی تھی، چنانچہ اُسی پر صاد کرتے ہوئے اقبال انڈسٹری کو فروغ دینے کا کام تیز تر ہوتا گیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ فکرِ اقبال کو یرغمال بنا دیا گیا ہے تو شاید زیادہ غلط نہیں ہو گا۔ اقبال کے ساتھ سب سے بڑی زیادتی یہ ہوئی کہ اُن کے اصل متون کو پسِ پشت ڈال کر من مانے عقائد و نظریات کو اُن سے بلا وجہ منسوب کر دیا گیا یا پھر مغربی فلاسفہ کے نظریات کو متن ِ اقبال سے زبر دستی برآمد کرنے کی روش کو’’ اقبال شناسی‘‘ کا نام دے کر غلطیہائے مضامین کا طومار باندھا گیا۔ حکیم الامت کے فکروفن پر لکھے جانے والے طویل الذیل مقالات نے عوام و خواص دونوں کو جادہِ مستقیم سے ہٹا کر عجب بھول بھلیوں میں مبتلا کر دیا۔ اب اصل اقبال کی تلاش ہی اصل مسئلہ ہے:

    ؎        حقیقت خرافات میں کھو گئی  ،    یہ اُمت روایات میں کھو گئی

ْٔٔٔٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓاقبال کی راست تفہیم میں حائل رکاوٹوں کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہو تا ہے کہ اس کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھی گئی تھی۔ اقبال جب اپنے انگریزی خطبات  ۱؎  پیش کرنے کے لیے مدراس گئے تو واپسی پر اُنہی خطبات کو علیگڑھ یونیورسٹی میں بھی سنایا جس میں آخری دن کی صدارت سیّد ظفر الحسن فرما رہے تھے، اُن کا یاد گار ِ زمانہ خطبۂ صدارت بعد میں آنے والے محققین اورناقدین کے لیے ایسا جادوئی نسخہ ثابت ہوا جس کی مد دسے اقبال جیسی انقلابی شخصیت کو متکلم کہنے کی مستقل روایت کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔ اس تاریخی خطبے کا جائزہ اور تجزیہ ضروری ہے کیوں کہ تفہیم ِ اقبال کے سلسلے میں اور خصوصاً اُن کے فکری نظام کے حوالے سے بیش تر غلط فہمیوں کا براہ ِ راست تعلق اسی خطبے  ۲؎ کے ساتھ ہے۔ اکثر ناقدین ِ اقبال کی تحریریں اسی نقطۂ نظر کی بازگشت ہیں، سیّد علی عباس جلالپوری کی کتاب ’’ اقبال کا علم ِ کلام‘‘اسی دبستانِ فکر کی نمایندہ او ر متنا زعہ فیہ  ۳؎  تصینف ہے۔ سیّد ظفر الحسن نے اپنے خطبے (نومبر۱۹۲۹ء ) میں کہا تھا:

"The profound insight of Dr. Iqbal both in the principles of Islam and in the principles of modern science and philosophy,his great and up to date knowledge of all that has a bearing on the point ,his keen acumen and capacity to construct a new system of thought ;in other words,his unique fitness to bring islam and philosophy to gether and in harmony,has induced him to carry out  the task anew which centuries ago our great Ulma like Nizam and Ashari set to themselves in the face of Greak science and philosophy.He has constructed in these lectures he has given us the foundations of a new illm-i-kalam which,Gentlemen,only he could do”(4)

محمد سہیل عمر نے اصل انگریزی متن کی جملہ صفات پوری صحت کے ساتھ اُردو ترجمے میں منتقل کر دی ہیں، محولہ بالا عبارت کا ترجمہ ملاحظہ ہو:

  ’’ ڈاکٹر اقبال کو اسلام اور جدید فلسفہ و سائنس کے اصولوں کی جو گہری بصیرت حاصل ہے اُن کے مالہ و ماعلیہ کے بارے میں اُنہیں جیسی تازہ ترین اور وسیع معلومات حاصل ہیں، ایک جدید نظام ِ فکر تعمیر کرنے کی جیسی مہارت اور استعداد اُنہیں میسر ہے بالفاظِ دیگر فلسفے اور اسلام کو ہم آہنگ کرنے اور تطبیق دینے کی جیسی بے مثل لیاقت اُن میں پائی جاتی ہے اس نے اُن کو آمادہ کیا کہ وہ اُس کام کو دوبارہ انجام دیں جو صدیوں پہلے یونانی فلسفہ و سائنس کے رو برو ہمارے علما، مثلاً نظام اور (ابوالحسن) اشعری نے اپنے لیے منتخب کیا تھا۔ اپنے ان خطبات میں انہوں نے ہمارے لیے ایک جدید علم کلام کی نیو رکھ دی ہے۔ حضرات یہ کام صرف وہی انجام دے سکتے تھے۔ ‘‘ (۵)

بس یہیں سے اقبال کو متکلم کہنے کا رواج ہوا اور ہر نئے آنے والے اقبال شناس اپنی ہمت کے مطابق حصہ ڈالتے چلے گئے۔ اب اس بات پر حیرت کا اظہار کیا جا سکتا پے کہ سادات قبلیے کے دو نمایا ں حکما (سیّد ظفر الحسن اور سیّد علی عباس جلالپوری) آخر اس کج فکری کا شکار کیسے ہوئے، بہت ممکن ہے کسی اقبال شناس نے مسئلہ زیر ِ بحث پر داد ِ تحقیق دی ہو!

اقبال نے اپنے تصوارت کی ترسیل و اشاعت کے لیے جو منظم و جامع نظام ِ فکر مرتب کیا اُس میں شامل کلامی مباحث کی نوعیت بنیادی نہیں اشاراتی ہے، وہاں جز بول کر جز ہی مراد لیا گیا ہے کُل نہیں۔ اگر اقبال اِن مباحث میں جز بول کر کُل مراد لیتے تو پھر اُن کا متکلم ہونا لازم آتا تھا، لیکن چونکہ ایسا نہیں ہوا لہٰذا اُن کو متکلم کہنا حقائق مسخ کرنے کے برابر ہے۔ ’’انگریزی خطبات‘‘ میں کہیں کہیں ایسے اشارے موجود ہیں جن کو ’’کُل‘‘ سمجھ کر اقبال شکنی کا حق ادا کیا گیا ہے۔

                ؎     حکیم میری نواؤ ں کا  راز  کیا  جانے

 ورائے عقل ہیں اہل ِ جنوں کی تدبیریں           (کلیات:ص۶۸۷)

اقبال کا اصل فکری کارنامہ یہ ہے کہ اُنھوں نے قدیم مشرقی دانش اور جدید فکری نظریات کو باہم یکجا کر کے ایک ترکیبی نظام وضع کرنے کی مستحن کوشش کی ہے اور اسے خودی کا نام دے کر باقی کائناتی مظاہرکو اسی فکر کا زائیدہ قرار دیا ہے۔ اس خودی کا تعارف اقبال کی زبانی سنئیے:

یہ موج ِ نفس  کیا  ہے  تلوار  ہے!

خودی کیا ہے ؟ تلوار  کی  دھار  ہے!

خودی کیا ہے؟  راز ِ درون ِ  حیات  !

خودی کیا  ہے؟  بیداریء کائنات!

ازل  اس  کے  پیچھے  ابد  سامنے!

نہ حد اس کے  پیچھے  نہ  حد سامنے!

سفر  اس  کا  انجام  و  آغاز  ہے

یہی  اس کی تقویم  کا  راز  ہے!

ازل  سے  ہے  یہ کشمکش  میں  اسیر

ہوئی خاک ِ آدم  میں  صورت  پذیر

خودی کا نشیمن ترے  دل  میں  ہے

فلک جس طرح آنکھ کے تل  میں ہے  (٭)

(کلیات:’’ ساقی نامہ‘‘ص ۴۱۹ تا ۴۲۰)

اب اُصولاً تو یہ ہونا چاہیے تھا فکرِ اقبال کو اُنہی کے پیش کردہ نظام میں رکھ کر تعبیر و تشریح کا کام آگے بڑھایا جاتا مگر ایسا ہوا نہیں، اس کے بجائے ہم مغربی مفکرین کی کتب ہائے جلیلہ سے من پسند اقتباس نقل کر کر کے حکیم الامت کا قد بڑھا نے میں مصروف رہے، کسی نے اتنی زحمت بھی گوارہ نہیں کی کہ اقبال کا اصل منہاج اور نظام کھوج لیا جائے اور یہ دیکھ لیا جائے کہ وہ کس سسٹم میں رہ کر بات کر رہے ہیں۔

اقبال کے فکری اُسلوب کی نوعیت کچھ ایسی ہے کہ جہاں وہ عقلیت پرست فلاسفہ کا فکری نظام اور ارسطو کی جامد منطق کو رد کرتا ہے وہاں فلسفیانہ تجریدات کو بھی لائق ِ توجہ نہیں سمجھتا۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اقبال کے ہاں مغربی فلاسفہ کی بازگشت سنائی دیتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں لینا چاہیے کہ اُنھوں نے دوسروں کے خیالات من و عن قبول کر کے اپنے لفظوں میں بیان کر دیے ہیں کیوں کہ ایسا ہونا قریب قریب نا ممکن ہے، ہر فکر اپنی ذات میں منفرد اور جدا گانہ اوصاف کی حامل ہوتی ہے۔ ایک فلسفی بیک وقت بہت سے فلاسفہ کے خیالات و نظریات اپنے نظام میں نہیں ٹھونس سکتا اگر وہ ایسا کرے گا تو وہاں اجتماع ِ ضدین کی ایسی ایسی صورتیں جنم لیں گی کہ اچھا خاصا فلسفہ بھٹیار خانہ بن کر رہ جائے گا اور تمام فلسفہ اس اُردو مثل کے مصداق ہو جائے گا کہ ’’ کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا بھان متی نے کنبہ جوڑا‘‘  ہاں البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر اقبال کے پیش ِ نظر کوئی واضح سماجی مشن نہ ہوتا تو پھر وہ بھی کانٹ اور ہیگل کی طرح دوسرے فلاسفہ کے نظام ہائے فکر سے فلسفے کی نئی نئی ترکیبی صورتیں وضع کرتے چلے جاتے۔

اقبال کو فلسفی نہ ماننے کی ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اُن کا فلسفہ منظم صورت میں دستیاب نہیں کیوں کہ وہ شاعر تھے اور اُن کا زیادہ تر علمی سرمایہ شاعری میں محفوظ ہے۔ اگر یہ بات وزن رکھتی ہے تو پھر سقراط کو ہم کس بنیاد پر فلسفی تسلیم کرتے ہیں ؟اُس نے تو کوئی کتاب نہیں لکھی۔ افلاطون کا تمام تر فلسفہ مکالمات کی صورت میں تحریر کیا گیا۔ فرانسیسی فلسفی گیبریل مارسل (Gabriel Marcel) نے اپنا فلسفہ خطبات، ڈراموں اور کہانیوں کی شکل میں لکھا ہے۔ سارتر نے ٹھوس نظری کتب لکھنے کے علاوہ فکشن کو بھی فلسفیانہ مقاصد کے لیے استعمال کیا، تا ہم کسی نے یہ اعتراض نہیں کیا کہ اُن کے علمی کاموں کی فلسفیانہ حیثیت ماند پڑ گئی ہے۔ اگر ہم مان لیں کہ فلسفیانہ افکار کو کسی بھی میڈیم میں پیش کیا جائے وہ فلسفہ ہی رہتا ہے کچھ اور نہیں بنتا تو مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ اقبال کے فکری نظام کو سمجھنے کی خاطر اُن تمام جالوں کو صاف کرنا ہو گا جو ماہرین ِ نے بڑی محنت سے تیار کیے ہیں۔ میں یہ کہنے کی جسارت بھی کروں گا کہ افکار ِ اقبال کی توضیح و تفہیم کے سلسلے میں ناقدین نے خاصی بے احتیاطی کا ثبوت دیا ہے۔ ایسی اعلیٰ و ارفعٰ فکر جو تحقیق، تجربے اور فکری جمال و انبساط جیسے عناصر سے مملو ہو، قوت ِ استد لال اور وجدان اُس کے ہمرکاب ہوں نیز بے نتیجہ تصورات کی نفی کرے اور انسان کا وقار بلند کرے اگر اس روشن فکر کو اصل مقام نہ دیا جائے توکیا یہ زیادتی نہیں ہو گی!

اقبال کے فکری نظام میں جہاں متقدمین اور متوسطین نے اپنا اپنا سلبی کردار ادا کیا وہاں معاصرین بھی اس دوڑ میں آگے آگے رہے۔

 غیر ملکی ’’مداحوں ‘‘ نے جب میدان گرم دیکھا تو وہ بھی محض اسلام دشمنی کا شوق پورا کرنے ادھر آ نکلے اور ایسے ایسے شگوفے چھوڑے جس کے باعث اقبال کی شخصیت اور فکر و فن کے بارے میں غلط فہمیاں عام ہونا شروع ہو گیئں۔ اگر غیر ملکی ناقدوں کی تحریروں کو نو آبادیاتی تناظر میں پرکھا جا ئے تو کئی چونکا دینے والے انکشاف سامنے آتے ہیں لیکن یہ پہلو ایک الگ اور مفصل مطالعے کا متقاضی ہے(۶)

اقبال شکنی کی روایت مستحکم کرنے والوں کی فہرست گر چہ طویل ہے لیکن چند نام گنوانے ضروری ہیں تا کہ سند رہے اور بوقت ِ ضرورت کام آئے۔ ان میں آر۔ اے نکلسن، ڈکنسن، ای ایم فاسٹر، کانٹ ویل سمتھ، پروفیسر گب، ہربرٹ ریڈ، ڈاکٹر آفاق فاخری، فراق گورکھ پوری، جوش ملیح آبادی، تارا چند رستوگی، میکش اکبر آبادی، مجنوں گورکھ پوری، جمیل مظہری، رالف رسل، عزیز احمد، حمید نسیم، سیّد علی عباس جلالپوری اور ڈاکٹر حکم چند نیر وغیرہ۔ اس طرز ِ فکر کی مزید توضیح درج ذیل مثالوں سے ہو سکتی ہے، فراق لکھتے ہیں :

    ’’  اقبال کے مداح اس سوال کا جواب نہیں دیتے کہ اسلام سے وابستہ ہوئے بغیر دنیا خوشحالی، ترقی اور اعلیٰ مقاصد سے ہم کنار کیوں نہیں ہو سکتی‘‘  (۷)

سیّد علی عباس جلالپوری اپنے مخصوص انداز میں کہتے ہیں :

       ’’  راقم کے خیال میں اقبال کا نظریۂ خودی بہ تمام و کمال فشٹے سے ما خوذ ہے۔ ۔ ۔ اقبال کا تصورِ ذات ِ باری سریانی ہے جو اسلام کے شخصی اور ماورائی تصور کے منافی ہے۔ اقبال نشٹے کے تتبع میں خودی مطلق کے قائل ہیں جس سے تمام خودیوں کا صدور ہو رہا ہے اور جو کائنات میں جاری و ساری ہے ‘‘ (۸)

کانٹ ویل سمتھ کے نزدیک اقبال اشتراکی، تجدد پسند، رجعت پسند اور ماضی پرست ہے۔ ای ایم فاسٹر نے فکری تناقض کا الزام لگایا۔ ڈاکٹر جمیل جالبی نے اپنی تصنیف ’’ پاکستانی کلچر‘‘ میں فکرِ اقبال کو نطشے اور بر گساں کا ملغوبہ قرار دیا۔ فراق گورکھپوری نے اقبال کی آفاقیت کو ہند و دھرم کا فیض ثابت کرنے پر زور دیا ہے۔ تارا چند رستوگی نے فلسفۂ اقبال کو مغربی دانشوروں کا عطیہ کہا ہے۔ سلیم احمد کو یہ گلہ ہے کہ اقبال کے ہاں تضاد بہت پایا جاتا ہے۔ علی سردار جعفری تو اقبال کے تمام فکری سرمائے کو اشتراکی نصب العین کی میراث مانتے ہیں۔ یہ سلسلہ بہت دور تک پھیلا ہوا ہے اور اس کج فکری کا آغاز عہد ِ اقبال میں ہو چکا تھا۔ مکاتیب اقبال پڑھ کر اندازہ ہو تا ہے کہ معاصرین کی غلط تعبیرات نے شاعرِ مشرق کو کتنا پریشان کیا ہو ا تھا۔

سیّد علی عباس جلاپوری کے الزامات اور فکری مغالطوں کا دائرہ خاصا وسیع ہے، وہ تاریخ ِ فلسفہ کے عمدہ انشا پرداز اور خالص عقلیت کے بلند پایہ مقلد تھے، اقبال کے ساتھ اُن کا فکری تصادم محض اس وجہ سے بھی تھا کہ اقبال کے ایک ہاتھ میں قرآن دوسرے میں مغربی علوم اور سر پر کلمہ طیّبہ کا تاج جگمگا رہا تھا۔ سیّد صاحب خود کو آزاد منش فلسفی سمجھتے تھے اور علم ِ فلسفہ کی کسی ایسی لگی بندھی تعریف  کے اسیر تھے جس کا محدود اطلاق صرف اُنہی کی ذات تک محدود تھا اور جو شخص اُس تعریف پر پورا نہ اُترتا وہ اُسے اقلیم ِ فلسفہ سے نکال کر متکلم کے عقوبت خانے میں ڈال کر عمر قید کی سزا سنا دیتے تھے۔ اُن کی کتاب ’’ اقبال کا علم ِ کلام‘‘ آج تک موضوع ِ بحث بنی ہوئی ہے۔ اس کتاب کا ایک ایک صفحہ اقبال کی اصل فکر کو منہدم کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ مذکورہ کتاب کا ایک باب بعنوان ’’ اقبال اور نظریۂ وحدت الوجود‘‘ اس حوالے سے قابل ِ ذکر ہے کہ یہاں اُنھوں نے اقبال کے فکری نظام کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے غلط فکری کو رہ دی ہے، اقتباس ملاحظہ ہو:

             ’’ سوال یہ پیدا ہو گا کہ اقبال نے شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کی تعلیمات کو کفر و زندقہ قرار دینے کے بعد شیخ کے ایک پیرو اور متبّع کو اپنا پیرو مرشد کیوں منتخب کیا؟ اقبال کے بعض شارحین نے بھی اس دقت کو محسوس کیا ہے دو ایک نے حتی المقدور اس اشکال کو رفع کرنے کی کوشش بھی کی ہے لیکن اس کوشش میں وہ مولانا روم کی وجودی الٰہیات سے مکمل طور پر قطع نظر کر لیتے ہیں، اور بار بار اُن کے قدر و اختیار، ارتقا اور تصورِ عشق کو معرض ِ بحث میں لاتے ہیں اور پھر اُن کی مطابقت اقبال کے افکار سے کرتے ہیں۔ حالانکہ کسی مفکر کے اخلاقی و عملی نقطۂ نظر کو اس کے الٰہیاتی نظریے سے جدا کر کے مطالعہ نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ اس کی اخلاقی قدریں اور عملی نصب العین اُس کی الٰہیات ہی سے متفرع ہوتے ہیں ‘‘۔ (۹)

  محولہ بالا اقتباس میں موجود تمام مقدمات اور نتائج صریحاً غلط اور گمراہ کُن ہیں۔ سیّد صاحب نے یہاں حسب روایت اجتہاد کی نسبت تقلید ہی کو ترجیح دی ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ ابن عربی اور رومی پر ہونے والی تحقیقات اور تنقیدات کو ہم آسانی کے لیے تین حصوں تقسیم کر سکتے ہیں :

 (۱)  روایتی انداز ِ فکر و نظر (جس میں ابن ِ عربی کو محض وحدت الوجود کا شارح سمجھا گیا اور اُن کے دیگر اہم افکار کو نظر انداز کر دیا گیا اور رومیؔ کی مثنوی کو بھی وجودی فکر کی بائبل کہہ دیا)

(۲)  مستشرقین کا تحقیقی اور تنقیدی کام( جس میں ایک مخصوص فکر اور نظریے کی ترجمانی کی جاتی ہے اور اکثر اوقات حقائق کو مسخ بھی کر دیا جاتا ہے، دور ِ جدید میں نوآبادیات کے اصل محرکات اور تناظرات پر خاصا کام ہو رہا ہے اُس میں مستشرقین کا ذہن کھل کر سامنے آ رہا ہے)

(۳)  اصل متن اور اصل فکر کی نمائندگی( جس میں معروضی حقائق کو پرکھ کر حکم لگایا جا تا ہے اور علمی تقاضوں کا بھرم قائم رہتا ہے)

سیّد علی عباس جلاپوری کا شمار پہلی قسم میں ہوتا ہے۔ اگر وہ مجتہد ہوتے تو رومی کو کسی قیمت پر وجودی نہ کہتے۔

  ؎             مشرب ِ او خورد و نوش و خواب نیست  پیر ِ رومیؔ  پیرک ِ  پنجاب  نیست

سیّد صاحب نے بھی روایتی تنقید کی پیروی کر کے جو ظلم کیا سو کیا مگر اپنے ساتھ دوسروں کو بھی لے ڈوبے۔ رومی کی مثنوی کو’’فصوص الحکم‘‘ جیسی کتاب خیال کرنا کم سوادی کی دلیل ہے۔ مثنوی کا اصل موضوع سعی و عمل اور جدوجہد ہے۔ مسلمان اپنے دور ِ انحطاط میں جب ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر ِ فردا تھے اور عمل کی قوت سے کامل بیگانگی کا اظہار کر چکنے کے بعد جبر و اختیار کی بحثوں میں روشن مستقبل تلاشنے میں سرگرداں تھے تو اُس بھٹکی قوم کو راہِ راست پر لانے کی خاطر رومیؔ کی مثنوی سامنے آتی ہے۔ سیّد صاحب اپنے اقتباس میں جن’’ اشکال‘‘  کا ذکر کر رہے ہیں اُ ن کا تعلق اقبال کے فلسفۂ خودی اور ابن ِ عربی کے وحدت الوجود کے ساتھ بنتا ہے، کیونکہ یہ دونوں نظریات اصل میں ایک دوسرے کے نقیض ہیں۔ یہ مسئلہ صرف اُسی کے ذہن میں پیدا ہو گا جو رومیؔ کو وجودی سمجھے گا اور جو رومیؔ کو وجودی سمجھے گا پھر اُس کے لیے یہ اشکال بھی پیدا ہوں گیں کہ اقبال کے فلسفۂ خودی میں اس کی گنجائش کیسے پیدا کی جائے ؟نیز پیر رومیؔ اور مریدِ ہندی کے باہمی تعلقات میں موافقت کی کون کون سی صورتیں بن سکتی ہیں ؟

اگر اس طر ح کے اُلجھاو پیدا نہ ہوتے تو اقبال کا فکری نظام وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنے خدوخال واضح کرتا چلا جاتا۔ ایسا ہر عظیم مفکر کے ساتھ ہوتا آیا ہے کہ اُس کے افکار زمانے کے ارتقائی سفر میں اپنے معنی کھولتے چلے جاتے ہیں۔ سقراط، افلاطون اور ارسطو ہوں یا گوتم بدھ، اوشو، آئن سٹائن، بھگت کبیر، ابن عربی اور مولانا روم، ان کا وژن ہم پر رفتہ رفتہ ہی وا ہوتا ہے۔ شرط یہی ہے کہ افکار کی اصلیت کو مسخ نہ کیا جائے اور حق دار کو اُس کا حق دیانت داری سے ادا کر دیا جائے۔ اقبال پر لکھی جانے والی ابتدائی کتب کو دیکھ کر اندازہوتا ہے کہ ناقدین کی رسائی اصل افکار تک تقریباً ہو چکی تھی لیکن وہ اقبال کی ہر فکر کو مشرق و مغرب کے کسی نہ کسی فلسفی کا فیض بھی قرار دیتے، اس کا خاصا نقصان ہوا، وہ ایسے کہ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم اور اس قبیل کے دیگر اقبال شناس چونکہ مغربی فلسفے کا وسیع پس منظر بھی رکھتے تھے لہٰذا انھوں نے اقبال کے بنیادی تصورات میں مغربی عناصر کا تڑکا لگا یا جس کی وجہ سے اقبال کی اصل فکر دب کر رہ گئی اور ہم ایک ایسی اقبال فکر سے متعارف ہوئے جو اپنے اصل پس منظر سے پوری طرح کٹ چکی تھی۔

غلط فکر ی کے اس رجحان نے رومیؔ کو بھی نہیں بخشا اور انھیں بھی وجودی بنا کو دم لیا۔ اقبال کے فکر و نظر کے ساتھ جو سلوک ہم نے روا رکھا اس جیسی کوئی اور مثال مشکل ہی سے ملے گی۔ جامعات میں ہونی والی تحقیق اندھے کی لاٹھی کا فریضہ انجام دے رہی ہے، جو بات جس نے کہہ دی وہ سند بن گئی اور اُسی کی تکرار کو تحقیق کا درجہ دے کا سند ِ دوام عطا کر دی گئی۔ اقبال کو اقبال کے حوالے سے سمجھا جانا چاہیے۔ اُن مآخذ کا کھوج لگایا جائے جو اُن کے فکری نظام میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ خدا لگتی بات تو یہ ہے کہ اقبال شناسی کو سندی تحقیق نے جو نقصان پہنچایا اتنا نقصان غیر سندی تحقیق سے بھی نہیں پہنچا:

   ؎             شیر مردوں سے ہو ا بیشۂ تحقیق تہی

رہ گئے صوفی و ملا کے غلام اے ساقی

نادان دوستوں کی فہرست اُس وقت تک نا مکمل رہے گی جب تک اُن شارحین کا تذکرہ نہ کیا جائے جن کی تشریحات نے فکر اقبال کو ہم سے کوسوں دور کر دیا، ویسے اس ضمن میں صرف یوسف سلیم چشتی کا نام بھی کافی ہے کہ اُنھوں نے اپنی تشریحی کتابوں کے ذریعے اقبال کو وحدت الوجود کا پرچارک بنا کر دم لیا۔ اُن کے نزدیک اقبال محض ایک وجودی صوفی ہے جو  ہفت افلاک کی سیر کرنے کے دوران عالم ِ لاہوت میں جو کچھ مشاہدہ کرتا ہے وہ بے کم وکاست اپنی شاعری میں بیا ن کر جاتا ہے۔ شارحین میں دو طرح کے لوگ شامل ہیں ایک تو وہ جنہوں نے شعری تخلیقات کو موضو ع بنایا اور دوسری قسم میں وہ ناقد شارح آ جاتے ہیں جو انگریزی خطبات تک محدود رہے۔ اِن دونوں گروہوں نے تشریحی کام کیا، کچھ بہتر تفہیما ت ضرور سامنے آئیں لیکن ایسے تصورات بھی در آئے جن کی وجہ سے فکرِ اقبال کو نقصان پہنچا۔

یہ اپنی جگہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اقبال کے انگریزی خطبات کا تا حال کوئی ایسا ترجمہ سامنے نہیں آیا جو اصل انگریزی متن کے مطابق ہو اور ہر خاص و عام کے لیے قابلِ استفادہ بھی ہو۔ ماضی میں ہونے والے تراجم میں سیّد نذیر نیازی کا ترجمہ اپنی تمام تر مشکلات کے باوجود  استعمال ہو رہا ہے۔ دیگر مترجمین میں شریف کنجاہی، ڈاکٹر وحید عشرت، ڈاکٹر سمیع الحق(انڈیا) اور شہزاد احمد کی کاوشیں لائق ِ توجہ ضرور ہیں لیکن مسائل ان میں بھی موجود ہیں۔ اقبال کا فکری نظام چونکہ انگریزی خطبات میں زیادہ وضاحت و صراحت کے ساتھ ہم سے مکالمہ کرتا ہے لہٰذا اس کا ایسا ترجمہ سامنے آنا ضروری ہے جو اقبال شناسی کے بنیادی تقاضے پورے کر سکے۔ ہمارے ہاں اقبال کی فلسفیانہ  اصطلاحات پر کام ہونا باقی ہے، ہر لکھاری اصطلاحات ِ اقبال کو من پسند معنوں میں برت رہا ہے جس کی وجہ سے اقبالی فکر کو کبھی تجریدی کہہ دیا جاتا ہے اور کبھی تشکیک پسندی کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔

اقبال کا  فلسفیانہ نظام ریاضیاتی یا تجریدی نہیں ہے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ وہ تجریدی فلسفے کی ناکامی پر نو حہ کناں ہیں تو شاہد غلط نہ ہو گا۔ اقبال کا فلسفہ انسانی ہستی کو ہر قسم کی بے توقیری، بے یقینی، ناکامی اور مایوسی سے باہر نکالتا ہے۔ اقبال کے نزدیک ایک فلسفی کی ذمہ داری یہ بھی بنتی ہے کہ وہ ایمان اور اعتماد کو فروغ دے، کائناتی مسائل کا فہم حاصل کرنے کے لیے جذبہ اور احساس کے ساتھ عقل و ہوش اور منطقی دلائل و استد لال سے بھی کام لے تا کہ انسانی صورت ِ حال میں بہتری کے امکانات روشن ہو سکیں۔ اقبال کے فکری رجحانات میں ایسے تمام صحت بخش عناصر ابتدا ہی سے موجود رہے ہیں جن کا براہِ راست تعلق انسانی شخصیت کی نشوونما اور ترقی کے ساتھ ہے۔ یہ اُن کی تخلیقی فکر کا کرشمہ ہے کہ اُن کے فکری نظام میں فلسفۂ مشرق و مغرب کے وہ تمام اوصاف جمع ہو گئے جو انسانی معاشرے کو رجائی نقطۂ نظر عطا کرتے ہیں۔

اقبال کو عام پڑھے لکھے طبقے سے دور کرنے کی غرض سے یہ غلط فہمی عام کر دی گئی کہ وہ عقل کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ افترا پردازی کا یہ عمل پیغام ِ اقبال کی راہ میں سدِ سکندری ثابت ہوا۔ فکرِ اقبال پر اتنا کام ہونے کے باوجود اب بھی کئی نقاد شاعر ِ مشرق کو عقل دشمن کہنا واجب سمجھتے ہیں : ع  ایسے ’’ناقد‘‘ کا کیا کرے کوئی۔ اقبال کے فکری نظام اور فکری منہاج کا راست مطالعہ ہی ہمیں یہ بتاتا ہے کہ وہ زندگی کی تمام سر گرمیوں میں عقل و خرد کے قائل رہے بلکہ مذہبی امور میں بھی عقلی عناصر کی شمولیت احسن خیال کرتے تھے۔ اس اہم نکتے کی مکمل وضاحت کی خاطر انگریزی خطبات کا ایک اقتباس پیش کرنا ضروری ہے:

” Religion is not physics or chemistry seeking an explanation of Nature in terms of causation;it really aims at interpreting a totally different religion of human experience,religious experience,the data of which cannot be reduced to the data of any other science.In fact,it must be said in justice to religion that it insisted on the necessity of concrete experience in religious life long before science  learnt to do so.The conflect between the two is due not to the fact that the one is,and the other is not, based on concrete experiences.Both seek concrete experience as a point of departure.Their conflect is due to the misapprehension that both interpret the same data of experience.We forget that religion aims at reaching the real significance of a special variety of human experience.”(10)

 یہ مان لینے میں کوئی حرج نہیں کہ اقبال نے انسانی مسائل کو بالکل اچھوتے انداز میں متعارف کرایا ہے۔ اُنھوں نے جس طرح روایتی افکارو نظریات سے بغاوت کر کے نئی نئی راہیں تلاشیں، بالکل اسی نہج پر اُن کے فکری نظام پر گفتگو ہونی چاہیے۔

اقبال نے اگر فلسفی کی حیثیت سے کسی خاص عقیدے کا دفاع کیا تو یہ اُن کا حق ہے، اور اگر اُنھوں نے عقیدہ پہلے وضع کیا اور ثبوت بعد میں مہیا کیے تو یہ بھی کوئی انہونی بات نہیں۔ کون سا ایسا آفاقی فلسفہ ہے جو عقیدہ یا نظر یہ وضع کیے بغیر آگے بڑھتا ہے!ہر فلسفی کچھ بیانات کو ابتدا ہی میں مان کر آگے چلتا ہے، محض خلا میں تو کوئی فکر وجود پذیر نہیں ہوتی۔ آزادانہ فکر کی حدود موجود ہیں اور ان کی پاسداری واجب۔ چاہے کوئی فلسفی مذہبی رجحانات کا حامل ہو، لا ادری(Agnostic) خیالات رکھتا ہو یا پھر برٹرینڈ رسل کی طرح ملحد اور متشکک، ہر ایک  فلسفیانہ طریق ِ کار میں برابر ہے۔ فلسفیانہ منہاج اوردلائل و نتائج کی وجہ سے خود بخود فرق قائم ہو جاتا ہے۔ علم ِ فلسفہ میں بھی مادر پدر آزادانہ فکر و جستجوکوئی وجود نہیں رکھتی۔

اقبال نے انسانی تجربے کو تشکیک کے ریگستانوں سے نکال کو یقین کے چمن زاروں میں پہنچایا، زبان اور صداقت کے باہمی رشتوں کو نئی توانائی اور رعنائی عطا کی، ورنہ ہمارے بہت سے مسلم فلاسفہ بھی مغربی اثرات کی وجہ سے زبان اور صداقت کے تمام تلازمات کو مشکوک مانتے ہیں۔ اقبال کے فلسفۂ اشتراک و رفاقت میں دوئی (Dualism) کا کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ اقبال کے فکری نظام میں نازک اور حسّاس انسانی روابط، تکریم ِ انسانیت، فرد کی ترقی، سماجی نشوونما، بلند نگاہی، وسعت ِ نظری، رواداری، عزت ِ نفس، جدید علوم سے وابستگی، خود شناسی اور بندگی جیسے اعلیٰ عناصر ایک خاص تناسب سے اپنی جگہ بناتے چلے جاتے ہیں۔ اقبال نے فلسفیانہ حدود میں رہتے ہوئے محکم نتائج مرتب کرنے کی روایت ڈالی ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اقبال کے فکری نظام کو فلسفہ و منطق اور مشرق و مغرب کی فلسفیانہ کتب کی بجائے تصانیف ِ اقبال سے اخذ کرنے کی طرف توجہ دیں۔ اقبال کو اقبال ہی کی مدد سے سمجھا جائے تو بات بنے گی ورنہ ’’ دریوزہ گرِ آتش بیگانہ‘‘ کی ابدی کیفیت سے الجھے رہیں گے۔

اقبال کا نظام ِ فکر اُصول ِ وحدت پر اُستوار ہے، جہاں مختلف علوم و فنون سے کشید کیا ہوا علم کُل (whole)  میں آ کر جذب ہو جاتا ہے۔ وہ ہر کار آمد خیال اور نظریے کو جذبے اور فکر کی دھیمی آنچ پر پکانے کے بعد اپنے نظام ِفکر کا حصہ بنا لیتے ہیں۔ اس ایجابی عمل کے دوران تقلید اور بھیڑ چال پر مشتمل فکری اصنام پاش پاش ہو تے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے تمام سلبی تصورات کو یک قلم مسترد کر دیا گیا جو انسان کی فکری نشو ونما میں سم ِ قاتل بنے ہوئے تھے۔ اُن کی فکر کا آئینہ روشن اور پائیدار ہے۔ جو کوئی اس آئینے میں جھانکے گا وہ اشیا کے اصلی خدو خال دیکھے گا۔

          آخر میں اس بات کا اعادہ بہت ضروری ہے کہ اقبال نے کانٹ اور ہیگل کی طرح منطقی دلائل و قضایا کے صغرے کبرے نہیں ملائے اور نہ محض ریاضیاتی فارمولوں کی مدد سے کائناتی سچائیاں دریافت کرنے پر زور دیا ہے۔ اقبال کا نامیاتی فلسفہ سماجیات کے زندہ مسائل کو زندگی بھری نظروں سے دیکھتا  اور محسوس کرتا ہے۔ انسانی وجود اُن کے ہاں بنیادی حقیقت ہے اور وہ کائنات کو بھی حق مانتے ہیں۔ وہ اپن فلسفۂ خود شناسی کے ذریعے در بدر بھٹکے انسان کو روشن منزل کی طرف گامزن دیکھنا چاہتے ہیں۔ انسان کی ناپائیداری اور عارضیت کی وجہ سے جو سطحی فلسفے وجود میں آئے اقبال نے اُن سب کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔ مسلم فکر میں اقبال نے حد درجہ منظم طریقے سے ذات کا گہرا شعور پید ا کیا۔ یہ شعور انسان کو فرشتوں سے افضل بناتا ہے اور وہ روشن راہ دکھاتا ہے جس پر چل کو انسان صحیح معنوں میں اشرف المخلوقات کا درجہ حاصل کرتا ہے۔ اقبال کی نظم ’’ نگاۂ شوق‘‘ ہمیں منزل کا راستہ بھی دکھاتی ہے:

یہ کائنات چھپاتی نہیں ضمیر  اپنا

کی ذرہ ذرہ میں ہے ذوق ِ آشکارائی!

کچھ اور ہی نظر آتا ہے کارو بار ِ جہاں

نگاہِ  شوق  اگر  ہو  شریک ِ  بینائی

اسی نگا ہ سے محکوم  قوم  کے  فرزند

ہوئے  جہاں میں سزاوار ِ کار فرمائی

اسی نگاہ  میں  ہے  قاہری و جباری

اسی نگا ہ میں ہے  دلبری  و  رعنائی

اسی نگاہ سے ہر ذرہ کو جنوں میرا

سکھا رہا ہے رہ و رسم ِ دشت پیمائی

نگاہ ِ شوق  میسر نہیں  اگر  تجھ کو

ترا وجود ہے قلب و نظر کی رسوائی

 (کلیات اقبال، ص۵۷۵)

٭٭٭

حواشی

  ۱؎  Reconstruction Of Religious Thought in Islam

۲؎  اس کا مکمل انگریزی متن دیکھنے کے لیے’’ المعارف، شمارہ ۳، (سن ِ اشاعت ندارد)، ادارہ ثقافت ِ اسلامیہ، لاہور کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے، محمد سہیل عمر کی کتاب ’’ خطبات ِ اقبال نئے تناظر میں ‘‘ ( اقبال اکادمی پاکستان، لاہور) میں اسی خطبۂ صدارت کا اُردو ترجمہ موجود  ہے۔

 ۳ ؎  ماضی میں جلالپوری صاحب کے یہی مقالات جب ’’فنون ‘‘میں قسط وار شائع ہو رہے تھے تو بشیر احمد ڈار نے اُن پر کڑی تنقید کی تھی۔ اس کے علاوہ بھی کئی دوسرے ناقدوں نے اِ ن کی کتاب کو ہدفِ تنقید بنایا لیکن محمد ارشا دصاحب کے موجودہ(فنون، شمارہ ۱۳۱ اور ۱۳۲) تنقیدی وتجزیاتی مقالات سب پر فوقیت رکھتے ہیں۔

۴؎    المعارف، شمارہ ۳، (سن ِ اشاعت ندارد)، ادارہ ثقافت ِ اسلامیہ، لاہور، ص۳۱۸

۵ ؎     محمد سہیل عمر، خطبات ِ اقبال نئے تناظر میں، اقبال اکادمی پاکستان، لاہور، طبع دوم(۲۰۰۲ئ) ص ۱۷۷

۶؎    ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے اس حوالے سے اپنی تصانیف میں کئی جگہ کھل کر اظہار ِ خیال کیا ہے۔

۷؎    Thus spoke Firaq  ص(۷۶)

۸؎     سیّد علی عباس جلالپوری، اقبال کا علم ِ کلام، مکتبہ خرد افروز، جہلم، طبع دوم، ستمبر ۱۹۸۷ء

۹؎      سیّد علی عباس جلالپوری، اقبال کا علم ِ کلام، مکتبہ خرد افروز، جہلم، طبع دوم، ستمبر ۱۹۸۷ء ص۹۵

۱۰؎    Reconstruction Of Religious Thought in Islam:Edited and Annotated by M.Saeed Sheikh,Iqbal Academy Pakistan,2nd Edition April 1989,p No 20

(٭)   اقبال کے فلسفۂ خودی کی وضاحت و صراحت کے لیے ’’اسرار ِ خودی‘‘ اور’’ رموزِ بے خودی‘‘ سے بکثرت مثالیں نقل کی جا سکتی ہیں، لیکن بخوف ِ طوالت محض سادہ امثال کو فو قیت دی گئی ہے، اور ویسے بھی اقبال کا تمام منظوم و منثور سرمایہ فکری اور منطقی اعتبار سے باہم مربوط ہے، جو مثال جہاں سے بھی درج کی جائے وہ اقبال کی مرکزی فکر سے پوری طرح ہم آہنگ ہوتی ہے جس میں نہ تو کوئی جھول ہے اور نہ تضاد۔

٭٭٭

میرا جی

جاتری

ایک آ گیا، دوسرا آئے گا، دیر سے دیکھتا ہوں یوں ہی رات اس کی گزر جائے گی، میں کھڑا ہوں یہاں کس لیے، مجھ کو کیا کام ہے، یاد آتا نہیں، یاد بھی ٹمٹماتا ہوا اک دیا بن گئی ہے، جس کی رکتی ہوئی اور جھجکتی ہوئی ہر کرن بے صدا قہقہہ ہے، مگر میرے کانوں نے کیسے اسے سن لیا۔ ۔ ایک آندھی چلی، چل کے مٹ بھی گئی، آج تک میرے کانوں میں موجود ہے سائیں سائیں مچلتی ہوئی اور ابلتی ہوئی، پھیلتی پھیلتی، ۔ ۔ دیر سے میں کھڑا ہوں یہاں، ایک آیا، گیا، دوسرا آئے گا، رات اس کی گزر جائے گی، ایک ہنگامہ برپا ہے دیکھیں جدھر، آرہے ہیں کئی لوگ چلتے ہوئے، آرہے جا رہے ہیں اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر۔ ۔ جیسے دل میں مرے دھیان کی لہر سے ایک طوفان ہے ویسے آنکھیں مری دیکھتی ہی چلی جا رہی ہیں کہ اک ٹمٹماتے دئیے کی کرن زندگی کو پھلستے ہوئے اور گرتے ہوئے ڈھب سے ظاہر کیے جا رہی ہے، مجھے دھیان آتا ہے اب تیرگی اک اجالا بنی ہے۔ مگر اس اجالے سے رستی چلی جا رہی ہیں وہ امرت کی بوندیں جنہیں میں ہتھیلی پہ اپنی سنبھالے رہا ہوں، ہتھیلی مگر ٹمٹماتا ہوا اک دیا بن گئی تھی، لپک سے اجالا ہوا، لو گری، پھر اندھیرا سا چھانے لگا، بیٹھتا بیٹھتا، بیٹھ کر ایک ہی پل میں اٹھتا ہوا، جیسے آندھی کے تیکھے تھپیڑوں سے دروازے کے طاق کھلتے رہیں، پھڑپھڑاتے ہوئے طائرِ زخمِ خوردہ کی مانند میں دیکھتا ہی رہا ایک آیا، گیا، ۔ ۔ ۔ دوسرا آئے گا، سوچ آئی مجھے، پاؤں بڑھنے سے انکار کرتے گئے، میں کھڑا ہی رہا، دل میں اک بوند نے یہ کہا رات یونہی گزر جائے گی، دل کی اک بوند کو آنکھ میں لے کے میں دیکھتا ہی رہا، پھڑ پھڑاتے ہوئے طائرِ احساس زخم خوردہ کی مانند دروازے کے طاق اک بار جب مل گئے، مجھ کو آہستہ آہستہ احساس ہونے لگا۔ ۔ اب یہ زخمی پرندہ نہ تڑپے گا لیکن مرے دل کو ہر وقت تڑپائے گا، میں ہتھیلی پہ اپنی سنبھالے رہوں گا وہ امرت کی بوندیں جنہیں آنکھ سے میری رسنا تھا، لیکن مری زندگی ٹمٹماتا ہوا اک دیا بن گئی، جس کی رکتی ہوئی اور جھجکتی ہوئی ہر کرن بے صدا قہقہہ ہے کہ اس تیرگی میں کوئی بات ایسی نہیں، جس کو پہلے اندھیرے میں دیکھا ہو میں نے، سفر یہ اجالے، اندھیرے کا چلتا رہا ہے۔ ۔ تو چلتا رہے گا، یہی رسم ہے راہ کی ایک آیا، گیا، دوسرا آئے گا، رات ایسے گزر جائے گی، ٹمٹماتے ستارے بتاتے تھے۔ رستہ کی ندّی بہی جا رہی ہے، بہے جا، اس الجھن سے ایسے نکل جا، کوئی سیدھا منزل پہ جاتا تھا لیکن کئی قافلے بھول جاتے تھے انجم کے دور یگانہ کے مبہم اشارے مگر وہ بھی چلتے ہوئے اور بڑھتے ہوئے شام سے پہلے ہی دیکھ لیتے تھے۔ مقصود کا بند دروازہ کھلنے لگا، مگر میں کھڑا ہوں یہاں، مجھ کو کیا کام ہے، میرا دروازہ کھلتا نہیں ہے، مجھے پھیلے صحرا کی سوئی ہوئی ریگ کا ذرّہ ذرّہ یہی کہہ رہا ہے کہ ایسے خرابے میں سوکھی ہتھیلی ہے اک ایسا تلوا کہ جس کو کسی خار کی نوک چبھنے پہ بھی کہہ نہیں سکتی مجھ کو کوئی بوند اپنے لہو کی پلا دو، مگر میں کھڑا ہوں یہاں کس لئے؟ کام کوئی نہیں ہے تو میں بھی ان آتے ہوئے اور جاتے ہوئے ایک دو تین۔ ۔ لاکھوں بگولوں میں مل کر یونہی چلتے چلتے کہیں ڈوب جاتا کہ جیسے یہاں بہتی لہروں میں کشتی ہر اک موج کو تھام کر لیتی ہے اپنی ہتھیلی کے پھیلے کنول میں، مجھے دھیان آتا نہیں ہے کہ اس راہ میں تو ہر اک جانے والے کے بس میں ہے منزل، میں چل دوں، چلوں۔ ۔ آئیے آئیے، آپ کیوں اس جگہ ایسے چپ چاپ، تنہا کھڑے ہیں، اگر آپ کہئے تو ہم اک اچھوتی سی ٹہنی سے دو پھول۔ ۔ بس بس مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، میں اک دوست کا راستہ دیکھتا ہوں۔ ۔ مگر وہ چلا بھی گیا ہے، مجھے پھر بھی تسکین آتی نہیں ہے کہ میں ایک صحرا کا باشندہ معلوم ہونے لگا ہوں خود اپنی نظر میں۔ مجھے اب کوئی بند دروازہ کھلتا نظر آئے۔ یہ بات ممکن نہیں ہے، میں ایک اور آندھی کا مشتاق ہوں جو مجھے اپنے پردے میں یکسر چھپا لے، مجھے اب یہ محسوس ہونے لگا ہے سہانا سماں جتنا بس میں تھا میرے وہ سب بہتا سا ایک جھونکا بنا ہے جسے ہاتھ میرے نہیں روک سکتے کہ میری ہتھیلی میں امرت کی بوندیں تو باقی نہیں ہیں، فقط ایک پھیلا ہوا، خشک، بے برگ، بے رنگ صحرا ہے جس میں یہ ممکن نہیں میں کہوں۔ ۔ ایک آیا، گیا، دوسرا آئے گا، رات میری گزر جائے گی۔

٭٭٭

ڈاکٹر حنا آفریں

اسسٹنٹ پروفیسر
اکادمی برائے فروغِ استعدادِ اردو میڈم اساتذہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی

میراجیؔ کی نظم  ’جاتری‘ :ایک تجزیاتی مطالعہ

                اس نظم کا عنوان ہی نظم کے  بنیادی مسئلے کی طرف ایک مبہم اشارہ کر دیتا  ہے۔ جاتری یعنی مسافر سے جو کیفیت پیش منظر میں ابھرتی ہے، وہ  ایک نوع کے عدمِ  استقلال، بے ثباتی اور اضطراب کی ہے۔ گرد و پیش میں پھیلی ہوئی پوری زندگی اس بے سکونی اور اضطراب کی زد پر ہے۔ کسی کیفیت کو نہ تو دوام ہے اور نہ ہی آرام۔ مسافرت کی حالت میں سبھی چیزیں رواں دواں اور آنی جانی ہوتی ہیں۔ اس سفر کا المناک پہلو یہ ہے کہ یہ سفر بھی طے شدہ منزل کے لیے ہونے کے بجائے بے سمت اور لایعنی ہے۔

        اس کیفیت کو گرفت میں لینے کے لیے شاعر نے نظم کے واقعات کے لیے جو محل وقوع منتخب کیا ہے اور جن کرداروں سے کام لیا ہے وہ نظم کی پوری فضا سے غایت درجہ ہم آہنگ ہیں۔ لایعنیت اور رائگانی کا جتنا شدید احساس ان کرداروں کے ذریعہ ممکن تھا۔ غالباً کسی دوسری طرح ممکن نہ ہوتا۔ دلچسپ صورتِ حال یہ ہے کہ وہ اعمال اور واقعات جو لذت و انبساط کا سر چشمہ ہیں۔ مخصوص سیاق و سباق میں انتہائی بے لطف اور بے معنی نظر آنے لگتے ہیں۔ شاعر نے جنسی جذبات اور جنسی عمل کے ذریعہ رائگانی اور بے معنویت کے اس احساس کو نہایت ہنر مندی سے اس نظم میں پیش کیا ہے جبکہ جنسی جذبہ انسانی کردار کا مرکز اور جملہ راحتوں سے بڑھ کر ہے بلکہ بعض اعتبار سے تو انسان کی شخصیت اور اس کی معاشرتی زندگی کی اساس یہی جذبہ ہے۔ جب  اس جذبے کی تسکین ہی بے معنی اور لاحاصل ہے تو ظاہر ہے انسانی وجود کی بنیادیں ہی خرابی کی زد پر ہو ں گی۔ اس طرح شاعر نے اس نظم میں مخصوص فضا، محل وقوع  اور مختلف کرداروں کی مدد سے بے لطفی اور بے معنویت کی مہیب صورتِ حال کو گرفت میں لینے کی کوشش کی ہے۔

        دوسری بات جو اس نظم کے سلسلے میں قابلِ توجہ ہے وہ یہ کہ نظم کی ہئیت اور اس کی ساخت اپنے انوکھے پن کی وجہ سے حیران کن ہے۔ میراجی ؔ نے اپنی بیشتر نظمیں ’نظم آزاد‘ کی ہئیت میں لکھی ہیں۔ جس میں مصرعے تو چھوٹے بڑے ہوتے ہیں لیکن اپنے آہنگ اور وزن کے سبب دیکھنے اور پڑھنے میں بھی خیال کی اکائی کے مطابق کوئی مصرعہ بڑا اور کوئی چھوٹا ہوتا ہے لیکن ارکان کی تکرار اور ان کا مخصوص وزن ظاہری سطح پر بھی شعری آہنگ کو قائم رکھتا ہے۔ اس نظم میں میراجی  ؔنے پہلی بار مصرعوں کو یکے بعد دیگرے مرتب انداز میں لکھنے کے بجائے نثر کی ہئیت میں اس طور پر لکھا ہے کہ نہ تو مصرعوں کی کوئی اکائی متعین ہو پاتی ہے اور نہ کہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ نظم کا ایک بند کہاں ختم ہو رہا ہے اور دوسرا بند کہاں شروع ہو رہا ہے۔ اس طرح خیالات، مصرعوں اور بندوں کی مدد سے چھوٹی بڑی اکائیوں میں تقسیم ہونے کے بجائے مسلسل ایک دوسرے سے مربوط ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ نظم اپنے اختتام کو پہنچ جاتی ہے۔ غرض مصرعوں کا آہنگ اور خیالات کی اکائی نہ صرف  ان میں وزن پیدا کرتی ہے بلکہ وزن کی تکرار اس کے غنائی تاثر کو بھی نمایاں کر دیتی ہے۔ نظم یہ تاثر بھی قائم کرتی ہے کہ ایک ہی خیال کی پیچیدگی اور تسلسل کو نہ تو مصرعوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی بندوں کی شکل میں ایک دوسرے سے الگ کیا جا سکتا ہے۔ گویا ساری باتیں اپنی جملہ تفصیلات اور انسلاکات کے ساتھ ایک متحد اکائی کی صورت میں بیان کر دی گئی ہیں اور نظم کو اسی ساخت میں قاری کو مقبول کرنا چاہئیے۔ نظم کے لکھنے کا یہ پیرایہ جس پر بہ ظاہر نثر کا دھوکا ہو۔ میرا جیؔ کی جدت پسند طبیعت کا نتیجہ ہے اور اس سے بھی نظم کا تاثر اور کیفیت خلق کرنے میں میرا جیؔ نے بڑا کام لیا ہے۔ نظم کی نثری ہیئت اور بیان کا تسلسل قاری کو چونکانے والا ہے۔ اس مخصوص ہیئت سے بھی نظم کی کیفیت اور اثر میں مدد لی گئی ہے۔

        نظم کے ابتدائی مصرعوں سے ہی اس بات کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ نظم کا ماحول اور اس کی فضا کسی ایسی جگہ سے متعلق ہے جہاں لوگوں کی آمد ورفت ہے اور یہ کہ کسی کی  بے کیف راتوں کے گزرنے کا بیان ہو رہا ہے اور یہ بھی نظم کی ابتدا میں ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ لوگوں کی  یہ آمدورفت پر خلوص رشتے کی حرارت سے خالی محض کاروباری اور بازاری آمدورفت ہے چنانچہ  ’ایک آیا گیا، دوسرا آئے گا‘  کا پیرایہ ان صاف ظاہر کرتا ہے کہ آنے اور جا نے وا لے یہ لوگ جذباتی رشتے کی حرارت سے یکسر محروم ہیں۔ یہ ساری آمدورفت ایک میکانکی عمل ہے۔ نظم کا کردار اس پورے منظر کو کسی شخص کی طرح دیکھتا  اور اس کا تجزیہ کرتا ہے۔ پہلے دو مصرعوں میں تین طرح کے کرداروں کا بیان ہے۔ ایک آنے جانے والے لوگ دوسرا وہ کردار جس کی رات یوں ہی گزر جائے گی اور تیسرا واحد متکلم جو دیر سے اس کوچے میں کھڑا ہے اور جسے خود نہیں معلوم کہ اسے کیا کام ہے؟ ان تینوں کرداروں کے عمل سے صورتِ حال کی بے کیفی اور لایعنیت عیاں ہے۔ ایک کا آنا جانا اور پھر کسی دوسرے کا اسی طرح آ نا ایک ایسا عمل ہے جس کے کوئی معنیٰ نہیں ہیں۔

        ’دیر سے دیکھتا ہوں، یوں ہی رات اس کی گزر جائے گی۔ میں کھڑا ہوں یہاں کس لئے، مجھ کو کیا کام ہے،  یاد آتا نہیں۔ ‘

                یہ بیان بھی ظاہر کرتا ہے کہ وقت کا یہ بہاؤ اس کردار کے لیے ایک جبر ہے جس پر اس کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ یوں ہی کا لفظ اس بے لطفی اور لایعنیت کو ظاہر کرتا ہے اور تیسرا کردار یعنی متکلم جس جگہ دیر سے کھڑا ہے اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ  یہاں کیوں اور کس طرح آیا ہے اور اس کی ضرورت کیا ہے؟ غرض لایعنیت اور بے کیفی کی عمومی فضا سے نظم کا آغاز ہوتا ہے۔

        تیسری اور چوتھی سطر میں شاعر یادوں کے حوالوں سے اپنے ماضی کے کسی تجربے کو یاد کرتا ہے جس کے نقوش اب دھندلے ہو چکے ہیں۔ سطریں ملاحظہ ہوں۔

        ’یاد بھی ٹمٹماتا ہوا اک دیا بن گئی ہے، جس کی رکتی ہوئی جھجھکتی ہوئی ہر کرن بے صدا قہقہہ ہے، مگر میرے کانوں نے کیسے اسے سن لیا۔ ایک آندھی چلی، چل کے مٹ بھی گئی۔ ‘

           ان سطور میں کردار کے ساتھ ماضی میں پیش آنے والے تجربے اور اس کی یادوں کی روشنی اس تک ایک بجھتے ہوئے چراغ کی طرح پہنچتی ہے یا ایک ایسے قہقہے کی طرح جو آواز سے محروم ہے۔ یاد کے ان دو صفات کا استعمال یاد کی صورتِ حال پر بھی روشنی ڈالتا ہے کہ یہ ایک رکتی اور جھجھکتی ہوئی کرن ہے، یا بے صدا قہقہہ ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی کرن جو ٹمٹماتی ہوئی ہو اور ایسا قہقہہ جس میں آواز تک نہ ہو وہ کھوکھلا اور بے معنیٰ ہو گا۔ اس طرح یہ مصرعے بھی بے لطفی اور بے معنویت کے رنگ کو اور بھی گہرا کر دیتے ہیں لیکن اس قہقہے کو نظم کا واحد متکلم سنتا ہے اور اس کی وجہ سے اسے اپنی زندگی کا کوئی ایسا تجربہ یاد آتا ہے۔ جو کبھی تیز آندھی کی طرح اس کے د ل و دماغ کو جھنجھوڑ چکا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ ان ہواؤں کی رفتار بھی مدھم پڑ چکی ہے۔ اس تجربے کی شدت آندھی کے لفظ سے ظاہر ہے کہ کس طرح اس نے اس کردار کے پورے وجود کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور مخصوص ماحول میں آندھی کا مفہوم بھی بڑی حد تک ظاہر ہو جاتا ہے کہ یہ ماضی کا کوئی ایسا تجربہ ہے جو زندگی میں معنیٰ پیدا کرتا ہے اور جس کی یادیں اب بھی کردار کے ذہن میں محفوظ ہیں چنانچہ اس آندھی کے لیے شاعر نے  ’مچلتی ہوئی اور ابلتی ہوئی پھیلتی پھیلتی ‘  کی جو صفات استعمال کی ہیں، اس سے بھی اس تجربے میں زندگی اور تحرک کی کیفیت کا اندازہ ہو جاتا ہے اور پھر جس جگہ یہ کردار کھڑا ہے اس کوچے میں زندگی کی بے معنویت کے مقابلے میں ماضی کے اس تجربے کی حرارت صاف طور پر محسوس ہوتی ہے کہ ایک وہ آندھی تھی جس کا نقش اب بھی کسی نہ کسی شکل میں متکلم کے دل و دماغ پر موجود ہے جبکہ دوسری طرف اتنی رونق، چہل پہل اور لوگوں کی آمدورفت کے باوجود پورا منظر نامہ بے روح اور بے جان ہے۔ بازارِ حسن کا یہ منظر بہ ظاہر بہت با رونق اور ہنگامہ خیز ہے۔ لوگوں کی آمدورفت، چہل پہل اور اژدحام کو شاعر نے نہایت ہنر مندی سے بیان کیا ہے اور اس کیفیت کے بیان کے لیے شاعر نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں، ان سے بھی اس کوچے کی رونق بلکہ افراتفری صاف ظاہر ہوتی ہے۔ یہ سطریں ملاحظہ ہوں۔

        ’ایک ہنگامہ برپا ہے دیکھیں جدھر، آرہے ہیں کئی لوگ چلتے ہوئے، اور ٹہلتے ہوئے، اور رکتے ہوئے، پھر سے بڑھتے ہوئے اور لپکتے ہوئے، آرہے جا رہے ہیں اِدھرسے اُدھر، اور اُدھر سے اِدھر۔ ‘

         اس پورے بیان سے ظاہر ہے کہ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کی کوئی مخصوص جہت نہیں ہے۔ ایک بے معنیٰ آمدورفت اسے اجتماع کے بجائے ایک بھیڑ میں تبدیل کر دیتی ہے۔ پھر طوائف کے کوچے میں جس طرح سے لوگ آتے ہیں، اس کی تصویر بھی آنکھوں کے سامنے گھوم جاتی ہے۔ کچھ لوگوں میں ایک جھجھک ہے، معاشرے کا خوف ہے۔ کبھی پاؤں رکتے ہیں اور کبھی خواہش آگے بڑھنے پر مجبور کرتی ہے۔ جھجھکنا اور بڑھنا ان کے باطن کی ایک آویزش ہے جو ان مصرعوں میں نمایاں ہو گئی۔ انھیں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو عادی ہو چکے ہیں اور اس کوچے میں بے تکلفی سے چل رہے ہیں۔ گویا ان کے لیے یہاں آنا کوئی نیا تجربہ نہیں ہے۔ اس منظر نے کردار کے ذہن میں خواہش اور یادوں کی ملی جلی کیفیت کے سبب ایک طوفان برپا کر دیا ہے اور وہ اپنے تخیل کی آنکھوں سے پوری تصویر اور اس پورے عمل کو دیکھ لیتا ہے جو طوائف کے بالاخانے پر ہو رہا ہے کہ چراغ کی کرنیں ایک خاص ہیئت میں زندگی کو خاص شکل میں ظاہر کر رہی ہیں۔ مثلاً

        ’اِک ٹمٹماتے دیے کی کرن زندگی کو پھسلتے ہوئے اور گرتے ہوئے ڈھب سے ظاہر کئے جا رہی ہے۔ ‘

        زندگی کے اظہار کی یہ صورت جنسی عمل کی ایک تصویر قاری کے سامنے پیش کر دیتی ہے چنانچہ اس پورے تصور سے شعری کردار بھی جنسی جذبے سے مغلوب ہو جاتا ہے اور ذہن میں چلنے والی اس آندھی سے نجات کی صورت خود بہ خود پیدا کر لیتا ہے۔ مایوسی کے عالم میں اس وقتی تسکین کو  ’اب تیرگی اک اجالا بنی ہے‘  کے پیرایے میں بیان کیا گیا ہے۔ اپنی جنسی آسودگی کے لیے کردار کیا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ اس کی واضح تصویر آئندہ سطروں میں موجود ہے۔ مثلاً

        ’اس اجالے سے رِستی چلی جا رہی ہیں وہ امرت کی بوندیں جنھیں میں ہتھیلی پہ اپنی سنبھالے رہا ہوں۔ ‘

        ’اس اجالے‘ یعنی تسکین میں امرت کے وہ قطرے رِس رہے ہیں، جو زندگی اور وجود کا بنیادی وسیلہ ہیں جنھیں یہ کردار اپنی ہتھیلیوں پر سنبھالتا ہے مگر ہتھیلی ان قطروں کے سبب ایسا چراغ بن گئی ہے جن میں آثارِ حیات کی کمی ہے بلکہ امرت کی یہ بوندیں اپنے مناسب محل میں استعمال نہ ہونے کے سبب ضائع اور رائگاں جاتی ہیں۔ رائگانی کے اسی احساس کی وجہ سے زندگی کے اس چراغ کو بجھتے ہوئے ایک دیے سے تعبیر کرتا ہے۔

                ’  ہتھیلی مگر ٹمٹماتا ہوا ایک دیا بن گئی تھی۔ ‘

        جنسی جذبے کی اس خودکار اور خود ساختہ وسیلے کے ذریعہ تسکین کی صورت کو شاعر نے نہایت خوبصورت بصری پیکروں کی مدد سے بیان کیا ہے کہ کردار کی ذہنی اور جسمانی کیفیت اس عمل کے وقت کیا ہوتی ہے۔ ’پھڑپھڑاتے ہوئے طائر ِ زخم خوردہ کی مانند میں دیکھتا ہی رہا‘  کا پیرایۂ اظہار لذت اور احساسِ محرومی کی ملی جلی کیفیت کو بڑی فنکاری سے نمایاں کر دیتا ہے اور اس پورے عمل کے بعد کردار جس احساسِ شکست اور محرومی سے دوچار ہے۔ اس کے پاؤں بڑھنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ وہ اپنی جگہ حسرت و یاس کے عالم میں کھڑا رہتا ہے اور اپنے دل سے باتیں کرتا ہے۔ مثال دیکھئے۔

                ’دل میں اک بوند نے یہ کہا، رات یوں ہی گزر جائے گی۔ ‘

        ملحوظ رہے کہ دل کی ظاہری شکل بھی کسی گرتے ہوئے قطرے کی مانند ہوتی ہے اور کردار کا اپنے دل سے مکالمہ یہ ہے کہ ’رات یوں ہی گزر جائے گی، زندگی یوں ہی گزر جائے گی‘ یوں ہی کی معنویت نظم میں اپنی تکرار کے سبب خصوصی توجہ چاہتی ہے۔ یوں ہی یعنی لاحاصل، بے نتیجہ اور بے کیف۔ دل کی یہ بوند کردار کی آنکھوں میں حسرت کے آنسو بن کر ٹمٹمانے لگتے ہیں۔ کسی زخمی پرندے کی طرح جو مضطرب اور بے چین ہے۔ زندہ ہے بھی اور نہیں بھی۔ مثال دیکھئے۔

        ’پھڑپھڑاتے ہوئے طائرِ زخم خوردہ کی مانند دروازے کے طاق اک بار جب مل گئے، مجھ کو آہستہ آہستہ احساس ہونے لگا۔ اب یہ زخمی پرندہ نہ تڑپے گا لیکن مرے دل کو ہر وقت تڑپائے گا۔ ‘‘

        شعری کردار کا بیان یہ ہے کہ یہ پرندہ اب شاید دوبارہ کبھی نہیں تڑپے گا لیکن اس کی محروم اور حسرت زدہ زندگی کی یادیں اسے تا حیات بے چین رکھیں گی۔ یہ کردار امرت کی ان بوندوں کو اپنی ہتھیلی پر سنبھالے رکھنے کا ایک عہد کرتا ہے۔ یہ غالباً اشارہ ہے اس بات کی جانب کہ اسے جنسی تسکین کی خاطر کسی مصنوعی اور بے جان عمل پر ہمیشہ انحصار کرنا ہو گا۔ کردار کی زندگی ایک ایسا چراغ ہے جو آثارِ حیات سے محروم ہے اور جس کی روشنی خود کردار پر ایک ایسا طنزیہ قہقہہ ہے جس کی صدائیں اس کردار کے دل میں بجھتی ہیں لیکن یہ گونج دوسروں کو سنائی نہیں دیتی کیونکہ یہ قہقہہ بے صدا ہے۔ اندھیرے اور اجالے کا یہ سفر فطرت کا قانون ہے اور اس راستے کی رسم بھی یہی ہے کہ لوگ آتے جا تے رہیں گے اور زندگی معمول کے مطابق یوں ہی رواں دواں رہے گی۔ نظم میں اس کردار کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ جنسی جذبے کی اس آویزش سے چھٹکارا پانا چاہتا ہے لیکن یہ ایسی آرزو ہے، جس سے نجات ممکن نہیں چنانچہ بہت سے قافلے اس راستے پر ایسے بھی گزرے ہیں جنھوں نے منزل تک پہنچنے کی راحت نہیں پائی لیکن شام ہونے سے پہلے پہلے ان کے لیے بھی  مقصود کا بند دروازہ کھلنے لگا ہے اور وہ سخت مشقت اور محرومی کے بعد کامرانی کی مسرت سے ہم کنار ہوئے ہیں۔ کردار کی بدنصیبی یہ ہے کہ

        ’میرا دروازہ کھلتا نہیں ہے، مجھے پھیلے صحرا کی سوئی ہوئی ریگ کا ذرہ یہی کہہ رہا ہے کہ ایسے خرابے میں سوکھی ہتھیلی ہے اک ایسا تلوا کہ جس کو کسی خار کی نوک چبھنے پہ بھی کہہ نہیں سکتی مجھ کو کوئی بوند اپنے لہو کی پلا دو۔ ‘

         کردار کے لیے زندگی پھیلا ہوا ایک صحرا ہے جہاں زندگی کے آثار دور دور تک نہیں ہیں۔ چاہے اور چاہے جانے کی خواہش سے محرومی کا اس سے زیادہ درد انگیز بیان اور کیا ہو گا کہ راستے میں پھولوں کی راحت تو کیا، کانٹوں کی نوک بھی اس کے حسرت زدہ دل کو میسر نہیں آتی۔ یہ کردار لاکھوں لوگوں میں شامل ہو کر ایک بے معنیٰ سفر کرتا اور راہ میں ہی کہیں ڈوب جاتا ہے۔ اس عالم ِ یاس میں اسے اپنی سوکھی ہتھیلی ایسے کنول کی مانند محسوس ہوتی ہے جو بہتی لہروں میں کھلا ہے۔ گویا اس کی یہی ہتھیلیاں اس کی تنہا جائے پناہ اور واحد سہارہ ہیں۔ اسی ذہنی کشمکش میں بازارِ حسن کا ایک دوسرا کردار نظم کے متکلم سے مخاطب ہوتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ آپ چپ چاپ تنہا کیوں کھڑے ہیں۔ یہ جگہ تو نا امیدی اور مایوسی کی نہیں۔ اس کوچے میں ہر شخص کامیاب اور با مراد ہے۔ آپ جو کانٹوں کی حسرت میں تنہا کھڑے مایوسی سے دوچار ہیں۔ فقط آپ کے حکم کی ضرورت ہے۔ اگر کہیں تو آپ کی خدمت میں بے مثال نرم و نازک ٹہنی پیش کی جا سکتی ہے جو آپ کے دل سے کانٹوں کی حسرت کو ہمیشہ کے لیے دور کر سکتی ہے۔ کردار اس کے جواب میں اس پیش کش کو نا منظور کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں یہاں اس غرض سے نہیں آیا۔ میں اپنے کسی دوست کا انتظار کر رہا ہوں۔ اس مکالمے کے بعد بھی اس کے دل کو سکون میسر نہیں آتا۔ وہ خود کو کسی ایسے صحرا کا باشندہ سمجھتا ہے جہاں کسی ٹہنی یا پھول کا ملنا نا ممکن ہے۔ مثلاً

        ’میں ایک صحرا کا باشندہ معلوم ہونے لگا ہوں خود اپنی نظر میں، مجھے اب کوئی بند دروازہ کھلتا نظر آئے، یہ بات ممکن نہیں ہے، میں اک اور آندھی کا مشتاق ہوں جو مجھے اپنے پردے میں یکسر چھپا لے۔ ‘

        نظم کے کردار کے لیے سبھی دروازے بند ہیں۔ اس کا گوہرِ مراد شاید اسے کبھی دستیاب نہ ہو سکے گا۔ اسے حسرت اس بات کی ہے کہ محبت کی کوئی تیز آندھی اس کے وجود کی بنیادوں کو ہلا دے، اسے اپنے محفوظ پردوں میں چھپا لے۔ زندگی کے سہانے منظر کسی بہتے ہوئے ہوا کے جھونکے کے مانند اس کی گرفت سے آزاد ہو چکے ہیں۔ امرت کی وہ بوندیں جو اس کی ہتھیلی پر وقتی مسرت کا واحد وسیلہ تھیں وہ بھی خشک ہو چکی ہیں اور نظم کے آخر میں کردار بے معنویت کے شدید احساس سے افسردہ اور دل گرفتہ ہے اس کی آنکھوں کے سامنے ایک ایسا مہیب صحرا ہے جس میں نہ تو کوئی رنگ ہے نہ زندگی کے آثار ہیں جو خشک اور بے برگ ہے۔ یہ صحرا اتنا ویران اور دل کو دہلا دینے والا ہے کہ کردار یہ بھی نہیں کہ سکتا کہ ’ ایک آیا گیا، دوسرا آئے گا۔ رات میری گزر جائے گی‘  گویا وقتی اور مصنوعی تماشے بھی دل کی تسکین کے لیے اس صحرا میں دستیاب نہیں ہیں۔

٭٭٭

ارشد خالد (اسلام آباد)

افسانچے کا سفر

                اردو کہانی نے داستانوں سے ہوتے ہوئے آج کے ناول اور مختصر افسانہ سے لے کر اردو افسانچہ تک ایک جان دار اور بھر پور سفر طے کیا ہے۔ جب داستان، ناول، ناولٹ، افسانہ اور افسانچہ کی عام فہم حد بندی کا سوال درپیش ہو تو فکشن کی ان قِسموں کو سمجھانے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ ان میں سے ہر ایک کے بارے میں عام فہم زبان میں نہ صرف ان کی حدود کی نشان دہی کی جا سکتی ہے بلکہ ان کے نین نقش بھی واضح کیے جا سکتے ہیں۔

             حالیہ دنوں میں اردو فکشن کی دنیا میں پاپولر میوزک کے انداز میں پوپ کہانی کا چرچا کیا جانے لگا ہے۔ اگر یہ واقعی کوئی نیا تجربہ ہوا ہے تو اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے۔ لیکن اگر پرانی شراب نئی بوتلوں میں پیش کر کے کسی نئی کمپنی کے نام کی مشہوری کرنا مقصود ہے تو اس سے بات نہیں بنے گی۔ پوپ کہانی کے مسئلہ کو کسی حد تک سمجھنے کی کاوش میں جناب مقصود الہٰی شیخ کا عمل دخل زیادہ رہا ہے۔ میں نے اس موضوع سے متعلق مواد جمع کرنا شروع کیا تو شروع میں ہی چند بنیادی سوالات نے روک لیا۔ ڈاکٹر انور سدید، علی سفیان آفاقی، سید ظفر ہاشمی، ڈاکٹر رضیہ اسماعیل، حیدر قریشی، ان سب کی تحریریں پڑھ کر چند بنیادی سوالات پیدا ہوئے۔ میں نے نو سوالات پر مشتمل ایک سوال نامہ تیار کر کے جناب مقصود الہٰی شیخ کی خدمت میں جواب کے لیے ارسال کیا۔ ان سوالات میں مجموعی طور پر یہ پوچھا گیا تھا کہ پوپ کہانی افسانہ اور افسانچہ سے کس حد تک مختلف ہے اور اس کی نوعیت کیا ہے؟جو پوپ کہانی افسانچہ نہیں بنتی نثری نظم جیسی کیوں بن جاتی ہے؟کیا صرف کسی چھوٹی بڑی کہانی یا تحریر کے ساتھ پاپولر لکھ دینے سے وہ کہانی یا تحریر پاپولر کہلائے گی؟ اگر یہ نام مغرب سے لیا گیا ہے تواس کا موجد کہلانے سے پہلے شروع میں اس کا اعتراف کیوں نہ کیا گیا؟ شاندار قسم کے افسانچوں کی موجودگی میں اگر یہ افسانچہ کی کوئی کم تر صورت ہے تو کوئی اس کا موجد کیوں کر بن سکتا ہے؟اگر کوئی موجد بنتا ہے توپھر اس کے نین نقش کو واضح کرنے اور اس کی صنفی حیثیت کو واضح کرنے کے لیے واضح بات کیوں نہیں کرتا؟۔

      سن ۶۲۰ قبل مسیح کییونانی کہانی کارAesop(تفصیل کے لیے وکی پیڈیاکو دیکھ سکتے ہیں )کے ہاں افسانچہ طرز کی منی کہانیاں ملتی ہیں جو دنیا کی متعدد زبانوں میں ترجمہ شدہ موجود ہیں۔ آج کے عہد کے لحاظ سے شیخ سعدی کی حکایات بھی افسانچے ہی تھیں۔ شیخ سعدی کے بعد عربی اور انگریزی میں خلیل جبران نے اور اردو میں منٹو نے ’’سیاہ حاشیے‘‘ میں افسانچے کو رواج دیا، لیکن ان ساریبڑی شخصیات نے اپنی اپنی زبانوں میں منی کہانی یا افسانچے کا موجد ہو کر بھی موجد ہونے کا دعویٰ نہیں کیا، پھر ایسی مہان ہستیوں کی تخلیقات کے بالمقابل بے چہرہ، بے شناخت ’’پوپ کہانی‘‘ کا موجد کہلانے پر اتنا اصرار کس لیے؟

     متعدد ناولز، ناولٹس اور افسانوی مجموعوں کے ساتھ ساتھ جوگندر پال کے افسانچوں کے چار مجموعے چھپ چکے ہیں۔ جو ان کے تخلیقی وفور کا اظہار ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ جناب مقصود الہٰی شیخ سنجیدگی سے علمی جواب دینے کی بجائے کبھی ناراض ہونے اور کبھی ’انڈر اسٹینڈنگ ‘کے ساتھ کچھ لکھنے پر آمادگی ظاہر کرنے لگتے ہیں۔ ابھی تک انہوں نے ’’پوپ کہانی‘‘ کی تعریف و توصیف میں صرف شاعرانہ مبالغہ آرائی کی ہے لیکن کوئی ایسی واضح بات نہیں کی جس سے ’’پوپ کہانی‘‘ کے نین نقش واضح ہو سکیں، اس کے خد و خال افسانہ اور افسانچہ سے الگ ہو کر دکھائی دے سکیں۔ ایک طرف موجد کہلانے کا بے معنی شوق، دوسری طرف پوپ کہانی کی شناخت کے سوالات پر اسے گرامر کہہ کر جان چھڑانے کا عمل۔ حقیقت یہ ہے کہ مغربی دنیا میں بھی پوپ کہانی کے نام پر جو کچھ لکھا گیا ہے وہ عام کہانی سے الگ کچھ بھی نہیں ہے۔ کسی انگریز نے اپنی کہانی کے ساتھ پوپ کا دُم چھلا لگایا ہے تو وہ کوئی ناکام کہانی کار ہو گا جس نے اپنی غیر مقبولیت کو ’’پوپ‘‘ کا لفظی سہارا دینے کی ناکام کوشش کی ہے۔ پاپولر نام شروع میں لگا لینے سے نہ تو آپ پاپولر کہانی لکھ سکتے ہیں اور نہ ہی کچھ ایجاد کرسکتے ہیں۔ ایسا کرنا ممکن ہے تو پھر پوپ کیوں ؟اپنی ہر تحریر سے پہلے ’’عظیم‘‘ لکھئے اور گھر بیٹھے ’’عظیم افسانہ نگار‘‘، ’’عظیم ناول نگار‘‘ بن جائیے۔ پاپولر ہونے سے عظیم ہونا زیادہ لطف و سرور دے گا۔ پاپولر کے مقابلہ میں عظمت کا خبط زیادہ مزہ دے گا۔

       اردو دنیا کا المیہ ہے کہ یہاں کے بعض ادیب محض لحاظ داری میں اور بعض ادیب ’’بین الاقوامی ادیب‘‘۱؎بننے کے شوق میں سنجیدگی سے حقائق جانے بغیر اورکسی مضبوط علمی و ادبی بنیاد کے بغیر ہی مغرب میں مقیم اردو ادیبوں کی بے جا حمایت و وکالت شروع کر دیتے ہیں۔ پوپ کہانی کے باب میں بھی کہیں لحاظ داری میں اور کہیں بین الاقوامی ادیب بننے کے شوق میں لوگوں نے موضوع کی بنیاد کو یکسر نظر انداز کر کے محض شخصی توصیف سے کام لیا ہے۔ لیکن اطمینان کی بات ہے کہ سنجیدہ اور اہم اہلِ ادب نے اس بے جا ’’ایجادِ من‘‘ کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔

        مقصود الہٰی شیخ صاحب نے جب بھی پوپ کہانی کے حوالے سے علمی جواب عنایت کیے پوپ کہانی کا ایک گوشہ بنا کر انہیں شائع کر دیا جائے گا۔ سرِ دست اس موضوع پر ابھی تک جو کچھ بکھرا ہوا موجود تھا، اس کا ایک مناسب انتخاب اور کچھ نیا یکجا کر کے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اگر اہلِ ادب ’’پوپ کہانی‘‘ کے نین نقش واضح کر سکیں اور اسے عام افسانہ اور عام افسانچہ سے الگ کر کے ظاہر کر سکیں تو ہم اس تجربہ کا تہہ دل سے خیر مقدم کریں گے۔ ایسا بنیادی کام نہیں ہوتا تو پھر امدادِ باہمی(ستائشِ باہمی) یعنی پی آر کے اس تماشے کا اتنا نوٹس لینا واجب ہو گیا تھا۔ اہلِ ادب کی جو بھی ایماندارانہ اور علمی رائے ہو گی اس کا خیر مقدم کیا جائے گا۔

         اس گوشہ میں جتنا میٹر سمایا ہوا ہے اسے کتابی صورت میں شائع کیا جائے تو’’پوپ کہانیاں ‘‘سے زیادہ ضخیم کتاب بن سکتی ہے۔ اگر یہ بحث علمی طور پر آگے بڑھی تو سارا میٹر اکٹھا کر کے کتابی صورت میں شائع کیا جا سکے گا۔ یہ سارا میٹر افسانچے کے سفر کی روداد بن جائے گا۔

٭٭

۱؎یہاں یہ وضاحت کر دوں کہ میرے کتابی سلسلہ کا نام شروع سے عکاس تھا۔ جب اسلام آباد سے ایک اور کتابی سلسلہ عکاس کا معلوم ہوا تو محض فرق واضح رکھنے کے لیے میں نے عکاس کا نام عکاس انٹرنیشنل رکھا تھا، یہ کسی بین الاقوامیت کا شوق نہیں، صرف ایک قباحت سے بچنے اور فرق واضح رکھنے کی کاوش تھی۔ (ارشد خالد)

٭٭٭

تاثرات :اردو افسانچہ  یا پوپیاں، پوپ کہانی، پاپ کہانی

مقصود الہٰی شیخ صاحب نے مجھے دس بارہ ’’پوپیاں ‘‘(انہوں نے پوپیاں ہی لکھا تھا)اس حکم کے ساتھ بھیجی تھیں کہ میں ان پر اپنی رائے لکھوں۔ میں نے ان کہانیوں میں کوئی بات ایسی نہ پائی جو فی الوقت اِدھر اُدھر دکھائی دینے والے افسانچوں، منی کہانیوں، یک سطری، دو سطری چٹکلوں سے مختلف ہو اور جس کی بنا پر انہیں الگ صنف قرار دیا جائے۔ ۔ ۔ ۔ پوپ کہانیوں کی نہ تو کوئی تعریف بیان کی ہے اور نہ ہی اس پر بحث کی ہے کہ ان کی ہئیت اور تیکنیک کیا ہے اور کن مخصوص معنوں میں یہ منی کہانیوں /افسانچوں سے مختلف ہیں۔ ۔ ۔ اگر ان پوپ کہانیوں کو الگ صنف مان بھی لیا جائے تو ہماری غیر مستند رائے یہ ہے کہ انہیں ’پوپ کہانیوں ‘ کے بجائے ’’پوپیاں ‘‘ہی کہا جائے ‘‘

سید ظفر ہاشمی ایڈیٹر گلبن لکھنؤ۔ بحوالہ کتاب ’’پوپ کہانیاں ‘‘مرتب کردہ مقصود الہٰی شیخ۔ ص۱۱۵

٭٭

       ’’مجھے خدشہ ہے کہ پوپ کہانی کی اصطلاح تا حال اپنے خدوخال سے محروم ہے اور شیخ صاحب نے جس قسم کی پوپ کہانیاں لکھی ہیں ان سے اولیت کا دعویٰ تو کر سکتے ہیں اور موجد بھی کہلا سکتے ہیں لیکن اس سے کہانی نئی جہت کی طرف بڑھتی نظر نہیں آتی اور۔ ۔ ۔ اس میں روایتی کہانی کا پورا سٹرکچر موجود ہے۔ ‘‘

’’ادب در ادب ‘‘تبصر ڈاکٹر انور سدید۔ مطبوعہ  ویکلی ندائے ملت لاہور۔ مئی ۲۰۱۱ء

٭٭

’’مسعود مفتی صاحب کے پیدا کئے ہوئے تاثر کی رو میں مقصود الہٰی شیخ کی پوپ کہانی پڑھی جو انہوں نے یوکے سے ارسال فرمائی ہے اور یوں ہے:      ’’اَن بھوک، مَن بھوک

                       وہ کھانے میں مشغول تھا، ایک لڑکی سامنے کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔

’’چلو گی؟‘‘

                        لڑکی نے کہا ’’پہلے مجھے روٹی کھلا دو‘‘

یقین جانئے کہ مسعود مفتی صاحب کے تاثر کی رو رک گئی۔ اور اس ’’پوپ کہانی‘‘ کا پاپ اپنی معنویت با انداز دگر کھولنے لگا۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ مقصود الہٰی شیخ  صاحب کو داد کس طرح دوں ؟‘‘

 مکتوب ڈاکٹر انور سدید۔ مطبوعہ ماہنامہ الحمرا لاہور۔ شمارہ فروری ۲۰۱۳ء

٭٭

         ’’ٹرکوں، بسوں اور رکشوں پر لکھے ہوئے کلمات پاپ لٹریچر میں اہمیت رکھتے ہیں اور بغیر کسی لٹریری اہمیت کے عامیانہ گفتگو کا حصہ بن گئے ہیں۔ مثال کے طور پر:یہ جینا بھی کیا جینا ہے، جہلم کے آگے دِینا ہے۔ یا پھر سب سے مشہور کلمہ ’’پپو یار تنگ نہ کر‘‘۔ اگر ساؤتھ ایشیا میں پاپولر آرٹ کی مثال دی جائے توسینما کے بورڈ، سلطان راہی اداکار کے گنڈاسے کا پکڑا ہوا خون میں لت پت سینما کی عمارت کو ڈھانپتا ہوا بورڈ، قلفی کی ریڑھیوں پر دنگلوں کے اشتہار یا گاماں پہلوان کا کندھے پر اُٹھایا ہو بھاری بھرکم چاندی کا گُرز، گھروں میں بیٹھنے والے کمروں (بیٹھک)میں دعا مانگتے ہوئے بچے کی تصویر یا مکہ معظمہ میں خانہ کعبہ کی تصویر کا مذہبی کیلنڈر یا ۱۹۶۵ کی جنگ کے مناظر میجر عزیز بھٹی یا سرور شہید کے پورٹریٹ پے مشتمل تصویریں۔ سب سے بڑی مثال رکشہ، بسوں اور ٹرکوں کی سجاوٹ کے منفرد ڈیزائن ہی پاپولر آرٹ کی مثال بنتے ہیں، مغرب میں پاپ آرٹ(pop art ) کو قبول کرنے کی وجہ سے اب ساؤتھ ایشیا میں ان آرٹ کے نمونوں کو آرٹ کے زمرے میں اہم مقام حاصل ہو رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں پوپ ادب کا حوالہ دیتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ لکھنے والے پر منحصر ہے کہ وہ جو کچھ کہنے جا رہا ہے وہ رکشا پر لکھے ہوئے پپو یار تنگ نہ کر کی سطح سے اوپر اُٹھ جائے!‘‘

ممتاز حسین کے مضمون ’’پپو یار تنگ نہ کر‘‘سے اقتباس  بحوالہ کتاب ’’پوپ کہانیاں ‘‘مرتب کردہ مقصود الہٰی شیخ

٭٭

        ویسے تو اردو نثری ادب، ناول، ناولٹ، افسانہ، افسانچہ کہانی بلکہ مختصر کہانی (یک سطری دویا سہ سطری) سے مالا مال ہے مگر کچھ عرصے سے ’’پوپ کہانی‘‘ کی بازگشت ادب کے ایوانوں میں سنائی دے رہی ہے اور ایک بحث سی چل نکلی ہے کہ آخر ’’پوپ کہانی‘‘ عام روایتی کہانی سے کس طرح الگ ہے کہ اسے ’’پوپ کہانی‘‘ کا نام دے کر اسے ایک نئی صنف تسلیم کر لیا جائے۔ آخر اس کی اپنی ہیئت، تکنیک اور پہچان کیا ہونی چاہیے کہ اسے دوسری نثری اصناف کے ہجوم میں الگ سے پہچانا جا سکے۔ جیسا کہ اردو شاعری میں غزل، نظم، آزاد نظم، نثری نظم، رباعی، ماہیا، دوہا، ہائیکو وغیرہ اپنی اپنی ہیئت اور تکنیک کی بنا پر ایک نظر میں ہی پہچان لی جاتی ہیں۔ تو اسی طرح ’’پوپ کہانی‘‘ کی پہچان کیا ہے؟ یعنی کونسی چیز ایک کہانی کو ’’پوپ کہانی‘‘ کا درجہ دیتی ہے۔

        اگر اس کہانی میں کوئی انفرادیت ہے تو پھر اس کا اپنا کوئی فارمیٹ ہے یا نہیں ؟ یا پھر صرف کسی بھی کہانی کے ساتھ ’’پوپ کہانی‘‘ کے الفاظ لکھ دینے سے کیا اس کے ایک الگ یا نئی صنف ہونے کا دعویٰ کیا جا سکتا ہے؟ ایسے بہت سے سوال ہنوز جواب طلب ہیں !

ڈاکٹر رضیہ اسماعیل کے مضمون پوپ میوزک سے پوپ کہانی تک‘‘سے اقتباس بحوالہ کتاب ’’کہانی بول پڑتی ہے‘‘

٭٭

      امریکن لٹریچر میں پوپ کہانی ایک نہایت پختہ نثری صنف کے طور پر پہلے سے ہی موجود ہے اور بہت عرصے سے لکھی اور پڑھی جا رہی ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ پوپ میوزک سے پہلے ہی امریکن لٹریچر میں ’’پوپ اسٹوری‘‘ بے حد مقبول ہو چکی تھی تو کچھ غلط نہ ہو گا بلکہ امریکہ میں ایک وقت ایسا تھا کہ پوپ میوزک کی بجائے پوپ اسٹوری زیادہ مقبول تھی اور اس کے رائٹرز راک اسٹارز کی طرح سیلبرٹی کا درجہ رکھتے تھے۔ جن میں ارنسٹ ہمنگوے(Ernest Hemengway) ایڈگرایلن پو(Edgar Alan Poe) ایف سکاٹ فٹزجیرالڈ(F. Scott Fitgerald) دیومس(Dumas) ار آیل سٹیونسن(R.L Stevenson) جیک لندن(Jack London) او ہنری(O,Henry) اور جارج سمنن(George Simenon) نے ناولوں کے ساتھ ساتھ بہت اچھی پوپ کہانیاں لکھ کر بے حد داد وصول کی۔ دی موسٹ ڈینجرس گیم(The most Dangerous game) اور لیڈی اور دی ٹائے گر  (The Lady or The Tiger) اعلیٰ درجے کی خالصتاً پوپ کہانیاں ہیں جو اپنے وقت میں بے حد مقبول ہوئیں۔

ڈاکٹر رضیہ اسماعیل کے مضمون پوپ میوزک سے پوپ کہانی تک‘‘سے اقتباس بحوالہ کتاب ’’کہانی بول پڑتی ہے‘‘

٭٭

         مصنفہ(رضیہ اسماعیل) امریکی پوپ سٹوری رائٹر کنگ وینکلس(King Wencles) سے متاثر ہوئی ہیں مگر یہ کہا نیا ں علامتی ہیں جبکہ ڈاکٹر صاحبہ کی کہانیاں واقعات کو براہِ راست اور اکہرے انداز میں بیان کرتی ہیں جن کے کردار خصوصاً نسوانی کردار ایک خاص کشش کے حامل ہیں۔

(ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا، بحوالہ کتاب ’کہانی بول پڑتی ہے‘ )

٭٭

مقصود الہٰی شیخ کی تحریر ’’کچھ ایجادِ نو پوپ کہانی کے بارے میں ‘‘اس مضمون میں جو باتیں لکھی ہیں وہ قبل از وقت ہیں۔ کچھ مبالغے سے کام لیا ہے۔ مضمون میں جسے اردو کی پہلی پوپ کہانی کہا ہے ملاحظہ کیجیے۔

’’تم نے۔ ۔ ۔ مجھ سے۔ ۔ ۔ جھوٹ کیوں بولا؟‘‘اگر یہی پوپ کہانی ہے تو پھر نثری نظم (نثم)کو کہاں رکھیں گے؟

مکتوب  نوید سروش۔ مطبوعہ ماہنامہ الحمراء لاہور۔ مئی ۲۰۱۲ء

٭٭

        مقصود الہٰی شیخ صاحب کی پوپ کہانی کا تذکرہ سن کر مجھے تو کچھ سمجھ میں نہیں آ  ٭٭یئہرہی۔ ’’اس نے مجھ سے جھوٹ بولا‘‘۔ ۔ اگر یہ ایک کہانی ہے تو پھر یہ پوپ کہانی نئی تو نہ ہوئی۔ یہ سلسلہ تو برسوں سے چلتا چلا آ رہا ہے۔ ایک کہانی بچپن میں یہ بھی ہم نے سن رکھی تھی۔

ایک تھا راجہ، ایک تھی رانی      دونوں مر گئے، ختم کہانی

  اگر پوپ کہانی اتنی پرانی چیز ہے تو ہمیں کیوں نہ پتہ چلا، کمال ہے۔ تو اس کا مطلب ہے مختصر کہانی کو ہی پوپ کہانی کہتے ہیں، لیکن کتنی مختصر؟۔ اور کیا پوپ کہانی کو توپ کہانی بھی سمجھا جا سکتا ہے؟مسئلہ بڑے ادیبوں اور نقادوں کے لیے چھوڑ دیتی ہوں۔ ایک بار ایک مختصر کہانی پڑھی تھی جو میں یہاں آپ سب کے ساتھ شئیر کرنا چاہتی ہوں۔ مجھے کم از کم بہت زیادہ پسند آئی۔ I was Born a Muslim. I was killed by a Taliban. Am I a Shaheed?

تو پھر کیا کہتے ہیں اس جدید دور کی جدید مختصر کہانی کے بارے میں شیخ صاحب؟اگر اتنی ننھی منی تحریریں کہانیاں ہیں تو بھئی ہم تو پھر ایک کروڑ کہانیاں لکھ چکے ہیں۔

مکتوب نیلم احمد بشیر۔ مطبوعہ ماہنامہ ا الحمرا  لاہور۔ شمارہ جون ۲۰۱۲

٭٭

       نیلم احمد بشیر نے پوپ کہانی پر اپنی رائے دی ہے، جس کا شیخ صاحب جواب دے سکتے ہیں۔ شیخ صاحب پرانے لکھاری ہیں۔ راوی اور مخزن نکالتے رہے ہیں۔ جب آپ ’’مخزن‘‘ کا آخری پرچہ نکال رہے تھے، میں نے اُن کو مشورہ دیا تھا کہ آپ پرچہ سالانہ نکالتے رہیں یہ آپ کو مصروف رکھے گا۔ آپ فارغ ہو کر کیا کریں گے؟وقت کاٹنا مشکل ہو جائے گا۔ لیکن لگتا ہے انہوں نے وقت کاٹنے کے لیے پوپ کہانیوں کا سہارا  لے لیا ہے۔

مکتوب لطیف راز۔ مطبوعہ ماہنامہ الحمراء لاہور۔ شمارہ  اگست ۲۰۱۲ء

٭٭

   پچھلے سال ایک معروف خاتون نے پوچھا تھا کہ یہ پوپ کہانی کیا چیز ہے، جس میں ہر فقرہ ایک کہانی بن جاتا ہے، اور ایسے لگتا ہے کہ وہ فقرہ بھی تقسیم در تقسیم سے گزر کر فریاد پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر اتنی تنگ نظری سے کام لے کر مجھے اتنا کم کیوں کیا جا رہا ہے؟۔ آخر میرا قصور کیا ہے؟۔ ناول سے افسانہ، افسانے سے افسانچہ، ننھی کہانی، اور اب حال یہ ہے کہ کمزور بصارت والا تو دیکھ ہی نہیں سکتاکہ وہ کہانی کہاں ہے؟میں نے صرف یہ کہا تھا کہ محترمہ اس کا جواب اس کے خالق جناب مقصود الہٰی شیخ صاحب ہی دے سکتے ہیں۔ ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی۔ ۔ ۔ مجھے یقین ہے کہ محترم  جناب مقصود الہٰی شیخ صاحب اب غالباً کفِ افسوس مل کر اُس گھڑی کو کوس رہے ہوں گے جب ان کے ذہنِ مبارک میں میرا نام آیا۔ لیکن میں ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ شیخ صاحب کی یہ نظر شفقت الحمراء پر کیوں پڑی؟      (لطیف راز)

 ( بریڈ فورڈمیں مقصود الہٰی شیخ صاحب نے تعزیتی اور سال گرہ کی مبارکبادی کی مشترکہ تقریب منانے کا اہتمام کیا، اس موقعہ پرلطیف راز کے بھیجے ہوئے پیغام سے اقتباس۔ مطبوعہ ماہنامہ الحمرا لاہور۔ شمارہ اپریل ۲۰۱۳ء .۔ ص ۹۴۔ اس تقریب کو تین فوت شدہ ادیبوں کی یاد میں اور محمد احمد سبزواری صاحب کی ۱۰۰ویں اور رسالہ الحمراء کی بارہویں سال گرہ کے طور پر ایک ساتھ منایا گیا، جو یقیناً ’’ فائیو ِان وَن ‘‘ قسم کی منفرد نوعیت کی تقریب تھی۔ )        ٭٭

     مقصود الہٰی شیخ کی پوپ کہانیاں پڑھیں مگر ان میں نئی بات کیا ہے؟سمجھ میں نہیں آئی۔ منٹو کے سیاہ حاشیے اپنی جگہ، کچھ اور لکھنے والوں نے بھی اس سانچے کو آزمایا ہے۔ منشا یاد نے بھی اپنے ایک مجموعے ’’اک کنکر ٹھہرے پانی میں ‘‘، ’’مٹھی بھر جگنو‘‘ کے عنوان کے تحت کچھ افسانچے شائع کیے ہیں۔

مکتوب نجم الحسن رضوی۔ مطبوعہ ماہنامہ الحمرا لاہور۔ شمارہ ستمبر ۲۰۱۲ء

٭٭

مقصود الہٰی شیخ صاحب کی پوپ کہانیاں ! صاحب یہ تو انہوں نے افسانچوں کو نیا نام دے دیا ہے۔ منٹو نے کئی افسانچے لکھے۔ جوگندر پال صاحب نے لکھے۔ خاکسار نے کوئی۱۲۰کے قریب ’پوپ کہانیاں ‘لکھی ہیں۔ ۔ ۔ مقصود شیخ صاحب کی مرضی کہ وہ انہیں پوپ کہانیاں کہیں یا ان کا پرانا نام افسانچے ہی چلنے دیں۔

مکتوب شمشاد احمد۔ مطبوعہ ماہنامہ الحمرا لاہور۔ شمارہ  اگست ۲۰۱۲ء

٭٭

      ’’پوپ کہانی، افسانہ، افسانچہ یا پارۂ لطیف سے یکسر جدا ہے۔ کچھ ہے تو اپنے گوناں گوں موضوعات اچانک آمد پر قلمبند کرنے کا نام ہے۔ جب قلم سے جڑا حساس دل کسی واردات کو تحریک و فیضان ملنے یا انسپائر ہونے پرسینے میں بند رکھنے کی بجائے عام فہم لفظوں میں سپردِ قرطاس کر دے  تو لفظوں کا یہی روپ پوپ کہانی ہے۔ یہی اس کا نیا پن یا اس میں ’’نیا‘‘ ہے۔ ‘‘۔ ۔ ۔

مقصود الہٰی شیخ۔ بحوالہ کتاب ’’پوپ کہانیاں ‘‘مرتب کردہ مقصود الہٰی شیخ۔ ص۵

       ’’یہ کیا ہے؟میرے نزدیک ایک آزاد افسانہ ہے، آزاد شاعری ہے، ادبِ لطیف ہے، قلب و سماعت پر سُرعت کے سے اترنے والی صدا ہے‘‘

مقصود الہٰی شیخ۔ بحوالہ کتاب ’’پوپ کہانیاں ‘‘مرتب کردہ مقصود الہٰی شیخ۔ ص۱۲۵

٭٭

       ’’ اگر یہ لفظ محض پاپولر کہلانے کی خواہش کا اظہار ہے تو بات بنتی دکھائی نہیں دیتی۔ کیونکہ پریم چند سے لے کر منٹو تک ہمارے ابتدائی اور اہم لکھنے والوں کی کہانیاں تو اردو میں مقبولیت کے سات آسمان چھو چکی ہیں۔ اور آج بھی کہانی پڑھنے والوں میں مقبول ہیں۔ ان سے زیادہ پاپولر کہانیاں کس نے لکھی ہیں !۔

         پوپ کہانی کے بنیادی خد و خال کو واضح کیے بغیر اور افسانہ و افسانچہ سے اسے الگ دکھائے بغیر اس کی شناخت کا مسئلہ پہلے قدم پر ہی رکا رہے گا۔ جہاں تک دوسرے بیان کردہ اوصاف کا تعلق ہے

٭٭

        ان اوصاف کی تو تخلیقی ادب کی تمام اصناف میں ایک جیسی اہمیت اور حیثیت ہے۔ اچانک آمد پر کچھ لکھنا یاکسی واردات کو تحریک ملنے پر لکھ دینا صرف فکشن میں نہیں دوسری تمام تخلیقی اصناف میں بھی ہوتا رہتا ہے۔ مقصود الہٰی شیخ نے ’’عام فہم لفظوں ‘‘ میں لکھنے کا ذکر بھی کیا ہے۔ انہوں نے خود زندگی بھر جو لکھا ہے وہ سارا عام فہم ہی ہے۔ سو یہ ساری لفظیات ادب کی جملہ اصناف پر عمومی طور پر لاگو کی جا سکتی ہے۔ مجھے احساس ہے کہ مقصود الہٰی شیخ بعض مخالفین کی مخالفت کے باعث اس موضوع پر لکھتے ہوئے تھوڑا سا غصہ میں آ جاتے ہیں۔ تاہم میں امید کرتا ہوں کہ وہ ایک مضمون ایسا ضرور لکھیں گے جس میں اپنے مخالفین کو یکسر نظر انداز کر کے ان لوگوں کے لیے پوپ کہانی کے خد و خال کو بیان کریں گے جو نیک نیتی کے ساتھ پوپ کہانی کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ پوپ کہانی، افسانہ اور افسانچہ سے کیونکر مختلف اور الگ ہے۔ اور اس کی کون سی خصوصیات ہیں جو ادب کی دوسری اصناف سے مختلف ہیں۔ یہ اعتراض نہیں، سوالات ہیں اور ان کا مقصد پوپ کہانی کی شناخت کو واضح طور پر سمجھنا ہے۔ کیونکہ عام فہم لفظوں میں لکھی جانے والی صنف کی شناخت بھی عام فہم /قابلِ فہم ہونی چاہیے۔ ‘‘

حیدر قریشی بحوالہ کتاب ’’کہانی بول پڑتی ہے‘‘ از ڈاکٹر رضیہ اسماعیل۔ ص  ۲۶، ۲۷       ٭٭٭

علی سفیان آفاقی اور مقصود الہٰی شیخ کی پیش کردہ دو کہانیاں  بلا تبصرہ

علی سفیان آفاقی کی اپنے بچپن میں سُنی ہوئی ایک پرانی’’ مختصر ترین کہانی‘‘

ایک پُر فضا باغیچے میں ایک لڑکا اور لڑکی بہت رومان انگیز باتیں کر رہے تھے۔

لڑکے نے لڑکی سے دریافت کیا۔ ’’مجھ سے شادی کرو گی؟‘‘

لڑکی نے جواب دیا ’’نہیں ‘‘

اور پھر وہ دونوں ہنسی خوشی رہنے لگے۔

٭٭

کتاب ’’پوپ کہانیاں ‘‘ میں شامل مقصود الہٰی شیخ کی آج کی پہلی پوپ کہانی

سلام تبدیلی

ایک روز:

گرل فرینڈ:میں چاہتی ہوں کہ اب ہم شادی کر لیں۔

بوائے فرینڈ:پھر وہی بحث۔ ۔ ۔ سبھی تو ناراض ہو جائیں گے، کیا نہیں ؟

گرل فرینڈ:چلو ہم مذہب تبدیل کر لیتے ہیں۔

بوائے فرینڈ: میں نہیں سمجھتا اس طرح مسئلہ حل ہو جائے گا۔

گرل فرینڈ:کوئی اینڈ(انت)ہو گا اس بحث کا؟آخر اس کا کبھی نتیجہ نکلے گا؟

٭٭

کچھ دیر خاموشی کے بعد

گرل فرینڈ:ہم دونوں کو صبح سویرے ہی کام پر جانا ہے، سو جاؤ۔ اس ویک اینڈ پر فیصلہ کریں گے۔

ویک اینڈ پر، بہت غور و خوض کے بعد دونوں نے باہمی رضامندی کے بعد اپنے اپنے والدین کو مشترکہ خط لکھا۔

(We Love You )وی لَو یو۔ ہم آپ کو ناراض نہیں کرنا چاہتے اس لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے، ہم شادی نہیں کریں گے۔ ہم نے شہر کے پوش علاقے میں ایک مکان دیکھا ہے۔ مارگیج منظور ہوتے ہی وہاں چلے جائیں گے اور اکٹھے رہیں گے!!

(یہ دونوں کہانیاں جناب مقصود الہٰی شیخ کی کتاب ’’پوپ کہانیاں ‘‘سے لی گئی ہیں۔ ۔ ارشد خالد)

٭٭٭

٭ات:خالد، نم عابدی: اعجاز عبید

مقصود الہٰی شیخ (بریڈ فورڈ)

پوپیاں۔ ۔ پوپ کہانیاں

      (انٹرنیٹ سے موصولہ:      ’’ایک تازہ کہانی جو ادب میں نو واردوں یا مذہبی کلچر سے قدرے کم واقف نوجوانوں کے لئے، شاید پیچیدگی لئے ہو مگر آپ مدعا پا لیں گے۔ ابھی نظر ثانی یا صاف کرنے کی نوبت نہیں آئی اسی لئے ریلیز بھی نہیں کی۔ عنوان بھی زیر غور ہے۔ م۔ ا۔ ش‘‘)

بلا عنوان

پہلی بار

اس نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے

اپنے گناہوں کی بخشش چاہی

کسی کے لئے کچھ نہیں مانگا

کسی لئے بھی کچھ نہیں چاہا

ناراض باپ

بد دعا بھی تو نہیں دے سکتا

٭٭

موسٰی (ع) پہاڑ پر گئے

ندا آئی

سنبھل کے

موسٰی کی ماں نہ رہی تھی

وہ پیچھے سجدے میں گر پڑتی تھی

کیا وہ بھی مر رہا ہے یا مر گیا ہے۔

٭٭

مِری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

لڑکا: سامنے بنچ پر کالے سیاہ لمبو کے ساتھ تمہاری دوست بیٹھی ہے نا؟

لڑکی: ہاں وہ میری دوست ہے۔ کیوں ؟

لڑکا: تم نے دیکھا وہ تمہاری دوست کو بُری طرح چوم رہا تھا۔

لڑکی: وہ اس کا دوست ہے۔ تم سے مطلب؟

لڑکا:کیا تم میری دوست بنو گی؟

٭٭

فرمائش

ایک بات کہوں ؟

تو کہو نا؟

تم مجھے پیاری لگتی ہو، کیوں ؟

میں کیا جانوں۔

تم سُندر بھی بہت ہو۔

بس اتنا ہی یا اور بھی کچھ کہنا ہے؟

ہاں !کہنا تو ہے۔

تو کہہ بھی چکو،

ذرا نزدیک آؤ!/اور ذرا

تمہارا منہ چوم لوں

٭٭٭

پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی

من نے

  من سے کہا

  سُستی دکھاتے ہو

   کیوں نہیں سُنتے!

   سوبار کہا ہے، سو بار کہیں گے

گیا وقت ہاتھ آتا نہیں۔

   بھئی!

   دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا

   ٹھیک ہے،

لکھنا مشکل، کہنا آسان

    سمجھا کرو جانم!

     عمل سے ہی یہ زندگی

    لاتی ہے شہرت بھی، دولت بھی

جی لگا کر،

    لڑکیاں لکھ رہی ہیں پوپ افسانے!

   کل البم آ جائے گا!

   تم دیکھتے رہنا، بس دیکھتے رہنا!!

٭٭٭

  حیدر قریشی (جرمنی)

پوپ کہانی کا قضیہ

         بہت سے ادبی معاملات ہوتے ہیں، جنہیں لکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد ہلکی سی دلچسپی کے ساتھ دیکھ کر اپنی دوسری ادبی ترجیحات میں مصروف ہو جاتی ہے۔ کبھی کبھار کسی طرف سے تحریک دلانے پر مزید غور کی طرف مائل بھی ہو نا پڑتا ہے۔ لیکن کسی بھی اشو کی بحث میں کسی ادیب کی شمولیت تب جاندار ہوتی ہے جب وہ اپنے اندر کی لگن کے ساتھ اس میں دلچسپی لیتا ہے۔ گزشتہ برس بریڈ فورڈ سے مقصود الہٰی شیخ صاحب کی جانب سے مجھے پوپ کہانی کے موضوع کی طرف توجہ دلائی گئی۔ میں نے ان کی کتاب ’’پوپ کہانیاں ‘‘پڑھ کر بذریعہ خط اپنی محتاط اور مختصر رائے سے آگاہ کیا۔ اسی دوران مجھے رضیہ اسماعیل کی زیر اشاعت کتاب ’’کہانی بول پڑتی ہے‘‘ کے مطالعہ کا موقعہ ملا۔ میں نے پوپ کہانی کے موضوع سے متعلق دونوں کتابوں کو مدِ نظر رکھ کر ایک مضمون لکھ دیا۔ ’’پوپ کہانی اور رضیہ اسماعیل کی کہانیاں ‘‘۔ اپنے مضمون میں جو کچھ لکھ چکا ہوں اور جن بنیادی سوالات کو اُٹھا چکا ہوں جب بھی ان کا کوئی علمی و ادبی جواب مل گیا، میں اس طرف پیش قدمی کرنے سے گریز نہیں کروں گا۔ ڈاکٹر رضیہ اسماعیل نے میرے پوپ کہانی کے بارے میں موقف کو جاننے کے باوجود کسی ناراضی کا اظہار نہیں کیا جبکہ مقصود الہٰی شیخ صاحب باقاعدہ اسے’’زوروں سے منوانے‘‘ کے لیے خط و کتابت کرنے لگے۔

         مقصود الہٰی شیخ صاحب کے خطوط میں کبھی تو محبت گہری ہونے لگتی اور کبھی برہمی کا اظہار ہونے لگتا۔ میں نے ان کی بعض سخت باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اصل موضوع پر توجہ مرکوز رکھنے کی کوشش کی۔ تمام تر خط و کتابت کے باوجود میرا ان خطوط کو چھپوانے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ لیکن وقفہ وقفہ کے بعد مقصود الہٰی شیخ صاحب کی طرف سے ایسا ’’محبت بھرا اصرار‘‘ شروع ہو جاتا ہے کہ مجھے کوئی ’’راہِ نجات‘‘ دکھائی نہیں دیتی۔ اب حال ہی میں ۲۸ مارچ ۲۰۱۳ء کو ان کی طرف سے پھر اصرار ہوا تو مجھے مناسب لگا کہ پوپ کہانی کے موضوع پر شیخ صاحب کے ساتھ جو خط و کتابت ہوئی ہے، اسے یک جا کر دیا جائے۔ اس سلسلہ میں ایک دو قباحتیں درپیش تھیں۔ بعض ای میلز میں برہمی کے اظہار کے طور کچھ نامناسب باتیں لکھی گئی تھیں۔ میں نے جواب میں ان باتوں کو بالکل نظر انداز کر دیا۔ پوپ کہانی میرا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ اس میں مجھے دلچسپی بھی نہ تھی۔ اس لیے میں نے ذاتیات میں الجھنے یا کسی ذاتی وضاحت کرنے سے گریز کیا۔ لیکن اب میں ساری خط و کتابت شائع کرنے لگا ہوں تاکہ پوپ کہانی کا قضیہ کھل کر سامنے آسکے۔ اسی دوران مجھے احساس ہوا کہ مقصود الہٰی شیخ صاحب کی جن سخت باتوں سے میں نے صرفِ نظر کیا تھا، ان کے بارے میں تھوڑی سی وضاحت کر دینا ضروری ہے کیونکہ اب یہ خطوط ذاتی ریکارڈ سے نکل کر ادبی ریکارڈ پر آرہے ہیں۔

      میں نے۱۱/اپریل ۲۰۱۲ء کو’’ کولکاتا اور دہلی کا سفر‘‘ کے عنوان سے ایک میل ریلیز کی تھی۔ اس پر مقصود الہٰی شیخ صاحب نے مسرت کا اظہار کیا۔ میں نے شکریہ کی ای میل بھیجی تو انہوں نے ۱۲/اپریل۲۰۱۲ء کو ایک تراشہ بھیج دیا جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ انہیں نومبر ۱۹۷۶ء میں ملکہ برطانیہ نے کسی شاہی دعوت میں مدعو کیا تھا۔ انہوں نے کسی ادبی تقریب کا ذکر کیا ہوتا تو انہیں جواب دیتا۔ ’’بزمِ شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی‘‘ والی بات تھی۔ سو میں نے جواب نہیں دیا۔ ۱۸/اپریل کو شیخ صاحب نے پھر وہی تراشہ بھیج دیا۔ تب میں نے انہیں اپنی ۱۹/اپریل ۲۰۱۲ء کی ای میل میں مختصراً لکھا کہ آپ نے ملکہ کا دعوت نامہ ارسال کیا ہے اور میں خود کو بادشاہ محسوس کر رہا ہوں۔ ساتھ ہی انہیں اپنی یادوں کے ایک باب کا لنک بھیج دیا۔ اس باب کے چند متعلقہ اقتباس یہاں درج کر رہا ہوں۔

      ’’میرے پیش نظر دو باتیں تھیں۔ ایک تو یہ کہ میں ایک طویل عرصے سے کبھی ایسا محسوس کیا کرتا ہوں کہ جیسے میں کسی پچھلے جنم میں بادشاہ/راجہ یا سردار قسم کی چیز تھا اور کبھی ایسے لگتا ہے کہ میں کوئی سادھو، سنت، فقیر یا ملنگ تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سیل کی کارکردگی کی اس تفصیل کے بیان سے یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ ہمارے اندر ہمارے آباء و  اجداد کی عادات و افعال کا کتنا بڑا حصہ موجود ہے۔ ان کے ذریعے ہمارے نانہال، ددھیال کے اعمال و عادات کا بہت سارا حصہ ہم میں منتقل ہو جاتا ہے۔ اپنے آپ کو کبھی کوئی مہاراجہ یا سرداراور کبھی کوئی ملنگ فقیر محسوس کرنا مجھے ایسے لگتا ہے جیسے میرے ددھیال، نا نہال میں سے کوئی ایسے رہے ہوں گے اور انہیں کی وہ بادشاہی اور فقیری میرے اندر بھی سرایت کر کے کسی نہ کسی رنگ میں میرے مزاج کا حصہ بنی ہوئی ہے۔  ‘‘

    ’’یہاں تک آتے آتے مجھے ایسا لگا ہے جیسے آج میرے اندر کے بادشاہ اور ملنگ میں لڑائی ہو گئی ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ بادشاہ جیت گیا ہے اور فقیر کو قبر میں ڈال دیا گیا ہے۔ لیکن فقیر کی تو قبر بھی زندہ رہتی ہے اور سانس لیتی ہے۔ اب میں نہ خود سے مزید مکالمہ کر سکتا ہوں نہ اپنے قارئین سے مزید گفتگو کی گنجائش ہے، بس خدا سے ایک سوال ہے۔

خداوندا! یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں       کہ درویشی بھی عیاری ہے، سلطانی بھی عیاری

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اپنی کہانی کا درویش بھی میں ہوں، سلطان بھی میں ہوں،

اور خدا کا سادہ دل بندہ بھی میں ہی ہوں۔ ‘‘

 (’’کھٹی میٹھی یادیں ‘‘ کے باب ’’زندگی در زندگی‘‘سے)

        یہ پس منظر اس لیے واضح کیا ہے کہ مقصود الہٰی شیخ صاحب کے پہلے خط میں جو نا مناسب الفاظ ملیں گے، ان کے پس منظر میں یہ ساری  پہلے والی خط و کتابت تھی۔ چونکہ شیخ صاحب میرے اشارے کا مطلب سمجھ ہی نہیں سکے تھے اس لیے انہیں لگا کہ میں اپنی کسی خودی میں گھرا ہوا ہوں، وغیرہ وغیرہ۔ شیخ صاحب نے کسی نئی، پرانی ادبی تقریب کا احوال بھیجا ہوتا تو اس پر خوشی کا اظہار کر سکتا تھا۔ بادشاہوں کے دعوت نامے پر کیا خوش ہوتا۔ یہ شخصی زندگی میں اعزاز ہو سکتا ہے لیکن ادب سے اس کا دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ پھر اتنا پرانا دعوت نامہ۔

      ایک دو وضاحتیں اور۔ ۔ ایک یہ کہ میں نے کبھی بھی مقصود الہٰی شیخ صاحب سے اپنی کسی تحریر پر داد نہیں چاہی، کبھی بھی نہیں، ۔ ۔ ۔ دوسری یہ کہ میں نے آج تک اس کا اظہار نہیں کیا لیکن آج یہاں لکھ رہا ہوں کہ مجھے بہت شروع کی ادبی عمر میں پاکستان میں اکیڈمی آف لیٹرز کی تقریب میں شرکت کا موقعہ ملا تھا اور ایوان صدر میں ہونے والی دعوت میں بھی شرکت کی تھی۔ چار افراد کی مجھے جو ٹیبل ملی تھی اس پر راغب مرادآبادی اور عطاء الحق قاسمی موجود تھے۔ تیس سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا، اسے کسی تفاخر کے اظہار کے طور پر کہیں بیان ہی نہیں کیا۔ ماریشس میں نائب صدر کی دعوت کا دعوت نامہ ہونے کے باوجود میں نے ایک اور ادبی کام کرنے کو ترجیح دی تھی، وہیں ہوتے ہوئے شریک نہیں ہوا تھا۔ اس کا ہلکا سا ذکر میرے ماریشس والے رپورتاژ میں موجود ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ میں اپنی فقیری میں خوش ہوں اور شاہوں کے ہاں جانے کی کوئی خاص خوشی نہیں ہوتی اور دوسروں کے معاملہ میں بھی یہی رویہ رہتا ہے۔ اس کے باوجود شیخ صاحب نے اس پس منظر میں میرے مزاج کو جانے بغیر اپنے پہلے خط میں جو کچھ لکھا ہے میں نے اس کا جواب نہیں دیا اور ان کی سخت باتوں کو نظر انداز کر دیا تھا۔ چونکہ اب یہ سارے خطوط چھپنے جا رہے ہیں تو مجھے مناسب لگا کہ اس سلسلہ میں یہ ہلکی سی وضاحت کر دوں۔

       ایک اور بات جو انہوں نے اپنی۱۸ /دسمبر ۲۰۱۲ء کی ای میل میں لکھی ’’شخصی کمزوریوں ‘‘کے حوالے سے تھی۔

میرا اشارہ صرف ان شخصی کمزوریوں کی طرف تھا جو پوپ کہانی کی خط و کتابت میں ان سے سر زد ہوتی جا رہی تھیں۔

ان پر تفصیلی لکھ سکنے کے باوجود میں نے صرف پوپ کہانی کے خد و خال جاننے پر اصرار کیا۔ مثلاً انہوں نے پوپ کہانی کو ’’ایجادِ من‘‘ قرار دیا۔ ایک چیز جس کی شناخت ہی نہیں ہے، صرف نام رکھ دینے سے بندہ اس کا موجد بن جائے تو کیا کہا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے بہت کچھ لکھا جا سکتا تھا، لکھا جا سکتا ہے، لیکن میں نے موجد بننے کی ان کی اس معصومانہ خواہش کو ان کی شخصی کمزوری شمار کر کے نظر انداز کر دیا۔ ایک زمانہ میں جب وہ مایوسی کی لپیٹ میں تھے، میں نے ان کی ہمت بندھانے کے لیے انہیں خط لکھا تھا۔ بعد میں یاد دلایا تو انہیں مایوسی یاد نہیں آئی اُلٹا وہ خود کو اسٹیج پر بیٹھا ہوا سمجھ کر مجھے پبلک میں بیٹھا ہوا سمجھنے لگے۔ حالانکہ میں ایسی تقریبات میں نہ اسٹیج پر ہوں نہ پبلک میں۔ اسی طرح کی چند اور کمزوریاں بھی ہیں جو ان خطوط کو پڑھنے والے، مطالعہ کے دوران خود بہتر طور پر سمجھ لیں گے۔ اس ساری خط و کتابت کے سلسلہ میں یہ چند وضاحتیں کرنا ضروری سمجھا تھا سو کر دی ہیں۔ اب آگے وہ خط و کتابت دیکھ لیں اور اپنے اپنے طور پر پوپ کہانی کے بارے میں جو چاہے رائے قائم کریں۔

        مجھے جس دن اپنے بنیادی سوالوں کے جواب کی صورت میں مناسب رہنمائی مل گئی، میں پوپ کہانی میں ضرور دلچسپی لوں گا۔ ابھی تو معاملہ اس خط و کتابت میں اُٹھائے گئے نکات تک ہی رُکا ہوا ہے۔      ٭٭٭

اردو میں پوپ کہانی کی کہانی

 نئی، پرانی خط و کتابت

مقصود الہٰی شیخ۔ ۔ ۔ حیدر قریشی

جناب! میں تو آپ کو دور سے جانتا ہوں مگر آپ کی بے نیازی کا جواز کبھی سمجھ میں نہ آیا۔ اب تو آپ فوراً ریسپانس دیتے ہیں۔ ہم متوازی چلتے ہوئے بھی ایک اور ایک گیارہ کا عمل اپنا سکتے تھے۔ یہ یورپ میں اردو کے لیے بہتر ہوتا۔ ۔ خیر اگر مگر کا جواب دیجیے گا کیونکہ میں اور آپ گیا وقت نہیں۔ آپ کو ماہیا کا جنون تھا، میں بھی ایک کمپینر ہوں بحوالہ پوپ کہانی۔ راجہ اور بادشاہ والی بات۔ ۔ پلیز ٹریس یور شجرہ۔ روٹس میں گھسنے سے بھی بہت کچھ پتہ چل سکتا ہے۔ آپ کھوجتے رہیے، ورنہ بندہ خود کو خودی میں خدا مانتا ہے۔ لگتا ہے آپ پی سی تیکنیک میں خاصے ماہر ہیں۔ اگر آپ ڈاؤن لوڈ کر لیں تو ہم جب کبھی موقعہ ہو گا تو اردو میں مراسلت کر سکتے ہیں۔ والسلام مقصود

پ۔ ن:داد چاہنے والوں کو داد دینی بھی چاہیے۔ مہربانی کر کے اپنی چاہ اور اپنی چاہت سے نکل کر دوسروں کو داد نہ سہی، دو چار لفظ لکھ کر اپنے تاثرات بھیجنا (کم از کم)مجھے اچھا لگے گا۔     ۱۹/اپریل ۲۰۱۲ء

٭٭

میرا خیال ہے کہ ہم ایک دو بار قریب آ کر پھر دور ہوئے ہیں۔ جن دنوں آپ بہت زیادہ ڈپریس تھے، میری آپ سے بہت اچھی خط و کتابت ہوئی تھی، پھر آپ ایک نئے جذبہ کے ساتھ اُٹھے۔ میں آپ کو بڑھتا ہوا دیکھتا رہا اور خوش ہوتا رہا کہ آپ کی ڈپریشن ختم ہو گئی ہے۔ انہیں دنوں میں آپ سے کہا تھا کہ اپنی کوئی کتاب بھیج دیں، میں پڑھ کر مضمون لکھ دوں گا۔ مقصد آپ کو متحرک کرنا تھا۔ آپ نے کتاب نہیں بھیجی، مجھے اصرار کرنا مناسب نہ لگا۔ اصل میں ایک دوسرے کے لیے اچھے جذبات رکھتے ہوئے بھی شاید کہیں مزاجوں کا فرق غیر ارادی طور پر روک بنا رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کوئی اور وجہ بھی ہو۔ بہر حال قسمت میں ایسا ہی ہونا تھا سو ہو گیا۔ اردو سکرپٹ میں تو ہم جب چاہیں خط و کتابت کر سکتے ہیں۔ آپ کی پوپ کہانیوں کو دیکھا تو ہے لیکن مجھے افسانچے اور ان کے فرق کا ابھی تک اندازہ نہیں ہو سکا۔ کسی مضمون میں اس فرق کو واضح کیا ہو تو عنایت کیجیے گا۔ میں اس فرق کو سمجھنا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد ہی کچھ عرض کر سکوں گا۔

آپ کا مخلص

 حیدر قریشی        ۱۹/اپریل ۲۰۱۲ء

٭٭

اسے کہتے ہیں یار زندہ صحبت باقی !۔

 میری یادداشت کمزور ہو گئی ہے۔ کبھی کبھی بڑی پشیمانی ہوتی ہے بندہ تپاک سے ملتا ہے اور میں کورے کاغذ کی مانند ہوتا ہوں جیسے، جیسے نہیں واقعی نہیں جانتا، پہچانتا۔ بس اب تو فوراً اقرارکرلیتا ہوں اور پوچھ لیتا ہوں کہ کچھ تعارف اور پرانی ملاقات یاد دلائیے۔ آپ کا پتہ نہیں، جرمنی کیا صورت حال تھی۔ میں تو ایسا صحافی ہو گیا تھا جسے اخباری اور سماجی مصروفیات نے ” پبلک مین ” بنا دیا تھا۔ آپ کو اندازہ ہو گا کہ جب آدمی اسٹیج پر ہوتا ہے تقریر کرتا ہے تو اسے سب دیکھ رہے ہوتے ہیں اور اپنی اپنی جگہ جان اور پہچان لیتے ہیں مگر وہ جم غفیر میں سے ایک آدمی پر نگاہ نہیں ٹکا سکتا تو بعد میں کیا پہچانے گا ؟ میرا خیال ہے آپ کی بات بھی درست ہے کہ باہمی احترام کے باوجود ہمارے مزاج ایک نہ تھے۔ آپ نے اس ناچیز پر مضمون لکھنا چاہا ہو گا۔ اب کیسے کہوں کہ میں کیوں چپ رہا؟ ہونا تو یہ چاہیئے تھا بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔ عادتاً میری خواہش ہوتی ہے کہ میرے کام پر رائے زنی ہو اور میں اس روشنی میں کچھ سیکھ کر اپنی مہم اور کام کو آگے بڑھاؤں۔ اردو میں کام سے زیادہ شخصیت پر فوکس کیا جاتا ہے۔  دراصل مجھے آپ کے حوالے سے جو بات یاد آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ آپ کی تحریریں ” راوی ” میں شائع کرتے ہوئے آپ نے میرا ایک آدھا مشورہ قبول کیا تھا۔ آپ کا پاکستان میں صحافت کا زیادہ تجربہ تھا مگر آپ نے فراخدلی سے میرا مشورہ مانا تھا۔ خصوصاً سوانح عمری کی ایک آدھ قسط ” راوی ” میں چھپی جس میں گھریلو اور نجی اشارے زیادہ تھے پھر شاید آپ نے کتاب چھپوا لی مگر” راوی ” سے سلسلہ ٹوٹ گیا  یا پرانی یادوں کے تعلق سے کوئی بات تھی۔ میرا تاثر یہی رہا کہ آپ ماھیا کی صنف منوانے میں جت گئے اور اس طوفان خیزی میں کہیں سے کہیں (بلندی پر) نکل گئے۔

 خیر، ۔ ، میں کمپوٹر تکنیک پر زیادہ حاوی نہیں۔ اس لئے آپ کو تازہ الحمراء  لاہور میں پوپ کہانی سے متعلق مضمون علیحدہ فارورڈ کرتا ہوں۔ دیکھیئے۔ میں نت نئے کمپیئن چلاتا ہوں۔ آج کل پوپ کہانی کا سلسلہ چل رہا ہے۔ آپ ضرور رائے دیجئے۔ کتاب کی فرمائش کی بات مجھے قطعی یاد نہیں آ رہی۔ آپ یہ مضمون دیکھئیے۔ اس کے بعد آپ نے کہا تو میں کتاب ” پوپ کہانیاں ” بھی ارسال کر دوں گا۔ میں یہ بھی معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ کبھی ” مخزن ” بھی ملا ؟ آپ نے اپنے رسالے میں کوئی تبصرہ کیا ہو تو مجھے اس کی پی ڈی ایف میں اٹیچمنٹ بنا کر بھیج دیجئے گا۔ مجھے غرض نہیں کہ کس انداز میں ای میل کرتے ہیں۔ بس میں آسانی سے کھول سکوں اور پڑھ سکوں۔ امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ آپ کے خط کا خلوص متاثر کر رہا ہے۔ انشاء اللہ اب رابطہ رہے گا۔ گھر میں سب کو درجہ بدرجہ سلام و دعا۔ والسلام، ۔            مقصود۔     ۱۹/اپریل ۲۰۱۲ء

٭٭

برادرم مقصود الہٰی شیخ صاحب    سلام مسنون

            مخزن ملتا رہا تھا۔ ایک بار آپ کی طرف سے ایک فارم بھی ملا تھا۔ مجھے یہ سلسلہ اچھا نہیں لگا تھا کہ تخلیق کار رقم دے کر چھپے اور نقاد کو پیسے دے کر اس سے لکھوایا جائے۔ اس لیے میں نے فون پر اچھے پیرائے میں معذرت کر لی تھی۔ آپ کا اصرار تھا کہ میں خط کا جواب لکھ دوں، اور میں ان تخلیق کاروں کی دلآزاری کا موجب نہیں بننا چاہتا تھا، جو اس طریق کے مطابق چھپ رہے تھے۔ ویسے ادبی رسائل کا ساتھ دینا، ان کے ساتھ مالی تعاون کرنا مناسب ہی نہیں بلکہ کسی حد تک ضروری بھی ہے۔ لیکن یہاں معاملہ تخلیق کار اور نقاد کے ساتھ رویوں کا تھا۔

جدید ادب میں ادبی رسائل پر تبصرے نہیں دئیے جاتے۔ صرف کتابوں پر ہی تبصرے کرتا ہوں۔

          جب میں نے آپ سے کوئی کتاب بھیجنے کو کہا تھا تاکہ مضمون لکھ دوں، تب آپ بہت زیادہ ڈیپریشن کا شکار تھے۔ آپ کے ایک دو مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے خط ملے تھے، ان کے نتیجہ میں میں نے چاہا تھا کہ آپ اس وقتی ذہنی دباؤ سے باہر آسکیں۔ تب میں نے آپ کو بہت اچھے خط بھی لکھے تھے۔ مقصد تو یہ تھا کہ آپ ڈیپریشن سے نکل کر ادبی طور پر متحرک ہو جائیں۔ سومیرے مضمون کے لکھے بغیر ہی یہ مقصد حاصل ہو گیا۔

    میری یادوں کا پہلا باب آپ نے بھی شائع کیا تھا، لیکن اس کا پہلا پیرا گراف حذف کر کے۔ ۔ ۔ اس کے بعد میری گلبن والوں سے بات ہو گئی تھی اور لگاتار یادوں کے گیارہ باب، دس قسطوں میں وہاں چھپے تھے۔ دس قسطوں کے بعد گلبن میں باقاعدہ لکھنے کا سلسلہ رک گیا۔ تاہم گاہے بگاہے جدید ادب ہی میں یادیں چھپتی رہیں اور اب تک یادوں کے مزید دس باب چھپ چکے ہیں۔ اور گیارھواں ان دنوں میں لکھ چکا ہوں، صرف اس باب کی نوک پلک سنوارنا باقی ہے۔ یہ سلسلہ رکا نہیں، بس چھپنے کے مقام بدلتے رہے ہیں۔

پوپ کہانی کے حوالے سے آپ کا مضمون ملا، غور سے پڑھ لیا۔ لیکن میرا سوال وہیں ہے۔ میں نے گزارش کی تھی کہ افسانچے اور پوپ کہانی میں کیا فرق ہے اور اسے کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟

یہ لگ بھگ ویسے ہی سوال جیسی صورت ہے جب ہم سے ماہیا اور ہائیکو میں فرق کی بابت پوچھا گیا تھا۔ ہماری طرف سے اس کا بڑی وضاحت کے ساتھ جواب دیا گیا تھا۔ افسانچے اور پوپ کہانی کے فرق کے سلسلہ میں بھی بات وضاحت کے ساتھ سامنے آنا ضروری ہے۔

اس مضمون کو پڑھنے کے بعد لگا کہ آپ اسے ایجادِ من خیال کرتے ہیں۔ مجھے خیال آتا ہے کہ انگریزی میں پوپ کہانیوں کے نام سے پہلے سے کچھ لکھا جا رہا ہے۔ یہاں اب ہلکا سا کنفیوژن پیدا ہو رہا ہے۔ مجھ پر الزام لگا تھا کہ میں ماہیا کا موجد بننا چاہتا ہوں۔ میں نے اس کی سختی سے تردید کی تھی اور پھر اردو میں اس کے بانی کی حد تک بھی سہرا ہمت رائے شرما کے سر باندھ دیا تھا۔ اس موضوع پر پوری کتاب لکھ دی تھی۔ اس کے بر عکس آپ اسے ایجادِ من قرار دے رہے ہیں۔ آپ کی ایجاد ہے تو اسے تسلیم کیا جانا چاہیے، لیکن اگر انگریزی سے اسے لیا گیا ہے تو پھر کچھ مارجن رکھنا مناسب ہو گا۔

ان دنوں اپنی یادوں کا نیا باب لکھنے کے ساتھ میرا جی نمبر کی تیاری میں مصروف ہوں۔ دنیا فیض اور راشد کی دھن میں انہیں فراموش کیے بیٹھی ہے۔ سوچا لوگ مشہور لوگوں کے نام پر کام کر کے  اپنی شہرت کماتے ہیں۔ ہم کسی گمنام اور نا مقبول بندے کے کام کو سامنے لاتے ہیں۔ سو اردو میں اہلِ ملامت کے امام میرا جی پر کام میں لگا ہوا ہوں۔ جون تک رسالہ چھاپنے کا ارادہ ہے۔ انشاء اللہ۔ امید ہے آپ ہر طرح صحت و عافیت سے ہوں گے۔

والسلام     آپ کا مخلص        حیدر قریشی        ۲۰/اپریل ۲۰۱۲ء

٭٭

پیارے حیدر قریشی صاحب، ۔

 مخزن ” پر تبصرہ کرنا نہ کرنا آپ کا حق اور صوابدید پر تھا۔ ” سائزکی بنیاد پر آپ نے اسے مجلہ یارسالہ سمجھا اور گریزاں رہے تو کوئی بات نہیں۔ شہاب نامہ کو کتاب سمجھا جائے یا رسالہ؟  مخزن کا ”  دی اینڈ ” ہو گیا۔ بحث میں پڑنا بیکار ہے۔  شکوہ نہ شکایت۔ آپ مطمئن رہیں۔  دوبارہ اس پر گفتگو نہ ہو گی۔

 میں حیران ہوں آپ نے ” مخزن ” کے پیچھے فکر کو قطعی نظر انداز کر دیا لہذا دوچار جملوں میں

۔ Writers’ Co-opکے قیام کی بابت عرض کرد وں۔ مغرب میں اردو قلمکاروں کی پہچان وطن عزیز میں ہونی چاہیئے۔ اس کو صورت دینے کے لئے صلاح مشورہ کیا گیا۔ مجھے ” راوی ” سے رٹائر ہوئے دو سال ہو چکے تھے مگر احباب نے بھلایا نہیں اور مجھ سے رابطے جاری رکھے تھے۔ میں خود ” مخزن ” جاری کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا چنانچہ تخمینہ منگوایا گیا اور (مختصراً) احباب کو دس دس پرچوں کی قیمت پیشگی بھیج کر منگوانے کے لئے کہا گیا۔ اس طرح دو مقصد حاصل کرنا مقصود تھا اول سرمایہ، دوم پرچے کی تقسیم۔ مجھے اپنے بیٹے کے ایئر لائن میں ہونے کی وجہ سے کم کرائے میں پاکستان جانے آنے کی سہولت حاصل تھی۔ پہلی مرتبہ میں تین ماہ کے لئے پاکستان کے مختلف شہروں میں پھرا۔ وہاں بے خبری کا عالم تھا اور کوئی یہاں والوں کو گھاس ڈالنے پر تیار نہ تھا ویسے میرا بس ہی نہ چلا میں تو اپنے  ہفت روزہ میں بھی لکھنے کا معاوضہ یا اعزازیہ دینے کو تیار تھا مگر ناخن ہی نہ ہوئے۔ اب مانے جانے نقادوں کی عزت و احترام ملحوظ رکھتے ہوئے ان کے قیمتی وقت کے مد نظر اعزازیہ کی صورت نکالی۔ ساتھ تحریراً کہا گیا کہ اپنی انٹی گریٹی قائم رکھتے ہوئے رائے زنی کیجئے تاکہ برطانیہ کے لکھنے والوں جن میں قیصر تمکین مرحوم اور ش صغیر ادیب مرحوم جیسے پہلے سے مسلمہ افسانہ نگار شامل تھے، وہ متفق رہے اور ساتھ چلے کہ مرکزی دھارے میں برطانیہ کے لکھنے والوں کی شمولیت کے لئے یہ قدم نا گزیر ہے۔ اس طرح ممکن ہے۔ لکھنے والے کا درجہ مقرر ہو سکے۔ اس کے نتیجے میں بعض لکھاری میدان چھوڑ کر بھاگ بھی گئے۔

  مجھے نہیں معلوم آپ نے کیسے سرمایہ مہیا کیا اور اپنا پرچہ چھاپا۔  ” کو آپ ” کی حد تک میں مطمئن ہوں کہ مقصد حاصل ہوا اور اس کے بعد وطن عزیز کے سالانہ ادبی جائزوں میں یہاں والوں کا نام آنے لگا۔ شاباش ہے یہاں والوں نے تنقید سنی اور آگے بڑھے اور کئی دوستوں نے مقام بنایا۔ اگر آپ کی نظر معاصر ادب و اشاعت پر ہے۔ تو میں بات یہیں ختم کرتا ہوں۔ برطانیہ کی حد تک یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ جن ” گل محمد ” قسم کے مخالفین نے حصہ نہیں لیا وہ خسارے میں رہے اور وہ برطانوی مقامیت جہاں ادبی رسالے سرے سے نہ تھے اور ” راوی ” بند ہو گیا تھا، باہر متعارف ہی نہ ہو پائے۔ آپ جانتے ہیں کہ میں نے ” راوی ” میں نئے لکھنے والوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی۔ آج وہ نئے، نئے نہیں، جانے مانے ہیں۔

       آپ میری ڈیپریشن کا ذکر کر رہے ہیں۔ اخبار کا دھندا ہی ایسا ہے کہ چنگا بھلا آدمی دیوالیہ ہو جائے۔ ہاں کئی مرتبہ مکان مارگیج رکھا، دیوالہ نہ نکالا اور صحافت نہ چھوڑی۔ میری یاد داشت کمزور ہے۔ آج یاد نہیں رہتا جبکہ پیدائش کے وقت کی بات یاد آ جاتی ہے۔ میں آپ کے خلوص اور نیک جذبے کی قدر کرتا ہوں کہ میرے خیالات سے اتفاق نہ کرتے ہوئے خیال رکھا اور مجھے حوصلہ افزا خط لکھے۔ اگر اس وقت کا میرا یا آپ کا اپنا خط کمپوٹر یا کسی کونے کھدرے میں محفوظ ہو تو بھیجئے گا۔ کیا خبر یادیں کھنگالنا مفید ثابت ہو۔ آپ نے اپنا قلم نہیں روکا اور لکھتے رہے۔ میں آپ کی ثابت قدمی اور ادبی میدان میں اونچا اٹھنے کی بابت سب نہیں تو بڑی حد تک کچھ نہ کچھ جانتا ہوں اور خوش ہوں کی آپ کی محنت رائگاں نہ گئی۔ آپ اپنی جگہ ضرور مسرور و مطمئن ہوں گے۔ میں آپ کی آئندہ کامیابیوں کے لئے دعا گو ہوں۔

        جہاں تک پوپ کہانی کا تعلق ہے۔ کیا آپ نے اس بارے میں ” ایوان اردو ”  جنوری یا اپریل تک چل رہی بحث دیکھی؟ ” گلبن ” میں تو تنقید دیکھی ہو گی۔ میرا جوابی حملہ بھی کہیں نہ کہیں چھپا دیکھا ہو گا۔ اگلے مہینے "ایوان اردو” والے پچھلے تین ماہ میں جو خطوط شائع ہوئے ان کے حوالے سے میرا جواب مضمون چھاپ رہے ہیں۔ آپ کو کوئی معلومات درکار ہوں تو بتائیے بھیج دوں گا  ویسے جمعہ کو میں نے ہوائی ڈاک سے آپ کو اپنی کتاب ” پوپ کہانیاں ” پوسٹ کر دی ہے۔ اس میں بہت سی اغلاط ہیں۔ آپ ان سے سہو نظر فرمائیے گا اور مدعا پر نگاہ رکھتے ہوئے بتائیے گا۔ آپ کی رائے میرے لئے قیمتی ہو گی۔ والسلام،    مقصود

 خط کل لکھنا شروع کیا تھا۔ طویل داستان اور مرحلوں کو سمیٹنا مشکل ہے۔ آپ اپنی بیتی بحوالہ رسالہ ضرور بتائیے۔ کاش ہم نے   experience share  کر کے ایک دوسرے کو فائدہ پہنچا یا ہوتا اور ایک دوسرے سے کچھ سیکھا ہوتا !!۔

 ۲۳/اپریل ۲۰۱۲ء

٭٭

برادرم مقصود الہٰی شیخ صاحب            سلام مسنون

آپ کی پہلی ای میل بھی مل گئی تھی اور اب دوسری استفسار والی میل بھی مل گئی ہے۔ استفسار والی میل کا جواب اسی جواب میں آ گیا۔ فون نمبر لکھ دیتا ہوں۔

آپ نے مخزن کے سلسلہ میں جو موقف اختیار کیا ہے، اسے آپ کی سوچ اور آپ کے زاویے سے درست سمجھتا ہوں۔ ہم نے بالکل ابتدائی ادبی زمانہ میں خانپور میں دو کتابیں اسی بنیاد پر شائع کی تھیں۔ تاہم جب جدید ادب کا اجرا کیا تھا تو ۸۰ صفحات کا شمارہ بھی اپنے ذاتی خرچ سے شائع کیا اور اب جرمنی سے جو رسالہ نکال رہا ہوں تو یہ بھی اپنی پاکٹ منی سے نکال رہا ہوں۔ سال بھر میں جتنی رقم بچا سکتا ہوں اس پر لگ جاتی ہے، اسی لیے جب مجھے کسی تقریب میں اپنے ذاتی خرچ پر بلایا جاتا ہے تو میں اس لیے معذرت کرتا ہوں کہ اتنے خرچ کی گنجائش نہیں ہے۔ یا رسالہ نکالوں یا تقریبات میں شرکت کروں۔ سو رسالہ نکالنا زیادہ مناسب لگتا ہے۔ ادبی کام کرنے کی توفیق ملنا سب سے بڑا ادبی انعام سمجھتا ہوں۔ ادب کی خدمت کرنے کا میرا کوئی دعویٰ نہیں ہے۔ میں صرف اپنی ادبی زندگی بسر کر رہا ہوں۔ عام زندگی کی طرح ادبی زندگی کی بھی اپنی ایک دنیا ہے۔

         آپ سے جو مراسلت ہوئی تھی، اس کی وجہ امریکہ سے سلطانہ مہر صاحبہ کا سوالنامہ تھا۔ میں نے آپ کو بھیجا تھا تو اس کے جواب میں  ۶ جنوری ۱۹۹۹ء کا لکھا ہوا آپ کا خط ملا تھا۔ آپ کے خط کا جواب میں نے ۸ جنوری کو فیکس سے بھیج دیا تھا۔ اس پر آپ کا ۹جنوری کا تحریر کردہ جواب ملا تھا۔ یہ مراسلت آپ کی اجازت سے ’’اردو دنیا‘‘ جرمنی کے شمارہ اگست ۲۰۰۰ء میں شائع بھی کر دی گئی تھی۔ آپ چاہیں تو وہ صفحہ سکین کر کے بھیج دوں گا۔

         پوپ کہانی کے سلسلہ میں میرا استفسار صرف اس کے خد و خال کی تفہیم کے لیے ہے۔ جوگندر پال جی کے افسانچے پڑھنے کے بعد افسانچے کا تصور واضح ہو چکا ہے۔ میں مختصر ترین پیرائے میں پوپ کہانی اور افسانچے کے فرق کو سمجھنا چاہتا ہوں اور اسی تناظر میں عام شارٹ سٹوری اور پوپ کہانی کے فرق کو جاننا چاہتا ہوں۔ اسے عام فہم انداز میں مختصراً لکھ دیں تو میرے جیسے کئی اور لوگوں کو بھی سمجھنے میں سہولت ہو جائے گی۔ ایوانِ اردو اور گلبن میرے پاس نہیں آتے۔ سو آپ کے مذکورہ مضامین اور جوابات میری نظر سے نہیں گزرے۔

         آپ کے نیک جذبات کے لیے بے حد شکر گزار ہوں۔ اللہ آپ کو صحت و عافیت سے رکھے، ہماری صحت، تندرستی کے لیے دعا فرماتے رہیے۔

آج کا باقی وقت اپنے سفر کی روداد کو مکمل کرنے کی کوشش کروں گا، امید ہے آج اسے مکمل کر ہی لوں گا۔ انشاء اللہ۔

والسلام     آپ کا بھائی      حیدر قریشی       ۲۳/اپریل ۲۰۱۲ء

٭٭

آپ کی ای میل مل گئی، شکریہ۔ ’’اردو دنیا‘‘کا پیج ارسال خدمت ہے۔ آپ اپنا فون نمبر لکھ بھیجئے۔

آپ کا  حیدر قریشی  ۲۳ اپریل ۲۰۱۲ء

٭٭

محبت نامے:’’اردو دنیا‘‘ جرمنی  کے شمارہ :اگست ۲۰۰۰ء  میں مطبوعہ پرانی خط و کتابت

یہ خط و کتابت مطبوعہ ’’اردو دنیا‘ ‘کے صفحہ کو سکین کر کے مقصود الہٰی شیخ صاحب کو بھیجی گئی۔

۶/۱/۹۹

حیدر قریشی صاحب   نیا سال مبارک

سلطانہ مہر صاحبہ کا براہِ راست اور اب آپ کی معرفت گوشوارہ سوالات ملا۔ بھائی! مجھ پر آج کل یاسیت طاری ہے۔ بیچ بیچ میں خوش بھی ہو لیتا ہوں کہ خالقِ دو جہاں ناشکرا نہ سمجھ لے۔ سچ پوچھئے تو سب باتیں لاحاصل نظر آتی ہیں۔ لکھنے لکھانے کے تعلق سے تازہ خیالات یہ ہیں کہ اس صدی کے دو ایک نام ہی رہ جائیں گے۔ جیسے دو صدی پہلے کا ’’غالب‘‘ چل رہا ہے۔ اپنی جگہ سوچتا ہوں کہ کون سا ایسا تیر مارلیا۔ نہ تین میں، نہ تیرہ میں۔ بس دل بھرا بھرا ہے۔ کوئی دلچسپی محسوس نہیں ہوتی۔ جہاں ضرورت محسوس ہوتی ہے وہاں فرض نبھانے کی کوشش کر گزرتا ہوں۔ بعد میں وہ بھی کمزور فضول دکھائی دیتی ہے۔ دیا بجھنے سے پہلے بھڑکتا ہے، یہاں اس کے بغیر ہی بجھ رہے ہیں۔

         بہر حال یاد فرمائی کے لئے ممنون ہوں۔ میں تو سمجھا تھا آپ نے بھی دوسروں کی طرح جیسے احمد سعید انور اور نعیمہ ضیاء الدین صاحبہ کی طرح منہ موڑ لیا۔ یہی سمجھا کہ اس دنیا میں جہاں کئی قسموں کے تعصب ہوتے ہیں ان میں مذہبی و فرقہ دارانہ زیادہ تگڑا ہوتا ہے۔ آپ کو تو ’’راوی‘‘ نے ہاتھوں ہاتھ لیا تھا۔ خیر۔ آپ بڑے جذبے سے ماہیے کا پرچم لہراتے بڑھ رہے ہیں۔ نوجوان ہیں، جذبہ ہے۔ آپ کی لگن قابلِ داد ہے۔ میرا خیال ہے یہ میدان آپ نے جیت ہی لیا ہے۔ امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔     مقصود الہٰی شیخ

نوٹ از ادارہ ’’اردو دنیا‘‘:خط دفتر ’’راوی‘‘ بریڈ فورڈ سے بھیجا گیا۔

٭٭

از جرمنی     محترم مقصود الہٰی شیخ صاحب        سلام مسنون

آپ کا ۶/جنوری کا تحریر کردہ عنایت نامہ ملا، شکریہ۔

آپ نے خود پر طاری جس یاسیت کا ذکر کیا ہے اس سے کسی نہ کسی مرحلے میں ہم سب کا واسطہ پڑتا ہے۔ سب کچھ لاحاصل یا بے معنی لگنے لگتا ہے۔ لیکن صرف ادب ہی کیوں ؟کیا یہ زندگی ہی بے معنی اور لا حاصل نہیں لگنے لگتی؟اول فنا، آخر فنا، اس کے باوجود اسی زندگی میں کتنی‘‘جان‘‘ہے!

ادب اور عبادت دونوں کو میں ’’فائدے ‘‘کے حساب سے نہیں سوچتا۔ عبادت محض جنت کے حصول کے لیے ہو تو یہ سیدھی سادی رشوت بن جاتی ہے، جبکہ عبادت جب بندے اور خدا کے درمیان تعلق کو قائم کرتی ہے تو عبادت کی لذت ہی اپنا اجر آپ بن جاتی ہے۔ ایسے ہی ادب کی تخلیق کا عمل خود ایک لذت آفریں عمل ہے تو پھر بے معنویت اور لا حاصلی کا احساس کیوں ؟ہاں جب بعض مخالفین، حاسدین حسد سے مغلوب ہو کر گھٹیا درجے کی مخالفت کرتے ہیں تو تھوڑا سا دُکھ ضرور ہوتا ہے، لیکن تب ہی یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ شاید خدا نے ہمیں اتنا کام کرنے کی توفیق بخش دی ہے کہ کم ظرف لوگ ہم سے حسد کرنے لگے ہیں۔ آپ نے اپنے افسانوں کے ذریعے بھی اور ’’راوی‘‘ کے ذریعے بھی ادب کی خدمت کی ہے۔ ان خدمات سے انکار کرنے والے ان خدمات کو مٹا تو نہیں سکتے۔ سو اُن لوگوں کو اُن کے حال پر چھوڑیں اور خدا کی دی ہوئی صلاحیتوں کو اس کی عطا کردہ توفیق کے مطابق بروئے کار لاتے رہیں۔ یہ نیکی ہے اور نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔

مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھا کریں۔ امید ہے سلطانہ صاحبہ سے آپ نے رابطہ کر لیا ہو گا۔ والسلام

 نیک تمناؤں کے ساتھ    حیدر قریشی      ۸  /۱/۹۹        (بذریعہ فیکس بھیجا گیا)

٭٭

۹/۱/۹۹

حیدر قریشی صاحب      سلام مسنون

آپ نے خط ملتے ہی جواب لکھ دیا۔ آپ کا خط میرے لئے تپتی دوپہر میں تازہ ہوا کا جھونکاہے۔ حوصلہ بندھا، میں کوشش کروں گا کہ آپ کی تسلی سے دیر تک تسکین حاصل کروں۔ زندگی اسی کا نام ہے، کبھی صبح اور کبھی شام ہے۔ میں تو ویسے بھی سمجھتا ہوں کہ شامِ زندگی آپہنچی۔ کوئی سدا نہ جیتا پے نہ کام ہی کرتا رہتا ہے پھر بھی آپ ایسے ہوشمند اور ذی شعور اس کے کام کا اقرار کریں تو محنت اکارت نہ جانے کا احساس جاں نواز اور مسرت بخش ثابت ہوتا ہے۔ بہت بہت شکریہ۔   آپ کا     مقصود الہٰی شیخ

پ/ت:سوتے کو جگانے والی ادبیت اس خط میں موجود ہے۔ انداز خوبسورت ہے اور تحریر جاندار! سلطانہ مہر صاحبہ کو ابھی کوائف نہیں بھیجے۔ کیا اسے آپ کی طرف سے تاکید سمجھوں ؟

٭٭

اس پرانی خط و کتابت کا مطبوعہ صفحہ مقصود الہٰی شیخ صاحب کو بھیجا گیا تو ان کی طرف سے یہ رسید ملی

حیدر بھائی!مختصر نامہ ملا، کیا آپ سے رؤف نیازی کے مضمون کا قفل(اٹیچ منٹ)کھل گیا۔ اگر آپ مصروف ہیں تو کتاب مل جانے پر اکٹھا جواب دیجئے گا۔ صحت و سلامتی کی دعا و سلام کے ساتھ۔

مقصود        ۲۳اپریل ۲۰۱۲ء

٭٭

مقصود الہٰی شیخ صاحب کی ایک اور ای میل:

معاف کیجئے گا اپنا فون نمبر لکھنا بھول گیا۔

گھر:

00 44 1274 495462

Mobile:- 00 44 7778 774 694

۲۳/اپریل۲۰۱۲ء

٭٭

برادرم مقصود الہٰی شیخ صاحب           سلام مسنون

آپ کی دونوں ای میلز مل گئیں، شکر گزار ہوں۔ فون نمبر محفوظ کر لیا ہے۔ میں اپنے سفر کی روداد کو فائنل کرنے میں منہمک ہو گیا تھا۔ اسے بروقت لکھ لینا ضروری تھا۔ سو اب اسی کام سے فارغ ہوا ہوں۔

        رؤف نیازی صاحب کا مضمون پڑھ لیا تھا۔ میرے سوالوں کا جواب کہیں ملا ہوتا تو شئیر کرتا۔ کسی فرصت میں اطمینان سے اس موضوع کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کریں گے۔ ہو سکتا ہے تب مجھے سمجھنے میں آسانی ہو جائے۔ بہت سے دوستوں کو جب ماہیا کا وزن عروضی حوالے سے بتاتا تھا تو انہیں کچھ سمجھ نہیں آتا تھا لیکن جب انہیں کوئی ماہیا گنگنا کر بتاتا تھا تو وہ فوراً سمجھ جاتے تھے۔ سو ہو سکتا ہے پوپ کہانی کو بھی میں منہ زبانی زیادہ مناسب طور پر سمجھ سکوں۔

     کل سے میری صبح سویرے کی ڈیوٹی شروع ہو رہی ہے۔ ۲۵ سے ۳۰ اپریل تک یہی ڈیوٹی رہے گی۔ یہ بہت تھکا دینے والی ڈیوٹی ہوتی ہے کیونکہ اس میں صبح سویرے جاگنا پڑتا ہے۔ بہر حال جیسے ہی وقت ملا میں خود آپ کو فون کروں گا۔ باقی ای میل سے تو ہمہ وقت رابطہ رہ سکتا ہے۔

باقی۔ ۔ ۔ ۔ باقی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ والسلام       آپ کا بھائی      حیدر قریشی       ۲۳ مارچ ۲۰۱۲ء

٭٭

حیدر بھائی،

 آپ کا ای میل مل گیا۔ ٹیلی فون نمبر نوٹ کر لیا ہے۔ پوپ کہانی کے بارے میں، میں قواعد بیان کرنے کا قائل نہیں اس لئے کیا عرض کروں ؟ کتاب مل جانے پر آپ کو اس کی شروعات کا پتہ چل جائے گا۔ میں نے انگریزی ادب زیادہ نہیں پڑھا اور جو ٹاواں ٹاواں پڑھا اس میں پوپ کا ذکر میرے علم سے باہر تھا لیکن کتاب میں ممتاز حسین صاحب کا مضمون اس پر روشنی ڈالتا ہے۔ اس وقت آپ کو پاکستانی نقاد جناب رؤف نیازی صاحب کا مضمون بھیج رہا ہوں۔ شاید آپ کو مطلوب نکتہ مل جائے۔ مجھے ” اردو دنیا ” میں ہماری مراسلت ضرور ارسال فرمائیے۔ میں ممنون ہوں گا۔ مجھے جیسے کوئی گم شدہ شے مل جائے گی کہ یہ گوشہ میرے ذہن سے مٹا ہوا ہے۔ اسی طرح ایک بار مشہور فنکار طلعت حسین ہمارے ” راوی ” کے دفتر میں آئے، سارا دن رہے۔ بی بی سی کے لئے میرا انٹرویو لیا۔ میرے بھائی (سالار) انعام عزیز مرحوم نے بھیجا تھا۔ میں اپنے تئیں ادب اور صحافت میں کمتری جانتا رہا ہوں۔ انٹرویو اس لئے دینے پر راضی ہوا کہ انعام صاحب بغیر جتائے اپنے دوست کا ٹی اے ڈی بنوانا چاہتے تھے۔ خیر یہ بات یونہی سی ہے اس لئے مجھے کیا پوچھا گیا یا کیا کہا گیا، کیا یاد رکھنا تھا ؟ دلچسپ بات یہ ہے کی ان کی آمد  ایک قصہ بن گئی۔ اس کا میرے دماغ میں کوئی نشان نہیں۔ گھر والے بتاتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ایسا ہوا ہو گا۔ یہ کہانی یوں شروع ہوتی ہے کہ ہمارا دفتر بہت بڑا تھا۔ ورکرز (اور اپنے لئے ایک کینٹین بھی بنوائی گئی تھی۔ دفتر کرائے پر تھا۔ فریدہ اپنے اور ورکرز کے لئے قبولی بنا رہی تھیں۔ طلعت صاحب نے دفتر میں گھستے ہی خوشبو سونگھی اور کہا بندے کو روک دیجئے ریستوران سے کچھ نہ منگوائیے۔ میں یہ قبولی ہی کھاؤ ں گا۔ وغیرہ۔ بہت سادہ مگر شاندار اور دلچسپ شخصیت ہیں۔ اب میں یہ واقعہ مزے لے لے کر سنتا ہوں۔ کچھ تفصیل آپ کو لکھ دی۔ دراصل میں ” راوی ” میں پوری طرح غرق تھا اور کچھ کیا ؟ سب کچھ آنکھوں سے اوجھل رہتا تھا۔ اب ہسپتال جانے کا وقت نزدیک آ رہا ہے۔ باقی پھر۔ والسلام، ۔              مقصود        ۲۳ اپریل۲۰۱۲ء

٭٭

آپ کی کتاب کا تحفہ مل گیا ہے۔ ممنون ہوں۔ یہ صرف رسید بھیج رہا ہوں۔ انشاء اللہ جلد آپ سے بات ہو گی۔

آپ کا بھائی  حیدر قریشی        ۲۷/اپریل ۲۰۱۲ء

٭٭

سہ ماہی’’ اردو‘‘ کے مدیر وسیم فرحت کارنجوی کے نام مقصود الہٰی شیخ صاحب کا ای میل جو مجھے بھی بھیج دیا گیا۔

جناب من

آج ادھر سہ ماہی ” اردو ”  کا سالنامہ ملا، ادھر آپ کو کتاب ”  پوپ کہانی – ۲ ” وصول ہو گی۔ کچھ ایسا ہی حسن اتفاق ہو اور ہمارے ستارے بھی ملتے رہیں۔ یو کے اور یورپ میں ابھی کتاب ایشوع نہیں ہوئی ہے۔

میں تھکن سے چور اور نزلے کھانسی سے مغلوب۳ ۲ دسمبر کو پہنچا ہوں۔ آتے ہی ڈاکٹر کے یہاں حاضری دی۔ پانچ روز کا انٹی بائیوٹک کورس رات پورا ہو جائے گا۔ خدا کرے میں اٹھ بیٹھوں۔

اسلام آباد میں کتاب پوپ کہانی۔ ۲ کی تقریب تعارف کے بعد پوپ کہانی کے حق میں کمپیئن تیز ہو گیا ہے۔ امید ہے آپ کو براہ راست رپورٹ آ چکی ہو گی۔ اپنی دلچسپی اور موضوع میں غرقابی کی بنا پر پہلے جناب حیدر قریشی کا مضمون پڑھا۔ تھک گیا، اس لئے مضمون بغور پڑھنے اور رسالہ کی خوبی و خوبصورتی کا مطالعہ اگلے دنوں پر اٹھا دیا لیکن یہ کہوں گا کہ آپ نے محنت کی ہے۔ اللہ اجر دے گا اور اس کے بندے داد۔ !!

حیدر قریشی صاحب کے مضمون پر رائے زنی قبل از وقت ہے مگر کہنا پڑے گا کہ (اس کا عتاب مجھ پر) پتہ نہ چلا انہوں نے مغرب و مشرق پر نگاہ کرتے ہوئے کس کا مقدمہ لڑا اور کس کے خلاف دلائل دئیے۔ شاید یہ اچھی تنقید کے ذیل میں آتا ہو۔ میں صاف بات اور بے لاگ تنقید کے حق میں ہوں۔ ۔ سمجھنے کی کوشش کروں گا۔ ہمت جمع کر سکا تو ان کو بھی پہلے تاثر یا رد عمل کے حوالے سے خط لکھوں گا۔ اپنی کتاب بھیجوں گا۔ وہ ہمیشہ کتاب و رسالہ سے نوازتے ہیں۔ پچھلے دو ماہ کی غیر حاضری سے رابطہ دھیما پڑ رہا تھا۔

والسلام۔       مقصود الٰہی شیخ، بریڈفورڈ (یوکے)۔        ۲۸ دسمبر ۲۰۱۲ء

٭٭

جنابِ من!    بالواسطہ مکتوب ملا اور بلا واسطہ جواب لکھ رہا ہوں۔

میں نے پوپ کہانی کے حوالے سے جو کچھ لکھا، اپنی سوجھ بوجھ کے مطابق ایمانداری سے لکھا۔ کسی پر عتاب کا میں نے سوچا بھی نہ تھا۔ بلکہ اس زاویے سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے جناب کی بہت سی شخصی کم زوریوں کو یکسر نظر انداز کر دیا تھا، انہیں اپنے مضمون میں اشارتاً بھی بیان نہ کیا تھا۔ تاہم اب اگر کسی مضمون میں مجھ پر کسی قسم کا غیر ضروری الزام آیا تو اپنی صفائی کے طور پر ان باتوں کا ذکر ضرور کروں گا، جن سے پہلے شعوری طور پر گریز کیا تھا۔ اب جواباً اور وضاحتاً ان باتوں کے ذکر سے واضح ہو جائے گا کہ میں نے پوپ کہانی کے مسئلہ پر اپنے ایماندارانہ خیالات کا اظہار کرتے ہوئے جن ضمنی باتوں سے صرفِ نظر کیا تھا، وہ اس موضوع کو سنجیدگی سے زیر بحث لانے کے لیے تھا، وگرنہ ان باتوں کی بھی ایک اہمیت تھی جنہیں نظر انداز کر دیا تھا۔

باقی میرا پوپ کہانی کے موضوع پر کسی سے کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ ایک نئی چیز لائی گئی اور اس کی طرف بار بار توجہ دلائی گئی تو اس کو جاننے اور سمجھنے کے لیے اگر کوئی سوال اٹھاتا ہے اور اچھے پیرائے میں اٹھاتا ہے تو اسے منفی رنگ میں لینا کوئی صحت مند رویہ نہیں ہو گا۔ بہر حال کسی علمی و ادبی موضوع پر بات آگے چلی اور اس میں مجھے کسی صفائی کی ضرورت پیش آئی تو انشاء اللہ دستیاب حقائق کی بنیاد پر جواب ضرور پیش کروں گا۔

مخلص         حیدر قریشی       ۲۸ دسمبر ۲۰۱۲ء

٭٭

میرے مخلص، میرے مہربان!۔

سنگ آمد و سخت آمد۔ یار! آپ تو بے بات تپ جاتے ہیں۔ بے عیب اللہ کی ذات ہے۔ میری جن شخصی کمزوریوں سے آپ واقف ہیں ان پر دلجمعی سے روشنی ڈالئیے۔ مجھے کوئی اعتراض نہ ہو گا۔ کسی مضمون کی ضرورت نہیں جب دل چاہے لکھئیے۔ آپ کی تسلی تشفی سے مجھے خوشی ہو گی۔ ۔

میں میکدے کی راہ سے ہو کر نکل گیا        ورنہ سفر حیات کا  کافی  طویل  تھا

آپ پل میں تولہ پل میں ماشہ ! من سے نکل گیا ہے۔ کیا کتاب بھیجوں یا پڑھنے کا وقت نہیں ہو گا؟ابھی نقاہت اور بیماری کی وجہ سے اسی تھوڑے لکھے کو زیادہ سمجھئے۔ والسلام۔ مقصود

پ۔ ت : اگر آپ نے اپنے خط کی نقل کرنجوی صاحب کو بھیجی ہے تو اس خط کی نقل بھی بے شک ارسال کر دیجئے۔       ۲۸/دسمبر۲۰۱۲ء

٭٭

محترمی مقصود الہٰی شیخ صاحب!

آپ نے کسی ایڈیٹر کو کوئی مکتوب لکھا تھا اور اچھے جذبے سے لکھا تھا تو مجھے اس کی کاپی نہیں بھیجنا چاہیے تھی۔ کاپی بھیجی تھی تو پھر اپنی طرف سے میرے لیے کچھ لکھ دینا چاہیے تھا، تاکہ مجھے بات کا اندازہ ہو جاتا۔

پوپ کہانی کی بحث میں جتنی میری شرکت ہوئی ہے، اس میں آپ کی طرف سے تحریک بھی دلائی گئی تھی، اور بات سے بات نکلتے ہوئے رضیہ صاحبہ کی طرف سے تحریک ملی تھی۔ آپ کے ساتھ اس ضمن میں جو خط و کتابت ہوئی تھی، اس میں کئی ایسی خامیاں تھیں، جنہیں میں تنقیص کے طور پر درج کر سکتا تھا۔ لیکن میں نے ان باتوں کو ضمنی حیثیت دے کر صرف پوپ کہانی کے خدوخال کی طرف توجہ مرکوز رکھی۔ اس میں آپ سے اختلاف کا پہلو نکلا تو اسے بھی احترام کے ساتھ ادبی زبان میں پیش کیا۔ سو میری طرف سے کسی پتھر کی توقع مت کیجیے، جیسے میں احترام کو ملحوظ رکھتا ہوں، آپ اسی طرح درگزر سے کام لیا کیجیے۔ کوئی ادبی بحث علمی دائرے میں چلانا چاہیں تو سر آنکھوں پر!کوئی اختلاف کی بات ادبی انداز میں آئے تو وہ بھی قبول۔ ۔ ۔ ۔ میں آپ کا یہ خط کسی دوست کو بھیجنا مناسب نہیں سمجھتا، کیونکہ پھر اس کا جواب بھی بھیجنا پڑے گا۔

آپ کی صحت، تندرستی کے لیے دعا گو ہوں۔ میری صحت تندرستی کے لیے بھی دعا کیجیے گا۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔

والسلام       آپ کا مخلص     حیدر قریشی      ۲۸/دسمبر ۲۰۱۲ء

٭٭

۲۸ مارچ ۲۰۱۳ء کی ای میل میں پھر میری رائے کے لیے تقاضا کیا۔ اس کے جواب میں میں نے مختصراً لکھا:

محترمی شیخ صاحب! یہ سب شیئر کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ اس ضمن میں آپ کی طرف سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، جس سے پوپ کہانی کی تفہیم کا سلسلہ آگے بڑھ سکتا۔ سو بات وہیں کی وہیں ہے۔ جیسے جس کے دھیان میں آئی۔ ۔ ۔ ۔ آپ کا مخلص حیدر قریشی       ۲۸ مارچ ۲۰۱۳ء

٭٭

اس کے جواب میں شیخ صاحب نے لکھا:

’’بھائی! کیا بات کرتے ہیں آپ؟۔ گرامر سے ہٹ کر کیا خیال کی کوئی اہمیت نہیں ؟آپ مایوس کر رہے ہیں۔       مقصود   ۲۸ مارچ ۲۰۱۳ء

٭٭٭

مصلح الدین مشرف شیخ سعدی ؒ شیرازی

حکایاتِ سعدی

(افسانچے کی ابتدائی صورت)

بادشاہ اور درویش

            ایک نیک آدمی نے خواب میں دیکھا کہ ایک بادشاہ جنت میں ہے اور ایک درویش دوزخ میں پڑا ہے۔ وہ سوچ میں پڑ گیا کہ لوگ تو یہ سمجھ رہے تھے کہ بادشاہ دوزخ میں ہو گا اور درویش جنت میں۔ لیکن یہاں تو معاملہ اس کے بر عکس نکلا۔ معلوم نہیں اس کا کیا سبب ہے۔

           غیب سے آواز آئی:یہ بادشاہ درویشوں سے عقیدت رکھتا تھا اس لیے بہشت میں ہے۔ اور اس درویش کو بادشاہوں کے تقرب کا بڑا شوق تھا، اس لیے جہنم میں ہے۔

٭٭

سود خور جہنم کا ایندھن

               کوئی سود خور سیڑھیوں سے گر پڑا اور گرتے ہی اس کا دَم مسافر ہو گیا۔ اس کا بیٹا کئی دن تک روتا رہا۔ بالآخر اس نے اپنے آپ کو سنبھالا اوردوستوں کی مجلسوں میں شرکت کرنی شروع کر دی۔ ایک رات باپ کو خواب میں دیکھا تو پوچھا کہ حساب کتاب سے کیسے خلاصی ہوئی۔

      اُس نے جواب دیا کہ بیٹا کچھ نہ پوچھو۔ میں سیڑھیوں سے زمین پر نہیں سیدھا جہنم میں گرا۔ گویا مرتے ہی جہنم میں پہنچ گیا۔ اب میں ہوں اور جہنم کے شعلے۔ اس نے کہا بیٹا! مجھ سے عبرت پکڑو۔ میں سود خوری کرتا رہا ہوں۔ تم ہر گز نہ کرنا۔ حرام خوری کی وجہ سے انسان سیدھا جہنم میں جاتا ہے۔

٭٭

قرض

        چند غریب کسی بنئے کے قرض دار ہو گئے تھے۔ بنیا روز تقاضے پر تقاضا کرتا اور ساتھ ہی سخت و سست سنا دیتا۔

مگر براشد کرنے کے سوا اور کیا کر سکتے تھے۔ ایک دانا نے واقعے سے واقف ہو کر کہا:’’نفس کو وعدے پر ٹالنا، بنئے کو روپوں کے وعدہ پر ٹالنے سے زیادہ آسان تھا۔

٭٭

پرہیز گاری

         ایک فقیر نے کسی نشہ مست درویش کو گرتے ہوئے دیکھا تو اپنی ظاہر داری پر مغرور ہو گیا۔ تکبر کی وجہ سے اس کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ وہ مدہوش درویش سر اُٹھا کر کہنے لگا:

اے پیر مرد! اگر خدا نے تجھے انعام کیا ہے تو اس کا شکریہ ادا کر۔ کیونکہ تکبر کرنے والے کو محرومی کے سوا کچھ نہیں ملتا۔

جیسے شیطان بھی تکبر سے مردود ہوا۔ کسی کو گرفتار دیکھ کر رک کرہنسنا نہ چاہئے۔ خدانخواستہ کل تم خود گرفتار ہو جاؤ۔

     کسی گنہگار کو دیکھ کر اپنی پرہیز گاری پر مغرور نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ تجھے پرہیزگاری کی توفیق بھی خدا نے دی ہے۔ اور فاسق پر پرہیزگاری کا دروازہ بھی اسی نے بند کیا ہے۔ اور اس کے برعکس بھی کر سکتا ہے۔

٭٭

غیبت اور بد گوئی حلال نہیں

         کوئی صوفی مذاق میں ایک لڑکے سے ہنسنے لگا۔ دوسرے درویشوں نے اس کی ہنسی کو بدکاری پر محمول کر کے چہ میگوئیاں شروع کر دیں کہ اس لڑکے سے اس کی نیت خراب ہے۔ یہ بات چلتی چلتی ایک صاحبِ نظر تک پہنچی تو اس نے کہا اپنے صوفی بھائی کی پردہ دری کرو۔ اگر مذاق حرام ہے تو غیبت اور بد گوئی بھی حلال نہیں۔

  اپنے ہم جماعت لوگوں کی غلطیوں سے درگزر کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس کی تشہیر کرنا در اصل اپنے گروہ کو ننگا کرنا ہے۔

٭٭

سونے کی اینٹ

          ایک پارسا کو سونے کی اینٹ کہیں سے مل گئی۔ دنیا کی اس دولت نے اس کے نورِ باطن کی دولت چھین لی اور وہ ساری رات یہی سوچتا رہا کہ اب میں سنگِ مر مر کی ایک عالی شان حویلی بنواؤں گا۔ بہت سے نوکر چاکر رکھوں گا، عمدہ عمدہ کھانے کھاؤں گا اور اعلیٰ درجے کی پوشاک سلواؤں گا۔ غرض تمول کے خیال نے اسے دیوانہ بنا دیا۔ نہ کھانا پینا یاد رہا اور نہ ذکرِ حق۔ صبح کو اسی خیال میں مست جنگل میں نکل گیا۔ وہاں دیکھا کہ ایک شخص ایک قبر پر مٹی گوندھ رہا ہے تاکہ اس سے اینٹیں بنائے۔ یہ نظارہ دیکھ کر پارسا کی آنکھیں کھل گئیں۔ اور اس کو خیال آیا کہ مرنے کے بعد میری قبر کی مٹی سے بھی لوگ اینٹیں بنائیں گے۔ عالی شان مکان، اعلیٰ لباس اور عمدہ کھانے سب یہیں دھرے رہ جائیں گے۔ اس لیے سونے کی اینٹ سے دل لگانا بیکار ہے۔ ہاں دل لگانا ہے تو اپنے خالق سے لگا۔ یہ سوچ کر اس نے سونے کی اینٹ کہیں پھینک دی اور پھر پہلے کی طرح زہد و قناعت کی زندگی بسر کرنے لگا۔

٭٭

غریب اور بہشت

          دو آدمی قبرستان میں بیٹھے تھے، ایک اپنے دولت مند باپ کی قبر پر اور دوسرا اپنے درویش باپ کی قبر پر۔

امیر زادے نے درویش لڑکے کو طعنہ دیا کہ میرے باپ کی قبر کا صندوق پتھر کا ہے۔ اس کا کتبہ رنگین اور فرش  سنگِ مرمر کا ہے اور فیروزے کی اینٹ اس میں جڑی ہوئی ہے۔ اس کے مقابلے میں تیرے باپ کی قبر کتنی خستہ حال ہے

کہ دو مٹھی مٹی اس پر پڑی ہے اور دو اینٹیں اس پر رکھی ہیں۔ درویش زادے نے جواب دیا یہ درست ہے لیکن یہ بھی تو سوچو کہ قیامت کے دن جب مردے قبروں سے اٹھائے جائیں گے، اس سے پہلے کہ تیرا باپ بھاری پتھروں کے نیچے جنبش کرے، میرا باپ بہشت میں پہنچا ہو گا۔

٭٭

قیمتی موتی

        بارش کا ننھا قطرہ بادل سے ٹپکا۔ جب اس نے سمندر کی چوڑائی دیکھی تو شرمندہ ہوا اور دل میں کہا کہ سمندر کے سامنے میری حیثیت کیا ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے تو میں نہ ہونے کے برابر ہوں۔ جب اس نے اپنے آپ کو حقیر جان کر دیکھا تو ایک سیپی(صدف) نے اس کو اپنے منہ میں لے لیا اور دل و جان سے اس کی پرورش کی۔ تھوڑے ہی دنوں میں یہ قطرہ ایک قیمتی موتی بن گیا اور بادشاہ کے تاج کی زینت بنا۔

٭٭

صدر

          حلب کے بازاروں میں ایک فقیر صدا لگاتا پھر رہا تھا:

’’دولت مندو!اگر تم میں انصاف ہوتا اور ہمیں صبر کی توفیق ہوتی تو دنیا سے سوال کی رسم ہی اُٹھ جاتی۔ ‘‘

٭٭

علم اور دولت

        مصر میں کسی جگہ دو بھائی رہتے تھے، ایک نے علم پڑھا اور دوسرا مال جمع کرتا رہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پڑھنے والا تو علامہ ہو گیا اور روپیہ جمع کرنے والا شاہی خزانچی بن گیا۔ ایک بار دولت مند نے عالم بھائی کی طرف حقارت سے دیکھا اور کہا ’’ہم تو خزانے کے مالک ہو گئے مگر تم مفلس ہی رہے۔ ‘‘۔ ۔ ۔ عالم بھائی نے کہا ’’بھائی جان! میں تو اس حال پر خدا کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے پیغمبروں کی میراث(علم کی دولت)عطا فرمائی ہے، مگر آپ ہیں کہ فرعون کی وراثت پر اترا رہے ہیں۔ ‘‘

٭٭

جوتا اور پاؤں

          زمانے کی گردش اور دنوں کی سختی سے میں کبھی دل شکستہ اور رنجیدہ نہیں ہوا مگر ایک بار ضرور ملال ہوا جب  میرے پاؤں میں جوتی نہ تھی اور نہ خریدنے کو جیب میں پیسہ تھا۔ میں حیران و پریشان کوفہ کی مسجد میں جا نکلا۔ دیکھتا کیا ہوں کہ ایک شخص کے پاؤں ہی نہیں ہیں۔ پس میں نے اپنے پاؤں کی سلامتی پر خدا کا شکر ادا کیا اور ننگے پاؤں رہنا ہی غنیمت سمجھا۔

٭٭

بے کار

        کسی لولے لنگڑے نے ایک کنکھجورے کو مار ڈالا۔

حالانکہ اس کے سینکڑوں پاؤں تھے مگر موت کے آگے سب بے کار ہو گئے۔

٭٭

موتی اور چنے

         ایک عرب نے بصرے کے جوہریوں کو اپنی سرگزشت سنائی کہ ایک بار جنگل میں ایسے وقت بھٹک گیا کہ کھانے پینے کا سامان ختم ہو چکا تھا اور سامنے موت نظر  آ رہی تھی۔ اتنے میں ایک تھیلی پر نظر پڑی۔ میں اس خوشی کو بھول نہیں سکتا جو اسے دیکھ کر مجھے حاصل ہوئی۔ میں نے سمجھا تھا کہ تھیلی میں بھنے ہوئے چنے ہیں۔ لیکن جب کھول کر دیکھا تو اس میں چنوں کی جگہ موتی تھے۔ اُس وقت مجھے جو رنج ہوا، وہ زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔

٭٭

جدا جدا فطرت

     ایک بادشاہ نے اپنا بیٹا ایک معلم کے سپرد کیا اور کہا کہ اس کی ایسی تربیت کر، جیسے اپنے حقیقی بیٹے کی کرتا ہے۔ معلم نے کئی برس نہایت تن دہی سے اس کی تربیت کی لیکن شہزادے پر کچھ اثر نہ ہوا اور وہ کورے کا کورا رہا۔ اس دوران معلم کے بیٹے پڑھ لکھ کر اعلیٰ درجے کے عالم و فاضل بن گئے۔ بادشاہ نے معلم سے باز پرس کی اور خشم آلود ہو کر کہا کہ’’ تو نے وعدہ خلافی کی ہے اور شرطِ وفا نہیں بجا لایا‘‘۔ معلم نے عرض کی:’’جہاں پناہ! میں نے شہزادے اور اپنے بیٹوں کی تربیت یکساں طور پر کی ہے۔ لیکن اس کا کیا علاج کہ ہر انسان کی فطری صلاحیت جدا جدا ہے۔ شہزادے میں فطری صلاحیت نہیں تھی، اس لیے کچھ حاصل نہ کر سکا۔ میرے بچوں میں فطری صلاحیت تھی وہ کہیں سے کہیں جا پہنچے‘‘۔ ۔ ۔ سونا چاندی پتھر سے نکلتا ہے لیکن ہر پتھر سے سونا چاندی نہیں نکلتا۔

٭٭٭

خلیل جبران

حکایات اور اقوال

(افسانچوں کی ایک اور ابتدائی صورت)

لین دین

      ایک شخص کے پاس اتنی سوئیاں تھیں کہ ان سے ایک وادی پُر ہو سکتی تھی۔ ایک دن(مسیح کی والدہ)مریم اس کے پاس آئی اور کہا :’’بھائی!میرے بیٹے کا لباس پھٹ گیا ہے، قبل اس کے کہ وہ ہیکل میں جائے، میں اس کا لباس  مرمت کرنا چاہتی ہوں۔ کیا تم مجھے ایک سوئی عنایت کر سکتے ہو؟۔ ۔ ۔ اُس نے مریم کو سوئی نہ دی لیکن لین دین کے متعلق ایک عالمانہ لیکچر دے کر کہا کہ جب تمہارا بیٹا ہیکل کو جانے لگے تو اسے میرا یہ وعظ سنا دینا۔

٭٭

نشاطِ نو

          کل رات میں نے ایک نئی قسم کی مسرت دریافت کی۔ اور جب میں نے اس کا پہلی بار مزہ چکھا تو نیکی اور بدی کے فرشتے میرے گھر کی طرف دوڑے۔ وہ میرے مکان کے دروازے پر ایک دوسرے سے ملے اور میری نئی مسرت کے متعلق جھگڑنا شروع کر دیا۔ ایک نے کہا یہ’ ’گناہ‘‘ ہے۔ دوسرے نے کہا نہیں یہ’’ نیکی ‘‘ہے۔

٭٭

دوسری زبان

     اپنی پیدائش کے تین دن بعد جب میں ریشمی پنگھوڑے میں پڑا اپنی ارد گرد کی دنیا کو حیرت سے دیکھ رہا تھا تو میری والدہ نے انا سے پوچھا ’’کیسا ہے میرا لال؟‘‘

      انا نے جواب دیا ’’بیگم صاحبہ بچہ بہت اچھا ہے، میں نے اسے تین بار دودھ پلایا ہے۔ میں نے آج تک ایسا بچہ نہیں دیکھا جو اتنا خوش ہو۔ ‘‘

     میں بے قرار ہو کر چلا اُٹھا ’’ماں یہ سچ نہیں۔ ۔ ۔ کیونکہ میرا بچھونا سخت ہے اور میں نے جو دودھ پیا ہے وہ میرے منہ کو کڑوا لگا ہے  اور چھاتی کی بد بو میرے لیے ایک عذابِ علیم ہے۔ میں بہت تکلیف میں ہوں ماں۔ ‘‘

لیکن میری بات نہ میری سمجھ سکی نہ انا۔ کیونکہ میں جس زبان میں بول رہا تھا وہ اِس دنیا کی زبان نہ تھی بلکہ ُاس دنیا کی زبان تھی جہاں سے سے میں آیا تھا۔

    اکیسویں دن ہمارے ہاں ایک کاہن آیا اور اس نے میری ماں سے کہا کہ’’ تمہیں خوش ہونا چاہیے کہ تمہارا بیٹا پیدائشی مومن ہے‘‘۔ مجھے حیرت ہوئی اور میں نے کاہن سے کہا ’’پھر تمہاری متقی والدہ کو افسوس ہونا چاہئے کیونکہ تم ایک پیدائشی مومن نہ تھے۔ ‘‘لیکن کاہن بھی میری زبان نہ سمجھ سکا۔

سات مہینوں کے بعد ایک منجم نے مجھے دیکھا اور میری ماں سے کہا ’’تمہارا بیٹا بہت بڑا سیاست داں اور جلیل القدر رہنما ہو گا۔ ‘‘۔ ۔ ۔ میں چیخ اُٹھا:’’یہ غلط پیش گوئی ہے ماں، کیونکہ میں ایک مغنی کے سوا کچھ نہ بنوں گا‘‘ لیکن اس عمر میں بھی میری زبان کسی کی سمجھ میں نہ آئی۔ اور مجھے سخت حیرت ہوئی۔ اور اب میری عمر تینتیس سال کی ہے۔

میری ماں، میری انا اور کاہن سب مر چکے ہیں لیکن وہ نجومی ابھی تک زندہ ہے اور کل مجھے معبد کے دروازے کے قریب ملا، جب ہم ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے تو اس نے کہا:’’میں شروع سے جانتا تھا کہ تم ایک مغنی بنو گے۔ اور میں نے تمہارے بچپن میں بھی یہی پیش گوئی کی تھی۔ ‘‘

              میں نے اس کی بات پر یقین کر لیا کیونکہ اب میں خود اپنی پہلی زبان بھول  چکا ہوں۔

٭٭

انار کی کلی

       ایک دفعہ جب میں انار کی کلی میں رہتا تھا تو میں نے ایک بیج کو یہ کہتے ہوئے سنا’’کسی دن میں ایک درخت بن جاؤں گا۔ ہوا میری ٹہنیوں میں گیت گائے گی۔ سورج کی کرنیں میرے پتوں پر رقص کریں گی۔ اور میں تمام موسموں میں خوبصورت اور طاقتور ہوں گا۔ ‘‘۔ ۔ ۔ ۔ پھر دوسرا بیج بولا:’’جب میں تمہاری طرح جواں تھا تو میرے بھی یہی خیالات تھے لیکن اب جبکہ میں تمام چیزوں کا صحیح اندازہ کر سکتا ہوں، میں محسوس کرتا ہوں کہ میری تمام توقعات غلط ثابت ہوئی ہیں۔ ‘‘ تیسرا بیج بولا ’’ہم میں کوئی بات ایسی نہیں جس سے ہمارا مستقبل شاندار معلوم ہو۔ ‘‘

  چوتھے نے کہا ’’لیکن ایک شاندار مستقبل کے بغیر ہماری زندگی محض ایک سوانگ ہو گی‘‘۔ ۔ پانچویں نے کہا ’’جب ہم نہیں جانتے کہ ہم کیا ہیں تو پھر اس بات پر بحث کرنے کی کیا ضرورت ہے کہ ہم مستقبل میں کیا بنیں گے۔ چھٹے نے جواب دیا ’’ہم جو کچھ ہیں وہی کچھ ہمیشہ رہیں گے‘‘۔ ۔ ۔ ۔ ساتویں نے کہا ’’مجھے آنے والے واقعات کا پورا علم ہے لیکن میں انہیں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ ‘‘اس کے بعد آٹھواں بولا، پھر نواں اور پھر دسواں۔ حتیٰ کہ تمام بیج اس بحث میں کود پڑے۔ مجھے ان لا تعداد آوازوں میں کسی کی بات بھلی معلوم نہ ہوئی  اس لیے میں نے اسی دن ایک شگوفے کے دل میں جگہ بنا لی، جس میں بیج بھی تھوڑے ہیں اور زیادہ بات چیت بھی نہیں کرتے۔

٭٭

دو پنجرے

      میرے باپ کے باغ میں دو پنجرے ہیں۔ ایک میں وہ شیر قید ہے جسے میرے باپ کے غلام نینوا کے صحراسے پکڑ کر لائے تھے۔ دوسرے میں ایک چڑیا ہے جو گانے سے قاصر ہے۔

         چڑیا ہر روز صبح کے وقت شیر سے کہتی ہے:’’بھائی قیدی ! صبح بخیر!!‘‘

٭٭

آنکھ

         ایک دن آنکھ نے کہا:’’میں ان وادیوں سے پرے نیلگوں دھند سے ڈھکے ہوئے پہاڑ کو دیکھ رہی ہوں۔

کیا وہ خوبصورت نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

     کان نے سنا اور تھوڑی دیر غور کرنے کے بعد کہا ’’لیکن پہاڑ ہے کہاں ؟مجھے تو اس کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ ‘‘

     پھر ہاتھ نے کہا ’’میں اسے چھونے اور محسوس کرنے کی بیکار کو شش کر رہا ہوں، مجھے کوئی پہاڑ نہیں ملتا۔ ‘‘

     ناک نے کہا ’’یہاں کوئی پہاڑ نہیں کیونکہ میں اسے سونگھ نہیں سکتی۔ ‘‘

آنکھ نے اپنی توجہ دوسری طرف کر لی۔ پھر وہ تینوں آنکھ کے حیرت انگیز تصورات پر بحث کرنے لگے۔ انہوں نے کہا

’’معلوم ہوتا ہے کہ آنکھ کو ضرور کچھ جنون ہو گیا ہے۔ ‘‘       ٭٭٭

سعادت حسن منٹو

افسانچے

کرامت

       لوٹا ہوا مال برآمد کرنے کے لئے پولیس نے چھاپے مارنے شروع کئے۔

لوگ ڈر کے مارے لوٹا ہوا مال رات کے اندھیرے میں باہر پھینکنے لگے۔ کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنا مال بھی موقعہ پا کر اپنے سے علیحدہ کر دیا تاکہ قانونی گرفت سے بچے رہیں۔

ایک آدمی کو بہت دقت پیش آئی۔ اس کے پاس شکر کی دو بوریاں تھیں جو اس نے پنساری کی دوکان سے لوٹی تھیں۔

ایک تو وہ جوں توں رات کے اندھیرے میں پاس والے کنویں میں پھینک آیا۔ لیکن جب دوسری اُٹھا کر اس میں ڈالنے لگا تو خود بھی ساتھ چلا گیا۔ شور سن کر لوگ اکٹھے ہو گئے۔ کنویں میں رسیاں ڈالی گئیں۔ دو جوان نیچے اترے اور اس آدمی کو باہر نکال لیا۔ لیکن چند گھنٹوں کے بعد وہ مر گیا۔

دوسرے دن جب لوگوں نے استعمال کے لئے اس کنوئیں میں سے پانی نکالا تو وہ میٹھا تھا۔

اسی رات اس آدمی کی قبر پر دئیے جل رہے تھے۔

٭٭

صدقے اس کے

   مجرا ختم ہوا۔ تماشائی رخصت ہو گئے تو استاد جی نے کہا:

سب کچھ لُٹا پٹا کر یہاں آئے تھے لیکن اللہ میاں نے چند دنوں میں ہی وارے نیارے کر دئیے۔

٭٭

اشتراکیت

     وہ اپنے گھر کا تمام ضروری سامان ایک ٹرک میں لدوا کر دوسرے شہر جا رہا تھا، کہ راستے میں لوگوں نے اسے روک لیا۔ ایک نے ٹرک کے مال و اسباب پر حریصانہ نظر ڈالتے ہوئے کہا ’’دیکھو یارکس مزے سے اتنا مال اکیلا اڑائے چلا جا رہا تھا۔ ‘‘

اسباب کے مالک نے مسکرا کر کہا ’’جناب یہ مال میرا اپنا ہے۔ ‘‘

 دو تین آدمی ہنسے’’ہم سب جانتے ہیں ‘‘۔

ایک آدمی چلایا ’’لوٹ لو یہ میرا آدمی ہے۔ ٹرک لے کر چوریاں کرتا ہے۔ ‘‘

٭٭

الہنا

’’دیکھو یار، تم نے بلیک مارکیٹ کے دام بھی لئے اور ایسا ردی پٹرول دیا کہ ایک دوکان بھی نہ جلی‘‘

٭٭

ہمیشہ کی چھٹی

’’پکڑ لو۔ ۔ پکڑ لو۔ ۔ دیکھو جانے نہ پائے۔ ‘‘

شکار تھوڑی دوڑ دھوپ کے بعد پکڑ لیا گیا۔ جب نیزے اس کے آر پار ہونے کے لئے آگے بڑھے تو اس نے لرزاں آواز میں گڑگڑا کر کہا:’’مجھے نہ مارو۔ ۔ مجھے نہ مارو۔ ۔ میں تعطیل میں اپنے گھر جا رہا ہوں۔ ‘‘

٭٭

سوری

چھُری پیٹ چاک کرتی ہوئی ناف کے نیچے تک چلی گئی۔ ازار بند کٹ گیا۔ چھری مارنے والے کے منہ سے دفعتاً کلمۂ تاسف نکلا۔ ’’چ۔ چ۔ چ، چ۔ ۔ ۔ ۔ مشٹیک ہو گیا۔ ‘‘

٭٭

بے خبری کا فائدہ

لبلبی دبی، پستول سے جھنجھلا کر گولی باہر نکلی۔ کھڑکی میں سے باہر جھانکنے والا آدمی اسی جگہ دہرا ہو گیا۔

لبلبی تھوڑی دیر کے بعد پھر دبی۔ ۔ ۔ دوسری گولی بھنبھناتی ہوئی باہر نکلی۔ سڑک پر ماشکی کی مشک پھٹی۔ اوندھے منہ گر ا اور اس کا لہو مشک کے پانی میں حل ہو کر بہنے لگا۔

لبلبی تیسری بار دبی۔ ۔ نشانہ چُوک گیا۔ گولی ایک گیلی دیوار میں جذب ہو گئی۔

چوتھی گولی ایک بوڑھی عورت کی پیٹھ میں لگی۔ وہ چیخ بھی نہ سکی اور وہیں ڈھیر ہو گئی۔

پانچویں اور چھٹی گولی بیکار گئی۔ کوئی ہلاک ہوا نہ زخمی۔ گولیاں چلانے والا بھنا گیا۔ دفعتاً سڑک پر ایک چھوٹا سا بچہ دوڑتا دکھائی دیا۔ گولیاں چلانے والے نے پستول کا منہ اس طرف موڑا۔ اس کے ساتھی نے کہا ’’یہ کیا کرتے ہو؟‘‘

گولیاں چلانے والے نے پوچھا ’’کیوں ؟‘‘

’’گولیاں تو ختم ہو چکی ہیں۔ ‘‘

’’تم خاموش رہو، اتنے سے بچے کو کیا معلوم ہے؟‘‘

٭٭٭

جوگندر پال (دہلی)

افسانچے

(اردو افسانچہ اپنے تخلیقی کمال پر)

 ار ے ہاں

     اس نے اپنی تلاش میں گھر بار تیاگ دیا اور چار کھونٹ گھومتا پھرا، اور تلاش کرتے کرتے بھول گیا کہ وہ کیا تلاش کئے جا رہا ہے۔ مگر ایک دن اچانک اپنے آپ کو پھر اپنے گھر کی چوکھٹ پر پا کر مسرت سے اس کی گھگی بندھ گئی، کہ وہ گھر ہی تو بھولے ہوئے تھا، اور یہیں لوٹ کر عین مین وہیں پہنچ گیا ہے جس مقام کو ڈھونڈنے یہیں سے نکل کھڑا ہوا تھا۔

٭٭

 گمشدہ

اُس کی ابھی آنکھ بھی نہ کھلی تھی کہ اُس نے ایک دم چیخ مار کر اپنی بیوی کو بلایا۔ وہ بیچاری سراسیمگی میں دوڑی دوڑی آئی۔ ’’کیا ہوا؟‘‘

’’اب کیا ہو گا؟‘‘اس کا پاگل پتی اُسے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگا

’’اپنا آپ تو میں اپنے خواب میں ہی چھوڑ آیا ہوں۔ ‘‘                         ٭٭

آج کے لوگ

ہاں، بھئی، ہاں میری موت واقع ہو لی تھی، مگر دیکھ لو، میرا دل کیسے دھائیں دھائیں دھڑکے جا رہا ہے۔

ہاں اور کیا؟پورے کا پورا مرچکا تھا مگر تم خود ہی دیکھ لو، جوں کا توں زندہ ہوں۔

کیسے کیا؟جیسے ہے، ویسے!۔ ۔ جیتے جی جب میرے دل کی دھڑکن میں خلل واقع ہوا تو ڈاکٹروں نے میرے سینے میں ایک پیس میکر(Pace Maker) فٹ کر دیا اور دعویٰ کیا کہ اب دَم نکل جانے پر بھی میرا دل جوں کا توں دھڑکتا رہے گا۔ سو جو ہے سو ہے۔ ۔ مر کھپ کر بھی۔ ۔ ۔ کیا؟۔ ۔ ۔ مرا کب؟۔ ۔ ۔ کتنے احمق ہو بھئی! جو مرگیا اسے کیا پتہ، وہ کب مرا؟۔ ۔ ہاں، بھئی، اب خدا کا ڈر کاہے کو؟مر کر خدا کے پاس تھوڑ اہی جانا ہے۔ ۔ ہاں اور کیا؟اب تو سدا اپنے ہی پاس رہنا ہے۔ ۔ ۔ ہیہ ہیہ ہا! ٹھیک کہتے ہو اب تو صرف اسی نیک کام سے نجات وابستہ ہے کہ اپنی مشین بگڑنے نہ دو۔

٭٭

اپنا اپنا

       ایک دفعہ سائبیریا کا ایک باشندہ ہمیں بتا رہا تھا۔ ’’پھر کیا ہوا کہ میرے دیکھتے ہی دیکھتے ایک عجیب و غریب اُڑن کھٹولا زمین پر اُتر آیا۔ اس اُڑن کھٹولے سے دو شکلیں باہر نکلیں۔ بڑی مختلف النوع مخلوق تھی۔ الٹا سیدھا لباس پہن رکھا تھا ا ور چہروں پو کوئی آلے جما رکھے تھے۔ ‘‘

’’کیا انہوں نے بھی آپ کو دیکھا؟‘‘

’’نہیں، میں پاس ہی جھاڑی میں چھپ گیا تھا۔ ۔ تھوڑی دیر میں دو میں سے ایک کا آلہ اس کے منہ سے گر کر سینے پر لٹکنے لگا۔ اتنا عجیب چہرہ تھا کہ میرے بیان سے باہر ہے۔ کچھ دیر وہ آپس میں باتیں کرتے رہے۔ ‘‘

’’کیا باتیں کرتے رہے؟‘‘

’’مجھے ان کی زبان تو نہیں آتی مگر جب ایک نے دوسرے کی طرف دیکھ کر چونکی چونکی آواز میں ایک جملہ بولا تو مجھے لگا، اس نے کہا ہے، بے وقوف اپنا آلہ جلدی سے منہ پر چڑھا لو، ورنہ آکسیجن کے زہر سے دَم توڑ دو گے۔ ‘‘

٭٭

محض

میں اپنے پیروں کے ٹکاؤ، ہاتھوں کی پینگ اور سر کی چھتری پر ہی اپنی ذات کو محمول کرنے لگا اور میری اصلی ذات سالہا سال بڑے صبر و سکون سے دو سرے عالم میں میرا انتظار کرتی رہی اور ہنستی رہی کہ میں اپنے آپ کو محض جوگندر پال سمجھ بیٹھا ہوں۔

٭٭

بسے ہوئے لوگ

     میرے ناول کے ہیرواور ہیروئن دونوں مجھ سے ناراض تھے، کیونکہ جب ان کی شادی کے اسباب آپ ہی آپ عین فطری طور پر انجام پار ہے تھے تو میں نے ان کا بنا بنایا کھیل چوپٹ کر دیا اور اپنی ترجیحوں کو ناول پر لاد کر انہیں آخری صفحے تک ایک دوسرے سے جدا کرنے پر اڑا رہا۔

        نہیں، میں ان دونوں کو بے حد عزیز رکھتا ہوں، مگر مشکل یہ ہے کہ اگر انہیں ایک دوسرے کے لیے جینے کا موقع فراہم کر دیتا ہے تو میری اپنی زندگی کے نشانے دھرے رہ جاتے۔ وہ بہر حال میرے کردار تھے اور جو اور جیسے تھے، میری ہی بدولت تھے اور انہیں یہی ایک چارہ تھا کہ میری زندگی کا اسباب کرتے رہیں۔

 مگر وہ دونوں تو موقع کی تاک میں تھے۔ ایک دن نظریں بچا کر اچانک غائب ہو گئے۔ میں نے ناول کے مسودے کی ایک ایک سطر چھان ماری اور مقام پر انہیں اپنے ناموں کی اوٹ میں ڈھونڈتا رہا، مگر وہ وہاں ہوتے تو ملتے۔

        مجھے بڑا پچھتاوا محسوس ہونے لگا۔

       اگر وہ مجھے کہیں مل جاتے تو میں فوراً ان کا نکاح پڑھوا دیتا۔ مگر اب کیاہوسکتا تھا؟ میں منھ سر لپیٹ کر پڑ گیا۔

        آپ حیران ہوں گے کہ کئی سال بعد ایک دن وہ دونوں بہ اتفاق مجھے اپنے ہی شہر میں مل گئے۔

        نہیں، وہ مجھے بڑے تپاک سے ملے اور اپنے گھر لے گئے۔

        میرے ناول کے پنوں سے نکلتے ہی انھوں نے اپنی شادی کی تدبیر کر لی تھی اور اتنے سال بعد اب تین پھول جیسے بچوں کے ماں باپ تھے اور ان کا گھر بار خوب آباد تھا۔

نہیں، انہیں اپنے سنسار میں اس قدر پھلتے پھولتے پا کر مجھے حوصلہ ہی نہ ہوا کہ انہیں ناول میں لوٹ آنے کو کہتا۔

٭٭

ہیرو

       میں اور کیا کرتا؟

      ہمیں اپنے نئے فیچر فلم کے لئے چند نئے چہروں کی ضرورت تھی اور ہماری فلم کمپنی کے مالک آپا صاحب نے مجھے کہہ رکھا تھا، دوسرے کسی بھی رول کے لئے جسے چاہو رکھ لو، مگر فلم کا ہیرو میرا اپنا ہی آدمی بنے گا۔

      آپا صاحب کا اپنا آدمی خصلتاً ولین تھا اور حالانکہ ہمارے فلم میں اس کا ہیرو بننا بالکل طے تھا، پھر بھی مجھے شاید ذہنی طور پر بدستور ہیرو کی تلاش تھی۔ یا کسے معلوم، کیا؟۔ ۔ میں نے کیا کیا کہ اپنی رو میں ایک ایسے نوجوان کو ولین کا رول سونپ دیا جو مجھے اپنے ہیرو کے مانند فطرتاً حسّاس، نیک طینت اور معصوم سا لگا۔

     ’’مگر میں۔ ۔ ۔ ‘‘اس نوجوان نے جھجک کر شاید تامل کا اظہار کرنا چاہا۔

    ’’میں وَیں کیا؟‘‘ میں جھلا گیا’’جب تک پورے ولین نہیں بنو گے، تمہیں ہیرو کون مانے گا؟‘‘

٭٭

کچّا پَن

     ’’بابا، تم بڑے میٹھے ہو۔ ‘‘

     ’’یہی تو میری مشکل ہے بیٹا۔ ابھی ذرا کچا اور کھٹا ہوتا تو جھاڑ سے جڑا رہتا۔ ‘‘

٭٭

موجود

        کیا مجال، کوئی جان پہچان والا مر جائے اور وہ اس کے جنازے میں شامل نہ ہو۔ مگر آج ہم اسی کا جنازہ لئے قبرستان کی طرف جا رہے ہیں، اور کسی نے آگے پیچھے دیکھتے ہوئے مجھ سے حیرت سے پوچھا ہے۔

’’تعجب ہے، آج وہ نہیں آیا!‘‘

٭٭

جیون کھیل تماشہ

       ’’میں سپنوں میں بہتر دِکھتا ہوں۔ ‘‘

      ’’مگر اس وقت تو آپ ہو بہو میرے سامنے موجود ہیں۔ ‘‘

      ’’کیا سپنے میں بھی سب کچھ ہو بہو نہیں ہوتا؟‘‘

      ’’مگر پھر آنکھ کھلتے ہی سب کچھ ایک دَم مٹی کیسے ہو جاتا ہے؟‘‘

      ’’ہاں بابا، جیسے آنکھ لگتے ہی ہم۔ ۔ ۔ ‘‘

٭٭

نیا آدمی

      موت گھبرا گئی کہ وہ اُس کی جان کیسے لے۔ وہ تو میری آمد سے پہلے ہی مَر چکا ہے۔ مگر وہ متعجب تھی کہ یکسر مَر جانے کے باوجود مرحوم عین مین چل پھر رہا تھا۔ موت کو اپنے چمتکار پر سراسیمہ پا کر مرحوم کا سینہ فخر سے پھول گیا۔

٭٭

بھوت بسیرا

’’ یا الٰہی، یہ ماجرا کیا ہے؟مہا نگر کے گھر گھر، جہاں بھی قدم رکھو، گھر خالی پڑا ہوتا ہے۔ آخر سب کے سب گئے کہاں ؟‘‘

’’ارے، اتنا بھی معلوم نہیں ؟سب کے سب ٹی وی کے ڈبے میں بند پڑے ہیں۔ ‘‘

’’پر۔ ۔ ۔ ۔ ؟‘‘

’’ارے بھائی، بھوتوں اور جنوں کا زمانہ ہے۔ ڈبوں اور بوتلوں میں بند نہ پڑے رہیں تو جان پر بَن آئے۔ ‘‘

٭٭٭

جوگندر پال

نہیں رحمن بابو

        میرے کلینک میں آج ایک روبو  آ نکلا، رحمن بابو، چیک اپ کے بعد میں نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو وہ بتانے لگا، میں تھکا تھکا رہنے لگا ہوں، ڈاکٹر۔

اور اس کی شکایت سن کر مجھے یہ فکر لا حق ہونے لگی کہ کہیں اس میں جان تو نہیں پڑ گئی۔

٭٭

نہیں، رحمن بابو، میں پاگل نہیں ہوں۔ ۔ ۔ کیا؟۔ ۔ ۔ اپنے آپ سے باتیں کیوں کرتا رہتا ہوں ؟تم ہی بتاؤ رحمن بابو، گم شدگان تک اور کیسے پہنچا جا سکتا ہے؟

٭٭

ہم سب ہم مذہب ہیں رحمن بابو،

مگر اس کا کیا کیا جائے کہ ہر کسی کو اپنی اپنی بساط کا ہی خدا ملتا ہے۔

٭٭

تمہاری رائے سے مجھے اتفاق ہے رحمن بابو۔

تم کہتے ہو، دشمن سے ہمیشہ دوستی سے پیش آؤ۔ میں نے ساری زندگی یہی کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ دشمن سے سدا دوستی سے ہی پیش آتے رہو تو وہ جیتے جی مر جاتا ہے۔ ۔ ۔ کیسے؟

ایسے بابو کہ میں بھی اپنے قابو میں کہاں تھا۔ مجھے یقین ہو گیا تھا کہ اپنا سب سے بڑا دشمن میں خود آپ ہوں۔ پھر بھی میں اپنے آپ سے دوستی سے پیش آتا رہا۔ حتیٰ کہ میری روح میرا جسم چھوڑ کر آسمان کو پرواز کر گئی۔

نہیں بابو، اب کیا ہو سکتا ہے؟ مرے ہوئے کو بھی کوئی زندہ کر سکتا ہے؟

٭٭

کیا سمجھنا چاہتے ہو رحمن بابو؟

ساری عمر سمجھ بوجھ سے ہی کام لے لے کر تو کنارے پر آ لگے ہو۔ اب آگے کی خبر لینا چاہتے ہو تو بے خبر ہو جاؤ۔

٭٭

      ’’میری ماں کو مَرے پندرہ برس ہو لیے ہیں رحمن بابو، آج میں نے اس کی تصویر دیکھی تو رنجیدہ ہو کر سوچنے لگا، تصویریں ہی اصل ہوتی ہیں جو رہ جاتی۔ ماں تو محض گمان تھی جو گزر گئی‘‘

٭٭

’’پہلے بھی لوگ جھوٹ بولا کرتے تھے رحمن بابو، مگر تھے بڑے ایمان پرست۔ اسی لیے عدالتوں نے فیصلہ کر لیا کہ ہر مقدمے سے پہلے اُنہیں خدا اور ایمان کی قسم کھانے کو کہا جائے۔ ۔ ۔ ہاں، یوں ہر مجرم مقدمہ شروع ہونے سے پہلے ہی دھر لیا جاتا۔

        ہاں اُسی وقت سے عدالتیں خدا کی قسم سے ہی ہر کیس کی چھان بین شروع کرتی آ رہی ہیں۔ ۔ ۔

        بجا کہتے ہو، بابو۔ اب تو خدا کی گواہی کا موقعہ پا کر مجرم اتنا کارگر جھوٹ بولتے ہیں کہ بے گناہ فوراً اپنے جرم کا اقبال کر کے عدالتی رحم کے لیے ہاتھ پھیلا دیتے ہیں۔ ‘‘

٭٭

       ’’ہاں، رحمن بابو، اُس غریب ماشکی کو یہ ڈیوٹی سونپی گئی ہے کہ ہفتے میں ایک بار ہمارے سیاسی نیتا کے بُت کو دھو کر صاف کر دیا جائے، تاکہ منہ کالا نہ پڑ جائے۔ کیا؟۔ ۔

    ہاں، نیتا لوگ خود آپ بھی تو بُت کے بُت ہوتے ہیں۔ ۔ ہاں، بابو، کچھ کرتے دھرتے تو ہیں نہیں، پھر بھی اُن کی تعریف کے نعرے سُن سُن کر کان پکنے لگتے ہیں۔

نہیں، بابو، غریب لوگ بے چارے کیا کریں ؟بُت اپنے منہ آپ تھوڑ اہی دھو سکتے ہیں، ماشکی نہ دھوئیں تو ہاتھ اُٹھا کر منہ کی کالک بھی نہ چھُپا سکیں۔ ‘‘

٭٭

         ’’نہیں رحمن بابو، اسے پتہ بھی نہ چلا اور مذہبی جنونیوں نے اسے ایک ہی وار میں ختم کر دیا۔ ۔ نہیں، اس میں ایک سانس بھی نہ بچا تھا، پھر کیا پیش آیا کہ جب اسے قبر میں لٹا دیا گیا اور ہم اس پر مٹی ڈالنے لگے تو وہ اچانک اُٹھ کر بیٹھ گیا اور ہمارے سامنے ہاتھ جوڑ جوڑ کر منت سماجت کرنے لگا، خدارا مجھے میری جان مت لو۔ ۔ خدارا۔ ۔ !

     نہیں، بابو، وہ سو فیصد مر چکا تھا مگر کیا ہوا کہ خوف کی شدت سے ہڑبڑا کر جی پڑا اور قبر میں بیٹھے بیٹھے فریادکیے گیا۔ ۔ خدا کے لیے۔ ۔ ۔ !

     نہیں، بابو، اُس وقت تو وہ بے خبری میں چل بسا تھا، اس وقت اسے خوف سے تھر تھر کانپتے ہوئے پا کر ہمیں یہی لگ رہا تھا کہ جان تو اس کی اب نکل رہی ہے۔ ‘‘

٭٭

        ’’نہیں مجھے ان سیدھے سادے قیدیوں کی کوئی فکر نہیں۔ یہ بے چارے تو دو یا دس سال کھلے کھلے اپنے کیے کی سزا بھگت کر مکت ہو جائیں گے، قابلِ رحم تو وہ سیاہ بخت ہیں جو تنگ و تاریک نظریوں کی کال کوٹھڑی میں اپنے نہ کیے کی سزا جھیل رہے ہیں۔ آؤ بابو، ان سیاہ بختوں کے حق میں دعا مانگیں۔ ‘‘

٭٭

’’میں نے ایک عمر اندھے پن میں ہی کاٹ دی رحمن بابو، لیکن جب ایک برٹش آئی بنک سے حاصل کی ہوئی آنکھیں میرے ساکٹس میں فِٹ کر دی گئیں تو مجھے دکھائی دینے لگا۔ اور میں سوچنے لگا، غیروں کا نقطۂ نظر اپنا لینے سے بھی اندھا پن دور ہو جاتا ہے‘‘

٭٭

       ’’رحمن بابو، آج صبح ہجڑوں کا ایک پورا ٹولہ تالیاں پیٹ پیٹ کر بخشش کی خاطراس عالیشان گھر کے سامنے آ بیٹھا۔ کسی نے انہیں وہاں سے اُٹھ جانے کو کہا۔ تمہیں معلوم نہیں کہ مالک مکان کا پورے کا پورا کنبہ ایک کار حادثے میں کام آ چکا ہے؟بے چارے کے آگے پیچھے کوئی نہیں رہا۔

مگر ہجڑے آئی پر آ جائیں بابو، تو ٹلتے تھوڑا ہی ہیں۔ ایک کو جو سوجھی تو اس نے جھوٹ موٹ کی آہ و زاری شروع کر دی اور پھر اس کے ساتھی بھی اس کے سُر میں سُر ملانے لگے۔ تعجب کی بات ہے بابو، ہجڑے شروع تو ہنسی مذاق میں رونے سے ہوئے پر سُر بندھتے ہی سب کے سب سچ مچ رونے لگے اور انجانے میں زارو قطار روتے چلے گئے۔ بھلا سوچو، بابو، کیوں۔ ‘‘

٭٭

’’نہیں، رحمن بابو، ایلورہ کے گپھاؤں میں تو پراچین کال کی مورتیاں چلتی پھرتی نظر آتی ہیں۔

نہیں، پہلے گُپھا میں ہی مَیں حیرت سے کھڑے کا کھڑا رہ گیا۔ اَن گنت اپسرائیں اور دیوتا باہم ناچ رہے تھے۔ ۔ نہیں بابو، سچ مچ ناچ رہے تھے اور ناچ ناچ کر بے سُدھ ہو رہے تھے۔

ہاں مجھے یہی لگا کہ وہ سب لوگ زندہ ہیں اور صرف ایک مَیں، مُورت کا مُورت!‘‘

٭٭

    ’’دیکھو، بابو، تمہارا بچہ آپ ہی آپ بے اختیار ہنسے جا رہا ہے۔ ۔ ہاں، ہر نوزائیدہ بچہ یہی کرتا ہے۔ لیٹے لیٹے آپ ہی آپ ہنسنے لگتا ہے۔ ۔ ہاں، رونے بھی لگتا ہے۔ ۔ کیوں ؟۔ ۔ کیونکہ وہ اپنے نئے جنم پر ابھی پچھلا جنم ہی جئے جا رہا ہوتا ہے۔ ۔ نہیں، اپنے بچے کو ہلا ہلا کر ڈسٹرب مت کرو۔ اِس وقت شاید وہ اپنے پوتے کو گود میں لئے کھلکھلا رہا ہو۔ ۔ ۔ ‘‘

٭٭

’’زندگی تو اٹوٹ ہے، اسے کوئی ایک جنم میں کیسے پورا کرے۔ ہاں، اسی لیے میرا کہنا ہے کہ میں ہی چیخوف ہوں، میں ہی پریم چند، میں ہی منٹو۔ ۔ ۔ اور وہ بھی کوئی، جسے ابھی پیدا ہونا ہے۔ ہاں بابو، میں اسی لیے بار بار جنم لیتا ہوں کہ اپنا کام پورا کر لوں مگر میرا کام ہر بار ادھورا رہ جاتا ہے۔ نہیں، اچھا ہی ہے کہ ادھورا رہ جاتا ہے، اسی لیے تو زندگی کو زوال نہیں، بابو۔ ‘‘

٭٭٭

شیخ سعدی، خلیل جبران اور سعادت حسن منٹو کی بیان کردہ مختصر ترین کہانیوں کی روایت کا تخلیقی عروج

منشا یاد (اسلام آباد)

افسانچے

مٹھی بھر جگنو

تتلی کی موت

        اس کی گلابی رنگت کی وجہ سے اسے روز کہہ کر پکارا جانے لگا۔ وہ بے حد خوبصورت او ر پھول کی طرح نازک بچی تھی۔ شادی کے دس بارہ برس بعد بڑی منتوں مرادوں کے بعد اس گھر کو اولاد کی خوشی نصیب ہوئی تھی۔ ماں باپ ہی نہیں، دادا، دادی، نانا، نانی اور چاچا، چاچی بھی اس سے بے پناہ پیا ر کرتے تھے اوراسے سات بیٹوں پر بھاری بیٹی قرار دیتے تھے۔ اسے جو بھی دیکھتا پیار کرنے لگتا۔ پہلے وہ ہاتھ پاؤں پر چلتی تھی مگر اب اس نے واکر کے سہارے کھڑا ہونا اور چلنا سیکھ لیا تھا۔ وہ جدھر جاتی گھرکے لوگ ضروری سے ضروری کام چھوڑ کر ا س کی طرف متوجہ ہو جاتے۔ ماں باپ اور عزیز و اقارب اس کے لیے کھلونوں اور خوبصورت ملبوسات کے ڈھیر لگاتے رہتے اور وہ جیسے تتلی کی طرح گھر بھر میں اڑتی پھرتی۔

        پھر ایک روز اس گھر کے قریب واقع قانون نافذ کرنے والے ایک ادارے پر دہشتگردو ں نے حملہ کر دیا اور عمارت کو دھماکے سے اُڑا دیا۔ بارود سے بھرے ہوئے ٹرک کا دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ آس پاس کے درختوں پر بیٹھی بہت سی چڑیا ں اور فاختائیں مر گئیں، پھولوں، کلیوں پر منڈ لاتے بھونرے اور تتلیاں پاش پاش ہو گئیں اور پنگھوڑے میں سوئی ہوئی پھول سی روز ہمیشہ کی نیند سو گئی۔

٭٭

دھماکہ

        ادھیڑ عمر کے ایک ملزم کو جو وضع قطع سے تعلیم یافتہ اور معزز لگ رہا تھا سہارا دے کر عدالت کے کٹہرے میں لایا گیا۔ منصف نے اس سے پوچھا ’’کیا آپ اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتے ہیں ؟‘‘

        ’’جناب اس کی ضرورت تو نہیں ‘‘ملزم نے اپنی سانس بحال ہونے پر کہا ’’میں پہلے ہی اقبالِ جرم کر چکا ہوں۔ میں اپنے اس فعل پر بے حد نادم ہوں۔ عدالت مجھے جو سزا دے گی مجھے قبول ہو گی۔ ‘‘

        ’’ہونا بھی چاہیے‘‘ منصف نے کہا ’’ایک پڑھا لکھا صاحب ِ اولاد اور سوسائٹی میں معزز سمجھا جانے والا شخص اس قدر ظالمانہ جرم کا ارتکاب کرے۔ کیا عدالت جان سکتی ہے کہ کن حالات میں آپ نے ایسا کیا؟‘‘

        ’’جناب ِ عالی میں دل کا مریض ہوں۔ کسی بری خبر، جذباتی صدمے یا اچانک دھماکے سے مجھے اختلاج ِ قلب ہونے لگتا ہے۔ گذشتہ شب ِ برات پر گلی کے لڑکوں کے پٹاخوں سے میری حالت غیر ہو گئی تھی اور مجھے ہسپتال میں داخل رہنا پڑا تھا۔ آپ جانتے ہیں کہ شبِ برات یا یوم ِ آزادی ایک دن کے لیے آتا ہے مگر محلے کے لڑکے کئی کئی روز تک دھما کے کرتے رہتے ہیں۔ اس بار انہیں پتہ چل گیا کہ میں دھماکوں سے پریشان ہوتا ہوں وہ اسے میری چڑ سمجھ کر زیادہ دھماکے کرنے لگے۔ میں نے دو ایک روز برداشت کیا پھر ان لڑکوں کے گھروں میں پیغام بھجوایا کہ وہ اپنے بچوں کو منع کریں کہ ان دھماکوں سے میری جان بھی جا سکتی ہے۔ مگر ان لڑکوں پر اس کا کوئی اثر ہوا نہ ہی ا ن کے والدین انہیں منع کرنے میں کامیاب ہوئے۔ بلکہ وہ چڑ کر ہمارے گھر کے اند ر بھی کریکر پھینکنے لگے۔

        جناب ِ والا!اس روز کمرے کی ایک کھڑکی کھلی تھی کیوں کہ ساری کھڑکیاں بند ہوں تو میرا دم گھٹنے لگتا پے۔ اچانک ایک کریکر سیدھا میرے کمرے میں آ کر پھٹا جس سے میں دہل گیا اور میری حالت غیر ہو گئی۔ غصّے او ربلڈ  پریشرکی زیادتی میں مجھے پتہ ہی نہ چلا کہ میں نے کب کھڑکی سے باہر ایک چھوٹے سے لڑکے کو کریکر پھینک کر بھاگتے ہوئے دیکھا اور خود بھی دھماکا کر دیا جو بارہ بور کا تھا۔

٭٭

حجاب

        ماں نے اسے کئی بار برقع اوڑھنے یا کم از کم حجاب پہننے کو کہا مگر وہ ٹال جاتی۔ دراصل وہ سمجھتی تھی کہ اسے اس کی ضرورت ہی نہ تھی۔ حالانکہ اس کی آنکھیں بے حد خوبصورت تھیں مگر سانولی رنگت، معمولی خدوخال اور چیچک زدہ چہرہ اس کے محافظ تھے۔ وہ جب اپنی کولیگ لڑکیوں سے سنتی کہ کس طرح لڑکے ان کا تعاقب کرتے اور ان کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے تو اسے رشک آتا۔ اسے حسرت ہی رہی کہ کبھی کوئی لڑکا اس کی طرف بھی توجہ دے۔ لیکن ایک روز وہ  دفتر کے قریب ویگن سے اُتری تو اس کے ساتھ ایک اور اجنبی لڑکی بھی ویگن سے اُتری جس نے حجاب پہنا ہوا تھا۔ وہ انٹرویو دینے اسی کے دفتر میں آ رہی تھی۔ اس کی آنکھیں اتنی پرکشش تھیں کہ اسے عدم کا ’’میکدے سے جو بچ نکلتا پے، تیری آنکھوں میں ڈوب جاتا پے‘‘ شعر یاد آ گیا۔ لیکن دفتر کے اندر آ کر اس نے نقاب ہٹایا تو اس کی شکل بے حد معمولی تھی۔ کیل مہاسوں سے بھرا ہوا چہرہ اور سانولی رنگت۔

        اس روز اس نے گھر آ کر اپنی امی سے کہا کہ آئندہ سے وہ بھی حجاب پہن کر دفتر جایا کرے گی۔

٭٭٭

ڈاکٹر رضیہ اسماعیل (برمنگھم)

تھرڈ ڈائمنشن  (Third Dimension)

عنائیہ کافی عرصہ سے آڈاپشن ایجنسی  کے ساتھ بحیثیت سوشل ورکر کام کر رہی تھی ڈیوٹی ڈیسک پر آج سارا دن اسے ہی رہنا تھا کیونکہ مسلمان آڈاپٹرز کی ریکروٹمنٹ کا ایک خاص کیمپین چلایا جا رہا تھا اور توقع تھی کہ اس ہفتے میں مسلمان آڈاپٹرز کی طرف سے کافی انکوائریرز آئیں گی۔

آڈاپشن ایجنسی کے پاس یوں تو بہت سے مسلمان بچے آتے رہتے تھے مگر یہ خالصتاً پاکستانی بچے نہیں ہوتے تھے۔ اکثر وبیشتر یہ ملٹی ایتھنک بیک گراؤنڈ کے بچے ہوتے یعنی اگر ماں انگریز ہوتی تو باپ پاکستانی، عراقی، ایرانی پورپین یا ایسٹ افریقہ سے تعلق رکھتا۔ کبھی کبھار ماں کا تعلق کثیر الثقافتی پس منظر سے ہوتا۔ مگر آڈاپشن کے لیے آنے والے اکثر خاندان پاکستانی مسلمان بیک گراؤنڈ سے تھے جس میں اکثریت کی خواہش ہوتی کہ وہ بہت چھوٹا بچہ ہی گود لیں اور وہ خالصتاً پاکستانی بیک گراؤنڈ سے ہو۔ یا پھر وہ پاکستان، انڈیا، یا بنگلہ دیش سے اپنے عزیزوں میں سے کسی کا بچہ گود لینا چاہتے تھے۔

آج بھی ڈیوٹی پر کیمپین کے نتیجے میں ایسی ہی انکوائریرز کی بھر مار تھی۔ عنائیہ تمام دن یہ بات دہراتے دہراتے تھک سی گئی تھی کہ ’’اگر بچے کے والدین حیات ہیں تو آپ ایسے بچے بیرون ملک سے گود نہیں لے سکتے۔ کیونکہ آڈاپشن ایجنسی کو ان کی اسسمنٹ کرنا ہو تی ہے اور ہم کبھی بھی اس بات کو پروموٹ نہیں کریں گے کہ بچہ کسی دوسرے بے اولاد جوڑے کو گفٹ کر دیا جائے۔ کیونکہ بچہ کوئی کموڈٹی تو نہیں ہے جسے تحفے میں دے دیا جائے۔ اس میں آگے چل کر بہت سی قباحتیں ہو جاتی تھیں اور ایسے بچے شدید عدم تحفظ کا شکار ہو جاتے کہ ان کے والدین نے صرف انہیں ہی کیوں اپنے باقی ماندہ خاندان سے اور خود سے جدا کر کے کسی اور کا گھر آباد کر دیا۔ اس کے علاوہ انٹرکنٹری آڈاپشن میں پندرہ سے بیس ہزار پونڈ کی لاگت بھی آتی ہے کیونکہ گود لینے والے خاندان کو آڈاپشن ایجنسی کی فیس، ٹریننگ کے اخراجات، وکیل کی فیس، ملک میں آنے جانے کا کرایہ۔ ایمرگریشن کے اخراجات سب خود ہی اٹھانے پڑتے جبکہ لوکل آڈاپشن کی صورت میں کوئی لاگت نہیں آتی۔ اور آڈاپشن کے تمام مراحل بھی کم وقت میں طے پاتے ہیں۔ ‘‘

آج صبح ہی صبح ایک انکوائری نے اس کا کافی وقت لے لیا۔ آڈاپشن کرنے والے پاکستانی جوڑے کا اصرار تھا کہ وہ بہت چھوٹا بچہ گود لینا چاہے تھے تاکہ وہ ’’اسے بریسٹ فیڈنگ کر سکیں تاکہ بچے سے والدہ کا حرمت کا رشتہ برقرار ہو سکے وگرنہ بڑے ہو کر تو وہ بچہ ماں کے لیے نامحرم ہی رہتا۔ ‘‘ عنائیہ ان کے مسئلے کو سمجھتی تھی اور کئی بار یہ بات آڈاپشن ایجنسی کے باس سے کہہ چکی تھی کہ جب تک وہ مسلمان بچوں کے آڈاپشن کے سلسلے میں باقاعدہ لائحہ عمل اختیار نہیں کریں گے۔ گود لینے والے مسلمان خاندان اس طرح کے بہت سے سوالات اٹھاتے رہیں گے۔ اور مسلمان بچوں کی مسلمان گھرانوں میں آڈاپشن تقریباً ناممکن ہو جائے گی۔ کئی بار اس نے تجاویز دیں کہ انہیں مقامی مساجد کے علماء اکرام سے اس سلسلے میں گفتگو کر کے مسئلے کی نوعیت بتا کر کوئی فتویٰ لینا چاہیے تاکہ آڈاپشن کرنے والے مسلمان جوڑے جائز شرعی تقاضوں کے مطابق اطمینان سے بچوں کو گود لے سکیں۔ مگر نتیجہ وہی ڈھاکے تین پات۔ ۔ ۔ صرف زبانی جمع خرچ ہوتا یعنی Lip service۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !

اور مسلمان جوڑوں کا مسئلہ جوں کا توں رہتا۔

ان حالات میں اکثر مسلمان بچے غیر مسلم گھرانوں کو گود دے دئیے جاتے کیونکہ ایجنسی کا موقف تھا کہ بچوں کو ایک پیار محبت کرنے والا خاندان چاہے جو اس کی مثبت نشوونما میں معاون ثابت ہو۔ مذہب کے بارے میں ان کا نقطہ نظر سیکولر تھا مگر عنائیہ کو اس بات سے بہت پریشانی لاحق ہوتی کہ غیر مسلم گھرانے ایک مسلمان بچے کو کب اسلامی تشخص کے ساتھ پروان چڑھائیں گے۔ بچہ مذہب سے دور ہو جائے گا اور کل کو وہ مذہبی اور ثقافتی شناخت کے مسئلے سے دوچار ہو جائے گا۔ مگر یہاں کس کو اس بات کی پرواہ تھی ایجنسی کا مقصد تو بچوں کے لیے ایسے خاندان تلاش کرنا تھا جو ان چکروں میں پڑے بغیر بچوں کو گود لے سکیں۔

آج ایجنسی کا دفتر بند ہونے میں تھوڑا ہی وقت رہ گیا تھا کہ ایک ایشیائی نوجوان آڈاپشن انکوائری کے لیے دفتر میں آ گیا۔ اس کی باڈی لینگوئج اور حرکات و سکنات سے لگ رہا تھا کہ اس کا تعلق تیسری ڈائمنشن سے ہے یعنی کہ وہ Gay ہے۔ مگر عنائیہ کچھ کنفویز سی لگ رہی تھی اس کی سیکیثولیٹی کے بارے میں تاہم ریسپشن پر موجود انگریز لڑکیوں کا خیال تھا کہ ’’وہ اصلی Gay  نہیں تھا بلکہ پوز کر رہا تھا۔ ‘‘ ’’اس میں بھلا پوز کرنے والی کونسی بات ہے؟‘‘ پھر عنائیہ کا ذہن الجھ سا گیا۔ بہر حال اس سے بات کرنا ضروری تھا۔ عنائیہ نے ریسپشن میں جا کر اپنا تعارف کروایا تو وہ بے حد خوش ہو گیا کہ سوشل ورکر اس کی ہم وطن تھی اور انگریزی کے علاوہ اردو اور پنجابی زبان بولنے میں بھی مہارت رکھتی تھی۔

عنائیہ اسے انٹرویو روم میں لے گئی اور انکوائری کے کاغذات مکمل کرنے کی غرض سے کئی سوالات کر ڈالے۔ ندیم نے بتایا کہ ’’اس کا تعلق پاکستان کے ایک بڑے شہر سے تھا اور وہ تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ اس کی منگنی اپنی کزن سے ہو چکی تھی مگر اسے عورتوں سے کوئی رغبت نہ تھی اس لیے اس نے ملک سے بھاگ کر یہاں آ کر پولیٹیکل اسائلم لے لی ہے۔ ‘‘

عنائیہ کا ذوق تجسس بڑھ رہا تھا تو اس نے مزید سوال کر دیا کہ ’’کیا اس کے گھر والوں کو علم ہے کہ وہ Gay  ہے؟‘‘ تو وہ کہنے لگا ’’نہیں یہ بات ان کے علم میں نہیں ہے اور میں بتا بھی نہیں سکتا تھا وگرنہ مجھے اتنے جوتے پڑتے کہ خدا کی پناہ۔ ۔ ۔ آپ کو تو پتہ ہے ناں باجی اسلام میں یہ منع ہے مگر میں کیا کروں۔ میری مجبوری ہے۔ مجھے صرف مرد ہی اچھے لگتے ہیں ‘‘اب وہ زیادہ تر گفتگو اردو میں ہی کر رہا تھا۔ ’’ میں شادی کر کے کسی عورت کی زندگی برباد کرنا نہیں چاہتا تھا اس لیے میں کچھ بتائے بغیر ملک چھوڑ کر آ گیا ہوں مگر میں باقاعدگی سے گھر والوں کو خرچہ بھیجتا رہتا ہوں۔ میں نے اپنے دوسری ذمہ داریوں سے منہ نہیں موڑا۔ ‘‘اس نے گویا ہمدردی سمیٹنے کے لیے مزید وضاحت کی۔

عنائیہ کی دل چسپی بڑھتی جا رہی تھی۔ اس نے مزید کریدا کہ ’’اس قسم کی زندگی گزارتے ہوئے کیا وہ آئسولیٹڈنہیں ہو جاتا یا ایسے مزید ایشائی لوگ موجود ہیں جن نے وہ اپنی نیٹ ورکنگ کر سکے؟‘‘ تو ندیم نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’’یہاں بہت سے ایشیائی مسلمان Gays ہیں اور باقاعدہ ان کے کلب ہیں جہاں ہم سب باقاعدگی سے ملتے ہیں۔ ’’اس وقت تمہارا کوئی پارٹنر ہے یا اکیلے ہی ہو۔ ‘‘عنائیہ نے آڈاپشن کے نقطہ نظر سے پوچھا کیونکہ اگر اس کا پارٹنر ہوتا تو اسے بھی آڈاپشن کے لیے اکٹھے درخواست دینا پڑتی۔ تاکہ ان دونوں کی اسسمنٹ اکٹھی کی جائے۔ ندیم نے بتایا کہ ’’اس کا پارٹنر اسے کچھ عرصہ پہلے چھوڑ گیا تھا اور آج کل وہ اکیلا ہی ہے۔ ‘‘ انکوائری مکمل کر کے عنائیہ نے اسے باقی کا طریق کار سمجھا دیا اور کہا کہ جلد ہی ایجنسی کی سوشل ورکر اس سے رابطہ کر کے مزید معلومات کے لیے گھر پر آئے گی۔ ‘‘

ندیم کے جانے کے بعد عنائیہ سوچتی رہی کہ لواطت کے بارے میں کتنی سخت وعید آتی ہے اسلام میں۔ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کا کیا حشر ہوا تھا؟ اس کا دل چاہتا تھا کہ ایسے کڑیل جوان کو اس قسم کی غیر اخلاقی زندگی سے روکے۔ جہنم کے عذاب کا خوف دلا کر باز رکھے مگر اس کی پروفیشنل مجبوریاں اسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتی تھیں۔

جب کبھی بھی ایجنسی میں GLB ٹریننگ ہوتی یعنی Gay, Lesbian and Bisexual تو وہ منافقوں کی طرح وہاں خاموش بیٹھی رہتی کیونکہ یہ سب اس کے اسلامی عقائد کے خلاف تھا اور وہ دل میں اس قسم کی جنسی زندگی کی قائل نہیں تھی مگر ’’ہر ایک کی اپنی اپنی زندگی ہے۔ اس میں میں کیا کر سکتی ہوں۔ ‘‘ عنائیہ نے بے چارگی سے سوچا۔

چند ہفتوں کے بعد ندیم کا فون آ گیا کہ باجی مجھے اب نیا پارٹنر مل گیا ہے میں نے اسے سمجھایا کہ اب نیا پارٹنرملنے کی صورت میں اسے کم از کم دو سال تک انتظار کرنا پڑے گا کیونکہ آڈاپشن میں آپسی تعلقات کے لیے یہ کم سے کم مدت رکھی گئی ہے تاکہ گود لینے والے جوڑے پہلے اپنے تعلق کو اچھی طرح سمجھ کر مضبوط کر سکیں۔ ندیم کی انکوائری بند کر دی گئی۔ چند مہینے کے بعد ندیم پھر ایجنسی کے دفتر آ گیا۔ اب کی بار اس کے ساتھ ایک اور لڑکا تھا۔ اس نے اس کا تعارف راشد کہہ کر کروایا۔ اس نے بتایا کہ وہ اس کا نیا پارٹنر تھا اور دونوں جلد ہی شادی کرنے والے تھے۔ ریسپشن میں کھڑے کھڑے باتیں کرنا مناسب نہ تھا کیونکہ سب ہی لوگ متوجہ ہو رہے تھے۔ اس لیے عنائیہ انہیں انٹرویو روم میں لے گئی تاکہ اطمینان سے بات کر سکے۔

عنائیہ کچھ متجسس تھی اور ان سے Gay میرج کے بارے میں مزید جاننا چاہتی تھی۔ بیٹھتے ہی اس نے سوال کیا کہ ’’کیا ایسی شادیوں میں بھی میاں بیوی کا کوئی تصور ہوتا ہے یا نہیں ؟‘‘ ندیم نے وضاحت کی کہ ’’ہاں بالکل ہوتا ہے جیسے میں بیوی ہوں گا اور راشد میرا خاوند ہو گا ہم اسے ٹاپ اور باٹم پوزیشن کہتے ہیں۔ میں سب بیوی والے کام کروں گا۔ ‘‘ عنائیہ نے پھر سوال کیا کہ ’’بیوی والے کام‘‘ سے اس کا کیا مطلب ہے؟ ’’کھانا پکانا۔ صفائی ستھرائی سودا سلف۔ بل اور اخراجات کا حساب کتاب وغیرہ وغیرہ۔ ‘‘ ندیم نے جواب دیا ’’اور بچے پیدا کرنا کہاں گیا جو کہ بیوی بننے والی عورت کا اہم فریضہ ہے اور عورت اگر ماں نہ بن سکے تو بانجھ عورت کو تو معاشرہ عورت تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیتا ہے۔ ‘‘ عنائیہ نے چبھتا ہوا سوال کر کے گویا ندیم کی دکھتی رگ پر  ہاتھ رکھ دیا تھا۔ ندیم نے شرمندگی سے جواب دیا۔ ’’باجی یہ تو ہماری مجبوری ہے ناں۔ اسی لیے تو ہم آڈاپشن کرنا چاہتے ہیں کیونکہ مجھے بچے بہت اچھے لگتے ہیں اور فطری طریقے سے تو ہم بچے پیدا نہیں کر سکتے۔ ‘‘ عنائیہ کا دل چاہا کہ اسے دو تھپڑ رسید کر کے کہے کہ ’’پھر یہ غیر فطری حرکتیں کیوں کر رہے ہو۔ کچھ خوف تمہیں آخرت کا ہے کہ نہیں !‘‘ مگر وہ خاموش رہی۔

اس تمام گفتگو کے دوران اس کا پارٹنر راشد بالکل خاموش تھا۔ اور اس نے گفتگو میں بالکل حصہ نہیں لیا حالانکہ ساری بات چیت اردو اور پنجابی میں ہو رہی تھی۔ عنائیہ نے مزید نوٹ کیا کہ راشد اس سے آئی کونٹیکٹ نہیں کر رہا تھا  بلکہ مسلسل زمین کی طرف سر جھکائے گھور رہا تھا۔ جس سے عنائیہ کو شک ہو رہا تھا کہ وہ واقعی Gay تھا یا۔ ۔ ۔ ؟  اس نے مزید کریدتے ہوئے راشد کے حالات کے بارے میں سوالات کرنے شروع کر دئیے تو ندیم نے بتایا کہ ’’وہ کچھ عرصہ پہلے ہی پاکستان سے یہاں آیا ہے اور پولیٹیکل اسائلم ویزے پر ہے۔ شادی کے بعد میں اس کے پرمنٹ ویزے کے لیے درخواست دوں گا۔ ‘‘

پہلی بار راشد نے زبان کھولی اور کہا ’’ہم دونوں چاہے شادی کر لیں لیکن میں اس کی اصلی شادی ضرور کرواؤں گا۔ ‘‘

راشد کا یہ جملہ عنائیہ کے لیے بہت بڑا سوال چھوڑ گیا کہ کیا یہ دونوں واقعی Gay ہیں یا پھر صرف پولیٹیکل اسائلم اور ویزے کے چکر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !!!

٭٭٭

ڈاکٹر رضیہ اسماعیل

ریورس گیئر (Reverse Gear)

روپا کو اس پر اسرار سی کائنات اور اس پر بسنے والے انسانوں کے بارے میں جاننے میں بچپن سے ہی بہت دل چسپی تھی۔ اس لیے اسے پامسٹری، ٹارو کارڈز۔ علم حروف اور علمِ نجوم کے بارے میں جہاں کہیں کوئی مواد نظر آ جاتا اسے پڑھے بغیر چین سے نہیں بیٹھتی تھی۔ ہر سال بڑے اہتمام سے نئے سال کے لیے ہاروسکوپ کی کتاب خرید کر دیکھتی کہ آنے والے سال کی پیشن گوئیاں کیا تھیں۔ اخباروں رسالوں میں چھپنے والے ’’ آپ کا ہفتہ کیسا ہو گا۔ ‘‘ کے صفحات ہمیشہ اس کی دل چسپی کا مرکز ہوتے مگر یہ الگ بات تھی کہ پڑھنے کے فوراً ہی بعد اسب اس کے ذہن سے محو ہو جاتا گویا اسے صرف پڑھنے کی حد تک دل چسپی تھی مگر عمل کا خانہ خالی ہی تھا۔

میں اکثر اس کی اس عادت سے چڑ جاتی تھی ’’کیا تم ہر وقت برجوں اور ستاروں کے چکر میں پڑی رہتی ہو۔ ‘‘ تو وہ ہنس کر جواب دیتی کہ ’’یار بس ذرا انٹرسٹنگ ہے اس میں کیا ہرج ہے ہم کون اس پر عمل کرنے جا رہے ہیں۔ ویسے تم اگر تھوڑا بہت علم نجوم کے بارے میں جان لو تو کوئی نقصان نہیں ہو جائے گا۔ کریکٹر ریڈنگ تو ہمیشہ بڑی زبردست ہوتی ہے ان کتابوں میں۔ کم از کم لوگوں کی شخصیت بارے میں کچھ معلومات ہی مل جاتی ہیں۔ ‘‘

آج کالج میں پورے دو پیریڈز فری تھے اور میری شامت  آ گئی تھی کیونکہ روپا کہیں سے علم نجوم کی دو موتی موٹی کتابیں اٹھا لائی تھی گویا آج اس نے علم نجوم پر مجھے لکچر دینے کا پورا پورا پروگرام بنا رکھا تھا۔

میں اگر اسے کہتی کہ یہ میرے مذہب کے خلاف ہے کہ ہم مستقبل کا حال جانتے پھریں تو وہ تنک کر کہتی کہ ’’مذہبی نقطہ نظر سے علم نجوم نہ تو مذہب کا حصہ ہے اور نہ ہی عقیدہ۔ ۔ ۔ ۔ فقط حساب کا ایک قاعدہ ہے۔ جیسے ہر شخص واچ دیکھ کر ٹائم بتا سکتا ہے۔ اسی طرح ستاروں کا حساب دیکھ کر یہ بتایا جا سکتا ہے کہ کون سا ستارہ کس برج میں ہے۔ اور اس وقت دنیا پر اپنے کیسے اثرات چھوڑ رہا ہے۔ ‘‘ وہ بالکل جوتشیوں کے سے انداز میں مجھے قائل کرنے کی کوشش کرتی۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے وہ بولی کہ ’’ستارے دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک سٹیشنری یعنی جامد اور دوسرے جو اپنے محور اور دوسرے ستاروں کے گرد گھومتے ہیں البتہ جامد ستاروں کے گرد گھومنے والے ستاروں نے اپنے ایسے مقام بنائے ہوئے ہیں جنہیں علم نجوم میں برج کہا جاتا ہے۔ اور کل بارہ برج ہیں۔ کچھ پتہ چلا تمہیں میڈم۔ ۔ ۔ ‘‘روپا نے اپنے علم کا روپ جھاڑتے ہوئے کہا۔

میں روپا کی ستاروں کے بارے میں ایوئرنس سے کچھ مرعوب سی ہو گئی تھی اور اس بارے میں کچھ مزید جاننے کی خواہش میرے اندر انگڑائیاں لینے لگی تھی۔

’’اچھا چلو بولو کیا کہتے ہیں تمہارے برج۔ ‘‘میں نے قدرے لاپرواہی سے کہا۔ تو روپا تو بس ایسی رواں ہوئی کہ وہ کہے اور سنا کرے کوئی۔ ۔ ۔ ’’ہاں تو میں بتا رہی تھی کہ کل بارہ برج ہوتے ہیں۔ اور ان کے مختلف نام ہیں۔ ہر برج ایک نہ ایک ستارہ کی ملکیت ہوتا ہے یعنی کوئی نہ کوئی اس کا حاکم یعنی رولنگ پلینٹ ہوتا ہے اور یہی برج انسانوں کی طرح آپس میں دوستی اور دشمنی بھی رکھتے ہیں۔ ‘‘ علم نجوم میں میری دلچسپی بڑھتی جا رہی تھی اور میں نے منہ سے کچھ کہے بغیر ہی روپا کی طرف پر شوق نگاہوں سے دیکھا تو وہ بغیر رکے کہنے لگی ’’ہرایرہ غیرہ نتھو خیرہ قسمت کا حال نہیں بتا سکتا۔ اس کے لیے علم نجوم سے پوری طرح واقفیت بے حد ضروری ہے کہ ایسے شخص کو برجوں اور ستاروں کے چکر کا علم پوری طرح آتا ہو اور اگر اس کا علم ادھورا اور ناقص ہو گا تو خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔ ‘‘ وہ اپنی ہی لہر میں بولے چلی جا رہی تھی۔

میں نے بے صبری سے پوچھا ’’برجوں اور ستاروں کے بارے میں کچھ اور بھی کہو گی کہ نہیں میڈم جوتشی‘‘ تو وہ زیر لب مسکرا کر گویا ہوئی ’’کل بارہ برج ہیں جن میں حوت، حمل، ثور، جوزا، سرطان، اسد، سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، دلو اور جدی ہیں۔ آسمان میں گھومنے والے سات ستارے ہیں۔ اور دو ستارے ان کے امدادی یعنی ہیلپرز ہیں۔ ان ستاروں میں سورج، قمر، مریخ، زحل، مشتری، عطارد، اور زہرہ ہیں جبکہ امدادی ستارے یورنیس اور نیپ چون ہیں اور ان تمام ستاروں اور برجوں کے یونانی زبان میں مختلف نشانات یعنی سمبل دئیے گئے ہیں۔ ’’How Interesting‘‘۔ ۔ ۔ میں اپنے ذوقِ جستجو کو مزید نہ چھپا سکی تو روپا خوش ہو کر بولی۔ ’’اب آئی ہو ناں سیدھی راہ پر میڈیم۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘بالکل جیسے ہم میں لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں اسی طرح ستاروں کی بھی دشمنیاں اور دوستیاں ہوتی ہیں۔ ‘‘ ’’اچھا تو بتاؤ کہ ہمارے ستاروں میں آپس میں دشمنی ہے کہ دوستی۔ ‘‘ میں نے بے صبری سے پوچھا۔

روپا میری بات سن کر کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ ’’خاک دوستی ہو گی ہر وقت تو تکرار ہوتی رہتی ہے۔ پھر بھی بتاتی ہوں۔ تمہارا برج جوزا ہے اور تمہارا حاکم ستارہ عطارد ہے۔ اور اس کے دوست ستارے قمر، زحل اور زہرہ ہیں۔ مریخ اور مشتری اس کے پکے دشمن۔ جبکہ سورج نہ اس کا دوست ہے نہ دشمن۔ ‘‘ میں نے جلدی سے لقمہ دیا روپا تمہارا ستارہ ضرور سورج ہی ہو گا کیونکہ کبھی تو تم بڑی دوستی بھگارتی ہو اور کبھی جانی دشمن نظر آتی ہو۔ ‘‘ ’’نہیں میڈم میرا ستارہ زہرہ ہے۔ دوست ہوں تمہاری بیوقوف لڑکی۔ ‘‘ اس نے جل کر کہا۔ بس تمہارا لیکچر پورا ہو گیا یا ابھی کچھ اور باقی ہے۔ ‘‘ میں نے ترکی بہ ترکی جواب دیا تو روپا بے صبری سے بولی۔ ’’ارے نہیں بھئی۔ ابھی تو بہت کچھ ہے بتانے لائق۔ ۔ ۔ جانا مت۔ ‘‘ وہ التجا کرتے ہوئے بولی۔

 ’’ان ستاروں کی رنگت بھی الگ الگ ہوتی ہے۔ جیسے سورج، سرخ اور قمر سفید ہوتا ہے۔ زہرہ سفید سیاہی مائل تو مریخ سرخ۔ مشتری پیلے رنگ کا جبکہ عطارد سبز اور زحل جیٹ بلیک ’’اوہو تو جبھی کہوں یہ سفید رنگت ہر وقت دھواں دھواں سی کیوں رہتی ہے۔ تمہاری زہرہ کی بچی۔ ۔ ۔ ۔ میں نے طنزاً کہا تو روپا کہاں پیچھے رونے والی تھی فوراً بولی اور تم عطارد کی اولاد ساون کے اندھے کی طرح تھیں ہر طرف ہرا ہی ہرا سوجھتا ہے۔ ‘‘ اس نے سبز رنگ پر بھرپور وار کیا۔ تو میں بجائے غصے میں آنے کے کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ ’’اور سنومیڈم ستارے مذکر اور مونث بھی ہوتے ہیں۔ ان کی نحوست بھی ہوتی ہے اور یہ الٹی چال بھی چلتے ہیں۔ ‘‘ روپا نے مزید علمیت بھگارتے ہوے کہا۔ ’’تمہارا ستارہ تو مذکر ہی ہو گا روپا جو ہر وقت جوشیلے مردوں کی طرح لڑائی جھگڑے پر آمادہ رہتی ہو۔ ‘‘ میں نے گویا اس کا مذاق اڑایا تو روپا تنک کر بولی ’’نہیں زہرہ مونث ستارہ ہے۔ یعنی خالص فیمنسٹ اور عطارد مخنث ہے یعنی نہ مرد نہ عورت۔ بس دونوں کے درمیان کی کوئی چیز ہے میرے بجائے تم اپنی فکر کرو جان من۔ ‘‘ روپا نے ہاتھ نچاتے ہوئے کہا۔ ’’یہ کیا بیہودگی ہے میں نے قدرے غصے سے کہا، تم بکواس کر رہی ہو۔ ‘‘ قسم لے لو ایسا ہی لکھا ہے کتاب میں۔ لو دیکھ لو۔ ‘‘ اس نے کتاب میرے آگے کرتے ہوئے کہا۔

مجھے کوئی کتاب نہیں دیکھنی ہے یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ ’’ہر عورت کے اندر کچھ مرد اور ہر مرد کے اندر کچھ عورت ہوتی ہے تو تمہارا ستارہ کونسی نئی بات بتا رہا ہے۔ افلاطون کی اولاد۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ اسی بحث و تکرار میں کافی وقت گزر چکا تھا۔ میں نے تقریباً اٹھتے ہوئے کہا کہ ’’بس اب اگلا پیریڈ شروع ہونے والا ہے۔ چلتے ہیں، آج کے لیے اتناہی کافی ہے۔ ‘‘

روپا نے جلدی سے میرا ہاتھ پکڑ کر گویا اٹھنے سے منع کر دیا۔ ’’ اب کیا ہے۔ ‘‘ میں ذرا جُز بُز ہو کر بولی۔ ’’مگر سب سے زیادہ دل چسپ بات ستاروں کے بارے میں تو تم نے سنی ہی نہیں۔ ‘‘ اب وہ کیا ہے۔ جلدی سے بتا دو۔ ‘‘ میں نے بے صبری سے کہا۔

’’ذرا دم تو لو۔ غور سے سننے والی بات ہے میڈم۔ ستارے سیدھی اور الٹی چال بھی چلتے ہیں۔ جب سیدھے جا رہے ہوں تو ایسی حالت کو مستقیم یعنی صراط مستقیم کہتے ہیں جیسے تم چلتی ہو۔ اسے ہندی زبان میں مارگی کہا جاتا ہے۔ مگر جب کوئی دوسرا ستارہ اپنی کشش سے سیدھی چال والے ستارے کو اپنی طرف کھینچتا ہے تو اس کی چال الٹ ہو جاتی ہے۔ جسے اردو میں رجعت، ہندی میں وکری اور انگریزی میں ریٹروگریڈ موومنٹ کہتے ہیں۔ جیسے گاڑی ریورس گیئر میں جاتی ہے۔ ‘‘’’ اچھا تو تم ہو وہ الٹی چال والا ستارہ جو مجھ جیسی سیدھی سی لڑکی کو اپنی کشش سے الٹا سیدھا کرتی رہتی ہو۔ ‘‘ میں نے مذاقاً کہا تو روپا برا سا مان گئی۔

’’ارے سوائے چاند اور سورج کے باقی سب ستارے الٹی سیدھی چال ہی چلتے ہیں۔ اس لیے تمہارے ستارے کی کشش مجھے بھی الٹی سیدھی کرتی رہتی ہے۔ صرف میں ہی مجرم نہیں ہوں۔ تم بھی برابر کی شریک ہو۔ ‘‘روپا نے گویا بدلہ لیتے ہوئے کہا تو ہم دونوں نے ہی زبردست قہقہہ لگا دیا۔ ’’اچھا تو اب چلو۔ پیریڈ تو مِس ہو گیا۔ گھر جلدی پنچنا ہے ورنہ اماں میری چال الٹی کر دیں گی۔ ‘‘ یہ کہہ کر میں تو وہاں سے گیٹ کی طرف بھاگی جہاں طارق بھیا نہ جانے کب سے گاڑی لیے میرا انتظار کر رہے تھے اور میں علم نجوم کی گتھیاں سلجھانے میں مصروف تھی۔

آج سڑک پر ٹریفک کا رش معمول سے کچھ زیادہ ہی تھا کیونکہ ایسٹر کی چھٹیوں کے لیے آج سکولوں کا آخری دن تھا اور حد نظر تک سڑک پر گاڑیوں کی طویل قطاریں نظر آ رہی تھیں۔ بھیا اپنی نئی نویلی دھان پان سی اسپورٹس منی کوپر بڑے اسٹائل سے چلا رہے تھے جبکہ مجھے اتنی ٹریفک سے سخت وحشت ہو رہی تھی کیونکہ اماں نے آج گھر جلدی آنے کے لیے کہا تھا۔ ’’پہلے تو روپا کی بچی کے ستاروں اور برجوں نے سارا وقت لے لیا اور اب ٹریفک نے گویا رینگنے کی قسم کھا رکھی تھی۔ ‘‘ میں منہ ہی منہ میں بڑبڑائی۔ یونہی چلتے رکتے ٹریفک ایک ڈھلوانی سڑک پر آ گئی۔ ہمارے بالکل آگے ایک بڑی سی لینڈ کروزر جا رہی تھی۔ تھوڑی ہی دیر بعد مجھے یوں لگا جیسے وہ گاڑی آگے کی بجائے پیچھے کی طرف آ رہی ہے یعنی ریورس گیئر۔ میں نے جلدی سے بھیا کو خبردار کیا کہ ’’صرف مجھے ہی ایسا لگ رہا ہے یا واقعی یہ گاڑی پیچھے کی طرف آ رہی ہے۔ ‘‘ بھیا نے یکدم ہارن بجانا شروع کر دیا کیونکہ گاڑی واقعی پیچھے آ رہی تھی۔ خدا جانے کیا معاملہ تھا۔ آگے والا ڈرائیور نشے میں تھا یا اناڑی تھا کہ اتنے ہارن بجانے کے باوجود لینڈ کروزر نے بھیا کی نئی نویلی گاڑی کا حشر کر دیا گویا ستارے الٹی چال چل رہے تھے۔

بھیا غصے میں پھنکارتے ہوئے گاڑی سے باہر نکلے تو دوسری طرف لینڈ کروزر سے نکلنے والی ایک ادھیڑ عمر ایشین عورت تھی۔ مجھے پورا یقین تھا کہ اگر عورت کی بجائے ڈرائیور مرد ہوتا تو بھیا اس کی ایسی خبر لیتے کہ وہ زندگی بھر کے لیے ڈرائیونگ کرنا بھول جاتا۔ مگر بھیا نے دھیرج رکھتے ہوئے خاتون سے اس کی انشورنس کی تفصیلات طلب کیں تو وہ بحث پر اتر آئی کہ ’’اس ملک میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے کہ اگر میں ریورس گیئر میں کسی گاڑی کو ٹکر ماروں تو میں ہرجانہ بھروں۔ ‘‘ اب تو بھیا کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا۔ ایسی احمقانہ بات سن کر میری تو ہنسی ہی نکل گئی۔

یہ محترمہ کہاں رہ رہی ہیں۔ انگلینڈ یا چیچو کی ملیاں۔ اور جس قانون کا یہ ذکر کر رہی ہیں۔ شاید انہوں نے اپنی کچن کیبنٹ میں بنایا ہے۔ اب تو بھیا کا پارہ بہت اونچائی پر جا رہا تھا۔ ’’قد سے بڑی گاڑی لے کر باہر نکلی ہو ڈرائیونگ تو سیکھ لینی تھی۔ اتنی ٹریفک میں تم ریورس گیئر کس خوشی میں لگا رہی تھیں کیا تمہیں نظر نہیں آ رہا تھا کہ پیچھے گاڑی ہے۔ ‘‘ بھیا اسے بے نقط سنا رہے تھے۔ ’’دراصل آپ کی گاڑی اتنی چھوٹی ہے کہ نظر ہی نہیں آئی۔ ‘‘ عورت نے دلیل پیش کی۔ بجائے کسی قسم کی شرمندگی یا افسوس کے وہ عورت عجیب ڈھٹائی سے باتیں کر رہی تھی۔

بھیا نے مزید انتظار نہ کرتے ہوئے پولیس کو فون کر نا چاہا تو اس عورت نے جھٹ سے پینترا بدل لیا۔ ’’دراصل میرا خاوند ہی انشورنس کے کام کو ڈیل کرتا ہے۔ مجھے اپنی انشورنس کمپنی کا علم نہیں ہے۔ مگر گھر  جا کر آپ کو فون کر کے بتا دوں گی۔ ‘‘ بھیا نے اپنا وزٹنگ کارڈ اسے دیا تو وہ اسے پڑھے پڑھتے چونک سی گئی۔ کنسلٹنٹ سائیکاٹرسٹ ’’تو آپ پاگلوں کے ڈاکٹر ہیں۔ اور مجھے بھی پاگل سمجھ کر مجھ پر چلاّ رہے ہیں۔ میں تو بس گاڑی کو ریورس گیئر میں ڈال کر ٹریفک میں سے نکلنا چاہ رہی تھی کہ آپ سے جا ٹکرائی۔

 ’’مجھے پورا یقین ہے کہ تم ضرور کسی دماغی خلفشار کا شکار ہو وگرنہ ایسی بیہودہ حرکت ٹریفک کے ایسے رش میں۔ کوئی سمجھ دار انسان نہیں کر سکتا۔ ‘‘ بھیا دھاڑے۔ ۔ ۔ ۔ میں نے مسکراتے ہوئے سوچا کہ آج تو واقعی ستارے الٹی چال چل رہے ہیں وگرنہ ایسی بھیڑ میں ریورس گیئر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !

٭٭٭

شاہد جمیل (گوجرانوالہ)

زندگی

 

          کُوڑے کے ڈھیر پر بائیں کروٹ کے بل دائیں بازُو اور ٹانگ کو ایل کی شکل میں پھیلا کر بوڑھا ڈیوڈ اس طرح لیٹا تھا جیسے اُس کے پہلو میں جُوس کے خالی ڈبے، بوتلیں، سٹرا، ٹِن  اور پھلوں کے چھِلکے نہیں بلکہ گورے پاؤں والی خود لیٹی ہو -پاؤں کے دُودھیا پنجے سے پھُوٹتی مِلکی روشنی کے انعکاس و انعطاف کے بِیچ نینو سیکنڈ کے کئی لاکھویں حِصّے میں جب وقت اِنفنِٹ ہو کر تازہ چرم کی طرح بان کی چار پائی پر پڑا سُوکھتا تھا، اُس خفیف وقفے کے بِیچ جو برقی پردوں کے باہم متصل ہونے کے درمیان بھی ضرور ہوا کرتا ہے، اُس کی نظر یکسر دُنیا و مافیہا کے معدُوم و معلُوم پر جا پڑی تھی – وہ دِن اور آج کا دِن، آدھے لوگ اُسے زندہ اور آدھے لوگ مُردہ تصور کرتے تھے – جب وہ کُوڑے کِرکٹ اور کباڑ خانوں میں سویا ہوتا تو مکھیاں اُس کے مُنہ پر کالے رنگ کا بیضوی ڈھکنا بنا دیتیں جِسے دیکھ کر آدھے لوگ اُسے مُردہ تصور کرنے میں حق بجانب تھے جبکہ آدھے لوگ جنہوں نے اُسے لنگڑی لات کے ساتھ کبھی منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرتے دیکھا تھا وہ بہرحال اُسے زندہ تصور کرنے پر مجبور تھے – اُس نے اپنے ساتھ ہونے والے واقعہ کے بعد ہمیشہ کیلئے سکول کی نوکری، گھر بار اور دوستوں کو تج دیا تھا – اور اب دُودھیا روشنی کی تلاش میں شہروں شہروں مارا  مارا  پھِرتا تھا – شیر ولِٹ بھی اُس کی تلاش کے کبھی نہ ختم ہونے والے سفر کا ایک پڑاؤ ہی تھی – وہ جِس شخص کا پیچھا کرنا شروع کرتا، پہلے تو وہ شخص اُسے اپنی شس جہات میں موجود پا کر پریشان ہوتا مگر پھر بار بار اُس کی مسکین اور روہانسی شکل دیکھ کر اُس کا ہمدرد بن جاتا – بے ضرر ایسا کہ اُس نے آج تک کِسی عورت کی آنکھوں کو تو کیا اُس کے جِسم کے اُوپری اور درمیانی حِصوں تک کو نہیں دیکھا تھا – اگر اُس کی آنکھیں کبھی بغاوت پر آمادہ ہو بھی گئیں تو وہ زیادہ سے زیادہ کِسی خوبصورت پاؤں پر جا کر رُک جاتیں، پُورا پاؤں بھی نہیں بلکہ اِس کے چوتھائی حِصّے یعنی پنجہ یا پب تک، یا پھر اس سے بھی کم کِسی پیر کے حلقۂ زنجیر سے مشابہ انگوٹھے تک – معدوم نے اپنی لاج چھپانے کیلئے اسے نجوم و شہاب کے اتنے سکے دیئے کہ جنہیں وہ جہاں چاہتا رکھ کر بھُول جاتا – لوگ اُسے سیف زبان اور سیف نظر کہنے پر تُلے ہوئے تھے اور شاید یہی وجہ تھی کہ اُس نے اپنے آپ کو لوگوں سے الگ تھلگ کر لیا تھا – آج وہ شیرولِٹ کا پیچھا کر رہا تھا – شیر ولِٹ عام شکل و صورت کی لڑکی تھی مگر اُس کیلئے شکل و صورت کی اہمیت ہی نہیں تھی، کسی خوبصورت پاؤں سے دُودھیا روشنی کے پھُوٹنے کے امکان کی بات تھی، ایک ایسا امکان جو برق رفتاری سے سمٹتے پردوں کے بیچ وقفے کی حیثیت رکھتا تھا – اِسی موجود مگر ناپید کے تعاقب میں وہ ستاروں اور سیاروں کی ریزگاری نچھاور کرتا ایک سمت کو گھِسٹتا اور گرتا پڑتا چلا جا رہا تھا – لیبارٹری کے مین گیٹ پر پہنچ کر اُس نے اپنے بلیک اینڈ وائٹ چیک والے پھٹے پرانے چکٹ کوٹ کی اندرونی جیب سے محدب عدسہ نکالا – یہ وہی عدسہ تھا جِسے اُس نے خانۂ عدم کی نامعلوم سمت والی دیوار سے اُچک لیا تھا اور جِس سے مشرقی و جنوبی ڈیوون (Devon)  کے لوگ چالیس سے سو میل تک کے رقبے پر پھیلے شیطانی پاؤں کے نشانات پہچاننے پر مصر تھے – شیرولِٹ کے پاؤں کے ابھی نہ پڑنے والے نشان بتا رہے تھے کہ وہ لیبارٹری ہی میں آئے گی – اُسے اب یہ مسئلہ درپیش تھا کہ وہ اندر کیسے جائے کیونکہ سکیورٹی گارڈ نے اُسے جب زمین پر بیٹھ کر عدسے سے کچھ دیکھتے پایا تو اُسے دیوانہ جان کر ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگا – ایک دم اُسے عدم کے فرش پر ڈھیر ہوا سیاہ مادہ یاد آ گیا – یہ ڈارک میٹر سیکورٹی گارڈ کی کائنات کا ستّر سے اسّی فیصد تھا مگر سیکورٹی گارڈ اس کو دیکھنے سے قاصر تھا، سیکورٹی گارڈ کی بے بسی کا سوچ کر اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ عود کر آئی اور اُس نے ہاتھ لمبا کر کے مادہ سیاہ کی ایک چٹکی بھری اور اپنے اُوپر چھڑک لی – اب وہ لٹک لٹک کر چلتا ہوا سیکورٹی گارڈ کے عقب سے لیبارٹری میں داخل ہو رہا تھا مگر سیکورٹی گارڈ کو اُس کی کانوں کان خبر نہ تھی – وہ اِسی حالت میں ڈاکٹر واٹسن کو گھُورتا ہوا تھوڑ ی دور پڑے لیدر کے صوفے میں دھنس گیا –

         نیو یارک، اکتوبر۲۰۰۷، پہلا ہفتہ، درجہ حرارت ۷ ڈگری سینٹی گریڈ، آب و ہوا! وہی بوجھل اور نم جو ساحلی اور جنگلاتی علاقوں کی ہوا کرتی ہے – وہ یعنی جیمز ڈیوی واٹسن نیو یارک کے ایک گاؤں لورل ہالو کی کولڈ سپرنگ ہار برلیبارٹری کے ایک وسیع کمرے میں اپنے سامنے بچھی لکڑی کی میز پر پڑے عمدہ پلاسٹک اور ایلومینیم تار سے بنے اُس ماڈل کو اُوپری اور ظاہری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا  جِسے وہ ہمیشہ دل کی نگاہوں سے دیکھتا آیا تھا – یہ ایک غیر معمولی بات تھی اور اِس کی وجہ شیرولِٹ کا صبح سویرے موصول ہونے والا فون تھا – شیرولِٹ ہنٹ گُروبے! دی ٹائمز میگزین کی رپورٹر – اخبار جوائن کرنے سے پہلے وہ مذکورہ بالا تعلیمی و تحقیقی ادارے کے کسی شعبے میں طالبعلم رہ چُکی تھی اور شاید اس انٹرویو کیلئے اُس کا انتخاب ہی اِس بنیاد پر ہوا تھا اور اخبار کے مدیر اور بورڈ کے دیگر تین ممبران نے اُس کے حق میں فیصلہ دیا تھا – دھوئیں کے مرغُولوں کی طرح نیچے سے اُوپر اُٹھتی ہوئی دوہری کمانی (The Double Helix) کی اِس ساخت میں اُس کی جان تھی -پھر اُسے روزی یاد آئی یعنی روز النڈ فرنکلن جِسے وہ بے تکلفی میں روزی کہا کرتا تھا اور پھر اُس کا وہ خط جو پیارے واٹسن سے شروع ہوا تھا اور بہترین خواہشات کی متمنی پر ختم ہوا – یہ صرف خط نہیں تھا بلکہ ایک ایکسرے محسوس ہوتا تھا جِس میں روزی اپنی آنکھوں سے مُسکرا رہی تھی جبکہ وہ یعنی ڈاکٹر واٹسن اپنے لمبے قد کے نصف تک شرمندگی سے جھُکا ہوا تھا – پھر ایک دم ایکسرے شیٹ میں ارتعاش پیدا ہوا اور جیسے ہی یہ کڑکڑاتی شیٹ سیدھی ہوئی ریمونڈ گو سلنگ بھی منظر میں داخل ہو گیا – شاید وہ روزی کی وجہ سے یہاں آیا تھا – روزی جِدھر بھی جاتی اُس کے قدم خود بخود اُس جانب اُٹھنا شروع ہو جاتے – وہ اُس کاپی ایچ ڈی سٹوڈنٹ بھی تھا اور اُس کی عقیدت بھری محبت کا شکار بھی – اس نے محبت کی اِس راہ میں فقط سوچنا اور اپنے ریسرچ ورک میں مصروف رہنا سیکھا تھا – وہ خود بھی بہت حیران تھا کہ اُن کی عمروں میں زیادہ فرق نہ ہونے کے باوجود اُس نے کبھی روزی کے بارے میں عورت کے نقطہ نظر سے نہیں سوچا -اِس کی ایک وجہ تو شاید یہ تھی کہ جب انسان کے پاس سوچنے کیلئے بڑے خیال اور کرنے کیلئے بڑے کام موجود ہوں تو اُس کا میلان ہیچ اور اوسط کاموں کی طرف راغب نہیں ہوتا اور دوسری وجہ اُستاد اور طالبعلم کا وہ فطری رشتہ کہ احترام جِس کا جزو لاینفک ہے – اور پھر وہ چالاک، اپنی خفّت ملی عیار ہنسی کو اپنے ہونٹوں میں بھینچتا ہوا مورس و کنز- اگرچہ اُس کی وفاداری کے سبب واٹسن اور کرِک نے اُسے نوبل لوریٹس میں شامل تو کروا دیا تھا مگر وہ اِاس ایکسرے شیٹ میں داخل ہونے سے قاصر تھا – یہ چھوٹی  سی شیٹ اُس کیلئے اجنبی باگھ کی راجدھانی سے کم نہ تھی – اُسے یوں لگتا تھا کہ اگر اُس نے اِس راجدھانی میں قدم رنجا ہونے کی کوشش کی تو اجنبیت کی مہک کے بھبھوکے اُسے اُڑا کر دور پھینک دیں گے – وہ اپنے تئیں کنارے ہی کنارے پشیمان کھڑا اُن لمحات کو کوس رہا تھا جب اُس نے روزی کے گھر میں اُس کی دراز سے انکسارِ امواج کے ایکسرے حقائق برائے ڈی این اے (X-Ray Diffraction data of DNA) چُرا کر جُوں کے توں واٹسن اور کرِک کی خدمت میں پیش کر دیئے تھے – کتنی تکلیف ہوئی ہو گی بیچاری  روزی کو کہ ایک جانب اووری میں چھُپی بیٹھی کینسر جیسی مُوذی بیماری کی صعوبت اور دوسری جانت خام آلات کے ذریعے مہینوں اور سالوں کی محنت سے حاصل کئے گئے حقائق (Data) کا زیاں – اب تو شاید وکنز کے عرق انفعال کے قطروں کی مہک واٹسن تک بھی پہنچ چکی تھی کہ اُس نے بھی ایکسرے شیٹ کے منظر سے باہر نکلنے میں ہی عافیت محسوس کی –

        واٹس کا خیال ایک بار پھر شیرولِٹ کے صبح سویرے موصول ہونے والے فون کی طرف لوٹ گیا -دوپہر ہونے کو آئی تھی اور اب وہ کِسی بھی وقت اُس سے انٹرویو لینے پہنچ سکتی تھی – پھر اچانک اُس کے دِل میں فکر مند کر دینے والا یہ خیال پیدا ہوا کہ جانے وہ اُس سے کِس طرح کے سوالات پُوچھے مگر جلد ہی اُس نے یہ بھی دریافت کر لیا کہ وہ دراصل اُس کی طرف سے پوچھے جانے والے سوالات کی وجہ سے پریشان نہیں تھا بلکہ وہ تو اُس جواب کی وجہ سے پریشان تھا جو وہ اپنی سٹیٹ منٹ کے طور پر اُس کو ریکارڈ کروانے والا تھا – اب اُس کی یاد میں اُس کے ذہن کے سوفٹ بورڈ پر تھمب پِن سے لٹکی سابقہ سٹیٹ منٹس گھوم گئیں جن کی بنا پر اُسے پہلے ہی بین الاقوامی طور پر کافی مخالفت کا سامنا تھا -اُس کے ذہن کے سوفٹ بورڈ کے دائیں اُوپری کونے میں تھمب پِن سے جو سٹیٹ منٹ اٹکی ہوئی تھی وہ اُسے غور سے پڑھنے لگا – وہ کئی بار اپنے لیکچروں میں جینیاتی انتخاب(Genetic Screening) اور جینیاتی انجینئرنگ (Genetic Engineering) بارے دلائل دے چکا تھا اور اُس کی دانست میں گھامڑ پن(Stupidity) ایک بیماری تھی اور دس فیصد گھامڑ ترین لوگوں کا علاج(Cure) ضروری تھا – اُس کا یہ بھی خیال تھا کہ خوبصورتی کو جینیاتی انجینئرنگ کے ذریعے پیدا کیا جا سکتا ہے جبکہ عُرف عام کا یہ کہنا تھا کہ اگر دنیا میں تمام لڑکیاں ہی خوبصورت ہو گئیں تو یہ دنیا اور فطرت کیلئے تباہ کُن ہو گا جبکہ اُس کے خیال میں ایسا ہونا دنیا اور فطرت کیلئے بہت اچھا تھا – اُس کا یہ بیان جلی حروف میں شائع ہوا تھا کہ اگر ہم اُس جین کا پتہ لگا لیں جو جنسیات سے متعلق ہے تو پھر ایک خاتون کو ہم جنس میلان والے بچے کی طرح موافق جنس میلان والے بچے کو بھی پیدا نہ کرنے کا اختیار  سے مشابہہونا چاہیئے- اخبار والوں نے تو خیر حسبِ توفیق و عادت اُس کے اِس بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا تھا جِس کی بنا پر علم الحیات کے ماہر رچرڈ ڈاؤ کنز کو اس کی تشریح بھی کرنی پڑی تھی تا ہم اس کا لُب لباب یہی تھا- موٹاپے کے مسئلے پر اُس کا داغا گیا بیان بھی تو یہیں کہیں اُس کے ذہن کے سوفٹ بورڈ پر تھمب پِن سے جھُول رہا تھا جِس میں اُس نے کہا تھا کہ آپ جب کبھی بھی موٹے لوگوں کا انٹرویو کرتے ہیں تو اچھا محسوس نہیں کرتے کیونکہ آپ یہ جانتے ہوتے ہیں کہ آپ اُنہیں محنتانے پر رکھنے والے نہیں – بورڈ پر انتہائی بائیں جانب۲۰۰۰ء کی اُس کانفرنس کی رپورٹ بھی لگی ہوئی تھی جس میں اُس نے جلد کی رنگت اور جنسیات کے باہمی تعلق کو بیان کرتے ہوئے اپنے اِس مفروضے کا اظہار کیا کہ گہری رنگت کے لوگوں میں جنسی شہوت زیادہ ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آپ نے لاطینی عاشق توسُنے ہونگے مگر انگریز عاشق نہیں ۔۔بوڑھا ڈیوڈ اپنی ٹیڑھی میڑھی ٹانگیں صوفے پر سمیٹے واٹسن کے ذہنی و فکر ی تذبذب سے محظوظ ہو رہا تھا اور دفعتاً اُس کا خیال عدم کی بے چھت سے بغیر زنجیر جھُولتے اُن جوابات کی طرف لوٹ گیا جو انسانی ذہن سے متعلق اُن سوالات پر مبنی تھے ہنوز جن کا جواب مٹی گارے سے بنی دنیا کے تیز ترین دماغوں سے اوجھل تھے – جوابات تو عجیب تھے ہی، سوالات بھی بظاہر کم عجیب نہ تھے – مثلاً یہ کہ دماغی عمل میں معلومات کی کوڈنگ کیسے ہوتی ہے، یادداشتیں کیسے محفوظ اور پنہاں ہوتی ہیں، انسان کی حالت آرام میں دماغ کیا اور کیسے عمل کرتا ہے، دماغ مُستقبل کے بارے میں کیسے سوچتا ہے، جذبات کیا ہیں، ذہانت کیا ہے، دماغ میں وقت کا اظہار کیسے ہوتا ہے، دماغ کیوں سوتا اور خواب دیکھتا ہے، دماغ کے مختلف نظام ہائے کار آپس میں کِس طرح منسلک ہوتے ہیں اور یہ کہ شُعور یت ہے کیا؟ جوابات والے چمچماتے مخطُوطے پڑھتے پڑھتے اُس کی آنکھیں چُندھیا گئیں اور اُس نے اپنے آپ کو بجلی سے زیادہ رفتار کے ساتھ کائنات کی ا تھاہ گہرائیوں میں گرتے محسوس کیا، وہ شاید گرتا ہی چلا جاتا یا پھر برمودہ مثلث میں گر کر ہمیشہ کیلئے غائب ہو جاتا اگر اُس کا ہاتھ سات سو پاؤنڈ کے رُکے ہوئے سیلنگ سٹون (Sailing Stone) میں نہ پڑ جاتا – واٹسن ابھی اپنے بیانات کی اُدھیڑ بُن میں اُلجھا تھا کہ اُسے دور سے لیبارٹری اٹنڈنٹ کی کسی خاتون سے خفیف سی گفتگو سنائی دی اور ساتھ ہی ہیل کی ٹِک ٹِک، اُس نے سوچا وہ آ گئی اورساتھ ہی نِکٹائی درست کرتے ہوئے میز کی دوسری جانب کرسی پر جا کر بیٹھ گیا –

        شیرولِٹ کے ہونٹوں پر بکھری مسکراہٹ اور اُس کی آنکھوں کی چمک اِس بات کی غماز تھی کہ وہ واقعی بہت خوش تھی – دنیا کی عظیم شخصیات کے انٹرویو کرنا اخبارات والوں کیلئے ہمیشہ سے کریز کا باعث رہے ہیں اور آج اُس کا یہ کریز پورا ہونے جا رہا تھا – اگرچہ اُس نے اِس انٹرویو کیلئے بہت تیاری کی تھی اور جینیاتی سائنس، مالیکیولر بیالوجی، زوالوجی، مقیاس الذہانت اور نسل اور ذہانت کے باہمی تعلق بارے حتی الوسع مطالعہ بھی کیا تھا – اِس کے ساتھ ساتھ اُس نے سوالات کی ایک لمبی مگر محتاط لِسٹ بھی تیار کی تھی اور سائنسی الفاظ و تراکیب کی شارٹ ہینڈ رائٹنگ کی پریکٹس بھی کی تھی – اُس کی تمام تیاری مگر اُس وقت دھری کی دھری رہ گئی جب واٹسن نے اُسے کہا کہ وہ آج کے انٹرویو میں سوالات کے جوابات دینے کی بجائے اپنی Perceptionسے متعلق گفتگو کرے گا اور گفتگو کے آخر میں Concluding statement ریکارڈ کروائے گا – شیرولِٹ کیلئے انٹرویو کا یہ انداز قدرے سہل تھا اور وہ گفتگو کو ٹیپ ریکارڈ رمیں ریکارڈ کرنے کے ساتھ شارٹ ہینڈ میں آسانی سے لکھ سکتی تھی – اِس سے پہلے کہ واٹس اپنی گفتگو کا آغاز کرتا، ڈیوڈ کی نظر گھُومتی گھماتی شیرولِٹ کے پیروں پر جا پڑی، جھنجھلاہٹ میں وہ زیر لب بڑبڑایا— دھت تیرے کی، شیرولِٹ نے نہ صرف یہ کہ بند جوتے پہنے ہوئے تھے بلکہ اُس کے ٹخنوں پر سکن کلر کے موزے بھی دکھائی دے رہے تھے – ڈیوڈ کی سعی سفر آغاز سے قبل ہی انجام تک پہنچ گئی تھی – وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا، اُس نے اِسی میں عافیت محسوس کی کہ وہ اپنے کانوں پر بڑی سماعتی ریڈیو دُور بین (Big Ear Radio Telescope) چڑھا لے جِس پر جیری آراہمن نے بُرج قوس کے قریبی ستاروں سےWOWکا سگنل سُنا تھا – اُسے TAOS HUMمیں دلچسپی نہ رہی تھی جب سے وہ اِن کے زمینی Low Pitchشور کی بجائے عدم کے لا محدود صحرا میں ان کی High Pitch دھڑ دھڑ سُن چکا تھا – اُس نے اپنے دونوں ہاتھ کانوں پر رکھے اور صوفے پر کروٹ لے کر لیٹ گیا – اب واٹسن گویا ہوا، میرا فوکس آج نسل اور ذہانت کے موضوع پر ہو گا – ڈی این اے کے دوہری کمانی والے سٹرکچر کو وضع کرنے کے دوران مذکورہ موضوع میرے زیرِ مطالعہ رہا – اپنے اصل بیان تک پہنچنے کیلئے مجھے اس موضوع کے پس منظر، اِس کی تاریخ اور متعلقات پر تفصیلی بات کرنا پڑے گی – اور ڈیئر  شیرولِٹ آپ کو اِن تمام تر تفصیلات کو سننے کی زحمت گوارا کرنا پڑے گی، اِس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں، آئی ایم سوری! شیرولِٹ نے کہا، نوسر! Its OK، آپ اپنی بات جاری رکھیں، میں آپ کی ساری باتیں سننے کیلئے ہمہ تن گوش ہوں – ڈاکٹر نے کہا ویل! تو میں اپنی بات شروع کرتا ہوں – نسل اور ذہانت کے باہمی تعلق پر مباحث کا آغاز آج سے ٹھیک ایک سو سال پہلے اُس وقت ہوا جب مقیاس الذہانت (Intelligence Quotient) عمل میں آیا – امریکہ میں مقیاس الذہانت کیلئے کئے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ افریقی نسب کے لوگوں کا اوسط سکوریورپ نسب کے لوگوں سے بہت کم ہے – اِسی طرح یہ کہ مشرقی ایشیاء کے لوگوں کی ذہانت کا لیول یورپ کے لوگوں سے بہت زیادہ ہے – نسلی ذہانت کا یہ فرق پوری طرح اپنے وثیقہ کے ساتھ محفوظ ہے مگر یہ بات الگ ہے کہ ریسرچرز اِس کی وجوہات بارے متفق نہیں ہو سکے – اِس ضمن میں یعنی اِن وجوہات سے متعلق اب تک چار قسم کے جائزے دنیا میں موجود ہیں – پہلا یہ کہ لوگوں کی ذہانت کے مابین فرق حقیقی ہے اور اِس کی وجوہات ماحولیاتی اور وراثتی فرق کی پیدا کردہ ہیں – دوسرا یہ کہ قوموں اور نسلوں میں اُن کی ذہانت اور قابلیت کے حوالے سے واضع فرق موجود ہے تا ہم اِس کی وجوہات معاشرتی اور ماحولیاتی عناصر کی مرہون منت ہیں – تیسرا خیال یہ ہے کہ کسی نسل اور ذہانت کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے اور ذہانت معلوم کرنے کیلئے جو طریقہ ہائے کار وضع کئے گئے ہیں وہ از خود ناقص ہیں – چوتھا خیال یہ ہے کہ نسل اور عام ذہانت کے تصورات بذات خود ناقص ہیں اسلئے نسلی یا گروہی تقابل بذاتِ خود بے معنی ہے –

           واٹسن اپنے دونوں ہاتھوں کی پوروں کو آپس میں ملاتے ہوئے بظاہر تو شیرولِٹ کی طرف دیکھ رہا تھا مگر اُس کا دماغ کسی گہری سوچ میں پڑا ہوا تھا کہ لیب اٹنڈنٹ نے اُن کے سامنے بلیک کافی کے دو مگ اور کچھ سینڈ وچ لا کر رکھ دیے – کافی کا مگ دیکھتے ہی شیرولِٹ نے کاپی پنسل ایک طرف رکھ دی اور ٹیپ ریکارڈر کا بٹن آف کر دیا- وقفے کے دوران اُن کے درمیان ہلکی پھلکی غیر رسمی گفتگو جاری رہی – شیرولٹ نے ڈاکٹر سے ان کی بیوی الزبتھ اور بیٹوں رُوفس اور ڈنکن بارے معلوم کیا جبکہ ڈاکٹر نے اُس سے اُس کی صحافتی مصروفیات بارے معلومات حاصل کیں – ڈاکٹر نے ہاتھ کے اشارے سے اپنی گفتگو دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ دیا اور بولا، امریکی ماہرین نفسیات کی تنظیم کا یہ کہنا ہے کہ اگرچہ مختلف نسلی گروہوں کے درمیان اُن کی ذہانت کے حوالے سے واضع فرق موجود ہے لیکن اِس کی وجوہات سے متعلق نہ تو کوئی ماحولیاتی توضیع موجود ہے اور نہ ہی کوئی ایسا تجرباتی و مشاہداتی مواد موجود ہے جِس کی بنیاد پر اِسے جینیاتی توضیع سے منسوب کیا جا سکے – یہاں مجھے اختلاف ہے کہ کیا اب جینیاتی توضیعات نفسیات دان کیا کریں گے – امریکی علم الانسان ( Anthropology) کے ماہرین کی تنظیم کا بھی یہ کہنا ہے کہ جانداروں کے علم حیاتیات کے مطابق واضع گروہوں میں مروجہ تقسیم کے مطابق اُن کی ذہانت کے فرق کو صراحت کے ساتھ بیان نہیں کیا جا سکتا – شیرولٹ نے نہایت ادب سے ڈاکٹر کی بات کو کاٹتے ہوئے کہا کہ یوں لگتا ہے جیسے آپ کی بات کا مرکز و محور مقیاس الذہانت ہے – اِس ضمن میں میں آپ کی توجہ مقیاس الذہانت کے مُوجد الفریڈ بائنٹ کے اُس بیان کی طرف مبذول کروانا چاہوں گی جس میں انہوں نے اپنے مقیاس کے استعمال سے متعلق یہ بھی واضع کیا کہ اِن ٹیسٹوں کو مادر زاد (Innate) ذہانت معلوم کرنے کیلئے استعمال نہ کیا جائے اور نہ ہی لوگوں کو لیبل کرنے کیلئے استعمال کیا جائے – ڈاکٹر اُس کی بات سُن کر سٹپٹا گیا – اُسے شاید اندازہ نہیں تھا کہ وہ اُس کے انٹرویو کیلئے اِس قدر تیاری کر کے آئی ہو گی – اُس نے اُس کی سنجیدہ بات کو ہنسی میں ٹالنا چاہا، کہنے لگا ہاں بھئی! وہ بھی تو ایک اِنسان ہی تھے اور اِنسانوں کی بے شمار ادیانی، اخلاقی، نفسیاتی اور معاشرتی مجبوریاں بھی ہوتی ہیں – میں یہ سمجھتا ہوں کہ اِنسانوں کی ذہنی صلاحیتوں کے فرق کو سامراجی نظاموں، لوگوں کو غلام بنائے رکھنے اور سوشل ڈارونزم کیلئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا، پھر جنگ عظیم اول میں مشرقی و جنوبی یورپ کے لوگوں کی انگریزی زبانی سے متعلق مشکلات و مسائل کو مد نظر رکھے بغیر اُنہیں امریکہ کے جنمی (Native) لوگوں سے ہیچ قرار دے دیا گیا – مگر میرا مطلب اور مقصد یہ نہیں ہے، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جینیاتی طور پر یہ فرق موجود ہے اور جینیاتی طور پراِسے Cureکیا جا سکتا ہے-

         اِس میں کوئی شک نہیں کہ۱۹۲۰ء سے لے کر ۱۹۳۰ء کے عرصے میں مفکرین اور سائنسدانوں نے عمدہ نسلِ انسانی پیدا کرنے کے علم(Eugenic) کو نسل اور جینیات سے منسوب کرنے کو یکسر مُسترد کر دیا اور بعد ازاں انہیں بنیادوں پر امریکی سپریم کورٹ نے متفرق پبلک سکولوں کے نظام کو ختم کر کے غریب افریقی طالبعلموں کیلئے ترجیحی تعلیمی پروگرام وضع کرنے کا کہا، یہ غالباً۱۹۵۴ء کی بات ہے –

    سب کچھ دُرست جا رہا تھا، پھر بھائی آرتھر جینسن نے اپنے مضمون میں پھر اس بحث کو اُجاگر کر دیا اور افریقی امریکن بچوں کی تعلیم سے متعلق اُس نے کہا کہ اُن کی بری پرفارمنس اُن کے جین کی وجہ سے ہے نہ کہ اُن کے گھریلو کم تعلیمی ماحول کی وجہ سے – اُس کے اِس بیان نے درسگاہی نظام میں پھر سے نئے تضاد کو جنم دیا – پھر اِس کے بعد تو یہ سلسلہ چل نکلا – آپ کو مارک سِنڈر مین اور سٹینلے رُتھمین کی کتاب  The IQ Controversyتو یاد ہی ہو گی، زیادہ دُور کی بات نہیں، ۱۹۸۸ء کی کتاب ہے بھئی جِس میں چھ سو نفسیات دانوں، معاشرتی علوم کے ماہرین اور ماہرین تعلیم سے سروے کیا گیا اور ان میں سے پینتالیس فی صد نے اِس رائے کا اظہار کیا کہ کالے گورے کی ذہنی صلاحیت کے فرق میں جینیاتی اور ماحولیاتی دونوں عناصر کارفرماہیں – اِسی طرح The g Factor, The Bell curveجیسی کتابوں نے بھی موروثیت کے نقطہ نظر کو پروموٹ کیا – اب ڈاکٹر نے ایک لمبی سانس لی، یُوں لگتا تھا جیسے مسلسل بولنے کی وجہ سے اُس کی سانس پھُول گئی ہو – اُس نے کچھ دیر کُرسی  پر بیٹھے بیٹھے سستانے کے انداز میں اپنے بازوؤں اور گردن کو ڈھیلا چھوڑ دیا اور جلد ہی شیرولِٹ کی طرف متوجہ ہو گیا -ہاں تو اس ساری گفتگو کے بعد میں اس بابت اپنا Point of viewآپ کے سامنے رکھتا ہوں، آپ اِس کو میرا بیان بھی کہہ سکتی ہیں ! "میں اندرونی طور پر افریقی امکان پر بہت رنجیدہ ہوں کیونکہ ہماری تمام معاشرتی پالیسیاں اِس بات پر بنیاد کرتی ہیں کہ ہم سب کی ذہانت ایک جیسی ہے جبکہ تمام مقیاس (Testing) کہتی ہے کہ نہیں، اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اِس Hot Potato کا حل انتہائی دشوار ہے – میری یہ امید اور خواہش ہے کہ ہر کوئی برابر ہے مگر یہ مشاہدہ اور تجربہ بھی کہ جو لوگ کالے ملازمین کے ساتھ ڈِیل کرتے ہیں اُن کیلئے یہ دُرست نہیں "- ڈاکٹر نے اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا تھا اور اب وہ قدرے مخمصے کے انداز میں اپنی کُرسی پر اِدھر اُدھر پہلو بدل رہا تھا – ڈیوڈ بھی صوفے پر ایک دم جھٹکے سے اُٹھ کر بیٹھ گیا اور واٹسن کی طرف دیکھتے ہوئے گنگنانے کے انداز میں بولا، ماں پر پُوت پِتا پر گھوڑا، بُہتا نئیں تو تھوڑا تھوڑا – اُس کے دماغ میں پھر سوالات کی ایک چین چل پڑی، کیا تھیوری آف ایوری تھنگ کا وجود ممکن ہے، سیاہ مادہ(Dark Matter)  کیا ہے، کشش ثقل کی مزید بہتر تھیوری کیا ہو سکتی ہے، بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کے تناظر میں کولڈ فیوژن کی کامیابی کے امکانات کیا ہیں – اُس نے اپنے سر کو زور سے جھٹکا اور ٹھنڈی آہ بھرتا اپنی نامعلوم منزل کے سفر پر روانہ ہوا – شیرولِٹ ایک بار پھر پنسل کاپی ایک طرف رکھتے ہوئے اور ٹیپ ریکارڈر کا بٹن بند کرتے ہوئے یہ سوچ رہی تھی کہ ڈاکٹر اگر اپنے مشاہدے و تجربے کو معاشرتی ارتقاء کے تناظر میں بیان کرتا تو کتنا ہی اچھا ہوتا مگر شاید وہ یہ سہرا ڈارون کے سر نہیں باندھنا چاہتا تھا-یُوں بھی ڈاکٹر کو ہر اِنسان کی طرح اپنے سر پر نئے نئے سہرے سجانے کا بہت شوق تھا – اِنسانی چہروں پر بندھے کئی سہروں کی سُنہری اور سیمیں لڑیوں سے منعکس ہوتی روشنی نے ایک لمحے کو شیرولِٹ کی آنکھیں چُندھیا دیں اور وہ واپس جانے کیلئے اُٹھ کھڑی ہوئی-

٭٭٭

ہرستجگنو)            جاز عبیدمدیر ارشد خالد

نصر ملک  (کوپن  ہیگن، ڈنمارک)

کیفے بہشت

        لوگو بھول جا ؤ۔ ۔ ۔ ۔

        بیوی کے ساتھ تنازع و شوریدہ سری اور بچوں کے ساتھ غصہ اور تو تکار سب فراموش کر دو۔ ۔ ۔ ۔

        ۔ ۔ ۔ ۔ قابل ادائے گی بِل، بنک کا قرض اور اس پر سود اور پھر اِس سود پر سود اور وہ اِن سب کی ادائے گی کی آخری حتمی منحوس تاریخیں، سب کچھ بھول جاؤ، لیکن کیسے؟ یہی تو وہ سب عوامل ہیں جو ایک چھوٹے آدمی کو بالکل بے یار و مددگار بنا دیتے ہیں اور وہ بے بس ہو جاتا ہے اور اپنے آپ کو ایک مکھی کی طرح،  وبِ عنکبوت میں پھنسا ہوا پاتا ہے۔

        وہ، امداد کے لیے درخواستوں کو رد کر دیا جانا بھول جائے اور سماجی سرکاری اداروں کی جانب سے اپنے لیے کسی بھی قسم کی مدد کی امید کی توقع نہ رکھے، کیا وہ ایسا کر سکتا ہے؟ ایک گھنٹے کے لیے ہی سہی یا پھر ایک دن یا ایک شام کے لیے!کیا وہ ایسا کر سکتا ہے!!کیا وہ واقعی میں اِن سے فرار حاصل کر سکتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ نشے میں دھت فرار جو کہ دماغ اور دانتوں دونوں کو جکڑ لیتا ہے۔ آگ، الاؤ کی صورت اختیار کر کے حقیقت کے روپ میں جب سامنے ہو تو پہلے ہی سے تھکا ہارا فرد تنگدستی و خستگی اور زبوں حالی کے شکنجے کی گرفت سے کیسے بچ سکتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ان سبھی کے ذہنوں میں یہی کچھ تو انھیں حواس باختہ کر رہا تھا۔

        وہ سبھی کیفے میں ایک چھوٹی سے میز کے اردگرد بیٹھے اپنے اپنے سگار، پائپ یا سگریٹوں کے کش لگاتے دھواں پھیلا رہے تھے۔

        ان میں سے کچھ ادھم مچانے والے،  کچھ بہت ہی خاموش طبع اور کچھ تنک مزاج، مشتعل کرنے اور بڑے زود حس قسم کے تھے۔ ۔ ۔ اس حد تک مشتعل کر دینے والے کہ وہ کسی معمولی سی بات پر بھی تب تک ہنگامہ کرنے کا موقع جانے نہیں دیتے تھے  جب تک کہ شراب  و الکوحل ان کے ذہنوں میں ابھرنے والی ان کی سوچ و فکر کو آسیب زدہ نہ کر دے اور وہ اپنے تمام محسوسات، اپنی سبھی نا امیدیوں و مایوسیوں اور قرضہ جات کی لمبی فہرستوں اور قرض خواہوں کے خوف کو تلخ شراب کے گھونٹوں سے حلق کے نیچے نہ اتار لیں۔ اور اس کے ساتھ ہی ان کے ہونٹوں پر نغمہ زندگی پوری تب و تاب کے ساتھ سرخ گلابوں کی طرح رنگ بکھیرنا شروع نہ کر دے۔

        پیٹر ہرکارے نے کیفے بہشت کا دروازہ کھولا اور ایک لمحے کے لیے دہلیز ہی پر کھڑے کھڑے ایک لمبی سانس لی۔ شراب کی بو اور سگاروں و سگریٹوں کے دم گھونٹ دینے والے دھوئیں نے اس کا استقبال کیا۔ ۔ ۔ ۔ اسے ایک کونے سے  ’’  بلئرڈ ‘‘ کے گولوں کے ایک دوسرے سے ٹکرانے کی آواز اور ساتھ ہی بلئرڈ کھیلنے والوں کے ہوہا کا شور سنائی دیا۔ ۔ ۔ ۔  بلئرڈ کا ایک گولا اسی کونے میں رکھے ہوئے ایک  پیانو پر جا گرا۔ ۔ ۔ ۔  پیٹر میزوں کے درمیان سے اپنے لیے رستہ بناتے ہوئے بوفے (کھانے)کی لمبی میز تک جا پہنچا جہاں اس نے کچھ  ’’تصویری جریدے ‘‘  رکھے اور وہاں کھڑے ہوئے کیفے کے مالک سے کچھ جملوں کا تبادلہ کیا۔ پیٹر کی آج کی ڈیوٹی کا وقت اب ختم ہو گیا تھا اور وہ اخباروں و رسالوں وغیرہ کے پیکٹ تقسیم کر چکا تھا۔

        ایک دوسری میز جہاں ابھی تک کوئی کھانا وغیرہ نہیں چنا گیا تھا، وہاں ایک آدمی بیٹھا، اپنی بائیں آنکھ کو پوری شدت کے ساتھ ملتے ہوئے ناراض اور غصے میں دکھائی دے رہا تھا۔ پیٹر اپنی میز کو ایک طرف دھکیلتے ہوئے اس کے قریب پہنچ کر رکا،  ’’کیا تمھاری آنکھ میں کوئی شے پڑ گئی ہے، اولسن؟ ‘‘  اس نے پوچھا۔

        ’’ہاں، کیا تم سمجھتے ہو کہ میں محض اپنی خوشی کے لیے اپنی آنکھ کو یوں مل رہا ہوں !کاش مجھے معلوم ہوتا کہ یہ منحوس شیطانی صورت کہاں سے آئی ہے؟ ‘‘  اولسن ابھی تک اپنی بائیں آنکھ مل رہا تھا۔

        ’’شیطانی صورت!۔ ۔ ۔ ۔ کیا یہ اتنی ہی بری ہے؟ ‘‘۔

        ’’ہاں، بالکل، یہ ایسی ہی ہے اور اگر تم جھینگے یہاں سے دور نہیں ہٹ جاتے ہو تو میں تمھیں لات مار کر دروازے سے باہر پھینک دوں گا۔ ۔ ۔ ۔  میں تم اور سبھی دوسروں سے سخت بیزار و تنگ ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

        ’’اوہ ہو ایک ہی بار یہ سب کچھ کہنا تو کسی بھی لحاظ سے ہرگز کم نہیں ہے‘‘۔

        ’’بکواس بند کرو، کیڑے!‘‘۔

        ’’ ارے اولسن، تم  تو ہمیشہ ہی سے ایک اچھے مہربان آدمی ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

        ’’جہنم کے کیڑے! شیطان کے چیلے!!تم کسے اچھا و مہربان کہہ رہے ہو؟ اگر یہ میں ہی ہوں تو تم اپنے کہے پر توجہ دو!‘‘۔

        ’’ہاں، لیکن یہ سب کچھ تو بس میرا مہربانہ و دوستانہ انداز تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

        ’’میں تمھیں مشورہ دیتا ہوں کہ اگر تم چاہتے ہو کہ تمھاری دونوں آنکھیں سلامت رہیں تو پھر اپنا یہ دوستانہ و ہمدردانہ انداز اپنے تک ہی رکھو‘‘۔

        ’’اولسن، سنو! تم میرے ساتھ ناراض ہو۔ تمھیں فیصلہ کرنا چاہیئے کہ تمھارے دماغ میں یہ کرچ کہاں سے آئی ہے؟ یہ جو کچھ تم نے کہا یہ ایک الزام ہی نہیں سنگین دھمکی بھی ہے۔ تم ایک خاص ذہن والے آدمی ہو لیکن تم اس سے کام نہیں لیتے ہو، تمھیں تو پادری کے طور پر کام کرنا چاہیئے۔ بلکہ تمھیں لاٹ پادری کے معاون کے طور پر کلیسائی امور چلانے کا کام کرنا چاہیئے، تم تو تمام جہنمی اشیا کو دیکھ لینے کی قدرتی صلاحیت رکھتے ہو‘‘۔

        ’’احمق!مورکھ کہیں کا!! ‘‘۔

        ’’تم نے احمق کہا؟ یہی تو ثابت کرتا اور امید دلاتا ہے کہ تم  میں کچھ کہنے کا حوصلہ ہے اور تم واقعی میں اپنے بارے میں سمجھداری سے کچھ کہہ سکتے ہو ‘‘۔

        ’’ہاں، ہاں، تم جاؤ، جہنم میں جاؤ!دفع ہو جاؤ!!‘‘۔

        ’’نہیں، نہیں، میرے مہربان اولسن،  بالکل نہیں، میں تو وہاں سے ہو بھی آیا ہوں۔ ہمارا مالک خداوند خدا اتنا مہربان تھا کہ اس نے مجھے وہاں سے واپسی کا ٹکٹ کٹوا دیا۔ اور اگر تم وہاں جانا چاہتے ہو تو تمھارے لیے ایک ٹکٹ کا تو بندوبست کیا ہی جا سکتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

        اچانک کیفے کے ایک دوسرے کونے سے چیخنے چلانے اور شور مچانے کی آوازیں سنائی دیں۔ وہاں دو آدمی اپنی اپنی شراب کے گلاسوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔

        ’’تم پیٹر، تم اُدھر کیا دیکھتے ہو؟ انھیں اپنا کام کرنے دو، وہ شاید خود ہی اِدھر ہمارے پاس آ جائیں ‘‘۔ اولسن گردن گھما کر انہیں دیکھتے ہوئے بولا۔

        پیٹر نے ان دونوں کو ہاتھ سے اشارہ کیا۔

        ’’میں آتا ہوں !، پیٹر بولا۔  میرے پاس تمھارے لیے ایک لفافہ ہے، تم خبریں تو جاننا ہی چاہتے ہو!‘‘۔

        ’’نہیں، یہ سیاہ لفظوں میں لکھی تازہ بھڑکتی خبریں تم اپنے پاس ہی رکھو لیکن تم چاہو تو ہمارے ساتھ شراب کا ایک گلاس پی سکتے ہو۔ ان میں سے ایک آدمی کیفے کے بیرے کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہوئے بولا۔  ’’ابے تم، بیرے، پیٹر کے لیے ایک گلاس شراب لانا‘‘۔

        پیٹر نے اولسن سے الوداعی مصافحہ کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ ۔ ۔ ۔

        ’’نہیں، شکریہ، اس کی کوئی ضرورت نہیں ‘‘۔ اولسن بولا۔  ’’تمھیں  ’’پیزا ٹاور ‘‘کی طرح جھکنے کی ضرورت نہیں ‘‘۔

        ’’ہاں لیکن ہم ایک دوسرے کو خوش کن انداز میں  خدا حافظ  تو کہہ ہی سکتے ہیں نا!‘‘۔ پیٹر نے اس کی بات کاٹ دی۔  ’’تم میرے کاروبار کو پسند نہیں کرتے نہ سہی، یہ ایک الگ معاملہ ہے‘‘۔

        ’’نہیں، بالکل نہیں، اس کا تمھیں اعتماد رکھنا چاہیئے، ہم کبھی بھی ایک نہیں ہو سکتے۔ یہی ایک ٹیکہ تو نہیں جو تم لیے پھرتے ہو اور جسے تم ایک  بہت بڑی خبر قرار دیتے اور سب کو پیش کرتے ہو۔ تم ہرکارے!‘‘۔

        ’’کونسی بہت بڑی خبر،  تم جسے ٹیکہ کہہ رہے ہو؟‘‘۔

        ’’سنو!، اگرچہ تم خبروں کی منڈی کے سب سے بڑے گروسر ہو لیکن تمھیں یہ تک معلوم نہیں کہ ہمارا خداوند خدا بیروزگار ہو چکا ہے اور شیطان کا کام بہت زیادہ بڑھ گیا ہے ‘‘۔

          ’’نہیں ! یہ تم کیا کہہ رہے ہو، شیطان کا کام بہت زیادہ بڑھ گیا ہے؟ خداوند خدا بیروزگار ہے اور شیطان کے پاس بہت زیادہ کام باقی پڑا ہے، میرے خیال میں یہ اخباروں میں تو نہیں چھپا۔ اس کا یوں کھلے بندوں تو اظہار نہیں کیا گیا لیکن اب میں سوچ سکتا ہوں ایسا کیوں ہے۔ شاید لوگ یہ خبر بین السطور پڑھ ہی لیں گے‘‘۔

        ’’اچھا، تو تم پیٹر، بین السطور ہی پڑھتے ہو!، ہاہا، ہاہا !!‘‘۔

        ’’ہاں، ہاں !، ہمیشہ وہیں تو سب سے بڑی خبر ہوتی ہے‘‘۔

         ’’اچھا تو پھر وہیں دیکھنا شاید تمھیں یہ بڑی خبر وہیں مل جائے کہ ہمارا خداوند خدا بیروزگار ہو چکا ہے!‘‘۔

        ’’نہیں، نہیں، میرے بھائی ایسا نہیں، میں جانتا ہوں کہ ایسا نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

        ’’یہ تم کیسے جانتے ہو؟ ‘‘۔

        ’’یہ تو میں از روئے ایمان کہہ رہا ہوں۔ میں نے صبح کی عبادت کے دوران بچشم تصور دیکھا تھا ‘‘۔

        ’’ہاں میں بھی تو عبادت میں شامل تھا۔ دوسری میز والا ایک آدمی ہاتھ میں شراب کا گلاس تھامے  پیٹر اور اولسن کی میز کے قریب ان کے سامنے کھڑا کہہ رہا تھا۔

        ’’ہاں ہاں، تم اور تمھارا خداوند خدا ایک دوسرے سے اس طرح کا تعلق رکھتے ہو جس طرح کا تعلق تمھارے اور پیٹر کے درمیان ہے‘‘۔ اولسن نے اس آدمی کے ہاتھ میں شراب کے گلاس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پیٹر کو بڑی گہری نگاہ سے دیکھتے ہوئے اسے ایک مسکراہٹ دی۔

        ’’ہاں یہ تو ہے!ہمارا تعلق ایسا ہی ہے جیسا کہ تم نے ابھی کہا ہے۔  اور ہاں میں تم سے یہ پوچھنا تو بھول ہی گیا ہوں کہ کیا تم بھی کبھی اسے کچھ کہنا چاہو گے۔ ۔ ۔ ۔ ؟‘‘

        ’’ہاں، تم اسے میرا سلام کہنا اور اگر وہ مجھ سے کبھی ملنا چاہیئے تو میرا ایڈریس بہت آسان ہے، شاہراہ کہکشاں نمبر ایک، ساتویں منزل۔ ۔ ۔ ‘‘

        ’’کیا میں اسے یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ وہ تمھارے ہاں آ بھی سکتا ہے اور تم اسے خوش آمدید کہو گے؟‘‘

        ’’نہیں !تم اب کچھ زیادہ ہی بولنے لگے ہو، ایسا نہیں ہو سکتا ‘‘۔

            ’’لیکن تمھیں اس کے لیے کوئی خاص  تردد تو کرنا نہیں پڑے گا اور نہ ہی کوئی زحمت اٹھانی پڑے گی‘‘۔

        ’’نہیں، نہیں، پیٹر تم ایک بات اچھی طرح سن لو، میں کبھی کسی کے لیے نہ تردد کرتا ہوں نا زحمت اٹھاتا ہوں اور میرا یہی اصول اس پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ۔ ۔ ۔  جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں، تمھیں اس کی ضرورت بھی نہیں لیکن۔ ۔ ۔ ۔ یہ بھی ہے کہ جب کوئی اس کی صحبت میں بیٹھا ہوا ہو تو وہ خوشی تو محسوس کرتا ہی ہے لیکن کچھ تھوڑی سی خجالت بھی محسوس کرتا ہے، تم سمجھ گئے ہو گے کہ انسان محسوس کرتا اور خوش ہوتا ہے کہ وہ کتنی اعلیٰ صحبت میں ہے لیکن خجالت و ندامت اس لیے محسوس ہوتی ہے کہ انسان یہ بھی سوچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ وہ جس کی صحبت میں ہے وہ اس کے بارے میں کچھ نہ کچھ تو پہلے ہی سے ضرور جانتا ہے حالانکہ اس نے یہ سب کچھ بڑے راز کے ساتھ صرف اپنے تک ہی محدود و محفوظ رکھا ہوتا ہے۔ اور جب انسان اس کی صحبت میں بیٹھا اپنی ان پوشیدہ باتوں کا اظہار کرنے لگتا ہے تو وہ جانتا ہے کہ جس کے سامنے وہ یہ سب کچھ کہہ رہا ہے وہ تو اسے پہلے ہی سے جانتا ہے تو پھر وہ سننے والا اسے دیکھ کر مسکرا دیتا ہے اور یوں پھر وہاں انسان کے لیے کسی خجالت و ندامت کی کوئی گنجائش نہیں رہتی‘‘۔

        ’’ہاں، پیٹر! یہ سب کچھ تمھارے لیے بہت بہتر ہے۔ تم تو ہمارے پروردگار کے بارے میں وہی باتیں کرتے ہو جو دیواروں پر لکھی ہوتی ہیں اور دن کے وقت جنہیں بلدیاتی کارکن چونا پھیر کر مٹا رہے ہوتے ہیں لیکن رات کو وہ پھر دیواروں پر ابھر آتی ہیں۔ لیکن کیا اب تم مجھے ایک بات  کہنے کی اجازت دیتے ہو؟۔ ۔ ۔ ۔ آخر جب وہی ہمارا پروردگار خداوند خدا ہے تو پھر وہ خود کو کچھ نہ کچھ تو ہماری جانب متوجہ کر سکتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ کیا خیال ہے تمھارا؟ ‘‘۔

        ’’ہاں، دیکھا نا، یہی تو ایک فرق ہے ہمارے پروردگار خداوند اور شیطان کے درمیان، کہ شیطان ہر جگہ لعنت برساتا اور فتنہ پیدا کرتا اور ہر جگہ حادثات کو جنم دیتا رہتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ صرف حادثات، صرف یہی کچھ تو ہے جو وہ سر انجام دے سکتا ہے۔ کیا ایک پادری کو اسے روکنا نہیں چاہیئے اور کیا اسے گرجے کے دروازے کی سیڑھیوں ہی سے نیچے نہیں گرا دینا چاہیئے لیکن ایسا ہوتا نہیں۔ ۔ ۔ ۔ پادری تو ایک طرف، خود خداوند خدا دروازے پر منتظر رہتا ہے کہ وہ  شیطان  ’’اندر ہی بند رہے‘‘،   خداوند اِسے یوں دیکھتا ہے کہ یہ فیصلہ خود لوگوں کو کرنا چاہیئے کہ وہ  اسے اپنے اندر رکھیں یا۔ ۔ ۔ ۔ ،  شیطان لوگوں کو غلام بناتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ خداوند خدا غلاموں کو آزاد انسان ہونا دیکھنا چاہتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ کیا تمھیں یہ اتنا بڑا فرق دکھائی نہیں دیتا!میں جانتا ہوں کہ وہ  شیطان کئی بار شاہراہ کہکشاں نمبر ایک، ساتویں منزل پر آیا اور وہاں سے گزرا ہے لیکن اب تم جا ؤ اور اسے آج شام اپنے اندر ہی بند رکھو، یہ تمھارا احسان ہو گا۔ آج کی صحبت کے لیے تمھارا بیحد شکریہ‘‘۔

ادھر دوسری طرف وہ دونوں آدمی اپنی میز پر بیٹھے ابھی تک سگاروں سے دھواں پھینک رہے تھے۔ ۔ ۔ ۔

ان میں سے ایک بولا، ’’آج پیٹر کے ساتھ اچھی ہوئی۔ ۔ ۔ ۔ وہ اپنے آپ کو کچھ کم نہیں سمجھتا، اور پھر ایک ہرکارے کے حیثیت میں تو وہ سمجھتا ہے کہ وہ ایک غیر معمولی فرد ہے جو ہر ایک سے آشنا ہے اور سب کچھ جانتا ہے‘‘

       ان دونوں کے شراب کے گلاس خالی پڑے تھے اور پیٹر ان کے قریب کھڑا انہیں دیکھتے ہوئے مسکرا رہا تھا۔

 ٭٭

     ایک فلسفی نے سٹرک کے خاکروب سے کہا:’’مجھے تجھ پر بڑا ترس آتا ہے اس لیے کہ تیرا ذریعہ معاش  بہت تنگ اور گندہ ہے۔ ‘‘

       خاکروب نے جواب دیا ’’جناب کا بہت بہت شکریہ۔ لیکن ذرا یہ فرمائیے کہ آپ کا ذریعۂ معاش کیا ہے؟‘‘

     فلسفی نے بڑے فخر سے کہا:’’میں لوگوں کو انسانی اخلاق و فطرت کا درس دیتا ہوں۔ اور ان کے اعمال و افعال، رجحانات و میلانات پر اعتقادی نظر ڈالتا ہوں۔ ‘‘

خاکروب ہنس پڑا اور اپنا جھاڑو سنبھالتا ہوا بولا:’’تو!غریب فلسفی!!آہ! بے چارہ فلسفی!!‘‘

خلیل جبران

کل شام میں نے فلسفیوں کا ایک گروہ دیکھا جو ٹوکریوں میں اپنے سر رکھے، شہر کے بازاروں میں آواز لگاتے پھر رہے تھے:’’فلسفہ لے لو! فلسفہ!!‘‘

 آہ !یہ بھوکے فلسفی پیٹ پالنے کے لیے اپنے سروں کی تجارت کرتے ہیں۔

خلیل جبران

٭٭٭

 شہناز خانم عابدی (کینیڈا )

گھلتا ملتا لہو

          لڑکی گاڑی روکنے کا اشارہ کرتے ہوئے پرنسپل صاحبہ کی گاڑی کے سامنے آ کر اس طرح کھڑی ہو گئی کہ ان کو اپنی گا ڑی کو لگام دینی  ہی پڑی۔ اگر لڑکی اس طرح نہیں کرتی تو وہ ہر گز گاڑی نہیں روکتیں خواہ وہ لڑکی کتنی ہی چیختی چلا تی۔ ایک تو وہ کالج کی لڑکیوں  پر اپنا دبدبہ قائم رکھنے کے لئے  انسانی اخلا قی روّیوں سے تجاوز کرنے سے پس و پیش نہیں کرنے  والی خاتون تھیں، دوسرے یہ کہ جس لڑکی نے ان کی گاڑی روکی تھی اس کا تعلق ایک ایسی طلبہ تنظیم سے تھا جس کے لئے ان کے دل میں کوئی نرم گوشہ نہ تھا۔ پاکستان بھر کی تمام درس گاہوں میں مستثنیات کو چھوڑ کر سبھی اساتذہ اپنے طلبہ کی مانند گروہی سیاست میں ملوث ا ور بٹے ہوئے تھے۔ وہ کالج کی سربراہ تھیں اور بظاہر ایک غیر ملوث، غیر جانبدار منتظم کا چولا پہنے پھرتی تھیں۔ اس زمانے میں طلبہ سیاست میں کراچی خون خرابے کی حد تک بڑھا ہو ا تھا۔

            انتہائی بے بسی کے عالم میں گاڑی روک کر انہوں نے لڑکی سے ڈانٹنے کے انداز میں پو چھا ’’ راستے  میں گاڑی رکوانے کی تمہیں ہمت کیسے ہو ئی۔ کل صبح بات نہیں کر سکتی تھیں۔ ‘‘

’’ سوری میڈم ! لڑکی گریہ کناں آواز میں بولی۔ میں نے مجبوری میں آپ کی گاڑی روکی۔ ‘’

’’ کیسی مجبوری۔ ‘‘ لڑکی کو دبتا ہو ا دیکھ کر پرنسپل نے گرجتے ہوئے پو چھا۔

     اسی دن کالج میں جب لڑکی کے مخالف سیاسی گروہ سے متعلق ایک مرد طالب علم لیڈر کمال جس کے سر بے شمار طلبہ کو گولی مار کر قتل کر نے کا خونی سہرا بندھا تھا پرنسپل صاحبہ کے دفتر میں گھس آ یا تو وہ کسی سوکھے پتے کی طرح لرز رہی تھیں اور اس سے اس طرح احکا مات لے رہی تھیں جیسے وہ پرنسپل ہو اور یہ خود کوئی معمولی چپرا سن۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے جاتے ہی نائب پرنسپل اور دیگر اسٹاف پرنسپل کے کمرے میں پہنچے تو انہیں اطمینان سے بیٹھا دیکھ کر حیران رہ گئے۔ پرنسپل نے ایسا رویہّ اپنا یا تھا جیسے کہ کچھ بھی خلافِ معمول نہیں ہو ا۔ جب کمرے سے سب لوگ چلے گئے  سوائے صرف ایک کے جو ہر معاملے میں ان کی ہم خیال رہتیں۔ اور بقول دیگر اساتذہ کے ان کی چمچی۔ ۔ رہ گئیں تو وہ  بولیں۔ ’’ کمال شیر کی طرح دھاڑ کر گیا ہے۔ ۔ ۔ ۔ کیا جوان ہے۔ ۔ ۔ ۔ اس کے آگے ان کے بکرے، بکر یاں کیا ٹکیں گے۔

’’  اللہ کرے ایسا ہی ہو میڈم۔ ۔ ۔ ۔ ان سب کا صفایا ہو جائے اور ان کے پارٹی آ فس، بینرز، وغیرہ سے ہماری  جان چھٹ جائے۔ ‘‘  پرنسپل کی چمچی نے ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا۔

’’ بس تھوڑے ہی دنوں کی بات ہے۔ اپنے کالج میں صرف اپنے ہی لو گوں کا پارٹی آفس ہو گا۔ پھر تم دیکھنا میں کس طرح پورے کالج میں اسٹو ڈنٹس اور اسٹاف سمیت ان لو گوں پر جھاڑو پھیرتی ہو ں۔ ۔ منحوس۔ ۔ ۔ کمینیاں۔ ۔ ۔ ‘‘  پرنسپل نے دوسری پارٹی کے خلاف زہر اگلا۔

’’ پھر بھی آپ یہ تو بتائیے کمال سے آ پ کی میٹنگ کیسی رہی۔ ‘‘ چمچی نے تجسس سے پو چھا

’’ ایک دم فرسٹ کلا س۔ میں نے اس کی ہر اسکیم پر ’ او کے ‘ کر دیا ہے۔ لیکن تم ذرا ہشیار  رہنا۔ ۔ ۔ میں سب سے یہی کہنے والی ہوں کہ میں نے کمال سے دو ٹوک کہہ دیا ہے کہ اگر اس نے اپنی سر گرمیاں بند نہیں کیں  تو میں سخت سے سخت اقدامات سے بھی گُریز نہیں کرونگی۔ ‘‘  پرنسپل صاحبہ نے راز دارانہ انداز میں اپنی چمچی کو یہ بات بتائی۔

’’ میڈم ! آپ اطمینان رکھئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرا آپ کے ساتھ ٹھہرنا مخالفین کو پسند نہیں آئے گا۔ میں چلتی ہوں طالبات اور اسٹاف میں آپ کی غیر جانبداری کا چرچا کر نے۔ ‘‘ چمچی نے پرنسپل سے اجازت لیتے ہوئے کہا۔

’’ میڈم  مجبوری یہ ہے۔ ۔ ۔ ۔ مجبوری یہ ہے میڈم۔ ۔ ۔ ۔ لڑکی رک رک کر، گھبرا کر، روتے ہوئے  بولی‘‘

’’ میڈم آج مجھے مار دیا جائے گا۔ ‘‘  بڑی مشکل سے لڑکی نے جملہ پورا کیا۔

’’ کیا بک رہی ہو۔ ۔ ۔ ؟ ہوش میں ہو۔ ۔ ۔ مار دیا جائے گا۔ ۔ ۔ پاگل۔ ۔ ۔ ہٹو گاڑی کے سامنے سے مجھے دیر ہو رہی ہے، کل بات کرنا۔ ‘‘وہ بریک سے پیر ہٹا نے کے لئے بے تاب تھیں۔

’’ میڈم۔ ۔ ۔ ۔ میڈم۔ ۔ ۔ یقین ما نئے  مجھے آج مار دیں گے۔ کمال کبھی بھی غلط دھمکی نہیں دیتا۔  مجھے بچا لیجئے۔ ۔ ۔ میڈم مجھے بچا لیجئے۔ آپ کو اللہ، رسول، کا واسطہ۔ آپ کو بی بی فاطمہ کا واسطہ۔ آپ کو آپ کی آل اولاد کا واسطہ۔ ! ‘‘

              پرنسپل نے ایک مر تبہ اس لڑکی کو گھور کر دیکھا، وہ سر سے پاؤں تک التجا ہو رہی تھی۔ اس نے واسطے بھی بڑے بڑے دیئے تھے۔ اولاد کا واسطہ بھی دیا تھا۔ وہ بے اولاد تھیں۔ لیکن انہوں نے اپنی بہن کی ایک لڑکی کو اپنی بیٹی بنا لیا تھا  اس کا نام رخشندہ تھا  اور  وہ اس سے بے حد محبت کرتی تھیں۔ اپنی زندگی کے لئے گھگیا تی ہو ئی لڑکی کی جگہ ایک لحظہ کے لئے ان کو رخشندہ کھڑی نظر آ ئی۔ ان کا ہاتھ کسی ریفلیکس ایکشن کے تحت دروازہ کھولنے کو ہو گیا لیکن دوسرے ہی لمحے انہوں نے اسے روک لیا اور لڑکی سے اسی سخت لہجے میں  بولیں۔

’’  اگر ایسا ہے بھی تو میں کیا کر سکتی ہوں۔ ؟ ‘‘

’’ میڈم مجھے گاڑی میں بٹھا لیجئے۔ ‘‘ لڑکی نے بھیک مانگنے کے سے لہجے میں کہا

’’ نہیں میں ایسا نہیں کر سکتی۔ ۔ احمق لڑکیوں کی احمقانہ باتوں سے میں متاثر نہیں ہو سکتی۔ ۔ ۔ تمہیں کوئی نہیں ما رے گا۔ ۔ ۔ گھر جاؤ۔ ۔ کل بات کرنا۔ ۔ ۔ مجھ جانے دو۔ ‘‘

ٍیہ کہہ کر پرنسپل صاحبہ نے  پیر بریک سے ہٹا کر ایکسیلیٹر پہ  رکھا، گاڑی کو گیئر میں ڈالا۔ لڑکی کے چہرے میں تغیر آ گیا۔ وہ پتھر کا ہو رہا تھا۔ لڑکی کے ہٹتے ہی پرنسپل نے گاڑی کو ہوا میں اڑانا شروع کر دیا۔ اگر چہ کہ پرنسپل صاحبہ گاڑی ہمیشہ درمیانی رفتار سے چلا نے کی عادی تھیں۔ لیکن آندھی اور طوفان کی رفتار سے گاڑی چلا تی ہو ئی وہ  اپنے بنگلے تک پہنچ گئیں۔ ان کا بنگلہ کالج سے تقریباً آدھے گھنٹے کی ڈرائیو پر تھا۔

       بنگلے پر پہنچتے ہی ان کے آنکھوں کے سامنے رخشندہ کھڑی نظر آئی۔ لیکن رخشندہ وہاں نہیں تھی۔  وہ میڈیکل کالج کی طالبہ تھی اس کی  واپسی  شام سے پہلے ممکن نہ تھی۔ پھر ان کے سامنے زندگی کی بھیک مانگتے ہوئے ان کی اپنی شاگرد کھڑی تھی۔ اگر چہ کہ وہ جس تنظیم کی کارکن تھی اس تنظیم کے لئے ان کے دل میں کوئی نرم گوشہ نہیں تھا لیکن پھر بھی پرنسپل نے یا ان کے اندر کسی اصل شخصیت نے  اچانک کوئی فیصلہ کیا۔ گاڑی کے اسٹیئرنگ نے گردش کی او ر گاڑی جس رفتار سے بنگلے کی سمت اڑتی آئی تھی، اسی رفتار سے کالج کی سمت اڑ گئی۔ کالج اور اس کے گرد و نواح کی گلیوں میں قدرے دھیمی رفتارسے گاڑی رینگتی رہی۔ ان کے کانوں میں لڑکی کی آواز گونج رہی تھی۔

’’  میڈم! یقین مانئے مجھے آج مار دیں گے، کمال کبھی غلط دھمکی نہیں دیتا۔ ‘‘

وہ بھی یہ بات اچھی طرح جانتی تھیں کہ کمال کبھی غلط دھمکی نہیں دیتا ہے۔ لڑکی کا کہیں نام و نشان نہ تھا۔

’’ اوہ  میرے خدا کہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ اس کے آگے سوچنے کی ان میں ہمت نہ تھی۔ انکا ذہن قریب کے پٹرول پمپ کی طرف گیا، وہاں سے ٹیکسی اور رکشا گزرتے تھے۔ شاید ایک آدھ بس کا بھی ادھر سے روٹ تھا۔ ۔ ۔ ۔ ذہن کے اشارے پرپرنسپل نے فیصلہ کیا، فیصلہ بالکل درست ثابت ہوا۔

       لڑکی پٹرول پمپ کے قریب کھڑی تھی اس نے اپنے سرکو  دوپٹے سے لپیٹ رکھا تھا اور اس طرح کھڑی تھی جیسے ’ ہونی ‘ پر اپنے آپ کو چھوڑ دیا ہو۔ پلک جھپکتے پرنسپل کی گاڑی لڑ کی کے پہلو میں پہنچ گئی۔ پرنسپل نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور زور سے چلّائیں۔ ’’ اندر آ جا ؤ۔ ‘‘

لڑکی جیسے چونک سی پڑی۔ وہ تو کسی اور دنیا میں جا چکی تھی۔ اس کو تو گاڑی کے قریب آ نے کا احساس بھی نہیں ہو ا تھا۔ پرنسپل کی آواز سے اس  کے اندر جان سی آ ئی۔ وہ دنیا میں لوٹ آ ئی اور جھپٹ کر گاڑی کے اندر ہو گئی۔ گاڑی نے اڑان لی لیکن جیسے ہی گاڑی پٹرول پمپ سے دور ہوئی اس پر گولیوں کی بوچھاڑ ہو گئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گولیاں اور گولیوں کی تڑاخ پڑاخ بند ہو گئی۔ لوگ اِدھر اُدھر سے، چوکنّا سے، خوف زدہ سے گاڑی کی طرف بڑھے۔ چلتی گاڑی رکی پڑی تھی۔ اس کو گیس پہنچانے والے پاؤں جامد ہو چکے تھے۔ پرنسپل کا سر اسٹیئرنگ سے ٹکا ہوا تھا، لڑکی کا سر پرنسپل کی گود میں پڑا تھا۔ گولیوں نے دونوں جا نب سے گاڑی اور گاڑی میں بیٹھی ہو ئی استاد اور شاگرد کے جسموں کو چھلنی کر دیا تھا۔ دونوں کے خون آپس میں گھُل مِل رہے تھے۔ اس سے قطع نظر کہ دونوں مختلف اور متصادم لسانی اور سیاسی دھڑوں سے تعلق رکھتی تھیں۔

٭٭٭

کاشف بٹ (حویلیاں )

ارتقاء

آج لیکچر کچھ زیادہ طویل نہیں ہو گیا۔۔؟

ہاں ۔۔ لیکن لیکچر کے دوران تم کہاں کھوئی ہوئی تھی؟

نہیں تو۔۔تم نے کیسے محسوس کیا؟

میں نے بارہا محسوس کیا کہ تم طاہر صاحب کی گفتگو سے زیادہ کھڑکی سے باہر کا نظارہ کرنے میں مصروف تھی۔

جبران! ۔۔پتہ نہیں کیوں میں طاہر صاحب کے نظریات سے متفق نہیں ہو پاتی۔ کبھی کبھی تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ بلاوجہ مجھ پہ وہ نظریات تھوپے جا رہے ہیں جن سے مجھے کوئی غرض نہیں۔

دیکھو مسکان! اگر تمہارا خیال ہے کہ طاہر صاحب اپنے نظریات کا پرچار کرتے ہیں تو اپنا نظریہ تبدیل کرو کیونکہ طاہر صاحب تو صرف استاد کا فرض سرانجام دے رہے ہیں۔ اُنہوں نے تو ہمیں وہی کچھ پڑھانا ہے جو نصاب میں موجود ہے۔ اب اگر کسی کو نصاب میں موجود کسی موضوع سے اختلاف ہے تو اُستاد کو تو مورد الزام نہیں ٹھہرا یا جا سکتا ناں ۔۔

تو کیا تمہیں اُن سے کوئی اختلاف نہیں ؟

مجھے نصاب سے بھی اختلاف نہیں اور ارتقاء کا موضوع تو میرا پسندیدہ مو ضوع ہے۔

جبران کیا تم بھی ڈارونزم سے متفق ہو؟

کسی حد تک۔۔

کیا مطلب کسی حد تک۔۔؟ Yesیا ں No۔۔ ایک جواب ہونا چاہیے۔ بیچ کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔

نہیں مسکان۔۔ ارتقائی نظریات ایسے نہیں ہیں کہ انہیں نفی یا اثبات کی بھینٹ چڑھا دیا جائے۔ انہیں سمجھنے اور پرکھنے کی ضرورت ہے۔ تم ایک بار اِن میں دلچسپی لے کر تو دیکھو۔

نہیں جبران! مجھے اِن بیکار کے نظریات سے کچھ واسطہ نہیں اور تمہیں میرا مشورہ ہے کہ تم بھی خواہ مخواہ اِن میں اپنی صلاحیتیں ضائع نہ کرو۔ ضروری نہیں ہے کہ امتحانات کے لیے اِن میں سر کھپایا جائے۔ سوال نامہ میں چالیس فیصد رعایت بھی ہوتی ہے۔

تم صرف امتحان پاس کرنے کے لیے مطالعہ کرتی ہو لیکن میرے ساتھ ایسا نہیں ہے۔ میں پورے نصاب کا تجزیاتی نظر سے مطالعہ کرتا ہوں۔

لیکن ہمارے نظامِ تعلیم میں تو نصاب کو امتحان کے زاویے سے ہی مرتب کیا جاتا ہے۔ تم کس دُنیا کے باسی ہو؟

تمہاری بات ٹھیک ہے مسکان۔۔ لیکن میں ایسا نہیں کرتا۔ بہرحال ہماری گفتگو کا موضوع آج کا لیکچر تھا تم ایک بار منصفانہ انداز میں ڈارونزم کا تجزیہ تو کرو۔

دیکھو جبران! مجھے اِس موضوع میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ پتا نہیں ڈارون کس ذہنی بیماری سے دوچار تھا جو ارتقاء کا نظریہ پیش کر بیٹھا۔ ہمارے نصاب پر انگریز کی پہلے کیا کم عنایات ہیں ؟

مسکان! شاید تمہیں علم نہیں ہے کہ ڈارون کوئی پہلا شخص نہیں ہے جس نے ارتقاء کا نظریہ پیش کیا اور نہ ہی یہ کسی انگریز کی عنایت ہے۔ خود ہمارے مسلمان مفکر ین ڈارون سے صدیوں پہلے ارتقاء پر اپنے نظریات پیش کر چکے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں۔

کیا واقعی۔۔؟ ایسا نہیں ہو سکتا۔

جی محترمہ! ایسا ہو چکا ہے۔ کیاتم نے مسلم  مفکرین کونہیں پڑھا؟

میرے پاس اتنا وقت کہاں کہ نصاب سے ہٹ کر کچھ پڑھ سکوں۔

تو پھر تم نے کیسے ارتقائی نظریات سے متعلق اپنی رائے قائم کر لی؟

کیونکہ ارتقائی نظریات مذہب سے متصادم ہیں۔

چلو ایک لمحے کو میں تمہاری بات سے اتفاق کر لیتا ہوں۔ لیکن مجھے یہ تو سمجھا دو کہ مذہب ہے کیا؟

نعوذ باللہ! کیسی باتیں کر رہے ہو جبران؟

کیوں ۔۔ کیا مطلب ’’کیسی باتیں کر رہے ہو؟‘‘۔ میں نے تو تم سے بس اتنا پوچھا ہے کہ مذہب کیا ہے اور یہ نعوذ باللہ کیوں کہا تم نے؟

جب تم ایسے لغو سوال پوچھو گئے تو کیا میں الحمد للہ کہوں گی؟ اچھا ذرا یہ تو بتاؤ کہ تمہارا مذہب کیا ہے؟

عجیب لڑکی ہو۔۔ میں مذہب کی معنویت پوچھ رہا ہوں اور تم مجھ سے پوچھ رہی ہو ’’تمہارا مذہب کیا ہے‘‘۔ میرا کوئی مذہب نہیں ہے۔

جبران۔۔توبہ کرو۔۔ یہ کفریہ کلمات ہیں۔

اِس میں کفر والی کیا بات ہے مسکان۔۔؟ میں نے اللہ اور رسول ﷺ کا انکار تو نہیں کیا۔ الحمد للہ میں مسلمان ہوں۔

مسلمان ہو تو پھر یہ کیوں کہا کہ ’’میرا کوئی مذہب نہیں ہے‘‘؟

کیوں ۔۔ مسلمان کا کوئی مذہب ہوتا ہے؟

جبران۔۔ ایک حد ہوتی ہے ۔۔ کیا اسلام مذہب نہیں ہے؟

نہیں ۔۔!!

جبران۔۔۔۔۔۔ چلو تم ہی بتا دو کہ اسلام کیا ہے؟

اسلام تو دین ہے ۔۔مسکان۔۔ دینِ کامل۔۔

تو دین اور مذہب میں فرق ہی کیا ہے۔۔ ایک ہی بات ہے دین ہو یا مذہب۔

نہیں مسکان۔۔ ایک بات نہیں ہے۔ دین اور مذہب میں بہت فرق ہوتا ہے۔ مذہب کبھی دین کے تقاضے پورے نہیں کر سکتا۔ دین تو ایک اللہ کی طرف بلاتا ہے اُس کے قوانین کے اتباع کا حکم دیتا ہے جبکہ مذہب تو انسان کی اختراع ہے۔ مذہب میں اللہ کے قوانین تو موجود ہوتے ہیں لیکن بشری اختراعات کے ساتھ۔۔ نہ کہ حقیقی حالت میں۔

یہ باتیں تم نے کہاں سے سیکھی ہیں ۔۔؟ پہلے تو کبھی تم نے مجھ سے ایسی بحثیں نہیں کیں۔

پہلے کبھی تم نے پوچھی بھی تو نہیں ۔۔

پوچھی تو میں نے آج بھی نہیں ہیں ۔۔

لیکن آغاز تو تم نے ہی کیا ہے ناں ۔۔ چاہے وہ طاہر صاحب کے لیکچر سے متعلق ہی تھا۔ بات سے بات نکلتی ہے۔ بس سمجھو آج ایسے ہی سہی یہ باتیں تو ہونی ہی تھیں۔ اور جہاں تک بات ہے کہ میں نے یہ باتیں کہاں سے سیکھی ہیں ۔۔ تو میری جان! ایسی باتیں سیکھی نہیں جاتیں بلکہ مشاہدے، مطالعے اور تجزیے کا ثمر ہوتی ہیں۔

ہاں یہ تو ہے۔۔ اچھا تو پھر تم اپنے مشاہدے، مطالعے اور تجزیے کی روشنی میں یہ بھی بتا دو کہ نظریۂ ارتقاء دینِ اسلام سے متصادم ہے کہ نہیں ؟

میرے نزدیک تو جواب نفی ہی ہے۔۔

تو کیا ڈارون ٹھیک کہتا ہے؟

دیکھو مسکان! بات صرف ڈارون کی نہیں ہے۔ ڈارون نے تو اپنا حصہ ڈالا ہے جسے ہم contributionکہتے ہیں۔

تو تم کہنا چاہتے ہو کہ ڈارون نے ارتقائی نظریہ پیش نہیں کیا؟

ہاں بالکل۔۔ ڈارونزم تو ارتقائی نظریات کا ایک حصہ ہے جبکہ ارتقائی عمل کی جانچ پڑتال کی اساس تو بہت پہلے پڑ چکی تھی۔ ڈارون کی اہمیت اِس بناء پر نہیں کہ اُس نے ارتقاء کا نظریہ پیش کیا بلکہ اُس کی اہمیت تو اِس بناء پر ہے کہ اُس نے اپنی تحقیق میں خاطر خواہ نتائج اخذ کیے ہیں۔ ورنہ ارتقاء کا موضوع ڈارون سے پہلے کوئی پوشیدہ موضوع نہ تھا۔ مفکرین ہر دور میں تخلیقِ کائنات کے متعلق سوچتے آئے ہیں اور ابھی سوچ رہے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ارتقائی عمل کے نہاں گوشے بھی عیاں ہوتے جائیں گے۔

تو کیا ابھی ارتقاء کا عمل مکمل طور پر واضح نہیں ہوا؟

واضح تو تب ہو کہ جب ارتقائی عمل رُک جائے۔ ہم تو اب بھی ارتقاء کے عمل سے گزر رہے ہیں۔

تو کیا انسان کی موجودہ حالت ارتقائی عمل کا انتہائی مقام نہیں ہے؟

ہے۔۔ ضرور ہے۔۔ لیکن صرف طبعی حالت میں۔ مابعد الطبعیات کے مدارج اب بھی ارتقاء کے عمل سے گزر رہے ہیں۔

لیکن مابعد الطبعیات کے مدارج میں ارتقائی عمل کی موجودگی کیونکر ممکن ہے؟

ممکن ہے۔۔ اور یہ عمل اُس وقت سے جاری ہے جب سے طبعی طور پر بلند ترین سطح پر ارتقاء کے نتیجے میں انسان کی موجودہ حالت سامنے آئی ہے اور یہ ارتقائی عمل اپنے تکامل کو کب پہنچے گا اِس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔

لیکن جبران ۔۔کبھی تو یہ ارتقائی عمل اپنی تکمیل کو پہنچے گا ناں !

ہاں ضرور۔۔

تب تو مفکرین کے لیے اِس موضوع میں کچھ اور کھوجنے کو نہیں رہے گا؟

مسکان ایسا نہیں ہے۔۔ ہم جب علم کی بات کرتے ہیں تو کوئی علم اپنی انتہائی سطح پہ ٹھہر نہیں جاتا بلکہ ایک اپنی کیفیت تبدیل کر لیتا ہے۔

تو کیا ہم کسی علم کی انتہائی سطح کو نہیں پہنچ پاتے؟

ہاں ۔۔ مسکان! ہمارے لیے کوئی بھی علم تب تک ہی اپنی انتہائی سطح پہ ہوتا ہے جب تک ہم اُس کے مزید گوشے تلاش نہیں کر پاتے۔

اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ارتقائی عمل بھی ایک مسلسل علم ہے جس سے شناسائی ہمیں کبھی حاصل نہ ہو پائے گی۔

تم نے ٹھیک کہا مسکان۔۔ لیکن ارتقائی عمل کی ایک خوبی اور بھی ہے۔

وہ کیا جبران۔۔؟؟

وہ یہ کہ جب ارتقائی عمل اپنی انتہائی سطح پہ پہنچے گا تو مفکرین کے پاس اتنی مہلت ہی نہیں ہو گی کہ وہ ارتقائی موضوعات پہ مزید بحث کر سکیں

وہ کیسے۔۔؟

وہ یوں کہ ارتقاء کے اس سفر کی تکمیل کے بعد ایک اور ارتقائی سفر شروع ہو جائے گا جسے تم سادہ لفظوں میں قیامت بھی کہہ سکتی ہو۔

تو کیا یہ ارتقائی عمل قیامت تک جاری رہے گا؟

بالکل مسکان۔۔ یہ عمل قیامت تک ہی جاری رہے گا۔

یعنی تم کہنا چاہتے ہو کہ ارتقاء کا نقطۂ عروج قیامت ہو گی؟

میرے نزدیک تو ایسا ہی ہے۔

لیکن جبران! ہم لوگ تو قیامت کے جن آثار سے واقف ہیں وہ تو کچھ اور ہیں۔

تم ٹھیک کہتی ہو! دراصل ہم نے قیامت کو صرف ایک پہلو سے دیکھا ہے۔۔ دُنیا میں نیکی اور گناہ میں کمی بیشی کے تناسب سے۔۔ اس کے علاوہ کسی اور جانب ہم نے توجہ ہی نہیں دی کیونکہ ہم نے اپنی فکری قوتوں کو کبھی استعمال ہی نہیں کیا اور یہی ہمارا المیہ ہے

جبران! تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ ہم جو باتیں پڑھتے یا سنتے رہے ہیں اُن میں صداقت نہیں ہے؟

میں نے ایسا نہیں کہا مسکان۔۔! اُن باتوں میں کسی حد تک صداقت ضرور ہے مگر ایسا نہیں کہ وہ سارے آثار جو عوام میں مقبول ہیں قیامت کے ہی ہوں یا اُن میں رتی برابر بھی فرق نہ ہو۔۔ انسان کو اللہ عزوجل نے فکری صلاحیتیں عطا کی ہیں اس لیے انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی بھی رائے کا تعین کرنے یا کسی بھی نظریے کو قبول کرنے کے لیے ان صلاحیتوں کو بروئے کار لائے۔

لیکن جبران! جو لوگ اپنی ان صلاحیتوں کو استعمال کرنے میں ناکام رہتے ہیں وہ بھی تو اپنی زندگی گزارتے ہی ہیں بالکل اسی طرح جیسے کوئی مفکر یا دانشور گزارتا ہے

ہاں ۔۔ گزارتے ہیں مگر دوسروں کے نظریات کے تحت۔۔ بناء کسی مشاہدے، مطالعے اور تجزیے کے۔۔ ایسے لوگ تمام عمر اپنے فیصلوں کے لیے دوسروں کے محتاج رہتے ہیں ۔۔ یہ جسے تم مذہب کہتی ہو اُس کا پرچار کرنے والے تفرقہ باز مولوی، محلات میں رہنے والے راجے مہاراجے، خانقاہوں میں شہنشاہ کی طرح بیٹھے موروثی پیر، پنچایت لگانے والے پنچ، قتل و غارت کے لیے جہاد کا نام استعمال کرنے والے نام نہاد مذہب کے ٹھیکیدار۔۔ یہ سب وہ لوگ ہیں جو اپنی فکری صلاحیتیں اپنے اغراض و مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور جو لوگ اپنی فکری صلاحیتیں استعمال کرنے سے قاصر رہتے ہیں وہ انہی کے محتاج ہوتے ہیں ۔۔ تم نے دیکھا نہیں کہ کس طرح لوگ منبر پہ بیٹھے مولوی کی بات کو من و عن تسلیم کر لیتے ہیں بناء یہ سوچے سمجھے کہ وہ جو کہہ رہا ہے اُس میں فلاح کا پہلو کتنا ہے اور انتشار کا کتنا۔۔ ایک راجہ جب اپنی بالکونی میں آتا ہے تو اُس کی رعایا اُس کے آگے سر جھکا کے کھڑی ہوتی ہے۔۔ کبھی تم نے غور کیا کہ اپنے راجے کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے عوام کے سر اُس کے قدموں سے کتنا نیچے ہوتے ہیں اور جب وہ کسی محفل میں جاتا ہے تو اُس کے سپاہی عوام کو اُس کے راستے کی گرد تک بھی نہیں پہنچنے دیتے۔۔ کبھی کسی خانقاہوں میں جا کر دیکھو ایک پیر کس طرح اپنے پاؤں پھیلا کے بیٹھا ہوتا ہے اور اُس کے مرید اپنے پیر صاحب کے پاؤں دابنے کے لیے باری کا انتظار کرتے رہتے ہیں ۔۔ کون سی نشہ آور شے نہیں ہے جو ان خانقاہوں میں نہیں ملتی۔۔کیا کبھی دین و مذہب یا باہمی بھائی چارے کا درس دیا انہوں نے۔۔ جرگے اور پنچایت کے نام پر ہمارے ہاں جو کچھ ہو رہا ہے اُس سے کون واقف نہیں ہے۔۔؟ صنفِ نازک کی عصمت ریزی کا جو تناسب پنچایت کے احکامات کی تکمیل میں قائم ہوا ہے وہ کسی بازارِ حسن میں بھی نہیں ملتا۔۔ اپنی خواہشات کی تکمیل اور اقتدار کے حصول کے لیے اسلحہ اٹھانے والوں کو تم کیا نام دو گی۔۔؟ کیا یہ سب وہ لوگ نہیں جو عوام میں مقبول بھی ہیں اور اُن کی توجہ کا مرکز بھی۔۔؟؟

واہ واہ کیا خوب بولتے ہو؟۔۔ جبران۔۔!!

میں بولتا نہیں ہوں مسکان۔۔ میں وہ ہی کہتا ہوں جو حقیقت میں یہاں ہے۔۔

لیکن اس سب کا حل کیا ہے۔۔؟

حل ہے مسکان۔۔ ہر مسئلہ کا حل ہے۔۔ جب لوگ اپنی فکری صلاحیتیوں کا مثبت استعمال شروع کر دیں گے تو یہ سب خود بخود ہی ٹھیک ہو جائے گا

اور اگر کسی نے ایسا نہ کیا تو۔۔؟

ایسا کرنا پڑے گا مسکان۔۔ کیونکہ یہ ارتقائی عمل کا وہ حصہ ہے جس سے ہر قوم اور قبیلے کو گزرنا ہے قیامت کی بڑی نشانی اس عمل کی تکمیل ہی تو ہے اور ہر قوم اور قبیلے کو قیامت تک کا سفر طے کرنا ہے

’’اور ایسی کوئی قوم یا قبیلہ نہیں جسے قیامت سے استثنیٰ حاصل ہو‘‘۔۔ طاہر صاحب کی آواز پہ پلٹ کر ہم دونوں نے دیکھا تو وہ ہماری پشت پہ موجود بنچ پہ بیٹھے مسکرا رہے تھے۔

٭٭٭

نجیب عمر ( کراچی)

عشق ایک ازلی جذبہ

جب اس کی آنکھ کھلی اس نے خود کو نرم خشک گھاس پر لیٹا ہوا پایا۔ وہ اس کے پہلو میں نہیں تھی۔ وہ تجسّس کے عالم میں غار کے دہانے تک آ گیا۔ قریب گرتے ہوئے آبشار میں وہ نہا رہی تھی اسے دیکھ کر مسکرائی اور اپنے پاس بلایا۔ آبشا ر کا پانی ٹھنڈا تھا لیکن انہوں نے جسم کی گرمی سے اس کا مقابلہ کیا اور اس وقت تک نہاتے اور نہلاتے رہے جب تک ان کے جسم برف نہیں ہو گئے۔ تھوڑی دیر وہ دھوپ میں خود کو خشک کرتے رہے۔ پھر اس نے اشارے سے بتایا کہ بھوک لگی ہے، اس کے ساتھی نے اسے تسلی دی اور بولا

’’ میں ابھی قریب کے جنگل سے کچھ پھل توڑ لاتا ہوں تمہیں ضرور پسند آئیں گے۔ اس کے بعد ہم شکار پر نکلیں گے اور کچھ نہ کچھ شکار کر لائیں گے جو چند دنوں کے لیے کافی ہو گا۔ ‘‘ اس نے کہا

’’ تم میرے ساتھ ہی رہنا۔ مجھے کچھ خوف ہے۔ مجھے لگتا ہے دو مخصوص آنکھیں ہمیں گھور رہی ہیں ‘ وہ دھوکے سے مجھے اپنے قبضے میں کرنا چاہتا پے۔ میں اس سے نفرت کرتی ہوں۔ تم نے بھی اسے دیکھا ہوا ہے اس کے پاس پتھر کے دو خطرناک ہتھیار ہیں جو تمہارے ہتھیارسے زیادہ مہلک ہیں۔ اس لیے ہمیں مستعد رہنے کی ضرورت ہے۔ ‘‘

’’ تم فکر نہ کرو میں موقع ملتے ہی اس کا کام تمام کر دوں گا۔ ہمیں اس کے علاوہ کسی اور سے کوئی خطرہ نہیں۔ وہ کیوں ہم دو پیار کرنے والوں کا دشمن ہو رہا ہے۔ اگر وہ تلاش کرے اور شرافت کا مظاہرہ کرے تو اسے بھی کوئی دوشیزہ مل سکتی ہے لیکن اس کی سوچ تخریب پر مشتمل ہے ‘تم نے اسے کہاں دیکھا۔ ‘‘

’’ میں ایک عورت ہوں میری حس تم سے تیز ہے۔ وہ اس وقت ہمارے آس پاس گھات لگائے ہوئے ہے ‘میں اسے محسوس کررہی ہوں۔ ‘‘دوشیزہ نے اسے جواب دیا۔

 وہ جنگل سے پھل توڑتے ہوئے بھی محتاط تھے۔ ا ب اپنے غار کی جانب لوٹ رہے تھے۔ اچانک ایک پتھر اس کے ساتھی کے سر پر لگا وہ چکر ا کر گر پڑا۔ درختوں کے درمیان سے وہی مکروہ چہرہ نمودار ہوا۔ اس نے دوشیزہ کو اپنے کاندھوں پر اٹھا کر غار کی جانب دوڑ لگا دی۔ دوشیزہ نے اس خبیث سے جان چھڑانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکی۔ اس نے اسے گھاس کے بستر پر پٹخ دیا اور اشاروں سے بتایا کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ دوشیزہ نے کہا

’’تم میرے جیتے جی ایسا نہیں کرسکتے۔ ‘‘

اس نے کہا ’’میں سب کچھ کرسکتا ہوں ‘میرے پاس بہتر ہتھیار ہیں اور چقماق بھی جو کسی با اختیار آدمی کی علامت ہوتی ہے‘ مجھے اپنی خواہش پوری کرنے دو میں تمہیں اس چقماق کا مالک بنا دوں گا۔ ‘‘

اس نے جواب دیا

’’ مجھے میرا ساتھی محبوب ہے اور یہ جسم اس کی امانت ہے۔ تم خیانت نہیں کرسکتے۔ ٹھیک ہے ہمارے پاس چقماق نہیں لیکن ہم پھر بھی خوش و خر م زندگی گزار رہے ہیں۔ ‘‘

 دوشیزہ نے دیکھا کہ اس پر باتوں کا کوئی اثر نہیں ہو رہا بلکہ وہ اس کی آبرو کے درپے ہے لہٰذا اس نے بڑی خاموشی سے ایک پتھر کو اپنی مٹھی میں بھینچ لیا اور اس کا انتظار کرنے لگی۔ وہ جیسے ہی اس پر جھکا جبکہ وہ اپنے ہتھیار سے بھی غافل ہوچکا تھا۔ اس نے پوری قوت سے اس کے سر پر ضرب لگائی۔ وہ ایک جانب لڑھک گیا۔ خون اس کے سر سے تیزی سے بہہ رہا تھا جسے دیکھ کر وہ قدرے خوفزدہ ہوا۔ موقع سے فائدہ اٹھاتے دوشیزہ نے اس کا ہتھیار اسی کے سینے میں اُتار دیا۔ وہ بری طرح کراہنے لگا۔

 وہ بھاگ کر غار سے باہر آئی اور اپنے ساتھی کی جانب لپکی جہاں اسے ہوش آ گیا تھا لیکن نقاہت غالب تھی۔ ا س نے پانی سے اس کا زخم دھویا اور اسے خوشخبری سنائی کہ اس نے اس مکار کو مار ڈالا ہے۔

’’ اب ہمارے پاس دو بہترین ہتھیار اور چقماق بھی ہے جس کی تمہیں عرصے سے تلاش تھی۔ آؤ اس سے پہلے کہ اس کی لاش تعفن پھیلائے اسے دریا برد کر دیتے ہیں۔ ‘‘

 اس نے دوشیزہ کو اپنی بانہوں میں بھر لیا اور کہا

’’ تم واقعی مجھ سے محبت کرتی ہو۔ میں بھی اسے مارنا چاہتا تھا لیکن تم مجھ سے بھی زیادہ بہادر ثابت ہوئیں۔ میں ہمیشہ تمہارا احسان مند رہوں گا۔ ‘‘

 یہ انسانی زندگی کا وہ دور تھا جب زبان ایجاد نہیں ہوئی تھی۔ مختلف آوازوں ‘ اشاروں ‘ کنایوں سے اپنا ما فی الضمیر بیان کیا جاتا تھا۔ لیکن محبت اور رقابت اس وقت بھی موجود تھی۔ انسان وفا کا پتلا بھی ہوتا تھا اور خطا کا بھی۔

٭٭٭

ساجد خاں (حویلیاں )

چھوٹے

        رات چھٹی بہت دیر سے ہوئی پھر سردی اور تھکاوٹ کی وجہ سے ساری رات بے خوابی کی کیفیت ہی رہی صبح ماں نے اندھیرے منہ اٹھا دیا اس کا پورا جسم تھکاوٹ سے چور  آرام کا طالب تھا۔ حسبِ دستور والدہ نے اپنا فریضہ سر انجام دیا مگر وہ حسبِ عادت آ ج اپنے فریضے کو سر انجام دینے سے قاصر تھا۔ پتلی اوڑھنی اوڑھ کے سونے اور سخت سردی کی وجہ سے اس کا سر بوجھل اور جسم اکڑا ہوا تھا۔ پھر نا چاہتے ہوئے اس نے ناشتہ کیا۔ ماں بار بار جلدی کام پرجانے کی دہائی دے رہی تھی۔ اسے ٹھنڈا پانی یاد آنے لگا۔ سردی کے سخت جھونکے اسے جانے سے بیزار کر رہے تھے۔ اس کے سامنے پورے دن کی مشقت گھومنے لگی۔ وہ ٹھنڈے برتن اُٹھائے گا  ساتھ والے کچن نما کمرے میں لے کر جائے گا۔ کمرے کی ٹھنڈک، پانی کی ٹھنڈک، موسم کی ٹھنڈک وہ سوچتے ہی آنکھیں بند کر کے لمبی نیند سو جانا چاہتا تھا مگر ما ں اصرار کر رہی تھی

کہ جاؤ، ، جلدی جاؤ، ، دیر ہو رہی ہے، ، ، ، ، ،

 وہ ماں کی طرف دیکھتا کبھی اپنی دن کی تھکان پر سوچتا۔ ۔ پھر وہ گھر سے باہر نکلا او سامنے سیڑھی پرجا بیٹھا۔ اس کے محلے کے لڑکے لڑکیاں صاف ستھرے کپڑے پہنے تیز قدموں اسکول کی جانب رواں دواں تھے، وہ ان کے گرم کوٹ، سویٹر، جرابیں، ٹوپیاں، کاندھے پر لٹکائے بستے دیکھنے لگا۔ تھوڑی دیر کیلئے اس کے جی نے بھی چاہا کہ وہ انکے ساتھ ہو جائے۔ پھر اس کی نظر سامنے کے بڑے ڈھیر پرجا ٹکی، سرخ و سفید رنگت، ، سرخی مائل آنکھیں، سنہری بالوں والی لڑکی اور لڑکا ہاتھ میں ایک  بڑاپلاسٹک کا مضبوط تھیلا لئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گندگی کو کبھی پاؤں تو کبھی ہاتھوں سے ادھر ادھر کر کے اپنے مقصد کی کوئی نہ کوئی شے اٹھا کر تھیلے میں ڈال لیتے۔ انھوں نے بھی چھوٹے کی طرح پتلے کپڑے، پاؤں میں کھلے منہ چپل ہی پہن رکھے تھے

جو سردموسم کا مقابلہ کرنے میں قاصر تھے۔

        سانولی رنگت، چہرے پر تھکاوٹ، کالی آنکھیں، نیند کی کمی سے سرخ، سیاہ لمبے بال، مگر کنگھی نہ کرنے کی وجہ سے بے ترتیب، ہاتھ میں ایک بڑا رومال جسمیں چھوٹا روٹیاں اور سالن باندھ کے لاتا۔ آج چھوٹے کا ہوٹل جانے کو جی نہیں کر رہا تھا۔ ماں گالیاں دیئے جا رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ارے چھوٹے جا جلدی کر۔ ۔ چھ بجے ہوٹل پہنچنا تھا سات یہاں ہی بجا دیئے۔ چھوٹا سنی ان سنی کر رہا تھا، جب والدہ مسلسل کہنے لگی تو وہ سیڑھی سے اٹھ کر قدرے دور حلوائی کے بنچ پر جا بیٹھا، ، ، دھوپ  میں اسے مزا آنے لگا۔

        آدھ گھنٹے بعد ہی ماں چادر اوڑھے سر پر آن پہنچی۔ ۔ ۔ ۔ ابھی تک یہاں ہی ہے اُٹھ جا ہو ٹل۔ ۔ ۔ ۔

ماں نے قدرے تُرش لہجے میں کہا۔ میں آج ہوٹل نہیں جاؤں گا ماں۔ چھوٹا لجاجت بھرے لہجے میں کہنے لگا۔

نہیں جائے گا تو کھائیں گے کیا؟۔ ماں نے ہاتھ سے پکڑتے ہوئے سمجھانے کی کوشش کی۔ ماں مجھے نیند آئی ہوئی ہے۔ چھوٹا روہانسی آواز میں التجا کرنے لگا۔

خیر ہے بیٹا آج چلا جا۔ ماں نے محبت سے سرپرہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ وہاں بہت کام اور سردی ہوتی ہے۔ ۔ ۔ ماں۔ چھوٹا رونے کو تھا

۔ ۔ ۔ ۔ بیٹا چھٹی جلدی کر لینا۔ ۔ ماں چھٹی جلدی مانگو تو وہ گالیاں دیتے ہیں۔ ۔ خیر ہے بیٹا آج جلدی آ کر خوب سونا۔ ماں چھوٹے کے چہرے پہ نظریں گاڑتے ہوئے کہنے لگی۔ چھوٹا نا چاہتے ہوئے بھی ہوٹل چل دیا۔ پانچ افراد پر مشتمل یہ خاندان کسمپرسی کی زندگی گزار رہا تھا۔ چھوٹا، چھوٹے کی ماں اور چھوٹے کی تین بڑی بہنیں۔ والد تین سال قبل دنیا سے منہ موڑ گیا۔ ساری ذمہ داری چھوٹے کیا ناتواں کندھوں پہ آن پڑی۔ ماں بھی محلے کے دو، تین گھروں میں برتن مانجھتی، کپڑے دھوتی، جھاڑو لگاتی، مگر مہنگائی کے سیلاب میں کہاں پوری پڑتی۔ چھوٹا سب کا چھوٹا تھا۔ گھر، محلے اور ہوٹل والے اسے چھوٹے کے نام سے ہی جانتے پہچانتے تھے۔

ماں چاہتی تھی کہ پڑھ لکھ جائے مگر گھر کا چولہا بھی تو جلانا تھا، وہ بچیوں کو سکول بھیجتی مگر وہ بھی اکثر گھر  پر ہی ہوتیں کبھی کاپی نہ ہوتی تو کبھی پنسل، کبھی کپڑے تو کبھی جوتے۔

        گیرج کے بڑے استاد نے ترش لہجے میں آواز دی، ، ، ، ، ، ، ، پپو، ، ، اوئے پپو، ،

ایک نو دس سال کا بچہ جی جناب کہتا ہوا بھاگا بھا گا آیا۔

پلاس دے۔ یہ لو استاد۔

اوئے چابی بھی پکڑا۔ یہ لو استاد۔

یہ لو استاد کے پتر۔ چھوٹی چابی دے نا

بہت سے اوزاروں سے وہ چابی ڈھونڈنے لگا۔ کہاں مر گیا ہے، استاد قدرے غصے سے بولا، ڈھونڈ رہا ہوں پپو نے جواب دیا۔ کہاں ڈھونڈ رہا ہے،

٭٭

پپو نے چابی استاد کی طرف بڑھا دی۔

        دوسری گاڑی کے نیچے سے آواز آئی پپو ادھر آ۔ ۔ ۔ ۔ آیا جناب۔ ۔ ۔ پپو اس جانب بھاگا۔ ۔ ۔ ۔ جا دکان سے سکریو اُٹھا لا۔ ۔ ۔ ۔ پپو سنتے ہی دکان کی جانب بھاگا جو کھڑے ٹرکوں سے پندرہ، بیس فٹ کے فاصلے پرتھی۔ جب پپو دکان پر پہنچا تو سامنے کی چارپائی پر چت لیٹے ڈرائیور نے کہا۔ پپو۔ جی استاد۔ ۔

جا ہوٹل پر دو چائے کا بول آ۔ ۔ ۔ پپو نے سکریو اُٹھا کر استاد کو تھما دیا اور سڑک کے پار ہوٹل پر چائے کا کہنے چل دیا۔ راستے میں اس نے ڈرائیور کو گالیاں بھی دیں جو پپو کے سوا کوئی بھی نہ سن پایا۔ ہوٹل پر پپو کا دوست چھوٹا بھی کام کرتا تھا۔ جب پپو ہوٹل منیجر کو دو چائے کا کہہ رہا تھا تو ہوٹل کے کونے میں چھوٹے بڑے برتنوں میں قدرے چھپا ہوا چھوٹا اُٹھا اس نے پپو کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور خود برتنوں میں چھپ گیا۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پپو چھوٹے کے پاس جا بیٹھا۔ چھوٹا خوشی سے کہنے لگا۔ ۔ پپو۔ آج  میں  جلدی چھٹی کروں گا۔

پھر یہ طے ہوا کہ دونوں جلدی چھٹی کریں گے اور جا کر کھیلیں گے۔ ان کے محلے کے سارے لڑکے شام کو کھیلتے۔ ۔ کبھی کبھار۔ ۔ پپو اور چھوٹا بھی ان کے ساتھ کھیل لیتے تھے۔ ۔

کس وقت چھٹی کی جائے کہ پیسے مل جائیں دونوں آپس میں طے کر نے لگے۔ چھوٹے کو ایک فکر ہوئی کہ ایسا نا ہو کے جلدی چھٹی سے سالن روٹیاں نا ملیں۔ جبکہ پپو کا یہ مسئلہ نہ تھا، پپو فارغ اوقات میں کسی بھی تھکے ڈرائیور کا سر، پاؤں دبا دیتا تو پانچ، دس روپے ڈرائیو اسے دے دیتا۔

        پھر پپو کے حالات چھوٹے سے یکسر مختلف تھے اس کا والد زندہ تھا یہ الگ بات ہے کہ وہ ہر وقت گھر میں لیٹا رہتا پھر پپو کے سر پر گھر کا بوجھ نہ تھا کیونکہ گھر میں ایک والد اور والد کے علاوہ بھلا تھا بھی کون، ، ، ، ، ، ، ، پپو کے والد کا اکثر بیوی سے  جھگڑا بھی رہتا اور وہ کبھی کسی کے ہاں تو کبھی کسی کے ہاں مہمان رہتی جب کبھی صلح ہوتی تو دو تین دن گھر میں سکون رہتا پھر نجانے کیا ہوتا، برتنوں کے ٹوٹنے کی آوازیں بلند ہوتیں برتن بھی کتنے تھے، دو سٹیل کے گلاس، چار پلیٹیں ایک جگ، ان پر اتنے گہرے نشانات  کہ جیسے کسی نے پتھروں تلے رکھ کر خوب درگت بنائی ہو۔ جب پپو اٹھ کے گیرج جانے لگا تو چھوٹا رازدارانہ لہجے میں کہنے لگا۔ ۔

پپو یار، ، اگر مجھے ہوٹل سے ترکاری اور روٹیاں نہ ملیں تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پپو نے کہا تو کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہہ دینا ہوٹل میں بچا ہی کچھ نہ تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔

چھوٹا قدرے سوچتے ہوئے کہنے لگا۔ ۔ ۔ ۔ یار بہنیں اور امی خفا ہوں گی۔ پپو نے بے زاری سے کہا کوئی بھی خفا نہیں ہوتا بس آج جا کر کھیلیں گے اب رنگ میں بھنگ نہ ڈال۔

میں بھی تو تیری وجہ سے جلدی چھٹی کر رہا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چھوٹا چاہتے نہ چاہتے حامی بھر گیا۔ پپو سڑک پار کر کے جونہی گیرج پہنچا تو استاد نے اس کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ رسید کر دیا۔ ۔ ۔ ۔ پپو کا سر چکرا گیا کان بھی بند محسوس ہونے لگا۔ کافی دیر تک اس کا کان سننے سے قاصر رہا۔ کدھر گئے استاد چلایا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چائے کا بتانے گیا تھا پپو روتے ہوئے کہنے لگا۔ ۔ ۔ چائے کا بتانے گئے تھے یا چائے بنانے۔ ۔ ۔ استاد غصے میں تھا۔ پپو نے خاموشی میں ہی عافیت سمجھی۔ جاؤ جا کر اوزار دھونے کیلئے پیٹرول لاؤ استاد نے پچاس روپے تھماتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پپو نے گیلن اٹھایا پیٹرول پمپ کی جانب چل دیا۔ جو کافی دور تھا۔ گھنٹے بعد واپسی ہوئی۔ پپو جاتے ہوئے گاڑیوں کے نمبر اور سامنے کی باڈی دیکھتا جب گاڑی گزر جاتی تو پچھلی جانب بنے نقش ونگار اور تصویروں پر نظر جا ٹھہرتی۔ ۔ ۔

 پپو جب پیٹرول لے کرواپس پہنچا تو استاد اور دیگر کاریگر کھانا کھا کر فارغ ہو چکے تھے۔ ۔

۔ پپو نے گیلن رکھا تو اسے کھانا کھا لینے کا حکم دیا گیا۔ پپو نے دوچار نوالے بچے سالن سے کھائے، چینک سے چائے انڈیلی اور روٹی کے ٹکڑے بھگو کر کھانے لگا۔ ۔ ۔ اتنے میں آواز آئی۔ پپو۔ ۔ جی استاد۔ ۔ کھانا جلدی کھا کے آؤ۔ آیا استاد۔ ۔ پپو جلدی جلدی نوالے منہ میں ڈالے جا رہا تھا۔ ۔

        ہوٹل میں چھوٹے نے سارے برتن مانجھ دیئے، نیچے بکھرا گند صاف کیا، بچی پتی کو نالی میں پھینک کر صفائی کر ڈالی، اب جھاڑو دینے لگا۔ جب سارا کام ختم ہو چکا تو ہوٹل مالک سے کہنے لگا۔ مجھے چھٹی دیں۔ گھر جلدی جانا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ہوٹل مالک جو تھوڑی ہی دیر پہلے ایک گاہک سے ریٹ پر توں تکرار کر چکا قدرے غصے سے کہنے لگا۔ ۔ چھٹی اور وہ بھی پانچ بجے ہوٹل کا پتا ہے کتنے بجے بند ہوتا ہے۔ ۔

وہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ مجھے گھر سے کہا گیا تھا کہ آج جلدی آنا۔

اچھا تو باقی برتن کو ن دھوئے گا۔ چھوٹا سوالیہ نظروں سے ہوٹل مالک کو دیکھنے لگا پھر نجانے اس کے دل میں کیا آیا۔ کاؤنٹر کھولا پچاس کا نوٹ چھوٹے کو تھماتے ہوئے کہا۔ ۔

 صبح جلدی آنا آج کی طرح دیر نہ کرنا جب چھوٹا ہوٹل سے نکلنے لگا تو اس کے جی نے چاہا کہ ہوٹل مالک اسے دوپہر کی بچی روٹیاں اور سالن دے دے۔ ۔ ۔

۔ ۔ ۔ مگر اس کی یہ خواہش۔ ۔ ۔ خواہش ہی رہی۔ ۔ ۔ وہ ہوٹل سے نکل کے سامنے گیرج کی جانب چلنے لگا سڑک پر کافی رش تھا۔ چھوٹا انہی سوچوں میں گم تھا کہ وہ گھر والوں سے سالن اور روٹی کی بابت کیا کہے گا۔ اسے جلدی چھٹی کرنا اچھا نہیں لگ رہا تھا وہ انہی سوچوں میں چلتے چلتے سڑک کے درمیان میں جا پہنچا۔ ایک تیز رفتار گاڑی اور ٹیک کرتے ہوئے چھوٹے کو کچلتی ہوئی آگے نکل گئی۔

گیرج کے سامنے کھڑے اور ہوٹل کے باہر بیٹھے لوگ چلا اُٹھے۔ سب چھوٹے کی جانب بھاگے۔ چھوٹا سڑک کے درمیان میں خون میں لت پت پڑا تھا، پپو بھیڑ کو چیرتا ہوا چھوٹے کے پاس جا  پہنچا۔ چھوٹے کا سر اپنے دامن میں بھر کے اس کے چہرے کو ہاتھوں میں لے کر کہنے لگا۔ چھوٹے آنکھیں کھول۔ وہ چھوٹے کومسلسل آنکھیں کھولنے کا کیے جا رہا تھا۔ ۔ چھوٹے۔ ۔ او چھوٹے۔ ۔ ۔ ۔ جبکہ چھوٹے کے منہ سے۔ ۔ ر۔ ۔ ۔ ر۔ ۔ رو۔ ۔ رو۔ روٹی۔ ۔ ۔ روٹی کے الفاظ نکلے۔

اس  وقت چھوٹے سے دور اس کی ماں چھوٹے کی صبح کی لجاجت بھری باتیں یاد کر کے خود کو اندر ہی اندر ٹوٹتا محسوس کر رہی تھی۔ ۔

٭٭

دردانہ نوشین خان  ( مظفر گڑھ)

کاخ اُمرا

      دروازہ پر لٹکا ٹاٹ کا پردہ، پرانی چارپائی پر بچھی پھیکی بد رنگ میلی چادر، دیوار پر اُکھڑتا چونا، بوسیدگی سے پیلے پڑتے چھوٹے بونے فرج میں رکھی پانی کی بوتلیں، اُکھڑتی اینٹوں کا غیر متوازی فرش اعلان کرتے تھے کہ یہ کا شانہ مفلسی ہے۔

      اس کاشانہ مفلسی میں ’’میں ‘‘ ایک عاقل بالغ خود مختار، بنیادی حقوق کی دعوی ٰ  دار، تعلیم یافتہ انسان۔ ۔ ۔ ۔ یہ الفاظ مجھے ایم اے سیا سیات نے سکھا دئیے ہیں جو میں نے پھٹیچر سے پرائیویٹ کالج کی ایونگ کلاس میں کی۔ مجھے اپنے طبقے کی لڑکیاں اچھی لگتی ہیں نہ لڑکے اور نہ ہی مرد، یہ سب اندر سے بھوکے لالچی باہر سے نا مکمل کٹے پھٹے فلسفی، ہمہ وقت  لجائے کترائے یا مشتعل، ۔ ۔ جھکے کندھے والے ان شرمساروں کے خواب ہمالیہ سے اونچے ہوتے ہیں۔ یہی وہ مخلوق ہے جو سوتی گودریوں میں ہے اور خواب محلات کے دیکھتی ہے۔ ۔ ۔ میرا اِن غریبوں شودوں سے کوئی رشتہ نہیں حالانکہ میں اور یہ ایک ہی شجرہ رکھتے ہیں، مجھے تو اپنا آپ عزیز ہے، تم ہی بتاؤ خود سے بڑھ کر  دیکھے جانے کے قابل کون بھلا؟۔ جب کوئی گروپ فوٹو آتا ہے تو ہم ان میں خود کو تلاش کرتے ہیں پھر ایک ایک گروپ والے کی نظر سے خود کو دیکھتے ہیں۔

     میرے ہونے کے کمال سے سب کے سب علوم نکلتے ہیں۔ ہر علم لوٹ کر مجھ تک آتا ہے، مجھے منہا کر کے دیکھو علم کی ویلیو زیرو ہے۔

       ’’ اری بکواس بند کر۔ پتا نہیں کہاں کی بات کہاں لے جاتی ہے، پہلے ہی گھر میں کھانے کو دھیلہ نہیں، آگے تیری دماغی خرابی کا علاج کہاں سے کروائیں گی‘‘

      یہ میری ہم عمر بھابھی نگینہ بولی ہے، بیچاری بی اے پاس جاہل۔ ۔ ۔

    ’’ کیا تم دھیلہ کھاتی ہو؟۔ ۔ دھیلے سے ناشتہ کرتی ہو یا لنچ۔ ۔ ۔ یا ڈنر۔ ۔ ۔ چچ چچ بھر تو تم بھوکوں مر گئی سمجھو کیونکہ دھیلہ تو عجائب گھر کی زینت ہو گیا ‘‘

          میں جھلنگا چار پائی میں پڑی تجمل حسین خان کا عیش کر رہی تھی بھابھی پتھر جیسے کالے صابن سے  میلے چیکٹ کپڑے دھو رہی تھی۔ رگڑتی، مسلتی، پٹختی، اُچھلتی سنبھلتی، نچوڑتی، مروڑتی ہائے بچاری۔ ۔ ہمارے ہاں واشنگ مشین ابھی ایجاد نہیں ہوئی۔ بھابی مجھے کہہ رہی ہے: ’’ اُٹھ کے ہنڈیا پکا لو۔ ابا کے کھانے کا ٹائم ہو جائے گا۔ ‘‘

        ’’ ابا کو کھانا ٹائم سے نہ ملا  تو کو نسی  قیامت آ جائے گی، ویسے زندگی میں کبھی اور کچھ انھیں ٹائم سے ملا ہے؟  گھر مکا ن پیسہ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘پھر بھا بھی کو سنجیدہ پا کر پوچھ لیا:’’ کیا  پکانا ہے وہی پیاز ہری مرچ کا شاندار مستاوا؟‘‘

     ’’ آلو بنا لو۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

        میں ایک لمبی آہ بھر کر اُٹھی ہوں تازہ دھُلے اینٹوں کے فرش پر چل رہی ہوں۔ اُٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو، کاخ امراء کے درو دیوار۔ ۔ ۔ ۔ ہلا دو۔

٭٭٭

کامل دنیا:خلیل جبران

اے گم شدہ روحوں کے خدا!تو جو خود دیوتاؤں میں کھویا ہوا ہے، میری آواز سُن!۔

ہاں ہم دیوانی اور آوارہ روحوں کی نگرانی کرنے والی ہستی!میرے الفاظ پر توجہ فرما!

میں ایک کامل قوم میں رہتا ہوں۔ میں جو ایک غیر مکمل ہستی ہوں، میں انسانیت کے پریشان اور منتشر عناصر کا مجموعہ ہوں۔ میں ایک کامل دنیا میں رہتا ہوں جس کے قوانین اور ضوابط مکمل ہیں۔ اور جن کے تصورات ضبطِ تحریر میں آسکتے ہیں۔ اے خدا!ان کی نیکیاں گنی ہوئی اور گناہ تُلے ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ لاتعداد ایسی چیزیں جو شام کے دھندلکے میں گناہ اور ثواب سے ماورا ہیں، شمار اور درج کی جاتی ہیں۔ یہاں دن رات چال چلن کے موسمی تغیرات میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔ اور انہیں خوب جانچ تول کر کڑے اصولوں کی زنجیر میں جکڑا جاتا ہے۔

کھانا، ۔ ۔ پینا، ۔ ۔ سونا اور اپنی عریانی کی پردہ پوشی کرنا۔ ۔ کام کرنا۔ ۔ ۔ کھیلنا۔ ۔ ۔ گانا، ناچنا اور گھڑیاں بجتے ہی چپ چاپ سو جانا۔ صرف ایک مقررہ مدت کے ساتھ غور و فکر کرنا۔ ۔ ۔ افق کے اس پار ایک خاص ستارہ کے طلوع ہونے پر غور و فکر کا سلسلہ بند کر دینا۔ ایک زیر لب تبسم کے ساتھ اپنے پڑوسی کو لوٹ لینا۔ ہاتھ کو شان سے ہلا کر خیرات کرنا۔ کسی کی جان بوجھ کر تعریف کرنا۔ دوسروں پر انتہائی چالاکی سے الزام عائد کرنا۔ کسی شخص کی زندگی کو ایک ہی لفظ میں تباہ کر دینا۔ اور جب دن بھر کا کام تمام ہو جائے تو نہایت عیاری سے ہاتھ دھو لینا۔ ایک مضبوط ارادے کے ساتھ محبت کرنا۔ ۔ بڑے تپاک سے شیطان کے ساتھ اتحاد کرنا۔ اور پھر سب کچھ بھول جانا۔ سوچ سمجھ کر کسی چیز کی تمنا کرنا۔ خندہ پیشانی سے ملول ہونا اور پیالہ خالی کر دینا تاکہ کل اسے پھر بھر دیا جائے۔

اے خدا! یہ تمام چیزیں پہلے ہی سے سوچی گئی ہیں۔ بڑی احتیاط کے ساتھ پیدا کی جاتی ہیں اور ان کی بڑے اہتمام کے ساتھ نگہداشت کی جاتی ہے۔ حکومت کے قوانین کی آڑ میں ان کا تحفظ کیا  جاتا ہے۔ مختلف ذرائع سے پاسبانی کی جاتی ہے۔ اور آخرکار طے شدہ منصوبے کے مطابق انہیں ذبح کر کے دفن کر دیا جاتا ہے۔ اور ان کی خاموش قبروں پر بھی جو انسانی دلوں میں جاگزیں ہوتی ہیں، نشان لگا دئیے جاتے ہیں۔ یہ ہے ہماری کائنات، ہماری متمدن دنیا جو عجائبات سے بھری ہوئی ہے۔ یہ ہے قادرِ مطلق کے باغ کا پختہ ثمر لیکن اے خدا!میں یہاں کیوں ہوں ؟۔ میں جو ناکام خواہشوں کا ناقص بیج ہوں۔ ایک آوارہ طوفان ہوں، ایک ٹوٹے پھوٹے سیارے کا ٹکڑا جو ہواؤں میں پریشان ہے۔ اور نہ مشرق کو تلاش کرتا ہے نہ مغرب کو۔

اے گم شدہ روحوں کے خدا! تو جو دیوتاؤں کے ہجوم میں گم ہے بتا میں یہاں کیوں ہوں ؟  ٭٭٭

محمد کاشف حنیف ( ہڑپہ اسٹیشن)

خلش

           عباس پور ریلوے اسٹیشن چوبیس گھنٹوں میں شاید ایک آدھ ریل گاڑی رکنے کے لیے بنایا گیا تھا جہاں سے شام ڈھلتے ہی کسی گاڑی کا ملنا مشکل ہوتا۔ ریلوے اسٹیشن سے ڈیڑھ دو کلو میٹر دور پرانی بستی میں رات کے سناٹے میں ہر طرف چھائی تاریکی ماحول کو پر اسرار بنا رہی تھی۔ پوری گلی میں وسط سے کچھ پہلے ایک چھوٹا بلب ضرور روشن تھا لیکن اس کی روشنی صرف کچھ ہی جگہ کا احاطہ کر پا رہی تھی اور یوں محسوس ہوتا تھا گویا یہ بلب مکان کی نشانی ہے کہ بلب والا مکان فلاں صاحب کا ہے۔ بلب کی روشنی صرف گلی کے درمیان میں تھی۔ اندھیرے کے بعد ملگجی روشنی اور پھر اندھیرا بالکل ایسا ہی لگ رہا تھاجیسے کسی پیدائشی غریب کی زندگی عسرت و ننگی سے شروع ہوئی ہو اور کچھ عرصہ حسین خواب کی مانند اچھے دن آنے اور گزر جانے کے بعد پھر وہی افلاس زدہ زندگی لوٹ آئی ہو۔

                گلی کی اندھیری نکڑ پر وہ تینوں شکاری کسی شکار کے منتظر تھے۔ اچانک گلی کی دوسری نکڑ سے ایک ہیولا نمودار ہوا اور چلتے چلتے روشنی میں آ پہنچا۔ وہ پچیس چھبیس سال کی ایک خوب روحسینہ تھی جس کے ہاتھ میں نیلے رنگ کا ایک بیگ تھا۔ لگتا تھا کہ وہ کافی دیر سے پیدل چل رہی ہے جس وجہ سے سانس تیز تیز چل رہی تھی لیکن منزل ابھی رسائی سے دور تھی۔ اتنا خوب صورت، جوان اور اکیلا شکار دیکھ کر شکاریوں کی آنکھوں میں چمک اور منہ میں پانی بھر آیا۔

          اندھیرے سے خوف زدہ لڑکی اتنی سہمی ہوئی لگ رہی تھی گویا پہلے سے جانتی ہو  کہ اس پر کیا بیتنے والی ہے۔ وہ بلب کی روشنی میں بننے والے اپنے ہی سائے کی طرف دیکھنے سے گریزاں تھی جیسے اس کا اپنا سایہ نہیں بل کہ ایک بہت بڑی بلا اسے کھا جانے کے لیے اس کے پہلو میں آن پہنچی ہو۔ روشنی کا سفر ختم ہوتے ہی اندھیرا اسے مکمل طور پر اپنی بساط لینے کو تیار تھا۔ اندھیرے میں ابھی اس نے بمشکل چند قدم ہی اٹھائے ہوں گے کہ گھات میں لگے شکاری اس پر پل پڑے۔ اس نے شکاریوں کے چنگل سے اپنی جان چھڑانے کی کوشش کی اور بھاگ کر گلی کی نکڑ مڑ جانا چاہی لیکن ایک شکاری کی مضبوط گرفت آڑے آ گئی۔ لڑکی نے چیخ مارنا چاہی لیکن آواز نرخرے میں دب کر رہ گئی۔ کچھ ہی دیر میں پھڑپھڑاتے ہوئے شکار نے آخری بار حرکت کی جیسے گل ہوتی ہوئی شمع آخری بار پھڑپھڑائے یا شاید ایسے ہی جیسے کوئی مرغی ذبح کرنے والے کے سامنے آخری وقت تک پھڑپھڑاتی ہے اور پھر تھک ہار کر ساکت ہو جائے۔ ایک چلتا پھرتا وجود پل بھر میں اس ظالم بھیڑیا سماج کو خیرباد کہہ چکا تھا۔ شاید اپنے وقت سے ر پہلے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شکاری اپنی ہوس بجھا کر وہاں سے غائب ہو چکے تھے۔

              مولوی کرامت علی فجر کی اذان دینے اور امامت کے لیے مسجد کی طرف جا رہے تھے کہ ملگجے اندھیرے میں اسے کسی وجود کا شبہ ہوا۔ پاس جا کر دیکھا تو انسانیت کے ہاتھوں بھنبھوڑی ہوئی لاش اپنے ساتھ ہونے والے بہیمانہ تشدد کی داستان سنا رہی تھی۔ مولوی کرامت نے مسجد میں اعلان کر دیا۔ آہستہ آہستہ گاؤں کے تمام لوگ لاش دیکھنے کے لیے اکٹھے ہو گئے۔ ہر آنکھ اشک بار ہو رہی تھی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس وہاں پہنچ گئی۔ اتنی دیر میں بوڑھا کریم بخش بھی اپنے بیٹے سمیت وہاں پہنچا۔ کریم بخش لاش دیکھتے ہی زمین پر گر گیا اور اس کی زبان سے ایک جملہ ادا ہوا :

   ’’میں اسے جانتا ہوں ‘‘

      اس سے آگے بوڑھے کریم بخش کی زبان اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ تھانے دار نوید بیگ نے کریم بخش سے تھانے آنے کو کہا اور سپاہیوں کو لاش سے متعلق ہدایات دیتا ہواواپس چلا گیا۔

          بوڑھے کریم بخش کے بیٹے افضل سمیت سارا گاؤں حیران تھا اور قیاس آرائیاں کر رہا تھا کہ کریم بخش کا لاش سے کیا تعلق ہو سکتا ہے۔ بوڑھا کریم بخش جس کے بارے میں سارا گاؤں جانتا تھا کہ اس کی کل کائنات صرف ایک بیٹا افضل ہے جس کی ماں اس کو جنم دینے کے کچھ دیر بعد چل بسی تھی۔ ہاں البتہ سال میں ایک آدھ بار کریم بخش حبیب نگر نامی گاؤں ضرور جایا کرتا تھا۔ جہاں اس کی بہن حمیداں رہا کرتی تھی۔

                      کریم بخش اپنے گاؤں کے چند معزز افراد کے ہمراہ تھانہ میں موجود تھا۔ اس کے مطابق مقتولہ کا نام رخسانہ تھا اور وہ کریم بخش کی بھانجی تھی۔ کریم بخش کی بہن حمیداں نے اپنی مرضی سے گاؤں کے ماسٹرعبدالرشید سے نکاح کر لیا تھاجس وجہ سے تمام برادری والوں نے اس سے ملنا جلنا ختم کر دیا تھا اور کریم بخش اپنی بہن کی اس حرکت پر لوگوں سے بہت سی باتیں سن چکا تھا۔ آخرکار اکتا کر کریم بخش اپنی بیوی کوساتھ لے کرعباس پور آ گیا۔ یہیں ناصرہ کے بطن سے افضل نے جنم لیا۔ ادھر رخسانہ کے پیدا ہونے کے کچھ عرصہ بعدماسٹر عبدالرشید کو دل کے دورے نے آ  لیا اور وہ جہان فانی چھوڑ کر چل بسا۔ حمیداں بے چاری ایک بچی کو لے کر پوری دنیا کا سامنا کرنے کے لیے تنہا رہ گئی۔ یہ سب کچھ دیکھ کر کریم بخش کا دل پسیجا اور اس نے حمیداں کو معاف کر دیا اور اس سے ملنا جلنا شروع کر دیا لیکن حمیداں کبھی عباس پور نہیں آئی تھی اور نہ ہی کبھی رخسانہ کو جانے دیا۔ رخسانہ کی پرورش کرنے کے لیے حمیداں نے ہر قسم کی محنت مزدوری کی، کپڑے سلائی کیے اورجھاڑوپونچھا تک کیا۔ رخسانہ پڑھ لکھ کر گاؤں کے اسکول میں استانی کے فرائض سر انجام دینے لگی۔

            کریم بخش نے بھی افضل کو کبھی حبیب نگر لے جانے کی غلطی نہ کی تھی کیوں کہ لوگوں کی زبان لمبی اور افضل کی برداشت کی حد بہت مختصر تھی۔ اب افضل پچیس چھبیس سال کا کڑیل جوان تھا۔ کریم بخش نے اس کی پرورش بڑے اچھے انداز میں کی تھی۔ لیکن اب اس کا اٹھنا بیٹھنا کچھ غلط لوگوں میں ہونے لگا تھاجس پر کریم بخش اسے اس کا برا بھلا سمجھاتا رہتا تھا۔ آخرکار اس نے سوچا کیوں نہ اس کی شادی کر دی جائے تاکہ وہ اپنے گھر بار والا ہو جائے۔

                     کچھ عرصہ قبل حمیداں کی وفات کی اطلاع کریم بخش کو پہنچی تو اس کا حبیب نگر جانا ہوا۔ رخسانہ کا تنہا ہونا کریم بخش کو دہلائے جا رہا تھا۔ آخر اس نے سوچاکہ کیوں نہ رخسانہ کا نکاح افضل سے کر دیا جائے۔ افضل اس ساری صورتِ حال سے بے خبر تھا لیکن کریم بخش کو اپنے خون پر پورا اعتبار تھا کہ وہ اس کی بات نہیں ٹالے گا۔ رخسانہ بھی اپنے ماموں کا گاؤں دیکھنا چاہتی تھی لہٰذا کریم بخش نے رخسانہ سے کہا کہ وہ کسی بھی دن سکول سے رخصت لے کر گاؤں آ جائے۔ اسی بہانے عباس پور بھی دیکھ لے گی اور افضل سے بھی مل لے گی۔ ویسے بھی اب اسے باقی کی تمام عمر عباس پور میں ہی گزارنا تھی۔

                قتل کی رات رخسانہ کریم بخش سے ملنے آئی تھی۔ اولاً تو ٹرین نے دیر کر دی دوسرا یہ کہ ریلوے اسٹیشن کا گاؤں سے فاصلہ اتنا طویل تھا کہ شام کے وقت وہاں سے پیدل چلتے تو گاؤں پہنچتے پہنچتے رات ہو ہی جاتی اسی لیے رخسانہ بھی رات کے وقت گاؤں پہنچی تھی اور گھر ڈھونڈتے ہوئے ظالم بھیڑیوں کے ظلم کا نشانہ بن گئی۔

                            ساری بات سننے کے بعد تھانے دار نے مزید کاروائی کے بارے میں کریم بخش سے پوچھا۔ کریم بخش شریف انسان تھا اور تھانے کچہریوں کے چکر میں نہیں پڑنا چاہتا تھا۔ ویسے بھی پوسٹ مارٹم کے نا م پر ہونے والی لاش کی بے حرمتی کے بارے میں جانتا تھا۔ اس   لیے مزید کاروائی سے انکار کر دیا۔ تھانے دار نے لاش کریم بخش کے حوالے کر دی اور اس کے کفن دفن کا انتظام کیا جانے لگا۔ جنازے میں حبیب نگر سے کچھ اور رشتہ دار بھی شریک ہوئے۔ ہر کوئی اس خاندان کی بپتا پر افسردہ تھا۔ کچھ دنوں تک کریم بخش بھی رو دھو کے چپ ہو گیاکہ شاید یہی مالکِ کل کائنات کی مرضی تھی۔ آہستہ آہستہ اس بات کو چھ ماہ کا عرصہ گزر گیا لیکن افضل کی آنکھوں میں ایک بے چینی سی لہراتی ہے جیسے اس کے اندر کوئی خلش اسے بار بار ستاتی ہو۔

                         آج حالات معمول پر ہیں لیکن بوڑھے کریم بخش کا بیٹا افضل، اسلم دھوبی کا بیٹاسلطان اوراس کا چچا زاد شیرو آج بھی ایک دوسرے سے نظریں نہیں ملا پاتے اور نہ ہی رات کو چوری چھپے گلی کی اندھیری نکڑ پر اکھٹے ہوتے ہیں۔

٭٭٭

       ذہانت اکثر و بیشتر ایک حجاب ہے۔ اگر تم اس کے چاک کرنے پر قادر ہو جاؤ توتمہیں ایک ہیجان آفرین عبقریت نظر آئے گی یا ایک فریبِ مہارت۔                                                                     خلیل جبران

افسانوں کے چند مجموعوں پر تبصرے

خواب کا رشتہ (شہناز خانم عابدی)

جوگندر پال

     شہناز خانم عابدی کو پڑھتے ہوئے اکثر معلوم ہوتا ہے گویا اسے آپ ہی آپ بنی بنائی کہانیاں سوجھ جاتی ہیں مگر ایسا نہیں ہوتا ہو گا۔ لکھنے سے پہلے اسے بھی ہم سب کی مانند بہت سوچنا ہوتا ہو گا اور کہانے کے فطرتی بہاؤ کا اہتمام کر پانے کے لئے بہت رک رک کر لکھنا ہوتا ہو گا۔ لکھی ہوئی رواں دواں کہانیاں اکثر ’’قیام‘‘ کی کیفیات سے عاری ہوتی ہیں۔ ’’ خواب کا رشتہ‘‘ ہی کو لے لیجئے اس کے مطالعہ سے قاری کو طبع زاد معانی کی ٹٹول ہونے لگتی ہے اور یوں گویا اس نے بھی کہانی کی تخلیق میں اپنی سا جھے داری نبھائی ہو۔ مجھے یقین ہے کہ شہناز خانم عابدی اپنی اس نمایاں خوبی کی بدولت اردو کہانی میں اہم رول اد ا کرے گی۔

       شہناز خانم عابدی  کے فن کا  ایک  پہلو یہ بھی ہے کہ ما نو وقوعہ  اس کے یہاں کہانی شروع کرنے سے پہلے ہی انجام پا چکا ہوتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ مگر نہیں اسے بھی سبھوں کی مانند موزوں وقوعوں کی تلاش میں بہت دقت کا سامنا رہتا ہو گا  تاہم اپنی یہ دقت ایک اچھے فنکار کی طرح وہ اپنے قاری تک نہیں پہنچنے دیتی  جو دلچسپ مطالعہ کی تیز روی میں کہانی کے اختتام سے پہلے کہیں دم نہیں لیتا۔

     رائٹر اگر اوریجنل ہو تو اپنی اوریجنلٹی سے بہ حسن و خوبی نمٹ پانے کے لئے  اسے بہت زیادہ اور لگا تار محنت اور زندگی کے مطالعہ سے کام لینا ہوتا ہے۔ خانم کی موجودہ تخلیقی بے چینیاں اس امر کی شاہد ہیں کہ اس کے شوق اور شدت میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا اور یوں وہ اپنے فکشن کی تخلیق کے اسباب تا دمِ آخر بنائے رکھے گی۔ کسی مصنف کے اوائل کی اچھی تحریریں اس تاثر کے باعث قابلِ اعتنا ہوتی ہیں کہ وہ اواخر تک آتے آتے ڈھیروں اور بھی اچھا لکھے گا۔ شہناز خانم عابدی  سے بھی ایسی توقعات باندھنا عین فطری معلوم ہوتا ہے۔ تخلیقی انہماک بڑا جان لیوا ہوتا ہے۔ خدا کرے اس کے انہماک میں انحطاط  واقع نہ ہو۔

        اردو کہانی کا یہ باب یقیناً  بڑا حوصلہ افزا ہے کہ ہمارے بعض لکھنے  والے برصغیر کے باہر بسے ہوئے ہیں اور یوں بھی ہماری کہانی کے وقوعی اور فکری اسباب میں وسعت پیدا ہو رہی ہے۔ خانم اور چند دیگر لکھنے والے اس تعلق سے بھی ہمارے افسانوی اسکوپ میں اضافہ کر رہے ہیں۔ نئے ادب کی زندگی پر بھر پور نظر رکھے بغیر بھی چارہ نہیں، خانم کے وقوعی اسباب میں ان امکانات کا بھر پور اسکوپ موجود ہے۔ طبع زاد کہانیاں زندگی  بسر کرنے کے باب سے بھی زیادہ کٹھن اور محنت طلب ہوتی ہیں، شہناز خانم عابدی کی موجودہ تخلیقی شرکتیں گواہی دیتی ہیں کہ وہ اوّل بھی تخلیق کار ہے اور آخر بھی۔ خدا  اُسے لکھنے کی صعوبت سے عہدہ برآ ہو پانے کے ذرائع اور ہمت عطا کرتا رہے۔

٭٭٭

    پرندے اب کیوں نہیں اڑتے (دیویندر اسر)

حیدر قریشی

   دیویندرا سرنے ترقی پسندی سے جدیدیت تک کا ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ سماجی انقلابی اور احتجاجی کہانیوں سے ہوتے ہوئے انہوں نے جدید افسانے کی منزل سر کی ہے۔ ان کے افسانوں کا تازہ مجموعہ ’’پرندے اب کیوں نہیں اڑتے‘‘سترہ افسانوں پر مشتمل ہے۔ کسی افسانہ نگار کے تازہ مجموعہ سے اس کی افسانہ نگاری کی تازہ صورت حال کا اندازہ کیا جاتا ہے لیکن زیرِ نظر مجموعہ میں دیویندراسر کے تازہ افسانوں کے ساتھ چند تھوڑے پرانے اور چند زیادہ پرانے افسانے بھی شامل ہیں۔ اس طرح یہ مجموعہ اپنے آپ میں دیویندراسر کی افسانہ نگاری کے ارتقائی عمل کی جھلکیاں بھی پیش کرتا ہے۔ زیادہ پرانے افسانوں میں ’’خونِ جگر ہونے تک ‘‘ اور شمع ہر رنگ میں جلتی ہے۔ ۔ ’’

      تھوڑے پُرانے افسانوں میں ’’میرا نام شنکر ہے‘‘ اور ’’پرندے اب کیوں نہیں اُڑتے‘‘ جیسے افسانے شامل ہیں جب کہ تازہ افسانوں میں ’’وے سائڈ ریلوے اسٹیشن۔ ‘‘آر کی ٹیکٹ‘‘ ’’جنگل ‘‘، ’’پرچھائیوں کا تعاقب‘‘اور ’’جیسلمیر‘‘جیسے افسانوں کے نام لئے جا سکتے ہیں۔ ’’پرچھائیوں کا تعاقب‘‘ کا ایک اقتباس دیکھیں :

        ’’تلاش کے اس عمل میں اس نے گم شدہ لوگوں کی تصویریں جمع کرنا شروع کر دیں۔ ان تمام لوگوں کی تصویریں جولا پتہ ہو جاتے ہیں۔ کسی کا قتل کر دیتے ہیں۔ یا خود کشی کر لیتے ہیں۔ گھر بار چھوڑ دیتے ہیں۔ سنیاس لے لیتے ہیں، تارک الدنیا ہو جاتے ہیں، بھیس بدل کر دو سری زندگی بسر کرنے لگتے ہیں۔ اسکول کا لج چھوڑ کر انقلابی بن جاتے ہیں یا اس عورت کی طرح کسی دُور افتادہ گاؤں میں آدمی واسیوں میں کام کرتے ہیں۔ وہ کیا چیز ہے جو لوگوں کو ایک زندگی بدل کر دوسری زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ یہ کیسا جنون ہے۔ !‘‘

وہ کیا چیز ہے جو لوگوں کو ایک زندگی بدل کر دوسری زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دیتی ہے اور کہیں بھی چین سے ٹکنے  نہیں دیتی۔ اسی چیز اور اسی اضطراب کی کھوج کا سفر دیویندراسر کے افسانوں میں دکھائی دیتا ہے۔ جدید اور جدید تر افسانے سے دلچسپی رکھنے والے اصحاب کے لیے دیویندراسر کے اس مجموعے کو نظر انداز کرنا بے حد مشکل ہو گا۔

٭٭٭

 بھاگتے لمحے (عبداللہ جاوید)

اے  خیام (کراچی)

اگر پاک و ہند کے علاوہ اردو کی دوسری بستیوں کی طرف توجہ کی جائے جہاں اردو زبان و ادب کی ترویج اور تسلسل کا عمل جاری ہے  تو کینیڈا کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہاں ایسے لکھنے والے تو موجود ہیں ہی جنہوں نے پاک و ہند میں لکھنے کی ابتدا کی تھی پھر کینیڈا کو اپنامستقر بنا لیا اور ایسے لکھنے والے بھی ملیں گے جنھوں نے وہیں لکھنے کا آغاز کیا اور خاصے معروف ہوئے۔ اس وقت عبداللہ جاوید کے افسانوں کا مجموعہ ’’ بھاگتے لمحے‘‘ میرے  زیرِ مطالعہ ہے۔ عبداللہ جاوید خاصے سینیئر لکھنے والے ہیں۔   ۴۰ کی  دہائی میں انہوں نے لکھنے کا آغاز کیا۔ بچوں کے لئے کہانیاں لکھیں، شاعری کی، خاکے لکھے، کالم نویسی کی، اور تنقیدی ادبی مضامین بھی لکھے۔ بہت سی کتابیں شائع ہوئیں اور بہت سی زیرِ طبع اور اشاعت کی منتظر ہیں۔ اردو کے ساتھ انگریزی زبان میں بھی یکسا ں قدرت رکھتے ہیں اس لئے انہوں نے دونوں زبانوں میں شاعری کی اور دونوں زبانوں میں افسانے لکھے۔ شاعری کے تو ان کے کئی مجموعے شائع ہوئے اور ایک مجموعہ ’’ موجِ صد رنگ‘‘ کے دو ایڈیشن شائع ہوئے۔ لیکن افسانوں کا ایک ہی مجموعہ ’’ بھاگتے لمحے‘‘  ۲۰۱۰؁ میں شائع ہوا۔

        عبداللہ جاوید کا اصلی نام محمد عبداللہ خان جاوید ہے۔ پہلے انھوں نے جاوید یوسف زئی کے نام سے قلمی نام اختیار کیا اور معروف رسالوں میں ان کے افسانے اسی نام سے شائع ہوئے۔ یہ سلسلہ تقریباً بیس سال تک چلتا رہا۔ پھر انہوں نے اس قلمی نام کو ترک کر دیا اور عبداللہ جاوید کے نام سے لکھنے لگے۔ جیسا کہ ابھی عرض کیا گیا ہے ’’ بھاگتے لمحے‘‘ عبداللہ جاوید کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ہے۔ اس مجموعے میں  ان افسانوں کو جگہ نہ مل سکی جو جاوید یوسف زئی کے نام سے لکھے گئے تھے۔ قاری کو اس کا اندازہ کرنا مشکل ہو گا کہ ان کا ارتقائی سفر کیسا رہا، آغاز میں انہوں نے کس طرح کے افسانے لکھے اور اب کس طرح کے افسانے لکھ رہے ہیں۔ یہ ان افسانوں کا ہی تسلسل ہے یا ان موضوعات اور اسلوب سے انحراف ہے یہ مجموعہ ان کے افسانوں کا انتخاب ہے جس میں ضروری تھا ان کے کچھ افسانے ابتدائی دور کے بھی شامل کئے جاتے۔

        اس مجموعہ میں ان کے بیس افسانے شامل ہیں۔ کچھ افسانے طویل ہیں اور کچھ مختصر۔ ہر افسانہ اپنے لئے خود سانچہ متعین کرتا ہے۔ کئی افسانے ایسے ہیں جو خود کلامی کے انداز میں لکھے گئے ہیں۔ یا ان کو بیان کرنے والا واحد متکلم کے صیغے میں موجود ہے۔ ان افسانوں کو پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ عبداللہ جاوید ایک مختلف اور بڑے وژن کے مالک ہیں۔ منفرد ہونا کوئی بڑی خوبی نہیں ہوتی۔ لیکن اس میں ایک نیا زاویہ، بڑا وژن، مختلف اسلوب بیان در آئے تو انفرادیت اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ عبداللہ جادید کے افسانوں میں ایک نیا ذائقہ ملتا ہے۔ اور ہر موضوع کے لئے وہ اپنا ایک زاویۂ نظر رکھتے ہیں۔ یہاں ان کے تمام بیس افسانوں کا جائزہ لینا تو مشکل ہو گا جب کہ سب افسانے کسی نہ کسی لحاظ سے اہم ضرور ہیں۔

        اس مجموعے کا پہلا افسانہ ’’ دختر آب‘‘ ہے جس میں بڑا بے باک  اور فطری لہجہ اختیار کیا گیا ہے آخر کے چند جملے قاری کا جھٹکا نہیں دیتے بلکہ ایسی جگہ لے جاتے ہیں جہاں اُسے بہت سے سوالوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کی یہ خوبی تقریباً ہر افسانے میں موجود ہے جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ اُسے نئے وژن سے دوچار کرتے ہیں۔ نئے اسلوب سے متعارف کرواتے ہیں۔ اسلوب تو زیادہ تر بیانیہ ہی ہے اور کسی کسی افسانے میں یہ طوالت بھی اختیار کر گیا ہے جو قدرے گراں گزرتا ہے۔ لیکن شاید افسانہ  نگار اپنی پوری بات اسی طرح کہہ سکتا ہے۔ ’’ ہونے کا درخت‘‘ ایسا افسانہ ہے جس پر ممکن ہے’ انشائیہ‘ کی چھاپ لگے لیکن اصل میں یہ Stream of consciousness کی تکنیک میں لکھے جانے والے افسانے کی بڑی اچھی مثال ہے۔ اس میں ایک ایسا بہاؤ اور ایسی لہر ہے جو قاری کو اپنے ساتھ لئے پھرتی ہے۔ ’’ دسواں مکان‘‘ نسبتاً ایک مختصر افسانہ ہے جس کے آخر کے چند جملے بڑی خوشگوار کیفیت سے دو چار کرتے ہیں۔ ’’ میری بیوی‘‘ میں پھر ایک بار افسانہ نگار کا وژن کھل کر سامنے آتا ہے۔ وہی بے باک بیانیہ، وہی بولڈ جملے، جو مجموعے کے پہلے افسانے ’’ دختر آب‘‘ میں نظر آیا۔

          اس تبصرے میں مجموعے کے تمام افسانوں کا ذکر اور ان کا تجزیہ تو ممکن نہیں لیکن اتنی بات تو پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ عبداللہ جاوید کا قلم نہ صرف یہ کہ ابھی تک تھکا نہیں بلکہ نت نئے Dimensions تلاش کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ اور کئی افسانوں  میں ایسی مثالیں نظر آتی ہیں جن کو بنیاد بنا کر کہا جا سکتا ہے کہ اردو افسانے کے فن کی وسعت کے لئے ابھی بڑی گنجائش موجود ہے۔

٭٭٭

کہانی بول پڑتی ہے (ڈاکٹر رضیہ اسماعیل)

ڈاکٹر نذر خلیق

  ڈاکٹر رضیہ اسماعیل کی نئی کتاب ’’کہانی بول پڑتی ہے‘‘ بک ہوم لاہور کے زیر اہتمام شائع ہو گئی ہے۔ ۱۳۶ صفحات پر مشتمل اس کتاب میں پوپ کہانی کے مسئلہ کو علمی سطح پر پیش کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر رضیہ اسماعیل نے’’ پوپ میوزک سے پوپ کہانی تک‘‘ کے عنوان سے اپنے مضمون میں اپنے موقف کو واضح کیا ہے۔ انہوں نے اپنی کہانیوں کے ساتھ امریکی پوپ کہانی کارکنگ وینکلس کی دو پوپ کہانیاں بھی ترجمہ کرا کے شامل کی ہیں۔ اس سے پوپ کہانی کے مرکز میں اس کی حیثیت کا اندازہ کرنے میں سہولت ہو جاتی ہے۔ پھر اسی حوالے سے اردو میں پوپ کہانی کی صورتِ حال کو مزید بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ حیدر قریشی کا مضمون ’’پوپ کہانی اور رضیہ اسماعیل کی کہانیاں ‘‘نہ صرف اس کتاب کی کہانیوں پر اظہار خیال ہے بلکہ انہوں نے پوپ کہانی کے بنیادی مسئلہ کی طرف بھی سنجیدگی کے ساتھ توجہ دلائی ہے۔ ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا کا مضمون’’ خواندنی اور جاذبِ نظر کہانیاں ‘‘بھی کتاب میں شامل ہے اور اس میں خواجہ محمد زکریا نے عمدہ پیرائے میں اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے۔

       افسانہ’’ مشین‘‘ اور’’ سرخ دروازہ‘‘ امریکی کہانی کار کنگ وینکلس کی تخلیقات ہیں۔ انہیں اردو میں اسماعیل اعظم نے ترجمہ کیا ہے۔ ان کے بعد ڈاکٹر رضیہ اسماعیل کی  مندرجہ ذیل بارہ کہانیاں شامل ہیں۔ تھرڈ ورلڈ گرل، ایئر فریشنر، آنر کلنگ، تھرڈ ڈائمنشن، گلاس کٹر، گاربیج، شادی ڈاٹ کوم، ریورس گیئر، پاکی، بھائی جان، ریڈیو کی موت، اور ٹک ٹک دیدم۔ آخر میں ڈاکٹر رضیہ اسماعیل کے بارے میں ’’ تعارف/تخلیقی اور ادبی سفر‘‘کے عنوان کے تحت ان کی اب تک کی ادبی و سماجی کار کردگی کی مختصراً نشان دہی کی گئی ہے۔

        امید ہے کہ ’’کہانی بول پڑتی ہے‘‘ کی اشاعت سے جہاں ڈاکٹر رضیہ اسماعیل کی افسانہ نگار کی حیثیت قائم ہو گی وہیں پوپ کہانی کے مسئلہ پر سنجیدہ بحث بھی ہو سکے گی۔ ایسی بحث جس کا مقصد پوپ کہانی کے بنیادی خد و خال کو اجاگر کرنا ہو۔

٭٭٭

بے سورج بستی ( حمیدہ معین رضوی)

مامون ایمن (امریکہ)

          اس کتاب کی مصنفہ تقریباً ینتالیس برس سے لندن میں رہ رہی ہیں۔ وہ  وہاں درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں۔ ( غیر ملکیوں کے اردو سیکھنے کے لیئے انھوں نے ایک  خاص نصاب اور  اس کے طریقہ تعلیم پہ مقالہ لکھا ہے۔ یہ پراجیکٹ گولڈ سمتھ یونیورسٹی اور کیمبرج  یونیور سٹی کے اشتراک سے تیار ہوا  تھا اور حمیدہ معین رضوی نے ایک اور اردو کی استادکوثر علی کے اشتراک سے یو نیورسٹی کے بتائے  ہوئے مقاصد اور رہنمائی میں اسے مکمل کیا تھا۔ برطانیہ کے اردو اساتذہ اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں )

     ’’ بے سورج بستی ‘‘ کا پیش لفظ معروف افسانہ نگار منشا یاد نے لکھا ہے، نیز اس کتاب پہ رائے دینے والوں میں محمد اقبال فہیم جوزی، کرنل غلام سرور ریٹائرڈ اور نثار ترابی بھی شامل ہیں۔ گیارہ افسانوں پر مشتمل یہ  کتاب تجربات سے گذرنے والے