FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

فہرست مضامین

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمہ اللہ

 

                ہمام ابن منبہؒ

 

 

 

ہمام ابن منبہؒ

 

ہمام بن منبہ تابعین کی نسل میں سے تھے۔ آپ کے والد منبہ بن کامل کے چار فرزند جن کے نام ہمام بن منبہ، وہب بن منبہ، معقل بن منبہ اور غیلان بن منبہ تھے۔

ہمام بن منبہ جنوبی عرب کے باشندے تھے جبکہ آپ کی اصل ایرانی تھی۔ آپ کی ولادت ایک ایسے فارسی خاندان میں ہوئی جو طلوع اسلام سے پہلے نوشیروان کسریٰ کے عہد میں ایران سے آ کر جنوبی عرب میں رہائش پذیر ہو گیا تھا۔ یہ لوگ ابناء فارس کہلاتے تھے۔ ابناء دراصل ان ایرانیوں کی اولاد کو کہتے ہیں جو یمن کو فتح کرنے کے بعد وہیں بس گئے تھے۔ یہ فوج نوشیروان کسریٰ نے سیف بن ذی ایران کی درخواست پر حبشیوں سے جنگ کرنے کے لیے بھیجی تھی۔

ہمام بن منبہ 31 سے 33 ہجری کے درمیان صنعاء کے قریب ایک جگہ ذمار میں پیدا ہوئے جہاں آپ کے والد اپنے خاندان کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ الیمانی صنعانی الابناوی کہلاتے تھے جبکہ آپ کی کنیت ابو عقبہ تھی۔

ہمام بن منبہ کے چھوٹے بھائی وہب بن منبہ ایک عرصہ تک اپنے وطن میں قاضی رہے۔ ہمام بن منبہ کی طرح وہب بن منبہ بھی بہت زاہد و عابد تھے۔ انہوں نے 20 سال تک عشاء اور فجر کی نماز ایک ہی وضو کے ساتھ ادا کی۔ 100 ہجری میں وہ مکہ مکرمہ میں موجود تھے۔ یہاں انہوں نے متعدد نامور فقہاء سے فیض حاصل کیا۔ عمر کے بالکل آخری حصے میں انہیں یمن میں قید خانے میں ڈال دیا گیا جس کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوئی البتہ وہ دین کی خاطر اس قید پر راضی تھے اور کہتے تھے کہ “رب تعالیٰ نے ہمارے لیے قید مقرر کی تو ہم نے اس کی عبادت اور زیادہ کر دی”۔

وہب بن منبہ کو عام طور سے ثقہ راوی بیان کیا گیا ہے۔ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ، حضرت جابر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت حدیث کی۔ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے ایک حدیث درج کی ہے جس کا سلسلہ اسناد وہب بن منبہ نے اپنے بھائی ہمام ابن منبہ کے واسطے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تک پہنچایا ہے۔

ہمام بن منبہ ایک ثقہ راوی ہیں۔ آپ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے خاص شاگردوں میں سے تھے۔ آپ اپنے استاد کی از حد قدر کیا کرتے تھے اور ان کی خدمت میں زیادہ وقت گزارتے تھے۔ آپ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نہ صرف حدیث کی تعلیم حاصل کی بلکہ معلم کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت مطہرہ کے مختلف مظاہر و محاسن کی آگاہی بھی حاصل کی۔ ہمام بن منبہ اپنے استاد اور رہبر و رہنما حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مختلف نکات کے بارے میں سوالات کرتے رہتے تھے اور ان کے سیر حاصل جواب پاتے تھے۔ آپ اپنے استاد کے اس قدر مقرب ہو گئے کہ انہوں نے آپ کو ایک صحیفہ حدیث عنایت کیا جس کی آپ نے تا عمر انتہائی عقیدت و محبت کے ساتھ حفاظت بھی کی اور ان احادیث کو حتی الوسع دوسروں تک بھی پہنچایا۔

ہمام بن منبہ نے اپنے چھوٹے بھائی وہب بن منبہ کی تعلیم و تربیت میں خاص دلچسپی لی۔ آپ اپنے بھائی کو کتب خرید کر دیا کرتے تھے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ مطالعہ کر سکیں اور اسی مطالعہ کا نتیجہ تھا کہ وہ قاضی کے عہدہ تک پہنچے۔

ہمام بن منبہ نے مختلف اسلامی جنگوں میں بھی بھرپور حصہ لیا اور مجاہد ہونے کے ساتھ ساتھ غازی کا مرتبہ بھی حاصل کیا۔ آپ نے تقریباً 70 سال کی عمر پائی اور 102 ہجری میں اپنے وطن صنعاء میں ہی وفات پائی۔

ہمام بن منبہ کا تذکرہ “طبقات ابن سعد”

جلد پنجم، “تہذیب التہذیب” (ابن حجر)

جلد یاز دہم۔ “سیر اعلام النبلاء” (امام ذہبی)

جلد پنجم۔ “کتاب الثقات (ابن حبان) اور “کشف الظنون” (حاجی خلیفہ) میں ملتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

سب امتوں کے پیشوا

ہم (دنیا میں) آخری لوگ ہیں (لیکن) قیامت کے دن (سب امتوں سے ) آگے ہوں گے، اگرچہ ان کو (اللہ کی) کتاب ہم سے پہلے دی گئی اور ہم کو ان کے بعد، پس یہ ان کا وہ دن ہے جس کو (اللہ نے ) ان پر فرض کیا۔ پھر انہوں نے اس میں اختلاف کیا لیکن اللہ نے اس بارے میں ہمیں ہدایت دی۔ پس وہ اس بارے میں ہمارے پیرو ہیں، یہودی کل اور نصاریٰ پرسوں (یعنی عبادت کا دن مسلمانوں کے لئے جمعہ ہے اس کے بعد یہودیوں کے لئے ہفتہ اور اس کے بعد عیسائیوں کے لئے اتوار

 

 عمارت مکمل کرنے والی اینٹ

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا میری مثال اور مجھ سے پہلے پیغمبروں کی مثال اس شخص کی مانند ہے جو حجرے تعمیر کرے ان کو عمدہ اور خوبصورت اور کامل بنائے مگر مکان کے کسی ایک کونے کی ایک اینٹ کی جگہ باقی رہ جائے۔ لوگ پھر پھر کر مکان دیکھتے ہیں اور عمارت کو پسند کرتے ہیں۔ پس وہ کہتے ہیں یہاں ایک اینٹ رکھ دی جاتی جس سے عمارت مکمل ہو جائے۔ پھر محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: وہ اینٹ میں ہی ہوں۔

 

بخیل اور سخی کا فرق

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال دو آدمیوں کے مانند ہے جن پر دو لوہے کے جبے۔ یا دو زرہ بکتر۔ جو ان کے سینوں یا ہنسلی کی ہڈیوں تک ہوں۔ جیسے جیسے صدقہ دینے والا شخص کوئی چیز صدقہ دیتا ہے تو وہ اس کے جسم سے دور ہوتا جاتا ہے اور اس کی انگلیوں کو چھپا دیتا ہے اور اثر مٹ جاتا ہے۔ اور بخیل جب کبھی کوئی چیز خرچ کرتا ہے یا اپنے دل میں اس کا خیال کرتا ہے تو زرہ کا ہر ایک حلقہ اپنی جگہ کاٹنے لگتا ہے وہ اس کو کشادہ کرنا چاہتا ہے مگر وہ کشادہ نہیں ہوتا۔

 

 آگ سے ہٹو

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: میری مثال اس شخص کے مانند ہے جس نے آگ سلگائی جب اطراف کی چیزیں روشن ہو جاتی ہیں تو پروانے اور زمین پر رینگنے والے وہ (کیڑے مکوڑے ) جو آگ میں گرا کرتے ہیں۔ اس میں گرنے لگتے ہیں او وہ شخص ان کو (اس میں گرنے سے ) روکنے لگتا ہے لیکن وہ اس پر غالب ہو جاتے ہیں اور اس میں گھس جاتے ہیں۔ پس یہی میری اور تمہاری مثال ہے۔ میں تم کو آگ سے بچانے کی کوشش کرتا ہوں ( اور چلاتا ہوں ) کہ آگ سے ہٹو۔ آگ سے ہٹو( مگر تم سنتے ہی نہیں ) لیکن تم مجھ پر غالب آ جاتے ہو اور آگ میں گھس جاتے ہیں۔

 

جنتی درخت کا 100 برس کا سایہ

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جنت میں ایک(اتنا بڑا) درخت ہے کہ اگر سوار اس کے سایہ میں سو(100) برس چلتا رہے تو بھی اس کو ختم نہ کرے گا۔

 

 معاشرتی برائیوں سے بچو

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تم(بد) گمانی سے بچو، تم (بد) گمانی سے بچو، کیونکہ (بد)گمانی سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے اور تم آپس میں خرید و فروخت میں دھوکا بازی نہ کرو اور آپس میں حسد نہ کرو اور نہ نفسانیت سے آپس میں مقابلہ کرو اور نہ آپس میں بغض رکھو اور نہ قطع تعلق کرو، اور اے اللہ کے بندو! تم آپس میں بھائی، بھائی بن جاؤ۔

 

جمعہ کے روز قبولیت کی گھڑی

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جمعہ میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ اس گھڑی کوئی مسلمان نماز پڑھتے ہوئے اللہ سے کسی چیز کا سوال کرتا ہے تو اللہ ضرور اس چیز کو عطا کرتا ہے۔

 

اللہ کا بندوں کے بارے فرشتوں سے سوال

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے نوبت بہ نوبت تمہارے پاس آیا کرتے ہیں اور صبح کی نماز اور عصر کی نماز میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ پھر وہ فرشتے جنہوں نے تمہارے ساتھ رات گزاری (پروردگار) کے پاس اوپر جاتے ہیں اور وہ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان سے زیادہ جاننے والا ہے۔ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ کہتے ہیں، ہم نے ان کو اس حال میں چھوڑا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور ہم اس حال میں ان کے پاس گئے کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے۔

 

فرشتوں کی نمازی کے لئے دعا

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: فرشتے تم میں سے ہر شخص پر اس وقت تک رحمت بھیجتے ہیں جب تک کہ وہ اپنی نماز پڑھنے کی جگہ پر جہاں اس نے نماز پڑھی تھی(بیٹھا) رہے اور وہ کہتے ہیں :’’یا اللہ! تو اس کی مغفرت کر، یا اللہ تو اس پر رحم کر‘‘ جب تک کہ اس شخص کا وضو نہ ٹوٹ جائے۔

 

 سابقہ گناہوں کی معافی

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص:‘‘آمین’’ (قبول کر) کہے اور فرشتے بھی آسمان پر’’ آمین‘‘ کہیں ان دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کا ساتھ دینا موافق ہو تو اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دیئے جاتے۔

 

 قربانی کے جانور پر سواری

اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: ایک مرتبہ ایک شخص قربانی کے جانور کو اس کے گلے میں پٹہ ڈالے پیدل ہانکے چلا جا رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے فرمایا اس پر سوار ہو جا۔ اس نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یہ تو قربانی کا جانور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تجھ پر افسوس ہے اس پر سوار ہو جا، تجھ پر افسوس ہے اس پر سوار ہو جا۔

 

 دوزخ کی آگ انہتر درجے زیادہ

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تمہاری یہ آگ جس کو تم بنی آدم سلگاتے ہو حرارت میں دوزخ کی آگ سے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔ لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اگر اتنی بھی ہوتی تو ہم کو کافی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: دوزخ کی آگ اس سے انہتر درجے زیادہ ہے اور ان میں سے ہر ہر درجہ حرارت میں اتنا ہی ہے۔

 

 اللہ کی رحمت اس کے غضب پر غالب

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جب اللہ نے خلقت کو پیدا کیا کیا تو یہ عبارت لکھ دی اور یہ اس کے پاس عرش کے اوپر(موجود) ہے کہ ‘‘یقینا میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے ’’۔

 

 تم روتے زیادہ ہنستے کم

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے میں جو کچھ جانتا ہوں اگر تم بھی جانتے ہوتے تو یقیناً روتے زیادہ اور ہنستے کم۔

 

 روزہ دار اور جہالت

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: روزہ ایک ڈھال ہے اگر تم میں سے کوئی شخص کسی دن روزہ رکھے تو اس کو نہ تو جہالت سے پیش آنا چاہیے اور نہ فحش کلامی کرنی چاہیے۔ اگر کوئی شخص اس لڑائی کرے یا اس کو گالی دے تو یہ کہنا چاہیے کہ میں روزہ دار ہوں، میں روزہ دار ہوں۔

 

 اللہ کے ہاں مشک کی بو کونسی ہے ؟

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے۔ یقیناً روزہ دار کے منہ کہ بو اللہ کے پاس مشک کی بو سے زیادہ اچھی ہے (اللہ کہے گا) کہ وہ اپنی خواہش، اپنا کھانا اور پینا میری خاطر چھوڑ دیتا ہے پس روزہ میرے لئے ہے اور می ہی اس کی جزا دوں گا۔

 

 چیونٹی کا قصور؟

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: نبیوں میں سے ایک نبی ایک درخت کے نیچے اترے تو ایک چیونٹی نے انہیں کاٹا، اس پر انہوں نے اپنا سامان وہاں سے نکلوایا اسے آگ لگوا کر جلا ڈالا اس پر (اللہ نے ) ان کی طرف وحی کی کہ کیا (قصور) صرف ایک چیونٹی کا نہ تھا؟

 

 سواری کا انتظام

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے۔ اگر مومنوں پر دشواری کا احتمال نہ ہوتا تو میں اللہ کی راہ میں لڑنے والی کسی جماعت کے پیچھے نہ بیٹھنا لیکن میں اتنی گنجائش نہیں پاتا کہ ان سب کے لئے سواری کا انتظام کروں، اور وہ بھی اتنی گنجائش نہیں پاتے کہ میرے ساتھ ساتھ آئیں اور ان کا جی خوش نہیں ہوتا کہ میرے پیچھے بیٹھے رہیں۔

 

 ہر نبی کی ایک دعا کی قبولیت

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ہر ایک نبی کی، ایک منہ مانگی دعا ضرور قبول کی جاتی ہے (اوروں نے اس کو اس دنیا ہی میں پورا کرا لیا) ان شاء اللہ میرا ارادہ ہے کہ اسے امت کی شفاعت کے لئے قیامت کے دن تک ملتوی کروں۔

 

 اللہ سے ملاقات کیسے !

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جو شخص اللہ سے ملاقات پسند کرتا ہے تو اللہ بھی اس سے ملاقات پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ سے ملاقات پسند نہیں کرتا تو اللہ بھی اس سے ملاقات پسند نہیں کرتا۔

 

 اللہ کی اطاعت کی شرط

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جس شخص نے میری اطاعت کی گویا اس نے اللہ ہی کی اطاعت کی اور جس شخص نے میری نافرمانی کی تو گویا اس نے اللہ ہی کی نافرمانی کی، اور جس شخص نے (میرے مقرر کردہ) امیر کی اطاعت کی گویا اس نے میری ہی اطاعت کی اور جس نے (میرے ) امیر کی نافرمانی کی تو گویا اس نے میری ہی نافرمانی کی۔

 

 قیامت کی نشانیاں

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک نہ آئے گی جب تک کہ تم میں مال کی کثرت نہ ہو جائے، وہ بہا بہا پھرے گا یہاں تک کہ مالدار کو اس بات کی فکر ہو گی کہ اس سے اس کا صدقہ(زکوٰۃ) کون قبول کرے گا، اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اور علم اٹھا لیا جائے گا، اور زمانہ (قیامت سے ) قریب تر ہو جائے گا اور فتنے ظاہر ہوں گے اور ہرج کثرت سے ہو گا (لوگوں نے کہا) یا رسول اللہ! ہرج کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا قتل، خونریزی۔

 

 دو بڑی جماعتوں کی جنگ

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک نہ آئے گی جب تک دو بڑی جماعتیں آپس میں جنگ نہ کریں، ان دونوں کے درمیان بڑی جنگ ہو گی اور ان دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہو گا۔

 

 جھوٹے دجال

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک نہ آئے گی جب تک کہ تقریباً تیس (۳۰ ) جھوٹے دجال نہ نکلیں، ان میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔

 

 سورج مغرب سے کب نکلے گا!

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک نہ آئے گی جب تک آفتاب اپنے مغرب سے نہ نکلے۔ ( پھر اس کے بعد) جب آفتاب طلوع ہو گا اور لوگ اس کو دیکھیں گے تو سب کے سب ایمان لائیں گے لیکن یہ اس وقت ہو گا جب کہ کسی شخص کو اس کا ایمان لانا فائدہ نہ پہنچائے گا کہ اس سے پہلے نہ تو ایمان لایا تھا اور نہ ہی اپنے ایمان سے کوئی بھلائی حاصل کی تھی۔

 

 فلاں بات یاد کر

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جب نماز کے لئے اذان دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تاکہ اذان سنائی نہ دے۔ جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو وہ پھر آ جاتا ہے یہاں تک کہ جب نماز کے لئے اقامت کہی جاتی ہے تو پیٹھ پھیر کر پھر چلا جاتا ہے پھر جب اقامت ختم ہو جاتی ہے تو آدمی اور اس کے نفس کے درمیان خطرہ ڈالنے کے لئے چلا آتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ ’’فلاں بات یاد کر‘‘ ’’فلاں بات یاد کر‘‘ جو اس سے پہلے یاد نہیں آتی تھی۔ یہاں تک آدمی یہ جاننے کے قابل نہیں رہتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی۔

 

 اللہ کا سیدھا ہاتھ

“اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اللہ کا سیدھا ہاتھ بھرا ہوا ہے، دن رات کے مسلسل خرچ کرنے سے بھی وہ خالی نہیں ہوتا۔ دیکھو تو کہ جب سے کہ اس نے آسمان اور زمین پیدا کیے کیا کچھ نہیں خرچ کیا؟مگر اس کے سیدھے ہاتھ میں جو کچھ ہے وہ کم نہیں ہوتا۔

 

اللہ کا عرش

آپﷺ نے فرمایا کہ عرش (تخت) پانی پر ہے اور اس کے دوسرے ہاتھ میں روک لینے کی قابلیت ہے، وہی بلند کرتا ہے اور وہی پست کرتا ہے ”

 

 ایک دن ایسا آئے گا

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم میں سے کسی پر ایک دن ایسا آئے گا کہ وہ مجھے نہ دیکھے گا، اس وقت مجھ کو دیکھنا اسے اس سے زیادہ پسند ہو گا جتنا اپنے اہل و عیال اور مال و منال کو دیکھنا

 

 جنگ ایک دھوکہ

“اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: کسریٰ (ایران کا بادشاہ) ہلاک ہو جائے گا پھر اس کے بعد کوئی کسری نہ ہو گا اور قیصر (روم کا بادشاہ) بھی ہلاک ہو جائے گا پھر اس کے بعد کوئی قیصر نہ ہو گا، اور تم ان دونوں کے خزانے اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اور (آں حضرت نے ) جنگ کو ایک “دھوکہ” فرمایا۔

 

 صالح بندوں کے لیے نایاب چیزیں

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اللہ عز و جل نے فرمایا: میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے ایسی چیزیں تیار کر رکھی ہیں جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی آدمی کے دل میں ان کا خطرہ گزرا

 

 سابقہ امتوں کی ہلاکت کی وجہ

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: مجھے اس وقت تک چھوڑے رکھ، جب تک کہ میں تمہیں چھوڑے رکھوں کیونکہ جو لوگ تم سے پہلے گزرے وہ اپنے پیغمبروں سے سوال کر کے اور پھر ان کو نہ ماننے کے باعث ہلاک ہو گئے۔ پھر جب میں کسی چیز سے منع کروں تو اس چیز سے بچو، اور جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو تم سے جتنا ہو سکے اس پر عمل کرو۔

 

 کب روزہ نہ رکھا جائے

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جب صبح کی نماز کے لیے اذان دی جائے اور تم میں سے کوئی شخص جنابت کی حالت میں ہو تو اس دن روزہ نہ رکھے۔

 

 اللہ طاق ہے

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اللہ کے ننانوے نام ہی:ایک کم سو، جو شخص ان کو یاد رکھے گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔ اللہ طاق ہے، طاق (عدد عبادت) کو پسند کرتا ہے۔

 

 حسد کی بجائے شکر

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص ایسے شخص کو دیکھے جس کو اس سے مال اور اخلاق میں فضیلت دی گئی ہو تو اس کو چاہئے کہ ایسے آدمی کو دیکھے جو اپنے سے کم ہو نہ ایسے شخص کو جو بالا تر ہو۔ تاکہ حسد کی جگہ اللہ کا شکر کر سکے۔

 

 سات مرتبہ کی دھلائی

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تم میں سے کسی ایک کے برتن میں جب کتا منہ ڈالے تو اس کو چاہیے کہ پاک کرنے کے لیے سات مرتبہ دھو لے۔

 

 آگ کس کے گھر کو لگائی جائے

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، میرا جی چاہتا ہے کہ اپنے نوکروں کو حکم دوں کہ میرے لیے لکڑی کے گٹھے لائیں پھر میں ایک شخص کو حکم دوں کہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور میں لوگوں کو (جو نماز کو نہیں آتے ) ان کے گھروں سمیت آگ لگا کر جلا ڈالوں

 

 رعب اور جامع کلمے

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: رعب کے ذریعہ سے میری مدد کی گئی اور مجھے جامع کلے دئیے گئے ہیں۔

 

 دونوں پاؤں ننگے

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جب تم سے کسی کی چپل کا تسمہ یا پٹہ ٹوٹ جائے تو دونوں پاؤں میں سے صرف ایک پاؤں میں چپل پہن کر نہ چلے اور دوسرا (پاؤں ) ننگا رہے، یا تو دونوں پاؤں ننگے رکھے یا دونوں پاؤں میں چپل پہن لے۔

 

 نذر اور بخل

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) نذر ماننے سے انسان کو کوئی ایسی چیز نہیں مل جاتی جو میں نے اس کی قسمت میں مقدر نہ کی ہو بلکہ نذر ماننے سے وہ شخص صرف ایسی چیز حاصل کرتا ہے جو میں اس کے لیے پہلے ہی سے مقدر کر رکھی ہے۔ البتہ نذر کی خاطر بخیل سے (کچھ خیرات) نکل آتی ہے اور وہ مجھے اس کی خاطر ایسی چیز دیتا ہے جو اس سے پہلے نہیں دیتا تھا۔

 

 میں تجھے اور دوں گا

“اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : “خیرات کر میں تجھے اور دوں گا” اور آپ نے جنگ کو ایک “دھوکہ” فرمایا۔

 

 میں اپنی آنکھ کو جھٹلاتا ہوں

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: عیسی بن مریم نے ایک شخص کو چوری کرتے ہوئے دیکھا۔ اس پر عیسی علیہ السلام نے اس سے کہا: کیا تو نے چوری کی؟ اس نے کہا، ہر گز نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں عیسی نے کہا: میں اللہ پر ایمان لاتا ہوں اور اپنی آنکھ کو جھٹلاتا ہوں۔

 

 میں ایک خازن ہوں

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: میں نہ تو کوئی چیز تمہیں دیتا ہوں اور نہ کوئی چیز تم سے روک لیتا ہوں، میں تو صرف ایک خازن ہوں، مجھے جہاں رکھنے کا حکم دیا جاتا ہے وہاں رکھتا ہوں۔

 

 امام سے اختلاف نہ کرو

“اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: امام اس لیے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، اس لیے تم امام سے اختلاف نہ کرو، جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، اور جب وہ “سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ” (جو شخص اللہ کی حمد کرتا ہے اللہ اس کو سنتا ہے ) کہے تو تم اللہم ربنا لک الحمد (یا اللہ! اے ہمارے رب تیرے لیے ہی حمد ہے ) کہو پھر جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ ”

 

 نماز کا حسن کیا ہے

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: نماز میں صف باندھ لیا کرو کیونکہ صف باندھنا نماز کا حسن (خوشنمائی) ہے۔

 

 موسی علیہ السلام لا جواب ہو گئے

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: آدم اور موسی علیہما السلام نے (ایک بار) آپس میں حجت کی چنانچہ موسی نے ان سے کہا: کیا تم ہی وہ آدم ہو جنہوں نے لوگوں کو گمراہ کیا اور ان کو جنت سے زمین پر نکالا؟ اس پر آدم نے ان سے کہا: کیا تم ہی وہ موسی ہو جن کو اللہ نے ہر چیز کا علم دیا اور اپنا رسول بنا کر دوسرے لوگوں سے برگزیدہ بنایا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ (آدم نے ) کہا: کیا تم مجھے ایسی بات کے متعلق ملامت کرتے ہو جو میری پیدائش سے پہلے ہی لکھ دی گئی تھی کہ میں ایسا کروں گا؟ اس طرح آدم نے موسی کو لاجواب کر دیا۔

 

 ایوب علیہ السلام غسل خانے میں

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ایک مرتبہ جب کہ ایوب علیہ السلام غسل خانے میں برہنہ نہا رہے تھے ان پر سونے کی ٹڈیوں کا ایک دل گرنے لگا اور ایوب ان کو اپنے کپڑوں میں سمیٹنے لگے کہا: پھر ان کے رب نے ان کو آواز دی، اے ایوب! تم نے جو چیز دیکھی ہے کیا میں نے تم کو اس سے بے نیاز نہیں بنایا ہے ؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں ؟ اے میرے پروردگار! لیکن میں تیری برکت سے بے نیاز کہاں ہوں۔

 

 گھوڑے پر زین لگنے سے پہلے

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: داؤد علیہ السلام کو قرآن پڑھنا آسان کر دیا گیا تھا۔ وہ اپنے گھوڑے پر زین لگانے کا حکم دیتے تھے اور گھوڑے پر زین لگنے سے پہلے ہی (پورا) قرآن پڑھ لیا کرتے تھے اور وہ سوائے اپنے ہاتھ کی کمائی کے کوئی چیز نہیں کھایا کرتے تھے۔

 

 نبوت کا  چھیالیسواں  حصہ

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: صالح آدمی کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔

 

 کسے کس کو سلام کرنا چاہیے

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: چھوٹے کو بڑے پر، اور گزرنے والے کو بیٹھے ہوئے پر اور قلیل (جماعت) کو کثیر (جماعت) پر سلام کرنا چاہئے۔

 

 میں لڑتا رہوں گا

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: میں لوگوں سے اس وقت تک لڑتا رہوں گا جب تک کہ وہ یہ نہ کہیں کہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہَ (اللہ کے سوائے کوئی معبود نہیں ) جوں ہی وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہَ کے قائل ہو جائیں تو مجھ سے ان کے خون اور مال اور جانیں محفوظ ہو جائیں گی بجز ان کے حق کے اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔

 

 جنت اور دوزخ کا مکالمہ

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (ایک مرتبہ) جنت اور آگ (دوزخ) آپس میں حجت کرنے لگے۔ دوزخ نے کہا: مجھے مغرور اور ظالم لوگوں کی قیام گاہ بننے کے لیے مجھے ترجیح دی گئی ہے اور جنت نے کہا: کیا بات ہے کہ مجھ میں ضعیفوں اور پست اور بھولے لوگوں کے سوائے اور کوئی داخل نہ ہو گا اس پر اللہ نے جنت سے کہا: تو میری رحمت ہے میں تیرے ذریعہ سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہوں رحم کروں گا، اور دوزخ سے کہا: تو میرا عذاب ہے، میں تیرے ذریعہ سے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہوں عذاب دوں گا اور تم میں سے ہر ایک بھر جائے گی لیکن دوزخ اس وقت نہ بھرے گی جب تک کہ اللہ اس میں اپنا پاؤں نہ رکھ دے پھر (دوزخ) کہے گی: بس، بس وہ اس وقت بھر جائے گی اور اس کا ایک حصہ دوسرے سے مل جائے گا اور اللہ اپنی مخلوق میں  کسی پر ظلم نہیں کرتا، رہی جنت تو اس کے لیے اللہ عزوجل ایک مخلوق پیدا کرے گا۔

 

 طاق اعداد

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص ڈھیلہ لے تو طاق (تعداد میں ) لے

 

 دس نیکیاں، ایک برائی

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جب میرا بندہ دل میں یہ کہے کہ نیک کام کرے گا تو میں اس کے لیے ایک نیکی لکھ لیتا ہوں جب تک کہ وہ اس کو نہ کرے پھر جب وہ اس کو کرتا ہے تو میں اس کے لیے اس جیسی دس (نیکیاں ) لکھ لیتا ہوں، اور جب یہ کہے کہ وہ برا کام کرے گا تو میں اس کو معاف کر دیتا ہوں جب تک کہ وہ برا کام نہ کرے، پھر جب وہ برا کام کرتا ہے تو میں اس کے لیے صرف ایک برائی لکھ لیتا ہوں۔

 

 کوڑے کی ڈوری

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تم میں ایک شخص ہے جس کے کوڑے کی ڈوری (جو جنت میں ملے گی) آسمان اور زمین کے درمیان جو کچھ ہے اس سے بھی بہتر ہے۔

 

 کیا تو نے آرزو کر لی؟

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جنت میں تم میں سے کسی کا ادنیٰ ٹھکانا اگر اس کے لیے تیار کیا جائے تو اس سے کہا جائے گا: آرزو کر، پھر وہ آرزو کرے گا۔ آرزو پر آرزو کرے گا۔ اس پر اس سے کہا جائے گا: کیا تو نے یہ آرزو کر لی؟ وہ کہے گا ہاں۔ پھر اس سے کہا جائے گا: تجھ کو تیری آرزو کے موافق دیا جاتا ہے بلکہ اس کے ساتھ اس جیسا اور۔

 

 انصار کے ساتھ گھاٹی میں

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک آدمی ہوتا، اگر لوگ ایک گھاٹی یا ایک وادی میں جاتے اور انصار ایک دوسری گھاٹی میں تو میں انصار کے ساتھ ان کی گھاٹی میں جاتا۔

 

 اگر بنی اسرائیل اور حوا نہ ہوتیں

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو کھانا خراب نہ ہوتا اور گوشت سڑ نہ جاتا اور اگر حواء نہ ہوتیں تو کوئی عورت کبھی اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی۔

 

 ساٹھ ہاتھ لمبا شخص

“اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اللہ نے آدم کو اپنی شکل پر بنایا ان کی لمبائی ساٹھ ہاتھ تھی پھر جب ان کو پیدا کیا تو ان سے کہا: “جاؤ اور اس جماعت کو سلام کرو”۔ یہ فرشتوں کی ایک بیٹھی ہوئی جماعت تھی۔ “اور سنو کہ وہ تم کو سلام کا کیا جواب دیتے ہیں ؟ وہی تمہارا اور تمہاری۔ ۔ اولاد کا سلام ہو گا۔ ” کہا: پھر وہ گئے اور کہا: السلام علیکم (تم پر سلامتی ہو) انہوں نے کہا: (السلام علیک) و رحمۃ اللہ (اور تجھ پر سلام اور اللہ کی رحمت ہو) انہوں “و رحمۃ اللہ” زیادہ کیا۔ کہا: ہر وہ شخص جو جنت میں داخل ہو گا آدم کی صورت کا ہو گا، اس کی لمبائی ساٹھ ہاتھ ہو گی۔ پھر اس کے بعد مخلوق (قد میں ) اب تک گھٹی ہی گئی ہے۔ ”

 

 موسی علیہ السلام نے فرشتہ اجل کی آنکھ پھوڑ دی

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: موت کا فرشتہ موسی کے پاس آیا اور ان سے کہا: تمہارے پروردگار کے پاس چلو۔ کہا: اس پر موسی نے موت کے فرشتہ کی آنکھ پر طمانچہ مارا اور آنکھ پھوڑ ڈالی، کہا: پھر فرشتہ اللہ کے پاس واپس گیا اور کہا: تو نے مجھے اپنے ایسے بندے کے پاس بھیجا جو مرنا نہیں چاہتا اور میری آنکھ پھوڑ ڈالی، کہا: (/) اس پر اللہ نے اس کو اس کی آنکھ واپس کر دی، فرمایا: میرے بندے کے پاس جا اور اس سے کہہ: کیا تو زندہ رہنا چاہتا ہے اگر تو زندہ رہنا چاہتا ہے تو اپنا ہاتھ ایک بیل کی پیٹھ پر رکھ۔ تیرا ہاتھ جتنے بال ڈھانک لے گا تو اتنے سال زندہ رہے گا۔ (موسی علیہ السلام نے ) کہا پھر کیا ہو گا؟ کہا: پھر تم مر جاؤ گے، کہا: پھر تو اب جلدی ہی بہتر ہے۔ کہا: اے میرے رب! مجھے ارض مقدس سے اتنا ہی قریب کر دے جتنا کہ ایک پتھر پھینکنے کا فاصلہ ہوتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اگر میں ان کے پاس ہوتا تو تم کو راستے کے کنارے سرخ ٹیلے کے قریب ان کی قبر بتلاتا۔

 

 پتھر آگے، موسی علیہ السلام کے پیچھے !

“اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: بنی اسرائیل ننگے نہایا کرتے تھے اور ایک دوسرے کی شرم گاہ دیکھتے تھے، اور موسی تنہا نہایا کرتے تھے۔ بنی اسرائیل نے کہا: اللہ کی قسم! موسی کو ہمارے ساتھ نہانے سے کوئی چیز نہیں روکتی مگر یہ کہ وہ خصیوں کی بیماری میں مبتلا ہوں گے، کہا: ایک مرتبہ وہ نہانے کے لیے گئے، اور اپنا کپڑا ایک پتھر پر رکھا، پتھر ان کے کپڑے لے بھاگا، کہا: پھر موسی اس کے پیچھے یہ کہتے ہوئے بھاگے کہ ” میرا کپڑا پتھر، میرا کپڑا پتھر!، پھر تو بنی اسرائیل نے موسی کی شرم گاہ کو دیکھ لیا اور انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! موسی میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ کہا: ان کی شرم گاہ پر نظر پڑ جانے کے بعد پتھر ٹھیر گیا، انہوں نے اپنا کپڑا لے لیا اور پتھر کو مارنے لگے، پھر ابو ہریرہ نے کہا: اللہ کی قسم! پتھر پر نشان ہیں جو چھ یا سات بار موسی نے مارے تھے۔ ”

 

 نفس کی تونگری

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: کثیر مال سے تونگری نہیں ہے بلکہ تونگری نفس کی تونگری ہے۔

 

 وعدہ ٹالنا ظلم ہے

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: مالدار کا وعدہ کو ٹالتے رہنا بھی ایک ظلم ہے تم میں سے کس کا کسی پیٹ بھرے سے پالا پڑے تو چاہئے کہ اس کا پیچھا کرے۔

 

 سب سے زیادہ خبیث

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اللہ کو سب سے زیادہ غصہ میں لانے والا اور سب سے زیادہ خبیث اور اللہ کا سب سے زیادہ غصہ اٹھانے والا وہ شخص ہو گا جس کو شاہ شاہان (بادشاہوں کا بادشاہ) کہتے ہوں، اللہ عز وجل کے سوائے کوئی بادشاہ نہیں ہے۔

 

 مغرور زمین میں دھنس گیا

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ایک شخص تھا دو چادروں میں اکڑتے ہوئے چل رہا تھا اور اس کو اپنے نفس پر غرور تھا اتنے میں وہ زمین میں دھنس گیا اور وہ قیامت کے دن تک دھنستا رہے گا۔

 

 بندے کا گمان

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے فرمایا: میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں جیسا گمان کہ وہ میرے ساتھ رکھتا ہے۔

 

 بچے کے والدین کا کردار

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جو شخص پیدا ہوتا ہے وہ اس فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پس اس کے ماں باپ اس کو یہودی بنا دیتے ہیں اور اس کو نصرانی بنا دیتے ہیں جس طرح تم جانور سے بچے پیدا کرتے ہو تو کیا تم ان میں ناک کان کٹا پاتے ہو؟ یہاں تک کہ تم خود نہ کاٹو(یعنی بچے کو تم یہودی یا نصرانی بناتے ہو وہ خود بخود نہیں بنتا)، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! (/ب)(کافروں کا جو شخص بچپن میں مر جاتا ہے اس کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے ؟ فرمایا: وہ بچے جو کچھ کرنے والے تھے اللہ ان کو سب سے زیادہ جانتا ہے۔

 

 کس ہڈی کو زمین نہیں کھاتی

“اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: انسان میں ایک ہڈی ہوتی ہے، اس کو زمین کبھی نہیں کھاتی، اسی سے وہ قیامت کے دن مرکب ہو گا۔ لوگوں نے کہا: یارسول اللہ! کونسی ہڈی؟ آپ نے فرمایا ” عجم لذنب” (ریڑھ کی ہڈی) اور ابو الحسن نے کہا: وہ “عجب” ہے لیکن “میم”ؔ سے (عجم) فرمایا۔ ”

 

 صوم وصال

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تم (صوم) وصال (نفل روزے پے در پے ) نہ رکھا کرو، لوگوں نے کہا: مگر آپ خود (صوم) وصال رکھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: میں اس بارے میں تمہارے جیسا نہیں ہوں : میں رات گزارتا ہوں تو میرا پروردگار مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے، پس تم ایسے ہی عمل کی تکلیف اٹھاؤ جس کی تمہیں طاقت ہو۔

 

 ہاتھ اور رات

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص سو کر اٹھے تو اس کو چاہئے کہ اپنا ہاتھ دھوئے بغیر وضو کے پانی میں نہ ڈالے، تم میں سے کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات کہا رہا ہے۔

 

 نیکیاں ہی نیکیاں

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: لوگوں کا چھوٹی سی ہڈی (کسی کو دینا) بھی اس وقت تک کے لیے نیکی ہے جب تک کہ آفتاب طلوع ہوتا رہے۔ آپ نے فرمایا: دو آدمیوں کے درمیان انصاف کرنا بھی نیکی ہے، اور کسی آدمی کو سوار ہونے میں مدد دینا اور اس کو یا اس کے اسباب کو سوار کرانا بھی نیکی ہے اور میٹھی اچھی بات کرنا بھی نیکی ہے اور ہر قدم جو نماز کی طرف چل کر جائے وہ بھی نیکی ہے اور راستہ سے ایذا دور کرنا بھی نیکی ہے۔

 

 جانوروں کی زکوٰۃ

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جب جانوروں کا مالک جانوروں کا حق (یعنی زکوٰۃ) ادا نہیں کرتا، تو قیامت کے دن اس کے وہی جانور (بطور عذاب) اس پر مسلط کر دئیے جائیں گے جو اپنی لاتیں اس کے منہ پر مارتے رہیں گے۔

 

 نہایت زہریلا سانپ

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تم میں سے کسی ایک کا خزانہ قیامت کے دن گنجا یعنی نہایت زہریلا سانپ بن جائے گا، صاحب خزانہ اس سے بھاگنا چاہے گا لیکن وہ اس کا پیچھا کرے گا اور کہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں۔ فرمایا: اللہ کی قسم! وہ پیچھا کرتا ہی رہے گا یہاں تک کہ (اس زکوٰۃ نہ دینے والے ) شخص کو اپنے قبضے میں لا کر اپنا نوالہ بنا لے گا۔

 

 ٹھہرا ہوا پانی

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جو پانی ٹھہرا ہوا ہے اور بہتا نہیں ہے اس میں پیشاب کر کے پھر اسی سے غسل نہ کرنا چاہیے۔

 

 اصلی مسکین کون ہے

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا یہ چکر لگانے والا جو (بھیک مانگنے کے لیے ) لوگوں کے پاس چکر لگایا کرتا ہے اور ایک لقمہ یا دو لقمے یا ایک کھجور یا دو کھجور پاتا ہے تو وہ مسکین نہیں ہے، اصل میں مسکین وہ ہے جس کے پاس مال نہ ہو اور لوگوں سے مانگنے میں شرم کرے اور لوگ اس کی حالت نہیں جانتے کہ اس کو کچھ خیرات دے سکتے۔

 

 شوہر کی اجازت

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جب کسی عورت کا شوہر گھر پر موجود ہو تو اس کو اس کی اجازت کے بغیر روزہ نہ رکھنا چاہیے اور اس کے گھر میں اس کی اجازت کے بغیر کسی کو آنے کی اجازت نہ دینی چاہئے۔ اور اس کی آمدنی سے اس کے حکم کے بغیر جو کچھ خیرات کرے تو اس کا آدھا ثواب شوہر کو ملے گا (یعنی علاوہ مال کے ثواب کے، نفس فعل خیرات دہی کا بھی پورا ثواب عورت کو نہ ملے گا)۔

 

 موت کی خواہش مت کرو!

“اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص موت کی خواہش نہ کرے، اور اس کے آنے سے پہلے اس کی دعا نہ کرے، جب تم میں سے کوئی شخص مر جاتا ہے تو اس کا “عمل” منقطع ہو جاتا ہے۔ ۔ ۔ یا آپ نے فرمایا: اس کی ” زندگی” ختم ہو جاتی ہے۔ ۔ مومن کی عمر زیادہ ہونے سے اس کی بھلائی میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ ”

 

 مرد مسلمان

“اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص عِنَب(انگور) کو “کرم” نہ کہے، کرم تو مرد مسلمان کرتا ہے۔ ”

 

 لڑکے، لڑکی کی شادی

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ایک شخص تھا جس نے کسی سے ایک زمین خرید، پھر جس شخص نے زمین خرید کی تھی اس نے اپنی زمین میں ایک گھڑا پایا جس میں سونا تھا، زمین کے خریدار نے (بائع سے ) کہا: مجھ سے تمہارا سونا لے لو، میں نے تو تم سے زمین خریدی تھی، سونا نہیں خریدا تھا، مگر جس شخص نے زمین فروخت کی تھی اس نے کہا: میں نے تو زمین اور جو کچھ اس میں ہے تمہیں بیچ ڈالا تھا۔ اس پر ان دونوں نے ایک کو حَکَم (پنچ) بنایا۔ حَکَم نے کہا: کیا تمہاری اولاد ہے ؟ ان میں سے ایک نے کہا: میرا ایک لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا: میری ایک لڑکی ہے۔ اس نے کہا: لڑکے سے لڑکی کی شادی کر دو اور سونا اپنے ہر پر خرچ کرو اور صدقہ دو۔

 

 اللہ جل شانہ زیادہ خوش کب ہوتے ہیں !

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تم میں سے اگر کسی کی سواری کا جانور گم ہو جائے پھر مل جائے تو کیا اس کو خوشی ہو گی کہ نہیں ؟ لوگوں نے کہا: ہاں، یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے جب بندہ توبہ کرتا ہے تو اللہ کو بندہ کی توبہ سے اس سے زیادہ خوشی ہوتی ہے جتنی کہ کسی شخص کو (گم شدہ) سواری کے پھر مل جانے سے (خوشی ہوتی ہے )۔

 

 اللہ جل شانہ کی بندے سے محبت

“اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اللہ عز و جل نے فرمایا: جب میرا بندہ مجھ سے ایک بالشت آگے بڑھ کر ملتا ہے تو میں اس سے ایک ہاتھ بڑھ کر ملتا ہوں، اور جب میرا بندہ مجھ سے ایک ہاتھ بڑھ کر ملتا ہے تو میں اس سے دو ہاتھ بڑھ کر ملتا ہوں، اور جب مجھ سے دو ہاتھ بڑھ کر ملتا ہے تو میں اس کے پاس اس سے زیادہ تیز جاتا ہوں، یا یہ فرمایا کہ “آتا ہوں “(راوی کو الفاظ میں شک ہے )”

 

 وضو کا ادب

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص وضو کرے تو اس کو چاہئے کہ دونوں نتھنوں میں پانی ڈالے پھر چھڑک دے۔

 

 احد کے پہاڑ برابر سونا

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے اگر میرے پاس احد (ایک پہاڑ کا نام) کے برابر بھی سونا ہوتا تو میں اس بات کو پسند کرتا کہ تین رات گزرنے سے پہلے اگر کوئی اس کو لینے والا ہوتا تو ایک دینار بھی باقی نہ رکھوں، میں کوئی چیز باقی رکھ کر اپنے کو (اللہ کے سامنے ) مقروض نہیں بنانا چاہتا۔

 

 باورچی کا حق

جب تمہارا کھانا پکانے والا تمہارے پاس تمہارا کھانا لائے، جس نے تمہیں گرمی اور دھوئیں سے بچایا تو اس کو بھی اپنے ساتھ کھانے کے لیے بلا لو ورنہ اس کے ہاتھ میں لقمہ ہی دے دو (یا اس کے ہاتھ میں ہاتھ دو) فرمایا(یہ فرمای وہ راوی کو شک ہے )۔

 

 میرا بچہ، میری بچی

“اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے : “تمہارے رب کو پانی پلاؤ” یا ” تمہارے رب کو کھانا کھلاؤ” اور “تمہارے رب کے لیے (چراغ) روشن کرو” اور تم میں سے کوئی شخص کسی کو یہ نہ کہے ” میرا رب” بلکہ یہ کہے “میرا سردار”، “میرا مولا” اور تم میں سے کوئی شخص “میرا بندہ”، تمیری بندی” نہ کہے بلکہ “میرا بچہ”، “میری بچی”، میرا لڑکا” کہے۔ ”

 

 ہر ایک کی دو بیویاں

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہو گی ان لوگوں کی صورتیں چودھویں رات کے چاند کی مانند ہوں گی۔ جنت میں وہ تھوکیں گے اور نہ اس میں ناک صاف کریں گے اور نہ اس میں بیت الخلاء کو جائیں گے۔ ان کے برتن اور کنگھیاں سونے، چاندی کی ہوں گی اور ان کی انگیٹھیاں ایلوے کی ہوں گی اور ان کا چھڑکاؤ مشک کا ہو گا۔ ان میں سے ہر ایک کی دو بیویاں ہوں گی، بیوی کی پنڈلی کا گدھ حسن کی (شفافی کی) وجہ سے گوشت میں سے نظر آئے گا۔ (جنت کے ) لوگوں کے درمیان نہ تو اختلاف ہو گا اور نہ ان کے دلوں میں ایک دوسرے سے بغض ہو گا وہ صبح شام اللہ کی حمد و ثنا بیان کریں گے۔

 

 اللہ جل شانہٗ سے عہد لینا

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: یا اللہ! میں تجھ سے ایک عہد لیتا ہوں تو اس کے خلاف نہ ہونے دے، میں تو ایک بشر (انسان) ہوں۔ (وہ یہ کہ نہ میں نے کسی مومن کو ایذاء دی ہے یا اس کو گالی دی یا اس کو مارا ہے یا اس پر لعنت بھیجی ہے تو اس کو رحمت اور پاکیزگی اور قربت بنا دے جس کے ذریعہ وہ قیامت کے دن (اللہ سے ) تقرب حاصل کرے۔

 

 غنیمت کا مال

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ہم سے پہلے جو لوگ تھے ان کے لیے غنیمت کا مال حلال نہیں تھا۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ نے ہمارے ضعف اور ہماری عاجزی کو دیکھا، اسی لیے اس نے اس کو ہمارے لیے پاک بنا دیا۔

 

 بلی کی وجہ سے دوزخ ملی!

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ایک عورت تھی جو اپنی بلی کی وجہ سے (یا یہ فرمایا: بلی کو باندھ رکھنے کی وجہ سے ) دوزخ میں گئی چنانچہ نہ تو وہ اس کو کھانا ڈالتی تھی اور نہ چھوڑ ہی دیتی تھی کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے، پرندے پکڑ کر کھا لے، یہاں تک کہ وہ بلی فاقے کر کے مر گئی۔

 

 کوئی شخص کب مومن نہیں ہوتا!

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: کوئی شخص چوری کرنے کی حالت میں (سچا) مومن نہیں ہوتا، کوئی شخص زنا کرنے کی حالت میں مومن نہیں ہوتا، کوئی شخص ممنوع چیز یعنی شراب پینے کی حالت میں مومن نہیں ہوتا۔ اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے کہ کوئی شخص عزت دار ہو کر (نکاح میں کھجور مصری) اس طرح لوٹے کہ لوگوں کی نظروں نکو ہو جائے تو اس حال میں وہ مومن نہیں ہوتا۔ تم میں سے کوئی شخص دغا بازی کرے تو دغا بازی کرنے کی حالت میں وہ مومن نہیں ہوتا۔ بچتے رہو، بچتے رہو۔

 

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، اس امت کا کوئی شخص، یا یہودی ای نصرانی میرا تذکرہ سنے اور مر جائے اور اس چیز پر ایمان نہ لائے جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے تو وہ دوزخ کے لوگوں میں ہو گا۔

 

 عورتوں کو تالی بجانا چاہیے

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: نماز میں مردوں کو سبحان اللہ کہنا چاہئے اور عورتوں کو تالی بجانی چاہئے (یعنی نماز میں امام کوئی غلطی کرے تو اس کو آگاہ کرنے کے لیے۔ مترجم)

 

 خون میں مشک کی خوشبو

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ہر زخم جو مسلمان کو اللہ کی راہ میں لگے، قیامت کے دن اسی صورت کا ہو گا جب کہ وہ نیزے سے زخمی ہوا، خون نچڑ رہا ہو گا، رنگ تو خون کا رنگ ہو گا مگر خوشبو مشک کی سی خوشبو ہو گی۔

 

 سوال پر سوال

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تم ہمیشہ دریافت پر دریافت کرتے رہو گے، یہاں تک کہ تم میں سے کوئی بھی کہے گا کہ : یہ اللہ ہے جس نے مخلوق کو پیدا کیا، پھر تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟

 

 صدقے کا کھجور

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: میں اپنے گھر والوں کے پاس جاتا ہوں تو میں اپنے بستر پر (یا یہ فرمایا: اپنے گھر میں ) کھجور پڑا ہوا پاتا ہوں اور میں اس کو کھانے کے لیے اٹھا لیتا ہوں، پھر مجھے خوف ہوتا ہے کہ شاید صدقے کا ہو، پھر میں اس کو ڈال دیتا ہوں۔

 

 قسم کا کفارہ

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کا قسم کھانے کی وجہ سے اپنے اہل و عیال کے پاس نہ جانا اللہ کے نزدیک زیادہ بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ وہ اپنا کفارہ ادا کرے جس کو (قسم توڑنے پر) اللہ نے فرض کیا ہے۔

 

 قرعہ اندازی

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جب وہ لوگ قسم کھانے کے لیے مجبور کیے جائیں اور دونوں حیا کریں تو ان کے درمیان قرعہ ڈالو۔

 

 دودھ کا معاوضہ

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اونٹنی یا بکری خرید کرے جس کا دودھ دھوکا دینے کے لیے کئی وقت کا نہ نچوڑا گیا ہو تو اس کو دودھ نچوڑنے کے بعد دو باتوں کا اختیار ہو گا، یا تو اس کو رکھ لے ورنہ اس کو واپس کر دے اور ایک صاع کھجور دے دے (دودھ کے معاوضہ میں )

 

 بوڑھا کب جوان ہوتا ہے

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: بوڑھا آدمی دو چیزوں کی محبت میں جوان ہوتا ہے : لمبی عمر اور مال کی کثرت۔

 

 ہتھیار سے اشارہ نہ کرو

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے، کیونکہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ ممکن ہے کہ (وہ ہتھیار) شیطان اس کے ہاتھ سے نکال لے اور پھر وہ شخص آگ (دوزخ) کے گڑھے میں گر پڑے (اگر بے ارادہ ایک مسلمان کو قتل کر دے )

 

 

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے چار دانت مبارک

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: قوم پر اللہ کا غصہ بہت سخت ہو گیا جب کہ اس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ (یہ) کیا اور آپ اس وقت اپنےسامنے کے چار دانتوں کی طرف اشارہ فرما رہے تھے۔

 

 

 اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قتل کریں

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اللہ کا غضب اس شخص پر بہت سخت ہو جاتا ہے جس کو اللہ کا رسول، اللہ کی راہ میں قتل کرے۔

 

 اولاد آدم کا حصہ

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ہر اولاد آدم کے لیے زنا کا بھی کچھ حصہ مقدر ہے، وہ اس کو لازمی طور پر پاتا ہے، فرمایا: آنکھ کا زنا (نامحرم پر) نظر کرنا ہے اور اس کی تصدیق نظر موڑ لینا ہے، اور زبان کا زنا (فحش) بات چیت ہے، اور دل کا زنا خواہش کرنا ہے اور شرم گاہ گناہ کی تصدیق کرتی ہے یا جھٹلاتی ہے۔

 

 

 نیکیاں، ایک برائی

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنے اسلام کو اچھا گونا لکھ لی جاتی ہیں اور ہر برائی جو وہ کرتا ہے اس جیسی ہی (یعنی صرف ایک گناہ) لکھ لی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اللہ عز و جل سے جا ملتا ہے۔

 

 

 مختصر نماز

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی امام بن کر لوگوں کو نماز پڑھائے تو اس کو چاہئے کہ نماز کو مختصر بنا دے کیونکہ جماعت میں بوڑھے بھی ہوتے ہیں، ضعیف بھی ہوتے ہیں، اور اگر تنہا نماز کے لیے کھڑا رہے تو اپنی نماز کو جتنا چاہے دراز کر سکتا ہے۔

 

 

 ایک نیکی لکھ لو!

“اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ملائکہ (فرشتے ) (بعض وقت) کہتے ہیں : “اے رب! یہ بندہ گناہ کا ارادہ کر رہا ہے۔ “اللہ تو اس کو سب سے زیادہ دیکھنے والا ہے اس پر اللہ فرماتا ہے : اس کو دیکھتے رہو، اگر وہ اس کو کرے تو اس کو اس جیسا ہی (ایک گناہ) لکھ لو اور اگر اس کو چھوڑ دے تو اس کو اس کے لیے ایک نیکی لکھ لو، بے شک اس نے اس گناہ کو میری خاطر چھوڑا ہے۔ ”

 

 

 اللہ جل شانہ اور بندے کا معاملہ

“اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے فرمایا: میرا بندہ مجھے جھٹلاتا ہے اور یہ اس کے لیے مناسب نہیں اور میرا بندہ مجھے گالی دیتا ہے اور یہ اس کے لیے مناسب نہیں اس کا یہ کہنا مجھے جھٹلانا ہے کہ: “وہ ہم کو اس طرح ہر گز دوبارہ پیدا نہ کرے گا جس طرح اس نے ابتداء میں پیدا کیا تھا۔ ” اس کا یہ کہنا مجھے گالی دینا ہے کہ: “اللہ نے کسی کو بیٹا بنا لیا ہے۔ اور میں بے نیاز ہوں نہ جنتا ہوں اور نہ جنا گیا ہوں اور نہ میر کوئی ہمسر ہے۔ ”

 

 

 سخت دھوپ، دوزخ کی بھاپ

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: دھوپ ذرا ٹھنڈی ہونے کے بعد نماز پڑھو، کیونکہ سخت دھوپ دوزخ کی بھاپ ہے۔

 

 

دوبارہ وضو کرو

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تم میں سے کسی شخص کی نماز جب کہ وضو ٹوٹ جائے قبول نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ دوبارہ وضو کر لے۔

 

 

 پرسکون رہو

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اذان دی جائے تو اس کے لیے لے جاؤ مگر اس طرح چلو کہ تم پر سکون و اطمینان ہو، جتنی نماز ملے اس کو پڑھ لو اور جو چھوٹ گئی ہے اس کو پورا کر لو۔

 

 

 قاتل و مقتول دونوں جنت میں

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اللہ ان دو آدمیوں کو دیکھ کر ہنستا ہے جن میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دیا ہو اور پھر بھی دونوں جنت میں جائیں۔ لوگوں نے عرض کیا: کس طرح؟ یا رسول اللہ! فرمایا: یہ قتل ہو گیا اس لیے جنت میں داخل ہو گا، پھر دوسرے پر اللہ مہربانی کرے گا اور اس کو اسلام کی ہدایت دے گا، پھر وہ اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا اور شہید ہو جائے گا۔

 

 

 جب تمہارا بھائی منگنی کر رہا ہو!

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اگر تمہارا بھائی کوئی چیز خرید رہا ہو تو تم اس کو نہ خریدو، اور اگر تمہارا بھائی منگنی کر رہا ہو تو تم (اسی عورت سے ) منگنی نہ کرو (بلکہ انتظار کرو کہ وہ فارغ ہو جائے پھر جو چاہے کرو)

 

 

 مومن کی ایک آنت

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: کافر سات آنتوں سے کھاتا ہے اور مومن ایک آنت سے کھاتا ہے۔

 

 

 خضر علیہ السلام کو خضر کیوں کہا گیا

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا خضر (علیہ السلام کا نام خضر یعنی سبز) اس وجہ سے رکھا گیا کہ وہ ایک مرتبہ سفید ریت پر بیٹھے تو وہ ان کے نیچے سر سبز ہو گئی۔

 

 

 ٹخنوں سے نیچے لنگی

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مسبل کی طرف (نظر رحمت) سے نہ دیکھے گا (یعنی) جس کی لنگی (بہت لانبی ٹخنوں سے نیچے تک ہو)

 

 

 دروازہ میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو

“اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اُدْخلُوْالُبَابَ سُجَّداً وَّقُوْلُوْا حِطَّةً یَّغْفِرْلَکُمْ خَطَایَاکُمْ، تم دروازہ میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو اور کہو “حطۃ”(ہمارے گناہوں کو معاف کر) وہ تمہاری خطاؤں کو معاف کرے گا مگر انہوں نے (ان الفاظ کو بدل دیا: اور دروازہ میں اپنی چوتڑوں سے رینگتے ہوئے داخل ہوئے اور حبۃ فی شیرۃ (جو میں گیہوں ) کہنے لگے۔ ”

 

 

 جب زبان سے قرآن صاف نہ نکلے

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص رات کو نماز کے لیے کھڑا رہے پھر اس کی زبان سے قرآن صاف نہ نکلے اور جاننے کے قابل نہ رہے کہ کیا کہہ رہا ہے تو اس کو چاہئے کہ سو جائے۔

 

 

 میں ہی زمانہ ہوں

“اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کہا: آدم کے کسی بیٹے (انسان کو “زمانہ کا برا ہو” نہ کہنا چاہئے کیونکہ میں ہی زمانہ (دھر) ہوں، میں ہی رات اور دن کو پے در پے بھیجتا ہوں اور جب چاہوں ان کو روک لو۔ ”

 

 

 غلام کے لیے اچھی بات

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: غلام کے لیے یہ بات کیا ہی اچھی ہے کہ اللہ اس کو اپنے پروردگار اور اپنے آقا (ہر دو) کی اچھی اطاعت کرتے ہوئے وفات دے۔ یہ اس کے لیے بڑا ہی اچھا ہے، یہ اس کے لیے بڑا ہی اچھا ہے۔

 

 

 سامنے اور دائیں جانب فرشتے

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو تو اس کو چاہئے کہ اپنے سامنے نہ تھوکے، کیونکہ وہ جب تک اپنی نماز کی جگہ پر ہوتا ہے اللہ سے مناجات کرتا رہتا ہے اور سیدھی طرف بھی نہ تھوکے کیونکہ اس کی سیدھی جانب ایک فرشتہ ہوتا ہے لیکن بائیں جانب یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوک کر اس کو دفن کر دے۔

 

 

 خاموش رہو

“اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جب تم نے لوگوں سے کہا کہ “خاموش رہو” اور وہ باتیں کرتے ہی رہیں یعنی جمعہ کے دن تو تم نے اپنے نفس پر ایک لغو کام کیا۔ ”

 

 

 میں اس کا ولی ہوں

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: بہ نسبت اور لوگوں کے میں مومنوں کے حق میں اللہ کے نوشتہ احکام میں زیادہ قریبی رشتہ دار ہوں چنانچہ تم میں سے اگر کوئی شخص قرض چھوڑ کر مرے یا اس طرح فوت ہو کہ کفن دفن کو بھی پیسے نہ ہوں تو مجھے بلاؤ۔ میں اس کا ولی ہوں، اور اگر تم میں سے کوئی شخص مال چھوڑے تو جو کوئی اس کا قرابت دار ہو اسے اس مال پر ترجیح حاصل ہو گی۔ (ترکہ بحق حکومت ضبط نہ ہو گا)

 

 

 ذوق یقین و عزم

“اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اس طرح نہ کہے : “اگر تو چاہے تو میری مغفرت کر”یا”اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر”یا “اگر تو چاہے تو مجھے رزق دے۔ ” اس کو چاہئے کہ پورے عزت کے ساتھ سوال کرے، بے شک وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، اس کو کوئی مجبور کرنے والا نہیں۔ ”

 

 

 گائے کے سر جیسی سنہری چیز

“اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: پیغمبروں میں سے ایک پیغمبر نے (ایک مرتبہ) جنگ کی اور اپنی قوم سے کہا: میرے ساتھ کوئی ایسا شخص نہ آئے جس نے کسی عورت سے شادی کی ہو اور اس کے ساتھ زفاف کرنا چاہتا ہو اور زفاف نہ کیا ہو اور نہ ہی کوئی اسا شخص جو اپنا مکان بنا رہا ہو اور ابھی اس کی چھت بلند نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی اور جس نے بکریاں یا اونٹنیاں خریدی ہوں اور وہ ان کے بچے پیدا ہونے کا انتظار کر رہا ہو۔ پھر انہوں نے جنگ کی، پھر جب کہ عصر کی نماز کا وقت ہوا یا اس کے لگ بھگ تو (دشمن) کے شہر کے پاس پہنچے اور سورج سے کہا: تو بھی مامور ہے اور میں بھی مامور ہوں، یا اللہ! اس کو کچھ دیر تک میرے لیے روک دے، اس پر ان کے لیے سورج رک گیا، یہاں تک اللہ نے اس کو فتح دی پھر لوگوں نے جو مال غنیمت حاصل کیا تھا جمع کیا اور اس کو کھانے کے لیے آگ آگے بڑھی لیکن اس کے کھانے سے انکار کر دیا، پیغمبر نے کہا: “تم میں خیانت ہے، اس لیے چاہئے کہ ہر قبیلے سے ایک شخص مجھ سے بیعت کرے ” پھر انہوں نے ان سے بیعت کی اور ایک آدمی کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چمٹ گیا، اس پر انہوں نے کہا: “تم میں خیانت ہے اس لیے چاہئے کہ اس کا قبیلہ مجھ سے بیعت کرے۔ ” پھر اس کے پورے قبیلے نے ان سے بیعت کی تو دو تین آدمیوں کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چمٹ گیا، اس پر انہوں نے کہا: “تم میں خیانت ہے، تم نے خیانت کی ہے “۔ کہا: پھر ان کے پاس گائے کے سر کے جیسی کوئی سنہری چیز نکال کر لائے، اس کو بھی مال غنیمت میں رکھ دیا گیا اور وہ پاک مٹی پر تھا، تو آگ آگے بڑھی اور کھا لیا، فرمایا: غنیمت کا مال ہم سے پہلے کسی پر حلال نہ تھا۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ نے ہمارے ضعف اور ہماری عاجزی کو دیکھا، اس لیے اس نے اس کو ہمارے لیے پاک بنا دیا۔ ”

 

 

 حوض بہتا ہی رہا

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ایک بار جب کہ میں سو رہا تھا میں نے (خواب میں ) دیکھا کہ حوض پر لوگوں کو پانی پلانے کے لیے ڈول سے پانی کھینچ رہا ہوں۔ پھر میرے پاس ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے میرے ہاتھ سے ڈول لے لیا تاکہ مجھے راحت پہنچائیں۔ پھر انہوں نے دو ڈول نکالے اور ان کے نکالنے میں ضعف تھا، اللہ ان کو معاف کرے، فرمایا: پھر میرے پاس عمر بن الخطاب آئے اور ڈول کو ان سے لے لیا، پھر کوئی شخص ان کے جیسا کھینچ نہ سکا، یہاں تک کہ سب لوگ (سیراب ہو کر) واپس ہو گئے اور حوض بہتا ہی رہا۔

 

 

 چپٹی ناک، چھوٹی آنکھیں

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: قیامت اس وقت نہ آئے گی، یہاں تک کہ تم جور کرمان سے لڑیں، وہ ایک عجمی (غیر عرب) قوم ہے، سرخ چہرے، چپٹی ناک اور چھوٹی آنکھوں والی، گویا کہ ان کے چہرے پٹی ہوئی ڈھال ہیں۔

 

 

 تکبر اور بردباری

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: فخر و تکبر گھوڑے اور اونٹ والوں میں ہوتا ہے اور بردباری بکری والوں میں۔

 

 

 بالوں کے جوتے

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک نہ آئے گی یہاں تک کہ تم ایک ایسی قوم سے لڑو جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے۔

 

 

 امارت کس کی

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اس معاملہ میں۔ ۔ ۔ ۔ یعنی میں سمجھتا ہوں امارت کے بارے میں۔ ۔ ۔ لوگ قریش کے تابع ہیں، ان میں کے مسلمان ان کے مسلمانوں کے تابع، اور ان میں کے کافر ان میں کے کافروں کے تابع ہیں۔

 

 

 بہترین عورتیں

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: بہترین عورتیں جو کبھی اونٹ پر سوار ہوئی ہیں وہ قریش کی عورتیں ہیں : اپنے بچوں پر ان کے بچپن میں بڑی مہربان رہتی ہیں، اور اپنے شوہر کے مال کی بڑی حفاظت کرتی ہیں۔

 

 

 نظر لگنا حق ہے

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: نظر لگنا حق بات ہے، اور آپ نے پچھے (پچھا بٹو) لگانے سے منع کیا۔

 

 

 نماز کا انتظار

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی اس وقت تک نماز ہی میں رہتا ہے جب تک کہ نماز اس کو روکے رکھے۔ اور نماز کے انتظار کے سوائے اس کو اور کوئی چیز جانے سے نہیں روکتی۔

 

 

 اوپر کا ہاتھ

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے اور (خیرات) اپنے قریبی رشتہ داروں سے شروع کرو۔

 

 

 درمیان میں کوئی نبی نہیں

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: میں اور لوگوں کے مقابلہ میں عیسی بن مریم کے ساتھ دنیا اور آخرت میں اولیٰ ہوں، لوگوں نے کہا: کس طرح؟ یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا: پیغمبر علاتی بھائی ہیں، اور ان کی مائیں علیحدہ ہیں اور ان کا دین ایک ہے، اور ہم دونوں کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔

 

 

 سونے کے دو کنگن

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا: ایک مرتبہ جب کہ میں سورہا تھا تو زمین کے خزانے میرے پاس لائے گئے اور سونے کے دو کنگن میرے ہاتھ میں رکھے گئے، مجھ پر وہ گراں گذرے اور مجھے رنج میں ڈال دیا۔ اس پر مجھے وحی ہوئی کہ ان دونوں کو پھونک دوں، پھر میں نے ان دونوں کو پھونک دیا اور وہ دونوں چلے گئے، میں نے ان دونوں سے دو جھوٹوں کی تعبیر لی جو میرے دونوں طرف ہیں اور میں ان کے درمیان میں ہوں :صنعاء والا اور یمامہ والا۔

 

 

 عمل کے ذریعے نجات

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: کوئی شخص اپنے عمل کے ذریعہ نجات نہیں پائے گا۔ لیکن (عمل کو) درست کرو اور میانہ روی اختیار کرو، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ بھی نہیں ؟ فرمایا: میں بھی نہیں، سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت اور فضل سے ڈھانک لے۔

 

 

 دو قسم کی تجارت و لباس

اور کہا: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے دو قسم کی تجارت اور دو طرح کے لباس سے منع فرمایا (چنانچہ لباس کی حد تک) تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے کو اس طرح نہ لپٹ لے کہ اس کی شرم گاہ پر کوئی کپڑا نہ ہو، اور یہ کہ جب نماز پڑھے تو اپنی لنگی کو کندھوں پر ڈال لے مگر یہ کہ اس کے دونوں کناروں کو مخالف سمتوں سے اپنے کندھے پر ڈال لے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے چھو کر یا کنکری ڈال کر خریدنے ور نجش سے منع فرمایا۔

 

 

 موت معاف ہے

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: بے زبانوں (جانوروں وغیرہ) سے موت واقع ہو تو وہ معاف ہے کنوئیں میں گرنے سے موت واقع ہو تو بھی معاف ہے، کان میں گرنے سے موت واقع ہو تو بھی معاف ہے، آگ سے موت واقع ہو تو بھی معاف ہے، البتہ دفینہ یا تو اس کا پانچواں حصہ زکوٰۃ میں دینا چاہئے۔

 

 

 شہر میں اقامت

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جب تم کسی شہر میں جاؤ اور اس میں اپنے مقدر کے مطابق اقامت کر لو، میرا خیال ہے کہ پھر آپ نے فرمایا، تو وہ تمہارے لیے ہے، یا ایسا ہی کوئی اور کلام، اور جو شہر اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو (فتح ہونے پر) اس کا خمس (پانچواں حصہ) اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے، پھر وہ (خمس بھی) تمہارے ہی لیے ہے (یعنی سرکاری حصہ بھی مفاد عامہ کے لیے خرچ ہوتا ہے )

٭٭٭

ماخذ: ایزی قرآن و حدیث سافٹ وئر

تدوین اور ای بک  کی تشکیل: اعجاز عبید