FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

فہرست مضامین

شہادت حسین رضی اللہ تعالی عنہ

 

 

 

 

                مولانا ابو الکلام آزاد

ماخوذ از کتاب ’انسانیت موت کے دروازے پر‘

 

 

 

                ضروری تمہید

 

دنیا میں انسانی عظمت و شہرت کے ساتھ حقیقت کا توازن بہت کم قائم رہ سکتا ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ جو شخصیتیں عظمت وتقدس اور قبول و شہرت کی بلندیوں پر پہنچ جاتی ہیں۔ دنیا عموماً تاریخ سے زیادہ افسانہ اور تخیل کے اندر انہیں ڈھونڈنا چاہتی ہے، اس لئے فلسفہ تاریخ کے بانی اول ابن خلدون کو یہ قاعدہ بنانا پڑا کہ جو واقعہ دنیا میں جس قدر زیادہ مقبول و مشہور ہو گا، اتنی ہی افسانہ سرائی اسے اپنے اپنے حصار تخیل میں لے لے گی۔ ایک مغربی شاعر گوئٹے نے یہی حقیقت ایک دوسرے پیرایہ میں بیان کی ہے، وہ کہتا ہے انسانی عظمت کی حقیقت کی انتہاء یہ ہے کہ افسانہ بن جائے۔

تاریخ اسلام میں حضرت امام حسین(علیہ وعلی آباۂ واجدادہ الصلوۃ والسلام) کی شخصیت جو اہمیت رکھتی ہے، محتاج بیان ہیں۔ خلفائے راشدین کے عہد کے بعدجس واقعہ نے اسلام کی دینی، سیاسی اور اجتماعی تاریخ پرسب سے زیادہ اثر ڈالا ہے، وہ ان کی شہادت کا عظیم واقعہ ہے۔ بغیرکسی مبالغہ کے کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کے کسی المناک حادثہ پرنسل انسانی کے اس قدرآنسونہب ہے ہوں گے جس قدراس حادثہ پرب ہے ہیں۔ تیرہ سوبرس کے اندر تیرہ سومحرم گزر چکے اور ہر محرم اس حادثہ کی یاد تازہ کرتا رہا۔ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جسم خونچکاں سے دشت کربلا میں جس قدر خون بہا تھا، اس کے ایک ایک قطرہ کے بدلے دنیا اشک ہائے ماتم و الم کا ایک ایک سیلاب بہا چکی ہے۔

بایں ہمہ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ تاریخ کا اتنا مشہور اور عظیم تاثیر رکھنے والا واقعہ بھی تاریخ سے کہیں زیادہ افسانہ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اگر آج ایک جویائے حقیقت چا ہے کہ جو صرف تاریخ اور تاریخ کی محتاط شہادتوں کے اندراس حادثہ کا مطالبہ کرے تو اکثر صورتوں میں اسے مایوسی سے دو چار ہونا پڑے گا۔ اس وقت جس قدر بھی مقبول اور متداول ذخیرہ اس موضوع پر موجود ہے، وہ زیادہ تر روضہ خوانی سے تعلق رکھتا ہے جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ گریہ و بکا کی حالت پیدا کر دیتی ہے، حتی کہ تاریخی حیثیت سے بیان کردہ بعض چیزیں جو تاریخ کی شکل میں مرتب ہوئی ہیں، وہ بھی در اصل تاریخ نہیں ہے۔ روضہ خوانی اور مجلس طرازی کے مواد ہی نے ایک دوسری صورت اختیار کر لی ہے۔

آج اگرجستجوکی جائے کہ دنیا کی کسی زبان میں بھی کوئی کتاب ایسی موجود ہے جو حادثہ کربلا کی تاریخ ہو تو واقعہ یہ ہے کہ ایک بھی نہیں۔

اہل بیت شروع سے اپنے تئیں خلافت کا زیادہ حق دارسمجھتے تھے۔ امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابی سفیان کی وفات کے بعد تخت خلافت خالی ہوا۔ یزید بن معاویہ پہلے سے ولی عہد مقرر ہو چکا تھا، اس نے اپنی خلافت کا اعلان کر دیا اور حسین ابن علی علیہ السلام سے بھی بیعت کا مطالبہ کیا۔ حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام نے کوفہ کو دارا الخلافہ قرار دیا تھا، اس لئے وہاں اہل بیت کرام کے طرفداروں کی تعداد زیادہ تھی۔ انہوں نے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لکھا آپ تشریف لائیے ہم آپ کا ساتھ دیں گے۔ آپ نے اپنے چچیرے بھائی مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اہل کوفہ سے بیعت لینے کے لئے بھیج دیا اور خود بھی سفرکی تیاری کرنے لگے۔

 

                دوستوں کا مشورہ

 

آپ کے دوستوں اور عزیزوں کو معلوم ہوا تو سخت مضطرب ہوئے، وہ اہل کوفہ کی بے وفائی اور زمانہ سازی سے واقف تھے۔ بنی امیہ کی سخت گیر طاقتوں سے بھی بے خبر نہ تھے۔ انہوں نے اس سفرکی مخالفت کی۔ حضرت عبداللہ بن رضی اللہ تعالیٰ عباس نے کہا:یہ سن کر بڑے پریشان ہیں کہ آپ عراق جا رہے ہیں، مجھے اصلی حقیقت سے آگاہ کیجئے۔ ”

حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا۔ میں نے عزم کر لیا ہے۔ آج یا کل ہی میں روانہ ہوتا ہوں۔ “ابن عباس”بے اختیار پکار اٹھے۔ “خدا آپ کی حفاظت کرے، کیا آپ ایسے لوگوں میں جا رہے ہیں جنہوں نے اپنے دشمن کو نکال دیا ہے اور ملک پر قبضہ کر لیا ہے ؟اگر وہ ایسا کر چکے ہیں تو بڑے شوق سے تشریف لے جائیے لیکن اگرایسانہیں ہوا ہے۔ حاکم بدستوران کی گردن دبائے بیٹھا ہے، اس کے گماشتے برابر اپنی کارستانیاں کر رہے ہیں تو ان کا آپ کو بلانا در حقیقت جنگ کی طرف بلانا ہے۔ میں ڈرتا ہوں، وہ آپ کو دھوکا نہ دیں اور جب دشمن کو طاقتور دیکھیں تو خود آپ سے لڑنے کے لئے آمادہ نہ ہو جائیں۔ “مگر آپ اس طرح کی باتوں سے متاثر نہ ہوئے اور اپنے ارادہ پر قائم رہے۔ ”

 

                ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جوش

 

جب روانگی کی گھڑی بالکل قریب آ گئی تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ پھر دوڑے آئے۔ اے ابن عم!انہوں نے کہا:میں خاموش رہنا چاہتا تھا مگر خاموش رہا نہیں جاتا۔ میں اس راہ میں آپ کی ہلاکت اور بربادی دیکھ رہا ہوں۔ عراق والے دغا باز ہیں، ان کے قریب بھی نہ جائیے، یہیں قیام کیجئے کیونکہ یہاں حجاز میں آپ سے بڑا کوئی نہیں ہے۔ اگر عراقی آپ کو بلاتے ہیں تو ان سے کہیے، پہلے مخالفین کو اپنے علاقے سے نکال دو۔ پھر مجھے بلاؤ۔

اگر آپ حجازسے جانا ہی چاہتے ہیں تو یمن چلے جائیے، وہاں قلعے اور دشوار گزار پہاڑ ہیں، ملک کشادہ ہے۔ آبادی عموماً آپ کے والد کی خیر خواہ ہے وہاں آپ ان لوگوں کی دسترس سے باہر ہوں گے۔ خطوں اور قاصدوں کے ذریعے اپنی دعوت پھیلائے گا۔ مجھے یقین ہے۔ اس طرح آپ کامیاب ہو جائیں گے۔ ”

لیکن حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا۔ “اے ابن عم!میں جانتا ہوں تم میرے خیرخواہ ہو، لیکن اب میں عزم کر چکا۔ ”

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:آپ نہیں مانتے تو عورتوں اور بچوں کوساتھ نہ لے جائیے۔ مجھے اندیشہ ہے آپ ان کی آنکھوں کے سامنے اسی طرح نہ قتل کر دیئے جائیں جس طرح حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر والوں کے سامنے قتل کر دیئے گئے تھے۔

تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جوش میں آ کر کہا:”اگر مجھے یقین ہوتا کہ آپ کے بال پکڑ لینے اور لوگوں کے جمع ہونے سے آپ رک جائیں گے تو واللہ!میں ابھی آپ کی پیشانی کے بال پکڑ لوں۔ “(ابن جریر ج6ص217)

مگر آپ پھر بھی اپنے ارادہ پر قائم رہے۔

 

                عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خط

 

اسی طرح اور بھی بہت سے لوگوں نے آپ کوسمجھایا۔ آپ کے چچیرے بھائی عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خط لکھا۔

“میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ یہ خط دیکھتے ہی اپنے ارادے سے باز آ جائیے کیونکہ اس راہ میں آپ کے لئے ہلاکت اور آپ کے اہل بیت کے لئے بربادی ہے اگر آپ قتل ہو گئے تو زمین کا نور بجھ جائے گا۔ اس وقت ایک آپ ہی ہدایت کا نشان اور ارباب ایمان کی امیدوں کا مرکز ہیں۔ سفرمیں جلدی نہ کیجئے، میں آتا ہوں۔ “(ایضاً۔ کامل)

 

                والی عمرو کا خط

 

یہی نہیں بلکہ انہوں نے یزید کے مقر رکئے ہوئے والی عمرو بن سعید بن العاص سے جا کر کہا۔ “حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھو اور ہر طرح سے مطمئن کر دو۔ “عمرو نے کہا:آپ خود خط لکھ لائیے، میں مہر کر دوں گا چنانچہ عبداللہ نے والی کی جانب سے یہ خط لکھا:۔

“میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ آپ کواس راستہ سے دور کر دے جس میں ہلاکت ہے اور اس راستہ کی طرف رہنمائی کر دے جس میں سلامتی ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے آپ عراق جا رہے ہیں۔ ”

“میں آپ کے لئے شقاق و اختلاف سے پناہ مانگتا ہوں۔ میں آپ کی ہلاکت سے ڈرتا ہوں۔ میں عبداللہ بن جعفر اور یحیی بن سعیدکوآپ کے پاس بھیج رہا ہوں، ان کے ساتھ واپس چلے آئیے۔ میرے پاس آپ کے لے لئے امن، سلامتی، نیکی، احسان اور حسن جواز ہے۔ اللہ اس پر شاہد ہے وہ ہی اس کا نگہبان اور کفیل ہے۔ “والسلام!

مگر آپ بدستوراپنے ارادے پر جمے رہے۔ (ابن جریر ج6ص319)

 

                فرزوق سے ملاقات

 

مکہ سے آپ عراق کو روانہ ہو گئے۔ “صفاح”نام مقام پر مشہور محب اہل بیت شاعر فرزوق سے ملاقات ہوئی۔

آپ نے پوچھا:”تیرے پیچھے لوگوں کا کیا حال ہے ؟”

فرزوق نے جواب دیا:”ان کے دل آپ کے ساتھ مگر تلواریں بنی امیہ کے ساتھ ہیں۔ “فرمایا”سچ کہتا ہے، مگر اب ہمارا معاملہ اللہ کے ہاتھ ہے، وہ جو چاہتا ہے، وہی ہوتا ہے۔ ہمارا پروردگار ہر لمحہ کسی نہ کسی حکم فرمائی ہے اگراس کی مشیت ہماری پسند کے مطابق ہو تواس کی ستائش کریں گے۔ اگر امید کے خلاف ہو تو بھی نیک نیتی اور تقوی کا ثواب کہیں نہیں گیا ہے۔ ”

یہ کہا اور سواری آگے بڑھائی۔ (ایضاً ج6ص219)

 

                مسلم بن عقیل کے عزیزوں کی ضد

 

زرود نام مقام میں پہنچ کر معلوم ہوا کہ آپ کے نائب مسلم بن عقیل کو کوفہ میں یزید کے گورنر عبیداللہ بن زیاد نے علانیہ قتل کر دیا اور کسی کے کان پر جون تک نہ رینگی۔ آپ نے سناتوبار بار۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ پڑھنا شروع کیا۔ بعض ساتھیوں نے کہا:۔

“اب بھی وقت ہے ہم آپ کے اور آپ کے اہل بیت کے معاملہ میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتے ہیں۔ للہ یہیں سے لوٹ چلئے۔ کوفہ میں آپ کا کوئی ایک بھی طرفدار و مددگار نہیں۔ سب آپ کے خلاف کھڑے ہو جائیں گے۔ ”

آپ خاموش کھڑے ہو گئے اور واپسی پر غور کرنے لگے لیکن مسلم بن عقیل کے عزیز کھڑے ہو گئے :”واللہ!ہم ہر گز نہ ٹلیں گے۔ “انہوں نے کہا:ہم اپنا انتقام لیں گے یا اپنے بھائی کی طرح مر جائیں گے۔ “اس پر آپ نے ساتھیوں کو نظر اٹھا کے دیکھا اور ٹھنڈی سانس لے کر کہا:”ان کے بعد زندگی کا کوئی مزا نہیں۔ ”

رستہ میں بھیڑ چھنٹ گئی۔

بدوؤں کی ایک جماعت آپ کے ساتھ ہو گئی تھی۔ وہ یہ سمجھتے تھے کوفہ میں خوف آرام کریں گے۔ آپ ان کی حقیقت سے واقف تھے، سب کو جمع کر کے خطبہ دیا:

“اے لوگو!ہمیں نہایت دہشت ناک خبریں پہنچی ہیں۔ مسلم بن عقیل، ہانی بن عروہ اور عبداللہ بن بقطر قتل کر ڈالے گئے۔ ہمارے طرفداروں نے بے وفائی کی۔ کوفہ میں ہمارا کوئی مددگار نہیں، جوہماراساتھ چھوڑنا چا ہے چھوڑ دے۔ ہم ہر گز خفا نہ ہوں گے۔ ”

بھیڑنے یہ سناتودائیں بائیں کٹنا شروع ہو گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد آپ کے گرد وہی لوگ رہ گئے جو مکہ سے ساتھ چلے تھے۔ (ابن جریر ج6ص225)

 

                حر بن یزید کی آمد

 

قادسیہ سے جوں ہی آگے بڑھے عبید اللہ بن زیاد والی عراق کے عامل حصین بن نمیر تمیمی کی طرف سے حر بن یزید ایک ہزار فوج کے ساتھ نمودار ہوا اور ساتھ ہولیا۔ اسے حکم ملا تھا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ برابر لگا رہے اور اس وقت تک پیچھا نہ چھوڑے جب تک انہیں عبید اللہ بن زیاد کے سامنے نہ لے جائے۔ اسی اثناء میں نماز ظہر کا وقت آ گیا، آپ تہبند باندھے، چادر اوڑھے، نعل پہنے تشریف لے آئے اور حمد و نعت کے بعد اپنے ساتھیوں اور حر کے سپاہیوں کے سامنے خطبہ دیا۔

 

                راہ میں ایک اور خطبہ

 

“اے لوگو!اللہ کے سامنے اور تمہارے سامنے میرا عذر یہ ہے کہ میں اپنی طرف سے یہاں نہیں آیا ہوں۔ میرے پاس تمہارے خطوط پہنچے، قاصد آئے۔ مجھے بار بار دعوت دی گئی کہ ہمارا کوئی امام نہیں۔ آپ آئیے تاکہ اللہ ہمیں آپ کے ہاتھ پر جمع کر دے۔ اگر اب بھی تمہاری یہ حالت ہے تو میں آ گیا ہوں۔ اگر مجھ سے عہد و پیمان کرنے کے لئے آئے ہو، جن پر میں مطمئن ہو جاؤں تو میں تمہارے شہر چلنے کو تیار ہوں اگرایسانہیں ہے بلکہ تم میری آمدسے ناخوش ہو تومیں وہیں واپس چلا جاؤں گا، جہاں سے آیا ہوں۔ ”

 

                دشمنوں نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی

 

کسی نے کوئی جواب نہ دیا، دیر تک خاموش رہنے کے بعد لوگ مؤذن سے کہنے لگے۔ “اقامت پکارو۔ ”

حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حر بن یزید سے کہا:”کیا تم علیحدہ نماز پڑھو گے ؟”اس نے کہا:”تمہیں، آپ امامت کریں، ہم آپ ہی کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ ”

وہیں عصر کی بھی نماز پڑھی۔ دوست دشمن سب مقتدی تھے۔ نماز کے بعد آپ نے پھر خطبہ دیا۔

 

                دوسراخطبہ

 

“اے لوگو!اگر تم تقوی پر ہو اور حقدار کا حق پہچانو تو یہ اللہ کی خوشنودی کا موجب ہو گا۔ ہم اہل بیت ان مدعیوں سے زیادہ حکومت کے حقدار ہیں۔ ان لوگوں کو کوئی حق نہیں پہنچتا۔ یہ تم پر ظلم وجورسے حکومت کرتے ہیں لیکن اگر تم ہمیں ناپسندکرو، ہمارا فرض نہ پہچانو اور تمہاری رائے اب اس کے خلاف ہو گئی ہو جوتم نے مجھے اپنے خطوں میں لکھی اور قاصدوں کی زبانی پہنچائی تھی تو میں بخوشی واپسی چلے جانے کو تیار ہوں۔ ”

 

                اہل کوفہ کے خطوط

 

اس پر حر نے کہا:”آپ کن خطوط کا ذکر کرتے ہیں، ہمیں ایسے خطوں کا کوئی علم نہیں۔

آپ نے عقبہ بن سمعان کو حکم دیا کہ وہ دونوں تھیلے نکال لائے جن میں کوفہ والوں کے خط بھرے ہیں۔ عقبہ نے تھیلے انڈیل کر خطوں کا ڈھیر لگا دیا۔ اس پر حر نے کہا:”لیکن ہم وہ نہیں ہیں جنہوں نے یہ خط لکھے تھے۔ ہمیں تو یہ حکم ملا ہے کہ آپ کو عبید اللہ بن زیاد تک پہنچا کے چھوڑیں۔ ”

حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:”لیکن یہ موت سے پہلے ناممکن ہے۔ ”

پھر آپ نے روانگی کا حکم دیا لیکن مخالفین نے راستہ روک لیا۔ آپ نے خفا ہو کرحرسے کہا:”تیری ماں تجھے روئے تو کیا چاہتا ہے ؟”

حر نے جواب دیا:”واللہ!اگر آپ کے سواکوئی اور عرب میری ماں کا نام زبان پر لاتا تو میں اسے بتا دیتا لیکن آپ کی ماں کا ذکر میری زبان پر برائی کے ساتھ نہیں آ سکتا۔ ”

آپ نے فرمایا:پھر تم کیا چاہتے ہو؟”

اس نے کہا:میں نے آپ کو عبید اللہ بن زیاد کے پاس لے جانا چاہتا ہوں۔ ”

آپ نے فرمایا:”تو واللہ!میں تمہارے ساتھ نہیں چلوں گا۔ ”

اس نے کہا:”میں بھی آپ کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا۔ ”

اگر دنیا ہمارے لئے ہمیشہ باقی رہنے والی ہو اور ہم سدا اس میں رہنے والے ہوں جب بھی آپ کی حمایت و نصرت کے لئے اس کی جدائی گوارا کر لیں گے اور ہمیشہ کی زندگی پر آپ کے ساتھ مر جانے کو ترجیح دیں گے۔ “(ایضاً ج 6ص229)

 

                حرکی دھمکی کا جواب

 

حر بن یزید آپ کے ساتھ برابر چلا آ رہا تھا اور بار بار کہتا تھا:اے حسین!اپنے معاملہ میں اللہ کو یاد کیجئے، میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ جنگ کریں گے تو ضرور قتل کر ڈالے جائیں گے۔ ”

ایک مرتبہ آپ نے غضبناک ہو کر فرمایا:تو مجھے موت سے ڈراتا ہے، کیا تمہاری شقاوت اس حد تک پہنچ جائے گی کہ مجھے قتل کرو گے ؟ سمجھ میں نہیں آتا کہ جواب دوں تجھے ؟لیکن میں وہی کہوں گاجورسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ایک صحابی نے جہاد پر جاتے ہوئے اپنے بھائی کی دھمکی سن کر کہا:۔

سامضی ومابالموت عارعلی الفتی     اذامانوی حقاوجاھدمسلما

(میں روانہ ہوتا ہوں، مرد کے لئے موت ذلت نہیں، جبکہ اس کی نیت نیک ہو اور وہ اسلام کی راہ میں جہاد کرنے والا ہو)

وآسی الرجال الصالحین بنفسہ        وفارق مثبوریغش ویرغما

( اور جبکہ وہ اپنی جان دے کر صالحین کا مدد گار ہو اور دغا باز ظالم ہلاک ہونے والے سے جدا ہو رہا ہو۔ )(ایضاً:ج 6ص229)

 

                چار کوفیوں کی آمد

 

عذیب الہجانات نام مقام پر کوفہ سے چارسوارآتے دکھائی دئیے، ان کے آگے آگے طرماح بن عدی یہ شعر پڑھ رہا تھا

یاناقتی لاعذعری من زجری       وشمری قبل طلوع الفجر

(اے میری اونٹنی!میری ڈانٹ سے ڈر نہیں اور طلوع فجرسے پہلے ہمت سے چل!)

بخیروکبان وخیرسفر      حتی تجلی بکریم النحر

(سب سے اچھے مسافروں کولے چل، سب سے اچھے سفرپرچل، یہاں تک شریف النسب آدمی تک پہنچ جا)

الماجدالحر رحیب الصدر   اتی بہ اللہ لخیرامر

(وہ عزت والا ہے، آزاد ہے، فراخ سینہ ہے، اللہ اسے سب سے اچھے کام کے لئے لایا ہے۔ )

لمت ابقاہ بقاء الدھر

(خدا اسے ہمیشہ سلامت رکھے )

حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ شعرسنے تو فرمایا:واللہ!مجھے یہی امید ہے کہ اللہ کو ہمارے ساتھ بھلائی منظور ہے، چا ہے قتل ہوں یا فتح یاب ہوں۔ ”

حر بن یزید نے ان کو دیکھا تو حضرت سے کہا”یہ لوگ کوفہ کے ہیں، آپ کے ساتھ نہیں ہیں، میں انہیں روکوں گا اور واپس کر دوں گا۔ ”

آپ نے فرمایا”تم وعدہ کر چکے ہو کہ ابن زیاد کا خط آنے سے پہلے مجھ سے کوئی تعرض نہیں کرو گے۔ یہ اگرچہ میرے ساتھ نہیں آئے لیکن میرے ہی ساتھی ہیں۔ اگر ان سے چھیڑ چھاڑ کرو گے تو میں تم سے لڑوں گا۔ “یہ سن کر حر خاموش ہو گیا۔

کوفہ والوں کی حالت:۔

آنے والوں سے آپ نے پوچھا:”لوگوں کوکس حال میں چھوڑ آئے ہو؟”

انہوں نے جواب دیا۔ شہر کے سرداروں کو رشوتیں دے کر ملایا گیا۔ عوام کے دل آپ کے ساتھ ہیں مگر ان کی تلواریں کل آپ کے خلاف نیام سے باہر نکلیں گی۔ (ابن جریر ج ص230 اور کامل وغیرہ)

 

                آپ کے قاصد کا قتل

 

اس سے پہلے قیس بن مسہرکوبطور قاصد کوفہ بھیج چکے تھے۔ عبید اللہ بن زیاد نے انہیں قتل کر ڈالا تھا مگر آپ کو اطلاع نہ دی تھی۔ ان لوگوں سے قاصد کا حال پوچھا انہوں نے ساراواقعہ بیان کیا۔ آپ کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور فرمایا:

منھم من قضی نحبہ ومنھم من ینتظرومابدلواتبدیلا۔

(بعض ان میں سے مر چکے ہیں اور بعض موت کا انتظار کر رہے ہیں، مگر حق پر ثابت قدم ہیں، اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے )

خدایا ہمارے لئے اور ان کے لئے جنت کی راہ کھول دے۔ اپنی رحمت اور ثواب کے دار القرار میں ہمیں اور انہیں جمع کر۔ ”

 

                طرماح بن عدی کا مشورہ

 

طرماح بن عدی نے کہا:”واللہ!میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہا ہوں مگر آپ کے ساتھ کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ اگر صرف یہی لوگ ٹوٹ پڑیں جو آپ کے پیچھے لگے ہوئے ہیں تو خاتمہ ہو جائے۔ میں نے اتنا بڑا انبوہ آدمیوں کا کوفہ کے عقب میں دیکھا ہے جتناکسی ایک مقام پر کبھی نہیں دیکھا تھا۔ یہ سب اسی لئے جمع کئے گئے ہیں کہ ایک حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے لڑیں۔ میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ اگر ممکن ہو تو ایک بالشت بھی آگے نہ بڑھئے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ایسی جگہ پہنچ جائیں جہاں دشمنوں سے بالکل امن ہو تو میرے ساتھ چلے چلئے میں اپنے پہاڑ”آ جا”میں آپ کو اتار دوں گا۔ واللہ!وہاں دس دن بھی نہ گزریں گے قبیلہ طے کے 20 ہزار بہادر تلواریں لئے آپ کے لئے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔ واللہ!جب تک ان کے دم میں دم رہے گا، آپ کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھ سکے گا۔ ”

آپ نے جواب دیا:”اللہ تمہیں جزائے خیر دے۔ لیکن ہمارے اور ان کے مابین ایک عہد ہو چکا ہے۔ ہم اس کی موجودگی میں ایک قدم نہیں اٹھاسکتے۔ کچھ نہیں کہا جا سکتاہمارا اور ان کا معاملہ کس حد پر پہنچ کر ختم ہو گا۔ ”

(ابن جریر ج 6ص230 اور کامل وغیرہ)

 

                خواب

 

اب آپ کو یقین ہو چلا تھا کہ موت کی طرف جا رہے ہیں “قصر بنی مقاتل”نامی مقام سے کوچ کے وقت آپ اونگھ گئے تھے۔ پھر چونک کر بآواز بلند کہنے لگے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ الحمد للہ العالمین۔ تین مرتبہ یہی فرمایا:آپ کے صاحبزادے علی اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا:انا للہ اور الحمد للہ کیوں ؟

فرمایا:”جان پدر!ابھی اونگھ گیا تھا، خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سوارکہتاچلا آ رہا ہے :”لوگ چلتے ہیں اور موت ان کے ساتھ چلتی ہے۔ “میں سمجھ گیا کہ یہ ہماری ہی موت کی خبر ہے جو ہمیں سنائی جا رہی ہے۔ ”

علی اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:”اللہ آپ کو روز بد نہ دکھائے !کیا ہم حق پر نہیں ہیں ؟”فرمایا”ـ بے شک ہم حق پر ہیں۔ “اسی پروہ بے اختیار پکار اٹھے :اگر ہم حق پر ہیں تو پھر موت کی کوئی پرواہ نہیں۔ ”

یہی وہ آپ کے صاحبزادے ہیں جو میدان کربلا میں شہید ہوئے اور علی الاکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لقب سے مشہور ہیں۔ (ابن جریر ج6ص232، شرح نہج البلاغہ، امام سیدمرتضی وغیرہ ذامک)

 

                ابن زیاد کا خط

 

صبح آپ پھرسوار ہوئے، اپنے ساتھیوں کو پھیلانا شروع کیا مگر حر بن یزید انہیں پھیلنے سے روکتا تھا۔ باہم دیر تک کشمکش جاری رہی۔ آخر کوفہ کی طرف سے ایک سوارآتادکھائی دیا۔ یہ ہتھیار بند تھا۔ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے اس نے منہ مگرحرکوسلام کیا اور ابن زیاد کا خط پیش کیا۔ خط کا مضمون یہ تھا۔

“حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہیں ٹکنے نہ دو، کھلے میدان کے سواکہیں اتر نے نہ دو۔ قلعہ بند یا شاداب مقام میں پڑاؤ نہ ڈال سکے۔ “میرا یہی قاصد تمہارے ساتھ رہے گا کہ تم کہاں تک میرے حکم کی تعمیل کرتے ہو۔ ”

حر نے خط کے مضمون سے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آگاہ کیا اور کہا:”اب میں مجبور ہوں۔ آپ کو بے آب و گیاہ کھلے میدان میں اتر نے کی اجازت دے سکتا ہوں۔ ”

زہیر القین نے حضرت سے عرض کیا:”ان لوگوں سے لڑنا اس فوج گراں سے لڑنے کے مقابلہ میں کہیں آسان ہے جو بعد میں آئے گی۔ ”

مگر آپ نے لڑنے انکار کر دیا۔ فرمایا”میں اپنی طرف سے لڑائی میں پہل نہیں کرنا چاہتا۔ “زہیر نے کہا”توپھرسامنے کے گاؤں میں چل کر اترئیے جو فرات کے کنارے ہے اور قلعہ بند ہو جانا چاہیے۔ ”

آپ نے پوچھا:”اس کا نام کیا ہے ؟”زہیر نے کہا:”عقر”(عقر کے معنی ہیں کاٹنا یا بے ثمر و بے نتیجہ ہونا)یہ سن کر آپ منغض ہو گئے اور کہا:”عقرسے اللہ کی پناہ!”(ابن جریر ج6ص232شرح نہج البلاغہ، امام سیدمرتضی وغیرہ ذالک)

 

                کربلا میں ورود

 

آخر آپ ایک اجاڑسرزمین پر پہنچ کر اتر پڑے۔ پوچھا:اس سرزمین کا کیا نام ہے ؟معلوم ہوا”کربلا”آپ نے فرمایا”یہ کرب اور بلا ہے۔ “یہ مقام دریاسے دور تھا۔ دریا اور اس میں ایک پہاڑی حائل تھی۔ یہ واقعہ 2محرم الحرام 61ھ  کا ہے۔

 

                عمر بن سعدکی آمد

 

دوسرے روز عمر بن سعدبن ابی وقاص کوفہ والوں کی چار ہزار فوج لے کر پہنچا۔ عبید اللہ بن زیاد نے عمرکوزبردستی بھیجا تھا۔ عمر کی خواہش تھی کسی طرح اس امتحان سے بچ نکلے اور معاملہ رفع دفع ہو جائے۔ اس نے آتے ہی حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس قاصد بھیجا اور دریافت کیا آپ کیوں تشریف لائے ؟آپ نے وہی جواب دیا جو حر بن یزید کودے چکے تھے۔ “تمہارے شہر کے لوگوں ہی نے مجھے بلایا ہے۔ اب اگر وہ مجھے ناپسندکرتے ہیں تو میں لوٹ جانے کے لئے تیار ہوں۔ ”

 

                ابن زیاد کی سختی

 

عمر بن سعدکواس جواب سے خوشی ہوئی اور امید بندھی کے یہ مصیبت ٹل جائے گی چنانچہ عبید اللہ بن زیاد کو خط لکھا۔ خط پڑھ کر ابن زیاد نے کہا۔

الآن اذ علقت مخالینا بہ     یرجوالنجاۃ ولات حین مناص)

(اب کہ ہمارے پنجہ میں آپھنسا ہے، چاہتا ہے کہ نجات پائے مگر اب واپسی اور نکل بھاگنے کا وقت نہیں رہا۔ )

“حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہو اپنے تمام ساتھیوں کے ساتھ یزید بن معاویہ کی بیعت کریں پھر ہم دیکھیں گے ہمیں کیا کرنا ہے۔ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھیوں تک پانی نہ پہنچنے پائے۔ وہ پانی کا ایک قطرہ بھی پینے نہ پائیں، جس طرح حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عفان پانی سے محروم رہے تھے۔

 

                پانی پر تصادم

 

عمر بن سعد نے مجبوراً پانچ سوسپاہی گھاٹ کی حفاظت کے لئے بھیج دئیے اور آپ اور آپ کے ساتھیوں پر پانی بند ہو گیا۔ اس پر آپ نے اپنے بھائی عباس بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ30سوار اور 20پیادے لے کر جائیں اور پانی بھر لائیں۔ یہ پہنچے تو محافظ دستے کے افسرعمروبن الحجاج نے روکا۔ باہم مقابلہ ہوا لیکن آپ 20مشکیں بھر لائے۔

 

                عمر بن سعدسے ملاقات

 

شام کو حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عمر بن سعدکوکہلابھیجا، آج رات مجھ سے ملاقات کرو چنانچہ دونوں بیس بیس سوارلے کر اپنے اپنے پڑاؤسے نکلے اور درمیانی مقام میں ملے۔ تخلیہ میں بہت رات گئے تک باتیں ہوتی رہیں۔ راوی کہتا ہے گفتگو بالکل خفیہ تھی، لیکن لوگوں میں یہ مشہور ہو گیا حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عمرسے کہا ہم، تم دونوں اپنے اپنے لشکر یہیں چھوڑ کر یزید کے پاس روانہ ہو جائیں۔ عمر نے کہا:”اگر میں ایسا کروں گا تو میرا گھر کھدوا ڈالا جائے گا۔ ”

آپ نے فرمایا:”میں بنا دوں گا۔ “عمر نے کہا”میری تمام جائیداد ضبط کر لی جائے گی۔ “آپ نے فرمایا:”میں اپنی حجاز کی جائدادسے اس کا معاوضہ دے دوں گا۔ “مگر عمر نے منظور نہ کیا۔ (ابن جریر ج 6ص 235)

 

                تین شرطیں

 

اس کے بعد بھی تین چار مرتبہ باہم ملاقاتیں ہوئیں۔ آپ نے تین صورتیں پیش کیں۔

1-    مجھے وہیں لوٹ جانے دو، جہاں سے آیا ہوں۔

2-    مجھے یزید سے اپنا معاملہ طے کر لینے دو۔

3-    مجھے مسلمانوں کی کسی سرحدپربھیج دو، وہاں کے لوگوں پر جو گزرتی ہے، وہ مجھ پربھی گزرے گی۔

 

                ابن زیاد کا خط

 

بار بار کی گفتگو کے بعد عمر بن سعد نے ابن زیاد کو پھر لکھا:”اللہ نے فتنہ ٹھنڈا کر دیا۔ پھوٹ دور کر دی، اتفاق پیدا کر دیا۔ امت کا معاملہ درست کر دیا۔ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھ سے وعدہ کر گئے ہیں کہ وہ ان تین صورتوں میں سے کسی ایک کے لئے تیار ہیں۔ اس میں تمہارے لئے بھلائی بھی ہے اور امت کے لئے بھی بھلائی ہے۔ ”

 

                شمر کی مخالفت

 

ابن زیاد نے خط پڑھا تو متاثر ہو گیا۔ عمر بن سعدکی تعریف کی اور کہا:میں نے منظور کیا، مگر شمر ذی الجوشن نے مخالفت کی اور کہا:اب حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ قبضہ میں آ چکے ہیں۔ اگر بغیر آپ کی اطاعت کے نکل گئے تو عجب نہیں عزت و قوت حاصل کر لیں اور آپ کمزور عاجز قرار پائیں۔ بہتر یہی ہے کہ اب انہیں قابوسے نکلنے نہ دیا جائے جب تک وہ آپ کی اطاعت نہ کر لیں۔ مجھے معلوم ہوا کہ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عمر رات بھرسرگوشیاں کیا کرتے ہیں۔ ”

 

                ابن زیاد کا جواب

 

ابن زیاد نے یہ رائے پسندکر لی اور شمر کو خط دے کر بھیجا۔ خط کا مضمون یہ تھا کہ “اگرحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ معہ اپنے ساتھیوں کے اپنے آپ کو ہمارے حوالے کر دیں تو لڑائی نہ لڑی جائے اور انہیں صحیح سالم میرے پاس بھیج دیا جائے لیکن اگر یہ بات وہ منظور نہ کریں تو پھر جنگ کے سواچارہ نہیں۔ شمرسے کہہ دیا کہ عمر بن سعد نے میرے حکم پر ٹھیک ٹھاک عمل کیا تو تم اس کی اطاعت کرنا ورنہ چاہئے کہ اسے ہٹا کر خود فوج کی قیادت اپنے ہاتھ میں لے لینا اور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سرکاٹ کر میرے پاس بھیج دینا۔ ”

ابن زیاد کے اس خط میں عمرکوسخت تہدید بھی کی گئی تھی۔ میں نے تمہیں اس لیے نہیں بھیجا ہے کہ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بچاؤ اور میرے پاس سفارشیں بھیجو۔ دیکھو، میرا حکم صاف ہے اگر وہ اپنے آپ کو حوالے کریں تو صحیح وسالم میرے پاس بھیج دو لیکن اگر انکار کریں تو پھر بلا تامل حملہ کرو، خون بہاؤ، لاش بگاڑو کیونکہ وہ اسی کے مستحق ہیں۔ قتل کے بعد ان کی لاش گھوڑوں سے روند ڈالنا کیونکہ وہ باغی ہیں اور جماعت سے نکل گئے ہیں۔ میں نے عہد کر لیا ہے اگر قتل کروں گا تو یہ ضرور کروں گا۔ ”

“اگر تم نے میرے حکم کی تعمیل کی تو انعام و اکرام کے مستحق ہو گے اور اگر نافرمانی کی تو قتل کئے جاؤ گے۔ ”

 

                شمر بن ذی الجوشن اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ

 

شمر بن ذی الجوشن کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ اس کی پھوپھی ام البنین بنت خرام امیرالمومنین علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجیت میں تھیں اور انہی کے بطن سے ان کے چار صاحبزادے عباس، عبداللہ، جعفر اور عثمان پیدا ہوئے تھے جواس معرکہ میں امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے۔ اس طرح شمر، ان چاروں کا ان کے واسطے سے حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پھوپھیرا بھائی تھا۔ اس نے ابن زیادسے درخواست کی تھی کہ اس کے ان عزیزوں کو امان دے دی جائے اور اس نے منظور کر لیا تھا، چنانچہ اس نے میدان میں چاروں صاحبزادوں کو بلا کر کہا:”تم میرے دادہیالی ہو، تمہارے لئے میں نے امن وسلامتی کا سامان کر لیا ہے۔ ”

لیکن انہوں نے جواب دیا۔ “افسوس تم پر، تم ہمیں تو امان دیتے ہو لیکن فرزندرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے امان نہیں ہے ؟

شمر نے ابن سعدکوحاکم کوفہ کا خط پہنچا دیا اور وہ طوعاً کرہاً بخوف عزل آمادہ تعمیل ہو گیا۔ (ابن جریر ج6ص234)

 

                فوج کی ابتدائی حرکت

 

نماز عصر کے بعد عمر بن سعد نے اپنے لشکر کو حرکت دی جب قریب پہنچا تو حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیس سواروں کے ساتھ نمودار ہوئے۔ عمر نے ان سے کہا کہ”ابن زیاد کا جواب آ گیا ہے اور اس کا مضمون یہ ہے۔ ”

حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوٹے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کواس کی اطلاع دیں۔ اس اثناء میں فریقین کے بعض پر جوش آدمیوں میں جو رد و کد ہوئی، اسے رایوں نے محفوظ رکھا ہے۔

 

                دونوں فوجوں میں رد و کد

 

حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے طرفداروں میں سے حبیب ابن مظاہر نے کہا:”اللہ کی نظر میں بدترین لوگ وہ ہوں گے جواس کے حضوراس حالت میں پہنچیں گے کہ اس کے نبی کی اولاد اور اس شہر(کوفہ)کے تہجد گزار عابدوں کے خون سے ان کے ہاتھ رنگین ہوں۔ ”

ابن سعدکی فوج میں سے عزرہ بن قیس نے جواب دیا:”شاباش اپنی خوب بڑائی کرو، پیٹ بھر کر اپنی پاکی کا اعلان کرو”زہیر بن القین نے کہا:اے عزرہ!اللہ ہی نے ان نفسوں کو پاک کر دیا ہے اور ہدایت کی راہ دکھائی ہے، اللہ سے ڈرو اور ان پاک نفسوں کے قتل میں گمراہی کا مددگار نہ بن۔ ”

عزرہ نے جواب دیا:”اے زہیر!تم تو اس خاندان کے حامی نہ تھے، کیا آج سے پہلے تک تم عثمان(حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حامی)نہ تھے ؟”

زہیر نے کہا:”ہاں یہ سچ ہے میں حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کبھی کوئی خط نہیں لکھا نہ کبھی کوئی قاصد بھیجا لیکن سفر نے ہم دونوں کو یکجا کر دیا ہے۔ میں نے انہیں دیکھاتورسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ سلم یاد آ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ان کی محبت یاد آ گئی۔ میں نے دیکھا یہ کتنے قوی دشمن کے سامنے جا رہے ہیں۔ اللہ نے میرے دل میں ان کی محبت ڈال دی۔ میں نے اپنے دل میں کہا۔ “میں ان کی مدد کروں گا اور اللہ اور اس کے رسول کے اس حق کی حفاظت کروں جسے تم نے ضائع کر دیا ہے۔ ”

حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب ابن زیاد کے خط کا مضمون معلوم ہوا تو انہوں نے کہا:اگر ممکن ہو تو آج انہیں ٹال دو تاکہ آج رات اور اپنے کی نماز پڑھ لیں، اس سے دعا کریں، مغفرت مانگیں کیونکہ وہ جانتا ہے، میں اس کی عبادت کا دلدادہ اور اس کی کتاب پڑھنے والا ہوں۔ ”

چنانچہ یہی جواب دیا گیا اور فوج واپس آ گئی۔ (ابن جریر ج6ص233ویعقوبی)

 

                آپ کی حسرت اور احباب کی وفاداری

 

فوج کی واپسی کے بعد رات کو آپ نے اپنے ساتھی جمع کئے اور خطبہ دیا:۔

“اللہ کی حمدوستائش کرتا ہوں، رنج و راحت ہر حالت میں اس کا شکر گزار ہوں۔ الٰہی !تیرا شکر کہ تو نے ہمیں دیکھنے سننے اور عبرت پکڑنے کی قوتوں سے سرفرازکیا۔ اما بعد!لوگو!میں نہیں جانتا آج روئے زمین پر میرے ساتھیوں سے افضل اور بہتر لوگ بھی موجود ہیں یا میرے اہل بیت سے زیادہ ہمدرد اور غمگساراہل بیت کسی کے ساتھ ہیں۔ اے لوگو!تم سب کو اللہ میری طرف سے جزائے خیر دے۔ میں سمجھتا ہوں کل میرا اور ان کا فیصلہ ہو جائے گا۔ غور و فکر کے بعد میری رائے یہ ہے کہ تم سب خاموشی سے نکل جاؤ۔ رات کا وقت ہے میرے اہل بیت کا ہاتھ پکڑو اور تاریکی میں ادھر ادھر چلے جاؤ۔ میں خوشی سے تمہیں رخصت کرتا ہوں، میری طرف سے کوئی شکایت نہ ہو گی۔ یہ لوگ صرف مجھے چاہتے ہیں، میری جان لے کر تم سے غافل ہو جائیں گے۔ ”

یہ سن کر آپ کے اہل بیت بہت رنجیدہ اور بے چین ہوئے۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:”یہ کیوں ؟کیا اس لئے کہ ہم آپ کے بعد زندہ رہیں۔ اللہ ہمیں وہ دن نہ دکھائے۔ ”

حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے رشتہ داروں سے کہا:اے اولاد عقیل!مسلم کا قتل کافی تم چلے جاؤ، میں نے تمہیں اجازت دی۔ ”

رہوں گا، نہتا ہو جاؤں گا تو پتھر پھینکوں گا، یہاں تک موت میرا خاتمہ کر دے۔ ”

سعدبن عبداللہ الخفی نے کہا:واللہ!ہم آپ کواس وقت تک نہیں چھوڑیں گے جب تک اللہ جان نہ لے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا حق محفوظ رکھا۔ واللہ!اگر مجھے معلوم ہو کہ میں قتل ہوں گا یا جلایا جاؤں گا، آگ میں بھونا جاؤں گا۔ پھر میری خاک ہوا میں اڑا دی جائے گی اور ایک مرتبہ نہیں 70 مرتبہ مجھ سے یہی سلوک کیا جائے گا۔ پھر بھی میں آپ کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ آپ کی حمایت میں فنا ہو جاؤں گا۔ ”

زہیر بن القین نے کہا:بخدا اگر میں ہزار مرتبہ بھی آرے سے چیرا جاؤں تو بھی آپ کا ساتھ نہ چھوڑوں گا۔ خوشا نصیب!اگر میرے قتل سے آپ کی اور آپ کے اہل بیت کے ان نونہالوں کی جانیں بچ جائیں۔ (ابن جریر ج6ص229کامل شرح نہج البلاغہ)

 

                حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بے چینی اور آپ کا توصیۂ صبر

 

حضرت زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جس رات کی صبح میرے والد شہید ہوئے ہیں، میں بیٹھا تھا۔ میری پھوپھی زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا میری تیمار داری کر رہی تھیں۔ اچانک میرے والد نے خیمہ میں اپنے ساتھیوں کو طلب کیا۔ اس خیمے میں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غلام”حوی”تلوار صاف کر رہے تھے اور میرے والد یہ شعر پڑھ رہے تھے

یادھراف لک من خلیل  کم لک بالاشراق والاصیل

اے زمانہ تیرا برا ہو توکیسابے وفادوست ہے۔ صبح اور شام تیرے ہاتھوں کتنے

من صاحب او طالب قتیل والدھر لایقنع بالبدیل

مارے جاتے ہیں۔ زمانہ کسی کی رعایت نہیں کرتا۔ کسی سے عوض قبول نہیں کرتا۔

وانما الامرالی الجلیل               وکل حی سالک السبیل

سارامعاملہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ ہر زندہ موت کی راہ پر چلا جا رہا ہے۔

تین چار مرتبہ آپ نے یہی شعر دہرائے۔ میرا دل بھر آیا۔ آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ مگر میں نے آنسوروک لئے۔ میں سمجھ گیا مصیبت ٹلنے والی نہیں ہے۔ میری پھوپھی نے یہ شعرسنے تو وہ بے قابو ہو گئیں، بے اختیار دوڑتی ہوئی آئیں اور شیون و فریاد کرنے لگیں۔ ”

حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ حالت دیکھی تو فرمایا:”اے بہن!یہ کیا حال ہے، کہیں ایسانہ ہو کہ نفس و شیطان کی بے صبریاں ہمارے ایمان واستقامت پر غالب آ جائیں۔ ”

انہوں نے روتے ہوئے کہا:”کیوں کراس حالت پر صبر کیا جائے کہ آپ اپنے ہاتھوں قتل ہو رہے ہیں۔ ”

آپ نے کہا:”مشیت ایزدی کا ایساہی فیصلہ ہے۔ ”

اس پران کی بے قراریاں اور زیادہ بڑھ گئیں اور شدت غم سے بے حال ہو گئیں۔ یہ حالت دیکھ کرآپ نے ایک طولانی تقریر صبر و استقامت پر فرمائی۔ آپ نے کہا:۔

“بہن!اللہ سے ڈر، اللہ کی تعزیت سے تسلی حاصل کر۔ موت دنیا میں ہر زندگی کے لئے ہے۔ آسمان والے بھی ہمیشہ جیتے نہ رہیں گے۔ ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔ پھر موت کے خیال سے اس قدر رنج و بے قراری کیوں ہو؟دیکھ ہمارے ہرمسلمان کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زندگی اسوہ حسنہ ہے۔ یہ نمونہ ہمیں کیاسکھاتا ہے ؟ہمیں ہر حال میں صبر و ثبات اور توکل کی تعلیم دیتا ہے۔ چاہیے کہ کسی حال میں بھی اس سے منحرف نہ ہوں۔ “(یعقوبی و ابن جریر ج6ص240)

 

                پوری رات عبادت میں گزاری

 

پوری رات آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے نماز، استغفار اور دعا و تضرع میں گزار دی۔ راوی کہتا ہے دشمن کے سوار رات بھر ہمارے لشکر کے گرد چکر لگاتے رہے۔ حضرت حین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بلندآوازسے یہ آیت پڑھ رہے تھے۔

الایحسبن الذین کفروا انمالھم خیرالانفسھم انمانملی لھم لیزدادوانماولھم عذاب مھین۔ ماکان اللہ لیذرالمؤمنین علی ما انتم علیہ حتی یمیزالخبیث من الطیب۔ (دشمن یہ خیال نہ کریں کہ ہماری ڈھیل ان کے لئے بھلائی ہے۔ ہم صرف اس لئے ڈھیل دے رہے ہیں کہ ان کا جرم اور زیادہ ہو جائے۔ اللہ مومنین کواسی حالت میں چھوڑ رکھنے والا نہیں ہے، وہ پاک کو ناپاک سے الگ کر دے گا)

دشمن کے ایک سوار نے یہ آیت سنی تو چلا کر کہنے لگا:”قسم رب کعبہ کی، ہم ہی وہ طیب ہیں اور تم سے الگ کر دئیے گئے ہیں۔

 

                عشرہ کی صبح

 

جمعہ یاسنیچرکے دن دسویں محرم کو نماز فجر کے بعد عمر بن سعداپنی فوج لے کر نکلا۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اپنے اصحاب کی صفیں قائم کیں۔ ان کے ساتھ صرف32 سوار اور 40 پیدل، کل 72 آدمی تھے۔ میمنہ پر زہیر بن القین کو مقر ر کیا۔ علم اپنے بھائی عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں دے دیا۔ خیموں کے پیچھے خندق کھودکراس میں بہت سا ایندھن ڈھیر کر دیا گیا اور آگ جلادی گئی تاکہ دشمن پیچھے سے حملہ آور نہ ہو سکے۔

 

                شمر کی یادہ گوئی

 

فوج سے شمر ذی الجوشن گھوڑا دوڑاتا ہوا نکلا۔ آپ کے لشکر کے گرد پھرا اور آگ دیکھ کر چلایا:اے حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ!قیامت سے پہلے ہی تم نے آگ قبول کر لی؟”

حضرت نے جواب دیا:اے چروا ہے کے لڑکے !تو ہی آگ کا زیادہ مستحق ہے۔ مسلم بن عوسجہ نے عرض کیا:”مجھے اجازت دیجئے، اسے تیر مار کر ہلاک کر ڈالوں کیونکہ بلکہ زد پر ہے۔ ”

حضرت نے منع کر دیا:”نہیں میں لڑائی میں پہل نہیں کروں گا۔ “(یعقوبی و ابن جریر ج6ص242)

 

                دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دئیے

 

دشمن کا رسالہ آگے بڑھتے دیکھ کر آپ نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دئیے۔

الٰہی!ہر مصیبت میں تجھی پرمیرابھروسہ ہے۔ ہرسختی میں میرا تو ہی پشت پناہ ہے۔ کتنی مصیبتیں پڑیں۔ دل کمزور ہو گیا۔ تدبیر نے جواب دے دیا۔ دوست نے بے وفائی کی۔ دشمن نے خوشیاں منائیں۔ مگر میں نے صرف تجھی سے التجا کی اور تو نے ہی میری دستگیری کی!تو ہی ہر نعمت کا والی ہے تو ہی احسان والا ہے، آج بھی تجھی سے التجاکی جاتی ہے۔ (شرح نہج البلاغہ)

 

                دشمن کے سامنے خطبہ

 

جب دشمن قریب آ گیا تو آپ نے اونٹنی طلب کی، سوار ہوئے، قرآن سامنے رکھا اور دشمن کی صفوں کے سامنے کھڑے ہو کربلندآوازسے یہ خطبہ دیا:

“لوگو!میری بات سنو، جلدی نہ کرو۔ مجھے نصیحت کر لینے دو، اپنا عذر بیان کرنے دو، اپنی آمد کی وجہ کہنے دو۔ اگر میرا عذر معقول ہو اور تم اسے قبول کر سکو اور میرے ساتھ انصاف کرو تو یہ تمہارے لئے خوش نصیبی کا باعث ہو گا اور تم میری مخالفت سے باز آ جاؤ گے لیکن اگرسننے کے بعد بھی تم میرا عذر قبول نہ کرو اور انصاف کرنے سے انکار کر دو تو پھر مجھے کسی بات سے بھی انکار نہیں۔ تم اور تمہارے ساتھی ایکا کر لو، مجھ پر ٹوٹ پڑو، مجھے ذرا بھی مہلت نہ دو۔ میرا اعتماد ہر حال میں صرف پروردگار عالم پر ہے اور وہ نیکوکاروں کا حامی ہے۔ ”

آپ کی اہل بیت نے یہ کلام سناتوشدت تاثرسے بے اختیار ہو گئیں اور خیمہ سے آہ و بکا کی صدا بلند ہوئی۔ آپ نے اپنے بھائی عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اپنے فرزند علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھیجا تاکہ انہیں خاموش کرائیں اور کہا:”ابھی انہیں بہت رونا باقی ہے۔ “پھر بے اختیار پکار اٹھے :

“خداعباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر دراز کرے۔ “(یعنی ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ)راوی کہتا ہے یہ جملہ اس لئے آپ کی زبان سے نکل گیا کہ مدینہ میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عورتوں کوساتھ لے جانے سے منع کیا تھا مگر آپ نے اس پر توجہ نہ کی تھی۔ اب ان کا جزع و فزع دیکھا تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات یاد آ گئی۔ پھر آپ نے ازسرنوتقریرشروع کی:

“لوگو!میراحسب ونسب یاد کرو، سوچوکہ میں کون ہوں ؟پھر اپنے گریبانوں میں منہ ڈالو اور اپنے ضمیرکامحاسبہ کرو۔ خوب غور کرو، کیا تمہارے لئے میرا قتل کرنا اور میری حرمت کا رشتہ توڑنا روا ہے ؟کیا میں تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی لڑکی کا بیٹا، اس کے عم زاد کا بیٹا نہیں ہوں ؟کیاسیدالشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے باپ کے چچا نہ تھے ؟کیا ذو الجناحین حضرت جعفر طیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے چچا نہیں ہیں ؟کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا یہ مشہور قول نہیں سناکہ آپ میرے اور میرے بھائی کے حق میں فرماتے ہیں۔ سیدالشباب اہل الجنۃ)(جنت میں نو عمروں کے سردار)اگر میرا یہ بیان سچ ہے اور ضرورسچا ہے کیونکہ واللہ میں نے ہوش سنبھالے کے بعدسے آج تک کبھی جھوٹ نہیں بولا تو بتلاؤ، کیا تمہیں برہنہ تلواروں سے میرا استقبال کرنا چاہیے ؟اگر تم میری بات پر یقین نہیں کرتے تو تم میں ایسے لوگ موجود ہیں جن سے تصدیق کر سکتے ہو۔ جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھو۔ ابوسعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھو، سہیل بن سعدساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھو، زید بن رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارقم سے پوچھو۔ انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھو، وہ تمہیں بتائیں گے کہ انہوں نے میرے اور میرے بھائی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہ فرماتے سنا ہے یا نہیں ؟کیا یہ بات بھی میرا خون بہانے سے نہیں روک سکتی؟واللہ!اس وقت روئے زمین پر بجز میرے کسی نبی کی لڑکی کا بیٹا موجود نہیں۔ میں تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا بلاواسطہ نواسہ ہوں۔ کیا تم اس لئے مجھے ہلاک کرنا چاہتے کہ میں نے کسی کی جان لی ہے ؟کسی کا خون بہایا ہے ؟کسی کا مال چھینا ہے ؟کہو کیا بات ہے ؟آخر میرا قصور کیا ہے ؟”

 

                کوفہ والوں کی یاد

 

آپ نے بار بارپوچھامگرکسی نے جواب نہ دیا۔ آخر آپ نے بڑے بڑے کوفیوں کے نام لے کر پکارنا شروع کیا۔ “اے اشعت بن ربعی، اے حجاب بن ابجر، اے قیس بن الاشعت، اے یزید بن الحارث!کیا تم نے مجھے نہیں لکھا تھا کہ پھل پک گئے ہیں، زمین سرسبزہو گئی، نہریں ابل پڑیں۔ آپ اگر آئیں گے تو اپنی فوج جرار کے پاس آئیں گے، جلد آئیے۔ ”

اس پران لوگوں کی زبانیں کھلیں اور انہوں نے کہا:ہرگز نہیں، ہم نے تو نہیں لکھا تھا۔ ”

آپ چلا اٹھے۔ “سبحان اللہ!یہ کیا جھوٹ ہے۔ واللہ تم نے لکھا تھا۔ اس کے بعد آپ نے پھر پکار کر کہا:”اے لوگو!چونکہ تم اب مجھے ناپسندکرتے ہو، اس لئے بہتر ہے کہ مجھے چھوڑ دو، میں یہاں سے واپس چلا جاتا ہوں۔ ”

 

                ذلت منظور نہیں

 

یہ سن کرقیس بن الاشعت نے کہا:”کیا یہ بہتر نہیں کہ آپ اپنے آپ کو اپنے عم زادوں کے حوالے کر دیں، وہ وہی برتاؤ کریں گے جو آپ کوپسند ہے، آپ کو ان سے کوئی گزند نہیں پہنچے گی۔ ”

آپ نے جواب دیا۔ “تم سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہو۔ اے شخص!کیا تو چاہتا ہے کہ بنی ہاشم تجھ سے مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ تعالیٰ عنہ کے سوا ایک اور خون کا بھی مطالبہ کریں ؟نہیں، واللہ!میں ذلت کے ساتھ اپنے آپ کو ان کے حوالے نہیں کروں گا۔ “(ابن جریر ج6ص243)

 

                زہیر کا کوفہ والوں سے خطاب

 

زہیر بن القین اپنا گھوڑا بڑھا کر لشکر کے سامنے پہنچے اور چلائے :

“اے اہل کوفہ!عذاب الٰہی سے ڈرو، ہرمسلمان پر اپنے بھائی کو نصیحت کرنا فرض ہے۔ دیکھواس وقت تک ہم سب بھائی بھائی ہیں۔ ایک ہی دین اور ایک ہی طریقہ پر قائم ہیں جب تک تلواریں نیام سے باہر نہیں نکلتیں تم ہماری نصیحت اور خیرخواہی کے ہر طرح حقدار ہو لیکن تلوار کے درمیان آتے ہی باہمی حرمت ٹوٹ جائے گی اور ہم تم الگ دو گروہ ہو جائیں گے۔ دیکھو اللہ نے ہمارا، تمہارا اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اولاد کے بارے میں امتحان لینا چاہا ہے۔ ہم تمہیں اہل بیت کی نصرت کی طرف بلاتے اور سرکش عبید اللہ بن زیاد کی مخالفت پر دعوت دیتے ہیں۔ یقین کرو ان حاکموں سے کبھی تمہیں بھلائی حاصل نہ ہو گئی۔ یہ تمہاری آنکھیں پھوڑیں گے، تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹیں گے، تمہارے چہرے بگاڑیں گے۔ تمہیں درختوں کے تنوں میں پھانسی دیں گے اور نیکوکاروں کو چن چن کر قتل کریں گے بلکہ وہ تو کب کا کر بھی چکے ہیں۔ ابھی حجر بن عدی، ہانی بن عمرو وغیرہ کے واقعات اتنے پرانے نہیں ہوئے ہیں کہ تمہیں یاد نہ رہے ہوں۔ ”

کوفیوں نے یہ تقریرسنی تو زہیر کو برا بھلا کہنے لگے اور ابن زیاد کی تعریفیں کرنے لگے۔

“بخدا ہم اس وقت تک نہیں ٹلیں گے، جب تک حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو قتل نہ کر لیں یا انہیں امیر کے روبرو حاضر کر لیں۔ “یہ ان کا جواب تھا۔

زہیر نے جواب دیا:”خیر اگر فاطمہ کا بیٹاسمیہ کے چھوکرے (یعنی ابن زیاد)سے کہیں زیادہ تمہاری حمایت و نصرت کا مستحق ہے تو کم از کم اولادرسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا اتناپاس کرو کہ اسے قتل نہ کرو۔ اسے اور اس کے عم زاد یزید بن معاویہ کو چھوڑ دو تاکہ آپس میں اپنا معاملہ طے کر لیں۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یزید کو خوش کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ تم حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خون بہاؤ۔ “(ابن جریر ج 6 ص 243 و شرح نہج البلاغہ)

 

                حر بن یزید کی موافقت

 

عدی بن حرملہ سے روایت ہے کہ ابن سعد نے جب فوج کو حرکت دی تو حر بن یزید نے کہا:۔

“خدا آپ کوسنوارے !کیا آپ اس شخص سے واقعی لڑیں گے ؟”

ابن سعد نے جواب دیا:”ہاں، واللہ لڑائی!ایسی لڑائی جس میں کم از کم یہ ہو گا کہ سرکٹیں گے اور ہاتھ شانوں سے اڑ جائیں گے۔ ”

حر نے کہا۔ “کیا ان تین شرطوں میں سے کوئی ایک بھی قابل قبول نہیں جو انہوں نے پیش کی ہیں ؟”

ابن سعد نے کہا۔ “بخدا مجھے اختیار ہوتا تو ضرور منظور کر لیتا مگر کیا کروں تمہارا حاکم منظور نہیں کرتا۔ ”

حر بن یزید یہ سن کر اپنی جگہ لوٹ آیا۔ اس کے قریب خوداس کے قبیلہ کا بھی ایک شخص کھڑا تھا، اس کا نام قرہ بن قیس تھا۔ حر نے اس سے کہا:”تم نے اپنے گھوڑے کو پانی پلا لیا؟”

بعد میں قرہ کہا کرتا تھا:”حر کے اس سوال ہی سے میں سمجھ گیا تھا کہ وہ لڑائی میں شریک نہیں ہونا چاہتا اور مجھے ٹالنا چاہتا ہے تاکہ اس کی شکایت حاکم سے نہ کروں۔ “میں نے گھوڑے کو پانی نہیں پلایا، میں ابھی جاتا ہوں۔ “یہ کہہ کر میں دوسری طرف روانہ ہو گیا۔ میرے الگ ہوتے ہی حر نے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف آہستہ آہستہ بڑھنا شروع کیا۔

اس کے قبیلہ کے ایک شخص مہاجر بن اوس نے کہا:”کیا تم حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر حملہ کرنا چاہتے  ہو؟”حر خاموش ہو گیا۔ مہاجر کو شک ہوا کہنے لگا۔

“تمہاری خاموشی مشتبہ ہے۔ میں نے کبھی کسی جنگ میں تمہاری یہ حالت نہیں دیکھی۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ کوفہ میں سب سے بہادر کون ہے ؟تو تمہارے نام کے سواکوئی نام میری زبان پر نہیں آ سکتا۔ پھر یہ تم اس وقت کیا کر رہے ہو؟”

حر نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ ”

“بخدا میں جنت یا دوزخ کا انتخاب کر رہا ہوں۔ واللہ میں نے جنت کا انتخاب کر لیا ہے، چا ہے مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا جائے۔ ”

یہ کہا اور گھوڑے کو ایڑ لگا کر لشکرحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں پہنچ گیا۔

حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں پہنچ کر کہا:”ابن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم!میں ہی وہ بدبخت ہوں جس نے آپ کو لوٹنے سے روکا۔ راستہ بھر آپ کا پیچھا اور اس جگہ اتر نے پر مجبور کیا۔ اللہ کی قسم میرے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ آئی کہ یہ لوگ آپ کی شرطیں منظور نہ کریں گے اور آپ کے معاملہ میں اس حد تک پہنچ جائیں گے۔ واللہ اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ وہ ایسا کریں گے تو ہرگزاس حرکت کا مرتکب نہ ہوتا۔ میں اپنے قصوروں پر نادم ہو کر توبہ کے لئے آپ کے پاس آیا ہوں۔ میں آپ کے قدموں پر قربان ہونا چاہتا ہوں۔ کیا آپ کے خیال میں یہ میری توبہ کے لئے کافی ہو گا؟”

حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شفقت سے فرمایا۔ “ہاں اللہ تیری توبہ قبول کرے، تجھے بخش دے۔ تیرا نام کیا ہے؟”اس نے کہا:”حر بن یزید ۔ ”

فرمایا:”تو حر(یعنی آزاد)ہی ہے جیساکہ تیری ماں نے تیرا نام رکھ دیا ہے تو دنیا میں اور آخرت میں انشاء اللہ حر ہے۔ ”

 

                کوفیوں سے حر کا خطاب

 

پھر حر دشمن کی صفوں کے سامنے پہنچا اور کہا:”اے لوگو!حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیش کی ہوئی شرطوں میں سے کوئی شرط منظور کیوں نہیں کر لیتے تاکہ اللہ تمہیں امتحان سے بچا لے ؟”

لوگوں نے جواب دیا:”یہ ہمارے سردارعمر بن سعدموجودہیں، جواب دیں گے۔ ”

عمر نے کہا:”میری دلی خواہش تھی کہ ان کی شرطیں منظور کر سکتا۔ ”

اس کے بعد حر نے نہایت جوش و خروش سے تقریر کی اور اہل کوفہ کو ان کی بدعہدی و عذر پر شرم و غیرت دلائی لیکن اس کے جواب میں انہوں نے تیربرسانے شروع کر دیئے، ناچار خیمہ کی طرف لوٹ آئے۔

 

                جنگ کا آغاز

 

اس واقعہ کے بعد عمر بن سعد نے اپنی کمان اٹھائی اور لشکرحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف یہ کہہ کر تیر پھینکا:”گواہ رہوسب سے پہلا تیر میں نے چلایا ہے۔ “پھر تیر بازی شروع ہو گئی۔

تھوڑی دیر میں زیادہ بن ابیہ اور عبید اللہ بن زیاد کے غلام یسار اور سالم نے میدان میں مبارزت کی طلب کی۔ قدیم طریق جنگ میں مبارزت کا طریقہ یہ تھا کہ فریقین کے لشکرسے ایک ایک جنگ آزما نکلتا اور پھر دونوں باہم دگر پیکار کرتے۔ لشکرحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں سے حبیب بن مظاہر اور بریر بن حضریر نکلنے لگے حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں منع کیا۔ عبداللہ بن عمیر الکلمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا:”مجھے اجازت دیجئے۔ “یہ شخص اپنی بیوی کے ساتھ حضرت کی حمایت کے لئے کوفہ سے چل کر آیا تھا۔ سیاہ رنگ، تنومند، کشادہ سینہ تھا۔ آپ نے اس کی صورت دیکھ کر فرمایا:بے شک یہ مرد میدان ہے اور اجازت دی۔ عبداللہ نے چند پھیروں میں دونوں زیر کر کے قتل کر ڈالے۔ اس کی بیوی ام وہب ہاتھ میں لاٹھی لئے کھڑی تھی اور جنگ کی ترغیب دیتی تھی۔ پھر یکایک اسے اس قدر جوش آیا کہ میدان جنگ کی طرف بڑھنے لگے۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ دیکھ کر بہت متاثر ہوئے۔ فرمایا:کہ اہل بیت کی طرف سے اللہ تمہیں جزائے خیر دے لیکن عورتوں کے ذمہ لڑائی نہیں۔ ”

 

                گھٹنے ٹیک کر نیزے سیدھے کر دیئے

 

اس کے بعد ابن سعد کے میمنہ نے حملہ کیا جب بالکل قریب پہنچ گئے تو حضرت کے رفقاء زمین پر گھٹنے ٹیک کر کھڑے ہو گئے اور نیزے سیدھے کر دیئے۔ نیزوں کے منہ پر گھوڑے بڑھ نہ سکے اور لوٹنے لگے۔ حضرت کی فوج نے اس موقع پر فائدہ اٹھایا اور تیر مار کر کئی آدمی اور زخمی کر دئیے۔

 

                عام حملہ

 

اب باقاعدہ جنگ جاری ہو گئی۔ طرفین سے ایک ایک دو دو جوان نکلتے تھے اور تلوار کے جوہر دکھاتے تھے۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے طرفداروں کا پلہ بھاری تھاجوسامنے آتا تھا، مارا جاتا تھا، میمنہ کے سپہ سالاروں عمرو بن الحجاج نے یہ حالت دیکھی تو پکار اٹھے :”بیوقوفو!پہلے جان لو، کن سے لڑ رہے ہو؟یہ لوگ جان پر کھیلے ہوئے ہیں، تم اسی طرح ایک ایک کر کے قتل ہوتے جاؤ گے۔ ایسانہ کرو، یہ مٹھی بھر ہیں، انہیں پتھروں سے مارسکتے ہو۔ عمر بن سعد نے یہ رائے پسندکی اور حکم دیا کہ مبارزت موقوف کی جائے اور عام حملہ شروع ہو چنانچہ میمنہ آگے بڑھا اور کشت و خون شروع ہو گیا۔ ایک گھڑی بعد لڑائی رکی تو نظر آیا کہ حسینی فوج کے ناموربہادرمسلم بن عوسجہ خاک و خون میں پڑے ہیں۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ دوڑ کر لاش پر پہنچے، ابھی سانس باقی تھی۔ آہ بھر کر فرمایا:مسلم تجھ پر اللہ کی رحمت:منھم من قضی نحبہ ومنھم من ینتظرومابدلواتبدیلا۔ مسلم بن عوسجہ اس جنگ میں آپ کی جانب سے پہلے شہید تھے۔ (تاریخ طبریج6ص249)

 

                گھوڑے بیکار ہو گئے

 

میمنہ کے بعدمیسرہ نے یورش کی۔ شمر ذی الجوشن اس کا سپہ سالارتھا۔ حملہ بہت ہی سخت تھا، مگرحسینی میسرے نے بڑی بہادری سے مقابلہ کیا۔ اس بازو میں صرف 32سوارتھے جس طرف ٹوٹ پڑتے تھے، صفیں الٹ جاتی تھیں۔ آخر طاقتور دشمن نے محسوس کر لیا کہ کامیابی ناممکن ہے چنانچہ فوراًً نئی کمک طلب کی، بہت سے سپاہی اور پانچ سوتیراندازمددکوپہنچ گئے۔ انہوں نے آتے ہی تیربرسانے شروع کر دیئے۔ تھوڑی دیر میں حسینی فوج کے گھوڑے بیکار ہو گئے اور سواروں کو پیدل ہو جانا پڑا۔

 

                حرکی شجاعت

 

ایوب بن مشرح روایت کرتا ہے کہ حر بن یزید کا گھوڑا خود میں نے زخمی کیا تھا۔ میں نے اسے تیروں سے چھلنی کر ڈالا۔ حر بن یزید زمین پر کود پڑے، تلوار ہاتھ میں لئے بالکل شیر ببر معلوم ہوتے تھے، تلوار ہر طرف متحرک تھی اور یہ شعر زبان پرتھا۔

ان تعقروابی فانا ابن الحر اشجع من ذی لبدھزبر

(اگر تم نے میرا گھوڑا بیکار کر دیا تو کیا ہوا؟میں شریف کا بیٹا ہوں۔ خوفناک شیرسے بھی زیادہ بہادر ہوں۔ )

 

                خیمے جلا دیئے

 

لڑائی اپنی پوری ہولناکی سے جاری تھی، اب دو پہر ہو گئی، مگر کوئی فوج غلبہ حاصل نہ کر سکی۔ وجہ یہ تھی کہ لشکر امام مجتمع تھا اور حسینی فوج نے تمام خیمے ایک جگہ جمع کر دیئے تھے اور دشمن صرف ایک ہی رخ سے حملہ کر سکتا تھا۔ عمر بن سعد نے یہ دیکھا تو خیمے اکھاڑ ڈالنے کے لئے آدمی بھیجے۔ حسینی فوج کے صرف چار پانچ آدمی یہاں مقابلہ کے لئے کافی ثابت ہوئے۔ خیموں کی آڑسے دشمن کے آدمی قتل کرنے لگے۔ جب یہ صورت بھی ناکامیاب رہی تو عمر بن سعد نے خیمے جلا دینے کا حکم دیا۔ سپاہی آگ لے کر دوڑے۔ حسینی فوج نے یہ دیکھا تو مضطرب ہوئی مگر حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:کچھ پرواہ نہیں، جلانے دو، یہ ہمارے لئے اور بھی زیادہ بہتر ہے۔ اب وہ پیچھے سے حملہ نہیں کر سکیں گے اور ہوا بھی یہی۔

 

                ام وہیب کا قتل

 

اسی اثناء میں زہیر بن القین نے شمرپرزبردست حملہ کیا اور اس کی فوج کے قدم اکھاڑ دئیے۔ مگر کب تک؟ذراسی دیر کے بعد پھر دشمن کا ہجوم ہو گیا۔ اب حسینی لشکر کی بے بسی صاف ظاہر تھی۔ بہت سے لوگ قتل ہو چکے تھے۔ کئی نامی سردارمارے جا چکے تھے۔ حتی کہ عبداللہ بن عمیر کلبی بھی جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے، قتل ہو چکا تھا، اس کی بیوی ام وہب بھی شہید ہو چکی تھی۔ یہ میدان جنگ میں بیٹھی اپنے مقتول شوہر کے چہرے سے مٹی صاف کر رہی تھیں اور یہ کہتی جاتی تھیں :”تجھے جنت مبارک ہو۔ ”

شمر نے دیکھا اور قتل کر ڈالا۔ (ابن جریر، طبریج6ص251)

 

                نماز پڑھنے نہیں دی

 

ابو تمامہ عمرو بن عبداللہ صاندی نے اپنی بے بسی کی حالت محسوس کی اور جناب حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کیا”دشمن اب بالکل آپ کے قریب آ گیا ہے۔ واللہ آپ اس وقت تک قتل نہیں ہونے پائیں گے جب تک میں قتل نہ ہو جاؤں لیکن میری آرزو یہ ہے کہ میں اپنے رب سے نماز پڑھ کرملوں جس کا وقت قریب آ گیا ہے۔ ”

یہ سن کر حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سراٹھایا اور فرمایا:”دشمنوں سے کہو ہمیں نماز کی مہلت دیں۔ “مگر دشمنوں نے درخواست منظور نہیں کی اور لڑائی جاری رہی۔

 

                حبیب اور حرکی شہادت

 

یہ وقت بہت سخت تھا۔ دشمن نے اپنی پوری قوت لگا دی۔ غضب یہ ہوا کہ حسینی میسرہ کے سپہ سالارحبیب ابن مظاہر بھی قتل ہو گئے۔ گویا فوج کی کمر ٹوٹ گئی حبیب کے بعد ہی حر بن یزید کی باری تھی۔ جوش سے یہ شعر پڑھتے ہوئے دشمنوں کی صفوں میں گھس پڑے۔

الیت لا اقتل حتی اقتلا      ولن اصاب الیوم الامقبلا

(میں نے قسم کھا لی ہے کہ قتل نہیں ہوں گا جب تک قتل نہ کر لوں اور مروں گاتواسی حال میں مروں گا کہ آگے بڑھ رہا ہوں گا۔ )

اصربھم بالسیف ضربامقصلا لاناکلاعنھم ولامھللا

(انہیں

تلوار کی کاری ضربوں سے ماروں گا، نہ بھاگوں گانہ ڈروں گا)

 

                زہیر کی شہادت

 

چند لمحوں کی بات تھی۔ حر زخموں سے چور ہو گرے اور جاں بحق تسلیم ہو گئے۔ اب ظہر کا وقت ختم ہو رہا تھا۔ حضرت نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز پڑھی۔ نماز کے بعد دشمن کا دباؤ اور بھی زیادہ ہو گیا۔ اس موقع پر آپ کے میسرہ کے سپہ سالارزہیر بن القین نے میدان اپنے ہاتھ میں لے لا ا اور شعر پڑھتے ہوئے دشمن پر ٹوٹ پڑے۔ :

انازھیر وانا ابن القین اذودھم بالسیف عن حسین

(میں زہیر ہوں، ابن القین ہوں، اپنی تلوار کی نوک سے انہیں حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دور کر دوں گا)

صفیں درہم برہم کر ڈالیں۔ پھر لوٹے اور حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شانے پر ہاتھ مار کر جوش سے یہ شعر پڑھے۔

اقدم ھدیت ھادیا مھدیا فالیوم تلفی جدک النبیا

(بڑھ خدا نے تجھے ہدایت دی، آج تو اپنے نانا نبی سے ملاقات کرے گا)

وحسناو المرتضی علیا ودالجناحین الفنی الکمیا

( اور حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، علی المرتضی سے رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بہادر جوان جعفر طیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے )

واسداللہ الشھیدالحیا

اور شہید زندہ اسداللہ حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے

پھر دشمن کی طرف لوٹے اور قتل کرتے رہے، یہاں تک کہ خود قتل ہو گئے۔

 

                غفاری بھائیوں کی بہادری

 

اب آپ کے ساتھیوں نے دیکھا کہ دشمن کو روکنا نا ممکن ہے چنانچہ انہوں نے طے کیا کہ آپ کے سامنے ایک ایک کر کے قتل ہو جائیں چنانچہ دو غفاری بھائی آگے بڑھے اور لڑنے لگے۔ یہ شعر ان کی زبان پر تھے۔

قدعلمت حقابنوغفار وخندف بعدبنی نزار

(اے قوم!تلواروں اور نیزوں سے شریفوں کی حمایت کرو)

(بنی غفار اور قبائل نزار نے اچھی طرح جان لیا ہے )

لنضر بن معشرالفجار بکل غضب صارم تبار

(کہ ہم بے پناہ شمشیرآبدارسے فاجروں کے ٹکڑے کر دیں گے )

یاقوم ذودواعن بنی الاحرار بالمشرقی والقنا الخطار

 

                جابری لڑکوں کی فدا کاری

 

ان کے بعد دو جابری لڑکے سامنے آئے، دونوں بھائی تھے۔ زار و قطار رو رہے تھے۔ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں دیکھا تو فرمانے لگے :اے میرے بھائی کے فرزندو!کیوں روتے ہو، ابھی چند لمحے بعد تمہاری آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں گی۔ ”

انہوں نے ٹوٹی ہوئی آواز میں عرض کیا:”ہم اپنی جان پر نہیں روتے، ہم آپ پر روتے ہیں۔ دشمن نے آپ کو گھیر لیا ہے اور ہم آپ کے کچھ بھی کام نہیں آ سکتے۔ ”

پھر دونوں سے بڑی ہی شجاعت سے لڑنا شروع کیا۔ بار بار چلاتے تھے۔ السلام علیک یا ابن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم!

 

                حنظلہ بن اسعدکی شہادت

 

ان کے بعد حنظلہ بن اسعدحضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے آ کھڑے ہوئے اور بآواز بلند مخاطب ہوئے :”اے قوم!میں ڈرتا ہوں، عاد و ثمود کی طرح تمہیں روز بد نہ دیکھنا پڑے۔ میں ڈرتا ہوں تم برباد نہ جاؤ۔ اے قوم!حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قتل نہ کرو۔ ایسانہ ہو اللہ تم پر عذاب نازل کر دے۔ “بالآخر یہ بھی شہید ہو گئے۔

 

                علی اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت

 

غرض کہ یکے بعد دیگرے تمام اصحاب قتل ہو گئے۔ اب بنی ہاشم اور خاندان نبوت کی باری تھی۔ سب سے پہلے آپ کے صاحبزادے علی اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میدان میں آئے اور دشمن پر حملہ کیا۔ ان کا رجزیہ تھا۔

اناعلی بن حسین بن علی    نحن ورب البیت اولی بالنبی

(علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوں۔ قسم رب کعبہ کی ہم نبی صلی  اللہ علیہ و آلہ و سلم کے قرب کے زیادہ حقدار ہیں۔ )

تا اللہ لایحکم فینا ابن الدعی

(قسم خدا کی نامعلوم باپ کے لڑکے کا بیٹا ہم پر حکومت نہیں کر سکے گا)

بڑی شجاعت سے لڑے، آخر مرہ بن مرہ بن متقد العبدی کی تلوارسے شہید ہو گئے۔ ایک راوی کہتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ خیمہ سے ایک عورت تیزی سے نکلی۔ اتنی حسین عورت تھی جیسے اٹھتا ہواسورج!وہ چلا رہی تھی آہ!بھائی!آہ بھتیجے !میں نے پوچھا:یہ کون ہے ؟لوگوں نے کہا”زینب بنت فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم!”لیکن حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور خیمے میں پہنچا آئے۔ پھر علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نعش اٹھائی اور خیمے کے سامنے لا کر رکھ دی۔ (ابن جریر طبری ج6 ص256)

 

                ایک جوان رعنا

 

ان کے بعد اہل بیت اور بنی ہاشم کے دوسرے جاں فروش قتل ہوتے رہے یہاں تک کہ میدان میں ایک جوان رعنا نمودار ہوا، وہ کرتہ پہنے، تہ بند باندھے، پاؤں میں نعل پہنے تھا، بائیں نعل کی ڈوری ٹوٹی ہوئی تھی۔ وہ اس قدرحسین تھا کہ چاند کا ٹکڑا معلوم ہوتا تھا۔ شیر کی طرح بپھرتا ہوا آیا اور دشمن پر ٹوٹ پڑا۔ عمرو بن سعدازوی نے اس کے سرپرتلوارماری نوجوان چلایا:”ہائے چچا” اور زمین پر گر پڑا۔ آوازسنتے ہی حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھوکے باز کی طرح ٹوٹے اور غضبناک شیر کی طرح قاتل پر لپکے، بے پناہ تلوار کا وار کیا مگر ہاتھ کہنی سے کٹ کر اڑ چکا تھا۔ زخم کھا کر قاتل نے پکارنا شروع کیا۔ فوج اسے بچانے کے لئے ٹوٹ پڑی مگر گھبراہٹ میں بچانے کی بجائے اسے روند ڈالا۔

راوی کہتا ہے “جب غبار چھٹ گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ لڑکے کے سرہانے کھڑے ہیں، وہ ایڑیاں رگڑ رہ ہے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :”ان کے لئے ہلاکت جنہوں نے تجھے قتل کیا ہے۔ قیامت کے دن تیرے نانا کو یہ کیا جواب دیں گے ؟بخدا تیرے چچا کے لئے یہ سخت حسرت کا مقام ہے تو اسے پکارے اور وہ جواب نہ دے یا جواب دے مگر تجھے اس کی آواز نفع نہ دے سکے۔ افسوس!تیرے چچا کے دشمن بہت ہو گئے اور دوست باقی نہر ہے۔ “پھر لاش اپنی گود میں اٹھا لی۔ لڑکے کا سینہ آپ کے سینہ سے ملا ہوا تھا اور پاؤں زمین پر رگڑتے جاتے تھے۔ اس حال میں آپ اسے لائے اور علی اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لاش کے پہلو میں لٹا دیا۔ راوی کہتا ہے۔ “میں نے لوگوں سے پوچھا یہ کون ہے ؟”لوگوں نے بتایاقاسم بن حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابی طالب۔ ”

 

                مولود تازہ شہادت

 

حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پھر اپنی جگہ کھڑے ہو گئے۔ عین اس وقت آپ کے یہاں لڑکا پیدا ہوا، وہ آپ کے پاس لایا گیا۔ آپ نے اسے گود میں رکھا اور اس کے کان میں اذان دینے لگے۔ اچانک ایک تیر آیا اور بچہ کے حلق میں پیوست ہو گیا۔ بچہ کی روح اسی وقت پرواز کر گئی۔ آپ نے تیراس کے حلق سے کھینچ کر نکالا۔ خون سے چلو بھرا اور اس کے جسم پر ملنے اور فرمانے لگے۔ واللہ!تو اللہ کی نظر میں حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی سے زیادہ عزیز ہے اور محمدﷺ کی نظر میں صالح علیہ السلام سے زیادہ افضل ہیں۔ الٰہی!اگر تو نے ہم سے نصرت روک لی ہے تو وہی کرجس میں بہتر ہے۔ (ایوبی و ابن جریر ج 6ص257)

 

                بنی ہاشم کے مقتول

 

اسی طرح ایک ایک کر کے اکثر بنی ہاشم اور اہل بیت کے شہید ہو گئے۔ ان میں ذیل کے نام مؤرخین نے محفوظ رکھے ہیں۔

1۔ محمد بن ابی سعیدبن عقیل

2۔ عبداللہ بن مسلم بن عقیل

3۔ عبدالرحمن بن عقیل

4۔ جعفر بن عقیل

5۔ محمد بن عبداللہ بن جعفر

6۔ عون بن عبداللہ بن جعفر

7۔ عباس بن علی

8۔ عبداللہ بن علی

9۔ عثمان بن علی

10۔ محمد بن علی

11۔ بو بکر بن علی

12۔ بو بکر بن الحسن

13۔ عبداللہ بن الحسن

14۔ قاسم بن الحسن

15۔ علی بن الحسین

16۔ عبداللہ بن الحسین

 

                ایک بچے کی شہادت

 

ان سب کے بعد اب خود آپ کی باری تھی۔ آپ میدان میں تنہا کھڑے تھے دشمن یلغار کر کے آتے تھے۔ ہر ایک کی خواہش تھی کہ اس کا گناہ دوسرے کے سربعد بعد  ڈالے لیکن شمر ذوالجوشن نے لوگوں کو برانگیختہ کرنا شروع کیا۔ ہر طرف سے آپ کو گھیر لیا گیا۔ اہل بیت کے خیمے میں عورتیں اور چند کم عمر لڑکے رہ گئے تھے۔ اندرسے ایک لڑکے نے آپ کواس طرح گھرا دیکھا تو جوش سے بے خود ہو گیا اور خیمہ کی لکڑی لے کر دوڑ پڑا۔ راوی کہتا ہے اس کے کانوں میں پردے ہل رہے تھے، یہ گھبرایا ہوا دائیں بائیں دیکھتا چلا گیا۔ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نظراس پر پڑ گئی، دوڑ کر پکڑ لیا۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی دیکھ لیا اور بہن سے کہا:”روکے رکھو، آنے نہ پائے۔ “مگر لڑکے نے زور کر کے اپنے آپ کو چھڑا لیا اور حضرت کے پہلو میں پہنچ گیا۔ عین اس وقت بحر بن کعب نے آپ پر تلوار اٹھائی۔ لڑکے نے فوراً ڈانٹ پلائی۔ “او خبیث!میرے چچا کو قتل کرے گا؟”سنگدل حملہ آور نے اپنی بلند تلوار لڑکے پر چھوڑ دی، اس نے ہاتھ پر روکی۔ ہاتھ کٹ گیا، ذراسی کھال لگی رہ گئی۔ بچہ تکلیف سے چلایا۔ حضرت نے اسے سینے سے چمٹا لیا اور فرمایا:”صبرکراسے ثواب خداوندی کا ذریعہ بنا۔ اللہ تعالیٰ تجھے بھی تیرے بزرگوں تک پہنچا دے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابی طالب، حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک۔

 

                حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت

 

اب آپ پر ہر طرف سے نرغہ شروع ہوا۔ آپ نے بھی تلوار چلانا شروع کی۔ پیدل فوج پر ٹوٹ پڑے اور تن تنہا اس کے قدم اکھاڑ دئیے۔ عبداللہ بن عمارجوخوداس جنگ میں شریک تھا،  روایت کرتا ہے کہ میں نے نیزے سے حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر حملہ کیا اور ان کے بالکل قریب پہنچ گیا۔ اگر میں چاہتا تو قتل کر سکتا تھا مگر یہ خیال کر کے ہٹ گیا کہ یہ گناہ اپنے سرکیوں لوں ؟میں نے دیکھا دائیں بائیں ہر طرف سے ان پر حملے ہو رہے تھے لیکن وہ مڑ جاتے تھے، دشمن کو بھگا دیتے تھے۔ وہ اس وقت کرتہ پہنے اور عمامہ باندھے تھے۔ واللہ!میں نے کبھی کسی شکستہ دل کوجس کا گھرکاگھرخوداس کی آنکھوں کے سامنے قتل ہو گیا، ایساشجاع، ثابت قدم، مطمئن اور جری نہیں دیکھا۔ حالت یہ تھی کہ دائیں بائیں سے دشمن اس طرح بھاگ کھڑے ہوتے تھے جس طرح شیر کو دیکھ کر بکریاں بھاگ جاتی ہیں۔ دیر تک یہی حالت رہی۔ اسی اثناء میں آپ کی بہن زینب بنت فاطمہ(علیہما السلام)خیمہ سے باہر نکلیں۔ ان کے کانوں میں بالیاں پڑی تھیں۔ وہ چلاتی تھی”کاش!آسمان زمین پر ٹوٹ پڑے۔ “یہ وہ موقع تھا جبکہ عمر بن سعدحضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بالکل قریب ہو گیا۔ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے پکار کر کہا:”اے عمر!کیا ابو عبد اللہ تمہاری آنکھوں کے سامنے قتل ہو جائیں گے ؟”عمر نے منہ پھیرلیامگراس کے رخسار اور داڑھی پر آنسوؤں کی لڑیاں بہنے لگیں۔

 

                آپ کے حلق میں تیرپیوست ہو گیا

 

لڑائی کے دوران میں آپ کو بہت سخت پیاس لگی۔ آپ پانی پینے فرات کی طرف چلے، مگر دشمن کب جانے دیتا تھا۔ اچانک ایک تیر آیا اور آپ کے حلق میں پیوست ہو گیا۔ آپ نے تیر کھینچ لیا۔ پھر آپ نے ہاتھ منہ کی طرف اٹھائے تو دونوں چلو خون سے بھر گئے۔ آپ نے خون آسمان کی طرف اچھالا اور خدا کا شکر ادا کیا۔ الٰہی!میرا شکوہ تجھی سے ہے، دیکھ تیرے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نواسے سے کیا برتاؤ ہو رہا ہے ؟

تونیزبرسربام آنچہ خوش تماشائیست

 

                شمرکوسرزنش

 

پھر آپ اپنے خیمے کی طرف لوٹنے لگے تو شمر اور اس کے ساتھیوں نے یہاں بھی تعرض کیا۔ حضرت نے محسوس کیا کہ ان کی نیت خراب ہے۔ خیمہ لوٹنا چاہتے ہیں۔ فرمایا:

“اگر تم میں دین نہیں روز آخرت سے ڈرتے نہیں ہو تو کم از کم دنیاوی شرافت پر تو قائم رہو۔ میرے خیمے کو اپنے جاہلوں اور اوباشوں سے محفوظ رکھو۔ ”

شمر نے جواب دیا:”اچھا ایساہی کیا جائے گا اور آپ کا خیمہ محفوظ رہے گا۔ ”

 

                آخری تنبیہ

 

اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ راوی کہتا ہے کہ دشمن اگر چاہتا تو آپ کو بہت پہلے قتل کر  ڈالتا مگر یہ گناہ کوئی بھی اپنے سرنہ لینا چاہتا تھا۔ آخر شمر ذوالجوشن چلایا:”تمہارا برا ہو!کیا انتظار کرتے ہو، کیوں کام تمام نہیں کرتے۔”

اب پھر ہر طرف سے نرغہ ہوا۔ آپ نے پکار کر کہا:کیوں میرے قتل پر ایک دوسرے کو ابھارتے ہو؟واللہ!میرے بعد کسی بندے کے قتل پربھی اللہ اتنا نا خوش نہ ہو گا جتنا میرے قتل پر نا خوش ہو گا۔ ”

 

                شہادت

 

مگر اب وقت آ چکا تھا۔ زرعہ بن شریک تمیمی نے آپ کے بائیں ہاتھ کو زخمی کر دیا۔ پھر شانے پر تلوار ماری۔ آپ کمزوری سے لڑکھڑائے۔ لوگ ہیبت سے پیچھے ہٹے مگرسنان بن انس نخفی نے بڑھ کر نیزہ مارا اور آپ زمین پر گر پڑے۔ اس نے ایک شخص سے کہا:”سرکاٹ لے۔ “وہ سرکاٹنے کے لئے لپکا مگر جرات نہ ہوئی۔ سنان بن انس نے دانت پیس کر کہا:”اللہ تیرے ہاتھ شل کر  ڈالے۔ “پھر جوش سے اترا اور آپ کو ذبح کیا اور سرتن سے جدا کیا۔

جعفر بن محمد بن علی سے مروی ہے کہ قتل کے بعد دیکھا گیا کہ آپ کے جسم پر نیزے کے 33 اور تلوار کے 34 گھاؤ تھے۔

 

                قاتل

 

سنان ابن انس کے دماغ میں کسی قدر فتور تھا۔ قتل کے وقت اس کی عجیب حالت تھی جو شخص حضرت کی نعش کے قریب آتا تھا، وہ اس پر حملہ آور ہوتا تھا، وہ ڈرتا تھا کوئی دوسرا ان کا سرنہ کاٹ لے جائے۔ قاتل نے سرکاٹ کر خولی بن یزید اصبحی کے حوالے کیا اور خود عمر بن سعد کے پاس دوڑا۔ خیمے کے سامنے کھڑا ہو کر چلایا:۔

اوقر رکابی من فضۃ وذھبا اناقتلت الملک المجبا

(مجھے سونے چاندی سے لاد دو۔ میں نے بڑا بادشاہ مارا ہے )

قتلت خیرالناس اماوابا وخیرھم اذینسبون نسبا

(میں نے اس کو قتل کیا ہے جس کے ماں باپ سب سے افضل ہیں اور جو اپنے نسب میں سب سے اچھا ہے )

عمر بن سعد نے اسے اندر بلا لیا اور بہت خفا ہو کر کہنے لگا:”واللہ تو مجنون ہے۔ “پھر اپنی لکڑی سے اسے مار کر کہا:”پاگل ایسی بات کہتا ہے۔ بخدا اگر عبید اللہ بن زیادہ سنتا تو تجھے ابھی مروا  ڈالتا۔ “(ابن جریر ج 6 ص 261)

 

                لوٹ کھسوٹ

 

قتل کے بعد کوفیوں نے آپ کے بدن کے کپڑے تک اتار لئے، پھر آپ کے خیمے کی طرف بڑھے۔ زین العابدین بسترپربیمار پڑے تھے۔ شمر اپنے چندسپاہوں کے ساتھ پہنچا اور کہنے لگا:اسے بھی کیوں نہ قتل کر  ڈالیں۔ “لیکن اس کے بعض ساتھیوں نے مخالفت کی۔ کہا:کیا بچوں کو بھی مار ڈالو گے ؟”

اسی اثناء میں عمر بن سعدبھی آ گیا اور حکم دیا:”کوئی عورتوں کے خیمے میں نہ گھسے اس بیمار کو کوئی نہ چھیڑے، جس کسی نے خیمہ کا اسباب لوٹا ہو، واپس کر دے۔ ”

زین العابدین نے یہ سن کر اپنی بیمارآوازسے کہا: عمر بن سعد!اللہ تجھے جزائے خیر دے، تیری زبان نے ہمیں بچا لیا۔ ”

 

                نعش روند  ڈالی

 

عمر بن سعدکوحکم تھا کہ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نعش گھوڑوں کے ٹاپوں سے روند ڈالے، اب اس کا وقت آیا اور اس نے پکار کر کہا:”اس کام کے لئے کون تیار ہے ؟”دس آدمی تیار ہوئے اور گھوڑے دوڑا کرجسم مبارک روند ڈالا۔

چوں بگذردنظیری خونین کفن بہ حشر

خلقے فغاں کنندکہ ایں دادخواہ کیست

اس جنگ میں حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے 72آدمی مارے گئے اور کوئی فوج کے 88 مقتول ہوئے (ابن جریر ج6ص261)

 

                حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پامال لاش دیکھی

 

دوسرے دن عمر بن سعد نے میدان جنگ سے کوچ کیا۔ اہل بیت کی خواتین اور بچوں کوساتھ لے کر کوفہ روانہ ہو گیا۔

قرہ بن قیس(جو شاہد عینی ہے )روایت کرتا ہے کہ ان عورتوں نے جب حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے لڑکوں اور عزیزوں کی پامال لاشیں دیکھیں تو ضبط نہ کر سکیں اور آہ و فریاد کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ میں گھوڑا لے کران کے قریب پہنچا۔ میں نے اتنی حسین عورتیں کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ مجھے زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یہ بین کسی طرح بھی نہیں بھولتا۔ اے محمدﷺ!تجھ پر آسمان کے فرشتوں کادروداسلام!یہ دیکھ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ریگستان میں پڑا ہے۔ خاک و خون میں آلودہ ہے، تمام جسم ٹکڑے ٹکڑے ہے۔ تیری بیٹیاں قیدی ہیں۔ تیری اولاد مقتول ہے۔ ہوا ان پر خاک  ڈال رہی ہے۔ “راوی کہتا ہے دوست دشمن کوئی نہ تھا، جوان کے بین سے رونے نہ لگا ہو۔

 

                72سر

 

پھر تمام مقتولوں کے سرکاٹے گئے۔ کل 72 سر تھے۔ شمر ذوالجوشن قیس بن العثت،  عمرو بن الحجاج، عزمرہ بن قیس، یہ تمام عبید اللہ بن زیاد کے پاس لے گئے۔

حمید بن مسلم(جو خولی بن یزید کے ساتھ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاسرکوفہ لایا تھا)روایت کرتا ہے کہ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاسرابن زیاد کے روبرو رکھا گیا۔ مجلس حاضرین سے لبریز تھی۔ ابن زیاد کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔ چھڑی آپ کے لبوں پر مارنے لگا۔

جب اس نے بار بار یہی حرکت کی تو زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ارقم چلا اٹھے :ان لبوں سے اپنی چھڑی ہٹا لے قسم خدا کی، میری ان دونوں آنکھوں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے ہونٹ ان ہونٹوں پر رکھتے تھے اور ان کابوسہ لیتے تھے۔ “یہ کہہ کروہ زار و قطار رونے لگے۔ ابن زیاد خفا ہو گیا:”خدا تیری آنکھوں کو رلائے۔ واللہ اگر تو بوڑھا ہو کرسٹھیانہ گیا ہوتا تو ابھی تیری گردن مار دیتا۔ ”

زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ارقم یہ کہتے ہومجلس سے اٹھ گئے۔ “اے عرب کے لوگو!آج کے بعد سے تم غلام ہو، تم نے ابن فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو قتل کیا۔ ابن مرجانہ (یعنی عبید اللہ)کو حاکم بنایا، وہ تمہارے نیک انسان قتل کرتا اور شریفوں کو غلام بناتا ہے، تم نے ذلت پسندکر لی۔ خدا انہیں مارے جو ذلت پسندکرتے ہیں۔ “بعض روایات میں یہ واقعہ خود یزید کی طرف منسوب ہے مگر صحیح یہی ہے کہ ابن زیاد نے چھڑی ماری تھی۔

 

                ابن زیاد اور حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہما

 

راوی کہتا ہے جب اہل بیت کی خواتین اور بچے عبید اللہ کے سامنے پہنچے تو حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے نہایت حقیرلباس پہنا ہوا تھا، وہ پہچانی نہیں جاتی تھیں۔ ان کی کنیزیں انہیں اپنے بیچ میں لئے تھیں۔ عبید اللہ نے پوچھا:”یہ کون بیٹھی ہے۔ انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ تین مرتبہ یہی سوال کیا، مگر وہ خاموش رہیں۔ آخر ان کی ایک کنیز نے کہا:”یہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہما بنت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہیں۔ “عبید اللہ شمائت کی راہ سے چلایا:”اس اللہ کی ستائش جس نے تم لوگوں کورسوا اور ہلاک کیا ہے اور تمہارے نام کو بٹہ لگایا۔ ”

اس پر حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے جواب دیا:”ہزارستائش اس اللہ کے لئے جس نے ہمیں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے عزت بخشی اور ہمیں پاک کیا نہ کہ جیسا تو کہتا ہے۔ فاسق رسواہوتے ہیں، فاجروں کے نام کو بٹہ لگتا ہے۔ ”

ابن زیاد نے کہا”تو نے دیکھا خدا نے تیرے خاندان سے کیاسلوک کیا۔ ”

حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہما بولیں :”ان کی قسمت میں قتل کی موت لکھی تھی، اس لئے وہ مقتل میں پہنچ گئے۔ عنقریب اللہ تجھے اور انہیں ایک جگہ جمع کر دے گا اور تم باہم اس کے حضورسوال و جواب کر لو گے۔ ”

ابن زیاد غضبناک ہوا، اس کا غصہ دیکھ کر عمرو بن حریث نے کہا:”اللہ امیرکوسنوارے یہ تو محض ایک عورت ہے۔ عورتوں کی بات کا خیال نہیں کرنا چاہیے۔ ”

پھر کچھ دیر بعد ابن زیاد نے کہا:خدا نے تیرے سرکش سردار اور تیرے اہلبیت کے نافرمان باغیوں کی طرف سے میرا دل ٹھنڈا کر دیا۔ “اس پر حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہما اپنے تئیں سنبھال نہ سکیں، بے اختیار رو پڑیں۔ انہوں نے کہا:”واللہ تو نے میرے سردارکوقتل کر  ڈالا، میرا خاندان مٹا ڈالا، میری شاخیں کاٹ دیں، میری جڑ اکھاڑ دی، اس سے تیرا دل اگر ٹھنڈا ہو سکتا ہے، تو ٹھنڈا ہو جائے۔ ”

ابن زیاد نے مسکرا کر کہا:”یہ شجاعت ہے !تیرے باپ بھی شاعر اور شجاع تھا۔ ”

حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا”عورت کو شجاعت سے کیاسروکار؟میری مصیبت نے مجھے شجاعت سے غافل کر دیا ہے۔ میں جو کچھ کہہ رہی ہوں۔ یہ تو دل کی آگ ہے۔ ”

 

                ابن زیاد اور امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ

 

اس گفتگوسے فارغ ہو کر ابن زیاد کی نظر زین العابدین”علی بن الحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ”پر پڑی۔ یہ بیمار تھے۔ ابن زیاد نے تعجب سے کہا:”اللہ نے علی بن الحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قتل نہیں کر  ڈالا؟”

زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کوئی جواب نہ دیا۔

ابن زیاد نے کہا:”بولتا کیوں نہیں ؟”

انہوں نے جواب دیا:”میرے ایک اور بھائی کا نام بھی علی تھا، لوگوں نے غلطی سے اسے مار ڈالا ہے۔ ”

ابن زیاد نے کہا”لوگوں نے نہیں، اللہ نے مارا ہے۔ ”

اس پر زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ آیت پڑھی۔

اللہ یتوفی الانفس حین موتھاوماکان لنفس ان تموت الاباذن اللہ۔

اس پر ابن زیاد چلایا:”اللہ تجھے بھی مارے تو بھی انہیں میں سے ہے۔ پھراس کے بعد ابن زیاد نے چاہا کہ انہیں بھی قتل کر  ڈالے لیکن زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہما بے قرار ہو  کر چیخ اٹھیں:”میں تجھے خداکاواسطہ دیتی ہوں اگر تو مومن ہے اور اس لڑکے کو ضروری قتل کرنا چاہتا ہے تو مجھے بھی اسی کے ساتھ مار ڈال۔ ”

امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بلند آوازسے کہا:”اے ابن زیاد!اگر تو ان عورتوں سے ذرا بھی رشتہ سمجھتا ہے تو میرے بعد ان کے ساتھ کسی متقی آدمی کوبھیجناجواسلامی معاشرت کے اصول پران سے برتاؤ کرے۔ “ابن زیاد دیر تک حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو دیکھتا رہا۔ پھر لوگوں سے مخاطب ہو کر کہنے لگا۔ رشتہ بھی کیسی عجیب چیز ہے۔ واللہ!مجھے یقین ہے کہ یہ سچے دل سے لڑکے ساتھ قتل ہونا چاہتی ہے۔ اچھا لڑکے کو چھوڑ دو، یہ بھی اپنے خاندان کی عورتوں کے ساتھ جائے۔ (ابن جریر ج6ص263، کامل وغیرہ)

 

                ابن عفیف کا قتل

 

اس واقعہ کے بعد ابن زیاد نے جامع مسجدمیں شہر والوں کو جمع کیا اور خطبہ دیتے ہوئے اس اللہ کی تعریف کی جس نے حق کو ظاہر کیا، حق والوں کو فتح یاب کیا۔ امیرالمومنین یزید بن معاویہ اور ان کی جماعت غالب ہوئی۔ کذاب(حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مشہور صحابی ہیں اور جنگ جمل و صفین میں زخمی ہو کر اپنی دونوں آنکھیں کھو چکے تھے ) کھڑے ہو گئے اور چلائے :اللہ کی قسم اے ابن مرجانہ!کذاب ابن کذاب تو تو ہے نہ کہ حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ “ابن زیاد نے یہ سن کر انہیں قتل کر  ڈالا۔

 

                یزید کے سامنے

 

اس کے بعد ابن زیاد نے حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاسربانس پر نصب کر کے زحر بن قیس کے ہاتھ یزید کے پاس بھیج دیا۔ غار بن ربیعہ کہتا ہے۔ “جس وقت زحر بن قیس پہنچا، میں یزید کے پاس بیٹھا تھا۔ یزید نے اس سے کہا:کیا خبر ہے ؟”حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے اٹھارہ اہل بیت اور ساٹھ حمایتیوں کے ساتھ ہم تک پہنچے، ہم نے انہیں بڑھ کر روکا اور مطالبہ کیا کہ سب اپنے آپ کو ہمارے حوالے کریں ورنہ لڑائی لڑیں۔ انہوں نے اطاعت پر لڑائی کو ترجیح دی چنانچہ ہم نے طلوع آفتاب کے ساتھ ان پر ہلہ بول دیا جب تلواریں ان کے سروں پر پڑنے لگیں تو وہ اس طرح ہر طرف جھاڑیوں اور گڑھوں میں چھپنے لگے جس طرح کبوتربازسے بھاگتے اور چھپتے ہیں۔ پھر ہم نے ان سب کا قلع قمع کر دیا۔ اس وقت ان کے رخسارغبارسے میلے ہو رہے ہیں ان کے جسم دھوپ کی شدت اور ہوا کی تیزی سے خشک ہو رہے ہیں اور گدھوں کی خوراک بن گئے ہیں۔ ”

 

                یزید رونے لگا

 

راوی کہتا ہے۔ یزید نے یہ سنا تواس کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔ کہنے لگا۔ “بغیر قتل حسین کے بھی میں تمہاری اطاعت سے خوش ہو سکتا تھا۔ ابن سمیہ(ابن زیاد)پر اللہ کی لعنت!واللہ! اگر میں وہاں ہوتا توحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ضرور درگزر کر جاتا۔ اللہ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے۔ قاصد کو یزید نے کوئی انعام نہیں دیا۔ (ابن جریر،ج 6ص 264، کامل تاریخ کبیر ذہبی)

 

                یزید کا تاثر

 

یزید کے غلام قاسم بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ جب حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے اہل بیت کے سریزید کے سامنے رکھے گئے تو اس نے یہ شعر پڑھا۔

یفلقن ھاما من رجال اعزۃ علیناوھم کانوا اعق واظلما

(تلواریں ایسوں کاسرپھاڑتی ہیں جو ہمیں عزیز ہیں حالانکہ در اصل وہ ہی حق فراموش کرنے والے ظالم تھے )

پھر کہا:”واللہ!اے حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ!اگر میں وہاں ہوتا تو تجھے ہر گز قتل نہ کرنا۔ ”

 

                اہل بیت دمشق میں

 

حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سرکے بعد ابن زیاد نے اہل بیت کو بھی دمشق روانہ کر دیا۔ شمر ذوالجوشن اور محضر بن ثعلبہ اس قابلہ کے سردار تھے۔ امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھر خاموش رہے، کسی سے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ یزید کے دروازے پر پہنچ کر محضر بن ثعلبہ چلایا۔ میں امیرالمومنین کے پاس فاجر کمینوں کو لایا ہوں۔ ”

یزید یہ سن کر خفا ہوا،  کہنے لگا:”محضر کی ماں سے زیادہ کمینہ اور شریر بچہ کسی عورت نے پیدا نہیں کیا۔ ”

 

                یزید اور امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ

 

پھر یزید نے شام کے سرداروں کو اپنی مجلس میں بلایا۔ اہل بیت کو بھی بٹھایا اور امام زین العابدین رضی اللہ تعالی عنہ سے مخاطب ہوا۔ “اے علی!تمہارے ہی باپ نے میرا رشتہ کاٹا۔ میرا حق بھلایا، میری حکومت چھیننا چاہی۔ اس پر اللہ نے اس کے ساتھ وہ کیا جو تم دیکھ چکے ہو۔ “امام زین العابدین اس کے جواب میں یہ آیت پڑھی:۔

ما اصاب من مصیبۃ فی الارض ولافی انفسکم الافی کتاب من قبل ان نبرآھا ان ذالک علی اللہ یسیرلکیلاتاسواعلی ماقاتکم ولاتفرحوابما اتاکم واللہ لایحب کل مختال فخور۔

تمہاری کوئی مصیبت بھی نہیں جو پہلے سے لکھی نہ گئی ہو۔ یہ خدا کے لئے بالکل آسان ہے، یہ اس لئے کہ نقصان پرافسوس نہ کرو اور فائدہ پر مغرور نہ ہو، اللہ تعالیٰ مغروروں اور فخر کرنے والوں کوناپسندکرتا ہے۔

یہ جواب یزید کو ناگوار ہوا۔ اس نے چاہا، اپنے بیٹے خالد سے جواب دلوائے مگر خالد کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ تب یزید نے خالد سے کہا:”کہتا کیوں نہیں۔

ما اصابکم من مصیبۃ فبماکسبت ایدیکم ویعفواعن کثیر۔

پھر یزید دوسرے بچوں اور عورتوں کی طرف متوجہ ہوا، انہیں اپنے قریب بلا کر بٹھایا ان کی ہیئت خراب ہو رہی تھی، دیکھ کرمتاسف ہوا اور کہنے لگا:”ابن مرجانہ کا اللہ برا کرے اگر تم سے اس کا کوئی رشتہ ہوتا تو تمہارے ساتھ ایساسلوک نہ کرتا، نہ اس حال میں تمہیں میرے پاس بھیجتا۔ ”

 

                حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی بے باکانہ گفتگو

 

حضرت فاطمہ بنت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ”جب ہم یزید کے سامنے بٹھائے گئے تو اس نے ہم پرترس ظاہر کیا۔ ہمیں کچھ دینے کا حکم دیا۔ بڑی مہربانی سے پیش آیا۔ اسی اثناء میں ایک سرخ رنگ کا شامی لڑکا کھڑا ہوا اور کہنے لگا:”امیرالمومنین!یہ لڑکی مجھے عنایت کر دیجئے۔ ” اور میری طرف اشارہ کیا۔ اس وقت میں کمسن اور خوبصورت تھی۔ میں خوف سے کانپنے لگی اور اپنی بہن زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی چادر پکڑ لی۔ وہ مجھ سے بڑی تھیں۔ ۔ ۔ اور زیادہ سمجھدار تھیں اور جانتی تھیں کہ یہ بات نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے پکار کر کہا:”تو کمینہ ہے نہ تجھے اس کا اختیار ہے نہ اسے (یزید کو)اس کا حق ہے۔ ”

اس جرات پر یزید کو غصہ آ گیا۔ کہنے لگا۔ “تو جھوٹ بکتی ہے۔ واللہ مجھے یہ حق حاصل ہے، اگر چاہوں تو ابھی کر سکتا ہوں۔ ”

حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا:”ہرگز نہیں !خدا نے تمہیں یہ حق ہرگز نہیں دیا۔ یہ بات دوسری ہے کہ تم ہماری ملت سے نکل جاؤ اور ہمارا دین چھوڑ کر دوسرادین اختیار کر لو۔ ”

یزید اور بھی خفا ہوا، کہنے لگا:”دین سے تیرا باپ اور تیرا بھائی نکل چکا ہے۔ ”

زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بلا تامل جواب دیا۔ اللہ کے دین سے، میرے باپ کے دین سے، میرے بھائی کے دین سے، میرے نانا کے دین سے، تو نے، تیرے باپ نے، تیرے دادا نے ہدایت پائی ہے۔ ”

یزید چلایا:”اے دشمن خدا!تو جھوٹی ہے۔ ”

حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہما بولیں  “توزبردستی حاکم بن بیٹھا ہے، ظلم سے گالیاں دیتا ہے، اپنی قوت سے مخلوق کو دباتا ہے۔ ”

حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بنت علی کہتی ہیں۔ یہ گفتگوسن کر شاید یزید شرمندہ ہو گیا کیونکہ پھر کچھ نہ بولا مگر وہ شامی لڑکا پھر کھڑا ہوا اور وہی بات کی۔ اس پر یزید نے اسے غضب ناک آواز میں ڈانٹ پلائی:”دور ہو کم بخت !خدا تجھے موت کا تحفہ بخشے۔ ”

 

                یزید کا مشورہ

 

دیر تک خاموشی رہی۔ پھر یزید شامی رؤساوامراء کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا:”ان لوگوں کے بارے میں کیا مشورہ دیتے ہو؟”بعضوں نے سخت کلامی کے ساتھ بدسلوکی کا مشورہ دیا، مگر نعمان بن بشیر نے کہا:”ان کے ساتھ وہی سلوک کیجئے جورسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم انہیں اس حال میں دیکھ کر کرتے۔ ”

حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بنت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ سن کر کہا:”اے یزید !یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی لڑکیاں ہیں۔ “اس نسبت کے ذکرسے یزید کی طبیعت بھی متاثر ہو گئی، وہ اور درباری اپنے آنسونہ روک سکے۔ بالآخر یزید نے حکم دیا کہ ان کے قیام کے لئے علیحدہ انتظام کر دیا جائے۔ ”

 

                یزید کی بیوی کا غم

 

اس اثناء میں واقعہ کی خبر یزید کے گھر میں عورتوں کو بھی معلوم ہو گئی۔ ہندہ بنت عبداللہ، یزید کی بیوی نے منہ پر نقاب  ڈالی اور باہر آ کر یزید سے کہا:”امیرالمومنین کیاحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بنت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کاسرآیا ہے ؟”یزید نے کہا:”ہاں !تم خوب روؤ، بین کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نواسے اور قریش کے اصیل پر ماتم کرو۔ ابن زیاد نے بہت جلدی کی، قتل کر  ڈالا، اللہ اسے بھی قتل کر دے۔ ”

 

                حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اجتہادی غلطی

 

اس کے بعد یزید نے حاضرین مجلس سے کہا:تم جانتے ہو، یہ سب کس بات کا نتیجہ ہے ؟یہ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اجتہاد کی غلطی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے سوچامیرے باپ یزید کے باپ سے افضل ہیں، میری ماں یزید کی ماں سے افضل ہے، میرے نانا یزید کے ناناسے افضل ہیں اور میں خود یزید سے افضل ہوں، اس لئے حکومت کا یزید سے زیادہ مستحق ہوں حالانکہ ان کا یہ سمجھناکہ ان کے والد میرے والد سے افضل تھے، صحیح نہیں۔ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے باہم جھگڑا کیا اور دنیا نے دیکھ لیا کہ فیصلہ کس کے حق میں ہوا؟رہا ان کا یہ کہنا کہ ان کی ماں میری ماں سے افضل تھی تو یہ بلاشبہ ٹھیک ہے۔ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میری ماں سے کہیں زیادہ افضل ہیں۔ اسی طرح ان کے نانا میرے ناناسے افضل تھے تو خدا کی قسم ! کوئی بھی انسان اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والارسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے افضل بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے برابرکسی انسان کو نہیں سمجھ سکتا۔ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اجتہاد نے غلطی کی وہ یہ آیت بالکل بھول گئے۔

اللھم مالک الملک تؤتی الملک من تشاء وتنزع الملک ممن تشاء وتعزمن تشاء وتذل من تشاء بیدک الخیر۔ انک علی کل شی ء قدیر۔

پھر اہل بیت کی خواتین یزید کے محل میں پہنچائی گئیں۔ خاندان معاویہ کی عورتوں نے انہیں اس حال میں دیکھا تو بے اختیار رونے پیٹنے لگیں۔

 

                یزید کی سعی تلافی

 

پھر یزید آیا تو فاطمہ بنت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اس سے کہا:”اے یزید !کیارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی لڑکیاں کنیزیں ہو گئیں ؟یزید نے جواب دیا:”اے میرے بھائی کی بیٹی!ایساکیوں ہونے لگا۔ ”

فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا:”بخدا ہمارے کان میں ایک بالی بھی نہیں چھوڑی گئی۔ ”

یزید نے کہا:”تم لوگوں کو جتنا گیا ہے، اس سے کہیں زیادہ میں تمہیں دوں گا۔ ”

چنانچہ جس نے اپنا جتنا نقصان بتایا، اس سے دو گنا تگنا دے دیا گیا۔ ”

یزید کادستور تھا۔ روز صبح و شام کے کھانے میں علی بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے ساتھ شریک کیا کرتا۔ ایک دن حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کم سن بچے عمرو کو بلایا اور ہنسی سے کہنے لگا۔ “تواس سے لڑے گا۔ ” اور اپنے لڑکے خالد کی طرف اشارہ کیا۔ عمرو بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بچپنے کے بھولپن سے جواب دیا:”یوں نہیں ایک چھری مجھے دو اور ایک چھری اسے دو، پھر ہماری لڑائی دیکھو۔ ”

یزید کھلکھلا کرہنس پڑا اور عمر بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گود میں اٹھا کرسینے سے لگا لیا اور کہا:”سانپ کا بچہ بھی سانپ ہوتا ہے۔ ”

 

                یزید کی زود پشیمانی

 

یزید نے اہل بیت کو کچھ دن اپنا مہمان رکھا۔ اپنی مجلس میں ان کا ذکر کرتا اور بار بار کہا:”کیا حرج تھا اگر میں خود تھوڑی سی تکلیف گوارا کر لیتا۔ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے ساتھ رکھتا۔ ان کے مطالبہ پر غور کرتا، اگرچہ اس سے میری قوت میں کمی نہ ہو جاتی لیکن اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حق اور رشتہ داری کی حفاظت ہوتی۔ خدا کی لعنت ابن مرجانہ(یعنی ا بن زیاد)پرحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوجس نے لڑائی پر مجبور کیا۔ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میرے ساتھ اپنا معاملہ طے کر لیں گے یامسلمانوں کی سرحد پرجا کر جہاد میں مصروف ہو جائیں گے مگر ابن زیاد نے ان کی کوئی بات نہیں مانی اور قتل کر دیا۔ ان کے قتل سے تمام مسلمانوں میں مجھے مبغوض بنا دیا۔ خدا کی لعنت ابن مرجانہ پر، خدا کا غضب ابن مرجانہ پر!”

 

                اہل بیت کو رخصت کرنا

 

جب اہل بیت کو مدینے بھیجنے لگا تو امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک مرتبہ اور کہا:”ابن مرجانہ پر اللہ کی لعنت، واللہ!اگر میں حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ہوتا اور وہ میرے سامنے اپنی کوئی شرط بھی پیش کرتے تو میں اسے منظور کر لیتا۔ میں ان کی جان ہر ممکن ذریعہ سے بچاتا۔ اگرچہ ایسا کرنے میں خود میرے کسی بیٹے کی جان چلی جاتی لیکن اللہ کو وہی منظور تھا جو ہو چکا۔ دیکھو!مجھ سے برابر خط و کتابت کرتے رہنا جو ضرورت بھی پیش آئے مجھے خبر دینا۔ ”

بعد میں حضرت سکینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما برابر کہا کرتی تھیں :”میں نے کبھی کوئی ناشکرا انسان یزید سے زیادہ اچھاسلوک کرنے والا نہیں دیکھا۔ ”

 

                اہل بیت کی فیاضی

 

یزید نے اہل بیت کو اپنے معتبر آدمی اور فوج کی حفاظت میں رخصت کر دیا۔ اس شخص نے رستہ بھر ان مصیبت زدوں سے اچھا برتاؤ کیا جب منزل مقصود پر پہنچ گئے تو حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہما بنت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بنت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی چوڑیاں اور کنگن اسے بھیجے اور کہا:”یہ تمہاری نیکی کا بدلہ ہے، ہمارے پاس کچھ نہیں کہ تمہیں دیں۔ ”

اس شخص نے زیورواپس کر دئیے اور کہلایا۔ “واللہ!میرا یہ برتاؤکسی دنیاوی طمع سے نہیں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خیال سے تھا۔ ”

 

                مدینہ میں ماتم

 

اہل بیت کے آنے سے پہلے مدینہ میں جاں گسل خبر پہنچ چکی تھی۔ بنی ہاشم کی خاتونوں نے سنا تو گھروں سے چلاتی ہوئی نکل آئیں۔ حضرت عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی آگے آگے تھیں اور یہ شعر پڑھتی جاتی تھیں :

ماذاتقولون ان قالا لنبی لکم

ماذا فعلتم وانتم اخرالامم

(کیا کہو گے جب نبی تم سے سوال کریں گے کہ اے وہ جوسب سے آخری امت ہو)

یعترتی وبا ھلی بعد مفقدنی

منھم اساری ومنھم ضرجوابدم

(تم نے میری اولاد اور خاندان سے میرے بعد کیاسلوک کیا کہ ان مین سے بعض قیدی ہیں اور بعض خون میں نہائے پڑے ہیں )

 

                مرثیہ

 

حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت پر بہت سے لوگوں نے مرثیے کہے۔ سلیمان بن قتیبہ کا مرثیہ بہت زیادہ مشہور ہوا۔ (البدایۃ، والنھایت ج8، ص211)

مورت علی ابیات آل محمد فلم ارھاکعھدھایوم حلت

(میں خاندان محمدﷺ کے گھروں کی طرف سے گزرا، مگر وہ کبھی روئے تھے، جیسے اس دن جب ان کی حرمت توڑی گئی)

فلایبعد اللہ الدیار واھلھا وان اصبحت منھم یزعمی تحلت

(خدا ان مکانوں اور مکینوں کو دور نہ کرے اگرچہ وہ اب اپنے مکینوں سے خالی پڑے ہیں۔ )

وان قتیل الطف من آل ھاشم اذل رقاب المسلمین فذلت

(کربلا میں ہاشمی مقتول کے قتل نے مسلمانوں کی گردنیں ذلیل کر  ڈالیں۔ )

وکانورجاء ثم صاروارزیۃ لقدعظمت تلک الرزایاو جلت

(ان مقتولوں سے دنیا کی امیدیں وابستہ تھیں مگر وہ مصیبت بن گئے۔ آہ یہ مصیبت کتنی بڑی اور سخت ہے۔ )

الم تران الارض اصبحت مریضۃ لفقدحسین والبلاداقشعرت

(کیا تم نہیں دیکھتے کہ زمین حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فراق میں بیمار ہے اور دنیا کانپ رہی ہے )

وقداعوات تبکی السماء مفقدہ وانجمھاتاحت علیہ وسلت

(آسمان بھی اس کی جدائی پر روتا ہے۔ ستارے بھی ماتم اور سلام بھیج رہے ہیں۔ )

٭٭٭

ماخذ:

کتاب انسانیت موت کے دروازے پر

http://javediqbal.ueuo.com/?p=394

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید