FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فہرست مضامین

سنن ابو داؤدؒ

 

 

جلد دوم

 

(طہارت وغیرہ)

 

                   امام ابو داؤدؒ

 

 

 

 

 

 

طہارت کا بیان

 

 

                   قضائے حاجات کے لیے تنہائی کی جگہ جانا

 

عبد اللہ بن مسلمۃ بن قعنب، قعنبی، عبد العزیز ابن محمد، ابن عمر، ابی سلمہ، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو (لوگوں سے) دوری اختیار فرماتے۔

 

مسدد بن مسرہد، عیسیٰ بن یونس، اسماعیل بن عبد الملک، ابی زبیر، حضرت جابر بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے (تو صحراء میں) دور نکل جاتے یہاں تک کہ کوئی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو نہ دیکھ پاتا۔

 

                   پیشاب کرنے کے لیے نرم جگہ تلاش کرنا

 

موسیٰ بن اسماعیل، حماد، ابو التیاح، عبد اللہ بن عباس، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ تھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پیشاب کرنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک دیوار کے نیچے نرم اور ڈھال دار جگہ پر تشریف لے گئے اور وہاں پیشاب کیا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرنا چاہے تو اس مقصد کے لیے مناسب جگہ تلاش کرے

 

                   بیت الخلاء میں جانے سے پہلے کی دعا

 

مسدد بن مسرہد، حماد بن زید، عبد الوارث، عبد العزیز، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب بیت الخلاء میں جانے کا ارادہ فرماتے تو حماد کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوذُبِکَ مِنَ الخُبُثِ وَالخُبَائِث۔

 

حسن بن عمر، سدیس، وکیع، شعبہ، عبد العزیز، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہی مذکورہ بالا حدیث بسند شعبہ بواسطہ عبد العزیز بھی مروی ہے جس میں اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوذُبِکَ ہے اور شعبہ نے کہا کہ کبھی عبد العزیز نے اَعُوذُ بِاللہِ بھی روایت کیا ہے اور زوہیب نے عبد العزیز کے حوالہ سے جو روایت بیان کی ہے اس میں فَلیَتَعَوَّذ بِاللہِ کے الفاظ ہیں۔

 

عمرو بن مرزوق، شعبہ، قتادۃ، نصر بن انس، حضرت زید بن ارقم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا یہ قضائے حاجت کے مقامات شیاطین کے اڈے ہیں پس جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء میں جانے لگے تو اس کو (وہاں جانے سے پہلے) اَعُوذُ بِاللہِ مِنَ الخُبُثِ وَالخُبَائِثِ پڑھ لینا چاہیے۔

 

                   قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنے کی ممانعت

 

مسدد بن مسرہد ، ابو معاویہ، اعمش، ابراہیم، عبد الرحمن، ابن یزید، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق روایت ہے کہ کسی (کافر نے بطور مذاق) ان سے کہا کہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تم کو ہر چیز سکھا دی ہے یہاں تک کہ پیشاب اور پاخانہ کرنے کا طریقہ بھی تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہمیں پیشاب پاخانہ کرتے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنے سے منع فرمایا ہے داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے اور اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ہم میں سے کوئی شخص تین سے کم پتھروں (ڈھیلوں) سے استنجاء کرے اور اس بات سے بھی منع فرمایا ہے کہ گوبر یا ہڈی سے استنجاء کیا جائے۔

 

عبد اللہ بن محمد نفیلی، ابن المبارک، محمد بن عجلان، قعقاع بن حکیم، ابی صالح، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ میں تمہارے حق میں باپ کی طرح ہوں اسی بناء پر میں تم کو دین و ادب کی تعلیم دیتا ہوں پس جب تم بیت الخلاء میں جاؤ تو وہاں جا کر نہ تو قبلہ کی طرف رخ کرو اور نہ پشت، اور نہ داہنے ہاتھ سے استنجاء کرو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہمیں تین ڈھیلوں سے استنجاء کا حکم فرماتے تھے اور گوبر یا ہڈی سے استنجاء کرنے کو منع فرماتے تھے۔

 

مسدد بن مسرہد، سفیان، زہری، عطاء بن یزید، حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جب تم بیت الخلاء میں جاؤ تو پیشاب پاخانہ کرتے وقت قبلہ کی طرف رخ مت کرو بلکہ اپنا رخ مشرق یا مغرب کی طرف کر لیا کرو حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم ملک شام میں وارد ہوئے تو ہم نے یہاں قبلہ رخ بنے ہوئے بیت الخلاء دیکھے پس ہم (قضاء حاجت کے وقت) اپنا رخ تبدیل کر لیتے اور (اگر کبھی بھول کر قبلہ رخ بیٹھ جاتے تو) اللہ سے مغفرت طلب کرتے۔

 

موسیٰ بن اسماعیل، وہیب، عمرو  بن یحییٰ، حضرت معقل بن ابو معقل اسدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہم کو پیشاب پاخانہ کرتے وقت دونوں قبلوں (بیت المقدس اور کعبہ شریف) کی طرف رخ کرنے سے منع فرمایا تھا ابو داؤد کہتے ہیں کہ (اس حدیث کے راوی) ابو زید بنی ثعبلہ کے آزاد کردہ غلام ہیں۔

 

محمد بن یحیٰ بن فارس، صفوان بن عیسیٰ، حسنین، حضرت مروان اصفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر کے بیٹے (عبد اللہ) کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے اونٹ کو قبلہ کی طرف رخ کر کے بٹھایا اور پھر خود بھی اس کی طرف رخ کر کے بیٹھ کر پیشاب کرنے لگے (یہ دیکھ کر) میں نے کہا کہ اے ابو عبد الرحمن کیا اس سے (قبلہ رخ ہو کر پیشاب کرنے سے) منع نہیں کیا گیا؟ فرمایا ہاں مگر اس سے صرف کھلے میدان میں منع کیا گیا ہے لیکن جب تمھارے اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز حائل ہو تو پھر ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

 

عبد اللہ بن مسلمہ، مالک، یحیٰ بن سعید، محمد بن یحیٰ بن حبان، واسع بن حبان، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن میں گھر کی چھت پر چڑھا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دو اینٹوں پر (بیٹھے ہوئے) بیت المقدس کی طرف رخ کر کے قضائے حاجت کر رہے تھے۔

 

محمد بن بشار، وہیب بن جریر، محمد بن اسحاق ابان بن صالح، مجاہد، حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہم کو (ابتداء میں) قبلہ کی طرف رخ کر کے پیشاب کرنے سے منع فرمایا تھا مگر پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو وفات سے ایک سال قبل دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم (قضائے حاجت کے وقت) قبلہ کی طرف رخ کرتے تھے۔

 

                   قضائے حاجت کے لیے ستر کس وقت کھولنا چاہئے؟

 

زہیر بن حرب، وکیع، اعمش، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کپڑا (ازار) اس وقت تک اوپر نہ اٹھاتے جب تک کہ زمین کے قریب نہ ہو جاتے ابو داؤد کہتے ہیں کہ اس روایت کو عبد السلام ابن حرب نے بواسطہ اعمش حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے (مگر یہ طریق سند) ضعیف ہے (کیونکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اعمش کا سماع ثابت نہیں)

 

                   قضائے حاجت کے وقت باتیں کرنا مکروہ ہے

 

عبید اللہ بن عمر، میسرہ، ابن مہد ی، عکرمہ بن عمار، یحیٰ بن ابی کثیر، ہلال بن عیاض، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ دو آدمی قضائے حاجت کے لیے اس طرح نہ نکلیں کہ ان کے ستر کھلے ہوئے ہوں اور وہ آپس میں باتیں بھی کر رہے ہوں کیونکہ اللہ تعالی اس (بیہودہ حرکت) پر سخت ناراض ہوتے ہیں۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ اس حدیث کو عکرمہ بن عمار کے علاوہ کسی نے مسند روایت نہیں کیا۔

 

                   پیشاب کرتے وقت سلام کا جواب نہیں دینا چاہیے

 

عثما ن، ابو بکر، ابی شیبہ، عمر بن سعید، سفیان، ضحاک بن عثمان، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس سے گزرا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پیشاب کر رہے تھے اس نے سلام کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ وغیرہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تیمم کیا پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔

 

محمد بن مثنی، عبد الاعلی، سعید، قتادۃ، حسن، حضین بن منذر، ابی ساسان، حضرت مہاجر بن قنفذ سے روایت ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس گئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پیشاب کر رہے تھے انھوں نے سلام کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سلام کا جواب نہیں دیا یہاں تک کہ (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے استنجا سے فراغت کے بعد) وضو کیا اور ان سے معذرت کی اور فرمایا کہ مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں پاکی کے بغیر اللہ کا ذکر کروں۔

 

                   پاکی کے بغیر اللہ کا ذکر کرنا

 

محمد بن علاء، ابن ابی زاہد ہ، خالد بن سلمہ، عروۃ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تمام اوقات میں اللہ کا ذکر کرتے تھے۔

 

                   جس انگوٹھی پر اللہ کا نام کندہ ہو اسے لے کر بیت الخلاء میں نہیں جانا چاہئیے

 

نصربن علی، ابی علی حنفی، ہمام، ابن جریح، زہری، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب بیت الخلاء میں جانے کا ارادہ فرماتے تو انگوٹھی کو نکال کر رکھ دیتے۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ یہ حدیث منکر ہے اور حدیث معروف ابن جریج سے بسند زیاد بن سعد بواسطہ زہری حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اور پھر اس کو نکال ڈالا اور اس حدیث میں وہم ہمام کی جانب سے ہے اور ہمام ہی نے اس کو روایت کیا ہے۔

 

                   پیشاب کی چھینٹوں سے بچنے کا بیان

 

زہیر بن حرب، ہناد، وکیع، اعمش، مجاہد، طاؤس، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دو قبروں کے پاس سے گذرے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ان دونوں کو عذاب قبر ہو رہا ہے اور عذاب بھی کسی دشوار اور مشکل بات پر نہیں بلکہ اس بات پر کہ ان میں سے ایک تو پیشاب کہ چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغل خوری کرتا تھا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کھجور کی ایک تازہ شاخ منگوائی اور اس کو درمیان سے چیر کر دو حصے کر دیئے اور پھر ایک حصہ ایک قبر پر اور دوسرا حصہ دوسری قبر پر لگا دیا اور فرمایا امید ہے کہ جب تک یہ شاخیں سوکھ نہ جائیں گی تب تک ان کے عذاب میں تخفیف رہے گی ہناد نے بجائے یستنزہ کے یستتر روایت کیا ہے (پردہ نہیں کرتا تھا)

 

عثمان بن ابی شیبہ، جریر، منصور، مجاہد، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اسی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی ہے جریر نے کان لا یَستَتِرُ اور ابو معاویہ نے کَانَ لَا یَستَنزِہٗ مِن بَولِہِ روایت کیا ہے۔

 

مسدد، عبد الواحد، اعمش، زید بن وہب، حضرت عبد الرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں اور عمر بن العاص رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس گئے (ہم نے دیکھا) کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس ایک ڈھال ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کو لے کر باہر نکلے اور اس کی آڑ میں بیٹھ کر پیشاب کرنے لگے ہم نے آپس میں کہا ذرا دیکھو تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یوں (چھپ کر اور بیٹھ کر) پیشاب کر رہے ہیں جیسے عورتیں کیا کرتی ہیں یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ کیا تمھیں بنی اسرائیل کے ایک شخص کا انجام معلوم نہیں؟ بنی اسرائیل کے لیے قانون تھا کہ جب ان میں سے کسی کے کپڑے کو پیشاب لگ جاتا تو وہ اس مقام کو کاٹ ڈالتے تھے اس شخص نے ان کو (اس قانون پر عمل کرنے سے) روکا تو اس کو (اس جرم کی پاداش میں) عذاب قبر میں مبتلا کر دیا گیا۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ منصور نے بسند ابو وائل، بواسطہ ابو موسیٰ اس حدیث میں روایت کیا ہے کہ وہ اپنی کھال کاٹ ڈالتے تھے اور عاصم نے بسند ابو وائل بواسطہ ابو موسیٰ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کیا ہے کہ وہ اپنا جسم کاٹ ڈالتے تھے۔

 

                   کھڑے ہو کر پیشاب کرنا

 

حفص بن عمر، مسلم بن ابراہیم، شعبہ، مسدد، ابو عوانہ، حفص، سلیمان، ابی وائل، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک کوڑی (گندگی کے ڈھیر) پر گئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پانی منگوایا اور موزوں پر مسح کیا ابو داؤد کہتے ہیں کہ مسدد نے (مزید الفاظ روایت کرتے ہوئے) کہا ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں پیچھے ہٹنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے بلایا یہاں تک کہ میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ایڑیوں کے بالکل قریب آ گیا۔

 

                   رات کے وقت کسی برتن میں پیشاب کر کے رکھ چھوڑنا

 

محمد بن عیسیٰ، حجاج، ابن جریح، حضرت امیمہ بنت رقیۃ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس لکڑی کا ایک پیالہ تھا جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے تخت کے نیچے رکھا رہتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس میں رات کے وقت (بوقت ضرورت) پیشاب کر لیا کرتے تھے۔

 

                   پیشاب کے ممنوعہ مقامات

 

قتیبہ بن سعید، اسماعیل بن جعفر، علاء بن عبد الرحمن، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا دو لعنت والے کاموں سے بچو صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا وہ دو کام کون سے ہیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا پاخانہ کرنا کسی گزرگاہ میں یا سایہ دار جگہ میں۔

 

اسحاق بن سوید رملی، عمربن خطاب ابو حفص، سعید بن حکم، نافع، یزید، حیوہ بن شریح، ابو سعید حمیری، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تین لعنت والے کاموں سے بچو یعنی پاخانہ کرنا پانی کے گھاٹ پر، کسی گذر گاہ پر، اور سایہ دار جگہ میں۔

 

                   غسل خانہ میں پیشاب کرنا

 

“احمد بن محمد بن حنبل، حسن بن علی، عبد الرزاق، احمد، معمر، اشعث، حسن، حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ہرگز غسل خانہ میں پیشاب نہ کرے کہ وہ پھر اسی جگہ غسل بھی کرے احمد کی روایت میں ہے کہ وہ اسی جگہ وضو بھی کرے کیونکہ اس سے وسوسہ پیدا ہوتا ہے۔

 

فائدہ یہ حکم صرف اس صورت میں ہے جبکہ غسل خانے کا فرش کچا ہو اور پیشاب اس میں جذب ہوتا ہو اگر فرش پختہ ہو اور پیشاب نکلنے کی جگہ ہو تو پھر ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔”

 

“احمد بن یونس، زہیر، داؤد بن عبد اللہ، حمید بن عبد الرحمن حمیدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک ایسے شخص سے ملا جو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرح آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں رہ چکا تھا اس کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہر روز کنگھی کرنے اور غسل خانہ میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔

 

فائدہ: اس پر اتفاق ہے کہ ہر روز کنگھی کرنے کی نہی نہی تنزیہی ہے خیال رہے کہ نہی تنزیہی جواز کا ہی ایک شعبہ ہے۔”

 

                   جانوروں کے بل میں پیشاب کرنے کی ممانعت

 

عبید اللہ بن عمر بن میسرہ، معاذ بن ہشام، ابو قتادہ، عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سوراخ (بل) میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے لوگوں نے حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ سوراخ میں پیشاب کرنے میں کیا حرج ہے؟ فرمایا لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ سوراخ جنوں کا مسکن ہیں (یہاں جن سے مراد ہر وہ چیز ہے جو نظر کے سامنے نہیں بچھو وغیرہ۔

 

                   بیت الخلاء سے نکلنے کی دعاء

 

عمر بن محمد ناقد، ہاشم بن قاسم، اسرائیل، یوسف بن ابو بردہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب بیت الخلاء سے باہر آتے تو پڑھتے غُفرَانَکَ (اے اللہ میں بخشش چاہتا ہوں)

 

                   استنجاء کے لیے داہنے ہاتھ کا استعمال مکروہ ہے

 

مسلم بن ابراہیم، موسیٰ بن اسما عیل، یحیٰ بن عبد اللہ، حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرے تو وہ اپنے ذکر (عضوِ مخصوص) کو داہنے ہاتھ سے نہ چھوئے اور جب پاخانہ کے لیے جائے تو داہنے ہاتھ سے استنجاء (آب دست نہ کرے) اور جب کوئی چیز پیئے تو ایک ہی سانس میں نہ پیئے۔

 

محمد بن آدم بن سلیمان مصیصی، ابن ابی زاہدہ، ابو ایوب افریقی، عاصم بن مصیب بن رافع، معید، حارثہ بن وہب خزاعی، حفصہ زوجہ رسول حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے داہنے ہاتھ کو کھانے پینے اور کپڑا وغیرہ (جیسے کاموں میں) پہننے میں استعمال فرماتے تھے اور بائیں ہاتھ کو دیگر کاموں (مثلاً استنجاء وغیرہ) کے لیے مخصوص رکھتے تھے۔

 

ابو توبہ بن الربیع، عیسیٰ بن یونس، ابو عر وبہ، ابو معشر، ابر ہیم، اسود، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم داہنے ہاتھ کو وضو وغیرہ اور کھانے پینے جیسے کاموں میں استعمال فرماتے تھے اور بائیں ہاتھ کو استنجاء کرنے اور گندگی کے ازالہ کے لیے استعمال فرماتے تھے۔

 

محمد بن حاتم بن بزیع، عبد الوہاب بن عطاء، سعید، ابو معشر، ابراہیم، اسود، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سابقہ حدیث کے ہم معنی اور بھی احادیث بیان کی ہیں

 

                   قضائے حاجت کے وقت پردہ کرنے کا بیان

 

ابراہیم بن موسیٰ رازی، عیسیٰ بن یونس، ثور، حصین، حبرانی، ابو سعید، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جو شخص سرمہ لگائے تو طاق مرتبہ لگائے جو ایسا کرے تو بہتر ہے اور جو ایسا نہ کرے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں اور جو شخص استنجاء کے لیے ڈھیلے لے تو طاق عدد لے جو ایسا کرے تو بہتر ہے اور جو ایسا نہ کرے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں اور جو شخص کوئی چیز کھائے اور پھر خلال کرنے سے کچھ نکلے تو اس کو پھینک دے اور جو کچھ زبان کی حرکت پر نکلے تو اسے نگل جائے جو ایسا کرے تو بہتر ہے اور جو ایسا نہ کرے تو بھی کوئی حرج نہیں اور جو شخص قضائے حاجت کے لیے جائے تو پردہ اختیار کرے اگر پردہ کی کوئی چیز نہ مل سکے تو کم از کم مٹی کا ایک ڈھیر لگا کر ہی اس کی آڑ میں بیٹھ جائے اس لیے کہ شیطان (برہنگی کی حالت میں) آدمی کی شرمگاہ سے کھیلتا ہے جو شخص ایسا کرے تو بہتر ہے اور جو ایسا نہ کرے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے ابو داؤد کہتے ہیں کہ عاصم نے بواسطہ ثور (حصین حبرانی کی بجائے) حصین حمید کی روایت کی ہے نیز عبد المالک بن صباح نے بواسطہ ثور ساتھ لفظ خیر کا اضافہ کیا ہے ابو داؤد کہتے ہیں کہ ابو سعید اصحاب خیر میں سے ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ استنجاء میں طاق عدد ڈھیلوں کا استعمال مستحب ہے واجب نہیں احناف کے نزدیک استنجاء میں اصل چیز ازالہ نجاست ہے تین عدد ڈھیلوں کا استعمال مسنون اور طاق عدد مستحب ہے۔

 

                   استنجاء کے لیے ممنوعہ چیزیں

 

یزید بن خالد بن عبد اللہ بن مواہب ہمدانی، المفضل ابن فضالہ، مصری، ، عیاش ابن عباس قتبانی، شمیم بن بیتان، شیبان قتبانی، مسلمہ بن، حضرت رویفع بن ثابت سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانہ میں ہم میں سے ایک شخص دوسرے شخص کا اونٹ اس شرط پر لے لیتا تھا کہ مالِ غنیمت میں دونوں برابر کے شریک ہوں گے پھر بعض اوقات ایک کے حصہ میں تیر کے پیکان اور پَر آتے اور دوسرے کے حصہ میں تیر کی لکڑی، حضرت رویفع کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھ سے فرمایا تھا شاید تم زیادہ عمر پاؤ لہذا میرے بعد لوگوں تک میرا یہ پیغام پہنچا دینا کہ جس نے اپنی داڑھی میں گرہ لگائی یا گھوڑے اور اونٹ کے گلے میں گنڈا ڈالا یا کسی جانور کے پاخانہ یا ہڈی سے استنجاء کیا تو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس سے بیزار ہیں۔

 

یز ید بن خالد، مفضل بن عیا ش، شمیم بن بتیان، اسی حدیث کو راوی نے ابو سالم جیشانی سے بھی روایت کیا ہے انھوں نے عبد اللہ بن عمر سے اس وقت سنا جس وقت قلعہ پر والیوں کا محاصرہ کیے ہوئے تھے ابو داؤد کہتے ہیں کہ الیون کا قلعہ فسطاط پہاڑ پر ہے اور یہ کہ شیبان کے والد کا نام امیّہ اور کنیت ابو حذیفہ ہے۔

 

احمد بن محمد بن حنبل، روح بن عبادہ، زکریا بن اسحاق، ابو زبیر، حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہڈی اور مینگنی سے استنجاء کرنے کو منع فرمایا ہے۔

 

حیوۃ بن شریح حمصی، بن عیاش، یحیٰ بن ابو عمر شیبا نی، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئی انھوں نے عرض کیا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنی امت کو منع فرما دیجیئے ہڈی، لید اور کوئلے سے استنجا کرنے سے، کیونکہ اللہ تعالی نے اس میں ہماری روزی رکھی ہے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہم کو مذکورہ اشیاء سے استنجاء کرنے کی ممانعت فرما دی۔

 

                   ڈھیلے سے استنجاء کرنے کا بیان

 

سعید بن منصور، قتیبہ بن سعید، یعقوب بن عبد الرحمن، ابو حازم، مسلم بن قرط، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت کے لیے جائے تو استنجاء کے لیے اپنے ساتھ تین ڈھیلے لے جائے کہ ان سے استنجاء کرے یہ اس کے لیے کافی ہوں گے۔

 

عبد اللہ بن محمد النفیلی، ابو معاویہ، ہشام بن عروہ، حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے استنجاء کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ استنجاء کے لیے تین ڈھیلے کافی ہیں مگر ان تین میں گوبر نہیں ہونا چاہیے۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ ابو اسامہ ابن نمیر نے بھی ہشام بن عروہ کے حوالہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔

 

                   پانی سے پاکی حاصل کرنے کا بیان

 

قتیبہ بن سعید، خلف بن ہشام مقری، عبد اللہ بن یحی، عمر بن عون، ابو یعقوب توم، عن عبد اللہ بن ابو ملیکہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پیشاب کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ پانی کا ایک برتن لے کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے (یہ دیکھ کر) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پوچھا کہ اے عمر یہ کیا ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حصول طہارت کے لیے یہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے واسطے پانی ہے ارشاد ہوا کہ مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ جب بھی پیشاب کروں تو پانی سے طہارت حاصل کروں اگر ایسا کروں گا تو سنت موکدہ ہو جائے گا۔

 

                   پانی سے استنجاء کرنے کا بیان

 

وہب بن بقیہ، خالد واسطی، خالد حذاء، عطاء بن ابو میمونہ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم باغ میں تشریف لے گئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ ایک لڑکا تھا جو ہم سب سے کم عمر تھا وہ پانی کا ایک برتن لیے ہوئے تھا اس لڑکے نے وہ برتن ایک درخت کے پاس رکھ دیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قضائے حاجت سے فراغت کے بعد ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پانی سے استنجاء کیا تھا۔

 

محمد بن علاء ، معاویہ بن ہشام، یونس بن الحارث، ابر اہیم بن ابو میمو نہ، ابو صالح، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ یہ آیت فیہ رِجَال یُّحِبُّونَ اَن یَّتَطَھّرُوا وَاللہٗ یُحِبُ المُطَّھِّرِین (یہاں کے لوگ ایسے ہیں جو خوب طہارت حاصل کرنے کو محبوب رکھتے ہیں اور اللہ تعالی بھی خوب پاک صاف رہنے والوں کو پسند فرماتے ہیں اہل قباء کے بارے نازل ہوئی ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ قباء کے لوگ (ڈھیلوں سے استنجے کے بعد) پانی سے طہارت حاصل کیا کرتے تھے اور اسی بنا پر یہ آیت ان کی شان میں نازل ہوئی۔

 

                   استنجے کے بعد زمین پر رگڑ کر ہاتھ صاف کرنا

 

ابر اہیم بن خالد، اسود بن عامر، محمد بن عبد اللہ، المخزومی، وکیع، شریک، ابر اہیم بن جریر، مغیرہ بن ابو زرعہ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب قضائے حاجت کے لیے تشریف جاتے تو میں کسی پیالہ یا چھاگل میں پانی لاتا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس پانی سے استنجاء کرتے اور پھر اپنا ہاتھ زمین پر رگڑتے پھر میں دوسرے برتن میں پانی لاتا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس پانی سے وضو فرماتے ابو داؤد نے بیان کیا کہ اسود بن عامر کی حدیث زیادہ مکمل ہے

 

                   مسواک کا بیان

 

قتیبہ بن سعید، سفیان، ابی زناد، الاعرج، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اگر مجھ کو مومنین کے دشواری میں پڑ جانے کا خوف نہ ہوتا تو میں نماز عشاء میں تاخیر کرنے اور ہر نماز کے لیے مسواک کرنے کا حکم دیتا۔

 

ابراہیم بن موسی، عیسیٰ بن یونس، محمد بن اسحاق محمد بن ابراہیم تیمی، حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن، زید بن خالد جہنی کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر مجھ کو اپنی امت کے دشواری میں پڑھ جانے کا خوف نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے لیے مسواک کرنے کا حکم دیتا ابو سلمہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو زید کو دیکھا کہ وہ (نماز کے انتظار) بیٹھے رہتے تھے اور مسواک ان کے کان پر اس جگہ رکھی رہتی تھی جہاں کاتب کے کان پر قلم رکھا رہتا ہے وہ جب بھی نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو مسواک کرتے۔

 

محمد بن عوف طائی، محمد بن یحیٰ بن حبان سے روایت ہے کہ میں نے عبد اللہ بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ ہر نماز کے لیے وضو کرتے ہیں خواہ ان کا وضو ہو یا نہ ہو تو اس کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا مجھ سے بیان کیا اسماء بنت زید بن خطاب نے کہ عبد اللہ بن حنظلہ بن عامر نے ان سے بیان کیا کہ (ابتداء میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ہر نماز کے لیے وضو کا حکم دیا گیا تھا خواہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا وضو ہو یا نہ ہو لیکن جب یہ عمل آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لیے باعث مشقت ہو گیا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ہر نماز کے لیے مسواک کا حکم دیا گیا پس ابن عمر اپنے بارے میں یہ خیال کرتے تھے کہ ان میں اس کام کے برداشت کی قوت ہے اس لیے وہ ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے۔

 

                   مسواک کرنے کا طریقہ

 

مسدد، سلیمان بن داؤد عتکی، حماد بن زید ، غیلان بن جریر، ابو بردہ اپنے والد ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہیراوی مسدد کے الفاظ یہ ہیں کہ ان کا بیان ہے کہ ہم کچھ لوگ سواری طلب کرنے کی غرض سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنی زبان مبارک پر مسواک کر رہے ہیں۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ سلیمان کے الفاظ یہ ہیں کہ ابو موسیٰ اشعری نے بیان کیا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس گیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مسواک کر رہے تھے اور مسواک کو اپنی زبان کے کنارے پر رکھ کر اہ اہ کر رہے تھے جیسے کوئی قے کرتے وقت آواز نکالتا ہے

 

                   ایک شخص دوسرے شخص کی مسواک استعمال کر سکتا ہے

 

محمد بن عیسیٰ، عنبسہ، عبد الواحد، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مسواک کر رہے تھے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس دو شخص موجود تھے ان میں سے ایک بڑی عمر کا تھا اور ایک چھوٹی عمر کا تبھی مسواک کی فضیلت میں یہ وحی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہوئی کہ مسواک بڑی عمر والے شخص کو دیں۔ فائدہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک شخص کی مسواک دوسرا شخص استعمال کر سکتا ہے۔

 

                   مسواک دھونے کا بیان

 

محمد بن بشار، محمد بن عبد اللہ عنبسہ بن سعید، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مسواک کرنے اور دھونے کی غرض سے مجھ کو مسواک دیتے مگر پہلے میں وہ خود مسواک (حصول برکت کی خاطر) استعمال کرتیں اور اس کے بعد دھو کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو لوٹا دیتی۔

 

                   مسواک کا تعلق دین فطرت سے ہے

 

یحیٰ بن معین، وکیع، زکریا بن ابی زائدہ، مصعب بن شیبہ، طلق بن حبیب، ابن زبیر، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا دس چیزیں دین فطرت سے تعلق رکھتی ہیں (یعنی یہ دس چیزیں تمام انبیاء علیہم السلام کی مشترک سنت رہی ہیں (1) مونچھیں کم کرنا (2) ڈاڑھی بڑھانا (3) مسواک کرنا (4) ناک میں پانی ڈالنا (5) ناخن تراشنا (6) انگلیوں کے پوروں اور جوڑوں کو دھونا (7) بغل کے بال اکھیڑنا (8) زیر ناف کے بال مونڈنا (9) پیشاب کے بعد پانی سے استنجاء کرنا۔ زکریا کہتے ہیں کہ میں دسویں چیز بھول گیا ہوں ہو سکتا ہے کہ (10) وہ کلی کرنا ہو۔

 

موسیٰ بن اسماعیل، داؤد بن شبیب، حماد، علی بن زید، سلمہ بن محمد، حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا دین فطرت سے تعلق رکھتا ہے باقی حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مطابق بیان کی مگر عمار بن یاسر نے داڑھی بڑھانے کا ذکر نہیں کیا بلکہ اس کے بجائے ختنہ کرانے اور استنجے کے بعد ازار پر پانی کے چھینٹے دینے کا ذکر کیا مگر پانی سے استنجے کا ذکر نہیں کیا۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ اس حدیث کے مانند ابن عباس سے بھی مروی ہے انھوں نے پانچ سنتیں ذکر کی ہیں جو سب کی سب سر کے متعلق ہیں ان میں سے ایک مانگ نکالنا ہے اور انھوں نے داڑھی بڑھانے کا ذکر نہیں کیا ابو داؤد کہتے ہیں کہ حماد کی مذکورہ روایت کے مانند طلق بن حبیب، مجاہد، اور بکر بن عبد اللہ مزنی کے حوالہ سے یہ ان کا قول نقل کیا گیا ہے مگر اس میں داڑھی بڑھانا مذکور نہیں ہے اور محمد بن عبد اللہ بن ابی مریم کی حدیث بسند ابو سلمہ، بواسطہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مروی روایت میں داڑھی بڑھانا موجود ہے اور ابراہیم نخعی سے بھی ایسا ہی مروی ہے اس میں داڑھی بڑھانے اور ختنہ کرانے کا ذکر ہے۔

 

                   رات کو نیند سے بیدار ہو کر مسواک کرنے کا بیان

 

محمد بن کثیر، سفیان، منصور، حصین، وائل، حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب رات میں بیدار ہوتے تو اپنے منہ کو مسواک سے صاف کرتے

 

موسیٰ بن اسماعیل، حماد، بہز بن حکیم، زرارہ بن ابی اوفی، سعد بن ہشام، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ (رات میں) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لیے وضو کا پانی اور مسواک رکھ دی جاتی پس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب رات میں بیدار ہوتے تو پہلے استنجے کے لیے تشریف لے جاتے اور اس کے بعد واپس آ کر مسواک کرتے۔

 

محمد بن کثیر، ہمام، علی بن زید، ام محمد، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب بھی سو کر اٹھتے خواہ رات میں خواہ دن میں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم وضو سے پہلے مسواک ضرور کرتے۔

 

محمد بن عیسیٰ، ہشیم، حصین، حبیب بن ابی ثابت، محمد بن علی، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک رات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس گزاری (میں نے دیکھا کہ) جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نیند سے بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وضو کا پانی لیا اور مسواک لے کر دانت صاف کرنے لگے پھر آپ نے یہ آیات تلاوت فرمائی (إِنَّ فِی خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ لَآیَاتٍ لِأُولِی الْأَلْبَابِ) یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سورۃ کے ختم کے قریب پہنچ گئے یا سورۃ ختم فرما دی پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم وضو پوری کی اور مصلی پر تشریف لے گئے اور دو رکعت نماز ادا فرمائی اس کے بعد آپ اپنے بستر پر تشریف لے گئے اور سو رہے جب تک اللہ کو منظور ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پھر بیدار ہوئے اور وہی پہلے والا عمل دہرایا یعنی مسواک کی وضو کیا مندرجہ بالا آیات تلاوت فرمائیں اور دو رکعت نماز ادا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے بستر پر تشریف لے گئے اور سو رہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پھر بیدار ہوئے اور وہی سابقہ عمل دہرایا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پھر بستر پر تشریف لے گئے اور سو رہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پھر بیدار ہوئے اور وہی پہلے والا عمل دہرایا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہر مرتبہ مسواک کرتے اور دو رکعت نماز ادا فرماتے اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وتر پڑھے ابو داؤد کہتے ہیں کہ اس حدیث کو فضیل نے بواسطہ حصین اس طرح روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مسواک کی اور وضو کیا اور اس دوران یہ آیات تلاوت فرمائی ان فی خلق السموات والارض الخ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سورۃ ختم کر دی۔

 

ابراہیم، بن موسی، عیسیٰ، مسعر، مقدام بن شریح، حضرت شریح بن ہانی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب گھر میں تشریف لاتے تو سب سے پہلے کیا کام کرتے؟ فرمایا مسواک کرتے تھے۔

 

                   وضو کی فرضیت و اہمیت

 

مسلم بن ابراہیم، شعبہ، قتادہ، حضرت ابو الملیح اپنے والد (اسامہ بن عمیر) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اللہ تعالی مال حرام سے دیا ہوا صدقہ قبول نہیں فرماتے اور نہ ہی پاکی کے بغیر نماز۔

 

احمد بن محمد بن حنبل، عبد الرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اللہ تعالی کسی بے وضو شخص کی نماز قبول نہیں کرتے یہاں تک کہ وہ وضو کر لے۔

 

عثمان بن ابی شیبہ، وکیع، سفیان، ابن عقیل، محمد بن حنفیہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ نماز کی کنجی طہارت ہے اس کی تحریم تکبیر ہے اور اس کی تحلیل سلام ہے۔

 

                   وضو پر وضو کرنا

 

محمد بن یحیٰ بن فارس، عبد اللہ بن یزید، مسدد، عیسیٰ بن یونس، عبد الرحمن بن زیاد، ابو داؤد، محمد ابو غطیف بذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں عبد اللہ بن عمر کے پاس تھا جب ظہر کی اذان ہوئی تو انہوں نے وضو کیا اور نماز پڑھائی اس کے بعد جب عصر کی اذان ہوئی تو انہوں نے دوبارہ وضو کیا میں نے ان سے (اس دوبارہ وضو کے بارے) میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرمایا کرتے تھے کہ جو کوئی وضو پر وضو کرے گا اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دی جائیں گی۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ مسدد کی روایت ہے اور یہ زیادہ مکمل ہے۔

 

                   پانی کے احکام

 

محمد بن علاء، عثمان بن ابی شیبہ، حسن بن علی، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اس پانی کے متعلق پوچھا گیا جس پر اکثر و بیشتر چوپائے اور درندے آتے جاتے ہوں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اگر پانی دو مٹکوں کے برابر ہو تو وہ نجاست کا اثر قبول نہیں کرتا یہ ابن علاء کے الفاظ ہیں اور عثمان و حسن ابن علی نے محمد بن عباد بن جعفر روایت کیا ہے۔

 

موسیٰ بن اسماعیل، حماد، ابو کامل، یزید، ابن زریع، محمد بن اسحاق ، محمد بن جعفر، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اس پانی کے متعلق دریافت کیا گیا جو عام طور پر جنگلوں میں پایا جاتا ہے (تالاب وغیرہ) تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پہلی حدیث کے ہم معنی جواب ارشاد فرمایا۔

 

موسیٰ بن اسماعیل، حماد، عاصم بن منذر، عبید اللہ بن عبد اللہ، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا پانی جب دو مٹکوں کے برابر ہو تو وہ ناپاک نہیں ہو گا ابو داؤد کہتے ہیں کہ حماد ابن زید نے عاصم سے اس روایت کو موقوف بیان کیا ہے۔

 

                   بیئر بضاعہ کا بیان

 

محمد بن علاء، حسن بن علی، محمد بن سلیمان، ابو اسامہ، ولید بن کثیر، محمد بن کعب، عبید اللہ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے دریافت کیا کہ کیا ہم بیئر  بضاعہ کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں؟ حالانکہ وہ ایسا کنواں ہے جس میں حیض آلود کپڑے، کتوں کا گوشت، اور دوسری بدبو دار چیزیں ڈال دی جاتی ہیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا پانی پاک ہے اور اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ابو داؤد کہتے ہیں کہ بعض رواۃ نے (بجائے عبد اللہ بن رافع کے) عبد الرحمن بن رافع روایت کیا ہے۔

 

احمد بن ابی شعیب، عبد العزیز بن یحییٰ، محمد بن سلمہ، محمد بن اسحاق ، سلیط بن ایوب، عبید اللہ بن عبد الرحمن، حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنا جبکہ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پینے کے لیے پانی بیئر بضاعہ سے لایا جاتا ہے حالانکہ وہ کنواں ایسا ہے جس میں کتوں کا گوشت، حیض آلود کپڑے، اور لوگوں کا فضلہ ڈالا جاتا ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا بیشک پانی پاک ہے اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ میں نے قتیبہ بن سعد سے سنا ہے وہ کہتے ہیں کہ میں بئر بضاعہ کے متولی سے پوچھا کہ اس کنویں میں گہرائی کتنی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ جب اس میں پانی زیادہ ہوتا ہے تو زیر ناف تک ہوتا ہے میں پوچھا کہ جب کم ہوتا ہے تو کہاں تک ہوتا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ ستر سے کچھ کم۔ (گھٹنوں تک یا اس سے کم) ابو داؤد کہتے ہیں کہ میں نے بیئر بضاعہ پر اپنی چادر پھیلا کر ناپا تو اس کا عرض چھ ہاتھ نکلا اور میں نے باغ والے سے پوچھا کہ کیا اس کنویں کا حال پہلے کی نسبت اب کچھ بدل گیا ہے؟ اس نے کہا نہیں اور میں دیکھا کہ اس کے پانی کا رنگ بدلا ہوا تھا۔

 

                   جنبی کے استعمال سے پانی ناپاک نہیں ہوتا

 

مسدد، ابو احوص، سماک، عکرمہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ایک زوجہ مطہرہ نے پانی کے ایک برتن سے (ہاتھ سے پانی لیکر) غسل کیا اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تشریف لائے اور باقی ماندہ پانی سے وضو یا غسل کا ارادہ فرمایا تو وہ بولیں کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کہ میں ناپاکی کی حالت میں تھی (اور میں نے اس میں ہاتھ ڈالا تھا) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا (اس طرح) پانی ناپاک نہیں ہوتا۔

 

                   ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے کی ممانعت

 

احمد بن یونس، زائدہ، ہشام، محمد، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی پیشاب نہ کرے کیونکہ وہ پھر اس پانی سے غسل بھی کرے گا۔

 

مسدد، یحییٰ، محمد بن عجلان، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی پیشاب نہ کرے اور نہ ہی اس میں (کھڑے ہو کر) غسل جنابت کرے۔

 

                   کتے کے جھوٹے کا بیان

 

احمد بن یونس، زائدہ، ہشام، محمد، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جب تمہارے برتن میں کتا منہ ڈال کر زبان سے پیئے تو اس برتن کی پاکی اس طرح ہو گی کہ اس کو سات مرتبہ دھو دیا جائے اور پہلی مرتبہ مٹی سے مانجھا جائے، ابو داؤد کہتے ہیں کہ ایوب اور حبیب بن شہید نے بھی محمد بن سیرین سے اسی طرح روایت کیا ہے

 

مسدد، معتمر، ابن سلیمان، محمد بن عبید، حماد بن زید، معتمر بن سلیمان (دوسری سند) محمد بن عبید، حماد بن زید دونوں روایت کرتے ہیں عن ایوب عن محمد کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پہلی حدیث کے ہم معنی روایت ہے لیکن ان دونوں (معتمر بن سلیمان اور حماد بن زید) نے اس کو مرفوعاً نقل نہیں کیا ہے اور ایوب نے یہ اضافہ کیا ہے کہ جب بلی برتن میں منہ ڈال کر پیئے تو ایک مرتبہ دھو دیا جائے۔

 

موسیٰ بن اسماعیل، ابان، قتادہ، محمد بن سیرین، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جب کتا کسی برتن میں منہ ڈال کر پیئے تو اس کو سات مرتبہ دھوؤ اور ساتویں مرتبہ میں مٹی لگا کر دھوؤ ابو داؤد کہتے ہیں کہ ابو صالح، ابو رزین، اعرج، ثابت احنف، ہمام ابن منبہ، ابو سدی عبد الرحمٰن ان سب حضرات نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس روایت کو بیان کیا ہے لیکن انھوں نے مٹی سے دھونے کا ذکر نہیں کیا۔

 

احمد بن محمد بن حنبل، یحیٰ بن سعید، شعبہ، ابو تیاح، مطرف، حضرت عبد اللہ ابن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ابتداء میں کتوں کے مار ڈالنے کا حکم فرمایا تھا لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ان کا قصور کیا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے شکاری کتوں اور بکریوں کے محافظ کتوں کے پالنے کی اجازت مرحمت فرمائی اور فرمایا کہ جب کتا کسی برتن میں منہ ڈال دے تو اس کو سات مرتبہ دھوؤ اور آٹھویں مرتبہ مٹی سے مانجھو۔ ابو داؤ کہتے ہیں کہ ابن مغفل نے ایسا ہی کہا ہے۔

 

                   بلی کے جھوٹے کا بیان

 

عبد اللہ بن مسلمہ، مالک، اسحاق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ، حمیدہ بنت عبید بن رفاعہ، حضرت کبشہ بنت کعب بن مالک جو ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے (عبد اللہ) کے نکاح میں تھیں وہ فرماتی ہیں کہ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے تو میں نے ایک برتن میں ان کے وضو کے لئے پانی رکھا۔ اتنے میں ایک بلی آئی اور اس میں سے پینے لگی تو انھوں نے برتن اس کے لئے جھکا دیا یہاں تک کی اس نے پانی پی لیا۔ کبشہ کہتی ہیں انھوں نے دیکھا کہ میں ان کی طرف حیرت سے دیکھ رہی ہوں۔ وہ بولے اے بھتیجی کیا تم کو اس بات سے حیرت ہو رہی ہے؟ میں نے کہا ہاں اس پر ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے بلی کا جھوٹا پاک ہے کیونکہ وہ ہر وقت تمھارے گھروں میں آنے والی ہے۔

 

عبد اللہ بن مسلمہ، عبد العزیز، داؤد بن صالح بن دینار التمار اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کی والدہ کو غلامی سے آزاد کرنے والی عورت نے ان کی والدہ کو ہریسہ (ایک قسم کا کھانا) دے کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا (جب وہ ان کے گھر پہنچیں تو دیکھا) کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نماز میں مصروف ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اشارہ سے فرمایا کہ اس کو رکھ دو۔ اتنے میں ایک بلی آئی اور اس میں سے کھانے لگی۔ پس جب آپ نماز سے فارغ ہوئیں تو آپ نے اسی جگہ سے کھانا شروع کیا جہاں سے بلی نے کھایا تھا اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے کہ بلی ناپاک نہیں ہے کیونکہ وہ تمھارے پاس ہر وقت آنے جانے والا جانور ہے۔ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بلی کے جھوٹے پانی سے وضو کر لیا کرتے تھے

 

                   عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے کا بیان

 

مسدد، یحییٰ، سفیان، منصور، ابراہیم، اسود، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک ہی برتن سے (پانی لے کر) غسل کرتے تھے اس حال میں کہ ہم جنبی تھے۔

 

عبد اللہ بن محمد، وکیع، اسامہ بن زید، حضرت ام صبیّہ جہنیّہ سے روایت ہے کہ وضو کرتے وقت میرا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ہاتھ ایک برتن میں پڑتا تھا۔

 

عبد اللہ بن مسلمہ، مالک، نافع، مسدد، حماد، ایوب، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانہ میں مرد اور عورت وضو کرتے تھے مسدد نے یہ اضافہ کیا ہے کہ ایک برتن سے ایک ساتھ۔

 

مسدد، یحییٰ، عبید اللہ، نافع، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانہ میں ہم مرد اور عورت مل کر ایک برتن سے وضو کرتے تھے اور سب اپنے ہاتھ اسی ایک برتن میں ڈالتے تھے۔

 

                   عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو اور غسل کی ممانعت

 

احمد بن یونس، زہیر، داؤد بن عبد اللہ، مسدد، ابو عوانہ، داؤد بن عبد اللہ، ابو عوانہ، داؤد بن عبد اللہ، حضرت حمید حمیری سے روایت ہے کہ میں ایک ایسے شخص سے ملا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صحبت میں چار سال تک اس طرح رہ چکا تھا جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رہتے تھے ان کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی عورت مرد کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے یا کوئی مرد عورت کے بچے ہوئے پانی نہائے۔ اور مسدد نے یہ اضافہ کیا ہے کہ اور وہ دونوں ایک ساتھ چلو سے پانی لیتے جائیں۔

 

ابن بشار، ابو داؤد، شعبہ، حکم بن عمرو اقرع سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی مرد عورت کے غسل یا وضو کے باقی ماندہ پانی سے وضو کرے۔

 

                   سمندر کے پانی سے وضو کرنے کا بیان

 

عبد اللہ بن مسلمہ، مالک، صفوان بن سلیم، سعید، بن سلمہ، آل ابن ازوق، مغیرہ، بن ابی بردہ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہم سمندر کا سفر کرتے ہیں اور ہمارے پاس پینے کے لیے پانی محفوظ بہت کم ہوتا ہے اگر ہم اس سے وضو کر لیں تو پیاسے رہ جائیں تو کیا ہم ایسی صورت میں سمندر کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ (مچھلی) حلال ہے۔

 

                   نبیذ سے وضو کرنے کا بیان

 

“ہناد، سلیمان بن داؤد، شریک، ابو فزارہ، ابو زید، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے لیلۃ الجن میں ان سے دریافت فرمایا کہ تمھاری چھاگل میں کیا ہے؟ انہوں نے کہا نبیذ ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کھجور پاک ہے اور پانی پاک کرنے والا ہے ابو داؤد کہتے ہیں کہ شریک نے اس طرح کہا ہے عن ابی زید اور زید اور ہناد نے لیلۃ الجن کا تذکرہ نہیں کیا۔

 

فائدہ۔ ایک روایت میں اضافہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس سے وضو فرمایا لیلۃ الجن سے مراد وہ رات ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جنوں کی تعلیم کے لیے شہر سے باہر تشریف لے گئے تھے۔”

 

موسیٰ بن اسماعیل، وہیب، داؤد، عامر، حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ لیلۃ الجن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ آپ میں سے کون تھا؟ فرمایا ہم میں سے کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ نہ تھا۔

 

محمد بن بشار، عبد الرحمن، بشر بن منصور، ابن جریج، حضرت عطاء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ دودھ اور نبیذ سے وضو کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ میرے نزدیک تیمم اس سے بہتر ہے۔

 

محمد بن بشار، عبد الرحمن، حضرت ابو خلدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ابو العالیہ سے پوچھا کہ ایک شخص کو غسل کی ضرورت لاحق ہو گئی مگر اس کے پاس پانی نہیں ہے البتہ نبیذ ہے تو کیا وہ اس سے غسل کر سکتا ہے؟ فرمایا نہیں۔

 

                   قضائے حاجت کا تقاضہ ہو تو نماز نہیں پڑھنی چاہیئے

 

احمد بن یونس، زہیر، ہشام بن عروہ، حضرت عبد اللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حج یا عمرہ کے ارادہ سے نکلے آپ کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے اور آپ ان کی امامت کیا کرتے تھے ایک دن صبح کی نماز ہونے لگی تو آپ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص امامت کے لیے آگے آئے یہ کہہ کر آپ قضائے حاجت کے لیے جانے لگے اور فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے تھے کہ جب تم میں سے کسی کو قضائے حاجت کی ضرورت پیش آ جائے اور نماز کھڑی ہو چکی ہو تو اس کو چاہیئے کہ پہلے اپنی ضرورت سے فارغ ہو لے ابو داؤد کہتے ہیں کہ وہیب بن خالد، شعیب بن اسحاق اور ابو ضمرہ نے اس حدیث کو ہشام بن عروہ سے بسند عروہ ایک ایسے شخص کے واسطہ سے روایت کیا ہے کہ جس نے ان کو یہ حدیث حضرت عبد اللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ سے سنائی ہے اور اکثر جنہوں نے اس حدیث کو ہشام سے روایت کیا ہے انہوں نے اسی طرح روایت کی جس طرح کہ زہیر نے روایت کی۔

 

احمد بن محمد بن حنبل، مسدد، محمد بن عیسیٰ، یحیٰ بن سعید، قاسم بن محمد کے بھائی عبد اللہ بن محمد سے روایت ہے کہ ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے اتنے میں ان کے (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) لیے کھانا آیا تو قاسم کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے (یہ دیکھ کر) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے تھے کہ جب کھانا حاضر ہو تو کھانا چھوڑ کر نماز نہ پڑھی جائے اور اسی طرح اس وقت بھی نماز نہ پڑھی جائے جب پیشاب یا پاخانہ کی ضرورت ہو۔

 

محمد بن عیسیٰ، ابن عیاش، حبیب بن صالح، یزید بن شریح، ابو حی، حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھ سے فرمایا کہ تین باتیں ایسی ہیں جن کا کرنا کسی شخص کے لیے درست نہیں ایک یہ کہ جب وہ امام بنے تو صرف اپنے ہی لیے دعا کرے اور دوسروں کے لیے نہ کرے اگر اس نے ایسا کیا تو گویا اس نے لوگوں کے ساتھ خیانت کی دوسرے یہ کہ بغیر اجازت کسی کے گھر جھانکنا اگر اس نے ایسا کیا تو وہ گویا بغیر اجازت اندر گھس گیا تیسرے پیشاب پاخانہ کے وقت نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ وہ فارغ نہ ہو جائے۔

 

محمود بن خالد، احمد بن علی، ثور، یزید بن شریح، ابو حی، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ پیشاب پاخانہ روکے ہوئے نماز پڑھے یہاں تک کہ وہ ان سے فراغت حاصل کر لے پھر ثور نے حبیب ابن صالح کی حدیث کی ماند یہ الفاظ روایت کیے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جو شخص اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ لوگوں کی مرضی کے بغیر ان کی امامت کرے اور یہ کہ وہ دعا میں اپنی ذات کو خاص کرے پس جس نے ایسا کیا گویا اس نے ان کے ساتھ خیانت کی ابو داؤد کہتے کہ یہ حدیث شام والوں کی ہے اور اس میں ان کا کوئی شریک نہیں۔

 

                   وضو کے لیے کتنا پانی کافی ہے

 

محمد بن کثیر، ہمام، بن قتادہ، صفیہ بنت شیبہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک صاع پانی سے غسل کرتے تھے اور ایک مد پانی سے وضو۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ اس حدیث کو ابان نے بھی قتادہ سے روایت کیا ہے اس میں قتادہ نے کہا ہے کہ میں نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے۔

 

احمد بن محمد بن حنبل، ہشیم، یزید بن ابی زیاد، سالم بن ابی جعد، حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک صاع پانی سے غسل کرتے تھے اور ایک مد پانی سے وضو۔

 

محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، حبیب، عباد بن تمیم، حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وضو کا ارادہ کیا تو ایک برتن میں پانی لایا گیا جس میں دو تہائی مد پانی تھا۔

 

محمد بن صباح، بزار، شریک، عبد اللہ بن عیسیٰ، عبد اللہ بن جبیر، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایسے برتن سے وضو فرماتے تھے جس میں دو رطل پانی آتا تھا اور غسل ایک صاع پانی سے کرتے تھے۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ اس حدیث کو شعبہ نے روایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھ سے عبد اللہ بن عبد اللہ بن جبیر نے بیان کیا ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا ہے مگر انہوں نے یہ کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک مک پانی سے وضو کرتے تھے اور انہوں نے رطلین کا ذکر نہیں کیا ابو داؤد کہتے ہیں کہ اسی حدیث کو یحیٰ بن آدم نے شریک سے روایت کیا ہے اس میں عن ابن جبر بن عتیک ہے ابو داؤد کہتے ہیں کہ یہی حدیث سفیان نے عبد اللہ بن عیسیٰ سے روایت کی ہے جس میں حدثنی جبر بن عبد اللہ ہے ابو داؤد کہتے ہیں کہ میں نے احمد بن حنبل کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ صاع پانچ رطل کا ہوتا ہے ابو داؤد کہتے ہیں کہ یہ ابن ابی ذئب کا صاع ہے اور یہی صاع آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا تھا

 

                   وضو میں اسراف جائز نہیں

 

موسیٰ بن اسماعیل، حماد، سعید، حضرت ابو نعامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن مغفل نے اپنے بیٹے کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا اے اللہ میں تجھ سے سفید محل مانگتا ہوں جنت کی داہنی طرف جس وقت کہ میں جنت میں داخل ہوں (یہ سن کر حضرت عبد اللہ نے) کہا کہ اے بیٹے اللہ سے جنت طلب کرو اور جہنم سے پناہ مانگو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب اس امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو پاکی اور دعا میں مبالغہ کریں گے۔ اسلام نے ہر معاملہ میں اعتدال کو پسند کیا ہے اور بے اعتدالی کو کسی بھی معاملہ میں پسند نہیں کیا حتی کہ پاکی اور دعا کے معاملہ میں بھی۔

 

                   اچھی طرح وضو کرنے کا بیان

 

مسدد، یحییٰ، سفیان، منصور، ہلال بن یساف، ابی یحییٰ، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کچھ لوگوں کو دیکھا جن کی (دوران وضو) ایڑیاں خشک رہ گئی تھیں اور یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ خرابی ہے ایڑیوں کے لیے جہنم کی آگ سے، وضو اچھی طرح کیا کرو۔

 

                   کانسی یا پیتل کے برتن سے وضو کرنے کا بیان

 

موسیٰ بن اسماعیل، حماد، ہشام، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پیتل کے برتن سے غسل کرتے تھے۔

 

محمد بن علاء، اسحاق بن منصور، حماد بن سلمہ، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے (ایک دوسری سند کے ساتھ) ایسی ہی حدیث بیان کی گئی ہے۔

 

حسن بن علی، ابو ولید، سہل بن حماد، عبد العزیز بن عبد اللہ بن ابو سلمہ، عمرو بن یحییٰ، حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہمارے پاس تشریف لائے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وضو کے لیے پیتل کے ایک برتن میں پانی نکالا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس سے وضو فرمایا۔ فائدہ۔ پیتل کا رنگ چونکہ سنہرا ہوتا ہے جو سونے کے رنگ کے مشابہ ہے اسی بنا پر اشتباہ ہو سکتا تھا کہ جس طرح سونے کے برتن کا استعمال ممنوع ہے اسی طرح پیتل کے برتن کا ہو گا اس خیال کی تردید مقصود ہے۔

 

                   وضو کے شروع میں بسم اللہ پڑھنے کا بیان

 

قتبیہ بن سعید، محمد بن موسی، یعقوب بن سلمہ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ اس شخص کی نماز نہیں جس کا وضو نہیں اور اس شخص کا وضو نہیں جس نے اس کے شروع میں بسم اللہ نہ پڑھی ہو۔

 

احمد بن عمرو بن سرح، ابن وہب، حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حدیث مذکورہ یعنی اس شخص کا وضو نہیں جس نے اس کے شروع میں بسم اللہ نہ پڑھی کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ کہ جو شخص وضو یا غسل کرے اور اس وضو سے نماز کی اور غسل سے جنابت دور کرنے کی نیت نہ کرے (تو اس کا وضو اور غسل درست نہ ہو گا)

 

                   ہاتھوں کو دھوئے بغیر پانی کے برتن میں ڈالنا

 

مسدد، ابو معاویہ، اعمش، ابو رزین، ابو صالح، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص رات کو سو کر اٹھے تو وہ اپنا ہاتھ پانی کے برتن میں نہ ڈالے یہاں تک کہ وہ رات میں کس جگہ رہا۔

 

مسدد، عیسیٰ بن یونس، اعمش، صالح، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث (ایک دوسری سند کے ساتھ) مروی ہے اس میں مرتین اوثلٰثاً ہے اور اس میں ابو رزین کا ذکر نہیں ہے۔

 

احمد بن عمرو بن سرح، محمد بن سلمہ، ابن وہب، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرمایا کرتے تھے کہ جب تم میں سے کوئی شخص سو کر اٹھے تو وہ اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک کہ اس کو تین مرتبہ نہ دھو لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات میں کہاں رہا یا فرمایا کہاں پھرتا رہا۔

 

حسن بن علی، عبد الرزاق، معمر، عطاء بن یزید، حمران بن ابان، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حمران بن ابان سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا آپ نے وضو کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو تین مرتبہ پانی ڈال کر دھویا پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اس کے بعد تین مرتبہ منہ دھویا اور تین مرتبہ کہنیوں سمیت داہنا ہاتھ دھویا پھر بایاں ہاتھ بھی اسی طریقہ پر دھویا پھر سر پر مسح کیا پھر تین مرتبہ دایاں پاؤں دھویا پھر بایاں پاؤں بھی اسی طرح دھویا اس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اسی طرح وضو کرتے ہوئے سیکھا ہے جس طرح میں نے تم کو وضو کر کے دکھایا ہے نیز آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ جو شخص میرے طریقہ پر وضو کرے گا اور اس کے بعد دو رکعت نماز تحیت الوضو اس طرح پڑھے گا کہ اس کے دل میں دنیا کا کوئی خیال نہ آئے تو اللہ تعالی اس کے تمام پچھلے (صغیرہ) گناہ معاف فرما دے گا۔

 

سلیمان بن حرب، حماد، مسدد، قتیبہ حماد بن زید، سنان بن ربیعہ، شہر بن حوشب، ابو امامہ، حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وضو کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آنکھوں کے حلقوں کو ملایا کرتے تھے اور کہا کہ فرمایا دونوں کان سر کا حصہ ہیں سلیمان ابن حرب کا بیان ہے کہ یہ قول (کہ کان سر کا حصہ ہیں) ابو امامہ کا ہے اور قتیبہ کا بیان ہے کہ حضرت حماد فرماتے تھے کہ میں نہیں جانتا کہ یہ قول کس کا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا یا ابو امامہ کا؟ اور قتیبہ نے (بجائے سنان بن ربیعہ کے) عن سنان ابی ربیعہ روایت کیا ہے۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ وہ ابن ربیعہ ہیں اور ان کی کنیت ابو ربیعہ ہے یعنی دونوں اقوال میں کوئی تعارض نہیں ہے ان کے والد کا نام ربیعہ ہے لہذا ابن ربیعہ کہنا صحیح ہے اور کنیت ابو ربیعہ ہے لہذا ابو ربیعہ کہنا بھی صحیح ہے۔

 

                   اعضائے وضو کا تین تین مرتبہ دھونا

 

مسدد، ابو عوانہ، موسی، بن ابی عائشہ، عمرو بن شعیب، ابیہ حضرت شعیب کے بیٹے عمر رضی اللہ عنہ اہنے والد سے اور وہ اپنے دادا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم وضو کا طریقہ کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک برتن میں پانی منگوایا پہلے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تین مرتبہ ہاتھ دھوئے پھر تین مرتبہ چہرہ دھویا پھر تین مرتبہ کہنیوں تک ہاتھ دھوئے اس کے بعد سر کا مسح کیا اور دونوں ہاتھوں کی شہادت والی انگلیوں کو کانوں کے سوراخ میں ڈالا اور دونوں ہاتھوں کے انگوٹھوں سے کانوں کے اوپر حصہ پر مسح کیا اور شہادت والی انگلیوں سے کان کے اندرونی حصہ پر مسح کیا پھر تین مرتبہ دونوں پاؤں دھوئے اور فرمایا یہ مکمل وضو ہے پس جو کوئی اس پر زیادتی کرے گا تو یقیناً اس نے برا کیا اور اپنے اوپر ظلم کیا یا (یہ فرمایا کہ) اس نے اپنے اوپر ظلم کیا اور برا کیا۔

 

                   اعضائے وضو کا دو دو مرتبہ دھونا

 

محمد بن علاء، زید، ابن حبا ب، عبد الرحمن بن ثوبان، عبد اللہ بن فضل، اعرج، ابو ہریرہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وضو کیا دو دو مرتبہ (یعنی اعضائے وضو کو دو دو مرتبہ دھویا)۔

 

عثمان بن ابی شیبہ، محمد بن بشر، ہشام بن سعد، زید، حضرت عطاء بن یسار رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ہم سے فرمایا کہ کیا تم کو یہ بات پسند ہے کہ میں تم کو عملی طور پر کر کے دکھاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کس طرح وضو کیا کرتے تھے؟ پھر انہوں نے ایک برتن میں پانی منگوایا اور داہنے ہاتھ سے ایک چلو پانی لے کر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا پھر دونوں ہاتھوں سے چلو میں پانی لیکر منہ دھویا پھر ایک چلو میں پانی لے کر داہنا ہاتھ دھویا پھر ایک چلو میں پانی لے کر بایاں ہاتھ دھویا پھر ایک چلو میں پانی لے کر اس کو پھینک دیا اور اس سے سر اور کانوں کا مسح کیا پھر ایک چلو میں پانی لے کر اپنے داہنے پاؤں پر چھڑک لیا جبکہ پاؤں میں جوتا تھا پھر ایک ہاتھ سے پاؤں کے اوپر مسح کیا اس طرح کہ ایک ہاتھ قدم کے اوپر اور دوسرا ہاتھ جوتے کے نیچے تھا۔

 

                   اعضائے وضو کو ایک ایک مرتبہ دھونا

 

مسدد، یحییٰ، سفیان، زید بن اسلم، حضرت عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا میں تم کو نہ بتاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا وضو کیسے ہوتا تھا؟ اور اس کے بعد انہوں نے وضو کیا ایک ایک مرتبہ۔

 

                   کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے لیے الگ الگ پانی لینا

 

حمید بن مسعدہ، معتمر، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا بواسطہ والد اپنے دادا سے وہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس گیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس وقت وضو کر رہے تھے اور پانی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم داڑھی اور چہرہ سے آ کر سینہ پر بہہ رہا تھا اور میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے لیے الگ الگ پانی لیا تھا۔ (احناف کے نزدیک یہی طریقہ افضل ہے)

 

                   ناک میں پانی ڈال کر جھٹکنا

 

عبد اللہ بن مسلمہ، مالک، ابو زناد، اعرج، احضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص وضو کرے تو پہلے ناک میں پانی ڈالے اور پھر اس کو جھٹکے۔

 

ابراہیم بن موسی، وکیع، ابن ابی ذئب، قارظ ابی غطفان، حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ناک میں پانی ڈال کر اس کو دو یا تین مرتبہ خوب اچھی طرح صاف کرو۔

 

قتیبہ بن سعید، یحیٰ بن سلیم، اسماعیل بن کثیر، عاصم لقیط بن صبرہ سے روایت ہے کہ میں بنی منتفق کا نمائندہ تھا یا کہا میں اس وفد میں شامل تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے تو آپ اپنے مقام پر موجود نہیں تھے بلکہ گھر پر ام المومنین حضرت عائشہ موجود تھیں۔ حضرت عائشہ نے ہمارے لئے خزیرہ (ایک قسم کا کھانا) بنانے کا حکم دیا تو وہ ہمارے لئے تیار کر دیا گیا اور ہمارے لئے ایک بڑی پلیٹ میں لایا گیا قتیبہ نے پلیٹ کا ذکر نہیں کیا بلکہ یہ کہا کہ ہمارے لئے کھجوروں کا ایک طباق (بڑی پلیٹ) لایا گیا اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ کیا تم لوگوں نے کچھ کھایا؟ یا یہ فرمایا کہ کیا تمھارے لئے کسی چیز کے بنانے کا حکم دیا گیا۔ ہم نے کہا۔ ہاں۔ یا رسول اللہ! لقیط بن صبرہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک چرواہا بکریاں لے کر باڑے کی طرف چلا اس کے پاس ایک بکری کا بچہ تھا جو چلا رہا تھا۔ آپ نے فرمایا اے چرواہے! کیا پیدا ہوا ہے؟ (یعنی پٹھا ہے یا پٹھیا؟) اس نے کہا پٹھیا۔ آپ نے فرمایا اس کے بدلہ میں ہمارے لئے ایک بکری ذبح کر کے لا۔ اس کے بعد فرمایا کہ تم یہ ہرگز نہ سمجھنا کہ اس کو ہم نے محض تمھاری خاطر ذبح کیا ہے بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس سو بکریاں ہیں اور ہمیں اس سے زیادہ کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب کوی پٹھیا پیدا ہوتی ہے تو ہم اس کے بدلہ ایک بکری ذبح کر دیتے ہیں میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میری بیوی ہے اور وہ بد زبان ہے (بتائیے میں اس کے ساتھ کیا معاملہ کروں؟ آپ نے فرمایا تب تم اس کو طلاق دے دو۔ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسو ل! ایک مدت تک میرا اور اس کا ساتھ رہا ہے اور میرا ایک بچہ بھی ہے۔ تو آپ نے فرمایا۔ اس کو نصیحت کرو اور سمجھاؤ بجھاؤ۔ اگر اس میں بھلائی ہے تو سمجھ جائے گی۔ (اور فرمایا کہ) اپنی بیوی کو خادمہ یا لونڈی کی طرح نہ مارو۔ اس کے بعد میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! مجھے مکمل وضو کا طریقہ بتائیے آپ نے فرمایا وضو اچھی طرح کرو (یعنی تمام اعضاء تک پانی پہنچاؤ اور تمام اعضاء کو تین مرتبہ دھوؤ اور سر اور دونوں کانوں کا مسح کرو) اور (اپنے پاؤں اور ہاتھوں کی) انگلیوں کا خلال کرو اور ناک میں پانی ڈال کر اس کو خوب اچھی طرح صاف کرو بشرطیکہ تم روزہ دار نہ ہو۔

 

عقبہ بن مکرم، یحیٰ بن سعید، ابن جریج، اسماعیل بن کثیر، عاصم بن لقیط بن صبرہ سے روایت ہے کہ وہ بنی منتفق کی طرف نمائندہ بن کر آئے تھے وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس (اس کے بعد سابقہ حدیث کے مفہوم کی روایت بیان کی) اور زیادہ دیر نہیں گذری تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تیز قدم آگے کو جھکے ہوئے تشریف لائے (ابن جریج نے) خزیرہ کی جگہ عصیدہ روایت کیا ہے

 

محمد بن یحیٰ بن فارس، ابو عاصم، ابن جریج نے یہی حدیث بیان کی اس میں یہ اضافہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ جب وضو کرو تو کلی ضرور کیا کرو۔

 

                   ڈاڑھی میں خلال کرنے کا بیان

 

ابو توبہ، ربیع بن نافع، ابو ملیح، ولید بن زوران، انس حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب وضو کرتے تو ایک چلو پانی لے کر اس کو ٹھوڑی کے نیچے لے جاتے اور اس سے ڈاڑھی کا خلال کرتے اور فرماتے میرے رب نے مجھے ایسا ہی حکم کیا ہے

 

                   عمامہ پر مسح کرنے کا بیان

 

احمد بن محمد بن حنبل، یحیٰ بن سعید، ثور، راشد بن سعد حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ایک سریہ (چھوٹا لشکر) روانہ فرمایا وہاں لوگوں کو ٹھنڈ لگ گئی پس جب لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس واپس آئے (تو انہوں نے ٹھنڈ لگنے کی شکایت کی) جس پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو عمامہ اور موزوں پر مسح کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔

 

احمد بن صالح، ابن وہب، معاویہ بن صالح، عبد العزیز بن مسلم، ابو معقل، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سر پر قطری عمامہ تھا (جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم وضو کرتے ہوئے مسح پر پہنچے تو) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عمامہ کے نیچے ہاتھ لے جا کر سر کے ابتدائی حصہ پر مسح کیا اور عمامہ کو نہیں کھولا۔

 

                   پاؤں دھونے کا بیان

 

قتیبہ بن سعید، ابن لہیعہ، یزید بن عمرو، ابی عبد الرحمن حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم وضو کرتے تو اپنے (بائیں ہاتھ کی) چھوٹی انگلی سے پاؤں کی انگلیوں کو ملتے تھے

 

                   موزوں پر مسح کرنے کا بیان

 

احمد بن صالح، عبد اللہ بن وہب، یونس بن یزید، ابن شہاب، عباد بن زیاد، عروہ، بن مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ تھا ایک دن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نماز فجر سے قبل مقررہ راستے سے ہٹ کر چلے تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ ہو لیا ایک جگہ پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے اونٹ کو بٹھایا اور قضائے حاجت کے لیے (ایک طرف) تشریف لے گئے جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم (فراغت کے بعد) واپس آئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہاتھ پر چھاگل سے پانی ڈالا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو پہنچوں تک دھویا پھر چہرہ مبارک دھویا پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آستین سے اپنے ہاتھ نکالنا چاہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے جبہ کی آستین تنگ تھی اس لئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہاتھ اندر کی جانب لے گئے اور جبہ کے نیچے سے ہاتھوں کو نکال کر ان کو کہنیوں تک دھویا اور اپنے سر پر مسح کیا اور پھر اپنے موزوں پر مسح کیا اس کے بعد ہم سوار ہو کر چل پڑے (جب ہم اپنے مقام پر پہنچے) تو ہم نے لوگوں کو نماز میں مشغول پایا (یعنی لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا انتظار نہیں کیا) اور انہوں نے عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو امامت کے لیے آگے بڑھایا اور انہوں نے ان کو مقررہ وقت پر نماز پڑھائی ہم نے عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو اس حال میں پایا کہ وہ نماز فجر کی ایک رکعت پڑھا چکے تھے پس نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دیگر مسلمانوں کے ساتھ صف میں شامل ہو گئے اور عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں دوسری رکعت ادا کی جب حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم (اپنی باقی ماندہ ایک رکعت پڑھنے کے لیے) کھڑے ہو گئے مسلمان یہ دیکھ کر گھبرا گئے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پہلے نماز پڑھ لی ہے انہوں نے اپنے اس قصور پر تسبیح کہنا شروع کر دی جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سلام پھیرا تو ان کی تسلی کے لیے فرمایا تم نے ٹھیک کیا ہے یا فرمایا تم نے اچھا کیا ہے

 

مسدد، یحییٰ، ابن سعید، مسدد، معتمر، بکر، حسن، مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے وضو کیا اور پیشانی پر (یعنی سر کے ابتدائی حصہ پر) مسح کیا۔ معتمر سے روایت ہے کہ میں نے اپنے والد سے سنا انہوں نے ابن مغیرہ بن شعبہ سے اور انہوں نے مغیرہ بن شعبہ سے روایت کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے موزوں پر مسح کرتے تھے اور پیشانی پر اور عمامہ پر بکر نے کہا کہ میں نے یہ روایت ابن مغیرہ سے سنی ہے۔

 

مسدد، عیسیٰ بن یونس، شعبی، حضرت عروہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ چند سواروں میں تھے میرے پاس ایک چھاگل تھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قضائے حاجت کر کے آئے تو میں چھاگل لے کر پہنچا میں نے پانی ڈالا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دونوں ہاتھوں اور چہرہ کو دھویا پھر اپنے بازو آستینوں سے نکالنا چاہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم روم کا بنا ہوا ایک اونی جبہ پہنے ہوئے تھے جس کی آستین تنگ تھیں اس لئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان سے ہاتھ نہ نکال سکے پس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جبہ کے نیچے سے ہاتھ نکالے پھر میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے موزے اتارنے کے لیے جھکا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ان موزوں کو رہنے دو کیونکہ میں نے ان کو طہارت کی حالت میں پہنا ہے اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے موزوں پر مسح کیا عیسیٰ کہتے ہیں میرے والد یونس نے کہا شعبی نے بیان کیا کہ بلا شبہ میرے سامنے عروہ نے اپنے والد سے یہ روایت کی ہے اور بلا شبہ ان کے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے

 

ہدبہ بن خالد، ہمام، قتادہ حسن زرادہ بن اوفی، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جماعت سے پیچھے رہ گئے پھر وہ قصہ بیان کیا (جو پچھلی حدیث میں گذر چکا ہے) اس کے بعد مغیرہ نے کہا کہ جب ہم لوگوں کے پاس آئے تو (ہم نے دیکھا کہ) عبد الرحمن بن عوف ان کو (صبح کی) نماز پڑھا رہے ہیں جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو آتے دیکھا تو ہٹنا چاہا اس پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اشارہ سے فرمایا کہ (ہٹو نہیں) پڑھاتے رہو مغیرہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کے پیچھے ایک رکعت ادا کی پس جب انہوں نے سلام پھیرا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کھڑے ہوئے اور وہ رکعت ادا کی جو چھوٹ گئی تھی اور اس پر کوئی زیادتی نہیں کی (یعنی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کوئی سجدہ سہو نہیں کیا) ابو داؤد کہتے ہیں کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ، ابن زبیر رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ جو شخص امام کے ساتھ طاق (ایک یا تین) رکعت پائے تو اس پر سہو کے دو سجدے لازم ہیں۔

 

عبید اللہ بن معاذ، شعبہ، ابی بکر، ابن حفص، بن عمر بن سعد، حضرت ابو عبد الرحمن سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وضو کا حال پوچھ رہے تھے تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پہلے قضائے حاجت کے لیے جاتے اور جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فارغ ہو کر آتے تو میں پانی لاتا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم وضو کرتے اور اپنے عمامہ اور موزوں پر مسح کرتے۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ ابو عبد اللہ بنی تمیم بن مرّہ کے آزاد کردہ غلام تھے

 

علی بن حسین، ابن داؤد، بکیر بن عامر، حضرت ابو ذرعہ بن عمرو بن جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جریر بن عبد اللہ بحلی نے پیشاب کیا اس کے بعد وضو کیا تو موزوں پر مسح کیا (کسی نے اعتراض کیا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟) تو فرمایا کہ میں مسح کیوں نہ کروں جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے تو (معترضین نے کہا کہ) یہ واقعہ سورہ مائدہ کے نزول سے قبل کا ہو گا تو جواب میں فرمایا کہ میں تو اسلام ہی سورہ مائدہ کے نزول کے بعد لایا ہوں۔

 

مسدد، احمد بن ابی شعیب، وکیع، دلہم بن صالح، حجیر بن عبد اللہ، حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (شاہ حبشہ) نجاشی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں دو سادہ اور سیاہ موزے ہدیہ کے طور پر بھیجے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو پہنا اور وضو میں ان پر مسح کیا مسدد نے عن دلہم بن صالح کہا ہے ابو داؤد کہتے ہیں کہ یہ حدیث ایسی ہے کہ اس کے راویوں میں اہل بصرہ میں سے صرف ایک شخص ہیں

 

احمد بن یونس، ابن حی، حسن بن صالح، بکیر بن عامر، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے موزوں پر مسح کیا (یہ دیکھ کر) میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم (شاید آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پاؤں دھونا) بھول گئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا (میں نہیں بھولا بلکہ مسح کا حکم) تم بھول گئے مجھ کو تو میرے رب نے ایسا ہی حکم کیا ہے۔

 

                   مسح کی مدت کا بیان

 

حفص بن عمرشعبہ، حکم، حماد، ابراہیم، ابی عبد اللہ، حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ مسافر کے لیے موزوں پر مسح کی مدت تین دن (اور تین رات) ہے اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ابو داؤد کہتے ہیں کہ اس حدیث کو منصور بن معتمر نے ابراہیم تیمی سے اس کی اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے اس میں یوں ہے کہ اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے زیادہ مدت کے طلب گار ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہمیں مزید مدت تک کی اجازت مرحمت فرما دیتے۔

 

یحیٰ بن معین، عمرو بن ربیع بن طارق، حضرت ابی بن عمارہ رضی اللہ عنہ سے جن کے بارے میں یحیٰ بن ایوب کا بیان ہے کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی ہے روایت ہے کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کیا میں موزوں پر مسح کر سکتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہاں انہوں نے کہا کیا ایک دن تک آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہاں ایک دن تک انہوں نے پھر پوچھا کہ کیا دو دن تک؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہاں دو دن تک انہوں نے پھر عرض کیا کہ کیا تین دن تک؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہاں تین دن تک اور جب تک تو چاہے۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ اس حدیث کو ابن مریم مصری نے بطریق یحیٰ بن ایوب بسند عبد الرحمن بن رزین بواسطہ محمد بن یزید بن ابی زیاد، عن عبادہ بن نسبیٰ، حضرت ابی بن عمارہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ جس میں یہ ہے کہ انہوں نے سات دن کے لئے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہاں اور جب تک تو چاہے ابو داؤد کہتے ہیں کہ اس حدیث کی اسناد میں اختلاف ہے اور یہ قوی نہیں ہے اس کو ابن ابی مریم اور یحیٰ بن اسحاق سیلحینی نے یحیٰ بن ایوب سے روایت کیا ہے لیکن اس کی اسناد میں بھی اختلاف ہے۔

 

                   جراب پر مسح کرنے کا بیان

 

عثمان بن ابی شیبہ وکیع سفیان، حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وضو کیا اور جوربین اور نعلین پر مسح کیا ابو داؤد کہتے ہیں کہ عبد الرحمن بن مہدی اس حدیث کو بیان نہیں کرتے تھے کیونکہ حضرت مغیرہ سے مشہور یوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے موزوں پر مسح کیا (نہ کہ جراب پر) ابو داؤد کہتے ہیں کہ یہ حدیث ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے جس میں یوں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جوربین پر مسح کیا مگر سند نہ متصل ہے اور نہ قوی۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، ابن مسعود، براء بن عازب، انس بن مالک، ابو امامہ، سہل بن سعد اور عمرو بن حریث نے جوربین پر مسح کیا ہے اور یہ حدیث عمرو بن الخطاب اور ابن عباس سے بھی مروی ہے۔

 

مسدد، عباد بن موسی، ہشیم، یعلی بن عطاء عباد، حضرت اوس بن ابی اوس ثقفی سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وضو کیا اور مسح کیا جوتوں پر اور پاؤں پر اور بیان کیا عباد نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک کنویں پر تشریف لائے اور مسدد نے اپنی روایت میں کنویں کا تذکرہ نہیں کیا پھر دونوں اس بیان میں متفق ہو گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وضو کیا اور مسح کیا جوتوں پر اور پاؤں پر۔ فائدہ۔۔ روایت سے جوتوں پر مسح کرنا معلوم ہوتا ہے لیکن ائمہ اربعہ میں سے کوئی بھی اس کا قائل نہیں ہے کیونکہ روایت ضعیف ہے اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پاؤں پر مسح کیا ہے جوتا پہنے پہنے صرف جوتا پر مسح کرنے پر اکتفا نہیں کیا۔

 

                   موزوں پر مسح کا طریقہ

 

محمد بن صباح، بزار، عبد الرحمن بن ابی زناد، حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم موزوں پر مسح کرتے تھے اور محمد بن صباح کے علاوہ (دوسروں نے جو روایت بیان کی ہے) اس کے الفاظ یہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے موزوں کی اوپر والی سطح پر مسح کیا۔

 

محمد بن علاء، حفص، ابن غیاث، اعمش، ابو اسحاق ، عبد خیر، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اگر دین کا مدار محض قیاس پر ہوتا تو موزہ کے نچلے حصہ پر مسح کرنا زیادہ بہتر ہوتا بہ نسبت اس کے اوپر والے حصہ پر مسح کرنے سے حالانکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو موزوں کے اوپر والے حصہ پر مسح کرتے دیکھا ہے۔

 

محمد بن رافع، یحیٰ بن آدم، یزید بن عبد العزیز، حضرت اعمش سے یہ حدیث سابقہ سند کے ساتھ مروی ہے مگر اس میں ہمیشہ باطن قدم (تلووں) کو دھونا افضل سمجھتا تھا یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو موزوں کے ظاہر پر مسح کرتے ہوئے دیکھا فائدہ موزوں کا ظاہر وہ ہے جو پاؤں کے اوپر ہے اور باطن وہ ہے جو پاؤں کے نیچے ہے۔

 

محمد بن علاء، حفص بن غیاث، حضرت اعمش ما قبل کی طرح اس حدیث کو بیان کرتے ہیں مگر اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول یوں نقل کیا گیا ہے کہ اگر دین کا مدار قیاس پر ہوتا تو تلووں کا مسح کرنا پاؤں کے اوپر مسح کرنے سے افضل ہوتا حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے موزوں کے ظاہر پر مسح کیا ہے اور وکیع نے اپنی مذکورہ سند کے ساتھ بواسطہ اعمش (حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول) یوں نقل کیا ہے کہ میں تلووں کا مسح کرنا زیادہ بہتر سمجھتا تھا بہ نسبت پاؤں کے اوپر مسح کرنے کے یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ان کے اوپر مسح کرتے دیکھا وکیع نے کہا کہ یعنی موزوں کے اوپر اور وکیع کی طرح عیسیٰ بن یونس نے بواسطہ اعمش ایک حدیث روایت کی ہے اور اس حدیث کو ابو السوداء نے عن ابن عبد خیر عن ابیہ، یوں روایت کیا ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا انہوں نے وضو کیا تو دونوں پاؤں اوپر کی جانب دھوئے اور فرمایا اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ایسا کرتے نہ دیکھا ہوتا تو پھر انہوں نے آگے پری حدیث بیان کی۔

 

موسیٰ بن مروان، محمود بن خالد، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے غزوہ تبوک کے موقعہ پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو وضو کرایا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے موزوں کے اوپر اور نیچے مسح کیا ابو داؤد کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ثور نے اس حدیث کو رجاء بن حیوہ سے نہیں سنا ہے (یعنی یہ حدیث منقطع ہے)۔

 

                   شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے دینے کا بیان

 

محمد بن کثیر، سفیان، منصور، مجاہد، حضرت سفیان بن حکم ثقفی یا حکم بن سفیان ثقفی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب پیشاب کرتے تو وضو کرتے اور (وضو کے بعد شرم گاہ کی جگہ ازار پر) پانی کے چھینٹے دیتے ابو داؤد کہتے ہیں کہ اس اسناد پر ایک جماعت نے سفیان کی موافقت کی ہے اور بعض نے حکم یا ابن حکم کہا ہے

 

اسحاق بن اسماعیل، سفیان، ابن ابی نجیح، حضرت مجاہد نے ایک ثقفی شخص سے روایت کی کہ اس نے اپنے والد سے سنا وہ کہتا تھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پیشاب کیا اور اس کے بعد اپنی شرمگاہ (کی جگہ ازار) پر پانی چھڑکا۔

 

نصر بن مہاجر، معاویہ، بن عمرو، زائدہ، منصور، مجاہد، حکم بن سفیان یا سفیان بن حکم سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے والد سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پیشاب کیا اور اس کے بعد وضو کر کے شرمگاہ (کی جگہ ازار) پر پانی کے چھینٹے دیئے۔

 

                   وضو کے بعد کی دعا

 

احمد بن سعید، ابن وہب، معاویہ، حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ تھے اور اپنے کام ہم خود کرتے تھے (یعنی کوئی غلام ساتھ نہ تھا) اور باری باری ہم اپنے اونٹوں کو چراتے تھے پا ایک دن اونٹوں کو چرانے کی میری باری تھی تیسرے پہر میں ان کو واپس لے کر چلا (اور میں جب اپنے کام سے فارغ ہو کر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں پہنچا) تو میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم لوگوں کے سامنے تقریر فرما رہے ہیں میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرما رہے تھے تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو پہلے اچھی طرح وضو کرے، پھر کھڑے ہو کر خشوع و خضوع کے ساتھ دو رکعت نماز (تحیۃ الوضو) پڑھے مگر یہ کہ اس کے لیے جنت واجب ہو جائے میں نے کہا بہت خوب، یہ کیا ہی اچھی بات ہے اس وقت میرے سامنے ایک شخص کھڑا تھا وہ بولا اے عقبہ اس سے پہلے والی بات تو اس سے بھی بڑھ کر اچھی تھی میں نے غور سے دیکھا تو وہ حضرت عمرو بن الخطاب رضی اللہ عنہ تھے تو میں نے ان سے پوچھا کہ اے ابو حفص وہ کیا بات تھی؟ تو انہوں نے کہا کہ ابھی تمہارے آنے سے ذرا پہلے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تھا کہ تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو اچھی طرح (یعنی سنن و آداب کے ساتھ) وضو کرے پھر جب وضو سے فارغ ہو جائے تو کہے اَشھَدُ اَن لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہٗ وَحدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَاَشھَدُ اَنَّ مُحَمدًا عَبدُہٗ وَرَسُولُہ (یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کر سوا کوئی معبود نہیں ہے وہ تنہا ہے کوئی اس کا شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں) مگر یہ کہ (قیامت کے دن) اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے اور وہ جس دروازے سے بھی چاہے گا داخل ہو جائے گا۔ معاویہ نے کہا کہ حدیث مجھ سے ربیعہ بن یزید نے بواسطہ ابو ادریس بسند عقبہ ابن عامر روایت کہ ہے۔

 

حسین بن عیسیٰ، عبد اللہ بن یزید، حضرت عقبہ بن عامر جہنی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے یہ حدیث پہلے والی حدیث کی طرح بیان کی ہے مگر اس میں اونٹوں کے چرانے کا ذکر نہیں کیا ہے البتہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا یہ قول نقل کیا ہے پا اچھی طرح وضو کرے اور آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر کہے (اشھد ان لا الہ الخ) راوی نے باقی حدیث معاویہ کی طرح بیان کی ہے۔

 

                   ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھنے کا بیان

 

محمد بن عیسیٰ، شریک، عمرو بن عامر، محمد اسد بن عمرو نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے وضو کا حکم دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے اور ہم لوگ کئی نمازوں کو ایک ہی وضو سے پڑھ لیا کرتے تھے۔

 

مسدد، یحییٰ، سفیان، علقمہ بن مرثد، حضرت سلیمان بن بریدہ (اپنے والد بریدہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فتح مکہ کے دن ایک وضو سے پانچ نمازوں کو پڑھا، اور موزوں پر مسح کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے عرض کیا کہ میں نے آج آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو وہ کام کرتے دیکھا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پہلے کبھی نہیں کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ میں نے یہ کام قصداً کیا ہے۔

 

                   وضو میں کسی عضو کا خشک رہ جانا

 

ہارون بن معروف، ابن وہب، جریر بن حازم، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس وضو کر کے آیا جس نے اپنے پاؤں میں ایک ناخن کے بقدر جگہ خشک چھوڑ دی تھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا واپس جاؤ اپنا وضو اچھی طرح کرو ابو داؤد کہتے کہ یہ حدیث معروف نہیں ہے اس کو صرف ابن وہب نے روایت کیا ہے اور معقل بن عبید اللہ جزری نے بسند ابو الزبیر، بواسطہ جابر حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اسی طرح روایت کیا اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا لوٹ جا اور اچھی طرح وضو کر۔

 

موسیٰ بن اسماعیل، حماد، یونس، حمید، حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے بھی قتادہ کی حدیث کی مانند ایک حدیث مروی ہے۔

 

حیوہ بن شریح، بقیہ، بجیر، ابن سعد، حضرت خالد رضی اللہ عنہ ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اس کے پاؤں میں ایک درہم کے برابر جگہ سوکھی رہ گئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کو وضو اور نماز کے لوٹانے کا حکم دیا۔

 

                   جب وضو ٹوٹنے میں شک ہو تو کیا کرے؟

 

قتیبہ بن سعید، محمد بن احمد بن ابی بن خلف، سفیان، حضرت سعید بن مسیب اور عباد بن تمیم روایت کرتے ہیں عباد بن تمیم کے چچا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے شکایت کی گئی ایک شخص نماز کے دوران ایک چیز (ریح) محسوس کرتا ہے یہاں تک کہ اس کو گمان ہونے لگتا ہے کہ وضو ٹوٹ گیا ہے (تو ایس صورت میں اس کو کیا کرنا چاہیے؟) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا نماز سے نہ پھرے یعنی نماز نہ توڑے جب تک کہ ریح کی آواز نہ سنے یا اس کی بو نہ سونگھ لے۔

 

موسیٰ بن اسماعیل، حماد، سہیل بن ابی صالح، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص کو نماز کے دوران مقعد میں کوئی حرکت محسوس ہو مگر وضو کے ٹوٹنے یا نہ ٹوٹنے کے بارے میں یقین نہ ہو تو نماز نہ توڑے جب تک کہ آواز نہ سنے یا بو نہ سونگھے۔

 

                   کیا عورت کا بوسہ لینے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

 

محمد بن بشار، یحیٰ بن عبد الرحمن، سفیان، ابو روق، ابراہیم، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کا بوسہ لیا مگر وضو نہیں کیا۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ یہ حدیث مرسل ہے کیونکہ ابراہیم تمیمی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے بلا واسطہ کوئی حدیث نہیں سنی۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ اس کو فریابی وغیرہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔

 

عثمان بن ابی شیبہ، وکیع، اعمش، حبیب، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی بیوی کا بوسہ لیا اور پھر نماز کے لیے تشریف لے گئے اور نیا وضو نہیں کیا (اس حدیث کے راوی) عروہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ وہ بیوی آپ ہی ہو سکتی ہیں اس پر وہ مسکرا دیں ابو داؤد کہتے ہیں زائدہ اور عبد الحمید حمانی نے بھی سلیمان اعمش سے اسی طرح روایت کیا ہے۔

 

ابراہیم بن مخلد، عبد الرحمن بن مغرا، حضرت اعمش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے اصحاب نے بواسطہ عروہ مزنی یہ حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی ہے۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ یحیٰ بن سعید قطان نے ایک شخص سے کہا کہ میری طرف سے یہ بات بیان کر دو کہ یہ دو حدیثیں یعنی ایک اعمش کی یہ حدیث جو حبیب سے مروی ہے اور اس کی دوسری وہ حدیث جو اسی مذکورہ سند کے ساتھ مستحاضہ کے متعلق مروی ہے کہ وہ (یعنی مستحاضہ) ہر نماز کے لیے وضو کرے ان دونوں کے بارے میں بیان کر دو کہ یہ دونوں حدیثیں لاشی محض ہیں یعنی ضعیف ہیں ابو داؤد کہتے ہیں کہ ثوری سے ان کا یہ قول مروی ہے کہ ہم سے حبیب نے صرف عروہ مزنی ہی کے واسطہ سے حدیث بیان کی ہے یعنی انہوں نے عروہ بن زبیر کے واسطہ سے کوئی حدیث بیان نہیں کی ابو داؤد کہتے ہیں حمزہ زیات نے بطریق حبیب، بسند عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے بھی ایک صحیح حدیث روایت کی ہے۔

 

                   شرمگاہ کو چھونے سے وضو کے ٹوٹ جانے کا بیان

 

عبد اللہ بن مسلمہ، مالک، عبد اللہ بن ابی بکر، حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضرت مروان بن حکم کے پاس گیا اور ہم لوگ نواقض وضو کا ذکر کر رہے تھے تو حضرت مروان بولے کہ شرمگاہ کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے حضرت عروہ نے کہا کہ مجھے اس بارے میں معلوم نہیں اس پر حضرت مروان نے فرمایا کہ مجھے بسرہ بنت صفوان نے خبر دی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص نے اپنے ذکر (یعنی شرمگاہ) کو چھوا تو اسے چاہیے کہ وضو کر لے۔

 

                   شرمگاہ کو چھونے سے وضو کے نہ ٹوٹنے کا بیان

 

مسدد، ملازم بن عمرو، عبد اللہ بن بدر، حضرت قیس بن طلق کے والد، طلق بن علی سے روایت ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اتنے میں ایک شخص آیا جو دیکھنے میں بدو لگتا تھا اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس شخص کے متعلق کیا فرماتے ہیں جو وضو کے بعد اپنی شرمگاہ کو چھو لے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا وہ بھی تو جسم کا ایک ٹکڑا ہی ہے ابو داؤد کہتے ہیں کہ ہشام بن حسان، سفیان ثوری، شعبہ، ابن عیینہ اور جریر رازی نے بواسطہ محمد بن جابر، قیس بن طلق سے روایت کیا ہے۔

 

مسدد، محمد بن جابر، حضرت قیس بن طلق نے اسی سند اور معنیٰ کے ساتھ ایک حدیث روایت کی ہے اس میں لفظ فی الصلوٰۃ کا اضافہ ہے۔

 

                   اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو لازم ہونے کا بیان

 

عثمان بن ابی شیبہ، ابو معاویہ، اعمش، عبد اللہ بن عبد اللہ، عبد الرحمن بن ابی لیلی، حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا اس سے وضو کرو اور بکری کا گوشت کھا کر وضو کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا اس سے وضو مت کرو اور سوال کیا گیا اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ پر نماز پڑھنے کے بارے میں تو فرمایا اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ پر نماز مت پڑھو۔ کیونکہ وہ شیطانوں کی جگہ ہے اور دریافت کیا گیا بکریوں کے رہنے کی جگہ پر نماز پڑھنے کے بارے میں تو فرمایا وہاں نماز پڑھ لو کیونکہ وہ برکت کی جگہ ہے۔

 

                   کچا گوشت چھونے سے وضو کرنے یا ہاتھ دھونے کا بیان

 

محمد بن علاء، ایوب بن محمد، عمرو بن عثمان، مروان بن معاویہ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک لڑکے کے پاس سے گذرے جو ایک بکری کی کھال اتار رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہٹ جا میں اس کا طریقہ بتاتا ہوں پس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنا ہاتھ کھال اور گوشت کے اندر ڈالا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ہاتھ بغل تک (گوشت کے اندر) چلا گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تشریف لے گئے اور نماز پڑھائی مگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وضو نہیں کیا ابو داؤد کہتے ہیں کہ عمرو نے اپنی حدیث میں اتنا اضافہ اور کیا ہے کہ پانی سے نہیں دھویا اور ہلال بن میمون سے اس کی روایت بصیغہ عن ہے اور اس نے ان کی نسبت رملی ذکر کی ہے ابو داؤد کہتے ہیں کہ اس حدیث کو عبد الرحمن بن زیاد اور ابو معاویہ نے عن ہلال، عن عطاء عن النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرسلاً روایت کیا ہے اور ابو سعید کا ذکر نہیں کیا۔

 

                   مردہ کو چھونے سے وضو لازم نہیں ہوتا

 

عبد اللہ بن مسلمہ، سلیمان بن ابن بلال، جعفر، حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم عالیہ کی جانب سے داخل ہوتے ہوئے ایک بازار سے گذرے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دونوں جانب لوگ تھے راستہ میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بکری کا ایک مردہ بچہ ملا جس کے دونوں کان چھوٹے تھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسے کان سے پکڑ کر اٹھایا اور فرمایا کہ تم میں سے کون شخص پسند کرے گا اس بات کو کہ یہ بکری کا بچہ اس کو مل جائے راوی نے یہ حدیث آخر تک بیان کی

 

                   آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو لازم نہ ہونے کا بیان

 

عبد اللہ بن مسلمہ، مالک، زید بن اسلم، عطاء بن یسار، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بکری کا دست (بھنا ہوا گوشت) کھایا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نماز پڑھی اور نیا وضو نہیں کیا

 

عثمان بن ابی شیبہ، محمد بن عثمان، وکیع، مسعر، ابی صخرہ، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس مہمان بن کر رہا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے (بکری) کے چاپ (بھوننے) کا حکم دیا پس وہ بھونی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میرے لیے چھری لے کر اس چاپ کے ٹکڑے کرنے لگے (کھانے کے دوران) حضرت بلال رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور نماز کے لیے اذان دی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے چھری رکھ دی اور فرمایا پتہ نہیں اس بلال رضی اللہ عنہ کا کیا ہوا؟ اس کے ہاتھ خاک آلود ہوں (اور یہ کہ کر) کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے (اس حدیث کے راوی) انباری نے یہ اضافہ کیا کہ (حضرت مغیرہ کا بیان ہے کہ) میری مونچھیں بڑھی ہوئی تھیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مسواک پر رکھ کر ان کو کتر دیا یا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ فرمایا کہ مسواک پر رکھ کر میں تمہاری مونچھیں کتروں گا

 

مسدد، ابو احوص، سماک، عکرمہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے شانہ (کا گوشت) کھایا اور (کھانے کے بعد) اپنے نیچے بچھے ہوئے فرش سے ہاتھ صاف کئے پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کھڑے ہوئے اور (نیا وضو کئے بغیر) نماز پڑھی۔

 

حفص بن عمر، ہمام، قتادہ، یحیٰ بن یعمر، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک دست کے گوشت میں سے دانتوں سے نوچ کر کچھ کھایا پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نماز پڑھی اور نیا وضو نہیں کیا

 

ابراہیم بن حسن، حجاج، ابن جریج، محمد بن منکدر، حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے روٹی اور گوشت پیش کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تناول فرمایا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وضو کے لیے پانی طلب کیا اور وضو کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ظہر کی نماز پڑھی (نماز کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے باقی ماندہ کھانا طلب کیا اور (دوبارہ کھانا) تناول فرمایا پھر (کھانے کے فورا بعد) نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور اس (مرتبہ) وضو نہیں کیا

 

موسیٰ بن سہل، ابو عمران، علی بن عیاش، شعیب بن ابی حمزہ، محمد بن منکدر، حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا آخری فعل آگ کی پکی ہوئی چیز کھا کر وضو نہ کرنا تھا ابو داؤد کہتے ہیں کہ (حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا قول) حدیث اول کا اختصار ہے۔

 

احمد بن عمرو بن سرح، عبد الملک، بن ابی کریمہ، ابن سرح، عبید بن ابی ثمامہ ماردی سے روایت ہے کہ صحابی رسول عبد اللہ بن حارث بن جزء مصر میں ہمارے پاس تشریف لائے میں نے ان کو مصر کی ایک مسجد میں حدیث بیان کرتے ہوئے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ ایک مرتبہ ایک شخص کے گھر میں مجھ سمیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ چھ یا سات آدمی تھے اتنے میں (موذن رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) حضرت بلال رضی اللہ عنہ آئے اور نماز کے لیے بلایا (یعنی اذان دی) ہم (گھر سے نماز کے لیے) چلے تو ایک شخص کے پاس سے گذرے جس کی ہانڈی چولہے پر چڑھی ہوئی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس شخص سے دریافت کیا کیا تمہاری ہانڈی پک گئی ہے؟ اس نے کہا ہاں میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر فدا ہوں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک بوٹی ہانڈی سے لے کر (منہ میں رکھ لی) اور نماز کی تکبیر کہے جانے تک اس کو چباتے رہے اور میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف دیکھ رہا تھا (یعنی میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس عمل کو بغور دیکھ رہا تھا)

 

مسدد، یحییٰ، شعبہ، ابو بکر بن حفص، اغر، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اس چیز کے کھانے سے وضو لازم ہو جاتا ہے جو آگ پر پکائی گئی ہو۔

 

مسلم بن ابراہیم، ابان، یحییٰ، ابن کثیر، ابو سلمہ، ابا سفیان بن سعید بن مغیرہ، ام حبیبہ، حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ حضرت ابو سفیان بن سعید بن مغیرہ کا بیان ہے کہ وہ (یعنی ابو سفیان) ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو انہوں نے) یعنی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے) ان کو ستو کا ایک پیالہ پلایا۔ (ستو پی کر) انہوں نے پانی مانگا اور کلی کی حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اے بھانجے (تو نے صرف کلی کیوں کی؟) وضو کیوں نہیں کرتا؟ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھا کر وضو کیا کرو ابو داؤد کہتے ہیں زہری کی حدیث میں (بجائے یا ابن اختی کے) یا ابن اخی ہے۔

 

                   دودھ پی کر کلی کرنے کا بیان

 

قتیبہ، لیث، عقیل، عبید اللہ بن عبد اللہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دودھ پیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پانی منگوا کر کلی کی اور فرمایا کہ اس میں چکنائی ہوتی ہے۔

 

                   دودھ پی کر کلی نہ کرنے کا بیان

 

عثمان بن ابی شیبہ، زید بن حباب، مطیع بن راشد، توبہ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دودھ پیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نہ تو کلی کی اور نہ ہی وضو کیا اور نماز پڑھی، زید نے کہا کہ مجھے اس شیخ (مطیع بن راشد) کی طرف سے حضرت شعبہ نے راہنمائی کی تھی

 

                   خون نکلنے سے وضو ٹوٹنے کا بیان

 

ابو توبہ، ربیع بن نافع، ابن مبارک، محمد بن اسحاق ، صدقہ بن یسار، عقیل بن جابر، حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ ذات الرقاع میں ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ نکلے ایک شخص نے کسی مشرک عورت کو قتل کر ڈالا تو اس نے قسم کھائی کہ جب تک اصحاب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں سے کسی کا خون بہا نہیں لوں گا تب تک چین سے نہیں بیٹھوں گا پس وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نشان قدم پر ان کی تلاش میں چل پڑا، ایک جگہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے قیام کیا تو فرمایا کون ہماری حفاظت کرے گا؟ اس پر مہاجر و انصار میں سے ایک ایک شخص نے آمادگی ظاہر کی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جاؤ گھاٹی کے سرے پر جا کر حفاظت کرو جب یہ دونوں حضرات گھاٹی کے سرے پر پہنچ گئے تو مہاجری آرام کی غرض سے لیٹ گئے اور انصاری کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے اتنے میں وہ مشرک شخص آ پہنچا جب اس نے ان کو دیکھا تو جان گیا کہ یہ قوم کا محافظ ہے اس نے ایک تیر مارا جو ان کے آ کر لگا، انہوں نے اس کو نکال ڈالا یہاں تک کہ اس نے تین تیر مارے پھر انہوں نے رکوع و سجود کر کے (نماز پوری کی) اور اپنے ساتھی کو بیدار کیا جب اس کافر شخص نے یہ دیکھ لیا کہ یہ لوگ بیدار ہو گئے ہیں تو وہ بھاگ کھڑا ہوا جب مہاجری نے انصاری بھائی کا بہتا ہوا خون دیکھا تو کہا ارے تم نے مجھے پہلے ہی تیر پر کیوں نہ جگایا؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں (نماز میں) ایک سورۃ پڑھ رہا تھا مجھے اس کا درمیان میں چھوڑنا اچھا نہیں لگا۔

 

                   کیا سونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

 

احمد بن محمد بن حنبل، عبد الرزاق، ابن جریج، نافع، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مشغولیت کی بنا پر نماز عشاء میں تاخیر فرمائی یہاں تک کہ ہم لوگ (انتظار کرتے کرتے) مسجد ہی میں سو گئے ہم پھر جاگے اور پھر سو گئے پھر جاگے پھر سو گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا تمہارے علاوہ اور کوئی نماز کا انتظار نہیں کرتا۔

 

شاذ بن فیاض، ہشام، قتادہ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نماز عشاء کا انتظار کرتے تھے یہاں تک کہ ان کے سر (سینوں تک) جھک جاتے تھے پھر نماز پڑھتے تھے اور وضو نہیں کرتے تھے ابو داؤد کہتے ہیں کہ شعبہ نے بواسطہ قتادہ (حضرت انس رضی اللہ عنہ) یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانہ میں ہم جھک جاتے تھے۔

 

موسیٰ بن اسماعیل، داؤد، بن شبیب، حماد بن سلمہ، ثابت بنانی، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عشاء کی نماز کھڑی ہوئی تو ایک شخص اٹھا اور بولا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مجھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ایک ضروری کام ہے پس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کھڑے ہو کر اس سے آہستہ آہستہ باتیں کرنے لگے یہاں تک کہ تمام لوگوں نے یہ کہا کہ کچھ لوگ بیٹھے بیٹھے سو گئے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نماز پڑھائی (مگر اس روایت میں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے وضو کا ذکر نہیں کیا

 

یحیٰ بن معین، ہناد بن سری، عثمان بن ابی شیبہ، عبد السلام بن حرب، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سجدہ کرتے اور اسی حالت میں سو جاتے یہاں تک کہ خراٹوں کی آواز آنے لگتی پھر اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم باقی نماز پوری فرماتے اور وضو نہیں کرتے تھے ایک مرتبہ میں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سو گئے تھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا وضو اس پر لازم ہوتا ہے جو سیدھا لیٹ کر سوئے عثمان اور حنان نے اتنا اضافہ اور کیا ہے کہ جب سیدھا سوئے گا اس کے جوڑ ڈھیلے ہو جائیں گے ابو داؤد کہتے ہیں کہ الوضو علی من نام مضطجعاً (یعنی وضو اس پر لازم ہے جو سیدھا لیٹ کر سوئے) حدیث منکر ہے کیونکہ اس روایت کو قتادہ سے صرف یزید والانی نے روایت کیا ہے اور اس حدیث کا پہلا حصہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے مگر اس میں یہ مضمون کسی نے ذکر نہیں کیا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تو محفوظ تھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا میری آنکھیں سوتی ہیں دل نہیں سوتا

 

حیوہ بن شریح، بقیہ ، وضین بن عطاء، محفوظ بن علقمہ، عبد الرحمن بن عائذ، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا آنکھیں مقعد کا بند ہیں پس جو شخص سو جائے تو وضو کرے

 

                   کیا نجاست پر چلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

 

ہناد بن سری، ابراہیم، بن ابی معاویہ، ابی معاویہ، عثمان بن ابی شیبہ، شریک، جریر، حضرت شقیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم راستہ میں چلنے کے بعد پاؤں نہیں دھوتے تھے اور نہ ہی (نماز کے دوران) بالوں اور کپڑوں کو سمیٹتے تھے ابراہیم بن ابی معاویہ بسند اعمش بواسطہ شقیق بروایت مسروق حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں (یعنی درمیان میں مسروق کا واسطہ ہے) اور ہناد بسند بواسطہ شقیق حضرت عبد اللہ سے روایت کرتے ہیں (یعنی اس حدیث میں مسروق کا واسطہ نہیں ہے)

 

                   نماز کے درمیان وضو ٹوٹ جانے کا بیان

 

عثمان بن ابی شیبہ، جریر بن عبد الحمید، عاصم، احول، عیسیٰ بن حطان، مسلم بن سلام، حضرت علی بن طلق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی شخص کی حالتِ نماز میں ریح خارج ہو جائے تو اس کو چاہئیے کہ لوٹ جائے اور دوبارہ وضو کر کے نماز کا اعادہ کرے۔

 

                   مذی کا بیان

 

قتیبہ بن سعید، عبیدہ بن حمید، ابن ربیع، حصین، بن قبیصہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ مجھے کثرت مذی کی شکایت تھی اور میں (پاکی کی غرض سے) غسل کیا کرتا تھا یہاں تک کہ (سردی کی شدت اور غسل کی کثرت کی بنا پر) میری پشت کی کھال پھٹ گئی میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اس کا ذکر کیا یا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا مذی نکلنے سے غسل مت کرو بلکہ تم جب مذی دیکھو تو ذکر (عضو مخصوص) دھو لو۔ اور وضو کر لو جیسا کہ نماز کے لیے کرتے ہو البتہ جب منی خارج ہو تو غسل کیا کرو۔

 

عبد اللہ بن مسلمہ، مالک، ابو نضر، سلیمان بن یسار، حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے یہ مسئلہ دریافت کریں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے اور اس کی مذی خارج ہو تو وہ کیا کرے؟ چونکہ میرے نکاح میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صاحبزادی (حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا) ہیں اس لیے مجھے بذات خود یہ مسئلہ پوچھنے میں شرم محسوس ہوتی ہے (لہذا تم پوچھو) حضرت مقداد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے یہ مسئلہ دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کی مذی نکل آئے تو اس کو چاہیئے کہ وہ اپنی شرمگاہ دھو لے اور وضو کرے جیسا کہ نماز کے لیے ہوتا ہے۔

 

احمد بن یونس، زہیر، ہشام بن عروہ، علی بن ابی طالب، حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے حضرت مقداد سے کہا (اس کے بعد عروہ نے سلیمان بن یسار کی حدیث کے مثل ذکر کیا) حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مقداد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اس کے بارے میں دریافت کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ عضو تناسل اور خصیوں کو دھو لینا چاہیے ابو داؤد کہتے ہیں کہ اس کو ثوری اور ایک جماعت نے بطریق ہشام بسند عروہ بواسطہ مقداد بروایت علی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کیا ہے۔

 

عبد اللہ بن مسلمہ، ابی ہشام بن عروہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے مقداد سے کہا پھر (راوی نے) پہلی حدیث کی مانند روایت کیا ابو داؤد کہتے ہیں کہ اس روایت کو مفضل بن فضالہ، ثوری اور ابن عیینہ نے بواسطہ ہشام عن ابیہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے مگر انہوں نے خصیتین دھو نے کا ذکر نہیں کیا۔

 

مسدد، اسماعیل ابن ابراہیم، محمد بن اسحاق ، سعید بن عبید بن سباق، حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں کثرت مذی کی شکایت پر تکلیف میں مبتلاء رہتا تھا کیونکہ میں اکثر اس کی وجہ سے غسل کیا کرتا تھا آخر کار میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اس کے بارے میں عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا (مذی نکلنے پر) صرف وضو کرنا کافی ہے میں نے عرض کا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اگر مذی کپڑے پر لگ جائے تو کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ایک چلو پانی لے کر اس مقام پر چھڑک دو جہاں تمہیں محسوس ہو مذی لگی ہے۔

 

ابراہیم بن موسی، عبد اللہ بن وہب، معاویہ ابن صالح، علاء بن حارث، حرام بن حکیم کے چچا عبد اللہ بن سعد انصاری سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا کہ غسل کس چیز سے واجب ہوتا ہے؟ اور پیشاب کے بعد جو پانی (ذکر سے خارج) ہو تو کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا وہ مذی ہوتی ہے اور مذی ہر ذکر سے خارج ہوتی ہے پس جب مذی نکلے تو شرمگاہ اور خصیوں کو دھولو اور وضو کر لو جیسا کہ نماز کے لیے کرتے ہو

 

                   حائضہ عورت کے ساتھ کھانے پینے اور مباشرت کا حکم

 

ہارون بن محمد بن بکار، مروان ابن محمد، ہیثم بن حمید، علاء بن حارث، حرام بن حکیم نے اپنے چچا سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا کہ جب میری بیوی حائضہ ہو تو مجھے اس سے کس حد تک فائدہ اٹھانا درست ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ازار سے اوپر اوپر، اور راوی نے بیان کیا حائضہ عورت کے ساتھ کھانے پینے کا بھی اور حدیث آخر تک بیان کی۔

 

“ہشام بن ولید، سعد اعمش، بقیہ بن ولید سعد اعطش، ابن عبد اللہ، عبد الرحمن بن عائذ، حضرت معاذبن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا کہ مرد کو عورت سے کس حد تک فائدہ اٹھانا درست ہے جبکہ وہ حائضہ ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ازار سے اوپر اوپر، لیکن بہتر یہ ہے کہ اس سے بھی پرہیز کیا جائے ابو داؤد کہتے ہیں کہ یہ حدیث قوی نہیں ہے

 

فائدہ۔۔ دور جاہلیت میں لوگ حائضہ عورت کو اچھوت سمجھتے تھے اس کے ساتھ کھانا پینا اور رہن سہن برا تصور کرتے تھے (ہندو سماج میں آج بھی یہی صورت حال ہے) اسلام نے اس تصور کی بیخ کنی کی اور ایسی حالت میں عورت کے ساتھ خوردو نوش اور معاشرت کو جائز قرار دیا اور شوہر کے لیے علاوہ جماع کے باقی تمام امور کو مباح قرار دیا البتہ ایسے افعال سے پرہیز کو افضل قرار دیا جو جماع کی تحریک پیدا کرتے ہیں کیونکہ اس سے جماع کا وقوع اور صدور ممکن ہو جاتا ہے۔”

 

                   غسل دخول سے واجب ہوتا ہے یا انزال سے

 

احمد بن صالح، ابن وہب، عمرو، ابن حارث، ابن شہاب، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ابتدائے اسلام میں لوگوں کو کپڑوں کی قلت کی بنا پر اجازت دی تھی (غسل انزال کے بعد واجب ہوتا ہے دخول سے نہیں) لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے (صرف دخول سے بھی) غسل کا حکم فرمایا اور سابقہ رخصت پر عمل کی ممانعت فرما دی ابو داؤد کہتے ہیں کہ لفظ ذلک سے مراد حدیث اَلمَاءُ مِنَ المَاءِ ہے

 

محمد بن مہران، بزار، مبشر، محمد بن ابی غسان، ابو حازم، حضرت سہل بن سعد سے روایت ہے کہ حضرت ابی بن کعب فرماتے تھے کہ پہلے جو فتوی دیا جاتا تھا کہ غسل انزال سے واجب ہوتا ہے وہ ابتداء اسلام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دی ہوئی ایک رخصت (رعایت) تھی لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے (دخول) کے بعد غسل کرنے کا حکم فرمایا ابو داؤد کہتے ہیں کہ ابو غسان سے مراد محمد بن مطرف ہیں۔

 

مسلم بن ابراہیم، ہشام، شعبہ، قتادہ، حسن، ابی رافع، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ جب مرد عورت کے چار اعضاء (دو رانوں اور فرج کے لبوں) کے درمیان بیٹھ جائے اور مرد کا مقام ختنہ عورت کے مقام ختنہ سے مل جائے تو غسل واجب ہو جائے گا۔

 

احمد بن صالح، ابن وہب، عمرو بن شہاب، ابی سلمہ بن عبد الرحمن، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا پانی پانی سے ہے (غسل منی نکلنے سے واجب ہوتا ہے) (ابو داؤد کہتے ہیں کہ) ابو سلمہ کا عمل اس پر تھا

 

                   کیا جنبی غسل سے پہلے دوسرا جماع کر سکتا ہے؟

 

مسدد بن مسرہد، اسماعیل، حمید، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول الہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنی ازواج کے پاس ہو کر آئے ایک ہی غسل سے۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ ہشام بن زید نے حضرت انس سے اور اسی طرح صالح بن ابی الاخضر نے بواسطہ زہری بروایت انس نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کیا ہے۔

 

                   جنبی دوبارہ جماع کرنا چاہے تو وضو کرے

 

موسیٰ بن اسماعیل، حماد، عبد الرحمن، بن ابو رافع، سلمی، حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنی تمام ازواج کے پاس تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہر ایک کے پاس غسل کرتے تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سب سے فارغ ہو کر ایک ہی بار غسل کیوں نہیں کر لیتے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا یہ عمل بہتر اور پسندیدہ ہے ابو داؤد کہتے ہیں کہ انس کی حدیث اس حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔

 

عمرو بن عون، حفص بن غیاث، عاصم، ابو متوکل، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی سے جماع کرے اور اس کے بعد پھر جماع کرنا چاہے تو وضو کر لے۔

 

                   جنابت کے بعد غسل سے پہلے سونا جائز ہے

 

عبد اللہ بن مسلمہ، مالک، عبد اللہ بن دینار، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے عرض کیا کہ مجھے رات میں غسل کی ضرورت ہو جاتی ہے (تو کیا میں فوراً غسل کروں؟) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا وضو کر لیا کرو اور شرم گاہ کو دھو کر سویا رہا کرو۔

 

                   جنابت کی حالت میں کھانا پینا جائز ہے

 

مسدد، قتیبہ بن سعید، سفیان زہری، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب جنابت کی حالت میں سونے کا ارادہ فرماتے تو وضو کر لیتے جیسا کہ نماز کے لیے کرتے ہیں۔

 

محمد بن صباح، بزار، ابن مبارک، یونس، زہری نے سابقہ سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی روایت کی ہے اس میں اتنا اضافہ اور ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جنابت کی حالت میں کھانا کھانے کا ارادہ فرماتے تو اپنے دونوں ہاتھ دھو لیتے ابو داؤد کہتے ہیں کہ اسے ابن وہب نے یونس سے روایت کیا ہے اور قصہ اکل کو حضرت عائشہ پر موقوف کیا ہے اور صالح بن ابی الاخضر نے اس کو زہری سے ابن مبارک کے مثل روایت کیا ہے مگر اس نے عن عروہ عن ابی سلمہ کہا ہے اور اوزاعی نے بواسطہ یونس بسند زہری نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسا کہ ابن مبارک نے۔

 

                   جنبی کھانا کھائے یا سوئے تو پہلے وضو کر لے

 

مسدد، یحییٰ، شعبہ، حکم، ابراہیم، اسود، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب کھانا کھانے یا سونے کا ارادہ فرماتے تو وضو کر لیتے یعنی جنابت کی حالت میں۔

 

موسیٰ ابن اسماعیل، یحیٰ بن یعمر، حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جنبی کو کھانے پینے یا سونے کے وقت وضو کر لینے کی رخصت (رعایت یا اجازت) دی ہے ابو داؤد کہتے ہیں کہ یحیٰ بن عمر بن یاسر کے درمیان اس حدیث میں ایک شخص اور ہے ابو داؤد کہتے ہیں کہ حضرت علی ابن عمر اور عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ جب جنبی کھانا کھانے کا ارادہ کرے تو وضو کر لے۔

 

                   جنبی غسل کرنے میں تاخیر کر سکتا ہے

 

مسدد، معتمر، احمد بن حنبل، اسماعیل بن ابراہیم، برد بن سنان، عبادہ بن نسی، حضرت غضیف بن حارث سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جنابت کا غسل اول شب میں کرتے تھے یا آخر شب میں؟ آپ نے جواب دیا کہ کبھی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اول شب میں غسل کرتے تھے اور کبھی آخر شب میں میں نے کہا اللہ اکبر شکر ہے اس خدا کا جس نے کام میں آسانی پیدا فرمائی میں نے پھر سوال کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اول شب میں وتر پڑھتے تھے یا آخر شب میں؟ فرمایا کبھی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اول شب میں وتر پڑھتے تھے اور کبھی آخر شب میں میں نے کہا اللہ اکبر شکر ہے اس خدا کا جس نے کام میں آسانی پیدا فرمائی، میں نے پھر عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم (رات کی نماز میں) قرآن بلند آواز سے پڑھتے تھے یا آہستہ آواز سے؟ فرمایا کبھی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بلند آواز سے پڑھتے تھے اور کبھی آہستہ میں نے کہا اللہ اکبر شکر ہے اس خدا کا جس نے کام میں آسانی پیدا فرمائی۔

 

حفص بن عمر، شعبہ، علی بن مدرک، ابی زرعہ، بن عمروم بن جریر، عبد اللہ بن نجی، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اس گھر میں فرشتے نہیں جاتے جس گھر میں کوئی تصویر ہو، کتا ہو، یا جنبی ہو

 

محمد بن کثیر، سفیان ابی اسحاق ، اسود، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کبھی جنابت ہی کی حالت میں سوئے رہتے اور پانی کو ہاتھ بھی نہ لگاتے (یعنی فی الفور غسل فرماتے) ابو داؤد کہتے ہیں کہ مجھ سے حسن بن علی واسطی نے یزید بن ہارون کا قول نقل کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث یعنی حدیث ابو اسحاق وہم ہے

 

                   جنبی کے لیے تلاوت کلام پاک جائز نہیں

 

حفص بن عمر، شعبہ، عمرو بن مرہ، حضرت عبد اللہ بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضرت علی کے پاس گیا اور میرے ساتھ دو آدمی اور تھے ان سے ایک غالباً بنی اسد سے تعلق رکھتا تھا اور دوسرا ہمارے قبیلے (بنی مراد سے) حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان دونوں آدمیوں کو ایک طرف بھیج دیا اور کہا کہ تم دونوں طاقتور ہو پس اپنے دین کو تقویت پہنچاؤ اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے وہاں سے آ کر آپ نے پانی منگوایا اور ایک چلو پانی سے منہ صاف کیا اور قرآن پڑھنے لگے لوگوں کو آپ کا یہ عمل اچھا نہ لگا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بیت الخلاء سے نکل کر ہم لوگوں کو قرآن پڑھاتے اور ہمارے ساتھ گوشت وغیرہ کھاتے اور آپ کو تلاوت قرآن سے کوئی امر مانع نہ ہوتا تھا سوائے جنابت کے

 

                   جنبی مصافحہ کر سکتا ہے

 

مسدد، یحییٰ، مسعر، واصل، ابو وائل، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان سے ملے تو (مصافحہ کرنے کی غرض سے) ان کی طرف متوجہ ہوئے انہوں نے (معذرت کرتے ہوئے) کہا کہ میں جنبی ہوں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا مسلمان نجس نہیں ہوتا

 

مسدد، یحییٰ، بشر، حمید، بکر، ابو رافع، حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے مدینہ کی ایک گزرگاہ میں میری ملاقات ہوئی۔ میں جنابت کی حالت میں تھا اس لئے پیچھے ہٹ گیا اور (گھر) چلا گیا اور غسل کر کے لوٹا۔ آپ نے دریافت فرمایا اے ابو ہریرہ! کہاں چلے گئے تھے؟ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ! میں جنبی تھا۔ پس مجھے برا معلوم ہوا کہ میں ناپاکی کی حالت میں آپ کے پاس بیٹھوں۔ آپ نے فرمایا سبحان اللہ! مسلمان نجس نہیں ہوتا۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ بشر کی حدیث میں سند یوں ہے حدثنا حمید قال حدثنی بکر۔

 

                   جنبی کے لیے مسجد میں داخل ہونا جائز نہیں

 

مسدد، عبد الواحد بن زیاد، افلت بن خلیفہ، جسرہ بنت دجاجہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تشریف لائے دیکھا کہ صحابہ کے کمروں کا رخ مسجد کی طرف ہے (یعنی ان کے کمروں کے دروازے مسجد میں یا مسجد کی طرف کھلتے تھے تاکہ ایک دوسرے کے گھر میں آنے جانے کی سہولت ہو) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا گھروں کا رخ مسجد سے پھیر دو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کے بعد پھر تشریف لائے اور لوگوں نے اس امید پر کہ شاید ان کے بارے میں کوئی رخصت نازل ہو اس وقت تک کوئی رد و بدل نہیں کیا تھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پھر تشریف لائے تو فرمایا کہ گھروں کا رخ مسجد سے پھیر دو کیونکہ میں مسجد کو جنبی اور حائضہ کے لیے حلال نہیں کرتا ابو داؤد کہتے ہیں کہ افلت راوی سے مراد فلیت عامری ہے۔

 

                   جنبی ہو اور نماز کے لیے کھڑا ہو جائے تو کیا کرے؟

 

موسیٰ بن اسماعیل، حماد بن زیاد، حسن، حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نماز فجر پڑھانی شروع کی پھر ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا تم اپنی جگہ کھڑے رہو (اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے حجرہ میں تشریف لے گئے) پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس حال میں تشریف لائے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا (یعنی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم غسل کر کے آئے تھے)

 

عثمان بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون، حماد بن سلمہ سے سابقہ سند اور مفہوم کے ساتھ روایت ہے (فرق یہ ہے) کہ اس حدیث کے شروع میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تکبیر تحریمہ کہہ چکے تھے اور اس کے آخر میں یہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا میں بھی انسان ہوں اور میں جنبی تھا۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ اسے زہری نے بواسطہ ابو سلمہ بن عبد الرحمن حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مصلے پر کھڑے ہو گئے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تکبیر کا انتظار کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم وہاں سے چلے اور فرمایا تم اپنی جگہ جمے رہو۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ ایوب، ابن عوان اور ہشام نے بوسطہ محمد بن سیرین آپ سے روایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ نے تکبیر کہہ لی تھی پھر آپ لوگوں کو بیٹھنے کا اشارہ کر کے چلے گئے اس کے بعد غسل کر کے تشریف لائے امام مالک نے بھی بواسطہ اسماعیل بن ابی حکیم عطا بن یسار سے اسی طرح روایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نماز میں ایک تکبیر کہی۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ مسلم بن ابراہیم نے بطریق ابان، بسند یحیٰ بواسطہ ربیع بن محمد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اسی طرح روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تکبیر کہہ لی تھی۔

 

عمرو بن عثمان، محمد بن حرب، زبیدی، عیاش بن ازرق، ابن وہب، یونس، مخلد بن خالد، ابراہیم بن خالد، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نماز کھڑی ہوئی لوگوں نے صفیں باندھ لیں اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نکلے جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے (مصلے) مقام پر کھڑے ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یاد آیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے غسل نہیں کیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے لوگوں سے فرمایا کہ اپنی جگہ جمے رہو پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم گھر میں تشریف لے گئے اور اس حال میں تشریف لائے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سر مبارک سے پانی ٹپک رہا تھا۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم غسل کر کے آئے تھے اور ہم صفیں باندھے ہوئے کھڑے تھے یہ ابن حرب کی روایت میں یوں ہے کہ ہم اسی طرح کھڑے کھڑے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا انتظار کرتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نکلے تو غسل کر کے نکلے

 

                   سو کر اٹھنے کے بعد کپڑے پر تری دیکھے تو کیا کرے؟

 

قتیبہ بن سعید، حماد بن خالد خیاط، عبد اللہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سوال ہوا کہ اگر کوئی شخص بیدار ہو کر (کپڑے یا بدن) پر تری دیکھے مگر خواب یاد نہ ہو (تو کیا کرے؟) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا غسل کرے پھر ایسے شخص کے بارے میں سوال ہوا جس کو خواب تو یاد ہو مگر تری نہیں پائی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اس پر غسل نہیں ام سلیم نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اگر عورت بھی مرد کے مثل دیکھے تو کیا اس پر بھی غسل واجب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہاں عورتیں مردوں کے ہی مثل ہیں۔

 

                   عورت مرد کی طرح خواب یا تری دیکھے تو کیا کرے؟

 

احمد بن صالح، عنبسہ، یونس، ابن شہاب، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام سلیم انصاریہ نے جو انس بن مالک کی والدہ ہیں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اللہ تعالی حق بات دریافت کرنے میں شرم کو پسند نہیں فرماتے اگر عورت بھی خواب میں ایسا ہی دیکھے جیسا کہ مرد دیکھتا ہے تو وہ غسل کرے یا نہیں؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہاں ضرور غسل کرے جب وہ منی دیکھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے ام سلیم کی طرف متوجہ ہو کر کہا افسوس ہے تم پر کیا عورت بھی ایسا دیکھتی ہے؟ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا اے عائشہ رضی اللہ عنہا تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں پھر (بچے میں) مشابہت کہاں سے ہوتی ہے۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ زبیدی، عقیل، یونس، ابن اخی الزہری اور ابن ابی الوزیر نے بواسطہ مالک زہری سے اسی طرح روایت کیا ہے اور مسفح حجبی نے زہری کی موافقت کرتے ہوئے کہا ہے عن عروہ عن عائشہ لیکن ہشام بن عروہ نے بواسطہ عروہ عن زینب بنت ابی سلمہ حضرت ام سلمہ سے روایت کیا ہے کہ ام سلیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس آئیں

 

                   غسل کیلئے پانی کی مقدار

 

عبد اللہ بن مسلمہ، مالک، ابن شہاب، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرق نامی ایک برتن سے غسل جنابت کرتے تھے ابو داؤد کہتے ہیں کہ معمر نے زہری سے اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول یوں روایت کیا ہے کہ میں اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دونوں مل کر ایک برتن سے غسل کرتے تھے جو فرق کے برابر تھا ابو داؤد کہتے ہیں کہ ابن عیینہ نے بھی امام مالک کے مثل روایت کیا ہے ابو داؤد کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل سے سنا وہ فرماتے تھے کہ فرق سولہ رطل کا ہوتا ہے اور میں نے ان سے یہ بھی سنا ہے کہ ابن ابی ذئب کا صاع پانچ رطل اور تہائی رطل تھا میں نے کہا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ صاع آٹھ رطل کا ہوتا ہے (اس کا کیا مطلب ہوتا ہے) امام احمد نے کہا کہ یہ غیر محفوظ ہے ابو داؤد کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد سے سنا وہ فرماتے تھے کہ جس شخص نے ہمارے رطل کے لحاظ سے صدقہ فطر پانچ رطل اور تہائی رطل دیا رو اس نے پورا دیا لوگوں نے کہا کہ صیحانی کھجور بھاری ہوتی ہے آپ نے کہا کہ صیحانی تو اور بھی بہتر ہے پھر کہا مجھے معلوم نہیں

 

                   غسل جنابت کا طریقہ

 

عبد اللہ بن محمد، زہیر، ابو اسحاق ، سلیمان بن صرد، حضرت جبیر بن مطعم سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے غسل جنابت کا ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا میں تو اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالتا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے دونوں ہاتھ سے چلو بنا کر دکھایا (کہ یوں)

 

محمد بن مثنی، ابو عاصم، حنظلہ، قاسم، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب غسل جنابت فرماتے تو ایک برتن منگاتے جیسا کہ دودھ دوہنے کا برتن ہوتا ہے پھر ہاتھ میں پانی لے کر سر کے داہنی جانب ڈالتے، پھر بائیں جانب اور پھر آخر میں دونوں ہاتھوں سے پانی لے کر سر کے درمیانی حصہ پر ڈالتے۔

 

یعقوب بن ابراہیم، عبد الرحمن، ابن مہدی، زئداہ بن قدامہ، صدقہ، حضرت جمیع بن عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنی والدہ اور خالہ کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا ان میں سے ایک نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے غسل کا کیا طریقہ تھا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پہلے وضو کرتے جیسا کہ نماز کے لیے کیا کرتے ہیں پھر اپنے سر پر تین بار پانی ڈالتے اور ہم (عورتیں) اپنی چوٹیوں کے سبب سر پر پانچ مرتبہ پانی ڈالتیں تھیں

 

سلیمان بن حرب، مسدد، حماد، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب جنابت کا غسل فرماتے تو سلیمان کی روایت میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پہلے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور مسدد کی روایت میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے دونوں ہاتھ دھوتے اس طرح پر کہ برتن کو داہنے ہاتھ پر انڈیلتے (اور پھر بائیں ہاتھ پر اس کے بعد دونوں راوی متفق البیان ہیں) پھر شرمگاہ کو دھوتے، اس کے بعد مسدد نے یہ اضافہ کیا ہے کہ بائیں ہاتھ پر ڈالتے کبھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے شرمگاہ کو کنایہ کے طور پر بیان کیا ہے پھر وضو کرتے جیسا کہ نماز کے لیے کرتے ہیں پھر دونوں ہاتھ برتن میں ڈال کر بالوں کا خلال کرتے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو معلوم ہو جاتا کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ گیا ہے یا سر صاف ہو گیا ہے اپنے سر پر تین بار پانی ڈالتے پھر جس قدر پانی بچ رہتا اس کو اپنے اوپر بہا لیتے

 

عمرو بن علی، محمد بن ابی عدی، سعید بن ابی معشر، اسود، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب غسل کا ارادہ فرماتے تو پہلے دونوں پہنچوں کو دھوتے پھر بغل وغیرہ کو دھوتے اور ان پر پانی ڈالتے جب وہ صاف ہو جائیں تو دونوں ہاتھ دیوار پر ملتے پھر وضو شروع کرتے اور اپنے سر پر پانی ڈالتے۔ مرافع سے مراد بدن کے وہ حصے مراد ہیں جن میں میل جمع ہو جاتا ہے۔ جیسے بغل، ناف، گھٹنے وغیرہ۔

 

حسن بن شوکر، ہشیم، عروہ، حضرت شعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو میں تم کو دیوار پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہاتھ کا نشان دکھا سکتی ہوں جہاں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم غسل جنابت کیا کرتے تھے۔

 

مسدد بن مسرہد، عبد اللہ بن داؤد، اعمش، سالم، کریب، ابن عباس، ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نہانے اور جنابت سے پاک ہونے کے لیے پانی رکھا پس آپ نے برتن جھکا کر داہنے ہاتھ پر پانی ڈالا اور اس کو دو یا تین مرتبہ دھویا پھر شرمگاہ پر پانی ڈال کر اس کو بائیں ہاتھ سے دھویا پھر بایاں ہاتھ زمین پر مل کر دھویا پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور ہاتھ منہ دھویا اس کے بعد اپنے سر اور پورے بدن پر پانی بہایا پھر اس جگہ سے ہٹ کر اپنے پاؤں دھوئے میں نے رومال پیش کیا تو لینے سے انکار فرما دیا اور اپنے بدن سے پانی جھاڑنے لگے۔ اعمش کہتے ہیں کہ میں نے اس بارہ میں ابراہیم نخعی سے دریافت کیا تو انہوں نے بیان کیا کہ صحابہ رومال سے بدن پونچھنے کو برا نہیں سمجھتے تھے لیکن اس کی عادت ڈالنا برا سمجھتے تھے۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ مسدد نے عبد اللہ بن داؤد سے پوچھا کہ کیا صحابہ کرام عادت بنا لینے کو برا سمجھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا ہاں یہی بات ہے مگر میں نے اس کو اپنی کتاب میں اسی طرح پایا ہے۔

 

حسین بن عیسیٰ، ابن ابی فدیک، ابن ابی ذئب، حضرت شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ جب غسل جنابت کرتے تو داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ ہر سات مرتبہ پانی ڈالتے پھر شرمگاہ کو دھو تے ایک مرتبہ وہ بھول گئے کہ کتنی مرتبہ پانی ڈالا ہے تو مجھ سے پوچھا کہ کتنی مرتبہ میں نے پانی ڈالا ہے میں نے کہا مجھے یاد نہیں تو انہوں نے کہا کہ تیری ماں نہ ہو تو نے کیوں یاد رکھا؟ پھر وہ وضو کرتے جیسا کہ نماز کے لیے کرتے ہیں پھر اپنے تمام بدن پر پانی بہاتے پھر فرماتے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اسی طرح پاکی حاصل کیا کرتے تھے

 

قتیبہ بن سعید، ایوب، بن جابر، عبد اللہ بن عصم، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابتداء میں پچاس نمازیں فرض ہوئیں تھیں اور جنابت سے سات مرتبہ غسل کرنے کا حکم ہوا تھا اسی طرح کپڑے پر پیشاب لگ جانے پر سات مرتبہ دھونے کا حکم تھا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اللہ تعالی سے (امت کے لیے) تخفیف چاہتے رہے یہاں تک کہ نمازیں پانچ رہ گئیں اور جنابت سے غسل ایک بار ہو گیا اور پیشاب سے کپڑا دھونا بھی ایک بار ہو گیا

 

نصر بن علی، حارث، بن وجیہ، مالک بن دینار، محمد بن سیرین، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ ہر بال کے نیچے جنابت ہے لہذا بالوں کو دھوؤ اور بدن کو خوب صاف کرو ابو داؤد کہتے ہیں کہ حارث بن وجیہ کی حدیث منکر ہے اور وہ (حارث بن وجیہ) ضعیف ہیں

 

موسیٰ بن اسماعیل، حماد، عطاء بن سائب، ذاذان، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ جس نے غسل جنابت میں ایک بال کے برابر بھی جگہ خشک چھوڑ دی اس کو جہنم کا ایسا اور ایسا عذاب ہو گا حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اسی وجہ سے میں اپنے سر کا دشمن ہوا اسی وجہ سے میں اپنے سر کا دشمن ہوا اسی وجہ سے میں اپنے سر کا دشمن ہوا اور وہ اپنے بال کتروایا کرتے تھے اللہ ان سے راضی ہو

 

                   غسل کے بعد وضو کی ضرورت نہیں

 

عبد اللہ بن محمد، زہیر، ابو اسحاق ، اسود، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم غسل کرتے تھے اور دو رکعتیں پڑھتے تھے اور صبح کی (یعنی فجر کی) نماز پڑھتے تھے مگر میں نے ان کو غسل کے بعد تازہ وضو کرتے نہ دیکھتی تھی

 

                   غسل جنابت کے وقت عورت کے لیے چٹیا کھولنا ضروری نہیں ہے

 

زہیر بن حرب، ابن سرح، سفیان بن عیینہ، ایوب بن موسی، سعید بن ابی سعید، عبد اللہ بن رافع، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبد اللہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ کسی مسلمان عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا اور زہیر کا بیان ہے کہ خود ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں اپنی چٹیا مضبوطی سے باندھتی ہوں کیا غسل جنابت کے لیے اس کو توڑ دوں (یعنی کھول دوں) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تیرے لیے سر پر تین چلو پانی ڈال لینا کافی ہے اور زہیر کی روایت میں یہ ہے کہ (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا) تین مرتبہ دونوں ہاتھ بھر کر پانی سر پر ڈال لے پھر سارے بدن پر پانی بہا لے جب تو ایسا کر چکے تو سمجھ لے تو پاک ہو گئی۔

 

احمد بن عمرو، بن سرح، ابن نافع، اسامہ، حضرت مقبری رضی اللہ عنہ، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی (جیسا کہ پہلی حدیث میں مذکور ہوا) وہ فرماتی ہیں کہ میں نے اس عورت کی خاطر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے دریافت کیا کہ (اس کی تفصیل سابقہ حدیث میں گذر چکی ہے) مگر اس میں اتنا اضافہ اور ہے کہ (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا) ہر چلو ڈالنے کے بعد اپنی لٹوں کو نچوڑ لے۔

 

عثمان بن ابی شیبہ، یحیٰ بن ابی بکیر، ابراہیم بن نافع، حسن بن مسلم، صفیہ، بنت شیبہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ ہم میں سے جب کسی کو غسل کی ضرورت ہوتی تو تین مرتبہ دونوں ہاتھوں سے لے کر اپنے سر پر ڈال لیا کرتیں اور ایک ہاتھ سے چلو لے کر سر کے ایک جانب اور دوسرا چلو لے کر سر کے دوسری جانب ڈالا کرتی تھیں

 

نصر بن علی، عبد اللہ بن داؤد، عمرو بن سوید، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم (ازواج) لیپ لگائے ہوئے غسل کرتے تھے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ ہوتے تھے احرام اور غیر احرام دونوں حالتوں میں۔

 

محمد بن عوف، اسماعیل بن عیاش، ابن عوف، محمد بن اسماعیل، حضرت شریح بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبیر بن نفیر نے مجھے اس حوالہ سے جنابت سے غسل کا فتویٰ دیا کہ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے ان سے حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے غسل جنابت کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ مرد کے لیے تو یہ ضروری ہے کہ وہ اپنا سر کھول کر بالوں کو دھوئے یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے مگر عورت کے لیے سر کے بالوں کا کھولنا ضروری نہیں ہے بلکہ اس کو چاہیئے کہ وہ دونوں ہاتھوں سے تین مرتبہ پانی سر پر ڈال لے۔

 

                   جنبی اپنا سر خطمی پانی سے دھو سکتا ہے

 

محمد بن جعفر، بن زیاد، شریک، قیس، بن وہب، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنا سر خطمی کے پانی سے دھوتے تھے باوجود یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جنبی ہوتے تھے اور سر پر مزید پانی نہیں ڈالتے تھے بلکہ اس پر اکتفاء کرتے تھے۔

 

                   عورت اور مرد کے درمیان بہنے والے پانی (مذی منی کا بیان)

 

محمد بن رافع، یحیٰ بن آدم، شریک، قیس، بن وہب، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس پانی (مذی یا منی) کے متعلق روایت ہے جو مرد اور عورت کے درمیان کے بہتا ہے کہ رسول الہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک چلو پانی لے کر (کپڑے یا بدن پر لگی ہوئی) مذی یا منی پر ڈالتے اور پھر دوسرا چلو لے کر اس پر بہا دیتے (تا کہ اچھی طرح صاف ہو جائے)

 

                   حائضہ عورت کے ساتھ کھانے پینے اور جماع کا بیان

 

موسیٰ بن اسماعیل، حماد، ثابت بنانی، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہودیوں کی عورتوں میں سے جب کسی کو حیض آتا تو وہ اس کو گھر سے نکال دیتے نہ اس کو اپنے ساتھ کھلاتے پلاتے اور نہ اس کے ساتھ گھر میں رہتے سہتے، صحابہ کرام نے اس بارے میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے دریافت کیا تو اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر یہ آیتیں نازل فرمائی (ترجمہ) یہ لوگ آپ سے حیض کے متعلق دریافت کرتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان کو بتا دیجئے کہ حیض ایک طرح کی گندگی ہے لہذا زمانہ حیض میں عورتوں سے دور رہو اور ان سے قربت (جماع) مت کرو تاوقتیکہ کہ وہ پاک صاف نہ ہو جائیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ان کے ساتھ رہو سہو اور جماع کے علاوہ ان کے ساتھ تمام معاملات روا رکھ سکتے ہو (یہ سن کر) یہودیوں نے کہا کہ یہ شخص (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) تو کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑنا چاہتا جس میں ہماری مخالفت نہ کر لے (یہودیوں کی یہ باتیں سن کر) اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہودی ایسی ایسی باتیں کہہ رہے ہیں تو کیا ہم (بھی ان کی بھر پور مخالفت کی غرض سے) زمانہ حیض میں عورتوں کے ساتھ جماع نہ کر لیا کریں (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا یہاں تک کہ ہم سمجھنے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو غصہ ان دونوں حضرات پر آ رہا ہے پس وہ دونوں (ڈر کر) وہاں سے چلے گئے اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس دودھ کا ہدیہ آیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان دونوں حضرات کو بلا بھیجا اور دودھ پلایا تب ہم نے جانا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا غصہ ان پر نہ تھا

 

مسدد، عبد اللہ بن داؤد، مقدام بن شریح، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں ہڈی چوستی تھی اس حال میں کہ میں حائضہ ہوتی تھی پھر میں (وہ ہڈی) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دیتی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بھی اپنا منہ اسی جگہ رکھتے جہاں میں نے رکھا تھا اور میں پانی پی کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دیتی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بھی اپنا منہ اسی جگہ لگاتے جہاں میں نے لگایا تھا۔

 

محمد بن کثیر، سفیان، منصور، بن عبد الرحمن، صفیہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنا سر میری گود میں رکھ دیتے اور قرآن پڑھتے اور میں حائضہ ہوتی۔

 

                   حائضہ کا مسجد سے کوئی چیز اٹھانے کا بیان

 

مسدد بن مسرہد، ابو معاویہ، اعمش، ثابت بن عبید قاسم، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد سے جانماز اٹھا دو میں نے کہا کہ میں حائضہ ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں لگا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حجرے کا دروازہ مسجد میں کھلتا تھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ ہاتھ بڑھا کر مسجد سے جانماز اٹھا دو اس حدیث سے حائضہ کے لیے مسجد کے اندر داخلہ کا جواز نہیں ملتا۔

 

                   حائضہ عورتیں پاکی کے بعد نمازوں کی قضاء نہیں کرے گی

 

موسیٰ بن اسماعیل، وہیب، ایوب، ابو قلابہ، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا حائضہ (حالت حیض میں فوت شدہ) نمازوں کی قضاء کرے گی؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے پوچھا کہ تو حروریہ فرقہ سے تعلق رکھتی ہے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی موجود گی میں (یعنی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حیات میں) حیض آتا تھا لیکن ہم نمازوں کی قضاء نہیں کرتی تھیں اور نہ ہمیں ان کی قضاء کا حکم ہوتا تھا

 

حسن بن عمرو سفیان، ابن عبد الملک، ان مبارک، معمر، ایوب، معاذعدویہ نے (ایک دوسری سند کے ساتھ مذکورہ بالا حدیث) حضرت عائشہ سے روایت کی ہے ابو داد کہتے ہیں کہ معمر نے اس حدیث میں یہ روایت کیا ہے کہ (حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ) ہمیں روزہ کی قضاء کا تو حکم ہوتا تھا لیکن نماز کی قضاء کا حکم نہیں ہوتا تھا

 

                   حالت حیض میں جماع کرنے پر کفارہ لازم آتا ہے

 

مسدد، یحییٰ، شعبہ، حکم، عبد الحمید بن عبد الرحمن، مقسم، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ جو کوئی حالت حیض میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھے تو ایک دینار یا آدھا دینار صدقہ کرے ابو داؤد کہتے ہیں کہ روایات صحیحہ میں اسی طرح ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا (وہ صدقہ کرے) ایک دینار یا آدھا دینار ( ابو داؤد کہتے ہیں کہ) شعبہ نے اس حدیث کو (کبھی مرفوعاً ذکر کیا اور) کبھی مرفوعاً ذکر نہیں کیا۔

 

عبدالسلام بن مطہر، جعفر، ابن سلیمان، علی بن حکم بنانی ابو حسن مقسم، حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ اگر جماع حیض کے آغاز میں بیٹھے تو ایک دینار صدقہ کرے اور اگر حیض کے بند ہونے کے وقت جماع کرے تو آدھا دینار صدقہ کرے۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ ابن جریج نے بواسطہ عبد الکریم مقسم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔

 

محمد بن صباح، بزار، شریک، خصیف، مقسم، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جب کوئی شخص حالت حیض میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھے تو اس کو نصف دینار صدقہ کرنا چاہیئے ابو داؤد کہتے ہیں کہ علی بن بذیمہ اس کو بواسطہ مقسم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مرسلاً روایت کیا ہے (یعنی اس میں ابن عباس کا واسطہ نہیں ہے) اور اوزاعی نے بسند یزید بن ابی مالک بواسطہ عبد الحمید بن عبد الرحمٰن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کو دو خمس دینار صدقہ کرنے کا حکم فرمایا مگر یہ روایت مفصل ہے

 

                   حائضہ کے ساتھ جماع کے علاوہ باقی امور مباح ہیں

 

یزید بن خالد بن عبد اللہ بن موہب، لیث بن سعد، ابن شہاب، حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ازواج کے ساتھ مباشرت کرتے تھے اور وہ حائضہ ہوتی تھیں جبکہ وہ ایک تہہ بند باندھ کر نصف رانوں یا نصف گھٹنوں تک اس کی آڑ کر لیتی تھیں

 

مسلم بن ابراہیم، شعبہ، منصور، ابراہیم، اسود، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب ہم میں سے کسی کو حیض آتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ایک تہہ بند باندھنے کا حکم فرماتے اور اس کے بعد اس کے شوہر کو اس کے ساتھ سونے اور لیٹنے کی اجازت دیتے اور کبھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مباشرت کا لفظ استعمال کیا ہے

 

مسدد، یحییٰ، جابر بن صبح، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک ہی چادر میں رات بسر کرتے تھے اور میں حائضہ ہوتی تھی اگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بدن پر خون حیض لگ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم صرف اسی جگہ کو دھو لیتے (جہاں خون لگا ہوتا) اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اسی چادر میں نماز پڑھ لیتے۔

 

عبد اللہ بن مسلمہ، عبد اللہ، ابن عمر بن غانم، عبد الرحمن، ابن زیاد، حضرت عمارہ بن غراب کی پھوپھی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ ہم میں سے کسی کو حیض آتا ہے اور اس کے اور اس کے شوہر کے لیے ایک بستر ہوتا ہے (ایسی صورت میں کی کرنا چاہیئے؟) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا عمل بتاتی ہوں ایک رات آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میرے گھر تشریف لے گئے میری مراد ہے اپنے گھر کی مسجد میں (یعنی مصلے پر ہس جب تک آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نماز سے فارغ ہوئے تب تک میں سو چکی تھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو سردی نے ستایا تو فرمایا میرے قریب آ جاؤ میں حائضہ تھی (جب میں آ گئی تو) فرمایا اپنی رانوں کو کھول لو تو میں نے اپنی رانوں کو کھول دیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے میری رانوں پر اپنا چہرہ اور سر رکھ دیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر جھک گئی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سردی ختم ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سو گئے۔

 

سعید بن عبد الجبار، عبد العزیز، ابن محمد، ابو یمان، ام ذرہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ جب مجھے حیض آتا تو میں بستر سے اتر کر بوریے پر آ جاتی اور میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اس وقت تک قربت اختیار نہ کرتی جب تک کہ میں پاک صاف نہ ہو لیتی۔

 

موسیٰ بن اسماعیل، حماد، ایوب، حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعض ازواج سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب حائضہ بیوی سے کچھ (اختلاط اور مساس وغیرہ) کرنا چاہتے تو اس کی شرمگاہ پر ایک کپڑا ڈال لیتے۔

 

عثمان بن ابی شیبہ، جریر، شیبانی، عبد الرحمن بن اسود، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ابتدائے حیض میں (جب اس میں شدت ہوتی) تہہ بند باندھنے کا حکم فرماتے تھے اور اس کے بعد ہم سے مباشرت کرتے تھے اور تم میں سے کون اپنے نفس اور خواہش پر اس قدر قدرت یافتہ ہے جتنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تھے۔

 

                   مستحاضہ عورت کا بیان اور اس بات کا بیان کہ مستحاضہ عورت اپنے ایام حیض کے بقدر نماز چھوڑ دے

 

عبد اللہ بن مسلمہ، مالک، نافع، سلیمان بن یسار، زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ زمانہ نبوت میں ایک عورت کے بہت خون بہتا تھا (اس کو استحاضہ ہو گیا تھا) تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس عورت کے متعلق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مسئلہ دریافت کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اس کو چاہیے کہ اس بیماری سے قبل اس کو مہینہ میں جتنے دن اور رات حیض آتا تھا ان کو شمار کر لے اور پھر اتنے دنوں تک مہینہ میں نماز چھوڑ دیا کرے پس جب وہ دن گزر جائیں تو غسل کرے اور ایک کپڑے کا لنگوٹ باندھ لے اور پھر نماز پڑھے

 

قتیبہ بن سعید، یزید، بن خالد بن عبد اللہ بن موہب، لیث نافع، سلیمان، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت کے خون بہتا تھا اور راوی نے پہلی حدیث کا مضمون ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جب حیض کے دن گزر جائیں اور نماز کے دن آ جائیں تو چاہیے کہ غسل کر لے۔

 

عبد اللہ بن مسلمہ، انس ابن عیاض، عبید اللہ بن نافع، سلیمان بن یسار، ایک انصاری شخص سے روایت ہے کہ ایک عورت کے خون بہتا تھا پھر راوی نے حدیث لیث کی طرح مضمون روایت کرتے ہوئے کہا کہ جب ان ایام حیض کو گزارے اور نماز کا وقت آ جائے تو غسل کرے اور بقیہ مضمون حسب سابق بیان کیا۔

 

یعقوب بن ابراہیم، عبد الرحمن بن مہدی، صخر بن جویریہ، حضرت نافع نے سنداً و معنی حدیث لیث کی طرح ذکر کرتے ہوے کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ وہ ایام حیض کے بقدر نماز چھوڑ دے پھر جب نماز کے دن آ جائیں تو غسل کرے اور ایک کپڑے کا لنگوٹ باند کر نماز پڑھے۔

 

موسیٰ بن اسماعیل، وہیب، ایوب، سلیمان بن یسار، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے یہی واقعہ مروی ہے اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ وہ نماز چھوڑ دے اور اس کے ماسوا میں (ایام طھر میں) غسل کرے اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ کر نماز پڑھے ابو داؤد کہتے ہیں کہ حماد بن زید نے ایوب کے واسطہ سے اس حدیث میں اس مستحاضہ عورت کا نام فاطمہ بنت ابی حبیش بتایا ہے

 

قتیبہ بن سعید، لیث یزید، ابن ابی حبیب، جعفر، عراک، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے استحاضہ کے متعلق دریافت فرمایا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ان کا (یعنی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا) کپڑے دھونے کا برتن میں نے خون سے بھرا ہوا دیکھا ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ جتنے دنوں تک حیض تمہیں نمازوں سے روکتا تھا اتنے دنوں تک رکی رہ اور اس کے بعد غسل کر لے ابو داؤد کہتے ہیں کہ قتیبہ نے اس روایت کو جعفر بن ربیعہ کی حدیث کے اثناء اور آخر میں ذکر کیا ہے اور اس روایت کو علی بن عیاش اور یونس بن محمد نے لیث، جعفر بن ربیعہ سے روایت کیا ہے

 

عیسی بن حماد، لیث یزید بن ابی حبیب، بکری بن عبد اللہ، منذر بن مغیرہ، حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے (مسلسل) خون آنے کی شکایت کی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا یہ (حیض نہیں ہے بلکہ) ایک رگ کا خون ہے پس تو خیال رکھ کہ جب تیرے حیض کے دن آئیں تو نماز مت پڑھ پھر جب حیض کے دن گزر جائیں تو پاکی حاصل کر (یعنی غسل کر لے) اور پھر دوسرے حیض تک نماز پڑھتی رہ۔

 

یوسف بن موسی، جریر سہیل، ابن ابو صالح، زہری، حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش نے مجھ سے حدیث بیان کی انہوں نے اسماء کو حکم کیا یا اسماء نے مجھ سے حدیث بیان کی کہ فاطمہ بنت ابی حبیش نے ان کو رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سوال کرنے کا حکم دیا تھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جتنے دن تو پہلے حیض کے لیے بیٹھتی تھی اب بھی بیٹھ اور اس کے بعد غسل کر لے ابو داؤد کہتے ہیں کہ قتادہ نے اس حدیث کو بسند عروہ بن زبیر بواسطہ ام سلمہ روایت کیا ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش کو استحاضہ ہو گیا تھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو ایام حیض میں نماز چھوڑ دینے اور اس کے بعد غسل کر کے نماز پڑھنے کا حکم فرمایا ابو داؤد کہتے ہیں کہ ابن عیینہ نے زہری کی روایت میں بسند عروہ بواسطہ عائشہ رضی اللہ عنہایہ اضافہ کیا ہے کہ ام حبیبہ کو استحاضہ تھا انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو ایام حیض کی نماز چھوڑنے کا حکم فرمایا۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ یہ ابن عینیہ کا وہم ہے اور یہ عبارت حفاظ کی روایتوں میں زہری سے منقول نہیں ہے صرف سہیل بن ابی صالح کی روایت میں (یہ عبارت مذکور) ہے اور حمیدی نے اس حدیث کو ابن عینیہ کے حوالے سے روایت کیا ہے مگر اس میں یہ مذکور نہیں ہے کہ وہ ایام حیض کی نماز چھوڑ دے اور حضرت مسروق کی زوجہ قمیر بنت عمرو نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے اس میں یہ ہے کہ مستحاضہ ایام حیض کی نماز چھوڑ دے اور پھر غسل کرے۔ اور عبد الرحمن بن قاسم نے اپنے والد کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو ایام حیض کے بقدر نماز چھوڑ دینے کا حکم دیا اور ابو بشیر جعفر بن ابی وحشیہ نے بسند عکرمہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کیا ہے کہ ام حبیبہ بنت حجش کو استحاضہ ہوا۔ الخ اور شریک نے ابو الیقظان سے بسند عدی بن ثابت عن ابیہ عن جدہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کیا کہ مستحاضہ ایام حیض میں نماز چھوڑ دے اور اس کے بعد غسل کرے اور نماز پڑھے اور اعلا ابن مسیب نے بسند حکم بواسطہ ابو جعفر روایت کیا کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کو استحاضہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو ایام حیض گزرنے کے بعد غسل کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا اور سعید بن جبیر نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ابن عباس سے روایت کیا کہ مستحاضہ اپنے ایام حیض میں بیٹھی رہے (یعنی نماز نہ پڑھے) اور پھر ایسا ہی روایت کیا عمار مولی بن ہاشم اور طلق بن حبیب نے بواسطہ ابن عباس اور ایسا ہی روایت کیا معقل خثعی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اور ایسا ہی روایت کیا شعبی نے بواسطہ زوجہ مسروق قمیر سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ یہی قول حسن، سعید بن المسیب، عطاء، مکحول، ابراہیم اور سالم و قاسم کا کہ مستحاضہ اپنے ایام حیض کی نماز چھوڑ دے، ابو داؤد کہتے ہیں کہ قتادہ نے عروہ سے کچھ نہیں سنا۔

 

                   مستحاضہ ایام حیض میں نماز نہ پڑھے

 

احمد بن یونس، عبد اللہ بن محمد، زہیر، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا یہ حیض نہیں ہے بلکہ ایک رگ کا خون ہے پس جب حیض کے مدت آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب حیض کے دن نکل جائیں تو خون دھو کر نماز پڑھ۔

 

عبداللہ بن مسلمہ قعنبی، مالک ، ہشام، زہیر۔ ہشام نے سنداً ومعنی زہیر کی حدیث کے موافق روایت کرتے ہوئے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا جب حیض کے دن آئیں تو نماز چھوڑ دے اور جب وہ دن گزر جائیں تو خون دھو ڈال اور نماز پڑھ۔

 

عبد اللہ بن مسلمہ مالک، ہشام، زہیر، ہشام نے سند اًومعنیً زہیر کی حدیث کے موافق روایت کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے فرمایا، جب حیض کے دن آئیں تو نماز چھوڑ دے اور جب وہ دن گزر جائیں تو خون دھو ڈال اور نماز پڑھ۔

 

موسیٰ بن اسماعیل، ابو عقیل، حضرت یحیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذریعہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے دریافت کرایا کہ جس عورت کا نظام حیض بگڑ جائے اور اس کا خون مسلسل جاری رہے (تو اس کو کیا کرنا چاہیے) اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ تم اس کو حکم کرو کہ وہ اتنے دنوں کا خیال کرے مہینہ میں جتنے دن اس کو صحت کی حالت میں خون آتا تھا پھر اتنے ہی دن شمار کرے اور نماز چھوڑے رکھے اس کے بعد غسل کرے اور ایک لنگوٹ باندھ کر نماز پڑھے۔ مستحاضہ کا حکم یہ ہے کہ اگر اس کو حیض کی مقدار اور وقت معلوم ہو کہ ہر ماہ کی ابتدائی یا درمیانی یا آخری تاریخوں میں اتنے دن حیض رہتا تھا تو وہ استحاضہ کے درمیان اتنے ہی دن کم نمازیں چھوڑے گی اور باقی ایام میں نماز پڑھے گی پھر احناف کے نزدیک حیض کی آمد اور باز گشت کا مدار عادت پر ہے نہ کہ خون کی رنگت پر پس حیض کے ایام میں ہر قسم کی رنگین رطوبت حیض ہی کہلائے گی شوافع کے نزدیک رنگ کے اعتبار ہے اگر خون سرخ یا سیاہ رنگ کا ہو تو وہ حیض ہی ہے اور دوسرے کسی رنگ کا ہو تو وہ حیض نہیں ہے۔

 

ابن ابی عقیل، محمد بن سلمہ، ابن وہب، عمرو بن حارث، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سالی اور عبد الرحمن بن عوف کی بیو ی، ام حبیبہ کو سات سال تک خون آیا انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مسئلہ پوچھا، آپ نے فرمایا یہ حیض نہیں ہے بلکہ یہ رگ (کا خون ہے) لہذا غسل کر کے نماز پڑھ لو ابو داؤد کہتے ہیں کہ اوزاعی نے اس حدیث میں زہری سے بو اسطہ عروہ وعمرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اتنا زیادہ کیا ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش کو سات سال خون آیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو حکم دیا کہ جب حیض کے ایام شروع ہوں تو نماز چھوڑ دو اور جب وہ ایام ختم ہو جائیں تو غسل کر کے نماز پڑھ لو ابو داؤد کہتے ہیں اوزاعی کے علاوہ زہری کے کسی شاگرد نے یہ ذکر نہیں کیا اس حدیث کو زہری سے عمرو بن حارث، لیث، یونس، ابن ابی ذئب معمر، ابراہیم بن سعد، سلیمان بن کثیر، ابن اسحاق اور سفیان ابن عیینہ نے بھی روایت کیا ہے مگر ان حضرات نے بھی یہ ذکر نہیں کیا ہے ابو داؤد کہتے ہیں کہ یہ الفاظ تو حدیث ہشام بن عروہ عن ابیہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہیں ابو داؤد کہتے ہیں کہ ابن عیینہ نے اس حدیث میں یہ بھی زیادتی کی ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایام حیض میں نماز چھوڑنے کا حکم دیا حالانکہ یہ زیادتی ابن عیینہ کا وہم ہے البتہ زہری سے محمد بن عمرو کی حدیث میں وہ کچھ ہے جو اوزاعی کی زیادتی کے قریب قریب ہے۔

 

محمد بن مثنی، محمد بن عدی، محمد، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کو استحاضہ کا خون آتا تھا تو ان سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جب حیض کا خون ہو تو سیاہ ہوتا ہے اور پہچان لیا جاتا ہے پس جب یہ خون ہو تو نماز نہ پڑھو اور جب اس کے علاوہ ہو تو وضو کر کے نماز پڑھ لو کیونکہ وہ (حیض نہیں ہے بلکہ) رگ کا خون ہے ابو داؤد کہتے ہیں کہ ابو المثنی نے کہا ہے کہ ہم سے ابن عدی نے یہ حدیث اپنی کتاب سے یہ حدیث اسی طرح بیان کی ہے اس کے بعد انہوں نے حافظہ سے بروایت محمد بن عمرو بطریق زہری بواسطہ عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا کہ فاطمہ کو استحاضہ کا خون آتا تھا پھر پہلی حدیث کے ہم معنی ذکر کیا ابو داؤد کہتے ہیں کہ ابن سیرین نے عباس سے مستحاضہ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ جب وہ خوب گاڑھا سرخ خون دیکھے تو نماز نہ پڑھے اور جب پاکی دیکھے خواہ تھوڑی دیر کے لیے ہی کیوں نہ ہو تو غسل کر کے نماز پڑھے مکحول کہتے ہیں کہ عورتوں سے حیض کا خون پوشیدہ نہیں ہوتا کیونکہ وہ سیاہ وہ گاڑھا ہوتا ہے پس جب یہ ختم ہو کر پتلی زردی آنے لگے تو وہ استحاضہ ہے اور اس سے غسل کر کے نماز پڑھ لینی چاہیئے ابو داؤد کہتے ہیں کہ حماد بن زید نے بروایت یحیٰ بن سعید بطریق قعقاع بن سعید بن المسیب سے مستحاضہ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ جب حیض شروع ہو تو نماز چھوڑ دو اور جب ختم ہو جائے تو غسل کر کے نماز پڑھ لے اور سمی بن المسیب سے روایت کیا ہے کہ وہ ایام حیض میں نماز سے بیٹھی رہے اس طرح حماد بن سلمہ نے بواسطہ یحیٰ بن سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے ابو داؤد کہتے ہیں کہ یونس نے حضرت حسن سے روایت کیا ہے کہ جب حائضہ عورت کا خون زیادہ دنوں تک جاری رہے تو وہ حیض کے بعد بھی ایک یا دو دنوں تک نماز سے رکی رہے اب وہ مستحاضہ ہو گئی تیمی نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ جب اس کے حیض کے دنوں سے پانچ دن زیادہ گزر جائیں تو اب وہ نماز پڑھ لے تیمی کہتے ہیں کہ میں اس میں سے کم کرتے کرتے دو دن تک آ گیا انہوں نے کہا جب دو دن زیادہ ہوں تو وہ حیض ہی کے دن سمجھے جائیں گے ابن سیرین سے جب اس کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ عورتیں اس سے زیادہ واقف ہیں۔

 

زہیر بن حرب، عبد الملک بن عمرو، زہیر بن محمد، عبد اللہ بن محمد بن عقیل، ابراہیم بن محمد بن طلحہ، حضرت حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ مجھے بہت زیادہ خون آتا تھا تو میں مسئلہ پوچھنے اور حالات بتانے کی غرض سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اپنی بہن اینب بنت جحش کے گھر پایا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مجھے بہت زیادہ خون آتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میرے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ کیونکہ میں تو نماز روزہ قابل بھی نہیں رہ گئی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا میں تجھے روئی رکھنے کا مشورہ دیتا ہوں اس سے خون ختم ہو جائے گا میں نے عرض کیا کہ وہ تو اس سے زیادہ ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تب لنگوٹ کی شکل میں باندھ لے میں نے عرض کیا وہ اس سے بھی زیادہ ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ کپڑا استعمال کرے میں نے عرض کیا وہ اس سے بھی کہیں زیادہ ہے میرے تو خون کہ دھار بندھی رہتی ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا دو باتیں بتاتا ہوں کہ ان میں سے ایک بھی کافی ہے اور اگر تو دونوں پر عمل کر سکتی ہے تو تو جان آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ یہ تو شیطان کا چوکہ ہے لہذا تو اپنے آپ کو چھ یا سات دن حائضہ سمجھ کر پھر غسل کر اور جب تو اپنے آپ کو پاک صاف سمجھ لے تو یا روز نماز ادا کر اور روزے رکھ یہ تجھے کافی ہے اور جس طرح عورتیں حیض و طہر کے اوقات میں کرتی ہیں اسی طرح تو بھی ہر ماہ کر لیا کر اور اگر تو یہ کر سکتی ہے تو یہ کر لے کہ ظہر کی نماز کو موخر اور عصر کی نماز کو مقدم کر اور غسل کر کے ظہر اور عصر کی نمازوں کو جمع کر لے (یعنی دونوں نمازوں کو ایک ساتھ پڑھ) اور پھر اسی طرح مغرب کو موخر اور عشاء کو مقدم کو کر اور غسل کر کے دونوں کو جمع کر اور ایک غسل کی فجر کی نماز کے لیے کر اگر تو ایسا کر سکتی ہو تو پھر ایسا ہی کئے جا اور روزے رکھتی رہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا یہ دوسری بات مجھے زیادہ پسند ہے ابو داؤد کہتے ہیں کہ عمرو بن ثابت نے بواسطہ ابن عقیل حمنہ کا قول نقل کیا ہے انہوں نے کہا کہ یہ دوسری بات مجھے زیادہ پسند ہے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا قول نہیں بلکہ حمنہ کا قول ہے ابو داؤد کہتے ہیں کہ میں امام احمد کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ حدیث ابن ثابت بواسطہ ابن عقیل کے بارہ میں میرے دل میں کھٹک تھی ابو داؤد نے بیان کیا کہ عمرو بن ثابت رافضی تھا اور اس بات کو یحیٰ بن معین کے حوالہ سے نقل کیا ہے

 

                   مستحاضہ کو ہر نماز کے لیے غسل کر نے کا بیان

 

ابن ابی عقیل، محمد بن سلمہ، ابن وہب، عمرو بن حارث، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سالی اور عبد الرحمن بن عوف کی بیوی ام حبیبہ بنت حجش کو سات سال استحاضہ کی شکایت رہی۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اس کا مسئلہ دریافت کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا یہ حیض نہیں ہے بلکہ ایک رگ (کا خون) ہے لہذا غسل کر کے نماز پڑھ لیا کرو حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ وہ اپنی بہن زینب بنت جحش کے کمرہ میں ایک بڑے لگن (ٹپ) میں غسل کرتی تھیں تو ان کے خون کی سرخی پانی پر غالب آ جاتی تھی۔

 

احمد بن صالح، عنبسہ، یونس، ابن شہاب، عمرہ بنت عبد الرحمن، حضرت ام حبیبہ سے پہلی حدیث کی طرح روایت ہے کہ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ وہ (ام حبیبہ) ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔

 

یزید بن خالد عبد اللہ بن موہب احمد بن صالح، عنبسہ، ، یونس، ابن شہاب، عمرہ بنت عبد الرحمن، حضرت عائشہ سے پہلی حدیث کی طرح روایت ہے اس میں یہ ہے کہ ام حبیبہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھی ابو داؤد کہتے ہیں کہ قاسم بن مبرور نے اس کی سند میں یوں کہا ہے عن یونس عن ابن شہاب، عن عمرہ، عن عائشہ، عن ام حبیبہ بنت جحش اسی طرح معمر نے زہری سے یوں روایت کیا ہے عن عمرہ، عن عائشہ اور کبھی معمر نے عن عمرہ، عن ام حبیبہ روایت کیا ہے۔ اسی طرح اس حدیث کو ابرا ہیم بن سعد اور ابن عیینہ نے زہری سے عن عمرہ، عن عائشہ، روایت کیا ہے اور ابن عیینہ نے اپنی بیان کردہ حدیث میں کہا ہے کہ زہری نے یہ نہیں کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو غسل کا حکم فرمایا تھا

 

محمد بن اسحاق ، ابن ابی ذئب، ابن شہاب، عروہ، حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ ام حبیبہ کو سات سال تک استحاضہ کی شکایت رہی۔ آپ نے ان کو غسل کا حکم فرمایا۔ پس وہ نماز کے لیے غسل کرتی تھیں اسی طرح اوزاعی نے بھی روایت کیا ہے اس میں یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا وہ (یعنی ام حبیبہ) ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔

 

ہناد، بن سری، عبد ہ، ابن اسحاق ، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عہد نبوی میں ام حبیبہ بنت جحش کو خون آنے لگا (یعنی استحاضہ ہو گیا) تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا حکم فرمایا اور پھر پوری حدیث بیان کی ابو داؤد کہتے ہیں کہ ابو الولید طیالیسی نے بھی روایت کیا ہے مگر میں نے ان سے (براہ راست) نہیں سنا بلکہ بلواسطہ بروایت سلیمان بن کثیر بسند زہری بواسطہ عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ زینب بنت جحش کو خون آنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا حکم فرمایا اور پوری حدیث بیان کی ابو داؤد کہتے ہیں کہ اس کو عبد الصمد نے سلیمان بن کثیر سے روایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہر نماز کے لیے وضو کر ابو داؤد کہتے ہیں کہ یہ عبد الصمد کا وہم ہے اور اس سلسلہ میں صحیح قول ابو الولید طیالیسی کا ہے (یعنی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا حکم فرمایا)

 

عبد اللہ بن عمرو بن ابی حجاج، ابو معمر، عبد الوارث حسین بن علی، حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان فرماتے ہیں کہ مجھ سے زینب بنت ابی سلمہ نے بیان کیا کہ ایک عورت کا خون بہا کرتا تھا اور وہ عورت عبد الرحمن بن عوف کے نکاح میں تھی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو ہر نماز کے لیے غسل کرنے اور نماز پڑھنے کا حکم دیا یحیٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ مجھ کو ابو سلمہ نے خبر دی کہ ان کو ام بکر نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس عورت کے متعلق فرمایا جو طہر کے بعد خون دیکھے اور وہ اس کو شک میں ڈال دے، کہ یہ ایک رگ کا خون ہے یا یہ فرمایا کہ یہ رگوں کا خون ہے ابو داؤد کہتے ہیں کہ ابن عقیل کی حدیث میں دو امر (جنمیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اختیار دیا تھا) یہ تھے کہ اگر ممکن ہو تو ہر نماز کے لیے غسل کر ورنہ (ایک غسل سے دو نمازوں کو) جمع کرو جیسا کہ قاسم نے اپنی حدیث میں ذکر کیا ہے اور یہ قول بواسطہ سعید بن جبیر اور حضرت علی و ابن عباس سے مروی ہے۔

 

                   مستحاضہ دو نمازوں کے لیے ایک غسل کرے

 

عبید اللہ بن معاذ، شعبہ، عبد الرحمن بن قاسم، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانہ میں ایک عورت کو استحاضہ ہوا تو اس کو یہ حکم دیا گیا کہ عصر کی نماز جلدی پڑھے اور ظہر کی نماز دیر سے پڑھے اور دونوں نمازوں کے لیے ایک غسل کرے اور اسی طرح مغرب کی نماز میں دیر کرے اور عشاء کی نماز میں جلدی کرے اور دونوں نمازوں کے لیے ایک غسل کرے اور صبح کی نماز کے لیے ایک غسل کرے شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے (اس حدیث کے راوی) عبد الرحمن بن قاسم سے پوچھا کہ کیا آپ یہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف سے نقل کر رہے ہیں فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ہی نقل کر رہا ہوں۔

 

عبدالعزیز بن یحییٰ، محمد بن سلمہ، محمد بن اسحاق ، عبد الرحمن بن قاسم، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سہلہ بنت سہیل کو استحاضہ کا خون آیا تو (مسئلہ دریافت کرنے لیے) آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا حکم فرمایا جب ان پر یہ عمل دشوار ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک غسل سے ظہر و عصر اور دوسرے غسل سے مغرب و عشاء جمع کرنے کا حکم دیا اور تیسرے غسل سے نماز فجر پڑھنے کا حکم فرمایا ابو داؤد کہتے ہیں کہ ابن عیینہ نے اس حدیث کو بواسطہ عبد الرحمن بن القاسم، ان کے والد قاسم سے اس طرح روایت کیا ہے کہ ایک عورت کو استحاضہ کی شکایت ہو گئی اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مسئلہ پوچھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسے وہی حکم فرمایا جو پہلی حدیث میں گزرا۔

 

وہب بن بقیہ، خالد، سہیل، ابن ابو صالح، زہری، عروہ بن زبیر، حضرت اسامہ بنت عمیس سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فاطمہ بنت ابی حبیش کو اتنی مدت سے استحاضہ کا خون آ رہا ہے اور وہ نماز نہیں پڑھ رہی ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا سبحان اللہ یہ تو شیطان کی شرارت ہے اسے چاہیئے کہ ایک لگن (ٹب) میں بیٹھ جائے اور جب پانی پر زردی دیکھے تو ایک غسل ظہر و عصر کے لیے کرے اور ایک غسل مغرب و عشاء کے لیے کرے اور ایک غسل فجر کے لیے کرے اور اس کے درمیان وضو کرتی رہے ابو داؤد کہتے ہیں کہ اس کو مجاہد نے ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ جب ان پر (فاطمہ بنت ابی حبیش پر ہر نماز کے لیے غسل کرنا) دشوار ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک غسل سے دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا حکم فرمایا ابو داؤد کہتے ہیں کہ اس ابراہیم نے ابن عباس سے روایت کیا ہے اور ابراہیم نخعی، عبد اللہ بن شداد کا یہی قول ہے

 

                   مستحاضہ جب حیض سے فارغ ہو جائے

 

محمد بن جعفر بن زیاد، عثمان بن شیبہ، شریک، حضرت عدی بن ثابت سے روایت ہے کہ انہوں نے بواسطہ اپنے والد اپنے دادا سے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مستحاضہ کے حق میں فرمایا کہ وہ ایام حیض میں نماز چھوڑ دے پھر غسل کر کے نماز پڑھے اور ہر نماز کے وقت وضو کیا کرے ابو داؤد کہتے ہیں کہ عثمان بن ابی شیبہ نے مزید یہ الفاظ ذکر کئے ہیں کہ وہ روزہ رکھے اور نماز پڑھے۔

 

عثمان بن ابی شیبہ، وکیع، اعمش، حبیب بن ابی ثابت، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی جیش نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور راوی نے ان کا واقعہ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا پھر غسل کر پھر وضو کر ہر نماز کے لیے اور نماز پڑھ۔

 

احمد بن سنان، یزید، ایوب بن ابی مسکین حجاج، ام کلثوم، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مستحاضہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ ایک مرتبہ غسل کرے پھر اپنے حیض کے ایام تک وضو کرتی رہے۔

 

احمد بن سنان، یزید بن ایوب، ابو علاء ، ابن شبرمہ، مسروق، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی کیے مثل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم روایت کیا ہے ابو داؤد کہتے ہیں کہ عدی بن ثابت کی یہ حدیث اور اعمش کی روایت بواسطہ حبیب اور ابو العلماء حدیث سب ضعیف ہیں صحیح نہیں ہیں اور حدیث اعمش بواسطہ حبیب کے ضعیف ہونے کی دلیل یہ ہے کہ حفص بن غیاث نے اس کو اعمش سے موقوفاً بیان کیا ہے اور اس کے مرفوع ہونے کا انکار کیا ہے نیز اسباط نے بھی اس کو اعمش سے حضرت عائشہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر موقوف کیا ہے ابو داؤد کہتے ہیں کہ ابن داؤد نے اعمش سے اس کے اول حصہ کو مرفوعاً روایت کیا ہے اور اس میں ہر نماز کے وقت وضو ہونے کا انکار ہے اور حدیث حبیب کے ضعف پر دوسری دلیل یہ ہے کہ زہری کی روایت بواسطی عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بواسطہ سے مستحاضہ کیت یوں ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھیں ابو الیقظان نے بطریق عدی بن ثابت بواسطہ ثابت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اور عمار مولی بنی ہاشم نے حضرت ابن عباس سے اور عبد الملک بن میسرہ بیان مغیرہ فراس اور مجاہد نے بطریق شعبی بحدیث امیر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ ہر نماز کے لیے وضو کرے اور داؤد عاصم کی روایت بطریق شعبی عن قمیرہ عن عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ ہے کہ وہ ہر دن ایک غسل کرے اور ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ مستحاضہ ہر نماز کے لیے وضو کرے اور یہ تمام احادیث ضعیف ہیں مگر تین روایتیں ایک قمیرہ کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دوسری عمار مولی بنی ہاشم کی ابن عباس سے اور تیسری ہشام بن عروہ کی اپنے والد سے اور ابن عباس سے غسل ہی معروف ہے

 

                   مستحاضہ ایک ظہر سے دوسرے ظہر تک کے لیے غسل کرے

 

قعنبی، مالک، ابو بکر، قعقاع، زید بن اسلم، حضرت سمی مولی ابو بکر سے روایت ہے کہ حضرت قعقاع اور زید بن اسلم نے ان کو سعید بن المسیب کے پاس یہ دریافت کرنے کے لیے بھیجا کہ مستحاضہ عورت غسل کیسے کرے سعید نے جواب دیا کہ ایک ظہر سے دوسرے ظہر تک کے لیے غسل کرے اور (درمیان کی باقی) ہر نماز کے لیے وضو کرے اور اگر خون بہت آئے تو کپڑے کا لنگوٹ باندھ لے ابو داؤد کہتے ہیں کہ ابن عمر اور انس بن مالک سے بھی مروی ہے کہ ایک ظہر سے دوسرے ظہر تک کے لیے غسل کرے اور داؤد و عاصم نے بھی بطریق شعبی بواسطہ ایک عورت عن قمیر عن عائشہ اسی طرح روایت کیا ہے مگر داؤد کی روایت میں کل یوم کا لفظ کہا ہے اور عاصم نے ہر ظہر کے وقت اور یہی قول ہے سالم بن عبد اللہ، حسن بصری، اور عطاء کا ابو داؤد کہتے ہیں کہ امام مالک نے کہا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ سعید بن المسیب کی روایت یوں ہو گی غسل کرے ایک طہر سے دوسرے طہر اس میں راوی کو وہم ہو گیا چنانچہ مسور بن عبد المالک بن سعید بن عبد الرحمن بن یربوع نے من طہر الیٰ طہر روایت کیا ہے لوگوں نے اس کو من ظہر الیٰ ظہر کر ڈالا۔

 

                   مستحاضہ ہر روز غسل کیا کرے

 

احمد بن حنبل، عبد اللہ بن نمیر، محمد بن ابی اسماعیل، محمد بن راشد، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کہ جب مستحاضہ کا زمانہ حیض گزر جائے تو وہ ہر روز غسل کرے اور ایک کپڑا گھی یا تیل میں تر کر کے شرمگاہ پر رکھ لے۔

 

                   مستحاضہ ایام طہر میں غسل کیا کرے

 

قعنبی، عبد العزیز، محمد بن عثمان نے قاسم بن محمد سے مستحاضہ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ ایام حیض میں نماز چھوڑ دے پھر (جب ایام حیض گزر جائیں تو) غسل کر کے نماز پڑھے اور پھر ایام (طہر) میں غسل کرتی رہے (ایام طہر میں غسل کی تاکید علاجاً ہے تشریعاً نہیں)

 

                   مستحاضہ ہر نماز کے لیے وضو کرے

 

محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، محمد، بن عمرو، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت فاطمہ بنت حبیش سے روایت ہے کہ ان کو استحاضہ کا خون آتا تھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے فرمایا کہ جب حیض کا خون آتا ہے تو وہ سیاہ ہوتا ہے اور پہچان لیا جاتا ہے پس جب ایسا ہو تو نماز چھوڑ دو اور دوسری طرح کا خون آنے لگے تو وضو کر کے نماز پڑھے ابو داؤد کہتے ہیں کہ ابن مثنیٰ نے بیان کیا کہ جب ابن عدی نے ہم سے یہ حدیث حفظ بیان کی تو اس میں عن عروہ عن عائشہ رضی اللہ عنہا کہا ابو داؤد کہتے ہیں کہ یہ حدیث علاء بن المسیب اور شعبہ سے بواسطہ حکم عن ابی جعفر بھی مروی ہے علاء بن المسیب نے تو اس حدیث کو مرفوعاً بیان کیا ہے اور شعبہ نے موقوفاً اس میں یہ ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے وضو کرے۔

 

                   مستحاضہ کو ہر نماز کے وقت وضو کرنا ضروری نہیں مگر یہ کہ جب کوئی حدث لاحق ہو

 

زیاد بن ایوب، ہشیم، ، ابو بشر، حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام حبیبہ بنت حبیش کو استحاضہ کا خون آیا تو انہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حکم دیا کہ وہ اپنے ایام حیض میں انتظار کرے پھر غسل کر کے نماز پڑھ لے اور اگر اسے حدث میں سے کچھ محسوس ہو تو وضو کر کے نماز پڑھے۔

 

عبدالملک، بن شعیب، عبد اللہ بن وہب، لیث، حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مستحاضہ پر ہر نماز کے لیے وضو ضروری نہیں سمجھتے تھے الا یہ کہ اس کو استحاضہ کے سوا کوئی حدث لاحق ہو جائے تو وضو کرے ابو داؤد کہتے ہیں کہ یہی مالک بن انس کا قول ہے۔

 

                   حیض سے پاک ہونے کے بعد زردی یا تیرگی کا اعتبار نہیں

 

موسیٰ بن اسماعیل، حماد، قتادہ، ام ہذیل، حضرت ام عطیہ جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہاتھ پر بیعت کی تھی ان کا بیان ہے کہ ہم حیض سے فراغت کے بعد زرد یا مٹیالے رنگ کی رطوبت کچھ نہ سمجھتے تھے (یعنی اس کو حیض میں شمار نہیں کرتے تھے۔

 

مسدد، اسماعیل، ایوب، محمد بن سیرین، حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح مروی ہے ابو داؤد کہتے ہیں کہ ام ہذیل حفصہ بنت سیرین ہیں ان کے لڑکے کا نام ہذیل اور شوہر کا نام عبد الرحمن تھا۔

 

                   مستحاضہ سے اس کا شوہر جماع کر سکتا ہے

 

ابراہیم بن خالد، معلی بن منصور، علی بن مسہر، شیبانی، حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام حبیبہ مستحاضہ تھیں اور ان کے شوہر ان سے صحبت (جماع) کرتے تھے ابو داؤد کہتے ہیں کہ یحیٰ بن معین نے معلی کو ثقہ قرار دیا ہے مگر امام احمد ابن حنبل ان سے روایت نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ قیاس میں دخل رکھتے تھے۔

 

احمد بن ابی سریج، عبد اللہ بن جہم، حمنہ بنت جحش سے روایت ہے کہ وہ مستحاضہ تھیں اور سی حالت میں ان کے شوہر ان سے جماع کرتے تھے۔

 

                   نفاس کی مدت کا بیان

 

احمد بن یونس، زہیر، علی بن عبد الاعلی، ابو سہل، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانہ میں نفاس والی عورتیں زچگی کے بعد چالیس راتیں بیٹھتی تھیں (یعنی ان دنوں میں نماز نہیں پڑھتی تھیں) (ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ) ہم عورتیں جھائیں دور کرنے کے لیے اپنے منہ پر ورس (ایک خوشبودار گھاس) ملا کرتی تھیں۔

 

حسن بن یحییٰ، محمد بن حاتم، حبی، عبد اللہ بن مبارک، یونس بن نافع، کثیر بن زیاد، حضرت ازدیہ مُسَّہ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں حج کو گئی تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ اے ام المومنین! سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ عورتوں کے زمانہ حیض کی نمازیں پوری کرنے کا حکم دیتے ہیں (آپکی کیا رائے ہے؟) انھوں نے فرمایا کہ نہ پڑھیں۔ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ازواج میں سے کوئی حالتِ نفاس میں چالیس راتیں بیٹھی رہتی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کو حالتِ نفاس کی نمازیں پوری کرنے کا حکم نہیں دیتے تھے محمد بن حتم کہتے ہیں کہ کثیر بن زیاد کی کنیت ابو سہل ہے۔

 

                   خون حیض کو دھو نے یا غسل حیض کا طریقہ

 

محمد بن عمرو، سلمہ، ابن فضل، محمد، ابن اسحاق ، سلیمان بن سحیم، حضرت امیہ بنت ابی صلت رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کو بنی غفار کی ایک عورت نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے اونٹ پر کجاوہ کے پچھلے حصہ پر اپنے پیچھے بٹھا لیا پس خدا کی قسم آپ صبح کے وقت ایک مقام پر اترے اور اونٹ کو بٹھایا تو میں بھی نیچے اتری۔ پس اچانک میں نے دیکھا کہ حقیبہ پر میرا خونِ حیض لگا ہوا ہے اور یہ میرا پہلا حیض تھا۔ میں شرم کے مارے اونٹ سے چمٹ گئی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے میرا یہ حال دیکھا اور خون پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نظر پڑی تو فرمایا شاید تجھے حیض آ گیا ہے؟ میں نے کہا ہاں! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اپنے آپ کو درست کر لے۔ پھر ایک برتن میں پانی لے کر اس میں نمک ملا اور حقیبہ میں جو خون لگ گیا ہے اس کو دھو ڈال اور پھر اس حقیبہ پر سوار ہو جا۔ اس عورت کا بیان ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خیبر کو فتح کیا تو مالِ غنیمت میں سے کچھ حصہ ہمیں بھی عطا فرمایا پھر وہ عورت جب بھی حیض سے پاکی حاصل کرتی تو پانی میں نمک ملایا کرتی اور جب مرنے لگی تو وصیت کی کہ مجھے نہلانے کے لئے پانی میں نمک ضرور ملانا۔

 

عثمان بن ابی شیبہ، سلام بن سلیم، ابراہیم بن مہاجر، صفیہ بنت شیبہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اسماء بنتِ ابو بکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس آئیں اور پوچھا یا رسول اللہ! جب ہم میں سے کوئی حیض سے پاک ہو جائے تو غسل کس طرح کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا بیری کے پتوں کا پانی لیکر پہلے وضو کر پھر خوب مل کر سر کو دھو، یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے پھر سارے بدن پر پانی بہا۔ پھر اپنا فِرصہ لیکر اس سے پاکی حاصل کر۔ کہا یا رسول اللہ! فِرصہ سے کیسے پاکی حاصل کروں؟ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کہ میں وہ بات سمجھ گئی جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اشارتاً فرمائی تھی تو میں اسماء سے کہہ دیا کہ جہاں خون لگا ہو اسے صاف کر ڈال۔

 

مسدد بن مسرہد، ابو عوانہ، ابراہیم بن مہاجر، صفیہ بنت شیبہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انصاری عورتوں کا ذکر کیا تو ان کی تعریف کی اور فرمایا کہ ہم سب پر ان کا احسان ہے۔ ان میں سے ایک عورت رسول اللہ کے پاس آئی اور پھر مندرجہ بالا حدیث بیان کی مگر اس میں اتنا اضافہ ہے کہ فِرصہ مشک لگا ہوا ہو۔ مسدد کہتے ہیں کہ ابو عوانہ نے فِرصہ اور ابو الاحوص نے قرصہ روایت کیا ہے۔

 

عبید اللہ بن معاذ، شعبہ، ابراہیم، ابن مہاجر، صفیہ، بنت شیبہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اسماء نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے دریافت کیا اس کے بعد پہلی حدیث کی طرح بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا مشک لگا ہوا فرصہ تو اسماء نے کہا کہ میں اس سے کیسے صفائی حاصل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا سبحان اللہ اس سے صفائی حاصل کر (اور یہ کہ کر) چہرے کو کپڑے سے چھپا لیا اس حدیث میں یہ اضافہ اور ہے کہ انہوں نے غسل جنابت کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ تم پانی لے کر خوب اچھی طرح پاکی حاصل کرو پھر اپنے سر پر پانی ڈال کر ملو یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے پھر اپنے بدن پر پانی بہا لو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انصاری عورتیں بڑی اچھی تھیں انہیں دین کا مسئلہ دریافت کرنے یا اس کی حقیقت کو سمجھنے میں (جھوٹی) شرم و حیا مانع نہ ہوتی تھی۔

 

                   تیمم کا بیان

 

عبد اللہ بن محمد، ابو معاویہ، عثمان بن ابی شیبہ، عبد ہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسید بن حضیر اور ان کے ساتھ چند اور لوگوں کو اس ہار کی تلاش میں روانہ فرمایا جو (دوران سفر) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے گم ہو گیا تھا (اس دوران) نماز کا وقت آ گیا (اور پانی نہیں تھا اس لیے) ان لوگوں نے وضو کے بغیر ہی نماز پڑھ لی جب یہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس لوٹ کر آئے تو اس واقعہ کا ذکر کیا اس پر تیمم کی آیت نازل ہوئی حضرت اسید بن حضیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ اللہ تعالی آپ پر رحم فرمائے جب بھی کوئی ایسی بات پیش آتی ہے جو آپ کے لیے ناگواری کا سبب ہو تو اللہ تعالی آپ کے لیے اور (آپ کے طفیل میں) تمام مسلمانوں کے لیے اس میں بہتری اور آسانی پیدا فرما دیتا ہے

 

احمد بن صالح، عبد اللہ بن وہب، یونس، ابن شہاب، عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ، حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی موجودگی اور معیت میں نماز فجر کے لیے پاک مٹی سے تیمم کیا اس طریقہ پر کہ انہوں نے مٹی پر ہاتھ مار کر ایک مرتبہ منہ پر پھیرا پھر دوسری مرتبہ مٹی پر ہاتھ مار کر اپنے دونوں ہاتھوں پر پھیر لیا، یعنی کندھوں تک اور نیچے سے بغلوں تک۔

 

سلیمان بن داؤد، عبد الملک، بن شعیب، حضرت ابن وہب سے یہی حدیث (ایک دوسری سند کے ساتھ) مروی ہے اس میں ہے کہ مسلمانوں نے کھڑے ہو کر اپنے ہاتھ مٹی پر مارے اس طرح پر کہ انہوں نے مٹی ذرا بھی نہیں لی پھر ما قبل کی حدیث کی طرح ذکر کیا مگر کندھوں اور بغلوں تک مسح کرنے کا ذکر نہیں کیا ابن لیث نے کہا کہ انہوں نے کہنیوں کے اوپر تک مسح کیا۔

 

محمد بن احمد بن ابو خلف، محمد بن یحییٰ، یعقوب ابو صالح، حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آخر شب میں اولات الجیش نامی ایک مقام پر اترے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہمراہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں ان کا ظفاری عقیق کا بنا ہوا ایک ہار ٹوٹ کر کہیں گر پڑا اس کی تلاش میں لوگ رکے رہے یہاں تک کہ صبح روشن ہو گئی اور صورت حال یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس پانی بھی نہ تھا پس حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر خفا ہوئے کہ تو نے لوگوں کو روک رکھا ہے اور ان کے ساتھ پانی بھی نہیں ہے (جس سے وضو کر سکیں) اس پر اللہ تعالی نے پاک مٹی سے حصول طہارت کی آیت نازل فرمائی چنانچہ سب مسلمان حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے دونوں ہاتھوں کو زمین پر مار کر اٹھا لیا اور مٹی نہیں اٹھائی اور ان کو منہ پر اور ہاتھوں پر، مونڈھوں تک پھیرا اور ہتھیلیوں سے بغلوں تک مسح کیا ابن یحیٰ کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ ابن شہاب نے اپنی حدیث میں کہا ہے کہ ان لوگوں کے اس فعل کا اعتبار علماء نے نہیں کیا ہے (کیونکہ مونڈھوں اور بغلوں تک مسح کرنے کی ہدایت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نہیں فرمائی تھی بلکہ ان لوگوں نے ایسا اپنی ذاتی رائے سے کیا تھا) ابو داؤد کہتے ہیں کہ اس کو ابن اسحاق نے حضرت ابن عباس سے اسی طرح روایت کرتے ہوئے ضربتین کو ذکر کیا ہے جیسا کہ یونس اور معمر نے بھی زہری سے ضربتین (دو ضرب) کو ذکر کیا ہے اور مالک نے اس کی سند اس طرح ذکر کی ہے عن الزہری، عن عبید اللہ، بن عبد اللہ عن ابیہ، عن عمار اور ابو اویس نے بھی زہری سے اسی طرح روایت کیا ہے لیکن ابن عیینہ کو اس میں شک ہوا چنانچہ انہوں نے کبھی تو عن عبید اللہ عن ابیہ اوعن عبید اللہ عن ابن عباس کہا ہے اور کبھی عن ابیہ اور کبھی براہ راست عن ابن عباس روایت کیا ہے نیز زہری سے ان کے سماع میں شک ہے اور ان کے علاوہ جن کا میں نے ذکر کیا ہے کسی نے بھی ضربتین (دو ضرب) کو ذکر نہیں کیا۔

 

محمد بن سلیمان، ابو معاویہ، اعمش، حضرت شقیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے درمیان بیٹھا ہوا تھا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے ابو عبد الرحمن (یہ ابن مسعود کی کنیت ہے) اگر کسی کو غسل کی ضرورت ہو جائے اور ایک ماہ تک اس کو پانی نہ ملے تو کیا وہ تیمم کر سکتا ہے؟ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں اگرچہ اس کو ایک ماہ تک پانی نہ ملے تب بھی وہ تیمم نہ کرے اس پر ابو موسیٰ اشعری نے کہا تو پھر آپ کا سورہ مائدہ کی ایک آیت کے متعلق کیا خیال ہے؟( فَلَمْ تَجِدُوْا مَاۗءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا ) 4۔ النساء:43) سورہ مائدہ (پس اگر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرو) عبد اللہ بن مسعود نے کہا کہ اگر لوگوں کو تیمم کی رخصت دے دی جائے تو معمولی ٹھنڈ ہونے پر بھی وہ تیمم کرنے لگیں۔ ابو موسیٰ نے پوچھا کہ کیا آپ نے محض اسی لیے تیمم سے منع کیا ہے؟ فرمایا ہاں ابو موسیٰ نے کہا کہ کیا تم نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا قول حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے ایک کام کی غرض سے روانہ کیا راستہ میں مجھے جنابت لاحق ہو گئی اور جب مجھے پانی نہ ملا تو میں نے جانور کی طرح مٹی پر لوٹ لگائی جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تجھے اس طرح کرنا کافی تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا اور مٹی پھونک مار کر جھاڑ دی پھر بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ پر پھیرا اور دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر پھیرا پہنچو تک پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے چہرہ پر مسح کیا عبد اللہ بن مسعود نے جواب دیا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس میں عمار کے قول پر قناعت نہیں کی۔

 

محمد بن کثیر، سفیان، سلمہ بن کہیل، ابو مالک، عبد الرحمن بن ابزی سے روایت ہے کہ میں حضرت عمر کے پاس تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا کہ ہم ماہ دو ماہ ایک جگہ قیام کرتے ہیں (اور وہاں پانی نہیں ہوتا اور ہم جنبی ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں ہم کیا کر یں) اس پر حضرت عمر نے فرمایا کہ میں تو اس وقت تک نماز نہ پڑھوں گا جب تک کہ پانی نہ ملے گا یہ سن کر حضرت عمار نے کہا کہ اے امیر المومنین کیا آپ کو یاد نہیں کہ میں اور آپ اونٹوں میں تھے اور ہم جنبی ہو گئے تھے تو میں مٹی میں لوٹ گیا تھا پھر ہم نے واپس آ کر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے واقعہ عرض کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تھا کہ ایسی صورت میں تمھیں صرف ایسا کرنا کافی تھا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے ہاتھ زمین پر مار کر پھونک ماری اور اپنے چہرے پر اور ہاتھوں پر نصف ذراع تک پھیر لیا حضرت عمر نے فرمایا۔ اے عمار اللہ سے ڈرو۔ انھوں نے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو یہ بات میں کبھی ذکر نہ کروں۔ حضرت عمر نے فرمایا۔ نہیں بخدا میرا یہ مطلب نہیں ہے بلکہ تمھیں اپنی بات کہنے کا اختیار ہے۔

 

محمد بن علاء، حفص، اعمش، سلمہ بن کہیل، ابن ابزی، حضرت عمار بن یا سر سے اس حدیث میں روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا۔ اے عمار تمہیں یہ کر لینا کافی تھا پھر آپ نے دونوں ہاتھ زمین پر مار کر ایک کو دوسرے پر مارا پھر اپنے چہرے اور آدھی کلائی تک پھیر لیا اور کہنیوں تک نہیں پہنپے اور یہ دونوں کام ایک ضرب میں کیے ابو داؤد کہتے ہیں کہ اس حدیث کو و کیع نے بسند اعمش بوا سطہ سلمہ بن کہیل عبد الرحمن بن ابزیٰ سے روایت کیا ہے ابو داؤد کہتے ہیں کہ اور اس کو جریر نے بسند اعمش بواسطہ سلمہ بن کہیل عن سعید بن عبد الرحمن بن ابزیٰ ان کے والد عبد الرحمن بن ابزیٰ سے روایت کیا ہے۔

 

محمد بن بشار، سلمہ ذر، ابن جعفر، شعبہ، المہ، عبد الرحمن بن ابزی، حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے یہ واقعہ اس طرح بھی مروی ہے ان کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تمہیں ایسا کرنا کافی تھا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا پھر اس پر پھونک مار کر اپنے چہرہ اور ہاتھوں پر پھیر لیا حضرت سلمہ کو شک ہے وہ فرماتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کہنیوں تک ہاتھ پھیرا یا پہنچوں تک۔

 

علی بن سہل، حجاج، حضرت شعبہ اس حدیث کو اس سند کے ساتھ یوں روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمار نے کہا پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس پر پھونک ماری اور چہرہ پر اور ہاتھوں پر مرفقین تک یا ذراعین تک پھیر لیا شعبہ نے کہا کہ سلمہ کہا کرتی تھیں کہ کفین چہرہ اور ذراعین پر ہاتھ پھیرا تو ایک دن منصور نے ان سے کہا کہ سوچ سمجھ کر بولو کیونکہ ذراعین کو تمہارے علاوہ کوئی ذکر نہی کرتا۔

 

مسدد، یحییٰ، شعبہ، حکم، ذر، ابن عبد الرحمن بن ابزی اس حدیث میں حضرت عمار سے یوں بھی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ تمہیں صرف اتنا کر لینا کافی تھا کہ زمین پر ہاتھ مار کر اپنے چہرہ اور ہاتھوں پر پھیر لو پھر پوری حدیث بیان کی ابو داؤد کہتے ہیں کہ اس کو شعبہ نے بواسطہ حصین ابو مالک سے روایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے حضرت عمار سے خطبہ میں اسی طرح بیان کرتے ہوئے سنا ہے مگر انہوں نے پھونک نہیں ماری اور حسین بن محمد نے بواسطہ شعبہ، حکم سے اس حدیث کے بارے میں کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے زمین پر ہاتھ مار کر پھونک مار دی۔

 

محمد بن منہال، یزید بن زریع، سعید، قتادہ، عزرہ، سعید بن عبد الرحمن بن ابزی، حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے تیمم کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے چہرہ اور ہاتھوں کے لیے ایک ضرب کا حکم دیا۔

 

موسیٰ بن اسماعیل، ابان، قتادہ، تیمم، حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہنیوں تک مسح کرے۔

 

                   حضر میں تیمم کرنے کا بیان

 

عبدالملک بن شعیب بن لیث، جعفر بن ربیعہ، عبد الرحمن بن ہرمز، عمیرہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبد اللہ بن یسار ابو الجہیم بن حارث بن صمہ انصاری کے پاس گئے ابو الجہیم نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بئر جمل کی طرف سے آئے راستے میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ایک شخص ملا اس نے سلام کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کے سلام کا جواب نہ دیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک دیوار کے پاس آئے اور اپنے چہرہ اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا پھر سلام کا جواب دیا۔

 

احمد بن ابراہیم، ابو علی، محمد بن ثابت، حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر کے ساتھ ایک ضرورت سے حضرت ابن عباس کے گیا اور ابن عمر نے اپنی ضرورت پوری کی اور اس دن حضرت عمر یہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے قریب کسی گلی سے گزرا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پاخانہ یا پیشاب سے فارغ ہو کر نکلے تھے اس نے سلام کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کے سلام کا جواب نہ دیا یہاں تک کہ جب وہ نگاہوں سے اوجھل ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دونوں ہاتھ دیوار پر مار کر چہرہ پر مسح کیا پھع دوسری بار ہاتھ مار کر دونوں ہاتھوں کا مسح کیا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ میں نے جواب اس لیے نہیں دیا تھا کہ میں طہارت کی حالت میں نہ تھا ابو داؤد کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد ابن حنبل کو فرماتے ہوئے سنا کہ محمد بن ثابت نے تیمم کے سلسلہ میں منکر حدیث بیان کی ہے ابن واسہ نے کہا ہے کہ ابو داؤد کہتے ہیں اس قصہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے منقول ضربتان (دو ضرب) پر محمد بن ثابت کی کسی نے متابعت نہیں کی بلکہ میں نے اس کو ابن عمر کا عمل بیان کیا ہے

 

جعفر بن مسافر، عبد اللہ بن یحییٰ، حیوہ بن شریح، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قضائے حاجت سے فارغ ہو کر نکلے بئر جمل کے پاس ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ملا اس نے سلام کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک دیوار کے پاس آئے اور اپنے چہرہ اور ہاتھوں پر مسح کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس شخص کے سلام کا جواب دیا۔

 

                   جنبی تیمم کر سکتا ہے

 

عمرو بن عون، خالد واسطی، خذا، ابو قلابہ، مسدد، خالد، حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس چند بکریاں جمع ہو گئیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اے ابو ذر ان کو جنگل میں لے جاؤ تو میں ان کو جنگل لے گیا بذہ (نامی گاؤں) کی طرف وہاں مجھے غسل کی ضرورت پیش آتی اور میں پانچ پانچ اور چھ چھ دن یوں ہی رہا کرتا (یعنی پانی کافی نہ ہونے کی بنا پر میں غسل نہ کرتا اور یوں ہی نماز پڑھ لیا کرتا) جب میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس واپس آیا (اور اپنا واقعہ بیان کیا) تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے (مجھے مخاطب کر کے) فرمایا ابو ذر میں خاموش رہا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تھا تیرے ماں روئے اور تیری ماں کے لیے خرابی ہو پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک کالی رنگ والی باندی کو بلایا جو ایک برتن میں پانی لے کر آئی ایک طرف سے کپڑا پکڑ کر اس نے آڑ کی اور دوسری طرف سے میں نے اونٹ کی آڑھ لی اور میں نے غسل کیا (میں نے محسوس کیا) گویا میرے سر سے پہاڑ کا بوجھ اتر گیا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ مسلمان کے لیے پاک مٹی وضو کا ذریعہ ہے اگرچہ دس سال تک بھی پانی نہ ملے اور جب پانی ملے تو اس کو اپنے بدن پر لگا لے (غسل کر لے) یہ بہتر ہے مسدد کی روایت میں ہے کہ وہ بکریاں صدقہ کی تھیں اور عمرو کی مذکورہ حدیث (مسدد کی حدیث سے زیادہ) مکمل ہے۔

 

موسیٰ بن اسماعیل، حماد، ایوب، حضرت ابو قلابہ رضی اللہ عنہ بنی عامر کے ایک شخص کے حوالہ سے روایت کرتے ہیں کہ اس کا بیان ہے کہ میں مسلمان ہوا تو مجھے دینی امور سیکھنے کا شوق ہوا چنانچہ میں ابو ذر کے پاس آیا انہوں نے (اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے) کہا کہ مجھے مدینہ کی آب و ہوا موافق نہیں آئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے اونٹوں اور بکریوں کے دودھ پینے کا حکم دیا حماد کہتے ہیں کہ مجھے شک ہے کہ ابو ذر نے شاید یہ بھی کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے ان کے پیشاب پینے کا حکم دیا حضرت ابو ذر کا بیان ہے کہ میں پانی (والے علاقہ) سے دور رہتا تھا اور میرے ساتھ میرے اہل خانہ بھی تھے چنانچہ جب مجھے غسل کی ضرورت ہوتی تو میں پاکی کے بغیر ہی نماز پڑھ لیتا تھا پس جب میں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دوپہر کے وقت چند اصحاب کے ساتھ مسجد کے سایہ میں تشریف فرما تھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ابو ذر میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم! میں نے کہا میں تو تباہ ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کیوں، کیا ہوا؟میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں پانی والے علاقہ سے دور تھا اور میرے ساتھ میری بیوی بھی تھی جب مجھے غسل کی ضرورت ہوتی تو میں پاکی کے بغیر ہی نماز پڑھ لیتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے میرے لیے پانی لانے کا حکم دیا چنانچہ ایک سیاہ فام باندی ایک بڑے پیالہ میں پانی لے کر آئی جو ہل رہا تھا کیونکہ وہ بھرا ہوا نہ تھا میں نے ایک اونٹ کی آڑ میں (بیٹھ کر) غسل کیا اور غسل سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اے ابو ذر پاک مٹی ذریعہ طہارت ہے اگرچہ تو دس سال تک پانی نہ پائے اور جب پانی ملے تو بدن پر پانی بہا لے ابو داؤد کہتے ہیں کہ اس حدیث کو حماد نے ایوب سے روایت کیا ہے اس میں لفظ، ابو الہا، ذکر نہیں کیا اور لفظ، ابو الہا، اس حدیث میں صحیح نہیں اس کی بابت صرف حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے اور اس کی روایت میں تمام راوی بصری ہیں۔

 

                   کیا سردی کے خوف سے جنبی تیمم کر سکتا ہے؟

 

ابن مثنی، وہب بن جریر، یحیٰ بن ایوب، یزید بن ابی حبیب، عمران، حضرت عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ مجھے سردی کے زمانہ میں ایک رات، غزوہ ذات السلاسل، میں احتلام ہو گیا مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے غسل کیا تو مر جاؤنگا اس لئے میں نے تیمم کر کے ساتھیوں کو صبح کی نماز پڑھا دی بعد میں میرے ساتھیوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھ سے فرمایا کہ عمرو تو نے جنابت کی حالت میں نماز پڑھا دی میں نے غسل نہ کرنے کا سبب بیان کیا اور کہا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ تم اپنے آپ کو قتل مت کرو اور اللہ تم پر رحم کرنے والا ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مسکرا دیئے اور کچھ نہ کہا ابو داؤد کہتے ہیں کہ عبد الرحمن بن جبیر مصری خارجہ حذافہ کے آزاد کردہ غلام ہیں یہ ابن جبیر بن نفیر نہیں ہیں۔

 

محمد بن سلمہ، ابن وہب، ابن لہیعہ، عمرو بن حارث، یزید بن ابو حبیب، حضرت عمرو بن العاص کے آزاد کردہ غلام ابو قیس سے روایت ہے کہ حضرت عمرو بن العاص ایک دستہ کے سردار تھے پھر پہلی حدیث کی طرح روایت کیا اور کہا کہ پھر انہوں نے اپنے چڈھے دھوئے اور نماز جیسا وضو کر کے نماز پڑھائی اور تیمم کا ذکر نہیں کیا ابو داؤد کہتے ہیں کہ یہ قصہ اوزاعی سے بواسطہ حسان بن عطیہ بھی مروی ہے اور اس میں تیمم کا ذکر ہے۔

 

                   زخمی یا معذور تیمم کر سکتا ہے؟

 

موسیٰ بن عبد الرحمن، محمد بن سلمہ، زبیر، بن خریق، عطاء، حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم سفر کیے لیے روانہ ہوئے راستہ میں ایک شخص کو پتھر لگا جس سے اس کا سر پھٹ گیا اس کو احتلام ہوا اس نے ساتھیوں سے پوچھا کہ کیا تم مجھے تیمم کی اجازت دیتے ہو؟ انہوں نے کہا نہیں ہم تیرے لیے تیمم کی کوئی گنجائش نہیں پاتے کیونکہ تجھے پانی کے حصول پر قدرت حاصل ہے لہذا اس نے غسل کیا اور مر گیا جب ہم رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے یہ واقعہ بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا لوگوں نے اس کو ناحق مار ڈالا اللہ ان کو ہلاک کرے جب ان کو مسئلہ معلوم نہ تھا تو ان کو پوچھ لینا چاہیئے تھا کیونکہ نہ جاننے کا علاج معلوم کر لینا ہے اس شخص کے لیے کافی تھا کہ وہ تیمم کر لیتا اور اپنے زخم پر کپڑا باندھ کر اس پر مسح کر لیتا اور باقی سارا بدن دھو ڈالتا۔

 

نصر بن عاصم، محمد بن شعیب، اوزاعی، حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانہ میں ایک شخص زخمی ہو گیا پھر سے احتلام ہوا لوگوں نے اسے غسل کرنے کے لیے کہا جب اس نے غسل کیا تو مر گیا جب یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اللہ انہیں ہلاک کرے ان لوگوں نے اس بیچارے کو مار ڈالا۔ کیا ناواقفیت کا علاج معلوم کر لینا نہیں ہے؟

 

                   تیمم کر کے نماز پڑھ لینے کے بعد پانی حاصل ہو جائے تو کیا کرنا چاہیئے؟

 

محمد بن اسحاق ، عبد اللہ بن نافع، لیث، بن سعد، بکر بن سوادہ، عطاء، بن یسار، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمی سفر میں نکلے نماز کا وقت آ گیا اور پانی ساتھ نہ تھا تو دونوں نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی پھر وقت کے اندر اندر ان کو پانی مل گیا تو ان میں سے ایک نے دوبارہ وضو کر کے نماز پڑھ لی اور دوسرے شخص نے دوبارہ نماز نہ پڑھی پھر جب یہ دونوں شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے اپنا واقعہ ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس شخص سے جس نے دوبارہ نماز نہیں پڑھی تھی فرمایا تو نے سنت پر عمل کیا اور تیری نماز کافی ہو گئی اور جس شخص نے دوبارہ وضو کر کے نماز پڑھی تھی اس سے فرمایا کہ تیرے لیے دوہرا ثواب ہے ابو داؤد کہتے ہیں کہ نافع کے علاوہ اس حدیث کو یحیٰ نے روایت کیا ہے لیث نے بواسطہ عمیرہ بن ابی ناجیہ بواسطہ بکر بن سوادہ بواسطہ عطاء بن یسار نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ابو داؤد کہتے ہیں اور ابو سعید کا ذکر اس حدیث میں محفوظ نہیں ہے اور مرسل ہے۔

 

عبد اللہ بن مسلمہ، ابن لہیعہ، بکر بن سوادہ، ابو عبد اللہ، اسماعیل، بن عبید، عطاء، بن یسار، حضرت عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اصحاب رسول میں سے دو شخص پھر پہلی حدیث کی طرح ذکر کیا۔

 

                   جمعہ کے غسل کا بیان

 

ابو توبہ ربیع بن نافع، معاویہ، یحییٰ، ابو سلمہ، بن عبد الرحمن، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے روز عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے کہ ایک آدمی آیا آپ نے فرمایا کیا تم نماز سے روک لیے جاتے ہو؟ اس شخص نے کہا کہ میں نے اذان سنی اور پھر وضو کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کیا صرف وضو ہی کیا ہے؟ کیا تم نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ جو شخص نماز جمعہ کے لیے آئے تو غسل کر کے آئے۔

 

عبد اللہ بن مسلمہ، بن قعنب، مالک، صفوان بن سلیم، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جمعہ کے دن غسل کرنا ہر بالغ مرد پر واجب ہے۔

 

یزید بن خالد، مفضل، بکیر، نافع، ابن عمر، حفصہ، ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہر بالغ مسلمان پر جمعہ کے لیے جانا ضروری ہے اور ہر جانے والے پر غسل کرنا ضروری ہے ابو داؤد کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص جمعہ کے دن طلوع فجر کے بعد غسل کرے گا تو اس کا وہ غسل جمعہ کے لیے کافی ہو گا اگرچہ وہ غسل جنابت ہو۔

 

یزید بن خالد بن یزید بن عبد اللہ بن موہب، عبد العزیز بن یحییٰ، محمد بن سلمہ، موسیٰ بن اسماعیل، حماد، محمد بن سلمہ، محمد بن اسحاق ، محمد بن ابراہیم، ابو سلمہ، بن عبد الرحمن، ابو داؤد، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور اپنے کپڑوں میں سے سب سے اچھا کپڑا پہنے اور اگر اس کے پاس خوشبو ہو تو اس کو بھی لگائے پھر جمہ کے لیے (مسجد میں آئے) اور لوگوں کی گردنوں کو نہ پھاندے پھر جس قدر اللہ نے اس کی قسمت میں لکھا ہو اس قدر نماز پڑھے اور جب امام خطبہ کے لیے نکلے تو خاموشی اختیار کرے یہاں تک کہ وہ اپنی نماز سے فارغ ہو جائے تو یہ نماز کفارہ ہو جائے گی پہلے جمعہ سے لے کر اس موجودہ جمعہ تک کے گناہوں کے لیے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مزید تین دن کے گناہ بھی معاف ہو جائیں گے مزید فرمایا کہ ایک نیکی کا گناہ دس گنا ہوتا ہے۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ محمد بن سلمہ کی حدیث مکمل ہے اور حماد نے اپنی حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان نقل کیا ہے۔

 

محمد بن سلمہ، ابن وہب، عمرو بن حارث، سعید بن وہب، عمرو بن حار، سعید بن ابی ہلال، بکیر بن عبد اللہ بن اشج، ابو بکر بن منکدر، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہر بالغ مسلمان پر جمعہ کے دن غسل کرنا، مسواک کرنا اور میسر ہو تو خوشبو بھی لگانا لازم ہے مگر بکیر نے عبد الرحمن کو ذکر نہیں کیا اور خوشبو کے بارے میں کہا کہ اگرچہ عورت کی (لگانے والی) خوشبو ہی کیوں نہ ہو۔

 

محمد بن حاتم، ابن مبارک، اوزاعی، حسان بن عطیہ، ابو اشعث، حضرت اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص جمعہ کے دن (اپنی بیوی) کو نہلائے (یعنی اس کے ساتھ صحبت کرے) اور خود بھی نہائے پھر نماز کے لیے جلدی جائے، پیدل جائے سوار ہو کر نہ جائے اور امام سے نزدیک ہو کر خطبہ سنے اور بیہودہ بات نہ کرے تو اس کے ہر قدم پر اس کو ایک سال کے روزوں اور ایک سال کی شب بیداری کا ثواب ملے گا۔

 

قتیبہ بن سعید، لیث، خالد، بن یزید، سعید بن ابی ہلال، عبادہ بن نسی، حضرت اوس بن ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جس نے جمعہ کے دن اپنا سر دھویا اور غسل کیا تو پھر پہلی حدیث کی طرح بیان کیا۔

 

ابن ابی عقیل، محمد بن سلمہ، ابن وہب، ابن ابی عقیل، اسامہ، ابن زید، عمرو بن شعیب، حضرت عمرو بن عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور اپنی بیوی کے پاس موجود خوشبو بھی لگائے اور اچھے کپڑے بھی پہنے اور لوگوں کی گردنیں نہ پھاندے اور خطبہ کے وقت بیہودہ باتیں نہ کرے تو وہ جمعہ کفارہ ہو جائے گا پچھلے جمعہ تک کے گناہوں کا اور جو بیہودہ اور بیکار باتیں کرے گا اور لوگوں کی گردنیں پھاندے گا تو وہ جمعہ اس کے لیے ایسا ہو گا جیسے ظہر کی نماز۔

 

عثمان بن ابی شیبہ، محمد بن بشر، زکریا، مصعب بن شیبہ، طلق بن حبیب، عبد اللہ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم چار چیزوں کی بنا غسل کیا کرتے تھے ایک جنابت کی بنا پر دوسرے جمعہ کے لیے تیسرے پچھنے لگوا کر چوتھے میت کو نہلا کر۔

 

محمود بن خالد، مروان، علی بن حوشب، مکحول، علی بن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت مکحول سے پوچھا کہ غَسّل اور اِغتَسّل کے کیا معنی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اپنے سر اور بدن کو دھوئے۔ (یہ الفاظ اوس نم اوس کی حدیث میں آئے ہیں)

 

محمد بن ولید دمشقی، علی بن حوشب، حضرت سعید بن عبد العزیز نے غَسّل اور اِغتَسّل کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ وہ اپنے سر اور بدن کو خوب اچھی طرح دھوئے۔

 

عبد اللہ بن مسلمہ، مالک، ابو صالح، سمان، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ جو شخص جمعہ کے دن غسل جنابت کرے اور اول وقت نماز جمعہ کو چلا جائے تو گویا کہ اس نے ایک اونٹ کی قربانی کی اور جو دوسری ساعت میں جائے تو گویا اس نے ایک گائے کی قربانی کی اور جو تیسری ساعت میں جائے تو گویا اس نے ایک مینڈھے کی قربانی کی اور جو چوتھی ساعت میں جائے تو گویا اس نے ایک مرغی کی قربانی کی اور جو پانچویں ساعت میں جائے تو گویا اس نے ایک انڈا راہ خدا میں قربان کیا۔ جب امام خطبہ کے لیے نکل آتا ہے تو فرشتے بھی خطبہ سننے کے لیے آ جاتے ہیں۔

 

                   جمعہ کے دن غسل نہ کرنے کی اجازت

 

مسدد، حماد بن زید، یحیٰ بن سعید، عمرو، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ لوگ اپنے ہاتھوں سے مزدوری کرتے تھے پھر نماز جمعہ کو اسی حالت میں چلے جاتے تھے تو ان سے یہ کہا گیا کہ کاش تم غسل کر لیتے۔

 

عبد اللہ بن مسلمہ، عبد العزیز، ابن محمد، عمرو بن ابی عمرو، عکرمہ، حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ عراق کے رہنے والے لوگ آئے اور پوچھا کہ اے ابن عباس رضی اللہ عنہ کیا آپ جمعہ کے دن غسل کرنا واجب سمجھتے ہیں انہوں نے کہا نہیں لیکن یہ بہتر ہے کہ جو شخص غسل کرے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے اور جو غسل نہ کرے تو یہ اس کے لیے واجب نہیں ہے اور میں تم کو بتاتا ہوں کہ غسل کا حکم کس وجہ سے ہوا تھا لوگ غریب تھے اور اونی کپڑے پہنتے تھے اپنی پیٹھوں پر بوجھ لادتے تھے مسجد بھی تنگ تھی اور اس کی چھت بھی نیچی تھی وہ تو محض کھجور کی شاخوں کا ایک چھپر تھا ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم گرمی کے دن مسجد میں تشریف لائے اور لوگوں کو ان کے اونی لباس میں پسینہ آ رہا تھا اور بدبو پھیل رہی تھی اور ایک دوسرے کو بدبو کی وجہ سے تکلیف ہو رہی تھی جب یہ بدبو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جب یہ دن ہوا کرے (یعنی جمعہ کا دن ہو) تو نہا لیا کرو اور جو اچھی سے اچھی خوشبو اور تیل میسر ہو وہ لگایا کرو ابن عباس کہتے ہیں کہ پھر لوگوں کے حالات بہتر ہو گئے اور اونی کپڑوں کے علاوہ دوسرے کپڑے پہننے لگے اور محنت و مشقت ہٹ گئی (یعنی غلاموں اور ملازموں سے کام لینے لگے) اور مسجد بھی کشادہ ہو گئی اور وہ جو پسینہ کی وجہ سے ایک دوسرے کو تکلیف ہوتی تھی وہ بھی جاتی رہی۔

 

ابو ولید، ہمام، قتادہ، حسن، حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جس نے وضو کیا تو خیر یہ بھی اچھی بات ہے اور جس نے غسل کیا تو یہ زیادہ بہتر طریقہ ہے۔

 

                   قبول اسلام کے وقت غسل کرنا مستحب ہے

 

محمد بن کثیر، سفیان، اغر، خلیفہ بن حصین، حضرت قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں قبول اسلام کی غرض سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھ کو بیری کے پتوں میں جوش دیئے ہوئے پانی سے غسل کرنے کا حکم فرمایا۔

 

محمد بن خالد، عبد الرزاق، ابن جریج، عثیم بن کلیب اپنے والد کے حوالہ سے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں اسلام لے آیا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ اپنے کفر کے بال نکال ڈال یعنی بال منڈا دے اور ایک دوسرے آدمی نے خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کے ساتھی سے فرمایا کہ کفر کے بال نکال ڈال اور ختنہ کر۔

 

                   حالت حیض میں پہنے ہوئے لباس کو دھونے کا مسئلہ

 

احمد بن ابراہیم، عبد الصمد بن عبد الوارث، ام حسن، حضرت معاذہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس حائضہ کے متعلق دریافت کیا گیا جس کے کپڑوں پر حیض کا خون لگ گیا ہو (کہ اس کو دھوئے یا نہیں) تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اس کو دھو ڈال اور اگر دھونے کے باوجود خون کا اثر (رنگ) زائل نہ تو اس کو کسی زرد رنگ کی چیز سے بدل دے مزید فرمایا کہ مجھے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس یکے بعد دیگرے تین تین حیض آتے تھے اور میں اپنا کپڑا بالکل نہ دھوتی تھی (کیونکہ ان پر خون نہ لگا ہوتا تھا)۔

 

محمد بن کثیر، ابراہیم بن نافع، حسن ابن مسلم، حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہم ازواج رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس ایک ہی کپڑا ہوا کرتا تھا جس کو پہنے پہنے ہمیں حیض آ جاتا تھا اگر اس کپڑے میں خون (کا معمولی دھبہ) لگ جاتا تو ہم اپنے لعاب دہن سے تر کر کے اس کو (ناخن) سے کھرچ دیتی تھیں۔

 

یعقوب بن ابراہیم، عبد الرحمن، ابن مہدی، بکاربن یحیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے میری دادی نے بیان کیا کہ میں ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی ان سے ایک قریشی عورت نے حائضہ کے کپڑوں میں نماز پڑھنے کے متعلق سوال کیا حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانہ میں حیض آتا تھا ہم میں سے کوئی ایام حیض میں بیٹھی رہتی اور پھر پاکی حاصل کرتی اور دیکھتی کہ جو کپڑے وہ حالت حیض میں پہنے ہوئے تھی ان میں خون تو نہیں لگ گیا ہے اگر لگا ہوتا تو اس کو دھو ڈالتی اور پھر انہیں کپڑوں میں نماز پڑھتی اور اگر اس میں خون نہ لگا ہوتا تو اس کو یوں ہی رہنے دیتی اور ان کپڑوں میں ہمیں نماز پڑھنے سے کوئی چیز مانع نہیں ہوتی اور جس عورت کے بال گندھے ہوئے ہوتے تو وہ غسل جنابت کے وقت ان کو نہ کھلوا لیتی بلکہ وہ ہاتھ پانی بھر کر تین مرتبہ سر پر ڈالتی جب پانی کی تری بالوں کی جڑوں تک پہنچ جاتی تب سر کو خوب ملتی پھر سارے بدن پر پانی بہاتی۔

 

عبد اللہ بن محمد، محمد بن سلمہ، محمد بن اسحاق ، فاطمہ بنت منذر، حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ایک عورت کو یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے سنا کہ جب ہم پاک ہو جائیں تو حالت حیض میں پہنے ہوے کپڑوں کا کیا کریں کیا ہم انہیں کپڑوں میں نماز پڑھ لیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ یہ دیکھ کہ اس میں خون حیض تو نہیں لگا ہے اگر لگا ہو تو اس پر تھوڑا سا پانی ڈال کر اس کو کھرچ دے اور اس پر پانی کے چھینٹے دے دے یہاں تک کہ وہ نظر آنا بند ہو جائے اور پھر اسی میں نماز پڑھ لے۔

 

عبد اللہ بن مسلمہ، مالک، ہشام بن عروہ، فاطمہ، بنت منذر، حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا کہ اگر کپڑے میں خون حیض لگ جائے تو کیا کریں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کے کپڑوں میں حیض کا خون لگ جائے تو اس کو انگلیوں سے مسل دے پھر پانی سے دھوئے اور پھر اسی کپڑے میں نماز پڑھ لے۔

 

مسدد، حماد، عیسیٰ بن یونس، موسیٰ بن اسماعیل، حماد، ابن سلمہ، حضرت ہشام رضی اللہ عنہ اسی طرح روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا) کھرچ ڈال پھر اس پر پانی ڈال کر مل اور پھر دھو ڈال۔

 

مسدد، یحییٰ، ابن سعید، قطان، سفیان، ثابت، عدی بن دینار، حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا کہ حیض کا خون کپڑے میں لگ جائے تو کیا کریں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ ایک لکڑی سے اس کو کھرچ ڈال اور بیری کے پتوں میں جوش دیئے ہوئے پانی سے دھو دے۔

 

نفیلی، سفیان، ابن ابی نجیح، عطاء، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم میں سے کسی کے پاس ایک ہی کرتا ہوتا اسی کو حالت حیض میں پہنتی اسی میں جنابت ہوتی اگر کہیں اس میں ایک آدھ قطرہ خون کا لگا ہوتا تو اس کو لعاب دہن لگا کر مل ڈالتی۔

 

                   جماع کی حالت میں پہنے ہوئے کپڑوں میں نماز پڑھنا

 

عیسی بن حماد، لیث، یزید، بن ابی حبیب، سوید بن قیس، حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے اپنی بہن اور زوجہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم انہی کپڑوں میں نماز پڑھ لیتے ہیں جن کو پہنے ہوئے صحبت (جماع) کرتے تھے؟ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا ہاں اگر اس میں نجاست نہ لگی ہوتی۔

 

                   عورتوں کے کپڑوں پر نماز نہ پڑھنے کا بیان

 

عبید اللہ بن معاذ، اشعث بن سیرین، عبد اللہ بن شقیق، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہمارے شعار یا لحاف میں نماز نہ پڑھتے تھے (اس حدیث کے راوی) عبید اللہ بن معاذ کا کہنا ہے کہ لفظ (شعار یا لحاف میں) میرے والد (معاذ) کو شک ہوا۔

 

حسن بن علی، سلیمان، بن حرب، حماد، ہشام، ابن سیرین، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہماری چادروں پر نماز نہیں پڑھتے تھے حماد کہتے ہیں کہ میں سعید بن صدقہ سے سنا ان کا بیان ہے کہ میں نے اس حدیث کے متعلق محمد (بن سیرین) سے پوچھا تو انہوں نے مجھ سے اس حدیث کو بیان نہیں کیا اور کہا کہ ایک مدت ہوئی میں نے یہ حدیث سنی تھی اور اب یہ بھی یاد نہیں رہا کہ کس سے سنی تھی اور جس سے سنی تھی وہ ثقہ تھا یا غیر ثقہ لہذا اس کی تحقیق کر لو۔

 

                   عورتوں کے کپڑوں پر نماز پڑھنے کی اجازت

 

محمد بن صباح بن سفیان، ابو اسحاق ، عبد اللہ بن شداد، میمونہ، ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک ایسی چادر میں نماز پڑھی ہے جس کے ایک حصہ کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ایک زوجہ اوڑھے ہوئے تھی اور وہ حائضہ تھیں۔

 

عثمان بن ابی شیبہ، وکیع بن جراح، طلحہ بن یحییٰ، عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم رات میں نماز پڑھتے تھے اور میں قریب ہی لیٹی ہوتی تھی اور میں حائضہ ہوتی تھی اور میرے اوپر ایسی چادر ہوتی تھی جس کا حصہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اوپر ہوتا تھا۔

 

                   منی کپڑے میں لگ جائے تو کیا کرنا چاہیئے؟

 

حفص بن عمر، شعبہ، حکم ابراہیم، ہمام بن حارث، حضرت ابراہیم بن نخعی سے ہمام بن حارث کے متعلق روایت ہے کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس (مہمان) تھے ان کو احتلام ہو گیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باندی نے ان کو اس حالت میں دیکھا کہ وہ کپڑے پر لگی ہوئی منی کو دھو رہے ہیں اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا مجھے یاد ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے کپڑوں سے منی کو کھرچ کر صاف کر دیا کرتی تھیں۔

 

موسیٰ بن اسماعیل، حماد بن سلمہ، حماد، ابی سلیمان، ابراہیم، اسود، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے کپڑوں سے منی کو کھرچ ڈالتی تھی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اسی کپڑے میں نماز پڑھ لیتے تھے ابو داؤد کہتے ہیں کہ مغیرہ ابو مشعر اور واصل نے حماد بن ابی سلمان کی موافقت کی ہے اور اعمش نے اس حدیث کو حکم کی طرح روایت کیا ہے۔

 

عبد اللہ بن محمد، زہیر، محمد بن عبید بن حساب، سلیم ابن اخضر، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے کپڑے سے منی دھوتی تھی اور دھونے کے بعد بھی میں اس میں منی کا نشان دیکھتی تھی۔

 

                   لڑکے کا پیشاب کپڑے پر لگ جائے تو کیا کرنا چاہئیے؟

 

عبد اللہ بن مسلمہ، مالک، ابن شہاب، عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ، بن مسعود، حضرت ام قیس بنت محصن سے روایت ہے کہ وہ اپنے ایک چھوٹے بچے کو جو کہ روٹی نہیں کھاتا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کو اپنی گود میں بٹھا لیا اس نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے کپڑوں پر پیشاب کر دیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پانی منگا کر چھینٹا دے لیا اور دھویا نہیں۔

 

مسدد بن مسرہد، ربیع بن نافع، ابو توبہ، ابو احوص، سماک، قابو س، حضرت لبابہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ حسین ابن علی رضی اللہ عنہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی گود میں تھے انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر پیشاب کر دیا تو میں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دوسرا کپڑا پہن لیجئے اور اپنا ازار مجھ کو دھونے کے لیے دے دیجئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا لڑکی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر چھینٹا مار لینا کافی ہے۔

 

مجاہد بن موسی، عباس بن عبد العظیم، عبد الرحمن بن مہدی، یحیٰ بن ولید، محل بن خلیفہ، ابو سمح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت کیا کرتا تھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب غسل کا ارادہ فرماتے تو مجھ سے فرماتے کہ پیٹھ موڑ کر کھڑا ہو جا تو میں پیٹھ موڑ کر کھڑا ہو جاتا اور آڑ کیے رہتا ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حسن یا حسین آئے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سینہ مبارک پر پیشاب کر دیا تو میں دھونے کے لیے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ لڑکی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑک دیا جاتا ہے عباس نے کہا کہ ہم نے یحیٰ بن ولید سے حدیث بیان کی ابو داؤد کہتے ہیں کہ یہ ابو الزعرا ہیں ہارون بن تمیم نے حسن سے نقل کیا ہے کہ پیشاب سب برابر ہیں۔

 

مسدد، یحییٰ، ابن ابی عروبہ، قتادہ، ابی حرب، بن ابی اسود، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لڑکی کا پیشاب دھویا جائے گا اور لڑکے کا پیشاب پر پانی چھڑکا جائے گا جب تک کہ وہ کھانا نہ کھانے لگے۔

 

ابن مثنی، معاذ بن ہشام قتادہ، ابو حرب بن ابی اسود، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا پھر پہلی حدیث کی طرح بیان کیا مگر اس میں مالم یطعم مذکور نہیں اور اس حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ حکم صرف اس صورت میں ہے جب کہ وہ دونوں کھانا نہ کھاتے ہوں اور جب وہ کھانا کھانے لگیں تو دونوں کا پیشاب دھویا جائے گا۔

 

عبد اللہ بن عمرو بن ابی حجاج، عبد الوارث، یونس، حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ لڑکا جب تک کھانا کھانے کے قابل نہ ہوتا تو وہ اس کے پیشاب پر پانی چھڑک دیا کرتی تھیں اور جب کھانا کھانے لگتا تو اس کو دھوتیں اور لڑکی کے پیشاب کو ہمیشہ دھویا کرتیں۔

 

                   ناپاک زمین کو پاک کرنے کا طریقہ

 

احمد بن عمرو بن سرح، ابن عبد ہ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی مسجد میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بیٹھے ہوئے تھے اس نے نماز پڑھی (حدیث کے ایک راوی) عبد ہ نے کہا کہ اس نے دو رکعتیں پڑھیں اور یوں دعا کرنے لگا اے اللہ مجھ پر رحم کر اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر رحم اور ہمارے ساتھ رحم میں کسی اور کو شریک نہ کر یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تو نے کشادہ کو تنگ کر دیا (یعنی اللہ کی رحمت بیحد وسیع ہے یہ تقسیم ہونے سے کم نہیں ہوتی) ابھی کچھ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ اس نے مسجد کے ایک کونے میں جا کر پیشاب کر دیا لوگ (روکنے کے لیے) اس کی طرف دوڑے لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو ایسا کرنے سے روک دیا اور فرمایا تم لوگوں کے لیے آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو سختی کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے ہو اور فرمایا اس جگہ پر پانی کا ایک ڈول بہا دو۔

موسیٰ بن اسماعیل، جریر، ابن حازم، عبد الملک، ابن عمیر، حضرت عبد اللہ بن معقل بن مقرن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ نماز پڑھی پھر پورا واقعہ بیان کیا اس حدیث میں یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جس جگہ اس نے پیشاب کیا ہے وہاں کی مٹی اٹھا کر پھینک دو اور اس جگہ پانی بہا دو۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ روایت مرسل ہے کیونکہ ابن معقل نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو نہیں پایا۔

 

                   زمین خشک ہو جانے کے بعد پاک ہو جاتی ہے

 

احمد بن صالح، عبد اللہ بن وہب، یونس، ابن شہاب، حمزہ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانے میں رات کو مسجد میں رہا کرتا تھا اور میں جوان اور کنوارا تھا اور کتے بھی مسجد میں آتے جاتے تھے اور پیشاب کر دیتے تھے اور صحابہ کرام پیشاب کی وجہ سے اس پر پانی نہ بہاتے تھے حنفیہ کے نزدیک زمین کھودنا اور پانی بہانا اس وقت ضروری ہے جبکہ زمین کچی ہو، اور ایسی سخت ہو کہ پانی کو جذب نہ کر سکتی ہو۔ اگر وہ پانی کو جذب کر سکتی ہو تو اس کا کھودنا ضروری نہیں ہے نیز حنفیہ کے نزدیک زمین صرف ہوا اور دھوپ میں خشک ہو جانے اور گند کا اثر زائل ہو جانے سے بھی پاک ہو جاتی ہے مگر اس صورت میں اس پر صرف نماز پڑھی جا سکتی ہے اس سے تیمم نہیں کیا جا سکتا۔

 

                   دامن میں نجاست لگ جانے کا بیان

 

عبد اللہ بن مسلمہ، مالک، محمد بن عمارہ بن عمرو بن حزم، محمد بن ابراہیم، ام ولد، حضرت ابراہیم بن عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی ام ولد سے روایت ہے کہ انہوں نے زوجہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ میرا دامن لمبا ہے اور میں نجس جگہ پر بھی چلتی ہوں (تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟) حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے (ایسے ہی مسئلہ کے جواب میں) ارشاد فرمایا تھا کہ بعد والا زمین کا خشک حصہ اس دامن کو پاک پردے گا۔

عبد اللہ بن محمد، احمد بن یونس، زہیر، عبد اللہ بن عیسیٰ، موسیٰ بن عبد اللہ بن یزید بنی عبد اشہل کی ایک عورت کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا کہ یا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہمارا مسجد میں جانے کا راستہ گندہ ہے پس جب بارش ہو تو ہم کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دریافت فرمایا کہ کیا اس گندے راستے کے بعد کوئی صاف راستہ بھی ہے؟ میں نے عرض کیا ہاں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا پس یہ (دوسرا راستہ پہلے راستہ کا) بدل ہے۔

 

                   جوتے میں نجاست لگ جانے کا بیان

 

احمد بن حنبل، ابو مغیرہ، عباس بن ولید، بن مرید، محمود بن خالد، عمرو ، ابن عبد الواحد، اوزاعی، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص جوتا پہن کر نجاست پر چلے گا تو مٹی اس کو پاک کر دے گی۔

 

احمد بن ابراہیم، محمد بن کثیر، ابن عجلان، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے سابقہ حدیث کی طرح روایت ہے۔ اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کے موزوں میں نجاست لگ جائے تو مٹی اس کو پاک کر دے گی۔

 

محمود بن خالد، محمد، ابن عائذ، یحییٰ، ابن حمزہ، محمد بن ولید، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی پہلی حدیث کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کرتی ہیں

 

                   نجاست لگے کپڑے سے نماز پڑھ لینے بیان

 

محمد بن یحیٰ بن فارس، ابو معمر، عبد الوارث، حضرت ام یونس بنت شداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی نند جحدر عامریہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ اگر حیض کا خون کپڑے میں لگ جائے تو کیا کرنا چاہیئے؟ انہوں نے جواب میں فرمایا کہ میں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ تھی اور حائضہ تھی ہم نے ایک چادر اوڑھ رکھی تھی اور اس پر ایک کمبل ڈال رکھا تھا پس جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کمبل کو اوڑھ کر چلے گئے اور صبح کی نماز پڑھی اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم (لوگوں کے درمیان) بیٹھ گئے ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہ خون کا نشان ہے تب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کمبل کو نجاست کے آس پاس سے مٹھی میں پکڑ کر ایک غلام کے ہاتھوں میں دیا اور میرے پاس بھیجا اور کہا کہ اس کو دھو کر اور سکھا کر میرے پاس بھیج دو میں نے پانی کا ایک برتن منگا کر اس کو دھویا اور سکھایا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس واپس بھیج دیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دوپہر کو تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم وہی کمبل اوڑھے ہوئے تھے۔

 

                   کپڑے میں تھوک لگ جانے کا بیان

 

موسیٰ بن اسماعیل، حماد، ثابت، بنانی، حضرت ابو نضرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے کپڑوں میں تھوکا اور اس کو اسی کپڑے میں مسل ڈالا۔

 

موسیٰ بن اسماعیل، حماد، حمید، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حدیث منقول ہے۔

٭٭٭

نوٹ: کچھ متن اصل ایکسل فائل میں ہی نا مکمل ہے، اس کی معذرت۔

٭٭٭

ماخذ:

http://www.esnips.com/web/hadeesbooks

مائکرو سافٹ ایکسل  سے تبدیلی، باز تدوین ، پروف ریڈنگ اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید