FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

سب رنگ

 

 

حصہ سوم

 

 

مختلف زبانوں کی منتخب کہانیاں

 

 

 

انتخاب و ترجمہ: عامر صدیقی

 

 

 

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

 

ای پب فائل

 

کنڈل فائل

 

اندر کچھ باہر کچھ

 

دیو کانتن

 

تامل کہانی

 

 

پِچے مُتّو ٹھیلے میں سبزیاں لے کر گلی گلی گھوم کر بیچا کرتا تھا۔ اس چھوٹی مارکیٹ کی مچھلی کی دکان کے پاس کھڑے ہو کر ہر دن دو بجے تک وہ انہیں بیچا کرتا تھا۔ شام کو ساڑھے چھ سات بجے، چوتھے ایونیو میں گھر گھر جا کر پھیری لگاتا۔

آہستہ آہستہ اس پیشے میں بھی مشکلات بڑھتی گئیں۔ محنت کرنے پر بھی پِچے کا جینا مشکل ہوتا گیا۔ زندگی بھر اُسے مصیبتیں جھیلنی پڑیں اور تلخ تجربات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

دن میں دس بارہ گھنٹے مسلسل کام کرنے پر بھی آمدنی میں اضافہ نہ ہوتے دیکھ کی پِچے کو ایک نا معلوم دکھ ستانے لگا۔ وہ سوچنے لگا کہ کیا ساری کی ساری تکلیفیں مجھے ہی جھیلنی ہیں؟ اسے اس مفلسی کی کٹھنائیوں سے جکڑی زندگی میں امید کی کوئی کرن دکھائی نہیں دے رہی تھی۔

پِچے مُتّو کو پو پھٹنے سے پہلے ہی سبزیاں لینے مانولس بازار دوڑنا پڑتا تھا۔ پھر اسی رفتار سے لوٹ کر آٹھ بجے ہی سبزیوں سے لدا ٹھیلا لے کر بیچنے نکل جانا ہوتا تھا۔

اس میکانیکی زندگی سے نڈھال پِچے مُتّو کی زندگی میں شادی کے روپ میں امید کی کرنیں جگمگانے لگیں۔ اس کی شادی طے ہو گئی تھی۔ اگلے سال کی شروعات میں اس کی شادی ہونے والی ہے۔ پِچے کی یہ زندگی ابھی تک بے سمت سفر میں ہی رہی۔ صرف سوچنے سے تو زندگی کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا تھا۔

اس دن چوتھے ایونیو میں جب وہ پہنچا، تو قریب قریب پانچ بج رہے تھے۔ عمارتوں پر پڑھنے والی سورج کی کرنوں سے اس نے وقت کا اندازہ لگایا۔ وہ آج ڈیڑھ دو گھنٹے پہلے ہی وہاں پہنچ گیا ہے۔ پِچے کو انبّتور میں رہنے والے ایک دور کے رشتے دار سے ملنا تھا۔ قریبی رشتہ داروں سے محروم پِچے کو شادی کا انتظام خود کرنا تھا۔ لہٰذا جلدی جلدی سبزیاں بیچ کر گھر واپسی کی امید میں، پانچ بجے ہی اس جانی پہچانی گلی (چوتھی ایونیو) میں پہنچ گیا تھا۔

اسکولوں میں چھٹیاں تھیں۔ کچھ لڑکے سڑکوں پر کرکٹ کھیل رہے تھے اور کچھ لڑکیاں گھر کے آنگن میں بیڈ منٹن کھیل رہی تھیں۔

گزشتہ تین سالوں سے اس گلی کے لوگوں میں پائے جانے والے بھائی چارے، اطمینان، قناعت، مشکلات اور مایوسی جیسے جذبوں سے وہ بخوبی واقف ہے۔ امیر لوگوں کی اس گلی میں نہ جانے کتنے ہی لوگوں سے وہ ملا ہے، کتنی ہی کہانیاں ان کے بارے میں اس نے سنی ہیں۔ اس دن اس گلی سے آلکسی کی چھایا چھوٹ نہیں رہی تھی۔ اس گلی کے پاس پڑوس کے لوگوں سے پِچے بہت ملا جلا تھا۔ ساٹھ فیصد گھروں میں سبزیاں بیچ کر وہ لوٹا تھا۔ سات بج چکے ہوں گے؟ اس نے دل ہی دل میں سوچا۔

دھندہ اس دن بالکل مندا رہا۔ اس لئے کچھ دیر ہو گئی۔ وہاں ایک سو سترہ نمبر کے گھر میں جانا تھا۔ پِچے اپنے دل کے مطابق ٹھیلا بھی ڈھکیلتا رہا۔ ٹھیلا کھڑا کر کے اس گھر کے دروازے کے پاس جا کر اس نے ’اماں ‘ کی صدا دے کر اپنے آنے کی اطلاع دی۔ ان لوگوں کو وہاں رہتے چھ سات ماہ سے زیادہ نہ ہوئے ہوں گے۔ بہترین سبزیاں دینے پر بھی اس گھر کی مالکن ’’یہ سوکھ گئے ہیں، یہ سڑ گئی ہیں‘‘ جیسی کسی نہ کسی طرح کی خرابی دکھاتی رہتیں۔ قیمت کم کرنے پر بھی وہ قیمت زیادہ ہونے اور تولنے میں گڑبڑی کرنے کا الزام لگاتی رہتیں۔ اس گھر کی عورتوں کو پِچے بالکل پسند نہیں کرتا تھا۔ پِچے لنگڑا ہے، وہ لنگڑا کر چلتا تھا۔ لنگڑا کہنے پر کسی کو کیا اچھا لگے گا؟

اس گھر کی عورت پِچے کو ہمیشہ ’’اے لنگڑے کریلا کیسے کلو دیا؟ پیاز ایک کلو کا کیا دام ہے لنگڑے‘‘ جیساہی بولتی تھی۔ وہ چالیس کے آس پاس کی عمر کی ہے۔ اس کے بال پکنے لگے ہیں۔ موٹا تگڑا جسم۔ دیکھنے میں پڑھی لکھی سی لگتی ہے۔ انسان کے دل کو سمجھنے کی کوشش کئے بغیر، وہ بھی شادی طے ہونے کے بعد میں، پِچے کو اس عورت سے بڑی چڑ ہوتی تھی اور اس کے رویے سے اکتا جاتا تھا وہ۔

’’اماں میرا نام پِچے مُتّو ہے، پِچے مُتّو نام سے مجھے بلائیں، نہیں تو پِچے کہیے! مجھے لنگڑا، لنگڑا کہہ کر نہ پکاریں۔‘‘ کچھ اسی طرح پِچے نے اس گھر کی عورت سے شائستگی بھرے لہجے سے کہا۔

لیکن اس گھر کی عورت مانی ہی نہیں۔

’’کیا تم لنگڑے نہیں ہو؟‘‘وہ پوچھتی اور ہنستی۔

پِچے کو اس جملے سے نہیں، بلکہ اس کے ہنسنے سے بے انتہا چڑ ہوتی۔ لہٰذا ہر دن جب اسے ایک سو سترہ نمبر کے گھر کو پار کرنا ہوتا، تو اپنے غصے کو دبائے، اس گھر کی عورت کو منہ دکھائے بغیر، اس کی جانے کی خواہش ہوتی تھی۔ دو تین بار اس نے ایسا کیا بھی۔ لیکن وہ پِچے کو ایسی آسانی سے جانے نہیں دیتی تھی۔ ’’اے لنگڑے! کیوں آواز دیئے بنا جاتا ہے؟ پیاز، مرچ کچھ نہیں ہے؟ ۔ ٹھیلا ادھر لا۔ کیوں آواز دیئے بنا جاتا ہے؟ مال کے بدلے ہم جو دیتے ہیں، وہ پیسے نہیں ہیں کیا؟‘‘اس طرح اس گھر کی عورت دروازے پر کھڑی ہو کر چیختی تھی۔

پاس پڑوس والوں کو ذہن میں رکھ کر، اپنے تاثرات کو ظاہر کئے بغیر، عورت کا بھی احترام کرنے کی وجہ سے، خاموش انداز سے پِچے وہاں سے چلا جاتا تھا۔ اس دن بھی اس عورت کی خصلت اسے یاد آئی۔ سو اسے جو چاہئے بتا دے، ایسی سوچ لے کر اس کے دروازے پر پہنچا۔ گھر کے باہر کوئی نہیں تھا۔ ’’اماں سبزیاں، سبزیاں!‘‘ وہ چلایا۔

نہ تو کسی نے دروازہ کھولا اور نہ اس کی آواز ہی سنی۔ گیٹ کا تالا بھی بند نہیں تھا۔ گھر کی کھڑکیاں بھی کھلی ہوئی تھیں۔ اندر کوئی ہے یا نہیں وہ سوچنے لگا۔ پِچے گھر کے قریب گیا۔ آواز دینے پر ایک نوجوان عورت دروازہ کھول کر باہر آئی اور پھر فوراً ہی اندر چلی گئی اور پھر دروازے کی آڑسے سبزیاں دیکھیں، پھر دروازہ بند کر دیا۔ اس عورت کی بیٹی ہے یہ۔ ہاسٹل میں رہ کر تعلیم حاصل کرتی ہے۔ اماں کی مانند موٹی، سڈول، گول چہرہ اور بڑی بڑی آنکھوں والی ہے یہ۔

اندر کسی کے بولنے کی آواز سنتا رہا پِچے۔

’’اماں!‘‘

۔۔۔۔ ۔

’’اماں!‘‘

’’کیا ہے رادھا؟ نہا رہی ہوں، کیا چاہئے؟‘‘

’’سبزیوں کا ٹھیلا آیا ہے اماں۔ اچھی سجنا کی پھلیاں لایا ہے، دل للچا رہا ہے، خریدو گی کیا؟‘‘

’’نہ کہہ دو رادھا۔ ہمیں روزانہ سبزیاں دینے، ایک لنگڑا آتا ہے، وہ ابھی آئے گا۔ اس سے ہی لیں گے۔‘‘

’’بس سجناہی اس لے لو اماں۔‘‘

’’وہ لنگڑا بھی اچھی سبزیاں لاتا ہے۔ وہ لنگڑا ہو کر بھی، تکلیف برداشت کر کے، سارا دن کام کر کے روزی روٹی کماتا ہے۔ اس کے ٹھیلے سے ہی سجنا لیں گے۔ اس سبزی والے کو نہ کہہ دو بیٹی، جاؤ۔۔۔۔‘‘

اس عورت کی آواز وہ سنتا رہا۔ وہ جذباتی ہو اٹھا۔ اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ ’’میں وہی لنگڑا آیا ہوں اماں۔‘‘ یہ کہنے کی خواہش ہوئی، پر پِچے نے اپنے آپ کو روک لیا۔ وہ عورت مراٹھی، تیلگو، کناڈا یا گجراتی کوئی بھی ہو، پڑھی لکھی، امیر، باتونی، مغرور بھی ہو، لیکن ہے مہربان۔

انسان کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ ان میں ایک قسم یہ بھی ہے۔

پِچے برسوں سے اس قسم کے انسانوں سے ملا نہیں تھا۔ اس قسم کی مہربان عورت سے بھی اس کی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ پِچے کی روح کی گہرائی سے آواز آئی۔ کچھ انسان تو اندر سے کچھ اور باہر سے کچھ ہوتے ہیں۔ لیکن یہ عورت تو اندر اور باہر سے ایک ہی ہے۔ اس کے دل میں ہمدردی کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔

پِچے کے دل میں اس گھر کی عورت کیلئے جو نفرت اور غصہ تھا، سب سورج کی کرنوں کے آگے اوس کی بوندوں کی مانند اڑ گیا۔

***

 

 

 

 

لفظ

 

منیم رمیش کمار

 

تیلگو کہانی

 

 

خاموشی کی تو یہاں کوئی جگہ ہی نہیں۔ سمندر کے کنارے پر ہلچل کی بھی، کیا کبھی کمی ہوتی ہے؟ کچھ بچے جمع ہو کر شور مچا رہے ہیں۔ جب لہریں پیچھے جاتی ہیں تو، بچے آگے بڑھتے ہیں اور جب لہریں آگے بڑھتی ہیں، تو بچے پیچھے۔ پاس ہی میں ایک چھوٹی سی لڑکی کو، اس کا باپ سمندر کی طرف لے جانا چاہتا ہے، پر وہ ڈرتی ہے اور باپ کو بھی پیچھے کھینچتی ’’ کچھ نہیں ہو گا بیٹا، میں ہوں نا۔۔۔‘‘ یہ کہتے ہوئے باپ بیٹی کو دلاسہ دے رہا ہے۔

پیچھے کھانے کی مختلف اشیاء بیچنے والوں کا ہنگامہ برپا ہے۔ پاؤ بھاجی، مصالحہ پوری، بھٹے وغیرہ۔ سارے ساحل پر ہلا گلا، شور و غل اور چیخیں موجود ہیں، پر مجھے یہ سب کچھ سنائی نہیں دیتے۔ خاموشی۔۔۔ ہر جگہ بے تحاشہ سناٹا۔ جیسے سامنے ایک خاموش فلم چلتی دیکھ رہا ہوں، ٹی وی کی آواز بند کر کے دیکھ رہا ہوں۔ خاموشی۔۔۔ کہیں کوئی آواز نہیں۔۔۔۔

اونچا سننے والوں کو تو، زور سے بولنے پر سنائی دے جاتا ہے، لیکن گزشتہ کچھ دنوں سے میری سننے کی طاقت کم ہوتی جا رہی ہے۔ میں سناٹے میں جی رہا ہوں۔ کان کی مشین کا بھی کچھ فائدہ نہیں ہے۔ بیٹے سے کہا، ’’ بیٹے آج کل بالکل سنائی نہیں دیتا۔‘‘ اس کے بولنے سے میں نے انداز لگایا۔ ’’ آپ کو تو پہلے ہی اونچا سنائی دیتا ہے، تو پھر مشین کیوں نکال دیتے ہیں؟ اسے لگا کر رکھئے۔‘‘

’’بیٹے مشین لگانے پر بھی کچھ سنائی نہیں دیتا۔‘‘میں نے کہا۔

اس نے اشارے سے بات کی۔ اس اشارے کا مطلب ہے، ’’ اچھا ڈاکٹر صاحب کے پاس جائیں گے۔‘‘

دس دن گزر چکے ہیں، لیکن اُسے اس دوران وقت نہیں ملا۔ درمیان میں اور ایک بار یاد دلایا۔ اس نے سر ہلایا۔ وہ نہیں سمجھے گا کہ ایک ریٹائرڈ آدمی کے لئے بہرہ پن کتنا خطرناک ہوتا ہے۔ ایک بار بہو کو بھی بتایا۔ بہو تو اسے مسئلہ تک نہیں مانتی۔

’’ اب آپ کو سنائی نہیں دیتا تو کیا ہوا؟‘‘ شاید یہی وہ دل میں سوچ رہی ہو گی۔

میری بیوی، میری بیٹی کے گھر میں رہتی ہے۔ بیٹی اور داماد دونوں کام کرتے ہیں۔ داماد کی ماں نہیں رہی۔ تو میری بیوی ان کے کام کاج میں مدد کرنے کے لئے وہاں چلی گئی ہے۔ اسے ایک خط لکھنا ہے، کیونکہ فون پر بات چیت نہیں ہو سکتی۔ اس سے کہنے سے کچھ فائدہ تو نہیں، پھر بھی ایک ڈھارس ہی سہی۔

سمندر کے کنارے پر لوگوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ آہستہ آہستہ روشنی بھی کم رہی ہے۔ میں گھر کی طرف چلنے لگا۔ آتی جاتی گاڑیوں کو احتیاط سے دیکھتا ہوا چل رہا ہوں۔ پیچھے سے آنے والی گاڑی کی آواز میں سن نہیں سکتا۔ آہستہ آہستہ گھر پہنچا، تو میں نے دیکھا کہ پوتا اور پوتی آپس میں جھگڑ رہے ہیں۔ بہو انہیں سمجھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پہلے ان کی جنگوں کا سبب جان کر میں اسے دور کیا کرتا تھا۔ اب تو ایسا نہیں کر سکتا نا، ’’ بیٹے لڑنا نہیں۔‘‘ کہہ کر خاموش ہو گیا۔

ساڑھے سات ہوتے ہی گھر والے ٹی وی کے سامنے بیٹھ گئے۔ مجھے سیریل اچھے نہیں لگتے۔ لیکن بہو تو کوئی سیریل چھوڑتی ہی نہیں۔ جب وہ سیریل دیکھتی ہے، تو کوئی چینل تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ بچے بھی جب ان کی ماں نہیں ہوتی، تبھی کارٹون نیٹ ورک دیکھتے ہیں۔ میرا بیٹا اس وقت بھی کچھ فائلوں کو دیکھ رہا ہے۔

میں وہیں دالان میں بیٹھ کر مارک ٹوئن کی ’’ ایڈونچر آف ہیکل بیری فن‘‘ پڑھنے لگا۔ مجھے یہ کتاب بہت پسند ہے۔ اصل میں یہ کتاب بچوں کے لئے ہے۔ میں تو بچپن سے اب تک کئی بار پڑھ چکا ہوں۔ ٹھیک تو ہے، بچے اور بوڑھے ایک سے ہیں نا۔ اسی لیے آج بھی یہ کتاب پڑھنے کو دل کرتا ہے۔ قریب بیٹھے دونوں بچے بحث کر رہے ہیں، پھر بھی باتیں تو میری کانوں میں گھستی نہیں، لہٰذا آرام سے پڑھ رہا ہوں۔

لگتا ہے بہرے پن کے بھی کچھ اپنے فوائد ہیں۔ لیکن اپنی پسند کے گانے واک مین میں سن نہیں پانا، میرے لئے ایک بڑی محرومی ہے۔ رات میں جب چارپائی پر لیٹتا ہوں، تب دل میں بہت ساری فکریں گھیر لیتی ہیں۔ کیا اس عمر میں فکریں بڑھ جاتی ہیں؟ نہیں تو کیا اس بہرے پن کی وجہ سے الفاظ میرے دھیان کو نہیں پھیر پاتے، اس کی وجہ سے میں زیادہ فکر مند ہوں؟

نہ گھڑی کی ٹک ٹک، نہ پنکھے کی گوں گوں، کچھ بھی نہیں ہے۔ خاموشی میں صرف فکریں شور و غل مچاتی ہیں۔ پہلے جب بجلی بند ہوتی تھی اور اتفاقی طور پر نیند اڑ جاتی تھی تب بھی تو، پنکھے میں الفاظ نہیں ہوتے تھے۔ وہ سنسان سا لٹکا بڑا عجیب لگتا تھا۔ اب عادت بن گئی ہے، کیونکہ آج کل سب ہی خاموش ہی خاموش ہیں۔

کچھ دن پہلے ایک کہانی پڑھی۔ مصنف بتاتا ہے کہ دن بھر میں لوگوں کو ضرورت نہ ہونے پر بھی کئی الفاظ اور باتیں وغیرہ سننی پڑتی ہیں، جس سے انہیں تکلیف سہنی کرنی پڑتی ہے۔ جیسے آنکھوں کے لئے پپوٹے ہیں، ویسے ہی کانوں کے لئے بھی پپوٹے ہونے چاہئیں، تاکہ لوگ ناپسندیدہ باتوں سے بچ سکیں۔

کیا بھگوان نے مجھے نہ کھلنے والے پلکیں دی ہیں؟ میں ہنسنے لگا۔ آخر بہرے پن کے کیا کیا فوائد ہیں؟ سوچنے لگا۔ چاروں طرف کتنا بھی شور و غل مچا ہو، بغیر گھبرائے کتاب پڑھ سکتا ہوں۔ کسی سے تنازعہ نہیں ہوتا۔ اگر کسی نے مجھے ڈانٹا، تو بھی مجھے سنائی نہیں دیتا۔ پنکھے کی گوں گوں، دوسروں کے خراٹوں سے مجھے کوئی دقت نہیں۔ صبح صبح گھر میں کتنی ہی آوازیں ہوں، پھر بھی مجھے کوئی پریشانی نہیں۔ نزدیک میں کوئی مائیک لگا کر ہنگامہ کرے، پھر بھی مجھے کوئی فکر نہیں۔ دیوالی کے موقع پر بم پھوڑتے وقت، میں پاس سے بغیر ڈرے گزر سکتا ہوں اور کیا ہے؟ سوچتا ہوں تو بہت سارے فوائد یاد آ جاتے ہیں۔

ایک ہفتہ گزر گیا۔ بیٹے کو اور ایک بار اپنے مسئلے کے بارے میں یاد دلایا۔ اس نے اشارہ کیا۔ ’’ میں معلومات لے رہا ہوں۔‘‘

اچانک ایک دن میرا بیٹا مجھے ای این ٹی ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔ مجھ پر کئی ٹیسٹ کرنے کے بعد بیٹے سے ان کی کچھ بات چیت ہوئی۔ ان کے چہروں کے اتار چڑھاؤ سے میں کچھ سمجھ گیا۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہوں گے کہ مجھے ’’آپریشن‘‘ کروانا ہو گا۔

باہر آنے پر بیٹے سے پوچھا، ’’ کیا آپریشن کی ضرورت ہے؟‘‘بیٹے نے اثبات میں سر ہلایا۔

’’ کتنے روپے لگیں گے؟‘‘

بیٹے نے جواب نہیں دیا۔ رات میں پھر پوچھا کہ آپریشن کیلئے کتنے روپے لگیں گے۔ بیٹے نے تین انگلیاں کا اشارہ کیا۔

’’ تین ہزار؟‘‘ اس نے نہ میں سر کو ہلایا اور پھر تیس ہزار لکھ کر دیا۔

میں حیران ہو گیا۔ کان کے آپریشن کے لئے تیس ہزار؟ ۔ شاید آج کل کے زمانے میں تو تیس ہزار بڑی رقم نہیں۔ لیکن گھر کے حالات مجھے پتہ ہیں۔ بیٹی کی شادی کے لئے فیوچر فنڈ کے سارے پیسے خرچ کر چکا ہوں۔ نوکری سے ریٹائر ہونے کے بعد اپنا گھر بنانے کی وجہ سے، کچھ بچا ہی نہیں۔ گھر ڈھنگ سے بنانے کے لئے قرضہ بھی مانگنا پڑا۔ میری ساری پنشن بینک کی قسطیں بھرنے میں ہی خرچ ہوتی ہے۔ بیٹے کی پرائیویٹ نوکری ہے۔ اس کی کمائی سے ہی گھر کا خرچ چلتا ہے۔ بہو گھر کا کام سنبھالتی ہے۔

بیٹے کی اب تک کوئی خاص بچت نہیں ہے۔ اس گھر کے علاوہ میں نے اسے کچھ نہیں دیا۔

’’ کان کی سرجری کے اتنے روپے کیوں؟‘‘ میں نے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

بیٹے نے کاغذ پر لکھا، ’’ اس ڈاکٹر سے نہیں ہو گا۔ ایک اور ماہر سرجن کو بلانا ہے اور کان کے اندر کچھ لگانا ہو گا۔ لہٰذا اتنی بڑی رقم لگے گی۔‘‘

میں چپ ہو گیا۔ یہ تو بیٹے پر سراسر بوجھ ہو گا۔ لیکن باقی ساری زندگی اس طرح سناٹے میں گزارنا، بڑا مشکل ہے۔

اور ایک ہفتہ گزر گیا۔ بیٹے نے آپریشن کی کوئی بات نہیں کی۔ میں نے بھی کچھ نہیں پوچھا۔

کبھی کبھی میرے بیٹے اور بہو کے درمیان، انتہائی سنجیدہ گفتگو ہوتی رہی ہے۔ وہ میرے سامنے ہی بات کرتے رہے ہیں۔ کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ مجھے سنائی نہیں دیتا۔ لیکن میں سمجھ تو گیا ہوں۔ میری سرجری کو لے کر ہی وہ دونوں جھگڑ رہے ہیں۔ شاید بہو کہتی رہی ہو گی، ’’ ان حالات میں اس بوڑھے پر اتنے روپے خرچ کرنا بیکار ہے۔‘‘ سوچوں تو اس کی بات صحیح ہی ہے۔

ان دنوں دل میں خیالات زیادہ آنے لگے ہیں۔ نہ ان کا انجام ہے اور نہ ان کا اختتام۔

چار دن کے بعد بیٹے نے میرے پاس آ کر ایک کاغذ دکھایا، ’’ڈاکٹر صاحب سے ملا ہے۔ آپریشن کے لئے اگلی اتوار کا دن پکا ہو گیا ہے۔‘‘

’’ لیکن پیسے؟‘‘ میں نے پوچھا۔

اس نے اس بات کا اشارہ کیا کہ رقم کا انتظام ہو گیا۔

ایک بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔ کیا اس نے کہیں سے ادھار لیا ہے؟ نہیں تو یقیناً دفتر سے لون لیا ہو گا۔

اگلے دن آ کر پھر ایک کاغذ دکھایا۔

’’ آپریشن کے ایک دن پہلے بلڈ پریشر اور شوگر چیک کروانی ہو گی۔ ان چار دنوں میں ہمیں جاننا ہونا ہو گا کہ ان میں اضافہ نہ ہو۔‘‘

’’ پہلے یہ بتاؤ کہ پیسوں کا انتظام کیسے ہوا؟‘‘

بیٹا خاموش رہا۔ میں نے پھر پوچھا۔ وہ کچھ اشارے کرنے لگا، پھر جھٹ سے کچھ سوچا اور کاغذ پر لکھ دیا۔

’’ دفتر کے ساتھیوں نے کچھ مدد کی۔‘‘

اس کو پڑھنے پر میں مطمئن ہو گیا۔ ہر ماہ کچھ پیسے انہیں چکا سکتے ہیں۔

لیکن دو دن بعد شام کو سمندر کے کنارے پر، مجھے ایک خاص بات پتہ چلی۔ ہماری بازو والی گلی میں سود پر قرضے دینے والے رنگو سوامی سے ملاقات ہوئی۔ اس نے اشارہ کر کے پوچھا، ’’ کیا آپ کا آپریشن ہو گیا؟‘‘

میں نے ‘ ‘نہ‘‘ کہا اور اس سے پوچھا کہ وہ کیسے جانتے ہیں۔ میں تو سوچ رہا تھا کہ آپریشن کی بات محلے کے لوگوں کو معلوم نہیں ہے۔ رنگو سوامی نے کچھ اشارہ کیا، لیکن میں سمجھ نہیں سکا۔ اب مجھے جیب میں کاغذ قلم رکھنے کی عادت ہو گئی ہے۔ جھٹ سے کاغذ باہر نکالا اور اسے دے دیا۔

اس کی لکھی بات پڑھ کر مجھے ایک دم دھچکا سا لگا۔ بیٹے نے بہو کے میکے والوں کی طرف سے دیے گئے زیورات اور پوتی کی سونے کی ہنسلی گروی رکھ کر، رنگو سوامی سے پیسے لئے ہیں۔ یہ بہو کی مہربانی ہے۔ اس نے رنگو سوامی سے وعدہ لیا تھا کہ اس کے بارے میں کسی سے کچھ نہ کہے۔ رنگو سوامی سوچ رہا ہے کہ یہ سب مجھے معلوم ہے۔ کچھ بھی ہو، میں نے بہو کو غلط سمجھا۔ اس کی زیورات گروی رکھنے کی بات نے، تو مجھے ہلا دیا۔

ہفتہ کا دن آ گیا۔ بلڈ پریشر اور شوگر وغیرہ کی رپورٹیں لے کر ہم ای این ٹی ڈاکٹر سے ملے۔ رپورٹ دیکھ کر انہوں نے کچھ دیر بیٹے سے بات کی۔ مجھے سنائی نہیں دیا، پھر بھی میں کچھ سمجھ ہی گیا۔ گھر پہنچتے ہی اس سے پوچھا کہ کیا بات ہے۔ بیٹے نے ایک کاغذ پر لکھ دیا۔

’’ ڈاکٹر صاحب کی بات سرجن سے کل ہوئی۔ لیکن سرجن صاحب اب اتنے پر یقین نہیں ہیں، جتنا کے پہلے تھے۔ ساری رپورٹوں کی جانچ پڑتال کرنے کے بعد بولے کہ آپریشن کے بعد بھی سننے کی طاقت واپس حاصل ہونے کا امکان بہت کم ہے۔ کیونکہ آپ بڑی عمر کے ہیں۔ اس لئے ایک بار اور سوچنے کے بعد ڈاکٹر صاحب نے مشورہ دیا ہے کہ کچھ بھی ہو، آپریشن کروا لیجئے۔ اگر تھوڑا سا بھی سننے کی طاقت مل گئی تو بہتر ہی ہے نا۔‘‘

کاغذ پڑھنے کے بعد میں نے پر یقین لہجے میں بیٹے سے کہا، ’’ اب آپریشن کی بات چھوڑو۔ آج کل مجھے ویسے بھی بہرے پن کی زندگی کی عادت سی ہو گئی ہے۔ مجھے کچھ خاص پریشانی نہیں ہے۔ جب آپریشن کی کامیابی کی ضمانت نہیں ہے، تو کیوں اتنے پیسے بیکار ضائع کریں اور غیر ضروری تناؤ میں پڑیں۔ میرے ذہن میں بھی یہی بات ہے، جو ڈاکٹر صاحب نے تم سے کہی۔‘‘

بیٹا کچھ بولنے لگا، تو میں نے آہستہ آہستہ اسے منایا اور آپریشن کی بات ٹال دی گئی۔

رات پلنگ پر لیٹ گیا تو مگر پھر سوچیں۔۔۔۔

پچھلے دن ڈاکٹر صاحب سے اکیلے مل کر، جو باتیں میں نے کہیں، انہیں یاد کر رہا ہوں۔

’’ ڈاکٹر صاحب میری بات پر ذرا توجہ دیجئے۔ اب تو مجھے سننے کی طاقت واپس حاصل کرنے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔ اگر میں بولتا ہوں تو بیٹا نہیں سنے گا۔ قرضہ لے کر آپریشن کا انتظام کیا ہے اس نے۔ اگر میں نے خود انکار کر دیا تو اسے دکھ پہنچے گا کہ پیسے کی وجہ سے آپریشن نہیں کرا پایا۔ لہٰذا آپ اس سے کہہ دیجئے گا کہ اس آپریشن سے کچھ فائدہ نہیں ہو گا۔ اسے کسی نہ کسی طرح سمجھائیے گا۔ تب اسے دکھ نہیں برداشت پڑے گا۔ میں تو اس آپریشن کے بالکل خلاف ہوں۔ براہ مہربانی میری بات سمجھئے اور میری مدد کریں۔‘‘

میری درخواست کو انہوں نے مان لیا۔ وہی ہوا جیسا میں چاہتا تھا۔ میں نے لفظوں سے رخصت لی۔۔۔ ہمیشہ کے لئے اور سناٹوں سے نپٹ رہا ہوں۔

کبھی کبھی سوچتا ہوں۔ بہرے ہونے کے اور کیا کیا فائدے ہیں؟

***

 

 

 

 

لہریں جہاں ٹوٹتی ہیں

 

شری ولّی رادھیکا

 

تیلگو کہانی

 

 

’’ارچنا کل ہی آ رہی ہے۔‘‘ بھوانی نے بے چینی کے ساتھ سوچا۔ اُس دن جاگتے کے بعد اِس کا اِس طرح سوچنا کوئی ساٹھویں بار تھا۔ دو سال بعد اپنی گہری دوست سے ملنے کی بات اس کے دل کو بے چین کر رہی تھی۔

’’ گہری دوستی‘‘ ہاں اپنی دوستی کے تئیں ان دونوں کی سوچ یہی ہے۔ کالج میں ان کی پہلی ملاقات، ان دونوں کے لئے آج بھی ایک ناقابل فراموش واقعہ ہے۔ تین سال کالج کی زندگی، ہاسٹل، ساتھ مل کر دیکھی گئیں فلمیں، پڑھی گئی کتابیں، ہر پروگرام میں شرکت، ان کی دوستی کو مضبوط بنانے میں مددگار ہی رہی۔ کبھی بھی، کسی بھی صورت میں، کسی بھی حالت میں دونوں کا سوچنا ایک جیسا ہوتا تھا۔ مذاق میں جھگڑنے کے لئے بھی ان کے درمیان کبھی اختلاف نہیں پایا جاتا تھا۔

’’آپ کی زندگی کا حیرت انگیز واقعہ کون سا ہے؟‘‘اگر بھوانی سے کوئی پوچھ بیٹھے تو شاید وہ ایک ہی جواب دے گی، ’’ٹھیک میری ہی طرح سوچنے والی ایک دوست کا ہونا۔‘‘

ڈگری ایگزام ختم ہونے کی دیر تھی کہ ارچنا کی شادی ہو گئی۔ اس کے وہ انجینئر تھے۔ شادی کے وقت امریکہ میں تھے۔ ان کی کمپنی کی جانب سے انہیں کسی ٹریننگ کے لئے بھیجا گیا تھا۔ خود بھی امریکہ جاتے ہوئے ارچنا نے بھوانی کو ہوشیار کیا، ’’تمہارے والدین جو بھی رشتہ لے آئیں، اس کے لئے سر نہ ہلا دینا۔ کسی کلرک یا ٹیچر سے شادی کر کے اپنی زندگی کو تکلیف دہ نہ بنا لینا۔‘‘

بھوانی، دھک سی رہ گئی۔ کیوں کہ اس سے ایک دن پہلے ہی کسی نے ایک رشتہ بتایا تھا۔ وہ سیکریٹریٹ میں اپر ڈویژن کلرک تھے۔ والدین اس رشتے پر آس لگائے بیٹھے تھے۔ ایک لمحے کے لئے شک میں پڑ کر بھوانی نے کہا، ’’میرا کیا ہے؟‘‘

اس طرح امریکہ کا دورہ کر کے ارچنا ایک سال بعد واپس آئی۔ اس کے شوہر کی ملازمت مدراس میں ہو گئی تھی۔ ساس سسر، بڑا سارا گھر، اپنے بارے میں تفصیل سے لکھتے ہوئے ایک خط اس نے بھوانی کے نام لکھا۔ اس کے جواب میں بھوانی نے لکھا، ’’ اس کی شادی تقریباً طے ہو چکی ہے۔ دولہا کا نام پرکاش ہے۔ شادی ایک مہینے کی اندر ہی ہو سکتی ہے۔ وہ شادی میں ضرور آئے۔‘‘پرکاش کے کام کے بارے میں بالکل نہیں لکھا۔ وہ سیکریٹریٹ میں اپر ڈویژن کلرک تھے۔ یہ بات خط میں لکھنے کی ہمت اس میں نہیں تھی۔ ارچنا شادی کی تقریب میں آئی۔ پرکاش کے بارے میں اس نے جان بوجھ کر بھوانی سے کچھ نہیں پوچھا۔ بھوانی نے سوچا کہ دیکھ کر اس نے سب کچھ سمجھ لیا ہو گا۔

سویرے دس بجے شادی ہوئی اور رات کے دس بجے بھوانی سسرال چلی گئی۔ اس کے فوراً بعد ارچنا بھی مدراس کے لئے نکل پڑی۔ اور اب ڈھائی سال کے بعد ارچنا نے حیدرآباد آنے کا سندیسہ بھیجا ہے۔ اس دوران زندگی نے کتنے ہی موڑ لیے۔ بھوانی کا ایک بیٹا ہو گیا، وہ بھی ایک چھوٹے سے اسکول میں کام کرنے لگی ہے۔

ہر روز ایک ہی قسم کی دوڑ بھاگ۔ سویرے جلدی جلدی گھر کے کام نپٹانا، بیٹے کو تیار کرنا۔ بچے کو دیکھ بھال کے مرکز میں پہچانا، بس پکڑ کر اسکول جانا، شام کو نکلنا، پھر بچے کے دیکھ بھال کے مرکز پہنچنا، بچے کو لے کر گھر لوٹنا، اس کی ضروریات کو پورا کرنا، گھر کے کام دھندوں سے نمٹنا اور اس درمیان چار پانچ بچوں کو ٹیوشن پڑھانا۔

تقریباً ایک مشینی روٹین سی بن گئی تھی بھوانی کی زندگی میں۔ اس خیال سے کہ اس تھکاوٹ بھری زندگی میں ایک دو دن کے لئے کوئی تبدیلی آئی گی، اس کا جوش و خروش بڑھ جاتا تھا۔ نہانے کے لئے جاتے وقت، الماری میں سے ساڑی نکالتے وقت، ارچنا کا خط دکھائی دیا۔ اتنی مصروفیت میں بھی بھوانی اسے دوبارہ پڑے بغیر نہ رہ سکی۔

’’اتوار کو صبح میرے دیور کی شادی حیدرآباد میں ہے۔ میں جمعہ کی رات نکل کر آ رہی ہوں۔ ہفتہ کو سارا دن تیرے ساتھ گزاروں گی۔ اتوار کو بھی شادی ہال میں میرے لئے کوئی کام نہ ہو گا۔ دونوں دن ہم لوگ ڈھیر ساری باتیں کر سکتے ہیں۔ تیرے ساتھ کتنی ساری باتیں کرنی ہیں۔ دل کہتا ہے اب تیرے پاس پہنچ ہی جاؤں۔‘‘

پریشر کوکر کی آواز سے چونک کر خط الماری میں رکھ کر بند کر دیا۔ گھڑی کی سیکنڈ کی سوئی کے ساتھ مقابلہ کر کے، بیس منٹ میں اپنے بیٹے کو گود میں لے کر باہر نکلی۔ پرکاش ابھی ابھی اٹھ کر اخبار پڑھ رہا تھا۔ ’’کیوں جی، میں جا رہی ہوں‘‘ عادت کے مطابق اپنے شوہر سے دو باتیں کہہ کر وہ سڑک پر پہنچی۔

بیٹے کو دیکھ بھال کے مرکز میں چھوڑ کر بس اسٹاپ پہنچتے ہی بس آ گئی۔ ’’باپ رے، ایک لمحے کی بھی دیر ہو جاتی تو بس چھوٹ جاتی۔‘‘ دل میں سوچا۔

آہستہ سے جا کر ایک نشست پر بیٹھ ہی رہی تھی کہ ’’کیسی ہو۔‘‘ پہلے ہی سے کھڑکی کے پاس بیٹھی خاتون نے اس سے پوچھا۔

بھوانی نے سر اٹھا کر دیکھا اور ’’آپ۔‘‘ کہتے ہوئے مسکرا دی۔ اس کا نام لکشمی تھا اور وہ بھی بھوانی کی طرح کسی چھوٹے سے اسکول میں نوکری کرتی تھی۔

’’کیا بات ہے؟ آج کل آپ بالکل دکھائی نہیں دے رہی ہیں؟‘‘بھوانی نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا۔

’’میری ساس کی صحت ٹھیک نہیں تھی۔ ہم لوگ گاؤں گئے تھے۔ آج سویرے ہی لوٹے ہیں۔‘‘

’’اوہو۔‘‘کہتے ہوئے بھوانی نے پوچھا، ’’کیا ہوا انہیں؟‘‘

’’کچھ نہیں، عام سی بات ہے۔ وہاں ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں تھا، تو مجھے جانا پڑا۔‘‘ایک اعتماد کے ساتھ ہنستے ہوئے لکشمی نے بتایا، ’’چار دن کی چھٹیاں ختم ہو گئیں۔ پچھلے ہفتے کے روز گئی تھی۔ آج پھر جمعہ ہے۔‘‘

’’میں بھی کل چھٹی لے رہی ہوں۔‘‘ بھوانی نے ہنستے ہوئے کہا، ’’میری سہیلی آ رہی ہے۔‘‘اس کے چہرے پر خوشی کی جھلک تھی۔

اس کا بس چلے تو اسی بس میں ’’کل میری سہیلی آ رہی ہے۔‘‘ چیخنے کا من کر رہا تھا، بھوانی کا۔

شام تک اسی جوش و خروش سے دن گزارا اس نے۔ گھر پہنچتے ہی سارے گھر کی صفائی کی اور پونچھا وغیرہ لگا دیا۔ اگلے دن کے ٹفن کیلئے، دال بھگو کر رکھ دی۔ دوسرے دن کے لئے ضروری سبزیاں کاٹ کر رکھ لیں۔ جتنا بھی کام رات کو پورا کر سکے کر کے، دوسرے دن سارے کاموں سے چھٹی لے کر صرف ارچنا کے ساتھ باتیں کرنے کا خیال تھا اس کا۔

’’کل میں بھی چھٹی لے لوں کیا؟‘‘پرکاش نے سونے سے پہلے پوچھا۔

’’کیوں؟‘‘بھوانی نے ہنستے ہوئے پوچھا، ’’کل آپ جتنی جلدی باہر نکل جائیں گے، اتنا ہی اطمینان ہو گا مجھے۔‘‘

پرکاش نے اپنا منہ چھوٹا کر لیا، ’’جیسے ساری دنیا میں تمہارے اکیلے کی ہی سہیلی ہے۔‘‘ اور آگے کہا، ’’کل صبح پانچ بجے تک گھر سے نکل جاؤں گا اور رات کے بارہ بجے تک نہیں آؤں گا۔‘‘

کھلکھلا کر ہنس پڑی بھوانی۔ شوہر کے پاس لیٹتے ہوئے بولی، ’’یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اتنے سویرے گھر سے نکل جاؤ گے تو ارچنا کو گھر کون لے کر آئے گا؟ اس کو گھر پر چھوڑ کر پھر چلے جائیے۔‘‘بھوانی نے کہا۔

پرکاش نے اس کے سر پر ایک ٹھونگ مار کر اپنے پاس کرتے ہوئے کہا، ’’تو اس ڈیوٹی سے بچ نہیں سکتا میں۔‘‘

بستر پر کوئی چار گھنٹے لیٹی تھی کہ پانچ بجنے سے پہلے ہی اٹھ بیٹھی وہ۔ اسی اندھیرے میں اپنے آنگن کو رنگولی سے سجادیا، دال بھی پیس لی، کافی کے لئے محلول بنا کر رکھ لیا۔

چھ بجے پرکاش کو جگا کر اسٹیشن بھیج دیا۔ ان کے واپس آنے سے پہلے گھر کو ایک بار اور سجا کر، نہا کر، کھانا بنانے میں لگ گئی۔

سبزی، دال، اچار، پلی ہور مٹھائی۔ پکوانوں کی تیاری ختم ہونے کو تھی، پر آنے والے مہمانوں کا پتہ نہیں تھا۔ بھوانی کو تعجب ہونے لگا تھا، ’’یہ لوگ ابھی تک کیوں نہیں پہنچے؟‘‘

اتنے میں آنگن میں اسکوٹر کے رکنے کی آواز آئی۔ جذباتی انداز میں بھوانی دوڑ کر باہر نکل آئی۔ پر پرکاش کو اکیلے ہی اسکوٹر سے اترتے دیکھ کر اسے حیرت ہوئی، ’’کیوں جی؟ ارچنا کہاں ہے؟ نہیں آئی کیا؟‘‘ایک ہی سانس میں اس نے پوچھا۔

پرکاش نے آہستہ سے گھر میں قدم رکھا۔ کرسی پر بیٹھتے ہوئے اور بھی دھیرے سے کہا، ’’آئی ہے، اس کی ساس اور دیگر لوگ بھی اس کے ساتھ آئے ہیں، سب مل کر شادی ہال گئے ہیں۔ تمہیں وہاں پر بلایا ہے۔‘‘

نڈھال ہو کر کرسی پر بیٹھ گئی بھوانی، ’’تو اب یہاں نہیں آئے گی۔‘‘ روہانسی آواز میں کہا۔

پرکاش نے اٹھ کر اندر جاتے ہوئے پوچھا، ’’ناشتا تیار ہے کیا؟ ہاتھ منہ دھو کر آ رہا ہوں۔ لگا دو۔‘‘

ایک لمحہ کے بعد ہوش آیا بھوانی کو۔ پرکاش کے لئے کھانا لگا دیا۔ خود بھی کچھ کھایا اور بیٹے کو لے کر چل پڑی۔ بھوانی کو ارچنا کے پاس چھوڑ آفس کے لئے چلا گیا پرکاش۔ ارچنا کسی سے بات کر رہی تھی۔ دوڑتی ہوئی آئی اور بھوانی کو اپنے گلے سے لگا لیا۔

’’تم نے تو لکھا تھا گھر آؤ گی۔‘‘ بھوانی نے روٹھتے ہوئے کہا۔

’’کیسے آؤں، شادی کے لئے آ کر میں تیرے پاس رہوں تو ٹھیک رہے گا کیا، بتاؤ؟ یہاں پر بھی تو ہم لوگ باتیں کر سکتے ہیں۔‘‘باتوں کی سنجیدگی کو ٹالتے ہوئے ارچنا نے کہا۔

بھوانی نے مایوس ہو کر سوچا، ’’یہاں، یہاں باتیں کریں گے۔‘‘ بہت سے نئے لوگوں کے درمیان میں اس کا تو دم گھٹ رہا تھا، پھر بھی ایک کونے میں جگہ بنا کر دونوں بیٹھ گئیں۔

’’تُو بتا۔‘‘ارچنا نے کہا۔

کیا بتاؤں؟ بھوانی کی آواز ہی نہیں نکل رہی تھی۔

’’تُو ہی بتا، تیرے پتی دیو کیسے ہیں؟‘‘

’’ان کا کیا؟ وہ تو ٹھیک ٹھاک ہیں۔‘‘ اداسی بھرے انداز سے ارچنا نے جواب دیا۔

اس کے بعد کیا بات کریں، بھوانی کی سمجھ میں نہیں آیا۔ ایک ایک ہاتھ میں آدھے درجن سونے کے کڑے اور گلے میں بھرپور گہنوں کے ساتھ ارچنا جگمگا رہی تھی۔

’’ابھی اتنے گہنے پہنے ہیں تو شادی کے موقعے پر اور نجانے کتنے پہنے گی۔‘‘ بھوانی کو تعجب ہو رہا تھا۔

پانچ منٹ خاموشی میں گزر گئے۔ اچانک بھوانی کو یاد آیا، دو ماہ قبل ان کی پسندیدہ مصنفہ کا ایک ناول مارکیٹ میں آیا تھا۔ انتہائی مصروفیت کے باوجود بھی، اسے حاصل کر کے، اسے پڑھنے تک اس نے چین کی سانس نہیں لی تھی۔ ’’ارچنا نے پڑھا ہے کہ نہیں۔‘‘ خیال ذہن میں آتے ہی پوچھ بھی لیا۔

’’آں۔۔ نہیں۔‘‘ جمائی لیتے ہوئے ارچنا نے جواب دیا، ’’کتابیں پڑھنا چھوڑے بہت دن ہو گئے۔‘‘

بھوانی پوچھ نہ سکی کہ پھر وہ کیا کر رہی ہے۔ اسے لگا کہ ارچنا کا جواب شاید ہی اس کی سمجھ میں آئے۔

اور نہیں تو کیا؟ پیسے والوں کی باتیں سنتے ہی کیسے سمجھ میں آ سکتی ہیں؟ ان کے بارے میں وہ کیا بات کر سکتی ہے۔

’’کون کون سی فلمیں دیکھی ہیں؟‘‘زبان تک آئی بات کو بھوانی نے روک لیا۔ بھوانی کی سمجھ میں آ گیا تھا کہ جہاں تک ارچنا سے اس کا تعلق ہے، وہ جانتی ہے کہ اس سے بیکار سوال اس کیلئے کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا۔ اور کیا پوچھ سکتی ہے؟ اپنی سطح کی سہیلی کے ملنے پر پوچھے جانے والے سوالات کو ایک بار دل ہی دل میں دہرا لیا، نئی چیزیں کیا خریدیں ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

یہ تو ارچنا سے پوچھے جانے والے سوالات نہیں ہیں۔

شوہر، بچے۔

شوہر کے بارے میں تو، اداس ہو کر ابھی ابھی بات کو کاٹ گئی۔ پوچھنا چاہ رہی تھی کہ تین سال گزر جانے پر بھی بچے کیوں نہیں ہوئے۔ لیکن ہمت نہیں کر پائی۔

’’چھی مجھے کیسا خوف۔ وہ تو میری گہری سہیلی ہے۔‘‘ا پنے تعلق کے بل پر پوچھنا ہی چاہ رہی تھی کہ ’’ہیلو ارچنا‘‘ کہتے ہوئے کوئی عورت اس کے پاس آئی۔ بات گہنوں کی ہو یا پھر نزاکت کی، وہ ارچنا سے کسی طور کم نہیں تھی۔

’’میرے شوہر کی چچا زاد بہن سشمتا، میری گہری سہیلی بھوانی۔‘‘ بڑی چستی کے ساتھ دونوں کا آپس میں تعارف کرایا۔

ارچنا کی آواز میں دوہرے جوش و جذبے کو بھوانی نے پہچانا۔ بہت دیر کے بعد ارچنا کی باتیں اتنی جوشیلی ہوئی تھیں۔ اب تک مری مری آواز میں اس کے اداس ہو کر بات کرنے کو، سفر کی تھکن سمجھا تھا بھوانی نے۔ لیکن اب۔۔۔۔

وہ دونوں اسے بھول کر باتوں میں ڈوب گئیں تو بھوانی کچھ دیر تک بے سکون سی بیٹھی رہی۔ اپنی گود میں موجود بیٹے کو تھپکا دیتے ہوئے، وہ اِدھر اُدھر دیکھنے لگی۔

بڑے پیٹ اور سانولے رنگ کی ایک لڑکی ادھر ادھر گھوم رہی تھی۔ ’’شاید کام والی ہو۔‘‘بھوانی سوچ رہی تھی۔ اتنے میں ارچنا نے سشمتا سے پوچھا، ’’یہ آپ کے گھر کی کام والی لڑکی شانتا ہے نا؟‘‘

’’ہاں ’’ سشمتا نے جواب دیا۔

’’میں نے پہچانا نہیں، شادی ہو گئی کیا اس کی؟‘‘

’’ ہاں ماں نے ہی کروائی ہے۔ اب اس کے پاؤں بھاری ہیں۔ پانچواں مہینہ چل رہا ہے۔‘‘

’’شادی ہوئے کتنے دن ہوئے؟‘‘

’’نو ماہ۔‘‘قہقہہ لگا کر ارچنا نے کہا، ’’ان کے پاس دوسرا کوئی کام نہیں ہوتا ہے کیا؟‘‘

اس جملے میں کوئی طنز نہیں تھا۔ تعجب نہیں تھا۔ ارادے کا دخل بھی نہیں تھا۔ بالکل نرمی سے اس نے یہ بات کہہ دی۔ لیکن اس بات سے بھوانی کی تکلیف انتہائی درجے تک پہنچ گئی۔ اپنے سال بھر کے بیٹے کو اس نے اپنی چھاتی سے لگا لیا۔

اس کے عذاب کو سمجھنے والے بھگوان کے جیسا، پرکاش اسی وقت اسے دروازے کے قریب دکھائی دیا۔ بھوانی نے اٹھتے ہوئے کہا، ’’وہ آ گئے ہیں، میں چلتی ہوں۔‘‘

ارچنا نے تعجب سے دیکھا، ’’یہ کیا، رات کو میرے ساتھ نہیں رہو گی؟‘‘

زبردستی کے قہقہے میں لپیٹ کر بھوانی نے کہا، ’’یہاں کیسے رہوں گی؟‘‘اس کی آواز میں ناراضگی واضح دکھائی دے رہی تھی۔

’’ارے ہم لوگوں نے تو بات ہی نہیں کی۔‘‘ ارچنا نے کہا۔ اس کی آواز میں چھائی فکر سے بھوانی کو اس پر رحم آ گیا اور کہا، ’’سویرے آ جاؤں گی۔‘‘

’’جلدی آ جانا مہورت نو بجے کا ہے۔‘‘ دونوں میاں بیوی کی طرف دیکھتے ہوئے ارچنا نے کہا۔

حامی بھرتی ہوئی وہاں سے تو آ گئی تھی بھوانی، پر دوسرے دن وہاں جانے میں اسے ہچکچاہٹ سی ہو رہی تھی۔

شادی میں جاتے وقت کون سی ساڑی پہنی جائے، اس بات کی طرف بھوانی نے ابھی تک کوئی خاص دھیان نہیں دیا تھا، پر اب اس کیلئے یہ ایک مسئلہ بن گیا تھا کہ کون سی ساڑی پہن کر ارچنا کے سامنے جائے۔ اسے کچھ کچھ خوف سا محسوس ہونے لگا۔ آخر میں جیسے تیسے تیار ہو کر شادی ہال میں پہنچی، تو اس کا شک ٹھیک نکلا۔ وہاں کے لوگوں میں وہ ’’مختلف‘‘سی لگ رہی تھی۔

’’ساڑی، پرواہ نہیں، پر گہنے۔۔۔ وہاں کے لوگ تو گہنوں کا بوجھ ڈھو رہے تھے اور بھوانی کے گلے میں صرف ایک نانُو (گلے میں پہنا جانے والا ایک قسم کا سونے کا ہار) اور ایک گُرِمے کی مالا تھی۔

زری دار ساڑی اور ایسے بڑے بڑے گہنے، جسے بھوانی نے صرف فلموں میں ہی دیکھا تھا۔ پہن کر، ارچنا سامنے سے آئی تو بھوانی کو بڑا مزہ آیا۔ اتنے سارے گہنے پہن کر ارچنا گوشت پوست کی لکشمی دیوی لگ رہی تھی۔

اپنے شوہر کے ساتھ ایک جگہ بیٹھ کر بھوانی شادی کا جشن نہیں، صرف ارچنا کو دیکھتی رہی۔ درمیان میں جب ارچنا انہیں کھانے کیلئے لے جانے آئی، تو بھوانی نے اپنے صبر کو توڑتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کے گال کو چوم لیا اور کہا، ’’کتنی اچھی لگ رہی ہو!‘‘

ارچنا خوشی کے ساتھ ہنس دی۔

’’ساڑی بہت اچھی ہے۔‘‘ بھوانی نے کہا۔

’’اچھی کیوں نہیں ہو گی، اچھی خاصی رقم جو لگی ہے۔‘‘ بھوانی کے قریب سے اس کے بیٹے کو لیتی ہوئی ارچنا نے کہا۔

بھوانی کو لگا کہ ایک جھٹکے کے ساتھ اس کا نشہ اتر گیا۔ ’’اچھی خاصی رقم۔‘‘ کی بات سنتے ہی بھوانی کا من کڑواہٹ سے بھر گیا، ’’رقم بتانے کی کیا ضرورت تھی۔‘‘ اس نے دل میں سوچا۔

بھوانی بات کو آرام سے ہی سمجھ گئی کہ ارچنا کی اچھی خاصی رقم والی بات میں طنز وغیرہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اس کی باتوں میں نہ تو اس کے ارادے کا کوئی دخل ہے اور نہ ہی اس کیلئے کوئی چور کی داڑھی میں تنکے والی بات۔ ہاں اس وقت، بھوانی دولت کے بارے میں بات کرنے سے پہلے دو بار سوچنے کی پوزیشن میں ہے، پر دولت کو چھوڑ کوئی اور بات کرنے کی پوزیشن میں ارچنا نہیں ہے۔ کالج کے دنوں میں ایسی نہیں تھی۔ ’’اب دونوں کے حالات الگ الگ ہیں۔‘‘ بھوانی نے ایک لمبا سانس چھوڑتے ہوئے دل میں سوچا، ’’جن کے جذبات اور خیالات آپس میں ملتے ہیں، وہ ہی اچھے دوست بنتے ہیں۔‘‘ اب تک تو ایسا ہی خیال تھا بھوانی کا۔ لیکن ابھی ابھی اس کی سمجھ میں آنے لگا تھا کہ جذبات اور خیالات حالات کے مطابق بدلتے رہتے ہیں۔ یعنی دو افراد کے درمیان دوستی میں استحکام کے لئے دونوں کا ایک ہی حالات میں ہونا ضروری ہے۔ انہی خیالات میں ڈوبی بھوانی، مناسب طریقے سے کھانا بھی نہیں کھا پائی۔ کھانا ختم ہوتے ہی پرکاش نے جلدی نکلنے کیلئے کہا۔

ارچنا سے جانے کی بات کی تو اس نے منت کی، ’’اور کچھ دیر رہ جا نا! ہم لوگ کھل کر بات ہی نہیں کر سکے۔‘‘

بھوانی نے ارچنا کی طرف درد بھرے دل سے دیکھا۔ اپنے آنے سے اسے کوئی لطف نہ دے پائی۔ اس کی پسند کی باتیں نہیں کر پائی۔ پھر بھی اپنے سے دور ہونے کے درد کو ارچنا میں دیکھا بھوانی نے۔ اس کا پیار امڈ پڑا تو اس نے ارچنا کو اپنی بانہوں میں بھر لیا۔ دونوں کی آنکھوں میں آنسو چھلک آئے۔

’’گھر جا کر کچھ آرام کروں گی ارچنا۔ کل پھر اسکول بھی جانا ہے۔‘‘بھوانی نے کہا۔

اس بات پر ارچنا ناراض ہو گئی، ’’کل ایک دن کے لئے اسکول نہیں جاؤ گی تو کیا ہو گا؟‘‘شکایت بھری آواز میں کہا۔ بھوانی ہنس کر چپ ہو گئی۔ گیٹ تک آ کر ارچنا نے انہیں رخصت کیا۔ باہر آنے کے بعد بھوانی نے پرکاش سے کہا، ’’دو ماہ کے بعد ارچنا دوبارہ امریکہ جا رہی ہے۔ اب پھر دو یا تین سال کے بعد ہی شاید اسے دیکھ پاؤں گی۔‘‘

’’یہیں رہ جاؤ نہ، پھر رات بھر اپنی سہیلی سے باتیں کر سکتی ہو۔‘‘ پرکاش نے بھوانی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

’’نہیں نہیں۔‘‘ بھوانی نے کہا، ’’بات کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ بس فکر ہو رہی ہے۔‘‘

بھوانی نے سوچا تھا کہ جب تک ارچنا شہر میں رہے گی، وہ اس سے چپک کر رہے گی، اسے چھوڑے گی نہیں۔ لیکن اب یہ معلوم ہوتے ہوئے بھی کہ ارچنا کل تک یہی رہے گی اور چوبیس گھنٹے اسی شہر میں رہے گی۔ وہ اسے چھوڑ کر جا رہی ہے۔

سوچ کر بھوانی کا دل اداس ہو آیا۔ پرکاش کے کہنے پر بھی پلٹ کر جانے کو، اس کا دل نہیں کہہ رہا تھا۔ ا داس ہی گھر پہنچی۔ خیالات کی وجہ سے بھوانی رات بھر سو نہ سکی۔

دوسرے دن سویرے کام کی مصروفیت نے اسے سوچنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ ہر دن کی طرح دوڑتے دوڑتے اپنے کاموں سے نمٹ کر ہانپتے ہوئے بس میں چڑھی تو لکشمی نے اس کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا اور پوچھا، ’’تمہاری سہیلی چلی گئی کیا؟‘‘

’’ ہاں چلی گئی۔‘‘ ہانپتے ہوئے ہی جواب دیا بھوانی نے۔

’’آج بھی، اس نے مجھے چھٹی لینے کو کہا تھا، پر میں نے ہی نہیں لی۔‘‘ اس نے فکر مند دل سے کہا۔

’’ کیسے ہو سکتا ہے ہفتہ اور پیر کی چھٹی لینے پر اتوار کا ’’ لاس آف پے‘‘ ہو جاتا ہے نہ۔‘‘ لکشمی نے بھوانی کی حمایت کرتے ہوئے کہا۔

اس تکلیف کو سمجھنے والی لکشمی کی طرف تشکر بھری نظروں سے دیکھا بھوانی نے، اس کے بعد بہت دیر تک دونوں نے ہی محدود چھٹیوں کے بارے میں، کٹتی تنخواہ کے بارے میں باتیں کیں۔

دونوں ہی مل کر فکر مند ہوئیں اور دکھ بھرے سماجی رویوں سے ناراض بھی۔ چلتی بس میں آنے والی ٹھنڈی ہوا سے، تھکاوٹ کو دور کرتے ہوئے، اتوار کے لاس آف پے سے کتنا دکھ ہوتا ہے، پر لکشمی سے بات چیت کرنے میں بھوانی کو بڑا مزہ مل رہا تھا اور دل کو سکون بھی۔ اسے لگا کہ دو دن سے مسلسل ہونے والا تکلیف دہ تجربہ، پل بھر میں غائب ہو گیا۔ ارچنا کے نام پر ہی اٹھنے والے درد کی تکلیف دہ لہر، لکشمی کے ساتھ باہمی بات چیت سے درماں ہو کر واپس لوٹ گئی ہے۔ دو سال تک ارچنا کے انڈیا نہ لوٹنے کی بات نے اس کے دل کی گہرائیوں کو ایک سکون اور راحت فراہم کی ہے۔

***

 

 

 

لڑکا، لڑکی اور انٹرنیٹ

 

کولو وری سوم شنکر

 

تیلگو کہانی

 

 

حیدرآباد ریلوے اسٹیشن پر مسافروں کا شور مچا ہوا ہے۔ صبح کے ساڑھے چھ بجنے والے ہیں۔ حیدرآباد سے نئی دہلی جانے والی آندھرا پردیش ایکسپریس پلیٹ فارم نمبر دو پر کھڑی ہے۔ مائیک پر مسلسل اعلان ہو رہا ہے۔

نوین، سندیپ کا انتظار کر رہا ہے۔ سندیپ کو سی آف کرنے کے لئے آنا تھا۔ دیر ہو رہی ہے۔ سندیپ کے آنے کی خبر تک نہیں۔ نوین بے چین ہونے لگا۔ اتنے میں دور سے ہاتھ ہلاتا ہوا سندیپ اس کے پاس آ گیا۔

’’کیا رے؟ اتنی دیر؟ اور پانچ منٹ نہ آتا تو ٹرین نکل چکی ہوتی۔‘‘

’’کیا کروں یار؟ کل رات انٹرنیٹ سینٹر میں بہت دیر ہو گئی۔ ہم جو گرم مسالا ویب سائٹ دیکھتے ہیں نا، ان میں بہت سارے اپ ڈیٹ آئے ہیں۔ انہیں دیکھ کر جب گھر لوٹا، اس وقت تک گیارہ بج گئے تھے۔ لہٰذا آج صبح جلدی آنکھ نہ کھل سکی۔‘‘ سندیپ نے تاخیر کی وجہ بتاتے ہوئے کہا۔

’’ اپ ڈیٹ کیسے ہیں یار؟ کسی کام کے ہیں کیا؟‘‘ نوین اپنی بیتابی نہ روک پایا۔

’’بہت اچھے ہیں۔ پر اتنی پریشانی کیوں؟ ایک ہفتے میں تو واپس آ جاؤ گے نہ، آنے کے بعد دیکھنا۔ نہیں تو دہلی میں کسی انٹرنیٹ سینٹر پر چلے جانا۔‘‘

نوین نے اس کا مشورہ مان لیا۔ پھر تھوڑی دیر رک کر بولا، ’’کچھ بھی کہو یار، سفر لمبا ہے، کافی بوریت رہے گی۔‘‘

’’ارے فرسٹ کلاس کے ڈبے میں جا رہے ہو۔ چند ناول اور واک مین بھی لے جا رہے ہو، بوریت کیوں ہو گی؟ تمہاری سیٹ نمبر کیا ہے؟‘‘ سندیپ نے پوچھا۔

’’چھتیس۔۔۔‘‘

جھٹ سے سندیپ ڈبے میں گھس گیا اور پھر فوراً واپس بھی آیا۔

’’یار تُو تو بڑا بھاگوان ہے۔ تیرے سامنے والی سیٹ پر ایک خوبصورت لڑکی بیٹھی ہے۔ اب تو تیرا سفر بڑا خوشگوار گزرے گا۔‘‘

’’سچ، میں نے تو نہیں دیکھا۔‘‘ یہ کہہ کر نوین نے ڈبے میں اپنی سیٹ کی طرف ایک نظر ڈالی۔

دھیان سے دیکھا تو وہاں ایک لڑکی اور اس کے ساتھ میں ایک بوڑھے انکل بیٹھے تھے۔ بنگال کی سوتی ساڑی میں ملبوس، وہ لڑکی مہذب اور با وقار لگ رہی تھی۔

’’واہ کیا نمک ہے باپ، اسٹنگ بیوٹی۔‘‘ ہلکی آواز میں نوین نے کہا۔

اتنے میں ٹرین چھوٹنے کا وقت ہو گیا اور مائیک پر گاڑی روانگی کی اطلاع نشر ہونے لگی۔ سندیپ نے ہاتھ ملاتے ہوئے الوداع کہہ دیا۔

گاڑی کی رفتار بڑھنے پر، نوین اندر آیا اور اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ بیگ سے واک مین باہر نکالا اور اس میں رِکی مارٹن کا بارہواں کیسٹ لگا کر ٹیپ کو آن کیا اور گیت کے مطابق پاؤں ہلانے لگا۔ نوین کو اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ ادب میں شامل نہیں ہے، پھر بھی۔

تھوڑی دیر بعد جان بوجھ کر سامنے کی سیٹ پر بیٹھی لڑکی کو تاکنے لگا۔

’’تُو چیز بڑی ہے مست مست، تُو چیز بڑی ہے مست۔۔۔‘‘ جو گانا اس نے کل رات میوزک چینل پر دیکھا تھا، اسے گنگنانے لگا۔

وہ لڑکی اس کی حرکتوں کو نظرانداز کرتی ہوئی ’’بورن ٹو وِن‘‘ پڑھتی رہی۔ اس کے ساتھ میں بیٹھے ہوئے انکل نے تھوڑی دیر بعد، نوین سے اخبار مانگا اور خاموشی سے پڑھنے لگے۔

نوین نے لڑکی کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے ایک انگریزی ناول باہر نکالا۔ کتاب کو آنکھوں کے رکھ کر، اس لڑکی کی خوبصورتی کا مزہ لینے لگا۔ نوین کی نظریں اس لڑکی کے ہر عضو کو چھونے لگیں۔

’’واہ کتنی خوبصورت ہے، پرفیکٹ فیگر۔ اس کا ہاتھ مانگنے والا، خوش قسمت بنے گا۔‘‘ نوین نے سوچا۔

’’میری سامنے والی کھڑکی میں، اک چاند کا ٹکڑا رہتا ہے۔۔۔‘‘

’’ ایک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا جیسے۔۔۔‘‘

فلمی گانے اتنی ہلکی آواز میں گنگنانے شروع کئے، تاکہ وہ بھی سن سکے۔

لیکن اس لڑکی نے اس کی پرواہ نہیں کی اور کتاب پڑھنے میں مشغول رہی۔ شریف انکل بھی اخبار میں مصروف رہے۔

تین گھنٹے کے بعد گاڑی قاضی پیٹ اسٹیشن پر رکی۔ چائے، کافی اور ناشتہ بیچنے والے اونچی آواز میں چِلانے لگے۔

’’ کیوں بیٹی، چائے پیو گی؟‘‘شریف انکل نے پوچھا

’’کیوں نہیں دادا۔ پیوں گی۔‘‘ کہہ کر، اس نے کتاب کو سیٹ پر رکھ دیا۔ اور نوین کی طرف دیکھ کر مسکرائی۔

نوین نے جھٹ سے اپنا نام بتا کر، اس کا نام پوچھا۔

’’میرا نام ودیا ہے۔‘‘اس نے بتایا۔

نوین نے پلیٹ فارم پر موجود دکان سے ایک پیپسی کا کین خرید لیا اور آرام سے آہستہ آہستہ پینے لگا۔

’’آپ کہاں جا رہی ہیں؟‘‘لڑکی سے، اس نے پوچھا۔

’’ناگ پور۔‘‘

گاڑی نے پھر رفتار پکڑ لی تھی، تھوڑی ہی دیر میں، وہ پٹریوں پر دوڑنے لگی۔

چائے پی کر ودیا نے پھر کتاب اٹھائی۔ نوین سمجھ گیا کی اگر ودیا کتاب پڑھنے میں مشغول ہو گئی تو، اس سے بات چیت کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اس نے فوری طور پر بات آگے بڑھائی۔

’’ آپ کیا پڑھ رہی ہے؟‘‘

’’میں نے ویژول آرٹس میں پوسٹ گریجویشن کیا ہے۔ آپ نے۔۔؟‘‘

’’حال ہی میں میرا بی کام پورا ہوا ہے۔ ایم بی اے میں داخلے کا امتحان دے رہا ہوں۔ ا سٹڈی میٹریل کے لئے دہلی جا رہا ہوں۔‘‘ نوین نے آواز میں رعب لاتے ہوئے کہا۔

’’ او اچھا۔‘‘ کہہ کر ودیا نے پھر سے کتاب اٹھا لی۔

’’ تو آپ کی ہوبیز کیا ہیں ودیا؟‘‘

’’پینٹنگ اور کتابیں پڑھنا۔‘‘

’’اچھا، ریڈنگ کا مجھے بھی شوق ہے۔ سائنس فکشن مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ انٹرنیٹ بھی پسند ہے۔‘‘

’’تو آپ نے فرام دی ارتھ ٹو دی مون ضرور پڑھی ہو گی۔‘‘

نوین نے نفی میں سر ہلایا۔

’’اچھا تو پھر جرنی ٹو دی سینٹر آف ارتھ تو پڑھی ہی ہو گی۔‘‘

نوین نے اور ایک بار پھر نہیں میں سر ہلایا۔ واقعی اس نے ان کتابوں کے نام تک نہیں سنے تھے۔ وہ پھر بھی لڑکی کے سامنے اپنے اعزاز کا دفاع کرتے ہوئے جھوٹ بولا۔ ’’اتنا وقت ہی کہاں مل پاتا ہے۔ چاہتے ہوئے بھی پڑھ نہیں سکا۔‘‘

ودیا، نوین کی اصلیت جان گئی اور کتاب پڑھنے لگی۔

گاڑی ہوا کاٹتی ہوئی تیزی سے چلی جا رہی تھی۔

دوپہر کے کھانے کا وقت ہو گیا تھا۔

کچھ وقت کے بعد دو افراد آ کر کھانے کا آرڈر لینے لگے۔ نوین نے اپنا آرڈر دے دیا۔ لڑکی اور شریف انکل نے کوئی آرڈر نہیں دیا۔

’’بیٹی چلو کھانا کھالیں۔‘‘یہ کہہ کر انکل ساتھ میں لایا ہوا لنچ باکس اٹھا نے لگے۔

’’میں ابھی آئی دادا۔‘‘ یہ کہہ کر ودیا واش بیسن کی طرف چل دی۔

ودیا کو جاتے ہوئے دیکھ کر نوین کو ایکدم جھٹکا لگا۔ وہ لنگڑاتے ہوئے چل رہی تھی۔

اس کا بایاں پاؤں پلاسٹک کا معلوم ہوتا تھا۔

نوین کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ اب تک اس کے دل میں ودیا کیلئے جو پیار بھرے جذبات اٹھر ہے تھے، وہ ہمدردی میں بدل گئے۔ وہ سوچنے لگا، ’’اتنی خوبصورت لڑکی کو ایسی معذوری؟ لڑکیوں کو جسمانی کمی ہو تو، ان کی شادی میں کتنی دقت ہوتی ہو گی؟ آج کل جن کے سب اعضاء ٹھیک کام کر رہے ہیں۔ ان کا بھی جینا مشکل ہے، پھر یہ لڑکی اپنی زندگی کیسے سنبھالے گی؟‘‘

اتنے میں اس کا کھانا آ گیا۔

تینوں نے کھانا کھا لیا۔ دادا جھپکی لینے لگے۔ اور ودیا نے پھر سے کتاب اٹھا لی۔

’’ودیا مجھے پتہ نہیں چلا کے آپ معذور ہے۔ یہ حادثہ کب اور کیسے ہوا؟‘‘

’’تین برس پہلے، تب میں ڈگری کے دوسری سال میں تھی۔ ایک سڑک حادثے میں میرا پاؤں چور چور ہو گیا۔ اسی لیے نقلی پیر لگانا پڑا۔‘‘

’’بڑے افسوس کی بات ہے۔‘‘

’’افسوس کیوں؟ جو ہوا، سو ہوا۔ پرانے دکھوں کو یاد کرتے رہیں گے، تو موجودہ خوشی کو کھو بیٹھیں گے۔‘‘

’’حادثے کے بعد کئی دنوں تک میں شدید مایوسی کی حالت میں تھی۔ میری ایک ہابی، انٹرنیٹ پر وقت گزارنے نے، مجھے ذہنی سکون  دیا۔ انٹرنیٹ میں کچھ ویب سائٹوں نے میری زندگی میں دوبارہ یقین کو بھر دیا۔ جلد ہی میں مایوسی سے باہر آ کر نارمل ہو گئی۔‘‘

’’آپ کو شاید یہ نہیں معلوم ہو گا کہ سب لوگ آپ جیسے نہیں ہوتے۔‘‘

ودیا کو لگا کہ نوین اس سے ہمدردی جتا رہا ہے۔ یہ سمجھ کر، اس نے بات کو بدلتے ہوئے اِس نے پوچھا، ’’زندگی میں آپ کا مقصد کیا ہے؟‘‘

’’اب تک تو کچھ نہیں ہے، دیکھنا ہے۔ ایم بی اے کے بعد کسی کمپیوٹر کورس میں شامل ہو جاؤں گا۔‘‘

’’لڑکا ہو یا لڑکی، زندگی میں تو کچھ نہ کچھ مقصد تو ہونا ہی چاہئے۔ کچھ کر دکھانے کی خواہش ہی بنی نوع آدم کی ترقی کی بنیاد ہے۔ میرا مقصد تو، پینٹنگ میں بین الاقوامی سطح پر نام کمانا ہے۔‘‘

’’اگر ہمیں اپنے اہداف کاہی علم نہ ہو تو، ہم کس سمت میں جائیں گے؟ گزشتہ چند مہینوں سے میں، مشکل اسٹیپس اٹھا رہی ہوں۔ ماحولیات پر کام کرنے وا لی ایک اہم تنظیم کے مقابلے میں، میں نے دوسرا پرائز حاصل کیا ہے۔ اسی کا انعام لینے کیلئے ناگپور جا رہی ہوں۔ ہمارے سفر کا انتظام بھی اسی تنظیم نے کیا ہے۔‘‘

نوین حیران ہو کر ودیا کو دیکھتا رہ گیا۔

’’اور ایک بات بتاؤں نوین، دیکھنے میں تو آپ آوارہ مزاج کے نہیں لگتے۔ لیکن لڑکیوں کو گھورنے سے انہیں کافی دکھ پہنچتا ہے۔ شاید آپ سوچتے ہوں گے کہ آنکھوں سے غلطی کریں گے، تو پکڑے نہیں جائیں گے۔ لیکن ایسی حرکتیں چھپتی نہیں۔ جو بھی ہو، میری جسمانی معذوری کے مقابلے میں، آپ کی ذہنی معذوری زیادہ خطرناک ہے۔ اس صورت حال سے جلد از جلد باہر نکلنا ہی آپ کے لئے بہتر ہے۔‘‘

نوین کچھ نہ کہہ سکا۔ اس نے سر نیچے جھکا لیا۔ اسے لگا کہ ودیا ٹھیک کہہ رہی ہے۔ اس کے دل میں ودیا کے لئے جذبات ایک بار پھر بدلے۔ اب وہاں عزت اور احترام نے جگہ لے لی تھی۔

انسان کے اندر تبدیلی لانے کے لئے ایک چھوٹا سا واقعہ ہی کافی ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں کا بڑا پن، دوسروں کے ضمیروں کو جھنجھوڑ کر، اس کے اندر کیا تھاہ گہرائیوں میں چھپی، ان کی اچھائیوں کو باہر نکالتا ہے۔ یہ دوسرے پر منحصر ہے کہ وہ فوری طور پر اس کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں یا نہیں۔

نوین کا سویا ضمیر بھی جاگا۔

چند لمحوں بعد نوین نے سر اٹھایا اور بولا، ’’مجھے معاف کرنا۔ انٹرنیٹ میں جو منحوس سائٹیں میں دیکھتا ہوں، انہوں نے میرا دل ایسا کر دیا ہے۔ میرا ضمیر کھو گیا ہے۔ اس نے مجھے ذہنی طور کمزور بنا دیا ہے۔‘‘

ودیا اس کی باتوں کو کاٹتی ہوئی بولی، ’’ انٹرنیٹ پر الزام لگانا تمہاری ایک اور بھول ہے نوین۔ ٹیکنالوجی کا صحیح استعمال کرنا ہماری اپنی دلچسپی پر منحصر ہے۔ میں نے بتایا تھا نہ، مجھے انٹرنیٹ سے کیسی مدد ملی۔ سب کچھ ہماری ذہنیت پر ہی ہے۔‘‘

نوین کو لگا وہ ٹھیک کہہ رہی ہے۔ اور وہ دونوں، گاڑی ناگپور پہنچنے تک باتیں کرتے رہے۔

گاڑی اسٹیشن پر رکی۔

ودیا، دادا کا سہارا لے کر نیچے اتری اور نوین سے بولی، ’’آپ کا دن اچھا رہے۔‘‘

جاتے جاتے ودیا کی نگاہیں نوین سے یہی سوال کر رہی تھیں کہ تم کچھ کر کے تو دکھاؤ گے نا؟ ۔

نوین دل ہی دل من اس کا مثبت جواب دے رہا تھا۔

گاڑی اپنی سمت کی طرف بڑھتی چلی گئی۔

***

 

 

 

 

رنگین پیٹی

 

جینتی پاپاراو

 

تیلگو کہانی

 

 

دادا جی کا کریا کرم ختم ہوا۔ کریا کرم کے خاتمے کے بعد رنگین پیٹی، سب کی آنکھوں کے سامنے چمچماتی ہوئی، فنکارانہ روپ لئے موجود تھی۔ دل میں امنڈتی بیتابی کے باوجود ہر کوئی اس پیٹی پر کے بارے میں، منہ کھولنے سے ہچکچا رہا تھا۔ داداجی کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے، سب لوگوں کی نظریں بار بار اس پر جا ٹکتی تھیں۔

میرے والد سب کے چہروں کا باریکی سے مطالعہ کر رہے تھے۔ پھر کچھ دیر دیکھ کر، وہ اپنے چھوٹے بھائی کی طرف متوجہ ہوئے، ’’ بھائی رنگین پیٹی کو کھولو۔‘‘ اور انہوں نے چابیوں کا گچھا چاچا جی کی طرف بڑھا دیا۔ بادلوں بھرے آسمان میں جس طرح چاند جھانک اٹھتا ہے، اسی طرح سب کے چہرے خوشی سے دمک اٹھے تھے۔

دادا کے ایک دوست ’’رنگون صاحب‘‘ نے اس پیٹی کوہمیں سونپا تھا۔ وہ ہمارے ہی گاؤں کے رہنے والے تھے۔ برما میں خوب پیسہ ملتا ہے۔ یہ کہہ کر، ان کے رشتہ دار انہیں اپنے ساتھ رنگون لے گئے تھے۔ ان کا جسم کسرتی تھا، اس لئے بڑے آرام سے انہیں آرا مشین میں کام مل گیا۔ چار سال میں ایک بار وہ گاؤں ضرور آتے تھے۔ خاکی نیکر، لال رنگ کی بنیان اور ربڑ کے جوتے پہن کر بڑے مزے سے گھوما کرتے۔ ان کی چھوٹی سی داڑھی بڑی پرکشش تھی۔ اگر کوئی ان سے ان کا نام پوچھتا تو ’’رنگون صاحب‘‘ کہہ کر ہی اپنا تعارف کراتے اور جب کام کا ذکر کرتے تو وہ اپنے آپ کو آرا مشین کا مالک بتاتے۔ گاؤں کے لوگ یہ جان کرا نکا بڑا احترام کرتے تھے کہ وہ اپنی محنت کے بل بوتے پر ہی اتنے بڑے آدمی بنے ہیں۔

جب بھی وہ گاؤں آتے، تب دادا کی سر پرستی میں ہی رہتے، کیونکہ دادا سے ان بہت گاڑھی چھنتی تھی۔

انہی ’’ رنگون صاحب‘‘ نے جب سنا کہ برما میں جنگ چھڑ نے والی ہے تو گھبرا کر اس خوبصورت پیٹی کے ساتھ گاؤں آ پہنچے۔ ہمارے گاؤں میں ان کی تین ایکڑ زمین تھی، مگر جب وہ رنگون میں تھے، تب آس پڑوس کے زمین والوں نے ان کے کھیتوں کو کترتے کترتے، ڈھائی ایکڑ میں تبدیل کر دیا تھا۔ آرا مشین لگانے کیلئے روپیوں کی ضرورت ہے، یہ کہہ کر رنگون صاحب نے اپنی زمین کو بغیر کسی دوسرے کو بتائے، بہت سے لوگوں کے پاس گروی رکھ دیا۔

اس طرح انہوں نے دس سال گزار دیئے۔

جب ان کے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہ بچی، تو پھر وہ بڑی مشکل میں پڑ گئے۔ ایک ایک دن گزارنا مشکل ہو رہا تھا۔ آرا مشین لگانے والا ’’صاحب‘‘ اجرت پر مزدوری تو نہیں کر سکتا تھا نا؟ اور تو اور جو دھوکہ دہی کی تھی، اس کی وجہ سے بھی ان کی جان مشکل میں تھی۔ انہیں خوف ستایا کرتا تھا کہ کہیں بھی، کوئی بھی شخص، کسی بھی وقت، ان کے چاقو گھونپ سکتا ہے۔ انہی مشکل بھرے لمحات میں، ایک دن جب دادا جی کسی کام سے باہر گئے تھے۔ تب انہوں نے اس خوبصورت رنگین پیٹی کو ہمارے گھر بھجوا دیا تھا۔ گاؤں کے لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے دادا سے اتنا پیسہ ادھار تھا، جس کا کوئی حساب نہیں تھا۔ آخرکار انہوں نے خود کشی کر لی۔

رنگین پیٹی چھ فٹ لمبی، تین فٹ چوڑی اور تین فٹ اونچی تھی۔ باہر سے وہ ایک ہی پیٹی ہی نظر آتی تھی، مگر اندر سے، دو اور پیٹیاں ایک جوڑی کی شکل میں موجود تھیں۔ پیٹی کے سامنے والے حصے میں اڑتے ہوئے پرندوں اور آسمان کی تصویر تھی، فنکارانہ انداز، صفائی اور خوبصورتی میں اس کی کوئی مثال نہ تھی۔ بہت سے خانوں پر مشتمل یہ کلا کا شاہکار، واقعتاً دل کو موہ لیتا تھا۔‘‘چور خانہ‘‘ اس طرح سے چھپا ہوا تھا کہ اس کا پتہ صرف پیٹی کے مالک کو ہی ہوتا تھا۔ ا س میں زیورات، روپیوں کی گڈیاں اور دستاویزات وغیرہ آسانی سے چھپائے جا سکتے تھے۔ اس پیٹی کا ڈھکن اٹھانے پر، اس پر تین آئینے دکھائی دیتے تھے۔ اس کے اردگرد پرندوں کی تصویروں کو برمی اسٹائل سے کندہ کیا گیا تھا، اف۔۔۔ کیا کہنا ہے۔ واقعی انتہائی خوبصورت کلا کا نمونہ تھی۔

جب سے پیٹی ہمارے گھر آئی، اس کے بعد سے ہمارے گھر کے حسن میں چار چاند لگ گئے تھے اور دور دور سے، گاؤں کے لوگ اس پیٹی کے درشن کرنے آیا کرتے تھے۔ جس نے بھی دیکھا، اس نے اس کی خوبصورتی کو سراہا اور جس کسی سے بھی ملتا ’’ رنگین پیٹی‘‘ کا ذکر لازمی کرتا۔ اس کی وسعت، اس کی فنکارانہ خوبصورتی کی باتیں لوگ بڑے دل سے کیا کرتے تھے۔ تب میرا سینہ چوڑا ہو اٹھتا۔ اس طرح ہمارا گھر، اس علاقے کے لوگوں کیلئے اس پیٹی کے دیدار کی جگہ بنا رہا۔

کافی دن گزر گئے۔

داداجی کے بارے میں، گاؤں کے لوگ بڑھا چڑھا کر باتیں کیا کرتے تھے، ان کی عزت کیا کرتے تھے۔ لوگ کہا کرتے تھے کہ کھیتی باڑی میں ان کا کوئی جواب نہیں، سونا پیدا ہوتا ہے سونا۔ جانوروں کی تعداد تو گنتے نہیں بنتی۔ سونا، چاندی، نوٹوں کی گڈیوں، جائیداد کے کاغذات کو اس ’’ رنگین پیٹی‘‘ میں رکھ کر، اور اس پر سوکر، کسی سانپ کے مانند اس کی حفاظت کیا کرتے ہیں۔ ہزار لوگوں کی ہزار باتیں۔ ’’ رنگین پیٹی‘‘ اب سونے کی پیٹی بن چکی تھی۔ دادا ہمیشہ اپنے آپ میں مست رہتے تھے، جس کی وجہ سے، یہ باتیں ان کے کانوں تک نہیں پہنچتیں۔

گھر میں میرے والد صاحب کا کوئی خاص کردار نہیں تھا۔ کیونکہ سارا کام کاج، ساری کھیتی باڑی دادا جی کی دیکھ بھال میں ہوتی تھی۔ والد صاحب کو اس سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔ یہاں تک کہ داداجی نے کیا کچھ چھپا رکھا ہے؟ انہیں اس کا بھی کچھ پتہ نہیں۔ والد صاحب کو شہر میں بہترین نوکری ملی، لیکن داداجی کی خواہش انہیں بھیجنے کی نہ تھی، آخر کار وہ رک گئے اور گاؤں میں ہی استاد بن کر، گاؤں کے بچوں کو پڑھانے لگے۔ وہ بڑے فرمانبردار تھے اور دادا کا بتایا ہوا ہر کام بڑی فرمانبرداری سے کر دیا کرتے۔ اس طرح بغیر کسی پریشانی کے ان کی زندگی اپنی رفتار سے گزر رہی تھی۔

میرے چاچا اچھی نوکری پا کر شہر چل دیئے تھے اور سال میں ایک دو بار آتے اور موج کرتے ہوئے، کچھ دن گزارے تھے۔‘‘ رنگین پیٹی‘‘ کے بارے میں لوگوں کے خیالات کو سن کر، اب وہ اکثر آنے لگے تھے۔ لیکن ’’ رنگین پیٹی‘‘ میں آخر کیا کچھ چھپا دیا گیا ہے۔ یہ پوچھنے کی ان کی ہمت نہ تھی۔ لیکن آج ان کی کریا کرم کے سارے کام ہو جانے پر، چاچا جی نے چابیوں کا گچھا ہاتھ میں لے کر داداجی کی روح کو دل ہی دل میں پرنام کیا۔ خوشی کے مارے ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ ان کانپتے ہاتھوں سے انہوں نے ’’ رنگین پیٹی‘‘ کو کھول دیا۔ پیٹی میں سامنے کی طرف لگے چھوٹے چھوٹے آئینوں میں میری چاچیاں اپنا اپنا منہ دیکھ کر مسرور رہی تھیں اور اپنے چہرے پر چھائے تجسس کو دبانے کی ناکام کوشش کر رہی تھیں۔

کرتوں اور دھوتیوں کے اوپر، داداجی کا خط، ارہڑ کی سیاہی سے لکھا تھا، اس خط کو اٹھا کر چاچا جی نے پڑھا،

’’میری نیک اور سگھڑ بڑی بہو کو، تمہاری ماں کی طرف سے سنبھال کر رکھی ہوئی ریشم کی ساڑی دے دی جائے۔ چھوٹی بہوؤں کو میرا آشیرواد۔‘‘

یہ سن کر چاچیوں کا چہرہ اتر گیا۔ اس کے بعد دوسرا کاغذ ملا۔ جس میں لکھا تھا۔

’’بارش نہیں ہو رہی ہے۔ فصل نہیں پکی۔ اس بار تو لاگت بھی وصول نہیں ہوئی۔ بنڈا وینکنا سے تین سو روپے ادھار لئے تھے انہیں چکا دینا۔‘‘

ادھار کے اور بھی کاغذ نکلیں گے۔ یہ سوچ کر سب لوگوں کے دل دھڑک رہے تھے۔ لیکن ’’ رنگین پیٹی‘‘ کے چور خانے میں سونے کے زیورات، مال اسباب کے کاغذات ضرور ملیں گے۔ اس امید کی کرنیں، سب کے چہروں پر ایسے چمک رہی تھیں، جیسے اندھیری رات میں جگنو۔

چور خانے سے مختصر سے بنڈل کو نکالا گیا۔ وہ کاغذ بانڈ پیپروں کی مانند موٹے تھے۔ چاچا جی نے ان کاغذوں کو دل ہی دل میں پڑھا۔ یہ دیکھ کر سب لوگ خوشی سے چہکنے لگے اور ان کاغذوں کو پڑھ کر سنانے کی التجا کرنے لگے۔ چاچا جی سب لوگوں کی طرف دیکھ دیکھ کر ایسے اچھل رہے تھے، جیسے ان کے ہاتھ قارون کی دولت لگ گئی ہو۔ ان کی اس حرکت کو دیکھ کر چاچیاں چراغ پا ہوئی جا رہی تھیں۔ انہوں نے پڑھنا شروع کیا۔

’’ دوستوں۔ دولت کے زور پر یا ذات کے غرور سے، اگر تمہیں کوئی ایک بار بلائے تو تم بھی اس سے ایک ہی بار مخاطب ہونا۔ اگر وہ ’’اے‘‘ کا استعمال کرے تو تم بھی ویسا ہی کرنا۔ دولت کی طاقت اور اعلی ذات کے تکبر کی وجہ سے اگر کوئی تمہیں چھوٹا بنانے کی کوشش کرے، ایسا حق تم انہیں کبھی نہ دینا۔ ایسے تسلط کیلئے، اس کے خاتمے کے لئے، محنت اور جد و جہد کے ساتھ انتقام کے نئے نئے طریقے ایجاد کرنا اور اس چیلنج کا سامنا کرنا۔‘‘

’’ارے دوست۔ مخاطب کرنے کے لئے تو، تم، آپ جیسے بہت سے الفاظ عام ہیں۔ ان الفاظ کو بھول کر ایک نیا لفظ ایجاد کرنا، جس میں مساوات اور اپنائیت کا احساس ہو۔ مخاطب کرنے کیلئے ہمارے معاشرے میں اگر دولت کی ’’بو‘‘ آتی ہو، تو ایسی زبان کو بہتر بنانے کے لئے جم کر جد و جہد کرنا۔‘‘

’’بس بس۔‘‘ہماری چاچیوں نے فلک شگاف نعرہ بلند کیا۔ میری نظر آس پاس گھوم رہی تھی۔ جس چہرے پر بھی میری نظر جاتی، اس کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا پاتی۔

سونے کے زیورات، روپیوں کی گڈیاں، زمین جائداد کے کاغذوں کی امید میں کھلے چہرے، کملا گئے تھے۔ جگمگاتی، چمچماتی ہوئی، فن اور سنگتراشی سے سجی، کتنے ہی سالوں سے کتنے ہی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہوئی وہ ’’ رنگین پیٹی‘‘ اب فقط شو پیس کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ لیکن آج بھی دادا کی زور دیتی ہوئی وہ باتیں میرے ذہن میں ہلورے لیتی ہیں۔

***

 

 

 

 

جھاڑو سے سمیٹ لو

 

کے وی نریندر

 

تیلگو کہانی

 

 

آدھی رات، تھکا ہوا شہر، ادھورے سپنے دیکھتا ہوا سو رہا ہے۔ جیسے جنگ بندی ہو گئی ہو۔ سرد خاموشیاں آ کر حملے کر رہی ہوں۔ سڑک پر بجلی کے کھمبوں کی روشنی میں جو برف گر رہی ہے، دکھائی بھی نہیں دیتی۔ پوری سڑک خالی ہے۔ سوالیہ نشان کی طرح جھکی کمروں سے، جوابوں کو چھوکر اٹھاتے ہوئے یہ جھاڑو۔۔۔ بغیر ماں باپ کی ننھی مرغیاں دانوں کی تلاش میں جب کچی زمین پر جھکتی ہیں، تب ان کے پھڑپھڑاتے پروں کی آواز کے ساتھ، جس طرح دھول اٹھتی ہے، ٹھیک اسی طرح شہر کے گندگی کو سمیٹتے، جھکے ہوئے یہ لگ بھگ تیس لوگ ہیں۔

سجاتا کو اس کام کی عادت نہیں ہے۔ زور سے سانس لیتی ہے، ایک بار جھکتی ہے اور پھر سیدھی کھڑی ہو کر انگڑائی لیتی ہے۔ اس کی عمر تقریباً بیس سال کی ہو گی۔ حال ہی میں اپنے مرد کے ساتھ شہر آئی ہے۔ دسویں پاس سجاتا کو کام دلانے کے لئے یہاں لایا تھا اس کا مرد۔ تب اسے کیا معلوم تھا کہ کام کیا ہے۔

پہلے دن جب اس نے کہا کہ اسے سڑک پر جھاڑو لگانے کا کام نہیں کرنا ہے، تو اس کا مرد نرسمہا بہت ناراض ہو کر زور زور سے چلانے لگا تھا، ’’جھاڑو لگانا بھی نہیں آتی، تو کیسی عورت ہے؟‘‘ پھر بولا ’’ دیکھ تجھے اور تیرے بچے کی پرورش کرنا میرے بس کی بات نہیں ہے۔ اگر تجھے تعلیم حاصل کرنے کا من تھا، تو بیچ میں کیوں چھوڑ دی؟ خوب پڑھ لکھ کر ایک منشی سے شادی کرنی تھی۔‘‘ ایسی باتیں وہ سجاتا سے پہلے بھی کر چکا ہے۔ اسی طرح اکثر تنگ کرتا رہتا ہے۔

ایک دن سجاتا پڑوسی کے گھر سے اخبار لا کر پڑھ رہی تھی۔ اور پڑھنے میں اتنی مشغول ہو گئی کہ بچے کا رونا تک اسے نہیں سنائی دیا۔ نرسمہا نے یہ دیکھا تو آ کر اخبار پھاڑ ڈالا۔ وہ بڑھئی ہے۔ ان پڑھ ہے۔ روز ڈیڑھ سو روپے کماتا ہے اور اس میں سے پچھتّر روپے صرف دارو پینے میں خرچ کر دیتا ہے۔ اس لئے گھر چلانا بہت مشکل ثابت ہو رہا ہے۔

اب سجاتا نے پڑھنے میں دلچسپی لینا ختم کر دی ہے۔ بس کبھی کبھی اپنی پیٹی میں سے چھوٹی چھوٹی نظموں والی ایک کتاب نکال کر، اسے دل لگا کر پڑھتی ہے۔ پہلے سپنوں کے ریلے کی وجہ سے نیند دور ہوتی تھی، پر اب تو نیند کو مار کر سرکاری جمعدارنی بن گئی ہے۔ جمعدارنی کیا بنی خود ہی جھاڑو بن گئی۔ چمگادڑ کی جیسی زندگی ہو گئی۔

آدھی رات سے لے کرسورج نکلنے تک، قسطوں میں جھاڑو لگانے پر، اسے ساٹھ روپے ملنے لگے۔

’’ بیٹی کمر میں درد ہے کیا؟ یا اس ٹھنڈک میں شوہر کی یاد آ رہی ہے؟‘‘ تیزی سے جھاڑو لگاتی ہوئی درمیانی عمر کی راجیشوری نے پوچھا۔

’’ نہیں موسی،ا صل میں اس کام کی مجھے عادت نہیں اور پھر صبح جلدی اٹھنا پڑتا ہے، نیند پوری نہیں ہوتی نا۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر سجاتا پھر جھاڑو لگانے لگی۔

سڑک کی فٹ پاتھ کے کنارے جھاڑو لگاتے ہوئے اس نے وہاں پڑی ایک پرانی اسفنج سے بنی چھوٹی سی گڑیا کو دیکھا۔ اس کو ہاتھ میں اٹھایا۔ جھٹ سے اسے اپنے بچے کی یاد آئی۔ شاید بچہ دودھ کے لئے چارپائی پر پڑا تڑپتا ہو گا، نہیں تو نیند میں ہچکی لیتا ہو گا۔ نرسمہا تو خود دارو پی کر سو جاتا ہے۔ پھر اگر بچہ روتا ہے تو اسے کون دیکھے گا؟ جھاڑو کو وہیں پٹک کر گھر جانے کی خواہش نے، سجاتا کے اندر جنم لیا۔ ٹھنڈک کے اثرات زیادہ ہوئے تو اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور وہ وہیں فٹ پاتھ پر بیٹھ گئی۔ گڑیا کو ایک ہاتھ میں پکڑ کر، دوسرا ہاتھ اپنی دودھ سے لبریز چھاتیوں پر رکھا۔ دودھ تو موجود ہے۔۔۔ لیکن بچہ پاس نہیں۔ اسے اپنے آپ پر ترس آیا اور اس نے گڑیا کو وہیں پھینک دیا۔

’’ ارے او، مہارانی کی طرح بیٹھی ہو اٹھو۔۔۔ جھاڑو دو۔۔۔ جھاڑو۔۔۔‘‘ ملّمّا نے جھڑکی دی۔ سجاتا کو اس زندگی سے پھر نفرت محسوس ہوئی۔ پھر جھاڑو ہاتھ میں اٹھا لی۔ گاؤں کا تالاب خشک ہونے اور کاشتکاری کے کام کی عدم دستیابی کی وجہ سے، یہاں شہر میں آ گیا تھا نرسمہا۔ آج کل عمارتی کاموں کا مزدور بن گیا ہے۔ دن بھر کام کر کے وہ شام کو گھر پہنچتا ہے اور سجاتا کو دن میں آدھی نیند لے کر، رات میں جھاڑو لے کر سڑکوں پر نکلنا ہوتا ہے۔

وہ کھانا پکاتی ہے۔ بچے کو سلاتی ہے۔ پھراسے حسرت سے دیکھتے ہوئے، بڑی مشکل سے کام کے لئے نکلتی ہے۔ ساٹھ روپوں کی یاد میں قدم آگے بڑھاتی ہے۔

سڑک پر جھاڑو لگاتے وقت، سجاتا کے ذہن میں بہت سارے خیالات آتے ہیں۔ چورا ہے پر کسی نے گندگی کو جلا دیا تھا۔ پوری سڑک پر راکھ ہی راکھ۔ جل کر، پھوٹ کر، پٹا خوں کی راکھ۔

سجاتا چڑ ہی گئی۔

’’ ملک میں دھوکے باز زیادہ ہو گئے۔‘‘ سجاتا نے اپنے آپ سے کہا۔

دور گاندھی جی کا مجسمہ دکھائی دیا۔ وہ اسے دیکھ کر ہنسنے لگی، ’’ ان کی ساری مانگیں پوری ہوئیں، پر آج بھی آدھی رات میں ایک عورت اپنے ہاتھ میں جھاڑو لئے گھوم رہی ہے، یہ نام نہاد لیڈر سمجھتے ہیں ملک کو حقیقی آزادی مل گئی۔‘‘ سجاتا مسکرائی اور سوچنے لگی۔

’’ باپو کے دانت ہوتے تو کوئی ٹوتھ پیسٹ کمپنی انہیں اپنے اشتہار میں لے لیتی۔۔۔‘‘

سڑک پر جھاڑو لگاتے ہوئے سجاتا کے ذہن میں بہت سارے خیالات امنڈتے ہیں۔ اس نے تو کبھی بھی نہیں سوچا تھا کہ ایک جھاڑو اسے نوکری دلا سکتی ہے۔ دسویں کلاس کی کتابیں، اس کول کی لائبریری کی کتابیں، اس کی یادوں میں اچانک چلی آتی ہیں۔ شادی سے پہلے، پڑھائی ختم کرنے کے بعد، جب پانچ سال تک وہ فارغ رہی تھی، تب گاؤں کی لائبریریوں سے بہت ساری کتابیں لے کر پڑھ چکی تھی۔ چھوٹی چھوٹی نظمیں بھی لکھتی تھی۔ لیکن غربت نے پڑھائی کو آگے بڑھنے ہی نہیں دیا۔

وہ راکھ کو جھاڑتی ہے تو دھول اٹھنے لگتی ہے۔ اس کے دل میں اجنبی سے غصے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اس جگہ کو زور سے جھاڑنے کو دل کرتا ہے۔

’’ جھاڑو سے سمیٹ لو۔۔ جھاڑو سے سمیٹ لو۔ بسوں میں آ کر لگائے گئے نعروں کو، کھانے کیلئے پھینکے گئے لنگر کے پیکٹوں کے شور کو۔۔۔ زہر چھڑکنے والی الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو۔۔۔ سیاسی ڈائنو ساروں کی تقریروں کو۔۔۔‘‘

کمر میں پھر درد شروع ہو گیا اور سردی سے جسم کانپنے لگا۔ سجاتا وہیں بیٹھ گئی۔ اسے فٹ پاتھ پر پھٹی پرانی چادروں میں سمٹ کر سوئے ہوئے بھکاریوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہے۔ ایک پگلی کھانس رہی ہے اور سسک رہی ہے۔ بند دکانوں کے شٹروں پر مختلف رنگ برنگی تصویریں بنی ہیں۔ سجاتا جہاں بیٹھی تھی، وہیں سامنے والی دکان کے شٹر پر ایک تصویر بنی تھی، وہ اسے دیکھنے لگی، پھر دیکھتی ہی رہی۔

دکان کے سامنے اسے رنگ کے دھبے، سوکھی ہوئی کونچی، رنگ کا ایک چھوٹا سا ڈبا نظر میں آیا۔ سجاتا انہی گلیوں میں آتی جاتی رہتی ہے تو اسے اتنا تو معلوم ہے کہ اس دکان کا شٹر رات بھر ہی نہیں بلکہ دن میں بھی بند رہتا ہے۔ رنگ ساز بھی دکھائی نہیں دیتا۔ ’

’ کہاں چلا گیا؟‘‘ سجاتا سوچتی ہے۔

’’ کیا مر گیا ہو گا؟‘‘ نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ پھر سوچتی ہے۔

’’ کیوں نہیں؟ ہو سکتا ہے مر گیا ہو۔ کسی نے مارا ہو گا؟ سامنے والی عمارت پر لگے ہوئے پینا فلیکس بورڈ میں، پیچھے کی روشنی سے جگمگاتے ہوئے، جو کوٹ پہن کر ہنس رہا ہے، اسی نے مارا ہو گا۔‘‘

سجاتا کو خوف سا لگا۔ وہ جھاڑو کی طرف دیکھنے لگی۔

’’ ارے میم صاحبہ کی طرح بیٹھی ہے، چل اٹھ۔ اگر ٹھیکیدار دیکھے گا تو، کام سے نکال دے گا۔ چل جھاڑو لگا۔۔۔‘‘ منگوّا نے محبت سے کہا۔

سجاتا نے پھر سے جھاڑو لگانا شروع کر دی۔ دل میں انجانا درد ہے۔

’’ جھاڑو سے سمیٹ لو۔۔ جھاڑو سے سمیٹ لو۔ ان تمام مشینوں کو جنہوں نے کاروبار کو مار دیا ہے، کمپیوٹروں کو جو ڈالر کی بدبو سے جل رہے ہیں، ای میلوں کو جو مشینی نظروں سے ہنستی ہیں۔‘‘ ان پر کتنی بھی جھاڑو لگاؤ پر ان کا کوڑا کبھی صاف نہیں ہوتا۔ سچ ہمیشہ چھپا ہی رہتا ہے۔

ایک ماروتی وین تیز رفتاری سے چلتی ہوئی انہیں کی طرف چلی آ رہی ہے۔ سبھی صفائی کرنے والیاں خوف سے کنارے کی طرف بھاگ گئی ہیں۔ وین فٹ پاتھ سے ٹکرا کر اوپر چڑھی، پھر سے سڑک پر آئی اور تیزی سے دور چلی گئی۔ ایک عورت بال بال بچ گئی ہے۔

’’ بد معاش شاید خوب شراب پی رکھی ہو گی۔۔۔‘‘ کہہ کر ایک عورت زور سے چلائی۔ وین کی تیز رفتار کے باوجود، بند شیشوں سے ’’ بچاؤ۔۔۔ مجھے بچاؤ‘‘ کی آوازیں سجاتا کے کان تک پہنچ ہی گئیں۔ خوف سے اس کا جسم ٹھٹھر گیا۔ ہر رات ایک جنگ جیسا تجربہ۔۔۔ چوٹ کو چھونے کی طرح سڑک کو جھاڑو لگانا۔۔۔ سجاتا کو دل میں تھکن محسوس ہوئی۔

سجاتا سوچ رہی ہے، ’’کیوں میں مختلف ہوں؟ دیگر جمعدارنیوں کی طرح اپنا کام کیوں نہیں کرتی؟ جھاڑو لگانا میرا کام ہے بس۔ لیکن جھاڑو سارنگی بن جاتی ہے۔ پڑھنے لکھنے والے دنوں کی یادیں، جب پیچھا کرتی ہیں تو سانسوں میں سنگیت بجنے لگتا ہے۔‘‘

ستون کے پاس جھاڑو مار نے والی جمعدارنی نے زور سے پکارا۔ سب ہی گھبرا کر جھاڑو چھوڑ کر اس کے پاس پہنچے۔ کھمبے کے پاس والے کوڑے دان میں ایک نوزائیدہ بچے کی لاش پڑی تھی۔ سب نے اسے گھیرے میں لے لیا ہے۔ ناحق قتل پر، ناجائز تعلقات پر، الفاظ کے حملے ہو رہے ہیں۔ جوش اتنا ہے کہ جیسے ان کی جھاڑوؤں میں اس گندگی کو صاف کرنے کی تمام تر طاقت موجود ہو۔ پھر سب کام میں لگ گئے۔ کوڑے کے ٹریکٹر کے آنے کے بعد، لاش کو اس میں ڈال دیا گیا۔ اس بچے کو دیکھنے کے بعد سجاتا کو ایسی تکلیف ہوئی کہ وہ وہاں سے ہل تک نہیں پائی۔

’’ بیٹی تم پڑھی لکھی ہو نہ، اب اس کام پر نہیں آنا۔ میں ٹھیکیدار سے بات کروں گی۔‘‘ رتنا نے پیار سے کہا۔ سجاتا حیران ہو گئی۔ جھٹ سے جھاڑو اٹھائی اور زور زور سے جھاڑو دینا شروع کر دی۔ غیر شعور طور پر اپنے غصے کو جھاڑنے لگی تواسے کسی بچی کے اسکول کی کتاب کے کچھ کاغذ سڑک پر پڑے ملے۔

وہ اور زور سے جھاڑو دینے لگی۔ دل میں پھر خیال آیا۔

’’ جھاڑو سے سمیٹ لو۔۔۔ کتابوں کو، جو بچپنے کو چباتی ہیں، جھاڑو سے سمیٹ لو۔۔۔ انتڑیوں کو جو پیٹ کو پیس ڈالتی ہیں، جھاڑو سے سمیٹ لو۔۔۔ کارپوریٹ کالجوں کو جو معصوموں کے پر توڑتے ہیں، جھاڑو سے سمیٹ لو۔۔۔ ان اعضاء کو جو سڑکوں پر بکھرے پڑے ہیں، جھاڑو سے سمیٹ لو۔۔۔۔ ان لا وارث لاشوں کو جنہیں ہسپتال والے پھینک دیتے ہیں۔‘‘

ہڈی جمانے والی سردی میں جھاڑو نہیں مانتی ہے۔ سجاتا کا من کچھ کہہ رہا ہے۔ جھاڑو سے چمٹے ہوئے اخبار کے ٹکڑے کو اوپر اٹھاتی ہے اور سڑک پر جلتی روشنی کی مدد سے خبریں پڑھنے لگتی ہے۔

’’ شہر کو ملا حفظان صحت پر ایوارڈ۔‘‘ اس جلی سرخی کے نیچے تصویر دیکھی اس نے، وزیر اعظم کے ہاتھوں سے ایوارڈ لیتی ہوئی ایک عورت۔ وہ بہت خوبصورت ہے۔ اس کا چہرہ مسکراہٹ سے چمک رہا ہے۔ وہ ہے۔۔۔ میونسپل کارپوریشن کی صدر۔

’’ لیکن اس دن ہمیں دیکھتے ہی کس طرح تیور چڑھا لیے تھے اس نے۔ کیسی نفرت ظاہر کی تھی؟ ٹھنڈے ٹھار کمرے سے باہر آنے کے دس منٹ کے اندر ہی پسینے پسینے ہو کر، فوری طور پر وہ کھسک لی تھی۔‘‘

شہر کے پورے پندرہ سو صفائی پر مامور ملازمین پر مشتمل ایک دستہ مل کر جب ایک دوپہر اس سے اپنی انشورنس کی سہولت اور فیوچر فنڈ کے بارے میں پوچھنے گئے تو، بہت لاپرواہی سے اس نے کہہ دیا کہ یہ سب سہولیات دن میں کام کرنے والوں کے لیے ہیں اور رات میں کام کرنے والوں پر یہ لاگو نہیں ہوتیں۔

اس کی ان باتوں سے ناراض ہو کر سبھی نے اپنی اپنی جھاڑوئیں ہوا میں لہرائی تھیں۔ اس گندی سوچ کو صاف کرنے کی خواہش ہر جھاڑو میں جاگی تھی۔ ہر جھاڑو نعرہ بن گئی تھی۔ ماں کے آنچل کی طرح، شہر کی سڑکوں کو صاف رکھنے کے بعد بھی، سہولیات نہ دینے والی افسر پر جھاڑو گلاب بن کر اٹھے، لیکن جھاڑو کا وہ سارازور کوڑے دان میں گھس گیا۔

سجاتا نے اس اخبار کے ٹکڑے کو موڑا تروڑا اور پھینک دیا۔

ایک آدمی دارو پی کر سڑک پر پھر رہا ہے، وہ ایکدم قے کرتا ہے۔ اس نے پاس میں صفائی کرنے والی جمعدارنی شیاملا کا پلو پکڑ لیا اور اپنی جانب کھینچا۔ شیاملا نے چیختے ہوئی اسے دھکیل دیا۔ سبھی دوڑ کر وہاں پہنچے۔ تب جھاڑو ایک ہتھیار بن گئی۔ جھاڑو کی مار سے شرابی ہوش میں آیا اور بھاگ گیا۔

سجاتا دل کھول کر ہنسی، کچھ لمحوں کیلئے ہی سہی۔ سڑک کے کنارے کھڑے زنگ آلود پوسٹ باکس کے برابر سے کراہ اٹھ رہی ہے۔ ایک گیارہ بارہ سالہ بچہ سردی سے سکڑا ہوا سو رہا ہے۔ وہ پھٹی ہوئی نیکر اور میلی بنیان پہنے پتلے سے کمبل میں لپٹا ہوا ہے۔ سڑک کے اس پار ایک بڑا سا پوسٹر لگا ہے۔ ’’ چائلڈ لیبر کے خلاف حکومت کا انتباہ‘‘

سجاتا کا دل بلکنے لگا۔ وہ اسے دیکھتی ہی رہ گئی۔ گاؤں میں اسے اپنے بھائی کی یاد آئی۔

’’ ارے اس شہر میں یہ سب معمولی باتیں ہیں۔ فکر مت کرو۔ دل میں لیتی رہو گی تو کام نہیں کر سکو گی۔ چلو چلو۔۔۔ جھاڑو لگاؤ۔‘‘ سروجنی نے کہا۔

سجاتا کا دل بہل گیا۔ سناٹے سے گفتگو ہوئی۔

’’ جھاڑو سے سمیٹ لو۔۔۔ چائے کی پیالیوں کو جو خوابوں کی طرح ٹوٹتی ہیں۔ جھاڑو سے سمیٹ لو۔۔۔ ٹوٹی ہڈیوں کو جن پر پھپھوندیاں اگتی ہوں، جھاڑو سے سمیٹ لو۔۔۔ اوورسیز زندگی کو جوگنے کے گودے جیسی ہے۔‘‘ ہاتھ میں جھاڑو ہے اور پھر کوئی اجنبی غصہ ابل رہا ہے۔ اونچی آواز میں ایک ایمبولنس سڑک پر آتی دیکھ کر سجاتا پیچھے ہٹی۔ ایمبولنس کو دیکھتے ہی اسے اپنے باپ کی یاد آئی۔ ان کی طبیعت کا خیال آیا۔ دوا لے رہے ہیں یا نہیں، پتا نہیں۔ پھر جھاڑو لگانے لگی۔ ایک پولیس جیپ اتنی تیزی سے چلی گئی کہ گویا کسی بات کی ممانعت کر رہی ہے۔

سامنے آٹھ منزلوں والی عمارت پر ’’بھلّوکاس گولڈ ایمپوریم‘‘ کا بڑا سا بل بورڈز دکھتا ہے۔ اس پر سونے کے زیورات سے لدی ماڈلیں دکھائی گئی ہیں۔ انہیں دیکھتے ہی سجاتا کو اپنے گاؤں میں ہوئی، ایک چوری یاد آئی۔ ایسا لگا کہ ماں اور دیگر گاؤں والوں کے زیورات، جیسے انہی لوگوں نے لوٹ لئے ہوں۔

اس گھر کو دیکھتی ہی رہ گئی۔ اتنے میں ایک ہوائی جہاز تھوڑا نیچے سے اڑان بھرتا، تیز آواز کرتا ہوا، نکل گیا۔ طیارے کو دیکھتے ہی شراونی کی یاد آئی۔ اپنے گاؤں کے ٹھا کر کی بیٹی تھی وہ۔ بچپن میں سجاتا کی ہم جماعت۔ امریکہ میں شادی طے ہوئی اور پردیس چلی گئی۔ کچھ ہی دنوں بعد ہوائی جہاز میں اس کی لاش آئی۔ اس کے بعد سے جب بھی وہ ہوائی جہاز کو دیکھتی ہے تو اسے شراونی کی یاد آتی ہے۔ یادیں پتھریلے ٹکڑے بن کر برستی ہیں۔

’’ بیٹی لگتا ہے تم کام نہیں کر سکو گی۔ جاؤ گھر جا کر اپنے مرد کے ساتھ سو جاؤ، جاؤ۔‘‘ ایک جمعدارنی نے مذاق کیا۔

سجاتا نے پھر سے جھاڑو لگانا شروع کر دی۔ چار بج رہے ہیں۔ گاڑیاں سڑک پر آنے لگی ہیں۔ سرد ہوا بھی بہنے لگی ہے۔

ہوا بہنے سے، بارش ہونے سے جمعداروں کو ہمیشہ ڈر لگتا ہے۔ اب تک جو سڑکیں صاف کی تھیں، وہ سب کی سب پھر گندی ہو جائیں گی۔ ٹھیکیدار آ کر اس وقت تک گالیاں دیتا رہتا ہے، جب تک وہ پھر جھاڑو نہ دینے لگیں۔ اسی طرح دیوالی کے بعد چار پانچ دن صفائی کرنے پر بھی کچرا صاف نہیں ہوتا۔ ہاتھ پاؤں میں درد الگ ہوتا ہے۔ ٹھیکیدار اضافی رقم بھی نہیں دیتا، بولتا ہے کہ دکانداروں سے مانگ لینا۔ ہوا اور زور سے بہنے لگی۔ سجاتا ڈر گئی۔

ہوا کا زور بڑھ رہا ہے۔ اس کا رخ سجاتا کی طرف ہے۔ اب تک صاف کیا گیا سارا کچرا اچانک ہوا میں اڑ گیا ہے۔ تمام جمعدارنیاں مایوس ہو کر کھڑی کی کھڑی رہ گئی ہیں۔

اچانک فرقہ وارانہ فساد کی طرح طوفان پھیلنا شروع ہو گیا۔ تقریباً بیس منٹ تک تیز ہوا تیزی سے بہتی رہی۔ تمام جمعدارنیاں سڑک کے کنارے کھڑی خاموشی سے دیکھتی رہ گئیں۔ کچھ دیر کے بعد ہوا رکنا شروع ہو گئی۔ سب کے چہروں پر پریشانی ہے۔ اب تک صاف کیا گیا سارا کچرا پھر سڑک پر آ گیا۔ سجاتا نڈھال ہو گئی۔

ٹھیکیدار کی جیپ آ رہی ہے۔ سب لوگ کانپنے لگے۔ اب دوبارہ جھاڑو دینے کو، وہ ضرور کہے گا۔

برسات کے دنوں میں بھی، ایسا ہی ہوتا ہے۔ ساری سڑکیں صاف کرنے کے بعد، بارش ہوتی ہے اور صاف کیا گیا سارا کچرا دوبارہ سڑکوں پر جمع ہو جاتا ہے۔ دوبارہ صاف کرنا پڑتا ہے۔ گرمی کے موسم میں تو ایسے طوفان ہمیشہ ہی ستاتے ہیں۔ ٹھیکیدار کی جیپ رکنے پر سب جمعدارنیاں اس کے پاس چلی گئیں۔

’’ کیا پھر طوفان آیا ہے؟ ٹھیک ہے، پھر سے صاف کر دینا۔ سنو آج دس بجے ورلڈ بینک کے نمائندے ہمارے شہر آ رہے ہیں۔ تم لوگوں کو پتہ ہو گا کہ ہمارا شہر چار بار حفظان صحت ایوارڈ حاصل کر چکا ہے۔ ورلڈ بینک کے نمائندوں کے آنے کے وقت، سڑک پر کچرا ملا، تو میں اپنا ٹھیکہ کھو بیٹھوں گا۔ تم سب لوگوں کی نوکری بھی چھوٹ جائے گی۔ سمجھ آئی۔‘‘

دھمکی دے کر ٹھیکیدار وہاں سے چلا گیا۔ ان میں سے کسی کو، اس کی بات پوری طرح سمجھ میں نہیں آئی۔ بس اتنا ہی سمجھ میں آیا کہ کچھ بڑے لوگ آ رہے ہیں اور دوبارہ جھاڑ و دینا پڑے گی۔ وہ کھڑی ہوئیں اور دوبارہ جھاڑو لگانے میں جٹ گئیں۔

’’ ارے گاڑیاں نکلنا شروع ہو رہی ہیں، ٹھیکیدار پھر آئے گا۔ لے جھاڑو پکڑ۔‘‘ ایک جمعدارنی نے سجاتا سے کہا۔

سجاتا نے جھاڑو اٹھائی۔ من بھاری ہو گیا۔ جھاڑو ہلائی نہیں جاتی۔ کمر، درد کی خبر دے رہی ہے۔ ہاتھ پاؤں ٹھٹھر رہے ہیں۔ پھر بھی جھاڑو دینا ہے۔ جن بادلوں پر یقین کرتی ہے، وہ دھوکہ دیتے ہیں۔ جس ہوا کو سانس سمجھتی ہے، وہ بھی جان لیتی ہے۔ گھِرتا ہوا اندھیرا خوابوں کو پھانسی دیتا ہے۔

روشنی سے خوفزدہ ہے۔ صبح ہونے سے پہلے ہی صاف کرنا ہے نہیں تو کام سے گئی۔۔۔ جھاڑو کی تیلیوں کی طرح۔۔۔ نکال دیا جائے گا۔ خوف سے وہ پھر جھاڑو دینے لگ جاتی ہے۔

۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔

صبح ہوتے ہی سجاتا گھر پہنچی۔ اس کا شوہر اور بیٹا اب تک جاگے نہیں۔ ’’بچ گئی۔‘‘ کہہ کر پلاسٹک کے کٹورے میں نل سے پانی لے آئی۔ امڈتی نیند کو دور کرتی ہوئی، برتن دھونے لگی۔ کھانا بنایا۔

بیٹا جاگا، تو اسے دودھ پلا دیا۔ مرد اٹھ کر کام کے لئے تیار ہو گیا اور کھانا ڈبے میں لے کر چلا گیا۔ سجاتا نے ہاتھ منہ دھویا اور کچھ کھایا پیا۔ اسے پتہ نہیں چلا کہ وہ کب سو گئی۔ لگ بھگ دوپہر ایک بجے اٹھی۔ بیٹا کھیل رہا تھا۔ کٹیا جیسے گھر کے ایک کونے میں، پرانا بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی ہے۔ سجاتا نے ٹی وی چالو کیا۔ خبریں نشر ہو رہی ہیں۔ منظر تو ٹھیک طرح نہیں دکھائی دے رہا، لیکن سڑک پر جھاڑو دینے والوں کا منظر دھندلا نظر آنے پر بھی اس کا دھیان اپنی طرف کھینچتا ہے۔ وہ اسی کی طرف دیکھنے لگی۔

پہلے آدھی رات میں فیمیل سینٹری ورکرز کے سڑک صاف کرنے کے مناظر، اس کے بعد کچھ گورے آدمی، ان سے بات چیت کرتی میونسپل چیئرمین، ایک بڑے کمرے میں ہوتی گفتگو، پس منظر میں اینکر کی آواز۔ ’’ شہر کو اور صاف رکھنے کے لئے جرمنی سے ہائی ٹیک ویکیوم کلینرز منگوائے جا رہے ہیں۔ ورلڈ بینک تیس کروڑ روپے کا قرضہ دینے کو تیار ہے۔ یہ ہائی ٹیک ویکیوم کلینر فی گھنٹہ آٹھ کلومیٹر کی صفائی کرتا ہے۔ آندھی، بارش ہونے پر بھی کچرے کو اپنے آپ لوڈ کرتا ہے۔‘‘ پھر اسے دکھایا جانے لگا۔

یہ دیکھتے ہی سجاتا کانپ گئی۔

وہ مشین بالکل ویسی ہی ہے جیسی گاؤں میں کھیت میں فصل کاٹنے والی ہارویسٹر تھی۔ جیسی کھیت میں اتری فصل لگانے والی رائس ٹرانسپلانٹر تھی۔ اس مشین کی وجہ سے ہی پرندے، کیکڑے، سانپ وغیرہ کھیتوں سے بھاگ گئے تھے۔ اور اسی کی وجہ سے ان لوگوں کو کھیتی باڑی کے کام چھوڑ کر، پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لئے شہر آنا پڑا تھا۔

لیکن ہائی ٹیک ویکیوم کلینر ان تمام مشینوں سے زیادہ خطرناک ہے۔ سجاتا نے کانپتے ہوئی کونے سے جھاڑو اٹھائی۔ جھاڑو اب ایک ہتھیار ہے۔ چاروں طرف دیکھا سجاتا نے۔ لیکن دشمن نہیں دکھا۔ بچہ رونے لگا۔ بے بس ہو کر نیچے بیٹھ گئی۔ بچے کو گود میں لیا اور دودھ پلانے لگی۔ لیکن بچہ روتا ہی رہا۔

***

 

 

 

 

چاندی کا جوتا

 

بالشَوُری ریڈی

 

تیلگو کہانی

 

 

اتفاق کی بات تھی کہ میں جس دن اپنے دوست وکیل شیورام کے گھر پہنچا، اسی دن میرے دوست کے بیٹے کی سالگرہ دھوم دھام سے منائی جا رہی تھی۔ دعوت میں مدعو افراد میں وینکٹیشور راؤ کو دیکھتے ہی میری باچھیں کھِل گئیں۔ اسی وقت دیکھتا کیا ہوں، وہ ایک دم اچھل کر آیا، اور مجھ سے گلے لگ گیا۔

اس دوست کی دعوت پا کر، دوسرے دن صبح میں ناشتا کرنے اس کے گھر پہنچا۔ سب سے پہلے ولایتی اور قیمتی السیشن کتیاسونی نے ہمارا استقبال اس طرح کیا کہ گویا وہ یہ جانتی ہو کہ میں اس کے مالک کا قریبی دوست ہوں۔

باتھ روم سے سر پونچھتے ہوئے وینکٹیشور راؤ سیدھا بیٹھک میں آ پہنچا اور پنکھا چلا دیا۔ پھر اخبار ہاتھ میں تھما کر، کپڑے پہننے کیلئے کمرے میں چلا گیا، بیٹھک اس طرح سجائی گئی تھی، گویا فلمی شوٹنگ کے لئے ابھی ابھی تیار کیا گیا کوئی سیٹ ہو، میں دل ہی دل اپنے دوست کی بیوی کی سلیقہ مندی کو سراہنے لگا۔

ساتھ ہی اس سے اپنی بیوی کا موازنہ کرنے لگا۔ دیواروں پر معروف پینٹروں کی پینٹنگس لگی تھیں۔ ساری بیٹھک بالکل صاف ستھری اور خوبصورت تھی۔

میں سوچنے لگا کہ ہاسٹل میں وینکٹیشور راؤ کیسا لا پرواہ رہا کرتا تھا۔ آج اس کی دلچسپی میں ایسا بھاری بدلاؤ کیونکر ہوا۔ وہ ہمیشہ اپنی چیزیں درہم برہم کر کے ادھر ادھر چھوڑ دیا کرتا تھا۔ اسے چیزیں قرینے سے سجانے کی عادت ہی نہ تھی۔ میں چڑ کر اسے لاکھ سمجھاتا رہا تھا، لیکن پھراس کی لاپرواہی میں کوئی تبدیلی نہ دیکھ کر ہار مان چکا تھا۔ کبھی کبھی کہا کرتا تھا، ’’ یار تمہاری بیوی ہی شاید تمہیں تبدیل کر سکے گی۔‘‘ اچانک مجھے خیال آیا کہ ’’ راؤ میں تو کوئی تبدیلی واقع نہ ہوئی ہو گی۔ یہ تو اس کی مسز رما کا فن ہو گا۔‘‘ واہ رما تم تو خوبصورتی بنانے والی ہو گی۔

’’ بھائی صاحب پرنام، شاید آپ راستہ بھول گئے ہیں، جو آج ہمارے گھر آئے۔‘‘ رما ایک سانس میں کہہ گئی۔ میں نے میں اخبار کو تپائی پر رکھتے ہوئے نظر اٹھائی، تو کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے ہاتھ جوڑے ہنس مکھ رما کھڑی ہے۔ میں نے اٹھ کر پرنام کا جواب دیا۔ تبھی رما پوچھ بیٹھی، ’’ آپ سریش کی شادی میں کیوں نہیں آئے؟ ہم نے تو آپ کا بہت انتظار کیا تھا۔‘‘

’’ کیا سریش کی شادی ہو گئی؟ مجھے دعوت نامہ کہاں ملا، جو چلا آتا۔ دعوت نامہ تو بھیجا نہیں الٹے مجھ پر الزام لگا رہی ہو۔ واہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔‘‘

’’ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ ہم نے پہلی فرصت میں ہی آپ کے نام پوسٹ کر دیا تھا۔‘‘

’’ ہو سکتا ہے رما جی، پر مجھے ملتا تب نہ میں آتا۔ سچ کہہ رہا ہوں میرے نام کوئی دعوت نامہ نہیں آیا۔‘‘ میں نے اپنی پوری صفائی دینے کی کوشش کی۔

شاید رما کی منطق کے سامنے میں ہار بیٹھتا، تبھی وینکٹیشور راؤ نے داخل ہو کر میری حفاظت کی۔

رما ناشتے کا انتظام کرنے اندر چلی گئی۔ تھوڑی دیر بعد اندر سے بلاوا آیا۔ باورچی خانے میں گڑیا جیسی سندر لڑکی طشتریوں میں مٹھائیاں سجا رہی تھی۔ وینکٹیشور راؤ نے اس کا تعارف اپنی بہو کے طور پر کرایا۔ ’’ یہ سیما ہے میری بہو۔ جانتے ہو اس نے ایم اے فرسٹ کلاس میں کیا ہے۔ یونیورسٹی بھر میں یہ فرسٹ آئی ہے۔ اسے گولڈ میڈل بھی ملا ہے۔‘‘ پھر راؤ نے اپنی بہو سے کہا۔ ’’ بیٹی چاچا کو ذرا وہ میڈل تو دکھلاؤ۔‘‘

سیما کو شاید میڈل دکھانا پسند نہ تھا۔ وہ سر جھکائے چائے کے پیالے میز پر لگا رہی تھی۔ رما دوڑ کر بیٹھک میں گئی۔ الماری سے میڈل لا کر اس نے میرے ہاتھ میں تھما دیا۔

’’ بھیا ہماری برادری میں آج تک کسی نے گولڈ میڈل حاصل نہیں کیا۔ ہمیں اپنی سیما پر فخر ہے۔ یہ تو رات دن پڑھتی ہے۔ پی ایچ ڈی بھی کر رہی ہے۔ کہتی ہے کہ میں ڈی لٹ بھی کروں گی۔ مجھے ڈر ہے کہ رات دن کا جاگنا کہیں بہو کی طبیعت کو نہ بگاڑ دے۔ میں لاکھ سمجھاتی ہوں کہ بہو تم آرام کرو، لیکن ہماری بات سنتی ہی نہیں۔ کھانا بناتی ہے، کھانا کھلاتی ہے، سسر کی خدمت کرتی ہے، ساتھ ہی کالج میں پڑھاتی بھی ہے۔‘‘

’’ بھابھی تب کوئی پکانے والی کیوں نہیں رکھ لیتیں؟ کمانے والی بہو سے کام لینا تو ٹھیک نہیں ہے۔ لوگ کیا سوچیں گے؟‘‘

’’ میں بھی یہی سوچتی ہوں، لیکن اپنے ہاتھ کا کھانا ہی اچھا لگتا ہے۔ کام بھی کیا ہے چار جنے ہیں۔ آخر ہمارا بھی تو وقت کٹنا چاہئے۔ کام کرنے سے طبیعت بھی اچھی رہتی ہے۔‘‘

’’ رما جھوٹ بولنے کی بھی حد ہوتی ہے۔ یہ پرائے تھوڑے ہی ہیں۔‘‘

‘ ‘ یار اصل چیز یہ ہے کہ رما کھانا پکانے والی کے پیچھے خرچ کرنا بیکار مانتی ہے۔ میں نے ایک دو نوکر رکھے بھی، پر کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر اس نے انہیں بھگا دیا۔‘‘

’’ تم سارا الزام مجھ پر دھرتے ہو۔ تم نے تو ایک دن نوکر کو کسی کام کا نہیں بتایا، اس لئے میں نے ہٹا دیا، ورنہ میرا کیا جاتا ہے۔ کما نے والے تم ہو اور خرچہ کرنے والے بھی تم ہی ہو۔ میں آرام سے بیٹھ جاتی ہوں۔ مجھے کیا پڑی ہے دل جلانے کی۔‘‘ر ما چڑ اٹھی۔

میں نے درمیان میں دفاع کے خیال سے سمجھایا، ’’ اپنا کام خود کرنے میں کیا برائی ہے۔ بھابھی کا وقت بھی کٹے گا اور تم لوگوں کو اچھا کھانا بھی ملے گا۔ جب وہ خود کھانا بنانے کو تیار ہیں، تو تم روکنے کی کیوں سوچتے ہو۔‘‘

’’ اگر وہ خود بنا لے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ مگر بیچاری بہو سے سارا دن کام لیتی ہے۔ اسے پڑھنے کی بھی فرصت نہیں ملتی۔ جب وہ چھ سو روپے ماہانہ کما کر لاتی ہے، تو اس میں سے ایک سو روپے کھانا پکانے کے پیچھے خرچ کرنے میں کیا حرج ہے۔ اگر ناخواندہ بہو گھر آتی تو کیا ہوتا۔ میرے بھائی کے گھر کے حالات جانتے ہیں؟ پچاس ہزار روپے لے کر میٹرک پاس بہو کو گھر لائے۔ وہ رانی کی طرح بیٹھی رہتی ہے۔ کھانا کھلانے تک کا کام نہیں کرتی۔ کوئی چھوٹا موٹا کام بتا دیں تو کہتی ہے، ’’ میرے پتاجی نے اس لئے پچاس ہزار روپے نہیں دیے ہیں کہ میں آپ کے گھر بیگار کروں۔ وہ روپے بینک میں جمع کر دو۔ جو سود ملے اس سے نوکر رکھ لو۔‘‘ آخر میری بہو تو ایسی نہیں ہے۔ بیچاری اپنا ایک بھی منٹ آرام کرنے میں نہیں خرچ نہیں کرتی۔ سمجھو کہ یہ ہماری خوش قسمتی تھی کہ ایسی بہو ہمیں ملی۔‘‘

شوہر کو بہو کی تعریفوں کے پل باندھتے دیکھ کر رما سے رہا نہیں گیا۔

وہ تنک کر بولی، ’’ ہم ہی غلامی کرنے کے لئے پیدا ہو گئے ہیں نہ۔ میرے باپ دادا زمیندار تھے۔ ہمارے میکے میں نوکر چا کر گاڑی سب کچھ تھا۔ لیکن میں یہاں کیا بھگت رہی ہوں۔‘‘ بات بڑھتے دیکھ کر  میں وینکٹیشور راؤ کے ساتھ اٹھ کر بیٹھک میں آ گیا۔ وینکٹیشور راؤ نے سگریٹ کا کیس آگے بڑھاتے ہوئے کہا، ’’ یار میں جانتا ہوں تم نے سگریٹ پینا چھوڑ دیا، پر میری قسم تم ایک سگریٹ تو پی لو۔ نہ مت کہو ورنہ مجھے دکھ پہنچے گا۔‘‘

میں اس حالت میں راؤ کو ناخوش نہیں کرنا چاہتا تھا۔ سگریٹ جلا کر اس کا کش لیتے ہوئے سوچنے لگا۔ ناحق راؤ کے گھر میں اتنی کشیدگی آ گئی۔ راؤ نے ایش ٹرے لا کر تپائی پر رکھا۔ میرے اندر تجسس پیدا ہوا۔ وہ چاندی سے بنا ہوا تھا۔ الٹے جوتے کی شکل کا تھا۔ اس قسم کا ایش ٹرے میں نے پہلی بار دیکھا تھا پوچھا، ’’ یار تم نے اسے کہاں سے خریدا۔‘‘

راؤ کسی فلسفی کی مانند سنجیدہ ہو گیا۔ پھیکی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر کھل اٹھی۔

’’ دوست میں تم کیوں چھپاؤں؟ یہ ایش ٹرے میرے آدرشوں کی تضحیک کی ایک علامت ہے۔ تم جانتے ہو ہم نے کالج میں پڑھتے ہوئے حلف لیا تھا کہ ہم بھول کر بھی جہیز نہیں لیں گے۔ یہ بھی جانتے ہو کہ ہم نے اپنی اپنی شادیوں کے وقت اس پر عمل بھی کیا تھا۔ پر کیا بتاؤں جب میرے بیٹے سریش کی شادی کا سوال اٹھا، تب میں نے ایک دوست کی لڑکی کا رشتہ، بنا جہیز کی شرط کے پکا کیا۔

میری بیوی کو وہ رشتہ پسند نہیں آیا۔ کئی اچھے خاندانوں کی لڑکیوں کے باپوں نے میرے گھر کی چوکھٹ پر بار بار آ کر ما تھا ٹیکا۔ لیکن دیوی رما ان بھگتوں کی بھگتی پر راضی نہیں ہوئی۔ آخر میں نے یہ رشتہ طے کیا۔ رما نے سیما کو دیکھا اور پسند بھی کیا۔ تو رشتہ پکا بھی ہو گیا۔ دعوت نامے بھی چھپے۔

شادی میں صرف پندرہ دن رہ گئے تھے۔ رما سوچ رہی تھی کہ سیما کے والد سول سپلائی افسر ہیں، اس نے دونوں ہاتھوں سے خوب کمایا ہو گا۔ بغیر مانگے ہزاروں کا جہیز دیا جائے گا۔ آخر نہیں معلوم کس طرح اس کے کانوں میں بھنک پڑی کہ سیما کے والد بڑے نیک اور شریف انسان ہیں۔ اور ایماندار بھی ہیں۔ انہوں نے کبھی رشوت نہیں لی ہے، تو یہ شادی عمدگی سے تو کریں گے۔ مگر جہیز میں ایک پیسہ نہیں دیں گے۔ جب خوبصورت، شریف اور قابل لڑکی کو ہم ’’ کنیا دان‘‘ کی رسم ادا کر کے سونپتے ہیں، تو جہیز کیوں دیں۔

میں نے بھی کبھی سیما کے والد سے جہیز کی مانگ نہیں تھی۔ رما مجھ پر دباؤ ڈالنے لگی کہ میں سیما کے والد سے جہیز کی رقم کی بات پکی کر لوں۔ آخر میں مجبور ہو گیا۔ جھجکتے ہوئے میں نے سیماکے والد کے کانوں میں یہ بات ڈال دی۔ میں نے صرف اتنا ہی کہا، ’’ بھائی صاحب بہت سے لوگ دو لاکھ روپیوں کے جہیز کا لالچ دکھا کر میرے گھر آئے، لیکن میں نے ان تمام رشتوں کو ٹھکرا دیا۔ میں صرف لڑکی کو قابل، شریف اور خوبصورت دیکھنا چاہتا تھا۔ لیکن میری بیوی کچھ اور سوچتی ہے۔ میں یہی کہوں گا کہ ہم دونوں خاندانوں کی ساکھ کو ذہن میں رکھتے ہوئے مناسب رقم ضرور دیں۔‘‘

یہ الفاظ کہہ کر میں گھر لوٹ آیا۔ وہ بھلے مانس تھے، مجھ پر ناراض بھی نہیں ہوئے۔ لیکن میں نے گھر لوٹ کر رما کو اطلاع دی کہ اچھی خاصی رقم جہیز میں مل جائے گی تم فکر مت کرو۔ شادی کے دن تک وہ روز مجھے تنگ کرتی رہی کہ تم نے یہ کیوں نہیں کہا کہ پچاس ہزار روپیوں کا جہیز دو تب ہی ہم آپ کی لڑکی کو بیاہیں گے۔ میں نے ایک ہفتے بعد سنا کہ سیما کے والد نے رائس ملرس ایسوسی ایشن کے ارکان کو اپنے گھر بلایا تھا۔ رائس ملرس ایسوسی ایشن نے لڑکی کو ایک بہت بڑا چاندی کا برتن پیش کیا۔ وہی برتن ہمیں جہیز میں ملا۔

میری بیوی نے شادی ہوتے ہی وہ برتن لے کر کمرے میں حفاظت سے رکھ دیا۔ پھر مجھے الگ بلا کر برتن کا ڈھکن کھول دیا۔ اس کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔ نوٹوں کے بنڈلوں سے وہ برتن بھرا ہوا تھا۔ رما نے سارے بنڈل زمین پر پلٹ دیے۔ یہ مجموعی طور پر ساٹھ ہزار ایک سو سولہ روپے تھے۔ رما سیما کے والد کی سخاوت کی تعریف کرتی رہی۔ وہ تمام نوٹ بالکل نئے تھے۔ مجھے تو ڈر لگا کہ کہیں یہ جعلی نوٹ تو نہیں۔

رما روپیوں کے بنڈلوں کو ایک باکس میں رکھنے لگی۔ میں نے برتن میں ہاتھ ڈالا تو کوئی چیز ہاتھ لگی، وہ ’’ چاندی کا جوتا‘‘ تھا۔ میرے سمدھی نے وہ جوتا میرے سر پر نہیں، میرے دل پر مارا تھا۔‘‘

***

 

 

 

 

گورکی کا کردار

 

وی چندرشیکھر راؤ

 

تیلگو کہانی

 

 

’’گورکی کی کہانی کا ترجمہ کرا کر دو گے نا؟ ویسے تو آج رات کوئی کیس نہیں آنے والا ہے۔ اپنی وومن پاور آرگنائزیشن کی جانب سے ایک یادگار سوینئرجاری کرانا چاہتی ہوں۔ یہ کہانی اس میں ضرور ہونی چاہئے۔ پلیز نہ مت کہنا۔ دو کپ چائے، تمہاری تنہائی کو ختم نہ کرنے کا وعدہ کرتی ہوں، آف کورس، اس کی ایک ایک کاپی وہاں شریک شرکاء کو سووینئر کے طور پر پر دے دیں گے۔‘‘

اس رات کو زچگی وارڈ میں، میں ایک ہاؤس سرجن کی حیثیت سے ڈیوٹی پر تھا۔ سرلا نے گورکی کی کہانیوں کا مجموعہ، نوٹ بک اور قلم، ٹیبل پر اس طرح پٹک دیے کہ گویا کوئی قطعی حکم دے رہی ہو۔ سرلا میرے ساتھ ہاؤس سرجن کر رہی تھی۔ تھوڑی دیر پہلے تک ’’ داس کپیٹل‘‘ کے اہم امور پر نرسنگ کے طالب علموں کو دو گھنٹے کی تقریر کر آئی۔ اب وہ میرے ساتھ تصادم کرنے لگی۔

سرلا کو دیکھتا ہوں، تو میں حیرت میں پڑ جاتا ہوں۔ بیس برس بھی ابھی پار نہیں کئے اس نے، پر پتہ نہیں اس میں اتنی پختگی کیسے آئی ہے؟ عام طور پر اس عمر کی لڑکیاں، نرم و نازک سوچوں میں ڈوبی ہوئی ایک غیر منقسم اور مایوس ماحول میں جیتی ہیں۔ لیکن سرلا اتنی چھوٹی سی عمر میں کالج کی طالبات کو اکٹھا کر کے ’’وومن پاور آرگنائزیشن‘‘ کا قیام عمل میں لائی ہے۔

وہ ہمیشہ ذات پات اور نام نہاد کلاس سے مبرا معاشرے کے بارے میں خواب دیکھتی رہتی ہے۔ عورتوں کے مسائل پر پمفلٹس اور کتابیں چھاپتے ہوئے اور ان کے خاص مسائل پر جلوس اور دھرنوں کا انعقاد کرتے ہوئے، ہمیشہ مصروف رہتی ہے۔ مجھے خوابوں میں رہنے والا کہہ کر پکارتی ہے اور میری کہانیوں کو فقط وقت گذارنے والی چیز کہہ کر ان کا مذاق اڑاتی ہے۔ پھر بھی سرلا میری اکلوتی قریبی دوست ہے۔ ہم دونوں مل کر نہ کٹنے والی شاموں کو اور زندگی کے اتار چڑھاؤ کو ناپتے رہتے ہیں۔ جو بھی ہو اپنے سووینئر کی کہانی کے لئے اس کا مجھے منتخب کر لینا، میں اپنے لئے بڑی بات مانتا ہوں۔

رات کو کوئی آٹھ بجے ایک عورت کی زچگی ہوئی تھی۔ تب سے کوئی کام نہیں تھا۔ ڈیوٹی پر لگی گائنی کا لوجسٹ ڈاکٹر وسندھرا جی بھی کوئی کام نہ ہونے کی وجہ سے، ہسپتال کا چکر کاٹنے کیلئے چلی گئیں، پی جی ڈاکٹر اور سرجن رادھا اپنے دوست کے ساتھ ’’امراؤ جان ادا‘‘ کا سیکنڈ شو دیکھنے چلی گئیں۔ دونوں اسٹاف نرسیں، زیر تربیت نرسوں کے ساتھ گھل مل کر آپس میں پرانی یادوں کو بانٹنے لگیں۔

گورکی کی کہانیوں کے مجموعے پر ہاتھ لگاتے ہی نہ جانے کیوں میرا جسم پر جوش ہو اٹھا۔ پانی کی کسی آبشار کی طرح ان کہانیوں کو میں نے اپنے اندر گرنے کا احساس کیا۔ اس ساکت رات میں، لمحے پر بھر کے لئے آرام کر تے ہوئے کسی سمندر کی طرح، سارا ہسپتال سو رہا تھا۔ چھوٹے بچوں کے اچانک نیند سے جاگ کر رونے کی آوازوں کے سوا، انسانی وجود سے جڑی اور کوئی علامت نظر نہیں آر ہی تھی۔ نوٹ بک کے اندر سفیدصفحات تھکے ہارے سے، کسی انیمیا پیشنٹ کی طرح پھڑپھڑانے لگے۔

ترجمہ کرنے والی کہانی کا نام ہیں۔ ’’اے میں از بورن‘‘، جنگل کے وسط میں جھرمٹوں کی آڑ میں درد کے عذاب سے کراہتی ہوئی اکیلی عورت کی مدد کرنے والے ایک مسافر کی کہانی ہے یہ۔ مسافر کو زچگی کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ پھر بھی جو کچھ اس کو پتہ تھا، اسی کے مطابق وہ اس عورت کی مدد کرتا ہے۔ اس ماں کو بہت شرمندگی اور ناراضگی ہوتی ہے، پھر بھی اور کوئی چارہ بھی تو نہیں تھا۔ دونوں کے درمیان ایک گہری دوستی قائم ہو جاتی ہے۔ ایک اجنبی عورت جو زندگی اور موت سے لڑ رہی تھی، اس سے متاثر ہو کر اس مسافر نے جو کام کیا، وہ اچنبھے میں ڈال دیتا ہے۔ شکم سے باہر نکلنے والے بچے کے سر کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر حفاظت سے باہر نکال لینا، سچی انسانی خصوصیات کی علامت ہے۔

زچگی کے بعد وہ تھکی ہاری اس ماں کو چائے بنا کر پلاتا ہے، اسے قائل کرنے کی کوشش کر کے اس کی ڈھارس بندھاتا ہے، بچے کو پیار سے پچکار کر اس کی مسکراہٹوں میں قدیم یادوں کی آہٹیں سن لیتا ہے۔ آخر میں ’’اے میں از بورن‘‘ کہہ کر مسافر اپنی راہ پکڑ لیتا ہے۔ عام انسانوں میں موجود غیر معمولی خصوصیات کو اجاگر کرنا، اس کہانی کی خاصیت ہے۔ صرف آٹھ صفحات کی سرحدوں میں بند اس کہانی میں، ایک خاص قسم کے جذبے کی دریافت کی ہے گورکی نے۔ عام آدمیوں میں پوشیدہ انسانی خصوصیات کو پہچاننا اور اسے وسیع پس منظر پر دکھانا گورکی زیادہ پسند کرتے ہیں۔ اس کہانی کا ترجمہ کرنے کے لئے صرف انگریزی اور تیلگو زبان کا علم ہی کافی نہیں ہے، انسانیت کی زبان کا بھی علم ہونا ضروری ہے۔

اچانک وارڈ کے باہر مچے شور و غل سے میرا دھیان بٹ گیا۔ اسٹاف نرس زور زور سے چلاتے ہوئے آئی۔ ’’ڈاکٹر صاحب غضب ہو گیا۔ تاڑی کونڈا سے ایک مریضہ آئی ہے۔ لگتا ہے اس کے پیٹ میں بچہ پلٹی کھا گیا ہے۔ فوری طور پر آپریشن کرنا ہو گا۔ ڈاکٹر وسندھرا جی نہ ڈیوٹی روم میں ہیں اور نہ گھر میں۔ ہسپتال میں کہیں بھی ان کا اتا پتہ نہیں ہیں۔ پی جی ڈاکٹر رادھا جی اپنے دوست کے ساتھ سنیما دیکھنے چلی گئی۔ اب کیا کرنا ہے، کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے۔ بچہ اور زچہ دونوں کی جان خطرے میں ہیں۔‘‘

نرس بہت گھبرا رہی تھی اور سرلا منہ لٹکائے کھڑی تھی۔ ’’اب کیسے نمٹا جائے اس مصیبت سے؟ رادھا جی بھی نہیں ہیں۔ مریض کی حالت بہت نازک ہے۔ فوری طور پر آپریشن کرنے کی ضرورت ہے۔ اب وہ بیہوش ہونے والی ہے۔ ہم تو ابھی طالب علم ہی ہیں۔ اب تک طریقے سے اوزار پکڑنے کا ہنر بھی نہیں جانتے۔ آنکھوں کے سامنے ایک مریض کا اس طرح جان کھو بیٹھنا، ہمارے لئے بڑی بری بات ہو گی۔‘‘ سرلا بھی کافی پریشان تھی۔

اس ہسپتال میں ایسے حادثے بہت عام سی بات ہیں، پھر بھی دیکھتے دیکھتے ایسا ہو جانا، ہمیں بڑا جرم سا لگ رہا تھا۔ دو چار منٹ تک سوچنے کے بعد میں نے ایک اہم فیصلہ لے لیا۔ ابھی ابھی پڑھی گئی گورکی کی کہانی یاد آ گئی۔ ایک معمولی مسافر نے اس عورت کی جو خدمت کی، وہ بات دل میں گھسنے لگی۔ غیر معمولی حالات میں ایک مسافر نے زچگی کروانے کیلئے ایک دائی کا کردار ادا کیا۔ گورکی کی کہانی سے سبق لے کر میں آپریشن کرنے کے لئے تیار ہو گیا۔

’’سسٹر! پیشنٹ کو آپریشن تھیٹر میں لے آئیے۔ آپریشن میں کروں گا۔ ایسے سینکڑوں کیس میں نے میڈم کے برابر میں کھڑے ہو کر دیکھے ہیں۔ اس حالت میں اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ جو بھی ہو گا، اس کی ذمہ داری میں اپنے اوپر لے لوں گا۔ آپ جلدی چلئے۔ اینستھیسسٹ کو فون کیجیے۔‘‘

اسٹاف نرس نے میری طرف ایسے دیکھا گویا مناسب طریقے سے دستانہ بھی نہ پہن سکنے والا یہ لڑکا آپریشن کس طرح کر پائے گا؟ لیکن اس نے بھی جانا کہ اس وقت اس سے بہتر اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ نرس پیشنٹ کو آپریشن کے لئے تیار کرنے کے لئے چلی گئی۔

’’راجو! یہ کیسا جنون ہے؟ اگر پیشنٹ کو کچھ ہو جائے تو؟‘‘ حیرت سے میری طرف دیکھتے ہوئے سرلا نے پوچھا۔

’’چاروں طرف پھیلی تاریکی کو دیکھتے ہوئے اداس ہو جانے کے بجائے، ہمت کر ایک چھوٹا سا دیا جلانا بہتر ہے، یہ باتیں تمہاری ہی ہیں نا؟‘‘ یہ کہہ کر میں تھیٹر کی طرف چل پڑا۔

آپریشن تھیٹر میں پاؤں دھرتے ہی میرے اندر عجیب تبدیلی آئی۔ اکثر چاہے وہ وارڈ ہو یا کلاس روم، اچانک ایک شاعری کا دور میرے اندر داخل ہو کر، کسی شعلہ کی طرح مجھ پر غالب ہو کر مجھے ایک ٹرانس میں پھینک دیا کرتا تھا۔ لیکن اس وقت میرے ذہن پر شاعری کا اثر نہیں رہا۔ تمام چیزوں کو بھول کر میں ایک تربیت یافتہ فوجی میں تبدیل ہو گیا۔

ہاتھ دھوکر، دستانے پہن کر آپریشن ٹیبل کے پاس چلا گیا۔ تب تک اینستھسسٹ بھی آ پہنچا تھا۔ مریضہ سبھیا حساسات سے ماورا، بیہوش پڑی ہوئی تھی۔ ’’مریضہ کے رشتہ دار تنگ کر رہے ہیں۔ سرلا جی کو ایک بار باہر بھیجئے گا۔‘‘ گھبراتے ہوئے ایک طالبہ نرس اندر آ گئی۔

’’آپریشن سے پہلے مریض کا شوہر ضروری درکار خون دینے کے لئے تیار تھا، لیکن اب وہ مکر کر یہ کہہ رہا ہے کہ میں پیسے دے دیتا ہوں، کہیں سے خون منگوا لیں۔ کیا منٹوں میں پیسوں سے خون مل جاتا ہے؟ وہ بھی بی پازیٹو بلڈ۔‘‘ نرس بڑبڑانے لگی۔

’’میں باہر جا کر دیکھتی ہوں، ماجرا کیا ہے، تم اپنا کام سنبھالو۔‘‘ سرلا پیار سے میرے کندھے پر تھپکی دے کر چلی گئی۔

میں نے پیٹ کے نچلے اور ناف کے نیچے ایک پتلا سا چیرا لگایا۔ نہ جانے کیوں میرے ہاتھ کانپ گئے۔ سینکڑوں بار ایسے آپریشن کرتے ہوئے دیکھ چکا ہوں۔ پھر بھی عجیب سا ڈر، سارے جسم میں پھیل گیا۔ سارا بدن پسینے سے شرابور ہو گیا۔

جلد کی نیچے والی تہوں کو الگ کر کے اور ابھرنے والے خون کو پیڈوں کے سہارے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے میں نے بچہ دانی کو پہچان لیا۔ اندر موجود بچے کو باہر نکالا۔ وہ لڑکا تھا۔ بچے کو نرس کے ہاتھوں میں تھما دیا۔ اس نے بچے کو سنبھالا۔ میرے اندر جو گھبراہٹ اور ڈر تھا، پتہ نہیں وہ کب غائب ہو گیا تھا۔ سیدھے ہدف کی طرف بڑھنے والے فوجی کی طرح میں آگے چل پڑا۔ باقی ساراکام مستعدی سے پورا کر کے، ہاتھ دھونے کے لئے تیار ہوا ہی تھا کہ پیچھے سے دو نرم ہاتھ میرے کندھوں کو تھپتھپانے دینے لگے اور میرے گال کو چومنا کیا۔ میں سمجھا کہ وہ شاید سرلا ہو گی۔ مڑ کر دیکھتا ہوں تو ڈاکٹر وسندھرا میڈم تھیں۔

’’آئی ایم پراؤڈ آف یو مائی سن۔ تم نے ایسا آپریشن کیا کہ گویا برسوں سے تمہیں تجربہ ہو۔ کیپ اٹ اپ۔ جب تم بچہ دانی کھول رہے تھے، تبھی میں آئی تھی۔ تمہیں پریشان کرنا نہیں چاہتی تھی، لہٰذا پیچھے کھڑی ہو گئی۔ تمہیں بہت بہت مبارک۔ جو تم نے مجھے اس حادثے سے بچا لیا۔ اگر صحیح وقت پر طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے مریضہ کو کچھ ہو جاتا تو ہسپتال کا فخر مٹی میں مل جاتا۔ جو آپریشن تم نے کیا ہے، بڑا بہترین ہے۔ اس واقعے کو میں، برسوں یاد رکھوں گی۔‘‘ میڈم نے میری تعریف کی۔

آپریشن تھیٹر سے باہر نکلتے ہوئے مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ اظہار کرنے کے لئے لفظوں کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔ ایسے وقت میں سرلا کا وہاں نہ ہونا اور اس کے منہ سے تعریف نہ سن پانے کی وجہ سے مجھے تھوڑا سا افسوس ہوا۔

بڑی خوشی خوشی میں اسٹاف روم میں داخل ہوا۔ کمرے میں بیڈ پر لیٹی ہوئی سرلا بولی، ’’ بدھائی ہو، سسٹر ابھی بتا کر گئی ہے کہ آپریشن کامیاب رہا ہے۔ میں بہت کمزوری محسوس کر رہی تھی، اس لیے تمہارا ساتھ نہیں دے پائی۔ مریضہ کے شوہر نے خون دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس آپریشن کے لئے خون کی جتنی ضرورت ہوتی ہے، مجھے معلوم ہے۔ میرا بھی خون بی پازیٹو ہے۔‘‘سرلا ہنستے ہوئے کہہ رہی تھی۔ لیکن میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اتنی بڑی قربانی۔ جب میں نے گورکی کی کہانی پڑھی تھی۔ تبھی اس کہانی کے کرداروں کی اچھائی اور قربانی نے مجھے حیران کر دیا تھا۔ ایسے بہت معدوم لوگوں کے ہونے کی وجہ ہی، اس سڑی گلی، دھوکے باز دنیا میں ہم رہ رہے ہیں۔ مجھے لگا جیسے سرلا ہی سچے معنوں میں گورکی کا جیتا جاگتا کردار ہے۔

***

 

 

 

 

تحفہ

 

شری ولّی رادھیکا

 

تیلگو کہانی

 

 

ان دنوں بہت خوبصورت تھی میں۔ ادھ کھلی دل جیسی آنکھیں اور ان کی آنکھوں میں سینکڑوں خواب۔ پتہ نہیں، کالی داس دیکھتے تو کیسے بیان کرتے پر کالج کے لڑکے، ’’باپ رے، کیا فگر ہے؟‘‘کہا کرتے تھے۔ اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھا کرتے تھے۔

ان کی باتیں سن کر ظاہری طور پر غصہ دکھاتی، پر اندر اندر خوش ہوا کرتی تھی۔ اپنی تہذیب دکھانے کے لئے سر تو جھکا لیتی، پر شرارت بھری ہنسی کے ساتھ ہونٹوں پر یاقوتی لالی چھا جاتی۔ ہنستے کھیلتے میری تعلیم پوری ہو گئی۔ پوری ہو جانا کیا، میں نے ہی پڑھائی روک دی۔ آگے مزید پڑھنے کا خیال میرے ذہن میں کبھی آیا ہی نہیں۔ تب تو ’’خیال‘‘ نامی لفظ کا مطلب بھی نہیں جانتی تھی میں۔

ہمیشہ کھوئی کھوئی سی گھومتی رہتی تھی۔ کبھی غلطی سے بیٹھ جاتی تو مسلسل باتیں کرتی رہتی۔ رمنی، اندرا، جانکی۔۔۔ ہم سب کالج ایک ساتھ لوٹتی تھیں۔ آرام سے باتیں کرتے ہوئے اس چار فرلانگ کے فاصلے کو ہم لوگ چار گھنٹے میں طے کیا کرتیں تھیں۔ سیدھے گھر پہنچنے کی عادت ہماری تھی ہی نہیں۔ دو گھنٹے جان کی کے گھر میں پھول توڑنے میں، رمنی کے گھر میں جھولا جھولنے میں لگا دیتی تھیں۔ یا سب مل کر مندر چلی جاتیں۔ ہمارے گاؤں کا شیو مندر بہت خوبصورت تھا۔ مندر ایک اونچے ٹیلے پر بنا ہوا تھا۔ اتنی ساری سیڑھیاں آسانی سے چڑھ جاتی تھیں ہم سب۔

کبھی کبھی ہمارے گھر پہنچنے میں رات کے آٹھ بج جاتے تھے۔ سب کے گھر آس پاس میں ہی ہونے کی وجہ سے ہم چاروں ہمیشہ مل کر رہتی تھیں۔ اس وجہ ہمارے گھر کے لوگ بھی کبھی فکر مند نہیں ہوتے تھے۔ رمنی، ستاربہت اچھا بجاتی تھی، جانکی، گانا بہت اچھا گاتی تھی۔ اندرا کے بارے میں تو کہنا ہی کیا۔ وہ تو ہر فن مولا تھی۔ ہم سے باتیں کرتے وقت، مندر میں سب کے ساتھ بیٹھی ہوئی بھی یا تو سویٹر بنتی رہتی یا ٹوکریاں بناتی رہتی، بس کچھ نہ کچھ کرتی ہی رہتی۔ صرف میں ہی ایک اناڑی تھی۔ پر حیرت کی بات ہے، سب لوگ مجھے ہی اہمیت دیا کرتی تھیں۔ اور نہیں تو کیا۔ ہر کسی کو خوبصورتی ہی تو سب سے پہلے دکھائی دیتی ہے۔

بی اے پاس کرنا ہی میرے لیے بہت بڑا کام تھا۔ میرے پاس ہونے کی بات سنتے ہی، ’’ارے وہ تو ہمیشہ سے خوش قسمت رہی ہے۔‘‘ کہتے ہوئے پھوپھی نے اپنی مسرت کا اظہار کی۔ اس کے ایک ہفتے بعد ہی میرے رشتے کی بات چل پڑی اور مجھے دیکھنے کے لیے وہ لوگ آ بھی گئے۔ پتا جی سے پتہ چلا کہ لڑ کا انجینئر ہے، کہانیاں بھی لکھتا ہے۔ ’’لڑکے کو آپکی بیٹی بہت پسند آئی ہے، جذباتی جو ہے۔‘‘ آخری بات بہت ہلکی آواز میں کہی تھی انہوں نے، پھر بھی سب نے سن لی۔ پھوپھی نے دوبارہ میرے گالوں کو مروڑ تے ہوئے کہا، ’’مجھے پتہ ہے رے، بڑی خوش قسمت ہے تو۔‘‘

شادی کے فوراً بعد میں اُن کے ساتھ حیدرآباد چلی آئی۔ کیسی عجیب بات ہے، جس گاؤں میں پلی بڑی، اس گاؤں کو، اپنے دوستوں کو چھوڑ کر آتے ہوئے مجھے ذرا بھی دکھ نہیں ہوا۔ ہاں ماں کو چھوڑتے ہوئے تھوڑا سا رونا ضرور آیا۔ یہاں آنے کے بعد بھی کچھ دنوں تک بغیر کوئی ذمے داری لئے، آزاد پنچھی کی طرح گھومتی رہی۔

اچانک ایک دن۔۔۔ فلمی کہانیوں کی طرح میں چکرا کر گر تو نہیں پڑی، لیڈی ڈاکٹر نے آ کر سنجیدگی سے یہ تو نہیں کہا کہ ’’آپ ماں بننے والی ہیں۔‘‘کچھ ہڑبڑاہٹ کے ساتھ اس بات کو میں خود ہی جان گئی کہ میں ماں بننے والی ہوں۔ یہ بات میں نے ان سے کہہ دی۔ اب تک میں ان کو ٹھیک سے سمجھ نہیں پائی تھی۔ بتانے سے پہلے سوچا کہ سنتے ہی بہت ہنگامہ کر دیں گے۔ لیکن سن کر وہ بہت پرسکون رہے۔ لگا کہ انہوں نے تھوڑا سا مسکرا دیا ہے، بس سمجھ میں آ گیا کہ خوش ہوئے ہیں۔ اس سے زیادہ اور انہوں نے کچھ مزید ظاہر نہیں کیا۔ میرے لئے۔ میرے لئے تو یہ زندگی میں بدلاؤ تھا۔ مجھے لگنے لگا کہ اب تک میری گزاری ہوئی زندگی، زندگی ہی نہیں تھی۔۔۔ اصل میں، حقیقی زندگی کی شروعات تو اب ہو رہی ہے۔

آہستہ آہستہ بڑھتا ہوا پیٹ، پیٹ میں ہلتی ڈُلتی مخلوق، لگ رہا تھا کہ مجھے کوئی نیا سبق پڑھا رہا ہے۔ اور نہیں تو کیا؟ اب تک سینے پر جھولتے ہوئے منگل سوتر کا احساس ہی ٹھیک سے نہیں کر پائی تھی میں۔

اب تک میں کبھی روئی نہیں تھی۔ لیکن اطمینان کسے کہتے ہیں، اسے تو اب جان رہی تھی۔

بہت ڈر لگ رہا تھا۔ نو ماہ کے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے سوچتی تھی، ’’کیا یہ پیٹ کبھی سپاٹ بھی ہو گا۔ کیا میں پہلے کی طرح حسن کی دیوی بن کر چل سکوں گی؟‘‘

وہ ڈر بھی کتنا اطمینان بخش تھا۔

میں چاہتی تھی کہ لڑکی ہو پر ’’سُومنت‘‘ پیدا ہوا۔‘‘سوُمنت‘‘ یہ نام میں نے ہی بتایا تھا۔ ان کو دیکھو تو ایسا لگتا تھا کہ وہ جانتے ہی نہیں کہ بچوں کے کچھ نام بھی ہوتے ہیں۔ بڑے بوڑھے سوچ کر اپنے بچوں کے نام رکھتے ہیں۔ پھر اپنی کہانیوں کے ہیرو، ہیروئنوں کو وہ نام کس طرح دیتے تھے؟ نئے نئے نام کس طرح انہیں سوجھتے تھے؟

کتنی ہی کتابیں پڑھ کر، ان میں ڈھونڈ کر، تلاش کر کے یہ نام رکھا تھا میں نے۔ ان دنوں ’’سوُمنت‘‘ نام میں ایک نیا پن تھا۔ اگر میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار کوئی کام پوری دل جمعی اور ہوشیاری سے کیا ہو تو وہ یہی تھا، نام منتخب کرنے کا۔ کوئی بھی کام بڑے آرام سے کرنے کی عادت تھی میری، اب تک کھا پی کر گھومنے کے سوا کچھ جانتی ہی نہیں تھی۔ پھولوں کو، مناظر کو دیکھ کر ان کی خوبصورتی سے متاثر نہیں ہوتی تھی، ماں بنتے ہی کتنا بدل گئی میں۔ اس کی دودھ کی بوتلوں کو اسٹیرلائز کرنا، نہلانا، پاؤڈر لگانا اور پھر اسے بوسوں کے سمندر میں ڈبو دینا۔ اس کے لیے رنگ برنگے کپڑے خریدنا، گالوں پر نظر بٹو لگانا، شام ہوتے ہی اسے سیر کرانا۔

اسے اسکول میں داخل کرانا، نئی کتابیں خریدنا، ان پر جلد چڑھانا، اوہ! سوچ کر ہی حیرت ہوتی ہے۔ کیا کہیں ان دنوں کو؟ اپنی زندگی کا مقصد کہوں۔ ان دنوں روزانہ، فی گھنٹہ، فی منٹ، میں نے جو کچھ کیا، وہ سب یاد ہے مجھے۔ اس کے پیدا ہونے کے بعد ساری دنیا سے، سارے لوگوں سے میرا تعلق ہی کٹ گیا۔ اس کا بھی یہی حال تھا۔ جب تک گھر میں رہتا، میری انگلی نہیں چھوڑتا۔ میرے پیچھے پیچھے گھومتے ہوئے پتہ نہیں، کیسے کیسے سوال پوچھتا اور میں اس کے ہر سوال کا جواب دیتی۔ ایک بار اسے لے کر میں اپنے میکے چلی گئی۔

’’اماں ہم کہاں جا رہے ہیں؟‘‘

’’گاؤں۔‘‘

’’کون سے گاؤں؟‘‘

’’نانا جی کے گاؤں۔‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’تہوار کے لیے، سنکرانتی تہوار ہے نا! اس لئے۔‘‘

’’پھر کب لوٹیں گے؟‘‘

’’تہوار ہو جانے کے بعد۔‘‘

تہوار کب ہو جائے گا؟‘‘

اس طرح چار گھنٹے مسلسل ہم لوگ باتیں کرتے رہے۔ بس سے اترنے کے لیے جیسے ہی سر اٹھا کر دیکھا، تو کیا دیکھا کہ بس میں بیٹھے تمام مسافر ہماری ہی طرف دیکھ رہے تھے، مسکراتے ہوئے۔ اب ان باتوں کو سوچتی ہوں تو شرم آتی ہے۔ لیکن اس وقت ’’میرا بیٹا ہی میرا سرمایہ ہے‘‘ کے تفاخر کے ساتھ بس سے اتری تھی۔

مجھے لگتا تھا کہ اس سوال کا جواب نہ دینے پر وہ ناراض ہو جائے گا۔ بچوں کے جذبات پر، ان کی فیلنگس پر کوئی تقریر سن کر مجھے ڈر لگتا تھا۔ سوچتی تھی۔ ’’کیا میں اس کی پرورش مناسب طریقے سے کر رہی ہوں؟‘‘جب وہ بہت چھوٹا تھا تب اس نے ایک سوال کیا تھا۔ ’’اماں چاند رات میں ہی کیوں آتا ہے؟‘‘کیا جواب دیتی؟ ، نہ میں نے کسی ادب کا مطالعہ کیا تھا اور نہ ہی بڑی ذہین ہی تھی۔

’’چاند کو رات بہت پیاری لگتی ہے۔ اسے بہت پسند ہے، اس لئے۔‘‘ کچھ سوچ کر بتایا تھا میں نے۔ اس وقت میری عقل کے مطابق یہی ٹھیک جواب تھا۔ لیکن اس کے بعد کئی بار میں نے سوچا۔ کتنا ناقص جواب دیا تھا میں نے۔ وہیں اگر کوئی بہترین اور ذہین ماں ہوتی تو شاید اور بھی اچھے جوابات دیتی۔ ابھی سے یہ حال ہے، جیسے جیسے بڑا ہوتا جائے گا تو اس کے شکوک کس طرح کے ہوں گے اور سوال کیسے کیسے پوچھے گا؟ ان کے میں کیا جواب دوں گی؟ یہ سوچ کر میں ڈر جاتی تھی۔ لیکن اس کے پچیس سال پورے ہونے تک ہمارا رشتہ ایسے ہی بنا رہا۔ اب تو اس کا ایک بیٹا بھی ہے۔ ’’ ہیمنت‘‘

دیکھو، اب اتنے سالوں کے بعد بیٹا بہو، مجھ سے ایسا برتاؤ کرتے ہیں، جیسے ان کو میری ضرورت ہی نہیں ہے۔ وہ تو مجھے اناڑی سمجھتے ہیں۔ ان کے اس رویے سے مجھے بڑا دکھ پہنچتا ہے۔ ’’پاگل‘‘، ’’بدھو‘‘ ان کا تکیہ کلام ہے میرے لئے۔ ٹھیک ہی ہے، ان کے اور میرے سوچنے کے طریقے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ وہ تو ان پچیس تیس سالوں میں گرہستی کی ہر چھوٹی بڑی ذمہ داریوں کو میرے کندھوں پر ڈال کر مطمئن ہو گئے۔ خود، مختلف کتابوں کا مطالعہ کر کے اپنی قابلیت میں اضافہ کرتے رہے اور میں، سوُمنت، ان کا گھر، اُن کے تقاضے، انہی کو اپنا سب کچھ مان کر جیتی رہی۔

اسی وجہ سے مجھے ان ’’پاگل‘‘، ’’بدھو‘‘ سننا کبھی برا نہیں لگا، لیکن سُومنت کی کا نظر انداز کرنا مجھے عذاب پہنچا رہا تھا۔ دفتر میں اس کے ایک سے بڑھ کر ایک دوست، گھر میں قابل والد، ہر کام کیلئے بیوی، اب ماں سے کیا کام اسے؟ ہر کسی سے چڑ سی ہونے لگی تھی مجھے۔ انسانوں سے ہی نہیں، بھگوان سے بھی۔ کہتے ہیں اپنی ذمے داریوں کو صحیح طریقے سے پورا کرنے سے بھگوان راضی ہوتے ہیں۔ میں نے اپنی ذمے داریاں ہمیشہ صحیح طریقے سے نبھائیں ہیں۔ پھر بھی اس بڑھاپے میں انہوں نے مجھے دیا ہی کیا؟ نفرت اور تنہائی۔

زندگی بھر کتابیں پڑھنے میں ہی وقت خرچ کرنے کی وجہ سے، اچھی کتابوں کو لکھنے کی وجہ سے، میرے شوہر کو دنیا نے نوازا ’’دانشور‘‘ کے نام سے۔ میں نے بھی تو زندگی بھر ایک اولاد کو اپنی تمام تر محبت فراہم کر کے دنیا کو ایک سائنس دان دیا ہے۔ میری کیا پہچان ہے۔ کم از کم میرے بیٹے کی جانب سے۔ بیٹا، بہو، پوتا سبھی لوگ ٹی وی دیکھتے رہتے ہیں اور وہ کتابیں پڑھتے رہتے ہیں۔ اب میرا کام اکیلے بیٹھ کر ان دیوتاؤں کی مورتیوں کو دیکھنا اور ان سے سوال کرنا۔ ’’اے بھگوان، مجھے ایسا تنہا کیوں بنا دیا؟‘‘یہی میرا معمول ہے۔ باقی بچی زندگی میں کیا جانے والا ایک ٹائم ٹیبل۔ واقعی اس بھگوان سے بھی میں کیوں بات کرتی ہوں؟

ایک لڑکی خواب دیکھنے کے علاوہ، دیگر تمام باتوں سے بے خبر ہونے والی، ماں بن کر، اپنے آپ کو بھول کر، ممتا کے علاوہ اپنے سارے وجود کو بھول کر، ماں بن کر خدمت کرنے کے سوا، جیسے اس کی کوئی ذاتی زندگی ہی نہیں، ایسے ساری زندگی گزار کر اپنی، اس تپسیا کے بدلے بھگوان سے کیا تحفہ موصول ہوا اسے؟ تنہائی، شدید تنہائی

میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ آنکھوں کے سامنے بال گوپال کی مورتی دھندلی سی دکھائی دے رہی تھی اور اس کے ہونٹوں پر شرارت بھری مسکراہٹ تھی۔ تبھی ہال میں سے کوئی آواز سنائی دی۔ پتہ نہیں کیوں ہیمنت مسلسل روئے جا رہا تھا۔ اس کے رونے کے ساتھ ساتھ نہ جانے کیوں سوُمنت بھی کسی بات کو لے کر چیخ رہا تھا۔ میرے اٹھنے سے پہلے ہی ہیمنت دوڑتا ہوا میرے پاس آ گیا۔ اس کے پیچھے پیچھے میرے شوہر، سُومنت اور بہو بھی۔

’’کیا ہوا؟‘‘میں نے پوچھا۔

’’بیوقوف ’’ جھنجھلا کر کہا سُومنت نے، ’’چاند رات میں ہی کیوں آتا ہے؟ ۔ یہ اس کا سوال ہے۔ کیا بتاؤں اسے؟ ۔ تجھے معلوم نہیں۔ کہنے پر چیخ چیخ کر رو رہا ہے۔‘‘

میرے شوہر نے کچھ کہنا چاہا، ’’چاند رات کے وقت اس لئے آتا ہے۔ کیوں کہ جب زمین گھومتی ہے۔۔ تب۔۔۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ بغلیں جھانکنے لگے۔

ہیمنت نے سب کی طرف مایوس ہو کر دیکھا اور میری گود میں بیٹھتے ہوئے کہا، ’’دادی ماں، آپ کو بتا ہے؟‘‘

میں نے اسے اپنے پاس کھینچ کر بٹھاتے ہوئے کہا۔ ’’کیونکہ چاند کو رات بہت پسند ہے۔ اس لئے۔‘‘

میرا جواب سن کر اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔

’’سچ!‘‘ اس نے کہا۔

سب کے چہروں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ مجھے پتہ تھا کہ یہ میرا مذاق ہے۔ میرے الٹے سیدھے جواب کو سن کر سب لوگ ہنستے ہوئے چلے گئے۔ مجھ سے لپٹتے ہوئے ہیمنت نے کہا، ’’دادی ماں، ان سب کو، کسی کو، کچھ بھی نہیں معلوم۔ ان سے میں کبھی بات نہیں کروں گا۔‘‘

تب اچانک میری سمجھ میں آ گیا کہ بھگوان نے مجھے کیا تحفہ دیا ہے۔

***

 

 

 

 

ٹیڈی بیئر

 

وَرلوٹی رنگاسوامی

 

تامل کہانی

 

 

’’پاپا، یہ گلابی والا ٹیڈی بیئر اچھا ہے نا، لے لو دو نا پاپا۔‘‘سِندھو نے ضد کی۔

’’نہیں بیٹی، تجھے اس سے بھی بڑا والا لے دوں گا، ٹھیک ہے؟‘‘

’’نہیں، مجھے بڑے کھلونوں سے ڈر لگتا ہے۔ مجھے یہی چاہئے۔‘‘

اس ٹیڈی بیئر کا دام ہے سات سو پچانوے روپے۔

اخباروں میں تصویریں بنا کر زندگی بسر کرنے والے، مجھ جیسے پریس آرٹسٹ کیلئے یہ ایک بڑی رقم ہے۔ نہ۔۔۔ نہ۔۔۔ ہم غریب نہیں۔۔۔ بھوکے نہیں رہتے۔ چھوٹی موٹی ضرورتیں آسانی سے پوری ہوتی ہیں۔ ان سب کا تو کوئی مسئلہ نہیں، بس اس طرح کی باقی چیزیں۔۔۔

میرے کولیگ کی شادی ہے۔ کوئی تحفہ خریدنے کیلئے، یہاں اس دوکان پر آیا ہوں۔ لیکن اپنے ساتھ سِندھو کو لے کر آنا، میری بھول ہے۔ وہ تو اب بھی اس ٹیڈی بیئر کو لینے کی امید میں، اس کو ہاتھ میں پکڑے ہوئی ہے۔ پر میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ سِندھو کے ساتھ ایمانداری سے رہنا ہی بہتر ہے۔

’’بیٹی، دیکھو اس کے دام، سات سو پچانوے روپے۔ مطلب تقریباً آٹھ سو روپے۔ پاپا کے پرس میں دیکھو کتنے پیسے ہیں، صرف ساٹھ روپے۔ تو ہم اسے ابھی نہیں خرید سکیں گے۔ لیکن میں تمہاری سالگرہ تک ضرور خرید دوں گا، اگلے مہینے ہی تو ہے سالگرہ۔ ٹھیک ہے نا۔‘‘

’’وعدہ؟‘‘

’’ہاں میں وعدہ کرتا ہوں۔‘‘

اگلے دن شام کو جب میں دفتر سے لوٹا، سِندھو آ کر مجھ سے لپٹ گی اور بولی۔ ’’پاپا اب تو ۲۹ دن ہی باقی ہیں۔‘‘

’’کس میں بیٹی؟‘‘

’’میری سالگرہ میں۔ گلابی والا ٹیڈی بیئر خرید کر اپنے گھر لانے میں۔‘‘

ہر شام جب میں گھر واپس لوٹتا، سِندھو باقی بچے دنوں کی تعداد یاد دلا دیتی۔

میں نے فیصلہ کیا کہ سِندھو کی سالگرہ تک میں اسے ٹیڈی بیئر خرید دوں گا۔ لیکن کیسے؟

ہر ماہ مجھے کچھ نہ کچھ اضافی کام ملتا ہے۔ کوئی اسپیشل ایڈیشن یا کلر سپلیمنٹ یا کم از کم کلینڈر یا پوسٹر کیلئے آرٹ ورک تو مل ہی جاتا ہے۔ جس سے کچھ اضافی آمدنی حاصل ہو جاتی ہے، اس سے ہمارے گھر میں چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا جیسے کسی کیلئے نئے کپڑے، نہیں تو گھر والوں کے ساتھ سینما یا پکنک جانے کا خرچ نکلتا ہے۔ اگر ایسا کوئی کام مل جائے، تو اس کمائی سے میں اس بار ٹیڈی بیئر خریدوں گا، لیکن اس مہینے ایسا موقع دکھائی نہیں دیتا۔

سِندھو کی سالگرہ والے دن، میں صبح بہت اداس دل سے بیدار ہوا۔ ٹیڈی بیئر خریدنے کیلئے پیسے نہیں ہیں۔ کسی نہ کسی طرح کمانے ہیں۔ بغیر ناشتا کرے، جلدی سے گھر سے نکلنا چاہتا ہوں۔ سِندھو سو رہی ہے۔ خاموشی سے کمرے سے باہر آنے لگا، تو سِندھو نے کمبل سے سر نکالا اور بولی۔ ’’پاپا، مجھے مبارک باد دینا بھول گئے۔‘‘

’’میری پری رانی کو سالگرہ مبارک۔‘‘

بھرائے ہوئے لہجے میں بولتے ہوئے میں نے اس کی پیشانی کو چوم لیا، لیکن آنسوؤں کو نیچے نہیں گرنے دیا۔ کمرے سے باہر نکلتے ہوئے، سِندھو نے مجھے ایک بار پھر یاد دلایا۔

’’پاپا، آج آپ ٹیڈی بیئر لائیں گے نا۔ میں آپ کا انتظار کروں گی۔‘‘

میں خاموشی سے دفتر چلا گیا۔

شام ہونے لگی۔ اچانک خیال آیا کہ گھر لوٹتے وقت، مدیر جی سے مل کر اس سے آٹھ سو روپے ادھار مانگ لوں۔ مہینے کے آخر میں تنخواہ میں سے کاٹنے کا کہوں گا۔ اس مہینے کے کچھ اخراجات کم کرنے ہوں گے، پرواہ نہیں۔ یہ سوچ کر میں مدیر جی کے کیبن کی طرف بڑھ گیا۔ انہیں اپنی مجبوریاں بتائی۔ لیکن انہوں نے پیسے دینے کے بجائے ایک تجویز پیش کی۔

’’دیکھو، تم قرضہ مانگ رہے ہو، پر میں تمہیں اضافی کمائی کا راستہ بتاتا ہوں۔ تم ان تین کہانیوں کی تصاویر بنا ڈالو۔ نو سو روپے دوں گا۔ لیکن تصاویر تو آج رات کو ہی پریس میں جانی ہیں۔ مطلب یہ کہ تمہیں ابھی، اسی وقت یہیں بیٹھ کر تصاویر بنانی ہوں گی۔ تمہارے لئے یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ زیادہ سے زیادہ دو گھنٹے لگیں گے۔ تم آٹھ بجے تک، پیسے لے کر گھر جا سکتے ہو اور اپنی بیٹی کی سالگرہ کی پارٹی دھوم دھام سے منا سکتے ہو، سوچ لو۔‘‘

میرے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا۔

سچ پوچھو تو میں کیا کوئی بھی پینٹر، وقت کی حدود میں بندھ کر اچھی تصویریں نہیں بنا سکتا۔ ویسے میں کام پر لگ گیا اور وقت کو، سِندھو کو، اس کی سالگرہ کو، اس کے ٹیڈی بیئر کو بھول گیا۔ جب کام مکمل کر کے، پیسے لے کر باہر نکلا تو گھڑی میں نو بجنے والے تھے۔ تحفہ خریدنے کیلئے تیز تیز قدموں سے دوکان پر پہنچا، لیکن تب تک دوکان بند ہو چکی تھی۔ میں مایوس ہو کر گھر لوٹ آیا۔

برآمدے میں آتے ہی میری بیوی نے شکایتی لہجے میں کہا۔ ’’بیچاری۔ جب بھی دروازے پر آہٹ ہوتی تھی، باہر آ کر آپ کو دیکھتی تھی۔ شام سے کچھ نہیں کھایا اس نے۔ کہتی رہی کہ پاپا آئیں گے، بیئر لائیں گے۔ تب میں، پاپا اور بیئر مل کر ایک ساتھ کھائیں گے۔ ابھی ابھی سوئی ہے۔‘‘

میں افسردہ ہو گیا۔ کھانے کی خواہش بھی ختم ہو گئی۔ اداس دل سے، اعزازی طور پر بھیجے گئے، ایک میگزین کے صفحات کو الٹنے لگا۔ اس میں کسی مقابلہ کے نتائج چھپے تھے۔ وہ اس مقابلے میں فاتحین کو انعام کے طور پر تحفوں کے کوپن دے رہے تھے۔ ان تحفوں کے کوپنوں کو منتخب دوکانوں میں دے کر من پسند اشیاء حاصل کی جا سکتی تھیں۔

جھٹ سے مجھے ایک طریقہ سوجھا۔ ایک چارٹ پیپر لے کر، اس پر گلابی ٹیڈی بیئر کی تصویر بنائی۔ سائز اور رنگ سے وہ بالکل اصلی ٹیڈی بیئر لگتا تھا۔ اس تصویر پر عادت کے مطابق میں نے دستخط بھی کر دیے۔ ایک چاکلیٹ کا باکس، جسے میری بیوی نے خریدا تھا اور اس تصویر کو ساتھ لے کر ہم نے سِندھو کو جگایا۔

’’سِندھو بیٹی اور ایک بار سالگرہ مبارک ہو۔ لو یہ چاکلیٹ باکس اور یہ ٹیڈی بیئر کی تصویر تمہارا تحفہ کوپن۔ کل صبح یہ تحفہ کوپن دکان پر دوں گا تو، وہاں کے انکل تمہیں اصلی ٹیڈی بیئر دیں گے۔‘‘

’’پاپا، یہ ٹیڈی بیئر کی تصویر کیا آپ نے بنائی ہے؟‘‘

’’ہاں بیٹی۔‘‘

میں نے پہلے ہی اپنی منصوبہ بندی اپنی بیوی کو بتا چکا تھا۔ کل کسی وقت سِندھو کو دکان لے جا کر اصلی ٹیڈی بیئر دلوا دینا اور دکاندار کے پاس پہلے ہی پیسے جمع کر دینا تاکہ سِندھو کو لگے کہ اسے ٹیڈی بیئر اس ٹیڈی بیئر کی تصویر یعنی تحفہ کوپن کے بدلے میں ہی مل رہا ہے۔

سندھ میری بنائی گئی اس تصویر کو دیر تک دیکھتی رہی، پھر بولی۔

’’پاپا، یہ تو بالکل وہی دکان والا اصلی ٹیڈی بیئر لگتا ہے۔ تھینکس پاپا، اپنا وعدہ نبھانے کے لیے۔‘‘

اگلے دن دفتر سے آنے کے بعد میں نے ٹیڈی بیئر کے بارے میں بیوی سے پوچھا۔

’’ سِندھو نے اس کا نام تک نہیں لیا۔ پتہ نہیں کیوں۔‘‘ بیوی نے جواب دیا تو میں حیران ہو گیا۔ سوچا کہ مجھے خود سِندھو کو دکان لے جا کر ٹیڈی بیئر دلوا دینا بہتر رہے گا۔

میں نے سِندھو سے پوچھا۔ ’’کیوں بیٹی، آج ہم دکان جا کر اصلی ٹیڈی بیئر کو گھر لے آئیں؟‘‘

سِندھو کچھ دیر تک مجھے دیکھتے ہوئے کچھ سوچتی رہی، پھر کچھ دیرکے بعد بولی۔

’’پاپا اب میں نے اپنا ارادہ بدل دیا ہے۔ جو تصویر آپ نے بنائی تھی نہ، وہ بہت ہی خوبصورت ہے۔ ایسی خوبصورت تصویر میں دوکان والے انکل کو کیوں دوں۔ نہ پاپا، مجھے وہ گلابی ٹیڈی بیئر نہیں چاہئے۔ مجھے یہی تصویر چاہئے۔ دنیا کی کسی بھی قیمتی چیز کے بدلے میں، میں اس تصویر کو نہیں دوں گی۔‘‘

یہ سن کر مجھے اتنی خوشی ہوئی۔ جو شاید مجھے اپنی کسی تصویر کو بین الاقوامی سطح پر پہلا انعام ملنے پر بھی نہیں ہوتی۔ اچانک میرا دل چاہا کہ اس دنیا کے سارے گلابی ٹیڈی بیئر خرید کر اپنی ننھی شہزادی کے پیروں کے پاس رکھ دوں۔

***

 

 

 

منِیا

 

امرتا پریتم

 

پنجابی کہانی

 

 

شام ڈھلنے کو تھی، جب ودیا کے شوہر جے دیو اپنے کام سے واپس آئے اور ودیا نے گھر کا دروازہ کھولتے ہوئے دیکھا کہ ان کے ساتھ ایک عجیب سا آدمی تھا، بہت میلا سا بدن اور گلے میں ایک لمبا سا کرتہ پہنے ہوئے۔

ودیا نے کوئی سوال نہیں کیا، پر کچھ سوال بھری نظروں سے اپنے شوہر کی طرف ضرور دیکھا۔ جے دیو ہلکا سا مسکرا دیئے، پھر ودیا کے بجائے اس آدمی سے کہنے لگے، ’’ یہ بی بی جی ہیں، بہت اچھی ہیں، تم دل لگا کر کام کرو گے تو بہت خوش ہوں گی۔‘‘

گھر کے اندر آتے ہوئے، جے دیو نے برآمدے میں پڑی ہوئی ایک چٹائی کی طرف دیکھا اور اس آدمی سے کہنے لگے، ’’تم یہاں بیٹھو، پھر ہاتھ پیر دھو لینا۔‘‘

اور گھر کے بڑے کمرے کی جانب جاتے ہوئے ودیا سے کہنے لگے، ’’تم چاہتی تھیں کہ کام کے لئے کوئی ایسا آدمی ملے، جو کھانا پکانا بھلے ہی نہ جانتا ہو، مگر ایماندار ہو۔‘‘

ودیا نے کچھ گھبرائی سی آواز میں پوچھا، ’’ اسے کہاں سے پکڑ لائے ہو؟‘‘

’’آہستہ بولو۔‘‘ انہوں نے کمرے کے دیوان پر بیٹھتے ہوئے کہا اور پوچھا، ’’ منو کہاں ہے؟‘‘

’’کھیلنے گیا ہے، اب آتا ہی ہو گا، لیکن یہ آدمی۔۔۔‘‘ ودیا ابھی بول ہی رہی تھی کہ جے دیو کہنے لگے۔ ’’ منو سے ایک بات کہنی ہے، یہ بہت سیدھا آدمی ہے، لیکن ڈرا ہوا ہے، خاص کر بچوں سے ڈرا ہوا ہے۔ ایک میرے دفتر کے شرما جی ہیں، ان کے پاس تھا۔‘‘

’’وہ اس کی محنت اور خلوص کی تعریف کرتے ہیں، لیکن ان کے بچے ان کے بس کی بات نہیں ہیں، ان کے پانچ بچے ہیں، ایک دم شرارتی، اس کا قد ذرا لمبا ہے، وہ اسے شترمرغ کہہ کر پریشان کرتے تھے۔ شرما جی کی بیوی بھی تیز مزاج کی ہیں۔ یہ کئی بار ان کے گھر سے بھاگ جاتا تھا، لیکن کہیں ٹھکانہ نہیں تھا، وہ ایک بار پھر پکڑ کر اسے لے جاتے تھے۔‘‘

’’لیکن یہ کچھ سیکھ بھی پائے گا؟‘‘ ودیا ابھی بول ہی رہی تھی کہ جے دیو کہنے لگے، ’’اوپر کام تو کرے گا، گھر کی صفائی کرے گا، برتن دھوئے گا۔ صرف منو کو اچھی طرح سمجھا دینا کہ وہ اس سے بدسلوکی نہ کرے۔ پھر دیکھیں گے۔ اب ایک کپ چائے دے دو، اس کو بھی چائے وغیرہ کا پوچھ لینا۔‘‘

ودیا کمرے سے واپس ہوئی، پھر اندر کے چھوٹے کمرے میں جا کر ایک قمیض پاجامہ نکال لائی اور ہاتھ میں صابن کا ایک ٹکڑا اور ایک پرانا سا تولیہ لے کر، باہر چٹائی پر بیٹھے ہوئے اس آدمی سے پوچھنے لگی، ’’ تمہارا نام کیا ہے؟‘‘

اس نے جواب نہیں دیا اور ودیا کچھ دیر خاموش رہ کر کہنے لگی، ’’ دیکھو آنگن میں اس دیوار کے پیچھے ایک نل ہے، وہاں جا کر نہا لو، اچھی طرح صابن سے اور یہ کپڑے پہن لو۔‘‘

وہ آدمی سر جھکائے بیٹھا تھا۔ اس نے ایک بار ڈری ڈری سی آنکھوں سے اوپر دیکھا پر اٹھا نہیں اور نہ ہی ودیا کے ہاتھ سے کپڑے لئے۔

اتنے میں جے دیو آ گئے اور بولے، ’’ منِیا اٹھو، جیسے بی بی جی کہہ رہی ہیں، یہ کپڑے لے لو اور وہاں جا کر نہا لو۔‘‘

پاس کھڑی ودیا مسکرا دی، ’’ تمہارا نام تو بہت اچھا ہے، منِیا۔‘‘

منِیا نے آہستہ سے اٹھ کر ودیا کے ہاتھ سے کپڑے بھی لے لئے اور صابن اور تولیہ بھی۔ پھر جہاں ان لوگوں نے اشارہ کیا تھا، وہاں آنگن میں بنی ایک چھوٹی سی دیوار کی طرف چل دیا۔

ودیا نے باورچی خانے میں جا کر چائے بنائی، منِیا کے لئے ایک کپ چائے وہیں باورچی خانے میں ہی رکھ دی اور باقی چائے دو کپوں میں ڈال کر بڑے کمرے میں چلی گئی۔

اور پھر جب منِیا نہا کر قمیض پاجامہ پہن کر باورچی خانے کی طرف آیا۔ تو ودیا نے اسے چائے کا گلاس دیتے ہوئے ایک نظر حیرانی سے اس کی طرف دیکھا اور ہولے سے مسکراتی ہوئی بڑے کمرے میں جا کر جے دیو سے کہنے لگی، ’’ ذرا دیکھو تو اسے، آپ پہچان نہیں سکیں گے۔ وہ اچھی خاصی شکل کا ہے اور بھری جوانی میں ہے۔ میں سمجھی تھی، بڑی عمر کا ہو گا۔‘‘

اور کچھ ہی دنوں بعد ودیا مسرت سے اپنے شوہر سے کہنے لگی، ’’ بالکل کہنا مانتا ہے، کچھ بولتا نہیں، لیکن دن بھر گھر کی صفائی میں لگا رہتا ہے۔ منو سے تھوڑی تھوڑی باتیں کرنے لگا ہے، وہ اسے اپنی کتابوں سے تصاویر دکھاتا ہے، تو یہ خوش ہو اٹھتا ہے، لیکن ایک بات سمجھ میں نہیں آتی، اکیلے میں بیٹھتا ہے، تو اپنے آپ سے کچھ بولتا رہتا ہے، لگتا ہے، تھوڑا سا پاگل ہے۔‘‘

گھر کی دیوار سے لگا ہوا، ایک نیم کا درخت تھا، منِیا جب بھی فارغ ہوتا اس درخت کے نیچے بیٹھ جاتا۔ اس وقت اگر کوئی پاس سے گزرے تو دیکھ سکتا تھا کہ وہ اکیلا بیٹھا آہستہ آہستہ کچھ اس طرح بولتا تھا، جیسے کسی سے بات کر رہا ہو اور وہ بھی کچھ ناراضگی سے۔

ودیا کو اس کا یہ راز پکڑ میں نہیں آ رہا تھا اور ایک دن درخت کے موٹے سے تنے کی اوٹ میں ہو کر ودیا نے سنا، منِیا دکھ اور غصے بھرے لہجے میں جانے کس سے کہہ رہا تھا۔ ’’ سب کام خود کرتی ہیں، ساگ سبزی کس طرح پکانا ہے، مجھے کچھ نہیں سکھاتیں، آٹا بھی نہیں گوندھنے دیتیں۔‘‘ودیا سے رہا نہیں گیا، وہ زور سے ہنس دی اور درخت کی اوٹ سے باہر آ کر کہنے لگی، ’’ منِیا تم کھانا پکانا سیکھو گے؟ آؤ میرے ساتھ۔ توُ نے مجھ کیوں نہیں کہا، یہ میری شکایت کس سے کر رہا تھا؟‘‘

منِیاشرمندہ سا، نیم سے جھڑتی ہوئی پتیاں بُہارنے لگا۔

منِیا اب ساگ سبزی بھی کاٹنے اورپکانے لگا تھا اور بازار سے خرید کر بھی لانے لگا تھا۔ ایک دن بازار سے بھنڈی لانی تھی، منِیا بازار گیا تو قریب ایک گھنٹے تک واپس نہیں۔ آیا تو اس کے تھیلے میں بہت چھوٹی چھوٹی اور تازی بھنڈیاں تھیں، لیکن اس کا سانس ایسے پھول رہا تھا، جیسے کہیں سے بھاگتا ہوا آیا ہو۔ آتے ہی کہنے لگا، ’’ دیکھو جی، کتنی اچھی بھنڈی لایا ہوں، پاس والے بازار سے نہیں بلکہ اُس دوسرے بڑے بازار سے لایا ہوں۔‘‘

ودیا نے بھنڈی دھو کر چھلنی میں ڈال دیں، پانی خشک کرنے کے لئے اور کہنے لگی، ’’ بھنڈیاں توا چھی ہیں، کیا اس بازار میں نہیں تھیں؟‘‘

منِیا کہنے لگا، ’’ اس بازار میں جہاں آپ لوگ سبزی لیتے ہیں، وہ آدمی بہت خراب ہے، اس کے پاس پکی ہوئی اور باسی بھنڈیاں تھیں۔ وہ کہتا تھا کہ میں وہیں سے لے جاؤں اور ساتھ مجھے زہر بھی دے دیتا تھا۔‘‘

’’زہر؟‘‘ ودیا چونک گئی اور منِیا کی جانب ایسے دیکھنے لگی، جیسے وہ آج بالکل پگلا گیا ہو پوچھا، ’’ وہ تم کو زہر کیوں دینے لگا؟‘‘

منِیا تیزی سے بول اٹھا، ’’ اس لئے کہ میں اس کی سڑی ہوئی بھنڈی خرید لوں۔ کہتا تھا کہ میں جو سبزی دیتا ہوں، تم خاموشی سے لے لیا کرو، میں روز کے تمہیں بیس پیسے دوں گا۔ اس طرح کے پیسے زہر ہوتے ہیں نا۔‘‘

ودیا منِیا کی جانب دیکھتی رہ گئی، پھر ہلکے سے مسکرا کر پوچھنے لگی، ’’ یہ تم کو کس نے بتایا تھا کہ اس طرح کے پیسے زہر ہوتے ہیں؟‘‘

منِیا آج بہت خوش تھا، بتانے لگا، ’’ ماں نے کہا تھا۔ جب میں چھوٹا تھا، کسی نے مجھے کسی دوسرے کے باغ سے آم توڑ کر لانے کو کہا تھا اور میں توڑ لایا تھا۔ اس آدمی نے مجھے پچاس پیسے دیے تھے اور جب میں نے ماں کو دیے تو وہ کہنے لگیں، یہ زہر تُو نہیں کھائے گا۔ جاؤ اس آدمی کے پیسے اسی کو دے کے آؤ اور پھر سے کسی کے کہنے پر تو چوری نہیں کرے گا۔‘‘

اور ودیا خاموشی سے اس کی طرف دیکھتی رہ گئی تھی۔ اس دن اس نے منِیاسے پوچھا، ’’ اب تمہاری ماں کہاں ہے؟ تم اسے گاؤں میں چھوڑ کر شہر میں کیوں آئے ہو؟‘‘

منِیاماں کے نام سے بہت دیر تک خاموش رہا، پھر کہنے لگا، ’’ماں نہیں ہے، مر گئی، میرے گاؤں میں اب کوئی بھی نہیں ہے۔‘‘

دن گزرتے گئے اور ودیا کو لگنے لگا، جیسے منِیا کو اب اس گھر سے لگاؤ ہو گیا ہے۔ خاص طور سے منو سے، جو اسے پاس بٹھا کر کئی بار کہانیاں سناتا ہے اور ایک دن جب منو نے کسی بات کی ضد میں آ کر روٹی نہیں کھائی تھی، تو ودیا نے دیکھا کہ منِیا نے بھی روٹی نہیں کھائی تھی۔۔۔

ایک شام ودیا نے اپنی الماری کھول کر سبز ریشمی سوٹ نکالا، جو اسے کل صبح کہیں جانے کے لئے پہننا تھا۔ دیکھا کہ قمیض پر کتنی ہی سلوٹیں پڑی تھیں۔ اس نے منِیا کو کہا، ’’ جاؤ ابھی یہ قمیض پریس کروا کے لے آؤ، بندیا سے کہنا ابھی چاہئے۔‘‘

منِیا گیا پر الٹے پاؤں لوٹ آیا اور قمیض پلنگ پر رکھ د ی۔

ودیا نے پوچھا، ’’ کیا ہوا، بندیا نے قمیض پریس کیوں نہیں کی؟‘‘

’’وہ نہیں کرتی۔‘‘ منِیا نے بس اتنا کہا اور باورچی خانے میں جا کر برتن دھونے لگا۔ ودیا نے پھر آواز دی، ’’ منِیا کیا ہوا، وہ کیوں نہیں کرتی؟ جاؤ اسے بلا کر لاؤ۔‘‘

منِیا اسی طرح برتن دھوتا رہا پر گیا نہیں، تو ودیا نے پھر سے کہا۔ جواب میں منِیا کہنے لگا، ’’ صاحب آتے ہی ہوں گے، ابھی مجھے آٹا گوندھنا ہے، ابھی دال بھی پکی نہیں اور اب چاول چننے ہیں اور منو صاحب نے کچھ میٹھا پکانے کو کہا تھا۔۔۔ اب۔۔۔۔‘‘

ودیا حیران تھی کہ آج منِیا کو کیا ہو گیا۔ اس نے آج تک کسی کام میں ٹال مٹول نہیں تھی۔ ودیا نے کچھ اونچی آواز میں کہا، ’’ میں دیکھ لیتی ہوں باورچی خانے میں، تم جاؤ اور بندیا کو ابھی بلا کر لاؤ۔‘‘

منِیا برتن وہیں چھوڑ کر گیا، لیکن فوراً الٹے پاؤں لوٹ آیا اور کہنے لگا، ’’ وہ نہیں آتی۔‘‘ اور پھر خاموشی سے برتن دھونے لگا۔

ودیا کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ نجانے کیا ہوا ہے، بندیا ایسی تو نہیں تھی۔

اتنے میں دروازے کی جانب سے بندیا کی پازیب کی آواز سنائی دی اور وہ ہنستی ہوئی آ کر کہنے لگی، ’’ آپ مجھے قمیض دیجئے، میں ابھی پریس کئے دیتی ہوں۔‘‘

’’پر ہوا کیا ہے؟‘‘ودیا نے پوچھا تو بندیا ہنسنے لگی، ’’منِیاسے پوچھو۔‘‘

’’وہ تو کچھ بتاتا نہیں۔‘‘ ودیا نے کہا اور اندر جا کر قمیض لے آئی۔ اس نے پھر منِیا کی طرف دیکھا اور پوچھا، ’’ بولو منِیا، کیا بات ہوئی تھی؟ تُو تو کہتا تھا، وہ پریس نہیں کرتی اور دیکھو وہ خود لینے آئی ہے۔‘‘

منِیا نے نہ ادھر دیکھا اور نہ کوئی جواب دیا۔ بندیا ہنستی رہی اور پھر کہنے لگی، ’’ بات کچھ نہیں تھی، یہ جب بھی آپکے کپڑے لے کر آتا تھا، میں اسے مذاق سے کہتی تھی، دیکھو اتنے کپڑے پڑے ہیں، پہلے یہ پریس کروں گی اور پھر تمہارے کپڑے، اگر اب کروانے ہیں تو ناچ کر دکھاؤ۔ اور یہ ہنستا بھی تھا، ناچتا بھی تھا اور میں سارا کام چھوڑ کر، آپ کے کپڑے پریس کرنے لگتی تھی۔ آج پتہ نہیں کیا ہوا، میں نے اسے ناچنے کو کہا، تو یہ وہاں سے بھاگ آیا۔ میں نے مذاق میں کہا تھا، اب میں قمیض پریس نہیں کروں گی۔‘‘

ودیا خاموشی سنتی رہی، پھر کہنے لگی، ’’ اور کیا بات ہوئی تھی؟‘‘

بندیا ہنستے ہنستے کہنے لگی، ’’اور تو کوئی بات نہیں ہوئی، آج تو اسے میری ماں نے ایک لڈو بھی دیا تھا کھانے کو، لیکن یہ لڈو بھی وہیں چھوڑ آیا۔‘‘

’’تم کا ہے کا لڈو اسے کھلا رہی تھیں؟‘‘ ودیا نے مسکرا پوچھا تو بندیا کچھ شرماتے ہوئے کہنے لگی، ’’ میری سگائی ہوئی ہے، ماں نے اسے وہی لڈو دیا تھا۔‘‘

بندیا یہ کہہ کر چلی گئی، قمیض پریس کر کے لائی اور جا تے ہوئے منِیا کو کہتی گئی، ’’ ارے تُو آج کس بات پر روٹھ گیا۔‘‘

پر منِیا نے اس کی طرف دیکھا ہی نہیں بس خاموش سے دوسری طرف دیکھتا رہا۔ رات ہوئی، سب نے کھانا کھایا، منو نے روز کی طرح منِیا کو بلا کر کچھ تصویریں دکھائیں۔ پر منِیاسب کی طرف کچھ اس طرح دیکھتا رہا، جیسے وہ کہیں بہت دور کھڑا ہو اور دور سے کسی کو پہچان نہ پا رہا ہو۔

صبح کی چائے منِیا ہی سب کو کمروں میں دیتا تھا۔ سورج نکلنے سے پہلے، لیکن جب سورج کی کرنیں کھڑکی سے ہوتی ہوئیں، ودیا کی چارپائی تک آ گئیں، اس وقت بھی منِیا کی آواز کہیں سے نہیں آ رہی تھی۔

ودیا جلدی سے اٹھی، باورچی خانے میں گئی، پر منِیا وہاں نہیں تھا۔ جے دیو بھی اٹھے، دیکھا، کچھ پریشان ہوئے، پر ودیا نے کہا، ’’ آپ گھبرائیے نہیں، میں باہر نیم کے درخت کے نیچے دیکھتی ہوں، وہ ضرور وہیں ہو گا۔‘‘اور جس طرح ایک بار پہلے ودیا نے آہستہ سے جا کر درخت کے تنے کی اوٹ میں ہو کر منِیا کو دیکھا اور سنا تھا، اسی طرح وہ وہاں گئی تو منِیا سچ مچ وہیں تھا، اپنے آپ میں کھویا ہوا سا، کہیں اپنے آپ سے بہت دور اور کانپتے سے لبوں سے بولے جا رہا تھا۔ ’

’ جاؤ تم بھی جاؤ، تم بھی السی ہو۔۔۔ تم وہی ہو، السی۔۔۔ جاؤ۔۔۔ جاؤ۔۔۔۔‘‘

ودیا نے منِیا کے قریب جا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا اور آہستہ سے کچھ اس طرح بولی، جیسے نیم کے درخت سے نیم کی پتیاں جھڑ رہی ہوں، ’’ السی کون تھی؟ وہ کہاں چلی گئی؟‘‘

منِیا کی آنکھیں کچھ اتنی دور، اتنی دور دیکھ رہی تھیں کہ پاس کون کھڑا ہے، اسے پتہ بھی نہیں چل رہا تھا۔ پر ایک آواز تھی، جو بار بار اس کے کانوں سے ٹکراتی رہی تھی۔

’’ کون تھی السی؟‘‘

منِیا اپنے آپ میں کھو یا ہواسا بولنے لگا، ’’ وہ میرے ساتھ کھیلتی تھی۔ ہم دونوں جنگل میں کھیلتے تھے، وہ کہتی تھی کہ دریا کے پار جاؤ اور اس پار کی بیری کے بیر توڑ لاؤ۔ میں دریا میں تیرتا ہوا جاتا تھا اور دوسرے کنارے پر سے بیر لاتا تھا۔‘‘

’’وہ کہاں چلی گئی؟‘‘ودیا کی آواز ہوا کے جھونکے کی طرح اس کے کانوں میں پڑی تو وہ کہنے لگا۔

’’ السی کا بیاہ ہو گیا اور وہ چلی گئی۔‘‘

ودیا نے منِیا کے کندھے کو جھنجھوڑا اور کہا، ’’ چلو اٹھو۔‘‘ منِیا نے ایک بار ودیا کی طرف دیکھا پر کہا کچھ نہیں۔ اسی طرح پھر خلا میں دیکھنے لگا۔

ودیا نے پھر ایک بار پوچھا، ’’ السی نے جاتے وقت تم کو کچھ نہیں کہا تھا؟‘‘

منِیا اپنے بدن پر بکھرتی نیم کی پتیوں کو، مٹھی میں بھرتے ہوئے کہنے لگا، ’’ آئی تھی، بیاہ کے لڈو دینے کے لئے۔‘‘ منِیا مٹھی کھول کر نیم کی پتیوں کو زمین پر بکھیرتا ہوا کہنے لگا، ’’ مجھے لڈو کھلاتی ہے۔‘‘

ودیا نے اس کے سر پر سے نیم کی پتیاں جھاڑتے ہوئے، کچھ زور سے کہا، ’’ اب اٹھو اور چلو، چائے بناؤ۔‘‘

منِیا فرمانبرداری سے اٹھ کھڑا ہوا اور گھر میں آ کر چائے بنانے لگا۔

وہ چھٹی کا دن تھا، ودیا اور جے دیو کو آج کہیں جانا تھا، اس لئے چائے پی کر منو کو گھر میں چھوڑ کر چلے گئے۔

دوپہر ڈھلنے لگی تھی، جب وہ دونوں واپس آئے، تو گھر میں منو تھا، پر منِیا نہیں تھا۔ منو نے بتایا کہ اسے کھلایا تھا، پھر کہیں چلا گیا اور ابھی تک آیا نہیں ہے۔

جے دیو اس کی تلاش میں گھر سے نکلنے لگے، تو ودیا نے کہا، ’’ وہ آپ کو نہیں ملے گا، وہ آج دوسری بار اپنا گاؤں چھوڑ کر چلا گیا ہے۔‘‘

جے دیو نے ودیا کی طرف دیکھا اور پوچھا، ’’ پر کیوں؟‘‘

ودیا کچھ دیر خاموش رہی، پھر کہنے لگی، ’’ اب ایک اور السی کا بیاہ ہونے والا ہے۔‘‘

***

 

 

 

 

کھوئی ہوئی خوشبو

 

افضل احسن رندھاوا

 

پنجابی کہانی

 

 

میں کون سی کہانی لکھوں؟

جب بھی میں کہانی لکھنے کا سوچتا ہوں۔ کتنی ہی کہانیاں مجھے چاروں طرف سے گھیر لیتی ہیں۔ کسی کہانی کے ہاتھ سخت محنت سے کھردرے ہو گئے ہیں، کسی کہانی کے بال مٹی میں مل کر مٹی ہو گئے ہیں۔ کسی کہانی کے سر پر چادر نہیں۔ کسی کہانی کا مکھن سا بدن بھنبھوڑنے کی وجہ سے چھلنی ہو گیا ہے۔ کسی کہانی کے خوبصورت چہرے پر بارود کی بدبو اور خون کے داغ ہیں۔ کسی کہانی کا بازو کٹ گیا ہے۔ تو کسی کی ٹانگ نہیں۔ کسی کی آنکھیں نکل گئی ہیں۔ کسی کا گوشت نیپام بم کی آگ سے جھلس گیا ہے۔

چاروں طرف دیکھتا ہوں۔ میری کوئی بھی کہانی مکمل نہیں ہے۔ کسی کی بھی خوبصورتی برقرار نہیں رہی ہے۔ کسی کا لباس بھی پورا جسم ڈھانکنے کے قابل نہیں۔ سبھی بدصورتی کے گہرے سائے میں ڈھکی ہوئی ہیں۔ پر بدصورتی بھی تو حسن ہے۔ اور شاعر، ادیب، ازل سے حسن بانٹتے اور حسن کی تعریف کرتے آئے ہیں۔ تو میں کیوں بدصورتی کو حسن کی جھوٹی چادر میں لپیٹ کر لوگوں دکھاتا رہوں۔ چادر اتار کر کیوں نہیں دکھاتا؟ لیکن اس کی بھی کیا ضرورت ہے؟ میری تمام کہانیوں کی پیدائش مٹی سے ہوئی ہے۔ اور ان کے پاؤں بھی مٹی پر ہی ہیں۔ ان کی بدصورتی میں بھی مٹی کا درد ہے اور یہی درد انہیں بدصورت بنا دیتا ہے۔ پر اب میں بدصورت لفظ نہیں لکھوں گا۔ کیونکہ مٹی کا پیدا، مٹی کا غم، مٹی سے ربط کبھی بھی بدصورت نہیں ہوتا، بلکہ خوبصورت ہوتا ہے۔ مٹی تو انسان کی پیدائش سے پہلے بھی ایسی ہی تھی، بلکہ انسان نے مٹی سے پیدا ہو کر، اسے دکھ، درد اور بدصورتی دی ہے۔ انسان کی صورت دیکھے بغیر، مٹی نے اسے ہمیشہ آسرا دیا ہے اور دیتی رہے گی۔

انسان، مٹی اور آسرا۔

پر انسان سے مٹی کا آسرا چھیننے والا کون ہے؟

مجھ سے میری پگڑی اور میرے جوتے کس نے چھینے، جو میں اپنی فصل بیچ کر لایا تھا؟ فصل، جسے میں نے اپنا پسینہ بہا کر، اسے مٹی میں ملا کر، مٹی سے پیدا کیا تھا۔ کسی مشین نے نچوڑ لیا میرے اندر کا سارا خون، جس کی طاقت پر میں اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ بھرنے کے منصوبے بنائے ہوئے تھا۔

میرا پیٹ خالی کیوں ہے اور اپنا سارا خون مشین کو دے دینے کے بعد بھی میرے بچے بھوکے کیوں ہیں؟

میری مٹی پر لکیریں کس نے کھینچ دیں اور کیوں؟

جمیلہ کے حسن کو الجیریا کے کن کارناموں نے گہنا دیا؟

ویت نام کے ہرے بھرے جنگلات اور چھوٹے چھوٹے مکانوں کو کس نے راکھ کا ڈھیر بنا دیا؟

صحارہ ریگستان میں کیوں اور کس نے خون بہا کر ریت کو بدصورت کر دیا؟

یورپیوں نے نفرت سے کالوں کو گڑ کا بھائی سمجھ کیوں گڑ میں ہی پھینک دیا؟

انسان اگر پیدائشی آزاد ہے تو پھر اسے غلام بنانے کے لئے سائنس نے اتنی ایجاد یں کیوں کی ہیں؟

مٹی اگر مقدس ہے تو پھر اس کے سینے کو روز زخمی کر کے، اس کا خون بہا کر، اس کا جسم کو کیوں چھلنی کیا جاتا ہے؟

رب اگر آسرا ہے، تو پھر انسان سے اس کا آسرا کیوں چھینا جاتا ہے؟

رب، مٹی، انسان اور آسرا ملا کر اگر ایک مربع بنتا ہے، تو وہ کون سا ہاتھ ہے، جو اس کی لکیروں کو پونچھ کر اس کو مٹانے کی کوشش کرتا ہے؟

ناجی آکسفورڈ کے لہجے میں انگریزی بولتی ہے اور میرے منہ سے پنجابی زبان سن کر میری طرف اپنی موٹی شربتی آنکھوں سے سوالیہ انداز سے دیکھتی ہے۔

رب ورگا آسرا تیرا، وسدا رہوُ مترا

تو اسے کیا جواب دوں؟ کہتا ہوں رب کے پاس تو اور بہت سے کام ہیں، دنیا بہت بڑی ہو گئی ہے۔ مسائل بڑھ گئے ہیں۔ وہ خالی نہیں اور آسرا؟ آسرا کس کا اور کیسا، جب آسروں کی تعداد سے ان لوگوں کی گنتی ہزار گنا زیادہ ہے، جو آسرا چھین لیتے ہیں۔

چچا ٹہل سنگھ ٹھیک کہا کرتا تھا، ’’بیٹا ہم سب ہی کہانیاں ہیں۔ پر ہمیں لکھنے والا کوئی نہیں۔‘‘

ہاں چاچا، ٹہل سنگھ تم ٹھیک کہتے تھے۔ ابھی کل کی بات ہے، جب تم یہاں، اس مٹی کے بیٹے کے روپ میں، اس مٹی سے پیدا ہوئے سونے سے موج کرتے تھے۔ یہ مٹی تمہیں لاڈلے بیٹوں کی طرح محبت کرتی تھی۔ ہوا سے بھی تیز دوڑنے والی تیری گھوڑیوں کی دھوم پورے علاقے میں تھی۔ تمہارے خوبصورت مویشی، لوگ دور دور سے دیکھنے آتے تھے۔ تمہاری بھینسوں کے جوڑ کی بھینسیں سارے پنجاب میں کسی کے پاس نہیں تھیں۔ تمہارے دالان، رنگین چارپائیوں سے اور پیٹیاں، رنگ برنگی پھولدار چادروں، رضائیوں اورکھیسوں سے بھری ہوئی تھیں۔ تمہارے دروازے سے کوئی بھی ضرورتمند خالی ہاتھ نہیں جاتا تھا۔ ایک بڑے سردار ہو کر بھی تم اپنے نوکروں کو بیٹوں کی مانند رکھتے تھے۔ گاؤں کی بہن بیٹیوں کو اپنی بہن بیٹیاں سمجھتے تھے۔ ہر کے دکھ درد میں تم شریک تھے۔

بھینی صاحب والے گردوارے والے درخت کے نیچے اپنی سنگت کے ساتھ بیٹھے تھے۔ تمہاری حویلی میں سینکڑوں مہمانوں کے لئے کھانا بن رہا تھا۔ ناسمجھ لڑکے چھپ چھپ کر بولیاں بول رہے تھے۔

کنکاں کھان دے مارے۔ آ گی نامدھاری۔

سارے گاؤں میں میلہ لگا ہوا تھا۔ ہم چھوٹے چھوٹے بچے گرو کے درشن کے لئے گئے تھے۔ اور بہت سے لوگ دور دور سے گرو کے درشن کے لئے آئے ہوئے تھے۔ تم نے مجھے اور پال سنگھ کو پکڑ کر گرو جی کے آگے کھڑا کر دیا تھا۔

’’ یہ میرے بیٹے ہیں۔‘‘ تم نے کہا تھا۔ پال کا سر ننگا تھا اور اس نے چھوٹا سا جوڑا مضبوطی سے باندھا ہوا تھا۔ گرو جی نے پہلے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور تمہاری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا، جیسے پوچھ رہے ہوں کہ یہ دوسرا مسلمان لڑکا کون ہے؟ اور تم نے کہا تھا، ’’میرے بھائی کا بیٹا ہے۔‘‘

اور گرو جی نے ہنس کر دونوں ہاتھوں سے میرے سر پر پیار دیا تھا اور برکت دی تھی۔

پھر چچا، تیری سندر گھوڑی نے، جو تم نے اس زمانے میں مہاراجہ کپور تھلہ سے دس ہزار میں لی تھی، اس نے بڑی توقعات اور امیدوں کے بعد ایک بچھڑی کو پیدا کیا تھا۔ اس بچھڑی میں تمہاری جان تھی۔ مجھے بہت دیر بعد پتہ چلا کہ وہ بچھڑی اتنی قیمتی تھی۔ اس وقت بچھڑی تقریباً چھ مہینے کی تھی، جب میں کھیلتا کھیلتا تمہارے گھر گیا تھا۔ سونے کے دل والی چاچی نے، مجھے دونوں بازوؤں میں بھر کر مضبوطی سے پیار کیا تھا اور میرے سر پر ہاتھ پھیرا تھا۔ ما تھا چوما تھا اور گودی میں بیٹھا لیا تھا۔ ایک روٹی کی چوری بنا کر، شکر ڈال کر مجھے کھلانے لگی تھی۔ اتنے وقت میں پال آ گیا تھا اور ہم دونوں کھیلتے کھیلتے حویلی میں آ گئے تھے۔ بھائی رتن سنگھ اس وقت حویلی میں تھا۔ اس کی بندریا آدمیوں کی طرح بیلنے میں گنے ڈال رہی تھی۔ بھائی سوڈا ڈال کر ابلتے ہوئے رس سے گندگی اتار رہا تھا۔ (مجھے ابھی تک یاد ہے بھائی کا گڑ سارے گاؤں میں سب سے سفید اور صاف ہوتا تھا)۔ نکو عیسائی دھونکنی سے ہوا دے رہا تھا۔ دھونکنی کے دھوئیں اور گڑ سے نکلنے والی بھاپ میں، بھائی چھپا ہوا سا لگتا تھا۔ لیکن اس نے پال کو اور مجھے دیکھ لیا۔

’’ رس پی۔‘‘

’’ گڑ کھا۔‘‘

’’ گنے چوس لے۔‘‘

’’ بیٹھ جا۔۔۔ او لڑکے۔ وِیر کی چارپائی ذرا دھوپ میں بچھا دے۔‘‘

بھائی رتن سنگھ نے ایک ساتھ کتنے ہی حکم دے دیئے مجھے۔ پر میری توجہ اس بچھڑی کی طرف چلی گئی۔ میں اور پال بچھڑی کے پاس جا کر اسے دیکھنے لگے۔ بچھڑی بہت خوبصورت، بالکل کسی تصویر سی لگ رہی تھی۔ پتہ نہیں کہاں سے ٹہل سنگھ آ گیا اور پتہ نہیں کس ضد میں، میں اس کی گود میں چڑھ گیا۔ میں نے بچھڑی پر بیٹھنے کی ضد کی۔ سات سال کے بچے میں سمجھ ہی کتنی ہوتی ہے، پر چچا آپ نے مجھے ایک بار بھی منع نہیں کیا، نہ ہی سمجھایا اور اس معصوم اور قیمتی بچھڑی کو پکڑ کر، لگام کو گانٹھوں کی مدد سے چھوٹی کر کے، اسے دے دی۔ جو آدمی جہاں تھا، حیرت سے بت بنا رہ گیا۔ بھائی پکتے ہوئے گڑ کو چھوڑ کر کھڑا ہو گیا۔ ہر آدمی، چچا تمہاری طرف دیکھ رہا تھا۔ ایک بچے کے ضدی پنے کے ساتھ آپ بھی بچے بن گئے تھے۔ پر تمہارے کاموں میں دخل دینے کی ہمت اور جرات کسی میں نہیں تھی۔ پھر تم نے کندھے کی چادر اتار کر، اچھلتی ہوئی، ناچتی ہوئی، گھبرائی ہوئی اور پریشان اور ساتھ ہی نڈھال ہوئی بچھڑی پر ڈال دی اور پھر اس معصوم، نرم اور خوبصورت پیٹھ پر زین ڈال دی اور زین کو کس دیا۔ آج سوچتا ہوں کہ چھ ماہ کی دودھ پیتی نرم و نازک بچھڑی کی جان کے لئے اتنا ہی دکھ اور صدمہ کافی تھا۔ پر چچا، پھر تم نے مجھے اس پر بٹھا کر اسے آگے سے پکڑ کر حویلی کے دو چکر لگوائے اور بچھڑی دکھ اور صدمے سے نڈھال ہو کر گر کر مر گئی۔ مہاراجہ کپورتھلہ کی لاڈلی گھوڑی کی خوبصورت بچھڑی، جسے تم نے کتنی ترکیبوں اور امیدوں سے پایا تھا۔ پر تمہارے ماتھے پر ایک بھی شکن نہیں پڑی تھی، کسی نے بھی اف تک نہیں کی تھی، سوائے میرے ابا کے، جب انہوں نے سنا تو وہ مجھ پر اور تم پر، دونوں کو غصہ ہوئے تھے۔ پر تم کو صرف ہنس دیئے تھے۔

چچا! آج میں بالغ ہوں۔ سیانا ہوں۔ پتھر کی طرح ٹھوکریں کھا کر گول ہو گیا ہوں۔ دنیا کا سرد گرم بھی دیکھا ہے اور آدھی دنیا کے شہر بھی دیکھے ہیں اور ان کے شہریوں کو بھی دیکھا ہے۔ انہیں آزمانے اور سمجھنے کی کوشش بھی کی ہے۔ آج وہ باتیں، خواب کی باتیں لگتی ہیں، کھوئے ہوئے خواب۔ کتنا بد قسمت ہوتا ہے وہ آدمی جس کے خواب کھو جاتے ہیں۔ آج سوچتا ہوں چچا تم تو میرے باپ کے منہ بولے بھائی تھے۔ تم نے اس کے ساتھ پگڑی بدلی تھی۔ تم، اس کے سگے بھائی تو نہیں تھے۔ پر جتنا پیار تم نے مجھے دیا، اتنا پیار تو میرے کسی سگے چچا نے بھی نہیں دیا۔ کہتے ہیں خون کا رشتہ بہت پیارا ہے، لیکن پھر بھی تم مجھے سگوں سے بھی زیادہ پیارے تھے۔ میں تمہیں، تمہارے پال سے بھی زیادہ پیارا، زیادہ لاڈلا اور زیادہ قریب کیوں تھا؟

پھر ایسی آندھی چلی جو انسان کو چھید کر اور زمین کو ویران بنا کر چلی گئی۔ راوی اور بیاس بڑھ کر خوفناک ہو گئیں اور لہریں غصے میں منہ سے جھاگ اگلتی باہر آ گئیں۔ چاروں طرف امنڈتا ہوا پانی تھا۔ تم نے بھری پری حویلی اور بھرے ہوئے گھر سے، بس دو چار چیزیں لیں، پھر میرے چاچے، تائے اور ابا اس گاڑی کو برچھیوں، چھریوں اور بندوقوں کے پہرے میں لے کر چل دیئے تھے۔ گاڑی پر چاچی، پال، بہن، تم اور رتو تھے اور تمہارے آس پاس تمہاری حفاظت کے لئے ہم حیران سے پل تک گئے تھے۔ تم بھی نڈھال ہو گئے تھے اور تم کو چھوڑنے جانے والے بھی۔ راستے میں لوٹ مار، قتل، حملے وغیرہ کا ڈر۔ اور پل پر پہنچ کر جب میرے والد اور تم نے ایک دوسرے کو بانہوں میں بھرا تو دونوں بلک بلک کر رونے لگے تھے۔ تمہیں ڈیرے سے، پل سے گزرتے اور بار بار مڑ کر پیچھے دیکھتے ہوئے، دیکھ کر میرے والد کس طرح بچوں کی طرح تڑپ تڑپ کر روئے تھے۔ تم آگے بڑھ کر بھیڑ میں کھو گئے تھے، پر ہم شام تک کیوں پل پر کھڑے روتے رہے تھے؟ اور ادھر آخر کار تم کو کھو کر، اپنے اور اپنے اجڑے گھروں میں واپس لوٹ آئے تھے۔ اس وقت میں آٹھ سال کا تھا اور اب اڑتیس سال کا ہوں۔ میں نے مشکل سے مشکل وقت میں بھی اپنے باپ کو روتے نہیں دیکھا تھا، سوائے اس دن کے۔ اب تو بس تمہارے نام پر ہی، ان کی آنکھیں بجھ جاتی ہیں۔

اور آج کسی گاؤں میں پناہ گزین ٹہل سنگھ پتہ نہیں کتنا خوش ہے؟ اور اب پتہ نہیں پال سنگھ میری طرح آدھے دھلے بال والے سر میں، اپنی روشن بادامی آنکھوں میں کوئی خواب رکھتا ہے یا نہیں؟

چچا ٹہل سنگھ کہا کرتا تھا، ’’ ہم سب کہانیاں ہیں، پر ہمیں لکھنے والا کوئی نہیں۔‘‘

چچا دیکھ لو، مجھے تمہاری کہانی یاد ہے اور میں کسی دن اسے لکھوں گا بھی۔ آج تو میرے چاروں طرف کہانیاں گھیرا ڈال کر کھڑی ہیں، چاروں طرف قیامت والا شور ہے۔

میری کہانیاں لہولہان ہیں۔ ان کے سر ننگے ہیں، بال بکھرے ہوئے اور بدن زخمی ہیں۔ میرے ہاتھوں میں ٹوٹا ہوا قلم ہے اور ٹوٹے ہوئے کردار ہیں، جس میں، میں اپنی کہانیوں کے لئے خوشیاں لینے گھر سے نکلا تھا۔ میری آنکھوں میں آنسو ہیں۔ میں اپنا رستہ بھی نہیں دیکھ سکتا۔ میرا حال بھی میری کہانیوں جیسا ہی ہے۔ اور میں سوچتا ہوں میں کیسے کہانی لکھوں؟

***

 

 

 

 

نسل چلانے والا

 

اندرا گوسوامی

 

آسامی کہانی

 

 

گاؤں کا مہاجن پِیتامبر اپنے گھر کے سامنے درخت کے ٹھونٹھ پر بیٹھا تھا۔ وہ پچاس سے تجاوز کر چکا تھا۔ کبھی وہ کافی ہٹا کٹا ہوا کرتا تھا، لیکن اب اسے فکر نے دبلا کر دیا تھا۔ اس کی ٹھوڑی کے نیچے کی کھال ڈھیلی ہو کر لٹکنے لگی تھی۔ وہ دور نگاہیں ٹکائے ایک بچے کو دیکھے جا رہا تھا، جو اپنی بنسی کی پھنسی ڈوری کو چھڑانے کی کوشش میں تھا۔

اچانک اس کا دھیان ٹوٹا۔ گاؤں کا پجاری اپنی کھڑکھڑاتی آواز میں اس سے کہہ رہا تھا، ’’ جب تمہارا اپنا کوئی بچہ نہیں ہے تو اس بچے کو للچائی نظروں سے کیوں دیکھے جا رہے ہو‘‘ پھر رک کر پوچھا۔ ’’ اب تمہاری بیوی کیسی ہے؟‘‘

’’کئی بار اسے شہر کے ہسپتال میں لے  جا چکا ہوں، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس کے تمام جسم پر سوجن آ گئی ہے۔‘‘

’’تب تو اسے بچہ ہونے کی کوئی امید نہیں۔ لگتا ہے پِیتامبر، تمہاری نسل چلانے والا کوئی نہیں ہو گا۔‘‘

تھوڑی دیر تک خاموش کھڑے رہنے کے بعد اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں فریب کی چمک لیے پجاری نے اس کے کان میں ہولے سے کہا، ’’دوسری شادی کے بارے میں کیا سوچا ہے تم نے؟‘‘

پِیتامبر ابھی جواب دینے ہی والا تھا کہ وہاں سے گزرتی دمینتی پر اس کی نگاہیں جا ٹکیں۔ وہ مندر کے ایک پجاری کی نوجوان بیوہ تھی۔ بارش کی وجہ سے بھیگے کپڑے اس کے جسم سے چپک گئے تھے۔ اس کے نوجوان بدن کا رنگ ایسا ہی تھا، جیسا کہ کھولتے ہوئے گنے کے رس کے گھنے جھاگ کا ہوتا ہے۔ قد کاٹھ تو اس کا زیادہ نہیں تھا، پر تھی وہ بے انتہا پرکشش۔ لوگ اس کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کرتے تھے۔ کچھ لوگ تو اسے ویشیا بھی کہتے تھے۔ ’’ایک برہمن ویشیا۔‘‘

’’ اے دمینتی، کہاں سے آ رہی ہے تو؟‘‘ پجاری نے آواز لگاتے ہوئے پوچھا۔

’’دیکھ نہیں رہے ہو، تم یہ ریشم کے لچھے؟‘‘

’’تو تم نے اب ان مارواڑی تاجروں سے بھی گھلنا ملنا شروع کر دیا؟‘‘

دمینتی چپ رہی۔ اس نے اپنی ساڑی کی پرتوں کو نچوڑ کر ان میں سے پانی نکالا۔ وہ دونوں اسے للچائی نظروں سے دیکھتے رہے۔ جب وہ چلی گئی، تو پِیتامبر نے کہا، ’’سنا ہے کہ وہ گوشت، مچھلی سب کچھ کھاتی ہے؟‘‘

’’ ہاں اس نے تو برہمنوں کی ناک کٹوا دی ہے۔ بیواؤں کیلئے جو قانون بنا ہے، اس نے اسے ہوا میں اڑا کر رکھ دیا ہے۔ چھی چھی، کل یوگ۔ گھور کل یوگ۔‘‘

’’ خیر چھوڑو اسے، یہ بتاؤ آپکے ججمانوں کا کیا حال ہے؟‘‘ پِیتامبر نے پوچھا۔

’’سب کچھ تو تم جانتے ہو، پھر بھی پوچھ رہے ہو؟ ۔ میرے بڑے بھائی کا مجھ جھگڑا ہو گیا ہے۔ زیادہ کام تو اسی نے ہتھیا لیا۔ میں تو برباد ہو گیا۔‘‘

’’پجاری جی، آپ کو منتر پڑھنا تو ٹھیک سے آتے نہیں، سنسکرت آپ جانتے نہیں، اسی لئے آپکے ججمان آپ سے بدک گئے۔‘‘

’’یہ بات نہیں ہیں۔ آج کل زمانہ ہی بدل گیا ہے۔ پہلے تو ہر ججمان کے گھر سے ہر ماہ ایک جنیو، دو دھوتیاں اور پانچ روپے مل جاتے تھے، پر اب تو کوئی ان چیزوں کو مانتا ہی نہیں۔ اپنا خرچہ بچانے کے لئے میرا پرانا ججمان میکانت اپنے دونوں بیٹوں کو کاماکھیا لے گیا اور وہیں ان کا یجنوپویت کروا آیا۔ ماتان پور کے مہمانوں نے اب اپنے ماتا پتا کا شرادھ ایک ساتھ ہی کرنا شروع کر دیا ہے۔‘‘

پجاری اپنا رونا روئے جا رہا تھا اور پِیتامبر تھا کہ دمینتی کے خیال میں کھویا ہوا تھا۔ اس کے دماغ میں توبس دمینتی کا روپ رنگ چکر کاٹ رہا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ اس نے عورت کے بدن کی چمچماہٹ پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اس نے دو دو شادیاں کی تھیں۔ جب پہلی سے بچہ نہیں ہوا، تو اس نے دوسری خرید لی، جو اب گٹھیا کی بیماری سے لاچار ہو کر بستر سے لگی پڑی ہے اور اس کا پورا جسم سوکھ کر لکڑی ہو گیا ہے۔

پِیتامبر کو ہر وقت یہی خوف کھائے جاتا تھا کہ وہ بے اولاد ہی مر جائے گا۔ اس کی نسل ختم ہو جائے گی۔ اس کا یہ ڈر تب مزید بڑھ جاتا، جب پجاری یا دوسرے لوگ اس کے سامنے یہ بات چھیڑ دیتے۔ اس بات سے اس کی دماغی حالت بھی کچھ گڑبڑا گئی تھی۔

’’پِیتامبر، گاؤں والے تمہارے بارے میں بے پر کی اڑا رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ تمہارا دماغ چلا گیا ہے۔ پر تم فکر نہ کیا کرو، اس دنیا میں ایسے بیشمار لوگ ہیں، جن کے ہاں تمہاری طرح بچہ نہیں ہے۔ یہ بچے کچے، یہ دنیاداری، سب مایا ہے، پرپنچ ہے۔ چھوڑو اسے۔‘‘

پجاری نے دیکھا پِیتامبر کی بیمار بیوی بستر پر لیٹی ہے۔ اس کی آنکھیں ایسے چمک رہی ہیں، جیسے تاریک جنگل میں کسی خطرناک جانور کی چمکتی ہیں۔ لگتا تھا جیسے وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہو کہ اس کے شوہر اور پجاری میں کیا گفتگو ہو رہی ہے۔ اس کی چمکتی آنکھوں کی چمک اتنی تیز تھی کہ دور سے بھی اس کے غصے کا اظہار کر رہی تھی۔

پجاری نے اِدھر اُدھر دیکھا پھر پِیتامبر کے کان میں پھسپھسایا، ’’میں تمہیں اس فکر سے چھٹکارا دلا سکتا ہوں۔‘‘

’’وہ کس طرح؟‘‘

’’اس بار بچہ گرانے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ وہ چار بار گرا چکی ہے اور ہر بار گھر کے پچھواڑے بانس کے جھنڈمیں انہیں دفنا چکی ہے۔‘‘

’’تم کیا دمینتی کی بات کر رہے ہو؟‘‘ پِیتامبر میں جیسے کسی امید کی لہر اٹھی ہو، ’’ کہنا کیا چاہتے ہو؟‘‘

’’یہی کہ اگر تم چاہو تو دمینتی کو اپنا بنا سکتے ہو۔‘‘

پِیتامبر اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کی حالت ایسی ہو رہی تھی جیسے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا مل گیا ہو۔ پجاری نے اس کی بیمار بیوی کی طرف ایک بار پھر دیکھا۔ اس کی آنکھیں بالکل بند تھیں۔ شاید اسے درد کا دورہ پڑا تھا۔

’’مجھے دمینتی دلا دیجئے۔ میں اسے ہر طرح کی خوشیاں دوں گا۔‘‘

پجاری کے پوپلے منہ پر ایک لمحے کیلئے مکاری بھری مسکراہٹ تیر گئی، ’’اچھا ٹھیک ہے، دیکھوں گا۔ اس کی دو چھوٹی بیٹیاں بھی ہیں۔ تمہیں ان کے بارے میں بھی سوچنا ہو گا۔‘‘

پِیتامبر نے اندر جا کر روپے نکالے اور پجاری کے ہاتھ پر رکھ دیے۔ پجاری گنگناتا ہوا آگے بڑھ گیا۔

انتظار کرتے ہوئے ایک ہفتے گزر گیا۔ پِیتامبر کا پورا وجود جیسے پجاری پر ٹک گیا تھا۔ اس دوران اس نے کئی بار دمینتی کو آتے جاتے دیکھا۔ اسے دیکھتے ہی اس کے اندر مزید کھلبلی مچ جاتی۔ وہ اس خیال میں اتنا ڈوب جاتا تھا کہ دمینتی اسے طرح طرح کی صورتوں میں دکھائی دینے لگتی۔ وہ ہر وقت گھر کے باہر ہی بیٹھا رہتا۔ انہیں دنوں دمینتی سڑک کے دونوں جانب بہنے والے نالوں کے کنارے اگی کھمبی اور دوسری جڑی بوٹیاں بٹورنے آتی تھی۔ دمینتی کے لمبے، بھورے بال پِیتامبر کی آنکھوں میں پھنس جاتے۔

ایک دن پِیتامبر نے ہمت کر ہی لی۔ دمینتی جب ہرے پتے توڑ رہی تھیں، تو وہ اس کے قریب گیا اور بولا، ’’اگر تم ہر روز اسی طرح کیچڑ بھرے پانی میں کھڑی رہو گی، تو تمہیں سردی لگ جائے گی۔‘‘

دمینتی نے صرف ایک بار اس کی طرف دیکھا۔ پھر کام میں لگ گئی۔ بولی کچھ نہیں۔

’’میں نوکر کو بھیج دوں گا۔ تم اسے بتا دینا جتنی سبزی چاہئے وہ توڑ کر دے گا۔ اور۔۔۔‘‘ پِیتامبر نے پھر کہا۔

لیکن اس کا جملہ نامکمل ہی رہا۔ دمینتی نے حقارت بھری تیکھی نظروں سے جیسے ہی اس کی طرف دیکھا، وہ فوری طور پر وہاں سے ہٹ گیا۔ اس نے دیکھا کہ اس کی بیوی ٹوٹے ہوئے پر والے کسی پرندے کی طرح بستر پر لڑھک گئی ہے۔

انتظار کرتے کرتے پِیتامبر کا صبر جواب دے ہی رہا تھا کہ تبھی پجاری آ پہنچا۔ اسے دیکھتے ہی وہ پوچھنے لگا، ’’کیا خبر لائے ہو میرے لئے، فٹا فٹ بتاؤ۔‘‘

پجاری نے چاروں طرف اپنی نظریں گھمائیں۔ پِیتامبر کی بیمار بیوی کسی مردے کی طرح بستر پر پڑی تھی۔ پجاری پِیتامبر کے کانوں میں پھسپھسایا، ’’غور سے سنو۔ مجھے ایک خبر ملی ہے۔ اس وقت اس کا پیٹ بالکل خالی ہے۔ ابھی بمشکل ایک مہینہ ہوا ہے، جب اس نے اپنے گزشتہ کرتوت کا پھل زمین میں دبایا ہے۔ میں نے اس سے تمہارے بارے میں بات کی تھی۔ وہ ایک دم لال پیلی ہو گئی۔ بلکہ اس نے زمین پر تھوک دیا اور کہنے لگی کہ وہ کتا، کیسے ہمت کی اس نے ایسی بات مجھ تک پہچانے کی، وہ جانتا نہیں کہ میں یجمانی براہمن کُل سے ہوں اور وہ کیڑا نیچ ذات کا مہاجن، میں نے اس سے کہا کہ جب تو گناہ کی کیچڑ میں لوٹ لگا ہی رہی ہے، تب اونچی ذات کیا اور نیچی ذات کیا؟ ۔ کوئی برہمن لڑکا پھر تجھ سے شادی کرنے سے رہا۔ ایک تو بیوہ اس پر دو دو بیٹیاں۔ کم از کم وہ تم سے شادی کرنے کو تیار تو ہے۔‘‘

’’میں نے اسے صاف صاف کہہ دیا کہ تم پنچایت کی رضامندی لے لو گے اور ہوَن کر کے شادی کر لو گے۔ اس نے تمہاری بیوی کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔ میں نے اسے بتایا کہ تمہاری بیوی تو اس تنکے کی طرح ہے، جو ہوا کے جھونکے سے کبھی بھی اڑ سکتا ہے۔ اچانک اس نے رونا شروع کر دیا، بولی کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں رہتی۔ میں چاہتی ہوں کہ مجھے ایسا سہارا ملے، جو مضبوط ہو اور سدابنا رہنے والا ہو۔ میں نے اس سے کہا کہ تمہاری طبیعت ٹھیک کیسے رہ سکتی ہے، میں نے سنا ہے کہ تم نے اپنے پیٹ سے چار بار کچرا نکلوایا ہے۔ اگر پنچایت نے اس بات کو پکڑ لیا، تو سمجھ لو، تمہارا جینا دشوار ہو جائے گا۔ تم اب تک اس لئے بچی ہوئی ہو کہ تم برہمن ہو۔‘‘

’’لیکن کب تک چلے گا یہ، اس کا کہنا تھا کہ میں کر بھی کیا سکتی ہوں، مجھے زندہ بھی تو رہنا ہے۔ اب میرے پاس نہ کوئی کام ہے نہ دھندہ۔ سب مجھے گندی اور پلید سمجھتے ہیں۔ اور میرے گاہک، وہ سب کے سب خود غرض ہو گئے ہیں۔ دھان کا میرا حصہ بھی نہیں دیتے۔ میری مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ایسی حالت میں، میں ان دو ننھی بچیوں کو لے کر کہاں جاؤں؟ ۔ میں نے اگر لگان نہیں چکایا۔ تو ایک دن میری زمین کی بھی نیلامی ہو جائے گی۔ بتاؤ میں کیا کرو؟‘‘

’’ خیر میری تجویز کا کیا ہوا؟‘‘

’’ ہاں۔۔۔ ہاں۔۔۔ میں اسی مدعے پر آ رہا ہوں۔ وہ تم سے ملنا چاہتی ہے۔ پورن ماشی والی رات کو۔۔۔ اپنے ٹھکانے پر۔۔۔ پچھواڑے والے کوٹھے میں۔‘‘ یہ سنتے ہی پِیتامبر پر جوش ہو گیا۔ پجاری نے اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیا، اس کے کان میں پھسپھسایا ’’چلو میرے لئے چالیس روپے نکالو۔ مچھروں نے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ مجھے ایک مچھر دانی لانی ہے۔‘‘

پِیتامبر اب اپنے گھر کے اندر گیا۔ اس نے دیکھا کہ اس کی بیوی مکمل طور پر جاگی ہوئی ہے۔ اس نے اس کی فکر کئے بغیر صندوقچی سے پیسے نکالے۔ واپس مڑا تو دیکھا کہ وہ ٹکٹکی لگائے دیکھے جا رہی ہے۔ وہ اچانک بھڑک اٹھا، ’’ مجھے اس طرح گھور رہی ہے، میں تیری آنکھیں نوچ لوں گا۔‘‘

پجاری نے سنا تو سب کچھ سمجھ گیا اور پِیتامبر سے پیسے لیتے ہوئے بولا، ’’دیکھو، اگر یہ زیادہ گھورتی ہو، تو اسے تھوڑی افیون دے دو۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اپنے آخری بچے دو دانتوں کو دکھاتے ہوئے پوپلے منہ سے ہنس دیا۔ پھر سنجیدہ ہو کر کہنا شروع کیا، ’’لیکن اس کتیا کو پیسے کی بہت ہوک ہے۔ اب سب طے ہو گیا ہے۔ اب تم اسے اسی کے ٹھکانے پر دبوچ سکتے ہو۔‘‘

پِیتامبر نے اپنی بیوی کی طرف ایک نظر ڈالی۔ اتنے فاصلے سے بھی وہ دیکھ سکتا تھا کہ اس کے ماتھے پر پسینے کی چھوٹی چھوٹی بوندیں ابھر آئی ہیں۔

اگست کا مہینہ تھا۔ پورن ماشی کی رات۔ پِیتامبر نے اپنے سب سے اچھے کپڑے پہنے۔ پھر آئینہ اٹھا کر اپنا چہرہ دیکھنے لگا۔ چہرے پر اسے وہ جھریاں دکھائی دیں، جو ایک دوسرے کو کاٹ رہی تھیں۔ وہ دمینتی کے گھر کی طرف چل پڑا۔ راستے میں سال کا گھنا جنگل پڑتا تھا۔ اس کا گھر جنگل کے پار، گاؤں کے بیرونی حصے میں واقع تھا۔ ایک طرح سے یہ جگہ بہت مناسب تھی، کیونکہ دمینتی یہاں مطمئن ہو کر دل میں جو آئے، وہ کر سکتی تھی۔

سال کے جنگل کو پار کرتے اس کو راستہ کاٹتا گیدڑوں کا ایک جھنڈ دکھائی دیا۔ وہ دمینتی کے گھر کے دروازے کے پاس پہنچا اور چپکے سے اس کے اندر داخل ہو گیا۔ ایک کمرے میں مدھم سی روشنی دیتی، مٹی کے تیل کی ڈھبری جل رہی تھی۔ اس نے اندر جھانکا۔ دمینتی انتظار کرتی پچھواڑے کے کوٹھے سے پِیتامبر کی ہر سرگرمی کو دیکھ رہی تھی۔ اس نے وہیں سے پکارا، ’’اے ادھر یہاں۔‘‘

دمینتی کوٹھے کی ٹوٹی ہوا دیوار سے لگی کھڑی تھی۔ پِیتامبر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے کی ہمت نہیں کرپا رہا تھا۔ تبھی اس نے سنا، وہ کہہ رہی تھی، ’’پیسے لائے ہو؟‘‘

وہ گم صم سا ہو گیا۔ اسے امید نہیں تھی کہ اس کا پہلا سوال پیسہ ہی ہو گا، ’’یہ رہے۔ پکڑو۔ میرا جو کچھ ہے، سب تمہارا ہے۔‘‘

پیسے رکھتے ہوئے اس نے اپنی کمر میں ٹھونسا ہوا بٹوہ اپنے بلاؤز میں رکھ لیا۔ اب اس نے دیا اٹھایا اور اسے ایک کمرے میں لے گئی۔ وہاں ایک کھٹیاپڑی تھی۔ اس کھٹیا اس کے شوہر کو گوسائی کے کریا کرم کے وقت ملی تھی۔ پھونک مار کر اس نے دیا بجھا دیا۔

۔۔۔۔ ۔۔

دو ماہ گزر چکے تھے، اسی طرح پِیتامبر کودمینتی کے پاس آتے جاتے۔

ایک دن پِیتامبر اس کے گھر سے نکلا ہی تھا کہ دمینتی آلکسی سے کنوئیں کی جانب بڑھی اور وہاں نہانے لگی۔ ٹھیک اسی وقت پجاری آ پہنچا اور بڑے رسان سے بولا، ’’اُس برہمن لڑکے کا سنگ پانے کے بعد تو تم نہاتی نہیں تھیں؟ ۔ اب کیا ہو گیا ہے؟‘‘

دمنیتی نے کوئی جواب نہیں دیا۔

’’جانتا ہوں پِیتامبر نچلی ذات کا ہے۔ یہی بات ہے نا؟‘‘

اچانک دمینتی اٹھ کر دوڑی۔ وہ ہمت کر کے دوسرے کونے میں پہنچی اور وہاں دہری ہو کر الٹی کرنے لگی۔

پجاری لپک کر اس کے پاس پہنچا اور آہستہ سے پوچھا، ’’یہ پِیتامبر کا ہی ہو گا؟‘‘

اس نے پھر بھی کوئی جواب نہیں دیا۔

’’واہ کتنی بہترین خبر ہے۔ پِیتامبر تو بچے کے لئے ترس رہا ہے۔‘‘

دمنیتی نے اس پر بھی کوئی جواب نہیں۔

اب میں چلتا ہوں اور اور اسے یہ خبر دیتا ہوں۔ اب وہ تم سے آسانی سے شادی کر سکتا ہے۔‘‘

پھر دمینتی کے قریب آیا اور سرگوشی کرتا ہوا بولا، ’’تمہارے یہاں جو کچھ چلتا رہتا ہے، لوگ اس سے پریشان ہیں۔ بیچ بیچ میں بات بھی ہوتی رہتی ہے کہ پنچایت بلائی جائے۔ اور تم۔۔۔‘‘

دمینتی نے کچھ نہیں سنا، وہ بس الٹیاں کرتی رہی۔

پجاری بولتا گیا، ’’اس سب کے باوجود پِیتامبر تم سے شادی کرنے کو تیار ہے۔ دیکھو، میں اس جنیو پر ہاتھ رکھ کر قسم کھاتا ہوں کہ اگر اس بار بھی تم نے اس بچے کو گرایا۔ تو تم نرک کی آگ میں جلو گی۔‘‘

پِیتامبر کو ساری خبر سنا کر پجاری بولا، ’’اب لگتا ہے تمہارا خواب پورا ہونے کو ہے۔ اگر اس نے اس بچے کو نہ گرایا، تو یقین رکھو، وہ تم سے شادی کر لے گی۔‘‘

پِیتامبر کا پورا جسم خوشی سے تھرتھرانے لگا، کیا یہ واقعی سچ ہے، دمینتی کے پیٹ میں بچہ میرا ہی ہو گا۔ پجاری جھوٹ کیوں بولے گا، میرا ہی بچہ ہو گا، ’’دیکھنا کہیں میری امید پر پانی نہ پھر جائے۔ تم جانتے ہی ہو، اگر یہ بچہ گر گیا، تو میری نسل کو آگے بڑھانے والا کوئی نہیں رہے گا۔ اب تو دمینتی کی مٹھی میں ہی میری جان ہے۔‘‘

’’تم فکر مت کرو۔ جیسے ایک گدھ مردار کی چوکسی کرتا ہے، میں بھی اسی طرح دمینتی کی نگرانی کروں گا۔ ساتھ ہی اس بڑھیا دائی کو بھی ڈرا دوں گا کہ بچہ گرانے کے لیے، وہ اسے کوئی الٹی سیدھی جڑی بوٹیاں نہ دے، لیکن کھیل سارا پیسے کا ہے۔ اس کے لئے مجھے ڈھیر ساری رقم چاہئے۔‘‘

رقم لینے کیلئے پِیتامبر گھر میں داخل ہوا۔ اسے پھر بیمار بیوی کی چھیدتی، پتھرائی آنکھوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان آنکھوں میں نفرت کا اظہار تھا، چاہے اس کیلئے ہو یا پجاری کیلئے۔ وہ زور سے بھونکتے ہوئے بولا، ’’ا ری، بانجھ کتیا۔ اس طرح میری طرف کیوں دیکھ رہی ہے؟‘‘

۔۔۔۔ ۔۔

پِیتامبر اب ہر وقت اپنے گھر کے باہر بیٹھ کر، دمینتی کے پیٹ میں پلنے والے، اپنے بچے کے بارے میں سپنے لیتا رہتا۔ وہ تصور کرتا کہ اب اس کا بیٹا اپنی بھرپور جوانی میں ہے اور وہ اسے ندی کے کنارے گھمانے لے گیا ہے۔ پھر اسے ایسے لگتا کہ اس کی آنے والی نسل اسے چمکتے مستقبل کی طرف کھینچے لے جا رہی ہے۔

پانچ ماہ گزر گئے۔ پِیتامبر نے سن رکھا تھا کہ پانچ مہینے کے حمل کو گرایا نہیں جا سکتا۔ وہ چاہ رہا تھا کہ کسی طرح دن جلدی جلدی آگے بڑھ جائیں۔

ایک دن دوپہر کو تیز آندھی آئی۔ چاروں جانب گھپ اندھیرا چھا گیا۔ موسلا دھار بارش ہونے لگی۔ آسمان سے بجلی گری اور درخت کو پھاڑ گئی۔

ایسی موسلا دھار بارش والی رات میں، اچانک پِیتامبر کے کانوں میں کچھ شور سنائی پڑا۔ کوئی اسے بلا رہا تھا۔ ہاتھ میں لالٹین لے کر وہ باہر کی جانب لپکا۔ ایک صورت اس کی آنکھوں کے سامنے ابھری۔ وہ پجاری کی تھی۔ اس کے منہ سے نکل پڑا، ’’ارے، پجاری جی آپ؟‘‘

پجاری گھبرایا ہوا سا بولا، ’’پِیتامبر، تمہاری پہلی بیوی منحوس گھڑی میں مری تھی نہ، اسی کی وجہ سے یہ سب ہو رہا ہے۔‘‘

’’کیا ہو رہا ہے؟ کیا ہوا؟‘‘

’’ ویدوں میں کہا گیا ہے کہ جب کسی شخص کی ایسی منحوس گھڑی میں موت ہوتی ہے، جیسی کہ تمہاری بیوی کی ہوئی تھی، تو گھاس کا تنکا بھی نہیں اگتا۔ بلکہ جو اگتا بھی ہے تو وہ بھی جل کر راکھ ہو جاتا ہے۔ تمہارا اب سب کچھ جل کر راکھ ہو گیا ہے۔‘‘

پِیتامبر تقریباً چیخ پڑا، ’’ہوا کیا ہے، بھگوان کیلئے مجھے جلدی بتاؤ۔‘‘

’’کیا کہوں۔ اس نے بچے کو برباد کر دیا۔ کہتی تھی کہ وہ کسی چھوٹی ذات والے کا بیج اپنے اندر نہیں پنپنے دے سکتی۔‘‘

پِیتامبر کے ساتھ سپنے میں، ندی کے کنارے ٹہلنے والے نوجوان کا پاؤں اچانک پھسل گیا اور وہ پانی میں جا گرا۔

۔۔۔۔ ۔۔

ایک روز آدھی رات کو دمینتی اچانک چونک کر اٹھی۔ اس کے گھر کے پچھواڑے میں زمین کھودنے کی آواز آ رہی تھی۔ زمین وہی تھی، جہاں کچھ روز پہلے ہی دمینتی نے اپنے گرائے گئے بچے کو دبایا تھا۔ دمینتی نے دیکھا، پِیتامبر پاگلوں کی طرح زمین کھودے جا رہا ہے۔ دمینتی کا جسم سر سے پاؤں تک کانپ گیا۔ ہمت کر کے اس نے آواز دی، ’’اے مہاجن، ارے مہاجن، کیوں کھودے جا رہے ہو زمین؟‘‘

پِیتامبر نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بس کھودتا رہا۔

دمینتی پاگلوں کی طرح چلائی، ’’کیا ملے گا تجھے وہاں، ہاں میں نے اسے دبا دیا ہے۔ وہ مرد ہی تھا، پر وہ گوشت کا ایک لوتھڑا بھر ہی تھا۔‘‘

پِیتامبر کا چہرہ تمتمایا ہوا تھا اور اس کی آنکھیں پانی بہا رہی تھیں، وہ چیخ کر بولا، ’’میں اس لوتھڑے کو اپنے ان ہاتھوں سے چھونا چاہتا ہوں۔ وہ میری نسل تھی، میرے ہی خون سے بنا تھا وہ۔ میں اسے ایک بار ضرور چھو کر دیکھوں گا۔‘‘

٭٭٭

تشکر: مترجم جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

 

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

 

ای پب فائل

 

کنڈل فائل