FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

رحلت نبویﷺ

 

 

                مولانا ابو الکلام آزاد

ماخوذ از کتاب ’انسانیت موت  کے دروازے پر‘

 

 

 

 

 

اذاجآء نصراللہ والفتح و رایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا۔ فسبح بحمدربک واستغفرہ۔ انہ کان توابا۔

 

جب اللہ کی مدد آ گئی اور مکہ فتح ہوا، تم نے دیکھ لیا کہ لوگ دین خداوندی میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں۔ اب تم اللہ کی یاد میں مصروف ہو جاؤ اور استغفار، بے شک وہی توبہ قبول کر نے والا ہے۔

 

                آخری حج کی تیاری

 

جب یہ سورت نازل ہوئی تو پیغمبرانسانیت نے اللہ کی مرضی کو پا لیا کہ اب وقت رحلت قریب آ گیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس سے پہلے خانہ کعبہ میں تطہیر حرم کا آخری اعلان کر چکے تھے کہ آئندہ کسی مشرک کو اللہ کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہو گی اور کوئی برہنہ شخص خانہ کعبہ کا طواف نہیں کر سکے گا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہجرت کے بعد فریضۂ حج ادا نہیں فرمایا تھا۔ اب سنہ 10 ہجری میں آرزو پیدا ہوئی کہ سفرآخرت سے پہلے تمام امت کے ساتھ مل کر آخری حج کر لیا جائے۔ بڑا اہتمام کیا گیا کہ کوئی عقیدت کیش ہمرکابی سے محروم نہ رہ جائے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو یمن سے بلایا گیا۔ قبائل کو آدمی بھیج کر ارادہ پاک کی اطلاع دی گئی۔ تمام ازواج مطہرات رضوان اللہ علیھم کو رفاقت کی بشارت سنائی۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہم کو تیاری کا حکم دیا۔ 25 ذیقعدکومسجد نبوی میں جمعہ ہوا اور وہیں 26کی صبح روانگی کا اعلان ہو گیا۔ جب 26 کی صبح منور ہوئی تو چہرہ انورسے روانگی کی مسرتیں نمایاں ہو رہی تھیں۔ غسل کر کے لباس تبدیل فرمایا اور ادائے ظہر کے بعد، حمد و شکر کے ترانوں میں مدینہ منورہ سے باہر نکلے، اس وقت ہزارہا خدام امت اپنے نبی نعمت کے ہمرکاب تھے۔ یہ قافلہ مقدس مدینہ منورہ سے 6میل دور، ذی الحلیفہ میں پہنچ کر رکا اور شب بھر اقامت فرمائی۔ دوسرے روز حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دوبارہ غسل فرمایا۔ حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہما نے جسم پاک پر اپنے ہاتھوں سے عطر ملا۔ راہ سپارہونے سے پہلے آپ پھر اللہ کی حاضری میں کھڑے ہو گئے اور بڑے دردوگدازسے دو رکعتیں ادا کیں۔ پھرقصواپرسوارہو کر احرام باندھا اور ترانہ لبیک بلند کیا۔

لبیک اللھم لبیک لاشریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک و الملک لاشریک لک۔

اس ایک صدائے حق کی اقتداء میں ہزارہاخداپرستوں کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ آسمان کا جوف حمد خدا کی صداؤں سے لبریز ہو گیا اور دشت و جبل توحید کے ترانوں سے گونجنے لگے۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضورسرورعالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں جہاں تک انسان کی نظر کام کرتی تھی، انسان ہی انسان نظر آتے تھے۔ جب اونٹنی کسی اونچے ٹیلے پرسے گزرتی تو تین تین مرتبہ صدائے تکبیر بلند فرماتے۔ آوازہ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ لاکھوں آوازیں اور اٹھتیں اور کاروان نبوت کے سروں پر نعرہ ہائے تکبیر کا ایک دریائے رواں جاری ہو جاتا۔ سفرمبارک نوروز تک جاری رہا۔ 4ذوالحجہ کو طلوع آفتاب کے ساتھ مکہ معظمہ کی عمارتیں نظر آنے لگیں تھیں اور ہاشمی خاندان کے معصوم بچے اپنے بزرگ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تشریف اوری کی ہواسن کر اپنے اپنے گھروں سے دوڑتے ہوئے نکل رہے تھے کہ چہرہ انور کی مسکراہٹوں کے ساتھ لپٹ جائیں۔ ادھرسرورعالم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)شفقت منتظر کی تصویر بن رہے تھے۔ حضور پاک (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے اپنے کم سن بچوں کے معصوم چہرے دیکھے، تو جوش محبت سے جھک گئے اور کسی کو اونٹ کے آگے بٹھا لیا اور کسی کو پیچھے سوارکر لیا۔ تھوڑی دیر بعد کعبۃ اللہ عمارت پر نظر پڑی تو فرمایا؟

“اے اللہ!خانہ کعبہ کو اور زیادہ شرف و امتیاز عطا فرما!”

معمار حرم نے سب سے پہلے کعبۃ اللہ کا طواف فرمایا۔ پھر مقام ابراہیم کی طرف تشریف لے گئے اور دوگانہ تشکر ادا کیا۔ اس وقت زبان پاک پریہ آیت جاری تھی۔

واتخذوا من مقام ابراھیم مصلی۔ اور مقام ابراہیم کوسجدہ گاہ بناؤ۔

کعبۃ اللہ کی زیارت کے بعد صفا و مروہ کے پہاڑوں پر تشریف لے گئے۔ یہاں پر آنکھیں کعبۃ اللہ سے دوچار ہوئیں، تو زبان پاک سے ابر گہر بار کی طرح کلمات توحید و تکبیر جاری ہو گئے۔

لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد یحی ویمیت وھوعلی کل شی قدیرلا الہ الا اللہ وحدہ انجروعدہ نصرعبدہ وھزم الاحزاب وحدہ۔

خدا، صرف خدا، معبود برحق کوئی اس کا شریک نہیں، ملک اس کا، حمداس کے لئے، وہی جلاتا ہے، وہی مارتا ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے اس کے سواکوئی معبود نہیں، اس نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔ اس نے اپنے بندے کی امداد فرمائی اور اس کے لیے نے تمام قبائلی جمعیتیں پاش پاش کر دیں۔

8 ذی الحجہ کو منیٰ میں قیام فرمایا۔ 9 کو جمعہ کے روز نماز صبح ادا کر کے منی سے روانہ ہوئے اور وادی نمرہ میں آ ٹھہرے، دن ڈھلے میدان عرفات میں تشریف لائے تو ایک لاکھ 24 ہزارخداپرستوں کا مجمع سامنے تھا اور زمین سے آسمان تک تکبیر و تہلیل کی صدائیں گونج رہی تھیں۔ اب سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پرسوارہو کر آفتاب عالمتاب کی طرح کوہ عرفات کی چوٹی سے طلوع ہوئے تاکہ خطبہ حج ارشاد فرمائیں۔ پہاڑ کے دامن میں عائشہ رضی اللہ تعالی عنہما اور صفیہ رضی اللہ تعالی عنہما، علی رضی اللہ تعالی عنہ اور فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہما، بو بکر رضی اللہ تعالی عنہ اور عمر رضی اللہ تعالی عنہ، خالد رضی اللہ تعالی عنہ اور بلال رضی اللہ تعالی عنہ، اصحاب صفہ اور عشرہ مبشرہ اور دوسری سینکڑوں اسلامی جماعتیں اور قبائلی جمعیتیں جلوہ فرما تھیں اور پہلی ہی نظرسے یہ معلوم ہو جاتا تھا کہ والی امت اپنی امت کے موجودات لے رہے ہیں اور محافظ حقیقی کواس کا چارج سپرد فرما رہے ہیں۔

 

                خطبہ حجۃ الوداع

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے آخری آنسو، جواس امت کے غم میں بہے، حجۃ الوداع کے خطبہ میں جمع ہیں، اس وقت دولت و حکومت کا سیلاب مسلمانوں کی طرف امڈا چلا آ رہا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو غم یہ تھا کہ دولت کی یہ فراوانی، آپ کے بعد آپ کی امت سے رابطہ اتحاد کو پارہ پارہ کر دے گی۔ اس لئے اتحاد امت کا موضوع اپنے سامنے رکھ لیا اور پھر درد نبوت کی پوری توانائی اس موضوع پر صرف فرما دی۔ پہلے نہایت ہی درد انگیز الفاظ میں قیام اتحاد کی اپیل کی۔ پھر فرمایا کہ پسماندہ طبقات کو شکایت کا موقع نہ دینا تاکہ حصاراسلام میں کوئی شگاف نہ پڑ جائے۔ پھراسباب نفاق کی تفصیل پیش کر کے ان کی بیج کنی کا عملی طور پرسروسامان فرمایا۔ پھر واضح کیا کہ جملہ مسلمانوں کے اتحادکاسنگ اساس کیا ہے ؟آخری وصیت یہ فرمائی کہ ان ہدایات کو آئندہ نسلوں میں پھیلانے اور پہنچانے کے فرض میں کوتاہی نہ کرنا۔ خاتمہ تقریر کے بعد حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے اپنی ذاتی سرخروئی کے لئے حاضرین سے شہادت پیش کرتے ہوئے اس طرح بار بار اللہ کو پکارا کہ مخلوق خدا کے دل پگھل گئے، آنکھیں پانی بن گئیں اور روحیں انسانی جسموں کے اندر تڑپ تڑپ کر الامان اور الغیاث کی صدائیں بلند کر نے لگیں۔

حمد و صلوۃ کے بعد خطبہ حج کا پہلا درد انگیز فقرہ یہ تھا۔

“اے لوگو!میں خیال کرتا ہوں کہ آج کے بعد میں اور تم اس اجتماع میں کبھی دوبارہ جمع نہیں ہوں گے۔ ”

اس ارشادسے اجتماع کی غرض و غایت بے نقاب ہو کرسب کے سامنے آ گئی اور جس شخص نے بھی یہ ارشادسنا، تڑپ کے رہ گیا۔ اب اصل پیغام کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:

“اے لوگو!تمہارا خون، تمہارا مال اور تمہارا ننگ وناموس، اسی طرح ایک دوسرے پر حرام ہے جس طرح یہ دن(جمعہ)یہ مہینہ(ذی الحج) اور یہ شہر(مکہ مکرمہ)تم سب کے لئے قابل حرمت ہے۔ ”

اسی نکتے پر مزید زور دے کر ارشاد فرمایا:

“اے لوگو!آخر تمہیں بارگاہ ایزدی میں پیش ہونا ہے، وہاں تمہارے اعمال کی بازپرس کی جائے گی۔ خبردار میرے بعد گمراہ نہ ہو جائیو کہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنا شروع کر دو۔ ”

رسول پاک (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی یہ دردمندانہ وصیت زبان پاک سے نکلی اور تیرکی طرح دلوں کو چیر گئی۔ اب ان نفاق انگیز شگافوں کی طرف توجہ دلائی، جن کے پیدا ہو جانے کا اندیشہ تھا، یعنی یہ کہ اقتداراسلام کے بعد غریب اور پسماندہ گروہوں پر ظلم کیا جائے گا۔

اس سلسلہ میں فرمایا:۔

“اے لوگو!اپنی بیویوں کے متعلق اللہ سے ڈرتے رہنا۔ تم نے نام خدا کی ذمہ داری سے انہیں زوجیت میں قبول کیا ہے اور اللہ کا نام لے کران کا جسم اپنے لیے حلال بنایا ہے۔ عورتوں پر تمہارا یہ حق ہے کہ وہ غیر کو تمہارے بسترپرنہ آنے دیں، اگر وہ ایسا کریں تو تم انہیں ایسی مار مارو جو نمایاں نہ ہو اور عورتوں کا حق تم پریہ ہے کہ انہیں با فراغت کھانا کھلاؤ اور با فراغت کپڑا پہناؤ۔ ”

اسی سلسلے میں فرمایا:۔

“اے لوگو!تمہارے غلام، تمہارے غلام جو خود کھاؤ گے، وہی انہیں کھلاؤ، جو خود پہنو گے، وہی انہیں پہناؤ۔ ”

عرب میں فسادوخون ریزی کے بڑے بڑے موجبات دو تھے۔ ادائے سودکے مطالبات اور مقتولوں کے انتقام۔ ایک شخص دوسرے شخص سے اپنے قدیم خاندانی سودکامطالبہ کرتا تھا اور یہی جھگڑا پھیل کر خون کا دریا بن جاتا تھا۔ ایک آدمی دوسرے آدمی کو قتل کر دیتا، اس سے نسل بعدنسل قتل و انتقام کے سلسلے جاری ہو جاتے تھے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) انہیں دونوں اسباب فسادکوباطل فرماتے ہیں۔

“اے لوگو!آج میں جاہلیت کے تمام قواعدورسوم کو اپنے قدموں سے  پامال کرتا ہوں۔ میں جاہلیت کے قتلوں کے جھگڑے ملیامیٹ کرتا ہوں اور سب سے پہلے خود اپنے خاندانی مقتول ربیعہ بن حارث کے خون سے، جسے ہذیل نے قتل کیا تھا، دست بردار ہوتا ہوں۔ میں زمانہ جاہلیت کے تمام سودی مطالبات باطل قرار دیتا ہوں اور سب سے پہلے خود اپنے خاندانی سود، عباس بن عبد المطلب کے سودسے دست بردار ہوتا ہوں۔ ”

سود اور خون کے قرض معاف کر دینے کے بعد فرد عدالت نفاق کی طرف متوجہ ہوئے اور ورثہ، نسب، مقروضیت اور تنازعات کے متعلق فرمایا:

“اب اللہ تعالی نے ہر ایک حقدار کا حق مقرر کر دیا ہے، لہذاکسی کو وارثوں کے حق میں وصیت کر نے کی ضرورت نہیں ہے۔ بچہ جس کے بسترپرپیدا ہوا ہو، اس کو دیا جائے اور زنا کاروں کے لیے پتھر ہے اور ان کی جواب دہی اللہ پر ہے۔ جو لڑکا باپ کے سواکسی دوسرے نسب کا دعوی کرے اور غلام اپنے مولا کے سواکسی اور طرف اپنی نسبت کرے، ان پر خدا کی لعنت ہے۔ عورت شوہر کے بلا اجازت اس کا مال صرف نہ کرے، قرض ادا کیے جائیں، عاریت واپس کی جائے۔ عطیات لوٹائے جائیں اور ضامن تاوان ادا کر نے کا ذمہ دار ہے۔ ”

اہل عرب کے نزاع اور اسباب نزاع کا دفعیہ ہو چکاتواس بین الاقوامی تفریق کی طرف توجہ دلائی جو صدیوں کے بعد عرب و عجم یا گورے اور کالے کے نام سے پیدا ہونے والی تھی۔ ارشاد فرمایا:

“ہاں اے لوگوں !تم سب کا خدا بھی ایک ہی ہے اور تم سب کا باپ بھی ایک ہی ہے، لہذاکسی عربی کو عجمی پر، کسی سرخ کوسیاہ پر، کسی سیاہ کوسرخ پر کوئی پیدائشی برتری یا امتیاز حاصل نہیں ہو گا۔ ہاں افضل وہی ہے جو پرہیز گاری میں افضل ہو۔ ہرمسلمان دوسرے کا بھائی ہے اور تمام مسلمان ایک برادری ہیں۔ ”

اتحاداسلام کی مستقل اساس کی طرف رہنمائی فرمائی۔

“اے لوگو!میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور نہ میرے بعد کوئی نئی امت ہے۔ پس تم سب اپنے اللہ کی عبادت کرو۔ نماز پنجگانہ کی پابندی کرو، رمضان کے روزے رکھو، خوش دلی سے اپنے مالوں کی زکوٰۃ نکالو۔ اللہ کے گھر کا حج کرو۔ حکام امت کے احکام مانو اور اپنے اللہ کی جنت میں جگہ حاصل کر لو۔ ”

آخر میں فرمایا۔

وانتم تسالون عنی فما انتم قائلون۔ ایک دن اللہ تعالی تم لوگوں سے میرے متعلق گواہی طلب کرے گا، تم اس وقت کیا جواب دو گے ؟

اس پر مجمع عام سے پر جوش صدائیں بلند ہوئیں۔

انک قدبلغت:اے اللہ کے رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)!آپ نے تمام احکام پہنچا دئیے۔

وادیت: اے اللہ کے رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)!آپ نے فرض رسالت ادا کر دیا۔

ونصحت:اے اللہ کے رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)!آپ نے کھرے کھوٹے کا الگ کر دیا۔

اس وقت حضورسرورعالم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی انگشت شہادت آسمان کی طرف اٹھی۔ ایک دفعہ آسمان کی طرف اٹھاتے تھے اور دوسری دفعہ مجمع کی طرف اشارہ فرماتے تھے اور کہتے جاتے تھے۔

اللھم اشھد       اے اللہ!خلق خدا کی گواہی سن لے۔

اللھم اشھد       اے اللہ!مخلوق خدا کا اعتراف سن لے۔

اللھم اشھد       اے اللہ!گواہ ہو جا۔

اس کے بعد ارشاد فرمایا۔

“جو لوگ موجود ہیں، وہ ان لوگوں تک جو یہاں موجود نہیں ہیں، میری ہدایات پہنچاتے چلے جائیں۔ ممکن ہے کہ آج کے بعض سامعین سے زیادہ پیام تبلیغ کے سننے والے اس کلام کی محافظت کریں۔ (صحیح بخاری ج، 1، ص234نورمحمدکراچی1961)

 

                تکمیل دین و اتمام نعمت

 

خطبہ حج سے فارغ ہوئے تو جبرائیل امین وہیں تکمیل دین اور اتمام نعمت کا تاج لے آئے اور یہ آیت نازل ہوئی۔

الیوم اکملت لکم دینکم واممت علیکم نعمتی رضیت لکم الاسلام دینا(سورۃ المائدہ، آیت نمبر3)

آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، تم پر اپنی نعمت مکمل کر دی اور دین اسلام پر اپنی رضامندی کی مہر لگا دی۔

سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جب لاکھوں کے اجتماع میں اتمام نعمت اور تکمیل دین فطرت کا یہ آخری اعلان فرمایا تو آپ کی سواری کا سامان ایک روپے سے زیادہ قیمت کا نہ تھا۔ اختتام خطبہ کے بعد حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے اذان بلند کی اور حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ پڑھائی۔ یہاں سے ناقہ پرسوارہو کر موقف میں تشریف لائے اور دیر تک بارگاہ الٰہی میں کھڑے دعائیں کرتے رہے جب غروب آفتاب کے قریب ناقہ نبوی ہجوم خلائق میں سے گزری تو آپ کے خادم اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ، آپ کے ساتھ سوارتھے اور کثرت ہجوم کے باعث لوگوں میں اضطراب ساپیدا ہو رہا تھا۔ اس وقت حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ناقہ کی مہار کھینچتے جاتے تھے اور زبان پاک سے ارشاد فرماتے جاتے تھے۔

السکینۃ ایھا الناس  لوگو!سکون کے ساتھـ

السکینۃ ایھا الناس  لوگو!سکون کے ساتھـ

مزدلفہ میں میں نماز مغرب ادا کی اور سواریوں کو آرام کے لئے کھول دیا گیا۔ پھر نماز عشاء کے بعد لیٹ گئے اور صبح تک آرام فرماتے رہے۔ محدثین رحمۃ اللہ علیہم لکھتے ہیں کہ عمر بھر یہی ایک شب ہے جس میں آپ نے تہجد ادا نہیں فرمائی۔ 10ذی الحج کو ہفتہ کے روز جمرہ کی طرف روانہ ہوئے۔ اس میں آپ کے چچیرے بھائی فضل بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ آپ کے ساتھ سوارتھے۔ ناقہ قدم بہ قدم جا رہی تھی۔ چاروں طرف ہجوم تھا۔ لوگ مسائل پوچھتے تھے اور آپ جواب دیتے تھے۔ جمرہ کے پاس ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے کنکریاں چن کر دیں تو آپ نے انہیں پھینکا اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا۔

“اے لوگو!مذہب میں غلو کر نے سے بچے رہنا، تم سے پہلی قومیں اسی سے برباد ہوئی ہیں۔ ”

تھوڑی تھوری دیر کے بعد فراق امت کے جذبات تازہ ہو جاتے تھے، آپ اس وقت ارشاد فرماتے تھے۔

“اس وقت حج کے مسائل سیکھ لو، میں نہیں جانتا کہ شایداس کے بعد مجھے دوسرے حج کی نوبت آئے۔ ”

 

                میدان منی اور غدیر خم کے خطبات

 

یہاں سے منیٰ کے میدان مین تشریف لائے، ناقہ پرسوارتھے۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ مہار تھامے کھڑے تھے۔ اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ پیچھے بیٹھے کپڑا تان کرسایہ کیے ہوئے تھے۔ آگے پیچھے اور دائیں بائیں مہاجرین، انصار، قریش اور قبائل کی صفیں، دریا کی طرح رواں تھیں اور ان میں ناقہ نبوی کشتی نوح کی طرح ستارہ نجات بن رہی تھی اور ایسامعلوم ہو رہا تھا کہ باغبان ازل نے قرآن کریم کے انوارسے صدق و اخلاص کی جونئی دنیابسائی تھی۔ اب وہ شگفتہ و شاداب ہو چکی ہے۔ حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے اسی دور جدید کی یاد تازہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔

“آج زمانے کی گردش دنیاکوپھراسی نقطہ فطرت پرلے آئی جبکہ اللہ تعالی نے تخلیق ارض وسما کی ابتداء کی تھی۔ ”

پھرذیقعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب کی حرمت کا اعلان کرتے ہوئے مجمع کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا۔

پیغمبرانسانیت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم): آج کونسادن ہے ؟

مسلمان: اللہ اور رسول بہتر جانتے ہیں۔

پیغمبرانسانیت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)(طویل خاموشی کے بعد)کیا آج قربانی کا دن ہے ؟

مسلمان:بے شک!قربانی کا دن ہے۔

پیغمبرانسانیت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم):یہ کونسامہینہ ہے ؟

مسلمان:اللہ اور رسول بہتر جانتے ہیں۔

پیغمبرانسانیت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)(طویل خاموشی کے بعد)کیایہ ذوالحجہ نہیں ہے ؟

مسلمان:بے شک!یہ ذوالحجہ ہے۔

پیغمبرانسانیت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم):۔ یہ کون ساشہر ہے ؟

مسلمان : اللہ اور رسول بہتر جانتے ہیں۔

پیغمبرانسانیت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم):۔ (طویل خاموشی کے بعد)کیا یہ بلدۃ الحرام نہیں ہے ؟

مسلمان:بے شک بلدۃ الحرام ہے۔

اس کے بعد فرمایا:۔

مسلمانو!تمہارا خون، تمہارا مال، تمہاری آبرو، اسی طرح محترم ہیں، جس طرح یہ دن، یہ مہینہ اور یہ شہر محترم ہیں۔ تم میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مار نے لگو۔ اے لوگو!تمہیں اللہ کے دربار میں حاضر ہونا ہے، وہ تم سے تمہارے اعمال کی بازپرس کرے گا۔ اگرکسی نے جرم کیا تووہ خود اپنے جرم کا ذمہ دار ہو گا۔ باپ بیٹے کے جرم کا ذمہ دار نہیں اور بیٹا باپ کے جرم کا ذمہ دار نہیں۔ اب شیطان اس بات سے مایوس ہو گیا ہے کہ تمہارے اس شہر میں کبھی اس کی پرستش کی جائے گی۔ ہاں تم چھوٹی چھوٹی باتوں میں اس کی پیروی کرو گے تو وہ ضرور خوش ہو گا۔ اے  لوگو!توحید، نماز، روز ہ، زکوٰۃ اور حج یہی جنت کا داخلہ ہے۔ میں نے تمہیں حق کا پیغام پہنچا دیا ہے، اب موجود لوگ یہ پیغام ان لوگوں تک پہنچاتے رہیں جو بعد میں آئیں گے۔

یہاں سے قربان گاہ میں تشریف لائے اور 63اونٹ خود ذبح فرمائے اور 37کوحضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے ذبح کرایا اور ان کا گوشت اور پوست سب خیرات کر دیا۔ پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی کو طلب کر کے سرکے بال اتروائے اور یہ موئے مبارک تبرکاتقسیم ہو گئے۔ یہاں سے اٹھ کر خانہ کعبہ کا طواف فرمایا اور زمزم پی کر منیٰ میں تشریف لے گئے اور 12ذوالحجہ تک وہیں اقامت پذیر رہے۔ 13کوخانہ کعبہ کا آخری طواف کیا اور انصار و مہاجرین کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف مراجعت فرمائی، جب غدیر خم پہنچے تو صحابہ کرام کو جمع کر کے ارشاد فرمایا۔

“اے لوگو!میں بھی بشر ہوں۔ ممکن ہے اللہ کا بلاوا اب جلد آ جائے اور مجھے قبول کرنا پڑے۔ میں تمہارے لئے دو مرکز ثقل قائم کر چلا ہوں۔ ایک اللہ کی کتاب ہے جس میں ہدایت اور روشنی جمع ہے۔ اسے محکمی اور استواری کے ساتھ پکڑ لو۔ دوسرامرکزمیرے اہل بیت ہیں، میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تمہیں خداترسی کی وصیت کرتا ہوں۔ ”

گویا یہ اجتماع امت کے لئے اہل و عیال کے حقوق و احترام کی وصیت تھی تاکہ وہ کسی بحث میں الجھ کر حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے مختصرسے خاندان کے ساتھ بے لحاظی کا سلوک نہ کریں۔ مدینہ کے قریب پہنچ کر رات ذوالحلیفہ میں ٹھہرے اور دوسرے دن مدینہ منورہ میں داخل ہو گئے۔ محفوظ و مامون حمد کرتے ہوئے اور شکر بجا لاتے ہوئے۔

 

                ملک بقا کی تیاری

 

حضورسرورعالم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) مدینہ منورہ میں پہنچ کر۔ فسبح بحمد ربک واستغفرہ۔ کی تعمیل میں مصروف ہو چکے تھے۔ بارگاہ ایزدی کی حاضری کا شوق روز بروز بڑھتا جاتا تھا۔ صبح و شام معبود حقیقی کے ذکر و یادکی طلب تھی اور بس۔

رمضان المبارک میں ہمیشہ دس روز کا اعتکاف فرماتے تھے۔ 10ھ میں 20روز کا اعتکاف فرمایا۔ ایک دن حضرت فاطمہ بتول رضی اللہ تعالی عنہما تشریف لائیں تو ان سے فرمایا:پیاری بیٹی!اب مجھے اپنی رحلت قریب معلوم ہوتی ہے۔ انہی ایام میں شہدائے احد کی تکلیف، بے بسی کی شہادت اور مردانہ وار قربانیوں کا خیال آ گیا تو گنج شہیداں میں تشریف لے گئے اور بڑے دردوگذارسے ان کے لئے دعائیں کیں۔ نماز جنازہ پڑھی اور انہیں اس طرح الوداع کہی جس طرح ایک شفیق بزرگ، اپنے کم سن بچوں سے پیار کرتا ہے اور پھر انہیں الوداع کہتا ہے۔ یہاں سے واپس آئے تو منبر نبوی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) پر جلوہ طراز ہوئے اور ارباب صدق وصفاسے نہایت دردمندانہ لہجہ میں مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا۔

“دوستو!اب میں تم سے آگے منزل آخرت کی طرف چلا جا  رہا ہوں تاکہ بارگاہ ایزدی میں تمہاری شہادت دوں۔ واللہ!مجھے یہاں سے وہ اپنا حوض نظر آ رہا ہے جس کی وسعت ایلہ سے مجقہ تک ہے، مجھے تمام دنیا کے خزانوں کی کنجیاں دے دی گئی ہیں۔ اب مجھے یہ خوف نہیں کہ میرے بعد تم شرک کرو گے۔ البتہ میں اس سے ڈرتا ہوں کہ کہیں دنیا میں مبتلا نہ ہو جاؤ اور اس کے لئے آپس میں کشت و خون نہ کرو، اس وقت تم اسی طرح ہلاک ہو جاؤ گے جس طرح پہلی قومیں ہلاک ہوئیں۔ ”

کچھ دیر کے بعد قلب صافی میں زید بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ کی یاد تازہ ہو گئی۔ انہیں حدود شام کے عربوں نے شہید کر دیا تھا۔ فرمایا!اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ فوج لے کر جائیں اور اپنے والد کا انتقام لیں۔ ان ایام میں خیال مبارک زیادہ تر گزرے ہوئے نیاز مندوں ہی طرف مائل محبت رہتا تھا۔ ایک رات آسودگان بقیع کا خیال آ گیا۔ یہ عام مسلمانوں کا قبرستان تھا۔ جوش محبت سے آدمی رات اٹھ وہاں تشریف لے گئے اور عام امتیوں کے لئے بڑے سوزسے دعا فرماتے رہے۔ پھر یہاں کے روحانی دوستوں سے مخاطب ہو کر فرمایا:۔ انابکم سلاحقون۔ میں اب جلد تمہارے ساتھ شامل ہو  رہا ہوں۔

ایک دن مسجدنبوی میں پھرمسلمانوں کو یاد فرمایا۔ اجتماع ہو گیا تو ارشاد فرمایا۔ “مسلمانو!مرحبا، اللہ تعالی تم سب پر اپنی نعمتیں نازل فرمائے۔ تمہاری دل شکستگی دور فرمائے، تمہاری اعانت ودستگیری فرمائے، تمہیں رزق اور برکت مرحمت فرمائے۔ تمہیں عزت و رفعت سے سرفرازفرمائے، تمہیں دولت امن و عافیت سے شادکام فرمائے۔ میں اس وقت تمہیں صرف خوف خدا و اتقاء کی وصیت کرتا ہوں۔ اب اللہ تعالی ہی تمہارا وارث اور خلیفہ ہے اور میری تم سے اپیل اسی خوف کے لئے ہے۔ اس لئے کہ میرا منصب نذیر مبین ہے۔ دیکھنا اللہ کی بستیوں اور بندوں میں تکبر اور برتری اختیار نہ کرنا۔ یہ حکم ربانی ہر وقت تمہارے ملحوظ خاطر رہنا چاہیے۔

تلک الدارالاخرۃ نجعلھا للذین لایریدون علوافی الارض ولافسادا والعاقبۃ للمتقین۔

یہ آخرت کا گھر ہے، ہم یہ ان لوگوں کو دیتے ہیں جو زمین میں غروروفسادکا ارادہ نہیں کرتے اور آخرت کی کامیابی پرہیز گاروں کے لئے ہے۔

الیس فی جھنم مثوی للمتکبرین۔ کیا تکبر کرنے والوں کا ٹھکانہ دوزخ نہیں ہے ؟آخری الفاظ یہ ارشاد فرمائے۔ سلام تم سب پر اور ان سب لوگوں پرجوواسطہ اسلام سے میری بیعت میں داخل ہوں گے۔ ”

 

                علالت کی ابتداء

 

29صفربروز دو شنبہ ایک جنازے سے واپس تشریف لا رہے تھے کہ اثنائے راہ میں سرکے دردسے علالت کا آغاز ہو گیا۔ حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے تھے کہ سرکاردوجہاں (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے سرمبارک پر رومال بندھا تھا۔ میں نے ہاتھ لگا، یہ اس قدر جل رہا تھا کہ ہاتھ کو برداشت نہ ہوتی تھی۔ دو شنبہ تک اشتداد مرض نے مرضی اقدس پر قابو پا لیا۔ اس واسطے ازواج مطہرات نے اجازت دے دی کہ اب حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا مستقل قیام حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ہاں کر دیا جائے۔ اس وقت مزاج اقدس پر ضعف اس قدر طاری تھا کہ خود قدموں سے چل کر حجرہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا تک تشریف نہیں لے جا سکے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کردگار کے دونوں بازو تھامے اور بڑی مشکل سے حجرہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا میں تشریف لائے۔ حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ نبی خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) جب کبھی بیمار ہوتے تھے، یہ دعا اپنے ہاتھوں پر دم کر کے جسم مبارک پر ہاتھ پھیر لیتے تھے۔

اذھب الباس رب الناس واشف انت الشافی لاشفاء الاشفائک شفاء لایغادرسقما۔

اے مالک انسانیت!خطرات دور فرما دے۔ اے شفاء دینے والے تو شفا عطا فرما دے، شفا وہی ہے جو تو عنایت کرے، وہ صحت عطا کر کہ کوئی تکلیف باقی نہ رہے۔

اس مرتبہ میں نے یہ دعا پڑھی اور نبی خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے ہاتھوں پر دم کر کے یہ چاہا کہ جسم اطہر پر مبارک ہاتھ پھیر دوں۔ مگر حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے ہاتھ پیچھے ہٹا لئے اور ارشاد فرمایا۔

اللھم اغفرلی والحقنی بالرفیق الاعلی۔

اے اللہ!معافی اور اپنی رفاقت عطا فرما دے۔

 

                وفات سے پانچ روز پہلے

 

وفات اقدس سے پانچ روز پہلے (چہار شنبہ)پتھر کے ایک ٹب میں بیٹھ گئے اور سرمبارک پر پانی کی سات مشکیں ڈلوائیں۔ اس سے مزاج اقدس میں خنکی اور تسکین سی پیدا ہو گئی۔ مسجدمیں تشریف لائے اور فرمایا۔ “مسلمانو!تم سے پہلے ایک قوم گزر چکی ہے جس نے اپنے انبیاء و صلحاء کی قبروں کوسجدہ گاہ بنا لیا تھا، تم ایسانہ کرنا۔ “پھر فرمایا:”ان یہود و نصاریٰ  پر خدا کی لعنت ہو، جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کوسجدہ گاہ بنایا۔ پھر فرمایا میری قبر کو میرے بعد وہ قبر نہ بنا دینا کہ اس کی پرستش شروع ہو جائے۔ “پھر فرمایا:

مسلمانو!وہ قوم اللہ کے غضب میں آ جاتی ہے جو قبور انبیاء کومساجدبنادے۔ “پھر فرمایا”دیکھو، میں تم کواس سے منع کرتا رہا ہوں، دیکھو، اب پھر یہی وصیت کرتا ہوں، اے اللہ!تو گواہ رہنا!”

پھر یہ ارشاد فرمایا۔

“اللہ تعالی نے اپنے ایک بندے کو اختیار عطا فرمایا ہے کہ وہ دنیا و ما فیہا کو قبول کرے یا آخرت کو، مگراس نے صرف آخرت ہی کو قبول کر لیا ہے۔ ”

یہ سن کر رمز شناس نبوت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ آنسوبھرلائے اور رونے لگے اور کہا:”یارسول اللہ!ہمارے ماں، باپ، ہماری جانیں اور ہمارے زر و مال آپ پر قربان ہو جائیں۔ “لوگوں نے ان کو تعجب سے دیکھا کہ حضور انور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)تو ایک شخص کا واقعہ بیان فرما رہے ہیں، پھراس میں رونے کی کونسی بات ہے، مگر یہ بات انہوں نے سمجھی، جورو رہے تھے۔ حضرت صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی اس بے کلی نے خیال اشرف کودوسری طرف مبذول کر دیا۔ ارشاد فرمایا:۔

“میں سب سے زیادہ جس کی دولت اور رفاقت کا مشکور ہوں، وہ بو بکر رضی اللہ تعالی عنہ ہیں اگر میں اپنی امت میں سے کسی ایک شخص کو اپنی دوستی کے لئے منتخب کر سکتاتووہ بو بکر رضی اللہ تعالی عنہ ہوتے لیکن اب رشتہ اسلام میری دوستی کی بنا ہے اور وہی کافی ہے۔ مسجدکے رخ پر کوئی دریچہ بو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کے دریچہ کے سواباقی نہ رکھا جائے۔ ”

انصار مدینہ حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے زمانہ علالت میں برابر رو رہے تھے۔ حضرت بو بکر رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو انہوں نے انصار کو روتے دیکھا، دریافت کر نے پر انہوں نے بتایا:۔ “آج ہمیں محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی صحبتیں یاد آ رہی ہیں۔ “انصار کی اس دردمندی اور بے دلی کی اطلاع سمع مبارک تک پہنچ چکی تھی۔ ارشاد فرمایا۔

“اے لوگو!میں اپنے انصار کے معاملہ میں تم کو وصیت کرتا ہوں، عام مسلمان روز بروز بڑھتے جائیں گے مگر میرے انصار”کھانے میں نمک”کی طرح رہ جائیں گے۔ یہ لوگ میرے جسم کا پیرہن اور میرے سفرزندگی کا توشہ ہیں۔ انہوں نے اپنے فرائض ادا کر دئیے، مگر ان کے حقوق باقی ہیں جو شخص امت کے نفع اور نقصان کا متولی ہو، اس کا فرض ہے کہ وہ انصار نکو کار کی قدر افزائی کرے اور جن انصارسے لغزش ہو جائے، ان کے متعلق درگزرسے کام لے۔ ”

حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے حکم دیا کہ حضرت اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ بن زید شام پر حملہ اور ہوں اور اپنے شہید والد کا انتقام لیں۔ اس پر منافقین کہنے لگے۔ ایک معمولی نوجوان کواکابراسلام پرسپہ سالارمقررکر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں پیغمبرمساوات نے ارشاد فرمایا۔

“آج اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ کی سرداری پر تم کو اعتراض ہے اور کل اس کے باپ زید رضی اللہ تعالی عنہ کی سرداری پر تم کو اعتراض تھا۔ خدا کی قسم!وہ بھی اس منصب کے مستحق تھے اور یہ بھی۔ وہ بھی سب سے زیادہ محبوب تھے اور اس کے بعد یہ بھی سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ ”

پھر فرمایا:حلال و حرام کے تعین کو میری طرف منسوب نہ کرنا۔ میں نے وہی چیز حلال کی ہے جسے قرآن نے حلال کیا اور اسی کو حرام قرار دیا ہے، جسے خدا نے حرام کیا ہے۔ ”

اب آپ اہل بیت کی طرف متوجہ ہوئے کہ کہیں رشتہ نبوت کا غرور انہیں عمل وسعی سے بیگانہ نہ بنا دے۔ ارشاد فرمایا۔

“اے رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا! اور اے پیغمبر خدا کی پھوپھی صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا!خدا کے ہاں کے لئے کچھ کر لو۔ میں تمہیں خدا کی گرفت سے نہیں بچاسکتا۔

یہ خطبہ درد، حضرت محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا آخری خطبہ تھاجس میں حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے حاضرین مسجدکوخطاب فرمایا، اختتام کلام کے بعد حجرہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا میں تشریف لے آئے۔

شدت مرض کی حالت یہ تھی کہ عالم بے تابی میں کبھی ایک پاؤں پھیلاتے اور کبھی دوسراسمیٹتے تھے۔ کبھی گھبرا کر چہرہ انور پر چادر ڈال لیتے تھے اور کبھی الٹا دیتے تھے۔ ایسی حالت میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا صدیقہ نے زبان مبارک سے یہ الفاظ سنے۔

“یہود و نصاریٰ  پر خدا کی لعنت ہو کہ انہوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا ہے۔ ”

 

                وفات سے چار روز پہلے

 

وفات سے چار روز پہلے (جمعرات)حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاسے ارشاد فرمایا اپنے والد بو بکر رضی اللہ تعالی عنہ اور اپنے بھائی عبدالرحمن رضی اللہ تعالی عنہ بلا لیجئے۔ اسی سلسلے میں فرمایا:”دوات کاغذ لے آؤ۔ “میں ایک تحریر لکھوا دوں جس کے بعد تم گمراہ نہیں ہو گے۔ “یہ شدت مرض میں حضورسرورعالم کا ایک خیال تھا۔ حضرت فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ رائے ظاہر کی کہ حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)اس حال میں تکلیف دینامناسب نہیں ہے۔ اب تکمیل شریعت کا کوئی ایسانکتہ باقی نہیں رہاجس میں قرآن کافی نہ ہو۔ بعض دوسرے صحابہ رضوان اللہ تعالی عنہم نے اس رائے سے مطابقت نہ کی جب شور زیادہ ہوا تو بعض نے کہا:”خود حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)سے دریافت کر لیا جائے۔ “ارشاد فرمایا:”مجھے چھوڑ دو۔ میں جس مقام پر ہوں، وہ اس سے بہت رہے جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو۔ ”

اسی روز تین وصیتیں اور فرمائیں۔

1-    کوئی مشرک عرب میں نہ رہے۔

2-    سفیروں اور وفود کی بدستورعزت و مہمانی کی جائے۔

3-    قرآن پاک کے متعلق کچھ ارشاد فرمایا جو راوی کو یاد نہیں رہا۔

سرکارپاک(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)علالت کی تکلیف اور بے چینی کے باوجود گیارہ روز تک برابرمسجدمیں تشریف لاتے رہے۔ جمعرات کے روز مغرب کی نماز بھی خود پڑھائی اور اس میں سورہ مرسلات تلاوت فرمائی۔ عشاء کے وقت آنکھ کھولی اور دریافت فرمایا:”کیا نماز ہو چکی؟”مسلمانوں نے عرض کیا:مسلمان آپ کے منتظر بیٹھے ہیں۔ لگن میں پانی بھروا کرغسل فرمایا اور ہمت کر کے اٹھے، مگر غش آ گیا۔ تھوڑی دیر میں پھر آنکھ کھولی اور فرمایا:”کیا نماز ہو چکی؟”لوگوں نے عرض کیا:یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)!مسلمان آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ “اس مرتبہ پھر اٹھنا چاہا، مگر بے ہوش ہو گئے، کچھ دیر کے بعد پھر آنکھ کھولی اور وہی سوال دہرایا:”کیا نماز ہو چکی ہے ؟”لوگوں نے عرض کیا:”یارسول اللہ!سب لوگوں کو حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ہی کا انتظار ہے۔ تیسری مرتبہ جسم مبارک پر پانی ڈالا اور جب اٹھنا چاہا تو غشی آ گئی۔ افاقہ ہونے پر ارشاد فرمایا۔ بو بکر رضی اللہ تعالی عنہ نماز پڑھا دیں۔ حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے عرض کیا:بو بکر رضی اللہ تعالی عنہ نہایت رقیق القلب آدمی ہیں جب وہ آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو نمازپڑھاسکیں گے۔ “ارشاد فرمایا:وہی نماز پڑھائیں۔ “حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا خیال یہ تھا کہ جو شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے بعد امام مقرر ہو گا، لوگ اسے لازمامنحوس خیال کریں گے۔ روایت ہے کہ اس وقت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ تشریف فرما نہیں تھے۔ اس واسطے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو آگے بڑھایا گیا مگر حضور نے تین مرتبہ فرمایا:نہیں، نہیں، نہیں، بو بکر رضی اللہ تعالی عنہ نماز پڑھائیں۔

رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا منبر چند روز پہلے خالی ہو چکا تھا۔ آج رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا مصلی بھی خالی ہو گیا۔ جب بو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ حضرت محمد مصطفی(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی جگہ کھڑے ہوئے تو عالم یاس نے مسجدنبوی پر اپنے پردے تان دئیے اور مسلمانوں کے دل بے اختیار رو دئیے اور خود صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے قدم بھی لڑکھڑا گئے چونکہ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے ارشاد کے ساتھ توفیق الٰہی شامل تھی۔ اس واسطے یہ کٹھن گھاٹی بھی گزر گئی۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے حیات پاک نبوی میں اسی طرح سترہ نمازیں پڑھیں۔

 

                وفات کے دو روز پہلے

 

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ ظہر کی نماز پڑھا رہے تھے کہ حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی طبیعت نے مسجدکی طرف رجوع کیا اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے کندھوں پرسہارالیتے ہوئے جماعت میں تشریف لے آئے۔ نمازی نہایت بے قراری کے ساتھ حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی طرف متوجہ ہوئے اور صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ بھی مصلے سے پیچھے ہٹے۔ مگر حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے ارشاد فرمایا:پیچھے مت ہٹو۔ پھر حضرت صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے برابر بیٹھ گئے اور نماز ادا کرنے لگے۔ حضور کی اقتداء صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کرتے تھے اور صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی اقتداء مسلمان کرتے تھے۔ یہ پاک نمازاسی طرح مکمل ہو گئی تو حضور پاک (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) حجرہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا میں تشریف لے گئے۔

 

                وفات کے ایک روز پہلے

 

مخدوم انسانیت جوقیددنیاسے آزاد ہو رہے تھے، صبح بیدار ہوئے تو پہلا کام یہ کیا کہ سب غلاموں کو آزاد فرمایا۔ یہ تعداد میں 40 تھے۔ پھر اثاث البیت کی طرف توجہ فرمائی۔ اس وقت کاشانہ نبوی کی ساری دولت صرف سات دینار تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاسے فرمایا:انہیں غریبوں میں تقسیم کر دو، مجھے شرم آتی ہے کہ رسول اپنے اللہ سے ملے اور اس کے گھر میں دولت دنیا پڑی ہو۔ “اس ارشاد پر گھر کا گھر صاف کر دیا گیا۔ آخری رات کاشانہ نبوی میں چراغ نبوی جلانے کے لئے تیل تک موجود نہیں تھا۔ یہ ایک پڑوسی عورت سے ادھار لیا گیا۔ گھر میں کچھ ہتھیار باقی تھے۔ انہیں مسلمانوں کو ہبہ کر دیا گیا۔ زرہ نبوی، 30 صاع جوکے عوض ایک یہودی کے پاس رہن تھی۔ چونکہ ضعف لمحہ بہ لمحہ ترقی پذیر تھا۔ اس واسطے بعض درد مندوں نے دوا پیش کی مگر انکار فرمایا۔ اسی وقت غشی کا دورہ آ گیا اور تیمار داروں نے منہ کھول کر دوا پلا دی۔ افاقہ کے بعد جب اس کا احساس ہوا تو فرمایا:اب یہی دوا پلانے والوں کو بھی پلائی جائے۔ یہ اس لئے کہ جس وجود باوجود کی صحت کے لئے ایک دل گرفتہ دعائیں کر رہی تھی، وہ اپنے اللہ کی دعوت کواس طرح قبول کر چکا تھا کہ اب اس میں نہ دعا کی گنجائش باقی تھی اور نہ دوا کی۔

 

                یوم وفات

 

9 ربیع الاول(دو شنبہ)کو مزاجِ اقدس میں قدرے سکون تھا، نماز صبح ادا کی جا رہی تھی کہ حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے مسجد اور حجرہ کا درمیانی پردہ سرکادیا۔ اب چشم اقدس کے روبرو نمازیوں کی صفیں مصروف رکوع وسجودتھیں۔ سرکاردوعالم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے اس پاک نظارے کو جو حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی پاک تعلیم کا نتیجہ تھا، بڑے اشتیاق سے ملاحظہ فرمایا اور جوش مسرت سے ہنس پڑے۔ لوگوں کو خیال ہوامسجدمیں تشریف لا رہے ہیں، نمازی بے اختیارسے ہو گئے، نماز ٹوٹنے لگیں اور حضرت صدیق رضی اللہ تعالی عنہ جو امامت کرا رہے تھے، نے پیچھے ہٹنا چاہا، مگر حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)اشارہ مبارک سے سب کوتسکین دی اور چہرہ انور کی ایک جھلک دکھا کر پھر حجرے کا پردہ ڈال دیا۔ اجتماع اسلام کے لئے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کا یہ جلوہ زیارت کا آخری تھا اور شاید یہ انتظام بھی خو د قدرت کی طرف سے ہوا کہ رفیقان صلوۃ جمال آراء کی آخری جھلک دیکھتے جائیں۔

9 ربیع الاول کی حالت صبح سے نہایت عجیب تھی۔ ایک سورج بلند ہو رہا تھا اور دوسراسورج غروب ہو رہا تھا۔ کاشانہ نبوی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)میں پے درپے غشی کے بادل آئے اور رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے وجوداقدس پر چھا گئے۔ ایک بے ہوشی گزر جاتی تھی تو دوسری پھر وارد ہو جاتی تھی۔ انہیں تکلیفوں پر پیاری بیٹی کو یاد فرمایا۔ وہ مزاج اقدس کا یہ حال دیکھ کرسنبھل نہ سکیں۔ سینہ مبارک سے لپٹ گئیں اور رونے لگیں۔ بیٹی کواس طرح نڈھال دیکھ کر ارشاد فرمایا۔

“میری بیٹی!رو نہیں، میں دنیاسے رخصت ہو جاؤں گا۔ تو انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اسی میں ہر شخص کے لئے سامان تسکین موجود ہے۔ “حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے پوچھا:کیا آپ کے لیے بھی؟فرمایا:ہاں، اس میں میری بھی تسکین ہے۔

جس قدررسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا درد و کرب بڑھ رہا تھا، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا کلیجہ کٹتا جا رہا تھا۔ حضرت رحمۃ العالمین (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے ان کی اذیت کومحسوس کر کے کچھ کہنا چاہا تو پیاری بیٹی نے سرورکائنات (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے لبوں سے اپنے کان لگا دیئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا:بیٹی!میں اس دنیا کو چھوڑ رہا ہوں۔ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا بے اختیار رو دیں۔ پھر فرمایا:فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا!میرے اہل بیت میں تم سب  سے پہلے مجھے ملو گی۔ “فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہاہنس دیں کہ یہ جدائی قلیل ہے۔

پیغمبرانسانیت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی حالت نازک ہوتی جا رہی تھی۔ یہ حال دیکھ کر فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہنا شروع کیا:واکرب اباہ!ہائے میرے باپ کی تکلیف، ہائے میرے باپ کی تکلیف!فرمایا!فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا!آج کے بعد تمہارا باپ کبھی بے چین نہیں ہو گا۔ حسن رضی اللہ تعالی عنہ اور حسین رضی اللہ تعالی عنہ بہت غمگین ہو رہے تھے، انہیں پاس بلایا، دونوں کو چوما، پھر ان کے احترام کی وصیت فرمائی۔ پھر ازواج مطہرات رضوان اللہ علیہم کو طلب فرمایا اور انہیں نصیحتیں فرمائیں۔ اسی دوران میں ارشاد فرماتے تھے۔

مع الذین انعم اللہ علیھم

ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام فرمایا

اللھم بالرفیق الاعلی

اے خداوند!بہترین رفیق۔

پھر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو طلب فرمایا۔ آپ نے سرمبارک کو اپنی گود میں رکھ لیا۔ انہیں بھی نصیحت فرمائی۔ پھر ایک دم اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:۔

الصلوۃ الصلوۃ وماملکت ایمانکم

نماز، نماز اور لونڈی، غلام اور پسماندگان اب نزع کا وقت آ پہنچا تھا۔ رحمۃ العالمین (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ پانی کا پیالہ پاس رکھا تھا، اس میں ہاتھ ڈالتے تھے اور چہرہ انور پر پھرا لیتے تھے۔ روئے اقدس کبھی سرخ ہو جاتا اور کبھی زرد پڑ جاتا تھا۔ زبان مبارک آہستہ آہستہ ہل رہی تھی۔ لا الہ الا اللہ، ان للموت سکرات۔

“خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور موت تکلیف کے ساتھ ہے۔ ”

حضرت عبدالرحمن بن بو بکر رضی اللہ تعالی عنہ ایک تازہ مسواک کے ساتھ آئے تو حضور پاک(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے مسواک پر نظر جما دی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاسمجھ گئیں کہ مسواک فرمائیں گے۔ ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہا نے دانتوں میں نرم کر کے مسواک پیش کی اور آپ نے بالکل تندرستوں کی طرح مسواک کی۔ دہان مبارک پہلے ہی طہارت کا سراپا تھا۔ اب مسواک کے بعد اور بھی مجلا ہو گیا تو یک لخت ہاتھ اونچا کیا کہ گویا تشریف لے جا رہے ہیں اور پھر زبان قدس سے نکلا:

بل الرفیق الاعلی۔ اب اور کوئی نہیں، صرف اسی کی رفاقت منظور ہے۔

بل الرفیق الاعلی۔ بل الرفیق الاعلی۔ تیسری آواز پر ہاتھ لٹک آئے، پتلی اوپر کو اٹھ گئی اور روح شریف عالم قدس کو ہمیشہ کے لئے رخصت ہو گئی۔

اللھم صلی علی محمد و علی آل محمد و بارک و سلم

یہ ربیع الاول 11ھ دو شنبہ کا دن اور چاشت کا وقت تھا۔ عمر مبارک قمری حساب سے 63سال اور 4دن ہوئی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

 

                صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی عنہم میں اضطراب عظیم

 

خبر وفات کے بعدمسلمانوں کے جگر کٹ گئے، قدم لڑکھڑا گئے، چہرے بجھ گئے، آنکھیں خون بہانے لگیں۔ ارض وسماء سے خوف آنے لگا، سورج تاریک ہو گیا، آنسوبہہ رہے تھے اور نہیں تھمتے تھے۔ کئی صحابہ حیران وسرگردان ہو کر آبادیوں سے نکل گئے۔ کوئی جنگل کی طرف بھاگ گیا۔ جو بیٹھا تھا بیٹھا رہ گیا، جو کھڑا تھا اس کو بیٹھ جانے کا یارانہ ہوا۔ مسجد نبوی قیامت سے پہلے قیامت کا نمونہ پیش کر رہی تھی۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ تشریف لائے اور چپ چاپ حجرہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا میں داخل ہو گئے۔ یہاں حضرت رحمۃ العالمین کی میت پاک پڑی تھی۔ حضرت صدیق نے چہرہ اقدس سے کپڑا اٹھا کر پیشانی مبارک پربوسہ دیا اور پھر چادر ڈھک دی اور روکر کہا:۔

“حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر میرے ماں باپ قربان!آپ کی زندگی بھی پاک تھی اور موت بھی پاک ہے۔ واللہ!اب آپ پر دو موتیں وارد نہیں ہوں گی۔ اللہ نے جو موت لکھ رکھی تھی، آپ نے اس کا ذائقہ چکھ لیا اور اب اس کے بعد موت ابد تک آپ کا دامن نہ چھوسکے گی۔ ”

جب صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ مسجدنبوی میں تشریف لائے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ غایت بے بسی سے نڈھال کھڑے تھے اور بڑے درد و جوش سے یہ اعلان کر رہے تھے۔ “منافقین کہتے ہیں کہ حضرت محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)انتقال فرما گئے ہیں۔ واللہ!آپ نے وفات نہیں پائی۔ آپ اللہ تعالی کی بارگاہ میں حضرت موسی کی طرح طلب کئے گئے ہیں جوچالیس روز غائب رہ کرواپس آ گئے تھے۔ اس وقت موسی علیہ السلام کی نسبت بھی یہی کہا جاتا تھا کہ آپ وفات پا گئے ہیں۔ خدا کی قسم حضرت محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) بھی انہیں کی طرح دنیا میں واپس تشریف لائیں گے اور ان لوگوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیں گے جو آپ پر وفات کا الزام لگاتے ہیں۔ ”

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا کلام سناتوفرمایا:عمر!سنبھلو اور خاموش ہو جاؤ جب عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ اپنی وارفتگی میں بہے چلے گئے تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نہایت دانشمندی کے ساتھ ان سے الگ ہٹ گئے اور خود گفتگو شروع کر دی جب حاضرین مسجدبھی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو چھوڑ کر ادھر متوجہ ہو گئے تو آپ نے پہلے حمد و  ثنا بیان کی۔ پھر فرمایا:۔

“اے لوگو!تم میں سے جو شخص محمد کو پوجتا تھا وہ سمجھ لے کہ محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)وفات پا گئے ہیں اور جو شخص خداکاپرستا رہے، وہ جان لے کہ اللہ تعالی زندہ ہے اور وہ کبھی مرے گا نہیں اور یہ حقیقت خو د قرآن پاک نے واضح کر دی ہے۔

و مامحمد”الارسول”قدخلت من قبلہ الرسل۔ افائن مات اوقتل انقلبتم علی اعقابکم ومن ینقلب علی عقبیہ فلن بضراللہ شیئا۔ وسیجزی اللہ الشاکرین۔ نہیں ہیں محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)مگر ایک رسول۔ ان سے پہلے رسول گزر چکے ہیں۔ کیا اگر وہ مر جائیں یا شہید ہو جائیں تو تم دین سے برگشتہ ہو جاؤ گے ؟جو شخص برگشتہ ہو جائے گا، وہ اللہ تعالی کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا اور اللہ عنقریب شکر گزاروں کو جزا دے گا۔ ”

اس آیت پاک کوسن کر تمام مسلمان چونک پڑے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ “خدا کی قسم!ہم لوگوں کوایسامعلوم ہوا کہ یہ آیت اس سے پہلے نازل ہی نہیں ہوئی تھی۔ “حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ سے یہ آیت سن کر میرے پاؤں ٹوٹ گئے اور کھڑے رہنے کی قوت باقی نہیں رہی تھی، میں زمین پر گر پڑا اور مجھ کو یقین ہو گیا کہ واقعی حضرت محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)رحلت فرما گئے ہیں۔ ”

حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا غم سے نڈھال تھیں اور فرما رہی تھیں :

“پیارے باپ نے دعوت حق کو قبول کیا اور فردوس بریں میں نزول فرمایا۔

آہ!وہ کون ہے جو جبرائیل امین کواس حادثہ غم کی اطلاع کر دے۔ ”

“الٰہی!فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی روح کو محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی روح کے پاس پہنچا دے۔ الٰہی!مجھے دیداررسول(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی مسرت عطا فرما دے۔ ”

الٰہی!مجھے اس معیت کے ثواب سے بہرہ ورکر دے۔ الٰہی!مجھے رسول امین(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی شفاعت سے محروم نہ رکھنا۔ ”

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کے دل و جان پر غم کی گھٹائیں چھا گئی تھیں اور زبان اخلاق پیغمبری کی ترجمانی کر رہی تھی۔

“حیف، وہ بنی جس نے تمول پر فقیری کو چن لیا، جس نے تونگری کو ٹھکرا دیا اور مسکینی قبول کر لی۔ ”

“آہ!وہ صاحب خلق عظیم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)، جو ہمیشہ آٹھوں پہرنفس سے جنگ آزما رہا۔ ”

آہ!وہ اللہ کا پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)، جس نے ممنوعات کو کبھی آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ ”

“آہ! وہ رحمۃ العالمین(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)، جس کا باپ فیض فقیروں اور حاجت مندوں کے لیے کھلا رہتا تھا، جس کا رحیم دل اور پاک ضمیر کبھی دشمنوں کی ایذارسانی سے غبار آلود نہ ہوا۔ ”

“جس کے موتی جیسے دانت توڑے گئے اور اس نے پھر بھی صبر کیا۔ ”

“جس کی پیشانی انور کو زخمی کیا گیا اور اس نے پھر بھی دامن عفو ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ ”

“آہ!کہ آج اسی وجودسرمدی سے ہماری دنیا خالی ہے۔ ”

 

                تجہیز و تکفین

 

سہ شنبہ سے تجہیز و تکفین کا کام شروع ہوا۔ فضل بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ پردہ تان کر کھڑے ہو گئے۔ انصار نے دروازہ پردستک دی کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی آخری خدمت گزاری میں اپنا حصہ طلب کر نے آئے ہیں۔

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اوس بن خولی انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کو اندر بلایا، وہ پانی کا گھڑا بھر کر لاتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے جسم مبارک سینہ سے لگا رکھا تھا۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے صاحبزادے جسم مبارک کی کروٹیں بدلتے تھے اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ اوپرسے پانی ڈالتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ غسل دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے۔

“میرے مادر پدر قربان!آپ کی وفات سے وہ دولت گم ہوئی ہے جوکسی دوسری موت سے گم نہیں ہوئی۔ ”

“آج نبوت، اخبار غیب اور نزول وحی کا سلسلہ کٹ گیا ہے۔ ”

“آپ کی وفات سے تمام انسانوں کے لئے یکساں مصیبت ہے۔ ”

“اگر آپ صبر کا حکم نہ دیتے اور گریہ و زاری سے منع نہ فرماتے تو ہم دل کھول کرآنسوبہاتے لیکن پھر بھی یہ دکھ لاعلاج ہوتا اور یہ زخم لازوال رہتا۔

“ہمارا درد بے درماں ہے، ہماری مصیبت بے دوا ہے۔ ”

“اے حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)!میرے والدین آپ پر قربان، جب آپ بارگاہی الٰہی میں پہنچیں تو ہمارا ذکر فرمائیں اور ہم لوگوں کو فراموش نہ کر دیں۔ ”

تین سوتی سفیدکپڑوں میں کفن دیا گیا، چونکہ وصیت پاک یہ تھی کہ آپ کی قبرایسی جگہ نہ بنائی جائے کہ اہل عقیدت اسے سجدہ گاہ بنا لیں، اس لئے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی رائے کے مطابق حجرہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ میں قبر کھودی گئی جہاں آپ نے انتقال فرمایا تھا۔ حضرت طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ نے لحد قبر کھودی چونکہ زمین میں نمی تھی، اس واسطے وہ بسترجس میں وفات پائی تھی، قبر میں بچھا دیا گیا جب تیاری مکمل ہو گئی تو اہل ایمان نماز کے لئے ٹوٹ پڑے چونکہ جنازہ حجرہ کے اندر تھا، اس واسطے باری باری جماعتیں اندر جاتی تھیں اور نماز جنازہ ادا کرتی تھیں۔ اس نماز میں امام کوئی نہیں تھا۔ پہلے کنبہ والوں نے جنازہ پڑھا، پھر مہاجرین نے، پھر انصار نے، مردوں نے الگ جنازہ پڑھا، عورتوں نے الگ اور بچوں نے الگ۔ یہ سلسلہ رات اور دن برابر جاری رہا۔ اس لئے تدفین مبارک چہار شنبہ کی شب کو یعنی رحلت پاک سے 32 گھنٹے بعد عمل میں آئی۔ جسم مبارک کو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ، فضل بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ، اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالی عنہ بن عوف نے قبر میں اتارا اور آخراس علم کے چاند، دین کے سورج اور اتقاء کے گلزار کو اہل دنیا کی نگاہ سے اوجھل کر دیا گیا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

 

                متروکات

 

صاحب”سیرۃ النبی”نے کتنا اچھا لکھا ہے۔ حضور پاک(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اپنی زندگی ہی میں اپنے پاس کیا رکھتے تھے جو مرنے کے بعد چھوڑ جاتے۔ پہلے ہی اعلان فرما چکے تھے۔ لانورث ماترکناصدقہ۔ ہم نبیوں کا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑیں وہ صدقہ ہے۔

عمرو بن حویرث رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے مرتے وقت کچھ نہ چھوڑا۔ نہ درہم، نہ دینار، نہ غلام، نہ لونڈی اور نہ کچھ اور صرف اپناسفیدخچر، ہتھیار اور کچھ زمین تھی جو عام مسلمانوں پر صدقہ کر گئے۔

آثار متبرکہ کہ چند یادگاریں صحابہ رضوان اللہ علیہم کے پاس باقی رہیں۔ حضرت طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس موئے مبارک تھے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس موئے مبارک کے علاوہ نعلین مبارک اور ایک لکڑی کا ٹوٹا ہوا پیالہ تھا۔ ذوالفقار حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس تھی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس وہ کپڑے تھے جن میں انتقال فرمایا۔ مہر منور اور عصائے مبارک حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کو تفویض ہوئے۔ ان کے علاوہ سب سے بڑی نعمت اور دولت جو عرش عظیم سے بھی زیادہ قیمت تھی، آپ اس پوری انسانیت کو عطا فرما گئے۔ یہ نعمت عظیم اللہ کی کتاب قرآن ہے۔

وقدترکت فیکم مالن تضلوا بعدہ ان اعتصمتم بہ کتاب اللہ

اے لوگو!میں تم میں وہ چیز چھوڑ چلا ہوں کہ اگراسے مضبوط پکڑ لو گے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے، یہ اللہ کی کتاب ہے۔

٭٭٭

ماخذ:

کتاب انسانیت موت کے دروازے پر

کمپوزنگ:جاوید اقبال

فائل کی فراہمی کے لیے تشکر:جاوید اقبال

تدوین اور  ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید