FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

 

دیس بِرانا

 

 

 

 

سورج پرکاش

ہندی سے ترجمہ عامر صدیقی

 

حصہ اول

 

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

 

 

 

تعارف مصنف

 

سورج پرکاش، پیدائش: ۱۴ مارچ ۱۹۵۲ء، بمقام دہرادون، انڈیا۔ تخلیقی کام: ادھوری تصویریں (کہانیوں کا مجموعہ)، حادثوں کے درمیان (ناول)، دیس برانا (ناول، آڈیو سی ڈی کے طور پر بھی دستیاب)، چھوٹے ہوئے گھر (کہانیوں کا مجموعہ)، ذرا سنبھل کے چلو (مضامین)، داڑھی میں تنکا (متفرقات)، مرد نہیں روتے (کہانیوں کا مجموعہ)، کھو جاتے ہیں گھر (کہانیوں کا مجموعہ)، چھوٹے نواب بڑے نواب (کہانیوں کا مجموعہ)، لہروں کی بانسری اور دیگر کہانیاں (فیس بک پر کہانیوں کا مجموعہ) اور ناٹ ایکیول ٹو لو (ہندی کا پہلا چیٹ ناول)۔

انگریزی سے تراجم: جارج اورویل کا ناول اینمل فارم، گبریل گارسیا مارکیز کے ناول کرانیکل آف دی ڈیتھ فور ٹولڈ، این فینک کی ڈائری، چارلی چیپلن اور، چارلس ڈارون کی سوانح عمری۔ علاوہ ازیں دنیا بھر کی بہت سی مشہور کہانیوں کے تراجم۔

گجراتی سے تراجم: دنکر جوشی کا ناول، ونود بھٹ کی تین کتابیں، گِجُو بھائی بدھَیکا کی دو کتابیں اور اس علاوہ دو سو کے آس پاس بچوں کی کہانیاں، مہاتما گاندھی کی سوانح عمری۔

مرتبہ: بمبئی 1 (بمبئی پر مبنی کہانیوں کا مجموعہ)، کتھا لندن (برطانیہ میں لکھی جا رہی ہندی کہانیوں کا مجموعہ)، کتھا دشک (برطانیہ سے تعلق رکھنے والے دس مصنفوں کی کہانیوں کا مجموعہ)۔

اعزازات: گجرات ساہتیہ اکادمی کا اعزاز، مہاراشٹر اکیڈمی کی جانب سے اعزاز اور ریاستی سطح پر اعزاز۔

مزید: کہانیوں کی مختلف مجموعات میں اشاعت کے ساتھ کہانیوں کے دوسری زبانوں میں تراجم بھی شائع ہوئے ہیں۔ کہانیاں ریڈیو پر نشر اور دوردرشن پر پربھی پیش کی جاتی رہی ہیں۔ ادبی خدمات پر تین ایم فل اور دو پی ایچ ڈیز بھی ہو چکی ہیں۔

***

 

 

 

 

باب اول

 

 

۲۴ ستمبر، ۱۹۹۲ء۔ کیلنڈر ایک بار پھر وہی مہینہ اور وہی تاریخ دکھا رہا ہے۔ ستمبر اور چوبیس تاریخ۔ ہر سال یہی ہوتا ہے۔ یہ تاریخ مجھے چھیڑنے، پریشان کرنے اور وہ سب کچھ یاد دلانے کیلئے میرے سامنے آ جاتی ہے، جسے میں بالکل بھی یاد نہیں کرنا چاہتا۔

آج پورے چودہ برس ہو جائیں گے، مجھے گھر چھوڑے ہوئے یا یوں کہوں کہ اس بات کو آج چودہ سال ہو جائیں گے، جب مجھے گھر سے نکال دیا گیا تھا۔ نکالا ہی تو گیا تھا۔ میں کہاں چھوڑنا چاہتا تھا گھر۔ چھوٹ گیا تھا مجھ سے گھر، میرے نہ چاہنے کے باوجود۔ اگر دارجی آدھے ادھورے لباس میں مجھے دھکے مار کر گھر سے باہر نکال کر پیچھے سے دروازہ بند نہ کر دیتے تو میں اپنی مرضی سے گھر تھوڑے ہی چھوڑتا۔ اگر دارجی چاہتے تو غصہ ٹھنڈا ہونے پر کان پکڑ کر مجھے گھر واپس بھی تو لے جا سکتے تھے۔ مجھے تو گھر سے کوئی ناراضگی نہیں تھی۔ آخر گولو اور بلّو تمام وقت میرے آس پاس ہی تو منڈلاتے رہے تھے۔

گھر سے ناراضگی تو میری آج بھی نہیں ہے۔ آج بھی گھر، میرا پیارا گھر، میرے بچپن کا گھر میری رگوں میں بہتا ہے۔ آج بھی میری سانس سانس میں اسی گھر کی خوشبو رچی بسی رہتی ہے۔ روز رات کو خواب میں آتا ہے میرا گھر اور مجھے رلا جاتا ہے۔ کوئی بھی تو دن ایسا نہیں ہوتا جب میں گھر کولے کر اپنی گیلی آنکھوں نہیں پونچھتا ہوں۔ بیشک ان چودہ برسوں میں کبھی گھر نہیں جا پایا، لیکن کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ میں نے خود کو گھر سے دور پایا ہو۔ گھر میرے ارد گرد ہمیشہ بنا رہا ہے۔ اپنے مکمل پن کے ساتھ میرے اندر ستار کے تاروں کی طرح بجتا رہا ہے۔

کیسا ہو گا اب وہ گھر!! جو کبھی میرا تھا۔ شاید اب بھی ہو۔ جیسے میں گھر واپس جانے کے لئے ہمیشہ تلملاتا رہا لیکن کبھی جا نہیں پایا، ہو سکتا ہے گھر بھی مجھے بار بار واپس بلانے کیلئے اشارے کرتا رہا ہو۔ میری راہ دیکھتا رہا ہو اور پھر مایوس ہو کر اس نے میری واپسی کی امیدیں ہی چھوڑ دی ہوں۔

میرا گھر۔ ہمارا گھر۔۔ ہم سب کا گھر۔۔۔ جہاں بی بے تھی، گولو تھا، بلّو تھا، ایک چھوٹی سی بہن تھی گڈّی اور تھے دارجی۔۔۔ کیسی ہو گی بی بے۔۔۔۔ پہلے سے چودہ سال مزید بوڑھی۔۔۔۔۔ اور دارجی۔۔۔۔۔۔۔ شاید اب بھی اپنے ٹھیے پر بیٹھے بیٹھے اپنے اوزار گولو اور بلّو پر پھینک کر مار رہے ہوں گے اور سب کو اپنی دھار دار گالیوں سے چھلنی کر رہے ہوں۔۔۔ گڈّی کیسی ہو گی۔۔ جب گھر چھُوٹا تھا تو وہ پانچ برس کی رہی ہو گی۔ اب تو اسے ایم اے وغیرہ میں ہونا چاہیے۔ دارجی کا کوئی بھروسہ نہیں۔ پتہ نہیں اسے اتنا پڑھنے بھی دیا ہو گا یا نہیں۔ دارجی نے پتہ نہیں کہ گولو اور بلّو کو بھی پڑھنے دیا ہو گا یا نہیں یا اپنے ساتھ ہی اپنے ٹھیے پر بٹھا دیا ہو گا۔۔۔ رب کرے گھر میں سب راضی خوشی ہوں۔۔۔

ایک بار گھر جا کر دیکھنا چاہئے۔۔ کیسے ہوں گے سب۔۔ کیا مجھے قبول کر لیں گے!! دارجی کا تو پتہ نہیں لیکن بی بے تو اب بھی مجھے یاد کر لیتی ہو گی۔ جب دارجی نے مجھے دھکے مار کر دروازے کے باہر دھکیل دیا تھا تو بی بے کتنا روئی تھی۔ بار بار دارجی کے آگے ہاتھ جوڑتی تھی کہ میرے دیپو کو جتنا مار پیٹ لو، پرکم از کم گھر سے تو مت نکالو۔

بیشک وہ مار، وہ ٹیسیں اور وہ گھر سے نکالے جانے کے مصائب اب بھی تکلیف دے رہے ہیں، آج کے دن کچھ زیادہ ہی، پھر بھی سوچتا ہوں کہ ایک بار تو گھر ہو ہی آنا چاہیے۔ دیکھا جائے گا، دارجی جو بھی کہیں گے۔ یہی ہو گا نہ، ایک بار پھر گھر سے نکال دیں گے۔ یہی سہی۔ ویسے بھی گھر میرے حصے میں کہاں لکھا ہے۔۔۔ بے گھر سے پھر بے گھر ہی تو ہو جاؤں گا۔ کچھ بھی تو نہیں بگڑے گا میرا۔

فیصلہ کر لیتا ہوں، ایک بار گھر ہو ہی آنا چاہیے۔ وہ بھی تو دیکھیں، جس دیپو کو انہوں نے مار پیٹ کر آدھے ادھورے لباس میں ننگے پاؤں اور ننگے سر گھر سے نکال دیا تھا، آج کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہے۔ اب نہ اس کے سر میں درد ہوتا ہے اور نہ ہی روزانہ صبح اسے بات بات پر دارجی کی مار کھانی پڑتی ہے۔

پاس بک دیکھتا ہوں۔ کافی پیسے ہیں۔ بینک جا کر تیس ہزار روپے نکال لیتا ہوں۔ پانچ سات ہزار کیش الگ ہیں۔ کافی ہوں گے۔

سب کیلئے ڈھیر ساری شاپنگ کرتا ہوں۔ بیگ میں یہ ساری چیزیں لے کر میں گھر کی طرف چل دیا ہوں۔ ہنسی آتی ہے۔ میرا گھر۔۔۔ گھر۔۔۔ جو کبھی میرا نہیں رہا۔۔ صرف گھر کے احساس کے سہارے میں نے یہ چودہ برس کاٹ دیئے ہیں۔ گھر۔۔۔ جو ہمیشہ میری آنکھوں کے آگے جھلملاتا رہا لیکن کبھی بھی مکمل طور پر میرے سامنے نہیں آیا۔

یاد کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس دوران کتنے گھروں میں رہا، ہاسٹل میں بھی رہا، اکیلا کمرہ لے کر بھی رہتا رہا، لیکن کہیں بھی اپنے گھر کا احساس نہیں ملا۔ ہمیشہ لگتا رہا، یہاں سے لوٹ کر جانا ہے۔ گھر لوٹنا ہے۔ گھر تو وہی ہوتا ہے نہ، جہاں لوٹ کر جایا جا سکے۔ جہاں جا کر مسافرت ختم ہوتی ہو۔ پتہ نہیں میری مسافرت کب ختم ہو گی۔ بمبئی سے دہرادون کی سترہ سو کلومیٹر کی یہ دوری پار کرنے میں مجھے چودہ برس لگ گئے ہیں، پتہ نہیں اس بار بھی گھر مل پاتا ہے یا نہیں۔

دہرادون بس اڈے پر اترا ہوں۔ یہاں سے مچھلی بازار ایک ڈیڑھ کلومیٹر پر پڑتا ہے۔

فیصلہ کرتا ہوں، پیدل ہی گھر جاؤں۔۔۔ ہمیشہ کی طرح گاندھی اسکول کا چکر لگاتے ہوئے۔ پورے بازار اور اسکول کو بدلے ہوئے روپ میں دیکھنے کا موقع بھی ملے گا۔ سبزی منڈی سے ہوتے ہوئے بھی گھر جایا جا سکتا ہے، راستہ چھوٹا بھی پڑے گا، لیکن بچپن میں ہم منڈی میں آوارہ گھومتے سانڈوں کی وجہ سے یہاں سے جانا ٹالتے تھے۔ آج بھی ٹال جاتا ہوں۔

گاندھی اسکول کے آس پاس کا نقشہ بھی مکمل طور پر بدلا ہوا ہے۔ گاندھی روڈ پر یہ ہماری پسندیدہ جگہ خوشی رام لائبریری، جہاں ہم راجہ بھیا، چندا ماما اور پراگ وغیرہ پڑھنے آتے تھے اور ان رسالوں کیلئے اپنی باری کا گھنٹوں انتظار کرتے رہتے تھے۔ پڑھنے کا سلیقہ اور تحفہ ہمیں اسی لائبریری نے دیا تھا۔

آگے ہمالیہ آرمز کی دکان اپنی جگہ پر ہے، لیکن اس کے ٹھیک سامنے دوسری منزل پر ہماری پانچویں کلاس کا کمرا مکمل طور پر اجاڑ نظر آ رہا ہے۔ پورے اسکول میں صرف یہی کمرہ سڑک سے نظر آتا تھا۔ اس کمرے میں پورا ایک سال گزارا ہے میں نے۔ میری سیٹ بالکل کھڑکی کے پاس تھی اور میں تمام وقت نیچے بازار کی جانب ہی دیکھتا رہتا تھا۔ ہماری اس کلاس پر ہی نہیں بلکہ پورے اسکول پر ہی کہنہ سالی کی ایک گاڑھی سی تہہ جمی ہوئی ہے۔ پتہ نہیں اندر کیا حال ہو گا۔ گیٹ ہمیشہ کی طرح بند ہے۔ اسکول کے باہر موجود کتابوں کی ساری دکانیں یا تو بری طرح اداس نظر آ رہی ہیں یا پھر ان کی جگہ کچھ اور ہی بکتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

اسکول کے آگے سے گزرتے ہوئے بچپن کے سارے قصے یاد آتے ہیں۔

پورے بازار میں سبھی دکانوں کا نقشہ بدلا ہوا ہے۔ ایک وقت تھا جب میں یہاں سے اپنے گھر تک آنکھیں بند کر کے بھی جاتا تو بتا سکتا تھا، بازار میں دونوں اطراف کس کس چیز کی دکانیں ہیں اور اُن پر کون کون بیٹھا کرتے ہیں۔ لیکن اب ایسا نہیں ہو سکتا۔ ایک بھی شناسا چہرہ نظر نہیں آ رہا ہے۔ آئے بھی کیسے۔ سبھی تو میری طرح عمر کے چودہ پڑاؤ آگے نکل چکے ہیں۔ اگر میں بدلا ہوں تو اور لوگ بھی تو بدلے ہی ہوں گے۔ وہ بھی مجھے کہاں پہچان پا رہے ہوں گے۔ یہ نئی سبزی منڈی۔۔ کشن چچا کی دکان۔۔ اس پر پرانا سا تالا لٹک رہا ہے۔ یہ مشن اسکول۔۔۔ ساری دکانیں جانی پہچانی لیکن لوگ بدلے ہوئے۔ سندھی سوئیٹ شاپ کے تین حصے ہو چکے ہیں۔ تینوں ہی حصوں میں انجانے چہرے گلّے پر بیٹھے ہیں۔

اپنی گلی میں گھستے ہی میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی ہے۔ پتہ نہیں ان چودہ برسوں میں کیا کچھ بدل چکا ہو گا اس گرتے گھر میں۔۔ یا مکان میں۔۔۔ پتہ نہیں سب سے پہلے کس سے سامنا ہو۔۔۔ گلی کے کونے میں ستنام چاچے کی پرچون کی دکان ہوا کرتی تھی۔ وہاں اب کوئی نوجوان لڑکا ویڈیو گیمز کی دکان سجائے بیٹھا ہے۔ پتہ نہیں کون رہا ہو گا۔ تب پانچ چھ سال کا رہا ہو گا۔ اندر کے دروازے سے کوئی جوان سی عورت نکل کر ارجن پنساری کی دکان کی طرف جا رہی ہے۔ ارجن چاچا خود بیٹھا ہے۔ ویسا ہی لگ رہا ہے جیسے چھوڑ کر گیا تھا۔

اس نے میری طرف دیکھا ہے لیکن پہچان نہیں پایا ہے۔ ٹھیک ہی ہوا۔ بعد میں آ کر مل لوں گا۔ میری خواہش ہے کہ سب سے پہلے بی بے ہی مجھے دیکھے، پہچانے۔

اپنی گلی میں آ پہنچا ہوں۔ پہلا گھر منگا رام چاچے کا ہے۔ میرے خاص دوست نندو کا۔ گھر بالکل بدلا ہوا ہے اور دروازے پر کسی مہر چند کی پرانی سی نیم پلیٹ لگی ہوئی ہے۔ اس کا مطلب نندو وغیرہ یہاں سے  جا چکے ہے۔ منگا رام چاچا کی تو کوتوالی کے پاس نہر والی گلی کے سرے پر چھولے بھٹورے کی چھوٹی سی دکان ہوا کرتی تھی۔ اس کے سامنے والا گھر گامے کا ہے۔ ہماری سڑک کا پہلوان اور ہماری ساری نئی شرارتوں کا اگوائی۔ اس سے اگلا گھر پرویش اور بنسی کا۔ ہماری گلی کا ہیرو پرویش۔ اس سے کبھی نزدیکی دوستی نہیں بن پائی تھی۔ ان کا گھر تو ویسا ہی لگ رہا ہے۔ پرویش کے گھر کے سامنے خوشی بھائی صاحب کا گھر۔ وہ ہم سب بچوں کے ماڈل تھے۔ اپنی محنت کے بل بوتے ہی پڑھائی مکمل کی تھی۔ سارے بچے دوڑ دوڑ کر ان کے کام کرتے تھے۔ سب سے سنسنی خیز کام ہوتا تھا، سب کی نظروں سے بچا کر ان کیلئے سگریٹ لانا۔ سکھ ہونے کی وجہ سے مجھے اس کام سے چھوٹ ملی ہوئی تھی۔

اگلا گھر بونی اور بوبی کا ہے۔ ان کے پاپا سردار راجا سنگھ انکل۔ ہمارے پورے محلہ میں صرف وہی انکل تھے۔ باقی سب چاچا تھے۔ پوری گلی میں اسکوٹر بھی صرف انہی کے پاس تھا۔

یہ سامنے ہی ہے میرا گھر۔۔۔ میرا چھوٹا ہوا گھر۔۔۔۔۔ ہمارا گھر۔۔ بھائی ہرنام سِہاں کا شہتوتوں والا گھر۔ غصے میں کچھ بھی کر بیٹھنے والا سردار ہرناما۔۔۔ ترکھان۔۔۔ ہمارے گھر شہتوت کا درخت۔ ہمارے گھر۔۔۔۔ ہرنامے کے گھر کی پہچان۔۔۔ تین گلی پہلے سے یہ پہچان شروع ہو جاتی۔۔۔۔۔ ہرناما ترکھان کے گھر جانا ہے؟ سیدھے چلے جاؤ۔۔ آگے ایک شہتوت کا درخت آئے گا۔ وہی گھر ہے ترکھان کا۔ چودہ مچھلی بازار، دہرادون۔ گھر کو دلچسپی سے، تجسس سے دیکھتا ہوں۔ گھر کے باہر والی دیوار جیسے اپنی طبعی عمر پوری کر چکی ہے اور لگتا ہے بس، آج کل میں ہی رخصت ہو جانے والی ہے۔ ٹین کے پترے والا دروازہ ویسے ہی ہے۔ بی بے تب بھی دارجی سے کہا کرتی تھی، ’’ترکھانے کے گھر ٹین کے پترے کے دروازے زیب نہیں دیتے۔ کبھی اپنے گھر کیلئے بھی کچھ بنا دیا کرو۔‘‘

میں ہولے سے کنڈی بجاتا ہوں۔ کنڈی کی آواز تھوڑی دیر تک خالی صحن میں گونج کر میرے پاس واپس لوٹ آئی ہے۔ دوبارہ کنڈی بجاتا ہوں۔ میری دھڑکن بہت تیز ہو چلی ہے۔ پتہ نہیں کون دروازہ کھولے۔

’’کون ہے۔‘‘ یہ بی بے کی ہی آواز ہو سکتی ہے۔ پہلے کے مقابلے میں زیادہ غمگین اور لمبی تان سی لیتے ہوئے۔۔۔

’’میں کییا کون ہے اس ویلے۔‘‘ میری آواز نہیں نکلتی۔ کیا بولوں اور کیسے بولوں۔ بی بے دروازے کے پاس آ گئی ہے۔ جھرّی میں سے اس کا بے حد کمزور ہو گیا چہرہ نظر آتا ہے۔ آنکھوں پر چشمہ بھی ہے۔ دروازہ کھلتا ہے۔ بی بے میرے سامنے ہے۔ ایکدم کمزور جسم۔ مجھے چندھیاتی آنکھوں سے دیکھتی ہے۔ میرے بیگ کی طرف دیکھتی ہے۔ تذبذب کی حالت میں پوچھتی ہیں، ’’توانوُ کون چائیدا اے باؤجی۔؟‘‘

میں اچانک بلند آواز میں روتے ہوئے اس کے قدموں میں ڈھے گیا ہوں، ’’بی بے۔۔ بی بے۔۔ میں نُو معاف کر دے میری بی بے۔۔ میں میں۔۔‘‘

میرا نام سننے سے پہلے ہی وہ دو قدم پیچھے ہٹ گئی ہے۔۔ ہکا بکا سی میری طرف دیکھ رہی ہے۔ میں اس کے پیروں میں گرا ہمک ہمک کر ہچکیاں بھرتے ہوئے رو رہا ہوں، ’’میں تیرا باورا پتر دیپو۔۔۔۔ دیپو۔‘‘ میرے آنسو زار زار بہہ رہے ہیں۔ چودہ برسوں سے میری پلکوں پر اٹکے آنسوؤں نے آج باہر نکلنے کا راستہ تلاش کر لیا ہے۔ بی بے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی ہے۔۔ اب بھی غیر یقینی سے میری طرف دیکھ رہی ہے۔۔۔ اچانک اس کی آنکھوں میں شناسائی ابھری ہے اور اس کے گلے سے زور کی چیخ نکلی ہے، ’’اوی۔۔ میرے پاگل پْتّرا۔ تْوں اپنی انّی ماںنوں چھڈّ کے کِتّتھے چلا گیا سَیں۔۔ ہایے ہو میرییا ربّا۔ تَینْوں اسی اُڈِیک اُڈِیک کے اپنِیاں اکھّاں رتِّیاں کر لئیاں۔ میری یا سونی یا پْتّراں۔ ربّ تَینْوں میری وی عمر دے دیوے۔ تْوں جرا وی رحم نِیں کِتّا، اپنی بْڈّی ماں تے، کے او جِیندی ہے کے مر گیی اے۔۔۔۔‘‘

وہ آنسوؤں سے بھرے میرے چہرے کو اپنے دونوں کمزور ہاتھوں میں بھرے مجھے پیار سے چوم رہی ہے۔ میرے بالوں میں ہاتھ پھیر رہی ہے اور میری بلائیں لے رہی ہے۔ اس کا گلا رندھ گیا ہے۔ ابھی ہم ماں بیٹے کا ملن چل ہی رہا ہے کہ محلے کی دو تین عورتیں بی بے کا رونا دھونا سن کر کھلے دروازے سے آ لگی ہیں۔ ہمیں اس حالت میں دیکھ کر وہ بھی ہڑبڑا گئی ہیں۔

بی بے سے پوچھ رہی ہیں۔ ’’کی ہویا بھَین جی۔۔ سب خیر تاں ہے ناں۔۔۔۔!!‘‘

’’تْوں خَیر پْچھ رئی ہَیں وِملِی۔۔ اج تاں ربّ ساڈے اْتّے کِنّا میربان ہو گیا نِیں۔ ویکھو وے بھلِی لوکو، میرا دِیپْو کِنّے چِر باد اج گھر مْڑ کے آیا اے۔ میرا پْتّ اِس گھروں ریندا کلپدا گیا سی، تے اج کِنّے چِر باد ولّ کے آیا اے۔ ہایہ کوئی چھیتّی جاکے تے اِدے دارجینوں تے خبر کر دیوو۔ او کوئی جلدی جا کے کھنڈ دی ڈبّی لَے آوے۔ میں سارییاں دا مْوں مِٹھّا کرا دیواں۔۔۔۔ آ جا وے میرے پْتّ میں تیری نجر اْتار دواں۔۔ پتا نِیں کِس بھَیڑے دی نجّر لگ گئی سی۔‘‘

ہم دونوں کا رو رو کر برا حال ہے۔ میرے منہ سے ایک بھی لفظ نہیں نکل رہا ہے۔ اتنے برسوں کے بعد ماں کے آنچل میں جی بھر کے رونے کو جی چاہ رہا ہے۔ میں روئے جا رہا ہوں اور محلے کی ساری عورتیں منہ میں دوپٹہ دبائے حیرانی سے ماں بیٹے کے اس حیرت انگیز ملن کو دیکھ رہی ہیں۔ کسی نے میری طرف پانی کا گلاس بڑھا دیا ہے۔ میں نے ہچکیوں کے درمیان پانی ختم کیا ہے۔

خبر پورے محلے میں بجلی کی تیزی سی پھیل گئی ہے۔ ورانڈے میں پچاسوں لوگ جمع ہو گئے ہیں۔ بی بے نے میرے لئے چارپائی بچھا دی ہے اور میرے پاس بیٹھ گئی ہے۔ ایک کے بعد ایک سوال پوچھ رہی ہے۔ اچانک ہی گھر میں مصروفیت بڑھ گئی ہے۔ سب کے سب میرے کھانے پینے کے انتظامات میں لگ گئے ہیں۔ کبھی کوئی چائے تھما جاتا ہے تو کوئی میرے ہاتھ میں گڑ کا یا مٹھائی کا ٹکڑا رکھ جاتا ہے۔ میرے ارد گرد اچھی خاصی بھیڑ لگ گئی ہے اور میری طرف عجیب سی نگاہوں سے دیکھ رہی ہے۔ چند ایک بزرگ بھی آ گئے ہیں۔ بی بے مجھے ان کے بارے میں بتا رہی ہے۔ میں کسی کسی کو ہی پہچان پا رہا ہوں۔ کسی کا چہرہ پہچانا ہوا لگتا ہے تو کسی کا نام یاد سا آ رہا ہے۔

محلے بھر کے چاچا، تائے، مامے، مامیاں، ورانڈے میں آ چکے ہیں اور مجھ سے طرح طرح کے سوال پوچھ رہے ہیں۔ مجھے سوجھ نہیں رہا کہ کس بات کا کیا جواب دیا جائے۔ میں بار بار کسی نہ کسی بزرگ کے پیروں میں ما تھا ٹیک رہا ہوں۔ سب کے سب مجھے گرم جوشی میں ہی گلے سے لگا لیتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم تھا میں اب بھی اپنے گھر پریوار کیلئے بہت معنی رکھتا ہوں۔

تبھی بی بے مجھے بچاتی ہے، ’’وے بھلے لوکو، میرا پْتّ کِنّا لمبا سفر کر کے آیا اے۔ انّْو تھوڑی چِرآرام کرن دیؤ۔ سارِیاں گلّاں ہُنی تا نا پْچھّو!! ویکھو تاں وِچارے دا کِنّا جییاں موں نکل آیا اے۔۔۔‘‘

بی بے نے کسی طرح سب کو رخصت کر دیا ہے لیکن لوگ ہیں کہ مانتے ہی نہیں۔ کوئی نہ کوئی کنڈی کھڑکا ہی دیتا ہے اور میرے آگے کچھ نہ کچھ کھانے کی چیز رکھ دیتا ہے۔ ہر کوئی مجھے اپنے گلے سے لگانا چاہتا ہے، اپنے ہاتھوں سے کچھ نہ کچھ کھانا پلانا چاہتا ہے۔ پھر اوپر سے ان کے سوالات کی برسات۔ میرے لئے اڑوس پڑوس کی چاچیاں تائیاں دسیوں کپ چائے دے گئی ہیں اور میں نے کچھ گھونٹ چائے پی بھی ہے، پھر بھی بی بے نے میرے لئے الگ سے گرم گرم چائے بنائی ہے۔ بلائی ڈال کے۔ بی بے کو یاد رہا، مجھے بلائی والی چائے اچھی لگتی تھی۔ بچپن میں ہم تینوں بھائیوں میں چائے میں بلائی ڈلوانے کیلئے دوڑ لگتی تھی۔ دودھ میں اتنی بلائی اترتی نہیں تھی کہ دونوں وقت تینوں کی چائے میں ڈالی جا سکے۔ بی بے چائے میں بلائی کیلئے ہماری باری باندھتی تھی۔

بی بے پوچھ رہی ہے کہ میں کہاں سے آ رہا ہوں اور کیا کرتا ہوں۔ بہت عجیب سا لگ رہا ہے یہ سب بتانا، لیکن میں جانتا ہوں کہ جب تک یہاں رہوں گا، مجھے بار بار انہی سوالوں کے پل صراط سے گزرناہو گا۔ بی بے کو تھوڑا بہت بتاتا ہوں کہ اس بیچ کیا کیا گذرا۔ میں نے اپنی بات پوری نہیں کی ہے کہ بی بے خود بتانے لگی ہے، ’’گولو تاں بارویں کر کے تے پکی نوکری دی تلاش کر رییا اے۔ کدی کدی چھوٹی موٹی نوکری مل وی جاندی اے اونو۔ اج کل چکراتا روڈ تے اک ریڈی میڈ کپڑییاں دی ہٹی تے بیندا اے تے پندرا سولاں سو رپئے لے آندا اے۔ اتے بلّو نے تاں دسویں ویں پوری نیں کتّی۔ کیندا سی، میرے تے نیں ہوندی اے کتابی پڑھائی۔۔ اجکلا سپیر پارٹ دی دکان تے بیندا اے۔ انّو وی ہزار بارہ سوں رپئے مل جاندے ہن۔ تیرے دارجی وی ڈھلّے ریندے نے۔ بیشک تینو غصے وچ مار پٹ کے تے گھروں کڈ دتا سی پر تینوں میں کی دسّاں، بعد وچ بوت روندے سی۔ کیندے سی۔۔۔‘‘ اچانک بی بے خاموش ہو گئی ہے۔ اسے سوجھا نہیں کہ آگے کیا کہے۔ اس نے میری طرف دیکھا اور بات بدل دی ہے۔ میں سمجھ گیا ہوں کہ وہ دارجی کی طرفداری کرنا چاہ رہی تھی، لیکن میرے آگے اس سے جھوٹ نہیں بولا گیا۔ لیکن میں جان بوجھ کر بھی خاموش رہتا ہوں۔ بی بے آگے بتا رہی ہے، ’’تیں نُو اسیں کنا ڈھونڈھییا، تیرے پچھے کتھے کتھے نیں گی، پر توں تاں انی جئی گل تے ساڈے کول نراض ہو کے کدی مڑھ کے وی نیں آیا کہ تیری بڈّی ماں جیندی اے کی مر گئی اے۔ میں تاں رب دے اگے اٹھ اٹھ ہنجو روندی سی کہ اک واری مینو میرے پت نال ملا دے۔‘‘ میں بی بے کی بات توجہ سے سن رہا ہوں۔ اچانک پوچھ بیٹھتا ہوں، ’’سچ دسیں بی بے، دارجی واقعی میرے واسطے روئے سی؟ ویکھ جھوٹ نہ بولیں۔ تینوں میری سوں۔‘‘

بی بے اچانک چپ ہو گئی ہے۔ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتی ہے۔ اس کی خالی نگاہیں دیکھ کر مجھے افسوس ہونے لگتا ہے، یہ میں کیا پوچھ بیٹھا!! ابھی تو آئے مجھے گھنٹہ بھر بھی نہیں ہوا، لیکن بی بے نے مجھے بچا لیا ہے اور دارجی کا سچ بغیر لاگ لپیٹ کے بیان کر دیا ہے۔ یہ سچ اس حقیقت سے بالکل مختلف ہے جو ابھی ابھی بی بے بیان کر رہی تھی۔ شاید وہ اتنے عرصے بعد آئے بیٹے کے سامنے کوئی بھی جھوٹ نہیں بولنا چاہتی۔ ویسے بھی وہ جھوٹ نہیں بولتی کبھی۔ شاید اسی لیے اس سے یہ جھوٹ بھی نہیں بولا گیا ہے یا یوں کہوں کہ سچ چھپایا نہیں گیا ہے۔

بی بے ابھی دارجی کے بارے میں بتا ناہی چاہ رہی ہے کہ میں نے بات بدل دی ہے اور گڈّی کے بارے میں پوچھنے لگتا ہوں۔ وہ خوش ہو کر بتاتی ہے، ’’گڈّی دا بی اے دا پہلا سال ہے۔ وچوں بیمار پے گئی سی۔ وچاری دا اک سال مارییا گیا۔ کیندی اے، میں ساریاں دی کسر کلے ای پوری کراں گی۔ بڑی سونی تے سیانی ہو گئی اے تیری بھین۔ سارا گھر کلے سنبھال لیندی اے۔ پیلے تاں تینوں بوت پچھدی سی۔۔ پھیر ہولی ہولی بھل گئی۔۔۔ بس کالجوں آندی ہی ہووے گی۔‘‘

مجھے تسلی ہوتی ہے کہ چلو کوئی تو پڑھ لکھ گیا۔ خاص طور پر گڈّی کو دارجی پڑھا رہے ہیں، یہی بہت بڑی بات ہے۔ ابھی ہم گڈّی کی بات کر ہی رہے ہیں کہ زور سے دروازہ کھلنے کی آواز آتی ہے۔ میں مڑ کر دیکھتا ہوں۔ سفیدشلوار قمیض میں ایک لڑکی دروازے پر کھڑی ہے۔ سانس پھولی ہوئی۔ ہاتھ میں ڈھیر ساری کتابیں اور آنکھوں میں بے انتہا حیرانی۔ وہ آنکھیں پٹرپٹر کر کے میری طرف دیکھ رہی ہے۔ میں اسے دیکھتے ہی اٹھ کھڑا ہوتا ہوں، ’’گڈّی۔۔!‘‘ میں زور سے کہتا ہوں اور اپنی بانہیں پھیلا دیتا ہوں۔

وہ لپک کر میری بانہوں میں آ گئی ہے۔ اس کی سانس دھونکنی کی طرح تیز چل رہی ہے۔ بہت زور سے رونے لگی ہے وہ۔ بڑی مشکل سے روتے روتے ’’ویر۔۔۔ جی۔۔ ویر جی۔۔۔۔!‘‘ ہی کہہ پا رہی ہے۔ میں اس کے کندھے تھپتھپا کر چپ کراتا ہوں۔ میرے لئے اپنا رونا ہی روک پانا مشکل ہو رہا ہے۔ بی بے بھی رونے لگی ہے۔

بڑی مشکل سے ہم تینوں اپنے اپنے رونے پر قابو پاتے ہیں۔ تبھی اچانک گڈّی بھاگ کر رسوئی میں چلی گئی ہے۔ باہر آتے وقت اس کے ہاتھ میں تھالی ہے۔ تھالی میں مَولی، چاول اور ٹیکے کا سامان ہے۔ وہ میرے ماتھے پر ٹیکہ لگاتی ہے اور میری بازو پر مَولی باندھتی ہے۔ اس کا پیار بھرا انداز مجھے اندر تک بھگو گیا ہے۔ بی بے وارفتگی سے یہ سب دیکھے جا رہی ہے۔ گڈّی جو بھی کہتی جا رہی ہے، میں ویسے ہی کرتا جا رہا ہوں۔ جب اس نے اپنے تمام ارمان پورے کر لئے ہیں تو اس نے جھک کر پورے احترام کے ساتھ میرے پاؤں چھوئے ہیں۔

میں اس کے سر پر چپت لگا کر آشیش دیتا ہوں اور اندر سے بیگ لانے کے لئے کہتا ہوں۔ وہ بھاری بیگ اٹھا کر لاتی ہے۔ اس کیلئے لائے سامان سے اس کی جھولی بھر دیتا ہوں۔ وہ حیرانی سے سارا سامان دیکھتی رہ جاتی ہے، ’’یہ سب آپ میرے لئے لائے ہیں۔‘‘

’’تجھے یقین نہیں ہے؟‘‘

’’یقین تو ہے لیکن اتنا خرچہ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘ اس نے واک میں کے ایئر فون فوراً کانوں سے لگا لئے ہیں۔

’’اوئے بڑی آئی خرچے کی چاچی، اچھا ایک بات بتا، تو روز ہی اس طرح بھاگ کر کالج سے آتی ہے؟‘‘

’’اگر روزانہ میرے بھائی آئیں تو میں روز ہی کالج سے بھاگ کر آؤں۔‘‘

وہ فخریہ بتاتی ہے، ’’ابھی میں سڑک پر ہی تھی کہ کسی نے بتایا، اوئے گھر جا کڑی، گھر سے بھاگا ہوا تیرا بھائی واپس آ گیا ہے۔ بہت بڑا افسر بن کے۔ بالکل گبرو جوان لگتا ہے۔ جا، وہ تیری راہ دیکھ رہا ہو گا۔ پہلے تو مجھے یقین ہی نہیں ہوا کہ ہمارا ویر بھی کبھی اس طرح سے واپس آ سکتا ہے۔ میں نے سوچا کہ ہم بھی تو دیکھیں کہ کون گبرو جوان ہمارے ویرجی بن کر آئے ہیں جن کی تعریف سارامحلہ کر رہا ہے۔ ذرا ہم بھی دیکھیں وہ کیسے نظر آتے ہیں۔ پھر ہم نے سوچا، آخر بھائی کس کے ہیں۔ اسمارٹ تو ہوں گے ہی۔ میں نے ٹھیک ہی سوچا ہے نا ویر جی۔۔۔‘‘

’’باتیں تو تُو خوب بنا لیتی ہے۔ کچھ پڑھائی بھی کرتی ہے یا نہیں؟‘‘

جواب بی بے دیتی ہے۔ ’’سارا دن کتاباں وچ سر کھپادی ریندی اے۔ کنی واری کییا اے انّو۔ انّانہ پڑھییا کر۔ توں کیڑی کلکٹری کرنی اے، پر اے ساڈی گل سن لوے تاں گڈّی ناں کس دا؟‘‘

ابھی بی بے اس کے بارے میں یہ بات بتا ہی رہی تھی کہ وہ مجھے ایک ڈائری لا کر دکھاتی ہے۔ اپنی نظموں کی ڈائری۔

میں حیران ہوتا ہوں، ہماری گڈّی نظمیں بھی لکھتی ہے اور وہ بھی اس طرح کے ماحول میں۔

پوچھتا ہوں میں، ’’کب سے لکھ رہی ہے؟‘‘

’’تین چار سال سے۔ پھر اس نے ایک اور فائل دکھائی ہے۔ اس میں مقامی اخبارات اور کالج میگزینوں کی کترنیں ہیں۔ اس کی چھپی ہوئی نظموں کی۔ گڈّی کی ترقی دیکھ کر سکون محسوس ہوا ہے۔ بی بے نے بلّو اور گولو کی جو تصویر کھینچی ہے، اس سے ان دونوں کی تو کوئی خاص امیج نہیں بنتی۔

گڈّی میرے بارے میں ڈھیر سارے سوال پوچھ رہی ہے، اپنی چھوٹی چھوٹی باتیں بتا رہی ہے۔ بہت خوش ہے وہ میرے آنے سے۔ میں بیگ سے اپنی ڈائری نکال کر دیکھتا ہوں۔ اس میں دو ایک انٹریز ہی ہیں۔

ڈائری گڈّی کو دیتا ہوں، ’’لے گڈّی، اب تو اپنی نظمیں اسی ڈائری میں لکھا کر۔‘‘

اتنی خوبصورت ڈائری پا کر وہ بہت خوش ہو گئی ہے۔ تبھی وہ ڈائری میں میرے نام کے نیچے لکھی ڈگریاں دیکھ کر چونک جاتی ہے،

’’ویر جی، آپ نے پی ایچ ڈی کی ہے؟‘‘

’’ہاں گڈّی، خالی بیٹھا تھا، سوچا، کچھ پڑھ لکھ ہی لیں۔‘‘

’’ہمیں بنائیں مت، کوئی خالی بیٹھے رہنے سے پی ایچ ڈی تھوڑے ہی کر لیتا ہے۔ آپ کے پاس تو کبھی فرصت رہی بھی ہو گی یا نہیں، ہمیں شک ہے۔ سچ بتائیے نا، کہاں سے کی تھی؟‘‘

’’اب تُو ضد کر رہی ہے تو بتائے دیتا ہوں۔ ایم ٹیک میں یونیورسٹی میں ٹاپ کرنے کے بعد میرے سامنے دو آفرز تھیں، ایک بہت بڑی غیر ملکی کمپنی میں اچھی جاب یا امریکہ میں یونیورسٹی پی ایچ ڈی کیلئے اسکالر شپ۔ میں نے سوچا، نوکری تو زندگی بھر کرنی ہی ہے۔ لگے ہاتھوں پی ایچ ڈی کر لیں تو واپس ہندوستان آنے کا بھی بہانہ بنا رہے گا۔ ملازمت کرنے گئے تو پتہ نہیں کب واپس جائیں۔ آخر تجھے یہ ڈائری، یہ واک مین اور یہ سارا سامان دینے تو آنا ہی تھا نہ۔‘‘ میں نے اسے اختصار میں بتایا ہے۔

’’جب امریکہ گئے ہوں گے تو خوب گھومے بھی ہوں گے؟‘‘ گڈّی پوچھتی ہے۔ امریکہ کا نام سن کر بی بے بھی پاس سرک آئی ہے۔

’’کہاں گھومنا ہوا۔ بس، ہاسٹل کے کمرے، گائیڈ کے کمرے، کلاس روم، لائبریری اور کینٹین۔ آخر میں جب سب لوگ گھومنے نکلے تھے تبھی دو چار جگہیں دیکھی تھیں۔‘‘

وہ ہنستے ہوئے کہتی ہے، ’’وہاں کوئی گوری پسند نہیں آئی تھی؟‘‘

میں ہنستا ہوں، ’’اوئے پگلی۔ یہ باہر کی لڑکیاں تو بس ایویں ہوتی ہیں۔ ہم لوگوں کے قابل تھوڑے ہی ہوتی ہیں۔ تُو خود بتا اگر میں وہاں سے کوئی میم شیم لے آتا تو یہ لڑکی مجھے گھر میں گھسنے دیتی؟‘‘

یہ سن کر بی بے نے تسلی بھری ٹھنڈی سانس لی ہے۔ کم از کم اس ایک بات کا تو انہیں یقین ہو گیا ہے کہ میں اب بھی کنوارا ہوں۔

گڈّی درخواست کرتی ہے، ’’ویر جی کچھ لکھو بھی تو سہی اس پر۔۔ میں اپنی ساری سہیلیوں کو دکھاؤں گی۔‘‘

’’ٹھیک ہے، گڈّی، تیرے لئے میں لکھ بھی دیتا ہوں۔‘‘

میں ڈائری میں لکھتا ہوں۔

اپنی چھوٹی، موٹی، دلاری اور پیاری بہن گڈّی کے لئے

جو ایک میلے کے چکر میں مجھ سے بچھڑ گئی تھی۔

’’دیپ‘‘

ڈائری لے کر وہ فوراً اس میں پتہ نہیں کیا لکھنے لگ گئی ہے۔ میں پوچھتا ہوں تو دکھانے سے بھی انکار کر دیتی ہے۔

صحن میں چارپائی پر لیٹے لیٹے گڈّی سے باتیں کرتے کرتے پتہ نہیں کب آنکھ لگ گئی ہو گی۔ اچانک شور شرابے سے آنکھ کھلی تو دیکھا، دارجی میرے سرہانے بیٹھے ہیں۔ پہلے کے مقابلے میں انتہائی کمزور اور ٹوٹے ہوئے آدمی لگے وہ مجھے۔ میں فوری طور اٹھ کر ان کے پاؤں پر گر گیا ہوں۔ میں ایک بار پھر رو رہا ہوں۔ میں دیکھ رہا ہوں، دارجی میرے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اپنی آنکھیں پونچھ کر رہے ہیں۔ انہیں شاید بی بے نے میری رام کہانی سنا دی ہو گی، اس لئے انہوں نے کچھ بھی نہیں پوچھا۔ صرف ایک ہی جملہ کہا ہے، ’’تیرے حصے وچ گھروں بار جا کے ای آدمی بنن لکھییا سی۔ شاید ربنوں ایہی منظور سی۔‘‘

میں نے سر جھکا لیا ہے۔ کیا کہوں۔ بی بے مجھے ابھی بتا ہی چکی ہے گھر سے میرے جانے کے بعد دارجی کا رویہ۔ مجھے بی بے کی بات پر یقین کرنا ہی پڑے گا۔ دارجی میرے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ یہ بوڑھا ضدی شخص، جس نے اپنے غصے کے آگے کسی کو بھی کچھ نہیں سمجھا۔ بی بے بتا رہی تھی، ’’جد تینُوں ادھے ادھورے کپڑییاں وچ گھروں کڈییا سی، تاں دارجی بہت دناں تک اس گلنوں منن لئے تیار ای نئیں سن کہ اس وچ اُنّادی کوئی غلطی سی۔ او تے سارییانوں سنا سناکے اے ہی کیندے رے، میری طرفوں دیپو کل مردا اے، تاں اج مر جاوے۔ سارییاں نے اینانوں سمجھایا سی، چھوٹا بچہ اے۔ وچارا کتھے مارییا مارییا پھردا ہوویگا۔ لیکن تیرے دارجی نئیں منے سی۔ او تاں پلس وچ رپورٹ کران وی نئیں گئے سی۔ میں ای ہتھ جوڑ جوڑ کے تیرے مامے نوں اگے بھیجییا سی لیکن او وی اُتھوں خالی ہتھ واپس آ گیا سی۔ پلس نے جدوں تیری تصویر منگی تاں تیرا ماما اتھے ای رو پیے یاسی، تھانے دارجی، اُسدی اک ادھ تصویر تاں ہے، لمّے کیشاں والی جوڑے دے نال، لیکن اس نال کداں پتہ چلے گا دیپو دا۔۔۔ او تے کیس کٹوا کے آیا سی اسے لئی تاں گرماگرمی وچ گھر چھڈ کے نٹھ گیا اے۔۔۔‘‘

مجھے جب بی بے یہ بات بتا رہی تھی تو جیسے میری پیٹھ پر بچپن میں دارجی کی مار کے تمام کے تمام زخم ٹیسیں مارنے لگے تھے۔ اب بھی دارجی کے سامنے بیٹھے ہوئے میں سوچ رہا ہوں، اگر میں اس وقت بھی گھر سے نہ بھاگا ہوتا تو میری زندگی نے کیا رخ لیا ہوتا۔ یہ تو طے ہے، نہ میرے حصے میں اتنی پڑھائی لکھی ہوتی اور نہ اتنا سکون۔ تب میں بھی گولو، بلّو کی طرح کسی دکان پر سیلزمینی کر رہا ہوتا۔

میں دارجی کے ساتھ ہی کھانا کھاتا ہوں۔ کھانا ضد کر کے گڈّی نے ہی بنایا ہے۔

بی بے نے اسے چھیڑا، ’’میں لکھ کواں، کدی تے دو پھلکے سینک دتا کر۔ پرائے گھر جاویں گی تاں کی کریں گی، لیکن کدی رسوئی دے نیڑے نئیں آویگی۔ اج ویر دے بھاگ جگ گئے ہن کہ ساڈی گڈّی روٹی پکا رئی اے۔‘‘

بی بے بھی عجیب ہے۔ جب تک گڈّی نہیں آئی تھی، اس کی خوب تعریفیں کر رہی تھی کہ پورا گھر اکیلے سنبھال لیتی ہے اور اب۔۔۔

کھانا کھا کر دارجی، گولو اور بلّو کو خبر کرنے چلے گئے ہیں۔

میں گھر کے اندر آتا ہوں۔ سارا گھر دیکھتا ہوں۔

گھر کے سامان کو دیکھتے ہوئے آہستہ آہستہ بھولی بسری باتیں یاد آنے لگی ہیں۔ یاد کرتا ہوں کہ تب گھر میں کیا کیا ہوا کرتا تھا۔ مجموعی طور پر گھر میں پرانا پن ہے۔ جیسے عرصے سے کسی نے اسے جوں کا توں چھوڑ رکھا ہو۔ بیشک اس درمیان رنگ روغن بھی ہوا ہی ہو گا۔ لیکن پھر بھی ایک مستقل قسم کی پران اپن ہوتا ہے چیزوں میں، ماحول میں اور لباس تک میں، جسے جھاڑ پونچھ کر دور نہیں کیا جا سکتا۔

ہاں، ایک بات کا اندازہ ضرور ہو رہا ہے کہ پورے گھر میں گڈّی کا کافی اثر موجود ہے۔ ہلکا سا جوانی بھرا رابطہ۔ اس نے جس چیز کو بھی جھاڑا پونچھا ہو گا، اپنی پسند اور انتخاب کی فطری مہک اس میں چھوڑتی چلی گئی ہو گی۔ یہ میرے لئے نیا ہی تجربہ ہے۔ بڑے کمرے میں ایک پیناسونک کے پرانے اسٹیریو نے بھی اس دوران اپنی جگہ بنا لی ہے۔ ایک پرانا بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی بھی ایک کونے میں کھڑا ہے۔ جب گیا تھا تو ٹی وی تب شہر میں مکمل طور پر آئے ہی نہیں تھے۔ ٹی وی چلا کر دیکھتا ہوں، پر خراب ہے۔ بند کر دیتا ہوں۔ سوچتا ہوں، جاتے وقت ایک کلر ٹی وی یہاں کے لئے خرید دوں گا۔ اب تو گھر گھر میں رنگین ٹی وی ہیں۔

چھوٹے کمرے میں جاتا ہوں۔ ہم لوگوں کے پڑھنے لکھنے کے فالتو سامان رکھنے کے کمرا یہی ہوتا تھا۔ ہم بھائیوں اور دوستوں کی ساری خفیہ مہمیں یہیں انجام دی جاتی تھیں، کیونکہ دارجی اس کمرے میں بہت کم آتے تھے۔ اسی کمرے میں ہم کنچے چھپاتے تھے، لوٹی ہوئی پتنگوں کو دارجی کے ڈر سے الماری کے پیچھے چھپا کر رکھتے تھے۔ گلی ڈنڈا تو خیر دارجی نے ہمیں کبھی بنا کر دیئے ہوں، یاد نہیں آتا۔ مجھے پتہ ہے، الماری کے پیچھے اب کچھ نہیں ہو گا پھر بھی الماری کے پیچھے جھانک کر دیکھتا ہوں۔ نہیں، وہاں کوئی پتنگ نہیں ہے۔ جب گیا تھا تب وہاں میری تین چار پتنگیں رکھی تھیں۔ ایک آدھ چرخی مانجھے کی بھی تھی۔

رات کو ہم سب اکٹھے بیٹھے ہیں۔ جیسے بچپن میں بیٹھا کرتے تھے، بڑے کمرے میں۔ سب کے سب اپنی اپنی چارپائی پر جمے ہوئے۔ تب اس طرح بیٹھنا صرف سردیوں میں ہی ہوتا تھا۔ بی بے کھانا بنانے کے بعد کوئلے والی انگیٹھی بھی اندر لے آتی تھی اور ہم چاروں بھائی بہن، دارجی اور بی بے اس کے چاروں طرف بیٹھ کر ہاتھ بھی سینکتے رہتے اور مونگ پھلی یا ریوڑی وغیرہ بھی کھاتے رہتے۔ رات کا یہی وقت ہوتا تھا، جب ہم بہن بھائیوں میں کوئی جھگڑا نہیں ہوتا تھا۔

اب گھر میں گیس آ جانے کی وجہ سے کوئلے والی انگیٹھی نہیں رہی ہے۔ ویسے سردی ابھی دور ہے، لیکن سب کے سب اپنی اپنی چارپائیوں پر کھیس اوڑھے آرام سے بیٹھے ہیں۔ مجھے بی بے نے اپنے کھیس میں جگہ دے دی ہے۔ پتہ نہیں میری غیر موجودگی میں بھی یہ اجتماع چلتے رہتے تھے یا نہیں۔ سب کی بے چینی میرے چودہ سالہ سفر کے بارے میں تفصیل سے جاننے میں ہے، جبکہ میں یہاں کے حال احوال جاننا چاہتا ہوں۔

طے یہی ہوا ہے کہ آج میں یہاں کے حال چال سنوں گا اور کل اپنے حال احوال بتاؤں گا۔ ویسے بھی دن بھر قسطوں میں، میں سب کو اپنی کہانی سنا ہی چکا ہوں۔ یہ بات الگ ہے کہ یہ بات صرف میں ہی جانتا ہوں کہ اس کہانی میں کتنا سچ ہے اور کتنا جھوٹ۔

ابتدا بی بے نے کی ہے، برادری سے۔۔۔ اس دوران کون کون پورا ہو گیا، کس کس کے کتنے کتنے بچے ہوئے، شادیاں، دو چار طلاقیں، جہیز کی وجہ سے ایک آدھ بہو کو جلانے کی خبر، کس نے نیا گھر بنایا اور کون کون محلہ چھوڑ کر چلے گئے اور گلی میں کون کون سے نئے رہائشی آئے۔ کس کے گھر میں بہو کی شکل میں ڈائن آ گئی ہے، جس نے آتے ہی اپنے مرد کو اپنے بس میں کر لیا ہے اور ماں باپ سے الگ کر دیا ہے، یہ اور اس جیسی ڈھیروں خبریں بی بے کی پٹاری میں سے نکل رہی ہیں اور ہم سب مزے لے رہے ہیں۔

ابھی بی بے کی ایک بات پوری نہیں کی ہوتی کہ کسی اور کو اسی سے منسلک کوئی دوسری بات یاد آ جاتی ہے، تب باتوں کا سلسلہ اسی جانب مڑ جاتا ہے۔

میں گولو سے کہتا ہوں، ’’تو باری باری بچپن کے تمام ساتھیوں کے بارے میں بتاتا چل۔‘‘

وہ بتا رہا ہے، ’’پرویش نے بی اے کرنے کے بعد ایک ہوٹل میں نوکری کر لی ہے۔ انگریزی تو وہ تبھی سے بولنے لگا تھا۔ آج کل راج پور روڈ پر ہوٹل میڈو میں بڑی پوسٹ پر ہے۔ شادی کر کے اب الگ رہنے لگا ہے۔ اوپر جاکھن کی طرف گھر بنایا ہے اس نے۔‘‘

’’بنسی اسی گھر میں ہے۔ حال ہی میں شادی ہوئی ہے اس کی۔ ماں باپ دونوں مر گئے ہیں اس کے۔‘‘

’’اور گاما؟‘‘

مجھے گامے کی قیادت میں کی گئی بہت سی شرارتیں یاد آ رہی ہیں۔ دوسروں کے باغات میں سے امرود، لیچی اور آم توڑنے کیلئے ہمارے گروپ کے سارے لڑکے اسی کے ساتھ جاتے تھے۔

بلّو بتا رہا ہے، ’’گاما بیچارہ گیارہویں تک پڑھنے کے بعد آج کل سبزی منڈی کے قریب گرم مصالحے فروخت کرتا ہے۔ وہیں پر پکی دکان بنا لی ہے اور خوب کما رہا ہے۔‘‘

’’دارجی، یہ نندو والے گھر کے آگے میں نے کسی مہر چند کی نیم پلیٹ دیکھی تھی۔ وہ لوگ بھی گھر چھوڑ گئے ہیں کیا؟‘‘ میں پوچھتا ہوں۔

’’منگا رام بیچارہ مر گیا ہے۔ بہت بری حالت میں مرا تھا۔ علاج کیلئے پیسے ہی نہیں تھے۔ مجبوراً گھر بیچنا پڑا۔ اس کے مرنے کے بعد نندو کی پڑھائی بھی چھوٹ گئی۔ لیکن ماننا پڑے گا نندو کو بھی۔ اس نے پڑھائی چھوڑ کر باپ کی جگہ کئی سال تک ٹھیلا لگایا، باپ کا کام آگے بڑھایا اور اب اسی ٹھیلے کی بدولت نہر والی گلی کے سرے پر ہی اس کا شاندار ہوٹل ہے۔ وجیہ نگر کی طرف اپنا گھر ہے اور چار آدمیوں میں عزت ہے۔‘‘

’’میں آپ کو ایک مزے دار بات بتاتی ہوں ویر جی۔‘‘ یہ گڈّی ہے۔ ہمیشہ سمجھداری بھری باتیں کرتی ہے۔

’’چل تو ہی بول دے پہلے۔ جب تک دل کی بات نہ کہہ دے، تیری ڈکاریں اٹکی رہتی ہیں۔‘‘ بلّو نے اسے چھیڑا ہے۔

’’رہنے دے بڑا آیا میری ڈکاروں کی فکر کرنے والا۔ اور تو جو میری سہیلیوں کے بارے میں کھود کھود کے پوچھتا رہتا ہے وہ۔‘‘ گڈّی نے بدلہ لے لیا ہے۔

بلّو نے لپک کر گڈّی کی چٹیا پکڑ لی ہے، ’’میری جھوٹی چغلی کھاتی ہے۔ اب آنا میرے پاس پانچ روپے مانگنے۔‘‘

گڈّی چلاتی ہے، ’’دیکھو نا ویر جی، ایک تو پانچ روپے کا لالچ دے کے نہ میری سہیلیوں۔۔۔‘‘

بلّو شرما گیا ہے اور اس نے گڈّی کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا، ’’خبردار گڈّی، دیکھ جو ایک بھی لفظ آگے بولا تو۔‘‘

سبھی مزے لے رہے ہیں۔ شاید یہ ان دونوں کا روز کا قصہ ہے۔

’’توں وی انّاں پاگلاں دے چکر وچ پے گییا ایں۔ اے تے انّا دوواں دا روز دا رونا اے۔‘‘ بی بے بڑی دیر بعد بولی ہے۔

’’اسی تے سوئی ہن۔‘‘ گولو نے اپنے سر کے اوپر چادر کھینچ لی ہے۔ گپ بازی کا سلسلہ یہیں ٹوٹ گیا ہے۔

باقی سب بھی جمائیاں لینے لگے ہیں۔ تبھی بلّو نے ٹوکا ہے، ’’لیکن ویرا، آپ کے قصے تو رہ ہی گئے۔‘‘

’’اب کل سننا قصے۔ اب مجھے بھی نیند آ رہی ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے میں بھی بی بے کی چارپائی پر ہی ٹیڑھا میڑھا ہو کر پسر گیا ہوں۔ بی بے میرے بالوں میں انگلیاں پھرا رہی ہے۔ چودہ برس بعد بی بے کے ممتا بھرے آنچل میں آنکھیں بند کرتے ہی مجھے فوری طور پر نیند آ گئی ہے۔ کتنے برسوں بعد آج سکون کی نیند سو رہا ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مشاہدہ کر رہا ہوں کہ اس دوران بہت کچھ بدل گیا ہے۔ بہت کچھ ایسا بھی لگ رہا ہے، جس پر وقت کے سفاکانہ پنجوں کی کھرونچیں تک نہیں لگی ہیں۔ سب کچھ جیسے کا تیسا رہ گیا ہے۔ گھر میں بھی اور باہر بھی۔۔۔ دارجی بہت دبلے ہو گئے ہیں۔ اب اتنا کام بھی نہیں کر پاتے، لیکن ان کے غصے میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ کل ہی بی بے بتا رہی تھی، ’’بچے جوان ہو گئے ہیں، شادی کے قابل ہونے کو آئے، لیکن اب بھی انہیں ذلیل کرنے سے باز نہیں آتے۔ ان کے اسی غصے کی وجہ سے اب تو کوئی گراہک ہی نہیں آتا۔‘‘

گولو اور بلّو اپنے اپنے دھندے میں مصروف ہیں۔ بی بے نے بتایا تو نہیں لیکن باتوں ہی باتوں میں کل ہی مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ گولو کیلئے کہیں بات چل رہی ہے۔ اب میرے آنے سے بات آگے بڑھے گی یا ٹھہر جائے گی، کہا نہیں جا سکتا۔ اب بی بے اور دارجی اس کے بجائے کہیں میرے لئے۔۔۔۔ نہیں یہ تو غلط ہو گا۔ بی بے کو سمجھانا پڑے گا۔

یہ گولو اور بلّو بھی عجیب ہیں۔ کل پہلے تو تپاک سے ملے، تھوڑی دیر روئے دھوئے۔ جب میں نے انہیں ان کے تحائف دے دئیے تو بہت خوش بھی ہوئے، لیکن جب بعد میں گفتگو جاری رہی تو میرے حال چال جاننے کے بجائے اپنے دکھڑے سنانے لگے۔ دارجی اور بی بے کی چغلیاں کھانے لگے۔ میں تھوڑی دیر تک تو سنتا رہا، لیکن جب یہ قصے بڑھنے لگے تو میں نے ٹوک دیا، ’’میں یہ سب سننے کے لئے یہاں نہیں آیا ہوں۔ تمہاری جس سے بھی جو بھی شکایتیں ہیں، براہ راست ہی نمٹا لو تو بہتر ہے۔‘‘ اتنا سننے کے بعد دونوں ہی اٹھ کر چل دئیے تھے۔ رات کو بیشک تھوڑا بہت ہنسی مذاق کر رہے تھے، لیکن سویرے سویرے ہی تیار ہو کر، ’’اچھا ویر جی، نکلتے ہیں۔‘‘ کہتے ہوئے دونوں ایک ساتھ ہی دروازے سے باہر ہو گئے ہیں۔ گڈّی کے بھی کالج کا ٹائم ہو رہا ہے اور پھر اس نے تمام سہیلیوں کو بھی تو بتانا ہے کہ اس کا سب سے زیادہ پیارا ویر واپس آ گیا ہے۔

ہنستی ہے وہ، ’’ویر جی، شام کو میری ساری سہیلیاں آپ سے ملنے آئیں گی۔ ان سے ٹھیک طرح سے بات کرنا۔‘‘

میں اس کی چٹیا پکڑ کر کھینچ دیتا ہوں، ’’پگلی، میں تیری ساری سہیلیوں سے کیا بیاہ کا متمنی ہوں، جو اچھی طرح سے بات کروں۔ لے یہ دو سو روپے۔ اپنی ساری سہیلیوں کو میری طرف سے آئس کریم کھلا دینا۔‘‘ وہ خوشی خوشی کالج چلی گئی ہے۔

چھت پر کھڑے ہو کر چاروں طرف دیکھتا ہوں۔ ہمارے گھر سے ملحقہ بچھتّر چاچے کا گھر۔ میرے ہر وقت کے جوڑ دار جو گی، جوگندر سنگھ کا گھر۔ ان کے ٹوٹے پھوٹے مکان کی جگہ دو منزلہ عالیشان مکان کھڑا ہے۔ باقی سارے مکان کم و بیش انہی پرانی دیواروں کے کندھوں پر ایستادہ ہیں۔ کہیں کہیں چھت پر ایک آدھ کمرہ بنا دیا گیا ہے یا ٹن کے شیڈ ڈال دیئے گئے ہیں۔

نیچے اتر کر بی بے سے کہتا ہوں، ’’ذرا بازار کا ایک چکر لگا کر آ رہا ہوں۔ واپسی پر نندو کی دوکان سے ہوتا ہوا آؤں گا۔‘‘

میں گلیوں گلیوں گھومتا ہی تلک روڈ کی طرف نکل جاتا ہوں اور وہاں سے بِندال کی طرف سے ہوتا ہوا چکراتا روڈ مڑ جاتا ہوں۔ کناٹ پیلس کے بدلے ہوئے روپ کو دیکھتا ہوا چکراتا روڈ اور وہاں سے گھومتا گھامتا مینار اور پھر وہاں سے پلٹن بازار کی طرف نکل آیا ہوں۔ یوں ہی دونوں اطراف کی دکانوں کے بورڈ دیکھتے ہوئے ٹہل رہا ہوں۔

مشن اسکول کے ٹھیک سامنے سے گزرتے ہوئے بچپن کا ایک واقعہ یاد آ رہا ہے۔ تب میں ایک پپیتے والے سے یہیں پر پٹتے پٹتے بچا تھا۔ ہماری کلاس کے پردیپ اروڑا نے نئی سائیکل خریدی تھی۔ میرا اچھا دوست تھا پردیپ۔ راج پور روڈ پر رہتا تھا وہ۔ گھر دور ہونے کی وجہ سے وہ آدھی چھٹی میں کھانا کھانے گھر نہیں جاتا تھا، بلکہ اسکول کے آس پاس ہی دوستوں کے ساتھ چکر کاٹتا رہتا تھا۔ میں کھانا کھانے گھر آتا تھا لیکن آنے جانے کے چکر میں اکثر واپس آنے میں دیر ہو ہی جاتی تھی۔ اس لئے کئی بار پردیپ اپنی سائیکل مجھے دے دیتا۔ اس طرح میرے دس پندرہ منٹ بچ جاتے تو ہم یہ وقت بھی ایک ساتھ گزار پاتے تھے۔ سائیکل چلانی تب سیکھی ہی تھی۔ ایک دن اسی طرح میں کھانا کھا کر واپس جا رہا تھا کہ مشن اسکول کی بھیڑ کے سبب توازن بگڑ گیا۔ اس سے پہلے کہ میں سائیکل سے نیچے اتر پاتا، میرا ایک ہاتھ پپیتوں سے بھرے ایک ہتھ ٹھیلے کے ہتھے پر پڑ گیا۔ میرا سارا وزن ہتھے پر پڑا اور میرے گرنے کے ساتھ ہی ٹھیلا کھڑا ہوتا چلا گیا۔ سارے پپیتے ٹھیلے پر سے سڑک پر لڑھکتے ہوئے گرے۔ پپیتے والا بوڑھا مسلمان وہیں کسی گاہک سے بات کر رہا تھا۔ اپنے پپیتوں کا یہ حال دیکھتے ہی وہ غصے سے کانپنے لگا۔ میری تو جان ہی نکل گئی۔ سائیکل کے نیچے گرے گرے ہی میں ڈر کے مارے رونے لگا۔ پٹنے کا ڈر جو تھا سو تھا، اس سے زیادہ ڈر پردیپ کی سائیکل چھن جانے کا تھا۔ وہاں ایک دم بھیڑ جمع ہو گئی تھی۔ اس سے پہلے کہ پپیتے والا مسلمان میری سائیکل چھین کر مجھ پر ہاتھ اٹھا پاتا، کسی کو میری حالت پر ترس آ گیا اور اس نے مجھے تیزی سے کھڑا کیا، سائیکل مجھے تھمائی اور فوری طور پر بھاگ جانے کا اشارہ کیا۔ میں سائیکل ہاتھ میں لئے لئے ہی بھاگ کھڑا ہوا تھا۔

اس واقعے کے بعد کئی دنوں تک میں مشن اسکول والی سڑک سے ہی نہیں گزرا تھا۔ مجھے پتہ ہے، پپیتے کے ٹھیلے والا وہ بوڑھا مسلمان اتنے برس بعد اس وقت یہاں نہیں ہو گا، لیکن پھر بھی پھل کے تمام ٹھیلے والوں کی طرف ایک بار دیکھ لیتا ہوں۔

آگے کوتوالی کے پاس ہی نندو کا ہوٹل ہے۔

چلو، ایک شرارت ہی سہی۔ اچھی چائے کی طلب بھی لگی ہوئی ہے۔ نندو کے ہوٹل میں ہی چائے پی جائے۔ ایک گاہک کے روپ میں۔ تعارف اسے بعد میں کراؤں گا۔ ویسے بھی وہ مجھے اس طرح سے تو پہچاننے سے رہا۔

نندو کاؤنٹر پر ہی بیٹھا ہے۔ چہرے پر رونق ہے اور مطمئن زندگی کے تاثرات بھی۔ میری ہی عمر کا ہے، لیکن جیسے برسوں سے اسی طرح کے دھندے کرنے والے لوگوں کے چہرے پر ایک طرح کا گھسے ہوئے سکے والا تاثر آ جاتا ہے، اس کے چہرے پر بھی وہی تاثر ہے۔ بہت اچھا بنایا ہے ہوٹل نندو نے۔ بیشک چھوٹا سا ہے لیکن اس میں پوری محنت اور فنکارانہ سوچ کا پتہ چل رہا ہے۔ دکان کے باہر ہی بورڈ لگا ہوا ہے۔ ’’آؤٹ ڈور کیٹرنگ انڈر ٹیکن۔‘‘

ویٹر پانی رکھ گیا ہے۔ میں چائے کا آرڈر دیتا ہوں۔ چائے کی ادائیگی کرنے کے بعد میں ویٹر سے کہتا ہوں کہ ذرا اپنے صاحب کو بلا لائے۔ ایک آؤٹ ڈور کیٹرنگ کا آرڈر دینا ہے۔

نندو اندر آیا ہے۔ ہاتھ میں مینو کارڈ اور آرڈر بک ہے، ’’کہیے صاحب، کیسی پارٹی دینی ہے آپ کو؟‘‘ اس نے بہت ہی عزت سے پوچھا ہے۔

’’بیٹھو۔‘‘ میں نے اسے حکم دیا ہے۔

اس کے چہرے کا رنگ بدلا ہے اور وہ ہچکچاتے ہوئے بیٹھ گیا ہے۔

میں خود کو بھرپور پرسکون بنائے رکھتے ہوئے اس سے پوچھتا ہوں، ’’آپ کے یہاں کس قسم کی پارٹی کا اہتمام ہو سکتا ہے؟‘‘

وہ آرام سے بیٹھ گیا ہے، ’’دیکھئے صاحب، ہم ہر طرح کی آؤٹ ڈور کیٹرنگ کے آرڈر لیتے ہیں۔ آپ صرف ہمیں یہ بتا دیجیے کہ پارٹی کب، کہاں اور کتنے افراد کیلئے ہونی ہے۔ باقی آپ ہم پر چھوڑ دیں۔ مینو آپ طے کریں گے یا۔۔‘‘

وہ اب پوری طرح دکاندار ہو گیا ہے، ’’آپ کو بالکل بھی شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔ ویج، نان ویج اور آپ جیسے خاص لوگوں کے لئے ہم ڈرنکس پارٹی کا بھی انتظام کرتے ہیں۔‘‘

تبھی اسے خیال آتا ہے، ’’آپ کافی لیں گے یا ٹھنڈا؟‘‘

’’تھینکس۔ میں نے ابھی ابھی چائے پی ہے۔‘‘

’’تو کیا ہوا؟ ایک کافی ہمارے ساتھ بھی لیجیے۔‘‘ وہ ویٹر کو دو کافی لانے کے لئے بلاتا ہے اور پھر مجھ سے پوچھتا ہے، ’’صرف، آپ ہمیں اپنی ضرورت بتا دیجیے۔ کب ہے پارٹی؟‘‘

’’ایسا ہے کھرانہ جی کہ پارٹی تو میں دے رہا ہوں، لیکن ساری چیزیں، مینو، جگہ، تاریخ مہمان آپ پر چھوڑتا ہوں۔ سب کچھ آپ ہی طے کریں گے۔ میں آپ کو مہمانوں کی لسٹ دے دوں گا۔ ان میں سے کتنے لوگ شہر میں ہیں، یہ بھی آپ ہی دیکھیں گے اور انہیں آپ ہی بلائیں گے اور۔۔۔۔‘‘

’’بڑی عجیب پارٹی ہے، ٹھیک ہے، آپ فکر نہ کریں۔ آپ شاید باہر سے آئے ہیں۔ ہم آپ کو مایوس نہیں کریں گے۔ تو ہم مینو طے کر لیں۔۔؟‘‘

’’اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، آپ بعد میں اپنے آپ دیکھ لینا۔‘‘

میں بڑی مشکل سے اپنی ہنسی روک پا رہا ہوں۔ نندو کو بیوقوف بنانے میں مجھے بہت مزہ آ رہا ہے۔ اسے سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ یہ پارٹی کرے گا کیسے۔

کافی آ گئی ہے۔

آخرکار وہ کہتا ہے، ’’آپ کافی لیجیے اور مہمانوں کے نام پتے تو بتائیے تاکہ میں انہیں آپ کی جانب سے انوائٹ کر سکوں یا آپ خود ہی انوائٹ کریں گے؟‘‘ وہ صاف صاف پریشان نظر آ رہا ہے۔

’’ایسا ہے کہ فی الحال تو میں اپنے ایک خاص مہمان کا ہی نام بتا سکتا ہوں۔ آپ اس سے مل لیجیے، وہی آپ کو سب کے نام اور پتے بتائے گا۔‘‘ میں نے اس کی پریشانی بڑھاتے ہوئے کہتا ہوں۔

’’ٹھیک ہے وہی دے دیجئے۔‘‘ اس نے سرنڈر کر دیا ہے۔

’’اس کا نام ہے نند لال کھرانہ، کلاس سیون ڈی، رول نمبر ستائیس، گاندھی اسکول۔‘‘

یہ سنتے ہی وہ کاغذ قلم چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا ہے اور حیرانگی سے میرے دونوں کندھے پکڑ کر پوچھ رہا ہے۔ ’’آپ۔۔ آپ کون ہیں؟ میں اتنی دیر سے مسلسل کوشش کر رہا ہوں کہ اس طرح کی نرالی پارٹی کے نام پر آپ ضرور مجھ سے شرارت کر رہے ہیں۔ کون ہیں آپ، ضرور میرے بچپن کے اور ساتویں کلاس کے ہی دوست ہوں گے۔۔!‘‘

میں مسکرا رہا ہوں، ’’پہچانو خود!‘‘

وہ میرے چہرے مہرے کو اچھی طرح دیکھ رہا ہے۔ اپنے سر پر ہاتھ مار رہا ہے لیکن اسے سمجھ نہیں آ رہا کہ میں کون ہو سکتا ہوں۔ وہ یاد کرتے ہوئے دو تین نام لیتا ہے اس وقت کی ہماری کلاس کے بچوں کے۔ میں انکار میں سر ہلاتا رہتا ہوں۔ اس کی پریشانی بڑھتی جا رہی ہے۔

اچانک اس کے گلے سے چیخ نکلی، ’’آپ۔۔ آپ گگن دیپ، دیپ۔۔ دیپو۔۔!‘‘

وہ لپک کر سامنے کی کرسی سے اٹھ کر میری طرف آ گیا ہے اور زور زور سے روتے ہوئے تپاک سے میرے گلے سے لگ گیا ہے۔ وہ روئے جا رہا ہے اور بولے جا رہا ہے، ’’آپ کہاں چلے گئے تھے۔ ہمیں چھوڑ کر گئے اور ایک بار بھی مڑ کر نہیں دیکھا آپ نے۔ سچ مانئے، آپ کے آنے سے میرے من پر رکھا کتنا بڑا بوجھ اتر گیا ہے۔ ہم تو مان بیٹھے تھے کہ اس جنم میں تو آپ سے ملنا ہو بھی پائے گا یا نہیں۔‘‘

میں بھی اس کے ساتھ سسک رہا ہوں، رو رہا ہوں۔ اپنے من کا بوجھ ہلکا کر رہا ہوں۔

روتے روتے پوچھتا ہوں، ’’کیوں بے کیا بوجھ تھا تیرے دل پر اور یہ کیا دیپ جی دیپ جی لگا رکھی ہے؟‘‘

’’سچ کہہ رہا ہوں جب آپ گئے تھے، تم۔۔۔۔ تُو گیا تھا تو ہم سب کے سب تیرے چاروں طرف بھیڑ لگا کر کھڑے تھے۔ تجھے روتے روتے صبح سے دوپہر ہو گئی تھی۔ ہم سب بیچ بیچ میں گھر جا کر کھانا بھی کھا آئے تھے، لیکن تجھے کھانے کو کسی نے بھی نہیں پوچھا تھا۔ تیرے گھر سے تو کھانا کیا ہی آتا۔ تیرے بھائی بھی تو وہیں کھڑے تھے۔ صرف میں ہی تھا جو بغیر کسی کو بتائے تیرے لئے کھانے کا انتظام کر سکتا تھا۔ تیرے لئے اپنے باؤ کی ہٹی سے ایک تھالی چھولے بھٹورے ہی لا دیتا۔ لیکن ہم سب بچوں کو جیسے لقوہ مار گیا تھا۔ ہم بچے تیرے جانے کے بعد بہت روئے تھے۔ تجھے بہت دنوں تک ڈھونڈتے رہے تھے۔ بہت دنوں تک تو ہم کھیلنے کے لئے باہر ہی نہیں نکلے تھے۔ ایک عجیب سا ڈر ہمارے دلوں میں بیٹھ گیا تھا۔‘‘

ہم دونوں بیٹھ گئے ہیں۔ نندو اب بھی بولے جا رہا تھا۔ ’’مجھے بعد میں محسوس ہوتا رہا کہ مار کھانا تیرے لئے کوئی نئی بات نہیں تھی۔ تیرے کیس کٹوانے کی وجہ بھی میں سمجھ سکتا تھا، لیکن مجھے لگتا رہا کہ سارا دن بھوکا رہنے اور گھر والوں کے ساتھ ساتھ سارے دوستوں کی طرف سے بھی پرواہ نہ کئے جانے کی وجہ سے ہی تو گھر چھوڑ کر گیا تھا۔ اگر ہم نے تیرے کھانے کا انتظام کر دیا ہوتا اور کسی طرح رات ہو جاتی تو تو ضرور رک جاتا۔ ہو سکتا ہے ہماری دیکھا دیکھی کوئی بڑا آدمی ہی بیچ بچاؤ کر کے تجھے گھر لے جاتا۔ لیکن آج تجھے اس طرح دیکھ کر میں بتا نہیں سکتا، میں کتنا خوش ہوں۔ ویسے لگتا تو نہیں، تو نے کوئی تکلیف کاٹی ہو گی۔ جس طرح کی تیری پرسنیلٹی نکل آئی ہے، ماشاء اللہ، تیرے آگے جتیندر پتیندر پانی بھریں۔‘‘

اس نے پھر سے میرے دونوں ہاتھ پکڑ لیے ہیں، ’’میں آپ کو بتا نہیں سکتا، آپ کو دوبارہ دیکھ کر میں کتنا خوش ہوں۔ ویسے کہاں رہے اتنے سال اور ہم غریبوں کی یاد اتنے برسوں بعد کیسے آ گئی؟‘‘

’’کیا بتاؤں۔ بہت لمبی اور بور کہانی ہے۔ نہ سننے کے قابل، نہ سنانے کے لائق۔ فی الحال اتنا ہی کہ ابھی تو بمبئی سے آیا ہوں۔ دو دن پہلے ہی آیا ہوں۔ کل اور پرسوں کے پورے دن تو گھر والوں کے ساتھ رونے دھونے میں نکل گئے۔ دارجی تیرے بارے میں بتا رہے تھے کہ تو یہیں ہے۔ سب سے پہلے تیرے ہی پاس آیا ہوں کہ تیرے ذریعے سے سب سے ملاقات ہو جائے گی۔ بتا کون کون ہے یہاں؟‘‘

’’اب تو استاد جی، سب سے آپ کی ملاقات یہ نند لال کھرانہ، کلاس سیون ڈی، رول نمبرستائیس، گاندھی اسکول ہی کرائے گا اور ایک بہت اچھی پارٹی میں ہی کرائے گا۔‘‘ وہ زور سے ہنستا ہے، ’’اب آپ دیکھئے، نند لال کھرانہ کی کیٹرنگ کا کمال۔ چل، بیئر پیتے ہیں اور تیرے آنے کی سیلی بریشن کا آغاز کرتے ہیں۔‘‘

’’میں بیئر وغیرہ نہیں پیتا۔‘‘

’’کمال ہے۔ ہمارا یار بیئر نہیں پیتا۔ تو کیا پیتا ہے بھائی؟‘‘

’’ابھی ابھی تو چائے اور کافی پی ہے۔‘‘

’’سالے، شرم تو آئی نہیں کہ چائے کا بل پہلے چکایا اور مجھے بعد میں بلوایا۔‘‘

’’میں دیکھنا چاہتا تھا کہ تو مجھے پہچان بھی پاتا ہے یا نہیں۔ ویسے بتا تو سہی، یہاں کون کون ہیں۔ یہاں کس کس سے ملاقات ہو سکتی ہے؟‘‘

’’ملاقات تو باس، پارٹی میں ہی ہو گی۔ بول کب رکھنی ہے؟‘‘

’’جب مرضی ہو رکھ لے، لیکن میری دو شرائط ہیں۔‘‘

’’تُو بول تو سہی۔‘‘

’’پہلی بات یہ کہ پارٹی میری طرف سے ہو گی اور دوسری بات یہ کہ سب کو پہلے سے بتا دینا کہ میرے ان چودہ برسوں کے بارے میں مجھ سے کوئی بھی، کسی بھی قسم کا سوال نہیں پوچھے گا۔ سب کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ میں واپس آ گیا ہوں، ٹھیک ٹھاک ہوں اور فی الحال کسی بھی قسم کی تکلیف میں نہیں ہوں۔‘‘

’’دوسری شرط تیری منظور، لیکن پارٹی تو میری ہی طرف سے اور میرے ہی گھر پر ہو گی۔ پرسوں ٹھیک رہے گی؟‘‘

’’چلے گی۔ اب چلتا ہوں۔ صبح سے نکلا ہوں۔ بی بے راہ دیکھتی ہو گی۔‘‘

’’کھانا کھا کر جانا۔‘‘

’’پھر آؤں گا۔ ابھی نہیں۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔

بی بے کے پاس بیٹھا ہوں۔ میرے لئے خاص طور پر بی بے نے تندور سلگایا ہے اور میری پسند کی پیاز والی تندوری پرونٹھیا سینک رہی ہے۔ میں وہیں بیٹھا پرونٹھیوں کیلئے آٹے کے پیڑے بنانے کے چکر میں اپنے ہاتھ خراب کر رہا ہوں۔

تبھی بی بے نے کہنا شروع کیا، ’’ویکھ پتّرا، ہن توں پرانیاں گلاں بھلا کے تے اِک کم کر۔‘‘ بی بے رکی اور میری طرف دیکھنے لگی۔ تندور کی آگ کی لپٹوں سے اس کا چہرہ ایکدم سرخ ہو گیا ہے۔

میں گرما گرم پرونٹھے کا ٹکڑا منہ میں ڈالتے ہوئے پوچھتا ہوں، ’’مے نُو دس تے سئی بی بے، کی کرنا ہے۔‘‘ ہلکا سا ڈر بھی ہے من میں، پتہ نہیں بی بے کیا کہہ دے۔

’’تیرے دارجی کہہ رے سی کہ ہن تاں تینوں کوئی تکلیف نئیں ہوویگی، اگر توں گرودوارے وچ جا کے تے امرت چکھ لے۔ رب میر کرے، ساڈی وی تسلی ہو جاوے گی، تے برادری وی تینو پھر تُوں۔۔۔‘‘ بی بے نے جملہ نامکمل ہی چھوڑ دیا ہے۔

میں ہنستا ہوں، ’’ویکھ بی بے، تیری گل ٹھیک ہے کہ میں امرت چکھ کے تے اک وار پھر سکھی دھرم وچ واپس آ جاواں۔ تواڈی وی تسلی ہو جاوے گی تے برادری وی خوش ہو جائے گی۔ اچھا مینو اک گل دس بی بے، اس امرت چکھن دے بعد مینو کی کرنا ہوویگا۔‘‘

بی بے کی آنکھوں میں چمک آ گئی ہے۔ اسے یقین نہیں ہو رہا کہ میں اتنی آسانی سے امرت چکھنے کیلئے مان جاؤں گا، ’’امرت چکھن دے بعد بندہ اک واری پھر سچا سکھ بن جاندا اے۔ اس واسطے کیس، کرپاں، کچھیہرا، کنگھا تے کرپان دھارن پیندے نے تے اِسدے بعد کوئی وی بندہ کیساں دا اپمان نیں کر سکتا، مسلماناں تے ہتھ کا کٹییا گوشت نیں کھا سکتا، دوجے دی ووٹی دے نال۔۔‘‘

’’رَین دے بی بے۔ میں تینو دس دیواں کہ امرت چکھن دے بعد کیں ہوندا ہے۔ میں تینو پیلی واری دس رییا ہاں کہ میں انّا کی ساریاں چیزاںنوں جتنا منداں ہاں تے جاندا ہاں، اتنا تے اِتھے دے گردوارے دے بھائی جی وی نیں جاندے ہوں گے۔‘‘

’’میں سمجھی نیں پتر۔‘‘ بی بے حیرانی سے میری طرف دیکھ رہی ہے۔

’’ہن گل نکلی ای ہے تاں سن لے۔ میں اے سارے سال منکرن تے امرتسر دے گرودوارییاں وچ رے کے کٹے ہن۔ توں کینوے تے میں تینوں پورا دا پورا گروگرنتھ صاحب زبانی سنا دیواں۔ میں نام کرن، آنند کارج، امرت چکھن دیاں ساریاں ودھیاں کردا رییا ہاں۔ بیشک میں کدی وی پورے کیس نیں رکھے پر ہمیشہ پھٹکا بن کے رییا ہاں۔ گروگرنتھ صاحب دا پاٹھ کردا رییا ہاں۔ جتھے تک امرت چکھ کے تے برادرینوں خوش کرن دی گل ہے، میں اسدی ضرورت نیں سمجھدا۔ باقی میں تینووشواس دلا دواں کہ میں کیساں وغیرہ دا وعدہ تے نیں کر سکتا، پر اے میرے توں لکھ کے لے لے کہ میں کدی وی گوشت نیں کھاواں گا، کدی کھا کے وی نیں ویکھیا، دوجے دی ووٹینوں اپنی بھین منّاں گا، سگریٹ، شرابنوں کدی ہتھ نیں لاواں گا۔ ہور کچھ۔۔؟‘‘

بی بے حیرانی سے میری طرف دیکھتی رہ گئی ہے۔ اسے قطعی امید نہیں تھی کہ سچائی کا یہ روپ اسے دیکھنے کا ملے گا۔ وہ کچھ کہہ ہی نہیں پائی۔ ’’لیکن پتر، تیرے دارجی۔۔ برادری۔۔‘‘

’’برادری دی گل رین دے بی بے، میں نے دو چار دنّاں بعد چلے جانا اے۔ برادری ہن میرے پچھے پچھے بمبئی تے نیں نا آویگی۔ چل میں تیری اِنّیں گل من لینا کہ گھر وچ ای اسّی اکھنڈ پاٹھ رکھ لینے ہاں۔ سارییاں دی تسلی ہو جائے گی۔‘‘

تھوڑی حجت کے بعد بی بے اکھنڈ پاٹھ کیلئے مان گئی ہے، لیکن اس نے اپنی یہ بات بھی منوا لی ہے کہ پاٹھ کے بعد لنگر بھی ہو گا اور ساری برادری کو بلوایا جائے گا۔

میں نے اس کیلئے ہاں کر دی ہے۔ بی بے کی خوشی کے لئے اتنا ہی سہی۔ دارجی کو منانے کا ذمہ بی بے نے لے لیا ہے۔ ویسے اس کو خود بھی یقین نہیں ہے کہ دارجی کو منا پائے گی یا نہیں۔

آج اکھنڈ پاٹھ کا آخری دن ہے۔

پچھلے تین دن سے پورے گھر میں گہما گہمی ہے۔ پاٹھی باری باری سے آ کر پاٹھ کر رہے ہیں۔ بیچ بیچ میں بی بے اور دارجی کی تسلی کیلئے میں بھی پاٹھ میں بیٹھ جاتا ہوں۔ بیشک کئی سال ہو گئے ہیں دربارجی کے سامنے بیٹھے ہوئے، لیکن ایک بار بیٹھتے ہی سب کچھ یاد آنے لگا ہے۔ دارجی میرے اس روپ کو دیکھ کر حیران بھی ہیں اور خوش بھی۔

بی بے نے آس پاس کے سارے رشتہ داروں اور جان پہچان والوں کو دعوت بھیجی ہے۔ ویسے بھی اب تک سارے شہر کو ہی خبر ہو ہی چکی ہے۔ لنگر کا انتظام کر لیا گیا ہے۔ بی بے سبھی تہواروں کی تلافی ایک ساتھ ہی کر دینا چاہتی ہے۔ میں نے بی بے کو بیس ہزار روپے تھما دیئے ہیں تاکہ وہ اپنی خواہش پوری کر سکے۔ آخر اس سارے انتظام میں خرچہ تو ہو ہی رہا ہے۔ اس کی خوشی میں ہی میری خوشی ہے۔ پہلے تو بی بے ان پیسوں کو ہاتھ ہی لگانے کیلئے تیار نہ ہوئی، لیکن جب میں نے بہت زور دیا کہ تو یہ سب میرے لئے ہی تو کر رہی ہے، تب اس نے سارے پیسے لے جا کر دارجی کو تھما دیئے ہیں۔ دارجی نے جب نوٹ گنے تو ان کی آنکھیں پھٹی رہ گئی ہیں۔ ویسے تو انہوں نے میرے کپڑوں، سامان اور ان لوگوں کیلئے لائے تحفوں سے اندازہ لگا ہی لیا ہو گا کہ میں اب اچھی خاصی جگہ پر پہنچ چکا ہوں۔ بی بے سے دارجی نے ذرا ناراضگی بھرے لہجے میں کہا ہے، ’’لے توں ای رکھ اپنے پتر دی پیلی کمائی۔ میں نے کی کرنا اننے پیسے دیاں۔‘‘

مجھے برا لگا ہے۔ ایک طرف تو وہ مان رہے ہیں کہ ان کیلئے یہ میری پہلی کمائی ہے اور دوسری جانب اس کی طرف سے ایسی بے رخی۔ بی بے بتا رہی تھی کہ آج کل دارجی کا کام مندا ہے۔ گولو اور بلّو مل کر تین چار ہزار بھی نہیں لاتے اور اس میں سے بھی آدھے تو اپنے پاس ہی رکھ لیتے ہیں۔

ارداس ہو گئی ہے اور کڑاہ پرساد کے بعد اب لوگ لنگر کیلئے بیٹھنے لگے ہیں۔ مجھے ہر دوسرے منٹ کسی نہ کسی بزرگ کا پیری پونا کرنے کیلئے کہا جا رہا ہے۔ کوئی دور کا پھوپھا لگتا ہے تو کوئی قریب کا ماما تایا۔۔۔ کوئی بی بے کو سناتے ہوئے کہہ رہا ہے، ’’نیں گرنام کورے، ہن تیرا منڈوا دوبارہ نہ جا سکے ایہدا انتظام کر لے۔ کوئی چنگی جئی کڑی ویکھ کے انّو روکن دا پکا انتظام کر لے۔‘‘

تو کوئی جا کے دارجی کو گدگدا رہا ہے، ’’اوے ہرنامییا۔۔۔ اک کم تاں تو اے کر کہ انّو اج ہی اج ایتھے ای روکن دا انتظام کر لے۔‘‘

دارجی کو میں پہلی بار ہنستا دیکھ رہا ہوں، ’’فکر نہ کرو بادشاہو۔۔۔ دیپونوں روکن دا اج ہی اج پکا انتظام ہے۔‘‘

مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا کہ یہ سب ہو کیا رہا ہے۔ اپنے روکنے والی بات سمجھ میں نہیں آ رہی۔

مجھے لگ رہا ہے کہ اس اکھنڈ پاٹھ کے ذریعے کوئی اور ہی کھچڑی پک رہی ہے۔ تبھی بی بے ایک بزرگ سر دارجی کو لے کر میرے پاس آئی ہے اور بہت ہی خوش ہو کر بتا رہی ہے، ’’ست سری اکال کر اِنانوں پتر۔ اج دا دن ساڈے لئی کنا چنگا اے کہ گھر بیٹھے دیپو لئی انا سونا رشتہ آیا اے۔۔۔ میں تے کینی آں بھرا جی، تسی اک ادھ دن اِچ دیپے نوں وی کڑی وکھان دا انتظام کر ائی دیو۔‘‘

’’جو حکم بھین جی، تسی جدو کہو، اَسی تیار ہاں۔ باقی ساڈا دیپو ول کے آ گیا اے، اِستوں وڈی خوشی ساڈے لئی ہور کی ہو سکدی ہے۔‘‘

یہ میں کیا سن رہا ہوں۔ یہ کڑی دکھانے کا کیا چکر ہے بھئی۔ بی بے یا دارجی اس وقت ساتویں آسمان پر ہیں، انہیں وہاں سے تو اتارنا آسان نہیں ہے اور نہ ہی مناسب۔ پتہ تو چلے، کون ہیں یہ بزرگوار اور کون ہے اس کی لڑکی۔ کمال ہے۔۔۔۔ مجھ سے پوچھا نہ کہا، میری سگائی کی تیاریاں بھی کر لیں۔ ابھی تو مجھے یہاں آئے چوتھا دن ہی ہوا ہے اور انہوں نے ابھی سے مجھے نکیل ڈالنی شروع کر دی۔ کم از کم مجھ سے پوچھ تو لیتے کہ میری بھی کیا مرضی ہے۔ کچھ نہ کچھ کرنا ہو گا۔۔ جلد ہی، تاکہ وقت رہتے بات آگے بڑھنے سے پہلے ہی سنبھالی جا سکے۔

اس وقت میرا سارا دھیان اس کرتار سیہاں کی جانب ہے، جو اپنی لڑکی میرے پلے باندھنے کی مکمل منصوبہ بندی کر کے آیا ہوا ہے۔ اچھا ہی ہے کہ آج میں نندو کے ساتھ باہر نکل جاؤں گا، نہیں تو وہ مجھے اپنے سوالوں سے کرید کرید کر چھلنی کر دے گا۔ کیسے شاطرانہ انداز سے پوچھ رہا تھا، ’’بمبئی وچ تسیں کتھے ریندے ہو اور گھر بار دا کی انتظام کتا ہویا اے تسی۔۔؟‘‘ جیسے میں بمبئی سے اس کی دسویں یا نویں پاس لڑکی سے رشتہ طے کرنے کیلئے ہی یہاں آیا ہوں، نہ بات نہ چیت، نکال کے پانچ سو ایک روپے میری طرف بڑھا دیے، ’’اے رکھ لؤ تسی۔۔۔‘‘

کیوں رکھ لیں بھئی، کوئی وجہ بھی تو ہو پیسے رکھ لینے کی۔ میرا دماغ بری طرح بھنا رہا ہے۔ ہماری بی بے بھی ذرا بھی نہیں بدلی۔۔ اس کا کام کرنے کا وہی پرانا طریقہ ہے۔ اپنے آپ ہی سب کچھ طے کر لیتی ہے۔ لیکن اس معاملے میں تو دونوں کی ملی بھگت ہی لگ رہی ہے مجھے۔۔!

میں دارجی کو نہ تب سمجھ پایا تھا اور نہ اب سمجھ پا رہا ہوں۔ حالانکہ جب سے آیا ہوں، ان کا غصہ تو دیکھنے میں نہیں آیا ہے، لیکن جیسے بہت خوش بھی نہیں نظر آتے۔ اپنا کام کرتے رہتے ہیں یا ادھر ادھر نکل جاتے ہیں اور گھنٹوں بعد واپس آتے ہیں۔ مجھ سے بھی جو کچھ کہنا ہوتا ہے بی بے کی معرفت ہی کہتے ہیں، ’’دارجی، اے کے ری سن‘‘ یا ’’دارجی پوچھ ری سن۔‘‘

حساب لگاتا ہوں دارجی اب پچپن چھپن کے تو ہو ہی گئے ہوں گے۔ اب عمر بھی تو ہو گئی ہے۔ آدمی آخر ساری زندگی اپنی ضد لے کر لڑتا جھگڑتا تو نہیں رہ سکتا۔۔ انسان محنتی ہیں اور پورے گھر کا خرچ چلا ہی رہے ہیں۔ گڈّی کی پڑھائی ہے۔ گولو، بلّو نے بھی ابھی طریقے سے کمانا شروع نہیں کیا۔ ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ میرے آنے سے دارجی کو خوشی نہ ہوئی ہو۔ لگتا تو نہیں ہے، لیکن وہ ظاہر ہی نہیں ہونے دیتے کہ ان کے من میں کیا ہے۔ جب بھی ان کے پاس بیٹھتا ہوں، ایک آدھ چھوٹی موٹی بات ہی پوچھتے رہے ہیں، ’’بمبئی میں سنا ہے، مکان بہت مشکل سے ملتے ہیں۔ کھانے وانے کی بھی تکلیفیں ہوں گی۔ کیا اس طرف ٹرانسفر نہیں ہو سکتا۔‘‘ اور اسی طرح کی دیگر باتیں۔

کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی پڑے گا۔ کس کی مدد لی جائے۔ کوئی بھی تو یہاں میرا راز دار نہیں ہے۔ سبھی کٹے کٹے سے رہتے ہے۔ گولو بلّو بھی مجھے ایسے دیکھتے ہیں گویا میں ان کا بڑا بھائی نہ ہوں بلکہ دشمن جیسا ہوں۔ جیسے میں ان کا کوئی حق چھیننے آ گیا ہوں۔ پہلے ہی دن تو گلے مل مل کر روئے تھے اور دو چار باتیں کی تھیں، ان میں بھی اپنی پریشانیاں زیادہ بتا تے رہے تھے۔ اس کے بعد تو میرے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرتے ہی نہیں ہیں۔

جب سے میں آیا ہوں، گڈّی ہی سب سے زیادہ پیار برسا رہی ہے مجھ پر۔ جب بھی باہر سے آتی ہے، اس کے ساتھ ایک نہ ایک سہیلی ضرور ہی ہوتی ہے جسے وہ مجھ سے ملوانا چاہتی ہے۔ اسی کو گھیرتا ہوں۔

اس نے میرا لایا نئے سوٹ پہنا ہوا ہے۔ لیکن موزے اس کے پاس پرانے ہی ہیں۔ یہی طریقہ ہے اسے گھر سے باہر لے جانے کا اور پوری بات پوچھنے کا۔

اسے بلاتا ہوں، ’’گڈّی، ذرا بازار تک چل، مجھے ایک بہت ضروری چیز لینی ہے۔ ذرا تُو پسند کرا دے۔‘‘

’’کیا لینا ہے ویر جی۔‘‘ وہ بڑی بڑی آنکھوں سے میری طرف دیکھتی ہے۔

’’تُو چل تو سہی۔ بس دو منٹ کا ہی کام ہے۔‘‘

’’ابھی آئی ویر جی، ذرا بی بے کو بتا تی ہوں کہ آپ کے ساتھ جا رہی ہوں۔‘‘

راستے میں پہلے تو میں اس سے ادھر ادھر کی باتیں کرتا رہا ہوں۔ اس کی پڑھائی کی، اس کی سہیلیوں کی اور اس کی پسند کی۔ بیچاری بہت بھولی ہے۔ سارا دن پھرکی کی طرف گھر میں گھومتی رہتی ہے۔ مزاج کی بہت سادہ ہے۔ آج کل میرے لئے سویٹر بُن رہی ہے۔ اپنے ذاتی پیسوں سے اون لائی ہے۔۔۔ میری خدمت تو اتنے جتن سے کر رہی ہے کہ جیسے اُن تمام برسوں کی ساری کسر ایک ساتھ پوری کرنا چاہتی ہو۔ جوتے کی دکان میں، میں سیلزمین کو اس کیلئے کوئی اچھی سے سینڈل دکھانے کیلئے کہتا ہوں۔

گڈّی بگڑتی ہے، ’’یہ کیا ویر جی، آپ تو کہہ رہے تھے کہ آپ کو اپنے لئے کچھ چاہیے اور یہاں۔۔۔ میرے پاس ہیں نا۔۔‘‘

’’تُو چپ چاپ اپنے لئے جو بھی پسند کرنا ہے کر، زیادہ باتیں مت بنا۔‘‘

’’سچی، ویر جی، جب سے آپ آئے ہیں، ہم لوگوں پر کتنا خرچ کر رہے ہیں۔‘‘

’’یہ سب سوچنا تیرا کام نہیں ہے۔‘‘

گڈّی کی شاپنگ تو کرا دی ہے، لیکن میں فیصلہ نہیں کر پا رہا ہوں کہ جو سوال اس سے پوچھنا چاہتا ہوں، کیسے پوچھوں۔

ہم واپسی کیلئے چل پڑے ہیں۔ ابھی دو منٹ میں ہی اپنی گلی میں ہوں گے اور میرا سوال پھر رہ جائے گا۔

اس سے کہتا ہوں، ’’گڈّی، بتا یہاں گول گپے کہاں اچھا ملتے ہیں، وہاں تو آدمی ان چیزوں کے لئے ترس جاتا ہے۔‘‘

وہ جھانسے میں آ گئی ہے۔

’’آپ کو اتنے شاندار گول گپے کھلاؤں گی کہ یاد رکھیں گے۔ ہمارا پیٹ گول گپے والا ہے کیلاش۔‘‘

’’کہاں ہے تمہارے کیلاش کا گول گپا۔۔؟‘‘

’’بس، پاس ہی ہے۔‘‘

’’ویسے گڈّی بی اے کے بعد تیرا کیا کرنے کا ارادہ ہے۔‘‘ میں تمہید باندھتا ہوں۔

’’میں تو ویر جی، ایم بی اے کرنا چاہتی ہوں۔ لیکن ایم بی اے کیلئے کسی بڑے شہر میں ہاسٹل میں رہنا، کہاں مانیں گے میری بات یہ لوگ؟ آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ دارجی بی اے کے لئے بھی کتنی مشکل سے راضی ہوئے تھے۔‘‘

’’چل تیری یہ ذمہ داری میری۔ تُو بی اے میں اچھے مارکس لے آ تو ایم بی اے تجھے بمبئی سے ہی کرا دوں گا۔ میرا بھی دل لگا رہے گا۔ میرا کھانا بھی بنا دیا کرنا۔‘‘

’’سچ ویر جی، آپ کتنے اچھے ہیں، آج آپ کتنی اچھی اچھی خبریں سنا رہے ہیں۔ چلئے، گول گپے میری طرف سے۔ لیکن میں آپ کا کھانا کیوں بنانے لگی۔ آئے گی نہ ہماری بھابھی۔‘‘

اب صحیح موقع ہے۔ میں پوچھ ہی لیتا ہوں، ’’اچھا گڈّی، بتانا، یہ جو کرتار سیہوں وغیرہ آئے تھے سویرے، کیا چکر ہے ان کا، میں تو پریشان ہو رہا ہوں۔‘‘

’’کوئی چکر نہیں ہے ویر جی، ہمارے لئے بھابھی لانے کا انتظام ہو رہا ہے۔‘‘

’’لیکن گڈّی، ایسے کیسے ہو سکتا ہے؟ تُو خود سوچ، میں اپنی پڑھائی لکھائی کو تھوڑی دیر کے لئے ایک طرف رکھ بھی دوں، اپنی افسری کو بھی بھول جاؤں، لیکن یہ تو دیکھنا ہی چاہیے نہ کہ کون لوگ ہیں، کیا کرتے ہیں، لڑکی کیا کرتی ہے، میرے ساتھ دیس پردیس میں اس کی نبھ پائے گی یا نہیں، بہت سی چیزیں سوچنی پڑتی ہیں، میں اکیلے رہتے رہتے تھک گیا تھا گڈّی، اس لئے گھر واپس آ گیا ہوں لیکن اتنا وقت تو لینا ہی چاہیے کہ پہلے میرے گھر والے ہی مجھے اچھی طرح سمجھ لیں۔‘‘

’’آپ کی بات ٹھیک ہے ویر جی، لیکن بی بے اور دارجی کا کچھ اور ہی سوچنا ہے۔ ابھی پرسوں کی بات ہے، آپ کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔ میں دارجی کے لئے روٹی بنا رہی تھی۔ بی بے بھی وہیں پاس ہی بیٹھی تھی۔ تبھی آپ کی بات چل پڑی۔ ویسے تو جب سے آپ آئے ہیں، گھر میں آپ کے علاوہ اور کوئی بات ہوتی ہی نہیں، تو دارجی، بی بے سے کہہ رہے تھے، کچھ ایسا انتظام کیا جائے کہ اب سے دیپو کا گھر میں آنا جانا چھوٹے نہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آج آیا ہے پھر عرصے تک آئے ہی نہیں۔‘‘

’’تو؟‘‘

’’بی بے بولی، پھر اس کا تو ایک ہی علاج ہے کہ کوئی چنگی سی کڑی ویکھ کے دیپو کی منگنی کر دیتے ہیں۔ شادی بیشک سال چھ مہینے بعد بھی کر سکتے ہیں، لیکن یہیں منگنی ہو جانے سے اس کے گھر سے بندھے رہنے کا ایک سلسلہ بن جائے گا۔‘‘

’’تو دارجی نے کیا کہا۔۔؟‘‘

’’دارجی نے کہا، لیکن اتنی جلدی لڑکی ملے گی کہاں سے۔۔؟‘‘

’’تو بی بے بولی۔ اس کی فکر مجھ پہ چھوڑ دو۔ میرے دیپو کیلئے اپنی ہی برادری میں ایک سے ایک شاندار رشتے مل جائیں گے۔ جب سے دیپو آیا ہے، اچھے اچھے گھروں کے کئی رشتے آ چکے ہیں۔ میں ہی خاموش تھی کہ بچہ بہت سالوں بعد آیا ہے، کچھ دن آرام کر لے۔ کئی لوگ تو ہاتھوں ہاتھ دیپو کو سر آنکھوں پر بٹھانے کیلئے کھڑے ہیں۔‘‘

’’اچھا تو یہ بات ہے۔ ساری پلاننگ مجھے گھیرنے کے لئے بنائی جا رہی ہے۔‘‘ میری آواز میں تیکھا پن آ گیا ہے۔

’’نہیں ویر جی یہ بات نہیں ہے۔۔ لیکن۔۔‘‘ گڈّی گھبرا گئی ہے۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس کی بتائی بات سے معاملہ اس طرح بگڑ جائے گا۔

’’اچھا ایک بات بتا۔‘‘  اس کا موڈ ٹھیک کرنے کیلئے میں پوچھتا ہوں، ’’یہ کرتار جی کرتے کیا ہیں اور ان کی کڑی کیا کرتی ہے۔ جانتی ہے تُو اسے؟‘‘

’’بہت اچھی طرح سے تو نہیں جانتی، یہ لوگ دھرم پور میں رہتے ہیں۔ شاید دسویں کر کے سلائی کڑھائی کاکورس کیا تھا اس نے۔‘‘

’’تُو ملی ہے اس سے کبھی؟‘‘

’’یقینی طور پر تو نہیں کہہ سکتی کہ وہی لڑکی ہے۔‘‘

’’خیر جانے دے، یہ بتا یہ سر دارجی کیا کرتے ہیں؟‘‘

’’ان کی پلٹن بازار میں بزازی کی دکان ہے۔‘‘

’’کہیں یہ خالصہ کلاتھ شاپ والے کرتار تو نہیں؟‘‘ مجھے یاد آ گیا تھا کہ انہیں میں نے بچپن میں کس دکان پر بیٹھے دیکھا۔ میں تب سے پریشان ہو رہا تھا کہ اس سردار کو کہیں دیکھا ہے، لیکن یاد نہیں کر پا رہا تھا۔ گڈّی کے یاد دلانے سے کنفرم ہو گیا ہے۔

میں گڈّی کا کندھا تھپتھپاتا ہوں۔

’’لیکن ویر جی، آپ کو ایک وعدہ کرنا پڑے گا، آپ کسی کو بتائیں گے نہیں کہ میں نے آپ کو یہ ساری باتیں بتائی ہیں۔‘‘

’’گاڈ پرامس، دھرم دی سوں بس۔‘‘ مجھے بچپن کا دوستوں کے درمیان ہر بات پر قسم کھانا یاد آ گیا ہے، ’’ویسے ایک بات بتا، تُو چاہتی ہے کہ میرا رشتہ اس کرتار سنگھ کی سلائی کڑھائی کرنے اور تکیے کے غلاف کاڑھنے والی انجان لڑکی سے ہو جائے۔ دیکھ، ایمانداری سے بتائے گی تو آئس کریم بھی کھلاؤں گا۔‘‘

گڈّی مسکرائی، ’’رشوت دینا تو کوئی آپ سے سیکھے ویر جی، ذرا سی بات کا پتہ لگانے کیلئے آپ اتنی ساری چیزیں تو پہلے ہی دلوا چکے ہیں۔ میری بات پوچھو تو مجھے یہ رشتہ قطعی پسند نہیں ہے۔ حالانکہ میں نے اپنی ہونے والی بھابھی کو نہیں دیکھا ہے، لیکن یہ میچ جمے گا نہیں۔ پتہ نہیں کیوں میرا دل نہیں مان رہا ہے لیکن آپ تو جانتے ہی ہیں، دارجی اور بی بے کو۔‘‘

’’اوئے پگلی، ابھی تجھے تیری ہونے والی بھابھی سے ملواتا ہوں۔‘‘

اس کے دل کا بوجھ دور ہو گیا ہے، لیکن میری فکر بڑھ گئی ہے۔ اب اس محاذ پر بھی اپنی ساری طاقت لگا دینی پڑے گی۔ پتہ نہیں دارجی اور بی بے کو سمجھانے کیلئے کیا کرنا پڑے گا۔

ہم گھر کی جانب واپس آ رہے تھے، تبھی گڈّی پوچھتی ہے، ’’ویر جی، کبھی ہمیں بھی بمبئی بلائیں گے نا۔ میرا بڑا دل کرتا ہے ایکٹروں اور ہیروئینوں کو قریب سے دیکھنے کا۔ سنا ہے وہاں یہ لوگ ایسے ہی گھومتے رہتے ہیں۔ اور اپنی ساری شاپنگ خود ہی کرتے ہیں۔‘‘ وہ مسلسل بولے چلی جا رہی ہے۔ ’’آپ نے کبھی کسی ایکٹر کو دیکھا ہے۔‘‘

میں جھلا کر پوچھتا ہوں، ’’پورے ہو گئے تیرے سوال یا کوئی باقی ہے؟‘‘

’’ویر جی، آپ تو برا مان گئے۔ کوئی بمبئی آئے اور اپنی پسند کے ہیرو سے نہ ملے تو اتی دور جانے کا مطلب ہی کیا۔۔۔؟‘‘

’’تو سن لے میری بھی بات۔ تجھے اگر جو میرے پاس آنا ہے تو تُو ابھی چلی چل میرے ساتھ۔ میں بھی تیرے ساتھ ہی بمبئی دیکھ لوں گا۔ اور جہاں تک تیرے ایکٹروں کا سوال ہے، وہ میرے بس کا نہیں۔ مجھے وہاں اپنی تو خبر رہتی نہیں، ان کی کھوج خبر کہاں سے رکھوں۔‘‘

لوٹ رہا ہوں دوبارہ۔ ایک بار پھر گھر چھوٹ رہا ہے۔۔۔ اگر مجھے ذرا سا بھی خیال ہوتا کہ میرے یہاں آنے کے پانچ سات دن کے اندر ہی ایسے حالات پیدا کر دیئے جائیں گے کہ میں نہ ادھر کا رہوں اور نہ ادھر کا تو میں آتا ہی نہیں۔

یہاں تو عجیب تماشا کھڑا کر دیا ہے دارجی نے۔ کم از کم اتنا تو دیکھ لیتے کہ میں اتنے برسوں کے بعد گھر واپس آیا ہوں۔ میری بھی کچھ آدھی ادھوری تمنائیں رہی ہوں گی، میں گھر نام کی جگہ سے وابستگی محسوس کرنا چاہتا ہوں گا۔ چودہ برسوں میں انسان کی سوچ میں زمین آسمان کا فرق آ جاتا ہے اور پھر میں کہیں بھاگا تو نہیں جا رہا تھا۔ دارجی تو بس اڑ گئے، ’’تجھے شادی تو یہیں کرتارے کی لڑکی سے ہی کرنی پڑے گی۔ میں قول دے چکا ہوں۔‘‘ دارجی کا قول سب کچھ اور میری زندگی کچھ بھی نہیں۔ عجیب دھونس ہے۔ انہیں پتہ ہے، میں ان کے آگے کچھ بھی نہیں کہہ پاؤں گا تو میری اسی شرافت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مجھے حکم سنا دیا، ’’شام کو کہیں نہیں جانا، ہم کرتارے کے گھر لڑکی دیکھنے جا رہے ہیں۔‘‘ میں نے جب بی بے کے آگے مخالفت کرنا چاہی، تو دارجی درمیان میں آ گئے، ’’بی بے کو درمیان میں لانے کی ضرورت نہیں ہے برخوردار، یہ مردوں کی بات ہے۔ ہم سب کچھ طے کر چکے ہیں۔ صرف تجھے لڑکی دکھانی ہے تاکہ تُو یہ نہ کہے کہ دیکھنے بھالنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ ویسے ان کا گھر بار ہمارا دیکھا بھالا ہے۔۔۔ پچھلی تین نسلوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ سنتوش کو بھی تیری بی بے نے دیکھا ہوا ہے۔‘‘

یہ حکم نامہ سنا کر دارجی تو ساتھ جانے والے بقیہ رشتہ داروں کو خبر کرنے چل دیئے اور میں اندر باہر ہو رہا ہوں۔ بی بے میری حالت دیکھ رہی ہے۔ جانتی بھی ہے کہ میں اس طرح سے تو شادی نہیں کر پاؤں گا۔ پرسوں رات بھی میں نے بی بے کو سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ ابھی میں اس طرح کی دماغی حالت میں نہیں ہوں کہ شادی کے بارے میں سوچ سکوں اور پھر بمبئی میں میرے پاس اپنے ہی رہنے کا ٹھکانا نہیں ہے، آنے والی کو کہاں ٹھہراؤں گا۔ تو بی بے اپنے دکھڑے سنانے لگی ہے، ’’توں انّے چراں بعد آیا ہیں۔ سانّو اِنی سادھ تاں پوری کر لے لیننے دے کہ پنے ہوندییاں تیری ووٹینوں ویکھ لئے۔‘‘

میں نے سمجھایا، ’’ویکھ بی بے، تینونوں دا انّا ای شوق ہے تاں بلّو تے گولو دونواں دا ویا کر دے۔ تیریاں دو دو نونآ تیری سیوا کرن گی۔‘‘

’’پاگل ہو گیا ہیں وے پتر، وڈا بھرا بیٹھا ہووے تے چھوٹییاں دے بارے وچ سوچییاں وی نیں جا سکدا پتر۔ تو کڑی تاں ویکھ لے۔ اسّی سگن لے لواں گے۔ شادی بعد وچ ہوندی رایگی۔ پر توں ہاں تاں کر دے۔ ضد نیں کرندی۔ من جا پتر۔‘‘

میں نہیں سمجھا پا رہا بی بے کو۔ جب بی بے کے آگے میری نہیں چلتی تو دارجی کے آگے کیسے چلے گی۔ ٹھنڈے دماغ سے کچھ سوچنا چاہتا ہوں۔

میں بی بے سے کہتا ہوں، ’’ذرا مینار تک جا رہا ہوں، کچھ کام ہے، ابھی آ جاؤں گا۔‘‘ تو بی بے آواز لگاتی ہے ’’چھیتّی آ جائیں پتّرا۔‘‘

میں نکلنے کو ہوں کہ گڈّی کی آواز آتی ہے، ’’ویر جی، میں بھی کالج جا رہی ہوں۔ پلٹن بازار تک میں بھی آپ کے ساتھ چلتی ہوں۔‘‘

’’چل تُو بھی۔‘‘ میں اس سے کہتا ہوں۔

’’بہت پریشان ہیں، ویر جی؟‘‘

’’کمال ہے، یہاں میری جان پر بن رہی ہے اور تُو پوچھتی ہے پریشان ہوں۔ تُو ہی بتا، کیا صحیح ہے دارجی اور بی بے کا یہ فیصلہ۔‘‘

’’ویر جی، بات صرف آپ کی جان کی نہیں ہے، کسی اور کو بھی بلی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔ اس کی تو کسی کو پرواہ ہی نہیں ہے۔‘‘

’’کیا مطلب؟ اور کس کو بلی کا بکرا بنایا جا رہا ہے؟‘‘

وہ روہانسی ہو گئی ہے۔

’’تُو بول تو سہی، معاملہ کیا ہے؟‘‘

’’یہیں راہ چلتے بتاؤں کیا؟‘‘

’’اچھا، یہ بات ہے، بول کہاں چلنا ہے۔ لگ رہا ہے معاملہ کچھ زیادہ ہی سیریس ہے۔‘‘

’’اس شہر کی یہی تو مصیبت ہے کہ کہیں بیٹھنے کی ڈھنگ کی جگہ بھی نہیں ہے۔‘‘

’’چل، نندو کے ریستوران میں چلتے ہیں۔ وہاں فیملی کیبن ہے۔ وہاں کوئی پریشان نہیں کرے گا۔‘‘

نندو کہیں کام سے گیا ہوا تھا، لیکن اس کا عملہ مجھے پہچاننے لگا ہے۔ سبھی سلام کرتے ہیں۔ میں ان سے کہتا ہوں، ’’یہ میری چھوٹی بہن ہے۔ ہم بات کر رہے ہیں۔ کوئی ڈسٹرب نہ کرے!‘‘

’’ہاں اب بتا، کیا معاملہ ہے، اور تیری یہ آنکھیں کیوں بھری ہوئی ہیں، پہلے آنسو پونچھ لے، نہیں تو چائے نمکین لگے گی۔‘‘

’’یہاں کسی کی جان جا رہی ہے اور آپ کو مذاق سوجھ رہا ہے ویر جی۔‘‘

’’تُو بات بھی بتائے گی یا پہیلیاں ہی بجھاتی رہے گی، بول کیا بات ہے۔‘‘

’’گزشتہ رات جب آپ نندو ویر جی کے گھر گئے ہوئے تھے تو بی بے اور دارجی بات کر رہے تھے۔ انہوں نے سمجھا، میں سو گئی ہوں، لیکن مجھے نیند نہیں آ رہی تھی۔ تبھی دارجی نے بی بے کو بتایا، کرتارے نے اشارہ کیا ہے کہ وہ سگائی پر پچاس ہزار نقد، سارے رشتہ داروں کو شگن اور ہمیں گرم کپڑے وغیرہ دے گا اور شادی کے موقع پر دیپو کیلئے ماروتی کار اور چار لاکھ نقد دے گا۔‘‘

’’اچھا تو یہ بات ہے۔‘‘

’’ٹوکیں نہیں بیچ میں پوری بات سنیں۔‘‘

’’سوری تو بی بے نے کیا کہا؟‘‘

’’بی بے نے کہا کہ ہماری قسمت چنگی ہے جو دیپو اِنّے چنگے موقع پر آ گیا ہے۔ ہمارے تو بھاگ کھل گئے۔‘‘

’’تو دارجی کہنے لگے، دیپو کی شادی کیلئے تو ہمیں کچھ خاص نہیں کرنا پڑے گا۔ اس کے پاس بہت پیسہ ہے۔ آخر اپنی شادی پر خرچ نہیں کرے گا تو کب کرے گا۔ یہ پچاس ہزار اوپر ایک کمرا بنانے کے کام آ جائیں گے۔ باقی کرتارا شادی کے وقت جو پیسے دے گا، وہ پیسے گڈّی کے کام آ جائیں گے۔ سال چھ مہینے میں اس کے بھی ہاتھ پیلے کر دینے ہیں۔ اس کیلئے بھی ایک دو لڑکے ہیں میری نظر میں۔‘‘

یہ کہتے ہوئے گڈّی رونے لگی ہے، ’’میری پڑھائی کا کیا ہو گا ویر جی، مجھے بچا لو ویر جی، میں بہت پڑھنا چاہتی ہوں۔ آپ تو پھر بھی اپنی بات منوا لیں گے۔ میری تو گھر میں کوئی سنتا ہی نہیں۔‘‘

’’مجھے نہیں معلوم تھا گڈّی، معاملہ اتنا ٹیڑھا ہے۔ کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی ہو گا۔‘‘

’’جو کچھ بھی کرنا ہے، آج ہی کرنا ہو گا، کہیں شام کو سب لوگ پہنچ گئے لڑکی دیکھنے تو بات لوٹانی مشکل ہو جائے گی۔‘‘

’’کیا کریں پھر؟‘‘

’’آپ کیا سوچتے ہیں؟‘‘

’’دیکھ گڈّی، تیری پڑھائی تو پوری ہونی ہی چاہیے۔ تیری پڑھائی اور شادی کی ذمے داری میں لیتا ہوں۔ تجھے ہر مہینے تیری ضرورت کے پیسے بھیج دیا کروں گا۔ تیری شادی کا سارا خرچہ میں اٹھایا کروں گا۔ تُو بے فکر ہو کر کالج جا۔ پڑھائی میں دل لگا۔ باقی میں دیکھتا ہوں۔ دارجی اور بی بے کو سمجھاتا ہوں۔‘‘

میں جیب سے پرس نکالتا ہوں، ’’لے فی الحال ہزار روپے رکھ۔ بمبئی پہنچ کر اور بھیج دوں گا اور یہ رکھ میرا کارڈ۔ کام آئے گا۔۔۔‘‘

گڈّی پھر رونے لگی ہے، ’’کیا مطلب ویر جی، آپ۔۔۔ آپ۔۔ یہ سب کیا کہہ رہے ہیں اور یہ پیسے کیوں دے رہے ہیں۔ آپ کے دیئے کتنے سارے پیسے میرے پاس ہیں۔‘‘

’’دیکھ، اگر دارجی اور بی بے نہ مانے تو میرے پاس یہی حل بچتا ہے کہ میں شام ہونے سے پہلے ہی بمبئی لوٹ جاؤں۔ اس سگائی کو روکنے کا اور کوئی طریقہ نہیں ہے۔ جس طرح میرے آنے کے دوسرے دن سے ہی یہ سازشیں شروع ہو گئی ہیں، میں ان سے نہیں لڑ سکتا۔ میں یہاں اپنے گھر واپس آیا تھا کہ اکیلے رہتے رہتے تھک گیا تھا اور یہاں تو یہ اور ہی منصوبے باندھ رہے ہیں۔‘‘

گڈّی میری طرف دیکھے جا رہی ہے۔

’’دیکھ گڈّی، میرے آنے سے ایک ہی اچھا کام ہوا ہے کہ تُو مجھے مل گئی ہے۔ باقی سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا میں چھوڑ گیا تھا۔ نہ دارجی بدلے ہیں اور نہ بی بے۔ دیکھ تُو گھبرانا نہیں۔‘‘ میں خود اپنے آنسو روک نہیں پا رہا ہوں لیکن اسے چپ کرا رہا ہوں، ’’ہو سکتا ہے شام کوتُو جب کالج سے واپس آئے تو میں ملوں ہی نہیں تجھے۔‘‘

گڈّی روئے جا رہی ہے۔ ہچکیاں لے لے کر۔ اس کیلئے مزید پانی منگاتا ہوں، پھر سمجھاتا ہوں، ’’تُو اس طرح سے کمزور پڑ جائے گی تو اپنی لڑائی کس طرح سے لڑے گی پگلی، چل منہ پونچھ لے اور دعا کر کہ بی بے اور دارجی کو عقل آئے اور وہ ہماری سودے بازی بند کر دیں۔‘‘

’’آپ سچ مچ چلے جائیں گے ویر جی؟‘‘

’’یہاں رہا تو میں نہ خود کو بچا پاؤں گا نہ تجھے۔ تُو ہی بتا کیا کروں؟‘‘

’’آپ کے آنے سے میں کتنا اچھا محسوس کر رہی تھی۔ آپ نے مجھے زندگی کے نئے معنی سمجھائے۔ اب یہ جہنم پھر مجھے اکیلے جھیلنا پڑے گا۔ اینی وے۔‘‘ گڈّی نے اچانک آنسو پونچھ لئے ہیں اور اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا ہے، ’’آل دی بیسٹ ویر جی، آپ کامیاب ہوں۔ گڈ لک۔۔۔۔۔‘‘ اس نے بات ادھوری چھوڑ دی ہے اور وہ تیزی سے کیبن سے نکل کر چلی گئی ہے۔ میں کیبن کے دروازے سے اسے جاتا دیکھ رہا ہوں۔۔ ایک بہادر لڑکی کی چال سے وہ چلی جا رہی ہے۔ اسے جاتا دیکھ رہا ہوں اوربڑبڑاتا ہوں، ’’بیسٹ وشز کی تو تجھے ضرورت تھی پگلی، تُو مجھے دے گئی۔‘‘

مجھے نہیں پتہ، اب گڈّی سے پھر کب ملاقات ہو گی!! پتہ نہیں ہو گی بھی یا نہیں اس سے ملاقات!!

گھر پہنچا تو دارجی واپس آ چکے ہیں۔ اب تو انہیں دیکھتے ہی مجھے تکلیف ہونے لگی ہے۔ کوئی بھی ماں باپ اپنے بچے کے اتنے دشمن کیسے ہو جاتے ہیں کہ اپنے مفاد کیلئے ان کی پوری زندگی اجاڑ کر رکھ دیں۔ ان کی ذرا سی ضد کی وجہ سے میں کب سے بے گھر گھوم رہا ہوں اور جب میں اپنا دل مار کر کسی طرح گھر واپس لوٹا تو پھر ایسے حالات پیدا کر رہے ہیں کہ پتہ نہیں اگلے آدھے گھنٹے بعد یہ گھر میرادوبارہ رہتا بھی ہے یا نہیں، کہا نہیں جا سکتا۔

ان کو اچھی طرح سے معلوم ہے کہ گڈّی پڑھنا چاہتی ہے، لیکن اس بیچاری کے گلے میں ابھی سے گھنٹی باندھنے کی تیاری چل رہی ہے اور انتظام بھی کیا اچھا سوچا ہے کہ ایک بیٹے کی شادی میں جہیز لو اوراپنی لڑکی کی شادی میں وہی جہیز دے کر دوسرے کا گھر بھر دو۔ مجھے کچھ نہیں سوجھ رہا کہ چیزیں کیا موڑ لیں گی اور کیا بنے گا اس گھرکا۔

میں یہی سوچتا اندرباہر ٹہل رہا ہوں کہ دارجی ٹوک دیتے ہیں، ’’کیا بات ہے برخوردار، بہت پریشان نظر آ رہے ہو؟ معاملہ کیا ہے؟‘‘

’’معاملہ تو آپ ہی کا بگاڑابنایا ہوا ہے دارجی۔ کم سے کم مجھ سے پوچھ تو لیا ہوتا کہ میں کیا چاہتا ہوں۔ مجھے ابھی آئے چار دن بھی نہیں ہوئے اور۔۔۔۔‘‘ میری ناراضگی آخر ہولے ہولے باہر آ ہی گئی ہے۔

’’دیکھ بھئی دیپییا، ہم جو کچھ بھی کر رہے ہیں، تیرے اور اس گھر کے بھلے کیلئے ہی کر رہے ہیں۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ تیرا گھر بار بس جائے تو ہم باقی بچوں کی بھی فکر کریں۔ اب اتنا اچھا رشتہ۔!‘‘

’’دارجی، یہ رشتہ تو نہ ہوا۔ یہ تو سودے بازی ہوئی۔‘‘ میں کسی طرح ہمت جمع کر کے کہتا ہوں۔

’’کیسی سودے بازی اوئے؟‘‘

’’کیا آپ اس رشتے میں نقد رقم نہیں لے رہے؟‘‘

’’تو کیا ہوا۔‘‘ دارجی نے گرم ہونا شروع کر دیا ہے۔

’’تجھے پتہ نہیں ہے، آج کل پڑھا لکھا آدمی کسی کو یوں ہی نہیں مل جاتا، سمجھے۔۔ اور تیرے جیسا آدمی تو انہیں دس لاکھ میں بھی نہ ملتا۔ ہم تو شرافت سے اتنا ہی لے رہے ہیں، جتنا وہ خوشی سے اپنی لڑکی کو دے رہے ہیں۔ ہم نے کوئی ڈیمانڈ تو نہیں رکھی ہے۔‘‘

’’یہ میری سودے بازی نہیں ہے تو کیا ہے دارجی۔۔۔؟‘‘

’’اوئے چپ کر بڑا آیا سودے بازی والا۔۔۔‘‘ دارجی اب اپنے پرانے روپ میں نظر آنے لگے ہیں اور میرے سر پر آ کھڑے ہوئے ہیں، ’’تُو ایک بات بتا۔ کل کو گڈّی کے بھی ہاتھ پیلے کرنے ہیں کہ نہیں۔ تب کون سے دھرم کھاتے سے پیسے نکال کر لڑکے والوں کے منہ پر ماروں۔ بتا ذرا۔۔۔؟‘‘

’’گڈّی کی ذمہ داری میری۔ ابھی وہ پڑھنا چاہتی ہے۔‘‘

’’تو اس نے آتے ہی تیرے کان بھر دیئے ہیں۔ کوئی ضرورت نہیں ہے اسے آگے پڑھانے کی۔ ٹھیک ہے سنبھال اس کی ذمہ داری۔ آخر تیری چھوٹی بہن ہے۔ تیرا فرض بنتا ہے۔ باقی یہاں تو ہم قول دے چکے ہیں۔ شادی بیشک سال دو سال بعد کریں۔ مجھے تو سب کا دیکھنا ہے۔ ادھر گولو، بلّو بالکل تیار بیٹھے ہیں اور انہوں نے اپنی طرف سے پہلے ہی الٹی میٹم دے دیا ہے۔‘‘

انہوں نے اپنا آخری فیصلہ سنا دیا ہے، ’’تُو شام کو گھر پر ہی رہنا۔ اِدھر اُدھر مت ہو جانا۔ ساری رشتے داری آ رہی ہے۔ چاہے تو نندو کو ساتھ لے لینا۔‘‘

اس کا مطلب یہ لوگ اپنی طرف سے میرے اور کسی حد تک گڈّی کی قسمت کا فیصلہ کر ہی چکے ہیں۔ میں بھی دیکھتا ہوں، کیسے سگائی کرتے ہیں سنتوش کور سے میری۔۔۔

انہیں نہیں معلوم کہ جو بچہ ایک بار گھر چھوڑ کر جا سکتا ہے، دوبارہ بھی جا سکتا ہے۔ میں اپنے ساتھ دو چار جوڑے کپڑے ہی لے کر آیا تھا۔ یہاں چھوٹ بھی جائیں تو بھی کوئی بات نہیں۔ گولو، بلّو پہن لیں گے۔ بیگ بھی ان کے کام آ جائے گا۔ راستے میں ریڈی میڈ کپڑے اور دوسرا سامان خرید لوں گا۔

پہلی بار خالی پیٹ گھر چھوٹا تھا، اب بی بے سے کہتا ہوں، ’’بی بے، ذرا چھیتی نال دو پھلکے تاں سینک دے۔ بازار جا کے اک ادھ نواں جوڑا تاں لے آواں۔‘‘ بی بے کو تسلی ہوئی ہے کہ شاید معاملہ نمٹ گیا ہے۔ میں بی بے کے پاس رسوئی میں ہی بیٹھ کر روٹی کھاتا ہوں۔ بھوک نہ ہونے پر بھی ایک دو روٹی زیادہ ہی کھا لیتا ہوں۔ پتہ نہیں پھر کب بی بے کے ہاتھ کی روٹی نصیب ہو۔ اٹھتے وقت بی بے کے گھٹنے کو چھوتا ہوں۔ پتہ نہیں، پھر کب بی بے کا آشیرواد ملے۔ پورے گھر کا ایک چکر لگاتا ہوں۔ رنگین ٹی وی تو رہ ہی گیا۔ نندو کے گھر کی پارٹی بھی رہ گئی۔ اگرچہ اس دوران بہت سے یار دوست آ کر ملاقات کر گئے ہیں، لیکن اگر سب کا ایک ساتھ ملنا ہو جاتا تو۔۔۔

گھر سے باہر نکلتے وقت میں ایک بار پھر بی بے کو دیکھتا ہوں۔ وہ اب دارجی کیلئے پھلکے سینک رہی ہے۔ دارجی اپنی کھٹ پٹ میں لگے ہیں۔ دونوں کو دل ہی دل میں پرنام کرتا ہوں، ’’معاف کر دینا مجھے بی بے اور دارجی، میں آپ کی شرطوں پر اپنی زندگی کا یہ سودا نہیں کر سکتا۔ اپنے لئے بیشک کر بھی لیتا، لیکن آپ نے اس کے ساتھ گڈّی کی قسمت کو بھی نتھی کر دیا ہے۔ میں اس دوہرے گناہ کا بھاگی نہیں بن سکتا میری بی بے۔ میں ایک بار پھر سے بغیر بتائے گھر چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ آگے میری قسمت۔‘‘

اور میں ایک بار پھر خالی ہاتھ گھر چھوڑ کر چل دیا ہوں۔ اس بار میری آنکھوں میں آنسو ہیں تو صرف گڈّی کے لئے۔۔۔ وہ اپنی لڑائی نہیں لڑ پائے گی۔ میں بھی تو اپنی جنگ کا میدان چھوڑ کر بغیر لڑے ہی ہار مان کر جا رہا ہوں۔ ایک ہی میدان سے دوسری بار پیٹھ دکھا کر بھاگ رہا ہوں۔

***

 

 

 

 

باب دوم

 

 

تو۔۔۔ اب۔۔۔ ہو گیا گھر بھی۔۔۔ جتنا لیتا گیا تھا، اس سے کہیں زیادہ خالی پن لیے لوٹا ہوں۔ توبہ کرتا ہوں ایسے رشتوں پر۔ کتنا اچھا ہوا، ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی گھر سے بے گھر ہو گیا تھا۔ اگر تب گھر نہ چھوٹا ہوتا تو شاید کبھی نہ چھوٹتا۔۔ عمر کے اس دور میں آ کر تو کبھی بھی نہیں۔ بس، یہی تسلی ہے کہ سب سے مل لیا، بچپن کی کھٹی میٹھی یادیں تازہ کر لیں اور گھر کے موہ سے آزاد بھی ہو گیا۔ جس کیلئے جتنا بن پڑا، تھوڑا بہت کر بھی لیا۔ بی بے اور گڈّی کیلئے ضرور افسوس ہو رہا ہے کہ انہیں ان تکلیفوں سے نکالنے کا میرے پاس کوئی طریقہ نہیں ہے۔

گڈّی بیچاری پڑھنا چاہتی ہے لیکن لگتا نہیں، اسے دارجی پڑھنے دیں گے۔ چاہے ایم بی اے کرے یا کوئی اورکورس، اسے دہرادون تو چھوڑنا ہی پڑے گا۔ اس کیلئے دارجی اجازت دینے سے رہے۔ بس، کسی طرح وہ بی اے مکمل کر لے تو اس کیلئے یہیں کچھ کرنے کا سوچوں گا۔ ایک بار میرے پاس آ جائے تو باقی سب کچھ سنبھالا جا سکتا ہے۔ فی الحال تو سب سے بڑا کام یہی ہو گا کہ اسے دارجی کسی طرح بی اے کرنے تک ڈسٹرب نہ کریں اور وہ ٹھیک ٹھاک نمبر لا سکے۔

آتے ہی دوبارہ اُنہی چکروں میں خود کو الجھا لیا ہے۔ پتہ نہیں اب کب تک اسی طرح کی زندگی کو دھکیلتے جانا ہو گا۔ بغیر کسی خاص مقصد کے۔

آج گڈّی کا پارسل ملا ہے۔ اس نے بہت خوبصورت سویٹر بُن کر کے بھیجا ہے۔ سفید رنگ کا۔ ایکدم ننھے سے خرگوش کی طرح نرم۔ اس میں گڈّی کی محنت اور پیار کی عظیم گرماہٹ، پھندے پھندے میں بُنی ہوئی ہے۔ ساتھ میں اس کا لمبا سا خط ہے۔ لکھا ہے اس نے۔

ویر جی، ست سری اکال

اس دن آپ کے اچانک چلے جانے کے بعد گھر میں بہت ہنگامہ مچا۔ ویسے میں جانتی تھی کہ میرے واپس آنے تک آپ  جا چکے ہوں گے۔ اور کچھ ہو بھی نہیں سکتا تھا۔ آپ بازار سے شام تک بھی واپس نہیں آئے تو چاروں طرف آپ کی کھوج بین شروع ہو گئی۔ وہاں جانے والے تمام لوگ آ چکے تھے۔ لے جانے کیلئے مٹھائی وغیرہ خریدی  جا چکی تھی۔ لیکن آپ جب کہیں نظر نہیں آئے تو بی بے کو لگا کہ ایک بار پھر وہی تاریخ دوبارہ دہرائی  جا چکی ہے۔ میں چار بجے کالج سے آ گئی تھی، اس وقت تک دارجی کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ چکا تھا۔ انہیں مجھ پر شک ہوا کہ ضرور مجھے تو پتہ ہی ہو گا کہ ویر جی بغیر بتائے کہاں چلے گئے ہیں۔ تب غصے میں آ کر دارجی نے مجھے بالوں سے پکڑ کر کھینچا اور گالیاں دیں۔ میں جانتی تھی، ایسا ہی ہو گا۔ سب کی نگاہوں میں، میں ہی آپ کی سب سے سگی بنی پھر رہی تھی۔ لیکن مار کھا کر بھی میں یہی کہتی رہی کہ مجھے نہیں معلوم۔ بی بے نے بھی بہت ہائے توبہ مچائی اور بلّو اور گولو نے بھی۔ آخر پریشان ہو کر وہاں جھوٹا سندیسہ بھجوا دیا گیا کہ اچانک آفس سے آپ کا فوری طور پر بمبئی پہنچنے کا بلاوا آ گیا تھا، اس لئے ہم لوگ نہیں آ رہے ہیں۔ بعد کی کوئی تاریخ دیکھ کر پھر بتائیں گے۔

بعد میں دارجی تو کئی دنوں تک بپھرے شیر کی طرح آنگن میں ٹہلتے رہے اور بات بے بات آپ کو گالیاں بکتے رہے۔

کرتار سنگھ والا معاملہ فی الحال ٹھپ پڑ گیا ہے، لیکن جس کو بھی پتہ چلتا ہے کہ اس بار بھی آپ دارجی کی ضد کی وجہ سے گھر چھوڑ کر گئے ہیں، وہی دارجی کو لعنتیں بھیج رہا ہے کہ اپنی لالچ کی وجہ سے تُو نے ہیرے جیسا بیٹا دوسری بار گنوا دیا ہے۔

باقی آپ مجھ میں خود اعتمادی کا جو بیج بو گئے ہیں، اس سے میں، جہاں تک ہو سکا، اپنی لڑائی اپنے اکیلے کے بل بوتے پر لڑتی رہوں گی۔ آپ ہی میرا آدرش ہیں۔ کاش، میں بھی آپ کی طرح اپنے فیصلے خود لے سکتی۔ اپنی خاص سہیلی نشا کا پتہ دے رہی ہوں۔ خط اسی کے ایڈریس پر بھیجیں۔ میری ذرا بھی فکر نہ کریں اور اپنا خیال رکھیں۔

مخلص،

آپ کی بہن،

گڈّی۔

پگلی ہے گڈّی بھی!! ایسے کمزور بھائی کو اپنا آدرش بنایا، جو کسی بھی مشکل صورت حال کا سامنا نہیں کر سکتا اور دو بار فرار ہو کر گھر سے بھاگ چکا ہے۔

اسے مفصل خط لکھتا ہوں۔

گڈّی،

پیار،

تیرا خط ملا۔ خبریں بھی۔ اب تُو بھی مانے گی کہ اس طرح سے چلے آنے کا میرا فیصلہ غلط نہیں رہا۔ سچ بتاؤں گڈّی، مجھے بھی دوبارہ چوروں کی طرح گھر سے بھاگتے وقت بہت برا لگ رہا تھا، لیکن میں کیا کرتا۔ جب میں نے پہلی بار گھر چھوڑا تھا تو چودہ سال کا تھا۔ سمجھ بھی نہیں تھی کہ کیوں بھاگ رہا ہوں اور بھاگ کر کہاں جاؤں گا، لیکن جب دارجی نے گھر سے دھکے دے کر باہر کر ہی دیا تو میرے سامنے کوئی اور راستہ نہیں تھا۔ اگر دارجی یا بی بے نے اس وقت میرے کان پکڑ کر گھر کے اندر واپس بلا لیا ہوتا، زبردستی ایک آدھ روٹی کھلا دی ہوتی تو شاید میں بھاگا ہی نہ ہوتا، بلکہ وہیں رہتا، بیشک میری زندگی نے جو بھی رخ اختیار کیا ہوتا، بلکہ اس بار بھی انہوں نے مجھ سے کہا ہوتا کہ دیکھ دیپے، ہم ہو گئے ہیں اب بڈھے اور ہمیں چاہیے گھر کے لئے ایک دیکھی بھالی شریف بہو، تو سچ مان گڈّی، میں وہیں کھڑے کھڑے ان کی پسند کی لڑکی سے شادی بھی کر لیتا اور اپنی بیوی کو ان کی خدمت کیلئے بھی چھوڑ آتا، لیکن دونوں بار ساری چیزیں شروع سے میرے خلاف کر دی گئی تھیں۔ اس بار بھی مجھے بالکل سوچنے کا موقع ہی نہیں ملا اور ایک بار پھر میں گھر کے باہر تھا۔ ایک طرح سے پہلی بار کا بھاگنا بھی میرے لئے اچھا ہی رہا کہ دوسری بار بھی میں ان کے ظلم کو ماننے کے بجائے خاموشی سے چلا آیا۔ تم اسے میرا فرار بھی کہہ سکتی ہو، لیکن تم ہی بتاؤ، اگر میں نہ بھاگتا تو کیا کرتا۔ وہاں تو مجھے اور میرے ساتھ تمہیں بھی پھندے میں کسنے کی پوری تیاری ہو چکی تھی۔ میرے بھاگ آنے سے کم از کم تمہارے سر پر سے تو فی الحال مصیبت ٹل ہی گئی ہے۔ اب باقی لڑائی تمہیں اکیلے ہی لڑنا ہو گا۔ لڑائی لڑسکو گی کیا؟

یہاں آنے کے بعد ایک بار پھر وہی زندگی ہے میرے سامنے۔ بس ایک ہی فرق ہے کہ یہاں سے جس بوریت سے بھاگ کر گیا تھا، گھر کے جس موہ سے بندھا بھاگا تھا، اس سے مکمل طور پر آزاد ہو گیا ہوں۔ بیشک میری بوریت مزید بڑھ گئی ہے۔ پہلے تو گھر کو لے کر صرف الجھے ہوئے خیال تھے، شکوک تھے اور رشتوں کو لے کر بھی کوئی مکمل تصویر نہیں بنتی تھی، لیکن گھر سے آنے کے بعد گھر کے بارے میں میرا سارا تصور بری طرح سے تہس نہس ہو گیا ہے۔ بار بار افسوس ہو رہا ہے کہ میں وہاں گیا ہی کیوں تھا۔ نہ گیا ہوتا تو بہتر تھا، لیکن پھر خیال آتا ہے کہ اس پورے سفر کی واحد کامیابی یہی ہے کہ سب سے مل لیا، تجھے دیکھ لیا اور تجھے ایک سمت دے سکا، تیرے لئے کچھ کر پایا اور گھر کے موہ سے ہمیشہ کے لئے آزاد ہو گیا۔ اب کم از کم روز روز گھر کیلئے تڑپا نہیں کروں گا۔ بیشک تیری اور بی بے کی فکر لگی ہی رہے گی۔

یہاں آنے کے بعد معمولات میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا ہے۔ صرف یہی ہوا ہے کہ اندھیری میں جس گیسٹ ہاؤس میں رہ رہا تھا، وہ چھوڑ دیا ہے اور اس بار باندرہ ویسٹ میں ایک پے انگ گیسٹ بن گیا ہوں۔ پتہ دے رہا ہوں۔ آفس سے آتے وقت کوشش یہی رہتی ہے کہ کھانا کھا کر ایک ہی بار کمرے میں آؤں۔ تجھے حیرانی ہو گی جان کر کہ بمبئی میں پے انگ گیسٹ کو صبح صرف ایک کپ چائے ہی دی جاتی ہے۔ باقی انتظام باہر ہی کرنا پڑتا ہے۔ ویسے کئی جگہ طعام کے ساتھ بھی رہائش کی جگہ مل جاتی ہے۔

اگر تعطیل کا دن ہو یا کمرے میں ہی ہوں تو میں صرف کھانا کھانے ہی باہر نکلتا ہوں۔ اپنے کمرے میں بند پڑا رہتا ہوں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میں کبھی بور نہیں ہوتا۔

کل ایک اچھی بات ہوئی کہ سامنے والے گھر میں رہنے والے مسٹر اور مسز بھسین سے ہیلو ہائے ہوئی۔ سیڑھیوں چڑھتے وقت وہ میرے ساتھ ساتھ آ رہے تھے۔ انہوں نے ہی پہلے ہیلو کیا اور پوچھا کہ کیا نیا آیا ہوں سامنے والے گھر میں۔ انہوں نے میرا نام وغیرہ پوچھا اور کبھی بھی گھر آنے کی دعوت دی۔

کبھی جاؤں گا۔ عام طور پر میں کسی کے گھر میں بھی جانے میں بہت ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہوں۔

دارجی، بی بے اور گولو، بلّو ٹھیک ہوں گے۔ تیری سہیلی نشا ٹھیک ہو گی اور تیرے ساتھ خوب گول گپے اڑا رہی ہو گی۔ دوبارہ جا نہیں پائے تیرے کیلاش گول گپے میں۔ تیرے لئے ہزار روپے کا ڈرافٹ بھیج رہا ہوں۔ خوب شاپنگ کرنا۔

جواب دینا۔

تیرا ہی

ویر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج دیوالی کا تہوار ہے۔ چاروں طرف تہوار کی گہما گہمی ہے۔ لیکن میرے پارسی مالک مکان اس ہنگامے سے مکمل طور پر باہر ہیں۔ ہر چھٹی کے دن کی طرح سارا دن کمرے میں ہی رہا۔ دوپہر کو کھانا کھا کر کمرے میں واپس آ رہا تھا کہ نیچے ہی مسٹر اور مسز بھسین مل گئے ہیں۔ دیوالی کی شبھ کامناؤں کا تبادلہ ہوا تو وہ پوچھنے لگے، ’’کیا بات ہے گھر نہیں گئے؟ کیا چھٹی نہیں ملی یا گھر بہت دور ہے؟‘‘

’’دونوں ہی باتیں نہیں ہیں، در اصل ایک پروجیکٹ میں مصروف ہوں، اس لیے جانا نہیں ہو پایا۔ ویسے ابھی حال ہی میں گھر سے ہو کر آیا تھا۔‘‘ میں کسی طرح بات سنبھالتا ہوں۔

یہ سنتے ہی کہنے لگے، ’’تو آپ شام ہمارے ساتھ ہی گذاریں۔ کھانا بھی آپ ہمارے ساتھ ہی کھائیں گے۔‘‘

میں نے ٹالنا چاہا تو وہ بہت ضد کرنے لگے۔ مسز بھسین بولنے میں اتنی اچھی ہیں کہ مجھ سے انکار ہی نہیں کیا جا سکا۔ انکار کرنے کی گنجائش ہی نہیں چھوڑی ہے انہوں نے۔

ہاں کر دی ہے کہ ’’آؤں گا۔‘‘

عام طور پر کسی کے گھر آتا جاتا نہیں، اس وجہ سے کوئی خاص زور دے کر بلاتا بھی نہیں ہے۔ لیکن دیوالی کے دن ویسے بھی اکیلے بیٹھے بور ہونے کے بجائے سوچا، چلو کسی بھرے پورے خاندان میں ہی بیٹھ لیا جائے۔

دروازہ مسز بھسین نے کھولا ہے۔ میں انہیں دیوالی کی مبارکباد دیتا ہوں، ’’ہیپی دیوالی مسز بھسین۔‘‘ میں بہت زیادہ ہچکچاہٹ محسوس کر رہا ہوں۔ ویسے بھی نوجوان خواتین کی موجودگی میں، میں جلد ہی بے آرام ہو جاتا ہوں۔

وہ ہنستے ہوئے جواب دیتی ہیں، ’’میرا نام الکا ہے اور مجھے جاننے والے مجھے اسی نام سے پکارتے ہیں۔‘‘

وہ مجھے اندر لے گئی ہیں اور بہت ہی احترام سے بٹھایا ہے۔

میں بہت ہچکچاہٹ کے ساتھ کہتا ہوں، ’’در اصل مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا کہ میں۔۔۔ دیوالی کے دن کسی کے گھر جانا۔۔۔۔۔‘‘

وہ میری ہمت بڑھاتی ہیں، ’’آپ بالکل بھی پریشانی محسوس نہ کریں اور بالکل پرسکون ہو کر اسے اپنا ہی گھر سمجھیں۔‘‘

یہ سن کر کسی حد تک میری ہچکچاہٹ دور ہوئی ہے۔

میں بولتا ہوں، ’’میں بھی آپ کے دروازے پر نیم پلیٹ دیکھتا تھا تو روز ہی سوچتا تھا، کبھی بات کروں گا۔ بھسین سر نیم تو پنجابیوں کا ہی ہوتا ہے۔ میں در اصل مونا سکھ ہوں۔ کئی بار اپنی زبان بولنے کے لئے بھی آدمی۔۔۔‘‘ میں جھینپی سی ہنسی ہنستا ہوں۔

بات الکا نے ہی آگے بڑھائی ہے۔

پوچھ رہی ہیں، ’’کہاں ہے آپ کا گھر بار اور کون کون ہے گھر میں آپ کے۔‘‘

اتنا سنتے ہی میں پھر سے ہچکچاہٹ میں پڑ گیا ہوں۔

ابھی میں اپنا تعارف دے ہی رہا تھا کہ مسٹر بھسین آ گئے ہیں۔ اٹھ کر انہیں نمسکار کرتا ہوں۔ وہ بہت پیار سے میرا ہاتھ دبا کر مجھے دیوالی کی شبھ کامنا دیتے ہیں۔

گھر سے آنے کے بعد اتنے دنوں میں یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ گھر کے ماحول میں بیٹھ کر باتیں کر رہا ہوں اور من پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔ بہت اچھا لگا ہے ان کے گھر پر بیٹھنا، ان سے بات کرنا۔

میں دیر تک ان کے گھر بیٹھا رہا اور ہم تینوں ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے۔ اس دوران میں کافی پرسکون ہو گیا ہوں اور ان سے کسی پرانے واقف کار کی طرح باتیں کرنے لگا ہوں۔

الکا نے مجھے کھانا کھانے کے لئے زبردستی روک لیا ہے۔ میں بھی ان کے ساتھ پوجا میں بیٹھا ہوں۔ پوری شام ان کے گھر گزار کر جب میں واپس لوٹنے لگا تو الکا اور مسٹر بھسین دونوں نے ایک ساتھ ہی زور دیا ہے کہ میں ان کے گھر کو اپنا گھر سمجھوں اور جب بھی مجھے گھر کی یاد آئے یا گھریلو ماحول میں کچھ وقت گزارنے کی خواہش، بغیر کسی ہچکچاہٹ کے چلا آیا کروں۔

میں اچانک اداس ہو گیا ہوں۔ بھرائی ہوئی آواز میں کہتا ہوں، ’’آپ لوگ بہت اچھے ہیں۔ مجھے پتہ نہیں تھا لوگ جاہل آدمی سے بھی اتنی اچھی طرح سے پیش آتے ہیں۔ میں پھر آؤں گا۔ تھینکس۔‘‘ یہ کہہ کر میں تیزی سے نکل کر چلا آیا ہوں۔

بعد میں بھائی دُوج والے دن الکا نے پھر بلا لیا تھا۔ تب میں ان کے گھر ڈھیر ساری مٹھائی وغیرہ لے آیا تھا۔ چائے پیتے وقت الکا نے بہت ہچکچاہٹ کے ساتھ مجھ سے کہا، ’’میرا کوئی بھائی نہیں ہے، کیا تمہیں میں بھیا کہہ کر بلا سکتی ہوں۔‘‘

یہ کہتے وقت الکا کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے اور وہ رونے کے قریب تھی۔

اس کا موڈ ہلکا کرنے کے لئے میں ہنسا تھا، ’’میری بھی کوئی بڑی بہن نہیں ہے۔ کیا میں آپ کو دیدی کہہ کر پکار سکتا ہوں۔‘‘ تب ہم تینوں خوب ہنسے تھے۔ الکا نے نہ صرف مجھے بھائی بنا لیا ہے بلکہ بھائی دوج کا ٹیکہ بھی کیا۔ اور اس طرح میں ان کے بھی خاندان کا ایک رکن بن گیا ہوں۔ میں اب کبھی بھی ان کے گھر چلا جاتا ہوں اور کافی دیر تک بیٹھا رہتا ہوں۔

اگرچہ ان کے گھر آتے جاتے مجھے ایک ڈیڑھ مہینہ ہو گیا ہے اور میں الکا اور دیویدر بھسین کے بہت قریب آ گیا ہوں اور ان سے میرے بہت بے تکلفانہ تعلقات ہو گئے ہیں، لیکن پھر بھی انہوں نے مجھ سے کوئی ذاتی سوال نہیں پوچھے ہیں۔

آج اتوار ہے۔ دوپہر میں قیلولہ لے کر اٹھا ہی ہوں کہ دیویدر جی کا بلاوا آیا ہے۔ الکا میکے گئی ہوئی ہے۔ طے ہے، وہ کھانا یا تو خود بنائیں گے یا ہوٹل سے منگوائیں گے تو میں ہی تجویز رکھتا ہوں، ’’آج کا ڈنر میری طرف سے۔‘‘ شام کی چائے پی کر ہم دونوں ٹہلتے ہوئے لنکنگ روڈ کی طرف نکل گئے ہیں۔

کھانا کھانے کہ لئے ہم مرچ مسالا ہوٹل میں گئے ہیں۔ ویٹر پہلے مشروبات کے مینو رکھ گیا ہے۔ مینو دیکھتے ہی دیویدر ہنسے ہیں، ’’کیوں بھئی، پیتے ویتے ہو یا صوفی فرقے سے تعلق رکھتے ہو۔ دیکھو اگر جو پیتے ہو تو ہم اتنی بری کمپنی نہیں ہیں اور اگر ابھی تک پینی شروع نہیں کی ہے تو اس سے اچھی کوئی بات ہی نہیں ہے۔‘‘

’’آپ کو کیا لگتا ہے؟‘‘

’’کہنا مشکل ہے۔ ویسے تو تم تین سال امریکہ گزار کر آئے ہو اور یہاں بھی عرصے سے اکیلے ہی رہ رہے ہو، لہٰذا کہنا مشکل ہے کہ تمہارے ہاتھوں اب تک کتنی اور کتنی طرح کی بوتلوں کی سیل ٹوٹ چکی ہو گی۔‘‘ وہ ہنستے ہیں۔

’’آپ کو جان کر حیرانی ہو گی کہ میں نے ابھی تک کبھی بیئر بھی نہیں پی ہے۔ کبھی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔ وہاں امریکہ کے سرد موسم میں بھی، جہاں کھانے کا ایک ایک نوالہ نیچے اتارنے کیلئے لوگ گلاس پر گلاس خالی کرتے ہیں، میں وہاں بھی اس سے دور ہی رہا۔ ویسے نہ پینے کے کئی وجوہات رہیں۔ اقتصادی بھی رہیں۔ پھر اس قسم کی کمپنی بھی نہیں رہی۔ یہ بھی رہا کہ کبھی ان چیزوں کے لئے مجھے فرصت ہی نہیں ملی۔ اب جب فرصت ہے، پیسے بھی ہیں اور تنہائی بھی ہے تو اب طلب ہی نہیں محسوس ہوتی۔ ویسے آپ تو پیتے ہی ہوں گے، آپ ضرور منگوائیں۔ میں تو آپ سے بہت چھوٹا ہوں، پتہ نہیں میری کمپنی میں آپ کو پینا اچھا لگے یا نہیں۔ ویسے مجھے اچھا لگے گا۔ میں کولڈ ڈرنک لے لوں گا۔‘‘

وہ مجھے تسلی دیتے ہیں، ’’یہ بہت اچھی بات ہے کہ تم اب تک ان خرابیوں سے بچے ہوئے ہو۔ میں بھی کوئی ریگولر ڈرنکر نہیں ہوں۔ بس، کبھی کبھار والا ہی معاملہ ہے۔‘‘

’’آپ اگر میری صوفی کمپنی کا برا نہ مانیں تو آپ کے لئے کچھ منگوایا جائے۔ بیچارہ ویٹر کب سے ہمارے آرڈر کا انتظار کر رہا ہے۔‘‘ میں کہتا ہوں۔

’’تمہاری کمپنی کا مان رکھنے کے لئے میں آج بیئر ہی لوں گا۔‘‘

میں نے ان کے لئے بیئر کا ہی آرڈر دیا ہے۔

ہم نے پوری شام کئی گھنٹے ایک ساتھ گزارے ہیں اور ڈھیر ساری باتیں کی ہیں۔ بات چیت کے دوران جب میں نے انہیں ویر جی کہہ کر بلانا چاہا تو انہوں نے ٹوکا ہے، ’’تم کس تکلف میں پڑے ہو، چاہو تو مجھے نام سے بھی بلا سکتے ہو۔‘‘

’’بے شک میں کبھی خاندان میں نہیں رہا ہوں۔ رشتے ناطے کیسے نبھائے جاتے ہیں، نہیں جانتا۔ تیرہ چودہ سال کی عمر تھی، جب گھر چھوٹ گیا۔ اس کے بعد سے ایک شہر سے دوسرے شہر گھوم رہا ہوں۔‘‘

’’کیا مطلب؟ گھر چھوٹ گیا تھا کا کیا مطلب؟ تو یہ سب پڑھائی اور ایم ٹیک اور پی ایچ ڈی تک کی ڈگری؟‘‘

’’در اصل ایک لمبی کہانی ہے۔ میں نے آج تک کبھی بھی، کسی کے بھی سامنے اپنے بارے میں باتیں نہیں کی ہیں۔ آپ کو ایک راز کی بات یہ بتاؤں کہ دنیا میں میرے جاننے والوں میں کوئی بھی میرے بارے میں پورا سچ نہیں جانتا۔ یہاں تک کہ، میرے ماں باپ بھی میرے بارے میں کچھ خاص نہیں جانتے۔ میں نے کبھی کسی کو راز دار بنایا ہی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ میں ابھی چودہ سال کے بعد گھر میں تھا تو وہاں بھی کسی کو اپنے سچ کا ایک حصہ دکھایا تو کسی کو دوسرا۔ اپنی چھوٹی بہن جس سے مل کر میں بہت شاداں ہوا ہوں، اسے بھی میں نے اپنی ساری تکلیفوں کا راز دار نہیں بنایا ہے۔ اسے بھی میں نے سارے سچ نہیں بتائے کیونکہ میں نے کبھی نہیں چاہا کہ کوئی مجھ پر ترس کھائے۔ میرے لئے افسوس کرے۔ مجھے اگر کسی لفظ سے چڑ ہے تو وہ ہے بے چارہ۔‘‘

’’یہ تو بہت ہی اچھی بات ہے کہ ہم کیوں کسی کے سامنے اپنے زخم دکھاتے پھریں۔ میں تمہیں بالکل بھی مجبور نہیں کروں گا کہ اپنے من پر بوجھ ڈالتے ہوئے کوئی بھی کام کرو۔ میں تمہارے جذبات کو سمجھ سکتا ہوں۔ سیلف میڈ آدمی کی یہی خاصیت ہوتی ہے کہ وہ اپنے ہی بارے میں بات کرنے سے بچنا چاہتا ہے۔‘‘

’’نہیں، وہ بات نہیں ہے۔ در اصل میرے پاس بتانے کے لئے ایسا کچھ بھی نہیں ہے جسے شیئر کرنے میں میں فخر محسوس کروں۔ اپنی تکلیفوں کی بات کر کے میں آپ کی شام خراب نہیں کرنا چاہتا۔‘‘

’’جیسی تمہاری مرضی۔ ویسے یقین رکھو، میں تم سے کبھی بھی کوئی بھی پرسنل سوال نہیں پوچھوں گا۔ اس کیلئے تمہیں کبھی مجبور نہیں کروں گا۔‘‘

پہلے گھر چھوڑنے سے لے کر دوبارہ گھر چھوڑنے تک کے اپنے تھوڑے بہت حقائق بیان کر دیئے ہیں ان کی موٹی موٹی معلومات کیلئے۔

میں ان کو بتاتا ہوں، ’’اب گزشتہ تین چار سال سے یہاں جاب کر رہا ہوں تو آس پاس کی دنیا کو دیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ میں کئی بار یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہوں کہ میں کتنے برسوں سے بغیر کھڑکیوں والے کسی کمرے میں بند تھا اور دنیا کہاں کی کہاں پہنچ گئی ہے۔ جیسے میں کہیں ٹھہرا ہوا تھا یا کسی اور ہی رفتار سے چل رہا تھا۔ خیر پتہ نہیں آج اچانک آپ کے سامنے میں اتنی ساری باتیں کیسے کر گیا ہوں۔‘‘

’’سچ مانو، میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تم، جو ہمیشہ اتنے پرسکون اور خاموش بنے رہتے ہو، کبھی بات کرتے ہو اور کبھی بند کتاب کی طرح ہو جاتے ہو، اپنی اس چھوٹی سی زندگی میں کتنے کتنے طوفان جھیل چکے ہو۔‘‘

کھانا کھا کر لوٹتے ہوئے بارہ بج گئے ہیں۔ مجھے لگ رہا ہے کہ میں ایک واقف کار کے ساتھ رات کے کھانے پر گیا تھا اور بڑے بھائی کے ساتھ واپس لوٹ رہا ہوں۔

دیویدر جی کے ساتھ اس شام کی گفتگو کے کچھ دن بعد ہی الکا دیدی نے گھیر لیا ہے۔ ان کے ساتھ بیٹھا چائے پی رہا ہوں تو انہوں پوچھا ہے، ’’آفس سے آتے ہی اپنے کمرے میں بند ہو جاتے ہو۔ برا نہیں لگتا؟‘‘

’’لگتا تو ہے، لیکن عادت پڑ گئی ہے۔‘‘

’’کوئی دوست نہیں ہے کیا؟‘‘

’’نہیں۔ کبھی میرے دوست رہے ہی نہیں۔ آپ لوگ اگر مجھ سے بات کرنے کا آغاز نہ کرتے تو میں اپنی طرف سے کبھی بات ہی نہ کر پاتا۔‘‘

’’کوئی گرل فرینڈ نہیں ہے کیا؟‘‘ الکا نے چھیڑا ہے، ’’تیرے جیسے اسمارٹ لڑکے کو لڑکیوں کی کیا کمی!‘‘

کیا جواب دوں۔ میں خاموش ہو گیا ہوں لیکن الکا نے میری اداسی تاڑ لی ہے۔ میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھتی ہے، ’’ایسی بھی کیا بے رخی زندگی سے کہ نہ کوئی مرد دوست ہو اور نہ ہی کوئی لڑکی دوست ہی۔ سچ بتاؤ کیا بات ہے۔‘‘ وہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھتی ہے۔

’’سچ مانو دیدی، کوئی خاص بات نہیں ہے۔ کبھی دوستی ہوئی ہی نہیں کسی سے، ویسے بھی مجھے لڑکیوں سے بات کرنی ہی نہیں آتی۔‘‘

’’کیوں، کیا وہاں آئی آئی ٹی میں یا امریکہ میں لڑکیاں نہیں تھیں؟‘‘

’’ہوں گی، ان کے بارے میں مجھے زیادہ نہیں معلوم، کیونکہ تب میں نے ان کی طرف دیکھتا ہی نہیں تھا کہ کہیں میری تپسیا نہ بھنگ ہو جائے۔ جس وقت سارے لڑکے ہاسٹل کے ارد گرد، رات گئے تک ہا ہا ہو ہو کرتے رہتے تھے، میں کتابوں میں سر کھپاتا رہتا تھا۔ آپ ہی بتائیں دیدی، پیار ویار کیلئے وقت ہی کہاں تھا میرے پاس؟‘‘

’’تو اب تو ہے وقت اور جاب بھی ہے اور پیسے بھی ہیں۔ ویسے تو اس وقت بھی ایک آدھ لڑکی تو تمہاری نگاہ میں رہی ہی ہو گی۔‘‘

’’ویسے تو تھی ایک۔‘‘

’’لڑکی کا نام کیا تھا؟‘‘

’’لڑکی جتنی خوبصورت تھی، اس کا نام بھی اتنا ہی خوبصورت تھا ’’رُتپرنا‘‘ ، گھر کا اس کا نام نکی تھا۔‘‘

’’اس تک اپنی بات نہیں پہنچائی تھی؟ اس کے نام کی ہی تعریف کر دیتے، بات بن جاتی۔‘‘

’’کہنے کی ہمت ہی کہاں تھی۔ آج بھی نہیں ہے۔‘‘

’’کسی اور سے کہلوا دیا ہوتا۔‘‘

’’کہلوایا تھا۔‘‘

’’تو کیا جواب ملا تھا؟‘‘

’’لیکن زندگی کے اسی امتحان میں میں فیل ہو گیا تھا۔‘‘

’’کیا بات ہو گئی تھی؟‘‘

’’وہ اس وقت ایم بی بی ایس کر رہی تھی۔ ہمارے ہی ایک پروفیسر کی چھوٹی بہن تھی۔ کیمپس میں ہی رہتے تھے وہ لوگ۔ کبھی ان کے گھر جاتا تو تھوڑی بہت بات ہو پاتی تھی۔ ایک آدھ بار لائبریری وغیرہ میں بھی بات ہوئی تھی۔ ویسے وہ بہت کم باتیں کرتی تھی لیکن اپنے تئیں اس کے جذبات کو میں اس کے بغیر بولے بھی سمجھ سکتا تھا۔ میں تو خیر، اپنی بات کہنے کی ہمت ہی نہیں جٹا سکتا تھا۔ میرا فائنل ایئر تھا۔ جو کچھ کہنا کرنا تھا، اس کا آخری موقع تھا۔ میں نہ لڑکی سے کہہ پا رہا تھا اور اس کے بھائی کے پاس جانے کی ہمت ہی کہاں تھی۔ انہی دنوں ہمارے سینئر بیچ کی ایک لڑکی ہمارے ڈپارٹمنٹ میں لیکچرار بن کر آئی تھی۔ اسی کو اعتماد میں لیا تھا اور اس کے ذریعہ لڑکی کے بھائی سے کہلوایا تھا۔‘‘

’’کیا جواب ملا تھا؟‘‘

’’لڑکی تک تو بات ہی نہیں پہنچی تھی، اس کے بھائی نے ہی ٹکا سا جواب دے دیا تھا کہ ہم خاندانی لوگ ہیں۔ کسی خاندان میں ہی رشتہ کریں گے۔ میں ٹھہرا محنت مزدوری کر کے پڑھنے والا۔ ان کی نگاہ میں کیسے ٹھہرتا۔‘‘

’’بہت بدتمیز تھا وہ پروفیسر، سیلف میڈ آدمی کا بھی بھلا کوئی متبادل ہے۔ ہم تمہاری تکلیف سمجھ سکتے ہیں۔ اکیلا پن آدمی کو کتنا توڑ دیتا ہے۔ دیویدر بتا رہے تھے کہ تم نے تو اپنی طرف سے گھر والوں سے پیچ اپ کرنے کی بھی کوشش کی، لیکن اتنا پیسہ خرچ کرنے کے بعد بھی تمہیں خالی ہاتھ لوٹنا پڑا ہے۔‘‘

’’چھوڑو دیدی، میرے ہاتھ میں گھر کی لکیریں ہی نہیں ہیں۔ لیکن مجھے بھی اچھا لگتا اگر میرا گھر ہوتا، آپ دونوں کے گھر کی طرح۔‘‘

’’کیوں، کیا خاص بات ہے ہمارے گھر میں؟‘‘ دیویدر جی نے آتے آتے آدھی بات سنی ہے۔

’’جب بھی آپ دونوں کو اتنے پیار سے رہتے دیکھتا ہوں تو مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ کاش، میں بھی ایسا ہی گھر بسا پاتا۔‘‘

’’اچھا ایک بات بتاؤ۔‘‘ الکا دیدی نے چھیڑا ہے، ’’گھر کیسا ہونا چاہیے؟‘‘

’’کیسا، صاف ستھرے، قرینے سے سجے گھر ہی تو سب کو اچھے لگتے ہیں۔ ویسے میں کہیں آتا جاتا نہیں لیکن اس طرح کے گھروں میں جانا مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔‘‘

’’لیکن اپنے گھر کو لے کر تمہارے من میں کیا امیج ہے؟‘‘

میں بوکھلا گیا ہوں۔ سوجھا ہی نہیں کہ کیا جواب دوں۔ بہت ادھیڑ بن کے بعد کہا ہے، ’’میرے من میں بچپن کے اپنے گھر اور بعد میں بابا جی کے گھر کو لے کر جو دہشت بیٹھی ہوئی ہے، اس سے میں آج تک آزاد نہیں ہو پایا ہوں۔ میں اپنے بچپن میں یا تو پٹتے ہوئے بڑا ہوا یا پھر مسلسل سر درد کی وجہ سے چھٹپٹاتا رہا۔ گھر سے بھاگ کر جو گھر ملا، وہاں باباجی نے گھر کی میری امیج کو مزید آلودہ کیا۔ بعد میں بیشک الگ الگ گھروں میں رہا، لیکن وہاں میں نہ کبھی کھل کر ہنس ہی پاتا تھا اور نہ کبھی پیر پھیلا کر بیٹھ ہی سکتا تھا۔ وجہ میں نہیں جانتا۔ پھر زیادہ تر وقت ہاسٹل میں کٹا، جہاں گھر کولے کر میراپیار تو ہمیشہ بنا رہا لیکن کوئی مکمل تصویر نہیں بنتی تھی کہ گھر کیسا ہونا چاہیے، بس، جہاں بھی بچوں کی کلکاریاں سنتا یا ہسبینڈوائف کو پیار سے بات کرتے دیکھتا، ایک دوسرے کی کیئر کرتے دیکھتا، لگتا شاید گھر یہی ہوتا ہے۔‘‘

’’گھر کو لے کر تمہاری جو امیج ہے، وہ در اصل تمہارے تجربات کے تنوع کی وجہ سے اور گھر کو دور سے دیکھنے کی وجہ سے بنی ہے۔‘‘ دیویدر جی کہہ رہے ہیں، ’’تم ہمیشہ یا تو ایسے گھروں میں رہے جہاں ماحول درست نہیں تھا یا ایسے گھروں میں رہے جو تمہارے اپنے گھر نہیں تھے۔ ویسے دیکھا جائے تو ہر آدمی کے لئے گھر کے معنی مختلف ہوتے ہیں۔ مانا جائے تو کسی کے لئے فٹ پاتھ یا اس پر بنا ٹین ٹپّر کا معمولی سا جھونپڑا بھی گھر کی مہک سے بھرا ہوا ہو سکتا ہے اور ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کسی کے لئے محل بھی گھر کی تعریف میں پورا نہ اترتا ہو اور وہاں رہنے والا گھر کی چاہت میں ادھر ادھر بھٹک رہا ہو۔ بیشک تم کو اپنے باپ کا گھر چھوڑ کر بھاگنا پڑا تھا کیونکہ وہ گھر اب تمہارے لئے گھر ہی نہیں رہا تھا، لیکن تمہاری ماں یا بھائیوں کے لئے اس وقت بھی وہ گھر بنا ہی رہا تھا، کیونکہ ان کے لئے نہ تو وہاں سے نجات تھی اور نہ نجات کی چاہ ہی۔ ہو سکتا ہے تمہارے سامنے گھر چھوڑنے کا سوال نہ آتا تو اب بھی وہ گھر تمہارا بنا ہی رہتا۔ اس مار پیٹ کے باوجود اس گھر میں بھی کچھ تو ایسا رہا ہی ہو گا جو تمہیں آج تک ہانٹ کرتا ہے۔ پٹائی کے پیچھے بھی تمہاری بہتری کی نیت چھپی رہی ہو گی جسے بیشک تمہارے پتا اپنے غصے کی وجہ سے کبھی ظاہر نہیں کر پائے ہوں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ باہمی محبت اور سینس آف کیئر سے گھر کی بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں، لیکن ہم دونوں بھی آپس میں چھوٹی چھوٹی چیزوں کو لے کر لڑتے جھگڑتے ہیں۔ ایک دوسرے سے روٹھتے ہیں اور ایک دوسرے کو کوستے بھی ہیں۔ اس کے باوجود ہم دونوں ایک ہی بنے رہتے ہیں، کیونکہ ہمیں ایک دوسرے پر اعتماد ہے اور ہم ایک دوسرے کی خواہشات کی قدر بھی کرتے ہیں۔ ہم آپس میں کتنا بھی لڑ لیں، کبھی باہر والوں کو ہوا بھی نہیں لگنے دیتے اور نہ ایک دوسرے کی برائی ہی کرتے ہیں۔ شاید اسی احساس سے گھر بنتا ہے۔ ہاں، جہاں تک صاف ستھرے گھر کو لے کر تمہاری جو امیج ہے، اگر تم بچوں کی کلکاریاں بھی چاہو اور ہوٹل کے کمرے کی طرح صفائی بھی، تو شاید یہ بعیدالعقل ہو گا۔ گھر گھر جیسا ہی ہونا اور لگنا چاہیے۔ گھر وہ ہوتا ہے جہاں شام کو لوٹنا اچھا لگے نہ کہ مجبوری۔ جہاں باہمی رشتوں کی مہک ہمیشہ ماحول کو متحرک بنائے رکھے، وہی گھر ہوتا ہے۔ تمہیں شاید دیکھنے کا موقع نہ ملا ہو، یہاں بمبئی میں جتنے بھی بیئر بار ہیں یا شراب کے اڈے ہیں وہاں تمہیں ہزاروں آدمی ایسے مل جائیں گے، جنہیں گھر کاٹنے کو دوڑتا ہے۔ وجہ کوئی بھی ہو سکتی ہے لیکن ایسے لوگ ہوش و حواس میں گھر جانے سے بچنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہیں تو اپنے گھر کو بہتر بھی بنا سکتے ہیں جہاں لوٹنے کا ان کا دل کرے لیکن ہو نہیں پاتا۔ آدمی جب گھر سے دور ہوتا ہے تبھی اسے گھر کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ وہ کسی بھی طریقے سے گھر نامی جگہ سے جڑنا چاہتا ہے۔ گھر چاہے اپنا ہو یا کسی اور کا، گھر ہی احساس دیتا ہے۔ تو بھائی، ہم تو یہی دعا کرتے ہیں کہ تم کو من پسند گھر جلدی ملے۔‘‘

’’بلیو می، ویر جی، آپ نے تو گھر کی اتنی باریکی سے وضاحت کر دی۔‘‘

’’فکر مت کرو، تمہیں بھی اپنا گھر ضرور ملے گا اور تمہاری ہی شرائط پر ملے گا۔‘‘

’’میں گھر کو لے کر بہت حساس رہا ہوں لیکن اب گھر سے واپس آنے کے بعد سے تو میں بری طرح ڈر گیا ہوں کہ کیا کوئی ایسی جگہ کبھی ہو گی بھی جسے میں گھر کہہ سکوں۔ میں اپنی طرح کے گھر کو پانے کیلئے کچھ بھی کر سکتا تھا لیکن۔۔ اب تو۔‘‘

’’گھبراؤ نہیں، اوپر والے نے تمہارے نام کی بھی ایک خوبصورت بیوی اور نہایت ہی سکون بھرا گھر لکھا ہو گا۔ گھر اور بی بی دونوں ہی تم تک چل کر آئیں گے۔‘‘

’’پتہ نہیں گھر کی یہ تلاش کب ختم ہو گی۔‘‘

’’جلد ہی ختم ہو گی بھائی۔‘‘ الکا نے میرے بال بکھیرتے ہوئے کہا ہے، ’’اگر ہماری پسند پر بھروسہ ہو تو ہم دونوں آج ہی سے اس مہم پر جٹ جاتے ہیں۔‘‘

میں جھینپی ہنسی ہنستا ہوں، ’’کیوں کسی معصوم کی زندگی خراب کرتی ہیں اس فالتو آدمی کے چکر میں۔‘‘

’’یہ ہم طے کریں گے کہ ہیرا آدمی کون ہے اور فالتو آدمی کون؟‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گڈّی کا خط آیا ہے۔ خبریں خوشگوار نہیں ہیں۔

 

ویر جی،

آپ کی چٹھی مل گئی تھی۔ بی بے بیمار ہے۔ آج کل گھر کا سارا کام میرے ذمے آ گیا ہے۔ بی بے کے علاج کے لئے مجھے اپنی بچت کے کافی پیسے خرچ کرنے پڑے اس وجہ سے دارجی اور بی بے کو بتانا پڑا کہ مجھے آپ سے کافی پیسے ملے ہیں۔

ویرجی، یہ غلط ہو گیا ہے کہ سب کو پتہ چل گیا ہے کہ آپ مجھے پیسے بھیجتے رہتے ہیں۔ ابھی بیمار بی بے کے ایکس رے اور دوسرے ٹیسٹ کرانے تھے اور گھر میں اتنے پیسے نہیں تھے، میں کیسے خاموش رہتی۔ اپنی ساری بچت نکال کر دارجی کے ہاتھ پر رکھ دی تھی۔ ویسے بھی یہ پیسے میرے پاس فالتو ہی تو رکھے ہوئے تھے۔

آپ یہاں کی فکر نہ کریں۔ میں سب کو سنبھالے ہوئے ہوں۔ اپنی خبر دیں۔ اپنا کانٹیکٹ نمبر لکھ دیجئے گا۔

آپ کی

گڈّی

 

میں فوری طور ہی پانچ ہزار روپے کا ڈرافٹ گڈّی کے نام کورئیر سے بھیجتا ہوں اور لکھتا ہوں کہ مجھے فون کر کے فوری طور پر بتائے کہ اب بی بے کی طبیعت کیسی ہے۔ ایک خط میں نندو کو لکھتا ہوں۔ اسے بتاتا ہوں کہ کن حالات کی وجہ سے مجھے دوسری بار بھی بے گھر ہونا پڑا اور میں آتے وقت کسی سے بھی مل کر نہیں آ سکا۔ ایک طرح سے خالی ہاتھ اور بھرے دل سے ہی گھر سے چلا تھا۔ بی بے بیمار ہے۔ ذرا گھر جا کر دیکھ آئے کہ اس کی طبیعت اب کیسی ہے۔ گڈّی کو پیسے بھیجے ہیں۔ مزید پیسوں کی ضرورت ہو تو فوراً بتائے۔

سوچتا ہوں، جاؤں کیا بی بے کو دیکھنے؟ لیکن کہیں پھر گھیر لیا مجھے کسی کرتارے یا اومکارے کی لڑکی کے چکر میں تو مصیبت ہو جائے گی۔ پھر اس بار تو بی بے کی بیماری کا بھی واسطہ دیا جائے گا اور میں کسی بھی طرح سے نہیں بچ پاؤں گا۔ گڈّی کا خط آ جائے پھر دیکھتا ہوں۔

نندو کا فون آ گیا ہے۔

بتا رہا ہے، ’’آپ کسی قسم کی فکر نہ کرو۔ بی بے اب ٹھیک ہے۔ گھر میں ہی ہے اور ڈاکٹروں نے کچھ دن کا آرام بتایا ہے۔ ویسے فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘

پوچھتا ہوں میں، ’’لیکن اسے ہوا کیا تھا؟‘‘

’’کچھ خاص نہیں، بس، بلڈ پریشر نیچے ہو گیا تھا۔ دوائیں چلتی رہیں گی۔ باقی مجھے گڈّی سے ساری بات کا پتہ چل گیا ہے۔ اپنے دل پر کوئی بوجھ نہ رکھیں۔ میں گڈّی کا بھی خیال رکھوں گا اور بی بے کا بھی۔ اوکے، اور کچھ!!‘‘

’’ذرا اپنا فون نمبر دے دے۔‘‘

’’لو نوٹ کرو جی۔ گھر کا بھی اور ریستوران کا بھی۔ اور کچھ؟‘‘

’’میں اپنے پڑوسی مسٹر بھسین کا نمبر دے رہا ہوں۔ ایمرجنسی کیلئے۔ نوٹ کر لو اور گڈّی کو بھی دے دینا۔‘‘

فون نمبر نوٹ کرتا ہوں اور اسے تھینکس ہوئے فون رکھتا ہوں۔

تسلی ہو گئی ہے کہ بی بے اب ٹھیک ہے اور یہ بھی اچھی بات ہو گئی کہ اب نندو کے ذریعے کم از کم فوری طور پر خبریں تو مل جایا کریں گی۔

اس دوران دارجی خط آیا ہے۔ گورمکھی میں ہے۔ اگرچہ ان کی ہینڈ رائٹنگ بہت ہی خراب ہے لیکن مطلب نکال پا رہا ہوں۔

یہ ایک باپ کا بیٹے کے نام پہلا خط ہے۔

لکھا ہے۔

 

’’برخوردار،

نندو سے تیرا پتہ لے کر خط لکھ رہا ہوں۔ ایک باپ کے لئے اس سے اور زیادہ شرم کی بات کیا ہو گی کہ اس کے اپنے بیٹے کے ایڈریس کے واسطے اس کے دوستوں کے گھروں کے چکر کاٹنے پڑیں۔ باقی تُو نے جو کچھ ہمارے ساتھ کیا اور دوسری بار بیچ چورا ہے میری پگڑی اچھالی، اس سے میں برادری میں کہیں منہ دکھانے لائق نہیں رہا ہوں۔۔۔ سب لوگ مجھ پر ہی تھو تھو کر رہے ہیں۔ کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ تو کیسے اس بار بھی بغیر بتائے چوروں کی طرح نکل گیا۔ تیری بی بے تیرا انتظار کرتی رہی اور جناب ٹرین میں بیٹھ کر نکل گئے۔ ویسے آدمی میں اتنی غیرت اور ہمت تو ہونی ہی چاہیے کہ وہ آمنے سامنے بیٹھ کر بات کر سکے۔ تیری بی بے اس بات کا صدمہ برداشت نہیں کر پائی اور اس کے بعد سے بیمار پڑی ہے۔ تجھے تو اتنا بھی نہ ہوا کہ اسے دیکھنے آ سکے۔ ویسے تُو نے اپنی بی بے کو ہمیشہ ہی دکھ دیا ہے اور کبھی بھی اس گھر کی سکھ دکھ میں شامل نہیں ہوا ہے۔ چھوٹی موٹی باتوں پر گھر چھوڑ دینا شریف گھروں کے لڑکوں کو زیب نہیں دیتا۔ تمہاری اتنی پڑھائی لکھائی کا کیا فائدہ جس سے ماں باپ کو دکھ کے علاوہ کچھ بھی نہ ملے۔

باقی میرے سمجھانے بجھانے کے بعد کرتار سنگھ تیری یہ زیادتی بھلانے کے لئے اب بھی تیار ہے۔ تُو جلد سے جلد آ جا تاکہ گھر میں سکھ شانتی آ سکے۔ اس بہانے اپنی بیمار بی بے کو بھی دیکھ لے گا۔ وہ تیرے لئے بہت تڑپتی ہے۔ ویسے بھی اس کی آدھی بیماری تجھے دیکھتے ہی ٹھیک ہو جائے گی۔ تو جتنی بھی زیادتی کرے ہمارے ساتھ، اس کی جان تو تجھ ہی میں بستی ہے۔

تمہارا،

دارجی

 

زندگی میں ایک باپ پہلی بار اپنے بیٹے کو خط لکھ رہا ہے اور اس میں سودے بازی والی یہ زبان!! دارجی جو زبان بولتے ہیں وہی زبان لکھی ہے۔ نہ بولنے میں لحاظ کرتے ہیں نہ لکھنے میں کیا ہے۔

اب ایسے خط کا کیا جواب دیا جا سکتا ہے۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اس طرح سے وہ میری پریشانیاں ہی بڑھا رہے ہیں۔

اگلے ہی دن کی ڈاک میں گڈّی کا ایک اور خط آیا ہے۔

اس نے لکھا ہے۔

 

ویر جی، چٹھی لکھنے میں دیر ہو گئی ہے۔ جب نندو ویر جی نے بتایا کہ انہوں نے آپ کو بی بے کی طبیعت کے بارے میں فون پر بتا دیا ہے اس لئے بھی لکھنا ٹل گیا۔ بی بے اب ٹھیک ہیں لیکن کمزوری ہے اور زیادہ دیر تک کام نہیں کر پاتی۔ ویسے کچھ صدمہ تو انہیں آپ کے جانے کا ہی لگا ہے اور آج کل ان میں اور دارجی میں اسی بات کو لے کر اکثر منہ ماری ہو جاتی ہے۔

بی بے کی بیماری کی وجہ سے کئی روز تک کالج نہ جا سکی اور گھر پر ہی پڑھتی رہی۔ ویسے نشا آ کر نوٹس دے گئی تھی۔

دارجی نے مجھ سے آپ کا پتہ مانگا تھا۔ میں نے انکار کر دیا کہ جس لفافے میں ڈرافٹ آیا اس پر پتہ تھا ہی نہیں۔ پتہ نہ دینے کی وجہ یہی ہے کہ گزشتہ دنوں کرتار سنگھ نے سندیسہ بھجوایا تھا کہ اب ہم اور انتظار نہیں کر سکتے۔ اگر دیپو یہ رشتہ نہیں چاہتا یا جواب نہیں دیتا تو وہ اور کوئی گھر دیکھیں گے۔ ان پر بھی برادری کی جانب سے دباؤ ہے۔

پتہ ہے ویر جی، دارجی نے کرتار سنگھ کے پاس اس سندیس کے جواب میں کیا سندیسہ بھجوایا تھا ’’تُو سنتوش کا بیاہ بلّو یا گولو سے کر دے۔، جہیز بیشک آدھا کر دے۔‘‘ کرتار سنگھ نے دارجی کو جواب دیا کہ بولنے سے پہلے کچھ تو سوچ بھی لیا کر۔ تو یقیناً بیوپاری نہ سہی، میں تو بیوپاری آدمی ہوں اور کچھ سوچ کر ہی تیرے دیپو کا ہاتھ مانگ رہا تھا۔ دارجی کا منہ اتنا سا رہ گیا۔

دارجی، نندو سے آپ کا پتہ لینے گئے تھے۔ وہ شاید آپ کو لکھیں، یا لکھ بھی دیا ہو۔۔ آپ ان کے پھندے میں مت پھنسنا ویر جی۔

آپ کے بھیجے پانچ ہزار کے ڈرافٹ کے لئے دارجی نے میرا اکاؤنٹ کھلوا دیا ہے، لیکن یہ اکاؤنٹ انہوں نے اپنے ساتھ مشترکہ کھلوایا ہے۔

نندو ویر جی اکثر بی بے کا حال چال پوچھنے آ جاتے ہے۔ آپ کے خط کا پوچھ رہے تھے۔ وہ آپ کی بہت عزت کرتے ہیں۔

خط لکھیں گے۔

آپ کی بہنا،

گڈّی

سمجھ میں نہیں آ رہا، کن جھمیلوں میں پھنس گیا ہوں۔ جب تک گھر نہیں گیا تھا، وہ سب کے سب میری دنیا میں کہیں تھے ہی نہیں، لیکن ایک بار سامنے آ جانے کے بعد میرے لئے یہ بہت مشکل ہو گیا ہے کہ انہیں اپنی یادوں سے مکمل طور پر نکال پھینکوں۔ ہو ہی نہیں پاتا یہ سب۔ وہاں مجھے ہفتہ بھر بھی چین سے نہیں رہنے دیا گیا اور جب وہاں سے بھاگ کر یہاں آ گیا ہوں تو بھی نجات نہیں ہے میری۔

الکا دیدی میری پریشانیاں سمجھتی ہیں لیکن جب میرے ہی پاس ان کا کوئی حل نہیں ہے تو اس بیچاری کے پاس کہاں سے ہو گا۔ مجھے اداس اور پریشان دیکھ کر وہ بھی مایوس ہو جاتی ہے، اس لئے کئی بار ان کے گھر جانا بھی ٹالتا ہوں۔ لیکن دو دن ہوئے نہیں ہوتے کہ خود بلانے آ جاتی ہیں۔ مجبوراً مجھے ان کے گھر جانا ہی پڑتا ہے۔

ڈپریشن کے شدید دور سے گزر رہا ہوں۔ جی چاہتا ہے کہیں دور بھاگ جاؤں۔ باہر کہیں نوکری کر لوں جہاں کسی کو میری خبر ہی نہ ہو کہ میں کہاں چلا گیا ہوں۔ ایک تو زندگی میں چھایا، دسیوں برسوں کا یہ اکیلا پن اور اس پر گھر سے آنے والی اس طرح کے خطوط۔ اپنی نادانی پر افسوس ہو رہا ہے کہ بیشک گڈّی کو ہی، صحیح پتہ دے کر ہی کیوں آیا۔ میں اپنے حال رہتا اور انہیں ان ہی کے حال پر چھوڑ آتا۔ لیکن بی بے اور گڈّی۔ یہیں آ کر میں پست ہو جاتا ہوں۔

اب میں اس سمت میں زیادہ سوچنے لگا ہوں کہ یہاں سے کہیں باہر ہی نکل جاؤں۔ بیشک کہیں بھی خود کو ایڈجسٹ کرنے میں، جمانے میں وقت لگے گا لیکن یہاں ہی کون سی جمی جمائی گرہستی ہے جو اکھاڑنی پڑے گی۔ سب جگہ ہمیشہ خالی ہاتھ ہی رہا ہوں۔ جتنی بار بھی شہر چھوڑے ہیں یا جگہیں بدلی ہیں، خالی ہاتھ ہی رہا ہوں، یہاں سے بھی کبھی بھی ویسے ہی چل دوں گا۔ کسی بھی قیمت پر انگلینڈ یا امریکہ کی طرف نکل جانا ہے۔

ابھی آفس سے لوٹا ہی ہوں کہ الکا دیدی کا بلاوا آ گیا ہے۔ پچھلے کتنے دنوں سے ان کے گھر گیا ہی نہیں ہوں۔

فریش ہو کر ان کے گھر پہنچا تو دیدی نے مسکراتے ہوئے دروازہ کھولا ہے۔ اندر آتا ہوں۔ سامنے ہی ایک لمبی سی لڑکی بیٹھی ہے۔ دیدی تعارف کراتی ہیں، ’’یہ گولڈی ہے۔ سی ایم سی میں سروس انجینئر ہے۔‘‘ پھر اسے میرے بارے میں بتاتی ہے۔ میں ہیلو کرتا ہوں۔ ہم بیٹھتے ہیں۔ دیدی چائے بنانے چلی گئی ہے۔

کسی بھی اکیلی لڑکی کی موجودگی میں میں پریشانی محسوس کرنے لگتا ہوں۔ سمجھ ہی نہیں آتا، کیا بات کروں اور کیسے شروعات کروں۔ وہ بھی تھوڑی دیر تک خاموش بیٹھی رہتی ہے پھر اٹھ کر دیدی کے پیچھے رسوئی میں ہی چلی گئی ہے۔ چلو، اچھا ہے۔ اس کی موجودگی سے جو تناؤ محسوس ہو رہا تھا، کم از کم وہ تو نہیں ہو گا۔ لیکن دیدی بھی عجیب ہیں۔ اسے پھر سے پکڑ کر ڈرائنگ روم میں لے آئی ہے، ’’بہت عجیب ہو تم دونوں؟ کیا میں اسی لیے تم دونوں کا تعارف کرا کے گئی تھی کہ ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہو اور جب دونوں تھک جاؤ تو ایک اٹھ کر رسوئی میں چلا آئے۔‘‘

میں جھینپ کر کہتا ہوں، ’’نہیں دیدی، ایسی بات نہیں ہے بے شک۔۔ میں۔۔‘‘

’’ہاں، مجھے سب پتہ ہے کہ تم لڑکیوں سے بات کرنے میں بہت شرماتے ہو اور کہ تمہارا موڈ آج کل بہت خراب چل رہا ہے اور مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ یہ لڑکی تجھے کھا نہیں جائے گی۔ بیشک کائیستھ ہے لیکن شاکا ہاری ہے۔‘‘ دیدی نے مجھے کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ کہنے کو کچھ بچا ہی نہیں ہے۔

میں بات شروع کرنے کے حساب سے پوچھتا ہوں اس سے، ’’کہاں سے لی تھی کمپیوٹرز میں ڈگری؟‘‘

’’اندور سے۔‘‘ وہ بھی ہچکچاہٹ محسوس کر رہی ہے کہ اٹھ کر رسوئی میں کیوں چلی گئی تھی۔

’’بمبئی پہلی بار آئی ہیں؟‘‘

’’جاب کے حساب تو پہلی ہی بار ہی آئی ہوں، لیکن پہلے بھی کالج گروپ کے ساتھ بمبئی گھوم چکی ہوں۔‘‘

’’چلو، گگن دیپ کے لئے اچھا ہوا کہ اسے گولڈی کو بمبئی نہیں گھمانا پڑے گا۔‘‘

’’آپ تو میرے پیچھے ہی پڑ گئی ہیں دیدی، میں نے ایسا کب کہا۔۔۔‘‘

’’ہاں، اب ہوئی نہ بات۔ تو اب پوری بات سن۔ گولڈی ایک ہفتے پہلے ہی بمبئی آئی ہے۔ بے چاری کو آتے ہی رہائش کے مسئلے سے گزرنا پڑا۔ کل ہی ونایک کراس روڈ پر رہنے والی ہماری بیوہ چاچی کی پے انگ گیسٹ بن کر آئی ہے۔ اسے کچھ شاپنگ کرنی ہے۔ تُو ذرا اس کے ساتھ جا کر اسے شاپنگ کرا دے۔‘‘

’’ٹھیک ہے دیدی، کرا دیتا ہوں۔‘‘ دیدی کی بات ٹالنے کی میری ہمت نہیں ہے۔

’’جا گولڈی۔ ویسے تجھے بتا دوں کہ یہ بہت ہی شریف آدمی ہے۔ پتہ نہیں راستے میں تجھ سے بات کرے یا نہیں یا تجھے چاٹ وغیرہ بھی کھلائے یا نہیں، تُو ہی اسے کچھ کھلانے دینا۔‘‘

’’دیدی، اتنی تو کھنچائی مت کرو۔ اب میں اتنا بھی گیا گزرا نہیں ہوں کہ۔۔۔‘‘

’’میں یہی سننا چاہتی تھی۔‘‘ دیدی نے ہنستے ہوئے ہمیں رخصت کیا ہے۔

ہم دونوں ایک ساتھ نیچے اترتے ہیں۔

سیڑھیوں میں ہی اس سے پوچھتا ہوں۔ ’’آپ کو کس قسم کی شاپنگ کرنی ہے؟ میرا مطلب اسی طرح کے بازار کی طرف جاتے ہیں۔‘‘

’’اب اگر یہیں رہنا ہے تو سوئی سے لے کر آئرن، بالٹی، الیکٹرک کیٹل سب کچھ ہی تو لینا پڑے گا۔ پہلے یہی چیزیں لیتے ہیں۔ آٹو لے لیں؟ باندرہ سٹیشن تک تو جانا پڑے گا۔‘‘

دو تین گھنٹے میں ہی اس نے کافی شاپنگ کر لی ہے۔ بہت اچھی طرح سے شاپنگ کی ہے اس نے۔ اس نے سامان بھی بہت اچھی کوالٹی کا خریدا ہے۔ زیادہ تر سامان پہلی نظر میں ہی پسند کیا گیا ہے۔ دیدی کی بات بھولا نہیں ہوں۔ گولڈی کو اصرار کر کے شیر پنجاب ریسٹورنٹ میں کھانا کھلایا ہے۔ اس دوران اس سے کافی بات ہوئی ہے۔ گولڈی کراٹے میں بلیو بیلٹ ہے۔ پرانی موسیقی کی رسیا ہے اور اچھے کھانے کی شوقین بھی۔ اسے فلمیں بالکل اچھی نہیں لگتیں۔

اس نے میرے بارے میں بھی بہت کچھ جاننا چاہا ہے۔ مشکل میں ڈال دیا ہے اس نے مجھے میری ڈیٹ آف برتھ پوچھ کر۔ کبھی سوچا بھی نہیں تھا، ادھر ادھر کے فارموں میں لکھنے کے علاوہ تاریخ پیدائش کی اس طرح بھی کوئی اہمیت ہوتی ہے۔ ایک طرح سے اچھا بھی لگا ہے۔ آج تک یہ تاریخ محض اعداد بھر تھی۔ آج ایک خوشگوار احساس میں بدل گئی ہے۔

میں بھی اس سے اس کی ڈیٹ آف برتھ پوچھتا ہوں۔ وہ بتاتی ہے، ’’بیس جولائی سکسٹی نائن۔‘‘

میں ہنستا ہوں، ’’مجھ سے چھ سال چھوٹی ہیں۔‘‘

وہ جواب دیتی ہے، ’’دنیا میں ہر کوئی کسی نہ کسی سے چھوٹا ہے تو کسی دوسرے سے بڑا۔ اگر سب برابر ہونے لگے تو چل چکا دنیا کا سائیکل۔‘‘

کافی ذہین ہے اور سینس آف ہیومر بھی خوب ہے۔ آج سے ٹھیک بیس دن بعد جنم دن ہے گولڈی کا۔ دیکھیں، تب یہاں ہوتی بھی ہے یا نہیں!

’’آپ کا آفس تو باندرہ کرلا کامپلیکس میں ہے۔ سنا ہے بہت ہی شاندار بلڈنگ ہے۔‘‘

’’ہاں بلڈنگ تو اچھی ہے۔ کبھی لے جاؤں گی آپ کو۔ ابھی تو نئی ہوں اس لیے ہیڈ کوارٹر دیا ہے۔ میں تو فیلڈ اسٹاف ہوں۔ اپنے کام کے سلسلے میں سارا دن ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا پڑے گا۔‘‘

’’بمبئی سے باہر بھی؟‘‘

’’ہاں، باہر بھی جانا پڑ سکتا ہے۔‘‘

ہم لدے پھندے واپس پہنچے ہیں۔ گولڈی کا کافی سارا سامان میرے دونوں ہاتھوں میں ہے۔ اسے چاچی کے گھر کے نیچے رخصت کرتا ہوں تو پوچھتی ہے، ’’یہ سارا سامان لے کر میں اکیلی اوپر جاؤں گی تو آپ کو برا نہیں لگے گا!‘‘

’’اوہ، سوری، میں تو یہ سمجھ رہا تھا میرا جانا ہی آپ کو برا لگے گا، اس لئے خاموش ہو گیا۔ لائیں، میں پہنچا دیتا ہوں سامان۔‘‘

چاچی کو نمستے کرتا ہوں۔ ان سے اکثر دیدی کے گھر ملاقات ہو جاتی ہے۔ حال چال پوچھتی ہیں۔ گولڈی کا سامان رکھوا کر لوٹنا چاہتا ہوں کہ وہ کہتی ہے، ’’تھینکس نہیں کہوں گی تو آپ کو برا لگے گا اور تھینکس کہنا مجھے فارمل لگ رہا ہے۔‘‘

’’اس میں تھینکس جیسی کوئی بات نہیں ہے۔ اس بہانے میرا بھی گھومنا ہو گیا۔ ویسے بھی کمرے میں بیٹھا بور ہی تو ہوتا۔‘‘

ہنستی ہے، ’’ویسے تو دیدی نے مجھے ڈرا ہی دیا تھا کہ آپ بالکل بات ہی نہیں کرتے۔ اینی وے تھینکس فار دی نائس ڈنر۔ گڈ نائٹ۔‘‘

کسی لڑکی کے ساتھ اتنا وقت گزارنے کا یہ پہلا موقع ہے۔ وہ بھی انجان لڑکی کے ساتھ پہلی ہی ملاقات میں۔ رُتپرنا کے ساتھ بھی کبھی اتنا وقت نہیں گزارا تھا۔ گولڈی کی شخصیت کی کشادگی کے بارے میں سوچنا اچھا لگتا ہے۔ کوئی تکلف نہیں۔ صاف گوئی سے اپنی بات کہہ دینا۔

چلو، الکا دیدی نے جو ڈیوٹی سونپی تھی، اسے ٹھیک ٹھاک نبھا دیا۔

صبح صبح ہی مالک مکان نے بتایا ہے کہ دروازے پر کوئی سکھ لڑکا کھڑا ہے جو تمہیں پوچھ رہا ہے۔ میں لپک کر باہر آتا ہوں۔

سامنے بلّو کھڑا ہے۔ پاس ہی بیگ رکھا ہے۔ مجھے دیکھتے ہی آگے بڑھا ہے اور ہولے سے جھکا ہے۔

میں حیران تھا نہ خط نہ چٹھی، ہزاروں میل دور سے چلا آ رہا ہے، کم از کم خبر تو کر دیتا۔ اسے اندر لاتا ہوں۔ مالک مکان اسے حیرانی سے دیکھ رہا ہے۔ انہیں بتاتا ہوں، ’’میرا چھوٹا بھائی ہے۔ یہاں ایک انٹرویو دینے آیا ہے۔‘‘ مالک مکان کی تسلی ہو گئی ہے کہ رہنے نہیں آیا ہے۔

اسے اندر لاتا ہوں۔ پوچھتا ہوں ’’اس طرح۔۔ اچانک ہی۔۔ کم از کم خبر تو کر ہی دیتا۔۔ میں اسٹیشن تو لینے آ ہی جاتا۔۔۔‘‘

بلّو ہنستا ہے، ’’بس، بمبئی گھومنے کا دل کیا تو بیگ اٹھایا اور چلا آیا۔‘‘

میں چونکا، ’’گھر میں تو بتا کر آیا ہے یا نہیں؟‘‘

’’اس کی فکر مت کرو ویر، انہیں پتہ ہے، میں یہاں آ رہا ہوں۔‘‘

مجھے اب بھی یقین نہیں ہو رہا ہے کہ وہ گھر میں کہہ کر آیا ہے۔ سوچ لیا ہے میں نے، رات کو نندو کو فون کر کے بتا دوں گا، ’’گھر بتا دے، بلّو یہاں ٹھیک ٹھاک پہنچ گیا ہے۔ فکر نہ کریں۔‘‘

’’بی بے کیسی ہے؟ دارجی، گڈّی اور گولو؟‘‘

’’بی بے اب بھی ڈھیلی ہی ہے۔ زیادہ کام نہیں کر پاتی۔ باقی سب ٹھیک ہیں۔‘‘

مالک مکان نے اتنی مہربانی کر دی ہے کہ دو کپ چائے بھجوا دی ہے۔

بلّو نہا دھو کر آیا ہے تو میں دیکھتا ہوں کہ اس کے کپڑے، جوتے وغیرہ بہت معمولی ہیں۔ گھر میں رہتے ہوئے میں نے اس طرف دھیان ہی نہیں دیا تھا۔ آج کل میں ہی دلوانے پڑیں گے۔ گھمانا پھرانا بھی ہو گا۔ یہی کام میرے لئے سب سے مشکل ہوتا ہے۔ میں نے خود بمبئی طریقے سے نہیں دیکھی ہے، اسے کیسے گھماؤں گا۔ پتہ نہیں کتنے دن کا پروگرام بنا کر آیا ہے۔

بلّو پوچھ رہا ہے، ’’کیا سوچا ہے ویر شادی کے بارے میں۔‘‘ اس نے اپنے بیگ میں سے سنتوش کی تصویر نکال کر میرے آگے رکھ دی ہے۔ لگتا ہے مجھے شادی کے لئے تیار کرنے اور لے جانے کیلئے آیا ہے۔ اسے لکھا پڑھا کر بھیجا گیا ہے۔ وہ جس طرح سے میری چیزوں کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہا ہے اور ساری چیزوں کے بارے میں پوچھ رہا ہے اس سے تو یہی لگتا ہے کہ وہ میرا معیارِ زندگی، رہنے کا رنگ ڈھنگ اور میری مالی حالت کا جائزہ لینے آیا ہے۔ کہا اس نے بیشک نہیں ہے لیکن اس کے انداز یہی بتا رہے ہیں۔

پرسوں الکا دیدی نے دونوں کو کھانے پر بلا لیا تھا۔ گولڈی بھی تھی۔ وہاں پر بھی وہ سب کے سامنے میرے گھر چھوڑ کر آنے کے بارے میں الٹی سیدھی باتیں کرنے لگا۔ جب میں چپ ہی رہا تو الکا کو میرے دفاع میں اسے چپ کرانا پڑا تو جناب ناراض ہو گئے، ’’آپ کو نہیں معلوم ہے بھین جی، یہ کیسے بغیر بتائے گھر چھوڑ کر آ گئے تھے کہ ساری برادری ان کے نام پر آج بھی تھو تھو کر رہی ہے۔ سگائی کی ساری تیاریاں ہو چکی تھیں۔ وہ تو لوگ دارجی کا لحاظ کر گئے ورنہ۔۔ انہوں نے کوئی کسر تھوڑے ہی چھوڑ رکھی تھی۔‘‘

وہ تاؤ میں آ گیا تھا۔ بڑی مشکل سے ہم اسے چپ کرا پائے تھے۔ ہماری ساری شام خراب ہو گئی تھی۔ گولڈی کیا سوچے گی میرے بارے میں کہ میں اتنا غیر ذمہ دار انسان ہوں۔ اس سے بات ہی نہیں ہو پائی تھی۔ میں دیکھ سکتا تھا کہ وہ بھی بہت آک ورڈ محسوس کر رہی تھی۔

اس دوران دویندر اور الکا جی نے دوبارہ بلایا ہے لیکن میری ہمت ہی نہیں ہو رہی کہ اسے وہاں لے جاؤں۔ لے ہی نہیں گیا۔ اب تو بلّو سے بات کرنے کی ہی خواہش نہیں ہو رہی ہے۔ اس کے باوجود بلّو کو ڈھیر ساری شاپنگ کرا دی ہے۔ گھمایا پھرایا ہے اور ہزاروں روپے کی چیزیں دلوائی ہیں۔ وہ بیچ بیچ میں سنتوش کور کا ذکر چھیڑ دیتا ہے کہ بہت اچھی لڑکی ہے، میں ایک بار اسے دیکھ تو لیتا۔ آخر مجھے دکھی ہو کر صاف صاف کہہ ہی دینا پڑا کہ اگلی بار جو تو نے اس کا یا کسی بھی لڑکی کا نام لیا تو تجھے اگلی ٹرین میں بٹھا دوں گا۔ تب کہیں جا کر وہ خاموش ہوا ہے۔

اب اس کی موجودگی مجھ میں تناؤ پیدا کرنے لگی ہے۔

اس کی وجہ سے میں ہفتے بھر سے بیکار بنا بیٹھا ہوں۔ جناب گیارہ بجے تو سو کر اٹھتے ہیں۔ نہانے کا کوئی ٹھکانا نہیں۔ کھانے پینے کا کوئی وقت نہیں۔ یہاں مسئلہ یہ ہے کہ پوری زندگی میں ہمیشہ سارے کام نظم و ضبط سے بندھا کرتا رہا۔ ذرا سی بھی بے ترتیبی مجھے بری طرح بے چین کر دیتی ہے۔ گھومنے پھرنے کے لئے نکلتے نکلتے ڈیڑھ دو بجا دینا اس کے لئے معمولی بات ہے۔ تین چار گھنٹے گھومنے کے بعد ہی جناب تھک جاتے ہیں اور پھر بے قرار ہو کر واپس لوٹتے ہیں۔

پورے ہفتے سے اس کا یہی شیڈول چل رہا ہے۔ اس کی شاپنگ بھی ماشاء اللہ اپنے آپ میں منفرد ہے۔ پتہ نہیں کس کس کی لسٹیں لایا ہوا ہے۔ یہ بھی چاہیے اور وہ بھی چاہیے۔ اب اگر کسی اور نے سامان منگوایا ہے تو اس کے پیسے بھی تو نکال بھائی۔ لیکن لگتا ہے اس کے ہاتھوں نے اس جیبوں کا راستہ ہی نہیں دیکھا۔ اس کی خود کی ہزاروں روپے کی شاپنگ کرا ہی چکا ہوں۔ اس میں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ لیکن کسی نے اگر کیمرہ منگوایا ہے یا کچھ اور منگوایا ہے تو اس کے لئے بھی میری ہی جیب ڈھیلی کرا رہا ہے۔ اس کے کھانے پینے میں میں نے کوئی کمی نہیں چھوڑی ہے۔ میں خود روزانہ ڈھابے میں یا کسی بھی ہوٹل میں کھا لیتا ہوں لیکن اسے روز ہی کسی نہ کسی اچھے ہوٹل میں لے جا رہا ہوں۔ اسی لیے جب اس نے کہا کہ میں گوا گھومنا چاہتا ہوں تو مجھے ایک طرح سے اچھا ہی لگا۔ اسے گوا کی بس میں بٹھا دیا ہے اور ہاتھ میں پانچ سو روپے بھی رکھ دیے ہیں۔ تبھی پوچھ بھی لیا ہے، ’’آج کل رش چل رہا ہے۔ عین وقت پر ٹکٹ نہیں ملے گا۔ تیرا کب کا ٹکٹ بک کروا دوں؟‘‘

اسے اچھا تو نہیں لگا ہے لیکن بتا  دیا ہے اس نے، ’’گوا سے جمعے کو لوٹوں گا۔ ہفتے کی رات کو کرا دیں۔‘‘

اور اس طرح سے بلّو مہاراج جی میرے پورے گیارہ دن اور تقریباً آٹھ ہزار روپے خرچ کرنے کے بعد آج واپس لوٹ گئے ہیں۔ لیکن جاتے جاتے وہ مجھے جو کچھ سنا گیا ہے، اس سے ایک بار پھر سارے رشتوں سے میرا موہ ختم ہو گیا ہے۔ اس کی باتیں یاد کر کر کے دماغ کی ساری نسیں جھنجھنا رہی ہیں۔ کتنا عجیب رہا یہ تجربہ اپنے سگے بھائی کے ساتھ رہنے کا۔ کیا واقعی ہم ایک دوسرے سے اتنے دور ہو گئے ہیں کہ ایک ہفتہ بھی ساتھ ساتھ نہیں رہ سکتے۔ اس کے لئے اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی اس نے مجھے یہی صلہ دیا ہے۔

گولڈی سے اس درمیان ایک دو بار ہی ہیلو ہو پائی ہے۔ وہ بھی راہ چلتے۔ ایک بار بازار میں مل گئی تھی۔ میں کھانا کھا کر آ رہا تھا اور وہ کورئیر میں خط ڈالنے جا رہی تھی۔ تب تھوڑی دیر بات ہو پائی تھی۔

اس نے اچانک ہی پوچھ لیا تھا، ’’آپ آئس کریم تو کھا لیتے ہوں گے؟‘‘

’’جی ہاں کھا تو لیتا ہوں لیکن بات کیا ہے؟‘‘

’’در اصل آئس کریم کھانے کی بہت خواہش ہو رہی ہے۔ مجھے کمپنی دیں گے؟‘‘

’’ضرور دیں گے۔ آئیے۔‘‘

’’لیکن کھلاؤں گی میں۔‘‘

’’ٹھیک ہے آپ ہی کھلانا دینا۔‘‘ تب آئس کریم کے بہانے ہی اس سے تھوڑی بہت بات ہو پائی تھی۔

’’بہت تھک جاتی ہوں۔ سارا دن شہر بھر کے چکر کاٹتی ہوں۔ نہ کھانے کا وقت نہ واپس آنے کا۔‘‘

’’میں سمجھ سکتا ہوں لیکن آپ کے سامنے کم از کم صبح کے ناشتے سے لے کر رات کے کھانے تک مسئلہ تو نہیں ہے۔‘‘

’’وہ تو خیر نہیں ہے۔ پھر بھی لگتا نہیں اس چاچی نام کی لینڈ لیڈی سے میری زیادہ نبھ پائے گی۔ کرایہ جتنا زیادہ، اتنی زیادہ بندشیں۔ شام کو میں بہت تھکی ہوئی آتی ہوں۔ تب معصوم سی ایک خواہش ہوتی ہے کہ کاش، کوئی ایک کپ چائے پلا دیتا۔ لیکن چاچی تو صرف، کھانے کی تھالی لے کر حاضر ہو جاتی ہے۔ اب صبح کا دودھ شام تک چلتا نہیں اور پاؤڈر کی چائے میں مزہ نہیں آتا۔‘‘

’’میں آپ کی تکلیف سمجھ سکتا ہوں۔‘‘

’’اور بھی دس طرح کی بندشیں ہیں۔ یہ مت کرو اور وہ نہ کرو۔ رات دس بجے تک گھر آ جاؤ۔ اب میں جس طرح کی جاب میں ہوں، وہاں دیر ہو جانا معمولی بات ہے۔ کبھی کوئی کال دس منٹ میں بھی ٹھیک ہو جاتی ہے تو کئی بار بگڑے سسٹم کو لائن پر لانے میں دسیوں گھنٹے لگ جانا معمولی بات ہے۔ تب وہاں ہم سامنے کھلا پڑا سسٹم دیکھیں یا چاچی کا ٹائم ٹیبل یاد کریں۔‘‘

’’کسی گرلز ہاسٹل میں کیوں نہیں ٹرائی کرتیں۔‘‘

’’سنا ہے وہاں کا ماحول ٹھیک نہیں ہوتا اور بندشیں وہاں بھی ہوں گی ہی۔ ٹھیک ہے، آپ بھی کیا سوچیں گے، آئس کریم تو دس روپے کی کھلائی لیکن بور سو روپے کا کر گئی۔ آئیے۔‘‘

ہم ٹہلتے ہوئے ایک ساتھ واپس آئے تھے۔

اس نے کہا تھا، ’’کبھی آپ کے ساتھ بیٹھ کر ڈھیر ساری باتیں کریں گے۔‘‘

اس کے بعد ایک بار اور ملی تھی وہ۔ الکا دیدی کے گھر سے واپس جا رہی تھی اور میں گھر آ رہا تھا۔

پوچھا تھا تب اس نے، ’’کچھ فکشن وغیرہ پڑھتے ہیں کیا؟‘‘

’’زندگی بھر تو بھاری بھاری ٹیکنکل کتابیں پڑھتا رہا، فکشن کے لئے پہلے تو فرصت نہیں تھی، بعد میں پڑھنے کا رجحان ہی نہیں بن پایا۔ ویسے تو ڈھیروں کتابیں ہیں۔ شاید کوئی پسند آ جائے۔ دیکھنا چاہیں گی؟‘‘

’’آئیے۔‘‘ اور وہ میرے ساتھ ہی میرے کمرے میں آ گئی ہے۔

یہاں بھی پہلی ہی بار والا معاملہ ہے۔ میرے کسی بھی کمرے میں آنے والی وہ پہلی ہی لڑکی ہے۔

’’کمرا تو بہت صاف ستھرا رکھا ہے۔‘‘ وہ تعریف کرتی ہے۔

’’در اصل یہ پارسی مالک مکان کا گھر ہے۔ اور کچھ ہو نہ ہو، صفائی ضرور ہی ہو گی۔ ویسے بھی اپنے سارے کام خود ہی کرنے کی عادت ہے اس وجہ سے ایک سسٹم سا بن جاتا ہے کہ اپنا کام خود نہیں کریں گے تو سب کچھ ویسے ہی پڑا رہے گا۔ بعد میں بھی خود ہی کرنا ہے تو ابھی کیوں نہ کر لیں۔‘‘

’’دیدی آپ کی بہت تعریف کر رہی تھیں کہ آپ نے اپنے کیریئر کی ساری سیڑھیاں خود ہی طے کی ہیں۔ اے کمپلیٹ سیلف میڈ مین۔‘‘ وہ کتابوں کے ڈھیر میں سے اپنی پسند کی کتابیں منتخب کر رہی ہے۔

میں ہنستا ہوں، ’’آپ سیڑھیوں چڑھنے کی بات کر رہی ہیں، یہاں تو بنیاد کھودنے سے لے کر اینٹیں اور مٹی بھی خود ہی ڈھونے والا معاملہ ہے۔ دیکھئے، آپ پہلی بار میرے کمرے میں آئی ہیں، اب تک میں نے آپ کو پانی بھی نہیں پوچھا ہے۔ قاعدے سے تو چائے بھی پلانی چاہیے۔‘‘

’’ان فارمیلٹیز میں مت پڑیں۔ چائے کی خواہش ہو گی تو خود بنا لوں گی۔‘‘

’’لگتا ہے آپ کو موسیقی سننے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ نہ ریڈیو، نہ ٹی وی، نہ واک مین یا اسٹیریو ہی۔ میں تو جب تک دو چار گھنٹے اپنی من پسند موسیقی نہ سن لوں، دن ہی نہیں گزرتا۔‘‘

’’بتایا نا، ان کتابوں کے علاوہ بھی دنیا میں کچھ اور ہے کبھی جانا ہی نہیں۔ اب کہیں آپ کہ فلاں تھیوری کے بارے میں بتا دیجئے تو میں آپ کو بغیر کوئی بھی کتاب دیکھے پوری کی پوری تھیوری پڑھا سکتا ہوں۔‘‘

’’واقعی گریٹ ہیں آپ۔ چلتی ہوں اب۔ یہ پانچ سات کتابیں لے جا رہی ہوں۔ پڑھ کر لوٹا دوں گی۔‘‘

’’کوئی جلدی نہیں ہے۔ آپ کو جب بھی کوئی کتاب چاہیے ہو، آرام سے لے جائیں۔ دیکھا، چائے تو پھر بھی رہ ہی گئی۔‘‘

’’چائے ڈیو رہی اگلی بار کے لئے۔ او کے۔‘‘

’’آئیے، نیچے تک آپ کو چھوڑ دیتا ہوں۔‘‘

جب اسے اس کے دروازے تک چھوڑا تو گولڈی ہنسی تھی، ’’اتنے سیدھے لگتے تو نہیں۔ لڑکیوں کو ان کے دروازے تک چھوڑ کر آنے کا تو خوب تجربہ لگتا ہے۔‘‘ اور وہ تیزی سے سیڑھیوں چڑھ گئی تھی۔

گھر لوٹا تو دیر تک اس کے خیال دل میں گدگدی مچائے رہے۔ دوسری تیسری ملاقات میں ہی اتنی فرینک نیس۔ اس کا ساتھ خوشگوار لگنے لگا ہے۔ دیکھیں، یہ ملاقاتیں کیا رخ لیتی ہیں۔ بیشک اس کے بارے میں سوچنا اچھا لگتا ہے لیکن اسے لے کر کوئی بھی خواب نہیں پالنا چاہتا۔

اب تک تو سب نے مجھے ٹھگا ہی ہے۔ کہیں یہاں بھی۔۔۔!

بلّو کو گئے ابھی آٹھ دن بھی نہیں گزرے کہ دارجی کی چٹھی آن پہنچی ہے۔

سمجھ میں نہیں آ رہا، یہاں سے بھاگ کر اب کہاں جاؤں۔ وہ لوگ مجھے میرے حال پر چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔ کیا یہ کافی نہیں ہے ان کے لئے کہ میں ان پر کسی بھی قسم کا بوجھ نہیں بنا ہوا ہوں۔ میں نے آج تک نہ ان سے کچھ مانگا ہے نہ مانگوں گا۔ پھر انہیں کیا حق پہنچتا ہے کہ اتنی دور مجھے ایسے خط لکھ کر پریشان کریں۔

لکھا ہے دارجی نے۔

برخوردار

بلّو کی معرفت تیری خبریں ملیں اور ہم لوگوں کے لئے بھیجا سامان بھی۔ باقی ایسے سامان کا کوئی کیا کرے جسے دینے والے کے من میں بڑوں کیلئے نہ تو مان ہو اور نہ ان کے کہے کی عزت کا کوئی احساس۔ ہم تو اس وقت بھی چاہتے تھے اور اب بھی چاہتے ہیں کہ تو گھر واپس آ۔ پرانے گلے شکوے بھلا دے اور اپے گھر بار کی سوچ۔ آخر عمر ہمیشہ ساتھ نہیں دیتی۔ تُو اٹھائیس انتیس کا ہونے کو آیا۔ ہن تے کرتارے والا معاملہ بھی ختم ہوا۔ وہ بھی کب تک تیرے واسطے بیٹھے رہتے اور لڑکی کی عمر ڈھلتی دیکھتے رہتے۔ ہر کوئی وقت کے ساتھ چلا کرتا ہے سردارا۔ اور کوئی کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ ہم نے بلّو کو تیرے پاس اسی لئے بھیجا تھا کہ ٹوٹے بکھرے خاندان میں صلح صفائی ہو جائے، رونق آ جائے، لیکن تو نے اسے بھی الٹا سیدھا کہا اور ہمیں بھی۔ پتہ نہیں تجھے کس گل کا گھمنڈ ہے کہ ہر بار ہمیں ہی نیچا دکھانے کی فراق میں رہتا ہے۔ باقی ہماری دلی خواہش تھی اور اب بھی ہے کہ تیرا گھر بس جائے لیکن تو ہی نہیں چاہتا تو کوئی کہاں تک تیرے پاؤں پکڑے۔ آخر میری بھی کوئی عزت ہے کہ نہیں۔ اب ہمارے سامنے ایک ہی راستہ بچتا ہے کہ اب تیرے بارے میں سوچنا چھوڑ کر بلّو اور گولو کے بارے میں سوچنا شروع کر دیں۔ کوئی مجھ سے یہ نہیں پوچھنا آئے گا کہ دیپے کا کیا ہوا۔ سب کی نگاہ تو اب گھر میں بیٹھے دو جوان جہان لڑکوں کی طرف ہی اٹھے گی۔

ایک بار پھر سوچ لے۔ کرتارا نہ سہی، اور بھی بہت سے اچھے رشتے والے ہمارے آگے پیچھے چکر کاٹ رہے ہیں۔ اگر بمبئی میں ہی کوئی لڑکی تلاش کر رکھی ہو تو بھی بتا، ہم تیری پسند والی بھی دیکھ لیں گے۔

تمہارا،

دارجی

اب ایسے خط کا کیا جواب دیا جائے!

***

 

 

 

 

باب سوم

 

 

الکا دیدی چھیڑ رہی ہیں، ’’کیسی لگتی ہے گولڈی؟‘‘

’’کیوں کیا ہو گیا ہو اسے؟‘‘ میں انجان بن جاتا ہوں۔

’’زیادہ اڑو مت، مجھے پتہ ہے آج کل دونوں میں گاڑھی چھن رہی ہے۔‘‘

’’ایسا کچھ بھی نہیں ہے دیدی، بس، دو ایک بار یوں ہی مل گئے تو تھوڑی بہت بات ہو گئی ہے ورنہ وہ اپنی راہ اور میں اپنی راہ؟‘‘

’’اب تُو مجھے راہوں کے نقشے تو بتا مت اور نہ یہ بتا کہ مجھے کچھ پتہ نہیں ہے، گولڈی بہت شریف لڑکی ہے۔ تجھ سے اس کی جو بھی باتیں ہوتی ہیں مجھے آ کر بتا جاتی ہے۔ بلکہ تیری بہت تعریف کر رہی تھی کہ اتنی اونچی جگہ پہنچ کر بھی دیپ جی اتنے سیدھے سادے ہیں۔‘‘

’’گولڈی اچھی لڑکی ہے لیکن آپ کوتو پتہ ہی ہے میں جس دور سے گزر رہا ہوں وہاں کسی بھی طرح کا موہ پالنے کی ہمت ہی نہیں ہوتی ہے۔ بہت ڈر لگتا ہے دیدی اب ان باتوں سے۔ ویسے بھی پانچ سات ملاقاتوں میں کسی کو جانا ہی کتنا جا سکتا ہے۔‘‘

’’اس کی فکر نہ کر۔ روز روز ملنے سے ویسے بھی پیار کم ہو جاتا ہے۔ تو مجھے صرف یہ بتا کہ اس کے بارے میں سوچنا اچھا لگتا ہے یا نہیں؟‘‘

’’اب جانے بھی دو دیدی، پچھلے کئی دنوں سے اسے دیکھا بھی نہیں۔‘‘

’’باہر گئی ہوئی تھی۔ آج شام کو ہی لوٹی ہے۔ ابھی فون آیا تھا۔ پوچھ رہی تھی تجھے۔ آج آئے گی یہاں۔ جی بھر کے دیکھ لینا۔ تم دونوں کھانا یہیں کھا رہے ہو۔‘‘

ہم دونوں گولڈی کی بات کر ہی رہے ہیں کہ دروازے کی گھنٹی بجی۔ دیدی نے بتا دیا ہے، ’’جا، اپنی مہمان کو ریسیو کر۔‘‘

’’آپ کو کیسے پتہ وہی ہے؟‘‘ میں حیرانی سے پوچھتا ہوں۔

’’اب تیرے لئے یہ کام بھی ہمیں ہی کرنا پڑے گا۔ قدموں کی آہٹ، کال بیل کی آواز پہچاننی تجھے چاہیے اور بتا ہم رہے ہیں۔ جا دروازہ کھول، نہیں تو لوٹ جائے گی۔‘‘

دروازے پر گولڈی ہی ہے۔ ہنستے ہوئے اندر آتی ہے۔ ہاتھ میں میری کتابیں ہیں۔

’’ہم تیری ہی بات کر رہے تھے۔‘‘ دیدی اس بتاتی ہیں۔

’’دیپ جی ضرور میری چغلی کھا رہے ہوں گے کہ میں ان کی کتابیں لے کر بغیر بتائے شہر چھوڑ کر بھاگ گئی ہوں۔ اسی لیے یہاں آنے سے پہلے ساری کتابیں لیتی آئی ہوں۔‘‘

’’آپ کو ہر وقت یہی خوف کیوں لگا رہتا رہتا ہے کہ آپ کی ہی چغلی کھائی جا رہی ہے۔ آپ کی تعریف بھی تو ہو سکتی ہے۔‘‘

’’آپ کے جیسا اپنا اتنا نصیب کہاں کہ کوئی تعریف بھی کرے۔ ٹھیک ہے، تو کیا باتیں ہو رہی تھی ہماری؟‘‘

’’آج دیپ تجھے آئس کریم کھلانے لے جا رہا ہے۔‘‘

’’واؤ!! صرف ہمیں ہی کیوں؟ آپ کو بھی کیوں نہیں۔‘‘

’’آپ کے جیسا اپنا نصیب کہاں۔‘‘ دیدی زور سے ہنستی ہیں۔

ہم دیر تک یوں ہی ہلکی پھلکی باتیں کرتے رہے ہیں۔ جب آئس کریم کے لئے جانے کا وقت آیا تب تک چنو سو چکا ہے۔ میں آئس کریم وہیں لے آیا ہوں۔

واپس جاتے وقت پوچھا ہے گولڈی نے، ’’کچھ کتابیں بدل لیں کیا؟‘‘

’’ضرور۔۔ ضرور۔ آئیے۔‘‘

کتابیں منتخب کر لینے کے بعد وہ جانے کے لئے اٹھی ہے۔ جب ہم دروازے پر پہنچے ہیں تو اس نے چھیڑا، ’’آج اپنے مہمان کو دوبارہ چائے پلانا بھول گئے جناب۔۔‘‘ اور تیزی سے نیچے اتر گئی ہے۔

میں ہنستا ہوں، ’’یہ لڑکی بھی عجیب ہے۔ رشتوں میں ذرا سی بھی تکلفانہ ماحول برداشت نہیں کر سکتی۔ اب اسے لے کر میرے دل میں اکثر گدگدی ہونے لگتی ہے۔ ’’گولڈی آئی ہیو اسٹارٹیڈ لونگ یو۔۔‘‘ لیکن کیا میں یہ الفاظ اس سے کبھی کہہ پاؤں گا!

دیدی کو پتہ چل گیا ہے کہ ہم دونوں اکثر ملتے ہیں۔ اسی چکر میں ہم دونوں ہی اب اتنے باقاعدگی سے دیدی کے گھر نہیں جا پاتے۔ گولڈی کبھی چرچ گیٹ آ جاتی ہے تو ہم میرین ڈرائیو پر دیر تک گھومتے رہتے ہیں۔ کھانا بھی باہر ایک ساتھ ہی کھا لیتے ہیں۔ میں اور گولڈی روزانہ نئی جگہ پر نئے کھانے کی تلاش میں بھٹکتے رہتے ہیں۔ دونوں پوری شام خوب مستی کرتے ہیں۔ اس کی سالگرہ والے دن پر میں نے اسے جو واک مین دیا تھا، وہ اسے ہر وقت لگائے رہتی ہے۔ میری بات سننے کے لئے اسے بار بار ایئر فون نکالنے پڑتے ہیں لیکن بات سنتے ہی وہ دوبارہ ایئر فون کانوں میں اَڑا لیتی ہے۔

گولڈی نے میری زندگی میں رنگ بھر دیئے ہیں۔ ایک بار میں کئی کئی رنگ۔ اس کے سنگ اب زندگی بامعنی لگنے لگی ہے۔ اس نے زبردستی میرا جنم دن منایا۔ صرف ہم دونوں کی پارٹی رکھی اور مجھے ایک خوبصورت ریڈی میڈ شرٹ دی۔ میری یاد میں میرا پہلا جنم دن تحفہ۔ اس کے پیار سے اب زندگی جینے جیسی لگنے لگی ہے اور بمبئی شہر رہنے جیسا۔ شامیں گزارنے جیسی اور دن اس کا انتظار کرنے جیسا۔ یقیناً ہم دونوں نے ہی ابھی تک منہ سے پیار جیسا کوئی لفظ نہیں کہا ہے لیکن پتہ نہیں، اتنے قریبی تعلقات رہنے کے بعد یہ ڈھائی حروف کوئی معنی بھی رکھتے ہیں یا نہیں۔ کل ملا کر میری زندگی میں گولڈی کی موجودگی مجھے ایک خاص آدمی بنا رہی ہے۔

کمرے پر پہنچا ہی ہوں کہ میز پر رکھا لفافہ نظر آیا ہے۔ گولڈی کا خط ہے۔ اس سے آج ملنا ہی ہے۔ وہ ڈنر دے رہی ہے۔ اس کے لئے میں نے کچھ اچھی کتابیں خرید رکھی ہیں۔ کمرے پر کتابیں لینے اور چینج کرنے آیا ہوں۔ حیران ہو رہا ہوں، جب مل ہی رہے ہیں تو خط لکھنے کی ضرورت کیوں پڑ گئی ہے۔

لفافہ کھولتا ہوں۔ صرف تین لکیریں لکھی ہیں۔

 

دیپ

آج اور ابھی ہی ایک پراجیکٹ کے سلسلے میں حیدرآباد جانا پڑ رہا ہے۔ پتہ نہیں کب لوٹنا ہو۔ تم سے بغیر ملے جانا برا لگ رہا ہے، لیکن سیدھے ایئر پورٹ ہی جا رہی ہوں۔

کانٹیکٹ کروں گی۔

سی یو سون۔۔

لاٹس آف لو۔

گولڈی۔

 

میں خط ہاتھ میں لیے دھم سے بیٹھ گیا ہوں۔ تو گولڈی بھی گئی۔ ایک اور جھٹکا۔۔۔ کم از کم مل کر تو جاتی!! فون تو کر ہی سکتی تھی۔ روز ہی تو کرتی تھی فون۔ کہیں بھی ہوتی تھی بتا دیتی تھی اور وہاں سے چلنے سے پہلے بھی فون ضرور کرتی تھی۔ آج ہی ایسی کون سی بات ہو گئی۔ پتہ نہیں کیوں لگ رہا ہے، یہ’ سی یو سون‘ بھی دھوکہ دے گئے ہیں۔ یہ الفاظ اب ہم دونوں کو کبھی نہیں ملائیں گے۔

میری آنکھیں نم ہو آئی ہیں۔ اچانک سب کچھ خالی خالی سا لگنے لگا ہے۔ سب کچھ اتنی جلدی نپٹ گیا؟ اپنے آپ پر ہنسی بھی آتی ہے۔ پتہ نہیں ہر بار یہ سب میرے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے۔ ابھی خط ہاتھ میں لئے بیٹھا ہی ہوں کہ دیدی سامنے کے دروازے پر نظر آئی ہیں۔ میں تیزی سے اپنی گیلی آنکھوں پونچھتا ہوں۔ ان کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتا۔ مسکراتا ہوں۔ آخر اپنا اداس چہرہ انہیں کیوں دکھاؤں!! لیکن یہ کیا!! دیدی کی آنکھیں سرخ ہیں۔ صاف لگ رہا ہے، وہ روتی رہی ہیں۔ میں چپ چاپ کھڑا رہ گیا ہوں۔ دیدی اچانک میرے پاس آتی ہیں اور میرے کندھے سے لگ کر سسکنے لگتی ہیں۔ میں سمجھ گیا ہوں کہ گولڈی انہیں سب کچھ بتا گئی ہے۔ میں مصیبت میں پڑ گیا ہوں۔ کہاں تو اپنے آنسو چھپانا چاہتا تھا اور کہاں دیدی کے آنسو پونچھنے کی ضرورت آن پڑی ہے۔ میں ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتا ہوں۔ ان سے آنکھیں ملتی ہیں۔ میں گولڈی کا خط انہیں دکھاتا ہوں اور اپنی ساری اذیت بھول کر انہیں خاموش کرانے کی کوشش کرتا ہوں، ’’آپ بیکار میں ہی پریشان ہو رہی ہیں دیدی۔ مجھے ان ساری باتوں کی اب تو عادت پڑ گئی ہے۔ آپ کہاں تک اور کب تک میرے لئے آنسو بہاتی رہیں گی۔‘‘

زبردستی ہنستی ہیں دیدی، ’’پگلے میں تیرے لئے نہیں، اس پاگل لڑکی کے لئے روتی ہوں۔‘‘

’’کیوں؟ اس کے لئے رونے کی کیا بات ہو گئی؟ کم از کم میں تو اسے آپ سے زیادہ ہی جانتا تھا۔ وہ ایسی تو نہیں تھی کہ کوئی اس کے لئے آنسو بہائے۔‘‘

’’اسی لئے تو رو رہی ہوں۔ ایک طرف تیری تعریف کئے جا رہی تھی اور دوسری طرف تیرے لئے افسوس بھی کر رہی تھی کہ تجھے اس طرح دھوکے میں رکھ کر جا رہی ہے۔‘‘

’’کیا مطلب؟ دھوکہ کیسا؟ آخر ایسا کیا ہو گیا ہے؟‘‘

’’تجھے اس نے لکھا ہے کہ وہ ایک پروجیکٹ کے لئے حیدرآباد جا رہی ہے اور اس نے تجھے سی یو سون لکھا ہے۔‘‘

’’اس کے باوجود میں جانتا ہوں دیدی وہ اب کبھی واپس نہیں آئے گی۔‘‘

’’میں تجھے یہی بتانا چاہتی تھی۔ در اصل اس نے مجھے کئی دن پہلے ہی بتا دیا تھا کہ وہ حیدرآباد جا رہی ہے۔ کسی پروجیکٹ کے لئے۔ آج ہی جاتے جاتے اس نے بتایا کہ در اصل ٹرانسفر پر شادی کے لئے جا رہی ہے۔‘‘

’’شادی کے لئے؟‘‘

’’ہاں دیپ، وہ اور اس کا باس شادی کر رہے ہیں۔ اس کاباس بھی اندور کا ہے اور اس سے سینئر بیچ کا ہے۔ در اصل وہ تمہاری اتنی تعریف کر رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ افسوس بھی منا رہی تھی کہ اس طرح سے۔۔۔۔‘‘

میں نے خود پر قابو پا لیا ہے۔ جانتا ہوں اب رونے دھونے سے کچھ نہیں ہونے والا۔ ماحول کو ہلکا کرنے کے لئے پوچھتا ہوں، ’’میں بھی سنوں، آخر وہ کیا کہہ رہی تھی میرے بارے میں؟‘‘

’’کہہ رہی تھی کہ اس نے اپنی زندگی میں دیپ جی جیسا ایماندار، محنتی، سیلف میڈ اور شریف آدمی نہیں دیکھا۔ ان کی زندگی میں جو بھی لڑکی آئے گی، وہ دنیا کی سب سے خوش نصیب لڑکی ہو گی۔‘‘

میں ہنسا ہوں، ’’تو اس نے دنیا کی سب سے خوش نصیب لڑکی بننے کا چانس کیوں کھو دیا؟‘‘

’’اب میں کیا بتاؤں۔ وہ خود اس بات کو لے کر بہت پریشان تھی کہ اسے اس طرح کا فیصلہ کرنا پڑ رہا ہے۔ در اصل وہ تمہیں کبھی اس روپ میں دیکھ ہی نہیں پائی کہ۔۔‘‘

’’تو اس کا مطلب دیدی، ان دونوں نے پہلے سے سب کچھ طے کر رکھا ہو گا؟‘‘

’’یہ تو اس نے نہیں بتایا کہ کیا معاملہ ہے لیکن تمہیں اس طرح سے چھوڑ کر جانے میں اسے بہت تکلیف ہو رہی تھی۔‘‘

’’اب جانے دو دیدی، میں انہیں دلاسہ دیتا ہوں، ’’آپ کو تو پتہ ہی ہے میرے ہاتھوں میں صرف سانحوں کی ہی لکیریں ہیں۔ انہیں نہ تو میں تبدیل کر سکتا ہوں اور نہ مٹا ہی سکتا ہوں۔ گولڈی پہلی اور آخری لڑکی تو نہیں ہے۔‘‘ میں ہنستا ہوں، ’’اب آپ اپنا خوبصورت، گھریلو امور میں ماہر اور قابل لڑکی کی تلاش جاری رکھ سکتی ہیں۔‘‘

دیدی آخر ہنسی ہیں، ’’وہ تو میں کروں گی ہی لیکن گولڈی کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ ادھر تیرے ساتھ اتنا تعلق اور ادھر۔۔۔‘‘

میں جانتا ہوں کہ دیدی کئی دنوں تک اس بات کو لے کر افسوس مناتی رہیں گی کہ گولڈی مجھے اس طرح سے دھوکہ دے کر چلی گئی ہے۔

گولڈی کے اس طرح اچانک چلے جانے سے میں خالی خالی سا محسوس کرنے لگا ہوں۔ ہر بار میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے کہ میرے دل کو ہر آدمی کھیل کا میدان سمجھ کر دو چار کک لگا جاتا ہے۔ جب تک تنہا تھا، اپنے آپ میں خوش تھا۔ کسی کے بھروسے تو نہیں تھا اور نہ کسی کا انتظار ہی رہتا تھا۔ گولڈی نے آ کر پہلے میری امیدیں بڑھائیں۔ اور پھر یکایک جا کر میرا تمام نظم و ضبط تہس نہس کر گئی۔ پہلے صرف تنہائی تھی، اب اس میں خالی پن بھی جڑ گیا ہے جو مجھے مارے ڈال رہا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا، اس نے میرے ساتھ جانتے بوجھتے ہوئے یہ دل لگی کیوں کی!

ایک طرح سے اچھا ہی ہوا کہ وہ مجھ سے ملے بغیر ہی چلی گئی ہے۔

گھر سے دھمکی بھرے خط آنے اب بھی بند نہیں ہوئے ہیں۔ آئے دن یا تو کوئی مطالبہ چلا آتا ہے یا وہ پریشان کرنے والی کوئی ایسی بات لکھ دیتے ہیں کہ نہ سہتے بنے نہ جواب دیتے۔ میں تو تھک گیا ہوں۔ پوری دنیا میں کوئی بھی تو اپنا نہیں ہے جو میری بات سنے، میرے حق میں کھڑا ہو اور میری تکلیفوں میں ساجھے داری کرے۔ گڈّی بیچاری اتنی چھوٹی اور بھولی ہے کہ اسے ابھی سے ان دنیاداری کی باتوں میں الجھانا اس کے ساتھ ظلم کرنے جیسا لگتا ہے۔ الکا دیدی میرے لئے اتنا کرتی ہیں اور مجھے اتنا مانتی ہیں لیکن ان کی اپنی گرہستی ہے۔ اپنے مسائل ہیں۔ انہیں بھی کب تک میں اپنے دکھڑے سنا سنا کر پریشان کرتا رہوں۔ اب تو یہی دل کرتا ہے کہ کہیں دور نکل جاؤں۔ جہاں کوئی بھی نہ ہو۔ نہ کہنے والا، نہ سننے والا، نہ کوئی بات کرنے والا ہی۔ نہ کوئی اپنا ہو گا اور نہ کوئی موہ ہی پالوں گا اور نہ بار بار دل ٹوٹے گا۔

اتنے دنوں کے شش و پنج کے بعد میں نے اب سچ مچ باہر جانے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کر دیا ہے۔ اس کے لئے مختلف چینلوں کی تلاش کرنی بھی شروع کر دی ہے کہ کہاں کہاں اور کیسے کیسے جایا جا سکتا ہے۔ جب بوسٹن یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کر رہا تھا تو کچھ ایک مقامی لوگوں کے ایڈریس وغیرہ لئے تھے۔ دو ایک فیکلٹی ممبرز سے بھی وہیں نوکری کے بارے میں ہلکی سی بات ہوئی تھی۔ اس وقت تو ساری پیشکشیں ٹھکرا کر چلا آیا تھا کہ اپنے ملک کی خدمت کروں گا، لیکن اب انہی کے ایڈریس تلاش کر وہاں کے بارے میں پوچھ رہا ہوں۔ اخبارات میں غیر ملکی نوکریوں کے اشتہارات بھی دیکھنے شروع کر دیئے ہیں۔ اگرچہ ملک چھوڑنے کے بارے میں میں فیصلہ کر ہی چکا ہوں، بیرون ملک جانے کا متمنی ہونے کے باوجود غیر ملکی نوکری کے لئے تھوڑا سا ہچکچا بھی رہا ہوں، کیونکہ آج کل غیر ملکی ملازمت کا جھانسہ دے کر سب کچھ لوٹ لینے والوں کا سیلاب سا آیا ہوا ہے اور آئے دن اس طرح کی خبروں سے اخبار بھرے رہتے ہیں۔

آفس میں کوئی بتا رہا تھا کہ آج کل بیرون ملک جانے کا سب سے محفوظ طریقہ ہے کہ وہاں رہنے والی کسی لڑکی سے ہی شادی کر لو۔ بیشک گھر داماد بننا پڑ سکتا ہے لیکن نہ ویزے کی جھنجھٹ، نہ ملازمت کی اور نہ ہی رہائش و طعام کا۔

بات اگرچہ بہت پرکشش نہیں ہے لیکن اس پر غور تو کیا ہی جا سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے اس طرح کا کوئی پروپوزل ہی کلک کر جائے۔ یہ راستہ بھی میں نے بند نہیں رکھا ہے۔ باہر بیشک نوکری مل ہی جائے گی، لیکن صرف نوکری سے اس قیدِ تنہائی سے چھٹکارا تو نہیں مل پائے گا۔ اس کے لئے نئے سرے سے جد و جہد کرنی پڑے گی۔ اس کے لئے یہاں آتے بھی رہنا پڑے گا۔ میں اسی سے بچنا چاہتا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ کوئی درمیانی راستہ مل جائے تو بہتر۔ ملازمت کے اشتہارات کے ساتھ ساتھ میں نے اب اخبارات کے اس طرح کے ضرورتِ رشتہ ٹائپ اشتہارات پربھی دھیان دینا شروع کر دیا ہے۔ آج کل اسی طرح کی خط کتابت میں الجھا رہتا ہوں۔

آخر میری محنت رنگ لائی ہے۔ شادی کیلئے ہی ایک بہت بہترین پیشکش اچانک ہی سامنے آ گئی ہے۔ اب میں اس دنیا سے بہت دور جا پاؤں گا۔ بیشک وہ میری مرضی کے مطابق دنیا نہیں ہو گی، لیکن کم از کم ایسی جگہ تو ہو گی جہاں کوئی مجھے پریشان نہیں کرے گا اور ستائے گا نہیں۔

مجھے بتایا گیا ہے کہ گوری بی اے پاس ہے اور ان کی کمپنیوں میں سے ایک کی فل ٹائم ڈائریکٹر ہے۔ یہ میری مرضی پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ داماد بن جانے کے بعد چاہے تو انہی میں سے کسی کمپنی کا سربراہ بن سکتا ہوں یا پھر کہیں اور اپنی پسند اور قابلیت کے مطابق الگ سے کام بھی دیکھ سکتا ہوں۔ ایسی کوئی بھی نوکری تلاش کرنے میں میری پوری مدد کرنے کی پیشکش کی گئی ہے۔ تمام معلومات کے بھیجنے کے درمیان اور ان کے یہاں آ کر ملنے کے بیچ، انہوں نے مہینے بھر کا بھی وقت نہیں لیا ہے۔ ٹریول ڈاکومنٹس کی تیاری میں جو وقت لگے گا وہی وقت اب میرے پاس بچا ہے۔

یہ وقت میرے لئے بہت مشکل بھرا ہوا ہے۔ میں نے اس سلسلے میں اب تک اپنے گھر میں کچھ بھی نہیں لکھا ہے۔ لکھنے کا سوال ہی نہیں ہے۔

گھر کا تو یہ حال ہے کہ وہ ہر خط کے ذریعے ایک نیا شگوفہ چھوڑ دیتے ہیں۔ میں ابھی ان کی دی ایک پریشانی سے نکل نہیں پاتا کہ وہ پریشان کرنے والی دوسری حرکت کے ساتھ دوبارہ حاضر ہو جاتے ہیں۔ آج کل وہ بلّو اور گولو کی شادیوں کی تاریخیں طے کر کے بھیجنے میں مصروف ہیں۔ ان کے سارے خطوط کے جواب میں، میں بالکل خاموش بنا ہوا ہوں۔ ان کے کسی خط کا جواب ہی نہیں دیتا۔ میں وہاں نہیں پہنچتا تو یہ تاریخ آگے کھسکا دی جاتی ہے۔

ساری تیاریاں ہو چکی ہیں۔ نوکری سے استعفیٰ دے دیا ہے اور آفس کو بتا دیا ہے، ’’جانے سے ایک دو دن پہلے تک کام پر آتا رہوں گا۔‘‘ الکا دیدی بہت اداس ہو گئی ہیں۔ آخر ان کا منہ بولا بھائی جو جا رہا ہے۔ وہ روتی ہیں، ’’کتنی مشکل سے تو تمہارے جیسا ڈائمنڈ بھائی ملا تھا، وہ بھی روٹھ کر جا رہا ہے۔‘‘

میں سمجھاتا ہوں، ’’میں آپ سے روٹھ کر تھوڑے ہی جا رہا ہوں۔ اب حالات ایسے بنا دیئے گئے ہیں میرے لئے کہ اب یہاں مزید رہ پانا ہو نہیں پائے گا۔ آپ تو دیکھ ہی رہی ہیں میرے گھر والوں کو۔ کیسے ستایا جا رہا ہے مجھے۔ کوئی دن بھی تو ایسا نہیں ہوتا، جب ان کی طرف سے کوئی ڈیمانڈ یا پریشان کرنے والی بات نہ آتی ہو۔‘‘

’’کیوں اب کیا نئی ڈیمانڈ آ گئی ہے؟‘‘

’’آپ خود ہی دیکھ لیں۔ کل کی ہی ڈاک میں آیا ہے یہ۔‘‘ یہ کہتے ہوئے میں دارجی کا تازہ خط ان کے آگے کر دیتا ہوں۔ وہ ہی تو میری ہمراز ہیں یہاں پر آج کل۔ ورنہ گھر والوں نے تو مجھے پاگل کر دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رکھی ہے۔

وہ پڑھتی ہیں۔

 

برخوردار

تیری جانب سے ہماری پچھلی تین چار چٹھیوں کا کوئی جواب نہیں آیا ہے۔ کیا مانیں ہم اسے، ہمارے لئے لاپرواہی، بے رخی یا پھر آلسی۔ تینوں ہی باتیں رشتوں میں کھٹاس پیدا کرنے والی ہیں۔ ہم یہاں روز ہی تیری ڈاک کا انتظار کرتے رہتے ہیں کہ آخر تو نے کچھ تو طے کیا ہو گا۔ ہمارے سارے پروگرام دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔

فی الحال خبر یہ ہے کہ آج کل بچھتّر یہاں آیا ہوا ہے۔ وہ سارا مکان فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ اس میں ویسے تو پانچ حصے بنے ہوئے ہیں جو ایک ساتھ ہوتے ہوئے بھی الگ مانے جا سکتے ہیں۔ وہ لوگ مکان ایک ہی پارٹی کو فروخت کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر بڑی پارٹی نہ ملی تو الگ الگ حصے بھی فروخت کر سکتے ہیں۔

تجھے تو پتہ ہی ہے کہ ان کی اور ہماری ایک دیوار آگے سے پیچھے تک سانجھی ہے۔ اس دیوار کے ساتھ ساتھ ان کا ایک ورانڈہ، رسوئی، لیٹرین اور آگے پیچھے دو کمرے بنے ہوئے ہیں۔ یہ حصہ جو گی کا ہے۔ میں نے بچھتّرے سے بات کی ہے۔ وہ اس بات پر قائل ہو گیا ہے کہ اگر ہم اس کا یہ والا حصہ لے لیتے ہیں تو وہ دوسری پارٹیوں کے ساتھ اس حصے کی بات ہی نہیں چلائے گا۔

مکان ابھی حال ہی میں بنایا گیا ہے اور اس میں کبھی کوئی رہا ہی نہیں ہے۔ ان کے پاس جیسے جیسے پیسہ آتا گیا، وہ ایک کے بعد ایک حصہ بناتے گئے تھے۔ ہم سب کا دل ہے کہ بچھتّرے سے اگر پورا مکان نہیں تو کم از کم یہ والا حصہ تیرے لئے خرید ہی لیں۔ وہ ہمارا لحاظ کرتے ہوئے اتنے بڑے حصے کا صرف دو لاکھ مانگ رہا ہے ورنہ تجھے تو پتہ ہی ہے آج کل مکانوں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ آج نہیں تو کل کو تُو یہاں رہنے کیلئے آئے گا ہی۔ اس وقت تک اسی مکان کی قیمت پانچ سات گنا بڑھ چکی ہو گی۔ جائیداد بنانے کا اس سے اچھا موقع پھر نہیں ملے گا۔ مکان بالکل تیار ہے اور اچھا بنا ہوا بھی ہے۔ میں یہ مان کر چل رہا ہوں کہ تجھے اس کی پیشکش منظور ہو گی۔ تو یقیناً ہماری پرواہ نہ کرے، پر ہمیں تو تیرا ہی خیال رہتا ہے کہ تیرا گھر بار بن جائے۔ یہی سوچ کر میں آج کل میں ہی انتظام کر کے اسے بیعانہ دے دوں گا۔ تو واپسی ڈاک سے لکھ، کب تک مکمل رقم کا انتظام کر پائے گا۔ تیرے آفس سے مکان کے لئے قرضہ تو ملتا ہی ہو گا۔

باقی ہم بیتابی سے تیرے خط کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ رقم ملتے ہی رجسٹری کروا دیں گے۔ اگر جو تجھے اپنے بوڑھے باپ پر اعتماد ہو تو یہ کام میں کروا دوں گا ورنہ تو خود آ کر یہ نیک کام کر جانا۔ اس بہانے ہم سب سے مل بھی لے گا۔ کتنا عرصہ ہو گیا ہے تجھے گئے۔ بی بے تجھے صبح شام یاد کرتی ہے۔

جواب جلدی دینا کہ کب تک رقم آ جائے گی۔

تیرا ہی

دارجی۔

 

الکا دیدی نے خط پڑھ کر لوٹا دیا ہے اور چائے بنانے چلی گئی ہیں۔ میں جانتا ہوں وہ اپنی آنکھوں کے آنسو مجھ سے چھپانے کیلئے ہی رسوئی میں گئی ہیں۔ انہیں نارمل ہونے میں کم از کم ایک گھنٹہ لگتا ہے۔ لیکن حیرت ہے، وہ رسوئی سے مسکراتی ہوئی واپس آ رہی ہیں۔ چائے کے ساتھ مٹھائی بھی ہے۔

آتے ہی مجھے چھیڑتی ہیں، ’’چلو، تیرا ایک مسئلہ تو حل ہوا۔ اب تو بنا بنایا گھر بھی مل رہا ہے۔ میری مان، تو اسی کڑی، کیا نام تھا اس کا، سنتوش کور سے شادی کر ہی لے۔ دونوں کام ایک ہی ساتھ ہی نمٹا دے۔ اس بہانے ہم دہرادون بھی دیکھ لیں گے۔‘‘

’’دیدی، یہاں میری جان پر بنی ہوئی ہے اور آپ کو مذاق سوجھ رہا ہے۔‘‘

’’سچی کہہ رہی ہوں۔ تیرے دارجی کو بھی ماننا پڑے گا۔ تیرے لئے ایک کے بعد ایک چوگا تو ایسے ڈالتے ہیں کہ پوچھو مت۔ کچھ پیسے ویسے بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تو آرام سے اس خط کو بھی ہضم کر جا۔ ان کے پاس بیعانے تک کے تو پیسے نہیں ہیں، لکھا ہے، انتظام کر کے بیعانہ دے دوں گا۔ اور دو لاکھ کا مکان خرید رہے ہیں۔ ان چکروں میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

’’آپ کی باتوں سے میری آدھی فکر دور ہو گئی ہے۔ ویسے تو میں بھی کچھ بھیجنے والا نہیں تھا، اب آپ کہنے کے بعد تو بالکل بھی اس چکر میں نہیں پھنسوں گا۔‘‘

یہاں سے جانے سے پہلے گڈّی کو آخری خط لکھ رہا ہوں

 

پیاری بہنا گڈّی،

جب تک تجھے یہ خط ملے گا میں یہاں سے بہت دور  جا چکا ہوں گا۔ میں نے بہت سوچ سمجھ کر ملک چھوڑ کر لندن جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بیشک آخری حربے کے طور پر ہی کیا ہے۔ میرے سامنے اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ ویسے میری بہت خواہش تھی کہ کم سے کم تیری تعلیم مکمل ہونے تک اور کہیں ٹھیک ٹھاک جگہ تیری ملازمت کا پکا کر کے اور تیرا اچھاسا رشتہ کرانے کے بعد ہی میں یہاں سے جاتا، لیکن میں یہ دونوں ہی کام پورے کئے بغیر بھاگ رہا ہوں۔ اسے میرا ایک اور فرار سمجھ لینا لیکن مجھ سے اب برداشت نہیں ہوتا۔ دارجی کی دھمکی بھری چٹھیاں اور بلّو کے حقارت بھرے خطوط، اب مجھ سے مزید برداشت نہیں ہوتے۔ یہ لوگ مجھے کیوں چین سے نہیں رہنے دیتے۔ میں کسی دن پاگل ہو جاؤں گا یہ سب پڑھ پڑھ کر۔ مجھے اب بھی افسوس ہوتا ہے کہ ایک بار گھر چھوڑ دینے کے بعد میں واپس کیوں لوٹا، جبکہ مجھے پتہ تھا کہ دارجی جس مٹی کے بنے ہوئے ہیں ان میں کم از کم اس زندگی میں تبدیلی کی تو کوئی امید ہی نہیں کی جا سکتی۔ افسوس تو یہی ہے کہ بلّو بھی دارجی کے نقشِ قدم پر چل رہا ہے۔ وہ بھی ابھی سے وہی زبان بولنے لگا ہے۔ تو حالات اب اتنے بگڑ گئے ہیں کہ میرے لئے اور نبھانا ہو نہیں ہو پائے گا۔ جب سے دارجی وغیرہ کو میرا پتہ ملا ہے، ہر مہینے کوئی نہ کوئی ڈیمانڈ آ جاتی ہے۔ اب تک میں ستر اسی ہزار روپے بھیج چکا ہوں اور تکلیف کی بات یہی ہے کہ میرا چھوٹا بھائی مجھے دھمکی دے جاتا ہے کہ میں اس کی شادی میں روڑے اٹکا رہا ہوں۔ میری طرف سے وہ ایک کی جگہ چار شادیاں کرے۔ مجھ سے جوبن پڑے گا میں کروں گا بھی، لیکن کم از کم طریقے سے تو پیش آئے۔ میں نے تجھے جان بوجھ کر نہیں لکھا تھا کہ جب وہ یہاں آیا تھا تو کس طرح کی زبان میں مجھ سے کیا کیا باتیں کر گیا تھا۔ مجھے لکھتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔ جب وہ جاتے وقت اسٹیشن پر مجھے اس طرح کی باتیں سنا رہا تھا تو میں نے اس سے کہا تھا، ’’تو کہے تو میں لکھ کے دے دیتا ہو کہ تو مجھ سے پہلے شادی کر لے لیکن فار گاڈ سیک، مجھے یہ مت بتا کہ کہاں زیادہ جہیز مل رہا ہے اور میں کہاں شادی کر لوں۔ تو اپنی فکر کر۔ میری رہنے دے۔‘‘ تو پتہ ہے اس نے کیا کہا۔ کہنے لگا، ’’ٹھیک ہے، آپ دارجی کو یہی بات لکھ دو۔‘‘ میں نے یہ ساری باتیں ایک خط میں لکھی تھیں لیکن وہ خط تجھے ڈالنے کی ہمت ہی نہیں جٹا پایا اور وہ خط میں نے پھاڑ دیا تھا۔

تو گڈّی، اب میں اس یک طرفہ پیسے والے پیار سے تھک چکا ہوں۔ ویسے سچ تو یہ ہے کہ میں اس خانہ بدوشوں والی زندگی سے ہی تھک چکا ہوں۔ کتنے سال ہو گئے جد و جہد کرتے ہوئے۔ اکیلے لڑتے ہوئے اور حاصل کے نام پر کچھ بھی نہیں۔ میں یہاں سے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کہیں دور نکل جانا چاہتا ہوں۔ میں ذمہ داریوں سے نہیں بھاگتا لیکن مجھے بھی تو لگے کہ میری بھی کہیں قدر ہے۔ مجھے پتہ نہیں تھا کہ مجھے گھر واپسی کی اتنی بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔ شاید میرے حصے میں گھر لکھا ہی نہیں ہے۔

ایک اور مورچے پر بھی مجھے کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس بات نے بھی مجھے اندر تک توڑ دیا ہے۔ میں تجھے یہ خبر دینے ہی والا تھا کہ ایک بہت ہی خوبصورت اور نیک لڑکی سے میرا تعارف ہوا ہے اور آگے جا کر شاید کچھ بات بنے۔ اس رشتے سے مجھے بہت ذہنی قوت ملی تھی اور میں امید کر رہا تھا کہ یہ تعارف میری زندگی میں ایک خوبصورت موڑ لے کر آئے گا، لیکن افسوس، اس رشتے کا محل بھی ریت کے گھر کی طرح ڈھے گیا اور میں ایک چھوٹے بچے کی طرح بری طرح ٹھگا گیا۔ میں حد درجے تک اکیلا اور تنہا ہوں، پہلے بھی تنہا تھا اور آج بھی ہوں۔ ایک تو ہی ہے جس سے میں اپنے دل کی بات کہہ پاتا ہوں۔ اس تنہائی اور بار بار کی ٹھوکروں کے بعد ہی سوچ سمجھ کر میں نے لندن جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ فیصلہ صحیح ہے یا غلط یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ یوں سمجھ لے کہ میں نے خود کو حالات پر چھوڑ دیا ہے۔ جو بھی پہلا موقعہ سامنے آیا ہے، اس کے لئے ہاں کر دی ہے۔

لندن کا کوئی ہانڈا خاندان ہے۔ وہ لوگ پچھلے دنوں یہاں آئے ہوئے تھے۔ وہاں ان کی کئی کمپنیاں ہیں، شاید بیس پچیس۔ ان کی لڑکی ہے گوری۔ وہ بھی آئی ہوئی تھی۔ لڑکی ٹھیک ٹھاک لگی۔ اسی سے میری شادی طے ہوئی ہے۔ شادی کی کوئی شرائط نہیں ہیں۔ میں چاہوں تو اپنا کوئی کام کاج تلاش سکتا ہوں یا چاہوں تو ان کی کسی کمپنی میں بھی اپنی پسند کی نوکری دیکھ سکتا ہوں۔ سب کچھ مجھ پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ٹریول فارمیلٹیز مکمل ہوتے ہی نکل جاؤں گا۔ گوری کی ایک تصویر بھیج رہا ہوں۔

میں جانتا ہوں کہ یہ میری وعدہ خلافی ہے اور میں اپنے وعدے پورے کئے بغیر تجھے اس حالت میں چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ مجھے پتہ ہے تیری لڑائی بہت مشکل ہے۔ جب میں ہی نہیں لڑ پایا ان سے، پھر تُو تو لڑکی ہے۔ میں سوچ سوچ کر پریشان ہوں کہ تو اپنی لڑائی اکیلے کس بل بوتے پر لڑے گی۔ لیکن ایک بات یاد رکھنا، ہم سب کو کبھی نہ کبھی، کہیں نہ کہیں زندگی کی اس مہابھارت میں، اپنے حصے کی لڑائی لڑنی ہوتی ہے۔ یہ مہابھارت بہت ہی عجیب ہوتی ہے۔ اس مہابھارت میں ہر جنگجو کو اپنی لڑائی خود ہی طے کرنی اور لڑنی پڑتی ہے۔ یہاں نہ تو کوئی کرشن ہوتا ہے نہ ارجن۔ ہمیں اپنے ہتھیار بھی خود منتخب کرنے پڑتے ہیں اور اپنی حکمت عملی بھی خود ہی طے کرنی پڑتی ہے۔ کئی بار ہار جیت بھی کوئی معنی نہیں رکھتی کیونکہ یہ تو لامتناہی جنگ ہے جو ہمیں ہر روز صبح اٹھتے ہی لڑنی ہوتی ہے۔ کبھی خود سے، کبھی سامنے والے سے تو کبھی اپنوں سے تو کبھی غیروں سے۔ تجھے بھی آئندہ سے اپنی ساری لڑائیاں خود ہی لڑنی ہوں گی۔ کئی بار یہ جنگ خود سے بھی لڑنی پڑتی ہے۔ سب سے مشکل ہوتی ہے یہ جنگ۔ لیکن اگر ایک بار آپ اپنے اندر کے دشمن سے جیت گئے تو آگے کی ساری لڑائیاں آسان ہو جاتی ہیں۔ تُو سمجھدار ہے اور نہ تُوخود کے خلاف شاید ہی کوئی نا انصافی ہونے دے گی۔ پہلے تجھے اپنی کمزوریوں کے خلاف، اپنے غلط فیصلوں کے خلاف اور اپنے خلاف ہونے والے غلط فیصلوں کے خلاف لڑنا سیکھنا ہو گا۔ طے کر لے کہ نہ غلط فیصلے خود لے گی اور نہ کسی کو غلط فیصلے خود پر مسلط کرنے دے گی۔ تو تو خود نظمیں لکھتی ہے اور تیری نظموں میں بھی تو بہتر زندگی کی خواہش ہی ہوتی ہے۔ کر سکے گی نہ یہ کام اپنی بہتری کے لئے۔ خود کو بچائے رکھنے کے لئے؟

تو گڈّی، میں تجھے زندگی کے اس میدانِ جنگ میں لڑنے کے لئے تنہا چھوڑے جا رہا ہوں۔ میں اپنی جنگ درمیان میں ہی چھوڑے جا رہا ہوں۔ مجھے بھی اپنوں سے لڑنا تھا اور تجھے بھی اپنوں سے ہی لڑنا ہے۔ میں تیسری بار میدان چھوڑ کر بھاگ رہا ہوں۔ لڑنا آتا ہے مجھے بھی لیکن اب مجھ سے نہیں ہو گا۔ بس یہی سمجھ لو۔ میں خود کو شکست خوردہ مان کر میدان چھوڑ رہا ہوں۔ یا کہہ لو لڑنے سے ہی انکار کر رہا ہوں۔

میرے پاس تقریباً تین لاکھ روپے ہیں۔ اس میں سے دو ڈھائی تیرے لئے چھوڑے جا رہا ہوں۔ سائن کئے ہوئے پانچ کورے چیک ساتھ میں بھیج رہا ہوں۔ جب بھی تیری شادی طے ہو یا تجھے تعلیم کے لئے ضرورت ہو، اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے نکلوا لینا۔۔۔ ان پیسوں کے بارے میں کسی کو بھی نہ تو بتانے کی ضرورت ہے اور نہ انہیں کسی کے ساتھ شیئر کرنے کی۔ کسی بھی حالت میں نہیں۔ یہ صرف تیرا حصہ ہے۔۔۔ ایک بے گھر بار بڑے بھائی کی جانب سے چھوٹی بہن کو گھر کی خواہش کے ساتھ ایک چھوٹی سی سوغات۔

اپنی کتابیں وغیرہ ضرورت مند طلبا کے درمیان بانٹ دی ہیں۔ تھوڑے سے کپڑے اور دوسرا سامان ہے، وہ بھی ضرورت مندوں کو دے جاؤں گا۔ یہاں سے میں اپنے ضرورت بھر کے کپڑے اور تیرا بنایا سویٹر ہی ساتھ لے کر جاؤں گا۔ وہی تو تیری یاد ہو گی میرے پاس۔ نندو کو میرے بارے میں بتا دینا۔ لندن پہنچتے ہی نیا پتہ بھیج دوں گا۔ اب دارجی وغیرہ کو کچھ بھی بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں خود ہی خط لکھ کر بتا دوں گا۔

من پر کسی طرح کا بوجھ مت رکھنا اور اپنی تعلیم میں دل لگانا۔

افسوس!! اپنے ویر کی شادی میں ناچنے گانے کی کی تیری حسرت پوری نہیں ہو پائے گی۔ ویسے بھی اپنی شادی میں، میں لڑکے والوں کی طرف سے اکیلا ہی تو ہوں گا۔ تو اس خط میں اتنا ہی۔۔۔۔۔

تیرا ویر،

دیپ

 

ساری تیاریاں ہو گئی ہیں۔ سامان سے بھی نجات پا لی ہے۔ کشیدگی سے بھی۔ بیشک ایک دوسرے قسم کا، غیر یقینی صورتحال کا ہلکا سا دباؤ ہے۔ پتہ نہیں، آگے والی دنیا کیسی ملے۔ جو کچھ پیچھے چھوٹ رہا ہے، اچھا بھی، برا بھی، اس سے اب کسی بھی طرح کا موہ محسوس کرنے کا مطلب نہیں ہے۔ پورے ہوش و حواس میں سب کچھ چھوڑ رہا ہوں۔ لیکن جو کچھ حاصل کیا جا رہا ہوں، وہ کیسے اور کتنا ملے گا، یا ملے گا بھی یا نہیں، اسی کا ہلکاسا خدشہ ہے۔ امید بھی اور وعدہ بھی۔ ویسے تو اتنا کچھ سہہ چکا ہوں کہ کچھ نہ ملے تو بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

آج کی آخری ڈاک میں دارجی کا خط ہے۔ خط کھولنے کی ہمت نہیں ہو رہی۔ پھر کوئی مطالبہ کیا ہو گا یا مجھے کسی نہ کسی چکر میں پھانسنے کا ان کا کوئی پرکشش منصوبہ۔ سوچتا ہوں اب جاتے جاتے میں ان کے لئے کیا کر سکتا ہوں۔ خط ایک طرف رکھ دیتا ہوں۔ بعد میں دیکھوں گا۔

ایئر پورٹ کے لئے نکلنے سے پہلے خط اٹھا کر جیب میں ڈال لیا تھا۔ الکا اور دویندر ساتھ آئے تھے۔ میں سیکورٹی ایریا میں جا رہا ہوں اور وہ دونوں آنکھوں میں آنسو بھرے مجھے رخصت کر کے واپس گئے ہیں۔ میں نے آج تک کسی بھی خاندان سے اتنا پیار نہیں پایا، جتنا ان دونوں نے دیا ہے۔ دونوں خوش رہیں۔

ان سے وعدہ کرتا ہوں کہ انہیں خط لکھتا رہوں گا۔

جیب میں کچھ سخت محسوس ہوتا ہے۔ دیکھتا ہوں دارجی کا ہی خط ہے۔ کھول کر دیکھتا ہوں۔

 

برخوردار،

جیتے رہو۔

ایک بار پھر تیرے وجہ مجھے اس بچھتّرے کے آگے نیچا دیکھنا پڑا۔ وہ تو بھلا آدمی ہے اس لیے بیعانے کے پیسے لوٹا دیے ہیں ورنہ۔۔۔ اب تیرے ہاتھوں یہ بھی لکھا تھا ہماری قسمت میں۔ اچھا خاصا گھر مٹی کے مول مل رہا تھا، تیرے وجہ سے ہاتھ سے نکل گیا۔ باقی خبر یہ ہے کہ بلّو کے لئے ایک ٹھیک ٹھاک گھر مل گیا ہے۔ امید تو یہی ہے کہ بات سرے چڑھ جائے گی۔ باقی رب راکھا۔ سوچتے تو یہی ہیں کہ کڑمائی اور لاواں پھیرے ایک ہی ساتھ ہی کر لیں۔ پتہ نہیں اب کیسے نبھے گا۔ تیری بی بے چاہتی ہے کہ تو اب بھی آ جائے تو تیرے لئے بھی کوئی اچھی سی کڑی ویکھ کر دونوں بھراؤں کی بارات ایک ساتھ نکالیں۔ اگر تجھے منظور ہو تو تار سے خبر کر اور فوری طور پر آ۔ باقی اگر تو نے کنوارا ہی رہنے کا من بنا لیا ہو تو کم از کم بڑے بھائی کا فرض نبھانے آ جا۔ ہم لڑکی والوں کو کہنے کے قابل تو ہو سکیں کہ ہمارے گھر میں کوئی بڑا افسر ہے اور ہم کسی قسم کی کمی نہیں رہنے دیں گے۔ باقی تو خود سمجھدار ہے۔۔

خط ملتے ہی اپنے آنے کی خبر دینا۔

بی بے نے آسیس کہی ہے۔

تمہارا

دارجی۔

 

تو یہ ہے اصلیت۔ خط لکھنا تو کوئی دارجی سے سیکھے۔ انہوں نے روپے پیسے کو لے کر ایک بھی لفظ نہیں لکھا ہے، لیکن پورے کا پورا خط ہی جیسے آوازیں مار رہا ہے، ’’تیرے چھوٹے بھائی کی شادی ہے اور تو گھر کی حالت دیکھتے ہوئے بھی مدد نہیں کرے گا تو تجھے بڑا کون کہے گا۔‘‘

سوری دارجی اورسوری بلّو جی۔۔۔ اب واقعی دیر ہو چکی ہے۔ اس وقت میں ہوائی اڈے کے لاؤنج میں بیٹھا آپ کا خط پڑھ رہا ہوں۔ اب میں بینک، چیک یا ڈرافٹ کی حدود سے باہر  جا چکا ہوں۔ رات کے بارہ بجے ہیں۔ سارے بینک بند ہو چکے ہیں۔ بینک کھلے بھی ہوتے تو بھی اس میں رکھے سارے پیسے کسی اور کے نام ہو چکے ہیں۔ ویسے دارجی، آپ نے جہیز کے لین دین کی بات تو پکی کر ہی رکھی ہو گی۔ میں مدد نہ بھی کروں تو چلے گا۔ ویسے بھی صرف ایک گھنٹے بعد میری پرواز ہے اور میں چاہ کر بھی نہ تو اپنے چھوٹے بھائی کی شادی میں شامل ہو پاؤں گا اور نہ ہی آپ لوگوں کو ہی اسی مہینے لندن میں ہونے والی اپنی شادی میں بلا پاؤں گا۔

فلائٹ کا وقت ہو چکا ہے۔ سیکورٹی چیک ہو چکا ہے اور بورڈنگ کارڈ ہاتھ میں لئے میں لاؤنج میں بیٹھا ہوں۔

تو!! الوداع میرے پیارے ملک ہندوستان۔ تم نے بہت کچھ دیا مجھے میرے پیارے دیس! بس، ایک گھر ہی نہیں دیا۔ گھر نام کے دو حروف کیلئے مجھے کتنا رلایا ہے۔۔ کیا کیا نہیں دکھایا ہے مجھے۔۔۔ ہر بار میرے لئے ہی گھر چھلاوہ کیوں بنا رہا۔ میں ایک جگہ سے دوسری جگہ بھٹکتا رہا۔ تلاش کرتا رہا کہاں ہے میرا گھر!! جو ملا، وہ گھر کیوں نہیں رہا میرے لئے!! آخر میں غلط کہاں تھا اور میرا حصہ مجھے کیوں نہیں ملا اب تک۔ اب جا رہا ہوں دوسرے ملک میں۔ شاید وہاں ایک گھر ملے مجھے!! میری راہ دیکھتا گھر۔ میری چاہت کا گھر۔ میرے سپنوں کا ایک سیدھا سادہ سا گھر۔ چار دیواری کے اندر گھر جہاں میں شام کو واپس سکوں۔ گھر جو میرا ہو، ہمارا ہو۔ کوئی ہو اس گھر میں جو میری راہ دیکھے۔ میرے سکھ دکھ کا ساجھے دار بنے اور اپنے پن کا احساس کرائے۔ جہاں لوٹنا مجھے اچھا لگے نہ کہ مجبوری۔

سوری گڈّی، تمہیں دیئے قول پورے نہیں کر پایا۔ تم میں ہمت جگا کر میں ہی کمزور نکل گیا۔ اب اپنا خیال تمہیں خود ہی رکھنا ہے۔ بی بے میں تمہیں کبھی سکھ نہیں دے سکا۔ ہمیشہ دکھ ہی تو دیا ہے۔ باقی تیرے نصیب بی بے۔ دیکھ نہ تیرے دو دو لڑکوں کی شادیاں ہو رہی ہیں، لیکن بڑا لڑکا چھوٹے کی شادی میں نہیں ہو گا اور بڑے کی شادی میں تو خیر، آپ کو بلایا ہی نہیں جا رہا ہے۔

میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔ میں نے ایسا گھر تو نہیں چاہا تھا بی بے۔۔۔

میں گھڑی دیکھتا ہوں۔ جہاز میں چڑھنے کا اعلان ہو چکا ہے۔

تبھی اچانک سامنے بنے ایس ٹی ڈی بوتھ کی طرف میری نگاہ پڑتی ہے۔ سوچتا ہوں، جاتے جاتے بڑے بھائی کا نام نہاد فرض بھی ادا کر دیا جائے۔ میں تیزی ایس ٹی ڈی بوتھ کی طرف بڑھتا ہوں۔ نندو کا نمبر ملاتا ہوں۔

گھنٹی جا رہی ہے۔ آدھی رات کو آدمی کو اٹھنے میں اتنی دیر تو لگتی ہی ہے۔

لائن پر نندو ہی ہے۔

’’نندو سن، میں دیپو بول رہا ہوں۔‘‘

’’بولو بھائی، اس وقت!! خیریت تو ہے۔‘‘ وہ مکمل طور جاگ گیا ہے۔

’’تو میری بات سن پوری۔ میرے پاس وقت کم ہے، میں صرف پانچ سات منٹ میں ہی لندن چلا جاؤں گا۔ گڈّی تجھے پوری بات بتا دے گی۔ آج ہی دارجی کا خط آیا ہے، بلّو کی شادی کر رہے ہیں وہ۔ میں یہاں سارے اکاؤنٹ بند کر چکا ہوں اور میرے پاس پیسے تو ہیں لیکن وقت نہیں ہے۔ میں نے گڈّی کے پاس کچھ کورے چیک بھیجے ہیں۔ یہ پیسے میں نے گڈّی کی پڑھائی اور شادی کے لئے الگ سے رکھے تھے۔ وہ یہ چیک تیرے پاس رکھوانے آئے گی۔ تو اس میں سے ایک چیک پر پچاس ہزار کی رقم لکھ کر پیسے نکلوا لینا اور دارجی کو دے دینا۔ کرے گا نہ میرا یہ کام۔۔؟ اس کے لئے بعد میں اور بھیج دوں گا۔‘‘

’’تو فکر مت کر۔ تیرا کام ہو جائے گا۔ اگر گڈّی چیک نہیں بھی لائے گی تو بھی دارجی تک رقم پہنچ جائے گی۔ اور کوئی کام بول۔۔؟‘‘

’’بس، رکھتا ہوں فون۔ فلائٹ کے لئے ٹائم ہو چکا ہے۔‘‘

’’اوے کے گڈ لک، ویرا، اپنا خیال رکھنا۔‘‘

’’اوے کے نندو۔ خط لکھوں گا۔‘‘

میں فون رکھتا ہوں اور جہاز کی طرف لپکتا ہوں۔

تو۔۔۔ میں۔۔ آخر دیس چھوڑ کر پردیس میں آ ہی پہنچا ہوں۔ کب چاہا تھا میں نے۔ مجھے اس طرح اور ان وجوہات سے گھر اور اپنا دیس چھوڑنا پڑے۔ گھر تو میرا کبھی رہا ہی نہیں۔ دو دو بار گھر چھوٹا۔ گولڈی زندگی میں تازہ جھونکے کی طرح آ کر جو تن من بھگو گئی تھی اس سے بھی لگنے لگا تھا، زندگی میں اب سکھ کے لمحے بس آنے ہی والے ہیں، لیکن وہ سب بھی چھلاوہ ہی ثابت ہوا۔

اب میرے سامنے ایک نیا ملک ہے، نئے لوگ اور ایکدم نیا ماحول ہے۔ ایک نئی طرح کی زندگی کا آغاز ایک طرح سے ہو ہی چکا ہے۔ زندگی کو نئے معنی مل رہے ہیں۔ اتنے برس تک نظرانداز اور اکیلے رہنے کے بعد ساری دنیا بھری پوری اور اپنے پن سے شرابور لگ رہی ہے۔ شادی کے پہلے دن سے مسلسل دعوتوں کا سلسلہ چل رہا ہے۔ گوری بہت خوش ہے۔ جیسے جیسے ہم دونوں ایک دوسرے کے نزدیک آ رہے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں، ہمیں ایک دوسرے کو اچھی طرح سے سمجھنے کا موقع مل رہا ہے۔ وہ میرے ڈراؤنے ماضی کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتی۔ اسے جاننا بھی نہیں چاہیے۔ میں نے اسے اپنے گھر خاندان کے بارے میں بہت کم باتیں ہی بتائی ہیں۔ صرف گڈّی کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ کس طرح سے پڑھنا چاہتی ہے اور نظمیں لکھتی ہے۔ میں نے گوری کو جب گڈّی کا بنایا سویٹر دکھایا تو اس نے فوری طور پر ہی وہ سویٹر مجھ سے ہتھیا لیا اور اٹھلاتی ہوئی بولی تھی، ’’ہائے، کتنا نرم اور شاندار بنایا ہے سویٹر۔ اب یہ میرا ہو گیا۔ تم اسے میری طرف سے لکھ دینا کہ تمہیں ایک اور بنا کر بھیج دے۔ جب لیٹر لکھنا تو میری طرف سے خوب تھینکس لکھ دینا اور میری طرف سے یہ گفٹ بھی بھیج دینا۔ اور اس نے اپنی الماری سے گڈّی کے لئے ایک شاندار گفٹ نکال کر دے دیا تھا۔

مجھے گڈّی پر فخر ہونے لگا تھا کہ اس کی بنائی چیز کس طرح سے گوری نے پیار سے اپنے لئے رکھ لی ہے۔

گڈّی کے علاوہ گوری اور کسی کے نام وغیرہ بھی نہیں جانتی۔ ویسے میں نے اس کے چچا اور کزن کو بھی تو صرف یہی بتایا تھا کہ میں بمبئی میں اکیلا ہی رہتا ہوں اور جب انہوں نے میرے ماں باپ سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تھی تو میں نے انہیں یہی بتایا تھا کہ اپنی زندگی کے سارے فیصلے مجھے خود ہی کرنے ہیں۔ میں نے انہیں نہ تو اپنے تنازعات کے بارے میں بتایا تھا، نہ گوری کو ہی اپنے تنازعات کی ہوا لگنے دی تھی۔

گوری کو دنیا داری کی باتوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ آج کل تو ویسے بھی اس کی زندگی کے بس دو چار ہی مقصد رہ گئے ہیں۔ خوب کھانا، سونا اور بھرپور سیکس۔ ان کے علاوہ اسے نہ کچھ سوجھتا ہے اور نہ ہی وہ کچھ سوچنا ہی چاہتی ہے۔ وہ اندر باہر کی ساری پیاس ایک ساتھ ہی بجھا لینا چاہتی ہے۔ ذرا سا بھی موقع ملتے ہی وہ بیڈ روم کے دروازے بند کر لینے کی فراق میں رہتی ہے۔ کئی بار مجھے برا بھی لگتا ہے، لیکن ویسے بھی ہمارے پاس کرنے دھرنے کو کچھ بھی کام نہیں ہے۔ دعوتیں کھانا اور سیکس بھوگنا۔ ویسے میرے ساتھ دوسرا ہی مسئلہ ہے۔ زندگی میں کبھی بھی کسی کے بھی ساتھ اتنا وقت ایک ساتھ نہیں گزارا۔ تنہائی کے اتنے لمبے لمبے عرصے گزارے ہیں کہ اب کئی بار مسلسل گوری کے ساتھ ساتھ رہنے سے دل گھبرانے بھی لگتا ہے۔ آج کل تو یہ حالت ہو گئی ہے کہ ہم باتھ روم جانے کے علاوہ دن رات مسلسل ساتھ ساتھ ہی رہتے ہیں۔

لگتا ہے، سونے کے معاملے میں ہم دونوں کو ہی اپنی عادات بدلنی ہوں گی یا اسے بتا دینا پڑے گا کہ ہم بیشک ایک ساتھ سوئیں، لیکن گلے سے لپٹے لپٹے سونے سے میرا دم گھٹتا ہے۔ اگرچہ ہنی مون پر ہم اگلے ہفتے ہی جا پائیں گے لیکن اس دوران ہمیں جتنے دن بھی ملے ہیں، ہم دونوں ہی جی بھی کر انجوائے کر رہے ہیں۔ ہنی مون کے لئے بچا ہی کیا ہے؟

اتنے دنوں سے گڈّی کو بھی خط لکھنا باقی ہے۔ ویسے آج میرے پاس تھوڑا وقت ہے۔ گوری اپنی شاپنگ کے لئے گئی ہوئی ہے۔ گڈّی کو خط ہی لکھ لیا جائے۔

 

پیاری بہنا،

گڈّی

تو میں آخر لندن پہنچ ہی گیا۔ پچھلی بیس تاریخ کو جب میں یہاں کے ہیتھرو ہوائی اڈے پر اترا تو ہانڈا خاندان کے بہت سے لوگ مجھے لینے آئے ہوئے تھے۔ ان میں سے میں صرف دو ہی لوگوں کو پہچانتا تھا۔ ایک گوری کے چاچا چمن ہانڈا کو اور دوسرے گوری کے کزن راجکمار ہانڈا کو۔ یہ لوگ ہی مجھے بمبئی میں ملے تھے اور ان سے ہی ساری باتیں ہوئی تھیں۔ مجھے ایئرپورٹ سے براہ راست ہی ہانڈا کمپنیز کے گیسٹ ہاؤس میں لے جایا گیا۔ وہیں مجھے ٹھہرایا گیا تھا۔

شام کو گوری ملنے آئی تھی۔ کچھ دیر حال چال پوچھے، کافی پی اور چلی گئی۔ جاتے جاتے اپنا فون نمبر دے گئی تھی، اس نے کہا، ’’فون کروں گی اور آپ کو ضرورت پڑے تو آپ بھی فون کر لیں۔‘‘ میرے لئے وہ لوگ ڈرائیور سمیت گاڑی چھوڑ گئے تھے۔

خیر، دو چار دن میری خوب خدمتیں ہوئیں۔ سب سے ملوایا گیا۔ ہانڈا خاندان کے سربراہ سے بھی ملوایا گیا۔ وہ گوری کے تاؤ جی ہیں۔ سب سے پہلے وہ ہی پچاس سال پہلے یہاں آئے تھے اور آہستہ آہستہ اپنی جائیداد کھڑی کی۔ ان پچاس سالوں میں کچھ نہیں تو اپنے کم سے کم سو آدمی تو لندن لے ہی آئے ہوں گے۔ اپنے آپ میں بے حد دلچسپ آدمی ہیں۔ گوری نے اپنے پاپا سے بھی ملوایا اور ممی سے بھی۔ یہاں انڈین امیروں کی ایک بستی ہے، کارپنیڈرس پارک۔ وہیں میری سسرال کی خوبصورت بلڈنگ ہے۔ ویسے سب کے الگ اپارٹمنٹس ہیں۔

تو۔۔۔۔ میری بھی شادی ہو گئی۔ ہماری شادی۔۔ میری اور گوری کی۔۔۔ بلّو کی شادی کے آگے پیچھے۔ اب بلّو کو یہ شکایت نہیں رہی ہو گی کہ میں نے اس کے راستے میں روڑے اٹکا رکھے ہیں۔ ہماری شادی دو طرح سے ہوئی۔ پہلے کورٹ میں، رجسٹرار آف میرجز کے آفس میں اور بعد میں پوری برادری کے سامنے آریہ سماجی طریقے سے۔ اپنی شادی میں لڑکے والوں کی طرف سے میں اکیلا ہی رہا۔ میں ہی دولہا، میں ہی باراتی، شہ بالا اور میں ہی بینڈ ماسٹر۔ ہنسی آ رہی تھی مجھے اپنی اس سنگل میں بارات دیکھ کر۔

مجھے سسر صاحب نے نئی لیکسس کار کی چابی دی اور گوری کو فرنشڈ اپارٹمنٹ کی چابی۔ یہ کار یہاں کی بہت شاندار کار مانی جاتی ہے۔ جب میں نے ان سے کہا کہ مجھے گاڑی چلانی تو آتی ہی نہیں ہے تو انہوں نے گوری کا ہاتھ میرے ہاتھ میں تھما دیا اور بولے، ’’اے لو جی ڈرائیور بھی لو۔ ٹرمس خود طے کر لینا۔‘‘

ہنی مون کے لئے ہمیں اگلے ہفتے پیرس جانا ہے لیکن میرے انڈین ٹورسٹ پاسپورٹ پر ویزا ملنے میں تھوڑی دقت آ رہی ہے۔ امید تو یہی ہے کہ جا پائیں گے۔ اگر نہیں بھی جا پائے تو بھی پرواہ نہیں۔ یہیں اتنا گھومنا پھرنا اور موج مستی ہو رہی ہیں کہ ہم دونوں ہی مسلسل ساتویں آسمان رہ رہے ہیں۔ روز دعوتیں کھا رہے ہیں۔

ایک نئی زندگی کا آغاز ہوا ہے۔

گوری بہت خوش ہے اس شادی سے اور مجھ سے ایک لمحے کے لئے الگ نہیں ہونا چاہتی۔ اکثر تیرے بارے میں پوچھتی رہتی ہے۔ شادی کی اور لندن کی کچھ تصویریں بھیج رہے ہیں۔ تیرے لئے شادی کا ایک چھوٹا سا تحفہ میری طرف سے اور ایک گوری کی طرف سے۔ تیرا بنایا سویٹر گوری نے مجھ سے چھین لیا تھا اور فوری طور پر ہی پہن بھی لیا تھا۔ اب تجھے میرے لئے ایک اور خرگوش نما سویٹر بنانا پڑے گا۔ بنا کر بھیجے گی نا۔

اپنا خیال رکھنا۔۔

دارجی اور بی بے کو میری ست سری اکال اور گولو اور بلّو سے پیار۔ میری چھوٹی بھابھی کے لئے بھی ایک تحفہ میری طرف سے۔ بی بے کی طبیعت نئی بہو کے آنے سے سنبھل گئی ہو گی۔

پتہ دے رہا ہوں۔ اپنی خبر دینا۔

تیرا ویر

دیپ

 

الکا دیدی اور نندو کو بھی کو اسی طرح کے خط لکھتا ہوں۔ شادی کی کچھ تصویریں اور لندن کے کچھ پوسٹ کارڈ بھی بھیجتا ہوں۔ دیدی کو خط لکھتے وقت پتہ نہیں کیوں بار بار گولڈی کا خیال آ رہا ہے۔ اچھی لڑکی تھی۔ اگر مجھ سے کہتی، ’’میں شادی کرنے جا رہی ہوں۔ ذرا میری شاپنگ کرا دو، شادی کا جوڑا دلوا دو تو میں انکار تھوڑے ہی کرتا۔ ہمیشہ کی طرح اسے شاپنگ کرتا۔‘‘ ایک خط اپنے پرانے آفس کو بھی لکھتا ہوں تاکہ وہ میرے بقایا پیسوں کا حساب کتاب کر دیں۔

گوری میرے لئے کریڈٹ کارڈ کا فارم لائی ہے۔ میں نے انکار کر دیا ہے، ’’مجھے کیا کرنا کریڈٹ کارڈ!‘‘

’’کیوں پیرس جائیں گے تو ضرورت پڑے گی۔ ویسے بھی یہاں لندن میں کوئی بھی کسی بھی کام کیلئے کیش لے کر نہیں چلتا۔ دن میں دس طرح کے پیمنٹ کرنی پڑتی ہیں۔‘‘

’’دیکھو گوری، میں کیا کروں گا یہ کارڈ لے کر۔ نہ مجھے کوئی شاپنگ کرنی ہے، نہ کوئی پیمنٹ ہی کرنی ہوں گی۔ تم ہو نہ میرے ساتھ۔ تم ہی کرتی رہنا سب پیمنٹ۔‘‘

’’سمجھا کرو دیپ، تمہیں صرف خرچ کرنا ہے۔ تمہیں کریڈٹ کارڈ پیمنٹ کیلئے کون کہہ رہا ہے۔‘‘

’’فی الحال رہنے دو، بعد میں دیکھیں گے۔‘‘

’’جیسی تمہاری مرضی۔‘‘

ہنی مون اچھا رہا۔ شاندار رہنا سہنا اور شاندار گھومنا پھرنا۔ سب کچھ خوبصورت طریقے سے۔ سارے انتظامات پہلے ہی کر لیے گئے تھے۔ چلتے وقت سسر صاحب نے مجھے ایک بھاری سا لفافہ پکڑایا تھا۔

جب میں نے پوچھا کہ کیا ہے اس میں تو وہ ہنستے تھے، ’’بھئی، آپ اپنا تو کر لیں گے، لیکن ڈرائیور کے لئے تو خرچہ پانی چاہیے ہی ہو گا نا۔۔ تھوڑی بہت کرنسی ہے۔ گوری بتا رہی تھی کہ آپ نے کریڈٹ کارڈ کیلئے انکار کر دیا ہے۔ یہاں اس کے بغیر چلتا نہیں ہے، ویسے آپ کی مرضی۔‘‘

وہ لفافہ میں نے ان کے سامنے ہی گوری کو تھما دیا تھا، ’’ہماری تو پیکیج ڈیل ہے۔ جتنا خرچ ہو وہ کرے اور باقی جو بچے وہ ٹپ۔‘‘

گوری کھلکھلائی تھی، ’’پاپا، آپ نے تو کمال کا داماد ڈھونڈا ہے۔ یہاں تو اتنی ٹپ مل جایا کرے گی کہ کچھ اور کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔‘‘

میں ہنس دیا ہوں، ’’ہمارے ساتھ رہو گی تو یوں ہی عیش کرو گی۔‘‘

پیرس اچھا لگا۔ ہم دونوں ہی تو ساتویں آسمان پر تھے۔ گوری نے خوب شاپنگ کی۔ اپنے لئے بھی اور میرے لئے بھی۔ ویسے بھی پیسے تو اس کے پاس ہی رکھے تھے۔ میں چاہتا بھی تو کچھ نہیں خرید سکتا تھا۔ انڈیا سے جو تھوڑی بہت رقم لایا تھا، اس سے تو گوری کی ایک دن کی شاپنگ بھی نہیں ہو پاتی۔ اس لیے میں اپنی گانٹھ ڈھیلی کرنے کی حالت میں نہیں تھا۔ البتہ گوری کے لئے ایک آدھ چیز ضرور خرید لی تاکہ اسے بھی نہ لگے کہ کیسے کنگلے کے ساتھ آئی ہے۔

ہم نئے گھر میں ساری چیزیں اہتمام سے سجا رہے ہیں۔ گوری یہ دیکھ کر دنگ ہے کہ میں نہ صرف رسوئی کے ہر طرح کا انتظام سنبھال سکتا ہوں بلکہ گھر بھر کے تمام کام کر سکتا ہوں۔ اور کر بھی رہا ہوں۔

پوچھ رہی ہے، ’’آپ نے یہ سب زنانیوں والے کام کب سیکھے ہوں گے۔ آپ کی پڑھائی کو دیکھ کر لگتا تو نہیں کہ ان سب کے لئے وقت مل پاتا ہو گا۔‘‘

’’صرف زنانیوں والے کام ہی نہیں، میں تو ہر طرح کے کام جانتا ہوں۔ دیکھ تو رہی ہی ہو، کر ہی رہا ہوں۔ کوئی بھی کام سیکھنے کی خواہش ہو تو ایک ہی بار میں سیکھا جا سکتا ہے۔ اسے بار بار سیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بس، شوق رہا اور ساری چیزیں اپنے آپ آ گئیں۔‘‘

’’تھینکس دیپ، اچھا لگا یہ جان کر کہ آپ چیزوں کے بارے میں اتنے کھلے پن سے سوچتے ہیں۔ میرے لئے تو اور بھی اچھا ہے۔ میں تو منٹینس اور ریپئرنگ کے چکر میں پڑنے کے بجائے چیزیں پھینک دینا آسان سمجھتی ہوں۔ اب آپ گھر بھر کی بگڑی چیزیں ٹھیک کرتے رہنا۔‘‘

مجموعی طور پر اچھا لگ رہا ہے گھر کا سجانا۔ اپنا گھر سجانا۔ بیشک یہاں کا سارا سامان الگ الگ ہانڈا کمپنیز یا اسٹورز ہی سے آیا ہے، لیکن اب سے ہے تو ہمارا ہی اور ان ساری چیزوں کو ایک ترتیب دینے میں بھی ہم دونوں کو خوشی مل رہی ہے۔ ویسے کافی چیزیں اس دوران ہم نے خریدی بھی ہیں۔

ہم دونوں میں بیچ بیچ میں بحث ہو جاتی ہے کہ کون سی چیز کہاں رکھی جائے۔ آخر ایک دوسرے کا مشورہ مانتے ہوئے اور صلاح دیتے ہوئے گھر سیٹ ہو ہی گیا ہے۔

اتنے دنوں سے آرام کی زندگی گزارتے ہوئے، تفریح کرتے ہوئے مجھے بھی لگ رہا ہے کہ میرے تمام دکھ درد اب ختم ہو گئے ہیں۔ اب مجھے میرا گھر مل گیا ہے۔

سسر صاحب کی جانب سے بلاوا آیا ہے۔ ویسے تو ہر دوسرے تیسرے دن وہاں جانا ہو ہی جاتا ہے یا فون پر ہی بات ہو جاتی ہے لیکن ہر بار گوری ساتھ ہوتی ہے۔ اس بار مجھے اکیلے ہی بلایا گیا ہے۔ پتہ نہیں کیا بات ہو گئی ہو۔ شاید میرے مستقبل کے بارے میں ہی کوئی بات کہنا چاہتے ہوں۔ ویسے بھی اب مزہ اور آرام کافی ہو لئے۔ کچھ کام دھام کا سلسلہ بھی شروع ہونا چاہیے۔ آخر کب تک گھر داماد بن کر سسرال کی روٹیاں توڑتا رہوں گا۔

وہاں پہنچا ہوں تو میرے سسر اور ان کے بڑے بھائی ہانڈا گروپ کے سربراہ، دونوں ہی بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں باری باری دونوں کو عزت سے جھک کر پرنام کرتا ہوں۔ یہاں لندن میں بھی اس خاندان نے کئی ہندوستانی رسوم اپنا رکھی ہیں۔ یہاں چھوٹے بڑے تمام بزرگوں کے پاؤں چھو کر ہی پرنام کرتے ہیں۔ کوئی بھی اونچی آواز میں بات نہیں کرتا۔ ایک بات اور بھی دیکھی ہے میں نے یہاں پر کہ ہانڈا گروپ کے سربراہ ہوں یا اور کوئی بزرگ، کسی کی بھی بات کاٹی نہیں جاتی۔ وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں، وہی حکم ہوتا ہے۔ انکار کی گنجائش نہیں ہوتی۔ ایک دن گوری نے بتایا تھا کہ بیشک پاپا یا تاؤجی کسی کے بھی کام میں دخل نہیں دیتے اور نہ ہی روز روز سب سے ملتے ہی ہیں، لیکن پھر بھی اتنے بڑے ایمپائر میں کہاں کیا ہو رہا ہے انہیں سب کی خبریں ملتی رہتی ہیں۔

’’گھومنا پھرنا کیسا رہا ا!‘‘

’’بہت اچھا لگا۔ کافی گھومے۔‘‘

’’کیسا لگ رہا ہے ہمارے خاندان کے ساتھ جڑنا؟‘‘

’’در اصل میں یہاں پہنچنے تک کچھ بھی ویزیولائز نہیں کر پا رہا تھا کہ یہاں آ کر زندگی کیسی ہو گی۔ ایکدم نیا ملک، نئے لوگ اور بالکل انجان خاندان میں رشتہ جوڑنا، لیکن یہاں آ کر میرے شکوک ایکدم دور ہو گئے ہیں۔ بہت اچھا لگ رہا ہے۔‘‘

’’اور آپ کی ڈرائیور کے کیا حال ہیں، سسر صاحب نے چھیڑا ہے، ’’اس سے کوئی ٹرمس طے ہیں یا بیچاری مفت میں ہی تمہاری گاڑی چلا رہی ہے۔‘‘

’’گوری بہت اچھی ہے لیکن اب کام دھندے کا کچھ سلسلہ بیٹھے تو ٹرمس بھی طے کر ہی لیں گے۔‘‘

’’ہم نے اسی لئے بلایا ہے آپ کو۔ ویسے آپ نے خود کام کاج کے بارے میں کیا سوچا ہے؟‘‘ وہ خود ہی مدعے کی بات پر آ گئے ہیں۔

’’جیسا آپ کہیں۔ میں خود بھی سوچ رہا تھا کہ آپ سے کہوں کہ گھومنا پھرنا بہت ہو گیا ہے اور پارٹیاں بھی بہت کھا لیں۔ آپ کی اجازت ہو تو میں کسی اپنی پسند کے کسی کام۔۔۔۔۔‘‘ میں نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑ دی ہے۔

’’دیکھو بیٹے، ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ تم اپنی لیاقت، تجربے اور پسند کے حساب سے کام کرو۔ ہم تمہاری پوری مدد کریں گے۔ لیکن دو ایک باتیں ہیں جو ہم کلیئر کر لیں۔‘‘

’’جی۔۔۔۔‘‘

’’پہلی بات تو یہ کہ ابھی تم سیاحتی ویزے پر آئے ہو۔ یہاں کام کرنے کے لئے آپ کو ورک پرمٹ کی ضرورت پڑے گی جو کہ تمہیں سیاحتی ویزے پر ملے گا نہیں۔‘‘

’’آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ میں نے اس بارے میں تو سوچا ہی نہیں تھا۔‘‘

میں نے واقعی اس بارے میں نہیں سوچا تھا کہ مجھے اپنی پسند کا کام منتخب کرنے میں اس طرح کی تکلیف بھی آ سکتی ہے۔

’’لیکن پتر جی ہمیں تو ساری باتوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے نا جی۔۔۔‘‘

’’آپ صحیح کہہ رہے ہیں۔ لیکن پھر میرا۔۔۔‘‘

’’اس کی فکر آپ نہ کریں۔ اسی لئے آپ کو بلایا تھا کہ پہلے آپ کی رائے لے لیں، تبھی فیصلہ کریں۔‘‘

’’جی حکم کیجئے۔۔۔‘‘ میری سانسیں تیز ہو گئی ہیں۔

’’ایسا ہے کہ اس وقت لندن میں ہانڈا گروپ کی کوئی تیس چالیس فرمیں ہیں۔ پٹرول پمپس ہیں۔ ڈپارٹمنٹ اسٹورز اور بھی طرح طرح کے کام کاج ہیں۔‘‘

’’جی۔۔ گوری نے بتایا تھا اور کچھ جگہ تو وہ مجھے لے کر بھی گئی تھی۔‘‘

’’ہاں، یہ تو بہت اچھا کیا گوری نے کہ تمہیں سب جگہ گھما پھرا دیا ہے۔ آپ کو اپنی فلورسٹ شاپ میں بھی لے گئی تھی یا نہیں؟‘‘

’’اس بارے میں تو اس نے کوئی بات ہی نہیں ہے۔‘‘

’’یہی تو اس کی خاصیت ہے۔ ویسے آپ کو بتا دیں کہ ہیرو آن دی ہل پر اس کی فلورسٹ شاپ، لندن کی گنی چنی دکانیں میں سے ایک ہے۔ پیلس اور ڈاؤننگ اسٹریٹ کے لئے جانے والے گلدستے وغیرہ اسی کے اسٹال سے جاتے ہیں۔‘‘

’’لیکن اتنے دنوں میں تو اس نے ایک بار بھی نہیں بتایا کہ وہ کوئی کام بھی کرتی ہے۔‘‘

’’کمال ہے، اس نے تمہیں ہوا بھی نہیں لگنے دی۔ آج کل اس کا کام اس کی ہی ایک کزن نیہا دیکھ رہی ہے۔ دو ایک دن میں گوری بھی کام پر جانا شروع کر دے گی۔ ہاں تو، ہم نے سوچا ہے کہ اپنا سب سے بڑا اور سب سے مشہور ڈپارٹمنٹ اسٹور ’’دی بزی کارنر‘‘ نام کی شاپ تمہارے نام کر دیں۔ یہ اسٹورز ویمبلے ہائیا سٹریٹ پر ہے۔ گوری لے جائے گی تمہیں وہاں۔ تمہیں پسند آئے گا۔ کافی نام اور کام ہے اس کا۔ ویسے ہم اس نئی امیج دینا چاہ رہے ہیں۔ کام بہت ہے اس کا اور نام بھی ہے لیکن ذرا پرانے اسٹائل کا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ تم اسے اپنی مینجمنٹ میں لے لو اور جیسے چاہے سنبھالو۔ کیا خیال ہے؟‘‘

’’جیسا آپ کے حکم۔‘‘ میں نے کہہ تو دیا ہے لیکن میں فیصلہ نہیں کر پا رہا ہوں کہ اپنی ان ڈگریوں اور کام کاج کے تجربے کے ساتھ میں ڈپارٹمنٹ اسٹورز میں بھلا کیا کر پاؤں گا۔ لیکن ان لوگوں کے سامنے انکار کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ گوری نے پہلے ہی اشارہ کر دیا تھا، ’’کسی بھی طرح کی بحث میں مت الجھنا۔ جو کچھ کہنا سننا ہے، وہ خود بعد میں دیکھ لے گی۔‘‘

’’ویسے ہمارے اور بھی کئی پلانز ہیں۔ ہم کچھ نئے ایریاز میں تبدیلی کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں، ویسے تمہیں کبھی بھی کسی قسم کی تکلیف نہیں ہو گی۔‘‘

’’جانتا ہوں جی، آپ لوگوں کے ہوتے ہوئے۔‘‘

’’ویسے ساری چیزیں آپ کو آہستہ آہستہ پتہ چل ہی جائیں گی۔ آپ ہمارے خاندان کے نئے ممبر ہیں۔ خوب پڑھے لکھے اور روشن خیال آدمی ہیں۔ ہمیں یقین ہے آپ خوب ترقی کریں گے اور آپ کا ہمارے خاندان سے جڑنا ہمیں اور آپ، دونوں کو راس آئے گا۔ یو آر این ایسٹ ٹو ہانڈا ایمپائر۔ گاڈ بلیس یو۔ ہمارے اس پروپوزل کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘

’’جی درست ہے۔ میں کل ہی وہاں جانا شروع کر دوں گا۔‘‘ میں چاہوں تو بھی اب مخالفت نہیں کر سکتا۔ سیاحتی ویزے پر آنے پر اور گھر داماد بننے کی کچھ تو قیمت ادا کرنی ہی پڑے گی۔

’’کوئی جلدی نہیں ہے۔ وہاں اور لوگ تو ہیں ہی۔ جب جی چاہے جاؤ، آؤ، اور آرام سے ساری چیزوں کو سمجھو، جو مرضی آئے چینج کرو وہاں اور اسے اپنی پرسنیلٹی کی مہر لگا دو۔ او کے!!‘‘

’’جی تھینکس۔ گڈ نائٹ۔‘‘ اور میں دونوں کو ایک بار پھر پیری پونا کر کے باہر آ گیا ہوں۔

گھر آتے ہی گوری نے گھیر لیا ہے، ’’کیا کیا باتیں ہوئیں اور کیا دیا گیا ہے آپ کو۔‘‘

میں نڈھال پڑ گیا ہوں۔ سمجھ میں نہیں آ رہا، کیسے بتاؤں کہ اب آگے سے میری زندگی کیا ہونے جا رہا ہے۔ انڈیا میں بنیادی تحقیق کے سب سے بڑے مرکز کا سینئر سائینٹسٹ ڈاکٹر گگن دیپ بینس، اب لندن میں اپنی سسرال کے ڈپارٹمنٹ اسٹورز میں انڈر ویئر اور برا بیچنے کا کام کرے گا۔ کہاں تو سوچ رہا تھا، یہاں ریسرچ کے بہتر مواقع ملیں گے اور کہاں۔۔۔۔ مجھے ورک پرمٹ کا ذرا سا بھی خیال ہوتا تو شاید یہ پروپوزل مانتا ہی نہیں۔

میرا خراب موڈ دیکھ کر، گوری ڈر گئی ہے۔ بار بار میرا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے کر میرے ہاتھ پکڑ کر پوچھ رہی ہے، ’’آخر اتنے ٹینس کیوں ہو۔ تمہیں میری قسم۔ سچ بتاؤ، کیا بات ہوئی۔‘‘

میں اس کی آنکھوں میں جھانکتا ہوں، وہاں مجھے پیار کا ایک وسیع سمندر ٹھاٹھیں مارتا دکھائی دے رہا ہے۔ وہ میرے ماتھے پر ایک گہرا بوسہ رقم کرتی ہے اور ایک بار پھر کہتی ہے۔ ’’خود کو اکیلا مت سمجھو، ڈیئر۔ بتاؤ، کس بات سے اتنے پریشان ہو!!‘‘

میں بتاتا ہوں۔ اپنے خوابوں کی بات اور اپنے کیریئر کی بات اور ان ساری چیزوں کے سامنے اس کے پاپا کے پروپوزل۔

پوچھتا ہوں اسی سے، ’’کیا مجھے یہی سب کرنا پڑے گا، میں تو سوچ کر آیا تھا کہ۔۔۔۔۔‘‘

وہ ہنسنے لگی ہے۔ یہاں میری جان پر بنی ہوئی ہے اور یہ پاگلوں کی طرح ہنس رہی ہے، ’’ریلیکس ڈیئر، جب گھر میں ہی بہت سے شاندار کام ہیں تو باہر کسی اور کی غلامی کرنے کی کیا ضرورت۔ ویسے بھی ورک پرمٹ کے بغیر آپ گھروں کے باہر اخبار ڈالنے کا کام بھی پتہ نہیں کر پائیں گے یا نہیں۔ آپ ہانڈا گروپ کے فیملی ممبر ہیں۔ ہزاروں میں سے چن کر لائے گئے ہیں اور آپ کو لندن کے سب سے بڑے اسٹورزکا کام کاج سنبھالنے کے لئے دیا جا رہا ہے۔ ہمارے خاندان کے کتنے ہی لڑکوں کی نگاہ اس پر تھی۔ بلکہ میں من ہی من چاہ رہی تھی کہ تمہیں دی بزی کارنر ہی ملے۔ کہیں گیس اسٹیشن وغیرہ دے دیتے تو مصیبت ہوتی۔ یو آر لکی ڈیئر۔ چلو، اسے سیلے بریٹ کرتے ہیں۔ کینڈل لائٹ ڈنر میری طرف سے۔‘‘

اتنا سن کر بھی میرا حوصلہ واپس نہیں آیا ہے۔ وہ چیئر اپ کرتی ہے، ’’آپ جا کر اپنا کام دیکھیں تو سہی۔ وہاں بہت اسکوپ ہے۔ آپ خود ہی تو بتا رہے تھے کہ آپ کی نگاہ میں کوئی بھی کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا۔ آپ چھوٹے سے چھوٹے کام کو بھی پوری لگن اور محنت سے شاندار طریقے سے کر سکتے ہیں۔ اس میں مکمل سیٹس فیکشن حاصل کر سکتے ہیں۔ پھر بھی وہاں اگر آپ کا دل نہ لگے تو آپ اپنی پسند کا کوئی بھی کام شروع کر سکتے ہیں۔ بس، میری پوزیشن کا بھی خیال رکھنا۔‘‘

اس کا مطلب اب میرے پاس اس پروپوزل کو ماننے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ چلو یہی سہی، جب چمگادڑ کی مہمان نوازی قبول کی ہے تو الٹا تو لٹکنا ہی پڑے گا۔

ہم پہلے گوری کے اسٹال پر گئے ہیں۔ سارا عملے اسے اور مجھے شادی کی وِش کر رہا ہے۔ بہت سے لوگ تو آئے بھی تھے استقبالیہ میں۔ اب وہ ان سب سے میرا تعارف کرا رہی ہے۔ عملے کی جانب سے ہمیں ایک خوبصورت گلدستہ دیا گیا ہے۔ واقعی بہت اچھی شاپ ہے اس کی۔ وہاں کافی پی کر گوری مجھے دی بزی کارنر میں لے کر آئی ہے۔ منیجر سے تعارف کرایا ہے۔ منیجر ساؤتھ انڈین ہے۔ اس نے بہت ہی تعظیم سے ہمارا خیر مقدم کیا ہے اور پورے عملے سے ملوایا ہے۔ اسٹور میں سب جگہ گھمایا ہے۔ سارے سیکشنز میں لے کر جا رہا ہے اور ساری چیزوں کے بارے میں بوریت کی حد تک بتا رہا ہے۔

گوری مسلسل میرے ساتھ ہے اور میرے ساتھ ہی ساری چیزیں سمجھ رہی ہے۔ کہیں کہیں کچھ پوچھ بھی لیتی ہے منیجر سے۔ اکاؤنٹس اور انوینٹری میں ہم نے سب سے زیادہ وقت گزارا ہے۔ منیجر ہمیں اپنے کیبن میں لے کر گیا ہے۔ کیبن کیا ہے، ذرا سی جگہ کو شیشے کی دیواروں سے کور کر دیا گیا ہے۔ وہیں تین شارٹ سرکٹ ٹی وی لگے ہیں جو باری باری پورے اسٹورمیں مختلف لوکیشنوں کی سرگرمیاں دکھا رہے ہیں۔

منیجر ان ساری چیزوں کے بارے میں بوریت کی حد تک تفصیل سے بات کر رہا ہے۔

میں نے اور کچھ بھی پوچھنا مناسب نہیں سمجھا ہے۔ میں سب کچھ دیکھ سمجھ رہا ہوں۔ کل سے تو مجھے یہیں آنا ہی ہے۔ ابھی تو پتہ نہیں کتنے دن لگیں اس طریقہ کار کو سمجھنے میں۔

آج اسٹورز میں دوسرا ہی دن ہے۔ میں اکیلا ہی پہنچا ہوں۔ گوری نے بھی آج ہی سے اپنا کام شروع کیا ہے۔ وہ صبح سویرے ہی نکل گئی تھی۔ میرے جاگنے سے پہلے وہ تیار بھی ہو چکی تھی اور اگر میں اٹھ کر اس کے لئے چائے نہ بناتا تو بغیر ملے اور بغیر ایک کپ چائے پئے ہی وہ چلی جاتی۔ تب میں نے ہی اٹھ کر اس کے لئے چائے بنائی اور اسے ایک میٹھی کس کے ساتھ رخصت کیا۔

آج منیجر نے مجھے ساری چیزیں دوبارہ سمجھانی شروع کر دی ہیں۔ وہ آخر اتنی ڈیٹیلز میں کیوں جا رہا ہے۔ سب کچھ تو میں پہلے دن سمجھ ہی چکا ہوں۔ اور پھر ایسی بھی کیا جلدی ہے کہ سب کچھ ایک ساتھ ہی سمجھ لیا جائے۔ میں حیران ہوں کہ یہ ساری رسم کس لئے دہرائی جا رہی ہیں۔ وہ بھی جس طریقے سے ہر معمولی سے معمولی چیز کے بارے میں بتا رہا ہے، مجھے عجیب لگ رہا ہے لیکن میں اسے ٹوک بھی نہیں پا رہا ہوں۔ سارا دن اسی کے ساتھ ماتھا پیٹتے گزر گیا ہے۔

دن بڑا ہی تھکان بھرا رہا۔ دنیا بھر کی چیزوں کی انونٹریز دکھا ڈالی ہیں منیجر نے۔ ویسے بھی دماغ بھنایا ہوا ہے۔ دن بھر گاہکوں کی بھیڑ اور حساب کتاب دیکھنے، سمجھنے اور رکھنے کا جھنجھٹ۔ اس قسم کے کام کا نہ تو تجربہ ہے اور نہ ہی ذہنی تیاری ہی۔ گوری درمیان درمیان میں فون کرتی رہی ہے۔ چار بجے کے قریب وہ آئی، تبھی منیجر نام کے پسو سے چھٹکارا مل سکا ہے۔

آج دو ماہ ہو گئے ہیں مجھے اسٹور سنبھالے۔ لندن آئے تقریباً تین ماہ۔ میں ہی جانتا ہوں کہ دو مہینوں کا یہ بعد والا عرصہ میرے لئے کتنا بھاری گزرا ہے۔ ایک ایک لمحہ جیسے آگ پر بیٹھ کر گزارا ہو میں نے۔ اسٹور میں جانے کے اگلے ہفتے ہی اس منیجر کو اسٹور سے نکال دیا گیا تھا۔ وہ اسی لیے جلد بازی میں دکھائی دے رہا تھا۔ اب میں ہی اس کا نیا منیجر تھا۔

میں اس نئی حیثیت سے پریشان ہو گیا ہوں۔ یہ کیا مذاق ہے۔ میں نے اس کے گھر میں شادی کی ہے اور اس شادی کا منیجری سے کیا مطلب؟ گوری کے پاپا نے تو یہ کہا تھا کہ یہ اسٹورز میرے حوالے کر رہے ہیں۔ اگر یہی بات ہی تھی تو منیجر کو نکالنے کا کیا مطلب؟ اگر وہ منیجر کی تنخواہ ہی بچانا چاہتے تھے تو مجھ سے صاف صاف کہہ دیا ہوتا کہ ہمیں داماد نہیں دو ڈھائی ہزار پاؤنڈ والا منیجر چاہیے۔ میں تبھی طے کر لیتا کہ مجھے آنا بھی ہے یا نہیں۔ یہاں کی نوکری کرنا تو بہت دور کی بات تھی۔ مجھے ورک پرمٹ کا خیال نہیں تھا یا پتہ ہی نہیں تھا لیکن انہیں تو پتہ تھا کہ یہاں میں آؤں یا اور کوئی داماد آئے، یہ مسئلہ تو آنے ہی والا ہے۔ اس کا مطلب ان لوگوں نے اچھی طرح سے سوچ سمجھ کر یہ جال بنا ہوا ہے۔ اب دقت یہ ہے کہ کہیں سنوائی بھی تو نہیں ہے۔ آہستہ آہستہ مجھے ساری چیزیں سمجھ میں آنے لگی تھیں۔ سارا چکر ہی ان ساری دوکانوں کے لئے قابل اعتماد اور ایک طرح سے بغیر پیسے کے اسٹاف جمع کرنے کا ہی تھا۔ میں نے پوری اسٹڈی کی ہے اور میرا ڈر صحیح نکلا ہے۔

مجھ سے پہلے چار لڑکیوں کے لئے داماد اسی طرح سے لائے گئے ہیں۔ پانچواں میں ہوں۔ ان کے تمام داماد ہائیلی کوالیفائیڈ ہیں۔ پانچوں کی شادیاں اسی طرح سے کی گئی ہیں۔ نہ لڑکیاں گھر سے باہر گئی ہیں اور نہ بزنس ہی۔ سب سے بڑی شلپا کی شادی ششر سے ہوئی ہے۔ ششر ایم بی اے ہے اور چار گیس اسٹیشن دیکھ رہا ہے۔ سچیتا کے شوہر سوشانت کے پاس سارے پب اور ریستوران ہیں۔ وہ کیمیکل انجینئر ہے۔ دونوں مل کر سنبھالتے یہ سارے ٹھیے۔ نیلم کا آرکیٹیکٹ شوہر دیویش بک شاپ میں ہے اورسندھیا کا ایم کام شوہر رجنیش سینٹرل اسٹورز سنبھالتا ہے اور سارے اسٹورز کیلئے اور سارے گھروں کے لئے سپلائی دیکھتا ہے۔ البتہ گھر کے سارے مرد اور لڑکے ان کمپنیوں کے یا تو اکیلے آنر ہیں یا جوائینٹلی سارا کام کاج سنبھالتے ہیں۔ ان کے پاس بہتر پوزیشن والی ایسی انٹرنیشنل کمپنیاں ہیں، جن میں خوب گھومنا پھرنا اور کونٹکٹس ہیں۔ ویسے تو ان لڑکیوں کی پوزیشن بھی ان کی پڑھائی کے حساب سے ہے، لیکن دامادوں کی حالت منیجروں یا اس کے آس پاس والی ہے۔ جہاں لڑکی داماد ایک ساتھ ہیں بھی، وہاں بیوی ہی سربراہ ہے اور اس کے شوہر کی پوزیشن دوئم درجے کی ہی ہے۔ ہاں، بہو والے معاملے میں بھی یہی دوہرے معیار اپنائے گئے ہیں۔ بہویں بھی عام طور پر انڈین ہی ہیں اور ان کے ذمے الگ الگ ٹھیے ہیں۔

ہم سب داماد ہندوستانی اخبارات کے ذریعے گھیرے گئے ہیں۔ پتہ نہیں پورے خاندان میں کتنی لڑکیاں مزید باقی ہیں اور کتنے داماد ابھی اور امپورٹ کئے جانے ہیں۔

اب مجھے گوری کے فلورسٹ اسٹال پر بیٹھنے کی بھی وجہ سمجھ میں آ گئی ہے۔ وجہ بہت سیدھی سادی ہے۔ اسے وہاں بہت کم دیر کیلئے بیٹھنا پڑتا ہے اور باقی وقت وہ فلمیں دیکھتے ہوئے اور کامکس پڑھتے ہوئے گزارتی ہے۔ کئی بار وہ نہیں بھی جاتی اور اسٹاف ہی سارا کام دیکھتا رہتا ہے۔ وہ اکثر اپنی کزنز کی دکانیں پر چلی جاتی ہے۔

اب میرے سامنے اس اسٹورز میں منیجری سنبھالنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ غلطی میری ہی تھی۔ میں ہی تو بھاگا بھاگا اتنے لالچ دیکھ کر کھنچا چلا آیا ہوں۔ یہ تو مجھے ہی دیکھنا چاہیے تھا کہ بغیر ورک پرمٹ کے میری اوقات یہاں سڑک پر کھڑے مزدور جتنی بھی نہیں۔

لیکن یہاں کوئی بھی تو نہیں ہے جس سے میں یہ باتیں کہہ سکوں۔ ہانڈا گروپ سے تو پہلی ملاقات میں ہی لال سگنل مل گیا تھا کہ نو ڈسکشن ایٹ آل۔ اب کہوں بھی تو کس سے؟ میرے پاس گھٹ گھٹ کر جینے کڑھنے کے علاوہ اور ہے ہی کیا ہے؟

جب منیجر کو نکالا گیا تھا تو میں نے گوری سے اس بارے میں بات کی تھی، ’’تمہیں نہیں لگتا گوری، اس طرح سے اسٹورز کے منیجر کو نکال کر اس کی جگہ مجھے دے دینا، اینی ہاؤ، میں پتہ نہیں کیوں اسے قبول نہیں کر پا رہا ہوں۔‘‘

’’دیکھو دیپ، جو آدمی وہاں کام دیکھ رہا تھا، در اصل عارضی ارینج منٹ تھا۔ پہلے وہاں میرا کزن دیویش کام دیکھتا تھا۔ اس وقت وہاں کوئی منیجر نہیں تھا۔ ویسے بھی ہمارے زیادہ تر کاموں میں منیجرز نہیں ہیں۔‘‘

اس نے میرا ہاتھ دباتے ہوئے کہا ہے، ’’بھلا ہم تمہیں منیجر کی برابری پر کیسے رکھ سکتے ہیں۔‘‘

بیشک گوری نے اپنی جانب سے مجھے بہلانے کے لئے یہ ساری باتیں کہی ہیں، لیکن اصلیت وہی ہے جو میرے سامنے ہے۔ منیجر کا جانا اور میرا آنا، اس میں تو مجھے پونڈ بچانے کے علاوہ اور کوئی دلیل نظر نہیں آتی۔

اس دوران میں نے قریب سے ساری چیزیں دیکھی بھالی ہیں اور سارے سسٹم کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ یہاں، گھر اسٹورز میں، فیملی معاملات میں، بزنس میں، میرے اسٹورز میں ہر چیز کے لئے سسٹم بنا ہوا ہے۔ یہی لندن کی مخصوص ہے۔ کہیں کوئی چوک نہیں۔ کوئی سسٹم فیلیئر نہیں۔ جب منیجر کے جانے کے بعد والے مہینے میں ہانڈا گروپ کے کارپوریٹ آفس سے عملے کی سیلری کا اسٹیٹمنٹ آیا تھا تو میں نے دیکھا، پچھلی بار کے مقابلے میں منیجر کی سیلری کے اکاؤنٹ میں پورے ڈھائی ہزار پونڈ مہینے کے بچا لئے گئے ہیں۔ اب سارا کھیل میری سمجھ میں آ گیا ہے۔ مفت کا، بھروسے کا منیجر، گھر داماد کا گھر داماد۔ نہ گھر چھوڑ کر جائے اور نہ دکان۔ اب گوری کے سارے دلائل کی بھی پول کھل گئی ہے۔

میں مکمل طور گھر چکا ہوں۔ اپنے گھر کا خواب ایک بار پھر مجھے فریب دے گیا ہے۔ میرے ہاتھ خالی ہیں اور پورے ملک میں، میں کسی کو نہیں جانتا۔ یہاں تو گھر میں کسی اور سے کچھ بھی کہنے کا نہ حق ہے، نہ مطلب۔ یہ تو مجھے پہلے ہی دن بتا دیا گیا تھا کہ مجھے جو کچھ کہنا ہے گوری کے ذریعے ہی کہنا ہے۔ البتہ سسٹم، خاندان یا پرسنل لائف کے بارے میں کچھ بھی کہنے کی ممانعت ہے۔ گوری سے بات کرو تو اس کے بہلانے کے اپنے طریقے ہیں، ’’کیوں ٹینشن لیتے ہو ڈیئر۔ تمہیں کس بات کی فکر؟ کس بات کی تکلیف ہے تمہیں؟‘‘

ان ساری ذہنی مشکلات کے باوجود میں نے ایک فیصلہ کیا ہے کہ جو کام مجھے سونپا گیا ہے، وہ میں کر کے دکھاؤں گا۔ گوری نے جو میری ہی بات کا طعنہ مارا تھا کہ میرے لئے کوئی بھی کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہے تو سچ مچ ایسا ہی ہے۔ میں ایک بار تو یہ بھی کر کے دکھا ہی دیتا ہوں کہ میں اسٹورز بھی سنبھال سکتا ہوں اور اس پر بھی اپنی چھاپ چھوڑ سکتا ہوں۔ اس میں ایسا کیا ہے جو ایک معمولی اور کم پڑھا لکھا مدراسی سنبھال سکتا ہے اور میں نہیں سنبھال سکتے۔ بلکہ مجھے تو اس بات کے پورے حقوق بھی دے دیئے گئے ہیں کہ میں جیسا چاہوں اسے بنا سنوار سکوں۔

میں نے دیکھ لیا ہے کہ میرے سامنے کیا کام ہے اور اس کیسے کرنا ہے۔ میں نے اسٹورز کی لک، اس کی سروس، اس ڈیزائیننگ اور اس کے اوور آل امیج کو بہتر بنانے کے لئے ساری چیزوں کی اسٹڈی کی ہے۔ اس پورے پروجیکٹ کے لئے میں نے تین ماہ کا وقت طے کیا ہے اور اپنی رپورٹ میں یہ بھی ذکر کر دیا ہے کہ اس دوران کچھ سیکشنز کو منتقل کرنا پڑ سکتا ہے یا ایک آدھ ہفتے کے لئے بند بھی کرنا پڑ سکتا ہے لیکن کل ملا کر روزانہ کے کام کاج پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

گوری نے جب رپورٹ دیکھی ہے تو وہ دنگ رہ گئی ہے کہ میں اتنے سسٹم سے کام کرتا ہوں، ’’آپ تو یار، چھپے رستم نکلے۔ ہمارے یہاں آج تک کسی نے بھی اتنی دلچسپی سے کسی کام کو لے کر رپورٹ تیار نہیں کی ہو گی۔‘‘

میں گوری کو بتاتا ہوں، ’’یہ تمہارے ہی اکسانے کی نتیجہ ہے کہ میں یہ پروجیکٹ کر رہا ہوں۔‘‘

کل ملا کر گوری بہت خوش ہے کہ اس کے ہسبینڈ نے ہانڈا ایمپائر کے لئے کچھ نیا سوچا ہے۔ رپورٹ ہاتھوں ہاتھ ایپروو کر دی گئی ہے اور پورے کام کا ایجنسی کو کانٹریکٹ دے دیا گیا ہے۔

اس طرح سے میں نے خود کو اسٹورز کو بہتر بنانے کے لئے مصروف کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ میں نے جب دیکھا کہ یہاں جتنے کمپیوٹرز تھے، وہ پرانے تھے اور ان میں جو پروگرام تھے وہ اسٹورز کی ضرورت جیسے تیسے پوری کر رہے تھے۔

اسٹورز کے رینوویشن کا کام مکمل ہو گیا ہے۔ ابھی نئے روپ میں اسٹورز کی شکل ہی بدل گئی ہے اور اس کی امیج بھی ایک طرح سے نئی ہو گئی ہے۔ اگرچہ ان سب میں خرچ ہوا ہے اور محنت بھی لگی ہے، لیکن ریزلٹ سامنے ہیں۔

***