FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

 

دیس بِرانا

 

 

 

سورج پرکاش

ہندی سے ترجمہ عامر صدیقی

 

 

حصہ دوم

 

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

 

 

باب چہارم

 

 

ہانڈا گروپ کے سربراہ تک یہ باتیں پہنچ گئی ہیں۔ ایک دن وہ خود آئے تھے اور ساری چیزیں خود دیکھی بھالی تھیں۔ ان کے ساتھ راجکمار، ششر اور سوشانت بھی تھے۔ سب نے بہت تعریف کی تھی۔ مسٹر ہانڈا بولے تھے، ’’مجھے یہ تو معلوم تھا کہ یہاں کام کرنے کی ضرورت ہے لیکن تم آتے ہی اتنی تیزی سے اور اتنی عمدگی سے یہ سب کر دو گے، ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ وی آر پراؤڈ آف یو مائی سن۔ گاڈ بلیس یو۔ یو ہیو ڈن اے گریٹ جاب۔‘‘ انہوں نے وہیں کھڑے کھڑے راجکمار سے کہہ دیا ہے کہ لین اور دوسرے سارے پیکج تمام جگہوں کیلئے ڈیولپ کر لیے جائیں۔ ضرورت پڑے تو دیپ جی کو اس کام کے لئے مکمل طور فری کر دیا جائے۔‘‘

رینوویشن پراجیکٹ مکمل ہوتے ہی ساری مشکلات ختم ہو گئی ہیں۔ اسٹورز کا سارا کام اسٹریم لائن ہو جانے سے اب سپرویجن کا کام نہیں کے برابر رہ گیا ہے۔ اب میں مکمل طور فری ہو جانے کی وجہ سے پھر اکیلا ہو گیا ہوں۔ پھر سے سارے زخم ہرے ہو گئے ہیں اور ایک کامیاب پروجیکٹ کی ان ساری کامیابیوں کے باوجود میں اپنے آپ کو دوبارہ لٹا  پٹا اور تنہا پا رہا ہوں۔

سارے خدشات میں گھرا ہی ہوا ہوں کہ ایک ساتھ تین خطوط آئے ہیں۔ اس امید میں ایک ایک کر کے تینوں خط کھولتا ہوں کہ شاید ان میں سے ہی کسی میں کوئی سکون بھری بات لکھی ہو، لیکن تینوں ہی خطوط میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔

پہلا خط گڈّی کا ہے۔

 

ویر  جی،

آپ کا پیارا سا خط، آپ کی ننھی سی پیاری سی دلہن کے فوٹوگرافس اور خوبصورت تحفے ملے۔ اس سے پہلے بمبئی سے بھیجا آپ کا آخری خط بھی مل گیا تھا۔ میں بتا نہیں سکتی کہ میں کتنی خوش ہوں۔ آخر آپ کو اپنا گھر نصیب ہوا۔ بیشک سات سمندر پار ہی سہی۔ میری خوشی تو آپ کا گھر بس جانے میں ہے۔

پہلے بلّو کی شادی کی خبریں۔ میں نے کسی کو بھی نہیں بتایا تھا کہ آپ اس طرح سے لندن جا رہے ہیں، بلکہ  جا چکے ہیں۔ میں آپ کی تکلیف سمجھ رہی تھی لیکن کاش۔۔ میں آپ کی کسی بھی خوشی کے لئے کچھ بھی کر پاتی تو۔۔ مجھے بعد میں بتا چلا تھا کہ دارجی نے آپ کو ایک اور خط لکھا ہے۔ وہی آپ کو منانے کی ان کی ترکیبیں اور آپ سے پیسے نکالنے کے پرانے ہتھکنڈے۔ میں رب سے دعا کر رہی تھی کہ وہ خط آپ کو ملے ہی نہیں اور آپ ایک اور زحمت سے بچ جائیں۔ لیکن آپ کے جانے کے اگلے دن ہی نندو ویر جی نے مجھے بلوایا اور چیک کے بارے میں پوچھا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں یہ لفافہ لے کر آپ کے پاس آنے ہی والی تھی۔ تب انہوں نے ایئر پورٹ سے آپ کے فون اور دارجی کے خط کے بارے میں بتایا۔ میں سارے چیک انہیں دے آئی تھی۔

ادھر دارجی کی حالت خراب ہو رہی تھی اور وہ روز ڈاکیے کی راہ دیکھ رہے تھے۔ ایک آدھ بار شاید نندو کے پاس بھی چکر لگا آئے کہ شاید اس کے پاس کوئی فون آیا ہو۔ اگر آپ کا ڈرافٹ نہ آتا تو ان کی حالت خراب ہو جانے والی تھی۔ تبھی نندو ویر جی جیسے ان کے لئے فرشتے کی طرح نازل ہوئے اور پچاس ہزار کے کڑکڑاتے نوٹ ان کے ہاتھ پر دھر دیئے۔ ساتھ میں ایک چٹپٹی کہانی بھی پروس دی۔۔ آپ کا دیپو اب بمبئی میں نہیں ہے۔ ایک بہت بڑی نوکری کے سلسلے میں راتوں رات اسے لندن چلے جانا پڑا۔ وہاں جاتے ہی اسے آپ کا خط ری ڈائریکٹ ہو کر ملا اور وہ بڑی مشکل سے کمپنی سے ایڈوانس لے کر یہ پیسے میرے بینک کے ذریعے بھجوا پایا ہے تاکہ آپ کا کام نہ رکے۔ بلکہ کل آدھی رات ہی لندن سے اس کا فون آیا تھا۔ بہت جلدی میں تھا۔ کہہ رہا تھا دارجی اور بی بے کو کہہ دینا کہ اپنے گھر میں خوشی کے پہلے موقع پر بھی نہیں پہنچ پا رہا ہوں۔ کیا کروں نوکری ہی ایسی ہے۔ رات دن کام ہی کام کہ پوچھو نہیں۔

اتنے سارے کڑکڑاتے نوٹ دیکھ کر تو دارجی خوشی کے مارے پاگل ہو گئے۔ وہ تو صرف پندرہ بیس ہزار کی توقع لگائے بیٹھے تھے۔ ساری برادری میں آپ کی جے جے کار کرا دی ہے دارجی نے۔ نندو ویر جی والی کہانی کو ہی خوب نمک مرچ لگا کر ساری برادری کو سناتے رہے۔ گھر سے آپ کے اچانک چلے جانے کو بھی اب دارجی نے ایک اور قصے کے ذریعے آفیشیل بنا دیا ہے، ’’میں تے جی بعد وچ پتہ لگییا۔ در اصل ساڈے دیپو دے بار جان دی گل چل رئی سی، تے اننے پاسپورٹ واسطے جی اپلائی کتّا ہویا سی۔ اُتّھوں ای اچانک تار آ گئی سی کہ چھیتی آ جاؤ۔ کچھ سرکاری کاغذاں دا ماملا سی۔ وچارا پکی روٹی چھڈ کے تے دلیوں ہوائی جہاز تے بیٹھ کے بمبئی پوچییا سی۔۔۔‘‘

تو ویر جی، یہ رہی آپ کے پیچھے تیار کی گئی کہانی۔۔۔

آپ اس بھرم میں نہ رہیں ویر جی کہ دارجی بدل گئے ہیں یا اب آپ کے گھر واپس لوٹنے پر وہ آپ سے بہتر طریقے سے پیش آئیں گے۔ در اصل وہ اس طرح کی کہانیاں کہہ کے بلّو کی سسرال میں اپنی مارکیٹ ویلیو تو بڑھا ہی رہے ہیں، گولو کے لئے بھی زمین تیار کر رہے ہیں۔ وہ ہوا میں یہ سگنل بھیج رہے ہیں کہ انہیں اب کوئی للو پنجو نہ سمجھے۔ ان کا بڑا لڑکا اب بہت بڑی نوکری میں لندن میں ہے۔ اب ان سے ان کی نئی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے بات کی جائے۔

بلّو کی شادی اچھی طرح سے ہو گئی ہے۔ گروندر کور نام ہے ہماری بھابھی کا۔ چھوٹی سی گول مٹول سی ہے۔ مزاج کی اچھی ہے۔ بلّو خوش ہے۔ بی بے بھی۔ اسے دن بھر کا سنگی ساتھ بھی مل گیا اور کام میں ہاتھ بٹانے والا بھی۔ مجھے بھی اپنے برابر کی ایک سہیلی مل گئی ہے۔ بی بے نے جہیز کی ساری اچھی اچھی چیزیں یہاں تک کہ اس بیچاری کی روزانہ کی ضرورت کی چیزیں بھی بڑے بکسوں میں پہنچا دی ہیں۔ میرے جہیز میں دینے کے لئے۔ ارے مجھے کتنی شرم آ رہی ہے لیکن مجھے پوچھتا ہی کون ہے۔ میں بھابھی کو چپکے سے بازار لے گئی تھی اور انہیں ساری کی ساری چیزیں نئی دلوا دیں۔ اس بیچاری کو کم سے کم چار دن تو خوشی سے اپنی چیزیں استعمال کر لینے دیتے۔

اتنا ہی،

میری پیاری بھابھی کو میری طرف سے ڈھیر سا پیار، بھابھی کی ایک تصویر بھیج رہی ہوں۔

آپ کی بہن،

گڈّی

 

دوسرا خط دارجی کا ہے۔

 

بیٹے دیپ جی

(تو اب دارجی نے دیپ جی کا لقب دے دیا ہے۔ ضرور کچھ بڑی رقم چاہیے ہو گی!! )

جیتے رہو۔ پہلے تو شادی اور پردیس کی نوکری کی مبارکباد لو۔ باقی ہمیں خاص کر تیری بی بے کو چنگا لگا کہ تم بہت وڈی نوکری کے سلسلے میں لندن جا پہنچے ہو۔ رب کرے خوب ترقی کرو اور خوشیاں پاؤ۔ باقی تمہاری شادی کی خبر سے بھی ہمیں اچھا لگا کہ تمہارا گھر بار بس گیا اور اب تمہیں دنیا داری سے کوئی شکایت نہیں ہونی چاہیے۔ یقیناً ہم سب کی تمہاری شادی میں شامل ہونے کی حسرت تو رہ ہی گئی۔ تمہیں اور تمہاری ووٹی کو خود آسیسیں دیتے تو ہمیں چنگا لگتا۔ باقی ہماری آسیسیں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں۔ باقی تم نے بلّو کے وقت جو اپنا فرض نبھایا، اس سے برادری میں ہمارا سینہ چوڑا ہو گیا کہ تم نے پردیس میں جاتے ہی کیسے بھی کر کے اتنی بڑی رقم کا انتظام کر کے ہمارے ہاتھ مضبوط کئے۔ سبھی عش عش کرنے لگے کہ بیٹا ہو تو دیپ جی جیسا!! بیٹے جی اب تو میری ایک ہی فکر ہے کہ کسی طرح گڈّی کے ہاتھ پیلے کر دوں۔ تجھے تو پتہ ہی ہے کہ بی بے کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی اور میرا بھی کام دھندہ مندا ہی ہے۔ اب عمر بھی تو ہو چلی ہے۔ کب تک لگا رہوں گا جبکہ میرا گھر بار سنبھالنے والے تین تین جوان جہان بیٹے ہیں۔ باقی بلّو کی شادی کے بعد سے ہاتھ تھوڑا تنگ ہو گیا ہے۔ اس کے اپنے خرچے بھی بڑھے ہی ہیں۔ ویسے اگر تیرا بھی رشتہ یہیں ہو جاتا تو بات ہی اور تھی۔ بلّو کے سگوں نے بھی ایک طرح سے مایوس ہی کیا ہے۔ میں نے تو تیری بہت ہوا باندھی تھی لیکن کچھ بات بنی نہیں۔ اب تو یہی دیکھتے ہیں کہ گڈّی کے وقت ہماری عزت رہ جائے۔ گولو پھر بھی ایک آدھ برس انتظار کر سکتا ہے لیکن لڑکی کتنی بھی پڑھی لکھی کیوں نہ ہو، سینے پر بوجھ تو رہتا ہی ہے۔ یہ خط صرف اس واسطے لکھا کہ کبھی بھی گڈّی کی بات آگے بڑھ سکتی ہے۔ دو ایک جگہ بات چل بھی رہی ہے۔ باقی تم خود سمجھدار ہو۔

تمہارا،

دارجی

 

تو یہ بات تھی۔ کیسی میٹھی چھری چلاتے ہیں دارجی بھی۔ پہلے سے خبر کر رہے ہیں کہ تیاری رکھ، تیری بہن کے ہاتھ بھی پیلے کرنے ہیں۔ آج ہی نندو سے بات کرنی پڑے گی کہ کسی بھی طرح سے دارجی کو سمجھائے کہ گڈّی کے لئے جلد بازی نہ مچائے۔ کب اور کیسے رخ بدلنا ہے، دارجی بخوبی جانتے ہیں۔

البتہ تیسرا خط میرے لئے تھوڑی سکون بھرا ہے۔ خط میری پرانی کمپنی سے ہے۔ انہوں نے میرے بقایا پیسوں کا اسٹیٹمنٹ بنا کر بھیجا ہے اور پوچھا ہے کہ میں یہ پیسے کہاں اور کیسے لینا چاہوں گا۔ تقریباً دو لاکھ کے قریب ہیں۔

سوچتا ہوں یہ پیسے میں بھسین صاحب کے ذریعے کسی چینل سے یہاں منگوا لوں۔ وقت ضرورت کام آئیں گے۔ روزانہ کتنی تو ضرورتیں ہوتی ہیں میری اور مجھے گوری کے آگے ہاتھ پھیلانا پڑتا ہے۔ آفس کو یہی لکھ دیا ہے میں نے کہ یہ پیسے مسٹر دویندر کو دے دیئے جائیں۔ آفس اور دویندر جی کو اتھارٹی لیٹر بھیج دیا ہے۔

ششر آیا ہے۔ میرے ڈیولیپ کئے ہوئے پیکیج لینے۔ ویسے ہم کئی بار ملے ہیں۔ ان کے گھر کھانا کھانے بھی گئے ہیں اور پارٹیوں میں بھی ملتے رہے ہیں لیکن یہ پہلی بار ہے کہ ہم دونوں اکیلے آمنے سامنے بات کر رہے ہیں۔ وہ میرا سب سے بڑا ساڑھو ہے۔ وہ بھی میری ہی طرح ہانک کر لایا گیا ہے۔ چار سال ہو گئے ہیں اس کی شادی کو۔ ایک بچہ بھی ہے ان کا۔ کلکتہ سے ایم بی اے ہے۔ اچھی بھلی نوکری کر رہا تھا کہ لندن میں میری ہی طرح شاندار کیریئر کا چوگا دیکھ کر پھنس گیا تھا۔ وہ گیس اسٹیشنوں کا کام دیکھ رہا ہے۔ ہم سب دامادوں میں سے اس کی حالت کچھ بہتر ہے کیونکہ اس نے اپنی بیوی کو بس میں کر رکھا ہے اور لڑ جھگڑ کر اپنی بات منوا لیتا ہے۔

وہ پوچھ رہا ہے، ’’آپ نے تو واقعی کمال کر دیا کہ اتنے کم وقت میں اپنے ٹھیے کو مکمل طور چینج کر کے رکھ دیا۔‘‘ وہ ہنسا ہے، ’’بس ہمارا خیال رکھنا، کہیں ہمیں گھر سے یا سسرال سے مت نکلوا دینا۔ اور کوئی ٹھکانہ نہیں ہے اپنا۔‘‘

’’کیوں میرے جلے پر نمک چھڑک رہے ہو بھائی۔ یہ تو میں ہی جانتا ہوں کہ یہ سب میں نے کیوں اور کس لئے کیا۔‘‘ اچانک اتنے دنوں سے دبا میرا غصہ باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرنے لگا ہے۔ میری آواز بھاری ہو گئی ہے۔

ششر نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا ہے، ’’آئی ایم سوری گگن دیپ، مجھے نہیں معلوم تھا۔ ویسے آپ مجھ پر اعتماد کر سکتے ہیں۔ بیشک میری بھی وہی حالت ہے جو کم و بیش آپ کی ہے بلکہ میں نے تو یہاں اس سے بھی برے دن دیکھے ہیں۔ آپ نے کم از کم کچھ کام کر کے اپنی امیج تو ٹھیک کر لی ہے۔‘‘

’’بے شک مجھے یہاں کے جو سبز باغ دکھائے گئے تھے اور میں جو امیدیں لے کر آیا تھا، شادی کے کچھ ہی دن بعد مجھے لگنے لگا تھا کہ میں بری طرح ٹھگا گیا ہوں۔‘‘

’’یقیناً ہم آپس میں آمنے سامنے نہیں ملے ہیں۔ لیکن میں آپ کی حالت کے بارے میں جانتا ہوں کہ آپ بہت جذباتی قسم کے آدمی ہیں اور اتنے پریکٹیکل بھی نہیں ہیں۔ لیکن مجھے یہ نہیں پتہ تھا کہ آپ کسی ضد میں یا خود کو جسٹیفائی کرنے کے لئے یہ سب کر رہے ہیں۔ آئیے، کہیں باہر چلتے ہیں۔ وہیں بات کرتے ہیں۔‘‘

’’چلئے۔‘‘

ہم سامنے ہی موجود کافی شاپ میں گئے ہیں۔

میں بات آگے بڑھاتا ہوں، ’’مجھے پتہ نہیں کہ آپ کا بیک گراؤنڈ کیا ہے اور آپ یہاں کیسے آ پہنچے لیکن میں یہاں ایک گھر کی تلاش میں آیا تھا۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ گھر تو نہیں ہی ملے گا، میری آزادی اور پرائیویسی بھی مجھ سے چھن جائیں گے۔‘‘ اتنے دنوں کے بعد ششر اپنا سا لگ رہا ہے جس کے سامنے میں اپنے آپ کو کھول پا رہا ہوں۔

’’آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ ہم سب کی حالت کم و بیش ایک جیسی ہی ہے۔ ہم میں سے کسی کو بھی اپنا کہنے کو کچھ نہیں ہے۔ جو کچھ اپنا تھا بھی وہ بھی انہوں نے رکھوا لیا ہے۔ نہ ہم کہیں جاب حاصل کر سکتے ہیں اور نہ واپس بھاگ ہی سکتے ہیں۔ ہم میں سے کچھ نے ایک آدھ بچہ بھی پیدا کر کے اپنے گلے کے پھندے کو اور بھی مضبوطی سے کسوا لیا ہے۔ میں خود پچھتا رہا ہوں کہ میں اس بچے والے چکر میں پھنسا ہی کیوں۔ ویسے۔ میں تو اب اس بارے میں سوچتا ہی نہیں۔۔۔ جو ہے جیسا ہے، چلنے دو، لیکن آپ نئے آئے ہیں، اکیلے ہیں اور کسی کو جانتے بھی نہیں ہیں۔ نہ ہانڈا خاندان میں اور نہ ہم میں سے کسی کو۔ اور شاید آپ سوچتے بھی بہت ہیں، اسی لیے بھی آپ کو ایسا لگتا رہا ہے۔‘‘

ششر کی بات سن کر میرا دبا غصہ پھر سر اٹھا رہا ہے۔ ششر میرے دل کی بات ہی تو کر رہا ہے، ’’ہم بیگار کے مزدور ہی تو ہیں جن کی آزادی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔‘‘

آج میں نے اور ششر نے اس پہلی ہی ملاقات میں اپنے زخم ایک دوسرے کے سامنے کھول دیئے ہیں۔ ایک لحاظ سے ششر کی حالت مجھ سے الگ اور بہتر ہے کہ وہ گھر پریوار سے آیا ہے، میری طرح گھر کی تلاش میں نہیں آیا۔ اس کے پیچھے انڈیا میں کچھ ذمے داریاں ہیں جنہیں وہ چوری چھپے پوری کر رہا ہے۔ اس نے ہیرا پھیری کے کچھ بہت ہی محتاط طریقے ڈھونڈ لیے ہیں یا ایجاد کر لیے ہیں اور اس طرح ہر ماہ چار پانچ سو پونڈ الگ سے بچا لیتا ہے۔ اس طرح سے کمائے ہوئے پیسوں کو وہ بھروسے مند چینلز سے انڈیا بھیج رہا ہے۔

میں اس کی بات سن کر دنگ رہ گیا ہوں۔ اس نے میرا ہاتھ دبایا ہے، ’’آپ ہی پہلے شخص ہیں، جسے میں نے اس سیکرٹ میں راز دار بنایا ہے۔ میں نے اپنے گھر والوں کو سختی سے ہدایت دے رکھی ہے کہ بھول کر بھی اپنے کاغذات میں روپے پیسے منگانے یا پانے کا ذکر نہ کریں۔ اپنی پرسنل ڈاک بھی میں مختلف دوستوں کے پتوں پر منگواتا ہوں اور یہ ایڈریس بدلتا رہتا ہوں۔‘‘ وہ بتا رہا ہے، ’’پہلے میں بھی آپ کی طرح کڑھتا رہتا تھا لیکن جب میں نے دیکھا کہ یہاں کی غلامی تو ہم چاہ کر بھی ختم نہیں کر سکتے اور مرتے دم تک ہانڈا خاندان کے غلام ہی رہیں گے تو پھر ہمیں کیوں ہریش چندر کی اولاد رہیں۔ پہلے تو میں بھی بہت ڈرا، میری روح گوارا ہی نہیں کرتی تھی۔ آج تک میں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا تھا لیکن آج تک کسی نے میرا استحصال بھی نہیں کیا تھا۔ اس لئے میں نے بھی من مار کر یہ سب کرنا شروع کر دیا ہے، بیشک چار پانچ سو پونڈ یہاں کے لحاظ سے کچھ نہیں ہوتے لیکن وہاں میرا پورا گھر اسی سے چلتا ہے۔ ان کے بھروسے رہیں تو جی چکے ہم اور ہمارے خاندان والے۔‘‘

ششر سے ملنے کے بعد بہت سکون ملا ہے۔ ایک اندازہ یہ بھی ہوا ہے کہ میں ہی اکیلا نہیں ہوں۔ دوسرا، یہ بھی کہ ششر ہے جس سے میں کبھی کبھار مشورہ لے سکتا ہوں یا اپنے من کی بات کہہ سکتا ہوں۔

ششر نے وعدہ کیا ہے کہ وہ باقاعدگی سے فون کرتا رہے گا اور ہفتے دس دن میں ملتا بھی رہے گا۔

ادھر گوری بہت خوش ہے کہ میں نے ہانڈا خاندان کے لئے، اپنی سسرال کے لئے، گوری کے میکے کے لئے اتنا کچھ کیا ہے۔ لیکن میں ہی جانتا ہوں کہ ان دنوں میں کس ذہنی دوہرے پن سے گزر رہا ہوں۔ گوری کا ساتھ بھی اب مجھے اتنا سکھ نہیں دے پاتا۔ جب دل ہی ٹھکانے پر نہ ہو تو تن کیسے رہے گا۔

ابھی اس دن میں اپنے پرانے کاغذ دیکھ رہا تھا تو دیکھا کہ میرے تمام کاغذات اٹیچی میں سے غائب ہیں۔ میں ایکبارگی تو گھبرا ہی گیا کہ کہیں کچرے میں تو نہیں چلے گئے ہیں۔ جب گوری سے پوچھا تو وہ لاپرواہی سے بولی، ’’سنبھال کر رکھ دیے ہیں۔ تم نے تو اتنی لاپرواہی سے کھلی اٹیچی میں رکھے ہوئے تھے۔ ویسے بھی تم کو کیا ضرورت ہے ان سب کاغذات کی؟‘‘

میں چپ ہو گیا تھا۔ کیا جواب دیتا۔ میں جانتا تھا کہ گوری جھوٹ بول رہی ہے۔ میرے کاغذات کھلی اٹیچی میں تو قطعی نہیں رکھے ہوئے تھے۔ میں کبھی بھی اپنی چیزوں کے بارے میں لا پرواہ نہیں رہا۔

ڈپارٹمنٹل اسٹور کا سارا حساب کتاب کمپیوٹرائزڈ ہونے کی وجہ سے میں ہمیشہ خالی ہاتھ ہی رہتا ہوں۔ یہاں تک کہ مجھے اپنی پرسنل ضروریات کے لئے بھی گوری پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ میں بہت ٹالتا ہوں لیکن پھر بھی شیو، پٹرول، بس، ٹرام، ٹیوب وغیرہ کے لئے ہی سہی، کچھ تو پیسوں کی ضرورت پڑتی ہی ہے۔ مانگنا اچھا نہیں لگتا اور بن مانگے کام نہیں چلتا۔ اس کنبے کے غیر تحریر شدہ قوانین میں سے ایک اصول یہ بھی ہے کہ کوئی بھی کہیں سے بھی حساب میں سے پیسے نہیں نکالے گا۔ نکال سکتا بھی نہیں کیونکہ کیش آپ کے ہاتھوں تک پہنچتا ہی نہیں اور نہ سسٹم میں کہیں گنجائش ہی ہے۔ ضرورت ہے تو اپنی اپنی بیویوں سے مانگو۔ بہت کوفت ہوتی ہے گوری سے پیسے مانگنے میں۔ بیشک گھر میں الماری میں ڈھیروں پیسے رکھے رہتے ہیں اور گوری نے کہہ بھی رکھا ہے کہ پیسے کہاں رکھے رہتے ہیں، جب بھی ضرورت ہو لے لیا کروں لیکن اس طرح پیسے اٹھانے میں ہمیشہ مجھے کیا کسی کو بھی ہچکچاہٹ ہی ہو گی۔ یہاں تو نہ بولنے کی اجازت ہے نہ کسی بات پر انگلی اٹھانے کی۔

دن بھر اسٹور میں ایسی تیسی کراؤ، رات میں تھکے ہارے آؤ۔ موڈ ہے تو نہاؤ، اگر گوری جاگ رہی ہے تو ڈنر اس کے ساتھ لو، نہیں تو اکیلے کھانا ٹھونسو اور اندھیرے میں اس کے بستر میں گھس کر، خواہش ہو یا نہ ہو، سیکس کا ڈرامہ نبھاؤ۔ بات کرنے کا کوئی موقع ہی نہیں۔ اگر کبھی بہت ضد کر کے بات کرنے کی کوشش بھی کرو تو گوری کی بھنویں تن جاتی ہیں، ’’تم ہی اکیلے تو نہیں ڈیئر، یہاں سبھی برابری کا کام کرتے ہیں۔ میں بھی تو تمہارے برابر ہی کام کرتی ہوں، میں نے تو کبھی اپنے لئے الگ سے کچھ نہیں مانگا۔ تمہاری ساری ضرورتیں تو ٹھاٹھ سے پوری ہو رہی ہیں۔‘‘

میں اسے کیسے بتاؤں کہ یہ ضرورتیں تو میں انڈیا میں بھی بہت شاندار طریقے سے پوری کر رہا تھا اور اپنی شرائط پر کر رہا تھا۔ میں یہاں کچھ خواب لے کر آیا تھا۔ گھر کے، خاندان کے اور ایک سکون بھری زندگی کے، محبت دے کر محبت حاصل کرنے کے لیکن گوری کے پاس نہ تو ان ساری باتوں کو سمجھ سکنے لائق دماغ ہے اور نہ ہی فرصت۔

ایک اچھی بات ہوئی کہ دویندر جی نے کمپنی سے میرے بقایا پیسے لے کر اپنے کسی واقف کے ذریعے حوالہ کر کے یہیں پر دلوا دیئے ہیں۔ ان کے آفس کا کوئی آدمی یہاں آیا ہوا ہے۔ اسے بمبئی اپنے گھر پیسے بھجوانے تھے۔ اس کے پیسے دویندر جی نے وہیں بمبئی میں دے دیئے ہیں اور وہ آدمی مجھے یہیں پر پاؤنڈ دے گیا ہے۔ فی الحال مجھے ایک ہزار پونڈ مل گئے ہیں اور میں راتوں رات امیر ہو گیا ہوں۔ ہنسی بھی آتی ہے اپنی امیری پر۔ اتنے پیسے تو گوری دو دن میں ہی خرچ کر دیتی ہے۔ میرا تو اتنے سے ہی کافی بڑا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ پیسوں کو لے کر گوری سے روز روز کی کھٹ پٹ کے باوجود آج میں نے اسے ڈنر دیا ہے۔ میری اپنی کمائی میں سے پہلا ڈنر۔ بیشک کمائی پہلے ہے۔ پھر بھی اس بات کی تسلی ہے کہ گھر داماد ہونے کے باوجود میرے پاس آج اپنے پیسے ہیں۔ گوری ڈنر کھانے کے باوجود میرے سینٹی منٹس کو نہیں سمجھ پائی۔ نہ ہی اس نے یہ پوچھا کہ جب تمہارے پاس پیسے نہیں ہوتے تو تم کیسے کام چلاتے ہو! کیوں اپنی اس چھوٹی سی پونجی کو اس طرح اڑا رہے ہو، ہزار پونڈ آخر ہوتے ہی کتنے ہیں؟ لیکن اس نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔

آج کی ڈاک میں تین خط ایک ساتھ آئے ہیں۔ تینوں ہی خط پریشانی بڑھانے والے ہیں۔

پہلا خط گڈّی کا ہے۔ لکھا ہے اس نے۔

 

ویر جی،

ست سری اکال

کس طرح لکھوں کہ یہاں سب کچھ ٹھیک ہے۔ ہوتا تو لکھنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ تم بھی کیا سوچتے ہوں گے ویر جی کہ ہم لوگ چھوٹے چھوٹے مسئلے بھی خود سلجھا نہیں سکتے اور سات سمندر پار آپ کو پریشان کرتے رہتے ہیں۔ میں آپ کو آخری مرتبہ پریشان کر رہی ہوں ویر جی۔ اب کبھی نہیں کروں گی۔ میں ہار گئی ویر جی۔ میری ایک نہ چلی اور میرے لئے تین لاکھ نقد اور اچھا کہے جا سکنے والے جہیز میں ایک انجینئر خرید لیا گیا تاہم اس کا بازار بھاؤ تو بہت زیادہ تھا۔ ویر جی، یہ کیسا فیصلہ ہے جو میری بہتری کے نام پر مجھ پر مسلط کیا جا رہا ہے۔

دارجی کو اس گوبھی کے پکوڑے جیسی ناک والے انجینئر میں پتہ نہیں کون سے لال لٹکتے نظر آ رہے تھے کہ بس ہاں کر دی کہ ہمیں رشتہ منظور ہے جی۔ آپ کہیں گے ویر جی، میری مرضی کے خلاف میری شادی ہو رہی ہے اور مجھے مذاق سوجھ رہا ہے۔ ہنسو نہیں تو اور کیا کروں ویر جی۔ میں کتنا روئی، تڑپی، دوڑ کر نندو ویر جی کو بھی بلا لائی لیکن دارجی نے انہیں دیکھتے ہی ڈانٹ دیا، ’’یہ ہمارا گھریلو معاملہ ہے برخوردار۔۔۔‘‘ جب آدھی آدھی رات کو پیسے چاہئے ہوتے ہیں تو یہی نندو ویرجی سب سے زیادہ سگے ہو جاتے ہیں اور جب وہ میرے حق میں صحیح کام کرنے کے لئے آئے تو وہ باہر کا آدمی ہو گئے۔

میرا تو جی کرتا ہے کہیں بھاگ جاؤں۔ کاش، ہم لڑکیوں کے لئے بھی گھر چھوڑ کر بھاگنا آسان ہو پاتا۔ غلط نہ سمجھیں لیکن آپ اتنے سالوں بعد گھر واپس آئے تو سب نے آپ کو سر آنکھوں پر بٹھایا۔ اگر میں ایک رات بھی گھر سے باہر گزار دوں تو ماں باپ تو مجھے پھاڑ کھائیں گے ہی، اڑوسی پڑوسی بھی لعنتیں بھیجنے میں کسی سے پیچھے نہیں رہیں گے۔

ایسا کیوں ہوتا ہے ویر جی، یہ ہمارے دوہرے معیار کیوں۔ آپ کو سنتوش پسند نہیں تھی تو آپ ایک بار پھر گھر چھوڑ کر بھاگ گئے۔ کسی نے آپ کو تو کچھ بھی نہیں کہا۔۔ لیکن مجھے وہ پکوڑے جیسی ناک والا آدمی رتی بھر بھی پسند نہیں ہے تو میں کہاں جاؤں۔ کیوں نہیں ہے مکتی ہم لڑکیوں کی۔ جو راستہ آپ کے لئے صحیح ہے وہی میرے لئے غلط کیوں ہو جاتا ہے۔ میں کیوں نہیں اپنی پسند سے اپنی زندگی کے فیصلے لے سکتی!! آپ کو ہر بار فرار ہو کر کے بھی اپنی باتیں منوانے میں کامیاب رہے۔ آپ بغیر لڑے بھی جیتتے رہے اور میں لڑنے کے باوجود کیوں ہار رہی ہوں۔ کیا آپشن ہے میرے پاس ویر جی!!

میں بھی گھر سے بھاگ جاؤں!! برداشت کر پائیں گے آپ کہ آپ کی نظمیں لکھنے والی اور سمجھدار بہن جس پر آپ کو مکمل اعتماد تھا، گھر سے بھاگ گئی ہے۔ مسئلہ تو یہی ہے ویر جی، کہ بھاگ کر بھی تو میری یا کسی بھی لڑکی کی مکتی نہیں ہے۔ اکیلی لڑکی کہاں جائے گی اور کہاں پہنچے گی۔ اکیلی لڑکی کے لئے تو سارے راستے وہیں جاتے ہیں۔ میں بھی آگے پیچھے وہیں پہنچا دی جاؤں گی۔ میرے پاس سوائے سرنڈر کرنے کے اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ بی اے میں پڑھنے والی اور نظمیں لکھنے والی بیچاری بھوک ہڑتال کر سکتی ہے، زہر کھا سکتی ہے، جو میں نہیں کھاؤں گی۔ تین ماہ بعد، اسی ویساکھی پر میں دلہن بنا دی جاؤں گی۔ ہو سکتا ہے، اب تک آپ کے پاس دارجی کا خط بھی پہنچ گیا ہو۔ آپ نندو ویر جی کو فون کر کے بتا دیں کہ ان کے پاس جو چیک رکھے ہیں ان کا کیا کرنا ہے۔ مجھے نہیں پتہ دارجی نے کس بھروسے سے پکوڑے والوں سے تین لاکھ نقد رقم کے بات طے کر لی ہے۔ رب نہ کرے انتظام نہ ہو پایا تو چولہا تو میرے لیے ہی پھٹے گا۔

کب سے یہ ساری چیزیں مجھے بے چین کر رہی تھیں۔ آپ کو نہ لکھتی تو کسے لکھتی ویر جی، آپ ہی نے تو مجھے بولنا سکھایا ہے۔ بیشک میں وقت آنے پر اپنے حق کے لئے نہیں بول پائی۔

میری بے سر و پیر کی باتوں کا برا نہیں مانئے گا۔

آپ کی لاڈلی

گرپریت کور

 

اس نے اتنے سارے خطوط میں پہلی بار اپنا نام گرپریت لکھا ہے۔ میں اس کی حالت سمجھ سکتا ہوں۔

دوسرا خط نندو کا ہے، لکھا ہے اس نے۔

 

عزیز دیپ جی

اب تک آپ کو گڈّی کا خط مل گیا ہو گا۔ میرے پاس آئی تھی۔ بہت روتی تھی بیچاری کہ میں شادی سے انکار نہیں کرتی کم سے کم مجھے پڑھائی تو مکمل کرنے دیں۔ میرا اور میرے ویر جی کا خواب ہے کہ میں ایم بی اے کروں۔ سچ مان میرے ویرا، میں بھی دارجی کو سمجھا سمجھا کر تھک گیا کہ اسے تعلیم تو مکمل کر لینے دو۔ آخر میں نے ایک چال چلی۔ تم نے جو چیک میرے پاس رکھ چھوڑے ہیں، ان کے بارے میں انہیں کچھ بھی نہیں پتا۔ یہ پیسے میں انہیں عین وقت پر ہی دوں گا کہ دیپ جی نے بھیجے ہیں۔۔ تو انہی پیسوں کو من میں رکھتے ہوئے میں نے انہیں سمجھایا کہ آخر دیپ کو بھی تو کچھ وقت دو کہ وہ اپنی بہن کے لئے لاکھ دو لاکھ کا انتظام کر سکے۔ اس کی بھی تو نئی نوکری ہے اور پردیس کا معاملہ ہے۔ کچھ بھی اونچ نیچ ہو سکتی ہے۔ بات ان کے دماغ میں بیٹھ گئی ہے اور وہ کم از کم اس بات کے لئے راضی ہو گئے ہیں کہ وہ لڑکے والوں کو کہیں گے کہ بھئی اگر شادی دھوم دھام سے کرنا چاہتے ہو تو ویساکھی کے بعد ہی شادی ہو پائے گی۔ میرا خیال ہے اس وقت تک گڈّی کے بی اے فائنل کے پیپر ہو چکے ہوں گے۔ تب تک وہ اپنی تعلیم بھی بغیر کسی تکلیف کے کر پائے گی۔

تھوڑی سی غلطی میری بھی ہے کہ میں نے یہاں پر لندن میں تمہاری نوکری، رتبے، اور دوسری چیزوں کی کچھ زیادہ ہی ہوا اڑا دی ہے جس سے دارجی ہوا میں پرواز کرنے لگے ہیں۔

تو یہاں کی فکر مت کرنا۔ میں اپنی حیثیت بھر سنبھالے رہوں گا۔ گڈّی کا حوصلہ برقرار رکھوں گا۔ ویسے لڑکا اتنا برا بھی نہیں ہے۔ کوئی آدمی کسی کو پسند ہی نہ آئے تو ساری اچھائیوں کے بعد بھی اس میں عیب ہی عیب نظر آتے ہیں۔ ویسے بھی گڈّی اس وقت تناؤ سے گزر رہی ہے اور کسی سے بھی شادی کرنے سے بچنا چاہ رہی ہے۔ اپنا خیال رکھنا۔۔ میں یہاں کی خبر دیتا رہوں گا۔ تو مطمئن رہ۔

تیرا ہی

نندو

 

تیسرا خط دارجی کا ہے۔

 

بیٹے دیپ جی

خوش رہو۔

باقی خاص خبر یہ ہے کہ اپنی گڈّی کے لئے ایک بہت ہی چنگا لڑکا تے اچھا گھر مل گیا ہے۔ اساں سگائی کر دتی ہے۔ لڑکے بجلی محکمے وچ انجینئر ہے اور ان کی کوئی خاص ڈیمانڈ نہیں ہے۔ باقی بازار میں جو دستور چل رہا ہے تین چار لاکھ آج کل ہوتا کیا ہے۔ لوگ منہ کھول کے بیس بیس لاکھ منگ بھی رہے ہیں اور دین والے دے بھی رہے ہیں۔ زیادہ دور کیوں جائیں۔ تواڈے واسطے بھی تو پانچ چھ لاکھ نقد اور کار اور دوسری کنی ہی چیزوں کی آفر تھی۔ آخر دینے والے دے ہی رہے تھے کہ نہیں۔ اب ہم اتنے ننگے بچّے بھی تو نہیں ہیں کہ کڑی کو خالی ہاتھ ٹور دیں۔ آخر اس کا بھائی بھی بڑا انجینئر ہے اور ولایت وچ کام کرتا ہے۔ ہمیں تو ساری باتیں دیکھنی ہیں اور برادری میں اپنی ناک بھی بلند رکھنی ہے۔

باقی ہم تو ایک دو ماہ میں ہی نیک کارج کر دینا چاہتے تھے کہ کڑی اپنے گھر سکھ ساند کے ساتھ پہنچ جائے لیکن نندو کی بات مجھے سمجھ میں آ گئی ہے کہ رقم کا انتظام کرنے میں ہمیں کچھ وقت تو لگ سکتا ہے۔ پردیس کا معاملہ ہے، اور پھر رقم انی چھوٹی ویں نئی ہے۔ باقی اگر تے تواڈا آنا ہو سکے تو اس توں چنگی کوئی گل ہو ہی نہیں سکتی۔ باقی تسی ویکھ لینا۔ باقی گورینوں اساں دونواں دی اسیس۔

تمہارا

دارجی

 

سمجھ میں نہیں آ رہا کہ ان خطوط کا کیا جواب دوں۔ اپنے یہاں کے مورچے سنبھالوں یا دہرادون کے۔ دونوں ہی مورچے مجھے پاگل بنائے ہوئے ہیں۔ گڈّی نے تو کتنی آسانی سے لکھ دیا ہے بیشک بھاری دل سے ہی لکھا ہے لیکن میں کیسے لکھ دوں کہ یہاں بھی سب خیریت ہے، جبکہ سب کچھ تو کیا کچھ بھی ٹھیک ٹھاک نہیں ہے۔ میں تو چاہ کر بھی نہیں لکھ سکتا کہ میری پیاری بہنا، خیریت تو یہاں پر بھی نہیں ہے۔ میں بھی یہاں پردیس میں اپنے ہاتھ جلائے بیٹھا ہوں اور کوئی مرہم لگانے والا بھی نہیں ہے۔

تینوں خطوط گزشتہ چار دنوں سے جیب میں لئے گھوم رہا ہوں۔ تینوں ہی خط میری جیب جلا رہے ہیں اور میں کچھ بھی نہیں کر پا رہا ہوں۔ بات کروں بھی تو کس سے؟ کوئی بھی تو نہیں ہے یہاں میرا جس سے اپنے من کی بات کہہ سکوں۔ گوری سے کچھ بھی کہنا بیکار ہے۔ پہلے ایک دو مواقع پر میں اس کے سامنے گڈّی کا ذکر کر کے دیکھ چکا ہوں۔ اب اس کی میرے گھر بار کے معاملات میں کوئی دلچسپی نہیں رہی ہے۔ بلکہ ایک آدھ بار تو اس نے بیشک گول مول الفاظ میں ہی اشارہ کر دیا تھا، ’’ڈیئر، تم چھوڑو اب وہاں کے جھمیلوں میں کو۔ تم اپنے نصیب کو بھوگو۔ وہ اپنی قسمت کا وہیں مینج کر ہی لیں گے۔‘‘

اچانک ششر کا فون آیا ہے تو مجھے سوجھا کہ اسی سے اپنی بات کہہ کر دل کچھ تو بوجھ ہلکا کیا جا سکتا ہے۔

ششر کو بلا لیا ہے میں نے۔ ہم باہر ہی ملے ہیں۔ اسے میں مختصر طور پر اپنے پسِ منظر کے بارے میں بتاتا ہوں اور تینوں خطوط بھی اس کے سامنے رکھتا ہوں۔ وہ تینوں خط پڑھ کر لوٹا دیتا ہے۔

’’کیا سوچا ہے تم نے اس بارے میں۔‘‘ ششر پوچھتا ہے۔

’’میں یہاں آنے سے پہلے گڈّی کیلئے ویسے تو انتظام کر آیا تھا۔ اسے میں تین لاکھ کے بلینک چیک دے آیا۔ دارجی کو اس بارے میں پتہ نہیں ہیں۔ میں بیشک یہاں سے نہ تو یہ شادی رکوا سکتا ہوں اور نہ ہی اس کے لئے یہاں یا وہاں کوئی بہتر دولہا ہی جٹا سکتا ہوں۔ اب سوال یہ ہے کہ اس کی یہ شادی میں رکواؤں تو رکواؤں کیسے؟ ویسے نندو اسے اپریل تک رکوانے میں کامیاب ہو ہی چکا ہے۔ تب تک وہ بی اے کر ہی لے گی۔ مجھے کچھ سوجھ نہیں رہا ہے اسی لئے تمہیں میں نے بلایا تھا۔‘‘

’’فی الحال تو تم یہی کرو کہ گڈّی کو یہی سمجھاؤ کہ جب تک شادی ٹال سکے ٹالے، جب بالکل بھی بس نہ چلے تو کر لے شادی۔ دارجی کو بھی ایک بار لکھ کر تو دیکھ لو کہ اسے پڑھنے دیں۔ ایک بار شادی ہو جانے کے بعد کبھی بھی تعلیم مکمل نہیں ہو پاتی۔ اور اگر گڈّی کو لڑکا پسند نہیں ہے تو کیوں نہیں وہ کوئی بہتر لڑکا دیکھتے۔ بی اے کرنے کے بعد تو گڈّی کے لئے بہتر رشتے بھی آئیں گے ہی۔‘‘

’’ہاں، یہ ٹھیک رہے گا۔ میں انہی پوائنٹ پر تینوں کو لکھ دیتا ہوں۔ آج تم سے بات کر کے میرا آدھی پریشانی دور ہو گئی ہے۔‘‘

’’یہ صرف تمہارا ہی مسئلہ نہیں ہے میرے دوست۔ وہاں گھر گھر کی یہی کہانی ہے۔ اگر تمہاری گڈّی کی شادی کے لئے تم کو لکھا جا رہا ہے تو میری بہنوں انشری اور تنشری کی شادی کے لئے بھی میرے بابا بھی مجھے اسی طرح کی چٹھی لکھتے ہیں۔ تم لکی ہو کہ تم گڈّی کے لئے کم از کم تین لاکھ کا انتظام کر کے تو آئے تھے اور اس فرنٹ کے لئے اپنی راتوں کی نیند تو خراب نہیں کرنی ہے۔ ہر وقت یہ حساب تو نہیں لگانا پڑتا کہ تمہارا جٹایا یا بچایا یا چرایا ہوا ایک پونڈ وہاں کے لئے کیا معنی رکھتا ہے اور ان کی کتنی ضرورتیں پوری کرتا ہے۔ مجھے یہاں خود کو مینٹین کرنے کے لئے تو دھاندلی کرنی ہی پڑتی ہے، ساتھ ہی وہاں کا بھی پورا حساب کتاب ذہن میں رکھنا پڑتا ہے۔ مجھے نہ صرف دونوں بہنوں کے لئے یہیں سے ہر طرح کی توڑ جوڑ کر کے جہیز جٹانا پڑا بلکہ میں تو آج بھی بابا، ماں اور دونوں بہنوں، جیجاؤں کی ہر طرح کے مطالبات پورے کرنے پر مجبور ہوں۔ میں گزشتہ چار سال سے یعنی یہاں آنے کے پہلے دن سے ہی یہی سب کر رہا ہوں۔‘‘

’’تو بھائی، ہم لوگوں کی یہی قسمت ہے کہ گھر والوں کے سامنے سچ بول نہیں سکتے اور جھوٹ بولتے بولتے، جھوٹی زندگی جیتے جیتے ایک دن ہم مر جائیں گے۔ پھر ہمارے لئے یہاں کوئی چار آنسو بہانے والا بھی نہیں ہو گا۔ وہاں تو ایک ہی بات کے لئے آنسو بہائے جائیں گے کہ پاؤنڈ کا ہمارا ہرا بھرا درخت ہی سوکھ گیا ہے۔ اب ہمارا کیا ہو گا۔‘‘

’’کبھی واپس جانے کے بارے میں نہیں سوچا؟‘‘

’’واپس جانے کے بارے میں، میں اس لیے نہیں سوچ سکتا کہ شلپا اور مونٹو میرے ساتھ جائیں گے نہیں۔ اکیلے جانے کا مطلب ہے۔ طلاق لے کر، سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جاؤ۔ دوبارہ نئے سرے سے زندگی کا آغاز!! وہ اب اس عمر میں ہو نہیں پائے گا۔ اب یہاں جس طرح کی زندگی کی طلب لگ گئی ہے، وہاں یہ سب کہاں نصیب ہوں گے۔ گھِسنا تو وہاں بھی پڑے گا ہی لیکن حاصل کچھ ہو گا نہیں۔ ذمے داریاں کم ہونے کے بجائے بڑھ ہی جائیں گی۔ تو یہیں کیا برا ہے۔‘‘

’’تم صحیح کہہ رہے ہو ششر۔ آدمی جس طرح کی اچھی بری زندگی جینے کا عادی ہو جاتا ہے، عمر کے ایک پڑاؤ کے بعد اس میں چینج کرنا اتنا آسان نہیں رہ جاتا۔ میں بھی نہیں جانتا، کیا لکھا ہے میرے نصیب میں۔ یہاں یا کہیں اور، کچھ بھی فیصلہ نہیں کر پاتا۔ وہاں سے بھاگ کر یہاں آیا تھا، اب یہاں سے بھاگ کر کہاں جاؤں گا۔ یہاں کہنے کو ہم ہانڈا خاندان کے داماد ہیں لیکن اپنی اصلیت ہم ہی جانتے ہیں کہ ہماری اوقات کیا ہے۔ ہم اپنے لئے سو پونڈ بھی نہیں جٹا سکتے اور اپنی مرضی سے نہ کچھ کر سکتے ہیں نہ کسی کے سامنے اپنا دکھڑا ہی رو سکتے ہیں۔‘‘

’’آئیں گے اچھے دن بھی۔‘‘ ششر ہنستا ہے اور مجھ سے رخصت لیتا ہے۔

میں ششر کے سجھائے طریقے سے دارجی اور گڈّی کو مختصر خط لکھتا ہوں۔ ایک خط نندو کو بھی لکھتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ ان خطوط کا اب کوئی مطلب نہیں ہے پھر بھی گڈّی کی ہمت بڑھائے رکھنی ہے۔ میں نے دارجی کو یہ بھی لکھ دیا ہے کہ میں یہاں گڈّی کے لئے کوئی اچھا سا لڑکا دیکھتا رہوں گا۔ اگر انتظار کر سکیں۔ اس انجینئر سے اچھا آدمی یہاں بھی دیکھا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لئے وہ مجھے تھوڑا ٹائم ضرور دیں۔

بہت دنوں بعد ملا ہے ششر اس بار۔

’’کیسے ہو، دیپ، تمہارے پیکیجیز نے تو دھوم مچا رکھی ہے۔‘‘

’’جانے دو یار، اب ان کی بات نہ کرو۔ تم کہو، نئی فیکٹری کی مبارکباد لو ششر، سنا ہے تم نے ان دنوں ہانڈا گروپ کو اپنے بس میں کر رکھا ہے۔ تمہارے لئے ایک فیکٹری لگائی جا رہی ہے۔ اس سے تو تمہاری پوزیشن کافی اچھی ہو جائے گی۔‘‘

’’وہ سب شلپا کے ذریعہ ہی ہو پایا ہے۔ میں نے اسے ہی چنے کے جھاڑ پر چڑھایا کہ میں کب تک گیس اسٹیشنوں پر لگی ہاتھوں کی گریس اتارنے کیلئے اس سے صابن مانگتا رہوں گا، آخر وہی سب سے بڑی ہے۔ اس کے شوہر کو بھی اچھی پوزیشن دی جانی چاہیے۔ بس بات کلک کر گئی اور یہ فیکٹری ہانڈا گروپ نے میرے بیٹے کے نام لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘

’’چلو، کہیں تو مونٹو کی قسمت چمکی۔‘‘

’’ٹھیک ہے، تم کہو، ہوم فرنٹ پر کیسا چل رہا ہے۔‘‘ پوچھا ہے ششر نے۔

’’بس، چل ہی رہا ہے۔‘‘ میں بھرے دل سے کہتا ہوں۔

’’کیا کچھ زیادہ اختلافات ہیں؟‘‘

’’ہیں بھی اور نہیں بھی۔ اب تو کئی بار تو ہم میں بات تک نہیں ہوتی۔‘‘

’’کوئی خاص وجہ؟‘‘

’’یہی وجہ کیا کم ہے؟ جب اپنا دل ہی ٹھکانے پر نہ ہو، آپ کو معلوم ہو کہ آپ کے آس پاس جو کچھ بھی ہے، ایک جھوٹا نقاب ہے اور قدم قدم پر جھوٹ بول کر آپ کو گھیر کر لایا گیا ہے تو آپ اپنے سب سے قریبی رشتے بھی کہاں جی پاتے ہیں۔ اور اس رشتے میں بھی کھوٹ ہو تو۔۔۔ خیر۔ میری چھوڑو، اپنی کہو۔‘‘

’’نہیں دیپ نہیں، تمہاری بات کو یوں ہی نہیں جانے دیا جا سکتا۔ اگر تم اسی طرح گھٹتے رہے تو اپنی ہی صحت کا فالودہ بنا لو گے۔ یہاں پھر کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ملے گا۔ مجھ سے مت چھپاؤ، من کی بات کہہ دو۔ آخر میں ان لوگوں کو تم سے تو زیادہ ہی جانتا ہوں۔ سچ بتاؤ، کیا بات ہے۔‘‘ اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا ہے۔

’’سچ بات یہ ہے کہ میں تھک گیا ہوں۔ اب بہت ہو گیا۔ آدمی کب تک اپنا دل کو مار کر رہتا رہے، جبکہ سنوائی کہیں نہیں ہے۔ یہاں تو ہر طرف جھوٹ ہی جھوٹ ہے۔‘‘

’’بتاؤ توسہی بات کیا ہے۔‘‘

’’کچھ دن پہلے ہم ایک الماری کے لوازمات دوسرے کمرے میں شفٹ کر رہے تھے تو گوری کے کاغذات میں مجھے اس کا بایو ڈیٹا ملا۔ عام طور پر میں گوری کی کسی بھی چیز کو چھوتا تک نہیں اور نہ ہی اس کے بارے میں کوئی سوال ہی پوچھتا ہوں۔ در اصل انہی کاغذوں سے پتہ چلا کہ گوری صرف دسویں پاس ہے جبکہ مجھے بتایا گیا تھا کہ وہ گریجویٹ ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ اس بارے میں بھی مجھ سے جھوٹ کیوں بولا گیا؟ مجھے تو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ وہ اپنی کمپنی کی فل ٹائم ڈائریکٹر ہے۔ یہاں تو وہ سب سے کم ٹرن اوور والے فلورسٹ اسٹال پر ہے اور اسٹال کا اکاؤنٹ بھی سینٹرلائز ہے۔‘‘

’’یہی بات تھی یا اور بھی کچھ؟‘‘

’’تو کیا یہ کچھ کم بات ہے۔ مجھ سے جھوٹ تو بولا ہی گیا ہے نا۔‘‘

’’تم مجھ سے ابھی پوچھ رہے تھے نہ کہ میں نے اپنی پوزیشن کافی اچھی کیسے بنا رکھی ہے۔ تو سنو، میری بیوی شلپا طلاق یافتہ ہے اور یہ بات مجھ سے بھی چھپائی گئی تھی۔‘‘

’’ارے۔۔۔ تو پتہ کیسے چلا تمہیں۔۔۔؟‘‘

’’ان لوگوں نے تو پوری کوشش کی تھی کہ مجھ پر یہ راز ظاہر نہ ہو لیکن شادی کے شروع شروع میں شلپا کے منہ سے اکثر سنجیو کا نام سنائی دے جاتا، لیکن وہ فوراً ہی اپنے آپ کو سنبھال لیتی۔ کئی بار وہ مجھے بھی سنجیو کے نام سے پکارنے لگتی۔ ہنی مون پر بھی میں نے پایا تھا کہ اس کا رویہ کم سے کم کنواری کنیا والا تو نہیں تھا۔ واپس آ کر میں نے پتہ کیا، پورے خاندان میں سنجیو نام کا کوئی بھی ممبر نہیں رہا تھا۔ میرا شک بڑھا۔ میں نے شلپا کو ہی اپنے اعتماد میں لیا۔ جیسے وہی میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہو۔ اسے خوب پیار دیا۔ پھر اس کے بارے میں بہت کچھ جاننے کی خواہش ظاہر کی۔ وہ جھانسے میں آ گئی۔ باتوں باتوں میں اس کے دوستوں کا ذکر آنے لگا تو اس میں سنجیو کا بھی ذکر آیا۔ وہ اس کا کلاس فیلو تھا۔ پتہ چلا، ہماری شادی سے دو سال پہلے ان دونوں کی شادی ہوئی تھی۔ یہ شادی کل چار ماہ چلی تھی۔ اگرچہ میں اب اس دھوکے کے خلاف کچھ نہیں کر سکتا تھا لیکن میں نے اسی کی معلومات کو ٹرمپ کے پتے کی طرح استعمال کرنا شروع کر دیا۔ شلپا بھی سمجھ گئی کہ مجھے سب پتہ چل چکا ہے۔ اس کے بعد سے میری کوئی بھی بات نہ تو ٹالی جاتی ہے اور نہ ہی کوئی میرے ساتھ کوئی الٹی سیدھی حرکت ہی کرتا ہے۔ بلکہ جب ضرورت ہوتی ہے، میں اسے بلیک میل بھی کرتا رہتا ہوں۔ کئی بار تو میں نے اس سے اچھی خاصی رقمیں بھی اینٹھی ہیں۔‘‘

’’لیکن اتنی بڑی بات جان کر بھی خاموش رہ جانا۔۔۔۔ میرا تو دماغ خراب ہو جاتا۔۔۔‘‘

’’دیپ تم ایک بات اچھی طرح جان لو۔ میں نے بھی اپنے تجربے سے جانی ہے اور آج یہ مشورہ تمہیں بھی دے رہا ہوں۔ بیشک شلپا طلاق یافتہ تھی اور یہ بات مجھ سے چھپائی گئی لیکن یہاں لندن میں تمہیں کوئی لڑکی کنواری مل جائے گی، اس بات پر خواب میں بھی یقین نہیں کیا جا سکتا۔ اپوزٹ سیکس کی فرینڈ شپ، میٹنگ اور آؤٹنگ، ڈیٹنگ اور اس دوران سیکس ریلیشنز یہاں تیرہ چودہ سال کی عمر تک شروع ہو چکے ہوتے ہیں۔ اگر نہیں ہوتے تو لڑکی یا لڑکے یہی سمجھتے ہیں کہ انہی میں کوئی کمی ہو گی جس کی وجہ سے کوئی انہیں ڈیٹنگ کیلئے بلا نہیں رہا ہے۔ کوئی کمی رہ گئی ہو گی، والا معاملہ ایسا ہے جس سے ہر لڑکا اور ہر لڑکی بچنا چاہتے ہیں۔ در اصل یہ چیزیں یہاں اتنی تیزی سے اور اتنی سہولت سے ہوتی رہتی ہیں کہ ستر فیصد معاملات میں نوبت ابارشن تک جا پہنچتی ہے۔ اگر شادی ہو بھی جائے تو ریلیشنز پر سے چاندی اترتے دیر نہیں لگتی۔ تب طلاق تو ہے ہی سہی۔ تو جب میں نے دیکھا کہ ایسے بھی اور ویسے بھی یہاں کنواری لڑکی تو ملنے والی تھی نہیں، یہی سہی۔ باقی ادروائز شلپا از اے ویری گڈ وائف۔ دوسری تکلیفیں اگر میں بھلا بھی دوں تو کم از کم اس فرنٹ پر میں خوش ہوں۔‘‘ ششر ہنسا ہے، ’’بلکہ کئی بار اب میں ہی رشتوں میں بے ایمانی کر جاتا ہوں اور ادھر ادھر منہ مار لیتا ہوں۔ ویسے بھی دودھ کا دھلا تو میں بھی نہیں آیا تھا۔ یہاں بھی وہی سب جاری ہے۔‘‘

’’یار، تمہاری باتیں تو میری آنکھیں کھول رہی ہیں۔ میں ٹھہرا اپنی انڈین والی ذہنیت والا عام آدمی۔ اتنی دور تک تو سوچ بھی نہیں پاتا۔ ویسے بھی تمہاری باتوں نے مجھے دوہرے شکوک میں ڈال دیا ہے۔ اس کا مطلب۔۔‘‘

’’پوچھو۔۔ پوچھو۔۔ کیا پوچھنا چاہتے ہو۔۔‘‘ ششر نے میری ہمت بڑھائی ہے۔

’’تو کیا گوری بھی۔۔۔؟‘‘

’’اب اگر تم میں سچ سننے کی ہمت ہے اور تم واقعی سننا ہی چاہتے ہو اور سچ کا سامنا کرنے کی ہمت بھی رکھتے ہو تو سنو، لیکن یہ بات سننے سے پہلے ایک وعدہ کرنا ہو گا کہ اس کے لئے تم گوری کو کوئی سزا نہیں دو گے اور اپنے من پر کوئی بوجھ نہیں رکھو گے۔‘‘

’’تم کہو تو سہی۔‘‘

’’ایسے نہیں، سچ مچ وعدہ کرنا پڑے گا۔ ویسے بھی تمہارے رشتوں میں دراڑ چل رہی ہے۔ بلکہ میں تو کہوں گا کہ تم بھی اپنی لائف اسٹائل بدلو۔ ہر وقت دیوداس کی طرح کڑھنے سے نہ تو دنیا بدلے گی اور نہ کچھ حاصل ہی ہو گا۔ اٹھو، گھر سے باہر نکل جاؤ اور زندگی کو طریقے سے جیو۔ یہ زندگی ایک ہی بار ملی ہے۔ اسے رو دھو کر گنوا کر کچھ بھی حاصل نہیں ہونے والا۔‘‘

’’ارے بھائی، اب بولو بھی سہی۔‘‘

’’توسنو۔ گوری کو بھی ابارشن کرانا پڑا تھا۔ ہماری شادی کے پہلے ہی سال۔ یعنی تمہاری شادی سے تین سال پہلے۔ اسے شلپا ہی لے کر گئی تھی۔ لیکن میں نے کہا نا۔۔۔ اس طرح کے معاملات میں شلپا یا گوری یا ونیتا یا کسی بھی لڑکی کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔ یہاں کی ہوا ہی ایسی ہے کہ آپ چاہ کر بھی ان رشتوں کو روک نہیں سکتے۔ ماں باپ کو بھی تبھی پتہ چلتا ہے جب بات اتنی آگے بڑھ چکی ہوتی ہے۔ تھوڑا بہت آہ و زاری مچتی ہے اور پھرسب کچھ رفع دفع کر دیا جاتا ہے۔ انڈیا سے کوئی بھی آدمی لا کر پھر اس کی شادی کر دی جاتی ہے۔ اب یہی دیکھو نا، کہ اس ہانڈا فیملی کے ہی لڑکے بھی تو یہاں کی لڑکیوں کے ساتھ یہی سب کچھ کر رہے ہوں گے اور انہیں پریگنینٹ کر رہے ہوں گے۔‘‘

’’لیکن۔۔ گوری بھی۔۔‘‘ اچانک مجھے لگتا ہے کسی نے میرے منہ پر ایک طمانچہ جڑ دیا یا بیچ چورا ہے پر ننگا کر دیا ہے۔۔ یہ سب میرے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے۔ میں اچانک خاموش ہو گیا ہوں۔

’’دیکھو دیپ میں نے تمہیں یہ بات جان بوجھ کر بتائی تاکہ تم ان باتوں سے آزاد ہو کر اپنے بارے میں بھی کچھ سوچ سکو۔ اب تم یہ بھی تو دیکھو کہ گوری اب تمہارے لئے مکمل طور ایماندار ہے بلکہ گوری نے خود ہی شلپا کو بتایا تھا کہ وہ تمہیں پا کر بہت خوش ہے۔ سکھی ہے اور شی از رئیلی پراؤڈ آف یو۔ وہ شلپا کو بتا رہی تھی کہ وہ ایک رات بھی تمہارے بغیر نہیں سو سکتی۔ تو بھائی، اب تم اپنی انڈین ذہنیت کی پڑیا بنا کر دفن کرو اور اپنی بھی زندگی کو انجوائے کرو۔ ویسے برا مت ماننا، گوری نے تو تم سے شادی سے پہلے کے ریلیشنز کے بارے میں کچھ نہیں پوچھا ہو گا۔

میں جھینپی ہنسی ہنستا ہوں، ’’پوچھ بھی لیتی تو اسے کچھ ملنے والا نہیں تھا۔ گوری سے پہلے تو میں نے کسی لڑکی کو چوما تک نہیں تھا۔ بستر پر میں کتنا اناڑی تھا، یہ تو گوری کو پہلی ہی رات پتہ چل گیا تھا۔‘‘

’’اس کے باوجود وہ تمہارے بغیر ایک رات بھی سونے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اس کا کوئی تو مطلب ہو گا ہی سہی۔ تم گوری پر پورا بھروسہ رکھو اور اس کے دل میں اس بات کے لئے کوئی گلٹ مت آنے دو۔ اول تو تم بدلہ لے نہیں سکتے۔ لینا بھی چاہو تو اپنا ہی نقصان کرو گے۔ ٹھیک ہے، اب تم دل پر بوجھ مت رکھو۔ بے ایمانی کرنے کو جی کرتا ہے تو ضرور کرو لیکن فار گاڈ سیک، اپنی اس رونی صورت سے چھٹکارا پاؤ۔ رئیلی اٹ از کلنگ یو۔ اوکے!! ٹیک کیئر آف یورسیلف۔‘‘

ششر بیشک اتنی آسانی سے ساری باتیں کہہ گیا تھا لیکن میرے لئے یہ ساری باتیں اتنے آرام سے لے پانا اتنا آسان نہیں ہے۔ ششر جس مٹی کا بنا ہوا ہے، اس نے شلپا کی حقیقت جاننے کے باوجود اسے نہ صرف قبول کر رکھا ہے بلکہ اپنے طریقے سے اسے بلیک میل بھی کر رہا ہے اور تعلقات میں بے ایمانی بھی کر رہا ہے۔ یہ تینوں باتیں ہی مجھ سے نہیں ہو پا رہیں۔ نہ میں گوری کے ماضی کا سچ ہضم کرپا رہا ہوں، نہ اسے بلیک میل کر پاؤں گا اور نہ ہی ان ساری چیزوں کے باوجود میاں بیوی کے رشتے میں بے ایمانی ہی کر پاؤں گا۔ اگرچہ گوری میرے برابر میں لیٹی ہوئی ہے اور میرا ہاتھ اس کے ننگے سینے پر ہے، وہ روز ایسے ہی سوتی ہے، میرے من میں اس کے تئیں کوئی بھی نرم احساس پیدا نہیں ہو رہا۔ آج بھی اس کی سیکس کی بہت خواہش تھی، لیکن میں نے انکار کر دیا کہ اس وقت موڈ نہیں ہے۔ بعد میں دیکھیں گے۔ اکثر ایسا بھی ہو جاتا ہے۔ کئی بار اس کا بھی موڈ نہیں ہونے پر ہم بعد کیلئے طے کر کے سو جاتے ہیں اور بعد میں آنکھ کھلنے پر اس رسم کو ادا بھی کر لیتے ہیں۔ اب یہ رسم بھر ہی تو رہا ہے۔ نہ ہمارے پاس ایک دوسرے کے سکھ دکھ کے لئے وقت ہے، نہ ہم اپنی پرسنل باتیں ہی ایک دوسرے سے شیئر کر پاتے ہیں۔ ڈنر یا لنچ ہم ایک ساتھ چھٹی کے دنوں میں ہی لے پاتے ہیں اور ایک دوسرے کی مکمل توجہ کھو چکے ہیں۔ کم سے کم مجھے تو ایسا ہی لگتا ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ گوری کا میرے پر توجہ کی ایک اور واحد وجہ بھرپور سیکس ہے اور اس کے بغیر اسے نیند نہیں آتی۔ میری مجبوری ہے کہ مجھے خالی پیٹ نیند نہیں آتی۔ کئی بار ہمارا جھگڑا بھی ہو جاتا ہے اور ہم دونوں ہی کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ایک دوسرے سے روٹھ کر الگ الگ سو جاتے ہیں، لیکن نیند دونوں کو ہی نہیں آتی۔ گوری کو پتہ ہے کہ میں خالی پیٹ سو ہی نہیں سکتا اور مجھے پتہ ہے جب تک اسے اس کا ٹانک نہ مل جائے، وہ کروٹیں بدلتی رہے گی۔ کبھی اٹھ کر بتی جلائے گی، کبھی دوسرے کمرے میں جائے گی، کوئی کتاب پڑھنے کا ڈرامہ کرے گی یا بار بار مجھے سناتے ہوئے تیکھی باتیں کرے گی۔ اس کے یہ ڈرامے دیر تک چلتے رہیں گے۔ ویسے تو میں بھی نیند نہ آنے کی وجہ سے کروٹیں ہی بدلتا رہوں گا۔ تب یہ سلسلہ شروع ہو گا اور بیشک روتے دھوتے ہی سہی، کم بخت سیکس بھی ایسی ناراضگی بھری راتوں میں کچھ زیادہ ہی طبیعت سے کیا جاتا ہے۔

اب ششر کی باتیں مسلسل من کو متھے جا رہی ہیں۔

گوری کے اسی سینے پر کسی اور کا بھی ہاتھ رہا ہو گا۔ گوری کسی اور سے بھی اسی طرح ہر روز سیکس کا، بھرپور سیکس کا مطالبہ کرتی ہو گی اور خوب انجوائے کرنے کے بعد سوتی ہو گی۔ آج یہ میری بیوی بن کر میرے ساتھ اس طرح ننگی لیٹی ہوئی ہے، کسی اور کے ساتھ بھی لیٹتی رہی ہو گی۔ ارے ارے۔ مجھے ہی یہ سب کیوں جھیلنا پڑتا ہے!! میں ہی کیوں ہر بار رسیونگ اینڈ پر ہوتا ہوں۔ کیا میں بھی ششر کی طرح گوری سے بے ایمانی کرنا شروع کر دوں یا اسے بلیک میل کرنا شروع کر دوں۔ یہ دونوں ہی کام مجھ سے نہیں ہوں گے اور جس کام کے لئے ششر نے مجھے منع کیا ہے، میں وہی کرتا رہوں گا۔ مسلسل کڑھتا رہوں گا اور اپنی صحت کا فالودہ بناتا رہوں گا۔

میرا دل کام سے اچٹنے لگا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا ہے کہ میں گھٹن محسوس کرنے لگا ہوں۔ میری تکلیف بڑھنے لگی ہے۔ میں پہلے بھی تنہا تھا، اب اور تنہا ہوتا چلا گیا ہوں۔ اسی دور میں میں باہر ایک آدھ جگہ نوکری کی تلاش کی ہے۔ نوکریاں بہت ہیں اور میری لیاقت اور ٹریننگ کے لیے موزوں ہیں، لیکن دقتیں ہیں کہ ہانڈا خاندان سے کہا کیسے جائے اور دوسرے ورک پرمٹ کیسے حاصل کیا جائے۔

کئی بار خواہش بھی ہوتی ہے کہ میں بھی پیسے کے اس سمندر میں سے اپنی مٹھیوں میں بھر کر تھوڑے بہت پونڈ نکال لوں لیکن دل نہیں مانا۔ یہ کوئی بہت عزت دار سلسلہ تو نہیں ہی ہے۔ ہم یہاں بیشک بیگاری کی زندگی جی رہے ہیں اور ہیرا پھیری جیسی حقیر حرکتوں سے اس ذلالت کی کچھ تو تلافی ہو پائے گی۔ اگرچہ کئی بار گوری میری تکلیف اور الجھن کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن یا تو اس کے سامنے بھی بندشیں ہیں یا پھر جس طرح کی اس کی پرورش ہے، وہاں ان سب چیزوں کے لئے کوئی جگہ ہی نہیں ہے۔ ہم پانچ نوجوان، پڑھے لکھے لڑکے اس گھر کے داماد ہیں، بیشک گھر داماد ہیں، لیکن ہیں تو اس خاندان میں سب سے پڑھے لکھے، لیکن ہمیں کبھی بھی گھر کے رکن کی طرح ٹریٹمنٹ نہیں ملتا۔ میں اس گھر میں کبھی بھی، ایک دن کے لئے بھی، نہ تو کبھی پرسکون ہو پایا ہوں اور نہ ہی میری ناراضگی کی، اداسی کی وجہ ہی کسی نے پوچھنے کی ضرورت ہی سمجھی ہے۔

دارجی اور نندو کے خط آئے ہیں۔ آخر گڈّی کی شادی کر ہی دی گئی۔ لکھا ہے نندو نے،

ٹیچرز کی ہڑتال کی وجہ سے مارچ میں ہی پتہ چل گیا تھا کہ بی اے کے امتحانات اپریل میں نہیں ہو پائیں گے۔ گڈّی نے دارجی سے بھی کہا تھا اور میرے ذریعہ بھی دارجی کو کہلوایا تھا کہ وہ شادی سے انکار نہیں کرتی لیکن کم از کم اس کے امتحان تو ہو جانے دیں لیکن دارجی نے صاف صاف کہہ دیا، ’’شادی کی ساری تیاریاں ہو چکی ہیں اب تاریخ نہیں بدلیں گے۔‘‘

وہی ہوا اور گڈّی اتنی کوششوں کے باوجود بی اے کا امتحان نہیں دے پائی۔ مجھے نہیں لگتا کہ گڈّی کی سسرال والے اتنے اچھے ہوں گے کہ اسے امتحان میں بیٹھنے دیں۔ ویسے میں خود گڈّی کے گھر والے سے مل کر اسے سمجھانے کی کوشش کروں گا۔ شادی ٹھیک ٹھاک ہو گئی ہے۔ بیشک تیری غیر حاضری میں نے گڈّی کے بڑے بھائی کا فرض نبھایا ہے لیکن تو ہوتا تو اور ہی بات ہوتی۔ تیرے مشورہ کے مطابق میں نے ساری پیمینٹس کر دی تھیں اور دارجی تک یہ خبر دی تھی کہ جو کچھ بھی خریدنا ہے یا لین دین کرنا ہے، مجھے بتا دیں۔ میں کر دوں گا۔ میں نے انہیں پٹا لیا تھا کہ دیپ نے گڈّی کی شادی کے لئے جو ڈرافٹ بھیجا ہے، وہ پاؤنڈ میں ہے اور اسے صرف انٹرنیشنل اکاؤنٹ میں ہی جمع کیا جا سکتا ہے۔ دارجی جھانسے میں آ گئے اور سارے اخراجات میری معرفت ہی کرائے۔ میں اس طریقے سے کافی فالتو خرچ کم کرا سکا۔ دارجی اور گڈّی کے خط بھی آگے پیچھے پہنچ ہی رہے ہوں گے۔

نندو کے خط کے ساتھ ساتھ گڈّی کا تو نہیں پر دارجی کا خط ضرور ملا ہے۔ اس میں بھی گڈّی کی شادی کی وہی ساری باتیں لکھی ہیں جو نندو نے لکھی ہیں۔ البتہ دارجی کی نگاہ میں دوسری چیزیں زیادہ اہمیت رکھتی ہیں، وہی انہوں نے لکھی ہیں۔ میرے بھیجے گئے پیسوں سے برادری میں ان کی ناک اونچی ہونا، شادی دھوم دھام سے ہونا، پھر بھی کافی خرچہ ہو جانا وغیرہ وغیرہ۔ انہوں نے اس بات کا ایک بار بھی ذکر نہیں کیا ہے کہ گڈّی ان کی ضد کی وجہ سے بی اے ہوتے ہوتے رہ گئی یا وہ اس بات کی کوشش ہی کریں گے کہ گڈّی کے امتحانوں کیلئے اسے میکے ہی بلا لیں گے۔ سارے خط میں دارجی نے اپنے وہی پرانے راگ الاپے ہیں۔ اس بات کا بھی کوئی ذکر نہیں ہے کہ یہ سب میری وجہ سے ہی ہو پایا ہے اور یہ کہ اگر میں وہاں ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا۔

دارجی کا خط پڑھ کر میں نے ایک طرف رکھ دیا ہے۔ البتہ اگر گڈّی کا خط آ جاتا تو تسلی رہتی۔

ان دنوں خاصا پریشان چل رہا ہوں۔ نہ گھر میں چین ملتا ہے نہ اسٹورز میں۔ سمجھ میں نہیں آتا، مجھے یہ کیا ہوتا جا رہا ہے۔ اگر بمبئی کا کوئی پرانا واقف مجھے دیکھے تو پہچان ہی نہ پائے، میں وہی نظم و ضبط رکھنے والا اور محنت کش گگن دیپ ہوں، جو اپنے سارے کام خود کرتا تھا اور قاعدے سے، صفائی سے کیا کرتا تھا۔ جب تک بمبئی میں تھا، مجھے زندگی میں ذرا سی بھی بے ترتیبی پسند نہیں تھی اور گندگی سے تو جیسے مجھے الرجی تھی۔ اب یہاں کتنا سست ہو گیا ہوں۔ چیزیں ٹلتی رہتی ہیں۔ اب نہ تو اتنا چست رہا ہوں اور نہ ہی صفائی پسند ہی۔ اب تو شیو کرنے میں بھی کاہلی محسوس ہونے لگی ہے۔ کئی بار تو ایک ایک ہفتے بھی شیو نہیں کرتا۔ گوری نے کئی بار ٹوکا تو داڑھی ہی بڑھانی شروع کر دی ہے۔ میں اب ایسے تمام کام کرتا ہوں جو گوری کو پسند نہیں ہیں۔ چھٹی کے دن گوری کی بہت خواہش ہوتی ہے، کہیں لمبی ڈرائیو پر جائیں، کسی کے گھر جائیں یا کسی کو بلا ہی لیں، میں تینوں ہی کام ٹالتا ہوں۔

ویسے بھی جب سے آیا ہوں، گوری پیچھے پڑی ہے، گھر میں دو گاڑیاں کھڑی ہیں، کم از کم ڈرائیونگ ہی سیکھ لو۔ میں نے بھی قسم کھا رکھی ہے کہ ڈرائیونگ تو نہیں ہی سیکھوں گا، اگرچہ پوری زندگی پیدل ہی چلنا پڑے۔ ابھی تک گوری اور میرے درمیان اس بات پر سرد جنگ چل رہی ہے کہ میں اس سے پیسے نہیں مانگوں گا۔ وہ دیتی نہیں اور میں مانگتا نہیں۔ ایک بار ششر نے کہا بھی تھا کہ تم ہی کیوں یہ سب ضائع کرنے پر تلے ہو۔ کیوں نہیں اپنی ضرورت کے پیسے گوری سے مانگتے یا گوری کے کہنے پر پُول منی سے اٹھا لیتے۔ آخر کوئی کب تک اپنی ضرورتیں دبائے رہ سکتا ہے۔

گوری کو جب پتہ چلا تو اس نے اوں کر کے منہ بنایا تھا، ’’اپنی گگن دیپ جانیں۔ میرا پانچ سات ہزار پونڈ کا جیب خرچ مجھے ملنا ہی چاہیے۔‘‘

جب ششر کو یہ بات پتہ چلی تو وہ ہنسا تھا، ’’یار، تمہیں سمجھنا بہت مشکل ہے۔ بھلا یہ سب تم سب کس لئے کر رہے ہو۔ اگر تم کوئی تجربہ کر رہے ہو تو ٹھیک ہے۔ اگر تم گوری یا ہانڈا گروپ کو متاثر کرنا چاہتے ہو تو تم بہت بڑی غلطی کر رہے ہو۔ وہ تو یہ مان لیں گے کہ انہیں کتنا اچھا داماد مل گیا ہے جو سسرال کا ایک پیسہ بھی لینا یا خرچ کرنا حرام سمجھتا ہے۔ ان کے لئے اس سے اچھی اور کون سی بات ہو سکتی ہے۔ دوسرے وہ یہ بھی مان کر چل سکتے ہیں کہ وہ کیسے کنگلے کو اپنا داماد بنا کر لائے ہیں۔ جو انڈر گراؤنڈ کے چالیس پینس بچانے کیلئے چالیس منٹ تک پیدل چلتا ہے اور یہ نہیں دیکھتا کہ ان چالیس منٹ کو اپنے کاروبار میں لگا کر کتنی ترقی کر سکتا تھا۔ اس سے تم اپنی کیا امیج بناؤ گے، ذرا یہ بھی دیکھ لینا۔‘‘

’’مجھے کسی کی بھی پرواہ نہیں ہے۔ میری تو آج کل یہ حالت ہے کہ میں اپنے بارے میں کچھ نہیں سوچ پا رہا ہوں۔‘‘

گڈّی کا خط آیا ہے۔ صرف تین سطروں کا۔ سمجھ نہیں پا رہا ہوں، جب اسے سامنے کھل کر خط لکھنے کی آزادی نہیں ہے تو اس نے یہ خط بھی کیوں لکھا! بیشک خط تین ہی سطروں کا ہے۔ لیکن میں ان بیس پچیس الفاظ کے پیچھے چھپی تکلیف کو صاف صاف پڑھ پا رہا ہوں۔

لکھا ہے اس نے۔

 

ویر جی،

اس ویساکھی کے دن میری ڈولی رخصت ہونے کے ساتھ ہی میری زندگی میں بہت سے نئے رشتے جڑ گئے ہیں۔ یہ سارے رشتے ہی اب میرا حال اور مستقبل ہوں گے۔ مجھے افسوس ہے کہ میں آپ کو دیئے بہت سے وچن پورے نہ کر سکی۔ میں اپنے گھر، نئے ماحول اور نئے رشتوں کی گہما گہمی میں بہت خوش ہوں۔ میری بد قسمتی کہ میں آپ کو اپنی شادی میں بھی نہ بلا سکی۔ میرے اور ان کے لئے بھیجے گئے گفٹ ہمیں مل گئے تھے اور ہمیں بہت پسند آئے ہیں۔

میری طرف سے کسی بھی قسم کی فکر نہ کریں۔

آپ کی چھوٹی بہن،

ہرپریت کور

(اب نئے گھر میں یہی میرا نیا نام ہے۔ )

اس خط سے تو یہی لگتا ہے کہ گڈّی نے خود کو حالات کے سامنے مکمل طور سرنڈر کر دیا ہے نہیں تو بھلا ایسے کیسے ہو سکتا تھا کہ وہ اتنا فارمل اور روکھا خط لکھتی اور اپنا پتہ بھی نہ لکھتی۔

میں بھی کیا کروں گڈّی! ایک بار پھر تجھ سے معافی مانگ لیتا ہوں کہ میں تیرے لئے اس جنم میں کچھ بھی نہیں کر پایا۔ وہ جو تو اپنے بڑے بھائی کی قد کاٹھی، پرسنیلٹی اور لائف اسٹائل دیکھ کر متاثر ہو گئی تھی اور لگے ہاتھوں مجھے اپنا آدرش بنا لیا تھا، میں تجھے کیسے بتاؤں گڈّی کہ میں ایک بار پھر یہاں اپنی لڑائی ہار چکا ہوں۔ اب تو میری جینے کی خواہش ہی مر گئی ہے۔ تجھے میں بتا نہیں سکتا کہ میں یہاں اپنے دن کیسے کاٹ رہا ہوں۔ تیرے پاس پھر بھی سگے لوگ تو ہیں، بیشک ان سے اپنا پن نہ ملے، میں تو کتنا اکیلا ہوں یہاں اور خالی پن کی زندگی کسی طرح جی رہا ہوں۔ میں یہ باتیں گڈّی کو لکھ بھی تو نہیں سکتا۔

کل رات گوری سے تیکھی نوک جھونک ہو گئی تھی۔ بات وہی تھی، نہ میں پیسے مانگوں گا اور نہ اسے اس بات کا خیال آئے گا۔ ہم دونوں کو ایک شادی میں جانا تھا۔ گوری نے مجھے صبح بتا دیا تھا کہ شادی میں جانا ہے۔ کوئی اچھا سا گفٹ لے کر رکھ لینا۔ میں وہیں تمہارے پاس آ جاؤں گی۔ سیدھے چلے چلیں گے۔ جب گوری نے یہ بات کہی تھی تو اسے چاہیے تھا کہ میرے مزاج اور میری جیب کے مزاج کو جانتے ہوئے بتا بھی دیتی کہ کتنے تک کا گفٹ خریدنا ہے اور کہتی کہ یہ رہے پیسے۔ اس نے دونوں ہی کام نہیں کئے تھے۔ اب مجھے کیا پڑی تھی کہ اس سے پیسے مانگتا کہ گفٹ کے لئے پیسے دے دو۔ جب ہانڈا گروپ گھر خرچ کے سارے پیسے تمہیں ہی دیتا ہے تو تم ہی سنبھالو یہ سارے معاملے۔ فی الحال تو میں ٹھن ٹھن گوپال ہوں اور میں کسی کو گفٹ دینے کے لئے گوری سے پیسے مانگنے سے رہا۔

شاپ بند ہو جانے کے بعد گوری جب شادی کے ریسپشن میں جانے کے لئے آئی تو گاڑی میں میرے بیٹھنے کے ساتھ ہی اس نے پوچھا۔ ’’تمہارے ہاتھ خالی ہیں، گفٹ کہاں ہے؟‘‘

’’نہیں لے پایا۔‘‘

’’کیوں، کہا تو تھا میں نے۔‘‘ اس نے گاڑی درمیان میں ہی روک دی ہے۔

’’بتایا نا، نہیں لے پایا، بس۔‘‘

’’لیکن کوئی وجہ تو ہو گی، نہ لینے کی۔ اب ساری دکانیں بند ہو گئی ہیں۔ کیا شادی میں خالی ہاتھ جائیں گے۔ دیپ، تم بھی کئی بار۔۔‘‘ وہ جھلا رہی ہے۔

’’گوری، اس طرح سے ناراض ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ نہ چاہتے ہوئے بھی میرا پارہ گرم ہونے لگا ہے۔ ’’تمہیں اچھی طرح سے معلوم ہے، میرے پاس پیسوں کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ اور تمہیں یہ بھی پتہ ہے کہ نہ میں گھر سے بغیر تمہارے کہے پیسے اٹھاتا ہوں اور نہ ہی اسٹورز میں سے اپنے ذاتی کام کے لئے کیشئرسے واؤچر ہی بنواتا ہوں۔ گفٹ کے لئے کہتے وقت تمہیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے تھا۔‘‘

’’یو آر اے لمٹ!‘‘ گوری زور سے چیخی ہے۔ ’’میں تو تنگ آ گئی ہوں تمہارے ان اصولوں سے۔ میں یہ نہیں کروں گا اور میں وہ نہیں کروں گا۔ آخر تمہیں ہر بار یہ جتلانے کی ضرورت کیوں پڑتی ہے کہ تمہارے پاس پیسے نہیں ہیں۔ کیوں بار بار تم یہی ٹاپک چھیڑ دیتے ہو۔ آخر میں بھی کیا کروں؟ کریڈٹ کارڈ تمہیں چاہیے نہیں، کیش تم اٹھاؤ گے نہیں اور مانگوں گے بھی نہیں، بس، طعنے مارنے کا کوئی موقع چھوڑو گے نہیں۔‘‘

’’دیکھو گوری، اس طرح شور مچانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ میں پھر بھی خود کو پرسکون رکھے ہوئے ہوں، ’’جہاں تک پیسوں یا کسی بھی چیز کو لے کر میرے اصولوں کی بات ہے، تم کئی بار میرے منہ سے سن چکی ہو کہ میں اپنے آپ کہیں سے بھی پیسے نہیں اٹھاؤں گا۔ کام ہوتا ہے یا نہیں ہوتا، میری ذمہ داری نہیں ہے۔‘‘

’’میں تم سے کتنی بار کہہ چکی ہوں، ڈیئر کہ ہمیں جو پیسے دیئے جاتے ہیں وہ ہم دونوں کے لئے ہیں اور سانجھے ہیں۔ ہم دونوں کے کامن پول میں رکھے رہتے ہیں۔ تم اس میں سے لیتے کیوں نہیں ہو۔ اب تو تم نئے نہیں ہو۔ نہ ہمارے تعلقات اتنے فارمل ہیں کہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھنا پڑے کہ یہ کرنا ہے اور وہ کرنا ہیں۔ اب تمہاری ذرا سی ضد کی وجہ سے گفٹ رہ گیا نا۔۔۔ اب جا کر اپنی دکان سے کوئی گلدستہ ہی لے جانا پڑے گا۔‘‘

’’ہمارے باہمی رشتوں کی بات رہنے دو، باقی، جہاں تک پیسوں کی بات ہے تو میں اب بھی اپنی بات پر ٹکا ہوا ہوں کہ میں آج تک ہانڈا گروپ کا سسٹم سمجھ نہیں پایا کہ میری حیثیت کیا ہے اس کے گھر میں!!‘‘

’’اب پھر لگے کوسنے ہانڈا گروپ کو۔ اسی گروپ کی وجہ سے تم۔۔۔‘‘

’’ڈونٹ کراس یور لمٹ گوری۔‘‘ مجھے بھی غصہ آ گیا ہے، ’’پہلی بات تو یہ کہ میں وہاں سڑک پر نہیں بیٹھا تھا کہ میرے پاس یہاں رہنے کھانے کو نہیں ہے، کوئی مجھے پناہ دے دے اور دوسری بات کہ بمبئی میں پہلی ہی ملاقات میں ہی تمہارے سامنے ہی مجھ سے دس طرح کے جھوٹ بولے گئے تھے۔ مجھے پتہ ہوتا کہ یہاں آ کر مجھے مفت کی سیلز مینی ہی کرنی ہے تو میں دس بار سوچتا۔‘‘

’’دیپ، تم یہ ساری باتیں مجھ سے کیوں کر رہے ہو۔ آخر کیا کمی ہے تمہیں یہاں۔۔ مزے سے رہ رہے ہو اور شاندار اسٹورز کے اکیلے کرتا دھرتا ہو۔ اب تم ہی پیسے نہ لینا چاہو تو کوئی کیا کرے!!‘‘

’’پیسے دینے کا کوئی طریقہ بھی ہوتا ہے۔ اب میں رہوں یہاں اور پیسے انڈیا میں اپنے گھر سے منگواؤں، یہ تو نہیں ہو سکتا۔‘‘

’’تمہیں کس نے منع کیا ہے پیسے لینے سے۔ سارے داماد کامن پول سے لے ہی رہے ہیں اور کریڈٹ کارڈ سے بھی خوب خرچ کرتے رہتے ہیں۔ کیش بھی اٹھاتے رہتے ہیں۔ کبھی کوئی ان سے پوچھتا بھی نہیں کہ کہاں خرچ کئے اور کیوں کئے۔ کسی کو برا نہیں لگتا۔ تمہاری سمجھ میں ہی یہ بات نہیں آتی۔ تمہیں کس نے منع کیا ہے پیسے لینے سے۔‘‘

’’میرے اپنے کچھ اصول ہیں۔‘‘

’’تو انہی اصولوں کا شربت بنا کر دن رات پیتے رہو۔ سارا موڈ ہی چوپٹ کر دیا۔‘‘ گوری جھلائی ہے۔

’’کبھی میرے موڈ کی بھی پرواہ کر لیا کرو۔‘‘ میں نے بھی کہہ ہی دیا ہے۔

’’تم سے تو بات کرنا بھی مشکل ہے۔‘‘

کار میں ہوئی اس نوک جھونک کا اثر پورے راستے اور بعد میں پارٹی میں بھی رہا ہے۔ ششر نے ایک کنارے لے جا کر پوچھا ہے، ’’آج تو دونوں طرف ہی فٹ بال پھولے ہوئے ہیں۔ لگتا ہے، کافی لمبا میچ کھیلا گیا ہے۔‘‘

میں بھرا بیٹھا ہوں۔ حالانکہ مجھے افسوس بھی ہو رہا ہے کہ میں پہلی بار گوری سے اتنے زور سے بولا اور اس سے ایسی باتیں کیں جو مجھے ہی چھوٹا بناتی ہیں۔ لیکن میں جانتا ہوں، میرا یہ کڑھنا صرف پیسوں کے لئے یا گفٹ کے لئے نہیں ہے۔ اس کے پیچھے مجھ سے بولے گئے سارے جھوٹ ہی کام کر رہے ہیں۔ جب سے ششر نے مجھے گوری کے ابارشن کے بارے میں بتایا ہے، میں اس کے بعد سے بھرا بیٹھا تھا۔ آج غصہ نکلا بھی تو کتنی معمولی بات پر۔ اگرچہ ششر کے سامنے میں خود کو کھولنا نہیں چاہتا لیکن اس کے سامنے کچھ بھی چھپانا میرے لئے بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

میں نے اسے سارا قصہ سنا دیا ہے۔ ششر نے پھر مجھے ہی ڈانٹا ہے

’’تم کو کتنی بار سمجھا چکا ہوں کہ اب تو تمہیں یہاں رہتے اتنا عرصہ ہو گیا ہے۔ اب تک تو تمہیں ہانڈا گروپ سے اپنے لائق ایک آدھ ملین پاؤنڈ الگ کر ہی لینے چاہیے تھے۔ اتنا بڑا اسٹورز سنبھالتے ہو اور تمہاری جیب میں دس پنس کا سکہ بھی کھوجے نہیں ملے گا۔ میری مانو، ان باتوں کی وجہ سے گوری سے لڑنے جھگڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تھوڑی ڈپلومیسی بھی سیکھو۔ چوٹ کہیں اور کرنی چاہیے تمہیں اور توانائی یہاں ویسٹ کر رہے ہو۔ ٹھیک ہے، یہ بھی ٹھیک ہوا کہ تم نے گوری سے ہی سہی، اپنے من کی بات کہی توسہی۔ اب دیکھیں، یہ باتیں کس حد تک جاتی ہیں۔‘‘

اس دوران میری چھٹپٹاہٹ بہت بڑھ چکی ہے۔ گوری سے جھگڑا چل رہا ہے۔ نہ وہ اپنے کئے کیلئے شرمسار ہے، نہ میں یہ ماننے کے لئے تیار ہوں کہ میں غلط ہوں۔ اب تو وہ بھی بغیر سیکس کے سورہی ہے اور میں بھی، جو بھی ملتا ہے، کھا لیتا ہوں۔ دونوں ہی ایک دوسرے سے کافی دور ہوتے جا رہے ہیں۔ میں بھی اب چاہنے لگا ہوں، یہ سب یہیں ختم ہو جائے تو پنڈ چھوٹے۔ کسی طرح واپس لوٹا جا سکتا تو ٹھیک رہتا۔ کام کی طرف دھیان دینا میں نے کب سے چھوڑ دیا ہے۔ بھاڑ میں جائیں سب۔ میں ہی ہانڈا خاندان کی دولت بڑھانے کے لئے کیوں دن رات گھستا رہوں۔ میری صحت بھی آج کل خراب چل رہی ہے۔ میں بیشک اس بابت کسی سے بات نہیں کرتا اور کسی سے کوئی شکایت بھی نہیں کرتا لیکن بات اب ہانڈا خاندان کے سربراہ تک پہنچ ہی گئی ہے۔

ان تک بات پہچانے کے پیچھے گوری کا نہیں، ششر کا ہی ہاتھ لگتا ہے۔

ششر نے شلپا سے کہا ہو گا اور شلپا نے اپنے پاپا تک بات پہنچائی ہو گی کہ ذرا ذرا سی بات پر گوری، دیپ سے لڑ پڑتی ہے اور بار بار اس بیچارے کی توہین کرتی رہتی ہے۔ اسی نے پاپا سے کہا جائے گا کہ آپ لوگ درمیان میں پڑ کر معاملے کو سلجھائیں، ورنہ اچھا خاصا داماد اپنا دماغ خراب کر بیٹھے گا۔ شاید اس نے انہیں پیسے نہ لینے کے بارے میں میری ضد کے بارے میں بھی کہا ہو۔ بتایا ہو گا، ’’اگر یہی حال رہا تو آپ لوگ ایک اچھے بھلے آدمی کو اس طرح سے قتل کر دیں گے۔ اس میں نقصان آپ کا اور گوری کا ہی ہے۔‘‘ پتہ نہیں، انہیں یہ بات کلک کر گئی ہو گی، اسی لئے گوری کے شاپ پر جانے کے بعد پاپا مجھ سے ملنے آئے ہیں۔

یہ ان دو ڈھائی سال میں پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ میں اور میرے سسر اس طرح اکیلے اور ان فارملی بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے میری صحت کے بارے میں پوچھا ہے۔ میرے معمولات کے بارے میں پوچھا ہے اور میری اداسی کا سبب جاننا چاہا ہے۔ پہلے تو میں ٹالتا ہوں۔ ان سے آنکھیں ملانے سے بھی بچتا ہوں، لیکن جب انہوں نے بہت زور دیا ہے تو میں پھٹ پڑا ہوں۔ اتنے عرصے سے میں گھٹ رہا تھا۔ کتنا کچھ ہے جو میں کسی سے کہنا چاہ رہا تھا لیکن آج تک کہہ نہیں پایا ہوں اور نہ ہی کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ ہی رکھا ہے۔ پہلے تو وہ خاموشی سے میری باتیں غور سے سنتے رہے۔ میں نے انہیں تفصیل سے ساری باتیں بتائی ہیں۔ بمبئی میں ہوئی پہلی ملاقات سے لے کر آج تک کہ کیسے میرے ساتھ ایک کے بعد ایک جھوٹ بولے گئے اور ایک طرح سے جھانسہ دے کر مجھے یہاں لایا ہے۔ میں نے انہیں گوری کی پڑھائی کے بارے میں بولے گئے جھوٹ کے بارے میں بھی بتایا لیکن اس کے ابارشن والی بات گول کر گیا۔ یہ ایک باپ کے ساتھ زیادتی ہوتی۔ جب انہوں نے دیکھا کہ میں جو کچھ کہنا چاہتا تھا، کہہ چکا ہوں تو وہ آہستہ سے بولے ہیں۔

’’تمہارے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے بیٹا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ تم اپنے سینے پر اتنے دنوں سے اتنا بوجھ لیے لیے گھوم رہے ہو۔ تم اگر میرے پاس پہلے ہی آ جاتے تو یہاں تک نوبت ہی نہ آتی۔ اس طرح تو تمہاری صحت خراب ہو جائے گی۔ تم فکر نہ کرو۔ ہمیں ایک موقع اور دو۔ تمہیں اب کسی بھی بات کی شکایت نہیں رہے گی۔ گوری نے بھی کبھی ذکر نہیں کیا اور نہ ہی کسی اور نے ہی بتایا کہ تمہاری کیا باتیں ہوئی تھیں۔ بلکہ ہم تو دکان میں اور ہانڈا گروپ میں تمہاری دلچسپی دیکھ کر بہت خوش تھے۔ آج تک کسی بھی داماد نے ہمارے کاروبار میں اتنی دلچسپی نہیں لی تھی۔ بہتر یہی ہو گا کہ تم اب اس حادثے کو بھول جاؤ اور ہمیں ایک موقع اور دو۔ میں گوری کو سمجھا دوں گا۔ تمہارے لئے ایک اچھی خبر ہے کہ تمہاری دکان کا منافع بھی اس دوران بہت بڑھا ہے۔ سب تمہاری محنت کا نتیجہ ہے۔ تمہیں اس کا انعام ملنا ہی چاہیے۔ ایک کام کرتے ہیں، گوری اور تمہارے لئے پورے یورپ کا دورہ ایرینج کرتے ہیں۔ تھوڑا گھوم پھر آؤ۔ تھکاوٹ بھی دور ہو جائے گی اور تم دونوں میں پیچ اپ بھی ہو جائے گا۔ جاؤ، انجوائے کرو اور ایک مہینے سے پہلے اپنی شکل ہمیں مت دکھانا۔ جانے کا سارا انتظام ہو جائے گا۔ گوری بھی خوش ہو جائے گی کہ تمہارے بہانے اسے بھی گھومنے پھرنے کا موقع مل رہا ہے۔‘‘ جاتے جاتے وہ میرے ہاتھ میں پھر ایک بڑا سا لفافہ دے گئے ہیں۔ ’’اپنے لئے شاپنگ کر لینا۔‘‘ انہوں نے میرا کندھا دبایا ہے، ’’دیکھو انکار مت کرنا۔ مجھے برا لگے گا۔ اورسنو یہ پیسے گوری کو دیئے جانے والے پیسوں سے الگ ہیں، اس لئے ان کے بارے میں گوری کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

میں سمجھ رہا ہوں کہ یہ رشوت ہے مجھے پرسکون کرنے کی، لیکن اب وہ خود پیچ اپ کی تجویز لے کر آئے ہیں تو ایک دم انکار کرنا بھی ٹھیک نہیں ہے۔

مجھے ہنی مون کے بعد آج پہلی بار ایک ساتھ اتنے پیسے دیئے جا رہے ہیں۔

جب ششر کو اس بارے میں میں نے بتایا تو وہ خوشی سے اچھل پڑا، ’’اب آیا نہ اونٹ پہاڑ کے نیچے۔ یہ سب میری ہی شرارت کا نتیجہ ہے کہ تم نے اتنا بڑا ہاتھ مارا ہے۔ اب بیچ بیچ میں اس طرح کے ڈرامہ کرتے رہو گے تو خوش رہو گے۔‘‘

اور اس طرح میرے سامنے یہ چوگا ڈال دیا گیا ہے۔ حالانکہ گوری نے سوری کہہ دیا ہے، لیکن ملال کی باریک سی لکیر بھی اس کے چہرے پر نہیں ہے۔ جس طرح کی باتیں اس نے کی تھیں، اس سے میری ذہنی ابتری اتنی جلدی دور نہیں ہو گی۔ ویسے بھی جب بھی میرے سامنے ہوتی ہے، مجھے اس کے ماضی کا بھوت ستانے لگتا ہے اور میں بے چین ہونے لگتا ہوں۔ اس کیلئے میرے پیار کی بیلیں سوکھتی چلی جا رہی ہیں۔

لیکن میری یہ خوشی بھی کتنی عارضی ہے۔ ہانڈا گروپ سے پیسے ملنے کے اگلے دن ہی نندو کا خط آ گیا ہے۔ خط واقعی پریشانی میں ڈالنے والا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ گڈّی کی سسرال میں اسے جہیز کیلئے پریشان کیا جا رہا ہے۔ دارجی اس کے پاس بہت پریشانی میں گئے تھے اور اسے بتا رہے تھے کہ گڈّی کی سسرال والوں نے نہ تو اسے امتحان دینے دیئے اور نہ ہی وہ اسے میکے ہی آنے دیتے ہیں۔ اوپر سے جہیز کے لئے ستا رہے ہیں کہ تمہارے لندن والے بھائی کا کیا فائدہ ہوا۔ ایک لاکھ کا مطالبہ رکھا ہے انہوں نے۔

نندو نے لکھا ہے، ’’یہ پیسے تو میں بھی دے دوں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کا منہ ایک بار کھل گیا تو وہ اکثر و بیشتر مطالبہ کرتے رہیں گے اور نہ ملنے پر گڈّی کو ستائیں گے۔ بولو، کیا کروں۔ ہو سکے تو فون کر دینا۔‘‘

ہمارے دارجی نے تو جیسے پورے خاندان کو تباہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے۔ مجھے بے گھر کر کے بھی انہیں چین نہیں ملا تھا، اب اس معصوم کی تو جان ہی لے کر چھوڑیں گے۔ انہیں لاکھ کہا تھا کہ گڈّی کی شادی کے معاملے میں جلد بازی مت کرو، لیکن دارجی اگر کسی کی بات مان لیں تو پھر بات ہی کیا!! ابھی پیسے دے بھی دیں تو اس بات کی کیا گارنٹی کہ وہ لوگ مستقبل میں گڈّی کو اذیت دینا بند کر دیں گے۔ اب تو ان کی نگاہ لندن والے بھائی پر ہے۔ اتنی آسانی سے تھوڑے ہی چھوڑیں گے۔ نندو سے فون پر بات کر کے دیکھتا ہوں۔

نندو نے تسلی دی ہے کہ ویسے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ دارجی نے کچھ زیادہ ہی بڑھا چڑھا کر بات کہی تھی۔ ویسے وہ لوگ گڈّی کو ڈرا کر دباؤ بنائے ہوئے ہیں کہ کچھ تو لاؤ، لیکن دارجی کے پاس کچھ ہو تو دیں۔ میں انہیں بتا دوں گا کہ تجھ سے بات ہو گئی ہے۔ تو گھبرا مت۔ میں سب سنبھال لوں گا۔

نندو نے بیشک تسلی دے دی ہے، لیکن میں ہی جانتا ہوں کہ اس وقت گڈّی بیچاری پر کیا گزر رہی ہو گی۔ اس نے تو مجھے خط لکھنا بھی بند کر دیا ہے تاکہ اس کی تکلیفوں کی گرم ہوا بھی مجھ تک نہ پہنچے۔ اس بارے میں ششر سے بات کر کے دیکھنی چاہیے، وہی کوئی راہ سجھائے گا۔ میرا تو دماغ کام نہیں کر رہا ہے۔

ششر نے پوری بات سنی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ویسے تو یہاں سے اس طرح کے نازک تعلقات نبھا پانا بہت مشکل ہے، کیونکہ یہاں سے تم کچھ بھی کرو، تمہارے دارجی سارے کاموں پر پانی پھیرنے کیلئے وہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ دوسرے، تمہیں فیڈ  بیک آدھا ادھورا اور اتنی دیر سے ملے گا کہ اس وقت تک وہاں کوئی اور ڈویلپمنٹ ہو چکی ہو گی اور تمہیں پتہ بھی نہیں چل پائے گا۔ پھر بھی، یہ بہن کی سسرال کا معاملہ ہے۔ ذرا سنبھل کر کام کرنا ہو گا اور پھر گڈّی کا بھی دیکھنا ہو گا۔ اسے بھی اس طرح سے ان جنگلیوں کے درمیان تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اس کی سکھ شانتی میں تمہاری بھی شراکت ہو گی ہی۔ ویسے، تھوڑا انتظار کر لینے میں کوئی ہرج نہیں ہے۔

اسی کے مشورہ پر میں نندو کو دوبارہ فون کرتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ میں پچاس ہزار روپے کے برابر پونڈز بھجوا رہا ہوں۔ کیش کرا کے دارجی تک پہنچا دینا۔ بس دارجی یہ دیکھ لیں کہ وہ لوگ یہ پیسے دیکھ کر بار بار مطالبہ نہ کرنے لگیں اور کہیں اس کیلئے گڈّی کو ستائیں نہیں۔ نندو کو یہ بھی بتا دیا ہے میں نے کہ میں مہینے بھر کے ٹرپ پر رہوں گا۔ ویسے میں اس سے رابطہ کرتا رہوں گا پھر بھی کوئی ارجنٹ میسج ہو تو اس نمبر پر ششر کو دیا جا سکتا ہے۔ مجھ تک بات پہنچ جائے گی۔

نندو کو بیشک میں نے تسلی دے دی ہے لیکن میرے ہی دل کو تسلی نہیں ہے، پھر بھی ڈرافٹ بھیج دیا ہے۔ شاید یہ پیسے ہی گڈّی کی زندگی میں کچھ رونق لا پائیں۔

ہمارا ٹرپ اچھا رہا ہے، لیکن میرے دل میں مسلسل گڈّی ہی چھائی رہی ہے۔ اس ٹرپ میں ویسے تو ہم دونوں کی ہی مسلسل کوشش رہی کہ پیچ اپ ہو جائے اور ہمارے تعلقات میں جو تلخی آ گئی ہے اس کو کم کیا جا سکے۔ میں اپنی جانب سے اس دورے کو دردناک نہیں بنانا چاہتا۔ میں کوشش بھر نارمل بنا ہوا ہوں۔ من میں ہر طرح کی پریشانیاں ہوتے ہوئے بھی اس کی خوشی اور آرام کا پورا خیال رکھ رہا ہوں۔

گوری نے پھر ضد ہے کہ میں بھی کریڈٹ کارڈ بنوا لوں یا اسی کے کارڈ میں ایڈ اون لے لوں لیکن اس بار بھی میں نے انکار کر دیا ہے۔

ہم لوٹ آئے ہیں۔ ہم دونوں نے اگرچہ باہمی تعلقات نارمل بنائے رکھے ہیں، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ جو خلیج ہم دونوں کے درمیان ایک بار آ چکی ہے، اسے کوئی بھی چیز مناسب طریقے سے بھر پائے گی۔

واپس لوٹنے کے بعد بھی حالات میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ صرف بول چال ہو رہی ہے اور ہم ظاہری طور پر کسی کو بھنک نہیں لگنے دیتے کہ ہم میں اختلافات چل رہے ہیں۔ جو پیسے مجھے دیئے گئے تھے، اس میں سے جو بچے ہیں وہ میرے ہی پاس ہیں۔ وہ بھی اتنے ہیں کہ میرے جیسے کنجوس آدمی کے لئے تو مہینوں کیلئے کافی رہیں گے۔

میری غیر حاضری میں صرف الکا دیدی اور دیویدر جی کا ہی خط آیا ہوا ہے۔ ایک طرح سے تسلی بھی ہوئی ہے کہ گھر سے کوئی خط نہیں آیا ہے، تو میں مان کر چل رہا ہوں کہ وہاں سب ٹھیک ہی ہو گا۔ پھر بھی ششر سے پوچھ لیتا ہوں کہ نندو کا کوئی فون وغیرہ تو نہیں آیا تھا۔ وہ انکار کرتا ہے، ’’نہیں، کوئی پیغام نہیں آیا تو سب ٹھیک ہی ہونا چاہیے۔ ویسے تم بھی ایک بار نندو کو فون کر کے حال چال لے ہی لو۔‘‘

میں بھی یہی سوچ کر نندو سے ہی بات کرتا ہوں۔ وہ جو کچھ بتاتا ہے وہ مجھے پریشان کرنے کیلئے کافی ہے۔ نندو نے جب یہ بتایا کہ اسے تو آج ہی میرا بھیجا ایک ہزار پونڈ کا دوسرا ڈرافٹ بھی مل گیا ہے تو میں حیران ہو گیا ہوں۔ ضرور دوسرا ڈرافٹ ششر نے ہی بھیجا ہو گا، جبکہ مجھے منع کر رہا تھا کہ نندو کا کوئی فون نہیں آیا۔

میں نندو سے ہی پوچھتا ہوں، ’’تو نے ششر کو فون کیا تھا کیا؟‘‘

وہ بتاتا ہے، ’’ہاں، کیا تو تھا لیکن پیسوں کے لئے نہیں بلکہ یہ بتانے کے لئے کہ تجھ تک یہ پیغام پہنچا دے کہ ڈرافٹ مل گیا ہے اور یہ کہ گڈّی کی پریشانی میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ بیشک وہ سسرال کی کوئی شکایت نہیں کرتی اور ان کے سندیسے ہم تک پہنچاتی نہیں، لیکن کل ملا کر وہ تکلیف میں ہے۔‘‘

بتا رہا ہے کہ دارجی آئے تھے اور رو رہے تھے کہ کن بھک مرے لوگوں کے گھر اپنی لڑکی دے دی ہے۔ بیچاری کو گھر بھی نہیں آنے دیتے۔ وہی بتا رہے تھے کسی طرح پچاس ہزار کا انتظام ہو جاتا تو ان کا منہ بند کر دیتے۔ بہت سوچنے کے بعد میں نے تیرے بھیجے ڈرافٹ میں سے دارجی کو پچاس ہزار روپے دیئے تھے تاکہ ان کا منہ بند کر سکیں۔ میں نے تو صرف ششر کو یہی کہا تھا کہ تجھے خبر کر دے کہ پیسوں کی وجہ سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

میں پوچھتا ہوں، ’’مزید پیسے بھیجوں کیا؟‘‘

’’نہیں ضرورت نہیں ہے۔ یہ دو ہزار پونڈ بھی تو ایک لاکھ روپے سے اوپر ہی ہوتے ہیں۔ تو فکر مت کر۔۔ میں ہوں نہ۔‘‘

میں دوہری فکر میں پڑ گیا ہوں۔ ادھر گڈّی کی پریشانی اور ادھر اپنے آپ آگے بڑھ کر ششر نے اتنی بڑی رقم بھیج دی ہے۔ پچاس ہزار کی رقم کوئی معمولی رقم نہیں ہوتی اور جب میں نے پوچھا تو صاف مکر گیا کہ کوئی فون ہی نہیں آیا تھا۔ اس سے ان پیسوں کے بارے میں کچھ کہہ کر اسے چھوٹا بنا سکتا ہوں اور نہ ہی خاموش ہی رہ سکتا ہوں۔ اس نے ادھر ادھر سے انتظام کیا ہو گا۔ شاید اپنے گھر بھیجے جانے والے پیسوں میں ہی کچھ کمی بیشی کی ہو اس نے۔ ادھر نندو اپنے آپ میری جگہ پر میرے گھر کی ساری ذمہ داری اٹھا رہا ہے اور بغیر ایک بھی لفظ بولے دارجی کو پچاس ہزار تھما آتا ہے کہ ان کی لڑکی کو سسرال میں کوئی پریشانی نہ ہو۔ یہ وہی دارجی ہیں جنہوں نے گڈّی کی سفارش کرنے پر اس سے کہہ دیا تھا کہ یہ ہمارا گھریلو معاملہ ہے اور میں یہاں اپنے گھر سے سات سمندر پار ساری ذمہ داریوں سے آزاد بیٹھا ہوا ہوں۔ ان کے لئے نہ کچھ کر پا رہا ہوں اور نہ ان کے سکھ دکھ میں شامل ہو پا رہا ہوں۔

دارجی، نندو، گڈّی اور الکا دیدی کو طویل خطوط لکھتا ہوں۔ ذہن پر اتنا بوجھ ہے کہ جینے ہی نہیں دے رہا ہے۔ گوری اپنی دنیا میں مست ہے اور میں اپنی دنیا میں۔ دی بزی کارنر ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے اور اب اس میں ایسا کچھ بھی نہیں بچا، جسے چیلنج کی طرح لیا جا سکے۔ سب کچھ روٹین ہو چلا ہے۔ اب تو دل کرتا ہے، یہاں سے بھی بھاگ جاؤں۔ کہیں بھی دور چلا جاؤں۔ جہاں کچھ کرنے کے لئے نیا ہو، کچھ مشکل ہو اورجسے کرنے میں مزہ آئے۔ البتہ کمپیوٹر سے ہی ناطہ بنا ہوا ہے اور میں کچھ نہ کچھ نیا کرتا رہتا ہوں۔

ششر کے لئے تو پیکیج بنا کر دیئے ہی ہیں، سوشانت کی بک شاپ کیلئے بھی پروگرامنگ کر کے کچھ نئے پیکیج بنا دیئے ہیں، جس سے اس کا کام آسان ہو گیا ہے۔ اب وہ بھی ششر کی طرح میرے کافی نزدیک آ گیا ہے اور ہم سکھ دکھ کی باتیں کرنے لگے ہیں۔

نندو کا فون آیا ہے۔ اس نے جو خبر سنائی ہے اس سے میں ایکدم ساکت رہ گیا ہوں۔ نندو نے یہ کیا بتا دیا ہے مجھے! گڈّی کی موت کی خبر سننے سے پہلے میں ہی مر کیوں نہیں گیا! میں نے اس سے دو تین بار پوچھا، ’’کیا وہ گڈّی کی ہی بات کر رہا ہے نا؟‘‘ تو نندو نے جواب دیا ہے، ’’ہاں دیپ، میں بدنصیب نندو تجھے گڈّی کی ہی موت کی خبر دے رہا ہوں۔ ان ڈاکوؤں نے ہماری پیاری بہن کو ہم سے چھین لیا ہے۔ اسے جہیز کا عفریت کھا گیا اور ہم کچھ بھی نہیں کر سکے۔‘‘ یہ خبر دیتے وقت نندو زار و قطار رو رہا تھا۔

میں ہکا بکا بیٹھا رہ گیا ہوں۔ یہ کیا ہو گیا میری بی بے!! میرے دارجی!! آپ نے تو اس کیلئے بہت اچھا گھر دیکھا تھا اور یہ کیا ہو گیا۔ اتنا جہیز دینے کے بعد بھی چولہا اسی کے لئے کیوں پھٹا او میرے ربّا!! لکھا بھی تو تھا گڈّی نے کہ اگر پیسوں کا انتظام نہ ہو پایا تو چولہا تو اسی کیلئے پھٹے گا۔ دارجی نے تو ٹھوک بجا کر داماد تلاش کیا تھا، وہ قصائی کیسے نکل گیا۔

گڈّی کے بارے میں سوچ سوچ کر دماغ کی نسیں پھٹ لگی ہیں۔ نندو بتاتے وقت ہچکیاں لے لے کر رو رہا تھا، ’’مجھے معاف کر دینا دیپ، میں تیری بہن کو ان شیطانوں کے ہاتھ سے نہیں بچا پایا میرے دوست، بیشک گڈّی کی سسرال والوں کو پولیس نے پکڑ لیا ہے لیکن ان کی گرفتاری سے گڈّی تو واپس نہیں آ جائے گی۔ تو برداشت کر۔‘‘

نندو میرے یار، میں تجھے تو معاف کر دوں، لیکن مجھے کون معاف کرے گا۔ تو میری جگہ میرے گھر کی ساری ذمے داریاں ادا کرتا رہا اور میں صرف اپنے مفاد کی خاطر یہاں پردیس میں بیٹھا اپنے گھر کے ہی خواب دیکھتا رہا۔ نہ میں اپنا گھر بنا پایا، نہ گڈّی کا گھر بستا دیکھ پایا۔ اب تو وہی نہیں رہی، میں معافی بھی کس سے مانگو۔ وہ کتنا کہتی تھی کہ میں آگے پڑھنا چاہتی ہوں، کچھ بن کے دکھانا چاہتی ہوں، اور ملا کیا اس بیچاری کو!! آخر دارجی کی ضد نے اس معصوم کی جان لے ہی لی۔ میرا جانا تو نہیں ہو پائے گا۔ جا کر ہو گا بھی کیا۔ میں کس کی سنوں گا اور کس کو جواب دوں گا۔ دونوں ہی کام مجھ سے نہیں ہو پائیں گے۔

دارجی، بی بے، نندو اور الکا دیدی کو بھی طویل خط لکھتا ہوں تاکہ سینے پر جمی یہ برف کچھ تو پگھلے۔ گوری بھی اس خبر سے بھونچکی رہ گئی ہے۔ اسے یقین ہی نہیں ہو رہا ہے کہ صرف ایک دو لاکھ روپے کے جہیز کے لئے کسی جیتے جانے انسان کو یوں جلایا بھی جا سکتا ہے۔

بتاتا ہوں اسے، ’’گڈّی بیچاری جہیز کی آگ میں جلنے والی اکیلی لڑکی نہیں ہے۔ وہاں تو گھر گھر میں یہ آگ سلگتی رہتی ہے اور ہر دن وہاں جہیز کم لانے والی یا نہ لانے والی معصوم لڑکیوں کو یوں ہی جلایا جاتا ہے۔‘‘

وہ پوچھتی ہے، ’’انڈیا میں ہوس اور لالچ اتنے زیادہ بڑھ گئے ہیں اور آپ کا قانون کچھ نہیں کرتا؟‘‘

’’اب کیسا قانون اور کس کا قانون۔‘‘ میں نے اس بھرے دل سے بتاتا ہوں ’’جہاں ملک کا اقتدار چلانے والے آئی اے ایس افسر کا جہیز کی مارکیٹ میں سب سے زیادہ ریٹ چلتا ہو، وہاں کا قانون کتنا لچر ہو گا، تم تصور کر سکتی ہو۔‘‘ بیشک گوری نے گڈّی کی صرف تصویر ہی دیکھی ہے پھر بھی وہ پریشان ہو گئی ہے۔ دکھ کی اس گھڑی میں وہ میرا پورا ساتھ دے رہی ہے۔

ششر بھی اس حادثے سے سُن ہو گیا ہے۔ وہ برابر میرے ساتھ ہی بنا ہوا ہے۔ اسی نے سب سے پہلے ہماری سسرال میں خبر دی تھی۔ میرے سسر اور دوسرے بہت سے لوگ فوری طور پر افسوس کرنے آئے تھے۔ ہانڈا صاحب نے پوچھا بھی تھا، ’’اگر جانا چاہو انڈیا، تو انتظام کر دیتے ہیں۔‘‘ لیکن میں نے ہی انکار کر دیا تھا۔ اب جا کر بھی کیا کروں گا۔

گوری اور ششر کے مسلسل میرے ساتھ رہنے اور میرا حوصلہ بڑھائے رکھنے کے باوجود میں خود کو بالکل تنہا محسوس کر رہا ہوں۔ اب تو اسٹورز میں جانے کی بھی خواہش نہیں ہوتی۔ تھوڑی دیر کے لئے جاتا ہوں۔ سارا دن گڈّی کے لئے میرا دل روتا رہتا ہے۔ کبھی کسی کے لئے اتنا افسوس نہیں منایا۔ اپنے دکھ کسی کے سامنے آنے نہیں دیئے لیکن گڈّی کا یوں چلے جانا مجھے بری طرح توڑ گیا ہے، بار بار اس کا آنکھیں بڑی بڑی کر کے میری بات سننا، ویر جی یہ اور ویر جی وہ کہنا، بار بار یاد آتے ہیں۔ کتنے کم وقت کے لئے ملی تھی اور کتنا کچھ دے گئی تھی مجھے اور کتنی جلدی مجھے چھوڑ کر چلی بھی گئی۔

جب سے گڈّی کی یہ المناک خبرملی ہے، میں محسوس کر رہا ہوں کہ میرا سر پھر سے درد کرنے لگا ہے۔ یہ درد بھی ویسا ہی ہے جیسا بچپن میں ہوا کرتا تھا۔ میں اسے وہم مان کر بھول جانا چاہتا ہوں، لیکن سر درد ہے کہ دن بدن بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ پتہ نہیں، اس درد کی باقیات بچی کیسے رہ گئی ہیں۔ حالانکہ علاج تو تب بھی نہیں ہوا تھا، لیکن درد تو ٹھیک ہو ہی گیا تھا۔ گوری کو میں بتا بھی نہیں سکتا، میرا کیا چھن گیا ہے۔

***

 

 

 

 

باب پنجم

 

 

ہسپتال میں دس دن کاٹنے کے بعد آج ہی گھر واپس آیا ہوں۔ ان میں سے تین دن تو آئی سی یو میں ہی رہا۔ بعد میں پچاسوں طرح کے ٹیسٹ چلتے رہے اور بیسیوں قسم کی رپورٹیں تیار کی گئیں، اندازے نکالے گئے، لیکن نتیجہ زیرو رہا۔ ڈاکٹر میرے سر درد کی وجہ تلاش کرنے میں لاچار رہے اور میں جس درد کے ساتھ آدھی رات کو ہسپتال لے جایا گیا تھا، اسی درد کے ساتھ دس دن بعد واپس آ گیا ہوں۔ گوری بتا رہی تھی، ایک رات میں سر درد سے بری طرح سے تڑپنے لگا تھا۔ وہ میری حالت دیکھ کر ایک دم گھبرا گئی تھی۔ اس نے فوری طور پر ڈاکٹر کو فون کیا۔ اس نے مجھے کبھی ایک دن کے لئے بھی بیمار پڑتے نہیں دیکھا تھا اور اسے میری اس یا کسی بھی بیماری کے بارے میں کچھ بھی پتہ نہیں تھا اس لئے وہ ڈاکٹر کو اس بارے میں کچھ بھی نہیں بتا پائی تھی۔ ڈاکٹر نے بیشک درد دور کرنے کا انجکشن دے دیا تھا، لیکن جب وہ کچھ بھی تشخیص نہیں کر پایا تو اس نے ہسپتال لے جانے کی صلاح دی تھی۔ گوری نے تب اپنے گھر پاپا وغیرہ کو فون کیا اور میری حالت کے بارے میں بتایا تھا۔ سبھی لپکے ہوئے آئے تھے اور اس طرح میں ہسپتال میں پہنچا دیا گیا تھا۔

اب بستر پر لیٹے ہوئے اور اس وقت بھی درد سے کراہتے ہوئے مجھے ہنسی آ رہی ہے، کیا پتہ چلا ہو گا ڈاکٹروں کو میرے درد کے بارے میں۔ کوئی جسمانی وجہ ہو بھی تو وہ پتہ لگا سکتے۔ رپورٹیں اس بارے میں بالکل خاموش ہیں۔

اس دوران کئی بار پوچھ چکی ہے گوری، ’’اچانک یہ تمہیں کیا ہو گیا تھا دیپ؟ کیا پہلے بھی کبھی۔۔۔۔۔۔؟‘‘

’’نہیں گوری، ایسا تو کبھی نہیں ہوا تھا۔ تم نے تو دیکھا ہی ہے کہ مجھے کبھی زکام بھی نہیں ہوتا۔‘‘ میں اسے یقین دلاتا ہوں۔ بچپن کے بارے میں میں تھوڑا سا جھوٹ بول گیا ہوں۔ ویسے بھی وہ میرے کیسوں کے معاملے، درد کے سلسلے اور اب گڈّی کی موت کے لنک تو کیا ہی جوڑ پائے گی۔ کچھ بتاؤں بھی تو پوری بات بتانی پڑے گی اور وہ دس طرح کے سوال پوچھے گی۔ یہی سوال اس کے گھر کے تمام لوگ مختلف طریقوں یہ پوچھ چکے ہیں۔ میرا جواب سب کے لئے وہی رہا ہے۔

ششر بھی پوچھ رہا تھا۔ میں کیا جواب دیتا۔ مجھے پتہ ہوتا تو کیا سسرال کے اتنے احسان لیتا کہ اتنا مہنگا علاج کرواتا!! ویسے ادویات اب بھی کھا رہا ہوں اور ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق کمپلیٹ ریسٹ بھی کر ہی رہا ہوں، لیکن سارا دن بستر پر لیٹے لیٹے، رہ رہ کے گڈّی کی یادیں پریشان کرنے لگتی ہیں۔ آخر اس معصوم قصور کیا تھا۔ جو جہیز ہم نے گڈّی کو دینا تھا یا دیا تھا وہ ہماری ذمہ داری تھی۔ ہم مکمل کر ہی رہے تھے۔ زندگی بھر کرتے ہی رہتے۔

سارا دن بستر پر لیٹا رہتا ہوں اور ایسے ہی الٹے سیدھے خیال آتے رہتے ہیں۔ میری ساری زندگی میں یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ میں بیمار ہونے کی وجہ سے اتنے دنوں سے بستر پر لیٹا ہوں اور کوئی کام نہیں کر رہا ہوں۔ بیچ بیچ میں سب کے فون بھی آتے رہتے ہیں۔ گوری دن میں کئی بار فون کر لیتی ہے۔

لیٹے لیٹے موسیقی سنتا رہتا ہوں۔ یہاں آ کر کلاسیکل موسیقی کی طرف رجحان پیدا ہوا ہے۔ گوری نے ایک نیا ڈسک مین دیا ہے اور ششر انڈین کلاسیکل موسیقی کی بہت سی ڈیز دے گیا ہے۔ شلپا بھی کچھ کتابیں چھوڑ گئی تھی۔ اور بھی سب کچھ نہ کچھ دے گئے ہیں تاکہ میں لیٹے لیٹے بور نہ ہوں۔

لگ بھگ چھ مہینے ہو گئے ہیں سر درد کو جھیلتے ہوئے۔ اس دوران زیادہ تر عرصہ آرام ہی کرتا رہا یا طرح طرح کے ٹیسٹ ہی کراتا رہا۔ نتیجہ تو کیا ہی نکلنا تھا۔ ویسے سر درد کے ساتھ میں اب اسٹورز میں پورا پورا دن بھی گذارنے لگا ہوں، لیکن میں ہی جانتا ہوں کہ میں کتنی تکلیف سے گزر رہا ہوں۔ بچپن میں بھی تو ایسے ہی درد ہوتا تھا اور میں کسی سے بھی کچھ نہیں کہہ پاتا تھا۔ سارا سارا دن درد سے تڑپتا رہتا تھا، جیسے کوئی سر میں تیز چھریاں چلا رہا ہو۔ تب تو کیس کٹوا کر درد سے نجات پا لی تھی، لیکن اب تو کیس بھی نہیں ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا، اب اس سے کیسے نجات ملے گی۔ یہاں کے انگریز ڈاکٹروں کو میں نے جان بوجھ کر بچپن کے سر درد اور اس کے دور ہونے کے واقعے کے بارے میں نہیں بتایا ہے۔ میں جانتا ہوں یہ انگریز تو میرے اس منفرد درد اور اس کے اور بھی زیادہ منفرد علاج کے بارے میں سن کر تو میرا مذاق اڑائیں گے ہی، گوری اور اس کے گھر والوں کی نگاہ میں بھی میں دقیانوسی اور توہم پرست کہلواؤں گا۔ میں ایسے ہی بھلا۔ بیچاری بی بے بھی نہیں ہے جو میرے سر میں گرم تیل چپڑ دے اور اپنے بازوؤں سے میرے سر میں تھپکیاں دے کر سلا ہی دے۔

ابھی سو ہی رہا تھا کہ فون کی گھنٹی سے نیند اچٹ گئی ہے۔ گھڑی دیکھتا ہوں، ابھی صبح کے چھ ہی بجے ہیں۔ گوری باتھ روم میں ہے۔ مجھے ہی اٹھانا پڑے گا۔

’’ہیلو۔‘‘

’’ہیلو دیپ جی، سو رہے تھے کیا؟‘‘

بالکل شناسا سی آواز، پھر بھی لوکیٹ نہیں کر پا رہا ہوں، کون ہیں جو اتنی بے تکلفی سے بات کر رہی ہیں۔

’’ہیلو، میں ٹھیک ہوں لیکن معاف کیجئے میں پہچان نہیں پا رہا ہوں آپ کی آواز۔۔۔‘‘

’’کوشش کیجئے!‘‘

’’پہلے ہماری فون پر بات ہوئی ہے کیا؟‘‘

’’ہوئی تو نہیں ہے۔‘‘

’’ملاقات ہوئی ہے کیا؟‘‘

’’دو تین بار تو ہوئی ہی ہے۔‘‘

’’آپ ہی بتا دیجیے، میں پہچان نہیں پا رہا ہوں۔‘‘

’’میں مالویکا ہوں۔ مالویکا اوبرائے۔‘‘

’’او ہو مالویکا جی۔ نمستے۔ آئی ایم سوری، میں سچ مچ ہی پہچان نہیں پا رہا تھا، گوری اکثر آپ کا ذکر کرتی رہتی ہے۔ کئی بار سوچا بھی کہ آپ کی طرف آئیں۔‘‘ اتنے عرصے بعد بھی اس کا چمچماتا حسن میری آنکھوں کے آگے جھلملانے لگا ہے۔

’’لیکن میں شرط لگا کر کہہ سکتی ہوں کہ آپ کو ہماری کبھی یاد نہیں آئی ہو گی۔ شکل تو میری کیا ہی یاد ہو گی۔‘‘

’’نہیں، ایسی بات تو نہیں ہے۔ در اصل مجھے آپ کی شکل بہت اچھی طرح سے یاد ہے، صرف اس طرف آنا ہی نہیں ہو پایا۔ فی الحال کہئے کیسے یاد کیا۔‘‘ کس طرح کہوں کہ جو انہیں ایک بار دیکھ لے، زندگی بھر نہیں بھول سکتا۔

’’آپ کا سر درد کیسا ہے اب؟‘‘

’’ارے، آپ کو تو ساری خبریں ملتی رہتی ہیں۔‘‘

’’کم از کم آپ کی خبر تو ہے مجھے، میں آ نہیں پائی لیکن مجھے پتہ چلا، آپ خاصے پریشان ہیں آج کل اس درد کی وجہ سے۔‘‘

’’جی ہاں ہوں تو سہی، سمجھ میں نہیں آ رہا، کیا ہو گیا ہے مجھے۔‘‘

’’گوری سے اتنا بھی نہ ہوا کہ آپ کو میرے پاس ہی لے آتی۔ اگر آپ کو یوگا میں یقین ہو تو آپ ہمارے یہاں کیوں نہیں آتے ایک بار۔ ویسے تو آپ کو آرام آ جانا چاہیے، اگر نہ بھی آئے تو بھی کچھ ایسی یوگا ٹیکنکس بتا دوں گی کہ بہتر محسوس کریں گے۔ یوگا کے علاوہ ایکیو پریشر ہے، نیچرو پیتھی ہے اور بھی دوسرے ہندوستانی علاج ہیں۔ جسے بھی آزمانا چاہیں۔‘‘

’’ضرور آؤں گا میں۔ ویسے بھی پچاس طرح کے ٹیسٹ کرا کے اور یہ دوائیں کھا کھا کر غمگین ہو گیا ہوں۔‘‘

’’اچھا ایک کام کیجئے، میں گوری سے خود ہی بات کر لیتی ہوں، آپ کو اس سنڈے لیتی آئے گی۔ گوری سے بات کرائیں گے کیا؟‘‘

’’گوری ابھی باتھ روم میں ہے اور ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی گئی ہے۔ اسے کم از کم آدھا گھنٹہ اور لگے گا۔‘‘

’’خیر اسے بتا دیجئے گا کہ میں نے فون کیا تھا۔ چلو اس بہانے آپ سے بھی بات ہو گئی۔ آپ کا انتظار رہے گا۔‘‘

’’ضرور آئیں گے۔ گوری کے ساتھ ہی آؤں گا۔‘‘

’’اوکے، تھینکس۔‘‘

مالویکا سے ہوئی ملاقات اب یاد آ رہی ہے۔ گوری کے ساتھ ہی گیا تھا ان کے سینٹر میں۔ نارتھ ویمبلے کی طرف تھا کہیں۔ گوری کے ساتھ ایک آدھ بار ہی وہاں جا پایا ہوں۔

جب ہم وہاں پہلی بار گئے تھے تب مالویکا ایک لوز سا ٹریک سوٹ پہنے اپنے اسٹوڈنٹس کو لیسن دے رہی تھی۔

انہیں دیکھتے ہی میری آنکھیں چندھیا گئی تھیں۔ میں زندگی میں پہلی بار اتنی ساری خوبصورتی ایک ساتھ دیکھ رہا تھا۔ بھری بھری آنکھیں، لمبی لہراتی چوٹی۔ میں گھبراہٹ ان کی طرف دیکھ بھی نہیں پا رہا تھا۔ وہ بے انتہا خوبصورت تھیں اور انہیں کہیں بھی، کبھی بھی اگنور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ میں حیران بھی ہوا تھا کہ ریسیپشن میں میں ان کی طرف توجہ کیسے نہیں دے پایا تھا۔

گوری مجھے سوچوں نے نکالا تھا، ’’کہاں کھو گئے دیپ، مالویکا کب سے آپ کو ہیلو کر رہی ہے۔‘‘ میں جھینپ گیا تھا۔

ہم نے مالویکا سے اپاؤنٹمنٹ لے لیا ہے اور آج ان سے ملنے جا رہے ہیں۔ جب میں نے گوری کو مالویکا کا میسج دیا تو وہ افسوس کرنے لگی تھی، ’’میں بھی کیسی پاگل ہوں۔ تم اتنے دن سے اس سر درد سے پریشان ہو اور ہم نے ہر طرح کا علاج کر کے بھی دیکھ لیا، لیکن مجھے ایک بار بھی نہیں سوجھا کہ مالویکا کے پاس ہی چلے چلتے ہیں۔ آئی کین بیٹ، اب تک تم ٹھیک بھی ہو چکے ہوتے۔ اینی ہاؤ، اب بھی دیر نہیں ہوئی ہے۔‘‘

مالویکا جی ہمارا ہی انتظار کر رہی ہیں۔ انہوں نے اٹھ کر ہم دونوں کا خیر مقدم کیا ہے۔ ہم دونوں سے گرمجوشی سے ہاتھ ملایا ہے اور گوری سے ناراضگی جتلائی ہے، ’’یہ کیا ہے گوری، آج کتنے دنوں بعد درشن دے رہی ہو۔ تم سے اتنا بھی نہ ہوا کہ دیپ جی کو ایک بار میرے پاس بھی لا کر دکھلا دیتیں۔ ایسا کون سا مرض ہے جس کا علاج یوگا میں نہ کیا جا سکتا ہو۔ اگر مجھے ششر جی نے نہ بتایا ہوتا تو مجھے تو کبھی پتہ ہی نہ چلتا۔‘‘ وہ میری طرف دیکھ کر مسکرائی ہیں۔

گوری نے ہار مان لی ہے، ’’کیا بتاؤں مالویکا، ان یہ حالت دیکھ دیکھ کر میں پریشان تھی کہ ہم طریقے سے ان کے معمولی سر درد کا علاج بھی نہیں کروا پا رہے ہیں۔ لیکن بلیو می، مجھے ایک بار بھی نہیں سوجھا کہ انہیں تمہارے پاس ہی لے آتی۔‘‘

’’کیسے لاتی، جب کہ تم خود ہی سال بھر سے اس طرف نہیں آئی ہو۔ اپنی چربی کا حال دیکھ رہی ہو، کیسے پرت در پرت چڑھتی جا رہی ہے۔ خیر، آئیے دیپ جی، ہماری یہ نوک جھونک تو چلتی ہی رہے گی۔ پہلے آپ ہی کو انرول کر لیا جائے۔ ویسے تو آپ کو شادی کے فوراً بعد ہی یہاں آنا شروع کر دینا چاہئے تھا۔‘‘

میں دیکھ رہا ہوں مالویکا جی اب بھی اتنی ہی اسمارٹ اور خوبصورت نظر آ رہی ہیں۔ اسپوٹ لیس بیوٹی۔ ماننا پڑے گا کہ یوگا کا سب سے زیادہ فائدہ انہی کو ہوا ہے۔

انہوں نے مجھے ایک فارم دیا ہے بھرنے کے لئے، ’’جب تک کافی آئے، آپ یہ فارم بھر دیجیے۔ ہمارے تمام کلائنٹس کے لیے ضروری ہوتا ہے یہ فارم۔‘‘ وہ ہنسی ہیں، ’’اس سے ہم بہت سے الٹے سیدھے سوال پوچھنے سے بچ جاتے ہیں۔ اس دوران میں آپ کی ساری میڈیکل رپورٹیں دیکھ لیتی ہوں۔‘‘

میں فارم بھر رہا ہوں۔ پرسنل بایو ڈیٹا کے علاوہ اس میں بیماریوں، الرجی، غذائی عادات وغیرہ کے بارے میں ڈھیر سارے سوالات ہیں۔ جن سوالات کے جواب ہاں یا نہ میں دینے ہیں، وہ تو میں نے آسانی سے بھر دیئے ہیں، لیکن بیماری کے کالم میں سر درد لکھ کر ٹھہر گیا ہوں۔ اس کے اگلے ہی کالم میں بیماری کی ہسٹری پوچھی گئی ہے۔ سمجھ میں نہیں آ رہا، یہاں پر کیا لکھوں میں؟ کیا بچپن والے سر درد کا ذکر کروں یہاں پر۔

میں نے اس کالم میں لکھ دیا ہے، ’’بچپن میں بہت درد ہوتا تھا، لیکن کیس کٹوانے کے بعد بالکل ٹھیک ہو گیا تھا۔‘‘ نیچے ایک ریمارک میں یہ بھی لکھ دیا ہے کہ اس بارے میں باقی ڈیٹیلز آمنے سامنے بیان کر دوں گا۔ فارم پورا بھر کر میں نے اسے مالویکا جی کو تھما دیا ہے۔ اس دوران کافی آ گئی ہے۔ کافی پیتے پیتے وہ میرا بھرا ہوا فارم سرسری نگاہ سے دیکھتی رہی ہیں۔

کافی ختم کر کے انہوں نے گوری سے کہا ہے، ’’اب تمہاری ڈیوٹی ختم گوری۔ تم جاؤ۔ اب باقی کام میرا ہے۔ انہیں یہاں دیر لگے گی۔ میں بعد میں تم سے فون پر بات کر لوں گی۔ چاہو تو تھوڑی دیر کچھ یوگا آسن ہی کر لو۔‘‘ گوری نے انکار کر دیا ہے اور جاتے جاتے ہنستے ہوئے کہہ گئی ہے، ’’اپنا خیال رکھنا دیپ، مالویکا از ویری اسٹریکٹ یوگا ٹیچر۔ ایک بار ان کے ہتھے چڑھ گئے تو زندگی بھر کے لئے کسی مشکل آسن میں تمہاری گردن پھنسا دے گی۔‘‘

مالویکا جی نے نہلے پر دہلا مارا ہے، ’’شاید اسی لیے تم مہینوں تک اپنا چہرہ نہیں دکھاتیں۔‘‘

گوری کے جانے کے بعد مالویکا جی اطمینان کے ساتھ میرے سامنے بیٹھ گئی ہیں۔ میں ان کی آنکھوں کا جلال برداشت کرنے میں خود کو لاچار پا رہا ہوں۔ میں بہت کم ایسی لڑکیوں کے رابطے میں آیا ہوں، جو براہ راست آنکھوں ملا کر بات کرتی ہیں۔

وہ میرے سامنے تن کر بیٹھی ہیں۔

پوچھ رہی ہیں مجھ سے، ’’دیکھئے دیپ جی، نیچروپیتھی وغیرہ میں علاج کرنے کا ہمارا طریقہ کار تھوڑا سا مختلف ہوتا ہے۔ جب تک ہمیں بیماری کی وجوہات، اس کی میعاد، اس کی نشانیوں وغیرہ کے بارے میں مکمل معلومات نہ مل جائے، ہم علاج نہیں کر سکتے۔ اس کے علاوہ مریض کا رویہ، اس کی ذہنی کیفیت، بیماری اور اس کے علاج کے لحاظ سے اس کے نقطہ نظر کے بارے میں بھی جاننا ہمارے اور مریض دونوں کیلئے فائدہ مند ہوتا ہے۔ تو جناب، اب معاملہ یہ بنتا ہے کہ آپ نے فارم میں بچپن میں ہونے والے درد کا ذکر کیا ہے اور یہ کیس کٹوانے والا معاملہ۔ آپ اس کے بارے میں تو بتائیں گے ہی، آپ یہ سمجھ لیجیے کہ آپ مالویکا کے سامنے اپنے آپ کو مکمل طور کھول کر رکھ دیں گے۔ یہ آپ ہی کے مفاد میں ہو گا۔ آپ اطمینان رکھیں۔ آپ کا کہا گیا ایک ایک لفظ صرف مجھ تک رہے گا اور اسے میں صرف آپ کی بہتری کے لئے ہی استعمال کروں گی۔‘‘

میں سحر زدہ سا ان کے چہرے پر آنکھیں گڑائے، ان کا کہا گیا ایک ایک لفظ سن رہا ہوں۔ وہ روانی سے بولے جا رہی ہیں۔ ان کی گفتگو میں بھی سامنے والے کو مسحور کرنے کی طاقت ہے۔ میں حیران ہوں، یہاں لندن میں بھی اتنی اچھی ہندی بولنے والے لوگ رہتے ہیں۔

وہ کہہ رہی ہیں، ’’دیپ جی، اب آپ بِنا ہچکچاہٹ اپنے بارے میں جتنا کچھ اب بتانا چاہیں، بتائیں۔ اگر ابھی من نہ ہو، پہلی ہی ملاقات میں میرے سامنے اس طرح سے کھل کر بات کرنے کا، تو کل، یا کسی اور دن کیلئے رکھ لیتے ہیں۔ یہاں اس ماحول میں بات نہ کرنا چاہیں تو باہر چلتے ہیں۔ لیکن ایک بات آپ جان لیں، آپ کے بھلے کے لئے ہی کہہ رہی ہوں، کہ آپ مجھ سے کچھ بھی چھپائیں گے نہیں۔ تو ٹھیک ہے؟‘‘

’’ٹھیک ہے۔‘‘

میں سمجھ رہا ہوں، ان تجربہ کار اور کشش سے بھری آنکھوں کے آگے نہ تو کچھ چھپایا جا سکے گا اور نہ ہی جھوٹ ہی بولا جا سکے گا۔

’’گڈ۔‘‘ انہوں نے میری طرف ہاتھ بڑھایا ہے۔

’’سمجھ نہیں پا رہا ہوں مالویکا جی کہ میں اپنی بات کس طرح سے شروع کروں۔ در اصل۔۔۔۔‘‘

’’ٹھیرئیے، ہم دوسرے کمرے میں چلتے ہیں۔ وہیں آرام سے بیٹھ کر بات کریں گے۔ جوس، بیئر وغیرہ ہیں وہاں ریفریجریٹر میں۔ کسی قسم کے تکلف کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

ہم دوسرے کمرے میں آ گئے ہیں اور آرام دہ سوفے پر بیٹھ گئے ہیں۔ انہوں نے مجھے بولنے کیلئے اشارہ کیا ہے۔

میں آہستہ آہستہ بولنا شروع کرتا ہوں، ’’اس درد کی بھی بہت لمبی کہانی ہے مالویکا جی۔ سمجھ میں نہیں آ رہا، کہاں سے شروع کروں۔ در اصل آج تک میں نے کسی کو بھی اپنے بارے میں سارے حقائق نہیں بتائے ہیں۔ کسی کو ایک سچ بتایا تو کسی دوسرے کو اسی سچ کا دوسرا رخ دکھایا۔ میں ہمیشہ دوسروں کی نظروں میں بے چارہ بننے سے بچتا رہا۔ مجھے کوئی ترس کھاتی نگاہوں سے دیکھے، مجھے بالکل بھی پسند نہیں ہے لیکن آپ نے مجھے جس کشمکش میں ڈال دیا ہے، پوری بات بتائے بغیر چلے گا بھی نہیں۔ در اصل میں مونا سکھ ہوں۔ سارے مسئلے کی جڑ ہی میرا سکھ ہونا ہے۔ آپ کو یہ جان کر تعجب ہو گا کہ میں نے صرف چودہ سال کی عمر میں گھر چھوڑ دیا تھا اور آئی آئی ٹی، کانپور سے ایم ٹیک اور پھر امریکہ سے پی ایچ ڈی تک پڑھائی میں نے خود کے، اپنے بل بوتے پر کی ہے۔ ویسے گھر میں نے دو بار چھوڑا ہے۔ چودہ سال کی عمر میں بھی اور اٹھائیس سال کی عمر میں بھی۔ پہلی بار گھر چھوڑنے کی کہانی بھی بہت عجیب ہے۔ یقین ہی نہیں کریں گی آپ کہ اتنی سی بات کو لے کر بھی گھر چھوڑنا پڑ سکتا ہے۔ حالانکہ گھر میں میرے پتا، ماں اور دو چھوٹے بھائی ہیں اور ایک چھوٹی بہن تھی۔ دنیا کی سب سے خوبصورت اور سمجھدار بہن گڈّی جو کچھ عرصہ پہلے جہیز کی بھینٹ چڑھ گئی۔ اس صدمے سے میں اب تک نکل نہیں سکا ہوں۔ مجھے لگتا ہے، دوبارہ سر درد نمودار ہونے کی وجہ بھی یہی صدمہ ہے۔ اپنی بہن کے لئے سب کچھ کرنے کے بعد بھی میں اس کیلئے خوشیاں نہ خرید سکا۔ لاکھوں روپے کے جہیز کے بعد بھی اس کی سسرال والوں کی نیت نہیں بھری تھی اور انہوں نے اس معصوم کی جان لے لی۔ اس بیچاری کی کوئی تصویر بھی نہیں ہے میرے پاس۔ بہت برائٹ لڑکی تھی اور انتہائی خوبصورت نظمیں لکھتی تھی۔‘‘ گڈّی کے ذکر سے میری آنکھوں میں پانی آ گیا ہے۔ گلا رندھ گیا ہے اور میں آگے کچھ بول ہی نہیں پا رہا ہوں۔ مالویکا جی نے میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا ہے۔

مجھے کچھ وقت لگتا ہے خود کو سنبھالنے میں۔ مالویکا جی کی طرف دیکھتا ہوں۔ وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں میرا حوصلہ بڑھاتی ہیں۔ میں بات آگے بڑھاتا ہوں، ’’ہاں، تو میں اپنے بچپن کی باتیں بتا رہا تھا۔ میرے پتا جی کارپینٹر تھے اور گھر میں رہ کر ہی کام کرتے تھے۔ ہم لوگوں کا ایک بہت پرانا، بڑا سا گھر تھا۔ ہمارے پتا جی بہت غصے والے آدمی تھے اور غصہ آنے پر کسی کو بھی نہیں چھوڑتے تھے۔ آج بھی اگر میں گنوں تو پہلی بار گھر چھوڑنے تک، یعنی تیرہ چودہ سال کی عمر تک میں جتنی مار ان سے کھا چکا تھا، اس کے بیسیوں نشان میں آپ کو اب بھی گن کر دکھا سکتا ہوں۔ تن پر بھی اور من پر بھی۔ ناراضگی میں وہ اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے، جو بھی اوزار ہاتھ میں ہو، وہی دے مارتے تھے۔ ان کے مارنے کی وجوہات بہت معمولی ہوتی تھیں۔ بیشک آخری مرتبہ بھی میں گھر سے پٹ کر ہی روتا ہوا نکلا تھا اور اس کے بعد پورے چودہ برس بعد ہی گھر واپس آیا تھا۔ ایک بار پھر گھر چھوڑنے کے لئے۔ پر اس کی کہانی الگ ہے۔‘‘

یہ کہتے ہوئے میرا گلا بھر آیا ہے اور آنکھیں پھر ڈبڈبا گئی ہیں۔ کچھ رک کر میں نے آگے کہنا شروع کیا ہے، ’’بچپن میں میرے کیس بہت لمبے، موٹے اور چمکدار تھے۔ سب کی نگاہوں میں یہ بال جتنے شاندار تھے، میرے لئے اتنی ہی مصیبت کا سبب بنے۔ بچپن میں میرا سر بہت دکھتا تھا۔ ہر وقت جیسے سر میں ہتھوڑے بجتے رہتے۔ ایک لمحے کے لئے بھی چین نہ ملتا۔ میں ساراسارا دن اسی سر درد کی وجہ سے روتا۔ نہ پڑھ پاتا، نہ کھیل ہی پاتا۔ دل کرتا، سر کو دیوار سے، فرش سے اس وقت تک ٹکراتا رہوں، جب تک اس کے دو ٹکڑے نہ ہو جائیں۔ میرے دارجی مجھے ڈاکٹر کے پاس لے جاتے، بی بے سر پر ڈھیر سارا گرم تیل چپڑ کر سر کا مساج کرتی۔ تھوڑی دیر کے لئے آرام آ جاتا، لیکن پھر وہی سر درد۔ اسکول کے سارے ماسٹر وغیرہ آس پاس کے محلوں میں ہی رہتے تھے اور دارجی کے پاس کچھ نہ کچھ بنوانے کیلئے آتے رہتے تھے، اس لئے کسی طرح ٹھیل ٹھال کر پاس تو کر دیا جاتا، لیکن پڑھائی میرے پلے خاک بھی نہیں پڑتی تھی۔ دھیان ہی نہیں دے پاتا تھا۔ ڈاکٹروں، ویدوں، حکیموں کے آدھے ادھورے علاج چلتے، لیکن سکون نہ آتا۔ مجھے اپنی بچکانہ سوچ سے اس کا ایک ہی علاج سمجھ میں آتا کہ یہ بال ہی اس سارے سر درد کی وجہ ہیں۔ جانے کیوں یہ بات میرے دل میں گھر کر گئی تھی کہ جس دن میں یہ بالوں کٹوا لوں گا، میرا سر درد اپنے آپ ٹھیک ہو جائے گا۔ میں نے ایک آدھ بار دبی آواز میں بی بے سے اس کا ذکر کیا بھی تھا، لیکن بی بے نے دھتکار دیا تھا، مرنے جو گیا، پھر یہ بات منہ سے نکالی تو تیری جبان کھینچ لوں گی۔

شاید رب کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ایک دن میں نے بھی طے کر لیا، زبان جاتی ہے تو جائے، لیکن یہ سر درد مزید برداشت نہیں ہوتا۔ یہ بال ہی سر درد کی جڑ ہیں۔ ان سے چھٹکارا حاصل ہی کرنا ہو گا۔ اور میں گھر سے بہت دور ایک میلے میں گیا اور وہاں اپنے کیس کٹوا آیا۔ بال کٹوانے کے لئے بھی مجھے اچھا خاصا ڈرامہ کرنا پڑا۔ پہلے تو کوئی نائی ہی کسی سکھ بچے کے بالوں کاٹنے کو تیار نہ ہوا۔ میں مختلف نائیوں کے پاس گیا، لیکن میری یہ بات کسی نے نہ مانی۔ تب میں نے ایک جھوٹ بولا کہ میں مونا ہی ہوں اور میرے ماں باپ نے منت مان رکھی تھی کہ تیرہ چودہ سال تک تیرے بال نہیں کٹوائیں گے اور تب تو بغیر بتائے ہی بال کٹوا کر آنا اور میں نے حجام کے آگے اکیس روپے رکھ دیے تھے۔

نائی بڑبڑا یا تھا کہ بڑے عجیب ہیں تیری برادری والے۔ وہ بڑی مشکل سے تیار ہوا تھا۔ اس دن میں نے پہلی بار گھر میں چوری کی تھی۔ میں نے بی بے کی گولک سے بیس روپے نکالے تھے۔ ایک رات پہلے ہی میں فیصلہ کر چکا تھا کہ یہ کام کر ہی ڈالنا ہے۔ چاہے جو ہو جائے۔ ایک آدھ بار دارجی کے غصے کا خیال آیا تھا، لیکن ان کے غصے کے مقابلے میں میری اپنی زندگی اور پڑھائی زیادہ ضروری تھے۔

ویسے ہم لوگ باقاعدگی سے گرو دوارے جاتے تھے اور وہاں ہمیں پانچ ککاروں کی اہمیت کے بارے میں بتایا ہی جاتا تھا۔ فی الحال یہ ساری چیزیں ذہن میں بہت پیچھے  جا چکی تھیں۔

جب میں اپنا گنجا سسر لے کر گھر میں گھسا تھا تو جیسے گھر میں طوفان آ گیا تھا۔ میرے گھر والوں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ یہ گھنّا سا، ہر بات پر مار کھانے والا تیرہ چودہ سال کا مریل سا چھوکرا، سکھی مذہب کے خلاف جا کر کیس بھی کٹوا سکتا ہے۔ میری بی بے کو تو جیسے دورہ پڑ گیا تھا اور وہ پچھاڑے کھانے لگی تھی۔ سارا محلہ ہمارے آنگن میں جمع ہو گیا تھا۔ میری جم کر کٹائی ہوئی تھی۔ لعنتیں دی گئی تھیں۔ میرے دارجی نے اس دن مجھے اتنا پیٹا تھا کہ پٹتے پٹتے میں فیصلہ کر چکا تھا کہ اب اس گھر میں نہیں رہنا ہے۔ ویسے اگر میں یہ فیصلہ نہ بھی کرتا تو بھی مجھ سے گھر چھوٹنا ہی تھا۔ دارجی نے اسی وقت کھڑے کھڑے مجھے گھر سے نکال دیا تھا۔ غصے میں انہوں نے میرے دو چار جوڑے پھٹے پرانے کپڑے اور میرا اسکول کا بستہ بھی اٹھا کر باہر پھینک دیے تھے۔ میں اپنا یہ کل سرمایہ اٹھائے دو تین گھنٹے تک اپنے محلے کے باہر تالاب کے کنارے بھوکا پیاسا بیٹھا سسکتا رہا تھا اور میرے تمام یار دوست، میرے دونوں چھوٹے بھائی میرے آس پاس گھیرا بنائے کھڑے تھے۔ ان کی نگاہوں میں اب میں ایک عجوبہ تھا، جس کے سر سے سینگ غائب ہو گئے تھے۔

اس دن چوبیس ستمبر تھی۔ دن تھا جمعہ۔ میری زندگی کا سب سے سیاہ اور تکلیف دہ دن۔ اس چوبیس ستمبر نے زندگی بھر میرا پیچھا نہیں چھوڑا۔ ہر سال یہ تاریخ مجھے رلاتی رہی، مجھے یاد دلاتی رہی کہ پوری دنیا میں، میں بالکل تنہا ہوں۔ بیشک یتیم یا بے چارہ نہیں ہوں لیکن میری حالت اس سے بہتر بھی نہیں ہے۔ اپنے ماں باپ کے ہوتے ہوئے دوسروں کے رحم و کرم پر پلنے والے کو آپ اور کیا کہیں گے؟ خیر، تو اس دن دوپہر تک کسی نے بھی میری کھانے کی بھی خبر نہیں لی تھی تو میں نے بھی طے کر لیا تھا، میں اسی گنجے سر سے وہ سب کر کے دکھاؤں گا، جو اب تک میرے خاندان میں کسی نے نہ کیا ہو۔ میرے آنسو اچانک ہی خشک گئے تھے اور میں فیصلہ کر چکا تھا۔

میں نے اپنا سامان سمیٹا تھا اور اٹھ کر چل دیا تھا۔ میرے ارد گرد گھیرا بنا کر کھڑے تمام لڑکوں میں ہڑبڑاہٹ مچ گئی تھی۔ ان لڑکوں میں میرے اپنے بھائی بھی تھے۔ سب کے سب میرے پیچھے پیچھے چل دیئے تھے کہ میں گھر سے بھاگ کر کہاں جاتا ہوں۔ میں کافی دیر تک مختلف گلیوں کے چکر کاٹتا رہا تھا تاکہ وہ سبھی تھک ہار کر واپس لوٹ جائیں۔ اسی چکر میں شام ہو گئی تھی، تب کہیں جا کر لڑکوں نے مجھے اکیلا چھوڑا تھا۔ اکیلے ہوتے ہی میں سیدھا اپنے اسکول کے ہیڈ ماسٹر کے گھر گیا تھا اور روتے روتے انہیں ساری بات بتائی تھی۔ ان کے پاس جانے کی وجہ یہ تھی کہ وہ بھی مونے سکھ تھے۔ اگرچہ ان کا پورا خاندان سکھوں کا ہی تھا اور ان کے گھر والے، سسرال والے کٹر سکھ تھے۔ وہ میرے دارجی کے غصے سے واقف تھے اور میری سر درد کی تکلیف سے بھی۔ میں نے ان کے آگے سرجھکا دیا تھا کہ مجھے دارجی نے گھر سے نکال دیا ہے اور میں اب اپنے آسرے ہی پڑھنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا تھا۔ وہ بھلے آدمی تھے۔ میرا عزم دیکھ کر تسلی دی تھی کہ پتر توں فکر نہ کر۔ میں تیری پڑھائی لکھائی کا سارا انتظام کر دوں گا۔ اچھا ہوتا تیرے گھر والے اگر تیری تکلیف کو سمجھتے اور تیرا علاج کراتے۔ ویسے جو اوپر والے کو منظور۔ انہوں نے اس وقت میرے نہانے دھونے کا انتظام کیا تھا اور مجھے کھانا کھلایا تھا۔ اس رات میں انہی کے گھر سویا تھا۔ شام کے وقت وہ ہمارے محلے کی جانب ایک چکر کاٹنے گئے تھے کہ پتہ چلے کہ کہیں میرے دارجی وغیرہ مجھے تلاش تو نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوچا تھا کہ اگر وہ لوگ واقعی میرے لئے پریشان ہوں گے تو وہ ان لوگوں کو سمجھائیں گے اور مجھے گھر واپسی کیلئے منائیں گے۔ شاید تب میں بھی مان جاتا، لیکن لوٹ کر انہوں نے جو کچھ بتایا تھا، اس سے میرا گھر نہ لوٹنے کا فیصلہ مضبوط ہی ہوا تھا۔ گلی میں سناٹا تھا اور کسی بھی طرح کی کوئی بھی آہٹ نہیں تھی۔ ہمارا دروازہ بند تھا۔ ہو سکتا ہے کہ اندر میری بی بے اور چھوٹے بھائی وغیرہ آہ و زاری کر رہے ہوں، لیکن باہر سے کچھ بھی پتہ نہیں چل پایا تھا۔ رات کے وقت وہ ایک چکر کوتوالی کی طرف بھی لگا آئے تھے۔ دارجی نے میرے گم ہونے کی اطلاع نہیں لکھوائی تھی۔ اگلے دن صبح صبح ہی وہ ایک بار پھر ہمارے محلے کی جانب چکر لگا آئے تھے، لیکن وہاں کوئی بھی میری غیر موجودگی کو محسوس نہیں کر رہا تھا۔ وہاں سب کچھ معمول کے مطابق ہی چل رہا تھا۔ وہ ایک بار پھر کوتوالی بھی ہو آئے تھے کہ وہاں کوئی کسی بچے کے گم ہونے کی اطلاع تو نہیں لکھوا گیا ہے۔ وہاں ایسی کوئی رپورٹ درج نہیں کرائی گئی تھی۔

انہوں نے تب میرے مستقبل کا فیصلہ کر لیا تھا۔ پاس ہی کے شہر سہارنپور میں رہنے والے اپنے سسر کے نام ایک خط دیا تھا اور مجھے اسی دن بس میں بٹھا دیا تھا۔ اس طرح میں ان سے دور ہوتے ہوئے بھی ان کی نگرانی میں رہ سکتا تھا اور ضرورت پڑنے پر واپس بھی بلوایا جا سکتا تھا۔ ان کے سسر وہاں کے سب سے بڑے گردوارے کی منیجر کمیٹی کے کرتا دھرتا تھے اور ان کے تین چار اسکول چلتے تھے۔ سسر صاحب نے اپنے داماد کا خط پڑھتے ہی میرے رہنے کھانے کا انتظام کر دیا تھا۔ میری قسمت خراب تھی کہ ان کے سسر اتنے ہی کائیاں آدمی تھے۔ وہ چاہتے تو میرے سارے مسائل حل کر سکتے تھے۔ وہیں گرو دوارے میں میرے رہنے اور کھانے کا انتظام کر سکتے تھے، میری فیس معاف کروا سکتے تھے، لیکن انہوں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا تھا۔ انہوں نے مجھے اپنے گھر میں رکھ لیا تھا۔ بیشک اسکول میں میرا نام لکھوا دیا تھا، لیکن نہ تو میں باقاعدگی سے اسکول جا پاتا تھا اور نہ ہی پڑھ ہی پاتا تھا۔ ہیڈ ماسٹر صاحب نے تو اپنے سسر کے پاس مجھے سکھانے کے خیال سے بھیجا تھا، لیکن یہاں میری حیثیت گھریلو نوکر کی ہو گئی تھی۔ میں دن بھر گھستا، گھر بھر کے الٹے سیدھے کام کرتا اور رات کو باباجی کے پاؤں دباتا۔ کھانے کے نام پر یہی تسلی تھی کہ دونوں وقت کھانا گرو دوارے کے لنگر سے آتا تھا، سو پیٹ کسی طرح بھر ہی جاتا تھا۔ اصلی تکلیف تعلیم کی تھی، جس کا نام سنتے ہی بابا جی دس طرح کے بہانے بناتے۔ میں اب سچ مچ پچھتانے لگا تھا کہ میں بیکار ہی گھر سے بھاگ کر آیا۔ وہیں دارجی کی مار کھاتے پڑا رہتا، لیکن پھر خیال آتا، یہاں کوئی کم از کم مارتا تو نہیں۔ اس کے علاوہ میں نے یہ بھی سوچا کہ میں اس طرح گھر کا نوکر ہی بنا رہا تو اب تک پڑھا لکھا بھی سب بھول جاؤں گا اور یہاں تو زندگی بھر مفت کا گھریلو نوکر ہی بن کر رہ جانا ہو گا تو میں نے طے کیا، یہاں بھی نہیں رہنا ہے۔ جب اپنا گھر چھوڑ دیا، اس گھر سے موہ نہیں پالا تو بابا جی کے پرائے گھر سے کیسا موہ۔ میں نے وہاں سے بھی چپ چاپ بھاگ جانے کا فیصلہ کیا۔ میں نے سوچا کہ اگر یہاں سنگھ سبھا، گرودوارہ اور اسکول ایک ساتھ چلاتی ہے تو دوسرے شہروں میں بھی چلاتی ہی ہو گی۔

تو ایک رات میں وہاں سے بھی بھاگ نکلا۔ باباجی کے یہاں سے بھاگ گیا تو کسی طرح محنت مزدوری کرتے ہوئے، قلی گری کرتے ہوئے، ٹرکوں میں لفٹ لیتے ہوئے آخر منکرن جا پہنچا۔ اس لمبے، تھکان بھرے اور طرح طرح کے تلخ و شیریں تجربوں سے لبریز، میری زندگی کے سب سے لمبے اکیلے سفر میں مجھے سترہ دن لگے تھے۔ وہاں پہنچتے ہی پہلا جھوٹ بولا کہ ہمارے گاؤں میں آئے سیلاب میں میرے خاندان کے سب لوگ بہہ گئے ہیں۔ اب دنیا میں بالکل تنہا ہوں اور آگے پڑھنا چاہتا ہوں۔ یہ ڈرامہ کرتے وقت بہت رویا۔ یہ جگہ مجھے پسند آئی تھی اور آگے کئی سال تک، سال یعنی جس کلاس تک اسکول ہو، وہیں سے تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ میں دل ہی دل کر چکا تھا۔ اس لئے یہ ڈرامہ کرنا پڑا۔

وہاں مجھے اپنا لیا گیا تھا۔ میری رہائش اور کھانے کا مستقل بندوبست کر دیا گیا تھا اور ایک معمولی سا ٹیسٹ لے کر مجھے وہاں کے اسکول میں ساتویں میں داخلہ دے دیا گیا تھا۔ میری زندگی کی گاڑی اب ایک بار پھر پٹری پر آ گئی تھی۔ اب میں سر پر ہر وقت پٹکا باندھے رہتا۔ ایک بار پھر میں اپنی منقطع ہوئی پڑھائی میں لگ گیا تھا۔ اسکول سے فرصت ملتے ہی سارا وقت گرودوارے میں ہی خرچ کرتا۔ بہت بڑا گرودوارہ تھا۔ وہاں روزانہ بسوں اور گاڑیوں میں بھر بھر کر تیرتھ یاتری آتے اور خوب چہل پہل ہوتی۔ وہ ایک آدھ دن ٹھہرتے اور لوٹ جاتے۔ مجھے اگلے منصوبے تک یہیں رہنا تھا اور اس کے لیے ضروری تھا کہ سب کے دل جیت کر رہوں۔ کئی بار بسوں یا گاڑیوں میں آنے والے مسافروں کا سامان اٹھوا کر رکھوا دیتا تو تھوڑے بہت پیسے مل جاتے۔ تمام لوگ میرے رویے سے خوش رہتے۔ وہاں میری طرح اور بھی کئی لڑکے تھے، لیکن ان میں سے کچھ واقعی غریب گھروں سے آئے تھے یا حقیقتاً یتیم تھے۔ میں اچھے بھلے گھر، ماں باپ کے ہوتے ہوئے یتیم تھا۔

اب میری زندگی کا ایک ہی مقصد رہ گیا تھا۔ پڑھنا، اور صرف پڑھنا۔ مجھے پتہ نہیں کہ یہ میرا یقین تھا یا کوئی جادو، مجھے سر درد سے مکمل طور پر نجات مل چکی تھی۔ وہاں کا موسم، سردی، مسلسل پڑتی برف، پاروتی دریا کا کنارہ، گرم پانی کے سوتے اور صاف ستھری ہوا، جیسے انہی اچھی اچھی چیزوں سے زندگی بامعنی ہو چلی تھی۔ یہاں کسی بھی قسم کی کوئی فکر نہیں تھی۔ اسکول سے لوٹتے ہی میں اپنے حصے کے کام کر کے پڑھنے بیٹھ جاتا۔ مجھے اپنی بی بے، بہن اور چھوٹے بھائیوں کی بہت یاد آتی تھی۔ اکیلے میں میں روتا تھا کہ چاہ کر بھی ان سے ملنے نہیں جا سکتا تھا، لیکن میری بھی ضد تھی کہ مجھے گھر سے نکالا گیا ہے، میں نے خود تو گھر نہیں چھوڑا ہے۔ مجھے واپس بلایا جائے گا، تبھی جاؤں گا۔

میں ہر سال اپنی کلاس میں فرسٹ آتا۔ چوتھے برس میں نے ہائی اسکول میں اپنے اسکول بھر میں اول آیا تھا۔ مجھے ڈھیروں انعام اور وظیفے ملے تھے۔

ہائی اسکول کر لینے کے بعد ایک بار پھر میرے سامنے رہنے کھانے اور آگے پڑھنے کا مسئلہ آن کھڑا ہوا تھا۔ یہاں صرف دسویں تک ہی اسکول تھا۔ بارہویں کیلئے نیچے میدانوں میں اترنا پڑتا۔ منکرن کا ٹھنڈا، بھرپور قدرتی حسن سے بھرا ماحول اور گردوارے کا روحانیت پر مشتمل خاندانی ماحول بھی چھوڑنے کا مسئلہ تھا۔

میں اب تک کے تجربات سے بہت کچھ سیکھ چکا تھا اور مزید پڑھنے کے واحد مقصد لئے، ان سارے نئے مسائل کا سامنا کرنے کیلئے تیار تھا۔ چھوٹے موٹے کام کر کے میں نے اب تک اتنے پیسے جمع کر لیے تھے کہ دو تین ماہ آرام سے کہیں کمرہ لے کر کاٹ سکوں۔ اٹھارہ سال کا ہونے کو آیا ہوں۔ دنیا بھر کے ہر قسم کے لوگوں سے ملتے جلتے، میں بہت کچھ سیکھ چکا تھا۔ وظیفہ تھا ہی۔ سو روپے منیجر کمیٹی نے ہر ماہ بھیجنے کا وعدہ کر دیا تھا۔

تبھی اتفاق سے امرتسر سے ایک انٹر کالج کا ایک اسکول گروپ وہاں آیا۔ میری درخواست پر ہمارے پردھان جی نے ان کے انچارج کے سامنے میرا مسئلہ رکھا۔ یہاں رہتے ہوئے ساڑھے تین چار سال ہونے کو آئے تھے۔ میری طرح کے تین چار اور بھی لڑکے تھے، جو آگے پڑھنا چاہتے تھے۔ ہمارے پردھان جی نے ہماری سفارش کی تھی کہ ہو سکے تو ان بچوں کا بھلا کر دو۔ ہماری قسمت اچھی تھی کہ ہم چاروں ہی اس گروپ کے ساتھ امرتسر آ گئے۔

منکرن کا وہ گرودوارہ چھوڑتے وقت میں ایک بار پھر بہت رویا تھا، لیکن اس بار میں اکیلا نہیں تھا رونے والا اور رونے کی وجہ بھی الگ تھی۔ میں اپنی اور سب کی خوشی کیلئے، ایک بہتر مستقبل کی تلاش میں آگے جا رہا تھا۔

اب میرے سامنے ایک اور وسیع دنیا تھی۔ یہاں آ کر ہمارے رہنے کھانے کا بندوبست مختلف گرسکھی گھروں میں کر دیا گیا تھا اور اب ہم ان کے گھروں کے فرد کی طرح ہو گئے تھے۔ ہمیں اب وہیں رہتے ہوئے پڑھائی کرنی تھی۔

جہاں میں رہتا تھا، وہ لوگ بہت اچھے تھے۔ یقیناً یہ کسی کے رحم و کرم پر پلنے جیسا تھا اور میرا بال دل کئی بار مجھے دھتکارتا کہ میں کیوں اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسروں کے آسرے پڑا ہوا ہوں، لیکن میرے پاس جو راستہ تھا، گھر واپس جانے کا، وہ مجھے منظور نہیں تھا۔ اور کوئی چارہ ہی نہیں تھا۔ میں ان کے چھوٹے بچوں کو پڑھاتا اور جی جان سے ان کی خدمت کر کے اپنی روح کے بوجھ کو کم کرتا۔

میں ایک بار پھر پڑھائی میں جی جان سے جٹ گیا۔ انٹر میں میں پورے امرتسر میں فرسٹ آیا۔ گھر چھوڑے مجھے چھ سال ہونے کو آئے تھے، لیکن صرف چند سو میل کے فاصلے پر میں نہیں گیا تھا۔ اخبارات میں میری تصویر چھپی تھی۔ جس گھر میں میں رہتا تھا، ان لوگوں کی خوشی کا ٹھکانا نہیں تھا۔ اس کے باوجود میں اس رات خوب رویا تھا۔

مجھے میرا چاہا سب کچھ مل رہا تھا اور یہ سب گھر پریوار چھوڑنے کے بعد ہی۔ میں من ہی من میں چاہنے لگا تھا کہ گھر سے کوئی آئے اور میرے کان پکڑ کر لے جائے، جبکہ مجھے معلوم تھا کہ انہیں میری اس کامیابی کی خبر تھی ہی نہیں۔ مجھے تو یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ انہوں نے کبھی میری کھوج خبر بھی لی تھی یا نہیں۔ آئی آئی ٹی، کانپور میں انجینئرنگ میں ایڈمشن حاصل کرنے کے بعد میری بہت خواہش تھی کہ میں اپنے گھر جاؤں۔ لیکن مسئلہ وہی تھا، میں ہی کیوں جھکوں۔ میں بہت رویا تھا لیکن گھر نہیں گیا تھا۔ گھر کی کوئی خبر نہیں تھی میرے پاس۔ میری بہت خواہش تھی کہ کم از کم اپنے گاڈ فادر ہیڈ ماسٹر صاحب سے ہی ملنے چلا جاؤں لیکن ہو نہیں پایا تھا۔ میں جانتا تھا کہ اتنے برسوں سے ان کے ذہن پر بھی اس بات کا بوجھ تو ہو گا ہی کہ ان کے سسر نے میرے ساتھ اس طرح کا برتاؤ کر کے مجھے گھر چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا تو میں کہاں گیا ہوں گا۔ میں نے اپنے وچن کا مان رکھا تھا۔ انہی کے آشیرواد سے میں انجینئر ہونے جا رہا تھا۔ تب میں نے بہت سوچ کر انہیں ایک گریٹنگ کارڈ بھیج دیا تھا۔ صرف اپنا نام لکھا تھا، پتہ نہیں دیا تھا۔ بعد میں گھر جانے پر ہی پتہ چلا تھا کہ وہ میرا کارڈ ملنے سے پہلے ہی گزر چکے تھے۔

اگلے چار چھ سال تک میں خود کو جسٹیفائی کرتا رہا کہ مجھے کچھ کر کے دکھانا ہے۔ آپ حیران ہوں گی مالویکا جی کہ ان برسوں میں مجھے شاید ہی کبھی فرصت ملی ہو۔ میں ہمیشہ مصروف رہا۔ کچھ نہ کچھ کرتا رہا۔ بچوں کو پڑھاتا رہا۔ آپ کو بتاؤں کہ میں نے بیشک بی ٹیک اور ایم ٹیک کیا ہے، پی ایچ ڈی کی ہے، لیکن گرودوارے میں رہتے ہوئے، امرتسر میں بھی اور بعد میں آئی آئی ٹی کانپور میں پڑھتے ہوئے بھی میں برابر ایسے کام دھندے بھی سیکھتا رہا اور کرتا بھی رہا، جو ایک کم پڑھا لکھا آدمی جانتا ہے یا روزی روٹی کمانے کیلئے سیکھتا ہے۔ میں ذرا سی بھی فرصت ملنے پر ایسے کام سیکھتا تھا۔ مجھے چار پائی بننا، چپلوں کی مرمت کرنا، جوتے تیار کرنا، کپڑے رنگنا، بچوں کے کھلونے بنانا یاکارپینٹری کا اپنا خاندانی کام جیسے بیسیوں ہنر آتے ہیں۔ میں بجلی کی ساری بگڑی چیزیں درست کر سکتا ہوں۔ بیشک مجھے پتنگ اڑانا یا کرکٹ کھیلنا نہیں آتا، لیکن میں ہر طرح کا کھانا بنا سکتا ہوں اور گھر کی رنگائی، پُتائی بخوبی کر سکتا ہوں۔ اتنے طویل عرصے میں، میں نے شاید ہی کوئی فلم دیکھی ہو، کوئی آوارہ گردی کی ہو یا پڑھائی کے علاوہ اور کسی چیز کے بارے میں سوچا ہو، لیکن ضرورت پڑنے پر میں آج بھی چھوٹے سے چھوٹا کام کرنے میں ہچکچاتا نہیں۔ ساتھ میں پڑھنے والے لڑکے اکثر چھیڑتے، اوئے، تو جتنی بھی محنت کرے، اپنا ماتھا پھوڑے یا دنیا بھر کے کام دھندے کرے یا سیکھے، مزے تیرے حصے میں نہ اب لکھے ہیں اور نہ بعد میں ہی تو مزے لے پائے گا۔ تُو تب بھی بیوی بچوں کیلئے اسی طرح گھستا رہے گا۔ تب تو میں ان کی بات مذاق میں اڑا دیا کرتا تھا، لیکن اب کئی بار لگتا ہے، غلط وہ بھی نہیں تھے۔ میرے حصے میں نہ تو میری پسند کی زندگی آئی ہے اور نہ گھر ہی۔ اپنا کہنے کو کچھ بھی تو نہیں ہے میرے پاس۔ ایک دوست تک نہیں ہے۔‘‘

میں رکا ہوں۔ دیکھ رہا ہوں، مالویکا جی بغیر آنکھ جھپکائے توجہ سے میری بات سن رہی ہیں۔ شاید اتنے اچھے سامع کی وجہ سے ہی میں اتنی دیر تک اپنی ذاتی باتیں ان سے شیئر کر پا رہا ہوں۔

’’دوبارہ گھر جانے کے بارے میں کچھ بتائیے۔‘‘ وہ کہتی ہیں۔

انہیں اختصار میں بتاتا ہوں، دوبارہ گھر جانے سے پہلے کی بے چینی کی اور گھبراہٹ کی بات اور گھر سے ایک بار پھر بے گھر ہو کر لوٹ کر آنے کی بات۔

’’اور گڈّی؟‘‘

’’مجھے لگتا ہے میں نے زندگی میں جتنی غلطیاں کی ہیں، ان میں سے جس غلطی کیلئے میں خود کو کبھی بھی معاف نہیں کر پاؤں گا، وہ تھی کہ گھر سے دوبارہ لوٹنے والے دن، اگر میں گڈّی کو بھی اپنے ساتھ بمبئی لے آتا تو شاید زندگی کے سارے حادثے ختم ہو جاتے۔ میری زندگی نے بھی بہتر رخ اختیار کر لیا ہوتا اور میں گڈّی کو بھی بچا پایا ہوتا۔ اس کی پڑھائی لکھائی پوری ہو پاتی، لیکن۔۔۔‘‘

’’اپنے پیار کے قصوں کے بارے میں کچھ بتائیے۔‘‘

’’میرا یقین کیجئے، اس سر درد کا میرے پیار کے قصوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘

’’لگتا ہے آپ سے آپ کے پیار کے قصے سننے کے لئے آپ کو کوئی رشوت دینی پڑے گی۔ چلئے ایک کام کرتے ہیں، کل ہم لنچ ایک ساتھ ہی کریں گے۔‘‘ وہ ہنسی ہیں، ’’گھبرائیے نہیں، دوپہر کے کھانے کے پیسے بھی میں کنسل ٹینسی میں شامل دوں گی۔ کہئے، ٹھیک رہے گا؟‘‘

’’اب آپ کی بات میں کیسے ٹال سکتا ہوں۔‘‘

’’آپ یہیں آئیں گے یا آپ کو آپ کے گھر ہی پک اپ کر لوں؟‘‘

’’جیسا آپ مناسب سمجھیں۔‘‘

’’آپ یہیں آ جائیں۔ ایک ساتھ چلیں گے۔‘‘

’’چلے گا، بھلا مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔‘‘

مالویکا جی لنچ کیلئے جس جگہ لے کر آئی ہیں، وہ شہری ماحول سے بہت دور، وڈفورڈ کے علاقے میں ہے۔ ہندوستانی ریستوران ہے یہ۔ نام ہے چور بازار۔ بیشک لندن میں ہے لیکن ریستوران کے اندر داخل ہو جانے کے بعد پتہ ہی نہیں چلتا، ہم لندن میں ہیں یا چنڈی گڑھ کے باہر ہائی وے کے کسی اچھے سے ریستوران میں بیٹھے ہیں۔ جگہ کی تعریف کرتے ہوئے پوچھتا ہوں میں، ’’یہ اتنی شاندار جگہ کیسے تلاش کر لی آپ نے؟ مجھے تو آج تک اس کے بارے میں پتہ نہیں چل پایا۔‘‘

مالویکا جی ہنستی ہیں، ’’گھر سے باہر نکلو تو کچھ ملے۔‘‘

بہت ذائقے دار اور عمدہ کھانا ہے۔ کھانا کھاتے وقت مجھے اچانک گولڈی کی یاد آ گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھٹکتے ہوئے میں نے بمبئی کے الگ الگ ہوٹلوں میں کھانے کا حقیقی ذائقہ چکھا تھا۔ پتہ نہیں کیوں گولڈی کے بارے میں سوچنا اچھا لگتا ہے۔ اس کی یاد بھی آئی تو کہاں اور کیسی جگہ پر۔ کہاں ہو گی وہ اس وقت؟

خواہش ہوتی ہے مالویکا جی کو اس کے بارے میں بتاؤں۔ میں انہیں بتاتا، اس سے پہلے ہی انہوں نے پوچھ لیا ہے، ’’کس کے بارے میں سوچ رہے ہیں دیپ جی؟ کیا کوئی خاص تھی؟‘‘

انہیں بتاتا ہوں، ’’مالویکا جی، کل آپ میری محبت کی کہانی کے بارے میں پوچھ رہی تھیں۔‘‘

’’میں آپ کو یہاں لائی ہی اس لیے تھی کہ آپ اپنے محبت کی کہانی کے بارے میں خود ہی بتائیں۔ میرا مشن کامیاب رہا، آپ بالکل پرسکون ہو کر اس لڑکی کے بارے میں بتائیں، جس کی یاد آپ کو یہ مزیدار کھانا کھاتے وقت آ گئی ہے۔ ضرور آپ لوگ ساتھ ساتھ کھانا کھانے نئی نئی جگہوں پر جاتے رہے ہوں گے۔‘‘

’’اکثر تو نہیں لیکن ہاں، کئی بار جاتے تھے۔‘‘

’’کیا نام تھا اس کا؟‘‘

’’گولڈی، وہ ہمارے گھر کے قریب ہی رہنے آئی تھی۔‘‘

میں مالویکا جی کو گولڈی سے اولین ملاقات سے آخری لیکن نہ ہو سکنے والی ملاقات کی ساری باتیں، تفصیل سے بتاتا ہوں۔ اسی سلسلے میں الکا دیدی اور دیویدر جی کا بھی ذکر آ گیا ہے۔ میں ان کے بارے میں بھی بتاتا ہوں۔

ہم کھانا کھا کر باہر آ گئے ہیں۔ واپس آتے وقت بھی وہ کوئی نہ کوئی ایسا سوال پوچھ لیتی ہیں جس سے میرے ماضی کا کوئی نیا ہی پہلو کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔ باتیں گھوم پھر کر کبھی گولو پر آ جاتی ہیں تو کبھی گڈّی پر۔ میری ایک بات ختم نہیں ہوئی ہوتی کہ اسے دوسری طرف موڑ دیتی ہیں۔ میں سمجھ نہیں پا رہا ہوں، وہ مجھ میں اور مجھ سے منسلک بھولی بسری باتوں میں اتنی دلچسپی کیوں لے رہی ہیں۔ ویسے ایک بات تو ہے کہ ان سے بات کرنا اچھا لگتا ہے۔ کبھی کسی سے اتنی باتیں کرنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ ہر بار یہی سمجھتا رہا، سامنے والا کہیں میری درد بھری کہانی سن کر مجھ پر ترس نہ کھانے لگے۔ اسی خوف سے کسی کو اپنے اندر کے اندھیرے کونوں میں، میں نے جھانکنے ہی نہیں دیا۔

مالویکا جی کی بات ہی الگ لگتی ہے۔ وہ بالکل بھی یہ نہیں جتلاتیں کہ وہ آپ کو چھوٹا محسوس کرا رہی ہیں یا آپ پر ترس کھا رہی ہیں۔

جب انہوں نے مجھے گھر پر ڈراپ کرنے کے لئے گاڑی روکی ہے تو مجھے دوبارہ گولڈی کی باتیں یاد آ گئی ہیں۔

میں نے یوں ہی مالویکا جی سے پوچھ لیا ہے، ’’اندر آ کر اس بندے کے ہاتھ کی کافی پی کر کچھ تبصرہ نہیں کرنا چاہیں گی؟‘‘

انہوں نے ہنستے ہوئے گاڑی کا انجن بند کر دیا ہے اور کہہ رہی ہیں، ’’میں انتظار کر رہی تھی کہ آپ کہیں اور میں آپ کے ہاتھ کی کافی پینے کیلئے اندر آؤں۔ آئیے، آج آپ کی مہمان نوازی بھی دیکھ لی جائے۔‘‘

وہ اندر آئی ہیں۔

بتا رہی ہیں، ’’گوری کے ممی پاپا والے گھر میں تو کئی بار جانا ہوا، لیکن یہاں آنا نہیں ہو پایا۔ آج آپ کے بہانے آ گئی۔‘‘

’’آپ سے پہلے تعارف ہوا ہوتا تو پہلے ہی بلا لیتے۔ خیر، خوش آمدید۔‘‘

جب تک میں کافی بناتا، وہ پورے فلیٹ کا ایک چکر لگا آئی ہیں۔

پوچھ رہی ہیں وہ، ’’میں گوری کے ایستھیٹک سینز سے اچھی طرح سے واقف ہوں، گھر کی یہ فرنشننگ کم از کم اس کی کی ہوئی تو نہیں ہے اور نہ لندن میں اس طرح کے انٹیرئیر کرنے والی ایجنسیاں ہی ہیں۔ آپ تو چھپے رستم نکلے۔ مجھے پتہ نہیں تھا، آپ یہ سب بھی جانتے ہیں۔ بہت خوب۔ گریٹ۔‘‘

میں کیا جواب دوں، ’’بس، یہ تو سب یوں ہی چلتا رہتا ہے۔ جب بھی میں اپنے گھر کا تصور کرتا تھا تو سوچتا تھا، بیڈ روم ایساہو گا ہمارا اور ڈرائینگ روم اور اسٹڈی ایسے ہوں گے۔ اب جو بھی بن پڑا۔۔۔۔‘‘

’’کیوں، کیا اس گھر سے اپنے گھر والا احساس نہیں جڑتا کیا؟‘‘

’’اپنا گھر نہ سمجھتا تو یہ سب کرتا کیا؟‘‘ میں نے کہہ تو دیا ہے، لیکن میں جانتا ہوں کہ انہوں نے میری بدلی ہوئی آواز سے تاڑ لیا ہے کہ میں سچ نہیں کہہ رہا ہوں۔

’’ایک اور ذاتی سوال پوچھ رہی ہوں، گوری سے آپ کے تعلقات کیسے ہیں؟‘‘

میں ہنس کر ان کی بات ٹالنے کی کوشش کرتا ہوں، ’’آج کے انٹرویو کا وقت ختم ہو چکا ہے میڈم۔ ہم پروگرام کے بعد کی ہی کافی لے رہے ہیں۔‘‘

’’بہت شرارتی ہیں آپ، جب آپ کو جواب نہیں دینا ہوتا تو کیسا بہترین کمرشل بریک لگا دیتے ہیں۔ ٹھیک ہے، فرار ہو کر کہاں جائیں گے۔ ابھی تو ہم نے آدھے سوال بھی نہیں پوچھے ہیں۔‘‘

مالویکا جی کے سوالات سے میری خلاصی نہیں ہے۔ پچھلے مہینے بھر سے ان سے بیچ بیچ میں ملاقات ہوتی ہی رہی ہے۔ حالانکہ انہوں نے علاج یا یوگا کے نام پر ابھی تک مجھے دو چار آسن ہی کرائے ہیں، لیکن انہوں نے ایک الگ ہی طرح کی رائے دے کر مجھے ایک طرح سے چونکا ہی دیا ہے۔ انہوں نے مجھے ڈائری لکھنے کے لئے کہا ہے۔ ڈائری بھی آج کی نہیں، بلکہ اپنے ماضی کی، بھولے بسرے دنوں کی۔ جو کچھ میرے ساتھ ہوا، اسے جوں کا توں لکھنے کیلئے کہا ہے۔ البتہ، انہوں نے مجھ سے گوری کے ساتھ میرے تعلقات میں چل رہی کھٹاس کے بارے میں رائی رتی اگلوا لیا ہے۔ بیشک ان ساری باتوں پر اپنی طرف سے ایک لفظ بھی نہیں کہا ہے۔ اس کے علاوہ سسرال کی جانب سے میرے ساتھ جو کچھ بھی کیا گیا یا کیسے ششر نے مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا، یہ ساری باتیں میں نے ڈائری میں بعد میں لکھی ہیں، انہیں پہلے بتائی ہیں۔ ڈائری لکھنے کا میں نے یہی طریقہ اپنایا ہے۔ ان سے دن میں آمنے سامنے یا فون پر جو بھی بات ہوتی ہیں، وہی ڈائری میں لکھ لیتا ہوں۔ میرا سر درد اب پہلے کے مقابلے میں کافی کم ہو چکا ہے۔ گوری بھی حیران ہے کہ صرف دو چار یوگا آسنوں سے بھلا اتنا شدید سر درد کیسے جا سکتا ہے۔ لیکن میں ہی جانتا ہوں کہ یہ سر درد یوگا آسنوں سے تو نہیں ہی گیا ہے۔ اب مجھے مالویکا جی کا علاج کرنے کا طریقہ بھی سمجھ میں آ گیا ہے۔ میں نے ان سے اس بارے میں جب پوچھا کہ آپ میرا علاج کب شروع کریں گی تو وہ ہنسی تھیں، ’’آپ بھی اچھے خاصے سردار ہیں۔ یہ سب کیا ہے جو میں اتنے دنوں سے کر رہی ہوں۔ یہ علاج ہی تو چل رہا ہے آپ کا۔ آپ ہی بتائیے، آج تک آپ کا نہ صرف سر درد غائب ہو رہا ہے۔ بلکہ آپ زیادہ پر جوش اور خوش خوش نظر آنے لگے ہیں۔ بیشک کچھ چیزوں پر میرا بس نہیں ہے لیکن جتنا ہو سکا ہے، آپ اب پہلے والی حالت میں تو نہیں ہیں۔ ہے نا یہی بات؟‘‘

’’تو آپ کی نگاہ میں میرے سر میں درد کی وجہ کیا تھی؟‘‘

’’اب آپ سننا ہی چاہتے ہیں تو سنیں، آپ کو در اصل کوئی بیماری ہی نہیں تھی۔ آپ کو تین چار تکلیفیں ایک ساتھ ہو گئی تھیں۔ پہلی بات تو یہ کہ آپ زندگی بھر اکیلے رہے، اکیلے جوجھتے بھی رہے اور کڑھتے بھی رہے۔ اتفاق سے آپ نے اپنے آس پاس والوں سے جب بھی کچھ چاہا، یا مانگا، چونکہ وہ آپ کی بندھی بندھائی طرز زندگی سے میل نہیں کھاتا تھا، لہٰذا آپ کو ہمیشہ لگتا رہا، آپ کے ساتھ اچھا سلوک نہیں ہوا۔ آپ کبھی عملی نہیں رہے، لہٰذا آپ کو سامنے والا ہمیشہ ہی غلط لگتا رہا۔ ایسا نہیں ہے کہ آپ کے ساتھ زیادتیاں نہیں ہوئیں ہوں گی۔ وہ تو ہوئی ہی ہیں، لیکن ان سب کو دیکھنے سمجھنے اور انہیں زندگی میں ڈھالنے کے طریقے آپ کے اپنے ہی تھے۔ در اصل آپ زندگی سے کچھ زیادہ ہی امیدیں لگا بیٹھے تھے، اس لئے سب کچھ آپ کے خلاف ہوتا چلا گیا۔ جہاں آپ کو موقع ملا، آپ نقل مکانی کر گئے اور جہاں نہیں ملا، وہاں آپ سر درد میں مبتلا ہو گئے۔ آپ کو کچھ حد تک وہم کی بیماری، جسے انگریزی میں ہائیپو  کانڈریاک کہتے ہیں، کے مریض ہوتے چلے جا رہے تھے۔ دوسری دقت آپ کے ساتھ یہ رہی کہ آپ کبھی بھی کسی سے بھی اپنی تکلیفیں شیئر نہیں کر پائے۔ کرنا چاہتے تھے اور جب کرنے کا وقت آیا تو یا تو لوگ آپ کو سننے کو تیار نہیں تھے اور جہاں تیار تھے، وہاں آپ ترس کھانے سے بچنا چاہتے ہوئے، ان سے جھوٹ موٹ کے قصے سنا کر انہیں بھی اور خود کو بھی بہلاتے رہے۔ کیا غلط کہہ رہی ہوں میں؟‘‘

’’مائی گاڈ، آپ نے تو میری ساری پول ہی کھول کر رکھ دی۔ میں نے تو کبھی اس زاویے سے اپنے آپ کو دیکھا ہی نہیں۔‘‘

’’تبھی تو آپ کا یہ حال ہے۔ کب سے در بدر ہو کر بھٹک رہے ہیں اور آپ کو کوئی راہ نہیں سوجھتی۔‘‘

’’آپ نے تو میری آنکھیں ہی کھول دیں۔ میں اب تک کتنے بڑے وہم میں جی رہا تھا کہ ہر بار میں ہی صحیح تھا۔‘‘

’’ویسے آپ ہر بات میں غلط بھی نہیں تھے، لیکن آپ کو یہ بتاتا کون۔ آپ نے کسی پر بھی بھروسہ ہی نہیں کیا کبھی۔ آپ کو بیچارہ بننے سے الرجی جو تھی۔ ہے نا۔۔۔‘‘

’’آپ کو تو ساری باتیں بتائی ہی ہیں نا۔۔۔‘‘

’’تو راہ بھی تو ہم نے ہی سجھائی ہے۔‘‘

’’اس کے لئے تو میں آپ کا احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔‘‘

’’اگر میں کہوں کہ مجھے بھی صرف اسی لفظ سے چڑ ہے تو۔۔؟‘‘

’’ٹھیک ہے نہیں کہیں گے۔‘‘

مالویکا جی سے جب سے ملاقات ہوئی ہے، زندگی کیلئے میرا نظریہ ہی بدل گیا ہے۔ میں نے اب اپنے بارے میں بھی سوچنا شروع کر دیا ہے اور اپنی آبزرویشن اپنی ڈائری میں لکھ رہا ہوں۔ میں ایک اور چارٹ بنا رہا ہوں کہ میں نے زندگی میں کب کب غلط فیصلے کئے اور بعد میں دھوکہ کھایا یا کب کب کوئی فیصلہ ہی نہیں کیا اور اب تک پچھتا رہا ہوں۔ یہ ڈائری ایک طرح سے میرا کنفیشن ہے میرے ہی سامنے اور میں اس کی بنیاد پر اپنی زندگی کو بہتر طریقے سے سنوارنا چاہتا ہوں۔

بیشک مجھے اب تک سر درد سے بڑی حد تک آرام مل چکا ہے اور میں اپنے آپ کو ذہنی اور جسمانی طور پر صحت مند بھی محسوس کر رہا ہوں، پھر بھی گوری سے میرے تعلقات کی پٹری نہیں بیٹھ پا رہی ہے۔ جب سے اس نے دیکھا ہے کہ مجھے سر درد سے آرام آ گیا ہے۔ میرے لئے اس کا لاپرواہی والا رویہ پھرسے نمودار ہو گیا ہے۔ میں ایک بار پھر اپنے حال پر تنہا چھوڑ دیا گیا۔ اسٹورز جاتا ہوں، لیکن اتنا ہی دھیان دیتا ہوں جتنے سے کام چل جائے۔ زیادہ مغز ماری نہیں کرتا۔ میں اب اپنی طرف زیادہ توجہ دینے لگا ہوں۔ بیشک میرے پاس بہت زیادہ پونڈ نہیں بچے ہیں، پھر بھی میں مالویکا جی کو بہت اصرار کر کے ایک شاندار اوور کوٹ دلوایا ہے۔

اسی ہفتے گوری کی پھوپھی کی لڑکی پشپا کی شادی ہے، مانچسٹر میں۔ ہانڈا خاندان کی ساری بہو بیٹیاں آج سویرے سویرے ہی نکل گئی ہیں۔ ہانڈا خاندان میں ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ جب بھی خاندان میں شادی یا اور کوئی بھی تقریب ہوتی ہے، ساری خواتین ایک ساتھ جاتی ہیں اور دو تین دن خوب جشن منائے جاتے ہیں۔ ہم مرد لوگ پرسوں نکلیں گے۔ میں ششر کے ساتھ ہی جاؤں گا۔

ابھی دن بھر کے پروگرام کے بارے میں سوچ ہی رہا ہوں کہ مالویکا جی کا فون آیا ہے۔ انہوں نے صرف تین ہی جملے کہے ہیں، ’’مجھے پتہ ہے گوری آج یہاں نہیں ہے۔ بلکہ پورا ہفتہ ہی نہیں ہے۔ آپ کا میرے یہاں آنا کب سے ٹل رہا ہے۔ آج آپ انکار نہیں کریں گے اور شام کا کھانا ہم ایک ساتھ گھر میں ہی کھائیں گے۔ بناؤں گی میں۔ پتہ لکھوا رہی ہوں۔ سیدھے پہنچ جانا۔ میں راہ دیکھوں گی۔‘‘ اور انہوں نے فون رکھ دیا ہے۔

اب یہ طے ہو ہی گیا ہے کہ میں اب گھر پر ہی رہوں اور بہت دن بعد ایک انتہائی خوبصورت، آرام دہ اور سکون بھری شام گزارنے کی راہ دیکھوں۔ کئی دن سے انہیں کا یہ پروپوزل ٹل رہا ہے کہ میں ایک بار ان کے غریب خانے پر آؤں اور ان کی مہمان نوازی قبول کروں۔

موسم نے بھی آخر اپنا رول ادا کر ہی لیا۔ برسات نے میرے اچھے خاصے سوٹ کی ایسی تیسی کر دی۔ برف کی وجہ سے سارے راستے یا تو بند ملے یا ٹریفک چیونٹی کی طرح رینگ رہا تھا۔ بیس منٹ کا فاصلہ طے کرنے میں دو گھنٹے لگے۔ مالویکا جی کے گھر تک آتے آتے برا حال ہو گیا ہے۔ سارے کپڑوں کا ستیاناس ہو گیا۔ سر سے پاؤں تک گندی برف کے پانی میں لتھڑ گیا ہوں۔ جوتوں میں اندر تک پانی بھر گیا ہے۔ سردی کے مارے برا حال ہے وہ الگ۔ وہ بھی کیا سوچے گی، پہلی بار کس حال میں ان کے گھر آ رہا ہوں۔

انکے دروازے کی گھنٹی بجائی ہے۔ دروازہ کھلتے ہی میرا حلیہ دیکھ کر وہ پہلے تو ہنسی کے مارے دوہری ہو گئی ہیں، لیکن فوری طور پر ہی میرا بازو پکڑ کر مجھے اندر کھینچ لیتی ہیں، ’’جلدی سے اندر آ جاؤ۔ طبیعت خراب ہو جائے گی۔‘‘

میں بھیگے کپڑوں اور گیلے جوتے کے ساتھ ہی اندر آیا ہوں۔ انہوں نے میری برساتی اور اوور کوٹ وغیرہ اتارنے میں مدد کی ہے۔ ہنستے ہوئے بتا رہی ہیں، ’’موسم کا موڈ دیکھتے ہوئے میں سمجھ گئی تھی کہ آپ یہاں کس حالت میں پہنچیں گے۔ بہتر ہو گا، آپ پہلے چینج ہی کر لیں۔ ان گیلے کپڑوں میں تو آپ کے باجے بج جائیں گے۔ باتھ روم تیار ہے اور پانی بالکل گرم۔ ویسے آپ باتھ لیں گے یا ہاتھ منہ دھو کرتا زہ دم ہونا چاہتے ہیں۔ ویسے اتنی سردی میں کسی بھلے آدمی کو نہانے کے لئے کہنا میرا خیال ہے، بہت زیادتی ہو گی۔‘‘

’’آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں لیکن میری جو حالت ہے، اسے تو دیکھ کر میرا خیال ہے، نہا ہی لوں۔ پوری طرح فریش ہو جاؤں گا۔‘‘

’’تو ٹھیک ہے، میں آپ کے نہانے کا انتظام کر دیتی ہوں۔‘‘ کہتی ہوئی وہ اندر کے کمرے میں چلی گئی ہیں۔ میں ابھی گیلے جوتے اتار ہی رہا ہوں کہ ان کی آواز آئی ہے۔ ’’باتھ روم تیار ہے۔‘‘

وہ ہنستے ہوئے واپس آئی ہیں، ’’میرے گھر میں آپ کی قد کاٹھی کی مناسبت سے کوئی ڈریسنگ گاؤن یا کرتہ پاجامہ نہیں ہے۔ فی الحال آپ کو یہ شام میرے اس لنگی کرتے میں ہی گذارنی پڑے گی۔ آئیے، باتھ روم تیار ہے۔‘‘

ایکدم کھولتے گرم پانی سے نہا کر تازگی ملی ہے۔ فریش ہو کر فرنٹ روم میں آیا تو میں حیران رہ گیا ہوں۔ سامنے کھڑی ہیں مالویکا جی۔ مسکراتی ہوئیں۔ ایئر ہوسٹس کی طرح ہاتھ جوڑے۔ نمستے کی حالت میں۔ ایک بہت خوبصورت گلدستے ان کے ہاتھ میں ہے، ’’ہیپی برتھ ڈے دیپ جی۔‘‘ میں ٹھٹک کر رہ گیا ہوں۔ یہ لڑکی جو مجھے طریقے سے جانتی تک نہیں اور جس کا مجھ سے دور دور تک کوئی ناطہ نہیں ہے، کتنے جتن سے اور محبت سے میرا جنم دن منانے کاسوچ رہی ہیں۔ اور ایک گوری ہے۔۔ کیا کہوں، سمجھ نہیں پاتا۔

’’ہیپی برتھ ڈے ڈیئر دیپ۔‘‘ وہ پھر کہتی ہیں اور آگے بڑھ کر انہوں نے گلدستہ مجھے تھماتے تھماتے ہولے سے میری کنپٹی کو چوم لیا ہے۔ میرا چہرہ ایکدم لال ہو گیا ہے۔ گوری کے علاوہ آج تک میں نے کسی عورت کو چھوا نہیں ہے۔ میں کسی طرح تھینکس ہی کہہ پاتا ہوں۔ آج میرا جنم دن ہے اور گوری کو یہ بات معلوم بھی تھی۔ ویسے یہاں میرا یہ چوتھا سال ہے اور آج تک نہ تو گوری نے مجھ سے کبھی کہنے کی ضرورت سمجھی اور نہ ہی اسے کبھی فرصت ہی ملی ہے کہ پوچھے کہ میرا جنم دن کب آتا ہے، یا کبھی جنم دن آتا بھی ہے یا نہیں، تو آج بھی میں اس کی امید کیسے کر سکتا تھا، جبکہ گوری کو ہر بار میں نہ صرف جنم دن کی وش کرتا ہوں، بلکہ اسے اپنی حیثیت بھر تحفہ بھی دینے کی کوشش کرتا ہوں۔ گولڈی سے ملاقات ہونے سے پہلے تک تو میرے لئے یہ تاریخ صرف ایک تاریخ ہی تھی۔ اسی نے اس تاریخ کو ایک نرم، گدگدے احساس میں تبدیل کر دیا تھا۔ گولڈی کے بعد سے جب بھی یہ تاریخ آتی ہے، خیال تو آتا ہی ہے۔ بیشک سارا دن مایوسی ہی گزارنا پڑتا ہے۔

میں حیران ہو رہا ہوں، انہیں کیسے پتہ چلا کہ آج میرا جنم دن ہے۔ میرے لئے ایک ایسا دن جسے میں کبھی نہ تو یاد کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور نہ ہی اسے آج تک سیلے بریٹ ہی کیا ہے۔ میں جھینپتی سی ہنسی ہنسا ہوں اور پوچھتا ہوں، ’’آپ کو کیسے پتہ چلا کہ آج اس بدنصیب کا جنم دن ہے۔‘‘

’’آپ بھی کمال کرتے ہیں دیپ جی، پہلی بار آپ جب آئے تھے تو میں نے آپ کا ہیلتھ کارڈ بنوایا تھا۔ وہ ڈیٹا اسی دن میرے کمپیوٹر میں بھی فیڈ ہو گیا اور میرے دماغ میں بھی۔‘‘

’’حیرت انگیز!! کتنے ہی لوگ آتے ہوں گے، جن کے ہیلتھ کارڈ بنتے ہوں گے ہر روز۔ سب کے بایو ڈیٹا فیڈ کر لیتی ہیں آپ اپنے دماغ میں۔‘‘

’’صرف بایو ڈیٹا۔ برتھ ڈیٹ تو کسی کسی کی ہی یاد رکھتی ہوں۔ سمجھے۔ اور آپ بھی مجھ سے ہی پوچھ رہے ہیں کہ مجھے آپ کا جنم دن کا کیسے پتہ چلا!!‘‘

میں اداس ہو گیا ہوں۔ ایک طرف گوری ہے جسے میرا جنم دن تو کیا، ہماری شادی کی تاریخ تک یاد نہیں ہے۔ اور ایک طرف مالویکا جی ہیں جن سے میری کچھ ایک ہی ملاقاتیں ہیں۔ باقی تو ہم فون پر ہی باتیں کرتے رہے ہیں اور انہیں۔۔۔

میں کچھ کہوں اس سے پہلے ہی وہ بول پڑی ہیں، ’’ڈونٹ ٹیک اٹ آدر وائز۔ آج کا دن آپ کے لئے ایک خاص دن ہے اور آج آپ میرے خاص مہمان ہیں۔ آج آپ کے چہرے پر فکر کی ایک بھی لکیر نظر نہیں آنی چاہیے۔۔ او کے!! ریلیکس ناؤ اور انجوائے یور سیلف۔ تب تک میں بھی ذرا باقی چیزوں کو دیکھ لوں۔‘‘

میں اب دھیان سے کمرے کو دیکھتا ہوں۔ بالکل ہندوستانی اسٹائل میں سجا ہوا۔ کہیں سے بھی یہ تاثر نہیں ملتا کہ میں اس وقت یہاں لندن میں ہوں۔ پورے کمرے میں دسیوں، ایک سے بڑھ کر ایک لیمپ شیڈز کمرے کو بہت ہی رومانی بنا رہے ہیں۔ پورے کا پورا کمرہ ایک بہترین فنکارانہ سوچ کا متحرک تعارف کرا رہا ہے۔ کوئی سوفا وغیرہ نہیں ہے۔ بیٹھنے کا انتظام نیچے ہی ہے۔ ایک طرف گدوں کی ہی اونچائی پر رکھا سی ڈی چینجر اور دوسری طرف ہندی اور انگریزی کے کئی جانے پہچانے اور خوب پڑھے جانے والے ڈھیر سارے ٹائٹلز۔ چینجر کے ہی اوپر ایک چھوٹے سے شیلف میں کئی انڈین اور ویسٹرن کلاسیک کی سی ڈیز۔ میں مالویکا جی کی پسند اور رہن سہن کے بارے میں سوچ ہی رہا ہوں کہ وہ میرے لئے ایک گلاس لے کر آئی ہیں، ’’میں جانتی ہوں، آپ نہیں پیتے۔ ویسے میں کہتی بھی نہیں، لیکن جس طرح سے آپ سردی میں بھیگتے ہوئے آئے ہیں، مجھے ڈر ہے کہیں آپ کی طبیعت نہ خراب ہو جائے۔ میرے کہنے پر گرم پانی میں تھوڑی سی برانڈی لے لیں۔ دوا کا کام کرے گی۔‘‘ میں ان کے ہاتھ سے گلاس لے لیتا ہوں۔ انکار کر ہی نہیں پاتا۔ تبھی میں دیکھتا ہوں وہ پورے کمرے میں ڈھیر ساری بڑی بڑی رنگین موم بتیاں سجا رہی ہیں۔ میں کچھ سمجھ پاؤں، اس سے پہلے ہی وہ اشارہ کرتی ہیں، ’’چلو، جلاؤ انہیں۔‘‘ میں نے ان کی مدد سے ایک ایک کر کے ساری موم بتیاں جلاتا ہوں۔ کل چونتیس ہیں۔ میری عمر کے سالوں کے برابر۔ ساری موم بتیاں جھلملاتی ہوئی جل رہی ہیں اور خوب رومانٹک ماحول پیدا کر رہی ہیں۔ انہوں نے ساری لائیٹیں بجھا دی ہیں۔ کہتی ہیں، ’’ہم انہیں بجھائیں گے نہیں۔ آخر تک جلنے دیں گے۔ او کے!!‘‘

میں جذباتی ہونے لگا ہوں۔۔۔ کچھ نہیں سوجھا تو سامنے رکھے گلدستے میں سے ایک گلاب نکال کر انہیں تھما دیا ہے، ’’تھینک یو ویری مچ مالویکا جی، میں اتنی خوشی برداشت نہیں کر پاؤں گا۔ سچ مچ۔۔‘‘ میرا گلا رندھ گیا ہے۔

’’جناب اپنی ہی خوشیوں کے سمندر میں غوطے لگاتے رہیں گے یا اس ناچیز کو بھی جنم دن کے موقع پر مبارک باد کے دو لفظ کہیں گے۔‘‘

’’کیا آپ کا بھی آج ہی جنم دن ہے، میرا مطلب۔۔ آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا؟‘‘

’’تو اب بتایا کہ آج ہی اس بندی کا بھی جنم دن ہے۔ میں اس دن کو لے کر بہت پر  جوش ہوں اور میں آج کے دن اکیلے نہیں رہنا چاہتی تھی۔ ہر سال کا یہی رونا ہے۔ ہر سال ہی کم بخت یہ دن چلا آتا ہے اور مجھے خوب رلاتا ہے۔ اس سال میں رونا نہیں چاہتی تھی۔ کل رات گئے تک سوچتی رہی کہ میں کس کے ساتھ یہ دن گزاروں۔ اب اس پورے ملک میں مجھے جو شخص اس لائق نظر آیا، خوش قسمتی سے وہ بھی آج ہی کے دن اپنا جنم دن منانے کے لئے ہماری طرح کسی پارٹنر کی تلاش میں تھا۔ ہمارا شکریہ ادا کیجئے جناب کہ۔۔‘‘ اور وہ زور سے کھلکھلا دی ہیں۔ میں نے سنجیدہ ہو کر پوچھا ہے۔ ’’آپ کے لئے تو پانچ سات موم بتیاں کم کرنی پڑیں گی نہ!!‘‘

’’نہیں ڈیئر، اب آپ سے اپنی عمر کیا چھپانی!! ہم نے بھی آپ کے برابر ہی پاپڑ بیلے ہیں جناب۔ ویسے وہ دن اب کہاں پھُر ہو گئے ہیں!! یہ کیا کم ہے کہ تم ان میں دو چار موم بتیاں اور شامل نہیں کر رہے ہو!!‘‘

’’ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ چاہو تو میں یہ ساری موم بتیاں بیشک اپنے نام سے جلا دیتا ہوں، لیکن اپنی عمر آپ کو دے دیتا ہوں۔ ویسے بھی میری زندگی رائیگاں ہی جا رہی ہے۔ آپ ہی کے کسی کام آ سکے تو!!‘‘ میں نے بات ادھوری چھوڑ دی ہے۔

’’نو تھینکس!! اچھا تم ایک کام کرو دیپ، آہستہ آہستہ اپنی برانڈی سپ کرو۔ اور لینی ہو تو گرم پانی یہاں تھرماس میں رکھا ہے۔ بوتل بھی یہیں ہے۔‘‘ اور انہوں نے اپنا چھوٹا سا بار کیبنٹ کھول دیا ہے۔

’’اس وقت تک میں بھی اپنا برتھ ڈے باتھ لے کر آتی ہوں۔‘‘

میں ان کی سی ڈیز کا کلیکشن دیکھتا ہوں، انڈین کلاسک ہیں۔ میں چینجر پر بھوپیندر کی غزلوں کی سی ڈی لگاتا ہوں۔ کمرے میں اس کی سوز بھری آواز گونج رہی ہے، ’’یہاں کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا۔ کبھی زمیں تو کبھی آسماں نہیں ملتا۔‘‘ سچ ہی تو ہے۔ میرے ساتھ بھی تو ایسا ہی ہو رہا ہے۔ کبھی پیروں تلے سے زمیں غائب ہوتی ہے تو کبھی سر کے اوپر سے آسماں ہی کہیں گم ہو جاتا ہے۔ کبھی اس پر یقین ہی نہیں ہوتا کہ ہمارے پاس دونوں جہاں ہیں۔ آج پتہ نہیں کون سے اچھے کرموں کا پھل مل رہا ہے کہ بن مانگے اتنی دولت مل رہی ہے۔ زندگی بھی کتنے عجیب عجیب کھیل کھیلتی ہے ہمارے ساتھ۔ ہم زندگی بھر غلط دروازے ہی کھٹکھٹاتے رہ جاتے ہیں اور کوئی کہیں بند دروازوں کے پیچھے ہمارے انتظار میں پوری عمر گزار دیتا ہے۔ اور ہمیں یا تو خبر ہی نہیں مل پاتی یا اتنی دیر سے خبر ملتی ہے کہ اس وقت کوئی بھی چیز معنی نہیں رکھتی۔ بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

باہر اب بھی برف پڑ رہی ہے لیکن اندر گنگنی گرماہٹ ہے۔ میں گاؤ تکیے کا سہارا لے کر ادھ لیٹا ہو گیا ہوں اور موسیقی کی لہروں کے ساتھ ڈوبنے اترنے لگا ہوں۔ برانڈی بھی اپنا رنگ دکھا رہی ہے۔ دل میں کئی طرح کے اچھے برے خیال آ رہے ہیں۔ خود پر افسوس بھی ہو رہا ہے، لیکن میں مالویکا جی کے شاندار موڈ اور ہم دونوں کے جنم دن کے حیرت انگیز اتفاق پر اپنے بھاری اور منحوس خیالوں کی کالی چھایا نہیں پڑنے دینا چاہتا۔ مجھے بھی تو یہ شام عرصے بعد، کتنی تکلیفوں بھرے سفر اکیلے طے کرنے کے بعد ملی ہے۔ پتہ نہیں مالویکا جی بھی کب سے اس طرح کی شام کے لئے ترس رہی ہوں۔ انہی خیالوں میں اور برانڈی کے ہلکے ہلکے نشے میں پتہ نہیں کب جھپکی لگ گئی ہو گی۔ اچانک جھٹکا لگا ہے۔ محسوس ہوا کہ مالویکا جی میری پیٹھ کے پیچھے گھٹنوں کے بل بیٹھی میرے بالوں میں اپنی انگلیاں پھرا رہی ہیں۔ پتہ چل جانے کے باوجود میں نے اپنی آنکھیں نہیں کھولی ہیں۔ کہیں یہ نرم احساس بکھر نہ جائے۔ تبھی میں نے اپنی پیشانی پر ان کا چومنا محسوس کیا ہے۔ ان کی بھری بھری چھاتیوں کا دباؤ میری پیٹھ پر محسوس ہو رہا ہے۔ میں نے ہولے سے آنکھیں کھولی ہیں۔ مالویکا جی میری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ مجھ پر جھکی ہوئیں۔ وہ ابھی ابھی نہا کر نکلی ہیں۔ گرم پانی، خوشبو دار صابن اور ان کے اپنے بدن کی نشیلی مہک میرے تن من کو شرابور کر رہی ہے۔ زندگی میں یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ گوری کے علاوہ کوئی اور عورت میرے اتنے قریب ہے۔ میرے اصولوں نے زور مارا ہے، ’’یہ میں کیا کر رہا ہوں۔‘‘ لیکن اتنے خوشگوار ماحول میں انہیں میں ٹال گیا ہوں۔۔۔ جو کچھ ہو رہا ہے اور جیسا ہو رہا ہے ہونے دو۔ زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا۔۔۔ میں کچھ پا ہی تو رہا ہوں۔ کھونے کے لئے میرے پاس ہے ہی کیا۔

تبھی مالویکا نے میری پیٹھ پر جھکے جھکے ہی میرے چہرے کو اپنے ملائم ہاتھوں میں بھرا ہوا ہے اور میری دونوں آنکھوں کو باری باری چوم لیا ہے۔ ان کے کومل لمس اور سکون آمیز بوسے میرے اندر تک گرمی کی ترنگیں چھوڑتے چلے گئے۔ میں نے بھی اسی طرح لیٹے لیٹے انہیں اپنے اوپر پوری طرح جھکایا ہے، ان کی گردن اپنے بازو کے گھیرے میں لی ہے اور ہولے سے انہیں اپنے اوپر کھینچ کر ان کے ہونٹوں پر ایک اپنائیت بھری مہر لگا دی ہے، ’’مبارک برتھ ڈے ڈیئر۔‘‘

ہم دونوں کافی دیر سے اسی کیفیت میں ایک دوسرے کے اوپر جھکے ہوئے ننھے ننھے بوسوں کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ میں خوشیوں کے ایک منفرد سمندر میں غوطے لگا رہا ہوں۔ یہ ایک بالکل ہی نئی دنیا ہے، نئے طرح کا احساس ہے، جسے میں شادی کے ان چار برسوں میں ایک بار بھی محسوس نہیں کر پایا تھا۔

مالویکا اب بھی میری پشت کی طرف بیٹھی ہیں اور ان کے گھنے اور کچھ کچھ گیلے بال میرے پورے چہرے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ ان میں سے اٹھتی بھینی بھینی خوشبو مجھے پاگل بنا رہی ہے۔ انہوں نے سلک کا ون پیس گاؤن پہنا ہوا ہے، جو ان کے بدن پر پھسل پھسل رہا ہے۔ ہم دونوں ہی بے قابو ہوئے جا رہے ہیں، لیکن اس سے آگے بڑھنے کی پہل ہم میں سے کوئی بھی نہیں کر رہا ہے۔ تبھی مالویکا نے خود کو میری گرفت میں سے چھڑایا ہے اور اٹھ کر کمرے میں جلتے اکلوتے ٹیبل لیمپ کو بھی بجھا دیا ہے۔ اب کمرے میں چونتیس موم بتیوں کی جھلملاتی اور کانپتی روشنی ہے، جو کمرے کے ماحول کو نشیلا، سحرانگیز اور رومینٹک بنا رہی ہے۔ میں ان کی ایک ایک ادا پر دیوانہ ہوتا چلا جا رہا ہوں۔ جانتا ہوں یہ میری اخلاقیات کے خلاف ہے، لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں آج میری اخلاقیات کے سارے کے سارے بندھن ٹوٹ جائیں گے۔ میرے سامنے اس وقت مالویکا ہیں اور یہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا سچ ہے۔ باقی سب کچھ جھوٹ ہے، بے معنی ہے۔

میں نے ان کے دونوں کانوں کی لوؤں کو باری باری چومتے ہوئے کہا ہے، ’’میرے جنم دن پر ہی مجھے اتنا کچھ پروس دیں گی، تو میرا  ہاضمہ خراب نہیں ہو جائے گا۔ کہیں مجھے پہلے مل گئی ہوتیں تو!!‘‘

جواب میں انہوں نے اپنی ہنسی کے سارے موتی ایک ہی بار میں بکھیر دیئے ہیں، ’’دیکھ کرمعلوم ہو رہا ہے نہ کہ سامنے والا کتنا بھوکا پیاسا ہے۔ ویسے میرے پیچھے پاگل نہ بنو۔ میں ایک بہت بری اور بدنام عورت ہوں۔ کہیں میرے چنگل میں پہلے پھنس گئے ہوتے تو اب تک کہیں منہ دکھانے کے قابل بھی نہ ہوتے۔‘‘

’’آپ جیسی لڑکی بدنام ہو ہی نہیں سکتی۔‘‘ میں نے انہیں اب سامنے کی طرف کھینچ لیا ہے اور اپنے بازوؤں کے گھیرے میں لے لیا ہے۔ میرے ہاتھ ان کے گاؤن کے فیتے سے کھیلنے لگے ہیں۔

انہوں نے گاؤن کے نیچے کچھ نہیں پہنا ہوا ہے اور اگرچہ وہ میرے اتنی قریب ہیں اور پوری طرح پیش بھی، پھر بھی میری ہمت نہیں ہو رہی، کہ اس سے آگے بڑھ سکوں۔ وہ میری ہچکچاہٹ سمجھ رہی ہیں اور شرارتاً میری انگلیوں کو بار بار اپنی انگلیوں میں پھنسا لیتی ہیں۔ آخر میں اپنا ایک ہاتھ چھڑانے میں کامیاب ہو گیا ہوں اور گاؤن کا فیتہ کھلتا چلا گیا ہے۔ مالویکا نے اپنی آنکھیں بند کر لی ہیں اور مصنوعی سسکاری بھری ہے۔

’’مت کرو دیپ پلیز۔‘‘

میں نے اصرار کیا ہے، ’’ذرا دیکھ تو لینے دو۔‘‘

’’اور اگر انہیں دیکھنے کے بعد آپ کو کچھ ہو گیا تو!!‘‘

’’شرط لگا لو، کچھ بھی نہیں ہو گا۔‘‘ ان کی بہت آنا کانی کرنے کے بعد ہی میں ان کا گاؤن ان کے کندھوں کے نیچے کر پایا ہوں۔

اور میں شرط ہار گیا ہوں۔ میں نے جو کچھ دیکھا ہے، میں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں کر پا رہا ہوں۔ مالویکا کا دھڑکتا سینہ میرے سامنے ہے۔ میں نے بیشک گوری کے علاوہ کسی بھی عورت کو اس طرح سے نہیں دیکھا ہے، لیکن جو کچھ میرے سامنے ہے، اس کا میں کبھی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ میں نے نہ تو فلموں میں، نہ تصویروں میں اور نہ ہی کسی اور ہی روپ میں کسی بھی عورت کی اتنی خوبصورت، متوازن، مضبوط اٹھانیں دیکھی ہیں۔ میں غیر یقینی سے ان کی گوری، بے داغ اورسڈول گولائیوں کی طرف دیکھتا ہی رہ گیا ہوں اور پاگلوں کی طرح انہیں اپنے ہاتھوں میں بھرنے کی ناکام کوششیں کرنے لگا ہوں۔ انہیں دیوانوں کی طرح چومنے لگا ہوں۔ مالویکا نے اپنی آنکھیں بند کر لی ہیں۔ وہ میرے سکھ کے ان خوبصورت لمحات میں آڑے نہیں آنا چاہتیں!! وہ اپنی اس انمول جائیداد کا مول جانتی ہوں، تبھی تو وہ مجھے ان سے بھرپور خوشیاں کشید کر لینے دے رہی ہیں۔ میں بار بار انہیں اپنے ہاتھوں میں بھر بھر کر دیکھ رہا ہوں۔ انہیں دیکھتے ہی مجھ جیسے بیزار اور خشک آدمی کو شاعری سوجھنے لگی ہے۔ کہیں سچ مچ شاعر ہوتا تو پتہ نہیں ان پر کتنا عظیم کلام لکھ دیتا!

میں ایک بار پھر جی بھر کر دیکھتا ہوں، وہ اتنے سڈول ہیں کہ دونوں ہاتھوں میں بھی نہیں سما رہے۔

میں انہیں دیکھ کر، چھو کر اور اپنے اتنے قریب پا کر نہال ہو گیا ہوں۔ اب تک میں جب بھی مالویکا سے ملا تھا، ان کو ٹریک سوٹ میں، فارمل سوٹ میں یا ساڑی کے اوپر لانگ کوٹ پہنے ہی دیکھا تھا۔ شام کو بھی انہوں نے ہاؤس کوٹ جیسا کچھ پہنا ہوا تھا اور ان کے کپڑے کبھی بھی ذرا سا بھی یہ تاثر نہیں دیتے تھے کہ ان کے نیچے کتنی شاندار جاگیر چھپی ہوئی ہے۔ وہ اس وقت میرے سامنے برہنہ بیٹھی ہوئی ہیں۔ گھٹنے موڑ کر۔ وجرآسن میں۔ سادھیکا کے سے انداز میں۔ ان کا پورا بدن میرے بالکل قریب ہے۔ پوری طرح تنا ہوا۔ لگاتار اور برسوں کے یوگا سے نکھرا اور سنوارا ہوا۔ کہیں بھی رتی بھر بھی کمی یا بیشی نہیں۔ ایک مورتی کی طرح سانچے میں ڈھلا ہوا۔ ایسا مجسمہ جسے اتنے قریب دیکھ کر بھی میں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں کر پا رہا ہوں۔۔۔ وہ آنکھیں بند کئے ہوئے ہی مجھ کہتی ہیں، ’’اپنے کپڑے اتار دو اور میری طرح وجر آسن لگا کر بیٹھ جاؤ۔‘‘ شرٹ اتارنے میں مجھے ہچکچاہٹ ہو رہا ہے، لیکن وہ مجھے پچکارتی ہیں، ’’ڈرو نہیں، میری آنکھیں بند ہیں۔‘‘

میں وجر  آسن میں بیٹھنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن انہی کے اوپر گر گیا ہوں۔ وہ کھلکھلاتی ہیں اور مجھے اپنے سینے سے لگا لیتی ہیں۔ ان کے جسم کی آنچ میرے جسم کو جلا رہی ہے۔ کچھ برانڈی کا نشہ ہے اور باقی ان کے دہکتے بدن کا۔ اتنی ساری موم بتیوں کی جھلملاتی روشنی میں ان کے بدن کی چمک دیکھتے ہی بنتی ہے۔ انہوں نے اب بھی اپنی آنکھیں شرارتاً بند کر رکھی ہیں اور بند آنکھوں سے ہی مجھے حیران و پریشان دیکھ کر مزے لے رہی ہیں۔ تبھی میں اٹھا ہوں اور گلدستے کے تمام پھولوں کو نکال کر ان پھولوں کی ساری کی ساری پنکھڑیاں ان کے گورے چٹے سڈول بدن پر بکھیر دی ہیں۔ انہوں نے اچانک آنکھیں کھولی ہیں اور پنکھڑیوں کی بارش میں بھیگ سی گئی ہیں۔ ان کے بدن سے ٹکرانے کے بعد پنکھڑیوں کی خوشبو کئی گنا بڑھ کر سارے کمرے میں پھیل گئی ہے۔

وہ خوشی سے چیخ اٹھی ہیں۔ میں نے انہیں گدی پر لٹایا اور ہولے ہولے ان کے پورے بدن کو چومتے ہوئے ایک ایک پنکھڑیوں اپنے ہونٹوں سے ہٹا رہا ہوں۔ میں جہاں سے بھی پنکھڑی ہٹاتا ہوں، وہیں ایک تازہ گلاب کھل جاتا ہے۔ تھوڑی ہی دیر میں ان کا پورا بدن دہکتے ہوئے لال سرخ گلابوں میں تبدیل ہو گیا ہے۔

میں ان کے پاس لیٹ گیا ہوں اور انہیں اپنے سینے سے لگا لیا ہے۔ انہوں نے بھی اپنی بانہوں کے گھیرے میں مجھے باندھ لیا ہے۔

وقت تھم گیا ہے۔ اب اس پوری دنیا میں صرف ہم دو ہی بچے ہیں۔ باقی سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ ہم ایک دوسرے میں گھل مل گئے ہیں۔ یک جان ہو گئے ہیں۔

باہر اب بھی مسلسل برف پڑ رہی ہے اور کھڑکیوں کے باہر کا درجہ حرارت اب بھی صفر سے کئی ڈگری نیچے ہے، لیکن کمرے کے اندر لاکھوں سورجوں کی گرمی ماحول کو حوصلہ افزا اور دہکائے ہوئے ہے۔

آج ہم دونوں کا جنم دن ہے اور ہم دونوں کی عمر بھی برابر ہے۔ دو چار گھنٹوں کا ہی فرق ہو گا تو ہو گا ہم میں۔ ہم اپنی انفرادی دنیا میں اپنے اپنے طریقے سے خوشی غم جھیلتے ہوئے اور طرح طرح کے تجربے بڑھاتے ہوئے یہاں آن ملے ہیں۔ یقیناً ہم دونوں کی راہیں مختلف رہی ہیں۔ ہم نے آج ملک، مدت اور وقت کی تمام دوریاں پاٹ لیں ہیں اور غیر اخلاقی ہی سہی، ایک ایسے رشتے میں بندھ گئے ہیں، جو اپنے آپ میں حیرت انگیز اور ناقابل یقین ہے۔ مجھے آج پہلی بار احساس ہو رہا ہے کہ سیکس میں شاعری بھی ہوتی ہے۔ اس میں موسیقی بھی ہوتی ہے۔ اس میں لے، تال، رنگ، رقص کے سارے بھاؤ اور اتنی طمانیت، آسودگی، کاملیت کا احساس اور سکھ بھی ہوا کرتے ہیں۔ میں تو جیسے آج تک گوری کے ساتھ سیکس کی صرف رسم بھر ادا کرتا رہا تھا۔

***

 

 

 

 

 

باب ششم

 

 

ہم دونوں ایک ساتھ ہی ایک نئی دنیا کی سیر کر کے ایک ساتھ ہی اس خوبصورت خوابگاہ میں واپس آئے ہیں۔ مکمل طور پر سیرہو کر، پھر بھی دوبارہ وہی سب کچھ ایک بار پھر پا لینے کی، اسی پرواز پر ایک بار پھر متلاشی بن کر اڑ جانے کی اٹوٹ چاہ لئے ہوئے۔

ہم اب بھی ویسے ہی ساتھ ساتھ لیٹے ہوئے ہیں۔ ایک دوسرے کو محسوس کرتے ہوئے، چھوتے ہوئے اور ایک دوسرے کی نزدیکی کو، گرماہٹ کو اپنے اندر تک اتارتے ہوئے۔ یہ ساری رات ہی ہم دونوں نے ایک دوسرے کی بانہوں میں اسی طرح گزار دی ہے۔ ہم نے اس دوران ایک دوسرے کے بہت سے راز جانے ہیں، بے وقوفیاں بانٹی ہیں، زخم سہلائے ہیں اور کامیابیوں کے لئے ایک دوسرے کو مبارک بادیں دی ہیں۔

ہم نے آدھی رات کو کھانا کھایا ہے۔ کھایا نہیں، بلکہ ناز اٹھاتے ہوئے ہوئے، لاڈ کرتے ہوئے ایک دوسرے کو اپنے ہاتھوں سے ایک ایک نوالہ کھلایا ہے۔

مالویکا نشیلی آواز میں پوچھ رہی ہے، ’’یہاں آ کر افسوس تو نہیں ہوا نا!!‘‘

’’ہاں، مجھے افسوس تو ہو رہا ہے۔‘‘

’’کس بات کا؟‘‘

’’یہاں پہلے ہی کیوں نہیں آ گیا میں۔‘‘

’’پھر آؤ گے!!‘‘

میں نے اس کے دونوں رخساروں کو چومتے ہوئے جواب دیا ہے، ’’آپ ہر بار اسی طرح استقبال اور مہمان نوازی کریں گی تو ضرور آؤں گا۔‘‘

’’اگر تم ہر بار میرے کپڑے اتارو گے تو بابا، باز آئے ہم! ہمیں کپڑے اتارنے والے مہمان نہیں چاہئیں!!‘‘

’’اچھی بات ہے، نہیں اتاریں گے کپڑے، لیکن آئیں گے ضرور ہم۔ اس خزانے کی دیکھ بھال کرنے کہ کوئی انہیں لوٹ کر تو نہیں لے گیا ہے۔‘‘

’’جب اس کا اصلی رکھوالا ہی بھاگ گیا تو کوئی کب تک ڈاکوؤں اور اچکّوں سے حفاظت کرتا پھرے!!‘‘

’’تم نے کبھی بتایا نہیں وہ کون بد نصیب تھا، جو اتنی دھن دولت چھوڑ کر چلا گیا۔ اس آدمی میں ذرا سی بھی جمالیاتی حس نہیں رہی ہو گی۔‘‘

’’تم میری جس دولت کو دیکھ دیکھ کر اتنے مبہوت ہوئے جا رہے ہو، میں تمہیں بتا نہیں سکتی کہ انہوں نے مجھے کتنی کتنی تکلیف دی ہے۔ انہی کی وجہ سے میں یہاں پردیس میں اکیلی پڑی ہوئی ہوں۔‘‘

’’کبھی تم نے بتایا نہیں۔‘‘

’’تم نے پوچھا ہی کب۔‘‘

’’تو اب بتا دو، تمہارے حصے میں اوپر والے نے کون کون سے غم لکھے تھے۔‘‘

’’کوئی ایک ہو تو بتاؤں بھی۔ یہاں تو جب سے ہوش سنبھالا ہے، روزانہ ہی حادثوں سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔‘‘

’’مجھے نہیں معلوم تھا تمہارا سفر بھی اتنا ہی مشکل رہا ہے، اپنے بارے میں آج سب کچھ تفصیل سے بتاؤ نا۔۔‘‘

’’رہنے دو۔ کیا کرو گے میری تکلیفوں کے بارے میں جان کر۔ یہ تو ہر ہندوستانی عورت کی تکلیفیں ہیں۔ سب کے لئے ایک جیسی۔‘‘

’’اچھا تکلیفوں کے بارے میں مت بتاؤ، اپنے بچپن کے بارے میں ہی کچھ بتا دو۔‘‘

’’بہت ہوشیار ہو تم۔ تمہیں پتہ ہے، ایک بار بات شروع ہو جائے تو ساری باتیں کھلتی چلی جائیں گی۔‘‘

’’ایسا ہی سمجھ لو۔‘‘

’’تو ٹھیک ہے۔ میں تم کو اپنے بارے میں بہت کچھ بتاؤں گی، لیکن میری دو تین شرائط ہیں۔‘‘

’’تمہارے بتائے بغیر ہی ساری شرائط منظور ہیں۔‘‘

’’پہلی شرط کہ یہ ساری بتیاں بھی بند کر دو۔ مجھے بالکل اندھیرا چاہیے۔‘‘

’’ہو جائے گا اندھیرا۔ دوسری شرط۔‘‘

’’تم میرے بالکل پاس آ جاؤ، میرے ہی کمبل میں۔ جیسے میں لیٹی ہوں اسی طرح تم لیٹ جاؤ۔‘‘

’’مطلب۔۔ سارے کپڑے؟‘‘

’’کہا نہ جیسے میں لیٹی ہوں ویسے ہی۔۔ اور کوئی حرکت نہیں چاہیے۔ چپ چاپ، چھت کی طرف دیکھتے ہوئے لیٹے رہنا۔ اور خبر دار۔ لینا دینا کافی ہو چکا۔ اب کوئی بھی حرکت نہیں ہو گی۔‘‘

’’نہیں ہو گی حرکت، لیکن یہ مہمانوں کے کپڑے اتارنے والی بات کچھ ہضم نہیں ہوئی۔ ویسے بھی مانگے ہوئے کپڑے ہیں یہ۔‘‘

’’چپ رہو اور تیسری شرط کہ تم میری پوری بات ختم ہونے تک بالکل بھی نہیں بولو گے۔ ہاں ہوں بھی نہیں کرو گے۔ صرف سنو گے اور کبھی بھی نہ تو اس کا کسی سے ذکر کرو گے اور نہ ہی ابھی یا کبھی بعد میں مجھ سے اس کے بارے میں کوئی سوال کرو گے، نہ مجھ پر ترس نہیں کھاؤ گے۔ بولو منظور ہیں یہ ساری شرائط۔‘‘

’’یہ تو بہت آسان شرائط ہیں۔ اور کچھ؟‘‘

’’بس اور کچھ نہیں۔ اب میں جب تک نہ کہوں، تم کو ایک بھی لفظ نہیں بولو گے۔‘‘

میں نے مالویکا کی شرائط بھی پوری کر دی ہیں۔ ساری بتیاں بجھا دی ہیں، لیکن بھاری پردوں کی جھریوں سے باہر کی پیلی بیمار روشنی اندر آ کر جیسے اندھیرے کو ڈسٹرب کر رہی ہے۔ میں مالویکا کی بغل میں آ کر لیٹ گیا ہوں۔ انہوں نے ہاتھ بڑھا کر میرا ہاتھ اپنی ناف پر رکھ دیا ہے۔

آہستہ آہستہ اندھیرے میں ان کی آواز ابھرتی ہے۔

’’میرا گھر کا نام نکی ہے۔ تم بھی مجھے اس نام سے بلا سکتے ہو۔ جب سے یہاں آئی ہوں، کسی نے بھی مجھے اس نام سے نہیں پکارا۔ ایک بار مجھے نکی کہہ کر بلواؤ پلیز۔۔‘‘

میں باری باری ان کے دونوں کانوں میں ہولے سے نکی کہتا ہوں اور ان کے دونوں کان چوم لیتا ہوں۔ نکی خوش ہو کر میرے ہونٹ چوم لیتی ہے۔

’’ہاں تو میں اپنے بچپن کے بارے میں بتا رہی تھی۔‘‘

’’میرے بچپن کا زیادہ تر حصہ گورداس پور میں گزرا۔ پاپا آرمی میں تھے اس لئے کئی شہروں میں آنا جانا تو ہوا، لیکن ہمارا ہیڈ کوارٹر گورداس پور ہی رہا۔ میں ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہوں۔ میرا بچپن بہت ہی شاندار طریقے سے گزرا، لیکن ابھی آٹھویں جماعت میں ہی تھی کہ پاپا نہیں رہے۔ ہم پر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ ہم جس طرز زندگی کے عادی تھے، راتوں رات ہم سے چھین لی گئی۔ مجبوراً ممی کو جاب کی تلاش میں گھر سے باہر نکلنا پڑا۔ ممی زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھیں، اس لئے پریشانیاں بھی زیادہ ہوئیں۔ لیکن وہ بہت با ہمت خاتون تھیں، اس لئے سب کچھ سنبھال گئیں۔ حالانکہ میری پڑھائی تو پوری ہوئی، لیکن ہم مسلسل دباؤ میں رہنے پر مجبور تھے۔ یہ دباؤ اقتصادی بھی تھا اور ذہنی بھی۔ یہ ممی کی ہی ہمت تھی کہ ہماری ہر مشکل کا کوئی نہ کوئی حل ڈھونڈ ہی لیتی تھیں۔ انہوں نے مجھے کبھی محسوس ہی نہ ہونے دیا کہ میرے سر پر پاپا کا سایہ نہیں ہے۔ وہی میرے ماں اور باپ دونوں کے کردار بخوبی ادا کرتی رہیں۔

اور انہی دنوں میرا یہ مسئلہ شروع ہوا۔ ویسے تو مجھے پیریڈز شروع ہونے کے وقت سے ہی لگنے لگا تھا کہ میری بریسٹس کا سائز کچھ زیادہ ہی تیزی سے بڑھ رہا ہے، لیکن ایک تو وہ کھانے پینے کی عمر تھی اور دوسرے جسم ہر طرح کی تبدیلیوں سے گزر رہا تھا، اس لئے زیادہ پرواہ نہیں کی تھی۔ لیکن سولہ سترہ تک پہنچتے پہنچتے تو یہ حالت ہو گئی تھی کہ میں دیکھنے میں ایک بھر پور عورت کی طرح لگنے لگی تھی۔ قد کاٹھی تو تمہارے سامنے ہی ہے۔ مسئلہ یہ تھا کہ یہ سائز میں بڑھتے ہی جا رہے تھے۔ ہر پندرہ دن میں بریزری چھوٹی پڑ جاتی۔ مجھے بہت شرم آتی۔ سارا تام جھام مہنگا تو تھا ہی، اوپر سے مجھے آکورڈ پوزیشن میں بھی ڈال رہا تھا۔ ممی نے جب میری یہ حالت دیکھی تو ڈاکٹر کے پاس لے گئیں۔ ممی نے شک کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے پوچھا بھی کہ کہیں میں غلط لڑکوں کی صحبت میں تو نہیں پڑ گئی ہوں۔

ڈاکٹر نے اچھی طرح سے میرا معائنہ کیا تھا اور ہنستے ہوئے کہا تھا، ’’دوسری لڑکیاں انہیں بڑا کرنے کے طریقے پوچھنے آتی ہیں اور تم انہیں بڑھتا دیکھ پریشان ہو رہی ہو۔ گو، ریلیکس اینڈ انجوائے۔ کچھ نہیں ہے، صرف ہارمونل سائیکل کے ڈسٹرب ہو جانے کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے۔ تم بالکل نارمل ہو۔‘‘

لیکن نہ میں نارمل ہو پا رہی تھی، اور نہ انجوائے ہی کر پا رہی تھی۔ میری حالت خستہ تھی۔ سہیلیاں تو مجھ پر ہنستی ہی تھیں، کئی بار ٹیچرز بھی مذاق کرنے سے باز نہیں آتی تھیں۔ محلے کی بھابھیاں اور دیدی نما شادی شدہ لڑکیاں مذاق مذاق میں پوچھتیں، ’’ذرا ہمیں بھی بتاؤ، کون سے تیل سے مالش کرتی ہو۔‘‘

میری حالت خراب تھی۔ میں کتنا بھی سینہ ڈھک کر چلتی، موٹے، کالے کپڑے کے دوپٹے سلواتی اور بہت احتیاط سے اوڑھتی، لیکن گلی محلے کے شریر لڑکوں کی گہری نگاہ سے بھلا کیسے بچ پاتی۔۔۔ آتے جاتے ان کے گھٹیا جملے سننے پڑتے۔

مجھے اپنے آپ پر رونا آتا کہ میں ساری زندگی کیسے ان کا بوجھ اٹھا پاؤں گی!! ویسے دیکھنے میں ان کی شیپ بہت ہی شاندار تھی اور نہاتے وقت میں انہیں دیکھ دیکھ کر خود بھی مسحور ہوتی رہتی، لیکن گھر سے نکلتے ہی میری حالت خراب ہونے لگتی۔ تن کو چھیدتی لاکھوں ننگی آنکھیں، فحش جملے اور میری اپنی حالت۔ بی ایس سی کرتے کرتے تو میری یہ حالت ہو گئی تھی کہ میں بریزری کے کسی بھی سائز کی حد سے باہر  جا چکی تھی۔ ممی مارکیٹ سے سب سے بڑا سائز لا کر کسی طرح سے جوڑ توڑ کر کے میرے لئے گزارے قابل بریزری بنا کر دیتیں۔ ممی بھی میری وجہ سے الگ پریشان رہتیں کہ میں یہ خزانہ اٹھائے اٹھائے کہاں بھٹکوں گی!! پتہ نہیں، کیسی سسرال ملے اور کیسا شوہر ملے۔

بدقسمتی سے نہ تو سسرال ہی ایسی ملی اور نہ شوہر ہی قدردان ملا۔

جن دنوں بلوندر سے میری شادی کی بات چلی تو وہ یہیں لندن سے خاص طور پر شادی کرنے کے لئے انڈیا آیا ہوا تھا۔ وہ لوگ میرٹھ کے رہنے والے تھے۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ بلوندر کا لندن میں انڈین ہینڈی کرافٹس کا اپنا کاروبار ہے۔ مڈل سیکس میں اس کا اپنا اپارٹمنٹ ہے، گاڑی ہے اور ڈھیر سارا پیسہ ہے۔ وہ لوگ کسی چھوٹے خاندان میں رشتہ کرنا چاہتے تھے، جہاں لڑکی پڑھی لکھی ہو تاکہ شوہر کے کاروبار میں ہاتھ بٹا سکے اور بعد میں چاہے تو اپنے گھر والوں کو بھی اپنے پاس لندن بلا سکے۔ بلوندر دیکھنے میں اچھا خاصا اسمارٹ تھا اور بات چیت میں بھی کافی تیز تھا۔ جس وقت ہمارے رشتے کی بات چیت چل رہی تھی تو ہمیں بلوندر کے، اس کی خوبیوں کے، کاروبار کے اور خاندان کے بہت ہی شاندار سبز باغ دکھائے گئے تھے۔ ہمارے پاس نہ تو زیادہ پڑتال کرنے کا کوئی ذریعہ تھا اور نہ ہی وہ لوگ اس کا کوئی موقعہ ہی دے رہے تھے۔ وہ تو سگائی کے دن ہی شادی کرنے کے موڈ میں تھے کہ وہاں اس کے کاروبار کا حرج ہو رہا ہے۔ میری ممی کے ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے کہ ہم اتنی جلد بازی میں ساری تیاریاں کیسے کر پائیں گے۔ اس سے بھی ہمیں بلوندر نے ہی نکالا تھا۔

ایک دن اس کا فون آیا تھا۔ اس نے ممی کو اپنی چاشنی میں ڈوبی زبان میں بتایا تھا کہ مالویکا کیلئے کسی بھی طرح کے جہیز کی ضرورت نہیں ہے۔ لندن میں اس کے پاس سب کچھ ہے۔ بہت بڑی پارٹی وارٹی دینے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ وہ لوگ پانچ آدمی لے کر ڈولی لینے آ جائیں گے، کسی بھی قسم کے تکلف کی بھی ضرورت نہیں ہیں۔

ممی نے اپنی مجبوری جتلائی تھی، ’’اتنی بڑی برادری ہے۔ لوگ کیا کہیں گے بن باپ کی بیٹی کو پہنے کپڑوں میں رخصت کر دیا۔ تب راستہ بھی بلوندر نے ہی سجھایا تھا، ’’پھر ایسا کیجئے ممی جی، کہ آپ لوگ شادی کے بعد ایک چھوٹی سی پارٹی تو رکھ ہی لیجیے، باقی آپ مالویکا کو اس کا گھر دنیا بسانے کیلئے جو کچھ بھی دینا چاہتی ہیں، اس کا ایک ڈرافٹ بنوا کر اسے دے دینا۔ وہی اس کا دھن رہے گا اور اسی کے پاس رہے گا۔ میرے پاس سب کچھ ہے۔ آپ کی دعا کے سوا کچھ بھی نہیں چاہیے۔‘‘

ممی بیچاری اکیلی اور سیدھی سادی عورت۔ اس جھانسا پٹّی میں آ گئی۔ اس کے بعد تو یہ حالت ہو گئی کہ ہر دوسرے دن اس کا فون آ جاتا اور وہ ممی کو ایک نئی پٹی پڑھا دیتا۔ ممی خوش کہ دیکھو کتنا اچھا داماد ملا ہے کہ جو اس گھر کی بھی ساری ذمہ داری سنبھال رہا ہے۔ ان دنوں وہی ان کا سگا ہو گیا تھا۔ اس نے اپنے عمدہ رویے سے ہمارا دل جیت لیا تھا۔

میری سسرال والے بہت خوش تھے کہ ان کے گھر میں اتنی خوبصورت اور پڑھی لکھی بہو آئی ہے۔ شادی سے پہلے ہی یہ خبر پوری سسرال میں پھیل چکی تھی کہ آنے والی بہو کی اٹھانیں کچھ زیادہ ہی وزنی اور بڑی ہیں۔ عورتوں اور لڑکیوں کا میرے پاس کسی نہ کسی بہانے سے آنا تو پھر بھی چل جاتا تھا، لیکن جب گلی محلے کے ہر قسم کے لڑکے اور نوجوان رشتہ دار بار بار بلوندر کے پاس کسی نہ کسی بہانے سے آ کر میری اٹھانوں کی ایک جھلک تک حاصل کرنے کے لئے ارد گرد منڈلاتے رہتے تو ہم دونوں کو بہت خراب لگتا۔ ویسے بلوندر دل ہی دل بہت خوش تھا کہ اس کی بیوی اتنی اچھی ہے کہ اسے کسی نہ کسی بہانے سے دیکھنے کے لئے سارا دن سارے دوستوں کا جمگھٹا لگا ہی رہتا ہے۔ شروع کے کئی دن تو گہما گہمی میں گزر گئے۔ سارا دن مہمانوں کے آنے جانے میں دن کا پتہ ہی نہیں چلتا تھا۔ لیکن تین چار دن بعد جب ہم ہنی مون پر گئے تو وہاں بلوندر کی خوشی دیکھتے ہی بنتی تھی۔ اس کے حساب سے ان دنوں اس ہل اسٹیشن پر جتنے بھی ہنی مون والے جوڑے گھوم رہے تھے، ان میں سب سے زیادہ خوبصورت میں ہی تھی۔ مجھے دیکھنے کے لئے راہ چلتے لوگ ایک بار تو ضرور ہی ٹھٹک کر کھڑے ہو جاتے تھے۔ مجھے بھی تسلی ہوئی تھی کہ چلو، میرا ایک بہت بڑا مسئلہ حل ہو گیا۔ کم سے کم اس فرنٹ پر تو کامپلیکس پالنے کی ضرورت نہیں ہے۔

رات کو بلوندر میری فگر کی بہت تعریف کرتا۔ میرے پورے بدن کو چومتا، میری اٹھانوں کو چومتا، سہلاتا اور اپنے ہاتھوں میں بھرنے کی کوشش کرتا۔ سارا دن ہوٹل میں ہم دونوں محبت کے گہرے سمندر میں غوطے لگاتے رہتے۔

ہنی مون سے لوٹ کر بھی اس کے پیار میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔ البتہ، بلوندر کے گھر آنے والے لوگوں کی تعداد بہت بڑھ گئی تھی۔ لوگ کسی نہ کسی بہانے سے میری چھاتیوں کی ایک جھلک حاصل کرنے کیلئے موقع تلاش کرتے، گھور گھور کر دیکھتے۔ میری نندیں، جٹھانیاں اور آس پاس کی بھابھیاں وغیرہ بھی وہی سوال پوچھتیں، جو گزشتہ آٹھ سالوں سے مجھ سے طرح طرح سے پوچھے جا رہے تھے۔ مجموعی طور پر اپنی نئی زندگی کی اتنی شاندار شروعات سے میں بہت خوش تھی۔ میں ممی کو فون پر اپنی خبریں دیتی اور انہیں بتاتی کہ میری سسرال کتنی اچھی ہے۔

لیکن حقیقت بہت جلد اپنے اصل رنگ دکھانے لگی تھی۔ بلوندر نے گھر پر یہ نہیں بتایا تھا کہ اس نے خود ہی جہیز کے لئے منع کیا ہے اور اس کے بجائے ماں سے میرے نام پر پانچ لاکھ کا ڈرافٹ حاصل کر رکھا ہے۔ ماں نے اپنی زندگی بھر کی بچت ہی اسے سونپ دی تھی۔ باقی جو بچا تھا، وہ میرے کپڑے زیورات پر خرچ کر دیا تھا۔ بیشک میرے رنگ روپ اور خوبیوں کی، میرے لائے قیمتی کپڑوں اور زیورات کی تعریفیں دو چار دن تک تو بلند آواز میں ہوتی رہیں، لیکن جلد ہی جہیز کے نام پر کچھ بھی نہ پانے کا ملال ان سے میری اور میرے گھر والوں کی برائیاں کرانے لگا۔ میں نئی تھی اور اکیلی تھی، سب کے منہ کیسے بند کرتی۔ ایک آدھ بار میں نے بلوندر سے کہا بھی کہ تم کم از کم اپنے ماں باپ کو تو بتا سکتے ہو کہ تم خود ہی جہیز سے انکار کر آئے تھے اور اس کے بدلے نقد رقم لے آئے ہو، تو وہ ہنس کر ٹال گیا تھا، ’’یہ مورکھ لوگ ٹھہرے۔ ان کی باتیں سنتی رہو اور کرو وہی جو تم کو اچھا لگتا ہے۔ انہیں اور کوئی تو کام ہے نہیں۔‘‘

بلوندر نے شادی کے ایک ہفتے کے اندر ہی ایک جوائنٹ اکاؤنٹ کھلوایا تھا اور مجھے جہیز کے نام پر ملا، پانچ لاکھ کا ڈرافٹ جمع کرا دیا گیا تھا۔ بلوندر نے مجھے اس کا اکاؤنٹ کا نمبر دینے کی ضرورت بھی نہیں سمجھی تھی اور نہ چیک بک وغیرہ دی تھی۔ مجھے برا تو لگا تھا، لیکن میں چپ ہو گئی تھی۔ شادی کے ایک ہفتے کے اندر شوہر پر بد اعتمادی کرنے کی یہ کوئی بہت بڑی وجہ نہیں تھی۔

بلوندر شادی کے ایک مہینے تک وہیں رہا تھا اور لندن کی اپنی اسکیمیں مجھے سمجھاتا رہا تھا۔ اس نے بتایا تھا کہ اپنی ایک پھوپھی کے ذریعے پانچ سال پہلے لندن پہنچا تھا اور صرف پانچ برسوں میں ہی اس نے اپنا ذاتی اچھ اخاصا کاروبار کھڑا کر لیا ہے۔ میرے پاسپورٹ کے لئے اپلائی کرا دیا گیا تھا اور بلوندر وہاں پہنچتے ہی مجھے وہیں بلوا لینے کی کوشش کرنے والا تھا۔

لندن کے لئے روانہ ہونے سے ایک رات پہلے وہ بہت ہی جذباتی ہو گیا تھا اور کہنے لگا تھا، ’’تمہیں یہاں اکیلے چھوڑ کر جانے کا ذرا بھی من نہیں ہے، لیکن کیا کیا جائے۔ ٹریول ڈوکومنٹس کی فارمیلٹی تو پوری کرنی ہی پڑے گی۔‘‘

اس کے جاتے ہی میرے سامنے کئی طرح کی پریشانیاں آ کھڑی ہوئی تھیں۔ مجھے جہیز میں کچھ بھی نہ لانے پر سسرال والوں نے اذیتیں دینا شروع کر دیں کہ میں کیسی کنگلی آئی ہوں کہ سامان کے نام پر ایک سوئی تک نہیں لائی ہوں۔ مجھے بہت برا لگا۔ بلوندر نے خود ہی تو کہا تھا کہ انہیں سامان نہیں چاہیے۔ آخر جب پانی سر کے اوپر سے گذرنے لگا تو مجھے بھی اپنا منہ کھولنا ہی پڑا، ’’آپ ہی کا پیغام لے کر تو بلوند رممی کے پاس گیا تھا کہ ہمیں کچھ نہیں چاہیے اور جو کچھ بھی دینا ہے وہ ڈرافٹ کے ذریعے دے دیا جائے۔‘‘ لیکن وہاں تو میری بات سننے کے لئے کوئی تیار ہی نہیں تھا۔ جب میں نے جوائنٹ اکاؤنٹ میں جمع کرائے گئے پانچ لاکھ کے ڈرافٹ کی بات کی تو دوسری ہی سچائی میرے سامنے آنے لگی تھیں۔ ہمارا اکاؤنٹ دھو پونچھ کر صاف کیا  جا چکا تھا۔ اس نے میری جانکاری کے بغیر میرے ڈرافٹ کے تمام پیسے نکلوا لئے تھے اور مجھے ہوا تک نہیں لگنے دی تھی کہ وہ اکاؤنٹ بالکل صاف کر کے جا رہا ہے۔ یہ تو بعد میں پتہ چلا تھا کہ اس نے ان میں سے آدھے پیسے تو اپنے گھر والوں کو دے دیئے تھے اور باقی اپنے پاس رکھ لئے تھے۔ اس نے اپنے گھر والوں کے ساتھ یہی جھوٹ بولا کہ وہ یہ پیسے لندن سے کما کر لایا تھا اور شادی میں خرچ کرنے کے بعد جو کچھ بھی بچا ہے، وہ دے کر جا رہا ہے۔ وہ ہمارے پیسوں کے بل پر اپنے گھر میں اپنا شاندار امیج بنا کر مجھے نہ صرف کنگلا بنا گیا تھا، بلکہ ہم لوگوں کو سنانے کیلئے اپنے گھر والوں کو ایک مستقل کہانی بھی دے گیا تھا۔ میرے تو جیسے پیروں کے تلے سے زمین ہی کھسک گئی تھی۔ ممی کو یہ بات نہیں بتائی جا سکتی تھی۔ اب تو میرے سامنے تو اب یہ وسوسہ بھی سر اٹھانے لگا تھا کہ پتہ نہیں بلوندر لندن گیا بھی ہے یا نہیں اور مجھے کبھی بلوائے گا بھی یا نہیں۔ میں عجیب مخمصے میں پھنس گئی تھی۔ کہتی کسے کہ میں کیسے بھنور میں پھنس گئی ہوں۔ اتنا بڑا دھوکہ کر گیا تھا بلوندر میرے ساتھ۔ اسے اگر میرے پیسوں کی ضرورت تھی بھی تو کم از کم مجھے بتا تو دیتا۔ ممی نے یہ پیسے ہمارے لئے ہی تو دیئے تھے۔ وقت پڑنے پر ہمارے ہی کام آنے تھے۔ بلوندر جاتے وقت نہ تو وہاں کا ایڈریس دے گیا تھا اور نہ ہی کوئی فون نمبر ہی۔ یہی کہہ گیا تھا کہ پہنچتے ہی اپنا اپارٹمنٹ بدلنے والا ہے۔ شفٹ کرتے ہی اپنا نیا پتہ دے گا۔ اس نے اپنے پہنچنے کا خط بھی پورے ایک ماہ بعد دیا تھا۔ میں بتا نہیں سکتی کہ یہ وقت میرے لئے کتنا مشکل گزرا تھا۔ سسرال میں تو بلوندر کے جاتے ہی سب کی آنکھیں پلٹ گئی تھیں اور سب کی نظروں میں میں ہی مجرم تھی، حالانکہ گھر میں آنے والے ایسے مہمانوں کی کوئی کمی نہیں تھی جو آ کر پوچھتے کہ مجھے بلوندر کے بغیر کوئی تکلیف تو نہیں ہے۔ میں سب سمجھتی تھی لیکن کر ہی کیا سکتی تھی۔ بلوندر نے مہینے بھر بعد بھیجے اپنے پہلے خط میں لکھا تھا کہ وہ یہاں آتے ہی اپنے بزنس کی کچھ مشکلات میں پھنس گیا ہے اور اب مجھے جلدی نہیں بلا پائے گا۔

اس نے جو پتہ دیا تھا وہ کسی کے کیئر آف تھا۔ اس نے جو خط مجھے لکھا تھا اس میں بہت ہی جذباتی لفظوں کا استعمال کرتے ہوئے افسوس ظاہر کیا تھا کہ وہ میرے بغیر بہت تنہائی محسوس کرتا ہے لیکن چاہ کر بھی مجھے جلدی بلوانے کے لئے کچھ بھی نہیں کر پا رہا ہے۔

اس خط میں کچھ بھی ایسا نہیں تھا جس سے مجھے تسلی ملتی۔ پتہ حاصل کرنے کے بعد صرف ایک ہی راستہ یہ کھلا تھا کہ میں اس سے پوچھ سکتی تھی کہ آخر اس نے میرے ساتھ ایسا دھوکہ کیوں کیا کہ میرے پاس میرے پانچ لاکھ روپیوں میں سے ایک ہزار روپے بھی نہیں چھوڑے کہ میں اپنی روزانہ کی شاپنگ ہی کر سکوں۔ میں نے اسے ایک سخت خط لکھا تھا کہ اس کے اس رویے سے مجھے کتنی تکلیف پہنچی ہے۔

میں نے اسے لکھا تھا کہ میں اس کے سکھ دکھ میں ہمیشہ اس کے ساتھ رہوں گی، لیکن اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا کہ اس کے گھر والوں کی نظروں میں میرا امیج اتنا خراب ہوتا۔

ایک ماہ تک اس کا کوئی جواب نہیں آیا تھا۔ میرے پاس اس بات کا کوئی ذریعہ نہیں تھا کہ میں بلوندر سے رابطہ کر پاتی۔ میں ممی کے پاس جانا چاہتی تھی تاکہ کچھ وقت ان کے ساتھ گزار سکوں، لیکن روزانہ بلوندر کے خط کے انتظار میں میں اٹکی رہ جاتی تھی۔

اس کے خط کے انتظار میں مجھے بہت طویل عرصہ گزارنا پڑ رہا تھا۔ ادھر میری سسرال والوں کے طعنے اور جلی کٹی باتیں۔ میں اکیلی پڑ جاتی اور۔ جواب نہیں دے پاتی تھی۔ ایک تو وہاں سے دھرنے کے لئے کچھ نہیں ہوتا تھا اور دوسرے بلوندر کی نیت کا کچھ پتہ نہیں چل پا رہا تھا۔ پورے دو مہینوں کے طویل انتظار کے بعد اس کا چار لائنوں کا خط آیا تھا۔ اس نے اس بات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا تھا کہ وہ اپنے بزنس کی پریشانیوں کے چکر میں مجھے ان پیسوں کی بابت نہیں بتا سکا تھا۔ اس نے لکھا تھا کہ مجھے بغیر بتائے اسے یہ پیسے نکالنے پڑے۔ اس نے لکھا تھا کہ دہلی کی ہی ایک پارٹی سے پچھلا کچھ لین دین بقایا تھا۔ جب میں اس کے پاس اگلا آرڈر بک کرانے گیا تو اس نے صاف انکار کر دیا کہ جب تک پچھلی ادائیگی نہیں ہو جاتی، آگے کچھ بھی نہیں ملے گا۔ میرے سامنے مسئلہ یہ تھا کہ اس کے سامان کے بغیر دکان چلانی مشکل ہو جاتی۔ مجبوراً تمہارے اکاؤنٹ میں سے اسے چیک دے دینا پڑا۔ میں نے اس بارے میں تمہیں اس لئے نہیں لکھا کہ یہاں آتے ہی میں بزنس سنبھلتے ہی ان کا انتظام کر کے تمہارے اکاؤنٹ میں واپس جمع کرا دینے والا تھا۔ تمہیں پتہ ہی نہ چلتا اور اکاؤنٹ میں پیسے واپس جمع ہو جاتے، لیکن حالات ہیں کہ قابو میں ہی نہیں آ پا رہے ہیں۔

اس بار بھی اس نے کیئر آف کا ہی پتہ دیا تھا۔

یقیناً یہ خط میری سسرال والوں کی نگاہ میں مجھے اس الزام سے بری کرتا تھا کہ میں کنگلی نہیں آئی تھی اور میرے لائے پانچ لاکھ روپے آڑے وقت میں بلوندر کے ہی کام آ رہے ہیں۔ لیکن پتہ نہیں میری سسرال والے کس مٹی کے بنے ہوئے تھے کہ مجھے اس الزام سے بری کرنے کے بجائے دوسرے اور زیادہ سنگین الزام سے گھیر لیا، ’’کیسی منحوس آئی ہے کہ آتے ہی مہینے بھر کے اندر ہمارے بلوندر کا چلتا ہوا بزنس چلا گیا۔ پتہ نہیں، پردیس میں کیسے اکیلے ہینڈل رہا ہو گا۔ دیکھو بچارے نے پتہ بھی تو اپنے کسی دوست کا دیا ہے۔ پتہ نہیں بیچارے کا اپنا گھر بھی بچا ہے یا نہیں۔‘‘

اب میرے لئے حالت یہ ہو گئی تھی کہ نہ کہتے بنتا تھا نہ رہتے۔ میں چاروں طرف سے گھر گئی تھی۔ میرا سب سے بڑا مسئلہ یہی تھا کہ کہیں ممی کو یہ ساری باتیں پتہ نہ چل جائیں۔ وہ بے چاری تو کہیں کی نہ رہیں گی۔ انہیں یہ سب بتانے کا مطلب ہوتا، انہیں اپنی ہی نگاہوں میں چھوٹا بنانا، جو میں کسی بھی قیمت پر نہیں کر سکتی تھی۔

اب میرے پاس ایک ہی طریقہ بچتا تھا کہ میں سسرال کی جلی کٹی باتوں سے بچنے کے لئے کچھ دنوں کے لئے ماں کے پاس لوٹ آؤں اور لندن میں حالات کے سدھرنے کا انتظار کروں۔

میں نے بلوندر کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے اسے ایک لمبا خط لکھا۔ میں نے اسے اس کے گھر والوں کے رویے کے بارے میں لکھ کر اور پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔ مجھے یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ اس کے گھر والے اسے میرے بارے میں کیا کیا لکھتے رہے ہیں۔ میں نے اسے لکھا کہ وہ اپنا خیال رکھے اور میری بالکل بھی فکر نہ کرے اور یہ کہ میں لندن میں اس کی حالت سدھرنے تک اپنی ماں کے پاس ہی رہنا چاہوں گی۔ وہ اگلا خط مجھے ممی کے ایڈریس پر ہی لکھے۔

اور پھر میں ماں کے گھر لوٹ آئی تھی۔

یہ لوٹنا ہمیشہ کے لئے لوٹنا تھا۔

ممی کو یہ سمجھانا بہت آسان تھا کہ بلوندر جب تک میرے ٹریول ڈاکومنٹس تیار کرا کے نہیں بھیج دیتا، میں انہی کے پاس رہنا چاہوں گی۔ ممی کو اس بات سے خوشی ہی ہونی تھی کہ سسرال میں اکیلے پڑے رہنے کے بجائے میں انڈیا میں اپنا باقی وقت ان کے ساتھ گزار رہی ہوں۔ ممی کو نہ تو میں نے پیسوں کی بابت کچھ بتایا تھا اور نہ ہی سسرال میں خود پر روا سلوک کے بارے میں۔ بیکار میں ہی انہیں پریشان کرنے کا کوئی مطلب نہیں تھا۔ میں نے اپنا وقت گزارنے کے لئے یوگاکلاسز جوائن کر لیں۔ اس سے وقت تو ٹھیک ٹھاک گزر جاتا تھا، ساتھ ہی اپنی صحت کو ٹھیک رکھنے کا ذریعہ بھی ہو گیا تھا۔ زندگی کے کچھ معنی بھی ملنے لگے تھے۔

اس پورے وقت کے دوران میرے پاس بلوندر کے گنے چنے خط ہی آئے تھے۔ ان میں وہی یا اس سے ملتے جلتے دوسرے مسائل کے بارے میں لکھا ہوتا۔ میں اس کے ہر اگلے خط کے ساتھ سوچ میں ڈوب جاتی کہ آخر ان مسائل کا کہیں اختتام بھی ہو گا یا نہیں اور میں کب تک اسے مہینے دو مہینے کے وقفے سے آنے والے خطوں کے انتظار میں اپنی زندگی کا سب سے خوبصورت دور یوں ہی گنواتی رہوں گی۔

اسے گئے چھ مہینے ہونے کو آئے تھے اور ابھی تک امید کی ایک کرن بھی کہیں نظر نہیں آ رہی تھی۔ ادھر میرے سسرال والے مجھے پوری طرف بھلا بیٹھے تھے۔ میں یوگا ابھیاس کا کورس مکمل کر چکی تھی۔ وقت کاٹنے کی نیت سے میں نے تبھی یوگا ٹیچر کی ٹریننگ لینی شروع کر دی تھی۔ ساتھ ہی ساتھ نیچروپیتھی کا بھی کورس جوائن کر لیا۔ ویسے یوگا ابھیاس سے ایک فائدہ ضرور ہوا تھا کہ اب میں جھلاتی یا بھڑکتی نہیں تھی، بلکہ صبر سے انتظار کرتی رہتی تھی کہ جو بھی ہوتا ہے، اگر میرے بس میں نہیں ہے تو ویسا ہی ہونے دو۔ میرا جسم بھی یوگا سے تھوڑا سا نکھر آیا۔ اس دوران میرا پاسپورٹ بن کر آ گیا تھا۔ میں نے اس کی اطلاع بلوندر کو دے دی تھی، لیکن اس کا کوئی جواب ہی نہیں آ رہا تھا۔ میں ادھر پریشان ہونے کے باوجود کچھ نہیں کر پا رہی تھی۔ میرے پاس اس سے رابطے کا کوئی ذریعہ ہی نہیں تھا۔

انہی دنوں ہمارے ہی پڑوس کے ایک لڑکے کی پوسٹنگ اس کے آفس کی لندن برانچ میں ہوئی۔ جانے سے پہلے وہ میرے پاس آیا تھا کہ اگر میں بلوندر کو ایک خط لکھ دوں اور اس ایئرپورٹ آنے کے لئے کہہ دوں تو اسے نئے ملک میں ابتدائی دقتوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ میرے لئے اس سے اچھی بات کیا ہو سکتی تھی کہ اتنے عرصے بعد بلوندر کے پاس براہ راست ہی پیغام بھیجنے کا موقع مل رہا تھا۔ میں نے بلوندر کو اس بارے میں تفصیل سے خط لکھ دیا تھا۔ تب میں نے بلوندر کے لئے ڈھیر ساری چیزیں بنائی تھیں تاکہ انہیں ہریش کے ہاتھ بھیج سکوں۔ میرے خط کے ساتھ ممی نے بھی بلوندر کو ایک لمبا چوڑا خط لکھ دیا تھا۔ ہریش کے لندن جانے کی تاریخ سے کوئی دس دن پہلے بلوندر کا خط آ گیا تھا۔ وہ کچھ الگ ہی کہانی سنا رہا تھا۔

بلوندر نے لکھا تھا۔ ’’کیسے لکھوں کہ میرے کتنے خراب دن چل رہے ہیں۔ ایک مصیبت سے پیچھا چھڑایا نہیں ہوتا کہ دوسری گلے لگ جاتی ہے۔ میں نے تمہیں پہلے بھی نہیں لکھا تھا کہ کہیں تم پریشان نہ ہو جاؤ، لیکن ہوا یہ تھا کہ انڈیا سے جو کنسائنمنٹ آیا تھا، اس میں پارٹی نے مجھ سے پورے پیسے لے لینے کے باوجود غنڈہ گردی سے اپنے ہی کسی کلائنٹ سے لے کر کچھ ایسا سامان بھی رکھ دیا تھا، جسے یہاں لانے کی پرمیشن نہیں ہے۔ اس نے سوچا تھا کہ جب میں کنسائنمنٹ چھڑوا لوں گا تو آرام سے اپنی پارٹی کو کہہ کر مجھ سے وہ سے وہ سامان منگوا لے گا۔ کہیں کچھ گڑبڑ ہو گئی تو صاف مکر جائے گا۔ اور بدقسمتی سے ہوا بھی یہی۔ وہ مال پکڑا گیا ہے اور الزام مجھ پر ہے کیونکہ یہ سامان میرے ہی گوڈاؤن میں ملا ہے۔

میری کوئی صفائی نہیں مانی گئی ہے۔ یہاں کے قانون تمہیں معلوم نہیں ہے کہ کتنی سختی برتی جاتی ہے۔ اب پتہ نہیں کیا ہو گا میرا۔ اسی فکر کے چلتے کئی دنوں سے انڈر گراؤنڈ ہو کر مارا مارا پھر رہا ہوں اور گھر بھی نہیں گیا ہوں۔ اپنے تعلقات کی مدد سے معاملہ رفع دفع کرنے کے چکر میں ہوں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ امپوریم کھلے تو کچھ کاروبار ہو، لیکن مجھے ڈر ہے کہ کہیں امپوریم کے کھلتے ہی پولیس مجھے گرفتار نہ کر لے۔ تم بھی سوچتی ہو گی کہ کس پاگل سے رشتہ بندھا ہے کہ ابھی تو ہاتھوں کی مہندی بھی نہیں اتری کہ یہ سب چکر شروع ہو گئے۔ لیکن فکر مت کرو ڈئیر، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ایک اچھا وکیل مل گیا ہے۔ ہے تو اپنی طرف کا لیکن یہاں کے قوانین کا اچھا علم ہے اور کوئی نہ کوئی راستہ نکال ہی لے گا۔ میں معاملے سے تو بچ ہی جاؤں گا۔ میرا جو کئی لاکھ کا مال اس چکر میں پھنسا ہوا ہے وہ بھی ریلیز ہو جائے گا۔ بس ایک ہی دقت ہے۔ اس کی فیس کچھ زیادہ ہی تگڑی ہے۔ یہ سمجھ لو کہ اگر یہیں انتظام کرنا پڑا تو کم از کم پچاس لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے پڑیں گے۔ میری پوزیشن تم سمجھ پا رہی ہو گی۔ انڈر گراؤنڈ ہونے کی وجہ سے میں سب کے آگے ہاتھ جوڑنے بھی نہیں کیا جا سکتا۔ پہلے سے ہی تمہارا دَیندار ہوں اور اوپر سے یہ مصیبت۔ میں تمہاری طرف ہی امید بھری نگاہ سے دیکھ سکتا ہوں۔ کیا کسی طرح ایک ڈیڑھ لاکھ کا انتظام ہو سکے گا۔ جانتا ہوں۔ تمہارے یا ممی جی کے لئے کے لئے یہ رقم بہت بڑی ہے۔ تم لوگ اب پہلے ہی اتنا زیادہ کر چکے ہیں۔ لیکن میں سچ کہتا ہوں، اس معاملے سے نکلتے ہی سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا اور میں فارغ ہو کر تمہیں اور ممی جی کو یہاں بلوانے کے لئے کوشش کر سکوں گا۔ اب تک تمہارا پاسپورٹ بھی آ گیا ہو گا۔ ایک خاص پتہ دے رہا ہوں۔ پیسے چاہے انڈین کرنسی میں ہوں یا پاؤنڈز میں، اسی ایڈریس پر بھجوانا۔ یہ پیسے ریزرو بینک کی پرمیشن کے بغیر بھجوائے نہیں جا سکتے اس لیے تمہیں کوئی اور ہی ذریعہ تلاش کرنا ہو گا۔ میں جانتا ہوں یہ معاملہ مجھے خود ہی سلجھانا چاہئے تھا اور تمہیں اس کی رتی بھر ہوا بھی نہیں لگنے دینی چاہیے تھی، لیکن مصیبتیں کسی کا دروازہ کھٹکھٹا کر تو نہیں ہی آتیں۔ ممی جی کو میری پیری پونا کہنا۔ جو بھی ڈیولپمنٹ ہو گی تمہیں فوری طور پر لکھوں گا۔‘‘

خط پڑھ کر میں بہت پریشان ہو گئی تھی۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ واقعی ہو بھی رہا ہے یا کوئی ڈرامہ چل رہا ہے۔ کیسے پتہ چلے کہ سچ کیا ہے۔ ایک بات تو تھی کہ اگر معاملہ جھوٹا بھی ہو تو پتہ نہیں چل سکتا تھا اور سچ کے بارے میں معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ ہی نہیں تھا۔ اتنے مہینوں کے بعد میں نے ممی کو پہلی بار بلوندر کے پہلے کے خطوط کے بارے میں بتایا تھا۔ ممی بھی یہ اور پچھلے خط پڑھ کر بہت پریشان ہو گئی تھیں۔ بغیر پوری بات جانے ایک ڈیڑھ لاکھ روپے مزید بھیجنے کی بھی ہم ہمت بھی نہیں جٹا پا رہے تھے۔ ویسے بھی کہیں نہ کہیں سے انتظام ہی کرنا پڑتا۔ میری شادی میں ہی ممی اپنی ساری بچت خرچ کر چکی تھیں۔

ہم دونوں ساری رات اسی مسئلے کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں سوچتے رہے تھے۔ ہمارے سامنے کبھی اس طرح کی صورتحال ہی نہیں آئی تھی کہ اتنی ما تھا پچی کرنی پڑتی۔ آخر ہم اسی نتیجے پر پہنچے تھے کہ میرا پاسپورٹ آ ہی چکا ہے۔ کیوں نہ میں خود لندن جا کر سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں۔ آگے پیچھے تو جانا ہی ہے۔ پتہ نہیں بلوندر کب بلوائے یا بلوائے بھی یا نہیں۔ آخر رشتے داری بھی سوال گاہے بگاہے اٹھ ہی جاتے تھے کہ سات آٹھ مہینوں سے لڑکی گھر بیٹھی ہوئی ہے۔ لے جانے والے تو مہینے پندرہ دن میں ہی ساتھ لے جاتے ہیں۔ اب اس طرح سے جانے سے سچ کا بھی پتہ چل جائے گا۔ سوچا تھا ہم نے کہ کوشش کی جائے تو ہفتے بھر میں سیاحتی ویزا تو بن ہی سکتا ہے۔ ساتھ دینے کے لئے ہریش ہے ہی سہی۔ بلوندر کو ایک اور تار بھیج دیا جائے گا کہ وہ ریسیو کرنے آ جائے۔

میرے تمام زیورات یا تو فروخت ہو گئے یا گروی وغیرہ رکھے گئے۔ جہاں جہاں سے بھی ہو سکتا تھا ہم نے پیسے جٹائے۔ ٹکٹ اور دوسرے انتظامات کرنے کے بعد میرے پاس لندن لانے کیلئے تقریباً ایک لاکھ تیس ہزار روپے جمع ہو گئے تھے۔ طے کیا تھا کہ تیس ہزار ماں کے پاس رکھوا دوں گی اور ایک لاکھ ہی لے کر چلوں گی۔ مجھے بہت خراب لگ رہا تھا کہ میں ایک ہی سال میں دوسری بار ممی کی ساری پونجی نکلوا کر لے جا رہی تھی۔ اور کوئی راستہ بھی تو نہیں تھا۔ ہم نے جان بوجھ کر بلوندر کے گھر والوں کو اس کی خبر نہیں دی تھی۔ میری قسمت اچھی تھی کہ ہریش کی کمپنی کی مدد سے مجھے سیاحتی ویزا وقت پر مل گیا تھا اور میں ہریش کے ساتھ اسی فلائٹ سے لندن آ سکی تھی۔

اور اس طرح میں ہمیشہ کے لئے لندن آ گئی تھی لندن، جس کے بارے میں میں گزشتہ چھ سات ماہ سے مسلسل خواب دیکھ رہی تھی۔ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ کبھی ملک کی سرحد بھی پار کرنے کا موقع ملے گا۔ دل میں طرح طرح کے خیال آ رہے تھے۔ دعا کر رہی تھی کہ بلوندر کے ساتھ سب ٹھیک ٹھاک ہو اور وہ ہمیں ایئرپورٹ لینے بھی آیا ہو۔ اگر کہیں نہ آیا ہو تو۔۔ اس کے بارے میں میں ڈر کے مارے سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی۔

ہم لندن پہنچے تو یہاں ایک اور صدمہ میرا انتظار کر رہا تھا۔

ہیتھرو پر کافی دیر تک ہم دونوں بلوندر انتظار میں کھڑے رہے تھے اور جب اس جیسی شکل کا کوئی بھی آدمی کافی دیر تک نظر نہیں آیا تو ہم نے گراؤنڈ اسٹاف کی مدد سے اعلان بھی کروایا، لیکن وہ کہیں نہیں تھا۔ بلوندر کے چکر میں ہریش بیچارے نے اپنے آفس میں کسی کو خبر نہیں تھی۔ میں تو ایک دم گھبرا گئی تھی۔ بالکل انجانا ملک اور شوہر کا ہی کہیں ٹھکانا نہیں۔ پتہ نہیں اسے خط اور تار ملے بھی ہیں یا نہیں، لیکن اس نے جو پتہ ڈرافٹ بھیجنے کے لئے دیا تھا، اسی پر تو بھیجے تھے خط اور تار۔ دل ہی دل میں ڈر بھی رہی تھی کہ کہیں اور کوئی گڑبڑ نہ ہو گئی ہو۔ اب میرے پاس اس کے علاوہ اور کوئی طریقہ نہیں تھا کہ میں وہ رات ہریش کے ساتھ ہی کہیں گزاروں اور اگلے دن صبح ہی بلوندر کی کھوج خبر لوں۔

اتفاق سے ہریش کے پاس وائے ایم سی اے کے ہاسٹل کا پتہ تھا۔ ہم وہیں گئے تھے۔ ایڈوانس بکنگ نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں تکلیف تو ہوئی، لیکن دو دن کے لئے ہمیں دو کمرے مل گئے تھے۔ اتنی تکلیفیں پالنے کے بعد آخر میں اپنے ہونے والے شہر لندن آ پہنچی تھی اور اپنی پہلی ہی رات اپنے شوہر کے بغیر ایک گیسٹ ہاؤس میں گزار رہی تھی۔ اتفاق سے ہریش کے پاس ایک پورا دن خالی تھا اور اسے آفس اگلے دن سے ہی جوائن کرنا تھا۔ ہم دونوں اگلے دن نکلے تھے۔ شوہر کی تلاش میں۔ بالکل نیا اور انجانا ملک، الگ زبان اور ثقافت اور یہاں کی بھول بھلیوں سے بالکل انجان ہم دونوں۔ ہمیں وائے ایم سی اے سے لندن کی گائیڈ بک مل گئی تھی اور استقبالیہ نے ہمیں ولیسڈن گرین اسٹیشن تک پہنچنے کے راستے کے بارے میں، بس روٹ اور ٹرین روٹ کے بارے میں بتا دیا تھا۔ استقبالیہ نے ساتھ ہی آگاہ بھی کر دیا تھا کہ آپ لوگ یہاں بالکل نئے ہیں اور یہ علاقہ کالے حبشیوں کا ہے۔ ذرا سنبھل کر جائیں۔ ہمیں وہ گھر ڈھونڈنے میں بہت زیادہ تکلیف ہوئی۔ ہمیں ابھی اس ملک میں آئے ہوئے پندرہ سولہ گھنٹے بھی نہیں ہوئے تھے اور ہم سات سمندر پار کے اتنے بڑے اور نامعلوم شہر میں بلوندر کے لئے مارے مارے پھر رہے تھے۔

اس پر غصہ بھی آ رہا تھا اور رہ رہ کر دل اندیشوں سے بھر بھی جاتا تھا کہ بلوندر بالکل ٹھیک ہو اور ہمیں مل جائے۔

آخر دو تین گھنٹے کی مشقت کے بعد ہم وہاں پہنچے تھے اور کافی دیر تک بھٹکنے کے بعد ہمیں وہ گھر ملا تھا۔ استقبالیہ نے صحیح کہا تھا، چاروں طرف حبشی ہی حبشی نظر آ رہے تھے۔ گندے، غلیظ اور شکل ہی سے ڈراؤنے۔ میں اپنی زندگی میں ایک ساتھ اتنے حبشی دیکھ رہی تھی۔ انہیں دیکھتے ہی ابکائی آتی تھی۔

یہ گھر میں روڈ سے پچھواڑے کی جانب گندی گلیوں میں ڈیڑھ کمرے کا چھوٹا سا فلیٹ تھا۔ جب ہریش نے دروازے کی گھنٹی بجائی تو کافی دیر بعد ایک لڑکے نے دروازہ کھولا۔ وہ نشے میں دھت تھا۔ اسی کمرے میں چار پانچ لوگ آڑی تیڑی حالت میں پڑے ہوئے شراب پی رہے تھے۔ چاروں طرف بکھرے تھے سگریٹ کے ٹوٹے، بکھرے ہوئے میلے کچیلے کپڑے اور شراب کی خالی بوتلیں۔ لگتا تھا مہینوں سے کمرے کی صفائی نہیں ہوئی تھی۔ کمرہ بالکل ٹھنڈا تھا۔ ہریش نے ہی بات سنبھالی، ’’ہمیں بلوندر جی سے ملنا ہے۔ انہوں نے ہمیں یہیں کا پتہ دے رکھا ہے۔‘‘ ہریش نے ایک اچھی بات یہ کی کہ وہاں بلوندر کو نہ پا کر اور ماحول کو گڑبڑ دیکھتے ہی اس نے میرا تعارف بلوندر کی بیوی کے طور پر نہیں بلکہ اپنی دوست کے طور پرکیا۔

سارے لڑکے چھوٹا موٹا دھندہ کرنے والے انڈین ہی لگ رہے تھے۔ ہمیں دیکھتے ہی وہ لوگ تھوڑا ڈسٹرب ہو گئے تھے۔ جس لڑکے نے دروازہ کھولا تھا، اس نے ہمیں اندر آنے کے لئے تو کہہ دیا تھا، لیکن اندر کہیں بیٹھنے کی جگہ ہی نہیں تھی۔ ہم وہیں دروازے کے پاس کھڑے رہے۔ کافی دیر تک تو وہ ایک دوسرے سے ہی پوچھتے رہے کہ یہ لوگ کون سے بلوندر کو پوچھ رہے ہیں۔ اس کے کام کاج کے بارے میں بھی وہ پکے طور پر کچھ نہیں بتا پائے کہ وہ کیا کرتا ہے۔ جب میں نے انہیں اس کی شکل صورت کے بارے میں مڈل سیکس میں اس کے انڈین ہینڈی کرافٹ کے امپوریم کے بارے میں بتایا تو وہ سب کے سب ہنسنے لگے، ’’میڈم کہیں آپ میرٹھی ویلڈر بلّی کو تو نہیں پوچھ رہے۔‘‘ جب میں نے ہاں کہا۔ ’’یس یس ہم اسی کا پوچھ رہے ہیں، لیکن اس نے تو بتایا تھا۔۔ اس کا وہ امپوریم؟‘‘

میں نے کسی طرح بات مکمل کی تھی۔ جواب میں وہ پھر سے ہنسنے لگا تھا، ’’وہ بلّی تو جی یہاں نہیں رہتا۔ کبھی کبھار آ جاتا ہے۔ شاید انڈیا سے کسی ڈوکومنٹس کا انتظار تھا اسے۔ بتا رہا تھا یہیں کے ایڈریس پر آئے گا۔‘‘

’’لیکن آپ کا وہ بلّی۔۔۔ وہ کرتا کیا ہے؟‘‘ میں نے دوبارہ پوچھا تھا۔ جواب میں ایک دوسرا آدمی ہنسنے لگا تھا، ’’بتایا نہ ویلڈر ہے۔ پتہ نہیں آپ کا بلّی وہی ہے۔ در اصل اپنے گھر والوں کی نظر میں ہم سب کے سب کسی نہ کسی شاندار نوکری سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ جو آپ سنجیو کو دیکھ رہے ہیں، ایم اے پاس ہے اور اپنے انڈیا میں لوگ یہی جانتے ہیں کہ یہ یہاں پر ایک بہت بڑی کمپنی میں سیلز منیجر ہے، جبکہ اصلیت میں یہ یہاں پر صبح اور شام کے وقت لوگوں کے گھروں میں سبزی کی ہوم ڈیلیوری کرتا ہے۔‘‘ اپنے تعارف کے جواب میں سنجیو نام کے لڑکے نے ہمیں تین بار جھک کر سلام کیا۔ تبھی دوسرا آدمی درمیان میں بول پڑا، ’’جی مجھے انڈیا میں لوگ ہرش کمار کے نام سے جانتے ہیں۔ ان کے لئے میں یہاں ایک میڈیکل لیب اینالسٹ ہوں، لیکن میں لندن کا ہیش ایک برگر کارنر میں ویٹر کا کام کرتا ہوں اور دو سو بیس پاؤنڈ ہفتے کے کماتا ہوں۔ کیوں ٹھیک ہے نا اور ٹپ اوپر سے۔ گزارا ہو جاتا ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے اپنے گلاس کی بچی کھچی شراب گلے سے نیچے اتاری اور زور زور سے ہنسنے لگا۔

پہلے والے لڑکے نے تب اپنی بات مکمل کی تھی، ’’اور میں پریتم سنگھ انڈیا میں گھر والوں کی نظر میں کمپیوٹر پروگرامر اور یہاں کی سچائی میں سب کا پیارا پریٹی دی واشر مین۔ میں بیس منٹ میں لانڈری چلاتا ہوں اور گوروں کے میلے جانگئے دھوتا ہوں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس کے منہ پر عجیب سا کسیلا پن ابھر آیا تھا اور اس نے اپنا گلاس ایک ہی گھونٹ میں خالی کر دیا تھا۔

کافی حیل و حجت کے بعد ہی انہوں نے قبول کیا کہ بلوندر وہیں رہتا ہے، لیکن اس کے آنے جانے کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔

میری آنکھوں کے آگے دن میں ہی تارے ناچنے لگے تھے۔ اس کا مطلب ہم ٹھگے گئے ہیں۔ جس بلوندر کو میں جانتی ہوں اور جس بلّی کے یہ لوگ ذکر کر رہے ہیں وہ دو مختلف آدمی ہیں یا ایک ہی ہیں۔ دونوں صورتوں میں مصیبت میری ہی تھی۔ تبھی ان میں سے ایک لڑکے کی آواز سنائی دی تھی، ’’ویسے جب اس کے پاس انڈیا سے لائے پیسے تھے تو اکیلے عیش کرتا رہا، لیکن جب ختم ہو گئے تو ادھر ادھر مارا مارا پھرتا ہے۔ جب کہیں ٹھکانہ نہیں ملتا تو کبھی کبھار یہاں کا چکر کاٹ لیتا ہے۔ وہ بھی اپنی میل کے چکر میں۔‘‘

میرا تن من سلگنے لگا تھا۔ اب وہاں کھڑے رہنے کا کوئی مطلب نہیں تھا۔ میں نے ہریش کو اشارہ کیا تھا چلنے کیلئے۔ جب ہم واپس چلنے لگے تھے تو انہی میں سے ایک نے پوچھا تھا، ’’کوئی میسج ہے بلی کے لئے۔‘‘ تو میں نے پلٹ کر غصے میں جواب دیا تھا، ’’ہاں ہے میسج۔ کہیں اگر ملے آپ کو آپ کا یا ہمارا بلّی، کبھی اپنی میل لینے آئے تو اس سے کہہ دیجئے کہ انڈیا سے اس کی بیوی مالویکا اس کیلئے اس کے ڈوکومنٹس لے کر آ گئی ہے۔ اسے ضرورت ہو گی۔ میں وائے ایم سی اے میں ٹھہری ہوئی ہوں۔ آ کر لے جائے۔‘‘

ان میں سے سبھی اچانک سُن ہو گئے تھے۔ اب اچانک انہیں لگا تھا کہ نشے میں وہ کیا بھید کھول گئے ہیں۔ اب سب کا نشہ ہرن ہو چکا تھا، لیکن کسی کو نہیں سوجھا تھا کہ حقیقت سن کر کچھ ری ایکٹ ہی کر پاتا۔

چلتے وقت میں بالکل خاموش تھی۔ کچھ بھی نہیں سوجھ رہا تھا مجھے۔ مجھے بالکل پتہ نہیں چلا تھا کہ ہم ہاسٹل کب اور کیسے پہنچے تھے۔

کمرے میں پہنچتے ہی میں بستر پر گر گئی تھی۔ عرصے سے رکے میرے آنسو جاری ہو گئے تھے۔

تو یہ تھا تصویر کا اصلی رنگ۔ میں یہاں نہ آئی ہوتی تو اس کی کہانی پر رتی بھر بھی شک نہ کرتی، کیونکہ وہ مجھے ہنی مون کے دوران ہی اپنے کاروبار کے بارے میں اتنی تفصیل سے ساری باتیں بتا چکا تھا۔ اب مجھے سمجھ میں آ رہا تھا کہ اس نے تب اپنے اس سوکالڈ دھندے کے بارے میں اتنی لمبی لمبی اور باریک باتیں کیوں بتائی تھیں۔

اب سب کچھ صاف ہو چکا تھا کہ ہم بے وقوف بنائے  جا چکے تھے اور میری شادی پورے جہیز کے ساتھ اب ایک یاد نہ کئے جا سکنے والے بھدے مذاق میں بدل چکی تھی۔ میرا کنوارہ پن، میرا سہاگ، میری سہاگ رات، میری حسرتیں، میری خوشیاں، میرے چھوٹے چھوٹے خواب، بلوندر جیسے جھوٹے اور مکار آدمی کے ساتھ بانٹے گئے لمحات، میرے تمام ارمان سب کچھ ایک بھیانک دھوکہ ثابت ہو چکے تھے۔ میں اپنے آنسو روک نہیں پا رہی تھی۔ مجھے اپنی بدن سے گھن آنے لگی تھی۔ اپنے آپ پر بری طرح غصہ آنے لگا تھا کہ میں نے یہ سونے جیسا بدن اس دھوکے باز، جھوٹے اور فریبی آدمی کو سونپا تھا۔ میرے جسم پر اس نے ہاتھ پھرائے تھے اور میں نے اس آدمی کو، جو میرا شوہر کہلانے کے قابل بالکل بھی نہیں تھا، ایک بار نہیں بلکہ کئی کئی بار اپنا جسم نہ صرف سونپا تھا، بلکہ جس کی بھولی بھالی باتوں کے جال میں پھنسی میں کئی مہینوں سے اس کی محبت میں پاگل بنی ہوئی تھی۔ اب ان لمحات کو یاد کر کے بھی مجھے ابکائی ہونے لگی تھی۔ میرا دل بری طرح چھلنی ہو چکا تھا۔ میں دہاڑیں مار کر رونا چاہتی تھی، لیکن یہاں اس نئے اور انجان ماحول میں، میں کھل کر رو بھی نہیں پا رہی تھی۔ یہاں کوئی سین کریئیٹ نہیں کرنا چاہتی تھی۔ میں غصے سے لال پیلی ہو رہی تھی۔ ہریش تھوڑی دیر میرے کمرے میں بیٹھ کر مجھے پرائیویسی دینے کی نیت سے اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔ اس بیچارے کو بھی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اچانک یہ سب کیا ہو گیا تھا۔

مجھے ممی کیلئے بھی افسوس ہو رہا تھا۔ انہیں فون کر کے اس اسٹیج پر یہ باتیں بتا کر پریشان نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ اور مزید ان کا کیا قصور کہ ان کا دیکھا بھالا جمائی کھوٹا نکل گیا تھا۔ انہوں نے تو اس سے صرف دو چار ملاقاتیں ہی کی تھیں اور اس کے جال میں ہی پھنسی تھیں۔ میں مورکھ تو نہ صرف اس کی باتوں میں پھنسی تھی، اسے اپنا سب کچھ نچھاور کر آئی تھی۔ اپنا سہاگ بھی اور پانچ لاکھ روپے بھی۔ ممی سے بڑا قصور تو میرا ہی تھا۔ اب سزا بھی مجھ اکیلی کو ہی جھیلنی تھی۔

اس ساری رات میں اکیلے روتی تڑپتی کروٹیں بدلتی رہی۔ بار بار مجھے اپنے اس جسم سے نفرت ہونے لگتی کہ میرا اتنا سنبھال کر رکھا گیا جسم آلودہ کیا بھی تو ایک جھوٹے اور مکار آدمی نے۔ پتہ نہیں مجھ سے پہلے کتنی لڑکیوں کے ساتھ کھلواڑ کر چکا ہو گا۔ اب یہ بات جس کسی کو بھی بتائی جائے، ہمارا ہی مذاق اڑائے گا کہ تم ہی لوگ لندن کا چھوکرا دیکھ کر رال ٹپکائے، اس کے آگے پیچھے گھوم رہے تھے۔ ہم نے تو پہلے ہی کہا تھا، باہر کا معاملہ ہے، لڑکے کو اچھی طرح ٹھوک بجا کر دیکھ لو، لیکن ہماری سنتا ہی کون ہے۔ اب بھگتو۔

اب میرا سب سے بڑا مسئلہ یہی تھا کہ میں اس پردیس میں تنہا اور بے سہارا کس بھروسے رہوں گی۔ اتنی جلدی واپس جانے کا بھی تو نہیں سوچا جا سکتا تھا۔ کیا جواب دوں گی سب کو کہ میں لٹی پٹی نہ بیاہتا رہی، نہ کنواری۔ میں سوچ سوچ کے مری جا رہی تھی کہ کیا ہو گا میرا اب۔ پتہ نہیں بلوندر سے ملاقات بھی ہو پائے گی یا نہیں اور تو بھی کبھی بلوندر جیسے بے ایمان اور جھوٹے آدمی سے پیچ اپ ہو پائے گا یا نہیں یا پھر میں ہمیشہ ہمیشہ آدھی کنواری اور آدھی بیاہتا والی حالت میں اس کا یا اس کے سدھرنے کا انتظار کرتے کرتے بوڑھی ہو جاؤں گی۔ مجھے یہ سوچ سوچ کر رونا آ رہا تھا کہ جس آدمی کے اپنے کاغذات کا ٹھکانا نہیں ہے، رہنے کھانے اور کام کا آسرا نہیں ہے، اگر اس سے کبھی سمجھوتہ ہو بھی گیا تو مجھے کہاں رکھے گا اور کہاں سے کھلائے گا۔ وہاں تو پھر بھی ماں تھی اور سب لوگ تھے، لیکن یہاں سات سمندر پار میرا کیا ہو گا۔ میں بھی کیسی مورکھ ٹھہری، نہ آگا سوچا نہ پیچھا، لپکی لپکی لندن چلی آئی۔

وہ پوری رات میں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں کاٹ دی تھی اور ایک لمحے کے لئے بھی پلکیں نہیں جھپکائی تھیں۔

ہاسٹل میں ہمارا یہ تیسرا دن تھا۔ آخری دن۔ بڑی مشکل سے ہمیں ایک اور دن کی مہلت مل پائی تھی۔ اتنا ضرور ہو گیا تھا کہ اگر ہم چاہتے تو آگے کی تاریخوں کی ایڈوانس بکنگ کروا سکتے تھے، لیکن اب ایک بار تو ہاسٹل خالی کرنا ہی تھا۔ ہمارا پہلا دن تو بلوندر کو تلاش کرنے اور اسے کھوجنے میں ہی چلا گیا تھا۔ وہاں سے واپس آنے کے بعد میں کمرے سے نکلی ہی نہیں تھی۔ ہریش بیچارہ کھانے کیلئے کئی بار پوچھنے آیا تھا۔ اس کی بہت ضد کرنے پر میں نے صرف سوپ ہی لیا تھا۔ اگلے دن وہ اپنے آفس چلا گیا تھا، لیکن دن میں تین چار بار وہ فون کر کے میرے بارے میں پوچھتا رہا تھا۔ مجھے اس پر ترس بھی آ رہا تھا کہ بے چارہ کہاں تو بلوندر کے بھروسے یہاں آ رہا تھا اور کہاں میں ہی اس کے گلے پڑ گئی تھی۔ جس دن ہمیں ہاسٹل خالی کرنا تھا، اسی شام کو واپس آنے پر اس نے دو تین اچھی خبریں سنائی تھیں۔ اس کے لئے گرین فورڈ علاقے میں ایک گجراتی خاندان کے ساتھ پے انگ گیسٹ کے روپ میں رہنے کا انتظام ہو گیا تھا۔ لیکن اس نے ایک جھوٹ بول کر میرا کام بھی بنا دیا تھا۔ اس نے وہاں بتایا تھا کہ اس کی بڑی بہن بھی ایک پراجیکٹ کے سلسلے میں اس کے ساتھ آئی ہوئی ہے، پندرہ بیس دن کیلئے۔ فی الحال اسی گھر میں اس کے لئے بھی ایک الگ کمرے کا انتظام کرنا پڑے گا تاکہ وہ اپنا پراجیکٹ بغیر کسی تکلیف کے پورا کر سکے۔ بیچ بیچ میں اسے کام کے سلسلے میں باہر بھی جانا پڑ سکتا ہے۔ ہریش کی عقلمندی سے یہ انتظام ہو گئے تھے اور ہمیں اگلے دن ہی وہاں شفٹ کر جانا تھا۔

مجھے دوہری مشکل میں پھنس گئی تھی۔ ایک طرف ہریش پر ڈھیر سارا پیار آ رہا تھا جو میری اتنی مدد کر رہا تھا اور دوسری طرف بلوندر پر بری طرح غصہ بھی آ رہا تھا کہ دیکھو، ہمیں یہاں آئے تیسرا دن ہے اور اب تک جناب کا پتہ ہی نہیں ہے۔

دو تین دن کے دوران میں یہ بھی طے کر چکی تھی کہ اب میں یہاں سے واپس نہیں جاؤں گی۔ بلوندر یا نو بلوندر، اب یہی میرا نصب العین رہے گا۔ طے کر لیا تھا کہ کام کرنے کے بارے میں یہاں کے قوانین کے بارے میں معلوم کروں گی اور سارے کام قانون کے حساب سے ہی کروں گی۔

اب اتفاق سے ہریش نے رہنے کا انتظام تو کر ہی دیا تھا۔ ابھی میرے پاس اتنے پیسے تھے کہ ٹھیک ٹھاک طریقے سے رہتے ہوئے بغیر کام کئے بھی دو تین ماہ آرام سے کاٹے جا سکتے تھے۔

ہم اب استقبالیہ پر حساب کر ہی رہے تھے، تبھی وہ آیا۔ بری حالت تھی اس کی۔ بکھرے ہوئے بال۔ بڑھی ہوئی داڑھی اور میلے کپڑے۔ جیسے کئی دنوں سے نہایا ہی نہ ہو۔ میں اسے سات آٹھ ماہ بعد دیکھ رہی تھی۔ اپنے شوہر کو، بلوندر کو۔ وہ میری طرف خالی خالی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔

اس نے میری طرف دیکھا، ہریش کی طرف دیکھا اور ہمارے سامان کی طرف دیکھا، جیسے فیصلہ کر رہا ہو، ان میں سے کون کون سے بیگ میرے ہو سکتے ہیں۔ پھر اس نے بغیر کچھ پوچھے ہی دو بیگ اٹھائے اور ہولے سے مجھ سے کہا، ’’چلو۔‘‘

میں حیران کہ یہ کیسا آدمی ہے، جس میں شرم و حیا نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے۔ جس حالت میں مجھ سے سات ماہ بعد مل رہا ہے، چار دن سے میں لندن میں پڑی ہوئی ہوں، میری خبر تک لینے نہیں آیا اور اب سامان اٹھائے حکم دے رہا ہے، ’’چلو۔‘‘ کیسا برتاؤ کر رہا ہے۔ ہریش بھی اس کا برتاؤ دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔ ہریش کی حیرانی کا سبب یہ بھی تھا کہ بلوندر کے دونوں ہاتھوں میں اسی کے بیگ تھے۔ بلوندر پورے حق سے بیگ اٹھائے باہر کی طرف چلا جا رہا تھا۔ میں سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کیا کہوں اور کیسے کہوں کہ اے میرے شوہر، کیا یہی طریقہ ہے ایک مہذب ملک کے مہذب شہری کا، آپ کے ملک میں پہلی بار تشریف لائی بیوی کا استقبال کرنے کا۔

مجھے غصہ بھی بہت آ رہا تھا اور رونا بھی، کیا میں اسی شخص کا اتنے مہینوں سے گورداس پور میں انتظار کر رہی تھی کہ میرا پیا مجھے لینے آئے گا اور میں اس کے ساتھ لندن جاؤں گی۔

بلوندر نے جب دیکھا کہ میں اس کے پیچھے نہیں آ رہی ہوں، بلکہ وہیں کھڑی اس کا تماشا دیکھ رہی ہوں تو دونوں بیگ وہیں پر رکھ کر، واپس پلٹا اور میرے بالکل پاس آ کر بولا، ’’گھر چلو، وہیں آرام سے ساری باتیں کریں گے۔‘‘ اور میرے جواب کا انتظار کئے بغیر پھر بیگوں کی طرف چل دیا۔ میں شش و پنج میں تھی، خوش ہوں کہ میرا شوہر مجھے لینے آ گیا ہے یا روؤں کہ جس حال میں آیا ہے، نہ آیا ہوتا تو اچھا ہوتا۔ ادھر ہریش حیران پریشان میرے اشارے کا انتظار کر رہا تھا۔

میں نے یہی بہتر سمجھا کہ آگے پیچھے ایک بار تو بلوندر کے ساتھ جانا ہی پڑے گا۔ اس کی بات بھی سنے بغیر خلاصی ممکن نہیں ہو گی تو اسے کیوں لٹکایا جائے۔ جو کچھ ہونا ہے آج ہی نپٹ ہی جائے۔ اس کے ساتھ باقی زندگی گزارنا ہے تو آج ہی سے کیوں نہیں اور اگر نہیں گزارنا ہے تو اس کا بھی فیصلہ آج ہی ہو جائے۔

میں نے ہریش سے سرگوشی میں کہا، ’’سنو ہریش۔‘‘

’’جی دیدی۔‘‘

’’آج تو مجھے اس کے ساتھ جانے ہی دو۔ جو بھی فیصلہ ہو گا میں تمہیں فون پر بتا دوں گی۔ البتہ پے انگ گیسٹ والی میری بکنگ کینسل مت کروانا۔‘‘

’’ٹھیک ہے دیدی، میں آپ کے فون کا انتظار کروں گا۔ بیسٹ آف لک دیدی۔‘‘

ہم دونوں آگے بڑھے تھے۔ ہمیں آتے دیکھ بلوندر کی آنکھوں میں کسی بھی قسم کی چمک نہیں آئی تھی۔ اس نے پھر سے بیگ اٹھا لئے تھے۔ مجھے ہنسی بھی آ رہی تھی، دیکھو اس شخص کو، چوتھے دن میری خبر لینے آیا ہے۔ نہ ہیلو نہ اور کوئی بات، بس بیگ اٹھا کر کھڑا ہو گیا ہے۔

میں نے ہریش کا غلط تعارف کرایا تھا، ’’یہ ہریش ہے۔ میری پھوپھی کا لڑکا۔ ہماری شادی کے وقت بمبئی میں تھا۔ یہاں کام کے لئے آیا ہے۔‘‘

بلوندر نے ایک لفظ بولے بغیر اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا تھا۔

ہریش نے تب اپنے بیگ بلوندر کے ہاتھ سے لئے تھے اور اپنا ہاتھ میری طرف بڑھا دیا تھا، ’’چلتا ہوں دیدی۔ اپنی خبر دینا۔ اوکے جیجا جی۔‘‘ کہتے ہوئے وہ تیزی سے باہر نکل گیا تھا۔

مینی کیب میں بیٹھا بلوندر مسلسل باہر کی طرف دیکھتا رہا تھا۔ پورے راستے نہ تو اس نے میری طرف دیکھا تھا اور نہ ہی اس نے ایک لفظ ہی کہا تھا۔ میں امید کر رہی تھی اور کچھ بھی نہیں تو کم از کم میرا ہاتھ ہی دبا کر اپنے آپ کو مجھ سے جوڑ لیتا۔ میں اس وقت بھی اس کے تمام سچ جھوٹ مان لیتی۔ پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے اسے۔ اتنے اجنبیوں کی طرح برتاؤ کیوں کر رہا ہے۔

مینی کیب، ولیسڈن گرین جیسی ہی کسی بستی میں پہنچ گئی تھی۔ وہ ڈرائیور کو گلیوں میں دائیں بائیں مڑنے کے لئے کہہ رہا تھا۔

آخر ہم آ پہنچے تھے۔

کیا کہتی اسے، میرا گھر۔۔۔۔ میری سسرال۔۔۔۔ یا ایک اور پڑاؤ۔۔ بلوندر نے دروازہ کھولا تھا۔ سامان اندر رکھا تھا۔ میں امید کر رہی تھی کہ اب تو وہ آگے بڑھ کر مجھے اپنے گلے سے لگا ہی لے گا اور مجھ پر بوسوں کی برسات کر دے گا۔ میرے تمام جسم کو چومتے چومتے کھڑے کھڑے ہی میرے کپڑے اتارتے ہوئے مجھے سوفے یا پلنگ کی طرف لے جائے گا اور اس کے بعد۔۔ میں یہی توقع کر سکتی تھی۔۔ چاہ سکتی تھی اور اس طرح کے رویے کے لئے تیار بھی تھی۔ آخر ہم نو بیاہتا جوڑے تھے اور پورے سات مہینوں کے بعد مل رہے تھے، لیکن اس نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا تھا اور رسوئی میں چائے بنانے چلا گیا تھا۔

میں نے دیکھا تھا، یہ گھر بھی ان لڑکوں والے اس گھر کی طرح ہی تھا، لیکن اس کے مقابلے میں صاف ستھرا تھا اورسامان بھی بہتر اور زیادہ تھا۔ میں سوچ ہی رہی تھی کہ اگر یہ گھر بلوندر کا ہے تو اس نے اس گندے سے گھر کا پتہ کیوں دیا تھا۔ لیکن دو منٹ میں ہی میرا شک دور ہو گیا تھا۔ یہ گھر بھی بلوندر کا نہیں تھا۔ ضرور اس کے کسی دوست کا رہا ہو گا اور اس کا انتظام کرنے میں ہی بلوندر کو دو تین دن لگ گئے ہوں گے۔ جب میں باتھ روم میں گئی تو باتھ روم نے ساری پول کھول دی تھی۔ وہاں ایک نائٹ گاؤن لٹکا ہوا تھا۔ بلوندر نائٹ گاؤن نہیں پہنتا، یہ بات اس نے مجھے ہنی مون کے وقت ہی بتا دی تھی۔ وہ رات کو سوتے وقت کسی بھی موسم میں بنیان اور پاجامہ پہن کر ہی سوتا تھا۔ باتھ روم میں ہی رکھے شیمپو اور دوسرے پرفیوم اس کی چغلی کھا رہے تھے۔ یہ دونوں چیزیں ہی بلوندر استعمال نہیں کرتا تھا۔

کمرے میں لوٹ کر میں نے غور سے دیکھا تھا، وہاں بھی بہت سی چیزیں ایسی تھیں جو بلوندر کی نہیں ہو سکتی تھیں۔ کتابوں کے ریک میں میں نے جو پہلی کتاب نکال کر دیکھی، اس پر کسی راجیندر سونی کا نام لکھا ہوا تھا۔ دوسری اور تیسری کتاب بھی راجیندر سونی کی ہی تھی۔

بلوندر اب بھی رسوئی میں ہی تھا۔ وہاں سے ڈبے کھولنے بند کرنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ مجھے اتنے کشیدہ ماحول میں بھی ہنسی آ گئی۔ ضرور پتی چینی ڈھونڈ رہا ہو گا۔

آخر وہ چائے بنانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ لیکن شاید کھانے کے لئے کچھ نہیں تلاش کر پایا تھا۔ وہ اب میرے سامنے بیٹھا تھا۔ میں انتظار کر رہی تھی کہ وہ کچھ بولے تو بات بنے۔ لیکن وہ مجھ سے مسلسل نظریں چرا رہا تھا۔

بات میں نے ہی شروع کی تھی، ’’یہ کیا حال بنا رکھا ہے۔ تم تو اپنے بارے میں ذرا سی بھی لاپرواہی پسند نہیں کرتے تھے۔‘‘

’’کیا بتاؤں، کتنے مہینے ہو گئے، ان مشکلات کی وجہ سے مارا مارا پھر رہا ہوں۔ اپنے بارے میں سوچنے کی بھی فرصت نہیں مل رہی ہے۔ تم۔۔ تم۔۔ اچانک۔۔ اس طرح سے۔۔ بغیر بتائے۔۔۔‘‘

’’تم کو اپنی مشکلات سے فرصت ملے تو دنیا کی کچھ خبر بھی ملے۔۔ میں نے تمہیں دو تار ڈالے، دو خط ڈالے۔ وہاں ہم ہیتھرو پر ایک گھنٹہ تمہارا انتظار کرتے رہے۔ اعلان بھی کروایا اور تمہیں تلاش کرتے ہوئے وہاں تمہارے اس ایڈریس پر بھی گئے۔ اور تم ہو کہ آج چوتھے دن ملنے آ رہے ہو۔ اس پر بھی تم نے ایک بار بھی نہیں پوچھا۔۔۔ کیسی ہو۔۔ میری تکلیف کا ذرا بھی خیال نہیں تھا تمہیں۔‘‘

’’سچ میں میں مصیبت میں ہوں۔ میرا یقین تو کرو مالویکا، میں بتا نہیں سکتا، مجھے آج ہی پتہ چلا کہ۔۔۔‘‘

’’جھوٹ تو تم بولو مت۔۔ تم ہمیشہ سے مجھ سے جھوٹ بولتے رہے ہو۔ ایک کے بعد دوسرا جھوٹ۔‘‘

’’میرا یقین کرو، ڈیئر، مجھے واقعی آج ہی پتہ چلا۔‘‘

’’سچ بتاؤ تمہارا اصلی تعارف کیا ہے، اور تمہارا گھر کہاں ہے۔ کوئی گھر ہے بھی یا نہیں۔‘‘ مجھے غصہ آ گیا تھا۔

اتنی دیر میں وہ پہلی بار ہنسا تھا، ’’تم تو اسکاٹ لینڈ یارڈ کی طرح جرح کرنے لگی۔‘‘

’’تو تم ہی بتا دو سچ کیا ہے۔‘‘

’’سچ وہی ہے جو تم جانتی ہو۔‘‘

’’تو جو کچھ تمہارے ان لفنگے دوستوں نے بتایا، وہ کس کا سچ ہے۔‘‘

’’تم بھی ان شرابیوں کی باتوں میں آ گئیں۔ کیا ہے کہ ان لوگوں کا خود کا کوئی کام دھندہ ہے نہیں، نہ کچھ کرنے کی نیت ہی ہے۔ بس جو بھی ان کی مدد نہ کرے اس کے بارے میں الٹی سیدھی اڑا دیتے ہیں۔ اب پتہ نہیں میرے بارے میں انہوں نے تمہارے کیا کان بھرے ہیں۔‘‘

’’تو یہ ویلڈر بلّی کون ہے۔‘‘

’’بلّی۔۔۔ اچھا وہ۔۔۔ تھا ایک۔ اب واپس انڈیا چلا گیا ہے۔ لیکن تم اس کے بارے میں کیسے جانتی ہو۔‘‘

’’مجھے بتایا گیا ہے تم ہی بلّی ویلڈر ہو۔‘‘

’’بکواس ہے۔‘‘

’’یہ گھر کس کا ہے؟‘‘

’’کیوں۔۔ اب گھر کو کیا ہو گیا۔۔۔ میرا ہی ہے۔ میں تمہیں کسی اور کے گھر کیوں لانے لگا۔‘‘

’’تو باتھ روم میں لٹکا وہ نائٹ گاؤن، شیمپو، پرفیوم اور یہ کتابیں۔۔۔۔ کون ہے یہ راجیندر سونی؟‘‘

بلوندر ہکلانے لگا، ’’وہ کیا ہے کہ جب سے بزنس کے چکروں میں پھنسا ہوں، کام بالکل بند پڑا ہے۔ کئی بار کھانے تک کے پیسے نہیں ہوتے تھے میرے پاس، اسی لیے ایک پے انگ گیسٹ رکھ لیا تھا۔‘‘

’’بلوندر، تم ایک کے بعد ایک جھوٹ بولے جا رہے ہو۔ کیوں نہیں ایک ہی بار سارے جھوٹوں سے پردہ ہٹا کر آزاد ہو جاتے۔‘‘

’’یقین کرو ڈیئر میرا، میں سچ کہہ رہا ہوں۔‘‘

’’تکلیف تو یہی ہے کہ تم مجھ سے کبھی سچ بولے ہی نہیں۔ یہیں تمہارے اس گھر میں آ کر مجھے پتہ چل رہا ہے کہ مالک مکان کے کپڑے تو اٹیچی میں رہتے ہیں اور پے انگ گیسٹ کے کپڑے شیلف میں رکھے جاتے ہیں۔ مالک مکان رسوئی میں چائے اور چینی کے ڈبے ڈھونڈنے میں دس منٹ لگا دیتا ہے اور اپنے گھر میں مہمانوں کی طرح جوتے پہنے بیٹھا رہتا ہے۔‘‘

’’تمہیں لکھا تو تھا میں نے کہ کب سے انڈر گراؤنڈ چل رہا ہوں۔ کبھی کہیں سوتا ہوں تو کبھی کہیں۔‘‘

’’میں تمہاری ساری باتوں پر یقین کر لوں گی۔ مجھے اپنے شو روم کے کاغذات دکھا دو۔‘‘

’’وہ تو شاید وجے کے یہاں رکھے ہیں۔‘‘ وہ پھر سے ہکلا گیا تھا۔

’’لیکن شو روم کی چابی تو تمہارے پاس ہو گی۔‘‘

’’نہیں، وہ وکیل کے پاس ہے۔‘‘

’’تمہارے پاس تمہارے شو روم کا پتہ تو ہو گا۔‘‘ مجھے غصہ آ گیا تھا، ’’کم از کم ٹیکسی میں بیٹھے بیٹھے دور سے تو دکھا سکتے ہو۔ میں اسی میں تسلی کر لوں گی۔‘‘

’’دکھا دوں گا،۔ تم اتنے ماہ بعد ملی ہو۔ ان باتوں میں وقت برباد کر رہی ہو۔ میرا یقین کرو۔ میں تمہیں ساری باتوں کا یقین کرا دوں گا۔ اب یہی تمہارا گھر ہے اور تمہیں ہی سنبھالنا ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ اٹھا تھا اور اتنی دیر میں پہلی بار میرے پاس آ کر بیٹھا تھا۔ اس وقت میں اس شخص سے پیار کرنے اور اس کو خود سے پیار کرنے دینے کیلئے بالکل تیار نہیں تھی۔ یہاں تک کہ اس کا مجھے چھونا بھی ناگوار گزر رہا تھا۔ میں نے اس کا بڑھتا ہوا ہاتھ جھٹک دیا تھا اور ایک آسان سا جھوٹ بول دیا تھا، ’’ابھی میں اس حالت میں نہیں ہوں۔ میرے پیریڈز چل رہے ہیں۔‘‘

وہ چونک کر ایکدم پیچھے ہٹ گیا تھا اور پھر اپنی جگہ جا کر بیٹھ گیا تھا۔ اسے اتنا بھی نہیں سوجھا تھا کہ پیریڈز میں سیکس کرنا تو منع ہوتا ہے، عرصے بعد ملی بیوی کا ہاتھ پکڑنا، اسے اپنے سینے سے لگانا اور چومنا تو نہیں ہوتا۔ میں نے بھی طے کر لیا تھا، جب تک وہ اپنی اصلی پہچان نہیں بتا دیتا، میں اسے اپنے پاس بھی نہیں پھٹکنے دوں گی۔ بیشک اس وقت میں سیکس کے لئے بری طرح تڑپ رہی تھی اور دل ہی دل میں چاہ رہی تھی کہ وہ مجھ سے زبردستی بھی کرے تو میں انکار نہیں کروں گی۔ لیکن وہ تو ہاتھ کھینچ کر ایک دم پیچھے ہی ہٹ گیا تھا۔

میرا وہاں یہ تیسرا دن تھا۔ یہ تینوں دن وہاں میں نے ایک مہمان کی طرح کاٹے تھے۔ جب گھر کے مالک کی حالت ہی مہمان جیسی ہو تو میں بھلا کیسے آرام سے رہ سکتی تھی۔ ہم عام طور پر اس دوران خاموش ہی رہے تھے۔ ان تین دنوں میں میں نے اس سے کئی بار کہا تھا، چلے شو روم دیکھنے، وکیل سے ملنے یا وجے کے یہاں شو روم کے کاغذات دیکھنے، لیکن وہ مسلسل ایک یا دوسرے بہانے سے ٹالتا رہا۔

میں تین دن سے اس کی بکواس سنتے سنتے تنگ آ چکی تھی۔ ہم اس دوران دو ایک بار ہی بازار کی طرف گئے تھے۔ چیزیں لینے اور باہر کھانا کھانے اور دو ایک بار فون کرنے۔ ممی کو اپنے پہنچنے کی خبر بھی دینی تھی۔ کب سے ٹال رہی تھی۔ میں نے ممی کو صرف یہی بتایا کہ یہاں سب ٹھیک ٹھاک ہے اور میں باقی باتیں تفصیل سے خط میں لکھوں گی۔ بلوندر کی اب تک کی ساری باتیں اس کے خلاف جا رہی تھیں، لیکن پھر بھی وہ بتانے کو تیار نہیں تھا کہ اس کی اصلیت کیا ہے۔ وہ ہر بار ایک نیا بہانہ بنا دیتا۔ ایک آدھ بار فون کرنے کے بہانے باہر بھی گیا، لیکن لوٹنے پر یہی بتایا کہ وہ گھر پر نہیں ہے، باہر گیا ہے، کل آئے گا یا پرسوں آئے گا۔ آخر تنگ آ کر میں نے اسے الٹی میٹم دے دیا تھا، ’’اگر کل تک تم نے مجھے اپنی اصلیت کا کوئی ثبوت نہیں دکھایا تو میرے پاس یہ ماننے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہو گا کہ تم اور کوئی نہیں، بلّی ویلڈر ہی ہو اور تم مجھ سے مسلسل جھوٹ بولتے رہے ہو۔ تب مجھے یہاں اس طرح روکنے کا کوئی حق نہیں رہے گا۔‘‘

اس نے پوچھا تھا، ’’کہاں جاؤ گی مجھے چھوڑ کر۔۔۔‘‘

میں نے جواب دیا تھا، ’’جب سات سمندر پار کر کے یہاں تک آ سکتی ہوں تو یہاں سے کہیں اور بھی جا سکتی ہوں۔‘‘

’’اتنا آسان نہیں ہے یہاں اکیلے رہنا۔ میں آدمی ہو کر نہیں سنبھال پا رہا ہوں۔‘‘

’’جھوٹے آدمی کیلئے ہر جگہ تکلیفیں ہی ہوتی ہیں۔‘‘

’’تم مجھے بار بار جھوٹا کیوں ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہو۔ میں تمہیں کیسے اس بات کا یقین دلاؤں۔‘‘

’’دکان کے، گھر کے، کاروبار کے کاغذات دکھا دو۔ میں یقین کر لوں گی اور نہ صرف اپنے سارے الزام واپس لے لوں گی بلکہ تمہیں مشکلات سے باہر نکالنے کے لئے اپنی جان تک لڑا دوں گی۔ پتہ نہیں تمہارا پاسپورٹ بھی اصلی ہے یا نہیں۔ کہیں چوری چھپے تو نہیں آئے ہوئے ہو یہاں؟‘‘

’’وقت آنے دو۔ ساری چیزیں دکھا دوں گا۔‘‘

’’میں اسی وقت کا انتظار کر رہی ہوں۔‘‘

’’یو آر ٹو ڈفیکلٹ۔‘‘

لیکن تیسری رات وہ ٹوٹ گیا تھا۔ ہم دونوں الگ الگ سو رہے تھے۔ روزانہ اسی طرح سوتے تھے۔ میں اسے اپنے پاس بھی نہیں پھٹکنے دے رہی تھی۔ وہ اچانک ہی آدھی رات کو میرے پاس آیا اور میرے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا تھا۔ اس کا اس طرح رونا مجھے بہت برا لگا تھا، لیکن شاید وہ بھی تھک چکا تھا اور اپنا خول اتار کر آزاد ہو جانا چاہتا تھا۔ چلو، کہیں تو برف پگھلی تھی۔ میں نے اسے پچکارا تھا، چپ کرایا تھا اور اس کے بالوں میں انگلیاں پھرانے لگی تھی۔

اس نے تب کہا تھا، ’’ہم سب کچھ بھلا کر نئے سرے سے زندگی نہیں شروع کر سکتے کیا۔ میں مانتا ہوں، میں تم سے کچھ باتیں چھپاتا رہا ہوں، لیکن اس وقت میں سچ مچ مصیبت میں ہوں اور اگر تم بھی میرا ساتھ نہیں دو گی تو میں بالکل ٹوٹ جاؤں گا۔‘‘ اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا تھا۔

اس رات میں نے اسے قبول کر لیا تھا اور کہا تھا، ’’ٹھیک ہے۔ اگر تم اب خاموش ہو جاؤ۔ اس بارے میں ہم بعد میں بات کریں گے۔‘‘

بیشک اس میں اب پہلے والا جوش و خروش نہیں رہ گیا تھا۔ شاید اس کی ذہنی حالت اور کسی حد تک معاشی حالت بھی اس کیلئے ذمہ دار تھی۔ شاید یہ ڈر بھی رہا ہو کہ کہیں میں سچ مچ چلی ہی نہ جاؤں۔

اگلے دن اس کے رویے میں بہت تبدیلی آ گئی تھی اور وہ نرمی سے پیش آ رہا تھا۔ کئی دن بعد اس نے شیو کی تھی اور طریقے سے کپڑے پہنے تھے۔ مجھے گھمانے لے گیا تھا اور باہر کھانا کھلایا تھا۔ ایک ہی بار کے سیکس سے اور اپنے جھوٹ سے نجات پا کر وہ نارمل ہو گیا تھا۔ میں انتظار کر رہی تھی کہ وہ اپنے بارے میں سب کچھ سچ سچ بتا دے گا، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ وہ ایسے برتاؤ کر رہا تھا گویا کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ اس کے بجائے اس نے رات کو بستر پر آنے پر پہلا سوال یہی پوچھا، ’’میں نے تمہیں کچھ پیسوں کے بارے میں لکھا تھا، کچھ انتظام ہو پایا تھا کیا۔‘‘

میں حیران ہو گئی تھی۔ کل رات تو نئے سرے سے زندگی شروع کرنے کی بات کہی جا رہی تھی اور اب۔۔ کہیں کل رات کا ڈرامہ مجھ سے پیسے نکالنے کیلئے ہی تو نہیں رچایا گیا تھا۔

پھر بھی میں نے کہا تھا، ’’اپنے وکیل سے ملوا دو۔ میں اس کی فیس کا انتظام بھی کر دوں گی۔‘‘

’’نہیں، در اصل میں کوئی نیا دھندہ شروع کرنا چاہتا تھا۔‘‘

’’کیوں۔‘‘ میں نے چھیڑا تھا، ’’وہ امپوریم یوں ہی ہاتھ سے جانے دو گے؟‘‘

’’اب چھوڑو بھی اس بات کو۔ کہا نہ۔۔۔ کچھ نیا کرنا چاہتا ہوں۔ کچھ مدد کر سکو گی۔‘‘

اب آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے۔ میں نے اس وقت تو اس سے صاف انکار کر دیا تھا کہ بڑی مشکل سے ہم کرائے کے لائق ہی پیسے جٹا پائے تھے۔ بس، کسی طرح میں آ سکی ہوں۔ وہ مایوس ہو گیا تھا۔ میں جانتی تھی، اگر اسے میں سارے پیسے سونپ بھی دوں تو بھی کوئی انقلاب نہیں ہونے والا ہے۔ بہت مشکل تھا اب اس پر یقین کر پانا۔ اب اس پردیس میں کل جمع پونجی یہی سرمایہ میرے پاس تھی۔ اگر کہیں یہ بھی اس کے ہتھے چڑھ گئی تو میں تو کہیں کی نہ رہوں گی۔ دل کا ایک کونا یہ بھی کہہ رہا تھا کہ پیسہ شوہر سے بڑھ کر تو نہیں ہے۔ اب جب اس نے معافی مانگ ہی لی ہے تو کیوں نہیں اس کی مدد کر دیتیں۔ آخر رہنا تو اسی کے ساتھ ہی ہے۔ جو کچھ کمائے گا، گھر ہی تو لائے گا۔ اب یہ تو کوئی تُک نہیں ہے کہ پیسے گھر میں بیکار پڑے رہیں اور گھرکا مرد کام کرنے کے لئے پونجی کی تلاش میں مارا مارا پھرے۔

اور اس طرح میں نے اس پر ایک اور بار یقین کر کے اسے پانچ سو پاؤنڈ دیے تھے۔ نوٹ دیکھتے ہی اس کی آنکھیں ایک دم چمکنے لگیں تھیں۔

میں نے اس سے کہا تھا، ’’بس، یہی سب کچھ ہے میرے پاس۔ اس کے علاوہ میرے پاس ایک دھیلا بھی نہیں ہے۔ اگر کہیں کل کے دن تم مجھے گھر سے نکال دو تو میرے پاس پولیس کو فون کرنے کے لئے ایک سکہ بھی نہیں ہے۔‘‘

’’تم بیکار میں شک کر رہی ہو۔ میں بھلا تم کو گھر سے کیوں نکالنے لگا۔ تم نے تو آ کر میری اندھیری زندگی میں نئی روشنی بھر دی ہے۔ اب دیکھنا یہ پانچ سو پاؤنڈز کے کتنے ہزار پونڈ بنا کر دکھاتا ہوں۔‘‘

لیکن اس بار بھی میں نے ہی دھوکہ کھایا تھا۔ وہ پیسے لینے کے بعد کئی دن تک سارا سارا دن غائب رہتا، لیکن یہ سارے پیسے پانچ سات دن میں ہی اپنی منزل تلاش کر کے بلوندر سے رخصت ہو گئے تھے۔ وجہ وہی گھسی پٹی تھی۔ جو کام ہاتھ میں لیا تھا، اس کا تجربہ نہ ہونے کے سبب خسارہ ہو گیا تھا۔ ایک بار پھر وہ نئے سرے سے بیکار تھا۔

ادھر وہ اب مجھے پہلے کی طرح ہی خوب پیار کرنے لگا تھا، ادھر میں نے ایک بات پر غور کیا تھا کہ وہ رات کے وقت لائیٹیں جلا کر میرا پورا جسم بہت دیر تک دیکھتا رہتا اور اس کی خوب تعریف کرتا۔ مجھے بہت شرم آتی، لیکن اچھا بھی لگتا کہ میں ابھی اس کی نظروں سے اتری نہیں ہوں۔

لیکن اس سچائی بھی جلد ہی سامنے آ گئی تھی۔ ایک دن وہ ایک عمدہ کیمرہ لے کر آیا تھا اور الگ الگ پوز میں میری بہت ساری تصویریں کھینچی تھیں۔ جب وہ ڈیولپ ہو کر آئی تھیں تو وہ بہت تصویریں تھا۔ تصویریں بہت ہی اچھی آئی تھیں۔ ایک دن وہ یہ ساری تصویریں لے کر کہیں گیا تھا تو بہت خوش خوش گھر واپس آیا تھا۔

اس نے بتایا تھا، ’’ایک ایڈ ایجنسی کو تمہاری تصویریں بہت پسند آئی ہیں۔ وہ تم کو ماڈلنگ کا چانس دینا چاہتے ہیں۔ اگر تمہاری تصویریں سیلیکٹ ہو جائیں تو تمہیں ماڈلنگ کا ایک بہت بڑا اسائنمنٹس مل سکتا ہے۔ لیکن اس کے لئے ایک فوٹو سیشن انہی کے اسٹوڈیو میں کرانا ہو گا۔ کیا کہتی ہو۔۔۔ ہاتھ سے جانے دیں یہ موقع کیا۔‘‘

یہ میرے لئے انہونی بات تھی۔ اچھا بھی لگا تھا کہ یہاں بھی خوبصورتی کے قدردان بستے ہیں۔ اپنی فگر اور چہرے موہرے کی تعریف برسوں سے دیکھنے والوں کی نگاہوں میں دیکھتی آ رہی تھی۔ ایک سے بڑھ کر ایک کمپلی منٹ پائے تھے، لیکن ماڈلنگ جیسی چیز کے لئے گورداس پور جیسی چھوٹی سی جگہ میں سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ اب یہاں لندن میں ماڈلنگ کی آفر۔۔ وہ بھی آنے کے دس دن کے اندر۔۔ اچھا بھی لگ رہا تھا اور ڈر بھی تھا کہ اس میں بھی کہیں دھوکہ نہ ہو۔ ویسے بھی بلوندر کے بارے میں اتنی آسانی سے یقین کرنے کو جی نہیں چاہ رہا تھا۔ بلوندر نے مجھے شش و پنج میں دیکھ کر تسلی دی تھی، ’’کوئی جلد بازی نہیں ہے۔۔ آرام سے سوچ کر بتانا۔۔ اس طرح کے معاملات میں جلد بازی ٹھیک نہیں ہوتی۔ میں بھی اس دوران ساری چیزیں اچھی طرح دیکھ بھال لوں گا۔‘‘

میں نے بھی سوچا تھا، دیکھ لیا جائے اسے بھی۔۔ بلوندر ساتھ ہو گا ہی۔ کوئی زبردستی تو ہے نہیں۔ کام پسند نہ آیا تو گھر واپس آ جاؤں گی۔

جرمن فوٹوگرافر کی آنکھیں مجھے دیکھتے ہی چمکنے لگیں تھیں۔ تعریف بھری نگاہوں سے مجھے دیکھتے ہوئے اس نے کہا تھا، ’’یو آر گریٹ، سچ اے پریٹی فیس اینڈ پرفیکٹ فیگر۔۔ آئی بیٹ یو ول بی انسٹینٹ ہٹ۔ ویلکم مائی ڈئیر۔۔‘‘ میں پر جوش ہو گئی۔ اپنی تعریف میں آج تک بیسیوں کمپلی منٹ سنے تھے، لیکن کبھی بھی کسی اجنبی نے پہلی ہی ملاقات میں اتنے صاف الفاظ میں کچھ نہیں کہا تھا۔

مجھے اندر اسٹوڈیو میں لے جایا گیا۔ بلوندر دیر تک اس فوٹو گرافر سے بات کرتا رہا تھا۔ جب مجھے میک اپ کیلئے لے جایا جانے لگا تو بلوندر نے مجھے گڈل ک کہا تھا اور بے شرمی سے ہنسا تھا، ’’اب تو تم اپر کلاس ماڈل ہو۔ ہمیں بھول مت جانا۔‘‘ مجھے اس کا اس طرح ہنسنا بہت برا لگا تھا۔ لیکن ماحول دیکھ کر میں چپ رہ گئی تھی۔

فوٹوگرافر کی اسسٹنٹ نے میرا میک اپ کیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور لڑکی آئی تھی، جس نے مجھے ایک پیکٹ پکڑاتے ہوئے کہا، ’’یہ کاسٹیوم ہے۔ چینج روم میں جا کر پہن لیجیے۔ میں کچھ سمجھی تھی اور کچھ نہیں سمجھی تھی۔ لیکن جب اندر جا کر پیکٹ کھول کر دیکھا تو میرے تو ہوش ہی اڑ گئے تھے۔ دو انچ کی پٹی کی نیلی برا تھی اور تین انچ کی پینٹی۔ اب ساری باتیں میری سمجھ میں آ گئی تھیں، بلوندر کا میرے جسم کو کئی کئی دن تک گھورتے رہنا، اس کی ہنسی، میری تصویریں کھینچنا اور یہاں تک گھیر گھار کر لانا اور اس کا بے شرمی سے ہنستے ہوئے کہنا، ’’اب تو تم اپر کلاس ماڈل ہو۔ ہمیں بھول مت جانا۔‘‘

میں خواب میں بھی نہیں سوچ سکتی تھی کہ میرا اپنا شوہر اتنا گر بھی سکتا ہے کہ ابھی مجھے آئے ہوئے چار دن بھی نہیں ہوئے اور میری ننگی تصویریں کھنچوانے لے آیا ہے۔ پیسوں کی دھاندلی پھر بھی میں برداشت کر گئی اور اسے معاف بھی کر دیا تھا، لیکن اس کی یہ حرکت۔۔۔ میں غصے سے لال پیلی ہوتے ہوئے چینج روم سے باہر آئی تھی اور بلوندر کا پوچھا تھا۔

فوٹوگرافر نے بدلے میں مجھ سے بہت ہی پیار سے پوچھا تھا، ’’کوئی پرابلم ہے میڈم؟‘‘ لیکن جب میں نے بلوندر کو ہی بلانے کیلئے کہا تو اس نے بتایا تھا، ’’آپ کے ہسبینڈ نے یہاں سے ایک فون کیا تھا۔ انہیں اچانک ہی ایک پارٹی سے ملنے جانا پڑا۔ انہیں دو ایک گھنٹے لگ جائیں گے۔ وہ کہہ گئے تھے کہ اگر انہیں دیر ہو جائے تو آپ گھر چلی جائیں۔ ڈونٹ وری میڈم، وہ گھر کی چابی دے گئے ہیں۔ ہماری گاڑی آپ کو گھر چھوڑ آئے گی۔‘‘

یہ سنتے ہی میں رو پڑی تھی۔ یہ کیا ہو رہا تھا میرے بھگوان، میرا اپنا شوہر مجھ سے ایسے کام بھی کروا سکتا ہے۔ اس سے تو اچھا ہوتا میں یہاں آتی ہی نہیں۔

فوٹوگرافر یہ منظر دیکھ کر گھبرا گیا تھا۔ اس نے فوری طور پر اپنی اسسٹنٹ کو بلایا تھا۔ وہ مجھے اندر لے گئی تھی۔ پوچھا تھا، ’’آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے۔‘‘ میں اسے کیسے بتاتی کہ اب تو کچھ بھی ٹھیک نہیں رہا۔ وہ دیر تک میری پیٹھ پر ہاتھ پھیرتی رہی تھی۔ جب میں کچھ سنبھلی تھی تو اس نے پھر پوچھا تھا، ’’بات کیا ہے۔ میں اسے اپنی دوست ہی سمجھوں اور پوری بات بتاؤں۔ وہ میری پوری مدد کرے گی۔‘‘

تب میں نے بڑی مشکل سے اسے ساری بات بتائی تھی۔ یہ بھی بتایا تھا کہ یہاں آئے ہوئے مجھے دس دن بھی نہیں ہوئے ہیں اور میرا شوہر مجھ سے جھوٹ بول کر یہاں لے آیا ہے۔ مجھے ذرا سا بھی اندازہ ہوتا کہ مجھے سوئمنگ کاسٹیومز کیلئے ماڈلنگ کرنی ہے تو میں آتی ہی نہیں۔ اس نے پورے صبر کے ساتھ میری بات سنی تھی اور جا کر اپنے باس کو بتایا تھا۔ اس کا صبر دیکھ کر لگتا تھا کہ اسے اس طرح کی سچویشن سے پہلے بھی نمٹنا پڑا ہو گا۔ فوٹوگرافر نے تب مجھے اپنے چیمبر میں بلایا تھا اور اس لڑکی کی موجودگی میں مجھ سے کئی کئی بار معافی مانگی تھی کہ کمیونی کیشن گیپ کی وجہ سے مجھے اس طرح توہین آمیز صورتِ حال سے گزرنا پڑا۔ تب اسی نے مجھے بتایا تھا کہ بلوندر خود ہی ان کے پاس میری تصویریں لے کر آیا تھا اور اس طرح کا پروپوزل رکھا تھا کہ میری بیوی کسی بھی طرح کی ماڈلنگ کیلئے تیار ہے۔

’’اگر ہمیں پہلے پتہ ہوتا کہ مسٹر بلوندر نے آپ سے جھوٹ بولا ہے تو۔۔۔ ویسے۔۔ ڈونٹ وری، ہم آپ کی مرضی کے بغیر کچھ بھی نہیں کریں گے۔ بس، ایک ہی پرابلم ہے کہ مسٹر بلوندر جاتے وقت ہم سے اس اسائنمنٹس کیلئے ایڈوانس پیسے لے گئے ہیں۔ وہ تو خیر کوئی بہت بڑی پرابلم نہیں ہے۔ پھر بھی میرا ایک سجیشن ہے۔ اگر آپ کو منظور ہو۔ آپ ایک کام کریں میڈم۔ جسٹ اے ہنبل ریکوئسٹ۔ آپ اسی ساڑی میں ہی، یا اس البم میں جو بھی کپڑے بھی گریس فل لگیں، ان میں کچھ فوٹوگرافس کھنچوا لیں۔ جسٹ فیو بیوٹی فل فوٹوگرافس آف اے گریس فل اینڈ فوٹوجینک فیس۔ اونلی اِف یو لائک۔ ہمارا اسائنمنٹس بھی ہو جائے گا اور آپ کی ماڈلنگ بھی۔ ہم اس بارے میں مسٹر بلوندر کو کچھ نہیں بتائیں گے۔ آئی تھنک اس میں آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔‘‘

اس نے تب مجھے کئی البم دکھائے اور بتایا تھا کہ اُس طرح کی فوٹو گرافی تو وہ کم ہی کرتے ہیں، زیادہ تر فوٹو گرافی وہ نارمل ڈریسز میں ہی کرتے ہیں۔ اس لڑکی نے بھی مجھے سمجھایا تھا کہ میری جیسی خوبصورت لڑکی کو اس پروپوزل کیلئے نہ نہیں کہنی چاہیے۔

اور اس طرح ماڈلنگ کا میرا پہلا اسائنمنٹس ہوا تھا۔ تقریباً تیس چالیس فوٹو کھینچے گئے تھے۔ کہیں کوئی زبردستی نہیں، کوئی شرمندگی نہیں تھی، بلکہ ہر تصویر میں میرے اندرونی حسن کو ہی ابھارنے کی کوشش کی گئی تھی۔ فوٹو گرافر کی اسسٹنٹ ہنس بھی رہی تھی کہ رونے کے بعد میرا چہرہ اور بھی اجلا ہو گیا تھا۔ مجھے وہاں پورا دن لگ گیا تھا، لیکن بلوندر واپس نہیں آیا تھا۔

چلتے وقت فوٹوگرافر نے مجھے ڈیڑھ سو پونڈ دیئے تھے۔ اسائنمنٹس کی بقیہ رقم۔ انہوں نے اس وقت بتایا تھا کہ کل تین سو پونڈ بنتے تھے میرے، جس سے ڈیڑھ سو پونڈ بلوندر پہلے ہی لے چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا تھا کہ وہ ان کی کاپی مجھے کس ایڈریس پر بھجوائیں۔ میں نے ان سے درخواست کی تھی کہ پہلی بات تو وہ ان کی ایک بھی کاپی بلوندر کو نہ دیں اور نہ ہی اسے اس تصویر سیشن کے بارے میں بتائیں۔ دوسرے ان سے کاپی میں بعد میں کبھی بھی منگوا لوں گی۔ انہوں نے میری دونوں باتیں مان لی تھیں اور ایک رسید مجھے دے دی تھی تاکہ میں کسی کو بھیج کر بھی تصویریں منگوا سکوں۔ جب میں چلنے لگی تھی تو انہوں نے ایک بار پھر مجھ سے معافی مانگی تھی اور کہا تھا کہ میں ان کے بارے میں کوئی بھی برا خیال نہ رکھوں اور انہیں پھر خدمت کا موقع دوں۔ انہوں نے ایک بار پھر درخواست کی تھی کہ وہ مجھے دوبارہ اپنے اسٹوڈیو میں ایک اور فوٹو سیشن کیلئے دیکھ کر بہت خوش ہوں گے۔

چلتے چلتے انہوں نے جھجکتے ہوئے مجھے ایک بند لفافہ دیا تھا اور کہا تھا۔ ’’اسے میں گھر جا کر ہی کھولوں۔‘‘ یہی لفافہ لے کر بلوندر آیا تھا اور وہ پورے کا پورا پیکٹ مجھے لوٹا رہے ہیں۔ انہوں نے ہندوستانی طریقے سے ہاتھ جوڑ کر مجھے رخصت کیا تھا۔ میں آتے وقت سوچ رہی تھی کہ ایک طرف یہاں ایسے بھی لوگ ہیں جو حقیقت پتہ چلنے پر پوری انسانیت سے پیش آتے ہیں اور دوسری طرف میرا اپنا شوہر مجھے بازار میں فروخت کرنے کیلئے چھوڑ گیا تھا۔۔ میں نے سوچ لیا تھا اب اس کے گھر میں ایک منٹ بھی نہیں رہنا ہے۔

میں نے گھر پہنچتے ہی لفافہ کھول کر دیکھا تھا۔ لفافہ کھولتے ہی میرا سر گھومنے لگا تھا۔ بلوندر فوٹوگرافس کا جو پیکٹ وہاں دے کر آیا تھا، اس میں میری سوتے وقت اور نہاتے وقت لی گئی کچھ نیوڈ فوٹوز تھیں۔ میری جانکاری کے بغیر کھینچی گئی برہنہ اور نیم برہنہ تصویریں۔ مجھے پتہ ہی نہیں چل پایا کہ اس نے یہ تصویریں کب کھینچی تھیں۔ ارے میں خواب میں بھی نہیں سوچ سکتی تھی کہ میرا اپنا شوہر اتنا نیچ اور گھٹیا انسان بھی ہو سکتا ہے کہ میری دلالی تک کرنے چلا گیا تھا۔ میں زور زور سے رونے لگی تھی۔

ہم ہنی مون میں بھی اور یہاں تعلقات ٹھیک ہو جانے کے بعد ایسے ہی بِنا کپڑوں کے سو جاتے تھے۔ نئے شادی شدہ میاں بیوی میں یہ سب چلتا ہی رہتا ہے۔ اس میں کچھ بھی عجیب نہیں ہوتا۔ اپنی یہ تصویریں دیکھتے ہوئے مجھے یہی لگا تھا کہ اس نے یہ تصویریں میرے سو جانے کے بعد یا نہاتے وقت چپکے سے لے لی ہوں گی۔ سچ، کتنا گھناؤنا ہو جاتا ہے کئی بار مرد کہ اپنی ہی بیاہتا کی ننگی تصویریں باہر بیچنے کیلئے دکھاتا پھرے۔

میری قسمت اچھی تھی کہ وہ اس بھلے فوٹو گرافر کے پاس ہی تھیں، جس نے نہ صرف میرا مان رکھا، بلکہ ایمانداری سے پورے کا پورا پیکٹ بھی لوٹا دیا ہے۔ میں نے روتے روتے ساری کی ساری تصویریں پھاڑ کر ان کی چندیاں بنا دی تھیں۔

تبھی میں نے گھڑی دیکھی تھی۔ پانچ بجنے والے تھے۔ ہریش ابھی آفس میں ہی ہو گا۔ میں فوراً لپکی تھی۔ میری قسمت بہت اچھی تھی کہ ہریش فون پر مل گیا تھا۔ وہ بس، نکلنے ہی والا تھا۔ میں نے روہانسی آواز میں اس سے کہا تھا، ’’یہاں سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ مجھے گھر چھوڑنا ہے۔ ابھی اور اسی وقت۔ مجھ سے فوری طور پر ملو۔‘‘

اس نے تب مجھے دلاسہ دیا تھا، ’’میں ذرا بھی نہ گھبراؤں۔ صرف یہ بتا دوں کہ میرے گھر کے سب سے زیادہ قریب کون سا ٹیوب اسٹیشن پڑتا ہے۔‘‘ مجھے اتنا ہی پتہ تھا کہ ہم جب بھی کہیں جاتے تھے تو ہی ٹرین پکڑتے تھے۔ میں نے ہونسلو ویسٹ اسٹیشن کا ہی نام بتا دیا تھا۔ ہریش نے مجھے ایک منٹ ہولڈ کرنے کے لئے کہا تھا۔ شاید اپنے کسی ساتھی سے پوچھ رہا تھا کہ اسے مجھ تک پہنچنے میں کتنی دیر لگے گی۔ ہریش نے تب مجھے ایک بار پھر یقین دلایا تھا کہ میں ہونسلو ویسٹ اسٹیشن پہنچ کر ساؤتھ گرنفورڈ اسٹیشن کا ٹکٹ لے لوں اور پلیٹ فارم نمبر ایک پر انٹری پوائنٹ پر ہی اس کا انتظار کروں۔ اسے وہاں تک پہنچنے میں پچاس منٹ لگیں گے۔ وہ کسی بھی حالت میں چھ بجے تک پہنچ ہی جائے گا۔ او کے۔

میں لپک کر بلوندر کے اپارٹمنٹ میں پہنچی تھی۔ اتفاق سے وہ ابھی تک نہیں آیا تھا۔ کتنا شیطانی آدمی ہے یہ!! میں نے سوچا، مجھے اندھی کھائی میں دھکیلنے کے بعد مجھ سے آنکھیں ملانے کی ہمت بھی نہیں ہے اس میں۔ میں نے اپنے بیگ اٹھائے تھے۔ دروازہ بند کیا تھا اور ایک ٹیکسی لے کر اسٹیشن پہنچ گئی تھی۔ کتنی بد نصیب تھی میں کہ ہفتے بھر میں ہی میرا گھر مجھ سے چھوٹ رہا تھا۔ میں نے ایسے گھر کا خواب تو نہیں دیکھا تھا۔ راستے میں میں نے بلوندر کے گھر کی چابی ٹیکسی میں سے باہر پھینک دی تھی۔ ہوتا رہے پریشان اور کھوجتا رہے مجھے۔

اسٹیشن پہنچ کر بھی میری دھک دھک بند نہیں ہو رہی تھی۔ کہیں بلوندر نے مجھے دیکھ لیا تو غضب ہو جائے گا۔ گھر تو خیر میں اس وقت بھی چھوڑتی، لیکن میں اب اس آدمی کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی اور نہ ہی اسے یہ ہوا لگنے دینا چاہتی تھی کہ میں کہاں جا رہی ہوں۔ ایک اچھی بات یہ ہوئی تھی کہ اس نے نہ تو ہریش سے ملتے وقت اور نہ ہی بعد میں ہی اس کے بارے میں زیادہ پوچھ گچھ کی تھی۔

ہریش وقت پر آ گیا تھا۔ اس کے ساتھ اس کا وہی کولیگ تھا، جس نے اسے پے انگ گیسٹ والی جگہ دلوائی تھی۔ ہریش نے میرے بیگ اٹھائے تھے اور ہم بغیر ایک بھی لفظ بولے ٹرین میں بیٹھ گئے تھے۔

’’اور اس طرح میرا گھر مجھ سے چھوٹ گیا تھا۔ میری شادی کے صرف سات مہینے اور گیارہ دن بعد۔ اس عرصے میں سے بھی میں نے صرف سینتیس دن اپنے شوہر کے ساتھ گزارے تھے۔ ان سینتیس دنوں میں سے بھی تین دن تو ہم نے آپس میں طریقے سے بات بھی نہیں کی تھی۔ صرف چونتیس دن کی سیکس فل اور سکسیس فل لائف تھی میری اور میں ایک انجان ملک کے انجان دار الحکومت میں پہنچنے کے ایک ہفتے میں ہی سڑک پر آ گئی تھی۔‘‘

اتنا کہتے ہی مالویکا میرے گلے سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ہے۔ اس کا یہ رونا اتنا اچانک اور شدید تھا کہ میں ہکا بکا رہ گیا ہوں۔ مجھے پہلے تو سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ اپنی کہانی سناتے سناتے اچانک اسے کیا ہو گیا ہے۔ ابھی تو اچھی بھلی اپنی داستان سنا رہی تھی۔

میں اسے اپنے سینے سے بھینچ لیتا ہوں اور اسے چپ کراتا ہوں، ’’رو نہیں نکی۔ تم تو اتنی بہادر لڑکی ہو اور خود کو اتنے شاندار طریقے سے سنبھالے ہوئے ہو۔ ذرا سوچو، تمہیں اگر اسی دلال کے گھر رہنا پڑتا تو۔۔ تو تمہاری زندگی نے کیا رخ لیا ہوتا۔۔۔ کئی بار آدمی کے لئے غلط گھر میں رہنے سے بے گھر ہونا ہی بہتر ہوتا ہے۔ چیئر اپ میری نکی۔۔۔‘‘ یہ کر میں اس کا آنسوؤں سے تر چہرہ بوسوں سے بھر دیتا ہوں۔

وہ اب بھی روئے جا رہی ہے۔ میں نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھراتا ہوں۔ گال تھپتھپاتا ہوں۔

اچانک وہ اپنا سر اوپر اٹھاتی ہے اور روتے روتے پوچھتی ہے، ’’تم ہی بتاؤ دیپ، میری غلطی کیا تھی؟ میں کہاں غلط تھی، جو مجھے اتنی بڑی سزا دی گئی۔ چوبیس پچیس سال کی عمر میں، جب میرے ہاتھوں کی مہندی بھی طریقے سے خشک نہیں تھی، شادی کے سات مہینے بعد ہی نہ میں شادی شدہ رہی نہ کنواری، نہ گھر رہا میرا اور نہ خاندان۔ میری پیاری ماں اور ملک بھی مجھ سے چھوٹ گئے۔ مجھے ہی اتنا خراب شوہر کیوں ملا کہ میں زندگی بھر کے لئے اکیلی ہو گئی۔ میں اتنے بڑے جہان میں بالکل اکیلی ہوں دیپ۔۔۔ بہت اکیلی ہوں۔۔۔ اتنی بڑی دنیا میں میرا اپنا کوئی بھی نہیں ہے دیپ۔۔۔۔۔ میں تم کو بتا نہیں سکتی، اکیلے ہونے کا کیا مطلب ہوتا ہے۔‘‘ وہ زار و قطار روئے جا رہی ہے۔

میں اسے چپ کرانے کی کوشش کرتا ہوں، ’’رو نہیں نکی، میں ہوں نہ تمہارے پاس۔۔ اتنے پاس کہ تم میری سانسیں بھی محسوس کر سکتی ہو۔ تم تو جانتی ہی ہو، ہماری ہتھیلی کتنی بھی بڑی ہو، دینے والا اتنا ہی دیتا ہے، جتنا اسے دینا ہوتا ہے۔ اب چاہے لندن ہو یا تمہاراگورداس پور، تمہیں اس آگ سے گزر کر کندن بننا ہی تھا۔‘‘

’’دیپ مجھے چھوڑ کر تو نہیں جاؤ گے؟‘‘ وہ کنکنے اجالے میں میری طرف دیکھتی ہے۔

’’نہیں جاؤں گا بس، دیکھو میں بھی تو تمہاری طرح اتنا اکیلا ہوں۔ مجھے بھی تو کوئی چاہیے جو۔۔ جو میرا اکیلا پن بانٹ سکے۔ ہم دونوں ایک دوسرے کا اکیلا پن بانٹیں گے اور ایک اپنی دنیا بنائیں گے۔‘‘

’’پرامس؟‘‘

’’یس گاڈ پرامس۔‘‘ میں نے اس کے ہونٹوں پر ایک مہر لگا کر اس کی تسلی کر دیتا ہوں، ’’اب خاموش ہو جاؤ، دیکھو ہم کتنے گھنٹوں سے اس طرح لیٹے ہوئے ہیں۔ بہت رات ہو گئی ہے۔ ابھی سوئیں کیا؟‘‘

وہ اچانک اٹھ بیٹھی ہے، ’’کیا مطلب؟ کتنے بجے ہیں؟‘‘

’’ارے یہ تو صبح کے ساڑھے آٹھ بج رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہم دونوں پچھلے کئی گھنٹوں سے اسی طرح لیٹے ہوئے آپ کے ساتھ آپ کے بچپن کی گلیوں میں گھوم رہے تھے۔‘‘

’’اوہ گوڈ، میں اتنی دیر تک بولتی رہی اور تم نے مجھے ٹوکا بھی نہیں۔۔‘‘ آخرکار اس کا موڈ سنبھلا ہے۔

’’ٹیچر جی نے بولنے سے منع جو کر رکھا تھا۔‘‘

’’باتیں مت بناؤ زیادہ۔ کافی پیو گے؟‘‘

’’نہ بابا، مجھے تو نیند آ رہی ہے۔‘‘

’’میں اپنے لئے بنا رہی ہوں۔ پینی ہو تو بول دینا۔‘‘ اور وہ کافی بنانے چلی گئی ہے۔ سرمئی اندھیرے اجالے میں سامنے رکھے شو کیس کے شیشے میں رسوئی میں سے اس کا عکس دکھائی دے رہا ہے۔

کافی پیتے ہوئے مالویکا سے پوچھتا ہوں، ’’کبھی دوبارہ ملاقات ہوئی بلوندر سے؟‘‘

’’کوئی سوال نہیں پلیز۔‘‘

’’لیکن یہ نامکمل کہانی سنا کر ترسانے کی کیا تک ہے۔ بیشک کہانی کا پریزنٹ میرے سامنے ہے اور میرے سامنے کھلی کتاب کی طرح ہے، لیکن درمیان میں جو صفحات غائب ہیں، ان پر کیا لکھا تھا، یہ بھی تو پتہ چلے۔‘‘ میں اس کے نرم بال سہلاتے ہوئے درخواست کرتا ہوں۔

’’میں نے کہا تھا نہ کہ اب کوئی سوال نہیں پوچھو گے۔‘‘

’’اچھا ایک کام کرتے ہیں۔ تم مکمل کہانی ایک ہی پیراگراف میں، نٹ شیل میں بتا دو۔ پھر گاڈ پرامس، ہم زندگی بھر اس بارے میں بات نہیں کریں گے۔ اگر یہ درمیان کی کھوئی ہوئی کڑیاں نہیں ملیں گی، تو میں ہمیشہ بے چین ہوتا رہوں گا۔‘‘

’’او۔ کے۔۔ میں صرف دس جملوں میں کہانی مکمل کر دوں گی۔ ٹوکنا نہیں۔‘‘

’’ٹھیک ہے۔ بتاؤ۔‘‘

’’تو سنو۔ بلوندر اور اس کے بہت ساتھی جعلی پاسپورٹ اور ویزا لے کر یہاں رہ رہے تھے۔ وہ لوگ پتہ نہیں کتنے ممالک کا غیر قانونی طریقے سے سفر کرنے کے بعد انگلینڈ پہنچتے تھے۔ شادی کے ایک ماہ تک بھی وہ اسی چکر میں وہ وہاں رکا تھا کہ ایجنٹ کی جانب سے گرین سگنل نہیں مل رہا تھا۔ چند سال پہلے سب کو یہاں سے واپس بھیج دیا گیا تھا۔ اسے میرے بارے میں آخر پتہ چل ہی گیا تھا۔ اس نے دو ایک میسج بھجوائے، دوستوں کو بھجوایا، سمجھوتہ کر لینے کیلئے، لیکن خود آ کر ملنے کی ہمت نہیں جٹا پایا تھا۔ جب وہ لوگ پکڑے گئے تو اس نے پھر پیغام بھجوایا تھا کہ میں اسے کسی طرح چھڑوا لوں، لیکن میں صاف مکر گئی تھی کہ اس آدمی سے میری کوئی جان پہچان بھی ہے۔

شروع شروع میں بہت ساری مشکلات سامنے آئیں۔ رہائش، کھانے، عزت سے جینے اور خود کو سنبھالے رہنے میں، لیکن ہمت نہیں ہاری۔ پہلے تو میں ہریش والی جگہ ہی پے انگ گیسٹ بن کر رہتی رہی، پھر کئی جگہیں بدلیں۔ پاپی پیٹ بھرنے کیلئے کئی الٹے سیدھے کام کئے۔ اسکولوں میں پڑھایا، دفتروں، فیکٹریوں، دکانوں میں کام کیا، بے روزگار بھی رہی، بھوکی بھی سوئی۔ ایک دن اچانک ایک انڈین اسکول میں یوگا ٹیچر کی ویکنسی نکلی تو اپلائی کیا۔ چن لی گئی۔ اس طرح یوگا ٹیچر بنی۔ آہستہ آہستہ خود اعتمادی بڑھی۔ آہستہ آہستہ کلائینٹس بڑھے تو کمپنیز وغیرہ میں جا کر کلاسیں لینی شروع کیں۔ الگ سے بھی یوگا کی کلاسیں چلانی شروع کیں۔ گھر خریدا، ہیلتھ سینٹر کھول دیا، بڑے بڑے گاہک ملنے شروع ہوئے تو اسکول کی نوکری چھوڑ دی۔ کئی گروپ ملے تو ہیلتھ سینٹر میں اسٹاف رکھا۔ کام بڑھا۔ ریٹس بڑھائے اور اپنے طریقے سے گھر بنایا، سجایا اور وضع داری سے رہنے لگی۔ زندگی میں بہت سے دوست ملے، لیکن کسی نے بھی دور تک ساتھ نہیں دیا۔ اکیلی چلی تھی، اکیلی رہوں گی اور۔۔۔‘‘ اچانک اس کی آواز بھرا گئی ہے۔

’’اور کیا؟‘‘ میں ہولے سے پوچھتا ہوں۔

’’اس پردیس میں کبھی اپنے اپارٹمنٹ میں اکیلی مر جاؤں گی اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔‘‘

’’ایسا نہیں کہتے۔ اب میں ہوں نہ تمہارے پاس۔‘‘

’’یہ تو وقت ہی بتائے گا۔‘‘ کہہ کر مالویکا نے کروٹ بدل لی ہے۔

میں سمجھ پا رہا ہوں، اب وہ بات کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ میں اس کے بالوں میں انگلیاں پھراتے ہوئے اسے سلا دیتا ہوں۔

زندگی پھر سے اسی راہ پر چلنے لگی ہے۔ بیشک مالویکا کے ساتھ گزارے ان بہترین اور حسین لمحات نے میری ویران زندگی کو کچھ دیر کیلئے سہی، خوشیوں کے ساتویں آسمان پر پہنچا دیا تھا، لیکن پھر بھی ہم دونوں اس کے بعد سے نہیں ملے ہیں۔ ہم دونوں ہی جانتے ہیں، وہ لمحے دوبارہ نہیں جیے جا سکتے۔ ان مدھر لمحات کی یاد کے سہارے ہی باقی زندگی کاٹی جا سکتی ہے۔ ہم نے فون پر کئی بار بات کی ہے، لیکن اس ملاقات کا ذکر بھی نہیں کیا ہے۔

سر درد سے تقریباً نجات مل چکی ہے اور میں پھر سے اسٹورز میں مکمل توجہ دینے لگا ہوں۔ مالویکا نے محبت کا جو منفرد تحفہ دیا ہے مجھے، اس کی صرف یاد سے ہی میرے دن بہت ہی اچھی طرح سے گزر جاتے ہیں۔ کہیں جانے یا رہنے یا ان خوبصورت لمحات کو دہرانے کی بات نہ اس نے کی ہے اور نہ میں نے ہی اس کا ذکر چھیڑا ہے۔

گوری کے ساتھ تعلقات میں جو بے حسی ایک بار آ کر پسر گئی ہے، اسے دھو پونچھ کر نکھارنا اتنا آسان نہیں ہے۔ اس بات کو بھی اب کتنا عرصہ گزر گیا ہے جب اس کے پاپا نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ پیسوں کے بارے میں گوری کو بتا دیں گے اور میرے ساتھ بہتر طریقے سے پیش آنے کیلئے اسے سمجھا بھی دیں گے لیکن دونوں ہی باتیں نہیں ہو پائی ہیں۔ میں اب بھی اکثر ٹھن ٹھن گوپال ہی رہتا ہوں۔ ہم دونوں ہی اب بہت کم بات کرتے ہیں۔ صرف کام کی باتیں۔ جب اسے ہی میری پرواہ نہیں ہے تو میں ہی اپنا دماغ کیوں خراب کرتا رہوں۔ صرف بھرپور سیکس کی چاہ ہی اسے مجھ سے جوڑے ہوئے ہے۔ مالویکا نے جب سے میری مشکلات کی وجوہات کے بارے میں مجھے بتایا ہے، میں نے اپنے ذہن پر کسی بھی طرح کا بوجھ ڈالنا کم کر دیا ہے، جب چیزیں میرے بس میں نہیں ہیں تو میں کیوں کڑھتا رہوں۔ جب سے موسیقی اور ڈائری کا ساتھ شروع ہوا ہے، یہ ہی میرے دوست بن گئے ہیں۔ مالویکا کے ساتھ گزارے اس خوبصورت دن کی یادیں تو ہیں ہی میرے ساتھ۔

اس مہینے مجھے یہاں پانچ سال پورے ہو جائیں گے۔ اس پورے وقت کا حساب کتاب دیکھتا ہوں کہ کیا کھویا اور کیا پایا۔ بیشک ملک چھوٹا، بمبئی کی آزاد زندگی چھوٹی، پرائیویسی چھوٹی، الکا اور دیویدر جی کا ساتھ چھوٹا اور اچھے رتبے والی نوکری چھوٹی، گڈّی والا حادثہ ہوا، لیکن بدلے میں بہت کچھ دیکھنے سیکھنے کو ملا ہی ہے۔ بیشک شروع شروع کے سالوں میں غلط فہمیوں میں جیتا رہا، کڑھتا رہا اور اپنی صحت خراب کرتا رہا۔ لیکن اب سب کچھ نتھر کر شفاف ہو گیا ہے۔ میں اب ان ساری چیزوں کو لے کر اپنا دماغ خراب نہیں کرتا۔

گوری نے اپنے پاپا کا پیغام دیا ہے، ’’آپ کو یہاں پانچ سال پورے ہونے کو ہیں اور آپ کی برطانوی سٹیزن نشپ کیلئے اپلائی کیا جانا ہے۔ کسی دن کسی کے ساتھ جا کر یہ ساری فارمیلٹیز پوری کر لیں۔‘‘

میں نے گوری سے پوچھا ہے، ’’کیا کیا مانگتے ہیں وہ۔‘‘ تو اس نے بتایا ہے، ’’وہ تو مجھے پتہ نہیں، آپ کارپوریٹ آفس میں سے کسی سے پوچھ لیں یا کسی کو ساتھ لے جائیں۔ ششر کے ساتھ ہی کیوں نہیں چلے جاتے۔ اس کو تو پتہ ہی ہو گا۔ آپ کا پاسپورٹ اور دوسرے کاغذات وغیرہ میں لا کر سے نکلوا کر رکھوں گی۔‘‘

اور اس طرح پانچ سال بعد میرے تمام سرٹیفکیٹ، پاسپورٹ اور دوسرے کاغذات میرے ہاتھ میں واپس آئے ہیں۔ اگر یہ کاغذ پہلے ہی میرے پاس ہی ہوتے تو آج میری زندگی کچھ اور ہی ہوتی۔

ششر نے راستے میں پوچھا ہے، ’’تو جناب، ہم اس وقت کہاں جا رہے ہیں؟‘‘

’’فکسڈ تو یہی ہوا تھا کہ برطانوی سٹیزن شپ کیلئے جو بھی فارمیلٹیز ہیں، انہیں پورا کرنے کے لئے آپ مجھے لے کر جائیں گے۔‘‘

’’یہ آپ کے ہاتھ میں کیا ہے؟‘‘ پتہ نہیں ششر آج اس طرح سے بات کیوں کر رہا ہے۔

’’میرے سرٹیفکیٹ اور پاسپورٹ وغیرہ ہیں۔ ان کی تو ضرورت پڑے گی نا!!‘‘

’’اچھا، ایک بات بتاؤ، یہ کاغذات اور کہاں کہاں کام آ سکتے ہیں؟‘‘

’’بہت جگہ کام آ سکتے ہیں۔ ششر تم یہ پہیلیاں کیوں بجھا رہے ہو۔ صاف صاف بتاؤ، کیا کہنا چاہ رہے ہو۔‘‘

’’میں اپنے عزیز دوست کو صرف یہ بتانا چاہ رہا ہوں کہ جب جا ہی رہے ہیں تو امیگریشن آفس کے بجائے کسی بھی ایسی ائیرلائنز کے دفتر کی طرف جا سکتے ہیں، جس کے ہوائی جہاز آپ کو آپ کے دیس کی طرف لے جاتے ہوں۔ بولو، کیا کہتے ہو؟ سارے کاغذات آپ کے ہاتھ میں ہیں ہی سہی۔‘‘

وہ اچانک سنجیدہ ہو گیا ہے، ’’دیکھو دیپ، میں تمہیں گزشتہ پانچ سال سے گھٹتے اور خود کو مارتے دیکھ رہا ہوں۔ تم اس مٹی کے نہیں بنے ہو جس سے میرے جیسے گھر داماد بنائے جا رہے ہیں۔ اپنے آپ کو مزید مت مارو دیپ، یہ پہلا اور آخری موقع ہے، تمہارے پاس، واپس لوٹ جانے کے لئے۔ تم پانچ سال تک کوشش کرتے رہے یہاں کے مطابق خود کو ڈھالنے کے لئے۔ لیکن افسوس، نہ ہانڈا خاندان تمہیں سمجھ پایا اور نہ تم ہانڈا خاندان کو سمجھ کر اپنے لئے کوئی بہتر راستہ بنا پائے۔ اور نقصان میں تم ہی رہے۔ ابھی تمہاری عمر ہے۔ نہ تو کوئی ذمہ داری ہے تمہارے پیچھے اور نہ ہی تمہارے پاس یہاں ذرائع ہی ہیں اسے پورا کرنے کے لئے۔ آج پانچ سال تک اتنی محنت کرنے کے بعد بھی تمہارے پاس پچاس پونڈ بھی نہیں ہوں گے۔ سوچ لو، تمہارے سامنے پہلی آزادی تمہیں پکار رہی ہے۔‘‘ اس نے کار روک دی ہے، ’’بولو، کار کس طرف موڑو؟‘‘

’’لیکن یہ دھوکہ نہیں ہو گا؟ گوری کے ساتھ اور۔۔‘‘

’’ہاں بولو، بولو کس کے ساتھ۔۔‘‘

’’میرا مطلب۔۔ اس طرح سے چوری چھپے۔۔‘‘

’’دیکھو دیپ، تمہارے ساتھ کیا کم دھوکے ہوئے ہے جو تم گوری یا ہانڈا ایمپائر کے ساتھ دھوکے کی بات کر رہے ہو۔ انہی لوگوں کے دھوکوں کی وجہ سے ہی تم پچھلے پانچ سال سے یہ دوسرے درجے کی زندگی جی رہے ہو۔ نہ چین ہے تمہاری زندگی میں اور نہ کوئی کہنے کو اپنا ہی ہے۔ اور تم انہی جھوٹے لوگوں کو دھوکہ دینے سے ڈرتے ہو۔ جاؤ اپنے گھر لوٹ جاؤ۔ نہ یہ دیس تمہارا ہے نہ گھر۔ وہیں تمہاری نجات ہے۔‘‘

’’تم صحیح کہہ رہے ہو ششر، یہ پانچ سال میں نے ایک ایسا گھر بنانے کی تلاش میں گنوا دیے ہیں جو میرا تھا ہی نہیں۔ میں اب تک کسی اور کا گھر ہی سنوارتا رہا۔ وہاں میری حیثیت کیا تھی، مجھے آج تک پتہ نہیں، یہاں سے لوٹ جاؤں تو کم از کم میری آزادی تو واپس مل جائے گی۔ مجھے بھی لگ رہا ہے، جو کچھ کرنا ہے، ابھی کیا جا سکتا ہے۔ سٹیزن شپ کے ڈرامہ سے پہلے ہی میں واپس لوٹ سکتا ہوں۔ لیکن میرے پاس تو کرایہ تو بات دور، ایئرپورٹ جانے کیلئے کیب کے پیسے بھی نہیں ہوں گے۔‘‘

’’دیکھا، میں نے کہا تھا نہ کہ ہانڈا خاندان نے تمہیں پانچ سال تک ایک بیگاری مزدور بنا کر ہی تو رکھ چھوڑا تھا۔ کرائے کی فکر مت کرو۔ تم ہاں یا نہ کرو، باقی مجھ پر چھوڑ دو۔‘‘

’’نہیں ششر، تم نے پہلے ہی میرے لئے اتنا کیا، تم نے گڈّی کے لئے پچاس ہزار روپے بھیجے اور مجھے بتایا تک نہیں۔‘‘ میں ذرا ناراضگی سے کہتا ہوں۔

’’تو تمہیں پتہ چل ہی گیا تھا۔ اب جب گڈّی ہی نہیں رہی تو ان پیسوں کا ذکر مت کرو۔ یار، اگر میں تم کو اس جہنم سے نکال پایا تو وہی میرا انعام ہو گا۔ در اصل اگر تم نے بھی میری طرح کھانا کمانا اور عیش کرنا شروع کر دیا ہوتا تو میں تمہیں کبھی بھی یہاں سے اس طرح چوری چھپے جانے کے لئے نہ کہتا۔ میں بھی تمہاری ہی طرح اس گھر کا داماد ہی ہوں۔ ساری باتیں سمجھتا ہوں۔ اسی گھر کی وجہ سے میرا یہاں کا اور وہاں انڈیا کا گھر چل رہا ہے۔ لیکن تمہاری طرح کے شریف اور بہت ذہین شخص کو اس طرح گھٹتے ہوئے مزید نہیں دیکھ سکتا۔ تمہارے لئے چیزوں یہاں کبھی بھی نہیں بدلیں گی۔ اور تم دوبارہ بغاوت کرو گے نہیں۔ موقع بھی نہیں ملے گا۔ تمہیں پتہ ہے کہ تم اگر ان سے کہو کہ اپنے ایک بار گھر جانا چاہتے ہو تو وہ تم کو اجازت بھی نہیں دیں گے۔‘‘

’’ٹھیک ہے، میں واپس لوٹوں گا۔‘‘

’’گڈ، تو ہم فی الحال واپس چلتے ہیں۔ گوری کو بتا دینا، ڈاکومنٹس جمع کر دیئے ہیں۔ کام ہو جائے گا۔ اس دوران تم ایک بار پھر سوچ لو، کب جانا ہے۔ میں ایک دو دن میں تمہارے لئے اوپن ٹکٹ لے لوں گا۔ باقی انتظام بھی کر لیں گے اس دوران۔ لیکن ایک بات طے ہو چکی ہے کہ تم یہاں کی سٹیزن شپ کے لئے اپلائی نہیں کر رہے ہو۔ چاہو تو اس دوران اپنے پرانے آفس کو اپنی پرانی جاب پر واپس لوٹنے کے بارے میں پوچھ سکتے ہو۔ اگرچہ امید کم ہے لیکن چانس لیا جا سکتا ہے۔ کس ایڈریس پر وہاں سے جواب منگوانا ہے، وہ میں بتا دوں گا۔‘‘

’’لیکن اگر تم پر کوئی بات آئی تو؟‘‘ میں نے خدشہ ظاہر کیا ہے۔

’’وہ تم مجھ پر چھوڑ دو۔ وہ ہنستا ہے، ’’میں ہانڈا خاندان کا کھاتا پیتا داماد ہوں، ان کا چوکیدار نہیں جو یہ دیکھتا پھروں کہ ان کا کون سا گھر داماد کھونٹا تڑا کر بھاگ رہا ہے اور کون نہیں۔ سمجھے۔ تم جاؤ توسہی۔ باقی مجھ پر چھوڑ دو۔‘‘

اور ہم آدھے راستے ہی لوٹ آئے ہیں۔

میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ واپس لوٹ ہی جاؤں۔ بیشک خالی ہاتھ ہی کیوں نہ لوٹنا پڑے۔ اب سوال یہی بچتا ہے کہ میں مالویکا سے کیا گیا وعدہ پورا کرتے ہوئے اسے بھی ساتھ لے کر جاؤں یا اکیلے بھاگوں؟ اگرچہ اس بارے میں ہماری دوبارہ کبھی بات نہیں ہوئی ہے۔

موقع ہی نہیں لگا۔

مالویکا سے اس بارے میں بات کرنے کا یہی مطلب ہو گا کہ اس وقت اسے بھی لے جائیں گے۔ مالویکا جیسی شریف، خوبصورت اور دیکھی بھالی لڑکی پا کر مجھے زندگی میں بھلا اور کس چیز کی چاہ باقی رہ جائے گی۔ لیکن پھر سوچتا ہوں، بہت ہو چکا گھر بسانے کا خواب۔ فی الحال مجھے اپنی زندگی میں کوئی بھی نہیں چاہیے۔ اکیلے ہی جینا ہے مجھے۔ مالویکا نہیں۔ کوئی بھی نہیں۔

میں ان ساری ذہنی اتھل پتھل میں ہی الجھا ہوا ہوں کہ مالویکا کا فون آیا ہے۔

’’بہت دنوں سے تم نے یاد بھی نہیں کیا۔‘‘

’’ایسی کوئی بات نہیں ہے مالویکا، بس یوں ہی الجھا رہا۔ تم کیسی ہو؟ تمہاری آواز بہت ڈوبی ہوئی سی لگ رہی ہے۔ سب ٹھیک تو ہے نا۔‘‘

’’لیکن ایسی بھی کیا بے رخی کہ اپنوں کو ہی یاد نہ کرو۔‘‘

’’بلیو می، میں سچ مچ بات کرنا اور ملنا چاہ رہا تھا۔ بولو، کب ملنا ہے؟‘‘

’’رہنے دو دیپ، جو چاہتے تو آ بھی تو سکتے تھے۔ کم سے کم مجھ سے ملنے کے لئے تو تمہیں اپائنمنٹ کی ضرورت نہیں پڑنی چاہیے۔‘‘

’’مانتا ہوں مجھ سے چوک ہوئی ہے۔ چلو، ایسا کرتے ہیں، کل لنچ ایک ساتھ لیتے ہیں۔‘‘

’’ٹھیک ہے، تو کل ملتے ہیں۔‘‘ کہہ کر اس نے فون رکھ دیا ہے۔

لیکن اس بار میں جس مالویکا سے ملا ہوں، وہ بالکل ہی مختلف مالویکا ہے۔ تھکی ہوئی، کسی حد تک ٹوٹی اور بکھری ہوئی۔ میں اسے دیکھتا ہی رہ گیا ہوں۔ یہ کیا حال بنا لیا ہے مالویکا نے اپنا۔ لگتا ہے مہینوں بعد سیدھے بستر سے ہی اٹھ کر آ رہی ہے۔ خود پر غصہ بھی آ رہا ہے کہ اتنے دنوں تک اس کی خیر خبر بھی نہیں لے پایا۔

’’یہ کیا حال بنا رکھا ہے۔ تمہاری صورت کو کیا ہو گیا ہے؟‘‘ میں گھبرا کر پوچھتا ہوں۔

’’میں نے اس دن کہا تھا نہ کہ کسی دن میں اکیلی اپنے اپارٹمنٹ میں مر جاؤں گی اور کسی کو خبر تک نہیں ملے گی۔‘‘ وہ بڑی مشکل سے کہہ پاتی ہے۔

’’لیکن تمہیں یہ ہو کیا گیا ہے؟‘‘ میں اس کا بازو پکڑتے ہوئے کہتا ہوں۔ اس کا ہاتھ بری طرح تھرتھرا رہا ہے۔

’’اب کیا کرو گے جان کر۔ اتنے دنوں تک میں ہی تمہاری راہ دیکھتی رہی کہ کبھی تو اس بدنصیب۔۔۔۔‘‘

’’ایسا نہ کہو ڈیئر۔‘‘ میں نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے روک دیا ہے، ’’تم ہی نے تو مجھے یہاں نئی زندگی دی تھی اور زندگی کے نئے معنی سمجھائے تھے۔ میں بھلا۔۔‘‘

’’اسی لیے موت کے منہ تک جا پہنچی اس بدنصیب کو کوئی پوچھنے تک نہیں آیا۔ میں ہی جانتی ہوں کہ میں نے یہ بیماری کے دن اکیلے کیسے گزارے ہیں۔‘‘

’’مجھے سچ مچ نہیں پتہ تھا کہ تم بیمار ہو ورنہ۔۔‘‘

’’میں بہت تھک گئی ہوں۔‘‘ وہ میرا بازو پکڑ کر کہتی ہے، ’’مجھے کہیں لے چلو دیپ۔ یہاں سب کچھ سمیٹ کر واپس لوٹنا چاہتی ہوں۔ باقی زندگی اپنے ہی دیس میں کسی پہاڑ پر گزارنا چاہتی ہوں۔ چلو گے؟‘‘

میرے پاس ہاں یا نہ کہنے کی گنجائش نہیں ہے۔ مالویکا ہی تو ہے جس نے مجھے اتنے دنوں سے مضبوطی سے تھاما ہوا ہے، ورنہ میں تو کب کا ٹوٹ کر بکھر جاتا۔

میں اس سے کہتا ہوں، ’’ضرور چلیں گے۔ کبھی بیٹھ کر منصوبہ بناتے ہیں۔‘‘

فی الحال تو میں نے اس سے تھوڑا وقت مانگ ہی لیا ہے۔ دیکھوں گا، کیا کیا جا سکتا ہے۔ مالویکا بھی اگر میرے ساتھ جاتی ہے تو اسے اپنا سارا تام جھام سمیٹنے میں وقت تو لگے گا ہی، اس کے ساتھ جانے میں میرا جانا۔ پوشیدہ بھی نہیں رہ پائے گا۔ میرا تو جو ہو گا سو ہو گا، اس نے اتنے برسوں میں جو امیج بنائی ہے۔۔ وہ بھی ٹوٹے گی۔ ساری باتیں سوچنی ہیں۔ تب ششر کو بھی اعتماد میں لینا پڑے گا۔ اس کے سامنے مالویکا سے اپنے تعلقات کو بھی قبول کرنا پڑے گا۔ میری بھی بنی بنائی امیج ٹوٹے گی۔ بیشک وہ ان تمام کاموں کے لئے حوصلہ افزائی کرتا رہا ہے۔

ششر نے پوری راز داری سے منصوبہ بنایا ہے۔ دہرادون نہ جانے کا بھی اسی نے مشورہ دیا ہے۔ اوپن ٹکٹ آ گیا ہے۔ ادائیگی ششر نے ہی کی ہے۔ ششر ہی نے میرے لئے تھوڑی بہت شاپنگ کی ہے۔ میں ویسے بھی گوری کے نکلنے کے بعد ہی نکلتا ہوں۔ شام تک اسے بھی پتہ نہیں چلے گا۔ گھر سے خالی ہاتھ ہی جانا ہے۔ میرا وہاں ہے ہی کیا جو لے کر جاؤں۔

میں مالویکا کے بارے میں آخر تک کچھ بھی طے نہیں کر پایا ہوں۔ برا بھی لگ رہا کہ کم از کم مالویکا کو تو اندھیرے میں نہ رکھوں، لیکن پھر سوچتا ہوں، مالویکا کو ساتھ لے جانے کا مطلب۔۔ میرے جانے کا ایک نیا ہی مطلب نکالا جائے گا اور۔۔۔ سب کچھ پھر سے۔۔ ایک بار پھر۔۔ سب کچھ۔۔!

واپس لوٹ آ رہا ہوں۔ تو یہ گھر بھی چھوٹ گیا۔ ایک بار پھر بے گھر ہو گیا ہوں۔

دیکھیں، اس بار کی واپسی میں میرے حصے میں کیا لکھا ہے۔۔۔۔۔۔

٭٭٭

تشکر: مترجم جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل