FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

دورِ جدید اور مسلم خواتین

 

 

                ثروت جمال اصمعی

 

[انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کی شائع کردہ کتاب ’’عورت، مغرب اور اسلام‘‘ کا آخری باب]

 

 

 

 

 

اس مطالعے میں اب تک پیش کی گئی معلومات سے واضح ہے کہ مغربی خواتین میں اسلام قبول کرنے کا رجحان اس حقیقت کے باوجود روز افزوں ہے کہ پورے کرۂ ارض پر کہیں بھی ایسا مسلم معاشرہ موجود نہیں جو اسلامی تعلیمات کا حقیقی نمونہ ہو اور جس میں دیگر تمام شعبہ ہائے زندگی میں قرآن و سنت کے احکام پر عمل در آمد کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی وہ مقام و مرتبہ اور وہ تمام حقوق حاصل ہو ں جن کی ضمانت اسلام دیتا ہے۔ پچھلے صفحات میں ہم نے دیکھا کہ اسلام کو اپنانے والی مغربی خواتین کا کہنا بھی یہی ہے کہ موجودہ مسلمان معاشروں میں عورتوں کے ساتھ بعض بے انصافیوں سمیت پائی جانے والی خرابیاں اسلامی تعلیمات پر عمل کا نہیں بلکہ ان سے انحراف اور مختلف ملکوں کے مقامی کلچر کو اپنا لینے کا نتیجہ ہیں۔ اس لیے انہوں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ مسلمانوں کے عمل و کردار کی کوتاہیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے قرآن و سنت میں پائے جانے والے اصل اسلام کو جاننے اور سمجھنے کے بعد کیا ہے۔

 

                مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ

 

مسلمان ہونے کا فیصلہ کرنے والی مغربی خواتین کا یہ اظہار حقیقت پوری مسلم دنیا کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگر موجودہ مسلمان معاشرے اسلامی تعلیمات کا عملی نمونہ بن جائیں تو دنیا میں اسلام کی روشنی کے پھیلنے کی رفتار کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔قرآن کی رو سے امت مسلمہ پوری دنیا کے انسانوں کے لیے اُس حق کی گواہ ہے جو اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی نظام حیات کی صورت میں اسے پہنچایا ہے۔ اس بناء پر دنیا کے سامنے اسلام کا عملی نمونہ پیش کرنا مسلمانوں کا فرض منصبی ہے۔ ایسا نہ کرنے کی وجہ سے دنیا کے جو لوگ اسلام کی روشنی سے محروم رہیں گے، روزِ حساب مسلمان بحیثیت امت اس بارے میں جوابدہ ٹھہرائے جائیں گے۔ اس لیے یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ نہایت سنجیدہ معاملہ ہے۔ خصوصاً اجتماعی و سماجی زندگی میں خواتین کے کردار کے حوالے سے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایسا ماڈل وضع کرنا جو جدید زندگی کے جائز تقاضوں سے بھی پوری طرح ہم آہنگ ہو، وقت کی انتہائی اہم ضرورت ہے۔ ایسے کسی ماڈل کی تیاری کے لیے نہ مسلم حکومتوں کی جانب سے اب تک کوئی شعوری کاوش کی گئی ہے، نہ مسلمان معاشروں میں سرگرم سماجی، سیاسی اور مذہبی عناصر ایسا کوئی ماڈل سامنے لا سکے ہیں لہٰذا اس جانب فوری توجہ دی جانی چاہیے۔

 

                سماجی سطح پر اصلاحی اقدامات کی ضرورت

 

مکمل اسلامی نظام بلاشبہ حکومت و ریاست کو شریعت کے سانچے میں ڈھالے بغیر برپا نہیں ہوسکتا اور اس کے لیے اقتدار کی طاقت ناگزیر ہے۔ متعدد اسلامی ملکوں میں اسلامی تحریکیں اس مقصد کے لیے ابلاغ و دعوت کے ذریعے سرگرم عمل ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ اشتراکیت کے خاتمے کے بعد اب سرمایہ دارانہ نظام بھی اپنے ہی تضادات کی بناء پر ناکامی سے دوچار ہے جبکہ اس نظریاتی خلاء میں صدیوں کے انحطاط کے بعد اسلام ازسرنو ایک قطعی معقول و منطقی فلسفہ حیات اور جامع و مکمل نظام زندگی کی حیثیت سے ایک نئی قوت بن کر ابھر رہا ہے۔

پوری دنیا خصوصاً ترقی یافتہ ملکوں میں قبول اسلام کا بڑھتا ہوا رجحان اور کئی عرب ریاستوں میں عوام کی بھرپور تائید سے عشروں طویل سیکولر آمریتوں کا خاتمہ اور اسلامی فکر کے حامل عناصر کی انتخابی فتوحات اس حقیقت کے روشن مظاہر ہیں۔ لیکن حقیقی اور مثالی اسلامی معاشرہ کے قیام میں ابھی کتنا وقت اور لگے گا، اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم معاشرتی سطح پر خاندانی نظام کے استحکام اور عائلی زندگی کی بہتری کے لیے بیشتر اسلامی احکام پر عمل اور غیر اسلامی طریقوں سے اجتناب اسلامی حکومت کی عدم موجودگی میں بھی ممکن ہے۔ اس لیے کم از کم اس حد تک اپنی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے مسلمانوں کو نتیجہ خیز عملی اقدامات میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھنی چاہیے۔

 

                مسلم دنیا اور مغرب میں خاندان کے ادارے کی کیفیت

 

یہ امر باعث اطمینان ہے کہ مسلمان معاشروں میں خاندانی نظام اب بھی بڑی حد تک محفوظ ہے۔ عورتوں، مردوں اور بچوں سب کے لیے بالعموم پرسکون گھر کی نعمت برقرار ہے اور ماں باپ مل جل کر بچوں کی پرورش کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں اوردوسری جانب بچے بڑے ہو کر ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل ہوں تو والدین کی خدمت کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ جبکہ مغرب میں خاندان کا ادارہ بری طرح ٹوٹ پھوٹ چکا ہے اور ایسی عورتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جنہیں روزی کمانے کی جدوجہد اور بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت کا بوجھ تنہا اٹھانا پڑتا ہے۔اس صورت حال نے وہاں ’’سنگل پیرنٹ‘‘ کی اصطلاح کو جنم دیا ہے جن میں بھاری اکثریت عورتوں کی ہوتی ہے۔

بی بی سی کی ویب سائٹ پر۱۱ اپریل۲۰۰۷ء کو برطانیہ کے قومی شماریاتی ادارے( آفس آف نیشنل اسٹیٹسٹکس ) کے فراہم کردہ اعداد و شمار کی روشنی میں “One-parent families on the rise” کے عنوان سے جاری کی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں صرف ماں یا صرف باپ کے ساتھ رہنے والے بچوں کی تعداد۱۹۷۲ء کی نسبت۲۰۰۷ء میں تین گنا ہو چکی تھی۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ۲۰۰۶ء میں ماں یا باپ میں سے کسی ایک کے ساتھ رہنے والے بچوں کا تناسب برطانوی بچوں کی کل تعداد کے ایک چوتھائی تک پہنچ چکا تھا جبکہ ان میں سے۹۰فی صد بچے صرف ماؤں کے ساتھ رہتے تھے۔

مغربی تہذیب کے دوسرے بڑے مرکز امریکہ میں بھی کم و بیش یہی صورت ہے۔یو ایس سنسس بیورو کی جانب سے نومبر۲۰۰۹ء میں “Custodial Mothers and Fathers and Their Child Support: ۲۰۰۷”کے عنوان سے جاری کی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق۲۰۰۷ء میں امریکہ میں ۷ء۱۳ملین عورتیں اور مرد۸ء۲۱ملین بچوں کی’’ تنہا والدین‘‘ کی حیثیت سے پرورش کر رہے تھے۔ صرف ماں یا صرف باپ کی نگرانی میں پرورش پانے والے بچوں کی تعداد اس وقت امریکی بچوں کی مجموعی تعداد کا۳ء۲۶فی صد تھی جبکہ تنہا والدین میں عورتوں کا تناسب۸۴فی صد اور مردوں کا صرف۱۶فی صد تھا۔

ان اعداد و شمار سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ خاندان کا ادارہ مغرب میں کس درجہ شکست و ریخت کا شکار ہے اور اس کے نتیجے میں عورتوں پر ذمہ داری کا بوجھ کس طرح بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ اس کیفیت کا ایک بڑاسبب باقاعدہ شادی کے بندھن کے بجائے گرل فرینڈز اور بوائے فرینڈز کی حیثیت سے وقتی پارٹنر شپ کا رواج ہے چنانچہ بی بی سی کی مذکورہ بالا رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں شادی کے بغیر ہونے والے بچوں کا تناسب۲۰۰۷ء میں ۴۴فی صد تک پہنچ چکا تھا جبکہ انیس سو ستر کی دہائی میں یہ تناسب۱۲فی صد تھا۔ اس طرح کے صنفی تعلق میں اول تو مرد اور عورت دونوں اولاد سے بچنے کے خواہشمند ہوتے ہیں لیکن اولاد ہوہی جائے تو عموماً وہ عورت ہی کی ذمہ داری قرار پاتی ہے۔ باقاعدہ شادیوں کے بعد بھی طلاق اور علاحدگی کی مسلسل بڑھتی ہوئی شرح اولاد کے حوالے سے عورت ہی کی ذمہ داری بڑھانے کا باعث بن رہی ہے۔ ان حالات میں بچوں ، عورتوں اور مردوں سب کو جن نفسیاتی مسائل کا سامنا ہے، مغربی معاشروں اور ان کی تقلید میں مبتلا مسلمان معاشروں کے اعلیٰ طبقات میں ان کا اظہار ذہنی و اعصابی امراض میں روز افزوں اضافے کی شکل میں بہت بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے۔

 

                مسلم دنیا میں خاندان کے ادارے کو درپیش چیلنج

 

مغرب کی اس ابتر صورت حال کے مقابلے میں مسلم دنیا میں گھر اور خاندان کے ادارے ابھی بڑی حد تک مستحکم ہیں، نکاح کر کے باقاعدہ گھر بسانا اور ماں باپ دونوں کا مشترکہ طور پر اولاد کی پرورش کرنا ہی عام طریقہ ہے۔ نیز والدین، بہن بھائیوں اور دوسری رشتہ داریوں کا لحاظ اور احترام بھی مسلم معاشروں میں مغرب کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ چنانچہ دنیا میں کہیں بھی مثالی اسلامی معاشرہ موجود نہ ہونے کے باوجود مسلم دنیا میں خاندان کے ادارے کا بڑی حد تک استحکام اور اسلام کی عائلی اقدار کا کسی نہ کسی درجے میں برقرار رہنا، مغربی عورتوں کو اسلام کی جانب مائل کرنے کا ایک اہم سبب ہے۔ تاہم مغربی تہذیب سے جس طرح زندگی کے دوسرے شعبے متاثر ہوئے ہیں، اسی طرح خاندانی نظام میں بھی کمزوری آنا شروع ہو گئی ہے۔

مغرب میں عورتوں کی معاشی جدوجہد میں بڑے پیمانے پر شمولیت کے لیے گھر سے باہر نکل کر کار گاہوں، دفاتر اور بازاروں کا رخ کرنا ہی خاندانی نظام کے بکھرنے کا بنیادی سبب بنا ہے۔ وقت کے تقاضوں کی بناء پر اب مسلمان معاشروں میں بھی عورتوں کے لیے معاشی جدوجہد میں شمولیت کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔ طرز زندگی میں آنے والی تبدیلیوں اور مہنگائی میں مسلسل اضافے نے ایک خاندان کے لیے ایک شخص کی کمائی کو اکثر صورتوں میں ناکافی بنا دیا ہے۔ نیز پوری مسلم دنیا میں تعلیم کے میدان میں بھی خواتین مسلسل آگے بڑھ رہی ہیں اور جدید علوم و فنون کے مختلف شعبوں میں مہارت حاصل کر رہی ہیں۔ ان اسباب کے فطری نتیجے کے طور پرمسلم خواتین حصول معاش کے لیے بہت بڑے پیمانے پر مختلف پیشے بھی اپنا رہی ہیں۔خواتین کا معاشی سرگرمیوں میں شریک ہونا اسلامی تعلیمات کے منافی ہرگز نہیں ہے لیکن اس عمل میں معاشرتی زندگی کے لیے اسلام کے مقرر کردہ حدود کا لحاظ رکھا جانا لازمی ہے۔

اسلامی تاریخ کے اولین ادوار میں اسلام کی مقرر کردہ حدود کی پابندی کے ساتھ خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں شمولیت کی بہت سے مثالیں موجود ہیں۔ اگلے صفحات میں نمونے کے طور پر ان میں سے بعض کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم یہاں اس جانب توجہ دلانا مقصود ہے کہ اسلام کی مقرر کردہ حدود کی پابندی کا اہتمام نہ ہونے کی وجہ سے مسلمان معاشروں میں بھی خاندانی سطح پر وہ خرابیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں جنہوں نے مغرب میں خاندان کے ادارے کی تباہی میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ تعلیمی اداروں اور پھر دفاتر اور کار گاہوں میں آزادانہ اختلاط مرد و زن، ذرائع ابلاغ کی حیا سوز پالیسیوں، سوشل میڈیا کی صورت میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے چوبیس گھنٹے باہمی رابطوں کے کھلے مواقع، اس کے ساتھ ساتھ مسلم معاشروں میں مقامی ثقافتوں کے زیر اثر رائج غیر منصفانہ اور ظالمانہ رسوم و رواج اور ان کے سبب جنم لینے والی بے اطمینانی، یہ سب عوامل خاندان کے ادارے کو کمزور کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔

ان حالات میں ضروری ہے کہ مسلمان خاندان کے ادارے کو منتشر ہونے سے بچانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات عمل میں لائیں اور آج کے حالات کے مطابق اجتماعی و سماجی زندگی میں خواتین کے کردار کے حوالے سے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک قابل عمل ماڈل وضع کریں۔ خاندان کے ادارے کو مغرب کے انجام سے بچانے اور معاشی جدوجہد میں عورتوں کی شمولیت اور اجتماعی زندگی کے دیگر شعبوں میں ان کے کردار کی ادائیگی کے لیے اسلامی حدود کے اندر رہتے ہوئے کیا کچھ کیا جانا چاہیے، ذیل میں اس کا ایک اجمالی خاکہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

 

                خاندانی نظام کا استحکام

 

خاندان کے ادارے کو مستحکم بنانے کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اس حوالے سے اکثر مسائل کا حل انسانی ذہن اور رویوں کی اصلاح اور تبدیلی پر منحصر ہے۔ اس پس منظر میں معاشرے میں سرگرم وہ تمام ادارے نہایت اہمیت کے حامل ہیں جو ذہن سازی اور رویوں کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان اداروں میں اہم ترین ذرائع ابلاغ، تعلیمی نظام و نصاب اورمساجد ہیں۔ ان کے علاوہ ملکی قوانین، رائے عامہ تشکیل کرنے والی تنظیمیں اور ادارے، معاشرے میں اعلیٰ مقام و مرتبہ پر فائز شخصیات (رول ماڈلز) اور خود خاندان کے ارکان کا کردار بھی لائقِ توجہ ہوتا ہے۔

مذکورہ بالا تمام اداروں کا بحیثیت مجموعی خاندان کے ادارے کی اہمیت پر متفق ہونا اوراس کے استحکام اور تحفظ کے لیے اپنے اپنے دائرے میں سرگرم ہونا معاشرے اور خاندان کے لیے کوئی اصلاحی پروگرام وضع کرنے میں معاون ہوسکتاہے۔ واضح رہے کہ یہ ادارے اگر خاندان کے ادارے کو اہمیت نہ دیں یا اس حوالے سے اُن کی سوچ اورسمت میں فرق ہو تو اس کے اثرات بالآخر معاشرتی انتشار کی صورت میں نمایاں ہوں گے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس وقت اکثر مسلم معاشرے کم و بیش اسی صورتِ حال سے دوچار ہیں اصلاحِ احوال کا آغاز اس پہلو کی درست اور گہری تفہیم سے ہوگا۔

 

                غیراسلامی رسوم و رواج کے خاتمے کی تحریک

 

مسلمان معاشروں میں مقامی ثقافتوں کے زیر اثر یا معاشرے کے با اثر طبقوں کے مفادات کی تکمیل کے لیے بہت سے جاہلانہ اور غیراسلامی طور طریقے رائج ہیں۔ مثلاً پاکستان میں وَٹہ سٹہ، کاروکاری، قرآن سے شادی، عورتوں کو وراثت میں حصہ نہ دینا، عزت کے نام پر قتل،لڑکیوں کی شادی میں ان کی رضامندی کو لازمی تصور نہ کرنا، دولہا اور اس کے گھر والوں کی طرف سے جہیز کا مطالبہ، بیوی کا مہر ادا نہ کرنا، بتیس روپے آٹھ آنے کو شرعی مہر قرار دینا،مردوں کا خود بے کار بیٹھے رہنا اور عورتوں کو روزی کمانے پر مجبور کرنا، یہ سب ایسے طریقے ہیں جن کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں مگر یہ صدیوں سے رائج ہیں اور ان کے خلاف کوئی طاقتور اصلاحی تحریک شروع نہیں کی جا سکی ہے۔ پاکستان میں ملک کے قیام کے بعد آئین و دستور کی حد تک اسلامی قوتوں نے بڑی کامیاب جدوجہد کی لیکن معاشرے میں رائج ان غیر منصفانہ اور ظالمانہ رسوم و رواج کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کرنے اور عوام کی ذہنی تربیت کے لیے نہ سیاسی جماعتوں، عوامی تنظیموں اور ذرائع ابلاغ نے کوئی قابل ذکر جدوجہد کی نہ علمائے کرام اور دینی طبقوں کی طرف سے اس سمت میں کسی منظم اور پر عزم تحریک کا آغاز ہوسکا۔اس اہم کام کو اب مزید نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے اور معاشرتی اصلاح کی ایک بھرپور اور منظم تحریک جلد سے جلد شروع کی جانی چاہیے۔ دوسرے مسلمان ملکوں میں بھی اس جانب فوری توجہ دی جانی چاہیے۔ اس کے نتیجے میں ایک طرف گھر اور خاندان کی سطح پر مسلمان معاشروں کے حالات بہتر ہوں گے اور یوں زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی اسلام کی پیش رفت کے لیے راہ ہموار ہوگی اور دوسری جانب پوری دنیا کے سامنے بھی اسلام کے عائلی نظام کا،غلط طور پر اسلام کے کھاتے میں ڈال دی جانے والی مقامی ثقافتی خامیوں سے پاک،زیادہ سے زیادہ حقیقی نمونہ پیش کیا جا سکے گا۔

 

                سادگی کی مہم

 

معاشرے میں خاندانی نظام کو لاحق خطرات کی ایک بڑی وجہ مادیت پرستی اور نمود و نمائش پر مبنی کلچر ہے۔ اس صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کے لیے سادہ طرزِ زندگی اختیار کرنے کی ایک غیر معمولی اورمسلسل مہم کی ضرورت ہے۔ ملک میں رائج سرمایہ دارانہ نظام اورباوسائل اداروں کے تجارتی مفادات کے تناظر میں حکومتی سطح پر اس نوعیت کی کوئی بڑی مہم شروع کرنے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔تاہم خاندان، کمیونٹی اورسماجی و ثقافتی سطح پر فعال تنظیمیں اس سلسلہ میں مؤثر پروگرام ترتیب دے کر مثبت تبدیلی کی راہ ہموار کرسکتی ہیں۔

سادگی کو ہرسطح پر بالعموم اور لباس اور زیورات کے معاملہ میں بالخصوص رواج دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے معاشرے میں با اثر اور متمول افراد خود ایک مثال قائم کریں۔ نکاح کوآسان بنانے کے لیے اس سے منسلک غیر ضروری اور فضول خرچی کی رسوم کو ختم کیا جائے۔ ہر طرح کی نمود و نمائش کی حوصلہ شکنی اورسادگی کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کی جائے۔

پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں اشتہارات کی پالیسی پر نئے سرے سے غور کیا جائے اس وقت ان اشتہارات کا محور بناؤ سنگھار، پر تعیش کلچر اور غیر ضروری اشیاء کو ضروریاتِ زندگی کے طور پر پیش کرنا ہے، اس کے منفی اثرات ظاہر ہو رہے ہیں۔

سادہ زندگی کو فروغ دینے کے لیے مختلف سطحوں پر قانون سازی کے امکانات پر بھی غور کیا جا سکتاہے۔ مثلاً ایک خاص حدسے زائد سائز کے پلاٹوں، عالی شان مکانات کی تعمیر اور بڑی اور پر تعیش کاروں کے استعمال پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔

 

                ذرائع ابلاغ کا کردار

 

رائے عامہ اور رویوں کی تشکیل میں ذرائع ابلاغ کا کردار ہمیشہ سے بہت اہم رہا ہے۔ ابلاغی ٹیکنالوجی میں پیدا ہونے والی تیز رفتار ترقی نے اس کی اہمیت میں کئی گنا اضافہ کیا ہے۔ مسلم دنیا کے ذرائع ابلاغ کو بھی سماجی بہتری کی اس تحریک کے مقاصد میں شامل کرنے کی کوشش ہونا چاہیے۔ اس کے لیے بات چیت کے ذریعے بھی ذرائع ابلاغ کے ذمہ داروں کو احساس دلانا چاہیے کہ تجارتی و کاروباری مفادات پر معاشرتی و اخلاقی اقدار کو قربان کرنے کی بجائے تخلیقی انداز اختیار کرتے ہوئے اسلامی معاشرتی اقدار کو اجاگر اورمستحکم کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ مناسب اور معقول حکمت عملی کے ساتھ قانون سازی اور موجود قوانین پر عمل درآمد کے لیے عوامی دباؤ بھی اس مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ نجی شعبے کے احساس ذمہ داری رکھنے والے باوسیلہ افراد کو ایسے ذرائع ابلاغ کو متعارف کرانے کا بیڑہ اٹھانا چاہیے جو ایک طرف معیار میں کسی سے کم نہ ہوں اور دوسری طرف اپنے پروگراموں اور اشتہارات وغیرہ میں اخلاقی حدود کو بھی پوری طرح ملحوظ رکھتے ہوں۔ جبکہ معاشرے میں اسلام کے حقیقی فہم، خدا اور رسول سے محبت اور آخرت کی جوابدہی کے احساس کو پروان چڑھا کر مسلمان نوجوانوں کو ایمانی اعتبار سے اتنا مضبوط بنانے کی کوشش کی جانی چاہیے کہ وہ شیطانی ترغیبات کا مقابلہ کرنے کے اہل ہو جائیں۔ الحمدللہ مسلمان معاشروں میں آج بھی ایسے نوجوان مردو زن بڑی تعداد میں موجود ہیں جو تمام ترغیبات کے باوجود اخلاقی حدود کی مکمل پاسداری کرتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں حجاب کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیوں کی تعداد میں کمی نہیں بلکہ مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اسی طرح روزہ، نماز اور دیگر اسلامی احکام پر عمل پیرا طلبہ بھی مسلم دنیا کے تعلیمی اداروں ہی میں نہیں بلکہ مغربی ممالک میں بھی بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں۔ اس سمت میں مزید منظم کوشش ان نتائج کو کئی گنا بہتر بنا سکتی ہے۔

 

                مسجد سے تعلق بڑھانے کی ضرورت

 

اس مقصد کے لیے مسجد سے تعلق بہت ضروری ہے۔ خصوصاً اس صورت میں کہ مسجد محض نماز کی ادائیگی کا مقام نہ ہو بلکہ کسی با عمل، غیر متعصب اور کشادہ دل عالم دین کی نگرانی میں دینی تربیت گاہ بھی ہو۔ تاہم پاکستان سمیت بہت سے مسلم ملکوں میں خواتین کا مسجد سے رابطہ بالکل ممنوع ٹھہرا دیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ بازاروں میں واقع مساجد میں بھی خواتین کے لیے نماز اور وضو وغیرہ کے لیے کوئی سہولت مہیا نہیں کی جاتی۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ عرب ممالک کی مساجد اور مغرب کے اسلامی مراکز میں خواتین کے لیے دینی رہنمائی کے ساتھ ساتھ اُن کے لیے دیگر تمام سہولتوں کا بھی بندوبست ہوتا ہے اور اس کے مفید نتائج سب کے سامنے ہیں۔ اس لیے ان ملکوں میں جہاں خواتین کے مساجد میں داخلے پر عملاً پابندی ہے، اس پابندی کو ختم ہونا چاہیے اور شریعت کی دی ہوئی رعایات اور جدید زندگی کے تقاضوں کی روشنی میں علمائے کرام کو اپنی رائے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

 

                خواتین کی تعلیم – قابل توجہ پہلو

 

خواتین کی تعلیم کے حوالے سے مسلم دنیا میں ایک طرف ایسے لوگ ہیں جو سرے سے لڑکیوں کو جدید علوم کی تعلیم دینے ہی کے مخالف ہیں اور دوسری طرف اب درس گاہوں میں لڑکیاں ان شعبوں میں بھی لڑکوں سے کہیں زیادہ بڑی تعداد میں زیر تعلیم ہیں جو خالص مردوں کے شعبے سمجھے جاتے ہیں۔ افراط و تفریط پر مبنی ان رویوں میں اعتدال پیدا کرنا ضروری ہے۔ خواتین کو اپنے فطری دائرہ کار کے مطابق عملی زندگی میں خانہ داری اور بچوں کی دیکھ بھال اور تربیت کی جن ذمہ داریوں کی ادائیگی کرنی ہوتی ہے، ان کی تعلیم و تربیت میں ان ذمہ داریوں کو بھی ملحوظ رکھا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے لیے ایسے مضامین مختص کیے جانے چاہییں جن میں سند لینے کے بعد وہ اگر عملی زندگی میں معاشی جدوجہد کرنا چاہیں تو اس کے لیے مخلوط ماحول میں کام کرنا ضروری نہ ہو۔

خواتین کے لیے طب، تدریس، ہوم اکنامکس وغیرہ کے روایتی مضامین کے علاوہ اب جدید ٹیکنالوجی نے کئی اور ایسے شعبوں کے دروازے بھی کھول دیے ہیں جن میں مہارت حاصل کر کے وہ گھر بیٹھے روزی کما سکتی ہیں۔ کمپیوٹر اور انٹر نیٹ نے اس نوعیت کے روزگار کے بے شمار مواقع پیدا کر دیے ہیں۔ لڑکیوں کو ان شعبوں میں تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔ مخلوط تعلیمی ادارے اسلامی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتے، لہٰذا مسلم ممالک کی حکومتوں کو لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے ہر سطح پر جداگانہ تعلیمی ادارے قائم کرنے چاہییں اور اس کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کو اس سمت میں مزید پیش قدمی کرنی چاہیے۔

تعلیم کے میدان میں اصلاح کی دیگر کوششوں کے ساتھ ساتھ خاندانی نظام اور عائلی زندگی کے مسائل کے حوالے سے خاص طور پر توجہ دی جائے تاکہ طلبہ و طالبات خاندان اورسماجی اقدار کے موضوعات پر درجہ بہ درجہ ضروری معلومات اور رہنمائی حاصل کرسکیں۔ بہتر ہوگا کہ ابتدائی درجات میں الگ مضمون پڑھانے کے بجائے اسے دوسرے مضامین میں سمو دیا جائے اور میٹرک اوراس سے بعد کے مراحل میں اسے ایک علاحدہ مضمون کے طور پر شاملِ نصاب کیا جائے۔ واضح رہے کہ خاندان اورسماجی اقدار پر مبنی اس مضمون اور معلومات سے قطعاً یہ مراد نہیں ہے کہ جنسی تعلیم یا خاندانی منصوبہ بندی کے طریقوں کو مغربی انداز سے متعارف کرایا جائے۔

 

                خواتین اور حصول معاش کی جدوجہد

 

یہ بات اگرچہ درست ہے کہ اسلام عورتوں پر معاشی جدوجہد کی ذمہ داری عائد نہیں کرتا لیکن یہ ان کے لیے ممنوع بھی نہیں ہے بلکہ اسے پسند کیا گیا ہے اور اس کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ اس ضمن میں ایک بہت چشم کشا اور بصیرت افروز واقعے کا ذکر کرتے ہوئے مولانا سید جلال الدین انصر عمری اپنی کتاب ’’عورت اسلامی معاشرے میں ‘‘ سنن ابوداؤد کتاب الطلاق کے حوالے سے لکھتے ہیں :

’’جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میری خالہ کو ان کے شوہر نے طلاق دے دی۔ (طلاق کے بعد ان کو عدت کے دن گھر ہی میں گزارنے چاہیے تھے لیکن عدت کے دوران ہی میں ) انہوں نے اپنے کھجور کے چند پیڑ کاٹنے (اور فروخت کرنے ) کا ارادہ کیا تو ایک صاحب نے سختی سے منع کیا(کہ اس مدت میں گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے)۔ یہ خاتون حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں استفسار کے لیے گئیں تو آپؐ نے جواب دیا ’’کھیت جاؤ اور اپنے کھجور کے درخت کاٹو(اور فروخت کرو) اس رقم سے بہت ممکن ہے کہ تم صدقہ و خیرات اور کوئی بھلائی کا کام کرسکو( اس طرح یہ تمہارے لیے اجرِ آخرت کا سبب ہوگا)۔یوں ان الفاظ کے ذریعے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جابرؓ کی خالہ کو انسانیت کی بہی خواہی اور فلاح و بہبود کی ترغیب دی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ شریعت عورت کو اس قابل دیکھنا چاہتی ہے کہ وہ اپنے جیسے دوسرے انسانوں کی خدمت کرسکے اور اس کے ہاتھوں بھلے کام انجام پائیں۔‘‘ (عورت اسلامی معاشرے میں، ص :۱۲۲-۱۲۳)۔ اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ زمانہ عدت میں جب کسی غیر معمولی ضرورت کے بغیر عورت کا گھر سے باہر نکلنا ممنوع باور کیا جاتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان خاتون کو اپنی معاشی ضرورت کی تکمیل کے لیے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت ہی نہیں دی بلکہ اس کی حوصلہ افزائی بھی فرمائی۔

ایسی متعدد مثالوں میں سے ایک اور مثال جلیل القدر صحابی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجہ محترمہ کی ہے۔مولانا جلال الدین انصر عمری اپنی مذکورۂ بالا کتاب میں طبقات ابن سعد کے حوالے سے لکھتے ہیں :

’’حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ کی بیوی صنعت و حرفت سے واقف تھیں۔ اس کے ذریعے اپنے اور اپنے خاوند اور بچوں کے اخراجات بھی پورے کرتی تھیں۔ ایک دن آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر انہوں نے عرض کیا : میں ایک کاریگر عورت ہوں،چیزیں تیار کر کے فروخت کرتی ہوں (اس طرح میں تو کما سکتی ہوں لیکن ) میرے شوہر اور بچوں (کا کوئی ذریعہ آمدنی نہیں ہے اس لیے اُن) کے پاس کچھ نہیں ہے۔ اس کے بعد انہوں نے رسالت مآب سے دریافت کیا کہ کیا وہ ان پر خرچ کرسکتی ہیں۔آپؐ نے جواب دیا : ہاں تم کو اس کا اجر ملے گا۔‘‘(ایضاً، ص:۱۲۶-۱۲۷)۔

دور اول کے ان نظائر سے پوری طرح عیاں ہے کہ اسلام میں عورتوں کو معاشی جدوجہد میں شرکت سے نہ صرف یہ کہ روکا نہیں گیا بلکہ اسے پسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔اس لیے آج کے طرز زندگی میں جب ایک طرف خاندان کی ضروریات کی تکمیل کے لیے اضافی وسائل کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے، اور دوسری طرف مسلمان خواتین مختلف شعبوں میں تعلیم و تربیت کے ذریعے معاشی جدوجہد میں شرکت کی صلاحیت بھی حاصل کر رہی ہیں ، اور گھر داری کی جدید مشینی سہولتوں کی بناء پر ان کے پاس اتنا وقت بھی ہے کہ وہ گھر اور بچوں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ کسبِ معاش کے لیے بھی وقت نکال سکتی ہیں تو ضروری ہے کہ انہیں اسلام کی مقرر کردہ حدود میں اس کی بہتر سے بہتر سہولتیں فراہم کی جائیں۔

 

                جدید مسلم معاشرے میں خواتین کے لیے روزگار کے مواقع

 

خواتین کی تعلیم، صلاحیتوں اور مختلف میدانوں میں ان کی مہارت سے قومی سطح پر فائدہ اٹھانے کے لیے دور جدید کے اسلامی معاشرے میں کیا طریقۂ کار اختیار کیا جانا چاہیے، یہ سوال مسلم دانشوروں سے سنجیدہ غور و فکر کا متقاضی ہے۔ اسے حل کرنے کی بعض ممکنہ صورتوں میں سے ہمارے نزدیک ایک یہ ہے کہ پرائمری اسکول تک تدریس کا سارا کام خواتین کے سپرد کر دیا جائے۔ اس کے بعد طلبہ و طالبات کے لیے الگ الگ تعلیمی ادارے ہوں۔ طالبات کے تعلیمی اداروں میں یونیورسٹی اور پیشہ ورانہ کالجوں کی سطح تک خواتین ہی تدریس کا کام انجام دیں۔اسی طرح خواتین کے الگ اسپتال بھی ان کے لیے جداگانہ روزگار کے مواقع مہیا کرتے ہیں۔ معیشت میں خدمات کے شعبہ (Services Sector)کی اہمیت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے اس شعبہ میں خواتین کے لیے تعلیم اور کام کے مواقع فراہم کیے جانے چاہییں۔ پاکستان میں ویمن بینک کا تجربہ اس سمت میں ایک اچھی مثال تھا، دیگر شعبوں میں بھی ایسے تجربات کیے جائیں اور انہیں ان کی حقیقی روح کے مطابق آگے بڑھایا جائے تو کامیابی یقینی ہے۔ خواتین کے اپنے بازار مینا بازاروں کی شکل میں کامیابی سے چل رہے ہیں، ان سے نہ صرف خواتین کو روزگار حاصل ہوتا ہے بلکہ خریدار خواتین بھی بسہولت خریداری کرسکتی ہیں۔ اس سلسلے میں مزید پیش رفت کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ بہتر سہولتوں کے ساتھ ایسے بازاروں کو مستحکم بنایا جانا چاہیے اور ان کی تعداد میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔خواتین کے انڈسٹریل ہومز کے تجربات بھی بہت کامیاب رہے ہیں۔ کم پڑھی لکھی خواتین بھی مختلف دستکاریوں کی تربیت حاصل کر کے اپنی روزی خود کما سکتی ہیں۔ ان دستکاریوں کی اندرون ملک بھی اور بیرون ملک بھی مارکٹنگ کا بہتر انتظام کر کے بہت بڑی تعداد میں خواتین کو محفوظ روزگار فراہم کیا جا سکتا ہے۔چین اور جاپان سمیت دنیا کے مختلف ملکوں سے اس قسم کا سامان بہت بڑی مقدار میں برآمد کیا جاتا ہے۔ مسلم ممالک کے لیے بھی اس کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نے خواتین کے لیے روزگار کے بہت سے نئے مواقع پیدا کر دیے ہیں، مناسب تربیت حاصل کر کے مسلمان خواتین ان سے بھرپور استفادہ کرسکتی ہیں اور مخلوط ماحول سے محفوظ رہ کر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے ساتھ ساتھ اپنے خاندان کی آمدنی اور قومی آمدنی میں معقول اضافہ کرسکتی ہیں۔

پالیسی کے طور پر عام دفاتر یا کار گاہوں میں خواتین کے بیٹھنے اور کام کرنے کی جگہ مردوں سے الگ رکھنے کا اہتمام کیا جائے تو اس سے مجموعی اخلاقی ماحول بہتر بنانے میں مدد ملے گی، خواتین زیادہ احساسِ تحفظ پائیں گی جس کے نتیجے میں ان کے کام کے معیار اور رفتار میں بہتری آئے گی۔ انتظامی لحاظ سے ادارے یا دفتر کے کسی ایک یا چند مخصوص شعبوں کا تمام کام صرف خواتین کے حوالے ہو تو توقع ہے کہ مقابلتاً اس شعبہ میں معیار میں بہتری کے ساتھ ساتھ مقدار میں بھی زیادہ کام ہوگا۔

مسلمان خواتین کے لیے جدید دور میں اسلام کی مقرر کردہ حدود میں رہتے ہوئے اپنا سماجی کردار ادا کرنے کے حوالے سے یہ چند باتیں مسلم دنیا کی حکومتوں، اہل علم و دانش اور غیر سرکاری سطح پر سرگرم تنظیموں اور اداروں کے لیے دعوت فکر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مسلم دنیا کو اپنی اجتماعی دانش سے اس مقصد کے لیے مکمل اور جامع لائحہ عمل طے کرنا چاہیے تاکہ نہ صرف مسلم ممالک بلکہ مغربی دنیا کی ان خواتین کو بھی رہنمائی مل سکے،اسلام کے نظام عدل و رحمت نے جن کے دل جیت لیے ہیں اور جو ایسے ماڈل کی تلاش میں ہیں جسے اپنا کر وہ اسلام پر کاربند رہنے کے ساتھ ساتھ جدید زندگی کے تقاضوں کی تکمیل بھی کرسکیں۔

٭٭٭

ماخذ:

http://www.ipsurdu.com/index.php?option=com_content&view=article&id=742%3Ador-e-jadeed-aur-muslim-khawateen&catid=35%3Amaghriaurislam&Itemid=274&showall=1

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید