FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

دعوت القرآن

 

 

حصہ  ۱: فاتحہ،  بقرہ

 

 

                   شمس پیر زادہ

 

 

(۱) سورۃالفاتحہ

 

(۷ آیات)

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

                   تعارف

 

یہ سورہ نبوت کے ابتدائی زمانہ میں مکہ میں نازل ہوئی۔ اس کی سات آیتیں ہیں ۔ اس سورہ کی حیثیت دیباچۂ قرآن کی ہے اور اسی مناسبت سے اس کا نام سورۂ فاتحہ یعنی افتتاحی سورہ ہے، اس کا اعجاز یہ ہے کہ نہایت مختصر ہونے کے باوجود اس میں پورے قرآن کا لب لباب موجود ہے۔ اسی لیے اسے ام القرآن کہا گیا ہے۔ قرآن کی دعوت کے بنیادی نکات، توحید، آخرت اور رسالت کو نہایت خوبی کے ساتھ اس میں سمو دیا گیا ہے۔ چنانچہ اس میں اللہ تعالیٰ کی رحمت، ربوبیت اور الوہیت کی صفات بیان ہوئی ہیں جو توحید پر دلالت کرتی ہیں ۔ روز جزاء کا مالک ہونا توحید اور آخرت دونوں پر دلالت کرتا ہے اور انعام یافتہ لوگوں کا راستہ سلسلۂ رسالت پر دلالت کرتا ہے ۔

اس سورہ کے معانی پر غور کرنے سے حقائق و معارف کے بے شمار پہلو روشن ہو جاتے ہیں اور ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ گویا دریا کو کوزے میں بند کر دیا گیا ہے۔

یہ سورہ دعائیہ پیرایہ میں ہے اور دعا بھی ایسی جو ایک سلیم الفطرت انسان کے ضمیر کی آواز اور اس کے دل کی گہرائیوں سے نکلا ہوا ترانۂ حمد ہے۔ گویا اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ تعلیم دی ہے کہ وہ ان الفاظ میں اس کے حضور دعاگو ہو، کلام کا یہ انداز نہایت لطیف ہے، لیکن جو لوگ لطافت سے نا آشنا ہوتے ہیں وہ یہ اعتراض کر بیٹھتے ہیں کہ اگر یہ اللہ کا کلام ہے تو ” میں شروع کرتا ہوں ، اللہ کے نام سے”کہنے کا کیا مطلب؟ حالانکہ یہاں بلاغت کا پہلو نہایت روشن ہے اور فحوائے کلام سے بخوبی واضح ہے کہ خالق کائنات اپنے بندوں کو یہ تعلیم دے رہا ہے کہ وہ اس کی حمد و ثناء اس آغاز کے ساتھ اور ان الفاظ میں کریں اور ان کلمات کے ساتھ اس کے حضور دعاگو ہوں ۔ اس طرح بندوں کو نہ صرف بندگی کی تعلیم دی گئی ہے، بلکہ آدابِ بندگی بھی جا سکھائے گئے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے یہود و نصاریٰ کو اسلام کی شاہراہ دکھائی تھی تاکہ وہ خود اس پر چلیں اور دنیا والوں کو اس پر چلنے کی دعوت دیں ، لیکن انہوں نے کجروی اختیار کر کے اپنے اوپر بھی راہِ حق گم جر دی اور دنیا والوں کو بھی تاریکی میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا۔ یہ دعا اس تاریکی سے نکلنے کی دعا ہے چنانچہ اس کی برکت سے دنیا کو قرآن کی روشنی ملی۔

بندہ اللہ تعالیٰ سے ہدایت کی دعا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی دعا کے جواب میں پورا قرآن اس کے سامنے رکھ دیتا ہے کہ تلاش جس کی ہے وہ راہِ ہدایت تیرے سامنے روشن ہے، اب اللہ کا نام لے اور اس راہ پر گامزن ہو جا۔

سورۂ فاتحہ اور نماز:نماز کی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ لازماً پڑھی جاتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ سے مناجات ہے، اور اللہ تعالیٰ بندے کی طرف متوجہ ہو کر ہر ہر آیت کا جواب عنایت فرماتا ہے۔ حدیث قدسی ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔

” میں نے نماز کو اپنے اور بندے کے درمیان نصف نصف تقسیم کر دیا ہے اور میرے بندے کے لیے وہی کچھ ہے جو اس نے طلب کیا۔چنانچہ بندہ جب اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ العٰلَمِیْنَ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے نے میری حمد کی۔ جب اَلرَّحْمٰنَ الرّحیم کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے نے میری تعریف کی۔ جب بندہ مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی، جب بندہ اِیاکَ نَعْبُدُ وَاِیاکَ نَسْتَعِینَ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ میرے اور بندے کے درمیان مشترک ہے اور میرے بندے کے لیے وہ کچھ ہے جو اس نے طلب کیا ، اور جب بندہ اِہْدِنَاالصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیمَ صِرَاطَ الَّذِینَ اَنْعَمْتَ عَلَیہِمْ غَیرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیہِمْ وَلاَالضّالِّینَ کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ کچھ ہے جو اس نے مجھ سے طلب کیا۔”(مسلم، نسائی)

 

                   ترجمہ

 

نوٹ: نشان ” *” سے  تفسیری نوٹ کے نمبر شمار کی نشان دہی کی گئی ہے۔

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے ۱*

۱۔۔۔۔۔۔حمد۲* اللہ ہی ۳* کے لیے ہے جو تمام کائنات کا رب ۴* ہے۔

۲۔۔۔۔۔۔ رحمن و رحیم ۵* ہے۔

۳۔۔۔۔۔۔ روزِ جزا ۶* کا مال ہے۔

۴۔ ۔۔۔۔ہم تیری ہی عبادت ۷* کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد ۸* مانگتے ہیں۔

۵۔ ۔۔۔۔ہمیں سیدھے راستے ۹* کی ہدایت بخش ۔

۶۔۔۔۔۔۔ ان لوگوں کے راستے کی جنہیں تو نے انعام ۱۰* سے نوازا۔

۷۔۔۔۔۔۔ جو نہ مغضوب ۱۱* ہوئے اور نہ گمراہ ۱۲*۔

 

                   تفسیر

 

۱۔۔۔۔۔۔ یہ قرآن کی افتتاحی آیت ہے اور ہر سورہ کا آغاز بجز سورۂ توبہ کے اسی آیت سے ہوا ہے۔ گویا اس کی حیثیت تمہید کی سی ہے۔ یہ مختصر، جامع، معنٰی خیز اور نہایت ہی بابرکت کلمات ہیں جس میں خدا کے متبرک نام اور اس کی صفتِ رحمت کا ذکر ہے۔ ان ابتدائی کلمات ہی پر غور کرنے سے معرفت الٰہی ( خدا کی صحیح پہچان) کے دروازے کھلنے لگتے ہیں اور انسان کے اندر اس کی صحیح بیان کا پیدا ہو جانا اس کی رحمت کا فیضان ہے۔

کسی بھی اچھے کام کو شروع کرنے کے لیے ان سے زیادہ موزوں اور بہتر کلمات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر اچھے کام کا آغاز حتیٰ کہ کھانے پینے کی ابتداء بھی ان کلمات ( بسم اللہ) سے کرنا اسلامی تہذیب کا شعار ہے۔

پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر وحی کا آغاز اِقْرَأ بِاسْمِ رَبِّکَ الّذِی خَلَقَ( پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا) سے ہوا۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے آیت بسم اللہ نازل کر کے بندہ کی رہنمائی فرمائی کہ وہ اس حکم کی تعمیل ان الفاظ میں کرے۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں تورات میں یہ پیشین گوئی موجود ہے کہ آپ کا کلام اللہ کا نا لیکر پیش کریں گے۔ چنانچہ تورات کی کتاب استثنا میں ہے:۔

” میں ان کے لیے انہیں کے بھائیوں میں سے تیری (موسیٰ) مانند ایک نبی بر پا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اُسے حکم دوں گا وہی وہ اُن سے کہے گا اور جو کوئی میری ان باتوں کو جن کو وہ میرا نام لیکر کہہ گا نہ سنے گا تو میں اُن کا حساب اس سے لوں گا۔”(استثناء ۱۸:۱۸،۱۹)

یہ آیت دعا کی حیثیت رکھتی ہے۔ گویا بندہ کتابِ الٰہی کا آغاز کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے کہ اس کتاب کا مطالعہ تیری توفیق ہی پر منحصر ہے اور ہدایت کی راہ مجھ پر اسی صورت میں روشن ہو سکتی ہے اور حقائق و معارف کے اس ا تھاہ سمندر میں علم و بصیرت کی موتی ہیں اسی صورت میں چن جا سکتا ہوں جبکہ تو میری دستگیری فرمائے۔

” بسم اللہ” کی ” ب” قرآن کا پہلا حرف ہے اور عربی قاعدے کے مطابق یہ بائے استعانت ہے۔گویا قرآن کا پہلا حرف ہی قاری کی یہ حیثیت متعین کرتا ہے کہ وہ ایک عاجز بندہ ہے جو اللہ کی مدد کا ہر وقت محتاج ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی ہدایت کا دروازہ ان ہی لوگوں پر کھولتا ہے جو خدا کی کتاب کا مطالعہ خدا بنکر نہیں کرتے بلکہ بندہ کی حیثیت سے جویائے حق اور طالب ہدایت بن کر کرتے ہیں ۔

۲۔۔۔۔۔۔ متن میں حمد کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی تعریف اور شکر دونوں کے ہیں ۔ ” تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔” کا مطلب یہ ہے کہ اللہ خوبیوں والا ہے اور کمالات سے متصف ہے۔ وہ عیوب اور کمزوریوں سے نہ صرف پاک اور منزّہ ہے بلکہ اس کے لیے حسن ہی حسن اور جمال ہی جمال ہے اور وہ سرچشمۂ خیرو برکت ہے اس کے یہ فضائل و کمالات ذاتی اور مستقل ہیں اور وہ تمام صفات حسنہ میں تنہا اور یکتا ہے۔ اس لیے تنہا وہی لائق ستائش ہے اور اسی کے گن گائے جانے چاہئیں ، اس کے سوا کوئی ہستی نہیں ہے جو بالذات اپنے اندر خوبیاں رکھتی ہو اس لیے کائنات میں ایک سے زیادہ خداؤں کے تصور کیلئے سرے سے کوئی بنیاد موجود ہی نہیں ہے اور جب حقیقت یہ ہے تو پھر اللہ کے سوا کسی دوسری ہستی کو خدا سمجھ کر اس کے گن گانے اور اس کی مالا جپنے کا سوال پیدا ہی کہاں ہوتا ہے؟

“اور شکر اللہ ہی کے لیے ہے” کا مطلب یہ ہے کہ انسان جن بیشمار نعمتوں سے نوازا گیا ہے وہ سب اللہ ہی کی بخشش اور دین ہیں ۔ مثلاً زندگی جیسی عظیم نعمت ، خورد و نوش کا اعلیٰ ذوق اور اس کے مطابق رزق کا سامان، اولاد جیسی آنکھوں کی ٹھنڈک، عقل و شعور اور علم کی دولت اور دیگر ظاہری اور باطنی نعمتیں سب اسی کی عطا جر دہ ہیں ۔ اس لیے شکر کا مستحق بھی تنہا وہی ہے اسی کی نعمتوں کا اعتراف کرنا چاہیے اور اسی کا سپاس گزار اور شکر گزار بنکر رہنا چاہیے۔

شکر کا یہ جذبہ دین کی اساس ہے اور اسی بنیاد پر خالق کائنات سے انسان کا صحیح تعلق قائم ہوتا ہے۔ گویا یہ ہدایت کی کلید ہے۔ اسی لیے قرآن انسان کی ذہنی و فکری تربیت اس انداز سے کرتا ہے کہ اس کے اندر شکر کا جذبہ ابھرے اور وہ اللہ تعالیٰ کا گرویدہ بن جائے۔

۳۔۔۔۔۔۔ اللہ اس ہستی کا نام ہے جو تمام کائنات کی خالق ہے یہ نام ہمیشہ سے اس کے لیے خاص رہا ہے، اس لفظ سے نہ جمع کا صیغہ بنایا جا سکتا ہے اور نہ مونث کا۔عربی میں اس کے معنی معبود حقیقی کے ہیں دوسری زبانوں میں اس کا ٹھیک ٹھیک بدل ملنا مشکل ہے۔ اردو میں خدا اور انگریزی میں (God) کے الفاظ عام طور سے خالق کائنات کے لیے مستعمل ہیں ، لیکن خدا سے جمع کا صیغہ خداؤں اور خداوندان بنایا جاتا ہے اور(God) دیوی دیوتا کے لیے بھی بولا جاتا ہے، چنانچہ اس کا مونث (Goddess) آتا ہے جس کے معنی دیوی کے ہیں چنانچہ زہرہ سیارہ کو (Goddess Venus) کہا جاتا ہے نیز عیسائیوں کے عقیدۂ تثلیث میں حضرت عیسیٰ کو(God the Son) کا خطاب دیا گیا ہے۔ (The Oxford Eng. Dictionary Vol. IV P.268-271)

مرہٹی میں ایشور اور پرمیشور کے الفاظ خدائے تعالیٰ( Being Supreme)کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں لیکن یہ شیو اور وشنو کے القاب بھی ہیں ۔ لفظ ایشور(ईश ) اور (वर )سے مرکب ہے( ईश)کے معنی مالک اور حاکم کے ہیں اور ( वर) کے معنی برتر اس طرح ( ईश्वर)کے معنی ہوئے خدائے برتر لیکن اس کا مونث ایشوری( ईश्वरी)آتا ہے جو دیوی کے لیے بولا جاتا ہے ملاحظہ ہو(Moles Worth’s Marathi Eng-Dictionary P.84) اسی طرح پرمیشور परमेश्वर ( परम) اور(ईश्वर)سے مرکب ہے( परम) کے معنیٰ اعلیٰ کے ہیں اور پرمیشور کے معنی اعلیٰ ایشور کے۔ ایشور اور پرمیشور دونوں الفاظ کے استعمالات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ الفاظ اگرچہ خالق کائنات کے لیے استعمال ہوتے ہیں لیکن اس کے لیے مخصوص نہیں ہیں بلکہ دیوی دیوتاؤں کے لیے بطور صفت یا لقب انکا استعمال ہوتا ہے اسی طرح بھگوان (भगवान ) کا اسم بھی خدا کے لیے خاص نہیں ہے بلکہ بطور لقب یا صفت دیوؤں کے لیے اس کا استعمال عام ہے مثلاً بھگوان واسودیو۔ اسی طرح وشنو اور شیو کو بھی بھگوان کہا جاتا ہے۔

لہٰذا یہ اسماء قرآن کے اسم ” اللہ” کا بدل نہیں ہو سکتے جو خالق کائنات کے لیے بالکل مخصوص ہے اور ہر قسم کے احتمالات سے پاک ہے یہ لفظ واحد ہے اس کی کوئی جمع نہیں آتی۔نیز اس کی اہم ترین خصوصیت یہ ہے کہ یہ نام زبان پر آتے ہی ذہن اس کی صفاتِ کمالیہ کی طرف منتقل ہونے لگتا ہے۔ اسی لیے قرآن میں جہاں کہیں اسم اللہ آیا ہے ہم نے ترجمہ میں بھی لفظ اللہ ہی رکھا ہے۔

اسم اللہ قرآن میں ۲۶۹۷ بار آیا ہے اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس نام کی معرفت کتنی تفصیل اور وضاحت کے ساتھ قرآن میں پیش کی گئی ہے۔

۴۔۔۔۔۔۔رب کے معنی ہیں پرورش کرنے والا اور مالک و آقا۔ اللہ کے کائنات کا رب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کائنات کا صرف خالق و پروردگار ہی نہیں ہے بلکہ اس کا مالک اور آقا بھی ہے ۔ سارے اختیارات اسی کے ہاتھ میں ہیں اور کائنات کا سارا انتظام وہی تنہا کر رہا ہے۔ ساری مخلوق اس کے سامنے عاجز ہے اور سب اس کے بے اختیار اور بے بس بندے ہیں ۔ حقیقی حاکم اور فرمانروا بھی وہی ہے کیونکہ مالک اور آقا ہونے کا یہ لازمی مفہوم ہے۔ اس کی یہ ربوبیت اس جہاں تک محدود نہیں ہے بلکہ ستاروں سے آگے جو اور جہاں ہیں وہاں بھی اس کی ربوبیت کا ظہور ہے۔ غرض انسان اور حیوان ، جن اور فرشتے دنیا اور آخرت سب کا پروردگار اور مالک وہی ہے۔

یہاں یہ پہلو بھی غور طلب ہے کہ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ فرمایا ہے رَبُّ المُسْلِمِینَ نہیں فرمایا کیونکہ اللہ کسی ایک گروہ ایک طبقہ اور ایک فرقہ کا رب نہیں ہے بلکہ بلا تفریق پوری نوع انسانی کا رب ہے۔

۵۔۔۔۔۔۔ رحمن و رحیم دونوں الفاظ رحمت سے مشتق ہیں اور اللہ کی صفت ہیں ۔ رحمن مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے معنی ہیں بے انتہا مہربان۔ اس میں جوش رحمت کا پہلو غالب ہے اور یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ انسان کی تخلیق اس کے غضب کے نتیجہ میں نہیں بلکہ جوش رحمت کے نتیجہ میں ہوئی ہے اور اس کی یہ رحمت نہایت وسیع اور ہمہ گیر ہے جن سے انسانوں کا کوئی گروہ یا مخصوص فرقہ یا مخصوص قوم نہیں بلکہ پوری نوع انسانی فیضیاب ہو رہی ہے اور اتنا ہی نہیں بلکہ تمام مخلوقات اور پوری کائنات پر اس کی رحمت چھائی ہوئی ہے اور ہمہ گیر رحمت کے اس مفہوم کے پیش نظر یہ نام اللہ کے لیے خاص ہو گیا ہے اور الرحمن کے نام سے اسی کو پکارا جاتا ہے گویا اس لفظ کی حیثیت اسم علم کی سی ہے اس لیے خدا کی صفت رحمن کو نمایاں کرنے کے لیے الرحیم کا اضافہ نہایت موزوں ہوا۔

رحیم اس صفت ہے اور اس پہلو کو ظاہر کرتی ہے کہ اس کی رحمت مستقل اور دائمی ہے ، اس سے اس بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ انسان کی تخلیق نہ صرف اس کی رحمت کے جوش میں آنے سے ہوئی بلکہ وہ اس پر برابر اپنی رحمت کی بارش کر رہا ہے اور جو لوگ اس کے راستہ پر چلیں گے انہیں وہ ابدی طور پر اپنی رحمت سے نوازے گا۔

واضح رہے کہ رحیم کو رام کے مترادف سمجھنا صحیح نہیں کیونکہ رحیم اللہ وحدہ کی صفت ہے جبکہ رام ایک مذہبی پیشوا کا نام ہے۔

۶۔۔۔۔۔۔ یعنی قیامت کا دن جبکہ اللہ عدالت برپا کرے گا اور تمام اگلے پچھلے انسانوں کو دوبارہ زندہ کرے گا تاکہ اس کے حضور پیش ہو کر اپنے کارنامۂ زندگی کا حساب دیں اور اپنے اچھے یا برے اعمال کے مطابق جزا یا سزا پائیں ۔

عدل و انصاف اللہ کی صفت ہے اور اس کا تقاضا ہے کہ بندوں کے درمیان انصاف کیا جائے۔ اس کے وفادار بندے انعام سے نوازے جائیں اور سرکشوں کو کڑی سزا دی جائے۔

جزا و سزا کا یہ تصور عقیدۂ تناسخ سے بالکل مختلف ہے کیونکہ عقیدۂ تناسخ ایک چکر ہے جس کی نہ کوئی ابتداء ہے اور نہ انتہا۔ اس عقیدہ کی رُو سے یہ دنیا دار -یر زادہہ تا انفالدادا نے اس کا ی تشکیل: اعجاز عبیدالعذاب ہے۔ یہ عقیدہ انسان کے دوبارہ اٹھائے جانے، فرمانروائے کائنات کی طرف سے عدالت کے برپا کئے جانے، انسانی اعمال کا ریکارڈ پیش کئے جانے اور اللہ کی طرف سے ابدی انعام یاسزا پانے کے تصور سے بالکل خالی ہے۔

عدل کا تصور انسان کی سرشت میں موجود ہے۔ اسی بنا پر انسان عدالتیں قائم کرتا ہے لہٰذا فرمانروائے کائنات کا ایک دن سب کو جمع کر کے عدالت برپا کرنا کوئی غیر معقول بات نہیں ہے بلکہ عقل کے عین مطابق اور فطرت سے بالکل ہم آہنگ اور اس کا کھلا تقاضا ہے۔

قرآن میں جا بجا اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت اور صفت عدل و حکمت سے آخرت پر استدلال کیا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی پرورش اور ربوبیت کا جو سامان کیا ہے اس کو انسان جب کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے تو ربوبیت کا تقاضا ابھر کر سامنے آ جاتا ہے کہ جزا و سزا کا ایک دن ہونا چاہیے۔ تاکہ نیکو کاروں کو ان کی نیکیوں کا بھر پور صلہ اور بد کاروں کو ان کے کئے کی منصفانہ سزا ملے۔قرآن کہتا ہے جس ہستی نے تمہارے لیے زمین کا فرش بچھایا، آسمان کو محفوظ چھت بنایا۔ تمہاری روشنی کے لیے سورج اور چاند چمکائے، تمہارے جمالیاتی ذوق کے لیے ستاروں کی پر رونق بزم سجائی، ہوا کو تمہاری خدمت میں لگایا اور بارش کے ذریعہ پانی کا حیرت انگیز انتظام کیا۔ قسم قسم کے پھل پھول اور میوے پیدا کئے، نباتات اور اناج پیدا کر کے ، تمہارے رزق کا سامان مہیا کیا، جانوروں کو تمہارے لیے مسخر کیا اور پوشش اور زیبائش کے لیے لباس مہیا کیا، غرضیکہ جس نے اس بزم کائنات کو سجا کر تم پر اپنی نعمتوں کی بارش کی اس ہستی کے بارے میں کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ اس نے یہ کارخانہ محض کھیل کے طور پر بنایا ہے اور اس کے پیچھے کوئی مقصد کار فرما نہیں ہے اور کیا ان نعمتوں کے سلسلے میں تم پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ جس کی باز پرس ہو؟ واقعہ یہ ہے کہ جزا و سزا سے انکار وہی کر جا سکتا ہے جو خواہش نفس سے مغلوب ہو گیا ہو کیونکہ خواہشات کا غلبہ اسے اس بات پر آمادہ نہیں کرتا کہ وہ ذمہ دارانہ زندگی گزارے، بلکہ اس کی نظروں میں ایسی زندگی کو خوش آئند بنا کر پیش کرتا ہے جس میں کسی کے حضور جواب دہی کا تصور نہ ہو اور اس پر نہ ذمہ داریوں کا بوجھ ہو اور نہ اس کی آزادی محدود جر دی گئی ہو۔قرآن کہتا ہے ہر انسان ذمہ دار ہے اور اس سے لازماً اس کے اعمال کے بارے میں باز پرس ہونی ہے اور فیصلہ کا ایک دن مقرر ہے جس نے اپنی ذ مہ داریاں پوری کی ہوں گی،وہ کامیاب ہو گا اور جس نے ان کو نظر انداز کیا ہو گا وہ ناکام رہے گا۔

ذمہ داری کا یہ احساس اور آخرت کا یقین آدمی کو خدا اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی پر آمادہ کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں آدمی ذمہ دارانہ زندگی بسر کرنے لگتا ہے۔ گویا عقیدۂ آخرت کی برکتیں اس دنیا ہی میں ظاہر ہونے لگتی ہیں ۔ بشرطیکہ آدمی اس کو شعوری طور پر اور حقیقت سمجھ کر قبول کرے۔

۷۔۔۔۔۔۔ عبادت عبد سے ہے جس کے معنی بندے کے ہیں اور عبادت کے معنیٰ ہیں بندگی۔ اس کے لغوی معنی میں اطاعت بھی شامل ہے جو خضوع کے ساتھ ہو چنانچہ لسان العرب میں ہے: وَ معنی العبادۃ فی اللغۃ الطاعۃ مع الخضوع(لسان العرب ج ۳ ص ۲۷۳) عبادت کی روح انتہائی خشوع و خضوع اور عاجزی و فروتنی کا اظہار ہے۔ پرستش اور اس کی مختلف شکلیں مثلاً قیام، رکوع، سجدہ، نماز، طواف، دعاء، استعاذہ، فریاد اور حاجت روائی کے لیے پکارنا، ذکر و تسبیح، گن گانا اور نام جپنا سب عبادت ہیں ۔

قرآن میں عبادت کا لفظ ایک جامع اصطلاح کے طور پر استعمال ہوا ہے، جو پرستش،بندگی اور بے قید وغیر مشروط اطاعت، (جو خضوع کے ساتھ ہو) کے مفہوم پر مشتمل ہے۔ البتہ چونکہ پرستش اس کا اولین اور متبادل مفہوم ہے اس لیے موقع کی مناسبت سے یہ لفظ صرف پرستش کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہاں اس لفظ کا جامع مفہوم ہی مراد ہے ۔

عبادت اللہ کے لیے خاص ہے کیونکہ لائق عبادت اسی کی ذات ہے۔ ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت جائز نہیں خواہ پتھر ہوں یا درخت، سورج ہوں یا ستارے انسان ہوں یا جن اور انبیاء ہوں یا فرشتے۔( مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ کہف نوٹ ۳۵)

۸۔۔۔۔۔۔ حقیقی مددگار اللہ ہی ہے اس لیے مدد صرف اسی سے طلب کرنا چاہیے خواہ مدد عبادت کے معاملہ میں مطلوب ہو یا کسی اور معاملہ میں ، اس سے یہ بات واضح ہے کہ کسی پیغمبر، ولی، جن، فرشتہ، یا دیوی دیوتا کو مدد کے لیے پکارنا ہرگز روا نہیں اس لیے کہ اللہ کے سوا کوئی مشکل کشا اور حاجت روا نہیں ہے۔

یہاں بندہ خاص طور سے عبادت کے معاملہ میں اللہ سے مدد کا طالب ہے کیونکہ اس کی توفیق کے بغیر انسان اس کی عبادت کی سعادت حاصل نہیں کر جا سکتا۔

۹۔۔۔۔۔۔ سیدھے راستہ سے مراد وہ راستہ ہے جو سیدھا اللہ تک پہنچتا ہے۔ اور جس پر چل کر آدمی منزلِ مقصود کو پہنچ جاتا ہے اور جو حقیقی فوز و فلاح کا ضامن اور رضائے الٰہی کے حصول کا واحد ذریعہ ہے۔ یہ راستہ اسلام اور صرف اسلام کا ہے۔ جس طرح دو نقطوں کے درمیان ایک ہی خط مستقیم کھینچ جا سکتے ہیں ۔ اسی طرح اللہ تک پہنچنے کی واحد راہ یہی اسلام کی صراط مقیم ہے۔ اس سے خود بخود اس گمراہ کن نظریہ کی تردید ہوتی ہے کہ تمام راستے اللہ تک پہنچتے ہیں ۔ لہٰذا آدمی جس راہ پر بھی چل پڑے، خدا تک رسائی ہو جائے گی۔یہ غلط قسم کی رواداری ہے اور قرآن انسان کو رواداری کے اس پُر فریب تصور میں چھوڑنا نہیں چاہتا۔

اسلام کو شاہراہ سے تعبیر کرنے میں دین حقیقی کا تصور بھی مضمر ہے یعنی یہ دین ” مذہبی مراسم کا مجموعہ” نہیں ہے بلکہ ایک طریق زندگی(Way of Life) ہے جس پر گامزن ہو کر اور عملی جدوجہد کر کے ہی انسان کامیابی کی منزل کو پہنچ جا سکتا ہے۔

۱۰۔۔۔۔۔۔ یعنی ہم حقیقی انعام کے طالب ہیں اور تیرے حضور اس کی درخواست لے کر حاضر ہوئے ہیں ۔ ہم پر ہدایت و شریعت کی راہ کھول دے اور اپنے فیض اور اپنی خوشنودی سے ہمیں نوازا۔ اللہ تعالیٰ اپنے حقیقی انعام سے انبیاء ، صدیقین ، شہداء اور صالحین کو نوازتا رہا ہے۔ یہ دعا اسی انعام یافتہ گروہ کی راہ پر چلانے کیلئے ہے۔ یہیں سے رسالت پر ایمان لانے کی ضرورت بھی ابھر کر سامنے آ جاتی ہے۔ اللہ کے راستہ کو معلوم کرنے کا انسان کے پاس کیا ذریعہ ہے؟ انسان اپنی عقل سے اس کے راستہ، اس کی عبادت کے طور طریقے اور اس کی پسند اور نا پسند کا تعین نہیں کر سکتا بلکہ یہ باتیں اللہ تعالیٰ کے بتانے ہی سے معلوم ہو سکتی ہیں ۔ اسی مقصد کیلئے اللہ تعالیٰ نے مختلف زمانوں اور ملکوں میں پیغمبر بھیجے۔

۱۱۔۔۔۔۔۔ اللہ کا غضب ان لوگوں پر ہوا جنہوں نے اللہ کے دین اور اس کی شریعت کو دل کی آمادگی کے ساتھ قبول نہیں کیا بلکہ محض رسمی طور پر قبول کیا اور خواہشات کے پیچھے پڑ کر شرعی احکام کی خلاف ورزی کی اور سرکشی کا رویہ اختیار کر بیٹھے اس کی مثال یہود ہیں ۔

۱۲ ۔۔۔۔۔۔گمراہ وہ لوگ ہوئے جنہوں نے اللہ کے دین کی نعمت کو پایا لیکن غلو، بدعات، ترک دنیا اور فلسفیانہ بحثوں کے چکر میں پڑ کر راہ راست سے بہت دور نکل گئے۔ اس کی مثال نصاریٰ ہیں یہاں یہود و نصاریٰ کی گمراہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کیونکہ صراطِ مستقیم( دین حق) کو پانے کے بعد اسے گم کرنے کی یہ جیتی جاگتی اور نمایاں مثالیں ہیں اور اس سے مقصود امت مسلمہ کو متوجہ کرنا ہے کہ وہ ان گمراہ ملتوں کی سی روش اختیار نہ کریں ۔ رہے مشرک، کافر اور ملحد تو وہ پرلے درجہ کے گمراہ ہیں اور ان کی گمراہی محتاجِ بیان نہیں ۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

 (۲) سورۂ بقرہ

 

 (۲۸۶ آیات)

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

                   تعارف

 

نام

 

اس سورہ کا نام البقرہ ہے۔ یہ قرآن کریم کی سب سے بڑی سورہ ہے جو ۲۸۶ آیتوں پر مشتمل ہے۔ قرآن کی سورتوں میں نہایت وسیع مضامین بیان ہوئے ہیں اس لیے ان کے نام عنوانات کے بجائے سورہ کے کسی مخصوص لفظ یا ابتدائی حروف کی مناسبت سے مقرر کئے گئے ہیں جو علامت کا کام دیتے ہیں۔ چونکہ اس سورہ میں ایک جگہ گائے کا ذکر ہے اس لیے علامت کے طور پر اس سورہ کا نام البقرہ (گائے) رکھا گیا ہے۔ سورتوں کے یہ نام نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق تجویز فرمائے تھے۔

 

زمانۂ نزول

 

یہ سورہ مدنی ہے۔ اس کا بیشتر حصہ ہجرت کے متصلاً بعد مدینہ میں دو سال کے اندر نازل ہوا۔ البتہ بعض آیتیں بعد میں نازل ہوئیں۔ مثلاً سود کی ممانعت سے متعلق آیتیں مدنی دور کے اخیر میں نازل ہوئیں لیکن مضمون کی مناسبت سے اس میں شامل کر دی گئیں۔ واضح رہے کہ قرآنی آیات کی ترتیب بھی اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے ہوئی ہے۔

 

پس منظر

 

ہجرت کے بعد سابقہ یہود سے پیش آیا تھا جن کی بستیاں مدینہ کے قرب و جوار میں تھیں۔ یہ لوگ توحید رسالت اور آخرت کو مانتے تھے۔ اور اصلاً ان کا دین اسلام ہی تھا۔ لیکن صدیوں کے انحطاط نے ان کو اصل دین سے بہت دور کر دیا تھا۔ چنانچہ ان کے عقائد میں غیر اسلامی عناصر کی آمیزش ہو گئی تھی۔ اور ان کی عملی زندگی میں بہت سی ایسی رسمیں اور طریقے رواج پا گئے تھے جو اصل دین میں نہ تھے۔ اور جن کا ثبوت ان کی کتاب تورات میں نہ تھا۔ اس سورہ میں ان کو اصل دین یعنی اسلام کی طرف دعوت دی گئی ہے۔

 

مرکزی مضمون

 

سورہ کا مرکزی مضمون ہدایت ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ جس طرح اس سے پہلے اللہ تعالیٰ انسانوں کی ہدایت کے لیے انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ کتابیں بھیجتا رہا ہے اسی طرح اس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو قرآن کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ لہٰذا قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لے آؤ۔ اس کے بغیر نہ اللہ کو ماننے کے کوئی معنی رہتے ہیں اور نہ اس کے بغیر زندگی اللہ کے رنگ میں رنگ سکتی ہے۔

 

نظم کلام

 

نظمِ کلام کے لحاظ سے سورہ کا ابتدائی حصہ آیت ۱ تا۲۰  تمہید کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ اس ہدایت کو کس طرح کے لوگ قبول کریں گے اور کس طرح کے لوگ قبول نہیں کریں گے۔

آیت ۲۱ تا ۲۹ میں عام انسانوں کو مخاطب کر کے انہیں بندگیِ رب کی دعوت دی گئی ہے کہ ہدایت کی راہ یہی ہے نیز واضح کیا گیا ہے کہ جو لوگ ہدایت الٰہی سے منہ موڑتے ہیں ان کی عملی زندگی کتنی غلط ہو کر رہ جاتی ہے اور (انجام کتنا بُرا ہو گا۔ برعکس اس کے جو لوگ ہدایتِ الٰہی کو قبول کرتے ہیں ان کی عملی زندگی کس طرح سنورتی ہے۔ اور ان کا انجام کس قدر خوشگوار ہو گا۔

آیت ۳۰ تا ۳۹ میں آدم__سب سے پہلا انسان۔ کی خلافت اور شیطان کی مخالفت کی سر گذشت بیان کی گئی ہے جس سے تاریخ انسانی کا اولین باب روشن ہو کر سامنے آ جاتا ہے اور بنیادی سوالات کا اطمینان بخش جواب مل جاتا ہے مثلاً یہ کہ انسانیت کا آغاز کس طرح ہوا؟ دنیا میں انسان کی پوزیشن کیا ہے؟ اس کی تخلیق کے پیچھے کوئی اسکیم ہے یا نہیں ؟ اور اگر ہے تو وہ کیا ؟ انسان کی کامیابی کا دار و مدار کس بات پر ہے؟ اس سر گذشت سے یہ بات ابھر کر سامنے آتی ہے کہ اولین انسان حضرت آدم کو جو ہدایت دی گئی تھی وہ اسلام ہی تھا۔ اور وہی انسانیت کا اصل دین ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ انسان کی رہنمائی آغازِ تخلیق ہی سے فرماتا رہا ہے اور انسانیت کی بسم اللہ دین اسلام ہی سے ہوئی ہے۔

آیت ۴۰ تا ۱۲۳ میں بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے اس ہدایت نامہ پر اور اس کے لانے والے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے اور ثابت کیا گیا ہے کہ اس ہدایت نامہ کا نزول اور آپؐ کی بعثت ٹھیک ٹھیک ان پیشین گوئیوں کے مطابق ہوئی ہے جو ان کی اپنی کتابوں تورات وغیرہ میں موجود ہیں۔ بنی اسرائیل اس زعم میں مبتلا تھے کہ نبوت ان ہی کے خاندان میں محصور ہے اور ایک ایسے نبی پر ایمان لانا جو اس خاندان سے باہر عرب کے امیوں میں پیدا ہوا ہو اپنی توہین سمجھتے تھے۔ ان سے کہا گیا ہے کہ اللہ کی ہدایت کو قبول کرنے کے معاملہ میں کسی عصبیت کا دخل نہیں ہونا چاہیے ورنہ آدمی ہدایتِ الٰہی سے یکسر محروم ہو جاتا ہے اگرچہ کہ وہ اپنے کو کتنا ہی دیندار سمجھتا رہے۔ ساتھ ہی بنی اسرائیل کے عہد شکنیوں کی تاریخ بیان کی گئی ہے اور بتا دیا گیا ہے کہ ان کے اندر کیسی مجرمانہ ذہنیت پرورش پاتی رہی ہے اور کس طرح وہ ذہنی، فکر ی، اخلاقی اور عملی انحطاط میں مبتلا ہو گئے۔ جس کا اصل سبب یہ ہے کہ انہوں نے عملاً ہدایت الٰہی سے انحراف کیا۔

بنی اسرائیل کی مذہبیت کا جائزہ پیش کرتے ہوئے دین کی اس حقیقت کو واشگاف الفاظ میں بیان کر دیا گیا ہے کہ نجات کا دار و مدار ایمان اور عمل صالح پر ہے نہ کہ مخصوص نسل یا مخصوص مذہبی فرقہ سے وابستگی پر۔

آیت ۱۲۴ تا ۱۶۷ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خانۂ کعبہ _مرکزِ توحید_کو تعمیر کرنے کی سر گذشت بیان ہوئی ہے۔ اس ضمن میں واضح کیا گیا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ جو بنی اسرائیل اور بنی اسمعیل دونوں خاندانوں کے جد امجد ہیں اور جن کو یہود، نصاریٰ، مشرکین مکہ اور مسلمان سب اپنا پیشوا مانتے ہیں خالصۃً ہدایت الٰہی کے پیرو تھے اور ان کا دین اسلام تھا نہ کہ یہودیت یا نصرانیت یا کوئی اور مذہب۔ اسی اسلام کی دعوت دینے اور دنیا والوں کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے امت وسط برپا کی ہے۔ جس کا قبلہ مسجد حرام ہے۔ اس قبلہ کو مشرکین مکہ کے قبضہ سے آزاد کرانے کے لیے اہل ایمان کو جہاد کرنا پڑے گا۔ اور جان و مال کی قربانیاں دینی پڑیں گی۔ ساتھ ہی واضح کیا گیا ہے کہ خانۂ کعبہ کی تعمیر کے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو دعا کی تھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم اس دعا کے مظہر ہیں اور آپؐ کی دعوت مخالفتوں کے باوجود کامیاب رہے گی اور دین اسلام غالب ہو کر رہے گا۔

آیت ۱۶۸ تا ۲۴۲ میں شریعت کے احکام و قوانین بیان کئے گئے ہیں جو انفرادی زندگی سے بھی تعلق رکھتے ہیں اور اجتماعی زندگی سے بھی ، مذہبی بھی ہیں اور اخلاقی بھی، عائلی بھی ہیں اور سوشل بھی۔ یہ وہ رہنمائی ہے جو اسلام نے زندگی کے مختلف گوشوں میں کی ہے۔ موقع موقع سے بنیادی عقائد بھی پیش کئے گئے ہیں کیوں کہ ان ہی کی بدولت آدمی راہِ ہدایت پر قائم رہ سکتا ہے۔

آیت ۲۴۳ تا ۲۸۳ میں مرکز ہدایت خانۂ کعبہ کو مشرکین کے قبضہ سے آزاد کرانے کے لیے جہاد کی اور اس سلسلہ میں انفاق کی ترغیب دی گئی ہے۔ ساتھ ہی انفاق کی ضد یعنی سود کی حرمت بیان کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں کاروباری معاملات کو درست رکھنے کے سلسلہ میں بھی ہدایت دی گئی ہیں۔

آیت ۲۸۴ تا ۲۸۶ خاتمۂ کلام ہے۔ اس میں ان لوگوں کے ایمان لانے کا ذکر ہے۔ جو کسی تعصب میں مبتلا نہ تھے کہ کسی رسول کو مانیں اور کسی کو نہ مانیں بلکہ حق پسند تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر ہدایت کی راہ کھول دی چنانچہ ان کی زبان سے وہ دعا ادا ہوئی جو ان کے احساسِ ذمہ داری کی ترجمانی کرتی ہے۔

تلاوت کی ترغیب: حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

لا تجعلوا بیوتکم مقابر ان الشیطان ینفرمن البیت الذی تُقرَئُ فیہ سورۃ البقرہ ” اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔ شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے جس میں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔ ” (مسلم)

یہ اس لیے کہ سورۂ بقرہ میں شیطان کی سازشوں کو بے نقاب کیا گیا ہے اور اس میں عائلی زندگی کے احکام بھی بیان کئے گئے ہیں نیز ایمان اور ہدایت کی راہ بخوبی واضح کی گئی ہے۔ اس لیے جس گھر میں اس کو سمجھ کر پڑھنے پڑھانے کا اہتمام کیا جائے گا وہاں شیطان کو فتنہ اور شر برپا کرنے میں کامیابی نہیں ہو سکے گی۔

 

                   ترجمہ

 

نوٹ: نشان ” *” سے  تفسیری نوٹ کے نمبر شمار کی نشان دہی کی گئی ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الف۔ لام۔ میم ۱*

۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ کتاب ۲* الہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ ہدایت ۳* ہے متقیوں ۴* کے لیے

۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو غیب ۵* پر ایمان ۶* لاتے ہی، نماز ۷* قائم کرتے ہیں اور جو رزق ہم نے ان کو دیا اس میں سے خرچ ۸* کرتے ہیں۔

۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو کتاب (اے پیغمبر!) تم پر نازل کی گئی ہے اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ان سب پر ایمان ۹* لاتے ہیں۔ اور آخرت ۱۰* پر یقین رکھتے ہیں۔

۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہی ۱۱* لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح ۱۲* پانے والے ہیں۔

۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جن لوگوں نے کفر کیا ۱۳* ان کے لیے یکساں ہے۔ تم انہیں خبردار کرو یا نہ کرو۱۴* ، وہ ایمان لانے والے نہیں۔

۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر ۱۵* لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے۔ وہ سخت عذاب ۱۶* کے مستحق ہیں۔

۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور لوگوں میں ایسے ۱۷* بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے ہیں مگر حقیقت میں وہ مومن نہیں ہیں۔

۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ اللہ اور اہل ایمان کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں حالانکہ وہ خود اپنے آپ ہی کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ مگر انہیں اس کا احساس نہیں ہے۔

۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان کے دلوں میں روگ ۱۸* ہے۔ جسے اللہ نے اور زیادہ کر دیا ہے اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں اس کی وجہ سے ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔

۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد ۱۹* برپا نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔

۱۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خبردار ! یہی لوگ ہیں جو فساد پھیلانے والے ہیں لیکن انہیں اس کا احساس نہیں۔

۱۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جس طرح دوسرے لوگ ۲۰* ایمان لائے ہیں اسی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو کہتے ہیں کیا ہم اس طرح ایمان لائیں جس طرح بے وقوف ایمان لائے ہیں ؟ خبردار! بے وقوف در حقیقت یہی لوگ ۲۱* ہیں۔ لیکن جانتے نہیں ہیں۔

۱۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب یہ اہلِ ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ان لوگوں سے تو ہم مذاق کر رہے ہیں۔ اور جب علیٰحدگی میں اپنے شیطانوں ۲۲* سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ان لوگوں سے تو ہم مذاق کر رہے ہیں۔

۱۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ ان سے مذاق کر رہا ہے۔ اور ان کو ان کی سرکشی میں ڈھیل دیئے جا رہا ہے۔ اور حال یہ ہے کہ وہ اندھوں کی طرح بھٹکتے پھر رہے ہیں۔

۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلہ گمراہی مول لی لیکن نہ تو ان کا سودا نفع بخش ہوا اور نہ وہ ہدایت یاب ہی ہو سکے۔

۱۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ جلائی اور جب اس سے ماحول روشن ہوا تو اللہ نے ان کی روشنی سلب کر لی اور ان کو تاریکیوں میں چھوڑ دیا کہ کچھ دکھائی نہیں دیتا ۲۳*

۱۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ بہرے ہیں ، گونگے ہیں ، اندھے ہیں۔ اب یہ نہ لوٹیں گے ۲۴*

۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یا پھر ان کی مثال یوں سمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہو رہی ہے۔ جس کے ساتھ کالی گھٹائیں کڑک اور بجلی بھی ہے۔ یہ بجلی کے کڑاکے سن کر موت کے ڈر سے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں حالانکہ اللہ ان منکرین کو اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔

۲۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قریب ہے کہ بجلی ان کی بصارت اچک لے جائے۔ جب جب چمک جاتی ہے یہ چل پڑتے ہیں۔ اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں ۲۵*۔ اگر اللہ چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت سلب کر لیتا ۲۶*۔ یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

۲۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے لوگو! عبادت ۲۷* کرو اپنے رب کی جس نے تم کو بھی پیدا کیا اور ان لوگوں کو بھی جو تم سے پہلے گزرے ہیں ۲۸*۔ تاکہ (دوزخ کی آگ سے) بچو۔

۲۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا۔ آسمان سے پانی برسایا اور اس سے پھل پیدا کر کے تمہارے رزق کا ساماں کیا۔ تو دیکھو! یہ جانتے ہوئے دوسروں کو اللہ کا ہم سر ۲۹* نہ ٹھہراؤ۔

۲۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اگر تمھیں اس کے بارے میں شک ہے جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کی ہے تو اس کی مانند ایک سورہ ہی لے آؤ۔ ور اللہ کے وا جو تمہارے حمایتی ہیں ان سب کو بلا لو۔ اگر تم سچے ہو ۳۰*۔ (تو ایسا کر کے دکھاؤ)

۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن اگر تم ایسا نہ کر سکو اور ہرگز نہ کر سکو گے تو اس آگ سے بچو جس کا ایندھن بنیں گے آدمی اور پتھر ۳۱* جو تیار کی گئی ہے کافروں کے لیے۔

۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور (اے پیغمبر!) جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیا ان کو بشارت دے دو کہ ان کے لیے ایسے باغ ہیں ۳۲*۔ جن کے تلے نہریں رواں ہوں گی۔ جب جب ان کے پھل ان کو کھانے کے لیے دیئے جائیں گے وہ کہیں گے کہ یہ وہی پھل ہیں جو اس سے پہلے ہمیں (دنیا میں) ملے تھے اور ا سے مشابہ ان کو عطاء کیے جائیں گے ۳۳*۔ نیز ان باغوں میں ان کے لیے پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔

۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ اس بات سے نہیں شرماتا کہ کوئی مثال بیان کرے خواہ وہ مچھر کی ہو یا اس سے کمتر کسی چیز کی ۳۴*۔ جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ حق ہے ان کے رب کی جانب سے اور جو منکر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس تمثیل سے اللہ کا کیا مطلب ؟ (اس طرح وہ اس کے ذریعہ کتنوں ہی کو گمراہ کرتا ہے اور کتنوں ہی کو ہدایت بخشتا ہے اور گمراہ ان ہی کو کرتا ہے جو فاسق ہیں ۳۵*۔

۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ دیتے ہیں ، جن تعلقات کو جوڑنے کا حکم اللہ نے دیا ہے ان کو قطع کرتے ۳۶* ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں۔ یہی لوگ گھاٹے میں رہنے والے ہیں۔

۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم کس طرح اللہ کا انکار کرتے ہو ۳۷* حالانکہ تم مردہ تھے تو اس نے تم کو زندگی بخشی، پھر وہی تم کو موت دے گا اور اس کے بعد تم کو زندہ ۳۸* کرے گا۔ پھر اسی کی طرف تم لوٹائیے جاؤ گے۔

۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہی ہے جس نے تمہارے لیے وہ سب کچھ پیدا کیا جو زمین میں ہے پھر آسمان کی طرف توجہ فرمائی اور سات آسمان ۳۹* استوار کیے اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔

۳۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں ۴۰* سے کہا تھا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ ۴۱* بنانے والا ہوں۔ انہوں نے عرض کیا کیا تو اس میں ایسی مخلوق بنائے گا جو بگاڑ دے گا کرے گی اور خونریزیاں ۴۲* کرے گی؟ ہم تو تیری حمد کے ساتھ تسبیح اور پاکی بیان کرتے ہیں۔ فرمایا میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۴۳*

۳۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس نے آدمؑ کو سارے نام ۴۴* سکھا دیئے پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کر کے کہا۔ اگر تم سچے ہو تو ۴۵* ان کے نام بتاؤ۔

۳۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے عرض کیا: پاک ہے تو۔ جو علم تو نے ہمیں بخشا ہے اس کے سوا ہمیں کوئی علم نہیں ، بے شک تو ہی صاحب علم اور صاحب حکمت ہے۔

۳۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرمایا: اے آدمؑ ان کو ان کے نام بتاؤ۔ جب اس نے ان کو ان کے نام ۴۶* بتائے تو اس نے فرمایا : میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ آسمانوں اور زمین کے بھید کو میں ہی جانتا ہوں اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اس کو بھی جانتا ہوں اور جو کچھ تم چھپا رہے تھے وہ بھی میرے علم میں ہے۔

۳۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے کہا: آدمؑ کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ ۴۷* کیا مگر ابلیس ۴۸* نے نہیں کیا۔ اس نے انکار کیا اور گھمنڈ کیا اور کافروں ۴۹* میں سے ہو گیا۔

۳۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے کہا اے آدم! تم اور تمہاری بیوی دونوں جنت ۵۰* میں رہو اور اس میں جو چاہو بفراغت کھاؤ۔ مگر اس درخت ۵۱* کے پاس نہ پھٹکنا ورنہ ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔

۳۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن شیطان نے ان کو پھسلا ۵۲ * دیا اور جس عیش میں وہ تھے اس سے ان کو نکلوا چھوڑا۔ ہم نے کہا۔ تم سب یہاں سے اتر جاؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ۵۳* ہو اور تمہیں ایک وقت خاص تک زمین میں رہنا اور گزر بسر کرنا ہے۔

۳۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر آدم نے اپنے رب سے (توبہ کے) چند کلمات سیکھ لیے تو اس کے رب نے اس کی توبہ ۵۴*قبول کی۔ بے شک وہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

۳۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے کہا تم سب یہاں سے اتر جاؤ ۵۵*۔ پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت ۵۶* تمہارے پاس آئے تو جو لوگ میری ہدایت کی پیروی کریں گے ان کے لیے نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ۵۷* ہوں گے۔

۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن جو لوگ کفر کریں گے اور ہماری آیتوں ۵۸* کو جھٹلائیں گے وہ آگ والے ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

۴۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے بنی اسرائیل ۵۹* ! یاد کرو میری اس نعمت ۶۰* کو جو میں نے تم پر کی اور میرے عہد ۶۱* کو پورا کرو میں تمہارے عہد کو پورا کروں گا اور مجھ ہی سے ڈرو۔ ۶۲*

۴۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور میں نے جو کتاب اتاری ہے اس پر ایمان لاؤ۔ یہ تصدیق ۶۳*کرتی ہے اس کتاب کی جو تمہارے پاس موجود ہے لہذا تم سب سے پہلے انکار کرنے والے نہ بنو اور میری آیتوں کو حقیر قیمت

* پر بیچ نہ ڈالو اور میرے غضب سے بچو۔

۴۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حق کو باطل کے ساتھ گڈ مڈ نہ کرو اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپاؤ۔

۴۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نماز ۶۵ * قائم کرو، زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع ۶۶* کرو

۴۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا لوگوں کو تم نیکی کا حکم کرتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو حالانکہ تم کتابِ الٰہی کی تلاوت کرتے ہو۔ پھر کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔

۴۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ صبر اور نماز سے مدد لو۔ بیشک یہ شاق ہے مگر ان لوگوں پر نہیں جو خشوع ۶۷* اختیار کرنے والے ہیں۔

۴۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو سمجھتے ہیں کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔

۴۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے بنی اسرائیل ! یاد کرو ۶۸* میری اس نعمت کو جس سے میں نے تمہیں نوازا تھا اور اس بات کو کہ میں نے تمہیں اقوام عالم پر فضیلت ۶۹* عطا کی تھی۔

۴۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس دن سے ڈرو جب کوئی نفس کی نفس کے کچھ کام نہ آئے گا، اس کی طرف سے کوئی سفارش قبول نہیں کی جائے گی، نہ اس سے فدیہ لیا جائے گا اور نہ ہی ان کی مدد کی جائے گی۔

۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یاد کرو جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات بخشی انہوں نے تم کو برے عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا۔ تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی۔

۵۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یاد کرو جب ہم نے سمندر پھاڑ کر تمہیں اس میں سے گزار دیا اور آل فرعون کو غرق کر دیا اور تم دیکھتے ہی رہ گئے۔

۵۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یاد کرو جب ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کا وعدہ ۷۰* مقرر کیا۔ پھر موسیٰ کے پیچھے تم بچھڑے ۷۱*کو معبود بنا بیٹھے اس طرح تم ظلم کے مرتکب ہوئے۔

۵۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس پر بھی ہم نے تم سے درگزر کیا تاکہ تم شکر گزار بنو۔

۵۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یاد کرو جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور فرقان ۷۲* عطا کی تاکہ تم ہدایت حاصل کرو۔

۵۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو! تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنے اوپر ظلم کیا ہے لہذا اپنے خالق کے حضور توبہ کرو اور اپنے (مجرموں) کو قتل کرو ۷۳*۔

یہ تمہارے خالق کے نزدیک تمہارے حق میں بہتر ۷۴* ہے پس اس نے تمہاری توبہ قبول کر لی۔ بیشک وہی توبہ قبول کرنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۵۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یاد کرو جب تم نے کہا اے موسیٰ ہم آپ کی بات ماننے والے نہیں ہیں جب تک کہ ہم خدا کو کھل کھلا دیکھ نہ لیں اس وقت تم کو کڑک نے آ لیا اور تم دیکھتے ہی رہ گئے ۷۵*۔

۵۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر ہم نے تمہیں موت کے بعد جلا اٹھایا تاکہ تم شکر گزار بنو۔

۵۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے تم پر ابر کا سایہ کیا اور تم پر من و سلویٰ ۷۶* اتارا کھاؤ ان پاک چیزوں کو جو ہم نے تمہیں بخشی ہیں۔ مگر انہوں نے جو کچھ کیا وہ ہم پر ظلم نہ تھا بلکہ وہ اپنے ہی نفس پر ظلم کرتے رہے۔

۵۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یاد کرو جب ہم نے کہا تھا اس بستی ۷۷* میں داخل ہو جاؤ اور جہاں سے چاہو بفراغت کھاؤ اور دروازے ۷۸* میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے داخل ہو اور حِطۃ ۷۹ * (اے رب ! ہمارے گناہ بخش دے) کہو۔ ہم تمہارے گناہ بخش دیں گے اور حسن و خوبی کے ساتھ حکم کی تعمیل کرنے والوں کو ہم مزید فضل سے نوازیں گے۔

۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر جو بات کہی گئی تھی اسے ظالموں نے دوسری بات سے بدل دیا۔ آخر کار ہم نے ظلم کرنے والوں پر ان کی نافرمانیوں کی پاداش میں آسمان سے عذاب نازل کیا۔

۶۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے پانی کی دعا ۸۰* کی توہم نے کہا اپنا عصا پتھر پر مارو چنانچہ اس سے بارہ چشمے ۸۱* پھوٹ نکلے ہر گروہ نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کر لیا۔ کھاؤ اور پیو الہ کے رزق میں سے اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو۔

۶۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یاد کرو جب تم نے کہا تھا کہ اے موسیٰ ہم ایک ہی قسم کے کھانے پر ہرگز صبر نہیں کریں گے۔ اپنے رب سے دعا کیجئے کہ وہ ہمارے لیے زمین کے نباتات مثلاً سبزیاں ، ککڑیاں ، لہسن، مسور، پیاز وغیرہ پیدا کرے۔ موسیٰ نے کہا م اعلیٰ چیز کے بدلہ میں ادنیٰ ۸۲* چیز حاصل کرنا چاہتے ہو؟ کسی شہر میں اتر جاؤ تمہیں وہاں اپنی مطلوبہ چیزیں ملیں گی اور ان پر ذلت اور پستی مسلط کر دی گئی اور وہ اللہ کے غضب کے مستحق ہوئے۔ یہ اس وجہ سے ہوا کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرنے لگے تھے اور نبیوں کو ناحق قتل ۸۳* کرتے تھے۔ یہ نتیجہ تھا ان کی نافرمانیوں کا اور اس کا کہ وہ حد سے تجاوز کرنے لگے تھے۔ ۸۴*

۶۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بے شک جو ایمان ۸۵* لائے اور جو یہودی ہوئے اور نصاریٰ اور صابی ۸۶* جو بھی اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیا تو ایسے لوگوں کا اجر ان کے رب کے پاس ہے، ان کے لیے نہ خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ ۸۷*

۶۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یاد کرو جب ہم نے طور کو تمہارے اوپر اٹھا کر تم سے پختہ ۸۸* لیا تھا (اور تاکید کی تھی کہ) جو کتاب ہم نے تمہیں دی ہے اسے مضبوطی سے تھام لو اور جو ہدایت اس میں درج ہیں انہیں یاد رکھو تاکہ اللہ کے غضب سے بچو۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر اس قول و قرار کے بعد تم اپنے عہد سے پھر گئے اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم تباہ ہو چکے ہوتے۔

۶۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ان لوگوں کا قصہ تو تمہیں معلوم ہی ہے جو سبت ۸۹* کے معاملہ میں زیادتی کے مرتکب ۹۰* ہوئے تھے اور اس کی پاداش میں ہم نے ان سے کہہ دیا کہ ذلیل بندر بن جاؤ۔

۶۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس طرح ہم نے اس زمانہ کے لوگوں اور بعد کے آنے والوں کے لیے اس کو نمونۂ عبرت بنایا نیز متقیوں کے لیے نصیحت۔

۶۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے۔ کہنے لگے کیا آپ ہم سے مذاق کر رہے ہیں ؟ موسیٰ نے کہا میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ جاہل بن جاؤ۔

۶۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے کہا کہ اپنے رب سے دعا کیجئے وہ ہمیں واضح طور پر بتائے کہ گائے کیسی ہونی چاہئے۔ موسیٰ نے کہا وہ فرماتے ہے کہ گائے نہ بوڑھی ہو اور نہ بچھیا۔ اوسط عمر کی ہو۔ پس جو حکم دیا جا رہا ہے اس کی تعمیل کرو۔

۶۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہنے لگے اپنے رب سے دعا کیجئے وہ یہ واضح کرے کہ اس کا رنگ کیسا ہو۔ موسیٰ نے کہا وہ فرماتا ہے گائے زرد رنگ کی ہو ایسے شوخ رنگ کی کہ دیکھنے والے خوش ہو جائیں۔

۷۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بولے اپنے رب سے دعا کیجئے وہ اچھی طرح واضح کرے کہ وہ گائے کیسی ہونی چاہئے۔ گائے کی تعین میں ہمیں اشتباہ ہو گیا ہے اور انشاء اللہ ہم اس کا پتہ پا لیں گے۔

۷۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ موسیٰؑ نے کہا وہ فرماتا ہے گائے ایسی ہو جس سے خدمت نہ لی جاتی ہو زمین جوتنے کی اور نہ آبپاشی کی۔ صحیح سالم اور بے داغ ہو ۹۱*۔ کہنے لگے اب آپ واضح بات ۹۲* لائے۔ پھر انہوں نے اسے ذبح کیا حالانکہ وہ ذبح کرنے پر آمادہ نہ تھے۔

۷۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یاد کرو جب تم نے ایک شخص کو قتل کیا تھا پھر اس کے بارے میں ایک دوسرے پر الزام لگا رہے تھے اور اللہ چاہتا تھا کہ جو بات تم چھپا رہے ہو اس کو ظاہر کر کے رکھ دے۔

۷۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چنانچہ ہم نے کہا اس (مقتول کی لاش) کو اس (گائے) کے ایک حصہ سے ضرب ۹۳* لگاؤ۔ اس طرح اللہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو ۹۴*۔

۷۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان نشانیوں کو دیکھنے کے بعد بھی تمہارے دل سخت ہو گئے پتھروں کو دیکھنے کے بعد بھی زیادہ سخت کیونکہ بعض پتھر ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں اور بعض پھٹ جاتے ہیں اور ان سے پانی جاری ہو جاتا ہے ۹۵* اور بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو خدا کے خوف سے گر پڑتے ہیں اور اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں ہے۔

۷۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ لوگ تمہاری بات مان لیں گے حالانکہ ان میں سے ایک گروہ اللہ کا کلام سنتا رہا ہے اور اس کو سمجھ چکنے کے بعد دانستہ اس میں تحریف ۹۶* کرتا رہا ہے۔

۷۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب یہ اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے ہیں اور جب اکیلے میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ کیا تم ان کو وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں تاکہ تمہارے رب کے پاس تمہارے خلاف حجت کریں ۹۷ * ؟ کیا تم سمجھتے نہیں ؟

۷۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا انہیں نہیں معلوم کہ اللہ ان باتوں کو بھی جانتا ہے جن کو وہ چھپاتے ہیں اور ان باتوں کو بھی جن کو وہ ظاہر کرتے ہیں۔

۷۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ان میں ان پڑھ ۹۸* لوگ بھی ہیں جو کتابِ الٰہی کا علم نہیں رکھتے بلکہ آرزوؤں ۹۹* کو لیے بیٹھے ہیں اور صرف اٹکل کی باتیں کرتے ہیں۔

۷۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پس تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنے ہاتھ سے کتاب لکھتے ہیں ۱۰۰* پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے تاکہ اس کے ذریعے تھوڑی سی قیمت ۱۰۱* وصول کر لین۔ تو ان کے ہاتھ کا یہ لکھا بھی ان کے لیے تباہی کا باعث ہے اور ان کی یہ کمائی بھی ان کے لیے موجبِ ہلاکت ۱۰۲*۔

۸۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ کہتے ہیں (دوزخ کی) آگ ہمیں چھوٹے گی نہیں اِلا یہ کہ گنتی کے چند ۱۰۳ * دنوں کے لیے آگ میں ڈالے جائیں۔ ان سے پوچھو کیا تم نے اللہ سے کوئی عہد لے رکھا ہے کہ اللہ اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرے گا یا تم اللہ کی طرف ایسی بات منسوب کرتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں۔

۸۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیوں نہیں ؟ جس نے بھی برائی کمائی اور اس کے گناہوں نے اس کو گھیرے میں لے لیا تو ایسے ہی لوگ دوزخ والے ہیں۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

۸۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کئے وہ جنت والے ہیں۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

۸۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یاد کرو جب ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا تھا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا والدین ۱۰۴* ، قرابت داروں ، یتیموں ور مسکینوں کے ساتھ نیک سلوک کرنا، لوگوں سے اچھی ۱۰۵* بات کہنا ، نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا مگر تھوڑے آدمیوں کے سوا تم سب اس سے بر گشتہ ہو گئے اور منہ موڑنا تو تمہارا شیوہ ہی ہے۔

۸۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یاد کرو جب ہم نے تم سے پختہ عہد لیا تھا کہ ایک دوسرے کا خون نہ بہاؤ گے اور نہ ایک دوسرے کو ان کی بستیوں سے نکالو گے۔ پھر تم نے اس کا اقرار کیا اور تم اس پر گواہ ہو۔

۸۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر یہ تم ہی لوگ ہو کہ اپنوں کو قتل کرتے ہو اور اپنے ہی ایک گروہ کو ان کی بستیوں سے نکالتے ہو اور گناہ و زیادتی کے ساتھ ان کے دشمنوں کی مدد کرتے ہو۔ اگر وہ تمہارے پاس ایسر ہو کر آتے ہیں تو فدیہ دے کر انہیں چھڑا ۱۰۶* لیتے ہو۔ حالاں کہ سرے سے ان کو (ان کے گھروں سے) نکالنا ہی تم پر حرام تھا۔ پھر کیا تم کتابِ الٰہی کے ایک حصے کو مانتے ہو اور دوسرے حصے سے انکار کرتے ہو؟ پھر تم میں سے جو لوگ اس کے مرتکب ہوں ان کی سزا ۱۰۷* اس کے سوا اور کیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں وہ رسوا ہو اور قیامت کے دن شدید ترین عذاب کی طرف پھیر دیئے جائیں ؟ اللہ تمہارے کرتوتوں سے بے خبر نہیں ہے۔

۸۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیوی زندگی خرید لی ۱۰۸*۔ لہذا نہ تو ان کے عذاب میں کوئی تخفیف ہو گی اور نہ وہ کہیں سے مدد پا سکیں گے۔

۸۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اس کے بعد پے درپے رسول بھیجے اور عیسیٰ ابن مریم کو کھلی نشانیاں ۱۰۹* دیں اور روح القدوس ۱۱۰* (پاک روح) سے اس کی مدد کی پھر تمہارا یہ کیا شیوہ ہے کہ جب بھی کوئی رسول تمہاری خواہشات نفس کے خلاف کوئی بات لے کر آیا تم نے تکبر ہی کیا ؟ کسی کو جھٹلایا اور کسی کو قتل کر ڈالا۔

۸۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ کہتے ہیں ہمارے دل بند ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کر دی ہے اس لیے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔

۸۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایک کتاب آئی تصدیق کرتی ہوئی اس کی جو ان کے پاس پہلے سے موجود ہے اور اس سے پہلے وہ کافروں کے مقابلہ میں فتح کی دعائیں مانگا کرتے تھے لیکن جب وہ چیز ان کے پاس آ گئی جسے وہ پہچان بھی گئے تو انہوں نے اس کا انکار کر دیا ۱۱۱*۔ اللہ کی لعنت ہو ایسے منکرین پر۔

۹۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا ہی بری چیز ہے جس کے بدلہ انہوں نے اپنی جانوں کا سودا کیا کہ ضد میں آ کر وہ اللہ کی نازل کردہ ہدایت کا محض اس بنا پر انکار کر رہے ہیں کہ اللہ نے اپنے فضل سے اپنے جس بندے ۱۱۲* کو چاہا نوازا۔ لہذا یہ غضب در غضب کے مستحق ہوئے اور کافروں کے لیے سخت رسوا کن عذاب ہے۔

۹۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے س پر ایمان لاؤ تو وہ کہتے ہیں ہم اس چیز پر ایمان رکھتے ہیں جو ہم پر نازل ہوئی ہے اس کے علاوہ جو کچھ نازل ہوا ہے اس کا وہ انکار کرتے ہیں حالانکہ وہ حق ہے اور جو کچھ ان کے پاس موجود ہے اس کی ۱۱۳* وہ تصدیق کرتا ہے۔ ان سے کہو پھر تم اللہ کے پیغمبروں کو اس سے پہلے کیوں قتل کرتے رہے اگر تم مومن ۱۱۴* ہو؟

۹۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تمہارے پاس موسیٰ کھلی کھلی نشانیاں لے آئے تھے پھر بھی تم نے ان کے پیچھے بچھڑے کے معبود بنا لیا اور تم ظلم ڈھانے والے بنے۔

۹۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یاد کرو جب ہم نے طور کو تمہارے اوپر اٹھا کر تم سے پختہ عہد لیا تھا اور حکم دیا تھا کہ جو کچھ ہم نے تم کو دیا ہے اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑ لو اور سنو۔ انہوں نے کہا ہم نے سنا اور نافرمانی کی اور ان کے کفر کے سبب بچھڑے کی پرستش ان کے دلوں میں ر بس گئی۔ ان سے کہو اگر تم مومن ہو تو تمہارا ایمان تم کو کیسی بری حرکتوں کا حکم دیتا ہے۔

۹۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان سے کہو اگر آخرت کا گھر تمام لوگوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے لیے مخصوص ہے تو موت کی تمنا کرو اگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو۔

۹۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر انہوں نے جو کچھ آگے بھیجا ہے اس کی وجہ سے وہ ہر گز اس کی تمنا نہ کریں گے۔ اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

۹۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم ان کو زندگی کا سب سے زیادہ حریص پاؤ گے حتیٰ کہ مشرکوں سے بھی زیادہ۔ ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے ہزار سال کی عمر ملے حالانکہ لمبی عمر انہیں عذاب سے بچانے والی نہیں اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں اسے اللہ دیکھ ۱۱۵* رہا ہے۔

۹۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہو جو جبریل کا دشمن ہو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ جبریل ۱۱۶* نے اللہ کے اذان سے یہ قرآن (اے پیغمبر) تمہارے دل پر نازل کیا ہے ان کتابوں کی تصدیق کرتا ہے جو پہلے نازل ہو چکی ہیں اور ہدایت و بشارت ہے ایمان لانے والوں کے لیے۔

۹۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو شخص اللہ، اس کے فرشتوں ، اس کے رسولوں اور جبریل و میکائیل ۱۱۷* کا دشمن ہو تو اللہ ایسے کافروں کا دشمن ہے۔

۹۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے تمہاری طرف نہایت واضح آیتیں نازل کی ہیں اور ان کا انکار وہی لوگ کرتے ہیں جو فاسق ہیں ۱۱۸*

۱۰۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا ان کی یہ روش نہیں رہی ہے کہ جب کبھی انہوں نے کوئی عہد کیا ان کے ایک نہ ایک گروہ نے اسے ضرور اٹھا کر پھینک دیا حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے۔

۱۰۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایک رسول اس (کتاب) کی تصدیق کرتا ہوا آیا جو ان کے پاس موجود ہے تو ان اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے اللہ کی تاب کو اس طرح پس پشت ڈال دیا کہ گویا وہ جانتے ہی نہیں۔

۱۰۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ان چیزوں کے پیچھے پڑ گئے جو شیاطین سلیمان کی حکومت کی طرف منسوب کر کے پڑھتے پڑھاتے ۱۱۹* تھے۔ حالانکہ سلیمان نے کفر نہیں کیا بلکہ شیطانوں نے کفر کیا جو لوگوں کو جادو ۱۲۰* سکھاتے تھے اور بابل میں دو فرشتوں ہاروت و ماروت پر (جادو) نازل نہیں کیا گیا تھا اور وہ کسی کو سکھاتے نہ تھے جب تک کہ اس کو متنبہ نہ کرتے کہ ہم تو آزمائش کے لیے ہیں لہذا تم کفر میں نہیں پڑنا۔ پھر بھی یہ لوگ ان سے وہ چیز سیکھتے جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں ۱۲۱* حالانکہ وہ اذن الٰہی کے بغیر کسی کو بھی اس کے ذریعہ نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے۔ مگر وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو خود ان کے حق میں نفع بخش نہیں تھی بلکہ نقصان دہ تھی اور انہیں معلوم تھا کہ جس نے اسے خریدا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ کیا ہی بری ہے وہ چیز جس کے بدلہ انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا کاش کہ وہ جان لیتے۔

۱۰۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر وہ ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو اللہ کے ہاں اس کا جو بدلہ ملتا وہ کہیں بہتر تھا۔ کاش انہیں علم ہوتا۔

۱۰۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے ایمان لانے والو! “راعنا “۱۲۲* نہ کہا کرو بلکہ “اُنْظرنا” کہا کرو اور توجہ سے سنا کرو۔ رہے کافر تو ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

۱۰۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جن لوگوں نے کفر کیا خواہ وہ اہل کتاب ہو یا مشرک نہیں چاہتے کہ تمہارے رب کی طرف سے تم پر کوئی خیر نازل ہو لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت کے لیے خاص کرتا ہے اللہ بڑے فضل والا ہے۔

۱۰۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم جس حکم کو منسوخ کر دیتے ہیں یا بھلا دیتے تو اس سے بہتر یا اس کے مانند دوسرا حکم لے آتے ہیں ۱۲۳* کیا تمہیں معلوم کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

۱۰۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا تم نہیں جانتے کہ زمین اور آسمانوں کی فرماں روئی اللہ ہی کے لیے ہے اور اس کے سوا نہ تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ مددگار؟

۱۰۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے اس طرح کے سوالات کرو جس طرح کے سوالات ۱۲۴* اس سے پہلے موسیٰ سے کئے گئے تے اور جو شخص ایمان کو کفر سے بدل دے وہ راہ راست سے بھٹک گیا۔

۱۰۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہت سے اہل کتاب یہ چاہتے ہیں کہ وہ تمہارے ایمان لانے کے بعد پھر تمہیں کفر کی طرف پلٹا لے جائیں محض اپنے نفس کے حسد کی بنا پر جب کہ حق ان پر اچھی طرح واضح ہو چکا ہے تو عفو و درگزر سے کام لو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فرمائے یقین جانو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

۱۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو۔ جو نیکی بھی تم اپنی عاقبت کے لیے کرو گے اسے اللہ کے ہاں موجود پاؤ گے جو کچھ تم کر رہے ہو وہ سب اللہ کی نگاہ میں ہے۔

۱۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ کہتے ہیں جنت میں نہیں داخل ہوں گے مگر وہ جو یہودی ہیں یا نصرانی۔ یہ محض ان کی تمنائیں ۱۲۵* ہیں کہو اس بات پر دلیل پیش کرو اگر تم سچے ہو۔

۱۱۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیوں نہیں جو بھی اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دے اور نیک روی اختیار کرے اس کے لیے اس کے رب کے پاس اس کا اجر ہے اور ایسے لوگوں کے لیے نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگیں ۱۲۶* ہو گے۔

۱۱۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہود کہتے ہیں نصاریٰ کچھ نہیں اور نصاریٰ کہتے ہیں یہود کچھ نہیں حالانکہ دونوں ہی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں ایسی ہی بات وہ لوگ بھی کہتے ہیں جن کو (کتاب کا) علم ۱۲۷* نہیں ہے۔ تو اللہ قیامت کے دن ان کے اختلافات کا فیصلہ فرمائے ۱۲۸* گا۔

۱۱۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ کی مسجدوں میں اس کے نام کا ذکر کرنے سے روکے ۱۲۹* اور ان کی ویرانی کے درپے ہو؟ ایسے لوگوں کو ان (مسجدوں) میں داخل ہونے کا حق نہیں ہے اِلا یہ کہ ڈرتے ہوئے داخل ہوں۔ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بھی عذاب عظیم ۱۳۰*

۱۱۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اللہ ہی کے لیے ہے مشرق و مغرب ۱۳۱* جس طرف بھی تم رخ کرو گے اسی طرف اللہ کا رخ ۱۳۲* ہے اللہ بڑی وسعت والا ۱۳۳* اور سب کچھ جاننے والا ہے۔

۱۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ کہتے ہیں اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے۔ اللہ ان باتوں سے پاک ہے بلکہ آسمانوں اور زمین کی ساری موجودات اسی کی ملک ہیں۔ سب اسی کے تابع فرمان ہیں ۱۳۴*

۱۱۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہی آسمانوں اور زمین کا موجد ہے اور جب وہ کسی بات کا فیصلہ کر لیتا ہے تو بس اس کے لیے فرما دیتا ہے کہ ہو جا اور وہ ہو جاتی ہے۔

۱۱۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو لوگ علم نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں اللہ ہم سے کلام کیوں نہیں کرتا یا کوئی نشانی ہمارے پاس کیوں نہیں آتی؟ ۱۳۵*

ان سے پہلے کے لوگ بھی ایسی ہی باتیں کرتے تھے۔ ان سب کے دل (ذہن) ایک جیسے ہیں۔ یقین کرنے والوں کے لیے ہم نے نشانیاں اچھی طرح واضح کر دی ہیں۔

۱۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (اے پیغمبر!) ہم نے تمہیں حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا بنا کر بھیجا ہے اور تم سے دوزخیوں کے بارے میں پرسش نہیں ہو گی۔ ۱۳۶*

۱۲۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم سے نہ یہودی راضی ہونے والے ہیں اور نہ نصاریٰ جب تک کہ تم ان ہی کے طریقہ پر نہ چلو۔ ان سے کہو اللہ کی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے اور تم نے اس علم کے بعد جو تمہارے پاس آ چکا ہے ان کی خواہشات کی پیرو کی تو تمہارے لیے اللہ کی گرفت سے بچانے والا نہ کوئی دوست ہو گا اور نہ مدد گار۔

۱۲۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جن لوگوں کو ہم نے کتاب عطا کی ہے وہ اسے اس طرح پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنے کا حق ہے۔ ایسے لوگ قرآن پر ایمان لاتے ہیں ۱۳۷* اور جو اس کا انکار کریں گے وہی گھاٹے میں رہنے والے ہیں۔

۱۲۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے بنی اسرائیل! یاد کرو میری اس نعمت کو جس سے میں نے تمہیں نوازا اور یہ کہ میں نے تمہیں اقوام عالم پر فضیلت عطا کی۔

۱۲۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس دن سے ڈرو جب کوئی نفس کسی نفس کے کام نہ آئے گا نہ کسی سے فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ کسی کو کوئی سفارش ہی فائدہ پہنچا سکے گی اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔

۱۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یاد کرو جب ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا تو اس نے ان کو پورا کر دکھایا ۱۳۸* الہ نے فرمایا میں تمہیں لوگوں کا امام (پیشوا) بنانے والا ہوں۔ ابراہیم نے عرض کیا اور میری اولاد میں سے ؟ فرمایا میرا یہ عہد ۱۳۹* ان لوگوں سے متعلق نہیں ہے جو ظالم ہوں گے ۱۴۰*۔

۱۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یاد کرو جب ہم نے اس گھر کو ۱۴۱* کو لوگوں کے لیے مرکز اور جائے امن بنا دیا اور حکم دیا کہ مقام ابراہیم کو جائے نماز بنا لو اور ابراہیم اور اسماعیل کو تاکید کی تھی کہ میرے گھر کو طواف کرنے ۱۴۲* والوں ، اعتکاف کرنے ۱۴۳* والوں اور رکوع اور سجدہ ۱۴۴* کرنے والوں کے لیے پاک رکھو ۱۴۵*

۱۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب ابراہیم نے دعا کی اے میرے رب اس شہر کو امن کا شہر بنا دے اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ اور آخرت پر ایمان لائے ان کو پھلوں ۱۴۶* کا رزق دے۔ فرمایا جو کفر کریں گے انہیں بھی چند روز سامان زندگی سے فائدہ اٹھانے کا موقع دوں گا پھر انہیں دوزخ کے عذاب کی طرف گھسیٹوں گا اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔

۱۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب ابراہیم اسماعیل بیت اللہ کی دیواریں اٹھا رہے تھے اور دعا کر رہے تھے کہ اے ہمارے رب! ہم سے قبول فرما تو خوب سننے والا اور خوب جاننے والا ہے۔

۱۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے ہمارے رب! ہم دونوں کو اپنا مسلم۱۴۷* (فرمانبردار) بنا اور ہماری نسل سے ایک ایسی امت برپا کر جو تیری مسلم *۱۴۸ (فرمانبردار) ہو اور ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہماری توبہ قبول فرما۔ بے شک تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

۱۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے ہ،ارے رب ! ان میں ان ہی میں سے ایک رسول مبعوث فرما جو انہیں تیری آیتیں سنائے اور انکو کتاب اور حکمت کی تعلی دے اور ان کا تزکیہ کرے ۱۴۹*،بے شک تو غالب اور حکمت والا ہے ۱۵۰*

۱۳۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ابراہیم کے طریقہ سے اعراض اس شخص کے سوا اور کون کر سکتا ہے جس نے اپنے کو حماقت ۱۵۱* میں مبتلا کر لیا ہو؟ ہم نے اس کو دنیا میں بھی چن لیا تھا اور آخرت میں بھی صالحین کے زمرے میں ہو گا۔

۱۳۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب اس کے رب نے اس سے کہا مسلم ہو جاتو اس نے کہا میں رب العالمین کا مسلم ۱۵۲* (فرمانبردار) ہو گیا۔

۱۳۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ابراہیم نے اسی طریقہ پر چلنے کی وصیت اپنے بیٹوں کو کی تھی اور یہی وصیت یعقوب اپنے بیٹوں کو کر گیا۔ اے میرے بیٹو!اللہ نے تمہارے لیے یہی دین (اسلام ۱۵۳*) پسند کیا ہے لہذا مرتے دم تک تم مسلم ہی ۱۵۴* رہنا۔

۱۳۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب کی موت کی گھڑی آئی؟ اس نے اپنے بیٹوں سے پوچھا میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟انہوں نے جواب دیا ہم آپ کے معبود اور آپ کے آباء و اجداد ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے جو ایک ہی معبود ہے اور ہم اسی کے مسلم (اطاعت گزار) ہیں۔

۱۳۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ایک گروہ تھا جو گزر گیا۔ جو کچھ اس نے کمایا وہ اس کے لیے ہے اور جو کچھ تم نے کمایا وہ تمہارے لیے ہے وہ جو کچھ کرتے رہے ہیں س کے بارے میں تم سے نہیں پوچھا جائے گا۔ ۱۵۵*

۱۳۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ کہتے ہیں یہودی یا نصرانی ہو جاؤ تو ہدایت پاؤ گے۔ کہو بلکہ ابراہیم کا طریقہ (ہم نے اختیار کیا) جو یکسوئی کے ساتھ اللہ کا ہو کر رہا تھا اور مشرکین میں سے نہ تھا۔

۱۳۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہو ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل کی گئی ہے اور جو ابراہیم، اسمٰعیل ، اسحاق ، یعقوب اور اسباط (یعقوب کی نسل) کی طرف نازل کی گئی تھی اور جو موسیٰ اور عیسیٰ اور تمام نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے ملی تھی ہم ان میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کرتے ۱۵۶* اور ہم اللہ ہی کے مسلم (مطیع) ہیں۔

۱۳۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر اگر وہ اس طرح ایمان لائیں جس طرح تم لائے ہو تو وہ ہدایت یاب ہوں گے اور اگر وہ روگردانی کریں تو (سمجھ لو کہ) وہ مخالفت میں پڑ گئے ہیں۔ پس ان کے مقابلہ میں اللہ تمہارے لیے کافی ہو گا وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

۱۳۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہو ہم نے اللہ کا رن اختیار کیا ہے اور اللہ کے رنگ سے بہتر اور کس کا رنگ ہو گا ۱۵۷* ؟ اور ہم تو اسی کی بندگی کرنے والے ہیں۔

۱۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہو کیا تم اللہ کے بارے میں ہم سے حجت کرتے ہو حالانکہ وہ ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال اور ہم خالص اسی کے لیے ہیں۔

۱۴۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا پھر تمہارا کہنا یہ ہے کہ ابراہیم، اسماعیل ، اسحاق، یعقوب اور اولاد یعقوب سب یہودی یا نصرانی تھے ۱۵۸* کہو تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ ؟ اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جس کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی شہادت ہو اور وہ اس کو چھپائے ۱۵۹* تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اللہ غافل نہیں ہے۔

۱۴۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ۱۶۰* ایک گروہ تھا جو گر گیا۔ ان لوگوں نے جو کچھ کمایا وہ ان کے لیے ہے اور تم نے جو کچھ کمایا ۱۶۱ * وہ تمہارے لیے ہے۔ ان کے اعمال کے بارے میں تم سے نہیں پوچھا جائے گا۔

۱۴۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نادان لوگ ضرور کہیں گے کہ انہیں (مسلمانوں کو) اس قبلہ ۱۶۲* سے ، جس پر یہ پہلے تھے، کس چیز نے رو گرداں ۱۶۳*کر دیا۔ کہو مشرق اور مغرب اللہ ہی کے لیے ہیں۔ وہ جسے چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے۔ *

۱۴۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ۱۶۵* اسی طرح ہم نے تمہیں “امت ” ۱۶۶* بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو ۱۶۷* تم جس قبلہ پر تھے اس کو تو ہم نے صرف یہ دیکھنے کے لیے مقرر کیا تھا کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے ۱۶۸* جنہیں اللہ نے ہدایت سے نوازا ہے ۱۶۹* اللہ تمہارے ایمان کو ضائع کرنے والا نہیں ۱۷۰* اللہ تو لوگوں کے حق میں بڑا شفیق و رحیم ہے ۱۷۱*۔

۱۴۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (اے پیغمبر!) ہم تمہارے منہ کا آسمان کی طرف بار بار اٹھنا دیکھتے رہے ہیں ۱۷۲* لہذا ہم تمہیں اسی قبلہ کی طرف پھیر دیتے ہیں جس کو تم پسند کرتے ہو۔ اب تم اپنا رخ مسجد حرام۱۷۳* کی طرف پھیر لو اور (مسلمانو!) جہاں کہیں بھی تم ہم اپنا رخ اسی طرف کیا کرو۔ جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ برحق ہے اور ان کے رب ہی کی طرف ۱۷۴* سے ہے یہ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ ان سے غافل نہیں ہے۔

۱۴۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اگر تم اہل کتاب کے سامنے ہر قسم کی نشانیاں پیش کر دو تب بھی وہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے اور نہ تم ان کے قبلہ کی پیروی کرنے والے ہو۔ اور نہ ان کا ایک گروہ دوسرے گروہ کے قبلہ کی پیروی کرنے والا ہے ۱۷۵* اور اگر تم نے اس علم ۱۷۶* کے بعد جو تمہارے پاس آ چکا ہے ان کی خواہشات کی پیروی کی تو یقیناً تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔

۱۴۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں ۱۷۷* البتہ ان میں سے ایک گروہ جانتے بوجھتے حق کو چھپا رہا ہے

۱۴۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے لہذا تم ہر گز شک کرنے والوں میں سے نہ ہو جاؤ ۱۷۸*

۱۴۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہر ایک کے لیے ایک سمت ہے جس کی طرف وہ رخ کرتا ہے تو تم نیک کاموں میں سبقت کرو جہاں کہیں بھی تم ہو گے اللہ تم سب کو جمع کرے گا۔ یقین جانو اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

۱۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جہاں کہیں سے بھی تم نکلو ۱۷۹* اپنا رخ مسجد حرام کی طرف کر لو، بیشک یہ حق ہے تمہارے رب کی جانب سے اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے غافل نہیں ہے۔ ۱۸۰*۔

۱۵۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور تم جہاں کہیں سے بھی نکلو اپنا رخ مسجد حرام ہی کی طرف کر لو، اور جہاں کہیں بھی تم ہو اپنا رخ اسی کی جانب کر لو تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف حجت پیش کرنے کا موقع نہ ملے ، مگر جو ان میں سے ظالم ہیں تو ان سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو۔ اور تاکہ میں تم پر اپنی نعمت تمام کروں اور تاکہ تم راہ یاب ہو۔ ۱۸۱*۔

۱۵۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چنانچہ ہم نے تمہارے درمیان تم ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو تمہیں ہماری آیتیں سناتا ہے، تمہارا تزکیہ کرتا ہے اور تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور تمہیں ان باتوں کی تعلیم دیتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔

۱۵۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لہذا تم مجھے یاد رکھو میں تمہیں یاد رکھوں گا ۱۸۲* اور میرا شکر ادا کرو ناشکری نہ کرو۔

۱۵۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد لو ۱۸۳* بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۱۸۴*

۱۵۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں ان کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں۔ لیکن تم محسوس نہیں کرتے۔ ۱۸۵*

۱۵۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے کسی قدر خوف، فاقہ ، جان و مال اور پھلوں کے نقصان سے ۱۸۶* اور خوشخبری دے دو صبر کرنے والوں کو۔

۱۵۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جن کا حال یہ ہے کہ جب کوئی مصیبت ان پر آ پڑتی ہے تو کہتے ہیں ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہمیں اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ۱۸۷*

۱۵۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہی لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے عنایات اور رحمت ہو گی۔ اور یہی لوگ راہ یاب ہیں۔

۱۵۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بے شک صف ۱۸۸* اور مروہ ۱۸۹* اللہ کے شعائر ۱۹۰* (نشانیوں) میں سے ہیں۔ لہذا جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرو ۱۹۱* کرے اس کے لیے ان کا طواف (سعی) کرنے میں گناہ کی کوئی بات نہیں ہے اور جو شخص خوش دلی کے ساتھ نیکی کرے گا تو اللہ قدر کرنے والا اور جاننے والا ہے۔

۱۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو لوگ ہماری نازل کردہ واضح نشانیوں ۱۹۲* اور ہدایت کو چھپاتے ہیں در آنحالیکہ ہم انہیں کتاب میں لوگوں کے لیے بیان کر کے ہیں یقین جانو اللہ ان پر لعنت ۱۹۳* کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی ان پر لعنت بھیجتے ہیں۔

۱۶۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ البتہ جن لوگوں نے توبہ کی اور اصلاح کر لی اور بیان کر دیا ان کی توبہ میں قبول کروں گا میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں۔

۱۶۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور کفر ہی کی حالت میں مر گئے ان پر اللہ کی فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔

۱۶۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ اس (لعنت) میں ہمیشہ رہیں گے۔ نہ ان کے عذاب میں تخفیف ہو گی اور نہ ان کو مہلت ہی ملے گی۔

۱۶۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور تمہارا ۱۹۴* الہ ہے اس رحمن و رحیم ۱۹۵* کے سوا کوئی الٰہ (معبود) نہیں۔

۱۶۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بے شک آسمانوں اور زمین کی خلقت ۱۹۶* میں ، رات اور دن کے یکے بعد دیگرے آنے میں ، ان کشتیوں میں جو لوگوں کے لیے سمندر میں نفع بخش سامان لے کر چلتی ہیں ، اس پانی میں جو اللہ نے اوپر سے برسایا اور جس سے زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد ۱۹۷* زندگی بخشی اور جس کے ذریعہ اس میں ہر قسم کے جاندار پھیلائے اور ہواؤں کی گردش میں اور ان بادلوں میں جو آسمان و زمین کے درمیان مسخر (تابع فرمان) ہیں ۱۹۸* ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ۱۹۹* ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔

۱۶۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو اوروں کو اللہ کا ہم سر (برابری کا) ٹھہراتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسی اللہ سے کرنا چاہئے حالانکہ اہل ایمان اللہ ہی سے سب سے زیادہ محبت ۲۰۰* رکھتے ہیں اور اگر یہ ظالم اس وقت کو دیکھ سکتے جب کہ یہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو انہیں اچھی طرح معلوم ہو جاتا کہ ساری قوت اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے اور اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔

۱۶۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس وقت (پیشوا اور لیڈر) جن کی پیروی کی گئی تھی، اپنے پیروؤں سے اظہار برأت ۲۰۱* کریں گے اور عذاب کو دیکھ لیں گے اور ان کے باہمی تعلقات منقطع ہو جائیں گے۔

۱۶۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ان کے پیرو کہیں گے کہ کاش ہمیں ایک موقع (دنیا میں جانے کا) اور دیا جاتا تو ہم بھی اسی طرح ان سے اظہار برأت کیا ہے۔ اس طرح اللہ ان کے اعمال کو موجب حسرت بنا کر ان کو دکھائے گا اور وہ آتش جہنم سے ہرگز نہ نکل سکیں گے۔

۱۶۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لوگو! ۲۰۲* زمین جو حلال و طیب ۲۰۳* چیزیں ہیں انہیں کھاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو ۲۰۴* فی الواقع وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

۱۶۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ تو تمہیں برائی اور بے حیائی ہی کا حکم دے گا اور اس بات کا کہ اللہ کی طرف ایسی باتیں منسوب کرو جن کا تمہیں علم نہیں ہے ۲۰۵*

۱۷۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان سے جب کہا جاتا ہے کہ اللہ کے نازل کردہ احکام کی پیروی کرو تو کہتے ہیں ہم اسی طریقہ کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ کیا اس صورت میں بھی یہ ان کی پیروی کریں گے جبکہ ان کے باپ دادا نہ عقل سے کام لیتے رہے ہوں ، اور نہ انہوں نے ہدایت پائی ہو ! ۲۰۶*

۱۷۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان منکرین کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص جانوروں کو پکارے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہیں سنتے ۲۰۷* یہ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں اس لیے کچھ نہیں سمجھ پاتے۔

۱۷۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے ایمان والو! جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں ان کو کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم اسی کی بندگی کرتے ہو ۲۰۸*

۱۷۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس نے تم پر حرام ٹھہرایا ہے صرف ۲۰۹* مراد ۲۱۰* خون ۲۱۱* سور ۲۱۲* کا گوشت اور وہ (ذبیحہ) جس پر غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو ۲۱۳* البتہ جو شخص مجبور ہو جائے اور نہ تو اس کا خواہشمند ہو اور نہ حد سے تجاوز کرنے والا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۲۱۴* اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

۱۷۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بے شک جو لوگ ان باتوں کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں نازل کی ہیں ۲۱۵* اور ان کے بدلے حقیر قیمت وصول کرتے ہیں وہ اپنے پیٹ آگ سے بھر رہے ہیں ۲۱۶* اللہ قیامت کے دن نہ ان سے بات کرے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا ۲۱۷*۔ ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔

۱۷۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلہ گمراہی اور مغفرت کے بدلہ عذاب خریدا۔ تو یہ آتش جہنم (میں جلنے) کے لیے کتنے بڑے حوصلہ کا ثبوت دے رہے ہیں ۲۱۸*

۱۷۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اس لیے کہ اللہ نے کتاب حق کے ساتھ نازل فرمائی لیکن جن لوگوں نے کتاب میں اختلاف کیا وہ مخالفت میں بہت دور نکل گئے ۲۱۹ *

۱۷۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نیکی ۲۲۰* یہ نہیں کہ تم اپنا رخ مشرق یا مغرب کی طرف کر لو بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ، یوم آخر ، ملائکہ ۲۲۱* کتاب الٰہی اور نبیوں پر ایمان ۲۲۲* لائے اور اپنا مال اس کی محبت میں قرابت داروں یتیموں ، مسکینوں مسافروں اور مانگنے والوں ۲۲۳* پر نیز گردنیں چھڑانے ۲۲۴* میں خرچ کرے۔ نماز قائم کرے اور زکوٰۃ *۲۲۵ دے۔ جب عہد کرے تو اسے پورا کرے اور تنگی و تکلیف میں اور جنگ کے موقع پر ثابت قدم ۲۲۶* رہے یہی لوگ ہیں جو سچے ثابت ہوئے اور یہی لوگ در حقیقت متقی ہیں۔

۱۷۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے ایمان لانے والو ! مقتولوں کے بارے میں تمہیں قصاص ۲۲۷* (خون کا بدلہ لینے برابری) کا حکم دیا گیا ہے۔ آزاد کے بدلے آزاد ، غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت ۲۲۸* البتہ قاتل کو اس کے ۲۲۹ *بھائی کی طرف سے کچھ رعایت مل جائے تو معروف طریقہ اختیار کرنا چاہیے اور خوبی کے ساتھ (خون بہا) ادا کرنا چاہیے ۲۳۰* یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے اس کے بعد بھی جو زیادتی کرے اس کے لیے درد ناک عذاب ہے۔

۱۷۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اے عقل والو ! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ۲۳۱* ہے (اور اس لیے اس کا حکم دیا گیا ہے) تاکہ تم (حدود الٰہی کی خلاف ورزی سے) بچو۔

۱۸۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم پر فرض کر دیا گیا ہے کہ جب تم میں کسی کی موت کا وقت آ جائے اور وہ اپنے پیچھے مال چھوڑ رہا ہو تو والدین اور رشتہ داروں کے لیے معروف *۲۳۲ طریقہ پر وصیت ۲۳۳* کر جائے۔ یہ حق ہے متقیوں (اللہ سے ڈرنے والوں) پر۔

۱۸۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر جو لوگ وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالیں تو اس کا گناہ بدل ڈالنے والوں ہی پر ہو گا۔ اللہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

۱۸۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ البتہ جس کو وصیت کرنے والے کی طرف سے جانبداری یا گناہ (حق تلفی) کا اندیشہ ہو اور وہ ان کے درمیان مصالحت کرا دے تو اس پر کچھ گناہ نہیں ۲۳۴* بے شک اللہ غفور و رحیم ہے۔

۱۸۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے ایمان والو ! تم پر روزے۲۳۵* فرض کیے گئے جس طرح تم سے پہلے کے لوگوں پر فرض کیے ۲۳۶* گئے تھے تاکہ تم متقی بنو ۲۳۷*

۱۸۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گنتی کے چند دن ہیں ۲۳۸* اور جو شخص مریض ہو یا سفر۲۳۹* میں ہو تو وہ دوسے دنوں میں یہ تعداد پوری کر لے اور جن لوگوں کے لیے روزہ رکھنا دشوار ہو وہ ایک مسکین کا کھانا فدیہ میں دے دیں ۲۴۰* پھر جو کوئی اپنی خوشی سے مزید بھلائی کرے تو یہ اس کے حق میں بہتر ۲۴۱* اور تمہارا روزہ رکھنا ہی تمہارے لیے بہتر۲۴۲* ہے اگر تم سمجھو۔

۱۸۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رمضان کا مہینہ ۲۴۳* جس میں قرآن نازل کیا گیا وہ انسانوں کے لیے ہدایت ۲۴۴* ہے اور ایسے دلائل پر مشتمل ہے جو راہ ہدایت کو واضح کرنے والے اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والے ہیں۔ لہٰذا تم میں سے جو کوئی اس مہینے کو پائے وہ اس کے روزے رکھے۔ اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو وہ دوسرے دنوں میں تعداد پوری کر لے۔ اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے سختی نہیں چاہتا ۲۴۵* اور تاکہ تم (روزوں کی) تعداد پوری کر لو اور اس کی کبریائی ۲۴۶* بیان کرو اس بات پر کہ اس نے تمہیں ہدایت سے نوازا۔ اور تاکہ تم شکر گزار بنو۔

۱۸۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب میرے بندے میرے بارے میں تم سے پوچھیں تو (نہیں بتا دو کہ) میں ان سے قریب ۲۴۷* ہوں۔ پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی پکار کا جواب ۲۴۸* دیت ہوں لہٰذا انہیں چاہیے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ راہ راست پائیں۔

۱۸۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تمہارے لیے روزے کی راتوں میں پنی بیویوں کے پاس جانا جائز کر دیا گیا ہے۔ وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو ۲۴۹* اللہ کو معلوم ہو گیا کہ تم اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے تو اس نے تم پر عنایت کی اور تم سے در گزر فرمائی۔ اب تم ن سے اختلاط کرو ۲۵۰* اور اللہ نے تمہارے لیے جو مقدر کر رکھا ہے اسے طلب کرو ۲۵۱* اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تم کو فجر کی سفید دھاری (رات کی) سیاہ دھاری سے نمایاں ۲۵۲* نظر آنے لگے۔ پھر رات تک روزہ پورا کرو۔ اور جب تم مسجدوں میں اعتکاف ۲۵۳* میں ہو تو ان سے مباشرت نہ کرو۔ یہ اللہ کے (مقرر کردہ) حدود ہیں ، ان کے پاس نہ پھٹکو ۲۵۴* اس طرح اللہ اپنی آیتیں لوگوں کے لیے واضح کرتا ہے تاکہ وہ تقویٰ اختیار کریں۔

۱۸۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور تم آپس میں ایک دوسرے کا مال نا روا طریقہ سے نہ کھاؤ ۲۵۵* اور نہ اس کو حکام کے آگے اس غرض سے پیش کرو ۲۵۶* کہ جانتے بوجھتے۲۵۷* دوسروں کے مال کا کوئی حصہ حق تلفی کر کے کھانے کا تمہیں موقع ملے۔

۱۸۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ تم سے ہلال ۲۵۸* کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہو یہ لوگوں کے لیے تاریخوں کی تعین اور (خاص طور سے) حج کی تاریخوں کی تعین کا ذریعہ ہے۔ اور یہ کوئی نیکی نہیں ہے کہ گھروں میں پیچھے کی طرف سے داخل ہو بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی تقویٰ ۲۵۹* اختیار کرے ، گھروں میں تم ان کے دروازوں سے داخل ہوا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔

۱۹۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ۲۶۰* ہیں مگر زیادتی نہ کرو ۲۶۱* اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

۱۹۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ان کو جہاں کہیں پاؤ قتل کر دو ۲۶۲* اور ان کو وہاں سے نکالو جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے کہ فتنہ۲۶۳* قتل سے بھی بڑھ کر ہے۔ اور مسجد حرام کے پاس۲

* ان سے نہ لڑو جب تک کہ وہ تم سے وہاں نہ لڑیں ، ہاں اگر وہ تم سے لڑیں تو انہیں قتل کرو کہ ایسے کافروں کی یہی سزا ہے۔

۱۹۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر اگر وہ باز آ جائیں ۲۶۵* تو اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۱۹۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ان سے لڑو ۲۶۶* یہاں تک فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ ہی کا ہو جائے ۲۶۷* اور اگر وہ باز آ جائیں تو ظالموں کے سوا کسی کے خلاف اقدام روا نہیں۔ ۲۶۸*

۱۹۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ماہ حرام ۲۶۹* (میں جنگ کی حرمت) اسی صورت میں ہے جبکہ وہ بھی حرام (کی حرمت) کو ملحوظ رکھیں ۲۷۰* اور حرمتوں کے معاملہ میں برابری کا لحاظ کیا جائے گا ۲۷۱* لہٰذا جو تم پر زیادتی کرے تم بھی اس کی زیادتی کا جواب اسی کے برابر دو۔ اور اللہ سے ڈرو اور یہ جان لو کہ اللہ ان ہی لوگوں کے ساتھ ہے جو اس سے ڈرتے رہتے ہیں۔

۱۹۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو ۲۷۲* اور اپنے ہاتھوں اپنے کو ہلاکت میں نہ ڈالو ۲۷۳* اور (انفاق کا) یہ کام حسن و خوبی کے ساتھ کرو کہ اللہ حسن و خوبی کے ساتھ کام کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

۱۹۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حج اور عمرہ ۲۷۴* کو اللہ کے لیے پورا کرو ۲۷۵* اور اگر تم گھر جاؤ تو جو ھَدْی (قربانی کا جانور ۲۷۶*) اپنے مقام پر نہ پہنچ جائے ۲۷۷* البتہ جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا اس کے سر میں کسی قسم کی تکلیف ہو تو وہ روزے ، صدقہ یا قربانی کی شکل میں فدیہ دے ۲۷۸* پھر جب تم امن کی حالت میں ہو تو جو کوئی حج تک عمرہ سے فائدہ اٹھائے وہ جو قربانی میسر ہو پیش کرے ۲۷۹* اور جس کو قربانی میسر نہ آئے وہ تین دن کے روزے حج (کے زمانہ) میں رکھے اور سات دن کے روزے واپسی پر۔ یہ پورے دس دن (کے روزے) ہوئے ۲۸۰* یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جس کے اہل و عیال مسجد حرام کے پاس نہ رہتے ہوں ۲۸۱* اور اللہ سے ڈرتے رہو۲۸۲* اور جان لو کہ اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔

۱۹۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حج کے چند متعین مہینے ہیں ۲۸۳* جو شخص ان میں حج کا عزم کر لے اسے چاہیے کہ دوران حج نہ شہوت کی کوئی بات کرے نہ فسق و فجور کی اور نہ لڑائی جھگڑے کی ۲۸۴ *اور جو نیک کام تم کرو گے اللہ اس کو جان لے گا اور زاد راہ ساتھ لے لو کہ بہتر ین زاد راہ تقویٰ ۲۸۵* ہے اور اے عقل والو! مجھ سے ڈرو۔

۱۹۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس امر میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو ۲۸۶ کے پاس اللہ کا ذکر کرو اور اس طرح ذکر کرو جس طرح کہ اس نے تم کو ہدایت کی ہے ۲۸۹* اور یہ حقیقت ہے کہ اس سے پہلے تم لوگ بھٹکے ہوئے تھے۔

۱۹۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور تم بھی اسی مقام سے پلٹو جس مقام سے سب لوگ پلٹتے ۲۹۰* ہیں۔ اور اللہ سے معافی طلب کرو۔ بے شک اللہ معاف کرنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۲۰۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر جب تم حج کے مناسک ادا کر چکو تو اللہ کا ذکر کرو جس طرح اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے تھے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ۲۹۱* لوگوں میں ایسے بھی ہیں جن کی دعا یہ ہوتی ہے کہ اے ہمارے رب! ہمیں دنیا ہی میں سب کچھ دیدے ۲۹۲* ایسے لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔

۲۰۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور کچھ ایسے ہیں جن کی دعا یہ ہوتی ہے کہ اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطاء فرما اور آخرت میں بھی اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے ۲۹۳*

۲۰۲* یہی لوگ ہیں جن کو ان کی کمائی کی بدولت حصہ ملے گا اور اللہ جلد حساب چکانے والا ہے۔

۲۰۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور مقررہ دنوں ۲۹۴ میں اللہ کا ذکر کرو۔ پھر جو کوئی دو دن میں جلدی کرے (اور نکلنے میں ایک دن کی) تاخیر کرے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ۲۹۵* یہ اس کے لیے ہے جو تقویٰ اختیار کرے۔ اللہ سے ڈرتے رہو اور خوب جان لو کہ اسی کے حضور تمہیں جمع ہونا ہے۔ ۲۹۶*

۲۰۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جن کی باتیں تمہیں دنیوی زندگی میں بڑی دلکش معلوم ہوتی ہیں اور وہ اپنے ما فی الضمیر پر اللہ کو گواہ ٹھہراتے ہیں حالانکہ حقیقت میں وہ کٹر مخالف ہیں۔ ۲۹۷*

۲۰۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب وہ پلٹتے ہیں تو زمین میں ان کی ساری دوڑ دھوپ اس لیے ہوتی ہے کہ فساد برپا کریں اور کھیتی اور نسل کو تباہ کریں ۲۹۸* مگر اللہ فساد کو ہر گز پسند نہیں کرتا۔

۲۰۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈرو تو نخوت انہیں گناہ پر آمادہ کرتی ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے تو جہنم ہی کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔

۲۰۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو رضائے الہی کی طلب میں اپنی جانیں کھپا دیتے ہیں ۲۹۹* اور اللہ اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے۔

۲۰۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے ایمان لانے والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ ۳۰۰* اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو ۳۰۱* وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

۲۰۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان واضح ہدایات کے آ جانے کے بعد بھی اگر تم پھسل گئے تو جان رکھو کہ اللہ غالب اور حکمت والا ہے ۳۰۲*

۲۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا یہ لوگ اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ اور فرشتے ابر کے سائبانوں میں ان کے سامنے نمودار ہو جائیں اور فیصلہ ہی کر ڈالا جائے ؟ ۳۰۳* بالآخر سارے معاملات پیش تو اللہ ہی کے حضور ہوں گے۔

۲۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بنی اسرائیل سے پوچھو، ہم نے انہیں کتنی کھلی کھلی نشانیاں دیں ۳۰۴* اور جو کوئی اللہ کی نعمت۳۰۵* کو اس کے پانے کے بعد بدل ڈالے تو یقین جانو اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔

۲۱۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے دنیوی زندگی بڑی خوشنما بنا دی گئی ہے ۳۰۶* وہ اہل ایمان کا مذاق اڑاتے ہیں حالانکہ جن لوگوں نے تقویٰ اختیار کیا ہے وہ قیامت کے دن ان پر فوقیت رکھیں گے۔ اور اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب ۳۰۷* رزق عطاء فرماتا ہے۔

۲۱۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (ابتداء میں) لوگ ایک ہی امت ۳۰۸* تھے (لیکن جب انہوں نے اختلاف پیدا کیا) تو اللہ نے انبیاء بھیجے جو خوش خبری سنانے والے اور خبر دار کرنے والے تھے اور ان کے ساتھ کتاب برحق نازل کی تکہ جن امور میں لوگ اختلاف کر رہے تھے ان کا فیصلہ کر دے۔ اور اس میں اختلاف انہیں لوگوں نے کیا جن کو کتاب دی گئی تھی اور یہ اختلاف انہوں نے روشن ہدایات آ جانے کے بعد محض آپس کی ضد (نفسانیت) کی بنا پر کیا۔ بالآخر اللہ نے اپنے اذن (توفیق) سے اہل ایمان کی اس حق کے معاملے میں رہنمائی فرمائی جس میں لوگوں نے اختلاف کیا تھا۔ اللہ جسے چاہتا ہے راہ راست دکھا دیتا ہے ۳۰۹*

۲۱۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا تم نے یہ سمجھ کر رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ ابھی تمہیں ان لوگوں کے سے حالات سے سابقہ پیش ہی نہیں آیا ہے۔ جو تم سے پہلے ہو کر گزرے ہیں۔ ان کو تنگیوں اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا اور وہ ایسے جھنجھوڑے گئے کہ رسول اور اس کے ساتھی اہل ایمان پکار اٹھے کہ کب آئے گی اللہ کی مدد؟ یقین جانو! اللہ کی مدد قریب ہے۔ ۳۱۰*

۲۱۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں ؟ کہو جو مال بھی تم خرچ کرو وہ والدین، قرابت داروں ، یتیموں ، مسکینوں ، اور مسافروں کے لیے ہے۔ اور جو بھلائی بھی تم کرو گے اللہ اسے اچھی طرح جانتا ہے۔

۲۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جنگ کا تمہیں حکم دیا گیا ہے اور وہ تمہیں ناگوار ہے۔ مگر عجب نہیں کہ ایک چیز کو تم ناگوار خیال کرو اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو۔ اور عجب نہیں کہ ایک چیز کو تم پسند کرو اور وہ تمہارے حق میں بری ہو ۳۱۱* اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے ۳۱۲*

۲۱۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ تم سے ماہ حرام کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس میں جنگ کرنا کیسا ہے؟ کہو اس میں جنگ کرنا بڑی سنگین بات ہے ، مگر (لوگوں کو) اللہ کے راستہ سے روکنا، اس سے کفر کرنا، مسجد حرام سے روکنا، اس کے رہنے والوں کو وہاں سے نکال دینا اللہ کے نزدیک اس سے بھی بڑا گناہ ہے اور فتنہ قتل ۳۱۳* سے بھی بڑھ کر ہے۔ اور وہ تم سے لڑتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ اگر ان کا بس چلے تو وہ تم کو تمہارے دین سے پھیر دیں ۳۱۴* اور تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے گا اور حالت کفر میں مرے گا تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت میں اکارت جائیں گے۔ وہ دوزخی ہیں اور ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔

۲۱۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ البتہ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت ۳۱۵* کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا وہ اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اللہ بڑا بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۲۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (اے پیغمبر !) لوگ تم سے شراب ۳۱۶* اور جوئے ۳۱۷ *کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہو ان میں بڑی خرابی ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں لیکن ان کی خرابی ان کے فائدے سے بہت زیادہ ہے ۳۱۸* اور تم سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں ؟ کہو جو فاضل ۳۱۹* ہو۔ اس طرح اللہ تمہارے لیے اپنے احکام واضح فرماتا ہے تاکہ تم غور و فکر کرو۔

۲۲۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دنیا اور آخرت (دونوں کے معاملات) میں ۳۲۰* اور وہ تم سے یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہو جس میں ان کی بھلائی ہو وہی بہتر ہے۔ اور اگر تم ان کے ساتھ مل جل کر رہو تو وہ تمہارے بھائی ہی ہیں۔ اللہ جانتا ہے کون بگاڑ چاہنے والا ہے اور کون بھلائی چاہنے والا ۳۲۱* اگر اللہ چاہتا تو تم کو مشقت میں ڈال دیتا۔ بے شک اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔ ۳۲۲*

۲۲۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرنا ۳۲۳* جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں۔ ایک مؤمن کنیز ایک مشرک عورت سے کہیں بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں پسند آئے۔ اور مشرکوں ۳۲۴* کو اپنی عورتیں نکاح میں نہ دو جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں۔ ایک مؤمن غلام ایک مشرک سے کہیں بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں پسند آئے۔ یہ لوگ آگ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ اپنے حکم سے جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے اور اپنی آیتیں لوگوں کے لیے صاف صاف بیان کرتا ہے تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں۔

۲۲۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ تم سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہو وہ نا پاکی ہے لہٰذا ایّام حیض میں عورتوں سے الگ رہو ۳۲۵* اور ان سے قربت نہ کرو جب تک کہ وہ پاک نہ ہو جائیں۔ پھر جب وہ اچھی طرح پاک ہو جائیں تو ان کے پاس جاؤ ۳۲۶* اس طرح جیسا کہ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے ۳۲۷* اللہ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو خوب پاکیزگی اختیار کرتے ہیں۔

۲۲۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تمہاری عورتیں تمہارے لیے کھیتیاں ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ ۳۲۸* اور اپنے مستقبل کا سامان کرو ۳۲۹* نیز اللہ سے ڈرتے رہو۔ خوب جان لو کہ ایک دن تمہیں اس سے ملنا ہے اور (اے نبی !) اہل ایمان کو بشارت دے دو۔

۲۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کسی کے ساتھ بھلائی کرنے، تقویٰ اختیار کرنے اور اصلاح بین الناس کے کام کرنے کے خلاف اللہ کو اپنی قسموں کا ہدف نہ بناؤ ۳۳۰* اللہ سب کچھ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے ۳۳۱*

۲۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ تمہاری لغو (بے ارادہ) قسموں پر تم سے مواخذہ نہیں کرے گا لیکن ان قسموں پر ضرور مواخذہ کرے گا جو تم نے دلی ارادہ کے ساتھ کھائی ہوں ۳۳۲* اور اللہ بہت در گزر کرنے والا اور بڑا برد بار ہے۔

۲۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو لوگ اپنی بیویوں سے نہ ملنے کی قسم کھا بیٹھیں ان کے لیے چار مار ماہ کی مہلت ہے ۳۳۳* پھر اگر وہ رجوع کر لیں تو اللہ معاف کرنے والا ، رحم فرمانے والا ہے۔

۲۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اگر وہ طلاق کا فیصلہ کر لیں تو (وہ اچھی طرح جان لیں کہ) اللہ سب کچھ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ ۳۳۴*

۲۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جن عورتوں کو طلاق دے دی گئی ہو۔ وہ تین حیض تک اپنے آپ کو روکے رکھیں ۳۳۵* اگر وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اللہ نے ان کے رحم میں جو کچھ پیدا فرمایا ہو اس کو چھپائیں۔ اور اس (عدت کے) دوران ان کے شوہر ان کو واپس لینے کے زیادہ حقدار ہیں بہ شرط یہ کہ وہ تعلقات درست رکھنا چاہیں۔ اور معروف کے مطابق عورتوں کے بھی اسی طرح حقوق ہیں ۳۳۶* جس طرح ان پر ذمہ داریاں ہیں البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ ۳۳۷* حاصل ہے۔ اور اللہ سب پر غالب اور بڑی حکمت والا ہے ۳۳۸*

۲۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ طلاق ۳۳۹* دو مرتبہ ۳۴۰* ہے۔ پھر یا تو معروف طریقہ پر عورت کو روک لیا جائے ۳۴۱* یا خوبصورتی کے ساتھ رخصت کر دیا جائے ۳۴۲* اور تمہارے لیے جائز نہیں کہ جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو اس میں سے کچھ واپس لے لو ۳۴۳* اِلّا یہ کہ دونوں کو اندیشہ ہو کہ وہ حدود الٰہی کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو اس میں ان کے لیے کوئی گناہ نہیں کہ عورت فدیہ دے کر ، چھٹکارا (خلع) حاصل کر لے ۳۴۴* یہ اللہ کے حدود ہیں ان سے تجاوز نہ کرو، اور جو اللہ کے حدود سے تجاوز کرے گا تو ایسے ہی لوگ ظالم ہیں ۳۴۵*

۲۳۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر اگر اس نے (دو بار کے بعد) طلاق دے دی ۳۴۶* تو اب یہ عورت اس کے لیے حلال نہیں جب تک کہ وہ دوسرے شوہر سے نکاح نہ کر لے ۳۴۷* پھر اگر وہ بھی اس کو طلاق دے دے تو ان دونوں (عورت اور پہلے شوہر) پر مراجعت کرنے (پھر سے نکاح کرنے) میں کوئی گناہ نہیں۔ بہ شرط یہ کہ وہ یہ خیال کرتے ہوں کہ حدود الٰہی کو قائم رکھ سکیں گے یہ اللہ کی حد بندیاں ہیں جنہیں وہ ان لوگوں کے لیے بیان فرماتا ہے جو علم رکھنے والے ہیں۔

۲۳۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں ۳۴۸* تو انہیں بھلے طریقہ سے روک لو یا بھلے طریقہ سے رخصت کرو۔ انہیں ستانے کی غرض سے روکے نہ رکھو کہ اس طرح زیادتی کے مرتکب ہو۔ اور جو ایسا کرے گا وہ اپنے ہی اوپر ظلم کرے گا۔ اللہ کی آیات کو ۳۴۹* مذاق نہ بناؤ۔ اللہ کے احسان کو اور اس بات کو یاد رکھو کہ اس نے تم پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی جس کے ذریعہ وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے ۳۵۰*

۲۳۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور وہ اپنی عدت پوری کر لیں تو پھر انہیں اپنے شوہروں سے نکاح سے نہ روکو جب کہ وہ معروف طریقہ پر باہم رضا مندی سے معاملہ طے کریں۔ ۳۵۱* یہ نصیحت تم میں سے ہر اس شخص کو کی جاتی ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ اور ستھرا طریقہ ہے۔ ۳۵۲* اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے ۳۵۳*

۲۳۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ۳۵۴*مائیں اپنے بچوں کو کامل دو سال دودھ پلائیں یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جو پوری مدت تک دودھ پلوانا چاہے ۳۵۵* اور جس شخص کا بچہ ہے اس کو معروف طریقہ سے ان کو کھانا اور کپڑا دینا ہو گا ۳۵۶* کسی پر اس کی وسعت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے نہ کسی ماں کو اس کے بچہ کی وجہ سے تکلیف دی جائے اور نہ باپ کو اس کے بچہ کی وجہ سے۔ اور اسی طرح کی ذمہ داری وارث پر بھی ۳۵۷*ہے لیکن اگر دونوں باہمی رضا مندی اور مشورہ سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں اور اگر تم اپنے بچوں کو کسی اور سے دودھ پلوانا چاہو تو اس میں بھی کوئی گناہ نہیں بہ شرط یہ کہ تم نے جو کچھ طے کیا ہے معروف طریقہ پر ادا کرو۔ اللہ سے ڈرو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔

۲۳۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں اور اپنے پیچھے بیویاں چھوڑ جائیں تو ان (بیویوں) کو چاہیے کہ چار ماہ دس دن تک توقف کریں ۳۵۸* پھر جب وہ اپنی عدت پوری کر لیں تو معروف طریقہ پر وہ جو کچھ اپنے لیے کریں اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اللہ باخبر ہے۔

۲۳۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس بات میں بھی تم پر کوئی گناہ نہیں کہ ان عورتوں کو نکاح کا پیغام اشارہ کنایہ میں دے دو یا اسے اپنے دل میں پوشیدہ رکھو۔ اللہ جانتا ہے کہ تم ان کو یاد کرو گے مگر ان سے (نکاح کا) خفیہ قول و قرار نہ کرو۔ ہاں معروف طریقہ پر کوئی بات کہہ سکتے ہو اور عقد نکاح کا فیصلہ اس وقت تک نہ کرو جب تک کہ عدت ۳۵۹* پوری نہ ہو جائے۔ جان رکھو کہ اللہ کو تمہارے دلوں کا حال معلوم ہے لہٰذا اس سے ڈرو اور یہ بھی جان رکھو کہ اللہ بخشنے والا اور برد بار ہے ۳۶۰*

۲۳۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر تم عورتوں کو ہاتھ لگانے یا ان کا مہر مقرر کرنے سے پہلے طلاق دے دو تو تم پر کوئی گناہ نہیں البتہ انہیں کچھ دو۔ صاحب وسعت اپنی مقدرت کے مطابق اور تنگ دست اپنی مقدرت کے مطابق معروف طریقہ سے دے ۳۶۱* یہ حق ہے نیکو کاروں پر ۳۶۲*

۲۳۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اگر تم نے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی ہو اور مہر مقرر کر چکے ہو تو مقررہ مہر کا نصف دینا ہو گا ۳۶۳* الا یہ کہ وہ رعایت کر دیں یا وہ مرد جس کے ہاتھ میں عقدۂ نکاح ہے ۳۶۴* رعایت کر دے اور تم (مرد) رعایت کرو تو یہ تقویٰ سے قریب تر ہے۔ آپس میں احسان کرنا نہ بھولو ۳۶۵* تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔

۲۳۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نمازوں ۳۶۶* کی محافظت ۳۶۷* کرو خصوصاً صلوٰۃِ وسطیٰ ۳۶۸* (درمیان والی نماز) کی اور اللہ کے حضور کھڑے ہو عجز و نیاز میں ڈوبے ہوئے ۳۶۹*

۲۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر تم حالت خوف میں ہو تو پیدل یا سوار جس طرح بن سکے نماز ادا کرو ۳۷۰* پھر جب امن میسر آ جائے تو اللہ کو اس طریقہ پر یاد کرو ۳۷۱* جو اس نے تمہیں سکھلایا ہے ۳۷۲* جس کو تم نہیں جانتے تھے۔

۲۴۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور تم میں ۳۷۳* سے جو لوگ وفات پائیں اور اپنے پیچھے بیویاں چھوڑ رہے ہوں وہ اپنی بیویوں کے حق میں وصیت کر جائیں کہ ایک سال تک انہیں نان نفقہ دیا جائے اور وہ گھر سے نکالی نہ جائیں پھر اگر وہ خود نکل جائیں تو وہ معروف طریقہ پر جو کچھ اپنے لیے کریں اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں ۳۷۴* اللہ غالب ہے حکمت والا۳۷۵*

۲۴۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور مطلقہ عورتوں کو معروف طریقہ پر متاع دیا جائے ۳۷۶* یہ حق ۳۷۷* ہے متقیوں پر۔

۲۴۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس طرح اللہ اپنے احکام واضح فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو۔

۲۴۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا ۳۷۸* تم نے ان لوگوں کے حال پر غور نہیں کیا جو ہزاروں کی تعداد میں ہونے کے باوجود موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل گئے تھے ؟ اللہ نے ان سے فرمایا کہ مر جاؤ پھر اس نے انہیں زندہ کیا ۳۷۹* بے شک اللہ لوگوں پر بڑا مہربان ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔

۲۴۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اللہ کی راہ میں جنگ کرو اور یہ جان رکھو کہ اللہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے ۳۸۰*

۲۴۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے کہ اللہ اس کو کئی گنا بڑھا کر واپس کر دے ۳۸۱* اللہ تنگی بھی دیتا ہے اور کشادگی بھی ۳۸۲* اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۳۸۳*

۲۴۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا تم نے سرداران بنی اسرائیل کے واقعہ پر ۳۸۴* غور نہیں کیا جو  موسیٰ کے بعد پیش آیا تھا؟ ۳۸۵* جب کہ انہوں نے اپنے نبی ۳۸۶* سے کہا کہ ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کر دیجیے۔ تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں ۳۸۷* اس نے کہا ایسا نہ ہو کہ تمکو جنگ کرنے کا حکم دیا جائے اور پھر تم جنگ نہ کرو کہنے لگے ہم اللہ کی راہ میں کیسے نہیں لڑیں گے جب کہ ہمیں اپنے گھروں سے نکال دیا گیا ہے اور بچوں سے جُدا کر دیا گیا ہے ؟ مگر جب ان کو جنگ کا حکم دیا گیا تو ایک قلیل تعداد کے سوا سب پھر گئے اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

۲۴۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان کے نبی نے ان سے کہا اللہ نے تمہارے لیے طالوت۳۸۸* کو بادشاہ مقرر کیا ہے، بولے اس کو ہم پر بادشاہی کا کیا حق ؟ اس سے زیادہ بادشاہی کے مستحق تو ہم ہیں اور اسے مال کی فراوانی بھی حاصل نہیں ہے۔ نبی نے کہا اللہ نے تم پر حکمرانی کے لیے اسی ۳۸۹*کو منتخب کیا ہے اور اس کو علم اور جسم (کی صلاحیتوں) میں فراوانی عطا کی ہے ۳۹۰* اللہ جسے چاہے اقتدار بخشے اللہ بڑی وسعت والا اور علم والا ہے۔ ۳۹۱*

۲۴۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ اس کے بادشاہ مقرر کیے جانے کی علامت یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آ جائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے سامان تسکین اور آل موسٰی اور آل ہارون کی چھوڑی ہوئی یادگاریں ہیں۔ اس صندوق کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۳۹۲* اس میں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے اگر تم مومن ہو۔

۲۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر جب طالوت لشکروں کے لے کر ۳۹۳* چلا تو اس نے کہا اللہ ایک دریا۳۹۴* کے ذریعے تمہاری آزمائش کرنے والا ہے تو جو اس کا پانی پی لے گا وہ میرا ساتھی نہیں اور جو اس کو نہیں چکھے گا وہی میرا ساتھی ہے الا یہ کہ کوئی شخص اپنے ہاتھ سے چلو بھر پانی لے لے۔ مگر تھوڑے لوگوں کے سوا سب نے اس میں سے پی لیا۳۹۵* پھر جب طالوت اور اس کے اہل ایمان ساتھی دریا پار کر گئے تو کہنے لگے آج ہم میں جالوت ۳۹۶* اور اس کے لشکروں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ۳۹۷* ہے۔ لیکن جو لوگ سمجھتے تھے کہ انہیں اللہ سے ملنا ہے انہوں نے کہا کتنے ہی چھوٹے گروہ اللہ کے اذن سے بڑے گروہ پر غالب آ گئے ہیں اور اللہ ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ۳۹۸* ہے۔

۲۵۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب وہ جالوت اور اس کے لشکروں کے مقابلہ میں آئے تو انہوں نے دعا کی اے ہمارے رب ہم پر صبر کا فیضان کر ہمارے قدم جما دے اور کافر قوم پر ہمیں غلبہ عطاء فرما۔

۲۵۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آخر کار اللہ کے حکم سے انہوں نے ان کو شکست دی اور ۳۹۹* داؤد نے جالوت کو قتل کر دیا اور اللہ نے اس کو اقتدار اور حکمت سے نوازا اور جن جن چیزوں کا چاہا اس کو علم ۴۰۰* دیا۔ اگر اللہ ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعہ دفع نہ کرتا رہتا تو زمین فساد سے بھر جاتی لیکن اللہ دنیا والوں پر بڑا مہربان ۴۰۱* ہے۔

۲۵۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تمہیں تھیک ٹھیک سنا رہے ہیں اور تم یقیناً پیغمبروں میں سے ہو۔ ۴۰۲*

۲۵۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ رسول ہیں ۴۰۳* جنہیں ہم نے ایک دوسرے پر فضیلت عطا کی ۴۰۴* ان میں کوئی ایسا تھا جس سے اللہ خود ہم کلام ہوا اور کسی کے درجے بلند کیے اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو روشن نشانیاں عطا کیں اور روح القدس ۴۰۵*سے اس کی تائید کی اگر اللہ چاہتا تو جو لوگ ان رسولوں کے بعد ہوئے، وہ ان روشن نشانیوں کے آ جانے کے بعد ہوئے ، وہ ان روشن نشانیوں کے آ جانے کے بعد آپس میں نہ لڑتے لیکن انہوں نے اختلاف کیا پھر کوئی ایمان لایا اور کسی نے کفر کیا۔ اگر اللہ چاہتا تو ممکن نہ تھا کہ وہ باہم لڑتے مگر اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ ۴۰۶*

۲۵۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے ایمان والو! جو کچھ ہم نے تم کو بخشا ہے اس میں سے خرچ کرو اس دن کے آنے سے پہلے جس میں نہ تو خرید و فروخت ہو گی اور نہ دوستی کام آئے گی، اور نہ ہی سفارش چلے گی ۴۰۷* اور کفر کرنے والے ہی اصل ظالم ہیں۔

۲۵۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ جس ۴۰۸* کے سوا کوئی الہ نہیں وہ زندہ ہستی ہے۴۰۹* جو قائم ہے اور سب کو سنبھالے ہوئے ہے ۴۱۰* اسے نہ اونگھ لگتی ہے اور نہ نیند ۴۱۱* جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے ، کون ہے جو اس کے حضور اس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے ۴۱۲* ؟ وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز کا ادراک نہیں کر سکتے۔ بجز اس کے جو وہ چاہے ۴۱۳* اس کی کرسی ۴۱۴* آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے۔ اور ان کی حفاظت اس پر کچھ بھی گراں نہیں ۴۱۵* اور وہ نہایت بلند اور عظمت والا ہے۔ ۴۱۶*

۲۵۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دین کے بارے میں کوئی جبر ۴۱۷* نہیں۔ ہدایت گمراہی سے بالکل ممتاز ہو کر سامنے آ گئی تو جس شخص نے طاغوت ۴۱۸* کا انکار کیا اور اللہ پر ایمان لایا اس نے ایسا مضبوط سہارا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ، اور اللہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

۲۵۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ اہل ایمان کا کار ساز ہے وہ ان کو تاریکیوں سے نکال کر نور۴۱۹* (روشنی) میں لاتا ہے اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے کار ساز طاغوت ہیں وہ ان کو روشنی سے تاریکیوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہ لوگ آگ میں جانے والے ہیں۔ جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

۲۵۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا تم ۴۲۰* نے اس شخص ۴۲۱* کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیم سے اس کے رب کے بارے میں اس وجہ سے جھگڑا کیا کہ اللہ نے اس کو اقتدار بخشا۴۲۲* تھا۔ جب ابراہیم نے کہا کہ میرا رب تو وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے۔ اس نے کہا میں بھی جلاتا اور مارتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا اچھا تو اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تو اسے مغرب سے نکال لا ۴۲۳* یہ سن کر وہ کافر ششدر رہ گیا اور اللہ ایسے ظلاموں کو ہدایت نہیں کرتا ۴۲۴*

۲۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یا پھر اس شخص کی مثال (قابل غور) ہے جس کا گزر ایک ایسی بستی پر ہوا جو اپنی چھتوں پر گری بڑی تھی ۴۲۵* اس نے کہا اللہ اس کو اس کے مر چکنے کے بعد کس طرح زندہ کرے گا! ۴۲۶* اس پر اللہ نے اسے موت دی اور سو سال تک اسی حالت میں رکھا پھر اسے جلا اٹھایا ۴۲۷* اور پوچھا کتنی مدت اس حال میں رہے ؟ اس نے جواب دیا : ایک دن یا ایک دن کا کچھ حصہ۔ فرمایا نہیں بلکہ تم ایک سو سال اس حالت میں گزار چکے ہو ۴۲۸* اب اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ اس میں کوئی تغیر واقع نہیں ہوا اور اپنے گدھے کو بھی دیکھو (کہ بوسیدہ ہونے کے باوجود ہم اس کو کس طرح زندہ کرتے ہیں) اور تاکہ ہم تمہیں لوگوں کے لیے ایک نشانی بنا دیں ۴۲۹* اور ہڈیوں کی طرف دیکھو کہ کس طرح اس کا ڈھانچہ کھڑا کرتے ہیں پھر ان پر گوشت پوست چڑھاتے ہیں ۴۳۰* اس طرح جب اس پر حقیقت آشکارا ہو گئی تو پکار اٹھا : میں یقین رکھتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

۲۶۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور (وہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے) جب ابراہیم نے کہا: میرے رب ! مجھے دکھا دے تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا۔ فرمایا کیا تم ایمان نہیں رکھتے ؟ عرض کیا ایمان تو رکھتا ہوں لیکن چاہتا ہوں کہ دل مطمئن ہو جائے فرمایا : تو چار پرندے لے لو اور ان کو اپنے سے ہلالو پھر ان کا ایک ایک جزو ایک ایک پہاڑی پر دکھ دو پھر ان کو پکارو وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آئیں گے۴۳۱* اور خوب جان لو کہ اللہ غالب اور حکیم ہے ۴۳۲*

۲۶۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو لوگ ۴۳۳* اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۴۳۴* ان کے خرچ کی مثال اس دانہ کی سی ہے جس سے سات بالیں اُگ آئیں اور ہر بل میں سو سانے ہوں ۴۳۵* اس طرح اللہ جسے چاہتا ہے افزونی عطا فرماتا ہے۴۳۶* اللہ بڑی وسعت والا اور علیم ہے ۴۳۷*

۲۶۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ دل آزاری کرتے ہیں ان کا اجر ان کے ب کے پاس ۴۳۸* ہے ان کے لیے نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

۲۶۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھلی بات کہنا اور در گزر سے کام لینا اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے پیچھے دل آزاری ہو ۴۳۹*اور اللہ بے نیاز اور برد بار۴۴۰* ہے۔

۲۶۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے ایمان والو ! احسان جتا کر اور دل آزاری کر کے اپنے صدقات کو اس شخص کی طرح برباد نہ کرو جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرتا ہے اور اللہ اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹان جس پر کچھ مٹی (جمع ہوئی) تھی اس پر جب زور کا مینہ برسا تو وہ صاف چٹان کی چٹان رہ گئی۔ ۴۴۱* ایسے لوگوں کی کمائی کچھ بھی ان کے ہاتھ لگنے والی نہیں۔ اور اللہ کافروں کو راہ راست نہیں دکھاتا۔ ۴۴۲*

۲۶۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کی رضا جوئی کے لی ثبات قلب کے ساتھ خرچ کرتے ہیں اس باغ کی مانند ہے جو بلندی پر واقع ہو۔ اس پر بارش ہو جائے تو دو گنا پھل لائے اور اگر بارش نہ ہو تو پھوار ہی کافی ہو جائے تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔

۲۶۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا تم میں سے کوئی بھی یہ پسند کرے گ کہ اس کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو جس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں اور اس کے لیے اس میں ہر قسم کے پھل موجود ہوں ۴۴۳* اور وہ بڑھاپے کی حالت کو پہنچ گیا ہو اور اس کے بچے ابھی ناتواں ہوں اور اس باغ پر آگ (سموم) کا بگولہ ۴۴۴* چلے جس سے وہ جھلس کر رہ جائے اس طرح اللہ تمہارے لیے آیتیں واضح فرماتا ہے تاکہ تم غور و فکر کرو۔ ۴۴۵*

۲۶۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے ایمان والو! اپنی کمائی میں سے اچھی اور پاکیزہ ۴۴۶* چیزیں خرچ کرو اور ان چیزوں میں سے خرچ کرو جو زمین سے ہم نے تمہارے لیے نکالی ہیں ۴۴۷* اور بری اور نا پاک چیزیں خرچ کر نے کا ہر گز ارادہ نہ کرو کہ اگر وہی چیزیں تمہیں دی جائیں تو تم کبھی نہ لو گے الا یہ کہ اغماض برت جاؤ اور اچھی طرح جان لو کہ اللہ نے نیاز اور تعریف کا مستحق ہے۔

۲۶۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور بے حیائی کے کاموں کی ترغیب دیتا ہے ۴۴۸* مگر اللہ اپنی طرف سے مغفرت اور فضل کا وعدہ کرتا ہے۔ اللہ بڑی وسعت والا اور بڑے علم والا ہے۔

۲۶۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ جسے چاہتا ہے حکمت ۴۴۹* سے نوازتا اور جسے حکمت ملی اسے بڑی دولت مل گئی مگر نصیحت وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہیں۔

۲۷۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم نے جو کچھ بھی خرچ کیا ہو اور جو نذر بھی ۴۵۰* مانی ہو اللہ اس کو جاتا ہے اور ظالموں ۴۵۱* کا کوئی مدد گار نہ ہو گا۔

۲۷۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر تم اپنے صدقات ظاہر کر کے دو تو یہ بھی اچھا ہے لیکن اگر اخفا کے ساتھ محتاجوں کو دو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے ۴۵۲* اللہ تمہاری کتنی ہی برائیوں کو دور کر دے گا۔ اور اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔

۲۷۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان کو ہدایت دینے کی ذمہ داری تم پر نہیں ۴۵۳* ہے بلکہ اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور تم جو مال بھی خرچ کرو گے اس کا فائدہ تم ہی کو پہنچے گا۔ اور تم اللہ کو رضا جوئی ہی کے لیے خرچ کرتے ہو تو جو مال بھی تم خرچ کرو گے اس کا اجر تمہیں پورا پورا دیا جائے گا۔ اور تمہاری ہر گز حق تلفی نہ ہو گی۔

۲۷۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اعانت کے اصل مستحق وہ حاجت مند ہیں جو اللہ کی راہ میں ایسے گھر گئے کہ زمین میں دوڑ دھوپ۴۵۴* نہیں کر سکتے۔ بے خبر آدمی ان کی خود داری کو دیکھ کر ان کو غنی خیال کرتا ہے۔ تم ان کو ان کے چہروں سے پہچان سکتے ہو، وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے۔ اور جو مال بھی تم خرچ کرو گے اللہ اس کو جانتا ہے۔

۲۷۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو لوگ اپنے مال رات اور دن کھلے اور چھپے خرچ کرتے ہیں ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے۔ ان کو نہ کسی قسم کا خوف ہو گا اور نہ غم۔

۲۷۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو لوگ ۴۵۵* سود ۴۵۶* کھاتے ہیں وہ اس شخص کی طرح اٹھیں ۴۵۷* گے جسے شیطان نے اپنی چھوت سے خبطی بنا دیا ہو ۴۵۸* یہ اس لیے کہ وہ کہتے ہیں بیع بھی تو سود کی طرح ہے ۴۵۹* حالانکہ اللہ نے بیع کو حلال ٹھہرایا ہے اور سود کو حرام ۴۶۰* اب جس شخص کو اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچے اور وہ باز آ جائے تو جو کچھ وہ پہلے لے چکا وہ اس کا ہوا اور اس کا معاملہ اللہ کے حوالہ ہے اور اگر پھر اس کا اعادہ کرے تو ایسے لوگ دوزخی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ۴۶۱*

۲۷۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ سود کو نیست و نابود کرتا ہے اور صدقات کو افزونی عطا فرماتا ہے ۴۶۲* اللہ کسی نا شکرے اور حق تلفی کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۴۶۳*

۲۷۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بے شک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک کام کیے اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے۔ ان کو نہ کسی قسم کا اندیشہ ہو گا ور نہ غم۔

۲۷۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو ، اگر واقعی تم مؤمن ہو۔

۲۷۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو آگاہ ہو جاؤ کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ ۴۶۴* ہے۔ اور اگر توبہ کر لو تو تم کو اپنا اصل مال لینے کا حق ہے۔ نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔

۲۸۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر مقروض تنگ دست ہو تو کشادگی تک مہلت ۴۶۵* دو اور معاف کر دو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم سمجھو۔

۲۸۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس دن سے ڈرو جب تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے پھر ہر شخص کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی کے ساتھ نا انصافی نہ ہو گی۔

۲۸۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے ایمان والو! جب تم کسی معین مدت کے لیے قرض کا لین۴۶۶* دین کرو تو اسے لکھ لیا کرو۴۶۷* اور کوئی لکھنے والا تمہارے درمیان انصاف کے ساتھ لکھے۔ لکھنے سالے کو جیسا کہ اللہ نے اس کو سکھایا ہے (دستاویز) لکھنے سے انکار نہیں کرنا چاہیے بلکہ لکھ دینا چاہیے ۴۶۸* اور یہ دستاویز وہ شخص لکھوائے جس کے ذمے حق ہے ۴۶۹* اور وہ اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور اس میں کوئی کمی نہ کرے لیکن اگر وہ شخص جس پر حق عائد ہوتا ہے نادان یا ضعیف ہو دستاویز لکھوا نہ سکتا ہو تو ا کا ولی انصاف کے ساتھ لکھوائے۔ اور اس پر اپنے مردوں میں سے دو کو گواہ ٹھہرا لو ۴۷۰* اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہوں۔ یہ گواہ ایسے لوگوں میں سے ہوں جنہیں تم (گواہی کے لیے) پسند کرتے ۴۷۱* ہو۔ دو عورتیں اس لیے کہ اگر ایک غلطی کرے تو دوسری اسے یاد دلائے ۴۷۲* اور جب گواہوں کو بلایا جائے تو انہیں انکار نہیں کرنا چاہیے۔ قرض کا معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا مدت کی تعین کے ساتھ اس کو لکھنے میں تساہل نہ برتو۔ یہ طریقہ اللہ کے نزدیک نہایت قرین انصاف ہے، شہادت کو زیادہ درست رکھنے کا موجب ہے اور اس لحاظ سے انسب ہے کہ تم شبہات میں نہ پڑو۔ ہاں اگر معاملہ دست بدست لین دین کا ہو تو اس کے نہ لکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ اور خرید فروخت ک معاملہ کرو تو گواہ کر لیا کرو۔ کاتب اور گواہ کو ستایا نہ جائے ایسا کرو گے تو یہ بڑی نا انصافی ہو گی۔ اور اللہ سے ڈرو ۴۷۳* اللہ تمہیں تعلیم دیتا ہے اور اللہ کو ہر چیز کا علم ہے۔

۲۸۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اگر تم سفر میں ہو اور کاتب نہ مل سکے تو رہن ۴۷۴* قبضہ میں دے کر معاملہ کر سکتے ہو پھر اگر تم میں سے کوئی شخص دوسرے پر اعتماد کرتا ہے تو جس کے پاس امانت رکھی گئی ہے اسے چاہیے کہ اس کی امانت ادا کرے اور اللہ سے جو اس کا رب ہے ڈرے۔ اور شہادت کو نہ چھپاؤ جو شخص شہادت کو چھپاتا ہے وہ در حقیقت اپنے دل کو گناہ سے آلودہ کرتا ہے اور تم جو کچھ کرتے ہو اسے اللہ بخوبی جانتا ہے۔

۲۸۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو کچھ ۴۷۵* آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے ۴۷۶* تم اپنے دل کی باتیں ظہر کرو یا چھپاؤ، اللہ ان کا حساب تم سے لے لے گا ۴۷۷* پھر جس کو چاہے گا معاف کرے گا اور جس کو چاہے گا سزا دے گا۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۴۷۸*

۲۸۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رسول ایمان لایا اس چیز پر جو اس کے رب کی طرف سے اس پر نازل ہوئی ہے اور مؤمنین بھی ۴۷۹* یہ سب ایمان لائے اللہ پر ، اس کے فرشتوں پر۔ اس کی کتابوں پر اس کے رسولوں پر۔ ہم اس کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے ۴۸۰* اور کہتے ہیں کہ ہم نے سنا ۴۸۱* اور اطاعت کی۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ سے مغفرت کے طالب ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

۲۸۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا ۴۸۲* اس نے جو نیکی کمائی وہ اسی کے لیے ہے اور جو بدی سمیٹی اس کا وبال بھی اسی پر ہے ۴۸۳* اے ہمارے رب ۴۸۴* اگر ہم سے بھول یا غلطی سرزد ہو جائے تو اس پر مواخذہ نہ فرما ۴۸۵* اے ہمارے رب! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ ۴۸۶* اے ہمارے رب! ۴۸۷* ہم پر کوئی ایسا بار نہ ڈال جس کو اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں ۴۸۸* ہم سے در گزر فرما، ۴۸۹* ہمیں بخش دے ۴۹۰* اور ہم پر رحم فرما، تو ہمارا مولیٰ ہے ۴۹۱* پس تو ہمیں کافروں پر غلبہ عطا فرما۔ ۴۹۲*

 

                   تفسیر

 

۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اور اس طرح کے حروف مختلف سورتوں کے آغاز میں آئے ہیں جنہیں حروف مقطعات کہتے ہیں ان حروف کو الگ الگ کر کے پڑھا جاتا ہے۔ ۲۹ سورتوں کا آغاز حروف مقطعات سے ہوا ہے۔ یہ حروف سورتوں کے مخصوص مضامین کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اس سورہ کے مضامین پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ الف کا اشارہ اللہ اور اس کی آیات کی طرف، لام کا اشارہ لا الہ الا اللہ کی طرف اور میم کا اشارہ تین باتوں کی طرف ہے ایک اس کے مِلک اور مالک ہونے کی طرف دوسرے ملائکہ کی طرف جن کے توسط سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر قرآن نازل کیا گیا اور تیسرے مومنین و متقین کی طرف جن کے لیے یہ قرآن ہدایت و بشارت بن کر نازل ہوا ہے۔ یہ مضامین اس سورہ میں خاص اہتمام کے ساتھ بیان ہوئے ہیں مثال کے طور پر آیت الکرسی آیت ۲۵۵ جو اس سورہ کی مہتم بالشان آیت ہے الف اور لام کی بہت واضح تعبیر ہے کہ اللہ لا الٰہ الا ہو سے شروع ہوتی ہے۔ گویا الف اللہ کی توحید کا نشان ہے تو لام اس کے منفی پہلو یعنی شرک کے باطل ہونے کی علامت ہے۔ علاوہ ازیں ان حروف کو سورہ کے دیگر مضامین سے بھی گہری مناسبت ہے مثلاً اس سورہ کی آیات ۲۴۳، ۲

اور ۲۵۷” اَلَمْ” سے شروع ہوتی ہیں جن میں تین مختلف واقعات بیان ہوئے ہیں پہلا واقعہ ایک گروہ کی موت و حیات کا، دوسرا طالوت کا، اور تیسرا حضرت ابراہیم کے بادشاہ کے دربار میں دعوت توحید پیش کرنے کا۔

قرآن کے اس اسلوب کی مثال زبور میں بھی موجود ہے چنانچہ زبور کے باب ۱۱۹ میں عبرانی حروف کا بہ کثرت استعمال ہوا ہے مثلاً زبور ۱۱۹:۱۳۷ میں ہے:۔

“ص (عبرانی تلفظ صاد سے) اے خداوند تو صادق ہے۔ ” ظاہر ہے زبور کی اس آیت میں ص صادق کی طرف اشارہ کر رہا ہے اسی طرح زبور ۱۱۹: ۱۲۱ میں ہے:

“ع (عبرانی لفظ عین) ۔ میں نے عدل و انصاف کیا ہے۔ ”

اس آیت میں ع عدل کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ اسی طرح زبور ۱۱۹:۷۳ میں ہے

” عی (عبرانی تلفظ یود) ۔ تیرے ہاتھوں نے مجھے بنایا اور ترتیب دی۔ ”

اس آیت میں حرف ی ید (ہاتھ) کی طرف اشارہ کر رہا ہے اسی لیے قرآن کے مخاطبین کو اس میں معمہ کے قسم کی کوئی بات محسوس نہیں ہوئی ورنہ وہ ضرور سوال کرتے کہ ان حروف کا کیا مطلب؟ ویسے بھی مجرد حروف کوئی معنی نہیں رکھتے جب تک کہ وہ افعال یا اسماء کے ساتھ استعمال نہ ہوں۔ اس لیے قرینہ کی بات یہی ہے کہ ان کا استعمال علامت اور اشارہ کے طور پر ہوا ہے جس زمانے میں قرآن نازل ہوا اس کی حفاظت کا دار و مدار زبانی حفظ کر لینے پر تھا اور اس حقیقت سے انکار نہیں کیا سکتا کہ سورتوں کے حفظ کر لینے میں مخصوص مضامین کی طرف اشارات سے نیز سورتوں کے علامتی ناموں سے بڑی مدد ملتی ہے اور یہ طریقہ سورتوں کی شناخت کے معاملہ میں بڑا معاون ہوتا ہے اس لیے قرآن نے اس اسلوب کو اختیار کیا بہر صورت ان حروف کو معمہ سمجھنا صحیح نہیں کیونکہ قرآن ہدایت کی کتاب ہے جو عربی میں نازل ہوئی ہے اس میں معنی کی گہرائی ضرور ہے لیکن معمے کے قسم کی کوئی بات نہیں ہے۔ (مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ یونس نوٹ ۱)

۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کسی کتاب کے کتاب الٰہی ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ کتاب خود منزل من اللہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہو اور اس کے مضامین بھی اس کی شہادت دیتے ہوں قرآن اپنے کتاب الٰہی ہونے کا واضح طور سے دعویٰ بھی کرتا ہے اور اس کے مضامین بھی کھلی شہادت دیتے ہیں کہ یہ اللہ رب العالمین ہی کا کلام ہے۔ اس کے کلام الٰہی ہونے کے بارے میں ادنیٰ شک کی بھی گنجائش نہیں ہے۔ قرآن کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی تصنیف قرار دینا ایک بے بنیاد اور نا معقول بات ہے کیونکہ آپؐ امی تھے اور قرآن جیسی عظیم الشان کتاب جس کے اندر انسانی زندگی کے لیے مکمل رہنمائی ہو ایک امی کے بس کی بات نہیں ہو سکتی۔ مزید برآں قرآن کا یہ چیلنج ہے کہ اس جیسی کتاب تمام جن و انس مل کر بھی تصنیف نہیں کر سکتے قرآن کے اس چیلنج کا جواب آج تک نہیں دیا جا سکا نزول قرآن کے دور کے فصحاء و بلغاء اس کا جواب دینے سے قاصر رہے اور بعد کے دور کا بھی کوئی شخص اس دعوے کو غلط ثابت نہ کر سکا۔

۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قرآن کے ہدایت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب اللہ تک پہنچنے کا راستہ دکھاتی ہے۔ زندگی کی پُر پیچ راہوں کے درمیان یہ کتاب راہ راست کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور عقائد و افکار، اخلاق و معاملات اور خصائل و اعمال کے بارے میں صحیح نقطہ نظر پیش کرتی ہے۔ اس کی روشنی میں انسان راہ حق پر چل کر منزل مقصود کو پہنچ سکتا ہے بشرطیکہ وہ کھلے ذہن سے اس کا مطالعہ کرے اور ہر قسم کے تعصب سے بالاتر ہو کر حق بات کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہو جائے۔

۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قرآن نے دوسری جگہ اپنے ” ہُدیً لِلنّاس” (۲:۱۸۵) تمام لوگوں کے لیے ہدایت ہونے کی صراحت کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن سراسر ہدایت ہے اور اس کی ہدایت سب کے لیے عام ہے لیکن جس طرح سورج کی روشنی سے وہی لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو اپنی آنکھیں کھلی رکھیں۔ اسی طرح قرآن کی روشنی سے بھی وہی لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جن کے دلوں میں اپنے خالق کی عظمت اور اس کے غضب کا خوف ہو۔ اس فطری صلاحیت کو یہاں تقویٰ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ آدمی کے اندر یہ وصف ہو تو وہ خیر و شر میں تمیز کرتا ہے اور بھلائی اور نیکی کا طالب بنتا ہے یہ تقویٰ بنیادی طور پر انسان کی فطرت میں ودیعت ہوا ہے قرآن اس کی آبیاری کرتا اور اسے پروان چڑھاتا ہے جو لوگ اس فطری صلاحیت کو کھو چکے ہوں اور اس کے نتیجہ میں وہ نہ اپنے خالق سے تعلق رکھنا چاہتے ہوں اور نہ ذمہ دارانہ اور پرہیز گارانہ زندگی گزارنے کے لیے آمادہ ہوں وہ قرآن کی ہدایت سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ تقویٰ کا یہ فطری وصف قبول ہدایت کے لیے ضروری ہے۔ آگے جو اوصاف بیان کئے گئے ہیں وہ اس بنیادی تقویٰ کا فیضان اور قبول ہدایت کے ثمرات ہیں۔

۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ غیب سے مراد وہ حقائق ہیں جو انسان کے حواس سے پوشیدہ ہیں۔ مثلاً خدا ، ملائکہ، وحی، جنت، دوزخ وغیرہ۔

“غیب پر ایمان لاتے ہیں ” کا مطلب یہ ہے کہ وہ محض محسوسات کے غلام نہیں ہیں بلکہ ان حقائق کو تسلیم کرتے ہیں جو اگرچہ کہ ان کے مشاہدہ اور تجربہ میں نہیں آئے ہیں لیکن اللہ کا پیغمبر ان کی خبر دے رہا ہے اور انسانی فطرت اور عقل سلیم ان کے حق ہونے کی شہادت دیتی ہے۔ غیب پر ایمان لانا ضعیف الاعتقادی نہیں ہے بلکہ اس سے عقل کی پرواز بلند ہوتی ہے اور انسان کا روحانی ارتقاء ہوتا ہے جو لوگ محسوسات کے دائرے میں اپنے کو محصور کر لیتے ہیں اور حقائق کو محض اس بنا پر تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے کہ وہ ان کے مشاہدہ اور تجربہ میں نہیں آئے ہیں وہ بلند پروازی کی فطری صلاحیت کو کھو بیٹھتے ہیں اس کے بعد نہ وہ خدا کو پہچان پاتے ہیں اور نہ اپنے آپ کو۔ اس محرومی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ زندگی کے مقصد اور اس کی غایت کے بارے میں اٹکل پچو باتیں کرنے لگتے ہیں۔

۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایمان لانے کا مطلب یقین و اعتقاد کے ساتھ مان لینا ہے۔ جو شخص اللہ اور اس کی آیات و ہدایات پر اس طرح ایمان لائے جس طرح قرآن میں ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے جس میں رسالت اور آخرت وغیرہ پر ایمان لانا بھی شامل ہے نیز اپنے کو ہمہ تن اس کے حوالے کر دے اور اس کے فیصلوں پر راضی و مطمئن ہو جائے وہ مومن ہے۔

واضح رہے کہ ایمان وہی معتبر ہے جو دل کی تصدیق کے ساتھ ہو لیکن زبانی اقرار بھی ضروری ہے چنانچہ اسلام کا پہلا رکن یہ ہے کہ آدمی زبان سے کلمہ شہادت ادا کرے۔

۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نماز قائم کرنا نماز پڑھنے کے مقابلہ میں زیادہ جامع بات ہے۔ نماز قائم کرنے کے مفہوم میں اخلاص اور خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھنا، ارکان نماز ، قیام کرنا، نماز کی صفوں کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنا، جماعت کا اہتمام کرنا، نماز کی صفوں کو درست رکھنا، نماز کے اوقات کی پابندی کرنا غرض نماز کو اس کے تمام ظاہری و باطنی آداب کے ساتھ ادا کرنا شامل ہے۔

۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خرچ کرنے سے مراد اللہ کی راہ میں اس کی رضا حاصل کرنے کے لیے خرچ کرنا ہے جس میں زکوٰۃ اور صدقات و خیرات کی تمام قسمیں شامل ہیں۔ یہ گویا بندہ کی طرف سے اس بات کا اعتراف ہے کہ مال اللہ ہی کا بخشا ہوا ہے اور اس بخشش پر وہ اس کا شکر گزار ہے نماز قائم کرنا اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنا وہ بنیادی نیکیاں ہیں جو تمام بھلائیوں کا سرچشمہ ہیں۔

۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یہ لوگ ہر قسم کے گروہی، قومی، جغرافیائی اور نسلی تعصب سے پاک ہیں وہ اللہ کی نازل کردہ کتابوں میں کوئی تفریق نہیں کرتے کہ کسی کو مانیں اور کسی کو نہ مانیں بلکہ وہ اس کی تمام کتابوں کو برحق تسلیم کرتے ہیں خواہ وہ ان کی اپنی قوم کے پیغمبر پر نازل ہوئی ہو یا کسی اور قوم کے پیغمبر پر۔ لیکن جو لوگ اللہ کی ہدایت کے قائل ہی نہ ہوں یا صرف اس کتاب کو آسمانی کتاب مانتے ہوں جو ان کی اپنی قوم کے پیغمبر پر نازل ہوئی تھی ان پر قرآن کی راہ ہدایت کھل نہیں سکتی۔

یہود تورات کو جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی مانتے تھے لیکن انجیل کو جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی اور قرآن کو جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر نازل ہوا ہے ماننے سے انکار کرتے تھے۔ اسی طرح نصاریٰ تورات اور انجیل کو تو آسمانی کتاب مانتے تھے لیکن قرآن کے آسمانی کتاب ہونے سے انہیں انکار تھا قرآن نے اپنے پیروؤں کو جس عقیدہ کی تعلیم دی وہ یہ تھی کہ وہ ہر قسم کے تعصب سے بالاتر ہو کر تورات ، انجیل، قرآن اور دیگر تمام کتب پر جو انبیاء علیہم السلام پر نازل ہوئی تھیں ایمان لائیں۔

۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آخرت کا لفظ دنیا کے مقابلہ میں اس دنیا کے لیے بولا جاتا ہے جہاں انسان کو جی اٹھنے کے بعد اپنے اعمال کی جزا و سزا پانا اور ہمیشگی کی زندگی گزارنا ہے۔ دنیا کے موجودہ نظام کا ایک دن خاتمہ ہو گا جس کے بعد اللہ تعالیٰ ایک دوسرا عالم برپا کرے گا اور اس میں پوری نوع انسانی کو دوبارہ پیدا فرما کر جمع کرے گا تاکہ ان کے اعمال کا حساب لے اور نیکو کاروں کو جنت میں اور بد کاروں کو دوزخ میں داخل کرے۔ آخرت کا یہ عقیدہ اور جزا و سزاء کا یہ تصور عقیدۂ تناسخ سے بالکل مختلف ہے اور اس کی قطعی طور پر نفی کرتا ہے۔

” آخرت پر یقین رکھتے ہیں ” یہ اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ ایمان بالآخرت کے مدعی تو بہت سے لوگ ہو سکتے ہیں لیکن حقیقتاً آخرت پر یقین رکھنے والے وہ متقی لوگ ہیں جن کے اوصاف اوپر بیان کئے گئے۔

۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ہدایت پر ہونے کے مدعی بہت سے لوگ ہو سکتے ہیں جو شخص جس مذہبی گروہ سے تعلق رکھتا ہے وہ اپنے زعم میں برسر ہدایت ہی ہے لیکن در حقیقت اللہ تعالیٰ کی ہدایت پر صرف وہ لوگ ہیں جو مذکورہ اوصاف کے حامل ہیں اور فوزو و فلاح ان ہی کے لیے مقدر ہے۔

۱۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اصل کامیابی دنیا کی خوشحالی نہیں بلکہ آخرت کی کامیابی ہے اور کامیاب در حقیقت وہ لوگ ہیں جو اللہ کے فیصلہ میں کامیاب قرار پائیں۔ قرآن کے نزدیک کامیابی کا صحیح معیار یہی ہے اور اسی کو سامنے رکھ کر اپنے لیے فکر و عمل کی راہ متعین کرنا چاہیے۔

۱۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کفر کے معنی انکار کرنے کے ہیں اور اس سے مراد بالعموم ان باتوں کا انکار ہے جن پر ایمان قرآن کے نزدیک ضروری ہے اس آیت میں خاص طور سے وہ لوگ مراد ہیں ، جنہوں نے قرآن کو کتاب الٰہی تسلیم کرنے سے انکار کیا۔

۱۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خبردار کرنے کا مطلب کفر کے نتائج سے آگاہ کرنا ہے۔ جس طرح ایک ڈاکٹر مریض کو بد پرہیزی سے ڈراتا ہے اور علاج سے غفلت برتنے کے نتائج سے آگاہ کرتا ہے اسی طرح ایک پیغمبر کفر و معصیت کے نتائج بد سے آگاہ کرتا ہے۔ زہر کا مہلک ہونا تو سب کو معلوم ہے لیکن اس بات سے لوگ بے خبر ہیں کہ کفر و معصیت کا نتیجہ ہلاکت ہے اسی لیے پیغمبر کی دعوت میں انذار (خبردار کرنے) کا پہلو غالب ہوتا ہے۔

۱۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں ان لوگوں کا حال بیان ہوا ہے جن پر قرآن کی صداقت اچھی طرح واضح ہو گئی تھی لیکن محض ہٹ دھرمی کی بنا پر انہوں نے اس کو کتاب الٰہی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا اور پھر اپنے اس کفر پر اس طرح جم گئے اور حق کی مخالفت میں اتنے آگے بڑھ گئے کہ قبول حق کی صلاحیت ان کے اندر باقی نہیں رہی اس حقیقت کو دلوں اور کانوں پر مہر لگانے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ مہر ظاہری نہیں بلکہ معنوی ہے۔

مطلب یہ کہ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ حق ان پر واضح نہیں ہوا بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ حق کو جھٹلانے کی جو روش انہوں نے اختیار کی اس کے نتیجہ میں وہ قانون الٰہی کی زد میں آ گئے ہیں اور ان کی حق کو سنتے، سمجھتے اور دیکھنے کی صلاحیت بالکل سلب ہو گئی ہے۔

اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ انسان کے دل میں حق اسی صورت میں داخل ہو سکتا ہے جبکہ وہ اپنا دل، اپنے کان اور اپنی آنکھیں کھلی رکھے۔

۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس سے بڑھ کر جرم اور کیا ہو سکتا ہے کہ آدمی اپنے رب کے فرمان کو ٹھکرائے؟ اس عظیم جرم پر وہ سزا ہی کا مستحق ہے نہ کہ انعام کا

۱۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پہلا گروہ جس کا ذکر ابتدائی آیات میں ہوا سچے اہل ایمان کا ہے دوسرا گروہ جس کا ذکر آیت ۶ اور ۷ میں ہوا منکرین کا ہے اور تیسرا گروہ جس کی خصوصیات آیت ۸ تا ۲۰ میں بیان ہوئی ہیں ان لوگوں کا ہے جو ایمان کے مدعی تو ہیں لیکن اپنے ایمان میں مخلص نہیں ہیں اس سے اشارہ یہود کے اس گروہ کی طرف سے ہے جس نے منافقانہ روش اختیار کی تھی۔ اس سے یہ بات اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ کے نزدیک ایمان وہی معتبر ہے جو اخلاص کے ساتھ ہو یعنی آدمی خلوص دل سے اللہ اور آخرت کو مانے اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں میں سے کسی کا انکار نہ کرے، ایمان لانے کا محض زبانی دعویٰ کرنا اور دینداری کا لبادہ اوڑھ لینا اللہ کے نزدیک کوئی وزن نہیں رکھتا۔

۱۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ روگ (مرض) سے مراد ایمان میں غیر مخلص ہونا ہے اس روگ میں اللہ کی طرف سے اضافہ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کر دئیے کہ وہ حق کے تقاضوں سے گریز کرنے کے جرم پر جرم کے مرتکب ہوتے رہے اور ان کی منافقت میں اضافہ ہی ہوتا رہا۔

۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دعوتِ قرآنی کی مخالفت کو فساد فی الارض سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زمین کی صلاح اس بات پر موقوف ہے کہ اس کے اندر اس کے حقیقی خالق و مالک کا حکم اور قانون چلے۔ اس سے زمین پر امن و عدل کا نظام قائم ہو سکتا ہے اور ہر طرح کا خیر ظہور میں ا سکتا ہے۔ اسی لیے خالق کائنات کی اطاعت و بندگی کی دعوت اور اس بنیاد پر تمدنی نظام کو قائم کرنے کی جدوجہد حقیقی معنی میں اصلاح کی جدوجہد ہوتی ہے اور اس کی مخالفت میں جو بھی قدم اٹھایا جائے وہ بگاڑ اور فساد کے سوا کچھ نہیں۔

بناؤ اور بگاڑ کی اس حقیقت سے نا آشنا ہونے ہی کی بنا پر اکثر لوگ بناؤ کو بگاڑ اور بگاڑ کو بناؤ سمجھنے لگتے ہیں۔

۲۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اس طرح ایمان لے آؤ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ کے ساتھی ایمان لائے ہیں۔ مخلصانہ ایمان جس کے نتیجہ میں آدمی اللہ کا پکا وفا دار بندہ بن جاتا ہے اور اس کی راہ میں مشقتوں اور خطرات کو انگیز کرتا ہے مفاد پرستوں کی نظر میں دیوانہ پن اور حماقت کے سوا کچھ نہیں۔ ان کے خیال میں دانش مندی یہ ہے کہ آدمی مادی مفادات کو مقدم رکھے اور خدا اور اس کے دین سے محض رسمی تعلق رکھے۔

۲۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ حماقت نہیں تو اور کیا ہے کہ ایک طرف خدا اور اس کی ہدایت کو ماننے کا دعویٰ کیا جائے اور دوسری طرف اس سے مخلصانہ وابستگی کو بے عقلی پر محمول کیا جائے؟

۲۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں شیطانوں سے مُراد شرپسند لیڈر اور پیشوا ہیں۔

۲۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آگ جلانے سے مُراد وحی کی روشنی ہے۔ تمثیل کا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ کے بندے نے قرآن کی روشنی پھیلائی تو جو لوگ بصارت رکھتے تھے ان پر راہِ حق روشن ہو گئی لیکن جو لوگ عقل کے اندھے تھے وہ اس سے محروم رہے۔

روشنی سلب کرنے کا مطلب نورِ بصارت سلب کرنا ہے۔ یعنی جب یہ حق کے طالب نہیں ہے بنے تو اللہ نے ان کو قبول حق کی توفیق نہیں بخشی اس لیے یہ قرآن کی روشنی سے فائدہ اٹھا نہ سکے۔

۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی حق بات سننے، بولنے اور دیکھنے کی صلاحیت سے یہ بالکل محروم ہو گئے ہیں اس لیے ان سے یہ توقع نہیں کی سکتی کہ یہ راہِ ہدایت پا سکیں گے۔ جس کو قرآن نے روشن کیا ہے۔ یہ مثال ان منافقین کی ہے جو اپنے دل میں ایمان کے بالکل منکر تھے اور محض مصلحتاً اپنے کو مسلمان کہلواتے تھے۔

۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ دوسری مثال ان منافقین کی ہے جو شک میں مبتلا تھے اور ایسی دینداری کے قائل نہ تھے جس کی خاطر قربانیاں دینا پڑتی تھیں۔

اس مثال میں بارش سے مراد وحی الٰہی ہے جس کا نزول آسمان سے ہو رہا تھا اور جو انسانیت کے لیے سراسر رحمت بن کر آئی۔ کڑک اور بجلی سے مراد قرآن کی تنبیہات ہیں اور تاریکیوں سے مراد راہ حق کی مشکلات ہیں۔

بجلی چمکنے پر ان کے چل پڑنے اور اس کے غائب ہو جانے پر رک جانے سے اشارہ ان لوگوں کی حیرانی و پریشانی کی طرف ہے۔ قرآن کی چمک ان کی نگاہوں کو خیرہ کر دینے والی تھی اور وہ حیران تھے کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں۔

اگر بجلی گرا چاہتی ہو تو اس سے بچاؤ کی یہ تدبیر کیا کارگر ہو سکتی ہے کہ آدمی اپنی انگلیاں کانوں میں ٹھونس دے؟ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی شیر کو حملہ آور ہوتے دیکھ کر اپنی آنکھیں بند کر لے۔ ظاہر ہے اس تدبیر سے شیر کا حملہ رُک نہیں سکتا۔ یہی حال ان منافقین کا تھا جو قرآن کی تنبیہات کو سننا پسند نہیں کرتے تھے۔

۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی منافقین کے اس دوسرے گروہ کی سماعت و بصارت اللہ نے بالکل سلب نہیں کی ہے۔ اس لیے وہ پہلے گروہ کی طرح قبولِ حق کی صلاحیت سے بالکل محروم نہیں ہوئے ہیں۔

۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ہے قرآن کی اصل دعوت جس کا خطاب تمام انسانوں سے ہے۔ اس کی دعوت یہ ہے کہ اپنے رب کی عبادت کرو جو تم سب کا خالق، مالک اور پروردگار ہے یعنی پرستش بھی اسی کی کرو اور بندگی بھی اسی کی اختیار کرو جس کی تعلیم قرآن دے رہا ہے۔

جو لوگ اللہ کی عبادت کے تو قائل ہیں لیکن اس کی عبادت میں من گھڑت خداؤں کو شریک کرتے ہیں ان کی عبادت حقیقۃً اللہ کی عبادت نہیں ہے۔ جو لوگ واقعی اللہ کی عبادت کرنا چاہتے ہیں ان کو چاہیے کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اور اس طریقہ پر کریں جس کی تعلیم قرآن دے رہا ہے۔

۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ اس بات کی طرف ہے جن لوگوں نے اپنے بزرگوں کو خدائی میں شریک ٹھہرا رکھا ہے ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے اس لیے ان کو خالق کی صف میں لا کھڑا کرنا اور ان کے بت بنا کر پوجنا صحیح نہیں ہے۔ پرستش کا مستحق صرف اللہ ہے جو گزرے ہوئے بزرگوں کے بشمول سب کا خالق ہے۔

۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اہل عرب تسلیم کرتے تھے کہ یہ سارے کام اللہ ہی کے ہیں پھر بھی وہ اللہ کے شریک ٹھہراتے تھے۔ اس لیے ان سے کہا گیا کہ جب تم یہ تسلیم کرتے ہو کہ تخلیق و ربوبیت کے یہ سارے کام اللہ ہی کے ہیں تو پھر ان کو اللہ کا شریک کیوں ٹھہراتے ہو جن کا ان کاموں میں کوئی حصہ نہیں۔ یہ توحید کی دعوت ہے جس کے دلائل یہاں مختصراً بیان کئے گئے ہیں۔

۳۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اگر تم کو قرآن کے منزل من اللہ ہونے میں شک ہے اور تم یہ خیال کرتے ہو کہ یہ حضرت محمد ؐ کی تصنیف ہے تو تم بھی کوئی اس جیسی ایک سورہ ہی تصنیف کر لاؤ۔ قرآن کے اس چیلنج کا جواب نہ اس زمانے کے مخالفین دے سکے اور نہ بعد کے کسی زمانے کے۔ قرآن کی یہ عظمت مختلف پہلوؤں سے ہے۔ کمال درجہ کی فصاحت و بلاغت، الفاظ کا موزوں ترین انتخاب، موتیوں کی طرح لڑیوں میں پرویا ہوا نظم کلام، دل کی گہرائیوں میں اتر جانے والی باتیں ، فطری داعیات سے کامل ہم آہنگی، وجدان کی پکار، تزکیۂ نفس کا بہترین نسخہ، اخلاق و شرافت کے نقطہ عروج کو پہنچا دینے والی تعلیم، انسانی زندگی کے لیے مکمل نظام، مسائل حیات کا موزوں ترین حل، زندگی کے جملہ شعبوں کے لیے رہنمائی کا سامان، کائنات کے اسرار اور مابعد الطبعی حقائق کا انکشاف، خالق کائنات کی صحیح ترین معرفت اور اس کی مرضیات کا علم قرآن کی عظمت کے وہ پہلو ہیں جو اس کے کلام الٰہی ہونے کی بین شہادت دیتے ہیں۔ ایسا کلام جس کی یہ خصوصیات ہوں انسان پیش کرنے سے عاجز ہے اور تمام انسان مل کر بھی اس کی نظیر نہیں پیش کر سکتے۔ اس آیت میں قرآن اور نبوت محمدی پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔

۳۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد وہ پتھر ہیں جن کو پوجا جاتا رہا۔ جہنم کی غذا وہ لوگ ہوں گے جن کے اندر کفر اور شرک موجود ہو گا اور وہ بت بھی ہوں گے جو پوجے جاتے رہے تاکہ ان کے پرستاروں کو معلوم ہو جائے گا کہ جن پر وہ چڑھاوے چڑھاتے رہے ہیں ان کی کیا گت بن گئی ہے اور وہ کس طرح ان کی ہلاکت کا موجب بن گئے۔

۳۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جنت کے باغ جو اہل ایمان کو آخرت میں ملیں گے۔

۳۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جنت کے پھل شکل و صورت میں دنیا کے پھلوں سے مشابہ ہوں گے لیکن ذائقہ میں ان سے بدرجہا بڑھ کر ہوں گے۔

۳۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حقائق کو اگر مثال کے پیرایہ میں بیان کیا جائے تو وہ بہ آسانی عقل کی گرفت میں آ جاتے ہیں اس لیے تمثیل ایک حکیمانہ کلام کی خصوصیت ہوتی ہے۔ قرآن نے بتوں کی بے بسی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو یہ اس کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے۔ ان مثالوں کی آڑ لے کر مشرکین قرآن پر معترض ہوتے تھے۔ اسی کا جواب یہاں دیا گیا ہے۔

۳۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فاسق یعنی نافرمانی کے بھی مختلف درجے ہیں۔ یہاں یہ لفظ ان بڑی بڑی نافرمانیوں کے لیے استعمال ہوا ہے جس کے ساتھ ایمان جمع نہیں ہو سکتا۔

۳۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد رشتۂ رحم کو کاٹنا ہے۔ جو شخص اس رشتہ کو کاٹتا ہے وہ معاشرہ کی جڑ پر کلہاڑا چلاتا ہے اس لیے اس کو بڑے گناہ کا کام اور موجب فساد قرار دیا گیا ہے۔

۳۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ کی صفات مثلاً اس کے معبود واحد، مختارِ کل، عادل، علیم و خبیر اور قادرِ مطلق ہونے کی نفی کرنا، اللہ کا انکار کرنے کے ہم معنی ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ اللہ کو ماننا ہے تو اسے اس کی حقیقی صفات کے ساتھ مانو ورنہ اس کو ماننے کا دعویٰ کوئی وزن نہیں رکھتا۔

۳۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی زندگی، موت اور دوبارہ اٹھایا جانا کسی دیوی دیوتا کا کام نہیں بلکہ یہ سب چیزیں اللہ ہی کے اختیار میں ہیں۔ پھر کس طرح اس کی ناشکری کرتے ہو؟ اس آیت میں آخرت پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔

۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس سے اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ خدا کی خدائی نظر آنے والے ستاروں تک محدود نہیں ہے بلکہ

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

۴۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لفظ ملائکہ استعمال ہوا ہے جو مَلَک کی جمع ہے اور جس کے معنی پیغام رساں کے ہیں اردو میں اسے فرشتہ اور انگریزی میں (Angel) کہتے ہیں۔

فرشتے اللہ کی ذی شعور اور ذی عقل مخلوق ہیں نہایت پاکیزہ اور اعلیٰ صفات سے متصف ہیں۔ وہ کائنات میں اللہ کے احکام کی تنقید کرتے ہیں۔ اس کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم انہیں دیا جاتا ہے بجا لاتے ہیں۔ وہ اللہ کی طرف سے اس کے نبیوں کے پاس وحی لاتے ہیں ،انسانی اعمال کا ریکارڈ رکھتے ہیں اسی طرح روح قبض کرنے کا کام بھی وہ اللہ کے اذن سے انجام دیتے ہیں۔

۴۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لفظ خلیفہ یہاں با اختیار کے معنی میں استعمال ہوا انسان کو زمین پر خلیفہ مقرر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اختیارات تفویض کر کے آزمائے گا۔ آیا وہ ان اختیارات کو اپنے رب کی مرضی کے مطابق استعمال کرتا ہے یا من مانی کر کے خدا بن بیٹھتا ہے۔

مذکورہ آیت میں گویا اس بنیادی سوال کا جواب دیا گیا ہے کہ انسان کی اس دنیا میں اصل حیثیت کیا ہے۔ اس سوال کے صحیح جواب ہی پر اس کے طرز عمل کی صحت اور اس کے حسن انجام کا دار و مدار ہے۔ اس اہم ترین سوال پر سنجیدگی سے غور کرنے اور اس کا صحیح جواب تلاش کرنے کے بجائے لوگ اپنی یہ حیثیت متعین کر لیتے ہیں کہ وہ بالکل آزاد اور خود مختار ہیں۔ نہ کسی ہستی نے ان کو اختیارات تفویض کئے ہیں اور نہ ان اختیارات کے استعمال میں وہ کسی ہستی کی مرضی کے پابند ہیں اور نہ ہی انہیں اس بارے میں کسی کے حضور جوابدہی کرنی ہے۔ اس نظریہ کے نتیجہ میں انسان خلافت کے مقام کو چھوڑ کر خدائی کے مقام پر جا بیٹھتا ہے اور اپنے اس غلط فیصلے کے نتیجہ میں زمین کو فساد سے بھر دیتا ہے کیوں کہ زمین کے امن و عدل کا انحصار اس بات پر ہے کہ اس میں اللہ کے احکام و قوانین جاری و نافذ ہوں ورنہ انسانی خواہشات کی فرماں روائی کا نتیجہ بگاڑ اور ظلم و زیادتی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے؟

۴۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرشتوں نے یہ اندیشہ محسوس کیا کہ انسان کو امتحاناً جو اختیارات تفویض کئے جا رہے ہیں۔ ان کو صحیح طور سے استعمال کرنا آسان نہیں۔ ان اختیارات کو پا کر انسان بہک سکتا ہے اور من مانے طریقے پر استعمال کر سکتا ہے۔ جس کا قدرتی نتیجہ فساد اور خونریزی کی شکل میں ظاہر ہو گا۔

۴۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرشتوں کے ذہن میں جو اشکال پیدا ہو گیا تھا اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے جو بات ارشاد فرمائی اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے خلیفہ بنائے جانے سے اللہ کے پیش نظر جو اسکیم ہے اس کا تمہیں پوری طرح علم نہیں ہے۔ تمہارے سامنے اس اسکیم کے چند پہلو یا تصویر کا ایک رُخ آ سکا ہے لیکن تصویر کا دوسرا رخ جو اس اسکیم کی اصل غایت ہے تمہاری نظروں سے اوجھل ہے یہ چیز تمہارے سامنے آئے گی تو تمہیں محسوس ہو گا کہ انسان کے خلیفہ بنائے جانے میں کتنی عظیم حکمت کار فرما ہے۔

۴۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ناموں سے مراد آدم کی ذرّیت کے نام ہیں۔ خاص طور سے ان لوگوں کے نام جو دنیا میں اختیارات کا صحیح استعمال کر کے خلافت کا حق ادا کریں گے۔ گویا آدم کو پہلے ہی ان کی اولاد سے متعارف کرایا گیا اور خاص طور سے یہ مثبت پہلو سامنے لایا گیا کہ تمہاری اولاد میں ایسی شخصیتیں بھی ہوں گی جو زمین میں صلاح و تعمیر کی بیش بہا خدمات انجام دیں گی اور یہ لوگ اپنے عظیم کارناموں کی بدولت زمین کے گل سر سید کہلائیں گے۔

فحوائے کلام سے مترشح ہوتا ہے کہ اولادِ آدم کی جلیل القدر شخصیتوں کو ان کی تخلیق سے قبل ممثل کر کے فرشتوں کے سامنے پیش کیا گیا تھا یا ان کی روحیں پیش کر دی گئی تھیں۔ بہر صورت فرشتوں کے سامنے مسمیات کو پیش کیا گیا تھا تاکہ ان پر بیک وقت دونوں باتیں واضح ہو جائیں ایک تو ان کے قیاس کی غلطی کہ انسان زمین میں بگاڑ ہی کے کام کرے گا اور دوسرے خدائی منصوبہ کا یہ مثبت پہلو کہ اولاد آدم میں ایسی ایسی شخصیتیں ہوں گی جو بناؤ کا کام بحسن و خوبی انجام دیں گی اور انسانیت کا جوہر خالص چھٹ کر سامنے آئے گا ایسے ہی لوگ خدا کی رحمت کے مستحق ہوں گے اور انہی کو جنت میں بسایا جائے گا۔

اگرچہ مفسرین کے ایک گروہ نے اسماء سے مراد اشیاء کے نام لیے ہیں لیکن اول تو یہ تاویل نحوی اعتبار سے صحیح نہیں معلوم ہوتی جیسا کہ ابن جریر طبری نے اپنی تفسیر میں اشارہ کیا ہے کیوں کہ اس میں ہم اور ہٰؤلاء کی جو ضمیریں استعمال ہوئی ہیں وہ اشیاء کے بجائے ذوی الارواح کے لیے موزوں ہیں۔ دوسرے اس تاویل کو اختیار کرنے کی صورت میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ فرشتوں کے ذہن میں جو اشکال پیدا ہو گیا تھا وہ اس بات سے کس طرح رفع ہوا ہو گا کہ آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھا دئے گئے۔ ظاہر ہے ان کا اشکال اسی صورت میں رفع ہو سکتا تھا جب کہ ان کے سامنے تخلیق آدم کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی اعلیٰ اوصاف کی شخصیتوں کے کچھ نمونے پیش کئے جاتے۔ اسی لیے ہم نے اسماء سے مراد شخصیتوں کے نام لیے ہیں۔ علامہ ابن جریر طبری نے اپنی تفسیر میں مفسرین کا ایک قول اس بات کی تائید میں نقل کیا ہے کہ اسماء سے مراد اولادِ آدم کے نام ہیں اور اس کو ترجیح دی۔ (ملاحظہ ہو تفسیر طبری ج  ۱ ، ص  ۱۷۱)

۴۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اگر تمہارا یہ خیال صحیح ہے کہ انسان اختیارات پا کر زمین میں فساد ہی فساد برپا کرے گا تو ذرا ان لوگوں کے بھی تو نام اور اوصاف بتاؤ؟ کیا یہ لوگ بھی فساد برپا کرنے والے ہیں؟

۴۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی آدمؑ نے اللہ تعالیٰ کے بخشے ہوئے علم کی بنا پر بتلایا کہ میری ذریت میں یہ اور یہ لوگ ہوں گے جو اللہ کے سچے وفا دار بندے بنیں گے اور امن و عدل کے قیام میں سر دھڑ کی بازی لگائیں گے۔

انسان کو خلیفہ بنانے کا یہ وہ پہلو ہے جو فرشتوں کی نظروں سے اوجھل تھا۔ اللہ تعالیٰ نے امتحان لے کر آدم ہی کی زبانی ان پر یہ مثبت پہلو واضح کر دیا۔ اس واقعہ سے چند اہم حقیقتوں پر روشنی پڑتی ہے۔

(۱) انسان کی تخلیق عظیم ترین مقصد کے لیے ہوئی ہے خیر و شر کی اس رزمگاہ سے ایسے افراد کو منتخب کرنا مقصود ہے جو اعلیٰ اوصاف کے حامل ہوں۔

(۲) انسانوں کے درمیان سے اس جوہر کو چھانٹ کر اسے اللہ تعالیٰ اپنی بے پایاں نعمتوں اور رحمتوں سے نوازنا چاہتا ہے۔ چنانچہ آخرت میں ان کا ابدی مقام جنت ہو گا۔

(۳) اللہ تعالیٰ کی اسکیم کے صرف چند پلہوؤں کو اگر سامنے رکھا جائے تو آدمی غلط رائے قائم کر بیٹھے گا لیکن اگر اس کی پوری اسکیم پیش نظر رہے جو اسی کے بتلانے سے ہماری سمجھ میں ا سکتی ہے تو ا سکیم کی اصل غایت اور حکمت سمجھ میں ا سکتی ہے۔

(۴) جو لوگ انسان کی تخلیق سے متعلق اللہ تعالیٰ کی اسکیم کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے وہ انسان کی دنیا میں حیثیت اور اس کے مقصد زندگی کا غلط تعین کر بیٹھتے ہیں۔

(۵) اللہ علیم و حکیم ہے۔ اس لیے اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہے۔ اگر کوئی کام بظاہر حکمت سے خالی نظر آئے تو اس کو نشانۂ اعتراض بنانے کے بجائے اپنے علم کی کمی پر محمول کرنا چاہیے۔

(۶) فرشتے جو اللہ کے مقرب بندے ہیں۔ فہم کا قصور ان سے بھی سرزد ہوا جس سے واضح ہوا کہ وہ اپنے اندر خدائی کی صفت نہیں رکھتے۔ ہر طرح سے پاک اور منزّہ ذات صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔

(۷) زمین کا صحیح انتظام و انصرام اور اس میں خیر و صلاح اور امن و عدل کا قیام اس بات پر منحصر ہے کہ انسان اختیارات کو اللہ کی امانت سمجھتے ہوئے اس کی ہدایت و مرضی کے مطابق استعمال کرے۔

۴۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آدمؑ کے لیے سجدہ کرنے کا حکم تعظیم کے طور پر تھا جس میں فرشتوں کا امتحان تھا کہ اس نوری مخلوق کو خاکی مخلوق کے آگے جھکنے کا جو حکم دیا جا رہا ہے اس کی وہ تعمیل کرتی ہے یا نہیں۔ انہوں نے اس حکم خداوندی کی تعمیل کی اور امتحان میں پورے اترے۔

یہ سجدہ در حقیقت اس بات کا اعتراف تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے ایک نئی مخلوق کو وجود بخشا ہے جو اپنے اندر خلافتِ ارضی کی بدرجۂ اتم صلاحیت رکھتی ہے۔ اس لیے اس سجدہ کی نوعیت سجدۂ عبادت سے بالکل مختلف تھی لیکن چوں کہ اس میں آدم کی عظمت کا پہلو نمایاں تھا اس لیے ابلیس جو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا تھا اس حکم کی تعمیل کے لیے آمادہ نہ ہو سکا۔

اگر اس سجدہ میں شرک کا ادنیٰ شائبہ بھی ہوتا تو ابلیس کو یہ حجت پیش کرنے کا موقع ملتا کہ میں آدم کی عبادت کس طرح کروں لیکن ابلیس نے ایسی کوئی بات نہیں کہی بلکہ اپنے سجدہ نہ کرنے کی وجہ یہ بیان کی کہ آدم کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جبکہ مجھے آگ سے یعنی آدم کے مقابلہ میں اپنی برتری کا اظہار کیا جو اس بات کی دلیل ہے کہ آدم کو سجدہ تکریم کے لیے تھا نہ کہ عبادت کے لیے۔

واضح رہے کہ یہ ایک مخصوص حکم تھا جو فرشتوں کو اور ابلیس کو دیا گیا تھا ورنہ اسلام نے اپنی تکمیلی شریعت میں غیر اللہ کو سجدہ کرنا حرام ٹھہرایا ہے خواہ وہ سجدہ تعظیم ہی کیوں نہ ہو۔

اس سے اس حقیقت پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو مسجود ملائکہ بنا کر انسان کو بڑا مرتبہ عطا کیا ہے اس کے بعد انسان کا اینٹ پتھر اور دیگر مخلوقات کے آگے جھکنا اس کے مقام سے نہایت فروتر ہے۔

۴۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ابلیس شیطان کا نام ہے جو جنوں میں سے تھا اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ساتھ ابلیس کو بھی آدمؑ کے آگے جھک جانے کا حکم دیا تھا۔ مگر اس نے اس سے انکار کیا۔

۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس سے کفر کی یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ گھمنڈ میں مبتلا ہو کر اللہ کے کسی بھی حکم کو ماننے سے انکار کرنا کفر ہے اور شیطان اسی جرم کا مرتکب ہوا تھا ورنہ شیطان اللہ کے وجود کا منکر نہ تھا۔

۵۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ عارضی جنت تھی جس میں آدم و حوا کو آزمائش کی غرض سے رکھا گیا تھا تاکہ انہیں زمین پر بھیجنے سے پہلے یہ بات اچھی طرح محسوس کرائی جائے کہ تمہارے شایانِ شان مقام جنت ہی ہے لیکن اگر تم شیطان کے بہکانے میں آ گئے تو اپنے کو جنت سے محروم کر لو گے۔

۵۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قرآن نے یہ نہیں بتلایا کہ یہ درخت کس چیز کا تھا۔ اور اس کی خاصیت کیا تھی اور نہ صحیح حدیث میں اسے بیان کیا گیا ہے اس لیے اس بحث میں پڑنا فضول ہے۔ اس درخت سے منع کرنے کی اصل غرض آزمائش تھی کہ شیطان کی ترغیبات کے مقابلے میں آدم و حوا خدا کے حکم کی کس حد تک تعمیل کرتے ہیں اس مقصد کے لیے کسی ایک درخت کو منتخب کرنا کافی تھا۔

۵۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قرآن صراحت کرتا ہے کہ لغزش آدم اور حوا دونوں سے سرزد ہوئی تھی اور یہ شیطان کے ورغلانے کے نتیجہ میں ہوئی تھی۔ اس لیے یہ خیال کرنا کہ آدم کو حوا نے بہکایا تھا صحیح نہیں۔

۵۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی انسان کا دشمن شیطان اور شیطان کا دشمن انسان۔

۵۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آدمؑ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو انہیں توبہ کے لیے الفاظ نہیں مل رہے تھے۔ اللہ نے ان پر رحم فرما کر توبہ کے لیے موزوں الفاظ ان پر القاء فرما دیئے۔ شیطان اپنی نافرمانی پر بضد ہو گیا لیکن آدم اپنی نافرمانی پر نادم ہوئے جب بندہ کو ئی گناہ کر گزرتا ہے اور اس کے بعد اگر اس کو شرمساری ہوتی ہے اور وہ اللہ سے معافی چاہتے ہوئے اس کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے درگزر فرماتا ہے اور اس کی توبہ قبول کر کے اسے اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔

۵۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زمین پر اتارا جانا سزا کے طور پر نہ تھا کیوں کہ حضرت آدمؑ کی توبہ اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لی تھی۔ اس سے انسان کے پیدائشی گنہگار ہونے کے عقیدہ کی تردید ہوتی ہے۔ آدم کو چوں کہ زمین کی خلافت کے لیے پیدا کیا گیا تھی اس لیے اسے زمین پر اتارا گیا۔

۵۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آدم کی لغزش سے انسانی فطرت کی کمزوری ظاہر ہو گئی جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ انسان الہ کی ہدایت کا محتاج ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی اس ہدایت کے لیے نبوت اور رسالت کو ذریعہ بنایا ہے۔ وہ ہر ہر شخص کو براہِ راست ہدایت نہیں بھیجتا بلکہ انبیاء اور رسولوں کو منتخب کر کے ان پر اپنی وحی نازل کرتا ہے اور یہ انبیاء اور رسول عام انسانوں تک اس کا پیغام پہنچاتے ہیں۔

انسان کو دنیا میں بھیج کر اللہ تعالیٰ اس کا امتحان کرنا چاہتا ہے کہ کون اس کی ہدایت کو قبول کر کے زمین میں اس کے نائب اور خلیفہ کی حیثیت اختیار کرتا ہے اور کون اس کی ہدایت کو رد کر کے اپنی من مانی کرتا ہے اور اس طرح خدائی کے جھوٹے منصب پر جا بیٹھتا ہے۔

۵۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی نہ ماضی کا غم نہ مستقبل کا خطرہ۔ مراد اس سے جنت ہے جہاں نہ کوئی غم ہو گا اور نہ کسی قسم کا خطرہ۔

۵۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آیات کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی علامتوں اور نشانیوں کے ہیں۔ مراد اللہ کی توحید و ربوبیت اور اس کی قدرت و حکمت کی وہ نشانیاں ہیں جو آفاق و انفس میں موجود ہیں۔ نیز یہ لفظ ان معجزات کے لیے بھی استعمال ہوا ہے جو انبیاء علیہم السلام کو دئے گئے تھے۔ علاوہ ازیں قرآن کی آیتوں کے لیے بھی جو دلیل اور حجت کی حیثیت رکھتی ہیں۔

۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسرائیل حضرت یعقوب کا لقب ہے جو نبی تھے۔ اور حضرت ابراہیم کے پوتے تھے۔ ان کی نسل کو بنی اسرائیل کہتے ہیں۔ حضرت ابراہیم امام الناس اور جلیل القدر نبی ہیں جن کی ذریت میں اللہ تعالیٰ نے نبوت کا سلسلہ چلایا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹے تھے۔ حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق۔ حضرت اسماعیل سے جو نسل چلی وہ نبی اسماعیل کہلائی۔ مکہ کے عرب بنی اسمعیل ہی کی شاخ سے تھے اور اسی شاخ کے قبیلہ قریش میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم پیدا ہوئے۔

دوسری شاخ حضرت اسحاق کے بیٹے حضرت یعقوب (اسرائیل) سے چلی اور بنی اسرائیل کہلائی۔ ان کا اصل وطن فلسطین تھا۔ بنی اسرائیل میں حضرت موسی، حضرت داؤد، حضرت سلیمان اور حضرت عیسیٰ جیسے جلیل القدر پیغمبر پیدا ہوئے۔

بنی اسرائیل کو جو دین حضرت ابراہیمؑ سے ورثہ میں ملا تھا وہ اسلام تھا۔ حضرت موسیٰ نے بھی جن پر تورات نازل ہوئی تھی اسلام ہی کو پیش کیا تھا لیکن بعد میں بنی اسرائیل نے اس میں تحریف کر کے یہودی مذہب کی شکل اختیار کر لی۔ اس لیے بعد میں بنی اسرائیل یہودی کہلائے۔ حالانکہ ان کا اصل مذہب اسلام تھا۔ یہاں قرآن ان کو اصل حقیقت یاد دلا رہا ہے اور ان کی فرد جرم بیان کر رہا ہے تاکہ وہ متنبہ ہو کر اصل دین یعنی اسلام کی طرف لوٹ آئیں اور قرآن کی دعوت کو جو اسلام کی حقیقی دعوت ہے قبول کر لیں۔

۶۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نعمت سے مراد وہ انعام ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بنی اسرائیل کو دنیا کی سیادت و امامت کی شکل میں عطا ہوا تھا تاکہ وہ دنیا والوں کے سامنے اسلام کی علمبرداری کریں۔

۶۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ کے عہد سے مراد اللہ کی شریعت ہے جو درحقیقت اللہ اور بندوں کے درمیان ایک معاہدہ کی حیثیت رکھتی ہے لیکن یہاں خاص طور سے اس عہد کی طرف اشارہ ہے جو بنی اسرائیل سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں حضرت موسیٰ کے زمانے میں ہی لیا گیا تھا۔ اس عہد کا ذکر تورات میں اس طرح موجود ہے۔

” میں ان کے لیے ان ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا وہی وہ ان سے کہے گا اور جو کوئی میری ان باتوں کو جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے تو میں اُن کا حساب اس سے لوں گا” (استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸۔ ۱۹)

یہ عہد یاد دلا کر قرآن ان سے حضرت محمدؐ پر ایمان لانے کا مطالبہ کرتا ہے۔

۶۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو پیغمبر تسلیم کرنے اور ان پر ایمان لانے میں کسی کا ڈر مانع نہیں ہونا چاہیے۔ تمام مصلحتوں اور اندیشوں کے علی الرغم اللہ کی عظمت و جلال کا تصور غالب ہونا چاہیے۔

۶۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تورات و انجیل کے منزل من اللہ ہونے کی قرآن تصدیق کرتا ہے۔ وہ اصل تورات و انجیل کی تردید نہیں کرتا  بلکہ صرف ان تحریفات کی تردید کرتا ہے جو بعد میں لوگوں نے اصل کتابوں میں شامل کر لی تھیں۔

یہاں خصوصی اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ تورات میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت سے متعلق جو پیش گوئیاں موجود ہیں ان کو قرآن سچا ثابت کر رہا ہے کیوں کہ ان پیشین گوئیوں کے مطابق قرآن اور اس کے پیغمبر کا ظہور ان کے حق ہونے کی صریح دلیل ہے۔ اس لیے بنی اسرائیل سے خطاب کر کے کہا جا رہا ہے کہ سب سے پہلے تمہیں اس پر ایمان لانا چاہیے۔

۶۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی دنیوی مفادات اور مصلحتوں کی خاطر اللہ کے احکام کو قربان نہ کرو۔ دنیا کا مفاد خواہ کتنا ہی بڑا ہو آخرت کے مقابلے میں نہایت حقیر ہے اس لیے جو شخص دنیوی مفاد کو اللہ کے احکام پر ترجیح دیتا ہے وہ ایک اعلیٰ چیز کے مقابلے میں نہایت حقیر چیز قبول کرتا ہے۔

۶۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نماز اور زکوٰۃ اسلام کے اہم ترین ارکان ہیں جو بنی اسرائیل کی شریعت میں بھی موجود تھے لیکن عملاً وہ ان دونوں ارکان کو ترک کر بیٹھے تھے۔

۶۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رکوع کے معنی جھکنے کے ہیں اور نماز میں رکوع گھٹنے پر ہاتھ رکھ کر جھکنے کی ایک خاص شکل ہے۔ اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرنے سے اشارہ نماز با جماعت کی طرف ہے۔ مسجد میں با جماعت نماز پڑھنے کی صورت میں امیر و غریب اور عوام و خواص سب ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو کھڑے ہو جاتے ہیں جس سے بندگی کی ایک خاص شان پیدا ہو جاتی ہے۔ مسجدوں کی رونق بڑھ جاتی ہے علاوہ ازیں انسانی مساوات اور اخوت کا احساس بھی پیدا ہو جاتا ہے یہود نے اور خاص طور سے ان کے امراء نے مسجدوں کی حاضری کو کسر شان سمجھ کر نماز با جماعت کا اہتمام ترک کر دیا تھا اس لیے یہاں ان کو مخاطب کر کے خاص طور سے یہ حکم دیا گیا کہ رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کریں۔

۶۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جو شخص اللہ کے حضور کھڑے ہونے کا ڈر اپنے دل میں نہ رکھتا ہو اس کے لیے نماز کی پابندی ایک مصیبت ہے لیکن جو لوگ خدا کے حضور پیشی کے تصور سے لرزاں رہتے ہیں ان کے لیے نماز سے زیادہ مرغوب کوئی چیز نہیں۔

آیت میں صبر اور نماز سے مدد لینے کی ہدایت کی گئی ہے یہ مدد اللہ کے عہد اطاعت کو پورا کرنے کے لیے حاصل کرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ سے اطاعت کا جو عہد تم نے کیا ہے اس کو پورا کرنے اور فرماں برداری کی زندگی گزارنے کے لیے جس باطنی قوت کی ضرورت ہے وہ صبر اور نماز سے حاصل ہو سکتی ہے۔ صبر کا مطلب اپنے کو بری خواہشات سے روکنا ہے۔ جب تک آدمی اپنی خواہشات کو قابو میں نہیں رکھتا اطاعت و بندگی کی زندگی نہیں گزار سکتا۔ کیونکہ اللہ کی اطاعت کی راہ میں قدم قدم پر خواہشات رکاوٹ بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ دوسری چیز جس کا اہتمام ضروری ہے وہ نماز ہے کیونکہ نماز خدا سے بندہ کے تعلق کو مضبوط بناتی ہے نفس کی بہترین تربیت کرتی ہے اور روح کو بالیدگی عطا کرتی ہے۔ اس طرح نماز سے جو قوت حاصل ہوتی ہے وہ اطاعت و بندگی کی راہ میں اس کی معاون بن جاتی ہے۔

۶۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں بنی اسرائیل کی تاریخ کے مشہور واقعات کی طرف اشارات کئے گئے ہیں۔ جن سے وہ اچھی طرح واقف تھے اس سے ظاہر کرنا یہ مقصود ہے کہ ایک طرف اللہ تعالیٰ کے عظیم احسانات ہیں جو اس نے اس قوم پر کئے اور دوسری طرف ان کے یہ کرتوت ہیں جن کے نتیجہ میں یہ معتوب قرار پائے۔

۶۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے کتاب اور ہدایت سے نواز کر اقوام عالم کی رہنمائی کا منصب عطا کیا تھا تاکہ وہ دنیا والوں کے سامنے دین حق کی دعوت پیش کریں۔

۷۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ صحرائے سینا میں موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے کوہ طور پر چالیس شب و روز کے لیے طلب فرمایا تھا تاکہ انہیں شرعی احکام عطا کئے جائیں۔

۷۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مصر میں گائے کی پرستش کا رواج تھا اس لیے یہ مرض بنی اسرائیل میں بھی پیدا ہو گیا تھا۔ بچھڑے کی پرستش کا واقعہ تورات میں مذکور ہے۔

” انہوں نے اپنے لیے ڈھلا ہوا بچھڑا بنایا اور اسے پوجا اور اس کے لیے قربانی چڑھا کر یہ بھی کہا کہ اے اسرائیل یہ تیرا وہ دیوتا ہے جو تجھ کو ملک مصر سے نکال کر لایا۔ ” (خروج ۳۲:۸)

۷۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرقان تورات کی صفت ہے یعنی اس کتاب کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ حق و باطل کے درمیان فرق کرتی تھی اور اس کی روشنی میں اہل ایمان معاملات و مسائل میں خیر و شر کا امتیاز کر سکتے تھے۔

۷۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ گوسالہ پرستی کی سزا تھی جو انہیں دی گئی۔ جو لوگ اس شرک میں مبتلا نہیں ہوئے تھے انہیں حکم دیا گیا کہ وہ ان لوگوں کو اپنے ہاتھ سے قتل کریں جو گوسالہ پرستی اختیار کر کے ارتداد کے مرتکب ہوئے تھے۔ تورات میں ہے:

” اور بنی لاوی نے موسیٰ کے کہنے پر عمل کیا چنانچہ اس دن لوگوں میں سے تقریباً تین ہزار کھیت آئے۔ ” (خروج ۳۲:۲۸)

اس سے واضح ہے کہ شرک اسلام کی نظر میں ایک زبردست گناہ ہے اور اس کی سزا بھی اسلام میں بڑی سخت ہے۔

۷۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یہ عبرتناک سزا معاشرہ کو توحید پر قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ ورنہ شرک کے معاملہ میں نرمی اختیار کرنے کا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ پوری قوم عقیدہ و عمل کے فساد میں مبتلا ہو جائے۔

۷۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انہیں اس بات کا یقین نہیں آتا تھا کہ اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰؑ سے ہم کلام ہوتا ہے اور انہیں احکام دیتا ہے۔ وہ کہتے کہ جب تک ہم اللہ کو آپ سے کلام کرتا ہوا نہ دیکھ لیں آپ کی بات نہیں مانیں گے۔ یہ انکار کے لیے محض بہانہ تھا ورنہ وہ اللہ تعالیٰ کی کھلی کھلی نشانیاں دیکھ چکے تھے جن کا ظہور موسیٰؑ کے ہاتھوں ہو رہا تھا : اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے اس مطالبہ پر عتاب نازل فرمایا۔ تورات کے بیان کے مطابق یہ ستر افراد تھے جنہیں لے کر موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر گئے تھے۔

۷۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بنی اسرائیل نے مصر سے نکلنے کے بعد صحرائے سینا میں قیام کیا تھا۔ وہاں ان کو دھوپ سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ابر کا اور فاقہ سے بچانے کے لیے من و سلویٰ کا انتظام فرمایا تھا۔ ” من” گوند کے قسم کی ایک چیز تھی جو شبنم کی طرح زمین پر ٹپکتی اور جم جاتی تھی۔ یہ دھنیا کی طرح گول دانے کی شکل میں ہوتی تھی جس کو نبی اسرائیل جمع کر لیتے تھے اور وہ روٹی کا کام دیتی تھی۔

“سلویٰ” بٹیر کی قسم کے پرندے تھے جن کے جھنڈ کے جھنڈ شام کے وقت آ جاتے اور وہ ان کا نہایت آسانی سے شکار کر لیتے۔ تورات میں ہے۔

” اور خداوند نے موسیٰ سے کہا میں نے بنی اسرائیل کا بڑبڑانا سُن لیا۔ سوتو ان سے کہہ دے کہ شام کو تم گوشت کھاؤ گے اور صبح کو تم روٹی سے سیر ہو گے اور تم جان لو گے کہ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔ اور یوں ہوا کہ شام کو اتنی بٹیریں آئیں کہ ان کی خیمہ گاہ کو ڈھانک لیا۔ ”

اور صبح کو خیمہ گاہ کے آس پاس اوس پڑی ہوئی تھی۔ (خروج۱۷:۱۱تا۱۳)

یہ چیزیں اتنی کثرت سے فراہم ہوتی تھیں کہ پوری قوم ان پر گزر بسر کرتی تھی۔

۷۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بستی سے مراد غالباً فلسطین کا شہر اریحا (ERIHA) ہے۔ یہ شہر سب سے پہلے بنی اسرائیل کے قبضہ میں آیا۔

۷۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دروازہ سے مراد بستی کا دروازہ ہے یعنی جب شہر فتح ہو جائے تو اس میں متکبرانہ انداز سے داخل نہ ہونا بلکہ متواضعانہ انداز میں اللہ کے حضور سر جھکائے ہوئے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے داخل ہونا۔

دنیا پرست لوگ جب کسی ملک کو فتح کر لیتے ہیں تو ان کا سر تکبر سے اونچا ہو جاتا ہے اور وہ زمین کو ظلم و زیادتی سے بھر دیتے ہیں۔ اس کے بر خلاف اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جب کسی ملک میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہو ظالم متکبرین کی روش ہرگز اختیار نہ کرو بلکہ اللہ کے حضور عجز و انکساری اور اپنے گناہوں کے اعتراف کا رویہ اختیار کرو۔ قلب کی یہ کیفیت تمہیں ہر طرح کے ظلم سے باز رکھے گی۔

۷۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حِطَّۃٌ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ خدا سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے داخل ہو جاؤ۔

۸۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دعا دشت سین میں کی گئی تھی اور چٹان پر لاٹھی مارنے سے پانی کے چشمے پھوٹ نکلے تھے۔ (ملاحظہ ہو گنتی با ب ۲۰)

۸۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے اور چشمے بھی اللہ تعالیٰ نے بارہ جاری کئے تھے اس طرح ہر قبیلہ نے اپنا اپنا گھاٹ متعین کر لیا اور پانی کے مسئلے پر جھگڑا برپا ہونے کا اندیشہ باقی نہ رہا۔ صحرا میں پانی کا یہ انتظام اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان تھا۔

۸۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مطلب یہ ہے کہ جس اعلیٰ مقصد کیلئے تمہیں صحرا میں قیام کرنا پڑ رہا ہے اس کے مقابلہ میں تمہیں کھانے پینے کی یہ چیزیں کیا اتنی زیادہ مرغوب ہیں کہ کچھ مدت کے لیے ان کے بغیر کام نہیں چل سکتا۔ یہ من و سلویٰ کی غذا تمہیں اس حال میں مل رہی ہے کہ تم فرعونیوں کی غلامی اور شرک و کفر کی ذلت سے بالکل آزاد ہو۔ اب یہ تمہارے اپنے ظرف کی بات ہے کہ سادہ اور معمولی غذا کو جو عزت اور آزادی کے ساتھ نصیب ہو رہی ہے بہتر سمجھو یا ان انواع و اقسام کے کھانوں کو جن کے ساتھ غلامی کی ذلت اور کفر و شرک کی آلائشیں لگی ہوئی ہوں۔

۸۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو انبیاء علیہم السلام یہودیوں کے ہاتھوں قتل ہوئے ان میں حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت یحیٰ علیہ السلام جیسی جلیل القدر ہستیاں شامل ہیں۔ حضرت یحیٰؑ کو یہود کے فرمانروا ہیرو دویس کے حکم سے قتل کیا گیا اور ان کا سر بادشاہ نے ایک تھال میں رکھ کر اپنی معشوقہ کو نذر کیا۔

اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی سولی پر چڑھانے کی سازش کی گئی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے شر سے بچا لیا۔

۸۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی احکامِ الٰہی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پوری ڈھٹائی کے ساتھ ان کی خلاف ورزی کی۔

۸۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد مسلمانوں کا گروہ ہے۔

۸۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ صابی اہل کتاب کا ایک فرقہ تھا جو زبور کو مانتا تھا اب اس فرقہ کا وجود نہیں رہا۔

۸۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ آیت جس سیاق و سباق میں آئی ہے اس سے اس کا منشاء بالکل واضح ہے۔ یہاں یہودیوں کی اس غلط فہمی کو دور کرنا مقصود ہے کہ یہودی ایک نجات یافتہ گروہ ہیں اس بنا پر کہ وہ انبیاء علیہم السلام کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ قرآن اس کی پر زور تردید کرتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ اللہ کے ہاں نجات کا دارو مدار کسی خاندان یا گروہ یا فرقہ (Community) سے وابستگی کی بنا پر نہیں ہے بلکہ اس کا دارومدار اوصاف (Virtues) پر ہے۔ جو شخص ایمان و عمل صالح کے اوصاف کا حامل ہو گا وہ آخرت میں نجات پائے گا لیکن جو شخص ان اوصاف سے عاری ہو گا وہ نجات اخروی سے محروم رہے گا۔ خواہ وہ مسلمان گروہ ہی کا فرد کیوں نہ ہو۔

یہاں ایمان اور عمل صالح کی تفصیل بیان کرنا مقصود نہیں ہے کیوں کہ یہ تفصیل قرآن نے دوسرے مقامات پر واضح کر دی ہے اور اس کی رو سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کے بعد آپ کی نبوت پر اور جو کتاب آپ لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اس کے بغیر اللہ کے ہاں ایمان معتبر نہیں ہے۔ اسی طرح شریعت محمدیہ کی پیروی عمل صالح کے مفہوم میں شامل ہے۔ اس لیے آیت کا یہ مطلب نکالنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے کہ قرآن کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ ” اپنے اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے خدا اور آخرت کو مانو اور اچھا عمل کرو۔ ” مذکورہ آیت سے یہ مطلب نکالنا قرآن میں سراسر تحریف کرنا ہے کیوں کہ اس سورہ کا مرکزی مضمون ہی قرآن کے کتاب الٰہی ہونے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت پر ایمان لانے کی دعوت دینا ہے جس کے بغیر ساری دینداری بے معنی ہو جاتی ہے۔ مزید برآں قرآن نے دوسرے مقامات پر یہ بات صراحت کے ساتھ بیان کر دی ہے کہ اللہ کے نزدیک مقبول دین صرف اسلام ہے۔

اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ (آل عمران ۱۹) ” اللہ کے نزدیک مقبول دین صرف اسلام ہے۔ ”

وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَہُوَ فِی اْلآ خِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ” جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا خواہاں ہو گا تو اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور آخرت میں وہ گھاٹے میں رہے گا۔ ” (آل عمران ۸۵)

۸۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد تورات کی پابندی کا عہد ہے جو بنی اسرائیل سے کوہِ طور کے دامن میں لیا گیا تھا گویا کہ وہ ان کے اوپر گرا چاہتا ہے۔ یہ اللہ کی عظیم قدرت کا مظاہرہ تھا۔ تاکہ بنی اسرائیل اس بات کو یاد رکھیں کہ وہ جس ہستی کے ساتھ معاہدہ کر رہے ہیں وہ زبردست عظمت رکھنے والی ہے اور اس معاہدہ کی خلاف ورزی پر اس کا غضب بھڑک سکتا ہے۔

۸۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سبت یعنی ہفتہ کا دن بنی اسرائیل کے لیے عبادت کے لیے مخصوص کر دیا گیا تھا۔ اس دن شکار وغیرہ کرنے کی ممانعت تھی لیکن انہوں نے حیلے کر کے اپنے کو بہت سی پابندیوں سے آزاد کر لیا تھا۔

۹۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ مثال ہے اس بات کی کہ بنی اسرائیل شریعت کے احکام کی تعمیل میں کس طرح گریز اور فرار کی راہیں تلاش کرتے تھے۔

۹۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ تعالیٰ نے ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تھا اس لیے وہ متوسط درجہ کی کوئی سی گائے ذبح کرتے تو کافی ہو جاتا لیکن انہوں نے سوال پر سوال کر کے شریعت کی وسعتوں کو اپنے لیے تنگ کر لیا۔

۹۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان اوصاف کی گائے اس زمانے میں پرستش کیلئے مختص کی جاتی تھی اس لیے تعین کے ساتھ ایسی ہی گائے کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ بنی اسرائیل کو مصر میں رہتے ہوئے گاؤ پرستی کی جو چھوت لگ گئی تھی اس سے وہ پاک ہو جائیں اور اپنے عمل سے یہ ثابت کر دکھائیں کہ اللہ وحدہٗ کے سوا کسی کو وہ قابلِ پرستش نہیں سمجھتے۔ موجودہ تورات میں گائے کو ذبح کرنے کا اصل حکم موجود ہے گو تفصیلات مذکور نہیں۔

” اور خداوند نے موسیٰؑ اور ہارون سے کہا کہ شرع کے جس آئین کا حکم خداوند نے دیا ہے وہ یہ ہے کہ تو بنی اسرائیل سے کہہ کہ وہ تیرے پاس ایک بے داغ اور بے عیب سرخ رنگ کی بچھیا لائیں جس پر کبھی جو آنہ رکھا گیا ہو۔ اور تم اسے لے کر الیعزر کاہن کو دینا کہ وہ اسے لشکر گاہ کے باہر لے جائے اور کوئی اسے اسی کے سامنے ذبح کر دے۔ ” (گنتی ۱۹: ۱ تا۳)

۹۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ قسامہ کے ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ ایک مقتول کی لاش میدان میں پڑی ہوئی مل گئی تھی اور اس کے قاتل کا پتہ نہیں لگ رہا تھا اور وہ ایک دوسرے پر الزام لگا رہے تھے۔ اس سلسلے میں شرعی طریقہ یہ مقرر کیا گیا کہ قریب کے لوگوں سے حلفیہ بیانات لئے جائیں کہ ہم نے قتل نہیں کیا ہے اور نہ ہم نے قتل ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس حلفیہ بیان کو مؤکد کرنے کے لئے گائے کی قربانی کرنے کا حکم ہوا تاکہ حلفیہ بیان دینے والے اس کے خون سے اپنے ہاتھ دھوئیں۔ بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا جو حکم دیا گیا تھا۔ وہ اسی موقع کی بات ہے۔ گویا گائے کو ذبح کرنے کا جہاں یہ مقصد تھا کہ گاؤ پرستی کے ذہن کی اصلاح ہو جائے وہاں دوسرا اہم مقصد قسامہ کے طریقے کو رائج کرنا تھا۔

۹۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جس گائے کو ذبح کیا گیا تھا اس کے ایک حصہ سے مقتول کی لاش پر ضرب لگانے کا حکم ہوا۔ اس طرح مقتول کے اندر اللہ تعالیٰ نے جان ڈال دی اور اس نے قاتل کا نام بتا دیا۔

یہ اللہ تعالیٰ کی خاص نشانی کا ظہور تھا نیز اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ گائے کو ذبح کرنے سے کوئی آفت نازل نہیں ہوئی بلکہ اس کو ذبح کرنا مفید ثابت ہوا۔

۹۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی پتھر سخت ہونے کے باوجود یہ صلاحیت اپنے اندر رکھتا ہے کہ پانی کی سوتیں اس کے اندر جاری ہوں۔ لیکن انسان کا دل خدا کے خوف سے خالی ہو جانے کی صورت میں اتنا سخت ہو جاتا ہے کہ اس کی تمام سوتیں خشک ہو جاتی ہیں اور پھر کوئی نصیحت کا ر گر ثابت نہیں ہوتی۔ اسی لیے جو لوگ اللہ کے غضب کی پرواہ کئے بغیر گناہ کئے چلے جاتے ہیں ان کی اصلاح کسی کے بس میں نہیں ہوتی۔

۹۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اہل کتاب نے اللہ کے کلام میں جو تحریف کی تھی اس کی مختلف شکلیں تھیں۔ ایک شکل یہ تھی کہ وہ کلام میں کمی بیشی کر دیتے تھے۔ مثلاً انہوں نے یہ جھوٹ خدا کی طرف منسوب کر دیا کہ اللہ نے چھ دن میں کائنات کو پیدا کیا اور اس کے بعد ساتویں دن آرام کیا۔ (تورات۔ خروج ۳۱:۱۷)

نعوذ باللہ من ذالک۔ اسی طرح حضرت ہارونؑ پر یہ الزام لگایا کہ انہوں نے بچھڑا بنایا تھا (خروج باب ۳۱، ۳۲) دوسری شکل یہ تھی کہ الفاظ کو کچھ سے کچھ بنا دیتے مثلاً مروہ کو جو مکہ کی پہاڑی کا نام ہے مورہ یا مریا بنا دیا تاکہ اس کو پہچانا نہ جا سکے ورنہ مکہ کی فضیلت ثابت ہو گی اور چوتھی شکل یہ تھی کہ الفاظ کا ایسا ترجمہ کیا جاتا جو سیاق و سباق اور کلام کے منشاء کے بالکل خلاف ہوتا ہے۔ موجودہ تورات، انجیل وغیرہ میں اس قسم کی تحریفات کی گئی ہیں۔ یہ کتابیں اپنی اصل شکل میں موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنی تفسیر، قومی تاریخ اور قیاسی باتوں کو کلامِ الٰہی کے ساتھ خلط ملط کر کے خدا کے کلام (Word of God) کی حیثیت سے پیش کر دیا ہے۔

۹۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہود آپس میں کہتے تھے کہ جو پیش گوئیاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت کے بارے میں تورات میں موجود ہیں ان کو مسلمانوں کے سامنے بیان نہ کرو ورنہ مسلمان خدا کے حضور پیشی کے دن ان کو تمہارے خلاف حجت کے طور پر پیش کریں گے۔

۹۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد اہل کتاب کے عوام ہیں جو دین کے احکام و ہدایات سے ناواقف تھے۔

۹۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب آدمی بے عملی کی زندگی گزارنا چاہتا ہے تو شریعت کی پابندیاں اسے بوجھل معلوم ہونے لگتی ہیں اس لیے وہ کلام الٰہی کی من مانی تاویل کر کے اپنی بے عملی کو سندِ جواز عطا کرنے لگتا ہے۔ من چلے لوگ اس قسم کی غلط تاویلات پیش کر کے عوام کی گمراہی کا سامان کرتے رہتے ہیں اور عوام ان کے چکمے میں آ کر دین کو بازیچۂ اطفال بنا لیتے ہیں اور سمجھنے لگتے ہیں کہ نجات کے لیے مذہب کے ساتھ عقیدت کا اظہار کرنا اور فلاں فلاں بزرگوں کا دامن گرفتہ ہونا کافی ہے۔

زندگی کتنی ہی گنہگارانہ ہو فلاں اور فلاں کے طفیل ہمیں جنت ضرور ملے گی۔ لیکن قرآن نے اس قسم کی جھوٹی دینداری کی جڑ کاٹ دی ہے اور نجات کے معاملہ میں جھوٹی آرزوؤں اور خام خیالوں کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں رہنے دی۔

۱۰۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد اہلِ کتاب کے علماء ہیں۔

۱۰۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان کی اس دین فروشی کا مقصد دنیوی مفاد حاصل کرنا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ دنیا کا بڑے سے بڑا فائدہ جو دین کو فروخت کر کے حاصل کیا جائے اپنے نتیجہ کے اعتبار سے نہایت حقیر ہے۔

۱۰۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خدا کی کتاب میں خود ساختہ باتیں شامل کر کے یا مذہبی کتاب خود تصنیف کر کے لوگوں کو یہ باور کرانا کہ یہ خدا کی نازل کردہ کتاب ہے وہ زبردست گمراہی ہے جس کا شکار عام طور سے اہل مذاہب رہے ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ جو چیز فی الواقع خدا کی نازل کردہ نہیں ہے اس کو خدا کی طرف منسوب کرنا پرلے درجے کی گمراہی ہے۔ اور جو لوگ اس قسم کی جعل سازی کرتے ہیں وہ سخت ظالم ہیں اور انہیں نہایت برے انجام سے دو چار ہونا ہو گا۔ ظاہر ہے مذہب کے نام پر کھوٹے سکے چلانا اور لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنا کوئی معمولی جرم نہیں ہے اس لیے اس کی سزا بھی سخت ہونی چاہیے۔

۱۰۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہودیوں کا خیال تھا کہ وہ چونکہ برگزیدہ امت ہیں اس لیے ان کے اعمال خواہ کچھ ہوں وہ آگ میں ڈالے نہیں جائیں گے اور اگر ڈالے بھی گئے تو چند دن سزا بھگت کر پھر جنت میں داخل کر دئے جائیں گے۔ اس خام خیالی نے ان کو دین کے تقاضوں سے بے پرواہ کر دیا تھا اور ان کے اندر بے عملی پیدا ہو گئی تھی۔ دین ک بارے میں یہ زبردست غلط فہمی تھی جس میں یہود مبتلا ہو گئے تھے اور افسوس کہ مسلمان بھی اسی قسم کی غلط فہمی کا شکار ہو گئے ہیں۔

۱۰۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ کے نزدیک انسان پر سب سے بڑا حق والدین کا ہے لیکن یہ حق ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا ہے نہ کہ ان کی عبادت و پرستش کرنے کا اور جب اللہ تعالیٰ نے والدین کی پرستش کرنے کی اجازت نہیں دی جب کہ ان کا حق سب سے بڑا ہے تو دوسروں کی پرستش کا سوال پیدا ہی کہاں ہوتا ہے جب کہ ان کا حق والدین کے حق کے بعد ہے۔

۱۰۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس حکم میں عمومیت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی ہر شخص سے اچھی باتیں کر لے اور خوش اخلاقی سے پیش آئے۔ ایک مسلمان کے لیے قرآن کی تعلیم یہ نہیں ہے کہ اس کی خوش اخلاقی صرف مسلمانوں تک محدود رہے بلکہ اس کی تعلیم یہ ہے کہ آدمی خواہ کسی قوم، کسی ملک اور کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو مسلمان جب اس سے بات کرے تو اچھی بات کہے۔ دل آزاری اور اذیت دہی کی باتوں سے اجتناب کرے۔ اور خوش اخلاقی سے پیش آئے۔

۱۰۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے یہودیوں کی اس شنیع حرکت کی طرف کہ یہ اپنے بھائیوں کے خلاف دشمنوں سے ساز باز کر کے ان کو جلا وطن کراتے ہیں اور جب وہ دشمنوں کی حراست میں آ جاتے ہیں تو قوم پرستی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور فدیہ دے کر ان کو چھڑاتے ہیں کہ یہ تورات کا حکم ہے حالانکہ تورات میں جس طرح فدیہ دے کر چھڑانے کا حکم ہے اسی طرح جلا وطن کرانے کی ممانعت بھی موجود ہے۔ پھر تورات کے ایک حکم پر عمل کرنے اور دوسرے کی خلاف ورزی کرنے کا کیا مطلب ؟

۱۰۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی کتابِ الٰہی کی جو بات اپنی خواہشات کے مطابق ہو وہ مان لی جائے اور جو بات خواہشات کے خلاف ہو اس سے انکار کیا جائے۔ اس قسم کی دینداری اللہ کے نزدیک معتبر نہیں ہے۔ جو لوگ ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں وہ دنیا میں بھی رسوا ہوتے ہیں اور آخرت میں بھی سخت عذاب کے مستحق ہیں۔

کتابِ الٰہی کی محض تلاوت اور اس سے اظہارِ عقیدت کافی نہیں ہے بلکہ عملاً اس کی پیروی ضروری ہے اور اس کے احکام میں کسی قسم کی تفریق و تقسیم ایمان کے منافی ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ جو لوگ دین کی ان باتوں کو قبول کرتے ہیں جو انفرادی زندگی سے متعلق ہیں اور ان باتوں کو رد کر دیتے ہیں جو اجتماعی زندگی سے متعلق ہیں ان کا تصور دین کتنا ناقص ہے اور ان کا جرم کس قدر شدید ہے!

۱۰۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی آخرت کے مقابلے میں دنیوی زندگی کو ترجیح دی۔

۱۰۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد معجزات ہیں جو اس قدر واضح تھے کہ ان کے منجانب اللہ ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں تھی اور وہ صریح طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر دلالت کرتے تھے۔

۱۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر یہ الزام لگایا تھا کہ وہ شیطان کی مدد سے معجزے دکھاتے ہیں اس کی تردید کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کو شیطان کی نہیں بلکہ پاک روح یعنی جبرائیلؑ (فرشتہ) کی مدد اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل تھی۔

۱۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آخری نبی کے بارے میں یہودیوں کی آسمانی کتابوں میں پیشین گوئیاں موجود تھیں اس لیے انہیں بڑی شدت سے آخری نبی کی آمد کا انتظار تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان کی آمد پر ان کو اپنے دشمنوں پر فتح نصیب ہو گی۔ اس فتح کے لیے وہ دعا کرتے تھے لیکن جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم مبعوث ہوئے اور انہوں نے پہچان بھی لیا کہ یہ نبی موعود ہیں تو محض ضد اور حسد کی وجہ سے ان کی رسالت کے منکر ہو گئے۔

۱۱۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہودیوں کو اس بات پر غصہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آخری نبی بنی اسمعٰیلؑ میں سے کیوں اٹھایا بنی اسرائیل میں سے کیوں نہ اٹھایا۔ گویا خدا کو ان ” عقلمندوں ” سے مشورہ کر کے کسی کو رسالت کے منصب پر فائز کرنا چاہیے تھا۔

۱۱۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یہود اپنی مذہبی کتاب تورات پر ایمان رکھنا کافی سمجھتے ہیں حالانکہ قرآن کا نزول ٹھیک ٹھیک تورات کی پیشین گوئیوں کے مطابق ہوا ہے اس لیے قرآن کو جھٹلانا تورات کو جھٹلانا ہے۔

۱۱۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ان کا تورات پر ایمان رکھنے کا دعویٰ غلط ہے اگر واقعی وہ تورات پر ایمان رکھنے والے ہوتے تو انبیاء کو ہرگز قتل نہ کر ڈالتے۔

۱۱۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آخرت کا انکار کرنے والے تو دنیا میں زیادہ سے زیادہ جینے کے حریص ہوتے ہی ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ عیش ہمیں دوبارہ نصیب نہیں ہو گا۔

بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست۔

لیکن یہود جو آخرت کو ماننے کا دعویٰ کرتے تھے وہ ان سے زیادہ جینے کے حریص تھے کیونکہ جنت کو اپنے لیے مخصوص سمجھنے کے باوجود وہ اپنے کرتوتوں کی بنا پر اپنے دل میں یہ خلش محسوس کرتے تھے کہ خدا کے ہاں ان سے کہیں مواخذہ نہ ہو جائے۔

اصل بات یہ ہے کہ جو لوگ دنیا کو امتحان گاہ سمجھنے کے بجائے تفریح گاہ سمجھتے ہیں وہ زیادہ سے زیادہ دنیا کے مزے لوٹنا چاہتے ہیں اس لیے وہ اس بات کے حریص ہوتے ہیں کہ ان کی عمر زیادہ سے زیادہ لمبی ہو، حالانکہ انسان کو اصل فکر اس بات کی ہونی چاہیے کہ عمر کی جو مہلت بھی اسے ملے وہ اس امتحان میں کامیابی کے لیے کیا سامان کر رہا ہے۔

اور یہ حقیقت ہمیشہ اس کی نظروں کے سامنے رہنی چاہیے کہ وہ دنیا میں جو رول ادا کر رہا ہے اسے اللہ دیکھ رہا ہے اور جب اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے تو وہ عمل کا بدلہ کیسے نہیں دے گا۔

۱۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہود ضد اور حسد میں مبتلا ہو کر حضرت جبرائیل علیہ السلام کو اپنا دشمن خیال کرتے تھے۔ ان کو جبرائیل پر اس لیے غصہ تھا کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر وحی لیکر آتے تھے۔ ان کے خیال میں وحی ان کی قوم کے کسی شخص پر نازل کی جانی چاہیے تھی لیکن ان کا یہ خیال پرلے درجہ کی حماقت تھا کیونکہ حضرت جبرائیل فرشتے تھے اور اللہ ہی کے حکم سے حضرت محمد ؐ پر وحی لاتے تھے۔ بالفاظ دیگر نبوت کے لیے بنی اسماعیل میں سے حضرت محمدؐ کا انتخاب اللہ کی طرف سے تھا۔ اس لیے حضرت جبرائیل سے عداوت کے معنیٰ اللہ سے عداوت کے تھے۔ ظاہر ہے جن کو اللہ سے دشمنی ہو ان کو اللہ اپنا دوست کیوں بنائے گا۔

۱۱۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میکائیل ایک جلیل القدر فرشتے کا نام ہے۔

۱۱۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قرآن کی آیتیں اس کے کلام الٰہی ہونے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے پیغمبر ہونے کا واضح ثبوت ہیں۔ لہٰذا ان کا انکار وہی شخص کر سکتا ہے اللہ کا نافرمان اور اس کے عہد کو توڑنے والا ہو۔

۱۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں شیاطین سے مراد وہ شرپسند لوگ ہیں جو سفلی عمل ،جادو، ٹونے ٹوٹکے، تعویذ گنڈوں کے ذریعہ لوگوں کو اوہام و خرافات میں مبتلا کرتے ہیں اور انہیں حقیقت پسند بننے نہیں دیتے۔ اس کے بعد نہ کتاب الٰہی سے دلچسپی باقی رہتی ہے اور نہ مقصد حق سے۔

یہود میں جب اخلاقی انحطاط ہوا تو انہوں نے کتاب الٰہی کو پس پشت ڈال دیا اور جادو جیسی چیز کے پیچھے پڑ گئے چنانچہ بابل کے زمانہ اسیری میں ان کے یہی کرتوت رہے اور بعد میں بھی ان کا ایک نہ ایک گروہ ان سفلی اعمال میں مبتلا رہا یہاں تک کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت ہوئی جو ٹھیک ان پیشین گوئیوں کے مطابق تھی جو تورات میں بیان ہوئی تھیں تو انہوں نے اس کی کوئی پروا ہ نہیں کی اور کتاب الٰہی کو نظر انداز کر کے جادو جیسی چیز کے پیچھے پڑ گئے جو عقیدہ و عمل میں فساد پیدا کرنے والی تھی۔ ان کو جادو سے دلچسپی اس لیے تھی کہ وہ حقیقت کی دنیا میں نہیں بلکہ طلسمات کی دنیا میں رہنا چاہتے تھے۔

جن لوگوں نے جادو کو پیشہ بنایا تھا وہ عوام کو یہ کہہ کر ورغلاتے تھے کہ حضرت سلیمان نے جو بے مثال حکومت قائم کی تھی اور جس میں انہوں نے جنوں کو بھی مسخر کر لیا تھا وہ انہیں جادو ہی کے بل پر حاصل ہوئی تھی۔ بعض حضرات نے علٰی مُلْکِ سُلَیْمَانَ کے معنی  “سلیمان کے عہد میں ” کئے ہیں لیکن یہ معنی نہ لغت کے لحاظ سے صحیح ہیں اور نہ مطابق واقعہ۔ لغت میں مُلک کے معنی حکومت کے ہیں نہ کہ عہد کے اور حرف علیٰ یہاں منسوب کرنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح کہ یَفْتَروُنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ ” اللہ کی طرف جھوٹ منسوب کرتے ہیں۔ ” میں حرف علی منسوب کرنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ (دیکھئے تفسیر رازی) اور حضرت سلیمان نے تو جنوں کو مسخر کر لیا تھا اور ان کی حکومت ایک نبی کی قائم کردہ اسلامی حکومت تھی جس میں شرپسندوں کو یہ آزادی کہاں حاصل ہو سکتی تھی کہ وہ لوگوں میں جادو پھیلا کر انہیں گمراہ کریں۔

۱۲۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نبی تھے اور ان کا زمانہ دسویں صدی قبل مسیح کا ہے ان کی سلطنت نہایت عظیم الشان تھی۔ ہوائیں پرندے اور جن ان کے لیے مسخر کر دئے گئے تھے۔ یہ حکومت اللہ تعالیٰ کے فضل خاص سے انہیں ملی تھی اور انہوں نے جو مہتم بالشان کارنامے انجام دئے وہ خالصۃً دینی مقاصد کے لیے تھے ان پاکیزہ مقاصد کے لیے انہوں نے ذرائع بھی پاکیزہ اختیار کئے۔ لیکن ان کو جو غیر معمولی طاقت و سطوت حاصل ہو گئی تھی اس کی توجیہ بعد میں شرپسندوں نے یہ کرنا شروع کی کہ یہ سب کچھ انہیں جادو اور “عملیات” کے ذریعہ سے حاصل ہوا تھا اس طرح لوگوں کو حق سے پھیرنے اور اوہام و خرافات میں مبتلا کرنے کے لیے ” نقش سلیمانی” جیسی بدعتیں ایجاد کر لی گئیں۔ جو بعد میں یہودیوں کے زیر اثر مسلمانوں کے ایک طبقہ میں بھی رائج ہو گئیں۔ اور بعض وہم پرست تو جنوں کی تسخیر کا خواب بھی دیکھتے رہتے ہیں۔ قرآن اس پر سخت گرفت کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب رہنمائی حاصل کرنے اور عمل کرنے کے لیے نازل کرتا ہے۔ اس کو پس پشت ڈال کر سفلی عملیات کے پیچھے پڑنا ان ہی لوگوں کا کام ہے جن کو نہ خدا سے سروکار ہو اور نہ آخرت سے۔

واضح رہے کہ قرآن جادو کو کفر قرار دیتا ہے اور یہود حضرت سلیمان پر ان کے جادو گر ہونے کا جو الزام عائد کرتی ہیں اس کی پر زور تردید کرتا ہے اور انہیں کفر سے بری قرار دیتا ہے۔

۱۲۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاروت ماروت دو فرشتوں کے نام ہیں جن کو بابل میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے روپ میں لوگوں کی آزمائش کے لیے بھیجا تھا۔ یہ اسی طرح کا معاملہ ہے جس طرح کہ قوم لوط کی طرف فرشتے خوبصورت لڑکوں کی شکل میں اس کی آزمائش کے لیے بھیجے گئے تھے (ملاحظہ ہو سورہ حجر نوٹ ۶۲)

لیکن یہ بات صحیح نہیں کہ ان فرشتوں پر جادو جیسی کوئی چیز اتاری گئی تھی۔ یہود نے جادو کو جائز قرار دینے کے لیے اسے حضرت سلیمان کی طرف منسوب کیا تھا۔ اور ہاروت و ماروت فرشتوں کی طرف بھی مگر قرآن نے ان دونوں باتوں کی تردید کی۔

بابل میں ایک زمانہ میں جادو کا بہت زور تھا اس زور کو توڑنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے دو فرشتوں کو انسانی روپ میں اس قوم کی طرف بھیجا تھا اور ان کے سپرد یہ خدمت کی تھی کہ وہ لوگوں کو سحر کی حقیقت اور اس کی تباہ کاریوں سے آشنا کریں تاکہ لوگ اس سے باز آ جائیں لیکن جب انہوں نے سحر کی حقیقت واضح کرنا شروع کی تو جن کے ذہن میں کجی تھی وہ اس سے الٹا فائدہ اٹھانے لگے۔ یعنی ساحرانہ طریقوں کو اختیار کر کے میاں بیوی کے درمیان تفرقہ ڈالنے کا کام کرنے لگے، ظاہر ہے ایسے کاموں سے ان ہی لوگوں کو دلچسپی ہو سکتی ہے جو بد طینت ، پست ذہن اور کج رو ہوں ایسے لوگوں میں یہ حوصلہ کہاں ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے حامل بنیں ؟ ہاروت و ماروت فرشتے تھے اور فرشتوں کے بارے میں یہ بات معلوم ہے کہ وہ نہایت پاکیزہ اور اللہ کے فرمانبردار ہوتے ہیں لہٰذا وہ فضول قصے جو بعض روایتوں میں ان کی طرف منسوب کئے گئے ہیں ہرگز لائق اعتناء نہیں ہیں کیونکہ یہ باتیں ملکوتی صفات کے منافی ہیں۔ افسوس کہ ان بے سرد پا روایتوں نے جن میں زہرہ کا بے ہودہ قصہ بیان ہوا ہے تفسیروں میں جگہ پا لی !

۱۲۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ یہودیوں کی شرارتوں کا ذکر ہے جو قرآن اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے خلاف وہ کر رہے تھے۔ بعض منافق یہودی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی مجلس میں منافقانہ اغراض کے لیے شریک ہوتے اور جب کسی بات پر توجہ دلانے کی ضرورت پیش آتی تو وہ بنی صلی اللہ علیہ و سلم کو مخاطب کر کے ” راعنا” کہتے جس کے معنی ہیں ” ہمارا لحاظ فرمائیے”۔ جس طرح انگریزی میں بولتے ہیں (I beg your pardon) لیکن وہ اس لفظ کو ذرا کھینچ کر ادا کرتے جس سے یہ لفظ ” راعینا” بن جاتا جس کے معنی ” ہمارے چرواہے” کے ہیں۔ ان کی اس شرارت کے پیش نظر مسلمانوں کو یہ ہدایت کی گئی کہ وہ یہ لفظ استعمال نہ کریں بلکہ “اُنْظُرْنَا” کہیں جس کے معنی ہیں ہماری طرف توجہ فرمائیے اس میں طنز کا کوئی شائبہ نہیں تھا۔ اس سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی مجلس کے مخلصین اور منافقین کے درمیان امتیاز پیدا ہو گیا۔

۱۲۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ یہودیوں کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ جب قرآن تورات کو اللہ کی کتاب تسلیم کرتا ہے تو پھر اس کے احکام کو منسوخ کرنے کے کیا معنی۔ کیا خدا اپنی شریعت کو بدلتا ہے؟ قرآن نے اس کا جواب یہ دیا کہ تورات کا قانون منسوخ کیا جاتا ہے یا جسے یہودیوں نے فراموش کر دیا ہے اس کی جگہ اس سے بہتر قانون لایا جاتا ہے اس طرح اللہ اپنی شریعت کے معاملے میں تمہیں ارتقاء کی طرف لے جا رہا ہے۔

دوسری بات یہ کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو جو شریعت عطا کی تھی اس کے ساتھ اللہ کو کسی چیز نے باندھ نہیں رکھا ہے کہ وہ اپنی ایک شریعت کی جگہ دوسری شریعت نازل نہ کرے۔ وہ فرمانروائے کائنات ہے اور جب چاہے ایک قانون کی جگہ دوسرا قانون دے سکتا ہے تمہیں اس پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ تم اس کے محکوم بندے ہو۔

واضح رہے کہ یہ بات شریعت سے متعلق ہے اور واقعہ یہ ہے کہ دنیا میں مختلف زمانوں اور مختلف ملکوں میں جو پیغمبر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ان کی شریعتوں کے درمیان فرق رہا ہے لیکن اصل دین سب کا ایک ہی رہا ہے یعنی اسلام ، چنانچہ توحید، رسالت اور آخرت کے بارے میں مختلف انبیاء علیہم الصلوٰۃ کی تعلیمات میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ان بنیادی امور اور حقائق کے سلسلہ میں سب کی متفقہ تعلیم وہی تھی جسے قرآن پیش کر رہا ہے۔ نا سمجھ لوگ شریعتوں کے فرق کو دین کا فرق سمجھ کر یہ خیال کرنے لگتے ہیں کہ اللہ کی طرف سے مختلف ادیان نازل ہوئے تھے اس لیے جس دین کو بھی آدمی قبول کر لے اللہ اس سے راضی ہو گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے از آدم تا این دم بلکہ تا قیامت صرف ایک ہی دین اسلام بھیجا جاتا رہا ہے۔ البتہ شریعتیں حالات و ظروف کی رعایت سے مختلف بھیجی جاتی رہیں اور اب حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو آخری نبی بنا کر بھیجا گیا آپ کو جو شریعت دی گئی وہ آخری ہے اور قیامت تک کے لیے ہے۔

واضح رہے کہ پچھلی شریعتوں میں اور اس آخری شریعت میں کتنے ہی احکام مشترک ہیں تاہم پچھلی شریعتوں کے بعض احکام جو مخصوص حالات میں مخصوص مصالح کے پیش نظر دئے گئے تھے۔ منسوخ کر دئے گئے ہیں۔ مثلاً یہودیوں کو سبت منانے کا حکم دے دیا گیا تھا لیکن اب اس کی جگہ نماز جمعہ کا حکم دیا گیا ہے جو زیادہ فضیلت کا حامل ہے۔ اسی طرح پہلے بیت المقدس کو قبلہ قرار دیا گیا تھا لیکن اب مسجد حرام کو قبلہ قرار دیا گیا ہے جو سب سے افضل مسجد ہے لہٰذا اب واجب الاتباع شریعت وہی ہے جو محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے یہ شریعت مکمل ہے اور شریعتوں کے سلسلہ کا آخری ایڈیشن ہے اور نجات اسی کی پیروی پر منحصر ہے۔

۱۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان سوالات کی نوعیت اعتراضات کی تھی۔

۱۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یہ ان کی من گھڑت باتیں ہیں۔ اللہ نے کہیں نہیں فرمایا ہے کہ جو یہودی یا نصرانی ہو گا اس کے لیے جنت ہے اور دوسروں کے لیے نہیں ہے مذہبی گروہ بندی کی یہ باتیں لوگوں نے اپنی طرف سے گھڑی ہیں اور ان کو اللہ کی طرف منسوب کر کے دین کی حقیقت پر پردہ ڈال دیا ہے اور اسے لوگوں کی نظروں میں مشتبہ بنا کر رکھ دیا ہے۔

۱۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی نجات پانے اور جنت کا مستحق بننے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنے کو پوری طرح حوالے کر دے یہی معنی مسلم ہونے کے ہیں۔ دوسرے یہ کہ اس کی شریعت کے احکام کی تعمیل خلوص کے ساتھ کرے۔ یہ ایک اصولی بات ہے اور تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم متفقہ طور پر سے یہی تھی۔

۱۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد مشرکین عرب ہیں جن کے پاس کتاب نہیں تھی اور جو ناخواندہ تھے۔

۱۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک مذہب کے پیرو دوسرے مذہب کے پیروؤں کو بے اصل قرار دیتے ہیں۔ اس بات نے اہل مذاہب کے درمیان بڑی کشمکش برپا کر رکھی ہے قرآن کہتا ہے جہاں تک دلائل سے کسی بات کو حق ثابت کرنے کا تعلق ہے قرآن نے اپنی بات بدرجۂ اتم ثابت کر دی ہے اب اگر کوئی کسر باقی رہ جاتی ہے تو وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عدالت برپا کرے اور اس نزاع کا دو ٹوک فیصلہ فرمائے اور انسان اپنی آنکھوں سے دیکھ لے کہ یہ حق ہے اور جو اس کے خلاف ہے وہ باطل ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ اس دو ٹوک فیصلہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے قیامت کا دن مقرر کر رکھا ہے۔ اس روز انسان کو نہ صرف یہ معلوم ہو گا کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے بلکہ ہر ایک کا انجام بھی سامنے آئے گا۔

۱۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے یہود کی اس حرکت کی طرف کہ انہوں نے آپس کے افتراق کی بنا پر مسجدوں کو تخریب کاری کا نشانہ بنایا اور ان کو ویران کر کے رکھ دیا نیز ضمناً اشارہ ہے کفار مکہ کے اس ظلم کی طرف کہ انہوں نے مسلمانوں کو مسجد حرام میں عبادت کرنے سے روک دیا ہے ساتھ ہی مساجد کی حرمت بھی واضح فرما دی کہ مسجدیں اللہ کا گھر ہیں لہٰذا ان میں داخل ہونے کا حق شر پسندوں اور تخریب کاروں کو نہیں ہے الا یہ کہ وہ تخریب کاری کی نیت سے نہیں بلکہ خدا سے ڈرتے ہوئے مسجدوں میں داخل ہوں۔

۱۳۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو لوگ اللہ کی عباد ت گاہوں کا احترام نہیں کرتے اور اس کو ویران کرنے کے درپے ہوتے ہیں یا فساد اور تخریب کاری کے ذریعے ان کو تباہ اور برباد کرتے ہیں یا ان کی بے حرمتی کرتے ہیں قرآن ان کو دنیا میں ذلت اور آخرت میں عذاب عظیم کی وعید سناتا ہے اس سے واضح ہے جو لوگ اللہ کی عبادت گاہوں کا احترام نہیں کرتے وہ خود احترام کے مستحق نہیں ہیں ان کے لیے ذات اور رسوائی مقدر ہے گویا اسلام دشمنی یا مسلم دشمنی کی بنا پر جو شخص یہ ذلیل حرکت کرتا ہے وہ در حقیقت اپنی ہی رسوائی اور تباہی کا سامان کرتا ہے کاش کہ تخریب پسندوں کو اس کا احساس ہوتا۔

۱۳۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہود و نصاریٰ دونوں کا قبلہ بیت المقدس تھا (جو فلسطین میں ہے) چونکہ اس کے مشرقی جانب حضرت مریمؑ نے اعتکاف کیا تھا اس لیے نصاریٰ نے مشرقی سمت کو قبلہ کے طور پر اختیار کیا اور غالباً ان کی ضد میں آ کر یہود نے مغربی سمت کو قبلہ بنا لیا آیت کا اشارہ مشرق و مغرب سے اسی تنازعے کی طرف ہے۔

۱۳۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اللہ کسی سمت یا مقام میں مقید نہیں ہے بلکہ وہ ہر جگہ اور ہر سمت میں ہے۔ نماز کے لیے کسی سمت کے مقرر کرنے کے لیے یہ معنی نہیں ہیں کہ اللہ بس اس سمت میں ہے بلکہ سمت کسی دینی مصلحت سے مقرر کی جاتی ہے لہٰذا اگر اللہ نے اس سے پہلے کسی خاص رُخ کی طرف نماز پڑھنے کا حکم دیا تھا اور اب وہ کسی دوسرے رخ کی طرف نماز پڑھنے کا حکم دے رہا ہے تو اس میں بحث کرنے کی کوئی بات نہیں ہے اصل چیز سمت نہیں بلکہ اللہ کا حکم ہے۔

۱۳۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اس کی قدرت بھی وسیع ہے اور اس کی نظر بھی وسیع اس کو اپنے اوپر قیاس کر کے کسی تنگ دائرہ میں محدود سمجھنا یا تنگ نظر خیال کرنا حماقت کے سوا کچھ بھی نہیں۔

۱۳۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی زمین و آسمان کی ساری چیزیں اللہ کی مملوک ہے کسی کا یہ مقام نہیں کہ وہ اس کی غلامی اور بندگی سے آزاد ہو بلکہ سب اس کے تابع فرمان ہیں اس لیے اس کے بیٹے بیٹیاں کیسے ہو سکتی ہیں اور وہ اس شرک سے پاک اور اعلیٰ و ارفع ہے۔

۱۳۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ اللہ ہم سے براہ راست بات کرے یا کوئی نشانی یعنی معجزہ ہمیں دکھائے جس سے ہمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت کا یقین ہو جائے اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ یہ مطالبہ کوئی نیا نہیں ہے اس سے پہلے کی گمراہ امتیں بھی اسی طرح کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ معجزات سے قطع نظر جہاں تک رسالت پر دلالت کرنے والی نشانیاں دکھانے کا تعلق ہے ایسی نشانیاں موجود ہی ہیں اور سب سے بڑی نشانی خود قرآن مجید ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے پیغمبر ہونے کی واضح دلیل ہے لیکن جو لوگ نہ ماننے کا فیصلہ کر چکے ہوں وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں ہرگز ماننے والے نہیں ہیں۔

۱۳۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی پیغمبر کی ذمہ داری اللہ کا پیغام پہنچا دینا ، ماننے والوں کو خوشخبری سنانا اور انکار کرنے والوں کو انجام بد سے آگاہ کرنا اس کے بعد جو لوگ جہنم کی راہ اختیار کریں گے ان کے عمل کی کوئی ذمہ داری پیغمبر پر نہیں ہو گی اور نہ اسے اس بارے میں جوابدہی کرنا ہو گی۔

۱۳۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد اہل کتاب کے صالح لوگ ہیں جو خلوص کے ساتھ تورات و انجیل کی تلاوت کرتے تھے اور قرآن کو ان کی پیش گوئیوں کے مطابق پا کر اس پر ایمان لے آئے۔

آیت سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ اللہ کی کتاب کو پڑھنے کا حق یہ ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔

۱۳۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو چند ایسے احکام دئے جن میں ان کی عزیمت و استقامت کا امتحان تھا اور انہوں نے ان کی ٹھیک ٹھیک تعمیل کی مثلاً انہوں نے مشرکانہ ماحول میں بت پرستی کے خلاف آواز بلند کی اور جب اس ” جرم” میں آگ میں ڈالے گئے تو اس میں بے خطر کود پڑے۔ دین کی خاطر گھر بار اور وطن چھوڑ دیا اللہ کی طرف سے اشارہ پا کر اپنے محبوب فرزند کی قربانی کے لیے تیار ہو گئے۔ یہ اور اس قسم کے دوسرے عظیم کارناموں اور قربانیوں نے ان کو بلند پایہ شخصیت بنا دیا۔

۱۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس عہد کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کے دونوں بیٹوں حضرت اسحاقؑ اور حضرت اسماعیلؑ سے عظیم قومیں پیدا کیں بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل کے مورث اعلیٰ حضرت ابراہیمؑ تھے ان کو یہود، نصاریٰ اور مسلمان سب اپنا دینی پیشوا مانتے ہیں اور آج بھی دنیا کی اکثریت ان کو اپنا پیشوا تسلیم کرتی ہے۔

۱۴۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ظالموں سے مراد وہ لوگ ہیں جو شرک اور کفر میں مبتلا ہو کر اپنی جانوں پر ظلم ڈھائیں۔

۱۴۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گھر سے مراد خانہ کعبہ ہے جو مکہ میں تعمیر کیا گیا تا کہ وہ توحید کا مرکز بنے اس کی تعمیر حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ نے تقریباً چار ہزار سال قبل اللہ کے حکم سے کی تھی اور اس کے لیے مکہ کی سرزمین کا انتخاب بھی اللہ تعالیٰ ہی نے فرمایا تھا۔ یہی وہ گھر ہے جس کے لیے حج مشروع ہوا اور حضرت ابراہیمؑ کے زمانہ سے حج کا یہ سلسلہ جاری ہے اور مسلمان اسی گھر کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔

۱۴۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ طواف خانۂ کعبہ کے گرد چکر لگانے کو کہتے ہیں یہ ایک قسم کی نماز ہے اور اس سے محبت الٰہی کے جذبات ابھرتے ہیں اور بندہ پر بندگی کی کیفیت طاری ہوتی ہے واضح رہے کہ طواف صرف خانۂ کعبہ ہی کے لیے مشروع ہے اس کے علاوہ کسی چیز کا طواف کرنا خواہ وہ مسجد ہی کیوں نہ ہو جائز نہیں ہے۔

۱۴۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اعتکاف مسجد میں عبادت کی غرض سے قیام کرنے کو کہتے ہیں۔ اس کا مسنون طریقہ حدیث میں بیان ہوا ہے۔

۱۴۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رکوع اور سجدہ نماز کے اہم ترین ارکان ہیں یہ ارکان ابراہیمی شریعت میں شامل تھے۔

۱۴۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پاک رکھنے سے مراد صرف ظاہری گندگی ہی سے پاک صاف رکھنا نہیں ہے بلکہ خاص طور سے شرک اور بت پرستی کی گندگی سے پاک رکھنا ہے۔

۱۴۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھلوں سے مراد میوہ جات ہی نہیں بلکہ اس میں غلہ جات بھی شامل ہیں۔ یہ دعا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس لیے کی تھی کہ مکہ غیر زرعی علاقہ میں واقع تھا جہاں اس وقت گلہ بانی اور شکار کے علاوہ کوئی ذریعہ معیشت نہیں تھا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعا مقبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اس بیابان میں بسنے والوں کو پھلوں کا رزق عطاء فرمایا جس میں خاص طور سے کھجوریں شامل ہیں۔ دعائے ابراہیمی کی برکتوں کا مشاہدہ آج بھی کیا جا سکتا ہے جبکہ مکہ میں ہر قسم کے پھلوں کی افراط ہے۔

۱۴۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مسلم یعنی اللہ کا کامل فرمانبردار۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل مسلم تھے اس کے باوجود انہوں نے دعا کی کہ خدایا ہمیں اپنا مسلم بنا۔ اس سے اس بات پر روشنی پڑتی ہے کہ وہ فرمانبردار ی اور سپردگی کے بلند سے بلند درجہ کو پہنچنا چاہتے تھے۔ اس عظیم تاریخی موقع پر ان کی اس دعا سے یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ ان کا دین اسلام تھا نہ کہ یہودیت یا نصرانیت یا کوئی اور مذہب۔

۱۴۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان کی یہ دعا مقبول ہوئی چنانچہ بنی اسماعیل میں سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا ظہور ہوا اور آپ کے پیروؤں نے امت مسلمہ کی حیثیت اختیار کی۔

۱۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں رسول کے چار فرائض بیان کئے گئے ہیں ایک اللہ کی آیات سنانا یعنی آیات قرآنی جو اللہ کی نشانیاں اور دلائل ہیں پڑھ کر سنانا تاکہ خدا کا پیغام مدلل طور پر لوگوں تک پہنچ جائے اور وہ ان پر غور کر کے کلام الٰہی پر ایمان لے آئیں۔ دوسرے کتاب کی تعلیم کتاب سے مراد قرآن کریم ہے اور اس موقع پر خاص طور سے احکام شریعت مراد ہیں۔ جو لوگ ایمان لائے ہیں انہیں یہ پیغمبر اللہ کے احکام و قوانین سکھاتا ہے تاکہ وہ اللہ کی شریعت کے مطابق زندگی بسر کریں تیسرے حکمت کی تعلیم، حکمت یعنی دانائی کی باتیں یہ گویا احکام و قوانین کی اسپرٹ، ان کی روح ان کے مصالح اور مقاصد ہیں جن کا فہم پیغمبر اپنے پیروؤں میں پیدا کرتا ہے چوتھے تزکیہ جو در حقیقت ان تمام چیزوں کی غایت ہے تزکیہ کے معنی پاک کرنے اور نشو و نما دینے کے ہیں۔ پیغمبر انسان کے عقائد، اخلاق، اعمال، اور اس کے ظاہر و باطن کو مفاسد سے پاک کرتا ہے اور اس کے اخلاق و اعمال کی نشو و نما کرتا اور پروان چڑھاتا ہے۔

۱۵۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ غلبہ والا اور حکمت والا ہے اس سے یہاں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کائنات کا نظام اللہ تعالیٰ پورے غلبہ قوت اور اقتدار کے ساتھ چلا رہا ہے اور اس کے غالب ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ و ہ اندھا دھند طریقے پر جو چاہے کر ڈالتا ہے بلکہ وہ حکمت والا ہے اس لیے اس کا کوئی کام حکمت، مصلحت اور مقصدیت سے خالی نہیں ہوتا۔

۱۵۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جس ہستی کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی امامت کے لیے منتخب کیا ہو اس کے طریقہ سے انحراف حماقت نہیں تو اور کیا۔

۱۵۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسلام کے معنی مکمل حوالگی کے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دین اسلام تھا یعنی وہ ایک اللہ کو معبود مانتے تھے اور انہوں نے مکمل طور سے اپنے کو اس کے حوالے کر دیا تھا۔ اور اس کی ہدایت کی راہ اختیار کی تھی وہ یہودیت یا نصرانیت یا کسی اور مذہب سے کوئی تعلق نہیں رکھتے تھے۔ یہودیت و نصرانیت کا تو ان کے زمانے میں وجود ہی نہ تھا یہ مذاہب تو ان کے بعد میں پیدا ہوئے اور یہ حقیقت میں اسلام کی بگڑی ہوئی شکلیں ہیں جو حضر ت موسیٰؑ اور عیسیٰؑ کے بعد ان کے پیروؤں نے اصل دین (اسلام) میں تحریف کر کے پیدا کیں۔

۱۵۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الدین سے مراد حقیقی دین ہے یعنی اسلام جو ابتداء سے اللہ کا دین رہا ہے۔ اسی پر قائم رہنے اور اسی پر جینے اور مرنے کی وصیت حضرت ابراہیمؑ اور حضرت یعقوبؑ نے اپنی اولاد کو کی تھی۔ لیکن بعد میں بنی اسرائیل نے دین اسلام میں تحریف کر دی اور اس کو بگاڑ کر یہودیت و نصرانیت کے نام سے مذاہب ایجاد کئے۔

۱۵۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مسلم وہ جو اللہ کو واحد معبود حقیقی مالک و آقا اور حاکم مان کر اپنے کو مکمل طور پر اس کے حوالہ کر دے اور اس کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق زندگی بسر کرے۔ مرنے تک مسلم رہنے کا مطلب یہ ہے کہ مہد سے لیکر لحد تک اسی دین پر قائم رہنا اس راہ میں جو آزمائشیں پیش آئیں ان کا مقابلہ عزم و ہمت کے ساتھ کرنا اور کسی مرحلہ میں بھی اسلام کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دینا۔

۱۵۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی تمہارا اپنے ان بزرگوں سے اظہار عقیدت اور ان کے کارناموں پر فخر تمہاری اپنی نجات کے لیے کافی نہیں ہے ان کی نیکی ان کے کام آئے گی اور تمہاری بدی کا نتیجہ تمہیں بھگتنا ہو گا ان کے کارناموں کے بارے میں تم سے پرسش نہیں ہو گی بلکہ تمہیں اپنے اعمال کے بارے میں جواب دہی کرنا ہو گی لہٰذا کوئی شخص اس خام خیالی میں نہ رہے کہ وہ اپنے بزرگوں سے اظہار عقیدت کر کے نجات پا جائے گا۔

۱۵۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قرآن کے نزدیک کسی بنی کو ماننا اور کسی کو نہ ماننا صریح کفر ہے ایمان اسی کا معتبر ہے جو تمام نبیوں کو برحق تسلیم کرے اور کسی کا بھی انکار نہ کرے۔

۱۵۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس میں تعریض ہے یہود و نصاریٰ کے بپتسمہ کی طرف کہ یہ محض رسمی اور بے حقیقت چیز ہے۔ حقیقی رنگ تو خدا پرستی کا رنگ ہے جو خدا کے دین کو قبول کرنے اور اس کے تمام پیغمبروں پر ایمان لانے کی صورت میں انسان پر چڑھ جاتا ہے۔

۱۵۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہودیت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کافی عرصہ بعد وجود میں آئی اور نصرانیت بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد تشکیل پائی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان فرقہ بندیوں سے پہلے ہدایت کی شکل کیا تھی؟ قرآن کا جواب یہ ہے کہ وہ ہدایت کی راہ دین اسلام ہے جو ہر پیغمبر کا دین تھا اور جس سے ہر زمانہ کے لوگ ہدایت پاتے رہے ہیں اور قرآن اسی کی دعوت پیش کرتا ہے۔

۱۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی تورات میں اس بات کی شہادت موجود ہے کہ حضرت ابراہیمؑ اور ان کی اولاد کا دین کیا تھا آیا وہ یہود و نصاریٰ تھے یا اسلام کے مخلص پیرو۔ پھر جو لوگ کتاب الٰہی کی ان واضح شہادتوں کو چھپاتے ہیں ان سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو گا؟ اس سے واضح ہوا کہ کتاب الٰہی کی شہادت کو چھپانا بڑی ظالمانہ حرکت ہے کیونکہ کتان حق کے نتیجہ میں لوگ باطل کو حق سمجھ کر ضلالت میں پڑتے ہیں۔ اس لیے حاملین کتاب کی یہ عظیم ذمہ داری ہے کہ وہ حق کو کھول کر لوگوں کے سامنے پیش کریں۔ آج امت مسلمہ پر بھی یہ عظیم ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن کی شہادت کو بیان کرے اور اسے چھپائے نہیں تاکہ لوگوں پر اللہ کی حجت قائم ہو اور وہ اپنی ذمہ داری سے بری ہو جائے۔

۱۶۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ خلاصہ بحث ہے اور چونکہ اس کو اچھی طرح ذہن نشین کرانا مقصود ہے اس لیے اسے آیت ۱۳۴ کے بعد یہاں دہرایا گیا ہے۔

۱۶۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہر عمل ایک اچھا یا برا نتیجہ رکھتا ہے جو قیامت کے دن ظاہر ہو گا یہ نتیجہ ہر شخص کی کمائی ہے اس لیے یہاں اعمال کو کسب یعنی کمائی سے تعبیر کیا گیا ہے۔

۱۶۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قبلہ اس گھر یا اس مقام کو کہتے ہیں جس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی جاتی ہے۔ اسلام نے گوناگوں مصالح کی بنا پر نماز کے لیے قبلہ ضروری قرار دیا ہے مثلاً یہ کہ اللہ کی عبادت اللہ کے بتائے ہوئے طریقے پر ادا کی جائے۔ نماز میں نظم اور باقاعدگی پیدا ہو اجتماعی طور پر نماز ادا کی جائے۔ اہل ایمان کی صفوں میں وحدت پیدا ہو اور قبلہ ا ن کی توجہ کا مرکز اور نصب العین (Goal) قرار پائے۔

۱۶۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہجرت کے بعد مدینہ میں سولہ یا سترہ ماہ تک بیت المقدس (Jerusalem) کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے اس کے بعد مسجد حرام (مکہ) کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کا حکم ہوا تحویل قبلہ کے اس حکم پر یہود کے متوقع اعتراض کا یہاں جواب دیا جا رہا ہے۔ یہود کے معترض ہونے کی وجہ یہ تھی کہ ان کا قبلہ بیت المقدس تھا۔

۱۶۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اہل کتاب کے اعتراض کا جواب ہے کہ اللہ کو مشرق یا مغرب کے ساتھ کوئی خصوصیت نہیں ہے کیونکہ ساری سمتیں اللہ ہی کی ہیں البتہ جس گھر (مسجد) کو وہ مخصوص فرما کر قبلہ قرار دے اسی کو قبلہ بنانا برحق ہے اور اس کے حکم کی تعمیل کر کے ہی تم ہدایت یاب ہو سکتے ہو۔

اس سے واضح ہوا کہ جو لوگ مذہبی عصبیت کی بنا پر اپنا رخ مکہ مکرمہ کی طرف کرنے اور کعبۃ اللہ کو اپنا قبلہ قرار دینے کے لیے آمادہ نہ ہوں اُن پر اللہ کی ہدایت کے دروازے کھل نہیں سکیں گے۔ کیونکہ یہ “مذہب پرستی” ہے نہ کہ حق پرستی۔

جہاں تک سچے اہل ایمان کا تعلق ہے ان کی نظر میں اصل اہمیت سمت کی نہیں بلکہ اللہ کے حکم کی ہوتی ہے اس نے اگر پہلے بیت المقدس کو قبلہ قرار دیا تھا اور اب کعبہ کو قبلہ بنانے کا حکم دیا ہے تو اس نئے حکم کو قبول کرنے میں کوئی تامل نہیں ہوتا چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اصحاب کو تحویل قبلہ کا حکم تسلیم کرنے میں ذرا تامل نہیں ہوا اور جب اہل ایمان کی ایک جماعت کو حالتِ نماز میں اس کی اطلاع ملی تو انہوں نے عین اسی حالت میں اپنا رخ مسجد حرام کی طرف پھیر لیا۔ مدینہ کی جس میں یہ واقعہ پیش آیا اسے مسجد القبلتین (دو قبلوں والی مسجد) کہتے ہیں جو آج بھی اسی نام سے موجود ہے۔

واضح رہے کہ یہود اور نصاریٰ دونوں کا قبلہ بیت المقدس تھا بعد میں نصاریٰ نے غالباً اس بنا پر کہ حضرت مریم بیت المقدس کی مشرقی جانب معتکف ہو بیٹھی تھیں مشرق کو قبلہ بنا لیا اور غالباً ان کی ضد میں آ کر یہود نے مغرب کو قبلہ بنا لیا لیکن اسلام نے مشرق یا مغرب کو نہیں بلکہ مسجد حرام کو قبلہ قرار دیا خواہ وہ کسی جہت میں پڑے۔

۱۶۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جس طرح ہم نے قبلہ کے معاملہ میں تمہاری رہنمائی کی اور تمہیں قبلہ ابراہیمی سے نوازا اسی طرح دعائے ابراہیمی کو قبولیت سے نوازتے ہوئے تمہیں اعتدال والی امت (Justly balanced Nation) بنا کر اٹھایا تاکہ تم دین اسلام کی گواہی دینے والے بنو۔

۱۶۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ” امت وسط” سے مراد ایسا گروہ ہے جو اعتدال کی روش پر قائم ہو اور اپنے اوصاف کی بنا پر بہترین گروہ کہلانے کا مستحق ہو۔ امت مسلمہ کو امت وسط کا لقب اس لیے عطا کیا گیا ہے کہ وہ دین کی اصلی راہ پر قائم ہے اور ایسے نظام حیات کی حامل ہے جو اعتدال پر مبنی ہے اور اس وصف کی بنا پر تمام امتوں میں بہترین امت کہلانے کی مستحق ہے۔

یہ درحقیقت بنی اسرائیل کی منصب امامت سے معزولی اور امت مسلمہ کی امامت کا اعلان ہے جس کا قبلہ قبلۂ ابراہیمی ہے اور جو اسلام کی شاہراہ پر قائم ہے۔

۱۶۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ امتِ وسط کے فریضۂ منصبی کا بیان ہے۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو رہنمائی کے منصب پر مامور کیا تھا لیکن انہوں نے شریعت میں تبدیلیاں کر کے اور دین سے انحراف کی راہ اختیار کر کے اعتدال کی راہ گم کر دی تھی اس لیے عالم انسانیت کی یہ سب سے بڑی ضرورت تھی کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسی امت برپا کرے جو اعتدال پر قائم، شریعت کی حامل اور دنیا والوں کے سامنے دین حق کی گواہی دینے والی ہو۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے جو آخری نبی ہیں امت مسلمہ تک اللہ کا دین اپنی مکمل شکل میں پہنچا دیا اب امت مسلمہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہر دور، ہر ملک اور ہر زبان میں لوگوں کے سامنے اللہ کے دین کی شہادت پیش کرے۔

قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ کی عدالت میں لوگ حاضر ہوں گے تو رسول گواہی دے گا کہ اللہ کے دین کو اس نے بے کم و کاست امت مسلمہ تک پہنچا دیا اور امت مسلمہ کو یہ گواہی دینا ہو گی کہ اس نے اس دین کو بندگان خدا تک ٹھیک ٹھیک پہنچایا تھا یا نہیں۔

۱۶۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کی جو اجازت تمہیں دی گئی تھی وہ عارضی تھی اور اس سے مقصود امتحان لینا تھا کہ کون لوگ رسول کے سچے پیرو ہیں اور کون پچھلی روایات کے پرستار۔ واضح رہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا قیام جب تک مکہ میں رہا آپؐ اس طرح نماز پڑھتے رہے کہ خانۂ کعبہ آپ کے سامنے ہوتا لیکن جب مدینہ ہجرت فرما گئے تو سولہ سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ مسجد حرام کی طرف رُخ کرنے کا حکم نازل ہوا۔ مدینہ سے بیت المقدس شمال کی جانب اور خانۂ کعبہ جنوب کی جانب پڑتا ہے۔

۱۶۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قبلہ کی تبدیلی کا معاملہ ایک سخت امتحان تھا۔ جب تک بیت المقدس قبلہ رہا عربوں کی آزمائش ہوتی رہی کیونکہ یہ ان کی وطن پرستی پر ضرب کاری تھی اور جب مسجد حرام کو قبلہ بنانے کا حکم ہوا تو بنی اسرائیل آزمائش میں پڑ گئے کہ یہ ان کی نسل پرستی اور آباء پرستی پر ضرب تھی۔ اس طرح رسول کے ساتھ صرف وہ لوگ رہ گئے جو اللہ کے سچے پرستار تھے۔ ظاہر ہے کہ مذہبی رسوم و روایات کو ترک کرنا کوئی آسان بات نہیں ہے، لیکن جن کے اندر اللہ اور اس کے رسول کے لیے اخلاص ہوتا ہے وہ بتوفیق الٰہی ہدایت پاتے ہیں۔

۱۷۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اس امتحان سے مقصود لوگوں کا ایمان ضائع کرنا نہیں بلکہ دین کے سچے ایمان میں مخلص ہیں ان کی چھپی صلاحیتوں کو ابھرنے اور ان کے ایمان کو پروان چڑھنے کا موقع دینا ہے۔ اس لحاظ سے یہ امتحان اللہ کی صفت رحمت کا مظہر ہے۔

۱۷۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رؤف اور رحیم دو صفتیں بیان ہوئی ہیں۔ رؤف میں دفع شر کا پہلو غالب ہے اور رحیم میں اثبات خیر کا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو اس امتحان کے ذریعہ کمزوریوں سے پاک اور اچھے اوصاف سے آراستہ کرنا چاہتا ہے۔

۱۷۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مدینہ ہجرت کر جانے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و سلم اگرچہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے لیکن آپؐ قبلہ ابراہیمی کے لیے حکم الٰہی کے منتظر تھے اس لیے آپ کی نگاہ بار بار آسمان کی طرف اٹھ جایا کرتی تھی کہ کب اللہ کا فرشتہ (جبرائیل) تحویل قبلہ کا حکم لے کر نازل ہوتا ہے۔

۱۷۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مسجد حرام سے مراد مکہ کی وہ مسجد ہے جس کے وسط میں خانہ کعبہ واقع ہے خانہ کعبہ کی تعمیر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آج سے تقریباً چار ہزار سال قبل کی تھی۔ مسجد حرام نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں مختصر تھی بعد میں اسے اتنی وسعت دی گئی ہے کہ اس میں پانچ لاکھ آدمی نماز پڑھ سکتے ہیں۔ پھر بھی وہ حج کے دنوں میں ناکافی ثابت ہوتی ہے اس مسجد کے اندر خانۂ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی جاتی ہے۔

۱۷۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہود اچھی طرح جانتے تھے کہ بیت اللہ قبلہ ابراہیمی ہے اور وہ تورات کی اس پیشین گوئی سے بھی واقف تھے کہ آخری نبی حضرت اسماعیل کی ذریت میں سے ہو گا اور اس نبی کے ذریعہ ایک امت مسلمہ برپا کی جائے گی نیز وہ اس حقیقت سے بھی واقف تھے کہ بنی اسماعیل کا مرکز اور قبلہ خانۂ کعبہ رہا ہے لیکن وہ محض حسد اور تعصب کی بنا پر ان باتوں کو چھپاتے تھے۔ واضح رہے کہ سب سے پہلے خانۂ کعبہ کی تعمیر ہوئی اور بیت المقدس میں ہیکل سلیمانی کی تعمیر اس کے کئی سو سال بعد حضرت سلیمانؑ نے کی تھی۔

۱۷۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ یہود و نصاریٰ کی طرف ہے کہ وہ آپس میں قبلہ کے معاملے میں متحد نہیں ہیں۔ نصاریٰ نے مشرق کو قبلہ بنایا ہے تو یہود نے مغرب کو، جب کہ دونوں اصلاً بیت المقدس کے قبلہ ہونے کے قائل ہیں۔ پھر ان سے کیا توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ مسجد حرام کو قبلہ تسلیم کر لیں گے۔

۱۷۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ متن میں لفظ ” العلم” استعمال ہوا ہے جس سے مراد یہاں علم حقیقی ہے جو وحی کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ اس آیت میں متنبہ کیا گیا ہے کہ قرآن کی ہدایات کو چھوڑ کر خواہشات کی پیروی کرنا خواہ وہ کسی معاملہ میں ہو اور خواہ وہ روایات کی شکل میں ہو یا بدعات کی شکل میں سخت ظالمانہ حرکت ہے۔

۱۷۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ عربی محاورہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی شک و شبہ کے بغیر اچھی طرح جانتے ہیں کہ آخری نبی کا خانۂ کعبہ کو قبلہ قرار دینا برحق ہے۔

۱۷۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خطاب بظاہر نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ہے لیکن تنبیہ کا رُخ عام لوگوں کی طرف ہے۔

۱۷۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نکلنے سے مراد نماز کے لیے نکلنا ہے۔ یہاں واضح کیا گیا ہے کہ قبلہ کا اہتمام حضر ہی میں نہیں سفر میں بھی ضروری ہے۔ سفر میں قبلہ کا تعین ایک مشکل کام ہے لیکن قبلہ کی اہمیت کے پیش نظر تاکید کی گئی ہے کہ سفر میں بھی نماز پڑھتے وقت اپنا رخ مسجد حرام ہی کی طرف کر لو تاکہ یہ امت اپنے (Goal) (مرکز توحید) سے ہر حال میں وابستہ رہے۔

جہاں تک مکہ مکرمہ کے وقوع کا تعلق ہے یہ شہر E Lat 21° 26′, N Long 39°50’  پر واقع ہے ممبئی سے قبلہ مغربی سمت کو دس ڈگری شمال (°N10) کی جانب پڑتا ہے۔

قرآن کی ہدایت کے مطابق سفر میں بھی سمت قبلہ کی تحقیق اور پابندی امکانی حد تک ضروری ہ لیکن اگر ریل، ہوائی جہاز وغیرہ میں قبلہ رُخ نماز پڑھنا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں جس طرف بھی رخ کرنا ممکن ہو نماز ادا کی جا سکتی ہے۔

۱۸۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اگر تم نے قبلہ کا اہتمام کرنے میں بے پرواہی سے کام لیا تو اس پر گرفت ہو گی۔

۱۸۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ حکم اوپر گزر چکا ہے۔ یہاں اس کا اعادہ محض تکرار نہیں بلکہ تاکید کے لیے ہے۔ نیز اس کی حکمتیں بیان کرنا مقصود ہے۔ چنانچہ ایک حکمت تو بیان کی گئی ہے کہ لوگوں کو تمہارے خلاف حجت پیش کرنے کا موقع نہ ملے یعنی یہود کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ اگر حضرت محمد ؐ آخری نبی ہیں تو تورات کی پیشین گوئی کے مطابق ان کا قبلہ قبلۂ ابراہیمی (خانہ کعبہ) کیوں نہیں ہے؟ تم ہر جگہ خانۂ کعبہ کو قبلہ بنا کر یہ ثابت کر دو کہ ہمارا مستقل قبلہ خانۂ کعبہ ہی ہے جو تورات کی پیشین گوئی کے مطابق ہے۔ دوسری حکمت اتمامِ نعمت بیان کی گئی ہے یعنی تکمیل دین اور اقوام عالم کی امامت کی نعمت اور تیسری حکمت راہیابی یعنی یہ قبلہ مرکز توحید ہونے کی حیثیت سے مینارۂ ہدایت ہے اس لیے اس کو ہمیشہ (Goal) کے طور پر نگاہوں کے سامنے رکھنا چاہیے۔

۱۸۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خدا کو یاد رکھنے کے مفہوم میں شریعت کی پابندی کرنا شامل ہے اور اللہ کا یہ وعدہ کہ “میں تمہیں یاد رکھوں گا”  کا مطلب یہ ہے کہ جو وعدے میں نے تم سے کئے ہیں ان کو پورا کروں گا۔

۱۸۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ امت مسلمہ کو امامت کے منصب پر مامور کرنے کے بعد دین کی راہ میں پیش آنے والے خطرات و مشکلات کا مقابلہ کرنے کی تدابیر بتائی جا رہی ہیں کہ صبر اور نماز سے مدد لو۔ نماز تعلق باللہ کا نہایت مضبوط ذریعہ ہے اور اگر تعلق باللہ مضبوط ہو تو راہ حق کی مشکلات خودبخود آسان ہو جاتی ہیں یہاں نماز کا ذکر جس سیاق میں ہوا ہے اس سے اس بات پر روشنی پڑتی ہے کہ نماز ذکر اور شکر دونوں کا مظہر ہے اور راہ حق میں عزم و قوت کے حصول کا ذریعہ بھی۔

۱۸۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ صبر کرنے والوں یعنی دین کی راہ میں ثابت قدم رہنے والوں اور مشکلات و مصائب میں پامردی دکھانے والوں کا ساتھی اللہ تعالیٰ ہوتا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے کیونکہ جس کسی کو فرمانروائے کائنات کی معیت اور پشت پناہی حاصل ہو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔ واضح رہے کہ صبر کا ذکر قرآن میں ستر سے زائد مرتبہ ہوا ہے اس سے اس کی ضرورت و اہمیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

۱۸۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جاتے ہیں ، بہ ظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کی زندگیاں ختم ہو گئیں لیکن قرآن اس حقیقت کو ذہن نشین کرانا چاہتا ہے کہ ایسے لوگوں کے لیے حقیقی زندگی کا آغاز تو ان کے مرنے کے بعد ہی ہوتا ہے۔ کیونکہ ان کی روحیں عالم برزخ میں نہایت اونچے مقام پر فائز ہوتی ہیں جہاں وہ ایسی نعمتوں سے نوازے جاتے ہیں جن کا تصور بھی اس دنیا میں نہیں کیا جا سکتا۔ اور سرور و شادمانی کی جو زندگی انہیں نصیب ہوتی ہے اس کے مقابلے میں دنیا کی یہ زندگی کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔

واضح رہے کہ قرآن کے نزدیک موت انسان کے ختم ہو جانے کا نام نہیں ہے بلکہ صرف روح کے قفسِ عنصری (جسم) سے پرواز کر جانے کا نام ہے۔ ہر انسان کی روح عالم برزخ میں جو ایک روحانی عالم ہے قیامت تک کے لیے محفوظ رہتی ہے خواہ وہ بندۂ مومن ہو یا کافر البتہ مومن کی روح آسائشوں اور نعمتوں میں رہتی ہے جبکہ کافر کی روح تکلیف اور عذاب میں۔ جب قیامت قائم ہو گی تو اجسام کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا اور ہر انسان کی روح اس کے جسم کے ساتھ جوڑ دی جائے گی۔ اس طرح ہر شخص اللہ تعالیٰ کی عدالت میں جسم سمیت حاضر ہو گا اور وہاں اپنے عقیدہ و عمل کے مطابق جزا یا سزا کا مستحق قرار پائے گا۔ اسے عالم آخرت کہتے ہیں گویا دنیا اور آخرت کے درمیان کا عالم عالم برزخ ہے۔

۱۸۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اہل حق کے قافلہ کو مخالفتوں کے طوفان سے ضرور گزرنا ہو گا اور طرح طرح کے نقصانات سے دو چار ہونا ہو گا۔ یہ آزمائشیں قانون الٰہی کے تحت ناگزیر ہیں تاکہ کھرے اور کھوٹے میں امتیاز ہو، اہل حق کے جوہر کھلیں اور وہ اللہ کے انعامات کے مستحق قرار پائیں۔

خوف سے اشارہ خوف و خطر کی اس حالت کی طرف ہے جو دشمن کے حملہ وغیرہ کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔

فاقہ سے معاشی مشکلات کی طرف اشارہ ہے۔ جان و مال کی کمی سے اشارہ جہاد کی طرف ہے جہاد میں جانی اور مالی دونوں قسم کی قربانیاں دینا پڑتی ہیں پھلوں کی کمی سے اشارہ پیداوار کے نقصانات کی طرف ہے۔

۱۸۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ہر مصیبت کے موقع پر اہل ایمان کی زبان سے یہ روح پرور کلمہ نکلتا ہے جس سے ان کی اللہ کے حضور سپردگی ، توکل اور سرفروشی کی کیفیت کا اظہار ہوتا ہے۔ یہی وہ اسپرٹ ہے جو انہیں راہ حق میں پہاڑ سے بھی ٹکر لینے کے لیے آمادہ کرتی ہے۔

۱۸۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بحث قبلہ سے متعلق چلی آ رہی تھی درمیان میں تحویل قبلہ کے نتیجہ میں پیش آنے والی آزمائشوں کا ذکر ہوا اب پھر قبلہ کے تعلق سے مزید روشنی ڈالی جا رہی ہے۔

۱۸۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ صفا اور مروہ دو پہاڑیوں کے نام ہیں جو مکہ میں خانۂ کعبہ کے پاس واقع ہیں ان دو پہاڑیوں کے درمیان حج اور عمرہ کے موقع پر سات چکر لگائے جاتے ہیں جسے سعی کہتے ہیں۔ مَرْوَہ وہ یادگار پہاڑی ہے جس پر حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی قربانی کا واقعہ پیش آیا تھا۔ مروہ کا ذکر تورات میں موجود ہے لیکن یہود نے تحریف کر کے لفظ مروہ کو مورہ کر دیا اور اس مقام کو مکہ کے بجائے فلسطین میں ثابت کر دکھانے کی کوشش کی۔ تاکہ ان نشانیوں پر پردہ پڑا رہے جن سے قبلہ ابراہیمی اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے آخری نبی ہونے کا ثبوت ملتا ہے چنانچہ موجودہ تحریف شدہ تورات میں ہے۔

” اور ابرام اس ملک میں سے گزرتا ہوا مقام سکم میں مورہ کے بلوط تک پہنچا اس وقت ملک میں کنعانی رہتے تھے۔ تب خداوند نے ابرام کو دکھائی دے کر کہا کہ یہی ملک میں تیری نسل کو دوں گا اور اس نے وہاں خداوند کے لیے جو اسے دکھائی دیا تھا ایک قربان گاہ بنائی۔ اور وہاں سے کوچ کر کے اس پہاڑ کی طرف گیا جو بیت ایل کے مشرق میں ہے اور اپنا ڈیرا ایسے لگایا کہ بیت ایل مغرب میں اور عی مشرق میں پڑا اور وہاں اس نے خداوند کے لیے ایک قربان گاہ بنائی اور خداوند سے دعا کی۔ ” (پیدائش ب ۱۲: ۶ تا ۸)

۱۹۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ متن میں شعائر کا لفظ استعمال ہوا ہے جس سے مراد شریعت کے وہ مظاہر (Symbols) ہیں جو خدا پرستی کی علامت اور نشان کے طور پر مقرر کئے گئے ہیں۔ ان شعائر کی تعظیم ضروری ہے لیکن تعظیم کی جو شکل شریعت نے مقرر کی ہے اسی شکل میں ان کی تعظیم کی جانی چاہیے۔ اپنی طرف سے نئی شکل نکالنے کا ہمیں کوئی حق نہیں ہے ورنہ شرک و بدعت کی راہیں کھل سکتی ہیں۔

یہاں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ قرآن میں شعائر اللہ کی صرف تعظیم کا حکم دیا گیا ہے ان کی پرستش کرنے کا حکم ہرگز نہیں دیا گیا ہے۔ اسلام میں پرستش صرف اللہ کی روا ہے اس لیے شعائر اللہ کے بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔ زمانۂ جاہلیت میں صفا اور مروہ پر دو بت رکھے گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرما کر کہ صفا و مروہ شعائر اللہ میں سے ہیں اس طرف توجہ دلائی کہ انہیں بتوں سے پاک کیا جانا چاہیے۔ تاکہ وہ خالص خدا پرستی کے نشان کی حیثیت سے نمایاں ہوں۔

۱۹۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عمرہ خانۂ کعبہ کی زیارت کو کہتے ہیں۔ جو شخص عمرہ کرنا چاہتا ہے اسے حدودِ حرم میں داخل ہونے سے پہلے احرام باندھنا پڑتا ہے۔ عمرہ میں خانۂ کعبہ کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی جاتی ہے یعنی سات چکر لگائے جاتے ہیں۔ عمرہ کسی وقت بھی ادا کیا جا سکتا ہے جبکہ حج ایام حج ہی میں ادا کیا جا سکتا ہے نیز حج میں عرفات کی حاضری ضروری ہے جو لوگ حج کو جاتے ہیں وہ بالعموم عمرہ ادا کرتے ہیں اور اس کے بعد حج کرتے ہیں۔

۱۹۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ خاص طور سے ان نشانیوں کی طرف ہے جو تورات میں اللہ تعالیٰ نے قبلۂ ابراہیمی اور آخری نبی کے تعلق سے بیان فرمائی تھیں لیکن یہود نے ان کو چھپانے کی کوشش کی چنانچہ اوپر نوٹ ۱۸۹  میں اس کی مثال گزر چکی ہے کہ کس طرح انہوں نے مروہ کا نام بدل کر مورہ کر دیا۔

۱۹۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تورات میں ہے۔

” لیکن اگر تو ایسا نہ کرے کہ خداوند اپنے خدا کی بات سن کر اس کے سب احکام اور آئین پر جو آج کے دن میں تجھ کو دیتا ہوں احتیاط سے عمل کرے تو یہ سب لعنتیں تجھ پر نازل ہوں گی اور تجھ کو لگیں گی۔ ” (استثناء باب ۲۸: ۱۵)

۱۹۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس آیت سے نیا سلسلہ بیان شروع ہو رہا ہے جس میں شرعی احکام دئے جا رہے ہیں خاص طور سے ان امور کے سلسلے میں جن کے لیے زمانۂ نزول کے وقت حالات متقاضی تھے۔ اس کا آغاز توحید کے بیان سے ہو رہا ہے۔

۱۹۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انسان کے شرک میں مبتلا ہونے کا ایک بڑا سبب خدا کے بارے میں یہ غلط تصور ہے کہ وہ انسان کو پیدا کرنے کے بعد اس سے بے تعلق ہو گیا ہے۔ یہاں الٰہ کے ساتھ رحمن و رحیم کی صفتیں بیان کی گئی ہیں جو اس تصور کی تردید کرتی ہیں اور یہ واضح کرتی ہیں کہ وہ انسان کے حق میں نہایت مہربان ہے۔ ہر آن اس پر اپنی رحمت کئے جا رہا ہے اور اس ہدایت نامہ کا نزول بھی سراسر اس کی رحمت کا ظہور ہے۔

۱۹۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آسمان و زمین کی خلقت ان کے خالق کی عظیم قدرت پر اس کے بے مثال کاریگری اور صناعی پر نیز اس کی حیرت انگیز حکمت پر دلالت کرتی ہے۔ ان کی نفع رسانی سے اس کی صفت رحمت کا نیز ان چیزوں کی مقصدیت کا اظہار ہوتا ہے اور یہ یقین پیدا ہوتا ہے کہ یہ کارخانہ بے غایت نہیں پیدا کیا گیا ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک عظیم مقصد کارفرما ہے جس کے ظہور کے لیے قیامت کا دن مقرر ہے۔

۱۹۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بارش کا پانی جو آسمان (اوپر) سے برستا ہے اور زمین کو زندگی بخشتا ہے اس بات کا ثبوت ہے کہ آسمان و زمین کے درمیان مکمل ساز گاری ہے پھر لوگ کس طرح باور کرتے ہیں کہ زمین کا دیوتا الگ اور آسمان کا دیوتا الگ ہے؟ اگر ایک خدا کی جگہ کئی دیوتا ہوتے تو آسمان و زمین کا یہ نظام کس طرح کا مل ہم آہنگی کے ساتھ چل سکتا تھا؟

۱۹۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مسخر ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنا تابع فرمان بنا کر انسان کی خدمت میں لگا دیا ہے۔

۱۹۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کسی چیز کی نشانی اس کی دلیل ہوتی ہے اس لیے ان چیزوں کے نشانی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ چیزیں اللہ کے وجود، اس کی توحید اور اس کی صفت رحمت کی دلیل ہیں۔

۲۰۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی توحید کے ان واضح دلائل کے باوجود ایسے لوگ بھی ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے اور خدا کی خدائی میں اوروں کو شریک ٹھہرانے لگتے ہیں اور ان سے اسطرح محبت کرنے لگتے ہیں جس طرح اللہ سے محبت کرنے کا حق ہے۔ جب خالق اللہ ہی ہے اور تنہا وہی فرمانروا اور معبود ہے تو پھر کسی اور کی محبت اس کے برابر یا اس سے زیادہ کیسے کی جا سکتی ہے؟ ضروری ہے کہ ہر محبت اللہ کی محبت کے تابع ہو یہی ایمان کی روح ہے اور توحید کا تقاضا بھی۔

۲۰۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جن سے آج یہ شدید محبت کر رہے ہیں وہ قیامت کے دن ان سے اظہار برأت کریں گے۔ یہاں خاص طور سے گمراہ کرنے والے سردار اور لیڈر مراد ہیں جن سے مشرکین شدید محبت رکھتے تھے اور خدا کی محبت پر ان کی محبت کو مقدم رکھتے تھے۔

۲۰۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں سے شریعت کے احکام و قوانین بیان کئے گئے ہیں۔

۲۰۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ طیب یعنی پاک اور اچھی۔ اسلام نے جن چیزوں کو حلال اور جائز قرار دیا ہے وہ لازماً پاکیزہ اور اچھی ہیں یعنی وہ ظاہری اور باطنی دونوں طرح کی نجاستوں سے پاک ہیں اور ان کے کھانے کا کوئی برا اثر انسان کے اخلاق پر نہیں پڑتا۔

۲۰۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اپنی خواہشات یا مشرکانہ توہمات کی بنا پر کسی چیز کو حرام نہ ٹھہراؤ۔ جن لوگوں نے شرعی سند کے بغیر کتنی ہی چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے انہیں یہ راہ شیطان نے دکھائی ہے۔ مثال کے طور پر پاک جانوروں کا ذبیحہ اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے لیکن اہنسا کے فلسفہ کے تحت گوشت خوری کو مطلقاً حرام قرار دینا خدا کے حق تحریم و تحلیل میں مداخلت کرنا ہے اور یہ شیطان کے نقش قدم کی صریح پیروی اور کھلا شرک ہے۔

۲۰۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی کسی سند کے بغیر خدا کی طرف کوئی بات منسوب کرنا مثلاً یہ کہنا کہ اس نے فلاں اور فلاں چیزیں حرام ٹھہرائی ہیں در آنحالیکہ اس کا کوئی ثبوت موجود نہ ہو۔

۲۰۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی حلت و حرمت کے معاملہ میں کتاب الٰہی پر اعتماد ہونا چاہیے، نہ کہ باپ دادا کی تقلید اور بے سند روایات پر۔ یہ کوئی معقول بات نہیں ہے کہ آدمی پچھلوں کی اندھی تقلید کرے یا قدیم کلچر کے نام پر لکیر کا فقیر بنا رہے بلکہ سوجھ بوجھ سے کام لے اور اللہ کی رہنمائی کو قبول کرے۔

اس آیت سے یہ اصولی ہدایت سامنے آتی ہے کہ کسی بات کا باپ دادا سے چلا آنا یا کسی روایت کا کلچر کی حیثیت اختیار کر جانا اس کی صحت کی دلیل نہیں ہے اس لیے ایسی باتوں کی اندھی تقلید کرنے کے بجائے تحقیق سے کام لینا چاہیے کہ آیا جن باتوں کو مذہبی حیثیت دی گئی ہے ان کے لیے شریعت الٰہی کی کوئی سند موجود ہے؟

۲۰۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ان لوگوں کی مثال ہے جو عقل و بصیرت سے کام لینے کے بجائے محض باپ دادا کی تقلید پر جم گئے ہیں۔ ان کی مثال بھیڑ بکریوں کے گلہ کی طرح ہے جو سوچنے سمجھنے سے بالکل عاری ہوتے ہیں۔ وہ چروا ہے کی آواز تو سنتے ہیں لیکن اس سے آگے کچھ سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہی حال ان لوگوں کا ہے کہ داعی کی پکار کو سنتے ہیں لیکن وہ کیا کہہ رہا ہے اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔

۲۰۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اہل ایمان کو خطاب کر کے کہا جا رہا ہے کہ اگر لوگوں نے کھانے پینے کے معاملہ میں ناروا پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اور وہ توہمات ہی کے چکر میں رہنا چاہتے ہیں تو تم ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو اور جو پاکیزہ چیزیں اللہ نے تمہیں بخشی ہیں ان کو بے جھجک کھاؤ اس سے واضح ہے کہ لوگوں نے اگر گوشت خوری سے پرہیز کرنے کو مذہبی تقدس کا درجہ دیا ہو تو یہ محض وہمی پن ہے اور اس قسم کی پابندیوں کو ختم کرنا بندگیٔ رب کا کھلا تقاضا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے۔

من صلی صلوٰتنا و استقبل قبلتنا و اکل ذبیحتنا فذٰلکَ المسلم۔

” جس نے ہماری طرح نماز پڑھی، ہمارے قبلہ کی طرف رخ کیا اور ہمارے ذبیحہ کو کھایا وہ مسلم ہے۔ ”

یعنی آدمی کے مسلم ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ کھانے پینے کے معاملہ میں تمام توہمات اور غیر شرعی پابندیوں کو جو پادریوں ، پنڈتوں اور جوگیوں وغیرہ نے عائد کر رکھی ہیں ختم کر دے اور صرف قانون الٰہی کا پیرو بن جائے۔

۲۰۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سورۂ مائدہ آیت ۱ میں صراحت کی گئی ہے کہ ” تمہارے لیے مویشی (چرنے والے) کی قسم کے چوپائے حلال کئے گئے ہیں۔ ” اس لیے جو جانور مویشی کی قسم کے نہیں ہیں مثلاً درندے وغیرہ ان کی حرمت واضح ہی ہے۔ اس آیت میں یہ جو فرمایا کہ تم پر صرف یہ اور یہ چیزیں حرام کر دی ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسلام میں ان چار چیزوں کے علاوہ سرے سے کوئی چیز حرام ہے ہی نہیں بلکہ یہ مخاطبین کے پیش نظر جو ملت ابراہیمی کو تسلیم کرتے تھے بیان کیا جا رہا ہے مطلب یہ ہے کہ جن چیزوں کی حلت و حرمت کا مسئلہ اختلافی بن کر رہ گیا ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف یہ چار چیزیں حرام ٹھہرائی ہیں۔ اس پر جو اضافے لوگوں نے کئے ہیں وہ اصل دین میں اضافہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

۲۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مُردار سے مراد وہ حیوان یا پرندہ ہے جسے شرعی طریقہ پر ذبح نہ کیا گیا ہو بلکہ جو طبعی موت مرا ہو۔ اس کی حرمت کی مصلحت بالکل واضح ہے جو جانور طبعی موت مرتا ہے اس کا گوشت خون کے جسم کے اندر رہ جانے کی وجہ سے نجس اور گندہ ہوتا ہے اور طبع سلیم مُردار کا گوشت کھانے سے نفرت کرتی ہے علاوہ ازیں مُردار کا گوشت کھانے میں ضر ر کا بھی اندیشہ ہے ممکن ہے اس کی موت بیماری کی وجہ سے ہوئی ہو۔ تورات میں بھی مُردار کو حرام قرار دیا گیا تھا۔ ” جو جانور آپ ہی مر جائے تم اُسے مت کھانا۔ ” (استثناء باب۱۴:۲۱)

۲۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خون کی حرمت کی مصلحت بھی واضح ہے یعنی اس کا نجس ہونا۔ طبع سلیم اس سے نفرت کرتی ہے اور خون پینا درندوں کی خصلت ہے انسان جیسی اشرف مخلوق کے شایان شان نہیں ہے اس سے انسان میں درندگی کی خصلت پیدا ہو سکتی ہے اور اس میں اخلاقی مضرتوں کے علاوہ دیگر مضرتوں کا بھی احتمال ہے۔

اہل جاہلیت اونٹ وغیرہ کے جسم میں کوئی تیز چیز بھونک دیتے اور جو خون نکل پڑتا اس کو پی لیتے۔ اس سے جانور کو بھی بڑی تکلیف ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے خون کو حرام قرار دے کر جانوروں پر بھی رحم فرمایا۔ تورات میں بھی خون کو حرام قرار دیا گیا تھا۔

” لیکن تم خون کو بالکل نہ کھانا بلکہ تو اسے پانی کی طرح زمین پر انڈیل دینا۔ ” (استثناء باب ۱۲:۱۶)

۲۱۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سور ایک نجس جانور ہے جس کی مرغوب غذا نجاست اور کوڑا کرکٹ ہے۔ پاکیزہ طبیعت اس سے نفرت کرتی ہے علاوہ ازیں اس کا گوشت مضر بھی ہے۔

” طب جدید کی رُو سے اس کا کھانا ہر خطہ میں اور خاص طور سے گرم ممالک میں سخت مضر ہے اور سائنسی تجربات نے ثابت کیا ہے کہ سور کا گوشت کھانے سے خاص قسم کے کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں جو بڑے مہلک ہوتے ہیں اور معلوم نہیں آئندہ مزید کیا اسرار منکشف ہوں گے!محققین یہ بھی کہتے ہیں کہ سور کا گوشت ہمیشہ کھاتے رہنے سے غیرت کم ہو جاتی ہے۔ ” (اسلام میں حلال و حرام ص ۶۳ از علامہ یوسف القرضاوی) تورات میں بھی سور کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

” اور سور تمہارے لیے اس سبب سے ناپاک ہے کہ اس کے پاؤں تو چرے ہوئے ہیں پر وہ جُگالی نہیں کرتا۔ تم نہ تو اُن کا گوشت کھانا اور نہ ان کی لاش کو ہاتھ لگانا۔ ” (استثناء باب ۱۴:۸)

۲۱۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جس جانور کو اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر، ذبح کیا گیا ہو خواہ وہ بت ہو، جن ہو، فرشتہ ہو، یا کوئی بزرگ انسان اس جانور کا کھانا حرام ہے شرک سب سے بڑی عقلی اور باطنی نجاست ہے اور غیر اللہ کے لیے جو ذبیحہ نامزد کیا گیا ہو اس کی حرمت کی وجہ اس کی یہی باطنی نجاست ہے۔

” بت پرست اپنے ذبیحہ پر لات عُزّی وغیرہ بتوں کے نام لیا کرتے تھے یہ غیر اللہ کے لیے تعبد و تقرب تھا۔ اس کی تحریم کا سبب دینی ہے اور اس سے مقصود توحید کا تحفظ، عقائد کی تطہیر اور شرک و بت پرستی کے مظاہر کی مخالفت ہے۔ ”

” اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کی، اس کے لیے زمین کی ساری چیزیں مسخر کر دیں اور جانور کو بھی اس کے تابع کر دیا۔ نیز انسان کے فائدے کے لیے اس کی جان لینا بھی جائز کر دیا بشرطیکہ ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا جائے۔ گویا اللہ کا نام لینا اس بات کا اظہار کرنا ہے کہ ایک جاندار مخلوق کو ذبح کرنے کا کام وہ اللہ ہی کی اجازت سے کر رہا ہے۔ لیکن اگر وہ ذبح کرتے وقت غیر اللہ کا نام لیتا ہے تو اس اجازت کو عملاً باطل کر دیتا ہے، اس لیے وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس ذبیحہ کے استفادہ سے اسے محروم کر دیا جائے۔ ”

(اسلام میں حلال و حرام ص از علامہ یوسف القرضاوی)

بائبل میں بھی غیر اللہ کا ذبیحہ کھانے کی ممانعت کا حکم موجود ہے۔

” اور بتوں کی قربانی سے نہ کھائے۔ ” (حزقی ایل ۱۸:۱۵)

۲۱۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جو شخص واقعی مجبور ہو مثلاً بھوک یا بیماری کی وجہ سے جان کو خطرہ لاحق ہو وہ جان بچانے کے لیے حرام چیز کھا سکتا ہے بشرطیکہ وہ حرام چیز کھانے کا خواہشمند نہ ہو اور جس حد تک مجبوری ہو اسی حد تک کھائے ایسی صورت میں اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔

۲۱۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ اہل کتاب کی طرف ہے کہ جس طرح مشرکین نے بعض چیزیں حرام ٹھہرائی تھیں اسی طرح اہل کتاب بھی حرام کو حلال اور حلال کو حرام ٹھہرا رہے ہیں اور تورات کے احکام کو چھپا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اہل کتاب پر اصلاً وہی چیزیں حرام قرار دی گئی تھیں جو ملت ابراہیم میں حرام تھیں البتہ بعد میں یہود پر ان کی سرکشی کی وجہ سے بعض چیزیں حرام کر دی گئی تھیں اور انہیں بتا دیا گیا تھا کہ جب آخری نبی مبعوث ہو گا تو وہ ان پابندیوں کو ختم کر دے گا اور تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال قرار دے گا لیکن یہود نے تورات کی ان باتوں کو چھپایا۔

۲۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اشارہ ان علمائے یہود کی طرف ہے جو کتاب الٰہی کا علم رکھنے کے باوجود شریعت کے احکام پر پردہ ڈالتے رہے اور اپنے طرز عمل سے توہمات اور بے جا پابندیوں کی تائید کرتے رہے۔

یہ لوگ محض اپنی دنیا بنانے کی خاطر کتمانِ حق سے کام لے رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ دین فروشی کے عوض جو دنیا یہ حاصل کر رہے ہیں وہ آگ ہے جس سے یہ اپنا پیٹ بھر رہے ہیں۔

۲۱۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے ان مذہبی پیشواؤں کی طرف جو لوگوں کا مذہبی استحصال (Religious exploitation) کرنے کے باوجود اپنے کو بڑا پاکیزہ اور مقدس قرار دیتے ہیں۔ ان کے ان جھوٹے دعووں کی تردید میں فرمایا جا رہا ہے کہ قیامت کے دن جب حق کی کسوٹی پر انہیں پرکھا جائے گا تو وہ ہرگز پاکیزہ اور مقدس نہیں قرار پائیں گے۔

۲۱۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یہ لوگ جس ڈھٹائی کے ساتھ ہدایت کے مقابلہ میں ضلالت کو ترجیح دے رہے ہیں وہ یقیناً حیرت انگیز ہے کیونکہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ آگ میں جلنے کے لیے بالکل تیار ہیں۔ ایسی صورت میں ان کے حوصلہ کی ضرور داد دینا چاہیے!

۲۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اہل کتاب نے اللہ کے دین میں طرح طرح کے اختلافات پیدا کر دئے تھے جس کی وجہ سے لوگوں کے لیے یہ معلوم کرنا سخت مشکل ہو گیا تھا کہ حلال کیا ہے اور حرام کیا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو حق کے ساتھ یعنی ان اختلافات میں قول فیصل بنا کر نازل کیا تاکہ اللہ کی شریعت اپنی صحیح اور مکمل شکل میں لوگوں کے سامنے آئے۔ اس کے بعد بھی جو لوگ اختلاف کر رہے ہیں وہ محض مخالفت کی بنا پر ایسا کر رہے ہیں۔

۲۲۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ یہود و نصاریٰ کی ظاہر پرستی پر تعریض ہے جنہوں نے دین کی اصل روح کھو دی تھی اور شریعت کو چند رسوم و ظواہر کا مجموعہ بنا کر رکھ دیا تھا چنانچہ مشرق یا مغرب کی طرف رخ کرنے ہی کو وہ اصل دینداری سمجھ بیٹھے تھے۔ قرآن یہاں دین کی اصل حقیقت کو بے نقاب کر رہا ہے کہ خلوص کے ساتھ خدائے واحد کی بندگی و اطاعت اور وہ اخلاق و اعمال جن سے اولوالعزمی کا اظہار ہوتا ہے دین میں اصل اہمیت رکھنے والی چیزیں ہیں جن پر عمل پیرا ہوئے بغیر آدمی دین کی حقیقت کو نہیں پا سکتا۔ دین کے معاملہ میں ظاہر داری کا رویہ اللہ کے ہاں کوئی وزن نہیں رکھتا اور خدا پرستی کا دعویٰ بالکل بے معنی ہے اگر اس کی پشت پر اللہ کے ساتھ سچی وفا داری اور اس کی شریعت کی مخلصانہ پیروی کا جذبہ کار فرما نہ ہو۔

متن میں ” بِرّ” کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے اصل معنی ایفائے حق کے ہیں اور اس کے وسیع مفہوم میں خدا اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی نیز ہر قسم کی نیکیاں اور بھلائیاں شامل ہیں۔

۲۲۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں پر وحی فرشتوں کے ذریعہ بھیجتا ہے۔ فرشتے جو نہایت پاکیزہ ہستیاں ہیں وحی کی امانت بے کم و کاست انبیاء تک پہنچاتے ہیں۔ یہ کام اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں انجام پاتا ہے۔ اس لیے اس میں ان کی طرف سے کسی قسم کی بھول چوک کا امکان نہیں ہے اور نہ شیاطین ان کے اس کام میں مداخلت کر سکتے ہیں۔ فرشتے وحی الٰہی پہنچانے کا نہایت قابل اعتماد ذریعہ ہیں اس لیے ان پر ایمان لانا ضروری ہے۔

۲۲۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایمان سے مراد حقیقی ایمان ہے۔ کیونکہ حقیقی ایمان ہی کے ذریعہ آدمی اللہ کا وفادار بندہ ثابت ہو سکتا ہے۔

۲۲۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی وہ لوگ جو مدد کے لیے سوال کریں۔

۲۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گردنوں سے مراد غلاموں کی گردنیں ہیں۔ ان کو طوق غلامی سے آزاد کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔ اس سے واضح ہے کہ اسلام کے نزدیک آزاد کو غلام بنانا نیکی نہیں ہے۔ بلکہ جو لوگ غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں ان کو آزاد کرنا نیکی ہے۔ اگر اس میں کوئی استثناء اسلام نے کیا تو وہ صرف جنگ کی حد تک تھا۔

اسلام غلامی کے رواج کو ختم کرنا چاہتا تھا اور یہ اچھا ہی ہوا کہ اب اس کا رواج باقی نہیں رہا۔ دریں صورت بے گناہ اسیروں کو غلاموں پر قیاس کیا جا سکتا ہے اور ایسے لوگوں کی رہائی کے لیے جرمانہ وغیرہ ادا کیا جا سکتا ہے کہ یہ گردن چھڑانے جیسی ہی نیکی ہے۔

۲۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انفاق اور زکوٰۃ دونوں کا ذکر ایک ہی آیت میں ہوا ہے جس میں اس بات کی ترغیب ہے کہ مسکینوں وغیرہ پر انفاق کرتے رہنا چاہیے قطع نظر اس سے کہ اس پر زکوٰۃ کا فریضہ عائد ہوتا ہے یا نہیں اور عائد ہونے کی صورت میں اس کی ادائیگی کے باوجود انفاق کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔ زکوٰۃ تو کم سے کم مطالبہ ہے جو اسلام ایک مسلمان سے کرتا ہے اس کے علاوہ بھی اسے ناداروں اور حاجتمندوں پر خرچ کرتے رہنا چاہیے اور اس فیاضی کے بغیر آدمی نیکی کے مقام کو حاصل نہیں کر سکتا۔

۲۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں صبر کے تین مواقع بیان کئے گئے ہیں۔ ایک تنگی میں جس سے مراد فقر و فاقہ ہے، دوسرے تکلیف میں جس سے بیماری اور جسمانی تکالیف مراد ہیں ، تیسرے جنگ کے وقت۔ یہ تین مواقع انسان کے عزم اور اس کے طرز عمل کے امتحان کے لیے بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ جو شخص ان حالتوں میں حق پر ثابت قدم رہا وہ نیکی کے اعلیٰ مقام پر یقیناً فائز ہوا۔

۲۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قصاص کا مطلب یہ ہے کہ مجرم کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے جس کا مرتکب وہ خود ہوا ہے۔ قاتل کے لیے قصاص کا اصل قانون جان کے بدلہ جان ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس میں یہ رعایت رکھی ہے کہ اگر مقتول کے ورثاء چاہیں تو جان کے بدلہ خون بہا بھی لے سکتے ہیں۔

قصاص کے حکم کا مخاطب پورا اسلامی معاشرہ ہے اس لیے قاتل کو سزا دینے کی ذمہ داری پورے اسلامی معاشرہ پر عائد ہوتی ہے۔ البتہ چونکہ حکومت معاشرہ کی نمائندگی کرتی ہے اس لیے اس قانون کے نفاذ کی ذمہ داری اسلامی حکومت پر عائد ہوتی ہے اور اس کے نفاذ کی شکل یہ ہو گی کہ حکومت مقتول کے ورثاء کو اختیار دے گی کہ وہ چاہیں تو قاتل کو قتل کی سزا دی جائے یا چاہیں تو اس سے خون بہا قبول کر لیں۔

مقتول کے ورثا کو قصاص کا جو اختیار دیا گیا ہے وہ نہایت حکیمانہ ہے۔ اس سے ان کے دلوں کے زخم مندمل ہو سکتے ہیں نیز خون بہا کے ذریعہ ان کی بڑی مدد ہو جاتی ہے۔ خون بہا کی مقدار نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک سو اونٹ مقرر کی تھی جس کی قیمت آج کے حساب سے تین لاکھ روپے سے زائد ہوتی ہے۔

۲۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قصاص میں کامل مساوات کو ملحوظ رکھنا چاہیے اگر قاتل آزاد ہے یا غلام ہے یا عورت ہے تو اسی کو قتل کر دیا جائے گا اور جاہلیت کا وہ طریقہ اختیار نہیں کیا جائے گا جو عربوں میں رائج تھا کہ اگر مقتول معزز خاندان سے تعلق رکھتا ہے تو اس کے ورثاء اپنے ایک آدمی کا بدلہ قاتل کے خاندان کے کئی آدمیوں سے لیتے یا اگر قاتل عورت ہوتی تو اس کے خاندان کے کسی مرد کو قتل کرنا چاہتے یا اگر قاتل غلام ہوتا تو آزاد کو قتل کرنے کے درپے ہوتے۔ اسلام نے اس عدم مساوات کو ختم کر دیا۔ یہود نے بھی شریف و رزیل اور اسرائیلی و غیر اسرائیلی کے درمیان امتیاز قائم کیا تھا جسے اسلام نے باطل قرار دیا۔ اسلام نے مساوات کا یہ عالمگیر اصول پیش کیا کہ رنگ ، نسل اور نسب کی بنیاد پر قصاص کے معاملہ میں امتیاز نہیں برتنا چاہیے بلکہ مقتول کے بدلہ میں قاتل اور صرف قاتل کو موت کی سزا دی جانی چاہیے۔ اگر مسلمان نے کسی غیر مسلم ذمّی کو قتل کیا ہے تو ان کے درمیان بھی امتیاز نہیں برتا جائے گا بلکہ غیر مسلم ذمی کے بدلہ اس مسلمان قاتل کو قتل کیا جائے گا چنانچہ عربی کی مستند تفسیر احکام القرآن میں علامہ حصاص لکھتے ہیں :

” یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ غلام کے بدلہ آزاد کو (جو قاتل ہے) اور ذمی (اسلامی ریاست کا غیر مسلم شہری) کے بدلہ مسلمان (قاتل) کو اور عورت کے بدلہ مرد (قاتل) کو قتل کیا جائے گا۔ ” (ج ۱ ص ۱۵۶)

” جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں آیت کا ظاہری مفہوم ہی یہ ہے کہ ذمی کے بدلہ مسلمان (قاتل) کو قتل کرنا واجب ہے کیونکہ آیت مسلم اور ذمی کے درمیان فرق نہیں کرتی۔ ” (ج ۱ ص ۱۶۳)

علامہ حصاص نے اپنی تفسیر میں عبدالرحمن بن سلمانی سے روایت نقل کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ذمی کے بدلہ مسلمان (قاتل) سے قصاص لیا۔ اسی طرح حضرت علیؓ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ہمارا خون ان کے خون کی طرح ہے اور ہماری دیت ان کی دیت کے برابر ہے۔ (ج ۱ ص ۱

،۱۶۵)

۲۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھائی سے مراد انسانی بھائی ہے۔ یہ لطیف پیرایۂ بیان ہے جس میں نرمی برتنے کے لیے انسانیت کے جذبات سے اپیل کی گئی ہے۔

۲۳۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اگر مقتول کے ورثاء قاتل کے ساتھ نرمی برتنے اور دیت وصول کرنے کے لیے تیار ہو جائیں تو قاتل کا فرض ہے کہ وہ دیت (Blood money) کی ادائیگی معروف طریقہ پر کرے اور اس سلسلہ میں وسعتِ اخلاق کا ثبوت دے۔

۲۳۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو شخص ناحق کسی کو قتل کرتا ہے وہ گویا انسانیت کو قتل کرتا ہے اس لیے معاشرہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ قصاص کے ذریعہ انسانی زندگی کے تحفظ کا سامان کرے۔ اگر بے جا نرمی سے کام لے کر قصاص کے قانون کو معطل کیا گیا تو مجرموں کی حوصلہ افزائی ہو گی اور معاشرہ مامون و محفوظ نہیں رہ سکے گا۔

موجودہ زمانے میں بھی یہ بحث چل پڑی ہے کہ قاتل کو سزائے موت دینا صحیح ہے یا نہیں ؟ اور بعض ممالک نے اسے منسوخ بھی کر دیا ہے لیکن ظاہر ہے کہ اگر یہ سزا موقف کر دی جائے تو مجرموں کے حوصلے اور بڑھ جائیں گے اور جرائم میں اضافہ ہی ہو گا اس لیے جب تک امن و امان اور صلاح و خیر کی صورت پیدا نہیں ہو سکتی۔ اگر سماج کی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے اس کے کسی فاسد عضو کا آپریشن کرنا پڑے تو اسے عین تقاضائے حکمت سمجھنا چاہیے۔

۲۳۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ متن میں ” معروف” کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے لغوی معنی جانی پہچانی بات یا جانے پہچانے طریقہ کے ہیں یعنی ایسا طریقہ جو انصاف پر مبنی ہو، جسے عقل سلیم صحیح تسلیم کرے اور جس کا چلن سوسائٹی کے شرفاء میں ہو۔ اسلام نے بہت سی قانونی جزئیات اور تفصیلات کو معروف پر چھوڑ دیا ہے۔ لہٰذا معروف ایسے تمام معاملات میں معتبر ہے جن کے بارے میں شریعت نے کوئی مخصوص قاعدہ مقرر نہ کیا ہو۔

۲۳۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وصیت (Will) اس صورت میں فرض کر دی گئی ہے جبکہ آدمی کو اپنی موت قریب نظر آ رہی ہو اور وہ اپنے پیچھے مال چھوڑ رہا ہو۔ وصیت کا یہ حکم وراثت کے احکام نازل ہونے سے پہلے دیا گیا تھا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے سورۂ نساء میں میراث (inheritance) کے تفصیلی احکام بیان فرما دئے اور انہیں اپنی طرف سے وصیت سے تعبیر فرمایا جیسا کہ سورۂ نساء کی آیت ۱۱ میں ارشاد ہوا ہے یُوْصِیْکُمُ اللّٰہُ فِی اَوْلاَدِکُمْ (اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تمہیں وصیت کرتا ہے) اس لیے اللہ کی وصیت (احکام میراث) کے بعد وصیت کے اس حکم کا دائرہ جو زیر تفسیر آیت میں دیا گیا ہے محدود ہو گیا یعنی جن کے حصے اللہ تعالیٰ نے مقرر فرما دئے ہیں۔ ان ورثاء کے حق میں وصیت کا سوال باقی نہیں رہا چنانچہ حدیث میں آتا ہے۔ اِنَّ اللّٰۃَ قَدْ اَعْطٰی کُلَّ ذَیْ حَقٍّ حَقَّہٗ فَلاَوَصِیَۃَ لِوَارِثٍ۔ (ابن کثیر ج ۱ص ۲۱۱) ” اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے لہٰذا وارث کے حق میں وصیت جائز نہیں ہے۔ ”

البتہ ان اقرباء کے حق میں جن کو ورثہ نہ مل سکتا ہو اور وہ حاجتمند بھی ہوں وصیت کرنا ضروری ہے مثلاً یتیم پوتے کے حق میں وصیت کرنا، اسی طرح اگر کسی کے والدین مسلمان نہ ہوں اور اس بنا پر وہ وارث نہ ہو سکتے ہوں تو ان کے لیے وصیت کرنا۔

واضح رہے کہ اسلام میں وصیت صرف ۱/۳ کی حد تک جائز ہے۔

۲۳۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس سے ما قبل کی آیت میں وصیت میں تبدیلی کرنے کی سخت ممانعت کی گئی تھی۔ اس آیت میں واضح کیا گیا ہے کہ تبدیلی کی یہ ممانعت اس صورت میں نہیں ہے جبکہ موسیٰ (Testator) کے بارے میں محسوس ہو کہ اس نے جانبداری سے کام لیا ہے یا وصیت گناہ اور حق تلفی پر مشتمل ہے ایسی صورت میں اگر موقع ہو تو موصی کو سمجھایا جا سکتا ہے بصورتِ دیگر باہم مصالحت کرائی جا سکتی ہے۔

واضح رہے کہ اگر وصیت کسی ایسی چیز کے لیے کی گئی ہو جو فی نفسہ گناہ کا کام ہے، مثلاً خلاف اسلام افکار کے پروپگنڈے کے لیے کی گئی ہو تو ایسی وصیت نافذ العمل نہ ہو گی۔ علامہ قرطبی کہتے ہیں : اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اگر کسی ایسی چیز کی وصیت کی گئی ہو جو ناجائز ہے مثلاً شراب، خنزیر یا کسی اور معصیت کی چیز کی تو اس کو تبدیل کرنا جائز ہے۔

(فتح القدیر۔ شوکانی ج ۱ ص ۱۷۸)

اسلام کے اس اصول کی رعایت موجودہ محمڈن لا میں ایک حد تک موجود ہے ملاحظہ ہو۔

)Invalid-to benefit an object opposed to Islam as a religion) (Tayabji on Muslim Law P. 759)

۲۳۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ صوم (روزہ) اصطلاح شرع میں طلوع فجر سے غروب آفتاب تک کھانے پینے اور مباشرت سے رک جانے کا نام ہے۔ روزہ کوئی برت نہیں ہے جس میں پھل کھانے یا رس پینے کی اجازت ہو بلکہ روزہ ایسی عبادت ہے جس میں کھانے پینے سے مکمل اجتناب ضروری ہے۔ یہاں تک کہ اگر پانی کا ایک گھونٹ بھی حلق میں اتار دیا جائے تو روزہ باقی نہیں رہتا۔ مزید بر آں اسلام میں روزہ اسی کا معتبر ہے جو مومن ہو اور صرف اللہ کی خاطر روزہ رکھے۔ اگر کوئی شخص ایمان لائے بغیر روزہ رکھے تو وہ معتبر نہ ہو گا اسی طرح بھوک ہڑتال پر بھی روزہ کا اطلاق نہیں ہوتا۔

روزہ کا یہ حکم۲ ھ میں نازل ہوا۔ یہ ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے اور اسلام کے ارکان خمسہ میں سے ہے۔

۲۳۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی روزہ پچھلی امتوں پر بھی فرض کیا گیا تھا۔ یہ ایک ایسی عبادت ہے جو آسمانی شریعتوں کا اہم جزء رہی ہے چنانچہ پچھلی کتابوں میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ اگرچہ یہ کتابیں اور روزے کے احکام اپنی اصل شکل میں موجود نہیں ہیں حضرت موسیٰ جب کوہِ طور پر اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے لیے گئے تو انہوں نے چالیس دن کی پوری مدت روزہ میں گزار دی تھی تورات میں ہے۔

” سو وہ چالیس دن اور چالیس راتیں وہیں خداوند کے پاس رہا اور نہ روٹی کھائی اور نہ پانی پیا۔ ” (خروج باب ۳۴ آیت ۲۸)

روزہ کی حقیقت یسعیاہ بنی کی کتاب میں اس طرح بیان ہوئی ہے۔

” دیکھو تم اس مقصد سے روزہ رکھتے ہو کہ جھگڑا رگڑا کرو اور شرارت کے مکے مارو پس تم اس طرح کا روزہ نہیں رکھتے ہو کہ تمہاری آواز عالم بالا پر سنی جائے۔ کیا یہ روزہ ہے جو مجھ کو پسند ہے۔ ” (یسعیاہ ۵۸:۴،۵)

اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے روزہ میں خلوص و للہیت پیدا کرنے پر زور دیا۔

” اور جب تم روزہ رکھو تو ریا کاروں کی طرح اپنی صورت اداس نہ بناؤ کیونکہ وہ اپنا منہ بگاڑتے ہیں تاکہ لوگ ان کو روزہ دار جانیں میں تم سب سے کہتا ہوں کہ وہ اپنا اجر پا چکے۔ ” (متی ۶:۱۶)

۲۳۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ہے روزے کا اصل مقصد، شریعت کی بنیاد تقویٰ یعنی خدا خوفی اور پرہیز گاری ہے اور تقویٰ جذبات و خواہشات پر قابو پانے سے پیدا ہوتا ہے اور جذبات و خواہشات پر قابو پانے کی تربیت روزہ کے ذریعہ ہوتی ہے۔

انسان صرف مادی وجود نہیں رکھتا بلکہ روحانی وجود بھی رکھتا ہے اور اس کی روحانی توانائی و ارتقاء کے لیے روزہ بہترین تدبیر ہے۔ روزہ سے انسان پر خواہشات و شہوات کا غلبہ کمزور ہو جاتا ہے۔ اس میں ضبط نفس کی صفت پیدا ہوتی ہے اور ان کی قوتِ ارادی مضبوط ہو جاتی ہے۔ انسان کی اصل طاقت اس کا دل اور نفس ہے روزہ نفس کا تزکیہ کرتا ہے اور انسان کو خدا کا فرمانبردار بنا کر، جہاد زندگانی کے لیے تیار کرتا ہے۔ اسلام میں روزہ محض بھوکے پیاسے رہنے کا نام نہیں بلکہ حدود الٰہی کی پاسداری اور اطاعت و فرماں برداری کا احساس پیدا کرنے کا سامان ہے۔

۲۳۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی روزے کا بار تم پر زیادہ دنوں کے لیے نہیں ڈالا گیا ہے بلکہ سال بھر میں صرف گنتی کے چند دن مخصوص کر دئے گئے ہیں۔ بعد والی آیت میں رمضان کے روزوں کے فرض ہونے کی صراحت کی گئی ہے جس سے واضح ہوا کہ گنتی کے چند دن سے مراد رمضان کا مہینہ ہے۔

۲۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سفر کے لیے مسافت کی کوئی تحدید قرآن و حدیث میں نہیں کی گئی ہے۔ اس لیے جس مسافت پر آدمی اپنے کو حالت سفر میں محسوس کرے روزہ چھوڑ سکتا ہے۔ بیماری اور سفر کی حالت میں روزہ چھوڑ سکتا ہے۔ بیماری اور سفر کی حالت میں روزہ رکھنا نہ رکھنا اختیاری (Optional) ہے البتہ اگر مرض کی شدت کا اندیشہ ہو تو روزہ نہیں رکھنا چاہیے۔

۲۴۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد بڑے بوڑھے، دائم المریض اور بیحد کمزور لوگ ہیں جن کے لیے روزہ رکھنا مشقت میں پڑنے کا باعث ہو اور آئندہ قضاء روزے رکھنے کی وہ توقع نہ کر سکتے ہوں۔ ایسے معذور لوگوں کے لیے یہ رخصَت ہے کہ وہ ایک روزہ کے بدلہ ایک مسکین کو کھانا کھلائیں۔ کھانا مقدار اور نوعیت کے اعتبار سے وہ ہو جو آدمی ایک دن میں کھاتا ہے۔

۲۴۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی کوئی شخص ایک روزہ کے فدیہ میں ایک سے زائد مسکینوں کو کھلائے تو بہتر ہے۔

۲۴۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جہاں تک ہو سکے روزہ رکھنا بہتر ہے فدیہ کی اجازت سے مجبوری ہی کی صورت میں فائدہ اٹھایا جائے۔

۲۴۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مہینہ سے مراد قمری مہینہ ہے جو اسلام میں معتبر ہے۔ رمضان قمری سال (Lunar year) کا نواں مہینہ ہے۔

۲۴۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نزول قرآن کا آغاز رمضان میں ہوا۔ پہلی وحی (First Verses) جو غارِ حرا میں آئی وہ ماہِ رمضان کی ایک شب میں ناز ل ہوئی تھی۔ قرآن سب سے بڑی نعمت ہے اس لیے کہ وہ دنیا والوں کی ہدایت کے لیے نازل ہوا ہے۔ اس عظیم ترین نعمت کی شکر گزاری کا تقاضا یہ ہے کہ اس مہینہ کو روزوں کے لیے خاص کر دیا جائے تاکہ بندے اپنی خواہشات نفس سے آزاد ہو کر اپنے رب سے زیادہ سے زیادہ قریب ہو سکیں اور اپنے عمل سے یہ ثابت کر سکیں کہ خدا اور اپنے عمل سے یہ ثابت کر سکیں کہ خدا اور اس کے حکم سے بڑھ کر دنیا کی کوئی چیز ان کو عزیز نہیں ہے۔ رمضان کا مہینہ گویا تقویٰ کی نشو و نما کے لیے موسم بہار کی حیثیت رکھتا ہے۔

۲۴۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسلام انسان کی فطرت سے ہم آہنگ ہونے اور اعتدال پر مبنی ہونے کی بنا پر نہایت آسان چیز ہے۔ اس میں تزکیۂ نفس اور فرد کی اصلاح و تربیت کا پورا پورا اہتمام کیا گیا ہے لیکن ان ریاضتوں اور نفس کو مارنے کے ان طریقوں سے بالکل اجتناب کیا گیا ہے جن کو رہبانیت کے معتقدین جوگی اور صوفیاء تجویز کرتے ہیں اور جو عام انسان کی بس میں نہیں ہوتے۔

۲۴۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اللہ کی کبریائی (بڑائی) کا اعتراف کر لو۔ اس کا احساس روزہ کی حالت میں بھی ہونا چاہیے اور روزہ ختم ہو جانے پر عیدالفطر کے موقع پر بھی چنانچہ عیدالفطر میں تکبیروں کا جو اہتمام کیا جاتا ہے وہ اس ہدایت کے عین مطابق ہے۔

۲۴۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اگرچہ بندے اللہ کو دیکھ نہیں سکتے لیکن وہ یہ خیال نہ کریں کہ وہ ان سے دور ہے بلکہ وہ اپنے ہر بندے سے اتنا قریب ہے کہ بندہ جب چاہے اس کو پکار سکتا ہے اور وہ اس کی پکار کو سن لیتا ہے اور اس پر اپنا فیصلہ بھی صادر فرماتا ہے۔ اس تک اپنی بات پہنچانے کے لیے کسی واسطے، وسیلے اور سفارش کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہر بندہ ہر وقت ہر جگہ براہ راست اس تک اپنی بات پہنچا سکتا ہے۔ لہٰذا حاجت روائی اور فریاد رسی کے لیے، کسی دیوی دیوتا یا بزرگ کو پکارنے اس کا واسطہ اور وسیلہ تلاش کرنے یا بتوں کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کو جس کے سوا کوئی الٰہی نہیں ہے براہ راست پکارنا چاہیے اور اپنی تمام حاجتیں اسی کے حضور پیش کرنی چاہئیں۔

۲۴۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو اب دینے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دعا قبول فرماتا ہے۔ بندہ جب اپنے رب سے کوئی چیز مانگتا ہے اور اس طریقہ سے مانگتا ہے جس طریقہ سے مانگنا چاہیے تو وہ چیز اس کو ضرور دی جاتی ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ چیز اسی وقت دی جائے اور اسی شکل میں دی جائے۔ اللہ اپنے بندوں کو مصالح کو بخوبی جانتا ہے اس لیے اگر اُسے مانگی ہوئی چیز فوراً نہیں ملتی تو بعد کے لیے یا آخرت کے لیے محفوظ کر دی جاتی ہے۔ اور ایک شکل میں نہیں تو دوسری شکل میں اسے مل جاتی ہے۔

روزہ کا بیان چل رہا تھا درمیان میں دعا کا ذکر ہوا جو اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ روزہ دار روزہ کی حالت میں اللہ سے قریب ہوتا ہے اور اس کی دعا قبولیت اختیار کر جاتی ہے۔ اسی لیے حدیث میں افطار کے وقت کی دعا کو دعائے مستجاب کہا گیا ہے۔

۲۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی میاں بیوی کے درمیان چولی دامن کا رشتہ ہے۔ دونوں کے تعلق کے لیے لباس کا استعارہ نہایت بلیغ ہے۔ لباس جسم کی ستر پوشی کرتا ہے اسی طرح میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے تسکین کا سامان کر کے جنسی جذبات کے لیے پردہ فراہم کرتے ہیں۔ اور انہیں عریاں ہونے نہیں دیتے۔ لباس انسان کے لیے زینت ہے، اسی طرح شوہر بیوی کے لیے زینت ہے اور بیوی شوہر کے لیے۔ اگر دونوں کا باہم ارتباط نہ ہو تو انسان کی زندگی میں آرائش اور تہذیب و سلیقہ پیدا نہیں ہو سکے گا۔ لباس موسم کی سختیوں سے انسان کو محفوظ رکھتا ہے۔ اسی طرح شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے اخلاق کو شیطان کے حملوں سے بچاتے ہیں۔

ان مصالح کے پیش نظر ازدواجی تعلق اسلام میں پسندیدہ اور مطلوب ہے اس کے بر خلاف تجرد کی زندگی گزارنا اور برہمچاری بننا نا پسندیدہ اور ممنوع ہے۔

۲۵۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ روزے کے ابتدائی احکام میں یہ وضاحت نہیں تھی کہ روزہ کی راتوں میں بیویوں سے مباشرت کی اجازت ہے یا نہیں۔ چونکہ اہل کتاب کے ہاں شب باشی پر پابندی تھی اس لیے یہ معاملہ مسلمانوں کے نزدیک مشتبہ تھا اور بعض لوگ اس کو مشتبہ سمجھتے ہوئے شب باشی کرتے تھے، جو اپنے نفس کے ساتھ ایک قسم کی خیانت تھی۔ کیونکہ شریعت کا تقاضا یہ ہے کہ مشتبہ چیزوں کے معاملہ میں احتیاط برتی جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس سے درگزر فرمایا اور واضح طور پر اجازت دیدی کہ روزہ کی راتوں میں اپنی بیویوں سے مباشرت کر سکتے ہو۔

۲۵۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اولاد کے طالب بنو جو ازدواجی زندگی کا اہم ترین مقصد ہے۔ اس سے قرآن کا منشاء بخوبی واضح ہوتا ہے کہ اولاد مطلوب اور پسندیدہ چیز ہے اور منشائے الٰہی یہ ہے کہ نسل انسانی بڑھے۔ لہٰذا جو لوگ نسل انسانی کو گھٹانے کے لیے ضبط ولادت کی تحریک چلاتے ہیں ان کی یہ تحریک منشائے الٰہی کے خلاف ہے۔ عورت کی خرابیِ صحت جیسی مجبوریوں کی بنا پر افراد کے لیے بعض مانع حمل طریقے اختیار کرنے کی یقیناً گنجائش ہے لیکن نسبندی جیسے طریقے اختیار کرنے کی ترغیب دینا یا بچوں کی تعداد کو محدود کرنے کے درپے ہونا اور اس کے لیے ابھی نہیں اور کبھی نہیں ، جیسے نعرے تجویز کرنا اُن ہی لوگوں کا کام ہے جو نہ فطرت کی رہنمائی کو قبول کرتے ہیں اور نہ آسمانی ہدایت کو، بلکہ اپنی ” سائینٹفیک گمراہی” پر مطمئن ہوتے ہیں۔

۲۵۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اہل کتاب کے ہاں روزہ کی رات کو سو کر اٹھنے کے بعد کھانے پینے کی اجازت نہیں تھی لیکن اسلام نے نہ صرف اس کی اجازت دی بلکہ سحری کرنے کی تاکید کی۔

۲۵۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اعتکاف کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے کو تمام کاموں سے فارغ کر کے ذکر الٰہی اور عبادت کے لیے یکسو ہو جائے۔ اعتکاف کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ رمضان کے آخری دس روز مسجد میں گزارے اس دوران زن و شوئی کا تعلق قائم کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

۲۵۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جہاں سے گناہ، نافرمانی اور قانون شکنی کی حد شروع ہوتی ہے۔ اس کے قریب جانا بھی آدمی کے لیے خطرناک ہے کہ کہیں قدم اس دائرہ میں نہ چلائے جائے اس لیے سلامتی اسی میں ہے کہ آدمی گناہ کی سرحد سے دور ہی رہے۔

۲۵۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ روزہ کے احکام کے متصلاً بعد ناروا طریقہ سے مال نہ کھانے کی ہدایت روزہ کی روح کو بے نقاب کر رہی ہے، روزہ جائز و ناجائز میں تمیز کرنا اور حدود الٰہی کی پاسداری کرنا سکھاتا ہے۔ لہٰذا لوگوں کا مال ناروا طریقہ سے کھانا، کسی ایسے شخص کا کام نہیں ہو سکتا جس نے روزہ کا یہ اثر قبول کیا ہو۔ اکل حلال سے روزہ تو مخصوص دنوں کے لیے ہے، لیکن اکل حرام سے روزہ زندگی بھر کے لیے ہے۔

۲۵۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی دوسروں کا مال ہڑپ کرنے یا دوسروں کی چیزوں پر ناجائز قبضہ کرنے کے لیے رشوت کو ذریعہ نہ بناؤ۔ رشوت لوگوں کے حقوق کو پامال کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، اس کی چاٹ جب قانون کے محافظوں کو لگ جاتی ہے تو پھر حقوق کی ضمانت باقی نہیں رہتی اسے پیسوں کے بل پر کوئی بھی خرید سکتا ہے۔ چنانچہ جس سما ج میں رشوت عام ہو جاتی ہے، حکام بد دیانت بن جاتے ہیں اور لوگوں کو ان کے واجبی حقوق بھی بغیر رشوت دئے نہیں ملتے۔ اس لیے اسلام نے رشوت دینا بھی حرام قرار دیا ہے اور لینا بھی اور رشوت ستانی کے انسداد کے لیے حکام کو ہدیہ دینے اور ان کے لیے اس کو قبول کرنے کی بھی ممانعت کر دی ہے۔

۲۵۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی تم اچھی طرح جانتے ہو کہ رشوت ایک بُرائی، ایک حق تلفی اور ایک گناہ کا کام ہے۔ عقل بھی اسے گناہ تسلیم کرتی ہے اور دین و شریعت بھی اسے گناہ قرار دیتے ہیں اس لیے اس کا گناہ ہونا ایک بدیہی امر ہے۔ ایسی کھلی بُرائی سے تمہیں لازماً بچنا چاہیے۔

۲۵۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سوال چاند کے ہر ماہ ہلال کی شکل میں آسمان پر نمودار ہونے سے متعلق تھا، لیکن اس کی نوعیت سائنسی یا فلکیاتی سوال کی نہیں تھی بلکہ ہلال کے سلسلہ میں پھیلے ہوئے توہمات (Superstitions) کے پیش نظر اس کی مصلحت جاننا مقصود تھا۔ اس لیے جواب میں دینی اور دنیوی دونوں طرح کی مصلحتیں واضح کر دی گئیں۔ دنیوی مصلحت یہ ہے کہ یہ تاریخ کی تعین کا ذریعہ ہے۔ آسمان پر ہلال (New Moon) کا نمودار ہونا اس بات کی واضح علامت ہے کہ نئے ماہ کا آغاز ہو گیا ہے چنانچہ قمری سال (Lunar Year) کی بنیاد اس قدرتی کیلنڈر (Natural Calendar) پر ہے۔ اور دینی مصلحت یہ ہے کہ حج کی تاریخوں کی تعین قمری ماہ ہی پر منحصر ہے۔ اسی طرح دوسرے تمام دینی امور میں ، اعتبار قمری ماہ ہی کا ہوتا ہے۔

۲۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حج چونکہ ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے چلا آ رہا ہے اس لیے لوگ زمانہ جاہلیت میں بھی حج کرتے تھے۔ لیکن کی اصل روح غائب ہو گئی تھی اور اس کو رسوم و بدعات کا مجموعہ بنا کر رکھ دیا گیا تھا۔ اس سلسلہ کی ایک بدعت یہ تھی کہ حج کا احرام باندھ لینے کے بعد اگر کسی کو اپنے گھر میں داخل ہونے کی ضرورت پیش آتی یا جب وہ حج کر کے گھر واپس آ جاتا تو مکان کے پچھواڑے سے دیوار پھاند کر گھر میں داخل ہو جاتا۔ یہ ان کا محض وہمی پن تھا اس لیے قرآن نے اس وہم اور بدعت کو ختم کرنے کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ گھروں میں ان کے دروازوں سے داخل ہوا کرو۔ نیز واضح کیا کہ نیکی اوہام و رسوم کے ذریعہ حاصل نہیں کی جا سکتی بلکہ نیکی سچی خدا خوفی اور حدود الٰہی کی پاسداری سے حاصل ہوتی ہے جس کا نام تقویٰ ہے۔

۲۶۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس آیت میں اہل ایمان کو اپنے دفاع کے لیے جنگ کرنے کی اجازت دی گئی ہے اس کے پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے۔ مشرکین مکہ آزادیِ عقیدہ، آزادیِ ضمیر اور آزادیِ تبلیغ کے قائل نہ تھے۔ وہاں قبائل سسٹم رائج تھا اور قبیلہ کے کسی فرد کو اپنے قبیلہ کے مذہب کو جو شرک اور بت پرستی کا مذہب تھا ترک کرنے اور اسلام میں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ جو لوگ اس بندش کو تور کر اسلام میں داخل ہو رہے تھے ان کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا تھا اور ان سے یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ وہ اس مشرکانہ مذہب میں لوٹ آئیں جو سماج کا مذہب ہے یہاں تک کہ اُن کو اپنا گھر بار چھوڑ دینے اور اپنے وطن عزیز مکہ سے نکلنے کے لیے مجبور کر دیا گیا اور جب انہوں نے ہجرت کر کے مدینہ میں پناہ لی تو ان کے خلاف جارحانہ کار روائیاں شروع کر دی گئیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اجازت دی کہ وہ اپنے دشمنوں کی تلوار کا جواب تلوار سے دیں۔ قتال کا یہ پہلا حکم ہے جو اہل ایمان کو ان کے مدینہ میں منظم ہو جانے کے بعد دیا گیا۔ اس کے بعد ہی رمضان۲ ۰ ھ میں جنگ بدر کا واقعہ پیش آیا۔

۲۶۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جنگ کے موقع پر بھی حدود میں رہنے اور زیادتی نہ کرنے کی ہدایت ہے چنانچہ حدیث میں عورتوں ، بچوں اور بوڑھے لوگوں کو جو جنگ میں حصہ نہیں لیتے، قتل کرنے کی ممانعت کر دی گئی ہے۔ اسی طرح لاشوں کا مُثلہ کرنے اور جنگ میں وحشیانہ طریقے اختیار کرنے سے بھی منع کر دیا گیا ہے۔

۲۶۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں ان لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو مسلمانوں سے بر سر جنگ تھے، جیسا کہ اوپر کی آیت سے واضح ہے۔ اس کا یہ مطلب لینا صحیح نہیں کہ مسلمان جہاں کہیں کسی کافر کو پائیں قتل کر دیں۔ خواہ وہ دنیا کے کسی خطہ میں ہو اور خواہ حالتِ امن میں ہو یا حالتِ جنگ۔

۲۶۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں فتنہ سے مراد جبر و ظلم کے ذریعہ لوگوں کو دین حق سے پھیرنے کی کوشش کرنا اور راہ حق میں مزاحم بننا ہے۔ یہ قتال کے جواز کی دلیل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگرچہ کہ قتال ایک سنگین بات ہے اور پھر حدود حرم میں ، اور محترم مہینوں میں تو اس کی سنگینی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے لیکن اس سے بھی زیادہ سنگین بات یہ ہے کہ اللہ کے بندوں پر اس وجہ سے ظلم ڈھایا جائے کہ انہوں نے شرک اور بت پرستی کو چھوڑ کر دین توحید کو قبول کیا ہے اور وہ الہ کی ہدایت کی طرف دعوت دے کر سوسائٹی کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں۔ آیت کا منشا یہ ہے کہ جب کوئی انسانی گروہ فسطائیت پر اتر آئے اور لوگوں کو قبول حق سے روکنے لگے، اور دعوت الی اللہ کی راہ میں مزاحم بن جائے تو ایسے گروہ کے خلاف طاقت کا استعمال بالکل جائز ہے۔

۲

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مسجد حرام کے پاس کا علاقہ ” حرم” کہلاتا ہے جس کے احترام کے سلسلہ میں خصوصی احکام ہیں۔ اس کے حرم ہونے کی یہ حیثیت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے چلی آ رہی ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں بھی اس علاقہ کو قابل احترام سمجھا جاتا رہا اور اس میں جنگ کرنا ممنوع تھا اس لیے یہ سوال پیدا ہو گیا کہ اگر مشرکین مکہ حدود حرم میں جنگ چھیڑ دیں تو کیا کیا جائے؟ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ اگر مسلمان حدود حرم میں از خود جنگ نہ چھیڑیں البتہ اگر کفار جنگ چھیڑ دیں تو پھر تم بھی انہیں منہ توڑ جواب دو کہ ایسی صورت میں وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔

۲۶۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں باز آنے سے مراد نہ صرف معاندانہ سرگرمیوں سے باز آنا ہے بلکہ کفر و شرک سے بھی باز آنا ہے۔

۲۶۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں اس نزاع کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے جو مسلمانوں اور کفار مکہ کے درمیان برپا تھی۔ قرآن کا دعویٰ یہ تھا کہ خانۂ کعبہ جس کی تعمیر حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل علیہما السلام نے مرکز توحید کی حیثیت سے کی تھی اس کی تولیت کے اصل حقدار اہل ایمان ہیں نہ کہ مشرکین جنہوں نے اس میں بت بٹھا رکھے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کو قبول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے جس رسول کو مبعوث کرنے کا وعدہ فرمایا تھا اس کی تکمیل حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے ظہور سے ہو گئی ہے اس نبی کے ذریعہ اس گھر کے اصل مقصد کی تجدید ہونا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ اس گھر کو کفار و مشرکین کے تسلط سے آزاد اور کفر و شرک کی نجاستوں سے پاک کر کے امت مسلمہ کے قبضہ میں دے دیا جائے کہ وہ اسلام کا مرکز اور اہل ایمان کا قبلہ ہے۔ یہ در حقیقت حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا اصل نصب العین تھا اور اس نصب العین کے حصول کی راہ میں اگر کوئی طاقت مزاحم بنتی ہے تو اس کو ہٹانے کے لیے طاقت کا استعمال بالکل ناگزیر تھا۔

۲۶۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اگر یہ باز آ کر اسلام قبول کرتے ہیں تو پھر ان کے پچھلے جرائم کی بنیاد پر ان کے خلاف کوئی کار روائی نہیں کی جائے گی بلکہ صرف ان کے خلاف اقدام کیا جائے گا جو اپنی ظالمانہ روش پر قائم رہیں گے۔

۲۶۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اگر یہ باز آ کر اسلام قبول کرتے ہیں تو پھر ان کے پیچھے جرائم کی بنیاد پر ان کے خلاف کوئی کار روائی نہیں کی جائے گی بلکہ صرف ان کے خلاف اقدام کیا جائے گا جو اپنی ظالمانہ روش پر قائم رہیں گے۔

۲۶۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ذی القعدہ ، ذی الحجہ، محرم اور رجب کے مہینے ماہ حرام کہلاتے ہیں۔ ان میں سے اول الذکر تین مہینے حج کے لیے خاص سمجھے جاتے تھے اور آخر الذکر مہینہ عمرہ کے لیے، ان چار مہینوں میں جنگ ممنوع تھی تاکہ زائرین حرم، امن و امان کے ساتھ بیت اللہ کا سفر کر سکیں اور گھر کو واپس ہو سکیں۔ یہ قاعدہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت سے چلا آ رہا تھا اور اہل عرب کے نزدیک مسلم تھا۔

۲۷۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جب کفار حرام مہینوں کی حرمت کا لحاظ نہیں کرتے اور ان کی تلواریں ان مہینوں میں بھی بے نیام ہو جاتی ہیں تو تمہیں بھی یہ حق ہے کہ ان کو امن و احرام کے حق سے محروم کر دو۔

۲۷۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جس چیز کے حقوق حرمت سے وہ تمہیں محروم کریں تم بھی اس کے بدلہ انہیں ان کے حقوق حرمت سے محروم کر سکتے ہو۔ البتہ تقویٰ کا لحاظ کرو۔ نہ اپنی طرف سے پیش قدمی کرو اور نہ تمہارا کوئی اقدام حد ضرورت سے بڑھا ہوا ہو۔

۲۷۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے مراد غلبۂ دین اور اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے خرچ کرنا ہے۔

۲۷۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جو لوگ غلبۂ دن کے لیے خرچ کرنے سے جی چراتے ہیں وہ اپنے کو ہلاکت میں ڈالتے ہیں کیونکہ اصل زندگی راہ خدا میں جان و مال کی قربانی پیش کرنے میں ہے نہ کہ ان کو بچائے رکھنے میں۔

” اپنے ہاتھوں اپنے کو ہلاکت میں نہ ڈالو” سے ضمناً خود کشی کی حرمت بھی واضح ہو رہی ہے خواہ اس کی کوئی شکل اختیار کی جائے۔

۲۷۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ” عمرہ” بیت اللہ کی مخصوص مراسم کے ساتھ زیارت کرنے کو کہتے ہیں۔ حالتِ احرام میں بیت اللہ کا طواف کرنا صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا اور اخیر میں بال منڈانا یا کتروانا عمرہ کے اہم مناسک ہیں۔ عمرہ کسی وقت بھی کیا جا سکتا ہے جبکہ حج کے لیے تاریخیں متعین ہیں۔ مزید برآں حج میں مکہ سے عرفات بھی جانا پڑتا ہے جبکہ عمرہ مکہ ہی میں ادا کیا جاتا ہے۔

۲۷۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حج اور عمرہ زمانۂ جاہلیت میں بھی کیا جاتا تھا لیکن وہ خالصۃً اللہ کے لیے نہیں ہوتا تھا بلکہ اس میں وہ اپنے معبودانِ باطل کو بھی شریک کرتے تھے جن کے بت انہوں نے خانۂ کعبہ اور صفا وغیرہ پر نصب کر رکھے تھے وہ ان کی پوجا کرتے، ان کے آگے نذر و نیاز پیش کرتے اور ان کے لیے جانور کی قربانی کرتے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ہدایت فرمائی کہ جب تم حج اور عمرہ کرو تو خالصۃً اللہ کے لیے کرو اور ہر قسم کے شرک و بدعت سے اُسے پاک رکھو۔

اس ہدایت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ حج کو محض تجارت کا ذریعہ بنا کر نہ رکھا جائے جس طرح زمانۂ جاہلیت میں اس کو محض تجارتی میلہ کی حیثیت دے دی گئی تھی نیز اس بات کا خیال رکھا جائے کہ حج و عمرہ کی ادائیگی میں ریاء اور نمائش کا شائبہ نہ آنے پائے اور یہ دونوں چیزیں عبادت سمجھ کر اور رضائے الٰہی کو مقصود بنا کر ادا کی جائیں۔

۲۷۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اگر تم حج یا عمرہ کے لیے نکلو اور راستہ میں دشمن تمہیں گھیر لے تو اونٹ، گائے، بکری میں سے جو جانور بھی میسر ہو اس کی قربانی کرو۔

۶۰ ھ میں جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ کرام نے عمرہ کا ارادہ کیا تو مشرکین مکہ نے حدیبیہ کے مقام پر جہاں سے حدود حرم شروع ہوتے ہیں آپؐ کو اور آپؐ کے ساتھیوں کو روک دیا۔ آپؐ نے وہیں قربانی کر کے احرام کھول دیا۔

۲۷۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حالتِ احرام میں قربانی سے پہلے بال مونڈنا یا کتروانا منع ہے اور قربانی کے بعد بال مونڈنا یا کتروانا ضروری ہے۔

قربانی کے ٹھکانے پہنچ جانے کا مطلب قربانی کا ٹھکانے لگ جانا ہے۔ یعنی قربانی سے فارغ ہو جانے کے بعد حجامت کروائے۔

قربانی کا ٹھکانے لگ جانا یہ ہے کہ گھِر جانے کی صورت میں آدمی جہاں گھِر جائے وہیں قربانی کرے اور عام حالات میں خانہ کعبہ کے پاس (منیٰ میں) قربانی کرے۔

۲۷۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اگر کسی شخص کو بیماری یا تکلیف کی وجہ سے مجبوراً اپنا سر قربانی سے پہلے منڈانا پڑے تو وہ کفارہ دے کفارہ کی تشریح نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ فرمائی ہے کہ یا تو تین دن کے روزے رکھے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلائے یا کم از کم ایک بکری کی قربانی کرے۔

۲۷۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ رخصت ان لوگوں کے لیے ہے جو حدود حرم سے باہر رہتے ہوں اور ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ ادا کرنا چاہیں اسے “تمتع” کہتے ہیں جس کی صورت یہ ہے کہ آدمی پہلے عمرہ کر کے احرام کھول دے پھر حج کی تاریخوں میں احرام باندھ کر حج ادا کرے۔ تمتع کی صورت میں قربانی ضروری ہے لیکن اگر قربانی میسر نہ آئے تو دس دن کے روزے رکھے۔ تین دن کے روزے ایام حج میں اور سات دن کے روزے حج سے لوٹنے کے بعد۔

۲۸۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قربانی کے قائم مقام صرف تین روزے نہ ہوں گے۔ دس کو کامل کہنے سے ضمناً یہ بات بھی نکلتی ہے کہ دس کا عدد گنتی کے اعتبار سے کامل ہے چنانچہ حسابات میں دس کی خصوصیت بالکل ظاہر ہے اور اعشاری سسٹم (Decimal System) کی بنیاد بھی دس یا دسویں حصہ ہی پر ہے۔

۲۸۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی حدود حرم میں رہنے والوں کے لیے ” تمتع” کی رخصت نہیں ہے وہ حج کے مہینوں میں صرف حج کر سکتے ہیں جس کو “اِفراد” کہا جاتا ہے۔

۲۸۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ ان احکام سے اصل مقصود تقویٰ ہے۔ اگر تم نے تقویٰ کا اہتمام نہیں کیا اور محض رسماً حج کر لیا تو ایسا حج روح سے خالی ہو گا۔

۲۸۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حج کے مہینے شوال، ذی القعدہ اور ذی الحجہ ہیں یعنی قمری سال کا دسواں ، گیارہواں اور بارہواں مہینہ ۹! ذوالحجہ کو عرفات کے میدان میں جمع ہونا ضروری ہے جسے ” وقوف عرفات” کہتے ہیں اور یہ حج کا اہم ترین رکن ہے۔ حج کا احرام حج کے مہینوں ہی میں باندھا جا سکتا ہے۔

۲۸۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب آدمی حج کا احرام باندھتا ہے تو اُس پر مخصوص پابندیاں عائد ہو جاتی ہیں مثلاً شہوانی اقوال و افعال سے پرہیز چنانچہ نہ صرف بیوی سے مباشرت ممنوع ہے بلکہ رغبت شہوانی کی کوئی بات بھی نیز فحش کلامی کی بھی سخت ممانعت ہے۔ فسق و فجور کی تمام باتیں بجائے خود ناجائز ہیں لیکن احرام کی حالت میں ان کا گناہ بہت سخت ہے، اسی طرح لڑائی جھگڑا ایک بری بات ہے لیکن حالت احرام میں اس کی برائی شدید ہے۔

ان چیزوں کی ممانعت بیان کر کے یہ احساس دلانا مقصود ہے کہ حج کوئی میلہ نہیں ہے کہ لوگ تفریح یا کاروبار کے لیے جمع ہو جائیں اور نہ وہ کوئی ” مذہبی یاترا” ہے کہ بے جان مراسم کے ادا کرنے سے آدمی کے پاپ دھُل جاتے ہوں بلکہ یہ اللہ کے حضور حاضری ہے چنانچہ حالت احرام میں جو بار بار لبیک کہی جاتی ہے اس کے معنی یہی ہیں کہ ” اے اللہ میں تیری خدمت میں حاضر ہوں۔ ” لہٰذا اس حاضری کے لیے گناہوں سے بچنے کا غیر معمولی اہتمام اور ایک مخصوص حالت میں ہونے کا احساس ضروری ہے تاکہ اس حاضری کا گہرا نقش قلب و ذہن پر مرتب ہو سکے اور جب آدمی اللہ کے دربار سے لوٹے تو وہ تزکیہ کی نعمت سے فیضیاب ہو کر اور اپنے ساتھ روحانی دولت لے کر لوٹے۔

۲۸۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زمانۂ جاہلیت میں حج کے لیے زادِ راہ ساتھ لینا کمال دینداری کے خلاف سمجھا جاتا تھا اس آیت میں ان کے اس خیال کی تردید کی گئی اور بتلایا گیا کہ فقیری کی نمائش کرنا کوئی خوبی کی بات نہیں ہے۔ خوبی کی بات یہ ہے کہ آدمی سوال کرنے سے بچے اور تقویٰ اور پرہیزگاری کی روش اختیار کرے۔ ” بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے۔ ” کا اشارہ اس طرف بھی ہے کہ سفرِ آخرت کے لیے تقویٰ بہترین توشہ ہے۔

۲۸۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بندہ جب خدا کے حدود کے اندر رہتے ہوئے معاشی جدوجہد کرتا ہے تو دراصل وہ اپنے رب کا فضل تلاش کرتا ہے اس لیے سفر حج کے دوران تجارتی فائدہ اٹھانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ اگر آدمی تقویٰ کا اہتمام کرتا ہے جس کی ہدایت اوپر گزر چکی اور جو حج کا اصل مقصد ہے تو ضمناً معاشی فائدہ اٹھا لینے سے اس عبادت میں کوئی خرابی واقع نہ ہو گی۔

۲۸۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عرفات ایک میدان کا نام ہے جو مکہ سے مشرق کی جانب تقریباً باہر میل کے فاصلہ پر واقع ہے اور طائف کے راستہ پر پڑتا ہے۔ اس میدان میں ۹! ذی الحجہ کو وقوف کرنا حج کا اہم ترین رکن ہے۔ اس میں ایک پہاڑی ہے جسے جبل الرحمۃ کہتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کے دامن میں دعا مانگی تھی۔ (عرفات کی تصویر بر صفحہ ۹۷)

۲۸۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی مزدلفہ میں جو عرفات اور منیٰ کے درمیان واقع ہے۔ عرفات سے جب لوٹتے ہیں تو رات مزدلفہ میں قیام کیا جاتا ہے۔

۲۸۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چنانچہ مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ملا کر پڑھی جاتی ہیں اور فجر طلوع ہونے پر نماز فجر ادا کی جاتی ہے۔ اللہ کو یاد کرنے میں یہ نمازیں بھی شامل ہیں اور لبیک اور تسبیح وغیرہ بھی۔

۲۹۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قریش اپنے کو بیت اللہ کا مجاور سمجھتے تھے اس بنا پر انہوں نے اپنے لیے یہ امتیاز قائم کیا تھا کہ حج کے موقع پر عرفات کی حاضری ان کے لیے ضروری نہیں ہے چنانچہ وہ مزدلفہ تک جا کر وہیں سے واپس ہوتے تھے۔ قرآن نے اس امتیاز کو ختم کر کے سب کو ایک سطح پر رکھا اور حکم دیا کہ جس طرح دوسرے تمام لوگ عرفات جاتے ہیں اسی طرح قریش کے لوگو تم بھی عرفات جاؤ اور وہاں سے لوٹو۔

واضح رہے کہ حج کے یہ مناسک جن میں عرفات کی حاضری بھی شامل ہے، حضرت ابراہیمؑ کے زمانہ سے رائج تھے لیکن اہل جاہلیت نے ان میں کسی قدر رد و بدل کر دیا تھا۔ قرآن نے ان کو پھر اصل سنت ابراہیمی پر قائم کر دیا اور ہر قسم کے باطل امتیازات ختم کر دئے۔

۲۹۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زمانۂ جاہلیت میں قیام منیٰ کے دوران شعر و شاعری کی مجلسیں منعقد ہوتیں ، اور شعراء اور خطباء اپنے اپنے قبیلوں اور آباء و اجداد کے کارنامے فخر کے ساتھ بیان کرتے۔ قرآن نے ان فضولیات کو ترک کرنے اور ذکر الٰہی کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کرنے کی ہدایت کی۔

۲۹۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے ان لوگوں کی طرف جن پر دنیا پرستی کا غلبہ ہوتا ہے۔ اگر انہیں حج کا موقع نصیب ہوتا ہے تو وہاں بھی صرف دنیوی مال و متاع ہی کے حصول کے لیے دعا کرتے ہیں اور آخرت کو بالکل نظر انداز کر دیتے ہیں انہیں نجات اخروی کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔ یہ ذہنیت حج جیسی عظیم عبادت کو بھی دنیوی مفادات کے سانچہ میں ڈھال لیتی ہے اور اس کے نتیجہ میں انسان حج کے عظیم فوائد سے محروم ہو جاتا ہے۔

۲۹۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اشارہ ان لوگوں کی طرف ہے جن کا نقطۂ نظر دنیا کے بارے میں غیر معتدل نہیں ہے جو دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی کے طالب ہوتے ہیں۔ دنیا کی کسی چیز کا کسی کے حق میں خیر ہونا اس بات پر منحصر ہے کہ وہ آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بن سکے اس لیے اہل ایمان کی دعا یہ ہوتی ہے کہ ہمیں وہ چیزیں عطا فرما جو ہمارے حق میں واقعی مفید اور اچھی ہوں ، نیز اہل ایمان عذاب جہنم سے برابر پناہ مانگتے رہتے ہیں کہ اصل فکر انسان کو نجات اخروی ہی کی ہونی چاہیے۔

۲۹۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد قیام منیٰ کے ایام ہیں جنہیں ایام تشریق کہا جاتا ہے یعنی ذی الحجہ کی۱۱/۱۲/۱۳ / تاریخیں۔ منیٰ مکہ سے ۳/۴/میل کے فاصلہ پر ہے۔ یہاں دس ذی الحجہ کو شیطان کو کنکریاں ماری جاتی ہیں اور قربانی کی جاتی ہے۔ ایام تشریق بھی منیٰ ہی میں گزارے جاتے ہیں اور روزانہ شیطان (جمرات) کو کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ کنکریاں مارتے وقت اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے اور شیطان پر لعنت بھیجی جاتی ہے۔

۲۹۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اس بات کی اجازت ہے کہ بارہ ذی الحجہ کو ، کنکریاں مارنے کے بعد منیٰ سے واپس ہو جاؤ یا۱۳/ ذ ی الحجہ تک منیٰ میں قیام کرو، قیام کی صورت میں ۱۳/ تاریخ کو بھی کنکریاں مارنا ہوں گی۔ (منیٰ کی تصویر بر صفحہ)

۲۹۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ حج کا یہ اجتماع روز حشر کے اجتماع کی یاد دہانی ہے جبکہ سارے لوگ اللہ کے حضور اکٹھا کئے جائیں گے۔

۲۹۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے مفاد پرستوں کی طرف جو گفتار کے غازی بنتے ہیں اور اپنی عملی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کے لیے چرب زبانی سے کام لیتے ہیں دنیوی زندگی کے مسائل پر جب وہ اظہار خیال کرتے ہیں تو ان کی باتیں مسحور کُن ہوتی ہیں اور وہ خدا کو گواہ کر کے کہتے ہیں کہ یہ باتیں وہ ذاتی اغراض کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کی بھلائی کے لیے کہہ رہے ہیں اور وہ اسلام کے دشمن ہرگز نہیں ہیں در آنحالیکہ ان کے دل میں اسلام کے خلاف شدید بغض و حسد بھرا ہوتا ہے اور وہ کٹر دشمن حق ہوتے ہیں۔

۲۹۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی تمہارے سامنے تو بڑی دلفریب باتیں کرتے ہیں لیکن جب تمہارے پاس سے چلے جاتے ہیں تو ان کی ساری تگ و دو فساد فی الارض کی راہ میں ہوتی ہے چنانچہ وہ دعوت الی اللہ کی مخالفت کرنے لگتے ہیں حالانکہ زمین کی اصلاح اور اس پر امن و عدل کا قیام اللہ کی بندگیو اطاعت ہی پر موقوف ہے۔

قرآن کے اس بیان کی تصدیق ان تباہیوں سے ہوتی ہیں جو بڑی بڑی لڑائیوں اور عالمگیر جنگوں کے نتیجہ میں دنیا پر آئیں۔ ہدایت الٰہی سے روگردانی کرنے والوں کے ہاتھ میں جب اقتدار آ جاتا ہے تو وہ دنیا کے لیے تباہی کا سامان کرتے رہتے ہیں اگرچہ کہ وہ اپنے ہر اقدام کے موقع پر اس کے جواز کے لیے خوشنما نظر یہ پیش کرتے ہیں۔

۲۹۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اوپر مفاد پرستوں کا ذکر ہوا تھا، ان کے پہلو بہ پہلو یہ مخلص اہل ایمان کا ذکر ہے جنہوں نے زندگی کا مقصد اللہ کی رضا کو بنا لیا ہے اور اس کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرتے رہتے ہیں۔

۳۰۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں مسلمانوں کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ اگر تم سچے خدا پرست بننا چاہتے ہو تو کامل اطاعت و فرمانبرداری کی راہ اختیار کرو اور کسی استثناء اور تحفظ کے بغیر اپنی پوری زندگی کو اسلام کے تحت لے آؤ۔ دین کی صرف ان باتوں کو قبول کرنا جو اپنے مفاد کے خلاف نہیں پڑتیں مفاد پرستوں اور منافقوں کا طریقہ ہے۔ سچے خدا پرست تو کامل بندگی اور مکمل اطاعت کا طریقہ اختیار کرتے ہیں اور تمام معاملات و مسائل میں وہ اپنے کو اسلام کا تابع سمجھتے ہیں لہٰذا ماننا ہے تو پورے اسلام کو مانو، اور اس کی مخلصانہ پیروی کرو، ورنہ اسلام کی کچھ باتیں ماننے اور کچھ باتوں کا انکار کرنے سے نہ تمہارا شمار اللہ کے وفادار بندوں میں ہو سکتا ہے اور نہ اس طرز عمل سے دنیا میں صلح و امن اور عادلانہ نظام قائم ہو سکتا ہے بلکہ یہ طرز عمل فساد فی الارض کا موجب ہو گا۔

۳۰۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جو لوگ بیک وقت کفر اور اسلام دونوں سے راہ و رسم رکھتے ہیں اور اپنی زندگی کو انہوں نے دونوں میں تقسیم کر رکھا ہے وہ شیطان کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔

۳۰۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ان واضح ہدایات کے بعد بھی اگر تم نے دینداری کے پردہ میں مفاد پرستانہ طرز عمل اختیار کیا یا کفر کے ساتھ ساز باز کرتے رہے تو یاد رکھو اللہ کی پکڑ سے ہرگز بچ نہ سکو گے کہ وہ غالب ہے اس نے اپنا دین اس لیے نہیں بھیجا ہے کہ لوگ کھیل تماشہ بنا لیں بلکہ اس لیے بھیجا ہے کہ اس کی راہ پر چلنے والوں اور اس سے انحراف کرنے والوں کے درمیان انجام کے لحاظ سے امتیاز کیا جائے۔ اس کے حکیم ہونے کا یہ واضح تقاضا ہے۔

۳۰۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اگر ان واضح ہدایات کے بعد لوگ اسلام کی شاہراہ پر قائم نہ ہوئے اور شیطان ہی کے پیچھے بھٹکتے رہے تو یہ نہ سمجھو کہ اب وہ کسی اور دلیل کے منتظر ہیں بلکہ وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ اور اس کے فرشتے ان کے سامنے نمودار ہو جائیں لیکن وہ گھڑی تو فیصلہ کی گھڑی ہو گی۔ ایمان تو وہی معتبر ہے جو اللہ کی نشانیوں کو دیکھنے اور سننے سمجھنے کا نتیجہ ہو۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ انسان اپنی عقل سے کام لے اور دلیل کی بنا پر حق کو قبول کر لے لیکن جو لوگ حقائق کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ماننا چاہتے ہیں وہ قیامت کا انتظار کریں لیکن وہ وقت فیصلہ کا ہو گا نہ کہ امتحان کا۔

۳۰۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بنی اسرائیل کو جو نشانیاں دکھائی گئیں ان کا ذکر اس سے پہلے ہو چکا ہے مثلاً سمندر کو پھاڑ کر ان کے لیے راستہ بنایا گیا، ان کے لیے صحرا میں بارہ چشمے جاری کئے گئے۔ صحرا میں ان کے رزق کا سامان من و سلویٰ کے ذریعہ کیا گیا وغیرہ۔ ان کھلی نشانیوں کو دیکھنے کے بعد بھی انہوں نے اللہ کی نعمت کی ناقدری کی۔

بنی اسرائیل کی تاریخ کا حوالہ یہاں اس مناسبت سے ہے کہ جن دنیا پرستوں کے رویہ پر یہاں تبصرہ کیا جا رہا ہے وہ بنی اسرائیل کے گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔

۳۰۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں نعمت سے اشارہ اللہ کی ہدایت اور شریعت کی طرف ہے اور اس کو بدلنے سے مراد اس کی ناقدری کرنا اور اس کے بجائے گمراہی مول لینا ہے۔

۳۰۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جب یہ لوگ ان حقائق کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوئے جن کو قرآن بے نقاب کر رہا ہے اور انہوں نے مادی دنیا پر ہی اپنی نگاہوں کو مرکوز کر لیا تو اس کی دلفریبیوں میں وہ آ گئے اور اب یہ دنیوی زندگی ان کی نظروں میں ایسی کھپ گئی ہے کہ وہ آخرت کا تصور تک کرنے کے لیے تیار نہیں ہے بلکہ جو لوگ آخرت کو اپنا نصب العین بناتے ہیں ان کو یہ لوگ تنگ نظر خیال کر کے ان کا مذاق اڑانے لگتے ہیں۔

۳۰۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بے حساب یعنی توقعات اور اندازوں سے اتنا زیادہ کہ آدمی اس کا تصور بھی نہ کر سکے۔ مراد آخرت کی بے حد اور بے پایاں نعمتیں ہیں۔

۳۰۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں اس اہم ترین سوال کا جواب دیا گیا ہے جو مذاہب کے اختلافات کو دیکھ کر انسان کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے یعنی جب نوع انسانی کا آغاز ہوا تو اس کا مذہب کیا تھا؟ اور کیا انسان نے اپنی تاریخ کا آغاز ہی فرقہ بندی سے کیا تھا یا فرقہ بندیاں بعد کی پیداوار ہیں ؟ قرآن اس سوال کا جواب یہ دیتا ہے کہ نوع انسانی اپنے آغاز میں ایک ہی امت تھی یعنی ایک ہی اصل اور ایک ہی نقطہ پر سب کا اتفاق و اجتماع تھا اور وہ ہے دین توحید جس کا نام اسلام ہے۔ انسانیت نے توحید ہی کی روشنی میں آنکھیں کھولی تھیں اور انسانیت کا قافلہ اسلام ہی کی شاہراہ پر چل پڑا تھا۔ اس بنا پر تاریخ انسانی کا اولین باب نہایت روشن باب ہے۔

قرآن کے اس بیان کی تائید جدید اکتشافات سے بھی ہوتی ہے کہ قدیم ترین زمانہ میں نسل انسانی کا مذہب توحید تھا نہ کہ شرک۔

“The evidence of Anthropology, says a leading aschacologist of the day, sir Charles Marston, will be cited in those columns to prove that the original religion of the early races was actually Monotheism or something very like it.” The Bible is true P. 23 (commentary on Holy Quran by Moulana Abdul Majid Daryabadi Vol. I P. 33A)

۳۰۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس آیت میں جس حقیقت کو بے نقاب کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ نوع انسانی ابتداء میں ایک ہی اصل پر مجتمع تھی اور وہ تھا اللہ کا دین ” اسلام” چنانچہ اللہ تعالیٰ نے پہلے انسان کو جو تمام انسانوں کے باپ ہیں اور جن کا نام آدم ہے، ہدایت سے نوازا تھا۔ ان کی نسل ایک مدت تک اسی ہدایت یعنی دین حق پر قائم رہی اور ایک ہی امت بنی رہی بعد میں لوگوں نے اصل دین میں اختلاف کر کے نئی نئی راہیں نکال لیں اور انسانیت کا قافلہ جو راہ حق پر گامزن تھا اس سے علیحدگی اختیار کر کے فرقوں میں بٹ گیا اور ہر فرقہ نے ایک مخصوص مذہب کی شکل اختیار کر لی۔ اس صورتِ حال کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء انسانوں کے مختلف گروہوں کی طرف بھیجتا رہا چنانچہ ان انبیاء علیہم السلام نے لوگوں کو دین حق کی طرف دعوت دی، ہدایت الٰہی سے انحراف اور افتراق و انتشار کے نتائج بد سے لوگوں کو آگاہ یا اور ان لوگوں کو فوز و فلاح کی خوش خبری سنائی جو انبیاء کی دعوت کو قبول کر کے اصل دین اسلام پر قائم ہو جائیں۔ ان انبیاء نے جو مختلف ملکوں اور مختلف قوموں میں آئے کسی نئے مذہب کی بناء نہیں ڈالی تھی بلکہ وہ اسلام ہی تھا جسے انہوں نے پیش کیا تھا۔ اور اس دین حق کی بنیاد پر انہوں نے لوگوں کو پھر سے ایک امت بنانے کی کوشش کی تھی۔ ان کے ساتھ جو کتابیں نازل کی گئی تھیں وہ در حقیقت ایک ہی کتاب ” الکتاب” کے اجزاء تھے جن میں مختلف مذاہب نہیں بلکہ ایک ہی دین پیدا کیا گیا تھا۔ ان کتابوں نے لوگوں کے تمام مذہبی اختلافات کا فیصلہ کر کے حق کو از سر نو اجاگر کیا تھا لیکن جن امتوں کے پاس یہ حق آیا انہوں نے بعد میں محض آپس کی ضد، تعصب، نفسانیت اور باہم سرکشی و زیادتی کی وجہ سے اس حق میں اختلاف کیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار حق کی وضاحت کے باوجود لوگ اس میں اختلاف کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن نازل فرما کر لوگوں پر حق واضح فرمایا اور اس حق کو اپنی اصل شکل میں قیامت تک کے لیے محفوظ رکھنے کا سامان کیا۔ اس کے بعد کوئی وجہ نہیں کہ لوگ مذاہب کے اختلافات کے چکر میں پڑے رہیں اور دین حق کے معاملہ میں اختلاف کریں لیکن قبولِ حق کی توفیق ان ہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو کسی تعصب اور ہٹ دھرمی میں مبتلا نہیں ہوتے اور جن کے اندر قبول حق کے لیے آمادگی ہوتی ہے۔

۳۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس میں ان لوگوں کی تسلی کا سامان ہے جو حق کو قبول کریں اور جنہیں اس راہ میں مخالفتوں ، اور مصائب سے دوچار ہونا پڑے۔ ایسے لوگوں کے سامنے حق و باطل کی کشمکش کی تاریخ پیش کی جا رہی ہے کہ تم سے پہلے جن لوگوں نے اس راہ میں قدم رکھے ان کو خدا کے سرکش بندوں سے سخت مقابلہ پیش آیا اور اپنی جانیں جوکھوں میں ڈال کر حق کی علمبرداری کرنا پڑی۔ گذشتہ امتوں کو راہ حق میں کیسی سختیاں برداشت کرنا پڑیں اس کا اندازہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی اس حدیث سے ہو گا جس میں آپؐ فرماتے ہیں :

قد کانَ مَنْ قبلکم یؤخَذُ الرجلُ فَیُحْفِرُلَہٗ فی الارضِ فَیُجعلُ فِیہا ثم یُؤتٰی بالمنشارِ فَیوضعُ عَلٰی راسِہٖ فَیُجْعَلُ نِصْفَیْنِ وَیُمْشطُ بِامْشَاطِ الحدیدِ مَادُوْنَ لَحْمِہٖ وَعَظمِہٖ مَایَصُدُّہٗ ذَلِکَ عَنْ دِیْنِہٖ (البخاری) ” جو لوگ تم سے پہلے گزرے ہیں ان کے ساتھ ایسے ایسے واقعات پیش آئے ہیں کہ کسی کو پکڑ کر زمین میں گڑھا کھودا جاتا اور اس میں اسے کھڑا کر دیا جاتا اور آرا اس کے سر پر رکھ کر اس طرح چلایا جاتا کہ اس کے دو ٹکڑے ہو جاتے اور لوہے کے کنگھے جسم پر چبھوئے جاتے جو گوشت سے گزر کر ہڈیوں تک نفوذ کر جاتے، ان سختیوں کو وہ برداشت کرنا لیکن اپنے دین (اسلام) سے نہ پھرتا”

۳۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ایک اصولی حقیقت ہے جو یہاں واضح کی گئی ہے انسان کا معاملہ بھی عجیب ہے جو چیزیں اس کے نفس کو مرغوب ہیں وہ بالعموم اس کو پست کرنے والی ہیں اور جو چیزیں اس کو بلند کرنے والی ہیں وہ اس کے نفس پر شاق ہیں۔ لہٰذا اگر خیر و شر کا معاملہ انسان پر چھوڑ دیا جائے تو وہ اکثر غلط فیصلے کر بیٹھے گا۔ وہ ایسی کتنی ہی باتوں کو غلط قرار دے گا جو اس کے نفس پر شاق ہیں لیکن در حقیقت وہ اس کے اخلاقی ارتقاء اور شرف انسانیت کے حصول کا ذریعہ ہیں اور وہ ان باتوں کو پسند کرے گا جو اس کے لیے آسان ہیں اور نفس کو مرغوب ہیں لیکن در حقیقت وہ اس کے اخلاقی تنزل اور پستی کا سبب ہیں اس لیے مسائل حیات میں اس کی رہنمائی کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر لی ہے۔

جنگ اپنے ظاہر کے لحاظ سے بڑی ہولناک چیز ہے، لیکن بعض اوقات اعلیٰ مقاصد کے حصول اور انسانیت کو تباہی سے بچانے کے لیے ناگزیر ہو جاتی ہے۔

اس آیت میں جس جنگ کو فرض قرار دیا گیا ہے وہ اللہ کی راہ میں کی جانے والی جنگ ہے جو حالات کے اعتبار سے ناگزیر ہو جیسا کہ خانۂ کعبہ کو مشرکین کے قبضہ سے آزاد کرانے، غلبۂ دن اور اہل ایمان کے تحفظ کے لیے مدینہ کے مسلمانوں کے لیے جنگ ناگزیر ہو گئی تھی۔

۳۱۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی انسان غلط رائے قائم کر سکتا ہے اور ٹھوکر کھا سکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا علم چونکہ ظاہر و باطن سب کو محیط ہے اس لیے اس کی رہنمائی صحیح رہنمائی ہے، اور اس میں کسی قسم کی غلطی کا امکان نہیں۔

۳۱۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی تشریح نوٹ ۲۶۳ میں گزر چکی۔

۳۱۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس سے فتنہ کی نوعیت کا اندازہ ہوتا ہے جس میں اس وقت اہل ایمان مبتلا ہو گئے تھے یعنی ان کا دین و ایمان سخت خطرہ میں پڑ گیا تھا اس بنا پر انہیں قتال کی اجازت دے دی گئی تھی۔

۳۱۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے مدینہ ہجرت کر جانے کے بعد آپ کی نصرت اور اپنے دین و ایمان کے تحفظ کے لیے مکہ سے ہجرت کا حکم دیا گیا تھا۔ اس آیت کا اشارہ اسی کی طرف ہے۔

۳۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شراب ایک الکوحلی مادہ ہے جو نشہ پیدا کرتا ہے اس کے مضر اثرات عقل اور جسم دونوں پر مرتب ہوتے ہیں اور وہ انسان کی روحانی اور اخلاقی زندگی کے لیے خطرناک ہونے کے علاوہ خاندان ، سماج اور قوم کے لیے زبردست تباہیاں لاتی ہے۔ اگرچہ کہ شراب سے وقتی طور پر کچھ فائدہ بھی پہنچتا ہے مثلاً اس کے محرک ہونے کی وجہ سے آدمی اپنی قوت کار کردگی میں اضافہ محسوس کرنے لگتا ہے اور کسی کام کو انجام دینا اس کے لیے آسان سا ہو جاتا ہے لیکن نہ صرف یہ کہ وہ اخلاقی پہلو سے سخت نقصان دہ چیز ہے بلکہ طبعی طور پر بھی نہایت مضر ہے۔ ذیل میں ہم انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس سے چند اقتباسات پیش کرتے ہیں جن سے شراب کی مضرتوں پر روشنی پڑتی ہے۔ اس سے اندازہ ہو گا کہ قرآن نے شراب کو حرام قرار دیکر انسان کو کن کن مفاسد سے بچانا چاہا ہے۔

EXTRACTS FROM ENCYCLOMPEDIA OF RELIGION AND ETHICS VOL. I ALCOHOL

__ When enough alcohol is taken to produce intoxication, judgment, self control, perception, and the other higher faculties are affected first with greater facility in thought and speech, there is a certain disregard of the environment, a quiet person may become lively and witty, unwanted confidences are given and there may be obsertiveness and quarrelsomeness. Singing, shouting and other noisy demonstrations indicated the free play of the emotions. . . Such persons may suffer from an insane or alcoholic heredity. . . An automatic dream state, in which complicated, it may be criminal, actions are performed quite unconsciously, is some times induced by acute alcoholism. (P. 300)

__ Self respect becomes impaired and by selfishness, neglect of wife, children and other dependents loosening of self control and want of truthfulness, the moral deterioration is signalized. (P. 300)

__ It is estimated that in this country (U. K.) alcohol accounts for 100,000 to 120,000 deaths per annum. (P. 301)

__ Alcohol is a poison for protoplasm.

__ Large number of psychometric experiments under conditions of the greatest accuracy prove that alcohol in small dietetic doses exercises a distinctly paralyzing effect on the working of the brain. (P. 299)

__ The amount of work is increased and more easily performed, but after a brief period extending almost to 20 or 30 minutes, there comes a prolonged reaction, so that the total effect is distinctly disadvantageous. (P.299)

__ On the whole experiments show that alcohol does not strengthen the heart but rather the reverse (P. 300)

__ There is universal testimony as to the close relationship between excessive drinking and breaches of the moral law and the laws of the state. This is a direct consequence of the higher faculties, intellectual and moral, and the resulting free play given to the lower inclinations. Alcohol cannot only be a direct cause of crime, but it acts powerfully along with other conditions such as hereditary nervous weakness or instability of the brain (P. 301)

۳۱۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جُوا اخلاقی اور معاشی مضرتوں کی بنا پر حرام قرار دیا گیا ہے۔ اس کی مضرتیں مختصراً درج ذیل ہیں۔

(۱) جوا انسان کو بخت و اتفاق اور خالی آرزوؤں پر بھروسہ کرنا سکھاتا ہے، عملی جدوجہد اور ان اسباب پر بھروسہ کرنا نہیں سکھاتا جنہیں اللہ نے پیدا فرمایا ہے، اور اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ انسان نتائج کو اسباب کے ذریعہ حاصل کرے۔

(۲) جو ا لوگوں کا مال باطل طریقہ سے کھانے کے مترادف ہے۔

(۳) اس سے جوا کھیلنے والوں کے درمیان بغض و عداوت پیدا ہوتی ہے۔ مغلوب اگرچہ کہ خاموشی اختیار کرتا ہے مگر اس کی خاموشی غیظ و غضب لیے ہوئے ہوتی ہے۔

(۴) جوئے کا شوق فرد ہی کے لیے نہیں سماج کے لیے بھی شدید خطرہ کا باعث ہے۔ جوئے باز اپنے نفس اور اپنے خاندان کی ذمہ داریوں کی طرف سے بے پروا ہو جاتا ہے۔ ایسے لوگوں سے بعید نہیں کہ وہ اپنے دین، اپنی عزت اور اپنے وطن کو بھی اپنے مفاد کی خاطر بیچ دیں۔

(۵) قرآن نے شراب اور جوئے کو ایک حکم میں رکھ کر اس حقیقت پسندی کا ثبوت دیا ہے کہ دونوں چیزیں فرد خاندان، وطن اور اخلاقی سب کے لیے یکساں طور سے مضر ہیں۔ قمار باز کا معاملہ شرابی سے بہت مشابہ ہوتا ہے بلکہ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ ایک کا وجود  دوسرے کے بغیر پایا جائے۔

(خلاصہ از اسلام میں حلال و حرام از یوسف قرضاوی ۳۸۴)

جوئے کی مضرتوں کے بارے میں انسائکلو پیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس کے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں۔

EXTRACTS FROM ENCYCLOPEDIA OF RELIGION AND ETHICS VOL. 6 GAMBLING

__ On the Aryan races gambling has a special hold. A famous hymn of the Rigveda (x34) vividly sets forth the woe of the ruined gambler, and the length to which gambling was carried in India is well illustrated by the episode of Nula and Damayanti in the Mahabharata (iii 59-61) where the Prince loses all that he has. . . . . Sanskrit Literature abounds in allusions to the evils of play (P. 1))

__ The vicious tendency of gambling has never been called in question. Lord Beaconsfield spoke of it as a vast engine of national demoralization (P. 66)

__ The economic aspect needs no discussion. Gambling add nothing to the wealth to the community. (P. 166)

__ Though it is in society that the temptation comes, gambling itself is anti-social. It is, as Herbert Spencer says, a kind of action by which pleasure is obtained at the cost of the pain to another. The happiness of the winner implies the misery of the loser. This kind of action, therefore, is essentially anti-social, it scares the sympathies, cultivates a hard egoism and so produces a general deterioration of character, it is a habit intrinsically savage. . . . in an atmosphere of brotherhood no form of gambling could exist. (P. 166)

__ There are only three ways in which property can be legitimately acquired by gift, by labour, and by exchange. Gambling stands outside all of these.

__ Its motive is, however carefully disguised, covetousness. It is an attempt to get property without paying the price for it. It is a violation of the law of equivalents. It is a kind of robbery, just as agreement is still treated as murder. It is begotten of covetousness, it leads to idleness – it is moreover an appeal to chance__ it concentrates attention upon luck, and thereby withdraws attention from worthier objects of life.

۳۱۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زمانۂ جاہلیت میں لوگ شراب پی کر جوا کھیلتے تھے اور دستور یہ تھا کہ اس موقع پر اونٹ ذبح کرتے اور جو جیت جاتا وہ غریبوں میں اس کا گوشت تقسیم کرتا اس بنا پر شراب اور قمار کو فیاضی کا محرک سمجھا جاتا تھا۔ خدمت خلق کے اس پہلو کے پیش نظر لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ جب قرآن انفاق پر زور دے رہا ہے تو شراب اور جوئے کی اس افادیت کے پیش نظر ان کا کیا حکم ہے؟ قرآن نے اس کا جواب یہ دیا کہ شراب اور جوئے میں فائدے کے چند پہلو ضرور ہیں لیکن ان کے اخلاقی نقصانات ان کے فوائد سے بڑھ کر ہیں اس لیے اس نے ان دونوں چیزوں کو حرام قرار دیا ہے اس سے یہ اصولی حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جن چیزوں کو شریعت میں حرام ٹھہرایا گیا ہے ان کی حرمت اس بنا پر نہیں ہے کہ ان کے اندر مادی فائدہ یا خدمت خلق کا کوئی پہلو موجود نہیں ہے بلکہ یہ چیزیں اس بنا پر حرا م ہیں کہ ان کے اخلاقی مفاسد ان کے ان فوائد سے بڑھ کر ہیں لہٰذا جو چیزیں بظاہر نوع انسانی کے لیے مفید معلوم ہوتی ہوں لیکن اخلاقی اعتبار سے ضر ر کا پہلو غالب ہو تو ایسی چیزوں سے احتراز ہی کرنا چاہیے اس اصولی حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگ ایک جائز مقصد کے لیے ناجائز طریقوں کو اختیار کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے مثلاً تعلیمی امداد کے لیے رقص و سرور کی مجلسیں منعقد کرنا یا مصیبت زدگان کی مدد کے لیے فلم اسٹاروں کے مظاہرے یا فلمی شو کا پروگرام مفید اور خدمت خلق کا کام سمجھا جاتا ہے حالانکہ ان کے اندر گناہ کی پرورش اور اخلاق کو بگاڑنے کا پورا سامان موجود ہوتا ہے اور یہ نقصان اس کے فائدے سے کہیں بڑھ کر ہوتا ہے اس لیے اسلام اچھے مقاصد کے لیے بُرے ذرائع کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

۳۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس انفاق کا تعلق جہاد سے ہے بعض اوقات ایسے حالات پیش آ جاتے ہیں کہ دین و ملت کے تحفظ کے لیے آدمی کو اپنا سب کچھ لٹانا پڑتا ہے۔ اس وقت چونکہ خانۂ کعبہ کو مشرکین کے قبضہ سے آزاد کرانا مہتمم بالشان کام تھا اور اس مقدس ترین جہاد میں غیر معمولی قربانیوں کی ضرورت تھی اس لیے حکم دیا گیا کہ اپنی ناگزیر ضروریات اور مستحقین پر خرچ کرنے کے بعد جو کچھ فاضل بچ رہے وہ سب اللہ کی راہ میں قربان کر دو۔

۳۲۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی دنیا اور آخرت دونوں کے فوائد و مصالح پر غور و فکر کرو اور اپنی فکر متوازن بناؤ۔ عام طور سے لوگ یا اس انتہا پر ہوتے ہیں یا اس انتہا پر۔ یا تو شراب و قمار کو بھی جائز قرار دیتے ہیں یا جائز چیزوں کو بھی حرام ٹھہرا کر دین کو رہبانیت کی شکل دیتے ہیں۔ قرآن فکر انسانی کی اس طرح تربیت کرتا ہے کہ اس میں توازن پیدا ہو جائے اور وہ دنیا و آخرت دونوں کے مصالح کو سمجھ سکے۔

۳۲۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یتیموں کے مال کی حفاظت کے تعلق سے قرآن نے جو احکام دئے ہیں وہ بڑے سخت ہیں۔ اس کے پیش نظر لوگ اس حد تک احتیاط برتنے لگے تھے کہ جس گھر میں کوئی یتیم بچہ ہوتا اس کے کھانے پینے کا انتظام بالکل الگ کر دیا جاتا حتی کہ اگر یتیم کے کھانے میں سے فاضل بچ جاتا تو اس کے بھی کھانے سے احتراز کرتے کہ کہیں یہ یتیم کا مال کھانے کی تعریف میں نہ آ جائے۔ اس شدت احتیاط کی وجہ سے لوگ پریشانی محسوس کرنے لگے تھے اور یہ سوال پیدا ہو گیا تھا کہ اگر یتیموں کا مال اپنے مال میں شامل کر کے کھانا پینا مشترک رکھا جائے تو کیا یہ جائز ہو گا؟ اسی سوال کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے کہ جو طریقہ یتیموں کی بھلائی کے نقطۂ نظر سے اختیار کرنا بہتر ہو وہی اختیار کیا جائے۔ اگر اپنے ساتھ شامل کر لینا ان کے حق میں مفید معلوم ہو تو اسے اختیار کیا جا سکتا ہے ساتھ ہی تنبیہ کر دی کہ اللہ اچھی طرح جانتا ہے کہ کون اس اجازت سے غلط فائدہ اٹھا کر یتیموں کا مال ہڑپ کرنا چاہتا ہے اور کون اس کی واقعی حفاظت کرنا چاہتا ہے لہٰذا اس معاملہ میں اللہ سے ڈرو۔

۳۲۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس لیے اس کا یہ حکم بھی مصلحت اور حکمت پر مبنی ہے۔

۳۲۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یتیموں کے حقوق کی حفاظت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ ان کی ماؤں سے نکاح کر لیا جائے۔ قرآن نے اس مصلحت کو اہم قرار دیکر اس کی اجازت دے دی لیکن شرط یہ مقرر کی کہ وہ مومنہ ہوں۔ مشرک عورتوں سے نکاح کی بہر حال اجازت نہیں ہے کیونکہ ازدواجی رشتہ کے اثرات گہرے ہوتے ہیں۔ بیوی کے مشرکانہ عقائد و اعمال کا اثر شوہر، اولاد اور پورے خاندان پر پڑ سکتا ہے۔ بیوی گھر میں بت رکھے تو بچوں کا بت پرستی سے محفوظ رہنا مشکل ہے کیونکہ جب وہ اپنی ماں کو بت کی پرستش کرتے ہوئے دیکھیں گے تو خود بھی کرنے لگیں گے۔

اسی طرح ایک مسلمان عورت کا مشرک مرد سے نکاح عورت کے لیے زبردست فتنہ کا باعث ہے۔ قرآن نے اس رشتہ کو حرام قرار دینے کی وجہ بھی صاف صاف بیان کر دی کہ یہ لوگ آگ کی طرف بلاتے ہیں اس لیے ایسے رشتہ سے اہل ایمان کو لازماً احتراز کرنا چاہیے۔

اس حکم میں بت پرست متعدد خداؤں کو ماننے والے، کافر اور ملحد بھی شامل ہیں۔ البتہ اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت اس سے مستثنیٰ ہے، جس کا بیان سورۂ مائدہ آیت ۵ میں دیا گیا ہے۔

قرآن کے اس نصی حکم کے پیش نظر بین المذاہبی (Inter Religious) شادیوں کو مسلمانوں کے اندر رواج دینے کی قطعاً گنجائش نہیں ہے اور نہ سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے حرام کو حلال ٹھہرایا جا سکتا ہے۔

۳۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تورات میں بھی مشرکین سے شادی بیاہ نہ کرنے کا حکم موجود ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ صورت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں بھی حرام تھی۔

” تو ان سے بیاہ شادی بھی نہ کرنا، نہ ان کے بیٹوں کو اپنی بیٹیاں دینا اور نہ اپنے بیٹوں کے لیے ان کی بیٹیاں لینا۔ کیوں کہ وہ تیرے بیٹوں کو میری پیروی سے برگشتہ کر دیں گی تاکہ وہ اور معبودوں کی عبادت کریں۔ یوں خداوند کا غضب تم پر بھڑکے گا اور وہ تجھ کو ہلاک کر دے گا۔ ” (استثناء باب ۷ :۳،۴)

۳۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایام ماہواری میں عورتوں سے علیحدہ رہنے کا جو حکم دیا گیا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ عورت کو اچھوت بنا کر رکھ دیا جائے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف مباشرت سے اجتناب کیا جائے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی احادیث سے واضح ہے۔

اہل کتاب کے ہاں حائضہ کو چھونا بھی آدمی کو ناپاک بنا دیتا تھا (ملاحظہ ہو احبار ۱۵:۲۰: ۱۹) لیکن اسلام نے ان بوجھل احکام کو ختم کر کے صرف مباشرت کی حد تک علیحدگی کا حکم دیا جو معقول بھی ہے اور طبی نقطۂ نظر سے صحیح بھی۔

۳۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جب حیض ختم ہو جائے تو مباشرت کی پابندی نہیں رہی لیکن بہتر یہ ہے کہ جب عورت نہا دھو کر اچھی طرح پاک صاف ہو جائے تو اس سے قربت کی جائے۔

۳۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں حکم سے مراد فطری حکم ہے جو انسان کی جبلت میں ودیعت کر دیا گیا ہے۔ اس سے یہ اصولی حقیقت واضح ہوتی ہے کہ فطرت کے احکام اللہ کے احکام ہیں خواہ الفاظ میں ان کا حکم دیا گیا ہو یا نہ دیا گیا ہو مثلاً پاؤں سے چلنا فطرت کا حکم ہے لیکن اگر کوئی شخص ہاتھ سے یا سر کے بل چلنا چاہے تو یہ فطرت کے حکم کی خلاف ورزی ہو گی اسی طرح مباشرت کا طریقہ ہر شخص فطرتاً جانتا ہے لیکن اگر کوئی شخص مباشرت کا ایسا طریقہ اختیار کرتا ہے جو خلاف فطرت ہے تو وہ نہ خدا کے حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے بلکہ اپنے کو حیوانات سے بھی بدتر ثابت کرتا ہے کیونکہ حیوانات خلاف فطرت طریقہ اختیار نہیں کرتے۔

۳۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عورت کو کھیتی سے تشبیہہ اس بنا پر دی گئی ہے کہ آدمی اپنی کھیتی میں جانے کے لیے آزاد ہوتا ہے کہ جس طرح چاہے جائے مگر اس کا جانا بیج بونے اور فصل حاصل کرنے کے لیے ہوتا ہے بیوی کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے ، شریعت نے اس کو اس بات کی آزادی دی ہے کہ وہ مباشرت کا جو طریقہ مناسب سمجھے اختیار کرے لیکن مقصود اولاد کا حصول ہو۔ شریعت کی طرف سے مباشرت کے طریقوں کے سلسلہ میں صرف اس بات کی پابندی ہے کہ خلاف فطرت طریقہ نہ اختیار کیا جائے جس کی تشریح اوپر کے نوٹ میں گزر چکی۔

۳۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جس طرح آدمی کھیتی کے ذریعہ اپنے معاشی مستقبل کا انتظام کرتا ہے اسی طرح اپنی عورتوں سے مباشرت کے ذریعہ نسل انسانی کے مستقبل کا سامان کرو اور اپنی اولاد کی صحیح تربیت کر کے اپنے اخروی سرمایہ میں اضافہ کرو۔

اس سے یہ بات اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن کا منشا نسل انسانی کی افزائش ہے اس لیے اس پر کوئی پابندی عائد کرنا قرآن کے منشاء کے خلاف ہو گا۔

۳۳۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اللہ کے مقدس نام کو غلط کاموں کے لیے استعمال نہ کرو۔ بھلائی تقویٰ اور اصلاح بین الناس کے کاموں کے خلاف قسمیں کھا بیٹھنا اسلام میں جائز نہیں ہے اگر کوئی شخص ایسی قسم کھا بیٹھے تو اسے توڑ دینا چاہیے اور اس کا کفارہ ادا کرنا چاہیے۔ آگے “ایلاء” (بیوی سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا بیٹھنا) کا حکم بیان کیا جا رہا ہے اس لیے اس سے پہلے اللہ کے نام کی قسم کھانے کی اہمیت واضح کر دی اور غلط مقاصد کے لیے اس کے نام کو استعمال کرنے سے منع فرمایا۔

۳۳۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اگر تم نے اللہ کے عظیم نام کو ہدف بنایا تو یہ نہ بھولو کہ اللہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

۳۳۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جو قسمیں بلا ارادہ تکیہ کلام کے طور پر کھائی گئی ہوں ان پر مواخذہ نہیں ہو گا، البتہ جو قسمیں دل کے ارادہ کے ساتھ کھائی گئی ہوں ان میں اگر اللہ کے نام کو غلط طور سے استعمال کیا گیا ہو تو ایسی قسموں پر ضرور مواخذہ ہو گا۔

۳۳۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس آیت میں ” ایلاء” کا حکم بیان کیا گیا ہے ایلاء ایک شرعی اصطلاح ہے جس کے معنی ازدواجی تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا لینے کے ہیں۔ یہ طریقہ زمانہ جاہلیت میں رائج تھا جس کی وجہ سے بیوی معلق ہو کے رہ جاتی تھی اسلام نے اس میں اصلاح کی۔ اس مدت کے اندر یا تو وہ تعلقات بحال کر لیں یا پھر طلاق دے دیں اگر چار ماہ کی اس مدت میں شوہر نے تعلقات بحال نہیں کئے تو مدت گزر جانے پر ایک طلاق آپ سے آپ پڑ جائے گی اور وہ بائن (Irrevocable) ہو گی یعنی عدت کے اندر رجوع کا حق نہ ہو گا البتہ اگر میاں بیوی دونوں چاہیں تو دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔

۳۳۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ تنبیہ کا انداز ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے بیوی کو ناروا بات پر چھوڑا ہے تو یاد رکھو اللہ اس سے بے خبر نہیں ہے۔

۳۳۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس توقف یعنی دوسری شادی سے رک جانے کا نام شرعی اصطلاح میں ” عدت” ہے عدت کا یہ حکم گوناگوں مصالح پر مبنی ہے مثلاً رحم کی پاکیزگی ، تاکہ اولاد کے بارے میں اشتباہ نہ ہو، شوہر کے حق کی رعایت اور زوجیت کا احترام وغیرہ۔ مطلقہ کی عدت تین حیض مقرر کی گئی ہے جس کی ایک اہم مصلحت یہ ہے کہ شوہر کو اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کا موقع مل جائے اگر اس نے طلاق پہلی یا دوسری مرتبہ دی ہو اور وہ عدت کے دوران رجوع کرنا چاہتا ہے تو کر سکتا ہے البتہ اسے رجوع اسی صورت میں کرنا چاہیے جبکہ وہ اصلاح کا ارادہ رکھتا ہو، عورت کو تنگ کرنا مقصود نہ ہو ورنہ اس حق کا یہ ظالمانہ استعمال ہو گا۔

۳۳۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی مرد یہ نہ سمجھے کہ حقوق صرف ان ہی کے ہیں اور بیویوں کا ان پر کوئی حق نہیں ہے بلکہ جس طرح بیوی پر شوہر کے حقوق ہیں اسی طرح شوہر پر بیوی کے بھی حقوق ہیں۔ یہ حقوق دونوں کی فطرت کے لحاظ سے بالکل متوازن ہیں۔ اور ان کا لحاظ کرنے ہی پر ازدواجی زندگی کی خوشگواری کا انحصار ہے۔

۳۳۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ درجہ قوام اور ذمہ دار ہونے کا ہے۔ اسلام نے خاندان کا سربراہ مرد کو بنایا ہے کیونکہ فطری طور پر مرد ہی اس کے لیے موزوں ہے نہ کہ عورت۔ رہا مغرب کا نظریۂ مساوات جس کی روح سے مرد و زن میں کامل مساوات ہونی چاہیے تو یہ مغربی تہذیب کا تقاضا ضرور ہے لیکن عقل و فطرت کا تقاضا نہیں ہے۔ جب قدرتی طور پر دونوں کی جسمانی ہیئت اور فطری صلاحیتوں میں فرق موجود ہے تو ان کے تقاضے بھی مختلف ہوں گے اس بنا پر مرد کو ایک گونہ برتری کا حاصل ہو جانا عقل و فطرت کے عین مطابق ہے۔ اس استثناء کے ساتھ اسلام عورتوں کے حقوق کا نہ صرف قائل ہے بلکہ شرعی احکام قوانین کے ذریعہ ان کے تحفظ کا پورا پورا اہتمام کرتا ہے۔ اسلام کے عائلی قوانین اسی بنیاد پر مرتب ہوئے ہیں لہٰذا اگر اس بنیاد کو ڈھا دیا جائے تو اسلام کا پورا عائلی نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔

۳۳۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ غالب ہے لہٰذا اس کے احکام کی مخالفت سے ڈرو ورنہ اس کے عذاب سے بچ نہ سکو گے اور وہ حکیم ہے اس لیے اس کے احکام گہری مصلحت و حکمت پر مبنی ہیں لہٰذا اس کے احکام کو غلط اور اپنے نظریات کو صحیح سمجھنا حماقت کے سوا کچھ نہیں۔

۳۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ طلاق ایک شرعی اصطلاح ہے جس کے معنی بیوی کو قید نکاح سے آزاد کر دینے کے ہیں۔ اسلام نے ازدواجی رشتہ کو مضبوط اور پائیدار بنانے کے لیے نہایت واضح احکام دئے ہیں لیکن اس حقیقت کے پیش نظر کہ بعض حالات میں اس رشتہ کا برقرار رہنا مسفدہ کا باعث بن جاتا ہے طلاق کی اجازت دیدی ہے تاکہ میاں اور بیوی کو تلخ زندگی گزارنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔ اسلام نے اپنے عائلی قوانین میں جہاں طلاق کی گنجائش رکھی ہے وہاں اسے ایک نا پسندیدہ چیز بھی قرار دیا ہے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے ابغضُ الحلالِ الی اللّٰہ الطلاقُ۔ (ابوداؤد)

” اللہ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے زیادہ نا پسندیدہ چیز طلاق ہے۔ ”

گویا شریعت کا منشاء یہ ہے کہ شوہر طلاق دینے کا یہ اختیار اس صورت میں استعمال کرے جبکہ وہ ناگزیر خیال کرتا ہو۔

شریعت نے طلاق کی جو صحیح شکل تجویز کی ہے اس کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ اس سلسلہ کے بعض احکام آگے آ رہے ہیں۔

یہ بھی واضح رہے کہ اسلام نے جہاں مرد کو طلاق کا اختیار دیا ہے وہاں عورت کے لیے بھی مرد سے چھٹکارا پانے کی کچھ صورتیں تجویز کی ہیں جن میں سے ایک صورت خلع کی ہے، جس کا حکم اسی آیت میں موجود ہے۔

طلاق کا حکم شریعت موسوی میں موجود تھا لیکن اہل کتاب نے اس میں بڑی بے اعتدالی اختیار کی، یہودیوں نے اسے نہایت آسان بنا دیا اور نصاریٰ نے نہایت مشکل۔ چنانچہ موجودہ تورات میں ہے۔

“اگر کوئی مرد کسی عورت سے بیاہ کرے اور پیچھے اس میں کوئی ایسی بیہودہ بات پائے جس سے اس عورت کی طرف اس کی التفات نہ رہے تو وہ اس کا طلاق نامہ لکھ کر اس کے حوالہ کرے اور اسے اپنے گھر سے نکال دے اور جب وہ اس کے گھر سے نکل جائے تو دوسرے مرد کی ہو سکتی ہے” (استثناء ۲۴:۱، ۲)

یہود کے ہاں یہ قاعدہ بھی تھا کہ طلاق دینے کے بعد شوہر اسے پھر اپنی زوجیت میں واپس نہیں لے سکتا تھا۔

دوسری طرف موجودہ انجیل میں ہے۔

” اس لیے جسے خدا نے جوڑا ہے اسے آدمی جدا نہ کرے اور گھر میں شاگردوں نے اس سے اس کی بابت پھر پوچھا۔ اس نے ان سے کہا کہ کوئی اپنی بیوی کو چھوڑ دے اور دوسری سے بیاہ کرے وہ اس پہلی کے بر خلاف زنا کرتا ہے اور عورت اگر اپنے شوہر کو چھوڑ دے اور دوسرے سے بیاہ کرے تو زنا کرتی ہے۔ ” (مرقس ۱۰:۹، ۱۲)

اس بنا پر نصاریٰ نے طلاق کو مطلقاً حرام قرار دیا اور صرف اس صورت میں جائز رکھا جبکہ بیوی زنا کی مرتکب ہو۔ لیکن اگر حقیقت پسندانہ نقطۂ نظر اختیار کیا جائے تو زنا کے علاوہ اور اسباب بھی طلاق کے لیے معقول قرار دئے جا سکتے ہیں چنانچہ انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس کا مولف لکھتا ہے۔

“Although it is evident that adultery affects the marriage relation more closely than any other offence, yet it may fairly be said that there are other things which may make married life so intolerable, and the perfect ideal union so impossible that if divorce or separation be allowed at all, the grounds for such separation ought not in reason to be confined to the one offence of adultery. . . There are offences which make life so intolerable that there can be no restoration of affection, that, where the tie of affection has been absolutely destroyed, the real vinculum has been ruptured and that therefore, such offences may rightly be put in the same category as conjugal infidelity in the strict sense of the word. (Encyclopedia of Religion and Ethics V. VIII P. 438)

اسلام کا موقف دو انتہاؤں کے درمیان اعتدال کا ہے، چنانچہ اس نے ایک طرف طلاق کو نا پسندیدہ قرار دیا دوسری طرف طلاق کے اختیار کو استعمال کرنے کے سلسلہ میں حدود و شرائط بھی متعین کر دئے۔

۳۴۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ” طلاق دو مرتبہ ہے” کا مطلب یہ ہے کہ رجعی طلاق (Revocable divorce) کا موقع دو بار ہے بالفاظ دیگر طلاق اسلام میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ آدمی ایک ہی جھٹکے میں رشتہ نکاح کو ختم کر کے رکھ دے بلکہ اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرنے کا اس کو دو مرتبہ موقع دیا گیا ہے۔ وہ نہ صرف پہلی بار طلاق دینے کے بعد رجوع کر سکتا ہے بلکہ دوسری بار طلاق دینے پر بھی رجوع کا موقع باقی رہتا ہے البتہ اس نے اگر تیسری دفعہ طلاق دینے کا فیصلہ کیا اور طلاق دیدی تو پھر رجوع کا موقع باقی نہیں رہتا جس کا حکم آگے آ رہا ہے۔

زمانۂ جاہلیت میں مرد بار بار طلاق دیتا اور رجوع کرتا رہتا جس سے عورت کی زندگی دوبھر ہو جاتی قرآن نے اس ظلم کا سد باب کیا اور رجعی طلاقوں کو دو مرتبہ تک کے لیے محدود کر دیا اگر کسی نے اپنی عمر میں تیسری مرتبہ اس بیوی کو طلاق دے دی تو پھر اسے رجوع کا حق باقی نہیں رہے گا۔

اسلام میں طلاق دینے کا صحیح طریقہ ہے کہ عورت کے حالت طہر میں ہونے کی صورت میں جس میں مجامعت نہ کی گئی ہو ایک طلاق دیدی جائے۔ اس کے بعد عورت کو عدّت گزارنا ہو گی (جو تین ایام ماہواری یا حاملہ ہونے کی صورت میں وضع حمل تک کی مدت ہے) اس عدت کے دوران شوہر کو رجوع کا حق ہو گا لیکن اگر شوہر رجوع کرنا نہیں چاہتا تو عدت گزرنے دے۔ عدت گزر جانے پر عورت قید سے آزاد ہو جائے گی لیکن دونوں کے لیے باہم رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنے کا موقع باقی رہے گا، رجوع کرنے یا دوبارہ نکاح کرنے کے بعد اگر شوہر نے دوسری مرتبہ طلاق دے دی تو اسے پھر دوران عدت رجوع کرنے اور عدت گزر جانے پر باہم رضامندی سے نکاح کرنے کا موقع حاصل رہے گا۔ لیکن اگر دوسری مرتبہ رجوع کرنے یا نکاح کرنے کے بعد شوہر نے تیسری مرتبہ طلاق دیدی تو یہ طلاق مغلظ (Absolute) ہو گی جس کے بعد نہ رجوع کا حق باقی رہتا ہے اور نہ باہم رضامندی سے نکاح کیا جا سکتا ہے تاوقتیکہ وہ عورت دوسرے شوہر سے نکاح نہ کر لے اور وہ اسے اپنی مرضی سے طلاق نہ دیدے۔

سورۂ طلاق میں جو بعد میں نازل ہوئی یہ حکم صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ طلاق عدت کے لیے دی جائے۔

اِذَاطَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْ ہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ (الطلاق۔ ۱)

” جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے لیے طلاق دو۔ ”

اس سے قرآن کا یہ منشاء بخوبی واضح ہوتا ہے کہ کوئی طلاق بغیر عدت کے وقفہ کے نہیں ہونی چاہے بالفاظ دیگر دو مرتبہ کی طلاقیں عدت کے دو وقفوں کو ملتزم ہیں۔

رہا بیک وقت تین طلاقیں دینے کا طریقہ تو یہ شرعی نہیں بلکہ خلاف شرع اور خلاف سنت ہے۔ لوگ شرعی احکام سے ناواقفیت کی بنا پر یا غصہ اور جذبات کی حالت میں طلاق طلاق طلاق یا تین طلاق کے الفاظ ایک ہی مجلس میں کہہ دیتے ہیں ایسی طلاق پر تین طلاق (طلاق مغلظAbsolute divorce) کا حکم منطبق کرنا نہ قرآن کا منشاء ہے اور نہ کوئی معقول اور منصفانہ بات ہے اس لیے قرین صواب یہی ہے کہ اکٹھی تین طلاقوں کو ایک طلاق رجعی کے حکم میں رکھا جائے تاکہ مرد کو اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرنے اور رجوع کرنے کا پورا موقع ملے جسے ایک اہم قاعدہ کی حیثیت سے قرآن نے اپنے ضابطۂ طلاق میں شامل کیا ہے۔

۳۴۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی دو طلاقوں کی حد تک شوہر چاہے تو عدت کے دوران رجوع کر سکتا ہے البتہ یہ رجوع بھلے اور شریفانہ طریقہ پر بیوی بنائے رکھنے کی غرض سے ہونا چاہیے نہ کہ ستانے اور پریشان کرنے کی غرض سے۔

۳۴۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اگر رخصت کرنا ہو تو خوبصورتی کے ساتھ رخصت کرو۔ جس بیوی کے ساتھ محبت کے تعلقات رہ چکے ہیں اور جو صنف نازک بھی ہے اس کو کچھ دے دلا کر احسان کے ساتھ رخصت کرنا ہی مرد کے شایان شان ہے۔

۳۴۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ طلاق کی صورت میں مرد کو نہ مہر واپس طلب کرنا چاہیے اور نہ وہ تحفے تحائف جو اس نے بیوی کو دئے ہوں۔ کیونکہ دی ہوئی چیز کو واپس لینا جبکہ مرد خود ہو کر عورت کو چھوڑ دہا ہو اخلاقاً صحیح نہیں ہے اور مہر تو عورت کا حق ہی ہے اس لیے اس کو واپس لینے کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا، البتہ خلع کی صورت اس سے مستثنیٰ ہے جس کا بیان اس کے متصلاً بعد ہوا ہے۔

۳۴۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ازدواجی تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے جن حدود کا لحاظ ضروری ہے اگر ان کا لحاظ شوہر اور بیوی نہیں رکھ سکتے تو بیوی فدیہ کے طور پر شوہر کو کچھ دے کر یا مہر واپس کر کے چھٹکارا حاصل کر سکتی ہے جسے اصطلاح میں ” خلع” کہتے ہیں ” اگر تمہیں اندیشہ ہو” کا خطاب مسلم معاشرہ سے ہے اور مسلم معاشرہ اپنی یہ ذمہ داری عدالت کے ذریعہ پوری کر سکتا ہے اس لیے اگر عورت خلع چاہتی ہو اور مرد اس کے لیے آمادہ نہ ہو تو عورت کو یہ حق ہے کہ معاملہ اسلامی عدالت میں لے جائے۔ اور عدالت یہ اطمینان کر لینے کے بعد کہ دونوں کا نباہ نہیں ہو سکتا خلع کا فیصلہ کرے گی اور حالات کے لحاظ سے فدیہ کی مقدار بھی متعین کرے گی۔ اس سے واضح ہے کہ اسلام نے جہاں مرد کو طلاق کا اختیار دیا ہے وہاں عورت کو بھی خلع کا حق دیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام کے عائلی قوانین کمال درجہ کے اعتدال اور توازن پر مبنی ہیں۔ خلع کی صورت میں نکاح فسخ ہو گا یا ایک طلاق بائنہ واقع ہو گی یعنی شوہر کو رجوع کا حق نہیں ہو گا البتہ اگر شوہر اور بیوی دونوں چاہیں تو دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔

۳۴۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ تنبیہ ہے ان لوگوں کے لیے جو اللہ کے احکام و قوانین کا لحاظ نہیں کرتے اور ان کو توڑتے ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اسلام کے عائلی قوانین میں ترمیم یا ان کی تنسیخ کے درپے ہونا قرآن کی نظر میں کتنا بڑا گناہ ہے۔

۳۴۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد تیسری مرتبہ کی طلاق ہے۔ اوپر گزر چکا کہ شوہر اپنی زندگی میں دو مرتبہ طلاق دے کر عدت کے اندر رجوع کر سکتا ہے۔ یہاں تیسری مرتبہ دی جانے والی طلاق کا حکم بیان کیا جا رہا ہے۔

۳۴۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اگر شوہر نے تیسری مرتبہ طلاق دے دی تو پھر وہ عورت اس شوہر کے لیے حلال نہ ہو گی، جب تک کہ وہ عورت کسی دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرے، اور پھر وہ اس کو طلاق نہ دے۔ اگر اس دوسرے شوہر نے طلاق دی یا اس کا انتقال ہو گیا تو وہ عورت اپنے سابق شوہر سے دوبارہ نکاح کر سکتی ہے۔ اس حکم کی مصلحت یہ ہے کہ لوگ طلاق کو کھیل بنا کر عورت کو تنگ نہ کیا کریں بلکہ سوچ سمجھ کر طلاق کا فیصلہ کیا کریں یہ حکم تیسری مرتبہ یعنی تیسرے موقع پر دی جانے والی طلاق کا ہے نہ کہ بیک وقت طلاق طلاق طلاق یا تین طلاق کے الفاظ کہہ دینے کا جس کی تفصیل اوپر نوٹ ۳۴۰ میں گزر چکی۔

واضح رہے کہ تیسری مرتبہ طلاق دینے کی صورت میں اس شوہر کے لیے اس بیوی کے حلال ہونے کی جو شرط بیان کی گئی ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ حیلہ کے طور پر کسی سے اس شرط پر اس کا نکاح کرائے کہ وہ نکاح کے بعد اسے طلاق دے دے گا۔

اس حکم کا منشاء یہ ہے کہ اگر یہ عورت اپنی مرضی سے کسی دوسرے شخص کے ساتھ نکاح کر لیتی ہے ایسا نکاح جو معروف ہے اور جس میں طلاق کی شرط نہیں ہوتی، لیکن اس نکاح کے بعد کے اگر وہ طلاق دے دیتا ہے تو پھر یہ عورت اپنے سابق شوہر سے دوبارہ نکاح کر سکتی ہے۔

تیسری مرتبہ کی اس طلاق کو اصطلاحاً طلاق مغلظہ بائنہ (Irrevocable and absolute divorce) کہا جاتا ہے۔

۳۴۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کر سکتے ہو۔

۳۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں اللہ کی آیات سے مراد اس کے احکام و قوانین ہیں۔

۳۵۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انسان کے دل میں اللہ کا جتنا ڈر ہو گا اور اس کے علیم ہونے (His Omniscience) کا جتنا یقین ہو گا اتنا ہی وہ اللہ کی نافرمانی سے بچ سکے گا۔

۳۵۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جب مطلقہ عورتیں اپنی عدت پوری کر لیں تو وہ معروف طریقہ پر اپنی پسند کا نکاح کرنے کے معاملہ میں آزاد ہیں۔ اگر مطلقہ سابق شوہر سے دوبارہ نکاح کرنا چاہتی ہے تو عورت کے خاندان والوں کو اس میں رکاوٹ نہیں پیدا کرنا چاہیے اور اگر وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنا چاہتی ہو تو سابق شوہر کو ایسی کوشش نہیں کرنا چاہیے کہ جس کو اس نے چھوڑا ہے اس سے کوئی نکاح نہ کرے۔

اس آیت سے نکاح کے باب میں شریعت کا یہ اہم قاعدہ واضح ہوتا ہے کہ مطلقہ عورت اپنے نکاح کے معاملہ میں ولی کی اجازت کی پابند نہیں ہے بلکہ معروف طریقہ پر وہ اپنی مرضی کے مطابق جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔

۳۵۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ظاہری اور باطنی پاکیزگی اسی طریقہ میں ہے کہ مطلقہ عورت کو اس کی مرضی کے مطابق نکاح کرنے دیا جائے۔ اگر فضول رسموں وغیرہ کی وجہ سے دوسری شادی میں رکاوٹیں پیدا کی گئیں تو عورت کے غلط راہ پر پڑنے اور اس سے غیر اخلاقی حرکتیں سرزد ہونے کا اندیشہ ہے۔

۳۵۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی تمہارا علم بہت محدود ہے۔ زندگی کے حقیقی مصالح کا علم اللہ ہی کو ہے اس لیے وہ جو احکام تمہیں دے رہا ہے اس پر عمل کرو۔

انسان کا علم اتنا ہمہ گیر اور اس کی نظر اتنی وسیع نہیں ہوتی کہ وہ انسانی زندگی کے حقیقی مصالح کا احاطہ کر سکے اس لیے انسان کے خود ساختہ عائلی قوانین (Family Laws) اس کے لیے مفید ثابت نہیں ہوتے برخلاف اس کے قرآن کے عائلی قوانین خدائے علیم و حکیم کی طرف سے ہیں اس لیے وہ زندگی کے حقیقی مصالح پر مبنی ہیں اور ان کا مفید ہونا شبہ سے بالاتر ہے۔

۳۵۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس آیت میں رضاعت (بچوں کے دودھ پلانے) کے احکام بیان کئے گئے ہیں۔ طلاق کی صورت میں اگر عورت کی گود میں دودھ پیتا بچہ ہو تو ایک بڑا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے اور اس زمانہ میں تو پاؤڈر کے دودھ وغیرہ کی سہولتیں میسر نہیں تھیں بلکہ بچہ کی غذا کا انحصار ماں یا دایہ کے دودھ پر ہوتا تھا نیز بچہ کے لیے ماں کا دودھ ہی فطری اور بہترین غذا ہے۔ اس لیے طلاق کی صورت میں بچہ کی حق تلفی نہ ہو اس کی ہدایت اس آیت میں کی گئی ہے۔

۳۵۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رضاعت کی مدت دو سال ہے لہٰذا مطلقہ پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ پورے دو سال اپنے بچہ کو دودھ پلائے بشرطیکہ بچہ کا باپ پوری مدت تک دودھ پلوانا چاہیے۔

۳۵۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی مدت رضاعت میں بچہ کے باپ پر مطلقہ کے کھانے کپڑے کی ذمہ داری ہے۔ یہ نفقہ معروف کے مطابق ادا کرنا ہو گا۔ یعنی بچہ کے باپ کی حیثیت اور حالات کے پیش نظر جسے معقول اور منصفانہ کہا جا سکے۔

۳۵۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اگر بچہ کے باپ کا انتقال ہو گیا ہے تو نفقہ کی یہ ذمہ داری اس کے وارث پر ہو گی۔

۳۵۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شوہر کا انتقال ہو جانے کی صورت میں عورت کی عدت چار ماہ دس دن ہے اور اگر حاملہ ہو تو وضع حمل تک ہے۔ (ملاحظہ ہو سورۂ طلاق آیت ۴)

مطلقہ کے مقابلہ میں بیوہ کی عدت زیادہ مقرر کرنے میں شوہر کے سوگ وغیرہ کی مصلحتیں شامل ہیں۔ عورت کو شوہر کے انتقال سے جو صدمہ پہنچتا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ اسے فوراً شوہر کا گھر چھوڑنے کے لیے مجبور نہ کیا جائے اور وہ اس مدت میں ہمدردی کی مستحق قرار پائے۔ عدت کے گزر جانے پر وہ معروف طریقہ پر جو قدم مناسب خیال کرے اٹھا سکتی ہے۔ اس معاملہ میں غیر شرعی رسوم حائل نہیں ہونے چاہئیں۔ اگر وہ نکاح کرنا چاہتی ہے تو اسے طعنے دیکر روکنا نہیں چاہئے۔

بعض سماجوں میں بیوہ کے نکاح کو معیوب خیال کیا جاتا رہا ہے اور کسی سماج میں تو شوہر کی لاش کے ساتھ ستی میں جلنا پسندیدہ رہا ہے لیکن اسلام نے ان رسومات کے علی الرغم بیوہ کو عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسرا نکاح کرنے کی آزادی دی اور اسے پسندیدہ قرار دیا۔

۳۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عدت کے دوران نہ نکاح کرنا جائز ہے اور نہ نکاح کا صریح طور سے پیغام دینا جائز ہے۔

۳۶۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر وہ گرفت نہیں کرتا۔ اگر تمہاری نیت درست ہے تو امید رکھو کہ وہ تمہارے قصور معاف فرمائے گا۔

۳۶۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی کسی شخص نے نکاح کر لیا لیکن زن و شوئی کا تعلق قائم کرنے سے پہلے عورت کو طلاق دیدی اور اس کا مہر بھی مقرر نہیں کیا تھا تو ایسی صورت میں شوہر کو چاہیے کہ اپنی مقدرت کے مطابق معروف طریقہ پر کچھ دیکر اسے رخصت کرے، کیونکہ رشتہ ٹوٹنے سے عورت کو کچھ نہ کچھ نقصان پہنچ ہی جاتا ہے جس کی تلافی مشکل ہے تاہم ہدیہ پیش کرنے کی صورت میں اخلاقی اور نفسیاتی طور پر اچھے اثرات ہی مرتب ہوں گے۔

۳۶۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اگر نیک روی اختیار کرنا چاہتے ہو تو اس حق کو حق سمجھ کر ادا کرو۔

۳۶۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر کسی نے زن و شوئی کا تعلق قائم کرنے سے پہلے طلاق دے دی لیکن مہر مقرر کیا جا چکا ہو تو ایسی صورت میں اسے مقررہ مہر کا نصف ادا کرنا ہو گا الا ّ یہ کہ عورت نرمی سے کام لیکر اپنے مہر میں تخفیف کر دے یا شوہر نرمی سے کام لیکر پورا پورا مہر ادا کر دے اور قرآن نے مرد کو ترغیب دی ہے کہ وہ اپنے مرتبہ کا خیال کر کے اس معاملہ میں فیاضی کا ثبوت دے۔

۳۶۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ متن کے الفاظ اَلّذِیْ بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ (مرد جس کے ہاتھ میں عقدۂ نکاح ہے) اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ نکاح کی گرہ کھولنا (طلاق) مرد کے ہاتھ میں ہے۔ شریعت نے یہ اختیار مرد کو دیا ہے اس لیے مرد کے ہاتھ سے یہ اختیار چھین کر عدالت کو دینے کا موجودہ رجحان غلط اور شریعت کے خلاف ہے۔

۳۶۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی معاشرتی زندگی میں خوشگواری صرف قانونی حقوق کی ادائیگی سے نہیں بلکہ فیاضانہ برتاؤ سے پیدا ہوتی ہے۔

۳۶۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شرعی احکام و قوانین کے بیان کا جو سلسلہ آیت ۱۶۸ سے چل رہا تھا وہ یہاں ختم ہو رہا ہے اس لیے اس کے اختتام پر نمازوں کی حفاظت کی تاکید کر دی گئی ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ شریعت کی اقامت، نماز کی اقامت پر منحصر ہے۔ جو شخص نماز کی پابندی کرتا ہے اس کے اندر خدا پرستانہ اور ذمہ دارانہ زندگی گزارنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور احکامِ الٰہی پر عمل کرنے کی راہ اس کے لیے آسان ہو جاتی ہے لیکن جو شخص نماز کی پابندی نہیں کرتا اس کے لیے یہ راہ مشکل ہوتی ہے اس لیے کہ اس پر آمادہ کرنے کے لیے جو احساس اور جذبہ مطلوب ہے وہ اس کے اندر پیدا نہیں ہوتا۔

۳۶۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نماز کی محافظت کا مطلب یہ ہے کہ پابندی کے ساتھ وقت پر نماز ادا کی جائے اور اس بات کا پورا خیال رکھا جائے کہ کوئی نماز فوت نہ ہو یہاں تک کہ مشکل اور پُر خطرہ حالات میں بھی نماز ادا کی جائے۔

۳۶۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ متن میں ” وَالصَّلوٰۃ الوُسْطٰی” کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن کے معنی ” بیچ کی نماز” کے ہیں۔ اس سے مراد نمازِ عصر ہے جیسا کہ حدیث میں آتا ہے ” غزوۂ خندق” کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا۔

” شَغَلُوْنَا عَنِ الصَّلوٰۃ وسطَیٰ صَلاَۃِ الْعَصْرِ” (صحیح مسلم) ” دشمنوں نے ہمیں صلوٰۃ وسطیٰ صلوٰۃ عصر سے باز رکھا۔ ”

اور ترمذی میں عبدالہل بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ” صَلٰوۃْالوُسْطٰی صَلوٰۃ الْعَصْرِ”

“صَلوۃ وسطیٰ صلوٰۃ عصر ہے۔ ” (ترمذی۔ ابوابُ الصلوٰۃ)

اسلام نے شب و روز میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کر دی ہیں جن کا آغاز نماز فجر سے ہوتا ہے اور اختتام نماز عشاء پر۔ اس لحاظ سے عصر کی نماز ہی پر بیچ کی نماز کا اطلاق ہوتا ہے۔ عصر کا وقت دن کے آخری مرحلہ کی حیثیت رکھتا ہے جس میں عام طور پر سے کاروباری مصروفیتیں زیادہ ہوتی ہیں۔ ان مصروفیتوں کے دوران نمازِ عصر کی ادائیگی ایک مشکل کام ہے اگر اس کا خیال نہ رکھا جائے تو اس کے فوت ہو جانے کا امکان ہے اس لیے اس نماز کی نگہداشت کرنے کی خاص طور سے تاکید کی گئی ہے۔

۳۶۹ یہ نماز کے باطنی اوصاف کی طرف اشارہ ہے یعنی جہاں نماز کے ظاہری آداب اوقات کی پابندی وغیرہ کا خیال رکھنا ضروری ہے وہاں نماز کے باطنی آداب کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے۔ نماز کی اصل روح اللہ کے حضور عجز و نیاز اور خشوع و خضوع ہے اس لیے جب نماز کے لیے کھڑے ہوں تو اسی کیفیت کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوں۔

۳۷۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اگر دشمن نے خطرہ کی حالت پیدا کی ہو تو سوار ہو یا پیدل جس حال میں ہو اسی حال میں نماز ادا کرو۔ اگر قبلہ رخ نہیں تو جو رخ بھی ہو اور اگر سجدہ نہیں کر سکتے تو جس حد تک سرکو جھکا سکو بہر صورت وقت پر نماز کی ادائیگی ضروری ہے اور خطرے کی حالت میں نماز کی محافظت یہی ہے کہ جس طرح ممکن ہو نماز ادا کی جائے۔

عین لڑائی میں سپاہیوں کو نماز ادا کرنے کی تاکید اس بات کا اندازہ کرنے کے لیے کافی ہے کہ اسلام کا تصور جنگ کتنا پاکیزہ ہے۔ اور وہ مجاہدین کو کتنی اعلیٰ تربیت دینا چاہتا ہے۔ اس تاکیدی حکم سے یہ بات واضح ہوئی کہ جب جنگ کے موقع پر نماز قضا نہیں کی جا سکتی اِلا یہ کہ اشارہ سے بھی نماز پڑھنے کا موقع نہ ہو تو پھر اس سے کم درجہ کے عذرات مثلاً سفر وغیرہ میں نماز قضا کرنے کی گنجائش کہاں ہو سکتی ہے؟ وقت پر نماز لازماً ادا کرنا چاہیے اور اسی مقصد سے شریعت نے رخصتیں اور سہولتیں دی ہیں ورنہ اگر نماز قضا کرنا جائز ہوتا تو یہ رخصتیں نہ دی جاتیں۔

۳۷۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں نماز کو اللہ کے ذکر (یاد) سے تعبیر فرمایا ہے جس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ نماز سر تا سر اللہ کا ذکر ہے۔

۳۷۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے بتلائے ہوئے طریقہ کے مطابق نماز ادا کرو اللہ تعالیٰ نے نماز کا طریقہ قرآن اور سنت نبوی دونوں کے ذریعہ سکھایا ہے قرآن میں نماز سے متعلق بنیادی احکام دئے گئے ہیں اور تفصیلات نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت میں موجود ہیں اس لیے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے۔

صَلُّو کَمَا رایَتَمُوْنِیْ اُصلِّی (مشکوٰۃ)

(اس طرح نماز پڑھو جس طرح تم مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو)

اس سے واضح ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیم اللہ ہی کی تعلیم ہے اور قرآن کے ساتھ سنت لازم و ملزوم ہے۔

۳۷۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سلسلۂ کلام نماز پر ختم ہو گیا تھا اس کے بعد دو آیتوں کا ضمیمہ کے طور پر بیوہ اور مطلقہ سے متعلق ضمنی ہدایت بیان کی گئیں جو بعد میں بطور وضاحت نازل ہوئی تھیں۔

۳۷۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آیت ۲۳۴ میں بیوہ عورتوں کی عدت بیان ہو چکی ہے ان کے متعلق مزید وضاحت کے طور پر یہ ہدایت نازل ہوئی کہ مردوں کو چاہیے کہ وہ اپنی وفات کے وقت اپنی بیویوں کے حق میں ایک سال کے لیے اپنے مال میں سے نان نفقہ اور اپنے گھر میں سکونت کی وصیت کر جائیں تاکہ ان کے انتقال کے بعد انہیں کھانے پینے اور رہنے سہنے کی مشکلات کا فوری طور سے سامنا نہ کرنا پڑے اس وصیت کے بعد عدت گزر جانے پر وہ خود اپنی مرضی سے شوہر کا گھر چھوڑ دیں تو انہیں اپنی سکونت اور نکاح ثانی وغیرہ کے بارے میں معروف طریقہ پر فیصلہ کرنے کا حق ہے۔ ایسی صورت میں میت کے ورثاء کو چاہیے کہ وہ اسے شوہر کے گھر میں رہنے کے لیے مجبور نہ کریں۔

۳۷۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ غالب ہے اس لیے شرعی احکام دینا اسی کا حق ہے اور وہ حکیم ہے اس لیے اس کے احکام حکمت پر مبنی ہے۔

۳۷۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ متن میں لفظ ” متاع” استعمال ہوا ہے جس کے معنی ” فائدہ کی چیز” کے ہیں۔ اس کا اطلاق نفقہ پر بھی ہوتا ہے جیسا کہ اوپر آیت ۲۴۰ میں ہوا ہے (یعنی ان لوگوں کو جو وفات پا رہے ہوں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی بیویوں کے حق میں یہ وصیت کر جائیں کہ انہیں ایک سال تک متاع (نفقہ) دیا جائے اور طلاق کے موقع پر دئے جانے والے رخصتی ہدیہ پر بھی جس کو مُتعۃُ الطلاق کہا جاتا ہے آیت ۲۳۶ میں مَتِعُّوْہُنَّ (انہیں متاع دو/فائدہ پہنچاؤ) سے رخصتی ہدیہ ہی مراد ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ آیت زیر تفسیر میں متاع سے کیا مراد ہے؟ اس سلسلہ میں امام رازی نے اپنی تفسیر میں دونوں قول نقل کئے ہیں اور نفقہ کے معنی کو ترجیح دی ہے (ملاحظہ ہو التفسیر الکبیر ج۶ ص ۱۶۱) لیکن نفقہ مراد لینے کی صورت میں عدت تک کا نفقہ ہی مراد لیا جا سکتا ہے کیونکہ سورۂ طلاق میں طلاق دی ہوئی عورتوں پر ان کی عدت پوری ہونے تک خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس لیے جن مفسرین نے متاع سے نفقہ مراد لیا ہے انہوں نے یہ بات عدت تک کے نفقہ کو معہود (Understood) مان کر ہی کہی ہے ورنہ کسی مفسر نے بھی یہ نہیں کہا ہے کہ اس آیت کی رو سے مطلقہ کے لیے تا عقد ثانی یا تا حیات نفقہ واجب ہے۔

عام طور سے مفسرین نے اس آیت میں متاع سے متعۃُ الطلاق یعنی رخصتی ہدیہ مراد لیا ہے اور یہی بات صحیح معلوم ہوتی ہے کیونکہ قرآن میں دوسرے مقامات پر بھی یہ ہدایت کی گئی ہے کہ طلاق کی صورت میں عورتوں کو کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچاؤ اور انہیں بھلے طریقہ پر رخصت کرو۔ یہ رخصتی ہدیہ عورت کی دلجوئی کا باعث اور اس زخم پر مرہم رکھنے کے مترادف ہے جو طلاق کے ذریعہ اس کو پہنچتا ہے۔

یہ متاع ہر مطلقہ کے لیے واجب ہے کیونکہ آیت میں عمومیت کے ساتھ ” مطلقات” کو متاع دینے کی ہدایت کی گئی ہے نیز یہ حکم طلاق کے احکام بیان کرنے کے بعد اخیر میں دیا گیا ہے جس کی حیثیت اختتامی ہدایت کی ہے اس لیے یہ حکم ہر قسم کی مطلقہ عورتوں کو شامل ہے اور جس تاکید کے ساتھ یہ حکم دیا گیا ہے اس سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ رئیس المفسرین ابن جریر طبری لکھتے ہیں :

” میرے نزدیک اس مسئلہ میں زیادہ قرین صواب اس شخص کا قول ہے جو ہر قسم کی مطلقہ عورتوں کے لیے متعہ کا قائل ہے کیونکہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ حق ہر مطلقہ کے لیے مقرر کیا ہے اور ان میں سے کسی کی تخصیص نہیں فرمائی۔ ” (جامع البیان ج ۲ ص ۳۳۱)

رہی متاع کی مقدار تو قرآن نے کوئی مقدار متعین نہیں کی ہے بلکہ معروف طریقہ پر ادا کرنے کا حکم دیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مرد اپنی حیثیت کے مطابق ایسا ہدیہ دے جو مناسب اور کریمانہ اخلاق کا مظہر ہے۔ ماضی میں اگر مرد اپنی مطلقہ کو خدمت کے لیے غلام فراہم کرتا رہا ہے تو موجودہ زمانہ میں جب کہ مطلقہ کے نفقہ کا مسئلہ وقت کا ایک اہم مسئلہ بن گیا ہے کوئی ایسی چیز ہبہ کرنا جو مطلقہ کے لیے آمدنی کا ذریعہ بنے یا عدت کے بعد مرد کا خوش دلی کے ساتھ مطلقہ کے نفقہ کا انتظام کرنا ایک مستحسن بات ہو گی۔

۳۷۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ الفاظ واضح طور سے وجوب پر دلالت کرتے ہیں یعنی ہر قسم کی مطلقہ عورتوں کو متاع (رخصتی ہدیہ) دینا ہر اس شخص پر جو اللہ کا خوف اپنے دل میں رکھتا ہے واجب ہے۔ یہ تاکیدی حکم ہے اس لیے جن فقہاء نے اس کو محض استحباب (مستحسن) کے معنی میں لیا ہے ان سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا اور جہاں تک تفاسیر کا تعلق ہے سب سے قدیم تفسیر ابن جریر طبری (المتوفی ۳۱۰ھ) کی ہے۔ وہ ہر مطلقہ کے لیے متعۂ طلاق (رخصتی ہدیہ) کے وجوب کے قائل ہیں۔ (ملاحظہ ہو جامع البیان فی تفسیر القرآن ج ۲ ص ۳۳۱)

افسوس ہے کہ اس تاکیدی حکم کو مسلمان اس طرح بھلا بیٹھے ہیں کہ گویا بیویوں کو اپنے سے جدا کرنے کے لیے طلاق کا لفظ زبان سے نکالنا کافی ہے۔ اور ان کو حسن و خوبی کے ساتھ رخصت کرنے کی کوئی اخلاقی اور شرعی ذمہ داری ان پر عائد نہیں ہوتی۔ اس غلط ذہنیت نے بہت سے معاشرتی مسائل پیدا کر دئے ہیں۔ کاش وہ قرآن کی ہدایت پر کان دھرتے۔ !

۳۷۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں سے پھر سلسلۂ بیان جہادو انفاق کی طرف مڑ رہا ہے جس کا آغاز خانہ کعبہ کو مشرکین کے تسلط سے آزاد کرانے کے تعلق سے ہوا تھا۔ درمیان میں وہ مسائل بیان کر دئے جو اس وقت کے حالات کے تقاضے کے طور پر ابھر رہے تھے۔

جہاد کے سلسلہ میں یہاں بنی اسرائیل کے ایک واقعہ سے عبرت دلائی گئی ہے۔

۳۷۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں بنی اسرائیل کی تاریخ کے ایک واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس کا ذکر موجودہ تورات میں سموئیل” اول” میں موجود ہے۔ سموئیل نبی کے زمانہ (گیارہویں صدی قبل مسیح) میں بنی اسرائیل کی دینی، اخلاقی اور سیاسی حالت بہت خراب تھی ان پر دشمنوں کی ہر طرف سے یورش تھی اور وہ اپنے اندر ان کے مقابلہ کی ہمت نہیں پا رہے تھے فلسطینیوں نے ان کو مرعوب کر رکھا تھا اور ان سے وہ صندوق بھی چھین لے گئے تھے جو ان کے ہاں متبرک سمجھا جاتا تھا۔ اور بنی اسرائیل اپنے کئی شہر خالی کر کے بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔ یہ اخلاقی موت ان پر بیس سال تک طاری رہی لیکن سموئیل نبی کی اصلاحی کوششوں سے ان کے اندر دینی، اخلاقی اور سیاسی بیداری پیدا ہوئی اور وہ اس قابل ہو گئے کہ اپنے جن شہروں کو خالی کر کے وہ بھاگ کھڑے ہوئے تھے ان کو واپس لے لیں۔ بائبل کے درج ذیل اقتباسات ملاحظہ ہوں۔

” اور فلستی لڑے اور بنی اسرائیل نے شکست کھائی اور ہر ایک اپنے ڈیرے کو بھاگا اور وہاں نہایت بڑی خونریزی ہوئی کیونکہ تیس ہزار اسرائیلی پیادے وہاں کھیت آئے اور خدا کا صندوق چھن گیا۔ ” (سموئیل اول ۴:۱۰۔ ۱۱)

” اور سموئیل نے اسرائیل کے سارے گھرانے سے کہا کہ اگر تم اپنے سارے دل سے خداوند کی طرف رجوع لاتے ہو تو اجنبی دیوتاؤں اور عستارات کو اپنے بیچ سے دور کرو اور خداوند کے لیے اپنے دلوں کو مستعد کر کے فقط اسی کی عبادت کرو اور وہ فلستیوں کے ہاتھ سے تم کو رہائی دے گا۔ تب بنی اسرائیل نے بعلیم اور عستارات کو دور کیا اور فقط خداوند کی عبادت کرنے لگے۔ (سموئیل اول ۷:۳۔ ۴)

” سو فلستی مغلوب ہوئے اور اسرائیل کی سرحد میں پھر نہ آئے اور سموئیل کی زندگی بھر خداوند کا ہاتھ فلستیوں کے خلاف رہا اور عقرون سے جات تک کے شہر جن کو فلستیوں نے اسرائیلیوں سے لے لیا تھا وہ پھر اسرائیلیوں کے قبضہ میں آئے۔ (سموئیل اول ۷:۱۳۔ ۱۴)

آیت میں نبی اسرائیل کے اسی عروج و زوال کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے ان کی دینی، اخلاقی، اور سیاسی پست حالی کو موت سے اور عزم و حوصلہ کے ساتھ ایمانی اور مجاہدانہ زندگی اختیار کرنے کو زندگی سے تعبیر کیا گیا ہے اس واقعہ کو یہاں ذکر کرنے سے مقصود اہل ایمان کو جہاد پر ابھارنا ہے بنی اسرائیل کا واقعہ فلسطین کی ارض مقدس سے متعلق تھا اور یہاں اہل ایمان کو جس جنگ کے لیے ابھارا جا رہا ہے اس کا تعلق مکہ کی ارض مقدس سے ہے اس طرح مسلمانوں کو احساس دلایا جا رہا ہے کہ اگر وہ موت سے ڈر گئے تو یہ ان کی دینی، اخلاقی اور سیاسی موت ہو گی اور اگر انہوں نے موت سے بے پرواہ ہو کر جہاد کیا تو وہ زندگی کی حقیقی نعمت سے سرفراز ہوں گے اور انہیں عزت و سربلندی نصیب ہو گی۔

۳۸۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لہٰذا وہ تمہاری فریاد سنے گا اور تمہاری مدد فرمائے گا نیز تمہاری قربانیوں کا تمہیں بھر پور صلہ بھی دے گا۔

۳۸۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ کی راہ میں جو مال خرچ کیا جائے اسے اللہ تعالیٰ کو قرض دینے سے تعبیر کیا گیا ہے یہ نہایت بلیغ انداز بیان ہے جس سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ تم جو کچھ اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں محفوظ رہے گا اور جزا کے دن وہ اسے گھاٹے کا نہیں بلکہ بھر پور نفع کا ہے ” قرض حسن” سے مراد ایسا قرض ہے جو خلوص اور فراخدلی کے ساتھ محض اللہ کی رضا جوئی کی خاطر دیا جائے اور اپنی محبوب اور پاکیزہ کمائی میں سے دیا جائے۔

۳۸۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی رزق میں تنگی و کشادگی پیدا کرنا اللہ ہی کے اختیار میں ہے لہٰذا تنگی کے اندیشہ سے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنا صحیح تدبیر نہیں ہے۔

۳۸۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لہٰذا اصل فکر آخرت کی کرنی چاہیے جہاں سب کو جوابدہی کرنا ہو گی۔

۳۸۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک دوسرا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے جس سے مقصود مسلمانوں کو ان کی سیاسی و اجتماعی زندگی کے بارے میں نہایت اہم سبق دینا ہے۔

۳۸۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی تقریباً گیارہ سو سال قبل مسیح میں۔

۳۸۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد سموئیل نبی ہیں جو فلسطین کے کوہستانی علاقہ افرائیم میں رہتے تھے۔ ان کا زمانہ (1100 B. C) کا ہے۔

۳۸۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس وقت بنی اسرائیل کے بہت سے شہر ان کے دشمنوں کے قبضہ میں تھے اس لیے بنی اسرائیل چاہتے تھے کہ جنگ کے ذریعہ اپنے شہروں کو واپس حاصل کر لیں اس وقت حضرت سموئیل کافی بوڑھے ہو چکے تھے اس لیے انہوں نے ان سے یہ درخواست کی کہ وہ ایک بادشاہ (حکمراں) مقرر کریں جس کی سربراہی میں جنگ کی جا سکے۔

۳۸۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بائبل میں طالوت کا نام ساؤں آیا ہے وہ بنی اسرائیل کے ایک چھوٹے قبیلہ قبیلہ بن یمین کا تیس سالہ نوجوان تھا اور ایسا قد آور تھا کہ لوگ اس کے کندھے تک آتے تھے۔

۳۸۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ متن میں ” مَلِکَ” کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی صاحب اقتدار کے ہیں یہاں اس سے مراد مطلق العنان بادشاہAbsolute Monarch نہیں بلکہ ایسے با اقتدار شخص کے ہیں جو اللہ کے اقتدار اعلیٰ کو مان کر شرعی حدود کے اندر اپنے اختیارات استعمال کرے۔

طالوت کو اللہ تعالیٰ نے بادشاہ مقرر کیا تھا۔ جس کا اعلان اللہ کے پیغمبر حضرت سموئیل نے کیا تھا اور ان کو بادشاہ مقرر کرنے کا اصل مقصد یہ تھا کہ بنی اسرائیل ان کی قیادت میں جہاد کریں اور اپنے وہ علاقے واپس لیں جن پر عمالقہ نے قبضہ کر رکھا تھا اس سے ظاہر ہے کہ طالوت کا تقرر محض حکمرانی کے لیے نہیں بلکہ دینی فرائض کی انجام دہی کے لیے ہوا تھا۔ اس لیے اس کو ملوکیت کے ہم معنی سمجھنا صحیح نہیں۔

۳۹۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بنی اسرائیل کو طالوت کے بادشاہ مقرر کئے جانے پر اس وجہ سے اعتراض تھا کہ وہ ایک چھوٹے قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے جو اثر و رسوخ نہیں رکھتا تھا۔ اور مالدار بھی نہیں تھے۔ اس کا جواب سموئیل نبی نے یہ دیا کہ یہ اللہ کا انتخاب ہے وہ قیادت کی اہلیت کے لیے دولت اثر و رسوخ نہیں بلکہ علم و عمل کی قوتوں کو دیکھتا ہے اور اس اعتبار سے طالوت موزوں ترین شخص ہے اس وقت جنگ کا مرحلہ در پیش تھا اس لیے ایسے شخص کی ضرورت تھی جو فوج کو کمانڈ کر سکے اور بہترین جنگی تدابیر اختیار کر سکے، طالوت کے کمان سنبھالنے کے بعد جو کامیابیاں ہوئیں اس نے ثابت کر دکھایا کہ ان کا انتخاب بہت صحیح تھا۔

۳۹۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی تمہاری نظر تنگ اور تمہارا علم محدود ہے لیکن اللہ کی نظر وسیع اور اس کا علم لا محدود ہے اس لیے اس کے فیصلوں کو تم اپنے فیصلوں پر قیاس نہ کرو۔

۳۹۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس صندوق کا نام بائبل میں ” خداوند کا صندوق” آیا ہے اور اس کی بنی اسرائیل کے نزدیک کافی اہمیت تھی کیونکہ اس میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارو ن کی یادگاریں مثلاً وہ تختیاں جن پر احکام عشرہ کندہ تھے۔ تورات کا اصل نسخہ اور عصائے موسیٰ جیسی چیزیں تھیں۔ یہ چیزیں حق کی فتح و نصرت کی علامات تھیں اس لیے ان کو دیکھ کر حوصلے بلند ہوتے تھے۔

فلسطینیوں نے ایک جنگ کے موقع پر بنی اسرائیل سے یہ صندوق چھین لیا تھا جس کی وجہ سے ان کے حوصلے پست ہو گئے تھے حضرت سموئیل نے طالوت کے منجانب اللہ بادشاہ مقرر کئے جانے کی علامت یہ بتائی کہ وہ صندوق ان کے دور حکومت میں واپس آ جائے گا۔ چنانچہ یہ پیشین گوئی پوری ہوئی اور واقعہ یہ پیش آیا کہ جو لوگ صندوق چھین کر لے گئے تھے۔ ان کے علاقے میں وبائیں پھوٹ پڑیں انہوں نے اس کے پیش نظر اور غالباً جنگ کے متوقع خطرہ سے بچنے کے لیے بھی خیریت اسی میں سمجھی کہ اس صندوق کو وہ واپس کر دیں چنانچہ انہوں نے دو گایوں کو ایک گاڑی پر صندوق رکھ کر بغیر گاڑی بان کے اس کو بنی اسرائیل کے علاقہ کی طرف ہانک دیا جس کا ذکر بائبل میں اس طرح ہوا ہے۔

” سو ان لوگوں نے ایسا ہی کیا اور دو دودھ والی گائیں لے کر ان کو گاڑی میں جوتا اور ان کے بچوں کو گھر میں بند کیا اور خداوند کے صندوق اور سونے کی چہیوں اور اپنی گلٹیوں کی مورتوں کے صندوقچہ کو گاڑی پر رکھ دیا ان گایوں نے بیت شمس کا سیدھا راستہ لیا وہ سڑک ہی سڑک ڈکارتی گئیں اور داہنے یا بائیں ہاتھ نہ مڑیں اور فلسطی سردار ان کے پیچھے بیت شمس کی سرحد تک گئے اور بیت شمس کے لوگ وادی میں گیہوں کی فصل کاٹ رہے تھے انہوں نے جو آنکھیں اٹھائیں تو صندوق کو دیکھا اور دیکھتے خوش ہو گئے۔ ” (سموئیل اول ۶:۱۰۔ ۱۳)

بغیر گاڑی بان کے گایوں کا بنی اسرائیل کے علاقہ میں ٹھیک ٹھیک پہنچ جانا فرشتوں کی رہنمائی کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا اس لیے اس کو تَحْمُلہ الملائِکۃ (فرشتے اس کو اٹھائے ہوئے ہوں گے) سے تعبیر کیا گیا ہے۔

۳۹۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مقابلہ فلسطینی مشرکین سے تھا جنہوں نے بنی اسرائیل کے علاقوں پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا تھا۔

۳۹۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ غالباً دریائے اردن (Jordan) مراد ہے۔

۳۹۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ حکم فوج کے ڈسپلن اور اخلاقی انضباط کا امتحان لینے کی غرض سے دیا گیا تھا۔ اس امتحان میں مکمل کامیابی کے لیے شرط یہ تھی کہ دریا کا پانی چکھا بھی نہ جائے۔ تاہم چلو بھر پانی کو قابل درگزر قرار دیا گیا تھا۔ اس امتحان میں بہت تھوڑے لوگ پورے اترے۔

۳۹۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جالوت ایک فلسطی پہلوان تھا جو قدر آور ہونے کے علاوہ بڑا ماہر جنگ تھا اور فلسطی فوج کا کمانڈر انچیف تھا ” جاتی جولیت” (Goliath) آیا ہے۔

۳۹۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ان لوگوں کا قول ہے جنہوں نے خوب پانی پیا تھا۔ اور امتحان میں ناکام ثابت ہوئے تھے۔

۳۹۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی عزم و ہمت سے کام لو کہ اس سے اللہ کی تائید حاصل ہوتی ہے اور جنگ میں کامیابی کا دارومدار اللہ کی تائید و نصرت پر ہے نہ کہ کثرت و قلت پر ،تاریخ میں ایسی بے شمار مثالیں ملیں گی کہ قلیل التعداد گروہ نے کثیر التعداد گروہ پر غلبہ پایا ہے۔

۳۹۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ داؤد جن کو اللہ تعالیٰ نے بعد میں نبوت اور حکومت سے نوازا اس وقت نوجوان تھے۔ انہوں نے جالوت کے چیلنج کو قبول کیا اور ایسا حملہ کیا کہ وہ ڈھیر ہو گیا۔ اس کے قتل کے بعد فلسطی فوج میں بھگدڑ مچ گئی اور وہ بری طرح شکست کھا گئے۔

بائبل میں ہے۔

” اور داؤد نے اس فلستی سے کہا کہ تو تلوار بھالا اور برچھی لئے ہوئے میرے پاس آتا ہے پر میں رب الافواج کے نام سیجو اسرائیل کے لشکروں کا خدا ہے جس کی تو نے نصیحت کی ہے تیرے پاس آتا ہوں اور آج ہی کے دن خداوند تجھ کو میرے ہاتھ میں کر دے گا اور میں تجھ کو مار کر تیرا سر تجھ پر سے اتار لوں گا اور میں آج کے دن فلستیوں کے لشکر کی لاشیں ہوائی پرندوں اور زمین کی جنگلی جانوروں کو دوں گا تاکہ دنیا جان لے کہ اسرائیل میں ایک خدا ہے اور یہ ساری جماعت جان لے کہ خداوند تلوار اور بھالے کے ذریعے سے نہیں بچاتا اس لیے کہ جنگ تو خداوند کی ہے اور وہی تم کو ہمارے ہاتھ میں کر دے گا اور ایسا ہوا کہ جب وہ فلستی اٹھا اور بڑھ کر داؤد کے مقابلہ کے لیے نزدیک آیا تو داؤد نے جلدی کی اور لشکر کی طرف اس فلستی سے مقابلہ کرنے کو دوڑا۔ اور داؤد نے اپنے تھیلے میں اپنا ہاتھ ڈالا اور اس میں سے ایک پتھر لیا اور فلاخن میں رکھ کر اس فلستی کے ماتھے پر مارا اور وہ پتھر اس کے ماتھے کے اندر گھس گیا اور وہ زمین پر منہ کے بل گر پڑا۔ سو داؤد اس فلاخن اور ایک پتھر سے اس فلستی پر غالب آیا اور اس فلستی کو مارا اور قتل کیا اور داؤد کے ہاتھ میں تلوار نہ تھی۔ اور داؤد دوڑ کر اس فلستی کے اوپر کھڑا ہو گیا اور اس کی تلوار پکڑ کر میان سے کھینچی اور اسے قتل کیا اور اسی سے اس کا سر کاٹ ڈالا اور فلستیوں نے جو دیکھا کہ ان کا پہلوان مارا گیا تو وہ بھاگے۔ ” (سموئیل اول ۱۷: ۴۵۔ ۵۱)

داؤد کی زندگی کا آغاز ان کے اسی کارنامے سے ہوتا ہے۔

۴۰۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد وہ انعامات ہیں جو حضرت داؤد پر ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکومت بھی عطا کی اور حکمت بھی۔ حکومت کے ساتھ اگر حکمت نہ ہو تو وہ چنگیزی بن جاتی ہے اور اگر حکمت ہو تو عادلانہ بن جاتی ہے اور اللہ کے احکام و قوانین کو جاری کر کے خلافت کا مقام حاصل کر لیتی ہے۔ حضرت داؤد کی حکومت اسلامی خلافت تھی۔

۴۰۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا قاعدہ یہ ہے کہ جب کوئی گروہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد حد سے بڑھنے لگتا ہے تو اس کا زور توڑنے کے لیے کسی دوسرے گروہ کو اٹھا کھڑا کرتا ہے۔ اس سے جنگ کی ضرورت واضح ہوتی ہے۔ اگر جنگ مطلقاً جائز نہ ہوتی تو زمین فساد سے بھر جاتی۔

اس سے مذہب کے راہبانہ اور جوگیانہ تصور کی تردید ہوتی ہے جس کی وجہ سے جنگ کو دینداری کے منافی خیال کیا جاتا ہے۔ انبیاء اور صلحاء جو جنگ کرتے ہیں وہ اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے اور عدل و قسط کے قیام اور شر و فساد کو مٹانے کی غرض سے ہوتی ہے اس لیے وہ انسانیت کے حق میں مفید اور باعث خیر ہوتی ہے۔

۴۰۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے اس بات کی طرف ہے کہ بنی اسرائیل نے طالوت کے اہم تاریخی واقعہ کو بے معنی بنا کر رکھ دیا تھا، چنانچہ بائبل کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے صحیفۂ بائبل کو رطب و یابس کا مجموعہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اس واقعہ کو ٹھیک ٹھیک بیان فرما دیا جس سے ایمان افروز اور حکیمانہ باتیں سامنے آ گئیں اس صحت و صداقت کے ساتھ ڈیڑھ ہزار سال قبل کے اس واقعہ کو بیان کرنا جب کہ اس کے جاننے کا کوئی ذریعہ موجود نہیں ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے پیغمبر خدا ہونے کی صریح دلیل ہے۔ حضرت محمد ؐ پیغمبروں میں سے ہیں اور پیغمبر کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ کا بھیجا ہوا اور پیغامبر (Prophet Messenger) ہے اس کے اندر نہ الوہیت کی صفت ہوتی ہے اور نہ وہ خدا کا اوتار (incarnation) ہوتا ہے۔ قرآن رسالت کا جو تصور دیتا ہے وہ ان باطل توہمات سے بالکل پاک ہے۔ ،

۴۰۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے رسولوں کی پوری جماعت کی طرف جس کا ذکر ما قبل کی آیت میں ہوا۔

۴۰۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر رسول کو کسی نہ کسی پہلو سے فضیلت بخشی ہے۔ مثلاً موسیٰ علیہ السلام کو شرف ہم کلامی بخشا، عیسیٰ علیہ السلام کو کھلے کھلے معجزات عطا فرمائے اسی طرح دوسرے رسولوں کو خاص خاص درجے اور مرتبے عطا کئے اس لیے کسی رسول کی فضیلت کو تسلیم کرنا اور دوسرے کی فضیلت سے انکار کرنا صحیح نہیں۔ لیکن ان رسولوں کی امتوں نے مذہبی اور گروہی تعصبات کا شکار ہو کر عجیب روش اختیار کی۔

وہ اپنی امت کے رسول کے لیے ہر قسم کے فضائل کی دعویدار ہوئیں اور دوسرے کسی رسول کی فضیلت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دوسرے رسولوں سے فیض حاصل کرنے سے محروم رہ گئیں۔

اگر وہ تعصب سے کام نہ لیتیں تو ان کے لیے بلا تفریق تمام رسولوں کو ماننا کچھ مشکل نہ تھا اور اس صورت میں وہ اس ہدایت سے بھی فیض یاب ہوتیں جو قرآن مجید کی شکل میں اللہ کی طرف سے اس کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر نازل ہوئی ہے قرآن کی یہ تعلیم کتنی حقیقت پسندانہ ہے کہ جس جس پیغمبر کے جو جو مخصوصات رہے ہیں ان سب کو تسلیم کیا جائے اور ان کے درمیان تفریق نہ کرتے ہوئے اس آسمانی ہدایت کو قبول کیا جائے جو سب کے درمیان مشترک رہی ہے۔

۴۰۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ روح القدس سے مراد فرشتوں کے سردار جبرائیل علیہ السلام ہیں جن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کی تائید و نصرت فرمائی تھی لیکن عیسائیوں نے انہیں خدا بنا کر اپنے من گھڑت عقیدہ (Trinity) تثلیث میں شامل کر لیا۔

۴۰۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے اللہ تعالیٰ کی اس سنت کی طرف کہ اس نے ہدایت کے معاملہ میں جبر کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ اگر وہ اپنے بندوں پر جبر کرنا چاہتا تو کوئی شخص بھی کفر کی راہ اختیار نہیں کر سکتا تھا لیکن اس نے بندوں کو ارادہ و اختیار کی آزادی بخشی کہ وہ چاہئیں تو کفر کریں اور چاہیں تو ایمان لائیں اور ہر ایک اپنا اپنا انجام دیکھ لے۔

اللہ کا یہ چاہنا کہ بندوں پر جبر نہ کیا جائے اور اگر وہ مذہب کے نام پر دست گریباں ہوتے ہیں تو انہیں ایسا کرنے کی آزادی حاصل رہے اپنے اندر عظیم حکمت و مصلحت رکھتا ہے۔ کیونکہ اللہ کا کوئی کام حکمت و مصلحت سے خالی نہیں ہوتا واضح رہے کہ اوپر سے بیان خانہ کعبہ کو مشرکین کے ہاتھوں سے آزاد کرنے کے تعلق سے جہاد اور انفاق کا چلا آ رہا ہے اسی ضمن میں یہاں یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ اہل کتاب نے اہل ایمان کے خلاف جو معرکہ آرائی شروع کی ہے اس کی وجہ دراصل ان کا یہ اندھا تعصب ہے کہ وہ اپنے گروہ کے رسول کے سوا کسی اور رسول کو نہ مانیں اور اس کے لیے کوئی فضیلت تسلیم نہ کریں آج بھی دنیا کی مختلف قومیں تعصب کے اس مرض میں مبتلا ہیں اور وہ محض اس بنا پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو رسول ماننے اور آپ کے لیے کوئی فضیلت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتیں کہ آپ ایک دوسرے ملک اور ایک دوسری قوم میں پیدا ہوئے تھے جب کہ وہ اپنی آنکھوں سے یہ مشاہدہ کرتے رہتے ہیں کہ آفتاب کی روشنی کسی ملک یا قوم کے دائرہ میں محصور ہو کر نہیں رہتی بلکہ اس کا فیضان اقوام عالم اور پوری دنیا کے لیے عام ہوتا ہے پھر وہ خدائی ہدایت کو کیوں جغرافیائی اور قومی دائروں میں بند دیکھنا چاہتے ہیں ؟

۴۰۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں مقصود یہ ذہن نشین کرانا ہے کہ خدا کے یہاں کام آنے والی چیز جانی و مالی قربانیاں ہیں جو اس کی راہ میں دی جائیں نہ کہ وہ جھوٹے سہارے جن کے بارے میں لوگ اس اعتقاد میں مبتلا ہیں کہ وہ اللہ کے حضور ہمارے سفارشی ہوں گے اور ہم جن کی دوستی کا دم بھرتے رہے ہیں وہ ہمیں نجات کا پروانہ دلوا کے رہیں گے۔

۴۰۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس آیت کا نام حدیث میں آیت الکرسی آیا ہے اور اسے قرآن کی عظیم الشان آیت قرار دیا گیا ہے اس میں نہایت جامع طور پر اور نہایت موثر پیرایہ میں اللہ تعالیٰ کی معرفت بخشی گئی ہے اور توحید کی حقیقت واضح کرتے ہوئے شرک کی اور خاص طور سے شفاعت کے غلط تصور کی تردید کی گئی ہے تاکہ لوگ عقیدہ و عمل میں سچی خدا پرستی کی راہ اختیار کریں۔

۴۰۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مشرکین دیوتاؤں کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ ایک خاص قسم کی شراب (Nectar) یا ایک خاص قسم کا مشروب “سوما” پی کر زندہ رہتے ہیں لیکن اللہ وہ زندہ و جاوید ہستی ہے جو زندہ رہنے کے لیے کسی چیز کا محتاج نہیں۔

۴۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ متن میں لفظ ” القیوم” استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں وہ ہستی جو قائم بالذّات ہوا اور جس پر دوسروں کا قیام و بقا موقوف ہو اللہ صرف اپنے بل پر قائم ہے اور پوری کائنات کو وہ تنہا سنبھالے ہوئے ہے۔

۴۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اللہ تو ہر وقت بیدار ہے اونگھ اور نیند کی کیفیت تو اللہ کی پیدا کردہ ہے جو مخلوق پر طاری ہوتی ہے۔ خالق پر اس کے طاری ہونے کا کیا سوال۔

۴۱۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ شفاعت کے اس غلط تصور کی تردید ہے کہ بعض ہستیوں کو خدا کے یہاں ایسا درجہ حاصل ہے کہ وہ کسی کے لیے خدا کے ہاں سفارش کر سکتے ہیں اور خدا کو ان کی سفارش قبول کرنا پڑے گی۔ فرمایا خدا کے حضور کسی کا یہ مقام ہی نہیں کہ اس کی اجازت کے بغیر وہ زبان کھول سکے کجا یہ کہ وہ سفارش منوا کے رہے۔ البتہ یہ صورت مستثنیٰ ہے کہ اللہ اپنے خاص بندوں میں سے جس کو چاہے گا اور جس کے حق میں چاہے گا شفاعت کی اجازت دے گا۔ یہ ایک اعزاز ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جن کو چاہے گا عطاء فرمائے گا تاہم یہ بات واضح ہے کہ کافروں کے حق میں کوئی بھی سفارش نہ کر سکے گا اس لیے کہ ان کے لیے سفارش کی کوئی گنجائش اللہ تعالیٰ نے رکھی ہی نہیں ہے۔

۴۱۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اللہ کا علم زبان اور مکان سب پر حاوی ہے لیکن بندوں کا علم صرف اس حد تک ہے جس حد تک کہ اس نے ان کو بخشنا چاہا۔

۴۱۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ متن میں لفظ کرسی استعمال ہوا ہے جس کے معنی بیٹھنے کی چیز تخت وغیرہ کے ہیں۔ بادشاہ کی کرسی (تخت) اس کے اقتدار کی علامت ہوتی ہے اس لیے یہ لفظ اقتدار کی تعبیر کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی کرسی کی نوعیت ہم نہیں جانتے کیونکہ یہ غیب کے حقائق میں سے ہے البتہ اس کا ابتدائی مفہوم بالکل واضح ہے کہ اللہ کا اقتدار آسمانوں اور زمین پر پوری طرح چھایا ہوا ہے کائنات کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جو اس کے دائرہ اقتدار سے باہر ہو۔

۴۱۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی کائنات کی نگرانی اس کی حفاظت اور اس کا انتظام اس پر گراں نہیں ہے کہ وہ کسی کی مدد کا محتاج ہو اس سے اس تصور کی نفی ہوتی ہے کہ خدا نے خدائی کے کام دیوی و دیوتاؤں میں بانٹ رکھے ہیں کوئی ہوائیں چلاتا ہے تو کوئی بارش برساتا ہے کوئی زمین کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے تو کوئی آسمان کا کوئی رزق رسانی کا سامان کرتا ہے تو کوئی موت کا اور کوئی دولت کی دیوی ہے تو کوئی بیماریوں کی۔

۴۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جو فروتر باتیں اس کی طرف منسوب کی جاتی ہیں اور جو گھٹیا تصورات قائم کئے جاتے ہیں ان کے مقابلہ میں اس کی شان نہایت بلند و بالا ہے۔

۴۱۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس سے بخوبی واضح ہے کہ اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جائے۔ بلکہ عقیدہ و ضمیر کی پوری آزادی دیتا ہے کیونکہ دین کی اصل غایت رضائے الٰہی کا حصول ہے جس کے مستحق وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو واقعی اس کو مقصود بنائیں جبر و کراہ کی صورت میں ظاہر ہے یہ مقصد فوت ہو جاتا ہے کیونکہ جبراً کسی سے مذہبی مراسم کی ادائیگی تو کرائی جا سکتی ہے لیکن اس کی نیتوں کو بدلنا اور اس کے دل میں رضائے الٰہی کے حصول کے لیے مخلصانہ جذبات پیدا کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں ہے لہٰذا کسی کا با دلِ ناخواستہ اسلام قبول کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔

چنانچہ قرآن کریم میں دوسری جگہ فرمایا گیا ہے وَلَوْشَاءَ رَبُّکَ لَاْمَنَ مَنْ فِی الاَرْضِ کُلُّہُمْ جَمِیْعًا اَفَانَتْ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتٰی یَکُوْنُواْ مُؤْمِنِیْنَ۔ (یونس۔ ۹۹)

” اگر تمہارا رب چاہتا تو روئے زمین پر جتنے لوگ ہیں سب کے سب ایمان لے آتے پھر کیا تم لوگوں کو مجبور کرو گے کہ وہ مومن ہو جائیں۔ اس حقیقت کے پیش نظر اسلام جس بات پر زور دیتا ہے وہ یہ ہے کہ تبلیغ کا معقول اور سنجیدہ انداز اختیار کیا جائے تاکہ حق بالکل نمایاں ہو کر سامنے آ جائے اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص کفر کی راہ پر جما رہتا ہے تو اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔

رہا جہاد تو وہ اصلاً زمین سے فتنہ و فساد کو مٹانے اور اسلامی نظام کو قائم کرنے کے لیے مشروع ہوا ہے اور اس کے نظام میں اس بات کی پوری گنجائش ہے کہ دوسرے مذاہب کے لوگ اس نظام کے تحت رہ سکتے ہیں۔ رہے عرب کے مشرکین اور وہ لوگ جو مرتد ہو جائیں تو ان کو قتل کرنے کا حکم بطور سزا کے ہے۔

۴۱۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ متن میں لفظ ” طاغوت” استعمال ہوا ہے جس کے معنی ” حد سے تجاوز کرنے اور کفر میں غلو کرنے کے ہیں ” (لسان العرب ج ۱۵ص ۷) اس سے مراد ہر وہ بندہ ہے جو حدود بندگی سے نکل جائے اور سرکشی پر اتر آئے اس کا اطلاق شیطان پر بھی ہوتا ہے اور باغی و سرکش انسانوں پر بھی اور خاص طور سے ان پیشواؤں اور حاکموں پر بھی جو اللہ کے احکام و قوانین کی جگہ اپنے احکام و قوانین چلاتے ہیں۔ مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ نساء نوٹ ۱۱۶، ۱۲۸، ۱۲۹ نیز سورہ المائدہ نوٹ ۱۸۰ ،

۴۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نور سے مراد نور ہدایت ہے جس سے اہل ایمان کے قلب و ذہن اور اخلاق و اعمال کو جلا ملتی ہے اور ظلمات سے مراد ضلالت کی تاریکیاں ہیں جو اہل کفر کے ذہن و قلب اور اخلاق و اعمال پر چھا جاتی ہیں۔ نور کا لفظ واحد استعمال ہوا ہے جبکہ ظلمات کا لفظ جمع یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ہدایتِ خداوندی کی راہ ایک ہی ہے اور وہ ہے اسلام جب کہ ضلالت کی راہیں اور شکلیں متعدد اور مختلف ہیں۔

۴۲۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہدایت و ضلالت سے متعلق جو اصولی بات اوپر بیان کی گئی ہے اس کو ذہن نشین کرانے کے لیے تین واقعاتی مثالیں پیش کی جا رہی ہیں جن میں سے پہلے واقعہ سے واضح ہوتا ہے کہ کس طرح کے لوگوں کو حق واضح ہونے کے بعد گمراہی سے نکلنا نصیب نہیں ہوتا اور بعد کے دو واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ جنہوں نے اللہ کا سہارا پکڑا تھا ان کو اللہ نے کس طرح یقین و طمانیت بخشی اور غیبی حقائق تک کا انہیں مشاہدہ کرا دیا۔

۴۲۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد نمرود ہے جو عراق کا بادشاہ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ہم عصر تھا۔

۴۲۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قدیم زمانہ میں بادشاہ دیوتاؤں کے اوتار سمجھے جاتے رہے ہیں۔ نمرود کی قوم ستاروں کی پرستار تھی اور سورج کو سب سے بڑے دیوتا کا درجہ حاصل تھا اس لیے نمرود کے بارے میں یہ اعتقاد رہا ہو گا کہ وہ سورج دیوتا کا اوتار ہے ایسی صورت میں وہ ابراہیم علیہ السلام کی اس دعوت کو کس طرح برداشت کر سکتا تھا کہ حقیقی رب صرف اللہ ہی ہے۔ اس لیے اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بلا کر مجادلہ کیا کہ تم یہ کس رب کی دعوت دے رہے ہو رب تو میں ہوں کہ اقتدار مجھے حاصل ہے۔ گویا اس کے زعم میں اس کا با اقتدار ہونا یہ معنی رکھتا تھا کہ وہ فلاں اور فلاں دیوتا کا اوتار ہے اور اس بنا پر وہ اس بات کا مستحق ہے کہ مراسم عبودیت اس کے سامنے بجا لائے جائیں حالانکہ یہ اقتدار اللہ کا بخشا ہوا تھا اور اللہ تعالیٰ جس کسی کو اقتدار بخشتا ہے اس کا امتحان لیتا ہے کہ آیا وہ اقتدار کی نعمت کو پا کر اللہ کا شکر گزار اور فرماں بردار بنتا ہے یا استکبار میں مبتلا ہو کر بندگان خدا پر اپنی خدائی کا سکہ بٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔

۴۲۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ استدلال نہایت واضح اور قوی تھا کہ زندگی اور موت اللہ ہی کے اختیار میں ہے لہٰذا وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اسے رب مانا جائے لیکن نمرود نے اس پر یہ احمقانہ معارضہ کیا کہ زندگی اور موت تو میرے اختیار میں بھی ہے میں جس کو چاہوں قتل کر دوں اور جس کو چاہوں معاف کر دوں۔ نمرود کے اس معارضہ میں کوئی وزن نہ تھا بلکہ محض کٹ حجتی کی بات تھی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ اپنی موت کو بھی ٹال نہیں سکتا تھا اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس میں الجھنے کی بجائے دوسری حجت ایسی پیش کر دی کہ نمرود سے کوئی جواب بن نہ پڑا اور وہ یہ کہ میرا رب سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال کر دکھا۔ اس استدلال میں یہ طنز بھی پوشیدہ تھا کہ سورج دیوتا نہیں ہے جس کے اوتار ہونے کا نمرود مدعی ہے بلکہ وہ اللہ کا تابع فرمان ہے اور اس کے قانون کے تحت طلوع اور غروب ہوتا ہے۔

۴۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ہدایت کی راہ واضح ہو جانے پر بھی ان لوگوں پر نہیں کھلتی جو اللہ کی نعمت کو پا لینے کے بعد اس کے شکر گزار نہیں بنتے بلکہ غرور نفس میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور اپنے لیے بندگی کا نہیں بلکہ خدائی کا مقام تجویز کرنے لگتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر جب حق واضح ہو جاتا ہے تو اسے قبول کرنے کے لیے وہ آمادہ نہیں ہوتے بلکہ ششدر ہو کر رہ جاتے ہیں۔

۴۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بستی سے مراد غالباً یروشلم (Jerusalem) ہے جو ۵۸۶ ؁ء قبل مسیح میں نبوکدنضر (Nebuchadnezzar) کے ہاتھوں تباہ ہو گیا تھا۔

۴۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سوال انکار کے طور پر نہیں بلکہ اظہار حیرت کے طور پر تھا۔

۴۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حیات بعد الموت کا یہ مشاہدہ جس شخص کو کرایا گیا وہ ضرور کوئی نبی ہو گا کیونکہ انبیاء علیہ السلام ہی کو ملکوتی سیر کرائی جاتی ہے۔ غالباً یہ واقعہ حزقیل نبی کے ساتھ پیش آتا تھا کیونکہ بائبل کے صحیفہ حرقی ایل میں اس سے ملتے جلتے ایک واقعہ کا ذکر ملتا ہے۔ (ملاحظہ ہو حزقی ایل ب ۳۷ ۱ تا ۱۴)

۴۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ واقعہ اس حقیقت کا مظہر ہے کہ قیامت کے دن جب آدمی قبر سے اٹھے گا تو عالم برزخ میں جو زمانہ اس نے گزارا ہو گا اس کا احساس اس کو نہ ہو گا بلکہ وہ یہ محسوس کرے گا کہ ابھی ابھی سویا تھا اور ابھی جاگ اٹھا ہے۔

۴۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نشانی اس بات کی کہ اللہ مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے اور نشانی اس بات کی کہ وہ اجڑی ہوئی بستی کو دوبارہ آباد کر سکتا ہے اور بنی اسرائیل کو محکومی کی ذلت سے نکال کر حیات نو بخش سکتا ہے۔

۴۳۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ واضح ہوا کہ اگر اللہ چاہے تو کسی چیز کو اس کے سڑ گل جانے کے بعد زندہ کر سکتا ہے اور اگر وہ چاہے تو کسی چیز کو طبعی قوانین کے اثرات سے بالاتر بھی رکھ سکتا ہے کہ وہ سڑے گلے ہی نہیں۔

۴۳۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی چار پرندے لے کر ان کو پہلے اپنے سے ہلالو پھر ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ان کے اجزاء اطراف کی پہاڑیوں پر رکھ دو پھر ان کو بلاؤ تو وہ زندہ ہو کر تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آئیں گے اس طرح ابراہیم علیہ السلام کو حیات بعد الممات کا مشاہدہ کرایا گیا۔

پرندوں کو اپنے سے مانوس کرنے کی ہدایت اس لیے دی گئی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یقین ہو جائے کہ وہی پرندے دوبارہ زندہ ہو گئے ہیں جن کو انہوں نے ٹکڑے ٹکڑے کر کے پہاڑوں پر بکھیر دیا تھا۔ اس طرح واضح ہوا کہ قیامت کے دن پروردگار کی پکار پر مردے ہر سمت سے اس کی طرف دوڑ پڑیں گے۔

مانوس پرندوں کا دوبارہ زندہ ہونے پر اپنے مالک کی آواز کو پہچان لینا اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسان جب دوبارہ اٹھائے جائیں گے تو ان کی دنیوی زندگی کے بارے میں یادداشتیں تازہ ہو جائیں گی۔

۴۳۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں اللہ تعالیٰ کی ان دو صفتوں کا ذکر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسانوں کا دوبارہ اٹھایا جانا برحق ہے اس لیے کہ اللہ اس پر قادر ہے نیز ایسا کرنا اس کی حکمت کا تقاضا بھی ہے۔

۴۳۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں سے بیان کا رخ پھر اصل سلسلہ کلام کی طرف مڑ رہا ہے۔

۴۳۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ” فی سبیل اللہ” (اللہ کی راہ میں) سے مراد وہ خرچ ہے جس کا مقصد رضائے الٰہی کا حصول ہو اور جو اللہ کی ہدایت کے مطابق خرچ کیا جائے۔

۴۳۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ خدا کی راہ میں خرچ کئے ہوئے مال کے اجر و ثواب میں افزونی کی مثال ہے۔ جس طرح ایک دانے سے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سو دانے ہوں اسی طرح ایک نیکی کا اجر سات سو گنا تک ملے گا۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں انفاق کی صرف مقدار نہیں دیکھی جائے گی بلکہ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ کس نے کس جذبہ سے اور کن حالات میں انفاق کیا۔ جس شخص نے دل کی پوری آمادگی اور گہرے ایمانی جذبات کے ساتھ مشکل حالات میں انفاق کیا ہو گا وہ اس شخص کے مقابلہ میں اجر کا زیادہ مستحق ہو گا جس نے خوشحالی میں نیم دلی کے ساتھ خرچ کیا ہو گا۔

۴۳۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اللہ نہایت وسیع وسائل اور لا محدود خزانوں کا مالک ہے اور اجر دینے میں نہایت فراخ دست ہے۔

۴۳۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ علیم ہے لہٰذا جو کار خیر بھی تم کرو وہ اس کے علم میں ہو گا اور وہ تمہیں برابر اس کا اجر دے گا۔

۴۳۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کم ظرف لوگ جب کسی پر خرچ کرتے ہیں تو چاہتے ہیں کہ وہ ان کے احسان تلے ہمیشہ دبے رہیں اور جب انہیں اس میں کامیابی نہیں ہوتی تو وہ طنز و تشنیع کر کے انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فرمایا جس اجر کا وعدہ کیا جا رہا ہے وہ ایسے لوگوں کے لیے نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کے لیے ہے جن کا جر دار ان آلائشوں سے پاک ہو اور جو اپنے انفاق میں مخلص ہوں۔

۴۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مالدار بالعموم غریبوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور مانگنے والوں کو جھڑک دیتے ہیں قرآن صرف انفاق کی ترغیب نہیں دیتا بلکہ مالداروں کی ذہنی و اخلاقی اصلاح بھی کرنا چاہتا ہے اس لیے اس نے اس قسم کی خرابیوں کی اصلاح کی طرف خاص طور سے توجہ کی ہے اور اس بات کی تاکید کی ہے کہ مانگنے والا اگر نا مناسب رویہ اختیار کرے تو عفو و درگزر سے کامل لینا چاہیے۔

۴۴۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ غنی ہونے کے ساتھ بردبار بھی ہے چنانچہ بندوں کی کمزوریوں اور کوتاہیوں کے باوجود وہ انہیں اپنے فضل سے نوازتا رہتا ہے۔ ان صفات کا اثر بندہ کو یہ قبول کرنا چاہیے کہ اگر اللہ نے اسی غنی بنایا ہے تو وہ اپنے اندر بردباری کی صفت پیدا کرے اور اگر غریبوں اور مانگنے والوں کا رویہ ناگوار ہو تو عفو و درگزر سے کام لے۔

۴۴۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ایسے شخص کی مثال ہے جو کسی سخت اور چکنی چٹان پر جس پر مٹی کی تہ جمی ہوئی ہو کاشت کرے جب اس پر زور کی بارش ہو تو فصل سمیت ساری مٹی بہ جائے اور صاف چٹان کی چٹان رہ جائے (Land Slip) کے اس واقعہ کے نتیجہ میں جس طرح کاشت کار کی محنت رائیگاں جاتی ہے اسی طرح جو لوگ نام و نمود کے لیے خیرات کرتے ہیں وہ اپنی خیرات کو برباد کرتے ہیں۔ جس خیرات کی بنیاد خلوص و للہیت پر نہ ہو اور جس کے پیچھے بندگان خدا کی سچی ہمدردی کا جذبہ نہ ہو اس کا کوئی اجر و ثواب آخرت میں مرتب نہ ہو گا۔

۴۴۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جو لوگ دولت کی نعمت پا کر اللہ کے شکر گزار نہیں بنتے انہیں خلوص و للہیت کے ساتھ انفاق کرنے کی توفیق نہیں ملتی اور ایک نیکی کا کام بھی وہ نیکی کے جذبہ سے نہیں کر پاتے۔

۴۴۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عربوں کے ہاں کھجور کے درختوں (Date-Palm trees) کو خاص اہمیت تھی۔ اس کا پھل ان کے لیے غذا کا کام دیتا تھا اور اس کا شمار دولت کے اہم وسائل میں ہوتا تھا۔ عرب اپنے باغات کو کھجور کے درختوں سے گھیر لیتے تھے تاکہ گرمی اور تند ہوا سے باغ محفوظ رہ سکے۔ بیچ میں انگور وغیرہ کے درخت لگاتے اور بعض قطعات میں فصلوں کی کاشت کرتے تھے۔

۴۴۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آگ کے بگولہ سے یہاں مراد باد سموم اور لُو کا بگولہ ہے جس سے باغ جھلس کر رہ جائے۔

۴۴۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس مثال سے جو بات ذہن نشین کر انی مقصود ہے وہ یہ ہے کہ کیا تم اس بات کو پسند کرو گے کہ اپنی دنیا آباد کرنے کے بعد جب تم یہاں سے رخصت ہو اور عالم آخرت میں قدم رکھو تو ایک شدید حادثہ سے دوچار ہو جاؤ اور تمہیں پتہ چلے کہ تمہارا سب کیا کرایا برباد ہو گیا اور اب کوئی موقع نہیں کہ از سر نو کمائی کر سکو اور نہ کہیں سے کوئی مدد پا سکو اگر اس حادثہ سے دو چار ہونا نہیں چاہتے تو دنیا پرستانہ ذہنیت ترک کرو اور رضائے الٰہی کو مقصود بنا کر راہ خدا میں خرچ کرو۔

۴۴۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ تعالیٰ وہی صدقہ قبول کرتا ہے جو پاک اور حلال کمائی میں سے کیا گیا ہو۔ ناپاک اور حرام کمائی میں سے جو صدقہ کیا جائے گا وہ اللہ کے ہاں ہرگز مقبول نہ ہو گا۔ مثلاً سود، جوا، شراب اور دیگر حرام چیزوں کی بیع، بے حیائی کے کام اور اس کی اشاعت نیز چوری غبن وغیرہ کے ذریعہ آدمی جو حرام مال کمائے اس کی کتنی ہی بڑی مقدار وہ کسی کار خیر میں صرف کرے اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ ہرگز مقبول نہیں ہے بلکہ مردود ہے۔

۴۴۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انفاق کی یہ ہدایت اگرچہ کہ زکوٰۃ اور نفل صدقات دونوں کے لیے ہے لیکن زمین کی پیداوار سے خاص طور پر اشارہ پیداوار کی زکوٰۃ کی طرف ہے اور اپنی کمائی سے تجارتی اموال وغیرہ کی زکوٰۃ کی طرف۔

۴۴۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی شیطان نہیں چاہتا کہ تم نیک کاموں میں خرچ کرو لہٰذا وہ مفلسی کا خطرہ دل میں ڈالتا ہے اور بدکاری اور عیاشی کے کاموں میں روپیہ اڑانے پر آمادہ کرتا ہے آج بے حیائی کی نت نئی شکلیں مثلاً عریاں تصاویر والے رسالے، فحش ناولیں ، حیا سوز گانے، ناچ رنگ کی محفلیں ، بے حیائی کو فروغ دینے والے کلب اور اخلاق کو تباہ کرنے والی فلمیں انسان سے بے دریغ خرچ کا مطالبہ کرتی ہیں اور حقوق کی ادائیگی اور نیک کاموں میں خرچ کرنے سے باز رکھتی ہیں۔

۴۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ متن میں لفظ حکمت استعمال ہوا ہے جس سے مراد فہم، دانائی اور بصیرت ہے دنیا کی اصل دولت مال نہیں بلکہ وہ دانائی ہے جو انسان میں دور اندیشی پیدا کرے اور ان کاموں کی طرف اس کی رہنمائی کرے جن میں اس کا حقیقی مفاد مضمر ہے۔ یہ دانائی اللہ تعالیٰ کی توفیق پر منحصر ہے اور اللہ تعالیٰ اس نعمت سے اسے نوازتا ہے جسے وہ چاہتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ چاہنا بھی حکمت و مصلحت سے خالی نہیں ہوتا وہ ان لوگوں کے دامن حکمت کے موتیوں سے بھر دیتا ہے جو دنیا پرستی اور عیش کوشی کی راہ اختیار کرنے کے بجائے رضائے الٰہی کو مقصود بنا کر اس کے لیے قربانیاں دیتے اور اس کی راہ میں بے دریغ خرچ کرتے ہیں۔

۴۵۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ متن میں لفظ ” نذر” استعمال ہوا ہے جس کے معنی منت ماننے کے ہیں یعنی آدمی یہ عہد کرے کہ اگر میری فلاں اور فلاں مراد پوری ہو گئی تو میں یہ اور یہ عبادت کروں گا یا اتنا اور اتنا صدقہ کروں گا۔ اسلام میں نذر صرف اللہ کے لیے جائز ہے۔ غیر اللہ کے نام کی نذر شرک اور حرام ہے کیونکہ نذر بھی عبادت کی ایک شکل ہے جو اعتراف نعمت اور شکر کے طور پر آدمی انجام دیتا ہے اور جب حقیقت یہ ہے کہ جو نعمت بھی آدمی کو ملتی ہے اس کا عطا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے تو پھر اس کی بخشی ہوئی نعمت کے حاصل ہو جانے پر غیر اللہ کا شکر ادا کرنے کے کیا معنی؟

اسلام نے نذر ماننے کی ترغیب نہیں دی ہے لیکن اگر کوئی شخص نذر مانے اور اس کی مراد پوری ہو جائے تو اس کا پورا کرنا ضروری ہے ،کیونکہ یہ اللہ کے ساتھ عہد ہے جس میں تساہل برتنا بہت بڑی اخلاقی کمزوری ہے۔

۴۵۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں ظالم سے مراد وہ لوگ ہیں جو دولت دنیا کو سب کچھ سمجھ بیٹھیں اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے جی چرائیں یا خرچ کریں تو نام و نمود وغیرہ کے لیے۔

۴۵۲ صدقہ و خیرات بعض مواقع پر ظاہر کر کے دینا مفید ہوتا ہے مثلاً دوسروں کو انفاق کی ترغیب دینے اور کسی اجتماعی مقصد کے لیے تحریک پیدا کرنے کی غرض سے لیکن اگر ایسی کوئی ضرورت نہ ہو تو پوشیدہ طور پر صدقہ کرنا ہی بہتر ہوتا ہے کیونکہ اس صورت میں آدمی ریا کاری سے بچتا ہے اور حاجتمندوں کی خود داری کو بھی ٹھیس نہیں پہنچتی اس لیے حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس شخص کو اپنے سایہ عاطفت میں جگہ دے گا جس نے اخفا کے ساتھ صدقہ دیا ہو گا یہاں تک کہ اس کے بائیں ہاتھ کو خبر نہیں کہ اس کے داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔

۴۵۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اہل حاجت کی مدد کرنا چاہیے خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، کسی کو ہدایت دینے کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے لہٰذا کسی غیر مسلم حاجتمند کی مدد کرنے میں اس سے تامل نہ کرو کہ اس نے ہدایت قبول نہیں کی ہے بلکہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے جس حاجتمند انسان کی بھی تم مدد کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا پورا پورا اجر دے گا۔

۴۵۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی وہ دین کی خدمت انجام دینے میں ایسے مصروف ہو گئے ہیں کہ کسب معاش کے لیے جدوجہد نہیں کر سکتے اور خود داری کی وجہ سے وہ اپنی حاجت کا اظہار نہیں کرتے۔ ان کو ان کے چہرے بشر سے پہچان لیا جا سکتا ہے کہ وہ واقعی حاجتمند ہیں ایسے لوگ امداد و اعانت کے اصل مستحق ہیں اس کے مصداق اس زمانے میں اصحاب صفہ تھے جو دین کا علم حاصل کرنے دوسروں کو اس کی تعلیم دیتے اور اعلاء کلمۃ اللہ کی جدوجہد میں ہمہ تن مصروف تھے اور اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے معاشی وسائل سے محروم تھے۔

۴۵۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انفاق پر زور دینے کے بعد اب سود کی حرمت بیان کی جا رہی ہے جو صدقات و خیرات کی عین ضد ہے۔ صدقہ و خیرات سے انسان کے اندر ہمدردی ، فیاضی، ایثار، رحمدلی اور محبت خداوندی کے جذبات پرورش پاتے ہیں لیکن سود انسان کے اندر خود غرضی، بخل، سنگدلی اور زرپرستی جیسے رذائل پیدا کرتا ہے اس لیے قرآن نے جہاں انفاق کی ہدایت کی ہے وہاں سود خوری سے بچنے کی بھی تاکید کی ہے۔

۴۵۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ متن میں لفظ ” ربوٰ ” استعمال ہوا ہے جس کے لغوی معنی زیادتی اور اضافہ کے ہیں۔ اس سے مراد وہ اضافہ ہے جو کسی قرض پر مہلت کے عوض وصول کیا جاتا ہے جسے ہم ” سود اور بیاج” کہتے ہیں۔ سود بیع سے بالکل مختلف چیز ہے اور اسلام نے اسے مطلقاً حرام قرار دیا ہے اس لیے ساہوکاری سود ہو یا بنک کا سود، کسی غریب سے لیا جائے یا مالدار سے اور قرض کاروبار اور تجارت کے لیے دیا گیا ہو یا رفاہ عامہ کے کسی منصوبہ کو رو بہ عمل لانے کے لیے، سود سود ہی رہے گا اور اس کی حرمت میں کوئی فرق واقع نہ ہو گا۔ واضح رہے کہ سود کی ممانعت پہلے سے آسمانی کتابوں میں چلی آ رہی ہے چنانچہ تورات میں ہے:

” اگر تو میرے لوگوں میں کسی محتاج کو جو تیرے پاس رہتا ہو کچھ قرض دے تو اس سے قرض خواہ کی طرح سلوک نہ کرنا اور نہ اس سے سود لینا۔ ” (خروج =۲۵۲۲)

” تو اپنے بھائی کو سود پر قرض نہ دینا خواہ وہ روپے کا سود ہو یا اناج کا سود یا کسی ایسی چیز کا سود ہو جو بیاج پر دی جایا کرتی ہے۔ ” (استثناء =۱۹۲۳)

زبور میں ہے :

” وہ جو اپنا روپیہ سود پر نہیں دیتا اور بے گناہ کے خلاف رشوت نہیں لیتا، ایسے کام کرنے والا کبھی جنبش نہ کھائے گا۔ ” (زبور =۵۱۵)

حزقی ایل میں ہے:

” سود پر لین دین نہیں . . . . . . . . . وہ صادق ہے۔ ”

. . . . . . . . . . . . سود پر لینے دین نہ کرے۔ (حزقی ایل =۱۷۸۱۸)

البتہ بنی اسرائیل نے توراۃ کے اصل حکم میں تحریف کر کے غیر قوموں سے سود لینا جائز کر لیا تھا۔

کتاب استثناء میں ہے:

” تو پردیسی کو سود پر قرض دے تو دے پر اپنے بھائی کو سود پر قرض نہ دینا۔ ” (استثناء =۲۰۲۳)

ان کی اسی حرکت پر قرآن نے تعریض کی ہے کہ :

قَالُوْآ لیسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیِیْنَ سَبِیْل (وہ کہتے ہیں امیوں کے معاملہ میں ہم پر کوئی گرفت نہیں ہے۔ (آل عمران ۷۵)

قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ بد معاملگی کسی کے ساتھ بھی جائز نہیں خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم اور سود خواری سب سے بڑی بد معاملگی ہے۔ اس لیے کافروں کا مال بھی سود کی راہ سے ہڑپ کر جانے کے لیے کوئی وجہ جواز نہیں ہے جو لوگ دور حاضر کی معاشیات و اقتصادیات سے متاثر ہیں وہ قرآن کے ” ربوٰ” کی توجیہ یہ کرتے ہیں کہ اس سے مراد صرف وہ سود ہے جو غریبوں اور محتاجوں کو اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لیے دئے جانے والے قرضوں پر لیا جائے۔ رہا کاروباری قرضہ پر سود تو نہ اس کا چلن قدیم زمانہ میں تھا اور نہ قرآن نے اس کی ممانعت کی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ کاروباری قرضوں کا رواج قدیم زمانہ سے چلا آ رہا ہے ،مثلاً بابل قدیم میں حمورابی کے زمانہ میں اس کا رواج تھا۔

(ملاحظہ ہو انسائیکلو پیڈیا ریلیجنس اینڈ ایتھکس جلد۱۲ ص ۵۵۵)

رہی قرآن سے اس کی ممانعت تو قرآن نے عمومیت کے ساتھ ربوٰ (سود) کو حرام ٹھیرایا ہے، جس میں ہر قسم کا سود شامل ہے خواہ وہ محتاجوں سے لیا جائے یا بڑے برے تاجروں سے ، خواہ اس کی شرح معمولی ہو یا بھاری اور خواہ وہ Interestکی تعریف میں آتا ہو یاUsuryکے۔

۴۵۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اٹھنے سے مراد قیامت کے دن اٹھنا ہے۔

۴۵۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شیطان کی چھوت سے مراد شیطان کے وہ اثرات ہیں جو سود خور کے قلب و ذہن پر پڑتے ہیں اور جس کے نتیجے میں اس پر زرپرستی کا بھوت ایسا سوار ہو جاتا ہے کہ اس کی حالت مخبوط الحواس کی سی ہو کر رہ جاتی ہے۔ وہ مال بٹورنے کی فکر میں دیوانہ ہو جاتا ہے اور اس بات کا اسے احساس نہیں ہوتا کہ وہ سود کے ذریعہ غریبوں کا خون چوس رہا ہے اور اخلاق اور ہمدردانہ جذبات کو کچل رہا ہے نیز سماج کی معاشی و اقتصادی حالت پر تباہ کن اثر ڈال رہا ہے۔ جو لوگ مال کے اس مالیخولئے میں مبتلا ہو جاتے ہیں وہ قیامت کے دن جب اٹھیں گے تو جو خون وہ چوستے رہے ہیں وہ ان کے دماغوں کو ماؤف کئے ہوئے ہو گا اور یہ دیکھ کر کہ سود در سود کا جو چکر وہ دنیا میں چلاتے رہے ہیں وہ اس دنیا میں خسران در خسران کا باعث بن گیا ہے، ان کا حال دیوانوں اور پاگلوں کا سا ہو گا۔

۴۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سود کو بیع پر قیاس کرنے والے اور اس کی حرمت پر اعتراض کرنے والے عصر حاضر کے علماء معیشت (Economists) ہی نہیں بلکہ ایسے ” عقلمند” نزول قرآن کے زمانہ میں بھی موجود تھے حالانکہ دونوں کی نوعیت ایک دوسرے سے بالکل مختلف اور ان کے درمیان جوہری اور بیّن فرق ہے، یہی وجہ ہے کہ سود کو سماج کے لیے لعنت قرار دینے والے قدیم زمانہ میں بھی موجود رہے ہیں اور اب بھی موجود ہیں۔ چنانچہ ارسطو نے سود کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا:

“Money does not breed”

Ency. of Social Sciences Vol. VIII P.  131

یعنی ” روپیہ روپیہ کو جنم نہیں دیتا۔ ”

اور موجودہ دور کے سوشلسٹ سود کو غریب اور مزدور طبقہ کے حق میں نا انصافی اور ظلم سے تعبیر کرتے ہیں :

“By Interest, then the socialist claims the rich are made richer and the poor poorer and the stability of the social organism is disturbed__the evil that Melamchthon had feared”. (Ency. of R. E. Vol. 12,  P. 554)

سوشلسٹ کا دعویٰ ہے کہ سود امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر بناتا ہے اور اس کا اثر سماجی نظام کے استحکام پر پڑتا ہے۔ یہ وہ خرابی ہے جس کا اندیشہ میلمیچتھن نے محسوس کیا تھا:

Usury has come to mean exorbitant interest but the legitimacy of interest is still debated. The early attacks on usury were motivated by the church’s sympathy with the oppressed poor. The latest attack finds its strength in the plea that interest is an unjust tax on the labouring classes. ” (Do. P. 554)

“یوژری (Usury) کا مطلب ہوا بھاری سود لیکن سود کا جواز اب بھی موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ پہلے اس پر اعتراض کی وجہ چرچ کی مظلوم غریب کے ساتھ ہمدردی تھی اور اب تازہ اعتراض اس بنیاد پر کیا جا رہا ہے کہ سود (Interest) مزدور طبقہ پر ایک غیر منصفانہ ٹیکس ہے۔ ”

“Interest is the unpaid wage of the labourer” (Do. P. 554)

” سود مزدور کی غیر ادا شدہ اجرت ہے”

۴۶۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سود کی حرمت کے وجوہ مختصراً درج ذیل ہیں :

(۱) سود وہ منافع ہے جو قرض خواہ سرمایہ کے استعمال پر قرض دار سے وصول کرتا ہے۔

Interest in its primary meaning is the payment for the use of money. (Ency. of S. S. Vol. P. 131)

اس سے بالکل واضح ہے کہ سودی معاملہ کوئی بیع یا تجارت (Trade) نہیں ہے کیوں کہ اس میں نہ کوئی چیز خریدی جاتی ہے اور نہ فروخت کی جاتی ہے بلکہ سرمایہ صرف استعمال کرنے کے لیے دیا جاتا ہے یہ کرایہ بھی نہیں ہے کیونکہ جو چیز کرایہ (Rent) پر لی جاتی ہے وہ اصلاً باقی رہتی ہے اور استعمال کرنے کے بعد وہی چیز بعینہ مالک کو لوٹا دی جاتی ہے لیکن سودی لین دین میں قرضدار سرمایہ کو صرف کر چکا ہوتا ہے اور جب واپس کرتا ہے تو مالک کے دئے ہوئے سرمایہ کو بعینہ واپس نہیں کرتا بلکہ دوسری رقم واپس کرتا ہے لہٰذا اس کو کرایہ کہنا بھی صحیح نہیں۔ اس سے سودی لین دین کی یہ حقیقت بے نقاب ہو جاتی ہے کہ وہ معروف معنی میں نہ بیع کا معاملہ ہے اور نہ کرایہ کا بلکہ اس سے بالکل مختلف ہے اور جب وہ نہ بیع کا معاملہ ہے اور نہ کرایہ کا تو منافع کس چیز کا لیا جاتا ہے؟ یہیں سے اس کا منکر ہونا واضح ہے۔

(۲) تجارت میں نفع کا بھی امکان ہوتا ہے اور نقصان کا بھی اس لیے اس میں آدمی کو خطرہ مول لینا پڑتا ہے لیکن سود خور کو کوئی خطرہ (Risk) مول لینا نہیں پڑتا کیونکہ زر اصل کے ساتھ فائدہ کا حصول اس کے لیے یقین ہوتا ہے۔

(۳) تجارت میں آدمی کو اپنی ذہنی اور عملی قوتیں صرف کرنا پڑتی ہیں لیکن سودی کاروبار میں اسے کچھ کئے بغیر متعین اور یقینی فائدہ حاصل ہو جاتا ہے اس لیے انسان محنت سے جی چرانے اور سود پر روپیہ لگانے کی آسان راہ اختیار کرنے لگتا ہے۔ یہ صورت اخلاقی اور معاشی دونوں اعتبار سے غلط اور مضر ہے۔

علاوہ ازیں یہ ایک حقیقت ہے کہ سود خور کے بارے میں قرضدار کا تاثر اچھا نہیں ہوتا وہ سود کو اپنے اوپر زیادتی ہی شمار کرتا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ انسانی فطرت سود سے اِبا کرتی ہے اور اسے برا سمجھتی ہے جبکہ ایک تاجر کے بارے میں جو واجبی منافع پر اشیاء فروخت کرتا ہے۔ کسی غریب سے غریب آدمی کا بھی یہ تاثر نہیں بنتا الغرض سود غریب کا خون چوس لینے (Blood Sucking) اور سرمایہ دار طبقہ کا غریب طبقہ سے ناجائز فائدہ اٹھانے (Exploitation) کا نام ہے۔ کاروبار کی ترقی کے لیے جو سودی قرضے دئے جاتے ہیں اس کا ہار بھی لازماً غریبوں پر پڑتا ہے اس لیے کہ ایک تاجر اور ایک کار خانہ دار اشیاء کی قیمت مقرر کرتے وقت جو سود ادا کرتا ہے اس کو محسوب کر کے قیمتیں متعین کرتا ہے۔

ظاہر ہے اشیاء کی قیمت سود کی مناسبت سے اسے زائد ہی مقرر کرنا پڑتی ہے اور اس زائد قیمت کا بار زیادہ تر غریب طبقہ پر پڑتا ہے۔

۴۶۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سود خور کے لیے آگ کی دائمی سزا کا اعلان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سود کی حرمت دیگر گناہوں کے مقابلہ میں شدید تر ہے اور اتنی واضح تنبیہ کے بعد بھی جو لوگ خدا کا حکم ماننے کے لیے تیار نہ ہوں اور سود خوری پر اصرار کریں ان کا یہ رویہ ان کے نافرمان اور سرکش ہونے کا واضح ثبوت ہو گا کیونکہ یہ رویہ ایمان کے ساتھ کسی طرح میل نہیں کھاتا۔

۴۶۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بظاہر سود سے سرمایہ بڑھنا دراصل اخروی انجام کے لحاظ سے ہے چنانچہ قیامت کے دن سود خور دیکھ لے گا کہ دنیا میں جس سرمایہ کو وہ سود کے ذریعہ بڑھاتا رہا ہے اور بنک میں لاکھوں روپیہ جمع کرتا رہا ہے آخرت کے بنک میں اس کا بقایا (Balance) صفر نکلے گا اور اس کے حصہ میں سوائے حسرت اور ندامت کے کچھ نہیں آئے گا۔

اس کے بر خلاف جو لوگ غیر سودی قرضے دیتے رہے وہ اپنے حسن عمل کا اجر ضرور پائیں گے بالخصوص جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہے ہیں وہ آخرت کے بنک میں اپنا وہ سارا سرمایہ محفوظ پائیں گے جو انہوں نے خرچ کیا تھا اور اتنا ہی نہیں بلکہ اس سے کئی گنا زیادہ انہیں ملے گا۔ یہ تو ہوئی بات آخرت کے انجام کے لحاظ سے ، رہا دنیا میں نتیجہ تو سود دنیا میں بھی خیر و برکت کو مٹاتا ہے اور سوسائٹی کی معیشت پر بھی خراب اثرات ڈالتا ہے۔ برعکس اس کے صدقات سے خیر بھی پروان چڑھتا ہے اور سوسائٹی کی معیشت پر بھی خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

۴۶۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سود خور ناشکرا ہے کہ اللہ کی دی ہوئی دولت کو اس کی مرضی کے خلاف استعمال کرتا ہے اور حق تلفی کرنے والا ہے کہ بندوں کے حقوق کے معاملہ میں ظلم و زیادتی کا مرتکب ہوتا ہے۔

۴۸۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان آیات کے ذریعہ جو مدینہ کے آخری دور کی آیات میں سے ہیں سود پر قانونی بندش عائد کی گئی اور سود خوروں کو الٹی میٹم دیتے ہوئے آگاہ کیا گیا کہ اسلامی نظام میں سودی کاروبار کرنے والوں کی حیثیت باغیوں اور مفسدوں کی ہے اور حکومت سود خوری ہے باز نہ آنے والوں کو قتل کی سزا تک دے سکتی ہے اسلامی نظام کی یہ خصوصیت کہ اس میں سودی کاروبار کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے اسے سرمایہ دارانہ نظام سے جس میں سود ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے بالکل ممتاز کرتی ہے۔

سود کی حرمت اور اس کے قانونی امتناع کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر نہایت سخت الفاظ میں واضح فرمایا:

وَربا الْجَاہِلِیۃِ مَوْضوعٌ وَ اَوَّلُ رِبًا اَضَعْ رِبانا رباعباسِ بن عبدِ المطلب فاِنَّہ، مَوضُوعٌ کُلُّہٗ۔

” جاہلیت کا سود ساقط ہے سب سے پہلا سود جو میں ساقط کرتا ہوں وہ ہمارے خاندان کے فرد عباس بن عبدالمطلب کا سود ہے کہ وہ پوری طرح ساقط کر دیا گیا۔ ” (مسلم کتاب الحج)

۴۶۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قدیم زمانہ میں اگر مقروض قرض ادا کرنے کے قابل نہ ہوتا تو اسے اپنی آزادی تک سے محروم ہو جانا پڑتا تھا چنانچہ عدم ادائیگی کی بنا پر اس کو یا اس کے بال بچوں کو لونڈی غلام بنا لیا جاتا تھا لیکن قرآن نے ایسی سخت سزاؤں کا یہ کہہ کر خاتمہ کر دیا کہ “اگر مقروض تنگ دست ہو تو کشادگی تک مہلت دو۔ ” اس حکم کے پیش نظر جو لوگ قرض کی ادائیگی سے مجبور ہوں انہیں مہلت دینا ضروری ہے۔ نہ ان کو غلام بنا یا جا سکتا ہے اور نہ ان کی ضروریات زندگی مثلاً رہنے کا مکان، کھانے کے برتن اور پہننے کے کپڑے وغیرہ ضبط کئے جا سکتے ہیں۔

۴۶۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس آیت میں صفائی معاملات کے تعلق سے ہدایات دی گئی ہیں کیونکہ معاملات کا انسان کے کردار پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ اگر کردار کی پاکیزگی مطلوب ہے تو کاروباری معاملات اور لین دین میں ذمہ دارانہ اور محتاط رویہ اختیار کرنا ہو گا۔ اس سلسلہ میں جو ہدایات دی گئی ہیں ان پر اگر ٹھیک طور سے عمل کیا جائے تو کاروباری نزاعات اور جھگڑے کھڑے نہ ہوں۔

۴۶۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قرض کی دستاویز لکھ لی جائے اور اس معاملہ میں تساہل نہ برتا جائے۔ یہ ہدایت ادھار لین دین کے بارے میں بھی ہے۔

۴۶۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لکھنے کی صلاحیت اللہ تعالیٰ کی بخشش ہے اور اس بخشش کا تقاضہ ہے کہ آدمی ضرورت پڑنے پر بندگان خدا کے کام آئے، اس ہدایت کی ضرورت اور اہمیت کو سمجھنے کے لیے اس وقت کے ماحول کو سامنے رکھنا چاہیے جس میں پڑھے لکھے لوگوں کی بڑی کمی تھی یہاں تک کہ جس قوم میں قرآن نازل ہوا وہ امی کے نام سے معروف تھی۔

آیت کے مضمون سے اس بات پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ قرآن نے لکھنے پڑھنے کی تعلیم کو اہم اور ضروری قرار دیا اور اسے اللہ کی نعمت سے تعبیر کیا۔

۴۶۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قرض لینے والا۔

۴۷۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قرض کی دستاویز پر دو مسلمان مردوں کی گواہی ثبت ہونی چاہیے۔ واضح رہے کہ یہ ہدایت مسلمانوں کو دی جا رہی ہے۔

۴۷۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ایسے مردوں اور عورتوں کو گواہ بنایا جائے جو اخلاق و عمل کے لحاظ سے پسندیدہ اور قابل اعتماد ہوں۔

۴۷۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک مرد کے مقابلہ میں دو عورتوں کی گواہی کو ضروری قرار دینے میں عورتوں کی تحقیر کا کوئی پہلو نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ قرآن کے بیان کے مطابق یہ ہے کہ گواہی کے معاملہ میں عورتوں سے غلطی کے سرزد ہونے کا زیادہ امکان ہے اور واقعہ یہ ہے کہ عورتیں تجارتی اور کاروباری دنیا سے کم اور گھریلو مسائل سے زیادہ تعلق رکھتی ہیں اس لیے کاروباری معاملات میں دقیقہ رسی کی ان میں کمی ہوتی ہے اور اس بنا پر ان کے مغالطہ میں پڑنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے علاوہ ازیں عورتوں میں جذبات کا وفور ان کی معاملہ فہمی پر اثر انداز ہوتا رہتا ہے۔ جدید علم النفسیات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے اس سلسلہ میں مولانا عبدالماجد دریا بادی نے اپنی انگریزی تفسیر میں علماء نفسیات کی کتابوں کے جو اقتباسات پیش کئے ہیں ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں :

In women deception is almost psychological. (Havelock Ellis: Man and Woman P. 196)

” عورتوں کا مغالطہ میں پڑنا قریب قریب نفسیاتی بات ہے۔ ”

“We are again forced to admit that a woman is not in a position to judge objectivity being influenced by her emotion. ” (Baver. Op. cit. p. 289)

عورتوں کی ان نفسیات کے پیش نظر اسلام نے اپنے قانونی شہادت میں یہ محتاط طریقہ اختیار کیا ہے کہ اگر مردوں میں سے دو گواہ نہ ملیں تو ایک مرد اور عورتوں کو گواہ بنا لیا جائے تاکہ اگر ایک عورت معاملہ کی نوعیت کو ٹھیک سے سمجھ نہ سکی ہو یا صورت واقعہ ٹھیک طور سے بیان نہ کر پا رہی ہو تو دوسری عورت اسے متنبہ کر دے۔

۴۷۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ کا ڈر کاروباری اور عدالتی معاملات میں بھی ہونا چاہیے۔

۴۷۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رہن اس چیز کو کہتے ہیں جو قرض کی ضمانت کے طور پر قرض دینے والے کے قبضہ میں دی جاتی ہے یہ گروی رکھی ہوئی چیز قرض دینے والے کے پاس بطور امانت ہوتی ہے جس سے کسی قسم کا فائدہ اٹھانا اس کے لیے جائز نہیں مثلاً اگر مکان گروی رکھا گیا ہو تو اس کا کرایہ کھانے کا حق اس کو نہیں پہنچتا۔ رہن کا معاملہ سفر کے ساتھ مشروط نہیں ہے سفر کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ بالعموم حالت سفر میں اس کی ضرورت پیش آتی ہے نیز اخلاقاً یہ بات پسندیدہ نہیں ہے کہ کسی معقول وجہ کے بغیر کسی کی ضرورت کی چیزیں روک کر اسے قرض دیا جائے لیکن اگر کوئی شخص رہن قبضہ میں لیکر ہی قرض دیتا ہے تو ایسا کرنا سفر اور حضر دونوں میں جائز ہے بشرطیکہ نہ اس پر سود لے اور نہ اس سے کسی قسم کا فائدہ اٹھائے کیونکہ قرض دیکر جو فائدہ بھی حاصل کیا جائے گا وہ سود ہی ہو گا۔

۴۷۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ آخری تین آیتیں خاتمۂ کلام کی حیثیت رکھتی ہیں۔

۴۷۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ” جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ ” اس ہمہ گیر اور وسیع کائنات (Universe) کی تعبیر کے لیے قرآن کا اسلوب بیان ہے اور اللہ کے لیے سب کچھ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایک دنیا ہو یا ہزار دنیا میں جہاں کہیں جو کچھ بھی ہے اللہ ہی کی ملکیت ہے۔ سب چیزیں اسی کے اختیار میں ہیں ، سب پر اسی کی فرمانروائی ہے اور سب کا مرجع بھی وہی ہے۔ یہ ہے اس کائنات کی اصل حقیقت اور یہ ہے خالص توحید جو اسلام کے عقیدہ و ایمان کی اساس ہے اور اسی کا صحیح شعوری انسان کو شریعت الٰہی کی گرانبار ذمہ داری اٹھانے کا اہل بناتا ہے۔

۴۷۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی دل کے ارادوں اور نیتوں کا بھی محاسبہ ہو گا۔

۴۷۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں جزو سزا کا معاملہ عدل و حکمت کے ساتھ انجام نہیں پائے گا بلکہ مطلب یہ ہے کہ جزا و سزا کے معاملہ میں کوئی قوت ایسی نہیں ہے جو اللہ کی مشیت میں مداخلت کر سکے وہ مختار مطلق ہے اور اسے سزا دینے اور معاف کرنے کا پورا پورا اختیار ہے۔

۴۷۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سورہ کا آغاز اس بات سے ہوا تھا کہ اللہ کی ہدایت کو قبول کرنے اور اس پر ایمان لانے والے کون لوگ ہوں گے۔ یہاں خاتمہ کلام کے طور پر واضح کیا جا رہا ہے کہ رسول کو ایسے ساتھی مل گئے ہیں جو دولت ایمان سے بہرہ مند ہیں۔ وہ چونکہ کسی قسم کے تعصب میں مبتلا نہیں تھے اس لیے انہوں نے ایمان کی نعمت پائی۔ اس طرح رسول کی رہنمائی میں وہ امت برپا ہو گئی ہے جسے خدا کی صحیح معرفت حاصل ہے اور جسے شریعت الٰہی کا حامل اور اسلامی نظام کا علمبردار بنایا گیا ہے۔

۴۸۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اہل ایمان کا قول ہے گویا امت بیک زبان اعلان کر رہی ہے کہ ہم دوسری امتوں کی طرح ہدایت الٰہی کے معاملہ قومی، گروہی یا نسلی تعصب میں مبتلا نہیں ہیں کہ کسی پیغمبر کو مانیں اور کسی کو نہ مانیں بلکہ ہم بلا تفریق تمام انبیاء علیہم السلام کو مانتے ہیں خواہ وہ کسی قوم کسی ملک اور کسی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔

۴۸۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں سننا، ماننے اور قبول کرنے کے معنی میں ہے۔

۴۸۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس قاعدہ کلیہ کا اظہار ہے کہ شریعت کی ذمہ داری اگرچہ ایک بھاری ذمہ داری ہے لیکن ہر شخص اپنی مقدرت کے لحاظ سے ذمہ دار ہے۔ جو شخص کسی واقعی مجبوری کی وجہ سے کسی حکم کی پوری طرح تعمیل نہ کر سکتا ہو تو جس حد تک اس کے لیے عمل کرنا اس کے لیے ممکن ہو اسی حد تک وہ اس کا مکلف قرار پائے گا اس اصول کا شرعی احکام میں لحاظ کیا گیا ہے اور مجبوریو کی صورت میں رخصتیں دی گئی ہیں۔ مثلاً جو شخص کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتا اسے بیٹھ کر نماز پڑھنے کی رخصت، وضو کے لیے پانی نہ مل سے یا اسے استعمال کرنا مضر ہو تو تیمم کرنے کی رخصت وغیرہ۔ اسی طرح اسلام کے اجتماعی احکام پر جس حد تک عمل کیا جا سکتا ہو یا ان کو رو بہ عمل لانے کے لیے جس حد تک جدوجہد ممکن ہو اسی حد تک بندہ اس کا ذمہ دار قرار پائے گا اور جو کام اس کے بس میں نہ ہو اس کے بارے میں اس سے باز پرس نہ ہو گی۔

۴۸۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ہر شخص اپنے کئے کا ذمہ دار ہے اور قیامت کے دن اس کا لازمی نتیجہ اس کے سامنے آنا ہے۔ اس روز ہر متنفس وہی کاٹے گا جو اس نے دنیا میں بویا ہو گا۔ ہر عمل خواہ نیک ہو یا بد اپنا ایک لازمی اثر اور نتیجہ رکھتا ہے اور اللہ کا قانون مکافات عمل بالکل بے لاگ اور غائب درجہ منصفانہ واقع ہوا ہے اس لیے یہ ممکن نہیں کہ ایک شخص بدی سمیٹے اور وہ دوسرے کے سر تھوپ دی جائے اور نہ یہ ممکن ہے کہ زید نیکی کرے اور بکر کے کھاتہ میں اسے جمع کر لیا جائے۔ جس کام میں انسان کی نیت اور اس کی کوشش کو دخل نہ ہو اس کی جزا یا سزا اسے کیوں ملنے لگے؟ جزا و سزا کے بارے میں قرآن کا بیان کردہ یہ اصول ایک قاعدہ کلیہ کی حیثیت رکھتا ہے جس سے عیسائیوں کے کفارہ کے عقیدہ کی تردید ہوتی ہے نیز ثواب کے بارے میں مسلمانوں میں رائج غلط رسوم کی بھی۔

۴۸۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سورہ کا اختتام دعا پر ہو رہا ہے یہ اجتماعی دعا ہے جو امت مسلمہ کی زبان سے ادا ہو رہی ہے جس کا ایک ایک لفظ دین کی گرانبار ذمہ داریوں کے احساس کی ترجمانی کرتا ہے۔

۴۸۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اہل ایمان کی یہ دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لی ہے۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے۔

رفع عن امتی الخطا و النسیان و امااستکرہو علیہ (ابن ماجہ۔ کتاب الطلاق) ” میری امت کی غلطی، بھول نیز جس کام کے لیے اس کے افراد کو مجبور کیا جائے وہ معاف ہے۔ ” (مراد وہ قصور اور بھول ہے جس میں بے پرواہی کا کوئی دخل نہ ہو)

اس کے باوجود معافی کی دعا کرتے رہنا اس لیے ضروری ہے کہ اس سے اپنے قصوروار ہونے کا احساس اور اللہ کے حضور خشیت و عاجزی کا اظہار کرنا ہے اور یہی بات ایک شکر گزار بندے کے لیے مناسب ہے۔

۴۸۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے اس بوجھ کی طرف جو یہود پر ڈالا گیا تھا ان کی سرکشی کی وجہ سے انہیں ” سبت” منانے جیسے سخت احکام دئے گئے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھیوں کی یہ دعا تھی کہ ہماری شریعت کو بوجھل نہ بنا اور ہم پر ایسی ذمہ داریاں نہ ڈال جن کو اٹھانا ہمارے لیے دشوار ہو۔ اہل ایمان کی یہ دعا بھی مقبول ہوئی چنانچہ امت محمدیہ کو جو شریعت دی گئی وہ بوجھل احکام سے پاک ہے اور اس کا امتیازی وصف ہی یہ ہے کہ وہ نہایت آسان اور رخصتوں والی شریعت ہے حدیث میں آتا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: بعثت بالحنیفیۃ السمحۃ (احمد ج ۵ص۲۶۶)

” مجھے ایسے دین کے ساتھ بھیجا گیا ہے جو سیدھا اور آسان ہے۔ ”

دعا کی قبولیت کے باوجود اس کا اہل ایمان کی زبان پر جاری رہنا اس وقت کی یاد تازہ کرتا ہے جبکہ شریعت کا نزول ہو رہا تھا اور اس امت کو اس کا حامل بنایا جا رہا تھا نیز ان کلمات کے ذریعہ امت اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی ناتوانی اور عاجزی کا اظہار کر رہی ہے تاکہ مزید عنایات کی مستحق قرار پائے۔

۴۸۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دعا میں ” اے ہمارے رب” کی تکرار دعا کرنے والے کی اپنے رب کے ساتھ شدید محبت اور گہری وابستگی کا اظہار ہے دعا کے اس اسلوب میں آداب دعا کی تعلیم بھی مضمر ہے۔

۴۸۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی شرعی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ہمیں ایسی آزمائشوں سے گزرنا نہ پڑے جن میں ہم پورے اتر نہ سکیں اور ایسی سختیوں سے دو چار نہ ہونا پڑے جو ہماری قوت برداشت سے باہر ہوں۔

۴۸۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی دینی ذمہ داریوں کو ادا کرنے اور شرعی احکام کی تعمیل میں جو کوتاہیاں ہم سے سرزد ہو جائیں ان کو معاف فرما۔

۴۹۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یا “ہماری مغفرت فرما۔ ” مغفرت کے معنی ڈھانک دینے کے ہیں مراد گناہوں کو ڈھانکنا ہے۔

۴۹۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مولیٰ یعنی ناصرو مددگار۔ گویا امت اپنے اس احساس کا اظہار کر رہی ہے کہ راہِ ہدایت پر قائم رہنا اور مخالفتوں کے طوفان سے سلامتی کے ساتھ گزرنا تیری نصرت اور مدد کے بغیر ممکن نہیں۔

۴۹۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ دشمنان اسلام کے مقابلہ میں نصرت اور غلبہ کی دعا ہے۔ شرعی احکام کو تفصیلاً بیان کرنے اور ان پر کاربند ہونے کی ہدایت کے بعد امت کی زبان سے دشمنان اسلام کے مقابلہ میں نصرت و غلبہ کی یہ دعا اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اس امت کو شرعی طریقہ پر زندگی گزارنے کی آزادی ہونی چاہیے اور اجتماعی زندگی میں شرعی نظام کو قائم کرنے کے لیے اسے طاقت بھی فراہم ہونی چاہیے۔ نیز اس راہ میں مخالفین اسلام کی طرف سے جو رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہوں ان کو اکھاڑ پھینکنے اور شرعی قانون کے اجراء اور نفاذ کی راہ کو ہموار کرنے کے لیے غلبہ و اقتدار ضروری ہے۔

٭٭٭

ٹائپنگ: عبد الحمید، افضال احمد، مخدوم محی الدین، کلیم محی الدین، فیصل محمود

تدوین اور ای بک کی تشکیل:  اعجاز عبید