FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

:

 

فہرست مضامین

دعوت القرآن

 

 

حصہ  ۶:  یوسف ، الرَّعْد، اِبْرَاہِیم، اَلنَّحْل

 

 

                   شمس پیر زادہ

 

 

 

 

 

 (۱۲) سورۂ یوسف

 

 (۱۱۱ آیات)

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

                   تعارف

 

نام

 

یہ سورۂ اللہ کے پیغمبر یوسف علیہ السلام کی سرگزشت پر مشتمل ہے اور اس مناسبت سے اس کا نام سورہ یوسف ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مکی ہے اور مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ سورہ ہود کے بعد نازل ہوئی ہو گی۔

 

مرکزی مضمون

 

یوسف علیہ السلام کی بے داغ سیرت کو نمایاں کرتے ہوئے ان کی دعوت کو پید کیا گیا ہے اور مخالفین حق پریہ واضح کیا گیا ہے کہ ان کی مخالفانہ کاروائیوں اور سازشوں کا توڑ اللہ تعالیٰ کی خاموش تدبیریں کس طرح کرتی ہیں۔

 

نظم کلام

 

آیت ۱ تا ۲ تمہیدی آیات ہیں۔ آیت ۳ تا ۱۰۱ میں سرگزشت یوسف بیان ہوئی ہے۔ آیت ۱۰۲ تا ۱۱۱ خاتمہ کلام ہے جس میں اس واقعہ کے پیش نظر تذکیر کے پہلو پیش کیے گئے ہیں۔

 

پچھلی سورہ سے مناسبت

 

سورہ یوسف کو سورہ ہود سے کافی مناسبت ہے۔ ایک تو اس پہلو سے کہ سورہ ہود میں متعدد انبیاء علیہم السلام کی سرگزشتیں بیان ہوئی ہیں اور اس سورہ میں تفصیل کے ساتھ یوسف علیہ السلام کی۔ دوسرے اس پہلو سے کہ سورہ ہود کی آخری آیتوں میں جو باتیں ارشاد ہوئی ہیں ان سے یہ ہود کی آخری آیتوں میں جو باتیں ارشاد ہوئی ہیں ان سے یہ سورہ پوری طرح ہم آہنگ ہے مثلاً وہاں نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے خطاب کر کے فرمایا گیا تھا کہ یہ انبیائی سرگزشتیں تمہارے دل کو مضبوطی عطاء کرنے والی اور مبنی پر حقیقت ہیں اور مؤمنین کے لیے موعظت اور یاد دہانی ہیں۔ یہ باتیں سورہ یوسف میں بھی بدرجہ اتم موجود ہیں۔ وہاں مخالفین سے کہا گیا تھا کہ آخری فیصلہ کا تم انتظار کرو ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔ اس کے بعد سورہ یوسف نے گویا اس بات کی نشاندہی کری کہ حالات کیا رخ اختیار کرنے جا رہے ہیں اور کٹھن مرحلوں سے گزرنے کے بعد کس طرح نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو زمین میں اقتدار اور غلبہ حاصل ہونے والا ہے اور آپ کی برادری کے ان لوگوں کو جو برادران یوسف کے نقش قدم پر چل رہے ہیں کس طرح شرمندگی اٹھانا پڑ ے گی۔ سورہ ہود کی آخری آیت میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ پر توکل کی ہدایت دے گئی تھی۔ اس سورہ نے یوسف علیہ السلام کے توکل کی بہترین مثال سامنے رکھ دی ساتھ ہی توکل کے نتائج بھی پیش کر دیے جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ جو شخص صحیح راہ عمل اختیار کر کے نتائج کو اللہ پر چھوڑ دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا کام بناتا ہے اور کامیابی اس کے قدم چوم لیتی ہے۔

 

خاندان اور جائے سکونت

 

ابراہیم علیہ السلام نے ا پنے ایک بیٹے اسحاق کو فلسطین (کنعان) میں آباد کیا تھا۔ اسحاق علیہ السلام پیغمبر تھے۔ ان کے بیٹے یعقوب کو بھی جن کا دوسرا نام اسرائیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا۔ ان کے جیسا کہ بائبل کا بیان ہے بارہ بیٹے تھے جن سے بنی اسرائیل کا سلسلہ چلا۔ یوسف اور بن یمین چھوٹے تھے اور ایک بیوی سے تھے اور دوسرے بیٹے دوسری بیویوں سے۔ یہ خاندان فلسطین کے علاقہ حبرون میں رہتا تھا اور ان کا زمانہ تقریباً اٹھارہ سو سال قبل مسیح کا ہے۔

 

ترجمہ

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

۱

۔ ۔ ۔ ۔ الف۔ لام۔ را ۱* یہ آیتیں ہیں روشن کتاب کی ۲*۔

۲۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے اس کو عربی قرآن کی شکل میں نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھو ۳*۔

۳۔ ۔ ۔ ہم تمہیں بہترین سرگزشت سناتے ہیں ۴* اس قرآن کے ذریعہ جس کی وحی ہم نے تمہاری طرف کی ہے۔ ورنہ اس سے پہلے تم اس سے بالکل بے خبر تھے ۵*۔

۴۔ ۔ ۔ ۔ جب ایسا ہوا کہ یوسف۶* نے اپنے باپ سے کہا “ابا جان ! میں نے (خواب میں) دیکھا ہے کہ گیارہ ستارے اور سورج اور چاند ہیں اور کیا دیکھتا ہو مہ یہ میرے آگے جھک گئے ہیں”۷*۔

۵۔ ۔ ۔ ۔ اس نے کہا “اے میرے بیٹے ! اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ سنانا ورنہ وہ تمہارے خلاف کوئی سازش کریں گے ۸*۔ یقیناً شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

۶۔ ۔ ۔ ۔ اور اسی طرح تمہارا رب تمہیں جن لے گا ۹* اور تمہیں سکھائے گا باتوں کی اصل حقیقت معلوم کرنا ۱۰* اور وہ اپنی نعمت تم پر اور آل یعقوب پر اسی طرح پوری کرے گا جس طرح اس سے پہلے وہ تمہارے دادا ابراہیم اور اسحاق پر کر چکا ہے ۱۱* بے شک تمہارا رب علم والا حکمت والا ہے ۱۲*۔

۷۔ ۔ ۔ در حقیقت یوسف اور اس کے بھائیوں کی سرگزشت میں پوچھنے والوں کے لیے بڑ ی نشانیاں ہی۔ ۱۳*

۸۔ ۔ ۔ ۔ جب ایسا ہوا کہ وہ (یعنی برادران یوسف) کہنے لگے یوسف اور اس کا بھائی ۱۴* ہمارے والد کو ہم سب سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم ایک جتھا ہیں ۱۵*۔ یقیناً ہمارے ابّا کھلی غلطی پر ہیں۔

۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یوسف کو قتل کرو یا اس کو کسی جگہ پھینک دو تاکہ تمہارے والد کی توجہ تمہاری ہی طرف وہ جائے۔ اس کے بعد تم بیک بن جاؤ گے ۱۶*۔

۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا یوسف کو قتل نہ کرو بلکہ اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے تو کسی اندھے کنویں میں ڈال دو۔ کوئی گزرنے والا قافلہ اسے نکال لے گا۔

۱۱۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے کہا۔ ۔ ابا جان ! آپ یوسف کے معاملہ میں ہم پر اعتماد کیوں نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے بڑ ے خیر خواہ ہیں۔

۱۲۔ ۔ ۔ ۔ کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجیے کہ کھائے پئے اور کھیلے کودے ۱۷* ہم اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں ۱۸*۔

۱۳۔ ۔ ۔ اس نے کہا تمہارا اس کو اپنے ہمراہ لے جانا میرے لیے باعث رنج ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں بھیڑ یا اسے کھا نہ جائے اور تم اس سے غافل ہو ۱۹*۔

۱۴۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے کہا ہمارے پورے جتھے کے موجود ہوتے ہوئے بھیڑ یے نے اسے کھا لیا تو ہم بالکل ناکارہ ہوں گے۔

۱۵۔ ۔ ۔ ۔ پھر جب وہ یوسف کو لے گئے ۲۰* اور طے کر لیا کہ ان کو اندھے کنویں میں ڈال دیں گے تو ہم نے اس کی طرف وحی کی کہ (ایک وقت آئے گا جب) تم انہیں ان کا یہ معاملہ جتا دو گے اور انہیں اس کا خیال بھی نہیں ہو گا ۲۱*۔

۱۶۔ ۔ ۔ ۔ اور وہ رات گئے اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے ۲۲*۔

۱۷۔ ۔ ۔ انہوں نے کہا ابا جان ! ہم دور میں ایک دوسرے کا مقابلہ کر رہے تھے اور یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا کہ بھیڑ یے نے اس کو کھا لیا۔ ۲۳* اور آپ ہماری بات باور کرنے والے نہیں ہیں اگرچہ ہم سچ بول رہے ہوں ۲۴*۔

۱۸۔ ۔ ۔ ۔ اور وہ اس کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا خون لگا لائے تھے۔ اس نے (باپ نے) کہا نہیں بلکہ تمہارے نفس نے ایک بات گڑھ لی ہے۔ ۲۵* اب میرے لئے صبر جمیل ہے ۲۶* اور جو کچھ تم بیان کرتے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد مانگتا ہوں ۲۷*۔

۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور (ادھر) ایک قافلہ آیا تو اس نے اپنا سقہ بھیجا۔ اس نے ڈول ڈالا تو پکار اٹھا بڑ ی خوشی کی بات ہے یہ تو ایک لڑ کا ہے ۲۸*۔ اور اس کو مال تجارت سمجھ کر چھپا لیا۔ ۲۹* وہ جو کچھ کر رہے تھے اللہ اس سے واقف تھا۔

۲۰۔ ۔ ۔ ۔ اور انہوں نے اس کو حقیر قیمت پر کہ گنتی کے چند درہم تھے بیچ دی ۳۰* اور اس معاملہ میں انہیں کوئی دلچسپی نہیں تھی ۳۱*۔

۲۱۔ ۔ ۔ ۔ اور مصر کے جس شخص نے اسے خریدا تھا اس نے اپنی بیوی سے کہا اسے قدر و منزلت سے رکھو ۳۲* عجب نہیں یہ ہمارے لئے مفید ثابت ہو یا ہم اسے بیٹا بنا لیں ۳۳*۔ اس طرح ہم نے یوسف کے قدم اس سر زمین میں جما دئے ۳۴* اور (اس ابتلا سے اس لئے گزارا) تا کہ اسے باتوں کی حقیقت معلوم کرنا سکھائیں ۳۵*۔ اللہ اپنا حکم نافذ کر کے رہتا ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ ۳۶*

۲۲۔ ۔ ۔ ۔ اور جب وہ اپنی پختگی کو پہنچ گیا ۳۷* تو ہم نے اسے حکم (قوت فیصلہ) اور علم عطاء کیا۔ حسن عمل کا رویہ اختیار کرتے والوں کو ہم اسی طرح بدلہ عطاء فرماتے ہیں ۳۸*۔

۲۳۔ ۔ ۔ اور جس عورت کے گھر میں وہ تھا وہ اس کو اپنی طرف مائل کرنے لگی ۳۹*۔ اس نے دروازے بند کر دیے اور بولی آ جاؤ۔ اس نے کہا معاذاللہ! وہ میرا رب ہے اس نے مجھے اچھا مقام عطاء کیا ہے۔ غلط کار لوگ کبھی فلاح نہیں پاتے ۴۰*۔

۲۴۔ ۔ ۔ ۔ عورت نے تو اس کا قصد کر ہی لیا تھا اور وہ بھی اس کا قصد کرتا اگر اس نے اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لی ہوتی ۴۱* ایسا اس لیے ہو تاکہ ہم اس سے برائی اور بے حیا ئی کو دور رکھیں ۴۲* بلا شبہہ وہ ہمارے خاص بندوں میں سے تھا ۴۳*۔

۲۵۔ ۔ ۔ ۔ اور دونو دروازہ کی طرف دوڑ ے اور عورت نے یوسف کا کرتا پیچھ ے پھاڑ دیا اور دونوں نے دروازے پر عورت  کے شوہر کو موجود پایا۔ کہتے لگی کیا سزا ہے اس شخص کی جو آپ کی بیوی کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے سوائے ا سکے کہ اس کو قید کیا جائے یا کوئی درد ناک سزا دے جائے ۴۴*۔

۲۶۔ ۔ ۔ ۔ یوسف جے کہا اسی نے مجھے رجھانے کی کوشش ۴۵* کیا اور عورت کے خاندان والوں میں سے ایک گواہ نے گواہی دی کی اگر اس کا کرتا آگے سے پھٹا ہے تو عورت سچی ہے اور وہ جھوٹا ہے۔

۲۷۔ ۔ ۔ اور اگر اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہے تو عورت جھوٹی ہے اور وہ سچا ہے۔ ۴۶*

۲۸ ،۔ جب اس نے دیکھا کہ اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہے تو کہا یہ تم عورتوں کی چاہے اور تمہاری چالیں بڑ ی خطرناک ہوتی ہیں ۴۷*۔

۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یوسف ! اس سے درگذر کر اور اے عورت ! تو اپنے گناہ کی معافی مانگ در اصل تو ہی خطاوار ہے ۴۸*۔

۳۰۔ ۔ ۔ ۔ اور شہر کی بعض عورتیں کہتے لگیں۔ عزیز کی بیوی اپنے غلام کو رجھانے میں لگی ہوئی ہے۔ اس کی محبت اس کے دل میں گھر کر گئی ہے۔ ہمارے خیال میں تو وہ صریح غلط راہ پر پڑ گئی ہے ۴۹*

۳۱۔ ۔ ۔ ۔ اس (عورت) نے جب ان کی یہ مکارانہ باتیں سنیں تو انہیں بلا بھیجا۵۰* اور ان کے لیے تکیہ والی مجلس آراستہ کی اور ہر ایک کو ایک ایک چھری پیش کر دی ۵۱* اور یوسف سے کہا ان کے سامنے نکلا آؤ۔ جب ان عورتوں نے اسے دیکھا تو اس کی عظمت سے متاثر ہوئیں اور اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں اور پکار اٹھیں حاشا لِلہ ! پاکی ہے اللہ کے لیے) یہ انسان نہیں۔ یہ تو بزرگ فرشتہ ہے۔ ۵۲*

۳۲۔ ۔ ۔ ۔ وہ بولی یہ ہے وہ شخص جس کے بارے میں تم نے مجھے ملامت کی تھی ۵۳* میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی مگر یہ بچ رہا۔ ۵۴* اور اگر یہ میرا کہنا نہ مانے گا تو قید کیا جائے گا اور ذلیل ہو گا ۵۵*۔

۳۳۔ ۔ ۔ یوسف نے دعا کی اے میرے رب ! قید مجھے پسند ہے بہ نسبت اس کے جس کی طرف یہ مجھے بلا رہی ہیں ۵۶* اور اگر تو نے ان کی حامل سے مجھے نہ نچا یا تو میں ان کی طرف مائل ہو جاؤں گا اور جاہلوں میں سے ہو جاؤں گا ۵۷*۔

۳۴۔ ۔ ۔ ۔ اس کے رب نے اس کی دعا قبول فرمائی اور ان کی چالوں سے اسے بچایا۔ ۵۸* بلا شبہہ وہ سننے والا جاننے والا ہے۔

۳۵۔ ۔ ۔ ۔ پھر باوجود اس کے وہ نشانیاں دیکھ چکے تھے ان کی رائے یہی ہوئی کہ اسے کچھ عرصہ کے لیے قید کر دیں ۵۹*۔

۳۶۔ ۔ ۔ ۔ اور اس کے ساتھ دو اور نوجوان بھی قید خانہ میں داخل ہوئے ۶۰* ایک نے کہا میں کیا دیکھتا ہو کہ شراب نچوڑ رہا ہوں ۶۱* دوسرے نے کہا میں نے دیکھا ہے کہ ا پنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور پرندے ان کو کھا رہے ہیں ۶۲* ہمیں اس کی تعبیر بتائیے ہم دیکھتے ہیں کہ آپ بڑ ے نیک آدمی ہیں ۶۳*۔

۳۷۔ ۔ ۔ اس نے کہا جو کھانا تمہیں ملتا ہے اس کے آنے سے پہلے ہی میں تمہیں اس کی تعبیر بتا دوں گا ۶۴*۔

یہ اس علم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے سکھایا ہے ۶۵*۔ میں نے ان لوگوں کے مذہب کو رد جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے بھی منکر ہیں ۶۶*۔

۳۸۔ ۔ ۔ ۔ اور اپنے باپ دادا ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب کے دین کو اختیار کیا۔ ۶۷* ہمارا یہ کام نہیں کہ اللہ کے ساتھ کیس چیز کو شریک ٹھہرائیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے ہم پر اور لوگوں پر ۶۸* لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے ۶۹*

۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے جیل کے ساتھیو ! بہت سے الگ الگ رب بہتر ہیں یا ایک اللہ جو سب پر غالب ہے ؟ ۷۰*۔

۴۰۔ ۔ ۔ ۔ اس کو چھوڑ کر تم جن کی پرستش کرتے ہو وہ محض چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں ۷۱* اللہ نے ان کے لیے کوئی حجت نازل نہیں کی۔ حاکمانہ اختیار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ۷۲* اسے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۷۳*۔ یہی صحیح دین ہے ۷۴* لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۷۵*۔

۴۱۔ ۔ ۔ ۔ اے جیل کے ساتھیو ! تم میں سے ایک تو اپنے آقا کو شراب پلائے گا اور دوسرا سولی پر چڑھایا جائے گا اور پرندے اس کے سر نوچ نوچ کر کھائیں گے۔ اس بات کا فیصلہ ہو چکا جس کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے ۷۶*۔

۴۲۔ ۔ ۔ ۔ اس  نے جس کے بارے میں اس نے سمجھا تھا کہ رہا ہو جانے والا ہے اس سے کہا کہ اپنے آقا کے پاس میرا ذکر کرنا ۷۷* مگر شیطان نے اس کو پانے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا اور وہ کئی سال جیل میں پڑا رہا۔ ۷۸*۔

۴۳۔ ۔ ۔ اور بادشاہ نے کہا میں کیا دیکھتا ہو ں کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات سبز بالیں ہیں اور دوسری سات خشک۔ اے اہل دربار ! میرے خواب کی تعبیر بتاؤ اگر تم خواب کی تعبیر بتانا جانتے ہو۔

۴۴۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے کہا یہ پریشان خواب ہیں اور ہم پریشان خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے ۷۹*۔

۴۵۔ ۔ ۔ ۔ اور۴ ان دونوں میں سے جو رہا ہو گیا تھا اسے ایک عرصہ کے بعد بات یاد آ گئی ۸۰* اور وہ بول اٹھا میں آپ لوگوں کو اس کی تعبیر بتا دیتا ہوں۔ مجھے (یوسف کے پاس) بھیج دیجئے۔

۴۶۔ ۔ ۔ ۔ یوسف ! اے صداقت شعار ! ۸۱* ہمیں اس کی تعبیر بتائیے کہ سات موتی گائیوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات بالیں سبز ہیں اور دوسری سات خشک۔ تکہ میں لوگو ں کے پاس واپس جاؤں اور وہ اس کی تعبیر) جان لیں ۸۲*۔

۴۷۔ ۔ ۔ اس نے کہا سات سال تم لگا تار تم کاست کرو گے۔ اس دوران جو فصلیں تم کاٹو انہیں ان کی بالوں ہی میں رہتے دو سوائے اس تھوڑ ی مقدار کے جو تمہارے کھانے کے کام آئے ۸۳*۔

۴۸۔ ۔ ۔ ۔ پھر اس کے بعد سات سخت سال آئیں گے جو اس (ذخیرہ) کو کھا جائیں گے جو تم نے جمع کر رکھا ہو گا بجز اس قلیل مقدار کے جو تم محفوظ کر رکھو ۸۴*۔

۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر اس کے بعد ایک سال ایسا آئے گا جس میں لوگو پر باران رحمت بھیجی جائے گی اور وہ رس نچوڑیں گے ۸۵*۔

۵۰۔ ۔ ۔ ۔ اور بادشاہ نے کہا اس کو میرے پاس لاؤ۔ ۸۶* جب قاصد اس کے پاس پہنچا تو اس نے کہا اپنے آقا کے ۸۷* پاس واپس جاؤ اور اس سے دریافت کرو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے ۸۸*۔ میرا رب ان چال سے خوب واقف ہے۔

۵۱۔ ۔ ۔ ۔ اس نے پوچھا تمہارا کیا معاملہ ہے جب تم نے یوسف کو رجھانے کی کوشش کی تھی ؟۸۹* انہوں نے کہا حاشا لِلہ ! (اللہ کے لئے پاکی ہے) ہم نے اس میں برائی کی کوئی بات نہیں پائی۔ عزیز کی بیوی بول اٹھی۔ اب حق بالکل ظاہر ہو گیا۔ میں نے ہی اس کر رجھانے کی کوشش کی تھا اور بلا شبہ وہ سچا ہے ۹۰*۔

۵۲۔ ۔ ۔ ۔ یہ اس لیے کہ اسے معلوم ہو جائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہیں کی۔ اور یہ کہ اللہ خیانت کرتے والوں کی چالوں کو راہ پر نہیں لگا تا ۹۱*

۵۳ اور میں اپنے نفس کو بری نہیں قرار دیتا۔ نفس تو برائی پر بڑا اکسانے والا ہے۔ مگر جس پر میرا ب رحم فرمائے بلا شبہ میرا رب بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے ۹۲*۔

۵۴۔ ۔ ۔ ۔ بادشاہ نہ کہا اس کے میرے پاس لاؤ تاکہ میں اسے اپنے لیے خاص کر لوں ۹۳*۔ پھر جب اس نے گفتگو کی تو بادشاہ نے کہا آج کے دن آپ ہمارے ہاں معزز و معظم ہیں ۹۴*۔

۵۵۔ ۔ ۔ ۔ اس نے کہا ملک کے خزانوں پر مجھے مختار بنا دیجئے۔ میں حفاظت کرنے والا ہوں اور علم بھی رکھتا ہو ۹۵*۔

۵۶۔ ۔ ۔ ۔ اس طرح ہم نے ملک میں یوسف کو اقتدار بخشا ۹۶*۔ وہ جہاں چاہے رہ سکتا تھا۔ ۹۷* ہم جسے چاہتے ہیں اپنی رحمت سے نوازتے ہیں اور نیک لوگو کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتے ۹۸*۔

۵۷۔ ۔ ۔ اور آخرت کا اجر کہیں بہتر ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے اور پرہیز گاری اختیار کی ۹۹*۔

۵۸۔ ۔ ۔ ۔ پھر ایسا ہو کہ یوسف کے بھائی (مصر) آئے اور اس پاس حاضر ہوئے ۱۰۰*۔ اس نے انہیں پہچان لیا مگر وہ اسے پہچان نہ سکے ۱۰۱*۔

۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب اسے ان کا سامان تیار کروایا تو کہا اب کے اپنے سوتیلے بھائی کو بھی میرے پاس لانا۔ دیکھتے نہیں کہ میں پیمانہ پورا بھر کر دیتا ہوں اور بہتر مہمان نواز ہوں ۱۰۲*۔

۶۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔اگر تم اسے میرے پاس نہیں لاؤ گے و میرے پاس تمہارے لئے کوئی غلہ نہیں ہے اور نہ تم میرے پاس آنا۔

۶۱۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے کہا ہم اس کے لیے اس کے والد کو آمادہ کرتے کی کوشش کریں گے اور ہم ضرور ایسا کریں گے۔

۶۲۔ ۔ ۔ ۔ اس نے اپنے خدمت گاروں کو حکم دیا کہ ان کا دیا ہو مال ان کے سامان میں رکھ دو۔ (اس نے یہ اس لیے کیا) تا کہ جب یہ لوگ اپنے گھر لوٹیں تو اس کو پہچان لیں اور تاکہ وہ واپس آئیں ۱۰۳*۔

۶۳۔ ۔ ۔ جب وہ اپنے اپ کے پاس لوٹے تو کہا ابا جان ! آئندہ ہم کو غلہ دینے سے روک دیا گیا ہے لہٰذا ہمارے ساتھ مارے بھائی کو بھیج دیجئے کہ ہم غلہ لائیں اور ہم ضرور اس کی حفاظت کریں گے۔

۶۴۔ ۔ ۔ ۔ اس نے کہا کیا میں اس کے معاملہ میں اسی طرح تم پر اعتماد کروں جس طرح اس سے پہلے اس کے بھائی کے معاملہ میں کر چکا ہوں ۱۰۴*۔ اللہ ہی بہترین محافظ ہے اور سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔

۶۵۔ ۔ ۔ ۔ اور جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو دیکھا کہ ان کا مال بھی ان کو لوٹا دیا گیا ہے۔ کہنے لگے ابا جان ! ہمیں اور کیا چاہیے۔ یہ ہمارا مال ہمیں لوٹا دیا گیا ہے۔ اب ہم اپنے گھر والوں کے لیے رسد لے آئیں گے اور اپنے بھائی کی حفاظت بھی کریں گے نیز ایک اونٹ غلہ مزید حاصل کر لیں گے ۱۰۵*۔ اتنا غلہ تو آسانی سے مل جائے گا۔

۶۶۔ ۔ ۔ ۔ اس نے کہا میں اس کو ہر گز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک کہ تم اللہ کے نام پر مجھ سے یہ عہد نہ کرو کہ تم ضرور اسے میرے پاس واپس لاؤ گے الّا یہ کہ تم کسی گرفت میں آ جاؤ ۱۰۶*۔ جب انہوں نے اس کا اپنا پکا قول دے دیا تو اس نے کہا ہمارے اس قول پر اللہ نگہبان ہے۔

۶۷۔ ۔ ۔ اور اس نے کہا بیٹو ! ایک ہی دروازہ سے داخل نہ ہونا بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہونا ۱۰۷*۔ میں اللہ کے مقابل میں تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا۔ فیصلہ اللہ ہی کا نافذ ہوتا ہے اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے ۱۰۸*۔

۶۸۔ ۔ ۔ ۔ پھر جب وہ داخل جس طرح ان کے باپ نے انہیں ہدایت کی تھی تو یہ (تدبیر) اللہ (کی تقدیر) کے مقابل میں ان کے کچھ کام نہ آ سکی۔ ہاں یعقوب نے اپنے دل میں ایک ضرورت محسوس کی تھی۔ جسے اس نے پورا کر دیا۔ بلا شبہ وہ ہماری دی ہوئی تعلیم کی بنا پر صاحبِ علم ۱۰۹* تھا لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں ۱۱۰*۔

۶۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب یہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور بتایا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو یہ لوگ جو کچھ کرتے رہے ہیں اس پر غم نہ کرو ۱۱۱*۔

۷۰۔ ۔ ۔ ۔ پھر جب اس نے (یوسف نے) ان کا سامان تیار کرایا تو اپنے بھائی کے سامان میں پیالہ رکھ دیا۔ ۱۱۲* پھر ایک پکارنے والے نے پکارا کہ اے قافلہ والو تم چور ہو ۱۱۳*۔

۷۱۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے ان کی طرف پلٹ کر پوچھا تمہاری کون سی چیز کھو گئی ہے ۱۱۴*۔

۷۲۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے کہا ہمیں شاہی پیمانہ نہیں مل رہا ہے۔ اور جو شخص اس کو لادے اس کے لئے ایک اونٹ غلہ ہے اور میں اس کا ذمہ دار ہوں ۱۱۵*۔

۷۳۔ ۔ ۔ انہوں نے کہا ۱۱۶*۔ اللہ کی قسم تم لوگ اچھی طرح جانتے ہو کہ ہم اس ملک میں فساد کرنے نہیں آئے ہیں نہ ہمارا یہ شیوہ ہے کہ چوری کریں۔

۷۴۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے کہا ۱۱۷* اگر تم جھوٹے ثابت ہوئے تو (بتلاؤ) ا سکی سزا ہے ؟

۷۵۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے جواب دیا اس کی سزا یہی ہے کہ جس کے سامان میں چیز نکلے وہ اس کا بل قرار پائے ۱۱۸*۔ ہم ایسے ظالموں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں ۱۱۹*۔

۷۶۔ ۔ ۔ ۔ پھر اس نے (یعنی یوسف نے) اپنے بھائی کو بوری سے پہلے ان کی بوریوں کی تلاشی لینی شروع کی پھر اپنے بھائی کی بوری سے اس (پیالہ) کو بر آمد کر لیا ۱۲۰*۔ اس طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی ۱۲۱* وہ بادشاہ کے قانون کی رو سے اسے رکھ نہیں سکتا تھا مگر یہ کہ اللہ چاہے ۱۲۲*۔ ہم جس کے لیے چاہتے ہیں اس کے درجے بلند کر دیتے ہیں ۱۲۳*۔ اور ہر علم والے کے اوپر ایک ایسی ہستی موجود ہے جو زبردست علم والی ہے ۱۲۴*۔

۷۷۔ ۔ ۔ انہوں نے کہا اگر اس نے چوری کی ہے تو اس سے پہلے اس کا بھائی بھی چوری کر چکا ہے ۱۲۵*۔ یوسف نے بات اپنے دل میں رکھ لی اور اس کو ان پر ظاہر نہیں ہونے دیا۔ (یعنی اس نے دل ہی دل میں) کہا تم بہت برے لوگ ہو ۱۲۶* اور جو کچھ تم بیان کر رہے ہو اللہ اس کی حقیقت خوب جانتا ہے۔

۷۸۔ ۔ ۔ ۔ کہنے لگے اے عزیز !۱۲۷* اس کے والد بہت بوڑھے ہو گئے ہیں ۱۲۸* لہٰذا اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجئے ہم دیکھتے ہیں آپ بڑ ے نیک ہیں۔

۷۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس نے کہا اللہ کی پناہ اس بات سے کہ ہم اس کو چھوڑ کر جس کے پاس ہماری چیز نکلی ہے کسی اور کو پکڑ لیں ۱۲۹*۔ اگر ہم ایسا کریں تو ظالم ہوں گے۔

۸۰۔ ۔ ۔ ۔ جب وہ اس سے مایوس ہو گئے تو الگ ہو کر مشورہ کرنے لگے۔ ان میں جو بڑا تھا اس نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے والد تم سے اللہ کے نام پر عہد لے چکے ہیں اور اس سے پہلے یوسف کے معاملہ میں بھی تم سے تقصیر ہو چکی ہے۔ میں تو اب اس ملک سے جانے والا نہیں جب گی کہ میرے والد مجھے حکم نہ دیں یا اللہ میرے حق میں کوئی فیصلہ نہ فرمائے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے ۱۳۰*۔

۸۱۔ ۔ ۔ ۔ تم لوگ اپنے والد کے پاس جاؤ اور کہو ! ابا جان آپ کے بیٹے نے چوری کی ۱۳۱* اور ہم نے وہی بات بیان کی جو ہمارے علم میں آئی۔ غیب کے نگہبان تو ہم تھے نہیں۔

۸۲۔ ۔ ۔ ۔ آپ اس بستی کے لوگوں سے پوچھ لیجئے جہاں ہم ٹھہرے تھے اور اس قافلہ والوں سے دریافت کر لیجئے جس کے ساتھ ہم آئے ہیں ۱۳۲*۔ ہم (اپنے بیان میں ّ بالکل سچے ہیں۔

۸۳۔ ۔ ۔ اس نے کہا نہیں بلکہ تمہارے نفس نے ایک بات گڑھ لی ہے ۱۳۳* تو مجھے اب بخوبی صبر سے کام لینا ہو گا۔ عجب نہیں کہ اللہ ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ ۱۳۴*۔ بلا شبہ وہ سب کچھ جاننے والا اور صاحب حکمت ہے ۱۳۵*۔

۸۴۔ ۔ ۔ ۔ اور اس نے ان کی طرف سے رخ پھیر لیا اور پکار اٹھا ہائے یوسف! گم سے اس کی آنکھیں سفید پڑ گئیں اور وہ گھٹا گھٹا رہنے لگا ۱۳۶*۔

۸۵۔ ۔ ۔ ۔ وہ کہنے لگا واللہ آپ ہمیشہ یوسف ہی کی یاد میں رہیں گے یہاں تک کہ اپنے کو گھلا دیں گے یا ہلاک ہو جائیں گے۔

۸۶۔ ۔ ۔ ۔ اس نے کہا میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد (شکوہ) اللہ ہی سے کرتا ہوں ۱۳۷* اور میں الہ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۱۳۸*۔

۸۷۔ ۔ ۔ بیٹو ! جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی سراغ لگاؤ اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ اس کی رحمت سے تو کافر ہی مایوس ہوتے ہیں۔

۸۸۔ ۔ ۔ ۔ جب وہ اس کے پاس پہنچے تو کہا اے عزیز ! ۱۳۹* ہم اور ہمارے گھر کے لوگ بڑ ی تکلیف میں مبتلا ہیں۔ اور ہم تھوڑ ی سی پونجی لے کر آئے ہیں تو آپ ہمیں غلہ پورا دیجیے اور صدقہ بھی عنایت فرمایے۔ اللہ صدقہ کرنے والوں کی جزا دیتا ہے۔

۸۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس نے کہا تمہیں معلوم ہے کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا جبکہ تم جہالت میں مبتلا تھے ؟

۹۰۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے کہا کیا واقعی آپ یوسف ہیں ؟ اس نے کہا ہاں میں یوسف ہوں ۱۴۰* اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر احسان فرمایا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ جو کوئی تقوا اختیار کرتا ہے اور صبر سے کام لیتا ہے تو اللہ ایسے نیک لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ ۱۴۱*

۹۱۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے کہ بخدا اللہ نے آپ کو ہم پر برتری دی اور واقعی ہم قصور وار تھے ۱۴۲*۔

۹۲۔ ۔ ۔ ۔ اس نے کہا آج کے دن تم سے کوئی مواخذہ نہیں ۱۴۳* اللہ تمہیں معاف کرے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔

۹۳۔ ۔ ۔ میرا یہ کرتہ لے جاؤ اور میرے والد کے چہرے پر ڈال دو۔ ان کی بینائی لوٹ آئے گی ۱۴۴* اور اپنے تمام گھر والوں کو لے کر میرے پاس آ جاؤ ۱۴۵*۔

۹۴۔ ۔ ۔ ۔ پھر جب قافلہ روانہ ہو تو ان کے والد کہنے لگے۔ اگر تم لوگ یہ نہ کہو کہ میں سٹھیا گیا ہوں تو میں کہوں گا مجھے یوسف کی مہک آ رہی ہے۔ ۱۴۶*۔

۹۵۔ ۔ ۔ ۔ لوگوں نے کہا واللہ آپ اپنے پرانے خیال خام ہی میں مبتلا ہیں ۱۴۷*۔

۹۶۔ ۔ ۔ ۔ پھر جب خوش خبری دینے والا آیا تو اس نے کرتا اس کے چہرہ پر ڈال دیا او اس کی بینائی لوٹ آئی ۱۴۸*۔ اس نے کہا میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ ۱۴۹*

۹۷۔ ۔ ۔ وہ کہنے لگے ابا جان ہمارے گناہوں کی مغفرت کے لیے دعا کیجئے۔ واقعی ہم خطا کار تھے ۱۵۰*۔

۹۸۔ ۔ ۔ ۔ اس نے کہا میں اپنے رب سے تمہارے لیے معافی کی دعا کروں گا ۱۵۱*۔ بلاشبہ وہ بڑا معاف کرنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۹۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر جب یہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا مصر میں داخل ہو جاؤ انشاء اللہ امن و چین کے ساتھ ۱۵۲*۔

۱۰۰۔ ۔ ۔ ۔ اور اپنے والدین کو تخت پر اونچا بٹھا یا اور اس کے آگے جھک گئے ۱۵۳*۔ اس نے کہا ابا جان ! یہ ہے تعبیر میرے اس خواب کی جو میں نے پہلے دیکھا تھا۔ میرے رب نے اسے سچ کر دکھا یا۔ یہ اسی کا احسان ہے کہ مجھے قید خانہ سے نکالا اور آپ لوگوں کو صحرا سے (میرے پاس) لایا بعد اس کے کہ شیطان میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فتنہ اندازی کر چکا تھا۔ بلاشبہ میرا رب جو کچھ چاہتا ہے اس کے یے لطیف تدبیریں کرتا ہے وہ صاحب علم بھی ہے اور صاحب حکم بھی ٕ۱۵۴*۔

۱۰۱۔ ۔ ۔ ۔ اے میرے رب ! تو نے مجھے حکومت عطا فرمائی اور باتوں کی تعبیر کرنا دکھا یا آسمانوں اور زمین کے پیدا کرے والے ! تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کار ساز ہے۔ مجھے اس حالت میں وفات دے کہ مسلم ہو ں اور مجھے نیک لوگو ں کے زمرے میں شامل کر ۱۵۵*۔

۱۰۲۔ ۔ ۔ ۔ یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جس کی ہم تم پر وحی کر رہے ہیں ورنہ تم اس وقت ان کے پاس موجود نہ تھے جب انہوں نے آپس میں ایک بات طے کر کے سازش کی تھی۔ ۱۵۶*۔

۱۰۳۔ ۔ ۔ ۔ اور اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ خواہ تم کتنا ہی چاہو وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں ۱۵۷*

۱۰۴۔ ۔ ۔ ۔ حالانکہ تم اس پر ان سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کر رہے ہو ۱۵۸*۔ یہ تو ایک یا د دہانی ہے تمام دنیا والوں کے لیے ۱۵۹*۔

۱۰۵۔ ۔ ۔ ۔ اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ لوگ گزرتے ہیں مگر کوئی توجہ نہیں کرتے۔ ۱۶۰*۔

۱۰۶۔ ۔ ۔ ۔ اور اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کو مانتے بھی ہیں تو اس طرح کہ اس کے ساتھ شریک ٹھہرا لیتے ہیں ۱۶۱*۔

۱۰۷۔ ۔ ۔ کیا یہ لوگ اس بات سے مطمئن ہیں کہ اللہ کے عذاب کی آفت ان پر چھا نہ جائے گی یا بے خبری میں قیامت کی گھڑ ی ان پر اچانک آ نہ جائے گی ؟

۱۰۸۔ ۔ ۔ ۔ (اے پیغمبر !) کہا یہ ہے میری راہ ۱۶۲*۔ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں بصیرت کے ساتھ ۱۶۳* میں بھی اور وہ لوگ بھی جو میری پیروی کر رہے ہیں۔ ۱۶۴*۔ اور اللہ کے لئے پاکی ہے اور میں شرک کر نے والوں میں سے نہیں ہوں۔

۱۰۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ہم نے تم سے پہلے بھی آدمیوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا تھا جو بستیوں کے رہنے والے تھے اور ہم نے ان پر وحی کی تھی ۱۶۵*۔ کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے ان لوگوں کا انجام کیساکچھ ہوا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں ۱۶۶*۔ اور آخرت کا گھر ۱۶۷* ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا۔ پھر کیا تم عقل سے کام نہ لو گے ؟

۱۱۰۔ ۔ ۔ ۔ (ان گزری ہوئی قوموں کو بھی ڈھیل دے گئی تھی) یہاں تک کہ جب رسول (اپنی قوموں سے) مایوس ہو گئے اور لوگوں نے خیال کیا کہ ان کو جھوٹی خبریں سنائی گئی تھیں تو ہماری مدد ان (رسولوں ّ کے پاس آ پہنچی۱۶۸* اور وہ لوگ بچا لیے گیے جن کو ہم نے بچانا چاہا۔ اور مجرموں سے تو ہمارا عذاب ٹالا نہیں جا سکتا۔

۱۱۱۔ ۔ ۔ ۔ یقیناً ان کی سرگزشتوں میں دانشمندوں کے لیے بڑ ی عبرت ہے ۱۶۹*۔ یہ گھڑا ہو کلام نہیں ہے بلکہ تصدیق ہے اس (کتاب) کی جو پہلے آ چکی ہے ۱۷۰*۔ اور تفصیل ہے ہر چیز کی ۱۷۱* اور ہدایت اور رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے ۱۷۲*۔

 

                   تفسیر

 

۱۔ ۔ ۔ ۔ ان حروف کی تشریح سورہ یونس نمبر ق میں گزر چکی۔ اس سورہ میں الف کا اشارہ اللہ (توحید کے مضامین) کی طرف ، لام کا اشارہ لَاتَعْبُد وْ ا اِلَّا اِیَّاہُ (اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ آیت نمبر ۴۰) کی طرف بالفاظ دیگر شرک کی تردید کی طرف اور “را ” کا اشارہ رب (اللہ کی ربوبیت) کی طرف ہے جس کا ذکر متعدد آیات میں ہوا ہے۔ نیز ان رویائے صادقہ (سچے خواب) کی طرف بھی جس کا ذکر اس سورہ میں خصوصیت کے ساتھ ہوا ہے اور جو رب کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔

۲۔ ۔ ۔ ۔ قرآن “کتاب مبین ” (روشن کتاب) ہے کیونکہ اس کی تعلیم نہایت واضح ہے۔ اس کی دعوت ، اس کے پیش کردہ عقائد و احکام ، اس کی رہنمائی اور اس کا مقصد و مدعا غرض تمام باتیں صاف صاف بیان ہوئی ہیں۔ ایک طرف قرآن کی یہ خصوصیت ہے جس کی بنا پر اس کی باتیں دل و دماغ میں اترتی فلی جاتی ہیں اور دوسری طرف مختلف مذاہب کی وہ “مقدس” کتابیں ہیں جو الجھی ہوئی باتوں سے پر ہیں اور جن کا مطالعہ کارے دارد ہے۔

۳۔ ۔ ۔ خطاب براہ راست عرب قوم سے ہے۔ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت براہ راست عرب قوم کی طرف ہوئی تھی اس لیے قرآن کا نزول بھی ان کی اپنی زبان میں ہو ا جو عربی تھی۔ غیر عرب قوموں کی طرف آپ کی بعثت بالواسطہ ہے۔ اسی طرح قرآن بھی تمام عجمی قوموں اور غیر عربی دان لوگوں کے لیے بالواسطہ حجت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قیصر و کسریٰ کو جو دعوتی خطوط لکھے تھے وہ عربی میں تھے اور ان میں قرآن کی آیتیں بھی درج فرمائی تھیں حالانکہ ان بادشاہوں کی زبان عربی نہیں تھی اسی لیے ان کو ترجمان کی مدد حاصل کرنا پڑ ی تھی۔ اس سے واضح ہوا کہ قرآن کا پیغام یا اس کا ترجمہ صحت کے ساتھ با وثوق ذریعہ سے کسی فرد یا قوم تک پہنچ جائے تو اس پر اللہ کی حجت قائم ہو جاتی ہے۔

اور یہ جو فرمایا کہ “تا کہ تم سمجھو ” تو اس سے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن کی تلاوت کرنا کافی نہیں ہے بلکہ اس کو سمجھنا اور اس کا فہم حاصل کرنا ضروری ہے نیز یہ کہ اس کو سمجھ کر پڑھنے کی دعوت مسلمانوں کے لیے خاص نہیں ہے بلکہ تمام لوگوں کے لیے عام ہے۔ خواہ کوئی شخص کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو اور خواہ وہ عالم ہو یا عامی۔ اور یہ خیال بالکل غلط ہے کہ قرآن کو صرف علماء سمجھ سکتے ہیں یا یہ کہ وہ صرف مسلمانوں کے پڑھنے کے لیے ہے۔

۴۔ ۔ ۔ ۔ یوسف کی سر گزشت کا بہترین سرگزشت ہونا گوناگوں وجوہ سے ہے :

اولاً اس سر گزشت میں بیان ہوا ہے کہ یوسف کی زندگی میں ان کے ہوش سنبھالنے سے لے کر بڑ ی عمر کو پہنچنے تک کس طرح موڑ آئے اور ہر موڑ پر اللہ نے ان کی کس طرح رہنمائی کی اور انہوں نے کس طرح بلندی کردار کا ثبوت دیا۔

ثانیاً عنفوان شباب میں ا ن کی پاک دامنی کا ایسا امتحان ہوتا ہے جس کی مثال تاریخ میں ملنا مشکل ہے۔ اس امتحان میں وہ اس طرح پورے اترتے ہیں کہ ان کے حریفوں کو ان کے فرشتہ ہونے کا شبہ ہونے لگتا ہے۔

ثالثاً ان کی سرگزشت میں عبرت و موعظت کے چند نہیں بلکہ بہ کثرت پہلو ہیں۔

رابعاً یہ سرگزشت سیرت یوسف کا ایسا مرقع پیش کرتے ہے جو بڑا ہی عجیب اور بڑا ہی دلکش ہے اور پھر صداقت سے ذرہ برابر متجاوز نہیں۔

خامساً یہ ایک جامع سرگزشت ہے جس کے لیے ایک سورہ کا نزول ہو ا جو ایک سو سے زیادہ آیتوں پر مشتمل ہے اور اسی سرگزشت کے لیے مختص ہے۔

سادساً اس سرگزشت میں مختلف کردار سامنے آتے ہیں مگر یوسف کا کردار اپنی قیمت اس طرح منوا لیتا ہے کہ جس کو نا قدروں نے حقیر پتھر خیال کر کے پھینک دیا تھا وہ در حقیقت بڑا قیمتی ہیرا تھا اور بالآخر وہ تاج بن کر چمکا۔

۵۔ ۔ ۔ ۔ یوسف علیہ السلام کا قصہ اگر چہ بائبل میں بیان ہوا ہے (پیدائش باب ۳۷ تا ۵۰) لیکن اول تو یہ قصہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے علم میں نہیں تھا کیوں کہ آپ امی تھے اس لیے نہ تورات کو آپ پڑھ سکتے تھے اور نہ کسی اور کتاب کو۔ مزید یہ کہ قرآن میں یہ سرگزشت جس طرح بیان ہوئی ہے وہ بائبل کے بیان سے بہت مختلف ہے اگر آپ نے اہل کتاب سے سن کر یہ واقعہ بیان کیا ہوتا تو یہ فرق اور امتیاز نہ ہوتا اور وہ پہلو بھی سامنے نہ آتے جو بائبل میں سرے سے بیان ہی نہیں ہوئے ہیں۔

۶۔ ۔ ۔ ۔ یوسف کا سلسلہ نسب بڑا ہی اشرف ہے۔ ان کے والد یعقوب نبی تھے ، ان کے دادا اسحاق بھی نبی تھے اور ان کے پردادا ابراہیم بھی نب (صلوات اللہ علیہم اجمعین)۔ یوسف۔ (علیہ السلام) اس خانوادہ نبوت کے نہ صرف چشم و چراغ تھے بلکہ آگے جا کر منصب نبوت سے بھی سرفراز ہوے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی شان میں فرمایا :

الکریم ابن الکریم ابن الکریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم۔ (البخاری کتاب التفسیر ( “وہ خود شریف تھے اور شریف باپ کے بیٹے تھے ان کے دادا بھی شریف تھے اور پر دادا بھی شریف۔ یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم۔ ”

۷۔ ۔ ۔ متن میں ساجدین (سجدہ ریز) کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ سجدہ کے لفظی معنی جھکنے کے ہیں۔ اس کا اطلاق پیشانی زمیں پر ٹیک دینے پر بھی ہوتا ہے اور محض جھکنے پر بھی۔ عربی میں کھجور کے جھکے ہوئے درخت کو “نخلۃ ساجدۃ””سجدہ ریز درخت ” کہتے ہیں لسان العرب ج ۳۔ ۔ ۔ ص ۲۰۶)۔ آیت میں ستاروں اور سورج اور چاند کا سجدہ ریز ہونا ظاہر ہے زمین پر پیشانی ٹیک دینے کے مفہوم میں نہیں ہو سکتا بلکہ اپنے اصل لغوی معنی ہی میں ہو سکتا ہے یعنی ان کا جھکتے بلکہ اپنے اصل لغوی معنی ہی میں ہوکتا ہے یعنی ان کا جھکتے ہوئے نیچے اتر آنا۔ (اور حقیقت حال کا علم اللہ ہی کو ہے)۔

۸۔ ۔ ۔ ۔ یوسف کے والد یعقوب (علیہما السلام) نبی تھے۔ وہ خواب کا مطلب سمجھ گئے کہ گیارہ ستاروں سے مراد یوسف کے گیارہ بھائی ہیں اور سورج اور چاند سے مراد یوسف کے والدین ہیں۔ وہ یہ بھی سمجھ گئے کہ اس خواب کا اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ یوسف کا مستقبل نہایت شاندار ہے۔ وہ اقتدار ہو گا۔

چونکہ یوسف کے دس بھائی سوتیلے تھے اور ان سے حسد رکھتے تھے اس لیے یعقوب علیہ السلام نے اس اندیشہ کے پیش نظر کہ ان کے اندر بھڑ ک نہ اٹھے اور وہ یوسف کے خلاف کوئی سازش نہ کر ڈالیں خواب کو بیان کرنے سے منع کر دیا۔

بعض مفسرین نے محض اس بنا پر کہ یوسف نے خواب میں اپنے بھائیوں کو ستاروں کی شکل میں دیکھا تھا یہ رائے قائم کی ہے یہ سب بعد میں انبیاء ہو گئے۔ لیکن یہ محض سادہ لوحی ہے کیونکہ ایک نبی کی سیرت نبوت سے قبل بھی بڑ ی پاکیزہ ہوتی ہے اور وہ اخلاق کے بلند معیار پر ہوتا ہے جبکہ یوسف کے ان سوتیلے بھائیوں کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ کس قماش کے لوگ تھے اور کیسے کیسے جرائم کے مرتکب ہوئے۔ رہا ان کا ستاروں کی شکل میں دکھائی دینا تو اس سے ان کا نبی ہونا لازم نہیں آتا۔ یوسف نے اپنی والدہ کو چاند کی شکل میں دیکھا تھا تو کیا وہ بھی نبیہ ہو گئیں ؟ علامہ ابن تیمیہؒ نے اس خیال کی سختی سے ساتھ تردید کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے :

“جس بات پر قرآن لغت اور مرادی معنی دلالت کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ یوسف علیہ السلام کے بھائی انبیاء نہیں تھے۔ نہ قرآن میں کہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں نبی بنایا تھا اور نہ ہی نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ منقول ہے اور نہ ہی کیس صحابی کا کوئی قول اس کی تائید میں موجود ہے۔ رہا “اسباط ” سے استدلال تو اس سے مراد یعقوب کی صلبی اولاد نہیں بلکہ ان کی نسل ہے۔ اور صحیح بات یہ ہے کہ “اسباط” کا لقب موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ نبوت کا سلسلہ چلا ورنہ ان سے پہلے سوائے یوسف کے ان میں کسی نبی کا ذکر نہیں ملتا۔ اور اللہ سبحانہ تعالیٰ نے برادران یوسف کے جن بڑ ے بڑ ے گناہوں کا ذکر کیا ہے اس قسم کے گناہ کا ذکر کسی بھی نبی کے تعلق سے نہیں کیا کہ وہ قبل نبوت اس کا مرتکب ہوا تھا۔ “(روح المعانی ال آلوسی ج ۴ ص ۱۸۴)۔

۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی منصب نبوت سے سرفراز کرے گا۔

۱۰۔ ۔ ۔ ۔ مرن میں “تاویل الاحادیث ” کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جس کے معنی باتوں کی تہ میں جانے اور ان کی اصل حقیقت معلوم کرنے کے ہیں۔ مراد معاملہ فہمی، بصیرت اور صحیح نتائج اخذ کرنا ہے جس میں خواب کی تعبیر کا علم خصوصیت کے ساتھ شامل ہے۔

۱۱۔ ۔ ۔ ۔ مراد سیادت و قیادت کی نعمت اور دنیوی و اخروی سعادتیں ہیں۔ آل یعقوب سے مراد یعقوب کی نسل ہے جو آگے چل کر بنی اسرائیل کہلائی اور جس کا اللہ تعالیٰ نے اقوام عالم کے درمیان ایک ممتاز قوم بنا کر اٹھایا اور لوگوں کی رہنمائی کا ذریعہ بنایا۔

۱۲۔ ۔ ۔ ۔ وہ علم والا ہے اس لیے اسے مستقبل کا پورا علم ہے اور وہ حکیم ہے اس لیے اس کے فیصلے نہایت حکیمانہ ہوتے ہیں۔

۱۳۔ ۔ ۔ اس سے واضح ہوا کہ سورہ یوسف مشرکین مکہ کے سوال کے جواب میں نازل ہوئی۔ سوال ممکن ہے یہود کے اشارہ پر کیا گیا ہو تاکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا امتحان لیا جائے کہ آپ پر یوسف کا واقعہ کس طرح بیان فرماتے ہیں جبکہ آپ نے تورات نہیں پڑھی ہے۔

ان کے اس سوال کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یوسف کی سرگزشت نہایت سبق آموز طریقہ پر بیان فرما دی اور سوال کرنے والوں کو دعوت فکر دی کہ یوسف اور اس کے بھائیوں کے درمیان جو معاملہ پیش آیا اس میں اللہ کی قدرت و حکمت کی عجیب نشانیاں ہیں کہ کس طرح اس کی تدبیر غالب آ جاتی ہے اور اس کا منصوبہ پورا ہو کر رہتا ہے ؏

مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے

وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے

یوسف کو ان کی راست بازی کی بنا پر اللہ کی تائید و نصرت حاصل تھی اس لئے نہ برادران یوسف ان کا کچھ بگاڑ سکے اور نہ مصر کی وہ خواتین جنہوں نے یوسف کے خلاف سازش کی اور انہیں جیل بھجوایا۔ آج نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ قریش جو معاملہ کر رہے ہیں وہ اس معاملہ سے کچھ بھی مختلف نہیں ہے جو برادران یوسف نے یوسف کے ساتھ کیا تھا۔ اس طرح وہ اپنے کو ایک ایسے انجام کی طرف دھکیل رہے ہیں جس میں ان کے لئے ندامت اور پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

۱۴۔ ۔ ۔ ۔ مراد بن یمین ہے جو یوسف کا سگا بھا ئی تھا۔

۱۵۔ ۔ ۔ ۔ یوسف اور بن یمین سے چھوٹے تھے اس لئے قدرتی بات ہے کہ یعقوب علیہ السلام کو زادہ پیارے ہوں اور یوسف تو اپنی راست بازی، دانشمندی اور اعلیٰ صلاحیتوں کی بنا پر یعقوب کی آنکھ کا تارا تھا مگر انہوں نے اپنے دوسرے بیٹوں کے ساتھ کوئی نا انصافی نہیں کی تھی ورنہ اس موقع پر وہ اپنے باپ کی ضرور شکایت کرتے۔

بائبل میں ہے :

“اور ان کے بھائیوں نے دیکھا کہ ان کا باپ ان کے سب بھائیوں سے زیادہ اسی کو پیار کرتا ہے سو وہ اس سے بغض رکھنے لگے اور ٹھیک طور سے بات بھی نہیں کرتے تھے ، ” (پیدائش ۳۷ : ۴)۔

“حالانکہ ہم ایک جتھا ہیں ” سے ان کی مراد یہ تھی کہ خاندان کی حفاظت کے پہلو سے اصل اہمیت جتے کی ہے نہ کہ کسی ایک فرد کی کیوں کہ اس زمانہ میں کنعان میں لوگ آزاد قبائلی زندگی بسر کرتے تھے اور کوئی منظم حکومت نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حالات میں ہم دس بھائی جو ایک جتھا ہیں اپنے باپ کے لیے زیادہ مستحق ہم ہیں نہ کہ یوسف اور بن یمین۔ مگر یعقوب کی نظر میں اصل وقعت اخلاق و کردار کی تھی اس لیے انہیں یوسف سے زیادہ محبت تھی۔

۱۶۔ ۔ ۔ ۔ اگر اس سازش کا محرک ان کی یہ خواہش تھی کہ ان کے والد کی محبت ان کے لیے خاص ہو کر رہ جائے مگر ان کا ضمیر اندر سے کہہ رہا تھا کہ اس صورت میں وہ گناہ کے مرتکب ہوں گے لیکن شیطان نے انہیں یہ پٹی پڑھا دی کہ اپنی راہ کے کانٹے کو دور کرنے کے لیے اگر گناہ کا ارتکاب “ناگزیر” ہے تو کر لینے میں حرج نہیں ہے کیونکہ اس کے بعد جب باپ کی محبت اور توجہ ان کے لیے خاص ہو کر رہ جائے گی تو وہ بھی یکسوئی کے ساتھ نیکی کی طرف مائل ہو سکیں گے اور ان کے لیے نیک بن کر رہنا آسان ہو گا۔

اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ شیطان انسان کو کس خوبصورتی کے ساتھ گناہ پر آمادہ کرتا ہے اور کس طرح غلط راہ پر ڈال دیتا ہے۔

۱۷۔ ۔ ۔ کھیل کود سے مرد دوڑ اور تیر اندازی جیسے کھیل ہیں جو اس وقت کی بدو یا نہ زندگی میں تحفظ کے نقطہ نظر سے ضروری تھے۔

۱۸۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے اس تجویز سے اتفاق کیا کہ یوسف کو کنویں میں ڈال دیا جائے اور چال یہ چلی کہ یوسف کو تفریح کے بہانے جنگل میں لے جانے کی اجازت اپنے باپ سے حاصل کر لیں اور انہیں اطمینان دلائیں کہ ہو پوری طرح یوسف کی حفاظت کریں گے۔

اس سے ظاہر ہوا کہ جب انسان جھوٹ کو جائز کر لیتا ہے تو اسے نہ ملمع کاری کی باتیں کرنے میں تامل ہوتا ہے اور نہ خطرناک منصوبے بنانے میں۔

۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعقوب علیہ السلام کے لیے یہ بات اس لیے باعث رنج تھی کہ انہیں یوسف کے بارے میں یہ اندیشہ تھا کہ ان کے سوتیلے بھائی ان کو پریشان نہ کریں نیز وہ یہ خطرہ بھی محسوس کر رہے تھے کہ ان کی بے پرواہی کے نتیجہ میں یوسف کسی حادثہ کا شکار نہ ہو جائیں۔ معلوم ہوتا ہے اس زمانہ میں کنعان کے جنگلوں میں بھیڑ یے زیادہ تھے اور ان کے حملوں سے بچنا مشکل تھا اس لیے یعقوب علیہ السلام نے ایک موجود خطرے کا ذکر کیا۔

۲۰۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اپنے باپ سے اصرار کر کے وہ یوسف کو اپنے ساتھ لے گئے۔

۲۱۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ہم نے وحی بھیج کر یوسف کو اطمینان دلایا کہ یہ تمہارے ساتھ جو کچھ کر رہے ہیں اس سے تمہارا کچھ نہیں بگڑ ے گا بلکہ ایک وقت آئے گا جب یہ اپنے کیے پر نادم ہوں گے۔ تم زندہ سلامت رہ کر انہیں جتاؤ گے کہ انہوں نے تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا تھا اور اس وقت تم جتاؤ گے جب کہ ان کے خیال میں بھی یہ بات نہیں ہو گی کہ جو شخص انہیں یہ قصہ یاد دلا رہا ہے وہ ان کا بھائی یوسف ہے۔ آگے چل کر یہ واقعہ جس طرح پیش آیا اس کا ذکر آیت ۸۹ اور ۹۰ میں ہوا ہے۔

واضح رہے کہ یہ وحی یوسف کے نبی بنائے جانے سے پہلے ان کی طرف بھیجی گئی تھی۔ اس وقت ان کی عمر جیسا کہ بائبل کا بیان ہے صرف ۱۷ سال تھی۔

۲۲۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یوسف کو کنویں میں چھوڑ کر وہ رات کو گھر واپس آ گئے اس سے معلوم ہوا کہ وہ قریب ہی کے علاقہ میں گئے تھے ورنہ رات تک گھر نہیں پہنچ سکتے تھے۔

وہ ٹسو ے بہارے ہوئے اپنے والد کے پاس پہنچے تھے تاکہ یوسف سے ہمدردی کا اظہار ہو اور ان کے والد ان کی باتوں پر یقین کریں۔

۲۳۔ ۔ ۔ یعقوب علیہ السلام کی زبان سے ایک امکانی خطرہ کے پیش نظر جو الفاظ نکل گئے تھے برادران یوسف نے ان کو لے کر یوسف کے ہلاک ہونے کا قصہ گھڑ لیا۔

۲۴۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے قصہ تو گھڑ لیا لیکن انہیں خود یقین نہیں آ رہا تھا کہ ان کے والد ان کی باتوں کو باور کریں گے۔

۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ان کے جھوٹ کا پول تو اس بات سے ہی کھل رہا تھا کہ کرتا پھٹا ہوا نہ تھا۔ یہ کس طرح ممکن تھا کہ بھیڑ یا حملہ کرے اور کرتا نہ پھٹے۔ اس کھلے جھوٹ کو یعقوب علیہ السلام کس طرح صحیح واقعہ تسلیم کر سکتے تھے۔ انہیں نے برجستہ کہا کہ یہ من گھڑ ت قصہ ہے۔ اس سے یہ اصولی بات واضح ہوتی ہے کہ جب کسی خبر کی تصدیق قرائن یا علامتوں سے نہ ہوتی ہو اور خبر دینے والے غیر ثقہ ہوں تو ایسی خبر قابل رد ہو گی۔

۲۶۔ ۔ ۔ ۔ صبر جمیل کا مطلب ہے مصیبت کو خوبی کے ساتھ برداشت کرنا اور تکلیف پہنچنے پر عالی ظرفی کا ثبوت دینا۔ جزع فزع تو اصلاً صبر ہی کے منافی ہے۔

قرآن یعقوب علیہ السلام کے کردار کو اس طرح پیش کرتا ہے جو ایک نبی کے شایان شان ہے لیکن بائبل کا انداز اس سے بالکل مختلف ہے چنانچہ بائبل میں ہے کہ یوسف کے بارے میں یہ خبر سن کر یعقوب نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور بہت دنوں تک ماتم کرتا رہا۔ (پیدائش ۳۷ : ۳۴)

اور ایسے کتنے مقامات ہیں جہاں بائیبل کے مؤلفین نے اپنے بنیوں کے کردار کو مسخ کر کے پیش کیا ہے۔

۲۷۔ ۔ ۔ یہ اظہار توکل ہے۔

۲۸۔ ۔ ۔ ۔ بائبل کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسمٰعیلیوں کا قافلہ تھا جو سامان تجارت لے کر مصر جا رہا تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کنواں جس میں یوسف کو ڈال دیا گیا تھا اس شاہراہ پر واقع تھا جو کنعان سے مصر کو جاتی تھی یوسف کے اس کے بھائی جنگل میں نہیں لے گئے تھے بلکہ شاہراہ پر آ کر ایک ایسے کنویں میں جس پر پتھروں کی منڈیر بنی ہوئی نہیں تھی (جُب ایسے ہی کنویں کو کہتے ہیں) ڈال دیا تھا۔

قافلہ جب اس کے قریب رکا تو اس نے اپنے ایک آدمی کو پانی لانے کے کنویں پر بھیج دیا۔ اس نے جب ڈول ڈالا تو یوسف نے اس ڈول کا سہارا لیا اور جب وہ اوپر آ گئے تو سقہ کو یہ دیکھ کر بڑ ی خوشی ہوئی کہ یہ ایک لڑ کا ہے جو کنویں میں پھنس گیا تھا اور جس کے لیے ڈول نجات کا ذریعہ بنا مزید خوشی اس بات کی کہ ایک غلام ان کے ہاتھ لگا جس کی قیمت انہیں وصول ہو گی۔

۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس زمانے میں جب کسی کو کوئی گم شدہ لڑ کا راستہ میں پڑا ہوا مل جاتا، تو وہ اسے غلام بنا لیتا اور پھر چاہتا تو کسی کے ہاتھ فروخت کر دیتا قافلہ والوں نے بھی یوسف کے ساتھ یہی معاملہ کیا انہیں مال تجارت سمجھ کر اس وقت چھپا لیا تا کہ لڑ کے کا کوئی دعویدار نکل نہ آئے اس کے بعد انہیں مصر لے جا کر فروخت کر دیا جیسا کہ آگے ذکر آ رہا ہے۔

۳۰۔ ۔ ۔ ۔ بیچنے والے یہی قافلہ والے تھے اور مصر لے جا کر انہیں بیچ دیا تھا انہیں کچھ اندازہ نہ تھا کہ کیسی قیمتی شخصیت ان کے ہاتھ لگی ہے اس لیے انہوں نے چاندی کے چند سکوں کے عوض یوسف کو بیچ دیا۔

بائیبل کا بیان الجھا ہوا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ یوسف کو کنویں سے نکالا تو تھا۔ قافلہ والوں نے لیکن وہاں یوسف کے بھا ئی موجود تھے اور انہوں نے بیس درہم قیمت وصول کی تھی۔ لیکن یہ بات نہ قرآن کے بیان کے مطابق ہے اور نہ ہی قرین قیاس۔

۳۱۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قافلہ والوں کو اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں تھی کہاس غلام کی صحیح قیمت انہیں وصول ہو کیونکہ یہ غلام مفت ان کے ہاتھ لگا تھا۔

یوسف یعقوب کی آنکھوں کا تارا اور ان کا نور نظر تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یوسف جیسی شخصیت دنیا میں مشکل ہی سے پیدا ہوتی ہے ؎

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑ ی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

۳۲۔ ۔ ۔ ۔ قافلہ مصر جا رہا تھا اس لیے وہ اپنے ساتھ یوسف کو مصر لے گیے اور وہاں انہیں غلام کے طور پر فروخت کر دیا۔ مصر میں جس شخص نے یوسف کو خریدا وہ حکومت کے اعلیٰ منصب پر فائز تھا بائیبل میں اس کا نام فوطیفار آیا ہے اور اسے مصر کے بادشاہ کا ایک حاکم اور محافظ فوج کا افسر اعلیٰ کہا گیا ہے۔ قرآن نے جیسا کہ آگے چل کر معلوم ہو گا اس کے لیے عزیز کا لقب استعمال کیا ہے۔

وہ یوسف کو دیکھتے ہی سمجھ گیا کہ یہ کیس شریف گھرانے کا لڑ کا ہے جو گرفتار بلا ہو کر یہاں پہنچ گیا ہے۔ لڑ کا نہایت ہو نہار ، با اخلاق اور قابل اعتماد ہے اس لیے اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس کے ساتھ غلاموں کا سلوک نہ کرتا بلکہ عزت کے ساتھ رکھنا۔

۳۳۔ ۔ ۔ حاکم مردم شناس تھا اس لیے یوسف کی قدر اس نے پہچان لی اور غالباً وہ بے اولاد تھا اس لیے اس نے اس خیال کا اظہار کیا کہ ممکن ہے ہم اسے اپنا بیٹا بنا لیں۔

۳۴۔ ۔ ۔ ۔ اللہ تعالیٰ کا منصوبہ یہ تھا کہ یوسف مصر کا فرمانروا بنایا جائے۔ اس مقصد کے لیے ضروری تھا کہ انہیں مصر کی متمدن زندگی کا تجربہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب کیے کہ مصر میں ان کے قدم جم گئے اور ایک حاکم کے گھر میں رہ کر انہیں اس تجربہ کا بہترین موقع ملا۔

۳۵۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یوسف کو بتلاؤں سے گزارنے میں اللہ تعالیٰ کی مصلحت یہ تھی کہ ان میں وہ ملکہ پیدا ہو جو باتوں کی تہہ تک پہنچنے اور ان کی اصل حقیقت معلوم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ حالات کے تھپیڑے انسان کو گہرائی میں جانے کے لیے مجبور کرتے ہیں اور جب وہ گہرائی میں جاتا ہے تو اس کا دامن موتیوں سے بھر جاتا ہے۔

۳۶۔ ۔ ۔ ۔ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے اور اس کو یہاں بیان کرنے سے مقصود ایک طرف تو یہ واضح کرنا ہے کہ یوسف کے لیے ان حاسدوں کے علی الرغم دنیوی اور اخروی سعادتوں کی راہیں کھلتی چلی گئیں اور دوسری طرف یہ اشارہ کرنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا جو منصوبہ ہے وہ نافذ ہو کر رہے گا اور اسے نافذ ہونے سے نہ قریش روک سکتے ہیں اور نہ کوئی اور طاقت۔

۳۷۔ ۔ ۔ پختگی (اَشدّ) کو پہنچنے سے مراد شباب کو پہنچنا ہے۔ یہ اٹھارہ بیس سال کی عمر کا زمانہ ہے جب اُشد یعنی اچھی طرح سوجھ بوجھ پیدا ہو جاتی ہے سورہ انعام آیت نمبر ۱۵۲ میں “اَشُدّ”  کا لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔

۳۸۔ ۔ ۔ ۔ “حکم” سے مراد قوت فیصلہ ہے اور علم سے مراد بصیرت کانور ہے۔ یہ چیزیں یوسف کو نبوت سے پہلے جوانی ی عمر کو پہنچنے پر حاصل ہوئی تھیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے حسن عمل کا فوری انعام تھا جو انہیں ملا۔

اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنی اس سنت کا بھی ذکر فرمایا ہے کہ جو لوگ حسن عمل کا رویہ اختیار کرتے ہیں یونی خدا کا بندہ ہونے کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی ادا کرتے ہیں اور اپنے اندر اچھے اوصاف کی پرورش کرتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ صحیح فیصلے کرنے کی قوت عطاء فرماتا ہے اور اس کام کے لیے جو بصیرت مطلوب ہے اس سے نوازتا ہے۔ حسن عمل کا یہ انعام انسان کو اس کے درجہ کے اعتبار سے دنیا ہی میں مل جاتا ہے۔

۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بائبل میں ہے کہ یوسف خوبصورت اور حسین تھا (پیدائش ۳۹: ۶)۔

گویا للہ تعالیٰ نے انہیں صورت اور سیرت دونوں کا حسن عطا فرمایا تھا۔

یوسف کو عزیز مصر نے اپنے گھر میں رکھا تھا اور اپنے گھر کا مختار بنا کر اپنا سب کچھ اسے سونپ دیا تھا (پیدائش ۳۹ : ۲ تا ۴) عزیز کی بیوی یوسف پر فریفتہ ہو گئی اور ایک دن موقع پا کر انہیں اپنے دام محبت میں گرفتار کرنا چاہا۔

واضح رہے کہ حسن یوسف کے جو قصے عام طور سے مشہور ہیں وہ بڑ ے مبالغہ پر مبنی اور محض افسانہ ہیں۔ اگر یہ ایسا حسن ہوتا جو دنیا میں کسی کو کبھی عطا ہی نہیں ہوا تو قرآن اس کا ذکر کرتا مگر قرآن میں سرے سے حسن یوسف کا ذکر ہی نہیں ہے۔ اس نے یوسف کے حسن سیرت کو نمایاں کیا ہے جو کہ اس سرگزشت کا اصل مقصد ہے جبکہ افسانہ پسند طبیعتیں اس کو افسانوی رنگ میں دیکھنا چاہتی ہیں چنانچہ انہوں نے یوسف کی اس سرگزشت کو جسے قرآن نے نہایت جچے تلے انداز میں پیش کر دیا تھا “یوسف و زلیخا ” کا قصہ بنا کر رکھ دیا ہے۔

۴۰۔ ۔ ۔ ۔ عزیز کی بیوی نے ایک دن موقع پا کر کمرے کے دروازے بند کریے اور یوسف کو کھلے طور پر بے حیائی کی دعوت دی مگر یوسف شرافت کا پیکر تھے وہ کس طرح اپنے دامن کو آلودہ کر سکتے تھے۔ انہوں نے برجستہ جواب دیا پناہ بخدا۔ میں یہ کام کیسے کر سکتا ہوں جب کہ میرے رب نے مجھے اچھا مقام عطا کیا ہے۔ اس سے یوسف کی مراد یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل خاص سے نوازا ہے ان کو نبی زادہ ہونے کا شرف بخشا ، ان کی قدم قدم پر رہنمائی اور دستگیری کی۔ مصر میں ان کو اچھی منزلت بخشی علم اور بصیرت کی روشنی عطا کی اخلاق کے اونچے مرتبہ پر فائز کیا اور عفت و پاک دامنی اور شرم و حیاء کے لیے ایسی حساس طبیعت بخشی کہ حسن معنی کو کسی کی مشاطگی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

یوسف کے کہنے کا منشا یہ تھا کہ جس ہستی نے مجھے یہ مقام بلند بخشا ہے میں اس کی نا شکری کر کے اپنے کو اس کا نا اہل ثابت کر دوں ؟ اگر میں تمہاری باتوں میں آ کر بے حیائی کا مرتکب ہوا تو غلط کار اور ظالم ٹھہروں گا اور ظالموں کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ دنیا میں ان کے لیے رسوائی ہے اور آخرت میں انہیں سخت سزا بھگتنا ہو گی۔

غور کیجیے یوسف کا جواب کتنا مختصر مگر کتنا مدلل تھا اور اس کے ایک ایک لفظ سے کس طرح خدا خوفی اور احساس آّخرت کا اظہار ہو رہا تھا۔

واضح رہے کہ عام طور سے مفسرین نے اس آیت میں اِنّٰہٗ رَبّی “وہ میرا رب ہے ” کے معنی یہ بیان کیے ہیں کہ یہ ات یوسف علیہ السلام نے عزیز مصر کے بارے میں کہی تھی لیکن زجاج (ماہر لغت) کہتے ہیں کہ اس میں “ہٗ ” (وہ) کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے (فتح القدیر ج ۳ ص ۱۷) یعنی یہ بات یوسف علیہ السلام نے اللہ کے بارے میں فرمائی تھی کہ وہ میرا رب ہے ، اس نے مجھے اچھا مقام عطا کیا ہے ہمیں زجاج کی رائے سے اتفاق ہے کیونکہ اولاً اِنّٰہٗ میں “ہٗ” (وہ) کی ضمیر کو اپنے قریبی لفظ اللہ کی طرف لوٹا نے کے بجائے عزیز مصر کی طرف لوٹا نے کی کوئی وجہ نہیں جبکہ عزیز مصر کا کوئی ذکر آیت میں موجود نہیں ہے۔ ثانیاً آگے آیت۔ ۲۵ میں عزیز مصر کے لیے اس کی بیوی کے تعلق سے سَیّد ھَا (اس کا آقا بمعنی شوہر) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ وہاں بھی قرآن نے عزیز مصر کے لیے رب کا لفظ استعمال نہیں کیا حالانکہ لغوی معنی کے لحاظ سے رَبہا (اس کا مالک) کہا ہو۔ رابعاً اس فقرے کے تین اجزاء ہیں اور تینوں باہم مربوط ہیں۔ پہلا جز معاذ اللہ (پناہ ِ خدا) ہے جس میں خدا خوفی کا اظہار ہے۔ دوسرا جزء “وہ میرا رب ہے اس نے مجھے اچھی قدر و منزلت بخشی ہے” میں اللہ کے شکر کا اظہار ہے اور “غلط کار لوگ ہر گز فلاح نہیں پائیں گے ” میں آخرت کی جزا و سزا پر یقین کا اظہار ہے۔ لیکن رب سے عزیز مصر مراد لینے کی صورت میں اس فقرہ کے اجزا غیر مربوط ہو جاتے ہیں۔ خامساً موقع خدا کے احسانات کے ذکر کا تھا نہ کہ عزیز مصر کے احسانات کے ذکر کا۔

ان وجوہ سے جمہور مفسرین کی رائے سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا۔

۴۱۔ ۔ ۔ ۔ یعنی عورت تو اقدام کر بیٹھی اور یوسف بھی اقدام کرتا اگر اس نے اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لی ہوتی۔ مطلب یہ ہے کہ عورت کی طرف سے پہل ہونے کے باوجود یوسف کو برائی کے ارادہ سے باز رکھنے والی چیز اللہ کی برہان تھی۔ برہان سے مراد اللہ کی وہ حجت ہے جو یوسف علیہ السلام کے اس بیان میں جس کا ذکر اوپر ہوا مضمر ہے یعنی یہ بات کہ انسان گناہ کر کے اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکتا۔ برہان کو دیکھ لینے کا مطلب اس کو بصیرت کی آنکھ سے دیکھ لینا اور اس پر یقین کر لینا ہے۔ یوسف کو یہ بصیرت حاصل ہوئی تھی اس لیے وہ اس نازک موقع پر بھی اپنے دامن کو آلودہ ہونے سے بچانے میں کامیاب ہو گئی۔

آیت کے اس سیدھے سادھے مفہوم کو چھوڑ کر مفسرین کے ایک گروہ نے بے سر پا روایتوں پر اعتماد کر کے عجیب و غریب باتیں لکھی ہیں مثلاً یہ کہ یوسف نے یعقوب کی یا فرشتہ کی صورت دیکھی تھی جو سراسر تکلف ہے اور قرآن کی صاف بات کو مبہم بنا کر اس میں نکتے پیدا کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ایسی روایتوں نے قرآن کے اصل مفہوم اور مدعا پر پردے ڈال دیے ہیں اس لیے سختی کے ساتھ ان کی تردید ضروری ہے۔ اسی طرح وَھَمَّ بِہٖ لَو لَا اَنْ رَّ اَی بُرْ ھَانَ رَبِّہٖ (وہ بھی قصد کر لیتا اگر اپنے رب کی برہان اس نے دیکھ نہ لی ہوتی) کو بعض مفسرین نے ایسی روایتوں کے سہارے جو دریا برد کرنے کے لائق ہیں یوسف کی طرف غلط ارادہ اور بعض ایسی باتوں کو منسوب کیا ہے جن کا ذکر بھی مناسب نہیں ہے مگر امام رازی نے پر زور انداز میں اس کی تردید کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم یہ بات تسلیم نہیں کرتے کہ یوسف علیہ السلام نے عورت کا قصد کیا تھا اور اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے وَ ھَمَّ بَھَا لَو لَا اَ جْ رَأیَ بُرْھَا نَ رَبِّہٖ (وہ اس کا قصد کر لیتا اگر اس نے اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لی ہوتی) یہاں لَو لَا (اگر نہ) کا جواب مقدم ہے یعنی پہلے ہی بیان ہوا ہے۔ اس پر زجاج کا یہ اعتراض کہ لَو لَا کا جواب عربی نحو کی رو سے مقدم نہیں ہو سکتا صحیح نہیں ہے کیونکہ بعض مواقع پر کسی بات کی اہمیت کے پیش نظر لَو لَا کے جواب کو مقدم رکھتے ہیں۔ قرآن میں اس کی مثال موجود ہے :

اِنْ کَا دَ تْ لَتُبْدِیْ بہٖ لَو لَا اَنْ رَبَطْا علی قَلبیھا (القصص ۱۰) “قریب تھا کہ وہ (موسیٰ کی ماں) اس بات کو ظاہر کر دیتی اگر ہم اس کے دل کو مضبوط نہ کر دیتے۔ ” اس آیت میں بھی لَو لَا کا جواب مقدم ہے یعنی پہلے ہی بیان ہوا ہے۔ رہ گئیں روایتیں تو اس کی کیا ضمانت کہ جن لوگوں نے ان مفسرین (یعنی صحابہ اور تابعین) سے یہ تفسیر نقل کی ہے وہ سچے تھے ؟

یوسف کا دامن عمل باطل سے پاک ہے اور وہ “حرام قصد” سے بالکل بری ہیں۔ محقق مفسرین اور متکلمین کا یہی قول ہے اور ہم بھی یہی کہتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو التفسیر الکبیر ، ج ۱۸ ص ۱۱۵تا۱۳۰) حقیقت یہ ہے کہ قرآن نے اس نازک موقع کا ذکر جس طریقہ سے کیا ہے اس میں یوسف کی کسی ادنیٰ لغزش کی طرف بھی اشارہ نہیں ہے۔ اگر ان سے ایسی کوئی بات سرزد ہوئی ہوتی تو ان کی توبہ کا بھی ذکر ہوا ہوتا لیکن جب ایسی کوئی بات قرآن میں بیان نہیں ہوئی تو آپ سے آپ ان تفسیری اقوال کی تردید ہو جاتی ہے جو قرآن کے بیان سے مطابقت نہیں رکھتے۔ یوسف نے تو اپنی پاکیزگی کی وہ اعلیٰ مثال قائم کی جس کا ذکر حدیث نبوی میں اس طرح ہوا ہے : “سات اشخاص ہیں جن پر اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنا سایہ عاطفت فرمائے گا۔ ان میں ایک شخص وہ ہوگا جس کو کسی جاہ و جمال والی عورت نے برائی کی دعوت دی مگر اس نے جواب دیا میں اللہ سے ڈرتا ہوں ” (بخاری کتاب الاذان)

۴۳۔ ۔ ۔ یعنی وہ ہمارے مقبول بندوں میں سے تھا۔

۴۴۔ ۔ ۔ ۔ یوسف دروازے کی طرف اس لیے دوڑ ے کہ ان کو دروازہ کھولنے نہ دے اور برائی کے لیے مجبور کرے چنانچہ اس نے یوسف کا پیرہن پیچھے سے اس زور سے گھسیٹا کہ پھٹ گیا۔ مگر یوسف دروازہ کھولنے میں کامیاب ہو گئے۔ اتفاق کی بات یہ کہ اس وقت عزیز دروازہ کے پاس ہی موجود تھا۔ اس کو دیکھ کر بیوی سٹ پٹائی اور اپنی غلط کاری پر پردہ ڈالنے کے لیے جھٹ یوسف کے سر الزام دھرا۔

۴۵۔ ۔ ۔ ۔ یوسف نے نہایت شریفانہ انداز سے مختصر جواب دیا جو ان کی بے گناہی کو ظاہر کرنے کے یے کافی تھا اور یہ مثال تھی اس بات کی کہ ؏

پاک دامانی حریف چاک دامانی نہیں

۴۶۔ ۔ ۔ ۔ دونوں کے بیانا ت مختلف تھے اور واقعہ کا کوئی گواہ نہ تھا اس لیے عورت کے رشتہ داروں میں ایک شخص نے جو معاملہ فہم تھا قرینہ کی گواہی (Circumstantial evidence) پیش کی کہ اگر یوسف کا کرتا آگے سے پھٹا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اقدام یوسف کی طرف سے ہوا تھا اور عورت اپنے کو بچانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اگر کرتا پیچھے سے پھٹا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ عورت یوسف کے پیچھے پڑ ی تھی اور جب وہ اپنا دامن بچانے کے لیے بھاگنے لگا تو عورت نے پیچھے سے اس کا کرتا گھسیٹ لیا۔ اس بات کو جو قرینہ اور علامت کی بنیاد پر کہی گئی تھی قرآن نے گواہی (شہادت) سے تعبیر کیا جس سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ قضیوں کے معاملہ میں حالات کی گواہی یعنی قرائن اور علامتوں سے ظاہر ہونے والی باتوں کا بھی ایک مقام ہے۔

۴۷۔ ۔ ۔ کرتے کا پیچھے سے پھٹا ہونا اس بات کا ثبوت تھا کہ اقدام یوسف کی طرف سے نہیں ہوا تھا اس لیے عزیز مصر نے اپنی بیوی ہی کو قصور وار ٹھہرایا اور اس نے یوسف کے سرجو الزام تھوپ دیا تھا اس کو ایک نسوانی چال اور فریب قرار دیا۔ اس موقع پر عزیز نے عمومیت کے ساتھ یہ بات جو فرمائی کہ تم عورتوں کی چالیں بڑ ی خطرناک ہوتی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عورتیں جب کسی مرد کو اپنے دام محبت میں گرفتار کرنا چاہتی ہیں تو بڑ ے خطرناک کھیل کھیلتی ہیں۔ وہ ایک غلط کام کر کے الزام دوسرے کے سر تھوپ دیتی ہیں کیونکہ انہیں اپنے دامن کے داغ دکھائی نہیں دیتے اور نہ ان میں اتنی جرأت ہوتی ہے کہ اپنے قصور کا اعتراف کریں اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر عورت ایسی ہی ہوتی ہے بلکہ مراد صرف وہ عورتیں ہیں جن کی ذہنیت غلط ہوتی ہے کیوں کہ ایسی حرکتیں ان ہی سے صادر ہوتی ہیں۔

۴۸۔ ۔ ۔ ۔ عزیز نے اپنی بیوی کو قصور وار تو ٹھہرایا لیکن اس میں اتنی جرأت نہیں تھی کہ اس کے خلاف کوئی کاروائی کرتا۔ پھر اسے اپنی بیوی کی بدنامی کا بھی اندیشہ تھا اس لیے اس نے یوسف سے کہا کہ وہ درگذر سے کام لے۔

۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب شہر میں اس واقعہ کا چرچا ہونے لگا تو بعض عورتوں نے اس پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کہاں یہ خاتون مصر جو ایک اعلیٰ منصب رکھنے والے کی بیوی ہے اور کہاں ایک کنعانی غلام جس پر وہ فریفتہ ہو گئی ہے۔ ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ اس غلام کو آخر کیا چار چاند لگے ہیں جو اسے اپنی ہوس کا نشانہ بننے کے لیے مجبور کر رہی ہے کیا وہ اپنی ہوس کو پورا کرنے کے لیے دوسرے ذرائع اختیار نہیں کر سکتی جب کہ وہ جاہ و مال سب کچھ رکھتی ہے۔

۵۰۔ ۔ ۔ ۔ یعنی عزیز کی بیوی نے جب یہ سنا کہ عورتیں اس کے خلاف باتیں بنا رہی ہیں تو اس نے اس کے جواب میں یہ چال چلی کہ ان کو اپنے گھر مدعو کیا۔

۵۱۔ ۔ ۔ ۔ یہ دعوت پُر تکلف تھی اور بڑ ے اہتمام سے کی گئی تھی۔ اس وقت مصر ایک متمدن ملک تھا اس لیے رواج کے مطابق تکیہ دار مجلس آراستہ کی گئی اور ضیافت کے لیے جو چیزیں پیش کی گئیں ان کے ساتھ چھریاں بھی رکھ دی گئیں تاکہ وہ پھل اپنے ہاتھ سے کاٹ کر کھائیں۔ (عربوں میں آج بھی یہ رواج ہے کہ وہ مہمانوں کے سامنے پورے پورے پھل رکھ دیتے ہیں اور ساتھ میں چھری بھی تاکہ مہمان حسب منشاء اپنے ہاتھ سے پھل کاٹ کر کھائیں)۔

۵۲۔ ۔ ۔ ۔ یوسف غلام کی حیثیت میں تھے اس لیے خواتین کی اس مجلس میں انہیں نکل آنے کا جو حکم دیا گیا اس کی تعمیل کے بغیر تو چارہ کار نہیں تھا مگر اس موقع پر بھی انہوں نے تقویٰ کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ اس مجلس میں شریک ہونے والی خواتین ظاہر ہے امیروں اور رئیسوں کے گھر کی خواتین رہی ہوں گی اور اس پُر تکلف مجلس کے لیے خوب سج دھج کر آئی ہوں گی مگر یوسف ان کے سامنے اس شریفانہ انداز سے آئے کہ ان کی طرف نگاہ غلط اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ پھر ان کا حسن ظاہر ان کے حسن باطن کا اور ان کا خوبصورت چہرہ ان کے خوبصورت کردار کا آئینہ دار تھا گویا جمال یوسفی نے جلال یوسفی کا رنگ اختیار کر لیا تھا۔ اس لیے جب ان خواتین نے انہیں دیکھا تو ایک عظیم شخصیت کی جھلک ان کے چہرے پر دکھائی دی اور وہ ایسی متاثر ہوئیں کہ پکار اٹھیں یہ آدمی نہیں بلکہ بزرگ صفت فرشتہ ے۔ یہ بات ان کے ضمیر کی آواز تھی اس لیے بے ساختہ ان کی زبان سے نکل گئی اور وہ یوسف کا پُر جمال اور پر وقار چہرہ دیکھ کر ایسی دنگ رہ گئیں کہ بجائے پھل کاٹنے کے اپنے ہاتھ زخمی کر بیٹھیں۔ یہ در اصل ان کی بری اغراض کی قدرتی سزا تھی جو ان کو فوراً مل گئی۔

یہ مجلس کسی اچھے ارادہ سے منعقد نہیں کی گئی بلکہ اس کے پیچھے ایک سازش تھی جو یوسف کے خلاف کی گئی تھی۔ یہ بات آیتوں کے بین السطور سے بھی واضح ہے اور آگے جیسا کہ آیت ۳۳ میں بیان ہوا ہے یوسف نے واضح طور سے اس واقعہ کو کید (سازش) سے تعبیر کیا ہے۔ یہ سازش عزیز کی بیوی نے کی تھی اور اس میں یہ خواتین بھی شریک تھیں۔ عزیز کی بیوی کا مقصد اس مجلس کو آراست کرنے سے یہ تھا کہ ان خواتین کو جو مجھ ملامت کر رہی ہیں اس بات کا اچھی طرح اندازہ ہو جائے کہ میں کسی ایسے ویسے غلام پر فریفتہ نہیں ہوئی ہوں بلکہ ایک ایسے نوجوان سے محبت کی پینگیں بڑھا رہی ہوں جو یکتائے زمانہ ہے اس لیے میں نے کوئی حماقت نہیں کی۔ ساتھ ہی وہ چاہتی تھی کہ جو گناہ وہ کرنا چاہتی ہے اس میں ان خواتین کو بھی شریک کر لے تا کہ پھر وہ اسے ملامت نہ کر سکیں نیز سب خواتین مل کر یوسف کو اپنی رعنائیوں سے ایسا لبھانے کی کوشش کریں کہ وہ دل ہار جائے۔

اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت مصر کا ماحول کیا تھا۔ محلوں میں رہنے والی بیگمات اپنی ہوس کو بجھانے کے لیے غلاموں کو استعمال کرتی تھیں کیوں کہ اس وقت گھر گھر غلام ہوا کرتے تھے اور عیاشی کا یہ نہایت آسان اور محفوظ ذریعہ تھا اس بنا پر عزیز کی بیوی کا اور خواتین مجلس کا یوسف کو رجھانے کی کوشش کرنا کوئی انوکھی بات نہیں تھی لیکن یوسف در حقیقت کسی انسان کے نہیں بلکہ خدا کے غلام تھے اس لیے انہوں نے ان سب کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

۵۳۔ ۔ ۔ یعنی اب تمہیں اندازہ ہو گیا کہ یہ اور غلاموں کی طرح غلام نہیں ہے بلکہ یہ جہاں آسمان حسن درخشندہ ستارہ ہے وہاں وہ ایک امتیازی شخصیت کا بھی حامل ہے اس لیے میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرتے کی کوشش کر کے کوئی غلطی نہیں کی۔

۵۴۔ ۔ ۔ ۔ اس طرح عزیز کی بیوی نے خواتین کی بھری مجلس میں وہ بات اُگل دی جس کو وہ اب تک چھپائے ہوئی تھی۔ یہ اپنے قصور کا اعتراف نہیں تھا بلکہ شہ زوری اور بے حیائی تھی اور جن خواتین کے سامنے اس کا اظہار کیا ان کے لچھن بھی ویسے ہی تھے ؏

این گناہست کہ در شہر شما نیز کنند

۵۵۔ ۔ ۔ ۔ جب وہ ان نازو ادا والی خواتین کے ذریعہ بھی یوسف کو رجھانے میں ناکام رہی تو طاقت کا دباؤ ڈالنا شروع کیا اور جیل بھیجنے کی دھمکی دی۔

۵۶۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قید کی تکلیف گوارا ہے مگر بے حیائی کا ارتکاب کرنا اور معصیت میں مبتلا ہونا مجھے گوارا نہیں۔

۵۷۔ ۔ ۔ عربی میں جاہل کا لفظ عاقل کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے (لسان العرب، ج ۱۲ ص ۱۳۰) اور یہاں اسی معنیٰ میں استعمال ہوا ہے یعنی جو خواہشات اور جذبات سے مغلوب ہو جائے اور عقل سے کام نہ لے۔

یوسف کو اپنی پاکیزگی کا غرہ نہیں تھا بلکہ ہو اس کو اللہ کا فضل سمجھتے تھے اس لیے اس نازک موقع پر اللہ سے مدد کے طالب ہوئے۔

۵۸۔ ۔ ۔ ۔ چونکہ یہ دعا دل کی گہرائیوں سے نکلی تھی اور پاکیزہ جذبات لیے ہوئے تھی اس لیے بادلوں چیرتی ہوئی آسمان پر پہنچ گئی اور بارگاہ الٰہی میں قبولیت اختیار کر گئی۔ چنانچہ ان خواتین نے یوسف کو پھانسنے کے لیے جو جال بچھایا تھا اس سے وہ محفوظ رہے۔

۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یوسف کی بے گناہی کی ساری علامتیں دیکھ لینے کے باوجود ان لوگوں نے مصلحت اسی میں دیکھی کہ یوسف کو ایک مدت تک کے لیے جیل بھیج دیا جائے تاکہ لوگ سمجھ لیں کہ جرم یوسف ہی سے سرزد ہوا تھا اور عزیز مصر کی جو بدنامی ہو رہی ہے اس سے وہ بچ جائے۔

۶۰۔ ۔ ۔ ۔ بائبل کے بیان کے مطابق ایک شاہ مصر کا ساقی سردار تھا اور دوسرا نان بائی سردار اس ان دونوں کو شاہ مصر نے کسی جرم میں جیل بھیج دیا تھا۔

۶۱۔ ۔ ۔ ۔ دونوں نے اپنے خواب بیان کیے۔ ایک نے (جو ساقی تھا) کہا میں نے اپنے کو شراب نچوڑ تے ہوئے دیکھا یعنی شراب کی غرض سے انگور کو نچوڑ تے ہوئے دیکھا۔

۶۲۔ ۔ ۔ ۔ دوسرا شخص جس نے یہ خواب دیکھا تھا نان بائیوں کا سردار تھا۔ (بائبل کی کتاب پیدائش باب ۴۰ میں یہ واقعہ بیان ہوا ہے مگر اس صحت کے ساتھ نہیں جس صحت کے ساتھ قرآن نے بیان کیا ہے)۔

۶۳۔ ۔ ۔ ان کے اس بیان سے واضح ہوا کہ یوسف کا کردار جیل میں بھی بلند رہا اور وہ نیک شخص کی حیثیت سے وہاں مشہور ہوئے۔ بائبل میں ہے۔

“لیکن خداوند یوسف کے ساتھ تھا۔ اس نے اس پر رحم کیا اور قید خانہ کے داروغہ کی نظر میں اسے مقبول بنایا۔ اور قید خانہ کے داروغہ نے سب ایسوں کو جو قید میں تھے یوسف کے ہاتھ میں سونپا اور جو کچھ وہ کرتے اس کے حکم سے کرتے تھے اور قید خانہ کا داروغہ سب کاموں کی طرف سے جو اس کے ہاتھ میں تھے بے فکر تھا اس لیے کہ خداوندا اس کے ساتھ تھا اور جو کچھ وہ کرتا خداوند اس میں اقبال مندی بخشتا تھا۔ ” (پیدائش ۳۹:۲۱تا۲۳)۔

خواب کی تعبیر بتانے کا اہل وہی شخص ہو سکتا ہے جو نیک ہو۔ اس کا احساس ایک فطری بات ہے اس لیے خواب دیکھنے والوں نے تعبیر کے لیے یوسف کی طرف رجوع کیا۔

۶۴۔ ۔ ۔ ۔ یوسف چونکہ اس موقع پر ان کے سامنے توحید کی دعوت پیش کرنا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے ان کے اطمینان کے لیے یہ بات کہی تاکہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ یہ بات طویل ہو گی اور اس دوران اگر کھانے کا وقت ہو گیا تو انہیں اٹھ جانا پڑ ے گا اور ان کے اصل سوال کا جواب رہ جائے گا۔

۶۵۔ ۔ ۔ ۔ یعنی خواب کی تعبیر کا علم اللہ کا بخشا ہوا ہے۔ یوسف نے اس کو اپنا کمال نہیں بتایا بلکہ اللہ کے فضل سے تعبیر کیا۔

۶۶۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے مصر کی حکمراں قوم کے مذہب کی طرف جو نہ اللہ کی وحدانیت پر یقین رکھتی تھی اور نہ آخرت کی جزا و سزا کی قائل تھی۔ ان کا مذہب شرک اور دنیا پرستی کا مذہب تھا۔

یوسف اگر چہ غلام کی حیثیت میں تھے اور مصر کا ماحول ان کے لیے بالکل نیا تھا مگر انہوں نے ماحول کا کوئی اثر قبول نہیں کیا بلکہ علی وجہ البصیرت اللہ کے سچے دین (اسلام) پر قائم رہے۔

۶۷۔ ۔ ۔ یوسف کے اس ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ جس دین کو میں نے اختیار کیا ہے وہ کوئی”قومی ورثہ” نہیں بلکہ انبیائی ورثہ ہے۔ یہ ان تاریخ ساز بزرگوں کا دین ہے جو اپنی صداقت ، پاکیزگی اور تقویٰ کے لیے مشہور ہوئیں۔ ساتھ ہی یوسف نے اپنا تعارف بھی پیش کیا کہ وہ اسی سلسلۃُالذَّ ھَب (سونے کی زنجیر) کی کڑی ہیں۔

۶۸۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ایہ اللہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے ان انبیاء کے ذریعہ دین توحید کی طرف رہنمائی کی جو دین فطرت ہے اس کا یہ احسان نہ صرف خاندان نبوت پر ہے بلکہ تمام انسانوں پر ہے کیوں کہ یہ شخص بھٹکی ہوئی انسانیت کے لیے روشنی کا مینار تھیں۔

۶۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شکر کا مفہوم یہاں بالکل واضح ہے یعنی توحید اور انبیاء علیہم السلام کے دین کو اللہ کا فضل سمجھ کر قبول کرنا۔

۷۰۔ ۔ ۔ ۔ یعنی لوگوں نے اس کائنات کو مختلف خداؤں میں جو بانٹ رکھا ہے اور ہر وقت کے لیے ایک الگ خدا فرض کر کے ان کی پرستش کر رہے ہیں۔ یہ صورت حال نہ صرف حقیقت کے واقعہ کے خلاف ہے بلکہ انسان کے لیے پریشان کن بھی کہ وہ کس کس خدا کا وفادار بن کر رہے اور کس کس کو خوش کرتا رہے۔ برخلاف اس کے لیے اللہ کو واحد خدا ماننے کی صورت میں تمام ذہنی پریشانیاں دور ہو جاتی ہیں اور قلب کو سکون نصیب ہوتا ہے کیونکہ ایک خدا کو مان لینا حقیقت واقعہ کو تسلیم کر لینا ہے۔ ۔ ایسا خدا جس کے سامنے کائنات کی ہر چیز بے بس ہے جو سب پر غالب ہے اور تنہا سب پر کنٹرول کر رہا ہے۔

متعدد خداؤں کو تسلیم کرنے کی صورت میں انسان کی وفاداریاں بٹ اتی ہیں جبکہ ایک خدا کا عقیدہ اس کی وفاداریوں کو اپنے خالق کے لیے مختص کر دیتا ہے۔ ایک غلام بہت سے آقاؤں کی غلامی کو ہر گز پسند نہیں کر سکتا بلکہ ایک آقا کی غلامی ہی کو بہتر خیال کرتا ہے مگر اتنی معقول بات بھی مشرکوں کی سمجھ میں نہیں آتی اور وہ متعدد اور متفرق خداؤں کے قائل ہو جاتے ہیں اگر مصر میں چند “خداؤں ” کی پرستش ہوتی تھی تو بھارت میں ان گنت خدا بنا لیے گئے ہیں بالفاظ دیگر بھارت کا مشرکانہ مذہب قدیم مصر کے مشرکانہ مذہب سے بہت آگے ہے !

۷۱۔ ۔ ۔ ۔ اس کی تشریح سورہ اعراف نوٹ ۱۱۲ میں گزر چکی۔

۷۲۔ ۔ ۔ ۔ یعنی حکم خواہ تکو ینی (طبعی Physical) ہو یا تشریعی (شرعی قانون Shari at Law) نیز تمام معاملات میں فیصلہ کرنے کا اختیار اللہ ہی کو ہے۔ جہاں تک طبعی دنیا کا تعلق ہے اس میں اللہ ہی کا حکم اور اسی کے فیصلے نافذ ہوتے ہیں۔ اس میں کسی کا بھی ذرہ برابر عمل دخل نہیں ہے۔ رہا دین و شریعت کا معاملہ تو اس معاملہ میں بھی اللہ ہی کو حکم دینے ، قانون بنانے اور فیصلہ کرنے کا اختیار ہے کہ وہی حقیقی معنیٰ میں شارع (Law giver) ہے اور اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو زندگی کے جملہ معاملات میں حاکم تسلیم کر لیا جائے۔ وَ مَا ا خْتَلَفْتُمْ فِیْہٖ مِنْ شَیْ ءٍ فَحُکْمْہٗ اِلَی اللہ (جس بات میں تم اختلاف کرتے ہو اس کا فیصلہ اللہ ہی کی طرف ہے۔ (سورہ شوریٰ ۱۰)۔

۷۳۔ ۔ ۔ اللہ نے حکم دیا ہے۔ اور حکم دینے کا اختیار اسی کو ہے۔ ۔ کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ مگر لوگ حکم دیتے ہیں۔ ۔ اور انہیں حکم دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ ۔ کہ بتوں کو پوجو اور غیر اللہ کی عبادت کرو۔ اللہ کا حکم سراسر حق ہے اور لوگوں کا حکم سراسر باطل۔

۷۴۔ ۔ ۔ ۔ یعنی صحیح اور سچا دین صرف دین توحید ہے اس کے سوا جتنے مذہب بھی ہیں نہ صحیح ہیں اور نہ سچے۔

۷۵۔ ۔ ۔ ۔ یہ بات یوسف علیہ السلام نے اس وقت فرمائی تھی جب کہ دنیا پر تاریکی کے بادل چھائے ہوئے تھے مگر آج کی دنیا پر بھی جب کہ تعلیم کی روشنی عام ہوئی ہے یہ بات پوری طرح صادق آتی ہے کیونکہ دنیا کی بیشتر آبادی دین توحید سے نا آشنا ہے۔

یوسف کی یہ دعوت جو انہوں نے اپنے قید خانہ میں نبوت عطاء ہوئی تھی اور انہوں نے تبلیغ کا آغاز قید خانہ ہی میں کر دیا تھا۔

۷۶۔ ۔ ۔ ۔ ان کے خواب کی تعبیر یوسف نے اس قطعیت کے ساتھ اس لیے بتائی کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے خاص طور سے اس کا علم بخشا تھا نیز وہ نبوت سے بھی سرفراز کیے گئے تھے۔ تعبیر یہ تھی کہ ساقی سردار رہائی پا کر حسب سابق بادشاہ کو شراب پلانے کی خدمت انجام دے گا اور نان بائی سردار کو پھانسی دی جائے گی اور پرندے اس کا سر نوچ نوچ کر کھائیں گے۔ یہ تعبیر بالکل سچی ثابت ہوئی۔

۷۷۔ ۔ ۔ ذکر سے مراد یوسف کا وہ تعارف ہے جو اس رہا ہو جانے والے شخص کو قید خانہ میں حاصل ہوا تھا اس تعارف میں جیسا کہ اوپر کی آیات سے واضح ہے تین باتیں شامل تھیں۔ ایک یوسف کا نیک کردار ہونا ، دوسرے ان کی طرف سے پیش کی جانے والی دعوت توحید اور تیسرے خواب کی تعبیر کا وہ علم جو اللہ تعالیٰ نے خاص طور سے ان کو بخشا تھا اور جس کے مطابق ان کی بتائی ہوئی تعبیر صحیح نکلی۔ اس سے یوسف کا منشا یہ تھا کہ ایک نبی کا تعارف بادشاہ سے ایک ایسے شخص کے ذریعہ ہو جائے جس کو اس کی صحبت میں رہنے اور اس کے بارے میں صحیح رائے قائم کرنے کا موقع ملا تھا تاکہ بلا وجہ کی قید کا سلسلہ ختم ہو جائے اور فرائض نبوت (دعوت و تبلیغ) کے لیے راہ کھل جائے۔ یہ نہایت مقدس مقصد تھا اس لیے اس پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ انہوں نے نہ اپنی مظلومی کی داستان سنانے کے لیے کہا تھا اور نہ اس بنا پر کسی بے چینی کا اظہار کیا تھا لیکن اگر بالفرض انہوں نے اپنی مظلومی کا ذکر بادشاہ سے کرتے کے لیے کہا تھا تو اس میں اعتراض کی کیا بات ہے ؟ کیا مظلوم کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ انصاف کا مطالبہ کرے ؟ کسی کافر حکومت سے بھی انصاف کا مطالبہ نہ کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے اور یوسف کو بادشاہ نے جیل نہیں بھجوایا تھا بلکہ عزیز نے بھجوایا تھا اور غالباً بادشاہ اس سے لاعلم ہی رہا ہو گا اس لیے یوسف کا یہ کہنا کہ بادشاہ سے میرا ذکر کرنا سفارش کرانے کے معنی میں نہیں تھا بلکہ حقیقت حال سے واقف کرانے کے مفہوم میں تھا۔ اور اس کے پیش نظر یہ اعتراض وارد نہیں ہوتا کہ یوسف نے کوئی ایسی بات کہو تھی جو ان کے مقام سے فرو تر تھی۔

بنا بریں جن مفسرین نے بعض روایتوں کا سہارا لے کر یوسف کی اس بات کو ان کی خطا پر محمول کیا ہے وہ خود خطا پر ہیں اور وہ روایتیں قابل اعتبار نہیں ہیں۔

۷۸۔ ۔ ۔ ۔ یعنی شیطان نے اس کو ایسا غافل کر دیا کہ اتنی اہم بات کا ذکر بادشاہ سے نہ کر سکا نتیجہ یہ کہ یوسف کی رہائی کی صورت نکل نہ سکی اور مزید چند سال انہیں جیل میں رہنا پڑا۔

معلوم ہوا کہ کسی اہم بات کو بھلا دینے میں شیطان کو خاص دخل ہے اور شیطان یہ کام وسوسہ اندازی کے ذریعہ کرتا ہے۔

اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ یوسف نے بادشاہ سے ذکر کرنے کی جو بات کہی تھی وہ ایک اچھی بات تھی اسی لیے شیطان نے اس کو پسند نہیں کیا اور رہا ہونے والے شخص کو بھلاوے میں ڈال دیا اگر یوسف کی یہ بات ایک لغزش ہوتی تو اس شخص کا بھول جانا اچھا ہی تھا۔ ایسی صورت میں اس بھلاوے کو شیطان کی طرف منسوب نہ کیا جاتا۔

۷۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بادشاہ کے خواب کی تعبیر بتانے کے لیے بصیرت کی ضرورت تھی وہ اہل دربار میں سے کسی کو حاصل نہیں تھی اس لیے جب یہ خواب ان کی سمجھ میں نہیں آیا تو انہوں نے کہا یہ خواب پریشان ہے جس کی کوئی تعبیر نہیں ہوتی۔

واضح رہے کہ خواب تین قسم کے ہوتے ہیں :

ایک وہ جن میں لا شعور (Sub Conscious) کام کر رہا ہوتا ہے اور دبی ہوئی خواہشات کسی روپ میں ظاہر ہو جاتی ہیں۔ یا پھر معدے کی خرابی کی وجہ سے آدمی ڈراؤنے خواب دیکھ لیے۔ ایسے خواب خوابِ پریشاں کہلاتے ہیں اور ان کی کوئی تعبیر نہیں ہوتی۔

دوسرے وہ خواب جو شیطانی سوسوں کا نتیجہ ہوتے ہیں ایسے خوابوں کی بھی کوئی تعبیر نہیں ہوتی مگر وہ فتنہ کا باعث ہوتے ہیں۔ شیطان خواب میں غلط باتیں باور کرا کے صالح عقیدہ کو متزلزل کرنے ، شرک اور قبر پرستی کی طرف مائل کرنے ، آپس میں بد گمانی پیدا کرنے اور میاں بیوی میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس لیے آدمی کو ہوشیار رہنا چاہیے اور ایسے خوابوں کا کوئی اثر نہیں کرنا چاہیے۔

تیسرے خواب وہ ہیں جو “رویائے صادقہ ” کہلاتے ہیں یعنی بالکل سچے خواب۔ سچے خواب کی علامت یہ ہے کہ آدمی اپنے دل میں اس کا اثر محسوس کرتا ہے۔ یہ خواب کبھی تو اس طرح پورے ہوتے ہیں کہ ان کی تعبیر کی ضرورت پیش نہیں آ تی۔ آدمی خواب میں جو کچھ دیکھتا ہے واقعات کی صورت میں وہی کچھ اس کے سامنے آ جاتا ہے۔ مگر اکثر سچے خواب اشاروں اور کنایوں کے انداز میں ہوتے ہیں۔ ایسے خواب اپنے گہرے معنی رکھتے ہیں اس لیے ان کی تعبیر وہی شخص بتا سکتا ہے جو اس علم میں بصیرت رکھتا ہو۔ قرآن کے علاوہ احادیث صحیحہ میں رویائے صادقہ کے جو واقعات پیش کیے گیے ہیں اور ان کی جو تعبیر بیان ہوئی ہے وہ بڑ ی بصیرت افروز ہے۔ (مزید تشریح کے لیے آگے دیکھیے نوٹ ۸۵)۔

۸۰۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ساقی جو یوسف کے بارے میں بادشاہ سے ذکر کرنا بھول گیا تھا اس موقع پر جب کہ بادشاہ کے خواب پر بحث ہو رہی تھی یوسف کی یاد اس کے ذہن میں تازہ ہو گئی۔

بائبل میں بھی بادشاہ کا خواب بیان ہوا ہے اور یہ صراحت ہے کہ بادشاہ نے مصر کے تمام جادو گروں اور دانشوروں کو بلا کر ان سے اس خواب کی تعبیر پوچھی مگر وہ تعبیر بتا نہ سکے۔ اس وقت سردار نے بادشاہ سے کہا “میری خطائیں آج مجھے یاد آئیں۔ ۔ وہاں (یعنی قید خانہ میں) ایک عبری جوان جلو داروں کے سردار کا نوکر ہمارے ساتھ تھا۔ ہم نے اس اپنے خواب بتائے اور اس نے ان کی تعبیر کی۔ ۔ اور جو تعبیر اس نے بتائی تھی ویسا ہی ہوا۔ ” (پیدائش ۴۱ : ۹ تا ۱۳)۔

۸۱۔ ۔ ۔ ۔ ساقی بادشاہ کی اجازت سے قید خانہ گیا اور یوسف کو صدیق (پیکر صدق) کہ کر خطاب کیاجس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ جیل میں یوسف کے ساتھ رہ کر ان کی سیرت سے کس درجہ متاثر ہوا تھا۔

۸۲۔ ۔ ۔ ۔ یعنی لوگوں کو بادشاہ کے خواب کی تعبیر جاننے کا شدید انتظار ہے لہٰذا آپ مجھے اس کی تعبیر بتا دیجیے تا کہ میں جا کر انہیں اس سے باخبر کروں۔

۸۳۔ ۔ ۔ یوسف علیہ السلام نے خواب کی تعبیر اس طرح بتائی کہ اس کے ساتھ تدبیر کا پہلو بھی واضح ہوا یعنی یہ بات کی کہ اس موقع پر کیا احتیاطی تدابیر اختیار کی جانی چاہئیں۔

اناج کو بالوں میں رہنے دینے کی ہدایت اس لیے کی تاکہ وہ کیڑوں مکوڑوں سے محفوظ رہے۔ خواب کی تعبیر یہ تھی کہ سات موٹی گایوں سے مراد خوشحالی کے سات سال ہیں اور سات سبز بالوں سے مراد سات سال کی اچھی فصلیں ہیں۔

۸۴۔ ۔ ۔ ۔ سات دبلی گایوں کی تعبیر یہ تھی کہ سات سال بد حالی کے آئیں گے اور سات خشک بالوں کا مطلب خشک سالی تھی جو سات سال تک رہے گی اور سات دبلی گایوں کے سات فربہ گایوں کے کھا لینے کا مطلب یہ تھا کہ خوش حالی کے دوران جو غلہ محفوظ کر کے رکھا جائے گا وہ خشک سالی کے دوران کھانے کے کام آئے گا۔ اور صرف اتنا ہی اناج بچ جائے گا جس کو بیج بونے کی غرض سے محفوظ رکھا جائے گا۔

۸۵۔ ۔ ۔ ۔ یہ خواب کی تعبیر پر ایک خبر کا اضافہ تھا جس کی پیشن گوئی یوسف علیہ السلام نے کی۔ ظاہر ہے یہ بات وحی کے ذریعہ انہیں معلوم ہوئی ہو گی۔

رس نچوڑ نے میں انگور وغیرہ کا رس نچوڑ نا بھی شامل ہے اور زیتون وغیرہ سے تیل حاصل کرنا بھی۔ مطلب یہ کہ خشک سالی کا دور گزر جانے کے بعد جو سال آئے گا اس میں اچھی بارش ہو گی اور بارش اچھی ہو جانے کی وجہ سے خوب پیداوار ہو گی اور پھلوں کا رس لوگ افراط سے حاصل کر سکیں گے۔ خواب کی تعبیر جیسا کہ آگے چل کر معلوم ہو گا و فیصد صحیح ثابت ہوئی بادشاہ اگرچہ مسلمان نہیں تھا مگر اس کا خواب سچا تھا۔

سچا خواب در اصل در حقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نشانی ہے جو کبھی کبھی کافروں کو بھی دکھایا جاتا ہے تاکہ ان پر حجت قائم ہو۔ یہ خواب مستقبل میں پیش آنے والے کسی واقعہ کی نشاندہی کرتا ہے۔ اور جب وہ واقعہ اسی طرح ظہور میں آتا ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہوتا ہے کہ دنیا میں جو واقعات پیش آتے ہیں وہ محض اتفاقی حادثات نہیں ہوتے بلکہ ایک منصوبہ کے تحت رو نما ہوتے ہیں اور اس کائنات پر ایک مدبر ہستی کی فرمان روائی ہے جو اپنی ا سکیم اور منصوبہ (تقدیر) کو نافذ کرتا رہتا ہے۔ اگر دنیا کے حادثات و واقعات کسی منصوبہ کے بغیر ظہور میں آتے تو کسی واقعہ کی پیشگی خبر کسی کو نہیں ہو سکتی تھی جبکہ سچے خواب جو انسان کے تجربہ میں آتے رہتے ہیں کسی واقعہ کے ظہور میں آنے سے پہلے اس کی خبر دیتے ہیں جو واضح دلیل ہے اس بات کی کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے اور یہاں جو کچھ ہوتا ہے اس کے بنائے پیشگی منصوبہ (تقدیر) (Pre-Planning) کے تحت ہوتا ہے۔ اس لیے جو شخص بھی سچا خواب دیکھ لیتا ہے خواہ وہ مومن ہو یا کافر وہ محض “خواب” نہیں دیکھتا بلکہ اللہ کی حجت کو دیکھ لیتا ہے۔

۸۶۔ ۔ ۔ ۔ جب ساقی نے جا کر بادشاہ کو یوسف کی بتائی ہوئی تعبیر سے مطلع کیا تو اسے اطمینان ہوا اور حیرت ہوئی کہ اس قابلیت کا آدمی جیل میں پڑا ہوا ہے اس لیے اس نے یوسف کو بلا بھیجا۔

۸۷۔ ۔ ۔ متن میں لفظ “رب ” استعمال ہوا ہے جس کے معنی عربی میں آقا کے ہوتے ہیں اور اس زمانہ میں غلام اپنے آقا کے لیے یہ لفظ استعمال کرتا تھا یہاں اسی لغوی معنی میں بادشاہ کے لیے یہ لفظ استعمال ہوا ہے کیونکہ ساقی جو قاصد بن کر آیا تھا بادشاہ کا غلام تھا۔ لیکن چونکہ رب حقیقی معنی میں اللہ ہی ہے اور آقا کے لیے یہ لفظ استعمال کرنے سے اشتباہ کی صورت پیدا ہو جاتی ہے جیسا کہ یہود و نصاریٰ کی تاریخ بتاتی ہے اس لیے تکمیلی شریعت میں ا سکا استعمال اللہ کے لیے خاص کر دیا گیا ہے۔

۸۸۔ ۔ ۔ ۔ یوسف کے اس بیان سے ظاہر ہوا کہ انہیں اپنی رہائی کے لیے کوئی بے چینی نہیں تھی بلکہ رہا ہونے سے پہلے انہوں نے اپنے معاملہ کی تحقیق ضروری سمجھی تا کہ جس الزام میں انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا، اس کی حقیقت واضح ہو جائے۔ اس سے اس خیال کی تردید ہوتی ہے کہ یوسف نے اُذکُرْنِیْ دِنْدَ رَبِّکَ (اپنے آقا کے پاس میرا ذکر کرنا) کہہ کر کوئی غلطی کی تھی۔ (ملاحظہ ہو نوٹ ۷۷)۔

یہ یوسف کی شرافت تھی کہ انہوں نے بیگم عزیز کا صراحت کے ساتھ ذکر نہیں کیا بلکہ ان عورتوں کا ذکر کیا جو بیگم عزیز کی سازش کے تحت جمع ہوئی تھیں اور اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھی تھیں۔ اس معاملہ کی تحقیق سے بیگم عزیز مستثنیٰ نہیں ہو سکتی تھیں اس لیے اس کا نام لینا غیر ضروری تھا۔

۸۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بادشاہ نے ان عورتوں کو اور بیگم عزیز کو تحقیق کے لیے بلا بھیجا اور اس نے ان سے جو سوال کیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بادشاہ کو ذاتی طور پر اطمینان ہو گیا تھا کہ یوسف بے قصور ہے اور رجھانے کی کوشش عورتوں ہی نے کی تھی۔

۹۰۔ ۔ ۔ ۔ ہاتھ زخمی کرنے والی خواتین نے بھی یوسف کی بے گناہی کی شہادت دی اور بیگم عزیز نے بھی اعتراف کر لیا کہ قصور وار وہی تھی۔ یوسف بالکل بے گناہ اور سچا ہے۔

اس طرح چاند کے گہن سے نکل آنے پر سب نے اس کا بے داغ چہرہ دیکھ لیا اور لوگوں کو اندازہ ہو گیا کہ یہ تو نور ہی نور ہے جس کی کوئی مثال پیش نہیں کی جا سکتی۔

۹۱۔ ۔ ۔ ۔ بیگم عزیز کا بیان اوپر آیت ۵۱ میں “بلا شبہ وہ بالکل سچا ہے ” پر ختم ہو گیا۔ یہ بیان یوسف کا ہے۔ جب قید خانہ میں انہیں یہ اطلاع ملی کہ تحقیق سے ثابت ہو گیا ہے کہ وہ بے قصور ہیں تو انہوں نے بتایا کہ میں نے اس مرحلے میں یہ تحقیق اس لیے ضروری سمجھی تاکہ واضح ہو جائے کہ میں نے عزیز کے گھر میں اس کے در پردہ کوئی خیانت نہیں کی تھی۔ یہاں خیانت سے مراد عزیز کی بیوی سے ناجائز تعلق قائم کر لینا ہے۔

یوسف نے مزید یہ اصولی بات بھی واضح کی کہ خیانت کار لوگ اپنی خیانت پر پردہ ڈالنے کے لیے کسی بے گناہ کے خلاف جو چالیں چلتے ہیں ان کی یہ چالیں وقتی طور سے خواہ کتنے ہی بڑ ے مغالطہ کا باعث بنیں لیکن آخری نتیجہ کے اعتبار سے ایسے لوگ کبھی با مراد نہیں ہوتے اور ان کے چلائے ہوئے تیر اصل نشانہ کو خطا کر جاتے ہیں جس کی مثال بیگم عزیز کا یہ واقعہ ہے کہ اس نے خیانت کر کے الزام یوسف کے سر ڈالنا چاہا، ان کے خلاف سازش کی اور ان کو بد نام کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی لیکن اس سے یوسف کا کچھ نہیں بگڑا۔ ان کا مقام بلند ہوا اور بیگم عزیز کے حصہ میں رسوائی آئی۔

واضح رہے کہ بیگم عزیز کا اپنے قصور کا اعتراف کرنا تو قرآن سے ثابت ہے لیکن اللہ کے حضور اس کا توبہ کرنا اور ایمان لانا ثابت نہیں اور یہ جو مشہور ہے کہ یوسف نے بعد میں بیگم عزیز (زلیخا) سے نکاح کر لیا تو یہ محض افسانہ ہے جس میں کوئی حقیقت نہیں اور نہ یہ قرین قیاس ہے کہ ایک پیغمبر ایسی عورت کو اپنے نکاح میں لانا پسند کرے گا جو اخلاقی پستی میں مبتلا رہی ہو اور جس کے حصہ میں رسوائی آئی ہو۔ وہ عزیز کی بیوی تھی اور یہ بھی ثابت نہیں کہ اس وقت عزیز کا انتقال ہو گیا تھا یا اس نے اس کو چھوڑ دیا تھا پھر اس کا رشتہ یوسف سے جوڑ نے میں کیا تک ہے ؟ یہی نہیں بلکہ عزیز کی بیوی کا نام “زلیخا” تھا یہ بات بھی نہ قرآن سے ثابت ہے اور نہ حدیث سے اور نہ بائبل ہی میں اس کی صراحت ہے۔ افسوس کہ قرآن نے عبرت و موعظت کے لیے جو سرگزشت پیش کی تھی افسانہ طرازی نے اسے کچھ سے کچھ کر کے رکھ دیا۔

۹۲۔ ۔ ۔ ۔ یوسف نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے کہا اب جبکہ میرا بے قصور ہونا ثابت ہو گیا ہے میں اس  کا کریڈٹ  (Credit) اپنے نفس کو نہیں دیتا بلکہ اسے اللہ کا فضل سمجھتا ہوں کیونکہ انسان کا نفس تو اسے برائی پر اکساتا رہتا ہے مگر جن کو اللہ توفیق دیتا ہے وہ اپنے نفس کی خواہشات کو دباتے ہیں اور اس کے ہاتھ میں اپنی باگ ڈور دینے کے بجائے اسے زیر کر لیتے ہیں۔ نفس کو زیر کرنے کا یہ کام خدا کی مہربانی اور اس کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں۔

چونکہ انسان کی آزمائش خیر و شر میں مطلوب ہے اس لیے انسانی نفس کے اندر خواہشات رکھ دی گئی ہیں۔ یہ خواہشات برائی اور گناہ کی لذت کو حاصل کرنے کے لیے ہے اندر سے زور لگاتی ہیں لیکن جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اس پر اللہ کی نظر عنایت ہوتی ہے اور وہ اس کی توفیق سے ان خواہشات کو دبانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

واضح رہے کہ بعض مفسرین نے اس بیان کو جو ذٰلِکَ لِیَعْلَمَ “یہ اس لیے تاکہ وہ جان لے ” سے شروع ہوتا ہے بیگم عزیز کا بیان قرار دیا ہے مگر اس سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا کیونکہ نفس کلام دلیل ہے کہ یہ یوسف ہی کا بیان ہے۔ کلام کو روح ، معنی کا حسن اور پر وقار اسلوب بیان ایک نبی ہی کے شایان شان ہے۔ بیگم عزیز کی زبان سے یہ باتیں جچتی نہیں ہیں۔

۹۳۔ ۔ ۔ تحقیق کا نتیجہ سامنے آ جانے کے بعد بادشاہ نے دوبارہ یوسف کو بلا بھیجا اس اعلان کے ساتھ کہ وہ کسی کا غلام نہیں رہے گا بلکہ وہ میری مملکت کے کاموں کے لیے مخصوص ہو گا۔

۹۴۔ ۔ ۔ ۔ ظاہر ہے یوسف کی گفتگو سے دانشمندی، حکمت، حقیقت پسندی اور دور اندیشی جیسی خوبیوں کا اظہار ہوا ہو گا اس لیے بادشاہ ان سے بہت متاثر ہوا اور ان کی قدردانی کرتے ہوئے ان پر اپنے پورے اعتماد کا اظہار کیا۔ یہ اشارہ تھا اس بات کی طرف کہ یوسف بڑ ے سے بڑ ے منصب کے اہل ہیں اب وہ بتائیں کہ قحط کی صورت میں ملک کو جن مسائل کا سامنا کرنا ہو گا اس کے پیش نظر انہیں اپنے ناخن تدبیر سے کام لینے کے لیے کس طرح کے اختیارات کی ضرورت ہو گی۔

۹۵۔ ۔ ۔ ۔ خزائن الارض (زمین کے خزانے) سے مراد زمین سے حاصل ہونے والی دولت یعنی زرعی پیداوار ہے اور اس پر مختار بنا دینے سے مراد اس پر تصرف اور اس کام کی تنظیم وغیرہ کے سلسلہ میں مکمل اختیارات تفویض کرنا ہے۔ چونکہ مسئلہ براہ راست غلہ کی پیداوار اور اس کی تقسیم سے متعلق تھا اس لیے یوسف (علیہ السلام) نے اس معاملہ میں مکمل تفویض کرنے کا مطالبہ کیا اور بادشاہ کے اطمینان کے لیے اس بات کا اظہار کیا کہ اس کام کے لیے جو صلاحیتیں۔ حفاظت اور علم ۔ مطلوب ہیں وہ میرے اندر موجود ہیں۔

مطالبہ تو یوسف (علیہ السلام) موقع کی مناسبت سے اتنا ہی کیا تھا مگر آگے جا کر راہیں کھلتی چلی گئیں یہاں تک کہ مصر کا کلی اقتدار ان کے ہاتھ آ گیا اور وہ تخت سلطنت کے مالک بن گئے چنانچہ آیت ۱۰۰ میں صراحت موجود ہے کہ جب ان کے والدین مصر پہنچ گئے تو ان کو انہوں نے تخت پر بٹھا دیا۔

یوسف (علیہ السلام) نے جو مطالبہ کیا تھا اس سے یہ غلط فہمی نہ ہو کہ یہ ایک غیر اسلامی نظام حکومت کو چلانے کے لیے تھا۔ یہ بات نہ تو منصب نبوت سے مطابقت رکھتی اور نہ تاریخ میں ایسی کوئی مثال موجود ہے کہ ایک نبی نے کسی غیر اسلامی یا کافرانہ حکومت کو چلانے میں کوئی حصہ لیا ہو۔ یوسف (علیہ السلام) نے جس چیز کا مطالبہ کیا تھا وہ یہ تھی کہ پیداوار کا پورا نظام ان کے کنٹرول میں ہو اور حکومت اس میں مداخلت کرنے کے بجائے ان کی معاون و مدد گار بنے۔ گویا انہوں نے اپنے لیے ایسا دائرہ کار تجویز کیا تھا جو بجائے خود مباح تھا۔ اور یہ خدمت لوگوں کو قحط کی تکلیف اور مصیبت سے بچانے کے لیے ضروری تھی نیز اس سے سوسائٹی کو خدا شناس بنانے میں بڑ ی مدد مل سکتی تھی۔ چنانچہ علامہ زمخشری لکھتے ہیں :

“یوسف نے یہ بات اس لیے کہی تاکہ اس کے ذریعہ وہ اللہ کے احکام کو جاری کر سکیں ، حق قائم کر سکیں ، انصاف کا دورہ ہو اور غلبہ حاصل کر سکیں۔ یہ من جملہ ان مقاصد کے ہے جن کے لیے انبیاء کی بعثت بندوں کی طرف ہوتی رہی ہے۔ اور یوسف کو یہ معلوم تھا کہ ان کے سوا کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو ان کی جگہ اس ذمہ داری کو پورا کر سکتا ہو لہٰذا انہوں نے اقتدار کا مطالبہ محض رضائے الٰہی کی خاطر کیا تھا نہ کہ حب جاہ اور دنیا کی خاطر۔ ” (تفسیر کشاف ج ۲ ص ۳۲۸)

اس لیے یہ کافرانہ حکومت کو چلانا نہیں تھا بلکہ وقت کی حکومت کو ایک جائز عوامی ضرورت کے حق میں ہموار کرنا تھا اور بتدریج اقتدار کو اسلام کی طرف منتقل کرانے اور معاشرہ کو اسلام سے قریب کرنے کی کوشش تھی۔ اس دور کے نظام حکومت کو موجودہ دور کے نظام حکومت پر قیاس کرنا صحیح نہیں جہاں اس قسم کے اختیارات کسی شخص کو تفویض کرنے کا تصور نہیں کیا جا سکتا اور جس کو کوئی شعبہ ملکی قوانین کی جکڑ بندیوں سے آزاد نہیں ہوتا۔ تا ہم اگر کسی غیر اسلامی نظام میں مباحات کے دائرہ میں یعنی جہاں شرعی احکام و قوانین سے تصادم نہ ہوتا ہو اور اہل ایمان اسے دینی مصالح کا تقاضا سمجھتے ہوں تو اس سے فائدہ اٹھانے میں شرعاً کوئی چیز مانع نہیں ہے۔ اس پر یہ اعتراض وارد کرنا کہ یہ نظام باطل کیا معونت ہے یا اس کے ساتھ مصالحت ہے ایک مغالطہ کے سوا کچھ نہیں۔ ۔ ۔ انبیائی طریق کار میں ہر طرح حالات کے لیے رہنمائی موجود ہے اور یوسف کا طریقہ بھی ہمارے لیے اس لیے اسوہ ہی ہے۔ آیت سے ضمناً یہ بات بھی واضح ہوئی کہ اقتدار کا منصب کسی ایس موقع پر جبکہ ایک مؤمن اپنے اندر اس کی اہلیت پاتا ہو اور حالات شدت سے اس بات کے متقاضی ہوں کہ وہ اس خدمت کے لی اپنے کو پیش کرے تو ایسا کیا جا سکتا ہے۔ جس حدیث میں عہدہ طلب کرنے کی ممانعت آئی ہے وہ جاہ طلبی کے معنی میں ہے اور جو صورت اوپر بیان ہوائی وہ اس سے مختلف ہے۔

۹۶۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یوسف کو اگر چہ مختلف مراحل سے گزرنا پڑا مگر اللہ تعالیٰ نے اقتدار کی راہ ان کے لیے اس طرح ہموار کی کہ ہر مرحلہ ان کے لیے ترقی کا زینہ ثابت ہوا۔ اور ؏

تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی

ظاہر ی اسباب اس طرح بنے کہ بادشاہ نے وہ تمام اختیارات سپرد کر دئے جو ان کے پیش کردہ چودہ سالہ منصوبہ کو رو بہ عمل لانے کے لیے ضروری تھے اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں مصر کا حاکم بنا دیا چنانچہ آگے آیت ۸۷ میں یوسف کے لیے عزیز (با اختیار حاکم) کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ بائبل میں ہے :

“اور فرعون (یعنی اس وقت کا بادشاہ) نے یوسف سے کہا چونکہ خدا نے مجھے یہ سب کچھ دیا ہے اس لیے تیری مانند دانشور اور عقلمند کوئی نہیں۔ سو تو میرے گھر کا مختار ہو گا۔ اور میری ساری رعایا تیرے حکم پر چلے گی فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب سے میں بزرگ تر ہوں گا۔ اور فرعون نے یوسف سے کہا کہ دیکھ میں تجھے سارے ملک مصر کا حاکم بناتا ہوں۔ ” (پیدائش ۴۱ : ۳۹ تا ۴۱)

۹۷۔ ۔ ۔ کہاں یہ بات کہ یوسف کو جیل کی تنگ کوٹھری میں دن گزارنا پڑ رہے تھے اور کہاں یہ صورت کی مصر کی سر زمین میں جہاں چاہے وہ اپنے لیے ٹھکانا بنا سکتے تھے۔ بائبل میں ہے :

“اور اس نے فرعون کے پاس سے رخصت ہو کر سارے ملک مصر کا دورہ کیا اور ارزانی کے سات برسوں میں افراط سے فصل ہوئی اور وہ لگا تار ساتوں برس ہر قسم کی خورش جو ملک مصر میں پیدا ہوئی تھی جمع کر کر کے شہروں میں اس کا ذخیرہ کرتا گیا۔ ہر شہر کے چاروں اطراف کی خورش اسی شہر میں رکھتا گیا۔ اور یوسف نے غلہ سمندر کی ریت کی مانند نہایت کثرت سے ذخیرہ کیا۔ ” (پیدائش ۴۱ : ۴۶ تا ۴۹)

۹۸۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ واقعہ ہے کہ نیک روی کے نتائج دنیا میں اچھے ہی نکلتے ہیں البتہ اس کے لیے وقت لگتا ہے ٹھیک اسی طرح جس طرح کہ ایک بیج کے بونے اور اس کے بار آور ہونے کے درمیان وقت کا فاصلہ ہوتا ہے۔

یہاں یہ بات بھی سمجھ لینا چاہیے کہ اقتدار اور اقتدار میں بڑا فرق ہے۔ جو اقتدار ظالموں کو حاصل ہوتا ہے وہ محض آزمائش کے لیے ہوتا ہے اور باعث خیر نہیں ہوتا۔ لیکن جو اقتدار حاصل ہوا اس کی نوعیت یہی تھی اس لیے اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے تعبیر کیا ہے۔

۹۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ایمان لا کر تقویٰ کا رویہ اختیار کرنے والوں کو جو دنیا میں دیا جاتا ہے وہ اس انعام و ا کرام کے مقابلہ میں بہت ٹھوڑا ہے جس سے وہ آخرت میں نوازے جائیں گے دنیا کا اجر اگر شبنم ہے تو آخرت کا اجر باران رحمت۔

۱۰۰۔ ۔ ۔ ۔ جب قحط کا زمانہ آیا تو مصر کے ساتھ قریبی ممالک فلسطین وغیرہ بھی اس کی لپیٹ میں آ گئے۔ اس وقت یوسف کے حسن انتظام کی بدولت مصر میں غلہ کا ذخیرہ تھا اس لیے ان کے بھائی کنعان سے غلہ خریدنے مصر آئے۔ اور چونکہ وہ غیر ملک سے آئے تھے اس لیے انہیں حاکم مصر (یوسف) کے پاس حاضر ہونا پڑا ہو گا۔ بائبل میں ہے :

“اور یوسف کے کہنے کے مطابق کال کے سات برس شروع ہوئے اور سب ملکوں میں تو کال تھا پر ملک مصر میں ہر جگہ خورش (خوراک) موجود تھی۔  ۔ اور یعقوب کو معلوم ہوا کہ مصر میں غلہ ہے تب اس نے اپنے بیٹوں سے کہا۔ ۔  تم وہاں جاؤ اور وہاں سے ہمارے لیے اناج مول لے آؤ تاکہ ہم زندہ رہیں اور ہلاک نہ ہوں۔ سو یوسف کے دس بھائی غلہ مول لینے کو مصر میں آئے۔ ۔ اور یوسف ملک مصر کا حاکم تھا اور وہی ملک کے سب لوگوں کے ہاتھ غلہ بیچتا تھا۔ ۔  یوسف نے تو اپنے بھائیوں کو پہچان لیا تھا پر انہوں نے اسے نہ پہچانا۔ ” (پیدائش ۴۱ : ۵۳ ، ۵۴ اور ۴۲: ۱ تا ۸)

۱۰۱۔ ۔ ۔ ۔ وہ یوسف کو اس لیے نہیں پہچان سکے کہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ جس بھائی کو انہوں نے کنویں میں پھینک دیا تھا وہ مصر کا حکمراں ہو سکتا ہے اور چونکہ یوسف کو ان سے جدا ہوئے ایک طویل مدت گزر چکی تھی اس لیے ان میں جو ظاہری تبدیلی ہوئی ہو گی اس کے پیش نظر بھی ان کے لیے پہچاننا مشکل تھا۔

یوسف خوبرو تھے لیکن حسن یوسف کی نوعیت اگر واقعی ایک معجزہ کی ہوتی تو ان کے بھائی ان کو دیکھتے ہی پہچان لیتے لیکن ان کا نہ پہچانا ظاہر کرتا ہے کہ حسن یوسف کا جو قصہ بیان کیا جاتا ہے وہ مبالغہ آرائی پر مبنی ہے۔

۱۰۲۔ ۔ ۔ ۔ مصر میں چونکہ راشننگ سسٹم تھا اس لیے یوسف نے ان سے پوچھا کہ تمہارے گھر میں کتنے افراد ہیں اور جب انہوں نے اپنے سوتیلے بھائی ب یمین کا ذکر کیا ہو گا تو یوسف نے کہا ہو گا کہ آئندہ آؤ تو اس کو اپنے ساتھ لاؤ تاکہ تمہارے بیان کی تصدیق ہو جائے۔ یہ قاعدہ کی بات تھی اور در اصل یوسف اپنے بھائی سے ملنا چاہتے تھے مگر ابھی راز فاش کرنا مناسب نہ تھا اس لیے انہوں نے قاعدہ کی بات بیان کی۔ ساتھ ہی اپنی مہمان نوازی وغیرہ کا بھی ذکر کیا تکہ انسیت بڑھے اور وہ رغبت مے ساتھ دوبارہ آئیں۔

۱۰۳۔ ۔ ۔ انہوں نے غلہ کی جو قیمت ادا کی تھی وہ یوسف کے حکم سے ان کے اسباب میں رکھ دی گئی۔ یوسف چاہتے تھے کہ وہ دوبارہ ان کے پاس آئیں اور مالی مشکلات ان کے لیے رکاوٹ نہ بنیں۔

۱۰۴۔ ۔ ۔ ۔ یعقوب (علیہ السلام) کو اس سے پہلے یوسف کے معاملہ میں تلخ تجربہ ہو چکا تھا اس لیے انہوں نے کہا کہ کیا اسی طرح تم پر اعتماد کر کے تمہارے ساتھ بن یمین کو بھیجوں۔

بن یمین اگر چہ بڑا ہو گیا تھا مگر ان کا سوتیلا بھائی تھا جس کو وہ پسند نہ کرتے تھے اور اس وقت کے حالات میں ان کے ساتھ بیرون ملک بھیجنا پڑ ے اندیشہ کی بات تھی کہ معلوم نہیں یہ دس کا جتھا اس کے ساتھ کیا کر بیٹھے۔

۱۰۵۔ ۔ ۔ ۔ یوسفؑ نے جو راشننگ سسٹم جاری کیا تھا اس کے مطابق بیرون ملک کے لوگوں کو فی کس ایک اونٹ کے بار کے بقدر غلہ دیا جاتا تھا اس لیے انہوں نے کہا کہ بن یمین کو ساتھ لے جانے کی صورت میں ہم ایک اونٹ کا مزید غلہ حاصل کر سکیں گے۔

۱۰۶۔ ۔ ۔ ۔ یعنی کوئی ایسی صورت پیش آ جائے کہ اس کی حفاظت کرنا تمہارے بس میں نہ ہو۔

۱۰۷۔ ۔ ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصر کے باہر ایک فصیل رہی ہو گی اور اس کے کئی دروازے ہوں گے یعقوب (علیہ السلام) نے یہ ہدایت انہیں اس لیے کی تاکہ ایک جتھے کی صورت میں مصر میں داخل ہونے پر ان کو شک کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے کہ معلوم نہیں جتھا کس غرض سے ملک میں داخل ہوا ہے۔ شبہ اس وقت کے حالات کے پیش نظر لوٹ مار کا بھی کیا جا سکتا تھا اور جاسوسی کا بھی۔

۱۰۸۔ ۔ ۔ ۔ یعقوب (علیہ السلام) نے احتیاطی تدبیر تو بتا دی لیکن ساتھ ہی واضح کر دیا کہ کوئی تدبیر خواہ کتنی ہی صحیح ہو تقدیر اِلٰہی کے مقابل میں ہر گز کار گر نہیں ہو سکتی۔ اللہ کا فیصلہ نافذ ہو کر رہتا ہے اور ساری تدبیریں دھری کے دھری رہ جاتی ہیں۔ اس لیے انسان کے بس میں جو بہتر سے بہتر تدبیر ہے وہ کرے مگر تدبیر کو سب کچھ نہ سمجھے بلکہ اللہ کی مشیت پر بھروسہ کرے کہ ہو گا وہی جو اللہ کو منظور ہے۔

۱۰۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعقوب علیہ السلام نبی تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں براہ راست علم بخشا تھا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یعقوب علیہ السلام کی تعریف فرمائی ہے کہ اگر چہ ان کی تدبیر تقدیر اِلٰہی کے مقابل کار گر نہ ہو سکی مگر تدبیر اپنی جگہ مناسب ہی تھی اور وہ اس علم کی بنا پر جو انہیں بخشا گیا تھا تدبیر اور تقدیر کا فرق جانتے تھے۔

۱۱۰۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اکثر لوگ نہیں جانتے کہ انسانی تدابیر کے درمیان فیصلہ کن چیز قضائے اِلٰہی ہی ہے۔ لوگ اپنی تدبیروں ہی پر ہوتا ہے اور جب اس میں ناکامی ہوتی ہے تو مایوس ہو جاتے ہیں۔ یہ حقیقت سے بے خبر ہونے کا نتیجہ ہے۔

۱۱۱۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یوسف نے اپنے سگے بھائی بن یمین کو اپنے پاس بلا کر چپکے سے بتایا کہ میں تمہارا بھائی یوسف ہوں۔ اب تم اس سلوک پر افسوس نہ کرو جو یہ لوگ ہمارے ساتھ کرتے رہے ہیں۔

۱۱۲۔ ۔ ۔ ۔ یہ شاہی جام تھا اس لیے ضرور قیمتی رہا ہو گا اور غالباً یوسف نے وحی اِلٰہی سے اشارہ پا کر یہ تدبیر اختیار کی ہو گی کہ اس کو اپنے بھائی بن یمین کے سامان میں خاموشی سے رکھ دیا۔ غالباً انہوں نے یہ بات بن یمین کے علم میں لائی ہو گی۔

۱۱۳۔ ۔ ۔ پکارنے والا سرکاری افسر تھا اور اس کے علم میں یہ بات نہیں تھی کہ یوسف نے خود یہ پیالہ بن یمین کے سامان میں رکھا ہے اس لیے جب قافلہ کے روانہ ہو جانے پر پیالہ نہیں ملا تو سرکاری افسر نے یہ خیال کیا کہ جس قافلہ نے ہاں قیام کیا تھا ان ہی میں سے کسی نے اسے چرا لیا ہے اس لیے وہ قافلہ کو تلاش کرتا ہوا گیا اور جب راستہ میں اس پا لیا تو اپنے گمان کی بنا پر ان لوگوں پر طوری کا الزام لگایا۔

۱۱۴۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قافلہ والوں نے سرکاری ملازمین (پولس) سے جو افسر کے ساتھ آئے تھے پوچھا کہ تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ہے۔

۱۱۵۔ ۔ ۔ ۔ سرکاری ملازمین (پولس) نے جب بتلایا کہ شاہی پیمانہ غائب ہو گیا ہے تو ان کے افسر نے اس بات کا اعلان کیا کہ جو شخص اس کو لا حاضر کرے گا اس کو ایک اونٹ غلہ انعام دیا جائے گا اور انعام دلوانے کا ذمہ دار میں ہوں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیمانہ بڑا قیمتی تھا۔

۱۱۶۔ ۔ ۔ ۔ یعنی برادران یوسف نے کہا۔

۱۱۷۔ ۔ ۔ یعنی سرکاری ملازمین نے کہا۔

۱۱۸۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جس کے سامان میں چوری کی چیز نکل آئے اس کو دھر لیا جائے اور اس کی آزادی سلب کر لی جائے۔

۱۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ہمارے ہاں چور کی سزا یہی قانون ہے۔ اغلب ہے یہ قانون ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت کا ہو گا۔

۱۲۰۔ ۔ ۔ ۔ سرکاری افسران کو یوسف کے پاس لے آیا اور جب یوسف کی ہدایت کے مطابق ان کے سامان کی تلاشی لی گئی تو پیالہ بن یمین کی بوری میں نکل آیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ تلاشی خود یوسف نے لی ہو۔

۱۲۱۔ ۔ ۔ ۔ یوسف در اصل اپنے سگے بھائی بن یمین کو اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے وجہ ظاہر ہے یہ رہی ہو گی کہ وہ اپنے اس کام میں جو ان کے سپرد ہوا تھا ا پنے بھائی اپنا معاون بنانا چاہتے ہوں گے تاکہ مصر کی سوسائٹی کو اسلام سے قریب کرنے میں مدد ملے۔ بن یمین ان کے بگڑ ے ہوئے بھائیوں میں سے نہیں تھے بلکہ نیک کردار تھے اور انہوں نے ایک نبی (ان کے والد یعقوب علیہ السلام) کے گھر میں تربیت پائی تھی اس لیے مصر میں ان کا قیام پیش نظر مقصد کے لیے کافی مفید ثابت ہو سکتا تھا۔ چنانچہ یوسف کی شدید خواہش تھی کہ وہ ان کے پاس رہ جائیں لیکن یوسف اپنی شخصیت کو ابھی مصلحۃً اپنے بھائیوں پر ظاہر کرنا نہیں چاہتے تھے اس لیے انہوں نے قافلہ کے ساتھ انہیں جانے دیا لیکن اللہ نے ایسی مخفی تدبیر کی کہ بن یمین یوسف کے پاس پہنچ گئے اور انہیں موقع ملائکہ راز کو افشاء کیے بغیر ان کو اپنے پاس رکھ لیں۔

۱۲۲۔ ۔ ۔ ۔ متن میں الفاظ فِی دِیْنِالمَلِک (بادشاہ کے دین میں) استعمال ہوئے ہیں۔ دین کے اصل معنیٰ اطاعت کے ہیں اور یہاں یہ لفظ بادشاہ کے قانون کے معنی میں استعمال ہوا ہے چنانچہ ابن جریر طبری نے اس کے معنٰی   فِی حُکم مَلِکِ مِصرِ وقضائِہٖ وَطاعتِہٖ منھم (مصر کے بادشاہ کے حکم، اس کے فیصلہ اور اس کی اطاعت میں) کے ہیں۔ (جامع البیان ج ۱۳ ص ۱۷) جس وقت بن یمین کی گرفتاری کا معاملہ پیش آیا مصر میں بادشاہ کا قانون نافذ تھا اور ملکی قانون کی رو سے چوری کی سزا نظر بندی یا غلامی نہیں تھی بلکہ کوئی اور سزا تھی۔ ہو سکتا ہے مار پیٹ یا جرمانہ کی سزا رہی ہو۔ اگر اس سزا کو نافذ کیا جاتا تو اس سے وہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا تھا جو بن یمین کو روک لینے کی صورت میں حاصل ہوتا نیز اس صورت میں بن یمین کو بلا وجہ تکلیف بھی پہنچتی۔ ظاہر ہے کہ بات انصاف کے خلاف تھی البتہ نظر بندی یا غلامی کی سزا محض صورۃً سزا تھی حقیقۃً نہیں ، کیونکہ یوسف نے ان کو محض اپنے پاس روک لیا تھا اور خود بن یمین سمجھ رہے تھے کہ یہ کوئی سزا نہیں ہے بلکہ مجھے روک لینے کی ایک لطیف تدبیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی گرفتاری کے خلاف کوئی احتجاج نہیں کیا اور نہ اپنی صفائی میں کچھ کہنے کی ضرورت محسوس کی۔ الغرض بادشاہ کا جو قانون مصر میں رائج تھا اس کی رو سے یوسف بن یمین کو سزا تو دے سکتے تھے لیکن اپنے پاس روک کر رکھ نہیں سکتے تھے۔ البتہ اللہ کی مشیت ایسی صورت پیدا کر سکتی تھی کہ وہ ان کو روک لیں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایسی صورت پیدا کر دی اور یوسف کے لیے بن یمین کو روک لینا آسان ہو گیا۔ چونکہ بن یمین کا تعلق ملک کنعان سے تھا اس لیے عجب نہیں کہ بین الاقوامی قاعدہ یہ رہا ہو کہ مجرم جس ملک کا باشندہ ہو اس پر اسی ملک کے قانون کو نافذ کیا جائے۔ اس طرح بن یمین پر شریعت ابراہیم کا قانون نافذ ہو گیا جو ہر لحاظ سے مناسب تھا۔

اس آیت کے تعلق سے کچھ سوالات ذہن میں پیدا ہوتے ہیں ، مگر طوالت کے خوف سے ہم تفصیل میں نہ جاتے ہوئے چند ضروری وضاحتوں پر اکتفا کرتے ہیں :

(۱) آیت کے الفاظ :”مَا کانَ لِ “قرآن میں “اس کے شایان شان نہیں “یا “اس کا یہ کام نہیں ” کے معنی میں بھی استعمال ہوئے ہیں اور قدرت نہ رکھنے یا کر نہ سکنے کے معنی میں بھی۔ پہلے معنی کی مثال مَا کانَ لِلہِ اَنْ یَّتَّخِذَمِنْ وَّ لَدٍ (مریم ۳۵) “اللہ کے شایان شان نہیں (یا اللہ کا یہ کام نہیں) کہ کسی کو بیٹا بنائے” اور دوسرے معنی کی مثال :وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْ نِ اللہ (آل عمران ۱۴۵) “کوئی نفس اللہ کے اذن کے بغیر مر نہیں سکتا” ہے۔ زیر تفسیر آیت میں چونکہ اِلّا نحوی اصطلاح میں استثناء منقطع ہے یعنی “مگر” یا  “البتہ” کے معنی میں ہے اس لیے نحوی لحاظ سے یہاں قدرت نہ رکھنے یا اختیار نہ رکھنے کے معنی موزوں ہو رہے ہیں یعنی یوسف بادشاہ کے قانون کی رو سے اپنے بھائی کو رکھ نہیں سکتے تھے بالفاظ دیگر ان کو اختیار نہیں تھا کہ وہ اپنے بھائی کو رکھ نہیں سکتے تھے بالفاظ دیگر ان کو اختیار نہیں تھا کہ وہ اپنے بھائی کو روک رکھیں۔

(۲) ابراہیم علیہ السلام کو جو شریعت دی گئی تھی وہ محمل احکام پر مشتمل تھی۔ تفصیلی احکام بعد میں موسیٰ علیہ السلام پر تورات کی شکل میں نازل ہوئے اس لیے یوسف علیہ السلام کے مصر میں حکومت کے باگ ڈور سنبھالنے پر ایسی صورتیں بہت کم پیش آئی ہوں گی کہ شریعت کے قانون کو نبھانا ان کے لی مشکل ہوا ہو گا۔ ظاہر ہے اس وقت مباحات کا دائرہ زیادہ وسیع تھا اور جہان شرعی قانون خاموش ہو گا وہاں یوسف کے لی موقع ہو گا کہ عدل و انصاف کے معروف تصورات کے مطابق احکام و قوانین جاری کریں اور جس حد تک ملک کے رائج قوانین عدل و انصاف پر مبنی ہوں گے ان کے نفاذ میں کوئی شرعی مانع بھی نہیں رہا ہو گا۔ ایک ایسے ملک میں جہاں کا معاشرہ اسلام سے نا آشنا تھا لیکن جس نے یوسف کو مملکت کا سربراہ تسلیم کر لیا تھا ملک کی اجتماعی زندگی میں بہ تدریج ہی تبدیلی لائی جا سکتی تھی۔

علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں :

“اور اس باب سے (یعنی ولایت کے کسی شخص خاص کے حق میں واجب ہونے کے تعلق سے) یوسف صدیق کا شاہ مصر کے لیے ملک کے خزانوں پر حکمراں ہونا ہے۔ جبکہ بادشاہ اور اس کی قوم کافر تھی جیسا کہ آیت : وَلَقَدْ جَا ءَ کُمْ یُوسُفُ مِنْ قَبْلُ با لبَیِّنَاتِ فَمَا زِ لْتُمْ فِیْ شکٍّ مِمَّا جَاءَ کُمْ بِہٖ (اس سے پہلے یوسف تمہارے پاس روشن دلائل کے ساتھ آئے تھے مگر جو ہدایت لے کر وہ آئے تھے اس کے بارے میں تم شک ہی میں مبتلا رہے۔ ۔ ۔ ۔ (سورہ مومن ۳۴) نیز آیت : أَرْبَا بٌ مُتَفَرِّ قُوْنَ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الخ (کیا متفرق رب بہتر ہیں یا ایک اللہ۔ ۔ ۔ الخ سورہ یوسف ۳۹) سے واضح ہے اور یہ بات بھی ظاہر ہے کہ کفر کے ساتھ مال وصول کرنے اور اس کو بادشاہ کے خواص ، اس کے اہل و عیال ، فوج اور رعیت پر خرچ کرنے کے سلسلہ میں ان کے مخصوص طور طریقے لازماً رہے ہوں گے اور یہ طور طریقے انبیاء کے طریقہ اور ان کے عدل و انصاف سے مطابقت نہیں رکھتے ہوں گے۔ لیکن یوسف کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ جو چاہتا یعنی جو بات بھی اس کی نگاہ میں اللہ کے دین سے تعلق رکھنے والی ہوتی کر گزرتا کیوں کہ قوم نے اس کی دعوت قبول نہیں کی تھی۔ تاہم یوسف نے جس قدر ممکن تھا عدل و احسان کو رو بہ عمل لایا اور اقتدار کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اور یہ سب باتیں ارشاد اِلٰہی فَاتَّقُوا اللہ مَا اسْتَطَعْتُمْ (اللہ سے ڈرو جتنا تمہارے بس میں ہو۔ سورہ تغابن ۱۶) میں شامل ہیں۔ لہٰذا جب دو واجب باتوں میں ٹکراؤ ہو جائے اور دونوں کو جمع کرنا ممکن نہ ہو تو جو بات زیادہ مؤکد ہو اس کو مقدم رکھا جائے۔ ایسی صورت میں دوسری بات واجب نہیں رہے گی اور نہ اس کا ترک کرنے والا زیادہ مؤکد بات کو زیر عمل لانے کی وجہ سے فی الحقیقت کسی واجب کو ترک کرنے والا قرار پائے گا۔ ” (مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ ج ۲۰ ص ۵۶)

(۳) یوسف مصر کے حاکم تھے اس لیے اگر وہ چاہتے تو اپنے والد سے ربط پیدا کر سکتے تھے لیکن چونکہ وہ نبی بھی تھے اس لیے وحی اِلٰہی کے مطابق ہی کوئی قدم اٹھا سکتے تھے اور خدائی منصوبہ یہ تھا کہ ابھی بات پردہ راز میں رہے اور یوسف اپنی اصل شخصیت کو اس وقت اپنے بھائیوں پر ظاہر کریں جب ان کے دل گرفتار بلا ہونے کے نتیجہ میں پسیج گئے ہوں تاکہ وہ اصلاح قبول کر لیں۔ اور یہ واقعہ ہے کہ جو لوگ نصیحت سننے کے لیے آمادہ نہیں ہوتے وہ اسی صورت میں سبق حاصل کرتے ہیں جب کہ انہیں ٹھوکریں لگتی ہیں اور جو لوگ غفلت کی نیند سوتے رہتے ہیں انہیں حالات کے تھپیڑ ے ہی جگا دیتے ہیں۔ اگر یوسف کے بھائی ہوش مند ہوتے تو وہ اپنے والد کے زیر تربیت رہ کر بہترین انسان بن سکتے تھے مگر جب انہوں نے باپ کی رہنمائی کے باوجود غلط طرز عمل اختیار کیا تو اب ان کی اصلاح کے لیے ضروری تھا کہ وہ ٹھوکریں کھائیں تاکہ ان میں پنے غلط طرز عمل کا احساس پیدا ہو۔ خدا کی یہی مصلحت تھی جس نے ان کے ساتھ معاملہ کرنے میں ایک ایسی حکمت عملی اختیار کی کہ ان کی نظر کے زاویئے بدل گیے اور جب ان کی نظر کے زاویئے بدل گئے تو جیسا کہ آگے چل کر معلوم ہو گا ان کی دنیا ہی بدل گئی۔

(۴) یوسف نے اپنے بھائیوں کے سلسلہ میں جو تدبیر یا حکمت عملی اختیار کی اس کا تعلق اصلاح احوال سے ہے۔ انہوں نے جو کچھ کیا اس میں نہ جھوٹ کی آمیزش تھی اور نہ ظلم و زیادتی کی بات تھی بلکہ نیت کی پاکیزگی کے ساتھ اور ایک اہم مقصد کی خاطر بعض ایسی تدبیریں اختیار کی گئیں جو صورۃً کچھ دیر کے لیے ایک غلط تاثر پیدا کرنے والی تھیں لیکن نتائج کے اعتبار سے وہ درست تھیں۔ اس لیے یوسف کی اس حکمت عملی کو “شرعی حیلوں ” کا عنوان دینا اور ناجائز کاموں کو جائز کرنے کے لیے “کتاب الحیل” کھول کر بیٹھ جانا اپنے کو مغالطہ میں ڈالنے کے سوا کچھ نہیں۔ شریعت کی راہ راست بازی کی راہ ہے جس میں اس بات کی تو گنجائش ہے کہ ضرورۃً حکمت عملی اختیار کی جائے لیکن حیلے بہانے کر کے حرام کو حلال کرنے کی قطعاً گنجائش نہیں ہے۔

۱۲۳۔ ۔ ۔ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ جب یوسف نے اللہ کے بخشے ہوئے علم کی بنا پر حسن تدبیر اور حکمت عملی کا طریقہ اختیار کیا اور حکومت و سیاست کے معاملہ میں عدل و انصاف کو بنیاد بنایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے درجات بلد کر دیے۔

۱۲۴۔ ۔ ۔ ۔ یہ ایک بر محل تنبیہ ہے ہر صاحب علم کے لیے کہ اس کو اپنے علم کا غرہ نہ ہو بلکہ یہ اچھی طرح سمجھ لے کہ اس کے اوپر ایک بالا تر ہستی ایسی ہے جس کے علم کی کوئی انتہا نہیں۔ کوئی شخص کتنا ہی بڑا علامہ کیوں نہ ہو اس کا علم اللہ کے علم کے آگے ہیچ ہے۔

۱۲۵۔ ۔ ۔ ۔ جب بن یمین کی بوری سے پیالہ برآمد ہوا اور برادران یوسف سے کوئی جواب بن نہ پڑا تو فوراً بن یمین کے سگے بھائی یوسف پر یہ الزام لگا دیا کہ اس سے پہلے وہ بھی یہ حرکت کر چکا ہے تو تعجب کی بات نہیں یہ یوسف ہی کا بھائی ہے۔ ان کو معلوم نہیں تھا کہ وہ جس شخص کے سامنے اتنا بڑا جھوٹ بول رہے ہیں وہ خود یوسف ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ یوسف کے بارے میں اب تک کیسے غلط جذبات اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے تھے۔

۱۲۶۔ ۔ ۔ ۔ جو شخص ایک بے گناہ پر جھوٹا الزام لگاتا ہے وہ اپنے آپ کو گراتا ہے اور اپنے برے ہونے کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔

۱۲۷۔ ۔ ۔ انہوں نے یوسف کو عزیز کہ کر خطاب کیا۔ عزیز کے معنیٰ صاحب اقتدار کے ہیں۔ یہ خطاب حاکم مصر کے لیے مخصوص تھا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جس وقت برادران یوسف کا یہ واقعہ پیش آیا ہے یوسف مصر پر حکومت کر رہے تھے البتہ ابھی انہیں ملک (بادشاہ) کی پوزیشن حاصل نہیں ہوئی تھی۔

۱۲۸۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یعقوب علیہ السلام بوڑھے ہو گئے ہیں اور ان کو بن یمین کے روک لینے سے بڑا صدمہ ہو گا۔

۱۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یوسف نے بہت محتاط الفاظ استعمال کیے۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ “جس نے چوری کی ہے “بلکہ یہ کہا “جس کے پاس ہماری چیز نکل آئی”۔ یعنی واضح طور سے انہوں نے چوری کا الزام نہیں لگایا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ فی الواقع بن یمین نے چوری نہیں کی ہے۔

۱۳۰۔ ۔ ۔ ۔ برادران یوسف میں سب سے بڑا روبین تھا  (پیدائش) اس کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب بھائی اللہ پر ایمان رکھتے تھے البتہ ان میں اخلاقی اور عملی خرابیاں پیدا ہو گئی تھیں۔

۱۳۱۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے اپنے والد سے یہ نہیں کہا کہ ہمارے بھائی نے چوری کی بلکہ کہا آپ کے بیٹے نے چوری کی ان کا یہ انداز طنزیہ تھا۔

۱۳۲۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اس واقعہ کا چرچا عام ہوا ہے لہٰذا آپ مصر والوں سے یا اس قافلہ والوں سے جو ہمارے ساتھ کنعان آیا تحقیق کر سکتے ہیں۔

۱۳۳۔ ۔ ۔ یعنی یہ بات کہ بن یمین نے چوری کی تم باور کر سکتے ہو مگر میں باور نہیں کر سکتا کیونکہ میں اس کے کردار سے اچھی طرح واقف ہوں۔ اور واقعہ بھی یہی تھا کہ بن یمین نے نہ چوری کی تھی اور نہ یوسف نے ان پر چاری کا الزام لگایا تھا بلکہ صورت حال کچھ ایسی پیش آئی تھی کہ ان لوگوں نے گمان کر لیا کہ اس نے چوری کی ہے۔

۱۳۴۔ ۔ ۔ ۔ یعقوب علیہ السلام اس خواب کی بنا پر جو یوسف نے دیکھا تھا متوقع تھے کہ یوسف زندہ ہوں گے اور ایک دن ان کا خواب پورا ہو کر رہے گا۔

۱۳۵۔ ۔ ۔ ۔ یعقوب علیہ السلام نے اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی ان دو صفات کو جو ذکر کیا تو اس سے مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ یوسف اور بن یمین کے واقعات محض واقعات نہیں ہیں بلکہ ان کے پیچھے اللہ تعالیٰ کا عظیم منصوبہ کار فرما ہے اور وہ علم و حکمت پر مبنی ہے۔

۱۳۶۔ ۔ ۔ ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یعقوب علیہ السلام کو یوسف کی جدائی کا کتنا زبردست صدمہ پہنچا تھا ان کے سینہ میں بھی انسان ہی کا دل تھا پھر کیوں نہ درد سے پھر آتا۔ مگر جس صبر کے ساتھ وہ اس کو برداشت کر رہے تھے اس میں ان لوگوں کے لیے نمونہ ہے جنہیں دنیا میں اس قسم کے صدمے پہنچتے ہیں۔

۱۳۷۔ ۔ ۔ اللہ کا شکوہ کرنے اور اللہ سے شکوہ آدمی مخلوق کے سامنے کرتا ہے۔ یہ اللہ سے بد گمانی بھی ہے اور بے صبری کا اظہار بھی۔ لیکن اللہ سے شکوہ تو اسی کے حضور کیا جاتا ہے جو ایک غم زدہ دل کی فریاد بھی ہے اور اس سے امید کا اظہار بھی۔

۱۳۸۔ ۔ ۔ ۔ یعقوب علیہ السلام نبی تھے۔ ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وحی کے ذریعہ بتا دیا تھا کہیوسف مر نہیں گئے بلکہ زندہ ہیں اور ایک دن ان سے ملاقات ہونا ہے۔ اس چیز نے ان کے اندر یوسف سے ملنے کا ایک ولولہ پیدا کر دیا تھا۔ پھر یہ بھی واقعہ ہے کہ اگر کسی کا چہیتا بیٹا مر جاتا ہے تو اسے دکھ ضرور ہوتا ہے لیکن یہ دکھ وقتی ہوتا ہے بخلاف اس کے اگر اس کا چہیتا بیٹا گم ہوتا ہے تو اس کو جو دکھ ہوتا ہے وہ نہ صرف ناقابل برداشت ہوتا ہے بلکہ اس خیال سے کہ معلوم نہیں بیٹا کس حال میں کہاں ہو گا وہ سخت پریشانی اور بے چینی محسوس کرنے لگتا ہے۔ یعقوب علیہ السلام کے دکھ کی نوعیت یہی تھی۔

۱۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ برادران یوسف نے جب اپنے بھائیوں کی اس پریشانی کو دیکھا کہ وہ قحط سالی کی تکلیف اور افلاس کی وجہ سے صدقہ مانگنے پر مجبور ہو گئے ہیں تو ان سے رہا نہ گیا اور موقع کو مناسب پا کر اپنا اصل نام انہیں بتا دیا جو اب تک صیغہ نام کے صیغہ راز میں ہونے کی وجہ یہ تھی کہ یوسف کو حاکم مصر ہونے کی وجہ سے عزیز کا لقب دیا گیا تھا نیز جیسا کہ بائبل کا بیان ہے بادشاہ نے ان کا دوسرا نام رکھا تھا (پیدائش ۴۱:۴۵) اس لیے حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد وہ مصر میں نئے نام سے مشہور ہوئے ہوں گے۔

یوسف کو جب کنویں میں پھینک دیا گیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اس بات کی پیشگی اطلاع دی تھی کہ ایک وقت آئے گا جب تم ان کو اس معاملہ کی یاد دلاؤ گے جو آج وہ تمہارے ساتھ کر رہے ہیں جبکہ انہیں اس کا احساس بھی نہیں ہو گا۔ (آیت ۱۵) اللہ تعالیٰ کی یہ بات پوری ہو کر رہی چنانچہ یوسف نے اس موقع پر اپنے بھائیوں کو وہ واقعہ یاد دلایا جب کہ وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ وہ جس سے ہم کلام ہیں وہ یوسف ہے۔

۱۴۱۔ ۔ ۔ ۔ یعنی تقویٰ اور نیکی کی روش اختیار کرنے والوں کا اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی اپنے فضل سے نوازتا ہے۔

۱۴۲۔ ۔ ۔ ۔ حالات نے انہیں خاصا جھنجھوڑ دیا تھا لیکن جب انہوں نے اللہ کی قدرت کا یہ کرشمہ دیکھا تھا وہ آج پورے مصر پر حکومت کر رہا ہے تو انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اسی وقت اپنے قصور کا اعتراف کر لیا۔ اس سے ظاہر ہوا کہ حالات کی سختی انسان کی تربیت کا سامان کرتی ہے اور قدرت کے کرشمے اس کو چونکانے کا باعث بنتے ہیں۔

۱۴۳۔ ۔ ۔ اخلاق و شرافت کی کتنی اونچی مثال ہے جو یوسف نے قائم کی کہ ایسے وقت جب کہ وہ اپنے بھائیوں سے انتقام لینے پر پوری طرح قادر تھے انہوں نے کوئی انتقام نہیں لیا بلکہ ان کو معاف کر دیا اور ان کے ساتھ احسان کا سلوک کیا۔ کردار کی یہی عظمت ہے جو دلوں کو موہ لیتی ہے اور دشمنوں کو بھی دوست بنا دیتی ہے۔

اس سورہ کے نزول کے وقت مکہ میں قریش کے دو گروہوں کے درمیان جو نزاع پیدا ہو گئی تھیا اس کے پیش نظر یوسف اور اس کے بھائیوں کی یہ سر گزشت ایک بر وقت رہنمائی تھی اور فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے یہی الفاظ دہرائے تھے کہ لَا تَثرِیْبَ عَلیْکُمُ الْیَوْمَ (آن کے دن تم پر کوئی سرزنش نہیں)۔

ا۴۴۔ ۔ ۔ ۔ اس کی تشریح آگے نوٹ ۱۴۸ میں آ رہی ہے۔

۱۴۵۔ ۔ ۔ ۔ یوسف نے اپنے والد یعقوب کے پورے خاندان کو مصر بلایا۔ ایک نبی کی کسی مقام کو منتقلی اللہ کی ہدایت کے مطابق ہی ہوتی ہے اس لیے یوسف نے وحی الٰہی سے اشارہ پا کر ہی یہ بات کہی ہو گی۔

۱۴۶۔ ۔ ۔ ۔ یوسف مصر میں ایک مدت سے موجود تھے لیکن یعقوب علیہ السلام کو ان کی مہک نہیں آئی مگر اب جبکہ قافلہ مصر سے چلا ہے تو انہوں نے یوسف کی مہک محسوس کی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے الہام تھا جو یعقوب علیہ السلام کے قلب پر ہوا۔

قرینہ دلیل ہے کہ یہاں یوسف کی مہک سے مراد یوسف کا سراغ لگنے کی خوش خبری ہے یہ خوش خبری یعقوب علیہ السلام کو الہام کے ذریعہ اسی وقت مل گئی جب کہ قافلہ پیراہن یوسف لے کر مصر سے کنعان کے لیے روانہ ہوا لیکن یہ خوش خبری خفی تھی۔ جلی طور پر خوش خبری انہیں اس وقت ملی ب قافلہ ان کی خدمت میں پہنچ گیا۔

۱۴۷۔ ۔ ۔ یہ بات ان کے گھر کے لوگوں نے کہی ہو گی اور اس بنا پر کہی ہو گی کہ وہ دیکھ رہے تھے کہ یعقوب علیہ السلام یوسف کی یاد میں کھوئے ہوئے سے رہتے ہیں اس لیے انہوں نے سمجھا کہ اب جو شمیم یوسف کے محسوس کرنے کا ذکر کر رہے ہیں وہ محض خیالی بات ہے۔ معلوم ہوتا ہے وہ نہ پیغمبر کی عظمت کو صحیح طور سے سمجھ سک تھے اور نہ انہیں اس بات کا اندازہ تھا کہ شمیم یوسف کا تعلق الہام سے ہے۔

۱۴۸۔ ۔ ۔ ۔ یہ غیر معمولی واقعہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ تھا اور اس قسم کے کرشمے اللہ تعالیٰ انبیاء علیہم السلام کے ہاتھوں ظہور میں لاتا رہا ہے اور ان کے ذریعہ ان کی تائید اور مدد کرتا رہا ہے۔ محض اس بنا پر کہ عام طور سے ہمارے تجربہ میں اس قسم کی باتیں نہیں آتیں ان کا انکار کرنا صحیح نہیں جب کہ اس کی خبر ہمیں ایک ایسے ذریعہ سے مل رہی ہے جس کی صداقت شبہہ سے بالا تر ہے۔

قرآن کے اوراق میں تاریخ کے کتنے ہی غیر معمولی واقعات ثبت ہوئے ہیں تا کہ انسان اپنے محدود علم اور تجربہ ہی کو سب کچھ سمجھ نہ بیٹھے بلکہ اس کی نظر اس حقیقت پر ہو کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے جو اسے چلا رہا ہے اور وہ اپنی قدرت کے کرشمے جس طرح چاہتا ہے دکھاتا ہے۔

۱۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعقوب علیہ السلام کے اس بیان سے ظاہر ہے کہ انہیں یوسف کے بارے میں بذریعہ وحی یہ معلوم ہو گیا تھا کہ وہ بقید حیات ہیں اس لیے اپنے لخت جگر سے ملنے کا شوق ان کے دل میں کروٹیں لے رہا تھا۔ مگر چونکہ اس موقع پر اللہ تعالیٰ یعقوب کے صبر کا بھی امتحان لینا چاہتا تھا اس لیے یوسف کا پورا حال ان پر منکشف نہیں کیا تھا۔

۱۵۰۔ ۔ ۔ ۔ اس طرح بیٹوں نے اپنے خطا کار ہونے کا اعتراف اپنے باپ کے سامنے بھی کر لیا اور ان سے در خواست کی کہ وہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے معافی کی دعا کریں۔

یہ ہے انسان کا حل کہ وہ بنتا بھی ہے اور بگڑ تا بھی ہے اور بگڑ کر سنورتا بھی ہے اس لیے اس کی اصلاح کی کوششیں جاری رہنی چاہئیں معلوم نہیں کہ کس وقت اس کا ضمیر جاگ اٹھے۔

۱۵۱۔ ۔ ۔ ۔ دعا کو مؤخر کرنے کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹوں کے طرز عمل کو دیکھنا چاہتے ہوں گے کہ واقعی انہوں نے اصلاح قبول کی ہے یا نہیں اور دوسرے معاملہ چونکہ یوسف سے متعلق تھا اس لیے وہ اس گھڑ ی کو قبولیت دعا کے لیے زیادہ موزوں خیال کر رہے ہوں گے جب کہ یوسف کے پاس سب جمع ہو جائیں گے۔

۱۵۲۔ ۔ ۔ ۔ یوسف اپنے والدین کے استقبال کے لیے مصر کی سرحد پر تشریف لے گیے اور وہاں اپنے خاندان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اپنے والدین کو احترام کے ساتھ خاص طور سے اپنے پاس بٹھایا اور ان سے کہا کہ اب مصر میں داخل ہو جائیے اللہ نے چاہا تو آپ کو ہر طرح کا امن و چین نصیب ہو گا۔

۱۵۳۔ ۔ ۔ یعنی جب مصر کے دارالسلطنت میں سب پہنچ گیے اور دربار یوسفی آراستہ ہوا تو یوسف نے رسمی باتوں کا خیال نہ کرتے ہوئے اپنے والدین کے احترام کو غایت درجہ ملحوظ رکھا اور ان کو تخت پر بٹھایا۔

یوسف کے ہاتھ میں اس وقت مکمل اقتدار آ گیا تھا اور وہ تخت کے مالک بن گیے تھے اسی لیے وہ اس قابل ہو سکے کہ اپنے والدین کو تخت پر جگہ دیں۔ اس موقع پر دربار یوسفی میں ایک نئی شان پیدا ہو گئی تھی۔ پرانی یادیں تازہ ہو رہی تھیں اور یوسف کے درگذر اور ان کے بلند کردار نے ان کے بھائیوں کے بے حد متاثر کر دیا تھا۔ انہوں نے جب دیکھا کہ یہ شخص بادشاہ ہو کر بھی اس درجہ متواضع ہے کہ اپنے والدین کو تخت شاہی پر بٹھاتا ہے تو بے اختیار اس کے آگے جھک گئے۔ یہ اندرونی جذبہ تھا جو نے انہیں جھکا دیا۔ یوسف نے انہیں جھکنے کا حکم نہیں دیا تھا اور نہ یہ کوئی تعظیمی سجدہ تھا بلکہ ایک رقت آمیز ماحول کے زیر اثر وہ بے اختیار جھک پڑ ے تھے اور یوسف نے اس کو محض اس لیے برداشت کیا کہ انہوں نے جو خواب اپنی نو عمری میں دیکھا تھا اس کی ی تعبیر تھی۔ اس طرح اللہ کا منصوبہ نافذ ہو کر رہا اور وہ سب یوسف کے زیر اقتدار آ گئے۔

اب بحث کے چند گوشے رہ جاتے ہیں :

متن میں خَرُّوْ لَہٗ سُجَّداً کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اس کا ایک ترجمہ تو “وہ اس کے آگے سجدہ میں گر گئے ” ہوتا ہے اور دوسرا ترجمہ یہ ہو سکتا ہے “وہ اس کے آگے جھک گیے ” موقع کلام کے لحاظ سے یہ دوسرا ترجمہ ہی صحیح ہے۔ سجدہ کا لفظ جیسا کہ ہم نوٹ ۷ میں واضح کر آئے ہیں محض جھکنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور یوسف کے بھائیوں کا جھکنا اس خواب کی تعبیر تھی جس میں یوسف نے ستاروں کو اپنے آگے جھکتے ہوئے دیکھا تھا اس لیے یہاں اصطلاحی سجدہ کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ کیا ستاروں کا سر ہوتا ہے جو وہ اپنی پیشانی زمین پر رکھیں ؟ ستاروں کے “سجدہ ” کرنے کا مفہوم یہی ہو سکتا ہے کہ وہ بلندی سے اتر کر یوسف ک آگے جب ان کے بھائی جھک گئے تو خواب پورا ہو گیا۔ خرُّوْا کے لفظی معنی ہیں “وہ گر گئے ” یہ لفظ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ برادران یوسف بے اختیار جھک گیے تھے یعنی فضا ایسی بن گئی تھی کہ اندرونی جذبات سے مغلوب ہو کر وہ یوسف کے آگے جھک گیے بالفاظ دیگر خارجی طور سے کسی نے ان کو جھکنے کے لیے مجبور نہیں کیا تھا۔ یہ ان کا اپنا بے اختیاری میں عمل تھا اور قرآن کے اس کو بیان کرنے سے مقصود در اصل یہ واضح کرنا ہے ۔  برادران یوسف کو بالآخر یوسف کے آگے جھکنا پڑا اور ان کے زیر اقتدار انہیں آنا پڑا۔

اس کے سجدۂ عبادت ہوتے کا تو سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کیونکہ کوئی نبی اپنے لیے سجدہ عبادت کو گوارا کر ہی نہیں سکتا۔ رہا اس کا سجدہ تعظیمی ہونا تو یہ بات بھی صحیح نہیں کیونکہ نہ یوسف نے اس کا حکم دیا تھا اور نہ انہوں نے اپنے لیے ایسے کوئی آداب رائج کیے تھے کہ لوگ ان کے حضور سجدہ تعظیمی بجا لائیں۔ قرآن میں اس کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے۔ آیت میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ صرف اتنی بات ہے کہ برادران یوسف بے اختیار یوسف کے آگے جھک گیے تھے۔

آیت کا صحیح مفہوم واضح ہو جانے کے بعد ان لوگوں کے خیال کی آپ سے آپ تردید ہو جاتی ہے جنہوں نے سجدہ تعظیمی کو جائز قرار دینے کے لیے اس آیت کا سہارا لیا ہے۔ اور پھر پیروں ، بزرگوں ، درگاہوں اور بادشاہوں کے لیے سجدۂ تعظیم کو روا رکھنے کے کے قائل ہو گیے مغل بادشاہوں نے بھی

اپنے لیے سجدۂ تعظیمی کی رسم جاری کی تھی لیکن شیخ احمد سر ہندی نے اس خلاف شرع رسم   کے خلاف زبردست جہاد کیا۔

یوسف نے اپنے والدین کو پہلے ہی تخت پر بٹھایا تھا اس لیے وہ ان کے آگے جھکنے میں شامل نہیں تھے۔ رہا یہ سوال کہ ان کے آگے جھکے بغیر خواب کی تعبیر کس طرح پوری ہوئی تو اس کا جواب یہ ہے کہ یوسف نے اپنا جو خواب بیان کیا تھا (آیت ۵) وہ دو حصوں پر مشتمل تھا۔ ایک حصہ یہ تھا کہ “میں نے گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے ” اور دوسرا حصہ تھا کہ “میں نے دیکھا کہ وہ میرے آگے جھک گئے ہیں۔ ” اس دوسرے حصے میں انہوں نے بحیثیت مجموعی یہاں بھی جھکنے کی بات صحیح ثابت ہوئی اگر چہ کہ ان کے والدین جھکنے میں شامل نہیں تھے۔ خواب کا اصل مطلب یہ تھا کہ سب یوسف کے زیر اقتدار ہوں گے اور یہ بات اس طرح پوری ہوئی کہ ان کے والدین اور بھائی سب اپنے وطن کو چھوڑ کر یوسف کے پاس آ گئے اور ان کے زیر اقتدار رہنا سب نے قبول کر لیا۔

یوسف جس وقت مصر کے حاکم مقرر ہوئے تھے اس وقت وہ تخت کے مال نہیں بن گئے تھے بلکہ رسمی طور پر بادشاہ ہی تخت کا مالک راہ مگر بعد میں یوسف کی پوزیشن مضبوط ہوتی چلی گئی اور ان کے بھائی جس وقت غلہ لینے کے لیے آئے تو وہ عزیز مصر (مصر کی با اقتدار شخصیت) تھے اور اب جبکہ انہوں نے اپنے والدین کو تخت سلطنت کے مالک بن گئے تھے۔ قرآن کے بیان سے یہی تصویر سامنے آتی ہے اس لیے بائبل کے الجھے ہوئے بیان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

۱۵۴۔ ۔ ۔ ۔ اس موقع پر یوسف کا یہ بیان ان کی سیرت کا بہترین نمونہ ہے۔ باوجود اس کے کہ وہ مصر کے فرمانروا تھے ان کے اس بیان میں فخر و غرور کا ادنیٰ شائبہ بھی پایا نہیں جا تا بلکہ اس کے ایک ایک لفظ سے اعتراف نعمت ، شکر اور تواضع کا اظہار ہو رہا ہے۔

۱۵۵۔ ۔ ۔ ۔ اس موقع پر یوسف نے دعا بھی فرمائی۔ اس دعا میں انہوں نے پہلے اللہ کے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے اس کی حمد و ستائش کی۔ پھر اپنے حسن خاتمہ اور آخرت میں صالحین کے زمرہ میں شمولیت کے لیے اللہ وے درخواست کی۔ یہ بات دعا کے آداب میں سے ہے کہ پہلے اللہ کی حمد و ثنا کی جائے پھر اپنی درخواست اس کے حضور پیش کی جائے۔

۱۵۶۔ ۔ ۔ ۔ یہ واقعہ نزول قرآن سے تقریباً دو ہزار چار سو سال پہلے کا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اس کا کوئی علم نہ تھا اور نہ آپ کی قوم اس سے واقف تھی۔ رہے اہل کتاب تو بائبل کی کتاب پیدائش میں یہ قصہ ضرور بیان ہوا ہے لیکن اول تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اس سے استفادہ کر کے بیان کرنے کا موقع حاصل نہ تھا کیونکہ آپ امی تھے اور اہل کتاب علماء سے بھی آپ کا کوئی ربط ضبط نہیں تھا۔ مزید یہ کہ یہ سرگزشت جس صحت کے ساتھ قرآن نے سنائی اس صحت کے ساتھ بائبل میں بیان نہیں ہوئی ہے۔ قرآن کا بیان معقول بھی ہے اور یقین بھی پیدا کرتا ہے جبکہ بائبل کے بیان کی یہ خصوصیت نہیں ہے۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ اس واقعہ کی تمام کڑیاں بائبل میں بیان نہیں ہوئی ہیں جبکہ قرآن نے اس کو ایک مربوط واقعہ کے طور پر پیش کر دیا ہے اور ان اہم پہلوؤں کو روشنی میں لایا ہے جو پردہ غیب میں چلے گئے تھے۔ مثال کے طور پر یوسف کے خواب کی وہ تعبیر جو یعقوب علیہ السلام نے بتلائی تھی۔ برادران یوسف کا ایک سازش کے مطابق یوسف کو لے جاتا اور اپنے باپ کو جھوٹا یقین دلانا کہ وہ اس کی حفاظت کریں گے یوسف کے کنویں میں پھینک دیئے جانے پر ان کے اطمینان قلب کے لیے ان کی طرف وحی کا بھیجا جانا ، یوسف کو “تاویل احادیث” کا علم عطاء ہونا ، یوسف کے پیرہن کے پیچھے سے پھٹ جانے اور قرینہ کی گواہی کا وہ واقعہ جس سے ان کے بے گناہ ہونے کا ثبوت فراہم ہوا ، عزیز مصر کا یہ اعتراف کہ اس کی بیگم ہی خطا کار ہے ، بیگم عزیز کا ایک سازش کے تحت خواتین مصر کی دعوت کرنا ، خواتین مصر کا ایک بھری مجلس میں بول اٹھنا کہ یوسف انسان نہیں بلکہ فرشتہ ہے ، بیگم عزیز کی طرف سے یوسف کو جیل بھیج دینے کی دھمکی ، یوسف کی ثابت قدمی کے لیے دعا ، قید خانہ میں یوسف کی تبلیغ، بادشاہ کی اجازت سے قید خانہ جانا اور یوسف سے خواب کی تعبیر پوچھنا ، بادشاہ کے طلب کرنے پر یوسف کا رہا ہونے سے ا نکار اور خواتین مصر کی سازش کی تحقیق کا مطالبہ، بادشاہ کا تحقیق کرنا اور یوسف کا بے گناہ ثابت ہونا ، بن یمین کے روک لیے جانے پر یعقوب کو صدمہ ، یعقوب کا اپنے بیٹوں کو یہ ہدایت دینا کہ وہ یوسف کا کھوج لگائیں ، یوسف کا اپنے بھائیوں کو معاف کرنا، قافلہ کے پیراہن یوسف کو لے کر مصر سے روانہ ہونے پر یعقوب کا یوسف کی مہک محسوس کرنا، پیراہن یوسف کے یعقوب کے چہرے پر ڈال دینے سے ان کی بینائی کا لوٹ آنا ، برادران یوسف کا معافی طلب کرتا ، یوسف کا اپنے والدین کو تخت پر بٹھانا اور ان کا پورا پورا احترام کرنا ، برادران یوسف کا یوسف کے آگے جھک جانا ، یوسف کا اللہ کے حضور حمد و ثنا کرا۔ اور اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنے حسن خاتمہ کے لیے دعا کرنا۔ یہ اور اس قسم کی دوسرے اہم باتوں کے ذکر سے بائبل کے صفحات خالی ہیں۔ پھر ایک امی نے یہ سرگزشت کس طرح بے کم و کاست بیان کر دی اور تاریخ کے گم شدہ اوراق کو کس طرح منظر عام پر لایا ؟ اس کا صحیح جواب اس کے سوا کچھ ہو ہی نہیں سکتا کہ وحی الٰہی نے یہ سرگزشت بیان کی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی طرف سے بائبل سے نقل کر کے بیان نہیں کی ہے اور آج بھی جو شخص تحقیق کی غرض سے قرآن اور بائبل کا تقابلی مطالعہ کرے گا وہ اس حقیقت کو محسوس کیے بغیر نہیں رہے گا۔ ”

۱۵۷۔ ۔ ۔ یعنی اکثر لوگوں کا حال یہ ے کہ وہ دلیل سے بات سمجھنا نہیں چاہتے بلکہ اپنے غلط خیالات پر جمے رہنا چاہتے ہیں ورنہ قرآن پر ایمان لانے کے لیے یہ ایک دلیل ہی کافی ہے جو اس کے وحی الٰہی ہونے کے ثبوت میں اوپر بیان ہوئی۔

۱۵۸۔ ۔ ۔ ۔ نبی صلی اللہ ولیہ و سلم کا پیغام لوگوں تک پہنچانے کی خدمت بے غرض ہو کر اور کسی قسم کا معاوضہ طلب کے بغیر انجام دے رہے تھے اس لیے یہ شبہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں تھی کہ آپ اپنے مفاد کی خاطر یہ کام انجام دے رہے ہیں۔

۱۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ توحید کا جو سبق لوگوں کو سکھایا گیا تھا اور جس کو لوگ بھول چکے ہیں قرآن اسی سبق کی یاد دہانی ہے اور یہ یاد دہانی کسی ایک قوم کے لیے نہیں بلکہ تمام اقوام اور تمام انسانوں کے لیے ہے۔

۱۶۰۔ ۔ ۔ ۔ یہ اصل وجہ ہے اس حق کو نہ پانے کی جس کی طرف قرآن دعوت دے رہا ہے۔ توحید کی نشانیاں دنیا میں قدم قدم پر موجود ہیں مگر لوگوں نے اس کائنات کی ایسی غلط توجیہ کر لی ہے اور اپنی زندگی کے بارے میں ایسے غلط نظریات قائم کر لیے ہیں اور ان پر ایسے جم گئے ہیں کہ ان نشانیوں کو نظر اٹھا کر دیکھنے کے لیے بھی آمادہ نہیں ہیں۔

۱۶۱۔ ۔ ۔ ۔ یعنی خدا کو ماننا وہی معتبر ہے جو توحید کے ساتھ ہو کیونکہ شرک خدا کی صفات کی نفی ہے اور بندہ ، خدا سے صحیح تعلق اسی وقت قائم ہو جاتا ہے جب کہ وہ خدا کو اسی طرح مانتا ہو جیسی کہ اس کی صفات ہیں۔

آج بھی دنیا کی اکثریت خدا پر اعتقاد رکھتی ہے مگر نہ ہدایت کے سلسلہ میں اس کی طرف رجوع کرتے کی ضرورت محسوس کرتی ہے اور نہ اس کی اطاعت و بندگی سے انہیں کوئی سروکار ہے نیز وہ ایک خدا پر ہر گز مطمئن نہیں ہیں بلکہ اپنے اطمینان کے لیے بہت سے خدا تراش لیے ہیں۔ ایسی صورت میں ان کا خدا پر اعتقاد بالکل بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے مگر لوگوں کی اکثریت فریب نفس میں مبتلا ہے۔

۱۶۲۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یہ ہے میرا طریقہ اور میرا دین۔

۱۶۳۔ ۔ ۔ یعنی میری دعوت نہ بے دلیل ہے اور نہ غیر معقول اور نہ ہی کسی ایسے مذہب کو قبول کرنے کی دعوت ہے جس کے ساتھ علم اور فطرت کی روشنی نہیں ہے بلکہ میری دعوت سراسر معقول ، مدلل ، فطرت کی آواز اور علم کی پوری روشنی لیے ہوئے ہے۔

۱۶۴۔ ۔ ۔ ۔ واضح ہو کہ مکہ میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ آپ کے پیرو بھی دعوتی کام میں سرگرم تھے۔ گویا امت مسلمہ کو اول روز ہی سے دعوتی کام کے لیے تیار کیا گیا۔

۱۶۵۔ ۔ ۔ ۔ معلوم ہوا کہ جتنے رسول بھی دنیا میں آئے وہ سب انسانوں میں سے تھے اور مرد تھے نیز وہ شہروں کے رہنے والے تھے۔ کیونکہ رسالت کا منصب نہایت پر وقار منصب ہے جس کے لیے مرد ہی موزوں ہو سکتے ہیں اور رسالت کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لیے اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں کے ساتھ وقت کے فرعونوں کو خطاب کرنے کے مواقع کا حاصل ہونا بھی ضروری ہے اور یہ باتیں شہروں ہی میں میسر آ سکتی ہیں اس لیے پیغمبر بڑ ے بڑ ے شہروں ہی میں مبعوث کیے گیے۔

۱۶۶۔ ۔ ۔ ۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ انعام نوٹ ۲۰۔

۱۶۷۔ ۔ ۔ آخرت کے گھر سے مراد جنت ہے۔

۱۶۸۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ہماری مدد رسولوں کے پاس ٹھیک اس وقت پہنچ گئی جب کہ وہ اپنی قوموں کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے اور لوگوں کو جو ڈھیل مل گئی تھی اس کی بنا پر انہوں نے خیال کیا کہ عذاب کی جو وعیدیں سنائی گئی تھیں وہ جھوٹی تھیں۔ ایمان نہ لانے کی بنا پر کوئی عذاب آنے والا نہیں۔

یہاں اس بات کو بیان کرنے سے مقصود نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے ساتھیوں کو تسلی دینا ہے کہ کاروں کو جو ڈھیل دی جا رہی ہے وہ اللہ کی حکمت کا تقاضا ہے۔ یہ ڈھیل اس وقت تک ہے جب تک کہ رسول ان کے ایمان لانے کی طرف سے بالکل مایوس نہیں ہو جاتا۔ اگر بات مایوسی کی حد تک پہنچ گئی تو وہ عذاب کی لپیٹ میں آ جائیں گے اور اہل ایمان کے حق میں اللہ کی مدد نازل ہو گی اور انہیں ان کافروں سے بھی نجات مل جائے گی اور عذاب سے بھی محفوظ رہیں گے۔

۱۶۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قرآن میں پیغمبروں اور ان کی قوموں کی جو سرگزشتیں بیان کی گئی ہیں ان کا اصل مقصد یہی ہے کہ لوگ ان سے عبرت حاصل کریں اور محض ماضی کے قصے سمجھ کر نہ پڑھیں۔

۱۷۰۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے تورات کی طرف کہ اس میں جو رہنمائی دی گئی تھی قرآن اس کی تصدیق کرتا ہے۔ تورات کی موجودہ کتاب پیدائش میں یوسف کا جو قصہ بیان ہوا ہے وہ اگر چہ قرآن کے بیان سے مختلف ہے لیکن جہاں تک اصل واقعہ کا تعلق ہے دونوں میں مطابقت پائی جاتی ہے اور یہ مطابقت اس بات کی دلیل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ قصہ اپنی طرف سے گھڑ کر پیش نہیں کیا ہے بلکہ جس ہستی نے تورات نازل کی تھی اس نے قرآن نازل کیا ہے اور تورات کے اوراق سے جو حقیقتیں مٹ گئی تھیں قرآن میں ان کو ثبت کر دیا گیا۔

۱۷۱۔ ۔ ۔ ۔ تفصیل کے اصل معنی کھول کر بیان کرنے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ قرآن میں تمام ضروری باتیں کھول کر بیان کی گئی ہیں تاکہ اللہ کا راستہ کون سا ہے ، وہ کن باتوں کو پسند اور کن باتوں کو ناپسند کرتا ہے اور اس کی تعلیمات کیا ہیں ان کو معلوم کرتے میں کسی کو کوئی دقت پیش نہ آئے۔

۱۷۲۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قرآن ہدایت کی جو راہ کھو لتا ہے اس پر چل کر اہل ایمان اللہ کی رحمت کے مستحق بن سکتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 (۱۳) سورۂ  الرَّعْد

 

(۴۳ آیات)

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

                   تعارف

 

نام

 

آیت ۱۳ میں رَعْد یعنی بادل کی گرج کا ذ کر ہوا ہے کہ وہ اللہ کی حمد  کے ساتھ پاکی بیان  کرتی ہے۔   اسی مناسبت سے اس سورہ کا نام الرَّعْد قرار دیا گیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مکی ہے اور مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ سورۂ یوسف  کے اخیر میں یہ جو فرمایا تھا قُلْ ھٰذِہٖ سَبِیْلی۔ (اے پیغمبر!) کہو یہ ہے میری راہ۔  میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں بصیرت  کے ساتھ میں بھی اور وہ لوگ بھی جو میری پیروی  کر رہے ہیں۔  ” تو یہ سورہ دراصل اسی کی توضیح ہے۔

 

مرکزی مضمون

 

یہ کتاب نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر آسمان سے نازل ہوئی ہے اور اس میں جو دعوت پیش کی گئی ہے وہ بالکل حق ہے۔   کائنات میں پھیلی ہوئی نشانیوں پر اگر غور  کرو تو وہی پکار تمہیں سنائی دے گی جو پیغمبر کی اور اس کتاب کی پکار ہے۔

 

نظم کلام

 

آیت ۱ تمہیدی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ اس کتاب کا خدا کی طرف سے نازل ہونا ایک امر حق ہے۔   آیت ۲ تا ۴ میں ان نشانیوں کی طرف متوجہ کیا گیا ہے جن سے آخرت کا یقین پیدا ہوتا ہو۔ آیت ۵ تا ۷ میں منکرین  کے شبہات پر انہیں فہمائش کی گئی ہے۔  آیت ۸ تا ۱۶ میں توحید کا مضمون ہے۔   آیت ۱۷ میں حق اور باطل  کے الگ الگ نتائج پر واقعات کی شہادت پیش کی گئی ہے۔   آیت ۱۸ تا ۲۵ میں قرآن کی دعوت کو قبول  کرنے والوں  کے اوصاف اور ان کا اخروی انجام بیان کیا گیا ہے۔   اسی طرح اس کی دعوت کو رد  کرنے والوں  کے برے طرز عمل اور ان  کے برے انجام کو بھی پیش کیا گیا ہے۔  آیت ۳۰ تا ۲۹ میں منکرین کو تنبیہ اور اہل ایمان کو خوشخبری سنائی گئی ہے۔   آیت ۳۰ سے آخر سورہ تک رسالت  کے منکرین کو متنبہ کیا گیا ہے۔   ساتھ ہی متقیوں  کے حسن انجام کو پیش کیا گیا ہے۔   تاکہ منکرین کو خدا خوفی اختیار  کرنے کی ترغیب ہو۔

 

                   ترجمہ

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الف۔ لام۔  میم۔  را ۱* یہ آیتیں ۲* ہیں الکتاب ۳* کی۔ اور جو چیز تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل ہوئی ہے وہ بالکل حق ہے مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔  ۴*

۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو جیسا کہ تم دیکھتے ہو بغیر ستونوں  کے بلند کیا ۵* پھر وہ عرش پر بلند ہوا۔ ۶* اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا۔ ۷* ہر ایک ایک مقررہ وقت تک  کے لیے چل رہا ہے ۸* وہی تمام کاموں کا انتظام فرما رہا ہے۔   وہ نشانیاں کھول کھول  کر بیان  کرتا ہے تاکہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین  کرو۔ ۹*

۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا ۱۰* اور اس میں ۱۱* پہاڑ اور دریا بنائے ۱۲* اور ہر طرح  کے پھلوں کی دو دو قسمیں پیدا کیں ۱۳* وہ رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں  کے لیے جو غور  کرتے ہیں۔

۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور (دیکھو) زمین میں ایک دوسرے سے ملے ہوئے خطے ہیں ۱۴* انگور  کے باغ ہیں کھیتیاں ہیں اور کھجور  کے درخت ہیں اکہرے بھی اور جڑ سے ملے ہوئے بھی ۱۵* سب ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں مگر مزے میں ہم ایک کو دوسرے سے بہتر بناتے ہیں۔   یقیناً اس بات میں ان لوگوں  کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں ۱۶*

۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر تم عجیب بات سننا چاہتے تو ان لوگوں کا یہ قول عجیب ہے کہ کیا جب ہم مٹی ہو جائیں گے تو ہمیں از سر نو پیدا کیا جائے گا۔ ۱۷* یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب سے کفر کیا اور یہی ہیں جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوں گے۔  ۱۸* اور یہی لوگ جہنم والے ہیں ہمیشہ اس میں رہنے والے !

۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ لوگ بھلائی سے پہلے برائی  کے لیے تمہارے پاس جلدی مچا رہے ہیں۔  ۱۹* حالانکہ ان سے پہلے کتنی عبرتناک مثالیں گز ر چکی ہیں۔   بلا شبہ تمہارا رب لوگوں سے باوجود ان کی زیادتیوں  کے در گز ر کرتا رہتا ہے اور اس میں بھی شک نہیں کہ تمہارا رب سزا دینے میں بڑا سخت ہے۔  ۲۰*

۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کافر کہتے ہیں اس شخص پر اس  کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتری؟۲۱* (اے پیغمبر!) تم تو بس خبر دار  کرنے والے ہو اور ہر قوم  کے لیے ایک رہنما ہوا ہے۔  ۲۲*

۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ ہر عورت  کے حمل کو جانتا ہے اور جو کچھ رحموں میں گھٹتا اور بڑھتا ہے اس کو بھی۔  ۲۳* ہر چیز  کے لیے اس  کے ہاں ایک اندازہ مقرر ہے۔  ۲۴*

۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ غیب اور حاضر سب کا جاننے والا ہے، سب سے بڑا، نہایت بلند مرتبہ۔ ۲۵*

۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  تم میں سے کوئی شخص چپ کے سے بات  کرے یا پکار  کر کہے، رات (کی تاریکی) میں چھپا ہو یا دن (کی روشنی) میں چل پھر رہا ہو اس  کے لیے سب یکساں ہے۔

۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک  کے بعد ایک آنے والے اس  کے آگے اور پیچھے ہیں جو اللہ  کے حکم سے اس کی حفاظت  کرتے ہیں۔  ۲۶* اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی روش کو نہیں بدلتی ۲۷* اور جب اللہ کسی قوم پر مصیبت لانا چاہے تو پھر وہ ٹل نہیں سکتی۔  اور کوئی نہیں جو اس  کے مقابل ان کا مد د گار ہو۔

۱۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  وہی ہے جو تمہیں بجلیاں دکھاتا ہے جو خوف بھی پیدا  کرتی ہے اور امید بھی۔ ۲۸* اور وہی بوجھل بادلوں کو اٹھانا ہے۔  ۲۹*

۱۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور بادلوں کی گرج اس کی حمد کی ساتھ پاکی بیان  کرتی ہے ۳۰* اور فرشتے بھی اس کی ہیبت سے لرزتے ہوئے۔  ۱۳* وہ کڑکتی ہوئی بجلیوں کو بھیجتا ہے اور ان کی زد میں جن کو چاہتا ہے لاتا ہے۔  ۳۲* مگر لوگ اللہ  کے بارے میں جھگڑتے رہتے ہیں۔   اور (حقیقت یہ ہے کہ) وہ زبردست قوت والا ہے۔  ۳۳*

۱۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اسی کو پکارنا بر حق ہے۔  ۳۴* جو لوگ اس  کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں وہ ان کی پکار کا کوئی جواب نہیں دے سکتے۔  ۳۵* (ان کا پکارنا) ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنے ہاتھ پانی  کے آگے پھیلائے ہوئے ہو تاکہ اس  کے منہ تک پہنچ جائے حالانکہ وہ کبھی اس تک پہنچنے والا نہیں ۳۶* اور کافروں کی پکار تو بالکل بے سود ہے۔  ۳۷*

اور آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب خوشی سے یا مجبوری سے اللہ ہی کو سجدہ  کرتے ہیں اور ان  کے سائے بھی صبح و شام۔ ۳۸*

ان سے پوچھو آسمانوں اور زمین کا رب کون ہے ؟ کہو اللہ۔  ان سے پوچھو پھر کیا تم نے اس کو چھوڑ  کر دوسوں کو اپنا کارساز ٹھہرا لیا ہے جو خود اپنے لیے بھی نہ کسی نفع کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ نقصان کا؟۳۹* کہو کیا اندھا اور دیکھنے والا دونوں برابر ہیں ؟۴۰* یا تاریکیاں (اندھیرا) اور روشنی یکساں ہیں ۴۱* یا ان  کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں نے اسی طرح پیدا کیا ہے جس طرح اس نے پیدا کیا ہے جس کی وجہ سے پیدا  کرنے کا معاملہ ان پر مشتبہ ہو گیا؟۴۲* کہو اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے اور وہ یکتا ہے سب کو اپنے قابو میں رکھنے والا۔ ۴۳*

۱۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس نے آسمان سے پانی برسایا تو وادیاں اپنی سمائی  کے مطابق بہہ نکلیں۔   پھر سیلاب نے ابھرتے جھاگ کو سطح پر لایا اور اسی طرح کا جھاگ ان چیزوں  کے اندر سے بھی ابھرتا ہے جن کو لوگ زیور یا کوئی اور چیز بنانے  کے لیے آگ میں تپاتے ہیں۔  اس طرح اللہ حق اور باطل کی وضاحت فرماتا ہے۔   تو جو جھاگ ہے وہ رائگاں جاتا ہے اور جو چیز لوگوں  کے لیے نفع بخش ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔   اس طرح اللہ مثالیں بیان فرماتا ہے ۴۴*۔

۱۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  جن لوگوں نے اپنے رب کی دعوت قبول  کر لی ان  کے لیے انجام کار کی بھلائی ہے اور جنہوں نے اس کی دعوت قبول نہیں کی اگر انہیں زمین کی ساری دولت حاصل ہو جائے اور اسی  کے برابر مزید تو وہ فدیہ میں دینا چاہیں گے۔  ۴۵* ایسے لوگوں کو برے حساب سے سابقہ پیش آئے گا۔ ۴۶* اور ان کا ٹھکانا جہنم ہو گا۔  بہت برا ٹھکانا۔

۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے حق ہے اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو اندھا ہے ؟ ہوش میں تو دانشمند لوگ ہی آتے ہیں۔  ۴۷*

۲۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  جو اللہ سے کئے ہوئے عہد کو پورا  کرتے ہیں اور اپنے قول و قرار کو توڑتے نہیں ہیں۔  ۴۸*

۲۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جن رشتوں کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے انہیں وہ جوڑتے ہیں۔  ۴۹* اپنے رب سے ڈرتے رہتے ہیں اور برے حساب کا اندیشہ رکھتے ہیں ۵۰*

۲۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور جنہوں نے اپنے رب کی رضا حاصل  کرنے  کے لیے صبر کیا، ۵۱* نماز قائم کی اور ہمارے دیئے ہوئے رزق میں سے کھلے اور چھپے خرچ کیا۔ ۵۲* اور برائی کو بھلائی سے دور  کرتے رہے ۵۳* تو یہی لوگ ہیں جن  کے لیے عاقبت کا گھر ہے۔  ۵۴*

۲۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ہمیشگی  کے باغ جن میں وہ داخل ہوں گے اور وہ بھی جو ان  کے والدین ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے صالح ہوں گے۔  ۵۵* اور فرشتے ہر دروازہ سے ان  کے پاس آئیں گے۔

۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (اور کہیں گے) تم پر سلامتی ہو اس لیے کہ تم نے صبر کیا۔ ۵۶* تو کیا ہی اچھا ہے عاقبت کا گھر!

۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور جو لوگ اللہ  کے عہد کو مضبوط باندھ لینے  کے توڑ دیتے ہیں اور ان رشتوں کو کاٹ ڈالتے ہیں جن کو جوڑنے کا حکم اللہ نے دیا ہے اور زمین میں فساد برپا  کرتے ہیں ۵۷* ان  کے لیے لعنت ہے اور ان  کے لیے بہت برا ٹھکانا۔

۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اللہ جس  کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ  کر دیتا ہے اور جس  کے لیے چاہتا ہے نپا تلا  کر دیتا ہے۔  ۵۸* لوگ دنیا کی زندگی پر نازاں ہیں حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت  کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں بجز اس  کے کہ تھوڑے سے فائدہ کا سامان ہے۔  ۵۹*

۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے کہتے ہیں کہ اس شخص پر اس  کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتری؟۶۰* کہو اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ  کر دیتا ہے اور اپنی طرف بڑھنے کی راہ اسے دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع  کرتا ہے۔  ۶۱*

۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  جو ایمان لاتے ہیں اور جن  کے دل اللہ کی یاد سے مطمئن ہوتے ہیں۔   سنو! اللہ  کے ذ کر ہی سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔  ۶۲*

۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان  کے لیے مبارکباد ہے ۶۳* اور بہترین انجام۔

۳۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس طرح ہم نے تم کو ایک ایسی امت میں رسول بنا  کر بھیجا ہے جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں تاکہ تم انہیں وہ بات سناؤ جو ہم نے تم پر ناز ل کی ہے۔  ۶۴*  اس حال میں کہ وہ رحمٰن کا انکار کر رہے ہیں۔ ۶۵* کہو وہی میرا رب ہے، اس  کے سوا کوئی معبود نہیں۔   میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع  کرتا ہوں۔

۳۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اگر کوئی ایسا قرآن نازل ہوتا جس سے پہاڑ چلنے لگتے یا زمین ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی یا مردے بولنے لگتے ۶۶* (تب بھی یہ ایمان نہ لاتے۔   اور نہ تمہارے بس میں ہے کہ ایسا  کر دکھاؤ) بلکہ سارا اختیار اللہ ہی کو ہے۔  ۶۷* پھر کیا اہل ایمان یہ جان  کر کہ اگر اللہ چاہتا تو تمام لوگوں کو ہدایت دے دیتا (ان ہٹ دھرموں  کے ایمان لانے سے) مایوس نہیں ہوئیے ؟۶۸* اور کافروں پر ان کی  کر تو توں کی وجہ سے کوئی نہ کوئی آفت آتی ہی رہے گی یا ان کی آبادیوں  کے قریب نازل ہوتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ ظہور میں آئے ۶۹* اللہ کبھی وعدہ خلافی نہیں  کرتا۔

۳۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے تو میں نے کافروں کو ڈھیل دی پھر ان کو پکڑ لیا تو دیکھو میری سزا کیسی رہی!

۳۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  پھر کیا وہ جو ہر شخص پر نگاہ رکھتا ہے کہ اس نے کیا کمائی کیا (وہ اس کو یونہی چھوڑ دے گا؟ اس حقیقت کو انہوں نے جھٹلایا) اور انہوں نے اللہ  کے شریک ٹھہرائے۔  ۷۰* ان سے کہو ذرا ان  کے نام تو لو۔  ۷۱* کیا تم اسے ایسی بات کی خبر دے رہے ہو جس کو وہ نہیں جانتا کہ زمین میں اس کا کوئی وجود ہے ؟۷۲* یا پھر تم محض سطحی باتیں  کرتے ہو؟۷۳* واقعہ یہ ہے کہ کافروں  کے لیے ان کی مکاریاں خوشنما بنا دی گئی ہیں ۷۴* اور انہیں راہ راست سے روک دیا گیا ہے۔   ۷۵* اور جس کو اللہ گمراہ  کر دے اس کو کوئی راہ دکھانے والا نہیں۔  ۷۶*

۳۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ان  کے لیے دنیا کی زندگی میں عذاب ہے ۷۷*،  اور آخرت کا عذاب تو کہیں زیادہ سخت ہو گا۔  کوئی نہیں جو انہیں اللہ (کے عذاب) سے بچا سکے۔

۳۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  متقیوں سے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس  کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اس  کے پھل دائمی ہیں اور اس کی چھاؤں بھی دائمی ۷۸* یہ انجام ہے ان لوگوں کا جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا۔ ۷۹* اور کافروں کا انجام آگ ہے۔

۳۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی تھی وہ اس (کتاب) سے خوش ہیں جو تم پر اتاری گئی ہے۔  ۸۰* اور ان گروہوں میں ایسے بھی ہیں جو اس کی بعض با توں سے انکار  کر رہے ہیں۔  ۸۱* کہو مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کی عبادت  کروں اور اس کا شریک نہ ٹھہراؤں۔   اسی کی طرف میں بلاتا ہوں اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔

۳۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس طرح ہم نے اسے عربی فرمان کی شکل میں نازل کیا ہے ۸۲* اور اگر تم نے اس علم  کے ۸۳* آ جانے  کے بعد ان کی خواہشات ۸۴* کی پیروی کی تو اللہ  کے مقابل نہ تمہارا کوئی مد د گار ہو گا اور نہ کوئی بچانے والا۔

۳۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور یہ واقعہ ہے کہ ہم نے تم سے پہلے بھی رسول بھیجے تھے اور ان کو بیویوں اور اولاد والا بنایا تھا ۸۵* اور کسی پیغمبر  کے بس میں نہ تھا کہ اللہ  کے اذن  کے بغیر کوئی نشانی لا دکھاتا۔  ہر دور  کے لیے ایک نوشتہ ہے۔   ۸۶*

۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اللہ جس چیز کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس چیز کو چاہتا ہے قائم رکھتا ہے ۸۷* ام الکتاب (اصل کتاب) اسی  کے پاس ہے۔  ۸۸*

۴۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ہم نے جس چیز کا ان سے وعدہ  کر رکھا ہے اس کا کچھ حصہ ہم تمہیں دکھا دیں یا (اس سے پہلے ہی) تمہیں وفات دیدیں ۸۹* بہر حال تم پر ذمہ داری صرف پیغام پہنچا دینے کی ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔

۴۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہم اس سر زمین کی طرف اس کی سرحدوں کو گھٹاتے ہوئے بڑھ رہے ہیں۔  ۹۰* اللہ حکم نافذ  کرتا ہے۔   کوئی نہیں جو اس  کے حکم کو ٹال سکے اور وہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔

۴۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور جو لوگ ان سے پہلے گز ر چکے ہیں انہوں نے بھی چالیں چلی تھیں مگر تمام تدبیریں اللہ ہی  کے اختیار میں ہیں۔   وہ ہر شخص کی کمائی کو جانتا ہے اور عنقریب ان کافروں کو معلوم ہو جائے گا کہ کس  کے لیے عاقبت کا گھر ہے۔

۴۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کافر کہتے ہیں کہ تم اس  کے بھیجے ہوئے نہیں ہو۔  کہو میرے اور تمہارے درمان اللہ گواہی  کے لیے کافی ہے۔   نیز وہ لوگ جو کتابِ  الٰہی کا علم رکھتے ہیں۔  ۹۱*

تفسیر

۱ اس سورہ میں الف کا اشارہ اللہ (توحید) کی طرف، لام کا اشارہ لا الٰہ الا اللہ (شرک کی نفی) کی طرف اور میم کا اشارہ متعال (نہایت بلند مرتبہ) کی طرف ہے۔   اللہ کی یہ صفت آیت ۹  میں بیان ہوئی ہے۔   رہی “را” تو اس کا اشارہ رب (اللہ کی ربوبیت) کی طرف بھی ہے اور رَعْد (گرج) کی طرف بھی جس کا ذ کر آیت ۱۳  میں خصوصیت  کے ساتھ ہوا ہے اور جس میں اس حقیقت پر سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ بادلوں کی ظاہری گرج  کے پیچھے تسبیح الٰہی کی گھن گرج بھی ہے۔   اور اللہ  کے کلام کا مطلب تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

۲  عربی میں آیت  کے لفظی معنی علامت اور نشانی  کے ہیں۔   قرآن کی سورتیں جن چھوٹے چھوٹے فقروں پر مشتمل ہیں ان کو آیتیں کہتے ہیں۔   آیت کبھی ایک پورا جملہ کبھی جملہ کا جز و اور کبھی چند جموں پر مشتمل ہوتی ہے۔   آیتوں کی تعین اور ان کی ترتیب وحی الٰہی  کے ذریعہ ہوئی ہے چونکہ ہر آیت اس بات کی نشانی ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے اس لیے اس کو آیت سے تعبیر کیا گیا ہے۔

۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  الکتاب سے مراد کتاب الٰہی یعنی قرآن ہے۔

۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مطلب یہ ہے کہ سورۂ رعد کی یہ آیتیں نیز وہ تمام آیتیں جو پیغمبر پر نازل ہوئی ہیں ان کا اللہ کی طرف سے نازل ہونا ایک واقعہ اور حقیقت ہے یہ اور بات ہے کہ اکثر لوگ اس حقیقت کو اس  کے امر واقعہ ہونے  کے باوجود تسلیم نہیں  کرتے لیکن حقیقت اپنی جگہ حقیقت ہے کسی  کے تسلیم نہ  کرنے سے اس میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔

۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  فضائے بسیط میں اجرام سماوی دور دور تک پھیلے ہوئے ہیں۔   سائنسی اکتشافات کی رو سے بعض تارے تو لاکھوں نوری سال  کے فاصلہ پر واقع ہیں۔   اس سے آسمان کی بلندی کا اندازہ ہوتا ہے اس بلندی پر جس کو کسی پیمانہ سے ناپا نہیں جا سکتا آسمان کا ایک چھت یا قبہ کی طرح بغیر ستونوں  کے قائم ہونا اس  کے خالق  کے کمالِ  قدرت کی کھلی نشانی ہے۔

واضح رہے کہ آسمانوں کا ستونوں  کے بغیر قائم ہونا عام مشاہدہ میں آنے والی بات ہے۔   اس سے اس بات کی نفی نہیں ہوتی کہ اجرام سماوی جذب و کشش  کے قانون کی وجہ سے اپنی جگہ قائم ہیں۔   یہ جذب و کشش بھی اللہ ہی کی قدرت کا  کرشمہ ہے۔

رہا یہ سوال کہ کیا آسمان کا کوئی مادی وجود ہے تو ہم نے اس پر سورۂ انشقاق میں نوٹ ۱  میں بحث کی ہے۔   اس موقع پر اسے پیش نظر رکھا جائے۔

۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس کی تشریح سورۂ اعراف نوٹ ۸۳  میں گز ر چکی۔

۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی سورج اور چاند کا اپنا کوئی بل بوتا نہیں۔   وہ اللہ  کے قانون میں جکڑے ہوئے ہیں اور جو کام ان  کے سپرد کیا گیا ہے اس کو وہ بجا لاتے ہیں۔

۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  چلتے رہنے (یَجْرِ یْ) سے مراد حرکت میں رہنا ہے قطع نظر اس سے کہ ان کی حرکات کس نوعیت کی ہیں۔   یہ آیت صراحت  کرتی ہے کہ چاند ہی نہیں سورج بھی متحرک ہے اور موجودہ فلکیاتی سائنس (Astronomy) بھی سورج کو متحرک مانتی ہے :

“The Sun rotates on its axis in a period about 25 1/3 days”

The Marvels & Mysteries of Science P. (15)

یعنی سورج اپنے محور پر۳/۱ ۲۵  میں گردش پوری  کر لیتا ہے۔  اور سائنس کہتی ہے کہ سورج اپنے محور پر ہی نہیں گھوم رہا ہے بلکہ اپنے سیاروں کو لی کر دو سو میل فی سیکنڈ کی رفتار سے اپنے مرکزِ  کشش  کے گرد چکر لگا رہا ہے :

“Our own star, the Sun, is no exception to the general rule, for with its attendant planets it is moving through space at a speed of200   miles a second, travelling around the centre of gravity of its cosmic system. At this speed it requires 250،000،000 years to complete a revolution in its gigantic orbit.” (Do p. 82)

قرآن یہ بھی صراحت  کرتا ہے کہ سورج اور چاند کی یہ گردش بلا تعین مدت نہیں ہے بلکہ ایک مقررہ مدت  کے لیے ہے اور یہ مدت قیامت کا دن ہے جب اس عالم کی بساط لپیٹ دی جائے گی اور ایک نیا عالم وجود میں لایا جائے گا۔

۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی آسمان میں پھیلی ہوئی ان نشانیوں پر غور  کرنے سے وہ مقصدیت اور وہ حکیمانہ ا سکیم بہ آسانی سمجھ میں آ جاتی ہے جو اس کائنات کی تخلیق  کے پیچھے کار فرما ہے اور جس کو قرآن پوری وضاحت  کے ساتھ پیش  کر رہا ہے اور یہ باتیں نہ صرف یہ کہ آسانی سے سمجھ میں آ جاتی ہیں بلکہ اس بات کا یقین پیدا ہو جاتا ہے کہ ایک دن ہمیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اپنے کئے کا پھل پانا ہے۔

۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی زمین کو خدا نے اس طرح پھیلا دیا کہ وہ اربوں انسانوں  کے بسنے  کے قابل ہو گئی اس کی عظیم قدرت کی اس نشانی کو دیکھتے ہوئے انسان کو چاہیے تھا کہ اس کی عظمت  کے آگے جھک جاتا اور اس  کے خدائے واحد ہونے کا یقین  کرتا مگر انسانوں کی بڑی تعداد اس سے منہ پھیرے ہوئے ہے اور ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو زمین  کے خالق  کے بجائے زمین کو پوجنے میں فخر محسوس  کرتے ہیں چنانچہ انہوں نے بھومی پوجا کو اپنا مذہبی شعار بنا رکھا ہے۔   ان کی سمجھ میں اتنی بات بھی نہیں آتی کہ جس چیز کو آدمی روندتا ہے اس کی پوجا کا کیا مطلب؟ یہ نادان پہلے تو اپنے “خدا” کو خود تراش لیتے ہیں اور اس  کے بعد اس کو اپنے ہی پاؤں سے روند ڈالتے ہیں۔   ان کا”خدا” بھی عجیب ہے اور ان کی عبادت بھی عجیب۔

۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  پہاڑ کیا ہیں خدا کی قدرت کی نشانیاں جو جا جا کھڑی  کر دی گئی ہیں تاکہ انسان ان کو دیکھ  کر اپنے خالق کی عظمت کا قائل ہو جائے مگر انسان میں یہ تڑپ کہاں کہ وہ حقیقت کو تلاش  کرے۔   اگر ماضی میں اس نے پہاڑوں کی بلندی دیکھ  کر ان کو دیوتا بنا لیا تھا تو حال میں وہ پہاڑوں کی قسمیں، ان  کے پرت ان  کے عناصر ترکیبی اور ان میں پائے جانے والے متحجر ڈھانچے (Fossil) وغیرہ معلوم  کرنے میں ایسا منہمک ہے کہ صانع کی طرف اپنا ذہن منتقل  کرنے  کے لیے آمادہ نہیں ہے۔   نتیجہ یہ کہ ان سارے معلوماتی ذخیروں  کے باوجود وہ مادہ پرستی میں بری طرح غرق ہے۔

۱۲  اللہ تعالیٰ نے زمین پر دریا بہائے تاکہ ان کی روانی کو دیکھ  کر انسان کی زبان پر ذ کر الٰہی رواں ہو مگر وہ دریاؤں کو “پوتر” مان  کر پوجنے لگا اور ان کو نذرانے پیش  کرنے لگا یا پھر انسان نے ” ترقی” کی تو یہ کہ ان پر بڑے بڑے بند باندھ دئے تاکہ وہ ان  کے پانی سے پورا پورا استفادہ  کرے اس سے آگے وہ کچھ سوچنے  کے لیے تیار نہیں ہے۔

۱۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  “ثمرات” کا لفظ پھلوں  کے لیے بھی بولا جاتا ہے اور پیداوار  کے لیے بھی اس لیے اس میں میوے اناج اور سبزیاں سب شامل ہیں۔   مطلب یہ ہے کہ خدا نے زمین میں نباتات اس طرح اُگائیں کہ ان  کے جوڑے بن گئے نر اور مادہ تاکہ پیداوار کا سلسلہ چلتا رہے۔  نباتات میں نر اور مادہ کا پایا جانا ایک معروف بات ہے مگر موجودہ علم النباتات (Botany) نے اس کو جس تفصیل  کے ساتھ پیش  کر دیا ہے اس  کے مطالعہ سے اس کا حیرت انگیز نظام سامنے آتا ہے مثال  کے طور یہ بات کہ پودوں میں خلیے (Cells) پائے جاتے ہیں جن میں  کروموزومس (Chromosomes) ہوتے ہیں جو موروثی خصوصیات  کے حامل ہوتے ہیں اور جنہیں خورد بین کی مد د سے دیکھا جا سکتا ہے۔   یا یہ کہ پھول میں جو زرد ریشے (Stamens) ہوتے ہیں ان میں نر اور مادہ کی قسمیں پائی جاتی ہیں۔   پھول جب کھلتے ہیں تو ان کی مہک سے شہد کی مکھیاں اور پتنگے ان کی طرف کھینچ آتے ہیں اور زیرہ دانوں کو ایک پھول سے دوسرے پھول میں منتقل  کرتے ہیں اس طرح اس سے بار آوری (Fertilization) ہوتی ہے اور پھول کا بیضہ دان پھل کی شکل اختیار  کر لیتا ہے۔  کیا قدرت کا یہ حیرت انگیز نظام قادرِ  مطلق  کے وجود پر دلالت نہیں  کرتا؟

۱۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی زمین  کے سب حصے یکساں نہیں ہیں بلکہ اس میں مختلف خطے پائے جاتے ہیں اور جو ایک دوسرے سے قریب اور متصل ہونے  کے باوجود اپنی خصوصیات میں مختلف ہیں۔   کوئی سرخ ہے تو کوئی سیاہ، کوئی زر خیز ہے تو کوئی بنجر، کوئی ایک قسم کی پیداوار  کے لیے موزوں ہے تو کوئی دوسری قسم کی پیداوار  کے لیے رزق  کے کیسے ذخیرے ہیں جو زمین میں رکھ دئے گئے ہیں ! کیا پرورش (ربوبیت) کا یہ سارا نظام خود بخود تشکیل پا گیا ہے یا اس کو وجود میں لانے والا رب (پروردگار) ہے ؟

۱۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  کھجور  کے درخت دو قسم  کے ہیں ایک وہ جن کی جڑ سے ایک ہی تنا نکلتا ہے اور دوسرے وہ جن کی جڑ سے دو یا زیادہ تنے نکلتے ہیں جبکہ ایک ہی پانی سے انہیں سیراب کیا جاتا ہے یہ بو قلمونی اور تنوع کیا اس خیال کی تردید  کے لیے کافی نہیں ہے کہ یہ کائنات اتفاقی حادثہ  کے طور پر وجود میں آئی ہے اور کسی چلانے والے  کے بغیر چل رہی ہے ؟ اس صورت میں یہ گوناگونی، یہ رنگا رنگی اور یہ الگ الگ نوعیتیں ہرگز نہیں ہو سکتی تھیں۔

۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ایک ہی پانی سے درختوں کو سیراب کیا جاتا ہے مگر ان  کے پھل ذائقہ میں مختلف ہوتے ہیں کوئی میٹھا تو کوئی کھٹا اور کوئی پھیکا تو کوئی کڑوا۔  ہر چیز میں نوعیتوں کا یہ اختلاف دیکھ کر شاعر نے بجا طور پر کہا ہے

اے ذوق اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے

یہ اختلاف انسان کو دعوت ف کر دیتا ہے۔   اگر انسان عقل سے کام لے تو وہ ان حقیقتوں کو پا سکتا ہے جن کو قبول  کرنے کی دعوت قرآن دے رہا ہے۔

۱۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی ان منکرین کو تعجب اس بات پر ہو رہا ہے کہ انسان کو مرنے  کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا جس کی خبر قرآن دے رہا ہے لیکن در حقیقت تعجب  کے قابل ان کا یہ قول ہے کہ مٹی میں مل جانے  کے بعد کس طرح دوبارہ زندہ کیا جائے گا گویا ان  کے نزدیک یہ سارا ہنگامۂ کائنات محض اس لیے ہے کہ انسان مر  کر مٹی ہو جائے اور زندگی کا سلسلہ آنکھ بند ہوتے ہی ہمیشہ  کے لیے ختم ہو جائے۔   نہ خدا  کے حضور حاضری کا سوال، نہ عالم آخرت اور نہ جزا اور نہ سزا۔  یہ ہے ان کا تصورِ  زندگی جس کا مطلب ہے زندگی بے مقصد اور کائنات بے غایت۔  یہ فیصلہ عقل کا ہرگز نہیں ہے بلکہ اندھی خواہشات کا ہے اس لیے ہر عقلمند انسان منکرین  کے تصورِ  زندگی پر تعجب  کرے گا نہ کہ قرآن  کے پیش  کردہ تصورِ  زندگی پر۔

۱۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  آخرت  کے دن ان منکرین نے دنیا میں جہالت، حق  کے خلاف تعصب اور باطل پرستوں کی اندھی تقلید  کے طوق اپنی گردنوں میں ڈال رکھے تھے اس لیے قیامت  کے دن یہ طوق آگ  کے طوق کی شکل میں ان کی گردنوں کو جکڑ لیں گے۔

۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی پیغمبر کو اللہ تعالیٰ نے اس لیے بھیجا ہے کہ لوگ اس کی دعوت قبول  کر  کے خیر کی طرف لپکیں بالفاظ دیگر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی بھلائی  کے لیے پیغمبر کو بھیجا ہے مگر ان منکرین کا حال یہ ہے کہ وہ خیر سمیٹنے  کے بجائے شر کو دعوت دے رہے ہیں۔   وہ کہتے تھے کہ جس عذاب کی تم دھمکی دے رہے ہو وہ آ کیوں نہیں جاتا۔  اس طرح وہ خیر سے اپنے کو محرم رکھ  کر عذاب  کے آنے کا انتظار  کر رہے تھے۔   یہاں ان کی اسی غلط ذہنیت پر گرفت کی گئی ہے۔

۲۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی اللہ تعالیٰ لوگوں کی غلط روی اور ان کی زیادتیوں  کے باوجود دنیا میں ان کو فوراً سزا نہیں دیتا بلکہ در گزر سے کام لیتا رہتا ہے تاکہ انہیں اصلاح کا موقع مل جائے اور وہ سنبھل جائیں۔   لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر وہ اپنی اصلاح نہ  کریں تب بھی وہ ان کو سزا نہ دے گا۔  اللہ تعالیٰ جہاں در گز ر کرنے والا ہے وہاں وہ سخت سزا دینے والا بھی ہے۔

۲۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  تشریح  کے لیے دیکھئے سورۂ انعام نوٹ ۶۴  اور ۶۵۔

۲۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی جس طرح پچھلی قوموں کی طرف ان کی رہنمائی  کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول آتے رہے اسی طرح تم کو بھی اے پیغمبر ان لوگوں کی رہنمائی  کے لیے بھیجا گیا ہے لہٰذا تمہارا کام غفلت میں پڑے ہوئے لوگوں کو چونکا دینا اور ان کو خدا کی راہ دکھا دینا ہے۔   ان  کے مطالبات کو پورا  کرنا تمہاری ذمہ داری نہیں ہے لہٰذا محسوس معجزہ کا جو مطالبہ وہ  کر رہے ہے اس کو تم خاطر میں نہ لاؤ۔

واضح رہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت صرف عربوں کی طرف نہیں تھی بلکہ جیسا کہ قرآن میں صراحت  کے بیان ہوا ہے تمام اقوام کی طرف ہے اس لیے آپ  کے بعد کسی قوم  کے لیے کسی نئے نبی یا رسول کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔

۲۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی اللہ ہی جانتا ہے کہ عورت  کے پیٹ میں بچہ کس طرح کا اور کن خصوصیات کا پرورش پا رہا ہے اور وہ نو ماہ سے پہلے بچہ جنے گی یا اس سے زیادہ مدت میں۔   اسی طرح جانور  کے ماداؤں  کے حمل کا تفصیلی علم بھی اللہ ہی کو ہے۔

۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی وضعِ  حمل کی بات ہو یا کوئی اور اس نے دنیا  کے تمام امور کی وقت کی تعین  کے ساتھ منصوبہ بندی کی ہے اور اس کا علم ہر ہر  جزئیے کا احاطہ کئے ہوئے ہے اس کی اس منصوبہ بندی میں یہ بات بھی لازماً شامل ہے کہ کسی قوم پر کس وقت عذاب لایا جائے۔   لہٰذا اگر تم پر رسول کی دعوت کو رد  کرنے  کے باوجود عذاب نہیں آ رہا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ عذاب آئے گا ہی نہیں۔   عذاب__ رسول کو جھٹلانے کی صورت میں __لازماً آئے گا مگر وقت مقررہ پر جس کا علم اللہ ہی کو ہے۔

۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس آیت میں اللہ کی تین صفتیں بیان کی گئی ہیں۔  ایک یہ کہ وہ پوشیدہ اور ظاہر اور محسوس اور غیر محسوس سب چیزوں کا جاننے والا ہے۔   دوسری یہ کہ وہ کبیر (سب سے بڑا) ہے یعنی اپنی قدرت اور دوسری صفات میں کامل اور بالاتر ہستی ہے۔   تیسری یہ کہ وہ متعال (نہایت بلند مرتبہ) ہے یعنی اس کو مخلوق پر قیاس  کرنا صحیح نہیں وہ اس سے بہت بلند و بالا ہے۔

ان صفات  کے ذ کر سے مقصود یہاں اللہ کی عظمت کا صحیح تصور دینا ہے جس  کے نتیجہ میں انسان  کے اندر اس کی بندگی اور اس  کے حضور جوابدہی کا احساس پیدا ہوتا ہے اور اس کی سزا  کے تصور سے وہ کانپ اٹھتا ہے۔

۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مراد وہ فرشتے ہیں جو ہر شخص  کے ساتھ اس کی حفاظت میں لگے رہتے ہیں۔   ان کی ڈیوٹی اس طرح مقرر ہے کہ ی کے بعد دیگرے ان کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔   انسان کی زندگی تو ہر قسم  کے خطرات سے گھری ہوئی ہے اور وہ ہر وقت ایک نہ ایک خطرہ  کے زد میں رہتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان کو خطرات سے اور آفتوں سے محفوظ رکھنے کا یہ سامان کیا ہے کہ اس  کے آگے اور پیچھے فرشتہ لگا دئے ہیں جو اس کا بچاؤ  کرتے رہتے ہیں اور صرف اسی وقت اس کو کوئی نقصان پہنچ جاتا ہے جبکہ اللہ کی طرف سے مقدر ہوتا ہے۔

۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی اللہ نے جہاں ایک ایک فرد کی حفاظت کا سامان  کر رکھا ہے وہاں قوموں کی عافیت کا سامان بھی  کر رکھا ے چنانچہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو امن و عافیت کی نعمت عطا فرماتا ہے تو اسی صورت میں اس سے یہ نعمت چھین لی جاتی ہے جبکہ وہ خود اس نعمت کی نا قدری  کرتے ہوئے سرکشی پر اتر آتی ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کا یہ قاعدہ نہیں ایک نعمت عطاء  کرنے  کے بعد بلا وجہ اس کو چھین لے۔   یہاں خاص طور سے اس بات کی طرف اشارہ  کرنا مقصود ہے کہ یہ منکرین اس وقت امن و چین کی زندگی گزار رہے ہیں وہ تا دیر باقی رہنے والا نہیں ہے کیونکہ انہوں نے اپنے کو اس کا نا اہل ثابت  کر دیا ہے۔   اب یہ نعمت ان سے لازماً چھین لی جائے گی چنانچہ چند سال گزرنے نہیں پائے تھے کہ کافروں  کے لیے سر زمین عرب میں سر چھپانا مشکل ہو گیا اور اللہ کا وعدہ ان پر چسپاں ہو  کر رہا۔

۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  بجلیوں سے اگر ایک طرف خوف پیدا ہوتا ہے کہ کسی پر گر نہ جائے تو دوسری طرف بارش کی امید بندھتی ہے۔   گویا بجلی بیک وقت دو با توں کی تذکیر  کرتی ہے۔   ایک یہ کہ لوگ چوکنا ہو جائیں کہ اللہ  کے عذاب کا کوڑا ان پر برس سکتا ہے۔   دوسری یہ کہ لوگ اللہ ہی سے رحمت  کے امیدوار بنیں۔

۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی پانی سے بھرے ہوئے بادلوں کو اللہ ہی اٹھاتا ہے۔   بالفاظ دیگر یہ اللہ ہی کا بنایا ہوا نظام ہے جس  کے تحت پانی سے بھرے ہوئے بادل اٹھتے ہیں اور فضا میں پھیل  کر دور دور تک مینہ برسانے کا کام  کرتے ہیں۔

۳۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔   جہاں تک سائنس کا تعلق ہے بادلوں کی گرج برقی بار (Electrical Charge)  کے خارج ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔   آبی ذرات  کے باہمی عمل سے بادلوں  کے اوپری خطے میں مثبت بار (Positive Charge) اور درمیانی خطے میں منفی بار (Negative Charge) پیدا ہوتا ہے۔   جب برقی بار کی مقدار کافی بڑھ جاتی ہے تو بجلی خارج ہوتی ہے اور بجلی کی رو (Current) زبردست حرارت  کے ساتھ ہوا میں پھلاؤ پیدا  کرتی ہے اور برقی لہر صوتی لہر بن جاتی ہے جسے گرج کہا جاتا ہے۔   یہ ہوئی گرج کی مادی حقیقت جو معلوماتی نوعیت کی ہے لیکن قرآن اس کی معنوی حقیقت کی طرف انسان کو متوجہ  کرتا ہے جو اصل اہمیت رکھنے والی چیز ہے وہ یہ ہے کہ بادلوں کی گرج اس بات کا اعلان  کرتی ہے کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے جو اس کو پیدا  کر  کے بے تعلق نہیں ہو گیا ہے بلکہ اس کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے اور اپنی قدرت  کے  کرشمے دکھاتا رہتا ہے اور وہ اس بات پر قادر ہے کہ سرکش بندوں پر اپنے عذاب کا کوڑا برسائے۔   غرضیکہ جن  کے کانوں پر پردے نہیں پڑے ہیں وہ بادلوں کی گرج میں اللہ کی عظمت کا اعلان سنتے ہیں۔

۳۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی وہ ایسی عظیم ہستی ہے کہ فرشتے بھی اس کی ہیبت سے لرزنے لگتے ہیں پھر انسان کو بادلوں کی گھن گرج سن  کر کیا اثر قبول  کرنا چاہیے ؟

۳۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  کڑکتی ہوئی بجلی جس پر گرتی ہے اس کو ہلاک  کر  کے رکھ دیتی ہے۔   یہ انسان کا عام مشاہدہ ہے اور کہا نہیں جا سکتا کہ کون کب اس کی زد میں آئے۔

۳۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی ان کڑکتی ہوئی بجلیوں اور گرجتے ہوئے بادلوں سے اس بات کا اعلان و اظہار ہو رہا ہے کہ اس کائنات کا رب زبردست قوت کا مالک ہے۔   انسان کو چاہیے تھا کہ وہ اس اعلان کو سن  کر کانپ اٹھتا مگر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ خدا  کے بارے میں بحث  کرنے کی جسارت  کرتے ہیں۔   کوئی کہتا ہے یہ خدا کی نہیں بلکہ دیوتاؤں کی کارفرمائی ہے تو کوئی کہتا ہے خدا میں یہ قدرت کہاں کہ وہ مردوں کو زندہ  کرے اور موجودہ دور  کے “دانشور” تو “بے خدا کائنات”  کا نظریہ پیش  کرتے ہیں تاکہ انہیں خدا سے ہمیشہ  کے لیے “چھٹکارا” مل جائے !

۳۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  پکارنے سے مراد حاجتیں پوری  کرنے اور فریاد رسی  کے لیے پکارنا ہے۔   یہ اللہ ہی کی صفت ہے کہ وہ پکارنے والے کی پکار سنتا ہے اور اس کی حاجتیں پوری  کرتا اور اس کی فریاد کو پہنچتا ہے اس لیے اس کو پکارنا بالکل صحیح اور مطابق حقیقت ہے اور چونکہ اللہ  کے سوا کسی کی بھی یہ صفت نہیں ہے اس لیے اللہ کو چھوڑ  کر کسی کو پکارنا خواہ وہ بت ہو، جن ہو، فرشتہ ہو، ولی ہو یا پیغمبر سراسر غلط اور خلاف حقیقت ہے۔

۳۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  کتنے مسلمان بھی جہالت کی وجہ سے اپنی حاجتوں  کے لیے درگا ہوں اور مزاروں کی طرف رجوع  کرتے ہیں۔   وہ سمجھتے ہیں کہ جو بزرگ قبروں میں مدفون ہیں وہ ان کی دعاؤں کو سنتے ہیں اور ان کی بگڑی بناتے ہے مگر یہ خیال اتنا ہی باطل ہے جتنا کہ مشرکین کا اپنے معبودوں  کے بارے میں تھا۔

آیت میں صراحت  کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ اللہ  کے سوا کوئی نہیں جو کسی کی دعا یا پکار کا کوئی جواب دے سکتے۔

۳۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی جس طرح کوئی شخص ہاتھ پھیلا  کر پانی سے یہ درخواست  کرے کہ اس  کے منہ تک پہنچ جائے تو اس کی یہ درخواست نہ تو پانی سنے گا اور نہ ہی اس کی پیاس بجھانے  کے لیے پہنچے گا۔  اسی طرح مشرکین اللہ کو چھوڑ  کر جس جس  کے آگے دعا  کے لیے ہاتھ پھیلاتے ہیں اور ان سے فریاد  کرتے ہیں وہ نہ ان کی دعا اور فریاد سنتے ہیں اور نہ ان کی حاجت پوری  کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ “پانی  کے آگے ہاتھ پھیلانا تاکہ وہ منہ تک پہنچ جائے” عربی کا ایک محاورہ ہے جس  کے معنیٰ لا حاصل طلب  کے ہیں اور آیت کا مفہوم بھی یہی ہے۔

۳۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی کافر اللہ کو چھوڑ  کر جن کو پکارتے ہیں ان کو پکارنا بالکل بے سود ہے۔

۳۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی آسمان و زمین کی تمام مخلوق خواہ وہ فرشتے ہوں، جن ہوں انسان ہوں یا کوئی اور سب اللہ کو کسی نہ کسی طرح سجدہ  کرتے ہیں۔   کوئی تو اپنا سر خوشی سے اس  کے آگے جھکا دیتا ہے اور کوئی ارادہ  کے ساتھ نہ سہی مگر قانونِ  قدرت تو اسے اپنے خالق  کے آگے جھکنے  کے لیے مجبور  کر ہی دیتا ہے۔   ایک کافر کا زندہ رہنے  کے لیے سانس لینا یا غذا کھانا یا چلنے  کے لیے پاؤں کا حرکت میں لانا خدا  کے قانون کی پابندی  کرنا ہے اور اس  کے قانون کی یہ پابندی اس  کے آگے جھکنا ہی ہے۔   یہ اور بات ہے کہ یہ جھکنا مجبوری کی نوعیت کا ہے اسی لیے اس جھکنے پر آدمی مؤمن نہیں قرار پاتا۔

ہر چیز  کے خدا  کے آگے سجدہ  کرنے کی واضح علامت اس کا سایہ ہے کہ اللہ  کے مقررہ قانون  کے مطابق گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔   خدا کا کوئی من کر اتنا بل بوتا بھی نہیں رکھتا کہ اپنا سایہ زمین پر گرنے نہ دے۔   وہ اختیاری زندگی میں اللہ کی اطاعت سے انکار  کرتا ہے مگر غیر اختیاری زندگی میں تو اس کا وجود اسی  کے آگے جھکا ہوا ہے۔   کاش کہ وہ اس پر غور  کرتا!یہ آیتِ  سجدہ ہے اس لیے اس کی تلاوت پر فوراً سجدہ  کرنا چاہیے۔

۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہاں جس شرک کی تردید کی گئی ہے وہ ہے اللہ  کے سوا کسی کو “ولی” بمعنیٰ کارساز (کام بنانے والے) ٹھہرانا۔ یعنی کسی  کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ گو وہ ہماری نظروں سے اوجھل ہے مگر نفع یا نقصان پہنچانا اس  کے اختیار میں ہے اور غیبی طریقہ پر وہ ہماری مد د  کر سکتا ہے۔   یہ تصور سراسر باطل اور یہ عقیدہ سراسر مشرکانہ ہے کیونکہ اللہ  کے سوا کوئی نہیں جو در حقیقت نفع و نقصان پہنچانے والا ہو۔  یہ عقیدہ جس  کے بارے میں بھی رکھا جائے شرک ہی ہے خواہ وہ بت ہو یا درخت، روح ہو یا فرشتہ اور نبی ہو یا ولی اور یہ بھی ضروری نہیں کہ اس کو خدا یا رب کہ  کر پکارا جائے بلکہ اس کو اس معنیٰ میں ولی (کارساز) قرار دینا ہی اس کو خدا بنا لینا ہے۔   لہٰذا جو شخص کسی  کے ساتھ وہ معاملہ  کرتا ہے جو صرف خدا  کے ساتھ کیا جانا چاہیے وہ شرک کا ارتکاب  کرتا ہے۔

قرآن ایسے لوگوں سے پوچھتا ہے کہ جب کائنات کا رب اللہ ہی ہے تو یہ کارساز (ولی) کس طرح ہے ؟

۴۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اندھے سے مراد عقل کا اندھا ہے اور دیکھنے والے سے مراد بصیرت کی آنکھ سے دیکھنے والا ہے۔

۴۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اندھیرے سے مراد جہالت کی تاریکیاں ہیں اور روشنی سے مراد علم حق کی روشنی ہے۔

۴۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی جب ایک خدا  کے سوا کسی کا کچھ پیدا  کرنا ثابت نہیں ہے تو پھر ایک سے زائد خدا کیسے ہوئے ؟ اس  کے سوا جو کچھ بھی ہے مخلوق ہے پھر مخلوق کو خالق کا درجہ دینا کیا معنیٰ رکھتا ہے ؟ خدائی کی صفت مخلوق میں کیسے آ سکتی ہے ؟

۴۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی خلق  کرنے  کے بعد کوئی چیز اللہ  کے قابو سے باہر نہیں ہو گئی ہے بلکہ ہر چیز پوری طرح اس  کے کنٹرول میں ہے۔   پھر جس چیز پر اللہ کا کنٹرول ہو وہ خدا کیسے ہو سکتی ہے ؟

۴۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہ حق و باطل کی کشمکش کی مثال ہے۔   آسمان سے پانی برسانے سے مراد وحی الٰہی کا نزول ہے۔   وادیوں کا اپنی سمائی  کے مطابق بہہ نکلنے کا مطلب قبولِ  حق کی استعداد رکھنے والوں کا اپنے اپنے ظرف  کے مطابق اس سے استفادہ  کرنا ہے۔   سیلاب سے مراد حق کا سیلاب ہے اور جھاگ سے مراد باطل کا جھاگ ہے جو حق و باطل کی کشمکش میں ابھر آتا ہے۔   دوسری مثال میں سونے چاندی  کے زیور سے مراد اول درجہ  کے مخلص مومن ہیں اور دوسری چیزوں سے مراد عام صالحین ہیں اور ان کو تپانے سے مراد آزمائش کی بھٹی سے گزارنا ہے۔   مطلب یہ ہے کہ جب حق و باطل کی کشمکش برپا ہوتی ہے تو باطل ابھر  کر سامنے آ جاتا ہے لیکن اس کی حقیقت جھاگ سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی۔  وہ تھوڑی دیر ہی میں ختم ہو جاتا ہے البتہ حق اس طرح باقی رہتا ہے جس طرح کہ پانی زمین میں رہ جاتا ہے۔   اسی طرح سونے چاندی اور دھا توں کو جب پگھلایا جاتا ہے تو میل کچیل ابھر آتا ہے اور فوراً ختم ہو جاتا ہے اور جو خالص سونا، چاندی یا دھات ہے وہ باقی رہ جاتی ہے۔   گویا قانون قدرت یہ ہے کہ جو چیز لوگوں کو حقیقتہً فائدہ پہنچانے والی ہے وہ باقی رہے اور جو نقصان پہنچانے والی ہے وہ نابود ہو جائے۔  نزول قرآن  کے بعد حق و باطل کی جو کشمکش برپا ہوئی تھی اس میں باطل تھوڑی دیر  کے لیے جھاگ کی طرح ابھر آیا تھا لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ حق کو بقا اور دوام حاصل ہوا اور باطل بالکل نابود ہو گیا۔

۴۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی حساب  کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ مائدہ نوٹ ۱۲۴۔

۴۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی حساب  کے لیے جب ان کی پیشی ہو گی تو نہایت سختی  کے ساتھ ان سے باز پرس ہو گی اور انہیں قطرہ قطرہ کا حساب دینا ہو گا۔

۴۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی یہ باتیں جو ارشاد ہوئی ہیں انسان کو حق شناس بنانے  کے لیے کافی ہیں لیکن ہوش مندی کا ثبوت وہی لوگ دیتے ہیں جو دانا و بینا ہوتے ہیں عقل اور دل  کے اندھوں پر کوئی نصیحت کارگر نہیں ہوتی۔

۴۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  آدمی جب اپنی عقل کا صحیح استعمال  کرتا ہے تو وہ خدا شناس بھی بن جاتا ہے اور خود شناس بھی اور یہ چیز اس  کے اندر احساس ذمہ داری پیدا  کرتی ہے جس  کے نتیجہ میں اس  کے اندر بہترین اوصاف پرورش پانے لگتے ہیں۔   ان اوصاف میں جو وصف اولیت رکھتا ہے وہ اللہ سے وفائے عہد ہے۔   عہد سے مراد اللہ کو اپنا رب تسلیم  کرنے کا وہ عہد بھی ہے جو نسل انسانی سے ان  کے دنیا میں آنے سے پہلے ہی لیا گیا تھا اور جو انسان کی فطرت میں اس طرح پیوست ہے کہ وہ اپنے رب کو بآسانی پہچان لیتا ہے (ملاحظہ ہو سورۂ اعراف نوٹ ۲۶۴   اور ۲۶۵  اور وہ عہد بھی جو آدمی اللہ پر ایمان لا  کر اس  کے ساتھ باندھتا ہے۔

۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مراد خاندانی رشتے اور ناطے ہیں اور ان کو جوڑنے کا مطلب ان  کے ساتھ حسن سلوک اور ان  کے حقوق ادا  کرنا ہے۔   انسان کا اس معاملہ میں بڑا امتحان ہوتا ہے کہ وہ اپنے رشتہ داروں  کے ساتھ کیا سلوک  کرتا ہے۔   صلہ رحمی بہت بڑی اخلاقی خوبی ہے جبکہ قطع رحمی بہت بڑی بد اخلاقی۔

۵۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی نیکی کی راہ پر چلنے  کے باوجود یہ اندیشہ رکھتے ہیں کہ قیامت  کے دن کہیں ہم سے سخت باز پرس نہ کی جائے۔   یہ اندیشہ ہی ان کی زندگیوں کو محتاط بنا دیتا ہے اور نیکی کی راہیں ان پر کھل جاتی ہیں۔

۵۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  معلوم ہوا کہ اللہ  کے نزدیک اس صبر کی قدر و قیمت ہے جو اس کی رضا حاصل  کرنے  کے لیے کیا جائے۔  اگر یہ مقصد پیش نظر نہ ہو تو صبر پر کسی انعام کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

صبر یہ ہے کہ آدمی حق پر ثابت قدم رہے، اللہ کی عبادت و اطاعت  کے لیے تکلیفیں اور مشقتیں اور مصیبتوں کو جھیلے اور لوگوں کی اصلاح اور اللہ کی راہ میں جدوجہد  کے سلسلہ میں عزم و ہمت سے کام لے۔   اس طرح مؤمن کی پوری زندگی صبر کی زندگی ہوتی ہے۔

۵۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مراد اللہ کی رضا  کے لیے خرچ  کرنا اور خیر  کے کاموں پر خرچ  کرنا ہے۔

مزید تشریح  کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ بقرہ نوٹ ۴۵۲۔

۵۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  گندگی کو گندگی سے نہیں دور کیا جا سکتا بلکہ اس کو دھونے  کے لیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح برائی کو جوابی برائی  کے ذریعہ نہیں بلکہ نیکی اور حسن سلوک ہی  کے ذریعہ دور کیا جا سکتا ہے۔   اس لیے ایک بگڑے ہوئے ماحول میں اصلاح کا کام  کرنے والوں کا اصل ہتھیار نیکی ہوتا ہے۔

۵۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی آخرت کا گھر جس کی نعمتیں ایسے ہی لوگوں  کے حصہ میں آئیں گی۔

۵۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اہل ایمان کو یہ مزید خوشخبری سنا دی گئی ہے کہ ان  کے والدین، ازواج اور اولاد میں سے جو جو صالح ہوں گے ان  کے ساتھ جنت میں جمع ہوں گے تاکہ ان  کے لیے مزید مسرت کا باعث بنیں۔  یہ خوش خبری اہل ایمان کو اس بات  کے لیے آمادہ  کرتی ہے کہ وہ اپنے گھر  کے ماحول کو صالح بنانے کی کوشش  کریں تاکہ گھر  کے سبھی افراد جنت  کے مستحق بنیں۔

۵۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جو صابرانہ زندگی تم نے دنیا میں گزاری اس کی بدولت تم جنت  کے مستحق قرار پائے جہاں تمہارے لیے ہر طرح سلامتی ہی سلامتی ہے اس تصور ہی میں اہل ایمان  کے لیے روحانی لذت کا بڑا سامان ہے کہ جنت میں فرشتے ان سے ملنے  کے لیے آئیں گے اور انہیں اس کامیابی پر مبارکباد دیں گے۔

۵۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہ ان لوگوں کا حال ہے جو خدائے واحد  کے بندے بن کر رہنا نہیں چاہتے۔   وہ بندگی  کے اس عہد کو جو عہد فطرت ہے توڑ دیتے ہیں نیز کسی مصیبت میں گھر جانے کی صورت میں خدا سے بندگی کا شعوری طور پر جو عہد  کرتے ہیں اس کو بھی مصیبت سے نجات ملنے  کے بعد توڑ ڈالتے ہیں اور کفر و شرک کی راہ پر چل  کر دنیا میں ہر قسم کا بگاڑ پیدا  کرتے ہیں۔

۵۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مشرکوں اور کافروں  کے ہاں دولت کی ریل پیل اور ان کی معاشی” ترقی” کو دیکھ  کر لوگ اس مغالطہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ اگر یہ لوگ لعنت  کے مستحق ہوتے تو دنیا ان پر کشادہ کیسے ہوتی۔  اسی مغالطہ کو دور  کرنے  کے لیے فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی اللہ کی مشیت پر موقوف ہے اور انسان کی اس معاملہ میں آزمائش ہوتی ہے کہ وہ دنیا کو مقصود بناتا ہے یا آخرت کو لہٰذا کسی  کے لیے رزق کی فراخی اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اللہ  کے نزدیک وہ پسندیدہ ہے۔

۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  لوگوں کا آخرت کی زندگی کو نظر انداز  کر  کے دنیا کی زندگی کو سب کچھ سمجھ لینا اور دنیوی ترقیوں پر اترانا وہ بنیادی غلطی ہے جس نے ان کو بالکل غلط رخ پر ڈال دیا ہے۔   اس وقت تو وہ اپنی دنیا بنانے میں مگن ہیں مگر ان کی آنکھیں اس وقت کھلیں گی جب آخرت برپا ہو گی۔  اس وقت انہیں احساس ہو گا کہ نہ دنیا کی دولت حقیقی دولت تھی اور نہ دنیوی ترقی حقیقی ترقی۔  انہوں نے اپنی زندگیوں کو غلط رخ پر ڈال  کر آخرت کی ابدی دولت اور لازوال نعمتوں سے اپنے کو محروم  کر لیا۔

۶۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مراد حسی نشانی یعنی معجزہ ہے۔   مزید تشریح  کے لیے دیکھئے سورۂ انعام نوٹ ۶۴  اور ۶۵۔

۶۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مطلب یہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں آپ  کے نبی ہونے کی نشانیاں اتنی جمع ہو گئی ہیں کہ کسی حسی معجزہ کی ضرورت باقی نہیں رہی۔  ان ساری نشانیوں کو دیکھ لینے  کے بعد بھی جو لوگ آپ کی رسالت کو تسلیم  کرنے سے انکار  کر رہے ہیں ان کو یہ توفیق کہاں ہو سکتی ہے کہ راہِ  حق کو پالیں۔   راہِ  حق کی طرف بڑھنے کی توفیق اللہ تعالیٰ اس کو دیتا ہے جو اللہ کی طرف رجوع  کرتا ہے اور اس سے درخواست  کرتا ہے کہ خدا یا مجھے راہ حق دکھا۔

۶۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی اللہ کی طرف رجوع  کرنے والے لوگ ہی ایمان لاتے ہیں اور جب ایمان لاتے ہیں تو اللہ کی یاد ان  کے اطمینانِ  قلب کا سامان بن جاتی ہے کیونکہ ایمان لانا اللہ کو پا لینا ہے اور جب ایک مومن اللہ کو پا لیتا ہے تو اسے تمام ذہنی الجھنوں سے نجات مل جاتی ہے اور اس  کے جذبات اللہ تعالیٰ سے وابستہ ہو جاتے ہیں جس سے دل میں سکون و طمانیت کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔

یہ آیت اہل ایمان کو روحانی دولت سے مالا مال  کر دیتی ہے ایک مؤمن اللہ کو جتنا یاد  کرے گا اتنا ہی اسے روحانی اور قلبی سکون نصیب ہو گا اور یہ دولت ایسی ہے جس  کے مقابلہ میں ساری دولتیں ہیچ ہیں۔

۶۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس مبارکباد میں اہل ایمان  کے لیے مسرتوں اور امیدوں کی دنیا آباد ہے کیونکہ یہ مبارکباد اللہ کی طرف سے ہے اور جب اس کا احساس ایک مؤمن کو ہو جاتا ہے تو وہ موت سے پہلے ہی اڑنے  کے لیے پر تول لیتا ہے۔

۶۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس آیت میں مشرکین کو قرآن سنانے کا حکم دیا گیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن مسلم اور غیر مسلم سب  کے سمجھنے کی چیز ہے۔   اگر وہ عربی داں نہیں ہیں تو ترجمہ کی مد د سے ان کو قرآن سمجھایا جانا چاہیے۔

۶۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  رسالت اور وحی کا انکار  کرنے والے در حقیقت خدائے رحمن ہی  کے من کر ہوتے ہیں کیونکہ اگر وہ اللہ کو رحمن (مہربان) مانتے تو انہیں رسول کی بعثت اور قرآن  کے نزول پر تعجب نہیں ہوتا بلکہ وہ سمجھتے کہ خدائے رحمن اپنے بندوں پر مہربان ہونا چاہتا ہے اس لیے اس نے یہ رحمت نازل کی ہے۔

۶۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس شرطیہ جملہ کا جواب حذف  کر دیا گیا ہے کیونکہ اس کا جواب واضح ہے۔   عربی کا اسلوب یہ ہے کہ ایسے موقع پر جواب حذف  کر دیتے ہیں اور پڑھنے والا اس کا مفہوم سمجھ لیتا ہے۔   ہم نے اس کو قوسین میں کھول دیا ہے۔

۶۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مطلب یہ ہے کہ اگر ان پر ایسا قرآن نازل کیا جاتا جس  کے ذریعہ پہاڑوں  کے چلنے یا زمین  کے پاش پاش ہونے یا مردوں  کے کلام  کرنے جیسے معجزے ظاہر ہوتے تو بھی جو لوگ ہٹ دھرمی میں مبتلا ہیں وہ ایمان نہ لاتے بلکہ اس کو جادو وغیرہ پر مجہول  کرتے۔   دوسری بات یہ ہے کہ معجزے دکھانا رسول  کے اختیار کی چیز نہیں ہے بلکہ اس کا اختیار اللہ ہی کو ہے۔   وہ چاہے گا تو معجزہ دکھائے گا نہیں چاہے گا تو نہیں دکھائے گا۔

۶۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  کافروں کی طرف سے معجزہ  کے شدید مطالبہ  کے پیش نظر بعض مسلمان یہ خیال  کر رہے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ کوئی حسی معجزہ دکھاتا تو شاید یہ لوگ ایمان لے آتے۔   ان  کے اسی خیال کی تردید یہاں کی گئی ہے کہ ایمان کا تعلق عقل و بصیرت سے ہے اور عقل و بصیرت سے کام لینے والوں  کے لیے قرآن بجائے خود بہت بڑا معجزہ ہے لیکن جو لوگ عقل و بصیرت سے کام لینا نہیں چاہتے ان کو اگر ان کا منہ مانگا معجزہ دکھا دیا جائے تب بھی وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔   ہاں اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہدایت کی راہ پر چلنے  کے لیے مجبور  کر دیتا لیکن جب اس نے ایسا نہیں کیا بلکہ انسان کو یہ اختیار بخشا کہ وہ اپنی مرضی سے ہدایت یا گمراہی کا انتخاب  کرے تو جن لوگوں نے گمراہی کا انتخاب  کر  کے ہٹ دھرمی کی راہ اختیار کی ہے ان سے یہ توقع کس طرح کی جا سکتی ہے کہ وہ معجزہ دیکھ  کر راہ راست پر آ جائیں گے۔  ؟

۶۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی قیامت تک کافروں پر ایک نہ ایک آفت نازل ہوتی رہے گی کبھی ایک قوم پر کبھی دوسری قوم پر، کبھی ایک آبادی پر اور کبھی دوسری آبادی پر، کبھی ایک ملک میں اور کبھی دوسرے ملک میں تاکہ وہ اپنے  کر تو توں کا دنیا میں بھی مزا چکھیں اور تاکہ انہیں تنبیہ ہو۔  یہ آفتیں قدرتی بھی ہو سکتی ہیں اور انسانوں  کے ہاتھوں بھی جیسا کہ جنگ وغیرہ کی صورت میں ہوتا ہے۔   موجودہ زمانہ میں تو یہ آفتیں اس تیزی سے آ رہی ہیں کہ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ کسی نہ کسی جگہ سے چھوٹی یا بڑی آفت کی خبر نہ ملتی ہو۔  طوفان، سیلاب، قحط اور زلزلہ جیسی قدرتی آفتوں  کے علاوہ بڑے بڑے حادثات، فسادات اور جنگی کاروائیوں نے المناک صورت پیدا  کر دی ہے۔

۷۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی جو خدا ایک ایک شخص  کے ایک ایک عمل کی نگرانی  کر رہا ہے وہ ان سے باز پرس کیسے نہیں  کرے گا مگر ان لوگوں نے خدائی میں دوسروں کو شریک ٹھہرا  کر باز پرس  کے تصور ہی سے نجات حاصل  کر لی ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے یہ حمایتی اور سفارشی ہر جگہ ہماری مد د  کے لیے کافی ہیں۔   اگر مرنے  کے بعد کوئی مرحلہ پیش آیا تو وہاں بھی ہمارے یہی معبود ہمارے لیے وسیلۂ نجات بنیں گے۔

۷۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہ طنز ہے ان  کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں  کے بے حقیقت ہونے پر۔  ان سے کہا جا رہا ہے کہ اللہ تو وہ زبردست ہستی ہے جو ایک ایک شخص کی نگرانی  کر رہا ہے اس لیے اس کو معبود بنانا بھی بر حق ہے اور اس کی باز پرس سے ڈرنا بھا بر حق لیکن تم نے جن کو معبود بنا رکھا ہے ان میں کون ہے جو خدائی کی یہ شان رکھتا ہو؟ کیا تم ناموں کی صراحت  کے ساتھ یہ بتا سکتے ہو کہ یہ اور ہستیاں اللہ  کے جیسی صفات اور اختیارات رکھتی ہیں ؟

۷۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اگر تم یہ دعویٰ  کرتے ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اللہ کو متعدد خداؤں  کے وجود کی خبر دے رہے ہو جبکہ اللہ کو نہیں معلوم کہ کہیں کسی خدا کا وجود ہے اور جو بات اللہ  کے علم میں نہیں وہ لازماً اپنا وجود نہیں رکھتی۔

۷۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی جس چیز کی کوئی حقیقت نہیں اس کا دعویٰ ایک بے سوچی سمجھی اور نا معقول بات ہی ہو سکتی ہے مگر تم لوگوں کو اس کا کوئی احساس نہیں کہ کیسی بے سر و پا باتیں ہیں جو تم  کرتے ہو۔

خدا  کے بارے میں انسان کو سب سے زیادہ سنجیدہ ہونا چاہیے مگر واقعہ یہ ہے کہ اکثر لوگ خدا  کے بارے میں سب سے زیادہ غیر سنجیدہ بنے ہوئے ہیں وہ بلا دلیل خدا  کے بارے میں جو منہ میں آیا کہہ دیتے ہیں۔

۷۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی شرک کی نا معقولیت واضح ہو جانے  کے بعد بھی لوگ اسے اس لیے چھوڑنے  کے لیے آمادہ نہیں ہوتے کہ اس صورت میں ان  کے مفادات متاثر ہوں گے، ان کو سماج میں جو مقام حاصل ہے وہ باقی نہیں رہے گا اور ان کا اقتدار خطرہ میں پڑے گا۔  وہ اپنی ان ناجائز اغراض پر پردہ ڈالنے  کے لیے شرک اور مشرکانہ مذہب کو صحیح ثابت  کرنے کی کوشش  کرتے ہیں۔   یہ سب ان کی چالبازیاں ہیں۔

۷۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی اللہ کا قانونِ  ضلالت ان پر لاگو ہو گیا۔

۷۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  قانون قدرت یہ ہے کہ جو شخص آنکھیں بند کئے رہتا ہو اس کو آفتابِ  ہدایت دکھائی نہیں دیتا اور نہ کسی  کے بس میں ہوتا ہے کہ اسے روشنی دکھائے۔

۷۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  دنیا میں جو عذاب کافروں، مشرکوں اور ملحدوں پر آتا ہے وہ مختلف صور توں میں ظاہر ہوتا ہے اور درجہ  کے اعتبار سے بھی وہ مختلف ہوتا ہے۔   رسول  کے ذریعہ حجت قائم ہو جانے  کے بعد جو عذاب آتا ہے وہ تو ایک فیصلہ کن عذاب ہوتا ہے لیکن اس  کے علاوہ بھی چھوٹے بڑے عذابوں کا سلسلہ دنیا میں جاری رہتا ہے اور واقعہ یہ ہے کہ ایک کافر پر خدا کی ایسی مار پڑتی رہتی ہے کہ اس کو سخت قلبی تکلیف اور روحانی الم محسوس ہونے لگتا ہے خواہ وہ کتنی ہی عیش و عشرت کی زندگی کیوں نہ گزار رہا ہو۔  بخلاف اس  کے ایک مخلص مؤمن کو دنیا میں جو تکلیف پہنچتی ہے وہ چونکہ آزمائش  کے طور پر ہوتی ہے اور اس کو برداشت  کرنا باعثِ  اجر ہوتا ہے اس لیے اس  کے روحانی سکون میں کوئی کمی نہیں ہوتی بلکہ اضافہ ہی ہوتا ہے اس لیے یہ تکلیفیں مؤمن  کے حق میں عذاب نہیں بلکہ اس کو سکون و راحت سے ہم کنار  کرنے والی ہوتی ہیں۔

۷۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی وہ سدا بہار جنت ہے جس  کے پھل موسمی نہیں بلکہ دائمی ہیں اور جس کی چھاؤں بھی ہمیشہ قائم رہنے والی۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنت کی دنیا موجودہ دنیا سے کتنی مختلف ہوں گی اور وہاں کی ہر چیز کس قدر معیاری اور اعلیٰ ہو گی۔

۷۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہاں تقویٰ کا لفظ شرک اور کفر  کے بالمقابل استعمال ہوا ہے جس سے واضح ہوا کہ تقویٰ کا بنیادی مفہوم یہ ہے کہ آدمی شرک اور کفر سے بچے جبکہ اس  کے وسیع تر مفہوم میں ہر طرح کی معصیتوں سے بچنا شامل ہے۔

۸۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مراد اہل کتاب میں سے وہ لوگ ہیں جو اللہ پر مخلصانہ ایمان رکھتے تھے اور کسی گروہ بندی اور مذہبی تعصب کا شکار نہ تھے۔   جب قرآن ان  کے سامنے آیا تو انہیں خوشی ہوئی کہ ہمارے رب کی طرف سے ہماری ہدایت کا سامان ہوا۔  اشارہ غالباً حبشہ  کے نصاریٰ کی طرف ہے جہاں مسلمان ہجرت  کر  کے گئے تھے اور جہاں  کے بادشاہ نے اسلام قبول  کر لیا تھا۔

۸۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اشارہ ہے اہلِ  کتاب  کے ان فرقوں کی طرف جنہیں قرآن کی بعض با توں اور خاص طور سے توحید خالص سے انکار تھا۔

۸۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی جس طرح ہم نے تمہیں عرب قوم کی طرف رسول بنا  کر بھیجا ہے __ جس کا ذ کر اوپر آیت ۳۰ میں ہوا__ اسی طرح ہم نے ان کی زبان میں جو عربی ہے قرآن کو ایک فرمان کی شکل میں نازل کیا تاکہ وہ اسے سمجھیں اور رسول کی بعثت چونکہ براہ راست اس قوم کی طرف ہے اس لیے اس پر اللہ کی حجت پوری طرح قائم ہو جائے۔

۸۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  علم سے مراد دین کا صحیح علم ہے جو قرآن کی شکل میں نازل ہوا ہے۔

۸۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  خواہشات سے مراد وہ عقیدے اور طور طریقے ہیں جو علم حق پر نہیں بلکہ لوگوں کی اپنی خواہشات پر مبنی ہیں

اس اصولی بات کا اطلاق ان بدعتوں پر بھی ہوتا ہے جو مسلمانوں نے اختیار  کر رکھی ہیں اور جس نے دین کا حلیہ ہی بگاڑ  کر رکھ دیا ہے۔

۸۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہ منکرین  کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ یہ شخص اگر پیغمبر ہے تو بیوی بچے کیسے رکھتا ہے اور وہ سمجھتے تھے کہ پیغمبر کو بشریت سے بالاتر ہونا چاہیے اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس سے پہلے جو رسول بھیجے گئے تھے وہ بھی بشر ہی تھے اور وہ بشریت  کے تقاضوں کو پورا  کرتے تھے ایسا ہونا رسول کی شان  کے خلاف نہیں ہے۔

۸۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی جس دور میں اللہ تعالیٰ نے جس رسول کو بھیجا اس دور کی مناسبت سے اس کو نشانیاں عطا ء کیں جو اس کی رسالت پر دلالت  کرتی تھیں۔   ان نشانیوں کا ظہور اللہ تعالیٰ  کے اس حکیمانہ فیصلہ  کے مطابق ہوا تھا جو اس دور  کے لیے اس نے کیا تھا اور ہر دور  کے لیے اس  کے فیصلے ایک نوشتہ (کتاب) کی حیثیت رکھتے ہیں۔

مطلب یہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا دور گزرے ہوئے دوروں سے مختلف ہے اس لیے ماضی میں جس طرح  کے حسی معجزے رسولوں کو دیئے گئے تھے اس طرح  کے کسی معجزے کا مطالبہ اس دور میں  کرنا صحیح نہیں۔   موسیٰ علیہ السلام  کے زمانہ میں جادو کا زور تھا اس لیے انہیں لاٹھی  کے سانپ بن جانے کا معجزہ دیا گیا تا کہ وہ جادو پر غالب آ جائے اور ان  کے رسول ہونے کی دلیل بنے۔

اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام  کے زمانہ میں فن طب عروج پر تھا اس لیے انہیں اندھوں اور کوڑھیوں کو شفا یاب  کرنے کا معجزہ عطا کیا گیا۔  حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا زمانہ فصاحت و بلاغت  کے عروج کا دور ہے اس لیے آپ کو ایسی بلیغ کتاب عطا کی گئی کہ اس  کے کلام بلاغت نظام  کے آگے اس فن  کے بڑے بڑے ماہرین کو بھی سپر ڈالنا پڑی۔  پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا دور قیامت تک  کے لیے ہے اس لیے کوئی ایسا معجزہ ہی آپ  کے لیے موزوں ہو سکتا تھا جو مستقل ہو اور جس کو بعد  کے لوگ بھی دیکھ سکیں چنانچہ قرآن تا قیامت ایک زندہ معجزہ ہے۔   اس دور  کے لیے فیصلہ الٰہی یہی ہے جو ایک نوشتہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

۸۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اوپر کی آیت میں نشانی (معجزہ)  کے تعلق سے جو بات فرمائی گئی ہے اس  کے پیش نظر اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس نشانی (معجزہ) کو چاہتا ہے عارضی بنا دیتا ہے اور جس نشانی (معجزہ) کو چاہتا ہے مستقل بنا دیتا ہے۔   پچھلے پیغمبروں کو جو معجزے دیئے گئے تھے وہ وقتی تھے لیکن قرآن کی شکل میں جو معجزہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دیا جا رہا ہے وہ رہتی دنیا تک قائم اور زندہ رہنے والا معجزہ ہے۔

۸۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی اس  کے پاس وہ کتا ب موجود ہے جس میں اللہ تعالیٰ  کے تمام فیصلے درج ہیں۔   کس رسول کو کس دور میں کون سا معجزہ دے  کر بھیجا جائے یہ ایک طے شدہ بات ہے جس کا اندراج ام الکتاب میں ہے۔   مطلب یہ ہے کہ رسولوں کی بعثت اور ان  کے ہاتھوں مختلف قسم  کے معجزوں  کے ظہور  کے لیے اللہ تعالیٰ کی ایک طے شدہ ا سکیم ہے جو منضبط شکل میں اس  کے پاس موجود ہے اور اسی  کے مطابق واقعات ظہور میں آتے ہیں، لہٰذا تم الٹے سیدھے مطالبہ  کرنے  کے بجائے اس ا سکیم اور اس حکمت کو سمجھنے کی کوشش  کرو جس  کے مطابق اس رسول کی بعثت ہوئی ہے۔

۸۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس کی تشریح سورۂ یونس نوٹ ۷۵  میں گز ر چکی۔

۹۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی مکہ  کے اطراف مثلاً مدینہ وغیرہ میں اسلام کا اثر بڑھتا جا رہا ہے اور مختلف قبائل میں اسلام قبول  کرنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔   یہ اس بات کی علامت ہے کہ اسلام غلبہ کی طرف بڑھ رہا ہے اور مشرکوں اور کافروں پر مکہ کی زمین روز بروز تنگ ہوتی جا رہی ہے۔   قرآن کی یہ بات بالکل سچ ثابت ہوئی اور چند سال  کے اندر اندر نہ صرف مدینہ میں اسلام غالب ہوا بلکہ مکہ کو فتح  کرتا ہوا پورے عرب پر چھا گیا۔

۹۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مراد اہل کتاب  کے وہ لوگ ہیں جو کتابِ  الٰہی کا علم رکھتے تھے اور حق پسند تھے ان کی گواہی کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت کی تائید میں اس لیے پیش کیا گیا کہ پچھلی کتابوں میں ایک رسول کی بعثت  کے سلسلہ میں جو پیشین گوئیاں موجود تھیں وہ پوری طرح آپ پر صادق آ رہی تھیں اور آپ کی دعوت ٹھیک ٹھیک وہی دعوت تھی جس کی طرف انبیاء علیہم السلام دعوت دیتے رہے ہیں اس لیے نصاریٰ میں سے نجاشی (شاہ حبش) جیسے لوگوں کا آپ پر ایمان لانا شہادت  کے تعلق سے کافی اہم بات ہے۔  چونکہ مشرکین مکہ رسالت سے نا آشنا تھے اور اہلِ  کتاب رسالت سے اچھی طرح آشنا تھے اس لیے مشرکین مکہ کو متوجہ کیا گیا کہ ان سے معلوم  کرو کہ رسول اس سے پہلے بھی آتے رہے ہیں یا نہیں اور وہ انسان تھے یا کچھ اور۔

٭٭٭

 

 

 

 

 (۱۴) سورۂ اِبْرَاہِیم

 

 (۵۴ آیات)

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

                   تعارف

 

نام

 

آیت ۳۵ میں ابراہیم علیہ السلام کی دعا بیان ہوئی ہے۔ اسی مناسبت سے اس سورہ کا نام “ابراہیم” ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مکی ہے اور مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اس وقت نازل ہوئی جبکہ ایمان لانے والوں کو سخت اذیتیں پہنچائی جا رہی تھیں۔ یہ زمانہ ہجرت حبشہ اور اس کے بعد کا ہے اور اغلب ہے کہ سورۂ رعد کے بعد یہ نازل ہوئی ہو گی۔

 

مرکزی مضمون

 

یہ واضح کرتا ہے کہ رسول کو بھیجنے کا مقصد کیا ہے اور اس کے ذریعہ انسانیت پر خدا کی راہ کس طرح روشن ہو رہی ہے۔ جو لوگ اس عظیم مقصد کی طرف سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں وہ رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے ہیں اور اس کے پیروؤں کو اذیتیں پہنچانے کے درپے ہیں۔ ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہی ٹوٹ سکتا ہے اور وہ بدترین سزا ہی کے مستحق ہو سکتے ہیں۔

 

نظمِ کلام

 

آیت ۱  تا ۴ میں رسول اور قرآن کے بھیجنے کے مقصد واضح کیا گیا ہے آیت ۵ تا ۱۷ میں تاریخ انبیاء کے کچھ اوراق پیش کئے گئے ہیں جن سے یہ سبق ملتا ہے کہ رسول کی مخالفت کرنے والے اور ان کی راہ میں کانٹے بچھانے والوں کا کیا انجام ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو آخرت میں جو سزا بھگتنا ہو گی اس کی بھی ایک جھلک پیش کی گئی ہے جو رونگٹے کھڑے کر دینے والی ہے۔ آیت ۱۸ تا ۲۳ میں ان کی نامرادی کا مزید حال پیش کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اہل ایمان کس طرح با مراد ہوں گے۔ آیت ۲۴ تا ۳۴ میں ایمان اور کفر کے مختلف نتائج کو مثال کے ذریعہ واضح کیا گیا ہے۔ کافروں کو نعمتِ خداوندی کی ناشکری پر متنبہ کیا گیا ہے اور اہل ایمان کو شکر گزاری کا طریقہ بتایا گیا ہے۔

آیت ۳۵ تا ۴۱ میں ابراہیم علیہ السلام کی وہ دعا پیش کی گئی ہے جو تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔ وہ اپنی نسل کو شرک سے محفوظ اور توحید پر قائم رکھنے کے لیے ایک بے تاب دل رکھتے تھے مگر ان کی اولاد (بنی اسمٰعیل) ان کو اپنا پیشوا مانتے ہوئے آج جو کچھ کر رہی ہے وہ ان کی آرزو، ان کی دعا اور ان کے طرز عمل کے سراسر خلاف ہے۔ آیت ۴۲ تا ۵۲ خاتمہ کلام ہے جس میں قیامت اور اس کے عذاب کا ہولناک نقشہ کھینچا گیا ہے۔

                   ترجمہ

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الف۔ لام۔ را۔ ۱* یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے (اے پیغمبر!) تم پر نازل کی ہے تاکہ تم لوگوں کو ان کے رب کے حکم سے تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آؤ ۲* اس کی راہ پر جو غالب بھی ہے اور خوبیوں والا بھی۳*

۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ کہ مالک ہے ان چیزوں کا جو آسمانوں میں ہیں اور ان چیزوں کا جو زمین میں ہیں۔ اور تباہی ہے کافروں کے لیے کہ انہیں سخت سزا بھگتنا ہو گی۔

۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں ۴* اور اللہ کے راستہ سے لوگوں کو روکتے ہیں اور اس میں ٹیڑھ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ۵* یہ لوگ پرلے درجہ کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔

۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے جو رسول بھی بھیجا اس کی قوم کی زبان ہی میں (پیغام دیکر) بھیجا تاکہ وہ (اس پیغام کو) لوگوں پر اچھی طرح واضح کر دے۔ ۶* پھر اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ ۷* وہ غالب اور حکمت والا ہے۔

۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا تھا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاؤ اور انہیں اللہ کے یادگار دن۸* یاد دلاؤ۔ اس میں ہر اس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہے بڑی نشانیاں ہیں۔ ۹*

۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا ۱۰* اللہ نے جو فضل تم پر کیا ہے اسے یاد رکھو جب اس نے تمہیں فرعون والوں سے نجات دی جو تمہیں بری طرح تکلیف دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ ۱۱* اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی۔

۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب تمہارے رب نے خبردار کیا تھا کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں مزید دوں گا۱۲* اور اگر نا شکری کرو گے تو (یاد رکھو) میری سزا بڑی سخت ہے ۱۳*

۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور موسیٰ نے کہا کہ اگر تم اور وہ سب جو روئے زمین پر ہیں نا شکری کریں تو اللہ (کو کچھ پروا نہیں۔ وہ) بے نیاز اور خوبیوں والا ہے۔ ۱۴*

۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا تمہیں ۱۵* ان لوگوں کی خبریں نہیں پہنچیں جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں ؟ قوم نوح، عاد، اور ثمود اور وہ قومیں جوان کے بعد ہوئیں جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۱۶* ان کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیاں لیکر آئے تھے لیکن انہوں نے اپنے منہ میں اپنے ہاتھ ٹھونس لیے ۱۷*  اور کہا جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو اس سے ہمیں انکار ہے اور جس بات کی طرف تم بلاتے ہو اس میں ہمیں شک ہے جس نے ہمیں الجھن میں ڈال دیا ہے۔

۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان کے رسولوں نے کہا کیا تمہیں اللہ کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ۱۸* ہے ؟ وہ تمہیں بلاتا ہے تاکہ تمہارے گناہ بخش دے اور ایک مقررہ وقت تک مہلت دے ۱۹* انہوں نے کہا تم تو ہمارے ہی جیسے آدمی ہو۔ تم چاہتے ہو کہ ہمیں ان سے روک دو جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں۔ اچھا تو لاؤ کوئی کھلا معجزہ۔

۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان کے رسولوں نے کہا واقعی ہم تمہارے ہی جیسے آدمی ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے ۲۰* اور یہ بات ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ تمہیں کوئی معجزہ لا دکھائیں۔ ہاں اللہ کے حکم سے یہ بات ہو سکتی ہے اور ایمان لانے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔

۱۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جبکہ اس نے ہماری راہیں ہم پر کھول دیں۔ ۲۱* ہم ان اذیتوں پر صبر کریں گے جو تم ہمیں دے رہے ہو۔ اور بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔

۱۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال باہر کریں گے یا پھر تمہیں ہمارے مذہب میں لوٹ آنا ہو گا۲۲* تو ان کے رب نے ان پر وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں کو ضرور ہلاک کریں گے۔

۱۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ان کے بعد تمہیں زمین میں بسائیں گے۔ یہ (صلہ) اس کے لیے ہے جو ڈرا میرے حضور کھڑے ہونے سے اور ڈرا میری تنبیہ سے۔

۱۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور انہوں نے فیصلہ چاہا اور (فیصلہ اس طرح ہوا کہ) ہر سرکش ضدی نامراد ہوا۔ ۲۳*

۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے آگے جہنم ہے ۲۴* اور اسے پیپ لہو پلایا جائے گا۔ ۲۵*

۱۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جسے وہ گھونٹ گھونٹ کر کے پئے گا مگر حلق سے آسانی کے ساتھ اُتار نہ سکے گا۔ موت ہر طرف سے اس پر آئے گی مگر وہ مر نہ سکے گا۔ اور آگے ایک سخت عذاب کا اسے سامنا کرنا ہو گا۔

۱۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے راکھ کہ آندھی کے دن اسے ہوا تیزی کے ساتھ لے اُڑے۔ ۲۶* جو کچھ انہوں نے کمایا اس سے کچھ بھی ان کو حاصل نہ ہو سکے گا۔ یہی ہے پر لے درجہ کی گمراہی۔

۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ نے آسمانو ں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کر دے اور ایک نئی مخلوق لے آئے۔ ۲۷*

۲۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسا کرنا اللہ کے لیے کچھ دشوار نہیں۔

۲۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور (ایسا ہو گا کہ) اللہ کے حضور سب حاضر ہوں گے اس وقت کمزور لوگ ان لوگوں سے جو بڑے بن کر رہے تھے کہیں گے ہم تو تمہارے تابع تھے۔ اب کیا تم ہم کو اللہ کے عذاب سے بچانے کے لیے کچھ کر سکتے ہو؟ وہ کہیں گے اگر اللہ نے ہم کو راہ دکھائی ہوتی تو ہم تم کو ضرور دکھاتے۔ اب ہمارے لیے یکساں ہے خواہ چیخ پکار کریں خواہ جھیل لیں۔ ہمارے لیے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ ۲۸*

۲۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب فیصلہ چکا دیا جائے گا تو شیطان بولے گا اللہ نے تم سے وعدہ کیا تھا سچا وعدہ اور میں نے تم سے وعدہ کیا تھا تو وعدہ خلافی کی۔ ۲۹* میرا تم پر کوئی زور نہ تھا البتہ میں نے تمہیں بلایا اور تم نے میرا بلاوا قبول کر لیا۔ ۳۰* لہٰذا مجھے ملامت نہ کرو۔ اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری فریاد کو پہنچ سکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکتے ہو۔ اس سے پہلے تم نے جو مجھے شریک ٹھہرایا تھا تو میں اس سے بیزاری ظاہر کرتا ہوں۔ ۳۱* ظالموں کے لیے تو درد ناک عذاب ہے۔

۲۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے وہ ایسے باغوں میں داخل کئے جائیں گے جن کے نیچے نہریں رواں ہوں گی۔ اس میں وہ اپنے رب کے حکم سے ہمیشہ رہیں گے۔ وہاں ان کی دعائے ملاقات سلام ہو گی۔ ۳۲*

۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ نے کس طرح کلمۂ طیبہ کی مثال بیان فرمائی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھا درخت جس کی جڑ جمی ہوئی اور شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی۔

۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ ہر وقت اپنے رب کے حکم سے پھل لاتا ہے۔ ۳۳* اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ وہ ہوش میں آئیں۔

۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور کلمۂ خبیثہ کی مثال ایک نکمے درخت کی سی ہے جو زمین کی سطح ہی سے اکھاڑ پھینکا جاتا ہے۔ اس کے لیے کوئی جماؤ نہیں۔ ۳۴*

۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ اہل ایمان کو مضبوط قول کے ذریعہ دنیا کی زندگی میں بھی مضبوطی عطا کرتا ہے اور آخرت میں بھی۔ ۳۵* اور غلط کار لوگوں کو اللہ گمراہ کر دیتا ہے اور اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ ۳۶*

۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل ڈالا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں جا اتارا؟۳۷*

۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (یعنی) جہنم جس میں وہ داخل ہوں گے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

۳۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور انہوں نے اللہ کے ہم سر۳۸* بنائے تاکہ لوگوں کو اس کے راستہ سے بھٹکائیں۔ کہو مزے کر لو بالآخر تمہیں جانا دوزخ ہی میں ہے۔

۳۱۔ ۔ ۔ ۔ میرے بندوں سے جو ایمان لائے ہیں کہہ دو نماز قائم کریں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کریں ۳۹* قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خرید و فروخت ہو گی اور نہ دوستی کام آئے گی۔

۳۲۔ ۔ ۔ ۔ اللہ ہی نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور اوپر سے پانی برسایا اور اس کے ذریعہ تمہارے رزق کے لیے پھل پیدا کئے اور تمہارے لیے کشتی کو مسخر کیا کہ اس کے حکم سے سمندر میں چلے اور تمہارے لیے دریا مسخر کر دئیے۔ ۴۰*

۳۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور تمہارے لیے سورج اور چاند کو مسخر کر دیا کہ ایک طریقہ پر کاربند ہیں نیز رات اور دن کو بھی مسخر کر دیا۔ ۴۱*

۳۴) اس نے تمہاری ہر طلب پوری کر دی۴۲* اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو گن نہیں سکتے۔ ۴۳* حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی نا انصاف بڑا ہی نا شکرا ہے۔ ۴۴*

۳۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور (یاد کرو) جب ابراہیم نے دعا کی تھی کہ اے میرے رب! اس شہر کو امن والا بنا۴۵* اور مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے بچا کہ بتوں کی پوجا کرنے لگیں۔ ۴۶*

۳۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے میرے رب! ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا ہے ۴۷* تو جو میری پیروی کرے وہ میرا ہے اور جو میری نا فرمانی کرے تو تو بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔ ۴۸*

۳۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے ہمارے رب! میں نے اپنی اولاد میں سے بعض۴۹* کو ایک ایسی وادی میں جہاں کاشت نہیں ہوتی۵۰* تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایا ہے ۵۱* اے ہمارے رب! تاکہ وہ نماز قائم کریں۔ ۵۲*  لہٰذا تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر دے ۵۳* اور پھلوں سے ان کو رزق بہم پہنچا۵۴* تاکہ وہ شکر گزار بنیں۔

۳۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے ہمارے رب! تو جانتا ہے جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔ اور اللہ سے کوئی چیز بھی چھپی ہوئی نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں۔ ۵۵*

۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شکر ہے اللہ کا جس نے مجھے بڑھاپے میں اسمٰعیل اور اسحاق عطا فرمائے ۵۶* یقیناً میرا رب دعائیں سننے والا ہے۔

۴۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے میرے رب! مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد کو بھی۔ اے ہمارے رب! میری دعا قبول فرما۔ ۵۷*

۴۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے ہمارے رب! مجھے اور میرے والدین کو اور مومنوں کو اس دن بخش دے جس دن حساب قائم ہو گا۔ ۵۸*

۴۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ظالم جو کچھ کر رہے ہیں اس سے تم اللہ کو غافل نہ سمجھو۵۹* وہ تو ان کو اس دن تک کے لیے مہلت دے رہا ہے جب آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ ۶۰*

۴۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سر اٹھائے ہوئے بھاگ رہے ہوں گے۔ ۶۱* نگاہیں ہیں کہ لوٹ کر آنے والی نہیں ۶۲* اور دل ہیں کہ اُڑے جاتے ہیں۔ ۶۳*

۴۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لوگوں کو اس دن سے خبردار کر دو جبکہ عذاب ان کو آئے گا۶۴* اس وقت ظالم کہیں گے اے ہمارے رب! ہمیں تھوڑی سی مدت کے لیے مہلت دیدے ہم تیری دعوت قبول کریں گے اور رسولوں کی پیروی کریں گے۔ کیا تم اس سے پہلے قسمیں کھا کھا کر نہیں کہتے تھے کہ ہمیں (دنیا سے) منتقل ہونا نہیں ہے۔ ۶۵*

۴۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور تم ان لوگوں کی بستیوں میں بس گئے تھے جنہوں نے اپنے ہی اوپر ظلم کیا تھا۶۶* اور تم پر واضح ہوا تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا تھا اور تمہارے لیے ہم نے مثالیں بھی بیان کر دی تھیں۔ ۶۷*

۴۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور انہوں نے طرح طرح کی چالیں چلیں اور اللہ کے پاس ان کی ہر چال کا جواب تھا اگرچہ ان کی چالیں ایسی تھیں کہ پہاڑ ٹل جائیں۔ ۶۸*

۴۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پس تم یہ خیال نہ کرو کہ اللہ نے اپنے رسولوں سے جو وعدہ کیا ہے اس کے خلاف کرے گا۔ ۶۹* اللہ غالب ہے اور سزا دینے والا ہے۔ ۷۰*

۴۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ دن کہ جب یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی۷۱* اور سب اللہ واحد و قہار (زبردست) کے حضور حاضر ہوں گے !۷۲*

۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور تم اس دن مجرموں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔

۵۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان کے لباس تارکول کے ہوں گے اور چہروں پر آگ چھائی ہوئی ہو گی۔

۵۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اس لیے ہو گا کہ اللہ ہر شخص کو اس کی کمائی کا بدلہ دے۔ بلا شبہ وہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔

۵۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ایک پیغام ہے تمام انسانوں کے لیے ۷۳* اور اس لیے بھیجا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ لوگوں کو خبردار کر دیا جائے اور وہ جان لیں کہ وہی بس ایک خدا ہے اور جو سوجھ بوجھ رکھتے ہیں وہ یاد دہانی حاصل کریں۔ ۷۴*

                   تفسیر

 

۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حروفِ مقطعات کی تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ یونس نوٹ ۱  اور سورۂ بقرہ نوٹ ۱۔

۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ وہ اہم ترین مقصد ہے جس کے لیے قرآن کا نزول ہوا ہے یعنی لوگوں کو عقیدہ و عمل کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان و عمل صالح کی روشنی میں لے آنا۔ پیغمبر کہ ذمہ داری یہ ہے کہ وہ دعوت و تبلیغ، فہمائش و تذکیر اور تعلیم و ارشاد کے ذریعہ لوگوں کو روشنی میں لانے کی کوشش کرے اور اس روشنی کو قبول کرنے کی توفیق دینا اللہ ہی کا کام ہے۔ بالفاظ دیگر جو لوگ روشنی میں آئے اللہ کی توفیق ہی سے آئے مگر ذریعہ پیغمبر اور قرآن بنے۔

۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی روشنی میں لانے کا مطلب اللہ کی راہ پر لانا ہے۔ یہاں اللہ کی دو صفتیں بیان ہوئی ہیں ایک یہ کہ وہ عزیز یعنی غالب ہے اور دوسری یہ کہ وہ حمید یعنی خوبیوں والا ہے۔ مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ یہ دین جو خدا تک پہنچنے کی واحد راہ ہے انسان اس پر چل کر ایک ایسی ہستی سے اپنا تعلق قائم کر لیتا ہے جس کے قبضۂ قدرت میں پوری کائنات ہے اور جو خوبیوں ہی خوبیوں والا ہے اس لیے اس سے تعلق استوار کر کے انسان نہال ہی ہو سکتا ہے اور اس کی کوئی امید ایسی نہیں ہو سکتی جو بر نہ آئے۔

۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انسان جس چیز کو سب سے زیادہ عزیز رکھتا ہے اس کے لیے دوسری چیزوں کو قربان کر نے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ جو لوگ دنیا کو عزیز رکھتے ہیں وہ اس کے مفاد کو کسی طرح چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتے خواہ آخرت کے مفاد کو انہیں قربان کیوں نہ کرنا پڑے۔ دنیا کی حد سے زیادہ محبت ہی انہیں آخرت کے انکار پر آمادہ کرتی ہے۔ اگر وہ کھل کر آخرت کا انکار ہیں کرتے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ واقعی انہوں نے آخرت کو اپنا نصب العین بنا لیا ہوتا تو جو قدم بھی وہ اٹھاتے آخرت کے مفاد کو پیش نظر رکھ کر ہی اٹھاتے۔

۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی تشریح سورۂ آل عمران نوٹ ۱۲۵  میں گزر چکی۔

۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی رسول کو بھیجنے سے مقصود اچنبھے دکھانا نہیں بلکہ لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا دینا ہے۔ اس مقصد کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کی سنت (قاعدہ) یہ رہی ہے کہ جس قوم میں بھی اس نے رسول بھیجا اس کی زبان کو وہ جاننے والا تھا تاکہ وہ اللہ کے پیغام کی اچھی طرح وضاحت کر سکے۔ اسی سنت الٰہی کے مطابق نبی عربی کا ظہور ہوا ہے اور قرآن عربی میں نازل کیا گیا ہے تاکہ وہ عرب قوم کو جو اس کی اولین مخاطب ہے پوری وضاحت کے ساتھ اللہ کا پیغام پہنچا سکے اور اس پر اللہ کی حجت پوری طرح قائم ہو۔

۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی حجت قائم ہو جانے کے بعد قبولِ ہدایت کی توفیق ان ہی لوگوں کو نصیب ہو گی جو اللہ کی مشیت کے مطابق اس کے مستحق ٹھہریں گے۔

۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد وہ تاریخی دن ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عبرتناک واقعات ظہور میں آئے۔ کسی قوم پر عذاب کا کوڑا برسا اور کسی گروہ کو انعام سے سرفراز کیا گیا۔

۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ان واقعات میں قوموں کے عروج و زوال کے تعلق سے رہنمائی کا کافی سامان موجود ہے مگر اس رہنمائی سے وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جن کے اندر صبر و شکر کا مادہ ہوتا ہے صبر یہ کہ اللہ سے اجر ملنے کی امید میں اس کی راہ میں پہنچنے والی تکلیفوں کو آدمی برداشت کرے اور شکر یہ کہ اس نے دین کی جو نعمت عطا فرمائی ہے اور اس کے روحانی سکون کا جو سامان کیا ہے اس کی وہ پوری پوری قدر کرے۔

۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی بنی اسرائیل سے کہا۔

۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی تشریح سورۂ اعراف نوٹ ۲۰۵  میں گزر چکی بائبل میں ہے کہ مصر کے بادشاہ نے اس اندیشہ کے پیش نظر کہ اسرائیلی تعداد میں زیادہ نہ ہو جائیں دائیوں کو حکم دیا تھا کہ عبرانی عورتوں کی جب وہ زچگی کریں تو:

“اگر بیٹا ہو تو اسے مار ڈالنا اور اگر بیٹی ہو تو وہ جیتی رہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور فرعون نے اپنی قوم کے سب لوگوں کو تاکیداً کہا کہ ان میں جو بیٹا پیدا ہو تم اسے دریا میں ڈال دینا اور جو بیٹی ہو اُسے جیتی چھوڑنا۔ ” (خروج ۱:۱۶،۲۲)

۱۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شکر میں تین باتیں لازماً شامل ہیں۔ ایک یہ کہ بندہ ہر اس نعمت کو جو اسے ملی اللہ کی نوازش سمجھے کسی اور کی نہیں۔ دوسری یہ کہ اس کے دل میں جذبۂ شکر پیدا ہو اور تیسری بات یہ کہ وہ اپنے محسن حقیقی کے ساتھ وفا داری اور عبادت و اطاعت کا طریقہ اختیار کرے۔

بندہ جب شکر گزاری کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو وہ مزید انعام کا مستحق قرار پاتا ہے۔

۱۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تورات میں یہ بات اس طرح موجود ہے : “لیکن اگر تو ایسا نہ کرے کہ خداوند اپنے خدا کی بات سن کر اس کے سب احکام اور آئین پر جو آج کے دن میں تجھ کو دیتا ہوں احتیاط سے عمل کرے تو یہ سب لعنتیں تجھ پر نازل ہوں گی اور تجھ کو لگیں گی۔ شہر میں بھی تو لعنتی ہو گا اور کھیت میں بھی لعنتی ہو گا۔ ” (استثناء ۲۸:۱۵۔ ۱۶)

۱۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : “اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے سب انس و جن سب سے زیادہ فاجر، شخص کے برابر ہو جائیں تو اس سے میری سلطنت میں کوئی کمی واقع نہ ہو گی۔ ” (صحیح مسلم کتاب البر)

۱۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اوپر موسیٰ علیہ السلام کا بیان ختم ہوا۔ یہاں خطاب قرآن کے مخاطبین سے ہے۔

۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے قوموں کی تاریخ کے اس جزء کی طرف جو پردۂ غیب میں چلا گیا ہے۔ قوم ثمود کا زمانہ غالباً ڈھائی ہزار سال قبل مسیح کا ہے۔ اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ تک کتنی ہی قومیں ایسی ہوئیں جن میں رسول مبعوث ہوئے اور ان کے انکار و سرکشی کے نتیجہ میں عذاب الٰہی کا کوڑا ان پر برسا۔ یہ تمام واقعات تاریخ کے اوراق میں آج محفوظ نہیں ہیں لیکن اللہ کے علم میں ضرور ہیں۔

جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے یہاں بھی ایسے آثار پائے جاتے ہیں جن سے قوموں کی تباہی کا پتہ چلتا ہے مثلاً ہڑپا (Harappa) جو پنجاب میں ہے اور موہن جودارو (Mohonjodaro) جو سندھ میں ہے نیز لوتھل (Lothal) جو گجرات میں ہے یہ سب قدیم بستیاں ہیں جو اپنی پوری تہذیب اور تمدن کے ساتھ زمین میں دفن ہوئی تھیں اور جن کا انکشاف اس دور میں ہوا ہے۔ ان آثار قدیمہ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ان کی تہذیب مشرکانہ تھی اس لیے عجب نہیں کہ ان قومو ں کی طرف بھی رسول بھیجے گئے ہوں اور ان کی دعوتِ توحید کو رد کر دینے کی پاداش میں اللہ کا عذاب زلزلہ کی صورت میں آیا ہو اور اس نے ان قوموں کو زمین میں دفن کر دیا ہو۔ یہ زمانہ قومِ ثمود کے بعد اور ابراہیم علیہ السلام سے پہلے کا یعنی دو ہزار سال قبل مسیح سے بھی پہلے کا رہا ہو گا۔ تاریخ نے ان قوموں کے نام محفوظ رکھے ہیں اور نہ ان کے رسولوں کے۔ ان کا علم اللہ ہی کو ہے۔ البتہ یہ آثار اس بات کی شہادت ضرور دیتے ہیں کہ قدیم ہندوستان میں بھی شرک اور کفر کے نتیجہ میں عذاب الٰہی کا کوڑا ضرور برس چکا ہے۔

۱۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاتھ منہ میں ٹھونسنا ایک محاورہ ہے جس کا مطلب غیظ و غضب اور تعجب کا اظہار ہے۔

۱۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ہم جو دعوت تمہارے سامنے پیش کر رہے ہیں وہ توحید خالص کی دعوت ہے جس کی صحت شبہ سے بالاتر ہے۔ اس میں شک وہی شخص کر سکتا ہے جس کو اس بنیادَی حقیقت کے بارے میں شک ہو کہ اس کائنات کو ایک خدا نے پیدا کیا ہے۔ اگر تمہیں یقین ہے کہ اس کائنات کا خالق اللہ ہی ہے تو پھر اس کے الٰہی واحد ہونے اور اس کے مستحق عبادت ہونے میں شک کے لیے کہاں گنجائش ہے ؟

۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی توحید کی جو دعوت تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے اس کو اگر تم قبول کرو تو شرک اور معصیت کے جو کام تم اب تک کر چکے ہو ان کو اللہ تعالیٰ معاف فرمائے گا اور تم پر عذاب نازل کرنے کے بجائے تم کو وقتِ مقررہ تک زندگی گزارنے کے لیے مہلت دے گا۔

۲۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ہم نے یہ کب دعویٰ کیا کہ ہم انسان نہیں بلکہ کوئی اور مخلوق ہیں ؟ ہم ہیں تو تم جیسے انسان ہی لیکن ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل خاص سے نواز کر رسالت کے منصب پر فائز کیا ہے۔ واضح ہوا کہ رسالت کا منصب ایسا نہیں ہے کہ انسان اپنی کوششوں سے اس کو حاصل کر سکے بلکہ یہ اللہ کا عطیہ اور فضل خاص ہے جسے چاہے اس سے نوازے۔

۲۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انسان جب پورے شعور کے ساتھ اللہ پر ایمان لاتا ہے تو خدا اور مذہب کے تعلق سے اس کی ساری الجھنیں ختم ہو جاتی ہیں اور اس کے لیے زندگی کے ہر میدان میں آگے بڑھنے اور کامیابی کی منزل تک پہنچنے کی راہیں کھل جاتی ہیں۔

۲۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ کافروں کا قول ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا صحیح نہ ہو گا کہ انبیاء علیہم السلام نبوت سے پہلے ان کے مذہب پر ہو گئے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام نبوت سے پہلے دین فطرت یعنی توحید ہی پر قائم رہے ہیں لیکن چونکہ وہ رسالت کے دعوے کے ساتھ توحید کا پرچار کرتے نظر نہ آتے تھے اس لیے اختلافِ عقیدہ کے باوجود ہم قوم ہونے کی بنا پر کافر ان کو اپنا ہم مذہب خیال کرتے تھے۔ انہوں نے جو دھمکی دی اس کا مطلب یہ ہے کہ تم توحید اور رسالت کا یہ پرچار چھوڑ دو اور اپنی سابقہ حالت پر واپس آ جاؤ تو ہم تم سے تعرض نہیں کریں گے۔

۲۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی دنیا ہی میں ان کا فیصلہ چکا دیا گیا اور اس کی صورت یہ ہوئی کہ اللہ کے عذاب نے رسولوں کے مخالفین کو ہلاک کر دیا اور ان کی دعوت قبول کرنے والوں کو بچا لیا گیا۔

۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی دنیا میں عذاب بھگتنے کے بعد انہیں آخرت میں جہنم سے واسطہ ہے۔

۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عذاب کے اس تصور ہی سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اگر انسان اس پر غور کرے تو اس کے دل میں رقت پیدا ہو جائے اور جہنم کے عذاب سے بچنے کی فکر اسے دامنگیر ہو:

موقع کلام کے لحاظ سے یہ وعید ان لوگوں کو سنائی گئی جو رسول کی مخالفت میں پیش پیش تھے اور اس کی پیروی کرنے والوں پر شدید مظالم ڈھا رہے تھے۔ گویا ان سے کہا گیا کہ تم سرکشی اور ظلم کی جیسی چاہو مثالیں قائم کرو آگے تمہارے لیے طرح طرح کے عذاب تیار ہیں۔

واضح رہے کہ سزا جنسِ عمل سے ہوتی ہے۔ ان کے عقائد خبیث تھے ، ان کے اعمال خبیث تھے اور وہ خبیث غذائیں اور خبیث مال کھاتے رہے اس لیے وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے کہ پیپ جیسی خبیث چیز ان کو پینے کے لیے دی جائے۔

۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی کفر تمام اعمال کو بے حقیقت اور بے وزن بنا دیتا ہے خواہ وہ اعمال مذہبی مراسم ہوں ، ظاہری نیکیاں ہوں یا خیراتی و رفاہی کام۔ جن لوگوں نے کفر کی اساس پر نیکی کے کام انجام دیئے ہوں گے ان کو کفر کی آگ جلا کر راکھ کر دے گی اس لیے ان کے سارے مذہبی کارنامے قیامت کے دن راکھ کا ڈھیر ثابت ہوں گے جس کو قیامت کی آندھی لے اڑے گی۔

۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جو شخص بھی کھلی آنکھوں سے اس کائنات کا مشاہدہ کرے گا اسے صاف دکھائی دے گا کہ اس کی تخلیق اور اس کے نظام میں کمال درجہ کی حکمت پائی جاتی ہے۔ کوئی چیز بھی خالی از مصلحت نہیں ہے پھر انسان کی تخلیق بے مقصد کیسے ہو سکتی ہے جبکہ وہ اس بزم کا رکن رکین ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ انسان کو اس کے خالق نے ایک اعلیٰ مقصد کے لیے پیدا کیا ہے لہٰذا اس کو چاہیے کہ وہ اپنے مقصد وجود کو سمجھے اور اس کے مطابق زندگی گزارے اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اللہ کا کچھ نہیں بگڑتا۔ وہ اپنے ہی کو نا کامیابی کے حوالہ کرتا ہے۔ اللہ تو اس بات پر قادر ہے کہ پوری انسانیت کو صفحۂ ہستی سے مٹا دے اور اس کی جگہ کوئی نئی مخلوق لے آئے۔ انسان کو تو اس کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس نے اسے یہ موقع عطا کیا ہے کہ دنیا کی امتحان گاہ سے سلامتی کے ساتھ گزر کر اس کی ابدی رحمت اور لازوال نعمتوں کا مستحق بن جائے۔

۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ان لیڈروں اور پیشواؤں کی بے بسی کی تصویر ہے جن کے پیچھے عوام آنکھیں بند کر کے چلتے رہے اور یہ سمجھتے رہے کہ وہ ان کی صحیح رہنمائی کر رہ ہیں۔ قیامت کے دن جب دونوں کو اپنے اپنے جرم کی پاداش میں عذاب کی طرف دھکیلا جائے گا تو ان لیڈروں اور پیشواؤں سے ان کے پیرو یہ درخواست کریں گے کہ ہمارے لیے عذاب سے چھٹکارے کی کوئی صورت نکالی جائے مگر وہ اپنی بے بسی کا کھلے طور پر اعتراف کریں گے اس وقت ان کے پیروں کو اس بات کا احساس ہو گا کہ دنیا میں ان کے پیچھے چل کر انہوں نے کیسی زبردست غلطی کی ہے۔

قرآن قبل اس کے کہ لوگ اس انجام سے دو چار ہوں انہیں متنبہ کر رہا ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور گمراہ لیڈروں اور پیشواؤں کی باتوں میں نہ آئیں۔ رسول کی رہنمائی کو قبول کریں اور اپنے کو اس راہ پر ڈال دیں جو قرآن نے کھولی ہے۔

۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عدالت خداوندی جب یہ فیصلہ چکا دے گی کہ کون جزا کا مستحق ہے اور کون سزا کا تو شیطان اپنے تمام پیروؤں کے سامنے اعتراف کرے گا کہ اللہ تعالیٰ نے آخرت کا تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ بالکل سچا تھا اور اس کے مطابق آج سب کچھ پیش آ گیا لیکن میں نے تمہیں جن جن باتوں کا یقین دلایا تھا وہ سب غلط اور جھوٹ ثابت ہوئیں۔ شیطان کا یہ اعتراف اس کے پیروؤں کے لیے زبردست طمانچہ ہو گا جس سے ان کی مایوسی اور ذلت میں اضافہ ہی ہو گا۔

واضح رہے کہ شیطان کے وعدے وہ خیالات ہوتے ہیں جو انسان کے دل میں وہ ڈالتا ہے مثلاً یہ کہ فلاں اور فلاں کو پکارو تو وہ تمہاری مدد کو پہنچیں گے۔ یہ اور یہ ہستیاں خدا کے حضور تمہارے سفارشی ہیں۔ زندگی بس دنیا کی زندگی ہے مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں اس لیے دنیا میں خوب مزے اڑا لو۔ یہ اور اس قسم کی دوسری باتیں شیطان ذہن میں ڈالتا ہے اور جب کوئی شخص ان باتوں کو قبول کر لیتا ہے تو وہ اس کی فکر بن جاتی ہیں۔ موجودہ دور میں شیطان نے انسانی ذہن کو متاثر کرنے کے لیے جدید اسلوب اختیار کیا ہے وہ کہتا ہے “خدا کو انسان نے پیدا کیا ہے ورنہ اس کا کہیں کوئی وجود نہیں “۔ “مذہب ایک اعصابی خلل ہے ” “جو ہم نہیں جانتے اس کا قائل ہونا غلط ہے۔ ” “مادہ قائم بالذات ہے اور زندگی ایک جدلیاتی مادیت ہے۔ ” وغیرہ۔

۳۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شیطان کو اللہ تعالیٰ نے یہ قوت نہیں بخشی ہے کہ وہ انسان کو گمراہی قبول کرنے اور بری باتوں پر عمل کرنے کے لیے مجبور کر دے۔ وہ جو کچھ کر سکتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ انسان کو گمراہی کی طرف بلائے اور بری باتوں کی ترغیب دے اس لیے انسان شیطان کو الزام دیکر بری نہیں ہو سکتا۔ وہ خود اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔

۳۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شیطان کے یہ کہنے کا مطلب کہ “تم نے اس سے پہلے مجھے شریک ٹھہرایا تھا” یہ ہے کہ دنیا میں تم میری اطاعت اس طرح کرتے رہے جس طرح کہ اللہ کی اطاعت کی جاتی ہے۔ میرے کہنے سے تم نے توحید کا انکار کیا، غیر اللہ کو معبود ٹھہرایا، رسولوں کو جھٹلایا، آخرت کو نہ مانا، شریعت کا انکار کرتے رہے اور اپنی زندگی کی باک ڈور میرے ہاتھ میں دیدی کہ میں اپنی مرضی کے مطابق تمہیں چلاؤں۔ اس طرح تم نے مجھے خدائی کے مقام پر بٹھا دیا۔

۳۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جنت میں اہل ایمان کا خیر مقدم سلامی کی مبارکباد سے ہو گا اور ہر طرف سے ان کے لیے سلامتی کی صدائیں بلند ہوں گی۔ وہاں جب وہ ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے تو ان کے آداب ملاقات میں سلام کا کلمہ شامل ہو گا۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جنت میں اہل ایمان کو کیسی پر وقار زندگی نصیب ہو گی اور وہاں کا ماحول کتنا پُر امن ہو گا۔ بخلاف اس کے دوزخی ایک دوسرے کو ملامت کریں گے اور ان پر ہر طرف سے پھٹکار پڑے گی۔

۳۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کلمۂ طیبہ کے معنیٰ اچھی اور پاکیزہ بات کے ہیں۔ اس سے مراد کلمۂ توحید ہے جو اسلامی عقیدہ کی بنیاد اور ایمان کی اساس ہے۔ اس کی مثال ایک اچھے درخت سے دی گئی ہے جس کی جڑ زمین میں جمی ہوئی اور شاخیں فضا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ یہی خصوصیت کلمۂ توحید کی ہے کہ اس کی جڑ انسانی فطرت کے اندر جمی ہوئی ہے اور اس کی شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہیں یعنی کلمۂ توحید کی بنیاد پر عمل کا ایک تناور درخت وجود میں آتا ہے اور اعمال صالح ہونے کی بنا پر بلندی کی طرف چڑھتے ہیں اور خوب نشو و نما پاتے ہیں۔ پھر یہ مثالی درخت جس طرح ہر وقت پھل دیتا ہے اسی طرح کلمۂ توحید کا فیضان ہر وقت جاری رہتا ہے اور آخرت میں اس کے ثمرات و برکات کا ظہور ہمیشگی کی نعمتوں کی شکل میں ہو گا۔

۳۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کلمۂ خبیثہ کے معنیٰ بری اور ناپاک بات کے ہیں۔ مراد باطل کلمہ ہے خواہ وہ شرک ہو، الحاد ہو یا کفر۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے نکما درخت یعنی جھاڑ جھنکار جس کی جڑیں زمین میں جمی ہوئی نہیں ہوتیں۔ اسی طرح کلمۂ باطل کی جڑ انسانی فطرت کے اندر جمی ہوئی نہیں ہوتی اس لیے اس کو آسانی سے اکھاڑ پھینکا جا سکتا ہے۔ یہ ایک بے فیض کلمہ ہے جو انسان کو اعمال صالحہ سے محروم کر دیتا ہے اور آخرت میں نامرادی کے سوا کچھ حاصل نہ ہو گا۔

۳۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قول ثابت (مضبوط قول) سے مراد کلمۂ توحید ہے اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ کلمۂ توحید کو قبول کر لیتے ہیں یعنی ایمان لاتے ہیں ان کو ایک مضبوط اساس فراہم ہوتی ہے۔ اس اساس پر ان کے عقائد میں مضبوطی، ان کے خیالات اور ان کے کردار میں استحکام پیدا ہو جاتا ہے۔ اس طرح اس کار زارِ حیات میں اللہ تعالیٰ انہیں استحکام اور ثابت قدمی عطا فرماتا ہے اور جب وہ قبر یعنی عالمِ برزخ میں پہنچتے ہیں تو وہاں بھی انہیں استقلال حاصل ہوتا ہے۔

حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: “مسلمان سے جب قبر میں سوال کیا جاتا ہے تو وہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ یہی بات ہے جس کے بارے میں ارشاد ہوا ہے  “یُثبّتُ اللّٰہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الخ ” اللہ ایمان والوں کو مضبوط قول کے ذریعہ دنیا کی زندگی میں بھی مضبوطی عطاء فرماتا ہے اور آخرت میں بھی۔ ” (بخاری کتاب التفسیر)

اسی طرح قیامت کے دن انہیں موقف کی مضبوطی حاصل ہو گی جس کی بدولت وہ ابدی کامیابی سے ہم کنار ہوں گے۔

۳۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ واضح رہے کہ اللہ کا چاہتا اس کی حکمت کے مطابق اور اس کے تمام فیصلے حکیمانہ ہوتے ہیں۔

۳۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ قریش کی طرف ہے جنہیں عرب قوم کی قیادت حاصل تھی اور جنہوں نے مشرکانہ طور طریقے رائج کر کے قوم کو تباہی کے گڑھے میں دھکیل دیا۔

۳۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ بقرہ نوٹ ۲۹  اور۲۰۰۔

۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مکہ میں جبکہ شریعت کے ابتدائی احکام ہی نازل ہوئے تھے نماز کا اہتمام کرنے اور اللہ کی خاطر خرچ کرنے کا حکم تاکید کے ساتھ دیا گیا جس سے ان دونوں چیزوں کی اہمیت واضح ہوتی ہے نیز اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ ایک مسلمان پر زکوٰۃ عائد ہوتی ہو یا نہ ہوتی ہو اسے اللہ کی خاطر انفاق کرتے رہنا چاہیے اور یہ انفاق دونوں طریقے سے مطلوب ہے پوشیدگی میں بھی اور علانیہ بھی۔ پوشیدگی میں جو خرچ اللہ کی خاطر کیا جاتا ہے وہ ریا اور نمائش سے پاک ہوتا ہے اور علانیہ کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے دوسروں کو انفاق کی ترغیب ہوتی ہے لیکن اس صورت میں بھی اسے ریا اور نمائش سے پاک رکھنا ضروری ہے۔

۴۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اللہ کی ربوبیت (پروردگاری) پر استدلال ہے کہ تمہاری پرورش کا یہ سارا کام اسی نے کر رکھا ہے تو تم نے دوسروں کو خدا کس طرح بنا لیا۔ پرورش کے اس پورے نظام میں کیا کسی کا کوئی حصہ ہے۔ اگر نہیں اور واقعہ یہ ہے کہ کسی کا کوئی حصہ نہیں ہے تو پھر وہ خدا کہاں سے ہوئے ؟اور عبادت جو سراسر اللہ کا حق ہے اس میں دوسروں کو شریک کرنے کے کیا معنیٰ ؟

۴۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مسخر کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ چیزیں انسان کے تابع کر دی گئی ہیں جیسا کہ لوگ عام طور سے سمجھتے ہیں کیونکہ دن اور رات بہر حال انسان کے تابع نہیں ہیں بلکہ مسخر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ چیزیں انسان کی خدمت میں لگا دی گئی ہیں اور ان کے ذریعہ انسان کی نفع رسانی کا سامان کر دیا گیا ہے۔

۴۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی انسان کو جو طبعی ضرورتیں تھیں وہ سب پوری کر دیں مثال کے طور پر سانس لینے کے لیے ہوا، پیاس بجھانے کے لیے پانی، بھوک مٹانے کے لیے غذا اور جنسی خواہش کو پورا کرنے کے لیے جوڑے کی ضرورت تھی۔ ان تمام ضرورتوں کو جو انسان کی فطری مانگیں ہیں پورا کرنے کا انتظام اس کے خالق نے کر دیا۔ اسی طرح اس کی فطرت کی اہم ترین مانگ ہدایت ہے اور اس کو پورا کرنے کا انتظام بھی اس کے خالق نے کر دیا۔

۴۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انسان اگر غور کرے تو وہ اس حقیقت کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہے گا کہ اس کے خالق نے اس کو ان گنت نعمتوں سے نوازا ہے اور اس کے اس پر بے شمار احسانات ہیں۔ اگر وہ کھانے کے ایک لقمہ ہی پر غور کرے تو شکر کا جذبہ اس کے اندر ابھرنے لگے کہ اس کے رب نے اس لقمہ کو تیار کرنے کے لیے کیسے کیسے اسباب کئے۔ آسمان و زمین، بارش، ہواؤں اور سورج کی گرمی وغیرہ کو اس نے کس طرح سازگار بنایا کہ بیج مختلف مرحلوں سے گزر کر غلہ بنا اور غلہ مختلف مرحلوں سے گزر کر لقمہ بن گیا جس کو اب وہ مزے کے ساتھ کھا رہا ہے۔ انسان کے لیے جب اپنے بالوں کو یا آسمان کے تاروں کو گننا ممکن نہیں ہے تو وہ اللہ کی نعمتوں کو کیونکر گن سکتا ہے ؟

۴۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ عام انسان کا حال بیان ہوا ہے کہ وہ نہ اپنے رب کا حق ادا کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے اور نہ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے لیے۔

۴۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس شہر سے مراد مکہ ہے اور اس کو امن والا شہر بنانے کی دعا ابراہیم علیہ السلام نے اس لیے کی تھی تاکہ اس کی یہ امتیازی خصوصیت لوگوں کو اس بات کی طرف متوجہ کرتی رہے کہ اس کی یہ خصوصیت اس کے مرکز توحید ہونے کی بنا پر ہے اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو شرک اور بت پرستی سے بالکل پاک رکھا جائے۔

اس دعا کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا اور مکہ کو حرم ٹھہرا کر وہاں لڑائی ہمیشہ کے لیے ممنوع قرار دی۔

۴۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس زمانہ میں بت پرستی کا فتنہ عام تھا اور ماحول کے دباؤ کے تحت انسان اس قسم کے فتنوں کا بہ آسانی شکار ہو جاتا ہے اس لیے ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے اس سے بچنے کی دعا کی کہ توفیق الٰہی کے بغیر آدمی اس فتنہ سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔

۴۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یہ بت بہ کثرت لوگوں کی گمراہ کا باعث بنے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کا یہ بیان ایک تاریخی حقیقت ہے چنانچہ دنیا کی بڑی بڑی قومیں بت پرستی میں مبتلا رہی ہیں اور قوم نوح سے لیکر آج تک یہ سلسلہ برابر جاری ہے۔ موجودہ دور کے انسان نے اگرچہ زبردست علمی ترقی کی ہے مگر بڑی بڑی متمدن قومیں بت پرستی کے معاملہ میں اسی جہالت میں مبتلا ہیں جس میں ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ کی قومیں مبتلا تھیں۔ بت پرستی کا سراسر نا معقول ہونا بالکل ظاہر ہے لیکن اس کا جادو قوموں پر ایسا چلا کہ وہ اس سے چمٹ کر رہ گئیں اور ہمارے ملک میں تو ایسے مناظر بھی دیکھنے میں آتے ہیں کہ بت پرست پہلے اپنے ہاتھ سے اپنے خداؤں کو ڈھال لیتے ہیں اور پھر ان کی بارات نکال کر اپنے ہاتھوں ان کو دریا برد کرتے ہیں۔ یہ عقل کا دیوالیہ پن اور پرلے درجہ کی گمراہی نہیں تو اور کیا ہے ؟

۴۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ابراہیم علیہ السلام نے اپنی نافرمانی کرنے والوں کے معاملہ کو اللہ کے حوالہ کرتے ہوئے اس کی ان دو صفتوں کا ذکر کیا جس سے مقصود اس بات کا اظہار ہے کہ تیری طرف سے عفو و درگزر اور فیضانِ رحمت میں کمی نہیں ہو سکتی البتہ اگر بندے اس کے اہل قرار نہ پائیں تو اور بار ہے۔

۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اسمٰعیلؑ کو۔

۵۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد مکہ کی بے آب و گیاہ زمین ہے جو پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے۔ بیت اللہ کے لیے کسی سر سبز و شاداب خطہ کے بجائے اس صحرائی زمین کا انتخاب اس لیے کیا گیا تاکہ لوگوں کے لیے وجہ کشش دنیا کی رعنائیاں نہیں بلکہ دین کی دولت بنے اور ایک پر کیف ماحول انہیں میسر آ جائے جہاں ایمان کی پرورش اور روح کی بالیدگی کا بھر پور سامان ہو۔

۵۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محترم گھر سے مراد خانۂ کعبہ ہے جو نہایت مقدس اور نہایت قابلِ احترام ہے۔ ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد میں سے اسمٰعیل علیہ السلام کو مکہ میں بسایا اور اسحاق علیہ السلام کو فلسطین میں۔ اسمٰعیل علیہ السلام سے جو نسل چلی وہ بنی اسمٰعیل کہلائی قریش ان ہی کی نسل سے ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم ان ہی میں مبعوث ہوئے۔ ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا سے ایک بات تو یہ واضح ہوئی کہ یہ دعا انہوں نے خانۂ کعبہ کی تعمیر کے بعد کی تھی اور دوسری یہ کہ انہوں نے اپنے بیٹے اسمٰعیل کو اس وقت مکہ میں بسایا جبکہ خانۂ کعبہ کی تعمیر مکمل ہو چکی تھی۔ قرآن نے دوسری جگہ واضح کیا ہے کہ خانہ کعبہ کی تعمیر میں ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ اسمٰعیل علیہ السلام بھی شریک تھے۔ رہ گئیں وہ روایتیں جن میں اسمٰعیل کو جبکہ وہ ابھی شیر خوار بچہ تھے ان کی والدہ حضرت ہاجرہ کے ساتھ مکہ کے ریگستان میں تنہا چھوڑ کر جانے کا عجیب و غریب قصہ بیان ہوا ہے تو یہ روایتیں نہ قرآن کے اس بیان سے مطابقت رکھتی ہیں اور نہ قرینِ قیاس ہیں نیز ان روایتوں کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف صحیح نہیں جیسا کہ علامہ سید سلیمان ندوی نے ارض القرآن میں لکھا ہے :

“اس سے (یعنی سورۂ ابراہیم کی آیت ۳۹) سے ثابت ہوتا ہے کہ اسمٰعیل کے مکہ آنے کے وقت اسحاق پیدا ہو چکے تھے۔ تورات سے ثابت ہے کہ اسمٰعیلؑ اسحاقؑ سے تیرہ برس بڑے تھے ، بخاری کی کتاب الرؤیا اور کتابُ الانبیاء میں حضرت ابن عباس کی جو حدیث اسمٰعیلؑ کی شیر خوارگی کے متعلق ہے وہ مرفوع نہیں ہے یعنی اس کا سلسلہ آنحضرت ؐ تک نہیں پہنچتا (بجز چند خاص ضمنی فقروں کے) اس لیے وہ حضرت ابن عباس کے اسرائیلیات میں سے ہے اور اس کا ثبوت آج بھی موجود ہے۔ بخاری میں اس کے متعلق جو طویل حدیث ہے وہ بجز جزہم اور مکہ کے ذکر کے مدارش اور تالمود میں بعینہ حرف بہ حرف مذکور ہے۔ ” (ارض القرآن ج۲ ص ۴۴۰)

اور علامہ ابن کثیر ؒ نے اس طویل حدیث کو جس میں اسمٰعیل کی شیر خوارگی کی حالت میں مکہ میں چھوڑنے کا ذکر ہے نقل کر کے لکھا ہے :

“یہ حدیث ابن عباس کا کلام ہے البتہ اس کا ایک حصہ مرفوع ہے (یعنی نبی صلی اللہ علیہ و سلم مروی ہے) اور اس کے ایک حصہ میں غرابت (عجیب باتیں) ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابن عباس نے اس کو اسرائیلیات سے لیا ہے اور اس میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ اس وقت اسمٰعیل شیر خوار بچہ تھے۔ ” (البدایۃ و النہایۃ ج۱ ص۱۵۶)

۵۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نماز بیت اللہ کی تعمیر کا اولین مقصد ہے اور ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسمٰعیل کو یہاں اس لیے بسایا تھا کہ ان سے جو نسل چلے وہ بیت اللہ کے زیر سایہ نماز قائم کرے لیکن قریش نے جو ان کی نسل سے ہیں نماز کی جگہ بت پرستی اختیار کر لی۔ ابراہیم کے طریقہ سے یہ کتنا بڑا انحراف ہے جو قریش نے کیا!

۵۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف اس طرح مائل کر دیا کہ بنی اسمٰعیل پورے عرب کا مرجع بن گئے۔

۵۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی تشریح سورۂ بقرہ نوٹ ۱۴۶  میں گزر چکی۔

۵۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اللہ کو ہمارے دل کا حال بھی معلوم ہے اور اس سے زمین و آسمان کی کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں۔

۵۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ واضح ہوا کہ جب ابراہیم علیہ السلام نے یہ دعا کی تھی تو اس وقت ان کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق کی ولادت ہو چکی تھی۔ بائبل کا بیان ہے کہ حضرت اسمٰعیل کی پیدائش کے وقت ابراہیم علیہ السلام کی عمر ۸۶ سال اور حضرت اسحاق کی پیدائش کے وقت۱۰۰سال تھی۔ یعنی حضرت اسحاق حضرت اسمٰعیل کے ۱۴ سال بعد پیدا ہوئے اور دونوں کی پیدائش کنعان (فلسطین) میں ہوئی تھی:

“اور جب ابرام سے ہاجرہ کے اسمٰعیل پیدا ہوا تب ابرام چھیاسی برس کا تھا۔ ” (پیدائش ۱۶:۱۶)

“اور جب اس کا بیٹا اسحاق اس سے پیدا ہوا تو ابرہام سو برس کا تھا۔ ” (پیدائش ۲۱:۵)

گویا خانۂ کعبہ کی تعمیر اور اسمٰعیل کو مکہ میں بسانے کا واقعہ اس وقت کا ہے جبکہ اسمٰعیل کی عمر چودہ سال سے زیادہ تھی۔

۵۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ابراہیم کی شریعت میں بھی نماز کو اولین اہمیت حاصل تھی اور یہ دین کا وہ ستون ہے جس کو قائم کرنے کے لیے ایک مومن اللہ سے توفیق طلب کرے۔ نیز اپنی اولاد کے حق میں بھی دعا کرے کہ وہ نماز قائم کرنے والے بن جائیں۔

۵۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ کے لیے جو دعائے مغفرت کی تھی اس کی تشریح سورۂ توبہ نوٹ ۲۱۰  اور ۲۱۱  میں گزر چکی۔ اس موقع پر مذکورہ نوٹ پیشِ نظر رہیں۔

“جس دن حساب قائم ہو گا” سے مراد قیامت کا دن ہے جب ہر شخص کی اللہ کے حضور پیشی ہو گی اور اسے اپنی عملی زندگی کا حساب پیش کرنا ہو گا۔

ابراہیم علیہ اسلام کی اس مہم ترین دعا سے بائبل کے صفحات خالی ہیں مگر قرآن نے اس کو محفوظ کر لیا۔ اس سے معترضین کے اس الزام کی آپ سے آپ تردید ہوتی ہے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) نے بائبل کی خوشہ چینی کی ہے۔

۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خطاب اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ہے مگر مقصود عام لوگوں کو خبردار کرنا ہے کہ حق کی مظلومیت اور باطل کے غلبہ کو دیکھ کر کوئی شخص اس غلط خیال میں مبتلا نہ ہو کہ یہ دنیا اندھیر نگری ہے اور خدا اس بات سے بے خبر ہے کہ اس کی دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے خدا اچھی طرح با خبر ہے لیکن چونکہ اس نے حساب اور جزا و سزا کے لیے قیامت کا دن مقرر کر رکھا ہے اس لیے وہ لوگوں کو مہلت دے رہا ہے کہ وہ اچھا برا جس طرح چاہیں طرز عمل اختیار کریں۔ یہ اندھیر نگری نہیں بلکہ حکیمانہ منصوبہ بندی ہے۔

۶۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قیامت کے دن ایسے ہولناک مناظر سامنے آئیں گے کہ غلط کار لوگوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ وہ قیامت پر یقین نہیں رکھتے تھے اس لیے یہ مناظر دیکھ کر حیران ہوں گے کہ ہم کس دنیا میں پہنچ گئے !

۶۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قبر سے اٹھنے کے بعد وہ اپنے موقف (پیشی کی جگہ) کی طرف بھاگیں گے اور خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کے لیے ان کو کتنا طویل فاصلہ طے کرنا پڑے گا۔

۶۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی دہشت اور خوف کی وجہ سے وہ ٹکٹکی باندھ کر دیکھیں گے۔

۶۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ غم اور خوف کی شدت سے ان کا برا حال ہو رہا ہو گا اور ان کے دلوں کی کیفیت یہ ہو گی کہ گویا اڑے جا رہے ہیں۔ اصل میں دلوں کو مضبوطی عطا کرنے والی چیز ایمان ہے اور جب ان کے دل ایمان سے خالی رہے تو قیامت کے دن ان کا حواس باختہ ہونا اس کا لازمی نتیجہ ہو گا۔

۶۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قیامت کے عذاب سے لوگوں کو خبردار کرنے کا یہ تاکیدی حکم اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دعوتِ قرآنی کا یہ اہم ترین نکتہ ہے جسے پوری طرح کھول کر اور نہایت پر زور طریقہ پر لوگوں کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔

موجودہ غافل دنیا کو جھنجھوڑنا اور قیامت کے عذاب سے انہیں خبردار کرنا پیروانِ قرآن کا اہم ترین فریضہ بھی ہے اور وقت کا سب سے بڑا تقاضا بھی۔

۶۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی پورے وثوق کے ساتھ تم یہ کہتے تھے کہ دنیا سے منتقل ہو کر تمہیں کہیں جانا نہیں ہے۔ زندگی بس اس دنیا ہی کی زندگی ہے اور آخرت کا کہیں وجود نہیں ہے۔ اب تمہیں اپنی خام خیالی کا احساس ہو گیا جبکہ امتحان کا وقت گزر چکا۔ یہ گھڑی تو نتائج کے ظہور میں آنے کی ہے۔

۶۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد ملکِ عرب ہے جس کے مختلف علاقوں میں ہلاک شدہ قوموں کے آثار پائے جاتے ہیں مثلاً وادیِ حجر میں قومِ ثمود کے آثار وغیرہ۔

۶۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی تمہاری عبرت اور نصیحت کے لیے تاریخی واقعات بھی پیش کئے گئے تھے اور طرح طرح کی مثالیں بھی بیان کی گئی تھیں چنانچہ اس سورہ میں کلمۂ طیبہ اور کلمۂ خبیثہ کی مثالیں گزر چکیں۔ لیکن تم نے کسی بات سے بھی کوئی سبق نہ لیا۔

۶۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ان قوموں نے رسولوں کے خلاف زبردست چالیں چلی تھیں لیکن اللہ نے ان کی ہر چال کو ناکام بنا دیا تھا تو کیا اب تم (اے قریش!) یہ امید رکھتے ہو کہ ہمارے رسول کے خلاف تمہاری سازشیں کامیاب ہوں گی؟

۶۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خطاب نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ہے اور مقصود آپ کو اور آپ کے پیروؤں کو اطمینان دلانا ہے کہ وہ مخالفین کی چالوں سے آزردہ نہ ہوں جس طرح اللہ سابق میں اپنے رسولوں کی مدد کرتا رہا ہے اسی طرح وہ اپنے اس رسول کی بھی مدد فرمائے گا۔ ممکن نہیں کہ اللہ کا وعدہ پورا نہ ہو۔

۷۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ غالب ہے اس لیے سب اس کے قابو میں ہیں اور وہ سزا دینے والا ہے اس لیے وہ ان ظالموں کو جو اس کے رسول کی مخالفت کرتے اور اس کے خلاف چالیں چلتے ہیں ضرور سزا دے گا۔

۷۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قیامت کے دن زمین و آسمان میں ایسی تبدیلیاں (Changes) لائی جائیں گی کہ وہ ایک نئی ہیئت اور نئے نظام کے ساتھ وجود میں آ جائیں گے۔

حدیث میں حشر کی زمین کی ہیئت اس طرح بیان کی گئی ہے :”یحشر الناس یوم القیامۃ علی ارضٍ بیضاءَ عفراءَ کقرصہ النقی لیس فیہامعلم لاحدٍ۔ قیامت کے دن لوگوں کو سفید سرخی مائل زمین پر جمع کیا جائے گا جو میدے کی روٹی کی ٹکیہ کی طرح ہو گی۔ اس پر کسی کے مکان وغیرہ نشان نہ ہو گا۔ ” (بخاری کتاب الرقاق) جب ماضی میں مادہ میں بہت سے تغیرات رونما ہوتے رہے یہاں تک کہ اس نے موجودہ زمین کی شکل اختیار کر لی تو آئندہ اس کی ساخت میں تبدیلی کا رونما ہونا ہرگز بعید نہیں ہے اور اس کا خالق یقیناً اس بات پر قادر ہے کہ اس کے عناصر ترکیبی اور اس کے طبعی قوانین کو بدل دے۔

غرضیکہ قیامت کے دن موجودہ دنیا ایک نئی دنیا سے بدل جائے گی جس کے زماں اور مکاں بالکل مختلف ہوں گے اور اس وقت لوگوں کو اللہ کی قدرت کا صحیح اندازہ ہو جائے گا اور وہ جان لیں گے کہ اللہ ان کی دنیا کو نئی دنیا سے بدل دینے پر قادر تھا۔

۷۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قیامت کے دن انسان انسان ہی کی حیثیت سے اٹھے گا یعنی روح اور جسم کے ساتھ اور تمام انسان شاہ ہو یا گدا، مرد ہو یا عورت اور معمولی آدمی ہو یا ممتاز شخصیت سب کی اللہ کے حضور پیشی ہو گی تاکہ وہ دنیا میں جو کچھ کرتے رہے ہیں اس کی جوابدہی کریں اور اپنے عمل کے مطابق جزا یا سزا پائیں۔

یہ ہے قرآن کا تصور آخرت جو عقل اور انصاف کے ترازو میں پورا اترتا ہے اس کی بالمقابل مشرکین ہند آوا گوان کے نظریہ پر یقین رکھتے ہیں جس میں روح ایک جسم سے دوسرے جسم میں کبھی انسان میں اور کبھی حیوان میں بدلتی رہتی ہے اور اپنے رب کے حضور حاضری کی نوبت آتی ہی نہیں ہے۔ خدا کے حضور حاضر نہ ہونے کا یہ تصور عقل و انصاف کے سراسر خلاف اور قرآن کی رو سے بالکل باطل ہے۔

۷۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قرآن اللہ کا پیغام ہے اور یہ پیغام عربوں کے لیے خاص نہیں بلکہ دنیا کی تمام قوموں اور تمام انسانوں کے لیے ہے۔

۷۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ہے قرآن کا اصل مشن (Mission) : اولاً خدا اور آخرت سے غافل لوگوں کو جگانا اور انہیں اس کے نتائج بد سے آگاہ کرنا۔

ثانیاً توحید یعنی اس حقیقت سے لوگوں کو واقف کرانا کہ اللہ کے سوا نہ کسی خدا کا وجود ہے اور نہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق ہے

ثالثاً جو عقل سے کام لینے والے ہیں ان کے لیے تذکیر تاکہ وہ دنیا میں ایک ذمہ دارانہ زندگی گزاریں۔

٭٭٭

 

 

 

(۱۵) سورۂ الحِجرْ

 

(۹۹ آیات)

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

                   تعارف

 

نام

 

آیت ۸۰ تا ۸۴ میں حجر والوں کا ذکر ہوا ہے جو رسولوں کو جھٹلانے کی بنا پر تباہ کر دئے گئے تھے۔ یہ قوم ثمود تھی جس کا مرکزی مقام حجر تھا جو مدینہ اور تبوک کے درمیان واقع ہے۔ اس مناسبت سے اس سورہ کا نام الحجر ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مکی ہے اور مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ مکہ کے وسطی دور میں نازل ہوئی ہو گی۔ یہ سورۂ ابراہیم اور سورۂ ہود سے پہلے کے تنزیل ہے۔

مرکزی مضمون

 

رسالت اور وحی سے متعلق شبہات کو دور کرنا اور جھٹلانے والوں کو اس کے انجام سے خبردار کرنا ہے۔

 

نظم کلام

 

آیت ۱ میں بطور تمہید قرآن کی امتیازی شان بیان ہوئی ہے۔ آیت ۲ تا ۱۵ میں منکرین رسالت کے شبہات و اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے۔ آیت ۱۶ تا ۲۵ میں عجائباتِ قدرت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس پر غور کرنے سے وحی، رسالت اور حشر کے بارے میں شبہات کا ازالہ ہو جاتا ہے۔ آیت ۲۶ تا ۴۴ میں ابلیس کی گمراہی کا وہ واقعہ پیش کیا گیا ہے جو آدم کی تخلیق کے فوراً بعد پیش آیا تھا مقصود اس سے یہ واضح کرنا ہے کہ وہ شیطان ہے جو انسان کو گمراہ کرنے کے درپے ہے اور بہ کثرت لوگ اس کے دام فریب میں آ رہے ہیں۔ وہ وحی اور رسالت کے بارے میں لوگوں کے دلوں میں شبہات ڈال کر ان کو راہ حق سے دور رکھنا چاہتا ہے نتیجہ یہ کہ وہ اور اس کے اشارہ پر چلنے والے سب جہنم میں پہنچ کر رہیں گے۔ آیت۴۵ تا ۴۸ میں ان لوگوں کے بہترین انجام کا ذکر ہوا ہے جو شیطان کی باتوں میں نہیں آئے بلکہ اپنے رب سے ڈرتے رہے اور شرک اور اس کی نافرمانی سے اجتناب کیا۔ آیت ۴۹ تا ۸۴ میں انبیائی تاریخ کے چند واقعات پیش کئے گئے ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ کے نیک بندوں پر تو اس کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں لیکن اس کے سرکش بندوں پر اس کے عذاب کا کوڑا برستا ہے۔ آیت ۸۵ تا ۹۹ خاتمہ کلام ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور پیروان حق کیلئے تسلی کا سامان بھی ہے اور یہ ہدایت بھی کہ جو لوگ دنیا پرستی میں غرق ہیں ان کی مادی دولت کو رشک کی نگاہ سے نہ دیکھیں بلکہ اس عظیم دولت کی قدر کریں جو قرآن کی شکل میں انہیں عطا ہوئی ہے۔

                   ترجمہ

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے۔

 

۱۔ ۔ ۔ ۔ الف۔ لام۔ را۔ ۱* یہ آیتیں ہیں الکتاب۲* اور روش قرآن کی۔ ۳*

۲۔ ۔ ۔ ۔ وہ وقت آئے گا جب یہ کافر تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلم ہوتے !۴*

۳۔ ۔ ۔ ۔ انہیں چھوڑ دو کہ کھائیں پئیں م مزے کر لیں اور (جھوٹی) امید انہیں غفلت میں ڈالے رکھے۔ عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا۔ ۵*

ہم نے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لیے ایک مقررہ نوشتہ رہا ہے۔ ۶*

۵۔ ۔ ۔ ۔ کوئی قوم نہ اپنے مقررہ وقت سے آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔ ۷*

۶۔ ۔ ۔ ۔ یہ لوگ کہتے ہیں اے وہ شخص جس پر نصیحت نازل کی گئی ہے تم یقیناً دیوانے ہو۔ ۸*

۷۔ ۔ ۔ ۔ اگر تم سچے ہو تو فرشتوں کو ہمارے سامنے لے کیوں نہیں آتے۔

۸۔ ۔ ۔ ۔ ہم فرشتوں کو یونہی نہیں اُتارتے بلکہ فیصلہ کے ساتھ اُتارتے ہیں اور اس وقت لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی۔ ۹*

۹۔ ۔ ۔ ۔ بلا شبہ یہ یاد دہانی ہم ہی نے نازل کی ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ ۱۰*

۱۰۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ واقعہ ہے کہ ہم نے تم سے پہلے گزری ہوئی امتوں میں رسول بھیجے تھے۔

۱۱۔ ۔ ۔ ۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کوئی رسول ان کے پاس آیا ہو اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو۔

۱۲۔ ۔ ۔ ۔ اسی طرح ہم مجرموں کے دلوں میں یہ بات داخل کرتے ہیں۔ ۱۱*

۱۳۔ ۔ ۔ ۔ وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور گذشتہ قوموں کے واقعات گزر چکے۔ ۱۲*

۱۴۔ ۔ ۔ ۔ اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتے ۱۳*  جس پر یہ چڑھنے لگتے۔

۱۵۔ ۔ ۔ ۔ تب بھی یہی کہتے کہ ہماری نظریں مار دی گئی ہیں بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے۔

۱۶۔ ۔ ۔ ۔ اور ہم نے آسمان میں برج بنائے اور دیکھنے والوں کے لیے ان کو خوشنما بنا دیا۔ ۱۴*

۱۷۔ ۔ ۔ ۔ نیز ہر شیطان مردود سے اس کو محفوظ کر دیا۔ ۱۵*

۱۸۔ ۔ ۔ ۔ اور جو چوری چھپے سُن گن لینا چاہے تو ایک روشن شہاب اس کا پیچھا کرتا ہے۔ ۱۶*

۱۹۔ ۔ ۔ ۔ اور زمین کو ہم نے پھیلایا، اس میں پہاڑ گاڑ دیئے اور اس میں ہر قسم کی چیزیں مناسب مقدار میں اُگائیں۔ ۱۷*

۲۰۔ ۔ ۔ ۔ اور اس میں تمہاری گزر بسر کا سامان مہیا کر دیا نیز ان کی گزر بسر کا بھی جن کو تم روزی نہیں دیتے۔ ۱۸* نہ ہوں مگر ہم اس کو ایک مقرر مقدار ہی میں اتارتے ہیں۔ ۱۹*

۲۲۔ ۔ ۔ ۔ اور ہم ہواؤں کو بار دار بنا کر چلاتے ہیں پھر آسمان (اوپر) سے پانی برساتے ہیں اور اس سے تمہیں سیراب کرتے ہیں ورنہ تم اس کا ذخیرہ کر کے نہیں رکھ سکتے تھے۔ ۲۰*

۲۳۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ ہم ہی ہیں کہ زندگی اور موت دیتے ہیں اور ہم ہی سب کے وارث ہیں۔ ۲۱*

۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ہم ان کو بھی جانتے ہیں جو تم سے پہلے ہو گزرے اور ان کو بھی جو بعد میں آنے والے ہیں۔ ۲۲*

۲۵۔ ۔ ۔ ۔ اور بے شک تمہارا رب ان سب کو اکٹھا کرے گا۔ وہ حکمت والا علم والا ہے۔ ۲۳*

۲۶۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ واقعہ ہے کہ ہم نے انسان کو سڑے ہوئے گارے کی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا۔ ۲۴*

۲۷۔ ۔ ۔ ۔ اور اس سے پہلے ہم جن کو آگ کی لو سے پیدا کر چکے تھے۔ ۲۵*

۲۸۔ ۔ ۔ ۔ اور جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں سڑے ہوئے گارے کی کھنکھناتی مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں۔

۲۹۔ ۔ ۔ ۔ تو جب میں اس کو ٹھیک ٹھیک بنا لوں ۲۶* اور اس میں اپنی روح پھونک دوں ۲۷* تو تم اس کے آگے سجدے میں گر جانا۔

۳۰۔ ۔ ۔ ۔ چنانچہ سب کے سب فرشتے سجدہ ریز ہو گئے ۲۸*

۳۱۔ ۔ ۔ ۔ سوائے ابلیس ۲۹* کے کہ اس نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ دینے سے انکار کیا۔

۳۲۔ ۔ ۔ ۔ پوچھا اے ابلیس! تجھے کیا ہوا کہ تو نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ نہ دیا۔

۳۳۔ ۔ ۔ ۔ اس نے کہا مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک ایسے بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے سڑے ہوئے گارے کی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا۔ ۳۰*

۳۴۔ ۔ ۔ ۔ حکم ہوا نکل جا یہاں سے کہ تو مردود ہے۔ ۳۱*

۳۵۔ ۔ ۔ ۔ اور روز جز ا تک تجھ پر لعنت ہے۔ ۳۲*

۳۶۔ ۔ ۔ ۔ اس نے کہا تو مجھے اس دن تک مہلت دیدے جب لوگ اٹھائے جائیں گے۔

۳۷۔ ۔ ۔ ۔ فرمایا تجھے مہلت دی گئی۔ ۳۳*

۳۸۔ ۔ ۔ ۔ اس دن تک جس کا وقت مقرر ہے۔ ۳۴*

۳۹۔ ۔ ۔ ۔ اس نے کہا میرے رب !چونکہ تو نے مجھے بہکایا ہے ۳۵* اس لیے میں زمین میں ان کے لیے دلفریبیاں پیدا کروں گا اور ان سب کو بہکاؤں گا۔ ۳۶*

۴۰۔ ۔ ۔ ۔ سوائے تیرے ان بندوں کے جن کو تو نے ان میں سے خاص کر لیا ہو۔ ۳۷*

۴۱۔ ۔ ۔ ۔ فرمایا: یہ سیدھی راہ ہے جو مجھ تک پہنچتی ہے۔ ۳۸*

۴۲۔ ۔ ۔ ۔ واقعی جو میرے بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہ چلے گا۔ ۳۹* صرف ان بہکے ہوئے لوگوں ہی پر چلے گا جو تیری پیروی کریں۔ ۴۰*

۴۳۔ ۔ ۔ ۔ اور ان سب کے لیے جہنم کا وعدہ ہے۔ ۴۱*

۴۴۔ ۔ ۔ ۔ اس کے ساتھ دروازے ہیں۔ ہر دروازے کے لیے ان کا ایک حصہ مخصوص ہو گا۔ ۴۲*

۴۵۔ ۔ ۔ ۔ بلا شبہ متقی لوگ۴۳* باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔

۴۶۔ ۔ ۔ ۔ داخل ہو جاؤ ان میں سلامتی کے ساتھ بے خوف ہو کر۔ ۴۴*

۴۷۔ ۔ ۔ ۔ ان کے سینوں (دلوں) میں جو کدورت ہو گی وہ ہم نکال دیں گے۔ ۴۵* وہ بھائی بھائی بن کر ایک دوسرے کے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے۔

۴۸۔ ۔ ۔ ۔ وہاں نہ تو انہیں کوئی تکان محسوس ہو گی۴۶* اور نہ وہ وہاں سے نکالے ہی جائیں گے۔

۴۹۔ ۔ ۔ ۔ میرے بندوں کو آگاہ کر دو۴۷* کہ میں بخشنے والا رحم فرمانے والا ہوں۔

۵۰۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ بھی کہ میرا عذاب بڑا دردناک عذاب ہے۔ ۴۸*

۵۱۔ ۔ ۔ ۔ اور انہیں ابراہیم کے مہمانوں کا واقعہ سناؤ۔ ۴۹*

۵۲۔ ۔ ۔ ۔ جب وہ ۵۰* اس کے پاس آئے تو کہا سلام ہو آپ پر۵۱* اس نے کہا ہم آپ لوگوں سے اندیشہ محسوس کرتے ہیں۔ ۵۲*

۵۳۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے کہا آپ اندیشہ نہ کریں۔ ہم آپ کو ایک ذی علم لڑکے کی بشارت دیتے ہیں۔ ۵۳*

۵۴۔ ۔ ۔ ۔ اس نے کہا کیا آپ مجھے اس بڑھاپے میں یہ بشارت دے رہے ہیں۔ تو یہ کیسی بشارت ہے ؟۵۴*

۵۵۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے کہا ہم نے آپ کو سچائی کے ساتھ بشارت دی ہے تو آپ مایوس نہ ہوں۔

۵۶۔ ۔ ۔ ۔ اس نے کہا اپنے رب کی رحمت سے تو گمراہوں کے سوا کون مایوس ہو سکتا ہے۔ ۵۵*

۵۷۔ ۔ ۔ ۔ اس نے پوچھا اے فرستادو! آپ لوگ کس مہم پر آئے ہیں۔ ۵۶*

۵۸۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے کہا ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ۵۷*

۵۹۔ ۔ ۔ ۔ مگر لوط کے گھر والے۔ ہم ان سب کو بچا لیں گے۔ ۵۸*

۶۰۔ ۔ ۔ ۔ سوائے اس کی بیوی کے ۵۹* ہم نے ٹھہرا دیا ہے کہ۶۰* وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہو گی۔ ۶۱*

۶۱۔ ۔ ۔ ۔ پھر جب یہ فرستادے لوط کے گھر والوں کے پاس پہنچے۔

۶۲۔ ۔ ۔ ۔ تواس نے کہا آپ لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہیں۔ ۶۲*

۶۳۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے کہا نہیں بلکہ ہم لوگ آپ کے پاس وہی چیز لیکر آئے ہیں جس کے بارے میں یہ لوگ شک کر رہے تھے۔ ۶۳*

۶۴۔ ۔ ۔ ۔ ہم آپ کے پاس حق لیکر آئے ہیں اور ہم اپنے بیان میں بالکل سچے ہیں۔

۶۵۔ ۔ ۔ ۔ لہٰذا آپ کچھ رات رہے اپنے گھر والوں کو لیکر نکل جائیں اور آپ ان کے پیچھے پیچھے چلیں ۶۴* اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھے۔ ۶۵*اور چلے جاؤ جدھر جانے کا تمہیں حکم دیا گیا ہے۔

۶۶۔ ۔ ۔ ۔ اور ہم نے اس فیصلہ سے اس کو باخبر کیا کہ صبح ہوتے ہی ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جائے گی۔ ۶۶*

۶۷۔ ۔ ۔ ۔ اور شہر کے لوگ خوش خوش آ پہنچے۔ ۶۷*

۶۸۔ ۔ ۔ ۔ اس نے کہا یہ میرے مہمان ہیں۔ ۶۸* تو تم لوگ میری فضیحت نہ کرو۔ ۶۹*

۶۹۔ ۔ ۔ ۔ اللہ سے ڈرو اور مجھے رسوا نہ کرو۔

۷۰۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے کہا کیا ہم نے آپ کو دوسری قوموں کے لوگوں (کو ٹھہرانے) سے منع نہیں کیا تھا؟۷۰*

۷۱۔ ۔ ۔ ۔ اس نے کہا یہ میری بیٹیاں  موجود ہیں اگر تمہیں (جائز طریقہ اختیار) کرنا ہے۔ ۷۱*

۷۲۔ ۔ ۔ ۔ تمہاری زندگی کی قسم یہ لوگ اپنی بدمستیوں میں اندھے ہو گئے ہیں۔ ۷۲*

۷۳۔ ۔ ۔ ۔ بالآخر صبح ہوتے ہی ایک ہولناک آواز نے انہیں آ لیا۔

۷۴۔ ۔ ۔ ۔ اور ہم نے اس بستی کو تل پٹ کر کے رکھ دیا، اور ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسائے۔ ۷۳*

۷۵۔ ۔ ۔ ۔ بلا شبہ اس (واقعہ) میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو فراست سے کام لیتے ہیں۔ ۷۴*

۷۶۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ (اجڑی ہوئی) بستی شاہراہِ عام پر واقع ہے۔ ۷۵*

۷۷۔ ۔ ۔ ۔ یقیناً اس میں ایمان رکھنے والوں کے لیے بڑی نشانی ہے۔ ۷۶*

۷۸۔ ۔ ۔ ۔ اور (دیکھو) “ایکہ والے” بڑے ظالم تھے۔ ۷۷*

۷۹۔ ۔ ۔ ۔ تو ہم نے ان کو بھی سزا دی۔ اور یہ دونوں ہی بستیاں کھلی شاہراہ پر واقع ہیں۔ ۷۸*

۸۰۔ ۔ ۔ ۔ اور”حجر” والوں ۷۹* نے بھی رسولوں کو جھٹلایا۔ ۸۰*

۸۱۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دکھلائیں مگر وہ روگردانی ہی کرتے رہے۔ ۸۱*

۸۲۔ ۔ ۔ ۔ وہ پہاڑوں کو تراش کر امن و چین کے ساتھ گھر بناتے تھے۔ ۸۲*

۸۳۔ ۔ ۔ ۔ پھر ایسا ہوا کہ (ایک دن) ان کو صبح ہوتے ہی ہولناک آواز نے آ لیا۔ ۸۳*

۸۴۔ ۔ ۔ ۔ اور جو کچھ انہوں نے کمایا تھا وہ ان کے کچھ کام نہ آیا۔ ۸۴*

۸۵۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے حق کی بنیاد ہی پر پیدا کیا ہے ۸۵* اور قیامت کی گھڑی یقیناً آنے والی ہے لہٰذا خوبصورتی کے ساتھ درگزر کرو۔ ۸۶*

۸۶۔ ۔ ۔ ۔ یقیناً تمہارا رب بڑا ہی پیدا کرنے والا علم والا ہے۔ ۸۷*

۸۷۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے تمہیں سات دہرائی جانے والی آیتیں اور قرآن عظیم عطا کیا ہے۔ ۸۸*

۸۸۔ ۔ ۔ ۔ تم اس سامانِ دنیا کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھو جو ہم نے ان کے مختلف گروہوں کو دے رکھا ہے ۸۹* اور نہ ان کی حالت پر غم کھاؤ۔ ۹۰* اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکا دو۔ ۹۱*

۸۹۔ ۔ ۔ ۔ اور کہو میں تو کھلا خبردار کرنے والا ہوں۔

۹۰۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے (یہ کتاب اسی طرح اتاری ہے) جس طرح حصے بخرے کرنے والوں پر اتاری تھی۔ ۹۲*

۹۱۔ ۔ ۔ ۔ جنہوں نے (اپنے) قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔ ۹۲*

۹۲۔ ۔ ۔ ۔ تو تمہارے رب کی قسم۹۴* ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے۔

۹۳۔ ۔ ۔ ۔ ان کاموں کے بارے میں جو وہ کرتے رہے ہیں۔ ۹۵*

۹۴۔ ۔ ۔ ۔ تو جو کچھ تمہیں حکم دیا جا رہا ہے اسے علانیہ سنا دو اور مشرکوں کی پرواہ نہ کرو۔ ۹۶*

۹۵۔ ۔ ۔ ۔ ان مذاق اڑانے والوں کے مقابلہ میں ہم تمہارے لیے کافی ہیں۔

۹۶۔ ۔ ۔ ۔ جنہوں نے اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بنا رکھے ہیں۔ عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا۔

۹۷۔ ۔ ۔ ۔ ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ کہتے ہیں ان سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے۔ ۹۸*

۹۸۔ ۔ ۔ ۔ تو چاہئے کہ اپنے رب کی پاکی بیان کرو، اس کی حمد کے ساتھ اور سجدہ گزار بنو۔ ۹۹*

۹۹۔ ۔ ۔ ۔ اور اپنے رب کی عبادت۱۰۰* میں لگے رہو یہاں تک کہ وہ گھڑی آ جائے جس کا آنا یقینی ہے۔ ۱۰۱*

 

                   تفسیر

 

۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ یونس نوٹ ۱ نیز سورۂ بقرہ نوٹ ۱۔

۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد کتاب الٰہی ہے۔ قرآن کے کتاب ہونے کے مفہوم میں درج ذیل باتیں شامل ہیں :

اولاً یہ ایک مکمل کتاب ہے جس کی آیتوں اور سورتوں کی ترتیب اللہ کی طرف سہے کیونکہ کسی بھی کتاب کی ترتیب اس کا مصنف ہی قائم کرتا ہے اور اس کے منشا کے خلاف ترتیب قائم کرنے کا حق کسی کو نہیں ہوتا۔

ثانیاً یہ ضبط تحریر میں آنے والی کتاب ہے کیونکہ عربی میں کتاب کے معنیٰ لکھی ہوئی چیز کے ہیں :

ثالثاً یہ ایک مربوط کتاب ہے کیونکہ کوئی بھی اہم کتاب ایسی نہیں ہو سکتی جس کے اجزا باہم مربوط نہ ہوں۔

۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عربی میں قرآن کے لفظی معنیٰ پڑھنے کے ہیں۔ کتاب الٰہی کا یہ مصدری نام اپنے اس وصف کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ کتاب بار بار پڑھنے کے لائق اور بہ کثرت پڑی جانے والی ہے۔ نزولِ وحی کا آغاز اِقراء (پڑھ) سے ہوا تھا۔ اس مناسبت سے بھی اس کتاب کا نام قرآن موزون قرار پایا۔

رہی اس کی صفت مبین یعنی روشن ہونا تو اس کی تشریح سورۂ یوسف نوٹ ۲ میں گزر چکی۔

۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد موت کے گھڑی بھی ہے اور قیامت کی گھڑی بھی جب کافر دین حق سے اپنی محرومی پر پچھتائیں گے اور تمنا کریں گے کہ کاش وہ اسلام کو قبول کر کے مسلمان ہو گئے ہوتے۔

قرآن نے یہ بات دو ٹوک انداز میں لوگوں کے سامنے رکھ دی ہے تاکہ وہ مذاہب کے چکر سے نکل آئیں اور سیدھے سیدھے اسلام میں داخل ہو جائیں کہ آخرت میں نجات کی واحد راہ یہی ہے۔

۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قرآن جس حق کو پیش کر رہا ہے اس کو سننے اور ماننے کے لیے جو لوگ تیار نہیں ہیں ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو۔ کچھ دن یہ دنیا کی سرمستیوں میں مگن رہیں گے لیکن آنکھ بند ہوتے ہی انہیں معلوم ہو جائے گا کہ حقیقت کیا تھا۔

۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بات طے شدہ تھی کہ اس کو کس وقت تک مہلت دی جائے گی۔ مطلب یہ کہ اللہ کے کام ٹھیک ٹھیک منصوبہ کے مطابق ہوتے ہیں۔

۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی کوئی قوم اللہ کے مقررہ وقت سے پہلے نہ ہلاک ہو سکتی اور نہ اس کے بعد زندہ رہ سکتی ہے۔

۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ منکرین پیغمبر سے کہتے تھے کہ تمہارا یہ دعویٰ کہ خدا کی طرف سے تم پر نصیحت نازل ہوئی ہے سراسر دیوانگی ہے اور وحی کی جو کیفیت تم پر طاری ہوتی ہے وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک جنونی کیفیت ہے جس میں تم مبتلا ہو گئے ہو۔

منکرین کے اس الزام کو تاریخ نے غلط ثابت کر رکھایا کیونکہ آپ نہ صرف تاریخ ساز اور انقلابی شخصیت کی حیثیت سے ابھرے بلکہ ایک بہترین معلم اور بہترین کردار ساز انسان کی حیثیت سے آپ نے وہ نقوش چھوڑے کہ رہتی دنیا تک کے لیے آپ کی شخصیت ایک مثالی شخصیت بن گئی اور وہ کلام جس کو دیوانگی قرار دیا گیا تھا اعلیٰ درجہ کے حکیمانہ کلام کی حیثیت سے ہمارے سامنے موجود ہے۔ کیا یہ کارنامے کسی دیوانہ شخص کے ہو سکتے ہیں۔ ؟

۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ان کے اعتراض کا جواب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر فرشتوں کو تمہارے مطالبہ پر اتار جائے تو تمہاری آزمائش کہاں باقی رہے گی۔ فرشتوں کو تو اسی وقت اتار جاتا ہے جب کہ کسی قوم کی مہلت عمل ختم ہو گئی ہو اور اس کی قسمت کا فیصلہ چکا دینا ہو۔

۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قرآن کو جس سر تا سر یاد دہانی اور نصیحت ہے ہم ہی نے نازل کیا ہے۔ یہ نہ محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) کی تصنیف ہے اور نہ اس میں شیطان کا یا کسی اور کا کوئی دخل ہے

۰اور یہ جو فرمایا کہ “یقیناً ہم اس کی حفاظت کرنے والے ہیں” تو اس نے آئندہ کے لیے ضمانت دیدی کہ نہ قرآن کا کوئی حصہ ضائع ہو سکے گا اور نہ اس میں کسی قسم کی تحریف ہو سکے گی بلکہ یہ اپنے اصل الفاظ میں جوں کا توں باقی رہے گا تاکہ اس چشمہ صافی سے انسانیت فیضیاب ہوتی رہے۔

اور قرآن کی صداقت کا یہ واضح ثبوت ہے کہ آج قرآن لفظاً لفظاً اپنی اصل شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ نہ صرف امت کے حفاظ اسے نسلاً بعد نسلٍ سینہ بہ سینہ نقل کرتے رہے بلکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ سے یہ تحریری شکل میں بھی منتقل ہوتا رہا ہے۔ اس کا قدیم ترین نسخہ جو خلیفۂ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے اور جو مصحف عثمانی کہلاتا ہے آج بھی دنیا میں موجود ہے۔

۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جب وہ ہدایت قبول نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ گمراہی کی بات ان کے دلوں میں داخل کر دیتا ہے۔

۱۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی کافر قوموں کی ہلاکت کے واقعات گزر چکے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ کا دستور کیا ہے۔

۱۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کوئی ایسا معجزہ صادر فرماتا کہ آسمان کا دروازہ کھل جاتا اور یہ اس میں چڑھنے لگتے تب بھی یہ ایمان نہ لاتے بلکہ اس معجزہ کی توجیہ یہ کرتے کہ اس شخص نے ہماری نظریں جادو سے مار دی ہیں اس لیے آسمان میں جو دروازہ ہمیں دکھائی دے رہا ہے وہ محض ایک شعبدہ ہے اور اتنا ہی نہیں بلکہ اس شخص نے ہمارے حواس کو جادو سے اس طرح متاثر کر دیا ہے کہ ہم آسمان میں اپنے کو چڑھتا ہوا دیکھ رہے ہیں حالانکہ یہ سب دھوکا ہے۔

مقصود اس سے ان کافروں کی ہٹ دھرمی کو واضح کرتا ہے کہ ان کو اگر کوئی بڑے سے بڑا معجزہ دکھا دیا جائے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔

۱۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ برج سے مراد روشن ستاروں کی جھرمٹ (Constellation) ہیں جن کی خوشنمائی پر دیکھنے والے کو دعوت نظارہ دیتی ہے

مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ بروج نوٹ ۲۔

۱۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی شیطانوں کی رسائی آسمانوں تک نہیں ہے۔ وہ آسمان کے حدود میں داخل نہیں ہو سکتے اس لیے ان کے لیے نہ وہاں شر پھیلانے کا موقع ہے اور ن وہاں کی خبریں لانے کا۔

۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جن اور شیاطین نہایت لطیف وجود رکھنے والی مخلوق ہیں اور انہیں یہ قدرت حاصل ہے کہ آسمان کی طرف پرواز کر سکیں مگر آسمان کے حدود میں داخل ہونے سے انہیں روک دیا گیا ہے۔ نزول قرآن سے قبل وہ آسمان کے قریب پھٹکنے کی کوشش کرتے تھے تاکہ عالم بالا کی خبریں معلوم کر سکیں مگر اس میں انہیں کامیابی نہیں ہوتی تھی تاہم انہوں نے کاہنوں پر یہ اثر جما دیا تھا کہ وہ غیب کی خبریں لانے پر قادر ہیں اور اس بنا پر نزول قرآن سے پہلے کہانت کا سلسلہ بڑے پیمانے پر چل رہا تھا اور کاہن شیاطین کے زیر اثر عوام کو بے وقوف بنا کر خوب دکانداری کرتے اور ان کی گمراہی کا پورا سامان کرتے۔ اس کہانت کی بنیاد اگرچہ جھوٹ پر تھی لیکن چونکہ یہ غیب کی خبریں دینے کے مدعی تھے اس لیے ان کا کاروبار خوب چلتا تھا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے وحی الٰہی کی بنیاد پر غیب کی خبریں سنانا شروع کیں تو کافروں نے آپ پر کہانت کا الزام لگایا حالانکہ نبوت اور کہانت میں حق و باطل کا فرق بالکل نمایاں ہے۔ مزید اہتمام نزول قرآن کے سلسلہ میں یہ کیا گیا کہ اگر کوئی جن یا شیطان ٹوہ لگانے کی کوشش کرتا تو ایک دمکتا شعلہ ستاروں سے نکل کر اس کا تعاقب کرتا۔ اس اہتمام نے کہانت کے سلسلہ کو جو نبوت کے بالمقابل تھا ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا چنانچہ اب دنیا میں اس قسم کی کہانت کا وجود نہیں رہا جس قسم کی کہانت کا وجود نزولِ قرآن اور ختم نبوت سے پہلے تھا۔ اب اگر کہانت باقی ہے تو پامسٹری (Palmistry) اور جوتش (Astrology) کے قسم کی چیزیں ہیں اور یہ کاہن قسمت کا حال بتانے کے مدعی ہوتے ہیں۔

سورۂ جن میں جنوں کا اپنا بیان اس طرح نقل ہوا ہے :

وَاَنّا لَمَسْنَا السَّمآءَ فَوَجَدْنٰھَا مُلِئتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُھُبًا۔ وَ اَنَّا کُنَّا نَقْعُدُ مِنْھَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعٍ فَمَنْ یَّسْمتَمِع الْآنَ یَجِدْ لَہُ شِھَابًا رَصَدًا (سورۂ جن ۷ تا ۹) “اور ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو دیکھا کہ وہ سخت پہرہ داروں اور شہابوں سے بھر دیا گیا ہے۔ اور یہ کہ کچھ سن گن لینے کے لیے ہم اس کے بعض ٹھکانوں میں بیٹھ جایا کرتے تھے مگر اب جو سننے کی کوشش کرتا ہے وہ ایک شہاب کو اپنی گھات میں پاتا ہے۔ ”

جنوں کی یہ پرواز جب آسمان سے قریب کے خطہ تک ہوتی ہے تو ظاہر ہے ان پر شہاب بھی وہیں چھوڑے جاتے ہوں گے اور قرآن کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ یہ شہاب ستاروں سے چھوڑے جاتے ہیں :

وَلَقَدْ زَینَّا السَّمَآءَ الدُّنْیا بِمَصَابِیحَ وَ جَعَلْنٰھَارُجُوْمًا لِلشّیٰطِینِ۔ (الملک۔ ۵) “ہم نے آسمانِ دنیا کو چراغوں سے زینت دی اور ان کو شیطانوں کے لیے مار کا ذریعہ بنایا۔ ”

گویا وہ شہاب باری یا شعلہ باری جو جنوں اور شیطانوں کی پرواز آسمانوں کی طرف روک دیتی ہے کافی بلندی پر ستاروں کے خطوں میں ہوتی ہے اس لیے قرآن کے بیان کردہ شہاب سے وہ شہاب (Meteor) مراد لینا صحیح نہ ہو گا جو زمین سے پچاس ساٹھ میل کی بلندی پر روزانہ بڑی تعداد میں گرتے رہتے ہیں۔ کیونکہ یہ شہاب جب انسان کی چاند میں پرواز میں مانع نہیں ہوئے تو جنوں کی پرواز میں کس طرح مانع ہو سکتے ہیں اور جب انسان کی پرواز چاند تک ہو سکتی ہے تو جنوں کی پرواز اس سے آگے کیسے نہیں ہو گی؟

۱۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس بیان سے یہاں یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ جس طرح اللہ کی قدرت، اس کی حکمت اور اس کی ربوبیت کی نشانیاں آسمان میں پھیلی ہوئی ہیں اسی طرح اس کی یہ نشانیاں زمین میں بھی ہوئی ہیں۔

زمین سے طرح طرح کی چیزیں پیدا ہوتی ہیں مگر مناسب مقدار میں۔ اگر غلہ ہی غلہ پیدا ہوتا تو انسان پھلوں سے محروم ہوتا اور اگر پھل ہی پھل پیدا ہوتے تو انسان غلہ کے لیے ترستا لیکن یہ انسان کے خالق ہی کی کا فرمائی ہے کہ اس نے جو ذوق انسان کو عطاء فرمایا ہے اس کی مناسبت سے چیزیں پیدا کر دیں اور اس مقدار میں پیدا کر دیں جو اس کی فطرت کو مطلوب تھیں۔ اللہ کی ربوبیت اور حکمت کی یہ کتنی واضح نشانی ہے۔

۱۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زمین میں چلنے والے بے شمار جانور اور ہوا میں اڑنے والے لا تعداد پرندے ایسے ہیں جن کی روزی کا انسان کوئی سامان نہیں کرتا بلکہ ان کا رب براہ راست ان کو روزی پہنچاتا ہے۔ معیشت کے اس ہمہ گیر نظام کو دیکھتے ہوئے اللہ کی ربوبیت میں کیا ادنیٰ شک کے لیے بھی گنجائش رہتی ہے۔

۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جس وقت زمین پر انسانی آبادی بالکل محدود تھی اس وقت زمین کی پیداوار بھی نہایت محدود تھی لیکن آج جبکہ آبادی اربوں انسانوں تک پہنچ گئی ہے زمین کی پیداوار میں بھی بہ کثرت اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ کے پاس ہر چیز کے خزانے ہیں اور وہ ایک منصوبہ کے مطابق اس کو پیدا فرماتا رہتا ہے۔ انسان کی اتنی بڑی تعداد ہوا، پانی، غلہ اور پھل وغیرہ کو جس مقدار میں استعمال کر رہی ہے وہ بے حد و حساب ہے لیکن اس سے اللہ کے خزانوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔

۲۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ تعالیٰ ہواؤں کو چلاتا ہے جو بادلوں سے بار آور ہوتی ہیں۔ پھر ان بادلوں سے پانی برستا ہے جس سے لوگ سیراب ہوتے ہیں۔ بارش کے انتظام نے انسان کے لیے پانی کی فراہمی کس قدر آسان کر دی ورنہ انسان کے بس میں نہ تھا کہ پانی کے ایسے ذخیرے جمع کر رکھے جو عمر بھر اس کے کام آ سکیں۔

۲۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انسان جب دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو اپنا مال دنیا ہی میں چھوڑ کر چلاتا ہے گو اس کے اقربا اس کے وارث ہوتے ہیں لیکن مجازی طور پر کیونکہ ان کا وارث ہونا اللہ کی مشیت پر موقوف ہوتا ہے اس لیے حقیقتہً اللہ ہی اس مال کا وارث ہوتا ہے۔ اور اس سے زیادہ واضح حقیقت یہ ہے کہ جب قیامت کا بگل بجے گا اور تمام انسان اس دنیا سے رخصت ہو جائیں گے تو بنی نوع انسان کی ساری املاک اور تمام اثاثہ اللہ ہی کے قبضہ میں جائے گا۔ لہٰذا اللہ ہی سب کا وارث یعنی مالک ہے۔

۲۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اللہ کے لیے یہ کچھ مشکل نہیں ہے کہ قیامت تک پیدا ہونے والے انسانوں کا حساب چکائے اس لیے کہ جو لوگ مر چکے وہ بھی اللہ کے علم میں ہیں اور بعد میں آنے والوں کو بھی وہ جانتا ہے۔ کوئی فرد خواہ ماضی کا ہو یا حال اور مستقبل کا اس کا علم سب کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور اس سے ہرگز کوئی بھول چوک نہیں ہوتی۔

۲۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اس کی صفت حکمت کا تقاضا ہے کہ ایک دن سب کو اپنے حضور جمع کرے اور جب وہ علیم ہے تو ممکن نہیں کہ وہ انسان کے اعمال سے بے خبر ہو۔

۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انسان کا آغاز اس زمین پر کس طرح ہوا؟ یہ نہایت ہی اہم سوال ہے جس کا تعلق نہ صرف تاریخی واقعات سے ہے بلکہ اس کے اپنے وجود کی حقیقت سے بھی ہے اور انسان کے لیے اپنے وجود کی حقیقت سے باخبر ہونا ضروری ہے تاکہ وہ پوری روشنی میں زندگی کا سفر طے کر سکے۔ قرآن نے اس سوال کا یہاں اور دوسرے مقامات پر واضح جواب دیا ہے۔ اس آیت میں انسان کی تخلیق کے بارے میں جو بات ارشاد ہوئی ہے اس سے درج ذیل حقیقتیں واضح ہوتی ہیں۔

اولاً انسان اتفاقی حادثہ کے طور پر خود بخود وجود میں نہیں آیا بلکہ خالق کائنات نے اپنے حکیمانہ منصوبہ کے مطابق اس کو پیدا فرمایا ہے۔

ثانیاً انسان کی پیدائش مٹی سے ہوئی ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ سڑی ہوئی مٹی سے انسان کا قالب بنایا گیا ہے۔ پھر جب وہ سوکھ کر کھنکھناتی مٹی کا پتلا بن گیا تو اس میں جان ڈال دی گئی۔

ثالثاً سڑی ہوئی مٹی سے ایک بہترین مخلوق کی تخلیق خالق کے کمالِ قدرت کی نشانی اور اس کی کرشمہ سازی کی دلیل ہے۔ وہ چاہے تو ذرہ کو آفتاب بنائے۔ رابعاً انسان کی پیدائش جب سڑی ہوئی مٹی جیسی حقیر چیز سے ہوئی ہے تو اس کو غرور اور تکبر زیب نہیں دیتا۔ اس کا مقام خدا کے سامنے بندگی اور فروتنی کا ہے اس لیے کہ وہ مخلوق ہے نہ کہ خالق اور بندہ ہے نہ کہ خدا۔

یہ حقائق ڈارون کے اس نظریے کی تردید کرتے ہیں کہ انسان بندر سے بنا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اس نظریہ کی تائید میں کوئی علمی ثبوت موجود نہیں ہے بلکہ یہ محض قیاسی بات ہے اور خالق کے بیان کی موجودگی میں مخلوق کا خواہ وہ کتنا ہی بڑا مفکر کیوں نہ ہو قیاس آرائی سے کام لینا باطل اور حد درجہ کی گمراہی ہے۔ جب انسان کے خالق نے واضح طور سے بتا دیا کہ انسان کو اس نے مٹی سے پیدا کیا ہے تو اس کو اہمیت نہ دینا اور ایک فلسفی کی اس رائے سے کہ انسان کی تخلیق بندر سے ہوئی ہے مرعوب ہونا صریح احمقانہ بات ہے جو بندر ہی کو زیب دیتی ہے انسان کو نہیں۔

واضح رہے کہ تورات میں بھی یہ حقیقت بیان ہوئی ہے کہ انسان کی تخلیق مٹی سے ہوئی ہے :

“اور خداوند نے زمین کی مٹی سے انسان کو بنایا اور اس کے نتھنوں میں زندگی کا دم پھونکا تو انسان جیتی جان ہوا۔ ” (پیدائش ۲:۷)

انسان کی تخلیق کے بارے میں تورات کا بیان قرآن کے بیان سے ہم آہنگ ہے البتہ قرآن نے مزید وضاحت کر دی کہ مٹی کس قسم کی تھی اور اس کو کس طرح انسان کی شکل میں ڈھالا گیا۔

۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جس طرح اوپر کی آیت میں “الانسان” سے مراد پہلا انسان ہے جس کو مٹی سے پیدا کیا گیا اور پھر اس سے انسانوں کا سلسلہ چلا اسی طرح اس آیت میں “الجان” سے مراد پہلا جن ہے جس کو آگ کی لُو سے پیدا کیا گیا اور پر اس سے جنات کا سلسلہ چلا۔ جن کے لفظی معنی ہیں مستور یعنی چھپی ہوئی مخلوق۔ چونکہ جن عنصر لطیف سے پیدا کئے گئے ہیں اس لیے وہ دکھائی نہیں دیتے مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی اس مخلوق کی خبر ہمیں دیکر نہ صرف یہ کہ ہمارے علم میں اضافہ کیا ہے بلکہ ہمیں اپنے چھپے دشمن۔ ابلیس سے بھی آگاہ کر دیا ہے جس کا تعلق گروہ جن سے ہے۔

جنوں کا انکار محض اس بنا پر کرنا کہ وہ ہمیں دکھائی نہیں دیتے صحیح نہیں جبکہ ان کے وجود کی خبر ہمیں ان کا اور ہمارا خالق دے رہا ہے۔ دنیا میں کتنی چیزیں ایسی ہیں جن کی انسان کو خوردبین اور دوربین کی ایجاد سے پہلے خبر نہ تھی مثلاً وہ نہیں جانتا تھا کہ جراثیم بھی کوئی مخلوق ہے جو انسان کے جسم میں سرایت کر کے اس کی بیماری کا سبب بنتے ہیں۔

واضح رہے کہ جنوں کی تخلیق کے بارے میں کوئی صراحت تورات میں نہیں ہے بلکہ قرآن نے اس کی صراحت کر کے انسان کے علم میں اضافہ کیا ہے۔ اس سے مخالفین کے اس الزام کی بھی تردید ہوتی ہے کہ قرآن تورات کا چربہ ہے۔

۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اس کو انسانی شکل میں ڈھال لوں اور اس کی تخلیق مکمل کر لوں۔

۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس آیت میں انسان کے وجود کے تعلق سے نہایت اہم حقیقت بیان ہوئی ہے اور وہ یہ کہ انسان کا وجود محض مادی نہیں ہے بلکہ مادہ اور روح سے مرکب ہے۔ یہ روح ایک جوہر لطیف ہے جو علم، عقل، گویائی اور خیر و شر میں تمیز کی قوت جیسی صفات کی حامل ہے اور اسی خصوصیت کی بنا پر وہ ایک بہترین اور اشرف مخلوق قرار پایا ہے۔ یہ گویا اندر کا انسان ہے جو دیکھتا، سنتا بولتا اور ادراک کرتا ہے۔ آنکھ، کان، زبان اور دماغ کی حیثیت محض آلات اور ذرائع کی ہے اور جب تک انسان اپنی اس حقیقت سے آگاہ نہیں ہوتا اپنے مقصد وجود کو پا نہیں سکتا۔ مادہ پرست جن کی نظر میں انسان گوشت پوست سے زیادہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا انسان کو اس کے مقام کو گرا دیتے ہیں پھر وہ محض معاشی حیوان بنکر رہ جاتا ہے۔

واضح رہے کہ آیت میں یہ جو فرمایا گیا کہ “اس میں روح پھونک دوں” تو اس میں روح کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف اس کے شرف کو واضح کرنے کے لیے ہے۔ اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ الوہیت (خدائی) کا کوئی جزء انسان کے اندر حلول کر گیا ہے۔ اللہ اس سے پاک اور بلند ہے کہ کوئی چیز اس سے خارج ہو یا اس کا کوئی جزء کسی میں منتقل ہو۔ وہ یکتا ہے جس کا نہ کوئی جزء ہو سکتا ہے اور نہ کوئی چیز اس کے مشابہ ہو سکتی ہے۔ (ملاحظہ ہو سورۂ اخلاص)۔ قرآن میں جس طرح خانۂ کعبہ (بیت اللہ) کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف اس کے رف کی وجہ سے کی گئی ہے اور یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس گھر میں بند ہے اسی طرح یہاں روح کی نسبت اللہ کی طرف اس کے فضل و شرف کی بنا پر کی گئی ہے۔ کسی آیت کا صحیح مطلب سمجھنے کے لیے محل کلام کو بھی ملحوظ رکھنا ضروری ہے اور ان بنیادی حقائق اور تعلیمات کو بھی جن کو قرآن نے وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے۔

۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی تشریح سورۂ بقرہ نوٹ ۴۷ میں گزر چکی۔

۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی تشریح سورۂ بقرہ نوٹ ۴۸ میں گزر چکی۔

۳۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس موقع پر سورۂ اعراف نوٹ ۱۶ پیش نظر رہے۔

۳۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ملاحظہ ہو سورۂ اعراف نوٹ ۱۷۔

۳۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قیامت تک تو خیر اور رحمت سے محروم ہے اور قیامت کا دن تو فیصلہ اور بدلہ کا دن ہو گا۔

۳۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی تشریح سورۂ اعراف نوٹ۱۸ میں گزر چکی۔

۳۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قیامت تک۔

۳۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی تشریح سورۂ اعراف نوٹ۱۹ میں گزر چکی۔

۳۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی دنیا کو ان کی نظر میں ایسا دلفریب بنا کر پیش کروں گا کہ وہ خدا اور آخرت کو بھول جائیں گے اور انہیں ایسے سبز باغ دکھاؤں گا کہ وہ میرے پیچھے چل پڑیں گے۔

۳۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی میرا جادو تیرے ان بندوں پر نہیں چل سکے گا جن کو تو نے اپنے لیے خالص کر لیا ہو۔ اللہ کے کسی بندہ کو خالص کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی توفیق سے وہ صرف اللہ کا بندہ بنکر رہا ہو اور اللہ کی توفیق ان ہی کو نصیب ہوتی ہے جو اپنے کو اس کا مستحق بناتے ہیں۔

۳۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “یہ سیدھی راہ” سے مراد اللہ کے مخصوص اور مقبول بندوں کی راہ ہے جیسا کہ اس سے پہلی اور اس کی بعد والی آیت سے واضح ہے اور سورۂ فاتحہ میں اسی کو صِرَاطَ الّذِیْنَ اَنْعَمْت عَلَیْہِمْ (ان کی راہ جن پر تو نے انعام فرمایا) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ توحید اور اللہ کی عبادت و اطاعت کی راہ ہے جس کا نام اسلام ہے۔

اس راہ کے اللہ تک پہنچنے کا مطلب یہ ہے کہ اس پر چل کر آدمی اللہ کو پا لیتا ہے اور دوسری کوئی راہ نہیں ہے جس پر چل کر آدمی اللہ کو پا سکے۔

۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جو میرے بندے بنکر رہیں گے ان کو تو زبردستی اپنی راہ پر چلا نہیں سکتا۔

واضح ہوا کہ شیطان کا کام برائی کی صرف ترغیب دینا ہے۔ اگر آدمی نیک بننا چاہتا ہو تو شیطان اسے زبردستی برائی کی راہ پر ڈال نہیں سکتا۔

۴۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی تیرے فریب کا شکار وہی لوگ ہوں گے جو بہک گئے ہوں یعنی جنہوں نے اپنے کو خواہشات کے حوالہ کر دیا ہو اور تیری پیروی اختیار کی ہو۔

غَویٰ (بہکنا) کا مطلب خواہشات کی اتباع کرنا اور جہالت میں مبتلا ہونا ہے جس کا دوسرا نام گمراہی ہے۔

۴۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گمراہیاں اور معصیتیں مختلف قسم کی ہوتی ہیں مثلاً الحاد شرک، نفاق، قتل، زنا وغیرہ اس لیے سزائیں بھی مختلف قسم کی ہوں گی۔ آیت کا اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ جہنم کے سات دروازے سزا کی نوعیت کے لحاظ سے ہیں۔ قیامت کے دن مجرمین کی گمراہیوں اور گناہوں کو دیکھتے ہوئے ان کی گروہ بندی کی جائے گی اور جو گروہ جس قسم کی سزا کا مستحق ہو گا اس سے مناسبت رکھنے والے دروازے سے اس کا داخلہ جہنم میں ہو گا۔

۴۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اوپر کی آیات سے واضح ہے کہ یہاں متقیوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہوئے شیطان کی پیروی سے باز رہیں گے اور اللہ کی بندگی و اطاعت کی راہ اختیار کریں گے۔

۴۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قیامت کے دن متقیوں سے کہا جائے گا کہ جنت کے باغوں میں جن میں چشمے جاری ہوں گے داخل ہو جاؤ۔

“سلامتی کے ساتھ” یعنی ہر طرح کی آفتوں سے محفوظ اور “بے خوف ہو کر” یعنی مستقبل کی طرف سے مطمئن ہو کر کہ یہ نعمتیں تم سے کبھی چھین لی جانے والی نہیں ہیں بلکہ ہمیشہ تم امن و چین کے ساتھ رہو گے۔

۴۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ان کے دلوں کو صاف اور مصفی ّ کر دیا ہو گا۔ جنت کے ماحول میں کسی کے خلاف کینہ، بغض، حسد جیسی کوئی چیز ان کے دلوں میں نہیں ہو گی۔ دنیا میں آپس کی جو رنجشیں رہی ہوں گی ان سے ان کے دل بالکل پاک کر دیئے گئے ہوں گے اس لیے وہ محبت اور خلوص کے جذبات کے ساتھ ایک دوسرے سے اس طرح ملیں گے کہ گویا شیر و شکر ہو گئے ہیں۔

۴۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جنت کی زندگی دنیا کی زندگی سے بالکل مختلف ہو گی۔ وہاں نہ کسی مشقت سے پالا پڑے گا اور نہ تکان لاحق ہو گی۔ اور نہ ہی اکتاہٹ محسوس ہو گی۔

حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ینَادِیْ مُنَادٍ اِنَّ لَکُمْ اَنْ تَصِحُّوْا فَلا تَسْقَمُوْا اَبَدًا وَاِنَّ لَکُمْ ان تَحْیوْا فلا تمُوتُوا اَبدًا انّ لَکُمْ اَنْ تَشَبُّوْا فَلاَ تَہْرَمُوا اَبدًا وَاِنَّ لَکُمْ اَنْ تَنْعِمُوْا فَلاَ تَباْسُوا اَبَدًا۔ (مسلم کتاب احوال القیامۃ) “ایک پکارنے والا پکارے گا کہ اب تم تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے اور زندہ رہو گے کبھی تمہیں موت نہ آئے گی اور جو ان رہو گے کبھی تمہیں بڑھاپا نہ آئے گا اور عیش میں رہو گے کبھی تمہیں تکلیف نہ ہو گی۔ ”

۴۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خطاب نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ہے۔

۴۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی میرے بندے جہاں میری مغفرت اور رحمت کو یاد رکھیں وہاں یہ بات بھی نہ بھولیں کہ میرا عذاب بڑا دردناک ہوتا ہے۔ ان دونوں باتوں کو یاد رکھنے کے نتیجہ ہی میں امید اور خوف کے ساتھ زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ بخلاف اس کے جو لوگ اللہ کے عذاب کو نظر انداز کر دیتے ہیں وہ گناہ پر گناہ کئے چلے جاتے ہیں اور موہوم آرزوؤں پر تکیہ کرتے ہیں۔

۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ واقعہ سورۂ ہود آیت ۶۹ تا ۷۶ میں بیان ہوا ہے۔ اس موقع پر مذکورہ آیات اور ان کے تشریح نوٹ پیش نظر رہیں۔

۵۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ فرشتے تھے جو انسانی شکل میں ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے تھے۔

۵۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی تشریح سورۂ ہود نوٹ ۹۷ میں گزر چکی۔

۵۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی تشریح سورۂ ہود نوٹ ۹۹ میں گزر چکی۔

۵۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ حضرت اسحاق کے پیدا ہونے کی تھی اور مزید بشارت اس بات کی تھی کہ لڑکا ذی علم ہو گا۔ یہ گویا اشارہ تھا اس بات کی طرف کہ یہ لڑکا علم نبوت سے سر فراز ہو گا۔ مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ ہود نوٹ ۱۰۱۔

۵۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چونکہ ابراہیم علیہ السلام اس وقت بڑھاپے کی عمر کو پہنچ چکے تھے انہیں بچہ کی ولادت کی بشارت سن کر تعجب ہوا۔

۵۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ واضح ہوا کہ اللہ کی رحمت سے مایوسی گمراہی ہے۔ ایک مومن اللہ سے ہمیشہ رحمت کا امیدوار ہوتا ہے اور اس کے الطاف و عنایات سے کبھی مایوس نہیں ہوتا۔

۵۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرشتوں کا اس طرح انسانی شکل میں آنا کسی آزمائش اور کسی غیر معمولی مقصد ہی کے لیے ہو سکتا تھا اس لیے ابراہیم علیہ السلام نے یہ سوال کیا کہ وہ اہم کام کیا ہے جس کے لیے آپ بھیجے گئے ہیں۔

۵۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قوم لوط کی طرف ہم بھیجے گئے ہیں جو ایک مجرم قوم ہے۔ اس کا مخصوص جرم مردوں کا مردوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنا تھا۔

سورۂ اعتراف آیت ۸۰ تا ۸۴ میں لوط کی سرگزشت مختصراً بیان ہوئی ہے۔ نیز سورۂ ہود آیت ۷۷ تا ۸۳ میں بھی یہ واقعہ بیان ہوا ہے۔ اس موقع پر مذکورہ آیات اور ان کے تشریح نوٹ پیش نظر رہیں۔

۵۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی لوط کے گھر والے ایمان لائے ہیں اور وہ مجرم نہیں ہیں اس لیے ان کو اس عذاب سے بچا لیا جائے گا جو لوط کی قوم پر نازل ہونے والا ہے۔

۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ اعراف نوٹ ۱۳۲  نیز سورۂ ہود نوٹ ۱۱۷۔

۶۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ فرشتوں کا اپنا قول نہیں بلکہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کا قول ہے جو فرشتوں کی زبان سے ادا ہوا ہے چنانچہ سورۂ نمل آیت ۵۷ میں یہی بات اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے طور پر بیان ہوئی ہے : فَاَنْجَیْنٰہُ وَاَھْلَہُ الّا امْرَ اَتَہٗ قَدَّرْنٰھَا مِنَ الْغَابِرینَ۔ “ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو بچایا سوائے اس کی بیوی کے کہ ہم نے ٹھہرا دیا تھا کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہو گی۔ ”

۶۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ ہود نوٹ ۱۱۷۔

۶۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرشتے لوط کے پاس انسانی شکل میں آئے تھے اور قرآن کے اشارات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خوبرو لڑکوں کی شکل میں تھے اس لیے لوط علیہ السلام نے محسوس کیا کہ یہ اجنبی لوگ ہیں جو کسی دوسرے علاقہ سے یہاں آئے ہیں اور میرے گھر مہمان رہنا چاہتے ہیں۔ چونکہ قوم کی آزمائش مطلوب تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اس روپ میں بھیجا تھا اور اس مصلحت کے پیش نظر فرشتوں نے ابتدا میں اپنا فرشتہ ہونا لوط پر ظاہر نہیں کیا البتہ بعد میں موقع کی مناسبت سے انہوں نے اپنا فرشتہ ہونا لوط پر ظاہر کر دیا۔

۶۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب لیکر آئے ہیں جس کے آنے کے بارے میں یہ لوگ شک کر رہے تھے۔ یہ بات فرشتوں نے لوط کو اس وقت بتائی جبکہ شہر کے لوگوں نے ان کے گھر کو گھیر لیا تھا جیسا کہ دوسرے موقع پر بیان ہوا ہے۔

۶۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پیچھے پیچھے چلنے کا حکم اس لیے دیا گیا کہ پیچھے سے نگرانی رہے کہ کوئی شخص اپنے گھر کی طرف لوٹنے نہ پائے اور نہ پیچھے مڑ کر دیکھے نیز اس میں اہل ایمان کے لیے اطاعت فرمانبرداری اور توکل کا امتحان تھا کہ وہ اپنے پیغمبر کو اپنے سامنے نہ دیکھتے ہوئے بھی اس راہ پر چلتے ہیں یا نہیں جس پر چلنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا۔

۶۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی تشریح سورۂ ہود نوٹ ۱۱۶ میں گزر چکی۔

۶۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ان کو بالکل تباہ کر دیا جائے گا۔

۶۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی شہر کے لوگ خوبرو مہمانوں کو دیکھ کر برے ارادہ سے لوط کے گھر پہنچ گئے۔ انہیں اس بات کی خوشی تھی کہ شکار ہاتھ آنے والا ہے۔

۶۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس وقت تک فرشتوں نے لوط علیہ السلام پر یہ ظاہر نہیں کیا تھا کہ وہ فرشتے ہیں۔ اوپر آیت ۶۳ تا ۶۵ میں فرشتوں کا جو بیان نقل ہوا ہے وہ اس وقت کی بات ہے جبکہ شہر کے لوگوں نے لوط علیہ السلام کے گھر کو گھیر لیا تھا اور وہ اپنے مہمانوں کی عزت کو خطرہ میں پا کر سخت پریشان ہو رہے تھے۔

۶۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی میرے مہمانوں کو اگر تم نے اغوا کر لیا تو میرے لیے یہ بڑی شرم کی بات ہو گی۔

۷۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ہم نے تو باہر کے کسی آدمی کو پناہ دینے سے آپ کو منع کیا تھا پھر ان مسافروں کو آپ نے اپنے گھر کیوں ٹھہرایا؟ اس سے قوم لوط کی غنڈہ گردی کا اندازہ ہوتا ہے یہ لوگ اس بات کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے کہ کسی شریف آدمی کو جو باہر سے ان کے ملک میں آیا ہو انسانیت کا کوئی بہی خواہ اپنا مہمان بنا لے۔

۷۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اگر اپنی شہوت کو جائز طریقہ سے پورا کرنا چاہتے ہو تو تمہارے گھروں میں تمہاری بیویاں موجود ہیں پھر ایک فطری اور جائز طریقہ کو چھوڑ کر غیر فطری اور حرام طریقہ کو اختیار کرنے کا کیا مطلب ؟ اسی بات کی طرف لوط علیہ السلام نے نہایت پر وقار اور شائستہ انداز میں لوگوں کو متوجہ کیا یہی وجہ ہے کہ انہوں نے قوم کی عورتوں کے بارے میں کہا کہ یہ میری بیٹیاں ہیں۔ مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ ہود نوٹ ۱۱۰۔

۷۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس موقع پر جب کہ لوط کی آخری نصیحت بھی ان کی قوم پر اثر انداز نہ ہو سکی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ تمہاری زندگی اس بات پر شاہد ہے کہ تم نے اپنی قوم کی اصلاح میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی لیکن یہ قوم ایسی نا ہنجار ہے کہ کوئی نصیحت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور ان لوگوں پر شہوت کا نشہ ایسا چڑھ گیا ہے کہ ان کی عقل ماری گئی ہے اور وہ بالکل اندھے بنکر رہ گئے ہیں۔ اب ان کے لیے عذاب مقدر ہے۔

واضح رہے کہ ایسے موقع پر قسم عربی میں شہادت (گواہی) کے معنیٰ میں ہوتی ہے اور یہ بلاغت کا ایک اسلوب ہے۔

۷۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی تشریح سورۂ ہود نوٹ ۱۱۹ میں گزر چکی۔

۷۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ ہود نوٹ ۱۴۷ اور۱۴۸۔

۷۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سدوم اور عمورہ کا علاقہ جہاں قوم لوط آباد تھی حجاز اور شام کے درمیان واقع ہے اور اس شاہراہ عام پر پڑتا تھا جس پر سے تجارتی قافلے گزرتے تھے۔

۷۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نشانی اس بات کی کہ بالآخر اللہ کی رحمت اہل ایمان ہی کے حصہ میں آتی ہے اور حقیقی عزت و سرفرازی ان ہی کو نصیب ہوتی ہے۔

۷۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “اَیکہ” گھنے درختوں کو کہتے ہیں۔ مدین کے قریب کا علاقہ گھنے درختوں سے پُر تھا جس میں قوم شعیب آباد تھی اس لیے اس قوم کو اصحاب الاَیْکہ کہا گیا۔ قوم شعیب کی سرگزشت سورۂ اعتراف اور سورۂ ہود میں گزر چکی تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ اعراف۔ نوٹ ۱۳۴ تا ۱۴۹ اور سورۂ ہود تا ۱۴۹ ۱۲۲ تا ۱۴۰

۷۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جو شاہراہ حجاز سے شام اور فلسطین کو جاتی ہے اس پر اصحاب اَیکہ اور قوم لوط کی اجڑی ہوئی بستیاں پڑتی ہیں۔ ان کے آثار اس شاہراہ سے گزرنے والوں کو عبرت حاصل کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔

جہاں تک قوم شعیب کا تعلق ہے اس کے آثار تو اب بھی موجود ہیں لیکن لوط کی بستیاں۔ سدوم اور عمورہ۔ جس علاقہ میں تھیں وہ سمندر میں تبدیل ہو چکا ہے جسے بحر مردار کہتے ہیں (Dead Sea) کہتے ہیں۔ یہ سطح سمندر سے چار سو میٹر نیچے ہے جو بظاہر زلزلہ ہی کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔ اس کے کنارہ پر چند سال قبل کچھ آثار کا انکشاف ہوا تھا۔ (ملاحظہ ہو قصص الانبیاء۔ عبدالوہاب نجار ص۱۱۳)

۷۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حِجرْ ایک وادی کا نام ہے جو مدینہ کے شمال میں تبوک کو جاتے ہوئے راستہ میں پڑتی ہے۔ یہاں قوم ثمود آباد تھی اور اس کا مرکزی مقام مدائن صالح تھا۔ اس کی تباہی کے آثار اب بھی موجود ہیں۔ غزوۂ تبوک کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا گزر ان آثار پر سے ہوا تھا۔ اس موقع پر آپ نے اپنے اصحاب کو ہدایت فرمائی تھی کہ یہاں سے روتے ہوئے گزر جائیں۔ (بخاری کتاب التفسیر)

۸۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ صالح علیہ السلام کی دعوت وہی تھی جو دوسرے رسولوں کی تھی اس لیے ان کو جھٹلانا تمام رسولوں کو جھٹلانے کے ہم معنی تھا۔

۸۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ثمود کی سرگزشت سورۂ اعتراف اور سورۂ ہود میں گزر چکی تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ اعراف نوٹ ۱۱۵ تا ۱۲۶ اور سورۂ ہود نوٹ ۸۶ تا ۹۵۔

۸۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اپنی زندگی کے قیمتی لمحات کو وہ شاندار عمارتیں تعمیر کرنے اور چین کی بانسری بجانے میں صرف کر رہے تھے۔ انہوں نے دنیا کو مقصود بنا لیا تھا اور خدا کے حضور جواب دہی کا کوئی خیال نہیں تھا۔

۸۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ اعراف نوٹ ۱۲۳۔

۸۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اپنی حفاظت کے لیے جو مضبوط مکان انہوں نے بنائے تھے وہ ان کی کچھ حفاظت نہ کر سکے اور ان کی ساری دولت، تمام کارنامے اور ان کا پورا تمدن ملیامیٹ ہو کر رہ گیا۔

۸۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی تشریح سورۂ انعام نوٹ ۱۲۴ میں گزر چکی۔

۸۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جب قیامت آنے والی ہے اور سب کو اپنے اعمال کی جوابدہی کرنا ہے تو اے نبی یہ مخالفین تمہارے خلاف جو بے ہودہ باتیں کر رہے ہیں اس سے تمہیں دلگیر ہونے کی ضرورت نہیں۔ وہ اپنا انجام دیکھ لیں گے۔ تم ان سے درگزر کرو اور یہ درگزر خوبصورتی کے ساتھ ہو یعنی اخلاقی خوبی کے ساتھ۔

۸۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ کی ان دو صفتوں کے ذکر سے مقصود قیامت سے متعلق منکرین کے اعتراض کو رد کرنا اور یہ ثابت کرنا ہے کہ قیامت کا وقوع ہرگز نا ممکن نہیں۔ یہ کائنات اللہ کی اس صفت کا مظہر ہے کہ وہ زبردست تخلیقی قوت رکھتا ہے اس لیے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا اور عالم آخرت کو برپا کرنا اس کے لیے ہرگز مشکل نہیں۔ پھر جو خالق ہو وہ اپنی مخلوق سے بے خبر کس طرح ہو سکتا ہے۔ اس لیے یہ بات کہ خدا خالق بھی ہے اور علیم (علم والا) بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے۔ اور جب وہ علیم ہے تو اس کے لیے یہ کچھ مشکل نہیں کہ اربوں اور کھربوں افراد کا قیامت کے دن حساب لے۔

۸۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سبعًا مِنَ المثانی کے معنی ہیں “سات دہرائی جانے والی آیتیں” عربی کی قدیم اور مستند لغت صحاح جوہری میں مثانی کے معنیٰ دہرائے جانے والی کے بیان کئے گئے ہیں : وَتُسَمَّی فاتحۃُ الکتابِ مثانیِ لِاَنَّھا تُثَنّی فِی کُلِّ رکعۃٍ (الصاح ص ۲۲۹۶) “فاتحۃ الکتاب کو مثانی کہا جاتا ہے کیونکہ اسے ہر رکعت میں دہرایا جاتا ہے۔ ”  اور صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ اس سے مراد سورۂ فاتحہ ہے : عن ابی ہریرۃ رضی اللّٰہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم: اُمّ القرآن ہی السبع المثانی والقرآن  العظیمُ (بخاری کتاب التفسیر) ” ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ” ام القرآن ہی سبع مثانی ہے اور قرآن عظیم بھی۔ ”

سورۂ فاتحہ سات آیتوں پر مشتمل ہے اور نماز کا نہایت مہتم بالشان جزء ہے چنانچہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ لازماً پڑھی جاتی ہے۔ سبعاً مِن المثانی چند لفظوں میں سورۂ فاتحہ کا وہ تعارف ہے جو اس کی کثرتِ قرأت کے پہلو کو پیش کرنے کے علاوہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس میں معانی اور روحانی دولت کے سات سمندر پنہاں ہیں۔ پھر لعل و گہر والی اس افتتاحی سورہ کے ساتھ قرآن کا بیش بہا خزانہ بھی عطا کیا گیا ہے اس روحانی دولت کے مقابلہ میں اس مادی دولت کی کیا حقیقت ہے جو نا خدا شناس لوگوں کے حصہ میں آئی ہے اور جس کے ساتھ ہزاروں آزمائشیں لگی ہوئی ہیں ؟

۸۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آیت میں اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو خطاب کر کے یہ ہدایت دی گئی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں قرآن کی دولت سے مالا مال کر دیا ہے تو اس دولت ذ دنیا پر نگاہِ غلط بھی نہ ڈالو جو دنیا پرستوں کو عطا ہوئی ہے لیکن بالواسطہ یہ ہدایت ہر اس شخص کے لیے ہے جس نے قرآن کی نعمت کو پائی ہے۔

۹۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یہ دولت کے پجاری جب اسی میں مگن رہنا چاہتے ہیں اور اس نعمت کی قدر کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں جو قرآن کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے نازل کی ہے تو ان کے حال پر افسوس کرنے سے کیا فائدہ۔ وہ اسی لائق ہیں کہ اس عظیم نعمت سے محروم رہیں۔

۹۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ان لوگوں کی قدر کرو جو دولت دنیا سے خواہ محروم ہوں لیکن جنہوں نے دولتِ ایمان پائی ہے۔ ایسے ہی لوگ تمہاری رحمت و شفقت کے مستحق ہیں۔

۹۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ یہود کی طرف ہے جنہوں اللہ کی کتاب کے حصہ بخرے کر دیئے تھے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کوئی پہلی کتاب نہیں ہے جو تمہاری طرف بھیجی گئی ہو بلکہ اس سے پہلے بھی کتابیں بھیجی جاتی رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح نسل ابراہیمی کی ایک شاخ بنی اسرائیل پر کتاب نازل کی تھی اسی طرح اس نے اس کی دوسری شاخ بنی اسمٰعیل پر کتاب نازل کی ہے۔ اور چونکہ بنی اسرائیل نے دین کو اپنی اصل شکل میں باقی نہیں رکھا اس لیے قرآن کا نزول ضروری ہوا تاکہ لوگوں پر اللہ کا اصل دین واضح ہو اور اس کی تعلیمات صحیح شکل میں سامنے آئیں۔

۹۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے قرآن سے مراد یہود کی اپنی کتاب توراۃ ہے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کی اس کتاب میں رد و بدل کیا۔ اس کی ترتیب بدل دی ، اس کے معنیٰ بدل دیئے ، اس میں اپنی تشریحات ملا دیں ، اس کے ایک حصہ کو اس طرح چھپاتے رہے کہ وہ رفتہ رفتہ غائب ہی ہو گیا اور جو حصہ ظاہر کیا اس کے بھی بعض احکام کو مانا اور بعض سے کھلی روگردانی کی۔

۹۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رب کی قسم اس کی عظمت اور تقدس کو ظاہر کرتی ہے اس سے کلام میں تاکید کی صورت پیدا ہو گئی ہے۔

۹۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اللہ کے دین اور اس کی کتاب کے ساتھ جو معاملہ انہوں نے کیا ہے اس کے بارے میں قیامت کے دن ان سے لازماً باز پرس ہو گی۔ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ وہ چونکہ خدا اور اس کی کتاب کو ماننے کا دعویٰ کتے ہیں اس لیے یونہی چھوڑ دئے جائیں گے بلکہ ان کے دعوے ٰ کو عمل کی کسوٹی پر پرکھا جائے گا۔

۹۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مکہ کے مشرکانہ ماحول میں توحید کی دعوت پیش کرنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ اس سلسلہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسل کو مخالفتوں کے طوفان سے گزرنا پڑ رہا تھا اور اس مخالفت نے مذاق کی شکل اختیار کر لی تھی لیکن نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو حکم ہوا کہ ان کی پروا کئے بغیر ان باتوں کو علانیہ پیش کریں جن کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ اس سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ ماحول کتنا ہی مشرکانہ اور کافرانہ کیوں نہ ہو اہل ایمان کو دین کی دعوت اور اس کی تعلیمات کو پیش کرنے کے سلسلہ میں پس و پیش نہیں کرنا چاہیے اور اس بات کی قطعاً پروا نہیں کرنا چاہیے کہ بت پرستی اور شرک کے خلاف کچھ کہنے سے مشرکین ناک بھوں چڑھائیں گے۔

۹۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی عنقریب ان کے ان کرتوتوں کا انجام ان کے سامنے آ جائے گا۔ اس وقت وہ جان لیں گے کہ پیغمبر اس کی دعوت کا مذاق اڑا کر انہوں نے کس طرح اپنے کو تباہی کے راستہ پر ڈالا۔

۹۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اے پیغمبر یہ لوگ تمہارا جو مذاق اڑاتے ہیں وہ تمہارے لیے قلبی تکلیف کا باعث ضر ور ہے لیکن تمہیں اس پر صبر کرنا چاہیے۔

۹۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ توحید پر قائم رہنے اور اللہ کی عبادت میں سرگرم رہنے کی تلقین ہے۔

۱۰۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں عبادت سے مراد جی اس کہ اوپر کی آیت میں بیان ہوا ہے خاص طور سے حمد و تسبیح اور سجدہ والی عبادت ہے۔ مکی در میں اس کا اہتمام کرنے کی جس طرح تاکید کی گئی اس سے پرستش کی اولیت اور دین میں اس کی اہمیت بخوبی واضح ہوتی ہے۔

۱۰۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی موت کی گھڑی جس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔

حدیث میں بھی موت کو یقین سے تعبیر کیا گیا ہے۔ چنانچہ عثمان بن مظعون کی موت پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : اَمَّا ہُوَ فقد جَاءَ ہُ الیَقِیْنُ (بخاری کتاب الجنائز) “عثمان بن مظعون کے پاس یقین آ پہنچا۔ ”

آیت کا مطلب یہ ہے کہ مرتے دم تک خدائے واحد کی عبادت پر قائم اور سرگرم رہو۔

٭٭٭

 

 

(۱۶) سورۂ اَلنَّحْل

 

(۱۲۸ آیات)

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

                   تعارف

 

نام

 

آیت ۶۸ میں اللہ کی ربوبیت کی نشانی کے طور پر نحل، یعنی شہد کی مکھی کا ذکر ہوا ہے۔  اسی مناسبت سے اس سورہ کا نام النحل قرار پایا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مکی ہے اور مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ مکہ کے وسطی دور میں ہجرت حبشہ کے بعد نازل ہوئی ہو گی۔

 

مرکزی مضمون

 

شرک کے باطل اور توحید کے برحق ہونے کو واضح کرنا اور اس سلسلہ میں اللہ کی نعمتوں کا احساس دلانا ہے تاکہ وہ اپنے حقیقی رب اور محسن کو پہچانے۔  سورہ کا مرکزی مضمون یہی ہے البتہ اس وقت کے حالات اور ضرورت کے پیش نظر دوسری باتیں بھی بیان ہوئی ہیں، مثلاً عذاب کیلئے جلدی مچانے پر تنبیہ کی گئی ہے اور ان شبہات کا جواب دیا گیا ہے جو منکرین پیش کر رہے تھے۔

 

نظم کلام

 

آیات ۱ تا ۳ تمہیدی ہیں جن میں مشرکوں کو جھنجھوڑتے ہوئے وحی کی غرض اور کائنات کی تخلیق کی مقصدیت کو واضح کیا گیا ہے۔  آیت ۴ تا ۱۸ میں اللہ کی نعمتوں کا ذکر ہوا ہے جو انسان کو غور فکر کی دعوت دیتے ہیں اور اپنے محسن حقیقی کا احساس دل میں پیدا کرتے ہیں۔ آیت ۱۹ تا ۳۲ میں شرک کی تردید کرتے ہوئے مشرکین کے انجام بد کو اور متقین کے انجام خیر کو پیش کیا گیا ہے۔  آیت ۳۳ تا ۴۰ میں منکرین کے بعض اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے۔ آیت ۴۱ اور ۴۲ میں اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو خوشخبری دی گئی ہے۔ آیت ۴۳ تا ۴۷ میں نبوت کے تعلق سے ضروری وضاحت اور منکرین کو تنبیہ۔ آیت ۴۸ تا ۶۰ توحید کے دلائل اور شرک کی تردید۔  آیت ۶۱ تا ۶۵ میں منکرین کے بعض شبہات کی تردید کی گئی ہے۔  آیت ۶۶ تا ۸۳ میں اللہ کی نعمتوں کا ذکر کر کے مشرکین کے ضمیر کو بیدار کرنے کا سامان کیا گیا ہے۔  آیت ۸۴ تا۸۹ میں آگاہ کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن جب مشرکوں اور کافروں کی پیشی ہو گی تو ان کا کیا حال ہو گا۔  آیت ۹۰ تا ۹۷ میں بندوں کے حقوق کی ادائیگی، برائیوں سے پرہیز اور پاکیزہ زندگی گزارنے کی ترغیب دی گئی ہے آیت ۹۸ تا ۱۰۵ میں شیطان سے پناہ مانگنے کی ہدایت ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ لوگ قرآن کو صحیح طریقہ پر سمجھیں اس لئے وہ شکوک و شبہات پیدا کرتا رہتا ہے۔  منکرین کے شبہات دراصل شیطان ہی کی وسوسہ اندازی کا نتیجہ ہیں۔ آیت۱۰۶ تا ۱۱۱ میں مظلوم اہلِ ایمان کو تسلی اور ان پر ظلم ڈھانے والوں کو وعید۔ آیت ۱۱۲ تا ۱۱۴ میں اہل مکہ کے لیے ایک بستی کی مثال جس نے ناشکری کی اور الہ کا شکر گزار بننے کی ہدایت۔ آیت ۱۱۵ تا۱۱۹ میں یہ ہدایت کہ مشرک اور وہم پرستی میں مبتلا ہو کر اللہ کی حلال ٹھہرائی ہوئی چیزوں  مشرک ہرگز نہ تھے۔ آیت ۱۲۴ میں وضاحت کی گئی ہے کہ سبت منانے کا حکم صرف یہود کو ان کے اختلاف میں پڑنے کی وجہ سے دیا گیا تھا۔ آیت ۱۲۵ تا ۱۲۸ میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور اہل ایمان کو کچھ ہدایتیں دی گئی ہیں۔

                   ترجمہ

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آ گیا اللہ کا حکم اس کے لیے جلدی نہ مچاؤ۔ ۱* وہ پاک اور بلند ہے اس سے جس کو یہ اس کا شکرے ٹھہراتے ہیں۔ ۲*

۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ فرشتوں کو روح کے ساتھ اپنے حکم سے اپنے جن بندوں پر چاہتا ہے نازل فرماتا ہے ۳ * کہ لوگوں کو خبردار کرو کہ میرے سوا کوئی الٰہ (خدا۔ معبود) نہیں ہے لہٰذا مجھ سے ڈرو۔ ۴*

۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس نے آسمانوں اور زمینوں کو حق کی بنیاد پر پیدا کیا ہے۔ ۵* وہ برتر ہے اس سے جس کو یہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔

۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس نے انسان کو پانی کی ایک بوند سے پیدا کیا پھر دیکھو وہ صریح جھگڑالو بن گیا۔ ۶*

۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس نے تمہارے لیے چوپائے پیدا کئے جن میں تمہارے لیے گرم پوشاک بھی ہے ۷* اور دوسرے فائدے بھی۸* نیز ان سے تم غذا بھی حاصل کرتے ہو۔ ۹*

۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ان میں تمہارے لیے رونق ہے جب شام کو انہیں واپس لاتے ہو اور جب صبح کو چرنے کے لیے چھوڑ دیتے ہو۔ ۱۰*

۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ تمہارے بوجھ ایسے مقامات تک لے جاتے ہیں جہاں تم سخت مشقت کے بغیر پہنچ نہیں سکتے تھے۔ ۱۱* بلاشبہ تمہارا رب بڑی شفقت والا رحمت والا ہے۔ ۱۲*

۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس نے گھوڑے، خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو۱۳* اور وہ تمہارے لیے رونق بنیں۔  اور وہ ایسی چیزیں بھی پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم نہیں۔ ۱۴*

۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اللہ تک سیدھی راہ پہنچتی ہے ۱۵* اور ایسی بھی راہیں ہیں جو ٹیڑھی ہیں۔ ۱۶* اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا۔ ۱۷*

۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہی ہے جس نے آسمان (اوپر) سے پانی برسایا جو تمہارے پینے کے بھی کام آتا ہے اور اس سے نباتات بھی اگتی ہیں جن میں تم (مویشیوں کو) چراتے ہو۔

۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ اس سے تمہارے لیے کھیتی، زیتون، کھجور، انگور اور ہر قسم کے پھل پیدا کرتا ہے۔  یقیناً اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانی ہے جو غور و فکر کرنے والے ہیں۔ ۱۸*

۱۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو تمہارے لیے مسخر کر رکھا ہے۔ ۱۹* اور تارے بھی اس کے حکم سے مسخر ہیں۔ ۲۰* اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ ۲۱*

۱۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور زمین میں بھی جو رنگ برنگ کی چیزیں پیدا کیں اس میں بھی ان لوگوں کے لیے بڑی نشانی ہے جو یاد دہانی حاصل کرنے والے ہیں۔ ۲۲*

۱۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہی ہے جس نے سمندر کو مسخر کر دیا تاکہ تم اس سے تازہ گوشت (نکال کر) کھاؤ۲۳* اس سے زیور نکالو جس کو تم پہنتے ہو۔ ۲۴* تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں پانی کو چیرتی ہوئی چلتی ہیں۔  یہ اس لیے ہے تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو۲۵* اور اس کے شکر گزار بنو۔

۱۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس نے زمین میں پہاڑ قائم کئے کہ وہ تم کو لیکر ڈگمگانے نہ لگے۔ ۲۶* اس نے دریا جاری کئے اور راستے نکال دیئے ۲۷* تاکہ تم راہ پاؤ۔ ۲۸*

۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس نے دوسری علامتیں بھی رکھیں ۲۹* اور ستاروں سے بھی لوگ راہ پاتے ہیں۔ ۳۰*

۱۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر کیا جو پیدا کرتا ہے وہ ان کی طرح ہے جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے ؟۳۱* کیا تم (اتنی بات بھی) نہیں سمجھتے۔

۱۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو گن نہیں سکتے۔ ۳۲* بلا شبہ اللہ بڑا بخشنے والا بڑی رحمت والا ہے۔ ۳۳*

۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو۔ ۳۴*

۲۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جن کو پکارتے ہیں وہ کوئی چیز بھی پیدا نہیں کرتے بلکہ خود مخلوق ہیں۔ ۳۵*

۲۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ مردہ ہیں نہ کہ زندہ اور انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔ ۳۶*

۲۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے۔  مگر جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل انکار پر مصر ہیں اور وہ گھمنڈ میں پڑ گئے ہیں۔ ۳۷*

۲۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یقیناً اللہ جانتا ہے جو کچھ یہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ یہ ظاہر کرتے ہیں۔  وہ تکبر کرنے والوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔

۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا چیز اتاری ہے تو کہتے ہیں گزرے ہوئے لوگوں کے فسانے۔ ۳۸*

۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تاکہ و ہ قیامت کے دن اپنے بوجھ بھی پورے پورے اٹھائیں اور ان لوگوں کے بوجھ کا بھی ایک حصہ جنہیں یہ علم کے بغیر گمراہ کر رہے ہیں۔ ۳۹* تو دیکھو کیا ہی برا بوجھ ہے جو یہ اٹھائیں گے !

۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی چالیں چلی تھیں مگر اللہ نے ان کی عمارت بنیاد سے اکھاڑ دی تو چھت اوپر سے ان پر آ گری۔ ۴۰* اور عذاب ان پر اس راہ سے آیا جس کا انہیں گمان بھی نہ تھا۔

۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر قیامت کے دن وہ انہیں رسوا کرے گا اور پوچھے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کے بارے میں تم لڑتے تھے ؟۴۱* (اس وقت) وہ لوگ جن کو علم عطا ہوا تھا پکار اٹھیں گے کہ آج رسوائی اور خرابی ہے کافروں کے لیے۔ ۴۲*

۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان کے لیے جنہیں فرشتے اس حال میں وفات دیتے ہیں ۴۳*  کہ وہ اپنی جانوں پر خود ظلم کر رہے ہوتے ہیں۔ ۴۴* اس وقت وہ عاجزی کرنے لگ جاتے ہیں کہ ہم تو کوئی برائی نہیں کر رہے تھے۔  کیسے نہیں تم جو کچھ کر رہے تھے اللہ اس سے اچھی طرح واقف ہے ۴۵*

۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ داخل ہو جاؤ جہنم کے دروازوں میں۔ اسی میں تمہیں ہمیشہ رہنا ہے۔ ۴۶* تو دیکھو کیا ہی برا ٹھکانا ہے تکبر کرنے والوں کا!

۳۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب اللہ سے ڈرنے والوں سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا چیز اتاری ہے تو کہتے ہیں بہترین چیز اتاری ہے۔  جن لوگوں نے اس دنیا میں اچھائی کے کام کئے ان کے لیے اچھائی ہی ہے۔ ۴۷* اور آخرت کا گھر تو یقیناً بہتر ہے اور کیا ہی خوب ہے متقیوں کا گھر!

۳۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہمیشگی کے باغ جن میں وہ داخل ہوں گے۔  ان کے نیچے نہریں رواں ہوں گی۔  وہاں ان کے لیے وہ سب کچھ ہو گا جو وہ چاہیں گے۔ ۴۸* اس طرح اللہ جزا دے گا متقیوں کو۔

۳۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جن کو فرشتے پاکیزگی کی حالت میں ۴۰* وفات دیتے ہیں۔  وہ کہتے ہیں سلام ہو تم پر۔  داخل ہو جاؤ جنت میں اپنے اعمال کے بدلے۔ ۵۰*

۳۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ لوگ اس کے سوا کس بات کے منتظر ہیں کہ فرشتے ان کے پاس آ جائیں۔ ۵۱* یا تمہارے رب کا حکم (فیصلہ) آ جائے۔ ۵۲* ایسا ہی ان لوگوں نے بھی کیا تھا جو ان سے پہلے گزر چکے۔  اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا تھا بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے تھے۔

۳۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو ان کے کرتوتوں کی سزا ان کو مل کر رہی اور جس چیز کا وہ مذاق اڑاتے تھے اسی نے ان کو لپیٹ میں لے لیا۔ ۵۳*

۳۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مشرکین کہتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم اس کے سوا کسی کی پرستش نہ کرتے نہ ہم اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم اس کے (حکم کے) بغیر کسی چیز کو حرام ٹھہراتے۔  ایسا ہی رویہ ان لوگوں نے بھی اختیار کیا تھا جو ان سے پہلے گزر چکے۔ ۵۴* تو کیا رسولوں پر صاف صاف پیغام پہنچا دینے کے علاوہ کوئی اور ذمہ داری ہے ؟

۳۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا (اس ہدایت کے ساتھ) کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔ ۵۵* پھر بعض کو اس نے ہدایت دی اور بعض پر گمراہی مسلط ہوئی۵۶* تو زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔

۳۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر تم ان کی ہدایت کے شدید خواہشمند ہو تو اللہ ایسے لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا جن کو وہ گمراہ کر دیتا ہے۔ ۵۷* اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہو سکتا۔

۳۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ اللہ کی کڑی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ جو مر جاتا ہے اسے اللہ نہیں اٹھائے گا۔  کیوں نہیں یہ تو ایک لازمی وعدہ ہے جو اس کے ذمہ ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ ۵۸*

۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس لیے کہ یہ جس چیز میں اختلاف کر رہے ہیں اس کو وہ کھول دے اور کافروں کو معلوم ہو جائے کہ وہ جھوٹے تھے۔ ۵۹*

۴۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب ہم کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو ہمیں صرف یہی کہنا ہوتا ہے کہ ہو جا اور وہ ہو جاتی ہے۔ ۶۰*

۴۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جن لوگوں نے بعد اس کے کہ ان پر ظلم ہوا اللہ کی راہ میں ہجرت کی۶۱* ہم ان کو دنیا میں ضرور اچھا ٹھکانا دیں گے ۶۲* اور آخرت کا اجر تو کہیں بڑھ کر ہے۔  اگر وہ جان لیتے۔ ۶۳*

۴۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جنہوں نے صبر کیا اور جو اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

۴۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے تم سے پہلے بھی آدمیوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا تھا جن کی طرف ہم وحی کرتے رہے۔ ۶۴* اگر تم نہیں جانتے تو “اہل ذکر” (جن پر اس سے پہلے ذکر نازل ہوا تھا) پوچھ لو۔ ۶۵*

۴۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان (رسولوں) کو روشن نشانیوں اور کتابوں کے ساتھ بھیجا تھا۔  اور (اے پیغمبر) تم پر بھی ہم نے یہ ذکر نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں پر وہ چیز واضح کر دو جو ان کی طرف بھیجی گئی ہے ۶۶* اور تاکہ وہ غور و فکر کریں۔

۴۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر کیا یہ لوگ جو بری چالیں چل رہے ہیں اس بات سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسادے یا ایسی راہ سے ان پر عذاب آئے جس کا انہیں گمان بھی نہ ہو۔

۴۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یا ایسے وقت انہیں پکڑ لے کہ وہ چل پھر رہے ہوں۔ یہ لوگ اس کی گرفت سے ہرگز بچ نہیں سکتے۔

۴۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یا ایسے وقت انہیں پکڑ لے کہ وہ خوف کی حالت میں ہوں۔ ۶۷* فی الواقع تمہارا رب بڑی شفقت والا رحمت والا ہے۔ ۶۸*

۴۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ اللہ نے جو چیز بھی پیدا کی ہے اس کا سایہ کس طرح اللہ کے آگے سجدہ کرتے ہوئے دہنے اور بائیں گرتا ہے۔ ۶۹* سب اس کے آگے پست ہیں۔ ۷۰*

۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آسمانوں اور زمین میں جتنے جاندار ہیں سب اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں۔ ۷۱* اور فرشتے بھی۔  وہ سر کشی نہیں کرتے۔

8

۵۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے رب سے جو ان کے اوپر ہے ڈرتے ہیں اور جو حکم دیا جاتا ہے اس کی تعمیل کرتے ہیں۔ ۷۲*

۵۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اللہ نے فرمایا دو خدا نہ بناؤ۔  خدا تو بس ایک ہی ہے ۷۳* لہٰذا مجھ ہی سے ڈرو۔

۵۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اسی کے لیے ہے لازمی اطاعت۔ ۷۴* پھر کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اوروں سے ڈرو گے ؟

۵۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم کو جو نعمت بھی ملی ہے اللہ ہی کی طرف سے ہے پھر جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کے آگے گڑگڑانے لگتے ہو۔ ۷۵*

۵۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر جب وہ تمہاری تکلیف کو دور کر دیتا ہے تو تم میں سے ایک گروہ۷۶* اپنے رب کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے۔ ۷۷*

۵۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تاکہ وہ ہماری دی ہوئی نعمت کی ناشکری کریں۔  تو فائدہ اٹھا لو۔  عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا۔

۵۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جو چیزیں ہم نے انہیں دی ہیں ان میں سے ایک حصہ وہ ان (معبودوں) کے لیے مقرر کرتے ہیں جن کے بارے میں انہیں کوئی علم نہیں ہے۔ ۷۸*

اللہ کی قسم! تم سے ان من گھڑت باتوں کے بارے میں ضرور باز پرس ہو گی۔

۵۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اللہ کے لیے بیٹیاں ٹھہراتے ہیں۔  پاک ہے وہ۔ اور ان کے لیے وہ جو وہ چاہیں !۷۹*

۵۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے اور وہ گھٹا گھٹا رہنے لگتا ہے۔

۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ اس خوشخبری کو برا خیال کر کے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے کہ ذلت کے ساتھ رکھ لے یا مٹی میں اسے دبا دے۔ ۸۰* دیکھو کیسا برا فیصلہ ہے جو یہ کرتے ہیں !

۶۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بری مثال ان لوگوں کے لیے ہے جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ ۸۱* اور اللہ کے لیے تو اعلیٰ صفتیں ہیں۔ ۸۲* وہ غالب ہے حکمت والا۔

۶۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے ظلم پر (فوراً) پکڑتا تو زمین پر کسی جاندار۸۳* کو نہ چھوڑتا۔  لیکن وہ انہیں ایک وقت مقرر تک مہلت دیتا ہے۔  پھر جب ان کا وقت مقرر آ جاتا ہے تو نہ ایک گھڑی پیچھے رہ سکتے ہیں اور نہ ایک گھڑی آگے۔ ۸۴*

۶۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ اللہ کے لیے وہ چیزیں ٹھہراتے ہیں جو اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ۸۵* اور ان کی زبانیں جھوٹا دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کے لیے بھلائی ہی بھلائی ہے۔ ۸۶* ان کے لیے تو لازماً آگ ہے۔  وہ اسی میں چھوڑ دیئے جائیں گے۔ ۸۷*

۶۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ کی قسم!۸۸* تم سے پہلے بھی ہم نے کتنی ہی امتوں کی طرف رسول بھیجے تھے تو شیطان نے لوگوں کو ان کے کرتوت خوشنما کر دکھائے۔ اور آج وہی ان کا رفیق ہے۔ ۸۹* ان لوگوں کے لیے تو دردناک عذاب ہے۔

۶۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے یہ کتاب تم پر اسی لیے اتاری ہے کہ جن باتوں میں یہ اختلاف کر رہے ہیں ان کی حقیقت ان پر واضح کر دو۔ ۹۰* اور یہ ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائیں۔

۶۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا اور اس سے زمین کو جو مردہ ہو گئی تھی زندہ کر دیا۔ ۹۰* بلا شبہ اس میں نشانی ہے ۹۲* ان لوگوں کے لیے جو سنتے ہیں۔ ۹۳*

۶۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور تمہارے لیے چوپایوں میں بھی سبق موجود ہے۔ ۹۴* ہم ان کے پیٹ سے فضلہ اور خون کے درمیان سے خالص دودھ تمہیں پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لیے خوشگوار ہوتا ہے۔ ۹۵*

۶۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور کھجوروں اور انگوروں کے پھلوں سے تم نشہ آور چیز بھی بنا لیتے ہو اور اچھا رزق بھی حاصل کرتے ہو۹۶* بلاشبہ اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ ۹۷*

۶۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور تمہارے رب نے شہد کی مکھی پر الہام کیا کہ پہاڑوں میں، درختوں میں اور چھتوں میں جن کو لوگ بلند کرتے ہیں چھتے بنا۔ ۹۸*

۶۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر ہر طرح کے پھلوں کا رس چوس۹۹* اور اپنے رب کی ہموار کی ہوئی راہوں پر چل۔ ۱۰۰* اس کے پیٹ سے مختلف رنگتوں کا ایک مشروب نکلتا ہے۔ ۱۰۱* جن میں لوگوں کے لیے شفاء ہے۔ ۱۰۲* یقیناً اس میں نشانی ہے ۱۰۳* ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں۔

۷۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ ہی نے تم کو پیدا کیا پھر وہی تم کو وفات دیتا ہے۔  اور تم میں سے کسی کو بدترین عمر کو پہنچا دیا جاتا ہے کہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے۔ بلاشبہ اللہ ہی سب کچھ جانے والا اور بڑی قدرت والا ہے۔ ۱۰۴*

۷۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں برتری دی ہے تو جن کو برتری دی ہے وہ اپنا رزق اپنے غلاموں کی طرف پھیرنے والے نہیں کہ وہ اس میں برابر (کے حصہ دار) ہو جائیں۔ ۱۰۵* پھر کیا یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں ؟۱۰۶*

۷۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ نے تمہارے لیے تم ہی میں سے بیویاں بنائیں۔ ۱۰۷* اور تمہاری بیویوں سے بیٹے اور پوتے پیدا کئے اور تمہیں پاکیزہ رزق عطا کیا۔  پھر کیا یہ لوگ باطل پر اعتقاد رکھتے ہیں اور اللہ کے احسان کو نہیں مانتے ؟۱۰۸*

۷۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اللہ کو چھوڑ کر ان کی پرستش کرتے ہیں جو اس بات کا کوئی اختیار نہیں رکھتے کہ انہیں آسمانوں اور زمین سے رزق دیں۔  یہ بات ہرگز ان کے بس میں نہیں ہے۔

۷۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو (دیکھو) اللہ کے لیے مثالیں نہ گڑھو۔  اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔ ۱۰۹*

۷۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ ایک مثال بیان فرماتا ہے۔ ۱۱۰* ایک غلام ہے (دوسرے کا) مملوک جو کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ اور دوسرا شخص وہ جس کو ہم نے اپنی طرف سے اچھا رزق دیا ہے اور اس میں سے وہ پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتا ہے۔  کیا یہ دونوں یکساں ہیں ؟۱۱۱* حمد اللہ ہی کے لیے ہے مگر اکثر لوگ انتے نہیں ہیں۔ ۱۱۲*

۷۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اللہ (ایک اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مثال بیان فرماتا ہے۔  دو آدمی ہیں جن میں سے ایک گونگا ہے۔  کسی چیز کی قدرت نہیں رکھتا۔  اپنے آقا پر وہ ایک بوجھ ہے جہاں کہیں اسے بھیجے کوئی بھلا کام اس سے بن نہ آئے۔  کیا ایسا شخص اس شخص کے برابر ہو سکتا ہے جو عدل کا حکم دیتا ہے اور (خود) راہ راست پر ہے۔ ۱۱۳*

۷۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور آسمانوں اور زمین کی چھپی باتوں کا علم اللہ ہی کو ہے۔  اور قیامت کا معاملہ تو اسی طرح پیش آئے گا جس طرح کہ آنکھ کا جھپکنا بلکہ اس سے بھی زیادہ جلد۔ ۱۱۴* بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

۷۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ سے اس حال میں نکالا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے۔  اور اس نے تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل بنائے تاکہ تم شکر گزار بنو۔ ۱۱۵*

۷۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا وہ پرندوں کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح آسمان کی فضا میں مسخر ہیں۔  اللہ ہی ان کو تھامے ہوئے ہے۔  یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔ ۱۱۶*

۸۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اللہ نے تمہارے لیے تمہارے گھروں کو سکونت کی جگہ بنایا۱۱۷* اور تمہارے لیے چوپایوں کی کھالوں سے گھر بنا دئے جنہیں تم سفر اور قیام کے موقع پر نہایت ہلکا پاتے ہو۔ ۱۱۸* اور ان کے اون، روؤں اور بالوں سے تمہارے لیے (طرح طرح کا) سامان اور مفید چیزیں بنا دیں ۱۱۹* کہ ایک خاص وقت تک کام آئیں۔

۸۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اللہ نے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں سے تمہارے لیے سائے بنائے ۱۲۰* اور پہاڑوں میں پناہ گاہیں بنائیں ۱۲۱* اور ایسے لباس جو تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں ۱۲۲* نیز ایسی پوشاکیں جو تمہاری جنگوں میں تم کو محفوظ رکھتی ہیں ۱۲۳* اس طرح وہ تم پر اپنی نعمت پوری کرتا ہے تاکہ تم فرمانبردار بنو۔ ۱۲۴*

۸۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد بھی اگر یہ منہ موڑتے ہیں تو تم پر صرف صاف صاف پیغام پہنچا دینے ۱۲۵* ہی کی ذمہ داری ہے۔

۸۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اللہ کی نعمتوں کو پہچانتے ہیں پھر ان سے انکار کرتے ہیں ۱۲۶* اور ان میں اکثر نا شکرے ہیں۔

۸۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جس دن ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے ۱۲۷* پھر کافروں کو نہ (عذر پیش کرنے کی) اجازت دی جائے گی اور نہ ان سے توبہ کی فرمائش کی جائے گی۔ ۱۲۸*

۸۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب ظالم عذاب کو دیکھ لیں گے تو پھر نہ ان کا عذاب ہلکا کر دیا جائے گا اور نہ انہیں مہلت ہی دی جائے گی۔

۸۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور وہ لوگ جنہوں نے (اللہ کے) شریک ٹھہرائے تھے جب اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو دیکھیں گے تو پکار اٹھیں گے۔  اے ہمارے رب! یہ ہیں ہمارے ٹھہرائے ہوئے شریک جن کو ہم تجھے چھوڑ کر پکارا کرتے تھے۔  اس پر وہ ان کی بات ان کے منہ پر دے ماریں گے کہ تم جھوٹے ہو۔ ۱۲۹*

۸۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس دن وہ اللہ کے آگے سپر ڈال دیں گے۔ ۱۳۰* اور جو جھوٹ وہ گھڑتے رہے ہیں وہ سب غائب ہو جائے گا۔ ۱۳۱*

۸۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکتے رہے ہم ان کے عذاب پر اور عذاب کا اضافہ کریں گے اس فساد (بگاڑ) کی پاداش۱۳۲* میں جو وہ پیدا کرتے رہے۔

۸۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جس دن ہم ہر امت میں ایک گواہ ان ہی میں سے ان کے مقابل اٹھا کھڑا کریں گے اور تم کو ان لوگوں پر گواہی دینے کے لیے لائیں گے۔ ۱۳۳*اور (ان پر حجت قائم کرنے ہی کے لیے) یہ کتاب ہم نے تم پر نازل کی ہے جو ہر چیز کو صاف صاف بیان کرنے والی ہے ۱۳۴* اور ہدایت و رحمت اور بشارت ہے ان لوگوں کے لیے جو مسلم (فرمانبردار) بن جائیں۔

۹۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ حکم دیتا ہے عدل کا، ۱۳۵* بھلائی کا۱۳۶* اور قرابتداروں کو دینے کا۱۳۷* اور روکتا ہے بے حیائی، برائی اور ظلم سے۔  وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد دہانی حاصل کرو۔

۹۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اللہ کے عہد کو جب کہ تم نے باندھا ہو ۱۳۸* پورا کرو اور قسموں کو پختہ کرنے کے بعد توڑ نہ ڈالو جبکہ تم اللہ کو اپنے اوپر گواہ بنا چکے ہو۔ ۱۳۹* اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

۹۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس عورت کی مانند نہ ہو جاؤ جس نے بڑی محنت سے سوت کاتا پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ ۱۴۰* تم اپنی قسموں کو باہم خیانت کا ذریعہ بناتے ہو اس بنا پر کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے بڑھ کر (طاقتور) ہے۔ ۱۴۱* اللہ اس کے ذریعہ تمہاری آزمائش کرتا ہے۔ ۱۴۲* وہ قیامت کے دن تمہارے اختلافات کی حقیقت تم پر ضرور کھول دے گا۔ ۱۴۳*

۹۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ ۱۴۴* اور تم جو کچھ کر رہے ہے اس کے بارے میں تم سے ضرور باز پرس ہو گی۔

۹۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اپنی قسموں کو آپس میں خیانت کا ذریعہ نہ بناؤ کہ کوئی قدم جمنے کے بعد اکھڑ جائے ۱۴۵* اور اللہ کی راہ سے روکنے کی پاداش میں تمہیں برے نتیجہ کا مزا چکھنا پڑے اور تم بڑے عذاب کے مستحق ہو جاؤ۔ ۱۴۶*

۹۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ کے عہد کو تھوڑی قیمت پر نہ بیچو۔  جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔ ۱۴۷*

۹۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہو جائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے۔ ۱۴۸* اور جن لوگوں نے صبر سے کام لیا ان کو ہم ان کے بہترین اعمال کے مطابق جزا دیں گے۔ ۱۴۹*

۹۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو کوئی نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو ہم اسے پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے ۱۵۰* اور ان کا اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق ان کو عطا کریں گے۔

۹۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بس جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو۔ ۱۵۱*

۹۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کا زور ان لوگوں پر نہیں چلتا جو ایمان لائے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ ۱۵۲*

۱۰۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کا زور تو ان ہی پر چلتا ہے جو اس کو اپنا رفیق بناتے ہیں اور جو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ ۱۵۳*

۱۰۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت نازل کرتے ہیں ۱۵۴* ___اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے اس چیز کو جو وہ نازل کرتا ہے ___تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ تم تو اپنی طرف سے گھڑ لیا کرتے ہو۔  واقعہ یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں (کہ حقیقت کیا ہے)۔

۱۰۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہو اس کو روح القدس ۱۵۵* نے تمہارے رب کی طرف سے حق کے ساتھ نازل کیا ہے تاکہ وہ اہلِ ایمان کو مضبوطی عطا کرے اور ہدایت و بشارت ہو اسلام لانے والوں کے لیے۔

۱۰۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہمیں معلوم ہے کہ کہتے ہیں کہ اس شخص کو ایک آدمی سکھاتا ہے۔  حالانکہ اس آدمی کی زبان جس کی طرف یہ منسوب کر رہے ہیں عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے۔ ۱۵۶*

۱۰۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دراصل جو لوگ اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے اللہ ان کو راہ نہیں دکھاتا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔

۱۰۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جھوٹ تو وہی لوگ گھڑتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے۔ ۱۵۷* وہی ہیں سر تا سر جھوٹے۔

۱۰۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جس کسی نے اللہ پر ایمان لانے کے بعد اس سے کفر کیا سوائے اس صورت کے کہ اسے مجبور کر دیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو۱۵۸* لیکن جس نے کفر کے لیے سینہ کھول دیا تو ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔ ۱۵۹*

۱۰۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلہ میں پسند کر لیا۱۶۰* اور اللہ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

۱۰۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں، کانوں اور آنکھوں پر اللہ نے مہر کر دی۱۶۱* اور یہی لوگ ہیں جو غافل ہیں۔

۱۰۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لازماً یہ لوگ آخرت میں تباہ حال ہوں گے۔

۱۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ البتہ جن لوگوں نے آزمائشوں میں پڑنے کے بعد ہجرت کی، جہاد کیا۱۶۲* اور صبر سے کام لیا تو ان (اعمال) کے بعد یقیناً تمہارا رب ان کے لیے بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۱۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور وہ دن کہ ہر شخص اپنی مدافعت میں جھگڑتا ہوا حاضر ہو گا۔ ۱۶۳* اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان کے ساتھ ذرا بھی نا انصافی نہیں کی جائے گی۔

۱۱۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جو امن و اطمینان کی حالت میں تھی۔ ہر طرف سے اس کو بہ فراغت رزق پہنچ رہا تھا لیکن اس نے اللہ کی نعمتوں کی نا شکری کی تو اللہ نے ان کے (اس بستی والوں کے) کرتوتوں کی وجہ سے ان کو بھوک اور خوف کے طاری ہو جانے کا مزا چکھایا۔ ۱۶۴*

۱۱۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ان کے پاس ان ہی میں سے ایک رسول آیا مگر انہوں نے اسے جھٹلایا۔  بالآخر عذاب نے انہیں آ لیا اس حال میں کہ وہ ظالم تھے۔ ۱۶۵*

۱۱۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پس اللہ نے جو حلال اور پاکیزہ رزق تم کو دیا ہے اس میں سے کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو اگر تم صرف اسی کی عبادت کرتے ہو۔ ۱۶۶*

۱۱۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس نے تو تم پر صرف مردار، خون، سور کا گوشت اور وہ (ذبحہ) حرام ٹھہرایا ہے جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔ ۱۶۷* پھر جو کوئی مجبور ہو جائے اور نہ تو اس کا خواہشمند ہو اور نہ حد (ضرورت) سے تجاوز کرنے والا تو یقیناً اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔ ۱۶۸*

۱۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور تمہاری زبانیں جو جھوٹے حکم لگاتی ہیں اس کی بنا پر یہ نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام کہ اللہ کی طرف جھوٹ بات منسوب کرنے لگو۔ ۱۶۹* جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ ہرگز فلاح نہیں پائیں گے۔

۱۱۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ تھوڑا سا عیش ہے پھر ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ ۱۷۰*

۱۱۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہود پر ہم نے وہ چیزیں حرام کر دی تھیں جو ہم اس سے پہلے تم سے بیان کر چکے ہیں۔ ۱۷۱* ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے رہے۔ ۱۷۲*

۱۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ البتہ تمہارا رب ان لوگوں کے لیے جنہوں نے جہالت کی وجہ سے برا عمل کیا پھر توبہ کر کے اصلاح کر لی تو یقیناً تمہارا رب اس کے بعد (ان کے لیے) بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔ ۱۷۳*

۱۲۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یقیناً ابراہیم ایک مثالی شخصیت تھے۔ ۱۷۴* اللہ کے اطاعت گزار۱۷۵* ا ور اسی کے ہو کر رہنے والے۔ ۱۷۶* وہ کبھی مشرک نہیں رہے۔ ۱۷۷*

۱۲۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی نعمتوں کے وہ شکر گزار تھے۔ ۱۷۸* اس نے ان کو چن لیا۱۷۹* اور سیدھی راہ کی طرف ان کی رہنمائی کی۔ ۱۸۰*

۱۲۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے ان کو دنیا میں بھی بھلائی عطا کی۱۸۱* اور آخرت میں بھی وہ صالحین میں سے ہوں گے۔ ۱۸۲*

۱۲۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی کہ ابراہیم کے طریقہ پر چلو جوراست رو تھے اور ہرگز مشرکوں میں سے نہ تھے۔ ۱۸۳*

۱۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سبت کی پابندی ان ہی لوگوں پر عائد کی گئی تھی جنہوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا تھا۔ ۱۸۴* اور یقیناً تمہارا رب قیامت کے دن ان کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ فرما دے گا جن میں یہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔ ۱۸۵*

۱۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے رب کے راستہ کی طرف دعوت دو حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ اور ان کے ساتھ بحث کرو بہترین طریقہ پر۔ ۱۸۶* تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹک گیا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے ہدایت پانے والوں کو۔

۱۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اگر تم بدلہ لو تو اتنا ہی لو جتنا تمہارے ساتھ کیا گیا ہے اور اگر صبر کرو تو یقیناً یہ بات صبر کرنے والوں کے لیے بہتر ہے۔ ۱۸۷*

۱۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور (اے پیغمبر!) صبر کرو اور تمہارا صبر کرنا اللہ ہی کی توفیق سے ہے۔  اور ان لوگوں (کے حال) پر غم نہ کرو اور نہ ان کی چالوں سے دل تنگ ہو۔

۱۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بلا شبہ اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا اور جو نیک کردار ہیں۔

                   تفسیر

 

۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مشرکین جس چیز کے لیے جلدی مچا رہے تھے وہ عذاب تھا۔  وہ کہتے تھے کہ پیغمبر جس عذاب کی ہمیں دھمکی دے رہے ہیں وہ آک یوں نہیں جاتا؟

وَیَسْتَعْجِلُوْنَکَ بالعَذابِ وَلَو لاَ اجلَ مُّسَمتٰی لَجَاءَ ہَمُ الْعَذَابُ (العنکبوت) “وہ عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں اگر اس کا وقت مقرر نہ کیا گیا ہوتا تو عذاب ان پر ٹوٹ ہی پڑتا۔ ”

اس لیے آیت میں اَمْرُ اللہ (اللہ کے حکم) سے مراد عذابِ الٰہی ہی ہے اور واضح کرنا یہ مقصود ہے کہ جو لوگ عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں ان کے لیے عذاب مقدر ہو چکا اور وہ وقت قریب آ لگا ہے جبکہ یہ اس کا مزہ چکھیں گے چنانچہ چند سال کے اندر اندر ان لوگوں کا صفایا کر دیا گیا جو اخیر وقت تک شرک پر قائم رہے یہاں تک کہ حجۃ الوداع (۰۹ ھ) کے موقع پر نہ صرف یہ کہ مکہ میں کوئی مشرک باقی نہیں رہا تھا بلکہ پورے عرب سے مشرکین کا صفایا ہو گیا تھا۔  گویا مسلمانوں کی تلوار مشرکین پر اللہ کا عذاب بن کر چلی۔  یہ عذاب پچھلی قوموں کے عذاب سے ضرور مختلف تھا لیکن رسول کے مخالفین کو بہر صورت تباہی سے دو چار ہونا پڑا۔

اس کے علاوہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موت نہایت قریبی چیز ہے اور جب ایک مشرک اور کافر کو موت آتی ہے تو عذاب کے فرشتے نمودار ہو جاتے ہیں اور اس کی روح عالم برزخ میں عذاب کا مزا چھکتی رہتی ہے۔  پھر قیامت کے دن_جو بہت جلد قائم ہونے والا ہے _ ایسے لوگوں کو ہمیشہ کے لیے جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔  غرضیکہ مشرکوں اور کافروں کے لیے اللہ کا عذاب ہر لحاظ سے قریب ہی ہے۔

۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی اللہ کی شان اس سے بلند ہے کہ اس کی خدائی میں کوئی شریک ہو اور جب یہ لوگ اس کی طرف ایسی بات منسوب کر رہ ہیں جو اس کی شان سے فروتر ہے تو اس کی طرف سے وہ سزا ہی کے مستحق ہو سکتے ہیں۔

۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔  روح، سے مراد وحی ہے جو اللہ تعالیٰ پیغمبروں پر نازل فرماتا ہے چونکہ یہ روح کی طرح پیغمبر کے قلب پر نازل ہوتی ہے نیز اس سے انسان کو زندگی ملتی ہے اس لیے اسے روح (Spirit) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ آیت سے یہ بھی واضح ہوا کہ نبوت ایک عطیہ خداوندی ہے جس سے وہ اپنے ان بدنوں کو نوازتا ہے جن کو منصبِ نبوت کے لیے منتخب فرمایا ہے۔  بالفاظ دیگر نبوت کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ انسان کوشش کر کے اسے حاصل کر سکے بلکہ یہ بالکل وہبی یعنی خدا کی طرف سے بخشی جانے والی چیز ہے جس میں انسانی کوششوں کا کوئی دخل نہیں۔

۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی جب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے توحید ہی کے پیغام کو لیکر آئی ہے۔  اس لیے تمام انبیاء علیہم السلام کی تعلیم توحید ہی کی تعلیم تھی اور تقوی (خدا خوفی) ہی کی بنیاد پر انہوں نے زندگی گزارنے کی ہدایت کی تھی۔

واضح ہوا کہ جن مذاہب میں بھی شرک کی تعلیم پائی جاتی ہے اس کی نسبت کسی نبی کی طرف ہرگز صحیح نہیں ہے اور نہ ایسی چیز “وحی” یا خدا کا کلام ہو سکتی ہے۔

۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس کی تشریح سورۂ انعام نوٹ ۱۲۴ میں گزر چکی۔

۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی انسان اپنی اس حقیقت کو بھول گیا کہ وہ کیسی حقیر چیز سے پیدا گیا ہے اور بحث کرنے لگا کہ دوسری زندگی کس طرح ممکن ہے۔  اگر وہ اپنی پہلی پیدائش پر غور کرتا تو اس پر یہ حقیقت واضح ہوتی کہ جو خدا پانی کے ایک حقیر قطرے سے اعلیٰ صلاحیتوں والا انسان پیدا کر سکتا ہے وہ یقیناً اس کو دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے اور اس حقیقت کو اگر انسان نے پا لیا تو وہ خدا کے مقابلہ میں بحث کرنے اور جھگڑنے کی جسارت ہرگز نہ کرتا۔

۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی ان کے بالوں اور اون سے تم گرم پوشاک بنا لیتے ہو۔

۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی بعض سواری کے کام آتے ہیں اور بعض ہل چلانے کے۔  پھر ان سے دودھ بھی حاصل ہوتا ہے اور ان کا چمڑا بھی کام آتا ہے اس طرح ان سے گوناگوں فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی ان کا گوشت تمہارے لیے غذا کا کام دیتا ہے۔

۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔  چونکہ ان چار پایوں سے طرح طرح کے فوائد حاصل ہوتے ہیں اور وہ افزائشِ نسل کے لیے بھی پالے جاتے ہیں جو حصول دولت کا ایک ذریعہ ہے اس لیے وہ منظر انسان کی نگاہ میں کھبنے لگتا ہے جب وہ ان کو چرا کر اپس لاتا ہے یا چرنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔

واضح رہے کہ نزولِ قرآن کے زمانہ میں چوپائے پالنے کا رواج تھا نیز یہ ان کا پیشہ بھی تھا اس لیے قرآن نے اس نعمت کا احساس دلانے کے لیے اس کی منظر کشی کی ہے۔

۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس زمانے میں اونٹ اور بیل بار برداری کا بہت بڑا ذریعے تھے۔

۱۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اللہ شفقت والا ہے اس لیے اس نے ایسی چیزیں انسان کے لیے پیدا کیں جو اس کو مشقت اور تکلیف سے بچانے والی ہیں اور وہ مہربان ہے اس لیے انسان کو طرح طرح کی نعمتیں عطا کیں۔

۱۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اوپر ان مویشیوں کا ذکر تھا جن کو عربی میں “اَنعَام” کہا جاتا ہے یعنی اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکری۔  ان کے بارے میں فرمایا کہ “مِنْھَا تَأکُلُونَ” (ان سے تم غذا حاصل کرتے ہو) لیکن یہاں گھوڑے، خچر اور گدھے کے بارے میں فرمایا کہ وہ اس لیے پیدا کئے گئے ہیں تاکہ تم ان پر سوار ہو۔  اس لیے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ وہ جانور کھانے کے لیے ہیں اور یہ سواری کے لیے۔  انسانی طبیعتیں بھی گھوڑے، خچر اور گدھے کے کھانے سے مانوس نہیں ہیں۔

۱۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔  غالباً اشارہ ان قوتوں کی طرف ہے جو اس وقت انسان کے علم میں نہیں تھیں مگر بعد کے انکشافات سے ان ہی کی بدولت انسان کو حمل و نقل کے جدید ذرائع مہیا ہوئے مثلاً بھاپ، پیٹرول، بجلی وغیرہ جن سے موٹریں، ریل، ہوائی جہاز وغیرہ چلتے ہیں اور اللہ ہی جانتا ہے کہ اور کیا چیزیں ہیں جو اس نے انسان کی خدمت کے لیے پیدا کی ہیں۔

۱۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی عقیدہ و عمل کی جو سیدھی راہ ہے وہی اللہ تک پہنچنے والی ہے انسان اسی پر چل کر اللہ کو پا سکتا ہے اور اس کی رضا حاصل کر سکتا ہے۔  اس سیدھی راہ کا اصطلاحی نام اسلام ہے جس کی طرف قرآن دعوت دے رہا ہے۔

اوپر کی آیت میں اللہ کی اس نعمت کا ذکر ہوا تھا کہ اس نے سواری کے لیے جانور پیدا کر دئے۔  اس سے راہ اور منزل کا تصور خود بخود ابھر رہا تھا۔  اس موقع کی مناسبت سے قاری کے ذہن کو معنوی راہ اور حقیقی منزل کی طرف موڑ دیا گیا کہ توحید ہی کی راہ سیدھی راہ ہے اور وہی خدا تک پہنچتی ہے۔  اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ قرآن کی آیات کس طرح باہم مربوط ہیں چونکہ قرآن کے پیش نظر فکر و ذہن کی تعمیر ہے اس لیے وہ موقع کی مناسبت سے بلند حقیقتوں کی طرف ذہن کو موڑ تا ہے اور اس پہلو سے آیات کے درمیان گہرا ربط ہوتا ہے۔

۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی توحید کے علاوہ جو اسلام کی راہ ہے دوسری راہیں سیدھی نہیں ہیں بلکہ ٹیڑھی ہیں اور وہ ہرگز خدا تک نہیں پہنچتی۔  کوئی اس خام خیالی میں نہ رہے کہ کسی بھی راہ کو اختیار کر کے آدمی خدا کو پا سکتا ہے اور آدمی توحید کو مانے یا شرک کرے اس سے نہ غایت بدلتی ہے اور نہ نتائج کا فرق واقع ہوتا ہے۔

موجودہ دور میں مصلحت پرست لوگ سیاسی مقاصد کے پیش نظر شرک اور بت پرستی کی راہ کو بھی توحید کی راہ کے برابر اور اسلام کے ساتھ مشرکانہ اور باطل مذاہب کو بھی یکساں قرار دینے کی باتیں بڑے دلفریب انداز میں پیش کر رہے ہیں چند مثالیں ملاحظہ ہوں “تمام مذاہب کی روح ایک ہے گو اس کی شکلیں مختلف ہیں۔  بالکل اسی طرح جیسے کہ پانی کی حقیقت ایک ہے جو کنویں سے بھی حاصل ہو سکتا ہے، چشموں سے بھی فراہم ہو سکتا ہے اور دریاؤں کی گھاٹوں سے بھی مہیا کیا جا سکتا ہے۔ ” (گگن کا مذاہب عالم نمبر ص۶۴) “دنیا کے تمام عقیدے ایک ہی درخت کی شاخوں کی طرح ہیں اور ہر شاخ ایک دوسرے سے جدا ہے اور اپنی امتیازی شان رکھتی ہے مگر ان شاخوں کا منبع یا مرکز ایک ہی۔ ” (حوالہ مذکور ص ۸۱۸)

یہ دونوں مثالیں گمراہ کن ہیں کیونکہ جس پانی میں شرک کی نجاست مل گئی ہو وہ توحید کے چشمۂ صافی کی طرح کیسے ہو سکتا ہے اور جو درخت کڑوے کیلے پھل دیتا ہو وہ اس درخت کی طرح کیسے ہو سکتا ہے جو میٹھے پھل لاتا ہے ؟

۱۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔  تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ انعام نوٹ ۲۷۱۔

۱۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی روز مرہ کی زندگی میں انسان کھانے پینے کی جن نعمتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے ان پر اگر وہ غور و فکر کرے تو اپنے رب کو پہچان لے جس نے اسے پیدا کیا ہے وہی اس کا حقیقی محسن ہے جس نے طرح طرح کی نعمتوں سے اسے نوازا ہے۔

آج کا انسان اپنی قوت فکر کو یہ جاننے کے لیے تو استعمال کرتا ہے کہ کھانے کی فلاں چیز میں کس قسم کے وٹامن (Vitamin) ہیں اور کیلریز (Calories) کی کتنی مقدار پائی جاتی ہے لیکن یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا کہ یہ چیزیں کس کی بخشی ہوئی ہیں اور اس بخشش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس ہستی کے بارے میں اس کے جذبات کیسے ہونے چاہئیں اور اس کے ساتھ تعلق کی نوعیت کیا ہونی چاہیے جس نے یہ چیزیں اسے بخشی ہیں انسان جب اپنی قوتِ فکر کو اس مقصد کے لیے استعمال نہیں کرتا تو وہ محض معاشی حیوان بن کر رہ جاتا ہے۔

۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مسخر کر رکھا ہے یعنی اپنی قدرت قاہرہ سے ان کو ایسا بنا دیا ہے کہ وہ تمہاری خدمت اور تمہیں نفع پہنچانے کے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ ابراہیم نوٹ ۴۱۔

۲۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔  تاروں کے چند فائدے تو بالکل ظاہر ہیں مثلاً ان کا آسمان کی زینت بننا جس سے انسان کے ذوقِ جمال کی تسکین ہوتی ہے، ان کے طلوع و غروب سے اوقات کی تعین میں مدد ملتی ہے، وہ سمت معلوم کرنے کا ذریعہ ہیں چنانچہ صحرائی اور سمندری سفر میں ان کی افادیت بالکل ظاہر ہے۔  ان فائدوں کے علاوہ وہ ہماری کس کس طرح خدمت کر رہے ہیں وہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

۲۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی انسان اگر عقل عام (Common Sense) ہی کو استعمال کرے تو وہ یہ محسوس کئے بغیر نہیں رہے گا کہ اس کے خالق نے نہ صرف زمین پر اس کے لیے بزم سجائی ہے اور اس کی خدمت کا بھر پور سامان کیا ہے۔  یہ احساس جب انسان میں پیدا ہو جاتا ہے تو اس پر ہدایت کی راہ کھل جاتی ہے۔

۲۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی کیا یہ رنگ برنگ کی چیزیں جو زمین میں پھیلی ہوئی ہیں آرٹ کا بہترین نمونہ نہیں ہیں اور کیا اس سے تمہیں کوئی سبق نہیں ملتا؟ سبق حاصل کرنے والے تو پتے پتے پر اس کے کاریگر کے ہاتھوں کا لکھا ہوا سبق پڑھ لیتے ہیں۔

۲۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی سمندر کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی قوتِ قاہرہ سے انسان کے لیے نفع بخش بنا دیا ہے چنانچہ سمندر انسان کے لیے مچھلیوں کی شکل میں غذا فراہم کرتے ہیں۔

۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی موتی، مرجان اور سیپ جن کے زیور عورتیں پہنتی ہیں جو نوع انسانی ہی کی ایک صنف ہے۔  اس لیے اللہ کا یہ احسان نوع انسانی پر ہے۔

۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی تجارتی سفر کر کے اپنی معاشی ضرورتوں کو پورا کرنے کے جائز طریقے اختیار کرو۔

۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔  زمین کا۳/۴ حصہ سمندر سے ڈھکا ہوا ہے اور کرۂ زمین ہوا میں معلق ہے اس لیے عجب نہیں کہ جس طرح کشتی پانی میں ہچکولے کھاتی ہے اور اس میں بوجھ ڈال دینے سے ٹھہراؤ کی صورت پیدا ہوتی ہے اسی طرح ابتداء میں زمین کی حالت بھی اضطراب کی رہی ہو اور اس میں پہاڑوں کے بوجھ ڈال دینے سے توازن کی صورت پیدا ہو گئی ہو۔

۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مراد قدرتی راستے ہیں۔

۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی اپنی منزل کو پہنچ سکو۔

۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی ایسی علامتیں جن کو دیکھ کر مسافر اپنا راستہ پہچان سکیں اور اپنی منزل پر پہنچ سکیں۔

۳۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔  تارے سمت معلوم کرنے کا ذریعہ ہیں اس لیے قدیم زمانہ میں مسافر ان کو دیکھ کر رہنمائی حاصل کرتے تھے اور موجودہ زمانہ میں بھی جہاز رانی (Navigation) کے کام میں ان سے رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔

۳۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی جب یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ ساری نعمتیں اللہ ہی کی پیدا کردہ اور عطا کردہ ہیں تو اس کا درجہ الٰہ کا درجہ ہوا لیکن جن کا تخلیق میں کوئی حصہ نہیں ہے بلکہ خود مخلوق ہیں ان کا درجہ الٰہ کا کیسے ہو سکتا ہے ؟ یہ سراسر نا معقول اور عدل و انصاف کے خلاف بات ہے کہ خالق اور مخلوق کو ایک ہی سطح پر رکھا جائے اور دونوں کے حقوق و اختیارات یکساں درجے کے تسلیم کر لئے جائیں یا خالق کا درجہ گھٹا کر اس کو مخلوق کی سطح پر لایا جائے۔  مشرکین کی اصل گمراہی یہی ہے کہ وہ خالق اور مخلوق میں تمیز نہیں کرتے اور خالق کی صفات اور اس کے حقوق و اختیارات میں مخلوق کو شریک ٹھہراتے ہیں۔  بت پرستی ہو یا بزرگ پرستی سب اسی باطل عقیدہ کا نتیجہ ہیں۔

۳۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس کی تشریح سورۂ ابراہیم نوٹ ۴۳  میں گزر چکی۔

۳۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اللہ بڑا بخشنے والا ہے اس لیے وہ تمہیں دعوت دے رہا ہے کہ اس کی نعمتوں کے قدر داں بن کر اس کی بخشش کی طرف لپکو اور وہ بڑی رحمت والا ہے اس لیے وہ چاہتا ہے کہ تم اس سے بندی کا تعلق قائم کر کے اس کی آغوشِ رحمت میں آ جاؤ۔

۳۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہ تنبیہ ہے کہ اگر تم اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہو تو یاد رکھو اللہ تمہارے ظاہر و باطن کو اچھی طرح جانتا ہے اور ایک دن آنے والا ہے جب وہ یہ سب باتیں تمہارے سامنے کھول کر رکھ دے گا۔

۳۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہاں خاص طور سے مشرکین کے ان معبودوں کا ذکر ہو رہا ہے جو ماضی کی شخصیتیں تھیں جیسا کہ بعد کی آیت سے واضح ہے۔

۳۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مراد وہ گزری ہوئی شخصیتیں ہیں جن کو مشرکین حاجت روائی کے لیے پکارتے تھے، ان سے فریاد کرتے، دعائیں مانگتے اور ان کو اللہ کے حضور اپنا سفارشی ٹھہراتے۔  یہاں ان کے اسی شرک کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اول تو زندہ ہی نہیں ہیں کہ تمہاری فریاد سن سکیں کیونکہ وہ کبھی کے دنیا سے رخصت ہو چکے۔  رہیں عالم برزخ میں ان کی روحیں تو وہ یہ بھی نہیں جانتیں کہ قیامت کب قائم ہو گی اور انہیں کب قبروں سے اٹھایا جائے گا۔  اور یہ روحیں جب اپنا حال نہیں جانتیں تو تمہارے حال کو جاننے، تمہاری پکار کو سننے اور تمہاری حاجتوں کو پورا کرنے پر کس طرح قادر ہو سکتی ہیں ؟ حاجت روائی کے لیے تو سب سے پہلے اس علم غیب کی ضرورت ہے جس کی بنا پر ہر ہر شخص کا حال معلوم ہو اور اس کی پکار سنی جائے۔  یہ علم اللہ کی خاص صفت ہے جس میں اس کا کوئی شریک نہیں۔

وفات پائے ہوئے انسانوں کو خدا کی طرح حاضر و ناظر سمجھنا ایک اٹکل بچو بات ہے جس کی کوئی دلیل نہیں اور یہی شرک کی جڑ ہے۔

واضح رہے کہ مشرکین عرب اگرچہ زندگی بعد موت کے قائل نہ تھے لیکن جن گزری ہوئی شخصیتوں سے انہیں عقیدت تھی ان کے بارے میں وہ سمجھتے تھے کہ ان کی روحیں خدائی نظام میں دخل ہیں، وہ ہماری فریاد کو پہنچ سکتی ہیں ہماری قسمتوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، وہ اللہ کے حضور ہمارے سفارشی ہیں اور ان کا واسطہ اور وسیلہ اختیار کر کے اللہ سے قریب ہو سکتے ہیں اس لیے حاجت روائی کے لیے ان کو پکارنے اور ان سے مدد مانگنے میں کوئی حرج نہیں ہے مگر قرآن نے اس پورے تصور ہی کو باطل اور مشرکانہ قرار دیا۔

عام طور سے مفسرین نے اس آیت کو بتوں پر چسپاں کیا ہے لیکن آیت کے الفاظ اس کا ساتھ نہیں دیتے۔  خاص طور سے یہ الفاظ کہ “انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے” اس باب میں صریح ہیں کہ مراد انسان ہی ہو سکتے ہیں نہ کہ بت اس لیے اس کا مفہوم متعین کرنے میں کسی تکلیف کی ضرورت نہیں ہے۔

۳۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی خدا کا ایک ہونا تو ایک واضح حقیقت ہے لیکن چونکہ توحید کو ماننے سے آخرت کو ماننا لازم آتا ہے اس لیے وہ لوگ اس کو کسی طرح قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے جو دنیا میں آزادانہ زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں اور باطل پرستی کے نتیجہ میں ان کی نفسیات ایسی بن گئی ہیں کہ وہ حق کے آگے جھکنے کو اپنی کسر شان سمجھتے ہیں۔

۳۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔  قرآن میں حق و باطل کی کشمکش کی تاریخ اور گزری ہوئی قوموں کے عبرتناک واقعات بیان ہوئے ہیں۔  اس نے ذہنوں میں ایک زلزلہ تو پیدا کر ہی دیا تھا اس لیے لوگ اپنے سرداروں سے پوچھتے کہ یہ قرآن کیسا کلام ہے۔  وہ بلا تامل کہہ دیتے کہ یہ گذشتہ قوموں کے محض افسانے ہیں۔  حقیقت کچھ بھی نہیں۔

۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی یہ سردار وار لیڈر جو عوام کو گمراہ کر رہے ہیں، قیامت کے دن نہ صرف اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں گے بلکہ ساتھ ہی ان لوگوں کے گناہوں کے بوجھ کا بھی ایک حصہ انہیں اٹھانا پڑے گا جنہیں انہوں نے گمراہ کیا تھا۔  حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

“ومن و عالی الی ضلالۃ کان علیہ من الاثم مثل آثام من تبعہ لا ینقص ذلک من آثا مھم شیئا۔ ” اور جس نے گمراہی کی طرف بلایا اور اس پر گناہ کا بار اسی طرح ہو گا جس طرح کہ گمراہی کو قبول کرنے والوں پر ہو گا بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی ہو۔ ” (مسلم)

اس “علم کے بغیر” کا مطلب یہ ہے کہ خدا اور مذہب کے بارے میں یہ جو کچھ کہتے ہیں وہ نری جہالت کی باتیں ہیں۔  علم حق کی روشنی انہیں حاصل ہی نہیں ہے۔  ظاہر ہے خدا کے بارے میں وہی بات علم پر مبنی ہو سکتی ہے جو خدا نے بتلائی ہو نہ کہ وہ جو آدمی اپنی طرف سے اس کے بارے میں کہے اور خدا کے بتلانے کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے نبیوں پر وحی بھیجتا ہے جو علم کا مخصوص ذریعہ ہے اس لیے جو بات انبیاء علیہم السلام کے توسط سے ملتی ہے وہ ٹھوس علم پر مبنی ہوتی ہے۔

واضح ہوا کہ تمام مشرکانہ فلسفے اور ملحدانہ نظریات خواہ وہ کتنے ہی علمی رنگ میں پیش کئے گئے ہوں سراسر جہالت ہیں علم حقیقی سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔

۴۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی ایسی کتنی قومیں اس سے پہلے گزر چکی ہیں جنہوں نے اپنے رسولوں کے خلاف سازشیں کیں مگر شرک اور کفر کی بنیاد پر جو نظام انہوں نے قائم کیا تھا رسول کی دعوتِ حق نے اس کی چولیں ہلا دیں اور پھر جب اللہ کا فیصلہ نافذ ہوا تو یہ نظام جڑ بنیاد سے اکھڑ گیا اور اس کے قائم کرنے والوں پر ایسی آفت ٹوٹ پڑی کہ بالکل تباہ ہو کر رہ گئے۔  شرک اور کفر کا یہ نتیجہ عملاً جس شکل میں رونما ہوا وہ ایک ایسا عذاب تھا جس نے ان کی بنائی ہوئی عمارتوں کو ان کا مدفن بنا دیا مثال کے طور پر زلزلہ کے جھٹکے نے نیچے سے ان کی عمارتوں کی بنیا دیں ہلا دیں اور پھر چھت سمیت پوری عمارتیں ان کے رہنے والوں پر آ گریں۔

۴۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی جن کو تم نے میری خدائی میں شریک ٹھہرایا تھا اور اس کے لیے تم نے بڑی بحثیں کھڑی کر دی تھیں بتاؤ اب وہ کہاں غائب ہو گئے۔

۴۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی دنیا میں جن کو علم عطا ہوا تھا بالفاظ دیگر جنہوں نے اس علم سے استفادہ کیا تھا جس کا اصل منبع وحی الٰہی ہے وہ میدان حشر میں مشرکین کا یہ حال دیکھ کر محسوس کریں گے کہ مشرکین کے جس انجام کی خبر وحی الٰہی نے دی تھی وہ بالکل سامنے ہے چنانچہ وہ پکار اٹھیں گے کہ آج کافروں کو اپنے برے انجام کو پہنچنا ہے۔

آیت سے یہ بھی واضح ہوا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اہل علم کو کس طرح اعزاز بخشے گا۔

۴۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہ کافروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وضاحت ہے کہ قیامت کے دن تو ان کا وہ انجام ہو گا جو اوپر بیان ہوا لیکن گرفتار عذاب تو وہ اسی وقت ہوتے ہیں جب فرشتے ان کی روحیں قبض کر لیتے ہیں۔

۴۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی شرک، کفر اور سرکشی کر کے وہ آپ اپنے اوپر ظلم ڈھاتے ہیں کیونکہ وہ اپنے ضمیر کی آواز کو جو توحید ہی سے آشنا ہے دباتے ہیں جس کے نتیجہ میں نفس کا نہ صرف نشو و نما رک جاتا ہے بلکہ وہ گھٹ کر رہ جاتا ہے۔

۴۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی موت کے فرشتوں کو دیکھتے ہی ان کے غرور کا نشہ اتر جاتا ہے اور اپنی ساری بحثیں ختم کر کے تسلیم و اطاعت کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔  اس وقت ان پر ایسا خوف طاری ہوتا ہے کہ وہ اپنے برے اعمال سے انکار کرنے لگ جاتے ہیں لیکن فرشتے ان کے اس جھوٹ کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں ہے کہ تم جھوٹ بول کر چھوٹ جاؤ۔

۴۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی مشرکوں اور کافروں کو فرشتے موت کے وقت ہی یہ خبر دے دیتے ہیں کہ انہیں قیامت کے دن جہنم میں داخل ہونا ہے اور اس عذاب میں ہمیشہ کے لیے رہنا ہے یہ معاملہ موت کی سرحد شروع ہوتے ہی یعنی عالم برزخ میں پیش آتا ہے جسے حدیث میں قبر سے تعبیر کیا گیا ہے۔

۴۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔  تقویٰ اور نیکی کی روش اختیار کرنے والوں کو جو نیک بدلہ دنیا میں ملتا ہے وہ ہے پاکیزہ رزق، پاکیزہ زندگی، سکون قلب، حلاوتِ ایمان اور سچی عزت و سرفرازی۔

۴۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔  انسان کو تکلیف اسی لیے ہوتی ہے کہ وہ جو چاہتا ہے وہ اسے نہیں ملتا اور دنیا میں یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ انسان کی ہر خواہش پوری ہو اور نہ دنیا میں کوئی ایسا انسان یہاں تک کہ بڑے سے بڑا بادشاہ بھی ایسا نہیں گزرا جس کی تمام خواہشیں پوری ہوئی ہوں۔  اگر ایسا ہو تو دنیا جنت بن جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو اس مقصد کے لیے بنایا ہی نہیں ہے اس لیے کسی کا اس دنیا سے یہ توقع رکھنا کہ اس کی تمام آرزوئیں یہاں پوری ہو جائیں گی محض خام خیالی ہے۔  اللہ تعالیٰ نے اس مقصد کے لیے آخرت میں جنت بنائی ہے۔  جس کی تعریف ہی یہ ہے کہ اس میں داخل ہونے والے کی ہر خواہش پوری ہو گی اس کی ہر امید بر آئے گی، اس کی ہر تمنا حقیقت کا روپ اختیار کرے گی، اس کے تمام ارمان نکلیں گے اور اس کی ہر آرزو پوری ہو کر رہے گی۔

۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی اس حال میں کہ ان کے نفس شرک، کفر تکبر اور معصیت کی آلودگی سے بالکل پاک ہوتے ہیں۔

۵۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔  سچے متقیوں کو فرشتے جنت کی بشارت موت کے وقت ہی دے دیتے ہیں۔

۵۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی موت کے فرشتے۔

۵۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی عذاب۔

۵۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی جس عذاب کا وہ مذاق اڑاتے تھے اس نے بری طرح ان کو گرفت میں لے لیا۔

۵۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی یہ محض بہانے ہیں قبول حق کی ذمہ داری سے بچنے کے لیے اور ایسے ہی بہانے اور ایسی ہی بحثیں ماضی کی گمراہ قومیں بھی کرتی رہی ہیں۔  اپنی گمراہی کی ذمہ داری اللہ پر ڈالنا ان ہی لوگوں کا کام ہے جو خدا اور اس کے دین کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوتے۔

۵۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہاں طاغوت سے مراد بت ہیں اور ان کو طاغوت اس لیے کہا گیا ہے کہ آدمی ان کی پرستش کر کے اللہ کا باغی اور سرکش بن جاتا ہے۔  گویا بت سرکشی و بغاوت کا ذریعہ اور مظہر ہیں۔  اور طاغوت سے بچنے کا مطلب بتوں کی پرستش سے باز رہنا ہے چنانچہ قرآن میں دوسری جگہ فرمایا گیا ہے :

وَالَّذِینَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَعْبُدُوْہَا وَ اَنَابُوْ آاِلَی اللّٰہِ لَہُمُ الْبُشرْیٰ (زمر ۱۷)۔ “اور جنہوں نے طاغوت کی پرستش سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کیا ان کے لیے خوشخبری ہے۔ ” فَاجْتِنبُوا الرِّجْسَ مِن الْاَدْثَانِ (حج ۳۰) “بتوں کی گندگی سے بچو۔ ” وَاجْنُبْنِیْ وَبَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ (ابراہیم ۳۵) “(ابراہیم نے دعا کی) مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی پرستش سے بچا۔ ”

آیت کا مطلب یہ ہے کہ بت پرستی جو ہر زمانہ میں خدا سے بغاوت کا بہت بڑا ذریعہ رہی ہے ہر رسول اپنی قوم کو اس سے بچنے کی ہدایت کرتا رہا ہے اور اس کی دعوت یہی رہی ہے کہ خدائے واحد کی عبادت کرو۔

واضح رہے کہ طاغوت کا اطلاق شیطان پر بھی ہوتا ہے اور معبود ان باطل پر بھی، سرکش پیشواؤں اور لیڈروں پر بھی ہوتا ہے اور خدا کے قانون کے مقابلہ میں قانون سازی کرنے والوں اور خود ساختہ قوانین کے مطابق فیصلہ کرنے والے حاکموں پر بھی۔  مگر ہر اطلاق کا ایک محل ہے۔  یہاں محلِ کلام دلیل ہے کہ خاص طور سے بت پرستی سے بچنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔ (طاغوت کی مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ بقرہ نوٹ ۴۱۸  سورۂ نساء نوٹ ۱۱۸  اور ۱۴۳  نیز سورۂ مائدہ نوٹ ۱۸۰۔

۵۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی ان رسولوں کی دعوت حق کے نتیجہ میں ایک گروہ نے بتوفیق الٰہی ہدایت پائی اور دوسرا گروہ اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہدایت سے محروم رہا اور اس پر گمراہی بری طرح مسلط ہو گئی۔

۵۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی جن لوگوں پر اللہ کا قانونِ ضلالت چسپاں ہو گیا ہے ان پر ہدایت کی راہ کبھی کھلنے والی نہیں ہے خواہ تم کتنی ہی شدت کے ساتھ ان کی ہدایت کی خواہش کرو۔

۵۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی اللہ کا یہ حتمی وعدہ ہے کہ قیامت کے دن تمام انسانوں کو جر مر چکے ہوں گے دوبارہ زندہ کرے گا تاکہ جزا و سزا کا معاملہ پیش آئے۔  لیکن اکثر لوگ چونکہ اس وعدہ سے بے خبر ہیں اس لیے وہ بڑے وثوق کے ساتھ اس کی تردید کرتے ہیں۔  مگر ان کے بے خبری سے حقیقت بدلنے والی نہیں ہے۔  دوبارہ اٹھا لئے جانے کا واقعہ لازماً پیش آئے گا خواہ کوئی اس پر ایمان لائے یا نہ لائے۔

۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی خدا اور مذہب کے بارے میں جو اختلافات لوگوں کے درمیان پیدا ہو گئے اور پھر عمل کی جو الگ الگ راہیں ہو گئیں ان کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ سب کو دوبارہ زندہ کر کے اکٹھا کیا جائے اور حقیقت کو بے نقاب کر کے ان کو دکھا دیا جائے اور جو لوگ حقیقت کا انکار کتے رہے ہیں ان کا جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے تاکہ وہ اپنے کئے کا مزا چکھیں۔  یہ عدل و انصاف کا کھلا تقاضا ہے اس لیے دوبارہ اٹھائے جانے کی خبر خلافِ عقل نہیں بلکہ عین مطابق عقل ہے۔

۶۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہ منکرین کے اس شبہ کا جواب ہے کہ بے شمار انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنا کیونکر ممکن ہے ؟ فرمایا اللہ جب کسی چیز کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے کچھ کرنا نہیں پڑتا۔  وہ حکم دیتا ہے کہ ہو جا اور وہ چیز اسی وقت وجود میں آ جاتی ہے۔  ایسی زبردست قدرت رکھنے والی ہسی کے لیے مردوں کو زندہ کرنا کچھ بھی مشکل نہیں۔

واقعہ یہ ہے کہ انسان بڑا تنگ نظر واقع ہوا ہے وہ اللہ کی قدرت کو اپنے بنائے ہوئے پیمانہ سے ناپتا ہے اور جو کچھ موجود ہے اسی کو ممکن تصور کرتا ہے۔  وہ ایک غیر موجود چیز کو ممکن تسلیم کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا اگرچہ اس کو وجود میں لانے کی خبر کائنات کا خالق دے رہا ہو۔

۶۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اشارہ ہے ہجرت حبشہ کی طرف جو نبوت کے پانچویں سال کا واقعہ ہے۔  مکہ میں جن لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا ان پر مشرکین طرح طرح کے مظالم ڈھا رہے تھے۔  وہ ان کو ضمیر اور مذہب کی آزادی دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔  ان کے اسی ظلم و ستم سے مجبور ہو کر اپنے دین کو بچانے کی خاطر مسلمانوں کی ایک تعداد نے حبشہ (ابی سینا) کو ہجرت کی۔  پہلا قافلہ تقریباً  15 افراد پر مشتمل تھا جس میں چار خواتین تھیں۔  بعد میں یہ تعداد 83  تک پہنچ گئی۔

ہجرت حبشہ کی سعادت حاصل کرنے والوں میں حضرت عثمان، آپ کی اہلیہ رقیہ جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیٹی تھیں، حضرت زبیر بن العوام، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حاطب بن عمرو، حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت جعفر رضی اللہ عنہم جیسی شخصیتیں شامل تھیں۔ (اس واقعہ کی تفصیل سیرت ابن ہشام ج ا ص ۳۴۳ تا۳۶۴ میں بیان ہوئی ہے)۔

۶۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ مہاجرین کے حق میں پورا ہوا چنانچہ شاہِ حبش نے جو عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان رکھتا تھا ان کو اپنے ملک میں امن و امان سے رہنے کی اجازت دی اور مشرکین کے جو لیڈر مکہ سے اس کو ورغلانے کے لیے حبش پہنچ گئے تھے ان کا کوئی اثر اس نے قبول نہیں کیا۔  اتنا ہی نہیں بلکہ وہ خود نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت پر ایمان لے آیا۔

بعد میں جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ ہجرت کر گئے تو یہ مہاجرین بھی حبش سے مدینہ ہجرت کر گئے۔  یہ ان کی دوسری ہجرت تھی اور مدینہ میں اللہ تعالیٰ نے مہاجرین کو وہ عزت و سر فرازی بخشی جس کا اس سے پہلے کوئی اندازہ نہیں کر سکتا تھا۔

۶۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی اگر ان مہاجرین کو اس بات کا علم ہو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے کیسا کچھ اجر تیار کر رکھا ہے تو وہ ساری کلفتیں جو ہجرت کی راہ میں پیش آ رہی ہیں کافور ہو جائیں۔

۶۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔  متن میں لفظ “رِجالاً”  استعمال ہوا ہے جس کے معنی مرد کے ہیں۔  اس سے واضح ہوا کہ انسانوں میں سے مرد ہی رسول بنا کر بھیجے گئے۔

۶۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مراد اہل کتاب ہیں جن پر ذکر یعنی یاد دہانی نازل ہوئی تھی۔  اس یاد دہانی کا جو حصہ ان کی کتابوں میں موجود ہے وہ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ اللہ کی طرف سے جو رسول بھی بھیجے گئے وہ سب آدمی ہی تھے۔  کبھی کسی فرشتہ کو رسول بنا کر کسی قوم کی طرف نہیں بھیجا گیا۔  یہ ایک واضح تاریخی حقیقت ہے اور اگر اس سے کوئی شخص واقف نہیں ہے تو اہلِ کتاب سے پوچھ کر اپنا اطمینان کر سکتا ہے۔

واضح رہے کہ اہل کتاب اس بات کے قائل تھے کہ رسول انسانوں ہی میں سے بنائے جاتے رہے ہیں۔  مثال کے طور پر موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام انسان ہی تھے چنانچہ بائبل میں ان کے بچپن کے حالات بھی بیان ہوئے ہیں کہ انہوں نے کس طرح پرورش پائی ہے اس لیے قرآن نے مشرکین کو جو نبی صلی اللہ علیہ کی رسالت کا اس بنا پر انکار کر رہے تھے کہ آپ انسان ہیں ایک ایسی بات کی طرف متوجہ کیا جو اہلِ کتاب کے ہاں مسلم تھی۔

اس سے ضمناً یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ قرآن کی جن باتوں کی تائید پچھلی کتابوں سے ہوتی ہے ان کا حوالہ دینے میں حرج نہیں ہے۔

بعض حضرات نے قرآن کے اس ارشاد سے کہ اگر تم نہیں جانتے تو اہل ذکر سے پوچھ لو فقہی مسلک کی تقلید کو جائز ثابت کرنا چاہا ہے حالانکہ اس آیت کا فقہی اور شخصی تقلید سے دور کا بھی تعلق نہیں۔  قرآن نے ایک مسلمہ حقیقت کے سلسلہ میں جو تواتر سے ثابت تھی اہل ذکر کی طرف رجوع کرنے کے لیے کہا تھا تاکہ جو شبہ منکرین کو پیش آ رہا تھا وہ رفع ہو جائے لیکن مقلدین فقہا کے استنباطی مسائل کے سلسلہ میں شخصی تقلید کے لیے اس کو دلیل بناتے ہیں جبکہ استنباط کئے ہوئے مسائل میں خطا کا بھی امکان ہے اور ان کی حیثیت بہر حال مسلمات کی نہیں ہے۔  علاوہ ازیں قرآن نے کسی تخصیص کے بغیر اہلِ ذکر سے پوچھنے کے لیے کہا ہے یعنی ٹکسالی عالم کی قید نہیں ہے بلکہ جاننے والا ہونا کافی ہے۔

۶۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کچھ نازل فرمایا ہے اس کو وضاحت کے ساتھ لوگوں کے سامنے بیان کر دو۔  آگے آیت ۶۴  میں بھی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اسی طرح کی ہدایت دی گئی ہے : وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَیکَ الْکِتَابَ اِلاَّ لِتُبَینَ لَہُمْ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیہِ (نحل ۶۴) “ہم نے کتاب تم پر اسی لیے اتاری ہے تاکہ تم لوگوں کو ان کے اختلافات کی حقیقت کھول کر بیان کر دو۔ ”

اس لیے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن کی آیات، اس کی تعلیمات اور اس کے احکام کی جس طرح تشریح و توضیح کی ہے اور اس کے اسرار و حکم کو جس طرح کھولا ہے وہ کتابِ الٰہی کی مستند ترین تشریح، تعبیر اور تفسیر ہے اور ہمارے لیے اس کے جاننے کا ذریعہ احادیث صحیحہ ہیں۔

۶۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی پہلے سے خوف و خطر کی حالت میں ہوں اور پھر خدا کی طرف سے گرفت ہو جائے اور مصیبت پر مصیبت کا مزا انہیں چکھنا پڑے۔  ان آیات کے نزول کے چند سال بعد کچھ اسی طرح کے حالات سے کفار مکہ کو دو چار ہونا پڑا۔  جنگ بدر ایک خوف و خطر کی حالت تھی جس میں مسلمانوں کی تلوار کافروں پر قہر الٰہی بن کر گری۔

۶۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اللہ شفقت اور رحمت والا ہے اس لیے وہ سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ مہلت دیتا ہے تاکہ تم سنبھل جاؤ اور اس کی رحمت کے مستحق بنو۔

۶۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہ عام مشاہدہ میں آنے والی بات ہے کہ ہر چیز کا سایہ زمین پر گرتا ہے۔  سایہ کا زمین پر گرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ہر چیز خدا کے قانون میں جکڑی ہوئی ہے اور وہ اپنے سایہ کو زمین پر گرنے سے روک نہیں سکتی اور زمین پر سایہ کا گرنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ اللہ کو سجدہ کر رہی ہے۔

پھر سایہ سورج کی مخالف سمت گرتا ہے۔  سورج مشرق میں ہے تو سایہ مغرب کی طرف گرے گا اور اگر سورج مغرب میں ہے تو سایہ مشرق کی طرف گرے گا۔  یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سایہ سورج کو سجدہ نہیں کرتا بلکہ اپنے رب کو سجدہ کرتا ہے۔  کافر کا معاملہ بھی عجیب ہے وہ اللہ کو سجدہ کرنے سے انکار کرتا ہے لیکن اس کا سایہ اللہ ہی کو سجدہ کرتا ہے اگر وہ اس بات پر غور کرے تو توحید کو قبول کر لے اور اپنے کو اللہ کے آگے جھکا دے۔

۷۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی خالق کے آگے بڑا کوئی نہیں۔  ساری مخلوق اس کے آگے پست اور عاجز ہے پھر کسی چیز کے خدا ہونے کا کیا سوال اور اس کی پرستش کے کیا معنی؟

۷۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اوپر کی آیت میں عام مشاہدہ میں آنے والی چیز سایہ کے سجدہ کرنے کا ذکر تھا۔  اس آیت میں اس حقیقت سے باخبر کیا گیا ہے کہ آسمان اور زمین کی تمام جاندار مخلوق اللہ ہی کو سجدہ کرتی ہے یعنی اپنے کو اسی کے آگے جھکاتی ہے اور جس جاندار کے لیے جھکنے کی جو شکل اللہ تعالیٰ نے مقرر کی ہے اس کے مطابق وہ جھکتا ہے۔

اس آیت نے یہ انکشاف بھی کیا کہ جاندار مخلوق صرف زمین ہی میں نہیں آسمانوں میں بھی موجود ہے۔

۷۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہاں فرشتوں کی چار صفات کا ذکر ہوا ہے۔  ایک یہ کہ وہ اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں۔  دوسری یہ کہ وہ بڑائی اور سرکشی نہیں کرتے۔  تیسری یہ کہ وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں اس احساس کے ساتھ کہ وہ ان کے اوپر موجود ہے اور چوتھی یہ کہ وہ اطاعت شعار ہیں اور اس کے ہر حکم کو بجا لاتے ہیں۔  اور جب فرشتوں کا اپنا حال یہ ہے تو ان کو خدا کا شریک ٹھہرانے کا کیا مطلب؟ یہ نری جہالت نہیں تو اور کیا ہے؟

یہ آیتِ سجدہ ہے اس لیے اس کی تلاوت کرتے ہوئے سجدہ کرنا چاہیے۔

۷۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اللہ کا یہ فرمان ہمیشہ سے رہا ہے اور قرآن میں اس نے اپنے اس فرمان کو بالکل محفوظ کر دیا ہے۔

ایک سے زائد خدا کا عقیدہ ہر لحاظ سے باطل ہے اور کوئی شخص دو خداؤں (Dualism) کا قائل ہو یا تثلیث (Trinity) کا اور کسی نے متعدد معبود بنا رکھے ہوں یا ہزاروں جہالت و حماقت کے ایک سے بڑھ کر ایک نمونے ہیں۔

دو خداؤں کا تصور (Dualism) خاص طور سے زرتشتیوں (پارسیوں) میں پایا جاتا ہے۔  ان کے ہاں خیر کا خدا یزدان ہے او ر شر کا خدا اہرمن!  دنیا میں خیر و شر کی جو کشمکش ہے اس کی انہوں نے یہ فلسفیانہ توجہ کی کہ خیر کا خدا الگ ہے اور شر کا الگ۔  گویا دو خداؤں میں کشمکش برابر جاری ہے اور انسان بلا وجہ اس کشمکش کی زد میں آ رہا ہے اور جب یہ دونوں خدا جنگ سے اب تک فارغ نہیں ہو سکے ہیں تو انسان دنیا میں جنگ سے کیونکر فارغ ہو سکتا ہے ؟ یہ تصور دونوں خداؤں کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ کوئی ایک خدا بھی اتنا طاقتور نہیں ہے کہ دوسرے پر غالب آ سکے اور پھر انسان کے لیے سوائے مایوسی کے کچھ نہیں رہ جاتا۔  خدا کا یہ کتنا گھٹیا تصور ہے جو کسی مذہب میں پایا جائے سُبحَانہ و تَعالیٰ عَمَّایَقُوْلُوْنَ غُلُوّاً کَبِیْراً (مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ انعام نوٹ ۳)۔

۷۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔  متن میں لفظ “الدین” استعمال ہوا ہے جس کے معنیٰ یہاں اس اطاعت کے ہیں جو دل کے خضوع کے ساتھ ہو۔  اور “واصب” کے معنیٰ لازم اور دائمی کے ہیں۔  مطلب یہ ہے کہ اللہ کی لازمی اور مستقل اطاعت اس کا حق ہے۔  یہ اطاعت نہ وقتی ہے اور نہ کسی کی اپنی پسند پر موقوف ہے۔  بلکہ بندہ ہونے کی حیثیت سے انسان کا تعلق اپنے رب کے ساتھ اسی نوعیت کی اطاعت کا ہونا چاہیے اور دل کی گہرائیوں کے ساتھ ہونا چاہیے نہ کہ محض رسمی اور ضابطہ بندی کی حد تک۔

۷۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔  تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ انعام نوٹ ۷۱۔

۷۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی نوع انسانی کا ایک گروہ۔

۷۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی جب اللہ تمہاری تکلیف دور کر دیتا ہے تو بجائے اس کے کہ اس کا احسان مانو غیر اللہ کا احسان ماننے لگتے ہو کہ یہ فلاں اور فلاں کی مہربانی سے ہوا۔

مشرکین دیوی دیوتاؤں کی مہربانی سمجھتے ہیں اور مسلمانوں میں جو لوگ شرک میں مبتلا ہیں وہ اسے “اولیا” اور “پیروں” کی مہربانی قرار دیکر اس کے شکریہ کے طور پر ان کے نام کی نذر و نیاز کرتی ہیں۔  شرک کی یہ قسم قرنِ اول کے مسلمانوں میں نہیں تھی یہ بعد میں ایجاد ہوئی اور اب اس کا ایسا چلن ہو گیا ہے کہ موجودہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اس کو سرے سے شرک ہی نہیں سمجھتی۔  کاش وہ ان آیات کے آئینہ میں اپنا چہرہ دیکھ لیتے !

۷۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی وہ خدائی میں جن کو شریک مانتے ہیں اس کا کوئی ثبوت ان کے پاس نہیں ہے پھر بھی ان کو اللہ کا شریک مان کر ان کی نذر و نیاز کے لیے اپنی آمدنی میں سے ایک حصہ خاص کر دیتے ہیں۔  مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ انعام نوٹ ۲۴۷۔

۷۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے جو سراسر ایک بے بنیاد بات ہے بیٹیاں ہونا ان کے نزدیک بجائے خود ایک معیوب بات تھی چنانچہ وہ اپنے لیے بیٹے پسند کرتے تھے اور اگر لڑکی پیدا ہو جاتی تو اسے اپنے لیے عار سمجھتے۔  اس طرح انہوں نے اپنے لیے جو معیار قائم کر لیا تھا اس سے پست معیار اللہ کے لیے قائم کیا تھا۔  ان کی اسی فاسد ذہنیت پر ضرب لگائی گئی ہے۔

۸۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔  عرب میں قبائلی سسٹم رائج تھا جس میں دفاع وغیرہ کے تعلق سے مردوں کی خاص اہمیت تھی۔  یہ پہلو ان کے ذہنوں میں اس قدر غالب رہا کہ لڑکیوں کی پیدائش انہیں ناگوار ہونے لگی اور سوسائٹی کا ذہن ایسا بگڑ گیا کہ وہ اسے عیب خیالی کرنے لگی۔  نتیجہ یہ کہ جب کسی شخص کو یہ اطلاع مل جاتی کہ اس کے گھر لڑکی پیدا ہوئی تو غم سے اس کا چہرہ بدل جاتا اور وہ غصہ کے گھونٹ پی کر رہ جاتا۔  اگر اس کی پرورش وہ کرتا تو اس کو اپنے لیے باعثِ عار سمجھ کر کرتا یا پھر اس عار سے بچنے کے لیے اسے گڑھا کھود کر زندہ دفن کر دیتا۔  ان کی اسی ظالمانہ حرکت کی تصویر ان آیتوں میں کھینچی گئی ہے تاکہ انہیں اپنی غلط ذہنیت کا احساس ہو جائے۔

۸۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے ان کے اندر لازماً برے اوصاف پرورش پاتے ہیں مثلاً فاسد عقائد، نیتوں کا کھوٹ، نمود و نمائش، حسد و بغض، حرام خوری، بے حیائی، حق تلفی، اسراف، ظلم و زیادتی اور دوسری بہت سی برائیاں۔  اس لیے وہ اسی لائق ہیں کہ ان کی حالت کو واضح کرنے کے لیے بری مثالیں دی جائیں چنانچہ قرآن میں ان کی اس بات کو کہ وہ غیر اللہ کو اپنا کار ساز بنائے ہوئے ہیں مکڑی کے بودے گھر سے تعبیر کیا گیا ہے (سورۂ عنکبوت ۴۱) ، ان کی مثال اندھوں اور بہروں سے دی گئی ہے (ہود۲۴۰) ان کو جانور سے تشبیہ دی گئی ہے جو کچھ سمجھتے نہیں۔ (اعراف ۱۷۹)

۸۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی اللہ کے لیے کوئی ایسی مثال ہرگز صحیح نہیں ہو سکتی جس سے کوئی عیب یا کمزوری اس کی طرف منسوب ہوتی ہو۔  اس کی صفات نہایت اعلیٰ ہیں اس لیے اس کے بارے میں ایسی باتیں ہی کہی جا سکتی ہیں جن سے اس کی شان اور مرتبہ کی بلندی کا اظہار ہوتا ہو۔

فرشتوں کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ خدا کی بیٹیاں ہیں یا بیٹوں جیسے ہیں ایک ایسی بات خدا کی طرف منسوب کرنا ہے جو اس کے مرتبہ سے بہت فروتر ہے۔  اسی طرح خدا کو بادشاہوں پر قیاس کر کے یہ کہنا کہ ہم اپنی حاجتیں براہ راست خدا کے سامنے پیش نہیں کر سکتے لہٰذا اپنی درخواستوں کو اس تک پہنچانے کے لیے واسطے اور وسیلے ضروری ہیں خدا کے لیے غلط اور نا مناسب مثالیں گھڑنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

۸۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہاں جاندار سے مراد انسان ہے جیسا کہ آیت کے الفاظ “اگر اللہ لوگوں کو ان کے ظلم پر پکڑتا” سے واضح ہے۔

۸۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ یہ لوگ اپنے لیے بیٹیوں کو ناپسند کرتے ہیں لیکن اللہ کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں۔

۸۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی ان مشرکانہ عقائد و عمال کے باوجود اس بات کے مدعی ہیں کہ ہمارے لیے خیریت ہی خیریت ہے۔  دنیا کی بھلائیاں ان شریکوں کے طفیل ہی ہمیں ملتی ہیں اور اگر آخرت کا مرحلہ پیش آ ہی گیا تو یہی شرکا (فرشتے) ہمارے سفارشی ہوں گے اور ہماری نجات کا سامان کریں گے۔

۸۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی وہ بھلائی کے خواب دیکھ رہے ہیں حالانکہ جہنم لازمی طور پر ان کا ٹھکانا بننے والی ہے اور اس میں ان کو اس طرح چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ اس عذاب سے کبھی نجات نہ پا سکیں گے۔

۸۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ نے یہاں اپنی ذات کی قسم کھائی ہے جس سے بڑھ کر یقین اور وثوق پیدا کرنے والی چیز اور کیا ہو سکتی ہے۔

۸۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس آیت میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو تسلی دی گئی ہے کہ تم سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف رسول بھیجے گئے تھے لیکن انہوں نے رسولوں کی بات نہیں مانی بلکہ شیطان کی فریب کاری کا شکار ہو گئے اور تمہاری قوم بھی آج اسی شیطان کو رفیق بنائے ہوئے ہے۔

۹۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خدا اور مذہب کے بارے میں لوگوں کے درمیان زبردست اختلافات پائے جاتے ہیں۔  ان اختلافات کی حقیقت واضح کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر قرآن نازل فرمایا۔  اس کے بعد لوگوں کے لیے ان بنیادی امور میں اختلاف کرنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہی۔  اس کے باوجود اگر لوگ اپنے اختلافات پر جمے رہے تو وہ آپ اپنے عمل کے ذمہ دار ہوں گے۔

۹۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی خشک زمین پا بارش کے چھینٹے پڑتے ہی وہ سر سبز و شاداب ہو گئی۔

۹۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نشانی اس بات کی کہ جو خدا مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے وہ مردوں کو بھی زندہ رکستا ہے۔  مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ بقرہ نوٹ ۱۹۷۔

۹۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی جو گوشِ ہوش سے سنتے ہیں۔

۹۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔  سبق توحید کا، اللہ کی ربوبیت کا اور اس کے کمال قدرت کا۔

۹۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی جانور کے پیٹ میں جہاں گوبر اور خون پیدا ہوتا ہے وہیں ایک تیسری چیز خالص دودھ بھی پیدا ہوتا ہے جس میں ان دو چیزوں کا کوئی شائبہ نہیں ہوتا اور انسان اس کے پینے میں لذت محسوس کرتا ہے۔  گویا اللہ تعالیٰ نے انسان کے فائدے کے لیے بے شمار چلتے پھرتے کارخانے بنائے ہیں جن میں عجیب و غریب طریقہ سے اعلیٰ درجہ کا مشروب تیار ہوتا ہے جو لذیذ بھی ہے اور صحت بخش بھی۔

۹۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔  کھجور کے درختوں اور انگور کی بیلوں سے حاصل ہونے والے پھل اللہ کی بہترین نعمت ہیں مگر لوگ ان پھلوں سے شراب بنا کر اس نعمت کا غلط استعمال کرتے ہیں۔  آیت کے یہ الفاظ “تم نشہ آور چیز بھی بنا لیتے ہو اور اچھا رزق بھی” اس بات کی طرف صریح اشارہ کرتے ہیں کہ نشہ آور چیز اچھا رزق (رزق حسن) نہیں ہے۔

اگرچہ خمر (شراب) کی حرمت کا صریح حکم بعد میں نازل ہوا۔  (سورۂ بقرہ آیت ۲۱۹  اور سورۂ مائدہ ۹۱) لیکن اس سے بہت سے بہت پہلے اس آیت کے ذریعہ اس کے پاکیزہ رزق نہ ہونے کی طرف واضح اشارہ کیا گیا تھا۔

یہ خیال کرنا صحیح نہیں کہ شراب پچھلی شریعتوں میں جائز رہی ہے کیونکہ قرآن کی رو سے شراب ایک نجس چیز اور شیطانی عمل ہے اور ایسی چیزوں کو خدا کی شریعت کبھی سند جواز عطا نہیں کرتی۔  بائبل کی کتاب یعیاہ اور امثال میں شراب کو نا پسندیدہ قرار دیا گیا ہے:

“ان پر افسوس جو مَے پینے میں زور آور اور شراب ملانے میں پہلوان ہیں” (یعیاہ ۵: ۲۲)

“تو شرابیوں میں شامل نہ ہو اور نہ حریص کبابیوں میں” (امثال ۲۳: ۲۰)

“مَے مسخرہ اور شراب ہنگامہ کرنے والی ہے اور جو کوئی ان سے فریب کھاتا ہے دانا نہیں۔ ” (امثال ۲۰: ۱)

۹۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی آدمی عقل عام (Common Sense) سے کام لے تو یہ محسوس کئے بغیر نہیں رہے گا کہ اس کا رب بڑا ہی محسن ہے کہ اس نے بہترین نعمتیں اس کے لیے پیدا فرمائی ہیں اور یہ احساس جب اس میں پیدا ہو گا تو وہ اس توحید کو پالے گا جس کی دعوت قرآن دے رہا ہے۔

۹۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی اللہ نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ وہ اونچی جگہوں میں چھتے بنائے اور پھلوں اور پھولوں کا رس چوس کر شہد تیار کرے۔  شہد کی مکھی اس کام کو جس طرح انجام دیتی ہے وہ عقل کو حیرت میں ڈالنے والا ہے۔  چھتے میں وہ مسدس خانے بناتی ہے جس کے زاوئے اتنے صحیح ہوتے ہیں کہ گویا جومیٹری کے کسی ماہر نے آلات کی مدد سے بنائے ہیں۔  پھر وہ شہد جمع کرنے کا کام اجتماعی طور پر نظم و انضباط کے ساتھ نہایت سرگرمی اور بڑے سلیقہ سے انجام دیتی ہے۔  شہد کی مکھی کی یہ کاریگری اس کے رب کی تعلیم کا نتیجہ ہے۔  اس تعلیم کو جو براہ راست خدا کی طرف سے اسے ملتی ہے “وحی” سے تعبیر کیا گیا ہے جس کا ترجمہ ہم نے “الہام” کیا ہے۔

۹۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔  متن میں لفظ “ثمرات”  استعمال ہوا ہے جو پھلوں پھولوں اور پیداوار کے لیے عام ہے۔ شہد کی مکھی مختلف پھولوں پھلوں اور جڑی بوٹیوں کا رس چوستی ہے۔  یہ رس اس کے پیٹ کی تھیلی میں جمع ہو کر شہد میں تبدیل ہو جاتا ہے جسے وہ اگل کر اپنے چھتے میں جمع کرتی ہے۔  ایک پونڈ شہد جمع کرنے کے لیے اسے جو چکر کاٹنا پڑتے ہیں ان کا مجموعی فاصلہ کرۂ زمین کے گرد تین چکر لگانے کے بقدر ہوتا ہے۔  ملاحظہ ہو کتاب

) Honey by Eva Crane Director Bee Research Association London P.4 (

۱۰۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔  “رب کی ہموار راہوں” سے مراد وہ طور طریقے ہیں جن کو اختیار کر کے شہد کی مکھی کے لیے شہد بنانا آسان ہو گیا ہے۔  شہد کا جو ایک ایک قطرہ وہ جمع کرتی ہے اس کے لیے اسے بڑی محنت کرنا پڑتی ہے اور کئی مراحل سے اسے گزرنا پڑتا ہے مگر یہ سب مراحل اس کے رب نے اس کے لیے اتنے آسان کر دیئے ہیں کہ وہ برابر اپنے کام میں لگی رہتی ہے اور دور دور تک پھولوں کی تلاش میں جاتی ہے اور راستہ بھٹک بغیر اپنے چھتہ میں آ کر شہد جمع کرتی ہے۔  پھلوں سے اس وقت وہ رس چوستی ہے جبکہ اس کا چھلکا نرم ہویا پھٹ گیا ہو۔

۱۰۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔  شہد کے مختلف رنگ ہوتے ہیں سرخ، سفید، زرد جس قسم کے پھلوں اور پھولوں کا رس شہد کی مکھی چوستی ہے اس کی مناسبت سے شہد میں رنگ، ذائقہ اور طبی خصوصیات (Medical Properties) پیدا ہو جاتی ہیں۔

۱۰۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔  شہد ایک لذیذ اور مفید غذا ہونے کے علاوہ مختلف بیماریوں کے لیے نسخۂ کیمیا بھی ہے۔  قدیم زمانہ سے لوگ اس کو شفا کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔  شہد ایک اچھا محفوظ کرنے والا مادہ (Preservative) بھی ہے کیونکہ اس میں بیکٹریا (Bacteria) پرورش نہیں پا سکتا اس لیے یونانی دواؤں میں بہ کثرت اس کا استعمال ہوتا ہے۔  جدید طبی تحقیقات کی رو سے شہد میں مختلف قسم کے وٹامن (Vitamins) اور معدنیات (Minerals) پائی جاتی ہیں۔  گویا شہد ایک اچھا خاصا ٹانک (Tonic) بھی ہے۔

۱۰۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔  نشانی اس بات کی کہ ان گوناگوں خصوصیات اور فوائد سے بھر پور مشروب تیار کرنے کے کام میں شہد کی مکھی کو لگا کر انسان کو اس نے ایک نفیس نعمت عطا فرمائی ہے اس سے اس کی شان ربوبیت کا اظہار ہوتا ہے۔

۱۰۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔  عمر کے بدترین حصہ سے مراد بہت زیادہ بڑھاپے کی عمر ہے جب کہ انسان کی قوتیں جواب دینے لگتی ہیں اور بعض لوگوں کا حال تو یہ ہو جاتا ہے کہ انہیں اپنا ہوش بھی نہیں رہتا۔ دوسری قوتوں کے ساتھ قوتِ حافظہ بھی کمزور ہو جاتی ہے۔  قرآن میں دوسری جگہ فرمایا گیا ہے :

اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِنْ ضُعْفٍ قُوَّۃً ثُمَّ جَعَلَ من بَعْدِ قُوَّۃٍ ضُعْفاً وَّ شَیْبَۃً (سورۂ روم ۵۴) “اللہ نے تمہیں کمزور حالت میں پیدا کیا پھر کمزوری کے بعد تمہیں طاقتور بنایا پھر طاقتور بنانے کے بعد تمہیں کمزور اور بوڑھا بنا دیا۔ ” وَ مَنْ نُعَّمِّرہُ نُنَکِّسْہُ فی الْخَلْقِ (سورۂ یٰسین ۶۸) “اور جس کو ہم لمبی عمر دیتے اس کو خلقت میں اوندھا کر دیتے ہیں”

اس طرح انسان میں طبعی طور پر واقع ہونے والا یہ انحطاط اس کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔  قوتوں میں کمال کے بعد یہ زوال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انسان کا اپنا بل بوتا کچھ بھی نہیں جس پر وہ فخر کر سکے بلکہ ساری قوتیں اس کے خالق کی بخشی ہوئی ہیں اور وہ جب چاہتا ہے ان کو چھین لیتا ہے۔  حقیقتہً علیم و قدیر ہی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔

۱۰۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہ واقعہ ہے کہ حصول رزق کے معاملہ میں تمام انسانوں کا حال یکساں نہیں ہے کسی کو معیشت کے زیادہ وسائل حاصل ہیں اور کسی کو کم اور جہاں تک غلاموں کا تعلق ہے ان کے حقوق اپنی جگہ لیکن دنیا کا یہ مسلمہ اصول رہا ہے کہ غلام اپنے آقا کی ملکیت میں شریک نہیں ہے کہ دونوں کی حیثیت برابر ہو جائے۔  اگر ایسا ہوتا تو غلام غلام ہی نہ رہتا۔  لہٰذا جب انسان اپنی ملکیت میں اپنے غلاموں کو شریک کی حیثیت نہیں دیتا تو خدا کی خدائی میں اس کے بندوں کو کس طرح شریک ٹھہراتا ہے ؟ ایک ایسی بات جو اپنے لیے پسند نہیں کرتا اسے وہ خدائے برتر کی طرف منسوب کرنے کی کیسے جرأت کرتا ہے ؟

واضح رہے کہ اس مثال سے مقصود اللہ کا شریک ٹھہرانے والوں کی غلط ذہنیت کو واضح کرنا ہے اور یہ ایسی ہی بات ہے جس طرح کہ قرآن نے مشرکین کے اس عقیدہ پر کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں گرفت کرتے ہوئے کہا کہ تم اپنے لیے تو بیٹیوں کو ناپسند کرتے ہو مگر خدا کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہو۔  مقصود اس سے ان کے ذہن کی خرابی اور عقیدہ کے فساد کو واضح کرنا ہے نہ کہ اس بات کو سند جواز عطا کرنا کہ انسان اپنے لیے بیٹیوں کو معیوب سمجھتے اسی طرح یہاں بھی غلاموں کی اصولی حیثیت کو سامنے رکھتے ہوئے مثال دی گئی ہے ان کے ساتھ برتاؤ اور سلوک کا مسئلہ یہاں زیر بحث نہیں ہے۔  اس لیے بات کو اس کے دائرہ میں رکھ کر غور کرنا چاہیے۔  بعض حضرات نے یہاں فلسفہ معیشت کی بحث چھیڑ دی ہے جو بالکل بے محل ہے۔

۱۰۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی جب یہ آقا اور غلام کے فرق کو اچھی طرح سمجھتے ہیں تو پھر خدا کی دی ہوئی نعمتوں کو اس کے بندوں کی طرف کس طرح منسوب کرتے ہیں ؟ کیا خدا کے بندے اور اس کی مخلوق اس کی خدائی اور اس کی ملکیت میں شریک ہے ؟ اگر نہیں اور واقعہ یہ ہے کہ ہرگز ایسا نہیں ہے تو کسی بھی نعمت کے مل جانے پر خدا ہی کا شکر گزار ہونا چاہیے مگر اللہ کا شریک ٹھہرانے والے کسی نعمت کے حاصل ہو جانے پر خدا کا نہیں بلکہ اس کے بندوں اور اس کی مخلوق کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ان کی نوازشوں سے ہمیں یہ نعمت ملی۔

یہ مشرکین کا حال بیان ہوا ہے لیکن موجودہ دور میں بدعت پسند مسلمانوں کا حال بھی ایسا ہی ہے ان میں سے کسی کو جب اولاد یا کوئی اور نعمت ملتی ہے تو وہ اسے “خواجہ غریب نواز” اور “پیران پیر” وغیرہ کی نوازش قرار دینے اور شکر کے طور پر ان کے حضور عقیدت کی نذریں اور نیازیں پیش کرنے لگتا ہے اس قسم کی مشرکانہ حرکتوں کے باوجود یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس سے ان کے عقیدۂ توحید پر کوئی حرف نہیں آتا۔  کاش وہ قرآن کی تعلیم پر غور کرتے۔

۱۰۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی تمہارے لیے بیویاں کسی اور جنس اور نوع سے نہیں بلکہ تمہاری اپنی جنس یعنی نوع انسانی سے پیدا کیں تاکہ تم ان سے انس محسوس کرو۔

۱۰۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی ان لوگوں کا معاملہ عجیب ہے۔  فائدہ تو وہ اللہ کی نعمتوں سے اٹھاتے ہیں لیکن احسان اوروں کا مانتے ہیں۔

واضح رہے کہ مشرکین مکہ کو اس بات سے انکار نہیں تھا کہ یہ اور اس قسم کی دوسری نعمتیں اللہ کی پیدا کی ہوئی ہیں اس کی بخشی ہوئی ہیں لیکن اس کے ساتھ وہ یہ اعتقاد بھی رکھتے تھے کہ فلاں اور فلاں خدا کے حضور ہمارے سفارشی ہیں ان کی سفارش اور ان کے وساطے سے ہمیں مختلف قسم کی نعمتیں ملتی ہیں اس لیے ان کا احسان ماننا اور ان کا شکر بجا لانا ضروری ہے۔  اس اعتقاد کے نتیجہ میں ان کے سفارشوں نے خدا کی جگہ لے لی تھی چنانچہ وہ ان کے ساتھ وہ معاملہ کرتے جو صرف خدا کے ساتھ کیا جانا چاہیے تھا۔

۱۰۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔  خدا کے لیے مثالیں گھڑنے اور تشبیہ دینے سے ہی شرک کی راہیں کھلی ہیں۔  مثال کے طور پر خدا کے لیے بیٹے اور بیٹیوں کا تصور آغاز میں ایک مثال اور تشبیہ کے طور پر تھا لیکن جب جب اس تصور نے پختہ اعتقاد کی شکل اختیار کر لی تو مثال اور تشبیہ باقی نہیں رہی اور ان کے تجویز کردہ بیٹے اور بیٹیاں معبود بن گئے۔  اسی طرح خدا کو انسانی بادشاہوں پر قیاس کر کے کہا گیا کہ جس طرح بادشاہ تک اپنی درخواست پہنچانے کے لیے واسطوں اور وسیلوں کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح اپنی حاجتیں خدا تک پہنچانے کے لیے فلاں اور فلاں کے واسطے اور وسیلے ضروری ہیں۔  پھر جب اس تصور نے اعتقاد کی شکل اختیار کر لی تو ان واسطوں اور وسیلوں نے خدائی کا مقام حاصل کر لیا۔  اب ان ہی کو حاجت روائی کے لیے پکارا جانے لگا، ان ہی سے فریاد کی جانے لگی ان ہی کی منتیں مانی جانے لگیں، اور ان ہی کے لیے نذریں اور نیازیں پیش کی جانے لگیں۔  غرض ان کی پرستش کے مختلف طریقے اختیار کئے گئے۔  نتیجہ یہ کہ اپنے حقیقی رب سے تعلق کمزور اور خود ساختہ خداؤں سے تعلق مضبوط ہو گیا۔

قرآن نے خدا کے لیے مثالیں گھڑنے کی ممانعت کر کے شرک کا دروازہ بند کر دیا ہے وہ کہتا ہے خدا کے بارے میں قیاس آرائی سے کام لینا جہالت ہے۔  علم کی راہ یہ ہے کہ اللہ نے اپنی جو صفات بیان فرمائی ہیں ان پر ایمان لاؤ کیونکہ اللہ سے بڑھ کر اس کی صفات کو جاننے والا کون ہو سکتا ہے ؟

۱۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ایک ایسی مثال جس سے شرک کی تردید ہوتی ہے۔

۱۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی ایک شخص بے اختیار غلام ہے اور دوسرا آزاد و مختار ہونے کے علاوہ فیاض بھی ہے۔  کیا تم دونوں کو یکساں خیال کرتے ہو۔  نہیں بلکہ جب تم کوئی چیز مانگنا چاہتے ہو تو دوسرے شخص ہی سے مانگتے ہو پہلے شخص سے نہیں کیونکہ تم سمجھتے ہو کہ وہ بے اختیار ہے کچھ کر نہیں سکتا۔ غیر مختار اور خود مختار کے اس فرق کو تم اپنے باہمی معاملات میں اچھی طرح سمجھتے ہو اور اس کے مطابق اپنا طرز عمل اختیار کرتے ہو لیکن جب اپنی حاجتیں حاجت روا کے سامنے پیش کرنے کا معاملہ ہوتا ہے تو خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی طرف رجوع کرتے ہو اور اس کے بے اختیار بندوں کو اپنا محسن مان کر ان کی شکر گزاری کرنے لگتے ہو۔ کیا یہ صریح جہالت نہیں ہے ؟

۱۱۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی حقیقی محسن اللہ ہی ہے اس لیے شکر کا مستحق وہی ہے مگر اکثر لوگ اس واضح حقیقت سے بھی آگاہ نہیں ہیں اس لیے وہ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا محسن سمجھتے ہیں اور ان کا شکر ادا کرنے لگتے ہیں۔

۱۱۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔  پہلی مثال توحید کے تعلق سے تھی یہ دوسری مثال رسالت کے تعلق سے ہے کہ ایک طرف وہ سردار اور لیڈر ہیں جن کی زبانیں حق گوئی کے لیے بند ہیں، خیر کی صلاحیت سے بالکل محروم، اپنے رب کا رزق کھاتے ہیں مگر نا شکرے ہیں، بھلائی کے جو کام کرنے کے لیے ان کے رب نے ان کو دنیا میں بھیجا ہے وہ ان کو انجام نہیں دیتے دوسری طرف اللہ کا پیغمبر ہے جو اپنے رب کی سیدھی راہ یعنی توحید پر قائم ہے اور اپنی قوتِ گویائی کو حق اور عدل و انصاف کی تعلیم کے لیے استعمال کر رہا ہے۔  بتاؤ ان دونوں میں سے کون ہے جو رہنما بنائے جانے کا مستحق ہے ؟ ظاہر ہے کہ پیغمبر۔  لیکن عجیب بات ہے کہ لوگ خدا کے پیغمبر کو چھوڑ کر ناکارہ لیڈروں کی پیروی کر رہے ہیں۔

۱۱۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مطلب یہ ہے کہ جس ہستی نے کائنات کے اس نظام کو بنایا ہے اس کے لیے اس نظام کو توڑ دینا اور اس کے اندر سے نئے نظام کے ساتھ ایک نئی دنیا پیدا کر دینا کچھ بھی مشکل نہیں۔  جس دن اللہ قیامت برپا کرنا چاہے گا چشم زدن میں بلکہ اس سے بھی کم وقت میں ہنگامہ برپا ہو جائے گا۔

ماضی کا انسان قیامت کو اس بنا پر عقل سے بعید خیال کرتا تھا کہ اس کائنات کا نظام نہایت ہی مضبوط ہے وہ ٹوٹ کیسے سکتا ہے اور یہ بڑے بڑے پہاڑ ریزہ ریزہ کس طرح ہو سکتے ہیں مگر سائنسی ترقی نے اس کا امکان بالکل ظاہر کر دیا ہے چنانچہ ذرہ کو پھاڑ دینے (Split) سے اتنی زبردست قوت خارج ہوتی ہے کہ آناً فاناً وہ پورے شہر کو تباہ کر کے رکھ دیتی ہے تو جس ہستی کا ذرہ ذرہ پر کنٹرول ہے اس کا تو ایک اشارہ ذرات کو پھاڑ دینے کے لیے کافی ہو سکتا ہے اور ان کے پھٹ جانے سے وہ زبردست دھماکہ ہو سکتا ہے جس کا نام قیامت ہے اس کائنات کا خالق یقیناً اس بات پر قادر ہے کہ ایک سیکنڈ کے اندر قیامت کا دھماکہ کرے۔

۱۱۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔  انسان جب پیدا ہوتا ہے تو علم سے عاری اور بے خبر ہوتا ہے مگر رفتہ رفتہ اس میں سننے، دیکھنے اور سوچنے سمجھنے کی قوتیں ابھرنے لگتی ہیں جن کی بنا پر اسے دوسری مخلوقات پر امتیاز حاصل ہو جاتا ہے۔  یہ قوتیں اللہ ہی کی بخشی ہوئی ہیں اس لیے ان نعمتوں کا حق یہ ہے کہ انسان اپنے محسن کو پہچانے اور اس کا شکر ادا کرے لیکن وہ اس سے بے پرواہ ہو کر ناشکری کرنے لگتا ہے۔

۱۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی اگر لوگ آنکھیں کھول کر فضائے آسمانی میں اڑنے والے پرندوں کو دیکھیں تو انہیں اللہ کی قدرت اور اس کی ربوبیت کی نشانیاں دکھائی دیں اور وہ اس پر ایمان لے آئیں۔  پرندے کسی مصنوعی قوت کا سہارا لیے بغیر اپنے پروں کے ذریعہ کس طرح فضا میں اڑتے ہیں ؟ کون ہے جس نے ان کو اڑنے کے لیے پر دئے پھر ان کو اڑنے کی ایسی تربیت دی کہ وہ فضا میں میلوں سفر کرتے ہیں اور گر نہیں جاتے ؟ وہ کون ہے جس کے حکم اور قانون کے یہ تابع (مسخر) ہیں ؟

۱۱۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔  گھر بنانے کا فن اللہ ہی نے سکھایا اور اس کے لیے وسائل بھی فراہم کر دیئے۔  گھر میں انسان کو جو سکون ملتا ہے وہ اسی کی دین ہے۔

۱۱۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی مویشیوں کے چمڑے سے خیمے بنائے جاتے ہیں جن کو تہ کر کے سفر میں ساتھ لے جانا بھی آسان ہے اور قیام کے دوران ان کو کھول کر ڈیرا بنا لینا بھی آسان۔  گویا یہ فولڈ ہونے والے مکانات (Folding Houses) ہیں جو اللہ کا عطیہ ہیں۔

۱۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اون بھیڑ سے، روئیں اونٹ سے اور بال بکری سے حاصل کئے جاتے ہیں۔  ان سے کمبل، لباس اور فرش وغیرہ بنتے ہیں۔

۱۲۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔  درختوں اور پہاڑوں کے سائے۔

۱۲۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔  غار اور کھوہ۔

۱۲۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔  لو کی گرمی سے محفوظ رکھنے والے لباس۔

اوپر اون کا ذکر ہوا جس سے سردی سے بچانے کے لیے لباس بنائے جاتے ہیں اس لیے یہاں خصوصیت سے گرمی سے بچانے والے لباس کا ذکر فرمایا جو روئی وغیرہ سے بنائے جاتے ہیں اور ان کی ضرورت عرب جیسے گرم ملک میں زیادہ ہوتی ہے۔

۱۲۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی زر ہیں۔

۱۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر نعمتوں کی ایسی بارش کر دی ہے کہ تمہاری کوئی طبعی اور فطری ضرورت ایسی نہیں رہی جس کی تکمیل کا سامان نہ کیا گیا ہو۔  یہ نعمتیں اس نے تمہیں اس لیے عطا کی ہیں کہ تم اپنے رب کو پہچانو اور اس کے فرمانبردار بن جاؤ۔

۱۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی اگر ان تمام باتوں کے باوجود جو اوپر بیان ہوئیں ان کے اندر اپنے رب کی بندگی کا احساس نہیں ابھرتا اور اپنے غلط عقائد ہی پر جمے رہنا چاہتے ہیں۔  تو وہ اپنے عمل کے ذمہ دار ہیں۔  پیغمبر پر تو صرف پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی۔

۱۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مشرکین کو اس بات سے انکار نہیں تھا کہ یہ نعمتیں اللہ ہی کی پیدا کی ہوئی ہیں لیکن جب ان میں سے کسی کو خاص طور سے کوئی نعمت مل جاتی تو وہ اللہ کو چھوڑ کر اوروں کا احسان قرار دیتا کہ یہ فلاں کی مہربانی کا نتیجہ ہے یا اس کے وساطت اور وسیلہ سے اس نے یہ نعمت پائی ہے۔  اس عقیدہ کی بنا پر یہ “واسطے اور وسیلے” ہی ان کے شکریہ کے مستحق قرار پاتے۔  پھر ان کے ساتھ وہ معاملہ کرتے جو صرف خدا کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔  اس طرح وہ ایک طرف خدا کی نعمتوں کا اقرار کرتے اور دوسری طرف وہ ایسا طرز عمل اختیار کرتے جس سے اقرار کی نفی ہوتی۔  شرک کرنے والوں کی اسی حرکت پر یہاں گرفت کی گئی ہے۔

۱۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی رسول جو اس امت کی طرف بھیجا گیا تھا۔  وہ قیامت کے دن خدا کے حضور گواہی دے گا کہ میں نے تیرا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیا تھا۔

۱۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی رسول کی گواہی کے بعد کافروں کو جھوٹے عذرات پیش کرنے کا موقع باقی نہیں رہے گا کیونکہ رسول کی گواہی سے ان کا جرم ثابت ہو چکا ہو گا اور ان سے یہ بھی نہیں کہا جائے گا کہ اپنے قصوروں کی معافی مانگو کیونکہ معافی مانگنے کا وقت گزر چکا ہو گا۔  اس کا موقع انہیں دنیا میں حاصل تھا۔  آخرت تو بدلہ ملنے کی جگہ ہے۔

۱۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس تردید سے صاف ظاہر ہے کہ یہاں ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے مراد بت نہیں بلکہ وہ شخصیتیں جن کے ساتھ شرک کرنے والے وہ معاملہ کرتے رہے جو صرف خدا کے ساتھ کیا جانا چاہیے تھا مثلاً ان کو حاضر ناظر جان کر مدد کے لیے پکارنا، ان کے بارے میں یہ اعتقاد رکھنا کہ ان کو ایسے اختیارات حاصل ہیں کہ وہ خدا سے جو چاہیں دلوا سکتے ہیں، وہ قسمتوں کو بناتے ہیں، دکھ کو دور کتے ہیں اور غیب سے دولت اور اولاد عطا کرتے ہیں وغیرہ۔

قیامت کے دن یہ شخصیتیں اپنے ان عقیدت مندوں کو جھوٹا قرار دیں گی کہ نہ ہمیں اس بات کی خبر تھی کہ تم ہمیں حاجت روائی کے لیے پکارا کرتے تھے اور ن ہم تمہاری حاجت روائی کر سکتے تھے۔  تم ہمارے بارے میں جس بات کا دعویٰ کرتے تھے وہ سراسر جھوٹ ہے۔

۱۳۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی اس روز یہ شرک کرنے والے اپنا برسر غلط ہونا تسلیم کر لیں گے اور خدا کے سامنے اپنی بے بسی کا اظہار کریں گے۔

۱۳۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی ان کا یہ جھوٹ کہ خدا نے اپنے اختیارات میں سے فلاں اور فلاں کو یہ اور یہ اختیارات دے رکھے ہیں اور وہ اس اور اس بات پر قادر ہیں بالکل باطل ثابت ہو جائے گا۔

واضح رہے کہ شرک بت پرستوں ہی میں نہیں پایا جاتا بلکہ موجودہ دور کے مسلمانوں کی بھی اچھی خاصی تعداد شرک میں بری طرح مبتلا ہیں چنانچہ انہوں نے اپنے بزرگوں میں سے کسی کو مشکل کشا کا لقب دے رکھا ہے تو کسی کو دستگیر کا، کسی کو غریب نواز کا کسی کو غوث پاک کا اور تاویلات کر کے وہ یہ باور کرانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ یہ شرک نہیں ہے۔  حالانکہ قرآن نے اصولی طور پر جن باتوں کو شرک قرار دیا ہے اس سے ان کا معاملہ ہرگز مختلف نہیں ہے۔  جاہل مسلمانوں کی ان مشرکانہ حرکتوں کو نام نہاد علماء کا طبقہ سند جواز عطا کرتا ہے چنانچہ موجودہ دور کی ایک نئی تفسیر میں یہاں تک لکھ دیا گیا ہے کہ :

“ایسے ہی رب اپنے بعض مقبول بندوں کو اپنے فضل سے خدائی کا مالک بنا دیتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ رب کے برابر نہیں ہوتے بلکہ اس کے بندے ہی رہتے ہیں۔ ”

یہ صریح تضاد بیانی ہے اور زبردست مغالطہ بھی گویا خدائی کا مالک بنا دینے کا عقیدہ بھی شرک نہیں قرار پاتا۔  اللہ بچائے اس مغالطہ سے۔

۱۳۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔  قرآن کے نزدیک سب سے بڑا فساد (بگاڑ) یہ ہے کہ آدمی شرک کرے اور اس کو پھیلائے اور توحید کی راہ سے لوگوں کو روکے۔

۱۳۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔  تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ نساء نوٹ ۹۶۔

۱۳۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔  قرآن کا موضوع ہے “اللہ کی راہ لوگوں پر واضح کرنا اور گمراہیوں سے انہیں بچانا” اس کے پیش نظر قرآن نے تمام ضروری باتیں کھول کر بیان کر دی ہیں جو انسان کی ہدایت کے لیے بالکل کافی اور شافی ہیں۔  رہیں قرآن کے احکام کی تفصیلات اور ان کی عملی صورتیں تو پیغمبر کی سنت نے اس کو بخوبی واضح کر دیا ہے۔

اور جب یہ حقیقت ہے کہ قرآن میں وہ تمام باتیں وضاحت کے ساتھ بیان ہوئی ہیں۔  جن کا تعلق انسان کی ہدایت سے ہے اور جن پر اس کے آخرت میں نجات پانے کا دارو مدار ہے تو کوئی عقیدہ ایسا نہیں ہو سکتا جو دین میں ضروری ہو اور قرآن میں بیان نہ ہوا ہو۔  اس لیے جو مسلمان قرآن کے پیش کردہ عقائد پر کسی اور عقیدہ کا اضافہ کرتے ہیں وہ دین میں بہت بڑی بدعت کا اضافہ کرتے ہیں اور اسی سے مسلمانوں میں فرقے پیدا ہو گئے ہیں۔  اگر عقائد کے بارے میں وہ قرآن کو کافی سمجھنے لگیں تو فرقہ بندی ختم ہو جائے۔

۱۳۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔  قرآن جہاں اس بات پر زور دیتا ہے کہ انسان اپنے رب سے راستی کی بنیاد پر تعلق قائم کرے وہاں وہ تاکید بھی کرتا ہے کہ انسان اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کو پہچانے اور ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ اپنے تعلقات درست رکھے۔  بندوں کے حقوق کی طرف سے بے پرواہی یا ان کی حق تلفی کو اس نے گناہ قرار دیا ہے۔

اس آیت میں جو حکم دیا گیا ہے وہ بڑا جامع اور بنیادی اخلاقی قدروں کا حامل ہے نیز عمومیت کے ساتھ یہ حکم دیا گیا ہے یعنی ہر شخص اس کا مخاطب ہے۔  شان نزول کے لحاظ سے آیت__اور آیت ہی نہیں پوری سورہ__ اس وقت نازل ہوئی ہے جبکہ اہلِ ایمان پر کفارِ مکہ کا ظلم بڑھ گیا تھا۔  اس موقع پر عدل کا حکم دیکر انسانی ضمیر کو جھنجھوڑا گیا۔  عدل وہ وصف ہے جو انسان کے لیے نہ صرف باعثِ شرف ہے بلکہ اس کو راست رو بنا دیتا ہے۔  قول ہو یا عمل دونوں میں عدل و انصاف ضروری ہے۔

۱۳۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔  انسان خواہ کوئی ہو اس کے ساتھ بھلائی کا سلوک کرو۔

۱۳۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔  قرابتداروں کا حق مقدم ہے۔  ان کے ساتھ نیک سلوک اور ان کی مالی امداد لازم ہے۔

۱۳۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔  “جب کہ تم نے عہد باندھا ہو” کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ یہاں اللہ کے عہد سے مراد وہ عہد ہے جو انسان شعوری طور پر اس سے باندھے۔ مثلاً مصیبت میں گھرے ہوئے انسان کا اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کرنا کہ اگر تو نے اس مصیبت سے مجھے نجات دی تو میں تیرا شکر گزار بندہ بن جاؤں گا لیکن مصیبت سے نجات پانے کے بعد اپنے قول و قرار کے خلاف شرک کرنا اور خدا کا نا شکرا بننا (سورۂ انعام آیت ۶۳، ۶۴) یا انسان کا خدا سے یہ عہد کرنا کہ اگر تو نے مجھے بھلی چنگی اولاد کے عطا کی تو میں تیرا شکر گزار بندہ بن جاؤں گا لیکن بھلی چنگی اولاد کے عطا ہو جانے پر اپنے قول سے پھر جانا اور خدا کی بخشش میں اوروں کو شریک ٹھہرانا (اعراف ۱۸۹۔ ۱۹۰) ظاہر ہے اس قسم کے قول و قرار سے پھر جانا صریح بدعہدی ہے۔

اللہ کے عہد میں اس قسم کے قول و قرار کے علاوہ نذریں بھی شامل ہیں جو کسی نے اللہ کے لیے مانی ہوں اور وسیع مفہوم میں اللہ کی اطاعت و بندی کا عہد بھی۔

۱۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہاں قسموں سے مراد وہ معاہدے ہیں جو اللہ کی قسم کھا کر کئے جائیں چنانچہ عربوں میں یہ طریقہ رائج تھا کہ وہ جب کسی کے ساتھ کوئی معاہدہ کرتے تو اس کو مؤکد کرنے کے لیے اللہ کی قسم کھاتے۔  اور قسموں کو توڑنے کا مطلب عہد شکنی کرنا ہے جو بہت بڑے گناہ کی بات ہے۔

۱۴۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی جس طرح سوت کو بڑی محنت سے کاتا گیا ہو ٹکڑے ٹکڑے کر دینا صریح نادانی اور اپنی محنت کو ضائع کرنا ہے اسی طرح اپنے عہد و پیمان کو خدا کی قسم کھا کر مضبوط کر دینے کے بعد توڑ دینا بہت بڑی نادانی اور بڑے خسارے کی بات ہے۔

یہ اشارہ ہے یہود کی طرف جنہوں نے اللہ سے اس کی شریعت کی پابندی کا عہد باندھا تھا لیکن اس کو توڑ ڈالا اور اس کی اطاعت سے نکل گئے۔  اس مثال سے مقصود ان لوگوں کو جو نئے نئے اسلام میں داخل ہو گئے تھے استقامت اختیار کرنے کی تاکید کرنا ہے۔

۱۴۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہ ان لوگوں سے خطاب ہے جنہوں نے اسلام قبول تو کیا تھا لیکن حالات کی شدت سے جن کے قدم اکھڑ رہے تھے جیسا کہ بعد کی آیت سے واضح ہے مثال کے طور پر عبید اللہ بن جحش نے اسلام قبول کر کے حبش کو ہجرت کی تھی لیکن بعد میں عیسائی ہو گیا۔ (البدایۃ و النہایۃ ج ۴ ص ۱۴۳)

اس آیت میں قسموں سے مراد کلمۂ شہادت ہے جس کو ادا کر کے کوئی شخص اسلام میں داخل ہوتا ہے چنانچہ سورۂ منافقون میں منافقوں کی اس شہادت کو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں “ایمان” قسموں سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (سورۂ منافقون آیت ۱۔ ۲)

اور قسموں کو خیانت کا ذریعہ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام میں داخل ہو جانے کے بعد اس سے پھر جانا جو خدا کے ساتھ عہد شکنی بھی ہے اور مسلمان گروہ (ملت اسلامیہ) کے ساتھ غداری بھی۔  اس وقت مکہ میں مسلمانوں کا گروہ بہت مختصر تھا جو اپنی مدافعت کی طاقت بھی نہیں رکھتا تھا اور دوسری طرف مشرکین کا گروہ تھا جو کثرتِ تعداد کے علاوہ مادی لحاظ سے بڑا طاقتور تھا۔  یہ گروہ اپنی طاقت کے بل پر مسلمانوں کے خلاف ظلم و ستم پر اتر آیا تھا۔  حالات کی اس شدت سے بعض کمزور مسلمانوں کے قدم ڈگمگا رہے تھے جس پر انہیں یہاں متنبہ کیا گیا ہے۔

۱۴۲ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آزمائش اس بات کی کہ تم ایک ایسے گروہ میں شامل ہوتے ہو جو مختصر اور کمزور ہے مگر حق کی طاقت جس کے ساتھ ہے یا اس گروہ کا ساتھ دیتے ہو جو بظاہر طاقتور ہے لیکن برسر باطل ہے۔

۱۴۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی قیامت کے دن معلوم ہو جائے گا کہ کون حق پر تھا توحید اور اسلام کی بنیاد پر وجود میں آنے والا گروہ یا مشرکانہ مذہب کی بنیاد پر بننے والا گروہ۔

۱۴۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی اللہ سب انسانوں کو اپنی قوتِ قاہرہ سے مسلمان بنا سکتا تھا لیکن چونکہ آزمائش مقصود تھی اس لیے انسان کو یہ آزادی بخشی کہ حق اور باطل میں سے جس کا چاہے انتخاب کر لے اب جو شخص جس چیز کا طالب ہوتا ہے اللہ کی مشیت اسے اس راہ پر ڈال دیتی ہے اس لیے مشرکوں اور کافروں کی کثرت سے کسی کو متاثر نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کی نجات کس راہ کو اختیار کرنے میں ہے۔

۱۴۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہ مسلمانوں سے خطاب ہے اور جیسا کہ اوپر نوٹ ۱۴۱  میں واضح کیا گیا یہاں قسموں سے مراد کلمۂ شہادت ادا کر کے اللہ سے بندی و اطاعت کا عہد باندھنا ہے۔  اور قدم اکھڑ جانے کا مطلب اس عہد سے پھر جانا ہے۔

۱۴۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی اگر تم نے اسلام کو قبول کرنے کے بعد اس سے انحراف کی راہ اختیار کی تو تمہاری یہ حرکت کتنے ہی لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنے کا سبب بنے گی اس طرح تم خود بھی گمراہ ہو گے اور خلق خدا کے لیے گمراہی کا سامان کرو گے۔  اور اگر ایسا تم نے کیا تو اس کے نہایت برے نتائج تم کو بھگتنا ہوں گے اور سخت سزا کے مستحق ہو جاؤ گے۔

۱۴۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی اگر کسی دنیوی فائدہ کی خاطر تم نے عہد شکنی کی یا لالچ میں آ کر تم اسلام سے برگشتہ ہو گئے تو یاد رکھو یہ فائدہ دنیوی لحاظ سے کتنا ہی بڑا ہو آخرت کے مقابلہ میں نہایت حقیر ہو گا اس لیے آخرت کو مقصود بناؤ اور دنیا کے حقیر  فائدوں کی خاطر اپنے دین کو قربان نہ کرو۔

۱۴۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی دنیا کا مال و متاع ختم ہو جانے والا ہے اور آخرت باقی رہنے والی ہے اس لیے آخرت کو اپنا نصب العین بناؤ اور اس کی نعمتوں کے طالب بنو۔

۱۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی ان کڑی آزمائشوں میں جو لوگ حق پر جمے رہیں گے ان کے لیے یہ بہترین اعمال آخرت میں ان کے درجہ کا تعین کریں گے اور ان کو ان بہترین اعمال ہی کے مطابق جزا دی جائے گی۔

۱۵۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اہل ایمان کو آخرت میں جو کامیاب زندگی نصیب ہو گی وہ تو ہو گی ہی اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ و ان کو نہایت پاکیزہ زندگی بسر کرائے گا۔  پاکیزہ زندگی میں عقیدہ کی پاکیزگی، ایمان کا نور، قلب کی صفائی، عقل کا جلا، روح کا سکون آنکھوں کی ٹھنڈک، جسم کی طہارت، عبادت کا حسن، رزقِ حلال، پاکیزہ اخلاق، ذمہ داریوں کا احساس، نیک کاموں سے رغبت اور برائیوں سے نفرت، جیسی چیزیں شامل ہیں۔  ایک مؤمن اس پاکیزہ زندگی کو پآ کر اپنے دل میں جو حلاوت محسوس کرتا ہے اس کا کوئی اندازہ دنیا پرستوں کو نہیں ہو سکتا اور اس پاکیزہ زندگی کے مقابلہ میں عیش و عشرت کی زندگی بالکل ہیچ ہے۔

۱۵۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی سعادت کی یہ راہ جس کا اوپر کی آیتوں میں ذکر ہوا قرآن کے ذریعہ تم پر کھل سکتی ہے بشرطیکہ تم قرآن کو پڑھتے ہوئے شیطان سے چوکنا رہو کیونکہ شیطان اپنی وسوسہ اندازیوں کے ذریعہ اس بات کے درپے ہوتا ہے کہ آدمی قرآن کو صحیح طور سے سمجھنے نہ پائے۔  وہ ذہن میں الجھنیں پیدا کر کے قرآن کی تعلیم کو غلط باور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اس حکم کی تعمیل میں قرآن پڑھتے وقت اَعُوذُ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الَّرجِیم (میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے) کے دعائیہ کلمات کہنا ضروری ہے مگر اس کا پورا فائدہ اسی صورت میں آدمی کو پہنچ سکتا ہے جبکہ وہ یہ کلمات پورے شعور کے ساتھ ادا کرے اور قرآن کو سمجھنا چاہے۔

۱۵۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔  تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ حجر نوٹ ۳۹۔

۱۵۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی شیطان ان ہی کو بہکانے میں کامیاب ہو جاتا ہے جو اپنے رب کے بجائے شیطان سے دوستی کر لیتے ہیں اور توحید کو چھوڑ کر شرک کرنے لگتے ہیں۔

۱۵۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔  قرآن انسانوں کو کھلی ہوئی کتابوں کی طرح کوئی کتاب نہیں ہے کہ اس کو مکمل کر کے بیک وقت پیش کر دیا جاتا اور اس کے ذریعہ لوگوں کی معلومات میں اضافہ کر دیا جاتا یا کوئی علمی تحقیق پیش کر دی جاتی بلکہ یہ کتاب انسان کے خالق نے اس کی ہدایت اور تعلیم و تربیت کے لیے نازل کی ہے۔  اس لیے حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ قرآن پر ایمان لانے والوں کی جو جماعت ابتدائی طور پر تشکیل پائے اس کو پیش آنے والے حالات کی مناسبت سے بر وقت اور بر محل ہدایت دی جاتی رہے تاکہ قرآن کا مدعا بھی خوب واضح ہو اور بر وقت رہنمائی مل جانے سے اہل ایمان میں پختگی اور عمل میں مضبوطی کا سمان بھی ہو۔  اس عظیم مصلحت کے پیش نظر قرآن کا نزول بتدریج ہوا اور اس میں اجمال اور تفصیل کا فرق واقع ہوا۔  مثال کے طور پر ابتدائی سورتوں میں توحید کو جامع انداز میں پیش کیا گیا لیکن بعد کی سورتوں میں اس کے تقاضے پیش کئے گئے۔  اسی طرح آغاز میں خدائے واحد کی عبادت کا اجمالی حکم دیا گیا لیکن بعد میں اس کی تفصیلات نماز وغیرہ بیان ہوئیں۔  کافروں کے ظلم و ستم کے مقابلہ میں مسلمانوں کو صبر کرنے کی ہدایت ہوئی لیکن بعد کے مرحلہ میں انہیں ہجرت کی اجازت دیدی گئی چنانچہ اس سورہ میں ہجرت (حبشہ) کا ذکر بھی ہوا ہے۔  کافروں کو فہمائش کرنے کا حکم ہوا لیکن بعد میں ہٹ دھرمی اختیار کرنے والوں کے ساتھ اعراض کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔  یہی باتیں ہیں جن کو قرآن نے ایک آیت کی جگہ دوسری آیت لانے سے تعبیر کیا ہے ورنہ ان آیتوں میں نہ تو کوئی تضاد ہے اور نہ کوئی آیت اصطلاحی معنی میں منسوخ ہے۔  سورۂ نحل ایک مکی سورہ ہے اور وہ بھی وسطی دور کی اس لئے اس وقت تک کوئی حکم ایسا نازل نہیں ہوا تھا جس کو کسی دوسری آیت نے اصطلاحی معنیٰ میں منسوخ قرار دیا ہو لہٰذا ناسخ منسوخ کی اصطلاحی بحث یہاں بے موقع ہے اور آیت میں اس کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے۔  بعد کی آیت کا یہ فقرہ کہ “تاکہ وہ اہل ایمان کو مضبوطی عطا کرے”۔ اس مدعا کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے جو اوپر بیان کیا گیا۔

۱۵۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔  روح القدس کے معنیٰ ہیں پاک روح۔  یہ جبرئیل کا لقب ہے جو فرشتوں کے سردار ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر اللہ کی طرف سے “وحی” لیکر آیا کرتے تھے۔

۱۵۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔  قرآن نام کی صراحت نہیں کی کہ کون شخص تھا جس کے بارے میں مشرکین کہتے تھے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو سکھاتا ہے۔  روایتوں میں مختلف نام آئے ہیں جن کی صحت مشتبہ ہے۔  یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ کوئی قابل ذکر شخصیت نہیں تھی جس کے بارے میں سکھانے پڑھانے کا شبہ کیا جا سکتا تھا۔  ورنہ وہ شخصیت مشہور ہوتی اور راوی ا س کا نام بلا اختلاف نقل کرتے۔

قرآن صراحت کرتا ہے کہ جس شخص کی طرف مشرکین اشارہ کر رہے تھے اس کی زبان عربی نہیں تھی پھر ایسے شخص سے کیونکر ممکن ہے کہ وہ قرآن کو تصنیف کرے جو فصیح عربی میں ہے اور فصاحت و بلاغت میں جس کی کوئی مثال نہیں۔  مشرکین کے الزام کی تردید کے لیے ہے ایک دلیل ہی کافی تھی ورنہ غور و فکر سے کام لینے والوں کے لیے تو دلائل کی کمی نہیں جو قرآن کے انسانی کلام ہونے کی نفی کرتے ہیں اور یہ یقین پیدا کرتے ہیں کہ یہ سرتا سر کلام الٰہی ہے۔

۱۵۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی خدا پر جھوٹ گھرنے والے وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو اللہ کی نازل کردہ وحی پر ایمان نہ رکھتے ہوں۔  وحی الٰہی پر ایمان اور خدا کی طرف من گھڑت باتیں منسوب کرنا دو بالکل متضاد باتیں ہیں اس لیے پیغمبر پر تو جھوٹ کا الزام کسی طرح عائد نہیں ہوتا البتہ یہ الزام مشرکین پر اور پیغمبر کی مخالفت کرنے والوں پر عائد ہوتا ہے کہ وہ خدا کے نام سے جھوٹ بولتے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے عقیدہ اور اپنے مذہب کو یا تو خود گھڑا ہے یا گھڑنے والوں کی پیروی کر رہے ہیں۔  بہر صورت وہ جھوٹے ہیں۔

۱۵۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس آیت میں ان لوگوں کو جنہیں کفر کا کلمہ زبان سے نکالنے پر بالکل مجبور کر دیا گیا ہو ایسا کرنے کی اجازت اس شرط کے ساتھ دیدی گئی ہے کہ وہ اپنے دل سے ایمان پر مطمئن ہوں۔ یہ اجازت بس رخصت ہے ورنہ عزیمت کی بات یہی ہے کہ ایک مسلمان جان کی بازی لگائے لیکن کلمہ کفر اپنی زبان سے نہ نکالے۔  اس کی بہترین مثال حضرت یاسر اور حضرت سمیہ (رضی اللہ عنہما) کی ہیں کہ مشرکوں نے ان پر سخت ظلم توڑے اور بالآخر انہیں قتل کر دیا لیکن وہ کفر کا کلمہ کہنے کے لیے کسی طرح آمادہ نہ ہوئے۔

حضرت یاسر پہلے مسلمان ہیں اور حضرت سمیہؓ پہلی مسلمان خاتون ہیں جنہوں نے مکہ میں جام شہادت نوش فرمایا۔

۱۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی جو کفر پر راضی ہو گا اور جس کے عقائد کافرانہ ہوں گے وہ اللہ کے غضب اور اس کے عذاب سے بچ نہ سکے گا۔

۱۶۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔  واضح ہوا کہ دنیا کے مفاد کو آخرت کے مفاد پر ترجیح دینا کافروں کا کام ہے۔

۱۶۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔  تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ بقرہ نوٹ ۱۵۔

۱۶۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہاں جہاد سے مراد وہ جدوجہد ہے جو سخت ناسازگار حالات میں جان پر کھیل کر اللہ کے دین کو پھیلانے کے لیے کی جائے۔

۱۶۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی قیامت کے دن ہر شخص کو اپنی اپنی نجات کی فکر لاحق ہو گی اور وہ اپنی مدافعت میں طرح طرح کے عذرات پیش کرے گا۔

۱۶۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہ مثال کے پیرایہ میں مکہ والوں ہی کا حال بیان ہوا ہے۔  وہ امن و امان اور چین کی زندگی بسر کر رہے تھے اور غذائی اجناس بھی ہر طرف سے وہاں پہنچ رہی تھیں لیکن انہوں نے اللہ کی ان نعمتوں کی قدر کرنے کے بجائے ناشکری کی جس کی وجہ سے اللہ نے ان پر قحط سالی مسلط کر دی۔  یہ قحط ایسا سخت رہا کہ فاقوں تک نوبت آ گئی اور جانوں کی ہلاکت کا خوف لاحق ہو گیا۔

۱۶۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اوپر مکہ والوں کا جو حال بیان ہوا یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ اللہ نے ان کی ہدایت کے لیے ان ہی میں سے ایک رسول برپا کیا لیکن بجائے اس کے کہ وہ اللہ کے اس احسان کی قدر کرتے انہوں نے رسول کو رسول ماننے ہی سے انکار کر دیا اور شرک پر جو سب سے بڑا ظلم ہے جمے رہے۔  بالآخر اللہ نے ان کو سخت سزا دی۔  یہ سزا انہیں مستقبل قریب میں لازماً ملنے والی تھی اس لیے اسے اس طرح بیان فرمایا کہ گو یہ سزا انہیں مل ہی گئی۔

مشرکین مکہ پر سزا (عذاب) کی صورت یہ ہوئی کہ ان آیتوں کے نزول کے چند ہی سال بعد بدر کا معرکہ پیش آیا جس میں ان کے بڑے بڑے سردار مارے گئے اور اس کے بعد دوسری معرکہ آرائیاں بھی ہوئیں۔  اس طرح اللہ کا عذاب مسلمانوں کی تلوار کی شکل میں ان پر ایسا ٹوٹ پڑا کہ اس علاقہ میں نہ کہیں شرک کا وجود رہا اور نہ مشرک کا۔

۱۶۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مشرکین بت پرستی کے باوجود دعویٰ خدا پرستی کا کرتے تھے اس لیے ان سے کہا گیا کہ اگر واقعی تم خدائے واحد کے پرستار ہو تو ضروری ہے کہ اس کے بخشے ہوئے رزق کو جو پاکیزہ بھی ہے اور جسے اس نے حلال بھی ٹھہرایا ہے بے تکلف کھاؤ اور مشرکانہ وہم پرستی میں مبتلا ہو کر ایسی کسی چیز کو اپنے اوپر حرام نہ ٹھہراؤ۔  اسی طرح خدا پرستی کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اسی کی بخشی ہوئی نعمتوں پر اسی کا شکر ادا کرو یعنی غیر اللہ کے نام پر جانور کو ذبح کرنا، غیر اللہ کے تقریب کے لیے نذریں پیش کرنا غیر اللہ کی پرستش کے ہم معنیٰ اور خدائے واحد کی پرستش کے منافی ہے۔

یہ اشارہ ہے مشرکین کی توہم پرستی کی طرف جس میں مبتلا ہو کر وہ بعض چوپایوں کو بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے پھر نہ ان کا دودھ پیتے، نہ ان پر سواری کرتے اور نہ ان کا گوشت کھاتے۔  اس طرح وہ خدا کے حلال کو حرام ٹھہرانے کے بھی مرتکب ہوتے اور اس کی نعمت کو غیر اللہ کی طرف منسوب کر کے اس کی ناشکری بھی کرتے۔  نیز اللہ کے تقرب کا ذریعہ بھی بناتے۔

(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ مائدہ نوٹ ۲۴۹  اور سورۂ انعام نوٹ ۲۵۱  اور ۲۵۳۔

یہ ان جانوروں کو کھانے کا جو حکم دیا گیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بتوں کے لیے ان کو نامزد کر کے تم نے ان کے اندر جو “مذہبی تقدس” پیدا کر دیا ہے اس کو ختم کرو اور اللہ کے بخشے ہوئے چوپایوں کو اللہ کا احسان مان کر صرف اس کے نام پر ذبح کرو اور کھاؤ۔

۱۶۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ان چیزوں کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ بقرہ نوٹ ۲۰۹  تا ۲۱۳۔

واضح رہے کہ ذبیحہ وہی جائز ہے جو صرف اللہ کے نام سے ذبح کیا گیا ہو کیونکہ ذبح کرنے کا فعل بجائے خود تقرب اور عبادت ہے اس لیے اس موقع پر اللہ کے نام کے ساتھ کسی اور کا نام شامل کرنا اس تقرب اور عبادت میں غیر اللہ کو شریک کرنا ہے۔  اگر کوئی مسلمان ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیتا ہے اور ساتھ ہی کسی ولی یا پیر کا نام بھی تو یہ غیر اللہ ہی کے ذبیحہ کے حکم میں ہو گا۔

۱۶۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس کی تشریح سورۂ بقرہ نوٹ ۲۱۴  میں گزر چکی۔

۱۶۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔  کسی چیز کو حلال یا حرام کہنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ نے اس کے بارے میں یہ حکم دیا ہے۔  اس دعوے کے پیچھے لازماً کوئی دلیل ہونی چاہیے اور یہ دلیل اللہ کی شریعت ہی ہو سکتی ہے جو انبیاء علیہم السلام کے توسط سے انسان کو ملتی ہے۔  اس لیے کسی شرعی دلیل کے بغیر محض اپنی خواہش سے کسی چیز کو حلال یا حرام ٹھہرانا اللہ کی طرف جھوٹ منسوب کرنا ہے۔

یہ تو تھا مشرکین کا جھوٹ لیکن اس سے بھی بڑا جھوٹ وہ ہے جو موجودہ دور کے لا مذہب لوگوں نے ایجاد کیا ہے اور وہ یہ کہ خدا کا کوئی وجود نہیں بلکہ وہ انسانی ذہن کی تخلیق ہے لہٰذا حلال و حرام کا کوئی سوال پیدا ہی نہیں ہوتا (نعوذ باللہ من ذلک)۔

۱۷۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی اللہ پر جھوٹ بولنے والے دنیا میں تھوڑے دن مزے کر سکتے ہیں لیکن نہ ان کی یہ دنیوی زندگی حقیقۃً کامیاب ہے اور نہ آخرت کی کامیابی انہیں کبھی نصیب ہو سکے گی۔  وہاں تو انہیں دردناک عذاب ہی بھگتنا ہو گا۔

۱۷۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اشارہ ہے سورۂ انعام آیت ۱۴۶  کی طرف۔

واضح رہے کہ سورۂ انعام جیسا کہ مضمون سے اندازہ ہوتا ہے سورۂ نحل کے بعد نازل ہوئی ہے لیکن سورۂ نحل کی یہ چند آیتیں جن میں یہود کے تعلق سے اعتراضات کے جواب دیئے گئے ہیں، سورۂ انعام کے بعد نازل ہوئیں اور مضمون کی مناسبت سے ان کی جگہ سورۂ نحل میں قرار پائی۔

۱۷۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔  تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ انعام نوٹ ۲۶۶۔

۱۷۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہ آیت ان لوگوں کو جو جہالت کی بنا پر غلط مذہبیت کا شکار رہے ہیں توبہ اور اصلاح کی دعوت دیتی ہے۔

۱۷۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔  متن میں لفظ “اُمَۃ” استعمال ہوا ہے جس کے متعدد معنی ہیں۔  ایک معنی اس شخصیت کے ہیں جو بے مثال ہو اور دوسرے معنی امام اور معلم خیر کے ہیں : (لسان العرب ج ۱۲ ص ۲۷)۔

ابن تیمیہ نے اس کو “القدوۃ” مثالی شخصیت کے معنی میں لیا ہے (مجموع فتاوی ابن تیمیہ ج ۱۷ ص ۴۸۳) اور ہم نے اسی معنی کو ترجیح دی ہے۔

ابراہیم علیہ السلام کی اس خصوصیت کو بیان کرنے سے مقصود مشرکین پر جو آپ کو اپنا پیشوا تسلیم کرتے تھے اور آپ کی پیروی کا دعویٰ کرتے تھے یہ واضح کرنا ہے کہ ابراہیم جس ماحول میں پیدا ہوئے وہ تو پوری طرح مشرکانہ تھا لیکن ان کی شخصیت ایک منفرد اور ممتاز شخصیت تھی جو موحد بنکر ابھری اور جس نے دنیا کو توحید کا سبق دیا اس لیے وہ موحدین کے امام ہیں نہ کہ مشرکین کے اور اگر تمہیں واقعی ان کی پیروی کرنا ہے تو توحید کی راہ اختیار کرو۔

آگے ان کے دوسرے اوصاف بیان فرمائے ہیں جو ان کی جامع اور مثالی شخصیت کے آئینہ دار ہیں۔

۱۷۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔  متن میں لفظ قانت استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں وہ شخص جو دائمی طور پر فرمانبردار اور اطاعت گزار ہو ابن تیمیہ فرماتے ہیں : “قنوت کے معنی دوام طاعت کے ہیں اور قانت وہ ہے جو دائمی طور پر اللہ کی اطاعت کرے۔ ” (مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ ج ۵ ص ۲۳)

۱۷۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔  متن میں لفظ “حنیف” استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں راست رو اور اللہ ہی کا ہو کر رہنے والا۔  ابن تیمیہ فرماتے ہیں : فہو مستقیم القلب الی اللہ دون ماسواء (مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ ج ۲۸ ص ۳۲) “حنیف یعنی اپنے دل سے اللہ ہی کی طرف رخ کرنے والا۔  کسی اور کی طرف نہیں۔ ”

۱۷۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ابراہیم کبھی مشرک نہیں رہے اس لیے تمہاری اپنے مشرکانہ مذہب کو ان کی طرف منسوب کرنا سراسر غلط ہے۔

معلوم ہوا کہ ابراہیم اپنی زندگی میں کبھی شرک کے مرتکب نہیں ہوئے تھے اس لیے تارے کو دیکھ کر انہوں نے جو کچھ کہا تھا اس کو شرک پر محمول نہیں کیا جا سکتا بلکہ وہ محض بحث و جدال کی بات تھی (ملاحظہ ہو سورۂ انعام نوٹ ۱۳۱)۔

۱۷۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی وہ خدا کی نعمتوں پر خدا ہی کا شکر ادا کرتے تھے اور اس کے احسان شناس تھے۔

۱۷۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی ابراہیم کو اللہ نے نبوت کے لیے چن لیا تھا۔

۱۸۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی نبوت کے سرفراز کرنے کے بعد دین (اسلام) کی راہ پوری طرح ان پر کھول دی جو سیدھی اللہ تک پہنچتی ہے۔

۱۸۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں جو بھلائی عطا فرمائی اس میں عزت و سرفرازی، اسمٰعیل اور اسحاق جیسے فرزند، شام کا بابرت علاقہ، مکہ کی روح پرور سرزمین اور خیر کے کاموں کے لیے وسائل کی فراوانی جیسی چیزیں شامل ہیں نیز یہ بات بھی کہ سچائی کی زبانیں رہتی دنیا تک ان کے لیے بلند رہنے والی ہیں۔  سلام ہو ابراہیم پر۔

۱۸۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔  آخرت کی کامیابی کے لیے شرط اول صالح ہونا ہے۔  درجات کی بلندی اس کے بعد ہے۔  ابراہیم نے دنیا میں صالح زندگی گزاری تھی اس لیے آخرت میں بھی وہ صالح ہوں گے۔

۱۸۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ابراہیم کے طریقہ (ملت) سے مراد ابراہیم کا دین اور ان کی شریعت ہے۔  ان کا دین دینِ توحید یعنی اسلام تھا اور ان کی شریعت سادہ شریعت تھی جس میں وہ پابندیاں نہیں تھیں جو یہود پر ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے عائد کر دی گئی تھیں۔  اور حج کے مناسک ابراہیم کی شریعت ہی کا جزو ہیں۔

قرآن کا نزول ابراہیم کے دین اور ان کی شریعت کو زندہ کرنے ہی کے لیے ہوا ہے اور ان کے طریقہ پر چلنے کی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو جو ہدایت کی گئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی راہ وہی ہے جو ابراہیم کی تھی لہٰذا قرآن کی راہ پر چلنا ابراہیم کی راہ پر چلنا ہے برخلاف اس کے مشرکین عرب کی راہ ابراہیم کی راہ نہیں ہے۔

۱۸۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔  سبت (سنیچر کا دن منانے) کی تشریح سورۂ اعراف نوٹ ۲۵۰  میں گزر چکی۔

یہاں یہ جو فرمایا کہ سبت کی پابندی صرف ان لوگوں پر عائد کی گئی تھی جنہوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا تھا تو اس کی صحیح اور بہترین تشریح وہ ہے جو حدیث میں بیان ہوئی ہے :

قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہ علیہ و سلم نَحْنُ الْاٰخِرُوْنَ السَّابِقُوْنَ یوْمَ القیامۃ بَیدَ اَنَّہُمْ اُوْتُو الکِتٰبَ مِنْ قبلنا وَ اُوْتِینَاہُ مِنْ بَعْدِہم فَہِذٓ یوْمَہُمُ الذِّیْ فُرِضَ عَلَیہِم فَاختَلَفُوْا فیہہ فَہَدانا اللّٰہُ لَہٗ فَہُمْ لَنَا فِیہِ تَبَعٌ فَالْیھُوْدُ غَدًا وَالنَّصَاریٰ بَعْدَ غَدٍ (مسلم کتابُ الجمعۃ) “رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہم بعد میں آنے والی امت ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے گو ان لوگوں کو کتاب ہم سے پہلے ملی اور ہم کو ان کے بعد۔  یہ (جمعہ کا) دن ہی ہے جو ان پر فرض کیا گیا تھا لیکن انہوں نے اس میں اختلاف کیا تو اللہ نے اس معاملہ میں ہم کو ہدایت دی۔  اب وہ ہمارے پیچھے رہ گئے۔  یہود کل کے لیے اور نصاریٰ پرسوں کے لیے۔ ”

مطلب یہ ہے کہ یہود کو ابتداء میں یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ جمعہ کے دن کو اللہ کے مخصوص احکام کی بجا آوری کے لیے خاص کر لیں لیکن انہوں نے اپنی نبی سے اس معاملہ میں اختلاف کیا اور اس بات پر مصر ہوئے کہ سنیچر کے دن کو مقرر کیا جائے۔  ان کے اس اختلاف کے بہ سبب اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے سنیچر کا دن مقرر کیا اور ساتھ ہی انہیں اس دن کو منانے کے تعلق سے سخت احکام دیئے۔  اگر وہ جمعہ کو قبول کر لیتے تو اتنے سخت احکام انہیں دیئے نہ جاتے۔  اس کے بعد جب نصاریٰ آئے تو انہوں نے سبت کے معاملہ میں اختلاف کر کے اتوار کا دن اپنے لیے مخصوص کر لیا۔  لیکن امت محمدیہ نے اللہ کے فضل سے جمعہ کے دن کو پا لیا۔  ان کو جب جمعہ کے دن مخصوص عبادت کا حکم دیا گیا تو انہوں نے کوئی اختلاف نہیں کیا۔  اس طرح جمعہ کا دن جس سے حقیقتًہ ہفتہ کا آغاز ہوتا ہے امت محمدیہ کے حصہ میں آیا۔  یہود سنیچر کی وجہ سے ایک دن پیچھے رہ گئے اور نصاریٰ اتوار کی وجہ سے دو دن پیچھے۔

یہود کو گائے کے ذبح کرنے کا جو حکم دیا گیا تھا اس کے بارے میں بھی انہوں نے جیسا کہ سورۂ بقرہ آیت ۶۷  تا ۷۱* میں گزر چکا طرح طرح کے سوالات پیدا کئے تھے اسی طرح انہوں نے اس کلمہ کو بھی بدل دیا تھا جو انہیں ایک شہر کے اندر فاتحانہ پیش قدمی کرتے ہوئے ادا کرنے کے لیے کہا گیا تھا (سورۂ بقرہ آیت ۵۸) اس لیے ان سے یہ بات بعید نہیں کہ جب ان سے جمعہ کا دن مخصوص کرنے کے لیے کہا گیا ہو تو انہوں نے اس سے اخلاف کیا ہو اور ان کے اس اختلاف اور ان کی شرارتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بجائے جمعہ کے سنیچر کا دن منانے کا حکم دیا ہو اور پھر پابندیاں بھی سخت عائد کر دی ہوں۔

رہے نصاریٰ تو انہوں نے یہود سے اختلاف کرتے ہوئے سنیچر کے بجائے اتوار کا دن اپنے لیے مخصوص کر لیا حالانکہ وہ تو رات کو مانتے ہیں۔

چنانچہ بائبل کا شارح لکھتا ہے :

“The Changeover from Sabbath (Saturday in the Gentile Calendar) to Sunday as the day of worship was accomplished by the early 2nd Century”.

(The Interpreter’s commentary on the Bible P.650)

اس آیت میں دراصل مشرکین کے اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے کہ یہ نبی سبت کا حکم کیوں نہیں دیتا۔  انہیں جواب دیا گیا ہے کہ سبت کا حکم ابراہیم کی شریعت میں نہیں تھا بلکہ یہود کو مخصوص وجوہ کی بنا پر دیا گیا تھا اور چونکہ اس نبی کی بنیادی طور پر وہی شریعت دی گئی ہے جو ابراہیم علیہ السلام کو دی گئی تھی اس لیے اس شریعت میں سبت جیسی سخت پابندیاں نہیں ہیں۔

۱۸۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی ان سارے اختلاف کا جو خدا کے دین اور اس کی شریعت کے بارے میں پیدا کر دیئے گئے ہیں آخری فیصلہ قیامت کے دن ہی ہو سکے گا۔

۱۸۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اللہ کے راستے یعنی دینِ حق کی طرف دعوت دینے کے تین طریقے بیان کئے گئے ہیں :

پہلا طریقہ حکمت کا ہے یعنی ایسی باتیں جو عقل و ذہن کو اپیل کرنے والی ہوں جن میں وہ دلائل شامل ہیں جو انسان کی فطرت کے اندر راسخ ہیں نیز آثار کائنات سے استدلال بھی۔  یہ طریقہ اہل دانش اور اصحاب فکر کے لیے زیادہ موزوں ہے۔

دوسرا طریقہ موعظت حسنہ کا ہے یعنی دل کو اپیل کرنے والی اور اس میں سوزو گداز پیدا کرنے والی باتیں پیش کرنا تاکہ قلوب نصیحت کی باتیں قبول کرنے کے لیے آمادہ ہو جائیں۔  یہ “وعظ گوئی” نہیں بلکہ تعلیم و تربیت اور ارشاد و تذکیر ہے۔  اس میں انبیائی تاریخ سے عبرت آموز باتیں پیش کرنا، موت کو یاد دلانا، آخرت کی جزا و سزا کو بیان کرنا، جیسی چیزیں شامل ہیں اور یہ طریقہ عامۃ الناس کے لیے زیادہ مفید ہے۔

رہا تیسرا طریقہ تو وہ جدال احسن کا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر بحث و مباحثہ کی ضرورت ہو تو اس کو اختیار کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ بات کو پیش کرنے کا بہتر ڈھنگ اختیار کیا جائے یعنی کسی بات کا رد کیا جائے تو معقولیت کے ساتھ اور کسی اعتراض کا جواب دیا جائے تو خوبی کے ساتھ اور اخلاقی حدود میں رہتے ہوئے کہ مخاطب میں چڑ، کد، ضد اور اشتعال پیدا نہ ہو ورنہ وہ اصل دعوت سمجھنے پر آمادہ نہ ہو گا۔

دعوت کے اصل طریقے دو ہی ہیں جو اوپر بیان ہوئے او ر بحث و مباحثہ کا طریقہ ضرورۃً ہی اختیار کرنے کا ہے اور اس کی ضرورت وہاں ہوتی ہے جہاں مخاطب کی طرف سے اعتراضات، شبہات، یا کوئی باطل نظریہ و فلسفہ پیش کیا جا رہا ہو قرآن میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں مثال کے طور پر ابراہیم علیہ السلام کا اپنی قوم سے اور نمرود سے مباحثہ، انسان کو دوبارہ اٹھائے جانے کے سلسلہ میں مشرکین کے اعتراضات کے جوابات وغیرہ۔

۱۸۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ مکہ میں مشرکین اہل ایمان پر نہایت سخت مظالم ڈھا رہے تھے اور ان کا قصور اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے خدائے واحد پر ایمان لائے تھے۔  وہ مٹھی بھر افراد تھے اور ابھی اس پوزیشن میں نہیں تھے کہ اجتماعی طور پر اپنی طاقت کا استعمال کریں۔  ان حالات میں ان کو صبر کی تلقین کی گئی لیکن اس بات کی اجازت بھی دی گئی کہ اگر وہ ظالم سے بدلہ لینا چاہیں تو برابری کا بدلہ لے سکتے ہیں۔  یعنی جتنی زیادتی تمہارے ساتھ کی گئی ہو اتنی ہی زیادتی تم اس کے ساتھ کر سکتے ہو اس سے آگے بڑھنے کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔

اس سے یہ اصولی رہنمائی ملتی ہے کہ ایک غیر اسلامی سوسائٹی میں ایک مسلمان کے لیے خواہ وہ داعی ہی کیوں نہ ہو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ اینٹ کا جواب اینٹ سے دے۔

٭٭٭