FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

فہرست مضامین

دعوت القرآن

 

حصہ ۱۰: قصص، عنکبوت، روم، لقمان

                   شمس پیر زادہ

 

 

 

 (۲۸) سورہ القصص

 (۸۸ آیات)

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

                   تعارف

 

نام

 

قَصَص کے معنی واقعات بیان کرنے کے ہیں۔ آیت ۲۵ میں اس بات کا ذکر ہوا ہے کہ حضرت موسیٰ جب مدین پہنچے تو انہوں نے ایک قبطی کے ان کے ہاتھوں غلطی سے قتل کیے جانے کا واقعہ بیان کیا۔ اس  بیان واقعہ کے لیے وَقَصَّ عَلَیْہِ الْقَصَصَ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور اسی مناسبت سے اس سورہ کا نام القصص ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مضامین سے اندازہ ہوتا ہے  کہ سورہ نکل کے کچھ عرصہ بعد ہی نازل ہوئی ہو گی۔

 

مرکزی مضمون

 

نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت کے سلسلہ میں شبہات کو دور کرنا اور آپ رسالت کا یقین پیدا کرنا ہے۔ اس سلسلے میں حضرت موسیٰ کا قصہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے تاکہ اسی تناظر میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت کو دیکھا جا سکے۔

 

نظم کلام

 

آیت۱ اور ۲۔ تمہیدی آیات ہیں۔ آیت ۳ تا ۴۳ میں حضرت موسیٰ  (علیہ السلام) کی سرگزشت بیان ہوئی ہے۔ خاص طور سے ان کی ولادت کے حالات اور ان کی زندگی کے بعض دوسرے گوشے اس میں نمایاں کیے گئے ہیں۔

آیت ۴۴ تا ۶۱  میں منکرین کے شبہات کا جواب دیا گیا ہے۔ آیت ۶۲ تا ۷۵ میں شرک کی تردید کرتے ہوئے توحید کو دلائل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

آیت ۷۶ تا ۸۴ میں ایک سرمایہ پرست کا واقعہ جس کا نام قارون تھا بیان کر کے عبرت دلائی گئی ہے۔ آیت ۸۵ تا ۸۸ سورہ کا خاتمہ کی آیتیں ہیں جن میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے تسلی کا سامان بھی ہے اور اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کی ہدایت بھی۔

 

                   ترجمہ

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔ طا۔ سین۔ میم  ۱ *

۲۔۔۔۔۔۔ یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں  ۲ * ۔

۳۔۔۔۔۔۔ ہم تہیں موسیٰ اور فرعون کے کچھ واقعات پوری صحت کے ساتھ سنا تے ہیں  ۳ * ان لوگوں کے لیئے جو ایمان لائیں  ۴ * ۔

۴۔۔۔۔۔۔ واقعہ یہ ہے کہ فرعون زمین میں سر کش ہو گیا تھا  ۵ * اور اس نے ملک کے باشندوں کو فرقوں میں تقسیم کر دیا تھا  ۶ * ۔ ان میں سے ایک گروہ کو اس نے کمزور بنا رکھا تھا۔ ان کے لڑکوں کو ذبح کر تا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا  ۷ * ۔ بلاشبہ وہ بڑا مفسد تھا  ۸*۔

۵۔۔۔۔۔۔ اور ہم چاہتے تھے کہ ان لوگوں پر اپنا فضل کریں جو ملک میں کمزور بنا کر رکھے گئے تھے اور ان کو پیشوا بنائیں اور ان کو وارث بنائیں  ۹ * ۔

۶۔۔۔۔۔۔ اور زمین میں ان کو اقتدار بخشیں  ۱۰ * اور فرعون اور ہامان  ۱۱ * اور ان کے لشکروں کو ان کے ذریعہ وہ دکھائیں جس کا انہیں اندیشہ تھا  ۱۲ * ۔

۷۔۔۔۔۔۔ اور ہم نے موسیٰ کی ماں کو وحی کی کہ اس کو دودھ پلاؤ پھر جب تمھیں اس کے بارے میں اندیشہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دو اور خوف اور غم نہ کرو۔ ہم اس کو تمہارے پاس واپس لائیں گے اور ہم اس کو رسول بنانے والے ہیں   ۱۳ * ۔

۸۔۔۔۔۔۔ چنانچہ اس کو فرعون  کے گھر والوں نے اٹھا لیا کہ وہ ان کے لیئے دشمن اور باعث غم بنے  ۱۴ * ۔ در حقیقت فرعون، ہامان اور ان کے لشکر سب بڑے خطا کار تھے  ۱۵ * ۔

۹۔۔۔۔۔۔ اور فرعون کی بیوی نے  (فرعون سے) کہا یہ میرے اور تمہارے لیئے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اسے قتل نہ کرو  ۱۶ * ۔ کیا عجب کہ یہ ہمارے لیئے مفید ہو یا ہم اسے بیٹا بنا لیں اور وہ  (انجام) سے بے خبر تھے۔  ۱۷ *

۱۰۔۔۔۔۔۔ اور موسیٰ کی ماں کا دل بے قرار  ۱۸ * ہو گیا۔ قریب تھا کہ وہ اس راز کو ظاہر کر دیتی اگر ہم اس کا دل مضبوط نہ کرتے۔  ۱۹ * یہ اس لیئے   کیا تاکہ وہ مومن بن کر رہے  ۲۰ * ۔

۱۱۔۔۔۔۔۔ اس نے اس  (بچہ) کی بہن سے کہا تو اس کے پیچھے پیچھے جا چنانچہ وہ اس کو دور سے دیکھتی رہی اور ان لوگوں کو اس کی خبر بھی نہ ہوئی  (۲۱ * ۔

۱۲۔۔۔۔۔۔ ۔ اور ہم نے اس  (بچہ) پر پہلے ہی سے دودھ پلانے والیوں کو حرام کر رکھا تھا  ۲۲ * ۔ اس کی  (بہن) نے کہا کیا میں تمھیں اپنے گھر والوں کا پتہ بتاؤں جو تمہارے لیئے اس کی پرورش کریں گے  ۲۳ * اور اس کے خیر خواہ ہوں گے۔

۱۳۔۔۔۔۔۔ اس طرح ہم نے اس کو اس کی ماں کے پاس لوٹا دیا تاکہ  اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کرے  ۲۴ * اور تاکہ وہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا تھا مگر اکثر لوگ جانتے نہیں  ۲۵ * ۔

۱۴۔۔۔۔۔۔ اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچ گیا اور اس میں متانت آ گئی تو ہم نے اس کو حکمت اور علم عطا فرما یا  ۲۶ * ہم نیک لوگوں کو  اسی طرح جزا دیتے ہیں  ۲۷ * ۔

۱۵۔۔۔۔۔۔ اور  (ایک دن) وہ شہر میں ایسے وقت داخل ہوا جب کہ لوگ بے خبر تھے۔ وہاں  ۲۸ * اس نے دیکھا کہ دو آدمی لڑ رہے ہیں۔ ایک اس کے اپنے گروہ کا تھا  ۲۹ * اور دوسرا اس کے دشمن کے گروہ کا۔ جو اس کے گروہ کا تھا  ۳۰ * اس نے اس شخص کے مقابلہ میں جو دشمن کے گروہ سے تعلق رکھتا تھا اس کو مدد کے لیئے پکار ا۔ موسیٰؑ نے اس کو گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کر دیا  ۳۱ * ۔  (جب یہ غلطی سر زد ہو گئی تو) اس نے کہا یہ شیطان کی حرکت ہے  ۳۲ * ۔ بلا شبہ وہ دشمن ہے کھلا گمراہ کرنے والا  ۳۳ * ۔

۱۶۔۔۔۔۔۔ اس نے دعا کی اے میرے رب !میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے چنانچہ اللہ نے اسے بخش دیا  ۳۴ * ۔ یقیناً وہ بڑا بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۱۷۔۔۔۔۔۔  (پھر) اس نے کہا اے میرے رب ! تیرے اس احسان کے بعد جو تو نے مجھ پر فرما یا میں کبھی مجرموں کا مدد گار نہیں بنو ں گا  ۳۶* ۔

۱۸۔۔۔۔۔۔ پھر  (دوسرے دن) وہ صبح کے وقت ڈرتے ڈرتے اور چوکنا رہتے ہوئے شہر میں داخل ہوا  ۳۷ * ۔ کیا دیکھتا ہے کہ وہی شخص جس نے کل مدد کے لیئے اسے پکارا تھا آج پھر اسے پکار ر ہا ہے۔ موسیٰ نے کہا تم صریح نامعقول ہو۔  ۳۸ * ۔

۱۹۔۔۔۔۔۔ پھر جب اس نے اس شخص کو جو دونوں کا دشمن  ۳۹ * تھا پکڑنے کا ارادہ کیا تو پکارا اٹھا اے موسیٰ کیا تم مجھے اسی طرح قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح کل تم نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا ؟

تم ملک میں جبار بن کر رہنا چاہتے ہو اصلاح کرنے والے بننا نہیں چاہتے۔  ۴۰ *

۲۰۔۔۔۔۔۔ اور شہر کے آخری حصہ ایک شخص دوڑ ہوا آیا اور کہا موسیٰ ! حکومت کے ذمہ دار تمھیں قتل کر نے کے لیئے مشورہ کر رہے ہیں لہذا تم یہاں سے نکل جاؤ۔ میں تمہارے خیر خواہوں میں سے ہوں  ۴۱ * ۔

۲۱۔۔۔۔۔۔ یہ سن کر وہ ڈرتا ہوا ہوشیاری کے ساتھ وہاں سے نکل گیا اور اس نے دیا کی کہ اے میرے رب !مجھے ظالم قوم سے نجات دے۔  ۴۲ *

۲۲۔۔۔۔۔۔ جب اس نے مدین کی طرف رخ کیا تو کہا امید  ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ کھائے گا۔  ۴۳ *

۲۳۔۔۔۔۔۔ اور جب وہ مدین کے پانی  (کنویں) پر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ لوگوں کی ایک تعداد  (اپنے) جانوروں کی پانی پلا رہی ہے  ۴۴ * ۔ اور دیکھا کہ ان سے الگ دو عورتیں اپنے مویشیوں کو روکے کھڑی ہیں  ۴۵ * ۔ اس نے ان سے پوچھا تمہارا کیا معاملہ ہے۔  ۴۶ * ؟

انہوں نے کہا ہم اس وقت تک پانی نہیں پلا سکتیں  جب تک چرواہے اپنے جانور ہٹا نہ لیں اور ہمارے ابا بہت بوڑھے ہیں۔  ۴۷ *

۲۴۔۔۔۔۔۔ یہ سن کر اس نے ان کے جانوروں کو پانی  ۴۸ * پلا یا پھر ایک سایہ کی طرف چلا گیا اور دیا کی اے میرے رب ! جو خیر بھی تو مجھ پر نازل کرے میں اس کا محتاج ہوں  ۴۹ *

۲۵۔۔۔۔۔۔ پھر ان دو عورتوں میں سے ایک اس کے پاس شرماتی ہوئی آئی اور کہا میرے والد آپ کو بلا رہے ہیں تا کہ آپ نے ہماری خاطر جانوروں کو جو پانی پلا یا ہے اس کا صلہ آپ کو دیں  ۵۱ * موسیٰ جب اس کے پاس پہنچا ۵۲ * اور اسے سارا قصہ  سنا یا تو اس نے کہا خوف نہ کرو ظالم قوم سے تہیں نجات مل گئی۔  ۵۳ *

۲۶۔۔۔۔۔۔ ان دو عورتوں میں سے ایک نے کہا ابا جان ان کو اجرت پر رکھ لیجیئے۔ بہترین جس کو آپ اجرت پر رکھیں وہی ہو سکتا ہے جو طاقت ور اور امانت دار ہو ۔ ۵۴ *

۲۷۔۔۔۔۔۔ اس  (کے باپ) نے  (موسی) سے کہا میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ اس شرط پر کر دوں کہ تم آٹھ سال تک میرے ہاں خدمت کرو۔ اور اگر دس سال پورے کرو  تو یہ تمہاری مرضی سے ہو گا  میں تم کو مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا۔ انشاءاللہ  تم مجھے کر دار میں اچھا پاؤ گے  ۵۵ * ۔

۲۸۔۔۔۔۔۔ موسیٰ نے کہا یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہو گئی۔ ان دونوں میں سے جو مدت بھی میں پوری کر دوں مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہو گی  ۵۶ * اور جو قول و قرار ہم کر رہے ہیں اس پر اللہ نگہبان ہے  ۵۷ * ۔

۲۹۔۔۔۔۔۔ جب موسیٰ نے مدت پوری کر دی  ۵۸ * اور اپنے گھر والوں  کو لے کر چلا  ۵۹ * تو طور کی جانب  ۶۰ * سے ایک آگ دکھائی دی۔ اس نے اپنے گھر والوں سے کہا ٹھرو  ۶۱ * ۔ مجھے نظر آئی ہے شاید میں  وہاں سے کوئی خبر لے  آؤں  ۶۲ * ۔ یا آگ کا کوئی انگار ا لاؤں تاکہ تم تاپ سکو ۶۳ * ۔

۳۰۔۔۔۔۔۔ جب وہ اس کے پاس پہنچا تو خطۂ مبارکہ میں وادی کی داہنی جانب کے درخت سے ندا آئی اے موسیٰ ! میں ہوں اللہ رب العالمین  ۶۴ * ۔

۳۱۔۔۔۔۔۔ اور یہ کہ تم اپنی لاٹھی ڈال دو۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ سانپ کی طرح حرکت کر رہی  ۶۵ * ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگا اور مڑ کر بھی نہ دیکھا  ۶۶ * ۔ اے موسیٰ ! آگے آؤ اور ڈرو نہیں۔ تم بالکل محفوظ ہو  ۶۷ * ۔

۳۲۔۔۔۔۔۔ اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو۔ وہ روشن ہو کر نکلے گا بغیر کسی عیب کے  ۶۸ * ۔ اور خوف کو دور کرنے کے لیئے بازو سیکڑ لو  ۶۹ * یہ تمہارے رب کی طرف سے دو نشانیاں ہیں  ۷۰ * فرعون اور ا سکے دربار والوں کے سامنے پیش کرنے  کے لیئے۔ وہ بڑے فاسق لوگ ہیں۔

۳۳۔۔۔۔۔۔ اس نے عرض کیا اے میرے رب ! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا تھا اس لیئے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے قتل کریں گے  ۷۱ *

۳۴۔۔۔۔۔۔ میرا بھائی ہارون بولنے میں مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو ا سکو میرے ساتھ مدد گار بنا کر بھیج تاکہ وہ میری تصدیق کرے  ۷۲ * ۔ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے۔

۳۵۔۔۔۔۔۔ فرما یا ہم تمہارے بھائی کے ذریعہ تمہارا بازو مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو ایسی حجت قاہرہ عطا کریں گے کہ وہ تم پر دست درازی نہ کر سکیں گے  ۷۳ * ۔ ہماری نشانیوں کے ساتھ  (جاؤ) ۔ تم دونوں اور جو تمہاری پیروی کریں گے غالب رہیں گے۔

۳۶۔۔۔۔۔۔ پھر جب موسیٰ ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر پہنچا تو انہوں نے کہا یہ تو محض بناؤ ٹی جادو ہے اور یہ بات ہم نے اپنے اگلے باپ دادا سے کبھی نہیں سنی  ۷۵ * ۔

۳۷۔۔۔۔۔۔ موسیٰ نے کہا میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیئے آخرت کا بہتر انجام ہے۔ بلا شبہ ظالم کبھی فلاح نہیں پائیں گے۔  ۷۶ *

۳۸۔۔۔۔۔۔ فرعون نے کہا اے اہل دربار ! میں تو اپنے سوا تمہارے لیئے کسی خدا کو نہیں جانتا  ۷۷ * ۔ اے ہامان ۷۸ * ! تم مٹی  (اینٹیں) پکوا کر میرے لیئے ایک اونچا محل تعمیر کرو تاکہ میں جھانک کر موسیٰ کے خدا کو لوں  ۷۹ * میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔

۳۹۔۔۔۔۔۔ ۔ اس نے اور اس کے لشکروں نے ناحق زمین میں گھمنڈ کیا  ۸۰ * اور سمجھے کہ انہیں ہماری طرف لوٹنا نہیں ہے۔  ۸۱ *

۴۰۔۔۔۔۔۔ تو ہم نے اس کو اس کے لشکروں کو پکڑ ا اور ان سب کو  سمندر میں پھینک دیا  ۸۲ * تو دیکھ لو ظالموں کا کیا انجام ہوا !

۴۱۔۔۔۔۔۔ ہم نے ان کو جہنم کی طرف دعوت دینے والے پیشوا بنا یا  ۸۳ * اور قیامت کے دن ان کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی۔

۴۲۔۔۔۔۔۔ ہم نے اس دینا میں ان کے   پیچھے لعنت لگا دی  ۸۵ * ۔ اور قیامت کے دن وہ بہت بری حالت میں ہوں گے۔

۴۳۔۔۔۔۔۔ ہم نے اگلی قوموں کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ کو کتاب عطا کی جو لوگوں کے لیئے سامان بصیرت اور ہدایت و رحمت تھی تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں  ۸۶ * ۔

۴۴۔۔۔۔۔۔ اور تم  (اے پیغمبر) اس وقت  (طور کے) مغربی جانب موجود نہ تھے جب ہم نے موسیٰ کے لیئے فرمان صادر کیا اور  نہ تم اس کے گواہوں میں سے  تھے  ۸۷ * ۔

۴۵۔۔۔۔۔۔ مگر ہم نے بہت سی نسلیں اٹھائیں اور ان پر ایک طویل زمانہ گزر گیا  ۸۸ * ۔ اور تم اہل مدین کے درمیان بھی موجود نہ تھے کہ ہماری آیتیں ان کو سنا رہے ہو لیکن ہم تم کو رسول بنانے والے تھے  ۸۹ * ۔

۴۶۔۔۔۔۔۔ اور نہ ہی تم طور کی جانب موجود تھے جب ہم نے  (موسیٰ کو) پکارا تھا  ۹۰ * لیکن یہ  (وحی) تمہارے رب کی رحمت ہے تا کہ تم ایک ایسی قوم کو خبر دار کرو جس کے پاس تم سے پہلے کوئی خبر دار کرنے والا نہیں آیا  ۹۱ * تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں۔

۴۷۔۔۔۔۔۔ اور کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنے کر تو توں کی وجہ سے مصیبت میں پڑیں تو کہیں اے ہمارے رب ! تو نے کیوں نہ ہماری طرف کوئی رسول بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرتے اور ایمان لانے والوں میں سے ہو جاتے۔

۴۸۔۔۔۔۔۔ مگر جب ہماری طرف سے حق ان کے پاس آ گیا تو کہنے لگے کیوں نہ دی گئی۔ اس کو چیز جسی موسیٰ کو دی گئی تھی ؟ ۹۳ * ۔ کیا ان لوگوں نے اس چیز کا انکار  نہیں کیا جو اس سے پہلے موسیٰ کو دی گئی تھی۔  ۹۴ * ؟

۴۹۔۔۔۔۔۔ ان سے کہو اگر تم سچے ہو تو لاؤ اللہ کی طرف سے ایسی کتاب جو ان دونوں سے زیادہ ہدایت بخشنے والی ہو میں اس کی پیروی کروں گا ۹۶ * ۔

۵۰۔۔۔۔۔۔ اگر وہ تمہارے اس مطالبہ کو پورا نہیں کرتے تو جان لو کہ یہ اپنی خواہشات کے پیروی ہیں  ۹۷ * ۔ اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو گا جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کی پیروی کرے  ۹۸ * ؟ اللہ ایسے ظالموں پر ہر راہ نہیں کھولتا  ۹۹ * ۔

۵۱۔۔۔۔۔۔ اور ہم نے ان کو مسلسل اپنا کلام پہچا یا تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں  ۱۰۰ * ۔

۵۲۔۔۔۔۔۔ جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب عطا کی تھی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں  ۱۰۱ * ۔

۵۳۔۔۔۔۔۔ اور جب یہ  (قرآن) ان کو سنا یا جاتا ہے تو کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے۔ بلاشبہ یہ ہمارے رب کی طرف سے حق ہے۔ ہم پہلے ہی سے مسلم ہیں  ۱۰۲ * ۔

۵۴۔۔۔۔۔۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کا اجر دو بار دیا جائے گا اس وجہ سے کہ وہ ثابت قدم رہے  ۱۰۳ * وہ برائی کو بھلائی سے دور کرتے ہیں  ۱۰۴ * اور جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں  ۱۰۵ * ۔

۵۵۔۔۔۔۔۔ اور جب وہ کوئی لغو بات سنتے ہیں تو اس سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں  ۱۰۶ * اور کہتے ہیں کہ ہمارے لے لیئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیئے تمہارے اعمال  ۱۰۷ * ۔ تم کو سلام  ۱۰۸ * ۔ ہم جاہلوں سے الجھنا نہیں چاہتے  ۱۰۹ * ۔

۵۶۔۔۔۔۔۔  (اے پیغمبر!) تم جس کو چاہو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے  ۱۱۰ * اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت قبول کرنے والوں کو۔

۵۷۔۔۔۔۔۔ وہ کہتے ہیں اگر ہم تمہارے ساتھ اس ہدایت کی پیروی کرنے لیگیں تو اپنی زمین  (ملک) سے اچک لیئے جائیں گے۔ کیا ہم نے امن والے حرم میں انہیں جگہ نہیں دی جس کی طرف ہر قسم کے پھل کھینچے چلے  آر ہے ہیں ہماری طرف سے رزق کے طور پر۔ لیکن ان میں سے اکثر جانتے نہیں ہیں  ۱۱۱ * ۔

۵۸۔۔۔۔۔۔ اور کتنی ہی  آباد یوں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں جو اپنے عیش پر اترا گئی تھیں  ۱۱۲ * ۔ تو یہ ہیں ان سے مسکن  (گھر) جو ان کے بعد کم آباد ہوئے  ۱۱۳ * ۔

اور ہم ہی ان کے وارث ہوئے۔  ۱۱۴ * ۔

۵۹۔۔۔۔۔۔ اور تمہارا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا جب تک کہ ان کی مرکزی بستی میں ایک رسول نہ بھیج دیتا جو ان کو ہماری آیتیں سنا تا  ۱۱۵ * ۔

اور ہم بستیوں کو اسی صورت میں ہلاک کرتے ہیں جب کہ ان کے رہنے والے ظالم ہوں  ۱۱۶ * ۔

۶۰۔۔۔۔۔۔ تم لوگوں کو جو کچھ دیا گیا ہے وہ بس دنیوی زندگی کا سامان اور ا سکی زینت ہے۔ اور کو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں ؟ ۱۱۷ * ۔

۶۱۔۔۔۔۔۔ کیا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کر رکھا ہے اور جس کو وہ لازماً پائے گا  ۱۱۸ * اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جس کو ہم نے دنیوی زندگی کا سامان دیا ہے پھر وہ قیامت کے دن  (سزا کے لیئے) حاضر کیا جانے والا ہے  ۱۱۹ * ۔

۶۲۔۔۔۔۔۔ اور جس دن وہ ان کو پکارے گا اور پوچھے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم کو دعوی تھا۔  ۱۲۰ * ؟

۶۳۔۔۔۔۔۔ جن پر ہمارا فرمان لاگو ہو گا  ۱۲۱ * وہ کہیں گے اے رب ! یہی لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا۔ ہم نے ان کو اسی طرح گمراہ کیا جس طرح ہم گمراہ ہوئے  ۱۲۲ * ۔ ہم تیرے حضور  (ان سے) برات کا اظہار کرتے ہیں  ۱۲۳ * ۔ یہ ہماری پر ستش نہیں کرتے تھے  ۱۲۴ * ۔

۶۴۔۔۔۔۔۔ اور ان سے کہا جائے گا کہ  (اب) پکار و اپنے ٹھہرائے  ہوئے شریکوں کو  ۱۲۵ * ۔ یہ ان کو پکاریں گے لیکن وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے۔  ۱۲۶ * اور یہ لوگ عذاب دیکھ لیں گے۔ کاش انہوں نے ہدایت اختیار کی ہوتی ۱۲۷ * ۔

۶۵۔۔۔۔۔۔ اور جس دن وہ انہیں پکارے گا اور پوچھے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا ؟  ۱۲۸ * ۔

۶۶۔۔۔۔۔۔ اور جس دن ان سے کوئی جواب نہ بن پڑے گا اور پوچھے ہی سکیں گے  ۱۲۹ * ۔

۶۷۔۔۔۔۔۔ تو جس نے توبہ کی، ایمان لایا اور نیک عمل کیا وہ امید ہے کامیاب  ہونے والوں میں سے ہو گا  ۱۳۰ *

۶۸۔۔۔۔۔۔ اور تمہارا رب پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور پسند کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ ان کو کوئی اختیار نہیں  ۱۳۱ * ۔

۶۹۔۔۔۔۔۔ تمہارا رب جانتا ہے جو کچھ یہ اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں اور جو یہ ظاہر کرتے ہیں  ۱۳۲ * ۔

۷۰۔۔۔۔۔۔ وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی بھی خدا نہیں۔ اسی کے لیئے حمد ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ حکم اسی کا ہے  ۱۳۵ * اور اسی کی طرف تم لوٹا ئے جاؤ گے  ۱۳۶ * ۔

۷۱۔۔۔۔۔۔ ان سے کہو کیا تم نے اس بات پر غور کیا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیئے رات طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کون سا خدا ہے جو تمہارے لیئے روشنی لائے ؟ کیا تم سنتے نہیں ؟

۷۲۔۔۔۔۔۔ ان سے کہو کیا تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیے دن طاری کر دے تو اللہ کے سوا کون سا خدا ہے جو تمہارے لیئے رات کو لائے کہ تم اس میں سکون حاصل کر سکو؟ کیا تم دیکھتے نہیں ؟ ۱۳۷ * ۔

۷۳۔۔۔۔۔۔ اور یہ اسی کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لیئے رات اور دن بنائے تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو اور اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم سکر گزار بنو۔  ۱۳۸ * ۔

۷۴۔۔۔۔۔۔ اور وہ دن جب وہ انہیں پکارے گا اور کہے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک جو تم نے ٹھرا ے تھے ؟

۷۵۔۔۔۔۔۔ اور ہم ہر امت میں سے ایک گواہ نکال لائیں گے  ۱۳۹ * اور لوگوں سے کہیں گے کہ اپنی دلیل پیش کرو  ۱۴۰ * ۔ اس وقت انہیں معلوم ہو جائے گا کہ حق اللہ ہی کے لیئے ہے۔  ۱۴۱ * اور جو جھوٹ وہ گھرتے رہے ہیں وہ سب گم ہو جائے گا ۱۴۲ * ۔

۷۶۔۔۔۔۔۔ قارون موسیٰ کی قوم میں سے تھا لیکن وہ ان کے خلاف زیادتی پر اتر آیا۔  ۱۴۳ * ۔ اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دے ر کھے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقت ور گروہ مشکل سے اٹھا سکتا تھا۔  ۱۴۴ *

۷۷۔۔۔۔۔۔ اللہ نے جو مال تہیں دے رکھا ہے اس کے ذریعہ آخرت کا گھر طلب کرو  ۱۴۷ * اور دنیا میں سے اپنا حصہ نہ بھولو ۱۴۸ * ۔ احسان کرو جس طرح اللہ نے تمہارے ساتھ احسان کیا ہے  ۱۴۹ * اور زمین میں فساد کے درپے نہ ہو جاؤ ۱۵۰ * ۔ اللہ فساد بر پا کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

۷۸۔۔۔۔۔۔ اس نے کہا یہ سب کچھ مجھے اپنے ذاتی علم کی بنا پر ملا ہے  ۱۵۱ * ہے۔ کیا اس کو یہ معلوم نہ تھا کہ اللہ اس سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر چکا ہے جو قوت میں اس سے زیادہ اور جمعیت میں اس سے بڑھ کر تھیں  ۱۵۲ * ۔ اور مجرموں سے ان کے گناہوں کے بارے میں پوچھا نہیں جاتا۔  ۱۵۳ *

۷۹۔۔۔۔۔۔ پھر وہ اپنی پوی شان و شوکت کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے نکلا  ۱۵۴ * جو لوگ دنیوی زندگی کے طالب تھے وہ کہنے لگے کاش ہمیں بھی وہی کچھ ملتا جو قارون کو ملا ہے۔ یہ تو بڑا قسمت والا ہے  ۱۵۵ * ۔

۸۰۔۔۔۔۔۔ مر جن کو علم عطا ہوا تھا انہوں نے کہا افسوس تم پر ! اللہ کی بخشش  (صلہ) بہتر ہے اس کے لیئے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔ اور یہ دولت صبر کرنے والوں ہی کو ملتی ہے  ۱۵۶ * ۔

۸۱۔۔۔۔۔۔ آخر کار ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا  ۱۵۷* دیا پھر کوئی گروہ ایسا نہ ہوا جو خدا کے مقابل میں اس کی مدد کرتا اور نہ وہ خود اپنی مدافعت کر سکا  ۱۵۸ * ۔

۸۲۔۔۔۔۔۔ اور وہی لوگ جو کل اس کے مقام کی تمنا کر رہے تھے کہنے لگے ہائے غضب ! اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیئے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا دیتا ہے۔ اگر اللہ نے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا۔ ہائے غضب !کافر فلاح نہیں پا تے  ۱۵۹ * ۔

۸۳۔۔۔۔۔۔ یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لیئے خاص کر دیں گے جو زمین میں بڑائی نہیں چاہتے اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں۔ اور انجام کار کی بھلائی مت قیوں ہی کے لیئے ہے  ۱۶۰ * ۔

۸۴۔۔۔۔۔۔ جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اس کے لیئے اس سے بہتر بھلائی ہے اور جو برائی لے کر آئے گا تو برائیاں کرنے والوں کو بدلہ میں وہی کچھ ملے گا جو وہ کرتے رہے ہیں  ۱۶۱ * ۔

۸۵۔۔۔۔۔۔ یقیناً جس نے تم پر قرآن فرض کیا ہے وہ تمھیں ایک بہترین انجام کو پہنچائے گا  ۱۶۲ * ۔ کہو میرا رب خوب جانتا ہے کہ کون ہدایت لے کر آیا اور کون کھلی گمراہی میں پڑا ہے  ۱۶۳ * ۔

۸۶۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم اس بات کی امید نہ رکھتے تھے کہ کہ کتاب تم پر نازل کی جائے گی، مگر یہ تمہارے رب کی رحمت ہے۔ ۱۶۴* لہذا تم کافروں کے حامی نہ بنو۔  ۱۶۵ *

۸۷۔۔۔۔۔۔ اور یہ لوگ تمھیں اللہ کی آیات سے روکنے نہ پائیں بعد اس کے کہ وہ تم پر نازل کی جاچکی ہیں  ۱۶۶ * ۔ تم اپنے رب کی دعوت دو اور ہر گز مشرکوں میں شامل نہ ہو۔

۸۸۔۔۔۔۔۔ اور اللہ  کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکارو۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے ا سکی ذات کے  ۱۶۷ * فیصلہ کا اختیار اسی کو ہے  ۱۶۸ * اور تم سب اسی کی طرف لوٹا ئے جاؤ گے  ۱۶۹ * ۔

 

                    تفسیر

 

۱۔۔۔۔۔۔ حروف مقطعات کی تشریح کے لیے دیکھیے سورہ بقرہ نوٹ ۱ اور سورہ یونس نوٹ ۱۔

یہاں ط کا اشارہ طور کی طرف ہے جس کا ذکر آیت ۲۹ اور ۴۶ میں ہوا ہے جس کے دامن میں حضرت موسیٰ کو نبوت ملی۔

“س” کا اشارہ “سلطان”  (حجت قاہرہ) کی طرف ہے جو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی تھی اور جس کا ذکر آیت ۳۵ میں ہوا ہے۔

اور “م” کا شارہ موسیٰ کی طرف ہے جن کا ذکر آیت ۳ اور دیگر آیات میں ہوا ہے اور جن کا قصہ تفصیل سے اس سورہ میں بیان ہوا ہے۔

۲۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ یوسف نوٹ ۲۔

۳۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ واقعات بالکل سچے ہیں اور لفظ بلفظ درست ہیں۔ ان کی صحت کا اندازہ آدمی کو اس وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بائیبل کے  الجھے ہوئے بیان کو دیکھتا ہے۔

۴۔۔۔۔۔۔ یعنی اس سے فائدہ وہی لوگ اٹھائیں گے جو ایمان لائیں گے۔

۵۔۔۔۔۔۔ سرکش ہونے کا مطلب اللہ سے بغاوت کرنا، اس کے احکام کی جگہ اپنے احکام جاری کرنا اور زمین میں عدل و امن قائم کرنے کے بجائے ظلم و زیادتی کرنا ہے۔

۶۔۔۔۔۔۔ یعنی تعصب اور ناروا سیاسی مصلحتوں کی بنا پر باشندگانِ ملک کو اس نے مختلف طبقوں  (Classes) میں تقسیم کر رکھا تھا۔ حکمراں طبقہ کے حقوق محفوظ تھے اور دوسرے طبقوں کے حقوق اس کے رحم و کرم پر اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک، بالفاظ دیگر فرعون کی حکومت بد ترین قسم کی فرقہ پرست حکومت تھی۔ اور ایک فرقہ پرست حکومت کا رویہ کیسا ہوتا ہے اس کا اندازہ تو ہم اپنے ملک  (بھارت) میں بہ آسانی کر سکتے ہیں۔

۷۔۔۔۔۔۔ یعنی بنی اسرائیل کو۔

حضرت یوسف علیہ السلام کو مصر میں اقتدار حاصل ہو گیا تھا اور بنی اسرائیل کو وہاں اچھی پوزیشن حاصل ہو گئی تھی جس کے زیر اثر ان کی تعداد میں کافی اضافہ ہو گیا تھا مگر بعد کے دور میں نسلی اور اکثریت میں تبدیل نہ ہو جائے اس لیے اس نے  بنی اسرائیل کے نو زائیدہ بچوں کو قتل کرنے کے احکام جاری کر دیئے۔ وہ بنی اسرائیل سے سخت محنت مزدوری کا کام لیتا اور ان پر طرح طرح کی زیادتیاں کرتا تھا۔

۸۔۔۔۔۔۔ یعنی وہ ہر لحاظ سے  مفسد تھا۔ اپنے عقیدہ و عمل کے اعتبار سے بھی اور حکمراں ہونے کی حیثیت سے بھی چنانچہ اس کی حکومت ظلم اور جبر کی حکومت تھی اور اس نے سوسائٹی میں بہت بڑا بگاڑ پیدا کر دیا تھا۔

۹۔۔۔۔۔۔ یعنی فرعون نے بنی اسرائیل کو اپنی ظالمانہ حکومت کے ذریعہ دبا رکھا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ تھا اس کو ابھارا جائے اور اللہ جب کسی کو ابھارنا چاہتا ہے تو وہ ابھر کر رہتا ہے اور کوئی طاقت اس کو دبانے میں کامیاب نہیں ہوتی۔

وارث بنانے کا مطلب نعمتوں کا وارث بنانا ہے۔ مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ شعراء نوٹ ۵۳۔

۱۰۔۔۔۔۔۔  یعنی فرعون اور مصریوں کی غلامی سے نکال کر ان کو شام کی سر زمین کا حکمراں بنائیں۔

۱۱۔۔۔۔۔۔ قرآن کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہامان فرعون کی حکومت میں کسی بہت بڑے عہدہ پر فائز تھا۔ ہو سکتا ہے وزیر اعظم رہا ہو۔ موجودہ زمانہ کے بعض معترضین نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ ہامان نام کا کوئی شخص فرعون  کی حکومت میں نہیں تھا لیکن یہ اعتراض بالکل بے بنیاد ہے کیونکہ اس زمانہ کی مفصل تاریخ تحریری شکل میں موجود نہیں ہے جس کی بنا پر یہ دعویٰ کیا جا سکے۔

۱۲۔۔۔۔۔۔ فرعون والے یہ اندیشہ محسوس کرتے تھے کہ بنی اسرائیل اقلیت میں ہونے  کے باوجود کہیں ان پر غالب نہ آ جائیں اور اللہ کا فیصلہ یہی تھا کہ بنی اسرائیل کے ذریعہ فرعونیوں کا اقتدار ان کے وجود  سمیت غرق دریا ہو جائے اور بالآخر ایسا ہی ہوا جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اگر اہل ایمان کے کسی گروہ کو وقت کی فرعون صفت حکومت نے مظلوم بنا رکھا ہے تو اللہ تعالیٰ کی خاموش تدبیر اس مظلوم اقلیت کو ظالم اکثریت کی سر کوبی کا ذریعہ بنا سکتی ہے۔

حضرت موسیٰ اور فرعون  کے قصہ کے یہ نہایت اہم پلو تھے جن کو اس قصہ کی تمہید کے طور پر پیش کیا گیا تاکہ نگاہیں ان پر مرکوز رہیں۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ کی ولادت کا حال اور دیگر حالات بیان ہوئے ہیں۔

۱۳۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ طٰہٰ نوٹ ۳۴۔

۱۴۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ طٰہٰ نوٹ ۳۶۔

۱۵۔۔۔۔۔۔ یعنی فرعون کا یہ پورا جتھا غلط کار اور گناہ کرنے والا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسی تدبیر کی کہ آگے جا کر وہ اپنے چین سے محروم ہو گئے۔

۱۶۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ طٰہٰ نوٹ ۴۰۔

۱۷۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کی یہ خاموش تدبیر تھی جو فرعون اور اس کے آل کے خلاف پڑنے والی تھی مگر وہ اس سے بے خبر تھے کہ یہی موسیٰ جس کی پرورش میں وہ لگے ہوئے ہیں اپنے ساتھ اللہ کی وہ لاٹھی بھی لائے ہیں جس میں آواز نہیں ہے اور جو کچھ ہی عرصہ بعد ان کی سر کوبی کرنے والی ہے۔

۱۸۔۔۔۔۔۔ موسیٰ کی ماں کو اگرچہ پہلے ہی وحی کے ذریعہ اطمینان دلایا گیا تھا کہ بچہ اس کے پاس واپس آنے والا ہے لیکن ماں بہر حال ماں ہے وہ بچہ کی جدائی اور ایک ظالم کے  گھر اس کے پہنچ جانے پر کس طرح بے قرار نہ ہوتی۔ دل کی یہ کیفیت بالکل فطری تھی اس لیے یہ کوئی ایسی بات نہ تھی جو توکل کے خلاف ہو۔

۱۹۔۔۔۔۔۔ ماں کی زبان سے بے قراری کی حالت میں “میرا بچہ” جیسے الفاظ نکل سکتے تھے جس سے راز فاش ہو جاتا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی ڈھارس بندھا دی اس لیے اس کی زبان سے ایسا کوئی لفظ نہیں نکلا۔

آیت سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ ظالم کے ظلم سے بچنے کے لیے راز داری برتی جا سکتی ہے۔ نیز یہ نفسیاتی حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ راز داری کا تعلق دل کی مضبوطی سے ہے۔

۲۰۔۔۔۔۔۔ موسیٰ کی ماں اہل ایمان میں سے تھیں اور یہ واقعہ جو پیش آیا وہ اس کے ایمان کے لیے مزید تقویت کا باعث تھا۔

۲۱۔۔۔۔۔۔ یعنی فرعون والوں کو اس کی بھی خبر نہیں ہوئی کہ یہ بچہ کی بہن ہے جو اس کے پیچھے پیچھے چلی آ رہی ہے۔ مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورہ طٰہٰ نوٹ ۴۰۔

۲۲۔۔۔۔۔۔ یہاں حرام کا لفظ اپنے لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے جس کے معنی روکنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بچہ کی طبیعت میں ایسی بات پیدا کر دی تھی کہ وہ اپنی ماں کے سوا کسی کی چھاتی کو منہ نہ لگائے۔

۲۳۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ طٰہٰ نوٹ ۴۰۔

۲۴۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ طٰہٰ نوٹ ۴۱۔

۲۵۔۔۔۔۔۔ یعنی موسیٰ کی ماں پر یہ واضح ہو جائے کہ اللہ  نے بچہ کو واپس لوٹانے کا جو وعدہ بذریعہ وحی کیا تھا وہ بالکل سچا تھا اور پورا ہو کر رہا اسی طرح اللہ کا ہر وعدہ پورا ہو کر رہتا ہے مگر اکثر لوگوں کی نگاہ اس حقیقت پر نہیں ہوتی اس لیے وہ اس سے بے خبر رہتے ہیں۔

۲۶۔۔۔۔۔۔ حضرت موسیٰ کی پرورش اس طرح ہوئی کہ اپنی ماں سے بھی تعلق رہا اور فرعون سے بھی۔ جب وہ ذرا بڑے ہو گئے تو ان کے قتل کیے جانے کا اندیشہ باقی نہیں رہا کیونکہ فرعون نو زائیدہ بچوں کو قتل کرتا تھا۔ یا دریا میں ڈبو دیتا تھا اس لیے بعد میں راز داری کی ضرورت باقی نہیں رہی اور حضرت موسیٰ کا حسب نسب سب کو معلوم ہو گیا اور وہ بنی اسرائیل کے ایک معروف فرد کی حیثیت سے ابھرے۔

انہیں بنی اسرائیل کے ماحول کو بھی دیکھنے کا موقع ملا اور فرعون کے ماحول کو بھی۔ پھر جب وہ جوان ہوئے اور سنجیدگی ور متانت ان میں آ گئی تو اللہ نے ان کو دانائی و حکمت اور اپنی معرفت اور دین کا علم بخشا نبوت تو ان کو مصر سے نکلنے کے بعد ایک عرصہ گزر جانے پر عطا ہوئی لیکن علم و حکمت کی یہ دولت تو انہیں اپنے قیام مصر کے دوران ہی بخشی گئی۔ اس طرح  وہ اپنی قابلیت کی بنا پر مصر میں ممتاز رہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ ایک عرصہ کے بعد رسالت سے سرفراز ہو کر مصر لوٹے ہیں تو وہ بنی اسرائیل اور فرعون والوں کے لیے ایک جانی پہچانی شخصیت تھے۔

۲۷۔۔۔۔۔۔ یعنی علم و حکمت اللہ تعالیٰ کا بہترین انعام  ہے جو اس دنیا میں کسی کو ملے۔ جو لوگ نیک روی اختیار کرتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ ان کے ظرف کے مطابق اس انعام سے نوازتا ہے۔

۲۸۔۔۔۔۔۔ معلوم ہوتا ہے بنی اسرائیل کی آبادی شہر کے باہر مضافات میں تھی اور شہر کے اندرونی حصہ میں مصری  (قبطی) رہتے تھے۔ جس قوم کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا تھا اس کو مضافات ہی میں جگہ مل سکتی تھی۔ ایک روز حضرت موسیٰ ایسے وقت اپنے گھر سے نکل کر شہر میں داخل ہوئے جو لوگوں کے آرام کرنے کا وقت تھا اس لیے راستہ پر چہل پہل نہیں تھی ممکن ہے حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کے حالات کا مشاہدہ کرنے کے لیے نکلے ہوں جن کو مصریوں کی غلامی کرنا پڑ رہی تھی اور ان سے سخت محنت مزدوری کا کام لیا جاتا تھا۔

واضح رہے کہ حضرت موسیٰ کو فرعون نے پالا ضرور تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی مخصوص تدبیر سے ان کو جب کہ وہ دودھ پیتا بچہ تھے ان کی ماں کے پاس پہنچا دیا تھا اور قرآن یہ صراحت نہیں کرتا کہ بعد میں وہ فرعون کے محل میں رہنے لگے تھے اس لیے صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ وہ اپنی والدہ کے پاس رہ کر پلے بڑھے۔

۲۹۔۔۔۔۔۔ یعنی اسرائیلی تھا۔

۳۰۔۔۔۔۔۔ یعنی مصری  (قبطی) جو قوم فرعون سے تعلق رکھتا تھا اور قوم فرعون بنی اسرائیل کی دشمن تھی اس لیے وہ ان پر مظالم ڈھاتی اور ان کے بچوں کو قتل کرتی تھی۔

۳۱۔۔۔۔۔۔ یعنی موسیٰ نے اسرائیلی کو مصری سے بچانا چاہا لیکن جب اس کو بچانے کے لیے مصری کو گھونسا مارا تو اس کی تاب نہ لا کر اس نے وہیں دم توڑ دیا۔ حضرت موسیٰ کا ارادہ اس کو قتل کرنے کا نہیں تھا مگر اتفاق کی بات کہ ان کا گھونسا اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوا۔

۳۲۔۔۔۔۔۔ حضرت موسیٰ نے اس عمل کو شیطان کی حرکت قرار دیا کیونکہ شیطان کی اکساہٹ کا اس میں کچھ دخل تھا ورنہ حضرت موسیٰ نہ زور سے گھونسا مارتے اور نہ یہ حادثہ پیش آتا۔

۳۳۔۔۔۔۔۔ حضرت موسیٰ کی شیطان سے چوکنا رہنے کی یہ بات اور ان کا احساس گناہ ان کے علم کی شان کو ظاہر کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمایا تھا اور جس کا ذکر آیت ۱۴ میں ہوا۔

۳۴۔۔۔۔۔۔ حضرت موسیٰ کے ہاتھوں مصری کا قتل نا دانستہ طور پر ہوا تھا یعنی یہ قتل خطا تھا کہ نہ کہ قتل عمد۔ لیکن قصور بہر حال قصور ہے اس لیے حضرت موسیٰ نے اپنے نفس کی رعایت کیے بغیر سخت الفاظ میں اس کا اعتراف اللہ کے حضور کر لیا چنانچہ انہوں نے اس قصور کو اپنے نفس پر ظلم قرار دیا اور اللہ سے معافی کے خواستگار ہوئے۔

بعض حضرات عصمت انبیاء کی بحث چھیڑ کر اس واقعہ کی ایسی توجیہ کر تے ہیں کہ گویا حضرت موسیٰ سے کوئی قصور سر زد ہی نہیں ہوا تھا لیکن یہ قرآن کے واضح بیان کے خلاف ہے قرآن صاف کہتا ہے کہ موسیٰ نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اللہ سے معافی مانگی تھی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں بخش دیا تھا۔ اس سے حضرت موسیٰ کی نبوت پر کوئی حرف نہیں آتا کیونکہ اول تو یہ واقعہ نبوت سے پہلے کا ہے۔ دوسرے یہ کہ غلطی سے یہ قصور سر زد ہوا تھا نہ کہ انہوں نے دانستہ کوئی گناہ کیا تھا اور تیسرے یہ  کہ انہوں نے فوراً اپنے قصور کا اعتراف کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لی تھی۔

بعض مفسرین نے یہ بھی کہا کہ مقتول حربی کافر تھا اس لیے اس کو قتل کرنا جائز تھا لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ بنی اسرائیل کی طرف سے قوم فرعون کے خلاف کوئی اعلان جہاد نہیں ہوا تھا پھر مصریوں کے بارے میں یہ کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ وہ حربی تھے۔ رہا ان کا کافر ہونا تو کسی کے کافر ہونے کی بنا پر ہر حال میں اس کا قتل جائز نہیں ہوتا انبیاء علیہم السلام اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کافر قوموں سے واسطہ پڑا ہے اور ان کی طرف سے سخت  مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے لیکن انہوں نے دار الکفر میں رہتے ہوئے ان کافروں میں سے کسی کے خلاف قتل کا کوئی اقدام نہیں کیا۔ رہا جہاد تو وہ ایک اجتماعی اقدام ہے اور اس کا جواز مخصوص شرائط کے ساتھ ہے۔

اسلام کا عام قانون یہی ہے کہ ہر  انسانی جان محترم ہے اور اسی صورت میں اس کو قتل کرنا جائز ہے جب کہ حق و انصاف کا تقاضا ہو۔ وَلَا تَقْتُلُو االنَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّ مَ اللہُ اِلَّا بِالْحَقِّ (بنی اسرائیل۔ ۳۳)

۳۵۔۔۔۔۔۔ احسان سے مراد اللہ سے معافی مانگنے کی وہ توفیق ہے جو حضرت موسیٰ کو بر وقت عطا ہوئی اور اس بنا پر وہ پر امید ہو گئے کہ اللہ تعالیٰ انہیں معاف کر دے گا۔

۳۶۔۔۔۔۔۔ اس سے اندازہ ہوتا  ہے کہ قصور وار اسرائیلی تھا لیکن چونکہ وہ ایک مظلوم قوم کا فرد تھا اور اس نے موسیٰ کو مدد  کے لیے پکارا تھا اس لیے وہ اس کو بے قصور سمجھے ہوئے اس کی مدد کے لیے گئے تھے مگر بعد میں جب انہیں معلوم ہو گیا کہ وہ خود قصور وار تھا تو اللہ تعالیٰ سے عہد کیا کہ آئندہ میں کسی مجرم کی مدد نہیں کروں گا اگر چہ وہ میری قوم کا فرد ہی کیوں نہ ہو۔

واضح ہوا کہ اسلام کی تعلیم میں فرقہ پرستی یا قوم پرستی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اگر کسی دار الکفر کا کوئی مسلمان جرم کرتا ہے یا کسی غیر مسلم پر زیادتی کرتا ہے تو دوسرے مسلمانوں کا یہ کام نہیں کہ اس مسلمان کی اس بنا پر حمایت کریں کہ وہ ان کی قوم کا فرد ہے کیونکہ یہ طریقہ غیر منصفانہ بھی ہے اور مجرموں کی حوصلہ افزائی کرنے والا بھی۔

۳۷۔۔۔۔۔۔ ڈر اس بات کا کہ کہیں مجھے گرفتار نہ کر لیا جائے اور مجھ پر قتل کا مقدمہ نہ چلایا جائے اور چوکنا اس بات سے کہ کوئی میری ٹوہ میں تو نہیں ہے۔

دوسرے دن بھی حضرت موسیٰ شہر کے باہر ہی سے آئے تھے جس صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا مکان شہر کے باہر تھا اور وہ فرعون کے محل میں نہیں رہتے تھے کیونکہ مصری کے قتل بعد وہ فرعون کے محل میں جانے کا خطرہ کس طرح مول لے سکتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ قرائن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کے درمیان اور اپنے گھر میں رہتے تھے نہ کہ فرعون کے محل میں۔

۳۸۔۔۔۔۔۔ یعنی جس اسرائیل نے کل مدد کے لیے پکارا تھا آج پھر دوسرے مصری کے ساتھ الجھ کر حضرت موسیٰ کو مدد کے لیے پکار رہا ہے حضرت موسیٰ کو اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ اسرائیلی خود ہی جھگڑ الو ہے اس لیے انہوں نے اس سے کہا تم بالکل نا معقول آدمی ہو۔

۳۹۔۔۔۔۔۔ یعنی مصری جو اسرائیلی شخص اور حضرت موسیٰ دونوں کا دشمن تھا۔

۴۰۔۔۔۔۔۔ یہ بات مصری نے حضرت موسیٰ سے کہی۔ حضرت موسیٰ اس کو صرف پکڑ کر علیحدہ کرنے کے لیے آگے بڑھے تھے مگر مصری یہ سمجھا کہ  اس کو قتل کر دیان چاہتے ہیں اس لیے اس نے قتل کا وہ واقعہ یاد دلایا جو ایک روز پہلے ہو چکا تھا۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ قتل کا واقعہ راز نہیں رہا بلکہ اس کی خبر کسی نہ کسی طرح لوگوں کو ہو گئی ہے۔

۴۱۔۔۔۔۔۔ معلوم ہوتا ہے فرعون کا محل شہر کے آخری سرے پر تھا۔ وہاں سے یہ شخص جو حضرت موسیٰ کا خیر خواہ تھا یہ خبر لے کر حضرت موسیٰ کے پاس دوڑتا ہوا آیا کہ ان کے قتل کے لیے فرعون کی حکومت مشورہ کر رہی ہے۔ اور ساتھ ہی اس شخص نے یہ مشورہ دیا کہ اے موسیٰ تم اس ملک سے نکل جاؤ۔

۴۲۔۔۔۔۔۔ فرعون کی حکومت قتل خطا کی سزا بھی قتل کی صورت میں دینا چاہتی تھی کیونکہ مقتول اس کا ہم قوم تھا جب کہ موسیٰ بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے تھے ظاہر ہے یہ ظلم تھا اور فرعون نے بنی اسرائیل کے ساتھ ظالمانہ رویہ ہی اختیار کر رکھا تھا۔

حضرت موسیٰ کے ہاتھوں مصری کے قتل کا واقعہ بائیبل کی کتاب خروج کے باب ۲ میں بھی بیان ہوا ہے لیکن اس تفصیل اور صحت کے ساتھ نہیں۔

۴۳۔۔۔۔۔۔ مدین خلیج عقبہ کے مشرقی ساحل پر مصر سے آٹھ دن کی مسافت پر واقع تھا۔ چونکہ یہ ملک فرعون کی سلطنت سے باہر تھا اس لیے حضرت موسیٰ نے اس کا رخ کیا۔ انہیں اس سفر کے سلسلہ میں نہ تیاری کرنے کا موقع مال تھا اور نہ وہ راستہ کی واقفیت ہی حاصل کر سکے تھے بلکہ اللہ پر توکل کرتے ہوئے عزم سفر کیا تھا اور اس سے دعا کی تھی کہ وہ سیدھے راستے کی طرف رہنمائی فرمائے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایسا فضل کیا کہ وہ سیدھے مدین پہنچ گئے اور آگے جا کر ان پر ہدایت کی راہ روشن ہوتی چلی گئی۔

۴۴۔۔۔۔۔۔ یعنی شہر میں داخل ہونے سے پہلے ایک کنویں پر پہنچے جہاں کافی لوگ جمع تھے اور اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے تھے۔

۴۵۔۔۔۔۔۔ یعنی وہ مردوں سے  ہٹ کر ایک طرف اپنے جانوروں کے ساتھ کھڑی تھیں۔

۴۶۔۔۔۔۔۔ حضرت موسیٰ نے یہ سوال از راہ ہمدردی کیا۔ ایسے موقع پر اجنبی عورتوں سے بات کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

۴۷۔۔۔۔۔۔ یہ اس دستور کی طرف اشارہ ہے جو مردوں نے وہاں رائج کر رکھا تھا کہ پہلے مرد اپنے جانوروں کو پانی پلائیں گے اس کے بعد عورتوں کی باری آئے گی حالانکہ عورتوں کو ان کے کمزور ہونے اور دیگر مصلحتوں کی بنا پر پہلے موقع دیا جانا چاہیے تھا مگر یہ احساس نہ اس زمانہ کے چرواہوں میں تھا اور نہ اس زمانہ کے ترقی پسندوں میں ہے۔

ان عورتوں کو جانوروں کی دیکھ بھال اور ان کو پانی پلانے کے گھر میں سوائے ان کے بوڑھے والد کے کوئی مرد آدمی نہیں تھا اس لیے یہ ان کی مجبوری تھی اگر چہ انصاف اور شریعت کی رو سے باہر کے کام کاج کی ذمہ داری مردوں ہی پر عائد ہوتی ہے لیکن ضرورۃً عورتوں کے لیے کام کرنا ممنوع بھی نہیں ہے بشرطیکہ وہ شرعی حدود میں رہ کر کام کریں اور شرم و حیا کی پاسداری کریں۔

۴۸۔۔۔۔۔۔ حضرت موسیٰ نے جب ان کا یہ حال سنا تو جانوروں کو سیدھے کنویں پر لے گئے اور ان کو پانی پلایا۔ وہ نہایت قوی اور حوصلہ مند تھے اس لیے چرواہے ان کو روک نہ سکے۔ یہ خدمت خلق کا کام تھا جو حضرت موسیٰ نے ایسی حالت میں انجام دیا جب کہ وہ پریشان اور تھکے ہوئے تھے مگر جو کام خلوص کے ساتھ صرف اللہ کی رضا جوئی کے لیے کیا جائے خواہ وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ اس کی قدر فرماتا ہے اور اس کو باعث خیر بناتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے :

مَنْ کَانَ فِی حَاجَۃِ اَخِیْہِ کَانَ اللہُ فِی حَاجِتِہٖ۔ “جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت کو پورا کرنے میں لگا رہتا ہے اللہ اس کی ضرورت پوری کر دیتا ہے “۔  (مسلم کتاب البر)

۴۹۔۔۔۔۔۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کس قدر پریشان حال تھے غالباً فاقہ کی نوبت آ گئی ہو گی مگر ان کی خود داری دیکھیے کہ اس حال میں بھی کسی سے کوئی ذکر نہیں کیا۔ مانگا تو اپنے رب سے۔ توکل کی کتنی اعلیٰ مثال ہے جو ان کے  کردار سے ظاہر ہوتی ہے۔ پھر دعا میں انہوں نے جس ادب کو ملحوظ رکھا وہ بھی ان کے عالی ظرف ہونے کی دلیل ہے کیونکہ انہوں نے کسی شکوہ شکایت کے بغیر  اپنی احتیاج اپنے رب کے سامنے پیش کر دی۔

۵۰۔۔۔۔۔۔ عورت کا شرماتے ہوئے حضرت موسیٰ کے پاس آنا اس کی شرافت کو ظاہر کرتا ہے۔ قرآن نے اس عورت کے اس وصف کا خصوصیت کے ساتھ ذکر جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اگر کسی عورت کو اجنبی شخص کے پاس جانے اور اس ے بات کرنے کی ضرورت پیش آئے تو وہ اپنے نسوانی جوہر شرم و حیا کی پوری پاسداری کرے۔

موجودہ دور میں تو گوناگوں ضرورتوں کے تحت عورتوں کا باہر نکلنا ناگزیر سا ہو گیا ہے مگر حیا کی چادر اوڑھ کر باہر نکلنے اور شرم و حیا کے تقاضوں سے بے پروا ہو کر  مردو زن کے اختلاط کا طریقہ اختیار کرنے میں بہت بڑا فرق ہے۔ پہلی صورت جائز ہے اور دوسری صورت نا جائز۔

۵۱۔۔۔۔۔۔ عورتوں نے اپنے والد کو جب یہ واقعہ سنایا ہو گا کہ ایک مسافر کنویں پر  آیا ہوا ہے جو شریف النفس معلوم ہوتا  ہے اور اگر اس نے ہمارے ساتھ یہ ہمدردی کی تو انہوں نے یہ خیال کیا ہو گا کہ معلوم نہیں اس مسافر نے کھانا بھی کھایا ہے یا نہیں اور حسن سلوک کا بدلہ حسن سلوک سے دینا چاہیے لہٰذا انہوں نے اپنی لڑکی کو بھیجا کہ وہ اس شخص کو بلا کر لائیں۔

۵۲۔۔۔۔۔۔ حضرت موسیٰ نے جو خدمت انجام دی تھی اس کی اجرت وصول کرنا ان کے پیش نظر نہ تھا لیکن چونکہ وہ مسافر ہونے کی حیثیت سے اس بات کے مستحق تھے کہ ان کی مہمان نوازی کی جائے نیز انہوں نے ابھی ابھی اللہ تعالیٰ سے خیر نازل کرنے کی دعا کی تھی اس لیے اس دعوت کو جس سے خیر کی راہ کھلنے کا امکان تھا ان کے لیے قبول کرنا ہی مناسبت تھا۔ چنانچہ حضرت موسیٰ عورت کے والد کے بلانے پر اس کے گھر پہنچ گئے۔

۵۳۔۔۔۔۔۔ اس بوڑھے شخص نے سارا قصہ سننے کے بعد حضرت موسیٰ کو اطمینان دلایا کہ اس ملک میں فرعون کی علمداری نہیں ہے لہٰذا بے خوف ہو جاؤ کہ اب تم ظالم قوم کی دست رس سے باہر ہو۔

یہ بزرگ شخص جنہوں نے حضرت موسیٰ کو اپنے گھر بلایا کون تھے ؟  قرآن نے ان کے نام کی صراحت نہیں کی لیکن عام طور سے مفسرین ان کا نام شعیب بتاتے ہیں جو بوجوہ صحیح نہیں۔

۱) ۔ اگر پیغمبر شعیب موسیٰ کے ہم عصر ہوتے تو قرآن صراحت کے ساتھ اس کا ذکر کرتا۔

۲) ۔ حضرت شعیب کا زمانہ حضرت لوط کے زمانہ سے قریب رہا ہے چنانچہ حضرت شعیب اپنی قوم کو قوم لوط کے انجام سے عبرت دلاتے ہوئے کہتے ہیں :

وَمَا قَو مُ لُوْط مِنْکُمْ بِبَعِیْد  (ہود :۸۹) ۔ ” اور قوم لوط  (کا انجام) تو تم سے کچھ دور بھی نہیں ہے ”

لیکن حضرت لوط اور حضرت موسیٰ کے درمیان طویل مدت رہی ہے اس لیے شعیب علیہ السلام حضرت موسیٰ کے معاصر نہیں ہو سکتے۔

۳) ۔ کسی صحیح حدیث سے یہ ثابت نہیں کہ یہ بزرگ شخصیت حضرت شعیب کی تھی۔ جن روایتوں میں اس نام کی صراحت ملتی ہے وہ صحیح نہیں ہیں۔ ابن کثیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں۔

” اور بعض احادیث میں موسیٰ کے قصہ کے سلسلے میں شعیب کے نام کی جو صراحت ملتی ہے تو ان کے اسناد صحیح نہیں ہیں ” (تفسیر ابن کثیر ج ۳ ص ۳۸۵) ۔

اور علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں :

وہ شعیب نہیں تھے جیسا کہ بعض غلط رائے قائم کرنے والوں نے گمان کیا ہے بلکہ علمائے سلف اور اہل کتاب جانتے ہیں کہ وہ شعیب نہیں تھے ”  (مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ ج ۲۰ ص ۴۲۹) اور دوسرے مقامات پر یثرو Jethro) )  (خروج ۱:۳) اور بائیبل کا شارح لکھتا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے یہ نام بعد میں درج کر لیا گیا ہے یعنی تورات میں یہ نام پہلے موجود نہیں تھا۔

“He is called Jethro in E-narratives though in each case the name seems to have been inserted later.”  (The Interpreters own-volume Commentary on the Bible P.380)

۵) ۔ یہ بزرگ کافی بوڑھے تھے اگر یہ حضرت شعیب ہوتے تو ان کا یہ زمانہ ان کی قوم پر عذاب آ جانے کے بعد کا زمانہ ہوتا اس لیے اہل ایمان بھی ان کے ساتھ ہوتے اور ان کی موجودگی میں حضرت شعیب کی بیٹیوں کو پانی سے روکنے کی جرأت کوئی چرواہا نہیں کر سکتا تھا۔

اس لیے صحیح بات یہی ہے کہ یہ بزرگ حضرت شعیب نہیں تھے البتہ یہ قرین قیاس ہے کہ وہ حضرت شعیب کے خاندان سے رہے ہوں۔

۵۴۔۔۔۔۔۔ اس بزرگ کے ہاں کلہ پانی کے لیے کوئی مرد آدمی نہیں تھا اور جب ان کی لڑکی نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ ایک طاقتور آدمی ہیں اور اس کام کے لیے ایک طاقت ور آدمی ہی موزوں ہو سکتا ہے نیز حضرت موسیٰ اپنی چال ڈھال اور اپنی گفتگو سے نہایت امانت دار آدمی معلوم ہوتے ہیں اور گھر میں کسی قابل اعتماد آدمی ہی کو رکھا جا سکتا ہے تو اس نے حضرت موسیٰ کو اس خدمت کے لیے رکھ لینے کا مشورہ دیا جس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ ایک غریب الوطن شخص کو جو نیک کردار بھی ہے شریفوں کے گھر میں سہارا مل جائے۔

لڑکی کے اس مشورہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ نہایت سمجھدار تھی اور اس کا مشورہ نہایت معقول تھا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بعض عورتیں بڑی ذکی الفہم ہوتی ہیں اور ان کا مشورہ بھی بڑا معقول ہوتا ہے۔ اس لیے عورتوں کی وقعت کو گھٹانا صحیح نہیں اور قرآن تو ممتاز عورتوں کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کرتا ہے۔

۵۵۔۔۔۔۔۔ مدین کے بزرگ نے اپنی بیٹی نکاح میں دینے کی پیشکش حضرت موسیٰ کو کی تو وہ کوئی جذباتی فیصلہ نہیں تھا جو انہوں نے عجلت میں کیا ہو بلکہ اس اطمینان کے بعد کیا تھا جو انہیں اپنے تجربہ اور حضرت موسیٰ کی زبانی ان کے قصہ کو سن لینے کے بعد حاصل ہو گیا تھا۔ اول تو ایک نبی کی شخصیت نبوت سے پہلے بھی اعلیٰ اخلاق کی آئینہ دار ہوتی ہے دوسرے مدین والوں کے لیے بنی اسرائیل اجنبی نہیں تھے بلکہ دونوں میں رشتہ قرابت تھا کیونکہ حضرت ابراہیم کی ایک کنیز جیسا کہ بائیبل کا بیان ہے قطورا تھی اور اس سے جو لڑکا پیدا ہوا وہ مدیان تھا جس کو انہوں نے مدین کے علاقہ میں بسایا اور اسی کے نام سے یہ علاقہ منسوب ہوا۔ حضرت شعیب اسی نسل سے تھے اور جب قوم شعیب پر عذاب آیا تو حضرت شعیب اور ان کے ساتھی عذاب سے محفوظ رہے اور قریب کے علاقہ میں آباد ہوئے جو مدین ہی کہلایا عجب نہیں کہ یہ بزرگ حضرت شعیب کے خاندان سے رہے ہوں اس لیے انہوں نے حضرت موسیٰ سے ان کے بنی اسرائیل  میں سے ہونے کی بنا پر یگانگت بھی محسوس کر لی ہو۔ بہر کیف یہ بزرگ نیک مسلمان تھے اور ان کی ہمدردیاں حضرت موسیٰ کے ساتھ اس لیے بھی تھیں کہ وہ مظلوم تھے اور ایک مظلوم قوم کے فرد تھے۔

اس بزرگ کو چلہ بانی کے لیے ایک مرد آدمی کی ضرورت تھی اور حضرت موسیٰ کو غریب الوطنی میں سہارے کی اس لیے اس بزرگ نے فراخ دلی کے ساتھ اپنی بیٹی کے نکاح کی پیشکش کی تاکہ وہ خاندان کے ایک فرد بن کر رہیں۔ رہی آٹھ سال تک کی خدمت کی شرط تو اس میں ایک مصلحت یہ بھی رہی ہو گی کہ حضرت موسیٰ اپنی اہلیہ کو لے کر اس وقت مصر لوٹیں جب کہ قتل کا واقعہ پرانا ہو جانے کی بنا پر فرعون کی طرف سے ان کے خلاف کسی کار روائی کا اندیشہ باقی نہ رہا ہو اور سب سے بڑھ کر اللہ کی مشیت تھی کہ حضرت موسیٰ اس وقت مصر کا سفر کریں جو وقت کہ ان کے منصب رسالت سے سرفراز کیے  جانے کے لیے موزوں اور مقدر تھا۔

آٹھ سال تک خدمت کی شرط بطور مہر کے نہیں تھی کیونکہ مہر بیوی کے لیے ہوتا ہے نہ کہ اس کے باپ کے لیے اور نکاح کے لیے تو ابھی کسی لڑکی کا تعین بھی نہیں ہوا تھا بلکہ اپنی دو بیٹیوں میں سے کوئی ایک بیٹی نکاح میں دینے کی بات اس بزرگ نے کہی تھی اس لیے یہ عقد نکاح نہیں تھا بلکہ ایک معاہدہ تھا جس میں اس بزرگ نے اپنے لڑکیوں کی مصلحت کو بھی پیش نظر رکھا تھا اور  حضرت موسیٰ کی مصلحت کو بھی۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس بات کے پیش نظر کہ حضرت موسیٰ کے پاس مہر دینے کے لیے کچھ نہیں ہے لڑکیوں نے اپنی اس رضا مندی کا اظہار اپنے باپ سے کیا ہو کہ وہ جس لڑکی کا بھی نکاح ان کے ساتھ کریں گے وہ اپنا مہر معاف کر دیں گی۔ بہر حال باپ نے جو کچھ کہا قرائن دلیل ہیں کہ اپنی لڑکیوں کی رضا مندی ہی سے کہا۔

ضروری نہیں کہ نکاح معاہدہ کی مدت ختم ہو جانے پر کیا گیا ہو بلکہ قرین قیاس یہ ہے کہ معاہدہ ہو جانے کے کچھ  عرصہ بعد ہی اس بزرگ نے اپنی ایک بیٹی کا تعین کر کے اس کا نکاح حضرت موسیٰ سے کر دیا ہو گا تاکہ وہ خاندان کے ایک فرد کی حیثیت سے گھر میں رہیں اور گلہ بانی کا کام بھی اپنے معاہدہ کے مطابق کرتے رہیں۔

۵۶۔۔۔۔۔۔ یعنی اگر میں آٹھ سال کی مدت پوری کر کے اپنی اہلیہ کو لے کر جانا چاہوں تو پھر مجھے روکا نہ جائے اور اگر میں دس سال کی مدت پوری کرنا چاہوں تو اس میں بھی کوئی رکاوٹ  نہ ہو۔

۵۷۔۔۔۔۔۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ معاہدہ کس اسپرٹ میں کیا گیا تھا اور جو معاہدہ حسن معاملہ کے عزم کے ساتھ اور اللہ کو نگہبان بنا کر کیا گیا ہو اس کے باعث خیر ہونے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے۔

۵۸۔۔۔۔۔۔ حضرت موسیٰ نے کون سی مدت پوری کی آٹھ سال کی یا دس سال کی ؟ اس کی کوئی صراحت قرآن نے نہیں کی اور بائیبل میں تو مدت کی قرار داد کا کوئی ذکر نہیں ہے رہ گئیں روایتیں تو بخاری میں حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا حضرت موسیٰ نے اس مدت کو پورا کیا جو ان دو مدتوں میں زیادہ لمبی اور بہتر تھی ؛ لیکن دوسری روایتوں میں ایسی ہی بات مرفوعاً بیان ہوئی ہے یعنی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ارشاد کی حیثیت سے لیکن وہ اسناد کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے۔  (تفصیلات کے لیے دیکھیے تفسیر ابن کثیر  ج ۲ ص ۳۸۶)

۵۹۔۔۔۔۔۔ یعنی مدین سے اپنے بیوی بچوں کو لے کر مصر جا رہے تھے تاکہ اپنے خاندان والوں کے ساتھ رہیں۔

۶۰۔۔۔۔۔۔ مدین سے کچھ فاصلہ پر کوہ طور ہے جو جزیرہ نما سینا میں واقع ہے اور مدین سے مصر جاتے ہوئے راستہ میں پڑتا ہے۔

۶۱۔۔۔۔۔۔ گھر والوں کے لیے اُمْکُثُوا جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کے ساتھ تنہا ان کی اہلیہ کہ حضرت موسیٰ کا نکاح مقررہ مدت گزر جانے سے پہلے ہی ہوا تھا اور وہ اپنے خسر کے ہاں داماد کی حیثیت سے رہ کر گلہ بانی کی خدمت انجام دے رہے تھے۔ اسی دوران ان کے ہاں بچے بھی ہوئے اور مدت پوری ہو جانے کے بعد جب وہ مدین سے نکلے ہیں تو ان کے ساتھ بیوی کے علاوہ ان کے بچے بھی تھے۔

۶۲۔۔۔۔۔۔ یعنی راستہ کا پتہ چلاؤں کیونکہ اندھیری رات میں راستہ سمجھ میں  نہیں آ رہا تھا۔

۶۳۔۔۔۔۔۔ رات سرد تھی اس لیے حضرت موسیٰ نے انگارا لانا چاہا تاکہ اس سے ن کے گھر والے گرمی حال کر سکیں۔

۶۴۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ طٰہٰ نوٹ ۱۰ اور ۱۱  اور سورہ نمل نوٹ ۹۔

۶۵۔۔۔۔۔۔ متن میں لفظ “جانّ” استعمال ہوا ہے جو عربی میں ایسے سانپ کے لیے بولا جاتا ہے جس کی حرکت تیز ہو۔ دوسری جگہ قرآن میں “ثعبان” اژدھا کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے اور “حَیَّۃ” سانپ کا بھی۔ یہ ایک ہی چیز کی مختلف تعبیر ہیں یعنی حضرت موسیٰ کی لاٹھی معجزانہ طور پر ایسا سانپ بن جاتی تھیں جو دیکھنے میں بڑا اژدھا معلوم ہوتا تھا اور حرکت میں اس سانپ کی طرح تھا جو نہایت تیز رو ہوتا ہے۔

۶۶۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ نمل نوٹ۔ ۱۰۔

۶۷۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ سانپ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔

۶۸۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ طٰہٰ نوٹ ۲۳۔

۶۹۔۔۔۔۔۔ حضرت موسیٰ کے لیے یہ سب چیزیں غیر متوقع تھیں خاص طور سے ایک سنسان علاقہ میں رات کے وقت لاٹھی کا سانپ بن جانا قدرتی طور پر ان کو خوف زدہ کرنے والی بات تھی۔ اس خوف کو دور کرنے کی تدبیر اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی کہ اپنا بازو سکیڑ لو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی غیر معمولی مدد تھی۔

۷۰۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ دو معجزے ہیں جو اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ تم اللہ کی طرف سے رسول بنا کر بھیجے گئے ہو۔

۷۱۔۔۔۔۔۔ یعنی جب میں فرعون کے سامنے دعوت لے کر جاؤں گا تو اس بات کا اندیشہ ہے کہ وہ میرے خلاف قتل کے پرانے واقعہ کی بنا پر کار روائی کرے اور دعوت کا کام ہی انجام نہ پا سکے۔ اگر چہ حضرت موسیٰ مصر ہی جا رہے تھے لیکن چونکہ قتل کے واقعہ کو کافی عرصہ گزر چکا تھا اس لیے اس بات کا بظاہر امکان نہیں تھا کہ فرعون ان کو سزا دیتا لیکن اب یہ اندیشہ انہیں اس لیے محسوس ہوا کہ رسول کی حیثیت سے اس کے پاس جانا تھا۔

حضرت موسیٰ نے یہ جو کچھ عرض کیا اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ نبوت کی ذمہ داری کو قبول کرنے سے معذرت کر رہے تھے بلکہ وہ اس راہ کی مشکلات کو اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کر رہے تھے تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو دور فرمائے اور ان کی مدد کرے۔

۷۲۔۔۔۔۔۔ تشریح  کے لیے دیکھیے سورہ طٰہٰ نوٹ ۳۰۔

۷۳۔۔۔۔۔۔ یعنی تمہارا رعب اور ہیبت ان پر ایسی چھا جائے گی کہ وہ تمہیں کوئی نقصان نہ پہچا سکیں گے۔

۷۴۔۔۔۔۔۔ غالب حجت کے اعتبار سے بھی اور نتیجہ کے اعتبار سے بھی۔ چنانچہ جادو گروں کے ساتھ مقابلہ میں بھی حضرت موسیٰ ہی کی فتح ہوئی، فرعون نے جو تدبیر بھی ان کے خلاف کی الٹی پڑ گئی اور بالآخر وہی اپنے لشکر سمیت سمندر میں ڈوب مرا۔

۷۵۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ بات کہ اللہ ہدایت کے لیے رسول بھیجتا ہے۔

۷۶۔۔۔۔۔۔ فرعون والوں کا یہ کہنا کہ ہم نے رسالت کی کوئی بات باپ دادا سے سنی ہی نہیں  سراسر جھوٹ تھا کیونکہ چند سو سال قبل حضرت یوسف جیسا پیغمبر ان میں گزر چکا تھا اور ان کو مصر کی فرمانروائی بھی حاصل ہو گئی تھی نیز بنی اسرائیل کا وجود اس بات کا زندہ ثبوت تھا کہ یہ سلسلہ رسالت کو ماننے والی قوم ہے پھر قوم فرعون رسالت کے تصور سے بالکل نا آشنا کیسے ہو سکتی تھی۔

حضرت موسیٰ نے یہ بات ان کی ہٹ دھرمی کے جواب میں کہی۔ یعنی اگر تم کوئی بات سمجھنا ہی نہیں چاہتے تو پھر نتائج کا انتظار کرو کہ کس کا انجام بخیر ہوتا ہے اور کس کے حصہ میں ناکامی اور محرومی ہوتی ہے۔

۷۷۔۔۔۔۔۔ فرعون کے اس دعوے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خدا کا منکر تھا اور اپنے خدا ہونے کا مدعی۔ اس کے نزدیک کوئی بالا تر ہستی ایسی نہیں تھی جس کی پرستش لازم اور جس کی اطاعت واجب ہو۔ وہ مصر کا فرمانروا ہونے کی بنا پر اپنے کو پرستش کا مستحق سمجھتا تھا اور اس بات کا بھی کہ اس کی بے چون و چرا اطاعت کی جائے۔ مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورہ اعراف نوٹ ۱۸۰ سورہ شعراء نوٹ ۲۷ اور سورہ نازعات نوٹ ۱۸۔

واضح رہے کہ انبیاء علیہم السلام کو کافر اور مشرک حکمرانوں سے واسطہ پڑا ہے جو اللہ کے احکام و قوانین کے بجائے اپنے احکام اور قوانین چلاتے تھے لیکن قرآن نے فرعون کے سوا کسی کے بارے میں یہ نہیں کہا کہ وہ اپنے الہ اور رب اعلیٰ ہونے کا مدعی تھا۔  مثال کے طور پر ملکہ سبا مدرکہ تھی اور اپنا حکم اور قانون چلاتی تھی حضرت سلیمان نے اس کی مشرکانہ حکومت کو ختم کرنے کے لیے اس کو الٹی میٹم بھی دیا لیکن کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ وہ اپنے خدا ہونے یا رب اعلیٰ ہونے کی مدعی تھی۔ حضرت عیسیٰ کو بھی قیصر کی حکومت سے واسطہ پڑا تھا جو اپنے خود ساختہ قوانین چلاتی تھی لیکن ان کی طرف بھی اس دعوے کو منسوب نہیں کیا گیا جو فرعون نے کیا تھا۔ اسی طرح مکہ میں قریش کی حکومت بھی مشرکانہ تھی  اور وہ اپنے کفر اور سرکشی کے اعتبار سے فرعون ہی کے نقش قدم پر تھے مگر ان کے بارے میں بھی قرآن نے یہ نہیں کہا کہ یہ اپنے خدا ہونے اور رب اعلیٰ ہونے کے مدعی ہیں۔ اس سے طاہر ہوتا ہے کہ فرعون کا جرم ان تمام حکمرانوں اور اصحاب اقتدار کے جرائم سے بڑھ کر تھا اور وہ اپنے دعوے میں بالکل منفرد تھا۔

۷۸۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے نوٹ۔ ۱۱۔

۷۹۔۔۔۔۔۔ فرعون نے واقعی یہ حکم ہامان کو نہیں دیا تھا بلکہ یہ بات اس نے حضرت موسیٰ کی اس دلیل کا مذاق اڑانے کے لیے کہی کہ اللہ زمین و آسمان کا رب ہے۔ فرعون کا جواب یہ تھا کہ زمین میں تو تمہارا خدا دکھائی نہیں دیتا،  رہا آسمان تو اب میں اونچا محل بنواتا ہوں تاکہ اس پر چڑھ کر دیکھ لوں کہ خدا آسمان میں کہاں چھپا ہوا ہے۔ فرعون کا یہ جواب سراسر احمقانہ تھا اس لیے حضرت موسیٰ نے اس کا جواب دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ خدا کے بارے میں فرعون کی یہ بے تکی باتیں اس کی پست ذہنیت اور اس کے گھمنڈی ہونے کا بین ثبوت ہیں۔

۸۰۔۔۔۔۔۔ یعنی فرعون کو یہ حق نہیں تھا کہ وہ اپنے کو بندگی کے مقام سے اونچا سمجھتا۔ اگر کوئی بندہ اپنے کو خدا کی بندگی سے اونچا سمجھتا ہے تو یہ گھمنڈ ہے جس کے لیے کوئی جواز (Justification) نہیں ہے۔

۸۱۔۔۔۔۔۔ یعنی نہ خدا کے حضور حاضر  ہونا ہے اور نہ اپنے اعمال کی جواب دہی کرنا ہے اور نہ ان کا بدلہ پانا ہے۔

۸۲۔۔۔۔۔۔ فرعون اور اس کے لشکر کے سمندر میں ڈوب مرنے کا واقعہ سورہ یونس اور سورہ شعراء میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔

۸۳۔۔۔۔۔۔ یعنی جو بھی فرعون والوں کے نقش قدم پر چلیں گے وہ قیامت کے دن ان  ہی کی قیادت میں جہنم کی طرف بڑھیں گے۔

۸۴۔۔۔۔۔۔ یعنی قیامت کے دن نہ گمراہ لیڈر اپنے گمراہ پیروؤں کی کوئی مدد کر سکیں گے اور نہ یہ گمراہ پیرو اپنے لیڈروں کے کچھ کام آ سکیں گے۔ ان میں سے ہر ایک بے یار و مدد گا رہو گا۔

یہ بہت بڑی تنبیہ ہے لیڈروں کے لیے بھی اور عوام کے لیے بھی۔ ہر شخص سوچ لے کہ وہ کدھر جا رہا ہے اور کس کے پیچھے چل رہا ہے۔

۸۵۔۔۔۔۔۔ دنیا فرعون اور اس کے ساتھیوں پر لعنت ہی بھیجتی ہے مسلمان، نصاریٰ، اور یہود سب ان کی ہی مذمت کرنے ہیں اور دنیا فرعون کو ظالم ہی کی حیثیت سے جانتی ہیں۔

۸۶۔۔۔۔۔۔ یعنی سابق سرکش قوموں کو ہلاک کر کے آئندہ نسلوں کے لیے عبرت پذیری کا سامان کیا اور ان کی رہنمائی اور ہدایت کے لیے موسیٰ کو کتاب  (تورات) عطا کی۔ اس آیت سے چند اہم باتوں پر روشنی پڑتی ہے :

ایک یہ کہ ہدایت کے لیے پہلی تفصیلی کتاب تورات تھی جو حضرت موسیٰ پر نازل ہوئی۔ اس سے پہلے رسولوں کے ذریعہ غیر کتابی شکل میں ہدایت کا سامان ہوتا رہا جیسے حضرت نوح، حضرت ہود، حضرت صالح کے ذریعہ یا پھر چھوٹے چھوٹے صحیفے نازل کیے گئے چنانچہ ابراہیم علیہ السلام کو صحیفہ عطاء ہوا تھا۔  (سورہ  اعلیٰ:۱۹) واضح رہے تورات چونکہ متعدد اجزاء  پر مشتمل تھی اس لیے اس کو بھی صحف  (صحیفوں) سے تعبیر کیا گیا ہے ورنہ بحیثیت مجموعی وہ ایک تفصیلی کتاب تھی۔ تورات سے پہلے تفصیلی کتاب نازل نہ کیے جانے کی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ اس زمانہ میں لکھنے پڑھنے کا عام رواج نہیں ہوا تھا اس لیے ہدایت الٰہی کا اصل ذریعہ انبیاء علیہم السلام کے ارشادات رہے۔

دوسرے ی کہ جب حضرت موسیٰ سے پہلے کوئی تفصیلی کتاب نازل ہی نہیں ہوئی تھی تو مشرکانہ مذاہب کے پیرو اپنی مذہبی کتابوں  مثلاً منو سمرتی، وید وغیرہ کے بارے میں کتاب الٰہی ہونے کا جو دعویٰ کرتے ہیں وہ ایک بے بنیاد دعویٰ ہے جب کہ یہ کتابیں خود اس بات کا دعویٰ نہیں کرتیں کہاں کا نازل کرنے والا خدائے برتر  (Supreme Being) ہے اس لیے ان کے پیروؤں کا دعویٰ مدعی سست گواہ چست کے بمصداق ہے۔

تیسرے یہ کہ تورات صرف بنی اسرائیل کے لیے نہیں بلکہ عام انسانیت کے لیے کتاب ہدایت تھی کیوں کہ آیت میں :ھُدیً وَّ رَحْمَۃً لِلنَّاسِ  (لوگوں کے لیے ہدایت و رحمت) فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ انبیائے بنی اسرائیل دوسری قوموں کو بھی قبول اسلام کی دعوت دیتے رہے ہیں جس کی مثال حضرت سلیمان کا ملکہ سبا کو دعوت دینا ہے۔ اسی بنا پر بنی اسرائیل کو دنیا میں امامت کا مقام حاصل رہا اور یہ وہ فضیلت ہے جس کی بنا پر وہ دوسری قوموں سے ممتاز رہے۔

۸۷۔۔۔۔۔۔ غزلی جانب سے مراد کوہ طور کا مغربی حصہ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو تورات عطا ہوئی، موسیٰ کے لیے فرمان صادر کرنے سے مراد تورات ہے۔ اور اس کے گواہوں سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو شریعت عطا کرتے وقت اس کی پابندی کا عہد لیا گیا تھا۔

آیت کا مطلب  یہ ہے کہ جس وقت حضرت موسیٰ کو کوہ طور کے مغربی حصہ میں تورات عطا کی گئی اس وقت اے پیغمبر تم وہاں موجود نہ تھے اور نہ ان واقعات کے چشم دید گواہ ہو جو کوہ طور کے دامن میں بنی اسرائیل کو پیش آئے۔ پھر قرآن کے ذریعہ تمہارا موسیٰ کی سر گزشت کو صحت وہ صداقت اور تمام ضروری تفصیلات کے ساتھ پیش کرنا جب کہ اہل کتاب کے پاس تورات کا جو حصہ موجود ہے وہ بھی ان کی تحریف کی وجہ سے ناقص حالت میں ہے قرآن کے وحی الٰہی ہونے اور تمہارے پیغمبر ہونے کا واضح ثبوت ہے۔

۸۸۔۔۔۔۔۔ یعنی حضرت موسیٰ کے بعد کافی دور گزر چکے ہیں مگر تم اسے پیغمبر اس قرآن کے ذریعہ حضرت موسیٰ کی سرگزشت کو اس طرح پیش کر رہے ہو کہ گویا یہ سب تمہارے چشم دید واقعات ہیں اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔

۸۹۔۔۔۔۔۔ یعنی اے پیغمبر ! مدین کا جو واقعہ تم نے بیان کیا  (جو اس سورہ کی آیت ۲۳ تا ۲۸ میں بیان ہوا ہے) وہ اس تفصیل اور صحت کے ساتھ کسی بھی کتاب میں بیان نہیں ہوا ہے لیکن تم نے اس کو اس طرح پیش کرد یا کہ گویا آنکھوں دیکھا حال ہے یہ بات تمہاری نبوت اور صداقت کو روشن کرتی ہے۔ تاریخ کے ان گمشدہ اوراق کو تم قرآن کی آیات کے ذریعہ اہل مکہ کے سامنے اس لیے پیش کر رہے ہو کہ ہم نے تمہیں رسول بنا کر  بھیجا ہے ورنہ اس کو جاننے کا کوئی ذریعہ تمہارے پاس موجود نہ تھا۔

۹۰۔۔۔۔۔۔ اشارہ ہے اس واقعہ کی طرف جب طور کی جانت وادئ ایمن (وادئ طویٰ) میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو پکارا کو پکارا اور انہیں منصب رسالت سے سرفراز کیا جیسا کہ اس سورہ کی آیت ۳۰ میں بیان ہوا ہے۔

۹۱۔۔۔۔۔۔ بنی اسمٰعیل یعنی عربوں میں ابراہیم اور اسمٰعیل علیہم السلام کے بعد کوئی نبی نہیں آیا ان دو نبیوں نے جو تعلیم، جو نقوش، جو شریعت اور جو شعائر چھوڑے تھے وہی اس قو م کے لیے سرمایہ دین تھے البتہ حضرت موسیٰ پر نازل شدہ تورات بنی اسرائیل کے واسطہ سے ان کے لیے بھی تذکیر کا ذریعہ بنی۔ مگر چونکہ ایک طویل عرصہ سے اس قوم میں کوئی نبی نہیں آیا تھا اور وہ غفلت میں پڑی ہوئی تھی اس لیے اللہ کی رحمت جوش میں آئی اور اس نے اپنے آخری رسول کو اس قوم میں مبعوث کر کے اس کو بیدار کرنے اور اللہ کی رحمت کا مستحق بننے کا سامان کیا۔

۹۲۔۔۔۔۔۔ یعنی رسول ہم نے اس لیے بھیجا تا کہ تم پر اللہ کی حجت قائم ہر جائے اور قیامت کے دن تم کو یہ عذر کرنے کا موقع نہ ملے کہ کوئی رسول تو ہماری طرف آیا  نہیں تھا کہ ایمان لانے والے بنتے۔

۹۳۔۔۔۔۔۔ یعنی جو معجزے موسیٰ کو دیے گئے تھے  وہ اس  (پیغمبر) کو کیوں نہیں دیے گئے؟

۹۴۔۔۔۔۔۔ یعنی موسیٰ کو جو معجزے  دیے گئے تھے اس کا بھی تو ان ہی جیسے کافروں نے انکار کیا تھا۔

۹۵۔۔۔۔۔۔ دونوں سے مراد حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ہیں۔ ان کے معجزوں کو اس وقت کے کافروں نے جادو قرار دیا تھا اور اس میں مبالغہ کرتے ہوئے ان کی شخصیتوں ہی کو جادو سے تعبیر کیا تھا یعنی یہ سراپا جادوگر ہیں۔

۹۶۔۔۔۔۔۔ یعنی تورات اور قرآن سے زیادہ ہدایت بخشنے والی اللہ کی کوئی کتاب تمہارے پاس موجود ہے تو اسے پیش کرو میں اس کی پیروی کروں گا کیوں کہ اصل چیز اللہ کی ہدایت کی اتباع ہے۔

واضح ہوا کہ نزول قرآن کے زمانہ میں دو ہی کتابیں ہدایت کا ذریعہ تھیں ایک تورات اور دوسرے قرآن جو نازل ہو رہا تھا۔ رہی زبور اور انجیل تو وہ تورات ہی کے تابع تھیں اس لیے ان کے علیحدہ سے ذکر کی ضرورت نہیں تھی۔ اور جب اس زمانہ میں ان دو کتابوں کے علاوہ کوئی کتاب ہدایت موجود نہیں تھی کہ اس کی اتباع کی جائے تو موجودہ زمانہ میں مختلف مذاہب کی کتابوں کے بارے میں یہ دعویٰ کس طرح صحیح ہو سکتا ہے کہ وہ خدا کا کلام اور ہدایت کا ذریعہ ہیں ؟

یہ بات بھی خیال میں رہے کہ ان آیات میں مشرکین کے تعلق سے دین کے بنیادی عقائد توحید، رسالت اور جزائے عمل زیر بحث ہیں  اور اس سلسلہ میں تورات کی تعلیم بھی اصولی طور پر وہی ہے جو قرآن کی ہے۔

یہ بات بھی واضح رہے کہ قرآن کے سامنے تورات کا جو نسخہ موجود تھا اس میں اور جو نسخہ اب پایا جاتا ہے اس میں کافی فرق ہے۔

۹۷۔۔۔۔۔۔ یعنی ان کا یہ موقف عجیب ہے کہ نہ تورات کو مانتے ہیں اور نہ قرآن کو اور نہ ہی کسی اور کتاب الٰہی کی نشاندہی کرتے ہیں جس میں ان سے بہتر  ہدایت کا سامان موجود ہو۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ سرے سے ہدایت الہٰی کی پیروی کرنا ہی نہیں چاہتے بلکہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنی خواہشات کے پیچھے چلنے میں آزاد ہیں۔

۹۸۔۔۔۔۔۔ آج تعلیم عام ہو گئی ہے اور انسان کے لیے یہ معلوم کرنا آسان ہو گیا ہے کہ خدا کی ہدایت کہاں ہے لیکن وہ اپنی خواہشات کے معاملہ میں بالکل آزاد رہنا چاہتا ہے اس لیے خدا کی ہدایت کی کوئی طلب اس میں پائی ہی نہیں جاتی۔

۹۹۔۔۔۔۔۔ یعنی جب تک ایسے غلط کار لوگ ہدایت الٰہی کے طالب نہیں بنتے اللہ ان کو ہدایت سے محروم رکھتا ہے۔

۱۰۰۔۔۔۔۔۔ یعنی قرآن کی آیتیں پیہم نازل کیں اور مسلسل ان کی تذکیر کا سامان کیا۔

۱۰۱۔۔۔۔۔۔ مراد وہ لوگ ہیں جو اہل کتاب میں سے تھے اور قرآن پر ایمان لائے تھے۔ واضح رہے کہ اہل کتاب کے لیے قرآن میں بالعموم “الذین اوتوا الکتاب”  (جنہیں کتاب دی گئی تھی) کا فقرہ استعمال ہوا ہے لیکن جب قرآن خاص طور سے اس گروہ کے ان لوگوں کا ذکر کرتا ہے جو مخلص مومن ہیں اور قرآن خاص طور سے اس گروہ کے ان لوگوں کا ذکر کرتا ہے جو مخلص مومن ہیں اور قرآن پر ایمان لاتے ہیں تو ان کے لیے : الذین اٰتینھم الکتاب” جن کو ہم نے کتاب عطا کی” کے الفاظ استعمال کرتا ہے جس میں عنایت کا پہلو نمایاں ہے۔

۱۰۲۔۔۔۔۔۔ اشارہ ہے اہل کتاب میں سے ان لوگوں کی طرف جو اصل دین اسلام پر قائم تھے جو توحید اور آخرت کے ساتھ خدا کی تمام کتابوں اور رسولوں کو ماننے کی دعوت دیتا ہے اور جب قرآن کے ساتھ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت ہوئی تو وہ ان پر بھی ایمان لائے اور آپ کی پیروی اختیار کی۔ گویا انہوں نے اپنے ایمان کے تسلسل ہی میں قرآن اور اس کے پیغمبر کو پایا تھا اس لیے وہ پہلے بھی مسلم تھے اور بعد میں بھی مسلم رہے۔ دین کو بدلنے  (Conversion) کا سوال ان کے لیے پیدا ہی نہیں ہوا۔

اس سے اس خیال کی تردید ہوتی ہے کہ جب قرآن کے نزول کا آغاز ہوا تو کوئی مسلم موجود نہ تھا یا یہ کہ دین اسلام کا آغاز نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ہوتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اسلام تمام انبیاء علیم السلام کا دین رہا ہے اور نزول قرآن کے وقت بھی ایسے افراد موجود تھے جن کا دین السلام تھا اس لیے ان کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم  کی پیروی اختیار  رکنے میں کوئی تامل نہیں ہوا۔  (اسلام کی تشریح کے لیے دیکھیے سورہ بقرہ نوٹ ۱۵۲، سورہ آل عمران نوٹ ۱۰۵، ۱۰۶، ۱۰۸)

۱۰۳۔۔۔۔۔۔ یعنی وہ پہلے بھی اسلام پر قائم رہے اس لیے اجر پانے کے مستحق تھے ہی اور جب قرآن پر ایمان لا کر اس کے پیغمبر کے پیرو بن گئے تو دوسری مرتبہ بھی اجر پانے کے مستحق ہو گئے۔

حدیث میں آتا ہے۔

” تین شخص ہیں جن کو دو بار اجر دیا جائے گا۔ ایک وہ جو اہل کتاب میں سے تھا اور اپنے نبی پر ایمان رکھتا تھا پھر مجھ پر ایمان لایا ………..” (تفسیر ابن کثیر ج ۳ ص ۳۹۳ بحوالہ بخاری)

۱۰۴۔۔۔۔۔۔، یعنی جو لوگ ان مخلص مسلموں کے ساتھ الجھتے ہیں ان کی گالیوں کا جواب وہ گالیوں سے نہیں دیتے بلکہ برائی کا مقابلہ بھلائی سے کرتے ہیں۔

۱۰۵۔۔۔۔۔۔ یعنی ان کا ایک قابل قدر وصف یہ ہے کہ وہ بخیل اور زر پرست نہیں ہیں بلکہ دل کے غنی ہیں کہ اللہ کی راہ میں اس کا دیا ہوا مال خرچ کرتے ہیں اور حاجتمندوں کی مدد کرتے ہیں۔

اس سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے خیر کی راہیں کھلتی ہیں اور مزید توفیق ملتی ہے۔

۱۰۶۔۔۔۔۔۔ “لغو” کی تشریح کے لیے دیکھیے سورہ مؤمنون نوٹ ۳۔

یہاں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ یہ لوگ اپنے مخالفین کی بیہودہ باتوں کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے اور نہ ایسی باتوں کا جواب دینے سے ان کو کوئی دلچسپی ہوتی ہے۔

۱۰۷۔۔۔۔۔۔ یعنی ہم ہمارے اعمال کے ذمہ دار ہیں اور تم تمہارے اعمال کے ذمہ دار۔ ہم اپنے عمل کے نتائج کو پائیں گے اور تم تمہارے عمل کے نتائج کو۔

۱۰۸۔۔۔۔۔۔ یہ سالم اس معروف معنی میں نہیں ہے جو ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو کرتا ہے۔ بلکہ یہ سلام سلامتی کے ساتھ رخصت ہونے کے معنی میں ہے یعنی ہمارا سلام لو ہم اجازت چاہتے ہیں۔

مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورہ فرقان نوٹ۔ ۹۲۔

۱۰۹۔۔۔۔۔۔ قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ دین کے معاملہ میں جو لوگ جہالت پر اتر آئیں ان کے ساتھ اہل ایمان الجھیں نہیں بلکہ خوبصورتی کے ساتھ ان کے پاس سے رخصت ہو جائیں۔ “مذہبی جھگڑوں “سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا البتہ اگر سننے والا کچھ سننے کے لیے آمادہ ہو تو اسے ح بات ضرور سنائی جائے۔

۱۱۰۔۔۔۔۔۔ یعنی قبول ہدایت کی توفیق دینا اللہ ہی کا کام ہے۔ تمہارے جس میں یہ نہیں ہے کسی کے دل میں ہدایت اتار دو اور اسے ہدایت یافتہ بنا دو اور جب ایک پیغمبر کسی کے دل میں ہدایت نہیں اتار سکتا تو دوسرے لوگ کیا کر سکتے ہیں۔

۱۱۱۔۔۔۔۔۔ قریش یہ سمجھتے تھے کہ مکہ میں ان کو جو مقام حٓسل ہے اور جو پر امن فضا میسر ہے وہ اس لیے ہے کہ انہوں نے بت پرستی کے سلسلے میں رواداری اختیار کر  رکھی ہے اور ہر قبیلہ کے بت کو خانہ کعبہ میں جگہ دے دی ہے۔ اب اگر وہ پیغمبر کی دعوت توحید کو قبول کر لیتے تو مکہ میں نہ کوئی بت رہے گا اور نہ بت پرستی۔ جس کے نتیجے میں عرب قبائل کی مخالفت انہیں مول لینا پڑے گی اور اس کا اثر ان کی تجارت اور ان کی معاشی زندگی پر بھی پڑ سکتا ہے اور ان کے امن و عافیت پر بھی۔ ان کے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ تمہیں امن و امان کی جو نعمت ایک ایسے ملک میں جہاں قتل و قتال اور غارت کری عام ہے اس رواداری کی بنا پر نہیں ملی ہے جو تم نے بت پرستی کے سلسلہ  میں اختیار کر رکھی ہے بلکہ اس لیے ملی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ کو محفوظ حرم بنا دیا ہے۔ اس کے حرم ہونے ہی کی بنا پر عرب اس شہر کا احترام کرتے ہیں اور اس میں بدامنی کو بہت بڑا گناہ سمجھتے ہیں۔ اس لیے قریش کو جو امن میسر ہے وہ حرم کے طفیل ہے نہ کہ بت پرستی کے طفیل۔ اسی طرح مکہ کے غیر زرعی خطہ میں ہر قسم کے پھلوں اور پیداوار کی جو درآمد مختلف جہتوں سے ہو رہی ہے وہ بھی اس کے مرکز توحید ہونے کی بنا پر ہے اور اللہ کے فضل خاص کا نتیجہ ہے۔ مگر جو بات توحید کی تائید میں جا رہی تھی اس کو انہوں نے اپنی نادانی سے شرک کے خانہ میں ڈال دیا۔ وہ یہ غلط باتیں کہتے رہے مگر چند سال بعد ہی دنیا نے دیکھ لیا کہ توحید کے علم بردار پورے عرب پر چھا گئے اور ان کے لیے کوئی خوف اور خطرہ باقی نہیں رہا۔

آج بھی مصلحت پرست سیاسی لیڈر لوگوں کو خدا اور اس کے دین سے دور ہی رکھنا چاہتے ہیں تاکہ امن و آشتی قائم رہے حالانکہ حقیقی امن و آشتی خدا اور اس کے دین پر ایمان لانے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے ہی سے حاصل ہوتی ہے۔

۱۱۲۔۔۔۔۔۔ یعنی جن کو اپنی خوش حال زندگی اور اپنی تمدنی ترقی پر ناز تھا۔

۱۱۳۔۔۔۔۔۔ یعنی کم ہی ایسا ہوا کہ ان اجڑی ہوئی بستیوں میں کوئی بسا ہو۔

۱۱۴۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ لوگ دنیا سے اس طرح رخصت ہو گئے کہ ان کو اپنا سارا اثاثہ چھوڑ دینا پڑا۔ اس طرح بالآخر ان چیزوں کے ہم ہی مالک ہو گئے۔

۱۱۵۔۔۔۔۔۔ یعنی جن نستعین پر اللہ کا عذاب نازل ہوا وہ اس صورت میں ہوا جب کہ ایک رسول کے ذریعے ان کو غفلت سے بیدار کرنے کا سامان کر دیا گیا تھا مگر انہوں نے رسول کی دعوت پر کان نہیں دھرا۔

اس آیت سے یہ بھی واضح ہوا کہ رسول کی بعثت ہر ہر بستی میں نہیں بلکہ کسی مرکزی بستی میں ہوتی رہی ہے تاکہ اس کی دعوت آسانی کے ساتھ دوسری بستیوں میں بھی پہنچ جائے۔

۱۱۶۔۔۔۔۔۔ یعنی مشرکانہ اور کافرانہ عقائد و اعمال کی بنا پر وہ غلط کار ہو کر رہ گئے ہوں اور خدا کے تعلق سے ان کا رویہ سراسر خلاف عدل اور زیادتی پر مبنی ہو۔

۱۱۷۔۔۔۔۔۔ واضح کرنا یہ مقصود ہے کہ اگر تم پیغمبر کی دعوت حق کو محض اس لیے قبول نہیں کر رہے ہو کہ اس صورت میں تمہارے معاشی اور دنیوی مفادات خطرے میں پڑ جائیں گے تو یاد رکھ دنیا کے فائدے چند روزہ ہیں۔ اس کے بالمقابل آخرت کی نعمتیں بدر جہا بہتر بھی ہیں اور دائمی بھی۔ پھر کیا یہ عقلمندی ہے کہ آدمی وقتی اور حقیر فائدوں کو ابدی نعمتوں پر ترجیح دے۔

۱۱۸۔۔۔۔۔۔ مراد نیک عمل مؤمن ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے۔

۱۱۹۔۔۔۔۔۔ مراد کافر ہے جس کو گرفتار کر کے قیامت کے دن اللہ کے حضور حاضر کیا جائے گا۔ تاکہ اس کو اس کے کفر اور بغاوت کی سزا دی جائے۔

۱۲۰۔۔۔۔۔۔ قیامت کے دن یہ سوال اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے کرے گا جو دنیا میں اس کا شریک ٹھیراتے رہے ہیں۔ جن کا دعویٰ یہ رہا ہے کہ خدائی اختیارات  (Divine Powers) دوسروں کو بھی حاصل ہیں۔

۱۲۱۔۔۔۔۔۔ یہ اللہ کی عدالت میں شیاطین کا جواب ہو گا جو گمراہی کے پیشوا تھے ان پر اللہ کا یہ فرمان لاگو ہو چکا ہو گا کہ یہ لعنت کے مستحق اور دوزخی ہیں۔

۱۲۲۔۔۔۔۔۔ ان شیطانوں کا جواب ہو گا کہ ہم ان لوگوں کی گمراہی کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ ان کو ہم نے گمراہ ضرور کیا مگر جس طرح ہم خود اپنے اختیار  سے گمراہ ہوئے تھے اسی طرح یہ اپنے اختیار سے گمراہ ہوئے۔ ہم نے ان کو زبردستی گمراہ نہیں کیا تھا کہ ان کی گمراہی کی سزا ہم کو بھگتنا پڑے۔

۱۲۳۔۔۔۔۔۔ یعنی اپنے ان پیروؤں سے بے تعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔

۱۲۴۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ حقیقۃً  اپنے نفس اور اپنی خواہشات کے پرستار تھے۔

۱۲۵۔۔۔۔۔۔ شیطانوں اور گمراہ پیشواؤں کے اس جواب کے بعد جو اوپر بیان ہوا عام مشرکین سے کہا جائے گا کہ اب پکارو اپنے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو جن کو تم نے اپنا مدد گار اور سفارشی سمجھ رکھا تھا۔

۱۲۶۔۔۔۔۔۔ یعنی جن فرضی خداؤں کو وہ پوجتے تھے ان کا کوئی وجود ہی نہیں ہو گا کہ ان کو جواب دے سکیں۔

۱۲۷۔۔۔۔۔۔ یہ ان کے حال پر اظہار حسرت ہے کہ اگر انہوں نے ہدایت قبول کی ہوتی تو آج اس انجام کو نہ پہنچتے۔ مشرکوں کے اس انجام کی تصویر قرآن میں اس لیے پیش کر دی گئی ہے تاکہ لوگ شرک اور بت پرستی کو معمولی بات نہ سمجھیں۔

۱۲۸۔۔۔۔۔۔ یہ دوسرا سوال رسالت کے بارے میں ہو گا کہ جو پیغام لے کر ہمارے رسول تمہارے پاس آئے تھے ان کے پیغام کو تم نے قبول کیا یا نہیں اور ان کی دعوت کا تم نے کیا جواب دیا۔

۱۲۹۔۔۔۔۔۔ یعنی قیامت کے دن ان کے پاس کوئی حجت نہیں ہو گی جس کو وہ ان کار رسالت کی تائید میں پیش کر سکیں۔ اس لیے کوئی بات انہیں سجھائی نہیں دے گی اور وہ آپس میں ایک دوسرے سے کچھ پوچھ بھی نہ سکیں گے کہ اس سوال کا کیا جواب دیا جائے کیوں کہ رسولوں کی صداقت ان پر اس طرح واضح ہو چکی تھی کہ اس سلسلہ میں غدر  کرنے کا کوئی موقع نہ ہو گا۔

۱۳۰۔۔۔۔۔۔ یہ مشرکوں اور کافروں کو توبہ کی ترغیب ہے کہ آج دنیا میں تمہیں اس کا موقع حاصل ہے تو جو کوئی شرک اور کفر سے باز آئے گا اور ایمان لا کر عملاً نیک بنے گا وہ بجا طور پر آخرت کی کامیابی کی امید رکھ سکتا ہے۔

۱۳۱۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے اس میں کسی کو کوئی دخل نہیں۔ اسی طرح وہ اپنی مخلوق میں سے انعام سے نوازنے  کے لیے افراد کو خود ہی چن لیتا ہے چنانچہ اس نے مؤمنین مخلصین کو جنت کے لیے چن لیا ہے۔ مشرکین نے جن کو سفارشی (شفعاء) ٹھیرا رکھا ہے ان کا اس معاملہ میں کوئی دخل نہیں ہے وہ بالکل بے اختیار ہیں۔

۱۳۲۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ خیال کہ خدا کے کاموں میں کوئی دخل دینے والا ہے سراسر شرک ہے۔ یہ مشرکین اپنے معبودوں کے بارے میں یہی گمان رکھتے ہیں مگر اللہ کی ذات اس سے بہت بلند و بالا ہے کہ اس کے کاموں، اس کے فیصلوں اور اس کے انتخاب کے معاملہ میں کوئی اس پر اثر انداز ہو سکے اور کوئی بات اس سے منوائی جا سکے۔

۱۳۳۔۔۔۔۔۔ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ مشرکین جس شرک اور بت پرستی کو اعلانیہ اپنا مذہب بنائے ہوئے ہیں اس کے پیچھے جو ذہنیت کام کر رہی ہے  اور جو فاسد جذبات اور محرکات ہیں ان کو بھی اللہ بخوبی جانتا ہے۔

۱۳۴۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ ہی اس کا مستحق ہے کہ دنیا میں بھی اسی کے گن گائے جائیں اور آخرت میں تو اسی کو گن گائے جائیں گے۔

۱۳۵۔۔۔۔۔۔  یعنی اس کائنات میں اسی کا حکم اور فیصلہ نافذ العمل ہے اور وہی اس کا مستحق ہے کہ انسان اس کے شرعی احکام اور فیصلوں کی پابندی قبول کرے اور اس کے کسی حکم کی بھی خلاف ورزی نہ کرے۔

۱۳۶۔۔۔۔۔۔ یعنی تمہیں بالآخر پیش اللہ ہی کے حضور ہونا ہے۔

۱۳۷۔۔۔۔۔۔ رات اور دن کی آمد و رفت کا جو نظام اس زمین پر قائم کر دیا گیا ہے وہ زندگی گزارنے کے لیے نہایت سازگار ہے۔ اگر رات کی تاریکی میں اسے سکون ملتا ہے تو دن کے اجالے میں اس کے لیے معاشی ڈور دھوپ کرنا آسان ہوتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت کا بہت بڑا کرشمہ ہے مگر انسان کا حال بہت عجیب ہے وہ ماحول کی سازگاری کو تو محسوس کرتا ہے مگر اس بات پر غور کرنے کی زحمت گورا نہیں کرتا کہ ماحول کی یہ سازگاری ایک نظام کے تحت ہے اور نظام کا وجود اس کے قائم کرنے والے پر دلالت کرتا ہے۔ پھر جس ہستی نے یہ نظام قائم کیا ہے وہ اس کو تبدیل بھی کر سکتی ہے۔ اگر وہ ہمیشہ کے لیے رات ہی رات قائم کر دے یا دن ہی دن مسلط کر دے تو انسان کتنی بڑی نعمت سے محروم ہو جائے گا اور اس کو کیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا؟ اگر وہ اس پہلو سے غور  کرے تو وہ اپنے رب کو پہچان لے اور اس کے اندر اس کی شکر گزاری کا جصبہ پیدا ہوا۔ اور جب اس کی شکر گزاری کا جذبہ پیدا ہو جائے تو وہ اس کی دعوت توحید کی طرف لپک جائے گا جو قرآن اور اس کا پیغمبر پیش کر رہا ہے۔

آج کا انسان تو زبردست جغرافیائی معلومات رکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ قطب شمالی پر چھ مہینے دن اور چھ مہینے رات ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے وہاں آبادی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے برخلاف درمیانی عرض البلد  (Latitude)  پر جہاں روزانہ شب و روز   کی آمد و رفت کا سلسلہ رہتا ہے انسانی آبادی گنجان ہے۔ پھر  وہ یہ بھی جانتا ہے کہ دن اور رات کس وجود زمین کی محوری گردش کا نتیجہ ہے۔ مگر وہ اس سوال پر غور کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا جو لازماً اس موقع پر پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ کیا گردش کا یہ نظام اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ اس کے پیچھے ایک مدبر ہستی کا ہاتھ کار فرما ہے جو زمین کو گردش میں رکھے ہوئے ہے۔ اگر وہ اس کی گردش کو روک دے تو کیا زمین کے نصف کرہ پر رات ہی رات اور دوسرے نصف کرہ پر دن ہی دن نہیں ہو گا؟ اور ایسی صورت میں وہ کون سا خدا ہے جو زمین کی گردش کو جاری کر دے، ظاہر ہے یہ اللہ کے سوا کسی کے بس کی بات نہیں ہے پھر اس حقیقت کو جانتے بوجھتے اللہ کا شریک ٹھیرانے کا کیا مطلب ؟

اور اگر اس سلسلہ میں ان لوگوں کو کہیں سے ٹھوکر  لگ رہی ہے تو وہ نصیحت کرنے والے کی بات سننے کے لیے کیوں آمادہ نہیں ہوتے ؟

۱۳۸۔۔۔۔۔۔ یعنی رات میں سکون حاصل کر سکو اور دن میں معاشی دوڑ دھوپ کر سکو اور ان دونوں نعمتوں سے فائدہ اٹھا کر اپنے مہربان خدا کے شکر گزار بن جاؤ۔

۱۳۹۔۔۔۔۔۔ یعنی ہر امت میں سے ایک رسول کو جو اس کی طرف بھیجا  گیا تھا بطور گواہ کے سامنے لائیں گے۔

قرآن میں دوسری جگہ فرمایا گیا ہے :

فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمُۃ بشَھیْد وَجِئْنَا بِکَ عَلیٰ ھٰوُلَاءٗ شَھِیْداً  (سورہ نساء : ۴۱) ۔

“اس دن (ان کا) کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور تمہیں ان لوگوں پر گواہ بنا کر کھڑا کریں گے “۔

۱۴۰۔۔۔۔۔۔ یعنی شرک و بت پرستی کی تائید میں اور اسلام کو چھوڑ کر جو دوسرے مذہب تم نے اختیار کر رکھے تھے ان کے حق ہونے کی اگر کوئی دلیل تمہارے پاس تھی تو اسے پیش کرو۔

۱۴۱۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ نے اپنے رسولوں کے ذریعہ جو ہدایت بھیجی تھی اور جو کلام نازل کیا تھا وہی حق تھا۔

۱۴۲۔۔۔۔۔۔ یعنی ان کتے خود ساختہ خدا بھی گم ہو جائیں گے اور ان کے خود ساختہ مذہب بھی ہوا ہو جائیں گے۔

۱۴۳۔۔۔۔۔۔ قارون کے بارے میں قرآن صراحت کرتا ہے کہ وہ موسیٰ کی قوم میں سے تھا لیکن وہ اپنی قوم سے بغاوت کر کے فرعون سے جا ملا تھا۔ بالفاظ دیگر اس نے اپنی ملت سے غداری کر کے فرعون کے پاس اہم مقام حاصل کر لیا تھا  اور بنی اسرائیل کے خلاف جو ایک مسلم ملت تھی ظلم و زیادتی پر اتر آیا تھا۔ قرآن یہ بھی صراحت کرتا ہے کہ موسیٰ کو جس طرح فرعون اور ہامان کی طرف بھیجا گیا تھا اسی طرح قارون کی طرف بھی بھیجا گیا تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب کفر اور سرکشی کے لحاظ سے ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے تھے :

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسیٰ بِاٰ یَا تِنَا وَسُلْطٰن مُبِیْن اِلٰی فِرْعَوْنَ وَھَامَانَ و قَارُوْنَ فَقَا لُوْا سَاحِرٌ کَذّابٌ،  (المؤمن: ۲۳۔ ۲۴) ” ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں اور کھلی حجت کے ساتھ فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف بھیجا تو انہوں نے کہا یہ بڑا جھوٹا جادو گر ہے۔ ”

اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ قارون کا واقعہ حضرت موسیٰ کے قیام مصر کے زمانہ سے تعلق رکھتا ہے اس لیے جن مفسرین نے اس کو بنی اسرائیل کی صحرا نوردی کے زمانہ کا واقعہ بتایا ہے وہ غلط ہے۔ رہا بائیبل کا یہ قصہ کہ بنی اسرائیل کی صحرا نوردی کے زمانہ میں قورح  (Korah) نے جو حضرت موسیٰ  کا چچا زاد بھائی تھا بنی اسرائیل کے ایک گروہ کے ساتھ حضرت موسیٰ کے خلاف بغاوت کی تھی اور اس کی سزا ان کو یہ ملی تھی کہ زمین ان کو نگل گئی  (گنتی باب ۱۶) تو یہ ہو سکتا ہے قورح کوئی دوسرا شخص رہا ہو کیونکہ نام کے فرق کے علاوہ بائیبل اس کے سرمایہ دار ہونے کا ذکر نہیں کرتی اور یہ بھی ممکن ہے کہ قارون کا واقعہ ذہنوں میں صحیح طور سے محفوظ نہ رہا ہو اور بائیبل کے مرتبین نے اسے الجھے ہوئے انداز میں پیش کر دیا ہو لہٰذا اسرائیلیات سے قطع نظر کر کے ہمیں قرآن کے بیان پر اکتفا کرنا ہے۔ جو واضح بھی ہے اور سبق آموز بھی۔

۱۴۴۔۔۔۔۔۔ قارون کے خزانوں کی کنجیوں کو موجودہ زمانہ کی کنجیوں پر قیاس نہ کیا جائے جن کا سائز بھی چھوٹا ہوتا ہے اور وزن بھی ہلکی ہوتی ہیں۔ قدیم زمانہ میں خزانہ رکھنے کے لیے تجوریاں اور سیف نہیں ہوا کرتے تھے بلکہ زمین میں دفن کر کے یا کسی محفوظ جگہ پر رکھ کر دروازہ کو بہت بڑا قفل لگا دیا جاتا تھا جس کو کھولنے کے لیے بڑی اور وزنی چابی ہوتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے قارون کو اتنی دولت دی تھی کہ وہ کئی خزانوں کا مالک تھا اور ان خزانوں کی بھاری کنجیوں کو اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے مزدوروں کی ایک تعداد درکار ہوتی تھی جو مشکل سے یہ وزنی کنجیاں اٹھا پاتی تھی عجب نہیں کہ یہ کنجیاں سلاخوں کی شکل میں رہی ہوں اس لیے ان کے اس قدر وزنی ہونے میں مبالغہ کا کوئی پہلو نہیں ہے بلکہ حقیقت واقعہ کا اظہار ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ قدیم زمانہ میں خزانہ سونے چاندی پر مشتمل ہوا کرتا تھا۔ نوٹوں کا رواج تو زمانہ حال کی ایجاد ہے۔

۱۴۵۔۔۔۔۔۔ قارون کو اس بات پر بڑا فخر تھا  کہ وہ بہت بڑا مالدار آدمی ہے اس لیے وہ اترانے اور گھمنڈ کرنے لگا تھا۔

۱۴۶۔۔۔۔۔۔ اتراتا وہی شخص ہے جو کسی نعمت کو پاکر اس کو اللہ کا احسان سمجھنے کے بجائے اپنی صلاحیت اور قابلیت کا نتیجہ  سمجھنے لگتا ہے۔ اس لیے اس کا نفس پھولے نہیں سماتا۔ ایسا شخص خود پسند ہوتا ہے خدا اس کو ہر گز پسند نہیں کرتا۔

۱۴۷۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ دولت اللہ تعالیٰ نے نہ اس لیے دی ہے کہ اس پر سانپ بن کر بیٹھو اور نہ اس لیے دی ہے کہ اس پر فخر کرو بلکہ اس لیے دی ہے تاکہ اس کو اللہ کی رہ میں خرچ کرو آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بناؤ۔ مال کو اپنی اور اپنے بال بچوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے بعد مناسب حد تک پس انداز کرنا صحیح ہے تاکہ آئندہ بھی ضرورتیں پوری ہوتی رہیں لیکن خزانوں کی شکل میں جمع کرنا درست نہیں خاص طور سے ایسی صورت میں جب کہ بندگان خدا فقر و فاقہ میں مبتلا ہوں یا شدید حاجتمند ہوں یا دین کی اشاعت اور ملی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے مال کی شدید ضرورت ہو۔

مصر میں جب حضرت موسیٰ اسلام کی دعوت لے کر اٹھے ہیں تو بنی اسرائیل حالت بہت خستہ تھی اس لیے قارون کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے خزانے اللہ کے دین اور اپنی قوم بنی اسرائیل کی امداد و اعانت کے لیے کھول دیتا اور اس کار خیر کو اخروی سعادت کا ذریعہ بناتا لیکن وہ سرمایہ پرست بن گیا اور مال خرچ کیا بھی تو نمائشی کاموں میں۔

یہ اور اس طرح کی دوسری آیتوں سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ دولت جمع کر کے تجوریاں بھر دی جائیں یا بنک بیلنس میں دولت کا بڑا ذخیرہ محفوظ کر دیا جائے۔ یہ سرمایہ پرستی ہے کہ خدا پرستی۔ ایک خدا پرست اور آخرت کو اپنی کامیابی سمجھنے والا شخص دولت کا ڈھیر لگا کر کیا کرے گا؟ یہ کام تو وہی شخص کر سکتا ہے جس کا مقصود دنیا ہو۔

مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورہ توبہ نوٹ ۶۸۔

۱۴۸۔۔۔۔۔۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا ضرور کماؤ کیونکہ ایک سرمایہ دار کو یہ کہتے کی ضرورت ہی نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس بات کو نہ بھولو کہ دنیا کی کمائی میں تمہارا حصہ بہت تھوڑا ہے۔ دنیا کے فائدے چند روزہ ہیں اور اس مال میں جو تمہیں ملا ہے تمہارا حصہ تمہاری اپنی ضرورت کے بقدر ہی ہے۔ باقی سب بندگان خد کی ضرورتوں کو پورا کرنے اور دینی مصالح پر خرچ کرنے کے لیے ہے۔ مال کے بارے میں یہ تصور سرمایہ داری  (Capitalism) کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔

۱۴۹۔۔۔۔۔۔ یعنی جس طرح اللہ نے تمہارے ساتھ یہ بھلائی کی کہ تمہیں دولت سے مالا مال کر دیا اسی طرح تم بھی بندگان خدا کے ساتھ بھلائی کرو اور ان کی غربت اور افلاس کو دور کرنے کے لیے دل کھول کر اپنا مال خرچ کرو۔

۱۵۰۔۔۔۔۔۔ فساد کے معنی بگاڑ کے ہیں اور یہاں فساد سے مراد وہ بگاڑ ہے جو سوسائٹی کے عقائد اخلاق، معاشرت، تمدن اور سیاست میں پیدا کیا جاتا ہے، سرمایہ داروں کی دولت سوسائٹی کے بگاڑ کا بہت بڑا ذریعہ بنتی ہے چنانچہ موجودہ زمانہ کے قارون بھی سوسائٹی کے لیے ناسور ہی بنے ہوئے ہیں۔

۱۵۱۔۔۔۔۔۔ یعنی میں نے یہ دولت اپنے علم و ہنر کے ذریعہ حاصل کی ہے۔ یہ خد اکا کوئی عطیہ نہیں ہے کہ میرے لیے اس کا شکر ادا کرنا ضروری ہو۔ کافروں کے سوچنے کا انداز یہی ہوتا ہے وہ حاصل شدہ دولت کو اپنی صلاحیت اور قابلیت کا نتیجہ سمجھتے ہیں اور پھر اس پر اترانے لگتے ہیں حالانکہ کتنے ہی قابل لوگ ہیں جو مال کے حصول میں ناکام رہتے ہیں اور کتنے ہی کم صلاحیت والے لوگ ہیں جو دولت مند بن جاتے ہیں۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ مال و دولت اللہ کے عطا کرنے سے ملتی ہے نہ کہ محض علم و ہنر کی وجہ سے۔

۱۵۲۔۔۔۔۔۔ یعنی ایسی کافرانہ بات کہتے ہوئے اسے یاد نہ رہا کہ جن قوموں کو اپنی قوت اور جمعیت پر ناز تھا ان کا کیا حشر ہوا ؟ کیا اسے عاد و ثمود کے واقعات معلوم نہیں جو اپنی فن کاری اور اپنی افرادی قوت پر نازاں تھیں لیکن کس طرح تباہ ہو کر رہ گئیں۔ پھر یہ اسی روش پر چل کر کس طرح اپنے کو عذاب سے محفوظ سمجھ رہا ہے۔

۱۵۳۔۔۔۔۔۔ یعنی جب کسی مجرم قوم کی تباہی کا وقت آتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اس سے اس کے جرائم کے بارے میں پوچھتا نہیں ہے بلکہ اس کو آناً فاناً تباہ کر کے رکھ دیتا ہے۔ کیوں کہ جب ان کی مہلت ختم ہو گئی تو وہ اپنے جرم کی بنا پر سزا کے مستحق  ہو گئے۔ اگر ان سے پوچھا جائے تو وہ حیلہ بہانہ ہی کریں گے اور سزا کسی صورت میں ٹل نہیں سکتی۔

۱۵۴۔۔۔۔۔۔ یعنی ایک روز قارون نے اپنی قوم کے سامنے اپنی پوری شان و شوکت کا مظاہرہ کیا۔ جب وہ اپنے زرق برق لباس میں اپنے خدم و حشم کے ساتھ جلوس کی شکل میں رونق افروز ہوا اور اپنی دولت کی نمائش کرتے ہوئے لوگوں کے سامنے گزرنے لگا تو یہ منظر بڑا دلفریب تھا۔

۱۵۵۔۔۔۔۔۔ یہ بات کہنے والے بنی اسرائیل ہی میں سے تھا جن پر دنیا پرستی کا غلبہ تھا۔ انہوں نے جب قارون کا یہ شاندار جلوس دیکھا تو اس کی دلفریبیوں میں آ گئے اور کہنے لگے کہ دولت کی یہ فراوانی جس کو نصیب ہو وہ بڑا قسمت والا ہے کاش ہمیں بھی یہ چیز نصیب ہوتی !

آج بھی بڑے بڑے سرمایہ داروں کی شان و شوکت کو دیکھ کر لوگوں کے دلوں میں ایسی ہی تمنائیں کروٹیں لینے لگتی ہیں مگر اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک خوش قسمت اور بد قسمت اور کامیابی اور ناکامی کا معیار کیا ہے۔

۱۵۶۔۔۔۔۔۔ علم سے مراد علم حقیقت ہے یعنی جن کی نظر آخرت پر تھی انہوں نے ان دنیا پرستوں کی ذہنیت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ اصل کامیابی مال و دولت کی فراوانی نہیں ہے بلکہ وہ ابدی انعام ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نیک کردار مومن بندوں کو ملنے والا ہے۔ اس انعام کا مستحق بننے کے لیے دنیا میں صبر ضروری ہے یعنی آخرت کو نصب العین بنا کر حق پر جمے رہنا اور جائز ذرائع سے جو کچھ ملے اس پر اکتفا کرنا۔ جو شخص یہ وصف اپنے اندر پیدا کر لے گا وہی در حقیقت بڑا قسمت والا ہے۔

معلوم ہوا کہ مصر میں بنی اسرائیل کے اندر بگڑے ہوئے دنیا پرست لوگ موجود تھے اور ایسے مومنین صالحین بھی جنہوں نے آخرت کو واقعی اپنا نصب العین بنایا تھا۔ موجودہ دور کے مسلمانوں میں اسی طرح دونوں ہی قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔

۱۵۷۔۔۔۔۔۔ یعنی قارون پر اللہ کا عذاب اس شکل میں آیا کہ وہ اپنے گھر سمیت زمین میں دھنس گیا وہ گھر جس میں اس نے خزانے جمع کر رکھے تھے اس کا مدفن بن گیا۔

قارون کا یہ عبرت ناک انجام ایک سرکش اور ظالم سرمایہ دار کا انجام ہے جو رہتی دنیا تک لوگوں کے لیے نمونۂ عبرت ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے آخرت کے عذاب کی ایک جھلک اس دنیا ہی میں لوگوں کو دکھا دی ہے تاکہ وہ سرمایہ پرستی سے باز آئیں جو انسان کو خدا کا سرکش اور دنیا پرست بنا دیتی ہے۔

۱۵۸۔۔۔۔۔۔ یعنی جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو تمام سہارے بے کار ہو جاتے ہیں نہ قریبی ساتھیوں کے بس میں ہوتا ہے کہ اس کی مدد کریں اور نہ حکومت کے بس میں اور نہ اس کے اپنے بس میں ہوتا ہے کہ اپنے کو بچائے۔

۱۵۹۔۔۔۔۔۔ بنی اسرائیل کے اس گروہ نے جس پر دنیا غالب تھی قارون کے اس انجام سے عبرت حاصل کی انہیں احساس ہو ا کہ یہ دولت مند اور یہ سرمایہ دار جو اپنی شان و شوکت کا دلفریب مظاہرہ کرتے ہیں قابل رشک نہیں ہیں بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے وافر دولت عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا دیتا ہے تاکہ اس کی آزمائش ہو۔ لہٰذا کسی کا مالدار ہونا اس کی کامیابی کی ضمانت نہیں ہے۔

۱۶۰۔۔۔۔۔۔ یعنی آخرت کی فلاح ان ہی لوگوں کے لیے مخصوص ہو گی جو غرور نفس میں مبتلا ہو کر دنیا میں بڑے بن کر رہنا نہیں چاہتے اور نہ انسانی سوسائٹی میں بگاڑ  (فساد) پیدا کرنا چاہتے ہیں بلکہ تقویٰ کی روش اختیار کرتے ہیں۔

واضح ہوا کہ تکبر اور مفسدانہ سرگرمیاں تقویٰ  (خدا خوفی اور گناہوں سے پرہیز) کی عین ضد ہیں۔ اگر آدمی آخرت کی کامیابی چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ اپنے کو اللہ کی بندگی کے مقام ہی پر رکھے اس سے اونچا اٹھنے کا خیال تک اپنے دل میں نہ لائے بندگان خد ا کے ساتھ عدل و انصاف کا رویہ اختیار کرے اور ان کی حقیقی فلاح و بہبود کے کام کرے۔

آج انسانی سوسائٹی کا حال بہت عجیب ہے ہر شخص پر بڑا بننے کا بھوت سوار ہے۔ چھوٹا بن کر رہنے کے لیے بھی تیار نہیں۔ سرمایہ دار اپنی دولت کو بڑا بننے کے لیے بے دریغ خرچ کرتے ہیں اور لیڈر اپنے سیاسی وسائل کو اسی غرض کے لیے استعمال کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج انسانی سوسائٹی میں بگاڑ ہی بگاڑ ہے اور اصلاح کا کوئی کام بھی ہو نہیں پاتا۔

۱۶۱۔۔۔۔۔۔ دنیا میں انسان نے نیکی کی ہو یا بدی وہ اس کو اپنے ساتھ لے کر جانے والا ہے اور قیامت کے دن اس کے ساتھ حاضر ہو گا۔

بھلائی کی جزا اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے کہیں بہتر دے گا لیکن برائی کی سزا برائی کے بقدر ہی دی جائے گی۔ مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورہ انعام نوٹ ۲۹۷ سورہ نمل نوٹ ۱۳۴۔

۱۶۲۔۔۔۔۔۔ خطاب پیغمبر سے ہے۔ آپ کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ جس ہستی نے تم پر قرآن کی اتباع کرنے اور اس کو لوگوں کے سامنے پیش کرنے کی ذمہ داری ڈالی ہے وہ تمہارے  مخالفین کی خواہشات کے برخلاف تمہیں دنیا میں بھی اچھے کام کو پہنچائے گا اور آخرت میں بھی۔ چنانچہ دنیا میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم جس حسن انجام سے ہم کنار ہوئے وہ ایک واضح حقیقت ہے اور قرآن کی صداقت کا ثبوت بھی۔

۱۶۳۔۔۔۔۔۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نہ تو  نبوت کے امیدوار تھے اور نہ آپ کو اس بات کا کوئی اندازہ تھا کہ قرآن جیسی کتاب آپ پر نازل کی جائے گی بلکہ یکایک آپ پر وحی کا نزول ہوا اور آپ منصب نبوت سے سرفراز کیے گئے۔ اور یہ آپ کے نبی بر حق  ہونے کی روشن دلیل ہے۔

۱۶۴۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ کتاب اللہ نے تمہارے طلب کرنے پر نہیں بھیجی ہے بلکہ اس لیے بھیجی ہے کہ اس کی رحمت اس کی متقاضی ہوئی۔

۱۶۵۔۔۔۔۔۔ یعنی تم کافروں کی باتوں  میں نہ آؤ۔ یہ بات فرمائی گئی ہے پیغمبر سے لیکن مقصود کافروں پر یہ واضح کرنا ہے کہ تم پیغمبر سے یہ ہر گز توقع نہ رکھو کہ وہ تمہاری باتوں میں آئیں گے۔

۱۶۶۔۔۔۔۔۔ یعنی مخالفت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے تم اللہ کی آیتیں لوگوں کو سناؤ اور ان کی ٹھیک ٹھیک پیروی کرو۔ کافروں کے ساتھ ایسی روا داری نہ برتو کہ اللہ کے احکام کو ٹھیک ٹھیک پہنچانے یا ان پر عمل کرنے میں نرمی اور سہل انگاری کا مظاہرہ کرنے لگو۔

۱۶۷۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کے سوا کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو اپنے وجود کو بر قرار رکھنے والی ہو بلکہ اللہ جس چیز کو جب تک بر قرار رکھنا چاہتا ہے وہ باقی رہتی ہے ورنہ ختم ہو جاتی ہے۔

بالفاظ دیگر مخلوق کی خصوصیت ہی ہلاک اور ختم ہو جانا ہے جب  کہ خالق کی صفت ہمیشہ باقی رہنا ہے۔ لہٰذا اللہ ہی واجب الوجود  (لازماً وجود رکھنے والا) ہے اور جب اسی کی ذات ہمیشہ رہنے والی ہے تو وہی تنہا خدا ہے اور وہی اکیلا معبود۔ دوسری کوئی چیز بھی جب واجب الوجود نہیں ہے تو خدا کیسے ہوئی اور معبود کیسے قرار پائی ؟

۱۶۸۔۔۔۔۔۔ یہاں خاص طور سے اشارہ جزا و سزا کے فیصلہ کی طرف ہے کہ قیامت کے دن اللہ ہی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے گا۔

۱۶۹۔۔۔۔۔۔ یعنی تم سب اللہ ہی کے حضور حاضر کیے جاؤ گے۔

٭٭٭

 

 

 

(۲۹)سورۂ  العنکبوت

 

(۶۹ آیات)

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم  کے نام سے

 

 

                   تعارف

 

نام

 

آیت ۴۱ میں غیر اللہ کو کار ساز بنانے والوں کو عنکبوت یعنی مکڑی سے تشبیہ دی گئی ہے جس کا گھر سب سے زیادہ بودا ہوتا ہے۔   اسی مناسبت سے اس سورہ کا نام “العنکبوت” ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مکی ہے اور مضامین پر غور  کرنے سے اندازہ ہوتا ہے ہ یہ ہجرت حبشہ  کے کچھ عرصہ بعد نازل ہوئی ہو گی۔

 

مرکزی مضمون

 

جو لوگ ایمان لا  کر دین اسلام  میں داخل ہو جاتے ہیں ان کو جن صبر آزما حالات سے گزرنا پڑتا ہے اس  کے پیش نظر ان کی حوصلہ افزائی کا سامان اور صبر و استقامت کی تلقین۔

 

نظم کلام

 

آیت ۱ تا ۱۳ میں ان لوگوں کی رہنمائی کی گئی ہے جو ایمان لانے  کے بنا پر ستائے جاتے ہیں اور جنہیں طرح طرح کی آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔   آیت ۱۴ تا ۴۰ میں متعدد انبیاء علیہم السلام کی سیر توں کا یہ پہلو پیش کیا گیا ہے کہ وہ کس طرح ان سختیوں کا مقابلہ  کرتے رہے جو ان کی قوموں نے ان   کے ساتھ روا رکھیں اور آزمائشوں میں کس طرح حق پر جمے رہے۔

آیت ۴۱ تا ۴۴ میں  مشرکین  کے لیے دعوت فکر ہے۔

آیت ۴۸ تا ۶۰ میں منکرین  کے شبہات کا ازالہ بھی کیا گیا ہے اور اہل ایمان کو حالات کی مناسبت سے ہدایت بھی دی گئی ہیں۔

آیت ۶۱ تا ۶۸ میں مسلمات (تسلیم شدہ حقیقتوں ) کو پیش  کر  کے توحید کی طرف ذہنوں کو موڑ دیا تیا ہے۔

آیت ۶۹ اختتامی آیت ہے جس میں اللہ کی راہ میں جد و جہد  کرنے والوں کو اطمینان دلا یا گیا ہے کہ ان کو اللہ کی طرف سے توفیق اور اس کی رفاقت حاصل ہو گی۔

 

                   ترجمہ

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم  کے نام سے

 

۱ ۔۔۔۔۔۔۔  الف ، لام۔   میم ۱*

۲ ۔۔۔۔۔۔۔  کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ یہ کہہ دینے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کو آزمایا نہ جائے گا ؟ ۲*

۳ ۔۔۔۔۔۔۔  حالانکہ جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں ان کی ہم آزمائش  کر چکے ہیں ۳*۔   تو اللہ ان لوگوں کو ضرور جان  کر رہے گا جو سچے ہیں اور ان لوگوں کو بھی جو جھوٹے ہیں۔   ۴*

۴ ۔۔۔۔۔۔۔   کیا ان لوگوں نے جو برائیوں کا ارتکاب  کر رہے ہیں یہ خیال  کر رکھا ہے کہ وہ ہمارے قابو سے نکل جائیں گے ؟ بہت بڑا فیصلہ ہے جو وہ  کر رہے ہیں ۵*

۵ ۔۔۔۔۔۔۔  جو کوئی اللہ سے ملاقات کی امید رکھتا ہو تو (اسے جان لینا چاہیے کہ(  اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت ضرور آنے والا ہے ۶*۔   اور وہ سب کچھ  سننے اور جاننے والا ہے ۷*۔

۶ ۔۔۔۔۔۔۔  اور جو ( اللہ کی راہ میں(  جدو جہد  کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدہ  کے لیے جدوجہد  کرتا ہے۔   اللہ دنیا والوں سے بے نیاز ہے ۸*

۷ ۔۔۔۔۔۔۔   جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ان کی برائیاں ہم ان سے دور  کر دیں گے اور ان کو ان  کے اعمال کی بہترین جزا دیں گے۔  ۹*

۸ ۔۔۔۔۔۔۔   ہم نے انسان کو تاکید کی ہے کہ اپنے والدین  کے ساتھ نیک سلوک  کرے۔   لیکن اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ تو مریے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرا جس  کے شریک ہونے کا تجھے کوئی علم نہیں ہے ۱۰*   تو ان کی اطاعت نہ  کرو۱۱*  میری ہی طرف تک سب کو پلٹنا ہے پھر میں تمہیں بتاؤں گا کہ تم کیا  کرتے رہے ہو۔

۹ ۔۔۔۔۔۔۔   اور جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ان کو ہم ضرور صالحین میں داخل  کریں گے ۱۲*

۱۰ ۔۔۔۔۔۔۔   لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے لیکن جب اللہ کی راہ میں ستائے جاتے ہیں تو لوگوں کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف کو اللہ  کے عذاب کی طرح سمجھنے لگتے ہیں ۱۳*۔  اور اگر تم سارے رب کی طرف سے مدد آ گئی تو یہی لوگ کہیں گے کہ ہم تو آپ لوگوں  کے ساتھ تھے ۱۴*۔   کیا اللہ لوگوں  کے دلوں  کے حال سے بخوبی واقف نہیں ہے ؟۱۵*۔

۱۱ ۔۔۔۔۔۔۔   اور اللہ ضرور جان  کر رہے گا کہ کون لوگ ایمان والے ہیں اور کون منافق ہیں ۱۶*۔

۱۲ ۔۔۔۔۔۔۔   اور کافر ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہمارے طریقہ پر چلو ہم تمہارے گناہ اپنے اوپر لے لیں گے ۱۷*  حالانکہ وہ ان  کے گنا ہوں میں سے کچھ بھی اپنے اوپر لینے والے نہیں ہیں۔   وہ بالکل جھوٹے ہیں ۱۸*۔

۱۳ ۔۔۔۔۔۔۔   اور (ایسا ضرور ہو گا کہ(  وہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اپنے بوجھ  کے ساتھ کچھ دوسرے بوجھ بھی ۱۹*  اور جو جھوٹ وہ گھڑتے رہے اس  کے بارے میں قیامت  کے دن ان سے ضرور باز پرس ہو گی ۲۰*۔

۱۴ ۔۔۔۔۔۔۔   ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۲۱*  اور وہ ان  کے درمیان پچاس سال کم ایک ہزار سال رہا ۲۲*۔  پھر ان کو طوفان۲۳*  نے گرفت میں لے لیا اس حال میں کہ وہ ظالم تھے ۲۴*

۱۵ ۔۔۔۔۔۔۔   مگر ہم نے اس کو اور کشتی والوں کو نجات دی ۲۵*  اور اسے دنیا والوں  کے لیے ایک بڑی نشانی بنایا۲۶*

۱۶ ۔۔۔۔۔۔۔   اور ابراہیم کو بھیجا ۲۷*  جب کہ اس نے اپنی قوم سے کہا اللہ کی عبادت  کرو اور اس سے ڈرو۲۸*۔  یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۲۹*

۱۷ ۔۔۔۔۔۔۔   تم اللہ کو چھوڑ  کر بتوں کی پرستش  کرتے ہو ۳۰*۔   اور تم جھوٹ گھڑتے ہو ۳۱*  تم اللہ  کے سوا جن کی پرستش  کرتے ہو وہ تمہیں رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔   بس اللہ ہی سے رزق طلب  کرو۳۲ *  اور اسی کی عبادت  کرو اور اس  کے شکر گزار بنو۔  تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے ۳۳ *

۱۸ ۔۔۔۔۔۔۔   اور اگر جھٹلاتے ہو تو تم سے پہلے کتنی ہی قومیں جھٹلا چکی ہیں اور رسول پر واضح طور سے پہنچا دینے  کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔  ۳۴*

۱۹ ۔۔۔۔۔۔۔   کیا۳۵*  انہوں نے دیکھا نہیں کہ اللہ کس طرح پیدائش کی ابتداء  کرتا ہے پھر اس کا اعادہ  کرے گا۔   بے شک یہ اللہ  کے لیے نہایت آسان ہے ۳۶*

۲۰ ۔۔۔۔۔۔۔  ان سے کہو زمین میں چل پھر  کر دیکھ لو کہ اللہ نے کس طرح پیدائش کی ابتداء کی پھر اللہ دوبارہ اٹھا کھڑا  کرے گا۔  بلاشبہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۳۷*۔

۲۱ ۔۔۔۔۔۔۔   جس کو چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم فرمائے۳۸*  اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۳۹*۔

۲۲ ۔۔۔۔۔۔۔   تم نہ زمین میں اس  کے قابو سے باہر نکل سکتے ہو اور نہ آسمان میں ۴۰*  اور تمہارے لیے اللہ  کے سوا نہ کوئی کار ساز ہے اور  نہ مدد گار۴۱*۔

۲۳ ۔۔۔۔۔۔۔   اور جن لگوں نے اللہ کی آیتوں اور اس کی ملاقات کا انکار کیا وہی ہیں جو میری رحمت سے مایوس ہو گئے ۴۲*  اور  وہی ہیں جن  کے لیے درد ناک عذاب ہے۔

۲۴ ۔۔۔۔۔۔۔   اس کی قوم کا جواب اس  کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا اس کو قتل  کرو یا جلا ڈالو۴۳*۔  مگر اللہ  نے اس کو آگ سے بچا لیا ۴۴*۔  یقیناً اس میں نشانیاں ہی ان لوگوں  کے جو ایمان لائیں ۴۵*۔

۲۵ ۔۔۔۔۔۔۔   اس نے کہا تم نے دنیا کی زندگی میں تو اللہ کو چھوڑ  کر بتوں کو آپس کی محبت کا ذریعہ بنا لیا ہے۔   پھر قیامت  کے دن تم ایک دوسرے سے بے تعلقی کا اظہار  کرو گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھجو گے۔   تمہارا ٹھکانہ آتش (جہنم)  ہو گا۔  اور تمہارا کوئی مدد گار نہ ہو گا ۴۶*۔

۲۶ ۔۔۔۔۔۔۔   تو لوط نے اس کی تصدیق کی ۴۷*۔   اور ابراہیم نے کہا میں اپنے رب کی طرف ہجرت  کرتا ہوں ۴۸*۔  وہ غالب ہے حکمت والا۴۹*۔

۲۷ ۔۔۔۔۔۔۔   اور ہم نے اس کو اسحاق اور یعقوب عطا کیے ۵۰*۔   اور اس کی نسل میں نبوت اور کتاب رکھ دی۵۱*۔  اور ہم نے اس کا صلہ اس کو دنیا میں بھی دیا۵۲*  اور آخرت میں وہ یقیناً صالحین میں سے ہو گا ۵۳*۔

۲۸ ۔۔۔۔۔۔۔   اور ہم نے لوط کو بھیجا ۵۴*۔  جب اس نے اپنی قوم سے کہا تم لوگ بے حیائی کا وہ کام  کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا والوں میں سے کسی نے نہیں کیا ۵۵*۔

۲۹ ۔۔۔۔۔۔۔   کیا تم مردوں  سے شہوت پوری  کرتے ہو اور رہزنی  کرتے ہو ۵۶ *  اور اپنی مجلسوں میں برے کام  کرتے ہو۔  ۵۷* تو اس قوم  کے پاس اس  کے سوا کوئی جواب نہ تھا کہ انہوں نے کہا لے آؤ اللہ کا عذاب اگر تم سچے ہو۵۸*

۳۰ ۔۔۔۔۔۔۔   اس نے دعا کی اے میرے رب !ان مفسد لوگوں  کے مقابلہ میں میری مدد فرما ۵۹*

۳۱ ۔۔۔۔۔۔۔   اور جب ہمارے فرستادے ابراہیم  کے پاس خوش خبری لے  کر پہنچے تو انہوں نے کہا ہم اس بستی  کے لوگوں کو ہلاک  کرنے والے ہیں۔   اس  کے رہنے والے بڑے غلط کار لوگ ہیں ۶۰*۔

۳۲ ۔۔۔۔۔۔۔   اس نے کہا وہاں تو لوط بھی ہے۔   انہوں نے کہا وہاں جو  بھی ہیں ہم ان کو خوب جانتے ہیں۔   ہم اس کو اور اس  کے گھر والوں کو بچا لیں گے ، بجز اس کی بیوی  کے۔   وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے ۶۱*۔

۳۳ ۔۔۔۔۔۔۔   پھر جب ہمارے فرستادے لوط  کے پاس پہنچے تو وہ سخت تشویش میں پڑ گیا اور دل تنگ ہوا۶۲ *۔  انہوں نے کہ نہ ڈرو اور نہ غم  کرو۔  ہم تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو بچا لیں گے بجز تمہاری بیوی  کے۔   وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔

۳۴ ۔۔۔۔۔۔۔   ہم اس بستی  کے لوگوں پر ان کی نافر مانیوں کی وجہ سے آسمان سے عذاب نازل  کرنے والے ہیں ۶۳*۔

۳۵ ۔۔۔۔۔۔۔   اور ہم نے اس کی ایک واضح نشانی چھوڑی ہے ۶۴ *  ان لوگوں  کے لیے جو عقل سے کام لیں۔

۳۶ ۔۔۔۔۔۔۔   اور ہم نے مدین کی طرف ان  کے بھائی شعیب کو بھیجا ۶۵*۔  اس نے کہا اے میری قوم  کے لوگو! اللہ کی عبادت  کرو ۶۶*  اور روز آخرت  کے امیدوار رہو۶۷* اور زمین میں فساد بر پا  کرتے نہ پھرو۶۸*۔

۳۷ ۔۔۔۔۔۔۔   مگر انہوں نے اسے جھٹلا دیا تو ان کو لرزا دینے والی آفت نے آ لیا اور وہ اپنے گھروں اوندھے پڑے رہ گئے ۶۹*۔

۳۸ ۔۔۔۔۔۔۔   اور عاد۷۰*  اور ثمود۷۱*  کو بھی ہم نے ہلاک کیا اور تم پر ان کی بستیوں  کے آثار واضح ہیں ۷۲ *  شیطان نے ان  کے اعمال ان  کے لیے کوش نما بنا دیے اور ان کو راہ راست سے روک دیا حالانکہ وہ بڑے ہوشیار لوگ تھے ۷۳*۔

۳۹ ۔۔۔۔۔۔۔   اور قارون۷۴*  اور فرعون اور ہامان۷۵* کو بھی ہم نے ہلاک  کر دیا۔   موسیٰ ان  کے پاس کھلی نشانیاں لے  کر آیا تھا مگر انہوں نے زمین میں تکبر کیا حالانکہ وہ زمین میں ہمارے قابو سے نکل جانے والے نہ تھے۔

۴۰ ۔۔۔۔۔۔۔   تو (دیکھو)  ہر ایک کو ہم نے اس  کے گناہ کی وجہ سے پکڑا۔ کسی پر ہم نے سنگ باری  کرنے والی آندھی بھیجی اور کسی کو ہولناک آواز نے آ لیا اور کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور کسی کو غرق  کر دیا ۷۶*۔  اللہ ان پر ظلم  کرنے والا نہ تھا بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم  کرتے رہے ۷۷*۔

۴۱ ۔۔۔۔۔۔۔   جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ  کر دوسرے کارساز بنا لیے ہیں ان کی مثال مکڑی کی سی ہے جس نے ایک گھر بنا لیا اور تمام گھروں میں سب سے بودا گھر مکڑی ہی کا ہوتا ہے۔   کاش وہ اس (حقیقت) کو جانتے ! ۷۸*۔

۴۲ ۔۔۔۔۔۔۔   بے شک اللہ ان چیزوں کو جانتا ہے جن کو یہ اس کو چھوڑ  کر پکارتے ہیں اور وہ غالب ہے حکمت والا۔  ۷۹*

۴۳ ۔۔۔۔۔۔۔   اور یہ مثالیں ہم لوگوں ( کی فہمائش)  کے لیے بیان  کرتے ہیں مگر ان کو وہی لوگ سمجھتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں ۸۰*۔

۴۴ ۔۔۔۔۔۔۔   اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق  کے ساتھ پیدا کیا ہے  ۸۱ *۔  یقیناً ا س میں بہت بڑی نشانی ہے ۸۲*۔  ایمان لانے والوں  کے لیے۔

۴۵ ۔۔۔۔۔۔۔   تلاوت  کرو اس کتاب کی جو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے ۸۳*  اور نماز قائم  کرو۔  بے شک نماز بے حیائی سے اور برے کاموں سے روکتی ہے ۸۴*۔  اور اللہ کا ذ کر بہت بڑی چیز ہے۔   ۸۵*  اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگ  کرتے ہو۔

۴۶ ۔۔۔۔۔۔۔   اور اہل کتاب سے بحث نہ  کر مگر بہتر طریقہ سے بجز ان  کے جو ان میں سے ظالم ہیں اور  کہو ہم ایمان لائے ہیں اس چیز پر بھی جو ہماری طرف بھیجی گئی تھی۔   ہمارا اور تمہارا خدا ایک ہی ہے اور اہم اسی  کے مسلم (فرمانبردار) ہیں ۸۶*۔

۴۷ ۔۔۔۔۔۔۔   ہم نے اسی طرح تمہاری طرف کتاب نازل کی ہے ۸۷*۔   تو جن کو ہم نے (پہلے) کتاب عطا کی تھی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں ۸۸*۔   اور ان لوگوں میں سے بھی بعض اور پر ایمان لا رہے ہیں ۸۹*۔   اور ہماری آیتوں کا انکار تو وہی لوگ  کرتے ہیں جو کافر ہیں ۹۰*۔

۴۸ ۔۔۔۔۔۔۔   (اے نبی!) تم اس سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ اس کو اپنے دہنے ہاتھ سے لکھتے تھے اگر ایسا ہوتا تو باطل پرست شک  کرتے ۹۱*۔

۴۹ ۔۔۔۔۔۔۔   در حقیقت یہ کھلی آیات ہیں جن لوگوں  کے سینوں (دلوں)  میں جن کو علم عطا ہوا ہے ۹۲*۔   اور ہماری آیتوں کا انکار تو ظالم ہی  کرتے ہیں۔

۵۰ ۔۔۔۔۔۔۔   یہ لوگ کہتے ہیں اس پر اس  کے رب کی طرف سے نشانیاں کیوں نہیں اتاری گئیں ! ۹۳*۔   کہو نشانیاں تو اللہ ہی  کے پاس ہیں اور میں تو بس کھلا خبر دار  کرنے والا ہوں۔

۵۱ ۔۔۔۔۔۔۔   کیا ان لوگوں  کے لیے یہ نشان کافی نہیں ہے کہ ہم نے تم پر کتاب نازل کی جو ان کو پڑھ  کر سنائی جاتی ہے۔   بلا شبہ اس  کے اندر رحمت اور نصیحت ہے ان لوگوں  کے لیے جو ایمان لائیں ۹۴*۔

۵۲ ۔۔۔۔۔۔۔   (اے پیغمبر !) کہو اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی  کے لیے کافی ہے ۹۵*۔   وہ جانتا ہے جو کچھ آٓسمانوں اور زمین میں ہے۔   جو لوگ باطل پر اعتقاد رکھتے ہیں اور اللہ سے کفر  کرتے ہیں وہی تباہ ہونے والے ہیں ۹۶*۔

۵۳ ۔۔۔۔۔۔۔   یہ لوگ تم سے جلد عذاب کا مطالبہ  کر رہے ہیں۔   اگر ایک  وقت مقرر نہ کیا گیا ہوتا تو ان پر عذاب آ چکا ہوتا۹۷*۔  اور یقیناً وہ ان پر اچانک آ جائے گا اس حال میں کہ انہیں خبر بھی نہ ہو گی ۹۸*۔

۵۴ ۔۔۔۔۔۔۔   یہ تم سے جلد عذاب کا مطالبہ  کر رہے ہیں حالانکہ جہنم کافروں کو گھیرے ہوئے ہے ۹۹*۔

۵۵ ۔۔۔۔۔۔۔   وہ دن کہ عذاب ان کو اوپر سے بھی ڈھانک لے گا اور ان  کے پاؤں  کے نیچے سے بھی اور وہ فرمائے گا کہ چکھو مزا اپنے  کر تو توں کا جو تم  کرتے رہے۔

۵۶ ۔۔۔۔۔۔۔   اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو میری زمین وسیع ہے تو میری ہی عبادت  کرو ۱۰۰*۔

۵۷ ۔۔۔۔۔۔۔   ہر نفس کو موت کا مزا چکھنا ہے ۱۰۱*  پھر تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

۵۸ ۔۔۔۔۔۔۔   جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ان کو ہم جنت کی بلند منزلوں میں جگہ دین گے ۱۰۲*  جن  کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔   کیا ہی خوب اجر ہے عمل  کرنے والوں  کے لیے !

۵۹ ۔۔۔۔۔۔۔   جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب پر بھروسہ رکھا۱۰۳*

۶۰ ۔۔۔۔۔۔۔   اور کتنے ہی جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے۔   اللہ ان کو رزق دیتا ہے اور تم کو بھی ۱۰۴*۔  وہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے ۱۰۵*۔

۶۱ ۔۔۔۔۔۔۔   اگر تم ان سے پوچھو کہ کس نے آسمان و زمین پیدا کیے اور کس نے سورج اور چاند کومسخر  کر رکھا ہے تو وہ کہیں گے اللہ نے۔   پھر وہکس طرح (حق سے)  پھیرے جاتے ہیں ؟۱۰۶*

۶۲ ۔۔۔۔۔۔۔   اللہ ہی اپنے بندوں میں سے جس  کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ  کرتا ہے اور جس  کے لیے چاہتا ہے تنگ  کر دیتا ہے۔   بلا شبہ اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے ۱۰۷*۔

۶۳ ۔۔۔۔۔۔۔   اور اگر تم ان سے پوچھو کہ کس نے آسمان سے پانی بر سایا اور اس سے زمین کو جب کہ وہ  کردہ ہو چکی تھی زندہ کیا تو وہ کہیں گے  اللہ نے۔   کہو حمد ہے اللہ  کے لیے ۱۰۸*  مگر اکثر لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ۱۰۹*۔

۶۴ ۔۔۔۔۔۔۔   اور یہ دنیا کی زندگی کچھ نہیں ہے مگر لہو و لعب۔  اور آخرت کا گھر ہی اصل زندگی (کی جگہ) ہے کاش یہ لوگ جان لیتے ! ۱۱۰*

۶۵ ۔۔۔۔۔۔۔   جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ کو پکارتے ہیں دین (عاجزی و بندگی) کو اس  کے لیے خالص  کرتے ہوئے ۱۱۱*  پھر جب وہ انہیں بچا کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو یکایک یہ شرک  کرنے لگتے ہیں۔

۶۶ ۔۔۔۔۔۔۔   تاکہ ہم نے ان پر جو مہربانی کی اس کی وہ نا شکری  کریں اور (دنیا کی زندگی ہے)  مزے اڑائیں۔   تو عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا۔

۶۷ ۔۔۔۔۔۔۔   کیا یہ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے ایک امن والا حرم بنایا ہے اور حال یہ ہے کہ لوگ ان  کے گرد و پیش سے اچک لیے جاتے ہیں ۱۱۲*۔  پھر کیا وہ باطل کو مانتے ہیں ا ور اللہ کی نعمت کی نا شکری  کرتے ہیں

۶۸ ۔۔۔۔۔۔۔  اور اس سے بڑھ  کر ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا حق کو جھٹلائے جب کہ وہ اس  کے پاس آ چکا ہو ۱۱۳*۔  کیا ایسے کافروں کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ہو گا؟

۶۹ ۔۔۔۔۔۔۔   اور جو لوگ ہماری راہ میں جدو جہد  کریں گے ہم ۱۱۴*  ضرور ان پر اپنی راہیں کھول دیں گے ۱۱۵*  اور یقیناً اللہ نیکو کاروں  کے ساتھ ہے ۱۱۶*۔

 

                   تفسیر

 

۱ ۔۔۔۔۔۔۔  حروف مقطعات کی تشریح  کے لیے دیکھیے سورہ بقرہ نوٹ ۱۔  اور سورہ یونس نوٹ ۱۔

امام رازی  کے اس موقع پر حروف مقطعات  کے بارے میں ایک اہم نکتہ بیان فرمایا ہے اور وہ یہ کہ یہ حروف مخاطب کو متنبہ  کرتے ہیں تاکہ وہ غفلت سے بیدار ہو جائے۔  ایک حکیم اپنا مدعا پیش  کرنے سے پہلے مخاطب کو اپنی طرف متوجہ  کر لیتا ہے۔   یہ حروف بھی با معنی کلام سے پہلے آئے ہیں تاکہ ان  کے ذریعہ مخاطب کو پلے متنبہ کیا جائے۔  چنانچہ ان حروف کو جب الگ الگ پڑھا جاتا ہے تو ان کی آواز چونکا دینے والی ہوتی ہے اور اس سے کلام میں تاثیر پیدا ہو جاتی ہے۔   (دیکھیے تفسیر کبیر، ج ۲۵ ص    )

اس سورہ میں “الف” کا اشارہ ایمان کی طرف ہے جس کا ذ کر اس سورہ میں بار بار ہوا ہے مثلاً آیت ۲،۷،۹، ۱۱ ،۱۲، ۲۴،۴۴، ۴۵ وغیرہ میں۔

“ل” کا اشارہ لِقاءَ اللہ (اللہ کی ملاقات) کی طرف ہے جس کا ذ کر آیت ۵ اور ۲۳ میں ہوا ہے۔

اور “م” کا اشارہ منافقین کی طرف ہے جن کا ذ کر آیت ۱۱ میں ہوا ہے علاوہ ازیں اس سورہ میں جا بجا منافقت پر گرفت  کر تے ہوئے سچے مؤمنین کی خصوصیات کو پیش کیا گیا ہے۔

۲ ۔۔۔۔۔۔۔  اشارہ ہے ان صبر آزما حالات کی طرف جن سے قرآن اور اس  کے پیغمبر پر ایمان لانے والے دوچار تھے۔   کفار مکہ ان کو طرح طرح کی اذیتیں پہنچا رہے تھے یہاں تک کہ وہ اپنے گھر بار اور اپنے وطن کو ترک  کرنے پر مجبور ہو گئے تھے چنانچہ مسلمانوں کا ایک گروہ مکہ سے ہجرت  کر  کے حبشہ پہنچ گیا تھا۔   اس صورت حال  کے پیش نظر بعض لوگوں  کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو رہا تھا کہ ایمان لانے  کے بعد حالات کی یہ نا ساز گاری کیسی ؟ اسی سوال کا جواب ان تمہیدی آیات میں دیا گیا ہے۔

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اسلام قبول  کرنے  کے بعد ان  کے دعوائے ایمان کو پرکھنے  کے لیے انہیں آزمائشوں سے نہیں گزارا جائے گا تو یہ ان کی بہت بڑی غلط فہمی ہے۔   (مزید تشریح  کے لیے دیکھیے سورہ بقرہ نوٹ ۳۱۰ )۔

۳ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی اللہ کی سنت (قاعدہ ) یہی رہی ہے کہ جس زمانہ میں بھی لوگ کسی نبی پر ایمان لائے ہیں ان  کے ایمان کو پرکھنے  کے لیے وہ ان کو آزمائشوں سے گزارتا رہا ہے۔   لہٰذا اگر آج پیغمبر قرآن  کے پیروؤں کو صبر آزما حالات سے سابقہ پڑ رہا ہے تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے ؟

۴ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی اللہ ان کو آزمائش کی بھٹی میں ڈال  کر دیکھے گا کہ سونا کھرا ہے یا کھوٹا۔  ان کا ایمان محض زبانی اقرار تھا یا صدق دل سے انہوں نے قبول کیا تھا۔

کفار  کے ہاتھوں جو تکلیف اہل ایمان کو پہنچتی ہے اس پر اگر وہ صبر و استقامت اختیار  کرتے ہیں تو ان کا اپنے ایمان میں سچا ہونا ثابت ہو جاتا ہے اور اس راہ میں جو قربانیاں انہوں نے دیں ان کی وجہ سے ان کا تعلق اللہ سے مضبوط ہو جاتا ہے اور ان  کے  کردار میں پختگی پیدا ہو جاتی ہے۔   مگر وہ لوگ جو شعوری طور پر ایمان نہیں لا چکے ہوتے جب کفار  کے ہاتھوں ستائے جاتے ہیں تو یا تو کھلم کھلا اسلام سے پھر جاتے ہیں یا اسلام سے برائے نام تعلق باقی رکھتے ہیں۔   وہ اللہ سے بد گمان ہوتے ہیں اور اس  کے دین کی خاطر قربانی دینے کا کوئی جذبہ ان  کے اندر نہیں ابھرتا۔   وہ اسلام  کے لیے کوئی سرگرمی نہ دکھا  کر کفار سے اپنے  مفادات کا تحفظ  کرا لیتے ہیں۔   ایسے لوگ در حقیقت نفاق (منافقت) میں مبتلا ہوتے ہیں اور اللہ  کے نزدیک وہ اپنے دعوائے ایمان میں چھوٹے ہوتے ہیں۔

آج بھی جو لوگ اپنے آبائی مذہب کو ترک  کر  کے اسلام میں داخل ہو جاتے ہیں ان کو ان ہی  کے والدین یا خاندان والوں یا ان  کے فرقہ  کے لوگوں  کے ظلم و ستم کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔   اور اگر کوئی لڑکی اسلام قبول  کر لیتی ہے تو پھر اس کی خیر نہیں ہے۔   مگر ان حالات کا مقابلہ  کرنے  کے لیے وہ لوگ تیار ہو جاتے ہیں جو سوچ سمجھ  کر اسلام قبول  کر لیتے ہیں اور جن  کے دلوں میں ایمان اتر چکا ہوتا ہے۔

۵ ۔۔۔۔۔۔۔   یہ ان لوگوں کو تبنیہ ہے جو اسلام قبول  کرنے والے پر ظلم  کرتے ہیں۔   وہ اس خام خیالی میں نہ رہیں کہ ایسی حرکتیں  کر  کے وہ اہل ایمان کی راہ روک سکیں گے جب کہ اللہ نے ان کو غالب  کرنے کا فیصلہ  کر لیا ہو۔  انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ وہ اللہ  کے فیصلہ کو نافذ ہونے سے ہر گز نہیں روک سکتے۔   نہ اس کی گرفت سے خود بچ سکتے ہیں۔

۶ ۔۔۔۔۔۔۔   اہل ایمان کو جو اللہ سے ملاقات  کے امید وار ہیں یہ اطمینان دلایا جا رہا  ہے کہ اس کا مقرر کیا ہوا ملاقات کا وقت لازماً آئے گا یعنی قیامت کا دن جب سب کی پیشی اللہ  کے حضور ہو گی اور اہل ایمان اللہ سے مل کو خوش ہوں گے کہ وہ اپنی مراد کو پہنچ گئے۔

اللہ سے ملاقات کی یہ خواہش جب دل میں  کروٹیں لینے لگتی ہے تو وہ کافروں  کے ظلم و ستم  کے مقابلہ میں زبردست قوت مدافعت پیدا  کرتی اور ایسا شخص پہاڑ کی طرح اپنی جگہ جما رہتا ہے۔

۷ ۔۔۔۔۔۔۔  اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اللہ مظلوم اہل ایمان کی فریاد سنتا ہے اور جانتا ہے کہ کون ظالم ہے اور کون مظلوم اور جب وہ یہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے تو وہ دن کیسے نہیں لائے گا جس میں مظلوم اہل ایمان کی داد رسی ہو اور ظالم کافروں کو ان  کے برے انجام کو پہنچایا جائے۔

۸ ۔۔۔۔۔۔۔  متن میں لفظ یُجاھُد استعمال ہوا ہے جو مجاہدہ سے ہے اور جس  کے معنی ایسی جدوجہد  کے ہیں جس میں آدمی مقصد  کے حصول  کے لیے پوری طاقت لگائے اور کشمکش میں پڑ  کر مشقت برداشت  کرے۔   بعض حالات میں اسلام پر قائم رہنے ، اس  کے دین حق ہونے کی شہادت دینے اور اس  کے عملی تقاضوں کو پورا  کرنے میں ماحول  کے ساتھ بڑی کشمکش  کرنا پڑتی ہے  اور ہر قسم کی قربانیاں دینا پڑتی ہیں خاص طور سے ان لوگوں کو جو نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔   یہاں اسی جان توڑ محنت کو جو اللہ کی راہ میں کی جائے مجاہدہ (جہاد) سے تعبیر کیا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ اس مجاہدہ اور ان قربانیوں کا فائدہ اس شخص کو ہی پہنچے گا جو دین  کے لیے مجاہدہ  کرتا اور قربانیاں دیتا ہے کہ اس طرح وہ اپنے کو اللہ کی رحمت اور انعام کا مستحق بناتا ہے۔   اللہ کو اس سے کوئی فائدہ پہنچنے والا نہیں ہے۔   وہ بے نیاز ہے اس کو کسی کی حاجت نہیں۔

۹ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی ایمان لا  کر صالحیت کی زندگی گزارنے والوں  کے دامن پر برائیوں  کے جو داغ دھبے پڑے ہوں گے ان کو اللہ تعالیٰ مٹا دے گا۔  اور ان  کے بیک اعمال کی قدر  کرتے ہوئے انہیں بہترین جزا دے گا۔

۱۰ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی کسی کو اللہ کا شریک ٹھیرانا ایک خلاف واقعہ بات ہے اور جو بات خلاف واقعہ ہو اس پر اعتقاد رکھنا کیا معنی ؟

” جس کا تجھے علم نہیں ” کا مطلب یہ ہے کہ جس  کے بارے میں (اے انسان) تو نہیں جانتا کہ واقعی یہ چیزیں خدا ہیں بلکہ لوگوں نے محض اٹکل پچو سے ان کو خدا بنا لیا ہے۔

۱۱ ۔۔۔۔۔۔۔   والدین  کے ساتھ حسن سولک کی ہدایت تعلیمات ربانی کا ہمیشہ سے جزء رہا ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ والدین کی اطاعت اللہ کی اطاعت پر مقدم ہے۔   تمام اطاعتیں اللہ کی اطاعت  کے تحت ہیں اور خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت ہر گز جائز نہیں۔   اگر والدین اللہ  کے ساتھ شرک یا کفر  کرنے یا اس  کے دین کو قبول نہ  کرنے کا حکم دیتے ہیں تو یہ اللہ کی کھلی معصیت ہے اور معصیت  کے کاموں میں والدین کی اطاعت کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا لہٰذا اس معاملہ میں ان کا کوئی دباؤ قبول نہیں  کرنا چاہیے۔

حضرت سعدؓ بن ابی وقاص کا واقعہ ہے کہ ان  کے ایمان لانے  کے بعد ان کی والدہ نے ان پر بہت دباؤ ڈالا کہ وہ اسلام کو ترک  کر دیں یہاں تک کہ اس نے قسم کھا لی کہ وہ نہ ان سے بات  کرے گی اور نہ کھائے گی اور نہ پیے گی جب تک کہ وہ اس دین کو چھوڑ نہ دیں۔   اسی سلسلہ میں ایک آیت نازل ہوئی۔  حضرت سعدؓ اسلام پر قائم رہے اور ان کی ماں کو بالآخر قسم توڑنا پڑی۔   (دیکھیے صحیح مسلم کتاب الفضائل)

۱۲ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی صالحین  کے زمرہ میں داخل  کریں گے جو آخرت میں کامیاب ہونے والا گروہ ہے۔

۱۳ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی ایمان  کے یہ مدعی اس تکلیف سے گھبرا اُٹھے ہیں جو دین  کے تعلق سے کافروں کی طرف سے انہیں پہنچتی ہے۔   اس صورت میں وہ ایمان  کے تقاضوں کو نظر انداز  کر دیتے ہیں اور رسول اور اہل ایمان کا ساتھ بھی چھوڑ دیتے ہیں۔   اس طرح وہ دین کی راہ میں دنیوی خطرات کو مول نہ لے  کر اللہ کی طرف سے دی جانے والی سزا کو گوارا  کرنے  کے لیے تیار ہو جاتے ہیں حالانکہ لوگوں کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفیں اس عذاب  کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں جو آخرت میں بھگتنا ہو گا۔

آج کتنے ہی لوگ اسلام کو صحیح سمجھنے  کے باوجود محض اس لیے اس کو قبول  کرنے سے گریز  کرتے ہیں کہ اس صورت میں انہیں اپنے گھر والوں یا اپنے فرقہ  کے لوگوں کی طرف سے تکلیفوں کا سامنا  کرنا پڑے گا۔  رہا  اسلام نہ قبول  کرنے کی صورت میں آخرت کا عذاب تو یہ مرحلہ جب پیش آئے گا تب دیکھا  جائے گا۔  اس طرح وہ اللہ  کے عذاب کو انسان  کے ذریعہ پہنچنے والی تکلیف  کے برابر سمجھنے لگتے ہیں اور اس بناء پر اللہ  کے عذاب کو گوارا کونے  کے لیے تیار ہو جاتے ہیں لیکن دنیا والوں  کے ہاتھوں پہنچنے  والی تکلیف کو گوارا  کرنے  کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

۱۴ ۔۔۔۔۔۔۔   اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ جب اسلام اللہ کی نصرت سے ایک طاقتور دین بن جائے گا تو یہی لوگ جو ابھی اہل ایمان سے محض رسمی تعلق پر اکتفاء کیے ہوئے ہیں بڑے فخریہ انداز میں کہنے لگیں گے کہ ہم تو تمہارے ساتھ رہے ہیں یعنی مسلمانوں میں شامل رہے ہیں اس طرح وہ مفت کا  کریڈٹ حاصل  کرنے کی کوشش  کریں گے اور اس بات کو بھول جائیں گے کہ آڑے وقت میں انہوں نے اسلام کا ساتھ ہر گز نہیں دیا تھا۔

۱۵ ۔۔۔۔۔۔۔  یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ یہ لوگ سچے دل سے  ایمان نہیں لائے تھے۔  اگر وہ سچے دل سے ایمان لائے ہوتے تو اسلام کی آگے بڑھ  کر حمایت  کرتے ، آزمائشوں میں اپنا رویہ درست رکھتے اور اللہ کی خاطر قربانیاں دیتے۔

۱۶ ۔۔۔۔۔۔۔   ” اللہ جان  کر رہے گا”۔  یعنی اللہ ضرور دیکھے گا کہ کون اپنے کو مومن مخلص ثابت  کر دکھاتا ہے اور کون اپنے منافق ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔   آزمائشی حالات مومن اور منافق  کے فرق کو نمایاں  کر دیتے ہیں۔   واضح رہے کہ ایمان اللہ تعالیٰ  کے ہاں وہی معتبر ہے جو صحیح عقدہ اور دل کی تصدیق  کے ساتھ ہو۔  یہ ایمان دل میں ایک خاص کیفیت اور ایک خاص نور پیدا  کر دیتا ہے جس سے مومن کی پوری زندگی جگمگا اٹھتی ہے۔   اس  کے بر خلاف منافق عقیدہ کا اظہار تو  کرتا ہے لیکن اس کا دل اس کی تصدیق نہیں  کرتا اس لیے اس  کے دل میں  سرے سے موجود ہیں نہیں ہوتا۔  یہی وجہ ہے کہ وہ ایمان  کے تقاضوں کو پورا  کرنے  کے لیے آمادہ نہیں ہوتا اور نہ اس کی زندگی میں ایمان  کے اثرات دکھائی دیتے ہیں۔

۱۷ ۔۔۔۔۔۔۔   یہ بڑے لوگوں کی باتیں ہیں جو وہ عوام سے اور خاص طور سے ا پنے ماتحت  لوگوں سے کہتے ہیں  کہ تم ہمارے مذہب پر چلتے رہو اور اس کو چھوڑ  کر اسلام قبول نہ  کرو۔   وہ کہتے ہیں اول تو قیامت آنے والی نہیں اورت اگر ٓ ہی گئی اور اس د ن یہ معلوم ہو گیا کہ اسلام ہی دین حق تھا تو تم نے ہمارے مذہب کو اختیار  کر  کے جن گنا ہوں کا ارتکاب کیا ہو گا  ان کی ذمہ داری ہم قبول  کر لیں گے۔   اور تمہارے گناہ اپنے سر لے لیں گے۔

۱۸ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی قیامت  کے دن وہ ان لوگوں کا گناہ جن کو وہ آج اپنے مذہب پر چلنے کا مشورہ دے رہے ہیں اپنے سر لینے  کے لیے ہر گز آمادہ نہ ہوں گے وہ جھوٹ بول  کر عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔

۱۹ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی وہ اپنے  گنا ہوں کا بوجھ تو اٹھائیں گے ہی ساتھ ہی دوسروں کو گمراہ  کرنے  کے گناہ کا بوجھ بھی انہیں اٹھانا ہو گا۔

حدیث میں آتا ہے :

مَنْدَعَا اِلَی الضَّلا لَۃ کَانَ عَلَیْہِ مِنَ الْاِثْمِ مِثْلَ اَثامٍ مَنْ تَبِعَہٗ لا یَنْقُصُ ذٰلکَ مِنْ اٰثا مِھِمْ شَیْئاً۔   (مسلم کتاب العلم) ” جو شخص گمراہی کی طرف بلائے گا تو اس پر بھی گناہ کا بار ہو گا جس طرح اس پر چلنے والے گنہگار ہوئے ہیں اور اس سے ان  کے گنا ہوں میں کوئی کمی نہ ہو گی”۔

۲۰ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی مذہب  کے نام سے جو جھوٹ وہ گھڑتے رہے اور خدا کی طرف جو غلط باتیں وہ منسوب  کرتے رہے ان   کے بارے میں قیامت  کے دن انہیں خدا  کے حجور جوابدہی  کرنا ہو گی۔

۲۱ ۔۔۔۔۔۔۔   یہاں حضرت نوح اور دیگر رسولوں  کے واقعات مختصراً پیش کیے گئے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کو کیسے کٹھن حالات اور کیسی سخت آزمائشوں سے گزرنا پڑا ہے۔   حضرت نوح  کے بارے میں تفصیلات  کے لیے دیکھیے سورہ اعراف نوٹ ۹۵۔

۲۲ ۔۔۔۔۔۔۔   قرآن واقعات کی جزئی تفصیلات میں نہیں جاتا اس لیے اس نے کسی پیغمبر کی بھی عمر بیان نہیں کی لیکن چونکہ یہ واضح  کرتا مقصود ہے کہ نوح (علیہ السلام ) نے ایک غیر معمولی مدت دعوتی جد و جہد میں گزاری جو آزمائشی حالات میں صبر کی اعلیٰ مثال ہے اس لیے اس بات کی صراحت  کر دی کہ وہ اپنی قوم  کے درمیان نو سو پچاس سال تک رہے اور اس مدت کو پچاس کم ایک ہزار سال  کے اسلوب میں بیان  کرنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ ہزار کا عدد مدت کی طوالت کو بیان  کرنے  کے لیے زیادہ مؤثر ہے۔   حضرت نوح نے نو سو پچاس سال تو اپنی قوم  کے درمیان گزارے اور قوم کی تباہی  کے بعد وہ کتنے عرصہ تک زندہ رہے اس کی صراحت قرآن نے نہیں کی اس لیے ہم کہہ سکتے کہ حضرت نوح کی کل عمر کتنی تھی لیکن یہ بات ظاہر ہے کہ ان کی عمر نو سو پچاس سال بیان  ہوئی ہے۔   قدیم ترین زمانہ میں انسانوں کی عمریں موجودہ طبعی عمر  کے مقابلہ میں کہیں زیادہ ہوا  کرتی تھیں۔   چنانچہ بائیبل میں حضرت نوح  کے والد کی عمر سات سو ستہتر سال اور دادا کی عمر نو سو انہتر سال بیان ہوئی ہے۔   (دیکیے کتاب پیدائش باب ۵ ) اس وقت کا طبعی ماحول موجودہ ماحول سے بہت مختلف تھا اور تکلفات سے یکسر خالی نیز اس وقت انسانی آبادی بہت ہی مختصر تھی اس لیے قدرتی عوامل (Natural factors)  درازئ عمر  کے لیے بالکل ساز گار تھے۔

۲۳ ۔۔۔۔۔۔۔   طوفان  سے مراد پانی  کا طوفان یعنی سیلاب ہے جس میں قوم نوح غرق  کر دی گئی۔

۲۴ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی انہوں نے شرک اور کفر  کر  کے اپنے ہی اوپر ظلم کیا تھا اور اس ظلم پر وہ اخیر وقت تک قائم رہے۔

۲۵ ۔۔۔۔۔۔۔   تشریح  کے لیے دیکھیے سورہ اعراف نوٹ ۱۰۳۔

۲۶ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی سفینۂ نوح کو دنیا والوں  کے لیے اس واقعہ کی یاد گار بنایا۔   جب تک یہ کشتی لوگوں  کے مشاہدہ میں آتی رہی اس واقعہ کو یاد دلاتی رہی اور لوگوں  کے لیے نشان عبرت بنی رہی۔  اس  کے بعد کشتی  کے واقعہ کو تاریخ  کے اوراق نے نیز قرآن نے اپنے اندر اس طرح محفوظ  کر لیا کہ رہتی دنیا تک لوگوں کو یہ سبق ملتا رہے گا کہ اللہ  کے عذاب سے نجات پانے والے وہی لوگ ہیں جو اس پر ایمان لا  کر اس  کے رسول کی  پیروی  کرتے ہیں۔

۲۷ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی ابراہیم کو رسول بنا  کر بھیجا۔

تشریح  کے لیے دیکھیے سورہ انعام نوٹ ۱۲۷۔

۲۸ ۔۔۔۔۔۔۔   اللہ سے ڈرو یعنی اس کی نا فرمانی سے ڈرو اور اللہ کی سب سے بڑی نافرمانی شرک اور بت پرستی ہے۔

۲۹ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی اگر تم جہالت کو چھوڑ دو اور یہ جاننے کی کوشش  کرو کہ تمہاری اپنی بھلائی کس چیز میں ہے تو یہ بات بآسانی تمہاری سمجھ میں آ سکتی ہے کہ خدائے واحد کی عبادت  کرنا اور اس سے ڈرتے ہوئے زندگی گزارنا ہی صحیح ، نتیجہ مخش اور فوز و فلاح کا باعث ہے۔

۳۰ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی جن کو تم پوجا  کرتے ہو وہ خدا نہیں بلکہ محض بت ہیں۔   پتھر  کے یہ مجسمے خدائی کی کوئی صفت بھی اپنے اندر نہیں رکھتے ان کی حقیقت مٹی پتھر سے زیادہ کچھ نہیں۔   پھر ان کو خدا سمجھ  کر پوجنے کا کیا مطلب؟

بت پرستی کا نامعقول ہونا بالکل واضح ہے اور اس کی جائز ہونے کی سرے سے کوئی دلیل موجود ہی نہیں ہے مگر تعجب ہے کہ ماضی ہی میں نہیں موجودہ دور میں بھی جو علم اور عقل کا دور کہلاتا ہے بہت سے لوگ بت پرستی میں مبتلا ہیں اور جب بت پرستی کی تائید میں کوئی دلیل نہیں ملتی تو عجیب                      عجیب باتیں کہنے لگتے ہیں ” آؤٹ لائنز آف ہندو ازم”  کے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں :

“The Idol is the most concrete of God’s form”

“بت خدا کی سب سے زیادہ ٹھوس شکل ہے “۔

“….and the belief is that God descends into the idol and makes it divinely alive so that how may be easily accessible to his devotees.” (Out lines of Hinduism by T.M.P. Mahadevan p.193 – 194)

اور (اس  کے پیچھے ) عقیدہ یہ ہے کہ خدا اتر  کر بت  کے اندر داخل ہوتا ہے اور اسے خدائی زندگی بخشتا ہے تاکہ اس  کے پرستار نہ آسانی اس تک رسائی حاصل  کر سکیں “۔

جب بت پرستی کی تائید میں کوئی دلیل نہیں ملتی تو اس  کے حامی ایسی ہی بے ہودہ باتیں  کرنے لگتے ہیں۔   کاش یہ لوگ عقل  کے ناخن لیتے !

۳۱ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی خدا بھی تمہارے من گھڑت ہیں اور مذہب بھی تمہارا من گھڑت۔  اس طرح جھوٹ ہی جھوٹ ہے جس کو تم نے خدا اور مذہب کا نام دے رکھا ہے۔

۳۲ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی رزق دینا نہ ان بتوں  کے اختیار میں ہے جن کو تم ان داتا سمجھ  کر پوجتے ہو اور نہ کسی اور  کے اختیار میں بلکہ صرف اللہ  کے اختیار میں ہے لہٰذا اسی سے رزق مانگو۔

فَابْتَغُو ا عِنْد اللہِ الرِّزْقَ (رزق اللہ ہی  کے پاس طلب  کرو) کی صریح ہدایت  کے باوجود مسلمانوں کا ایم بڑا گروہ “اولیاء” سے رزق مانگتا ہے جو صریح شرک ہے۔   وہ جب “خواجہ” کو پکار  کر جھولی بھرنے  کے لیے کہتے ہیں تو انہیں شرک سے ملوث ہونے کا کوئی احساس نہیں ہوتا۔  یہ اس لیے کہ ” جاہل علما ء” نے ان کو یہی پٹی پڑھا دی ہے۔   اگر وہ قرآن کا کھلے ذہن سے مطالعہ  کرتے تو ان پر حق واضح ہوتا اور وہ گمراہی سے  بچ جاتے۔

۳۳ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی مرتے  کے بعد نہ تم بتوں کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور نہ کسی اور کی طرف بلکہ اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور وہی تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا لہٰذا تمہارا حقیقی معبود وہی ہے جس کی طرف تمہیں پلٹنا ہے۔

۳۴ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی رسول کا کام اللہ کا پیغام صاف صاف پہنچا دینا ہے ماننا نہ ماننا تمہارا کا۔

۳۵ ۔۔۔۔۔۔۔   حضرت ابراہیم کا بیان اوپر کی آیت پر ختم ہوا۔  یہاں سے آیت ۲۳ تک کا مضمون اللہ تعالیٰ کی طرف سے اضافہ ہے جیسا کہ کلام  کے اسلوب سے واضح ہے تاکہ موقع کی مناسبت سے قرآن  کے مخاطبین کو غور و فکر کی دعوت دی جائے۔

۳۶ ۔۔۔۔۔۔۔   منکرین آخرت دوسری زندگی کو ناممکن خیال  کرتے تھے۔   ان  کے اس شبہ کو دور  کرنے  کے لیے انہیں پیدائش  کے آغاز پر غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے کہ جس ہستی  کے لیے انسان جیسی مخلوق کو دم سے وجود میں لانا ممکن ہوا۔  اس  کے لیے اس کی اپنی ہی پیدا کی ہوئی چیز کو دوہرا نہ کیا مشکل ہے ؟

(مزید تشریح  کے لیے دیکھیے سورہ حج نوٹ ۷ اور سورہ مومنون نوٹ ۱۸)۔

۳۷ ۔۔۔۔۔۔۔   انسان جب اپنے ماحول سے باہر نکلتی ہے تو تخلیق  کے عجیب عجیب نمونے اس  کے مشاہدے میں آتے ہیں اور اسے دعوت فکر دیتے ہیں۔   مثال  کے طور پر سمندری سفر میں نت نئی مچھلیاں نظر آئیں گی، خشکی  کے سفر میں رنگ برنگ پرندے جنگل میں عجیب و غریب حیوانات غرض یہ کہ باہر کی دنیا ایک چڑیا گھر معلوم ہو گی جہاں زندگی  کے ہزاروں روپ دکھائی دیں گے۔   اگر مشاہدہ  کرنے والے کا ضمیر جاگ رہا ہو تو وہ پکار اٹھے گا کہ یہ ایک ایسی ہستی کی تخلیق ہے جو عظیم قدرت کی مالک ، زبردست صناع ، تخلیق حیات پر پوری طرح قادر ، علیم و حکیم اور صاحب جمال و صاحب کمال ہے۔   خالق کی یہ پہچان اس  کے اندر یہ یقین پیدا  کرے گی کہ وہ انسان کو دوبارہ پیدا  کرنے پر بھی قادر ہے اور قرآن دوسری مرتبہ اٹھا کھڑا  کرنے کی جو بات کہتا ہے وہ بالکل حق ہے۔   یہاں قرآن نے اسی اعلیٰ مقصد (Noble Cause)  کے پیش نظر زمین میں سفر  کرنے کی دعوت دی ہے۔

معلوم ہوا کہ علم و تحقیق کی غرض سے جو اللہ کی راہ میں ہو سفر  کرنا خیر و برکت کا باعث ہے۔

۳۸ ۔۔۔۔۔۔۔   اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ زمین میں سفر  کرنے سے قوموں  کے عروج و زوال کی تاریخ بھی تمہارے سامنے آئے گی اور تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کتنی قومیں ہیں جو اللہ  کے عذاب کا نشانہ بنیں اور کتنی ہیں جو عذاب سے بچا لی گئیں اور اللہ کی رحمت میں پروان چڑھیں۔

۳۹ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی بالآخر تمہیں پہنچنا اللہ ہی  کے حضور ہے۔

۴۰ ۔۔۔۔۔۔۔   جس طرح انسان اللہ  کے طبیعی قوانین (Physical  Laws) میں بندھا ہو ا ہے۔   وہ ہر جگہ اللہ کی گرفت میں ہے خواہ وہ زمین  کے کسی گوشہ میں چلا جائے یا کتنی ہی بلندی پر پہنچ جائے۔  آج کا انسان تو ہوائی جہاز میں بیٹھ  کر آسمان کی سیر  کرتا ہے  مگر اس کی بے بسی کا حال یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اس کو کسی حادثہ سے دو چار  کرنا چاہتا ہے تو اپنے کو بچانا اس  کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔

۴۱ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی تمہارے لیے حقیقی کار ساز اور مدد گار اللہ  کے سوا کوئی نہیں لہٰذا کسی اور کو کار ساز یا مدد گر سمجھ  کر اس  کے ساتھ وہ معاملہ نہ  کرو جو صرف اللہ  کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔   اور یاد رکھو اگر اللہ تم کو اپنے عذاب کی گرفت  میں لینا چاہے تو کوئی نہیں ہے جو تمہیں اس سے بچا س کے یا تمہاری مدد  کر س کے۔

۴۲ ۔۔۔۔۔۔۔   اس آیت میں منکرین  کے تعلق سے ایک اہم حقیقت بیان ہوئی ہے اور وہ یہ کہ یہ لوگ اگر اللہ سے اجر اور اس کی رحمت میں حصہ پانے کی امید رکھتے تو نہ اس کی آیات کو رد  کرتے اور نہ اس کی آخرت ہو گی اور نہ ہمارے لیے اللہ کی رحمت سے ہم کنار ہونے اور اس سے اجر پانے کا کوئی موقع ہو گا۔  زندگی تو بس دنیا کی زندگی ہے اس  کے بعد فنا ہو جانا ہے۔   اللہ کی رحمت میں حصہ دار بننے  کے لیے ہم باقی ہی کہاں رہیں گے۔   اور جب انہوں نے اللہ کی رحمت  کے بارے میں مایوسی کا موقف اختیار  کر لیا تو کوئی سجہ نہیں کہ وہ آخرت میں اللہ کی رحمت میں حصہ پا سکیں۔   اسی لیے وہ رحمت سے دور پھین دیے جائیں گے اور انہیں درد ناک سزا بھگتنا ہو گی۔

جو لوگ کافروں  کے بارے میں اپنے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں وہ  جہنم کی ابدی سزا کو جو کافروں کو دی جائے گی عجیب عجیب تاویلیں  کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ کی رحمت میں سے وہ بھی حصہ پائیں مگر وہ اس حقیقت کو نظر انداز  کرتے ہیں کہ کافر خود اللہ کی رحمت سے مایوس ہیں اگر وہ اس کی رحمت  کے امید وار ہوتے تو آخرت پر ضرور ایمان لاتے۔

۴۳ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی ابراہیم (علیہ السلام ) نے اپنی قوم  کے سامنے جو باتیں رکھیں ان کا جواب انہوں نے دیا تو یہ دیا کہ اس شخص کو ختم  کر دو تاکہ یہ “ناخوشگوار باتیں ” ہمیں  سننا نہ پڑیں۔

۴۴ ۔۔۔۔۔۔۔   آخر کار ان لوگوں نے ابراہیم (علیہ السلام ) کو آگ میں ڈال دیا مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں معجزانہ طور پر جلنے سے بچا لیا جیسا کہ سورہ انبیاء آیت ۶۹ میں صراحت  کے ساتھ  بیان ہوا ہے۔

۴۵ ۔۔۔۔۔۔۔   حضرت ابراہیم  کے اس واقعہ میں توحید  کے بر حق ہونے ، ابراہیم (علیہ السلام )  کے رسول ہونے ، منکرین  کے ہاتھوں ان  کے ستائے جانے اور اللہ کی نصرت  کے معجزانہ طور پر ظاہر ہونے کی نشانیاں موجود ہیں۔

۴۶ ۔۔۔۔۔۔۔   حضرت ابراہیم کا یہ بیان  جیسا کہ قرآن  کے اسلوب کلام سے ظاہر ہوتا ہے ان  کے آگ سے بہ سلامت باہر نکل آنے  کے بعد کا ہے اور اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ یہ بت تمہارے نزدیک قومی اتحاد اور باہمی الفت کا ذریعہ ہیں اور تم یہ محسوس  کرتے ہو کہ ان بتوں کو چھوڑنا قومی انتشار کا باعث ہو گا۔  اپنے اس زعم میں تم نے بت پرستی  کے ان نتائج کو بالکل نظر انداز  کر دیا ہے جو آخرت میں پیش آنے والے ہیں۔   قیامت  کے دن جب شرک کا باطل ہونا اور ایک سنگین جرم ہونا تم پر کھل جائے گا تو تمہارے یہ قومی اتحاد اور تمہاری یہ قومی محبت کہاں باقی رہے گی۔  اس وقت تم گمراہی کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنا چا ہو گے اور آپس میں ایک دوسرے  کو لعنت ملامت  کرو گے۔   آخر کار تم سب بے یار و مدد گار جہنم میں ڈال دیے جاؤ گے۔   تو ایسا قومی اتحاد اور ایسے سماجی تعلقات کس کام  کے جو تمہیں آتشِ جہنم کا مزا چکھائیں۔

آج بھی کتنے ہی بت پرست بت پرستی کو نا معقول سمجھنے  کے باوجود محض اس لیے چھوڑنے اور بت پرستانہ مذہب سے باہر نکل آنے  کے لیے آمادہ نہیں ہوتے کہ اس کا اثر ان  کے سماجی تعلقات پر پڑے گا اور ان کا رشتہ اپنی قوم سے کٹ جائے گا۔   کیسے عقل مند ہیں یہ لوگ کہ اس دنیوی خطرہ کو مول لینے  کے لیے تیار نہیں ہوتے لیکن آخرت  کے مستقل عذاب کو بھگتنے  کے لیے تیار  ہو جاتے ہیں !

۴۷ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی پوری قوم کیں ابراہیم (علیہ السلام ) کی بات ماننے والا صرف ایک شخص نکل آیا اور وہ تھے لوط جنہوں نے ان کی با توں کی تصدیق کی اور ان کی رسالت پر ایمان لے آئے۔

حضرت لوط بائیبل کی صراحت  کے مطابق حضرت ابراہیم  کے  بھتیجے تھے۔   وہ ہجرت  کے بعد نبوت سے سرفراز کیے گئے جو شخص نبی ہوتا ہے وہ اول روز سے اپنی فطرت سلیمہ پر قائم رہتا ہے۔   اس لیے حضرت ابراہیم کی دعوت توحید ان  کے لیے کوئی انوکھی چیز نہیں تھی۔  لہٰذا  انہوں نے آگے بڑھ  کر حضرت ابراہیم کی با توں کی تصدیق کی اور ان کی رسالت پر ایمان لے آئے۔

۴۸ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی میں اپنے رب کی خاطر اسی  کے حکم سے اور اسی کی رہنمائی میں ہجرت  کرتا ہوں۔   وہ جہاں لے جائے گا میں جاؤں گا کہ حقیقتاً میرا رب ہی میری منزل مقصود ہے۔

قوم پر پوری طرح حجت پوری  کرنے  کے بعد حضرت ابراہیم نے اللہ  کے حکم سے اپنا وطن چھوڑا تاکہ دین کا کام ایک ملک میں نہیں تو دوسرے ملک میں انجام دیا جا سکے۔   وہ اُر (عراق)  کے رہنے والے تھے۔   پھر ان کا قیام حران میں رہا اور وہاں سے وہ ملک شام (کنعان) ہجرت  کر گئے۔  اس ہجرت میں ان  کے ساتھ حضرت لوط بھی تھے اور بائیبل کی صراحت  کے مطابق ان کی بیوی سارہ بھی تھیں تین افراد پر مشتمل اہل ایمان کا یہ مختصر قافلہ تھا مگر اس نے دنیا کی تاریخ بدل دی۔

۴۹ ۔۔۔۔۔۔۔   ہجرت  کے  موقع پر حضرت ابراہیم نے اللہ کی ان دو صفتوں کا ذ کر اس مناسبت سے کیا کہ اللہ کا فیصلہ نافذ ہو  کر رہتا ہے لہٰذا اس ہجرت کی پشت پر اس کا جو منصوبہ ہو گا وہ پورا ہو  کر رہے گا اور وہ حکیم ہے اس لیے اس کا کوئی منصوبہ حکمت سے خالی نہیں ہو سکتا۔  ہجرت  کے بعد حضرت ابراہیم  کے ہاتھوں جو عظیم الشان کام انجام پائے اس سے اللہ کا حکیمانہ منصوبہ پوری طرح ظاہر ہو گیا۔

۵۰ ۔۔۔۔۔۔۔   اسحاق ابراہیم  کے بیٹے اور یعقوب ان  کے پوتے ہیں۔   دونوں کو اللہ نے نبوت سے سرفراز فرمایا۔

۵۱ ۔۔۔۔۔۔۔   نبوت اور کتاب کا سلسلہ حضرت ابراہیم ہی کی نسل میں چلا اور امامت اسی خاندان میں رہی۔  اس حقیقت  کے پیش نظر حضرت ابراہیم  کے بعد  کے دور کی کسی شخصیت  کے بارے میں جو ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے نہ ہو نبی ہونے کا گمان نہیں کیا جا سکتا مثال  کے طور پر مہاتما بدھ  کے نبی ہونے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا جب کہ وہ نسل ابراہیمی سے نہیں تھے۔   اسی طرح حضرت ابراہیم  کے دور  کے بعد کی کوئی کتاب جو کسی ایسے مذہبی رہنما کی طرف منسوب ہو جو ابراہیم کی نسل سے نہ تھا آسمانی کتاب نہیں ہو سکتی۔   ہندوستان کی متعدد مذہبی کتابوں کا جو مقدس سمجھی جاتی ہیں یہی حال ہے۔

آیت کا جو مطلب ہم نے بیان کیا ہے اس کی تائید علامہ ابن کثیر کی اس توضیح سے ہوتی ہے :

فَلَمْیُوْ جَدْنَبِیٌّ بَعْدَا اِبْراھیم علیہ السلامُ اِلا وَھُوَ مِنْ سُلا لَتِہٖ۔   (تفسیر ابن کثیر ج ۳ ص ۴۱۱ ) ” ابراہیم علیہ السلام  کے بعد کوئی نبی ایسا نہیں ہوا جو ان کی نسل سے نہ ہو”۔

اور علامہ شوکانی فرماتے ہیں :

فَلِمْیَبْعَثِ اللہُ نَبِیًّا بَعْدَاِبْراھیْمَ اِلَّا مِنْسُلْبِہٖ (فتح القدیر ، ج ۴ ، ص ، ۱۹۹) “اللہ نے ابراہیم  کے بعد کوئی نبی نہیں بھیجا مگر یہ کہ وہ اسی کی صلب سے تھا۔

۵۲ ۔۔۔۔۔۔۔   حضرت ابراہیم کو آزمائشوں سے گزارنے  کے بعد ان کی نیکیوں کا جو صلہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انہیں عطا فرمایا اس میں ان  کے لیے سچی عزت و سرفرازی ، امامت، منصب نبوت پر فائز فرزند،نسل میں نبوت اور کتاب کا سلسلہ ، زبانوں پر ان کا ذ کر خیر اور اہل ایمان  کے دل سے نکلنے والی سالم و رحمت کی دعائیں جیسی سعادتیں شامل ہیں جن  کے مقابلہ میں دنیا کی دولت ہیچ ہے۔

۵۳ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی آخرت میں صالحین  کے زمرہ میں شامل ہو گا جن کو انعام و ا  کرام سے نوازا جانے والا ہے۔

۵۴ ۔۔۔۔۔۔۔   ہجرت  کے بعد حضرت لوط کو سدوم اور عمورہ کی بستیوں کی طرف بھیجا گیا جو بحر مردار Dead Sea  کے کنارا پر واقع تھیں۔   مزید تشریح  کے لیے دیکھیے سور اعراف نوٹ ۱۲۷۔

۵۵ ۔۔۔۔۔۔۔   اس کی تشریح سورہ اعراف نوٹ ۱۲۹ میں گز ر چکی۔

۵۶ ۔۔۔۔۔۔۔   معلوم ہوتا ہے  کہ لوگ راستوں پر لوٹ مار اور اغوا وغیرہ کا کام بھی  کرتے تھے اس لیے حضرت لوط نے انہیں غنڈہ گردی  کرنے سے منع فرمایا۔

۵۷ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی وہ ایسے بے حیا ہو گئے تھے کہ برائی اور بد فعلی کا ارتکاب کھلے طور پر اپنی مجلوں میں بھی  کرنے لگے تھے۔

موجودہ دور میں برائیوں  کے اجتماعی ارتکاب  کے لیے نائٹ کلب جیسی چیزیں وجود میں آ گئی ہیں جو سوسائٹی میں بگاڑ کا بہت بڑا ذریعہ ہیں

۵۸ ۔۔۔۔۔۔۔   ایک طرف حضرت لوط تھے جو پوری ہمدردی  کے ساتھ اپنی قوم کی اصلاح  کے لیے کوشاں تھی اور دوسری طرف ان کی قوم تھی جو پوری ڈھٹائی  کے ساتھ اللہ  کے عذاب کو دعوت دے رہی تھی۔

۵۹ ۔۔۔۔۔۔۔   جب حضرت لوط کو اپنی قوم کی طرف سے مایوسی ہوئی تو انہوں نے یہ دعا کی۔

۶۰ ۔۔۔۔۔۔۔   حضرت ابراہیم اس وقت حبرون (فلسطین) میں تھے اور اس سے چند میل  کے فاصلہ پر سدوم واقع تھا جہاں قوم لوط آباد تھی۔   فرشتے حضرت ابراہیم  کے پاس اسحاق اور یعقوب کی ولادت کی خوش خبری لے  کر پہنچے تھے اس موقع پر انہوں نے حضرت ابراہیم کو یہ خبر بھی دی کہ ہم قوم لوط کو ہلاک  کرنے  کے لیے بھیجے گئے ہیں یعنی ایک طرف انہوں نے اللہ کی رحمت کی خوش سنائی جو حضرت ابراہیم  کے حق میں تھی اور دوسری طرف ایک بد کار قوم پر اس  کے قہر  کے نازل ہونے کی خبر بھی۔

۶۱ ۔۔۔۔۔۔۔   تشریح  کے لیے دیکھیے سورہ اعراف نوٹ ۱۳۲۔

۶۲ ۔۔۔۔۔۔۔   اس کی تشریح سورہ ہود نوٹ ۱۰۸ میں گزر چکی۔

۶۳ ۔۔۔۔۔۔۔   چنانچہ قوم لوط پر پتھروں کی بارش ہوئی اور اس عذاب کو نازل  کرنے  کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو مامور کیا تھا۔  مزید تشریح  کے لیے دیکھیے سورۂ ھود نوٹ ۱۱۹۔

۶۴ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی اس تباہ شدہ بستی  کے کچھ آثار عبرت  کے لیے چھوڑ دیے ہیں۔   یہ آثار زمانہ دراز تک قائم رہے بعد میں یہ حصہ سمندر میں دب گیا جو بحر مردار Dead Sea کہلاتا ہے اور اسی کا دوسرا نام بحر لوط ہے جو اس بات کی یاد دہانی  کراتا ہے کہ ظالموں کو کس طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے۔   بحر مردار کا پانی اتنا زیادہ کھارا saline ہے کہ اس میں مچھلی وغیرہ کوئی چیز زندہ نہیں رہ سکتی۔

(دیکھیے انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا ، ج ۵ ص،۵۲۵)۔

۶۵ ۔۔۔۔۔۔۔   تشریح  کے لیے دیکھیے سور اعراف نوٹ ۱۳۴۔

۶۶ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی صرف اللہ کی پرستش اور بندگی  کرو۔

۶۷ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی اللہ کی عبادت  کرتے ہوئے امید رکھو کہ جزا کا ایک دن آنے والا ہے جب تم اللہ سے ملاقات  کرو گے اور وہ تمہیں اس بات پر کہ تم نے اسی کی عبادت کی تھی اور اسی  کے بندے بن  کر رہے تھے بھر پور صلہ دے گا۔

۶۸ ۔۔۔۔۔۔۔   انسانی سوسائٹی میں بگاڑ وہی لوگ پیدا  کرتے ہیں جن کو نہ اللہ کی عبادت سے دلچسپی ہوتی ہے اور نہ وہ آخرت میں اللہ سے اجر  کے امیدوار ہوتے ہیں وہ صرف دنیوی فائدوں  کے خواہشمند ہوتے ہیں۔   پھر جس طریقہ سے بھی انہیں حاصل ہوں۔

۶۹ ۔۔۔۔۔۔۔   تشریح  کے لیے دیکھیے سورہ اعراف نوٹ ۱۴۷۔

۷۰ ۔۔۔۔۔۔۔   تشریح  کے لیے دیکھیے سورہ فجر نوٹ ۸۔

۷۱ ۔۔۔۔۔۔۔   تشریح  کے لیے دیکھیے سورہ فجر نوٹ ۱۳۔

۷۲ قوم عاد  کے آثار نزول قرآن  کے زمانہ میں باقی تھے مگر اب نہ رہے لیکن قوم ثمود  کے آثار اب بھی مدینہ  کے شمال میں العُلا  کے علاقہ میں باقی ہے۔

۷۳ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی وہ اپنے دنیوی معاملات میں بڑے ہوشیار اور عقل مند لوگ تھے لیکن جہاں خدا اور اس  کے دین کا معاملہ آ جاتا ان کی عقلیں ماری جاتیں یہی حال موجودہ زمانہ  کے لوگوں کا ہے۔   انہوں نے اپنی ذہنی صلاحیتوں کو کام میں لا  کر زبردست مادی ترقی کی ہے مگر خدا اور آخرت  کے بارے میں بالکل کورے ہیں۔

۷۴ ۔۔۔۔۔۔۔   تشریح  کے لیے دیکھیے سورہ قصص نوٹ ۱۴۳۔

۷۶ ۔۔۔۔۔۔۔   تشریح  کے لیے دیکھیے سورہ قصص نوٹ ۱۱۔

۷۶ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی مختلف قوموں پر مختلف قسم  کے عذاب آئے۔   ان سرکش قوموں کی ہلاکتوں  کے واقعات قرآن میں متعدد مقامات پر تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔

۷۷ ۔۔۔۔۔۔۔   جو شخص اپنے کو آگ میں ڈالے گا جل  کر رہے گا کیونکہ قانون قدرت کی خلاف ورزی کا نتیجہ یہی ہے لہٰذا اپنی تباہی کا ذمہ دار وہ خود ہے نہ کہ خدا۔  اسی طرح جو قومیں اللہ سے بغاوت  کرتی ہیں وہ اللہ  کے قانون عدل کو چیلنج  کرتی ہیں لہٰذا اگر ان پر عذاب کا کوڑا برستا ہے تو اس  کے ذمہ دار وہ خود ہیں کہ انہوں نے ہی اپنے کو تباہی  کے حوالے  کر دیا۔  اللہ پر اس کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔  وہ تو کمال عدل  کے ساتھ دنیا پر حکومت  کر رہا ہے۔

۷۸ ۔۔۔۔۔۔۔   یہ غیر اللہ  کے پرستاروں کی مثال ہے کہ ان کا تکیہ جن معبودوں پر ہوتا ہے وہ اپنا کوئی بل بوتا نہیں رکھتے۔   نہ وہ ان کی حاجت روائی  کر سکتے ہیں اور نہ ان کی تکلیف کو دور  کر سکتے ہیں اور نہ اللہ  کے حضور سفارشی بن  کر کسی کو کچھ دلا سکتے ہیں لہٰذا ان  کے یہ سہارے تار عنکبوت (مکڑی  کے جالے ) سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتے۔   جس طرح مکڑی جالا تان  کر اپنا گھر بناتی ہے مگر وہ اتنا بودا ہوتا ہے کہ ہوا کا ایک جھونکا ہی اسے  اڑا دینے  کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔   اسی طرح جو لوگ اللہ  کے سوا کسی اور کو اپنا کار ساز (کام بنانے والا) بنا لیتے ہیں وہ محض وہم کی بنا پر امیدوں اور تمناؤں کا ایک گھر بنا لیتے ہیں لیکن جب نتائج  کے رو نما ہونے کا وقت آئے گا تو اس کا کہیں وجود نہیں ہو گا اس وقت انہیں احساس ہو گا کہ ؏

اے بسا آرزو کہ خاک  شدہ

مکڑی کی مثال بائیبل میں بھی ہوئی ہے :

” بے خدا آدمی کی امید ٹوٹ جائے گی اس کا اعتماد ناتا رہے گا اور اس کا بھروسہ مکڑی کا جالا ہے۔   وہ اپنے گھر پر ٹیک لگائے گا لیکن وہ کھڑا نہ رہے گا۔ ۔  ” (ایوب ۸ :۱۳۔   ۱۵ )

۷۹ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی اللہ  کے سوا جن کو بھی یہ حاجت روائی  کے لیے پکارتے ہیں ان کی حقیقت کیا ہے اللہ کو اچھی طرح معلوم ہے۔   مطلب یہ ہے کہ شرک  کرنے والے ان  کے بارے میں خدائی اختیارات  کے یا ان  کے خدا  کے حضور سفارشی ہونے  کے کیسے ہی دعوے  کریں اللہ اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ سارے دعوے غلط ہیں اور کوئی بھی اس لائق نہیں کہ اس کو حاجت روائی  کے لیے پکارا جا س کے۔

واضح رہے کہ مسلمانوں کا ایک گروہ جو شرک اور بدعات میں مبتلا ہے اس قسم کی آیتوں کو جن میں غیر اللہ کو پکارنے کی مذمت کی گئی ہے دیوی دیوتاؤں  کے پکارنے کی حد تک محدود سمجھتا ہے۔   رہا اولیاء وغیرہ کو پکارنا تو یہ ان کی نزدیک شرک نہیں ہے۔   وہ کہتے ہیں ان کو پکارنا ایسا ہی ہے جیسے حکام یا پولیس کو مدد  کے لیے بلانا لیکن یہ دلیل ایسی ہی ہے جیسے ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ۔   اگر کوئی شخص اس بات  کے جواب میں کہ اللہ  کے سوا کسی  کے آگے سر نہ جھکاؤ۔  یہ کہے کہ سر تو حجام  کے آگے بھی جھکایا جاتا ہے تو یہ محض کٹ حجتی ہو گی کیونکہ ہر بات کا یک محل ہوتا ہے اگر اس کو اپنے محل سے ہٹا دیا جائے تو اس کا مفہوم ہی بدل جائے گا۔  سب جانتے ہیں کہ حکام یا پولس کو مدد  کے لیے بلانے اور کسی ولی کو جو دور کہیں مدفون ہے مدد  کے لیے پکارنے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔   پہلی چیز عالم اسباب سے تعلق رکھتی ہے اور دوسری چیز عالم غیب سے۔   پہلی چیز  کے بارے میں خدائی اختیار کا کوئی تصور نہیں ہوتا جب کہ دوسری چیز  کے بارے میں یہ تصور ہوتا ہے۔   اسی بنا پرتو ان کی طرف وہ صفات منسوب کی جاتی ہیں جو اللہ  کے لیے خاص ہوتی ہیں مثلاً غوث یعنی فریاد رس، مشکل کشا یعنی مشکلات کو دور  کرنے والا وغیرہ۔   در حقیقت کسی  کے ساتھ وہ معاملہ  کرنا جو اللہ ہی  کے ساتھ کیا جا سکتا ہے اس کو خدا  کے برابر قرار دینا ہے۔   اللہ کی طرح اولیاء کو حاضر و ناظر سمجھ  کر مدد  کے لیے پکارنا شرک نہیں تو اور کیا ہے ؟

۸۰ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی جو جہالت کی تاریکی میں نہیں رہتے بلکہ علم کی روشنی میں چلتے ہیں اور قرآن کی یہ باتیں ایسے ہی لوگوں کی سمجھ میں آتی ہیں۔

۸۱ ۔۔۔۔۔۔۔  تشریح  کے لیے دیکھیے سورہ انعام نوٹ ۱۲۴۔

۸۲ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی توحید  کے حق ہونے کی نشانی جس سے شرک کی تردید ہوتی ہے۔

۸۳ ۔۔۔۔۔۔۔   حق و باطل کی اس کشمکش میں جس کا ذ کر اوپر ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ  کے توسط سے آپ  کے پیروؤں کو تلاوت قرآن اور اقامت صلوٰۃ کی  ہدایت اس بات کی طرف اشارہ  کرتی ہے کہ اگر یہ منکرین اپنی زندگیاں تلف  کر رہے ہیں تو  کرنے دو۔   تمہیں اپنے اندر وہ وصف پیدا  کرنا چاہیے جو تمہاری زندگیوں کو سنوارنے والا اور تمہیں فلاح آخرت سے ہم کنار  کرنے والا ہو۔  اور وہ وصف ہے اللہ سے گہرا تعلق۔  اور اللہ سے گہرا تعلق کتاب الہٰی کی تلاوت اور نماز  کے اہتمام سے پیدا ہوتا ہے۔

قرآن   کریم کی تلاوت کا پورا پورا فائدہ تو اسی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے جب کہ اس طرح تلاوت کی جائے جس طرح تلاوت  کرنے کا حق ہے۔   (یَتْلَو نَہٗ حَقَّ تِلاوَتِہٖ) یعنی سب سے پہلے آدمی کا اس پر ایمان ہو پھر اسے سمجھنے کی کوشش  کرے ، اس میں غور و فکر  کرے ، اس سے نصیحت پذیر ہو اور اس کی رہنمائی کو قبول  کرتے ہوئے اپنی عملی زندگی کو اس  کے مطابق بنائے۔  لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ غیر عربی داں مسلمان ہر وقت ترجمہ  کے ساتھ ہی قرآن پڑھیں۔   ایسا  کرنا ممکن نہیں ہے  کیونکہ نماز میں صرف تلاوت ہی کی جاتی ہے ترجمہ پڑھنے کا وہاں سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔  اصل بات یہ ہے کہ قرآن  کریم کی تلاوت اللہ کا کلام ہونے کی حیثیت سے بجائے خود عبادت ہے اور تقرب کا بہت بڑا ذریعہ کیونکہ جب کوئی شخص اس کتاب پر ایمان رکھتے ہوئے خلوص دل سے اس کی تلاوت  کرتا ہے تو وہ اللہ کو یاد  کرتا ہے اور کلام الہٰی کی تاثیر سے اس پر خشوع طاری ہو جاتا ہے اور یہ بہت بڑی روحانی دولت ہے۔   اسی لیے اس  کے ایک ایک حرف پر اجر ملتا ہے لہٰذا قرآن  کریم کی تلاوت کی اہمیت کو گھٹایا نہیں جا سکتا۔  اس کا جس قدر اہتمام کیا جئے موجب اجر ہو گا۔  اس کی ترغیب قرآن میں بھی دی گئی ہے اور حدیث میں بھی۔   رہے وہ لوگ جو قرآن کی تلاوت تو خوب  کرتے ہیں لیکن کبھی اس کو سمجھنے کی کوشش نہیں  کرتے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے نماز کو لوگ پڑھتے ہیں مگر یہ جاننے کی کوشش نہیں  کرتے کہ وہ اس میں کیا پڑھتے ہیں یہاں تک کہ انہیں سورہ فاتحہ اور رکوع و سجود کی تسبیح  کے معنی بھی معلوم نہیں ہوتے اور نہ وہ یہ جانتے ہیں کہ نماز میں وہ کس چیز کا اقرار  کرتے ہیں اور کس چیز کا انکار۔   جس طرح ایسی نماز ادا تو ہو جاتی ہے لیکن اپنے ثمرات، اپنی برکتوں اور اپنے اجر  کے اعتبار سے ناقص ہوتی ہے اسی طرح تلاوت قرآن سے عبادت کا فائدہ تو ضرور حاصل ہو جاتا ہے لیکن اس  کے معنی و مفہوم کی طرف ے بے پرواہی  کے نتیجہ میں نہ صرف یہ کہ اس عبادت  کے اجر میں  کمی واقع ہو جاتی ہے۔   بلکہ ایسا شخص قرآن سے فیضیاب نہیں ہو پاتا اور اپنی تربیت تزکیہ اور رہنمائی  کے لیے جو تعلق قرآن سے قائم  کرنا چاہیے وہ تعلق قائم نہیں  کر پاتا اور یہ بہت بڑی محرومی ہے۔ کیا ایسے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے یہ نہ پوچھے گا کہ  جب اللہ کی کتاب تمہارے پاس موجود تھی تو تم نے اسے سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ کیا یہ کتاب صرف تلاوت کے لئے اتاری گئی تھی کہ تم اس سے روشنی حاصل کرو؟

۸۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہ نماز کا بالکل محسوس اثر ہے کہ اس سے خیالات میں پاکیزگی اور عمل میں پرہیز گاری آ جاتی ہے۔ تاہم کتنے لوگ ایسے ہیں جو نمازی بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا بھی۔ مگر یہ ان کا اپنا قصور ہے کیوں کہ نماز وہی اثر انداز ہوتی ہے جو خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کی گئی ہو اور  اللہ تعالیٰ نے ان ہی اہلِ ایمان کو فلاحِ آخرت کی ضمانت دی ہے جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو سورۂ مومنون، آیت نمبر ۲ اور نوٹ نمبر ۲)۔

اگر نماز خشوع سے خالی ہو تو گناہوں سے بچنے کا جذبہ پروان نہیں چڑھتا۔

۸۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔   اس سے اللہ تعالیٰ کے ذکر کی اہمیت واضح ہوتی ہے کہ یہ عظیم عبادت ہے اور نماز اللہ کے ذکر کی بہترین شکل ہے۔ ذکر میں اللہ کو یاد کرنا اور زبان سے  اُس کا نام جپنا اور اس کے گُن گانا، سب شامل ہے۔ جو شخص اللہ کو یاد کرتا ہے ، وہ اپنے رب سے تعلّق استوار رکھتا ہے اور اس کے اس کے غیر معمولی اثرات اس کے قلب و ذہن اور اس کی عملی زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔ پھر اللہ کے ذکر میں جو حلاوت اور جو سرور و کیف ہے، اس کا اندازہ ان لوگوں کو ہرگز نہیں ہو سکتا جن کو اس سے رغبت نہیں ہوتی۔

علامہ ابنِ تیمیہ نے ذکرِ الٰہی کو بڑے اچھے انداز سے واضح کیا ہے، فرماتے ہیں:

’’نماز بے حیائی اور منکر جیسی ناپسندیدہ چیزوں کو دفع کرتی ہے اور اللہ کی یاد کو جو ایک  محبوب چیز ہے، مستحضر (تازہ) کرتی ہے۔ اور اس محبوب چیز کا حاصل ہو جانا پسندیدہ چیزوں کو دفع کرنے کے مقابلے میں بڑی چیز ہے کیوں کہ ذکرِ الٰہی  اللہ کی عبادت ہے اور اللہ کے لئے قلب کی عبادت مقصود بالذات ہے، جب کہ برائی کا اس سے دور رہنا  طبعاً دوسری چیز کے لئے مقصود ہے،‘‘ )مجموعہ فتاویٰ ابنِ تیمیہ، ج ۱ ۱۰، ص ۱۸۸۔ مزید تشریح کے لئے  دیکھئے سورۂ ظٰہٰ،  نوٹ ۱۶)

۸۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سورہ اس وقت نازل ہوئی جب کہ مسلمانوں کا ایک گروہ مشرکین کے ظلم و ستم کی وجہ سے ہجرت کر کے حبشہ پہنچ گیا تھا جہاں نصاریٰ کی حکومت تھی۔ اس طرح مسلمانوں کو نصاریٰ کے سامنے قرآن کی دعوت پیش کرنے کا  موقع مل گیا تھا۔ اسی مناسبت سے  یہاں یہ ہدایت دی گئی کہ ان سے بہتر طریقے پر بحث کریں اور اس کی وضاحت  آگے فرما دی کہ بحث کا آغاز نقطۂ اتفاق سے  کیا جائے اور وہ یہ کہ جو کتابیں نازل ہوئی تھیں ان پر ہمارا بھی ایمان ہے  اور یہ کہ ہمارا تمہارا خدا  ایک ہے ۔ پھر جو کتاب آج اس نے نازل کی ہے اس پر ہم کیوں نہ ایمان لائیں؟ اور اگر دین کی حقیقت تسلیم و رضا ہے تو ہم اس کے رسول  پر جو سب جو اس نے ہم سب کی ہدایت کے لئے بھیجا ہے، ایمان لا کر اس کے حضور سرِ تسلیم خم کیوں نہ کریں۔

دعوت کے سلسلے میں بحث کا بہترین طریقہ اور عمدہ اسلوب اختیار کرنے کی ہدایت ایک اصولی ہدایت ہے۔ مناظرہ بازی اور فلسفیانہ بحثوں سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا، البتہ سنجیدہ بحث ا استدلال کی قوّت اور اپیل کرنے کا انداز دلوں کو فتح کر لیتا ہے۔مزید تشریح کے لئے دیکھئے سورۂ نحل، نوٹ ۱۸۶۔

رہے ظالم یعنی وہ لوگ جو سوجھ بوجھ سے کام لینے کے لئے تیار نہیں ہیں اور اہنی غلط روی پر قائم رہنا چاہتے ہیں تو دعوت کا کتنا ہی بہترین طریقہ اختیار کیا جائے، وہ کوئی اثر قبول کرنے والے نہیں ہیں۔

۸۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جس طرح ہم اس سے پہلے کتاب نازل کرتے رہے ہیں، اسی طرح اے پیغمبر ! یہ کتاب ہم نے  تم پر نازل کی ہے۔

۸۸ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  قرآن  ’کتاب عطا کی گئی تھی‘ اور ’کتاب دی گئی تھی‘ کو ایک خاص فرق کے ساتھ استعمال کرتا ہے۔ ’کتاب عطا کی گئی تھی‘ سے مراد وہ اہلِ کتاب ہیں جو کتابِ الٰہی کے قدر داں بنے اور ’کتاب دی گئی تھی‘ سے عام اہلِ کتاب مراد ہیں۔

یہاں جن اہلِ کتاب کے ایمان لانے کا ذکر ہوا ہے وہ ان میں کہ مخلص لوگ تھے جو کتابِ الٰہی پر پہلے ہی سے ایمان رکھتے تھے اور جب قرآن اُن کے سامنے یا تو وہ اپس پر بھی ایمان لائے۔

خاص طور سے اشارہ حبش کے ان نصاریٰ کی طرف ہے جو قرآن اور اس کے پیغمبر پر ایمان لائے تھے اور ان میں وہاں کا بادشاہ نجاشی پیش پیش تھا۔

۸۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی مشرکین مکہ میں سے ایسے بھی لوگ نکل رہے ہیں  جو ایمان لاتے ہیں۔

۹۰ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں کافر سے مراد وہ لوگ ہیں جو ایمان لانے کے لئے کسی بھی طرح تیار نہیں ہیں یعنی کٹر کافر۔

۹۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  حضرت محمدﷺ کے رسول ہونے کی اس سے زیادہ واضح دلیل اور کیا ہو سکتی ہے کہ آپ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے  تھے بلکہ امّی تھے۔ اہلِ کتاب کے پاس جو تورات اور انجیل تھی، اس کو نہ آپ نے پڑھا تھا اور نہ ماس میں سے کسی کبھی کوئی چیز اپنے ہاتھ سے نقل کی ۔ اور یہ بات مشرکینِ مکہ اور اہلِ کتاب سب کو معلوم تھی، اس لئے کسی نے بھی آپ نے امی ہونے کی تردید نہیں کی۔ ایسی صورت میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن جیسی کتاب جو علوم و معارف کا خزانہ ہے اور انبیائی تاریخ  کے واقعات کو بھی کمال صحت کے ساتھ پیش کر رہی  ہے، جو دلوں کے لئے نسخۂ شفا بھی ہے اور اخلاقِ حسنہ سے انسان کو سنوارتی بھی ہے اور جس کی ایک ایک بات جچی تلی  اور ایک ایک لفظ لعل و گہر ہے، اور جس میں خدا کی صحیح معرفت بھی بخشی گئی ہے اور انسان کی رہنمائی کا سامان بھی کیا گیا ہے۔اس شان کی کتاب کا پیش کرنا ایک امّی کے لئے کیوں کر ممکن ہوا؟ اس سوال کا جواب اس کے  سوا کچھ نہیں ہو سکتا کہ قرآن آپؐ کی تصنیف نہیں  بلکہ اللہ کی نازل کردہ کتاب ہے۔ اور یہ آپؐ کی رسالت کا بین ثبوت ہے۔

نبوت کے بعد آپؐ نے پڑھنا لکھنا نہیں سیکھا تھا اور نہ کسی صحیح حدیث کو اس بات کی تائید میں پیش کیا جا سکتا ہے کہ آپؐ بعد میں امی نہیں رہے تھے۔ آپ کا امی ہونا معیوب نہیں بلکہ قابلِ فخر ہے، کیوں کہ امی ہونے کے باوجود قرآن جیسی حکیمانہ کتاب کو پیش کرنا کھلا معجزہ ہے جو قیامت تک کے لئے ہے۔

مزید تشریح کے لئے دیکھئے سورۂ اعراف نوٹ ۲۲۴۔

۹۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہ قرآن کے کتابَ الٰہی ہونے کا ایک اور ثبوت ہے۔ قرآن کی دعوت فطرت کی پکار ہے اور ایک سلیم الفطرت شخص  اس کی آیتوں کو سن کر محسوس کرتا ہے کہ یہ ایک ممتاز کلام ہے۔ اور یہ اللہ ہی ہے جو بول رہا ہے۔ پھر اگر اسے ان کتابوں کا بھی علم ہو جو اس سے پہلے نازل ہو چکی ہیں تو وہ یہ بھی محسوس کرے گا کہ دونوں کا سر چشمہ ایک ہی ہے۔ گویا اہلِ علم قرآن کی آیتوں کو اپنے دل کی بات سمجھتے ہیں؂

دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا

میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

بالفاظ دیگر قرآن کی آیتیں اہلِ علم کے لوحِ قلب پر لکھی ہوئی ہیں اور یہ اس کے کلامِ الٰہی ہونے کی واضح شہادت ہے۔

۹۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مراد حسّی معجزے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

 

(۳۰)۔ سورہ الروم

 

 

(۶۰ آیات)

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم  کے نام سے

 

                   تعارف

 

نام

 

سورہ کا آغاز ہی رومیوں کے بارے میں ایک پیشین گوئی سے ہوا ہے ۔ اس مناسبت سے اس کا نام “اَلرُّوم” ہے ۔

 

زمانۂ نزول

 

مکی ہے اور رومیوں کے قریبی علاقہ میں مغلوب ہونے کے بعد نازل ہوئی یعنی نبوت کے ساتویں سال ۶۱۶ ء میں۔

 

مرکزی مضمون

 

آخرت کا یقین پیدا کرنا ہے ۔ یہ یقین اس دنیا کی اصل حقیقت کو جاننے سے پیدا ہوتا ہے نیز اس بات سے بھی کہ اللہ کا ہر وعدہ پورا ہو کر رہتا ہے ۔

 

نظم کلام

 

آیت ۱ تا ۷ میں رومیوں کی مغلوبی کے بعد ان کے غالب ہونے کی پیشین گوئی کی گئی ہے اور اس مناسبت سے کار ساز حقیقی اور آخرت کی طرف ذہنوں کو موڑا گیا ہے ۔

آیت ۸ تا ۲۷ میں اللہ کی ان نشانیوں پر غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے جو زمین و آسمان میں پھیلی ہوئی ہیں اور جو آخرت کا یقین پیدا کرتی ہیں۔

آیت ۲۸ تا ۵۴ میں توحید کے حق ہونے اور شرک کے باطل ہونے پر استدلال کیا گیا ہے اور یہ  واضح کیا گیا ہے کہ دین توحید سین فطرت ہے نیز اس دین پر ایمان لانے والوں کو اللہ کی اطاعت کے کاموں میں سرگرم رہنے اور اس کی معصیت کے کاموں سے بچنے کی ہدایت کی گئی ہے اور جو لوگ اس طرح زندگی گزاریں گے انہیں  بہترین انجام کی خوش خبری سنائی گئی ہے ۔

آیت ۵۵ تا ۶۰ اختتامی آیات ہیں جن میں کلام کا رخ پھر قیامت اور آخرت کی طرف مڑ گیا ہے ۔

 

                   ترجمہ

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم  کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الف۔ لام۔ میم  ۱ *

۲۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رومی مغلوب ہو گئے  ۲ *

۳۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قریب کے علاقہ میں۔ اور وہ اپنی مغلوبیت کے بعد غالب آ جائیں گے  ۳ *

۴۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چند سال کے اندر  ۴ *۔ اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی  ۵ * اور اس دن اہل ایمان خوش ہوں گے  ۶ *

۵۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کی نصرت  ۷ * سے ۔ وہ جسے چاہتا ہے نصرت عطاء فرماتا ہے ۔ وہ غالب ہے رحمت والا  ۸ *۔

۶۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے  ۹ *۔ اللہ  وعدہ خلافی نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں  ۱۰ *۔

۷۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دنیا کی زندگی کے صرف ظاہر کو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ غافل ہیں  ۱۱ *۔

۸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا انہوں نے اپنے نفس میں غور نہیں کیا؟ ۱۲ * اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان کی تمام موجودات کو  (مقصد) حق کے ساتھ ۱۳ * اور ایک مدت مقرر کے لیے پیدا کیا ہے  ۱۴ *۔ مگر بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں۔

۹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں  کہ دیکھ لیتے  ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں  ۱۵ *۔ وہ ان سے زیادہ طاقتور تھے ۔ انہوں ے زمین کو زیادہ بویا جوتا تھا اور ان سے زیادہ اسے آباد کیا تھا  ۱۶ *۔ ان کے پاس ان کے رسول روشن نشانیاں لے کر آئے تھے ۔ پھر اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے ۔

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو ان لوگوں کا انجام جنہوں نے برائی کی تھی برا ہوا۔ اس لیے کہ انہوں ے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا تھا اور ان کا مذاق اڑاتے رہے ۔

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ ہی پیدائش کا آغاز کرتا ہے پھر وہ اس کا اعادہ کرے گا  ۱۷ * پھر تم اسی طرف لوٹائے جاؤ گے ۔

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جس دن قیامت قائم ہو گی مجرم مایوس ہو کر ہکا بکا رہ جائیں گے  ۱۸ *۔

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں سے کوئی ان کا سفارشی نہ ہو گا اور وہ اپنے شریکوں کا انکار کریں گے ۔  ۱۹ *

۱۴۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس دن وہ گھڑی قائم ہو گی اس دن لوگ الگ الگ  ہو جائیں گے ۔  ۲۰ *

۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہوں گے وہ ایک باغ  ۲۱ * میں خوش و خرم رکھے جائیں گے۔

۱۶۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جنہوں نے کفر کیا ہو گا اور ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا ہو گا ۲۲ *۔ وہ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے ۔

۱۷۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو اللہ کی تسبیح کرو شام کے وقت بھی اور صبح کے وقت بھی  ۲۳ *۔

۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اسی کے لیے حمد ہے آسمانوں اور زمین میں  ۲۴ * اور  (اس کی تسبیح کرو) دن کے آخری حصہ میں بھی  ۲۵ * اور اس وقت بھی جب ظہر ہو ۲۶ *۔

۱۹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے  ۲۷ * اور زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے  ۲۸ *۔ اسی طرح تم بھی نکالے جاؤ گے  ۲۹ *۔

۲۰۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا  ۳۰ * پھر یکایک تم بشر بن کر پھیلنے لگے  ۳۱ *۔

۲۱۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے بیویاں پیدا کیں  ۳۲ *۔ تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو ۳۳ *۔ اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کیں  ۳۴ *۔ یقیناً اس کے اندر  نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں۔

۲۲۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی خلقت  ۳۵ * اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے  ۳۶ *۔ یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں  ۳۷ *۔

۲۳۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس کی نشانیوں میں سے رات اور دن میں تمہارا سونا  ۳۸ *۔ اور اس کے فضل کو تلاش کرنا ہے  ۳۹ *۔ یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو سنتے ہیں  ۴۰ *۔

۲۴۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس کی  نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ تم کو بجلی کی چمک دکھاتا ہے جو خوف بھی پیدا کرتی ہے اور امید بھی  ۴۱ * اور آسمان سے پانی برساتا ہے اور زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندگی بخشتا ہے یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔

۲۵۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ آسمان و زمین اس کے حکم سے قائم ہیں  ۴۲ *۔ پھر جب وہ تم کو زمین سے پکارے گا تم اچانک نکل پڑو گے  ۴۳ *۔

۲۶۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں اسی کے مملوک ہیں  ۴۴ *۔ سب اسی کے تابع اور فرمان ہیں  ۴۵ *۔

۲۷۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہی تخلیق کا آغاز کرتا ہے اور وہی اس کا اعادہ کرے گا (لوٹائے گا) اور یہ اس کے لیے زیادہ آسان ۴۶ * ہے ۔ آسمان اور زمین میں اس کی شان اعلیٰ ہے  ۴۷ *۔ اور وہ غالب ہے حکمت والا ۴۸ *۔

۲۸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تمہارے لیے تمہاری اپنی ذات سے متعلق مثال بیان فرماتا ہے ،  کیا تمہارے مملوکوں  (غلاموں) میں سے ایسے بھی ہیں جو ہمارے دیے ہوئے مال میں تمہارے شریک ہوں کہ تم اور وہ اس میں برابر قرار پائیں۔ اور تم ان سے اسی طرح ڈرتے ہو جس طرح اپنوں سے ڈرتے ہو ۴۹ *۔ اس طرح ہم اپنی آیتوں کو کھول کر بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔

۲۹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر یہ ظالم ۵۰ * بے جانے بوجھے اپنی خواہشات کے پیچھے چل رہے ہیں  ۵۱ *۔ تو جن کو اللہ نے گمراہ کر دیا ہو ان کو کون راستہ دکھا سکتا ہے ؟  ۵۲ * ایسے لوگوں کا کوئی مدد گار نہ ہو گا۔

۳۰۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پس تم اپنا رخ اس دین کی طرف کر لو یکسو ہو کر  ۵۳ *۔ وہ فطری دین جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا  ۵۴ *۔ اللہ کی بنائی ہوئی ساخت میں کوئی تبدیلی نہیں  ۵۵ *۔ یہی صحیح دین ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں  ۵۶ *۔

۳۱۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  (اپنا رخ اس دین کی طرف کر لو) اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے  ۵۷ * اور اس سے ڈرو  ۵۸ * اور نماز قائم کرو اور مشرکین میں سے نہ ہو جاؤ ۵۹ *۔

۳۲۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جنہوں نے اپنے دین میں تفرقہ ڈالا اور گروہوں میں بٹ گئے  ۶۰ *۔ ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے وہ اس میں مگن ہے  ۶۱ *۔

۳۳۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی طرف رجوع ہو کر پھر جب وہ اپنی رحمت کا ذائقہ چکھاتا ہے تو ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے  ۶۲ *۔

۳۴۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تاکہ جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا اس کی ناشکری کریں۔ تو مزے کر لو عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا۔

۳۵۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہم نے کوئی سند ان پر نازل کی ہے جو ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں پر ناطق ہے  ۶۳ *۔

۳۶۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب ہم لوگوں کو رحمت کا ذائقہ چکھاتے ہیں تو وہ اترانے لگتے ہیں اور جبان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت آتی ہے  ۶۴ * تو وہ فوراً مایوس ہو جاتے ہیں  ۶۵ *۔

۳۷۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ دیکھتے ہیں کہ اللہ ہی رزق کشادہ کرتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور نپا تلا کر دیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے ۔ یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں  ۶۶ *۔

۳۸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو قرابت دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق  ۶۷ *۔ یہ بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو اللہ کی خوشنودی چاہتے ہیں  ۶۸ *۔ اور وہی فلاح پانے والے ہیں  ۶۹ *۔

۳۹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جو سود تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے مال میں اضافہ ہو تو وہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتا ۷۰ * اور زکوٰۃ تم اللہ کی رضا جوئی کے لیے دیتے ہو تو یہی لوگ ہیں  (اپنے مال کو) بڑھانے والے  ۷۱ *۔

۴۰۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ ہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر تمہیں رزق دیا پھر تم کو موت دیتا ہے پھر تم کو زندہ کرے گا۔ کیا تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے جو ان میں سے کوئی کام بھی کرتا ہو؟  ۷۲ * پاک اور برتر ہے وہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔

۴۱۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا ہے لوگوں کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے تاکہ وہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزا چکھائے تاکہ وہ رجوع کریں  ۷۳ *۔

۴۲۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہو زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جو پہلے گزر چکے ہیں  ۷۴ *۔ ان میں سے اکثر مشرک تھے  ۷۵ *۔

۴۳۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو تم اپنا رخ اس دین قیم  (صحیح دین) کی طرف کیے رہو قبل اس کے کہ اللہ کی طرف سے وہ دن آئے جو ٹل نہیں سکتا۔ اس دن وہ الگ الگ ہو جائیں گے  ۷۶ *۔

۴۴۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس نے کفر کیا اس کا کفر اسی پر پڑے گا اور جنہوں نے نیک عمل کیا وہ اپنے ہی لیے  (کامیابی کی) راہ ہموار کر رہے ہیں  ۷۷ *۔

۴۵۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تاکہ وہ اپنے فضل سے ان لوگوں کو جزا دے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ۔ یقیناً وہ کافروں کو پسند نہیں کرتا  ۷۸ *۔

۴۶۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ ہواؤں کو بھیجتا ہے جو خوش خبری دیتی ہیں۔ تاکہ وہ تمہیں اپنی رحمت کا ذائقہ چکھائے ۷۹ *۔ اور تاکہ کشتیاں اس کے حکم سے چلیں اور تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم اس کے شکر گزار بنو۔

۴۷۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے تم سے  پہلے بھی رسول ان کی قوموں کی طرف بھیجے تھے اور وہ ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے تھے ۔ پھر ہم نے ان لوگوں کو سزا دی جنہوں نے جرم کیا اور ہم پر لازم تھی مؤمنوں کی نصرت  ۸۰ *۔

۴۸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے اور وہ بادل اٹھاتی ہیں پھر وہ جس طرح چاہتا ہے ان کو آسمان میں پھیلاتا ہے اور ان کے ٹکڑے کر دیتا ہے ۔ پھر تم ان کے اندر سے بارش کو نکلتے ہوئے دیکھتے ہو۔ پھر جب وہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے برساتا ہے تو وہ یکایک خوش ہو جاتے ہیں۔

۴۹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حالانکہ اس سے قبل  ۸۱ * وہ اس کے برسائے جانے سے پہلے مایوس تھے  ۸۲ *۔

۵۰۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو دیکھو اللہ کی رحمت کے آثار کہ کس طرح وہ زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ یقیناً وہ مردوں کو زندہ کرنے والا ہے  ۸۳ * اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔

۵۱۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اگر ہم باد (نا موافق) بھیج دیں اور وہ اس کو  (اپنی کھیتی کو)  زرد پڑی ہوئی پائیں تو اس کے بعد وہ کفر کرتے رہ جائیں گے  ۸۴ *۔

۵۲۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو تم مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہو جب کہ وہ پیٹھ پھیرے چلے جا رہے ہوں  ۸۵ *۔

۵۳۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور نہ تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کر راہ پر لا سکتے ہو۔ تم تو ان ہی کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں اور اطاعت قبول کرتے ہیں  ۸۶ *۔

۵۴۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ ہی ہے جس نے تم کو کمزور حالت میں پیدا کیا پھر اس کمزوری کے بعد تمہیں قوت بخشی پھر اس قوت کے بعد تم پر ضعف اور بڑھاپا طاری کر دیا۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے  ۸۷ *۔ اور وہ سب کچھ سننے والا اور بڑی قدرت رکھنے والا ہے ۔

۵۵۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جس دن قیامت قائم ہو گی مجرم قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ وہ ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے اس طرح وہ دھوکا کھاتے رہے ہیں ؟  ۸۸ *۔

۵۶۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جن کو علم اور ایمان عطا ہوا تھا وہ کہیں گے کہ اللہ کے نوشتہ  (ریکارڈ) میں تم اٹھائے جانے کے دن  (روز حشر) تک رہے ہو  ۸۹ *۔ تو یہ اٹھائے جانے کا دن ہے لیکن تم جانتے نہ تھے ۔

۵۷۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس دن ظالموں کے لیے ان کی معذرت بے سود ہو گی اور ان سے توبہ کا مطالبہ نہیں  کیا جائے گا۔  ۹۰ *

۵۸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے اس قرآن میں لوگوں  (کی فہمائش) کے لیے ہر طرح کے مضامین بیان کر دیے ہیں اور  (اے نبی !) خواہ تم کوئی نشانی لے آؤ جنہوں نے کفر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے وہ یہی کہیں گے کہ تم بالکل جھوٹے ہو ۹۱ *۔

۵۹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس طرح اللہ مہر لگا دیتا ہے ان لوگوں کے دلوں پر جو علم سے بے بہرہ رہتے ہیں  ۹۲ *۔

۶۰۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو صبر کرو۔ یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے اور تمہیں ہر گز نے وزن نہ پائیں وہ لوگ جو یقین نہیں رکھتے  ۹۳ *۔

تفسیر

۱۔۔۔۔۔۔ حروف مقطعات کی تشریح کے لیے دیکھیے سورہ برأۃ  نوٹ ۱ سورہ یونس نوٹ ۱ اور سورہ عنکبوت نوٹ ۱۔ اس سورہ میں “ا” کا اشارہ آیات  (نشانیوں) کی طرف ہے جس کی طرف بار بار متوجہ کیا گیا ہے مثال کے طور پر آیت ۱۰، ۲۰، ۲۱، ۲۲،  ۲۴،  ۳۵،  ۴۶ وغیرہ۔

“ل” کا اشارہ لِقاءِ رَبِّھِمْ  (اپنے رب کی ملاقات،  آیت ۸) اور لِقاءِ الْاٰخِرَۃِ  (آخرت کی ملاقات آیت ۱۶) کی طرف ہے ۔ اور “م” کا اشارہ مومنین کی طرف ہے جن کی نصرت کا وعدہ آیت ۴،  ۵،  اور ۳۵ میں کیا گیا ہے گویا یہ سورہ دلائل توحید،  آخرت کے یقین اور مومنوں کی نصرت ان تین اہم مضامین پر مشتمل ہے ۔

۲۔۔۔۔۔۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے زمانہ میں دو عظیم سلطنتیں تھیں ایک فارس  Persian Empire  جو ایران اور عراق پر مشتمل تھیں اور دوسری روم (Roman Empire) جو فلسطین،  شام،  ترکی وغیرہ پر مشتمل تھی اور جس کا دار السلطنت قسطنطنیہ تھا۔  رومی اہل کتاب اور عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے تھے ، مگر داخلی بغاوت کی وجہ سے ان کی سلطنت کافی کمزور ہو گئی تھی۔ اہل فارس مجوسی یعنی آتش پرست تھے ۔ مگر ان کو رومیوں کی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملا اور انہوں نے پے درپے حملے کر کے شام اور فلسطین کے علاقہ پر قبضہ کر لیا یہاں تک کہ نبوت کے ساتویں سال یعنی ۶۱۶ ء میں وہ عرب کے شمالی سرحد تک پہنچ گئے جہاں رومیوں کا قبضہ تھا۔ رومیوں کی شکست سے مشرکین مکہ بہت خوش ہوئے اور نہیں مسلمانوں پر طنز کرنے کا موقع ملا کہ دیکھو تمہاری طرح یہ بھی کتاب الٰہی کے ماننے والے ہیں۔ اگر یہ حق پر ہوتے تو شکست سے دوچار نہ ہوتے ۔ ان کی ہمدردیاں اہل فارس کے ساتھ تھیں کیونکہ ان دونوں کا مذہب مشرکانہ تھا۔

۳۔۔۔۔۔۔ قریبی علاقہ سے مراد شام اور عرب کی درمیان کی سرحد ہے جو اذرعات کہلا تی تھے ۔ یہ تبوک سے اوپر کا علاقہ ہے ۔ یہ علاقہ رومیوں کے زیر تسلط تھا اور اس علاقہ میں لڑائی کا مطلب یہ تھا کہ جنگ عرب کے دروازے پر پہنچ گئی ہے ۔ ظاہر ہے یہ نہایت تشویشناک صورت حال تھی۔ پھر جب اہل فارس کے ہاتھوں رومی مغلوب ہوئے تو مشرکین مکہ خوشی سے پھولے نہ سمائے اور ان کی مغلوبیت میں مسلمانوں کی مغلوبیت اور اہل فارس کی فتح میں اپنی فتح کے خواب دیکھنے لگے ۔ مگر ان آیتوں نے مستقبل میں پیش آنے والے واقعہ کی خبر سنا کر لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ اس آیت میں صریح پیشین گوئی کی گئی ہے کہ رومی اگرچہ مغلوب ہو گئے ہیں مگر وہ غالب آئیں گے ۔

۴۔۔۔۔۔۔ متن میں لفظ “بِضْع”  (چند) استعمال ہوا ہے جو عربی میں تین سے جو تک کے لیے بولا جاتا ہے ۔ گویا اس لفظ کے ذریعہ مدت کا تعین بھی دیا گیا کہ رومی نو سال کے اندر اندر غالب آ جائیں گے ۔

واضح رہے کہ اس وقت تک نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی دعوت رومیوں تک نہیں پہنچی تھی اور وہ تورات و انجیل پر ایمان لانے کے مدعی تھی اس لیے ان کی حیثیت ایک مسلمان گروہ ہی کی تھی۔ اسی بناء پر قرآن نے ان کی تائید میں پیشین گوئی کی اور اسی بنا پر مکہ کے اہل ایمان ان کے حامی تھے ۔ اس سے یہ اصولی رہنمائی ملتی ہے کہ اگر ایک ملک کے مسلمانوں پر دوسرے ملک کے غیر مسلم حملہ آور ہوں تو دنیا کی مسلمانوں کو اس ملک کے مسلمانوں کی  حمایت کرنا چاہیے جن کے خلاف غیر مسلموں کافروں یا بت پرستوں نے اقدام کیا ہے کیوں کہ مسلمان خواہ وہ ایک بگڑی ہوئی قوم ہی کیوں نہ ہوں ان کا کافروں کے ہاتھوں مغلوب ہونا ہر گز پسندیدہ امر نہیں ہے نیز اس سے دین اسلام کی بھی سبکی ہوتی ہے ۔ اس سے مزید یہ رہنمائی بھی ملتی ہے کہ مسلمانوں کے کسی ملک پر مشرکوں اور کافروں کا تسلط خلاف حق ہے کیوں کہ اس سے شرک اور کفر کو اپنا اثر ڈالنے کا موقع ملتا ہے اور معاشرہ میں بگاڑ کے لیے راہ ہموار ہو جاتی ہے ۔ لہٰذا اس کی حمایت ہر گز نہیں کی جا سکتی۔

۵۔۔۔۔۔۔ یعنی  پہلے جو رومی مغلوب ہوئے وہ اللہ ہی کے حکم سے ہوئے اور بعد میں جب وہ غالب ہوں گے تو اللہ ہی کے حکم سے ہوں گے ۔ مطلب یہ ہے کہ غلبہ و اقتدار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے محروم کرتا ہے ۔ اس کی طرف سے فتح و شکست کے جو فیصلے ہوتے ہیں وہ عدل اور حکمت پر مبنی ہوتے ہیں۔

رومیوں نے اپنے دین  (اسلام) میں نئی نئی باتیں پیدا کر لی تھیں اور خانہ جنگی میں مبتلا ہو گئے تھے اس لیے ان پر ان کے دشمنوں کو مسلط کر دیا گیا تاکہ وہ ہوش میں آئیں اور اپنی اصلاح کر لیں۔ اسی طرح بعد میں اہل فارس کو جو شکست ہوئی وہ اس لیے کہ ظالموں کا زور ٹوٹے ۔

۶۔۔۔۔۔۔ یہ اہل ایمان کو خوش خبری سنا دی گئی کہ وہ عنقریب رومیوں کے غالب آنے پر خوشیاں منائیں گے ۔ مگر اس میں اس سے بڑھ کر ایک اور خوشی کی طرف بھی اشارہ تھا اور وہ تھی اہل ایمان کے کفار مکہ پر غالب آنے کی خوشی۔ چنانچہ  ۲ھ۔ ۵۲۴ ء میں بدر کا واقعہ پیش آیا جس میں اہل ایمان کی فتح ہوئی اور کفار مکہ کو بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ادھر رومی بھی اسی سال فارس پر غالب آ گئے جس کی صورت یہ ہوئی کہ شاہ روم ہر قل(Hercules)   نے جو قسطنطنیہ میں محصور ہو کر  رہ گیا تھا اپنی فوج کو از سر نو تیار کیا اور ۶۱۳ ء میں ایک منصوبہ کے تحت آزر بائجان کی راہ سے فارس پر حملہ کر دیا اور اندر داخل ہو کر مجوسیوں کا سب سے بڑا آتش کدہ مسمار کر دیا۔ اس وقت خسرو  (Khosrow II) فارس کا بادشاہ تھا۔ وہ اپنی اس شکست کو فتح میں تبدیل نہ کر سکا۔ رومیوں کو اہل فارس پر یہ غلبہ ۶۲۳ ء یا ۶۲۴ میں حاصل ہوا اور اس کے بعد انہوں نے چند سال کے اندر اندر فلسطین اور اپنے تمام علاقے فارس والوں سے واپس لے لیے ۔  (تاریخی تفصیلات کے لیے دیکھیے انسایکلو پیڈیا برٹانیکا۔ ج ۸ ص۔ ۸۷۱ اور،  ج ۱۰ ص ۴۵۴)

مختصر یہ کہ ۲ ھ یا ۶۲۴ ء وہ سال ہے جس میں ایک طرف رومیوں کو اہل فارس پر غلبہ حاصل ہوا اور دوسری طرف نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ اہل ایمان کو کفار مکہ پر فتح نصیب ہوئی۔ اس طرح قرآن کی  پیشین گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی اور اہل ایمان کے لیے دوہری خوشی کا سامان ہوا۔

قرآن کی اس پیشین گوئی کا نو سال کے اندر اندر پورا ہو جاتا اس کی اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی صداقت کی بہت بڑی دلیل ہے ۔ حدیث میں آتا ہے کہ اس پیشین گوئی کے پورا ہو جانے پر بہت سے لوگ ایمان لے  آئے۔

۷۔۔۔۔۔۔ یعنی اہل ایمان کو یہ خوشی نصرت الٰہی کی بنا پر ہو گی۔ اس بنا پر نہیں کہ رومیوں نے اپنے جوہر دکھا کر فتح حاصل کر لیا کیوں کہ اہل ایمان اللہ کی کارسازی پر یقین رکھتے ہیں اور اس کی نصرت کے امیدوار ہوتے ہیں۔ رومیوں کو فارس پر جو فتح حاصل ہوئی اس کے علاوہ اہل ایمان نے جنگ بدر میں نصرت الٰہی کا جو مشاہدہ کیا وہ بڑا روح پرور اور سرور و انبساط کا باعث تھا۔

۸۔۔۔۔۔۔ اللہ غالب ہے اس لیے وہ جس کی مدد کرنا چاہتا ہے اس کو کوئی روک نہیں سکتا اور وہ رحیم ہے اس لیے وہ اہل ایمان پر ضرور رحم فرمائے گا اور ان کو اپنی نصرت سے نوازے گا۔

۹۔۔۔۔۔۔ یعنی رومیوں کے غالب آنے اور اہل ایمان کے نصرت الٰہی پر خوشیاں منانے کا جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے وہ لازماً پورا ہو کر رہے گا۔ اور تاریخ شاہد ہے کہ یہ وعدہ پورا ہو کر رہا اور قرآن کا وحی الٰہی ہونا ایک حقیقت واقعہ بن کر سامنے آیا۔

۱۰۔۔۔۔۔۔ رومیوں کے غالب آنے کی جو پیشین گوئی قرآن میں کی گئی۔ وہ ایک مثال ہے اللہ کے وعدہ کے پورا ہونے کی تاکہ لوگ اچھی طرح سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جن جن باتوں کے وعدے کیے ہیں وہ سب پورے ہو کر رہیں گے مگر اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ان وعدوں کو خاطر ہی میں نہیں لاتے ۔

۱۱۔۔۔۔۔۔ اس آیت میں بڑی گہری بات ارشاد فرمائی گئی ہے ۔ دنیا کی زندگی کے بارے میں لوگوں کا علم بالکل سطحی ہے کیونکہ ان کی نگاہیں اس کے صرف ظاہر پر آ کر ٹک گئی ہیں اور اس کا باطنی پہلو ان کی نظروں سے اوجھل ہے ۔ اگر ان کی نگاہیں دور رس ہوتیں تو وہ آخرت کو پا لیتے مگر خوبصورت چھلکے کو دیکھ کر وہ اپنا دل بہلا رہے ہیں اور مغز کی طرف سے بے پرواہ ہیں۔ اس لیے ان کے حصہ میں دنیا کے چھلکے ہی آتے ہیں۔ دنیا میں قوموں کے عروج و زوال اور فتح و شکست کے جو واقعات پیش آتے ہیں ان کی مشت پر جو حقیقتیں ہوتی ہیں ان کو دیکھنے سے وہ قاصر رہتے ہیں اور سطحی رائے قائم کر بیٹھتے ہیں۔

موجودہ سائنس نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ ایک ذرہ محض ذرہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے اندر الکٹرون،  پروٹون اور نیٹرون پر مشتمل ایک پورا نظام ہوتا ہے اور اس میں زبردست قوت پوشیدہ ہوتی ہے چنانچہ ایٹمی توانائی اسی دریافت کا نتیجہ ہے ۔ تعجب ہے کہ ان سب تجربات اور مشاہدات کے بعد بھی انسان کی آنکھیں نہیں کھلتیں اور وہ حیات دنیا کی ظاہری چمک دمک پر ایسا فریفتہ ہو جاتا ہے کہ اس کے اندر جھانک کر دیکھنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا ؛۔ اگر وہ حیات دنیا کے باطنی حقائق کا سراغ لگانے کی کوشش کرتا تو اس پر آخرت ضرور منکشف ہوتی اور وحی الہٰی کی روشنی میں وہ دنیا کے باطن کو اسی طرح دیکھ لیتا جس طرح وہ خاص قسم کی شعاعوں  (اکسریز (X-Rays کے ذریعہ جسم کے اندرونی حصوں کو دیکھ لیتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ بہتر طریقہ پر دیکھ لیتا۔

۱۲۔۔۔۔۔۔ یعنی آخرت کے منکرین اپنے اندر جھانک کر کیوں نہیں دیکھتے کہ ان کا وجدان ان سے کیا کہہ رہا ہے ۔ آیا یہ کہ نہ ان کی پیدائش کا کوئی مقصد ہے اور نہ اس کائنات کی پیدائش کا۔ اور انسان اچھے کام کرے یا برے نتیجہ صفر ہے یا یہ کہ انسان فطرتاً ایک ذمہ دار مخلوق ہے اس لیے اس کی پیدائش کا بھی ایک مقصد ہے اور چونکہ یہ کائنات نہایت حکیمانہ ڈھنگ سے چل رہی ہے اس لیے اس کی پیدائش کی بھی ایک غرض و غایت ہے اور انسان کے اچھے کام کا نتیجہ اچھا نکلنا چاہیے اور برے کام کا برا۔ اگر انسان اپنے وجدان پر غور کرے تو وہ اسے اس دوسری بات ہی کی تائید میں پائے گا اور یہ جزا اور سزا کی تائید میں انسان کے وجدان کی گواہی ہے ۔

۱۳۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ انعام نوٹ ۱۲۴ اور سورہ یونس ۱۵۔

۱۴۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ کائنات جس طرح ازلی نہیں ہے اسی طرح ابدی بھی نہیں ہے ۔ اس کا آغاز بھی ہے اور انجام بھی۔ یہ کارخانہ ایک وقت مقرر تک ہی چلتا رہے گا جس کی تعین اللہ تعالیٰ نے کی ہے اور اسی کو معلوم ہے کہ اس کا خاتمہ کب ہونا ہے ۔

اس کائنات کے ظاہر کو دیکھ کر لوگ یہ خیال کرتے رہے ہیں  کہ یہ ہمیشہ ایسی ہی رہے گی چنانچہ اسی خیال کے مطابق انہوں نے اپنے مذہبی تصورات بھی قائم کر لیے لیکن موجودہ سائنس نے ان تصورات کو غلط ٹھہرایا کیونکہ ایک ذرہ کا پھٹ جانا اور اس میں سے ایک زبردست قوت کا خارج ہو جانا اگر ممکن ہے تو یہ کیوں ممکن نہیں کہ یہ پوری کائنات ایک دھماکے سے دوچار ہو جائے اور اس کے پھٹنے سے زبردست قوت خارج ہو جائے جو اس کو نیا وجود بخشے ؟

۱۵۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ انعام نوٹ ۲۰ اور سورہ حج نوٹ ۸۲۔

۱۶۔۔۔۔۔۔ یعنی گزری ہوئی قوموں نے ان عربوں سے زیادہ تمدنی ترقی کی تھی مگر رسولوں کو جھٹلانے کے نتیجہ میں ان پر عذاب آیا اور ان کا سارا تمدن خاک میں مل کر رہا۔

۱۷۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ عنکبوت نوٹ ۳۶

۱۸۔۔۔۔۔۔ یعنی جو لوگ شرک جیسا ناقابل معافی جرم کر کے آئے ہوں گے وہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہوں گے اور قیامت کے احوال دیکھ کر ان کے ہوش اڑ جائیں گے ۔

۱۹۔۔۔۔۔۔ یعنی دنیا میں جن کو انہوں نے اپنا سفارشی سمجھ کر اللہ کے حقوق و اختیارات میں شریک ٹھہرا رکھا تھا ان سے ان کی ساری عقیدت ختم ہو جائے گی اور اس وقت وہ اعتراف کریں گے کہ یہ ہمارے خدا نہیں ہیں۔

۲۰۔۔۔۔۔۔ یعنی قیامت کے دن ایمان اور کفر کی بنیاد پر لوگوں کو الگ الگ گروہوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ رنگ و نسل اور قوم و وطن کے سارے اختلافات بے معنی ہو چکے ہوں گے ۔ عقیدہ و عمل کا اختلاف  اصل اختلاف قرار پائے گا اور اسی کی بنیاد پر انسانوں کی گروہ بندی ہو گی۔

۲۱۔۔۔۔۔۔ روضۃ  (باغ) کا لفظ استعمال ہوا ہے جو عربی میں اس باغ کے لیے بولا جاتا ہے جو خوش منظر بھی ہو اور جس میں بہ کثرت پانی بھی ہو۔ یہاں جنت کے سر سبز و شاداب اور فرحت و سرور بخشنے والے باغ کا تصور دلانا مقصود ہے ۔

۲۲۔۔۔۔۔۔ کفر صرف یہی نہیں کہ اللہ کے وجود کا ناکار کیا جائے بلکہ اس کے وجود کو مانتے ہوئے اس کی آیتوں کا انکار کرنا بھی ہے جن میں وہ تمام نشانیاں شامل ہیں جو اللہ کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں نیز وہ آیتیں  بھی جو رسول پر نازل ہوئیں۔ اسی طرح قیامت کے دن اللہ کے حضور پیشی کو جھٹلانا بھی سراسر کفر ہے ۔

۲۳۔۔۔۔۔۔ یعنی جب اللہ کی قدرت کے یہ کرشمے ہیں جن کا تم رات دن مشاہدہ کرتے ہو تو چاہیے کہ اس کی پاکی بیان کرو،  اس کے گن گاؤ اور اس کا نام جپتے رہو خاص طور سے دن اور رات کے ہر موڑ پر جب کہ آسمان پر قدرتی آثار ظاہر ہو جاتے ہیں اور فضا میں تغیر ہونے لگتا ہے ۔ خدا کی طرف ذہن کو موڑنے والی ان علامتوں کو دیکھ کر تمہیں اس کی تسبیح و تحمید اور اس کی عبادت میں مشغول ہو جانا چاہیے ۔ تسبیح کا یہ حکم اپنے اندر عمومیت لیے ہوئے ہے لیکن یہ اور اس کے بعد والی آیت میں پنج وقتہ نماز کی طرف اشارہ ہے جو تسبیح اور تحمید کی بہترین شکل ہے ۔ شام کا وقت مغرب اور عشاء کی نماز کا وقت ہے اور صبح کا وقت فجر کی نماز کا۔

۲۴۔۔۔۔۔۔ یعنی آسمان و زمین میں اللہ ہی حمد کا مستحق ہے اور پوری کائنات اس کی حمد و ثنا میں زمزمہ سنج ہے لہٰذا تم بھی اس سے ہم آہنگ ہو جاؤ۔ اس بزم میں کسی اور کا راگ الاپنے اور کسی اور کے نام کی مالا جپنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

۲۵۔۔۔۔۔۔ عشیاً  (دن کا آخری حصہ) سے مراد عصر کا وقت ہے یہ وقت نماز عصر ادا کرنے کا ہے ۔

۲۶۔۔۔۔۔۔ ظہر یعنی زوال کا وقت۔ یہ اوقات نماز ظہر ادا کرنے کا ہے ۔

۲۷۔۔۔۔۔۔ اس کی تشریح سورہ آل عمران  نوٹ ۴۰ اور سورہ انعام نوٹ ۱۷۷ میں گزر چکی۔

۲۸۔۔۔۔۔۔ اس کی تشریح سورہ بقرہ نوٹ ۱۹۷ میں گزر چکی۔

۲۹۔۔۔۔۔۔ یعنی موت کے بعد قیامت کے دن تم دوبارہ پیدا کیے جاؤ گے ۔

۳۰۔۔۔۔۔۔ اللہ انسان کا خالق ہے اور جب خالق نے خود بتلایا کہ اس نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا ہے تو اس سے زیادہ یقینی بات اور کیا ہو سکتی ہے ؟ اس کی تائید اس بات سے بھی ہو سکتی ہے کہ انسان اپنی غذا مٹی ہی سے حاصل کرتا ہے اور مر کر مٹی ہی میں مل جاتا ہے ۔

سائنس کی رو سے بھی زمین پر زندگی کو طہور بعد ہی میں ہوا ہے لیکن ڈارون کا یہ نظریہ کہ انسان بندر سے پیدا ہوا ہے محض قیاسی بات ہے جس کا کوئی علمی ثبوت نہیں ہے اور قرآن کے بیان کے سراسر خلاف ہے ۔

مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورہ حج نوٹ ۷۔

۳۱۔۔۔۔۔۔ انسان مٹی سے پیدا کیا گیا تھا۔ اس کے بعد اس کی نسل ایسی چلی کہ پوری دنیا انسانوں سے آباد ہو گئی اور اربوں انسان دنیا میں پھیلتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ یہ کس کی قدرت کا کرشمہ ہے ؟

ماضی کا انسان بھی انسانی تخلیق پر اس پہلو سے غور نہ کرنے کے نتیجہ میں شرک میں مبتلا ہوا اور موجودہ دور کا انسان بھی اس پہلو سے غور نہ کرنے کے نتیجہ میں کفر و الحاد میں مبتلا ہے ۔

۳۲۔۔۔۔۔۔ اس کی تشریح سورہ نحل نوٹ ۱۰۷ میں گزر چکی۔

۳۳۔۔۔۔۔۔ بیویوں  (عورتوں) کو پیدا کرنے کا ایک اہم مقصد یہ ہے کہ مردوں کو ان سے سکون حاصل ہو لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عورتیں مردوں کے ہاتھ میں محض کھلونا ہیں بلکہ جس طرح ایک اعلیٰ مقصد کے لیے مردوں کی تخلیق ہوئی ہے اسی طرح ایک اعلیٰ مقصد کے لیے عورتوں کی بھی تخلیق ہوئی ہے اس لیے ایک ذمہ دار مخلوق ہونے کے حیثیت سے دونوں برابر ہیں۔

۳۴۔۔۔۔۔۔ محبت یہ کہ گہرا جذباتی لگاؤ ایک دوسرے کے ساتھ پیدا ہو جاتا ہے اور رحمت یہ کہ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے ہمدرد اور غمگسار بنتے ہیں۔ اس طرح دونوں ایک جان دو قالب بن کر رہتے ہیں۔

۳۵۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ بقرہ نوٹ ۱۹۶۔

۳۶۔۔۔۔۔۔ انسان اگر خود کار مشین  (Automatic Machine) میں ڈھل کر نکلا ہوتا تو سب کی زبان اور سب کا رنگ یکساں ہوتا مگر ہم دیکھتے ہیں کہ مختلف قوموں کی مختلف زبانیں ہیں اور رنگ بھی مختلف کوئی کالا ہے تو کوئی گورا کوئی گندمی رنگ کا ہے تو کسی کا رنگ سرخی مائل۔ زبان و رنگ کے یہ اختلافات کیا اس حقیقت کی طرف رہنمائی نہیں کرتے کہ انسان کی پیدائش کے پیچھے ایک ارادہ،  ایک حکمت اور ایک منصوبہ کار فرما ہے جو ایک زبردست مدبر کے وجود پر دلالت کرتا ہے ۔

۳۷۔۔۔۔۔۔ یعنی جو جہالت کی تاریکیوں میں نہیں رہتے بلکہ علم کی روشنی میں اپنی فکر بناتے ہیں اور اپنا سفر زندگی طے کرتے ہیں۔

۳۸۔۔۔۔۔۔ نیند کی حالت کتنی عجیب و غریب ہے کہ اس میں انسان کو نہ بھوک کا احساس ہوتا ہے اور نہ پیاس کا۔ ساتھ ہی وہ تکان کو دور کر کے تازگی پیدا کرتی ہے اور نیند کے دوران جسم میں اصلاح کا عمل تیزی کے ساتھ انجام پاتا ہے ۔ کیا یہ بس آپ سے آپ ہو رہا ہے ؟

۳۹۔۔۔۔۔۔ معاشی دوڑ دھوپ کو اللہ کا فضل تلاش کرنے سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ گزر بسر کا سامان اللہ کا محسوس ہونے والا فضل ہے ۔

۴۰۔۔۔۔۔۔ یعنی جو لوگ نصیحت کی باتوں کو سننے کے لیے اپنے کان کھلے رکھتے ہیں وہی پیغمبر کی نصیحت کا اثر قبول کرتے ہیں اور ان علامتوں سے جن کی نشاندہی قرآن کتا ہے صحیح رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔

۴۱۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ رعد نوٹ ۲۸۔

۴۲۔۔۔۔۔۔ آسمان کا تمام اجرام سماوی کے ساتھ اس طرح قائم رہنا اور زمین کا اس طرح برقرار رہنا کہ طویل زمانہ گزر جانے کے بعد نہ ان میں کوئی خرابی پیدا ہو اور نہ ان کے نظام میں کوئی خلل واقع ہو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ خدا ہی کی ذات ہے جس کے حکم سے یہ قائم ہیں اور جب اس کے حکم سے قائم ہیں تو وہ اپنے حکم سے ان کو درہم برہم بھی کر سکتا ہے ۔ لہٰذا قیامت ہر گز  نا ممکن نہیں۔

۴۳۔۔۔۔۔۔ یعنی تم کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے اللہ کا تم کو ایک مرتبہ پکارنا کافی ہو گا۔ جوں ہی وہ تمہیں آواز دے گا تم زمین سے زندہ نکل پڑو گے ۔ یہ نکلنا جسم سمیت ہو گا اور اللہ کی پکار زمین کے اندر سے سنائی دے گی۔

۴۴۔۔۔۔۔۔ یعنی اس کے بندے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی مالک نہیں بلکہ ان سب کا مالک اللہ ہے ۔ انسان بھی پیدائشی طور پر اللہ کا بندہ اور غلام ہے ۔

۴۵۔۔۔۔۔۔ یعنی سب اس کے آگے عاجز ہیں اور ان پر اس کے احکام نافذ ہو کر رہتے ہیں۔

۴۶۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کے لیے دوسری مرتبہ پیدا کرنا کچھ بھی مشکل نہیں۔ جب تم مانتے ہو کہ پہلی مرتبہ اس نے پیدا کیا ہے تو پھر دوسری مرتبہ پیدا کرنا اس کے لیے اور آسان ہو گا۔ مگر یہ کیسی بات ہے کہ تم دوسری پیدائش کو نا ممکن خیال کرتے ہو۔

۴۷۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کو انسان یا کسی اور مخلوق پر قیاس نہ کرو۔ وہ ایسی بالا تر ہستی ہے جس کی کائنات میں کوئی مثال نہیں۔ وہ اپنی ذات و صفات میں یکتا ہے اور اس کی صفات نہایت اعلیٰ ہیں۔

اس حقیقت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کے بارے میں کوئی ایسی بات کہنا جو اس کی شان سے فر و تر ہو یا جس سے اس کی شان میں گستاخی ہوتی ہو سراسر جہالت اور گمراہی ہے ۔

۴۸۔۔۔۔۔۔ اللہ کی دو صفتیں یہاں بیان ہوئی ہیں۔ عزیز یعنی غالب اور حکیم یعنی حکمت والا۔ وہ غالب ہے اس لیے اس کا یہ وعدہ کہ وہ انسان کو دوبارہ پیدا کرے گا پور ہو کر رہے گا اور اس کا یہ فیصلہ کہ قیامت بر پا ہو گی اور عدالت قائم ہو گی نہایت حکیمانہ فیصلہ ہے جو نافذ ہو کر رہے گا۔

۴۹۔۔۔۔۔۔ یہ مثال شرک کی نامعقولیت کو واضح کرنے کے لیے پیش کی گئی ہے ۔ جب تم اپنے غلاموں کو اپنے مال میں برابر کا شریک نہیں سمجھتے اور ان کے شریک نہ ہونے کی بنا پر تم ان سے وہ اندیشہ نہیں رکھتے جو اپنوں سے رکھتے ہو یعنی یہ کہیں کوئی تمہارا حق غصب نہ کر لے یا اس میں بے جا تصرف نہ کر بیٹھے ۔ تو جب تم اللہ کے دیے ہوئے مال میں اپنے غلاموں کو شریک قرار نہیں دیتے اور ان کو برابری کا حق دار نہیں سمجھتے تو اللہ کی پیدا کی ہوئی مخلوق میں اس کے ساجھی اور شریک کس طرح ٹھہراتے ہو ان کے حقوق اللہ کے حقوق کے برابر کس طرح قرار دیتے ہو؟ جو بات تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے وہ اللہ کے لیے کس طرح پسند کرتے ہو جب کہ اس کی شان بہت بلند و بالا ہے ۔

۵۰۔۔۔۔۔۔ مراد مشرک اور بت پرست ہیں۔

۵۱۔۔۔۔۔۔ واضح ہوا کہ شرک و بت پرستی کا علم اور  معقولیت سے کوئی تعلق نہیں وہ محض خواہش پرستی ہے ۔ ‘

۵۲۔۔۔۔۔۔ یعنی جو اللہ کے ٹھہرائے ہوئے قانون ضلالت کے مطابق گمراہ ہوا اس کو راہ راست پر لانا کسی کے بس کی بات نہیں۔

۵۳۔۔۔۔۔۔ یعنی جب توحید حقیقت ہے ۔ اور سب سے بڑی حقیقت۔ تو چاہیے کہ اس دین توحید کے لیے اپنے قلب و ذہن کو یکسو کر لو اور اسی پر قائم ہو جاؤ۔ تمہاری نگاہیں ادھر ادھر بھٹکنے نہ پائیں بلکہ دین اسلام ہی پر مرتکز ہو کر رہ جائیں۔

اسلام کے سوا جو توحید خالص کا دین ہے کسی بھی مذاہب کی طرف ادنی رجحان بھی ایمان کو متزلزل کر دیتا ہے اور تمام مذاہب کے حق ہونے کا تصور تو سراسر گمراہی ہے ۔

۵۴۔۔۔۔۔۔ مراد اسلام ہے اور اسلام کو دین فطرت اس لیے کہا گیا ہے کہ :

۱)۔ ہر انسان کی سرشت میں ایک خدا کا تصور موجود ہوتا ہے جسے وہ اپنے خالق اور اپنے رب کی حیثیت سے پہچانتا ہے ۔ دوسرے خداؤں کے تصور سے اس کی فطرت بالکل ناآشنا ہوتی ہے ۔

خدائے واحد کی ربوبیت کا عہد عہد فطرت ہے جو تمام انسانوں سے دنیا میں ان کے بھیجے جانے سے پہلے ہی لیا جا چکا ہے ۔ ملاحظہ ہو سورہ اعراف آیت ۱۷۲ نوٹ ۲۶۴،  ۲۶۵

۲)۔ انسان کی فطرت بنیادی طور پر بھلائی اور نیکی کے کاموں کو پسند کرتی ہے اور برائی اور شر سے نفرت کرتی ہے اور اسلام ان فطری داعیات کو پروان چڑھاتا ہے ۔

۳)۔ انسان کا اپنا ضمیر اور اس کا پورا وجدان اس کو اپنے رب کے حضور جوابدہ ٹھہراتا ہے اسلام اس تصور کی نہ صرف تائید کرتا ہے بلکہ اس کو دل میں راسخ کر دیتا ہے ۔

۴)۔ انسانی فطرت سچ اور جھوٹ میں تمیز کرتی ہے اور جب اسلام ایک سچا دین ہونے کی حیثیت سے اس کے سامنے آ جاتا ہے تو وہ اس کی طرف اس طرح لپکتی ہے جس طرح سوئی مقناطیس کی طرف،  یہ تو خواہشات،  تعصبات اور شیطانی وساوس ہیں جو رکاوٹ بنتے ہیں۔

۵)۔ پانی کی فطرت ڈھلوان کی طرف بہنا ہے اسی طرح انسان کی فطرت راہ راست پر چلنا ہے اگر گمراہی کے اسباب نہ ہوں تو جوں ہی اس پر اسلام کی شاہراہ واضح ہو گی وہ اسی پر چل پڑے گا۔ گویا اسلام فطرت کے مضمرات اور اشارات کی توضیح ہے اس لیے یہ ہر شخص کا اپنا دین ہے اور یہ اسلام ہی ہے جو پورے دعوے کے ساتھ کہتا ہے کہ یہ دین دین فطرت ہے جب کہ کوئی دوسرا دین یہ دعویٰ کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔

اسلام کے دین فطرت ہونے کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس طرح واضح فرمایا ہے :

مَامِنْ مَوْ لُوْ دٍ اِلَّا یُو لَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ یَھَوِّ دَ ا نِہِ وَیُنَصِّرَانِہِ وَ یُشَرِّکَانِہِ۔  (مسلم کتاب القدر)

” حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : کوئی بچہ ایسا نہیں جو فطرت پر پیدا نہ ہوتا ہو۔ پھر اس کے والدین اسے یہودی،  نصرانی یا مشرک بنا دیتے ہیں “۔

یعنی بچہ کو اس کے فطری دین سے پھیر کر کسی اور مذہب سے وابستہ کرنے والی چیز ایک خارجی عمل ہوتا ہے یہ عمل والدین یا ماحول انجام دیتا ہے خواہ وہ یہودیت کی شکل میں ہو یا نصرانیت کی شکل میں بدھ مت کی شکل میں ہو یا ہندومت کی شکل میں،  بت پرسیت کی شکل میں ہو یا الحاد و دہریت کی شکل میں۔

غرضیکہ جس شخص نے بھی اپنی فطرت کو مسخ نہ کیا ہو وہ اسلام کو اپنے دل ہی کی آواز سمجھے گا۔

۵۵۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ نے جس فطرت پر پیدا کیا ہے اور جس سانچے  (Model) میں ڈھالا ہے اس میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے۔ اگرچہ یہ بات عقیدہ کے تعلق سے ارشاد ہوئی ہے لیکن الفاظ کی عمومیت معنی کی وسعت کو لیے ہوئے ہے جس میں  ظاہری ساخت کو تبدیل نہ کرنا بھی شامل ہے ۔ چنانچہ اس زمانہ میں بعض فیشن ایسے تھے جن سے خلق اللہ  (اللہ کی بنائی ہوئی ساخت) میں تغیر واقع ہوتا تھا اس لیے حدیث میں نہ صرف ان کی ممانعت کر دی گئی بلکہ ایسے فیشن پرستوں کو لعنت کا مستحق قرار دیا گیا مثلاً بھووں کو باریک کرنا،  دانتوں کے درمیان درزیں بنانا،  ہاتھوں کو گوندھنا وغیرہ۔

چنانچہ حدیث میں آتا ہے :

عن عبداللہ رضی اللہ عنہ قال لَعَنَ اللہُ الوشماتِ وَالْمُسْتَوْ شِماتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلّجَتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَیّرَات خلْؒقَ اللہِ مَلِی لَا اَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَ سَلّم وَ ھُوَفی کتاب اللہ،   (صحیح البخاری۔ کتاب اللباس)۔ “حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ اللہ نے لعنت فرمائی ہے گوندھنے والیوں،  گندھوانے والیوں بھووں کے بال نوچ نوچ کر نکالنے والیوں اور دانتوں کے درمیان درزیں پیدا کرنے والیوں پر جو حسن کے لیے اللہ کی خلقت میں تغیر کرتی ہیں۔ میں ان پر کیوں نہ لعنت کروں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے لعنت فرمائی ہے اور یہ بات اللہ کی کتاب میں موجود ہے  (یعنی رسول کی اطاعت کا حکم) ”

اسی طرح موجودہ زمانہ میں ڈاڑھی منڈھانے کا فیشن جب کہ ڈاڑھی فطری طور پر رجولیت  (مردانگی) کا اظہار ہے ،  محض خوبصورتی بڑھانے کے لیے پلاسٹک سرجری کے ذریعہ اپنے چہرہ کو بدلنا اپنی پنڈلیوں کو نازک بنانا،  کسی واقعی مجبوری کے بغیر نس بندی کرانا وغیرہ۔

۵۶۔۔۔۔۔۔ اور آج بھی اکثر لوگوں کا حال یہی ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ اسلام ہی فطری اور سچا دین ہے ۔ وہ یا تو یہ سمجھتے ہیں کہ جس مذہب میں وہ پیدا ہوئے ہیں وہ صحیح مذہب ہے یا یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کے سب ہی مذاہب صحیح ہیں جن میں اسلام بھی شامل ہے ۔

۵۷۔۔۔۔۔۔ یعنی دین اسلام کی طرف اپنا رخ اس طور سے کر لو کہ دل میں اللہ کے لیے رجوع و انابت ہو۔۔

۵۸۔۔۔۔۔۔ یعنی اس کی عظمت کے تصور سے ڈرو اور اس کی نا فرمانی سے بچو۔

۵۹۔۔۔۔۔۔ یہ فقرہ کہ ” نماز قائم کرو اور مشرکین میں سے نہ ہو جاؤ” اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مسلمان کو مشرک سے ممتاز کرنے والی چیز نماز ہے ۔ نماز قائم کر کے آدمی موحد  (توحید کا ماننے والا) بنتا ہے اور اس کو ترک کر کے اپنے کو شرک اور کفر کی راہ پر ڈال لیتا ہے ۔

یہ حقیقت ہے کہ نماز اول تا آخر توحید پر مشتمل ہے ۔ وہ بندہ اور اللہ کے درمیان مناجات اور دعا ہے جس میں نہ کوئی واسطہ ہے اور نہ وسیلہ نہ کسی کی جاہ کا حوالہ دی جاتا ہے نہ کسی کے صدقے میں کچھ مانگا ناتا ہے بلکہ جو کچھ مانگا جاتا ہے اپنے رب سے براہ راست مانگا جاتا ہے اسی کی حمد و ثنا کرتے ہوئے۔ اگر مسلمان نماز میں جو کچھ پڑھا جاتا ہے اسی پر غور کریں تو اپنا دامن شر کو بدعات سے جھاڑ دیں۔

۶۰۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ انعام نوٹ ۲۹۵ ۔

۶۱۔۔۔۔۔۔ یعنی ہر مذہب کے پیرو اپنے اپنے مذہب پر خوش اور اس کے معتقد ہیں۔ وہ کبھی یہ سوچنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتے کہ جس مذہب پر وہ اعتقاد رکھتے ہیں وہ واقعی اللہ کا نازل کیا ہوا مذہب ہے یا انسانوں کا خود ساختہ۔

۶۲۔۔۔۔۔۔ تکلیف میں کدا کا یاد آ جاتا در حقیقت فطرت کی آواز ہے لہٰذا ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ لوگ توحید کے قائل ہو جاتے لیکن جب اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے تکلیف کو دور فرماتا ہے تو انسانوں کی ایک تعداد ایسی ہے جو اس رحمت کو کسی اور کی نوازش قرار دینے اور اس کو خدا کے اختیارات میں شریک ٹھہرانے لگتی ہے ۔

۶۳۔۔۔۔۔۔ یعنی کیا ان لوگوں کے پاس اللہ کی نازل کردہ کوئی سند ہے جو  اس بات کی شہادت دیتی ہو کہ اللہ نے اپنے اختیارات میں فلاں اور فلاں کو شریک کر لیا ہے لہٰذا تم ان کو حاجت روائی لے لیے پکار سکتے ہو اور وہ تمہاری پکار بھی سن سکتے ہیں اور تمہاری فریاد رسی بی کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر ایسی کوئی سند تمہارے پاس موجود نہیں ہے تو تمہارا یہ دعویٰ کتنا غلط اور بے بنیاد ہے ؟

معلوم ہوا کہ مختلف مذاہب کی جو کتابیں مقدس سمجھی جاتی ہیں ان میں اگر دیوی دیوتاؤں کا تصور ہے یا خدا کے صفات اور اس کے حقوق و اختیارات میں کسی کو شریک ٹھہرایا گیا ہے تو وہ خدائی سند کی حیثیت ہر گز نہیں رکھتیں کیوں کہ خد نے اس قسم کی کوئی بات کبھی کسی پیغمبر پر نازل نہیں کی اور نہ اپنی کسی کتاب میں بیان فرمایا۔ بلکہ ان مذاہب کے پیروؤں نے وہم پرستی اور انکل کی بنیاد پر خدا کے شریک ٹھہرائے اور ان کو اپنی مذہبی کتابوں اور گرنتھوں میں شامل کر لیا۔

یہ تو ہے مشرکین کا معاملہ لیکن مسلمانوں میں سے بھی ان کے بدعت پسند گروہ نے کچھ کم ظلم نہیں کیا ہے ۔ وہ قطب ابدال اور اولیاء کو اس عالم میں متصرف مانتے ہیں اور تاویل یہ کرتے ہیں ہ ہم ان کو خدا نہیں مانتے بلکہ یہ مانتے ہیں کہ خدا نے ان کو تصرف کے اختیارات دیے ہیں اس لیے وہ مانگنے والے کو دے دیتے ہیں،  فریاد کو پہنچتے اور تکلیف کو دور کرتے ہیں،  غریب کو نوازتے ہیں اور پکارنے والی کی مدد کرتے ہیں۔  سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سند کہاں نازل کی ہے کہ فلاں اور فلاں کو اس نے تصرف کے اختیارات دے رکھے ہیں لہٰذا حاجت روائی کے لیے ان کو پکارا کرو وہ تمہاری مدد کو پہنچیں گے ؟ کیا قرآن میں ایسی کوئی آیت دکھائی جا سکتی ہے ؟ ہر گز نہیں بلکہ قرآن  تو صاف صاف کہتا ہے کہ سارے اختیارات میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ اگر کسی کو اس نے خدائی کے اختیارات دیے ہوتے تو اس کے ذکر سے قرآن کیسے خالی ہو سکتا تھا ؟ پھر یہ بھی سوچیے کہ کسی یا پیر کو دستگیر یا غوث  (فریاد رس) ماننے کا مطلب یہ ہے کہ وہ لاکھوں اور کروڑوں لوگوں کی پکار کو جو اس کو پکارتے ہیں غیب میں رہتے ہوئے سنتا ہے اور ان میں سے ہر ہر شخص کے حال کو جانتا ہے کہ کون مومن ہے اور کون منافق،  کون بیک ہے اور کون بد،  کس نے اس کی منت مانی ہے اور اس کے نام کی نذر و نیاز کرتا ہے ۔ اس تفصیلی واقفیت کے بعد ہی وہ ولی کسی کی فریاد کو پہنچ سکتا ہے اور کسی کی مدد کر سکتا ہے ۔ کسی ولی کسی کی فریاد کو پہنچ سکتا ہے اور کسی کی مدد کر سکتا ہے ۔ کسی ولی کے بارے میں یہ عقیدہ کیا اس کو عالم الغیب ماننے کے مترادف نہیں ہے ؟ اور اگر یہ شرک نہیں تو پھر شرک کیا ہے ؟

۶۴۔۔۔۔۔۔ انسان پر جو مصیبتیں آتی ہیں وہ اگرچہ آزمائش کے طور پر آتی ہیں لیکن بسا اوقات اس کے کرتوتوں کے سبب بھی آتی ہیں اور یہ بات عام مشاہدہ میں بھی آتی رہتی ہے ۔

۶۵۔۔۔۔۔۔ انسان کا یہ طرز عمل غلط ہے ۔ خدا کی کسی عنایت پر نہ اترانا صحیح ہے اور نہ کسی تکلیف کے پہنچنے پر مایوس ہونا صحیح۔ اسے پہلی حالت میں شکر کرنا چاہیے اور دوسری حالت میں صبر۔

۶۶۔۔۔۔۔۔ ایک نشانی یہ کہ رازق اللہ ہی ہے ۔ دوسری یہ کہ رزق خدائی منصوبہ کے مطابق انسان کو ملتا ہے ۔ تیسری یہ کہ اللہ جس کو رزق کم دینا چاہے اس کے لیے اسباب ویسے ہی بنتے ہیں اور انسان کے بس میں یہ نہیں ہے کہ وہ محض پانی تدبیر سے جتنا چاہے رزق حاصل کر لے ۔ چنانچہ کتنے ہی لوگ باوجود اپنی صلاحیت اور تدابیر کے کشادہ رزق حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ یہ ناکامی اس بات کا ثبوت ہے کہ تدبیر ہی سب کچھ نہیں بلکہ اللہ کی مشیت اصل چیز ہے اور چوتھی نشانی یہ کہ رزق کی تنگی اور کشادگی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جس کو نپا تلا رزق مل رہا ہے وہ اللہ کی نظر میں محبوب نہیں ہے اور جس کو وافر رزق مل رہا ہے وہ ا سکی نظر میں  محبوب ہے بلکہ دونوں ہی صورتوں میں انسان کا امتحان ہے پہلی صورت میں اس کے صبر کا اور دوسری صورت میں اس کے شکر کا۔

۶۷۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ نے جو رزق تمہیں دیا ہے اس میں امتحان کا پہلو یہ ہے کہ تم ان حقوق کو ادا کرتے ہو یا نہیں جو اس کے دیے ہوئے رزق میں تم پر اپنے قرابت داروں اور دوسرے حاجت مندوں کے تعلق سے اخلاقاً اور شرعاً عائد ہوتے ہیں۔

مسافر سے مراد وہ مسافر ہے جو مسافرت کی وجہ سے مدد کا مستحق ہو گیا ہو۔ مکی دور میں قرابت داروں،  مسکینوں اور مسافروں کے حقوق ادا کرنے کی تاکید ان کی اخلاقی اور شرعی اہمیت کو واضح کرتی ہے ۔

۶۸۔۔۔۔۔۔ یعنی ان حقوق کی ادائیگی خالصۃً  رضائے الٰہی کے لیے ہونی چاہیے ۔ اس میں نام و نمود کا کوئی شائبہ نہ ہو۔

۶۹۔۔۔۔۔۔ یعنی فلاح پانے والے لوگ وہی ہیں جو اللہ کی رضا جوئی کے لیے کام کریں گے اور ان ذمہ داریوں کو پرا کریں گے جو اس نے اپنے بندوں پر عائد کی ہیں۔

۷۰۔۔۔۔۔۔ یہ پہلی آیت ہے جس میں سود کی بے برکتی واضح کی گئی اور یہ اشارہ تھا اس کے  شرعاً نا پسندیدہ ہونے کی طرف۔ مکہ میں جو اس وقت دار الکفر ہو کر رہ گیا تھا سود کی قباحت کو طاہر کرنے والی آیت کا نزول گویا آغاز شریعت ہی میں ذہنوں کو سود کی مخالفت کے رخ پر ڈالنے کے ہم معنی تھا۔ بعد میں اس کی صریح حرمت کا حکم مدینہ میں نازل ہوا  (دیکھیے سورہ بقرہ آیت ۲۷۵ تا ۲۷۹ اور نوٹ ۴۵۵ تا ۴۶۴ نیز سورہ آل عمران آیت ۱۳۰ نوٹ ۱۶۰)۔

آیت کا مطلب یہ ہے کہ سود دے کر تم یہ سمجھتے ہو کہ جس کو سود دیا اس کا مال بڑھے گا مگر اس کا بڑھنا خیر سے خالی اور ایسا بے برکت ہوتا ہے کہ اس سے مال میں در حقیقت کوئی افسانہ نہیں ہوتا۔ اللہ کی نظر میں سودی لین دین ایسا نا پسندیدہ معاملہ ہے کہ اس کے نزدیک سود کے مال کی کوڑی برابر بھی قیمت نہیں۔ اور نہ سودی قرضوں پر اس کے ہاں کوئی اجر مرتب ہوتا ہے ۔  (بلکہ شدید گناہ کا کام ہے جیسا کہ سورہ بقرہ آیت ۲۷۵ میں بیان ہوا)۔

آیت میں سود دینے کا ذکر ہوا ہے جس کی مناسبت زکوٰۃ دینے کے مقابلہ میں جس کا ذکر بعد کے فقرہ میں ہوا ہے بالکل واضح ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ سود کا دینا باعث خیر نہیں ہے البتہ زکوٰۃ دینا باعث خیر ہے ۔ اس طرح سود لینے والے کو غیرت دلائی گئی ہے کہ قرض دے کر جو سود لیتا ہے اس سے بظاہر اس کی دولت میں اضافہ ہوتا ہے مگر ایسا مال لینے والے کے لیے حقیقی نشو و نما کا باعث نہیں بنتا کیونکہ سود ظلم ہے اور ظلم کا انجام خسران ہی ہے ۔

آیت پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت کے حالات میں اہل ایمان کے لیے سود دینے کی مجبوری رہی ہو گی اس لیے سود کی مذمت کرتے ہوئے نشانہ ان لوگوں کو بنایا گیا جو قرض دے کر اپنے مال کو بڑھانے کے لیے سود لیتے تھے ۔

مفسرین کے ایک گروہ نے اس آیت میں “ربا” سے مراد عطیہ اور ہدیہ لیا ہے اور تاویل یہ کی ہے کہ کسی کو ہدیہ اس نیت سے دینا کہ اس سے زیادہ اس سے واپس ملے گا اگرچہ گناہ نہیں ہے لیکن شرعاً پسندیدہ بھی نہیں ہے ۔ مگر “ربا” کے یہ معنی لینے کے لیے کوئی دلیل موجود نہیں ہے ۔ “ربا” قرآن کی ایک اصطلاح ہے جس سے سود یعنی وہ زیادتی ہی مراد ہے جو قرض یا واجبات  (دین) میں تاخیر کی بنیاد پر وصول کی جائے۔ پھر محل کلام بھی دلیل ہے کہ یہاں سود ہی مراد ہے کیونکہ اوپر کی آیت میں حاجت مندوں کے حقوق ادا کرنے کا حکم ہو اور یہاں حق تلفی کی وہ صورت جو سود کی شکل میں ہوتی ہے بیان ہوئی نیز بعد والے فقرے میں سود کے بالمقابل زکوٰۃ کے با برکت ہونے کے پہلو کو نمایاں کیا گیا ہے ۔

۷۱۔۔۔۔۔۔ یعنی زکوٰۃ دینے سے بظاہر مال گھٹتا نظر آتا ہے لیکن ایسے مال کی حقیقی معنی میں نشو و نما ہوتی ہے ۔ وہ خیر و برکت کا باعث بنتا ہے ۔ اور زکوٰۃ دینے پر بہت بڑا اجر ملتا ہے ۔

حدیث میں صدقہ کا اجر اس طرح بیان ہوا ہے :

مَنْ تَصَدَّ قَ بِعَدْلِثَمْرَۃٍ مِنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ وَلَا ٰیَقْبَلُ اللہُ اِلَّا الطَّیِّبَ فَاِنَّ اللہَ یَتَقَبَّلُھَا بِیَمِیْنِہِ تُمَّ یَرَبِّیْھَا  لِصَاحِبِہٖ کَمَا یُرَ بِّی اَحَدُ کُمْ فَلُوَّہٗ حَتَّی  تَلُونَ مِثْلَالْجَبَلِ۔  (صحیح البخاری کتاب الزکوٰۃ) ” جو شخص اپنی پاک کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کرتا ہے ۔ اور اللہ صرف پاک صدقہ ہی کو قبول فرماتا ہے ۔ تو اللہ اسے اپنے داہنے ہاتھ سے قبول فرماتا ہے پھر اس کو صدقہ دینے والے کے لیے اس طرح نشو و نما دیتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنے بچھڑے کی پرورش کرتا ہے یہاں تک کہ وہ صدقہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے “۔

۷۲۔۔۔۔۔۔ یعنی جب تمہارے ٹھہرائے شریک ان میں سے کوئی کام بھی نہیں کرتے تو وہ معبود کیسے ہوئے ؟

۷۳۔۔۔۔۔۔ یہاں فساد سے مراد بد امنی ہے ۔ جو بحر و بر میں برپا ہو گئی تھی چنانچہ عرب کے علاقہ میں قتل و غارت گری کا ماحول تھا اور قریبی ملکوں فارس اور  روم میں تو جنگ ہی برپا تھی۔ اس قتل و غارت گری اور جنگ کے اثرات سے دریاؤں اور سمندروں کے سفر بھی محفوظ نہیں تھے ۔ اسی صورت حال کو خشکی اور تری میں فساد برپا ہونے سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس کو نتیجہ قرار دیا گیا ہے لوگوں کے کرتوتوں کا۔ مطلب یہ ہے کہ لوگوں نے جب اللہ کی نافرمانی کیا راہ اختیار کی تو ان میں اخلاقی اور عملی بگاڑ پیدا ہوا اور جب بگاڑ پیدا ہوا تو لوگ قتل غارت گری اور جنگ پر آمادہ ہو گئے جس  سے ہر طرف بد امنی پھیل گئی۔ واضح ہو کہ لوگوں کے غلط طرز عمل کے نتیجہ میں انسانی سوسائٹی امن سے محروم ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ دنیا میں یہ سزا نہیں ان ہی کے ہاتھوں اس لیے دلواتا رہتا ہے کہ وہ ٹھوکر کھانے کے بعد سنبھل کر لیں اور اپنے رب کی طرف رجوع کریں۔

موجودہ زمانہ میں تو بد امنی بالکل عام ہو گئی ہے ۔ خون خرابہ،  لوٹ مار،  فسادات اور جنگوں نے دنیا کو جہنم کا نمونہ بنا دیا ہے ۔ جنگ کی صورت میں تو سمندر بھی محفوظ نہیں رہتے اور بڑے بڑے جہاز غرق کر دیے جاتے ہیں۔ اور لڑائی خشکی و تری ہی میں نہیں ہوتی فضا میں بھی راکٹ چھوڑے جاتے ہیں۔ ہوائی جہاز کے اغوا کے واقعات آئے دن ہوتے رہتے ہیں اور بموں کا استعمال تو بالکل عام ہو گیا ہے ۔ گویا انسان نے ترقی کی تو یہ کہ فضا کو بھی پر خطر بنا دیا۔ اس طرح انسانیت کے لیے امن و چین کی جگہ نہ خشکی رہی اور نہ تری اور نہ ہی فضائے آسمانی۔ ہر جگہ لوگ اپنے ہی کیے کا مزہ چکھ رہے ہیں۔

۷۴۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ انعام نوٹ ۲۰۔

۷۵۔۔۔۔۔۔ مراد وہ قومیں ہیں جن پر عذاب آیا۔ ان قوموں میں اکثریت مشرکوں ہی  کی تھی۔ توحید پر ایمان لانے والے بہت کم تھے اور وہی بچا لیے گئے۔

۷۶۔۔۔۔۔۔ یعنی لوگ اپنے عقیدہ و عمل کی بناء پر الگ الگ گروہوں میں بٹ جائیں گے ۔

۷۷۔۔۔۔۔۔ اس طرح قرآن ہر شخص کو اس کی اپنی ذمہ داری محسوس کراتا ہے اور یہ دعوت قرآنی اور دعوت انبیائی کی اہم ترین خصوصیت ہے ۔ موجودہ دور میں دعوت اسلامی کو پیش کرنے کا ایک ایسا طریقہ رائج ہو گیا ہے جو فرد کو اس کی ذاتی ذمہ داری سے زیادہ سوسائٹی کو اس کی اجتماعی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتا ہے اور نجات اخروی سے زیادہ ” نجات دنیوی” کا فکر مند بناتا ہے ۔

۷۸۔۔۔۔۔۔ یعنی قیامت کا سب سے اہم اور مثبت پہلو یہی ہے کہ اللہ اپنے وفادار بندوں کو اپنے فضل سے نوازے ۔ رہے کافر اور سرکش لوگ تو اللہ انہیں ہر گز پسند نہیں کرتا اور جب وہ پسند نہیں کرتا تو ان کو وہ کیوں اپنے فضل سے نوازنے لگے ۔ انہوں نے جیسا کیا ویسا بھریں گے ۔

۷۹ ۔۔۔۔۔۔ یعنی بارانِ رحمت کا۔

۸۰۔۔۔۔۔۔ یعنی اگر لوگ ہواؤں اور اس قسم کی دوسری نشانیوں کے ذریعہ بھی اپنے رب کی صحیح پہچان  (معرفت) حاصل نہیں کرتے تو اللہ نے ان پر حجت قائم کرنے کے لیے رسول بھیجے ۔ پھر حق کے پوری طرح واضح ہو جانے کے بعد بھی جنہوں نے کفر کر کے مجرمانہ طرز عمل اختیار کیا ان کو آخر کار سزا دی گئی اور جب انہیں سزا دینے اور ہلاک کرنے کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو بچا لیا۔ یہ اس کی نصرت تھی جو بالآخر اہل ایمان کے حق میں ظاہر ہوئی اور اللہ کا یہ پہلے سے طے شدہ فیصلہ تھا کہ وہ اس عذاب سے جو رسول کو جھٹلانے کی صورت میں اس کی قوم پر آئے گا اہل ایمان کو وہ بچائے گا اور فتح مندی انہیں کے حصہ میں آئے گی۔

۸۱۔۔۔۔۔۔ یعنی ان ہواؤں کو بھیجے جانے اور ان کے بادلوں کو اٹھائے جانے سے قبل۔

۸۲۔۔۔۔۔۔ بارش کا نظام انسان کو دعوت فکر دیتا ہے اور لوگوں کی نا امیدی کو امید میں تبدیل بھی کر دیتا ہے مگر لوگوں کا حال یہ ہے کہ نہ وہ اس بات پر غور کرتے ہیں کہ بارش کا یہ حیرت انگیز نظام کس کے قدرت کی کرشمہ سازی ہے اور نہ اس خوشی پر جو انہیں مایوسی کے بعد ہوتی ہ اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہیں۔

۸۳۔۔۔۔۔۔ یعنی مردہ زمین کا بارش ہوتے ہی زندہ ہو جانا اللہ کی رحمت کا ظہور ہے اور اسی طرح مردہ انسانوں کا زندہ ہو جانا بھی اس کی رحمت کا ظہور ہو گا۔ یہ اشارہ ہے اس حقیقت کی طرف کہ دوسری زندگی کا مثبت پہلو رحمت الٰہی کا ظہور ہے اس کے نیک بندوں کے حق میں جن لوگوں نے اپنا رز خالص ہونا دنیوی زندگی میں ثابت کر دکھایا انہیں اخروی زندگی میں اعلیٰ مقام پر رکھا جائے اور انہیں اپنی رحمت سے مالا مال کیا جائے۔ رہا کھوٹ تو وہ آگ ہی میں جلائے جانے کے لائق ہے ۔

۸۴۔۔۔۔۔۔ اوپر رحمت لانے والی ہواؤں کا ذکر تھا یہاں آفت لانے والی ہوا کا ذکر ہے کہ اگر ہم ایسی تند ہوا چلائیں جو کھیتوں کو ان کے سر سبز ہونے کے بعد تہس نہس کر کے رکھ دے اور اس کا سبز رنگ زرد رنگ میں تبدیل ہو کر رہ جائے تو یہ اپنے رب سے شاکی ہو کر کفر ہی کرنے لگیں گے ۔ ان کا طرز عمل اپنے رب کے ساتھ بہت عجیب ہے ۔ اس کی نوازش پر وہ اس کا شکر ادا نہیں کرتے اور مصیبت کے پہنچ جانے پر وہ کفر کرنے لگتے ہیں۔

۸۵۔۔۔۔۔۔ اس کی تشریح سورہ نمل نوٹ ۱۱۸ میں گزر چکی۔

واضح رہے کہ سماع موتیٰ  (مردوں کے سننے ) کی تائید میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ حدیث جو پیش کی جاتی ہے کہ آپ نے بدر میں کفار کی لاشوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا:

ھَلْ وَجَدْ تُمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا ثُمَّ قَلَ اِنَّہُمْ الْآ نَیَسْمَعُوْنَ مَا اَقُوْلُ۔  (بخاری کتاب المفازی)

” کیا تم نے اپنے رب کے وعدہ کو سچا پایا ؟ پھر  فرمایا اس وقت وہ سن رہے ہیں جو میں کہہ رہا ہوں۔ ”

تو اس حدیث کا وہ مفہوم نہیں ہے جو عام طور سے سمجھا جاتا ہے چنانچہ بخاری ہی کی روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا۔

اِنَّمَا قَلَ النَّبیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلّمَ اِنَّھُمُ الْآ نَ لَیَعُلَمُوْنَ اَنَّ الَّذِی کُنْتَاَقُوْلْ لَھُمْ حُوَا لْحَقُّ تَمُ قَرَأ تْ اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمُوْتٰی حَتّٰی قَرأت الْاٰیَۃَ۔

“نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے تو یہ فرمایا کہ انہیں اب معلوم ہو گیا ہے کہ میں جو کچھ ان سے کہتا تھا وہ حق ہے پھر حضرت عائشہ نے یہ آیت اخیر تک پڑھی اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی تم مردوں کو نہیں سنا سکتے ۔۔۔۔۔ ”

اور جب قرآن واضح طور سے کہہ رہا ہے کہ تم مردوں کو نہیں سنا سکتے تو پھر کسی بھی متعلقہ حدیث کے لازماً وہی معنی لینا ہوں گے جو قرآن کے اس بیان سے مطابقت رکھتے ہوں۔

۸۶۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ نمل نوٹ ۱۱۹۔

۸۷۔۔۔۔۔۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو سب سے زیادہ کمزور حالت میں ہوتا ہے پھر رفتہ رفتہ قوت پا کر جوانی کی عمر کو پہنچتا ہے تو مضبوط اور طاقت ور بن جاتا ہے ۔ پھر یہ طاقت رفتہ رفتہ اس سے چھین لی جاتی ہے چنانچہ بڑھاپے میں وہ پھر کمزور ہو کر رہ جاتا ہے یہ ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیلی اور انسان کی خود اپنے معاملہ میں یہ بے بسی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس کا رب ہی ہے جو جس طرح چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جن مرحلوں سے چاہتا ہے اس کو گزارتا ہے ۔ پھر انسان کو یہ کس طرح زیب دیتا ہے کہ قوت پا لینے کے بعد گھمنڈ کرنے لگے اور اپنے رب کو بھول جائے۔

۸۸۔۔۔۔۔۔ یعنی جو وقت انہوں نے موت کے بعد گزارا اس کے بارے میں وہ خیال کریں گے کہ وہ ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں تھا حالانکہ وہ ایک مدت گزار چکے ہوں گے ۔ وہجس طرح موت اور قیامت کے درمیانی وقفہ کے بارے میں غلط اندازہ لگائیں گے سی طرح وہ دنیا میں بھی اپنے بارے میں غلط اندازہ لگاتے رہے ہیں۔ اگر اس وقت وہ اپنی دنیوی زندگی کو آخرت کے مقابلہ میں رکھ کر دیکھتے تو وہ انہیں بہت مختصر محسوس ہوتی اور وہ آخرت کو اصل زندگی سمجھ کر اس کے لیے تیاری کرتے مگر دھوکے میں رہ کر انہوں نے یہ موقع کھو دیا۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قبر  (عالم برزخ) میں تو کافر طویل عرصہ تک عذاب بھگت چکے ہوں گے پھر وہ اس کو ایک گھڑی بھر کی بات کس طرح خیال کریں گے ؟ تو اصل میں برزخ میں وہ جس حالت میں رہیں گے وہ نیند سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے ۔ سورہ یٰس میں ہے کہ جب وہ قیامت کے دن اٹھیں گے تو کہیں گے مَنْ بَعَثَنَا مِنْ مَرْقدِنَا۔  (ہماری خواب گاہوں سے ہم کو کس نے اٹھایا) اور یہ واقعہ ہے کہ نیند کی حالت میں جو کچھ انسان پر گزرتی ہے وہ سب اول تو اسے یاد نہیں رہتا پھر نیند سے اٹھنے کے بعد اسے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ابھی سوئے تھے ابھی اٹھے ۔ اس لیے اگر کافر ان واردات کو بھلا چکے ہوں جو ان کی روح پر قیامت تک گزرتی رہی اور وہ یہ محسوس کریں کہ ہم گھڑی بھر سو کر اٹھے ہیں تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ برزخ کے احوال کی اس نوعیت کو سامنے نہ رکھنے کی وجہ سے لوگ برزخ کے عذاب ہی کے منکر ہو جاتے ہیں حالانکہ کافروں کے لیے برزخ کا عذاب قرآن سے ثابت ہے اور حدیث میں اس کو عذاب قبر سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس کا تعلق روح سے ہے کیونکہ جسم سڑ گل کر مٹی بن جاتا ہے اور کتنے ہی کافروں کی لاشوں کی قبریں بنتی ہی نہیں ہیں کیونکہ وہ جلائی جاتی ہیں۔ البتہ قیامت کے دن انسان کو جسم سمیت اٹھایا جائے گا۔ اس صورت میں کافر عذاب کی تکلیف پوری طرح محسوس کریں گے ۔

۸۹۔۔۔۔۔۔ یعنی تم موت اور قیامت کے درمیان کی طویل مدت عالم برزخ میں گزار چکے ہو۔ یہ مدت کتنی تھی وہ اللہ ہی کو معلوم ہے اور اس کے ریکارڈ میں اس کا اندراج ہے ۔

۹۰۔۔۔۔۔۔ یعنی امتحان کا وقت نکل چکا ہو گا اور وہ جزا و سزا کا دن ہو گا اس لیے جن لوگوں نے اپنے جنس پر ظلم کر کے اپنے کو شرک اور کفر کی راہ پر ڈال دیا تھا ان کی نہ معذرت قابل قبول ہو گی اور نہ ان کے لیے اس بات کا موقع ہو گا کہ وہ توبہ کر کے اللہ سے معافی مانگیں۔ یہ موقع دنیا میں تھا جو انہوں نے کھو دیا۔

۹۱۔۔۔۔۔۔ یعنی جو لوگ سمجھنا چاہتے ہیں ان کے لیے قرآن کافی ہے لیکن جو اپنے کفر کو چھوڑنا نہیں چاہتے وہ کوئی بڑے سے بڑا حسی معجزہ بھی نبی سے صادر ہوتے ہوئے دیکھ لیں تب بھی وہ نبی کو جھٹلانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے ۔

۹۲۔۔۔۔۔۔ یعنی جو لوگ علم ہدایت سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتے اور اس سے دور ہی دور رہنا چاہتے ہیں وہ رفتہ رفتہ قبول حق کی صلاحیت کھو دیتے ہیں اور پھر نصیحت کی کوئی بات ان کے دل میں اترنے نہیں پاتی۔ اس نفسیاتی کیفیت کو دلوں پر مہر لگنے سے تعبیر کیا گیا ہے ۔

۹۳۔۔۔۔۔۔ یہ نبی کو اور اس کے واسطہ سے اہل ایمان کو نصیحت ہے کہ تم حالات کی ناسازگاری سے پریشان نہ ہو بلکہ صبر کے ساتھ حق پر جمے رہو اور پورے حوصلہ اور مضبوطی کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرتے رہو تاکہ آخرت پر یقین نہ رکھنے والے تم کو بے وقعت خیال کر کے یہ رائے قائم نہ کر بیٹھیں کہ ان لوگوں کو آسانی سے دبایا جا سکتا ہے بلکہ تمہاری یہ حیثیت ان پر واضح ہو جانی چاہیے کہ یہ لوہے کے چنے کو چبانا آسان نہیں۔

٭٭٭

 

 

 

 

(۳۱) سورۂ لقمان

 

(۳۴ آیات)

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

                   تعارف

 

 

نام

 

آیت ۱۲ میں لقمان کو حکمت عطاء کیے جانے کا ذکر ہوا ہے۔ اس مناسبت سے اس سورہ کا نام لقمان ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مکی ہے اور مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ سورہ عنکبوت سے کچھ پہلے نازل ہوئی ہو گی جب کہ مشرکین اپنی اولاد کو جو مشرکانہ  مذہب پر قائم رہنے کے لیے مجبور کر رہے تھے۔

 

مرکزی مضمون

 

دین کے معاملہ میں آدمی اپنے باپ دادا کی تقلید کرنے کے بجائے اپنی عقل و بصیرت سے کام لے اور ان نشانیوں سے رہنمائی حاصل کرے جو اللہ  کے الٰہ واحد ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ جہالت کی تاریکیوں میں بھٹکنے کے بجائے وحی الٰہی کی روشنی قبول کر لے جو اس کی زندگی کو سنوارنے والی اور اسے کامیابی کی منزل کو پہنچانے والی ہے۔

 

نظم کلام

 

آیت ۱ تا ۵ تمہیدی مضمون ہے جس میں قرآن کی اس خصوصیت کو نمایاں کیا گیا ہے کہ یہ حکمت بھری کتاب ہے جس کا اثر قبول کرنے والوں کی زندگیاں سنورتی ہیں اور وہ خدائے واحد کے سچے پرستار اور آخرت پر یقین رکھنے والے بن جاتے ہیں۔

آیت ۶ تا ۱۱ میں ان لوگوں کو برے انجام سے خبردار کر دیا گیا ہے جو خدا اور  اس کی دین کے بارے میں علم کے بغیر باتیں کرتے ہیں اور خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں ساتھ ہی ایمان لانے والوں اور اپنا طرز عمل درست رکھنے والوں کو حسن انجام کی بشارت دی گئی ہے۔

آیت ۱۲ تا ۱۹ میں لقمان کی حکیمانہ نصیحتوں اور دانشمندی کی باتوں کی پیش کیا گیا ہے جو اللہ کی عطا کردہ حکمت کے نتیجے میں ان کی زبان سے ادا ہوئی تھیں۔ یہ وہی تعلیمات ہیں جن کو قرآن پیش کر رہا ہے۔

آیت ۲۰ تا ۳۲ میں ان نشانیوں کی طرف رہنمائی کی گئی ہے جن سے توحید اور آخرت کی راہ روشن ہوتی ہے۔

آیت ۳۳ تا ۳۴  اختتامی آیات ہیں جن میں خدا کے حضور پیشی کے دن سے ڈرایا گیا ہے اور اللہ کے علیم و خبیر ہونے کی صفت کو واضح کیا گیا ہے تاکہ آخرت کے وقوع کی جو خبر وہ دے رہا ہے اس پر یقین پیدا ہو۔

                   ترجمہ

 

بسم اللہ الرحمٰن الر حیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔ الف۔ لام۔ میم ۱ *۔

۲۔۔۔۔۔۔ یہ حکمت بھری کتاب کی آیتیں ہیں۔ ۲ *

۳۔۔۔۔۔۔ ہدایت اور رحمت نیکو کاروں کے لیئے ۳ *

۴۔۔۔۔۔۔ جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۴ *۔

۵۔۔۔۔۔۔ یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی ہیں کامیاب ہونے والے ۵ *۔

۶۔۔۔۔۔۔ لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو غافل کر دینے والا کلام خریدتے ہیں ۶ * تاکہ بغیر علم کے ۷ * اللہ کی راہ سے (لوگوں کو) گمراہ کریں اور ان کا (آیات کا) مذاق اڑائیں۔ ایسے لوگوں کے لیئے رسوا کن عذاب ہے۔

۷۔۔۔۔۔۔ ایسے شخص کو جب ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو وہ تکبر کے ساتھ اس طرح رخ پھیر لیتا ہے گو یا کہ اس نے ان کو سنا ہی نہیں۔ گویا کہ اس کے کانوں میں گرانی ہے ۸ *۔ تو اسے درد ناک عذاب کی خوش خبری دے دو۔

۸۔۔۔۔۔۔ البتہ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کی ئے ان کے لیئے نعمت بھرے باغ ہوں گے ۹ *۔

۹۔۔۔۔۔۔ جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کا حتمی  وعدہ ہے  اور وہ غالب ہے حکمت والا۔

۱۰۔۔۔۔۔۔ اس نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے پیدا کیا جیسا کہ تم دیکھتے ہو ۱۰ * اس نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیئے تاکہ وہ تم کو لے کر لڑھک نہ جائے ۱۱ *اور اس میں ہر طرح کے جانور پھیلا دیئے۔ اور آسمان سے پانی بر سایا اور زمین میں ہر قسم کی عمدہ چیزیں اگھائیں۔

۱۱۔۔۔۔۔۔ یہ ہے اللہ کی تخلیق۔ اب مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے کیا پیدا کیا ہے جو اس کے سوا (معبود بنا لئے گئے) ہیں ؟ در اصل یہ ظالم صریح گمراہی میں مبتلا ہیں۔

۱۲۔۔۔۔۔۔ ہم نے لقمان ۱۲ * کو حکمت عطاء کی تھی کہ اللہ کا شکر کرو ۱۳ *اور جو شکر رکتا ہے اس کا شکر کرنا اس کے اپنے ہی لیئے مفید ہے اور جو ناشکری کرتا ہے  تو اللہ بے نیاز (بے محتاج) ہے خوبیوں والا۔ ۱۴ *

۱۳۔۔۔۔۔۔ جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا اے میرے بیٹے۔ اللہ کا شریک نہ ٹھرا۔ بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے ۱۵ *۔

۱۴۔۔۔۔۔۔ اور ہم نے ۱۶ * انسان کو اس کے والدین کے معاملہ میں ہدایت کی۔ اس کی ماں نے تکلیف پر تکلیف اٹھا کر اسے اپنے پیٹ میں رکھا اور دو سال اس کے دودھ چھڑانے میں لگے۔ کہ میرا شکر کر اور اپنے والدین کا ۱۷ *۔ بالآخر پلٹنا میری ہی طرف ہے۔

۱۵۔۔۔۔۔۔ لیکن اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ تو کسی کو میرا شریک ٹھہرا جس کا تجھے کوئی علم نہیں ۱۸ *ہے تو ان کی بات نہ مان ۱۹ * اور دنیا میں ان کے ساتھ اچھا سلوک کر ۲۰ *اور پیروی ان کے راستہ کی کر جنہوں نے میری طرف رجوع کیا۔ ۲۱ *پھر میری ہی طرف تم کو لوٹنا ہے۔ اس وقت میں تمھیں بتاؤں گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔

۱۶۔۔۔۔۔۔ (اور لقمان نے کہا) اے میرے بیٹے ! کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر بھی ہو اور اگر وہ کسی چٹان یا آسمانوں یا زمین میں کہیں چھپی ہو تو اللہ اس کو نکال لائے گا۔ وہ نہایت باریک بین اور باخبر ہے۔ ۲۲ *

۱۷۔۔۔۔۔۔ اے میرے بیٹے ! نماز قائم کر ۲۳ *، بھلائی کا حکم دے، برائی سے منع کر ۲۴ *اور جو مصیبت پہنچے اس پر صبر کر ۲۵ *۔ یہ عزیمت (حوصلہ) کے کام ہیں ۲۶ *۔

۱۸۔۔۔۔۔۔ اور لوگوں سے بے رخی نہ کر ۲۷ *اور نہ زمین پر اکڑ کر چل ۲۸ * اللہ کسی خود پسند ۲۹ * اور فخر کرنے والے ۳۰ * کو پسند نہیں کرتا۔

۱۹۔۔۔۔۔۔ اپنی چال میں اعتدال اختیار کر ۳۱ * اور اپنی آواز  ذرا پست رکھ ۳۲ * سب سے زیادہ بری آواز گدھے کی آواز ہے ۳۳ *۔

۲۰۔۔۔۔۔۔ تم دیکھتے نہیں ۳۴ * کہ اللہ نے ان تمام چیزوں کو جو آسمانوں میں اور جو زمین میں ہیں تمہارے لیئے مسخر کر رکھا ہے ۳۵ * اور اپنی طاہری اور باطنی نعمتیں تم پر پوری کر دی ہیں ۳۶ * پھر بھی انسانوں میں ایسے لوگ ہیں جو اللہ کے بارے میں کسی علم، کسی ہدایت اور کسی روشن کتاب کے بغیر جھگڑتے ہیں ۳۷ *۔

۲۱۔۔۔۔۔۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس چیز کی پیروی  کرو جو اللہ نے نازل کی ہے تو کہتے ہیں ہم تو اس طریقہ کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے دادا کو پا یا ہے ۳۸ *۔ کیا اس صورت میں بھی (یہ ان کی پیروی کریں گے) جب کہ شیطان انہیں بھڑکتی ہوئی آگ کی طرف بلا رہا ہو ۳۹ *؟

۲۲۔۔۔۔۔۔ اور جو شخص اپنے کو اللہ کے حوالے کر دے اور وہ نیکو کار بھی ہو ۴۰ * تو اس نے یقیناً مضبوط سہارا تھام لیا۔ ۴۱ * اور تمام معاملات کا سر انجام اللہ ہی کی طرف ہے۔

۲۳۔۔۔۔۔۔ جس نے کفر کیا اس کا کفر تمہارے لیئے باعث غم نہ ہو ۴۲ *۔ انہیں پلٹ کر ہماری ہی طرف آنا ہے۔ پھر ہم انہیں بتائیں گے کہ انہوں نے کیا کچھ کیا تھا۔ یقیناً اللہ سینوں کے راز  تک جانتا ہے۔

۲۴۔۔۔۔۔۔ ہم تھوڑے دن انہیں سامان زندگی دیں گے ۴۳ *پھر ان کو ایک اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کسی نے پیدا کیا ہے تو ضرور کہیں گے اللہ نے ۴۴ * کہو حمد اللہ ہی کے لیئے ہے مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں ۴۵ *۔

۲۶۔۔۔۔۔۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ بیشک اللہ بے نیاز ہے حمد کا مستحق۔

۲۷۔۔۔۔۔۔ اگر زمین کے تمام درخت قلم بن جائیں اور سمندر روشنائی بن جائے جس کو مزید سات سمندر روشنی بہم پہنچائیں تب بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں گی۔ بے شک اللہ غالب اور حکیم ہے ۴۶ *۔

۲۸۔۔۔۔۔۔ تم سب کو پیدا کرنا پھر زندہ اٹھانا ۴۷* ایسا ہی ہے جیسے ایک شخص کو پیدا کرنا اور پھر زندہ اٹھانا۔ بے شک اللہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے ۴۸ *

۲۹۔۔۔۔۔۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں ۴۹ * اور سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے۔ ہر ایک وقت مقرر تک چلا جا رہا ہے ۵۰ *۔ اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے باخبر ہے۔

۳۰۔۔۔۔۔۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کو چھوڑ کر جن دوسری چیزوں کو یہ پکارتے ہیں وہ باطل ہیں ۵۱ *اور یہ کہ اللہ بلند/اعلیٰ) و بر تر (کبیر) ہے ۵۲ *۔

۳۱۔۔۔۔۔۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ کشتی سمندر میں اللہ کے فضل سے چلتی ہے تاکہ وہ تمھیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائے۔ یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیئے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو ۵۳ *۔

۳۲۔۔۔۔۔۔ اور جب موجیں سائبانوں کی طرح ان پر چھا جاتی ہیں تو وہ اللہ کا پکارتے ہیں دین (عاجز ی و بندگی) کو اس کے لیئے خالص کرتے ہوئے ۵۴ * پھر جب وہ انہیں بچا کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو ان میں سے کچھ ہی لوگ اعتدال پر رہتے ہیں ۵۵ * اور ہماری آیتوں کا انکار وہی لوگ کرتے ہیں جو غدار ۵۶ * اور ناشکرے ہیں۔

۳۳۔۔۔۔۔۔ لوگو! بچو اپنے رب کی نافر مانی سے اور ڈرو اس دن سے ۵۷ *  جب نہ کوئی باپ اپنی اولاد کے کام آئے گا اور نہ کوئی اولاد اپنے باپ کے کام آئے گی۔ ۵۸ * یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے تو دنیا کی زندگی تمھیں دھوکہ میں نہ ڈالے اور نہ فریب کا ر ۵۹ * اللہ کے معاملہ میں تمھیں دھوکہ میں رکھے ۔

۳۴۔۔۔۔۔۔ قیامت کی گھڑی کا علم اللہ ہی کے پاس ہے ۶۰ *، وہی بارش برساتا ہے ۶۱ *، وہی جانتا ہے کہ رحموں (ماؤں کے شکم) میں کیا ہے ۶۲ *، کوئی شخص نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرے گا ۶۳ * اور نہ کوئی شخص یہ جانتا ہے کہ وہ کس سر زمین میں مرے گا ۶۴ *۔ اللہ ہی سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔

 

                   تفسیر

 

۱۔۔۔۔۔۔۔ حروف مقطعات کی تشریح کے لیے دیکھیے سورہ بقرہ نوٹ ۱ اور سورہ یونس نوٹ ۱ اس سورہ میں “ا” کا اشارہ آیات کی طرف ہے جن کا ذکر آیت ۲، ۷، ۳۱، اور ۳۲ میں ہوا ہے۔

“ل” کا اشارہ لقمان کی طرف ہے جن کا ذکر آیت ۱۱ اور  ۱۳ میں ہوا ہے۔

اور “م” کا اشارہ محسنین (نیکو کاروں ) کی طرف ہے جن کا ذکر آیت ۳، میں ہوا ہے۔

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ یونس نوٹ ۲۔

۳۔ ۔۔۔۔۔۔۔محسنین (نیکو کار) سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ کے احکام پر ایمان رکھتے ہوئے نہ صرف اس کے احکام کی پابندی کریں بلکہ خوبی کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں اور اپنے عمل میں حسن پیدا کریں۔

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ بقرہ نوٹ۔ ۱۰۔

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ بقرہ نوٹ۔ ۱۱، ۱۲۔

۶ ۔۔۔۔۔۔۔لَھْوالحدیث (غافل کر دینے والا کلام) سے مراد جیسا کہ سیاق کلام سے واضح ہے خدا اور آخرت سے غافل کر دینے والا اور اس کی نشانیوں اور اس کی نازل کردہ آیتوں سے توجہ ہٹا دینے والا کلام ہے۔ اور اس کو خریدنے کا مطلب اس کو قبول کرنا اور اختیار کرنا ہے چنانچہ سورہ بقرہ میں ارشاد ہوا ہے :

اَولٰئِکَ الَّذِیْنَ اشْتَرَو ا الضَّلَا لَۃً بِالْھُدیٰ فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُھُمْ وَمَا کَا نُوْ ا مُھْتَدِیْن۔ (سورہ بقرہ : ۱۶)

” یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلہ گمراہی مول لی تو نہ ان کا سودا نفع بخش ہوا اور نہ وہ ہدایت پا سکے”۔

یعنی ہدایت کو انہوں نے ترک کیا اور اس کے بدلے میں گمراہی اختیار کر لی۔ قرآن کے مقابلہ میں وہ جس چیز کو اپنا مشغلہ اور لوگوں کی گمراہی کا سامان  بنائے ہوئے تھے وہ دنیا کے عیش و عشرت پر آمادہ کرنے والی اور عشق و محبت کی آگ بھڑکانے والی شاعری (اَلشُّعَراءُ یَتَّبِعُھُمُ الْغَاوُون۔ سورہ شعراء ۲۲۴۰) فضول قصہ گوئی (سَامِراً تَھْجُرُوْن۔ سورۂ مومنون : ۲۷ ) اور گانا جو پیشہ ور  لونڈیاں گاتی تھیں۔ لھوا لحدیث میں یہ تینوں ہی چیزیں شامل ہیں کیونکہ یہ سب خدا اور آخرت سے غافل کر دینے والی باتیں ہیں۔ اور قرآن اور گانا تو بالکل ایک دوسرے کے مقابل کی چیزیں ہیں چنانچہ جو لوگ گانے کے شیدائی ہوتے ہیں انہیں قرآن سننے سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی حالانکہ قرآن میں ایسی حلاوت (شیرینی) ہے کہ اس کی کوئی مثال پیش نہیں کی جا سکتی اور اس کی سماعت سے ایسا سوز اور ایسی رقت پیدا ہو جاتی ہے کہ روح بلندی کی طرف پرواز کرنے لگتی ہے مگر اس لذت سے وہی لوگ آشنا ہوتے ہیں جو قرآن سے شغف رکھتے ہیں۔ جمہور مفسرین نے لھْو الحدیث سے گانا  ہی مراد لیا ہے اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تو قسم کھا کر فرماتے تھے کہ اس سے مراد غِناء یعنی گانا ہے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں الغِناء و اَشْیَا ھہ (تفسیر طبری، ج ۲۱ ص، ۳۹۔ ۴۰ ) لھو الحدیث گانا اور اس جیسی چیزیں ہیں “۔ ان کے علاوہ دیگر صحابہ و تابعین سے بھی یہی تفسیر منقول ہے۔ موجودہ زمانہ میں تو گانے بجانے نے وبا کی شکل اختیار کر لی ہے کہاں حیاء داری کے بارے میں اسلام کی یہ تعلیم کہ عورتیں لوچ کے ساتھ مردوں سے بات نہ کریں : فَلَا تَخْضَعْنَ فِی الْقَوْلِ سورہ احزاب ۳۲) اور نہ اس طرح چلیں کہ ان کے زیوروں کی جھنکار لوگوں کو سنائی دے (ولا یَضْرِبْنَ بِاَرْ جُلِھِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ  مِنْ زِیْنَتِھِنَّ۔ سورہ نور : ۳۱ ) اور کہاں عورتوں کا پورے تبرج جاہلیہ کے ساتھ مردوں کے سامنے آ کر رقص و سرود کرنا اور مردوں کا آلات لہو کے ساتھ فحش اور بیہودہ کانے گانا ! پھر جدید ذرائع ابلاغ سینما، ریڈیو، ٹیلیویژن اور ویڈیو وغیرہ نے تو لوگوں کو بری طرح مسحور کر دیا ہے اور ماحول ایسا بنا دیا ہے کہ ہر گھر سینما گھر بن گیا ہے اور بچہ بچہ کی زبان پر فلمی گانے ہیں اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شرم و حیاء اٹھ گئی اور شرم و حیا کے اٹھ جانے سے زنا کاری عام ہو گئی ہے اور عصمتیں محفوظ نہیں رہیں۔ اس کا دوسرا نقصان یہ ہوا کہ سنجیدگی اور وقار لوگوں کے اندر سے رخصت ہوا اور وہ اوچھی حرکتیں کرنے لگے، اس کا تیسرا نقصان یہ ہو کہ احساس ذمہ داری بری رح مجروح ہو گیا اور بے پرواہی نے اس کی جگہ لے لی اور اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ آدمی اپنے مقصد حیات کی طرف سے غافل ہو گیا۔ اب نہ وہ خدا کا کلام سننے سمجھنے کے لیے تیار ہے اور نہ تذکیر و نصیحت کی کوئی بات۔ وہ بری طرح دنیا پرستی میں مگن ہے اور واقعہ یہ ہے کہ گانے کی مد ہوشی شراب کی مد ہوشی سے بھی بڑھ کر ہے۔ اگر لوگ قرآن کو گوش دل سے سنتے تو ہوش میں آتے۔

۷۔۔۔۔۔۔۔۔ جو کلام خدا اور آخرت سے غافل کر دینے والا ہو اس کا حقیقی علم سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا وہ جہالت اور جاہلیت ہی کی پیداوار ہے۔

۸۔۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ انعام نوٹ ۴۴۔

۹۔۔۔۔۔۔۔۔ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ جنہوں نے اپنا وقت گانے  بجانے، ڈھول ڈھمکا سننے اور خرافات میں صرف کرنے کے بجائے ایمان کی دولت کو سمیٹنے اور اپنے کو نیک اعمال سے سنوارنے میں صرف کیا انہیں آخرت میں ایسے باغ عطا کیے جائیں گے جہاں وہ نعمتوں سے مالا مال ہوں گے۔

۱۰۔ ۔۔۔۔۔۔۔تشریح کے لیے دیکھیے سورہ رعد نوٹ ۵۔

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ نحل نوٹ ۲۶۔

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔ لقمان عرب کی وہ شخصیت ہے جو حکیم اور دانا کی حیثیت سے مشہور تھی۔ ان کا ذکر شعرائے عرب کے کلام میں ملتا ہے مگر  چونکہ عربوں میں تاریخ نگاری کا رواج نہیں تھا اس لیے لقمان کے حالات منضبط نہ ہو سکے۔ رہیں روایات تو ان میں متضاد باتیں بیان ہوئی ہیں اس لیے ہمیں قرآن کے ہی بیان پر اکتفا کرنا چاہیے۔ قرآن کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ :

۱)۔ لقمان اللہ کے شکر گزار بندے تھے۔

۲)۔ اللہ نے ان کو حکمت و دانائی عطا فرمائی تھی۔

۳)۔ ان کی نظر میں شرک سب سے بڑا ظلم تھا۔

۴)۔ انہیں اللہ کے کمال علم اور کمال قدرت پر یقین تھا نیز وہ جزائے عمل پر یقین رکھتے تھے۔

۵)۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو جو نصیحتیں کی تھیں وہ نہایت زرین نصیحتیں تھیں اور یہ در حقیقت عربوں کے لیے قیمتی اثاثہ تھا اور اب قرآن نے اس متاعِ عزیز کی افادیت عام کر دی ہے۔

۶)۔ لقمان کی نصیحتوں میں نماز قائم کرنے کی ہدایت بھی شامل ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ لقمان کی یہ نصیحتیں انبیائی تعلیم سے ماخوذ تھیں نہ کہ مجرد تعقل (عقلیت ) کا نتیجہ۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے حکمت عطا کی تھی اس لیے انہوں نے انبیائی تعلیم کو اپنے اندر جذب کیا اور مؤثر پیا یہ میں بیان بھی کیا۔

حکمت سے مراد وہ فہم ہے جو عقیدہ و عمل کے لیے حق و عدل کو بنیاد بناتا ہے۔ حضرت لقمان اس فہم سے نوازے گئے تھے اس لیے ان کی زبان سے دانشمندی کی باتیں ادا ہوئیں۔ اس سے ان عربوں کو جو قرآن کے اولین مخاطب تھے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ تمہارے ہی اسلاف میں لقمان جیسی دانا شخصیت بھی رہی ہے جس کے  تم خود معترف ہو۔ اس نے بھی وہی تعلیم دی تھی جو آج قرآن دے رہا ہے پھر تم اپنے اس سلف صالح کی پیروی کیوں نہیں کرتے اور اپنے گمراہ آبا و اجداد کی پیروی ہی پر کیوں اصرار کرتے ہیں ؟

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی سب سے بڑی حکمت و دانشمندی یہی ہے کہ آدمی اللہ کا شکر گزار بنے۔ شکر یہ ہے کہ آدمی اللہ کی نعمتوں اور اس کے احسانات کا دل سے اعتراف کرے، زبان سے اس کا اقرار کرے اور اپنے رویہ کو اس کے مطابق بنا لے۔ پھر علم، فہم اور دانائی بہت بڑا خیر ہے اور جس کو یہ حاصل ہو اس کو اس کی پوری قدر کرنا چاہیے۔

۱۴۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی کسی کے شکر گزار بننے سے اللہ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اور نہ اس کی ناشکری کرنے سے اللہ کا کوئی نقصان ہوتا ہے کیونکہ وہ نہ کسی چیز کا حاجتمند ہے اور نہ اس کا لائق تعریف ہونا تمہارے تعریف کرنے پر منحصر ہے بلیہ وہ صفات حمیدہ(خوبیوں ) سے متصف ہے اس لیے مستحق تعریف ہے خواہ کوئی اس کی تعریف کرے یا نہ کرے۔ البتہ جو شخص اس کا شکر بجا لاتا اور اس کی حمد کرتا ہے وہ اپنے فرض کو ادا کرتا ہے اور اس بنا پر وہ اپنی ہی کامیابی کا سامان کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے وہ اپنی فرض ناشناسی کا ثبوت دیتا ہے اور اپنے کو ہلاکت کی راہ پر ڈال دیتا ہے۔

۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔ شرک بہت بڑا ظلم ہے کیونکہ یہ اس عدل کے خلاف ہے جس پر زمین و آسمان قائم ہیں نیز یہ اللہ کے معاملہ میں حق ہے جب کہ شرک کرنے والا غیر اللہ کو بھی اس کا مستحق ٹھہراتا ہے علاوہ ازیں شرک کا مرتکب سخت گناہ کا ارتکاب کے اپنے نفس پر زبردست ظلم ڈھاتا ہے۔

مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورہ انعام نوٹ ۱۴۷۔

لقمان نے اپنے بیٹے کو شرک سے بچنے کی جو تاکید کی اس سے یہ گمان کرنا صحیح نہیں کہ بیٹا مشرک تھا کیونکہ آگے جو نصیحتیں بیان ہوئی ہیں جن میں نماز قائم کرنے کی ہدایت بھی شامل ہے وہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ مسلم تھا اور حضرت لقمان نے اس میں صحیح دینی شعور پیدا کرنے اور اس کے عقیدہ کو پختہ کرنے کے لیے شرک سے بچنے کی تاکید کی۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ایک باپ اپنی اولاد کو سب سے پہلے ایسی تعلیم دے جو اس کو شرک سے باز رکھنے والی عقیدۂ توحید کو اس کے ذہن میں راسخ کرنے والی ہو۔

۱۶۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اور اس کے بعد والی آیت کا مضمون اللہ تعالیٰ کا اپنا ارشاد ہے اور لقمان کے بیان پر اضافہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے مناسب نہیں سمجھا ہو گا کہ والد خود اپنے بیٹے کو اپنے ساتھ محسن سلوک کی نصیحت کرے لیکن چونکہ ایک اہم بات تھی جو ان کی نصیحتوں میں شامل نہیں ہو سکتی تھی اس لیے اللہ  تعالیٰ نے خود بیان فرما کر اس کمی کو پورا کر دیا۔

۱۷۔۔۔۔۔۔۔۔ ماں چونکہ تکلیف پر تکلیف جھیلتی ہے اس لیے وہ حسن سلوک کی سب سے زیادہ مستحق ہے حدیث میں آتا ہے :

جاءَ رجلٌ الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فقال یا رسول َاللہِ مَنْ اَحَقُّ بِحُسْنِ صَحَبتی ؟ قال اُمُّکَ، قال ثُمَّ مَنْ ؟ قال اَمّکَ، قالَثُمَّ مَنْ  قال ثُمَّ اَبُوکَ (صحیح بخاری کتاب الادب)۔ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! میرے حسن سلوک کا  سب سے زیادہ مستحق کون ہے ؟ فرمایا تمہاری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون ؟ فرمایا تمہاری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون؟ فرمایا تمہاری ماں، اس نے پوچھا پھر کون ؟ فرمایا پھر تمہارا باپ”۔

آیت میں والدین کا شکر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جب کہ دوسرے مقامات پر حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک اس طور سے مطلوب ہے کہ ان کے ساتھ جذباتی لگاؤ بھی ہو اور زبان سے ان کے حق میں خیر کے کلمات ہی نکلیں۔ مگر اللہ کا شکر والدین کے شکر پر مقدم ہے جیسا کہ آیت سے واضح ہے۔

۱۸۔ ۔۔۔۔۔۔۔تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ عنکبوت نوٹ۔ ۱۰۔

۱۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ عنکبوت نوٹ۔ ۱۱

۲۰۔ ۔۔۔۔۔۔۔یہاں “دنیا” سے مراد مباحات (جائز باتوں ) کا وہ دائرہ ہے جس میں شریعت نے معاملات کی آزادی دی ہے۔ اگر والدین غیر مسلم اور کافر ہوں تو ان کے ساتھ بھی یہ معاملات انجام دیے جا سکتے ہیں بشرطیکہ کسی شرعی حکم کی خلاف ورزی لازم نہ آتی ہو۔

۲۱۔ ۔۔۔۔۔۔۔یعنی دین کے معاملہ میں پیروی ماں باپ کی نہیں کرنا ہے کہ ان کا جو بھی مذہب ہے بیٹا اسی مذہب کا پیرو بن جائے بلکہ دین کی حقیقت اللہ کی طرف رجوع ہے اس لیے ان ہی لوگوں کی راہ پر چلنا چاہیے جنہوں نے اللہ کی طرف رجوع کیا تھا اور وہ ہے انبیاء علیہم السلام کی راہ۔

۲۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ ایسا باریک بین اور باخبر ہے کہ اگر رائی کے دانہ کے برابر بھی کوئی چیز کسی چٹان کے نیچے یا آسمان و زمین میں کہیں چھپی ہوئی ہو تو وہ اس پر بالکل عیاں ہے اور جب چاہے گا وہ اس کو باہر نکال لائے گا اور جب اس کے علم اور قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں تو انسان کا چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی اس سے مخفی نہیں رہ سکتا اور قیامت کے  دن وہ ضرور اسے لا حاضر  کر دے گا۔ سورہ زلزال میں ارشاد ہوا ہے۔

فَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْراً یَّرَہ وَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقالَ ذَرَّۃٍ شَرًّ یَرَہٗ (زلزال : ۷۔ ۸)

” جس نے ذرہ برابر بھلائی کی ہو گی اس کو وہ دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہو گی وہ اسے بھی دیکھ لے گا۔

۲۳۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسا کہ ہم اوپر لکھ چکے ہیں نماز قائم کرنا انبیائی تعلیمات میں سے ہے۔ لقمان کی حکیمانہ باتیں انبیائی تعلیم ہی سے ماخوذ تھیں۔ اس لیے اقامت صلوٰۃ کی ہدایت بھی اس میں شامل تھی۔

۲۴۔۔۔۔۔۔۔۔ معلوم ہوا کہ بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ہر فرد کی ذمہ داری ہے نہ کہ صرف علماء کی ذمہ داری۔ رہا اس فریضہ کی ادائیگی کا طریقہ تو اس کا تعلق آدمی کی اپنی استطاعت، صلاحیت اور حالات سے ہے۔

۲۵۔۔۔۔۔۔۔۔ جو شخص نیکیوں کو پھیلانے اور برائیوں کو مٹانے کے لیے اٹھ کھڑا ہو گا اس کو مخالفت کا ضرور سامنا کرنا پڑے گا کیوں کہ لوگ عام طور سے اصلاح کو قبول کرنے کے لیے آسانی سے آمادہ نہیں ہوتے اور اصلاح کی کوشش کرنے والے کو اذیت اور تکلیف پہنچاتے ہیں۔ اس لیے اس راہ میں قدم قدم پر صبر و تحمل کی ضرورت ہوتی ہے۔

۲۶۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ کام چونکہ کٹھن ہے اس لیے ان کو انجام دینے کے لیے حوصلہ کی ضرورت ہے۔ اگر آدمی میں حوصلہ ہو تو وہ آتش نمرود میں بھی بے خطر کود پڑتا ہے اور اگر حوصلہ نہ ہو تو معمولی خدشات کی بنا پر کلمہ حق زبان سے نکالنے کی جرأت نہیں کرتا۔ انسان کا عزم لوہے کی زنجیروں کو کاٹ دیتا ہے اور اس کی پست حوصلگی اس کو زنجیروں میں جکڑ دیتی ہے۔

۲۷۔۔۔۔۔۔۔۔ لوگوں سے بے رخی تکبر کی علامت ہے۔ آدمی میں جب احساس برتری پیدا ہو جاتا ہے تو وہ دوسروں کو خاطر میں نہیں لاتا یہ بہت بری بد اخلاقی ہے۔

۲۸۔۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ نبی اسرائیل نوٹ ۵۰۔

۲۹۔۔۔۔۔۔۔۔ “مختال” کے معنی ہیں متکبر اور خود پسند۔ خود پسندی (عُجْب ) دولت، اقتدار، قیادت، علم اور ہنر وغیرہ کی بنا پر پیدا ہوتی ہے اور آدمی متکبرانہ انداز اختیار کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ اس کی چال ڈھال بھی متکبرانہ ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس لیے حدیث میں تکبر کے ساتھ کپڑا گھسیٹتے ہوئے چلنے پر سخت و عید آئی ہے۔ :

مَنْ جَرَّ ثَوْبَہٗ مَخیلۃ لَمْ یَنْظُرِاللہُ اِلَیْہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ (صحیح البخاری کتاب اللباس) ” جو تکبر سے اپنے کپڑے کو گھسیٹتے ہوئے چلے گا اللہ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔ ”

یہ بادشاہوں اور گھمنڈ کرنے والوں کا طریقہ ہے کہ عبا وغیرہ کو زمین پر گھسیٹتے ہوئے چلیں۔ اگر پاجامہ پینٹ وغیرہ ٹخنوں سے نیچے ہو تو وہ بھی آدمی میں گھمنڈ پیدا کرتی ہے۔ اس لیے شریعت نے یہ حد مقرر کر دی ہے کہ کپڑا ٹکنوں تک ہو اس سے نیچے نہ ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :

مَا اَسْفَلَ مِنَ الْکَعْبَیْنِ مِنَ الْاِزَار ففی النَّار۔ (مشکوٰۃ کتاب اللباس بروایۃ البخاری)

اس سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ آدمی ایسا لباس نہ پہنے جس سے گھمنڈ کا اظہار ہوتا ہو۔

۳۰۔۔۔۔۔۔۔۔ “فَخور” (فخر کرنے والا )  جو اپنی بڑائی کا اظہار دوسروں پر کرے۔ جو لوگ کم ظرف ہوتے ہیں وہی اپنے کارنامے دوسروں کے سامنے گناتے رہتے ہیں وہی اپنے کارنامے دوسروں کے سامنے گناتے رہتے ہیں تکہ ان سے داد حاصل کریں ایک مذموم خصلت ہے جو اللہ کو سخت ناپسند ہے۔

۳۱۔۔۔۔۔۔۔۔ چال میں میانہ روی اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ چال پر وقار ہو۔ آدمی نہ سست روی کا نمائشی انداز اختیار کرے اور نہ ایسی تیز روی جس سے بے وقری ظاہر ہوتی ہو۔

حدیث میں نماز کے لیے بھی دوڑنے سے منع کیا گیا ہے کہ بے وقری کا مظاہرہ نہ ہو :

اِذا سَمِعْتُمُ الْاِقا مَۃَ فامْشُوا اِلی الصَّلوٰۃِ وَ عَلَیْکُمُ السَّکِیْنۃَ وَالْوقارَ وَلَا تُسرِعُو ا فَمَا اَدْرَکْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فا تَکُمْ  فَاَتِّمّوا۔ (صحیح البخاری کتاب الاذان)”جب تم اقامت سنو تو نماز کے لیے سکون اور وقار کے ساتھ چلو۔ دوڑو مت۔ پھر جس قدر نماز مل جائے اس کو پورا کر لو”۔

یہ بات اخلاقی پہلو سے ہے یعنی چال میں میانہ روی آدمی کی خصلت ہو ورنہ ضرورۃً آدمی دوڑ بھی سکتا ہے۔ مثال کے طور پر آگ کو بجھانے کے لیے یا کسی کی جان کو بچانے کے لیے یا مجرم کو پکڑنے کے لیے وغیرہ۔ مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورہ فرقان نوٹ۔ ۹۱۔

اس سے یہ بات خود بخود واضح ہوتی ہے کہ رقص (ناچ) ایک قبیح (بری) حرکت ہے کیونکہ یہ میانہ روی کے بالکل منافی ہے اور بے وقری کا کھلا مظاہرہ ہے خواہ رقص عورت کو ہو یا مرد کا اور خواہ وہ فحش گانوں کے ساتھ ہو یا قوالی کے ساتھ یا وجد کی حالت میں۔

۳۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی بول چال میں اپنی آواز قدرے کم رکھو۔ بلند آواز سے بولنا کوئی خوبی کی بات نہیں ہے بلکہ ناسمجھی کی علامت ہے اور چیخ چیخ کر بولنے سے تو جھگڑالو پن اور تکبر کا اظہار ہوتا ہے۔ آواز میں کسی قدر پستی ایک اچھی صفت ہے جو اپنا ایک اثر رکھتی ہے۔

آواز میں پستی بھی ایک خصلت کے طور پر مطلوب ہے ورنہ ضرورۃً آواز بلند کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے مثلاً تقریر، اعلان یا اذان وغیرہ کے لیے۔

۳۳۔۔۔۔۔۔۔۔ بھونڈی اور کرخت آواز کو گدھے کی آواز سے تشبیہ دے کر اس سے نفرت دلائی گئی ہے۔ گدھے کی آواز سننا کوئی بھی پسند نہیں کرتا پھر انسان جو اپنا ایک اخلاقی وجود رکھتا ہے گدھے کی طرح کیوں چیخے۔

واضح رہے کہ اسلام میں ظاہر اور باطن دونوں کی اہمیت ہے اور دونوں ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اچھی خصلتیں جو انسان کے ظاہر (اعضاء و جوارح) سے تعلق رکھتی ہیں مثلاً آواز میں پستی، غض بصر، میانہ روی وغیرہ اس کے باطن میں اچھے جذبات کی پرورش اور اچھی کیفیات پیدا کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہیں اور بری خصلتیں برے جذبات کو پختہ کرنے اور بری کیفیات پیدا کرنے کا سبب بن جاتی ہیں۔ اسی طرح وہ اوصاف جو باطن سے تعلق رکھتے ہیں مثلاً خلوص، محبت، ہمدردی وغیرہ برا کردار پیدا کرتے ہیں۔

۳۴۔ ۔۔۔۔۔۔۔لقمان کی نصیحتیں اوپر ختم ہو گئیں۔ اب پھر کلام کا رخ توحید کی طرف مڑ جاتا ہے۔

۳۵۔۔۔۔۔۔۔۔ تسخیر کے معنی تابع کر دینے کے بھی ہیں اور خدمت میں لگانے کے بھی۔ اللہ تعالیٰ نے کتنی ہی چیزیں انسان کے تابع کر دی ہیں کہ وہ جس طرح چاہے ان سے خدمت لے مثال کے طور پر جانور جن سے وہ اپنی مرضی کے مطابق خدمت لیتا ہے اور ان کو ذبح بھی کر سکتا ہے۔ اسی طرح نباتات اور جمادات کہ ان کو مختلف طریقوں سے استعمال میں لاتا ہے۔ لیکن بہت سی چیزیں خاص طور سے اجرام سماوی جو انسان کی دسترس میں نہیں ہیں انسان کو کسی نہ کسی طرح فائدہ پہنچانے کا سامان کر رہی ہیں مثال کے طور پر سورج جو  دن رات انسان کو حرارت اور روشنی پہنچانے کے کام میں لگا ہوا ہے اور فضائے بسیط میں کائناتی شعاعوں (Cosmic Rays)  کا وجود جو حال ہی کی دریافت ہے اور ہم نہیں جانتے کہ سات آسمان ہمارے لیے کیا کیا خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن مشاہدہ بتاتا ہے کہ اجرام سماوی انسان کے فائدہ کے لیے طرح طرح کے سامان کر رہے ہیں۔

۳۶۔۔۔۔۔۔۔۔ ظاہری نعمتوں سے مراد محسوس اور معلوم نعمتیں ہیں اور باطنی نعمتوں سے مراد وہ نعمتیں جن کا فائدہ تو اسے پہنچ رہا ہے لیکن وہ اس کے علم میں نہیں ہیں۔ موجودہ دور میں میڈیکل سائنس نے ایسی کتنی چیزوں کا انکشاف کیا ہے جو انسانی جسم کے اندر مفید خدمات انجام دیتی ہیں، امراض کے خلاف مدافعت کرتی ہیں اور نشو و نما میں مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔ یہ اور اس قسم کی کتنی ہی چیزیں پہلے مخفی تھیں اور اب سائنس کی ترقی کی بدولت انسان کے علم میں آ گئیں۔ اور بے شمار نعمتیں ایسی ہیں جن کا انسان کو علم نہیں ہے۔

۳۷۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ان نعمتوں کے حاصل ہو جانے پر جن کا ذکر اوپر ہوا چاہیے تو یہ تھا کہ انسان اللہ کا شکر گزار بندہ بن جاتا لیکن کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے ناشکرے بنتے ہیں اور اس کے محسن حقیقی اور الٰہ واحد ہونے کے بارے میں بحثیں کھڑی کر دیتے ہیں۔ یہ بحثیں نہ علم کی بنیاد پر ہوتی ہیں نہ ہدایت کی اور نہ ہی کسی روشن کتاب کی بنیاد پر بلکہ محض جہالت اور وہم پرسی کی بنیاد پر ہوتی ہیں۔

علم کی تشریح کے لیے دیکھیے سورہ حج نوٹ ۵۔

ہدایت سے یہاں مراد توحید کی وہ نشانیاں ہیں جو انسان کے اپنے وجود میں نیز باہر کی دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں اور خاص طور سے انبیاء علیہم السلام کے ذریعے حاصل ہونے والی رہنمائی بھی۔

اور کتاب منیر (روشن کتاب) سے مراد وحی الٰہی کے ذریعہ نازل شدہ کتاب ہے۔ منیر (روشن) کی صفت ظاہر کرتی ہے کہ وہ کتاب صحیح شکل میں موجود ہو ورنہ تحریف شدہ کتاب ہدایت کی راہ پوری طرح روشن نہیں کر سکتی چنانچہ موجودہ تورات، انجیل پر جو بائیبل میں درج ہیں منیر (روشن) کی صفت صادق نہیں آتی۔ اور جہاں تک وید اور گیتا کا تعلق ہے ان کتابوں میں اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہیں اور وید کے بارے میں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ اس کا پیش کرنے والا یا مرتب کون تھا۔ پھر ان کتابوں کے مضامین بھی ان کے کلام الٰہی ہونے کی شہادت نہیں دیتے لہٰذا وہ قابل حجت نہیں ہیں۔

۳۸۔۔۔۔۔۔۔۔ بالفاظ دیگر ہم اپنے آبائی مذہب اور قومی مذہبی کلچر پر قائم رہیں گے۔

۳۹۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی خدا اور مذہب کے معاملہ میں وحی الٰہی کو چھوڑ کر گمراہ آباء  و اجداد یا مشرکانہ قومی کلچر کی پیروی کرنا شیطان کی دعوت کو قبول کرنا ہے کیونکہ شیطان جہنم کی طرف بلاتا ہے اور یہ راہ جہنم ہی کی راہ ہے۔

۴۰۔۔۔۔۔۔۔۔ واضح ہوا کہ اسلام کی  حقیقت یہ ہے کہ آدمی شعوری طور پر اپنے کو اللہ کے حوالے کر دے اور اپنی عملی زندگی میں حسن و خوبی پیدا کرے۔

۴۱۔۔۔۔۔۔۔۔ العُوۃُ الوُثقٰی (مضبوط سہارا) سے مراد اللہ کا دین ہے جو اللہ سے تعلق مضبوط کرتا ہے۔

۴۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جب تم نے ان کی پوری پوری خیر خواہی کی اور ان کو سمجھانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اس کے باوجود اگر وہ اپنے کفر پر جمے ہوئے ہیں تو تم ان کا غم کیوں کرو۔ وہ اپنے کیے کو پہنچ کر رہیں گے۔

۴۳۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جو مہلت انہیں دنیا سے فائدہ اٹھانے کی مل رہی ہے وہ بہت تھوڑی ہے۔ عنقریب انہیں یہ سب کچھ چھوڑ کر یہاں سے رخصت ہونا ہو گا۔

۴۴۔۔۔۔۔۔۔۔ مشرکین عرب اللہ ہی کو خالق مانتے تھے۔

۴۵۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جب کائنات کا خالق اللہ ہے تو شکر اور تعریف کا مستحق بھی اللہ ہی ہے مگر اتنی موٹی بات بھی اکثر لوگ نہیں جانتے اور اسی بنا پر شرک میں مبتلا ہوتے ہیں۔

۴۶۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی زمین پر جتنے درخت ہیں ان سب کے اگر قلم بنائے جائیں اور سمندر کو روشنائی بنا لیا جائے اور سات اور سمندروں کا اس پر اضافہ کیا جائے تو بھی اللہ کی قدرت اور اس کی حکمت کی باتوں کو لکنے کے لیے یہ سب ناکافی ہو جائے۔ ظاہر ہے ایک ایک ذرہ نے ابتدائے آفرینش سے جو کام انجام دیے ہیں ان کو قلم بند کرنے کے لیے روشنائی کا یہ ذخیرہ ہر گز کافی نہیں ہو سکتا۔ مگر اللہ کا علم اتنا وسیع ہے کہ وہ ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اگر انسان اس کی عظمت کا صحیح تصور کر لے تو ان باتوں کو قبول کرنے میں  اسے ذرا بھی تامل نہیں ہو گا جن کو قرآن پیش کر رہا ہے۔

مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورہ کہف نوٹ ۱۳۳۔

۴۷۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کے لیے بے شمار انسانوں کو پیدا کرنا اتنا ہی آسان ہے جتنا کہ ایک انسان کو پیدا کرنا۔ اسی طرح تمام انسانوں کو دو بارہ زندہ کرنا اتنا ہی آسان ہے جتنا کہ ایک انسان کو دوبارہ زندہ کرنا۔ اس کے حکم کُنْ سے مُردے کیوں نہ جی اٹھیں گے ؟

۴۸۔۔۔۔۔۔۔۔ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ جب وہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے تو وہ تمہارے اچھے عمل کی جزا اور برے عمل کی سزا کیسے نہیں دے گا۔

۴۹۔۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ آل عمران نوٹ ۳۹۔

۵۰۔۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ رعد نوٹ ۸۔

۵۱۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی سورج اور چاند اس لیے مسخر ہیں کہ اللہ نے ان کو مسخر کر رکھا ہے۔ اگر یہ خدا ہوتے تو مسخر نہیں ہو سکتے تھے اور اگر متعدد خدا ہوتے تو کائنات کا یہ نظام اس با قاعدگی کے ساتھ نہیں چل سکتا تھا۔  اس لیے یہ واضح دلیل ہے اس بات کی کہ اللہ ہی الٰہ واحد ہے اور اس کے سوا کسی بھی خدا کا کوئی وجود نہیں اس لیے یہ مشرکین جس چیز کو بھی معبود سمجھ کر پکارتے ہیں وہ سراسر خلاف حقیقت ہے۔

۵۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کی شان بہت بلند ہے اور کبریائی اس کے لیے ہے۔

مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورہ رعد نوٹ ۲۵۔

۵۳۔۔۔۔۔۔۔۔ آدمی جب کشتی میں سوار ہوتا ہے تو وہ خطرات سے گھرا ہوتا ہے۔ پھر اگر کشتی طوفان سے دوچار ہو جاتی ہے تو وہ شدید خطرہ محسوس کرنے لگتا ہے یہ اس بات کی علامت ہے کہ زندگی خطرات سے گھری ہوئی ہے اور وہ اللہ ہی ہے جو خطرات کے درمیان سے انسان کو صحیح سلامت گزارتا ہے۔ مگر یہ رہنمائی وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو خطرات اور مصیبت میں صبر کا دامن تھامے رہتے ہیں یعنی جو حق کو پا لینے اور اس پر قائم رہنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

دوسرے پہلو سے دیکھیے تو کشتی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے کیونکہ انسان کشتی اور جہاز کے ذریعہ طرح طرح کے فوائد حاصل کر لیتا ہے۔ اسی طرح جب کشتی طوفان سے صحیح سلامت نکل جاتی ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا احسان ہوتا ہے مگر اس کی طرف متوجہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو احسان شناس ہوں اور اپنے رب کے شکر گزار رہنا چاہتے ہوں۔

۵۴۔۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ یونس نوٹ ۴۲۔

۵۵۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی کم ہی لوگ اس بات پر قائم رہتے ہیں کہ اللہ کو پکاریں عاجزی و بندگی کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے ورنہ زیادہ تر لوگ اپنے عہد سے پھر جاتے ہیں۔

۵۶۔۔۔۔۔۔۔۔ ختّار (غدار) یعنی بد عہدی کرنے والا اللہ کے عہد بندگی کو توڑنے والا۔ آیت کا اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ کشتی کے طوفان میں گھر جانے پر تو خدا یاد آ گیا تھا اور اس سے عاجزانہ دعا کر کے اس کی بندگی کا اقرار کیا تھا لیکن جب وہ ان لوگوں کو طوفان کی زد سے بچا کر خشکی پر صحیح سلامت لے آیا تو وہ اپنے اس اقرار سے پھر گئے اور اس کی آیتوں کا انکار کرنے لگے۔

۵۷۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی قیامت کے دن کی پیشی سے جب ہر شخص کو اللہ کے حضور اپنے اعمال کی جواب دہی کرنا ہو گی۔

۵۸۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جب نہ باپ بیٹے کے کام آئے گا اور نہ بیٹا باپ کے تو ہر شخص کو اپنی نجات کی فکر کرنا چاہیے۔ اسے یہ سوچنا چاہیے کہ کس عقیدہ و دین کو اپنا کر میں اخروی عذاب سے بچ سکتا ہوں اور ابدی کامیابی حاصل کر سکتا ہوں۔ مگر صورت حال عجیب ہے۔ اولاد اسی دھرم پر قائم رہتی ہے جو ان کے ماں باپ کا دھرم ہوتا ہے حالانکہ یہ دھرم باطل ہونے کی بنا پر ماں باپ کو جہنم میں لے جانے والا ہوتا ہے اور اولاد کو بھی۔

۵۹۔۔۔۔۔۔۔۔ مراد شیطان ہے جو اللہ کے معاملہ میں سب سے بڑا دھوکہ باز ہے۔

۶۰۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی قیامت کی گھڑی کب آئے گی کسی کو بھی نہیں معلوم۔ اس کا علم اللہ ہی کو ہے۔ اس کی حکمت اسی بات کی متقاضی ہوئی کہ وہ اس کے وقت کو کسی پر ظاہر نہ کرے اس لیے اس بارے میں نبی سے سوال کرنا یا اس بحث میں پڑنا بے سود ہے۔ اس بحث میں پڑنے کے بجائے آدمی کو چاہیے کہ اس کے لیے تیاری کرے کیوں کہ قیامت بہر حال اپنے وقت پر آ کر رہے گی۔

۶۱۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ اپنے منصوبہ کے مطابق بارش برساتا ہے اس لیے اس بات کا علم کہ کب اورت کہاں کتنی بارش ہو گی اللہ ہی کو ہے۔ انسان اپنے تجربات کی بنیاد پر جو اندازے مقرر کرتا ہے وہ صحیح بھی ہوتے ہیں اور غلط بھی۔ موجودہ زمانہ میں محکمہ موسمیات کی پیش قیاسیاں بھی لازماً صحیح نہیں ہوتیں نیز اس کا دائرہ بھی محدود ہوتا ہے اور وہ یہ نہیں بتا سکتا کہ امسال سیلاب آئے گا یا خشک سالی ہو گی۔ یہ ساری باتیں اللہ ہی جانتا ہے۔

۶۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی رحم مادر میں جو جنین  (Foetus) پرورش پا رہا ہوتا ہے اس کا پورا پورا علم اللہ ہی کو ہے وہی جانتا ہے کہ اسقاط ہو کر یہ ضائع ہو گا یا صحیح الم بچہ پیدا ہو گا، اس کا مزاج اور اس کی طبعی خصوصیت کیا ہوں گی، وہ کن صلاحیتوں کا حامل ہو گا اور اس کی قوت کار کر دگی کیا رہے گی۔ جنین کے بارے میں یہ اور اس طرح کی دوسری بہت سی باتیں اللہ ہی جانتا ہے اور کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ فلاں عورت کے رحم میں افلاطون جیسی شخصیت پرورش پا رہی ہے یا اقبال جیسی شخصیت نے جنم لیا ہے اور نہ وہیہ جانتا ہے کہیہ بچہ آگے جا کر خیر کے کام انجام دینے والا ہے یا شر کے۔ اللہ جو اس کی تخلیق کرتا ہے اس کے لیے ایک منصوبہ(تقدیر) بھی بنا تا ہے اور وہی اس بات کا پورا پورا علم رکھتا ہے کہ رحم مادر میں کس نوعیت کی چیز وجود میں آئی ہے اور وہ آگے جا کر کیا بننے والی ہے۔

موجودہ دور میں سائنس کی ترقی سے انسان کے لیے جاننا ممکن ہو گیا ہے کہ شکم مادر میں جو جنین پرورش پا رہا ہے اس کی جنس کیا ہے یعنی وہ لڑکا ہے یا لڑکی۔ مگر اس جزوی علم سے اس بات کی وضاحت نہیں ہوتی جو آیت کے اس فقرہ میں ارشاد ہوئی ہے اور جس کی وضاحت ہم نے اوپر کر دی ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ اس فقرہ کے مفہوم کو جنین کی صرف جنس (Sex)  جاننے کی حد تک محدود سمجھ لیا جائے جب کہ جنس (Sex) کا علم بھی انسان کو حمل کے ابتدائی مرحلہ میں نہیں ہوتا بلکہ چار پانچ ماہ بعد فلوئیڈ ٹیسٹ (Amniocentesis Test) یا سونو گرافی ) (Sonography کے ذریعہ ہوتا ہے۔

۶۳۔۔۔۔۔۔۔۔ کمائی سے مراد محض کسب معاش نہیں ہے بلکہ اچھے برے اعمال بھی ہیں۔ کسی کو نہیں معلوم کہ کل کیا حالات پیش آنے والے ہیں، اس کا امتحان کن باتوں میں ہو گا اور وہ خیر حاصل کرے گا یا شر۔ غرضیکہ رزق کا حصول ہو یا خیر و شر کا انسان کی لا علمی کا یہ حال ہے کہ اسے یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ کل اس کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ مگر اللہ کو اس کا پورا پورا علم ہے۔

۶۴۔۔۔۔۔۔۔۔ ضروری نہیں کہ آدمی جہاں رہتا ہے وہیں مرے بلکہ ایسے کتنے واقعات پیش آتے ہیں کہ آدمی کسی کام سے دور دراز کے علاقہ یا ملک میں چلا گیا اور وہیں اس کی موت واقع ہو گئی اور پہلے یہ بات اس کے گمان میں بھی نہیں تھی کہ اس کو فلاں ضرورت سے فلاں سر زمین کا سفر کرنا ہو گا اور وہاں اس کی موت واقع ہو گی۔ وہ اللہ ہی ہے جو ہر ہر شخص کے موت کے وقت کو بھی جانتا ہے اور اس بات کو بھی کہ اس کو کس سرزمین میں مرنا ہے۔

آیت کا منشا یہ واضح کرنا ہے کہ کتنی ہی قریبی چیزیں ہیں جن سے انسانوں کو سابقہ پڑتا ہے لیکن وہ نہیں جانتا  کہ کب کیا چیز وقوع میں آنے والی ہے اور اس کے اس نہ جاننے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ چیز وقوع میں آنے والی نہیں ہے بلکہ اس کی لا علمی کے باوجود یہ سب باتیں اپنے وقت پر وقوع میں آتی ہیں پھر اگر قیامت کے وقوع کی نفی کہاں ہوتی ہے ؟ وہ وقت مقرر پر اسی طرح وقوع میں آئے گی جس طرح دوسری چیزیں باوجود انسان کی لا علمی کے وقوع میں آتی ہیں۔

حدیث میں ان پانچ چیزوں کو جن کا ذکر اس آیت میں ہوا ہے مفاتیح الغیب (غیب کی کنجیاں ) کہا گیا ہے۔ (بخاری کتاب التفسیر) یعنی علمِ غیب کے یہ دروازے ہیں جن کی کنجیاں اللہ ہی کے پاس ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

(۳۲) سورۂ السجدہ

 

(۳۰ آیات)

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

                   تعارف

 

نام

 

آیت ۱۵ میں اہل ایمان کا یہ وصف بیان ہوا ہے جب انہیں اللہ کی آیتوں کے ذریعے تذکیر کی جاتی ہے تو وہ سجدے میں اگر پڑتے ہیں۔ سی مناسبت سے اس سورہ کا نام السجدہ ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مکی ہے اور مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ مکہ کے وسطی دور میں نازل ہوئی ہو گی۔

 

مرکزی مضمون

 

توحید اور آخرت کا مضمون ایسے اسلوب میں بیان ہوا ہے جو شبہات کو دور کر کے دل میں یقین پیدا کرتا ہے۔ سورہ لقمان میں عقل و دانش سے اپیل تھی تو اس سورہ میں وجدان و قلب سے اپیل ہے۔

 

نظم کلام

 

آیت ۱ تا ۳ تمہیدی آیات ہیں جن میں واضح کیا گیا ہے کہ کتاب اس لیے رسول پر نازل کی گئی ہے تاکہ وہ لوگوں کو متنبہ کرے۔

آیت ۴ تا ۹ میں توحید کو بیان کرتے ہوئے انسان کی تخلیق کا ذکر ہوا ہے۔

آیت ۱۰ تا ۱۴ میں آخرت کا مضمون ہے۔

آیت ۱۵ تا ۱۹ میں اہل ایمان کی بعض اہم خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے ان کے بہترین انجام کو بیان کیا گیا ہے۔

آیت ۲۰ تا ۲۲ میں نا فرمانوں اور جھٹلانے والوں کے انجام بد کو پیش کیا گیا ہے۔

آیت ۲۳ تا ۲۵ میں واضح کیا گیا ہے کہ لوگوں کی ہدایت کے لیے کتاب الہٰی کا نزول کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ اس سے پہلے موسیٰ پر کتاب الہٰی کا نزول ہوا تھا اور اللہ تعالیٰ بن اسرائیل میں سے ایسے پیشوا اٹھاتا رہا جو اس کے مطابق لوگوں کی رہنمائی کرتے رہے۔

آیت ۲۸ تا ۳۰ سورہ کے خاتمہ کے آیات ہیں جن میں منکرین کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے انہیں متنبہ کیا گیا ہے۔

حدیث میں آتا ہے کہ

کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یَقْرَأ فِی لْفَجْرِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ آلم تنزیْل وھل اتی علی الانسان۔ (بخاری۔ کتاب الجمعۃ) نبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں الٓم تنزیل(سورہ سجدہ) اور ھل اَتٰی علی الانسان (سورہ دھر) پڑھا کرتے تھے “۔

                   ترجمہ

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔۔ الف۔ لام۔ میم ۱ *۔

۲۔۔۔۔۔۔۔ یہ کتاب اس میں شک نہیں کہ رب العالمین کی طرف سے نازل ہوئی ہے ۲ *۔

۳۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ کہتے ہیں کہ اسے اس شخص ۳ * نے خود گھڑ لیا ہے۔ نہیں بلکہ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے تاکہ تم خبر دار کرو ایک ایسی قوم کو جس کے پاس تم سے پہلے کوئی خبر دار کرنے والا نہیں آیا ۴ * تا کہ وہ ہدایت پائیں۔

۴۔۔۔۔۔۔۔ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین اور ان  کے درمیان کی چیزیں کو چھ دونوں میں پیدا کیا ۵ * پھر وہ عرش پر بلند ہوا ۶ *۔ اس کے سوا نہ تمہارا کوئی کا ر ساز ہے اور نہ (اس کے حضور) کوئی سفارشی۔ پھر کیا تم لوگ سمجھتے نہیں ۷ *۔ !

۵۔۔۔۔۔۔۔ وہ آسمان سے زمین تک تدبیر امر کر تا ہے پھر یہ امر چڑھتا (لوٹتا) ہے اس کے حضور ایک ایسے دن میں جس کی تعداد تمہارے شمار سے ایک ہزار سال ہے۔ ۸ *

۶۔۔۔۔۔۔۔ وہ غیب اور حاضر کا جاننے والا  اور غالب و رحیم ہے ۹ *۔

۷۔۔۔۔۔۔۔ اس نے جو چیز بھی بنائی ۱۰ * خوب بنائی اور انسان کی تخلیق کا آغاز مٹی سے کیا ۱۱ *۔

۸۔۔۔۔۔۔۔ پھر اس کی نسل حقیر پانی کے ست سے چلائی۔ ۱۲ *

۹۔۔۔۔۔۔۔ پھر اس کو درست کیا ۱۳ *اور اس میں اپنی روح پھونک دی ۱۴ *اور تمہارے لیئے کان، آنکھیں اور دل بنائے ۱۵ *۔ تم لوگ شکر کرتے ہو ۱۶ *۔

۱۰۔۔۔۔۔۔۔ یہ لوگ کہتے ہیں جب ہم زمین میں رل مل چکے ہوں گے تو کیا ہم پھر نئے سے  پیدا کیے جائیں گے ؟ در حقیقت لوگ اپنے رب کی ملاقات ہی کے منکر ہیں ۱۷ *۔

۱۱۔۔۔۔۔۔۔ کہو تم کو وفات دیتا ہے موت کا وہ فرشتہ جو تم پر مامور ہے پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹا ئے جاؤ گے۔ ۱۸ *

۱۲۔۔۔۔۔۔۔ اور اگر تم ان (کی اس وقت کی حالت)کو دیکھ لیتے جب یہ مجرم اپنے رب کے حضور سر جھکائے ہوں  گے۔ اے ہمارے رب ! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا۔ ہمیں واپس بھیج دے ہم نیک عمل کریں گے۔ ہم یقین رکھنے والے ہیں ۱۹ *۔

۱۳۔۔۔۔۔۔۔ اگر ہم چاہتے تو ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے  ۲۰ * لیکن میری وہ بات پوری ہو گئی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا۔ ۲۱*

۱۴۔۔۔۔۔۔۔ تو اب چھکو مزا اس بات کا کہ تم نے اس دن کی پیشی کو بھلا دیا تھا۔ ہم نے بھی تمھیں بھلا دیا ہے ۲۲ *۔ اب تم اپنے کر تو توں  کے بدلہ ہمیشگی کے عذاب کا مزا چکھو۔

۱۵۔۔۔۔۔۔۔ ہماری آیتوں پر تو وہی لوگ ایمان  لاتے ہیں جنہیں ان کے ذریعہ جب یاد دہانی کی جاتی ہے تو وہ  سجدے میں گر پڑے ہیں اور اپنے رب کی حمد کی ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور تکبیر نہیں کرتے ۲۳ *۔

۱۶۔۔۔۔۔۔۔ ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں۔ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکار تے ہیں اور جو کچھ ہم نے اپنے کو خوف اور امید کے ساتھ پکار تے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں بخشا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۲۴ *۔

۱۷۔۔۔۔۔۔۔ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے اعمال کی جزا میں ان کے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا سامان ان سے پوشیدہ رکھا گیا ۲۵ *ہے۔

۱۸۔۔۔۔۔۔۔ پھر کیا وہ شخص جو مومن سے اس شخص کی طرح ہو جائے گا جو فاسق ہے ۲۶ *۔ دونوں ہر گز برابر نہیں ہو سکتے ۲۷ *۔

۱۹۔۔۔۔۔۔۔ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے عمل کیے ان کے لیئے رہائشی باغ ہیں ۲۸ *۔ ضیافت کے طور ۲۹ * پر ان کے اعمال کے صلہ میں۔

۲۰۔۔۔۔۔۔۔ اور جنہوں نے نافرمانی کی ۳۰ *ان کا ٹھکانہ آتش (جہنم) ہے جب کبھی وہ اس سے نکلنا چاہیں گے اس میں دھکیل دے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا چکھو اب اس آگ کے عذاب کا مزا جس کو تم جھٹلاتے رہے ہو۔

۲۱۔۔۔۔۔۔۔ اور ہم انہیں اس بڑے عذاب سے پہلے دنیوی عذاب کا مزا چکھائیں گے تاکہ یہ رجوع کریں ۳۱ *۔

۲۲۔۔۔۔۔۔۔ اور اس بڑا ظالم کون ہو گا جس  کو اس کے رب کی آیتوں کے ذریعہ یاد دہانی کی جائے اور وہ اس سے منہ پھیر ے ایسے مجرموں کو ہم ضرور سزا دیں گے۔

۲۳۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی تھی لہذا تم اس کے ملنے کے بارے میں شک میں نہ پڑو ۳۲ *اور ہم نے اس کو بنی اسرائیل کے لیئے ہدایت بنا یا تھا۔

۲۴۔۔۔۔۔۔۔ اور ہم نے ان میں پیشوا پیدا کیئے جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے جب کہ انہوں نے صبر کیا اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے۔ ۳۳ *

۲۵۔۔۔۔۔۔۔ یقیناً تمہارا رب ہی قیامت کے دن ان باتوں کا فیصلہ  کرے گا جن میں یہ اختلاف کرتے رہے ہیں ۳۴ *۔

۲۶۔۔۔۔۔۔۔ کیا ان کے لیئے یہ چیز باعث ہدایت نہ ہوئی کہ ان سے پہلے ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں جن کی بستیوں میں یہ چلتے پھرتے ہیں ۳۵ *۔ یقیناً اس میں بڑی نشانیاں ہیں۔ پھر کیا یہ لوگ سنتے نہیں ۳۶ *؟

۲۷۔۔۔۔۔۔۔ کیا وہ دیکھتے نہیں کہ ہم پانی کو چٹیل زمین کی طرف لے جاتے ہیں پھر اس سے کھیتی اگا تے ہیں زمین جن سے ان کے مویشی بھی غذا کھاتے ہیں اور وہ خود بھی ۳۷ *۔ پھر کیا ان کی آنکھیں نہیں کھلتیں ۳۸ *؟

۲۸۔۔۔۔۔۔۔ یہ لوگ کہتے ہیں یہ فیصلہ کب ہو گا اگر تم سچے ہو؟

۲۹۔۔۔۔۔۔۔ کہو فیصلہ کے دن ایمان لانا ان لوگوں کے لیئے کچھ بھی مفید نہ ہو گا جنہوں نے کفر کیا ہے۔ اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی ۳۹ *۔

۳۰۔۔۔۔۔۔۔ تو ان سے اعراض کرو اور  انتظار کرو۔ یہ بھی  انتظار کر رہے ہیں ۴۰ *۔

 

                   تفسیر

 

۱۔۔۔۔۔۔۔ حروف مقطعات کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ بقرہ نوٹ ۱ اور سورہ یونس نوٹ ۱ یہ حقیقت ہے کہ قرآن صوتی لحاظ سے بھی معجزہ ہے اس لیے یہ حروف جب الگ الگ ادا کیے جاتے ہیں تو وہ صوتی ارتعاش پیدا کر کے سننے والے کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ اس سورہ میں “ا” کا اشارہ آیات کی طرف ہے جن کا ذکر آیت ۱۵، ۲۲، ۲۴، اور ۲۶ میں ہوا ہے۔  “ل” کا اشارہ لِقاءِ رَبِّھِمْ (اپنے رب سے ملاقات آیت ۱۰) لِقاءَ یَوْ مِکُمْ ھٰذاً (اس دن کی پیشی آیت ۱۴) اور لِقائہٖ (اس کا ملنا آیت ۲۳ ) کی طرف ہے۔ اور “م” کا اشارہ مُنْتِقُمون(ہم سزا دینے والے ہیں۔ آیت ۲۲) کی طرف ہے۔

۲۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اس کتاب کا اللہ رب العالمین کی طرف سے نزول کے دلائل بہ کثرت مقامات پر بیان ہوئے ہیں لیکن متعدد مقامات پر اس دعوے کو پورے وثوق کے ساتھ پیش کیا گیا ہے کیونکہ آفتاب کی آمد اس کے آفتاب ہونے کی دلیل ہوتی ہے۔ قرآن کی ایک ایک آیت اس کے کلام الہٰی ہونے کی دلیل ہے اور جو شخص بھی نیک نیتی کے ساتھ اس کا مطالعہ کرے گا اس کو اس کی شناخت میں کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی۔ سورہ بقرہ کے آغاز میں بھی یہ مضمون گزر چکا کہ اس کے کتاب الہٰی ہونے میں شک نہیں ہے، دیکھیے سورہ بقرہ نوٹ  ۲

۳۔۔۔۔۔۔۔ مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

۴۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ قصص نوٹ ۹۱۔

۵۔۔۔۔۔۔۔ اس کی تشریح سورہ اعراف نوٹ ۸۲ میں گزر چکی۔

۶۔۔۔۔۔۔۔ اس کی تشریح سورہ اعراف نوٹ ۸۳ میں گزر چکی۔

۷۔۔۔۔۔۔۔ یعنی کیا اتنی واضح بات بھی تمہارے سمجھ میں نہیں آتی کہ جس ہستی نے اس کائنات کو نہایت منصوبہ بند طریقہ پر پیدا کیا ہے اس کے بعد اس پر فرمانروائی کر رہا ہے اس کو چھوڑ کر دوسرا کون ہے جو تمہارا کار ساز ہو سکتا ہے اور وہ کون ہے جو اس کے سامنے تمہارے لیے سفارتی بن کر کھڑا ہو اور تمہیں نجات کا پروانہ دلوا کر رہے ؟ ایسی کسی ہستی کا اس کائنات میں وجود ہی نہیں ہے جو اللہ کے بالمقابل یہ زور اور یہ بل بوتا رکھتی ہو۔

۸۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ تعالیٰ اس کائنات کا منصوبہ بند طریقہ پر انتظام فرما رہا ہے۔ زمین کے لیے اس کا ایک ایک منصوبہ اور ایک ایک ا سکیم ارضی یوم کے حساب سے ہزار سالہ ہوتی ہے جب کہ اس کے نزدیک یہ مدت صرف ایک دن کی ہے جس میں یہ منصوبہ نافذ ہو کر تکمیل کو پہنچ جاتا ہے اور پھر یہ معاملہ اسی کی طرف لوٹتا ہے یعنی بالآخر ہر چیز اسی کی طرف پلٹتی ہے اور اسی کے حضور پیش ہوتی ہے یہ آیت متشابہات میں سے ہے اس لیے کسی بحث میں پڑے بغیر ہمیں اس اجمالی علم پر اکتفا کرنا چاہیے اور جہاں تک ہزار سالہ یوم کا تعلق ہے یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جو عقل سے بعید ہو۔ منطقی طور پر تو انسان سمجھ سکتا ہے کہ جس کو ہم چوبیس گھنٹے کا دن شمار کرتے ہیں وہ ایک شب و روز پر مشتمل ہوتا ہے اور آفتاب کی سطح پر جہاں رات کا وجود ہی نہیں ہے یوم (دن) کو شمار کرنے کے لیے یہ پیمانہ بیکار ثابت ہو گا اور جہاں تک موجودہ سائنس کا تعلق ہے علم الافلاک نے وقت کے تعلق سے ہماری معلومات میں زبردست اضافہ کیا ہے مثلاً یہ کہ اگر زمین پر شمسی سال ۳۶۵ دن کا ہوتا ہے تو مریخ (Mars) پر اس حساب سے ۶۸۷ دن کا، مشتری(Jupiter) پر تقریباً ۱۲ سال کیا، زحل پر ۲۹ سال کا اور پلیٹو پر ۲۴۸ سال کا کیونکہ یہ سیارے اس طویل عرصہ میں سورج کے گرد اپنا چکر مکمل کر لیتے ہیں۔ یوم اور سال کا یہ تفاوت قرآن کے اس بیان کی تائید کرتا ہے کہ اللہ کے نزدیک دن کا پیمانہ اور ہے اور اس کے مطابق اس کا دن ہمارے ایک ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔ مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورہ حج نوٹ ۸۴۔

۹۔۔۔۔۔۔۔ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ وہ اپنے پورے علم، کمال قدرت اور اپنی وسیع رحمت کے ساتھ اس کائنات کا انتظام فرما رہا ہے۔

۱۰۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جس سے جو کام لینا تھا اس کے مناسب حال اس کو وجود بخشا۔ اس کی پیدا کردہ ہر چیز میں توازن بھی ہے اور سلیقہ بھی اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ ان تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا صاحب کمال بھی ہے صاحب جمال بھی۔

۱۱۔۔۔۔۔۔۔ یعنی آدم کو مٹی سے پیدا کیا۔

۱۲۔۔۔۔۔۔۔ یعنی انسانی نسل کا سلسلہ نطفہ جیسے حقیر پانی کے سب (خلاصہ) سے چلایا۔ یہ ست موجودہ علم ابخین کی روشنی میں جرثومہ حیات (Spermetozoan) ہے۔

۱۳۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جنین (Embryo).  کو پیدا کرنے کے بعد اس کے اعضاء درست کیے اور اس کو ٹھیک ٹھیک انسان کی شکل دی۔

۱۴۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اس میں روح ڈال کر زندہ انسان بنا دیا۔

روح کی مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورہ حجر نوٹ ۲۷  مادہ پرستوں کے نزدیک روح کی کوئی حقیقت نہیں ہے گویا انسان محض جسمانی وجود رکھتا ہے اور زندگی حرکت کا نام ہے۔ اس حرکت کے بند ہو جانے ہی کا نام موت ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر روح کا کوئی وجود نہیں ہے تو وہ کیا چیز ہے جس کے غائب ہو جانے سے حرکت قلب بند ہو جاتی ہے اور انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے ؟ ماننا پڑے گا کہ وہ ایک لطیف اور غیر مرئی چیز ہے جس کے نکل جانے سے انسان کا جسم ایک مردہ لاش بن کر رہ جاتا ہے اور اسی چیز کا نام روح ہے جو در حقیقت اندر کا انسان ہے اگر ذرہ کے اندر ایٹمی قوت پوشیدہ ہوتی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ انسان کے اندر “روحانی قوت” کے وجود سے انکار کیا جائے۔ پھر جسم میں تو ہر آن تغیرات ہوتے رہتے ہیں نئے خلیے (Cells) پرانے خلیوں کی جگہ لے لیتے ہیں یہاں تک کہ چند سال میں ایک نیا جسم پانے جسم کی جگہ ہے لیتا ہے مگر اندر کا انسان جوں کا توں باقی رہتا ہے جسے نجس(Self) یا “انا” (میں ) سے تعبیر کیا جاتا ہے اور یہی “خودی” اس میں تشخص پیدا کرتی ہے اور اس کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔ اس لیے روح کا ناکار حقیقت واقعہ کا انکار ہے۔

۱۵۔۔۔۔۔۔۔ یعنی سننے، دیکھنے اور سمجھنے کی بہترین صلاحیتیں عطا فرمائیں۔

۱۶۔۔۔۔۔۔۔ یعنی تم کو جو بہترین وجود بخشا گیا ہے اس کا احساس بہت کم تم میں پایا جاتا ہے اس لیے کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ تم اس پر اپنے خالق کا شکر ادا کرو۔

۱۷۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اصلاً ان کو اللہ کے حضور پیشی ہی سے انکار ہے وہ نہیں چاہتے کہ جوابدہی کے تصور کو قبول کر کے اپنے کو اللہ کے احکام کا پابند بنائیں اس لیے وہ پیشی کا انکار اعتراض کے اس پر دہ میں کرتے ہیں کہ انسان کا جسم تو مرنے کے بعد زمین میں مل کر ختم ہو جاتا ہے پھر وہ قیامت کے دن اٹھ کھڑا کس طرح ہو گا۔

۱۸۔۔۔۔۔۔۔ یعنی مرنے پر انسان کا وجود ختم نہیں ہو جاتا بلکہ ا سکا صرف جسم ختم ہو جاتا ہے موت در حقیقت روح کی جو اندر کا انسان ہے جسم سے جدائی ہے اور یہ عمل بڑی باقاعدگی کے ساتھ انجام پاتا ہے۔ اللہ نے ہر شخص کی روح قبض کرنے کے لیے موت کا فرشتہ مقرر کر رکھا ہے۔ وہ وقت مقرر پر جان کو تن سے جدا کر کے پوری طرح اپنے قبضہ میں لے لیتا ہے پھر اللہ کو جو حکم ہوتا ہے اس کے مطابق وہ اس کے ساتھ معاملہ کرتا ہے۔ یہاں تک کہ قیامت کے دن اس روح (نفس) کے لیے اس کا جسم دوبارہ پیدا کر دیا جائے گا اور وہ جسم سمیت اپنے رب کے حضور جوابدہی کے لیے کھڑا ہو گا۔

۱۹۔۔۔۔۔۔۔ یعنی قرآن جن حقیقتوں کو قبول کرنے کی دعوت دیتا ہے اس سے آج تو یہ لوگ انکار کر رہے ہیں لیکن قیامت کے دن جب وہ ان کا مشاہدہ کر لیں گے تو اپنی پچھلی روش پر بڑے نادم ہوں گے اور اپنے رب سے درخواست کریں گے کہ دنیا میں واپس بھیج دیا جائے تاکہ وہ نیک بن جائیں۔ آج وہ جس چیز کا انکار کر رہے ہیں کل وہ اس پر یقین کا اظہار کریں گے۔ قیامت کے دن مجرموں کا جو حال ہو گا اس کی یہ ایک جھلک ہے جو اس آیت میں پیش کی گئی ہے تاکہ لوگ سنبھل کر چلیں اور آخرت کا انکار کر کے اپنے کو مجرموں میں شامل نہ کر لیں۔

۲۰۔۔۔۔۔۔۔ یعنی حقیقت کا مشاہدہ کر لینے کے بعد امتحان کا کوئی موقع باقی نہیں رہتا اس لیے اب دنیا میں تم کو واپس بھیجنے سے کیا فائدہ؟ اگر ایمان اس طور سے مطلوب ہوتا جس میں تمہاری عقل کا کوئی امتحان نہ ہوتا تو اللہ ہر شخص کو اس طرح ہدایت دیتا کہ پھر اس سے انحراف کرنا اس کے لیے ممکن نہ ہوتا۔

۲۱۔۔۔۔۔۔۔ مراد شیطان کے پیچھے چلنے والے انسان اور جن ہیں چنانچہ سورہ ص میں یہ بات صراحت کے ساتھ بیان ہوئی ہے :

لَاَمْلئَنَّ جَھَنَّمَ مِنْکَ و مِمَّنْ تَبِعَکَ مِنْھَمْ اَجْمَعِیْنَ (ص:۸۵)” میں تجھ سے اور جو ان میں سے تیری  پیروی کریں گے ان سب سے جہنم کو بھر دوں گا ”

۲۲۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کی طرف سے بھلا دیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر نظر عنایت نہیں فرمائے گا اور ان کو اس بری حالت ہی میں چھوڑ دے گا۔

۲۳۔۔۔۔۔۔۔ منکرین کے مقابلہ میں یہ ان لوگوں کا حال بیان ہوا ہے جو خدا کے معاملہ میں تکبر اور گھمنڈ میں مبتلا نہیں ہیں اور نہ انہوں نے اپنے بندہ ہونے کی فطری احساس کو مٹا دیا ہے ایسے لوگوں کو جب اللہ کی آیتیں سنا کر یا د دہانی کی جاتی ہے تو ان کی اثر پذیری کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ الہ کے حضور سجدے میں گر جاتے ہیں اور ان کی زبان پر حمد و ثنا کے کلمات جاری ہو جاتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ آگے بڑھ کر پیغمبر کی دعوت کو قبول کر لیتے ہیں اور اللہ کی آیات پر ایمان لاتے ہیں۔

یہ آیت سجدہ ہے لہٰذا اس کی تلاوت پر سجدہ کرنا چاہیے۔

۲۴۔۔۔۔۔۔۔ یہ ایمان لانے والوں کے ان اوصاف کا ذکر ہے جو ایمان کی بدولت ان میں پیدا ہو جاتے ہیں۔ نہ ان کی راتیں اللہ کی یاد سے خالی ہوتی ہیں اور نہ دن۔ یہاں تک کہ وہ رات کو اپنے بستر چھوڑ کر اللہ کی عبادت میں مشغول ہو جاتے ہیں اور اس سے دعائیں مانگنے لگتے ہیں۔ ان کی یہ دعائیں بیم و  رجا کے ساتھ ہوتی ہیں یعنی وہ اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہیں اور اس کی رحمت کے امیدوار ہوتے ہیں اسی طرح ان کا دن محض کسب معاش کے لیے نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ وہ فلاح آخرت کے حصول کا بھی سامان کرتے رہتے ہیں چنانچہ وہ اللہ کے بخشے ہوئے مال میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔

۲۵۔۔۔۔۔۔۔ اس آیت میں مذکورہ اوصاف کے حاملین کو جو خوشخبری سنائی گئی ہے۔ اس کا تصور  ہی دل کے سکون اور آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث ہے۔ قرآن میں جنت کا جو تعارف پیش کیا گیا ہے وہ گویا ایک جھلک ہے جو الفاظ کے پیرایہ  میں دکھائی گئ ہے ورنہ جنت کی نعمتوں کا اس دنیا میں کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اس آیت کی بہترین تشریح وہ ہے جو حدیث میں بیان ہوئی ہے۔

قالَ اللہُ تبارکَ و تعالیٰ: اَعْدَدْتُ لِعِبادِیَ الصالِحِیْنَ مَالَا عَیْنٌ رَأتْوَلَا اُذُنٌ سَمَعَتْ وَلَا خَطَرَعَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ (بخاری کتاب التفسیر) ” اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گزرا”۔

۲۶۔۔۔۔۔۔۔ فاسق کے معنی ہیں خارج از اطاعت یعنی نا فرمان۔ یہ لفظ یہاں مؤمن کے مقابلہ میں آیا ہے اس لیے اس سے مراد کافر ہے جو سر تا پا اللہ کا نافرمان ہوتا ہے۔

۲۷۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جب دونوں کا عمل یکساں نہیں ہے تو دونوں کا انجام یکساں کیسے ہو سکتا ہے ؟

۲۸۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ایسے باغ جہاں وہ قیام پذیر ہوں گے۔

۲۹۔۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ باغ ان کو ایسے اعزاز و اکرام کے ساتھ عطا کیے جائیں گے کہ گویا یہ اللہ کے مہمانوں کے لیے سامان ضیافت ہے۔

۳۰۔۔۔۔۔۔۔ مراد کافر ہیں جو اللہ کے نافرمان بنے رہے۔

۳۱۔۔۔۔۔۔۔  مراد دنیوی آفات ہیں جن میں کافروں کو اس لیے مبتلا کیا جات ہے تاکہ ان کے کرتوتوں کی سزا کی ایک قسط ان کو دنیا ہی مل جائے اور تاکہ وہ چونک جائیں اور اللہ کی طرف رجوع ہوں۔

موجودہ زمانہ میں آفتیں بھی نئے انداز سے نازل ہو رہی ہیں۔ ریل، بس اور ہوائی جہاز کے حادثات بڑے ہی المناک ہوتے ہیں پھر بموں کے حادثات اور آتش زنی کی واردات کی کثرت ہے اور انسان کو انسان ہی کے ہاتھوں اپنے کرتوتوں کا مزا چکھنا پڑ رہا ہے۔ مگر لوگوں کی سنگ دلی کا حال یہ ہے کہ یہ ایسے عبرتناک مناظر دیکھتے رہتے ہیں مگر اللہ کی طرف رجوع نہیں ہوتے۔

۳۲۔۔۔۔۔۔۔ خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے تمام مخاطبین سے ہے اور واضح کرنا یہ مقصود ہے کہ تاریخ میں یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے کہ تم کا اللہ کی طرف سے کتاب ملی بلکہ اس سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ پیغمبروں پر کتابیں نازل کرتا رہا ہے اور کون نہیں جانتا کہ اس سے پہلے موسیٰ کو کتاب عطا ہوئی تھی پھر کوئی وجہ نہیں کہ قرآن کے عطا کیے جانے پر لوگ شک میں پڑیں۔

مزید وضاحت کے لیے دیکھیے سورہ یونس آیت ۹۴ نوٹ ۱۴۵ اور سورہ ہود آیت ۱۷۔

۳۳۔۔۔۔۔۔۔ یعنی موسیٰ کو جو کتاب عطا ہوئی تھی وہ بنی اسرائیل کے لیے باعث ہدایت تھی اور اسی ہدایت کی بدولت ان میں ایسے قائدین اٹھے جو حکم الٰہی کی تعمیل میں لوگوں کی صحیح رہنمائی کرنے والے تھے۔ اللہ نے ان کو صالح قیادت کا مقام اس لیے عطا کیا تھا کہ وہ حق پر جمے رہے اور اللہ کی آیتوں پر ان کو پورا یقین تھا یعنی ان کا عقیدہ محض رسمی نہیں تھا بلکہ یقین و اذعان کے ساتھ تھا اور اس قیادت سے بنی اسرائیل کو نوازا گیا جب کہ انہوں نے صبر و استقامت اور ایمان و یقین کا ثبوت دیا۔ اس تاریخی حقیقت کو بیان کرنے سے مقصود اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ اگر تم لوگ قرآن کے حامل بن کر اٹھے تگو اللہ تعالیٰ تمہیں بھی سربلندی عطا کرے گا اور تمہارے اندر صالح قیادت کو ابھارے گا۔ آج مسلمان اس بات کی شکایت کرتے ہیں  کہ انہیں صالح قیادت میسر نہیں مگر معاشرہ کا حل یہ ہے کہ انہیں جذبات سے کھیلنے والے اور جوشیلی تقریریں کرنے والے لیڈر پسند ہیں وہ نہ قرآن کی رہنمائی میں چلنے کے لیے آمادہ ہیں اور نہ وہ صالحین کی باتوں پر کان دھرتے ہیں ایسی صورت میں صالح قیادت کس طرح ابھر سکتی ہے ؟

۳۴۔۔۔۔۔۔۔ اوپر کی آیت میں بنی اسرائیل کے عروج کا ذکر تھا اور اس آیت میں ان کے زوال کی حالت بیان ہوئی ہے۔ ان کے زوال کی اصل وجہ دین کی واضح اور بنیادی باتوں کے سلسلہ میں ان کا اختلاف میں پڑنا اور کن بحثوں میں مبتلا ہونا ہے۔ ان اختلافات کا آخری فیصلہ اللہ ہی کی عدالت میں ہو گا جس کے لیے قیامت کا دن مقرر ہے۔

۳۵۔۔۔۔۔۔۔ خطاب مشرکین عرب سے ہے جن کو گزر عاد، ثمود، قوم شعیب اور قوم لوط کی تباہ شدہ بستیوں کی طرف سے ہوتا تھا۔

۳۶۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ان واقعات میں عبرت کی جو باتیں ہیں ان کو قرآن کھول کھول  کر بیان کر رہا ہے مگر یہ لوگ کچھ سنتے سمجھتے نہیں ہیں۔

۳۷۔۔۔۔۔۔۔ یعنی کیا اس  میں اللہ کی ربوبیت اور اس کی قدرت کی نشانیاں انہیں دکھائی نہیں دیتیں اور کیا یہ مشاہدہ ان میں اس بات کا یقین پیدا نہیں کرتا کہ اللہ مردہ کو زندہ کرنے پر قادر ہے۔

۳۸۔۔۔۔۔۔۔ یعنی مؤمنوں اور کافروں کے درمیان جس فیصلہ کی تم خبر دے رہے ہو اور کہہ رہے ہو کہ اس فیصلہ میں مؤمن ہی کامیاب ہوں گے اور کافر جہنم میں جھونک دیے جائیں گے تو یہ بات کب وقوع میں آئے گی ؟

۳۹۔۔۔۔۔۔۔ یعنی تمہیں اس بحث میں پڑنے کے بجائے کہ وہ فیصلہ کن گھڑی کب آئے گی اس بات کی فکر کرنا چاہیے کہ اس روز تم اپنا بچاؤ کس طرح کر سکو گے کیونکہ وہ گھڑی تو لازماً آ کر رہے گی۔ اس وقت اگر تم ایمان لانا چاہو تو چونکہ امتحان کا وقت گزر چکا ہو گا  اس لیے اس وقت تمہارا ایمان لانا بالکل بے سود ہو گا۔ اس لیے اس وقت تمہارا ایمان لانا بالکل نے سود ہو گا۔ اور جو مہلت تمہیں آج مل رہی ہے وہ دوبارہ ملنے والی نہیں۔

۴۰۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اگر یہ اس قوی حجت اور یقین پیدا کرنے والی ان آیتوں کے باوجود اگر ایمان لانے کے لیے آمادہ نہیں ہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو اور اس گھڑی کا انتظار کرو جب اللہ تعالیٰ اپنے فیصلہ کو نافذ فرمائے گا۔ ان لوگوں کو بھی تو اسی کا انتظار ہے۔

٭٭٭

ای بک: اعجاز عبید

ٹائپنگ: عبد الحمید، افضال احمد، مخدوم محی الدین، کلیم محی الدین، فیصل محمود، اعجاز عبید