FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

دعوت القرآن

 

 

حصہ ۹: فرقان،  شعراء، نمل

 

                   شمس پیر زادہ

 

 

 

 

 

 (۲۵) سورۃ الفرقان

 

 (۷۷ آیات)

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

                   تعارف

 

 نام

 

سورہ کے آغاز میں فرمان (حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی چیز) کے نزول سے آگاہ کیا گیا ہے اس مناسبت سے اس سورہ کا نام الفرقان ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مکی ہے اور مضامین  سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مکہ کے آخری دور میں نازل ہوئی ہو گی۔ چنانچہ پہلی ہی آیت میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ پیغمبر پر قرآن اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ وہ اقوام عالم کو خبر دار کر دے۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کے عالمگیر ہونے کا اعلان ہے۔ اور اغلب ہے کہ یہ اعلان مکہ کے آخری دور میں ہی کیا گیا ہو گا۔

 

مرکزی مضمون

 

قرآن اور پیغمبر کے سلسلے میں وارد کیے جانے والے شبہات کو دور کرنا اور ان کی صداقت کو اس طرح نمایاں کرنا ہے کہ اس کا یقین دلوں میں پیدا  ہو جائے۔

 

نظم کلام

 

آیت ۱ اور ۲ میں فرقان نازل کرنے والی ہستی کی معرفت بخشی گئی ہے۔ آیت ۳ تا ۳۴ میں شرک کی تردید کرتے ہوئے وحی اور رسالت پر وارد کیے جانے والے اعتراضات و شبہات کا جواب دیا گیا ہے اور یہ جواب انذار کے پیرایہ اعتراض کرنے والے ہوش میں آئیں۔

آیت ۳۵ تا ۴۴ میں ان قوموں کے انجام کی عبرت ناک مثالیں پیش کی گئی ہیں جن کو خبر دار کرنے کے لیے انبیاء علیہم السلام کو بھیجا گیا تھا لیکن انہوں نے ان کو جھٹلایا۔

آیت ۴۵ تا ۶۲ میں ان نشانیوں کی طرف متوجہ کیا گیا ہے جن پر غور کرنے سے اللہ کی وحدانیت کا یقین پیدا ہو جاتا ہے۔ ساتھ ہی ان شبہات کا بھی ازالہ کیا ہے جو رسول کے تعلق سے پیش کیے جا رہے تھے۔

آیت ۶۳ تا ۷۶ میں ان لوگوں کے اوصاف بیان کیے گئے ہیں جنہوں نے اپنے کو خدائے رحمٰن کی بندگی میں دے دیا ہے۔ اس سے یہ بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ قرآن کی تعلیم کے زیر اثر انسان میں کیا خوبیاں پرورش پانے لگتی ہیں اور کس معیار کے لوگ تیار ہو جاتے ہیں۔

آیت ۷۷  اختتامی آیت ہے جس میں ان لوگوں سے آخری بات کہی گئی ہے جو قرآن اور پیغمبر کے خبردار کرنے کے باوجود اس کا کوئی اثر قبول نہیں کر رہے تھے اور ان کو جھٹلانے میں لگے ہوئے تھے۔

                   ترجمہ

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑا ہی با برکت ہے ۱ * وہ جس نے اپنے بندہ۲ * پر فرقان نازل کیا ۳ * تاکہ وہ دنیا والوں کے لیے خبر دار کرنے والا ہو۴ *۔

۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ ہستی جس کے قبضہ میں آسمانوں اور زمین کی بادشاہی۵ * ہے۔ جس نے اپنے لیے اولاد نہیں بنائی اور نہ اس کی بادشاہی میں کوئی اس شریک ہے ۶ *اس نے ہر چیز پیدا کی پھر اس کی منصوبہ بندی کی۷ *۔

۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لوگوں نے اس کو چھوڑ کر دوسرے معبود بنا لیے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے گئے ہیں۔ جو اپنے لیے نہ کسی فائدہ کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ نقصان کا جنہیں نہ موت پر اختیار ہے ، نہ زندگی پر اور نہ مردوں کو اٹھا کھڑا کرنے پر۔

۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کافر کہتے ہیں یہ جھوٹ ہے جو اس شخص نے گڑھا ہے اور اس کام میں کچھ دوسرے لوگوں نے اس کی مدد کی ہے۔ بری ہی نا انصافی کی بات ہے اور جھوٹ ہے جس کے وہ مرتکب  ہوئے ہیں ۸ *۔

۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہتے ہیں یہ گزرے ہوئے لوگوں کے قصے ہیں جو اس شخص نے لکھوائے ہیں اور وہ اس کے سامنے صبح و شام پڑھے جاتے ہیں ۹ *۔

۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہو اسے اتارا ہے اس نے جو آسمانوں اور زمین کے بھید جانتا ہے ۱۰ *۔ بے شک وہ بڑا بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے ۱۱ *۔

۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہتے ہیں یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ! اس کی طرف کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا کہ اس کے ساتھ رہ کر خبردار کرتا۔ ؟

۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یا اس کے لیے کوئی خزانہ اتارا جاتا یا اس کے لیے کوئی باغ ہوتا جس سے وہ کھایا کرتا۔  اور ظالم کہتے ہیں تم تو ایک ایسے آدمی کے پیچھے چل رہے ہو جس پر جادو کا اثر ہوا ہے ۱۲ *۔

۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دیکھو یہ تم پر کیسے کیسے فقرے چست کر رہے ہیں۔ یہ بھٹک گئے ہیں۔ کوئی راہ نہیں پا سکتے ۱۳ *۔

۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑا با برکت ہے وہ جو اگر چاہے تو اے پیغمبر !  * تمہارے لیے اس سے کہیں بہتر چیزیں بنا دے۔ ایسے باغ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں اور تمہارے لیے محل بنا دے ۱۴ *۔

۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں نے قیامت کی گھڑی کو جھٹلایا ہے ۱۵ * اور جو اس گھڑی کو جھٹلائے اس کے لیے ہم نے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے ۱۶ *۔

۱۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ جب دور سے ان کو دیکھ لے گی تو یہ اس کے جوش غضب اور اس کے دھاڑنے کی آوازوں کو سنیں گے ۱۷ *۔

۱۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب یہ جکڑے ہوئے اس کی کسی تنگ جگہ میں ڈال دیے جائیں گے تو اپنی موت کو پکاریں۔

۱۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آج ایک موت کو نہیں بلکہ بہت سی موتوں کو پکارو۔

۱۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان سے پوچھو یہ بہتر یا ہمیشگی کی جنت جس کا وعدہ متقیوں سے کیا گیا ہے ۱۸ *۔ وہ ان کے لیے جزا اور ٹھکانا ہو گی۱۹ *۔

۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس میں ان کے لیے وہ سب کچھ ہو گا جو وہ چاہیں گے اور وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ وعدہ تمہارے رب کے ذمہ ایسا ہے جس کو پورا کرنے کی مانگ اس سے کی جا سکتی ہے ۲۰ *۔

۱۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور وہ دن جب کہ وہ لوگوں کو بھی اکٹھا کرے گا اور ان کے معبودوں کو بھی جن کی یہ اللہ کو چھوڑ کر پرستش کرتے ہیں پھر ان سے پوچھے گا کہ تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود سیدھے راستے سے بھٹک گئے تھے ؟۲۱ *۔

۱۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ عرض کریں گے پاک ہے تو ! ہماری یہ مجال نہ تھی کہ تیرے سوا اور کار ساز بنائیں ۲۲ *۔ مگر تو نے ان کو اور ان کے آباء و اجداد کو آسودگی بخشی یہاں تک کہ یہ تیری یاد بھلا بیٹھے اور ہلاک ہو کر رہ گئے۲۳ *۔

۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لو جو بات تم کہتے تھے اس میں انہوں نے تم کو جھوٹا ٹھہرایا۲۴ *۔ اب نہ تم عذاب کو ٹال سکتے ہو اور نہ کوئی مدد پا سکتے ہو۔ اور جو شخص بھی تم میں سے ظلم کرے گا۲۵ * ہم اسے بڑے عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔

۲۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے پیغمبر !  * تم سے پہلے ہم نے جو رسول بھی بھیجے وہ سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے بھی تھے ۲۶ *۔ ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کی آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے۔ کیا تم صبر کرتے ہو؟۲۷ * اور تمہارا ربسب کچھ * دیکھ رہا ہے۔

۲۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جو لوگ ہم سے ملاقات کی امید نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں کیوں نہ ہم پر  فرشتے اتارے گئے یا ایسا کیوں نہیں ہوا کہ ہم اپنے دیکھ لیتے ؟ انہوں نے اپنے نفس میں اپنے کو بہت بڑا سمجھا اور بڑی سرکدی دکھائی ۲۸ *۔

۲۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جس دن یہ فرشتوں کو دیکھ لیں گے اس دن مجرموں کے لیے کوئی خوش خبری نہ ہو گی اور پکار اٹھیں گے پناہ پناہ۲۹ *۔

۲۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جو عمل بھی انہوں نے کیا ہو گا اس کی طرف ہم بڑھیں گے اور اس کو غبار بنا کر اڑا دیں گے ۳۰ *۔

۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس دن جنت والے اچھی جگہ اور بہترین آرام گاہ میں ہوں گے۔

۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آسمان اس دن ایک بادل ۳۱ * کے ساتھ پھٹ جائے گا اور فرشتوں کے پرے کے پرے اتار دیئے جائیں گے۔

۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس دن حقیقی بادشاہی۳۲ * رحمٰن ہی کی ہو گی اور وہ دن کافروں کے لیے بڑا سخت ہو گا۔

۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ظالم اس روز اپنے ہاتھ کاٹ کھائے گا۳۳ * اور کہے گا کاش میں نے رسول کے ساتھ راہ اختیار کی ہوتی !

۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ افسوس میری بد بختی پر! کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا ! ۳۴ *۔

۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس نے مجھے گمراہ کر کے نصیحت ۳۵ * سے دور رکھا جبکہ وہ میرے پاس آ چکی تھی۔ اور شیطان تو ہے ہی انسان کو بے یار و مدد گار چھوڑنے والا ۳۶ *۔

۳۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور رسول کہے گا اے میرے رب ! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ دیا تھا۳۷ *۔

۳۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے مجرموں میں سے دشمن کھڑے کیے ۳۸ *۔ اور تمہارا رب تمہاری *رہنمائی ور مدد کے لیے کافی ہے ۳۹ *۔

۳۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کافر کہتے ہیں اس پر پورا قرآن ایک ہی وقت میں کیوں نہ اتارا گیا؟۴۰ * ہم نے تدریج کے ساتھ نازل کیا اور  * ایسا اس لیے کیا تاکہ اس کے ذریعہ اے پیغمبر! * تمہارے دل کو مضبوط کریں ۴۱ * اور ہم نے اس کلام کو حسن ترتیب کے ساتھ پیش کیا ہے ۴۲ *۔

۳۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ جو اعتراض بھی تمہارے سامنے لاتے ہیں ہم حق بات تمہارے سامنے پیش کر دیتے ہیں بہترین وضاحت کے ساتھ ۴۳ *۔

۳۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو لوگ اپنے منہ کے بل جہنم کی طرف گھسیٹے جائیں گے ان کا ٹھکانہ بہت برا اور ان کی راہ بالکل غلط ہے۔

۳۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی ۴۴ * اور اس کے بھائی ہارون کو اس کا وزیر بنایا۴۵ *۔

۳۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے کہا تم دونوں جاؤ اس قوم کے پاس جس نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا ہے ۴۶ *۔ بالآخر ہم نے اس کو تباہ کر کے رکھ دیا ۴۷ *۔

۳۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور قوم نوح کو ہم نے غرق کیا جب کہ اس نے رسولوں کو جھٹلایا۴۸ *۔ اور لوگوں کے لیے اس کو نشان عبرت بنا دیا۔ اور ظالموں کے لیے ہم نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

۳۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور عاد۴۹ *، ثمود۵۰ * ، اصحاب الرس۵۱ * اور ان کے درمیان بہت سی قوموں کو ہم نے ہلاک کر دیا۵۲ *۔

۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے ہر ایک کے سامنے مثالیں پیش کی تھیں ۵۳ * اور ہر ایک کو تباہ کر کے رکھ دیا۔

۴۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس بستی پر سے تو ان کا گزر ہوا ہے جس پر بد ترین بارش برسائی گئی تھی۵۴ *۔ کیا یہ اسے دیکھتے نہیں ہیں ؟ مگر یہ لوگ مرنے کے بعد اٹھائے جانے کی توقع ہی نہیں رکھتے ۵۵ *۔

۴۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب یہ تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق اڑاتے ہیں۔ کیا یہی وہ شخص ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے۔

۴۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس نے ہمیں اپنے معبودوں سے برگشتہ کر ہی دیا ہوتا اگر ہم ان پر جمے نہ رہتے۔ عنقریب جب یہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ کون ہے راہ سے بالکل بھٹکا ہوا۵۶ *۔

۴۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم نے اس شخص کو دیکھا  جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا ہے ؟ ۵۷ *کیا تم اس کو راہ راست پر لانے  * کے ذمہ دار بن سکتے ہو؟۵۸ *۔

۴۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ راہ سے بھٹکے ہوئے۵۹ *۔

۴۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا تم دیکھتے نہیں تمہارا رب کس طرح سایہ کو پھیلا دیتا ہے ؟ اگر وہ چاہتا تو اسے ساکن بنا دیتا۔ پھر ہم نے سورج کو اس پر دلیل بنایا ۶۰ *۔

۴۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر ہم اس کو آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں ۶۱ *۔

۴۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات کو لباس۶۲ *، نیند ۶۳ * کو سکون اور دن کو اٹھ کھڑے ہونے کا وقت بنایا۶۴ *۔

۴۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور وہی ہے جو اپنی رحمت۶۵ * کے آگے آگے ہواؤں کو خوش خبری بنا کر بھیجتا ہے۔ اور ہم آسمان سے نہایت پاکیزہ پانی اتارتے ہیں ۶۶ *۔

۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تاکہ اس کے ذریعہ زمین کے  * مردہ خطہ کو زندہ کریں اور اپنی مخلوقات میں سے بہ کثرت چوپایوں  اور انسانوں کو سیراب کریں۔

۵۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ہم نے اس کو ان کے درمیان طرح طرح سے بیان کر دیا ہے ۶۷ *۔ تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں مگر اکثر لوگوں نے قبول نہیں کیا۔ اگر قبول کی تو ناشکری۔

۵۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر ہم چاہتے  تو ہر بستی میں ایک خبردار کرنے والا بھیج دیتے۔ ۶۸ *۔

۵۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو ان کافروں کی بات تم نہ مانو اور اس کے ذریعہ ۶۹ * ان کے ساتھ زبردست جہاد کرو ۷۰ *۔

۵۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہی ہے جس نے دو دریاؤں کو ملایا۔ ایک شیریں خوش گوار اور دوسرا کھاری تلخ۔ اور دونوں کے درمیان اس نے ایک پردہ حائل کر دیا اور ایک رکاوٹ کھڑی کر دی۷۱ *۔

۵۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور وہی ہے جس نے پانی ۷۲ * سے ایک بدر پیدا کیا پھر اس کے لیے نسب اور سسرال کے رشتے بنائے ۷۳ *۔ تمہارا رب بڑی قدرت والا ہے ۷۴ *۔

۵۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ اللہ کو چھوڑ کر ان کی پرستش کرتے ہیں جو نہ ان کو نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان۷۵ *۔

۵۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اے پیغمبر  * ہم نے تم کو بس خوش خبری دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے ۷۷ *۔

۵۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ میں تم سے اس پر کوئی معاوضہ نہیں طلب کر رہا ہوں مگر یہ کہ جو چاہے اپنے رب  کی راہ اختیار کر لے ۷۸ *۔

۵۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس پر بھروسہ رکھو جو زندہ ہے اور کبھی مرنے والا نہیں ۷۹ *۔ اور اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرو۸۰ *۔ اپنے بندوں کے گناہوں سے با خبر رہنے کے لیے وہ کافی ہے ۸۱ *۔

۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان تمام چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں چھ دنوں میں پیدا کیا ۸۲ *۔ پھر عرش پر بلند ہوا۸۳ *۔ وہ رحمٰن ہے۔ اس کی شان اس * باخبر سے پوچھو۸۴ *۔

۶۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ رحمٰن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں رحمٰن کیا ہے ؟ ۸۵ * کیا ہم اس کو سجدہ کریں جس کا تم ہمیں حکم دو۔ اس سے ان کی نفرت میں اور اضافہ ہو جاتا ہے ۸۶ *۔

۶۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑا با برکت ہے وہ جس نے آسمان میں ۸۷ * برج بنائے اور اس میں ایک چراغ۸۸ * اور روشن چاند بنایا۔

۶۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا بنایا ہر اس شخص کے لیے جو یاد دہانی حاصل کرنا چاہے یا شکر گزار بننا چاہے ۸۹ *۔

۶۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور رحمٰن کے بندے ۹ * وہ ہیں جو زمین پر فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں  ۹۱ * اور جب جاہل ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو وہ کہتے ہیں سلام۹۲ *۔

۶۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو اپنے رب کے آگے سجدہ اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں ۹۳ *۔

۶۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! جہنم کے عذاب کو ہم سے دور رکھ۔ اس کا عذاب بالکل چمٹ کر رہنے والا ہے ۹۴ *۔

۶۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ بہت برا ٹھکانہ اور بہت بری رہنے کی جگہ ہے ۹۵ *۔

۶۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ تنگی بلکہ ان کا خرچ دونوں کے درمیان اعتدال پر رہتا ہے ۹۶ *۔

۶۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے ۹۷ *۔ کسی جان کو جسے اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے قتل نہیں کرتے مگر حق کی بنا پر ۹۸ *۔ اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں ۹۹ *۔ جو کوئی ان باتوں کا مرتکب ہو گا اسے گناہ کا نتیجہ بھگتنا ہو گا۔

۶۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قیامت کے دن اس کے عذاب  کو دوہرا کر دیا جائے گا ۱۰۰ *۔ اور وہ اس میں ذلت کے ساتھ پڑا رہے گا۔

۷۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر جو توبہ کرے ، ایمان لائے اور نیک عمل کرے تو اللہ ایسے لوگوں  کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے گا۱۰۱ *۔ اللہ بڑا بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔ ۱۰۲ *۔

۷۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جو توبہ کر کے نیک عمل کرتا ہے وہ در حقیقت اللہ کی طرف پلٹتا ہے ۱۰۳ *۔

۷۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جو باطل کے گواہ نہیں بنتے ۱۰۴ * اور اگر کسی لغو چیز سے ان کا گزر ہوتا ہے تو پر وقار انداز میں گزر جاتے ہیں ۱۰۵ *۔

۷۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جنہیں ان کے رب کی آیتوں کے ذریعہ نصیحت کی جاتی ہے تو وہ ان پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گرتے ۱۰۶ *۔

۷۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ہمیں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا ء فرما۱۰۷ *۔ اور اہم کو متقیوں کا امام بنا۱۰۸ *۔

۷۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ لوگ ہیں جن کو ان کے صبر کے بدلہ میں بالا خانے عطاء کیے جائیں گے ۱۰۹ *۔ اور وہاں ان کا خیر مقدم دعا اور سلام سے ہو گا۔

۷۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے ، بہت اچھا ٹھکانہ اور بہت اچھی رہنے کی جگہ ہے وہ!

۷۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہو میرے رب کو تمہاری کیا پروا اگر تم اسے نہ پکارو۱۱۰ *۔ تم نے جھٹلا دیا ہے لہٰذا عذاب تمہیں لازماً پکڑ لے گا۔

                   تفسیر

 

۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ کے با برکت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ خیر کا سرچشمہ ہے اور اس سے جو فیض اور برکتیں مخلوق کو پہنچ رہی ہیں وہ بے انتہا ہیں۔ اس کتاب کا نزول اس کی طرف سے ہوا ہے اس لیے وہ خیر ہی خیر ہے اور برکتوں سے مالا مال کر دیتے والی ہے۔

۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اپنے خاص بندہ محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) پر۔

۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرقان کے لفظی معنی ہیں فرق اور امتیاز کرنے والی چیز۔ اور قرآن کے فرقان ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب حق کو باطل سے ممتاز کرتی اور گمراہیوں کے مقابلہ میں ہدایت کو نمایاں کرتی ہے۔ یہ وہ کسوٹی ہے جس پر پرکھ کر کھرے اور کھوٹے میں تمیز کی جا سکتی ہے اور جملہ  معاملات زندگی کیں یہ کتاب معیار فیصلہ ہے۔

دنیا میں مذاہب کی کثرت کو دیکھ کر  اور ان کے متضاد دعووں کے پیش نظر آدمی بڑی الجھن میں پڑ جاتا ہے اس کی اس الجھن کو دور کرنے ہی کے لیے فرقان کا نزول ہوا ہے۔ اس کسوٹی Criterion پر ہر مذہب کے دعوے کو پرکھا جا سکتا ہے اور یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ یہ زر خالص ہے بھی یا نہیں۔ لوگ اس کسوٹی سے تو واقف ہیں جو سونے کو پرکھنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے لیکن افسوس کی اکثر لوگ اس خدائی کسوٹی سے نا آشنا ہیں جسے فرقان کہا گیا ہے اس لیے وہ مذاہب کے بارے میں غلط رائے قائم کیے ہوئے ہیں اور مختلف الجھنوں کا شکار ہیں۔

۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ آیت صراحت کرتی ہے کہ آپ صرف عربوں کو خبردار کرنے کے لیے نہیں بلکہ دنیا والوں کو خبر دار کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے اور اس مقصد کے لیے آپ پر  قرآن نازل کیا گیا۔ بالفاظ دیگر آپ کی رسالت اقوام عالم کے لیے ہے اور ان کو خبردار کرنے کا کام اس کتاب کے ذریعہ قیامت تک انجام پاتا رہے گا۔

اس ارشاد سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا مشن خدا سے غافل انسانیت کو آخرت کے انجام بد سے خبر دار کرنا تھا اور اس سے یہ اصولی رہنمائی ملتی ہے کہ اسلام کی طرف دعوت دینے والوں کو اسی رنگ میں دعوت پیش کرنا چاہیے موجودہ زمانہ میں اسلام کی دعوت کے لیے کچھ نئے طریقے رائج ہو گئے ہیں۔ چنانچہ دعوت کو اس طریقے سے پیش کیا جاتا ہے کہ اجتماعی زندگی کے مسائل کے حل کا پہلو تو پوری طرح ابھر کر سامنے آ جاتا ہے لیکن قیامت کے دن کی ہولناکی اور اخروی انجام کا پہلو اس طرح سامنے نہیں آتا کہ لوگ خبر دار ہو جائیں اور ان کو آخرت کی فکر لاحق ہو۔

۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اس کتاب کا نازل کرنے والا کائنات کا فرمانروا ہے اس لیے اس کی اہمیت اور عظمت کو خوب سمجھ لو۔

۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ بنی اسرائیل نوٹ ۱۴۹۔

۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے چیزوں کو پیدا کر کے یوں ہی چھوڑ نہیں دیا ہے کہ جو کچھ ان سے ظہور میں آتا ہے اتفاقات کا نتیجہ ہے بلکہ اس نے ایک ایک چیز کے بارے میں طے کر رکھا ہے کہ اسے کیا کام انجام دینا ہے ، کس طرح انجام دینا ہے ، اس کی مدت کار کر دگی اور غایت کیا ہو گی۔ مثال کے طور پر سورج کو کس درجہ حرارت پر رہنا ہے ، اپنی شعاعیں کہاں کہاں ڈالنا ہے ، کیسی حرارت پیدا کرنا ہے ، کس رفتار سے گردش کرنا ہے اور یہ کہ کب اس کی بساط لپٹ کر رکھ دی جائے گی اس طرح ایک ایک چیز کی منصوبہ بندی اور پلاننگ میں گئی ہے اور پوری کائنات اپنے خالق کے بنائے ہوئے منصوبہ کو پورا کرنے میں سرگرم عمل ہے۔ قرآن کی اصطلاح میں اس منصوبہ کو پورا کرنے میں سر گرم عمل ہے۔ قرآن کی اصطلاح میں اس منصوبہ بندی کا نام ” تقدیر” ہے جس کے لفظی معنی اندازہ مقرر کرنے کے ہیں۔

۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی انکار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ قرآن کی نسبت اللہ کی طرف بالکل جھوٹ ہے۔ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے بلکہ اس شخص کا اپنا کلام ہے جو نبوت کا دعویدار ہے اور اس کو گڑھنے میں کچھ لوگوں نے اس کی مدد کی ہے۔ اہل کتاب میں سے جو لوگ ایمان لائے تھے ان میں سے بعض کی طرف ان کا اشارہ رہا ہو گا۔ مگر چونکہ یہ الزام بالکل بے بنیاد تھا اور اس کا بے حقیقت ہونا بھی لوگوں پر واضح ہی تھا اس لیے اس کی تردید میں یہ کہنے پر اکتفاء کیا گیا کہ یہ بڑی ہی نا انصافی کی بات ہے اور جھوٹ  ہے جس کے یہ لوگ مرتکب ہوئے ہیں بعد میں تاریخ نے بھی ثابت کر دکھایا کہ یہ الزام جھوٹا تھا اور قرآن اپنے دعوے میں بالکل سچا ہے کیونکہ اگر قرآن کا مصنف اللہ کے سوا کوئی اور ہوتا تو یہ بات چھپی نہیں رہ سکتی تھی۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم تو اس کے مدعی ہیں نہیں اور اگر دیگر اشخاص نے اس کو تصنیف کرنے میں ہاتھ بٹایا ہوتا تو وہ اسے اپنا کارنامہ ضرور بتلاتے مگر کوئی شخص بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکا کہ قرآن میری تصنیف ہے یا اس کو مرتب کرنے میں میں بھی شریک رہا ہوں۔

۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ دوسرا الزام تھا جو کچھ دوسرے لوگ لگا رہے تھے۔ قرآن میں ماضی کی اقوام کے واقعات بیان  ہوئے ہیں ان کو وہ پارینہ قصے اور افسانے قرار دے کر نبی صلی اللہ  علیہ و سلم پر یہ الزام عائد کرتے تھے کہ آپ نے یہ قصے (اہل کتاب میں سے (کسی سے لکھوا لیے ہیں اور اب آپ کے ساتھی آپ کو صبح و شام جو تلاوت کی جاتی تھی اس کی توجیہ وہ اس طرح کرتے تھے۔

۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قرآن کے مضامین خود شہادت دیتے ہیں کہ یہ اسی ہستی کا کلام ہے جس پر کائنات کے تمام سر بستہ راز منکشف ہیں کیونکہ یہ کتاب کائنات کے اسرار و رموز سے پردہ اٹھاتی ہے۔

۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ توبہ کی ترغیب ہے کہ اس کی طرف رجوع کرو اور ایمان لے  آپ تو جو گناہ تم سے سرزد ہو گئے ہیں ان کو وہ معاف کر دے گا اور تم پر رحم فرمائے گا۔

۱۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان کا خیال تھا کہ جادو کے اثر سے آدمی کی عقل مختل ہو جاتی ہے یعنی اس میں فتور آ جاتا ہے۔ ان کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو سحر زدہ کہنے کا مطلب یہ تھا کہ آپ وحی کے نزول اور آخرت وغیرہ کی جو باتیں کر رہے ہیں وہ عقل کا فتور ہے اور یہ فتور کسی کے جادو کر دینے کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے۔ جہاں تک اس الزام کا تعلق ہے وہ تو سراسر جھوٹ تھا رہا یہ سوال کے کیا جادو کے اثر سے کسی کی عقل میں فتور آ جاتا ہے تو یہ خیال بھی غلط ہے۔ قرآن سے اس خیال کی ہر گز تائید نہیں ہوتی۔ جادو کا اثر وقتی طور پر نظر کے دھوکہ کی حد تک رہتا ہے جیسا کہ آیت سَحَرُو اَعْیُنَالنّاسِ (انہوں نے جادو سے لوگوں کی نظریں مار دیں۔ (سورہ اعراف۔ ۱۱۶ )سے واضح ہے۔ مگر بہت سے لوگ جادو کے بارے میں غلط فہمی میں مبتلا ہیں جس کی وجہ سے وہ توہم پرستی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

۱۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب آدمی رسول کے بارے میں واقعیت پسندی کا ثبوت نہیں دیا اور اس کے دعوائے  رسالت کی غلط توجیہ کرنے لگتا ہے تو وہ غلط راہ پر جا پڑتا ہے اور پھر اس سے نکلنے نہیں پاتا۔

۱۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اللہ کے خزانہ میں کسی چیز کی کمی نہیں وہ اگر چاہے تو اپنے پیغمبر کے لیے ایک نہیں بہت سے باغ اور ایک نہیں کئی محل بنا دے مگر چونکہ یہ دنیا انعام پانے کی جگہ نہیں ہے بلکہ امتحان گاہ ہے اس لیے وہ رسول کو بھی آزمائشی زندگی سے گزارتا ہے۔

۱۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یہ ان کے خالی خولی اعتراضات ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ قیامت کو ماننا نہیں چاہتے کیونکہ اس کو ماننے کی صورت میں ذمہ دارانہ زندگی گزارنا پڑتی ہے اور رسالت کو تسلیم کرنے سے قیامت کو تسلیم کرنا لازم آتا ہے اس لیے وہ اپنی عافیت اسی میں سمجھتے ہیں کہ رسالت کو تسلیم نہ کیا جائے۔

۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ واضح ہوا کہ قیامت کا انکار کرنے والا کافر اور جہنم کا مستحق ہے خواہ وہ خدا کو ماننے کا دعویدار ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ قیامت کا انکار خدا کی صفت عدل کا انکار ہے۔ اس کے بعد اس کو ماننے کا دعویٰ بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔

۱۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دوزخ کے دور سے کافروں کو دیکھنے کی شکل کیا ہو گی وہ قیامت کے دن ہی معلوم ہو سکے گی البتہ جب وہ دیکھ لے گی تو اس کے غضب کا یہ عالم ہو گا کہ کافروں کو دور سے ہی اس کی دھاڑیں سنائی دیں گی۔

۱۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ واضح ہوا کہ جنت کا وعدہ متقیوں سے کیا گیا ہے یعنی ان لوگوں سے جو اللہ سے ڈریں اور اس کی نا فرمانی اور گناہ سے بچتے ہوئے زندگی بسر کریں۔ نام نہاد مسلمانوں سے جنت کا وعدہ نہیں  کیا گیا ہے اس لیے کوئی شخص اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ چونکہ ہم فلاں پیر کے عقیدت مند اور فلاں  بزرگ کے مرید ہیں اس لیے جنت ہمارے لیے مقدر ہے اور نہ کوئی شخص اس خام خیالی میں مبتلا رہے کہ چونکہ ہم بزرگوں کے عقیدت مند ہیں اور ان کے نام کی نیاز کرتے ہیں اس لیے ہم جنت کے حقدار ہیں۔

۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جنت ان کی آخری منزل قرار پائے گی۔

۲۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یہ ایسا وعدہ ہے جو اللہ نے اپنے ذمہ لے رکھا ہے اور بندو۳ں کو یہ حق دے دیا ہے کہ وہ اس سے طلب کریں۔

۲۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں معبودوں سے مراد بت نہیں کیونکہ سوال بتوں سے نہیں کیا جاتا بلکہ انبیاء اور بزرگ ہیں جن کے ساتھ ان کے عقیدت مند لوگ وہ معاملہ کرتے رہے ہیں جو خدا کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔ اس کی مثال حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں جن کو نصاریٰ نے خدا بنا لیا ہے۔ اس سلسلہ میں حضرت عیسیٰ جو تردیدی بیان خدا کی عدالت میں دیں گے وہ سورہ مائدہ آیت ۱۱۶ میں بیان ہوا ہے۔ مشرکین مکہ نے بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بت خانہ کعبہ میں رکھا تھا۔

۲۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ہم نے تو اپنا کار ساز اللہ ہی کو بنایا تھا پھر یہ کیونکر ہو سکتا تھا کہ لوگوں سے یہ کہتے کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر ہمیں کار ساز بنائیں اور ہمیں حاجت روا سمجھ کر ہماری پرستش کریں۔

یہ آیت مشرکین ہی کی نہیں ان مسلمانوں کی بھی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے جو بزرگوں کی عقیدت میں شرک کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کی منتیں ماننے سے اور ان کی قبروں پر چڑھاوے چڑھانے سے وہ خوش ہو جاتے ہیں حالانکہ یہ بزرگ قیامت کے دن اپنے عقیدت مندوں کی مشرکانہ حرکتوں سے بیزاری کا اظہار کریں گے اور یہ ان کے لیے ان کے بزرگوں کی طرف سے زبردست طمانچہ ہو گا۔

۲۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ان کو دنیا میں جو مال متاع ملا اس میں ایسے مست ہو گئے کہ وہ  خدا کو بھلا بیٹھے اور  خدا کو بھلانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ شرک میں مبتلا ہو گئے اور تباہی کے گڑھے میں جا گرے۔

واضح ہوا کہ شرک میں آدمی اس وقت مبتلا ہوتا ہے جب کہ وہ خدا کو بھلا دیتا ہے۔ خدا کو حقیقی معنوں میں یاد رکھنے والا شرک میں مبتلا نہیں ہو سکتا۔

۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی تمہارا دعویٰ ان شخصیتوں کے بارے میں تھا اور جو غلو آمیز تصور تم نے قائم کیا تھا وہ غلط ثابت ہوا اور ظاہر ہو گیا کہ وہ کار سازی کا کوئی اختیار نہیں رکھتے تھے اور نہ انہوں نے اس کا کوئی دعویٰ کیا تھا بلکہ وہ خود اپنا کار ساز اللہ ہی کو مانتے تھے۔

۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے۔

۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ان کے اس اعتراض کا جواب ہے جو آیت ۷ میں نقل ہوا ہے۔

۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی رسول کا کھانا پینا اور بازاروں میں چلنا پھرنا دونوں گروہوں کے لیے آزمائش کا سبب بن گیا ہے۔ کافروں کو تو یہ موقع مل گیا ہے کہ وہ رسول پر فقرے کسیں اور اہل ایمان کے لیے یہ آزمائش کہ وہ ان ناگوار باتوں کو سن کر صبر کرتے ہیں یا نہیں۔

اس سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ کافروں کی طرف سے رسول کی شخصیت پر جو اعتراضات ہوں ان پر اہل ایمان کو صبر کرنا چاہیے۔ مگر اس زمانہ میں مسلمانوں کا حال بڑا عجیب ہے کسی گوشہ سے رسول پر کوئی تنقید ہوتی ہے تو وہ آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اور اس کو احتجاج کا موضوع بنا لیتے ہیں۔ اور کافر یہی چاہتے ہیں کہ مسلمان مشتعل ہو کر ٹکراؤ کے لیے آمادہ ہو جائیں۔ اگر وہ اشتعال قبول کرنے کے بجائے مثبت طور پر رسول کے مقام کو واضح کریں تو کتنے ہی لوگ رسول کے قد شناس بن جائیں۔

۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رسالت کے منکرین بجائے اس کے کہ اس خدائی حکمت کو سمجھنے کی کوشش کرتے جس کی بنا پر انسانوں کی ہدایت کے لیے رسول بھیجا جاتا ہے الٹے سیدھے اعتراضات کرتے ان کا کہنا تھا کہ اگر رسول پر فرشتے اتارے جاتے ہیں تو ہم پر کیوں نہیں اتارے جاتے اور اسی لَے میں وہ یہاں تک کہہ گزرے کہ ایسا کیوں نہیں ہوا کہ غیب کے پردے اٹھا دیے جاتے اور ہم اپنے رب کو کھلی آنکھوں سے دیکھ لیتے۔ یعنی وہ چاہتے تھے کہ حقیقت کو بصیرت (دل (کی آنکھوں سے نہیں بلکہ بصارت کی (ظاہری (آنکھوں سے دیکھیں۔ حالانکہ انسان کا سارا امتحان اس بات میں ہے کہ وہ حقیقت کو بصیرت کی آنکھوں سے دیکھتا ہے یا نہیں۔ مگر جو لوگ اس گھمنڈ میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ان کا مقام بندہ ہونے کا نہیں بلکہ آزاد اور خود مختار انسان ہونے کا ہے وہ خدا اور اس کے رسول کے بارے میں اوٹ پٹانگ باتیں کرنے لگتے ہیں اور اپنی سرکشی میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں۔

۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی آج یہ فرشتوں کو دیکھنے کا مطالبہ کر رہے ہیں مگر وہ دن دور نہیں جب فرشتے ان کے سامنے آ نمودار ہوں گے اور جب وہ ان کو دیکھ لیں گے تو سمجھیں گے کہ ہماری شامت آ گئی اس لیے پناہ پناہ پکار اٹھیں گے۔

۳۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یہ لوگ جب آخرت ہی کا انکار کرتے رہے ہیں تو ان کا کوئی عمل خواہ وہ مذہبی نوعیت ہو یا دنیوی کارنامہ کی حیثیت رکھتا ہو قیامت کے دن ان کی کوئی قدر نہ ہو گی۔ ان کے سارے اعمال راکھ کا ڈھیر ثابت ہوں گے ، اور اللہ تعالیٰ ان کو غبار کی طرح اڑا دے گا۔

آج آخرت بیزار لوگ اپنے دنیوی اور قومی کارناموں پر بڑا فخر کرتے ہیں اور ان کارناموں ہی کی بدولت وہ اپنی قوم کے ہیرو بن جاتے ہیں لیکن قیامت کے دن انہیں پتہ چلے گا کہ ان کے یہ کارنامے اتنے ہی بے وزن ہیں جتنا کہ غبار۔

مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورہ ابراہیم نوٹ ۲۶ اور سورہ کہف نوٹ ۱۳۰۔

۳۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لفظ “غمام” استعمال ہوا ہے جس کے معنی سفید بادل کے ہیں۔ قیامت کے دن آسمان پھٹے گا اور اس میں سے بادل نمودار ہو گا۔ ہو سکتا ہے یہ بادل (غمام (وہی ہو جس کا ذکر سورہ بقرہ میں اس طرح ہوا ہے۔

ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا اَنْ یا تِیَھُمْ اللہُ فِی ظُلَلٍ مِنَ الْغَمَامِ وَالْمَلٰئِکۃُ و قُضِیَ الْاَمْرُ (آیت ۲۱۱ (۔ ” کیا یہ لوگ اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ فرشتوں کے لیے ہوئے ابر کے سائبانوں میں ان کے سامنے نمودار ہو اور فیصلہ ہی کر ڈالا جائے۔

۳۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قیامت کے دن ساری مجازی بادشاہتیں ختم ہو چکی ہوں گی اور لوگ دیکھ لیں گے کہ اقتدار اللہ ہی کے لیے ہے جو فرمانروائے حق ہے۔

۳۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاتھ کاٹنا کنایہ ہے حسرت و ندامت کے لیے اور قیامت کے دن جو جنونی کیفیت کافروں پر طاری ہوتی اس کی وجہ سے وہ اپنے ہاتھ چبا ڈالے تو بھی عجب نہیں۔

۳۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ایک اور آگاہی ہے کہ آدمی کو سوچ سمجھ کر دوست کا انتخاب کرنا چاہیے کیونکہ آدمی اپنے دوست کی باتوں کا آسانی سے قبول کر لیتا ہے اور اس کی راہ پر چل پڑتا ہے۔ اگر دوست گمراہ ہو تو اس کا ساتھی بھی گمراہ ہو جاتا ہے۔ دنیا میں کتنے لوگ اس لیے کافر اور فاسق و فاجر بنے ہوئے ہیں کہ وہ بڑے دوستوں کے زیر اثر ہیں۔ ان کو اپنی اس غلطی کا احساس قیامت کے دن ہو گا اس وقت وہ اپنی محرومی پر پچھتائیں گے۔

اس کے بر عکس اگر آدمی اپنی دوستی کے یے اللہ کے مومن اور مخلص بندہ کا انتخاب کرتا ہے جو اللہ سے ڈرتے ہوئے پاکیزہ زندگی گزارتا ہے تو اس کی صحبت کا فیض اس شخص کو بھی حاصل ہو سکتا ہے۔ عطار کے پاس بیٹھنے والا عطر کی خوشبو سے محروم نہیں ہو سکتا۔

۳۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد وہ نصیحت ہے جو اللہ نے بندوں کی  اصلاح کے لیے اتاری ہے۔

۳۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی شیطان دنیا میں تو انسان کی غلط رہنمائی کر کے سنہرے خواب دکھاتا رہا  لیکن جب نتائج کے ظہور کا وقت آیا تو ساتھ چھوڑ کر بھاگ گیا۔ شیطان کا غدار ہونا قیامت کے دن بالکل کھل کر سامنے آ جائے گا۔

۳۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اللہ کی عدالت میں رسول کی فریاد ہو گی کہ میں نے اپنی قوم کو اس قرآن کے ذریعے صحیح راہ دکھانے کی کوشش کی تھی لیکن یہ لوگ قرآن کو چھوڑ کر اپنی من مانی کرتے رہے۔

عرب نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اولین مخاطب تھے جن پر حجت پوری طرح قائم ہو گئی تھی اس لیے عدالت خداوندی میں سب سے پہلے ان ہی پر گرفت ہو گی۔ رہیں دوسری قومیں تو جن جن تک رسول یا اس کے پیروؤں کے ذریعہ قرآن کا پیغام پنچا اور انہوں نے اسے قبول نہیں کیا وہ بھی گرفت سے بچ نہیں سکیں گی کیونکہ جیسا کہ آیت ۱ میں بیان ہوا رسول دنیا کی تمام قوموں کو خبردار کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے اور قرآن کا نزول اسی مقصد سے ہوا ہے۔

آج مسلمانوں کی بڑی تعداد کا حال یہ ہے کہ وہ قرآن کو ماننے کا تو دعویٰ کرتی ہے مگر رسمی حد تک یہ لوگ نہ اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ اپنے عقائد و اعمال میں اس کو رہنما بناتے ہیں ہر لحاظ سے انہوں نے قرآن کو چھوڑ رکھ ہے۔ اور وہ اس خام خیالی میں مبتلا ہیں کہ آخرت کی عدالت میں ان پر مقدمہ ہیں چلے گا۔

۳۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے ان لیڈروں کی طرف جو مجرموں میں سے ابھرتے ہیں اور نبی کے دشمن بن کر اس کی دعوت کی مخالفت میں زور لگاتے ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ کے مقررہ قانون ضلالت کے مطابق ہوتا ہے اس لیے اس کو اس طرح تعبیر کیا گیا ہے کہ ” ہم نے ہر نبی کے لیے مجرموں میں سے دشمن کھڑے کیے ”

مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورہ انعام نوٹ ۲۱۰۔

۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی دشمنوں کی تمام کاروائیوں کے باوجود تم پر راہ ہدایت کھلتی چلی جائے گی اس راہ کو طے کرتے ہوئے ہر ہر موڑ پر تمہاری رہنمائی کا سامان ہو گا اور کٹھن مرحلوں میں اللہ تمہاری دستکیری فرمائے گا۔

۴۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ منکرین کا ایک بڑا اعتراض یہ تھا کہ اگر قرآن واقعی اللہ کی کتاب ہے تو مکمل کتاب کی صورت میں بیک وقت نازل کیوں نہیں ہوئی۔ وقفہ وقفہ سے تھوڑی تھوڑی کیوں نازل ہو رہی ہے۔ ؟

۴۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قرآن کو تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کرنے کا ایک بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ ہر موقع پر بر وقت رہنمائی مل جانے سے قلب و ذہن کو تقویت حاصل ہو جاتی ہے۔ مزید تشریح کے لیے  دیکھیے سورہ بنی اسرائیل نوٹ ۱۴۰۔

۴۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اصل میں لفظ ترتیل استعمال ہوا ہے جس کے معنی حسن ترتیب ، حسن تالیف ، حسن کلام کے ہیں۔ (دیکھیے القاموس ، ج ۳ ، ص۲۹۲ (

مطلب یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو اگر چہ تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے لیکن اس سے کلام غیر مربوط نہیں ہوا ہے اس کی ترتیب میں کمال درجہ کا حسن رکھا گیا ہے چنانچہ جو لوگ قرآن میں غور و فکر کرتے ہیں وہ اس کی حسن ترتیب   (Well-arranged)   کو دیکھ کر اس کے معجزانہ کلام ہونے پر یقین کرنے لگتے ہیں۔

۴۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی معترضین کی طرف سے جس وقت جس شبہ کا بھی اطہار ہوتا ہے اس کا صحیح جواب نہایت واضح انداز میں قرآن میں پیش کر دیا جاتا ہے۔ یہ قرآن کو تھوڑا تھوڑا کر کے اور موقع موقع سے نازل کرنے کی ایک اور مصلحت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا ہے۔

۴۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد تورات ہے جو آغاز نبوت سے نازل ہونا شروع ہو گئی تھی۔ اس کا کچھ حصہ فرعون کے غرق ہونے سے پہلے نازل ہوا اور بقیہ حصہ اس کے بعد۔ یہ خیال کرنا صحیح نہیں کہ تورات پوری کی پوری بیک وقت نازل ہوئی تھی کیونکہ یہ بات نہ قرآن میں بیان ہوئی ہے اور نہ موجودہ تورات میں اس کا کہیں ذکر ہے۔ اس لیے صحیح بات یہ ہے کہ آسمانی کتابوں کا نزول موقع کی مناسبت سے تھوڑا تھوڑا کر کے ہوتا رہا ہے۔

۴۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ طٰہٰ نوٹ ۲۹ ، ۳۰۔

۴۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد قوم فرعون ہے اور آیتوں کو جھٹلانے سے مراد خدا کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی وہ نشانیاں ہیں جو کائنات میں پھیلی ہوئی اور انسانوں کی فطرت کے اندر ودیعت ہیں۔ فرعون ان آیتوں کو جھٹلانے کا پہلے ہی سے  مجرم تھا نیز اس نے انبیائی تاریخ کے آثار اور حضرت یوسف کے نقوش کو جو انہوں نے اس ملک میں چھوڑے تھے بالکل نظر انداز کر دیا تھا اور یہی حال اس کی قسم کا بھی تھا اس لیے حضرت موسیٰ کے حجت قائم کرنے سے پہلے بھی فرعون اور اس  کی قوم مجرم تھی اور ان کی حجت قائم کرنے کے بعد تو اس کا جرم اور سنگین ہو گیا اور اس کی حق سے دشمنی کھل کر سامنے آ گئی۔

معلوم ہوا کہ جس قوم پر کسی نبی کے ذریعہ حجت قائم نہ بھی ہوئی ہو لیکن اس نے خدا کی ان نشانیوں کو جو کائنات میں پھیلی ہوئی ہیں اور انسان کی فطرت کے اندر ودیعت ہیں جھٹلا کر گمراہی اختیار کی ہو سرکش اور کافر ہی کہلائے گی۔

۴۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرعون اور اس کی لشکر کو تو ڈبو دیا گیا اور مصر میں اس کی قوم بھی تباہ کر دی گئی۔

۴۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نوح کی قوم نے حضرت نوح کو جھٹلایا تھا لیکن اس بات کو تمام رسولوں کو جھٹلانے سے تعبیر کیا گیا کیونکہ ایک رسول کو جھٹلانا تمام رسولوں کو جھٹلانا ہے۔

۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ ہود نوٹ ۷۴ اور سورہ فجر نوٹ ۸ تا  ۱۱۔

۵۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ ہود نوٹ ۸۶ اور سورہ فجر نوٹ ۱۲ تا ۱۴۔

۵۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اصحاب الرس کے معنی ہیں کنویں والے۔ یہ ایک قوم تھی جس کی طرف کسی نبی کی بعثت ہوئی تھی اور جب اس نے جھٹلایا تو وہ تباہ کر دی گئی۔ یہ قوم کہاں آباد تھی اور اس کی طرف کس نبی کو بھیجا گیا تھا  اس کی صراحت قرآن نے نہیں کی بلکہ عبرت پذیری کے لیے اس کی تباہی کا ذکر کیا۔ کسی صحیح حدیث میں  بھی اس قوم کے  حالات بیان نہیں ہوئے ہیں اس لیے ہمیں قرآن کے اجمالی بیان پر اکتفاء کرنا پڑے گا۔ مفسرین نے جو مختلف اقوال نقل کیے ہیں وہ محض قیاسی باتیں ہیں۔

۵۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ معلوم ہوا کہ دوسری بہت سی قومیں ہیں جن کی طرف رسول بھیجے گئے  تھے اور ان کو جھٹلانے پر ان قوموں کو تباہ کر دیا گیا لیکن ان تمام قوموں کا ذکر قرآن نے نام لے کر نہیں کیا ہے۔ یہ قومیں مختلف قوموں میں رہی ہوں گی اور عجب نہیں کہ قدیم ہندوستان کی بھی کوئی قوم تباہ کر دی گئی ہو۔

۵۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی مثالیں دے دے کر سمجھا یا تھا اور تباہ شدہ قوموں کی مثالیں پیش کی تھیں۔

۵۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد قوم لوط کی بستیاں ہیں۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ ہود نوٹ ۱۱۹۔

۵۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آدمی جب آخرت کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہو تو واقعات سے کوئی عبرت حاصل نہیں کرتا جو لوگ نہیں چاہتے کہ ان کو دو بارہ سندگی ملے اور ان کو ان کا رب ان کے اچھے اعمال کی جزا دے وہ انبیائی تاریخ کی غلط توجیہ کر کے اپنی دنیا پرستی میں مگن رہتے ہیں۔

۵۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی آج تو نبی کی دعوت توحید کو اپنے مذہب کے لیے خطرہ سمجھ رہے ہیں اور اسے  گمراہی قرار دے رہے ہیں لیکن جب  وہ اپنی بت پرستی اور شرک کا بھیانک انجام دیکھ لیں گے تو اس وقت انہیں اس بات کا احساس ہو گا کہ ان کی اپنے بتوں اور معبودوں سے عقیدت سراسر گمراہی تھی اور وہ اس گمراہی میں بہت دور نکل گئے۔ راہ ہدایت ہی تھی جس کی طرف اللہ کا رسول انہیں بلا رہا تھا۔

۵۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خواہشات کو خدا بنا لینے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی خواہشات کا غلام بن جائے۔ فطرت کی پکار پر کان دھرنے اور عقل سلیم سے کام لینے کے بجائے اپنے کو خواہشات کے حوالے کر دے۔ ایسا شخص وحی الٰہی کی اس لیے مخالفت کرتا ہے کہ خواہشات اس کا ساتھ نہیں دیتیں اور یہ خواہش پرستی ہی ہے جو انسان کو اس کے مرتبہ سے گرا  کر حیوانیت کی سطح پر لے آتی ہے۔ موجودہ دور میں اس کی نمایاں شکل اباحیت پسندی ہے یعنی خواہشات کو بلا روک ٹوک پورا کرنے کے لیے آزاد چھوڑ دینا۔ ایسے شخص کا بت اس کے دل میں ہوتا ہے اور وہ اس کا پرستار بن جاتا ہے۔

۵۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی فہمائش اسی شخص کو کی جا سکتی ہے جو اپنے ہوش و حواس کے کام لینے کے لیے آمادہ ہو۔ جو شخص اپنی خواہشات کے پیچھے اندھا ہو گا ہو اس کو سمجھانا ایک نبی کے بس کی بات بھی نہیں ہے۔

۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ اعراف نوٹ ۲۷۶۔

۶۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں انسان کو خدا کی اس نشانی کی طرف متوجہ کیا گیا ہے جسے سایہ کہتے ہیں۔ سایہ مکانوں اور درختوں وغیرہ کا بھی پڑتا ہے اور انسان کا اپنا سایہ بھی جو اس کے ساتھ ساتھ چلتا ہے اور اس کو دعوت فکر دیتا رہتا ہے۔ سایہ پھیلتا بھی ہے اور سکڑتا بھی ہے اور اس کاس پیلنا اور سکڑنا سورج کے طلوع و غروب اور اس کے عروج و زوال کی وجہ سے ہوتا ہے۔ گویا سورج سایہ کے لیے دلیل راہ ہے۔

اگر پھیلے ہوئے سایہ کو اللہ دائمی بنا دیتا تو درختوں وغیرہ کے ایک رخ پر ہی سایہ پڑتا اور دوسرا رخ سورج کی تمازت ہی میں رہتا لیکن سایہ کے متحرک اور کم و بیش ہونے سے حرارت اور ٹھنڈک میں بڑا توازن پیدا ہو گیا ہے۔ کیا یہ ایک ارادہ رکھنے والی اور تدبیر کرنے والی ہستی کی کار فرمائی نہیں ہے ؟

۶۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سایہ صبح کے وقت پھیلا ہوتا ہے پھر جیسے جیسے سورج چڑھتا جاتا ہے سایہ گھٹتا جاتا ہے اور زوال کے بعد پھر بڑھنے لگتا ہے یہاں تک کہ سورج غروب ہونے پر غائب ہو جاتا ہے۔

۶۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رات پردہ پوشی کرتی ہے اس لیے اسے لباس سے تعبیر کیا گیا۔

۶۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نیند تکان کو دور کرتی ہے اور آرام پہنچاتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی اور عجیب نعمت ہے جس سے ہر شخص بہرہ مند ہوتا ہے مگر اس بات پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا کہ یہ کس کا احسان ہے ؟ اور وہ محسن کیسا ہے جس کی مہربانیوں کی کوئی حد نہیں ہے ؟

۶۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رات سونے کے لیے تھی تو دن اٹھ کھڑے ہونے کے لیے ہے تاکہ حیات تازہ حاصل کرے۔ اور یہ اٹھ کھڑے ہونا قیامت کے دن اٹھ کھڑے ہونے کی دلیل ہے اور یاد دہانی بھی۔ دلیل اس بنا پر کہ جو نیند طاری کرنے کے بعد بیدار کرتا ہے وہ موت طاری کرنے کے بعد زندگی بھی عطا کر سکتا ہے اور یاد دہانی اس پہلو سے کہ صبح اٹھتے ہی یہ کلمات ادا کرنے کی ہدایت آئی ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ اَحْیَانَا بَعْدَمَا اَمَا تَنَا وَاِلَیْہِ النُّشُوْر (مشکوٰۃ کتاب الدعوات بحوالہ بخاری (“تعریف و شکر اللہ کے لیے ہے جس نے موت کے بعد زندگی بخشی اور اسی کی طرف اٹھ کھڑے ہونا ہے۔ ”

۶۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد باران رحمت ہے۔

۶۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بارش کا پانی جو اوپر سے اترتا ہے نہایت صاف ستھرا ہوتا ہے نیز وہ اس خصوصیت کا بھی حامل ہوتا ہے کہ گندگی کو دور کرے اور پاک و صاف بنائے۔

۶۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد قرآن ہے جس کے مضامین مختلف اسلوبوں میں بیان ہوئے ہیں۔ یہاں ہُ (اس کو) کی ضمیر اسی طرح قرآن کی طرف راجع ہے جو طرح آگے آیت ۵۲ میں۔

مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورہ انعام نوٹ ۱۰۹۔

۶۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اللہ کے لیے یہ بات نہایت آسان تھی کہ ہر بستی سے ایک پیغمبر اٹھاتا لیکناس کی حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ ایک پیغمبر اس شان کا مبعوث کیا جائے کہ پوری دنیا کو خبردار کرنے کے لیے کافی ہو جائے۔ چنانچہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو ایک تاریخ ساز شخصیت بنا کر قرآن جیسے زندہ معجزہ کے ساتھ ایسی مرکزی جگہ بھیجا گیا کہ ساری دنیا کے لیے آپ کی رسالت کافی ہو گئی۔

۶۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قرآن کے ذریعہ جیسا کہ قرائن سے واضح ہے۔

۷۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس آیت میں قرآن کے ذریعہ کافروں  کے ساتھ جہاد کبیر کا حکم دیا گیا ہے۔

جہاد کے معنی ہیں۔

والْجِھَدُ وَالْمُجَا ھَدۃُ استفراغ الْوَ سْعِ فِی ، مُدافعۃِ الْعدوِّ (مفردات راغب ، ص ۱۰۰)۔ ” جہاد اور مجاہدہ یہ ہے کہ دشمن کے مقابلہ میں پوری طاقت لگا دی جائے “۔

یہ سورہ مکی دور کی ہے اور مکی دور میں تلوار سے جہاد کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا اس لیے اس آیت میں جہاد سے مراد دعوت حق کو پیش کرنے میں انتہائی سرگرمی دکھانا، مخالفتوں اور مزاحمتوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے باطل سے کشمکش کرنا ہے۔ پھر یہ جہاد قرآن کے ذریعے بڑے پیمانہ پر کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس دعوتی جہاد میں قرآن تمہارا ہتھیار ہو، کفر اور شرک کی تردید میں قرآنی آیتوں کو پیش کیا جائے، کافروں کے شبہات اور اعتراضات کا جو جواب قرآن نے دیا ہے وہ ان کو سنایا جائے ، قرآن کی تنبیہات سنا کر ان کو خبر دار کیا جائے اور ان کی کافرانہ باتوں کا توڑ قرآن کے ذریعہ کیا جائے۔

آج بھی دعوتی میدان میں قرآن کے ذریعہ جہاد کرنے کی سخت ضرورت ہے یعنی غیر عربی داں لوگوں کے سامنے قرآن کو ترجمہ کے ساتھ پیش کرنا ، اس کے مضامین پیش کر کے شبہات کو دور کرنے کی کوشش کرنا اور مخالفین کے تیروں کے مقابلہ میں قرآن کو سپر بنانا بہت بڑا جہاد ہے جو وقت کا نہایت اہم تقاضا ہے اور اس راہ کے مجاہد وہی لوگ بن سکتے ہیں جن پر قرآن کی دھن سوار ہو اور وہ اس کے علمبردار بن کر میدان میں آئیں۔

۷۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ، متن میں لفظ بَحْرَین استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں دو بحر عربی میں سمندر کو بھی کہتے ہیں اور دریا کو بھی چنانچہ دریائے نیل کو البحر الازرق (Blue Nile) اور البحر الابیض ( (White Nile کہا جاتا ہے۔ آیت میں دو بحر سے مراد دریا کا سمندر سے مل جانا ہے۔  دریا کا پانی میٹھا ہوتا ہے اور سمندر اور سمندر کا کھاری، مگر جہاں دریا سمندر میں جا کر گرتا ہے وہاں دونوں کا پانی اپنے اپنے حدود میں اپنی خصوصیات لیے رہتا ہے۔ سمندر کی زبردست موجیں دریا سے ٹکراتی ہیں لیکن اس کے پانی کو کھاری نہیں بنا دیتیں۔ گویا دونوں کے درمیان ایک پردہ ہے جو دکھائی نہیں دیتا اور ایک حد فاصل ہے جو دونوں کو اپنی جگہ قائم رکھے ہوئے ہے اور انسایکلو پیڈیا برٹانیکا میں اس انکشاف کا ذکر ہے کہ شمالی سائبیریا (روس) کے ساحل پر جہاں بڑے بڑے دریا بحر شمالی میں گرتے ہیں ان کا تازہ پانی کثافت میں کم ہونے کی وجہ سے سطح ہی پر رہتا ہے جب کہ بحر شمالی کی گہرائیوں میں کھاری پانی حسب معمول موجود ہوتا ہے۔

“Because this fresh water is less dense, it remains on the surface, the salinity at greater depth in the Arctic Ocean is normal for sea water.” (Encyclopedia Britannica Vol. 13 P. 487)

کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ یہاں ایک کنٹرول کرنے والی ہستی ہے جس کے قوانین اس طرح نافذ ہو رہے ہیں کہ ہر چیز اپنی حد میں ہے اور کوئی چیز بھی سر مو تجاوز نہیں کر سکتی۔ لوگ اس بات کو قوانین طبیعی سے تعبیر کرتے ہیں مگر کوئی  بھی قانون قوت نافذہ کے بغیر عمل میں نہیں آتا پھر یہ قوانین طبیعی (Physical Laws) ایک نافذ کرنے والی ہستی کے بغیر کس طرح عمل میں آ گئے ؟

۷۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی پانی کے ایک قطرہ سے جسے نطفہ کہا جاتا ہے۔

۷۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ایک طرف خونی (رحمی) رشتے چلائے اور دوسری طرف بیوی کے تعلق سے سسرالی رشتے۔ اس طرح انسان کی سندگی میں خاندان اور اجتماعیت کا سلسلہ چلا۔

۷۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو ہستی پانی کے ایک قطرے سے ایک عظیم اجتماعیت کو وجود میں لا سکتی ہے اس کی قدرت سے کیا چیز بعید ہے ؟

۷۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ انعام نوٹ ۱۱۸۔

۷۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ لوگ اللہ سے جو ان کا حقیقی رب ہے بندگی کا تعلق قائم کرتے مگر وہ اپنے  کفر کی بنا پر اس کے حریف بن کر کھٹے ہوئے ہیں۔ چنانچہ ان کی اللہ کی پاکیزگی اور اس کی صفات حمیدہ بیان کرنے سے کوئی دلچسپی ہے جو اس کے شایان شان نہیں اور جن سے عیب اور نقص رکھنے والے خدا کو تصور سامنے آتا ہے۔ وہ اس سے وفاداری کا تعلق قائم کرنے کے بجائے سرکشی اور بغاوت پر اتر آئے  ہیں۔ وہ اس کے رسول کی پیروی کرنے کے بجائے اس کی مخالفت میں سرگرم ہو گئے ہیں۔ اور اس سے بڑھ کر حماقت کیا ہو سکتی ہے کہ انسان اپنے رب ہی کا حریف بن کر کھڑا ہو جائے۔

۷۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی پیغمبر کا کام ایمان لانے والوں کو بشارت دینا اور کفر کر نے والوں کو انجام بد سے خبردار کرنا ہے ، ایمان لانے پر لوگوں کو مجبور کرنا پیغمبر کی ذمہ داری نہیں۔

۷۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی میں اللہ کا پیغام تمہارے اپنے فائدہ ہی کے لیے پہنچا رہا ہوں۔ اس خدمت پر میں نے تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کیا ہے کہ تم شک میں پڑو کہ یہ سب کچھ اپنی غرض کے لیے کیا جا رہا ہے۔ میری تبلیغ کی واحد غرض یہی ہے کہ لوگوں پر اللہ کی راہ روشن ہو پھر جو چاہے اپنی مرضی سے اس راہ کو اختیار کر لے۔

۷۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اللہ مشرکین کے مردہ خداؤں کی طرح نہیں ہے۔ وہ ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اس پر موت کبھی طاری ہونے والی نہیں۔

۸۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اس کے گن کاتے ہوئے اس کی پاکی بیان کرو کہ اس سے تو کل کی صفت پروان چڑھتی ہے۔

۸۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی مخالفت کرنے والوں کا معاملہ اللہ کے حوالہ کر دو۔ وہ اپنے بندوں کے جرائم سے باخبر ہے اس لیے وہ ان کے کیے کی پوری پوری سزا دے گا۔

۸۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ اعراف نوٹ ۸۲۔

۸۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ اعراف نوٹ ۸۳۔

۸۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی خدا کیسا ہے اور اس کی خوبیاں (صفات Attributes  ) کیا ہیں اس کے بارے میں  قیاس اور گمان سے کوئی بات کہنا یا اہل مذاہب کی فلسفیانہ باتوں پر اعتماد کرنا صحیح نہیں بلکہ یہ بات خدا (اللہ) ہی سے پوچھی جانی چاہیے کیونکہ وہی اپنی صفات سے اچھی طرح باخبر ہے۔ چنانچہ اس نے اپنی صفات اپنی کتاب (قرآن) میں بیان کر دی ہیں۔ لہٰذا اس کی صفات معلوم کرنے کے لیے اس کتاب کی طرف رجوع کرو۔

۸۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ بنی اسرائیل نوٹ ۱۴۵۔

یہ آیت سجدہ ہے اس لیے اس کی تلاوت کرنے یا سننے پر فوراً سجدہ کرنا چاہیے۔

۸۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اپنے خدائے مہربان (رحمٰن) کے آگے سجدہ کرنے میں تو انسان کو اپنی سعادت سمجھنا چاہیے مگر مشرکوں کو یہ حکم بھی ناگوار ہے اور اس کے نتیجہ میں وہ خدا سے اور زیادہ دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔

۸۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ حجر نوٹ ۱۴۔

۸۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی سورج۔

۸۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی دن اور رات کے ایک دوسرے کے پیچھے پابندی کے ساتھ آنے کا یہ سلسلہ دعوت فکر دیتا ہے۔ جو شخص بھی اس کی طرف متوجہ ہو گا وہ اپنے رب کے کمال قدرت اور آثار رحمت کا مشاہدہ کرے گا۔ یہ مشاہدہ اسے توحید کا سبق بھی دے گا اور اس کے اندر شکر کے جذبات بھی پیدا کرے گا کہ اس کا رب بڑا مہربان ہے جس نے انسان کی ضرورتوں کو پورا کرنے اور اس کو آرام اور سکون پہنچانے کا کیسا انتظام کر رکھا ہے۔

۹۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد خدائے رحمٰن کے مخلص بندے ہیں۔ انہیں اپنے ان اوصاف کی بنا پر جو آگے بیان ہوئے ہیں یہ شرف حاصل ہوا کہ وہ عباد الرحمٰن (رحمٰن کے بندے) کہلائیں اور اس بات کے مستحق ہوئے کہ خدائے  رحمٰن کی رحمت سے مالا مال ہوں۔

۹۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انسان کی چال اس کے کردار کا مظہر ہوتی ہے۔ جو لوگ پورے شعور کے ساتھ اپنے کو اللہ کی بندگی میں دیتے ہیں۔ ان کی چال سے فروتنی اور خاکساری کا اظہار ہوتا ہے بخلاف اس کے خدا سے پھرے ہوئے لوگوں کی چال تکبر اور گھمنڈ کو ظاہر کرتی ہے۔

تواضع کے ساتھ چلنے کا مطلب نمائشی طور پر آہستہ آہستہ چلنا نہیں ہے بلکہ احساس بندگی کے ساتھ قدم اٹھانا اور سکون و وقار کے ساتھ قدم رکھنا ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی رفتار حدیث میں اس طرح بیان ہوئی ہے۔

اذا زَال زَال قَلْعاً  ، یَخْطُو تَکَفِّیاً وَ یَمْشِی ھَوْ ناً ، ذریعَ الْمشْیَۃ اِذا مَشیَ کَاَنّمَا یَنْحَطُّ مِنْ صَبَبٍ۔ (شمائل ترمذی)۔ ” چلتے تو مضبوط قدم اٹھاتے جھک کر قدم رکھتے ، فروتنی کے ساتھ چلتے اور اس تیزی سے کہ گویا بلندی سے ڈھلوان کی طرف جا رہے ہیں “۔

۹۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جاہل سے مراد نادان ، غیر سنجیدہ اور جذباتی لوگ ہیں۔ ایسے لوگ جب الجھنے لگیں تو ان کے منہ لگنے سے کوئی فائدہ نہیں سلامتی کی بات کہہ کر ان سے رخصت ہونا ہی بہتر ہے۔

” وہ کہتے ہیں سلام” کا مطلب سلامتی کی بات کہنا بھی ہے اور رخصتی کلمہ بھی۔

۹۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی رحمٰن کے بندے اپنی راتیں خدا سے غافل لوگوں کی طرح نہیں گزارتے۔ وہ رات کے اوقات میں بھی عبادت میں سرگرم ہو جاتے ہیں ، مغرب اور عشاء کی فرض نمازوں کے علاوہ تہجد کی نفل نماز کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔ وہ چین کی نیند نہیں سوتے بلکہ اٹھ اٹھ کر اللہ کے حجور قیام کرتے اور سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں نماز سے کتنا شغف اور عبادت سے کتنا لگاؤ ہوتا ہے۔ مگر آج عام طور سے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی راتیں فالتو  فلمیں دیکھنے میں گزارتے ہیں۔ تہجد کے وقت جو دعا کی قبولیت کا وقت ہوتا ہے مسلمانوں کے گھروں سے ویڈیو  پر گانے بجانے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔  انا للہ و انا الیہ راجعون۔

۹۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جہنم کا عذاب ایسا نہیں کہ آدمی کوئی تدبیر کر کے چھٹکارا پائے بلکہ ایسا ہے کہ جو اس کی لپیٹ میں آ گیا اس سے وہ چمٹ کر رہ گیا۔

جہنم کے عذاب کے اس تصور سے خدائے رحمٰن کے بندے کانپ اٹھتے ہیں اور خدا کے حجور دعا کرتے ہیں  کہ وہ انہیں اس سے بچا لے۔

اس آیت میں گویا اللہ کے مثالی بندوں کا یہ اسوہ پیش کیا گیا ہے کہ انہیں اصل فکر جو دامن گیر ہوتی ہے وہ نجات اخروی کی فکر ہے۔

۹۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جہنم دونوں لحاظ سے بری ہے۔ منزل ہونے کے لحاظ سے بھی کہ وہ بھڑکتی ہوئی آگ ہو گی۔ اور دائمی قیام گاہ ہونے کے لحاظ سے بھی کہ اس میں رہنے والے ہمیشہ عذاب ہی بھگتتے رہیں گے۔

۹۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسراف یہ ہے کہ آدمی حد ضرورت سے زیادہ یعنی جن چیزوں میں خرچ کرنا جائز ہے ان میں بے دریغ خرچ  کرے اور اس بات کی کوئی پرواہ نہ کرے کہ کس حد تک خرچ کرنا معقول اور مناسب ہے۔ آج کل معیار زندگی کو بلند کرنے کا ایسا شوق پیدا  ہو گیا ہے کہ لوگ صریح اسراف کرنے لگے ہیں۔ رہی فضول خرچی یعنی مال کو بے جا خرچ کرنا یا ناجائز کاموں میں خرچ کرنا تو وہ بد ترین قسم کا اسراف ہے اور اس کو قرآن نے “تبذیر” (فضول خرچ سے تعبیر کیا ہے اور تبذیر کرنے والوں کے بارے میں کہا ہے وہ شیطان کے بھائی ہیں۔ (بی اسرائیل آیت ۲۷)۔ اور بخل یہ ہے کہ آدمی جائز ضرورتوں کو پورا کرنے میں بلاوجہ تنگی برتے یا دوسروں کے حقوق کی ادائیگی سے بے پرواہ ہو جائے۔ اسراف اور بخل (تنگی) کے درمیان اعتدال کی راہ یہ ہے کہ آدمی افراط و تفریط سے بچتے ہوئے اپنی جائز ضرورتوں کو پورا کرے اور ان پر مناسب حد تک خرچ کرے۔ نیز دوسروں کے حقوق بھی ادا کرے۔ واضح رہے کہ اچھی غذاؤں کے موجود ہوتے ہوئے محض نفس کو مارنے کے لیے ان سے پرہیز کرنا ان لوگوں کا طریقہ ہے جنہوں نے زہد کا نام پر ریاضتوں کی شریعت بنائی۔ اسلام کے سیدھے سادے طریقہ زندگی اور اس کی آسان شریعت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

۹۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پکارنے کا مطلب حاجت روائی کے لیے پکارنا بھی ہے اور پرستش بھی۔ قرآن میں دعا (پکارنا) کا لفظ عبادت کے معنی میں بکثرت  استعال ہوا ہے اور حدیث میں آتا ہے ، الدعاء ھوالعبادۃ، ” دعا عبادت ہے ” مشکوٰۃ کتاب الدعوات بحوالہ احمد، ترمذی ابو داؤد ، نسائی ، ابن ماجہ)

اس آیت میں رحمٰن کے بندوں کی صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ اللہ ہی کو پکارتے ہیں اور اسی کی پرستش کرتے ہیں ان کا طریقہ ان لوگوں جیسا نہیں ہوتا جو خدا کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی حاجت روائی کے لیے  پکارتے ہیں اور خدا کی پرستش کے ساتھ دوسروں کی بھی پرستش کرتے ہیں۔ یہ سراسر شرک ہے اور رحمٰن کے بندوں کا دامن شرک سے پاک ہوتا ہے۔

۹۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قرآن کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ ہر انسانی جان محترم ہے یہاں تک کہ ایک نوزائیدہ بچہ کی جان بھی۔ (واذا المَوؤدۃُ سَئِلَتْ بِاَیّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ۔ سورہ تکویر) اور انسانی جان کی حرمت اتنی شدید ہے کہ اس پر دست درازی کرنے والا سنگین جرم کا مرتکب ہوتا ہے۔ قتل کرنا اس صورت میں جائز ہے جب کہ “حق” کی بنا پر ہو۔ اس حق کو شریعت نے خود واضح کر دیا ہے اس لیے اس دائرہ سے باہر کسی کو قتل کرنے کے لیے کوئی وجہ جواز (Justification)  نہیں ہے۔ انسان کے خود ساختہ قوانین یا کسی غیر اسلامی حکومت کے احکام اگر کسی ایسے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں جس پر شریعت کے بیان کردہ “حق” کا اطلاق نہیں ہوتا تو اس کا ارتکاب ظلم ہے اور بہت بڑے گناہ کا موجب۔ شریعت نے جن صورتوں میں قتل کو حق کا تقاضا قرار دیا ہے وہ یہ ہیں :

۱)۔ قصاص میں قتل کرنا۔ اَنَ النَّفْسِ با لنَّفْسِ۔ “جان کے بدلہ جان”۔ (مائدہ۔ ۴۵)۔

۲)۔ زمین میں فساد برپا کرنے کی صورت میں قتل کرنا۔ اَوْ فَسَادٍ فِی أ لَا رْضِ (مائدۃ۔ ۳۲) مثلاً رہزنی اور امن عامہ کو تباہ کرنے والے متشددانہ اقدامات ، اس اصول کے تحت اگر کوئی ظالم گروہ مسلمانوں کے کسی گروہ پر حملہ آور ہوتا ہے تو وہ اپنی مدافعت (Self – Defense) کے لیے قتل تک کا اقدام کر سکتا ہے۔

۳)۔ کافروں اور مشرکوں سے اللہ کی راہ میں جہاد اس کے شرائط کے ساتھ۔ فَاِنْ قا تَلُو کُمْ فَا قْتُلُو ھُمْ کَذٰ لِکَ جَزَاءُ الْکٰفِرِیْن۔ ” اگر وہ تم سے لڑیں تو انہیں قتل کر دو کہ کافروں کا یہی بدلہ ہے۔ ” (البقرہ۔ ۱۹۱)

۴)۔ مسلمانوں کا ایک گروہ اگر دوسرے گروہ پر جارحانہ حملہ کرے تو اس سے لڑنا یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف رجوع کر لے۔ فَقَا تِلْو ا لَّتِی تَبْغَی حَتّٰی تَفِئَ اِلیٰ اَمْرِ اللہِ۔ “تو اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف رجوع کر لے ” (حجرات۔ ۹)

۵)۔ جارحانہ حملہ کی صورت میں اپنی مدافعت کرنا (Self – Defense)   خواہ حملہ آور کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔ وَالّذِینَاِذا اصابَھُم الْبَغْیُ ھُمْ یَنْتَصِرُوْ نَ وَ جزاء سَیّئۃٌ   مِثْلُھَا۔ ” اور جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو وہ اس کا بدلہ لیتے ہیں اور برائی کا بدلہ اس جیسی برائی ہی ہے۔ ” (شوریٰ۔ ۳۹ ، ۴۰)۔

اور حدیث میں ہے۔

جاءَ رجلٌ اِلیٰ رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فقال یا رسول اللہ ارأیتَ اِن جاءَ رَجلٌ  یْریْدُ اَخْذا مالی فقال فلا تعطہٖ مالک قالَ اَرَأَ یْتُ اَن ْ قَتَلنیْ قال قاتِلُہ قال اَرَّ یْتَ اِن قتلنی قالَ فَاَنْتَ شَھیدٌ قال اَرأیْتَ ان قَتَلْتُہُ قالَ فھُوَفِی النارِ (مسلم کتاب الایمان)۔ “ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا اے اللہ کے رسول آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو میرا مال چھین لینے کے ارادہ سے آئے ؟ فرمایا اپنا مال اسے نہ دو، اس شخص نے عرض کیا اگر وہ مجھ سے لڑے تو ؟ فرمایا تم بھی اس سے لڑو اس نے عرض کیا اگر وہ مجھے قتل کر دے۔ فرمایا  تم شہید ہو جاؤ گے اس نے عرض کیا اگر میں اسے قتل کروں ، فرمایا وہ جہنم میں جائے گا۔ ”

اور مال کی حفاظت سے زیادہ جان کی حفاظت اور ایک عورت کے لیے اپنی عصمت کی حفاظت اہمیت رکھتی ہے ، اس لیے جان مال اور آبرو پر حملہ ہونے کی صورت میں ظالم کو قتل کرنا اگر ناگزیر ہو تو مظلوم کو مدافعت کے لیے قتل کا حق ہے۔

۶)۔ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف مسلح بغاوت کرنے والوں کو قتل کی سزا دینا۔ اس کیا اطلاق اس مسلح بغاوت پر ہوتا ہے جو اسلامی حکومت کا تختہ الٹنے اور اس کی جگہ غیر اسلامی نظام حکومت قائم کرنے کے لیے کی جائے۔

اِنَّمَا جَزاءُ الّذِیْنَ یُحا رِبُونَ اللہ وَ رَسُولَہٗ وَیَسْعَوْ نَ فَی الْاَرْضِ فَسَداً اَنْ یُکَتَّلُوْا۔ ۔ ۔ ۔ “جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کے لیے دوڑ دھوپ کرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ  قتل کر دیے جائیں۔ (مائدہ ۳۳)

۷)۔ شادی شدہ زانی اور زانیہ کو سنگسار کرنا۔ یہ حکم سنت (احادیث صحیحہ) سے ثابت ہے : لَایَحلُّ دَمْ امْرئٍ مسلم یَشْھَدُاَنْ لَّا اِ لٰہَ اِ لَّا اللہُ وَ اَنِّی رسولُ اللہ اِلَّا باحْدیٰ ثلاثٍ اَلنَّفْسُ بِانَّفْسِ و الثیّبُ الزَّانی وَالْمَارِقُ مِنَ الدِّیْنِ التافک الجماعۃ۔ (بخاری کتاب الدیات)۔ ” کسی مسلمان کا جو یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں خون جائز نہیں الا یہ کہ ان تین صورتوں میں سے کوئی صورت پیش آ جائے : اس نے کسی کا خون کیا ہو یا شادی شدہ ہو کر زنا کا مرتکب ہوا یا دین سے نکل گیا ہو اور ملّت کو چھوڑ دیا ہو (یعنی مرتد ہو گیا ہو)۔ ”

۸)۔ مرتد یعنی اسلام سے پھر جانے والوں کو قتل کرنا جیسا کہ مذ کورہ بالا حدیث میں  بیان ہوا ہے :

واضح رہے کہ ان میں سے متعدد صورتیں ایسی ہیں جن کو تعلق امام یعنی اسلامی حکومت سے ہے  کیونکہ ان صورتوں میں ملزم کو صفائی کا موقع دینا اور شہادتوں کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ضروری ہے َ

فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حاکم یا اس کا نائب ہی حدود کا نافذ کر سکتا ہے اور افراد کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنے طور سے اس کام کو انجام دیں “۔ (فقہ السنۃ السید سابق۔ ج ۲ ، ص ۳۶۲  *

۹۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زنا کی حرمت پر وضاحتی نوٹ کے لیے دیکھیے  سورہ بنی اسرائیل نوٹ۔ ۴۱۔

۱۰۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ایک عذاب تو کفر اور شرک کا اور دوسرا عذاب قتل اور زنا جیسے جرائم کا۔ واضح ہوا کہ کافروں اور مشرکوں کو بغاوت کی سزا تو ملے گی ہی جو نہایت درد ناک اور دائمی ہو گی۔ مزید اس سزائیں اضافہ ان کے جرائم کی بنا پر ہو گا جن کے وہ مرتکب ہوئے تھے اور جس نوعیت کا جرم ہو گا اسی کی مناسبت سے سزا ملے گی۔

۱۰۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس میں ان لوگوں کی تشفی کا سامان ہے جن کی زندگیاں شرک سے آلودہ رہیں اور جو قتل اور زنا جیسی بڑی بڑی معصیتوں کا ارتکاب کرتے رہے لیکن حق کے واضح ہو جانے پر وہ اللہ  کی طرف پلٹے اور پچھلے گناہوں پر شرمسار ہوئے، ایمان لائے اور نیک روی اختیار کی۔ ایسے لوگوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کی برائیوں کو نیکیوں سے بدل دے گا یعنی ان کو یہ توفیق عطا ہو گی کہ وہ برائیوں کی جگہ اچھے اور نیک کام کریں۔ چنانچہ دور جاہلیت میں جن کی زندگیاں گناہوں سے آلودہ تھیں قبول اسلام کے بعد ان کی زندگیاں نہایت پاکیزہ ہو گئیں۔ اصل چیز گناہ کا احساس ہے جب یہ احساس بندہ کے دل میں پیدا ہو جا تا ہے تو اس کے فکر و عمل میں نہایت خوشگوار تبدیلی رونما ہونے لگتی ہے۔

۱۰۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی توبہ کرنے والے یہ بندے اللہ سے امید رکھیں کہ وہ ان کے پچھلے گناہ بخش دے گا اور ان پر رحم فرمائے گا کہ وہ غفور و رحیم ہے۔

۱۰۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس آیت میں توبہ کی حقیقت واضح کر دی گئی ہے۔ توبہ یہ نہیں ہے کہ آدمی بد عملی میں مبتلا رہے اور زبان سے توبہ توبہ کرتا رہے بلکہ توبہ یہ ہے کہ آدمی برائی سے باز آئے اور نیک روی اختیار کرے جو شخص اس لازمی تقاضے کے ساتھ اللہ کے حضور توبہ کرتا ہے وہ در حقیقت معصیت کو چھوڑ کر اللہ کی طرف پلٹتا ہے اور جو اللہ کی طرف پلٹتا ہے اسے وہ کیوں نہ اپنے دامن رحمت میں جگہ دے گا۔

۱۰۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ” زُور” کے معنی جھوٹ اور باطل کے ہیں اور ” لَا یَشْھَدُوْنَ” کے معنی گواہی نہ دینے کے بھی ہیں اور حاضر اور مشاہد نہ بننے کے بھی۔ اگرچہ الفاظ کا عموم دونوں معنی کو لیے ہوئے ہے لیکن بعد کا فقرہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہاں خاص طور سے مراد باطل چیزوں کا تماشائی نہ بننا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ رحمٰن کے بندوں کو باطل سے ایسی نفرت ہوتی ہے کہ جہاں اس کا مظاہرہ ہو وہاں وہ اپنی حاضری سے اس کی تقویت کا سامان نہیں کر تے اور نہ اس کے تماشائی بن کر اپنی بے غیرتی کا ثبوت دیتے ہیں بلکہ ایسی چیزوں سے کنارہ کش رہتے ہیں۔

اس اصولی ہدایت کے پیش نظر مسلمانوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ شرک کے اڈوں اور مندروں کی سیر کریں۔ مشرکانہ مراسم اور پوجا پاٹ کے موقع پر موجود رہیں۔ بھومی پوجا کے پروگراموں میں شرکت کریں اور مشرکانہ تہواروں کو اپنے وجود سے زینت بخشیں۔ علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں :

“حضرت عمر نے فرمایا ہے کہ اللہ کے دشمنوں سے ان کے تہوار کے موقعہ پر اجتناب کرو۔ اور امام احمد فرماتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ کے تہواروں میں شرکت جائز نہیں۔ ان اک استدلال اللہ تعالیٰ کے ارشاد وَالَّذِیْنَ لا یَشْہَدُوْ نَ الزُّور سے ہے “۔

(مجموعہ فتاویٰ ابن تیمیہ ، ج۔ ۲۵ ص ۳۲۶)

۱۰۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اگر اتفاق سے ان کا گزر کسی بے ہو دہ بات کی طرف سے ہوا تو وہ نہ اس سے دلچسپی لیتے ہیں اور نہ اس کے تماشائی بنتے ہیں بلکہ شریفانہ اور پر وقار انداز میں گزر جاتے ہیں ، جس طرح کسی نفاست پسند آدمی کا گزر گندگی کے ڈھیر کی طرف سے ہوتا ہے تو وہ اس پر ایک نگاہ غلط ڈالنا بھی پسند نہیں کرتا اور تیزی سے آگے نکل جاتا ہے۔

موجودہ دور میں تو لغو باتیں تہذیب جدید کا لبادہ اوڑھ کر سامنے آ رہی ہیں اور اس کثرت سے سامنے آ رہی ہیں کہ آدمی کا سلامتی کے ساتھ راستوں سے گزرنا بھی مشکل ہو کر رہ گیا ہے مگر جن لوگوں کی اخلاقی حس بیدار ہوتی ہے وہ سنجیدگی اور وقار کا دامن کسی حال میں نہیں چھوڑتے۔

۱۰۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ان کا حال ان لوگوں کا سا نہیں جو ایسے بے حس ہوتے ہیں کہ اگر انہیں اللہ کی آیتوں ، اس کی کتاب کے دلائل اور اس کی تعلیمات کے ذریعہ نصیحت کی جاتی ہے تو وہ ٹس سے مس نہیں ہوتے حق کو سننے کے لیے ان کے کان بہرے ہو جاتے ہیں اور حق کو دیکھنے کے لیے ان کی آنکھیں اندھی ہو جاتی ہیں۔ اس کے برعکس جب رحمٰن کے بندوں کو آیات الٰہی کی طرف متوجہ کیا گاتا ہے تو وہ کھلے کان سے نصیحت کو سنتے ہیں اور کھلی آنکھوں سے اللہ  کی نشانیوں کو دیکھتے ہیں۔

۱۰۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رحمٰن کے بندے اپنی بیوی بچوں کی طرف سے بے پرواہ نہیں ہوتے کہ چاہیں وہ جنت کی راہ اختیار کریں یا جہنم کی بلکہ ان کی ہدایت کے لیے فکر مند رہتے ہیں اور اس بات کے شدید خواہش مند ہوتے ہیں کہ وہ ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کریں۔ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے بیوی بچوں کا صالح ہونا ہے نہ کہ دنیوی صلاحیتوں اور دولت سے مالا مال ہونا۔ گویا خدا کے ان بندوں کا معیار پسند بالکل صحیح ہوتا ہے چنانچہ اگر ان کے بیوی بچے نیک کردار بن جاتے ہیں تو وہ ان کی آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بن جاتے ہیں اسی لیے وہ اللہ سے اس کی توفیق کے لیے دعا گو ہوتے ہیں۔

۱۰۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی سربراہی کا جو مقام ہمیں اپنے گھر والوں پر حاصل ہے اس کے زیر اثر ان کی صحیح دینی تربیت ہو اور تقویٰ کی صفت ان کے اندر پیدا ہو، بالفاظ دیگر ہماری قیادت تقویٰ کی قیادت ہو اور ہمارے پیچھے چلنے والے متقی بن جائیں۔

اس اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اللہ کے مخلص بندوں کے دل میں یہ خیال کس طرح انگڑائیاں لیتا رہتا ہے کہ ان کے بال بچے متقی اور پرہیز گار بن جائیں مگر موجودہ دور کے مسلمانوں کا عام طور سے حال یہ ہے کہ ان کی اپنی زندگیاں بھی تقویٰ سے خالی ہیں اور انہیں اس بات سے بھی کوئی دلچسپی نہیں کہ ان کے بال بچے متقی بن جائیں۔ وہ ان کو کچھ “اور” ہی بنانا چاہتے ہیں تاکہ دنیا میں ان کی پوری پوری قدر ہو۔ رہی آخرت تو کلمہ گو لوگوں کے اس کی کچھ زیادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں!

۱۰۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جنت کے بالا خانوں کی حقیقت تو وہاں پہنچ کر ہی معلوم ہو گی لیکن قرآن کے ان الفاظ سے یہ تصور ضرور بندھتا ہے کہ جنت میں اونچے اونچے محل ہوں گے۔

جنت کے یہ بلند محل رحمٰن کے بندوں کو ان کے صبر کے بدلہ ان تمام اوصاف کے لیے جو اوپر بیان ہوئے ہیں بمنزلہ بنیاد کے ہے۔ یعنی یہ اوصاف سی صورت میں  پیدا ہو سکتے ہیں جب کہ آدمی جذباتی ہونے کے بچائے سنجیدہ بن جائے اور اپنی نگاہیں مقصد حق پر جمائے رکھے۔

۱۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ خاتمہ کلام ہے جس میں خطاب کو رخ انکار کرنے والوں کی طرف پھر گیا ہے ان سے کہا جا رہا ہے کہ اگر تم صرف اللہ کو حاجت روا مان کر اس کو پکارنے اور اس کی عبادت کرنے  کے لیے تیار نہیں ہو تو خوب سمجھ لو کہ اس سے نہ اس کا کچھ بگڑنے والا ہے اور نہ اس کو تمہاری پرواہ ہے۔ اس نے تمہارے سامنے حقیقت رکھ دی ہے۔ اس کے بعد اگر تم برے انجام کو پہنچنا چاہتے ہو تو اس کے ذمہ دار تم خود ہو۔

٭٭٭

 

 

 

 (۲۶) سورۃ الشعراء

 

 (۲۲۷ آیات)

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

                   تعارف

 

نام

 

آیت ۲۲۴ تا ۲۲۶ میں مشرکین مکہ کے اس الزام کی تردید میں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شاعر ہیں شعراء کا بے کردار ہونا واضح کیا گیا ہے تاکہ لوگ ایک نبی ایک شاعر کے فرق کو محسوس کر سکیں۔ اس مناسبت سے اس سورہ کا نام الشعراء ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مکی ہے اور سورہ کی ترکیب اور اس کے مضامین پر غور کرنے سے اندازہ ہو تا ہے کہ یہ مکہ کے ابتدائی دور کے اخیر اخیر میں نازل ہوئی ہو گی۔

 

مرکزی مضمون

 

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت کی صداقت کو واضح کرنا اور اس سلسلے میں وارد کیے جانے والے شبہات کا ازالہ کرنا ہے۔

 

نظم کلام

 

آیت ۱ تا ۹ تمہیدی آیات ہیں جن میں واضح کیا گیا ہے کہ اللہ کا رسول کس سوز و گداز کے ساتھ لوگوں کو قبول حق کی دعوت دے رہا ہے اور لوگ کس طرح اس سے بے رخی برت رہے ہیں اور مذاق میں سے ٹال رہے ہیں۔ وہ اگر سنجیدہ ہوتے اور غور کرتے تو انہیں اس حق کی تائید میں جو رسول پیش کر رہا ہے قدم قدم پر نشانیاں دکھائی دیتیں۔

آیت ۱۰ تا ۶۸ میں حضرت موسیٰ کی سرگزشت بیان ہوئی ہے جس سے نہ صرف ان کی رسالت کی صداقت ثابت ہوتی ہے بلکہ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ہٹ دھرم لوگ کسی بھی نشانی کو دیکھ کر یہاں تک کہ حسی معجزہ کو دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے۔

آیت ۶۹ تا ۱۰۴ میں ابراہیم علیہ السلام کی دعوت توحید کو پیش کیا گیا ہے جو انہوں نے اپنی قوم کو دی تھی۔

آیت ۱۰۵ تا ۱۱۹ میں متعدد انبیاء علیہم السلام کی دعوت توحید کو پیش کیا گیا ہے اور ساتھ ہی مخالفین کے انجام کو بھی۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں انبیاء علیہم السلام کا ظہور، ان کی دعوت کی یکسانیت اور ان کے مخالفین کا برے انجام کو پہنچنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسولوں کے بھیجے جانے کی واضح دلیل ہے اور یہ دلیل نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات میں بھی موجود ہے۔ آیت ۱۹۲ تا ۲۲۷ میں قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے تعلق سے شبہات کا ازالہ کیا گیا ہے۔

                   ترجمہ

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔۔ طا۔ سین۔ میم ۱ *

۲۔۔۔۔۔۔۔ یہ آیتیں ہیں روشن کتاب کی ۲ *

۳۔۔۔۔۔۔۔ (اے پیغمبر !) شاید تم اپنے کو ہلاک کردہ گے اس (سوز غم) میں کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے ۳ * !

۴۔۔۔۔۔۔۔ اگر ہم چاہیں گو آسمان سے ان پر ایسی نشانی اتار دیں کہ ان کی گردنیں ا سکے آگے جھکی رہ جائیں  ۴ *

۵۔۔۔۔۔۔۔ ان کے پاس رحمن کی طرف سے جو تازہ یاد دہانی بھی آتی ہے یہ اس سے رخ پھیر تے ہیں  ۵ *۔

۶۔۔۔۔۔۔۔ چنانچہ انہوں نے جھٹلا دیا جس چیز کا یہ مذاق اڑاتے ہیں اس کی حقیقت عنقریب ان کے سامنے آئے گی۔ ۶ *

۷۔۔۔۔۔۔۔ کیا انہوں نے زمین پر نگاہ نہیں ڈالی کہ ہم نے اس میں کتنی کثرت سے ہر قسم کی عمدہ چیزیں اگائی ہیں۔

۸۔۔۔۔۔۔۔ یقیناً اس میں بڑ ی نشانی ہے ۷ * مگر ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ ۸ *

۹۔۔۔۔۔۔۔ اور بے شک تمہارا رب غالب بھی ہے اور رحیم بھی ۹ *۔

۱۰۔۔۔۔۔۔۔ اور جب تمہارے رب نے موسی کو پکارا ۱۰ * کہ ظالم قوم ۱۱ * کے پاس جاؤ۔

۱۱۔۔۔۔۔۔۔ فرعون کی قوم کے پاس۔ کیا وہ ڈرتے نہیں  ۱۲ * ؟

۱۲۔۔۔۔۔۔۔ اس نے کہا اے میرے رب مجھے اندیشہ ہے وہ کہ مجھے جھٹلا دیں گے۔

۱۳۔۔۔۔۔۔۔ میرا سینہ تنگ ہو تا ہے ۱۳ * اور میرے زبان نہیں چلتی ۱۴ *۔ تو ہارون کی طرف رسالت بھیج۔ ۱۵ *

۱۴۔۔۔۔۔۔۔ اور مجھ پر ان کے نزدیک ایک جرم کا بار بھی ہے اس لئے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے ۱۶ *۔

۱۵۔۔۔۔۔۔۔ فرما یا۔ ہر گز نہیں  ۱۷ *۔ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ۔

ہم تمھارے ساتھ سنتے رہیں گے ۱۸ *۔

۱۶۔۔۔۔۔۔۔ فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم رب العالمین ۱۹ * کے رسول ہیں۔

۱۷۔۔۔۔۔۔۔ (اور اس حکم کے ساتھ بھیجے گئے ہیں ) کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے ۲۰ *۔

۱۸۔۔۔۔۔۔۔ اس نے کیا کہا ہم نے تم کو اپنے یہاں بچپن میں پالا نہیں تھا ؟

اور تم نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے ہاں نہیں گزارے ۲۱ * ؟

۱۹۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد تم نے وہ حرکت کی جو کی اور تم ناشکر ے ہو ۲۲ *۔ !

۲۰۔۔۔۔۔۔۔ موسی نے جواب دیا میں یہ اس وقت کیا جب کہ میں نابلد تھا ۲۳ *۔

۲۱۔۔۔۔۔۔۔ پھر میں تم لوگوں کے خوف ۲۴ * سے بھاگ گیا۔ پھر میرے رب نے مجھے حکم عطا ء کیا ۲۵ * اور رسولوں میں شامل کر لیا۔

۲۲۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ تیرا احسان ہے جو تو مجھ پر جتا رہا ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے ۲۶ *۔

۲۳۔۔۔۔۔۔۔ فرعون نے کہا رب العالمین کیا ہے ۲۷ * ؟

۲۴۔۔۔۔۔۔۔ اس نے جواب دیا آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی موجودات کا رب اگر تم یقین کرنے والے ہو ۲۸*

۲۵۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے اپنے ارد گرد کے لو گوں سے کہا سنیے نہیں ہو؟ ۲۹*

۲۶۔۔۔۔۔۔۔ موسٰی نے کہا تمہارے گزرے ہوئے آباء واجد اد کا بہی رب۔ ۳۰*

۲۷۔۔۔۔۔۔۔ فرعون نے کہا تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے دیوانہ ہے۔ ۳۱*

۲۸۔۔۔۔۔۔۔ موسٰی نے کہا مشرق و مغرب اور ان کے درمیان کی ساری موجودات کا رب اگر تم لوگ عقل رکھتے ہو۔ ۳۲*

۲۹۔۔۔۔۔۔۔ فرعون کہا اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود (الٰہ) بنایا ۳۳* تو میں تمہی قید کر کے رہوں گا۔

۳۰۔۔۔۔۔۔۔ موسیٰ نے کہا اس صورت میں بہی جب کہ میں تمہارے پاس ایک واضح چیز لے کر آیا ہو ں ؟

۳۱۔۔۔۔۔۔۔ فر عون نے تو پیش کرو اگر تم سچّے ہو۔

۳۲۔۔۔۔۔۔۔ موسٰی نے اپنا عصا ڈال دیا اور یکایک وہ صریح ا ژ د ہا بن گیا۔ ۳۴ *

۳۳۔۔۔۔۔۔۔ اور اس نے اپنا ہا تھ کھینچا تو وہ دیکھنے والوں کے لئے  روشن ہو گیا۔ ۳۵ *

۳۴۔۔۔۔۔۔۔ فرعون نے اپنے سرداروں سے جو اس کے ارد گرد تھے کہا یہ شخص یقیناً ایک ما ہر جادوگر ہے۔

۳۵۔۔۔۔۔۔۔ یہ چاہتا ہے کہ جادو کے زور سے تم کو تمہارے ملک سے نکال دے ۳۶ * تو تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو؟

۳۶۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے کہا اس کو اور ا سکے بھائی کو ابھی مہلت دیجیے اور (پارہ۱۹) شہروں میں نقیب بھیج دیجیے۔

۳۷۔۔۔۔۔۔۔ کہ تمام ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں۔

۳۸۔۔۔۔۔۔۔ چنانچہ جادو گر ایک مقررہ دن وقت معین پر جمع کر دئے گئے ۳۷ *۔

۳۹۔۔۔۔۔۔۔ اور لوگوں سے کہا گیا تم مجتمع ہو گے ؟ ۳۸ *

۴۰۔۔۔۔۔۔۔ تاکہ ہم جادو گروں کے پیچھے چلیں اگر وہ غالب آ گئے ۳۹ *۔

۴۱۔۔۔۔۔۔۔ جب جادو گر آئے تو انہوں نے فرعون سے کہا ہمیں انعام تو ملے گانا اگر ہم غالب آ گئے !

۴۲۔۔۔۔۔۔۔ اس نے کہا ہاں ضرور اور تم مقر بین میں شامل ہو جاؤ گے۔

۴۳۔۔۔۔۔۔۔ موسی نے کہا ڈال دو کچھ تمھیں ڈالنا ہے۔

۴۴۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈال دیں اور بولے فرعون کی عزت کی ۴۰ * ہم غالب رہیں گے۔

۴۵۔۔۔۔۔۔۔ پھر موسی نے اپنا عصا ڈالا تو یکایک وہ ان کے طلسم کو ہڑ پ کر نے لگا۔ ۴۱ *

۴۶۔۔۔۔۔۔۔ اس پر جادو گر بے اختیار سجدے میں گر پڑ ے ۴۲ *۔

۴۷۔۔۔۔۔۔۔ اور بول اٹھے ہم ایمان لائے رب العالمین پر۔

۴۸۔۔۔۔۔۔۔ موسی اور ہارون کے رب پر ۴۳ *۔

۴۹۔۔۔۔۔۔۔ فرعون نے کہا تم نے اس کو مان لیا قبل اس کے کہ میں تم کو اس کی اجازت دیتا۔ ۴۴ * یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھا یا ہے ۴۵ *۔ تو ابھی تمھیں معلوم ہوا جا تا ہے۔ میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر چڑھاؤں گا۔

۵۰۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے جواب دیا کوئی حرج نہیں۔ ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں  ۴۶ *۔

۵۱۔۔۔۔۔۔۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارے رب ہماری خطائیں معاف کر دے گا کہ ہم سب سے پہلے ایمان لائے۔ ۴۷ *

۵۲۔۔۔۔۔۔۔ اور ہم ۴۸ * نے موسیٰ پر وحی کی کہ میرے بندوں کو لیکر رات میں نکل جاؤ۔ تمہارا پیچھا کیا جائے گا ۴۹ *۔

۵۳۔۔۔۔۔۔۔ اس پر فرعون نے شہروں میں نقیب بھیجے۔

۵۴۔۔۔۔۔۔۔ کہ یہ مٹھی بھر لوگ ہیں  ۵۰ *۔

۵۵۔۔۔۔۔۔۔ اور ہمیں غصہ دلا رہے ہیں۔

۵۶۔۔۔۔۔۔۔ اور ہم ایک چوکنا رہنے والی جمعیت ہیں  ۵۱ *۔

۵۷۔۔۔۔۔۔۔ بالآخر ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکالا۔

۵۸۔۔۔۔۔۔۔ اور خزانوں اور بہترین مقام سے ۵۲ *۔

۵۹۔۔۔۔۔۔۔ (ان کے ساتھ) اسی طرح کیا اور بنی اسرائیل کو ہم نے ان (نعمتوں ) کا وارث بنا دیا۔ ۵۳ *

۶۰۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے صبح ہوتے ہی ان کا (بنی اسرائل کا) تعاقب کیا ۵۴ *۔

۶۱۔۔۔۔۔۔۔ جب دونوں گروہ آمنے سامنے ہو گئے تو موسی کے ساتھی پکار اٹھے ہم تو پکڑ ے گئے !

۶۲۔۔۔۔۔۔۔ موسی نے کہا ہر گز نہیں میرے ساتھ میرا رب ہے وہ مجھے راہ دکھائے گا ۵۵ *

۶۳۔۔۔۔۔۔۔ اس وقت ہم نے موسی پر وحی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو چنانچہ سمندر پھٹ گیا اور ہر حصہ عظیم پہاڑ کی طرح بن گیا۔ ۵۶*

۶۴۔۔۔۔۔۔۔ وہاں ہم دوسے گروہ کو بھی قریب لائے۔ ۵۷ *

۶۵۔۔۔۔۔۔۔ اور موسی اور ان سب کو جو ان کے ساتھ تھے ہم نے بچا لیا ۵۸ *

۶۶۔۔۔۔۔۔۔ پھر دوسروں کو غرق کر دیا ۵۹ *۔

۶۷۔۔۔۔۔۔۔ یقیناً اس میں بہت بڑ ی نشانی ہے۶۰* ۔ مگر ان لوگوں میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں۔ ۶۱ *

۶۸۔۔۔۔۔۔۔ اور بے شک تمہارے رب غالب بھی ہے اور رحیم بھی ۶۲ *۔

۶۹۔۔۔۔۔۔۔ اور ان کو ابراہیم کا واقعہ سناؤ ۶۳ *۔

۷۰۔۔۔۔۔۔۔ جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ تم کن چیزوں کی پرستش کر تے ہو ۶۴ * !

۷۱۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے کہا ہم بتوں کی پوجا کر تے ہیں اور انہی کی پوجا پر ہم جمے رہیں گے۔

۷۲۔۔۔۔۔۔۔ اس نے پوچھا کیا یہ تمہاری سنتے ہیں جب تم انہیں پکار تے رہو۔ ؟

۷۳۔۔۔۔۔۔۔ یا تمھیں نفع یا نقصان پہونچا تے ہیں ؟

۷۴۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے جواب دیا نہیں بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا ہے ۶۵ *

۷۵۔۔۔۔۔۔۔ اس نے کہا تم نے ان (بتوں ) کو دیکھا جن کو تم پوجتے رہے ہو ۶۶ *۔

۷۶۔۔۔۔۔۔۔ تم اور تمہارے پچھلے باپ دادا۔

۷۷۔۔۔۔۔۔۔ میرے تو یہ سب دشمن ۶۷ * ہیں سوائے رب العالمین کے

۷۸۔۔۔۔۔۔۔ جس نے مجھے پیدا کیا اور وہ میری رہنمائی فرماتا ہے ۶۸ *۔

۷۹۔۔۔۔۔۔۔ جو مجھے کھلا تا اور پلاتا ہے۔

۸۰۔۔۔۔۔۔۔ اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں  ۶۹ * تو وہ مجھے شفاء دیتا ہے ۷۰ *۔

۸۱۔۔۔۔۔۔۔ جو مجھے موت دے گا اور پھر زندہ کرے گا ۷۱ *۔

۸۲۔۔۔۔۔۔۔ اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ جزا کے دن وہ میرے خطائیں معاف فرمائے گا ۷۲ *

۸۳۔۔۔۔۔۔۔ اے میرے رب ۷۳ * مجھے حکمت عطا فرما ۷۴ * اور مجھے صالح لوگوں میں شامل کر ۷۵ *۔

۸۴۔۔۔۔۔۔۔ اور بعد والوں میں میرے لئے سچائی کا بول رکھ دے ۷۶ *۔

۸۵۔۔۔۔۔۔۔ اور مجھے جنت نعیم کے وارثوں میں شامل فرما۔ ۷۷ *

۸۶۔۔۔۔۔۔۔ اور میرے باپ کو معاف کر دے کہ وہ گمراہوں میں سے ہے ۷۸ *۔

۸۷۔۔۔۔۔۔۔ اور مجھے اس دن رسوا نہ کر جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔

۸۸۔۔۔۔۔۔۔ جس دن ۷۹ * نہ مال فائدہ دے گا اور نہ اولاد۔

۸۹۔۔۔۔۔۔۔ صرف وہی لوگ (کامیاب ہوں گے ) جو قلب سلیم ۸۰* لے کر اللہ کے حضور حاضر ہوں گے۔

۹۰۔۔۔۔۔۔۔ اور جنت مت قیوں کے لئے قریب لائی جائے گی ۸۱*۔

۹۱۔۔۔۔۔۔۔ اور جہنم گمراہوں کیلے بے نقاب کر دی جائے گی ۸۲*۔

۹۲۔۔۔۔۔۔۔ اور ان سے کہا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ جن کی تم پر ستش کر تے تھے۔

۹۳۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کو چھوڑ کر۔ کیا وہ تمہاری مدد کر سکتے ہیں یا اپنا بچاؤ کریں گے ۸۳* ؟۔

۹۴۔۔۔۔۔۔۔ پھر وہ اور تمام گمراہ لوگ اس میں اوندھے جھونک دئے جائیں گے۔

۹۵۔۔۔۔۔۔۔ اور ابلیس کے سارے لشکر بھی ۸۴*۔

۹۶۔۔۔۔۔۔۔ وہ وہاں آپس میں جھگڑ تے ہوئے کہیں گے۔

۹۷۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کی قسم ! ہم صریح گمراہی میں تھے ۸۵*۔

۹۸۔۔۔۔۔۔۔ جب کہ تم کو رب العالمین کے برابر ی کا ٹھرا تے تھے۔

۹۹۔۔۔۔۔۔۔ اور مجرموں  ۸۶* ہی نے ہم کو گمراہ کیا تھا۔

۱۰۰۔۔۔۔۔۔۔ اب ہمارا کوئی سفارشی نہیں۔

۱۰۱۔۔۔۔۔۔۔ اور نہ کوئی دوست ہے ۸۷*۔

۱۰۲۔۔۔۔۔۔۔ اگر ہمیں ایک مرتبہ اور لوٹنے کا موقعہ مل جائے تو ہم مومن ہوں  ۸۸*۔

۱۰۳۔۔۔۔۔۔۔ یقیناً اس میں بڑ ی نشانی ہے ۸۹*۔ مگر ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں  ۹۰*۔

۱۰۴۔۔۔۔۔۔۔ اور بے شک تمہارا رب غالب بھی ہے۔ اور رحیم بھی ۹۱*۔

۱۰۵۔۔۔۔۔۔۔ نوح ۹۲* کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا ۹۳*۔

۱۰۶۔۔۔۔۔۔۔ جب کہ ان کے بھائی نوح ۹۴* نے ان سے کہا ڈرتے نہیں ہو ۹۵*۔

۱۰۷۔۔۔۔۔۔۔ میں تمہارے لئے ایک امانتدار رسول ہوں  ۹۶*۔

۱۰۸۔۔۔۔۔۔۔ تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ۹۷*۔

۱۰۹۔۔۔۔۔۔۔ میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔ میرا اجر رب العالمین کے ذمہ ہے ۹۸*۔

۱۱۰۔۔۔۔۔۔۔ تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ۹۹*۔

۱۱۱۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے کہا کیا ہم تمھیں مان لیں جب کہ تمھاری پیروی رزیل ترین لوگوں نے اختیار کی ہے ۱۰۰*۔

۱۱۲۔۔۔۔۔۔۔ اس نے کہا مجھے کیا معلوم وہ کیا کرتے رہے ہیں  ۱۰۱*۔

۱۱۳۔۔۔۔۔۔۔ ان کا احسان تو میرے رب کے ذمہ ہے۔ کاش کہ تم سمجھو۔

۱۱۴۔۔۔۔۔۔۔ اور میں ان لوگوں کو دھتکارنے والا نہیں جو ایمان لائے ہیں  ۱۰۲*۔

۱۱۵۔۔۔۔۔۔۔ میں تو بس کھلا خبر دار کرنے والا ہوں۔

۱۱۶۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے کہا اے نوح ! اگر تم باز نہ آئے تو ضرور سنگسار کیے جاؤ گے۔ ۱۰۳*

۱۱۷۔۔۔۔۔۔۔ اس نے دعا کی ۱۰۴* اے میرے رب ! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا۔

۱۱۸۔۔۔۔۔۔۔ اب تو میرے اور ان درمیان واضح فیصلہ کر دے ۱۰۵* اور مجھے اورع جو اہل ایمان میرے ساتھ ہیں ان کو نجات دے۔

۱۱۹۔۔۔۔۔۔۔ بالآخر ہم نے اس کو اور ان کو جو اس ساتھ تھے بھری ہوئی کشتی ۱۰۶* میں نجات دی۔

۱۲۰۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد باقی لوگوں کو غرق کر دیا۔ ۱۰۷*۔

۱۲۱۔۔۔۔۔۔۔ یقیناً اس میں بڑ ی نشانی ہے ۱۰۸* مگر ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں۔

۱۲۲۔۔۔۔۔۔۔ اور تمہارا رب غالب بھی ہے اور رحیم بھی۔

۱۲۳۔۔۔۔۔۔۔ عاد ۱۰۹* رسولوں کو جھٹلایا۔

۱۲۴۔۔۔۔۔۔۔ جب کہ ان کے بھائی ہود نے ان سے کہا کہ تم ڈرتے نہیں ؟۔

۱۲۵ میں تمہارے لئے ایک امانت دار رسول ہوں۔

۱۲۶۔۔۔۔۔۔۔ تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کر و ۱۱۰*۔

۱۲۷۔۔۔۔۔۔۔ میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں کرتا۔ میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔

۱۲۸۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیا بات ہے کہ تم ہر اونچے مقام پر فضول یاد گار تعمیر کر تے ہو ؟ ۱۱۱*

۱۲۹۔۔۔۔۔۔۔ اور بڑ ے بڑ ے محل بنا تے ہو گو یا تمھیں ہمیشہ (یہیں ) ۱۱۲* رہنا ہے۔

۱۳۰۔۔۔۔۔۔۔ اور جب تم (کسی کو) گرفت میں لیتے ہو تو جبار بن کر گرفت میں لیتے ہو ۱۱۳*۔

۱۳۱۔۔۔۔۔۔۔ تو اللہ سے ڈرو ۱۱۴* اور میری اطاعت کرو۔

۱۳۲۔۔۔۔۔۔۔ ڈرو اس سے جس نے تمہاری مدد کی ان چیزوں سے جن کو تم (اچھی طرح) جانتے ہو۔

۱۳۳۔۔۔۔۔۔۔ اس نے تمہاری مدد کی چو پایوں اور اولاد سے۔

۱۳۴۔۔۔۔۔۔۔ اور باغوں اور چشموں سے۔ ۱۱۵*

۱۳۵۔۔۔۔۔۔۔ مجھے اندیشہ ہے تم پر ایک ایسے دن کا عذاب کا جو بڑا سخت ہو گا۔ ۱۱۶*

۱۳۶۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے کہا ہمارے یکساں ہے تم نصیحت کر و یا نہ کرو ۱۱۷*۔

۱۳۷۔۔۔۔۔۔۔ یہ بات تو اگلوں سے چلی آ رہی ہے ۱۱۸*۔

۱۳۸۔۔۔۔۔۔۔ اور ہم کو عذاب نہیں دیا جائے گا۔

۱۳۹۔۔۔۔۔۔۔ غرضیکہ انہوں نے اس کو جھٹلا یا تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا ۱۱۹*۔ یقیناً اس میں بڑ ی نشانی ہے ۱۲۰*۔ مگر ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں۔

۱۴۰۔۔۔۔۔۔۔ اور بے شک تمہارا رب غالب بھی ہے اور رحیم بھی۔

۱۴۱۔۔۔۔۔۔۔ ثمود ۱۲۱* رسولوں کو جھٹلا دیا۔

۱۴۲۔۔۔۔۔۔۔ جب ان بھائی صالح نے ان سے کہا کیا تم ڈر تے نہیں ؟

۱۴۳۔۔۔۔۔۔۔ میں تمہارے لئے ایک امانت دار رسول ہوں۔

۱۴۴۔۔۔۔۔۔۔ تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ۱۲۲*۔

۱۴۵۔۔۔۔۔۔۔ میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔ ۱۲۳*

۱۴۶۔۔۔۔۔۔۔ کیا تم ان (نعمتوں ) میں یہاں چین کی حالت میں چھوڑ دئے جاؤ گے ؟

۱۴۷۔۔۔۔۔۔۔ باغوں اور چشموں میں۔

۱۴۸۔۔۔۔۔۔۔ کھیتوں اور کھجور کے باغوں میں جن کے خوشے بڑ ے لطیف ہوتے ہیں  ۱۲۴*۔

۱۴۹۔۔۔۔۔۔۔ اور پہاڑوں کو تراش کر تم عمارتیں بناتے رہو گے تاکہ اپنے کمال فن پر فخر کرو ۱۲۵*۔

۱۵۰۔۔۔۔۔۔۔ تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

۱۵۱۔۔۔۔۔۔۔ اور حد سے گزر نے والوں  ۱۲۶* کی اطاعت نہ کرو۔

۱۵۲۔۔۔۔۔۔۔ جو زمین میں فساد بر پا کر تے ہیں اور اصلاح نہیں کر تے ۱۲۷*۔

۱۵۳۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے کہا تم پر جادو کا اثر ہوا ہے ۱۲۸*۔

۱۵۴۔۔۔۔۔۔۔ اور تم ہمارے ہی جیسے بشر ۱۲۹* ہو اگر (اپنے دعوے رسالت میں ) سچے ہو تو لاؤ کوئی نشانی۔

۱۵۵۔۔۔۔۔۔۔ اس نے کہا یہ اونٹنی ۱۳۰* ہے۔ ایک دن پانی پینے کی باری اس کی ہے اور ایک مقررہ دن پانی کی باری تمہارے لئے ہے ۱۳۱*۔

۱۵۶۔۔۔۔۔۔۔ اس کو تکلیف پہنچاؤ ورنہ ایک سخت دن کا عذاب تمھیں آلے گا۔

۱۵۷۔۔۔۔۔۔۔ مگر انہوں نے اس کی کونجیں کاٹ دی ۱۳۲* اور پھر پچھتاتے رہ گئے ۱۳۳*۔

۱۵۸۔۔۔۔۔۔۔ آخر کار انہیں عذاب نے آ لیا ۱۳۴*۔ یقیناً اس میں بڑ ی نشانی ہے۔ ۱۳۵*

۱۵۹۔۔۔۔۔۔۔ اور بے شک تمہارا رب غالب بھی ہے اور رحیم بھی۔

۱۶۰۔۔۔۔۔۔۔ لوط ۱۳۶* کی قوم نے رسولوں کی جھٹلایا۔

۱۶۱۔۔۔۔۔۔۔ جب ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا کیا تم ڈرتے نہیں۔ ؟

۱۶۲۔۔۔۔۔۔۔ میں تمہارے لئے ایک امانت دار رسول ہوں۔

۱۶۳۔۔۔۔۔۔۔ تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

۱۶۴۔۔۔۔۔۔۔ میں اس پر تم سے کوئی اجر طلب نہیں کر تا۔ میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔

۱۶۵۔۔۔۔۔۔۔ کیا دنیا کے لوگوں میں تم ایسے ہو نہ شہوت پوری کرنے کے لئے لڑکوں کے پاس جاتے ہو ۱۳۷*۔

۱۶۶۔۔۔۔۔۔۔ اور تمہارے رب نے تمہارے لئے جو بیویاں پیدا کی ہیں ان کو چھوڑ دیتے ہو ؟ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو ۱۳۸*۔

۱۶۷۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے کہا میں اے لوط اگر تم باز ۱۳۹* نہ آئے تو لازماً تمھیں یہاں سے نکال دیا جائے گا۔ ۱۴۰*

۱۶۸۔۔۔۔۔۔۔ اس نے کہا میں تمہارے عمل سے سخت بیزار ہوں  ۱۴۱*۔

۱۶۹۔۔۔۔۔۔۔ اے رب ! مجھے اور میرے گھر والوں کو ان کے عمل سے نجات دے ۱۴۲*۔

۱۷۰۔۔۔۔۔۔۔ تو ہم نے اس کو اور اس کے سارے گھر والوں  ۱۴۳* کو نجات دی۔

۱۷۱۔۔۔۔۔۔۔ سواے ایک بڑھیا کہ جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی ۱۴۴*۔

۱۷۲۔۔۔۔۔۔۔ پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا ۱۴۵*۔

۱۷۳۔۔۔۔۔۔۔ اور ان پر ایک خاص قسم کی برسات برسائی ۱۴۶*۔ تو کیا ہی بری بارش تھی جو خبردار کیے جانے والوں پر بر سائی گئی۔

۱۷۴۔۔۔۔۔۔۔ یقیناً اس میں بڑ ی نشانی ۱۴۷*۔ مگر ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں۔

۱۷۵۔۔۔۔۔۔۔ اور بے شک تمہارے رب غالب بھی ہے اور رحیم بھی۔

۱۷۶۔۔۔۔۔۔۔ ایکہ والوں  ۱۴۸* نے رسولوں کی جھٹلا دیا۔

۱۷۷۔۔۔۔۔۔۔ جب شعیب نے ان سے کہا کیا تم ڈر تے نہیں ؟

۱۷۸۔۔۔۔۔۔۔ میں تمھارے لئے ایک امانتدار رسول ہوں۔

۱۷۹۔۔۔۔۔۔۔ تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

۱۸۰۔۔۔۔۔۔۔ میں اس پر تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتا۔ میر اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔

۱۸۱۔۔۔۔۔۔۔ ناپ پورا پورا بھر و اور گھاٹا نہ دو ۱۴۹*۔

۱۸۲۔۔۔۔۔۔۔ صحیح ترازو سے تولو ۱۵۰*۔

۱۸۳۔۔۔۔۔۔۔ اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو اور زمین میں فساد پھیلائے نہ پھر و ۱۵۱*۔

۱۸۴۔۔۔۔۔۔۔ ڈرو اس سے جس نے تم کو بھی پیدا کیا اور گزری ہوئی خلقت کو بھی۔

۱۸۵۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے کہا تم پر جادو کا اثر ہوا ہے۔

۱۸۶۔۔۔۔۔۔۔ اور تم بس ہمارے ہی جیسے بشر ہو اور ہم تو تمھیں بالکل جھوٹا سمجھتے ہیں۔

۱۸۷۔۔۔۔۔۔۔ اگر تم سچے ہو تو ہم پر آسمان کا ٹکڑا گرا دو۔ ۱۵۲*

۱۸۸۔۔۔۔۔۔۔ اس نے کہا میرا رب جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو ۱۵۳*۔

۱۸۹۔۔۔۔۔۔۔ مگر انہوں نے اسے جھٹلایا۔ آخر کار ان کو سائبان والے دن کے عذاب نے پکڑ لیا ۱۵۴*۔

۱۹۰۔۔۔۔۔۔۔ یقیناً اس میں بڑ ی نشانی ۱۵۵* ہے مگر ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں۔

۱۹۱۔۔۔۔۔۔۔ اور بیشک تمہارا رب غالب بھی سے اور رحیم بھی۔

۱۹۲۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ (قرآن) یقیناً رب العالمین کا نازل کیا ہوا ہے ۱۵۶*۔

۱۹۳۔۔۔۔۔۔۔ اس کو لے کر روح الامین ۱۵۷* نازل ہوا ہے۔

۱۹۴۔۔۔۔۔۔۔ تمہارے قلب ۱۵۸) پر تاکہ تم (لوگوں کو* خبردار کرنے والے بنو ۱۵۹*۔

۱۹۵ ۔۔۔۔۔۔۔ واضح عربی زبان میں ۱۶۰*

۱۹۶۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ گزرے ہوئے لوگوں کے صحیفوں میں بھی موجود ہے ۱۶۱*۔

۱۹۷۔۔۔۔۔۔۔ کیا ان لوگوں کیلے یہ نشانی نہیں ہے کہ اسے بنی اسرائیل کے علماء جانتے ہیں  ۱۶۲*۔

۱۹۸۔۔۔۔۔۔۔ اور اگر ہم اسے کسی عجمی ۱۶۳* پر نازل کرتے۔

۱۹۹۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ ان کو پڑھ کر سناتا تو یہ اس پر ایمان لانے والے نہ تھے ۱۶۴*۔

۲۰۰۔۔۔۔۔۔۔ اس طرح ہم نے یہ بات مجرموں کے دلوں میں داخل کر دی ۱۶۵*۔

۲۰۱۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں  ۱۶۶*۔

۲۰۲۔۔۔۔۔۔۔ وہ ان پر اچانک آئے گا اور اس سے وہ بے خبر ہوں گے۔

۲۰۳۔۔۔۔۔۔۔ اس وقت کہیں گے کیا ہمیں کچھ مہلت ملے گی۔

۲۰۴۔۔۔۔۔۔۔ پھر کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے لئے جلدی مچا رہے ہیں ؟

۲۰۵۔۔۔۔۔۔۔ تم سوچا اگر ہم انہیں چند سال اور سامان زندگی دے دیں۔

۲۰۶۔۔۔۔۔۔۔ پھر ان پر وہ (عذاب) آ جائے جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے۔

۲۰۷۔۔۔۔۔۔۔ تو وہ سامان زندگی جس سے وہ فائدہ اٹھاتے رہے ان کے کسی کام آئے گا ۱۶۷*۔

۲۰۸۔۔۔۔۔۔۔ اور ہم نے کسی آبادی کو بھی ہلاک نہیں کیا مگر یہ کہ اس کے لئے خبر دار کرنے والے رہے ہیں  ۱۶۸*۔

۲۰۹۔۔۔۔۔۔۔ یاد دہانی ۱۶۹* کے لئے اور ہم ظالم نہیں ہیں  ۱۷۰*۔

۲۱۰۔۔۔۔۔۔۔ اس (قرآن) کو شیاطین لے کر نہیں اتر ے ہیں۔

۲۱۱۔۔۔۔۔۔۔ نہ یہ ان سے کوئی مناسبت رکھتا ہے اور نہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیں  ۱۷۱*۔

۲۱۲۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو اس کے سننے سے بھی دور ر کھے گئے ہیں  ۱۷۲*۔

۲۱۳۔۔۔۔۔۔۔ تو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکارو ورنہ تم بھی سزا پا نے والوں میں شامل ہو جاؤ گے ۱۷۳*

۲۱۴۔۔۔۔۔۔۔ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ ۱۷۴*۔

۲۱۵۔۔۔۔۔۔۔ اور جو ایمان لانے والے تمہاری پیروی کریں ان کے لئے اپنے بازو جھکا دو ۱۷۵*۔

۲۱۶۔۔۔۔۔۔۔ اور اگر وہ تمھاری نافر مانی کریں تو ان سے کہو جو کچھ تم کر رہے ہو میں اس سے بری ہوں  ۱۷۶*۔

۲۱۷۔۔۔۔۔۔۔ اور توکل کرو اس پر جو غالب اور رحیم ہے ۱۷۷*۔

۲۱۸۔۔۔۔۔۔۔ جو تمھیں دیکھ رہا ہوتا ہے جب تم نماز میں کھڑ ے ہوتے ہو۔

۲۱۹۔۔۔۔۔۔۔ اور سجدہ ریز ہونے والوں کے درمیان تمہاری آمد و رفت کو بھی ۱۷۸*۔

۲۲۰۔۔۔۔۔۔۔ بے شک و ہ سب کچھ سننے کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔

۲۲۱۔۔۔۔۔۔۔ کیا میں تم لوگوں کو بتاؤں کہ شیاطین کس پر اتر تے ہیں  ۱۷۹*۔

۲۲۲۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہر جھوٹی بات بنانے والے بد کا ر پر اتر تے ہیں  ۱۸۰*۔

۲۲۳۔۔۔۔۔۔۔ جو (شیطان کی طرف) کان لگاتے ہیں  ۱۸۱*۔ اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں  ۱۸۲*۔

۲۲۴۔۔۔۔۔۔۔ اور شاعروں کی پیروی تو گمراہ لوگ کرتے ہیں  ۱۸۳*۔

۲۲۵۔۔۔۔۔۔۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں  ۱۸۴*۔

۲۲۶۔۔۔۔۔۔۔ اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں  ۱۸۵*۔

۲۲۷۔۔۔۔۔۔۔ سوائے ان کے جو ایمان لائے، جنہوں نے نیک عمل کیے ، اللہ کو بہ کثرت یاد کیا اور اس صورت میں بدلہ لیا جب کہ ان پر ظلم ہوا تھا ۱۸۶* اور جو ظلم کر رہے ہیں وہ عنقریب جان لیں گے کہ کس انجام کو ہو پہنچتے ہیں  ۱۸۷*۔

 

                   تفسیر

 

۱۔۔۔۔۔۔۔ یہ حروف مقطعات ہیں اور جیسا کہ ہم وضاحت کرتے آئے ہیں یہ حروف سورہ کے مخصوص مضامین کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ “ط” کا اشارہ طاعت کی طرف ہے چنانچہ ہر پیغمبر نے لوگوں سے اَطیعونِ (میری اطاعت کرو) کا مطالبہ کیا تھا جیسا کہ آیت ۱۰۸، ۱۲۶، ۱۴۴،۔۱۵۰، اور ۱۶۳ میں بیان ہوا ہے۔

“س” کا اشارہ سحر (جادو) کے الزام کی طرف ہے جو پیغمبروں پر لگایا جاتا رہا ہے اور جس کا ذکر آیت ۳۴، ۳۵، ۴۹، ۱۵۳، اور ا۸۵ میں ہوا ہے۔

اور “م” کا اشارہ مرسلین، (پیغمبروں ) کی طرف ہے جو مختلف قوموں کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہ لفظ آیت، ۱۰۵، ۱۴۱، ۱۶۰ اور ۱۷۲ میں آیا ہے۔

گویا ط س م سورہ کے اس مضمون کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں کہ اللہ نے مختلف قوموں کی طرف اپنے پیغمبر بھیجے تھے اور ان سب نے رسول ہونے کی حیثیت سے اپنی اطاعت کا مطالبہ کیا تھا لیکن لوگوں نے ان پر جادو کا الزام لگایا کسی کو ساحر کہا اور کسی کو مسحور۔ اس سے یہ تاریخی حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ پیغمبروں کے مخالفین کی ذہنیت ہمیشہ یکساں رہی ہے اور آج بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین اسی ذہنیت کا ثبوت دے رہے ہیں  (حروف مقطعات کی مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورہ بقرہ نوٹ ۱ اور سورہ یونس نوٹ ۱)۔

۲۔۔۔۔۔۔۔ اس کی تشریح سورہ یوسف نوٹ ۲ میں گزر چکی۔

۳۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ کہف نوٹ ۷۔

۴۔۔۔۔۔۔۔ کفار نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے حسی معجزہ طلب کر رہے تھے اس کے جواب میں یہاں فرمایا گیا ہے کہ اگر اللہ چاہے تو ان کا مطلوبہ معجزہ ہی نہیں ایسا حسی معجزہ بھی نازل کر سکتا ہے جس کے بعد انکار کی گنجائش باقی ہی نہ رہے اور یہ لوگ اسے تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائیں۔

یقیناً اللہ ایسا معجزہ دکھانے پر قادر ہے لیکن اللہ کی مشیت یہ نہیں ہے کیونکہ مقصود عقل کا امتحان ہے نہ کہ کسی بات کے ماننے پر عقل کو مجبور کر دینا۔

۵۔۔۔۔۔۔۔ تقریباً یہی بات سورہ انبیاء ۲ میں بیان ہوئی ہے تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ انبیاء نوٹ ۲۔

۶۔۔۔۔۔۔۔ یعنی وہ نتائج اور وہ انجام ان کے سامنے آئے گا جس سے ان کو خبردار کیا گیا ہے اور جس کا مذاق اڑانے میں وہ لگے ہوئے ہیں۔

۷۔۔۔۔۔۔۔ یعنی زمین سے اگنے والی بہ کثرت عمدہ نباتات میں اس حق کی واضح نشانیاں موجود ہیں جس کو پیغمبر پیش کر رہا ہے یعنی توحید کی بھی اور مرنے کے بعد اٹھائے جانے کی بھی۔ زمین پر جو دسترخوان بچھا دیا گیا ہے اس سے لوگ اپنے ذوق کی تسکین کا سامان تو کر لیتے ہیں لیکن اس بات پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے کہ یہ نفیس دسترخوان بچھایا کس نے ہے ؟ وہ کیسی ہستی ہے جس نے یہ انواع و اقسام کے کھانے اس وسیع دستر خوان پر چنے ہیں ؟

انسان پر نعمتوں کی بارش کر کے وہ اسے کیا بنانا چاہتا ہے ؟ اور انسان کا اپنے اس محسن حقیقی کے ساتھ رویہ کیا ہونا چاہیے ؟

۸۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ان میں سے اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ان قدرتی نشانیوں کو دیکھ کر جو ان کے ارد گرد پھیلی ہوئی ہیں ایمان لانا نہیں چاہتے۔

واضح رہے کہ یہ اس صورت حال کا ذکر ہے جو اس وقت مکہ کی سوسائٹی میں پائی جاتی تھی چنانچہ ہجرت تک لوگ خال خال ہی ایمان لائے۔

۹۔۔۔۔۔۔۔ اس موقع پر ان دو صفتوں کے ذکر سے مقصود یہ واضح کرنا ہے ایمان نہ لانے والے اللہ کے قابو سے باہر نہیں ہیں وہ بلا تاخیر ان پر عذاب نازل کر سکتا ہے لیکن اس کی رحمت اس بات کی متقاضی ہے کہ ان کو سنبھلنے کا مزید موقع دیا جائے نیز اس بات کی طرف اشارہ بھی ہے کہ اگر چہ یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے ہیں لیکن اللہ کے غلبہ اور اس کی رحمت کے کرشمے ظاہر ہو کر رہیں گے۔

۱۰۔۔۔۔۔۔۔ یہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سرگزشت پیش کی گئی ہے۔ اس کی تشریح کے سلسلہ میں سورہ طٰہٰ نوٹ ۹ تا ۹۴ پیش نظر رہیں۔

۱۱۔۔۔۔۔۔۔ فرعون کی قوم کا ذکر ظالم قوم کے نام سے کیا گیا کیوں کہ اس کی سر کشی اور اس کا ظلم انتہا کو پہنچ گیا تھا اور وہ بربریت پر اتر آئی تھی جس کی واضح مثال اس کا اپنے ملک کی مسلم اقلیت (بنی اسرائیل) کے نو زائیدہ بچوں کو قتل کرنا تھا۔

۱۲۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ظالمانہ حرکتیں کرتے ہوئے اپنے رب سے ڈرتے نہیں کہ اس کا قہر ان پر نازل ہو سکتا ہے اور وہ اس کے غضب کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

۱۳۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیفیت رسالت کی گراں بار ذمہ داری کے احساس کی وجہ سے پیدا ہو گئی تھی۔

۱۴۔۔۔۔۔۔۔ یعنی روانی کے ساتھ نہیں چلتی۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ طٰہٰ نوٹ ۲۸۔

۱۵۔۔۔۔۔۔۔ یہ حضرت موسیٰ کا رسالت کو قبول کرنے سے انکار نہیں تھا جیسا کہ بائبل (خروج باب ۱۳:۴، ۱۴) کا بیان ہے بلکہ رسالت کی عظیم ذمہ داریوں کو قبول کرتے ہوئے اپنی کوتاہ دستی اور مشکلات و موانع کا اظہار تھا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی دست گیری فرمائے۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رسالت کا منصب کتنی عظیم ذمہ داری کا منصب ہے جس کو قبول کرتے ہوئے حضرت موسیٰ جیسا شخص کانپ اٹھتا ہے۔

۱۶۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ طٰہٰ نوٹ ۴۲ یہ واقعہ تفصیل سے سورہ قصص میں آ رہا ہے۔

۱۷۔۔۔۔۔۔۔ یعنی فرعون کی قوم تمہیں قتل نہیں کر سکے گی اور نہ تمہارے فرضہ رسالت کی ادائیگی میں کوئی چیز مانع ہو سکے گی۔

۱۸۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ہم تمہارے ساتھ سننے کے لیے موجود ہوں گے ور فرعون جو جواب بھی دے گا اس سے ہم باخبر ہوں گے اس لیے تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ تمہیں جس مدد کی بھی ضرورت ہو گی ہم کریں گے۔

۱۹۔۔۔۔۔۔۔ فرعون کا دعویٰ اپنی سلطنت یعنی ملک مصر کی حد تک رب ہونے کا تھا اور وہ بھی مخصوص معنی میں اس لیے موسیٰ علیہ السلام کو یہ ہدایت ہوئی کہ وہ اپنے کو رب العالمین کے رسول کی حیثیت سے پیش کریں تاکہ فرعون پر آغاز ہی میں واضح ہو جائے کہ اللہ مصر سمیت تمام کائنات کا حقیقی رب ہے۔

۲۰۔۔۔۔۔۔۔ بنی اسرائیل کے ارسال کا مطالبہ کوئی قومی مطالبہ نہیں تھا بلکہ اللہ کا حکم تھا جس کو فرعون تک پہنچانے کی ہدایت حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ السلام کو دی گئی تھی۔ گویا ان پیغمبروں کو دعوت کے ساتھ اس مہم پر روانی کیا گیا تھا کہ وہ بنی اسرائیل کو ملک مصر سے نکال لائیں اس لیے انہوں نے آغاز ہی میں فرعون کے سامنے جہاں دعوت پیش کی وہاں یہ مطالبہ بھی پیش کر دیا کہ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دیا جائے۔ سیاق کلام سے بالکل واضح ہے کہ یہ مطالبہ شروع ہی میں پیش کیا گیا تھا اس سے اس نظریہ کی تردید ہوتی ہے کہ دعوتی مرحلہ میں کسی ظالم یا غیر اسلامی حکومت کے سامنے کوئی ملّی مطالبہ نہیں پیش کیا جا سکتا اگر چہ دینی مصالح اس کے متقاضی ہو، مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورہ اعراف نوٹ ۱۶۱

۲۱۔۔۔۔۔۔۔ حضرت موسیٰ کی پرورش کرشمہ الٰہی سے فرعون کے گھر میں ہوئی تھی جس کی تفصیل سورہ طٰہٰ نوٹ ۳۶ تا ۴۱ میں گزر چکی۔

۲۲۔۔۔۔۔۔۔ اشارہ ہے قتل کے اس واقعہ کی طرف جو حضرت موسیٰ سے غلطی سے سر زد ہوا تھا تشریح کے لیے دیکھیے سور ہ طٰہٰ نوٹ ۴۳

۲۳۔۔۔۔۔۔۔ یہ حضرت موسیٰ کا اپنے نفس کی رُو رعایت کے بغیر اعتراف تھا کہ مجھ سے یہ غلطی ضرور سرد ہوئی تھی لیکن یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ مجھ پر ہدایت کی راہ نہیں کھلی تھی جواب کھلی ہے یعنی اب میں منصب رسالت پر مامور کیا گیا ہوں اور پوری روشنی میں چل رہا ہوں اس لیے ماضی کی غلطی کو زیر بحث لانے سے کیا فائدہ؟

واضح رہے کہ آیت میں ضلالت کا لفظ عقیدہ و عمل کی گمراہی کے معنی میں نہیں ہوا ہے بلکہ علم کی اس روشنی کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے جو انہیں ثبوت کے بعد حاصل ہو گئی تھی۔ قبطی کو انہوں نے دانستہ قتل نہیں کیا تھا بلکہ گھونسا مارنے کی وجہ سے اس کی موت واقع ہو گئی تھی اس لیے یہ واقعہ قتل خطا کا تھا اور حضرت موسیٰ نے اس موقع پر اللہ تعالیٰ سے اپنی بخشش کے لیے جن الفاظ میں دعا کی تھی اس کے ایک ایک لفظ سے مترشح ہوتا ہے وہ اس وقت بھی ہدایت پر تھے (دیکھیے سورہ قصص آیت ۱۵ تا ۱۷)۔

۲۴۔۔۔۔۔۔۔ یعنی تم لوگوں کی سزا کے خوف سے۔

۲۵۔۔۔۔۔۔۔ حکم سے مراد دانائی اور حکمت ہے۔

۲۶۔۔۔۔۔۔۔ یہ حضرت موسیٰ کا فرعون کو منہ توڑ اور حقیقت کو آشکارا کرنے والا جواب تھا۔ اس جواب کا مطلب یہ ہے کہ تجھے وہ احسان تو یاد ہے جو تو نے مجھ پر میری پرورش کی صورت میں کیا لیکن میری قوم بنی اسرائیل کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر جو ظلم تو ان پر ڈھا رہا ہے اس کو تو بھول گیا! کیا تو چاہتا ہے کہ میں تیرے احسان کا یہ بدلہ چکاؤں کہ بنی اسرائیل پر تیری طرف سے جو ظلم ہو رہا ہے اس کے خلاف آواز نہ اٹھاؤں اور تجھے اپنی من مانی کرنے دوں ؟ کیا تیرا یہ منشاء ہے کہ میں تیرے احسان تلے جو تو نے مجھ پر بچپن میں کیا تھا اس طرح دبا رہا ہوں کہ ایک مظلوم قوم کی گلو خلاصی کے لیے کچھ نہ کہوں۔ ؟

۲۷۔۔۔۔۔۔۔ فرعون کے اس سوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس بات کا قائل نہیں تھا کہ کائنات کا کوئی رب ہے جو تدبیر امر کرتا ہے۔ رہا اس کا اپنے رب اعلیٰ ہونے کا دعویٰ تو وہ مصر کی حد تک اور اس کے فرمانروا ہونے کی بنا پر تھا۔ مصر کے فراعنہ اپنا رشتہ سورج دیوتا سے جوڑ تے تھے جیسا کہ ہم سورہ اعراف نوٹ ۱۸۰ میں واضح کر چکے ہیں۔ اس کے نزدیک جو سلطنت کا مالک ہے وہ رعایا کے لیے مقتدر اعلیٰ بھی ہے اور معبود (لائق پرستش) بھی۔ اس کو اختیار ہے کہ جو چاہے حکم دے اور کوئی بالا تر ہوتی ایسی نہیں جو اس کو حکم دینے کا اختیار رکھتی ہو۔ اس طرح وہ اپنی سیاسی اور مذہبی دونوں طرح کی حاکمیت کا مدعی تھا چنانچہ وہ اپنے من مانے احکام بھی جاری کرتا تھا اور لوگوں سے یہ مطالبہ بھی کرتا تھا کہ وہ اس کو پوجیں اس لیے اس کے دعوے کو محض سیاسی حاکمیت کے معنی میں لینا صحیح نہ ہو گا۔

۲۸۔۔۔۔۔۔۔ یقین علم سے حاصل ہوتا ہے اور علم کے حصول کا ایک اہم ذریعہ دلائل اور نشانیاں ہیں۔ حضرت موسیٰ کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ یہ وسیع کائنات جس میں آسمان زمین، سورج، چاند اور ستارے سب شامل ہیں اس بات پر صریح طور سے دلالت کرتی ہے کہ یہاں ایک بلند و بالا ہستی ہے جو پوری کائنات کی خالق بھی ہے اور مال بھی اور جس کی فرمان روائی سب پر چھا ئی ہوئی ہے لہٰذا انسان کا رب حقیقی بھی وہی ہے۔ اس حقیقت کا یقین تمہیں ہو سکتا ہے بشرطیکہ تم دلیل کی روشنی میں اس کائنات پر غور کرو۔

۲۹۔۔۔۔۔۔۔ یہ حضرت موسیٰ کے جواب پر طنز اور تعجب کا اظہار تھا۔

۳۰۔۔۔۔۔۔۔ یہ مزید وضاحت تھی اس بات کی کہ رب العالمین کون ہے نیز اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اگر فرعون تمہارا رب ہے تو تمہارے آبا و اجداد کا رب کون تھا؟ یہ فرعون تو بعد میں پیدا ہوا ہے اس لیے ان کا رب ہونے کا تو یہ مدعی ہو نہیں سکتا۔ مگر خالق کائنات کی ربوبیت ہمہ گیر ہے وہ گزرے ہوئے لوگوں سمیت تمام انسانوں کا رب ہے۔

۳۱۔۔۔۔۔۔۔ جب فرعون سے حضرت موسیٰ کی دلیل کا کوئی جواب بن نہ پڑا تو ان پر دیوانہ ہونے کا الزام لگایا وہ جانتا تھا کہ موسیٰ دیوانے نہیں ہیں اگر وہ ان کو دیوانہ سمجھتا تو نہ بحث کو آگے بڑھاتا اور نہ ان سے اپنی سلطنت کے لیے خطرہ محسوس کرتا کیونکہ کسی دیوانہ سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔

۳۲۔۔۔۔۔۔۔ یعنی مشرق و مغرب پر کس کی حکومت ہے ؟ سورج کس کے حکم سے نکلتا اور ڈوبتا ہے ؟ اور کون ہے جس کی فرمانروائی مشرق و مغرب کے درمیان کی تمام موجودات پر ہے ؟ اگر آدمی عقل سے کام لے تو اس کا جواب اس کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا کہ اللہ ہی رب العالمین ہے۔ مشرق و مغرب کا ذکر کرنے میں اس بات کی طرف بھی اشارہ تھا کہ فرعون تو زمین کے ایک محدود علاقہ کا محض مجازی حکمراں ہے وہ رب کیسے ہو سکتا ہے جب کہ اس کو نہ مشرق پر اختیار ہے اور نہ مغرب پر۔

۳۳۔۔۔۔۔۔۔ واضح ہوا کہ فرعون کا دعویٰ محض سیاسی حاکمیت ہی کا نہیں تھا بلکہ اپنے معبود (لائق پرستش) ہونے کا بھی تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ لوگ اس کو پوجتے بھی رہیں تاکہ اس کو اپنی رعایا میں تقدس کا مقام حاصل ہو اور اس کی بادشاہت کی جڑیں مضبوط ہوں۔

۳۴۔۔۔۔۔۔۔ لاٹھی کا سانپ بن جانا اللہ تعالیٰ کی طرف سے معجزہ تھا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو عطاء کیا گیا۔ آپ کی لاٹھی حقیقۃً سانپ بن جاتی تھی اور اس کی شکل اژدھا کی سی ہوتی تھی یہ واضح نشانی تھی اس بات کی کہ حضرت موسیٰ اس ہستی کی طرف سے بھیجے گئے ہیں جو کائنات کا رب ہے اور تمام اشیاء پر قدرت رکھتا ہے۔

۳۵۔۔۔۔۔۔۔ یہ دوسرا معجزہ تھا جو موسیٰ علیہ السلام کو عطاء ہوا۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ طٰہٰ نوٹ ۲۳

۳۶۔۔۔۔۔۔۔ یہ جھوٹا الزام تھا جو فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر لگایا ورنہ انہوں نے کوئی بات ایسی نہیں کہی تھی۔ وہ تو بنی اسرائیل کو مصر سے باہر لے جانا چاہتے تھے۔ فرعون کی قوم کو ملک سے نکال باہر کرنے کا انہوں نے کوئی منصوبہ نہیں بنایا تھا مگر فرعون نے ان پر یہ سیاسی الزام لگایا تاکہ لوگوں کو ان کے خلاف ورغلایا جا سکے۔

۳۷۔۔۔۔۔۔۔ یہ جشن کا دن تھا اور ن چڑھے کا وقت تھا جیسا کہ دوسری جگہ صراحت کے ساتھ ذکر ہوا ہے۔

۳۸۔۔۔۔۔۔۔ سوالیہ انداز میں لوگوں کو جمع ہونے کی ترغیب دی گئی۔

۳۹۔۔۔۔۔۔۔ کہنے والے فرعون کے حامی تھے۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ جو غالب ہو گا یا جو حق ظاہر ہو گا اس کی ہم اتباع کریں گے بلکہ کہا کہ ہم جادو گروں کی اتباع کریں گے اگر وہ غالب آ گئے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ متعصبانہ ذہنیت کے ساتھ آئے تھے۔ اور جادو گروں کی اتباع کا مطلب فرعون کے طریقہ کی اتباع تھا۔ چونکہ اس وقت دو فریق میں مقابلہ ہو رہا تھا ایک جادو گر دوسرے موسیٰ و ہارون اس لیے انہوں نے ایک فریق کی حیثیت سے جادو گروں کا ذکر کیا ورنہ مراد فرعون کی ہی تباع تھی۔

۴۰۔۔۔۔۔۔۔ عربی میں عزت کے معنی قوت اور غلبہ (Might and Power) کے بھی ہیں اور شرف (Honour) کے بھی۔ جادو گروں نے فرعون کی عزت کی قسم کھائی جس سے ان کی مشرکانہ ذہنیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

۴۱۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ اعراف نوٹ ۱۶۶

۴۲۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ اعراف نوٹ ۱۷۱۔

۴۳۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ اعراف نوٹ ۱۷۲، ۱۷۳۔

جادو گروں کے ایمان لانے سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ حضرت موسیٰ جو کچھ پیش کر رہے ہیں وہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے معجزہ ہے۔ جادو اور معجزہ کے فرق کو جادوگر اچھی طرح جانتا ہے اور ان کی یہ شہادت کہ حضرت موسیٰ کی لاٹھی کا سانپ بن جانا جادو کے زور سے نہیں بلکہ تائید الٰہی کی بنا پر ہے حق و باطل کے فرق کو نمایاں کرنے والی بات تھی۔

۴۴۔۔۔۔۔۔۔ کیسی ظالمانہ حکومت ہو گی وہ جہاں اللہ پر ایمان لانے کے لیے بھی حکومت سے اجازت لینے کی ضرورت ہو !

۴۵۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ طٰہٰ نوٹ ۸۱۔

۴۶۔۔۔۔۔۔۔ دیکھیے سورہ طٰہٰ نوٹ ۸۳۔

۴۷۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اس نازک موقعہ پر فرعون کی قوم میں سے ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے بنے۔

۴۸۔۔۔۔۔۔۔ حضرت موسیٰ اور فرعون کے درمیان ایک طویل عرصہ تک جو دعوتی کشمکش ہوتی رہی اس کا ذکر سورہ اعراف میں ہوا ہے۔ یہاں ابتدائی سرگزشت بیان کرنے کے بعد فرعون کے انجام کو بیان کیا گیا ہے کیونکہ موقع کے لحاظ سے یہاں یہ بات واضح کرتا مقصود ہے کہ ہٹ دھرم لوگ معجزوں کو دیکھ کر ایمان نہیں لاتے۔ ان کی آنکھیں اس وقت کھلتی ہیں جب وہ انجام کو پہنچ جاتے ہیں۔

۴۹۔۔۔۔۔۔۔ بنی اسرائیل مصر میں جشن کے علاقہ میں رہتے تھے اور بائیبل سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون نے پے درپے نازل ہونے والی آفتوں سے تنگ آ کر انہیں پہلے تو جانے کی اجازت دے دی لیکن بعد میں اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اس لیے اپنے لشکر کے ساتھ ان کا پیچھا کیا۔

ادھر حضرت موسیٰ کے حکم سے بنی اسرائیل نے ہجرت کی تیاری کی ہو گی اور جب اللہ تعالیٰ نے مخصوص رات کا نکل جانے کا حکم دے دیا تو بنی اسرائیل کا قافلہ حضرت موسیٰ کی قیادت میں نکل پڑا۔

رات کا وقت مقرر کرنے کی ایک مصلحت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ صحرا میں سفر کے لیے رات کا وقت سکون کا ہونے کی وجہ سے زیادہ موزوں ہوتا ہے۔

حضرت موسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی باخبر کر دیا تھا کہ تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔ یعنی بنی اسرائیل فرعون والوں کو پیچھا کرتے دیکھ کر پریشان نہ ہوں اللہ تعالیٰ ان کی نجات کا سامان کرے گا۔

۵۰۔۔۔۔۔۔۔ یعنی بنی اسرائیل ایک اقلیتی گروہ ہیں۔

۵۱۔۔۔۔۔۔۔ فرعون کا یہ اعلان فوج اور سرداروں کو ہر طرف سے مجتمع کرنے کے لیے تھا تاکہ بنی اسرائیل کے خطرہ کا آخری طور سے مقابلہ کیا جا سکے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اس کی اس تدبیر کو ان ہی کے خلاف الٹ دیا اور اس کی صورت وہ ہوئی جو آگے بیان ہوئی ہے۔

۵۲۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی تدبیر ایسی ہوئی کہ فرعون اس اعیان سلطنت اور اس کا لشکر اپنے عشرت کدوں کو چھوڑ کر محض بنی اسرائیل کی دشمنی میں اس کا پیچھا کرنے کی غرض سے باہر نکل گئے اور ایسے نکل گئے کہ پھر ان کو لوٹنا نصیب نہ ہوا۔

۵۳۔۔۔۔۔۔۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بنی اسرائیل کو مصر کی ان چیزوں کا وارث بنا دیا کیونکہ مصر سے ہجرت کرنے کے بعد وادی تیہ ہوتے ہوئے انہوں نے فلسطین کا رخ کیا جو ان کی اصل منزل تھی بلکہ مطلب یہ ہے کہ جو نعمتیں قوم فرعون کو عطاء ہوئی تھیں وہ ان سے چھین لی گئیں اور یہ نعمتیں  (یعنی ایسی ہی نعمتیں ) بنی اسرائیل کو عطا کی گئیں چنانچہ سورہ اعراف میں بیان ہوا ہے ، وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ کَانُوْ یُس تَضْعَفُوْ نَ مَشَا رِقَ الْارْضِ وَمَغَرِبَھَا الَّتِی بٰرَکْنَا فِیْھَا (اعراف۔ ۱۳۷)۔ ” اور جس قوم کو کمزور بنا کر رکھا گیا تھا ہم نے اس کو اس سر زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا جس میں ہم نے برکتیں رکھی تھیں “۔

ظاہر ہے یہاں برکتوں والی سر زمین سے مراد فلسطین کی سر زمین ہے۔ اور قرآن یہ بھی صراحت کرتا ہے کہ اگر ایک طرف فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کر دیا گیا تو دوری طرف ملک پر ایسی تباہی لائی گئی کہ اونچی اونچی عمارتیں ڈھ گئیں اور اس کی ساری تمدنی ترقی خاک میں مل گئی۔

وَدَمَّرْ نَا مَا کَا نَ یَصْنَعُ فِرْعَونَ وَقَوْمُہٗ وَمَا کَانُوْ یَعْرِشُوْنَ (اعراف۔ ۱۳۷) ” اور فرعون اور اس کی قوم نے جو کچھ بنایا تھا اور جو عمارتیں بلند کی تھیں وہ سب ہم نے ملیا میٹ کریدیں “۔

مصر میں یہ تباہی غالباً پُروا ہوا کے چلنے سے آئی تھیں۔ واللہ اعلم

۵۴۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جب بنی اسرائیل مصر سے نکلے تو فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ ان کا پیچھا کیا۔

۵۵۔۔۔۔۔۔۔ اس نازک موقع پر دراصل توکل کا امتحان تھا۔ حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کی گھبراہٹ کو دور کرنے کے لیے جو کلمات کہے اس سے ان کے کمال توکل کا اظہار ہوتا ہے۔

۵۶۔۔۔۔۔۔۔ سمندر اس طرح پھٹنا کہ پانی کے دو حصے پہاڑ کی طرح کھڑ ے ہو جائیں اور بیچ میں خشک راستہ بن جائے جیسا کہ سورہ طٰہٰ آیت ۷۷ میں بیان ہوا ہے صریح معجزہ (خدا کی طرف سے ظاہر ہونے والی غیر معمولی نشانی) تھا۔ یہ معجزہ قرآن کے بیان کے مطابق حضرت موسیٰ کے سمندر پر عصا مارنے کے نتیجہ میں ظہور میں آیا تھا اس لیے اس میں تاویل کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور نہ یہ خیال کرنا صحیح ہے کہ طوفانی ہواؤں کے نتیجہ میں سمندر کا پانی ہٹ کیا تھا کیونکہ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ طوفانی ہوائیں سمندر کے پانی کو ہٹا کر بیچ میں خشک راستہ بنا دیں پھر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر طوفانی ہوائیں یا پروا ہوا اترنی تیز چل رہی تھی کہ اس نے سمندر کے پانی کو ڈھکیل کر دیوار کھڑ ی کر دی تھی تو بنی اسرائیل کے لیے ان طوفانی ہواؤں سے صحیح سلامت گزرنا کیونکر ممکن ہوا۔ ایسا زبردست طوفان تو ان کی لاشیں گرا سکتا تھا۔ مگر کیا وجہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی اس کی زد میں نہیں آیا۔ یہ عجب نہیں کہ اس وقت پروا ہوا بھی چلی ہو جیسا کہ بائیبل کا بیان ہے لیکن سمندر کے پھٹنے کو پرسا ہوا کا سبب قرار دینا صحیح نہیں۔ قرآن اس واقعہ کو ایک معجزہ کی حیثیت سے پیش کرتا ہے نہ کہ اتفاقی حادثہ یا معمول کے مطابق وقوع میں آنے والے کسی واقعہ کی حیثیت سے۔

۵۷۔۔۔۔۔۔۔ یعنی فرعون والوں کو وہاں پہنچا دیا۔

۵۸۔۔۔۔۔۔۔ یعنی موسیٰ کی قیادت میں جو قافلہ چل رہا تھا وہ بخیریت سمندر کو عبور کر گیا۔ نہ ان کو کوئی گزند پہنچا اور نہ فرعون اور اس کا لشکر ان کو پکڑ نے میں کامیاب ہوا۔

۵۹۔۔۔۔۔۔۔ لیکن دوسرے گروہ یعنی فرعون اور اس کے لشکر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ یہ ہوا کہ جب وہ راستہ کھلا پا کر سمندر کے بیچ پہنچ گئے تو اللہ کے حکم سے سمندر کے دونوں حصے ایک دوسرے سے مل گئے اور فرعون بھی ڈوب مرا اور اس کا لشکر بھی جس میں اعیان سلطنت بھی تھے یہ حشر ہوا اس شخص کا جو رب اعلیٰ ہونے کا دعویدار تھا اور یہ حشر ہو ا ان لوگوں کا جو اس کے حکم اور اشاروں پر چلتے تھے۔

۶۰۔۔۔۔۔۔۔ یعنی انبیائی تاریخ کے اس واقعہ میں اس بات کی صریح نشانی موجود ہے کہ اللہ لوگوں کو راہ حق دکھانے کے لیے رسول بھیجتا ہے اور جب اس کی قوم اس پر ایمان لانے سے انکار کر دیتی ہے اور اس کے خلاف تشدد پر اتر تی ہے تو اس قوم کو اللہ تعالیٰ عبرت ناک سزا دیتا ہے۔

فرعون اور اس کے لشکر کی غرقابی اور حضرت موسیٰ، حضرت ہارون اور بنی اسرائیل کی ظالم قوم سے نجات اور ان کا غیر معمولی طریقہ پر سمندر کو عبور کر جانا ایک ناقابل انکار تاریخی واقعہ ہے جو تورات (بائیبل) سے بھی ثابت ہے اور قرآن سے بھی۔ گویا دنیا کی اکثریت (یہود، نصاریٰ اور مسلمان) اس پر متفق ہے۔ پھر کیا ایمان لانے کے لیے اتنی بڑ ی شہادت بھی کافی نہیں ؟

۶۱۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے نوٹ ۸۔

۶۲۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے نوٹ ۹۔

اوپر کی آیت میں اور اس آیت میں جو مضمون بیان ہوا ہے اس کو آگے بھی ہر واقعہ کے اختتام پر دہرایا گیا ہے تاکہ غافل انسان چونک جائے۔

۶۳۔۔۔۔۔۔۔ یہاں ابراہیم علیہ السلام کا وہ واقعہ پیش کیا جا رہا ہے جو ان کی دعوت سے تعلق رکھتا ہے اور واضح کرنا یہ مقصود ہے کہ بت پرستی اور شرک وہ عظیم گمراہی ہے جس سے بندگان خدا کو نجات دینے کے لیے ابراہیمؑ جیسا جلیل القدر نبی اٹھ کھڑا ہوا تھا لہٰذا اگر آج قرآن کا پیغمبر اسی مقصد کے لیے اٹھ کھڑا ہوا ہے تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے بلکہ یہ انبیائی دعوت کا خاصہ ہے۔ انبیاء علیہم السلام سب سے پہلے اسی گمراہی کا نوٹس لیتے ہیں اور پر زور انداز میں اس کی تردید کرتے ہوئے توحید کو پیش کرتے ہیں۔

۶۴۔۔۔۔۔۔۔ دعوت کا ایک حکیمانہ اسلوب یہ ہے کہ اس طرح کے سوالات ابھارے جائیں۔

دوسری بات یہ بھی واضح ہوئی کہ اگر بیٹا مومن اور باپ مشرک ہے تو بیٹے چاہیے کہ اپنے باپ کے سامنے توحید کی حجت پیش کرے کہ یہ اسوہ ابراہیمی ہے۔

۶۵۔۔۔۔۔۔۔ بت پرستوں کا یہ اعتراف کہ بت نہ سنتے ہیں اور نہ نفع یا نقصان پہنچانے کی قدرت رکھتے ہیں بت پرستی کے بے حقیقت اور نا معقول ہونے کا واضح ثبوت ہے مگر اس نا معقولیت کو انہوں نے محض اس بنا پر جائز قرار دیا کہ باپ دادا سے ان کی پرستش ہوتی چلی آ رہی ہے یعنی ہم اپنے آبائی مذہب کو اور اپنے قومی کلچر کو کس طرح ترک کر سکتے ہیں ؟

۶۶۔۔۔۔۔۔۔ یعنی باپ دادا کی اندھی تقلید کا مطلب تو غور و فکر کی صلاحیتوں کو معطل کر دینا ہے اس صورت میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر غور و فکر کی صلاحیتیں انسان کو کس لیے عطا کی گئی ہیں۔ اگر اس لیے عطا کی گئی ہیں کہ ان کو کام میں لا کر انسان صحیح اور غلط اور جائز و ناجائز میں تمیز کرے تو پرستش اور عبادت جیسے اہم ترین معاملہ میں انسان اندھا کیوں بن جاتا ہے وہ اس بات پر کیوں نہیں سوچتا کہ جو معاملہ خداوند عالم کے ساتھ کیا جا سکتا ہے وہ اینٹ پتھر کے ساتھ کرنے کے کیا معنی !

واضح رہے کہ بت پرست اپنے دیوی دیوتاؤں کے بارے میں تو وہم کی بنا پر یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ ان کو نفع یا نقصان پہنچا سکتے ہیں لیکن بتوں کے بارے میں وہ یہ چھوٹا دعویٰ کرنے کی بھی جرأت نہیں کر سکتے کیونکہ بتوں کی بے بسی کا ہر شخص مشاہدہ کرتا ہے جب کہ دیوی دیوتاؤں کا وجود محض خیالی ہے اس لیے ان میں خدا کی صفات پائے جانے کا دعویٰ کرنا ان لوگوں کے لیے آسان ہوا جو بے بنیاد باتوں پر مذہب کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔

۶۷۔۔۔۔۔۔۔ یعنی بتوں کو میں اپنا دشمن سمجھتا ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ بتوں کو معبود بنانے کا نتیجہ جہنم ہے اس لیے ان کو اپنا دشمن سمجھ کر ان سے دور رہنے میں ہی عافیت ہے

۶۸۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جو میرا خلق ہے وہ میرا ہادی بھی ہے اس لیے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ خدا اور مذہب کے معاملہ میں وہ روشنی قبول نہ کروں جو وہ دکھا رہا ہے اور وہم و گمان کی وادیوں میں بھٹکتا پھروں ؟۔

۶۹۔۔۔۔۔۔۔ یہ بات اس طرح بھی کہی جا سکتی تھی ” وہی مجھے بیمار کرتا ہے “۔ لیکن اس میں اللہ تعالیٰ کے لیے سوئے ادب کا پہلو تھا اس لیے حضرت ابراہیم نے فرمایا ” جب میں بیمار ہوتا ہوں ” اس سے ان کے کمال ادب کا اظہار ہوتا ہے اور انبیاء علیہم السلام اللہ تعالیٰ کے لیے غایت درجہ ادب کو ملحوظ رکھتے ہیں اور ان کی زبان سے جو کلمات نکلتے ہیں وہ جواہر ریزے ہوتے ہیں۔

۷۰۔۔۔۔۔۔۔ بیمار کو شفاء دینا اللہ ہی کا کام ہے۔ یہ بات مشرکین کو سمجھانے کی تھی مگر موجودہ دور کے مسلمانوں کو بھی سمجھانا پڑ رہی ہے کیونکہ وہ شفا پانے کے لیے درگاہوں کے چکر کاٹتے رہتے ہیں صرف وہی مسلمان اس سے بچے ہوئے ہیں جو بتوفیق الہٰی صحیح عقیدہ رکھتے ہیں۔

۷۱۔۔۔۔۔۔۔ یہ توحید کے ساتھ قیامت کا ذکر اور اس پر ایمان لانے کا اظہار ہے۔

حضرت ابراہیمؑ کی دعوت جو انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے سامنے پیش کی تھی قرآن میں متعدد مقامات پر بیان ہوئی ہے جس سے واضح ہوتا ہے انہوں نے مختلف مواقع پر مختلف انداز میں دعوت پیش کی۔ یہاں انہوں نے اپنے عقیدہ و ایمان کا اظہار کیا ہے کہ میں کس کو رب مانتا ہوں اور اس کی کیسی شان اور کیسی صفات ہیں۔ دعوت کا یہ اسلوب نفسیاتی اثر رکھتا تھا اور ہر شخص کو یہ سوچنے پر آمادہ کرنے والا تھا کہ وہ اپنے عقیدہ کا جائزہ لے۔

۷۲۔۔۔۔۔۔۔ یہاں یہ بحث فضول ہے کہ ابراہیم علیہ السلام سے کون سی خطائیں سر زد ہوئی تھیں ہو سکتا ہے نبوت سے پہلے کی خطائیں مراد ہوں ، بہر حال بندہ کا کام اپنے کو خطا کار سمجھ کر خدا سے معافی مانگنا ہے کیونکہ بعض مرتبہ خطائیں نا دانستہ طور پر سر زد ہو جاتی ہیں اور انبیاء علیہم السلام میں تو یہ احساس بدرجہ اتم موجود ہوتا ہے اس لیے وہ اللہ تعالیٰ سے معافی کے خواستگار ہوتے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار کیا کرتے تھے اور اسی احساس کا اظہار حضرت ابراہیم کے اس بیان سے ہوتا ہے۔

۷۳۔۔۔۔۔۔۔ اوپر کی آیت میں حضرت ابراہیم کا وہ ارشاد ختم ہوا جو انہوں نے اپنے باپ اور قوم سے خطاب کر کے فر مایا تھا یہاں ان کی وہ دعا پیش کی جا رہی ہے جو اسی ماحول میں انہوں نے کی تھی۔

۷۴۔۔۔۔۔۔۔ یعنی صحیح فہم عطا فرما کہ حالات کو سمجھ کر صحیح رخ اختیار کر سکوں اور لوگوں کے سامنے حکمت بھری باتیں پیش کر سکوں۔

۷۵۔۔۔۔۔۔۔ صالح بننا اللہ ہی کی توفیق پر منحصر ہے اس لیے ایک نبی بھی اس کے لیے اللہ سے توفیق طلب کرتا ہے اور صالحین کے زمرہ میں شامل کیے جانے کی دعا کرتا ہے۔

۷۶۔۔۔۔۔۔۔ مراد دنیوی شہرت نہیں بلکہ وہ ذکر خیر ہے جو سچی محبت اور والہانہ عقیدت کی بنیاد پر زبانوں پر جاری ہو۔ لسان صدق (سچائی کا بول) کے الفاظ بڑ ے معنی خیز ہیں اور خاص طور سے اس مفہوم پر دلالت کرتے ہیں کہ میرے فیض نبوت سے بعد والے بھی سرشار ہوں اور میرے حق میں ہر طرف سے سچائی کی صدائیں بلند ہوں۔ آپ کی دعا کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح شرف قبولیت بخشا کہ ہر زمانہ میں ہل ایمان آپ کو گلہائے عقیدت پیش کرتے رہے یہاں تک کہ آخری امت کی نمازوں میں آپ کے ذکر جمیل نے جگہ پائی چنانچہ جہاں نبی صلی اللہ علیہ و  سلم پر درود بھیجا جاتا ہے وہاں : “کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰ اِبْراھِیْمَ و عَلیٰ اٰلِ ابْراھیم”۔ ” جس طرح تو نے ابراہیم پر اور ان کی آل پر درود بھجا” کے دعائیہ کلمات بھی ادا کیے جاتے ہیں۔ اور حج اور قربانی کے موقعہ پر کون ہے جو اس پیکر صدق و وفا کو نذرانہ عقیدت پیش نہ کرتا ہو ! سلامٌ  علیٰ ابراہیم ” سلام ہو ابراہیم پر”۔

۷۷۔۔۔۔۔۔۔ معلوم ہوا کہ جنت کے نصیب ہونے کی دعا کرنا انبیائی طریقہ ہے اور جنت سے بے نیاز ہو کر نیک کام کرنے کا نظریہ محض صوفیانہ ٹکیل کی پرواز ہے۔

۷۸۔۔۔۔۔۔۔ حضرت ابراہیم کی اپنے مشرک باپ کے لیے مغفرت کی دعا اس وقت کی بات ہے جب کہ اس کی ممانعت نہیں آئی تھی۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو سورہ توبہ نوٹ ۲۱۰

۷۹۔۔۔۔۔۔۔ حضرت ابراہیم کی دعا اوپر کی آیت پر ختم ہو گئی۔ اب اللہ تعالیٰ کی طرف سے روز جزاء کے بارے میں مزید صراحت ہے تاکہ موقع کی مناسبت سے تذکیر ہو۔

۸۰۔۔۔۔۔۔۔ قلب سلیم (سلامتی والا دل) سے مراد جیسا کہ سیاق کلام سے واضح ہے وہ دل ہے جو شرک سے پاک ہو اور توحید کا عقیدہ اس میں ایسا راسخ ہو گیا ہو کہ ایمان کی کیفیت پیدا ہو جائے اور کردار میں صالحیت آ جائے۔ بالفاظ دیگر وہ دل جو ہر قسم کے باطنی امراض اور معصیتوں کی آلودگی سے پاک ہو اور جس کا تقویٰ اس کی صحت کا باعث بنے اور عملہ زندگی کو سنوارے۔

۸۱۔۔۔۔۔۔۔ یعنی قیامت کے دن جنت متقیوں کے استقبال کے لیے موجود ہو گی۔ میدان حشر سے جنت میں پہنچنے کے لیے کچھ دیر نہیں لگے گی ادھر فیصلہ ہوا ادھر جنت میں پہنچ گئے۔

۸۲۔۔۔۔۔۔۔ جہنم آج نظروں سے اوجھل ہے لیکن قیامت کے دن گمراہ لوگ میدان حشر میں اس کو اپنے سامنے بالکل کھلا پائیں گے۔

۸۳۔۔۔۔۔۔۔ بت پرستوں کے ساتھ ان کے بت بھی جہنم میں جھونک دیے جائیں گے۔ اس وقت بتوں کی بے بسی ان کے پرستاروں پر بالکل عیاں ہو گی کہ یہ اپنے پرستاروں کی مدد کیا کر سکتے ہیں خود اپنے کو بھی نہیں بچا سکتے۔

اور یہی حشر فرعون جیسے سرکش لیڈروں کا بھی ہو گا جو دنیا میں معبود بن بیٹھے تھے کہ وہ اپنے پرستاروں کی مدد کیا کریں گے اپنے ہی کو جہنم سے بچا نہیں سکیں گے۔

۸۴۔۔۔۔۔۔۔ مراد شیاطین ہیں جو لوگوں کو گمراہ کرتے رہے۔

۸۵۔۔۔۔۔۔۔ وہ خدا کی قسم کھا کر اپنی گمراہی کا اعتراف کریں گے۔ گویا انہیں اپنی گمراہی کا یقین اس وقت آ گیا جب وہ اپنے انجام کو پہنچ گئے۔

۸۶۔۔۔۔۔۔۔ مراد گمراہ پیشوا، حکمراں اور لیڈر ہیں۔

۸۷۔۔۔۔۔۔۔ گمراہوں کے جو جگری دوست دنیا میں رہے ہوں گے ان سے دوستی کا کوئی رشتہ آخرت میں باقی نہیں رہے گا۔ اور کوئی نہ ہو گا جو ان کے ساتھ ہمدردی کرے یا ان کے ساتھ ہمدردی کرے یا ان کا غم گسار بن جائے۔

۸۸۔۔۔۔۔۔۔ دنیا میں لوٹنے کی وہ تمنا کریں گے تاکہ مومن بن جائیں لیکن ان کی یہ تمنا پوری نہ ہو سکے گی۔ مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورہ انعام نوٹ ۴۶ تا ۴۸

۸۹۔۔۔۔۔۔۔ یعنی حضرت ابراہیم کا جو واقعہ اوپر بیان ہوا اس میں اس بات کی صریح نشانی موجود ہے کہ بت پر ستی اور شرک کر رہا ہے وہ سرتا سر دعوت حق ہے اور دعوت ابراہیمی سے کچھ بھی مختلف نہیں۔

۹۰۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے نوٹ ۸۔

۹۱۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے نوٹ ۹۔

۹۲۔۔۔۔۔۔۔ حضرت نوح کی سرگزشت تفصیل کے ساتھ سورہ اعراف، سورہ ہود اور سورہ مومنون میں گزر چکی۔

۹۳۔۔۔۔۔۔۔ حضرت نوح کو جھٹلانا تمام رسولوں کو جھٹلانے کے ہم معنی تھا کیونکہ سب کا دین ایک ہی رہا ہے اور سب کی دعوت بھی ایک۔

۹۴۔۔۔۔۔۔۔ حضرت نوح کو ان کی قوم کا بھائی اس بنا پر کہا گیا ہے کہ وہ اس سوسائٹی کے فرد تھے اس لیے نہ زبان کی کوئی مغائرت تھی اور نہ لوگوں کے لیے ان کو پہچاننا مشکل تھا۔

۹۵۔۔۔۔۔۔۔ مراد اللہ سے ڈرنا ہے۔

۹۶۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ نے پیغام پہنچانے کی جو امانت میرے سپرد کی ہے اس کو میں پوری ذمہ داری کے ساتھ ادا کرنے والا ہوں اپنی طرف سے اس میں نہ میں کمی کروں گا اور نہ بیشی۔ اس لیے جو کچھ میں کدا کی طرف سے پیش کر رہا ہوں اس کو امانت سمجھ کر قبول کرو۔

۹۷۔۔۔۔۔۔۔ یہی بات جیسا کہ آگے بیان ہوا ہے ہر رسول نے اپنی قوم سے کہی تھی اس لیے یہ فقرہ انبیاء علیہم السلام کی مشترکہ دعوت کا ترجمان ہے۔ اس سے دعوت کے بعض اہم پہلوؤں پر روشنی پڑ تی ہے۔

۱)۔ اللہ کا ڈر جواس کی عظمت کے تصور سے پیدا ہوتا ہے دین کے لیے بمنزلہ اساس کے ہے اس لیے کھلے الفاظ میں اللہ سے ڈرنے اور اس کا تقویٰ اختیار کرنے کی دعوت دینا چاہیے اور یہ حقیقت ہے کہ جب تک انسان کو اس کے غلط طرز عمل پر متنبہ نہیں کیا جات اور پیش آنے والے خطرات سے آگاہ نہیں کیا جاتا وہ اصلاح کے لیے آمادہ نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ ایک رسول جب دعوت کو لے کر اٹھتا ہے تو وہ خدا سے غافل لوگوں کو چونکاتا ہے ، اس کے عذاب سے ڈراتا ہے اور ان تمام خطرات سے آگاہ کرتا ہے جو آخرت میں پیش آنے والے ہیں۔ انذار (خبردار کرنے ) کا یہ رنگ اس کی دعوت پر غالب ہوتا ہے۔

۲) ” اللہ کا تقویٰ اختیار کرو” کی دعوت میں اللہ کی عبادت اور اس کی اطاعت دونوں کا مطالبہ شامل ہے کیونکہ تقویٰ کے معنی اللہ سے ڈر کر اس کے گناہ سے بچنے اور پرہیز گاری کرنے کے ہیں۔ جو شخص اللہ کی عبادت یکسو ہو کر نہیں کرتا وہ خدا سے بے خوف یعنی تقویٰ کی صفت سے بالکل عاری ہے اور جو شخص اس کی اطاعت نہیں کرتا وہ گناہ پر گناہ کیے چلا جاتا ہے اس لیے وہ تقویٰ سے محروم ہے اور اس کا شمار متقیوں میں نہیں ہو سکتا۔

آیت سے یہ بھی واضح ہوا کہ انبیاء علیہم السلام کی دعوت اللہ کی عبادت اور اطاعت دونوں کی طرف ہوتی ہے۔ قرآن میں اگر ان کی دعوت کو اُعَبْدُوُو اللہَ مَا لَکُمْ مِنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ (اللہ کی عبادت کرو تمہارے لیے اس کے سوا کوئی خدا نہیں ) کے الفاظ میں پیش کر دیا گیا ہے تو دوسرے مقام پر ان کی دعوت کے اس پہلو کو بھی نمایاں کیا گیا ہے کہ اِتَّقُو اللہ (اللہ سے ڈرو) سورہ نوح میں تو حضرت نوح کی دعوت کے دونوں پہلو نیز رسول کی اطاعت کا پہلو بھی سب ایک ساتھ پیش کر دیے گئے ہیں اُعبُد و اللہَ وَاتَّقُوہ وَاَطِیْعُونِ (اللہ کی عبادت کرو، اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو)۔

۳) اللہ کی عبادت و اطاعت کے ساتھ وقت کا رسول اپنی اطاعت کا بھی مطالبہ کرتا رہا ہے واطیعون (اور میری اطاعت کرو) یہ اس لیے بھی کہ رسول اسی لیے بھیجا جاتا ہے کہ اللہ کے اذن سے اس کی اطاعت کی جائے اور اس لیے بھی کہ رسول کی اطاعت اللہ کی اطاعت کی عملی جامہ پہنانے کے لیے جن تفصیلات کی ضرورت ہوتی ہے ان کو ایک رسول ہی اپنے قول و عمل سے واضح کر دیتا ہے اس لیے یہ خیال کرنا صحیح نہیں کہ رسول کی حیثیت محض پیغام پہنچا دینے والے کی ہے بلکہ وہ عملی رہنمائی کا ذمہ دار بھی ہے اور لوگوں پر اس کی اتباع اور اطاعت واجب ہے۔

یہ ہیں انبیائی دعوت کی خصوصیات مگر موجودہ زمانہ میں جو اسلامی تحریکیں اٹھی ہیں وہ خدا کا خوف پیدا کرنے کا سامان اتنا نہیں کرتیں جتنا کہ اسلام کے سیاسی و اجتماعی نظام کی تشریح و توضیح کا سامان کرتی ہیں۔ وہ لوگوں میں نجات اخروی کی فکر پیدا کرنے سے زیادہ دنیا میں صالح معاشرہ کے قیام کی فکر پیدا کرتی ہیں ، وہ غیر اللہ کی پرستش پر لوگوں کو جہنم کی وعید سنانے کا اہتمام تو بہت کم کرتی ہیں البتہ انسان کو انسان کی غلامی سے نجات دلانے کا نعرہ پورے زور سے لگاتی ہیں۔ نتیجہ یہ کہ دعوت دوسرے رخ پر جا پڑ تی ہے اورت اس کی سپرٹ بھی متاثر ہو جاتی ہے۔

۹۸۔۔۔۔۔۔۔ ایک نبی کی زندگی اس کے مخلص اور بے لوث ہونے کا واضح ثبوت ہوتی ہے اس لیے اس کا یہ دعویٰ کہ میرے پیش نظر تمہاری بھلائی کے سوا اور کچھ نہیں ہے اور صرف اللہ ہی سے اجر کا امید وار ہوں اپنی دلیل آپ ہوتا ہے۔

۹۹۔۔۔۔۔۔۔ حضرت نوح نے اپنی یہ دعوت پھر دہرائی یہ واضح کرنے کے لیے کہ میرا مطالبہ تم سے مال کا نہیں بلکہ دعوت کے قبول کرنے کا ہے اور میں یہ خدمت بے لوث ہو کر انجام دے رہا ہوں جس میں تمہارے لیے شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

۱۰۰۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ ہود نوٹ ۴۱۔

۱۰۱۔۔۔۔۔۔۔ یعنی میں ان کے ظاہری عمل کو جانتا ہوں اور اس لحاظ سے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں۔ رہے ان کے پوشیدہ اعمال تو اللہ ہی کو اس کا علم ہے۔ غیب کی باتیں مجھے کیا معلوم۔ پھر میں کس بنیاد پر انہیں رذیل قرار دوں جب کہ میرے علم میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو انہیں رذیل ٹھیراتی ہو۔

حضرت نوح کے جواب سے واضح ہوا کہ ان کے ساتھیوں پر رذیل (غیر شریف) ہونے کا الزام سراسر جھوٹ تھا۔

۱۰۲۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لئے دیکھئے سورۂ ہود نوٹ ۴۴۔

۱۰۳۔۔۔۔۔۔۔ قوم کی جسارت دیکھیے کہ جو شخصیت ان کے درمیان سب سے زیادہ قدر کی مستحق تھی اور جس نے ان کی خیر خواہی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی اس کی تواضع وہ پتھّر سے کرنا چاہتے تھے۔ جن لوگوں کی عقل پر پتھر پڑ جاتے ہیں وہ ایسی ہی باتیں کرتے ہیں۔

۱۰۴۔۔۔۔۔۔۔ یہ دعا حضرت نوح نے اس وقت کی جب کہ طویل دعوتی جد و جہد کے بعد ان کو اپنی قوم کے ایمان لانے کی کوئی امید باقی نہیں رہی۔

۱۰۵۔۔۔۔۔۔۔ مراد دو ٹوک فیصلہ ہے جو کافروں کے لیے عذاب اور مومنوں کے لیے نجات کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔

۱۰۶۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ایسی کشتی جو ایمان لانے والوں سے اور کام آنے والے جانوروں سے بھری ہوئی تھی۔

۱۰۷۔۔۔۔۔۔۔ قوم نوح کے غرق ہونے کا قصہ سورہ ہود آیت۳۷ تا ۴۴ میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔

۱۰۸۔۔۔۔۔۔۔ نشانی اس بات کی کہ رسول کی مخالفت کرنے والی قوم پر اللہ کا قہر نازل ہوتا ہے اور وہ اس طرح تباہ کر دی جاتی ہے کہ اس کا ایک فرد بھی ہلاکت سے نہیں بچتا جب کہ رسول اور اس کے وہ تمام ساتھ جو اس پر ایمان لا چکے ہوتے ہیں اس طرح بچا لیے جاتے ہیں کہ ان میں سے ایک فرد بھی عذاب کی زد میں نہیں آتا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کرشمہ کا ظہور تاریخ کی واضح شہادت ہے۔

مگر تعجب ہے کہ تاریخ کی ان واضح شہادتوں کو جن کی نشاندہی قرآن کرتا ہے تاریخ کی موجودہ کتابوں میں ڈھونڈنا پڑ تا ہے کیوں کہ مورخین نے اپنی مخصوص ذہنیت کے تحت ان سے بے اعتنائی برتی ہے اور ہمارے ملک میں دنیا کی جو تاریخ کالجوں میں پڑھائی جاتی ہے اس میں قوموں کے عروج و زوال کا یہ اہم ترین پہلو سرے سے زیر بحث لایا ہی نہیں گیا ہے۔ کیسے عجیب ہیں یہ مورخ اور کیسی عجیب ہیں ان کی یہ کتابیں !

۱۰۹۔۔۔۔۔۔۔ عاد کا قصہ سورہ اعراف آیت ۶۵تا ۷۲، سورہ ہود آیت ۴۸ تا ۶۰ میں تفصیل سے بیان ہوا ہے اس کے تشریحی نوٹ نیز سورہ فجر کے تشریحی نوٹ ۸ تا ۱۱ میں پیش نظر رہیں۔

۱۱۰۔۔۔۔۔۔۔ اس کی تشریح اوپر نوٹ ۹۷ میں گزر چکی۔

۱۱۱۔۔۔۔۔۔۔ وہ ٹیلوں اور پہاڑ یوں پر ایسی عمارتیں تعمیر کرتے تھے جو کسی جائز تمدنی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے نہیں ہوتی تھیں بلکہ ان کا مقصد قومی یاد گاروں کو قائم کرنا تھا تا کہ ان پر فخر کیا جا سکے دنیا پرست ایسی عمارتوں کو دیکھ کر بنانے والے کے فن تعمیر کی داد دیتے ہیں۔ مگر اسلام کی نظر میں یہ سب فضول کام ہیں کیونکہ اپنی قوتوں اور وسائل کو نمائشی کاموں میں لگانے سے آدمی اپنے مقصد حیات سے غافل ہو جاتا ہے اور آخرت کے بجائے دنیا ہی کو منزل مقصود سمجھنے لگتا ہے۔

اس سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ اسلام تمدنی زندگی کے لیے بھی ہدایت دیتا ہے اور لوگوں کو من مانی کرنے کی آزادی نہیں دیتا۔ قرآن کی اس گرفت کے باوجود جو اس نے فضول یادگاریں قائم کرنے پر کی ہے مسلمان حکمراں اپنی یادگاریں قائم کرنے کا شوق پورا کرتے رہے جس کی مثالیں دہلی کا قطب مینار اور آگرہ کا تاج محل ہے۔ مسلمان ان یادگاروں کو اپنا قومی اثاثہ سمجھتے ہیں اور ان پر فخر کرتے ہیں جب کہ اسلام کے نقطہ نظر سے یہ ایک فضول اور مصرفانہ کام تھا جو قابل فخر نہیں بلکہ قابل افسوس ہے۔ اور اس سے زیادہ قابل اعتراض وہ شاندار درگاہیں اور روضے ہیں جو بزرگوں کی عقیدت میں تعمیر کیے گئے ہیں اور شرک اور گمراہی کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔

۱۱۲۔۔۔۔۔۔۔ جو لوگ دنیا کو امتحان گاہ نہیں بلکہ عشرت کدہ سمجھتے ہیں ان کے ہاتھ میں جب دولت آ جاتی ہے تو وہ شاندار محل تعمیر کر کے داد عیش دینے لگتے ہیں جس کا ایک نمونہ قدیم ترین زمانہ میں قوم عاد تھی۔ قرآن کی اس سخت تنبیہ کے باوجود مسلمان حکمرانوں نے بھی اپنی شان و شوکت کے اظہار کے لیے بڑ ے بڑ ے اور شاندار محل تعمیر کیے۔ غرناطہ اسپین کا الحمراء اور جنۃ العریف اور دہلی کے لال قلعہ کے دیوان خاص اس کی عبرت ناک مثالیں ہیں۔ جواہرات سے مرصع دیوان خاص پر تو اس کو جنت کا نمونہ بنانے کا دعویٰ بھی کندہ ہے ؃

اگر فردوس بر روئے زمیں است

ہمین است و ہمین است وہمین است

مگر اب مکاں رہ گیا مکیں نہ رہے۔

۱۱۳۔۔۔۔۔۔۔ یعنی تمہاری پکڑ بڑ ی ظالمانہ ہوتی ہے۔ سوسائٹی کا مالدار طبقہ غریب طبقہ کو بری طرح ظلم کے شکنجہ میں لے لیتا ہے۔ آیت کا اشارہ غالباً اسی صورت حال کی طرف ہے۔

۱۱۴۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ سے ڈرو اور یہ غلط کام نہ کرو۔

۱۱۵۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جو قدرتی نعمتیں تم کو عطا ہوئی ہیں ان سے فائدہ اٹھاؤ اور تعیشات میں نہ پڑ و جس نے یہ نعمتیں تمہیں عطا کی ہیں وہ ان کو چھین بھی سکتا ہے لہٰذا اس سے ڈرو۔

۱۱۶۔۔۔۔۔۔۔ سخت دن ایک تو وہ ہو گا جب ان پر دنیا ہی میں اللہ کا عذاب نازل ہو گا اور دوسرا قیامت کا دن۔ دن کا سخت ہونا عذاب ہونے کی تعبیر ہے۔

۱۱۷۔۔۔۔۔۔۔ ان کے اس جواب سے واضح ہے کہ وہ نصیحت کی کوئی بات سمجھنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

۱۱۸۔۔۔۔۔۔۔ یعنی نصیحت کرنا اور وعیدیں سنانا گزرے ہوئے لوگوں کا بھی طریقہ رہا ہے مگر اس کی حقیقت کچھ بھی نہیں اور نہ کسی پر عذاب آتا ہے۔

۱۱۹۔۔۔۔۔۔۔ عاد کی ہلاکت کی تفصیل سورہ ذاریات آیت ۴۱ اور سورہ حاقہ آیت ۶ میں بیان ہوئی ہے۔

۱۲۰۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے نوٹ ۱۰۸۔

۱۲۱۔۔۔۔۔۔۔ ثمود کی سرگزشت سورہ اعراف آیت ۷۳ تا ۷۹ سورہ ہود آیت ۶۱ تا ۶۸ اور سورہ فجر نوٹ ۸۰ تا ۸۴ میں گزر چکی۔ ان کے تشریحی نوٹ پیش نظر رہیں نیز سورہ فجر نوٹ ۱۲ تا ۱۴ اور سورہ شمس نوٹ ۱۱ تا ۱۷ بھی۔

۱۲۲۔۔۔۔۔۔۔ اس کی تشریح اس سورہ کے نوٹ ۹۷ میں گزر چکی۔

۱۲۳۔۔۔۔۔۔۔ یعنی کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ جو نعمتیں تمہیں عطا ہوئی ہیں وہ ہمیشہ تمہارے ساتھ رہیں گی۔ نہ یہ نعمتیں کبھی تم سے چھین لی جائیں گی اور نہ ان کے بارے میں تم سے کبھی باز پرس ہو گی کہ تم نے ان کو کس طرح استعمال کیا اور ان نعمتوں کو پا کر اپنے محسن حقیقی کا شکر ادا کرتے رہے یا ناشکری کی ؟

۱۲۴۔۔۔۔۔۔۔ معلوم ہوا کہ جس علاقہ میں ثمود آباد تھے وہاں اللہ تعالیٰ نے سر سبز باغ، کھیتیاں اور نخلستان (کھجور کے باغ) پیدا کریے تھے۔ اور عرب کے ریگستانی علاقہ میں یہ سر سبزی و شادابی بہت بڑ ی نعمت تھی۔

۱۲۵۔۔۔۔۔۔۔ متن میں لفظ فارھین استعمال ہوا ہے جس کے معنی فنی کمال کا ثبوت دینے کے بھی ہیں اور فخر کرنے اور اترانے کے بھی پہاڑوں کو تراش کر مکان بنا لینا اپنی واقعی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنے فن تعمیر کے مظاہرہ کے لیے تھا اور اس لیے تھا کہ وہ اپنے پیچھے قومی یادگاریں چھوڑیں تاکہ آنے والی نسلیں ان کے کمال فن کی داد دیں۔ ایلوا اور اجنتا کے تراشے ہوئے غار جو مشرکین ہند کے لیے سرمایہ فخر ہیں ثمودی طرز تمدن کا نمونہ پیش کرتے ہیں ان کا آرٹ بت پرستی اور بے حیائی دونوں کو فروغ دینے والا ہے۔ مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورہ اعراف نوٹ ۱۲۰ اور سورہ حجر نوٹ ۸۲ ۔

۱۲۶۔۔۔۔۔۔۔ حد سے گزرنے والے (مسرفین) سے مراد وہ لوگ ہیں جو حدود بندگی، حدود اخلاق اور حدود انسانیت سب سے تجاوز کر جاتے ہیں۔ وہ اپنے کو ان سب قیود سے آزاد اور خود مختار سمجھتے ہیں۔ ‘

۱۲۷۔۔۔۔۔۔۔ ایسے لوگ سوسائٹی کے لیے ناسور ہوتے ہیں اس لیے وہ اصلاح کا کام کیا کریں گے ہر طرح کی خرابی اور فساد ہی کا سبب بنتے ہیں۔ مگر لوگ ان لیڈروں کے اصلاحی کاموں کے دعوے سے متاثر ہو کر ان کے پیچھے چل پڑ تے ہیں۔

۱۲۸۔۔۔۔۔۔۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ جادو ذہنی قویٰ کو متاثر کر کے اسے پاگل اور خبطی بنا دیتا ہے۔ حضرت صالح کی بات کا کوئی معقول جواب ان کے پاس نہیں تھا اس لیے انہوں نے ان پر یہ الٹا الزام لگایا کہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے تم پر جادو کیا ہے اور اس کے زیر اثر تم یہ بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو۔

واضح رہے کہ جادو اور ٹونے ٹوٹکے میں ہر گز یہ اثر نہیں ہے کہ وہ کسی کو پاگل بنا دے۔ یہ محض وہم ہے جو آج بھی لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ اگر اس میں یہ اثر ہوتا تو جادو گر بادشاہوں اور حکمرانوں کو پاگل بنا کر ان کی سلطنت کا خاتمہ کر سکتے تھے مگر ایسا کبھی نہیں ہوا ہٹلر کی ظالمانہ کاروائیوں سے دنیا پریشان آ گئی تھی لیکن دنیا کا کوئی جادوگر ایسا نہیں ہوا جو اسے جادو کے سیر اثر پاگل بنا دیتا اور دنیا کو اس سے نجات مل جاتی۔

۱۲۹۔۔۔۔۔۔۔ یعنی نہ تم پر آسمان سے وحی آتی ہے اور نہ رسالت کا منصب تم کو حاصل ہے۔

۱۳۰۔۔۔۔۔۔۔ یہ اونٹنی کوئی عام اونٹنی نہیں تھی بلکہ ایک غیر معمولی اونٹنی تھی جس کا ظہور معجزہ کے طور پر ہوا تھا۔ قرآن کہتا ہے کہ ثمود نے اپنے پیغمبر سے نشانی یعنی حسی معجزہ طلب کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ مطالبہ اونٹنی کی شکل میں پورا کیا تھا تاکہ حضرت صالح کے رسول ہونے کا واضح ثبوت ہو۔

مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ اعراف نوٹ ۱۱۹۔

۱۳۱۔۔۔۔۔۔۔ اونٹنی کے پانی پینے کے لیے ایک دن کی باری مقرر کرنا اونٹنی کے غیر معمولی ہونے کی واضح دلیل ہے اگر معمولی اونٹنی ہوتی تو اس کے لیے پانی کی ضرورت اس وافر مقدار میں نہ ہوتی کہ اس کے لیے پانی پینے کے لیے پورا دن مخصوص کر دیا جاتا۔

ثمود کے مطالبہ پر جب اللہ تعالیٰ نے معجزہ ظاہر کر دیا تو اس میں ان کی آزمائش کا سامان رکھ دیا اور وہ یہ کہ کنوؤں اور چشموں سے پانی لینے کے لیے باری مقرر کر دی۔ ایک دن تمام کنویں اور چشمے اللہ کی اونٹنی کے پانی پینے کے لیے خاص ہو گا اور دوسرے دن لوگ اپنے لیے پانی لے سکیں گے اور اپنے جانوروں کو بھی پلا سکیں گے۔ یہ سخت امتحان تھا اور اللہ جس طرح چاہتا ہے اپنے بندوں کا امتحان لیتا ہے۔

۱۳۲۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ اعراف نوٹ ۱۱۹۔

۱۳۳۔۔۔۔۔۔۔ یہ ندامت احساس گناہ کے نتیجہ میں نہیں تھی ورنہ وہ اللہ کے حضور توبہ کرتے بلکہ عذاب کے اندیشہ سے تھی۔ اگر چہ وہ عذاب کا انکار کر رہے تھے مگر اونٹنی کو قتل کرنے کے بعد ان کے دل میں یہ خدشہ پیدا ہوا ہو گا کہ اگر حضرت صالح کی بات صحیح ہوئی تو ہم پر آفت آ سکتی ہے۔ اس خدشہ کی وجہ سے وہ اپنے کیے پر پچھتانے لگے۔

۱۳۴۔۔۔۔۔۔۔ ثمود پر جس قسم کا عذاب آیا اس کی تفصیل سورہ اعراف میں آیت ۷۸ میں بیان ہوئی ہے۔

۱۳۵۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو اس سورہ کا نوٹ ۱۰۸۔

۱۳۶۔۔۔۔۔۔۔ حضرت لوط کی سرگزشت سورہ اعراف آیت ۸۰ تا ۸۴، سورہ ہود آیت ۷۷ تا ۸۳ اور سورہ حجر آیت ۸۵ تا ۷۷ میں گزر چکی تشریح کے لیے ان کے نوٹ دیکھ لیے جائیں۔

۱۳۷۔۔۔۔۔۔۔ حضرت لوط کی دعوت وہی تھی جو تمام رسولوں کی رہی ہے یعنی ” اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو” لیکن خصوصیت کے ساتھ انہوں نے ایک ایسی برائی پر انہیں تنبیہ کی جو اخلاقی لحاظ سے بڑ ی گھناؤنی تھی اور جس میں سوسائٹی بری طرح مبتلا تھی یعنی امرد پرستی (مردوں کا لڑکوں سے جنسی تعلق قائم کرنا)۔

اس سے دعوت و اصلاح کے سلسلے میں یہ اصولی بات بھی واضح ہوتی ہے کہ انبیاء علیہم السلام جہاں توحید و آخرت کی دعوت کو ہر قسم کی فکری و عملی اصلاح کے لیے بنیاد کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں وہاں ان بڑ ی بڑ ی برائیوں پربھی سخت گرفت کرتے ہیں جن کا منکر ہونا خلاف فطرت ہونے کی وجہ سے محتاج دلیل ہوتا ہے اور جو وبا کی طرح سوسائٹی میں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔ مردوں کا نو عمر لڑکوں سے شہوانی تعلق قائم کرنا ایک صریح منکر تھا اس لیے حضرت لوط نے اپنی بنیادی دعوت کے ساتھ اس کی اصلاح کے لیے آواز اٹھائی اور اس پر قوم کو سخت جھنجوڑا۔

۱۳۸۔۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے عورتیں اس لیے پیدا کی ہیں تاکہ وہ مردوں کے لیے زوج (جوڑا) ہوں مگر اندھی خواہشات انسان کو اندھا بنا دیتی ہیں۔ پھر وہ خلاف فطرت کام کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا۔ بیویوں کو چھوڑ کر اغلام بازی جیسے گھناؤنے افعال میں وہی لوگ مبتلا ہوتے ہیں جو فطری اور اخلاقی حدوں کی پابندی سے آزاد ہوتے ہیں۔

۱۳۹۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جو نصیحت ہمیں کر رہے ہو اس سے اگر باز نہ آئے۔ مطلب یہ کہ بس کرو اپنی یہ نصیحت اور ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دو۔

۱۴۰۔۔۔۔۔۔۔ یعنی تم کو زبردستی اس ملک سے باہر نکال دیا جائے گا۔ یہ مجرموں کی طرف سے چیلنج تھا جو حضرت لوط کو دیا گیا۔

۱۴۱۔۔۔۔۔۔۔ حضرت لوط نے مجرموں کے چیلنج کا جواب یہ دیا کہ جس بد عملی میں تم مبتلا ہو وہ سخت قابل نفرت ہے اس لیے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں اس پر اظہار نفرت نہ کروں۔ اچھی طرح سن لو کہ میں اس سے بیزار ہوں۔

۱۴۲۔۔۔۔۔۔۔ یہ دعا حضرت لوط نے اس وقت کی جب کہ ان کی دعوتی اور اصلاحی جدوجہد کو قوم کسی طرح برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئی اور انہوں نے حضرت لوط کے خلاف اقدام کرنے کی ٹھان لی۔

گندہ عمل کرنے والوں کی کثرت پورے ماحول کو گندہ بنا دیتی ہے ایسے ماحول میں کوئی نفاست پسند آدمی سانس لینا بھی پسند نہیں کرتا اس لیے جب اصلاح کی امیدیں ختم ہو گئیں تو حضرت لوط نے اسی گندے ماحول سے نجات کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔

۱۴۳۔۔۔۔۔۔۔ معلوم ہوتا ہے حضرت لوط پر ایمان لانے والے ان کے خاندان ہی کے افراد تھے۔

۱۴۴۔۔۔۔۔۔۔ یہ حضرت لوط کی بیوی تھی جو ایمان نہیں لائی تھی۔

واضح رہے کہ اس زمانہ میں مسلم معاشرہ کا کہیں وجود نہیں تھا سوائے چند افراد کے۔ اس لیے نکاح کے سلسلے میں شریعت کے احکام بھی نرم تھے۔ ایک نبی جس قوم سے تعلق رکھتا تھا شادی بیاہ بھی اسی میں کر سکتا تھا اس لیے بعض انبیاء کو ایسی بیویوں سے سابقہ پڑا جو باوجود ان کی کوششوں کے ایمان نہیں لائیں۔

۱۴۵۔۔۔۔۔۔۔ یعنی کفر کرنے والوں کو۔

۱۴۶۔۔۔۔۔۔۔ مراد پتھروں کی بارش ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورہ ہود نوٹ ۱۱۸۔

۱۴۷۔۔۔۔۔۔۔ اس کی تشریح اوپر نوٹ ۱۰۸ میں گزر چکی۔

۱۴۸۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ حجر نوٹ ۷۷۔

۱۴۹۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سور اعراف نوٹ ۱۳۷ اور سورہ مطففین نوٹ ۱۔

۱۵۰۔۔۔۔۔۔۔ معلوم ہوا کہ ترازو کو درست رکھنا اور کاروبار میں دیانت داری برتنا اخلاق کا تقاضا بھی ہے اور انبیاء علیہم السلام کی شریعت کا ایک اہم جز بھی۔

موجودہ زمانہ میں وزن کرنے کے لیے مختلف قسم کے ترازو ایجاد ہو گئے ہیں جن میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ شکل الکٹرونک ترازو (Electronic Scale) کی ہے۔ مگر ہر ترازو کا درست ہونا ضروری ہے تاکہ کم تولا نہ جائے۔

۱۵۱۔۔۔۔۔۔۔ یعنی دنیا میں بگاڑ پیدا نہ کرو۔ فساد کے مفہوم میں ہر قسم کی ظلم و زیادتی شامل ہے۔

۱۵۲۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اگر اپنی رسالت کے دعوے میں سچے ہو تو یہ معجزہ دکھاؤ کہ آسمان کا ٹکڑا ہم پر آ گرے۔

۱۵۳۔۔۔۔۔۔۔ یعنی تم پر اگر عذاب ابھی نہیں آ رہا ہے تو یہ نہ سمجھو کہ اللہ تمہارے ان کرتوتوں سے بے خبر ہے۔ وہ باخبر ہے اور ان کا نوٹس لے گا۔

۱۵۴۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے آسمان کا ٹکڑا گرا دینے کا مطالبہ کیا تھا اس لیے ان پر عذاب سائبان (بادل) کی شکل میں آیا۔ سورہ ہود میں قوم شعیب کے عذاب کو صیحہ (ہولناک آواز) سے اور سورہ اعراف میں رجفہ (لرزا دینے والی آفت) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے پہلے بادلوں نے ان کو ڈھانک لیا اور وہ سمجھے کہ یہ سخت تپش میں ہمارے لیے چھتری (سائبان) بن گیا ہے لیکن اس میں سے بجلی شدید چنگھاڑ کے ساتھ ان پر گر گئی جس نے ان کو ایسا لرزا دیا کہ اوندھے منہ زمین پر گرے اور ہلاک ہو کر رہ گئے۔

۱۵۵۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے اوپر ۱۰۸۔

۱۵۶۔۔۔۔۔۔۔ انبیاء علیہم السلام کی سرگزشتیں سنانے کے بعد اب پھر سلسلہ کلام قرآن اور اس کے پیغمبر کی طرف لوٹ آیا ہے۔

۱۵۷۔۔۔۔۔۔۔ روح الامین کے معنی ہیں امانت دار روح۔ مراد حضرت جبرئیل ہیں جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا:

قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّ الجِبْرِیلَ فَاِنَّہٗ نَزَّ لَہٗ عَلیٰ قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللہِ (بقرہ۔ ۹۷) “کہو جو جبرئیل کا دشمن ہوا تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ جبرئیل نے اللہ کے اذن سے یہ (قرآن) تمہارے دل پر اتارا ہے ”

اور واضح کرنا یہ مقصود ہے کہ نزول وحی کا ذریعہ مادی نہیں بلکہ روحانی ہے۔ پیغام لانے والا ایک فرشتہ ہے جس کی حقیقت روح ہے جو نہایت لطیف شئے ہوتی ہے اور دکھائی نہیں دیتی۔ پھر یہ فرشتہ غایت درجہ امانت دار ہے جو پیغام اللہ تعالیٰ اس کے سپرد کرتا ہے وہ اسے بے کم و کاست اس کے رسول تک پہنچا دیتا ہے۔

۱۵۸۔۔۔۔۔۔۔ قلب انسان کے اندر وہ مرکزی چیز اور اشرف مقام ہے جو معنوی چیزوں کو قبول کرنے اور ان کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ” تمہاری یاد میرے دماغ میں ہے ” کیونکہ دماغ محض آلہ ہے جب کہ دل محفوظ رکھنے کی جگہ۔ اور قلب سے مراد گوشت کا وہ لوتھڑا نہیں ہے جو جسم میں خون پھیلاتا ہے بلکہ وہ باطنی وقت ہے جو اس جگہ ہوتی ہے۔ جس طرح ہم برقی رو کو دیکھ نہیں سکتے اسی طرح دل کا آپریشن کرنے پر بھی ہم نہ باطنی قوتوں کا مشاہدہ کر سکتے ہیں اور نہ روح کا۔

پیغمبر کے قلب مصفّٰی پر وحی کے نزول کا مطلب یہ ہے کہ حضرت جبرئیل وحی کو براہ راست آپ کے دل پر اتارتے تھے اس طور سے کہ آپ کے لوح دل پر اس کا ایک ایک لفظ مرتسم (نقش) ہو جاتا تھا۔ اس لیے اس میں بھول چوک کا سرے سے امکان ہی نہیں ہے۔

۱۵۹۔۔۔۔۔۔۔ یعنی فاسد عقائد و اعمال کے برے انجام سے۔

۱۶۰۔۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ قرآن عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے اور ایسی عربی میں جو اپنے مفہوم اور مدعا کو بخوبی واضح کرنے والی ہے۔

قرآن کے اس بیان سے واضح ہوا کہ قرآن وہی ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان سے ادا ہوا ہے اور جو عربی زبان میں مصحف کی شکل میں محفوظ ہے۔ رہے اس کے ترجمے تو وہ اس کے معنی اور مفہوم کو ادا کرنے کی انسانی کوشش ہے۔ اس لیے کسی بھی ترجمہ کو خواہ وہ عربی میں ہی کیوں نہ کیا گیا ہو نہ قرآن کہا جا سکتا ہے اور نہ کلام الٰہی بلکہ قرآن کا ترجمہ اور معانی ہی کہا جا سکتا ہے لہٰذا تلاوت اور نماز میں قرآن پڑھنا ضروری ہے جو اللہ تعالیٰ نے بہ زبان عربی اتارا ہے۔

۱۶۱۔۔۔۔۔۔۔ یہ مطلب نہیں ے کہ قرآن ان ہی الفاظ میں لکھا ہوا اگلے صحیفوں میں موجود تھا بلکہ مطلب یہ ہے کہ قرآن کی تعلیم اور ہدایت وہی ہے جو سابقہ کتب آسمانی کی رہی ہے اس لیے وہ اپنی اصل کے اعتبار سے ان کتابوں میں موجود رہا ہے نیز ان میں ایسی پیشن گوئیاں بھی موجود ہیں جو اس پیغمبر کی بعثت اور اس پر کلام الٰہی کے نزول پر دلالت کرتی ہیں۔

۱۶۲۔۔۔۔۔۔۔ یعنی بنی اسرائیل کے علماء اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ قرآن توحید کی جو دعوت پیش کر رہا ہے وہی دعوت تورات اور دوسری آسمانی کتب کی رہی ہے۔ بت پرستی جس کو قریش نے جائز ٹھیرا لیا ہے تمام سابقہ کتب اس کے مشرک اور باطل ہونے پر متفق ہیں۔ قرآن کہتا ہے انسان کو قیامت کے دن دوبارہ اٹھایا جائے گا تاکہ ہر شخص اپنے عمل کا بدلہ پائے۔ مشرکین مکہ اس کو نا ممکن خیال کرتے ہیں لیکن بنی اسرائیل کے علماء جانتے ہیں کہ ان کی کتابوں میں آخرت کا یہی تصور پیش کیا گیا ہے اسی طرح وہ اس بات سے بھی انکار نہیں کر سکتے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کی ہدایت کے لیے انسانوں ہی میں سے رسول بھیجتا رہا ہے اور ان پر وحی اور کتاب نازل فرماتا رہا ہے۔ اگر بنی اسرائیل کے علماء جو تورات کے حامل ہیں اگر ان میں سے کسی بات سے بھی انکار نہیں کرسکتے تو کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ قرآن کوئی نئی دعوت نہیں پیش کر رہا ہے یہ انبیائی دعوت ہی کی تجدید ہے۔

۱۶۳۔۔۔۔۔۔۔ یعنی غیر عرب پر۔

۱۶۴۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اگر کسی غیر عرب پر قرآن نازل کیا جاتا تو انکار کے لیے ان کو یہ بہانا مل جاتا کہ عرب قوم کے لیے قرآن غیر عرب شخص پر کیوں نازل کیا گیا۔ چنانچہ بنی اسرائیل کے انبیاء پر جو کتابیں نازل ہوئی تھیں ان کی مشرکین عرب نے قبول نہیں کیا مگر اب جبکہ ایک عرب شخصیت پر ہی عربی میں قرآن نازل کیا گیا تو ان کے لیے اس عذر کو پیش کرنے کا بھی کوئی موقع باقی نہیں رہا۔ مطلب یہ ہے کہ عرب قوم میں رسول عربی کی بعثت اور عربی قرآن کے نزول نے ان پر اللہ کی حجت پوری طرح قائم کر دی ہے۔

واضح رہے کہ اس کا یہ مطلب لینا ہر گز صحیح نہیں کہ قرآن غیر عربوں کے لیے حجت نہیں ہے اس کا پیغام جن جن قوموں تک پہنچ جائے ان سب کے لیے حجت ہے خواہ وہ عربی جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں۔ امت مسلمہ کے ذریعہ جو قرآن کی شہادت ہی کے لیے برپا کی گئی ہے قرآن کے پیغام کا پہنچنا حجت کا قائم ہو جانا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قیصر و کسریٰ کو دعوت دی جو غیر عرب تھے چنانچہ قیصر نے آپ کا نامہ مبارک جس میں قرآن کی آیت بھی درج تھی ایک ترجمان سے پڑھوایا اور خلفائے راشدین نے غیر عرب اقوام کے خلاف فوجی کار روائی کرنے سے پہلے انہیں قبول اسلام کی دعوت دی۔

۱۶۵۔۔۔۔۔۔۔ یعنی کوئی نہ کوئی حیلہ بہانا کر کے کتاب الٰہی کا ماننے سے انکار کیا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کا قانون ضلالت ان پر لاگو ہو گیا ہے اور اللہ کا قانون ضلالت یہ ہے کہ جو شخص آنکھیں بند کیے رہتا ہے اسے آفتاب عالمتاب بھی دکھائی نہیں دیتا۔ اس کے لیے تاریکی میں بھٹکنا مقدر ہے۔

مجرم سے مراد ہٹ دھرم لوگ ہیں جو اپنے شرک اور کفر پر جمے رہنا چاہتے ہیں۔

۱۶۶۔۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ لوگ دلیل سے بات ماننے والے نہیں ہیں۔ مانیں گے تو اس وقت جب عذاب آ نمودار ہو گا مگر اس وقت ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں۔

۱۶۷۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اگر ہم نے ان کی مہلت میں اضافہ کیا اور انہیں دنیا میں عیش و عشرت کا کچھ اور موقع مل گیا تو اس سے ان کو کیا فائدہ جب کہ ان کو ایک نہ ایک دن اپنے برے انجام سے دوچار ہونا ہی ہے۔

۱۶۸۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ایسی تمام بستیوں کی طرف رسول بھیجے گئے تھے جنہوں نے اللہ سے نہ ڈرنے کے انجام سے خبردار کر دیا تھا۔

۱۶۹۔۔۔۔۔۔۔ یہ رسول تنبیہ کے ساتھ یاد دہانی اور نصیحت بھی کرتے رہے تاکہ بات ایک طریقہ سے نہیں تو دوسرے طریقہ سے سمجھ میں آئے۔

۱۷۰۔۔۔۔۔۔۔ اگر کوئی شخص اپنے اوپر مٹی کا تیل چھڑ ک کر آگ لگا دے تو وہ جل کر رہے گا۔ وہ اپنی اس حرکت کے بعد اپنی ہلاکت کی ذمہ داری خدا پر نہیں ڈال سکتا۔ اسی طرح جو لوگ اپنے کو عقیدہ و عمل کی اس راہ پر ڈال دیتے ہیں جہاں آتش فشانی لاوا ابلتا ہے تو وہ ضرور ہلاک ہو کر ہیں گے اور وہ اپنی اس ہلاکت کی ذمہ داری اللہ پر نہیں ڈال سکتے جب کہ اس نے اپنے رسولوں کے ذریعہ اس کو اس راہ کے پر خطر ہونے سے آگاہ کر دیا تھا۔

۱۷۱۔۔۔۔۔۔۔ مشرکین مکہ نے جب دیکھا کہ قرآن ایک غیر معمولی کلام ہے جو غیب کی خبریں دے رہا ہے تو انہوں نے اس کی توجیہ یہ کی یہ القائے شیطانی ہے یعنی شیطانوں نے (نعوذ باللہ) نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے دل میں یہ باتیں ڈال دی ہیں۔ اسی کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ نہ یہ کام شیطانوں کے لائق ہے اور نہ ان کے بس کی بات ہے۔ شیطانوں کو تو شر سے دلچسپی ہوتی ہے وہ ایک ایسا کلام کیوں نازل کرنے لگیں جو سر تا سر خیر ہو؟ قرآن کی تعلیم تو عقیدہ و عمل اور اخلاق و کردار کی پاکیزگی کی تعلیم ہے شیطانوں کو ایسی تعلیم سے کیا مناسبت ہو سکتی ہے ؟ اور ان کے بس میں یہ کہاں ہو سکتا ہے کہ وہ قرآن جیسا بلند پایہ کلام نازل کریں جس کا ایک ایک لفظ حق و صداقت کی شہادت دیتا ہے۔ جو انسانی زندگی کے راز سربستہ کو کھولتا اور اس کی منزل متعین کرتا ہے ، وہ کائنات کے اسراء سے پردہ اٹھاتا اور غیبی حقائق کو پیش کرتا ہے ، اس کی دعوت فطرت کی پکار اور عقل کے لیے روشنی ہے۔ اس کے الفاظ نہایت جچے تلے اور معانی سے پُر ہیں اور بندش ایسی کہ ایک لفظ ادھر سے اُدھر نہیں کیا جا سکتا اور کلمات ایسے بلیغ اور مؤثر ہیں کہ بات براہ راست دل میں اتر جاتی ہے۔

ان تمام حقائق سے صرف نظر کر کے قرآن کو شیطانی الہام کا نتیجہ قرار دینا ایسے ہی لوگوں کا کام ہو سکتا ہے جو عقل و ہوش سے کام لینا نہ چاہتے ہوں۔ موجودہ زمانہ میں رشدی نے قرآنی آیات کو شیطانی آیات (Satanic Verses) سے تعبیر کر کے اسی ذہنیت کا ثبوت دیا ہے جس ذہنیت کا ثبوت نزول قرآن کے زمانہ کے منکرین دے رہے تھے اور اس کو ” شاباشی” بھی شیطانوں ہی کی طرف سے مل رہی ہے۔

۱۷۲۔۔۔۔۔۔۔ یعنی نزول وحی کے لیے یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ جب فرشتہ وحی لے کر پیغمبر پر نازل ہو تو اس کو شیاطین سن نہ سکیں اس لیے وہ اس میں کوئی مداخلت بھی نہیں کر سکتے۔

قرآن کی اس صراحت کے بعد اس روایت کے جھوٹ ہونے میں کیا شبہ رہ جاتا ہے جس میں :تلک الفرانیق (بتوں کی تعریف) والا قصہ بیان ہوا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف یہ بات منسوب کی گئی ہے کہ آپ کی زبان پر شیطان نے بتوں کی تعریف کے کلمات جاری کیے تھے جو بعد میں منسوخ ہوئے۔ اس جھوٹی روایت کی تردید ہم سورہ حج کے نوٹ ۹۱ میں کر چکے ہیں رشدی نے “شیطانی آیات” میں سی جھوٹی روایت کا سہارا لیا ہے۔

۱۷۳۔۔۔۔۔۔۔ جب پیغمبر کو اتنی سخت بات سنائی گئی ہے کہ اس نے اللہ کے سوا کسی اور کو حاجت روائی کے لیے پکارا یا اس کی پرستش کی تو اسے بھی سزا بھگتنا ہو گی تو دوسرے لوگ شرک کر کے کہاں بچ سکتے ہیں۔

اگرچہ پیغمبر کے شرک میں مبتلا ہونے کا کوئی احتمال نہیں تھا لیکن چونکہ یہ اصولی بات واضح کرتا تھی کہ شرک ایک ناقابل معافی جرم ہے اور اس کی سزا کے سلسلے میں کسی کی رو رعایت نہیں کی جائے گی اس لیے خطاب پیغمبر سے کیا گیا۔

۱۷۴۔۔۔۔۔۔۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو خبر دار کرنے کا حکم ظاہر ہے دعوتی جد و جہد کے آغاز ہی میں دیا گیا لوگا اس لیے اندازہ ہے کہ یہ سورہ مکہ کے شروع دور ہی میں نازل ہوئی ہو گی۔ حدیث میں آتا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے قریش کے ایک ایک خاندان کا نام بنام پکارا اور جب وہ صفا پر جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایا: فَانِّی نذیرٌ لکُمْ بَیْنَ یَدَیْ عذابٌٍ شدِید(بخاری کتاب التفسیر) ” میں تمہیں آنے والے سخت عذاب سے خبر دار کرتا ہوں۔

اس موقع پر آپ نے جو بات کہی وہ دو ٹوک انداز میں قیامت کے عذاب سے ڈرانے کی بات تھی اور یہ ٹھیک ٹھیک اس حکم کی تعمیل تھی کہ : وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَ قْرَبِیْنَ : “اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ ” نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ اسوہ دعوتی میدان میں کام کرنے والوں کو دعوت فکر دیتا ہے۔

۱۷۵۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جو ایمان والے تمہاری پیروی کریں گے وہی اپنے ایمان میں مخلص ہوں گے اور ایسے مخلص اہل ایمان کے ساتھ تم ترمی اور تواضع سے پیش آؤ اور شفقت و رحمت کا برتاؤ کرو۔

۱۷۶۔۔۔۔۔۔۔ یعنی خبر دار کرنے کے بعد بھی اگر وہ ایمان لانے اور تمہاری پیروی اختیار کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتے تو صاف کہہ دو کہ تمہارے مشرکانہ اعمال سے میرا کوئی تعلق نہیں میں اپنی ذمہ داری پوری کر چکا اب تمہارے عمل کے تم ذمہ دار ہو۔

۱۷۷۔۔۔۔۔۔۔ توکل کی ہدایت کے ساتھ یہاں اللہ تعالیٰ کی دو صفات کا ذکر ہوا ہے ایک یہ کہ وہ عزیز یعنی غالب ہے لہٰذا اس کا فیصلہ نافذ ہو کر رہے گا اور دوسرے یہ کہ وہ رحیم ہے اس لیے یقین رکھو کہ وہ اپنے مخلص بندوں کو اپنی رحمت سے ضرور نوازے گا۔

۱۷۸۔۔۔۔۔۔۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پسندیدگی کا اظہار ہے کہ جس وقت تم نماز کے لیے کھڑ ے ہوتے ہو اس کی نظر عنایت تم پر ہوتی ہے اور اس وقت بھی جب تم اپنے عبادت گزار ساتھیوں کے درمیان ہوتے ہو۔ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کے عبادت گزار ہیں اور آپ کی پیروی کرنے والے بھی عبادت میں سرگرم رہنے والے لوگ ہیں۔ آپ اپنے ساتھیوں کی تربیت اس طرح کر رہے ہیں کہ اللہ کے حضور سجدہ ریز ہونا ان کا امتیازی وصف قرار پائے اس لیے آپ کی مجلس اللہ والوں کی مجلس ہے جس کی فیض بخشی شبہ سے بالا تر ہے مگر لوگ حقیقت واقعہ سے آنکھیں بند کر کے پیغمبر کو کبھی کاہن قرار دیتے ہیں تو کبھی شاعر اور کبھی کچھ اور۔

۱۷۹۔۔۔۔۔۔۔ یعنی شیاطین کن لوگوں کے دلوں میں فاسد خیالات اور باطل کلمات ڈال کر ان کو اپنا آلہ کار بناتے ہیں۔

۱۸۰۔۔۔۔۔۔۔ متن میں لفظ اَفَّک استعمال ہوا ہے جس کے معنی محض جھوٹ بولنے والے کے نہیں ہیں بلکہ جھوٹے قصے اور جھوٹی روایتیں گڑھنے والے ، جھوٹی خبریں دینے والے اور بہتان تراشی کرنے والے کے ہیں۔ یہاں خاص طور سے مراد کاہن (Sooth Sayers) ہیں جن کا پیشہ ہی لوگوں کو غیب کی خبریں دینا اور پیش گوئی کرنا تھا۔ اس کے لیے وہ شیطانی اعمال (سفلی اعمال) کرتے اور شیطانوں سے مدد لیتے۔ کہانت کا بڑا ذریعہ ستاروں کے اثرات کا علم رہا ہے جسے علم نجوم (Astrology) کہا جاتا ہے مگر موجودہ زمانہ میں علم الافلاک (Astronomy) کی ترقی نے ستاروں اور سیاروں کے بارے میں سائنسی معلومات کا ڈھیر لگا دیا نتیجہ یہ کہ پرانا علم نجوم (Astrology) جو نحوست اور سعادت سے بحث کرتا تھا مٹتا چلا گیا اور اس کے ساتھ کاہنوں کا وجود بھی نہیں رہا۔ موجودہ علم جوتش (Astrology) اسی کا بچا کھچا حصہ ہے۔

کاہنوں کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ وہ بد کار ہوتے ہیں۔ جب آدمی جھوٹ کو پیشہ بنا لے تو اس کے کردار میں پاکیزگی کس طرح آ سکتی ہے وہ بد اخلاق اور بد کردار ہی ہو سکتے ہیں۔ اور شیطان اپنا رشتہ اشرار ہی سے جوڑ تا ہے۔

۱۸۱۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جو شیطان کے دلوں میں ڈالی جانے والی باتوں کو اس طرح قبول کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں جیسے وہ ان ہی کی طرف کان لگائے ہوئے ہوں۔ مراقبہ (Meditation) میں بیٹھ کر جن یا شیطان کے الہام کا انتظار کرنا شیاطین کی طرف کان لگانے کی بہت واضح شکل ہے۔

۱۸۲۔۔۔۔۔۔۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان میں کچھ لوگ سچے بھی ہوتے ہیں بلکہ مطلب یہ کہ وہ جو خبریں دیتے ہیں اور جو پیش گوئی کرتے ہیں ان میں وہ اکثر جھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ ان کی کوئی بات صحیح ثابت ہو۔

واضح رہے کہ پامسٹری (ہاتھ کی لکیروں کا علم) جو مستقبل کا حال بتاتی ہے کہانت ہی کی ایک قسم ہے اسی طرح جنات کو حاضر کر کے ان سے باتیں اگلوانے کا دعویٰ نیز فال گیری سب ڈھکوسلا اور عوام کو الّو بنانے والی باتیں ہیں مگر بد اعتقاد لوگ جب ان کے ہاں چوری وغیرہ ہو جاتی ہے تو ” باواؤں ” کی طرف رجوع کرتے ہیں جو انہیں چور کی جھوٹی علامتیں بتا دیتے ہیں۔ بد اعتقاد لوگوں کی سمجھ میں اتنی بات بھی نہیں آتی کہ اگر فال کے ذریعہ مجرم کا پتہ لگانا ممکن ہوتا تو ہزاروں مجرموں کی تفتیش کی لمبی کار روائی پولس کو نہ کرنا پڑ تی۔ وہ چند فال گیری کرنے والوں کی خدمات حاصل کر کے مجرموں کا پتہ لگا لیتی۔ مگر وہم پرستی اور بد اعتقادی میں مبتلا ہونے والوں کی عقل ماری جاتی ہے۔

۱۸۳۔۔۔۔۔۔۔ یہ اس شبہ کی تردید ہے کہ قرآن شاعرانہ کلام ہے۔ قرآن کی بلاغت، اس کے جملوں کی حیرت انگیز ترکیب اور اس کی اثر انگیزی کو دیکھ کر منکرین سے جب کوئی جواب بن نہ پڑ تا تو وہ اس کی توجیہ یہ کرتے کہ یہ شعر و شاعری کے سوا کچھ نہیں۔ ان کی اسی توجیہ کی تردید کرتے ہوئے انہیں دعوت فکر دی گئی کہ کیا تم ایک شاعر اور ایک نبی کا فرق محسوس نہیں کرتے ؟ یا شاعری اور کلام الٰہی میں امتیاز تمہارے لیے مشکل ہو رہا ہے ؟ دیکھتے نہیں کہ شاعروں کی طرف کون لوگ کھنچتے ہیں۔ گمراہ لوگ ہی ہیں جوان کی واہی تباہی باتوں کی داد دیتے اور ان کا اثر قبول کرتے ہیں بخلاف اس کے جن لوگوں نے رسول کی پیروی اختیار کی ہے وہ جویائے حق ہیں اور پیغمبر سے انہوں نے رشد و ہدایت کی روشنی پائی ہے۔ ان کی راست روی کو دیکھ کر ہر گز یہ رائے قائم نہیں کی جا سکتی کہ یہ کسی شاعر کے پیچھے چلنے والے لوگ ہیں۔

واضح رہے کہ اس زمانہ کے شعراء گمراہی پھیلانے میں پیش پیش تھے۔ امراء القیس تو عرب شعراء کا امام سمجھا جاتا تھا اور سبع معلقات (شاعری کے سات مجموعے ) جو خانہ کعبہ میں آویزاں کیے گئے تھے ان میں اس کا کلام ایک امتیازی شان رکھتا تھا مگر اس کی شاعری بے ہودہ گوئی، عشق بازی اور فحش بیانی کی بد ترین مثال ہے۔ کہاں اخلاق کو سنوارنے والا نبی۔

۱۸۴۔۔۔۔۔۔۔ شاعری اصل میں تخیل کی پرواز ہے اس لیے شاعر کبھی زمین پر ہوتے ہیں تو کبھی آسمان پر، کبھی مے خانہ میں ہوں گے تو کبھی بت خانہ میں ، کبھی محبوب کی بے وفائی کا گلہ کریں گے تو کبھی اس کی جدائی پر آنسو بہائیں گے ، کبھی غم عشق میں مریں گے اور کبھی داد عیش دیں گے ، جب کسی سے ناراض ہوئے تو ہجو کی اور خوش ہوئے تو قصیدہ پڑھا، ایک طرف زہد کا سبق دیں گے تو دوسری طرف عیش کوشی پر ابھاریں گے ، مبالغہ آرائی اور خیال آرائی ان کے فن کا کمال ہے وہ ؏

رگ گل سے بلبل کے پر باندھتے ہیں

اس لیے شعروں کے بارے میں قرآن کا یہ بیان کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے رہتے ہیں حقیقت واقعہ ہے اور اس کے پیش نظر شاعر اور رسول کا فرق بالکل واضح ہے۔ رسول داعئ حق ہوتا ہے اور وہ نشانات راہ کو واضح کرتے ہوئے ایک متعین منزل کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ وہ ٹھوس باتیں کرتا ہے اور ٹھوس نتائج سے باخبر کرتا ہے۔ وہ صداقت کا پیکر ہوتا ہے اور اس کی ہر بات جچی تلی ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ قرآن نے شعراء کے بارے میں جو بات کہی ہے وہ اس زمانہ کے شعراء تک محدود نہیں ہے بلکہ ایک عام حکم کی حیثیت رکھتی ہے اور مقصود ان کی عام خصلت اور ان میں پائی جانے والی عام کمزوری کو بیان کرنا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ بعد کے دور میں بھی شعراء کا یہی کچھ حال رہا ہے اور آج بھی یہی حال ہے۔

عربی میں فرزوق اور اس کے ہم مشرب شاعروں نے ہجو گوئی اور عریاں بیانی کی تو فارسی میں خیام اور اس کے ہم مشرب شاعروں نے مے نوشی اور عیش و طرب کا شوق پیدا کیا۔ رہی اردو تو کیا میرؔ اور کیا غالبؔ سب کا موضوعِ سخن ہی غم عشق رہا اور اب جب کہ مادی اور معاشی تحریکیں چل رہی ہیں موضوع سخن غم روز گار ہے۔

حدیث میں ایسے اشعار کو قابل نفرت قرار دیا گیا ہے جو فکر و ذہن اور اخلاق و کردار پر برا اثر ڈالتے ہوں۔

لَاَنْ یَمْتلِئَ جَوْفُ فَجُلٍ قَیحاً خَیْر لُہٗ مِنْ اَنْ یَمْتَلِئَ شِعْراً (بخاری کتاب الادب) ” کسی شخص کے پیٹ کا پیپ سے بھر جانا بہتر ہے اس سے کہ وہ شعر سے بھرا ہوا ہو”۔

۱۸۵۔۔۔۔۔۔۔ یہ شاعروں کی سب سے بڑ ی کمزوری ہے جس کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔ وہ گفتار کے غازی ہوتے ہیں کردار کے غازی نہیں بنتے کیونکہ ان کا اصل مشغلہ تُک بندی اور سخن آفرینی ہوتا ہے تاکہ عام سے داد حاصل کریں وہ بے کردار ہوتے ہیں با کردار نہیں اور قوال ہوتے ہیں فعال نہیں۔ اس کے برعکس رسول جو کہتا ہے وہ کرتا ہے اور جو تعلیم دیتا ہے اس پر خود عمل پیرا ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کی زندگی مکارم اخلاق اور اوصاف حمیدہ کا بہترین نمونہ ہوتی ہے۔

۱۸۶۔۔۔۔۔۔۔ اوپر جن گمراہ شاعروں کا ذکر ہوا ان سے مستثنیٰ  وہ  شاعر ہیں جن میں یہ چار اوصاف پائے جائیں۔ ایک یہ کہ وہ اہل ایمان ہوں ، دوسرے یہ کہ وہ عمل کے اعتبار سے صالح ہوں ، تیسرے یہ کہ وہ اللہ کو بہ کثرت یاد کرنے والے ہوں۔ اور ذکر الہٰی ان کے کلام میں اس طرح رچ بس جائے کہ جو شخص بھی ان کے اشعار سنے اس کو خدا یاد آ جائے۔ اور چوتھے یہ کہ وہ کسی کو برا بھلا کہیں تو ہجو گوئی کے طور پر نہیں بلکہ اپنی مدافعت کے طور پر کہ مظلوم کو ظالم کے خلاف کہنے کا حق ہے۔

آگے جا کر دربار رسول کے جو شاعر ہوئے ان میں یہ سب اوصاف پائے جاتے تھے اور ان میں سب سے زیادہ ممتاز شخصیت حضرت حسان رضی اللہ عنہ کی تھی۔

قرآن کے بیان سے صاف ظاہر ہے کہ وہ شعر و شاعری کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا اور نہ شعر گوئی کی ترغیب دیتا ہے بلکہ کڑ ی شرائط کے ساتھ اس کو صرف رخصت کے درجہ میں رکھتا ہے البتہ اگر کوئی شاعر ان حدود و قیود میں رہتے ہوئے دین کی مدافعت کے لیے یا صحیح دینی اسپرٹ پیدا کرنے کے لیے سخن آرائی کرتا ہے تو جیسا کہ حدیث میں آتا ہے اللہ کی طرف سے اس کی تائید کا سامان بھی ہوتا ہے۔

۱۸۷۔۔۔۔۔۔۔ مراد وہ لوگ ہیں جو خود گمراہ ہیں اور نہیں چاہتے کہ دوسرے لوگ بھی ہدایت کی راہ اختیار کریں اس لیے وہ پیغمبر اور اس کے ساتھیوں کے خلاف ظلم و زیادتی پر اتر آئے ہیں۔ کچھ ہی عرصہ بعد ان ظالموں کا جو حشر اس دنیا میں ہوا اس سے آج کون واقف نہیں ہے ؟

٭٭٭

 

 

 

(۲۷) سورۃ النمل

 

(۹۳  آیات)

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

                   تعارف

 

نام

 

آیت۱۸ میں حضرت سلیمان کے وادیِ نمل (چونٹیوں کی وادی) سے گزرنے اور چونٹیوں کی بات سننے کا ذکر ہوا ہے۔ اس مناسبت سے سورہ کا نام النمل ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مکی ہے اور مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سورہ شعراء کے بعد نازل ہوئی ہو گی۔

 

مرکزی مضمون

 

قرآن کو کتاب الٰہی تسلیم کرنے اور شرک سے باز آنے میں ب سے بڑی رکاوٹ انکارِ حقیقت ہے۔ جو لوگ دنیا کے عیش و عشرت میں مگن رہنا چاہتے ہیں ان پر نہ قرآن کی نصیحت کا کوئی اثر ہوتا ہے اور نہ انبیائی تاریخ سے وہ کوئی سبق لیتے ہیں۔

 

نظم کلام

 

آیت۱  تا ۶ میں آفتابِ ہدایت (قرآن) کو ابدی کامیابی کی بشارت دے رہا ہے مگر وہ لوگ اس کی فیض رسانی سے محروم ہیں جو اس دنیا کے خول میں بند ہیں اور نہیں چاہتے کہ ایک ایسے عالم آخرت کی بات سنیں جہاں جزائے عمل کا معاملہ پیش آنے والا ہے۔

آیت ۷ تا۱۴ میں حضرت موسیٰ کی سرگزشت کا کچھ حصہ بیان ہوا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون اس کی قوم کی طرف کس شان کا رسول بھیجا تھا اور انہوں نے اپنی حکمرانی کے گھمنڈ میں اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا اور بالآخر کس انجام کو پہنچ گئے۔

آیت۱۵ تا ۴۴ میں حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کی عظیم الشان سلطنت کا ذکر کر کے ان کی سیرت کے اس پہلو کو پیش کیا گیا ہے کہ وہ اتنی بڑی نعمت پا کر کس طرح الہ کے شکر گزار بندے بنے رہے اور حضرت سلیمان نے کس طرح اپنے اقتدار کو اشاعتِ اسلام کا ذریعہ بنایا اور اس کے نتیجہ میں کس طرح ملکۂ سبا نے اسلام قبول کیا۔

آیت ۴۵ تا ۵۸ میں حضرت صالح اور حضرت لوط کی سرگذشتوں کا ایک حصہ پیش کیا گیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ ان کی قوموں نے ان کی دعوت کو رد کر کے زمین میں فساد پھیلانے کا جو کام کیا اس کی کیسی عبرت ناک سزا ان کو مل گئی۔ آیت ۵۹ تا ۷۵ میں توحید کے دلائل اور آخرت کا یقین پیدا کرنے والی باتیں پیش کی گئی ہیں

آیت ۷۶ تا ۹۶ میں اعلان کیا گیا ہے کہ قرآن نے ہدایت کی راہ کھولی ہے اور ا سکی صداقت کی نشانیاں مستقبل میں بھی ظاہر ہوتی رہیں گی۔

                   ترجمہ

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔۔طا۔ سین۔  ۱* یہ آیتیں ہیں قرآن اور روشن کتاب کی ۲*۔

۲۔۔۔۔۔۔۔یہ ہدایت و بشارت ہے مومنوں کے لئے۔

۳۔۔۔۔۔۔۔جو نماز  (صلوۃ) قائم کرتے ہیں ، زکوٰۃ دیتے ہیں اور یہی ہیں جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ ۳*

۴۔۔۔۔۔۔۔جو لوگ آخرت پر  ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے کام ان کے لیے خوشنما بنا دیئے ہیں ۴*لہذا وہ بھٹکتے پھر تے ہیں ۵*۔

۵۔۔۔۔۔۔۔ایسے لوگوں کے لیے دینا میں بھی برا عذاب ہے ۶*۔ اور آخرت میں بھی وہ بری طرح تباہ ہوں گے۔

۶۔۔۔۔۔۔۔اور بلا شبہ یہ قرآن تم خدائے ) علیم و حکیم کے حضور سے پار ہے ہو ۷*۔

۷۔۔۔۔۔۔۔جب موسی نے اپنے گھر والوں سے کہا میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ میں وہاں سے کوئی خبر لیکر آتا ہوں یا آگ کا شعلہ لا تا ہوں تاکہ تم لوگ گرمی حاصل کر سکو۔ ۸*۔

۸۔۔۔۔۔۔۔جب وہ اس کے پاس پہونچا تو ندا آئی مبارک ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور وہ جو اس کے ارد گرد ہیں۔ اور پاک ہے اللہ رب العالمین ۹*۔

۹۔۔۔۔۔۔۔اے موسی میں ہو اللہ غلبہ والا حکمت والا۔

۱۰۔۔۔۔۔۔۔اور تم اپنا عصا ڈال دو۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ سانپ کی طرح حرکت کر رہا ہے تو وہ پیٹھ پھر کر بھاگا اور پلٹ کر بھی نہ دیکھا  ۱۰*۔ اے موسی ! ڈرو نہیں۔ میرے حضور پیغمبر ڈرا نہیں کر تے  ۱۱*۔

۱۱۔۔۔۔۔۔۔مگر جو گناہ کا مرتکب ہوا ہو۔ پھر (اگر اس نے) برائی کو نیکی سے بدل دیا ہو تو میں بخشنے والا رحم کرنے والا ہوں  ۱۲*۔

۱۲۔۔۔۔۔۔۔اور تم اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو وہ کسی عیب کے بغیر روشن ہو کر نکلے گا  ۱۳*۔  یہ نو نشانیوں میں سے  ہیں  ۱۴*۔ جن کے ساتھ تم اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔ وہ بڑے فاسق لوگ ہیں  ۱۵*۔

۱۳۔۔۔۔۔۔۔مگر جب ان کے سامنے ہماری کھلی نشانیاں آئیں تو انہوں نے کہا یہ تو کھلا جادو ہے۔ ۱۶*

۱۴۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے ظلم اور غرور کی وجہ سے ان کا انکار کیا حالانکہ ان کو اپنے دل میں یقین ہو چکا تھا۔ تو دیکھو مفسدوں کا انجام کیسا ہوا ۱۷*۔

۱۵۔۔۔۔۔۔۔ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم  ۱۸*عطا کیا۔ اور انہوں نے کہا شکر ہے اللہ کا  ۱۹*جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا فرمائی ۲۰*۔

۱۶۔۔۔۔۔۔۔اور داؤد کا وارث سلیمان ہوا ۲ ۱*۔ اس نے کہا لوگو! ہمیں پرندوں کو بولی سکھائی گئی ہے ۲۲*اور ہمیں سب کچھ عطا کیا گیا ہے ۲۳*۔ بے شک یہ نمایاں فضل ہے ۲۴*۔

۱۷۔۔۔۔۔۔۔اور سلیمان کے لئے اس کے لشکر جو جنوں ، انسانوں اور پرندوں میں سے ۲۵*تھے جمع کئے گئے تھے اور ان کی صف بندی کی جاتی تھی ۲۶*۔

۱۸۔۔۔۔۔۔۔یہاں تک کہ جب وہ چونٹیوں کی وادی میں پہونچے ۲۷* تو ایک چیونٹی نے کہا اے چونٹیوں ! اپنے بلوں میں گھس جاؤ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اس کا لشکر ہمیں کچل ڈالے اور انہیں خبر بھی نہ ہو۲۸*۔

۱۹۔۔۔۔۔۔۔سلیمان اس بات پر ہنس پڑا۲۹* اور دعا کی اے میرے مجھے توفیق عطا فرما کہ میں تیرے اس احسان کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا ہے اور نیک عمل کروں جس سے تو خوش ہو ۳۰*۔ اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے صالح بندوں میں شامل فرما ۳۱*۔

۲۰۔۔۔۔۔۔۔اور اس نے پرندوں کا جائزہ لیا تو کہا کیا بات ہے میں ہدہد کو نہیں دیکھ رہا ہوں کیا وہ غائب ہو ا ہے ۳۲*؟

۲۱۔۔۔۔۔۔۔میں اسے سخت سزادوں گا ۳۳* یا ذبح کر ڈالوں گا یا پھر وہ میرے سامنے واضح حجت پیش کرے۔ ۳۴*۔

۲۲۔۔۔۔۔۔۔کچھ زیادہ دیر نہیں ہوئی کہ اس نے آ کر کہا میں نے وہ باتیں معلوم کی ہیں جس سے آپ پوری طرح باخبر نہیں ہیں۔ میں سبا سے یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۳۵*۔

۲۳۔۔۔۔۔۔۔میں نے دیکھا ایک عورت ان پر حکو مت کر رہی ہے ۳۶*۔ اس کو سب کچھ بخشا گیا ہے ۳۷* اور اس کا تخت عظیم الشان ہے ۳۸*۔

۲۴۔۔۔۔۔۔۔میں دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کر تی ہے ۳۹*۔ شیطان نے ان کے اعمال ان کے لیے خوشنما بنا دیئے ہیں اور ان کو راہ راست سے روک دیا ہے اس لئے وہ راہ یاب نہیں ہو رہے ہیں ۴۰*

۲۵۔۔۔۔۔۔۔کیوں نہیں وہ اللہ کو سجدہ کرتے ۴۱*۔ جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کو نکالتا ہے ۴۲* اور وہ جانتا ہے جو تم چھپا تے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو ۴۳*۔

۲۶۔۔۔۔۔۔۔اللہ کہ اس کے سوا کوئی لائق پرستش نہیں عرش عظیم کا مالک ۴۴* ہے۔

۲۷۔۔۔۔۔۔۔اس نے (سلیمان نے) کہا ہم دیکھ لیتے ہیں تو نے سچ کہا ہے یا جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے ۴۵*۔

۲۸۔۔۔۔۔۔۔یہ میرا خط لے جا اور ان کے پاس ڈال دے ۴۶*۔ پھر ہٹ کر دیکھ کہ وہ کیا رد عمل ظاہر کرتے ہیں ۴۷*۔

۲۹۔۔۔۔۔۔۔اس (ملکہ) نے کہا اے اہل دربار ! میری پاس ایک نامۂ گرامی ڈال دیا گیا ہے۔

۳۰۔۔۔۔۔۔۔وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور وہ ہے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اللہ رحمن و رحیم کے نام سے ۴۸*۔

۳ ۱۔۔۔۔۔۔۔میرے مقابلہ میں سر کشی نہ کرو اور مسلم ہو کر میرے پاس حاضر ہو جاؤ ۴۹*۔

۳۲۔۔۔۔۔۔۔اس نے کہا اے اہل دربار !اس معاملہ میں مجھے رائے دو۔  میں کسی معاملے کا فیصلہ نہیہں کرتی جب تک کہ تم لوگ موجود نہ ہوں۔ ۵۰*

۳۳۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے کہا ہم طاقت ۵۱*ور سخت جنگ آور ہیں۔ ۵۲*مگر فیصلہ آپ کے اختیار میں ہے ۵۳*۔ دیکھے آپ کیا حکم دینا چاہتی ہیں ۵۴*۔

۳۴۔۔۔۔۔۔۔اس (ملکہ) نے کہا بادشاہ جب کسی آبادی میں داخل ہوتے ہیں تو اس کو درہم برہم کر دیتے ہیں اور اس کے معزز لوگوں کو ذلیل کر دیتے ہیں۔ وہ ایسا ہی کیا کرتے ہیں ۵۵*۔

۳۵۔۔۔۔۔۔۔میں ان کے پاس ہدیہ بھیجتی ہوں پھر دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لے کر آتے ہیں ۵۶*۔

۳۶۔۔۔۔۔۔۔جب وہ (سفیر) سلیمان کے پاس پہنچا تو اس نے کہا کیا تم لوگ مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو ؟ مجھے اللہ نے جو کچھ دیا ہے وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو تم لوگوں کی دیا ہے مگر تم لوگ ہو کہ اپنے ہدیہ پر نازاں ہو ۵۷*۔

۳۷۔۔۔۔۔۔۔واپس جاؤ ان کے پاس۔ ہم ان پر ایسے لشکر لے کر آئیں گے کہ وہ مقابلہ نہ کر سکیں گے اور ہم ان کو وہاں سے اس طرح ذلت کے ساتھ نکالیں گے کہ وہ پست ہو کر رہ جائیں گے ۵۸*۔

۳۸۔۔۔۔۔۔۔سیلمان نے کہا اے اہل دربار! تم میں سے کون اس کا تخت میرے پا س لاتا ہے قبل اس کے کہ وہ میرے پاس مسلم ہو کر حاضر ہوں ۵۹*۔

۳۹۔۔۔۔۔۔۔جنوں میں سے ایک عفریت ۶۰* نے کہا میں اسے قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں حاضر کر دو ں گا۔ میں اس کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۶۱*۔

۴۰۔۔۔۔۔۔۔جس کے پاس کتاب کا علم تھا اس نے کہا میں اس کو آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے حاضر کئے دیتا ہوں۔ ۶۲* جب سلیمان  نے دیکھا کہ وہ اس کے سامنے رکھا  ہوا ۶۳*تو پکار اٹھا یہ میرے رب کا فضل ہے ۶۴* تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری۔ اور جو شکر کرتا ہے تو اس کا شکر کرنا اسی کیلے مفید ہے اور جو  ناشکری کرے تو میرا رب بے نیاز اور کریم ہے۔ ۶۵*

۴۱۔۔۔۔۔۔۔سلیمان نے حکم دیا ملکہ کے لیے اس کے تخت کی شکل بدل دو دیکھیں کہ ہدایت پاتی ہے یا ان لوگوں میں سے ہے جو ہدایت نہیں پا تے۔ ۶۶*

۴۲۔۔۔۔۔۔۔جب وہ حاضر ہوئی تو اس کہا گیا کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے ؟ اس نے کہا گویا کہ وہی ہے۔ اور ہم  کو اس پہلے ہی علم حاصل ہو گیا تھا اور ہم مسلم تھے ۶۷*

۴۳۔۔۔۔۔۔۔اور اس کو روک رکھا تھا غیر اللہ کی پرستش نے جو وہ کیا کرتی تھی۔ وہ ایک کافر قوم میں سے تھی ۶۸*۔

۴۴۔۔۔۔۔۔۔اس سے کہا گیا محل میں داخل ہو جاؤ۔ اس نے جب دیکھا تو سمجھی کہ گہرا پانی ہے اور اپنی  پنڈلیاں کھول دیں۔ سلیمان نے کہا یہ محل شیشوں سے جڑا ہوا۔ وہ پکار اٹھی اے میرے رب ! میں اپنے نفس پر ظلم کر تی رہی اور اب میں نے سلیمان کے ساتھ اپنے کو اللہ رب العالمین کے حوالہ کر دیا۶۹*۔

۴۵۔۔۔۔۔۔۔اور ہم نے ثمود ۷۰*کی طرف ان کے بھائی صالح کو یہ  پیغام دے کرّ بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو تو یکایک وہ دو فریق بن کر جھگڑنے لگے ۷۱*۔

۴۶۔۔۔۔۔۔۔اس نے کہا اے میری قوم کے لوگو! بھلائی سے پہلے برائی کے لئے کیوں جلدی مچاتے ہو؟ اللہ سے مغفرت کیوں نہیں طلب کرتے کہ تم پر رحم کیا جائے ۷۲*۔

۴۷۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے کہا ہم تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو باعث نحوست خیال کرتے ہیں۔ اس نے جواب دیا تمہارا شگون اللہ کے پاس ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ تمہاری آزمائش  ہو رہی ہے ۷۳*

۴۸۔۔۔۔۔۔۔اور شہر میں بوجھتے تھے جو زمین میں فساد بر پا کرتے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے ۷۴*۔

۴۹۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے (آپس میں) کہا اللہ کی قسم کھا کر عہد کر لو کہ ہم اس پر (صالح پر) اور اس کے گھر والوں پر شب خون ماریں گے پھر اس کے وارث سے کہہ دیں گے کہ ہم اس کے خاندان کی ہلاکت کے وقت موجود نہ تھے اور  ہم (اپنے بیان میں) بالکل سچے  ہیں ۷۵*۔

۵۰۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے ایک چال چلی اور ہم نے بھی ایک تدبیر کی ایسی کہا انہیں خبر بھی نہ ہوئی ۷۶*۔

۵۱۔۔۔۔۔۔۔تو دیکھو ان کی چال کا کیا انجام ہوا۔ ہم نے ان کو اور ان کو پوری قوم کو تباہ کر دیا ۷۷*۔

۵۲۔۔۔۔۔۔۔یہ ان کے گھر ہیں جو ویران پڑے ہیں ۷۸* اس ظلم کی ۷۹* پاداش میں جو وہ کرتے رہے۔ اس میں بڑی نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں ۸۰*۔

۵۳۔۔۔۔۔۔۔ اور ہم نے ان لوگوں کو نجات دی جو ایمان لائے تھے اور (اللہ  سے) ڈرتے تھے ۸۱*۔

۵۴۔۔۔۔۔۔۔اور ہم نے لوط۸۲* کو رسول بنا کر بھیجا۔ جب اس نے اپنی قوم سے کہا۔ کیا تم آنکھوں دیکھے بد کاری کرتے ہو ۸۳*۔

۵۵۔۔۔۔۔۔۔کیا تم عورتوں کی چھوڑ کر مردوں کے  پاس شہوت رانی کے لئے جاتے ہو؟ ۸۴* حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ بڑے جاہل ہو ۸۵*۔

۵۶۔۔۔۔۔۔۔مگر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ آپس میں کہنے لگے لوط کے گھر والوں  کو اپنی بستی سے نکال دو۸۶* یہ لوگ بڑے پار سا بنتے ہیں ۸۷*۔

۵۷۔۔۔۔۔۔۔بالآخر ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو نجات  دی بجز اس کی بیوی کے کہ ہم نے طے کر دیا تھا کہ وہ پچھے رہ جانے والوں میں سے ہو گی۸۸*۔

۵۸۔۔۔۔۔۔۔اور ہم نے ان پر ایک خاص طرح کی بارش برسائی ۸۹*۔ تو کیا ہی بری بارش ہوئی ان لوگوں پر جنہیں خبردار کیا جا چکا تھا۔

۵۹۔۔۔۔۔۔۔کہو حمد ہے اللہ کے لیےاور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جن کو اس نے چن لیا ۹۰*۔ (ان سے پوچھو) اللہ بہتر ہے زیادہ جن کو یہ اللہ شریک ٹھرا تے ہیں ۹۱*۔

۶۰۔۔۔۔۔۔۔(معبود یہ ہیں) یا وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمھارے لئے آسمان سے پانی برسا یا اور اس کے ذریعہ پر رونق باغ اگا ئے جن کے درختوں کو اگا نہ  تمہارے لئے ممکن نہ تھا کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ہے ۹۲*؟ نہیں بلکہ لوگ (حق سے) انحراف کر رہے ہیں۔

۶۱۔۔۔۔۔۔۔وہ جس نے زمین کو جائے قرار بنایا ۹۳*اور اس کے درمیان دریا جاری کئے اور اس میں پہاڑ کھڑے کر دئے اور دو سمندروں کے درمیان پردہ حائل کر دیا ۹۴*۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ہے ؟ نہیں بلکہ ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں ۹۵*۔

۶۲۔۔۔۔۔۔۔وہ جو بے قرار کی فریاد کرتا ہے ۹۶* اور تمھیں زمین میں با اختیار بنا تا ہے ۹۷*۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ہے ؟ تم لوگ کم ہی یا دہانی حاصل کرتے ہو۹۸*۔

۶۳۔۔۔۔۔۔۔وہ جو خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں تمہاری رہنمائی کرتا ہے ۹۹*۔ اور جو اپنی رحمت  ۱۰۰*کے آگے ہواؤں کو خوش خبری لیے ہوئے بھیجتا ہے۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ہے ؟ بہت بر تر ہے اللہ اس شریک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں  ۱۰۱*۔

۶۴۔۔۔۔۔۔۔وہ جو پیدائش کی ابتدا کرتا ہے پھر اس کا اعادہ کرے گا اور جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ؟ کہو اپنی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو۔  ۱۰۲*

۶۵۔۔۔۔۔۔۔(ان سے) کہو آسمانوں اور زمین میں کوئی بھی ایسا نہیں جو غیب کا علم رکھتا ہو۔ سوائے اللہ کے  ۱۰۳*۔ اور وہ نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں  ۱۰۴*۔

۶۶۔۔۔۔۔۔۔بلکہ آخرت کے بارے میں ان کا علم گڈ مڈ ہو گیا بلکہ یہ لوگ اس کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ بلکہ یہ اس سے اندھے ہیں  ۱۰۵*۔

۶۷۔۔۔۔۔۔۔اور یہ کافر کہتے ہیں کہ جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہو چکے ہوں گے تو کیا ہمیں (قبروں سے) نکالا جائے گا ؟

۶۸۔۔۔۔۔۔۔اس کی دھمکی ہم کو بھی دی گئی ہے اور ہمارے باپ دادا کو بھی دی جاتی رہی ہے مگر یہ محض اگلے لوگوں کے افسانے ہیں  ۱۰۶*۔

۶۹۔۔۔۔۔۔۔کہو زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ مجرموں کا کیا انجام ہوا ۱۰۷*۔

۷۰۔۔۔۔۔۔۔(اے پیغمبر) تم ان (کے حال) پر غم نہ کرو اور نہ ان کی چالوں پر جو وہ چل رہے ہیں دل تنگ ہو۔  ۱۰۸*

۷۱۔۔۔۔۔۔۔وہ کہتے ہیں یہ دھمکی کب وقوع میں آئے گی اگر تم سچے ہو ۱۰۹*۔

۷۲۔۔۔۔۔۔۔کہو کیا عجب کہ جس چیز کے لئے تم جلدی مچا رہے ہو اس کا ایک حصہ تمہارے پیچھے ہی لگا ہوا ہو  ۱۱۰*۔

۷۳۔۔۔۔۔۔۔در حقیقت تمہارا رب لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے ۱۱۱*۔

۷۴۔۔۔۔۔۔۔بلا شبہ تمہارا رب خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں  ۱۱۲*

۷۵۔۔۔۔۔۔۔اور آسمان و زمین میں کوئی پوشیدہ چیز نہیں جو ایک واضح کتاب میں درج نہ ہو۱۱۳*۔

۷۶۔۔۔۔۔۔۔ بلاشبہ یہ قرآن اسرائیل پر ان بہت سی باتوں کی حقیقت واضح کر رہا ہے جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں ۱۱۴*۔

۷۷۔۔۔۔۔۔۔اور یہ ہدایت و رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لئے۔  ۱۱۵*

۷۸۔۔۔۔۔۔۔یقیناً تمہارا رب اپنے حکم سے ان کے درمیان فیصلہ کر دے گا  ۱۱۶*۔

وہ غالب اور علم والا ہے  ۱۱۷*۔

۷۹۔۔۔۔۔۔۔تو(اے پیغمبر) اللہ پر  بھروسہ ر کھو۔ یقیناً تم صریح حق پر  ہو۔

۸۰۔۔۔۔۔۔۔تم مردوں کو نہیں سنا سکتے۔  ۱۱۸* اور نہ بہروں کو  اپنی پکار  سنا سکتے ہو جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے جا رہے ہوں۔

۸۱۔۔۔۔۔۔۔اور نہ تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے ہٹا کر راہ پر لا سکتے ہو۔

تم تو ان ہی کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور فرمانبردار  بن جاتے ہیں  ۱۱۹*۔

۸۲۔۔۔۔۔۔۔اور جب ان پر ہمارا فرمان لاگو ہو گا تو ہم ان کے لئے زمین سے ایک جانور نکال کھڑا  کریں گے جو  ان سے بات کرے گا کہ  لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں رکھتے تھے  ۱۲۰*۔

۸۳۔۔۔۔۔۔۔اور وہ دن کہ ہم ہر امت میں سے ان لوگوں کی ایک فوج اکٹھا کریں گے جو ہماری آیتوں کو جھٹلا یا کر تے تھے پھر  ان کی درجہ بندی کی جائے گی ۱۲۱*۔

۸۴۔۔۔۔۔۔۔یہاں تک کہ جب وہ سب حاضر ہو جائیں گے تو (اللہ) پوچھے گا کہ کیا تم نے میری آیتوں کا جھٹلا یا تھا اور ان کو اپنے دائرہ عمل میں نہیں لایا  ۱۲۲*۔ یا پھر تم کیا کرتے رہے ؟

۸۵۔۔۔۔۔۔۔اور ان کے ظلم کی وجہ سے ہمارا فرمان ان پر لاگو ہو گا  ۱۲۳*اور وہ کچھ بول سکیں گے۔  ۱۲۴*

۸۶۔۔۔۔۔۔۔کیا وہ دیکھتے نہیں کہ ہم نے رات کو اس لئے بنایا سکون حاصل کریں اور دن کو روشن بنایا۔ یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے  جو ایمان لاتے ہیں  ۱۲۵*۔

۸۷۔۔۔۔۔۔۔اور جس دن صور پھونکا جائے گا تو وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں گھبرا اٹھیں گے سوائے ان کے جن کو اللہ (اس سے محفوظ رکھنا) چاہے گا  ۱۲۶*۔ اور سب اس کے حضور عاجز ین کر حاضر ہوں گے  ۱۲۷*۔

۸۸۔۔۔۔۔۔۔تم پہاڑوں کو دیکھتے ہو اور خیال کرتے ہو کہ وہ جمے ہوئے ہیں مگر وہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے  ۱۲۸*۔ یہ اللہ کی کاریگری ہو گی جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا  ۱۲۹*۔ تم جو کچھ کر رہے ہو اس وہ باخبر ہے  ۱۳۰*۔

۸۹۔۔۔۔۔۔۔جو شخص نیکی  ۱۳۱* لے کر آئے گا اس کو سے بہتر اجر  ملے گا اور ایسے لوگ اس دن کی گھبراہٹ سے محفوظ رہیں گے  ۱۳۲*۔

۹۰۔۔۔۔۔۔۔اور جو برائی لے کر آئے  ۱۳۳*گا تو ایسے لوگ اوندھے منہ جہنم میں جھونک دئے جائیں گے۔ تم کو بدلہ میں وہی کچھ دیا جا رہا ہے  جو تم کر تے رہے ہو  ۱۳۴*۔

۹۱۔۔۔۔۔۔۔(کہو) مجھے یہی حکم دیا گیا ہے کہ اس شہر کے رب کی عبادت کروں جس نے اسے حرمت والا بنا یا  ۱۳۵*ہے اور جو ہر چیز کا مالک ہے۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ مسلم بن کر رہوں  ۱۳۶*۔

۹۲۔۔۔۔۔۔۔اور کہ قرآن پڑھ کر سناؤں  ۱۳۷*۔ جو ہدایت اختیار کرے گا وہ اپنی ہی بھلائی کے لئے اختیار کرے گا اور  جو گمراہ ہو تو کھ دو میں تو بس خبردار کرنے والا ہوں۔

۹۳۔۔۔۔۔۔۔کہو تعریف اللہ کے لئے ہے  ۱۳۸*۔ وہ تمھیں اپنی نشانیاں دکھائے گا اور تم ا نہیں پہچان  ۱۳۹* لو گے تم لوگ جو کچھ کر رہے ہو اس سے تمہارا رب بے خبر نہیں ہے۔

 

                   تفسیر

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ حروف مقطعات (الگ الگ پڑھے جانے والے حروف) ہیں اور ان کا اشارہ جیا کہ ہم اس سے پہلے وضاحت کر چکے ہیں سورہ کے مخصوص مضامین کی طرف ہوتا ہے۔

“ط” کا اشارہ طیر (پرندے) کی طرف ہے جن کا ذکر آیت ۱۶ میں اس طور سے ہوا ہے کہ ان کی بولی حضرت سلیمان کو سکھائی گئی تھی۔

“س” کا اشارہ سلیمان کی طرف ہے اور سبا کی طرف بھی جن کا ذکر بالترتیب آیت ۱۶ اور ۲۲ میں ہوا ہے۔

۲۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی قرآن کیا ہے ایک روشن کتاب اور یہ اسی کی آیتیں ہیں۔

قرآن کی دعوت اور اس کی تعلیم اتنی واضح ہے کہ ہر وہ شخص جو صاف ذہن سے اس کو پڑھے گا یا سنے گا اس کے مدعا کو پا سکتا ہے۔

غیر عربی داں یہ فائدہ ترجمہ کی مدد سے بھی حاصل کر سکتے ہیں بشرطیکہ ترجمہ صحیح ہو۔ رہیں تفسیریں تو ان کی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ خیال کرنا صحیح نہیں کہ تفسیر کے بغیر قرآن کو سمجھا ہی نہیں جا سکتا۔ کتنے غیر مسلم ہیں جنہوں نے قرآن کے ترجمہ کو پڑھا اور انہیں ایمان کی دولت نصیب ہوئی!

۳۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کیلئے ملاحظہ ہو سورۂ بقرہ نوٹ ۷ اور ۱۰۔

۴۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آدمی جب آخرت کا انکار کرتا ہے تو دنیا اس کا نصب العین بن جاتی ہے اور ا سکے نتیجہ میں اس کا طرز عمل غلط ہو کر رہ جاتا ہے مگر چونکہ مقصود دنیا ہوتی ہے اس لیے برے کام بھی اس کی نگاہوں میں کھٹکنے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج فیشن، جدت پسندی اور ترقی کے نام پر نہایت گھناؤنے اخلاق اور بدترین اعمال کا مظاہرہ ہو رہا ہے۔ جب طرز فکر غلط ہے تو طرز عمل بھی غلط ہو گا اور پسند اور ناپسند کا معیار بھی غلط ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہ نفسیات اللہ کے ٹھہرائے ہوئے قانون ضلالت کے مطابق بن جاتی ہے اس لیے اس کو اس طرح تعبیر کیا گیا کہ ہم نے ان کے کام ان کے لیے خوشنما بنا دیئے ہیں۔

۵۔۔۔۔۔۔ انکار آخرت کے نتیجہ میں آدمی راہ راست سے بھی محروم ہو جاتا ہے اور یقین کی دولت سے بھی۔ پھر اس کیلئے ادھر ادھر بھٹکنا ہی مقدر ہے۔ آج انانیت کو دیکھئے کس طرح بھٹ رہی ہے۔ کوئی کمیونزم کی طرف دوڑ رہا ہے تو کوئی نیشنلزم کو اپنی منزل قرار دے رہا ہے کوئی بھید بھاؤ مٹانے کے لیے وحدت ادیان کا راگ الاپ رہا ہے تو کوئی اپنے کلچر کو اتحاد کی بنیاد بنا رہا ہے کوئی فرقہ پرستی کو فروغ دینا چاہتا ہے تو کوئی سیاست کو خدا اور مذہب سے بے تعلق دیکھنا چاہتا ہے کسی کو تخریبی کاروائیوں سے فرصت نہیں تو کوئی دہشت گردی کا بدترین نمونہ پیش کر رہا ہے غرضیکہ آخرت کا انکار کرنے کے بعد انان کو کوششوں کا کوئی ایک محور نہیں رہا۔

۶۔۔۔۔۔۔ جس قوم کو رسول اللہ کا پیغام براہِ راست پہنچا دیتا ہے اور پھر وہ انکار کرتی ہے اس پر تو ایسا عذاب آتا ہے کہ پوری قوم صفحۂ ہستی سے ایک قلم مٹا دی جاتی ہے لیکن جن کو بالواسطہ طور پر پیغام پہنچ جاتا ہے اور وہ اس کو قبول نہیں کرتے اور انکار آخرت پر جمے رہتے ہیں ان کو ان کے مناسب حال دنیا میں سزا ملتی رہتی ہے۔ آج دنیا کے مختلف گوشوں میں آفتوں کا نزول اس کثرت سے ہو رہا ہے کہ اس سے پہلے شاید کبھی نہیں ہوا ہو گا۔

۷۔۔۔۔۔۔ قرآن کے مضامین اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ یہ انسانی تصنیف نہیں ہے بلکہ خدائے علیم و حکیم کا کلام ہے کیونکہ اس میں علمو معرفت اور دانائی و حکمت کے بے مثال خزانے پوشیدہ ہیں۔

۸۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ طہ نوٹ ۹۔

۹۔۔۔۔۔۔حضرت موسیٰ کو جو آگ دکھائی دی تھی وہ جلنے والی آگ نہیں تھی ورنہ وہ اس سے انگارے لے لیتے بلکہ وہ ایک غیر معمولی آگ تھی جس کے پردہ میں الہ کی بابرکت ذات ان سے ہم کلام ہو رہی تھی اور اس آگ کے ارد گرد فرشتے موجود رہے ہوں گے جیسا کہ انداز بیان سے ظاہر ہوتا ہے اور جن کی موجودگی باعثِ خیر و برکت تھی۔

حضرت موسیٰ سفر میں تھے ، رات تاریک اور سرد تھی اور راستہ کا بھی پتہ نہیں چل رہا تھا۔ اس حالت میں ندائے غیب کا آ جانا ایک ایسی صورتِ حال تھی جس میں حوصلہ برقرار رکھنا اور ذہن کو یکسو کر لینا آسان نہ تھا اس لیے ندائے غیب نے سب سے پہلے انہیں یہ اطمینان لایا کہ یہ ندا اس بابرکت ہستی کی ہے جو کائنات کا رب ہے اور اس بقعہ مبارکہ میں فرشتوں کا نزول ہوا ہے جو خیر ہی خیر ہے۔ شیطان اور اس کے شر سے اس پورے ماحول کو محفوظ کر دیا گیا ہے۔

اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوئی کہ نبوت ایسی چیز نہیں ہے کہ آدمی اپنی کوششوں سے حاصل کر سکے بلکہ وہ منصب ہے جس سے اللہ جس کو چاہتا ہے اور جس وقت چاہتا ہے سرفراز فرماتا ہے۔ جس طرح حضرت موسیٰ کو بے خبری کی حالت میں نبوت عطا ہوئی تھی اس طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو غار حرا میں بالکل بے خبری کی حالت میں نبوت عطا ہوئی۔ نبوت کا اچانک عطا کیا جانا انبیاء علیہم السلام کی صداقت کی دلیل ہے ورنہ جو آدمی جھوٹا دعویٰ کرتا ہے وہ پہلے ہی سے اس کے لیے ذہنی ، و علمی و عملی تیار کرتا ہے۔

رہا یہ سوال کہ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کی آواز کو کس طرح پہچانا تو اولاً مخلوق اپنے خالق کی آواز سے نا آشنا نہیں ہو سکتی ہے۔ اس کا رب جب اس کو پکارے گا وہ ضرور اس کی آواز کو پہچان لے گی۔ ثانیاً نبی کا وجدان جو ایک پاک طینت نفس کا وجدان ہوتا ہے دل میں یہ یقین پیدا کرتا ہے کہ یہ میرے رب کی آواز ہے یا یہ اس کی طرف سے وحی ہے جو نازل ہو رہی ہے۔ ثالثاً وحی کے نزول کے موقعہ پر ماحول ایسا بنا دیا جاتا ہے کہ شیطانی وساوس ذہن میں نہیں آتے اور قلب اطمینان محسوس کرتا ہے اور رابعاً جو وحی نازل ہوتی ہے وہ اپنے مضمون اور معانی کے لحاظ سے اپنے وحی الٰہی ہونے کا بین ثبوت ہوتی ہے۔

اور جو یہ فرمایا “پاک ہے اللہ رب العالمین” تو یہ اس بات کا طرف اشارہ ہے کہ اللہ کی ندا اگرچہ آگ کے اندر سے آ رہی ہے لیکن اللہ کا وجود اس بات سے پاک ہے کہ وہ کسی چیز کے اندر محدود ہو کر رہ جائے یا کسی چیز میں حلول (سرایت) کرے۔ وہ عرش پر جلوہ فرما ہے اور ہر بندہ کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ پھر وہ آسمانوں اور زمین میں بھی ہے جیسا کہ قرآن میں دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے :

وھوا اللہ فی السموات وفی الارض

اور اللہ آسمانوں میں بھی ہے اور زمین میں بھی

اور جس طرح اس کے آسمان اور زمین میں ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ (نعوذ باللہ) عرش کو چھوڑ کر آسمان و زمین میں سرایت کر گیا ہے اسی طرح حضرت موسیٰ سے اس کا یہ ارشاد کہ “مبارک ہے وہ جو آگ میں ہے ” کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کا کوئی جسمانی وجود ہے جو آگ کے اندر ہے۔ اس کی صفت ہی یہ ہے کہ اس کے جیسی کوئی چیز نہیں۔ لیس کمثلہ شی اس لیے اس کو مخلوق پر قیاس کرنا ہر گز صحیح نہیں بلکہ کھلی گمراہی ہے۔ مادی دنیا میں یہ مشاہدہ تو ہم کرتے ہی ہیں کہ آئینہ میں آدمی کی تصویر دکھائی دیتی ہے جبکہ وہ اس کے اندر موجود نہیں ہوتا اور آج ٹی وی کے ا سکرین پر بولنے والا بھی دکھائی دیتا ہے اور اس کی آواز بھی سنائی دیتی ہے جب کہ وہ ٹی وی کے اندر موجودہ نہیں ہوتا۔ جب مادی دنیا کا یہ حال ہے تو خدا کے بے مثال، بے کیف اور لامکان ہونے سے کیسے انکار کیا جا سکتا ہے ؟

۱۰۔۔۔۔۔۔ یہ بشریت کا غلبہ تھا۔ سانپ کو لہراتا ہو دیکھ وہ خوف زدہ ہو گئے۔

۱ ۱۔۔۔۔۔۔ یعنی جب اللہ کسی کو رسالت کے لیے منتخب کر کے اپنے حضور بلاتا ہے تو ا س کے لیے اندیشہ کی کوئی بات نہیں ہوتی۔ وہ ہر قسم کے شر اور آفتوں سے اس کے حضور محفوظ اور مامون ہوتا ہے لہذا یہ سانپ جو تم دیکھ رہے ہو وہ تمہیں ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

۱۲۔۔۔۔۔۔ رہا وہ خوف جو اپنے کسی قصور کی بنا پر ہو تو اس کے بارے میں بھی یہ اطمینان دلایا گیا کہ اگر ماضی میں تم سے جو قصور ہوا ہے اس پر اللہ گرفت کرنے والا نہیں جب کہ تم نے ا کے بعد نیک روی اختیار کی ہے۔ یہ اشارہ تھا قتل خطا کے قصور کی معافی کی طرف جو حضرت موسیٰ سے سرزد ہوا تھا اور جس کی تفصیل سورۂ قصص میں بیان ہوئی ہے۔

۱۳۔۔۔۔۔۔ یہ دوسرا معجزہ تھا جو حضرت موسیٰ کو عطا کیا گیا۔ تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ طہ نوٹ ۲۳

۱۴۔۔۔۔۔۔ نو نشانیوں کی تفصیل کیلئے دیکھئے سورہ بنی اسرائیل نوٹ ۱۳۲

۱۵ ۔۔۔۔۔۔ فرعون اور اس کی قوم کو فاسق کہا گیا حالانکہ حضرت موسیٰ نے ابھی انہیں دعوت پہنچائی نہیں تھی اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ انبیائی تعلیم سے بالکل ناآشنا نہ تھے کیونکہ مصر میں حضرت یوسف نے گہرے نقوش چھوڑے تھے اور بنی اسرائیل خواہ کتنے ہی بگڑے ہوئے ہوں بہر حال مسلمان تھے اس لیے ان کے ذریعہ خدا اور آخرت کی باتیں کسی نہ کسی درجہ میں ضرور پہنچتی رہی ہوں گی اور بنیادی بات یہ ہے کہ انسانی فطرت کھلی ہوئی برائیوں اور معصیتوں کو جانتی ہے۔ مثلاً ظلم و زیادتی، بد اخلاقی تکبر اور گھمنڈ اور اپنے رب کے خلاف سرکشی وغیرہ مگر فرعون اور اس کی قوم نے اپنی فطرت کی آواز کو دبا کر ظلم اور معصیت کا رویہ اختیار کا تھا اس لیے وہ فاسق کہلانے ہی کے مستحق تھے۔

اس سے یہ اصولی بات بھی واضح ہوتی ہے کہ جن لوگوں نے اپنے کو عملاً فاسق (اللہ کی معصیت) کی راہ پر ڈال دیا ہو ان کو فاسق ہی کہا جائے گا خواہ دعوت دین کا کام ان پر ہوا ہو یا نہ ہوا ہو۔

۱۶۔۔۔۔۔۔ یعنی ان کو اس بات کا یقین ہو گیا تھا کہ حضرت موسیٰ جو نشانیاں دکھا رہے تھے وہ جادو نہیں بلکہ معجزہ ہیں اور وہ واقعی اللہ کے پیغمبر ہیں۔ اس یقین کے باوجود ان کے ایمان لانے میں جو چیز رکاوٹ بنی وہ ان کا ظلم اور گھمنڈ تھا۔ ظلم انسان کو حق پسندی سے دور رکھتا ہے اور گھمنڈ اس کو اس بات پر آمادہ نہیں ہونے دیتا کہ وہ اپنے مقام سے نیچے اتر کر حق کو قبول کرے۔

اس سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ اصل چیز دل کا اقرار ہے اور ایمان دل کے اقرار کے بغیر معتبر نہیں۔

۱۷۔۔۔۔۔۔ اس انجام کی تفصیل سورہ یونس، سورہ طہ اور سورہ شعراء میں بیان ہوئی ہے۔

۱۸۔۔۔۔۔۔ مراد عمل خاص ہے جو ایک عظیم الشان اور بے مثال سلطنت کو عدل و انصاف اور اسلامی آئیڈیالوجی کے مطابق چلانے کے لیے ضروری تھا۔ بائبل میں ہے :

“اور خدا نے سلیمان کو حکمت اور سمجھ بہت ہی زیادہ اور دل کی وسعت بھی عنایت کی جیسی سمندر کے کنارے کی ریت ہوتی ہے اور سلیمان کی حکمت سب اہل مشرق کی حکمت اور مصر کی ساری حکمت پر فوقیت رکھتی تھی۔ ” (۱۔ سلاطین ۴:۲۹،۳۰)

۱۹۔۔۔۔۔۔ اوپر فرعون کی مثال گزر چکی جس کو اقتدار ملا تو گھمنڈ کرنے لگا اور ظلم پر اتر آتا دوسری طرف حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کی مثالیں ہیں جنہیں اقتدار ملا تو انہوں نے اللہ کا فضل سمجھ کر ا س کا صحیح استعمال کیا اور اس کے شکر گزار بن کر رہے۔

۲۰۔۔۔۔۔۔فضیلت اس اعتبار سے کہ نبیؐ بنایا اور اس اعتبار سے کہ علم و حکمت سے نواز اور اس اعتبار سے بھی کہ خلافت و حکومت سے سرفراز فرمایا اور اپنے فضل خاص سے ایسی چیزیں عطا کیں جو طرۂ امتیاز قرار پائیں۔

۲۱ ۔۔۔۔۔۔ وارث کا مطلب مال کا وارث ہونا نہیں بلکہ علمِ نبوت اور منصبِ خلافت کا وارث ہونا ہے۔ اگر مال کی وراثت مراد ہوتی تو صرف حضرت سلیمان کا ذکر نہ کیا جاتا کیونکہ حضرت داؤد کی اور بھی اولاد تھی۔ علاوہ ازیں جیسا کہ حدیث میں آتا ہے انبیاء علیہم السلام کا ترکہ تقسیم نہیں ہوتا (ملاحظہ ہو سورۂ مریم نوٹ ۸) اور محل کلام بھی دلیل ہے کہ یہاں مالی وراثت زیر بحث نہیں ہے۔ بائبل میں ہے۔

“اور سلیمان اپنے باپ داؤد کے تخت پر بیٹھا اور اس کی سلطنت نہایت مستحکم ہوئی”(۱۔ سلاطین ۲: ۱۲)

۲۲۔۔۔۔۔۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ پرندے کسی نہ کسے درجے میں شعور رکھتے ہیں اور اپنی ضرورتوں کا اظہار مختلف آوازوں کی صورت میں کرتے ہیں عام مشاہدہ میں آنے والی چیز ہے اور تجربہ یہ بھی بتاتا ہے کہ طوطے کو جو کلمات سکھائے جائیں وہ ان کو ادا کرتا ہے اسی طرح شکاری پرندوں کو سِدھایا جاتا ہے پھر پرندوں کے نغمے ہر گز بے معنی نہیں کہے جا سکتے تاہم ان کی بولی کو سمجھنا ہمارے لیے ایسا ہی مشکل ہے جیسے ٹیلیگراف کی زبان نہ جاننے والے شخص کے لیے کھٹ کھٹ کی آواز سن کر اس کا مفہوم متعین کرنا۔ مگر حضرت سلیمان کو اللہ تعالیٰ نے پرندوں کی بولی کا علم بخشا تھا جو معجزانہ نوعیت کا تھا اس لیے وہ اپنی حکومت کے سلسلے میں ان سے بھی خدمت لیتے تھے۔

واضح رہے کہ پرندوں کی بولی حضرت سلیمان کو سکھائی گئی تھی لیکن انہوں نے یہ جو فرمایا کہ “لوگوں ! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے ” تو یہ شاہی انداز بیان ہے جس میں بولنے والا جمع کا صیغہ استعمال کرتا ہے۔

۲۳۔۔۔۔۔۔ یعنی تمام ضروری ساز و سامان جو ایک مستحکم حکومت چلانے کے لیے ضروری ہے۔

۲۴۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ بے مثال سلطنت اللہ کا ایسا فضل ہے جس کو کوئی شخص بھی محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا اس لیے ہمیں اس فضل کا اعتراف کرنا چاہئے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان کی سیرت کس قدر بلند تھی۔ مگر یہود کی مکاری دیکھئے کہ انہوں نے بعد میں حضرت سلیمان پر یہ الزام لگایا کہ انہوں نے یہ عظیم الشان سلطنت جادو کے بل پر حاصل کی تھی اور وہ کفر کے مرتکب ہوئے تھے ملاحظہ ہو سورہ بقرہ آیت ۱۰۲ اور نوٹ۱۲۰

۲۵۔۔۔۔۔۔ حضرت سلیمان کی حکومت امتیازی شان کی تھی۔ ان کے لیے انسانوں کے ساتھ جنوں اور پرندوں کے لشکر بھی مہیا کر دیئے گئے تھے۔ وہ جنوں اور پرندوں سے جو خدمت لیتے تھے اس کا ذکر آگے ہوا ہے اور اس سلسلہ کی کچھ باتیں سورہ انبیاء میں گزر چکیں۔ (ملاحظہ ہو سورۂ انبیاء نوٹ۔۱۰۱)

ہر نبی کی ایک شان ہوتی ہے۔ حضرت سلیمان کو اللہ تعالیٰ نے حکومت و دولت اور شان و شوکت والا نبی بنایا تھا تاکہ دنیا والوں پر اسلام کی صداقت و عظمت کا یہ پہلو بھی روشن ہو کہ ایک نبی جاہ و حشمت کے ساتھ جب تخت پر بیٹھتا ہے تو اللہ کو یاد کرا ہ اور محل میں رہ کر بھی صالحیت کی زندگی جب گزارتا ہے لہذا جن لوگوں کو اقتدار حاصل ہو وہ اس کے نشہ میں مدہوش نہ ہوں بلکہ اسوہ سلیمانی کو سامنے رکھتے ہوئے احساس ذمہ داری کا ثبوت دیں۔

۲۶۔۔۔۔۔۔ یعنی ان لشکروں کو فوجی نظم و ضبط کے ساتھ رکھا جاتا تھا۔ ان کی صف بندی بھی کی جاتی تھی اور درجہ بندی بھی تاکہ جس کام کے لیے جو موزوں ہوں ان سے وہ کام لیا جائے مثلاً پرندوں سے پیغام رسانی کا کام وغیرہ۔

۲۷۔۔۔۔۔۔ یعنی سلیمان کا لشکر جب مارچ کرتے ہوئے ایک ایسی وادی میں پہنچا جہاں چونٹیوں کی کثرت تھی۔

۲۸۔۔۔۔۔۔ چونٹیوں میں اجتماعیت بھی ہوتی ہے اور نظم بھی چنانچہ ان کی لمبی قطاریں اور ان کامل جل کر کام کرنا اس کا واضح ثبوت ہے۔ ان کی حرکات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ایک چونٹی دوسری چونٹی کو بلا کر لاتی ہے جس سے ان کی باہم گفتگو کا بھی اندازہ ہوتا ہے یہ اور بات ہے کہ ہم ان کی آواز سن نہیں پاتے مگر ہم جانوروں کو انسان پر قیاس نہیں کر سکتے جس کی واضح مثال کتے کی قوتِ شامہ ہے جو اس قدر تیز ہوتی ہے کہ وہ انسان کے جسم کی بو کو محسوس کر کے اسے شناخت کر لیتا ہے چنانچہ جب پولس کسی تربیت یافتہ کتے کو موقع واردات پر لاتی ہے تو وہ اس بُو کے پیچھے جو راہ کی نشاندہی کرتی ہے مجرم تک پہنچ جاتا ہے۔ اس طرح اگر چونٹیوں کی گفتگو باہم اتنی خفی (ہلکی) ہو کہ ہم سن نہ سکیں تو یہ کوئی ناممکن بات نہیں ہے۔ آج ہم دقیق چیزیں خوردبین کے ذریعہ دیکھ لیتے ہیں لیکن اس سے پہلے ہمیں ان کے وجود کی خبر بھی نہیں تھی۔ اور اگر ابھی ایسا آلہ ایجاد نہیں ہوا ہے جس کے ذریعہ ہم صوتِ خفی کو سن سکیں تو اس کے وجود سے انکار کیسے کر سکتے ہیں جب کہ اس کی خبر ہمیں کلام الٰہی کے ذریعہ مل رہی ہے بلکہ یہ تو قرآن کے کلامِ الٰہی ہونے کی دلیل ہے کہ وہ کائنات کے بعض ایسے اسرار سے ہمیں آشنا کر رہا ہے جن کو جاننے کا ہمارے پاس کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے۔ یہ انسانی علم میں زبردست اضافہ ہے اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ ہم ان آیات کی الٹی سیدھی تاول کر کے علم کے ان دروازوں کو بند کر لیں جو ہم پر کھل رہے ہیں اور قرآن میں تحریف کے مرتکب ہو جائیں۔ ایسی آیتوں کو پڑھ کر ہماری دعا یہی ہونی چاہئے کہ :

رب زدنی علماً (طہ۰ ۱۱۴) “اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما”

رہا یہ سوال کہ چونٹیوں کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ یہ سلیمان کا لشکر ہے جو اس وادی سے گزر رہا تھا تو یہ بات الہامی ہے چونٹی پر اللہ کی طرف سے اس کا الہام ہونا (اس کے دل میں ڈالا جانا) کچھ بھی عجیب نہیں۔ ابرہہ پر سنگ باری کے لیے پرندوں کے جو جھنڈ کے جھنڈ پہنچے تھے وہ خدا کی طرف سے الہام ہی کا تو نتیجہ تھا (دیکھئے سورہ فیل)

۲۹۔۔۔۔۔۔ حضرت سلیمان نے چونٹی کی یہ بات اس علم کے ذریعہ سنی جو انہیں پرندوں کی بولی سمجھنے کے لیے معجزانہ طور پر حاصل تھا۔ چونٹی کی بات سن کر انہیں خوشی ہوئی ہو گی کہ ان کے لاؤ لشکر کی خبر چونٹیوں کو بھی ہو رہی ہے اور ان کا نام چونٹی کی زبان پر بھی ہے۔ بہر کیف ننھی منی چونٹی کی باتیں انہیں اتنی عجیب لگیں کہ وہ ہنس پڑے۔

۳۰۔۔۔۔۔۔ حضرت سلیمان کی ہنسی بھی سنجیدگی لیے ہوئے تھی اس لیے مسرت کے ساتھ ان کے دل میں شکر کے جذبات امڈ آئے اور اپنے رب سے دعا کی کہ مجھے شکر گزار اور صالح بننے کی توفیق عطا فرما یعنی تیری طرف سے نعمتوں کی تو مجھ پر بارش ہوئی ہے اور اس فضل میں سے بھی میں نے حصہ پایا ہے جو تو نے میرے والدین پر کیا۔ اب مجھے توفیق عطا فرما کہ میں ان احسانات کے تعلق سے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کروں۔

۳۱۱۔۔۔۔۔۔ انبیاء علیہم السلام کے درجات بہت بلند ہوتے ہیں لیکن درجات کی بلندی کے لیے عمل صالح بمنزلہ اساس ہوتا ہے اس لیے انبیاء علیہم السلام صالح بننے کی توفیق طلب کرتے ہیں اور چونکہ جنت کے مستحق صالح لوگ ہوں گے اس لیے وہ اس زمرہ میں شامل کئے جانے کی دعا کرتے ہیں۔

ایک طرف حضرت سلیمان کی یہ دعا ہے جو ان کے پاکیزہ جذبات کی ترجمان اور ان کی نیک نفسی کی آئینہ دار ہے اور دوسری طرف وہ لغو باتیں اور جھوٹے قصے ہیں جو بائبل میں ان کی طرف منسوب کر دیئے گئے ہیں۔

۳۲۔۔۔۔۔۔ حضرت سلیمان نے جب پرندوں کے لشکر کا جائزہ لیا تو ہدہد کو غائب پایا۔ ہدہد (Hoopoe) کبوتر کی طرح ایک پرندہ ہے جس کے سرپر کلغی (Crest) ہوتی ہے اس لیے اسے شاہی پرندہ (Royal Bird) کہتے ہیں۔ یہ فلسطین اور شام کے علاقہ میں بہ کثرت پایا جاتا ہے اور کبوتر ہی کی طرح نامہ بری کا کام کرتا ہے۔ مگر حضرت سلیمان کے جس ہدہد کا ذکر یہاں ہو رہا ہے وہ ایک خاص اور خداداد صلاحیت رکھنے والا ہدہد تھا اور اس نے جو غیر معمولی خدمت انجام دی اس کے پیش نظر اسے عام ہدہد پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ بعض لوگوں نے یہ تاویل بھی کی ہے کہ ہدہد ایک شخص کا نام تھا جو پرندوں کے نام پر رکھا گیا تھا۔ مگر قرآن کا سیاق و سباق اس سے انکار کرتا ہے اور گزر چکا کہ سلیمان کے لیے انسانوں اور جنوں کے علاوہ پرندوں کا لشکر بھی جمع کر دیا گیا تھا اور اس آیت میں طیر (پرندوں) کے جائزہ لینے کا ذکر ہوا ہے نیز آگے حضرت سلیمان کا یہ بیان بھی نقل ہوا ہے کہ اگر ہدہد نے اپنی غیر حاضری کا معقول عذر پیش نہیں کیا تو میں اسے ذبح کر دوں گا۔

یہ سب باتیں ہدہد کے پرندہ ہونے پر واضح سے دلالت کرتی ہیں اس لیے اس سے ہدہد نام کا آدمی مراد لینا ایک ایسی تاول ہے جو سراسر باطل ہے۔

۳۳۔۔۔۔۔۔ سخت سزا سے مراد ممکن ہے پر نوچنے کی سزا ہوتا کہ وہ اڑ نہ سکے۔

۳۴۔۔۔۔۔۔ واضح حجت سے مراد معقول عذر ہے۔

۳۵۔۔۔۔۔۔ سبا ایک قوم کا نام ہے جو یمن میں صنعا سے قریب آباد تھی اور جس کا دارالسلطنت مآرب تھا۔ ہدہد نے اس قوم کا حال معلوم کر کے اس کی رپورٹ حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے پیش کر دی جس سے یہ بات آپ سے آپ واضح ہو گئی کہ وہ سراغ رسانی کے کام میں مشغول رہا۔ اس لیے وقت پر حاضر نہ ہو سکا۔

حضرت سلیمان سبا کی حکومت سے بے خبر تو نہیں ہو سکتے تھے لیکن اس قوم کے حالات تفصیلی طور پر معلوم نہیں تھے۔ جیسا کہ ہدہد کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے اس لیے ہدہد نے اپنا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا۔

۳۶۔۔۔۔۔۔ عورت کی حکمرانی پر ہدہد کو بھی تعجب ہوا مگر موجودہ دور میں جمہوریت کا راگ الاپنے والی “بلبلیں ” اس سے خوش ہوں گی۔

۳۷۔۔۔۔۔۔ یعنی وافر سر و سامان۔

۳۸۔۔۔۔۔۔ معلوم ہوتا ہے ملکۂ سبا کا تخت سونے اور جواہرات سے مرصع تھا اس لیے ہدہد نے اس کو عظیم الشان تخت کہا۔

۳۹۔۔۔۔۔۔ ملکہ سبا اور اس کی قوم آفتاب پرست تھی اور غیر اللہ کی پرستش ہدہد کی نظر میں بھی ایک نامعقول بات تھی۔ واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ جب جانور کو قوت گویائی عطا کرتا ہے تو وہ شرک کی مذمت کے بغیر نہیں رہتا مگر انسان ہے کہ شرک کی باتیں کرتا ہے۔

۴۰ ۔۔۔۔۔۔ یہاں ہدہد کا بیان ختم ہوا۔ اس موقع پر یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ ہدہد کوئی عام پرندہ نہیں تھا بلکہ حضرت سلیمان کا خاص تربیت یافتہ پرندہ تھا اور اس کو اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر انسانی شعور بخشا تھا اس لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ سبا کے حالات کو سمجھے اور اس سے حضرت سلیمان کو مطلع کرے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ تھا جس سے واضح ہوا کہ ایک ہدہد انسانی شعور پا کر ہدایت و گمراہی میں تمیز کرتا ہے اور شرک کو باطل اور شیطان کا فریب قرار دیتا ہے مگرانسان ہے کہ با شعور ہو کر بے شعور بنتا ہے۔

۴۱۔۔۔۔۔۔ ہدہد کے بیان پر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اضافہ ہے جیسا کہ اندازِ کلام سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اس موقع پر سجدہ کرنے کا حکم ہے جو اللہ کے اپنے بیان ہی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ مقصود قوم سبا کے نقش قدم پر چلنے والے مشرکوں کو متوجہ کرنا ہے کہ وہ خدائے واحد کو اپنا مسجود کیوں نہیں بناتے جس کی یہ اور یہ صفات ہیں۔

واضح رہے کہ متن میں لفظ الااستعمال ہوا ہے جس کے معنی کیوں نہیں کے بھی ہوتے ہیں جیسا کہ لسان العرب ج ۰۱۵ ص ۴۳۴ میں بیان ہوئے ہیں اس لیے ہم نے اسی کے مطابق ترجمہ کیا ہے۔

۴۲۔۔۔۔۔۔ آسمانوں کی پوشیدہ چیزوں کی واضح مثال تو بارش ہے جو بادلوں میں چھپی ہوئی ہوتی ہے اسی طرح بجلی اور دن کی روشنی اوور موجودہ سائنس نے تو آسمان کی کئی پوشیدہ چیزوں کا انکشاف کیا ہے۔ مثلاً پلوٹو جیسے سیارے ، نوری سال Light Years کی دوری پر واقع ستارے ، کائناتی شعاعیں (Cosmic Rays) وغیرہ۔ رہی زمین کی پوشیدہ چیزیں تو ان کی واضح مثال نباتات ہیں۔ نیز ہر قسم کی معدنیات اور موجودہ دور میں تو زمین نے کالا سونا (تیل کی دولت) بھی اگل دیا ہے اور پلیٹنیم اور یورینیم جیسی قیمتی دھاتیں بھی۔

۴۳۔۔۔۔۔۔ یعنی جو خدا آسمان اور زمین کی چھپی چیزوں کو جانتا ہے باہر لاتا ہے وہ تم لوگوں کے ظاہر و باطن کو بھی جانتا ہے پھر جو خدا غیب کا علم رکھتا ہے اور غیب کی چیزوں میں تصرف بھی کرتا ہے وہ تمہارے سجدوں اور تمہاری پرستش کا مستحق ہے یا سورج اور پتھر کے بت جو نہ کچھ جانتے ہیں اور نہ کچھ کر سکتے ہیں ؟

۴۴۔۔۔۔۔۔ یہ آیت سجدہ ہے تلاوت کرنے والے اور سننے والے کو چاہئے کہ وہ فوراً سجدہ کرے جو درحقیقت اس بات کا اظہار ہے کہ وہ عرشِ عظیم کے رب ہی کو اپنا مسجود و معبود بنائے ہوئے ہے۔

اس موقع پر سجدہ اس لحاظ سے بھی بر محل ہے کہ حضرت سلیمان کے قصہ میں متعدد واقعات ایسے بیان ہوئے ہیں کہ اگر عقل پر ایمان کی گرفت مضبوط نہ ہو تو وہ کیوں اور کسیے اور ممکن اور ناممکن کی بحث ہی میں الجھ کر رہ جائے گی۔ قرآن نے بعض مقامات پر عقل کا امتحان لینا چاہا ہے جو سچے مومن ہوتے ہیں ان کی عقل ایسے نازک موقع پر اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو جاتی ہے اور یہ صفت اس کو عقل پرستی سے ممتاز کرتی ہے۔

۴۵۔۔۔۔۔۔ حضرت سلیمان کا ہدہد کو یہ جواب اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ ہدہد سچ سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت سلیمان کے لیے معجزہ کا ظہور تھا۔

۴۶۔۔۔۔۔۔ واضح ہوا کہ یہ ہدہد نامہ بری کی خدمت بھی انجام دیتا تھا۔

۴۷۔۔۔۔۔۔ یعنی خط ڈال کر فوراً واپس نہ آ بلکہ کسی گوشہ سے دیکھتا رہ کہ وہ کیا رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔

۴۸۔۔۔۔۔۔ ملکہ سبا نے اس خط کو قابل احترام سمجھا جس کی ایک وجہ تو یہ رہی ہو گی کہ کسی سفیر کے بغیر پرندہ کی نامہ بری کے ذریعہ مل گیا تا، دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ خط شام و فلسطین کی عظیم الشان سلطنت کے مشہور اور جلیل القدر بادشاہ حضرت سلیمان کی طرف سے تھا اور سب سے بڑی وجہ خط کا نفس مضمون اس کے وقیع ہونے کی شہادت دے رہا تھا چنانچہ اس کا آغاز ہی بسم اللہ الرحمن الرحیم سے ہوا تھا۔ جو ایک ایسابابرکت کلمہ ہے کہ معرفت الٰہی کے دروازے اسی کنجی سے کھلتے ہیں اور یہ اسی کلمہ کی برکت ہے کہ ملکہ سبا پر راہ حق کھل گئی جیسا کہ آگے چل کر معلوم ہو گا۔

حضرت سلیمان کے قلم سے نکلا ہوا یہ کلمہ درحقیقت وحیِ الٰہی ہے جس کو قرآن نے اس طرح محفوظ کر لیا ہے کہ اس کا آغاز ہی بسم اللہ الرحمن سے ہوتا ہے پھر ہر سورہ کے لیے یہ تاج مکمل ہے بجز سورہ توبہ کے جو ایک بے تاج بادشاہ ہے شمشیر عریاں لیے ہوئے۔

حضرت سلیمان کے خط سے یہ رہنمائی بھی ملتی ہے کہ دعوتی اور تبلیغی خطوط کی ابتداء بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کی جانی چاہئے۔

۴۹ ۔۔۔۔۔۔ ایک طرف حضرت موسیٰ کو یہ ہدایت ہوئی تھی کہ فرعون کے پاس جاؤ تو اس سے نرمی سے بولو اور دوسری طرف حضرت سلیمان کا یہ اسوہ پیش کر رہا ہے کہ انہوں نے ملکہ سبا کو دعوتی خط لکھا تو چیلنج کا انداز اختیار کیا کہ میرے مقابلہ میں سرکشی نہ دکھاؤ اور سیدھے مسلم بن کر میرے پاس آ جاؤ۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان فرمانروا ہونے کی حیثیت سے حکومتی سطح پر دعوت پیش کر رہے تھے جب کہ حضرت موسیٰ کو اقتدار حاصل نہیں تھا۔

معلوم ہوا کہ ایک طاقت ور اسلامی حکومت کسی مشرک حکومت کو چیلنج کے انداز میں اسلام کی دعوت پیش کر سکتی ہے۔ خلفائے راشدین کے زمانہ میں جو ممالک فتح ہوئے ان کو چیلنج کے انداز ہی میں دعوت پیش کی گئی تھی یعنی یا تو اسلام قبول کرو یا جزیہ دیکر اسلامی حکومت کی ماتحتی قبول کرو یا پھر تلوار فیصلہ کر دے گی۔

یہ بات کہ “مسلم ہو کر میرے پاس حاضر ہو جاؤ” دو ٹوک الفاظ میں قبول اسلام کی دعوت تھی اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت سلیمان کے پیش نظر نہ ملک گیر تھی اور نہ شان و شوکت کی فضول نمائش بلکہ ایک عظیم مقصد تھا اور وہ تھا اسلام کی اشاعت اور اس کا استحکام حکومتی سطح پر۔

اس سے یہ رہنمائی بھی ملتی ہے کہ ایک اسلامی حکومت کو چاہئے کہ اس کو مقصد کی حیثیت سے سامنے رکھے اور اس کے لیے اپنے وسائل استعمال کرے۔ اسلام کا بے لاگ نظریہ یہی ہے کہ کسی بھی ملک میں شرکت کو اقتدار حاصل نہ ہوا کیونکہ جب حکومت کی مشینری شرک کو پھیلانے میں لگ جاتی ہے تو عوام بری طرح گمراہ ہو جاتے ہیں۔ ان کی بہبود کے لیے ان کو شرک کے تسلط سے آزاد کرنا یا کم از کم اسلامی حکومت کے زیر اثر لانا بہت ضروری ہے۔ مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورہ توبہ نوٹ ۵۷)

۵۰ ۔۔۔۔۔۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا صحیح نہیں ہے کہ ملکہ سبا کی حکومت جمہوری حکومت تھی کیونکہ بادشاہ بھی اپنے وزیروں سے یا اہل دربار سے مشورہ کرتے رہے ہیں۔ فرعون نے بھی اپنے دربار والوں سے مشورہ کیا تھا۔ (سورہ شعراء : ۲۵) اس لیے سبا کی حکومت شخصی حکومت ہی تھی۔

۵۱۔۔۔۔۔۔ مراد فوجی طاقت ہے۔

۵۲۔۔۔۔۔۔ یعنی جنگ سے گھبرانے والے نہیں بلکہ اس کے لیے مستعد رہنے والے لوگ ہیں۔

۵۳۔۔۔۔۔۔ فیصلہ کا اختیار ملکہ ہی کو تھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سبا کی حکومت شخصی حکومت تھی۔

۵۴۔۔۔۔۔۔ یعنی ہم نے اپنا رجحان ظاہر کر دیا اب فیصلہ کرنا آپ کا کام ہے لہذا آپ ہی غور فرمائیں کہ کیا کرنا مناسب ہو گا۔

۵۵۔۔۔۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ ایک بادشاہ سے جنگ کرنے کی صورت میں اندیشہ ہے کہ ہماری شکست ہوئی تو پھر قوم کو تباہی کا اور ہم کو سخت ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لیے جنگ کو ٹالنا ہی بہتر ہے۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملکہ عورت ہونے کے باوجود مردوں سے زیادہ سوجھ بوجھ رکھتی تھی۔ عورتیں اقتدار کو سنبھالنے اور عدالتی فیصلے کرنے کی نسبتاً کم صلاحیت رکھتی ہیں کیونکہ ان پر جذبات کا غلبہ ہوتا ہے لیکن یہ کوئی ایسا قاعدہ کلیہ نہیں ہے کہ کوئی عورت بھی اس سے مستثنیٰ نہ ہو بلکہ واقعہ یہ ہے بعض عورتیں مردوں سے بھی زیادہ سوجھ بوجھ والی ہوتی ہیں اور بعض مرد عورتوں سے بھی کم فہم ہوتے ہیں۔ ملکہ سبا کی معاملہ فہمی اور دوربینی یقیناً اس کے دربار والوں سے بڑھ کر تھی اور یہ ایک استثنائی صورت ہے۔

۵۶۔۔۔۔۔۔ ملکہ نے یہ فیصلہ کیا کہ اس وقت قاصدوں کا ایک وفد ہدیہ لے کر سلیمان کی خدمت میں پہنچ جائے اور دیکھیں کہ وہ کیا رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ ممکن ہے اس سے دوستانہ تعلقات کی کوئی صورت نکل آئے۔

۵۷۔۔۔۔۔۔ ملکہ سبا نے بیش بہا ہدیہ کے ساتھ ایک سفارتی وفد حضرت سلیمان کے پاس بھیجا تھا لیکن حضرت سلیمان نے ہدیہ قبول نہیں کیا کیونکہ یہ ہدیہ اس غرض سے پیش کیا گیا تھا کہ سبا کے اصحابِ اقتدار کو آپ نے قبول اسلام کی جو دعوت دی تھی اس سے آپ دستبردار ہو جائیں اور خیرسگالی کے تعلقات پر اکتفا کریں جب کہ حضرت سلیمان اس پوزیشن میں تھے کہ طاقت کے ذریعہ مشرکانہ اقتدار کو ختم کر کے قوم سباکو شرک کی گرفت سے آزاد کریں۔

سبا والوں کو اپنی دولت اور اپنی شان و شوکت پر بڑا ناز تھا اس لیے حضرت سلیمان نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تم سے کہیں زیادہ اور بہتر نعمتوں سے نوازا ہے اس لیے مجھے تمہارے مال کی ضرورت نہیں ہے کہ اس کے لالچ میں ایک مشرکانہ ریاست کے وجود کو برداشت کروں۔

۵۸۔۔۔۔۔۔ حضرت سلیمان ایک مشرکانہ حکومت کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے کیونکہ اس زمانہ میں رعایا بالعموم بادشاہ کے مذہب پر ہوا کرتی تھی اس لیے کسی قوم کو گمراہی سے نکالنے کے لیے ضروری تھا کہ فاسد اور باطل اقتدار سے اس کو آزاد کر دیا جائے اور حضرت سلیمان تو زبردست طاقت کے مالک تھے اس لیے انہوں نے اپنے مقام سے بات کی اور اس طرح بات کی کہ ان کا غضب ایک مشرکانہ اور طاغوتی حکومت پر ٹوٹ رہا تھا۔ ان کا یہ غضب طاقت کے گھمنڈ میں نہیں تھا بلکہ اس لیے تھا کہ شرک کا زور ٹوٹے اور لوگوں کو ہدایت نصیب ہو اس سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ اسلامی حکومت کے پیش نظر ایک اعلیٰ مقصد ہوتا ہے اور وہ اس کی مناسبت سے ضروری اقدام کرتی ہے اس لیے یہ خیال کرنا صحیح نہیں کہ اس کی جنگیں مدافعت کی حد تک ہی ہوتی ہیں۔ اگر اسلام میں صرف مدافعانہ جنگ کی اجازت ہوتی تو حضرت سلیمان سبا کی حکومت کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کا ارادہ ظاہر نہ فرماتے۔

۵۹ ۔۔۔۔۔۔ بین السطور سے یہ بات واضح ہے کہ وفد واپس چلا گیا اور اس نے جب ملکہ کو حضرت سلیمان اور ان کی امتیازی شان رکھنے والی حکومت کے بارے میں آگاہ کیا تو وہ بنفسِ نفیس حضرت سلیمان کی ملاقات کے لیے روانہ ہو گئی اور جب حضرت سلیمان کو اس کی روانگی کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے اس کا تخت اس کی آمد سے پہلے منگوانا چاہا تاکہ اس کے سامنے ایک معجزہ کا ظہور ہو جو ان کی نبوت کی دلیل بنے۔

۶۰۔۔۔۔۔۔ عفریت یعنی ایک زبردست طاقت رکھنے والا ۔

۶۱۔۔۔۔۔۔ جن زمین سے آسمان تک پرواز کرتے ہیں اس لیے ان کی رفتار کو ہم انسان کی رفتار پر اور ان کی طاقت کو انسان کی طاقت پر قیاس نہیں کر سکتے۔ عفریت نے دربار برخواست ہونے سے پہلے ملکہ سبا کے تحت کو حاضر کرنے کی پیشکش تو کی اور یہ بھی کہا کہ میں اس امانت میں کوئی خیانت نہیں کروں گا یعنی قیمتی تخت کو جوں کا توں لے آؤں گا۔ لیکن حضرت سلیمان نے یہ مناسب نہیں سمجھا کہ یہ کام ایک جن سے لیا جائے۔

۶۲۔۔۔۔۔۔ کتاب سے کتاب الٰہی یعنی تورات مراد ہے کیونکہ کوئی اور معنی لینے کے لیے کوئی قرینہ نہیں ہے اور “جس کے پا س کتاب کا علم تھا” سے مراد حضرت سلیمان کے دربار کا وہ شخص ہے جو تورات کا برا عالم اور اس میں گہری بصیرت رکھنے والا تھا۔ وہ سمجھ گیا کہ حضرت سلیمان معجزہ کے ذریعہ ملکہ کا تخت منگوانا چاہتے ہیں اور اس کے لیے ایک انسان کو واسطہ بنانا چاہتے ہیں اس لیے اس نے اس خدمت کے لیے اپنے کو پیش کیا اور چونکہ وہ جانتا تھاک ہ معجزہ اللہ کے اذن سے ظہور میں آتا ہے اور اس کے ظہور کے لیے زماں اور مکاں کے فاصلے کوئی معنی ہیں رکھتے اس لیے اس نے کہا میں اسے آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے حاضر کر سکتا ہوں مطلب یہ تھا کہ جب آپ کے ہاتھوں ایک معجزہ صادر ہونے جا رہا ہے تو وہ ایک لمحہ میں صادر ہو سکتا ہے اور اس خدمت کا انجام دینے کے لیے بالکل مستعد ہوں۔

حضرت سلیمان یہ معجزہ کسی آدمی کے ذریعہ بنائے بغیر دکھا سکتے تھے لیکن انہوں نے تورات کے سب سے بڑے عالم کو یہ شرف بخشا کہ اس معجزہ کے ظہور کے لیے وہ واسطہ بن جائیں با الفاظ دیگر یہ درحقیقت حضرت سلیمان ہی کا کارنامہ تھا جو اللہ کے اذن سے اسی طرح ظہور میں آیا جس طرح دوسرے انبیاء علیہم السلام کے ہاتھوں مختلف معجزے صادر ہوئے ، فرق صرف یہ ہے کہ انہوں ں ے معجزانہ طریقہ پر تخت منگوانے کی خدمت تورات کے ایک جید اور ممتاز عالم سے لی جو ان کے دربار میں موجود تھا۔

بعض مفسرین کے نزدیک “جس کے پاس کتاب کا علم تھا ” سے مراد اللہ کے اسم اعظم کا علم ہے۔ یعنی وہ شخص اللہ تعالیٰ کے اسمِ اعظم کو جانتا تھا اس لیے اس نے اس کے ذریعہ تخت کو حاضر کیا اور پھر اس بحث میں پڑ گئے کہ اللہ کا اسمِ اعظم کیا ہے۔ اس طرح اسم اعظم کو ایک معمہ بنا دیا گیا حالانکہ خدا کا اسم اعظم کوئی راز نہیں ہے بلکہ ایک واضح حقیقت ہے اور وہ ہے اسم “اللہ”۔ یہ اسم ذات ہے اور قرآن میں اس کثرت سے اس کا ذکر ہوا ہے کہ اس کو چھوڑ کر کسی اسم اعظم کی تلاش کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ یہ کس طرح باور کیا جا سکتا ہے کہ قرآن اسم اعظم سے خالی ہے اور بسم اللہ سورہ فاتحہ، آیت الکرسی اور سورہ اخلاص جن میں ذات واضح کی معرفت بخشی گئی ہے اور اس بنا پر ان کی خاص فضیلت بھی ہے اس اعظم سے خالی ہیں۔ اسی طرح یہ بات بھی کس طرح تسلیم کی جا سکتی ہے کہ اذکار مسنونہ میں رب کی حمد و ثنا کے بہترین کمالات تو موجود ہیں لیکن اسم اعظم غائب ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جو لوگ عملیات کے گورکھ دھندے میں پھنس گئے ہیں انہوں نے “اسم اعظم” ہی کا سہارا لیا ہے۔ اور علامہ سید سلیمان ندوی نے بالکل صحیح فرمایا ہے کہ “اسم اعظم” کا تخیل ایک جاہلانہ اور غیر شرعی تخیل ہے۔ ” (ارض القرآن، ج۔ ۱۔ ص ۲۷۰)۔

۶۳۔۔۔۔۔۔ یعنی تخت اسی لمحہ وہاں آ موجود ہوا۔ یمن اور بیت المقدس کے درمیان تقریباً ڈیڑھ ہزار میل کا فاصلہ ہے اس لیے بظاہر یہ بات عجیب سی معلوم ہوتی ہے کہ اتنے دور کے فاصلے ملکہ کا تخت ایک لمحہ کے اندر سلیمان کے دربار میں پہنچ گیا لیکن جو لوگ اللہ کے قادر مطلق ہونے پر یقین رکھتے ہیں ان کے لیے اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ اللہ تعالیٰ جب کوئی معجزہ اپنے نبی کے ہاتھ پر دکھانا چاہتا ہے تو عام قوانین طبعی اس میں رکاوٹ نہیں بنتے۔ حضرت موسیٰ کی لاٹھی زمین پر ڈالتے ہی سانپ بن جایا کرتی تھی۔ حضرت صالح کے لیے غیر معمولی اونٹنی کا ظہور یکایک ہوا تھا ور نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مکہ سے بیت المقدس کا طویل سفر ایک رات میں طے کیا تھا۔ پھر اس طبعی دنیا میں بھی بعض چیزیں بہت تیز رتار ہیں مثلاً روشنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سکنڈ کی رفتار سے سفر طے کرتی ہے اور مقناطیس (Magnet) کے بل پر آواز ہزاروں میل کی دوری پر آناً فاناً پہنچ جاتی ہے جو خدا اپنی قدرت کے یہ کرشمے دکھاتا ہو اس کے لیے اپنے بنی کے ہاتھ پر یہ نشان ظاہر کر دینا کیا مشکل ہے کہ ایک تخت ایک لمحہ کے اندر طویل فاصلہ طے کر کے سلیمان کے درمیان میں کھینچ آئے ؟

۶۴۔۔۔۔۔۔ تخت کے غیر معمولی طریقہ سے دربار میں پہنچ جانے پر سلیمان نے یہ نہیں کہا کہ یہ میرا کارنامہ ہے بلکہ اس کو اللہ کا فضل قرار دیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان کی بادشاہت عام بادشاہوں سے کتنی مختلف تھی۔

۶۵۔۔۔۔۔۔ یعنی میرا رب کسی کے شُکریہ کا محتاج نہیں ہے اس کی شان بڑی کریمانہ ہے لہذا جو ناشکری کرتا ہے وہ اپنے ہی حق میں برا کرتا ہے۔

۶۶۔۔۔۔۔۔ تخت کی شکل کو بدلنے کا حکم ایک خاص مقصد کے پیش نظر دیا گیا تھا اور وہ یہ تھا کہ ملکہ کو دعوتِ فکر دی جائے۔ اگر وہ شناخت کر لیتی ہے کہ ظاہری تبدیلی کے باوجود یہ تخت اسی کا ہے تو ا کے ذہن میں یہ سوال ضرور پیدا ہو جانا چاہئے کہ میرا تخت یہاں آکیسے گیا۔ اس سوال پر جب وہ غور کرے گی تو اس پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ حضرت سلیمان کا معجزہ ہے جو ان کے نبی ہونے کی دلیل ہے ا طرح وہ ہدایت پا سکتی ہے اور اگر اس نے اپنے تخت کو نہیں پہنچانا تو واضح ہو گا کہ وہ غور و فکر نہیں کرتی اور جو غور و فکر نہیں کرتا وہ ہدایت سے محروم رہتا ہے ۔

یہاں یہ فقہی بحث فضول ہے کہ ملکہ کی ملکیت میں تصرف کرنا حضرت سلیمان کے لیے کس طرح جائز ہوا؟ یہ سوال اس لیے پیدا نہیں ہوتا کہ معجزہ اللہ تعالیٰ کے اذن ہی سے ظہور میں آتا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ بندوں کی ملکیت میں بھی تصرف فرماتا ہے حضرت صالح کی اونٹنی کے لیے پانی کی باری ایسی مقرر کر دی کہ ایک دن پانی کے تمام کنویں اور چشمے اس کے لیے مخصوص ہوں گے اور قوم کو اپنے کنوؤں اور چشموں سے پانی لینے کی اجازت نہیں ہو گی۔ اسی طرح ملکہ سبا کا تخت اپنے پاس منگوانے اور اس میں تغیر کرنے کا اختیار حضرت سلیمان کو حاصل تھا تاکہ ایک معجزہ ظہور میں آئے اور یہ کام ملکہ کی ہدایت کی غرض سے کیا گیا تھا نہ کہ تخت کے ہیرے جواہرات حاصل کرنے کی غرض سے۔

۶۷۔۔۔۔۔۔ ملکہ نے اپنے تخت کو پہچان لیا مگر اس کی شکل قدرے تبدیل کر دی گئی تھی اس لیے کہا گویا وہی ہے اور ساتھ ہی اس بات کا اعتراف کیا کہ حضرت سلیمان کے معجزانہ کارناموں کا ہمیں پہلے ہی سے علم ہو گیا تھا اور ہم دین اسلام کو قبول کر کے مسلم ہو گئے تھے۔

ملکہ کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اور اس کے ساتھی وفد کی رپورٹ سن کر ہی اسلام کے معترف ہو گئے تھے لیکن ابھی قوم کے سامنے کھل کر اپنے مسلم ہونے کا اظہار نہیں کیا تھا اور نہ ابھی ایمان کی کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔

حضرت سلیمان نے جو خط اس کو بھیجا تھا اس میں یہی کہا گیا تھا کہ وہ مسلم ہو کر ان کے پاس حاضر ہو جائے اس لیے ملکہ نے یہ سفر قبول اسلام کا فیصلہ کرنے کے بعد ہی کیا ہو گا۔

۶۸۔۔۔۔۔۔ یعنی ملکہ اسلام کی معترف تو ہو گئی تھی لیکن اس نے کھل کر اسلام کا اظہار نہیں کیا تھا کیونکہ وہ ایک مشرکانہ مذہب سے تعلق رکھتی تھی اور ایک کافر قوم کی سربراہ تھی۔ اس مذہب کو ترک کر کے اسلام میں داخل ہونا اس کے لیے آسان نہ تھا لیکن جب وہ اس ماحول سے نکل آئی اور حضرت سلیمان کے پاس پہنچ گئی تو وہاں اسے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہنے کا موقع مل گیا۔

۶۹۔۔۔۔۔۔ حضرت سلیمان نے ملکہ کو اس کی فکری غلطی اور اعتقادی گمراہی کا احساس دلانے کے لیے ایک شیش محل تعمیر کرایا تھا جس کا فرش شفاف کانچ کا تھا اور اس کے نیچے پانی بہہ رہا تھا۔ دیکھنے سے دھوکا ہوتا تھا کہ یہ پانی ہی پانی ہے اس لیے ملکہ نے اس میں سے گزرنے کے لیے اپنی پنڈلیوں پر سے کپڑے ہٹا دیئے تاکہ وہ پانی میں بھیگ نہ جائیں۔ حضرت سلیمان نے کہا یہ شیشوں سے جڑا ہوا محل ہے۔ اس پر وہ فوراً چونک پڑی اور اس کا ذہن اس بات کی طرف منتقل ہوا کہ انسان اگر غور نہ کرے تو ظاہری چیز کو دیکھ کر دھوکا کھا جاتا ہے جب کہ حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔ کائنات کے یہ مظاہر سورج چاند وغیرہ بھی خدا نہیں ہیں بلکہ خدا وہ ہے جس کا نور پوری کائنات میں جلوہ گر ہے جب یہ حقیقت اس پر کھل گئی تو ایس اپنی اس گمراہی کا احساس ہوا کہ وہ شرک میں مبتلا رہی ہے اس لیے اس نے اپنے رب کے حضور اس گناہ کا اعتراف کیا۔

اب اسلام اس کے دل کی گہرائیوں میں اتر گیا تھا اس لیے اس نے پورے شعور اور پورے یقین کے ساتھ اپنے قبول اسلام کا اعلان کیا۔ اس طرح حضرت سلیمان کی حکمت عملی اس کی ہدایت کا سبب بنی۔

رہا یہ سوال کہ حضرت سلیمان نبی تھے اور انبیاء علیہم السلام پر تکلف زندگی نہیں گزارتے پھر حضرت سلیمان نے محل کس طرح تعمیر کر دیا؟تو واقعہ یہ ہے کہ اولاً یہ سب کچھ دعوتی اغراض کے لیے اور اسلام کے سیاسی مصالح کے پیش نظر کیا گیا تھا نہ کہ داد عیش دینے کے لیے یا فخر و نمائش کے لیے ثانیاً حضرت سلیمان کو غیر معمولی وسائل حاصل ہو گئے تھے یہاں تکہ کہ جنوں سے خدمت لینا بھی ان کے لیے ممکن ہو گیا تھا اس لیے انہوں نے ان وسائل کو بیت المقدس کی شاندار تعمیر اور پر شکوہ سرکاری محل بنوانے کے لیے استعمال کیا جس کا کوئی بار غریبوں پر نہ پڑتا تھا۔ انہوں نے یہ تعمیرات غریبوں کی حق تلفی کر کے نہیں بنائی تھیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دولت کے جو خزانے عطا کئے تھے ان کو انہوں نے دین کے اعلیٰ مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ ثالثاً ایک نبی کی سیرت کا یہ نمونہ سامنے آیا کہ تقویٰ کے اعلیٰ معیار پر رہتے ہوئے ایک شاندار حکومت بھی چلائی جا سکتی ہے اور کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ کسی بھی نبی کے لیے وسائل کی فراوانی نہیں ہوئی اور نہ کوئی نبی تختِ سلطنت پر بیٹھ کر صلاح و تقویٰ کا نمونہ پیش کر سکا۔

اسلام قبول کرنے کے بعد ملکہ اپنے ملک کو لوٹ گئی یا نہیں اس کے بارے میں قرآن خاموش ہے کیونکہ اس کا مقصد تاریخ بیان کرنا نہیں بلکہ شکر کی تردید میں ایک اہم تاریخی واقعہ کو پیش کرنا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ تخت و تاج پانے والی ایک خاتون بھی جب کھلے ذہن سے خدا کی نشانیوں پر غور کرتی ہے تو اس پر شرک کا باطل ہونا اور توحید کا حق ہونا واضح ہو جاتا ہے اور وہ پورے یقین کے ساتھ اسلام میں داخل ہو جاتی ہے اور کوئی یہ خیال نہ کر کے کہ انبیاء علیہم السلام کی دعوت سے مفلوک الحال لوگ ہی متاثر ہوتے رہے ہیں بلکہ ایسا بھی ہوا ہے کہ اصحابِ اقتدار دعوت کو قبول کر کے حلقہ بگوش اسلام ہوئے ہیں۔ بائبل میں البتہ یہ صراحت ہے کہ ملکہ سبا اپنے ملک کو واپس لوٹ گئی تھی۔

“اور وہ لوٹ کر اپنے ملازموں سمیت اپنی مملکت کو لی گئی ” (۲ تواریخ ۹: ۱۲)۔

بہر حال ملکۂ سبا سے حضرت سلیمان کے نکاح کا ذکر نہ قرآن میں ہوا ہے اور نہ حدیث میں اور نہ ہی بائبل میں اور قرین قیاس یہی ہے کہ وہ اپنے ملک کو واپس لوٹ گئی ہو گی تاکہ وہ اپنی قوم کو خدا پرستی کی دعوت دے اور حضرت سلیمان نے سبا کے خلاف لشکر کشی کا جو ارادہ کیا تھا اسے اسی صورت میں ترک کیا ہو گا جب کہ سبا کی حکومت ان کے ماتحت آ گئی ہو گی۔

بعض لوگ ملکہ سبا کے واقعہ کو عورت کے سبراہی کے جواز میں پیش کرتے ہیں۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ حضرت سلیمان نے ملکہ کو قبول اسلام کے بعد اپنے منصب پر برقرار رکھا۔ اول تو اس بات کی تائید میں کوئی نص قرآنی نہیں ہے کہ ملکہ اپنے ملکہ کو واپس لوٹ گئی اور بدستور ملکہ رہی کہ وہ بنائے استدلال بن سکے۔ دوسرے یہ کہ حضرت سلمان نے اس کو سربراہی کا مقام عطا نہیں کیا تھا بلکہ اس کی قوم نے اس کو سربراہ بنایا تھا۔ تیسرے یہ کہ اس کی قوم کا فر اور مشرک تھی اور ملکہ کے ہدایت پانے کے بعد اس کو اپنی قوم کی ہدایت کا ذریعہ بنایا جا سکتا تھا اس لیے اس عظیم دعوتی و اصلاحی مصلحت کے پیش نظر ایک ایسی خاتون کو جس نے پورے شعور کے ساتھ اسلام قبول کیا تھا اپنے منصب پر برقرار رکھا گیا ہو تو یہ ایک استثنائی صورت ہی ہو سکتی ہے۔ اس کو شریعت کا عام حکم سمجھنا صحیح نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت تو تکمیل شریعت ہے جس میں پردے وغیرہ کے احکام بھی دیئے گئے ہیں اس لیے ان کی پابندی کرتے ہوئے عورت کا سربراہِ مملکت بننا کوئی قابل (Feasible) بات نہیں ہے۔

۷۰ ۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھئے سورہ اعراف نوٹ ۱۱۵  تا ۱۲۶ اور سورہ فجر نوٹ ۱۲ ، ۱۳۔

۷۱ ۔۔۔۔۔۔ یعنی حضرت صالح کی دعوت توحید خالص اور خدائے واحد کی عبادت کی دعوت تھی یہ دعوت اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایسی تھی کہ نزاع کا کوئی سوال پیدا ہی نہیں ہوتا لیکن جب انہوں نے دعوت پیش کی تو قوم دو گروہوں میں بٹ گئی۔ ایک نے دعوت کو قبول کیا اور دوسرے نے انکار کیا۔ اس طرح توحید اور شرک اور ایمان اور کفر کے درمیان کشمکش برپا ہو گئی۔ انبیاء علیہم السلام سے بڑھ کر دعوت کو حکیمانہ طریقہ پر پیش کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے مگر جب انہوں نے شرک اور بت پرستی پر ضرب لگائی ہے اور خدائے واحد ہی کو لائق پرستش قرار دیا ہے تو ان کو مخالفت میں ایک طوفان اٹھتا رہا ہے مگر ساتھ ہی ایک گروہ ایسا بھی نکلتا رہا ہے جس نے ان کی دعوت پر لبیک کہا ہے۔ یہ گروہ اگرچہ تعداد کے لحاظ سے قلیل رہا ہے لیکن اوصاف کے لحاظ سے سوسائٹی کا مکھن ثابت ہوا ہے۔ اور یہی وہ مثبت نتیجہ ہے جو دعوت کا اصل مقصود ہے اور ایسے ہی لوگوں سے جنت کی سوسائٹی تشکیل پانے والی ہے۔

موجودہ دور میں دعوتِ اسلامی کو پیش کرنے والوں کی بڑی تعداد ایسی ہے جو شرک اور بت پرستی پر ضرب کاری لگانے سے کتراتی ہے اور اس کشمکش کو مول لینے کے لیے آمادہ نہیں ہوتی جو توحید کی بے لاگ دعوت کو پیش کرنے کے نتیجہ میں برپا ہوتی ہے اسی لیے ان کی دعوت زیادہ موثر اور نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتی۔

۷۲۔۔۔۔۔۔ یعنی جلد بازی سے کام لے کر تم حق کو جھٹلا رہے ہو اور اپنے برے انجام کو دعوت دے رہے ہو لیکن اگر سنجیدگی سے غور کرو تو تم پر حق واضح ہو سکتا ہے اور تمہیں اپنے گناہ کا احساس ہو سکتا ہے پھر تم اللہ سے معافی کے خواستگار اوراس کی رحمت کے مستحق بن سکتے ہو۔

۷۳۔۔۔۔۔۔ حضرت صالح کی بعثت کے بعد جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آفتیں نازل ہونے لگیں تاکہ غفلت میں پڑے ہوئے لوگ بیدار ہوں اور رسول کی دعوت پر کان دھریں تو اس آزمائش کی توجیہ انہوں نے یہ کی کہ یہ صالح اور ان کے ساتھیوں کی نحوست ہے۔ حضرت صالح نے اس کا جواب یہ دیا کہ تمہاری قسمت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ جو کچھ پیش آ رہا ہے وہ اسی کی طرف سے ہے اور مقصود تمہاری آزمائش ہے۔ اس کو دیوی دیوتا کی ناراضگی کا نتیجہ قرار دینا اور توحید کی دعوت دینے والوں کو نحوست خیال کرنا حقیقت کی طرف سے آنکھیں بند کر لینا ہے۔

۷۴۔۔۔۔۔۔ یعنی سوسائٹی میں بگاڑ ہی بگاڑ پیدا کر رہے تھے۔ اصلاح کے کسی کام سے انہیں دلچسپی نہیں تھی۔

۷۵۔۔۔۔۔۔ شہر کے ان مفسد عناصر نے مل کر یہ منصوبہ بنایا کہ سب مل کر صالح اور ان کے گھر والوں پر رات کے وقت حملہ کریں گے اور ان کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے وارث سے کہ دیں گے کہ ہم موقع واردات پر موجود نہ تھے اس طرح ہم سے قصاص نہیں لیا جا سکے گا۔

واضح رہے کہ قبائلی نظام میں قصاص کا قاعدہ بڑی اہمیت رکھتا تھا اگر کسی فرد کو قتل کر دیا گیا ہو تو اس کا وارث قاتل سے خون کا مطالبہ کرتا تھا یا تو اسے خون بہا ادا کرنا پڑتا تھا یا پھر اسے قصاص میں قتل کر دیا جاتا تھا۔ اس قاعدہ کی زد سے بچنے کے لیے ان مفسد عناصر نے یہ ترکیب لڑائی کہ سب مل کر قتل کریں گے اور پھر جھوٹ بولیں گے تاکہ خون کا دعویٰ کسی پر نہ کیا جا سکے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی آگے جا کر ایسے ہی حالات سے سابقہ پیش آیا۔ مکہ کے مختلف قبیلوں نے مل کر یہ سازش کی کہ تمام قبیلوں کے سردار مل کر آپ کو قتل کریں گے تاکہ بنی ہاشم کے لیے خون کا مطالبہ کرنا آسان نہ رہے مگر اللہ تعالیٰ نے عین موقع پر آپ کی رہنمائی اس طرح فرمائی کہ آپ خاموشی کے ساتھ مکہ سے نکل گئے اور دشمنوں کی سازش ناکام رہی۔

۷۶۔۔۔۔۔۔ یعنی ان کی سازش کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح ناکام بنایا کہ انہوں نے اپنے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جو وقت مقرر کیا تھا اس سے پہلے ہی ان کو عذاب کی گرفت میں لے لیا۔

۷۷۔۔۔۔۔۔ ثمود پر جو عذاب آیا اس کی تشریح سورہ ہود نوٹ ۱۲۳، ۱۲۴ میں گزر چکی ہے۔

۷۸۔۔۔۔۔۔ یعنی حضر کے علاقہ میں ان کے کھنڈر رہ گئے ہیں جو دیکھنے والوں کے لیے باعثِ عبرت ہیں۔

۷۹ ۔۔۔۔۔۔ قوم ثمود کے مشرکانہ عمل اور مفسدانہ رویہ کو ظلم سے تعبیر کیا گیا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ ظلم کا لفظ قرآن کن معنی میں استعمال کرتا ہے۔

۸۰۔۔۔۔۔۔ یعنی جو لوگ جاہل بن کر نہیں رہتے بلکہ حالات و واقعات کا مطالعہ کر کے ان کے حقیقی اسباب کا علم حاصل کر لیتے ہیں ان کے لیے ثمود کے اس واقعہ میں عبرت کی بڑی نشانی ہے۔

۸۱۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب فیصلہ کن عذاب آیا جو رسول کی صداقت کی دلیل تھا تو اس کی گرفت میں کافر، مشرک اور مفسد لوگ ہی آ گئے۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے ایمان لا کر تقویٰ (خدا خوفی) کی روش اختیار کی تھی وہ اس سے بچا لئے گئے۔

۸۲۔۔۔۔۔۔ حضرت لوط کی سرگزشت متعدد سورتوں میں گزر چکی۔ مثلاً سورۂ اعراف ہود وغیرہ۔

۸۳۔۔۔۔۔۔ یعنی ایک ایسا فحش کام جس کو کوئی بھی سوجھ بوجھ (Common sense) رکھنے والا آدمی برائی اور بد اخلاقی قرار دیئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ پھر تم دیدہ و دانستہ یہ گھناؤنا کام کس طرح کر رہے ہو؟

۸۴۔۔۔۔۔۔ یہ لوگ ہم جنسی (لواطت) کے مرض میں مبتلا تھے۔ عورتوں کو انہوں نے چھوڑ رکھا تھا اور مردوں سے اپنی شہوت پوری کرتے تھے۔ مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ ہود نوٹ ۰۱۲۹

۸۵۔۔۔۔۔۔ یعنی تم لوگ بڑے بے عقل ہو کہ صریح حماقت کے کام کرتے ہو۔ جہل کا لفظ کبھی علم کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی عقل کے مقابلہ میں۔ یہاں اس دوسرے معنی میں استعمال ہوا ہے۔

۸۶۔۔۔۔۔۔ وہ اپنی بستی میں ایک ایسے شخص کو برداشت کرنے کے ہی تیار نہیں ہوئے جو ان کا سچا خیر خواہ تھا اور ان کی اصلاح کے لیے کوشاں تھا۔ اس سے ان کی مفسدانہ ذہنیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

۸۷۔۔۔۔۔۔ یہ طنز تھا لوگ اور ان کے اہل ایمان ساتھیوں پر جو پاکیزگی اختیار کرنے پر زور دے ہے تھے۔

۸۸۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ ہود نوٹ۱۱۷ ۔

۸۹۔۔۔۔۔۔ یعنی پتھروں کی بارش۔ مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورہ ہود نوٹ ۱۱۹۔

۹۰۔۔۔۔۔۔ اوپر جو سرگزشتیں بیان ہوئیں ان کا اختتام اللہ کی حمد اور برگزیدہ بندوں کے لیے سلام پر ہوا ہے ، ان واقعات میں اللہ تعالیٰ کے عدل، حکمت اور رحمت کی صفات کا ظہور ہوا ہے۔ اس لیے وہ اس پر حمد و ستائش کا مستحق ہے اور اس کے منتخب بندوں۔ پیغمبروں۔ نے اپنی ذمہ داریوں کو جس حسن و خوبی کے ساتھ ادا کیا اس پر وہ اللہ  کے ہاں اس بات کے مستحق ہوئے کہ ان پر سلامتی ہی سلامتی ہو۔ اہل ایمان کے دل سے ان کے لیے سلامتی ہی کی دعائیں نکلتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک نبی کے نام کے ساتھ “علیہ السلام “کہا اور لکھا جاتا ہے۔

۹۱۔۔۔۔۔۔ سوال مشرکین سے ہے کہ بتاؤ جو خدا اس حکمت کے ساتھ بندوں پر حکومت کر رہا ہے وہ بہتر ہے یا اینٹ پتھر کے وہ بت جن کو تم نے خدا کا درجہ دے رکھا ہے ؟

۹۲۔۔۔۔۔۔ اللہ کے وجود اور اس کی وحدانیت پر قرآن کا استدلال فطری، عام فہم اور دلوں میں یقین پیدا کرنے والا ہے۔ وہ منطق اور فلسفہ کی زبان میں بات نہیں کرتا اور نہ نظریاتی بحثیں کھڑی کتا ہے کیونکہ اس کا خطاب عام انسانوں سے ہے نہ کہ کسی مخصوص طبقہ سے نیز اس لیے بھی کہ جو باتیں فلسفیانہ انداز اور نظریاتی اسلوبمیں پیش کی جاتی ہیں وہ ذہن کو متاثر کر سکتی ہیں لیکن ان کا دل میں اترنا مشکل ہے۔ مگر قرآن کے دلائل سادہ ہونے کے باوجود اتنے مضبوط اور ایسے مؤثر ہوتے ہیں کہ دل و دماغ میں نفوذ کر جاتے ہیں اور ایمان و یقین کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہاں بھی قرآن سے اللہ کے الہ واحد ہونے پر اسی طرح استدلال کیا گیا ہے۔

انسان اگر صاف ذہن سے آسمان و زمین کے وجود پر اور ان کے ذریعہ حاصل ہونے والے رزق پر غور کرے جس پر انسانی زندگی کا دارو مدار ہے تو اس کا دل پکار اٹھے گا کہ یہ سب کچھ آپ سے آپ وجود میں نہیں آیا ہے بلکہ ان سب کا پیدا کرنے والا ہے اور یہ کائنات ایک مکمل نظام ہے جس کے مختلف اجزاء ایک دوسرے سے موافقت کر کے ان مقاصد کو پورا کرتے ہیں جن کے لیے ان کی تخلیق ہوئی ہے چنانچہ آسمان و زمین کی موافقت ہی سے پانی برستا ہے جس کے ذریعہ انسا ن کے رزق کا سامان ہوتا ہے اگر آسمان کی قوتیں مثلاً سورج کی حرارت ، ہوا میں وغیرہ زمین کے ساتھ موافقت نہ کرتیں تو نہ بارش ہو سکتی تھی اور نہ رزق رسانی کا سامان ہو سکتا تھا۔ مشاہدہ میں آنے والی یہ چیزیں اس بات کا کافی ثبوت ہیں کہ یہ کائنات بے خدا نہیں ہے اور نہ ہی یہاں ایک سے زائد خداؤں کا وجود ہے اگر کائنات بے خدا ہوتی تو نہ اس میں باقاعدگی ہوتی اور نہ مقصدیت اور اگر ایک سے زائد خدا ہوتے تو اس کے مختلف اجزاء میں موافقت نہیں ہو سکتی تھی۔ توحید کے یہ دلائل سادہ ہیں لیکن اتنے گہرے مضبوط اور قطعی ہیں کہ ان سے الحاد اور دہریت کی بھی جڑ کٹ جاتی ہے اور ایک سے زائد خداؤں کے وجود کی بھی۔ غرضیکہ خدا کا وجود اور اس کی وحدانیت کو ئی قیاسی بات نہیں ہے اور نہ ہی کوئی فلسفیانہ تصور ہے بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا علم انسان کو براہ راست ہوتا ہے بشرطیکہ وہ اپنی آنکھیں کھلی رکھے اور پنی فطرت کو مسخ نہ کرے۔

نہاں تک آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا تعلق ہے قرآن صاف کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کے درمیان  کی تمام چیزوں کو عدم ہے وجود میں لایا ہے اور مشرکین عرب کا بھی یہی عقیدہ تھا لیکن مشرکین ہند کا عقیدہ بڑا الجھا ہوا اور حد درجہ گمراہ کن ہے۔ مثال کے طور پر رگ وید میں ہے کہ آسمان و زمین خدا کی ذات کے اندر سے وجود میں آئے ہیں۔

“Out of himself came the invisible world, out of himself came the Sky and this earth”

(The Spiritual Heritage of India by Swami Prabhavanan da P 32 with reference to Rg-Veda X121: 1-2)

رگ وید کا انگریزی ترجمہ وید پر تسٹھان نئی دہلی سے شائع ہوا ہے اس کے دیباچہ میں مترجم نے صراحت کی ہے کہ خدا تنہا کائنات کا خالق ضرور ہے لیکن اس مفہوم میں نہیں کہ اس کو عدم سے وجود میں لایا ہے بلکہ ویدک فلسفہ کے مطابق خدا جو خالق ہے اور مادہ یا پر کرتی جو ازلی ہے دونوں کا وجود ہمیشہ سے ہے۔

“The Vedic Philosophy is a concept of co-existence of the two eternals, God the Creator and the Primordial matter or Prakrti”

(Rg-Veda Samhita Vol.1. P.6)

کتنا گھٹیا تصور ہے یہ خدا کا کہ اس کو خالق مانا بھی تو مخلوق کی سطح پر رکھ کر۔ گویا خدا کسی چیز کو عدم سے (جو سرے سے موجود ہی  نہ ہو) وجود میں لانے پر قادر نہیں ہے جب کی قرآن اللہ کو حقیقی معنی میں خالق اور قادر مطلق ماننے کی دعوت دیتا ہے۔

۹۳۔۔۔۔۔۔ یعنی زمین کو اس طرح بنایا کہ اس پر رہنا اور زندگی بسر کرنا انسان کے لیے ممکن ہوا۔ مثال کے طور پر اگر کرہ ہوا نہ ہوتا تو زمین پر زندگی بسر کرنا اسی طرح نا ممکن ہوتا جس طرح چاند پر ناممکن ہے۔ اسی طرح زمین سورج سے جس فاصلہ پر رکھی گئی ہے۔ اس میں اگر کوئی کمی بیشی ہوتی تو اس پر زندگی کا وجود نہ ہوتا چنانچہ جو سیارے سورج سے بہت قریب یا بہت دور ہیں ان میں زندگی کے آثار کا پتا نہیں چل سکا ہے لیکن زمین اپنے وقوع کے لحاظ سے ایسے نقطہ اعتدال پر ہے کہ زندگی کے لیے پوری طرح ساز گار بن گئی کیا یہ سب کچھ آپ سے آپ ہوا یا ایک قادر مطلق کی تخلیق کا نتیجہ ہے ؟

۹۴۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ فرقان نوٹ ۷۱۔

۹۵۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ لوگ خدا نا شناس ہیں اور نہیں چاہتے کہ خدا کی صحیح پہچان انہیں حاصل ہو جائے۔

۹۶۔۔۔۔۔۔ یہ تجربہ تو ہر شخص کو ہوتا ہے کہ جب وہ انتہائی کرب (تکلیف) میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اسے خدا یاد آ جاتا ہے اور اسے فریاد رسی کے لیے پکارتا ہے۔ پھر اس کی تکلیف کو بھی وہی دور فرماتا ہے۔ یہ انسان کے اپنے اندروں کی شہادت ہے کہ اللہ ہی فریاد رس ہے مگر اس اندرونی شہادت کے باوجود کتنے ہی لوگ غیر اللہ کو فریاد رس اور مشکل کشا ٹھہرانے لگتے ہیں۔

۹۷۔۔۔۔۔۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے انسان کو زمیں پر با اختیار بنایا ہے کہ اس کی تمام چیزوں میں تصرف کرتا ہے اور سب پر اس کا تسلط قائم ہے۔ اگر کسیکا یہ دعویٰ ہو کہ یہ اختیارات کسی اور نے بخشے ہیں تو وہ اس کی دلیل پیش کرے مگر مشرکین بھی اس کے قائل نہیں کہ انسان کو خدا کے سوا کسی اور نے با اختیار بنایا ہے۔ رہے منکرینِ خدا تو ان کے پاس اس سوال کا سرے سے کوئی جواب  موجود ہی نہیں ہے کہ انسان کو یہ اختیارات کہاں سے حاصل ہو گئے ؟

۹۸۔۔۔۔۔۔ یعنی خدا کی یہ مہربانیاں ایسی ہیں کہ انسان کو بارہا اس کی طرف متوجہ کر رہی ہیں لیکن کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ وہ اس کی طرف متوجہ ہو۔

۹۹۔۔۔۔۔۔ یعنی ایسی علامتیں اس نے قائم کر دی ہیں کہ آدمی راہ پا سکے اور سمت سفر معلوم کر سکے مثلاً پہاڑ ، دریا ، جو خشکی کے سفر میں راستہ معلوم کرنے کا ذریعہ ہیں اسی طرح ستارے جو جہاز رانی میں علامت کا کام دیتے ہیں۔

۱۰۰۔۔۔۔۔۔ مراد باران رحمت ہے۔

۱۰۱۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کو مانتے تو مشرکین بھی ہیں لیکن ان کا تصور خدا بہت گھٹیا ہوتا ہے۔ مشرکین عرب خدا کی قدرت و عظمت کا صحیح تصور قائم کرنے سے قاصر رہے اور مشرکین ہند نے تو خدا کو انسان سے بھی فرو تر قرار دیا۔

۱۰۲۔۔۔۔۔۔ یعنی اگر تمہارے پاس اس بات کی کوئی دلیل ہے کہ اللہ کے سوا کوئی ہستی ہے جو پہلی مرتبہ بھی پیدا کر سکتی ہے اور رزق بھی پہنچا رہی ہے تو اسے پیش کرو لیکن جو لوگ متعدد خداؤں کے قائل ہیں ان کے پاس نہ پہلے کوئی دلیل تھی اور نہ آج ہے۔ مشرکین عرب کا کہنا تو یہ تھا کہ باپ دادا سے یہی عقیدہ چلا آ رہا ہے اور مشرکین ہند شرک کو فلسفیانہ رنگ میں پیش کرتے ہیں مگر ہوتی ہیں بالکل اٹکل پچو باتیں اور دوسرے سے متضاد (Contradictory) بھی۔ ایک طرف خدا کے واحد ہونے کا دعویٰ بھی:

(Rg–Veda Samhita- “God alone is one” introduction Vol.10 P. 73)

اور دوسری طرف تین خداؤں (Trinity) کا عقیدہ بھی۔

“Ours is a Holy Trinity, the family of three eternals; the infinite Supreme self (the Father) (ii) the eternal Primal matter, the Prakriti (the Mother) and (iii) the numberless infinitesimal self (the sons)” (Rg-veda Samhita – Introduction Vol.1, P16)

اور ساتھ ہی بے شمار خداؤں کا تصور بھی :

“There are as many Devas or Spiritual Entities as there are qualities in the World.”

(Outlines of Vedanta P.131)

نیز یہ دعویٰ بھی کہ خدائے اعلیٰ نے دوسرے خداؤں کو جنم دیا ہے۔

“From a Part of him was born the body of Universe and out of his body were born the gods, the earth and men”

(Spiritual Heritage of India P. 32)

ان تمام الجھی ہوئی اور متضاد باتوں کے برخلاف قرآن اللہ کی توحید کو اتنے معقول انداز میں پیش کرتا ہے اور بات دل و دماغ میں اتر جاتی ہے۔

۱۰۳۔۔۔۔۔۔ یعنی جب اللہ کے سوا کسی کو غیب کا علم ہی نہیں ہے تو کسی کے بارے میں یہ اعتقاد کہ وہ پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہے اور اس کی فریاد رسی اور حاجت روائی کرتا ہے سراسر غلط اور بے بنیاد ہے خواہ یہ اعتقاد فرشتوں کے بارے میں رکھا جائے یا جنوں کے بارے میں یا پیغمبروں بزرگوں اور اولیاء کے بارے میں۔

افسوس ہے کہ قرآن کی اس صراحت کے باوجود مسلمانوں کا ایک طبقہ اس گمراہی میں مبتلا ہے کہ فریاد رسی اور مشکل کشائی کے لیے بزرگوں کو جو قبر میں مدفون ہیں پکارنے میں کوئی حرج نہیں۔ وہ قبر میں رہتے ہوئے ہر ایک کے حالات کو جانتے ہیں ، اس کی پکار کو سنتے ہیں اور اس کی مدد کرتے ہیں حالانکہ قرآن کی صراحت کے مطابق ان میں سے ایک بات بھی صحیح نہیں۔ نہ ان کو غیب کا علم ہے کہ قبر میں رہتے ہوئے دنیا کے ایک ایک شخص کے حالات کو جانیں نہ وہ خدا ہیں کہ کوئی کہیں سے پکارے اور وہ اس کی پکار کو سن لیں اور نہ وہ علام برزخ میں رہتے ہوئے کسی کی مدد ہی کو پہنچ سکتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بھی علم غیب کے تعلق سے بڑا غلو آمیز تصور قائم کر لیا گیا ہے اور پھر اس پر  بحثیں اور مناظرے ہوتے ہیں۔ اگر صاف ذہن سے قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو تمام گمراہیوں سے نجات مل جاتی ہے۔ علم غیب کی مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورہ انعام نوٹ ۸ ۱ اور سورہ اعراف نوٹ ۲۹ ۱۔

۱۰۴۔۔۔۔۔۔ یعنی جو قبر میں مدفون ہیں انہیں یہ بھی پتہ نہیں کہ کب قیامت قائم ہو گی اور انہیں اٹھا کھٹا کیا جائے گا اسی طرح فرشتوں اور جنوں کو بھی قیامت کی تاریخ معلوم نہیں ہے پھر وہ عالم الغیب کس طرح ہوئے کہ کسی کی بھی پکار کو سنیں ؟

۱۰۵۔۔۔۔۔۔ مشرکین عرب آخرت کے بارے میں جیسا کہ اوپر گزرا بالکل نابلد ہیں تھے۔ انبیائی ہدایت کے جو آثار ان کے پاس رہ گئے تھے ان میں آخرت کا اجمالی علم بھی شامل تھا لیکن اس کے ساتھ جب جاہلانہ اور مشرکانہ تصورات مل گئے تو ان کا یہ علم بھی الجھ کر رہ گیا مثلاً ان کا یہ تصور کہ انسان جب مر کر مٹی ہو گیا تو اسے جسم سمیت دوبارہ کس طرح پیدا کیا جائے گا اسی طرح ان کا یہ عقیدہ کہ ہمارے یہ معبود خدا کے حضور ہمارے سفارشی ہیں اور جب ہم ان کی پرستش کرتے ہیں تو آخرت کے حساب کتاب کا معاملہ اگر پیش آ ہی گیا تو وہ ہمیں عذاب سے کیسے نہیں بچائیں گے۔ اسی طرح جب ان کا علم گڈ مڈ ہو گیا تو آخرت کا انہیں یقین نہیں رہا بلکہ شک میں پڑ گئے کہ آخرت ہو گی یا نہیں۔ پھر یہ شک ان کی خواہش پرستی کے نتیجہ میں انکار آخرت ہو گی یا نہیں۔ پھر یہ شک ان کی خواہش پرسی کے نتیجہ میں انکار آخرت میں تبدیل ہو گیا اور ایسے اندھے ہو گئے کہ وہ آخرت کی رہنمائی کرنے والی کسی بھی نشانی کو دیکھ نہ سکے۔

اور جہاں تک مشرکین ہند کا تعلق ہے ان  کے ہاں بھی جزا سزا کا تصور ایک حد تک پایا جاتا ہے جو اپنی اصل کے اعتبار سے فطرت کی رہنمائی اور انبیائی ہدایت ہی کا نتیجہ ہے لین متعدد خداؤں کے تصور اور آواگون (تناسخ) کے نظریہ نے ان کو ایسا الجھا دیا ہے کہ آخرت کا ان کے ہاں کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ جزائے عمل کا تصور ان کے نزدیک یہ ہے کہ جو شخص برا (کرم) عمل کرتا ہے اس کی روح مرنے کے بعد مختلف روپ اختیار کرتی ہے۔ وہ انسان کا روپ اختیار کر کے بھی دوبارہ جنم لے سکتی ہے اور ایک کیڑے کے روپ میں بھی۔

“Souls enter various forms of existence from man to worm.”

(Outlines of Hinduism by T.M. Mahadevan P. 63)

پھر یہ جنم در جنم کا چکر چلتا رہتا ہے جب تک کہ روح برہما(خدا) کی معرفت حاصل نہیں کر لیتی۔ اور جو کا کرم (عمل) اچھا ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کی خواہشات مر چکی ہوتی ہیں وہ دوبارہ جنم نہیں لیتا بلکہ برہما(خدا) کا جزء بن جاتا ہے۔

“But he in whom desire is Stilled suffers no rebirth after death, having attained to the highest desiring only the self, he goes to no other world. Realising Brahman, he becomes Brahman.”

(Spiritual Heritage of India P.6)

نعوذ باللہ کن ذالک۔ جزائے عمل کا یہ تصور کتنا مشرکانہ ہے کہ نیک عمل انسان خدا کا جزء بن جاتا ہے گویا خدا بھی کوئی سمندر ہے جس میں دریا جا کر گرتے ہیں۔ اسی طرح بد عمل آدمی کا دنیا میں بار بار اور مختلف روپ میں جنم لینا محض اٹکل پچو بات ہے جس کو فلسفہ کے سانچہ میں ڈھالا  گیا ہے۔ یہ نظریہ انبیاء علیہم السلام کی تعلیم کے خلاف ہونے کے علاوہ خلاف عقل بھی ہے اور خلاف واقعہ بھی۔ انبیاء علیہم السلام کی متفقہ تعلیم یہ ہے کہ جزائے عمل کے لیے اللہ تعالیٰ نے قیامت کا دن مقرر کیا ہے جب وہ تمام انسانوں کو جسم سمیت دوبارہ زندہ کرے گا اور فرداً  فرداً ہر شخص کو اللہ کے حضور اپنے عقیدہ و عمل کی جوابدہی کرنا ہو گی۔ جن لوگوں  نے ایمان لا کر نیک علم کیا تھا وہ دائمی انعام کے مستحق ہوں گے اور ان کو ہمیشگی کی جنت ملے گی اور جن لوگوں نے شرک اور کفر کیا تھا وہ اپنے باطل عقیدہ اور باغیانہ طرز عمل کی بنا پر دائمی سزا کے مستحق ہوں گے اور ابدی جہنم میں جھونک دیے جائیں گے۔ مگر آواگون کا نظریہ اس انبیائی تعلیم کے خلاف ہے اور کسی بھی آسمانی کتاب سے اس کی تائید نہیں ہوتی۔

آواگون کو تصور خلاف عقل بھی ہے اور یہ ایک چکر ہے جس کی نہ ابتداء ہے اور نہ انتہا پہلے انسان وجود میں آیا یا حیوان۔ اگر حیوان وجود میں آیا ہو گا تو وہ پہلے جنم میں انسان رہا ہو گا اور انسان وجود میں آیا تو وہ پہلے جنم میں کیا رہا ہو گا پھر کسی کو بھی یہ نہیں  معلوم کی وہ اس سے پہلے کتنی مرتبہ جنم لیتا رہا ہے اور کس جرم کی پاداش میں اس نے موجودہ جنم لیا ہے۔

آواگون کا نظریہ خلاف واقعہ بھی ہے کیونکہ نوع انسانی کا آغاز تو ایک مرد و عورت سے ہوا تھا۔ اگر یہ نظریہ صحیح ہوتا تو یہ دو افراد ہی بار بار جنم لیتے رہتے مگر انسانی آبادی میں اس قدر اضافہ کہ وہ اربوں تک پہنچ ہے اس نظریہ کی تردید کرتا ہے۔

غرض یہ کہ آواگون کا عقیدہ ایک نا معقول اور باطل عقیدہ ہے اس کے بر خلاف آخرت کا عقیدہ معقول بھی ہے اور ایک بہت بڑی حقیقت بھی۔

۱۰۶ ۔۔۔۔۔۔ اس انکار میں یہ اعتراف موجود ہے کہ قیامت کے دن اٹھائے جانے کی بات ایسی نہیں ہے جس کو پہلی مرتبہ انہوں نے پیغمبر کی زبان سے سنا ہو بلکہ یہ ایک جانی بوجھی بات ہے جو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہی ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل علیہما السلام نے عقیدہ آخرت کی جو تعلیم دی تھی اس کے اثرات بنی اسمٰعیل میں موجود تھے۔

۱۰۷۔۔۔۔۔۔ یعنی جن قوموں نے آخرت کا انکار کیا تھا ان کی زندگیاں مجرمانہ بن کر رہ گئیں اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرنے میں ان کا کوئی باک نہیں رہا۔ اور اخلاقی بندشوں کو توڑ کر وہ بالکل آزاد ہو گئے ایسی قوموں کا جو حشر (انجام) دنیا میں ہوا اس کے کچھ آثار زمین پر بکھرے پڑے ہیں۔ قرآن ان آثار کو دیکھنے اور ان سے عبرت حاصل کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس غرض سے سفر کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

۱۰۸۔۔۔۔۔۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے تسلی ہے کہ اگر وہ تمہاری تمام کوششوں کے باوجود اپنی آنکھیں کھولنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو ان کے حال پر تم افسوس اور غم نہ کرو اور نہ ان کی ان چالوں سے جو وہ تمہارے خلاف چل رہے ہیں پریشان ہو جاؤ۔ وہ تمہارا کچھ بگاڑ نہ سکیں گے۔

۱۰۹ ۔۔۔۔۔۔ یعنی قیامت جس کی دھمکی تم ہمیں دے رہے ہو کب آئے گی۔

۱۱۰ ۔۔۔۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارا یہ خیال کہ قیامت اگر قائم ہونے ولی ہے تو ابھی کیوں نہیں قائم ہو جاتی تمہاری جلد بازی کو ظاہر کرتا ہے حالانکہ قیامت کا دن مجرموں کے لیے عذاب کا دن ہو گا اور اگر قیامت آنے میں ابھی کچھ دیر ہے تو وہ دن تو بالکل قریب آ لگا ہے جب کہ یہ دنیا میں ہی برے انجام سے دوچار ہوں گے۔ مراد وہ عذاب ہے جو رسول کو جھٹلانے والی قوم پر دنیا ہی میں آتا ہے چنانچہ ابھی چند سال ہی گزرے تھے کہ بدر و حنین کے معرکے پیش آئے اور پیغمبر کی زندگی ہی میں وہ لوگ ہلاک ہو کر رہے جن کا کفر کبھی ان سے جدا ہونے والا نہ تھا۔ اور وہ ہلاک ہوئے تو عالم برزخ میں ان کی روحوں پر عذاب کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس طرح جس عذاب کے لیے وہ جلدی مچا رہے تھے وہ بالآخر  اس کی گرفت میں آ گئے۔

۱ ۱ ۱۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا لوگوں پر یہ بڑا فضل ہے کہ وہ ان کی سرکشی کے باوجود انہیں سنبھلنے اور اپنی اصلاح کرنے کا موقع دیتا ہے۔ اس پر لوگوں کو اس کا شکر گزار ہونا چاہیے لیکن وہ اس کے اس فضل کی قدر نہیں کرتے اور اپنا رویہ درست نہیں کرتے۔

۱۱۲۔۔۔۔۔۔ یعنی قیامت کے بارے میں جو غیر ضروری بحثیں انہوں نے چھیڑ رکھی ہیں ان کو بھی اللہ جانتا ہے اور اس تعصب اور بغض و عناد کو بھی جو اس کا اصل محرک ہے اور جس کو یہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں۔

۱۱۳۔۔۔۔۔۔کتاب سے مراد وہ عالمی ریکارڈ ہے جس میں کائنات میں واقع ہونے والی ہر بات خواہ وہ کتنی ہی پوشیدہ کیوں نہ ہو صاف صاف درج ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے علم میں تو ہر بات ہے ساتھ ہی اس نے کائناتی ریکارڈ رکھنے کا بھی انتظام کیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ کائنات منصوبہ بند طریقے پر چل رہی ہے۔

۱۱۴ ۔۔۔۔۔۔ مکہ کے ابتدائی دور میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو بنی اسرائیل سے واسطہ نہیں پڑا تھا لیکن حضرت موسیٰ ، حضرت سلیمان اور دیگر انبیاء کے جو قصے قرآن میں بیان ہوئے ہیں ان میں اور تورات وغیرہ کے  بیان کردہ قصّوں میں اختلاف پایا جاتا ہے اسی طرح کچھ دوسری باتوں میں بھی اختلاف نمایاں ہے۔ اسی اشکال کا یہاں جواب دیا گیا ہے۔ بنی اسرائیل نے تورات کو محفوظ نہیں رکھا بلکہ اس میں آمیزش کی اور انبیاء علیہم السلام کی سیرت کو داغدار بنایا ، پھر عقائد وغیرہ کے بارے میں بھی وہ تاویلات کے چکر میں پڑ کر باہمی اختلافات کا شکار ہو گئے یہاں تک کہ وہ فرقوں میں بٹ گئے اور ایک دوسرے کے خلاف ضد پیدا ہو گئی اور زیادتی پر اتر آئے مگر قرآن نے انبیاء علیہم السلام کے واقعات اور عقائد و احکام کو اس خوبی کے ساتھ بیان کیا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو کر رہ گیا۔ یہ عصائے موسیٰ تھا جو ان کی جھوٹی روایتوں کو نگل گیا۔

۱۱۵۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ اعراف نوٹ ۳۰۸ اور سورہ یونس ۸۹, ۹۰۔

۱۱۶۔۔۔۔۔۔ یعنی ایسا فیصلہ جو عدالتی ہو گا اور جس کے بعد کسی کے لیے کچھ کہنے کی گنجائش باقی نہیں رہے گی بلکہ فوراً اس کا نفاذ عمل میں آئے گا۔

۱۱۷۔۔۔۔۔۔ وہ غالب ہے اس لیے اس کا فیصلہ قطعی اور آخری ہو گا جس کو نافذ ہونے سے کوئی روک نہ سکے گا۔ اور وہ علم والا ہے اس لیے اس کے فیصلہ میں کسی غلطی کا امکان نہیں ہے۔

۱۱۸۔۔۔۔۔۔ یعنی جن کے ضمیر مردہ ہو گئے ہیں ان پر تمہاری نصیحت اثر انداز نہیں ہو سکتی۔ یہ بات اگر چہ استعارہ کے پیرایہ میں بیان ہوئی ہے لیکن آیت کے الفاظ : اِنَّکَ لَا تْسْمِعُ الْمَوْتٰی  (تم مردوں کو نہیں سنا سکتے) سے ایک اہم حقیقت بھی واضح ہوتی ہے اور وہ یہ کہ مردے سنتے ہیں اور اگر مردے سنتے ہوتے تو یہاں یہ تشبیہ موزوں نہیں ہو سکتی تھی۔ ہاں اللہ کسی شخص کو جو مر گیا ہو کچھ سنوانا چاہے تو اور بات ہے ایسی استثنائی صورتیں تو ممکن ہیں لیکن اصولی حقیقت یہی ہے کہ مردے سنتے نہیں ہیں۔ رہا زیارت قبر کے موقع پر اہل قبور کو خطاب کر کے سلام و دعا کرنا تو یہ ایک مؤثر اسلوب ہے جس میں غائب کو حاضر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تاکہ زیارت کرنے والا یہ محسوس کرے کہ وہ مردوں کی دنیا میں پہنچ کر ان سے ملاقات کر رہا ہے اور یہ بات موت کو یاد دلانے والی اور آخرت کا یقین پیدا کرنے والی ہے چنانچہ زیارت قبر کی مسنون دعا کا آخری فقرہ : وَاِنَّا اِنْشَاءَاللہُ بِکُمْ لَا حِقُوْنَ (اور ہم انشاء اللہ تم سے ملیں گے۔ ) یہی تاثر دیتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بچہ ابراہیم کے انتقال پر فرمایا تھا : وَاِنَّا بِفِرَا قَکَ یَا ابراھیمُ لَمَحْزُنُون (اے ابراہیم  ہم تمہاری جدائی پر غمگین ہیں) (بخاری کتاب الجنائز)۔ اس میں خطاب ایک مرنے والے بچہ سے ہے لیکن در حقیقت یہ اظہار غم کا ایک اسلوب ہے اور لوگوں پر یہ واضح کرنا مقصود تھا کہ اظہار غم کا جائز طریقہ کیا ہے تاکہ وہ نوحہ اور ماتم کے طریقے اختیار نہ کریں۔

۱۱۹۔۔۔۔۔۔ یعنی تمہارے آیات سنانے کا فائدہ ان ہی لوگوں کو پہنچتا ہے جو قبول حق کے لیے آمادہ رہتے ہیں اور اللہ کی آیتوں کو سن کر ایمان لاتے اور اس کے فرمانبردار بن جاتے ہیں۔ ایمان کا تعلق دل کی کیفیت اور زبان کے اقرار کرتے اور اس کے مطابق عملی رویہ اختیار کرتے ہیں۔

۱۲۰۔۔۔۔۔۔ “دابۃُ الارض”(زمین سے نکلنے والا جانور جو لوگوں سے باتیں کرے گا) اللہ کی بہت بڑی نشانی ہو گی جس کا ظہور اس وقت ہو گا جب کہ قیامت کا وقت بہت ہی قریب آ لگا ہو گا ” جب ان پر ہمارا فرمان لاگو ہو گا” کا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ کافروں کو عذاب کی نشانی دکھانا چاہے گا۔ اور کاروں سے مراد مطلق کافر ہیں نہ کہ نزول قرآن کے زمانہ کے کافر۔

یہ ایک بہت بڑی پیشین گوئی ہے جو قرآن میں کی گئی ہے اور حدیث میں  بھی اس کا ذکر قیامت کی نشانیوں میں ہوا ہے۔ (صحیح مسلم کتاب الفتن)۔

یہ ایک نیا جانور ہو گا جو زمین سے نکلے گا اور اس کی خصوصیت یہ ہو گی کہ لوگوں سے باتیں کرے گا۔ ایسی باتیں جس سے واضح ہو گا کہ لوگوں کا اللہ کی نشانیوں پر یقین نہ کرنا بالکل غلط تھا۔ گویا یہ جانور اللہ تعالیٰ کی قدرت قاہرہ کا ایسا نشان بن کر ظاہر ہو گا کہ آخرت کے وقوع پر حجت اور قرآن اور پیغمبر کی صداقت کا کھلا ثبوت ہو گا۔ اسی سورۃ میں اللہ کے اس معجزہ کا ذکر گزر چکا کہ ہُدہُد نے حضرت سلیمان سے کلام کیا مگر جو اللہ کے معجزوں کو نہیں مانتے یا سرے سے خدا ہی کے منکر ہیں وہ تو قرآن کے اس بیان پر یقین نہیں کرتے مگر جب قرب قیامت میں ایک ایسا جانور ان کے سامنے لا کھڑا کیا جائے گا جو ان سے ہم کلام ہو گا تو اس وقت وہ اس کی کیا توجیہ کریں گے ؟۔

واضح رہے کہ دابۃ الارض کے بارے میں قرآن نے بہت مختصر بات کہی ہے اور حدیث میں بھی اس کی کوئی تفصیل بیان نہیں ہوئی ہے اس لیے یہ بات کہ یہ جانور کس ملک میں ظاہر ہو گا اور اس کی شکل و صورت کیا ہو گی اور اس قسم کے دیگر سوالات کا جواب مستقبل کے پردہ میں چھپا ہوا ہے۔ اس سلسلہ میں قیاسی باتیں کرنا صحیح نہیں اور جن روایتوں میں دابۃ الارض کے بارے میں تفصیلات بیان ہوئی ہیں وہ ضعیف ہیں اور ان میں متضاد باتیں بیان ہوئی ہیں اس لیے ان کو قرآن کی اس آیت کی تفسیر قرار دینا صحیح نہیں۔ ترمذی کی بھی ایک حدیث میں اس بات کا ذکر ہے کہ دابۃالارض کے ساتھ حضرت سلیمان کی انگوٹھی اور حضرت موسیٰ کا عصیٰ ہو گا۔ عصا سے وہ مومن کے چہرہ کو روشن کرے گا اور انگوٹھی سے کافر کے ناک پر مہر لگا دے گا  (ترمذی ابواب التفسیر سورۃ النمل) اس حدیث کو اگرچہ ترمذی نے حسن کہا ہے لیکن اس کا ایک راسی اوس بن خالد ہے جس کو متعدد محدثین نے ضعیف کہا ہے چنانچہ اسماء الرجال کی کتاب (راویوں کے حالات بتانے والی کتاب) تہذیب التہذیب میں ہے۔

قَالَ ازدی مُنکَر الحدیث و قالَ ابنُ القَطّا نِ اوس مجھول الحال لَہٗ ثلاثۃُ اَحادیث عَنْ اَبی حریرۃ مُنکَر وَذَکَرَہٗ ابنُ حبان فِی الثِقَاتِ۔ (تہذیب التہذیب۔ ابن حجر ج۔ ۱ ، ص۔ ۳۸۲)

“ازدی کہتے ہیں وہ منکر الحدیث (ضعیف) ہے اور ابن قطان کہتے ہیں اوس کا حال مجہول ہے۔ اس نے ابوہریرہ سے تین حدیثیں روایت کی ہیں جو منکر (ضعیف) ہیں اور ابن جان نے اس کا ذکر ثقہ راویوں میں کیا ہے۔ ”

اور دوسرا راوی علی بن زید ہے اور وہ بھی ضعیف ہے چنانچہ امام احمد کہتے ہیں وہ کچھ بھی نہیں ہے ، جو زجانی کہتے ہیں وہ ضعیف ہے۔ نسائی نے بھی اسے ضعیف کہا ہے اور ابن خُزَ یمہ کہتے ہیں اس کے سوئے حفظ کی وجہ سے میں اس کی حدیث سے استدلال نہیں کرتا (دیکھیے تہذیب التہذیب  ج۔ ۷ ، ص۔ ۳۲۲) اس لیے یہ حدیث قابل حجت نہیں ہے۔

۱۲۱۔۔۔۔۔۔ یعنی قیامت کے دن ہر اس گروہ میں سے جس کو رسول کی دعوت پہنچ گئی تھی ان لوگوں کو اکٹھا کریں گے جنہوں نے اللہ کی نشانیوں اور اس کی نازل کی ہوئی آیتوں کو جھٹلایا تھا یہ لوگ فوج در فوج جمع کیے جائیں گے اور پھر ان کے کرتوتوں کے لحاظ سے ان کو مختلف ٹکڑیوں (Divisions) میں بانٹ دیا جائے گا۔

۱۲۲۔۔۔۔۔۔ یعنی تم نے میری آیتوں کو کس بنیاد پر جھٹلایا تھا۔ کیا تمہیں تحقیقی طور پر معلوم ہو گیا تھا کہ اس کائنات میں اور خود تمہارے اپنے وجود میں کوئی نشانی ایسی نہیں ہے جو اللہ کے وجود ، اس کی وحدت، اس کی قدرت و عظمت جزائے عمل اور آخرت کا یقین پیدا کرتی ہو۔ اور یہ کہ اللہ  کی جو آیتیں جس رسول نے بھی پیش کیں وہ واقعی اللہ کی آیتیں نہیں تھیں اگر تحقیق سے تمہیں یہ معلوم نہیں  ہو گیا تھا اور واقعہ یہی ہے کہ تمہارا یہ جھٹلانا کسی تحقیق کا نتیجہ نہیں تھا تو پھر کیا تم نے بلا تحقیق اور بلا علم ان کو جھٹلا دیا تھا ؟

آج بڑے بڑے تعلیم یافتہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ڈارون کے نظریہ ارتقا اور مارکس کی جدلی مادیت اور اس قسم کے دیگر  نظریات سے متاثر ہو کر خدا اور آخرت کے منکر ہو گئے ہیں۔ یہ لوگ علم کے نام پر جہالت کا ثبوت دے رہے ہیں۔ اگر وہ کھلے ذہن سے آثار کائنات کا مشاہدہ کرتے اور اللہ کی ان آیتوں  پر جو قرآن کی شکل میں ان کے سامنے موجود ہیں غور  کرتے تو ان کو علم حق حاصل ہو سکتا تھا مگر تعصب اور تکبر نے ان کو اس سے دور رکھا۔

۱۲۳۔۔۔۔۔۔ یعنی عذاب کا فیصلہ ان پر لاگو ہو جائے گا۔

۱۲۴۔۔۔۔۔۔ قیامت کے دن مجرموں کو مختلف مراحل سے گزرنا ہو گا۔ ایک مرحلہ وہ ہو گا جب کہ اللہ ان پر ان کے اس ظلم کو جو انہوں نے اپنے ہی اوپر کیا تھا اس طرح واضح فرمائے گا کہ وہ کوئی جواب نہ دے سکیں گے۔

۱۲۵۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ لوگ اگر اس بات پر ہی غور کرتے کہ رات ان کے لیے جو ذریعہ سکون اور دن ان کے لیے سرگرم عمل ہونے کا باعث ہے تو کیا یہ اللہ کی ربوبیت کی دلیل نہیں ہے اور کیا اس سے انسان کی زندگی کا با مقصد ہونا ظاہر نہیں ہوتا اور کیا یہ مشاہدہ اس بات کی یاد دہانی نہیں کرتا کہ مرنے کے بعد قیامت کی صبح نمودار ہونے والی ہے۔

۱۲۶۔۔۔۔۔۔ جب قیامت کا پہلا صور پھونکا جائے گا تو پوری کائنات میں ایسی ہولناک صورت پیدا ہو گی کہ زمین تو زمین آسمان کے رہنے والے بھی گھبرا اٹھیں گے۔ اس گھبراہٹ سے صرف وہی محفوظ رہیں گے جن کو اللہ محفوظ رکھنا چاہے گا۔

۱۲۷۔۔۔۔۔۔ یعنی جب دوسرا صور پھونکا جائے گا تو سب کے سب اللہ کے حضور اس طور سے پیش ہوں کہ عجز و نیاز میں جھکے ہوئے۔ کوئی اکڑ اور گھمنڈ نہ دکھا سکے گا۔ بڑے بڑے گھمنڈ کرنے والوں کا گھمنڈ خال میں مل چکا ہو گا۔

۱۲۸۔۔۔۔۔۔ یعنی پہاڑ آج اپنی جگہ جمے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن قیامت کے دن وہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے۔

۱۲۹۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہو گا جس نے ہر چیز کو ایسے مضبوط قوانین میں جکڑ رکھا ہے کہ وہ اپنی جگہ یا اپنے دائرہ ہی میں رہتی ہے۔ مثال کے طور پر زمین میں اللہ تعالیٰ نے ایسی مقناطیسی قوت )  (Magnetic Force رکھی ہے کہ ہر چیز اس کی طرف کھنچ آتی ہے اور زمین کے حدود سے کوئی چیز بھی باہ نہیں جاتی الا یہ کہ کسی دوسرے قانون طبعی کے تحت کوئی چیز اس کے دائرہ کشش سے نکل جائے لیکن اگر زمین اپنی اس قوت کشش(Gravity Force) کو کھو دے تو پہاڑ بھی اسی طرح بے وزن ہو کر ہوا میں اڑ سکتے ہیں جس طرح خلاء میں چیزیں بے وزن ہو کر منتشر ہو جاتی ہیں .

۱۳۰۔۔۔۔۔۔ وہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے اس لیے جب قیامت قائم ہو گی تو وہ تمہارے اعمال کا ٹھیک ٹھیک بدلہ تمہیں دے گا۔

۱۳۱۔۔۔۔۔۔ مراد عقیدہ و عمل کی نیکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو نیکی کا وصف لے کر حاضر ہو گا۔

۱۳۲۔۔۔۔۔۔ جب قیامت کا دوسرا صور پھونکا جائے گا اور سب لوگ زندہ ہو کر میدان حشر میں جمع ہوں گے تو نیک لوگوں پر اس روز کی ہولناکی کے باوجود کوئی گھبراہٹ طاری نہیں ہو گی کیونکہ انہیں سچھے انجام کی امید ہو گی۔

۱۳۳۔۔۔۔۔۔ مراد عقیدہ و عمل کی برائی ہے۔

۱۳۴۔۔۔۔۔۔ یعنی جزا جنس عمل سے ہو گی۔ جیسی کرنی ویسی بھرنی۔ وہ اللہ کی آیتوں سے منہ پھیرتے تھے اس طرح جب انہوں نے عذاب ہی کی طرف اپنا رخ کر لیا تھا تو وہ بجا طور پر اس بات کے مستحق ہوئے کہ اوندھے منہ جہنم میں جھونک دیے جائیں۔

۱۳۵۔۔۔۔۔۔ یعنی شہر مکہ جس کو ابراہیم(علیہ السلام) کے وقت سے حرم قرار دیا ہے اور اس لحاظ سے یہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے اور اس کی تاریخی اہمیت اس کے مرکز توحید ہونے کی بنا پر ہے لہٰذا یہ بات کہ اللہ ہی اس شہر کا رب ہے ایک جانی بوجھی حقیقت ہے اور اس نے حکم یہی دیا ہے کہ میں اس کی عبادت کروں۔

۱۳۶۔۔۔۔۔۔ یعنی اپنے کو اللہ ہی کے حوالہ کروں اور اسی کا فرمانبردار  بن کر رہوں۔

۱۳۷۔۔۔۔۔۔ قرآن پڑھ کر سنانے کا حکم دعوتی لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف تذکیر و دعوت ہی کا حکم نہیں دیا گیا تھا بلکہ ساتھ ہی یہ حکم بھی دیا گیا تھا کہ لوگوں کو قرآن بڑھ کر سنائیں۔ یہ اس لیے کہ اللہ کے کلام سے بڑھ کر انسان کو متاثر کرنے والی کوئی چیز نہیں اور اس لیے بھی کہ اللہ کے کلام کے ذریعہ اس کی حجت اس کے بندوں پر بہ درجہ اتم (مکمل طور پر) قائم ہو جاتی ہے۔ یہ بات کہ قرآن عربی میں ہے اور اس کے مخاطب اول عرب تھے غیر عربوں کے سامنے قرآن پیش کرنے میں مانع (رکاوٹ) نہیں ہے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قیصر روم کی جو دعوتی خط لکھا تھا اس میں قرآن کی آیات نقل کی تھیں اور قیصر نے ترجمان کے ذریعہ اس کا مطلب معلوم کر لیا تھا۔

موجودہ دور میں ہر زبان میں ترجمہ اور طباعت کی سہولتیں فراہم ہو گئی ہیں لہٰذا اس کو دعوت و تبلیغ کا ذریعہ کیوں نہ بنایا جائے؟ اور اس کے تراجم کی وسیع پیمانہ پر اشاعت کیوں نہ عمل میں لائی جائے ؟

۱۳۸۔۔۔۔۔۔ سورہ کا خاتمہ اللہ کی تعریف پر ہو رہا ہے کہ وہ ذات یقیناً لائق ستائش ہے جس نے اس شان کا قرآن نازل کیا کہ علم کے دریا بہا دیے۔

واضح رہے کہ اس سورہ میں علم کا ذکر بار بار ہوا ہے جس سے اس کے مختلف گوشے روشن ہو گئے ہیں۔ یہ گویا اس سورہ کا امتیازی پہلو ہے۔

۱۳۹۔۔۔۔۔۔ اشارہ ہے قیامت کی نشانیوں کی طرف جو قیامت کے قریبی زمانہ میں ظاہر ہوں گی اور ان کو دیکھ کر اس زمانہ کے منکرین جان لیں گے کہ قیامت ایک حقیقت بن کر سامنے آ رہی ہے۔ اور طرح دنیا ہی میں قرآن اور پیغمبر کی صداقت دنیا والوں پر واضح ہو کر رہے گی۔ مثال کے طور پر دابۃ الارض کا خروج جس کا ذکر اوپر گزر چکا۔ یاجوج ماجوج کی یلغار (سورہ انبیاء : ۹۶) اسی طرح حدیث میں قیامت کی کچھ نشانیاں  بیان ہوئی ہیں مثلاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اور سورج کا مغرب سے نکلنا (بخاری کتاب الرقاق) وغیرہ۔ مزید تشریح کے لیے  ملاحظہ ہو سورہ انعام نوٹ ۲۹۳۔

قیصر روم کے نام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نامۂ گرامی :

“بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ محمد کی طرف سے جو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہے یہ خط ہرقل سربراہ روم کے  نام ہے ، سلام ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی رکے۔ میں تم کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں ، اسلام قبول کر لو گے سلامت رہو گے اور اللہ تم کو دگنا اجر دے گا۔ لیکن اگر تم نے انکار کیا تو ارسیوں (اہل ملک) کا گناہ تمہارے سر ہو گا۔ اے اہل کتاب ! ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور نہ کسی کو اس کا شریک ٹھہرائیں اور نہ ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ  کے سوا رب بنائے۔ اگر یہ لوگ بات کو نہ مانیں تو صاف کہہ دو گواہ رہنا ہم مسلم ہیں ”

٭٭٭

ای بک: اعجاز عبید

ٹائپنگ: عبد الحمید، افضال احمد، مخدوم محی الدین، کلیم محی الدین، فیصل محمود، اعجاز عبید