FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

 

بھٹیارن

ایک  فیس بک فینٹیسی

 

 

 

رشاد بخاری

 

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

انتساب

 

 

 

شہر تخیل کے ان محلات کے نام

جن کے مناروں پر

خواہشوں کے  پکھیرو

آج بھی چوگا لیتے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ہونے کو تو کیا کچھ نہیں دنیا میں وگرنہ

جو کچھ نہ ہوا تھا وہ کہانی میں ہوا تھا

(رشاد بخاری)

 

 

 

بھٹیارن ۔۔۔ ایک فیس بک فیٹسی

کر خوشی ہوئی۔ آپ مجھے کافی سمجھدار آدمی لگتے ہیں۔

بہزاد: شکریہ۔ کیا آپ اپنا تعارف کرانا پسند کریں گی۔ مجھے یاد پڑتا ہے میں نے کسی دوست کی پوسٹ پر آپ کا کوئی کمنٹ لائک کیا تھا۔ مگر یاد نہیں کون سا۔

پٹاخی: اہمم۔۔ ۔ میرا تعارف! نام مناہل باجوہ، طالب علم ہوں، ماسٹرز اردو، رہائش سرگودھا۔ کافی ہے؟

بہزاد: ایک دوسرے سے بات کرنے کے لئے (اگر ضروری سمجھا جائے ) تعارف سے بات بہتر اور موثر ہو جاتی ہے۔ لیکن میں سمجھ سکتا ہوں اگر آج کل کے حالات میں احتیاط کی جائے۔

پٹاخی: ارے کافی سمجھدار معلوم ہوتے ہیں۔

بہزاد: ماسٹرز کر رہی ہیں ابھی؟

پٹاخی: جی حال ہی میں آغاز کیا ہے۔

بہزاد: پھر تو اردو ادب پر بات ہو سکتی ہے۔ آپ کی دلچسپی ہے اس مضمون میں یا آسان سمجھ کر لیا ہے؟

پٹاخی: آسان تو خیر ہرگز نہیں ہے۔

بہزاد: جی ہاں۔ اگر دلچسپی ہو تو کچھ مشکل نہیں۔

پٹاخی: بچگانہ سوچ ہے جو اسے آسان سمجھتے ہیں۔ آغاز ہے، آگے دیکھتی ہوں کہاں سے اردو کا سر پکڑنا ہے، کہاں سے ادب کا پاؤں۔

بہزاد: ہاہا۔۔ ۔ اردو کا سر پیر پکڑنے سے زیادہ اس کے قلب تک رسائی حاصل کرنی چاہئیے۔ پھر یہ اپنا آپ کھولنا شروع کرتی ہے۔ مجھے بھی اردو سے دلچسپی رہی ہے اور اب تک ہے، اگرچہ اتنا ادب کا باقاعدہ قاری نہیں۔

پٹاخی: پروفائل بتا رہا ہے کہ شاعرانہ مزاج ہے۔ یعنی خوب جمے گی۔ فرینڈ شپ؟

بہزاد: ہاہا۔۔ ۔ یہ بھی خوب ہے۔ کچھ شاعری ذریعہ عزت نہیں مجھے۔ میں ہر شخص کو جو نرم لہجہ رکھتا ہے اور مسکرانا جانتا ہے، اپنا دوست سمجھتا ہوں۔

پٹاخی: ارے میں مزاحیہ مزاج ہوں اتنی  سنجیدگی مت اختیار کیجئے گا۔

بہزاد: جی آپ اسے سنجیدہ مزاح سمجھ سکتی ہیں۔

پٹاخی: یعنی آپ کے ساتھ مستی کی اجازت ہے۔ میری پروفائل کا نام ایسا ہے کہ لوگ ریکویسٹ کر دیتے ہیں۔ دو ڈھائی سو لوگ ہیں تقریباً مگر بات آپ سے کی۔ اچھے لگے ہیں۔ منہ پر تعریف خاک ہے مگر جو سچ ہے سچ ہے۔ کسی اور سے تو فیس بک پہ جا کے ڈسکس کر نہیں سکتی۔ سو واضح کر دیا۔

بہزاد: آپ چاہیں تو مجھے ایک دیوار سمجھ کر باتیں کر سکتی ہیں۔ بس ذرا فلسفے سے پرہیز کیجئے گا۔ کیونکہ یہ میرا ڈومین ہے۔ فلسفہ زیادہ ہو جائے تو بتا دیجئے گا تاکہ میں بریک رکھوں۔

پٹاخی: فلسفے کی تو بات ہی الگ ہے۔ آپ کیا جانیں ادرک کا ذائقہ!

بہزاد: ابھی کچھ دیر کے لئے اجازت چاہتا ہوں۔ کھانا چن دیا گیا ہے اور میں ادرک کا ذائقہ چکھنے لگا ہوں۔

پٹاخی: معذرت سرکار اوپر آپ نے کسی کی فرینڈ لسٹ اور کمنٹ کا ذکر کیا ہے، وہ میری ایف بی فرینڈ ہے۔ تسنیم بتول! ایف بی پہ وہ بھی اردو ادب کی سٹوڈنٹ تھیں اور میں بھی ہوں۔ آپ ان کے فرینڈ تھے؟

بہزاد: اگر آپ انہی کی بات کر رہی ہیں تو وہ میری کزن ہے۔

پٹاخی: اچھا اچھا، واہ مزہ آ گیا۔ تسنیم تو تسنیم آپ تو ان کے بھی استاد نکلے۔ گستاخی معاف کھانا کھا لیجئے، تب تک میں بھی ذرا شاور کو ہیلو ہائے کر آؤں۔

 

[کچھ دیر بعد]

پٹاخی: اگر ادرک کا ذائقہ چکھ لیا ہو تو چند سوال باعثِ خارش ہیں!

بہزاد: جلدی سے پوچھ لیجیے!

پٹاخی: آپ مصروف ہیں تو ملتوی کیجئے!

بہزاد: نہیں کچھ دیر بعد نکلوں گا۔

پٹاخی: آپ تسنیم کے کزن ہیں یا برادری سسٹم، نانکے سے یا داد کے سے؟

بہزاد: ابھی تھوڑی دیر آپ کی ظرافت طبع کو ایڈمائر کر سکتے ہیں! میں سمجھا تھا آپ کوئی علمی سوال پوچھیں گی۔

پٹاخی: نہیں ان سے ویسے ہی الرجی ہے۔

بہزاد: آپ انہیں کتنا جانتی ہیں؟

پٹاخی: وہ میری اچھی دوست رہی ہیں۔ ہم جون ایلیا کی طالب علم تھیں۔ اردو ادب میں ہماری کلاسز ہوتی تھیں اون لائن۔ وہاں اچھی گپ شپ ہوتی تھی۔ کافی گہری دوستی تھی۔ پھر وقت کی نازکی کہیے ہمارے استاد جن کا تعلق بھارت سے تھا وہ انتقال کر گئے۔

بہزاد: وہ میری فرسٹ کزن ہے۔ لیکن کیا بہتر نہیں کہ کسی کی پیٹھ پیچھے بھی اپنی ہی بات کی جائے!

پٹاخی: اچھا ٹھیک وہ تھرڈ پرسن ہیں ہم انہیں یا ا سے ڈسکس نہیں کریں گے۔ سوال کا مقصد یہ تھا کہ آپ نے اقرار کیا تھا کہ آپ دیوار کی مانند دوست ہیں۔ دیوار سن سکتی ہے بول نہیں۔ ان کے سامنے میرا تذکرہ مت کیجئے گا۔ اگرچہ وہ کافی اچھی ہیں مگر وہ بھڑک بھی سکتی ہیں۔

بہزاد: ہاہا۔۔ ۔ نہیں کچھ دیواریں بھی باتیں کرتی ہیں۔ آپ بے فکر رہیں میں انہیں جانتا ہوں۔ ویسے بھی غیر ضروری باتیں کرنا ضروری نہیں ہوتا۔

ویسے آپ کی پچھلی بات سے سوچ رہا ہوں کہ آپ کا استاد بننے سے گریز کرنا چاہئے۔ ان کا پھر انتقال ہو سکتا ہے۔

پٹاخی: خدا کا خوف کیجئے۔

بہزاد: میں تو خوف سے زرد ہو چکا ہوں۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور ہمیں بھی استاد بننے سے بچائے۔ ویسے جو لوگ بہت استاد بنتے ہیں ان سے بھی مجھے خوف آتا ہے۔ کہیں میں کوئی فلسفہ تو نہیں بول گیا، خدا نخواستہ! آپ کا اگلا سوال؟

پٹاخی: ڈر تو میں بھی شدید گئی ہوں۔ سوال کو چھوڑیے بس اتنے ہی تھے فی الوقت۔ آپ دوست ہی رہیے۔ استاد کی چپل چرا کے میں بھاگ نہیں سکتی۔

بہزاد: کوئی بات نہیں۔ کوئی جواب پیش کر دیجئے پھر!

پٹاخی: کیجیے سوال؟

بہزاد: ویسے کیا آپ دوستوں کی چپلیں چرا کر بھاگ جاتی ہیں؟

پٹاخی: نہیں چھپا دیتی ہوں بس۔

بہزاد: اچھا پھر ٹھیک ہے۔ تھوڑی دیر ننگے پاؤں چلنا بھی صحت کے لئے مفید ہے۔ تو جون ایلیا کے بارے میں آپ نے کیا سمجھا؟

 

بہزاد: چلئے اگر آپ چاہیں گی تو پھر گپ شپ کریں گے۔ ابھی مجھے ایک سفر کے لئے نکلنا ہے اور تھوڑی تیاری کی ضرورت ہے۔

پٹاخی: میں آپ کے میسج کی منتظر رہوں گی!

بہزاد: اور ہاں خدا کا نام ہے، میرے پیچھے اردو ادب کے پاؤں نہ پکڑیے گا۔ یہ ویسے ہی قابو میں آ جائے گا۔

پٹاخی: ہاہاہاہاہا۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ منتظرِ رشتہ ہوں، کہیں اردو ادب لے ہی نا جائے!

بہزاد: ہاہا ہا۔۔ ۔ آپ کی بات مجھ کم عقل کی سمجھ میں ابھی نہیں آئی، اس لئے صرف مسکرانے پہ گزارا کر رہا ہوں۔

پٹاخی: صحت کے لئے مفید ہے گھاس پر چلنا ننگے پاؤں۔ ویسے کہاں کی تیاری ہے پوچھنے کا حق دیتے ہیں تو دریافت کرنا چاہوں گی؟

بہزاد: گھر جا رہا ہوں۔

پٹاخی: باعث کنفیوژن ہے۔ آپ رہتے کہاں ہیں؟آپ کے پروفائل میں دو جگہ کا ذکر ہے، ایک اسلام آباد اور ایک آپ کا گاؤں؟

بہزاد: میں اسلام آباد سے اپنے آبائی گھر جا رہا ہوں۔

پٹاخی: واؤ۔ انٹرسٹنگ۔

بہزاد: کل شام تک واپس آ جاؤں گا۔

پٹاخی: ہاں میں اسلام آباد والے گھر کی رکھوالی کر لوں گی۔

بہزاد: ہاہا۔۔ ۔ چچا غالب نے فرمایا تھا: گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا :: وہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرت تعمیر سو ہے! اس لئے کسی رکھوالی کی ضرورت نہیں۔

پٹاخی: بڑھیا ہے بھئی بہت بڑھیا۔

بہزاد: آداب عرض ہے۔

5: 41PM

پٹاخی: محبت کو عقیدہ، عاشقی کو دین کہتا تھا، کوئی تھا جو مری ہر بات پر آمین کہتا تھا، کبھی آنے نہیں دیتا تھا میری آنکھ میں آنسُو، مرے اشکوں کو اپنے عشق کی توہین کہتا تھا۔

بہزاد: واہ۔ ویسے آپ سے ایک بات عرض کرنی ہے!

پٹاخی: جی کہیے!

بہزاد: دیکھئے بات یہ ہے کہ مجھے لگتا ہے آپ بہت کم عمر ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دوست نہیں ہو سکتے یا ایک دوسرے سے اعتماد کے ساتھ کھل کر بات نہیں کر سکتے۔ لیکن ایک بات ہے کہ میرا اس دوستی سے کوئی ذاتی یا جذباتی مفاد وابستہ نہیں ہے۔ بس مجھے اس سے اتنی دلچسپی ہے جتنی کسی معصوم دوست سے بات کر کے ہوتی ہے۔ اور مشترکہ دلچسپیوں اور دنیا بھر کے موضوعات پر بات ہو سکتی ہے لیکن صرف اچھے اور پر اعتماد دوست کے طور پر۔

پٹاخی: ری ایکشن کافی مشکل ہے، صاف الفاظ میں میں نے اسے توہین سمجھا ہے۔ میں ایسی لڑکی نہیں ہوں۔

بہزاد: بس یہ اعتماد کہ کوئی بات واضح نہ ہو تو پوچھ لی جائے اور کسی بھی غلط فہمی سے بچا جائے۔ امید ہے آپ میری بات سمجھ رہی ہیں۔ معذرت خواہ ہوں اگر اس پہلی ہی گپ شپ میں یہ بات واضح کر رہا ہوں۔ لیکن وضاحت ضروری ہے۔ ہم کسی ذاتیات پر نہیں جائیں گے۔

پٹاخی: ذاتیات سے مجھے کیا غرض!

بہزاد: بالکل، یہی چیز۔

پٹاخی: نہ غرض ہے نہ واسطہ، نہ آپ سے کچھ لینا نہ دینا۔ ویسے مجھے ہنسی آ رہی ہے۔ نہ تو فرسٹ کزن نہ لاسٹ۔

Behzad: Exactly. Please don’t mind. I have seen many misunderstandings developing when people don’t clear things up at the outset. So entirely up to you to continue the discussion or just leave it here.

پٹاخی: ارے نہیں نہیں، جاری رکھیے میں کوئی غلط لڑکی نہیں ہوں، نہ ایسی سوچ ہے اور ایف بی پہ ایسی سوچ رکھنا نہایت احمقانہ حرکت ہے۔ ایک راز کی بات بتائیں، آپ نے خود کو سکیور کیا ہے یا مجھے؟

بہزاد: میں نے کسی کو سکیور نہیں کیا۔ لیکن میں کچھ تجربوں سے گزرا ہوں کہ لوگ اپنے دل ہی دل میں بہت سی باتیں سوچ لیتے ہیں جو آپ کے وہم و گمان میں نہیں ہوتیں۔

پٹاخی: ہاں کہا جا سکتا ہے۔ آپ کی عمر کا تقاضا ہے۔ [سمائلی]

بہزاد: شاید۔ بہرحال آپ کی کشادہ دلی سے خوشی ہوئی۔

پٹاخی: آپ کو کیا بلاؤں، اب مسئلہ یہ حائل ہے!

وہ بات یہ ہے کہ پہلے تو میں بلا جھجھک بہزاد کہنے والی تھی۔ اب سوچ میں ہوں۔

بہزاد: ہاہاہا۔۔ ۔ نام لینا بہتر ہے۔ چھا گئی ہے تو لڑکی۔ جھجھک کی ضرورت نہیں۔ وہ کیا ہے نا کہ کچھ اتنا فکر کی ضرورت نہیں۔

پٹاخی: بہزاد!

بہزاد: یہ ہوئی نا بات۔ اب میں بھی کھل کر بات کر سکتا ہوں۔

پٹاخی: ہاں ضرور۔ اداس ہوتے ہو کبھی؟

بہزاد: جی ہوتا ہوں۔ آپ کو کیسے پتہ چلا؟

پٹاخی: انسان کے فطری احساس ہوتے ہیں کب چھپتے ہیں۔ وجہ بتاؤ!

بہزاد: ہاہا۔۔ ۔ فیس بک کے پردوں سے بھی آپ نے اداسی بھانپ لی؟

پٹاخی: کم نہ کر سکی تو بڑھا ضرور دوں گی۔

بہزاد: نا ممکن! میں نے اداس ہونا چھوڑ دیا ہے۔ ویسے کبھی چھا جائے تو اور بات ہے۔ کیا تم ہوتی ہو؟ اداس؟

پٹاخی: لفظوں کے بھید بھاؤ، محاوروں کے ترازو سے زیادہ واقف تو نہیں ہوں، مگر لہجہ اور الفاظ ترجمان ہوتے ہیں۔ ہاں کبھی کبھی! مگر خود پر طاری نہیں ہونے دیتی۔ اداسی کو اتنا حق نہیں دیتی میں۔

بہزاد: کیوں؟ چلو چھوڑو۔ یہ بتاؤ خوشی کس چیز سے ہوتی ہے؟

پٹاخی: مجھے؟ غروب آفتاب سے سکون ملتا ہے مجھے۔ شام کوسورج ڈوبتا دیکھوں تو عجیب کیفیت ہو جاتی ہے، پراسراریت ہے اس میں۔ اس کے علاوہ کوئی باتیں کرنے والا ہو تو موڈ اچھا ہو بھی جاتا ہے اور کر بھی دیتی ہوں۔

بہزاد: واہ بھئی مطلب کافی فطرت پسند ہو! کبھی طلوع آفتاب کا بھی نظارہ کیا ہے؟

پٹاخی: مجھے سیر کرنا پسند ہے۔ خاص طور پر صبح کی سیر۔ اور میں اکثر اداسی میں یہی کرتی ہوں۔

[کچھ وقفہ آ جاتا ہے]

بہزاد:؟؟ کیا آپ بھی ادرک کا سواد چکھنے تو نہیں چلی گئیں؟

پٹاخی: سوری مہمان کی آمد ہو گئی تھی۔ میرا دل کرتا ہے میں دنیا دیکھوں۔

بہزاد: تو دیکھئے دنیا۔ کس نے منع کیا ہے؟

پٹاخی: دیکھوں گی انشاء اللہ۔ آپ کیوں اداس ہیں؟

بہزاد: کہیں جائیں تو مشورہ کر لیجئے گا۔ مجھے کچھ خوبصورت جگہوں کا اندازہ ہے۔

پٹاخی: بہزاد! میرے موڈ پہ ہے۔ کبھی حد سے زیادہ اداس اور کبھی شرارتی۔

بہزاد: مجھے بھی گھومنے کا شوق ہے۔ اللہ کہیں کوئی بندوبست کر ہی دیتا ہے۔

پٹاخی: مجھے شوق ہے میں شادی سے پہلے دنیا گھوموں۔ شادی کے بعد گھر میں ہی دنیا گھوم جاتی ہے۔

بہزاد: ہاہاہا۔۔ ۔ شادی کا اس سے کیا تعلق؟

پٹاخی: شادی کا تعلق یہ ہے کہ میں شرارتی ہوں، چھیڑا چھاڑی، بھاگ دوڑ میں بچپن گزر گیا۔ بچپنا زندہ ہے مگر خاوند پابندیاں لگاتے ہیں۔

بہزاد: کیوں نہ گھومتی رہیں۔ شادی سے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔

پٹاخی: ہاں یہ بہتر بات کی۔

بہزاد: اچھا تو پھر کب ہو رہی ہے آپ کی شادی؟ اور کون ہے وہ خوش قسمت؟

پٹاخی: دور دور تک چانس نہیں! چلو اب بات گھماؤ نہیں اپنی اداسی کی وجہ بتاؤ۔

بہزاد: پہلے تم بتاؤ!

پٹاخی: خوش قسمت بیچارہ یا میرا سر پھاڑے گا یا میں اس کا۔

بہزاد: ہاہا۔۔ زبردست، زندگی لڑتے جھگڑتے آسانی سے گزر جائے گی۔

پٹاخی: پڑوسیوں کو بھی اینٹرٹینمینٹ مل جائے گی۔

بہزاد: بھئی آپ پہلی ہی ملاقات میں اداسی کا سبب پوچھنے لگیں۔ بے وجہ اداسی کا سبب۔ اس سے تو ہم اور اداس ہو سکتے ہیں۔

پٹاخی: اوہ گستاخی معاف۔

بہزاد: زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی، کیوں تری راہ گزر یاد آئی۔

پٹاخی: ایک شعر یاد آ رہا ہے!

بہزاد: ہوں؟

پٹاخی: اگر میں داستان کہہ دوں پریشاں رات ہو جائے، میں چپ رہ کر شبِ تاریک پر احسان کرتی ہوں۔

بہزاد: ووووا ا اہہ ہ۔۔ ۔ میں بھی احسان کرتا ہوں، شب تاریک پر۔

پٹاخی: بہزاد! دیکھو اداسی کو خود پر طاری نہیں ہونے دیتے۔ اسے اپنی مٹھی میں رکھتے ہیں وگرنہ یہ اندر کا حال نہیں چھپاتی۔ چہرے سے چھلک ہی جاتی ہے۔ اور اداسی نہایت پرسنل معاملہ ہے۔

بہزاد: آپ سمجھتی ہیں کہ یہ بہت پرسنل معاملہ ہے۔ میں بھی یہ سمجھتا ہوں۔

پٹاخی: چلو آپ سے ایک مزے کا سوال کرتی ہوں۔ آپ کو کبھی آج تک کسی بات پہ شرم آئی؟کوئی واقعہ کوئی سانحہ؟

بہزاد: شرم آئی؟ مطلب؟

پٹاخی: مطلب، مطلب کسی بات پہ شرمندگی ہوئی ہو؟

بہزاد: سوچنے دیں!

پٹاخی: سوچیے:

نمی دے کر جو مٹی کو

مسلسل گوندھتے ہو تم

بتاؤ کیا بناؤ گے؟؟

کوئی کوزہ، کوئی مورت یا پھر محبوب کی صورت؟؟

سخن ور ہوں کہو تو مشورہ اک دوں

یہ گھاٹے کا ہی سودا ہے

یہاں مٹی کی مورت کی اگر آنکھیں بناؤ گے

تمہیں آنکھیں دکھائے گی

تراشو گے زبان اس کی تو ترشی جھیل پاؤ گے؟؟

اگر جو دل بنایا تو ہزاروں خواہشیں بن کر تمہیں تم سے ہی مانگے گی

عطائے خلعت احمر اسے خود سر بنا دے گی

وہاں اپنی محبت کا جو نادر تاج پہنایا

خدا خود کو ہی سمجھے گی

ابھی بھی وقت ہے مانو

ارادہ ملتوی کر دو

اسے مٹی ہی رہنے دو ______!

میری کسی بھی شاعری کو فقط اتنا ہی سمجھنا کہ یہ جس طرح دو نارمل دوست ہم کلام ہوں۔۔ ۔ ویسے اتنی گہری سوچ!

بہزاد: کیا شرم اور شرمندگی ایک ہی چیز ہے؟

پٹاخی: نہیں، شاید۔

بہزاد: ہمم، مطلب میں شاید شرمندہ تو بہت دفعہ ہوا ہوں گا۔ اپنی ناکامیوں پر، حسرتوں پر، بے جا سستی اور کوتاہی پر۔ لیکن شرم، تھوڑا غور طلب ہے۔ بزرگ کہتے تھے ’جس نے کی شرم اس کے پھوٹے کرم‘۔

پٹاخی: وہ بات یہ ہے کہ آج والدہ سوال کر بیٹھیں کہ کوئی شرم بھی ہے یا نہیں۔ تب سے سوچ میں گم ہوں۔ کبھی بھی مجھے شرم نہیں آئی۔ کیا سمجھوں بزرگ اس قول کو سچ ثابت کرنے کے لئے مناہل باجوہ کو چھوڑ گئے۔

پٹاخی: اوہ سچ آپ نے سفر پہ جانا تھا؟

بہزاد: میں سفر میں ہوں۔ موٹر وے پر۔ اسی لئے آپ سے گپ شپ میں اچھا وقت گزر رہا ہے۔

پٹاخی: پھر ٹھیک ہے یعنی مجھے شرم نہیں آتی تو کوئی بات نہیں یہ نارمل ہے۔

بہزاد: بالکل نارمل ہے۔

پٹاخی: صحیح صحیح۔

بہزاد: بلکہ جو شرماتا ہے وہ گنواتا ہے۔

پٹاخی: آپ کا اس یونانی کہاوت کے بارے میں کیا خیال ہے: ’کسی کی ضرورت سے زیادہ عزت نہ کرو۔ جس کی عزت کرو وہ دکھ دیتا ہے۔ ‘

بہزاد: مجھے اس یونانی کہاوت سے اتفاق نہیں ہے۔ اور مجھے یقین نہیں کہ یہ واقعی یونانی کہاوت ہے۔ یونانی کافی سمجھدار لوگ تھے۔

پٹاخی: سو فیصد یہی امید تھی کہ آپ اتفاق نہیں کرو گے۔

بہزاد: ہاہا بڑی جلدی مجھے جان گئی ہو۔

پٹاخی: یہ یونانی کہاوت نہیں کسی بے چارے نے پوسٹ مشہور کرنے کے لئے کہا ہو گا۔ یا کسی دل ہارے ہوئے شخص نے!

بہزاد: میرے نزدیک ہر رشتے کا محور عزت ہی ہے۔

پٹاخی: ہاں ٹھیک کہتے ہو! مگر مجھے صرف بے تکلف رشتوں سے ہی الفت ہے۔

بہزاد: بے تکلفی کا مطلب بے عزتی نہیں۔ بے تکلفی اعتماد کا حسن ہے۔

پٹاخی: ہاں ٹھیک کہا۔ کچھ لوگ بے عزتی سمجھتے ہیں۔ میرا حلقۂ یاراں بہت تھوڑا ہے۔ بہت تھوڑا، مگر جو ہیں ان سے بے تکلفی کی انتہا ہے۔

بہزاد: ویسے یہ شرم والا سوال کیوں پوچھا تھا؟ شرم ہم کرتے نہیں، تکلف ہم سے ہوتا نہیں، جو ہے جیسے ہے، پیش کر دیتے ہیں۔ رائٹ؟

پٹاخی: بالکل ٹھیک کہا۔

بہزاد: حلقہ یاراں کم ہو مگر اچھا ہو، ہم خیال ہو، ہم جذبہ ہو، ہم مزاج ہو۔

پٹاخی: ہائے تسی کنے سوہنے او!

بہزاد: اچھا جی؟ اب مجھے شرم آ رہی ہے۔

پٹاخی: نا کرو یار۔

بہزاد: اف اب تو بالکل شرم سے لال ہو گیا ہوں۔ بس کرو۔

پٹاخی: مجھے پھر بھی نہیں آ رہی۔ بندے کو ڈھیٹ ہونا چاہیے۔

بہزاد: کہیں کوئی میرا منہ نہ دیکھ لے۔ گال دمک رہے ہیں۔

پٹاخی: مجھے نہیں آنی۔

بہزاد: ’جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفر، آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہئے۔

پٹاخی: کیا جھوٹ بولا؟ جھوٹ کو انسانیت کی توہین سمجھتی ہوں!

بہزاد: آپ نے جھوٹ نہیں بولا۔ ایسے ہی یہ شعر یاد آ گیا کیونکہ میرے گال لال نہیں ہو رہے۔ اور پھر تم نے ڈھیٹ کا لفظ استعمال کیا تو مجھے صاحب کردار یاد آ گیا۔ کیا اب وضاحتیں دینی پڑیں گی؟

پٹاخی: ہرگز نہیں۔

بہزاد: ویسے مجھے یقین نہیں ہے کہ آپ کو بالکل شرم نہیں آتی۔

پٹاخی: بہزاد، تم سے باتیں کرتے کرتے کب کام ختم ہوئے پتا بھی نہیں چلا۔

بہزاد: کون سے کام؟ مجھے بھی پتہ نہیں چلا کہ سفر ختم ہونے والا ہے۔ آپ نے سفر میں میرا ساتھ خوب نبھایا۔

پٹاخی: گھر کے کام اور کچھ اسائنمنٹس۔

بہزاد: اچھا۔ آپ کے پاس تو جادو ہے۔ گپ شپ میں سارے کام نمٹا دیے؟ کیا کوئی مؤکلین ہیں؟

پٹاخی: ہاں یہ معاملہ تھوڑا عجیب ہے۔

بہزاد: کیا عجیب ہے؟

پٹاخی: ایک مثال دیتی ہوں۔ انسان جب کسی کام کے لئے سفر کرتا ہے اور وہ کام اچھے سے ہو جاتا ہے تو ہر گز تھکاوٹ نہیں ہوتی۔ اور اگر انسان سفر بھی کرے اور کام بھی نہ ہو تو تھکاوٹ ہو جاتی ہے اور منہ بھی لٹک جاتا ہے۔ ہنسی خوشی کام کیا جائے تو مشکل کام بھی اچھے اور خوبصورت طریقے سے ہو جاتے ہیں۔ وگرنہ منہ لٹکا کے آہستہ آہستہ لگے رہو۔

بہزاد: یہ بات تو ہے۔ تو پھر بتاؤ اس دوران اور کیا کیا کیا؟ ویسے مجھ پر آپ کا شکریہ واجب ہے کہ ڈھائی گھنٹے کا سفر جیسے ڈھائی منٹ میں ہو گیا۔ بس تھوڑا سا سفر رہتا ہے۔ دس پندرہ کلومیٹر اور۔

پٹاخی: چوبیس گھنٹے میسر ہوں۔ دوستوں میں تکلف مت کیجیے۔ میرا فرض آپ کا حق تھا، دوست سمجھیں تو!

بہزاد: شکریہ۔ میں بھی حاضر ہوں جب آپ چاہیں رابطہ کر سکتی ہیں۔

پٹاخی: بہزاد، یہ تکلف ہے، پوکٹ میں رکھو۔ اس دفعہ پہل میری طرف سے تھی۔ میری قدر ہوئی تو اگلی دفعہ آپ کے میسج کی منتظر رہوں گی۔

بہزاد: مطلب کوئی بدلہ یا مقابلہ ہے؟ میں بہت سست ہوں۔ لیکن آپ کے لئے کس وقت بات کرنا مشکل ہوتا ہے؟ اپنے سہولت والے وقت بتا دیں تاکہ بے وقت ڈسٹرب نہ کروں۔ کوئی آخری کمنٹ، اس سے پہلے کہ منزل آئے؟

پٹاخی: مشکل ہوتا تو سرکار، اتنا وقت نہ دے پاتی۔ میرے لیے وقت دینا ہرگز مشکل نہیں۔ ہاں آخری بات یہ کہ مجھے ڈر لگ رہا ہے آپ پتا نہیں میسج کرو یا نہیں۔ مجھے لگ رہا یہ پہلا اور آخری سفر تھا۔ آپ کا میسج نہیں آئے گا۔ ڈر سا ہے کہ کہیں اچھے دوست سے محروم نہ ہو جاؤں؟ ورنہ نہ بدلہ نہ مقابلہ!

بہزاد: میں بھول جاؤں تو آپ یاد کرا دینا۔ ویسے بھولوں گا نہیں۔

پٹاخی: چاہنا اور چاہے جانا بہت خوبصورت مگر دو مختلف احساس ہیں۔ میں دونوں کو برقرار رکھنا چاہتی ہوں، صرف ایک دوست کے طور پر!

Behzad: Sure, as friends. Now I will have to take leave. It was really wonderful chatting with you. Keep your good nature and humor alive. And take care.

پٹاخی: جیسے کسی قریبی دوست کو کچھ دیر مزید بیٹھنے کا حکم دے کر کچھ دیر اور بٹھایا جاتا ہے، ویسے بھی نہیں کر سکتی۔

بہزاد: بعد میں رابطہ کرتا ہوں۔ ذرا گھر والوں کو شکل دکھا لوں۔

پٹاخی: والدہ کو سلام

 

9: 12PM

پٹاخی: یہ رُکے رُکے سے آنسو، یہ دبی دبی سی آہیں، یونہی کب تلک خدایا، غم زندگی نباہیں، کہیں ظلمتوں میں گھِر کر ہے تلاشِ دستِ رہبر، کہیں جگمگا اُٹھی ہیں مرے نقشِ پا سے راہیں، ترے خانماں خرابوں کا چمن کوئی نہ صحرا، یہ جہاں بھی بیٹھ جائیں وہیں اِن کی بارگاہیں، کبھی جادۂ طلب سے جو پھرا ہوں دل شکستہ، تری آرزو نے ہنس کر وہیں ڈال دی ہیں بانہیں۔

بہزاد: زبردست، آپ کا شعری ذوق بہت اچھا ہے۔ یہ کس کا کلام ہے؟

پٹاخی: مجروح سلطان پوری۔ اصل الفاظ میں تھوڑا فرق ہے۔

بہزاد: گریٹ

پٹاخی: سوری میں ذرا دوڑ لگانے گئی تھی۔

بہزاد: کہاں دوڑ لگائی؟

پٹاخی: گھر کے سامنے گراؤنڈ ہے۔ بس وہاں۔

بہزاد: سرگودھا میں؟

پٹاخی: جی۔ وہاں موسم کیسا ہے؟ ادھر تو گرمی کی انتہا ہے۔

بہزاد: ادھر بھی گرمی ہے۔

پٹاخی: اداسی دور ہوئی یا نہیں؟ گھر میں خیریت ہے؟

بہزاد: ارے بھئی کوئی اداسی نہیں ہے۔ آپ کو کیسے یہ خیال آ رہا ہے؟

پٹاخی: ممم مان لوں یہ بات؟ کہ آپ اداس نہیں ہو؟ جھوٹ سخت ممنوع ہے!

بہزاد: نہ مانو!

پٹاخی: بحث تب ہی اختتام پذیر ہوتی ہے جب دو میں سے کوئی ایک تسلیم کر لے۔ مجھے تو یقین ہے کہ آپ اداس ہیں۔ اب آپ بھی مان جاؤ۔

بہزاد: آپ کیسے کہہ سکتی ہیں کہ میں اداس ہوں؟ اب مجھے یقین ہو گیا ہے کہ آپ کے پاس موکل ہیں جو آپ کو غلط اطلاعات دیتے ہیں۔

پٹاخی: موکل اور غلط اطلاعات بھی؟ بہزاد اب سیدھے طریقے سے بتاؤ؟

بہزاد: اگر میں ہوں بھی تو آپ کیا کرو گی؟

پٹاخی: آپ؟ کون ہے؟ کس کے لئے آپ کا لفظ استعمال کیا؟

بہزاد: مطلب؟

پٹاخی: اگر میں ہوں بھی تو (آپ) کیا کرو گی؟

بہزاد: آپ کو اس سوال پر اعتراض ہے یا میرا آپ کو آپ کہنے پر؟

پٹاخی: آپ کہنے پر!

بہزاد: ہممم۔۔ ۔ تو کیسے پکاروں؟

پٹاخی: دوپہر سہ پہر تک میں تم تھی۔ اب آپ ہوں۔ یہ تو نا انصافی ہے۔

بہزاد: اچھا۔ میں در اصل رواروی میں دونوں صیغے استعمال کر لیتا ہوں۔ آپ کو برا لگا کیا دوپہر میرا آپ کو تم کہنا؟

پٹاخی: مجھے آپ کہنا برا لگا۔

بہزاد: پھر کیا تم کہنا چاہئیے؟

پٹاخی: بالکل۔ دوست رکھو یا فارمیلٹی۔

بہزاد: اوہو یہ بات ہے۔ سوری یار تم نے تو مجھے پریشان کر دیا تھا۔

پٹاخی: بہزاد!

بہزاد: دسو؟

پٹاخی: آپ کو پنجابی آتی ہے؟ مجھے نہیں آتی مگر سیکھنے کا بہت شوق ہے۔

بہزاد: مجھے پنجابی، سرائیکی، پوٹھوہاری، ہندکو، فارسی، انگریزی۔۔ ۔ بس یہ چند زبانیں آتی ہیں۔ اردو کے علاوہ۔

پٹاخی: ماشاءاللہ۔ اردو کی تو الف بے نہیں آتی استاد جی کو۔

بہزاد: بس اردو ابھی سیکھ رہا ہوں۔ تم سکھا دو!

پٹاخی: میں کچی فیل ہوں۔

بہزاد: اتا سا کام نہیں کر سکتی؟

پٹاخی: میں بالکل فیل ہوں اردو میں۔ نہ سرکار بالکل نہیں۔ آپ کیا چاہتے ہو میں مر جاؤں؟ آپ بچوں کی طرح علم کریدنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دن بھر سے کبھی جون ایلیا تو کبھی کچھ مگر میں نالائق بھانڈا۔

بہزاد: نا نا مریں تمہارے دشمن۔ میں تو چاہتا ہوں تم جاگ جاؤ۔

پٹاخی: اندر کوئی سویا ہوا ہے کیا میرے؟

بہزاد: پتہ نہیں پر خراٹے سنائی دے رہے ہیں۔

پٹاخی: کوجے!

 

 

1: 20AM

پٹاخی: لگتا ہے استاد جی سو گئے؟ فی أمان اللہ، شب بخیر۔ ابھی تک جاگ رہے ہیں؟

بہزاد: بس آنکھ کھل گئی تھی۔ دوبارہ سو رہا ہوں۔ شب بخیر!

پٹاخی: شب بخیر۔ جوتے چرانے کا موقع، کھی کھی کھی کھی، سو جاؤ سو جاؤ موٹو!

بہزاد: چرا لو جو چرانا ہے بس میری نیند نہ چراؤ، مکڑی۔

پٹاخی: چڑیلیں آئیں گی۔ سو ذرا

بہزاد: چڑیلوں کی ایسی تیسی۔

پٹاخی: شب بخیر دوست، سو جاؤ!

 

 

۲ اگست

8: 19AM

بہزاد: لو صبح صبح عمیر نجمی کے یہ شعر سنو:

شب بسر کرنی ہے، محفوظ ٹھکانہ ہے کوئی؟

کوئی جنگل ہے یہاں پاس میں؟ صحرا ہے کوئی؟

ویسے سوچا تھا محبت نہیں کرنی میں نے

اس لئے کی کہ کبھی پوچھ ہی لیتا ہے کوئی

آپ کی آنکھیں تو سیلاب زدہ خطے ہیں

آپ کے دل کی طرف دوسرا رستہ ہے کوئی؟

جانتا ہوں کہ تجھے ساتھ تو رکھتے ہیں کئی

پوچھنا تھا کہ ترا دھیان بھی رکھتا ہے کوئی؟

10: 19AM

پٹاخی: واہ، واہ، واہ۔ چھا گئے ہو۔ السلام علیکم!

بہزاد: وعلیکم السلام، صبح بخیر۔ ابھی آپ ذرا منہ ہاتھ دھولیں، ناشتہ کر لیں۔

پٹاخی: سرکار حضور میں ساڑھے پانچ بجے سے واک کر کے، فریش ہوکے، کام کر کے، ویلی بیٹھی ہوں، والدہ سے باتیں کر رہی تھی۔

بہزاد: واہ پھر آپ تو میر کی بھی نانی ہے۔

پٹاخی: یہ ظلم تو نہ کرو اتنی چھوٹی سی بھلا کوئی نانی ہوتی ہے؟

بہزاد: میر وہ سحر خیز تھا جو باغ میں سیر کرنے باد صبا سے بھی پہلے پہنچتا تھا۔

وہ ہوا خوا ہے چمن ہوں کہ چمن میں ہر صبح

پہلے میں جاتا تھا اور باد صبا میرے بعد

پٹاخی: کاش میں بھی میر کی طرح ہو جاؤں، مزہ آ جائے۔ یار ایک بات بتاؤں اگر میں باد صبا سے پہلے پہنچی گراونڈ میں تو لوگ مجھے چڑیل ہی سمجھیں گے؟

بہزاد: تو کیا غلط سمجھیں گے؟

پٹاخی: مر جاؤ

بہزاد: کون کہتا ہے کہ میں زندہ ہوں۔ یہ جو تم سے بات کر رہی ہے یہ تو میری روح ہے۔

پٹاخی: اوئے ہوئے، فلسفے کے ابا حضور۔

بہزاد: تھوڑا مصروف، تھوڑی دیر میں بات کرتا ہوں۔

پٹاخی: رہو مصروف تمہارے حصے کی آئس کریم بھی خود ہی کھاؤں گی۔ تنگ کرنے کے لئے معذرت، بائے۔

 

 

[کچھ دیر بعد]

بہزاد: میری آ ئس کریم بچائی ہے؟

پٹاخی: نہیں

بہزاد: ساری کھا گئی ہو؟

پٹاخی: جی ہاں

بہزاد: خیر چھوڑیں، آپ جب اسلام آباد تشریف لائیں تو بتائیے گا۔ میں آپ کو آئس کریم کھلا دوں گا۔

پٹاخی: کیا ہو رہا ہے اب؟ ہم آپ کے سامنے نہیں آئیں گے۔

بہزاد: نہ آؤ۔

پٹاخی: میرا کوئی والی وارث نہیں، بہزاد۔ میں کہیں بھی نہیں جاتی۔

بہزاد: ہم نے کب کہا کہ ہم آپ کے دیدار کے خواہش مند ہیں۔ آپ کی والدہ ہیں، باقی گھر والے بھی ہوں گے!

پٹاخی: نہیں سرکار، میں اکلوتی ہوں، والد انتقال کر گئے، میں اور والدہ بس۔

بہزاد: اوہ افسوس ہوا سن کر۔

پٹاخی: بس کل اثاثہ والدہ ہیں جو بیمار ہیں۔ جو کچھ ہے دیکھ بھال میرے ذمے۔

بہزاد: اوہ اوہ۔ تو پھر کون گھر چلاتا ہے؟ کون کھاتا کماتا ہے؟

پٹاخی: جی میں ہی کماتی ہوں تھوڑا بہت۔ والدہ بیمار ہیں تو گھر سے باہر نہیں جا سکتی۔ تو گھر میں کچھ بچوں کو پڑھا لیتی ہوں اور کچھ کھانے بنا دیتی ہوں۔

بہزاد: کیا عمر ہے آپ کی؟

پٹاخی: عمر مت پوچھو کالیا۔

بہزاد: گھر اپنا ہے؟ والد صاحب کی کوئی پنشن، آمدن وغیرہ؟ اگر تم بتانا چاہو۔ صرف ویسے ہی سمجھنے کے لئے پوچھ رہا ہوں۔ کوئی ضروری نہیں کہ جواب دو۔

پٹاخی: ہاں میں پیسے جوڑنا جانتی ہوں۔ آہستہ آہستہ اپنا ٹھکانا کھڑا کر لیا ہے۔ نہیں کچھ بھی نہیں، والد صاحب ڈیکوریٹر تھے، ان کا بزنس تھا۔ ان کے بعد کوئی چلانے والا نہ رہا۔ ارے چھوڑئیے قصے غموں کے۔

بہزاد: اگر اعتماد کر سکتی ہیں تو بتا دیں۔ ورنہ بس گپ شپ تو چلتی رہے گی۔

پٹاخی: آؤ درد پرمسکراتے ہیں۔ اوہ اوہ اوہ شعر یاد آیا، سنو بہزاد،

جھوٹی مسرتوں کو یہ حادثہ سنا دو، ہم غم کی تلخیوں پہ ایمان لا چکے ہیں۔

بہزاد: ہممم۔۔ ۔

پٹاخی: میرا تو کچھ نہیں جاتا۔ آپ اداس ہو جائیں گے۔ میرا ایک بھائی تھا۔ اس کی ہم نے بہت دھوم دھام سے شادی کی۔

بہزاد: ہمارے درمیان طے ہوا تھا کہ ہر بات ایمان داری سے اور بلا خوف ہو گی اور کوئی ذاتی مفاد نہیں رکھا جائے گا۔

پٹاخی: بھابھی نے بھائی کو پہلی رات ہی زہر دے دیا تھا۔

بہزاد: کیا؟؟؟

پٹاخی: تب سے میں نے شادی کا مذاق بنا رکھا ہے۔ میں نے نہیں کرنی۔

بہزاد: کیوں زہر دیا؟ پھر شادی کیوں کی؟ تم نے الجھا دیا ہے۔ اپنی پوری کہانی لکھ دو۔ میں واپس آ کر پڑھوں گا اور پھر بات کرتے ہیں۔ ابھی مجھے لنچ پر جانا ہے۔

پٹاخی: میں نے شادی نہیں کی۔ بھائی کی کی تھی۔ بھائی کے مرنے کے بعد خوف ہے۔ اب اپنی نہیں کروں گی۔

بہزاد: میں بھی شادی کے حق میں نہیں ہوں۔ ایسے ہی ایک مصیبت ہے۔ اور پھر یہ شادی درمیان میں کہاں سے آ گئی۔ یہ رابطہ صرف ایک دوسرے کو دکھ سکھ بتانے اور گپ شپ لگانے کے لئے ہے۔ شعر سنو:

رہی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کی

وہ ہم سے بھی زیادہ کشتہ تیغ ستم نکلے۔

پٹاخی: شادی کی بات! بھائی کا قصہ جو بتا رہی تھی۔ پھر گھریلو حالات۔

بہزاد: ہاں قصے سننے میں تو مجھے دلچسپی ہے۔

پٹاخی: وہ لڑ کی کسی اورکو پسند کرتی تھی۔ اس لئے۔

بہزاد: کیا زبردستی کی تھی شادی؟

پٹاخی: ہم نے کیا زبردستی کرنی تھی؟ یہ تو اس کے گھر والوں نے دھوکا کیا نا؟

بہزاد: ہممم۔۔ ۔

پٹاخی: گھریلو ان کا کوئی معاملہ تھا تو ہمیں تو نہ برباد کرتے۔ آؤ ہنسیں اب۔ اوہ سوری، لنچ ہے نا آپ کا۔ سوری سوری۔ کائنڈلی آپ لنچ کریں۔

بہزاد: اب تم نے اداس کر دیا ہے۔ بہرحال۔

پٹاخی: کس وجہ سے اداس ہو؟ پاگل مت بنو!

بہزاد: کھانا تو کھانا ہے۔ ان لوگوں نے اتنا اہتمام کر رکھا ہے۔

پٹاخی: ہاں ہاں جلا لو موٹو۔

بہزاد: تمہارے خیال میں میں بہت موٹا ہوں؟

پٹاخی: جی ہاں۔

بہزاد: تمہیں کیا پتہ؟

پٹاخی: تنگ کر رہی ہوں، کیوٹ ہو!

بہزاد: کیوٹ؟؟؟

پٹاخی: ہاں سچی، جھوٹ نہیں۔

بہزاد: اگر میری شکل فیس بک پر دیکھ لی ہے تو اپنی بھی دکھانی چاہئے۔ تاکہ میں تمہارے لفظوں کے ساتھ کوئی چہرہ جوڑ سکوں۔ تب بات بہتر سمجھ آتی ہے۔ بے چہرہ لفظ کہاں پکڑائی دیں گے؟

پٹاخی: نہیں میں نہیں دکھانا چاہتی بہزاد!

بہزاد: جیسے آپ کی مرضی۔ مجھے بات سمجھنے میں آسانی ہو جاتی۔ لفظوں کے ساتھ چہرہ نہ ہو تو لفظ بھی ادھورے لگتے ہیں۔

پٹاخی: وجہ کوئی پرسنل سیکیورٹی نہیں۔

بہزاد: بہرحال کوئی اصرار نہیں۔

پٹاخی: ایک بات پہ بہت ہنسی آ رہی۔ کل جب میں اصرار کر رہی تھی کہ اداسی کی وجہ بتاؤ۔ بارہا پوچھنے پر بھی آپ نے نہیں بتایا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ میں بھی ہر احساس چھپا کر رکھوں گی۔ مگر پھر بھی سب سنا دیا۔

 

[کچھ دیر بعد]

پٹاخی: بزی آتما کدھر گم ہو۔ لنچ ہو گیا یا رہتا ہے؟ واپسی سفر کے لئے کب روانہ ہوں گے آپ؟

بہزاد: قہوہ چل رہا ہے۔ تھوڑی دیر میں نکلیں گے۔

پٹاخی: اہممم، صحیح۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ بہزاددددددد

بہزاد: ہوں؟

پٹاخی: کل کو میرا جنم دن ہے۔ مما ضد کر رہی ہیں کہ میں کچھ لے آؤں مارکیٹ سے۔ میرا دل نہیں کر رہا۔

بہزاد: جو ان کا دل ہے لے لو۔ سالگرہ مبارک۔

پٹاخی: ماما کے لئے ہی ایک ڈریس منگوا لیا ہے۔ بس ماما کو پہنا کے میں ہیپی!

بہزاد: یہ بھی تو ہے نا کہ کتویں سالگرہ ہے۔ اس کے مطابق ہی گفٹ ہو گا۔

پٹاخی: ایک فرینڈ کبھی کبھی آ جاتی ہے، مگر اس بار وہ بھی گئی ہوئی ہے۔

بہزاد: اگر پینتیسویں سالگرہ ہے تو ڈریس لے لو، اگر پچاسویں ہے تو ایک اچھی شال لے لو۔

پٹاخی: پچیسویں ہے تو؟ پندرہویں ہے تو؟ پیدا ہی نہیں ہوئی تو؟

بہزاد: پندرہویں ہے تو گڑیا لے لو اور اگر پہلی ہے تو ایک جھنجھنا ٹھیک رہے گا۔

پٹاخی: بنداس آئیڈیا۔ پچیسویں کا تو بتایا نہیں؟

بہزاد: پچیسویں ہے تو ایک بریسلیٹ لے لو۔ چوڑیاں یا جھانجھر بھی چلے گی۔ جو بھی لو تو بتا دینا۔

پٹاخی: تا کہ آپ عمر کا اندازہ کر لو!

بہزاد: مجھے تمہاری عمر سے کیا لینا دینا۔

پٹاخی: سیریس نہ لیا کرو۔ حقیقتاً مجھے آپ سے کوئی غرض نہیں، نہ کوئی خواہش ہو گی کبھی بھی۔

بہزاد: جیسا آپ چاہیں۔ فکر نہ کریں میں آپ کو بالکل سیریس نہیں لوں گا۔

پٹاخی: یہ غلط بات کی ہے آپ نے۔

بہزاد: آپ ہی نے تو کہا کہ سیریس نہ لیں۔

پٹاخی: سمجھدار ہو کر بھی پتا ہے بہزاد؟ آپ نے بارہا کہا کہ آپ کو مجھ سے کیا لینا دینا۔ اچھا تو یہ بتاؤ دوستی کوئی اہمیت نہیں رکھتی؟ مجھے تو آپ سے غرض بھی ہے اور واسطہ بھی۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ کبھی بھی میں آپ کے ساتھ کوئی دوسرا دھاگا باندھنے کی خواہش مند نہیں ہوں گی دوستی کے علاوہ، یہ وعدہ ہے۔

بہزاد: بالکل درست۔ میری بھی یہی رائے ہے۔ جب کوئی غرض نہیں تو ایک دوسرے سے کچھ چھپانے کی بھی ضرورت نہیں۔ ایک دوسرے کے بارے میں جان کر ہی ایک دوسرے پر بھروسہ بڑھتا ہے۔

پٹاخی: میں نے تو کچھ نہیں چھپایا۔

بہزاد: اچھا ٹھیک ہے۔

پٹاخی: میں ذرا عجیب لڑکی ہوں۔ میں کسی کو دوست نہیں رکھتی۔ آپ کو میں نے دوست اس لیے بنایا کہ ایک تو آپ میرے ٹائپ کے ہو، مطلب کہ جاہلیت سے محفوظ ہیں۔ کم از کم وہ کیا کہتے ہیں کہ منفی ذہن کے نہیں ہیں اور دوسرا آپ ٹین ایج میں نہیں ہیں۔ انداز گفتگو سب بتا دیتا ہے، نسلوں کا پتا چل جاتا ہے۔

بہزاد: خوب!

پٹاخی: آپ اچھے لگے، سوچے سمجھے بغیر میں نے بھروسہ کیا۔

بہزاد: میں آپ کا شکرگزار ہوں۔

پٹاخی: صرف اس لئے کہ خطرہ لاحق نہیں۔ ورنہ حقیقتاً آپ بتاؤ کہ جیسے میرے حالات ہیں، جیسے میں اکیلی ہوں، ایک ایک قدم بارہا سوچ کر اٹھانا پڑتا ہے۔

بہزاد: درست ہے۔

پٹاخی: میرا بھروسہ کبھی ٹوٹنے نہ دینا۔ باقی پکے دوست۔

بہزاد: دیکھئے ابھی تو ہمارا مختصر تعارف ہوا ہے۔ مجھے بھی آپ ایک مختلف لیکن اچھی اور خوش ذوق خاتون لگی ہیں۔ گپ شپ چلتی رہے گی، دکھ سکھ بھی کہہ سن لیں گے۔ ایک دوسرے کی ان ٹیگریٹی کا خیال رکھنے کے علاوہ باقی کمٹمنٹس ابھی بلا ضرورت ہیں۔ بس اوپن اور پر اعتماد رہیں اور بھروسے کا رشتہ رکھیں۔ لیکن آپ کی شکل دیکھے بغیر اور عمر وغیرہ جانے بغیر مجھے الجھن رہے گی کہ میں کسی خلائی مخلوق سے تو چیٹنگ نہیں کر رہا۔

پٹاخی: بات بجا ہے آپ کی مگر یہ ایک فینٹسی ہے۔ جس میں آپ اور میں دونوں جی رہے ہیں۔ نہ تو آپ میری اصل زندگی میں ہیں۔ نہ میں آپ کی زندگی میں۔

بہزاد: ایسے تو زندگی بھی ایک راز ہے، ایک فینٹسی ہے۔ اس فینٹسی کو کوئی شکل دینا اور اس میں رنگ بھرنا ہی اسے حقیقت کے قریب بنائے گا۔ لیکن اگر یہ کھیل ہے تو کھیل کے دیکھتے ہیں۔ ٹھیک ہے آپ اور میں ایک دوسرے سے ذاتی سوال نہیں پوچھیں گے۔ ٹھیک؟

پٹاخی: خواتین اس عمل سے باز رہ سکتی ہیں؟

بہزاد: لیکن آپ اپنی کہانیاں سنا سکتی ہیں۔

پٹاخی: مجھے اپنے دل میں باتیں رکھنی اچھے سے آتی ہیں۔ اختیار ہے میرا خود پہ۔ میں نہیں سناؤں گی کہانیاں۔ یہ تو ایسی صورت حال معلوم ہوتی ہے کہ آپ اپنی ایک ایک بات راز رکھنا چاہتے ہیں!

بہزاد: نہ سناؤ، دنیا میں ہر جگہ کہانیاں بکھری پڑی ہیں۔ جب آپ راز رکھیں گی تو میں بھی رکھوں گا۔

پٹاخی: ایک بات بتاؤ؟ آپ نے ابھی تک ایک بھی بات شئیر کی مجھ سے؟

بہزاد: یقین جانیں اگر آپ خوبصورت اور جوان نہیں بھی ہیں تو مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا۔

پٹاخی: بہت پٹو گے!

بہزاد: میں تو ایک کھلی کتاب ہوں۔ میرے بارے میں تو سب کچھ میری فیس بک پروفائل میں صاف صاف لکھا ہے۔ کون ہوں، کہاں رہتا ہوں، کیا کرتا ہوں، کیا میرے خیالات ہیں، کیا سوچتا ہوں، کون سی چیزیں پریشان کرتی ہیں، کون سی چیزیں پسند ہیں۔ البتہ آپ کی صندوقچی بند ہے۔

پٹاخی: میں بھی کوئی تالے والی ڈائری نہیں ہوں۔

بہزاد: اچھا جی۔ واہ، ماشاءاللہ۔

پٹاخی: ہاں جی، جو مرضی سوال کرو۔

بہزاد: میری تو ساری زندگی سر عام فیس بک کی وال اور نوٹس میں پڑی ہے۔ جب چاہے، جہاں چاہے، جو چاہے دیکھ سکتا ہے۔

پٹاخی: میں کم از کم ڈرپوک نہیں۔

بہزاد: وہ تو ہو۔

پٹاخی: ہمم۔۔ ۔۔ سفر میں ہو؟

بہزاد: ہاں، کیوں ہچکولے وہاں تک پہنچ رہے ہیں؟

پٹاخی: ہاں یہی سمجھ لو۔ سوچ رہی ہوں کہ۔ اچھا چھوڑو بتاؤ لوکل میں ہو یا اپنی؟

مطلب سفر کس چیز پہ ہو رہا ہے؟ کم از کم جہاز یا ہیلی کاپٹر میں تو نہیں ہو رہا۔

بہزاد: کار ہے۔

پٹاخی: ہممم۔۔ ۔۔ بہزاد، ایک چکی کاٹ جاؤں؟

بہزاد: کہاں کاٹو گی؟

پٹاخی: بے فکر رہو چاکلیٹ کھانے لگی ہوں آپ کی پوکٹ سے نکال کے۔

بہزاد: ہاہا، ایک چکی میری طرف سے بھی۔

پٹاخی: نہیں آپ کے دانت زہریلے بھی ہو سکتے ہیں، کیا بھروسہ؟

بہزاد: میرے دانتوں سے امرت نکلتا ہے۔ امرت رس، جو کچھ لوگوں کے لئے زہر ہے۔

پٹاخی: بڑے داموں آپ کو بیچ سکتی ہوں پھر تو!

بہزاد: بیج دو۔ قیمت کوئی نہیں دے سکے گا۔

پٹاخی: ہاں اب چونی کا زمانہ گزر گیا۔

بہزاد: قدر صرف قدر دانوں کو پتہ ہوتی ہے۔ ٹٹ پونجیوں کو نہیں۔ کیا نام بتایا تھا آپ نے اپنا؟

پٹاخی: رہنے دو اب نہیں بتانا۔ بھول گئے ہو؟

بہزاد: واقعی بھول گیا ہوں۔

پٹاخی: مناہل باجوہ

بہزاد: اوہ اچھا شکریہ۔ نام تو اچھا ہے۔

پٹاخی: شکریہ میں نے نہیں رکھا۔

بہزاد: اسی لئے اچھا ہے

پٹاخی: جی؟

بہزاد: خود رکھتی تو کیا رکھتی؟

پٹاخی: ممم۔۔ ۔ میں رکھتی تو کشمالہ یا بہارے گل رکھتی۔ بہارے گل نام مجھے بے حد پسندددددد ہے۔

بہزاد: میں بتاؤں؟

پٹاخی: جی ضرور!

بہزاد: گواچی گاں۔

پٹاخی: ارے بوتھی ادھر کریں زوم کر کے دھرفٹے منہ آکھنا اے۔

تساں دا میں بھلا کی رکھ دی نام؟ سرکاری سانڈھ یا کالا بھبھونہ۔

بہزاد: تمہاری تو کوئی بوتھی ہی نہیں ہے۔

پٹاخی: بہزاد کے بچے۔ اوہ یاد آیا، اپنی پسندیدہ غزل سناؤ!

بہزاد: ابھی نہیں۔ بمپی روڈ ہے۔ اور پھر ہم رکنے والے ہیں اک سٹاپ اوور پر۔

پٹاخی: دوپہر جب آپ کو داستان بتا رہی تھی تو ایک شعر ذہن میں چھلک رہا تھا مگر الفاظ واضح نہیں تھے۔ ابھی یاد آئے تو عرض کرتی ہوں:

میرے دل کی راکھ کرید مت اسے مسکرا کر ہوا نہ دے

یہ چراغ پھر بھی چراغ ہے کہیں تیرا ہاتھ جلا نہ دے

پٹاخی: آپ پھر کہاں کھو گئے؟

بہزاد: ابھی یہاں ایک گھنٹے رکنا ہے۔ دوبارہ چلیں گے تو رابطہ کرتے ہیں۔

پٹاخی: او کے۔ پلیز تب تک موبائل چارجر کی شکل بھی دیکھ لے۔ اماں حیران ہیں دو دن سے کون سا کیڑا کاٹا ہے مجھے، پھر بتایا آپ کا۔

بہزاد: پھر کیا کہا؟ یہ موئی کس کام میں پڑ گئی؟

پٹاخی: اماں تھوڑی سی پریشان ہوئی تھیں۔ پھر میں نے بتا یا کہ دوست ہیں ہم۔

بہزاد: اچھا تو انہوں نے آپ کو اجازت دے دی؟

پٹاخی: جی میری پوری زندگی ان کے سا منے ہے، اگر میں نے کسی سے دوستی کی ہے تو۔ آپ سیریس ہوں تو کچھ کچھ ہوتا ہے۔ سیریس اچھے نہیں لگتے۔ آؤ آسمان پہ بیٹھ کے نیچے والوں کو وٹے ماریں۔

بہزاد: کچھ کچھ ہوتا ہے؟ کیا؟ یہ بڑا معنی خیز ہے۔

پٹاخی: مطلب کھد بدی سی ہوتی ہے کہ اب کس سوچ میں گم ہو۔

بہزاد: اب آپ کو غزل سنائی جائے اپنی پسندیدہ؟ اسے پٹھانے خان نے گایا ہے۔

پٹاخی: ارشاد ارشاد، رکیے ذرا ہم تھوڑے ٹھاٹھ سے بیٹھ جائیں۔ ہاں اب سنائیں۔

بہزاد: اے دوست ذرا اور قریب رگ جاں ہو، کیا جا نے کہاں تک شب ہجراں کا دھواں ہو۔ [ بہزاد یوٹیوب پر غزل کا لنک بھیجتا ہے] ذرا سنو، یہ میرے دل کی تاریں ہلا دیتا ہے۔ سن کے بتاؤ، کیا محسوس ہوتا ہے۔

پٹاخی: یار بہت برے ہو آپ۔ رلا دیا، ہائے، یہ درد بھی بیان نہیں کر سکتی۔ تعریف تو الفاظ کی ہوتی ہے، یہ الفاظ نہیں ہیں۔ سپیچ لیس! سچی!

اور وہ جو درد بھری آہ ہے بیان نہیں کی جا سکتی۔ اس داد کو ذرا محسوس کیجئے۔

بہزاد: محسوس کر رہا ہوں۔ لیکن یہ داد شاعر اور فنکار کے لئے ہے۔ ہم تو محض فیض اٹھانے والوں میں ہیں۔

پٹاخی: احباب کی بھولی ہوئی منزل کا نشاں ہو، اے دوست ذرا اور قریبِ رگ جاں ہو۔ افففف وللللللہ بہت عمدہ۔

بہزاد: شکریہ کہ آپ کو پسند آئی۔ میں کبھی کبھی اس کو سنتا ہوں، اور کہیں کھو جاتا ہوں۔ خود فراموشی بھی علاج ہے۔

پٹاخی: بجا ہے آپ کا کھو جانا۔

بہزاد: کیا جانے کہاں تک شب ہجراں کا دھواں ہو! کیا جانیں؟ واقعی۔ تو جو وقت ملا ہے اس میں کسی دوست کو رگ جاں کے قریب محسوس کر لینا چاہئے۔ ورنہ یہ شب ہجراں تو رہے گی۔

پٹاخی: میں تو یہاں ہوں ہی نہیں۔ میں اس غزل میں ہوں۔

بہزاد: تھوڑی دیر اس میں رہیں۔ اتنی دیر مجھے بھول جائیں۔

پٹاخی: آپ کو کیسے بھولوں؟ اے دوست ذرا واضح کریں!

بہزاد: میں تو ہوں ہی نہیں۔ میں تو بس ایک فینٹسی ہوں۔ جاگیں گی تو مجھے نہیں پائیں گی۔ لیکن آج تو سفر میں ہوں۔ اسی لئے اتنی بات بھی ہو رہی ہے۔

پٹاخی: اف! اگر آپ ڈرائیو کرتے ہیں تو چیٹ کس طرح؟ تھوڑی کنفیوز ہوں۔

بہزاد: نہیں میں ڈرائیو نہیں کر رہا۔ ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا چیٹ کر رہا ہوں۔ گاڑی میرا بیٹا چلا رہا ہے۔

پٹاخی: اہممم۔۔ ۔ ماشاء اللہ۔ اللہ پاک آپ کے بیٹے کی طویل عمر صحت سے بھرپور کامیابیوں والی زندگی عطا کرے۔ آمین۔

پٹاخی: چلیں خیر سے پہنچیں۔ اللہ جی کے حوالے کیا۔ وہاں پہنچ کر اگر بات کا دل کیا تو بلا لینا۔ میں حاضر ہو جاؤں گی۔

 

12: 41AM

پٹاخی: خیریت سے پہنچ گئے تھے؟ لگتا سو گئے۔ اللہ کے حوالے۔

بہزاد: جی پہنچ گئے تھے۔ شکریہ۔ بس اب نندیا پور بھی پہنچنے والے ہیں۔

پٹاخی: الحمد للہ، جی پہنچ جائیے۔ پکا یقین ہو گیا نیند میں ہو۔

بہزاد: پہنچ کے واپس آئے ہیں۔ اب دوبارہ کوشش ہے۔

پٹاخی: واپسی کیوں؟

بہزاد: اگر مجھے یقین ہو کہ میری پسند کا خواب آئے گا تو سونے میں حرج نہیں۔

پٹاخی: مجھے دیکھو مست ملنگ صبح 5 بجے اٹھنا ہے اور پھر بھی نیند نہیں۔

بہزاد: سو جا۔

پٹاخی: ٹکر ٹکر آسمان دیکھ رہی ہوں نیند نہیں آئی۔

بہزاد: کیا چھت پہ سو رہی ہو؟

پٹاخی: نہیں جند صحن ٹائپ برامدہ سا ہے

بہزاد: اچھا۔ تارے گن گن سو رہی ہو۔ تم تارے گنو میں سونے لگا ہوں۔

پٹاخی: سو جاؤ۔ بھوتنی آج کھا جائے گی تمہیں، خواب میں۔

بہزاد: مجھے صرف پریاں آتی ہیں۔ سلانے بھی جگانے بھی۔ ابھی ایک آئی ہوئی ہے۔ سلانے والی۔ اس لئے خدا حافظ۔ [ایک سٹکر بھیجتا ہے۔ جو اس کے خیال میں گڈ نائٹ کا ہے، مگر اسے اندازہ نہیں کہ یہ بوسے والا سٹکر ہے]۔

پٹاخی: ہاں پاؤں الٹے ہیں اس پری زاد حسینہ کے۔ گڈ نائٹ

البتہ اس سٹیکر کا مطلب ’بوسہ ‘ ہے۔ پرہیز کیجئے!

بہزاد: ہیں؟ اوو پس۔۔ ۔ منہ ہی کڑوا ہو گیا۔

پٹاخی: میرا

بہزاد: اس کا مطلب کیا ہے؟ [ایک سٹکر اور بھیجتا ہے]

پٹاخی: اس کا مطلب ہے تاثرات سے خالی۔ اڑ جائے گی نیند، سو جاؤ۔

[تھوڑی دیر بعد]

پٹاخی: مجھے سونے کا بول کے کیوں جاگ رہے ہو؟

بہزاد: سونے کی ایک ٹیکنیک ہے۔ میوزک سنتے ہوئے سونا۔ وہی آزما رہا ہوں۔

بہزاد: تمہارے سونے کے لئے ایک طریقہ ہے۔ میرا تصور کر کے سو جاؤ۔

پٹاخی: ہے ہے کوجیا۔ تمہارا تصور کیا تو جو نیند آ رہی وہ بھی جائے گی۔

بہزاد: اچھا تو کسی پرنس چارمنگ کا تصور کر کے سو جاؤ اور مجھے بھی سونے دو۔

پٹاخی: سو جاؤ۔ اگر برتھ ڈے وش کر دیتے۔ تو شاید میں سو ہی جاتی۔

بہزاد: اوہ۔۔ ۔ آج تمہاری سالگرہ ہے۔ اوہ مائی گاڈ۔ مبارک ہو۔

پٹاخی: رہنے دیجئے، گڈ نائٹ۔

بہزاد: اف معذرت۔۔ رئیلی سوری۔ ڈرائیو نے دماغ گھما رکھا ہے۔ اوہ واقعی تم نے بتایا تھا۔ جنم دن کی شبھ کامنائیں۔ میں مکمل بھلکڑ۔

پٹاخی: نہیں میں آپ سے خفا نہیں۔ کوئی بات نہیں۔

بہزاد: نہیں، مجھے خیال ہی نہیں آیا۔ اب مجھے نیند نہیں آئے گی۔ اوہ سوری۔

پٹاخی: شکریہ عزیز دوست۔ آ جانی چاہیے نیند۔

بہزاد: کتنے سال کی ہو گئی ہو؟ مجھ سے چھپا کر کیا کرو گی؟

پٹاخی: بہزاد!

بہزاد: اس طرح نام لیتی ہو تو بڑی ہی ہو گی۔ میں تو ستر سال کا ہوں ابھی صرف۔

پٹاخی: اور میں سو سال کی۔

بہزاد: سنچری پوری۔ پھر تو احترام کرنا پڑے گا۔ تھوڑی کم کر لو۔

پٹاخی: نہ لیا کروں نام؟

بہزاد: نہیں نہیں لیا کرو۔ اچھا ہے کوئی ہے جو نام لیتا ہے۔

پٹاخی: کوئی نہیں میں مناہل ہوں۔ اب کافی ٹائم ہو گیا۔ اس سے پہلے آپ کی نیند اڑنے کا سبب میں خود کو سمجھوں، جائیے سرکار۔

بہزاد: آج آپ کی سالگرہ ہے۔ آج صرف خوشی اور امید کی باتیں سوچنی چاہئیں۔ اس لئے عمر کا ذکر جانے دیں۔ آپ کے لئے خوشیوں کی دعائیں۔

پٹاخی: بہت شکریہ، میں نے ستائیسوں برس میں قدم رکھا ہے۔ دل بہلانے کے لئے دل کو زندہ رکھنے کے لئے بچوں والی حرکتیں کرتی ہوں۔

بہزاد: اچھا ماشاء اللہ۔ دل کو مردہ نہیں ہونے دینا۔ آپ ابھی کافی ینگ ہو۔

پٹاخی: آمین۔ اب سو جائیں میں مایوس نہیں۔

بہزاد: مناہل۔۔ ۔

پٹاخی: اچھا لگا۔

بہزاد: تمہاری ابھی بہت زندگی پڑی ہے۔ زندگی سے کبھی ہارنا نہیں۔ تمہیں کیا گفٹ کروں؟

پٹاخی: اتنی جرت نہیں کسی کی جو مجھے ہرائے۔ ہارنا ہوتا تو تب ہی ہار جاتی جب بابا کا ہاتھ پکڑ کے سونے والی لڑکی، بھائی سے ناز اٹھوانے والی لڑکی پہ ذمہ داریاں آئی تھیں۔ دوستی والا پیار دے دو مجھے کافی ہو گا۔ سوری۔

بہزاد: آج تمہاری سالگرہ ہے، آج دل بڑا کر کے شکل بھی دکھا دو۔ میں بالکل برا نہیں مانوں گا۔

پٹاخی: دیوانے ہو گئے تو؟ جند فینٹسی انجوائے کرو!

بہزاد: قسم لے لو۔ نہیں ہوں گا۔ میں پہلے ہی دیوانہ ہوں۔ تمہارا نہیں۔ کسی خوش فہمی کی ضرورت نہیں۔

پٹاخی: خوش فہمی ہے نہ غلط فہمی۔ سچائی پہ خوش ہونے میں حرج ہی کیا ہے۔

بہزاد: خلا میں صرف چڑیل کا ہی تصور آتا ہے۔ میں کھا نہیں جاؤں گا۔ بلاوجہ کا تجسس پیدا کرنے کی کیا ضرورت؟

پٹاخی: آپ واقعی مجھ سے چھوٹے ہو دس سال، جو بچوں کی طرح ضد لگا رکھی ہے۔ چلو میں اقرار کرتی ہوں کہ میں چڑیل ہوں۔

بہزاد: نہیں۔ یہ بات نہیں۔ لیکن یہ دوستی کا اصول نہیں کہ بغیر دیکھے بس تصوراتی دوستی کی بات کی جائے۔ اس طرح نہیں ہوتیں دوستیاں۔ تم بے چہرہ تو یقیناً نہیں ہو۔

پٹاخی: انسان کی حد کیا ہے؟ کیا کر سکتا ہے وہ تصویر کے ساتھ؟ اسے لیک؟ ڈرٹی یا پھر قتل۔ تینوں انسانیت کے درجے کی احمقانہ ترین حرکتیں ہیں۔ میں تینوں سے نہیں ڈرتی۔ اس لئے آپ کو نہ دکھانے کی وجہ آپ سے ڈر نہیں ہے۔

بہزاد: پھر کیا ہے؟ کیا اوور ویٹ ہو؟ اوور ایج ہو یا کچھ اور؟

پٹاخی: احساس کمتری والی خاتون کہاں سے لگی؟

بہزاد: جب آپ کوئی سوال چھوڑ دیں تو اس کے کئی جواب نکل آتے ہیں۔

پٹاخی: دنیا میں فساد اور بے سکونی کی بڑی وجہ ہی یہ ہے کہ ہم باتوں کو تخلیق کر لیتے ہیں۔

بہزاد: جی ہاں جب کوئی خلا ہوتا ہے۔ آپ کوئی خلا کیوں چھوڑیں؟

پٹاخی: میں اپنی ضد پر پکی ہوں، سو جاؤ۔

بہزاد: آپ کو اپنی شکل سے شرمندگی ہو گی لیکن دوستوں پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ وہ مذاق نہیں اڑائیں گے۔

پٹاخی: او کے یہ زندگی کی پہلی اور آخری تصویر ہو گی۔ اگر وعدہ کرو تو ہاں میں دکھانے کے لئے تیار ہوں اس کے بعد کبھی مت کہنا۔

بہزاد: میں عام طور پر کسی سے اصرار نہیں کرتا۔

پٹاخی: ارے جائیے جائیے اگر میں یہ سوچنے بیٹھ جاؤں کہ لوگ کیا سوچیں گے تو پھر لوگ کیا سوچیں گے۔

بہزاد: اگر یہ اتنا حساس معاملہ ہے تو نہ دکھاؤ۔

پٹاخی: او کے یہ بھی اچھا ہے نہیں دکھاتی۔

بہزاد: جیسے آپ کی مرضی۔ اچھا اب سو جائیں۔

پٹاخی: الٹی گنتی کا آغاز کریں تصویر آ رہی ہے۔

[ایک نہایت خوبصورت لڑکی کی تصویر سامنے آ جاتی ہے۔ سرو قامت،، گورا رنگ، پیارے نقوش، دھوپ کا چشمہ لگائے ہوئے، کسی صحت افزا مقام پر سائیڈ پوز میں کھڑی ہے۔]

پٹاخی: کالج کے دور میں بنوائی تھی۔

بہزاد: مناہل، یہ تم ہو؟ واقعی؟

پٹاخی: کیوں شک ہے کیا؟

بہزاد: پھر اتنا چھپا کیوں رہی تھیں؟

پٹاخی: میرا دل ہی نہیں کرتا کسی کے سامنے جانے کا۔

بہزاد: یہ کیا راز ہے؟ کم آن۔

پٹاخی: راز کہاں ہے اور کیا ہے؟

بہزاد: یار تمہاری اچھی خاصی شکل ہے۔ بس تھوڑی بھیں گی ہو تو کیا ہے آخر تمہیں بھی اللہ نے بنایا ہے۔ اتنا چھپانے کی کیا ضرورت ہے؟

پٹاخی: ایک مشورہ دوں؟

بہزاد: ہی ہی، نہ دو۔ مجھے پتہ ہے۔ جل گئی ہو۔

پٹاخی: بیٹری ختم، گڈ نائٹ۔ اور وہ مشورہ یہ ہے کہ ذرا سی فرصت ملے تو مر جاؤ۔

بہزاد: ہاہاہا۔ گڈ نائٹ۔ اچھے خواب دیکھنا اور اپنی سالگرہ برباد مت کر دینا۔ ابھی یہ گانا سنو، ہیڈ فون لگا کے [اختری بیگم کا ایک بہت دکھی گانا بھیجتا ہے]۔

۳اگست

6: 18AM

پٹاخی: صبح بخیر! بہزاد، تمہارے لئے، ذرا چیک کرو میسج:

’کچھ لوگ اتنے دکھی گانے سنتے ہیں کہ ساتھ بیٹھا بندا بہی ان کے محبوب کو مس

کرنے لگتا ہے۔ اوپر جو گانا بھیجا ہے وہ پلے کرنے کی بھی ہمت نہیں ہوئی۔

 

7: 35AM

بہزاد: صبح بخیر، تمہارے موڈ کے مطابق بھیجا تھا۔

لیکن شاید تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔ میں ایسے ہی پرانے اور دکھی گانے زیادہ سنتا ہوں، جب سنوں۔ میری اندر ایک بہت قدیم روح ہے۔ جو گھائل بھی بہت ہے۔ اسی لئے غم اور اداسی کا ایک سمندر ہمیشہ اندر موجزن رہتا ہے۔ لیکن چھوڑو ابھی مجھے سونے دو۔ میں رات بہت دیر سے بلکہ صبح سویا ہوں۔ اس دوران جو خیال آئے وہ بعد میں بتاؤں گا۔ ابھی آنکھوں میں نیند ہے۔ مجھے پتہ ہے تم بھی صبح والک کے بعد دوبارہ سو جاتی ہو۔ ہیں نا! چلو پڑھ لو یہ خیال صبح صبح:

’رات تمہارے ساتھ الٹی سیدھی باتیں کرتے بہت دیر بیت گئی۔ پھر تمہارے جانے کے بعد بہت دیر تک نیند نہیں آئی، تمہاری باتیں یاد آتی رہیں۔ اوٹ پٹانگ، کھٹی میٹھی۔ پھر آنکھیں بوجھل ہونے ہی لگی تھیں کہ بجلی چلی گئی۔ اے سی بند ہو گیا، گرمی بڑھ گئی۔ چھت کا پنکھا یو پی ایس پر چلنے لگا۔ ہوا کم، آواز زیادہ، چوں چراں، چوں چراں۔ پھر اس کی آواز بدل گئی، میں اچانک چونک اٹھا۔ توجہ سے سننے لگا۔ اس نے رہی سہی نیند بھی اڑا دی۔ مسلسل بولے جا رہا تھا، مناہل، مناہل، مناہل، مناہل، شاید ایک چکر میں ایک دفعہ مناہل کی واضح آواز نکل رہی تھی۔ پھر تھوڑا تیز ہوا لیکن یہی رٹ جاری رہی، مناہل مناہل مناہل مناہل۔ مجھے اس کی بد ذوقی پر بڑا غصہ آیا۔ لوہے کا ایک پرانا پنکھا، جس کی چلتے ہوئے چیخیں نکلتی ہیں اور وہ اتنا خوبصورت نام اتنی بے دردی سے لے رہا ہے۔ یہ نام لینا ہی تھا تو صحراؤں میں ہولے سے چلنے والی باد نسیم لیتی، یا صبح کو طلوع ہونے والے نرم گرم سورج کی سرخی پکارتی، پہاڑوں سے گرنے والا جھرنا پکارتا، یا ان کے دامن میں بہنے والی گہری اور خوبصورت جھیل کی پرسکون سطح پر یہ لکھا جاتا، نہیں تو ہماری منڈیر پر بیٹھی لکی کبوتری بولتی، اور کچھ نہیں تو بیتھوون اور باخ کی دھنوں سے یہ آواز نکلتی، لیونارڈو ڈونچی کی تصویروں سے جھانکتی، صادقین کے بے پرواہ برش میں نظر آتی، اسلم کمال کی لکیروں میں جھلکتی، کسی قدیم بت تراش کے ہاتھوں میں پکڑے ہتھوڑے اور چھینی سے پتھر کے سینے میں چمکتی، مگر یہ کیا، ایک پرانے لوہے کے پرانے پنکھے سے یہ آواز آ رہی ہے، مناہل مناہل۔ توبہ توبہ۔ اب میرا خیال ہے یہ پنکھا اتار کے اس کے پرزے کھول کے اس میں تیل ڈالنا چاہئیے۔ آج تو اس بچاری لڑکی کی پچاسویں سالگرہ بھی ہے، آج ہر چیز سر میں ہونی چاہئیے۔ افف یہ نیند اور آنکھوں میں اترے خواب۔ جا تیری نیا پار لگے۔ ‘

 

9: 38AM

پٹاخی: توبہ ہے بہزاد!

اتنے الفاظ کا چناؤ، بھید بھاؤ، ترازو، ردیف قافیے، تحریر، یہ سب جتن میرے لیے؟ مجھے بہت زیادہ پریشانی ہو رہی ہے۔ بہزاد آپ سو رہے ہو؟

بہزاد: کیا ہوا۔ جو ذہن میں آیا لکھ دیا۔ پسند آیا؟

پٹاخی: ہاں، تعریف سمجھوں؟ بہزاددددددددددد!

بہزاد: جو مرضی سمجھ لو۔ مجھے کون سا ہر بات کا مطلب پتہ ہوتا ہے۔

پٹاخی: فلم ہو آپ پوری۔

بہزاد: ہو سکتا ہے دل کھول کر گالیاں نکالی ہوں، ہو سکتا ہے تمہاری راز داری کا مذاق اڑایا ہو، ہو سکتا ہے یہ محض فوری پیدا ہونے والے جذبات کا اظہار ہو، ہو سکتا ہے، ہو سکتا ہے سب کچھ جھوٹ ہو، ہو سکتا ہے سب کچھ سچ ہو۔ کیا خبر! بس خدا کا نام ہے جذباتی نہیں ہو جانا۔ سوچا آج تمہاری سالگرہ ہے کچھ تمہارے لئے لکھنا چاہئے۔ بلکہ سچ میں سوچے بغیر لکھ دیا۔ کیا فرق پڑتا ہے۔ اب اس سے اچھا تحفہ اور کیا دوں، ورنہ تو سب مایا ہے۔

پٹاخی: شکرگزار ہوں۔

بہزاد: شب بیتی چاند بھی ڈوب چلا، زنجیر پڑی دروازے پر، کیوں دیر گئے گھر آئے ہو سجنی سے کرو گے بہانہ کیا۔

پٹاخی: بہزاد، میں بہت کچھ کہنا چاہ رہی تھی، الفاظ کھو گئے۔

بہزاد: لفظ مت ڈھونڈو۔ یہ محض خالی چھلکے ہوتے ہیں۔ سب مایا ہے، سب مایا ہے، سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے۔ چھوڑو یہ سنو [میرا جی کی غزل کا لنک بھیجتا ہے]

پٹاخی: عمدہ، سب مایا ہے، ابھی سنی، اچھی ہے، جند!!

بہزاد: اداس تو نہیں کر دیا؟

پٹاخی: جند میں آپ سے اداسی بھی تو نہیں بانٹ سکتی!

بہزاد: سوری، آج صرف اور صرف خوشی، سرخوشی، ہنسی، کی بات ہونی چاہیئے۔

پٹاخی: بالکل آج آپ تسلیم کر لو، بڈھی روح ہو۔

بہزاد: تو کس نے انکار کیا۔ مجھے لگتا ہے میں شاید کہیں اصحاب کہف کے آس پاس تھا، اتنی صدیاں سو کر گزار دیں۔

پٹاخی: اچھا یہ بتاؤ نیند کتنے گھنٹے کی لی؟

بہزاد: کم کم سوئے، جاگے زیادہ۔

پٹاخی: اور میں شرمندہ ہوں۔

بہزاد: میرا اپنا شیڈول ڈسٹرب ہے۔ میری میز پہ کافی کام پڑا ہے۔ اور مجھے کچھ اندازہ نہیں کیسے کرنا ہے۔

پٹاخی: میں بتاؤں کیسے کرو؟

بہزاد: ساکوں نہ میت بنا اے سانورا۔ دل چاہتا ہے بس کسی پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھ کر میوزک سنتا رہوں۔ یا کسی جھیل کنارے بیٹھا سوچوں کو سوچوں۔ بس کوئی کام نہ کرنا پڑے۔ کہیں سے من و سلویٰ اتر آئے۔

پٹاخی: ہے شوشے۔

بہزاد: کیوں کیا بندہ خواہش بھی نہیں کر سکتا؟

پٹاخی: کرو کرو، چلو کسی پہاڑ کی چوٹی پہ بیٹھ کے سالگرہ منائیں۔

بہزاد: ابھی ایک ہفتے کے ٹرپ سے واپس آیا ہوں شمالی علاقوں سے۔ لگتا ہے ابھی وہیں ہوں، جھیل لولوسر پر، شوگران سے اوپر پائے کے پلاٹیو پر۔ سبز جھیلوں نے میرا ستیا ناس مار دیا ہے اتنے دنوں میں۔ اب اتنا سارا کام جمع ہوا پڑا ہے اور بالکل کرنے کو دل نہیں کر رہا۔ جھیل سیف الملوک کے گرد پورا چکر پیدل لگایا ہے، آس پاس اونچے لمبے پہاڑ مجھ سے سرگوشیاں کرتے رہے ہیں۔ وادیوں سے پریاں بلاتی ہیں، جھرنوں سے حوریں آوازیں دیتی ہیں۔ کیا کروں؟ اف وہ برف پوش پہاڑوں کا نظارہ، لہراتے، بل کھاتے، شور مچاتے دریائے کنہار کا کنارہ، پانی کی پھواریں، کوئی ہے جو فطرت کے چشموں سے پکارتا ہے۔

پٹاخی: وہ پکارتے ہیں کہ مناہل آؤ میں منتظر ہوں۔ [ایک سٹکر بھیجتی ہے]

بہزاد: کیا اس اسٹکر کا مطلب غصہ ہے؟

پٹاخی: نہیں اس کا مطلب آنکھیں میچ لینے کے مترادف ہے۔

بہزاد: شکریہ۔ مطلب آپ کو چپ لگ گئی ہے۔۔

پٹاخی: نہیں بس وہ میں، یار میرا دل پھٹ رہا ہے۔

بہزاد: کیا ہوا دوست؟

پٹاخی: اپنا دل اتنا عجیب ہو گیا ہے اچانک کہ سکون نہیں آ رہا۔

بہزاد: تم بتاؤسچ سچ کیا ہوا ہے؟ میں پریشان ہو گیا ہوں۔

پٹاخی: نہیں میں ٹھیک ہوں۔ اچھا بتاؤ مشورہ دو آج کھانے میں کیا بناؤں؟

بہزاد: آج ٹینڈے یا کدو بنا لو۔ دل کو فرحت دیتے ہیں۔

پٹاخی: اور وہ آپ کے منہ میں ٹھونس ٹھونس کے کھلا دوں۔

بہزاد: کیوں ٹینڈے نہیں پسند؟ ہم تو بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔

بہزاد: پہلے بتاؤ۔ دل کو کیا ہوا ہے کہیں ہارٹ کا مسئلہ تو نہیں ہے؟ میرے پاس دل جلوں کے لیے مرہم ہے۔

پٹاخی: آپ کی سیلفی ہاتھ لگی ہے۔ [ایک بن مانس کی تصویر بھیجتی ہے، منہ چڑاتے ہوئے۔]

بہزاد: ہاہاہا۔۔ ۔ میں بڑا سیلف لیس بندہ ہوں۔ سیلفی سے کچھ نہیں ہوتا۔ اپنی تصویریں نہ شیئر کرو۔ ڈر لگتا ہے دیکھ کر۔

پٹاخی: آپ کی ہیں میری نہیں۔

بہزاد: ایک ہی بات ہے۔ جس کی بھی ہیں، ڈراؤنی ہیں۔

اچھا یہ بتاؤ تمہارا دل کیوں پھٹ رہا ہے؟ بعض سگھڑ خواتین جب بچوں کی قمیض پھٹ جائے تو اس کا پاجامہ بنا دیتی ہیں۔ تم بھی ایسا کر لینا۔ ضائع نہ کرنا دل کا میٹیریل قیمتی ہوتا ہے۔

پٹاخی: بعد میں کرتی ہوں بات۔ ٹفن والی خاتون آ گئی ہیں۔ انہیں سرو کرنا ہے کھانا بن گیا، بس باکسز میں ڈال لوں۔

بہزاد: او کے

[تھوڑی دیر بعد]

پٹاخی: جز ترے کوئی بھی دِن رات نہ جانے میرے، تو کہاں ہے مگر اے دوست پُرانے میرے، تو بھی خوشبو ہے مگر میرا تجسس بے کار، برقِ آوارہ کی مانند ٹھکانے میرے، شمع کی لو تھی کہ وہ توُ تھا مگر ہجر کی رات، دیر تک روتا رہا کوئی سرہانے میرے، آج اک اور برس بیت گیا اُس کے بغیر، جِس کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے میرے۔ (احمد فراز)

بہزاد: بہت خوب۔۔ ۔۔ کیا کھانا چلا گیا؟ کیا پکایا تھا؟ جلایا تو نہیں؟

پٹاخی: نہیں جلایا نہیں، بریانی پیک تھے تین۔ دو چکن کڑھائی، آج جمعہ ہے تو ایک دال، بس۔

بہزاد: ہممم۔۔ ۔ کیا آفسز میں جاتا ہے؟ کھانے تو تم اچھے بنا لیتی ہو گی؟

پٹاخی: ہاں اب اچھی ہو گئی ہوں بنانے میں۔ جی مجھ سے ایک خاتون کا معاملہ طے ہوا ہے۔ وہ مجھ سے بنواتی ہیں اور آگے آفسز میں سرو کرتی ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں وہ بناتی ہیں۔

بہزاد: کچھ بچت ہو جاتی ہے؟

پٹاخی: میں نے دو تین جگہ پنگے لیے ہوئے ہیں۔ کچھ نہ کچھ ہو ہی جاتا ہے۔

بہزاد: بہتر۔۔ ۔ بہت اچھی بات ہے، خود مختار ہونا۔

پٹاخی: ہاں بہزاد، الحمد للہ بہت اچھا کھاتی ہوں اور کماتی ہوں۔ کسی سے کبھی بھی مانگنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ اللہ کا خاص احسان ہے۔

بہزاد: کیا بہت کھاتی ہو؟

پٹاخی: ہاں الحمد للہ جو قسمت کا ہو کھا کے سوتی ہوں۔ میرا ایک بھی کام گھر سے باہر کا نہیں رکھا میں نے۔ جتنے کام کرتی ہوں گھر میں رہ کر۔

بہزاد: مطلب بہت پیٹو ہو۔

پٹاخی: جو مرضی کہو مگر میں خیال رکھتی ہوں اپنا۔ مجھے اپنی اماں کے لئے جینا ہے۔

بہزاد: ہاہاہا، صرف اماں کے لئے؟

پٹاخی: جی ہاں

بہزاد: اپنے لیے نہیں؟

پٹاخی: نہیں

بہزاد: ٹھیک ہے۔ تم نے بتایا تھا تمہاری اماں بیمار ہیں؟ کیا ہوا ہے انہیں؟

پٹاخی: وہ زیادہ چل پھر نہیں سکتیں۔ وہ اپنا کام نہیں کر سکتیں۔ شوگر کی وجہ سے ان کی ہڈیاں بالکل بے کار ہو گئی ہیں۔ وہ بیڈ ریسٹ پر ہیں۔

بہزاد: ہمم۔ شوگر اب تو بہت عام مرض ہے۔ اس میں احتیاط سے گزارہ ہو سکتا ہے۔ بس بد پرہیزی اور ٹینشن سے بچائیں۔

[مناہل کچھ کاغذی پھولوں کی تصویریں بھیجتی ہے۔]

پٹاخی: میں نے بنایا، کیسا ہے؟

بہزاد: گریٹ۔ کیا ہے؟

پٹاخی: ابھی نہیں پہلے بنایا تھا کچھ دن پہلے!

بہزاد: بہت خوبصورت ہے۔

پٹاخی: سمجھ نہیں آئی کہ کیا ہے۔ بس بنا دیا۔ کمپیوٹر پیپرز پڑے تھے، فارغ تھی سوچا بنا لوں۔

بہزاد: کاغذ کے پھول؟

پٹاخی: جی

بہزاد: ہوں، مطلب ٹیلنٹیڈ بھی ہو۔ واہ جی واہ

[کچھ اور تصویریں بھیجتی ہے]

پٹاخی: یہ کلے کا بنایا ہے، اور یہ پلو جرسی ایک پڑی تھی، اس کا بنایا۔

بہزاد: ارے تم تو آرٹسٹ ہو پوری!

پٹاخی: دل ہو تو کرتی ہوں ورنہ چاہے جو مرضی ہو جائے۔

بہزاد: شعر سنو: کب لوٹا ہے بہتا پانی بچھڑا ساجن روٹھا دوست، ہم نے اس کو اپنا جانا جب تک ہاتھ میں داماں تھا۔

پٹاخی: خوب، بہزاد! کوئی بات سناؤ!

بہزاد: بوجھی نہ کسی نے مرے اندر کی کہانی، دیوار پہ ہر روز لکھا اپنی کتھا کو

پٹاخی: آئے ہائے غضب، واللہ بہت عمدہ،

پٹاخی: جمعہ کے لئے کتنے بجے جاؤ گے؟ ادا بھی کرو گے یا نہیں؟

بہزاد: شکریہ۔ کیا آج جمعہ ہے؟ میں تو دنوں کا حساب کتاب بھولا بیٹھا ہوں۔

تم مل گئی ہو میری باتیں سننے کو ورنہ میں تو دیواروں سے، درختوں سے، مٹی سے، آسمان سے، پھولوں سے، کانٹوں سے، پرندوں سے باتیں کرتا ہوں۔

پٹاخی: کیوں بیوی مکے مارتی ہے، اسے سناؤ تو؟

بہزاد: کم از کم دیواریں اس طرح کے سوال نہیں پوچھتیں۔ اسی لیے وہ بہتر سامع ہوتی ہیں۔ جاؤ جاؤ اپنا کام کرو۔

پٹاخی: سوری، میں والدہ کو نہلانے چلی گئی تھی، ابھی آئی ہوں۔ بھڑکو نہیں۔

بہزاد: اگرچہ میں آپ سے فلرٹ نہیں کر رہا تھا اور اس پر میں نے اپنی پوزیشن پہلے ہی واضح کر دی تھی۔ آپ پر یقین کرتے ہوئے ہی آپ سے صرف بطور دوست باتیں کرنا شروع کی تھیں۔ لیکن اب اگر آپ کو کوئی غلط فہمی ہو رہی ہے تو معذرت۔ شاید اس جینڈر کے احساس سے ہم جان نہیں چھڑا سکتے۔ بہتر ہے آپ نے یاد دلا دیا۔ احتیاط اچھی چیز ہے۔

پٹاخی: ارے نہیں، یار بہزاد، اب اپنی صفائی دوں؟ میں تو چاہتی ہوں آپ ہرسکھ دکھ بانٹو! مجھے بہت سکون ملتا ہے، خوشی سی ہوتی ہے۔ آپ میرے حالات سے واقف ہیں، کیا میں ہر دفعہ بتاؤں کہ کون سی روشنی ملی ہے مجھے آپ سے!

[دو تین دفعہ کال کرتی ہے میسنجر پر، لیکن جواب نہیں ملتا]

پٹاخی: بزی ہو جواب دو۔ اب میں بے چین ہو گئی ہوں۔ فینٹسی ہوں، جینڈر بھاڑ میں جائے۔ کوئی ٹین ایج نہیں جو جذبات پر قابو نہ ہو۔

بہزاد: تم میرے حالات سے واقف نہیں ہو۔ تم نے بے دھیانی میں طعنہ مارا ہے۔ میں سمجھ سکتا ہوں۔ مجھے غرض نہیں کہ تم لڑکی ہو یا لڑکا، جوان ہو یا بوڑھی، خوبصورت ہو یا بدصورت۔ میں سمجھا تھا تم بھی ان سب چیزوں سے بلند ہو کر ہر بات کرنے کے لیے تیار ہو گی۔ اس میں دل کی باتیں اور حسرتیں بھی کبھی موضوع بن سکتی ہیں۔ لیکن کسی لڑکی کے ساتھ اتنی لبرٹی لینا شاید غلط فہمیاں پیدا کیے بغیر ممکن نہیں۔ تو کیوں نہ اپنی حدود طے کر لیں۔

پٹاخی: فضول بات۔۔ ۔ جیسی مرضی قسم لے لو مجھے جینڈر کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں پڑتا میرا ظرف اتنا گھٹیا نہیں۔ میری بات سنو، اگر برا لگا میں سر جھکا کے معذرت خواہ ہوں۔ اگر کیا یقیناً آپ کو برا لگا ہے؟

مگر ایک بات کلیر کرنا چاہتی ہوں۔ تھوڑا لبرلز کو فالو کر رہے ہیں تو اس طرح سے کرتے ہیں کہ میں آپ کا یار اور آپ میری سہیلی۔ سمپل۔ کیوں پریشان ہو رہے ہیں آپ؟ آپ ہر بات کھل کر کر سکتے ہیں مجھ سے۔

میں اب شرمندہ ہو رہی ہوں۔ پہلی بار دل کے احساس آپ نے کھولنے شروع کیے۔ اور میں نے ان پر لاک لگا دیا۔ میں واقعی ان سب سے بلند ہو کر بات کرنا چاہتی ہوں۔ ایم سوری بہزاد، پلیز!

بہزاد: نہیں میں آپ سے ناراض نہیں ہوں۔ آپ کا کمننٹ ایسا بے جا بھی نہیں تھا۔ لیکن بہتر تھا پہلے آپ کو میری زندگی اور حالات کے بارے میں اچھی آگاہی ہو جاتی، پھر اعتماد سے چاہے جس مرضی سوال کی سولی پر چڑھا دیتیں۔ ابھی مجھے تھوڑا ٹائم دیں۔ مجھے اچانک جیسے بڑی ٹھوکر لگ گئی ہے۔ آپ بھی سوچ لیں، کہیں ایسے ایک مرد سے بے تکلفی نقصان دہ نہ ہو۔ کل بات کریں گے۔ اپنا اور اپنی امی کا خیال رکھیں۔ مجھے آپ سے شکایت نہیں ہے۔ پریشان نہ ہوں۔

پٹاخی: صحیح ہے۔ جنم دن پہ لوگ ایسے ہی بھولتے ہیں۔ اور چلے جاتے ہیں۔ ارے جائیے جائیے۔ ہم نہیں روک رہے۔ رکھتی آئی ہوں خیال اپنا۔ نہیں بھی کہو گے تو رکھ لوں گی۔

[کافی دیر گزر جاتی ہے۔]

 

پٹاخی: پیارے بہزاد، بس ایک معافی۔

ہماری توبہ کبھی جو ایسے ستائیں تم کو۔ لو ہاتھ جوڑے، لو کان پکڑے، اب اورکیسے منائیں تم کو۔ تم آئینہ ہو اور سنگ باری یہاں کے لوگوں کا مشغلہ ہے، ہر ایک پتھر سے ڈھال بن کر، بھلا کہاں تک بچائیں تم کو۔ جو سچ کہیں تو، تمھیں تو غصے نے اور دلکش بنا دیا ہے، ہمارے من کو تو سوجھتا ہے، اب اور غصہ دلائیں تم کو۔

تو کیا تم اب تک، ہماری نظروں کے سب تقاضوں سے بے خبر ہو؟ ہمیں محبت ہے تم سے پاگل، اب اور کیسے بتائیں تم کو۔

بہزاد: [آنسوؤں والا ایک سٹکر]

یہ محض ایک سٹکر نہیں ہے۔ یہ وہ آنسو ہیں جو اپنے کمرے میں بند ہو کر میری آنکھوں سے بہ رہے ہیں۔ تم نہیں سمجھ سکتیں۔ اب باتیں نہ بناؤ۔ مجھے خود کو سنبھال لینے دو۔

پٹاخی: ایک آئیڈیا، چھوٹے بچے بن جاؤ پانچ منٹ کے لئے۔ میں کوچی کوچی کروں گی، تم مان جانا۔ پھر سے ہم سے تھوڑا کمپرومائز کر لو۔

دیکھو میں نے آپ سے ابھی تک آپ کی زندگی کا کوئی سوال نہیں کیا۔ میں نے آپ کو وقت دیا کہ آپ خود سے مجھے بتاؤ۔ تھوڑا سا کمپرومائز کر لو۔ میں نا سمجھ ہوں غلطی کر گئی۔ دل مت دکھاؤ، کھل کے بتاؤ کیا معاملہ ہے؟ مجھے غیر مت سمجھو!

بہزاد: ٹھہر جاؤ۔ پلیز ابھی مذاق نہیں کر رہا۔ چین سے رو تو لینے دو۔ کوئی خاص راز نہیں۔ بس ایک کمزور رگ زور سے دکھ گئی ہے۔ ٹوٹے ہوئے دلوں کی سب کہانیاں ایک سی ہوتی ہیں۔ ان میں کوئی راز نہیں۔ ٹھہر جاؤ۔ ابھی اور نہ ستاؤ۔ ابھی تھوڑا وقت کو بہنے دو۔ یہ خود مرہم بن جائے گا۔

پٹاخی: چلو یہ بھی اچھا ہے۔ اذیت میں میں تمہاری برابر کی شریک ہوں۔ جتنے تم اداس اور پریشان، میں اس سے زیادہ۔ بات تمہاری ہے، رو میں رہی ہوں۔ مجھے رونا اچھا نہیں لگتا۔

بہزاد: آبگینوں کی طرح دل ہیں غریبوں کے شمیم، ٹوٹ جاتے ہیں کبھی توڑ دئے جاتے ہیں۔

پٹاخی: یہ کمزور لوگوں کی نشانی ہے۔ مگر! مجھے تو ٹھیک سے منانا بھی نہیں آیا۔

بہزاد: تمہیں منانے کی ضرورت نہیں۔ تمہارا تو قصور بھی نہیں۔

پٹاخی: الفاظ میرے تھے جو باعثِ غم بنے!

بہزاد: سمجھو نا یار۔ پلیز۔ تم تو بہت اچھی ہو۔ درد مند ہو۔ بس میرا دل جیسے آبلہ ہے، ذرا سی ہوا سے جلنے لگتا ہے۔ ٹھیک ہو جائے گا۔

پٹاخی: غلطی ہو گئی، سوری۔

بہزاد: کم آن گرل۔ ابھی دل ٹھہر جائے تو بات کرتا ہوں۔ ایسے کسی کے سامنے میں نے کبھی اپنی کمزوری ظاہر نہیں کی۔ تمہیں اپنے آنسو دکھا دئیے۔

پٹاخی: میرا بہت دل کیا کہ صاف کروں۔ مگر میں ڈرتی ہوں تم سے۔

بہزاد: ڈرنے کی کیا بات؟

پٹاخی: تمہارے لہجے میں کب تلخی آ جائے، بولو!

بہزاد: نہیں تلخی نہیں ہے اب۔

پٹاخی: آؤ میرے پاس، سب درد کھول دو، کچھ نہ چھپاؤ، جو دل میں ہے سب بول دو، یہاں میرا کوئی وجود نہیں، جس سے تمہیں تکلیف ہو۔ کم از کم میں ڈائری سے بہتر ہوں۔ ڈائری کا تو خوف ہوتا ہے کوئی پڑھ نا لے، مجھ سے تو تمہیں یہ خطرہ بھی لاحق نہیں۔ تم میرے پاس ہنس سکتے ہو، رو سکتے ہو اپنے دل کی ہر بات بتا سکتے ہو!

بہزاد: ہم سب اپنی اپنی ذات کے اسیر ہیں۔ جتنا اس سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں اتنی ٹھوکر کھاتے ہیں۔

پٹاخی: اچھا

بہزاد: بس ہلکے ہلکے چلتی رہو میرے ساتھ۔ اتنا بھی کافی ہے۔

پٹاخی: سو جاؤ، رات نیند نہیں پوری ہوئی، اداسی کی وجہ بس یہ ہے اور کچھ نہیں۔ زیادہ بنو مت۔

بہزاد: شاید۔ لیکن مجھے پانچ بجے جانا ہے۔ ایک دوست سے ملنے۔ ٹائم دیا ہے۔

پٹاخی: ڈرامے باز آتما۔ میں سوچ سوچ تھک گئی کہ یار کون سی غلطی ہو گئی!

اب بات سنو سو جاؤ اور آدھے گھنٹے قیلولہ کرو۔

بہزاد: سمجھو میں ڈرامہ باز ہوں۔ واقعی ڈرامہ ہی تو کر رہا تھا۔ ڈر گئیں؟

پٹاخی: بہت برا ڈرامہ تھا۔ یار مجھے ٹینشن ہے۔ آپ کی نیند پوری نہیں ہوئی۔

بہزاد: ہاہا اتنا خیال نہ رکھو۔ میرا ارادہ متزلزل ہو سکتا ہے۔

پٹاخی: کون سا ارادہ متزلزل ہو گا؟

بہزاد: کوئی غرض نہ رکھنے کا۔

پٹاخی: دوست ہوں۔ تم غرض اگر رکھ بھی لو تو بہت پتھر ہوں قسم سے۔

بہزاد: اف جو ٹکرا پتھر ہی ٹکرا۔

پٹاخی: ادلے کا بدلہ!

بہزاد: اب اس کو سیریس نہ لے لینا۔ دل میں نقب ہی نہ لگ جائے۔

پٹاخی: بھول ہے، تمہاری۔ سونے دو اب مجھے آدھا گھنٹا۔

بہزاد: سو جاؤ۔ سو جاؤ۔ جاگنے میں کیا رکھا ہے۔ نری ٹینشن۔

پٹاخی: کوجیا

بہزاد: سو گئی؟ خواب میں کوئی بھوت نظر آئے تو ڈرنا مت۔ سمجھ جانا میں ہوں برتھڈے وش کرنے آیا ہوں۔ [بہزاد دوبارہ پٹھانے خان کی گائی غزل ’اے دوست ذرا اور قریب رگ جاں ہو‘ شئر کرتا ہے۔]

پٹاخی: یقین کرو تو ایک بات بتاؤں؟ قسم والی بات ہے کہ یہ غزل میری زبان سے نہیں جا رہی۔ آپ بہت بڑے غلطان ہو۔ کل سے میں اس غزل سے نہیں ابھری۔

ویسے بس آپ دو نے مجھے وش کیا۔

[ دو تین بار میسنجر پر کال کرتی ہے، جواب نہیں آتا]

بہزاد: اچھا دوسرے کس نے وش کیا؟

پٹاخی: والدہ کے سوا دنیا میں ہے کیا؟ والدہ اور آپ نے کیا وش۔

بہزاد: والدہ ہے تو سب کچھ ہے۔ اللہ ان کا سایہ آپ کے سر پر رکھے۔ اور آپ کو بھی آپ کی خدمت کا اجر دے۔

پٹاخی: آمین۔ روح کانپ جاتی، جب وہ ذرا بھی بیمار ہوں!

بہزاد: کیا بالکل اکیلی رہتی ہو، مطلب والدہ کے علاوہ کیا کوئی نہیں؟ چچا، تایا، کزن، خالہ وغیرہ؟

پٹاخی: نہیں۔ کوئی نہیں۔

بہزاد: سوری ایسے ہی پوچھا ہے، مگر کوئی تو خاندان ہو گا؟

پٹاخی: میرے پیدا ہونے سے پہلے بزرگ انتقال کر گئے تھے۔ اور ہاں چاچو ہیں وہ بہت رئیس ہیں۔

بہزاد: کیا رابطہ نہیں بالکل؟ کوئی آنا جانا، سوسائٹی؟

پٹاخی: نہیں بس ایک دو پڑوسیوں کے ساتھ ہے۔ وہ بھی اس لئے کہ سو ایمرجنسی ہو سکتی ہیں۔ ایک دو بچے ایڈاپٹ کرنے کا سوچ رہی ہوں۔

بہزاد: اوہ۔ رلاؤ گی پھر سے۔ تم تو بہت بہادر ہو اس معاشرے کا اکیلے مقابلہ کر رہی ہو۔ مجھے معلوم ہے ہم کتنے بڑے گدھ ہیں۔ یار سوری مجھے احساس ہوتا ہے یہ موضوع نہیں چھیڑنا چاہئے تھا۔ آج ہمیں کوئی اداسی اور پریشانی والی بات نہیں کرنی۔ زندگی جو بھی سامنے لے آئے سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پٹاخی: آپ کی دوست کو اب ان باتوں سے فرق نہیں پڑتا۔ وہ بہت بہادر ہے، ایک دفعہ نا۔۔ ۔ مجھے ایک لڑکے نے چھیڑا، بڑا زبردست قسم کا۔

بہزاد: ہممم۔۔ ۔

پٹاخی: کرنا کیا تھا میں نے بیگ میں بھرے ہوتے تھے پتھر، دے مار ساڑھے چار۔

اگر میں ڈرنے بیٹھ گئی، تو بس دنیا نے ہمیں جینے نہیں دینا۔

بہزاد: ہاں یہ تو ہے۔

پٹاخی: میں ان باتوں پہ اداس ہونے لگوں تو ہر دن ایسا ہی گزرے۔ میں غم سے نڈھال ہو جاؤں، میری ماں میرا صدمہ کریں۔ نتیجتاً وہ بھی بیمار ہو جائیں اور بس پھر ہم محتاج ہو کے رہ جائیں۔

بہزاد: درست ہے۔ لیکن مجھے اداسی ہو جائے گی۔ اچھا چلو یہ بتاؤ آج کا دن کیا خاص کام کیا۔ سالگرہ سیلیبریٹ کرنے کے لئے؟

پٹاخی: نارمل

بہزاد: پھر بھی کچھ اپنے لئے لیا؟

پٹاخی: نہیں، ماما کے لئے سوٹ منگوالیا تھا بس۔

بہزاد: ابھی بعد میں دس کے بعد بات کرتے ہیں۔ کہیں جانا ہے۔

پٹاخی: اوہ، سیڈ۔ دس کب بجیں گے؟

بہزاد: شاید مجھے تھوڑی دیر ہو جائے۔ کیا تم جاگ رہی ہو گی؟

پٹاخی: ہاں جی کوشش کرتی ہوں۔

بہزاد: نہیں نیند آئے تو سو جانا۔ میں آ کر ہلکی سی ہائے کروں گا۔ مگر تم سوتی رہنا۔ کل بھی نہیں سوئیں۔ کچھ مہمان ہیں۔ جن کے ساتھ والک پہ جا رہا ہوں۔

پٹاخی: اندازَا کتنی دیر؟

بہزاد: شاید ایک گھنٹہ۔ چلو احتیاطاً گڈ نائٹ۔

پٹاخی: او کے میں گیارہ بجے آ جاؤں گی اونلائن۔ آپ بھی آ جانا۔

کوئی احتیاطاً نہیں۔ میں منتظر رہوں گی۔ کیا خیال ہے بتا کے جاؤ!

بہزاد: کوشش کروں گا گیارہ تک آ جاؤں۔ لیکن اس سے زیادہ انتظار نہ کرنا۔

پٹاخی: میں کروں گی، جلدی آ جانا۔ اوہ سوری، اچھا آپ کی مرضی، سوری۔

بہزاد: بچے کی جان لو گی کیا۔

پٹاخی: مر، بچہ ابھی ایڈاپٹ نہیں کیا۔

 

[11: 05 PM]

پٹاخی: ابھی مزید دیر ہے؟

بہزاد: سوری ابھی ایک اور گھنٹہ لگ جائے گا۔ اووپس۔ سو جاؤ۔۔ ۔ اللہ اللہ لوری، نیند بھری کٹوری

پٹاخی: میں منتظر ہوں، بائے! آ جاؤ خیر سے۔

بہزاد: بائے۔۔ ۔ پلیز سو جاؤ۔ شاید دیر ہو جائے گی۔

پٹاخی: خبر دار جو سونے کا کہا۔ آ جاؤ آرام سے۔ جتنی مرضی دیر سے آؤ میں انتظار کروں گی۔ اب ۱۲ بجے آؤں گی۔

 

[بارہ بج کر سات منٹ]

بہزاد: ہائی، بس ابھی ابھی گھر میں داخل ہوا ہوں۔ پانچ منٹ اور بس کپڑے بدل لوں۔ اگر سوئی نہیں! سو گئیں؟ چلو ٹھیک ہے، آرام کرو۔ خدا حافظ۔

پٹاخی: جاگ رہی ہوں۔

بہزاد: کیوں؟

پٹاخی: انتظار کر رہی تھی۔

بہزاد: زہے نصیب کہ کوئی ہمارا بھی انتظار کرنے لگا۔ مگر

پٹاخی: نہیں وہ نیند نہیں آئی۔ میں نے جان بوجھ کے انتظار نہیں کیا۔ مگر کیا؟

بہزاد: تم نے صبح جلدی اٹھنا ہوتا ہے نا!

پٹاخی: تو؟ میں صرف چار گھنٹے سوتی ہوں، کافی ہوتا ہے چوبیس گھنٹوں میں سے۔

بہزاد: نیند پوری نہیں ہو گی تو ایسے ہی چٹکیاں کاٹتی رہو گی اور جلتی رہو گی۔

پٹاخی: جلیں دشمن۔

بہزاد: نیند بہت اچھی ہوتی ہے۔ آٹھ گھنٹے سویا کرو۔ ورنہ جلدی بوڑھی ہو جاؤ گی۔

پٹاخی: رضا الٰہی۔۔ ۔ برتھ ڈے گزر گیا۔

بہزاد: بوڑھے ہونے کا مطلب جلد مرنا نہیں ہے۔ میں تو نوے سال کی عمر میں بھی جوان رہ کر مرنا چاہتا ہوں۔

پٹاخی: نہیں ہوتی میں بوڑھی۔ کلر کر لوں گی، بال ڈائی کروا لوں گی۔

بہزاد: ہاہاہا۔۔ ۔ بڑھاپا صرف بالوں کی سفیدی کا نام نہیں۔۔ ۔ پگلی!

پٹاخی: پھر بڑھاپا بہزاد کا نام ہے اور وہ مجھے نہیں آئے گا۔

بہزاد: مجھے کسی کتے نے نہیں کاٹا کہ تم پر آؤں۔

پٹاخی: کتا کاٹتا تو شاید کچھ عقل ہی آ جاتی لیکن اب افسوس۔

بہزاد: اب افسوس تو آپ کی خوش فہمی کا ہے۔

پٹاخی: خوش فہمی کسی کی تکلیف کا باعث نہیں بنتی ہاں اگر غلط فہمی ہوتی تو معاملہ کچھ اور تھا۔ میں جاؤں؟

بہزاد: میں ایک صحیح الدماغ شخص ہوں۔ اور آپ کے بارے میں کوئی صحیح الدماغ تو نہیں سوچ سکتا۔

بہزاد: کیا میں نے روکا ہے؟ جاؤ جاؤ۔ مجھے بھی نیند آ رہی ہے۔

پٹاخی: سو کوجے مرے تھے تو ایک تم پیدا ہوئے تھے۔

فارمل کیوں ہو رہے تھے بات کرنے کے لئے؟ مطلب میں جان گئی تھی کہ آپ کو نیند آئی ہے۔

بہزاد: ہاہا سو نہیں ہزار۔ پورے ہزار۔

پٹاخی: پھر بات کیوں کی کیوں نہیں سوئے؟ میرے لیے باہر سے کیا لائے ہو؟

بہزاد: تم نے کہا تھا انتظار کروں گی تو اخلاقی فرض بن گیا کہ چیک کر لوں کہ جاگ رہی ہے کہ گھوڑے بیچ کر سو گئی۔

پٹاخی: گڈ نائٹ، مر جاؤ۔

بہزاد: غصے میں تو تمہارا حسن اور بھی نکھر جاتا ہے۔

پٹاخی: چلو حسین ہوں تم نے تسلیم تو کیا۔

بہزاد: ان کو آتا ہے پیار پہ غصہ، ہم کو غصے پہ پیار آتا ہے۔

پٹاخی: مر ہی نہ جانا مجھ پہ ذرا دھیان کرنا۔

بہزاد: پتہ نہیں کس کی تصویر بھیج دی تھی۔ مجھے کیا پتہ؟

پٹاخی: اچھا کیا تھا بہت اچھا کیا تھا پڑوسیوں کی بھیجی تھی۔ اب مجھے بھی والک کے لئے لے کے جاؤ۔

بہزاد: ہائے ہائے تمہاری پڑوسی لڑکی تو کافی پیاری تھی۔

پٹاخی: مر تو نہیں گئے اس پہ!

بہزاد: تم تو منہ بھی چھپاتی پھرتی ہو۔ چلو کوئی بات نہیں۔ دل نہ میلا کیا کرو۔

پٹاخی: منہ چھپاتی ہوں تا کہ پاکیزہ رہوں کسی کی میلی آنکھ نہ اٹھے، کسی کو ہوس کا شکار نہ بنوں۔

بہزاد: بہارے گل!

پٹاخی: ہائےے ےے ےے ےے ےے ے کیا کہا؟

بہزاد: کیا میل صرف دوسروں کی آنکھوں میں ہوتا ہے؟ کسی کی آنکھیں میری طرح صاف بھی ہو سکتی ہیں۔

پٹاخی: ہارپک یقیناً گھر میں ہو گا۔ اس سے منہ دھولو جا کے۔ وہ کیا ہے نا خوش فہمی جمع غلط فہمی دونوں آپ کے منہ پہ چپک گئی ہیں۔

بہزاد: ویسے بھی دوسروں کو دکھانا ہو تو منہ دھونا بھی پڑتا ہے۔ اب تم کیسے اتنی زحمت کر سکتی ہو۔ جس نے چار دن سے منہ نہ دھویا ہو وہ کسی کو کیسے دکھائے؟

پٹاخی: بولی جاؤ۔

بہزاد: اچھا سنو!

پٹاخی: جی

بہزاد: بہارے گل!

پٹاخی: کہیے؟

بہزاد: مجھے ڈر لگ رہا ہے۔

پٹاخی: نا کہو بہارے گل۔ واسطہ ہے میں کانپتی ہوں۔

کس بات کا ڈر جناب؟

بہزاد: دل پہ کسی کا اختیار نہیں ہوتا۔ تمہاری حرکتوں سے لگتا ہے تمہیں مجھ سے عشق ہو جائے گا۔ پھر تو بڑی گڑبڑ ہو جائے گی۔

پٹاخی: لگتا ہے اب کی بار کاٹ گیا ہے پاگل کتا۔

بہزاد: ہنس لو ہنس لو۔ لیکن سوچو یہ ہماری گپ کہاں جا رہی ہے!

پٹاخی: اچھا چلو ٹھیک ہے میں چھوڑ جاتی ہوں۔ پھر خوش؟

بہزاد: کیا چھوڑ جاتی ہو؟ میں تو تمہیں پکا کر رہا تھا۔

پٹاخی: کس طرح پکا کر رہے تھے بتاؤ؟ کہ تم سے عشق نہ کروں؟

بہزاد: تاکہ تم چھوڑ جاؤ۔

پٹاخی: یار وعدے قسمیں کھاتی ہوں، زہر میں کھاؤں کہ نہیں ہو گا عشق۔

چلو ٹھیک ہے تم نے پکا کیا۔ اور میں پک گئی، صحیح ہے چھوڑنے کے لئے پکا کیا تھا۔ میں پک گئی اب چلی جاتی ہوں۔

بہزاد: ہو گئیں پکی؟

پٹاخی: ہاں

بہزاد: بہت خوب بڑی فرمانبردار بچی ہو۔

پٹاخی: کہاں جا رہے ہو۔ اب دوستی میں منہ بند کر کے بیٹھوں؟

بہزاد: دوستی بچوں کا کھیل نہیں۔ باز آ جاؤ۔

پٹاخی: چلو حسرت پوری ہوئی، تخلیہ، آئندہ میں تنگ نہیں کروں گی، بائے!

ٹھیک کہا ہے تم نے سب کچھ۔ میں سر جھکا کے تسلیم کر رہی ہوں۔

بہزاد: بائے، اتنی سمجھداری!

بہزاد: جلتے الاؤ میں نہیں کودنا چاہئیے۔ میرے اندر تو پہلے ہی آگ لگی ہے۔ کیوں اپنی جان کے پیچھے پڑتی ہو۔ کیا ہوا؟ میری بات پسند نہیں آئی؟

پٹاخی: جاؤ نا۔

بہزاد: کہاں جاؤں؟

پٹاخی: دور

بہزاد: آگ کسی کو منع نہیں کرتی کہ اس میں نہ کودے۔

پٹاخی: بہزاد!کیا میں نے وعدہ نہیں کیا کہ میں دوستی کے سوا کچھ نہیں سوچوں گی!

بہزاد: جی فرمائیے۔ دوستی کا مطلب پتہ ہے نادان لڑکی؟

پٹاخی: نہیں، آپ بتا دو؟

بہزاد: جس چیز کا پتہ نہیں اس کا وعدہ کیوں کرتی ہو؟

پٹاخی: خود پہ بھروسہ بلا کا ہے۔

بہزاد: ہنسی آ رہی ہے۔ بچی ہو ابھی۔

پٹاخی: کل کو بتاؤں گی۔

بہزاد: کیا؟

پٹاخی: کہ کون بچہ ہے۔ آپ کے نزدیک دوستی کیا ہے؟

بہزاد: ہا ہا۔ میں تو ہمیشہ بچہ ہی رہوں گا۔ مجھے بچپنا پسند ہے۔

پٹاخی: مجھے بھی بڑھاپے سے خاص لگاؤ نہیں۔ مختصر یہ کہ کبھی آپ سے شادی کی خواہش مند نہیں ہو سکتی۔

بہزاد: میری جان، آپ کی یہی ادائیں تو مارے دیتی ہیں۔ ہاہاہا۔ جہاں شادی کا دور دور تک امکان نہیں وہاں آپ کے ذہن میں یہ خیال آ رہا ہے۔

پٹاخی: میں بچی ہوں، بچپنا ہے، نادان ہوں، کند ذہن ہوں، صاحب آپ کیجئے کیا بات کرنی ہے! پتا نہیں کیا عجیب آئٹم مل گیا ہے دوست کے نام پہ!

بہزاد: اب ہوئی نہ بات۔ اب ہم دونوں نے اپنی نادانی تسلیم کر لی۔ اب دوستی ہو سکتی ہے۔

پٹاخی: دوستی کا ذرا مطلب سمجھاؤ؟

بہزاد: ایک شعر یاد آ رہا ہے۔

پٹاخی: سنادو! مجھے بھی آ رہا ہے۔

بہزاد: لیکن دوستی کے بارے میں نہیں ہے، اگر یہ عشق سے کوئی مختلف چیز ہے۔ سنا دوں؟

پٹاخی: ارشاد، ارشاد

بہزاد: برا تو نہیں مانو گی؟

پٹاخی: ہرگز نہیں

بہزاد: پکا وعدہ؟

پٹاخی: وعدہ!

بہزاد: کبھی عشق کرو اور پھر دیکھو، اس آگ میں جلتے رہنے سے ؛، کبھی دل پر آنچ نہیں آتی، کبھی رنگ خراب نہیں ہوتا۔

پٹاخی: معلوم ہے۔ شعر نہیں حقیقت ہے۔ لیکن مجازی عشق میسر نہیں، حقیقی تک رسائی نہیں۔

بہزاد: ایک اور سناؤں؟

پٹاخی: میں نے انکار کب کرنا ہے!

بہزاد: مجازی اور حقیقی ایک ہی چیز ہے۔

پٹاخی: صحیح ہے، ہو گی!

بہزاد: چچا غالب فرماتے ہیں:

عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب، دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک

پٹاخی: بہزاد تم نے مجھے طاہر یاد کروا دیا۔

بہزاد: کون، میرے علاوہ بھی کوئی ہے؟ بولو بولو نا!

پٹاخی: میں سکول میں پڑھتی تھی۔ میرا ایک کلاس فیلو تھا۔ ہم حساب کے سوال کر رہے تھے کہ اس نے سر کو یہ شعر سنایا، عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب، دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک۔ پھر سر نے اس کی خوب کلاس لی۔ بہت اچھا وقت تھا۔

بہزاد: ایک اور سنو!

میں ایک کردار سے بڑا تنگ ہوں قلم کار، مجھے کہانی میں ڈال غصہ نکالنا ہے۔ (عمیر نجمی)

پٹاخی: ہاہا ہا (قہقہے والی ایموجی)

بہزاد: ہنس رہی ہو؟ یہ بڑا سنجیدہ اور گہرا شعر ہے۔

پٹاخی: سمجھ آ گئی ہے مجھے!

بہزاد: میرے پاس ہوتیں تو کان مروڑ دیتا۔

پٹاخی: سر پھاڑنے ہی آنا ہے نا، میں ڈال دیتی ہوں تمہیں کہانی میں۔

ہاتھ پہ چکی کاٹ کے بھاگ جاتی۔

بہزاد: کمینی۔ اتنے بڑے شعر کو چھوٹا کر دیا۔

پٹاخی: یہ ہنر بھی صرف مناہل باجوہ ہی جانتی ہیں۔

پٹاخی: کدھر گئے؟ جند؟ لگتا سو گئے؟ شب بخیر خیال رکھنا اپنا۔

 

 

۴ اگست

6: 37AM

پٹاخی: ابھی آئی آج والک سے۔ لونگ روٹ پہ تھی۔ نہر والی سائیڈ پہ گئی تھی۔ گرینری تھی، گھاس پہ چلتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ بہزاد کو بھی میں نے یہ سجیسٹ کیا تھا۔ خوشی ہے اس بات کی کہ تم سو رہے ہو۔ کل بھی مجھ نا سمجھ کی وجہ سے نیند پوری نہیں ہوئی تھی۔ میں بھی ذرا سو جاؤں رات نہیں سو سکی۔ آپ کے جانے کے بعد مما کی طبیعت خراب ہو گئی تھی۔

 

10: 25AM

پٹاخی: کیا ابھی تک سو رہے ہو؟ اٹھو!

بہزاد: کیا ہے موٹی، سو نے دے۔

پٹاخی: سو جا۔ پورے دس منٹ مزید سونے دیا ہے اب اٹھ جا، کالیا۔

بہزاد: کیوں سوئے جذبوں کو جگاتی ہے مورکھ۔ پچھتائے گی۔

پٹاخی: چل خیر ہے پچھتائے بنا بھی زندگی کا لطف نہیں آتا۔

بہزاد: ستائیسویں برس کا پہلا گرم دن مبارک ہو۔ تم تو ابھی تیس کی بھی نہیں ہوئی۔ بچی ہو بچی۔

پٹاخی: پہلا تو نہیں ہے۔ روز گرمی میں ہی مرنا ہوتا ہے۔ کام جو باہر کے ہوتے ہیں۔ آج ابھی تک لیٹی تھی اس کا مطلب طبیعت نا ساز تھی۔ اب اٹھ گئی ہوں۔

بہزاد: اچھا پہلے تو کہہ رہی تھی گھر سے نکلتی نہیں۔ سب کچھ گھر سے کرتی ہو۔ ڈرامے باز۔ میں جا رہا ہوں، نہانے۔ سوچتی رہو، کسے بنا رہی ہو۔

 

بہزاد: طبعیت کو کیا ہوا؟ دیکھو مجھ سے بالکل جھوٹ نہ بولنا۔ سچ کہہ رہا ہوں۔

پٹاخی: بخار، جسم درد۔

بہزاد: ہمم۔۔ ۔ تبھی دماغ پہ اثر ہے۔ دوائی لی ہے؟

پٹاخی: یار تم سے میں نے کیا جھوٹ بولنا ہے اور کیوں؟

بہزاد: دماغ پہ اثر ہے تمہارے۔ دوائی لے کر سو جاؤ۔

پٹاخی: اپنے الٹے سیدھے مشورے پوکٹ میں ڈال لو اور جاؤ نہانے۔

بہزاد: شاید راتوں کو جاگنے سے بخار ہو گیا ہے۔ او کے میں چلا۔ ٹیک کئر۔

پٹاخی: نہیں ہر برتھ ڈے پہ ہو جاتا ہے۔ اڑا لو مذاق۔

بہزاد: لیکن ایک اور مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ کیا کروں؟

پٹاخی: کیا مسئلہ؟

بہزاد: لیکن ابھی تم بیمار ہو، پریشان نہیں کرتا۔ چھوڑو۔

پٹاخی: بتاؤ جند میں بالکل ٹھیک ہوں۔

بہزاد: ہمت ہے؟

پٹاخی: ہاں جی ہمت کب نہیں ہوتی بولو! بتاؤ، اب میرا دل بیٹھا جا رہا ہے۔

بہزاد: مجھے لگتا ہے، جب میں تم سے بے تکلفانہ چیٹنگ کر رہا تھا فون پر، دوسری طرف میرا بیٹا میرے لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا اور اس پر میرا فیس بک اکاونٹ کھلا ہوا تھا۔ اب مجھے ایک ڈر ہے۔

پٹاخی: ہم توبس بے تکلفانہ بات کر رہے تھے۔ ڈرکس بات کا؟

بہزاد: کہیں وہ نئی امی کی فرمائش نہ کر دیں؟

پٹاخی: بدتمیز، میری جان نکل گئی!

بہزاد: کر سکتے ہیں۔ واقعی۔ انہیں میری بہت فکر ہے۔ تم ویسے بھی کچھ بچے ایڈاپٹ کرنے کا سوچ رہی تھیں۔

پٹاخی: ہرگز نہیں۔

بہزاد: میرا ایک بیٹا ہے، اٹھارہ سال کا۔

پٹاخی: ماشاء اللہ، اللہ پاک عمر طویل کرے، صحت والی، آمین

بہزاد: آمین۔ اس کے سر پر مامتا کا ہاتھ رکھ دو۔ کیا خیال ہے؟

پٹاخی: نہیں، ہرگز نہیں، کبھی نہیں، ایسا سوچنا بھی مت۔

بہزاد: مامتا بھی نہیں؟

پٹاخی: میں شادی نہیں کر سکتی۔ نہ کبھی سوچ سکتی ہوں شادی کا۔ آج یہ کیسابم گرایا ہے۔

بہزاد: تمہیں پلے پلائے بچے مل جائیں گے اور مجھے پلی پلائی، منہ پھٹ ایک بھٹیارن۔ ہاہاہاہا۔

پٹاخی: مر جاؤ میں تمہارا اور تم میرا سر ہی پھاڑو گے۔

بہزاد: یہ سچ ہے کہ مجھے لگتا ہے میرے بیٹے نے یہ چیٹنگ دیکھ لی ہے۔ لیکن اسے اپنے ابا کی تنہائی اور اداسی کا پتہ ہے۔

پٹاخی: آپ کی تنہائی اور اداسی کی وجہ کیا ہے؟

بہزاد: کبھی بتاؤں گا۔

پٹاخی: میں لنچ تیار کر دوں ذرا۔

بہزاد: مجھے بھی تھوڑا کام کرنا ہے۔ اگرچہ کام نہیں ہو پا رہا آج کل۔ کسی کل چین اور قرار نہیں ہے۔

تم یوں ہی ناراض ہوئے ہو ورنہ مے خانے کا پتہ،

ہم نے ہر اس شخص سے پوچھا جس کے نین نشیلے تھے

[کچھ دیر بعد]

پٹاخی: آپ کیا جاب کرتے ہو؟ اور آپ کا کیا آفس ہے؟

بہزاد: میرا آفس گھر پر ہے۔ انٹرنیشنل کنسلٹینٹ ہوں۔

پٹاخی: یہ کیا سسٹم ہے؟ اس میں کام کیا ہوتا ہے؟

بہزاد: دنیا کے ادارے مجھ سے رابطہ کرتے ہیں، تحقیقی اور دیگر پراجیکٹس کے لیے۔ کبھی کسی ادارے میں جانا، کبھی سفر کرنا، کبھی کانفرنسیں اٹینڈ کرنا، کبھی ٹریننگ دینا، کبھی لیکچر دینا، کبھی لکھنا، کبھی پڑھنا۔

پٹاخی: مزہ آتا ہو گا نا۔ کافی انٹرسٹنگ کام ہے۔

بہزاد: ہاں بہت انٹرسٹنگ ہے۔ لیکن چیلنجنگ بھی بہت ہے۔

پٹاخی: تو ایسے ٹاسک تو بہت لطف دیتے ہیں۔

بہزاد: کبھی وقت ملے تو شاعری کرتا ہوں، افسانے لکھتا ہوں، مضامین لکھتا ہوں۔ کبھی سیر پر نکل جاتا ہوں۔

پٹاخی: بہت خوب

بہزاد: کبھی ناول اور افسانے پڑھتا ہوں، نان فکشن اور پولیٹیکس وغیرہ بھی۔

پٹاخی: ایک بک سجیسٹ کروں؟ پڑھو گے، میری فرمائش پہ؟

بہزاد: کرو

پٹاخی: ویسے ہی کوئی زبردستی نہیں!

بہزاد: بولو

پٹاخی: پیرِ کامل پڑھنا۔

بہزاد: ہاہاہا وہ عمیرہ احمد نہیں پڑھی جائے گی مجھ سے۔

پٹاخی: او کے

بہزاد: رومانس میں مذہب کا تڑکا لگا کر بیچتی ہے۔ اس طرح کا پاپولر لٹریچر میری چیز نہیں۔ میں ٹھوس اور پختہ چیزیں پڑھنا پسند کرتا ہوں۔ بہت پڑھ لیں یہ ڈائجسٹ نما چیزیں۔ تمہیں یہ مبارک ہو۔ تمہارے بس کا نہیں لٹریچر سمجھنا۔

پٹاخی: روح کی واپسی، پڑھ لو!

بہزاد: صرف سواد اور دھوکا۔ بہت نقصان پہنچایا ہے اس طرح کے فیک لٹریچر نے ہماری نسل کو۔ سوری میں نے کھل کر رائے دے دی، کیونکہ میں ایسی کتابوں سے بھی واقف ہوں۔ محض چسکہ ہے۔

پٹاخی: میں نے صرف چند کتابیں پڑھیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے۔

بہزاد: جب صرف چند چیزیں پڑھی ہوں اور بندہ نوجوان اور رومان پسند ہو۔ مذہب بھی چلانا چاہتا ہو اور افئرز بھی تو ایسی کتابیں مزہ دیتی ہیں۔

پٹاخی: اب میری ان کتابوں کو تم فضول مت کہنا۔ برداشت نہیں کروں گی۔

بہزاد: نہیں فضول تو نہیں۔ یہ صرف سفر کی ابتدا ہے۔ کم از کم پڑھنے کا شوق تو پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے جاری رکھو۔

پٹاخی: میرے پاس نہ شوق ہے نہ وقت۔ یہ بھی ٹین ایج میں پڑھا تھا۔

بہزاد: یہ جاسوسی ناول، ڈائجسٹ، ابن صفی، مظہر کلیم، عمیرہ احمد، اقبال احمد، محی الدین نواب، طارق اسماعیل ساگر، نمرہ احمد، خواتین، جاسوسی، سسپنس، نسیم حجازی۔۔ ۔۔ وغیرہ وغیرہ جیسے پاپولر رائٹرز کو میں نے بہت بچپن میں پڑھ لیا تھا۔

پٹاخی: کوجے۔

بہزاد: ہاہاہاہاہا۔۔ ۔ ان کا راز مجھ پر کھل چکا ہے۔ بچپنے کی باتیں ہیں۔

پٹاخی: ممکن ہے۔

بہزاد: ہاہاہا۔۔ ۔ مایوس نہ ہو۔۔ ۔ یہ سب بھی اپنی جگہ ہیں۔

پٹاخی: جب رومانس زندگی سے ختم ہو گیا تو سب کچھ ختم۔

بہزاد: ہاں میں خود رومانٹک ہوں۔ لیکن ساتھ میں حقیقت پسند بھی۔ رومانس انگریزی ادب میں ایک پوری تحریک کا نام ہے۔

پٹاخی: وہ کچھ ایکسٹرا ہی ہے۔ انگریزی میں!

بہزاد: رومان کا مطلب صرف مرد اور عورت میں ہونے ولا کوئی احساسی یا جذباتی رشتہ نہیں۔ رومانس کا مطلب کچھ آدرشوں پر یقین رکھتے ہوئے ان کے حصول کی کوشش کرنا ہے۔

پٹاخی: میں ان سب کا علم نہیں رکھتی۔

بہزاد: ایسے خوابوں کے حصول کی کوشش جو بظاہر نا ممکن نظر آتے ہیں۔ اسے رومانٹیسزم کہتے ہیں۔

پٹاخی: بس پھر ہمارے درمیان تو ایکسٹرا ہی ہے رومانٹیسزم، جسٹ کڈنگ۔

بہزاد: ہاہا۔۔ ۔ سب مایا ہے۔ ابن انشا کی نظم سنی ہے۔۔ ۔ فرض کرو؟

پٹاخی: فرض کرو ہم اہلِ وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوں، فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں، فرض کرو یہ جی کی بپتا جی سے جوڑ سنائی ہو، فرض کرو ابھی اور ہو اتنی، آدھی ہم نے چھپائی ہو،۔۔ ۔ یہ والی؟

بہزاد: ہاں۔۔ ۔ بس یہی بات ہے۔ ہمیں خود اپنی خواہشوں، اپنے جذبوں، اپنے خوابوں کا بعض اوقات پتہ نہیں ہوتا اور ہم بس فرض کر لیتے ہیں کہ یہ ہے۔

پٹاخی: سچ کہا۔

بہزاد: اور بعض اوقات یہ فرض کرنا اتنا بڑا یقین بن جاتا ہے کہ لوگ اس کی خاطر اپنی جان تک دے دیتے ہیں۔ ہے نہ مزے کی بات۔ کتنا غضب ہو جب کسی کو پتہ چلے کہ جس سچ کی خاطر اس نے جان دی تھی وہ تو جھوٹ کی ہی ایک شکل تھی۔ میر نے کہا تھا: یہ توہم کا کارخانہ ہے، یاں وہی ہے جو اعتبار کیا

پٹاخی: بہت گہری بات ہے

بہزاد: اسی لیے میرا جی چاہتا ہے کہ بن باس لے کر کہیں جنگلوں میں نکل جاؤں۔۔ ۔ فطرت کے ساتھ رہ کر فطرت کو دیکھوں۔ یہ دنیا کا سود و زیاں، یہ چالا کیاں اپنے بس کی بات نہیں۔

 

[کچھ دیر بعد مناہل پیرس میں ایفل ٹاور اور اس کے اردگرد کی شام کے وقت کی ایک تصویر دکھاتی ہے]

پٹاخی: یہ کتنی خوبصورت جگہ ہے؟

بہزاد: ایفل ٹاور ہے۔ میں گیا ہوں۔ پیرس میں ہے۔ یہ میرے پسندیدہ شہروں میں سے ایک ہے۔

پٹاخی: سہمت ہوں آپ کی باتوں سے۔

بہزاد: پیرس کو دنیا میں رومان پرور شہر کہا جاتا ہے۔ وینس کے ساتھ ساتھ۔

پٹاخی: واوووو

بہزاد: میں دونوں جگہ گیا ہوں۔ بیک پیک لٹکا کر آوارہ گردی کی ہے۔ تن تنہا

پٹاخی: واؤ

میں نے پھر بھی شادی نہیں کرنی آپ سے۔

بہزاد: نہ کرو۔ میں نے بھی نہیں کرنی۔ تم تو سنجیدہ ہی ہو گئی شاید! میں نے کوئی شادی کا پلان نہیں بنایا۔ فضول بات ہے۔

پٹاخی: ستاتی ہوں جند!

بہزاد: ایک کر کے ہی رج گیا تھا۔

پٹاخی: نہ چِڑ جایا کرو!

بہزاد: ہاہاہا۔۔ ۔ میں تو تمہیں چڑا رہا ہوں۔ میں نے تو تجربہ کر کے دیکھ لیا ہے۔ تم نے بھی اندھے کنویں میں گرنا ہے تو کر لو شادی!

پٹاخی: تاکہ مجھے بھی کوئی زہر دے دے۔ یا جنسی ہوس نکال کے پھینک دے۔

بہزاد: تمہیں کوئی زہر دے کر کیا کرے گا۔ تمہارے دل میں ڈر بیٹھا ہوا ہے۔ تمہیں خود نہیں پتا کہ تم کیا چاہتی ہو۔ ہاہاہاہا

پٹاخی: نہیں ڈر نہیں ہے۔ میں نے نہیں کرنی شادی۔ کوئی فضول بات میرے ذہن میں نہ ڈالنا۔ مہربانی۔ میری زندگی مشکل مت کرنا۔

بہزاد: جو بار بار جس چیز سے انکار کرتا ہے۔ وہ اسی کا اسیر ہوتا ہے۔

پٹاخی: بس کر

بہزاد: مجھے کوئی فضول بات تمہارے ذہن میں نہیں ڈالنی۔ میں تو صرف یہ کہتا ہوں، خود کو سمجھنے کی کوشش کرو، اپنے واہموں، اپنے خوف اور اپنی ضرورتوں سمیت، ایک زندہ وجود کے طور پر۔ بس۔ خوف ہونا کوئی بری بات نہیں۔ لیکن اس کا سامنا کر کے ہی اس سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔

پٹاخی: ختم کرو یہ موضوع۔ میں نہیں بھاگ رہی ان سب باتوں سے۔

بہزاد: تم اپنا سامنا کرنے سے ڈرتی ہو۔ ابھی چھوڑو، بحث نہیں کرنی۔

اچھا کیا پکایا ہے آج؟

پٹاخی: ماش کی بھنوا دال، آلو کے چاول، گوشت۔

بہزاد: افف۔ منہ میں پانی آ رہا ہے۔ کیسے کر لیتی ہو یہ سب کچھ، اکیلی؟

پٹاخی: سر پہ اولے پڑیں تو سب ہو جاتا ہے۔

بہزاد: ہاں یہ تو ہے۔ اوپر سے بندہ گنجا بھی ہو تو اولے اور زور سے پڑتے ہیں۔

ہاہا لگ گئی؟ کچھ برا لگے تو شرافت سے بتا دینا۔ میں صرف مذاق کر رہا ہوں۔

پٹاخی: بہزاد! مجھے بھی سیر کروا کے لاؤ۔ اب دوستی میں اتنا تو کر سکتے ہیں؟ میں آنکھیں بند کرتی ہوں۔ تم گاڑی چلاؤ،۔۔ ۔ فینٹسی!

بہزاد: کہاں کی سیر کرنی ہے؟

پٹاخی: ہر پرسکون جگہ کی۔

بہزاد: پہلی چوائس بتاؤ؟ ٹائم کم ہے میرے پاس۔

پٹاخی: ممم۔۔ ۔ پیرس، سوئٹزرلینڈ، کاغان، ناران، آزاد کشمیر، سون سکیسر۔۔ ۔

بہزاد: پیرس۔۔ ۔۔ شاعروں، ادیبوں، فنکاروں کا شہر ہے۔ یہاں کی گلیوں اور بازاروں میں مصور بیٹھے ہوتے ہیں۔ جو وہیں چند یورو میں آپ کی تصویر بناتے ہیں۔ پیرس میں ایفل ٹاور ہے جو اسے امریکہ نے تحفہ دیا تھا۔۔ ۔ انقلاب فرانس کے بعد۔ یہ سارا لوہے کا سٹرکچر ہے۔

پٹاخی: چترال۔۔ ۔

بہزاد: ایک وقت میں ایک ہی جگہ جا سکتے ہیں۔ ابھی پیرس کا سنو۔

پٹاخی: سناؤ!

بہزاد: ایفل ٹاور کے آس پاس کا علاقہ بھی بڑا خوبصورت ہے۔ یہاں قریب میں چشمہ بہتا ہے اور اس میں کئی سٹیچو بنے ہوئے ہیں۔ بالکل نیوڈ۔ لیکن اس نیوڈیٹی میں ہوس نہیں ہے۔ محض حسن کا اظہار ہے۔ ساتھ میں پارک ہے جس میں مرد اور عورتیں بیٹھے، لیٹے، سیر کرتے نظر آتے ہیں۔ پیرس میں شاید دنیا کا سب سے بڑا آرٹ میوزیم ہے۔ لووے، اس کا نام ہے، شاید!

پٹاخی: واؤ

بہزاد: اس کی عمارت بہت شاندار ہے۔ باہر سے ایک شیشے کی کئی کونوں والی عمارت ہے اور اس کے پاس برقعہ پوش خواتین کے مجسمے لگے ہیں۔ بڑے بڑے۔ ساتھ میں پانی کا بڑا سا حوض ہے، جس کے گرد مرد و خواتین بیٹھے انجوائے کرتے ہیں۔ میں بھی بہت دیر اس پانی میں پاؤں ڈال کے بیٹھا ہوں۔ یہ ایک بڑا سا صحن ہے جس کے گرد بلند و بالا برامدے بنے ہیں۔ بہت پرانے۔ صدیوں پرانے۔

پٹاخی: نا کرو، بس بس۔

بہزاد: شیشے کی عمارت سے نیچے جائیں تو بہت بڑا میوزیم ہے، راہداریاں ہی راہداریاں، دنیا کی نایاب تصاویر سے بھری ہوئیں۔ یہاں اگر کوئی ایک تصویر کو دس سیکنڈ کے لیے دیکھے تو اسے ساری تصاویر دیکھنے میں کئی ہفتے لگ جائیں گے۔

پٹاخی: میں نے ایک تصویر دیکھی تھی۔ ان راہداریوں کی۔

بہزاد: یہاں مشہور عالم مونا لیزا کی اصل تصویر ہے۔ صدیوں پرانی، لیونارڈو ڈیوینچی کی بنائی ہوئی۔ تمہیں کیا پتہ مونا لیزا کیا ہے۔ یہ ایک ایسا شاہکار ہے، ایسی حور ہے، جس کا حسن کبھی ماند نہیں پڑتا، جس کی مدھم سی مسکراہٹ پانیوں میں تیرتی رہتی ہے۔

پٹاخی: بس کرو میں نے حسرتیں مار دی تھیں، اب دوبارہ جاگ رہی ہیں، اس سے۔

بہزاد: میں اس کی اور کئی اور تصویروں کی کاپیاں لایا تھا جو میرے گھر میں لگی ہیں۔ یہاں کی وائن بہت مشہور ہے۔ اور بیر بھی۔ لیکن وائن کا جواب نہیں۔ فرنچ کھانے کے ساتھ آپ کو دوسری دنیا میں لے جاتی ہے۔

پٹاخی: آپ نے پی تھی؟

بہزاد: یہاں دنیا کی مشہور یونیورسٹیاں اور کئی میوزیم ہیں۔ جگہ جگہ مجسمے لگے ہیں۔ ایک خاص بات بتاؤں؟

پٹاخی: میں ایک راز بتاؤں؟ لیکن ہاں تم بتاؤ پہلے؟

بہزاد: پہلے تم بتا دو!

پٹاخی: نہیں پہلے تم!

بہزاد: یہاں اکثر جگہ نہریں بہتی ہیں۔ صاف شفاف پانی کی۔ پورے شہر میں۔ اور ہر پل کی لوہے کی جالیوں پر بہت سے تالے لگے ہوتے ہیں۔ پیارے پیارے، چھوٹے، درمیانے اور بڑے۔ میں دیکھ کر حیران ہوا کہ سینکڑوں تالے کیوں لگے ہیں، بلا وجہ۔ پھر کسی نے بتایا کہ یہاں رواج ہے۔ محبت کرنے والے جوڑے جب ایک دوسرے سے عہد و پیماں کرتے ہیں تو وہ ایک تالا شہر سے گزرتے دریا کے پل پر جا کر لگا آتے ہیں اور اس کی جابی دریا میں پھینک دیتے ہیں۔

پٹاخی: مجھ سے پوچھ لیتے لوورز اکثر باندھتے ہیں وشز کے لئے۔

بہزاد: ہاہا۔۔ ۔۔ تمہیں تو پتہ ہے۔ کیونکہ رومان کی بات جو ہے۔

پٹاخی: کتنا امیزنگ ہے۔

بہزاد: تم نے بھی کیا یاد دلا دیا۔ ابھی بہت کچھ ہے۔

پٹاخی: چلو میری جان بتاتے جاؤ۔

بہزاد: وہاں میری ایک دوست رہتی تھی، ایک بہت خوبصورت انڈین لڑکی۔ وہ میرے ساتھ یورپ میں ایک کورس میں شامل تھی۔

پٹاخی: ہمم۔۔

بہزاد: میں صرف ایک دن کے لیے وہاں گیا تھا، پیرس۔ اس نے مجھے شام کو اپنے شوہر کے ساتھ ایفل ٹاور کے پاس ایک بہت بڑے اور مشہور ریستوران میں کھانے پر بلایا تھا۔ اس کا ڈایننگ روم سب سے اونچی منزل پر تھا۔

پٹاخی: کیسی فیلنگز تھیں؟

بہزاد: آس پاس شیشے کی کھڑکیاں تھیں اور پورا شہر جگ مگ کرتا نظر آتا تھا۔ جیسا اس تصویر میں ہے۔ چاروں طرف۔

پٹاخی: نہ کرو میں تڑپ رہی ہوں۔ بس کرووو، یہ بہت رومانوی ہے۔ میں کھو گئی۔

بہزاد: ہاہاہا۔ ابھی تو ایک شہر کا قصہ پورا نہیں ہوا۔ میں نے پندرہ ملک دیکھ رکھے ہیں۔

پٹاخی: بہت برے بندے ہو!

بہزاد: بہت برا۔۔ ۔ کیا بتاؤں کتنا برا۔

پٹاخی: وائن کا تو بتاؤ، پی تھی؟

بہزاد: ہاں

پٹاخی: کیسا فیل ہوا تھا؟

بہزاد: جو جنت میں ملنا تھا ہم نے یہیں چکھ لیا۔

پٹاخی: بدتمیز ایسے نہیں کہتے!

بہزاد: یہ جنت کا ہی تو مشروب ہے۔ ہم نے بہت پیا۔ وائن بھی، بیر بھی، جن اینڈ ٹانک بھی، سکاچ بھی۔۔ ۔

پٹاخی: ممم۔۔ ۔

بہزاد: ہاہاہا کیا ہوا، کیا بہت برا کیا؟ ابھی وینس کا تو قصہ سنایا ہی نہیں۔

پٹاخی: نہیں میرا بھی دل کرتا ہے۔

بہزاد: پینے کو؟

پٹاخی: میں مر جاؤ گی۔ بس کرو۔ ہاں، ڈھیر ساری پینے کو۔

بہزاد: او کے۔ تم اس کو دوبارہ پڑھو۔ میں کھانے کے لیے جا رہا ہوں۔

پٹاخی: پہلے بتاؤ کہ یہ سب دوبارہ پڑھنے سے مجھے کیا کیا نقصان ہو سکتے ہیں؟

بہزاد: تم نے شیمپین بھی نہیں چکھی ہو گی؟ کیا بتاؤں ایک بار سویٹزرلینڈ میں ان کے قومی دن کے موقع پر ایک گورے جوڑے سے مانگ کر پی تھی۔

پٹاخی: اکیلے ہی پی تھی نا، گولا لگے تمہیں! مجھے نہیں دی۔

بہزاد: رات کو چراغاں تھا اور ہم نے جنیوا کی جھیل کے اوپر سرسبز پہاڑیوں کے دامن میں جشن منایا تھا۔ آزادی کا جشن۔

پٹاخی: بس کر دو۔ میری جان لینی ہے کیا؟ مفت میں لے لو، یوں مت تڑپاؤ۔ جاؤ اب یہ سب پڑھنا ہے مجھے اور بار بار پڑھنا ہے۔

بہزاد: او کے او کے صبر۔۔ ابھی بہت کچھ ہے۔ تھوڑا حوصلہ پیدا کرو اور دوسروں کی خوشیاں میں شامل ہونا سیکھو۔

پٹاخی: میں خوشیوں میں شامل ہوں، جل نہیں رہی۔ بس فقط کچھ احساسات جنم لیتے ہیں ایسے۔

بہزاد: آج کے لیے اتنا ہی۔ اب میری جان چھوڑو۔ مجھے کام بھی کرنا ہے۔ کوئی برسلز میں میرے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔ اور ہاں۔ اپنا خیال رکھنا نہ بھولنا۔

شوق برہنہ پا چلتا تھا اور رستے پتھریلے تھے، گھستے گھستے گھس گئے آخر کنکر جو نوکیلے تھے (غلام محمد قاصر)

پٹاخی: واہ

بہزاد: میں جا رہا ہوں ،۔ لو تم اتنے یہ سنو!

لنک: ’میں آرزوئے جاں لکھوں یا جان آرزو‘ از منور سلطانہ]]

پٹاخی: فری ہو کے سنوں گی۔

بہزاد: یہ بھی سنو!

[لنک: عابدہ پروین کی آواز میں ناصر کاظمی کی غزل: کسی کلی نے بھی دیکھا نہ آنکھ بھر کے مجھے، گزر گئی جرس گل اداس کر کے مجھے]

 

بہزاد: اے بھٹیارن!

پٹاخی: ہاں بنجارے!

بہزاد: چلنا ہے ہائکنگ پہ؟ میں جا رہا ہوں، مارگلہ ٹریل فائیو۔

پٹاخی: جی چلنا ہے۔ بس پانچ منٹ، لپ اسٹک اینڈ چادر لے لوں۔

بہزاد: چل دوڑ کے آ جا، میں نے انتظار نہیں کرنا۔

پٹاخی: بس بس اچھا جوتے تو ٹائٹ کرنے دو۔

بہزاد: جلدی کرو۔ چشمے تک جائیں گے۔

پٹاخی: آ گئی!

بہزاد: کیا میرے کندھے پہ جائے گی۔ ٹراؤزر تو ڈھنگ کا پہن۔

پٹاخی: ایسی کی تیسی۔ ڈھنگ کا ہی ہے جل مت مجھ سے۔

بہزاد: ہاہاہا۔۔ ۔ ہمت بھی ہے کرنے کی؟ اونچی ہائک ہے۔

پٹاخی: اڑا کے لے گئے جادو تیری نظر کے مجھے۔

بہزاد: ٹھیک ہے۔ اپنے تخیل کو کام میں لا۔ چل میرے ساتھ۔ پھسلے گی تو پکڑ لوں گا۔

پٹاخی: چلو۔

بہزاد: نہ پکڑ سکوں تو گھبرانا نہیں۔ پہلے کھائی آئے گی اور پھر سیدھا جنت۔ وہاں حوروں کو کہوں گا تمہارے بھی پیر دبا دیں۔

پٹاخی: ہو سکتا ہے تم سے زیادہ تیز نکلوں۔ میں نے فزیکل ایکٹیویٹیز کی کلاسز لی تھیں۔ میری ٹیچر انٹرنیشنل پلیئر تھیں۔

بہزاد: پھر تو گریٹ ہو گیا۔ مجھے کوئی چھوئی موئی فرینڈ نہیں چاہئے۔

پٹاخی: ہائیکنگ رولزسے لے کر پہاڑوں کے کس پودے کو چھو سکتے ہیں اور کس کو نہیں، سب بتا سکتی ہوں۔

بہزاد: اچھا، امیزنگ!

پٹاخی: کچی فیل ہوں میں۔ چھوئی موئی۔۔ ۔ ہوں، رونڈا روسی ہوں پوری۔

بہزاد: وہ تو تمہاری شکل سے ہی پتہ چل رہا ہے۔ لیکن گھبراؤ مت۔ فیلیر سے انسان سیکھتا ہے۔

پٹاخی: ہائے جند یہ کوئی افسانے نہیں جن کے متعلق تم ہی جیتو گے علم میں۔ دوڑ لگاؤ کسی دن تو مزہ آئے۔

بہزاد: ہاہاہا۔۔ ۔ میں بڈھا آدمی۔ تم جوان۔ تم جیت جاؤ، مجھے خوشی ہو گی۔

پٹاخی: بھگا بھگا ماروں! اور مجھے تمہیں ہرا کر چڑانے میں مزہ آئے گا۔

بہزاد: او کے۔ اب جاتا ہوں۔

پٹاخی: مجھے چھوڑ گئے؟

بہزاد: نہیں ساتھ ہو۔

 

7: 03PM

پٹاخی: جند، بات سنو! بہزاد؟

بہزاد: جی جان!

پٹاخی: یہ آئی ڈی نہایت گھٹیا ہے۔ مطلب میں کھیلتی ہوں لڈو سٹار۔ تو یہ آئی ڈی میں نے اس کے لئے بنائی تھی۔ اس میں جو جہان کی فضول ترین عوام ہے۔ آئی ڈی انسان کی پہچان ہوتی ہے۔ اب میں آپ کو دوسری آئی ڈی سے ریکوئسٹ کرتی ہوں۔ وہاں صرف آپ ہی دوست ہیں۔ ایک تم اور ایک تسنیم بھی ہے۔ قبول کر لیں۔

بہزاد: کس نام سے؟

پٹاخی: مناہل باجوہ

بہزاد: او کے

 

 

اگست]5[

بہزاد: بھٹیارن! تم پینا کیوں چاہتی ہو؟

مناہل: اندر کہیں کچھ رہ گیا ہے۔۔ ۔ درد، شاید رومانس، شاید غصہ، شاید بہت سے احساس کہیں میں ضبط کر گئی ہوں چھپا گئی ہوں۔

بہزاد: ادھر قریب آؤ۔ میں تمہیں گلے لگا کر تھپکنا چاہتا ہوں۔ تمہارا خوف دور کرنا چاہتا ہوں۔ اگر تمہیں برا نہ لگے؟

مناہل: یہ عادت بہت بری ہے مجھے۔ پوری عمر اکیلا رہنا ہے۔ میں کسی کے دلاسے کی عادت نہیں ڈال سکتی۔

بہزاد: کسی کے بھی نہیں؟

مناہل: بہزاد، پلیززززززززز

بہزاد: کیا ہوا؟

مناہل: کچھ نہیں۔

بہزاد: چلو مجھے اپنی پوری کہانی سناؤ۔ جیسے کوئی دیوار سے بات کرتے ہوئے خود کلامی کرتا ہے۔

مناہل: نہیں۔ میں نے ہنس کے بھی سنائی تو تم رو دو گے۔

بہزاد: میں تم سے کوئی وعدہ نہیں کرتا۔ تمہارے کام بھی شاید نہیں آ سکتا۔ لیکن کبھی برا نہیں چاہوں گا۔ چاہو تو اعتبار کر لو۔ ورنہ کوئی بات نہیں۔ گپ شپ بھی کافی ہے۔ یہ تو محض فینٹسی ہے۔ ہم تو صرف خواب میں ملے ہیں۔ آنکھ کھلے گی تو غائب ہوں گے۔

مناہل: ہممم۔۔ ۔

بہزاد: ہاں تو اور کیا۔

مناہل: چلو سنو!

بہزاد: یوں میں نے کب سوچا تھا کہ تم جیسی بھٹیارن اس طرح آ ٹکرے گی، کہ جسے نہ چھو سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں۔

مناہل: مجھے کیا علم تھا کہ تسنیم متھے لگے گی اور یہ کہ آپ بھی اس کے کزن۔

بہزاد: تمہاری اماں کا کیا نام ہے؟ کیا سوچ میں پڑ گئی؟ نہیں پتہ نام؟

مناہل: ماما کو دودھ دے دوں سوری تھوڑا ویٹ!

بہزاد: نام تو بتا جاؤ۔ سو گیا ہوں میں اب۔

مناہل: فرزانہ بتول۔ او کے شب بخیر۔

بہزاد: خخخخخ

مناہل: ڈرامہ ہے یا اصلی کا سونا ہے۔

بہزاد: خراٹوں کی آواز نہیں آ رہی؟

مناہل: نہیں تو۔

بہزاد: بہری ہو؟

مناہل: ہاں آ رہی ہے، مگر اچھی آواز لگ رہی ہے۔

بہزاد: ایک کام کرو تو مجھے بہت اچھی نیند آ جائے گی؟

مناہل: جی، رکھ لو سر۔

بہزاد: تمہارے فون میں کیمرہ ہے؟

مناہل: اوہ۔۔ ۔ اچھا، نہیں۔۔ ۔ بالکل نہیں ہے۔

بہزاد: پلیز؟

مناہل: نو

بہزاد: ہاہاہا، اپنا بغیر دھلا منہ دکھا دو بس۔ میں یقین کرنا چاہتا ہوں یہ تم ہی ہو۔

مناہل: میک اپ کے بغیر تصویر؟

بہزاد: ہاں اصلی والی۔

مناہل: لپ سٹک میں لگا کے رکھتی ہوں۔

بہزاد: تو پھر منہ دھو کے بنا دو۔

مناہل: جہنم میں جاؤ نہیں ہے میرے پاس اور نہ میں بنا رہی ہوں۔ جاؤ پرے۔

[ایک اور بہت خوبصورت تصویر بھیجتی ہے، بہزاد کے میسنجر پر۔ سکارف میں یاقوتی سے لب کھلے ہوئے، کٹورا سی آنکھیں مسکراتی ہوئیں]

بہزاد: میں تو مبہوت ہو گیا ہوں۔ لیکن یہ تو ایک کلو کا میک اپ کر رکھا ہے۔ یار تم کیا واقعی اتنی پیاری ہو؟

مناہل: نہیں اپریل فول۔ میری پکس اب دیکھ لی ہیں تو شرافت سے ڈیلیٹ کرو۔

بہزاد: اب تو رہی سہی نیند بھی اڑا دی۔ میں سمجھا تھا بال بکھرائے، ہونٹوں پہ پپڑیاں، آنکھوں کے کونوں میں میل جمی تصویر ہو گی تو مجھے جلدی نیند آئے گی۔

مناہل: آئندہ ایک بھی نہیں بھجنی میں نے۔ باجوہ والا وعدہ۔

بہزاد: ہاہاہا۔۔ ۔ اگر کہتی ہو تو ڈیلیٹ کر دیتا ہوں۔ اجازت دو تو رکھ لوں، کبھی کبھی دیکھ کے جی خوش ہو جائے گا۔

مناہل: نہیں، کرو ڈیلیٹ۔ ابھی کے ابھی۔

بہزاد: کسی کی خوشی نہیں چاہتیں۔ ظالم عورت!

مناہل: میں عورت نہیں، لڑکی ہوں۔

بہزاد: اچھا چلو لڑکی۔ بتاؤ تھوڑی دیر اور دیکھ لوں؟

مناہل: دیوانے نہ ہو جانا۔ بس بہت دیکھ لیا۔ ڈیلیٹ کرو۔

بہزاد: سچ مچ دیوانہ ہو گیا ہوں۔

مناہل: اوہ، واسطہ ہے، وبال جان مت بننا۔

بہزاد: آخری بار بتا دو۔ رکھ لوں یا ڈیلیٹ کر دوں؟ کسی کو نہیں دکھاؤں گا۔

پٹاخی: ڈیلیٹ، ابھی کے ابھی!

بہزاد: ہاہاہاہا۔۔ ۔۔ او کے۔ او کے۔ کر دی ڈیلیٹ، دل پہ پتھر رکھ کر۔ اب خوش؟

مناہل: جی، شکریہ

بہزاد: میں دیوانہ نہیں ہوں۔ اور نہ ہو سکتا ہوں۔ جب تک کوئی خود نہ چاہے۔

مناہل: میں ہرگز نہیں چاہتی۔ کر دی ڈیلیٹ؟

بہزاد: دیکھ لو کب کی کر دی۔

مناہل: شاباش۔

بہزاد: کچھ دیر اور دیکھنے دیتی تو اچھا تھا۔ لیکن خیر پتہ نہیں کس کی تصویر بھیج دی۔ دونوں کی شکل نہیں ملتی۔

مناہل: او کے، صحیح ہے۔

بہزاد: خود دیکھ لو، شکلیں مختلف ہیں۔ تمہارے پاس تو ہیں نا!

مناہل: نہیں لوگوں سے مانگ مانگ کے بھیجی ہوئی ہیں تمہیں۔

بہزاد: ہاہاہا۔۔ ۔ اصل میں میں خوبصورت لڑکیوں کی تصویر آنکھ بھر کر نہیں دیکھ سکتا۔ شاید مجھے غلطی لگی ہو۔

مناہل: ہممم۔۔ ۔۔

بہزاد: شاید ایک جیسی ہی ہوں۔ تم ہی جانو۔ میرے بس کی بات نہیں۔

مناہل: صحیح ہے یہ بھی!

بہزاد: ویسے کوئی بغیر میک اپ کے بھیجو تو شاید یاد رہ جاؤ!

مناہل: کیوں بھیجوں، وجہ؟

بہزاد: کیوں کہ وہ مختلف ہو گی اور ایسی سڑی چیزیں یاد رہتی ہیں۔

مناہل: میں جھاڑو نہیں ہوں انسان ہوں۔ خود میں اور جھاڑو میں فرق پتا ہے۔ صفائیاں نہیں دے سکتی۔

بہزاد: کیا مثال نکالی ہے۔ آفرین ہے تم پر، بھٹیارن، تھوڑی دیر اور دیکھ لیتا تو کیا ہو جاتا؟

مناہل: مر جاتے۔

بہزاد: مر کے بھی چین نہ پاتا تو کیا کرتا؟

مناہل: ہمہمم۔۔

بہزاد: اچھا چلو چھوڑو۔ میں کوئی تکلیف دہ ٹاپک نہیں چھیڑنا چاہتا تھا۔ اس لیے تمہاری کہانی نہیں سنی۔ ہاں کبھی تمہارا خود دل چاہے تو میں تمہارے لیے سن بھی لوں گا اور رو بھی لوں گا۔

مناہل: کیسی تکلیف؟ رلاتی ہوں تمہیں۔ سناتی ہوں۔

بہزاد: ابھی نہیں۔ میرے پورے ہفتے کے آنسو نکل چکے ہیں۔ پہلے ہی۔ اب اور ہمت نہیں۔

مناہل: آج سن لو میرا فائدہ ہو گا۔

بہزاد: جان ہی لو گی تم میری۔ بدتمیز!

مناہل: نہیں لوں گی۔

بہزاد: جس دن بغیر میک اپ کے اصلی والی تصویر بھیجو گی یا وڈیو چیٹ کرو گی، اس دن سنوں گا۔

مناہل: بھول جاؤ، رستہ ماپو۔

بہزاد: بھول گیا، رستہ تو ہے نہیں اب۔ لگتا ہے لگ گئی ہے، دل کو۔

مناہل: کیا لگنی میرے دل کو؟

بہزاد: سنجیدہ مت ہو۔ کچھ نہیں لگا۔ اچھا اب کچھ بخار ٹھیک ہوا؟ کیا ٹمپریچر ہے؟

مناہل: چیک نہیں کیا۔

بہزاد: کیا تھرمامیٹر نہیں ہے؟

مناہل: آج سننی ہے تو سن لو۔ رام کتھا۔ نہیں؟

بہزاد: اچھا سناؤ۔ میں ہمہ تن گوش ہوں۔ سناؤ اب۔ ٹھہرو میں رو مال لے لوں۔

مناہل: میرا بچپن شرارتوں بھرا تھا۔ گھر میں بس بھیا، میں، مما، پاپا۔ بھائی رج کے سمجھدار، سنجیدہ، پڑھاکو۔ میں رج کے شرارتی نٹ کھٹ۔ سب اچھا چل رہا تھا۔

بہزاد: ہممم۔۔ ۔

مناہل: اکلوتی تھی، پڑھائی میں نالائق تھی، کبھی ایک بچا لیتا تھا تو کبھی دوسرا، مار پڑنے سے۔ میں نے آخر کار پڑھائی چھوڑ دی میٹرک کے بعد۔

بہزاد: پھر؟

مناہل: پندرہ سولہ برس کی تھی۔ بیمار ہوئی تو میں نے شور مچا دیا بھائی کی شادی کرو۔ مجھے نہیں پتہ کب تک ہوں۔ اکلوتی تھی، لاڈلی بھی، اس لئے صرف دو دن کے بخار کی وجہ سے ان دو دنوں میں ہی والد نے لڑکی ڈھونڈھنی شروع کر دی۔

بہزاد: ہوں۔۔ ۔

مناہل: خیر میں بھی خوشی سے ٹھیک ہو گئی دو دن میں ہی کہ بھابھی آئے گی۔ اللہ نے کیا میں اٹھارہ کی ہوئی تھی اور شور مچا نے پہ بھائی کی شادی ہوئی۔ مجھے مما نے کہا کہ مناہل یہ دودھ کا گلاس بھیا کو پکڑا آؤ۔ پہلی رات میں نے پکڑایا دودھ کا گلاس۔ بھیا روم میں نہیں تھے، بھابھی کو ہی دے کے آئی۔ کچھ دیر گزری تو رونے کی آواز آئی، چیخنے کی۔ ہم گئے تو بھیا تڑپ رہے تھے اور وہ چیخیں مار مار کے رو رہی تھی۔ بھائی کے منہ سے جھاگ نکل رہے تھے۔ ابو جی نے نبض چیک کی اور وہیں دل کا دورہ پڑا۔ دونوں کو ہسپتال لے کر گئے۔ اطلاع ملی ابو اور وہ دونوں چلے گئے۔

بہزاد: نہیں۔۔ ۔۔ ۔

مناہل: کس سے صدمہ برداشت ہونا تھا؟ والدہ بیمار ہو کے چارپائی پہ پڑ گئیں۔ میرا بھی دماغی توازن کچھ ٹھیک نہ رہا۔

بہزاد: کتنا عرصہ ہوا؟

مناہل: اتنے میں چچا نے ابو جی کا سب کچھ سمیٹ لیا۔

بہزاد: کب کی بات ہے؟

مناہل: آٹھ سال پہلے۔ مجھے تھوڑا ہوش آیا تو میں نے سب چیزوں کا سوال کیا۔ مجھے سب نے بد زبان، بد اخلاق کہہ کر نکال دیا۔ میں نے ابو جی کے بزنس، سامان، ہر چیز کا سوال اور مطالبہ کیا کہ کہاں ہے وہ سب تو ہمارا تھا۔

بہزاد: پھر؟ بولتی رہو!

مناہل: اس پر چاچو نے چند رشتہ دار، جو بچے تھے، سب میں بدنام کر دیا۔ یہ تو پاگل ہے اور نہ جانے کیا کیا۔

بہزاد: کیا کیا الزام لگائے؟

مناہل: پاگل ہے، بد اخلاق ہے، بد کردار ہے، سب کچھ۔

بہزاد: سب نے مان لیا؟

مناہل: شرارتی زیادہ تھی بچپن میں اور اکلوتی ہونے کی وجہ سے منہ پھٹ بھی۔ مجھے گھر والوں نے اتنے نازوں سے جو رکھا تھا۔

بہزاد: پھر؟ اس لڑکی کا کیا ہوا؟

مناہل: مان لیا تھا سب اس نے۔ ابا اور بھائی رہے نہیں، کون مقدمے لڑتا اور ویسے بھی میں نے اسے معاف کر دیا تھا۔

بہزاد: اس نے مانا کہ اس نے زہر دیا تھا؟

مناہل: ماننا کیوں نہیں تھا۔

بہزاد: تفصیل بتاؤ!

مناہل: دونوں کے مرنے کی اطلاع جب ملی، وہ بھابھی اور میں دونوں گھر تھے۔ اس سے پہلے تک ہم نے بھابھی سے نہیں پوچھا تھا کیا معاملہ ہے۔ نہ میں نے سوال کیا نہ اس نے مجھے بتایا۔ جب دونوں کی اطلاع ملی وہ خود لڑکھڑا گئی۔ پاپا اور بھیا آدھے گھنٹے کے اندر اندرختم ہو گئے تھے۔ خیر میں پہلے بے ہوش ہوئی اور پھر سکتے میں چلی گئی۔ اس نے مجھے اٹھایا، اٹھا کے اپنی داستان سنانے لگی۔ بتایا وہ ایک لڑکے کو پسند کرتی تھی۔ وہ عمر میں اس سے چھوٹا تھا۔ گھر والے نہیں مانے۔ گھر والوں نے زبردستی ہماری شادیاں الگ الگ جگہ کر دیں۔ بس اتنے سے وقت میں ڈیڈ باڈیز گھر آ گئیں۔ کہرام مچ گیا تھا۔ وہ گھر آتے گئے، اس لڑکی نے سب کے سامنے بول دیا کہ میں مجرم ہوں۔ میں نے یہ زہر دیا ہے، سب کچھ۔ ایک دفعہ دل کیا وہ ہی زہر اس لڑکی کو دے دوں۔ لیکن میرے دل سے آواز آئی، معاف کر دینے میں ہی بڑائی ہے۔ اللہ ہدایت دے، جیسے اللہ کی رضا۔ اتنے تک پولیس لے گئی تھی اسے۔ میں نے مما کے ذرا ہوش میں آنے کا انتظار کیا۔ دو دن بعد میں نے مما سے کہا کہ مما معاف کر دیں؟ مجھے تمانچہ پڑا کہ یہ میں نے کیا کہا۔ سب میری طرف دیکھنے لگے۔ سب کا بس نہیں چل رہا تھا کہ مجھے موت کے گھاٹ اتار دیں۔ مما کا ہاتھ پکڑا اور پولیس اسٹیشن چلی گئی۔ دو دن بعد کی بات ہے۔ مما سمجھ گئی تھیں۔ میں نے مما کو بتایا مما وہ لڑکی ہے، نہیں کاٹ سکے گی اذیت۔ مما دنیا والے ہی اسے کافی ہو جائیں گے۔ خیر میں نے وہاں جا کے اس کی بیل کروا دی۔ مما اور میں ہی ان دونوں کے وارث تھے۔ لہذا ہم نے معاف کر دیا۔ وہیں میں بخار سے گری اور بے ہوش ہو گئی۔ تین دن بعد ہوش آیا، تب دماغی توازن بگڑ گیا تھا۔ کچھ عرصے چاچو کے رہی۔ ایک دن ان کو بات کرتے سنا کہ ہاں خورشید کے وہ کاغذات بھی لے آؤ۔ کسی سے فون پہ بات کر رہے تھے۔ تب تھوڑی سی عقل آئی۔ میں نے شیشہ دیکھا، سنوارا، سوال شروع کیے، ان سب کے منہ کھلنا شروع ہوئے۔ دو مہینے جو رکھا تھا اس کا حساب مانگنے لگے۔ مما کی بیماری، میری بیماری کا خرچہ جھیلا ہے۔ انہوں نے تب ہی سب رشتے داروں کو بلایا اور میرے متعلق جتنا بول سکتے تھے بولے۔ میں نے مما کا ہاتھ پکڑا اور وہاں سے نکل آئی۔ ایک روپیہ بھی پاس نہیں تھا کہاں جانا تھا نہیں پتہ تھا۔ چاچو اور پاپا تب ایک ہی گھر میں تھے ہم۔ مطلب کھانا الگ تھا، لیکن گھر ایک تھا۔

بہزاد: ہاں پھر؟

مناہل: امی اور میں ایک پارک میں جا کے بیٹھ گئے۔ ایسے ہی زمین پہ دونوں۔ میں نے امی کی گود میں سر رکھا۔ پتہ ہی نہیں چلا کہ سو گئی۔ تقریباً پانچ بجے آنکھ کھلی تو ہوش آیا کہ ہم پارک میں ہیں۔ امی ہچکیاں سبکیاں لے کے رو رہی تھیں۔ ایک دوست کو کال کی، پی سی او سے۔ اس کے گھر ایک گھنٹے کے ارادے سے گئے تھے۔ انکل نے کافی مدد کی۔ گھر ہمیں کرائے پہ لے دیا اور اتنی رعایت مل گئی کہ میں ایک مہینے میں پیسے ادا کر دوں۔ ان تین چار دنوں میں کھانا ماہ نور کے گھر سے آتا تھا۔ دو بستر اور دو تکیے ہمیں مل گئے تھے اور یہ بھی ناگوار گزر رہے تھے۔ ہائے میرے باپ کا کریڈٹ کارڈ ہر وقت میرے ہاتھ میں ہوتا تھا۔ آج میں لوگوں کے دیے ہوئے بستر پہ ہوں۔ اگلی صبح میں اٹھی۔۔ ۔ سن رہے ہو؟

بہزاد: ہاں تھک گئی ہو؟ بریک لینی ہے؟

سارے سپیرے ویرانوں میں گھوم رہے ہیں بین لیے، آبادی میں رہنے والے سانپ بڑے زہریلے تھے۔

مناہل: نہیں، بوجھ ہے دل پہ، مدتوں بعد قصہ کھولا ہے۔

بہزاد: بولتی رہو!

مناہل: بور تو نہیں ہو رہے؟

بہزاد: میری فکر نہ کرو۔ جاری رکھو!

مناہل: خیر، مما کو ساتھ نہیں لیا، وہ بخار میں تھیں۔ ماہ نور کے حوالے کیا اور نکل آئی۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ پڑھائی، ہنر کچھ بھی تو نہ تھا میرے پاس۔

بہزاد: پھر؟

مناہل: بازار گئی، وہاں ڈھونڈنا شروع ہوئی کہ کوئی لیڈیز شاپ مل جائے۔ سرگودھا کا بازار بھی اتنا بڑا ہے کہ سمجھ ہی نہیں آتی کہ کب کہاں ہیں۔ ایک ہوٹل سا نظر آیا میں نے جا کے پوچھا انکل کام والی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حیران ہو کر دیکھا۔ کہتے بیٹا کیا ہوا؟ میں نے بولا انکل باپ چلا گیا سر سے۔ خیر میں چادر میں لپٹی ہوئی تھی۔ جب دیکھا کہ ہوس ہے ادھر تو جان بچا کے بھاگ نکلی۔ پہلا دن ضائع ہوا۔ رو دھو کے پھر گھر چلی گئی۔ اتنی عقل بھی تو نہیں تھی کہ کچھ خواتین کا کاروبار بھی ہو گا، بوتیک وغیرہ، کچھ ایسا ڈھونڈوں۔

[مناہل آنسوؤں والے سٹکر بھیجتی ہے]

بہزاد: بولتی رہو۔۔ ۔ آنسوؤں کی پروا مت کرو۔

مناہل: دوسرے روز پھر نکل آئی۔ راستے میں وہ سب نظر آیا جو ایک ہی روز میں ہزاروں کے حساب سے ابا جی کے ساتھ لے کے جاتی تھی۔

بہزاد: ہممم

مناہل: راستے میں ایک بوتیک نظر آئی۔ بولنے کا ہنر تو بچپن سے رکھتی تھی۔ بول بول کے ان کے مالکوں کو منا لیا کہ میں کپڑے استری کر کے دیا کروں گی۔ نوے روپے روز کے جتنے مرضی کپڑے۔

بہزاد: اچھا۔۔ ۔

مناہل: عقل نے ساتھ دیا اور ایڈوانس نو سو روپے لے لیے۔ اب میں اس بوتیک پہ روزانہ کپڑوں کو سیٹ کرتی تھی۔ جن کو استری کی ضرورت ہوتی وہ کرتی۔ اب نو سو روپے ملے تو میں نے سوچا ایسا کرتی ہوں وہاں جتنے ور کرز ہیں ان بوتیک والوں کے لئے کچھ کھانا بنا لیتی ہوں۔ باہر سے جو خریدتے ہیں تمہارا فائدہ ہو جائے گا۔ ماہ نور کے گھر گئی، پکوڑوں وغیرہ کا سامان لیا۔ پہلی دفعہ باپ کی لاڈلی نے چولہا جلایا۔ ہاتھ جل گیا پہلے روز ہی، بہت برے طریقے سے۔ لیکن میں نے پکوڑے بنائے، ساتھ کچھ نان لیے اور اگلے روز بوتیک پہ اس سازو سامان کے ساتھ پہنچی۔ مذاق مذاق میں، ہنستے ہنساتے۔ وہ میں نے سامان تین سو کا جو لیا تھا تقریباً پانچ سو میں بیچ دیا۔ روٹین بن گئی، دوسو روپیہ روز کا، ستائیس سو مہینے کا الگ کمانے لگی۔ آٹھ ہزار سات سو کی ماہانہ آمدن ہو گئی۔ ایسے دن بدن، کرتے کرتے کرتے میں ہر مہینے گھر کا کچھ نہ کچھ لینے لگی۔ آج الحمد للہ کیا نہیں ہے میرے پاس۔

بہت برے ہوتے ہیں مرد۔ بہت دفعہ ہوس کا نشانہ بنتے بنتے رہ گئی۔ میرے ساتھ ماں کی دعائیں نہ ہوتیں تو مری ہوئی ہوتی یا طوائف ہوتی۔

خیر ایک سال تقریباً میں وہاں رہی بوتیک پر۔ پھر گھر رہ کے کام کا سوچنا شروع کیا۔ اس دوران کھانے بنانے سیکھ گئی تھی۔ بوتیک چھوڑ دی، لنچ بنانے شروع کیے اور پرائیویٹ تعلیم شروع کر دی، اوپن یونیورسٹی سے۔ گرتے پڑتے اوکھے سوکھے، جیسے تیسے کر کے بی اے کر لیا۔ چھوٹے بچوں کو گھر میں پڑھانا شروع کیا، ساتھ میں لنچ باکسزتیار کئے۔ ساتھ میں جب ضرورت پڑتی تھی بوتیک والوں کو تو وہ کپڑے سیٹ کروانے گھر ہی بھیج دیتے تھے اور اس سے بھی کمائی ہوتی تھی۔ یوں پائی پائی جوڑ کے، ایک کمرہ، ایک باتھ، ایک صحن نما برآمدہ، چھت اور ایک ٹی وی لاؤنج نما گھر خریدا پچھلے سال۔

بہزاد: کتنے کا؟

مناہل: ۹ لاکھ کا۔

بہزاد: واہ

مناہل: جب لیا تھا تب خستہ حال تھا، بہت زیادہ خستہ۔ میں نے صرف یہ سوچ کے لیا کہ جب اللہ دے گا بنواتی رہوں گی۔ اب ماشاء اللہ اس قابل ہے کہ کسی مہمان کو بٹھا سکوں۔

بہزاد: کتنی جگہ ہے؟

مناہل: ہممم۔۔ ۔ سوا دو مرلے۔ جب ہم اس گھر میں آئے تھے تب یوں لگتا تھا اگلی آندھی آئی تو گِر جائے گا۔ جان، دیکھو، مناہل باجوہ ہوں ہمت نہیں ہاری۔

Behzad: You are the real hero. I am so proud of you.

مناہل: بل جمع کروانا، آٹا لینا، سامان لینا، مردوں کی نظریں جھیلنا، مزدوروں سے نپٹنا، ہائے۔ بہت مشکل وقت تھا۔

بہزاد: میں سمجھ سکتا ہوں۔

مناہل: کوئی سر پہ ہاتھ رکھنے والا بھی نہیں تھا۔ ہائے میں تو معصوم تھی نا؟ بہزاد!

قسم سے چچا جان کے سب الزام جھوٹے تھے۔

بہزاد: جیو میری جان!

مناہل: وہ جھوٹ بولتے تھے چچا [رونے والے بہت سے ایموجی بھیجتی ہے]

بہزاد: کیا کہوں، رو لو۔ آج دل کھول کر رو لو۔ بوجھ اتار دو۔ تمہیں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں۔ تم خود اس دنیا سے نمٹ سکتی ہو۔

مناہل: ایک دفعہ میں بل جمع کروانے گئی۔ تین لڑکے تھے۔ ایک نے بولا اندر سے جمع ہو گا۔ انہوں نے پکڑ لیا۔ [رونے والے ایموجی]۔ اتنے میں مالک آ گیا دکان کا۔ [بہت سے آنسوؤں والے سٹکر]

اب جا کے میں نے دو سال سے خود کو مینٹین کیا ہے۔ ورنہ جب پاپا حیات تھے تب گئی تھی کالج کچھ دن۔ مگر پھر یہ سب۔۔ ۔

بہزاد: مالک آ گیا تو اس نے بچایا؟

مناہل: ہاں اسے دیکھتے ہی وہ لوگ تیر کی طرح ہوئے تھے۔

بہزاد: ہوں!

مناہل: بول میری جان، شادی کر سکتی کسی مرد سے؟ بولو جان، بھروسے کے قابل ہے یہاں کوئی؟ سوچو کہ میں گھر سے باہر کے کام کے لئے کتنی مرتبہ سوچ کے جاتی ہوں۔ اب تو جب میں باہر جاتی ہوں تو پاس چاقو بھی ہوتا ہے اور پتھر بھی، پرس میں بھرے ہوئے۔ جان۔ میری جوانی گزری، بہت طلب ہوتی تھی راجکماروں کی۔ جوان جہان تھی، بہت حسرت ہوتی تھی، گزر گیا سب وقت۔ سب گزر گیا۔ چھوڑ آئی۔ اب پتھر ہوں۔

اب آپ کے بولنے کی باری ہے!

بہزاد: میرے پاس الفاظ نہیں۔ میں تو تمہیں تسلی بھی نہیں دے سکتا۔ نصیحتیں کرنا میری عادت نہیں۔

مناہل: اچھے بھلے میں ہنس رہی ہوں اور تو منہ لٹکائے ہے!

بہزاد: مجھے اپنے مرد ہونے پر شرمندگی ہو رہی ہے۔

مناہل: جینڈر چینج کروا لو۔

بہزاد: مذاق اڑا سکتی ہو۔

مناہل: چل نا جان بس۔ تم مجھے سینے سے لگا کے شاباش دو گے تو میں برا نہیں مانوں گی۔ پکا [بہت سے رونے والے اسٹکر بھیجتی ہے]، فینٹسی ہے۔

بہزاد: اب تم مجھے سینے سے لگا کر تھپکی دو۔

مناہل: پریشان نہ ہونا۔ اپنے بال پکڑ کے خود ہی خود کو لوریاں سنا کے سوتی ہوں۔

بہزاد: نہیں اب پریشان نہیں۔ خوش ہوں۔ تمہاری ہمت اور بہادری پر خوش ہوں۔ تمہارے حوصلے پر حیران ہوں۔

مناہل: سکون کی سانس بہت برسوں بعد آئی ہے۔ کسی دوست کو پاس پایا۔ خدا تمہیں میرے حق میں مخلص رکھے، آمین۔ اب سو جاؤ۔ پک گئے ہوں گے میری کہانیوں سے۔

بہزاد: اگرچہ میں تمہارے بارے میں سوچتا رہوں گا۔ لیکن اب کل شام کو بات کریں گے۔ کل مجھے بہت سا کام کرنا ہے۔ ڈیڈ لائن ہے۔ دعا کرو ٹھیک ہو جائے۔ مجھے بھی خود کو سنبھالنا ہو گا۔ تبھی ہو گا۔

مناہل: ہممم۔۔ ۔

بہزاد: لیکن تم سے حوصلہ ملا ہے۔ شکریہ دوست۔۔ ۔ بہت بہت شکریہ!

مناہل: اچھے سے کام کرنا ورنہ میں خفا ہو جاؤں گی۔ کوئی ضرورت نہیں سوچنے کی۔ سو جاؤ۔

بہزاد: ہاں، بس نیند پوری ہو جائے۔

مناہل: شب بخیر فی امان اللہ، اچھے سے کرو پوری نیند۔

بہزاد: شب بخیر

مناہل: وقت بتا دو۔ پتا نہیں چل رہا میرے موبائل سے۔

بہزاد: اس وقت ڈھائی بجے ہیں رات کے۔

مناہل: او کے

بہزاد: تم بھی سو جاؤ۔ اچھے سپنے دیکھنا۔ برا وقت گزر گیا ہے۔

مناہل: بائے، خیال رکھنا۔

بہزاد: بائے

مناہل: لو یو، دوستی والا۔

بہزاد: ہاہاہاہاہاہا۔۔ ۔ دوستی والا۔۔ ۔ واللہ بچی ہو ابھی بھی۔

مناہل: بائےے ےے ےے ےے۔۔ ۔

بہزاد: اب سو بھی جاؤ۔ ویسے بھی مجھے لو یو کہہ دو گی تو کھا نہیں جاؤں گا۔ چلی گئی، ایک پیار والا سٹکر ہی ڈال دو، جاتے جاتے؟ اچھا جی، ٹھیک ہے۔ تمہیں ڈر ہے کہیں میں سچی ہی نہ عاشق ہو جاؤں۔ ہے نا؟ او کے گڈ نائٹ!

نوحہ گرانِ شامِ غم، تم نے سنا نہیں مگر؛ کیسا عجیب درد تھا، تیز ہوا کے شور میں (سلیم احمد)

 

مکمل کتاب ڈاؤن لوڈ کر کے پڑھیں

٭٭٭

تشکر: عامر صدیقی جن کے توسط سے فائل حاصل ہوئی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

 

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل