FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

 

ایک شریف آدمی

اور دوسرے افسانے

 

 

 

 

                   اقبال انصاری

جمع و ترتیب: اعجاز عبید

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ایک شریف آدمی

 

 

 

’’میں تو  آپ کو بڑا شریف آدمی سمجھتی تھی پروفیسر صاحب!‘‘  نوشابہ نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔ اس کے بھرے بھرے متناسب جسم پر آسمانی رنگ کا شلوار سوٹ تھا جس نے اس کی شخصیت کو مزید جاذب نظر کر دیا تھا۔ سیاہ بال بڑے سلیقے سے شانوں پر ڈھلکے ہوئے تھے۔ تمتمایا ہوا خوب صورت چہرہ طیش ہی طیش تھا۔

پروفیسر مرتضی نے چونک کر اخبار سے نگاہیں ہٹا کر  نوشابہ کے چہرے پر ڈالیں  اور بولے : ’’ کیا ۔۔ کیا کہا تم نے ؟‘‘

’’میں نے کہا  کہ میں آپ کو بڑا شریف آدمی سمجھتی تھی پروفیسر صاحب۔‘‘  نوشابہ چبھتے ہوئے لہجے میں صرف اتنا ہی کہہ سکی۔

پروفیسر مرتضی کے چہرے پر تعجب کے تاثرات ابھر آئے۔ انھوں نے اپنے سامنے پڑی ہوئی کرسی کی طرف اشارہ کیا  اور کہا: ’’بیٹھ جاؤ۔۔ اور پہلے یہ بتاؤ کہ میں  ’’پاپا‘‘  سے  ’’پروفیسر صاحب‘‘  کیوں ہو گیا،  اور پھر اپنے داخلی جملے کی تشریح کرو۔‘‘

نوشابہ نے ایک لمحہ پروفیسر صاحب کو اپنی جلتی نگاہوں سے دیکھا، پھر آگے بڑھ کر بڑے جارحانہ انداز میں اس کرسی پر بیٹھ گئی جس کی طرف پروفیسر مرتضی نے اشارہ کیا تھا،  اور تلخ لہجے  اور تیز آواز میں بولی: ’’آپ  ’’پاپا‘‘  سے  ’’پروفیسر صاحب‘‘  اس لیے ہو گئے کہ  ’’پاپا‘‘  ایک بڑا خوبصورت، بہت پیارا  اور پاکیزہ لفظ ہے جو کسی غیر لڑکی کی زبان سے ادا ہونے کے بعد  اور زیادہ خوبصورت،  اور زیادہ پیارا،  اور زیادہ پاکیزہ ہو جاتا ہے ۔۔   اور آپ پروفیسر صاحب اس پیارے  اور پاکیزہ لفظ سے مخاطب کئے جانے کے اہل نہیں ہیں۔‘‘

’’صبح تک تو تھا‘‘  پروفیسر صاحب دھیرے سے بولے۔ ان کے کلین شیوڈ سنجیدہ چہرے ، عینک کے پیچھے کچھ سکڑی ہوئی سی پلکوں  اور ذہانت چھلکاتی آنکھوں سے لگ رہا تھا جیسے وہ حالات کو سمجھنے کی بہت تیزی رفتار، ذہنی کوشش میں مصروف ہوں۔

’’ہاں صبح تک تھے ‘‘  نوشابہ کی بڑی بڑی کچھ بھوری سی آنکھوں میں اشتعال کے ساتھ نفرت بھی بڑی واضح تھی ’’لیکن صبح گزر گئی پروفیسر صاحب۔ اب تو ہر طرف بڑی تیز  اور جھلسا دینے والی دوپہر پھیل گئی ہے ،  اور اسی دوپہر نے میری آنکھوں پر پڑا آپ کی شرافت کا پردہ تار تار کر دیا ہے۔‘‘

پروفیسر مرتضی نے کہا تو کچھ نہیں لیکن ان کا چہرہ، نوشابہ کے تمتمائے ہوئے چہرے پر مرکوز ان کی نگاہ، ان کی کشادہ پیشانی پر ابھری ہوئی شکنیں ، ان کے نیم وا خشک سے لب۔۔  ہر شئے مجسم استفسار نظر آ رہی تھی۔ چند لمحے انھوں نے نوشابہ کے کچھ  اور بولنے کا انتظار کیا، پھر بڑے پرسکون لہجے میں بولے  ’’بالکل سیدھے سادے الفاظ میں بتاؤ کہ میری شرافت کو کیا ہو گیا ہے۔‘‘

’’کہا نہ، تار تار ہو گئی ہے ‘‘  نوشابہ کی آواز میں طیش، طنز، تنفر۔۔ سبھی کچھ تھا۔ ’’دھجیاں بکھر گئی ہیں آپ کی شرافت کی۔ آپ کو معلوم تھا کہ آپ کے لائق و فائق فرزند منصور صاحب ایک  سزا یافتہ مجرم ہیں ،  اور مجرم بھی دفعہ ۳۰۷ کے ۔۔ ارادہ قتل۔۔ سات سال کی سزا کاٹ چکے ہیں ۔۔  سزا کاٹ کر جب جیل سے تشریف لائے تو آپ نے انھیں بھوپال سے ہٹا لیا، یہاں گوالیار میں موٹر سائیکل کی ایجنسی کھلوا دی،  اور منصور مرتضی صاحب شریف بھی ہو گئے  اور بزنس مین بھی۔ میں جب لکچرر کی حیثیت سے مہارانی کالج میں آئی تو آپ نے مجھے دیکھا، پھر آپ کے ایما پر منصور نے مجھے دیکھا،  اور دیکھتے ہی مجھ پر اس درجہ فریفتہ ہوئے کہ مجھ سے شادی کرنے کی ٹھان لی۔ آپ اپنے لائق بیٹے کا رشتہ لے کر میرے گھر گئے ، میرے والد کو شیشے میں اتار لیا،  اور کچھ عرصے کے بعد میں آپ کے گھر آ گئی۔۔ آپ کو ’’پاپا‘‘  کہنے لگی۔۔  وہ تو آج مجھے معلوم ہوا کہ منصور صاحب اپنے پرانے شہر بھوپال میں سات سال کی قید کاٹ چکے ہیں ۔۔ ‘‘

پروفیسر مرتضی بڑے سکون سے نوشابہ کی باتیں سن رہے تھے۔ ان کے سرخ و سپید چہرے پر گھبراہٹ، پریشانی، تشویش، شرمندگی۔۔  کچھ بھی نہیں تھا۔ ان کی نگاہ نوشابہ کے چہرے پرتھی۔ ایک لمحے کی خاموشی کے بعد نوشابہ نے پھر کہنا شروع کیا ’’آپ نے اپنے بیٹے کے جرم، مجرمانہ کارکردگی، سزا۔۔  کسی بات کی کوئی ہوا نہیں دی۔۔  جان بوجھ کر آپ ہر بات کو چھپا گئے ۔۔  ظاہر ہے کہ نہ چھپاتے تو ایک کالج لکچر ر آپ کونہ ملتی۔۔  آج تو یہاں صرف مجھے علم ہوا ہے ۔۔  کل کو ممکن ہے سارے گوالیار کو علم ہو جائے کہ مہارانی کالج کی لکچرر نوشابہ خان ایک سزا یافتہ مجرم کی بیوی ہے۔ آپ نے ۔۔ ‘‘ دم بہ دم بڑھتے ہوئے اشتعال نے نوشابہ کا تنفس اتنا تیز کر دیا کہ وہ جملہ بھی پورا نہ کر سکی۔

پروفیسر مرتضی نے اخبار نزدیک پڑی چھوٹی میز پر رکھ دیا، عینک اتاری، کرتے کی جیب سے رومال نکال کر عینک کے شیشے صاف کئے ، عینک کو پھر آنکھوں پر جمایا،  اور اپنی ٹھہری ہوئی آواز اور متین لہجے میں بولے  ’’نوشابہ، تم نے ابھی  ’’پروفیسر صاحب‘‘  کہہ کر مجھے مخاطب کیا ہے ، اس لیے پہلی بار ’’بیٹی‘‘  کہہ کر تمہیں مخاطب نہیں کر رہا ہوں کہ میرے منھ سے  ’’بیٹی‘‘  سن کر کہیں تم  اور نہ بھڑک جاؤ۔۔  ابھی کچھ تہذیب کے ساتھ تو بول رہی ہو، کہیں اتنی مشتعل نہ ہو جاؤ کہ تہذیب ہی کھو بیٹھو۔ اشتعال کی آگ تہذیب کو آن کی آن میں جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ خیر!۔ دیکھو، میں کسی فلاسفر، کسی رشی، کسی سنیاسی یا یوگی کی بات نہیں کر رہا ہوں ، اپنی بات کر رہا ہوں ۔۔  میرا تجربہ بھی یہ ہے  اور مشاہدہ بھی کہ انسانوں کی دنیا بہر حال انسانوں کی دنیا ہے ۔۔  یہ نہ فرشتوں کی بستی، نہ شیطانوں کا جہاں۔ انسانوں کی دنیا میں بہت برائی ہے ، یہ بات سچ ہے ، لیکن انسانوں کی دنیا میں اچھائی ہے ہی نہیں ، یہ بات سچ نہیں ہے ۔۔ نہ سچ ہو سکتی ہے ۔۔  اصلاح کا دری ہاں ہمیشہ کھلا رہتا ہے ، بہتری کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے۔ ہر گمراہ کو سنبھلنے کی کوشش بھی کرنی چاہئے  اور اسے اس کا موقع بھی ملنا چاہئے۔تاریخ گواہ ہے کہ اصلاح نے انسانوں کی اس زمین پر بڑے بڑے معجزے کر دکھائے ہیں۔ یہاں ایک ڈاکو بالمیکی ہو جاتا ہے ، ایک کند ذہن کالی داس ہو جاتا ہے ، ایک عمر حضرت عمر فاروق ہو جاتے ہیں۔ ایک برا کام کرنے والا ہمیشہ برے کام کاہی مرتکب ہوتا رہے گا،ایک مجرم ہمیشہ جرم ہی کرتا رہے گا، یہ ایک بڑی بے ہودی سوچ ہے۔ کلنگ کا ایک جابر و ظالم فاتح اشوک اعظم بھی بن سکتا ہے۔ میں نے کہا نہ کہ انسانوں کی بستی میں اصلاح کا در کھلا ہے ، کھلا رہنا بھی چاہئے۔‘‘

نوشابہ نے کچھ کہنا چاہا، مگر پروفیسر مرتضی نے ہاتھ اٹھا کر کہا ’’میری بات سنو۔۔ ماضی کے ایک جرم کے لیے کسی کو ایک مسلسل سولی پر نہیں لٹکایا جا سکتا ، نہ ہی لٹکایا جانا چاہئے۔ انسان اگر ماضی کو لیے بیٹھا رہے گا تو حال کو بھی کھودے گا  اور مستقبل کو بھی۔ ماضی کے مشاہدات کو زندگی کا معاون تو بنا لینا چاہئے ، لیکن ماضی کو زندگی کر لینا بہت بڑی حماقت ہے ۔۔ منصور طیش میں آ کر ہوش کھو بیٹھا تھا ۔۔ سیب کاٹنے والا چاقو اٹھا کر اس نے غلیظ گالی دینے والے پر حملہ کر دیا تھا۔۔  اسے اس کی سزا بھی عدالت نے دی۔۔ اگر کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ آپ کو غلیظ گالی دے ، تو آپ کو بھی یہ حق نہیں کہ آپ گالی دینے والے کو چاقو مار دیں ۔۔ لیکن طیش میں بے ارادہ ایسا ہو جاتا ہے ۔۔ غلطی ہو جاتی ہے ۔۔  منصور سے بھی ہو گئی۔ وہ گرفتار کیا گیا، اس پر مقدمہ چلا  اور عدالت نے اسے سزا دے دی۔ اس نے سزا کاٹی، لیکن وہ بہرحال کوئی عادی مجرم نہیں تھا۔ جیل میں اچھے چال چلن کی وجہ سے اسے سزا پوری ہونے سے قبل ہی رہا کر دیا گیا۔ جیل سے نکل کراس نے ایک قاعدے کے انسان کی طرح زندہ رہنا شروع کیا  اور ایک ۔۔ معقول زندگی میں قائم ہو گیا۔ آج وہ ایک شائستہ انسان، ایک کامیاب بزنس مین، ایک محبت کرنے والا شوہر  اور اپنے دونوں بچوں کا شفیق  اور ذمے دار باپ ہے۔ اس کا جرم  اور اس جرم کی سزا اس کا ماضی ہے ، بھولا بسرا ماضی۔۔  اسے بھولا بسرا ماضی ہی رہنے دو۔ اس کے ماضی کی اس تاریکی سے اپنے  اور اس کے روشن تعلقات کو داغدار نہ کرو، ورنہ ان داغدار تعلقات کا اثر تم دونوں کے بچوں پربھی پڑے گا  اور ان کی نفسیات گڑبڑا جائے گی۔۔ تمہارا رویہ قطعی نارمل رہنا چاہئے۔‘‘

’’کیا  یہ ممکن ہے ؟‘‘  نوشابہ کا ہر انداز اب بھی جارحانہ تھا ’’اب جب کہ یہ بات مجھے معلوم ہو چکی ہے کہ منصور ایک سزا یافتہ مجرم ہیں  اور ۔۔ ‘‘

’’میں نے کہا نہ کہ ماضی کو حال میں نہ گھسیٹو۔۔ سب کی بھلائی اسی میں ہے ‘‘  پروفیسر مرتضی اب بھی مجسم متانت تھے۔

’’ہاں آپ کو یہ کہنا ہی چاہئے ۔۔ بیٹے کا معاملہ ٹھیرا‘‘  نوشابہ کے لہجے میں ناگواری بھی تھی  اور طنز بھی۔ اس نے ایک ٹھنڈی سانس لی  اور بولی ’’ٹھیک ہے ، زندگی تو کاٹنی ہی ہے ، لیکن میں یہ بات کبھی بھول نہیں سکوں گی کہ آپ نے اپنے بیٹے کی زندگی کو روشن کرنے کے لیے مجھے تاریکی میں رکھا، میری زندگی کو یوں داغدار کیا۔ میں تو آپ کو بہت نیک  اور بڑا شریف انسان سمجھتی تھی، لیکن بہرحال شرافت کاجو ملمع آپ نے اپنے اوپر چڑھا رکھا تھا  آخر آج اتر ہی گیا۔‘‘

’’میں نے اپنے اوپر شرافت کا ملمع نہیں چڑھا رکھا تھا میڈم نوشابہ‘‘ پروفیسر مرتضی کی آواز اونچی تو نہیں ہوئی، لیکن اس میں سے متانت بہرحال ختم ہو گئی۔ ’’کبھی کبھی کسی کالی حقیقت کی پردہ پوشی شرافت کا تقاضہ تو بن ہی جاتی ہے ، زندگی کی ضرورت بھی بن جاتی ہے۔ وہ سچ جو زندگیاں تباہ کر دے ہزار ہا جھوٹ سے بھی برا ہے ، اس لیے ایسا سچ کو زبان پرنہ لانا سعادت بھی ہے ، شرافت بھی۔ میں واقعی شریف آدمی ہوں۔ اگر میں نے تم سے یہ چھپایا کہ منصور ایک سزا یافتہ مجرم ہے ، تو منصور سے میں نے یہ چھپایا ہے کہ شادی سے پہلے کان پور میں تم اپنا ایک ابارشن کروا چکی ہو۔ تمہارا یہ راز ابھی پچھلے سال مجھے معلوم ہوا، لیکن میں نے اپنی زبان بند رکھی،  اور بند ہی رکھوں گا تاکہ تم زندگی کی شادابی جیتی رہو۔‘‘

٭٭٭

 

 

 

 

گلاب کی جڑ

 

 

 

’’اس کی کیا ضمانت ہے کہ جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں وہ سب صحیح ہے ؟‘‘  جنید صاحب نے سنہری کمانی کی عینک کا زاویہ اپنی چمکتی ہوئی دبنگ سی نظر آنے والی خاصی صحت مند ناک پر درست کرتے ہوئے کہا۔ ان کے پکے جامنی رنگت چہرے پر سوالیہ سنجیدگی بڑی واضح تھی۔

’’سوال یہ ہے کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اس پر آپ کوشک کیوں ہے ؟‘‘  عباد صاحب نے ہلکا سا تعجب عیاں کرتی اپنی خوش گوار مسکراہٹ کے ساتھ بڑی نرمی سے پوچھا۔

’’شک کرنا پڑتا ہے جناب‘‘ جنید صاحب کی قدرے کرخت آواز میں استقلال تھا  اور قدرے جارحانہ لہجے میں استحقاق۔ ’’آپ کی دعاسے خاصہ تجربہ حاصل ہے اس خاکسار کو۔ اپنے وسیع و عریض تجربے کی بنا پرہی کہہ رہا ہوں کہ آج کل لوگ اپنے متعلق ہر بات کو بڑھا چڑھا کر بتاتے ہیں ، صریحاً جھوٹ بولتے ہیں ، متاثر کرنے کے لیے سینک کوبانس بنا کر پیش کرتے ہیں۔‘‘

’’بھائی میں ایک ذمے دار آدمی ہوں  اور ۔۔ ‘‘

’’یہ تو آپ کہہ رہے ہیں ‘‘ جنید صاحب نے عباد صاحب کی بات کاٹی ’’برا مت مانئے ۔۔  دنیا کا کاروبار سب عیاں ہے اس ناچیز پر ۔۔ دنیا دیکھی ہے میں نے ۔۔ ایک سے ایک مکار اور دروغ باف بھرا پڑا ہے اس نامعقول دنیا میں ۔۔ حقیقت ہوتی کچھ ہے ، بتاتے کچھ ہیں ۔۔ اب میں آپ کو بتاؤں ۔۔ اسی سلسلے میں ، یعنی جس سلسلے میں آپ سے گفتگو ہوتی رہی ہے ، ایک صاحب سے گفتگو ہو رہی تھی۔ میں نے دریافت کیا ’’آپ کے بیٹے کا مشغلہ کیا ہے ؟‘‘ بولے : ’’اس کا اپنا بزنس ہے۔‘‘  میں سمجھاکچھ اکسپورٹ  وغیرہ کابزنس ہو گا۔ تحقیقات کی تو معلوم ہوا کہ کالونیوں میں شام کو ہفتہ وار لگنے والی بازاروں میں فٹ پاتھ پر دری بچھا کر انگوچھے  اور رومال بیچتا ہے ۔۔  ایک شیخ صدیقی صاحب کی جرات ملاحظہ فرمائیے ۔۔  اس نجیب الطرفین سیدزادے کی پری چہرہ بیٹی کا رشتہ مانگنے آ گئے۔ جی تو چاہا کہ جوتے مارکرگھرسے نکال دوں،  مگر پشتینی شرافت آڑے آئی، دریافت کیا کہ صاحب زادے کرتے کیا ہیں ؟‘‘ فرمایا: ’’ریونیو ڈپارٹمنٹ میں افسرہے۔‘‘  وضاحت طلب کی تو معلوم ہوا کہ تحصیل میں پٹواری ہے ۔۔ مطلب یہ کہ لوگ ہر معاملے میں جھوٹ بولتے ہیں۔ اس لیے شک کرنا پڑتا ہے۔ کسی کو برا لگتا ہے تو لگے ۔۔ میں ذرا صاف گو واقع ہوا ہوں ۔۔ منھ پھٹ۔۔  لگی لپٹی نہیں رکھتا۔ کیوں رکھوں ؟کسی کا دبیل تو ہوں نہیں۔‘‘

عباد صاحب بڑے تحمل  اور بڑی متانت سے سن رہے تھے۔

’’اور صاحب‘‘  ایک لمحے کے توقف کے بعد جنید صاحب نے سلسلہ کلام آگے بڑھایا ’’میں آپ کو بتاؤں ، پتہ نہیں جے بی ایچ ہالڈین کا نام آپ نے سنا ہے کہ نہیں ۔۔ ایک بڑا دانشور  اور مضمون نگار گزرا ہے۔ اس نے ایک معرکہ آرا مضمون لکھا ہے "Duty of Doubt”   ۔۔  یعنی تشکیک ازبس ضروری ہے۔ وہ کہتا ہے شک کو فرض بنا لو، تبھی کسی قسم کی ترقی ممکن ہے ۔۔  یہ دنیا جو آج اس شکل میں ہمارے سامنے ہے یہ شک کا نتیجہ بھی ہے ، ثمرہ بھی۔ یہ بات عام آدمی کی سمجھ میں نہیں آئے گی۔ میں آپ کو بتاتا ہوں۔ شک کرنے سے آدمی تفتیش کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے ، تفتیش کا اگلا قدم ہے تحقیق۔ تحقیق حقیقتوں کو عیاں بھی کرتی ہے  اور بہت سے نئے زاویوں کو بے نقاب بھی کرتی ہے۔ تحقیق علم کے نئے دریچے وا کرتی ہے ، نئے علوم، نئی ایجادات کی تحریک دیتے ہیں ، نئی ایجادات بنی نوع انسان کی خوش وقتی و خوش بختی میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ اس لیے شک کرنا تو بے حد ضروری ہے ۔۔  اس معاملے میں تو مجھے شک کرنے کا  اور بھی حق پہنچتا ہے کہ میں ہیرے جیسی بیٹی کا باپ ہوں۔ خوب اچھی طرح ٹھونک بجا کر دیکھنے  اور مطمئن ہونے کے بعد ہی میں اپنی بیٹی کا رشتہ طے کروں گا۔ اکلوتی اولاد ہے ۔۔ آپ نے تو دیکھا ہے اسے ۔۔  صبح دم کھلے ہوئے گلاب کے پھول کی مانند خوب صورت ہے ۔۔  انتہائی نازک طبع ۔۔ کسی ایرے غیرے سے تومیں اپنی بیش قیمت بیٹی کی شادی کرنے سے رہا۔۔ خوب دیکھ بھال کر ہی کوئی قدم اٹھاؤں گا۔۔ بہت سے لوگ منھ پھیلائے کھڑے ہیں اپنے بیٹوں سے میری بیٹی کا رشتہ کرنے کے لئے۔ کوئی اپنے کو لکھ پتی بتا رہا ہے ، کوئی خود کو کروڑ پتی گنا رہا ہے ؟کوئی اپنا سلسلۂ نسب نادر شاہ درانی سے جوڑ رہا ہے ، کوئی اپنا رشتہ احمد شاہ ابدالی سے بتا رہا ہے ، کوئی اپنے خاندان کا سکہ اچھال رہا ہے ، کوئی اپنے پردادا کا منصب ابال رہا ہے ، کوئی اپنی شیخی بگھار رہا ہے ، کوئی اپنی پٹھانی سینک رہا ہے۔ مطلب یہ کہ ایک سے ایک نامعقول  اور جھوٹا شخص کھڑا ہے اپنے نام نہاد معقول بیٹے کو لیے۔ چنانچہ ناز و نعم سے پالی اپنی اس گل رخ و گل بدن بیٹی کی شادی کسی بھی جوان سے کرنے سے قبل اگر میں اس کے ، اس کے والدین ، اس کے خاندان، اس کے ماضی، اس کے حال  اور اس کے مستقبل میں ترقی و بہبودی کے امکانات کے متعلق پوری طرح سے مطمئن ہو جانا چاہتا ہوں تو ایمان سے کہئے اس میں غلط کیا ہے ؟‘‘

’’قطعی غلط نہیں ہے ‘‘  عباد صاحب نے بڑے خلوص سے سرکوتائیدی جنبش دی ’’مکمل طورسے مطمئن ہونے کے بعد ہی ان معاملات میں پیش قدمی کرنی چاہئے۔‘‘

’’چلئے بات جلدی ہی آپ کی سمجھ میں آ گئی ، ورنہ توایسے ایسے احمقوں سے پالا پڑتا ہے کہ اب میں کیا کہوں ؟ ایک سے ایک گدھا قدم قدم پر موجود ہے ہماری قوم میں ۔۔ ذراساکچھ کہئے ، دولتی چلانے لگے ، دیر نہیں لگتی بھڑکنے میں۔ مگر مجھے کسی کے تڑکنے بھڑکنے کی نہ کبھی پروا رہی ہے ، نہ اب ہے۔ میری بیٹی کے لیے رشتوں کی کمی توہے نہیں۔ وہ ہے ہی اتنی خوش خصال و خوش جمال کہ جو دیکھتا ہے فی الفور اس کا شیدا ہو جاتا ہے  اور اسے اپنے گھرکی رونق بنانا چاہتا ہے۔ اس لیے میں آگے بڑھنے سے قبل ہراعتبارسے مطمئن ہو جانا چاہتا ہوں۔ تو کب آؤں آپ کے گھر؟‘‘

’’جب جی چاہے ‘‘  عباد صاحب کی بڑی بڑی کچھ بھوری سی آنکھوں میں بھی خلوص تھا  اور سرخ و سپید وجیہہ چہرے پربھی۔ ’’بس پہلے سے ذرا فون کر دیجئے گا تاکہ اس وقت میں گھر پہ موجود رہوں۔‘‘

’’بہتر ہے ۔۔ اور بلکہ فون کرنے کی بھی کیا ضرورت ہے ۔۔ معاملات جتنی جلد روشنی میں آ جائیں اتنا ہی اچھا ہے۔‘‘ جنید صاحب نے اپنی گول ٹوپی سرپہ رکھتے ہوئے کہا: ’’میں ریں ریں ٹیں ٹیں میں یقین نہیں رکھتا۔ جو کرنا ہے ، کر گزرو۔۔ میں کل صبح ہی آ جاتا ہوں ۔۔  وہ مکان بھی دیکھ لوں گاجسے آپ اپنا کہہ رہے ہیں ،  اور آپ لوگوں کا رہن سہن،معیار زندگی  اور سماجی حیثیت کا اندازہ بھی ہو جائے گا۔ یہ کارجس پر آپ آئے ہیں آپ ہی کی ہے یاکسی دوست وغیرہ سے وقتی طور پر عاریتاً لی ہے ؟ اکثر لوگ رعب ڈالنے کے لئے یہ بھی کرتے ہیں۔‘‘

’’جی نہیں ‘‘  عباد صاحب نے بڑے انکسار سے دھیرے سے ہنس کر کہا ’’کسی وغیرہ کی نہیں ہے ، میری اپنی ہی ہے۔‘‘

’’لاکھ ڈیڑھ لاکھ کی ہو گی‘‘ جنید صاحب نے لاپروائی سے اپنا خیال ظاہر کیا۔

’’جی نہیں ، چار لاکھ کی ہے ‘‘ عباد صاحب نے پھر بڑے انکسارکے ساتھ بتایا۔

’’کب خریدی تھی؟‘‘  جنید صاحب نے دریافت کیا،  اور شیروانی کی جیب سے رومال نکالنے لگے۔

’’چار ماہ قبل‘‘  عباد صاحب نے بتایا۔

’’نئی خریدی تھی یاسیکنڈہینڈ؟‘‘  جنید صاحب نے پوچھا تو رومال سے عینک کے شیشے صاف کرنے لگے۔

’’نئی ہی خریدی تھی‘‘ عباد صاحب کے لہجے میں اب بھی انکسارتھا۔

’’تب تو شو روم سے نکلوائی ہو گی؟‘‘  جنید صاحب نے عینک ناک پر جماتے ہوئے سوالیہ آواز میں اپنی رائے ظاہر کی۔

’’جی ہاں۔‘‘

’’پھر تو میں رسید بھی دیکھنا چاہوں گا۔‘‘  جنید صاحب نے کہا۔

’’نو پرابلم‘‘ عباد صاحب نے متانت کے ساتھ سرہلایا۔

اگلے دن صبح دس بجے جنید صاحب، عباد صاحب کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے۔ پندرہ بائی پچیس کا ڈرائنگ روم، سادگی لیکن قیمتی سامان سے آراستہ تھا۔ پورے فرش پر گہرے سبزرنگ کا قالین تھا، بالکل ماڈرن قیمتی صوفہ، ایک طرف پڑا ہوا دیوان بھی کافی قیمتی لگ رہا تھا، اس پر فوم  اور کوائر کا گدا تھا  اور ہلکے کاسنی رنگ کی بے داغ چادر اور دو گاؤ تکیے۔ دروازوں  اور بڑی بڑی کھڑکیوں پر ساٹن کے جو پردے تھے ان کی زمین بھی کاسنی تھی  اور اس پر میڈیم سائز کے ہلکے گلابی رنگ کے پھول  اور ہلکے سبزپتوں والے پرنٹ تھے۔ ایک کونے میں اونچی چمکتی کینٹ پر ٹی وی رکھا تھا، دوسرے چھوٹی میز پر کمپیوٹر۔ چھت میں درمیان میں کانچ کا قیمتی جھاڑفانوس لٹکا تھا۔ ڈرائنگ روم میں اے سی لگا تھا۔

’’جی ہاں۔‘‘ یہ مکان دراصل میں نے اپنے محکمے سے قرض لے کر بنوایا تھا۔ بیس برس تک اس کی قسطیں ادا کیں۔ رٹائرمنٹ سے دوبرس قبل ساراقرض ادا ہو گیا  اور مکان کی رجسٹری مجھے مل گئی۔‘‘  عباد صاحب نے بتایا۔

’’میں دیکھنا چاہوں گاریجسٹری‘‘ جنید صاحب نے کہا۔

’’نو پرابلم‘‘ کہہ کر عباد صاحب نے سنٹرٹیبل پر رکھے اپنے بیگ سے مکان کی ریجسٹری نکال کر جنید صاحب کو پکڑا دی۔

جنید صاحب نے عینک کا زاویہ ناک پردرست کر کے ریجسٹری کوغورسے پڑھنا شروع کیا۔ تقریباً تین منٹ تک پڑھتے رہے ، پھر ریجسٹری عباد صاحب کوواپس کر کے بولے  ’’یہ آپ نے بڑی عقلمندی کا کام کیا کہ ملازمت کے دوران ہی مکان بنوا لیا۔

’’شکریہ‘‘  عباد صاحب نے بڑی متانت کے ساتھ سپاس گزاری کا اظہار کیا  اور بولے  ’’ مکان تو بنوانا ہی تھا۔ ایک ہی بیٹا ہے ، تعلیم و تربیت کے علاوہ کچھ تو ہونا چاہئے تھا اسے دینے کے لیے ،  اور ۔۔ ‘‘

’’یہ بھی اچھا ہے کہ ایک ہی بیٹا ہے۔‘‘  جنید صاحب نے بات کاٹی ’’کل کو مکان کا کوئی  اور حصے دار نہیں کھڑا ہو گا۔۔  صاحب، جائداد اس معاملے میں بڑی واہیات ہوتی ہے ، سگے بھائیوں میں عداوت کی بنا و بنیاد بن جاتی ہے ۔۔ مگر آپ کے یہاں اس کا کوئی امکان نہیں ۔۔ وہ آپ فرما رہے تھے کہ آپ جوائنٹ سکریٹری کے عہدے سے رٹائر ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں بھی ذرا تشفی چاہوں گا۔۔ بات یہ ہے کہ رعب جھاڑنے کے لیے لوگ اکثر ان معاملات میں تو خاص طور سے دروغ گوئی سے کام لیتے ہیں۔ قانون گو اپنے کو نائب تحصیلدار بتاتا ہے ،نائب تحصیلدار خود کو ایس ڈی ایم۔‘‘

’’یہاں ایساکچھ نہیں ہے۔‘‘  عباد صاحب کے کھلے ہوئے چہرے پر متین تبسم تھا ’’میں مرکزی حکومت میں مختلف وزارتوں میں آٹھ سال تک انڈرسکریٹری، چھ سال تک ڈپٹی سکریٹری، چار سال تک ڈائریکٹر اور دوسال تک جوائنٹ سکریٹری رہا۔ اگلے پروموشن یعنی ایڈیشنل سکریٹری کے عہدے تک پہنچنے سے قبل ہی سبکدوشی کی عمر نے آ پکڑا۔ رٹائرمنٹ سے قبل میں نے اپنی سروس بک کی فوٹوکاپی کروا کے رکھ لی تھی۔۔ آج وہ کام آ گئی۔ یہ دیکھئے ‘‘ کہہ کر عباد صاحب نے اپنے بیگ سے سروس بک کی فوٹوکاپی نکال کر جنید صاحب کودی۔ جنید صاحب بڑے انہماک سے اس کا جائزہ لینے میں مصروف ہو گئے۔

تقریباً پانچ منٹ کے بعد انھوں نے کاپی عباد صاحب کوواپس کی  اور بولے  ’’ذرا بیٹے کی تاریخ پیدائش کے سلسلے میں بھی مطمئن کر دیجئے۔ بات یہ ہے کہ عام طر.یقے سے لوگ اپنی اولادوں کی عمر چھپاتے ہیں ، اسکول کے ریکارڈ میں کم کر کے لکھاتے ہیں ۔۔ کم از کم دوسال کی ڈنڈی تو ہر شخص مار ہی دیتا ہے۔‘‘

’’میرے ساتھ ایساکچھ بھی نہیں ہے ‘‘  عباد صاحب کی متانت قائم رہی۔ ’’میرا بیٹا صفدر جنگ ہاسپٹل میں پیدا ہوا تھا، وہیں سے اس کی پیدائش کاسرٹی فکٹ دیا گیا تھا۔ اس میں کسی ہیرا پھیری کا سوال ہی نہیں ۔۔ سرکاری اسپتال ہے ۔۔  یہ رہاسرٹی فکٹ۔‘‘

عباد صاحب کے ہاتھ سے سرٹی فکٹ لے کراس کا جائزہ لینے  اور جائزہ ختم کرنے کے بعد سرٹی فکٹ عباد صاحب کو واپس کرتے ہوئے جنید صاحب بولے  ’’اب ذرا صاحب زادے کی تعلیمی۔۔ ‘‘

’’یہ رہیں بیٹے کی ڈگریاں ‘‘ عباد صاحب نے ان کی بات کاٹی  اور ڈگریاں بیگ سے نکال کر جنید صاحب کو پکڑا دیں ان کا مطالعہ کرنے کے بعد جب جنید صاحب نے ڈگریاں عباد صاحب کو واپس کیں تو عباد نے انھیں ایک  اور کاغذ پکڑا کر کہا ’’یہ ہے لارسن فنانسز کا اپوائنٹ منٹ لیٹر جہاں بیٹا تین سال سے کام کر رہا ہے ،  اور یہ ہے بیٹے کی تنخواہ کا گوشوارہ جو اپریل میں کمپنی اپنے ملازمین کو دیتی ہے۔ اس میں بیٹے کی تنخواہ مع تمام الاؤنسزکے درج ہے۔ آج بیٹا سترہزار روپیہ ماہانہ تنخواہ پا رہا ہے۔ دس ہزار روپیہ ماہانہ انکم ٹیکس مجرا ہو جاتا ہے ۔۔  ساٹھ ہزار کا چک بیٹا ہر ماہ گھر لاتا ہے ۔۔  سب کچھ اس گوشوارے میں درج ہے۔‘‘

بڑی باریکی سے ان چیزوں کا جائزہ لینے کے بعد کاغذات عباد صاحب کوواپس کرتے ہوئے جنید صاحب نے کہا ’’وہ کار کے متعلق۔۔ ‘‘

’’جی جی ۔۔ ‘‘ عباد صاحب ان کا جملہ ختم ہونے سے پہلے ہی بولے  اور بیگ سے نکال کر کار کے کاغذات بھی جنید صاحب کو دیتے ہوئے کہا ’’یہ رہے کاغذات۔‘‘

کچھ دیر بعد کاغذات عباد صاحب کوواپس کرتے ہوئے جنید صاحب نے کہا ’’میں مطمئن ہو گیا۔‘‘

عباد صاحب نے کہا ’’الحمد للہ۔‘‘

اسی وقت چائے آ گئی۔ چائے نوشی کے دوران ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔

چائے کے بعد جنید صاحب نے کہا ’’تواب اصل موضوع پر آیا جائے تاکہ شادی کے سلسلے میں پیش قدمی کی جائے۔‘‘

’’قطعی پیش قدمی کی جائے ۔۔ گی‘‘ عباد صاحب  ’’جائے ‘‘  اور ’’گی‘‘  کے درمیان خاصہ وقفہ دے کر بڑے خلوص کے ساتھ بولے ۔۔  ’’مگر اس میں ابھی بھی کچھ وقت لگے گا۔۔  دراصل آپ کے مرشد و مقتدا حضرت جے بی ایچ ہالڈین کا وہ مضمون ’’ڈیوٹی آف ڈاؤٹ‘‘  میں نے بھی پڑھا ہے۔ واقعی کیسی کیسی نکتے کی باتیں نکال کر لائے ہیں موصوف !سب سے بڑے نکتے کی بات یہ ہے کہ اس مضمون نے مجھے بھی شک کرنے کی ترغیب ۔۔ نہیں ، ترغیب نہیں ۔۔ تحریک۔۔  شک کرنے کی تحریک مجھے بھی عطا کر دی ہے ، چنانچہ میرا بھی ایک شک دور کر دیجئے۔‘‘

’’ضرور ضرور‘‘  جنید صاحب نے اپنی چھتری چھتری خضاب زدہ داڑھی پر بڑے وقار سے ہاتھ پھیرا۔

عباد صاحب نے کھکھار کر صاف گلے کو مزید صاف کیا  اور بولے  ’’میں نے اس لڑکی کو دیکھا ہے جسے آپ اپنی بیٹی کہتے ہیں۔ بقول آپ کے اس کا چہرہ دیکھ کر واقعی گلاب کا پھول یاد آ جاتا ہے ، مگر آپ کے چہرے کو دیکھ کر گلاب کی جڑ یاد آتی ہے۔ اس لڑکی کو دیکھنے کے بعد آپ کو دیکھ کریا آپ کو دیکھنے کے بعد اس لڑکی کو دیکھ کر شک پیدا ہوتا ہے کہ۔۔ کہ۔۔  آپ سمجھ سکتے ہیں کیا شک پیدا ہوتا ہے ۔۔ چنانچہ کوئی ایساپختہ ثبوت پیش کر دیجئے جس سے یقین کیا جا سکے کہ وہ لڑکی آپ کی ہی بیٹی ہے ‘‘ ۔۔  ’’ہی‘‘  پر عباد صاحب نے خاصہ زور دیا تھا۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

ہلمٹ

 

 

 

رس بڑے افسوس کے ساتھ بولی:’’یار تم بالکل فضول آدمی ہو۔۔ نکمے۔ قریب قریب برباد کر دی تم اپنی زندگی۔ کچھ نہیں کیا۔‘‘

میں چونکہ اس لڑکی کے نیچر سے اچھی طرح واقف ہو چکا ہوں اس لئے اب ایک عرصے سے میں نے اس کی کسی بھی بات کا برا ماننا ترک کر دیا ہے۔لیکن اس صبح تواس نے ایک بھاری بھرکم الزام میرے سرپرگویادے مارا تھا۔

میں نے کہا:’’ثابت کرو کہ میں نے اپنی زندگی قریب قریب برباد کر دی ہے۔‘‘

بولی:’’اور کیا۔!اتنے بہت سارے ماہ وسال جی لئے اور اپنا پورا ملک نہیں دیکھا!‘‘

میں نے کہا:’’سنورس!ہمارا ملک یوپی کے کسی چھوٹے شہر کا کوئی محلہ نہیں ہے جسے آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔ بہت بڑا ہے یہ ملک!شمال سے جنوب تک تین ہزار دوسوچودہ کلومیٹر، اور مشرق سے مغرب تک دو ہزار نوسوتینتیس کلومیٹر ہے۔ اس کاکل رقبہ تینتیس لاکھ ستاسی ہزار سات سو بیاسی مربع کلومیٹر ہے۔ پورے ملک کو دیکھنے کے لئے ایک نہیں ، کئی زندگیاں درکار ہوں گی۔‘‘

’’بکواس‘‘ رس ناک سکوڑکربولی:’’چلو میں آج ہی تمہیں پورے ملک کی سیرکرالاتی ہوں۔‘‘

کچھ دیر میں خاموشی سے اس کے چہرے پر نظریں جمائے بیٹھا رہا، پھر ہونٹ بھینچ کر کھڑا ہو گیا اور بولا:’’چلو۔‘‘

وہ مجھے لے کر باہر آئی۔ اپنی موٹرسائیکل سے لٹکا ہوا ہلمٹ اتار کر اپنے سرپر رکھا اور موٹرسائیکل اسٹارٹ کر کے اپنی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ میں پیچھے بیٹھ گیا۔ اس سلسلے میں بھی میں نے احتجاج کرنا بند کر دیا ہے۔ پہلے جب بھی احتجاج کیا، لڑنے مرنے پر آمادہ ہو گئی۔۔ ’’یہ کیا واہیات ہے کہ ہمیشہ عورتیں ہی پیچھے بیٹھیں ؟ میں تم سے کم تو نہیں ہوں ۔۔ تم سے اچھی ہی ہے میری ڈرائیونگ۔ ‘‘ اس ٍ لئے اب جب بھی اس کے ساتھ کہیں جانا ہوتا ہے تومیں خاموشی سے اس کی موٹر سائیکل پر پیچھے بیٹھ جاتا ہوں ۔۔ بحث کروتو ٹیڑھی ترچھی سنو۔۔ ایک دن بولی:’’کم تومیں تم سے کسی صورت میں ہوں ہی نہیں ، زیادہ ہی ہوں ، اور ہمیشہ تم سے زیادہ رہوں گی۔‘‘۔۔ میں نے کہا تھا:’’ ثابت کرو کہ تم مجھ سے زیادہ ہو۔۔ اور ہمیشہ زیادہ رہو گی۔‘‘۔۔ بولی:’’میں وہ کھیت ہوں جس میں تم پیدا ہوئے ہو۔۔ اس لئے شٹ اپ۔ تم  نہ میری عظمت کو پہنچ سکتے ہو، نہ رفعت کو، نہ وسعت کو۔ ‘‘ میں خاموش ہو گیا تھا۔

اس دن بھی میں چپ چاپ موٹرسائیکل پر اپنی دوست کے پیچھے بیٹھ گیا۔ ڈرائیونگ اس کی واقعی اچھی تھی۔ بڑے اعتماد کے ساتھ گاڑی چلاتی تھی۔

بیس منٹ کے بعد ایک بستی کے کنارے پہنچ کر اس نے موٹر سائیکل روکی، ایک کنارے کھڑی کر کے انجن بند کر دیا۔ چابی نکال کر اپنی جینز کی جیب میں رکھی۔ ہلمٹ سرسے اتار کر موٹر سائیکل کے ہینڈل سے لٹکایا، ادھر ادھر دیکھا، چائے کی ایک دوکان پر بیٹھے ایک نوجوان کو اشارے سے بلایا۔

نوجوان جھپٹ کر آیا۔ رس نے بڑے تپاک سے اس سے ہاتھ ملایا اور بولی:’’دوست، میرا نام رس ہے۔ یہ صاحب اقبال انصاری ہیں۔ میں تو تمہاری بستی پہلے بھی دیکھ چکی ہوں ، اقبال صاحب نے نہیں دیکھی ہے۔ یہ تمہاری بستی دیکھنے آئے ہیں ۔۔ میں بھی دوبارہ دیکھ لوں گی۔ ہمیں اپنی بستی کی سیرکراؤگے ؟‘‘

’’ضرور ۔۔ آئیے ‘‘کہہ کر وہ بے روزگار سانظرآنے والا زرد چہرہ نوجوان ہمیں لے کر اپنی بستی میں داخل ہو گیا۔۔ اور درختوں ، نالیوں ، گلیوں ، دھول ، مٹی، کیچڑ، گندگی، بدبو، مندر، مسجد، ہینڈ پمپ ، بکری، مرغیاں ، کالیا غنڈے ، سانولی رنڈی، بستی کے واحد پرائمری اسکول، اس کے دو ٹیچروں میں سے ایک کا ایک دن اسکول آنا، دوسرے کادوسرے دن آنا، گالی گلوچ مار پیٹ، جوئے کے اڈے ، نا جائز شراب کی بھٹیوں ، بستی پر سپاہی جی کی حکومت، نیتا گیری۔۔ ہر چیز کے بارے میں بتاتا چلا گیا۔ پھراس نے کہا:۔۔ ’’لیکن میری بستی کی خصوصیت یہ ہے کہ اس پوری بستی میں کوئی بھی شخص بے گھر نہیں ۔۔ وہ ادھر جو لوگ ہیں وہ بستی کے گنے چنے محلوں میں رہتے ہیں۔ ان کے بعد جو لوگ ہیں وہ سب پختہ مکانوں میں رہتے ہیں ۔۔ وہ جو دوسری طرف ہیں وہ کچے اور ادھ پکے مکانوں میں رہتے ہیں۔ جن کی چھتیں گھاس پھوس کی ہیں ۔۔ ادھر پیچھے جو لوگ ہیں وہ جھگیوں میں رہتے ہیں۔‘‘

٭٭٭

 

 

 

 

زخمی

 

 

ڈاکٹر سالے کی ایسی کی تیسی‘‘ زخمی نے کچکچا کر دل ہی دل میں کہا ’’حرامی کہتا ہے یہ پولس کیس ہے۔۔  پہلے رپورٹ درج کی جائے گی، پھر جَکھَم کا علاج ہو گا۔۔  پولس والا چائے پینے گیا ہوا ہے۔۔  ایک گھنٹے سے جیادہ کا بکھَٹ(وقت) گُجر چکا ہے۔۔  اگر تھوڑی دیر یہ کھون اسی طرح اور بہتا رہا تو میرا تو ہو گیا کام!‘‘

اس کے سر سے بہت تیزی سے تو نہیں، لیکن بہہ رہا تھا خون۔ شاید اس کے سر پر آنے والا زخم کاری نہیں تھا۔ وہ ایک بنچ پر بیٹھا ہوا تھا، اس کی آنکھیں بند تھیں، چہرہ زرد ہو گیا تھا، یا شاید مزید زرد ہو گیا تھا۔

’’بھلا بتاؤ۔۔  مجھ جیسے گریب آدمی کو بھی لوگ لوٹنے لگے! بڑی مسکل سے تو تیس روپیے کمائے تھے۔۔  بچے بہت بھوکے تھے۔۔  ان کی روٹی کے لیے آٹا کھریدنے جا رہا تھا۔۔  سنسان گلی میں پہلے سر پہ ڈنڈے سے وار کیا، پھر جیب سے تیس روپیے نکال کر گائب ہو گئے۔ دس دس روپیے آئے ہوں گے ان تینوں کے حصے میں۔۔  دس روپیے میں تو آج کل ایک کلو آلو یا ایک کلو آٹا بھی نہیں ملتا۔۔  سولہ روپیے کلو بک رہے ہیں آلو، اور سولہ ہی روپیے کلو بک رہا ہے آٹا۔۔  کیا کیا ہو گا یا کیا کر رہے ہوں گے وہ تینوں دس دس روپیوں میں؟ انسان کو ہو کیا گیا ہے؟ کوئی اگر کہیں بھوکے بچوں کے باپ کا سر دس روپیوں کے لیے پھاڑ دیتا ہے تو کہیں کوئی ڈاکٹر کسی پھٹے ہوئے سر کی مرہم پٹی کا پرچہ بنانے سے اس لیے انکار کر دیتا ہے کہ فوجداری کے معاملے میں علاج سے پہلے رپورٹ جَروری ہے؛ رپورٹ لکھے جانے سے پہلے جکھمی مرتا ہے تو مر جائے۔۔  کیوں پھڑوایا تھا سر؟ سر پہ آنے والے جَکھَم کی مرہم پٹی تو تبھی ہو گی جب پولس کانسٹیبل رپورٹ درج کر لے گا۔۔  اور کانسٹیبل کہیں بیٹھا چائے پی رہا ہے، جب آئے گا تب رپورٹ لکھی جائے گی۔۔  کانسٹیبل کی چائے کے آگے تمہاری جندگی کا کوئی مول نہیں، کوئی ارتھ نہیں۔۔  مرنا ہے تو مرو۔۔  کھون بہتا ہے تو بہے، گھاؤ میں درد ہوتا ہے تو ہو۔۔  آدمی کتنا جانور ہو گیا ہے! جانور بھی، گدھ بھی۔۔  ایک ہی سمئے میں آدم کھور بھی، مردہ کھور بھی!‘‘

’’ارے تم۔۔  اندر آنے کا۔۔  کھون بہوت نکل رہا ہے۔۔  میں پٹی تو نہیں کرسکتی، پر ایک مرہم لگا دے گی۔۔  کھون نکلنا بند ہو جائے گا۔۔  پٹی تو جب رپورٹ لیکھ لیا جائے گا اور ڈاکٹر پرچہ بنا دے گا، تب ہو گا۔‘‘

’’زخمی نے سر اٹھا کر دیکھا؛ دُبلی پتلی، سانولی سی، معمولی صورت شکل والی ایک کیرالی نرس اس کے سامنے کھڑی تھی اور کوشش کر رہی تھی کہ اس کے چہرے سے کسی بھی قسم کے، یعنی رحم، ترس یا ہمدردی کے جذبات عیاں نہ ہونے پائیں۔ زخمی اٹھ کر چپ چاپ نرس کے ساتھ ڈریسنگ روم میں آ گیا۔ ’’کچھ بھی ہو، دنیا ابھی انسانوں سے کھالی نہیں ہوئی ہے۔۔  یہ لڑکی کتنی انسان ہے!‘‘ اس نے سوچا اور نرس کا اشارہ پا کر اسٹول پر بیٹھ گیا۔ نرس نے روئی میں اسپرٹ لے کر زخمی کے سر کا زخم صاف کیا اور ایک مرہم لگا دیا۔ خون بہنا بند ہو گیا۔

زخمی نے بڑی ممنونیت کے ساتھ ’’سکریہ‘‘ کہا، اس کا نام پوچھا، سرجھکا کر کمرے سے باہر آ کر پھر بنچ پر بیٹھ گیا اور اس مہربان نرس کے بارے میں سوچنے لگا۔ نرس کا نام گریسی گلکرسٹ تھا۔

ایک گھنٹے کے بعد کانسٹیبل چائے پی کر واپس آیا اور اپنی کرسی پر بیٹھتے بیٹھتے اس کی نظر زخمی پر پڑی؛ فی الفور اس کا موڈ خراب ہو گیا۔ پھٹے سر کا مطلب ہے پولس کیس۔

اس نے زخمی سے پوچھا ’’یہ کیا ہے اور کیوں ہے؟‘‘

زخمی نے بتایا اور کانسٹیبل کا موڈ مزید خراب ہو گیا۔ اب رپورٹ لکھنا پڑے گی! وہ غرّایا ’’ابے تو اس گلی میں گیا ہی کیوں جو سنسان تھی؟‘‘

’’اب مجھے کیا پتہ تھا کہ اس گلی میں میرا سر پھاڑ دیا جائے گا اور تیس روپیے لوٹ لیے جائیں گے حُجور؟‘‘ زخمی بظاہر بڑی بے چارگی سے بولا۔

’’ہاں اور کیا! تو اتنا ہی تو بھولا ہے کہ تجھے یہ بھی پتہ نہیں کہ سنسان گلی میں لوگ لٹ جاتے ہیں۔ سالے، کھُد پہلے لُٹو، پھر سر پھڑوا کر اسپتال آ جاؤ، یہاں کانسٹیبل تو تمہارے باپ کا نوکر بیٹھا ہی ہے تمہاری رپورٹ لکھنے کے لیے۔ نام بول۔‘‘ کانسٹیبل اپنے پورے رنگ میں تھا۔

رپورٹ لکھے جانے کے بعد ڈاکٹر نے پرچہ بنایا اور پرچہ لے کر زخمی ایک بار پھر ڈریسنگ روم میں گیا، تاکہ باقاعدہ مرہم پٹی کروا سکے۔

گریسی گلکرسٹ کی ڈیوٹی شاید ختم ہو گئی تھی۔ دوسری نرس ڈیوٹی پر تھی۔

دوسرے دن زخمی اپنی پٹی بدلوانے پھر ہسپتال پہنچا اور تب اسے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر کے حکم اور نسخے کے بغیر ایک زخمی کے زخم پر مرہم لگانے کے جرم میں گریسی گلکرسٹ کو معطل کر دیا گیا تھا۔ زخمی سوچنے لگا ’’یہ سب تو بہت برا ہوا تھا۔۔  برا یہ نہیں ہوا تھا کہ گریسی گلکرسٹ کو معطل کر دیا گیا تھا۔۔  وہ تو بحال ہو ہی جائے گی؛ نوکری سے نکال بھی دی گئی تو کہیں کسی پرائیویٹ اسپتال یا کسی نرسنگ ہوم میں پھر مُلاجمت مل جائے گی۔ برا تو یہ ہوا تھا کہ ایک مہربان کو مہربانی کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ اب کیا وہ کبھی رپورٹ لکھے جانے اور ڈاکٹر کے پرچہ بنانے سے پہلے کسی جکھمی کے گھاؤ پر مرہم لگائے گی؟ انسان کے انسانیت کرنے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔۔  سالے حرامی!‘‘

٭٭٭

 

کمبل

 

 

 

کنو بابا بینک آف انڈیا کے چھجے کے نیچے دو فٹ اونچے چبوترے پر بائیں کنارے اسی جگہ بیٹھا تھا جوا س نے ایک عرصے سے اپنے لیے مخصوص کر رکھی تھی۔ چھجا عمارت کی چھت کا ایک حصہ تھا جو سامنے کی دیوار سے تقریباً پانچ فٹ آگے کو نکلا ہوا تھا اور بینک میں داخل ہونے والوں کو دھوپ اور بارش سے محفوظ رکھتا تھا۔ برسات کے دنوں میں وہ راہگیر اس چھجے کے نیچے اس وقت پناہ لے لیتے تھے، جب وہ بینک کے سامنے سے گزر رہے ہوتے تھے اور اچانک بارش شروع ہو جاتی تھی۔ پتہ نہیں عمارت کے مالک نے یہ چھجا عمارت کی سامنے کی دیوار اور بڑے سے اونچے داخلی دروازے کو بارش سے محفوظ رکھنے کے لیے ہی بنوایا تھا یا مقصد راہگیروں کو بارش سے وقتی پناہ دینا بھی تھا۔ بہر کیف تقریباً پانچ فٹ چوڑا یہ چھجا سامنے کی دیوار، داخلی دروازے اور راہگیروں کے کام تو آتا ہی تھا کئی مہینے سے کنو بابا کے کام بھی آ رہا تھا۔ چبوترے کی وہ تین فٹ جگہ کنو بابا کی مستقل رہائش گاہ بنی ہوئی تھی، جہاں بیٹھ کر تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد وہ اپنی پاٹ دار آواز میں ’’بگڑی بنانے والے بگڑی بنا دے، نیا ہماری پار لگا دے‘‘ گایا کرتا تھا۔ رات کو وہ تین فٹ جگہ چھ فٹ ہو جاتی تھی اور کنو بابا کا گیت صبح تک کے لیے ملتوی ہو جاتا تھا۔

کنو بابا کون تھا، کہاں سے آیا تھا، کسی کو علم نہیں تھا۔ نہ ہی کسی کو یہ علم تھا کہ وہ ’’کنو‘‘ کیوں تھا یا ’’بابا‘‘ کیوں تھا۔ کسی کو یہ بھی علم نہیں تھا کہ وہ نابینا کیوں تھا یا کب سے تھا، جس دیار میں قدم قدم پر کنو بابا موجود ہوں وہاں کوئی ایک کنو بابا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔

کنو بابا کا جسم بھی ویسا ہی تھا جیسا کسی کنو بابا کا ہوتا ہے اور اس کے جسم پر چیتھڑے بھی ویسے ہی تھے جیسے کسی کنو بابا کے جسم پر ہوتے ہیں۔ اس کے سر، داڑھی اور مونچھوں کے گرد زدہ سفید بالوں میں کہیں کہیں تار تار سیاہی اب بھی نظر آتی تھی۔ لوگ اسے پیسے نہیں دیتے تھے۔ وہ لیتا ہی نہیں تھا۔ ’’او بھائی، میں پیسے لے کے ان کا کروں گا کیا؟نہ میں سیٹھ نہ ساہوکار۔ اٹھاؤ اپنے یہ پیسے اور راستہ پکڑو۔ بھیک دینے کے بجائے کوئی اچھا کام کرو جا کر۔‘‘

شروع شروع میں صبح سات بجے کے آس پاس ضرور ہانک لگاتا تھا۔۔  ’’ایک چائے اور ایک پاؤ روٹی کا سوال ہے۔ ہے کوئی جو پورا کر دے؟‘‘ کوئی مزدور، کوئی صفائی کرمچاری یا کوئی رکشے والا پڑوس کے فٹ پاتھ کی چائے کی دوکان سے کلہڑ میں ایک چائے اور ایک پاؤ روٹی خرید کر کنو بابا کو دے دیتا تھا۔ تین چار دن کے بعد وہ پنجابی چائے والا خود ہی کنو بابا کے ہانک لگانے سے پہلے ہی اسے روزانہ چائے اور پاؤ روٹی پہنچانے لگا۔ دوپہر کا کھانا روز بینک کے سامنے ٹھیلے پر روٹی دال فروخت کرنے والا الٰہ آبادی پہنچا دیتا تھا۔

رات کا کھانا رگھو لاتا تھا۔

رگھو پینتیس اور چالیس کے درمیان سر، داڑھی اور مونچھوں کے بے ترتیبی سے بڑے ہوئے بالوں اور لمبے چوڑے لیکن میلے سے بدن والا ایک سانولا سا آدمی تھا۔ بڑی بڑی کچھ سرخ آنکھیں شکایت کرتی ہوئی، چوڑے سے چہرے پر بہت سی سختی اور تھوڑی سی ناراضگی کا امتزاج۔ عام طریقے سے رکشہ چلاتا تھا، لیکن روز نہیں۔ ایک دن چلا لیا، رکشے کا کرایہ دے آیا، رکشہ اس کے مالک پتن خاں کی دکان پر کھڑا کر آیا، دو تین دن جھگی میں بیٹھ کر عیش کر لی۔ ہر تیسرے چوتھے دن جب بیوی خوشی خوشی اجازت دے دیتی تو جھگی کا ٹین کا دروازہ بند کرتا، بیوی کو خوب دیر تک نہلاتا، پھر اپنی لنگی سے اس کا جسم خشک کرتا، جسم پر پاؤڈر لگاتا، صاف دھلا ہوا شلوار سوٹ پہناتا، سر کے درمیان بالوں کا جوڑا باندھتا، لپ سٹک لگاتا، خود دھلی ہوئی صاف لنگی باندھتا، صاف دھلا ہوا کرتا پہنتا اور بیوی کو لے کر گھومنے نکل جاتا۔ مونگ پھلیوں کا سیزن ہوتا تو مونگ پھلیاں خریدتا اور چھیل چھیل کر بیوی کو کھلاتا، ورنہ پاپ کارن خریدتا اور چن چن کر پوری طرح سے کھلے ہوئے پاپ کا رن کھلاتا۔ بھٹے کے سیزن میں سلیقے سے بھنا ہوا نرم بھٹا خریدتا اور دانے نکال کر کھلاتا۔ ایک بار بیوی نے کہا تھا ’’تم مجھ سے اتنا پریم کا ہے کو کرتے ہو؟‘‘ تو رگھو نے جواب دیا تھا ’’کوئی بچہ نہیں ہے نا۔۔  یا کر کے بچے سے کرنے والا پریم بھی تجھ سے ای کرلیوں ہوں۔‘‘ جی کھول کر پیسہ خرچ کرتا تھا بیوی پر۔ جب پیسے ختم ہو جاتے تو پھر پتن خاں کی دکان پر پہنچ جاتا، رکشہ لیتا، سڑک پر نکل آتا اور شریف آدمیوں کی طرح رکشہ چلانے لگتا۔ جب کوئی بڑی ضرورت آن پڑتی تھی اور کہیں سے قرض نہیں ملتا تھا تو چھوٹی موٹی چوری بھی کر لیتا تھا اور اٹھائی گیری بھی۔ اک دن بیوی نے کہا ’’مرگی کھائے کا بہت جور سے جی کر رہا ہے۔‘‘ رگھو کے داہنے ٹخنے میں موچ آئی ہوئی تھی، رکشہ نہیں چلا رہا تھا، پچاس ساٹھ روپے کی مرغی خریدنا ممکن نہیں تھا۔ لنگڑاتا ہوا پتن خاں کی دکان پر روپے ادھار لینے پہنچا۔ دکان بند تھی۔ معلوم ہوا پتن خاں اپنے گھر بجنور گئے ہیں چار دن بعد واپس آئیں گے۔ ’’چار دن تک من پھول کو بگیر مرگی کھلائے نہیں رکھاجا سکتا۔ کاسوچے گی من میں!‘‘ رگھو نے دل ہی دل میں کہا اور اندھیرا ہوتے ہی آٹھویں گلی میں رہنے والے عطاء اللہ کی ایک مرغی جھگی کے باہر بنے ڈربے سے چرا لایا، گھر آ کر خود ہی مرغی چھیلی، کاٹی، پکائی اور اپنے ہاتھ سے من پھول کو کھلائی۔

عطاء اللہ کو پتہ لگ گیا کہ رگھو نے اس کی مرغی چرائی ہے۔ وہ دبلا پتلا مرگھلا سا آدمی تھا، اس لیے خود ہی لمبے چوڑے رگھو سے دو دو ہاتھ کرنے کے بجائے مقامی پولس چوکی پہنچ گیا۔ چوکی انچارج نے رگھو کو پکڑوا منگوایا، دس بارہ تھپڑ مارے، رات بھر چوکی میں بٹھائے رکھا، صبح مزید دو چار تھپڑ مار کر چوکی انچارج نے اسے اس شرط پر بھگا دیا کہ وہ ایک ہفتے کے اندر اندر ایک مرغی خرید کر عطاء اللہ کو دے دے گا اور ایک چوکی پہنچا دے گا۔

ایک بار من پھول نے ایک نئی قسم کی پائل کی ضد پکڑ لی اور الٹی میٹم دے دیا کہ جب تک پائل لا کر نہیں پہناؤ گے، نہ کپڑے اتارنے دوں گی، نہ نہلانے دوں گی۔ رگھو اسی وقت باہر گیا اور پتن خاں کی دکان پر پہنچا۔ اتفاق سے اس دن پھر پتن خاں کی دکان بند ملی اور پتن خاں کے بارے میں معلوم ہوا کہ کسی شادی میں شرکت کے لیے مراد آباد گئے ہوئے ہیں۔ دو ایک جگہ اور قرض لینے کی کوشش کی، مگر کہیں بات نہیں بنی۔ رگھو پرساد کالونی کی طرف چلا گیا۔ ایک گھر کے باہر ایک سائیکل کھڑی تھی، رگھو نے ادھر ادھر نگاہ ماری اور سائیکل لے بھاگا۔ دس کلو میٹر دور جا کر چور بازار میں سائیکل فروخت کی، پائل خریدی اور لا کر من پھول کے پیروں میں ڈال دی۔ من پھول نے اپنی بانہیں رگھو کے گلے میں ڈال دیں۔

رگھو نے کنو بابا کو جب پہلی بار دیکھا تھا تو قمیض کی جیب سے ایک اٹھنی نکال کر بولا تھا ’’لیو بابا‘‘ کنو بابا نے پوچھا تھا ’’کیا ہے؟‘‘

رگھو بڑی شان سے بولا تھا ’’اٹھنی۔‘‘ کنو بابا نے کہا تھا ’’میں پیسے نہیں لیتا۔‘‘رگھو کو بڑی حیرت ہوئی تھی ’’کیوں؟‘‘

’’کا کروں پیسے لے کے؟ سُبا سُا پنجابی چائے والا چائے اور پاؤ روٹی دے جائے ہے، دوپہری میں الٰہ آبادی دال روٹی کھلائے دے رہے، سام کو کبھی کوئی کھانا اگر دے جائے ہے تو ٹھیک، نئیں تو بھوکے پیٹ سوئے رہوں ہوں۔ ایک دو بکھت(وقت) بھوکے پیٹ سو رہنا کوئی جادا مسکل کام نا ہے۔ عادت ہو گئی ہے۔‘‘ کہہ کر کنو بابا گانے لگا تھا:

ادھر بھی ہیں کانٹے، ادھر بھی ہیں کانٹے

تو چاہے تو کانٹوں کو کلیاں بنا دے

نیا ہماری پار لگا دے۔ بگڑی بنانے والے۔۔

رگھو چلا گیا تھا اور بلا ناغہ کنو بابا کے لیے شام کا کھانا لانے لگا تھا۔

چوتھے دن کنو بابا نے پوچھا ’’تو کیا کرے ہے؟‘‘ رگھو نے بتایا ’’جادا تر رکسا چلاؤں ہوں۔‘‘

کنو بابا نے پوچھا ’’اور جب رکسا نا چلاوے ہے تب کے کرے ہے؟‘‘ بڑی سادگی سے رگھو نے بتایا ’’چوری شوری کرلیوں ہوں۔‘‘

کنو بابا نوالہ توڑ چکا تھا۔ اس نے نوالہ پلاسٹک پر رکھ دیا ’’سچی سچی بتلا یہ کھانا چوی کے پیسے کا ہے کہ رکسے کی کمائی کا؟‘‘ ’’تو چپ کر کے کھا لے۔ کھانا تو کھانا۔ نوابی کائے کو جھاڑے‘‘ رگھو اسے گھورنے لگا۔’’نہیں۔۔  مجھے چوری کی روٹی متی کھلا۔ یہ اٹھا لے جا۔ جب رکسے کی کمائی سے روٹی پکائیو تب کھلائیو۔‘‘ کنو بابا کی آواز نرم تھی، لہجہ سخت۔

’’کھا لے کھا لے۔۔ ‘‘ رگھو پیار سے بولا ’’چوری کے پیسے کی نا ہے یہ روٹی۔ رکسے کی کمائی کی ہی ہے۔ ماں کسم۔‘‘

کنو بابا نے نوالہ اٹھالیا۔ ’’تیرا نام کیا ہے؟‘‘’’ٹھاکر رگھو راج سنگھ تلواری‘‘ رگھو نے بڑے وقار کے ساتھ کہا پھر لہجہ ایک دم ڈھیلا ہو گیا ’’پر لوگ باگ رگھو کہے ہیں۔‘‘ ’’کیوں کہیں ہیں رگھو؟‘‘ کنو بابا نے کچھ غصے سے پوچھا۔

’’ان کے پاس اتنا لمبا نام لے کا ٹیم نہیں ہے۔۔  اگر میں کوئی گاؤں میں جمین دار یا ادھر سہر میں ساہو کار یا ادھر پالی منٹ میں منشٹر ہوتا تو لوگن کے پاس بڑی اِجّت(عزت) سے اتنا لمبا نام کا ٹیم جرور ہوتا اور جونئیں بھی ہوتا تو بھی لوگ باگ ’’ٹھاکر ساب‘‘ کہتے، رگھو کوئی نا کہتا‘‘ رگھو نے وضاحت کی۔

’’تو تو نے کوسس کیوں نا کی جمین دار یا ساہو کار یا منشٹر بننے کی؟‘‘ کنو بابا نے پوچھا۔ ’’جمین دار تو کھاندانی ہوئے ہیں۔ جے میرا باپ جمین دار ہوتا تو میں بھی جمین دار ہوتا۔‘‘ رگھو نے مزید وضاحت کی ’’اور منشٹر بننے کے لیے تگڑی بدماسی کی جرورت ہوئے ہے، وہ میرے بس کی نا ہے۔ میں سریف آدمی ہوں۔ ہاں سا ہوکار بننے کی کوسس میں کئی بار چوری شوری کی، پر ہر بار پکڑا گیا۔ پولس نے پٹائی کی۔ بات پتا کیا ہے؟ میرا نا بھاگ کھراب ہے۔ یا کر کے میں نہ ’’ٹھاکر ساب‘‘ بن سکا نہ ’’ٹھاکر رگھو راج سنگھ تلواری۔‘‘ بس رگھو ہوں۔۔  کل تجھے مسور کی دال کھلاؤں گا، میری عورت ایسی پکائے ہے کہ رام پور کے نواب کا کھانسا ماں بھی کھائے لے تو وا کے پاؤں پکڑ لے۔ ماں کسم۔‘‘

سردیاں آ گئیں، پھر اور سردیاں آ گئیں۔ رگھو نے ایک رات کنو بابا کے جسم کو سردی سے کانپتے دیکھا۔ اسے کھانا کھلا کے رگھو اپنی جھگی بستی کی طرف چل دیا۔ کنو بابا کا سردی سے کانپتا جسم بار بار اس کی آنکھوں کے سامنے آ رہا تھا۔ ڈاکخانے والے موڑ کے پاس اس نے سترہ اٹھارہ سال کے ایک دبلے پتلے لڑکے کو ایک نیا سا موٹا کمبل اوڑھ کر جاتے دیکھا۔ آگے بڑھ کر اس نے لڑکے کو زناٹے دار دو تھپڑ مارے، کمبل چھین لیا اور بولا ’’اچھے دن ہوئیں تو بھاگ جا چپ چاپ نئیں مار دوں گا جان سے۔‘‘

لڑکا بھاگ گیا۔ رگھو نے جا کر کمبل کانپتے تھر تھراتے کنو بابا پر ڈال دیا۔ کنو بابا چونک پڑا، مگر جلدی سے کمبل اس نے اپنے جسم کے گرد قریب قریب لپیٹ لیا ور بولا ’’جیتا رہ رگھو۔‘‘

’’تجھے کیسے پتہ چلا کہ میں رگھو ہوں۔‘‘ رگھو سڑک کے کنارے لگے بجلی کے کھمبے کے بلب کی دھندلی سی روشنی میں اسے گھورنے لگا۔

’’تیری مہک سے۔‘‘ کنو بابا نے کہا ’’روج تو آوے ہے میرے پاس کھانا لے کے‘‘ رگھو چلا گیا۔ رات میں دو بجے پولس کے دو سپاہی اسے جھگی سے اٹھا کر چوکی لے گئے۔ چوکی میں چوکی انچارج کے کمرے میں چوکی انچارج کے علاوہ وہ لڑکا بھی تھا جس سے اس نے کمبل چھینا تھا اور اس کا باپ بھی۔ چوکی انچارج نے لڑکے کی طرف دیکھا اور لڑکے نے رگھو کی طرف دیکھ کر اثبات میں سرہلا دیا۔

چوکی انچارج نے دس بارہ تگڑے تگڑے ہاتھ مارنے کے بعد رگھو سے پوچھا ’’کہاں ہے کمبل؟‘‘ ’’کمبل تو جی نئیں ہے‘‘ رگھو نے سرہلا دیا۔

چوکی انچارج نے کونے میں کھڑا ڈنڈا اٹھایا اور رگھو بوکھلا کر بولا ’’کنو بابا کو دے دیا۔‘‘ رات میں کئی بار رگھو کی پٹائی ہوئی۔ ڈنڈے تو صرف دو مارے گئے۔۔  لیکن دسمبر کے چوتھے ہفتے کی ایک رات کو کمر پر پڑنے والے پولس کے دو ڈنڈے ہی چار چھ دن کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ صبح آٹھ بجے دو چار لاتیں گھونسے اور مار کر اور دھمکا کر رگھو کو چوکی سے بھگا دیا گیا۔ رگھو بینک کے چھجے کے نیچے پہنچا۔ کنو بابا گھٹنوں میں منھ دبائے بیٹھا کانپ رہا تھا۔

’’کمبل کہاں گیا؟‘‘ رگھو نے اونچی مشتعل آواز میں پوچھا۔

’’جس کا تھا وہ رات کو ہی لے گیا‘‘ کنو بابا نے اپنی کپکپی کے درمیان بڑی مشکل سے کہا ’’تو نے بہت برا کیا رگھو۔۔  جب تک کمبل نہیں تھا تب تک اتنی ٹھنڈ نالا گے تھی۔ جب سے کمبل گیا ہے تب سے بہت لگ رہی ہے آگے سے لوٹے ہوئے کمبل سے کسی کی ٹھنڈ دور کرنے کی کوسس نا کرنا۔ ٹھنڈا بہت بڑھ جائے ہے۔‘‘

رگھو چپ چاپ پتن خاں کی دکان پر پہنچا۔ دکان بند تھی۔ رگھو برآمدے میں بیٹھ گیا۔ تیز ہوا اتنی ٹھنڈی تھی جیسے برف کے غار سے نکل بھاگی ہو۔ آسمان میں بادل بھی تھے۔ کچھ دیر بعد بارش شروع ہو گئی۔

پتن خاں نے دس بجے دکان کھولی۔

’’کھان صاحِب۔۔  پانچ سو روپیہ چہی(چاہیے) ۔۔  ابھی چہی ۔۔ روج تھوڑا تھوڑا کر کے چکائے دیوں گا۔ ماں کسم۔ جو بیاج لگائے کا ہوئے لگائے لینا۔۔  پر روپیہ ابھی چہی۔‘‘

کیا کرے گا صبح صبح پانچ سو روپیہ؟‘‘ پتن خاں نے پوچھا۔

’’یاسب تمہارے پوچھے کا نا ہے۔ روپیہ دئے دیو۔ چکائے سے پہلے مروں گا بھی نا۔ ماں کسم‘‘

پتن خاں نے نہ رگھو کی آنکھیں اتنی سرخ دیکھی تھیں، نہ اس کا چہرہ کبھی اتنا سخت دیکھا تھا۔ اس نے چپ چپ پانچ سو روپے رگھو کے پھیلے ہوئے ہاتھ پر رکھ دیے۔

رگھو مین مارکیٹ کی طرف چل دیا۔ لالہ بنواری لال کی دکان پر جا کر اس نے پانچ سو روپے کا ایک اچھا موٹا کمبل خریدا اور جسم میں ہونے والے درد کے باوجود تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا بینک آف انڈیا کے چھجے کے نیچے پہنچا جہاں چبوترے پر کنو بابا کی سردی سے اکڑی ہوئی لاش پڑی تھی۔

٭٭٭

 

ایک تھی دردانہ

 

 

 

رواج کے مطابق دردانہ نے ایک ایک کے گلے لگ کر رونا شروع کیا۔ دولہا بھائی سے لپٹ کر تو کچھ اس طرح روئی کہ دیکھنے والوں میں سے کچھ کے آنسو نکل پڑے اور کچھ کی آنکھیں۔ کچھ دولہا بھائی کی قسمت پر بے اختیارانہ رشک کرنے لگے۔ بھائی نے کچھ دیر تو انتظار کیا، پھر آگے بڑھ کر اس کے بازو پر ہاتھ رکھ دیا۔ دیکھنے والوں نے صرف یہ محسوس کیا کہ ماجد نے بہن کے بازو کو دھیرے سے پکڑ لیا ہے، مگر دردانہ کو محسوس ہوا کہ بھائی کی انگلیاں ہی نہیں، پورا پنجہ سیاہ برقعے کے ریشمی کپڑے، پھر اس کے نیچے جمپر کے سرخ ساٹن، اس کے نیچے کھال اور اس کے نیچے گوشت کو پھاڑ کر ابھی آن کی آن میں بازو کی ہڈی تک پہنچ جائے گا اور ہڈی کو پیس کر رکھ دے گا۔ مجبوراً اسے دولہا بھائی کے گرد اپنے بازوؤں کو ڈھیلا کرنا پڑا، پھر نیچے گرا دینا پڑا۔

’’بھائی ہے کہ قصائی!‘‘ اس نے دل میں کہا اور دولہا بھائی کو چھوڑ کر آگے بڑھ گئی پھر بڑی بے دلی سے بچے کھچے لوگوں سے گلے لگ کر رونے کا تاثر دیا اور دانت بھینچ کر، شانوں کو ہلکی ہلکی جنبش دے کر پر آواز سسکیاں ناک سے خارج کرتی ہوئی ایک طرف ہو گئی۔

رخصتی سے کچھ ہی دیر پہلے ماجد اسے اپنے کمرے میں لے گیا۔

’’غور سے سنو دردانہ‘‘ اس نے سپاٹ لہجے میں بہن کو مخاطب کیا ’’پرانی زندگی کو یہاں چھوڑ جاؤ۔ جمیل اچھا لڑکا ہے۔۔  بہت نیک، بہت شریف، بہت سیدھا سادہ، اس کی خدمت کو زندگی بنا لو اور ایک بات اچھی طرح سے سن لو۔ اماں ابا تو اب اس دنیا میں ہیں نہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ ابا تمہارے کرتوت دیکھنے سے پہلے ہی اللہ کو پیارے ہو گئے۔ اماں کے مرنے کی خوشی مجھے اس لیے ہے کہ اب تمہاری حرکتوں پر پردہ ڈالنے والا کوئی نہیں ہے، تمہیں شہ دینے والا کوئی نہیں ہے، اس لیے حواس میں رہنا ہی تمہارے لیے مفید ہو گا۔ بالکل واضح الفاظ میں کہہ رہا ہوں۔۔  اچھی طرح سے یاد رکھنا کہ جس دن تم نے جمیل کو چھوڑا، یا جمیل نے تم کو چھوڑا، اس دن کہیں بھی جانا، اس گھر کا رخ نہ کرنا، اس لیے کہ اس صورت میں اس گھر کے دروازے تمہیں ہمیشہ بند ملیں گے۔۔  اور۔۔ ‘‘

اس کا جملہ ختم ہونے سے پہلے کچھ لوگ کمرے میں آ گئے۔ بات ادھوری بھی رہ گئی، ختم ہو گئی۔

دردانہ رخصت ہو گئی۔

جمیل کے گھر اس نے نئی زندگی شروع کی جس کے بیشتر حصوں پر بہت سے پرانے رنگ چڑھے ہوئے تھے کچھ رنگ تو اتنے گہرے اور اتنے واضح تھے کہ جمیل کی نگاہوں میں آ ہی نہیں گئے۔۔  چبھنے بھی لگے۔

کوئی مہینہ نہیں جاتا تھا کہ دولہا بھائی چکر نہ لگاتے ہوں۔ تیسرے چوتھے مہینے دردانہ بھی بہن کے گھر چکر لگا آتی تھی، مگر اسے بہن کے گھر جانے کے بجائے دولہا بھائی کا اپنے یہاں آنا پسند تھا، جمیل کے دفتر چلے جانے کے بعد گھر میں وہ ہوتی تھی اور دولہا بھائی۔

جمیل خاموشی سے سب کچھ۔۔  دیکھتا رہا۔

وہ بہت معمولی صورت شکل کا آدمی تھا، دردانہ بے حد حسین تھی۔ جمیل بے حد خاموش انسان تھا۔ دردانہ انتہائی چرب زبان۔

جمیل نہایت سیدھا سادہ شخص تھا۔ دردانہ بلا کی تیز۔

آتے ہی وہ پوری طرح سے جمیل پر چھا گئی تھی۔ حاوی ہو گئی تھی۔

ایک دن جمیل نے زبان کھولی ’’یہ عتیق بھائی کچھ زیادہ ہی آتے ہیں۔‘‘

’’ایک لفظ بھی ان کے خلاف نہ کہنا‘‘ دردانہ نے آنکھیں نکالیں، وہ میرے دولہا بھائی ہیں۔ تم سے میرے تعلقات صرف 6مہینے سے ہیں، ان سے 6سال سے ہیں۔ تم انہیں کیا جانو۔ وہ تو یہاں آئیں گے۔ اگر تمہیں ان کا یہاں آنا پسند نہیں تو میں بھی جا رہی ہوں، میرا مائکہ اتنا کنگال نہیں ہے کہ مجھے رکھ نہ سکے۔‘‘

’’تم غلط سمجھ رہی ہو دردانہ۔۔  میں تو یہ کہہ رہا تھا۔۔ ‘‘

جمیل نے بڑی لجاجت سے کچھ کہنا چاہا، مگر اس کی بات کاٹ کر دردانہ اور تیز آواز میں بولی ’’میں اچھی طرح سمجھتی ہوں کہ تم کیا کہہ رہے تھے۔۔  تم۔۔  جلتے ہو۔۔  جلا کرو، میری بلا سے لیکن یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لو کہ دولہا بھائی نہیں چھوٹ سکتے۔ تمہارا جب جی چاہے مجھے طلاق دے دو‘‘ اس کا لہجہ فیصلہ کن تھا اور تیور بھی۔

جمیل سناٹے میں آ گیا۔

پھر اس نے کچھ نہیں کہا۔

ڈیڑھ سال بعد رفیق پیدا ہوا۔

جمیل تو اس کا نام ’’شکیل‘‘ رکھنا چاہتا تھا، لیکن دردانہ ’’رفیق‘‘ پر اڑ گئی۔

رفیق تین مہینے کا ہوا، پھر تین برس کا۔

ایک دن جمیل نے اپنے سالے ماجد کو خط لکھا۔

ماجد بھائی سلام و رحمت

ساڑھے چار سال ہو گئے۔ کبھی آپ نہیں آئے۔ دردانہ بھی آپ کے گھر نہیں جاتی۔ بھائی بہن کے تعلقات کا مجھے علم نہیں۔ کبھی آپ کا ذکر کیا بھی تو دردانہ ٹال گئی۔ وہ بہرحال اپنی بہن کے گھر جاتی رہتی ہے۔ کہتی ہے اس کی دونوں بھانجیاں اس سے بہت مانوس ہیں، اسے بہت چاہتی ہیں۔ آپ نے کبھی مجھے نہیں بلایا۔ چلئے میں ہی آپ کو بلا رہا ہوں۔ ایک بار تو آئیے۔۔  رفیق کو دیکھنے ہی آ جائیے۔

نیاز مند جمیل

مگر۔۔  آئیے ضرور جمیل

پندرہ دن کے بعد ماجد آ گیا۔

اور رفیق پر نظر پڑتے ہی اس کا سرگھوم گیا۔

’’پروردگار!‘‘ اس نے دانت پر دانت جما کر دل ہی دل میں کہا۔ اسے لگا جیسے خون نے اچانک اس کی رگوں میں دوڑنا بند کر دیا ہو۔

نگاہ تھی کہ اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔

مگر پھر کسی طرح دھیرے سے اس نے نگاہ اٹھائی۔

جمیل کے پورے چہرے پر مسکراہٹ تھی اور نگاہیں ماجد کے چہرے پر مرکوز تھیں۔

ایک بار پھر ماجد نے رفیق کے چہرے پر نظر ڈالی اور آنکھیں بند کر لیں، اس کا جی چاہا کہ زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائے۔

شرمندگی سی شرمندگی۔

رفیق کا چہرہ ہو بہ ہو عتیق کے چہرے کی کاپی تھا۔

’’ماجد بھائی‘‘ جمیل نے اپنی سدھی ہوئی آواز میں ماجد کو مخاطب کیا ’’رفیق میاں بڑے آپریشن کے بعد پیدا ہوئے تھے کچھ کامپلی کیشن ہو گئے تھے۔ ان کامپلی کیشن نے دردانہ کو اس لائق رہنے ہی نہیں دیا ہے کہ وہ کسی دوسرے رفیق یا رفیقہ کو جنم دے سکے، اس لیے آپ کو دوبارہ کبھی ایسی شرمندگی جھیلنی نہیں پڑے گی۔‘‘

’’یہ ایک شرمندگی ہی ساری زندگی کے لیے کافی ہے‘‘ ماجد نے دھیرے سے کہا، پھر اس نے نگاہیں جمیل کے چہرے پر ڈالیں۔ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا پھر دھیرے سے کہا ’’تمہارا ضبط حیرت انگیز ہے۔ لگتا ہے فرشتے ہو۔‘‘

’’نیئں، نیئں، نیئں، نیئں۔‘‘ جمیل نے تیزی سے نفی میں سر ہلایا’’اس غلط فہمی میں نہ رہیے گا۔ ایساکچھ بھی نہیں ہے۔‘‘

ماجد اسی دن چلا گیا۔ دردانہ کی صورت تک اس نے نہیں دیکھی۔ چلتے وقت اس نے جمیل سے کہا ’’رفیق کو کسی یتیم خانے میں ڈال دویا۔۔  اور جو کچھ مناسب سمجھو، کرو، میں تمہارا ساتھ دوں گا‘‘ لیکن رفیق کو نہ کسی یتیم خانے میں ڈالنے کی ضرورت پڑی نہ اور کچھ کرنے کی نمونیا ہوا اور رفیق آناً فاناً ختم ہو گیا۔

نارمل ہونے میں دردانہ کو تین ماہ کا وقت لگا۔

پھر وقت گزرنے لگا۔ ایک ایک کر کے دس سال گزر گئے۔

اب دردانہ 35برس کی ہو گئی ا ور لگنے لگا تھا کہ جیسے اچانک وہ جوانی کی ڈھلان پر آ گئی ہو، دولہا بھائی کا آنا اب کم ہو گیا تھا؟ لیکن ان کے فون مہینے میں دو ایک بار آ جاتے تھے۔ دردانہ ہر تیسرے چوتھے مہینے بہن کے گھر چلی جاتی تھی۔

ایک بار سردیوں میں وہ بہن کے پاس سے واپس آئی، مگر دوسرے ہی دن اسے بہن کی بیماری کی اطلاع ملی۔ شام کو فون آیا کہ انہیں اسپتال میں ایڈمٹ کرا دیا گیا ہے۔ جسم کا بایاں حصہ پوری طرح سے مفلوج ہو گیا تھا۔

صبح قمر کا فون آیا کہ ممی کا انتقال ہو گیا۔

جمیل دردانہ کو لے کر عتیق صاحب کے گھر گیا۔

اور تین دن بعد دردانہ کے ساتھ ہی واپس آ گیا۔

دردانہ صرف بالکل نارمل ہی نظر نہیں آ رہی تھی۔ ۔۔ بے حد خوش بھی نظر آ رہی تھی۔

خوش جمیل بھی تھا، لیکن اس نے اپنی خوشی کا اظہار نہیں کیا۔

اسی دن شام کو باہر سے واپس آ کر اپنے بیگ سے کچھ کاغذات نکالتے ہوئے جمیل نے دردانہ سے کہا ’’دردانہ میں وقت کا انتظار کر رہا تھا۔ ۔۔  آخر کار وقت آ ہی گیا۔ یہ ۔۔ طلاق نامہ ہے۔۔  اور یہ مہر اور نان نفقہ کا چک۔‘‘

بڑی عجیب نظروں سے دردانہ نے جمیل کی طرف دیکھا۔۔  ایک نگاہ چک پر ڈالی، دوسری طلاق نامہ پر۔۔  دھیرے دھیرے۔۔  بڑی دلکش مسکراہٹ اس کے چہرے پر پھیلتی چلی گئی۔

’’یہ بھی اچھا ہے کہ تم نے خود ہی مجھے طلاق دے دی۔۔  مجھے مانگنی نہیں پڑی‘‘ اس نے کہا اور اٹھ کر ایک بڑی اٹیچی میں اپنے کپڑے اور زیور رکھنے لگی۔

جمیل خاموشی سے اس کی مسرور مصروفیت دیکھتا رہا۔

اٹیچی پیک ہو گئی۔ ایک خاموش نظر دردانہ نے جمیل پر ڈالی اور جھک کر اپنی وزنی اٹیچی اٹھائی جب وہ دہلیز پار کرنے لگی تو جمیل نے کہا ’’ایک بات سنتی جاؤ۔۔  شاید تمہیں اچھی تو نہ لگے، لیکن پھر بھی۔۔  سوچتا ہوں، بتا ہی دوں۔۔ میں گزشتہ تیرہ برس سے شادی شدہ ہوں۔‘‘

’’تمہارا حساب کمزور ہے‘‘ دردانہ ہنس کر بولی۔۔  ’’تیرہ برس سے نہیں، پندرہ برس سے تم شادی شدہ۔۔  ہو نہیں۔۔  بلکہ تھے۔‘‘

’’نہیں دردانہ‘‘ جمیل اپنی مخصوص نرم آواز میں بولا ’’میرا حساب ٹھیک ہے پندرہ نہیں، تیرہ برس سے۔ پندرہ برس پہلے تو میری شادی تمہارے ساتھ ہوئی تھی اور وہ شادی تھی ہی نہیں۔۔  ایک دھوکہ تھا جو میرے ساتھ کیا گیا تھا۔۔  ایک ڈرامہ تھا جو میرے ساتھ کھیلا گیا تھا۔ میں اس دھوکے، اس ڈرامے کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ میں تو اپنی شادی کی بات کر رہا ہوں جو میں نے تیرہ برس پہلے رقیہ نام کی ایک بڑی غریب اور انسان لڑکی سے کی تھی، جو آج میری بیوی ہے۔۔  میرے دو بچے بھی ہیں۔۔  بیٹے جن کی شکلیں ہو بہ ہو میری جیسی ہیں، وہ سب یہیں، اسی شہر میں رہتے ہیں۔‘‘

’’اوہ، تو تم مہینے میں بیس دن ٹور پر نہیں رہتے تھے، بلکہ اپنی فیملی کے ساتھ رہتے تھے‘‘ کہہ کر دردانہ نے اپنا نچلا ہونٹ دانتوں سے دبا لیا۔

جمیل نے اقرار میں سر ہلا دیا۔

’’کتنے بڑے دھوکے باز ہو تم!‘‘ دردانہ نے بڑی نفرت کے ساتھ کہا اور ایک جھٹکے سے پلٹ کر گھر سے نکل گئی۔

باہر چاروں طرف رات پھیلی ہوئی تھی۔

سڑک پر آ کر دردانہ نے رکشہ لیا، ریلوے اسٹیشن پہنچی، ٹکٹ خریدا اور پلیٹ فارم پر آکر ٹرین کا انتظار کرنے لگی۔

دوسرے دن صبح صبح وہ دولہا بھائی کے مکان پر پہنچ گئی۔

بڑی خوشگوار صبح تھی۔

اس نے گھنٹی کے بٹن پر انگلی رکھی اور مانوس دروازے پر مشتاق نگاہیں مرکوز کر دیں۔ دروازہ اس طرح کھلا جیسے اس کا منتظر ہو۔

دردانہ کی دونوں بھانجیاں دروازے میں کھڑی تھیں، قمر بیس برس کی پیاری سی لڑکی تھی۔ بدر اٹھارہ برس کی۔ دونوں کے چہروں پر اب تک بھولا پن تھا، معصومیت تھی، بچپن تھا، دونوں کالج میں زیر تعلیم تھیں۔ دردانہ ان دونوں کو دیکھ کر ہمیشہ کی طرح بڑی شفقت سے مسکرائی، لیکن اس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی قمر بولی ’’میڈم رات کو ہی ہمیں علم ہو چکا ہے کہ آپ کے ہسبنڈ نے آپ کو طلاق دے دی ہے۔ جمیل صاحب نے فون کیا تھا۔۔  ہم لوگ آپ کے آنے کی امید کر رہے تھے کیوں کہ ہمیں یہ بھی علم ہے کہ ماموں جان آپ کی شکل بھی دیکھنا پسند نہیں کرتے۔۔  اور اب تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اس لیے آپ سیدھی یہیں آئیں گی ، آپ یہ توقع اور یہ یقین لے کر یہاں آئی ہیں کہ ڈیڈی آپ کو اپنا لیں گے، آپ سے شادی کر لیں گے۔۔ ۔اور آپ ممی کی جگہ لیں گی۔ آپ احمقوں کی جنت میں رہ رہی ہیں۔ جمیل صاحب کا فون آنے کے بعد ہم دونوں نے کل رات کو ہی ڈیڈی سے صاف صاف بات کی تھی۔۔  ڈیڈی نے دو ٹوک کہہ دیا کہ وہ آپ جیسی عورت سے۔۔  یعنی آپ سے کبھی شادی نہیں کریں  گے۔۔ اور انہوں نے کبھی ایسا کرنا بھی چاہا تو ہم انہیں ان کی رکھیل سے شادی نہیں کرنے دیں گے۔

ڈیڈی اندر ہیں، وہ آپ سے ملنا نہیں چاہتے، اسی لیے دروازہ ہم نے کھولا ہے۔۔ اور اب یہ دروازہ آپ پر ہمیشہ کے لیے بند ہو رہا ہے۔‘‘

کہہ کر قمر نے دروازہ بند کر لیا۔

٭٭٭

 

 

 

وشال ارجانی کی محبوبہ

 

 

سبز رنگ کے بغیر آستینوں اور گہرے گلے (Low-Cut) بلاؤز اور کریم کلر کے نصف پنڈیوں تک اونچے اسکرٹ میں سنہرے سے باریک گھونگھرالے بالوں والی وہ بے تحاشا خوبصورت لڑکی بے حد طیش میں اپنے کیبن سے نکلی اور ماربل کے دودھ جیسے سفید فرش پر ہائی ہیل کی جارحانہ کھٹ کھٹ کے ساتھ مشتعل قدموں سے چلتی ہوئی امتیاز کی میز کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ امتیاز کو علم تھا کہ وہ لڑکی سراپا غضب بنی ہوئی اس کی میز کے سامنے کھڑی ہے، لیکن اس نے کوئی توجہ نہیں دی۔ اس کی نگاہیں اس کے کمپیوٹر کے مانیٹر پر مرکوز رہیں اور انگلیاں کی بورڈ پر ۔ پورے ہال میں یک لخت سناٹا چھا گیا تھا۔ ہال میں موجود تمام ساٹھ کے ساٹھ افراد کی انگلیاں اپنے اپنے کمپیوٹر کے کی بورڈ پر ٹھہر گئی تھیں اور نگاہیں مانیٹروں سے ہٹ کر امتیاز کی میز پر مرکوز ہو گئی تھیں۔ ان نگاہوں میں سہما سہما سا اضطراب تھا، ڈری ڈری سی جستجو تھی، کچھ نیا، کچھ غیر متوقع دیکھنے کا گھبرایا گھبرایا سا تجسس تھا، کچھ ناخوش گوار نا ساز گار رونما ہونے کا مضطرب سا اندیشہ تھا۔ امتیاز کی میز دوسری تمام میزوں سے بڑی تھی اور داہنی دیوار کے ساتھ درمیان میں ایسی جگہ پر پڑی تھی جہاں ہال میں موجودہ ساری نگاہیں بڑی آسانی سے پہنچ سکتی تھیں۔ ہال میں امتیاز کی ہی میز ایسی تھی جس کے دائیں اور بائیں دونوں طرف دو دو کرسیاں پڑی تھیں۔ امتیاز کی کرسی بھی ہال میں موجود تمام کرسیوں سے مختلف تھی۔ بڑی آرام دہ اور اعلیٰ درجے کی۔

ہال میں موجود تمام لڑکے اور لڑکیوں کی عمریں بیس اور تیس کے درمیان تھیں۔ امتیاز 35برس کا تھا۔ عمر میں ہی نہیں ملازمت کی مدت اور عہدے میں بھی سب سے سینئر تھا۔ اس نے یہ کمپنی اس وقت جوائن کی تھی جب مسٹر وشال ارجانی نے یہ کمپنی شروع کی تھی۔ تب کمپنی میں امتیاز کے علاوہ چار افراد اور تھے۔وہ چاروں رفتہ رفتہ کمپنی چھوڑ کر جا چکے تھے۔ اس طرح کا رندوں میں اب امتیاز سب سے سینئر بھی تھا اور امتیازی حیثیت کا حامل بھی۔ چھوٹے چھوٹے بے ترتیب گول گول بالوں، کشادہ پیشانی، بڑی بڑی ذہین آنکھوں، کھلی کھلی گندمی رنگت اور اپنی عمر سے کم نظر آنے والے اس میانہ قد شخص کو اس کمپنی سے عشق تھا۔کمپنی اس کی محبوبہ تھی۔ جن بلندیوں تک کمپنی پہنچی تھی وہاں تک اسے پہنچانے میں مسٹر ارجانی سے زیادہ ہاتھ امتیاز کا تھا۔ آندھی ہو یا طوفان، وہ ہر حال میں ٹھیک صبح نو بجے آفس میں پہنچ جاتا تھا، سب سے پہلے، گو کہ آفس شروع ہونے کا وقت ساڑھے نو بجے تھا۔ مسٹر ارجانی صرف سوفٹ ویئر کی تیاری کے سلسلہ میں ہی نہیں، ٹنڈر کے انتخاب میں، ٹنڈر کی تیاری Presentation، غرض کہ ہر معاملہ میں اس سے مشورہ کرتے تھے۔ ہر پروجیکٹ کا انچارج امتیاز ہی ہوتا تھا۔ امتیاز کی رائے مسٹر ارجانی کے لئے حتمی، آخری اور قطعی ہوتی تھی۔

لیکن ادھر گزشتہ کچھ دنوں سے ان دونوں کے درمیان ایک ٹنڈر کو لے کر کچھ نا اتفاقی ہو گئی تھی۔ اس نا اتفاقی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ٹنڈر مسترد ہو گیا۔ کمپنی ایک بڑے بزنس سے محروم رہ گئی۔ یہ نقصان مسٹر وشال ارجانی جیسے پکے اور تجربہ کار تاجر کو تو کھلا ہی تھا، امتیاز کو بھی کم دکھ نہیں ہوا تھا۔ دکھ سے زیادہ ناگوار گزرا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کو اس نقصان کا ذمہ دار مان رہے تھے۔

ان دنوں آفس میں چپکے چپکے ایک خبر تو یہ گشت کر رہی تھی کہ مسٹر ارجانی امتیاز کو بہت جلد کمپنی سے باہر کرنے والے ہیں۔ انہیں صرف اس پروجیکٹ کی تکمیل کا انتظار ہے جس پر امتیاز اپنی پوری ٹیم کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ دوسری خبر یہ گرم تھی کہ امتیاز خود ہی کمپنی چھوڑنے کا من بنا چکا ہے، کیونکہ ایک طرف تو کمپنی کے مالک مسٹر ارجانی سے اس کے تعلقات میں ترشی آ چکی تھی،دوسرے مسٹر ارجانی کی نئی سکریٹری انجنا  گاٹیکر بہتRudeتھی، ہر ایک سے بڑی بد اخلاقی اور بدتمیزی سے پیش آتی تھی، امتیاز سے تو پہلے دن سے چڑھ گئی تھی کیونکہ امتیاز ایک تو باس کے بہت نزدیک تھا، دوسرے یہ کہ نہ اس کی ( سکریٹری کی) جی حضوری کرتا تھا نہ ہی کوئی خصوصی توجہ یا خصوصی احترام دیتا تھا۔ وہ مسٹر ارجانی کی منظور نظر تھی اس لئے اپنے آگے کسی کو گردانتی نہیں تھی، خود کو مخصوص توجہ اور اطاعت کا مستحق سمجھتی تھی۔ امتیاز کا رویہ براہ راست اس کی انا کو ضرب لگاتا تھا۔ اس لئے وہ امتیاز کو زک پہنچانے کے درپے رہتی تھی۔

آج اس نے چپراسی کو بھیجا کہ وہ امتیاز کو بلا کر لائے۔ چپراسی نے آ کر امتیاز کو اس کا پیغام دیا۔ امتیاز نے دھیرے سے سراٹھا کر چپراسی کی طرف دیکھا اور بڑی نرمی سے بولا ’’ مس گاٹیکر سے جا کر کہو کہ اگر انہیں کوئی بہت ضروری کام ہے تو آدھے گھنٹے کے بعد وہ خود آ کر مجھ سے مل سکتی ہیں۔۔۔۔۔ آدھے گھنٹے کے بعد۔۔۔اس سے پہلے نہیں۔۔۔تھینک یو۔‘‘

چپراسی نے جا کر امتیاز کا جواب حرف بہ حرف مس گاٹیکرکو سنا دیا۔

انجنا گاٹیکر باس کی سکریٹری ہی نہیں ’’بہت کچھ‘‘ بھی تھی۔۔۔تو انا بدنی حسن اور ایک قوی انا کی مالک تھی، اس لئے امتیاز کا جواب جیسے ایک تند شعلہ بن کر اسے چھو گیا۔’’ایک آر ڈی نیری امپلائی کی یہ مجال!‘‘طیش میں لت پت اپنے شاندار کیبن سے نکل کر وہ امتیاز کی میز کے سامنے پہنچی اور خاصی گونجیلی جارحیت کے ساتھ اس کے منھ سے نکلا۔۔۔۔’’ امتیاز!‘‘

امتیاز نے دھیرے سے سر اٹھایا اور انجنا گاٹیکر کی سرخ ہوتی ہوئی بھوری سی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا’’مسٹر امتیاز‘‘ مس گاٹیکر‘‘

’’او شٹ اپ!‘‘انجنا گاٹیکر کی آواز بہت اونچی ہو گئی ’’ تم جانتے ہو میں کون ہوں؟‘‘

’’باس کی سکریٹری‘‘ امتیاز نے بڑی لاپروائی سے کہا ۔

’’اس کے باوجود تم میرے بلانے پر نہیں آئے! میں نے۔۔۔۔‘‘

’’تم‘‘ نہیں مس گاٹیکر ’’آپ‘‘ امتیاز انجنا گاٹیکر کی بات کاٹ کر بولا ’’میں ہر ایک سے تمیز سے بات کرتا ہوں اور توقع کرتا ہوں کہ دوسرے بھی مجھ سے تمیز سے ہی بات کریں۔۔۔بدتمیزی مس گاٹیکر مجھ سے برداشت نہیں ہوتی۔۔۔۔۔اور میں نے تو کشنو’’ چپراسی‘‘ سے کہا تھا کہ آپ آدھے گھنٹے کے بعد آ کر مجھ سے مل سکتی ہیں، اس سے پہلے نہیں، مگر آپ فوراً ہی آ گئیں۔ میں مصروف ہوں ، آدھے گھنٹے کے بعد ہی آیئے، اور آئندہ مجھے ’’شٹ اپ‘‘ نہ کہئے گا۔ تھینک یو ‘‘کہہ کر امتیاز نے نگاہیں پھر اپنے کمپیوـٹر مانیٹر پر مرکوز کر دیں۔

کمپنی کے مالک کی دل ستاں و دل نشیں سکریٹری کی نخوت اس بری طرح مجروح ہوئی کہ وہ اپنی گرفت سے نکل گئی ’’یو بلا ڈی باسٹرڈ، لگتا ہے تیرا دل بھر گیا ہے نوکری ۔۔۔۔‘‘

انجنا گاٹیکر کی سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ کب امتیاز اپنی کرسی سے کھڑا ہو گیا اور کب اس کا زناٹے دار چانٹا انجنا کے بائیں گال پر پڑا۔

ہال میں سناٹا تو پہلے سے ہی تھا، اب سناٹا مزید سناٹا ہو گیا۔ انجنا گاٹیکر تو جیسے پتھرا گئی تھی۔ بڑی مشکل سے اس نے خود کو سکتے کی حالت سے نکالا، خونخوار نظریں امتیاز پر ڈالیں اور پلٹ کر تیزی سے اپنے شاندار کیبن میں چلی گئی۔

امتیاز اپنی کرسی پر بیٹھ گیا اور سارے اسٹاف کو مخاطب کر کے اونچی آواز میں بولا ’’اے یو۔۔ آل آف یو۔۔۔بیک ٹو بزنس۔‘‘

سب اپنے اپنے کام پر لگ گئے۔۔۔لیکن کہاں کا کام، کیسا کام؟ ایسے واقعات کے بعد کسی کا دل کام میں بھی لگتا ہے؟کم از کم دو تین گھنٹے تو نہیں۔ شاید ہی کبھی کسی کے باس کی اتنی حسین سکریٹری کو ساٹھ افراد کے اسٹاف کے سامنے اس ہتک سے گزرنا پڑا ہو!  بے عزتی سی بے عزتی ہوئی تھی! قطعی غیر متوقع، ناقابل یقین!

اسٹاف کے سبھی لوگ امتیاز سے محبت بھی کرتے تھے، دل سے احترام بھی کرتے تھے۔ ان تمام افراد کی تقرری میں امتیاز کی حمایت اور مرضی شامل تھی۔ ہر انٹرویو میں وہ مسٹر ارجانی کے ساتھ بٹھا  او ر ہر انتخاب میں اس کا پورا پورا ہاتھ تھا۔ یوں بھی اس کا رویہ سبھی کے ساتھ بہت اچھا تھا۔ کسی کو بھی اپنے کام میں کوئی بھی مشکل پیش آتی تھی تو امتیاز رہنمائی بھی کرتا تھا۔ اس لئے آج کے واقعہ پر سبھی کو افسوس تھا۔ سبھی امتیاز کے لئے دل گرفتہ تھے۔ اس حقیقت کا علم سبھی کو تھا کہ انجنا گاٹیکر صرف سکریٹری نہیں تھی، اس کی راتیں مسٹر ارجانی کے ساتھ فائیو اسٹار ہوٹلوں میں گزرتی تھیں، گووا اور کیرالہ کے سمندری ساحلوں پر گزرتی تھیں، شملہ، منالی اور منار کی پہاڑیوں میں گزرتی تھیں۔ مسٹر ارجانی ابھی حال میں ہی اسے تھائی لینڈ کی سیر کروا کر لائے تھے۔ اس لئے کمپنی سے امتیاز کی چھٹی لازمی ٹھہری۔

مسٹر ارجانی کی زندگی ایک کھلی کتاب تھی۔ پھر بھی اکثر ایک تویہ نکتہ بحث کا موضوع رہتا تھا کہ مسٹر ارجانی زیادہ کامیاب تاجر ہیں یا زیادہ کامیاب عیاش؟اور دوسرا نکتہ یہ زیر بحث رہتا تھا کہ وہ عیاشی کے لئے تجارت کرتے ہیں یا اتنی کامیاب تجارت کے باعث عیاشی؟ ہمیشہ  ایک سے ایک خوب رو سکریٹری ان کے ساتھ دیکھی جاتی تھی۔وہ بہت Possessiveتھے۔ ایک بار ایک منچلے نے ان کی ایک سکریٹری پر بازاری فقرہ اڑا دیا تھا۔ مسٹر ارجانی نے فی الفور اس منچلے کے سامنے کے دو دانت منھ سے باہر کر دئے تھے۔ویسے ان کی سکریٹریوں کی ملازمت کی عمر بہت طویل نہیں ہوتی تھی۔ زیادہ سے زیادہ تین چار ماہ میں وہ اپنی سکریٹری سے اوب جاتے تھے اور اس کی جگہ کوئی نئی سکریٹری تین چار ماہ کے لئے آ جاتی تھی۔ مگر انجنا گاٹیکر کا معاملہ قطعی مختلف تھا۔ چھ ماہ گزر نے کے بعد بھی وہ مسٹر ارجانی کی سکریٹری تھی اور روز بروز زیادہ سکریٹری ہوتی جا رہی تھی، زیادہ اختیارات حاصل کرتی جا رہی تھی۔ مسٹر ارجانی نے اسے حکومت کرنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی تھی اور خود بھی اس کا ہر مشورہ بے چوں چرا کے خوشی سے مان لینے لگے تھے۔ انجنا گاٹیکر کی مرضی ’’وشال ارجانی اینڈ کو‘‘ کا قانون ہو گئی تھی۔ اس لئے آفس کے تمام افراد امتیاز کے لئے افسردہ تھے۔ وہ ان کے لئے ایک شفیق بڑے بھائی کی حیثیت رکھتا تھا، معاون، مددگار ، رہنما، امتیاز کے بغیر ان کے لئے آفس کا تصور تک ناممکن تھا۔

سارا دن کسی ضروری میٹنگ میں مصروف رہنے کے بعد مسٹر ارجانی شام کو ساڑھے پانچ بجے آفس آئے۔ انجنا گاٹیکر فوراً ہی اپنے کیبن سے نکل کر ان کے ساؤنڈ پروف کمرے میں چلی گئی۔ کس وقت باہر آئی، کسی کو علم نہیں، کیونکہ چھ بجے دفتر کا وقت ختم ہو جاتا تھا اور سارے کارکن چلے جاتے تھے۔ اس دن بھی چھ بجے انجنا گاٹیکر کے علاوہ سب چلے گئے۔

دوسرے دن اتوار تھا، تعطیل کا دن۔ دو شنبے کو حسب معمول ٹھیک ساڑھے نو بجے سارا اسٹاف دفتر پہنچ گیا، اور اس نے دیکھا کہ امتیاز ہمیشہ کی طرح اپنی میز پر بیٹھا کام پر مشغول تھا اور مسٹر ارجانی کے کمرے سے گلابی بلاؤز اور سیاہ اسکرٹ میں ملبوس ان کی نئی سکریٹری نکل رہی تھی۔۔۔انجنا گاٹیکر کی جتنی حسین تو نہیں ، مگر تھی وہ بھی بہت خوبصورت۔ جلد ہی سارے اسٹاف کو علم ہو گیا کہ دفتر سے انجنا گاٹیکر کی چھٹی ہمیشہ کے لئے ہو گئی تھی۔

٭٭٭

ماخذ:

ماہنامہ قرطاس ناگپور،  ویب سائٹ:  چوتھی دنیا

चौथी दुनिया

تدوین اور ای بک کی شکیل: اعجاز عبید