FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

انتخابِ    مضامینِ سر سیّد

 

 

 

                ترتیب: محمد وارث

                مولوی اسمٰعیل میرٹھی کی توزکِ اردو سے اضافہ: اعجاز عبید

 

 

 

    رسم و رواج

 

 

 

جو لوگ کہ حسنِ معاشرت اور تہذیبِ اخلاق و شائستگیِ عادات پر بحث کرتے ہیں ان کے لئے کسی ملک یا قوم کے کسی رسم و رواج کو اچھا اور کسی کو برا ٹھہرانا نہایت مشکل کام ہے۔ ہر ایک قوم اپنے ملک کے رسم و رواج کو پسند کرتی ہے اور اسی میں خوش رہتی ہے کیونکہ جن باتوں کی چھُٹپن سے عادت اور موانست ہو جاتی ہے وہی دل کو بھلی معلوم ہوتی ہیں لیکن اگر ہم اسی پر اکتفا کریں تو اس کے معنی یہ ہو جاویں گے کہ بھلائی اور برائی حقیقت میں کوئی چیز نہیں ہے بلکہ صرف عادت پر موقوف ہے، جس چیز کا رواج ہو گیا اور عادت پڑ گئی وہی اچھی ہے اور جس کا رواج نہ ہوا اور عادت نہ پڑی وہی بری ہے۔

 

مگر یہ بات صحیح نہیں۔ بھلائی اور برائی فی نفسہ مستقل چیز ہے، رسم و رواج سے البتہ یہ بات ضرور ہوتی ہے کہ کوئی اس کے کرنے پر نام نہیں دھرتا، عیب نہیں لگاتا کیونکہ سب کے سب اس کو کرتے ہیں مگر ایسا کرنے سے وہ چیز اگر فی نفسہ بری ہے تو اچھی نہیں ہو جاتی۔ پس ہم کو صرف اپنے ملک یا اپنی قوم کی رسومات کے اچھے ہونے پر بھروسہ کر لینا نہ چاہیئے بلکہ نہایت آزادی اور نیک دلی سے اس کی اصلیت کا امتحان کرنا چاہیئے تا کہ اگر ہم میں کوئی ایسی بات ہو جو حقیقت میں بد ہو اور بسب رسم و رواج کے ہم کو اس کی بدی خیال میں نہ آتی ہو تو معلوم ہو جاوے اور وہ بدی ہمارے ملک یا قوم سے جاتی رہے۔

 

البتہ یہ کہنا درست ہو گا کہ ہر گاہ معیوب ہونا اور غیر معیوب ہونا کسی بات کا زیادہ تر اس کے رواج و عدم رواج پر منحصر ہو گیا ہے تو ہم کس طرح کسی امیر کے رسم و رواج کو اچھا یا برا قرار دے سکیں گے، بلاشبہ یہ بات کسی قدر مشکل ہے مگر جبکہ یہ تسلیم کر لیا جاوے کہ بھلائی یا برائی فی نفسہ بھی کوئی چیز ہے تو ضرور ہر بات کی فی الحقیقت بھلائی یا برائی قرار دینے کے لئے کوئی نہ کوئی طریقہ ہو گا۔ پس ہم کو اس طریقہ کے تلاش کرنے اور اسی کے مطابق اپنی رسوم و عادات کو بھلائی یا برائی قرار دینے کی پیروی کرنی چاہیئے۔

 

سب سے مقدم اور سب سے ضروری امر اس کام کے لئے یہ ہے کہ ہم اپنے دل کو تعصبات سے اور ان تاریک خیالوں سے جو انسان کو سچی بات کے سننے اور کرنے سے روکتے ہیں خالی کریں اور اس دلی نیکی سے جو خدا تعالیٰ نے انسان کے دل میں رکھی ہے ہر ایک بات کی بھلائی یا برائی دریافت کرنے پر متوجہ ہوں۔

 

یہ بات ہم کو اپنی قوم اور اپنے ملک اور دوسری قوم اور دوسرے ملک دونوں کے رسم و رواج کے ساتھ برتنی چاہیئے تا کہ جو رسم و عادت ہم میں بھلی ہے اس پر مستحکم رہیں اور جو ہم میں بری ہے اس کے چھوڑنے پر کوشش کریں اور جو رسم و عادت دوسروں میں اچھی ہے اس کو بلا تعصب اختیار کریں اور جو ان میں بری ہے اس کے اختیار کرنے سے بچتے رہیں۔

 

جبکہ ہم غور کرتے ہیں کہ تمام دنیا کی قوموں میں جو رسوم و عادات مروج ہیں انہوں نے کس طرح ان قوموں میں رواج پایا ہے تو باوجود مختلف ہونے ان رسوم و عادات کے ان کا مبدا اور منشا متحد معلوم ہوتا ہے۔

 

کچھ شبہ نہیں ہے کہ جو عادتیں اور رسمیں قوموں میں مروج ہیں ان کا رواج یا تو ملک کی آب و ہوا کی خاصیت سے ہوا ہے یا ان اتفاقیہ امور سے جن کی ضرورت وقتاً فوقتاً بضرورت تمدن و معاشرت کے پیش آتی گئی ہے یا دوسری قوم کی تقلید و اختلاط سے مروج ہو گئی ہے۔ یا انسان کی حالتِ ترقی یا تنزل نے اس کو پیدا کر دیا ہے۔ پس ظاہراً یہی چار سبب ہر ایک قوم اور ہر ایک ملک میں رسوم و عادات کے مروج ہونے کا مبدا معلوم ہوتے ہیں۔

جو رسوم و عادات کہ بمقتضائے آب و ہوا کسی ملک میں رائج ہوئی ہیں ان کے صحیح اور درست ہونے میں کچھ شبہ نہیں کیونکہ وہ عادتیں قدرت اور فطرت نے ان کو سکھلائی ہیں جس کے سچ ہونے میں کچھ شبہ نہیں مگر ان کے برتاؤ کا طریقہ غور طلب باقی رہتا ہے۔

مثلاً ہم یہ بات دیکھتے ہیں کہ کشمیر میں اور لندن میں سردی کے سبب انسان کو آگ سے گرم ہونے کی ضرورت ہے پس آگ کا استعمال ایک نہایت سچی اور صحیح عادت دونوں ملکوں کی قوموں میں ہے مگر اب ہم کو یہ دیکھنا ہے کہ آگ کے استعمال کے لئے یہ بات بہتر ہے کہ مکانات میں ہندی قواعد سے آتش خانہ بنا کر آگ کی گرمی سے فائدہ اٹھاویں یا مٹی کی کانگڑیوں میں آگ جلا کر گردن میں لٹکائے پھریں جس سے گورا گورا پیٹ اور سینہ کالا اور بھونڈا ہو جائے۔

 

طریقِ تمدن و معاشرت روز بروز انسانوں میں ترقی پاتا جاتا ہے اور اس لئے ضرور ہے کہ ہماری رسمیں و عادتیں جو بضرورتِ تمدن و معاشرت مروج ہوئی تھیں ان میں بھی روز بروز ترقی ہوتی جائے اور اگر ہم ان پہلی ہی رسموں اور عادتوں کے پابند رہیں اور کچھ ترقی نہ کریں تو بلا شبہ بمقابل ان قوموں کے جنہوں نے ترقی کی ہے ہم ذلیل اور خوار ہوں گے اور مثل جانور کے خیال کئے جاویں گے، پھر خواہ اس نام سے ہم برا مانیں یا نہ مانیں، انصاف کا مقام ہے کہ جب ہم اپنے سے کمتر اور نا تربیت یافتہ قوموں کو ذلیل اور حقیر مثل جانور کے خیال کرتے ہیں تو جو قومیں کہ ہم سے زیادہ شایستہ و تربیت یافتہ ہیں اگر وہ بھی ہم کو اسی طرح حقیر اور ذلیل مثل جانور کے سمجھیں تو ہم کو کیا مقامِ شکایت ہے؟ ہاں اگر ہم کو غیرت ہے تو ہم کو اس حالت سے نکلنا اور اپنی قوم کو نکالنا چاہیئے۔

 

دوسری قوموں کی رسومات کا اختیار کرنا اگرچہ بے تعصبی اور دانائی کی دلیل ہے مگر جب وہ رسمیں اندھے پن سے صرف تقلیداً بغیر سمجھے بوجھے اختیار کی جاتی ہیں تو کافی ثبوت نادانی اور حماقت کا ہوتی ہیں۔ دوسری قوموں کی رسومات اختیار کرنے میں اگر ہم دانائی اور ہوشیاری سے کام کریں تو اس قوم سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں اس لئے کہ ہم کو اس رسم سے تو موانست نہیں ہوتی اور اس سبب سے اس کی حقیقی بھلائی یا برائی پر غور کرنے کا بشرطیکہ ہم تعصب کو کام میں نہ لاویں بہت اچھا موقع ملتا ہے۔ اس قوم کے حالات دیکھنے سے جس میں وہ رسم جاری ہے ہم کو بہت عمدہ مثالیں سینکڑوں برس کے تجربہ کی ملتی ہیں جو اس رسم کے اچھے یا برے ہونیکا قطعی تصفیہ کر دیتی ہیں۔

 

مگر یہ بات اکثر جگہ موجود ہے کہ ایک قوم کی رسمیں دوسری قوم میں بسبب اختلاط اور ملاپ کے اور بغیر قصد و ارادہ کے اور ان کی بھلائی اور برائی پر غور و فکر کرنے کے بغیر داخل ہو گئی ہیں جیسے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کا بالتخصیص حال ہے کہ تمام معاملاتِ زندگی بلکہ بعض اموراتِ مذہبی میں بھی ہزاروں رسمیں غیر قوموں کی بلا غور و فکر اختیار کر لی ہیں، یا کوئی نئی رسم مشابہ اس قوم کی رسم کے ایجاد کر لی ہے مگر جب ہم چاہتے ہیں کہ اپنے طریقِ معاشرت اور تمدن کو اعلیٰ درجہ کی تہذیب پر پہنچا دیں تا کہ جو قومیں ہم سے زیادہ مہذب ہیں وہ ہم کو بنظرِ حقارت نہ دیکھیں تو ہمارا فرض ہے ہم اپنی تمام رسوم و عادات کو بنظر تحقیق دیکھیں اور جو بری ہوں ان کو چھوڑیں اور جو قابلِ اصلاح ہوں ان میں اصلاح کریں۔

 

جو رسومات کے بسبب حالتِ ترقی یا تنزل کسی قوم کے پیدا ہوتی ہیں وہ رسمیں ٹھیک ٹھیک اس قوم کی ترقی اور تنزل یا عزت اور ذلت کی نشانی ہوتی ہیں۔

 

اس مقام پر ہم نے لفظ ترقی یا تنزل کو نہایت وسیع معنوں میں استعمال کیا ہے اور تمام قسم کے حالاتِ ترقی و تنزل مراد لئے ہیں خواہ وہ ترقی و تنزل اخلاق سے متعلق ہو خواہ علوم و فنون اور طریقِ معاشرت و تمدن سے اور خواہ ملک و دولت و جاہ و حشمت سے۔

 

بلاشبہ یہ بات تسلیم کرنے کے قابل ہے کہ دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں نکلنے کی جس کی تمام رسمیں اور عادتیں عیب اور نقصان سے خالی ہوں مگر اتنا فرق بیشک کہ بعضی قوموں میں ایسی رسومات اور عادات جو در حقیقت نفس الامر میں بری ہوں، کم ہیں، اور بعضی میں زیادہ، اور اسی وجہ سے وہ پہلی قوم پچھلی قوم سے اعلیٰ اور معزز ہے۔ اور بعض ایسی قومیں ہیں جنہوں نے انسان کی حالتِ ترقی کو نہایت اعلیٰ درجہ تک پہنچایا ہے اور اس حالتِ انسانی کی ترقی نے ان کے نقصانوں کو چھُپا لیا ہے جیسے ایک نہایت عمدہ و نفیس شیریں دریا تھوڑے سے گدلے اور کھاری پانی کو چھپا لیتا ہے یا ایک نہایت لطیف شربت کا بھرا ہوا پیالہ نیبو کی کھٹی دو بوندوں سے زیادہ تر لطیف اور خوشگوار ہو جاتا ہے اور یہی قومیں جو اب دنیا میں “سویلائزڈ” یعنی مہذب گنی جاتی ہیں اور در حقیقت اس لقب کی مستحق بھی ہیں۔

 

میری دلسوزی اپنے ہم مذہب بھائیوں کے ساتھ اسی وجہ سے ہے کہ میری دانست میں ہم مسلمانوں میں بہت سے رسمیں جو در حقیقت نفس الامر میں بری ہیں مروج ہو گئی ہیں جن میں ہزاروں ہمارے پاک مذہب کے بھی بر خلاف ہیں اور انسانیت کے بھی مخالف ہیں اور تہذیب و تربیت و شایستگی کے بھی بر عکس ہیں اور اس لئے میں ضرور سمجھتا ہوں کہ ہم سب لوگ تعصب اور ضد اور نفسانیت کو چھوڑ کر ان بری رسموں اور بد عادتوں کے چھوڑنے پر مائل ہوں اور جیسا کہ ان کا پاک اور روشن ہزاروں حکمتوں سے بھرا ہوا مذہب ہے اسی طرح اپنی رسوماتِ معاشرت و تمدن کو بھی عمدہ اور پاک و صاف کریں اور جو کچھ نقصانات اس میں ہیں گو وہ کسی وجہ سے ہوں، ان کو دور کریں۔

 

اس تجربہ سے یہ نہ سمجھا جاوے کہ میں اپنے تئیں ان بد عادتوں سے پاک و مبرا سمجھتا ہوں یا اپنے تئیں نمونۂ عاداتِ حسنہ جتاتا ہوں یا خود اِن امور میں مقتدا بننا چاہتا ہوں، حاشا و کلا۔ بلکہ میں بھی ایک فرد انہیں افراد میں سے ہوں جن کی اصلاحِ دلی مقصود ہے بلکہ میرا مقصد صرف متوجہ کرنا اپنے بھائیوں کا اپنی اصلاحِ حال پر ہے اور خدا سے امید ہے کہ جو لوگ اصلاحِ حال پر متوجہ ہوں گے، سب سے اول ان کا چیلہ اور ان کی پیروی کرنے والا میں ہوں گا۔ البتہ مثل مخمور کے خراب حالت میں چلا جانا اور روز بروز بدتر درجہ کو پہنچتا جانا اور نہ اپنی عزت کا اور نہ قومی عزت کا خیال و پاس رکھنا اور جھوٹی شیخی اور بیجا غرور میں پڑے رہنا مجھ کو پسند نہیں ہے۔

 

ہماری قوم کے نیک اور مقدس لوگوں کو کبھی کبھی یہ غلط خیال آتا ہے کہ تہذیب اور حسنِ معاشرت و تمدن صرف دنیاوی امور ہیں جو صرف چند روزہ ہیں، اگر ان میں ناقص ہوئے تو کیا اور کامل ہوئے تو کیا اور اس میں عزت حاصل کی تو کیا اور ذلیل رہے تو کیا، مگر ان کی اس رائے میں قصور ہے اور ان کی نیک دلی اور سادہ مزاجی اور تقدس نے ان کو اس عام فریب غلطی میں ڈالا ہے۔ جو ان کے خیالات ہیں ان کی صحت اور اصلیت میں کچھ شبہ نہیں مگر انسان امور متعلق تمدن و معاشرت سے کسی طور علیحدہ نہیں ہو سکتا اور نہ شارع کا مقصود ان تمام امور کو چھوڑنے کا تھا کیونکہ قواعدِ قدرت سے یہ امر غیر ممکن ہے۔ پس اگر ہماری حالتِ تمدن و معاشرت ذلیل اور معیوب حالت پر ہو گی تو اس سے مسلمانوں کی قوم پر عیوب اور ذلت عائد ہو گی اور وہ ذلت صرف ان افراد اور اشخاص پر منحصر نہیں رہتی بلکہ ان کے مذہب پر منجر ہوتی ہے، کیونکہ یہ بات کہی جاتی ہے کہ مسلمان یعنی وہ گروہ جو مذہبِ اسلام کا پیرو ہے نہایت ذلیل و خوار ہے۔ پس اس میں در حقیقت ہمارے افعال و عاداتِ قبیحہ سے اسلام کو اور مسلمانی کو ذلت ہوتی ہے۔ پس ہماری دانست میں مسلمانوں کی حسن معاشرت اور خوبیٔ تمدن اور تہذیب اخلاق اور تربیت و شایستگی میں کوشش کرنا حقیقت میں ایک ایسا کام ہے جو دنیاوی امور سے جس قدر متعلق ہے اس سے بہت زیادہ معاد سے علاقہ رکھتا ہے اور جس قدر فائدے کی اس سے ہم کو اس دنیا میں توقع ہے اس سے بڑھ کر اُس دنیا میں ہے جس کو کبھی فنا نہیں۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

    خوشامد

 

 

 

دل کی جس قدر بیماریاں ہیں ان میں سب سے زیادہ مہلک خوشامد کا اچھا لگنا ہے۔ جس وقت کہ انسان کے بدن میں یہ مادہ پیدا ہو جاتا ہے جو وبائی ہوا کے اثر کو جلد قبول کر لیتا ہے تو اسی وقت انسان مرضِ مہلک میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ اسی طرح جبکہ خوشامد کے اچھا لگنے کی بیماری انسان کو لگ جاتی ہے تو اس کے دل میں ایک ایسا مادہ پیدا ہو جاتا ہے جو ہمیشہ زہریلی باتوں کے زہر کو چوس لینے کی خواہش رکھتا ہے، جسطرح کہ خوش گلو گانے والے کا راگ اور خوش آیند باجے والے کی آواز انسان کے دل کو نرم کر دیتی ہے اسی طرح خوشامد بھی انسان کے دل کو ایسا پگھلا دیتی ہے کہ ایک کانٹے کے چبھنے کی جگہ اس میں ہو جاتی ہے۔ اول اول یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنی خوشامد کرتے ہیں اور اپنی ہر ایک چیز کو اچھا سمجھتے ہیں اور آپ ہی آپ اپنی خوشامد کر کے اپنے دل کو خوش کرتے ہیں پھر رفتہ رفتہ اوروں کی خوشامد ہم میں اثر کرنے لگتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اول تو خود ہم کو اپنی محبت پیدا ہوتی ہے پھر یہی محبت ہم سے باغی ہو جاتی ہے اور ہمارے بیرونی دشمنوں سے جا ملتی ہے اور جو محبت و مہربانی ہم خود اپنے ساتھ کرتے ہیں وہ ہم خوشامدیوں کے ساتھ کرنے لگتے ہیں اور وہی ہماری محبت ہم کو یہ بتلاتی ہے کہ ان خوشامدیوں پر مہربانی کرنا نہایت حق اور انصاف ہے جو ہماری باتوں کو ایسا سمجھتے ہیں اور ان کی ایسی قدر کرتے ہیں جبکہ ہمارا دل ایسا نرم ہو جاتا ہے اور اسی قسم کے پھسلاوے اور فریب میں آ جاتا ہے تو ہماری عقل خوشامدیوں کے عقل و فریب سے اندھی ہو جاتی ہے اور وہ مکر و فریب ہماری طبیعت پر بالکل غالب آ جاتا ہے۔ لیکن اگر ہر شخص کو یہ بات معلوم ہو جاوے کہ خوشامد کا شوق کیسے نالائق اور کمینے سببوں سے پیدا ہوتا ہے تو یقینی خوشامد کی خواہش کرنے والا شخص بھی ویسا ہی نالائق اور کمینہ متصور ہونے لگے گا۔ جبکہ ہم کو کسی ایسے وصف کا شوق پیدا ہوتا ہے جو ہم میں نہیں ہے یا ہم ایسا بننا چاہتے ہیں جیسے کہ در حقیقت ہم نہیں ہیں، تب ہم اپنے تئیں خوشامدیوں کے حوالے کرتے ہیں جو اوروں کے اوصاف اور اوروں کی خوبیاں ہم میں لگانے لگتے ہیں۔ گو بسبب اس کمینہ شوق کے اس خوشامدی کی باتیں اچھی لگتی ہوں مگر در حقیقت وہ ہم کو ایسی ہی بد زیب ہیں جیسے کہ دوسرں کہ کپڑے جو ہمارے بدن پر کسی طرح ٹھیک نہیں (اس بات سے ہم اپنی حقیقت کو چھوڑ کر دوسرے کے اوصاف اپنے میں سمجھنے لگیں، یہ بات کہیں عمدہ ہے کہ ہم اپنی حقیقت کو درست کریں اور سچ مچ وہ اوصاف خود اپنے میں پیدا کریں، اور بعوض جھوٹی نقل بننے کے خود ایک اچھی اصل ہو جاویں) کیونکہ ہر قسم کی طبیعتیں جو انسان رکھتے ہیں اپنے اپنے موقع پر مفید ہو سکتی ہیں۔ ایک تیز مزاج اور چست چالاک آدمی اپنے موقع پر ایسا ہی مفید ہوتا ہے جیسے کہ ایک رونی صورت کا چپ چاپ آدمی اپنے موقع پر۔

 

خودی جو انسان کو برباد کرنے کی چیز ہے جب چپ چاپ سوئی ہوئی ہوتی ہے تو خوشامد اس کو جگاتی اور ابھارتی ہے اور جس چیز کی خوشامد کی جاتی ہے اس میں چھچھورے پن کی کافی لیاقت پیدا کر دیتی ہے، مگر یہ بات بخوبی یاد رکھنی چاہیئے کہ جسطرح خوشامد ایک بد تر چیز ہے اسی طرح مناسب اور سچی تعریف کرنا نہایت عمدہ اور بہت ہی خوب چیز ہے۔ جسطرح کے لائق شاعر دوسروں کی تعریف کرتے ہیں کہ ان اشعار سے ان لوگوں کا نام باقی رہتا ہے جن کی وہ تعریف کرتے ہیں اور شاعری کی خوبی سے خود ان شاعروں کا نام بھی دنیا میں باقی رہتا ہے۔ دونوں شخص ہوتے ہیں، ایک اپنی لیاقت کے سبب سے اور دوسرا اس لیاقت کو تمیز کرنے کے سبب سے۔ مگر لیاقت شاعری کی یہ ہے کہ وہ نہایت بڑے استاد مصور کی مانند ہو کہ وہ اصل صورت اور رنگ اور خال و خط کو بھی قائم رکھتا ہے اور پھر بھی تصویر ایسی بناتا ہے کہ خوش نما معلوم ہو۔ ایشیا کے شاعروں میں ایک بڑا نقص یہی ہے کہ وہ اس بات کا خیال نہیں رکھتے بلکہ جس کی تعریف کرتے ہیں اس کے اوصاف ایسے جھوٹے اور نا ممکن بیان کرتے ہیں جن کہ سبب سے وہ تعریف، تعریف نہیں رہتی بلکہ فرضی خیالات ہو جاتے ہیں۔ ناموری کی مثال نہایت عمدہ خوشبو کی ہے، جب ہوشیاری اور سچائی سے ہماری واجب تعریف ہوتی ہے تو اس کا ویسا ہی اثر ہوتا ہے جیسے عمدہ خوشبو کا مگر جب کسی کمزور دماغ میں زبردستی سے وہ خوشبو ٹھونس دی جاتی ہے تو ایک تیز بو کی مانند دماغ کو پریشان کر دیتی ہے۔ فیاض آدمی کو بد نامی اور نیک نامی کا زیادہ خیال ہوتا ہے اور عالی ہمت طبیعت کو مناسب عزت اور تعریف سے ایسی ہی تقویت ہوتی ہے جیسے کہ غفلت اور حقارت سے پست ہمتی ہوتی ہے۔ جو لوگ کہ عوام کے درجہ سے اوپر ہیں انہیں لوگوں پر اس کا زیادہ اثر ہوتا ہے جیسے کہ تھرما میٹر میں وہی حصہ موسم کا زیادہ اثر قبول کرتا ہے جو صاف اور سب سے اوپر ہوتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

    آزادیِ رائے

 

 

ہم اپنے اس آرٹیکل کو ایک بڑے لایق اور قابل زمانۂ حال کے فیلسوف کی تحریر سے اخذ کرتے ہیں۔ رائے کی آزادی ایک ایسی چیز ہے کہ ہر ایک انسان اس پر پورا پورا حق رکھتا ہے۔ فرض کرو کہ تمام آدمی بجز ایک شخص کے کسی بات پر متفق الرائے ہیں مگر صرف وہی ایک شخص ان کے بر خلاف رائے رکھتا ہے تو ان آدمیوں کو اس ایک شخص کی رائے کو غلط ٹھہرانے کے لیے اس سے زیادہ کچھ استحقاق نہیں ہے جتنا کہ اس ایک شخص کو ان تمام آدمیوں کی رائے غلط ثابت کرنے کا (اگر وہ کر سکے) استحقاق حاصل ہے۔ کوئی وجہ اس بات کی نہیں ہے کہ پانچ آدمیوں کو بمقابلہ پانچ آدمیوں کی رایوں کو غلط ٹھہرانے کا استحقاق ہو اور ایک آدمی کو بمقابل نو آدمیوں کے یہ استحقاق نہ ہو۔ رائے کی غلطی آدمیوں کی تعداد کی کمی بیشی پر منحصر نہیں ہے بلکہ قوتِ استدلال پر منحصر ہے۔ جیسے کہ یہ بات ممکن ہے کہ نو آدمیوں کی رائے بمقابلہ ایک شخص کے صحیح ہو ویسے ہی یہ بھی ممکن ہے کہ ایک شخص کی رائے بمقابل نو کے صحیح ہو۔

 

رایوں کا بند رہنا خواہ بسبب کسی مذہبی خوف کے اور خواہ بسبب اندیشہ برادری و قوم کے اور خواہ بدنامی کے ڈر سے اور یا گورنمنٹ کے ظلم سے نہایت ہی بری چیز ہے۔ اگر رائے اس قسم کی کوئی چیز ہوتی جس کی قدر و قیمت صرف اس رائے والے کی ذات ہی سے متعلق اور اسی میں محصور ہوتی تو رایوں کے بند رہنے سے ایک خاص شخص کا یا معدودے چند کا نقصان متصور ہوتا مگر رایوں کے بند رہنے سے تمام انسانوں کی حق تلفی ہوتی ہے اور کل انسانوں کو نقصان پہنچتا ہے اور نہ صرف موجودہ انسانوں کو بلکہ ان کو بھی جو آیندہ پیدا ہوں گے۔

 

اگرچہ رسم و رواج بھی اس کے بر خلاف رایوں کے اظہار کے لیے ایک بہت قوی مزاحم کار گنا جاتا ہے لیکن مذہبی خیالات، مخالفِ مذہب رائے کے اظہار اور مشتہر ہونے کے لئے نہایت اقویٰ مزاحم کار ہوتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ صرف اسی پر اکتفا نہیں کرتے کہ اس مخالف رائے کا اظہار ہونا ان کو نا پسند ہوا ہے بلکہ اسی کے ساتھ جوشِ مذہبی امنڈ آتا ہے اور عقل کو سلیم نہیں رکھتا۔ اور اس حالت میں ان سے ایسے افعال و اقوال سر زد ہوتے ہیں جو انہیں کے مذہب کو جس کے وہ طرفدار ہیں مضرت پہنچاتے ہیں۔ وہ خود اس بات کے باعث ہوتے ہیں کہ مخالفوں کے اعتراضات لا معلوم رہیں۔ وہ خود اس بات کے باعث ہوتے ہیں کہ بسبب پوشیدہ رہنے ان اعتراضوں کے انہیں کے مذہب کے لوگ ان کے حل پر متوجہ نہ ہوں اور مخالفوں کے اعتراض بلا تحقیق کئے اور بلا دفعہ کئے باقی رہ جائیں۔ وہ خود اس بات کے باعث ہوتے ہیں کہ ان کی آیندہ نسلیں بسبب نا تحقیق باقی رہ جانے ان اعتراضوں کے، جس وقت ان اعتراضوں سے واقف ہوں اسی وقت مذہب سے منحرف ہو جاویں۔ وہ خود اس بات کا باعث ہوتے ہیں کہ وہ اپنی نادانی سے تمام دنیا پر گویا یہ بات ظاہر کرتے ہیں کہ اس مذہب کو جس کے وہ خود پیرو ہیں مخالفوں کے اعتراضوں سے نہایت ہی اندیشہ ہے۔ اگر انہی کے مذہب کا کوئی شخص بغیر حصول اغراضِ مذکورہ ان کا پھیلانا چاہے تو خود اس کو معترض کی جگہ تصور کرتے ہیں اور اپنی نادانی سے دوست کو دشمن قرار دیتے ہیں۔

 

کیا عمدہ رائے اس فیلسوف کی ہے۔ “کسی رائے کے حامیوں کا اس رائے کے بر خلاف رائے کے مشتہر ہونے میں مزاحمت کرنے سے خود ان حامیوں کا بہ نسبت ان کے مخالفوں کے زیادہ تر نقصان ہے اس لئے کہ اگر وہ رائے صحیح و درست ہو تو اس کی مزاحمت سے غلطی کے بدلے صحیح بات حاصل کرنے کا موقع ان کے ہاتھ سے جاتا ہے اور اگر وہ غلط ہے تو اس بات کا موقع نہیں رہتا کہ غلطی اور صحت کے مقابلہ سے جو صحت کو زیادہ استحکام اور اس کی سچائی زیادہ تر دلوں پر مؤثر ہوتی ہے اور اس کی روشنی دلوں میں بیٹھ جاتی ہے، اس نتیجہ کو حاصل کریں جو فی الحقیقت نہایت عمدہ فائدہ ہے۔”

 

کچھ شبہ نہیں کہ عموماً مخالف اور موافق رایوں کا پھیلنا اور منتشر ہونا خواہ وہ دینی معاملہ سے علاقہ رکھتی ہوں یا دنیوی معاملہ سے نہایت عمدہ اور مفید ہے۔ دونوں قسم کی رایوں پر جدا جدا غور کرنے کا موقع ملتا ہے کہ ان میں سے کونسی بہتر ہے یا ان دونوں کی تائید ایسے دلائل سے ہوتی ہے جو جداگانہ ہر ایک کے مناسب ہیں۔ ہم کو اس بات کا کبھی یقینِ کامل نہیں ہو سکتا کہ جس رائے کی مزاحمت میں پابند رہنے میں ہم کوشش کرتے ہیں وہ غلط ہی ہے اور اگر یقین بھی ہو کہ وہ غلط ہے تو بھی اس کی مزاحمت اور اس کا انسداد برائی سے خالی نہیں۔

 

فرض کرو کہ جس رائے کا بند کرنا ہم چاہتے ہیں حقیقت میں وہ رائے صحیح و درست ہے اور جو لوگ اس کا انسداد چاہتے ہیں وہ اس کی درستی اور صحت سے منکر ہیں مگر غور کرنا چاہیئے کہ وہ لوگ یعنی اس رائے کے بند کرنے والے ایسے نہیں ہیں جن سے غلطی اور خطا ہونی ممکن نہ ہو تو ان کو اس بات کا حق نہیں ہے کہ وہ اس خاص معاملہ کو تمام انسانوں کے لیئے خود فیصل کریں اور اور شخصوں کو اپنی رائے کام میں لانے سے محروم کر دیں۔ کسی مخالف رائے کی سماعت سے اس وجہ سے انکار کرنا کہ ہم کو اس کے غلط ہونے کا یقین ہے گویا یہ کہنا ہے کہ ہمارا یقین یقینِ کامل کا رتبہ رکھتا ہے اور اس پر بحث و گفتگو کی ممانعت کرنا انبیاء سے بھی بڑھ کر اپنا رتبہ ٹھہرانا ہے اور اپنے تئیں ایسا سمجھنا ہے کہ ہم سے سہو و خطا ہونا نا ممکن ہے۔

 

انسانوں کی سمجھ پر بڑا افسوس ہے کہ جس قدر وہ اپنے خیال اور قیاس میں اپنے سے اس مشہور مقولہ کی سند پر کہ الانسان مرکب میں الخطاء والنسیان سہو و خطا کا ہونا ممکن سمجھتے ہیں اس قدر اپنی رایوں اور اپنی باتوں کے عمل درآمد میں نہیں سمجھتے، ان کی عملی باتوں سے اس کی قدر و منزلت نہایت ہی خفیف معلوم ہوتی ہے گو خیال و قیاس میں اس کی کیسی ہی بڑی قدر و منزلت سمجھتے ہوں۔ اگرچہ سب اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ہم سے سہو و خطا ہونی ممکن ہے مگر بہت ہی کم آدمی ایسے ہوں گے جو اس کا خیال رکھنا اور ازروئے عمل کے بھی اس کی احتیاط کرنا ضرور سمجھتے ہیں اور عملی طور پر اس بات کو تسلیم کرتے ہوں کہ جس رائے کی صحت کا ان کو خوب یقین ہے شاید وہ اسی سہو و خطا کی مثال ہو جس کا ہونا وہ اپنے سے ممکن سمجھتے ہیں۔

 

جو لوگ کہ دولت یا منصب اور حکومت یا علم کے سبب غیر محدود تعظیم و ادب کے عادی ہوتے ہیں وہ تمام معاملات میں اپنی رایوں کے صحیح ہونے پر یقینِ کامل رکھتے ہیں اور اپنے سہو و خطا ہونے کا احتمال بھی نہیں کرتے اور جو لوگ ان سے کسی قدر زیادہ خوش نصیب ہیں یعنی وہ کبھی کبھی اپنی رایوں پر اعتراض اور حجت اور تکرار ہوتے ہوئے سنتے ہیں اور کچھ کچھ اس بات کے عادی ہوتے ہیں کہ جب غلطی پر ہوں تو متنبہ ہونے پر اس کو چھوڑ دیں اور درست بات کو مان لیں۔ اگرچہ ان کو اپنی ہر ایک رائے کی درستی پر یقینِ کامل تو نہیں ہوتا مگر ان رایوں کی درستی پر ضرور یقین ہوتا ہے جن کو وہ لوگ جو ان کے ارد گرد رہتے ہیں یا ایسے لوگ جن کی بات کو وہ نہایت ادب و تعظیم کے قابل سمجھتے ہیں ان رایوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہ ایک قاعدہ کلیہ ہے کہ جو شخص جسقدر اپنی ذاتی رائے پر اعتماد نہیں رکھتا وہ شخص اسی قدر دنیا کی رائے پر عموماً زیادہ تر اعتماد رکھتا ہے جس کو بعضی اصطلاحوں میں جمہور کی رائے یا جمہور کا مذہب کہا جاتا ہے۔

 

مگر یہ بات سمجھنی چاہیئے کہ ایسے لوگوں کے نزدیک دنیا سے یا جمہور سے کیا مراد ہوتی ہے۔ ہر ایسے شخص کے نزدیک دنیا سے اور جمہور سے وہ چند اشخاص معدود مراد ہوتے ہیں جن سے وہ اعتقاد رکھتا ہے یا جن سے وہ ملتا جلتا ہے مثلاً اس کے دوستوں یا ہم رایوں کا فریق یا اس کی ذات برادری کے لوگ یا اس کے درجہ و رتبہ کے لوگ، پس اس کے نزدیک تمام دنیا اور جمہور کے معنی انہیں میں ختم ہو جاتے ہیں، اور اس لئے وہ شخص اس رائے کو دنیا کی یا جمہور کی رائے سمجھ کر اس کی درستی پر زیادہ تر یقین کرتا ہے۔ اس ہئیت مجموعی رائے کا جو اعتماد اور یقین اس کو زیادہ ہوتا ہے اور ذرا بھی اس میں لغزش نہیں آتی۔ اس کا سبب یہ ہی ہوتا ہے کہ وہ اس بات سے واقف نہیں ہوتا کہ اس کے زمانہ سے پہلے اور زمانوں کے اور ملکوں کے اور فرقوں کے اور مذہبوں کے لوگ اس میں کیا رائے رکھتے ہیں، اور اب بھی اور ملکوں اور فرقوں اور مذہبوں کے لوگ کیا رائے رکھتے ہیں۔ ایسے شخص کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ اس بات کی جواب دہی کو کہ در حقیقت وہ راہِ راست پر چلتا ہے اپنی فرضی دنیا یا جمہور کے ذمہ ڈالتا ہے۔ پس جو کچھ اس کی رائے یا اس کا حال ہو کچھ بھی اعتبار اور یقین کے لایق نہیں ہے۔ اس لئے کہ جن وجوہات سے وہ شخص بسبب مسلمان خاندان میں پیدا ہونے کے اس وقت بڑا مقدس مسلمان ہے، انہی وجوہات سے اگر وہ عیسائی خاندان یا ملک یا بت پرست خاندان یا ملک میں پیدا ہوتا تو وہ بھلا چنگا عیسائی یا بت پرست ہوتا۔ وہ مطلق اس بات کا خیال نہیں کرتا کہ جسطرح کس خاص شخص کا خطا میں پڑنا ممکن ہے اسی طرح اس کی فرضی دنیا اور خیالی جمہور کی تو کیا حقیقت ہے زمانہ کے زمانہ کا اور اس سے بھی بہت بڑی دنیا کا خطا میں پڑنا ممکن ہے۔ تاریخ سے اور علومِ موجودہ سے بخوبی ظاہر ہے کہ ہر زمانہ میں ایسی ایسی رائیں قائم ہوئیں اور مسلّم قرار پائیں جو اس کے بعد کے زمانہ میں صرف غلط ہی نہیں بلکہ سراسر لغو و مہمل سمجھی گئیں اور یقیناً اس زمانہ میں بھی ایسی رائیں مروج ہوں گی جو کسی آیندہ زمانہ میں اسی طرح مردود اور نا معقول ٹھہریں گی جیسے کہ بہت سی وہ رائیں جو اگلے زمانہ میں عام طور پر مروج تھیں اور اب مردود ہو گئی ہیں۔

 

اس تقریر پر یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ جو لوگ مخالف رائے کو غلط اور مضر سمجھ کر اس کی مزاحمت کرتے ہیں اس سے ان کا مطلب اس بات کا دعویٰ کرنا کہ وہ غلطی سے آزاد و بری ہیں، نہیں ہوتا۔ بلکہ اس سے اس فرض کا ادا کرنا مقصود ہوتا ہے جو ان پر با وصف قابلِ سہو و خطا ہونے کے اپنے ایمان اور اپنے یقین کے مطابق عمل کرنے کا ہے۔ اگر لوگ اس وجہ سے اپنی رایوں کے موافق کاربند نہ ہوں کہ شاید وہ غلط ہوں تو کوئی شخص اپنا کوئی کام بھی نہیں کر سکتا۔ لوگوں کا یہ فرض ہے کہ حتی المقدور اپنی نہایت درست رائے قائم کریں اور بغور ان کو قرار دیں اور جب ان کی درستی کا بخوبی یقین ہو جاوے تو اس کے مخالف رایوں کے بند کرنے اور مزاحمت کرنے میں کوشش کریں۔ آدمیوں کو اپنی استعداد و قابلیت کو نہایت عمدہ طور سے برتنا چاہیئے۔ یقینِ کامل کسی امر میں نہیں ہو سکتا مگر ایسا یقین ہو سکتا ہے جو انسان کے مطلب کے لئے کافی ہو۔ انسان اپنی کاروائی کے لئے اپنی رائے کو درست و صحیح سمجھ سکتے ہیں اور ان کو ایسا ہی سمجھنا چاہیئے اور اس سے زیادہ اور کوئی بات اس صورت میں اختیار نہیں کرتے جبکہ وہ خراب آدمیوں کو ممانعت کرتے ہیں کہ ایسی رایوں کے شائع کرنے سے جو ان کے نزدیک فاسد اور مضر ہیں لوگوں کو خراب یا بد اخلاق یا بد مذہب نہ کریں۔

 

مگر مخالف رائے کے بند کرنے میں صرف اتنا ہی نہیں ہوتا کہ انہوں نے اپنے تئیں قابل سہو و خطا سمجھ کر اپنے ایمان اور اپنے یقین کے موافق عمل کیا ہے بلکہ اس سے بہت زیادہ کیا جاتا ہے اس بات میں کہ ایک رائے کو اس وجہ سے صحیح سمجھا جاوے کہ اس پر اعتراض و حجت کرنے کا ہر طرح پر لوگوں کو موقع دیا گیا اور اس کی تردید نہ ہو سکی اور اس بات میں کہ ایک رائے کو اس وجہ سے مان لیا گیا کہ اس کی تردید کی کسی کو اجازت نہیں ہوئی، زمین و آسمان کا فرق ہے۔ پس مخالف رایوں کی مزاحمت کرنے والے اپنی رائے کو اس وجہ سے صحیح نہیں سمجھتے کہ اس کی تردید نہیں ہو سکی بلکہ اس لیئے صحیح ٹھہراتے ہیں کہ اس کی تردید کی اجازت نہیں ہوئی۔ حالانکہ جس شرط سے ہم بطور جائز اپنی رائے کو عمل درآمد ہونے کے لئے درست قرار دے سکتے ہیں وہ صرف یہی ہے کہ لوگوں کو اس بات کی کامل آزادی ہو کہ وہ اس رائے کے برخلاف کہیں اور اس کو غلط ثابت کریں۔ اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں ہے کہ انسان جس کے قوائے عقلی اور قوائے کامل نہیں ہیں اپنے آپ کو راہِ راست پر ہونے کا یقین کر سکے۔ اہلِ مذاہب جو صرف اپنے معتقد فیہ کی پیروی ہی کو راہِ راست سمجھتے ہیں، جب تک کہ وہ بھی اس بات پر مباحثہ اور اظہار رائے کی اجازت نہ دیں کہ جس طرح پر ان کا عمل درآمد اور چال چلن یا اعتقاد اور خیال ہے وہ صحیح طور سے ان کے معتقد فیہ کی پیروی ہے یا نہیں، اس وقت تک وہ بھی اپنے آپ کو راہِ راست پر ہونے کا یقین نہیں کر سکتے۔

 

انسان کی پچھلی حالتوں کو موجودہ حالتوں سے مقابلہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ ہر زمانہ میں انسانوں کا یہی حال ہے کہ سو میں سے ایک شخص ہی اس قابل ہوتا ہے کہ دقیق معاملہ پر رائے دے اور نناوے شخص اس میں رائے دینے کی لیاقت نہیں رکھتے مگر اس ایک آدمی کی رائے کی عمدگی بھی صرف اضافی ہوتی ہے۔ اس لئے اگلے زمانوں کے لوگوں میں اکثر آدمی جو سمجھ بوجھ اور لیاقت میں مشہور تھے، ایسی رائیں رکھتے تھے کہ جن کی غلطی اب بخوبی روشن ہو گئی ہے۔ بہت سی ایسی باتیں ان کو پسندیدہ اور ان کے عمل درآمد تھیں جن کو اب کوئی بھی ٹھیک اور درست نہیں سمجھتا اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسانوں میں ہمیشہ معقول اور پسندیدہ رایوں کا غلبہ رہتا ہے مگر اس کا سبب بجز انسان کی عقل و فہم کی ایک عمدہ صفت کے جو نہایت ہی پسندیدہ ہے اور کوئی نہیں اور وہ صفت یہ ہے کہ انسان کی غلطیاں اصلاح کی صلاحیت رکھتی ہیں یعنی انسان اپنی غلطیوں کو مباحثہ اور تجربہ کے ذریعہ سے درست کر لینے کی قابلیت رکھتا ہے۔ پس انسان کی رائے بتمامہ قوت اور قدر و منزلت کا حصر اس ایک بات پر ہے کہ جب وہ غلط ہو تو صحیح کی جا سکتی ہے مگر اس پر اعتماد اسی وقت کیا جا سکتا ہے جبکہ اس کے صحیح کرنے کے ذریعے ہمیشہ برتاؤ میں رکھے جاویں۔ خیال کرنا چاہئے کہ جس آدمی کی رائے حقیقت میں اعتماد کے قابل ہے اس کی وہ رائے اس قدر و منزلت کو کس وجہ سے پہنچی، اسی وجہ سے پہنچی ہے کہ اس نے ہمیشہ اپنی طبیعت پر اس بات کو گوارا رکھا ہے کہ اس کی رائے پر نکتہ چینیاں کی جاویں اور اس نے اپنا طریقہ یہ ٹھہرایا ہے کہ اپنے مخالف کی رائے کو ٹھنڈے دل سے سنا اور اس میں جو کچھ درست اور واجب تھا اس سے مستفید ہونا اور جو کچھ اس میں غلط اور نا واجب تھا اس کو سمجھ لینا اور موقع پر اس غلطی سے اوروں کو بھی آگاہ کر دینا۔ ایسا شخص گویا اس بات کو عملی طور پر تسلیم کرتا ہے کہ جس طریقہ سے انسان کسی معاملہ کے مدارج کو جان سکتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ اس کی بات ہر قسم کی رائے کے لوگوں کی گفتگو کو سنے اور جن جن طریقوں سے ہر سمجھ اور طریقہ اور طبیعت کے آدمی اس معاملہ پر نظر کریں ان سب طریقوں کو سوچے اور سمجھے، کسی دانا آدمی نے اپنی دانائی بجز اس طریقہ کے اور کسی طرح پر حاصل نہیں کی۔ انسان کی عقل و فہم کا خاصہ یہی ہے کہ وہ اس طور کے سوا کسی اور طور سے مہذب اور معقول ہو ہی نہیں سکتی اور صرف اس بات کی مستقل عادت کے سوا کہ اپنی رائے کو اوروں کی رایوں سے مقابلہ کر کے اس کی اصلاح و تکمیل کیا کرے، اور کوئی بات اس پر اعتماد کرنے کی وجہ متصور نہیں ہو سکتی۔ اس لئے کہ اس صورت میں اس شخص نے لوگوں کی ان تمام باتوں کو جو اس کے بر خلاف کہہ سکتے تھے بخوبی سنا اور تما معترضوں کے سامنے اپنی رائے کو ڈالا اور بعوض اس کے کہ مشکلاتوں اور اعتراضوں کو چھپا دے، خود اسنے جستجو کی اور ہر طرف سے کو کچھ روشنی پہنچی اس کو بند نہیں کیا تو ایسا شخص البتہ اس بات کے خیال کرنے کا استحقاق رکھتا ہے کہ میری رائے ایسے شخص یا اشخاص سے جنہوں نے اپنی رائے اس طرح پر پختہ نہیں کیا، بہتر و فایق ہے۔

 

جس شخص کو اپنی رائے پر کسی قدر بھروسہ کرنے کی خواہش ہو یا یہ خواہش رکھتا ہو کہ عام لوگ بھی اس کو تسلیم کریں، اس کا طریقہ بجز اس کے اور کچھ نہیں ہے کہ وہ اپنی رائے کو عام مباحثہ اور ہر قسم کے لوگوں کو اعتراضوں کے لئے حاضر کرے۔ اگر نیوٹن صاحب کی حکمت اور ہیئت اور مسئلہ ثقل پر اعتراض اور حجت کرنے کی اجازت نہ ہوتی تو دنیا اس کی صحت اور صداقت پر ایسا پختہ یقین نہیں کر سکتی تھی جیسا کہ اب کرتی ہے۔ کیا کچھ مخالفت ہے جو لوگوں نے اس دانا حکیم کے ساتھ نہیں کی اور کونسی مذہبی لعن و طعن ہے جو اس سچے اور سچی رائے رکھنے والے حکیم کو نہیں دی گئی مگر غور کرنا چاہیئے کہ اس کا نتیجہ کیا ہوا، یہ ہوا کہ آج تمام دنیا کیا دانا اور کیا نادان، کیا حکیم اور کیا معتصب اہلِ مذہب، سب اسی کو تسلیم کرتے ہیں اور اسی کو سچ جانتے ہیں، اور مذہبی عقائد سے بھی زیادہ اس کی سچائی دلوں میں بیٹھی ہے۔ بغیر آزادیِ رائے کے کسی چیز کی سچائی، جہاں تک کہ اس کی سچائی دریافت ہونی ممکن ہے، دریافت نہیں ہو سکتی۔ جن اعتقادوں کو ہم نہایت جائز و درست سمجھتے ہیں ان کے جواز اور درستی کی اور کوئی سند اور بنیاد بجز اس کے نہیں ہو سکتی کہ تمام دنیا کو اختیار دیا جاوے کہ وہ ان کو بے بنیاد ثابت کریں۔ اگر وہ لوگ ایسا قصد نہ کریں یا کریں اور کامیاب نہ ہوں تو بھی ہم ان پر یقینِ کامل رکھنے کے مجاز نہیں ہیں۔ البتہ ایسی اجازت دینے سے ہم نے ایک ایسا نہایت عمدہ ثبوت ان کی صحت کا حاصل کیا ہے جو انسانوں کی عقل کی حالتِ موجودہ سے ممکن تھا کیونکہ ایسی حالت میں ہم نے کسی ایسی بات سے غفلت نہیں کی جس سے صحیح صحیح بات ہم تک نہ پہنچ سکتی ہو، اور اگر امر مذکورہ پر مباحثہ کی اجازت جاری رہے تو ہم امید کر سکتے ہیں کہ اگر کوئی بات اس سے بہتر اور سچ اور صحیح ہے تو وہ اس وقت ہم کو حاصل ہو جاوے گی جبکہ انسانوں کی عقل و فہم اس کے دریافت کرنے کے قابل ہو گی اور اس اثناء میں ہم اس بات کا یقین کر سکتے ہیں کہ ہم راستی اور صداقت کے اس قدر قریب پہنچ گئے ہیں جسقدر کہ ہمارے زمانے میں ممکن تھا۔ غرضکہ ایک خطاوار وجود جس کو انسان کہتے ہیں اگر کسی امر کی نسبت کسی قدر یقین حاصل کر سکتا ہے تو اس کا یہی طریقہ ہے جو بیان ہوا اور مسلمانی مذہب کا جو ایک مشہور مسئلہ ہے الحق یعلو و لا یعلی یہ اس کی ایک ادنٰی تفسیر ہے۔

 

مگر ایک بہت بڑا دھوکہ ہے جو انسانوں کو اور بعضی دفعہ نیک گورنمنٹوں کو بھی آزادیِ رائے کے بند کرنے پر مائل کرتا ہے اور وہ مسئلہ سود مندی کا ہے جس کو غلط اور جھوٹا نام مصلحتِ عام کا دیا گیا ہے وللہ در من قال برعکس نہند نام زنگی کافور، اور وہ مسئلہ یہ ہے کہ کسی رائے یا مسئلہ یا عقیدہ کی سچائی اور صحت پر بحث کرنے سے اس لئے ممانعت کی جاتی ہے کہ گو وہ فی نفسہ کیسا ہی ہو مگر اس سے عام لوگوں کا پابند رہنا نہایت مفید اور باعثِ صلاح و فلاح عام لوگوں کا ہے، اور فی زماننا ہذا ہندوستان میں اور خصوصاً مسلمانوں میں یہ رائے بکثرت رائج ہے بلکہ اس گناہ کے کام کو ایک نیک کام تصور کیا جاتا ہے۔ اس رائے کا نتیجہ یہ ہے کہ مباحثہ اور رایوں کی آزادی کا بند کرنا اس مسئلہ یا عقیدہ کی صحت اور سچائی پر منحصر نہیں ہے بلکہ زیادہ تر مفیدِ عام ہونے پر منحصر ہے مگر افسوس ہے کہ ایسی رائے رکھنے والے یہ نہیں سمجھتے کہ وہی دعویٰ سابق یعنی اپنے آپ کو ناقابلِ سہو و خطا سمجھنے کا جس سے انہوں نے توبہ کی تھی پھر پھرا کر پھر قائم ہو جاتا ہے۔ صرف اتنا فرق ہوتا ہے کہ پہلے وہ دعویٰ ایک بات پر تھا اب وہی دعویٰ دوسری بات پر ہے۔ یعنی پہلے اس اصل مسئلہ یا عقیدہ کے سچ ہونے پر تھا اور اب اس کے مفیدِ عام ہونے پر ہے حالانکہ یہ بات بھی کہ وہ مسئلہ یا عقیدہ مفیدِ عام ہے اسی قدر بحث و مباحثہ کا محتاج ہے جس قدر کہ وہ اصل مسئلہ یا عقیدہ کا محتاج ہے۔

 

ایسی رائے رکھنے والے اس غلطی پر ایک اور دوسری غلطی یہ کرتے ہیں جبکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے صرف اس کی اصلیت اور سچائی پر بحث کی ممانعت کی ہے اس کے مفیدِ عام ہونے کی بحث پر ممانعت نہیں کی اور یہ نہیں سمجھتے کہ رائے کی صداقت خود اس کے مفیدِ عام ہونے کا ایک جزو ہے، ممکن نہیں کہ ہم کسی رائے کے مفید عام ہونے پر بغیر اس کی صحت اور سچائی ثابت کئے بحث کر سکیں گے۔ اگر ہم یہ بات جاننی چاہتے ہیں کہ فلاں بات لوگوں کے حق میں مفید ہے یا نہیں تو کیا یہ ممکن ہے کہ اس بات پر توجہ نہ کریں کہ آیا وہ بات سچ اور صحیح و درست بھی ہے یا نہیں۔ ادنٰی اور اعلٰی سب اس بات کو قبول کرینگے کہ کوئی رائے یا مسئلہ یا اعتقاد جو صداقت اور راستی کے بر خلاف ہے دراصل کسی کے لئے مفید نہیں ہو سکتا۔

 

یہ تمام مباحثہ جو ہم نے کیا ایسی صورت سے متعلق تھا کہ رائے مروجہ اور تسلیم شدہ کو ہم نے غلط اور اس کے بر خلاف رائے کو جس کا بند رکھنا لوگ چاہتے تھے، صحیح و درست فرض کیا تھا، اب اس کے خلاف شق کو اختیار کرتے ہیں یعنی یہ فرض کرتے ہیں کہ رائے مروجہ اور تسلیم شدہ صحیح ہے اور اس کے بر خلاف رائے جس کا بند کرنا چاہتے ہیں، غلط اور نادرست ہے اور اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ اس غلط رائے کا بھی بند کرنا خالی برائی اور نقصان سے نہیں۔

 

ہر ایک شخص کی، گو اس کی رائے کیسی ہی زبردست اور مضبوط ہو اور وہ کیسی ہی مشکل اور نا رضامندی سے اپنی رائے کے غلط ہونے کے امکان کو تسلیم کرے، یہ بات خوب یاد رکھنی چاہئے کہ اگر اس رائے پر بخوبیِ تمام اور نہایت بیباکی سے بے دھڑک مباحثہ نہیں ہو سکتا تو وہ ایک مردہ اور مردار رائے قرار دی جائیگی، نہ ایک زندہ اور سچی حقیقت اور وہ کبھی ایسی حق اور سچی بات نہیں قرار پا سکتی جس کا اثر ہمیشہ لوگوں کی طبیعتوں پر رہے۔

 

گذشتہ اور حال کے زمانہ کی تاریخ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعضی دفعہ ظالم گورنمنٹوں نے بھی نہایت سچی اور صحیح بات کی رواج پر کوشش کی۔ الا ان کے ظلم نے اُس پر آزادی سے مباحثہ کی اجازت نہیں دی، اور بہت سی ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ نیک اور تربیت یافتہ گورنمنٹ نے نہایت سچی اور صحیح بات کا رواج دینا چاہا اور لوگوں نے یا تو اس خیال سے کہ ہمارے مباحثہ اور دلائل کو اُس رائے میں کچھ مداخلت نہیں ہے یا کوئی التفات نہیں کرتا، از خود مباحثہ کو نہیں اٹھایا یا اپنے وہمی خوف سے یا اراکین گورنمنٹ کی بد مزاجی کے ڈر سے یا ان کی خلاف رائے کے کوئی بات نہ کہنی مصلحتِ وقت سمجھ کر یا یہ خیال کر کر کہ گورنمنٹ کے یا کسی کے بر خلاف بحث کرنا خیر خواہی نہیں، مباحثہ کو ترک کر دیا تو اس کا نتیجہ بجز اس کے اور کچھ نہیں ہوا کہ اس تجویز نے کسی کے دلوں میں مطلق اثر نہیں کیا اور ایک مردہ رائے سے زیادہ اور کچھ رتبہ لوگوں کے دلوں میں نہیں پایا۔

 

یہ بات کہ سچی اور درست رائے بے مباحثہ و دلیل کے بھی طبیعتوں میں بیٹھ جاتی ہے اور گھر کر لیتی ہے، ایک خوش آیند مگر غلط آواز ہے۔ دنیا کو دیکھو کہ گروہ کے گروہ ایک دوسرے کی متناقص رائے پر جمے ہوئے ہیں اور وہ متناقص رائیں ان کے دلوں میں گھر کئے ہوئے ہیں، پھر کیا وہ دونوں متناقص رائیں سچی اور صحیح ہیں۔۔۔۔۔ہاں اس میں کچھ شک نہیں کہ بہت سی باتیں بے سمجھے اور بغیر دلیل کے اور بغیر مباحثہ کے لوگوں کے دلوں میں گھر کر جاتی ہیں مگر ان کا صحیح اور درست ہونا ضرور نہیں۔

 

سچ میں کوئی ایسی اعجازی کرامات نہیں ہے کہ وہ از خود دلوں میں بیٹھ جاوے، اس میں جو کچھ کرامات ہے وہ صرف اسی قدر ہے کہ مباحثہ کا اس کو خوف نہیں۔ سچ رائے بھی اگر بلا دلیل و مباحثہ دل میں گھر کر لے تو وہ سچی رائے نہیں کہلاوے گی بلکہ تعصب اور جہل مرکب اس کا مناسب نام ہو گا۔ مگر ایسا طریقہ حق اور سچ بات کے قبول کرنے کا ایک ذی عقل مخلوق کے لئے جیسا کہ انسان ہے شایان نہیں اور نہ یہ طریقہ راستی و حق کے پہچاننے کا ہے بلکہ جو حق بات اس طرح پر قبول کی جاتی ہے وہ ایک خیالِ فاسد اور باطل ہے، اور جن باتوں کو حق فرض کر لیا ہے ان کا اتفاقیہ قبول کر لینا ہے۔

 

نہایت سچ اور بالکل سچ تو یہ بات ہے کہ جس شخص نے جو رائے یا مذہب اختیار کیا ہے وہی شخص اس کا جوابدہ ہے۔ اس رائے کے موجد یا اس مذہب کے پیشوا اور معلم اور مجتہد کچھ اس کے ذمہ دار نہیں ہیں مگر مسلمانوں نے اس آفتاب سے بھی زیادہ روشن مسئلہ سے آنکھ بند کر لی ہے۔ اور رومن کیتھولک یعنی بت پرست عیسائیوں کا مسئلہ اختیار کیا ہے۔ رومن کیتھولک مذہب میں ان لوگوں کے جو اس مذہب پر ایمان رکھتے ہیں دو فرقے قرار دیئے گئے ہیں، ایک تو وہ جو اس مذہب کے مسائل کو بعد دلیل و ثبوت کے قبول کرنے کے مجاز ہیں اور دوسرے وہ جن کو صرف اعتماد اور بھروسہ یعنی تقلید سے ان کو قبول کر لینا چاہیئے۔ اسی قاعدہ کی پیروی سے مسلمانوں نے بھی اپنے مذہب میں دو فریق قائم کیے ہیں، ایک وہ جنہوں نے مسئلہ مسلّمہ کو بعد ثبوت و تحقیقات اور اقامت و دلیل تسلیم کیا ہے اور ان کا نام باختلاف درجات مجتہد مطلق اور مجتہد فی المذہب اور مرجح قرار دیا ہے۔ دوسرا وہ جن کو بے سمجھے بوجھے آنکھ بند کر کر ان کی پیروی کرنی چاہیئے اور ان کا نام مقلد اور اس فعل کا نام تقلید قرار دیا ہے اور اس سبب سے مخالف رائے کی مزاحمت مسلمانوں میں بہت زیادہ پھیل گئی ہے اور اس کی نسبت ایک نہایت عمدہ مگر ابلہ فریب تقریر کرتے ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ تمام انسانوں کو ان تمام باتوں کا جاننا نہ ضرور ہے اور نہ ممکن ہے جن کو بڑے بڑے حکیم یا اہلِ معرفت اور عالمِ علوم دین جانتے اور سمجھتے ہیں اور نہ یہ ہو سکتا ہے کہ ہر ایک عام آدمی ایک ذکی اور دانشمند مخالف کی تمام غلط بیانیوں کو جانے اور ان کو غلط ثابت کرے یا تردید کرنے اور غلط ثابت کرنے کے قابل ہو، بلکہ صرف اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ ان کے جواب دینے کے لائق ہمیشہ کوئی نہ کوئی موجود ہوں گے جن کی بدولت مخالفت کی کوئی بات بھی بلا تردید باقی نہ رہی ہو گی بس سیدھی سادھی عقل کے آدمیوں کے لئے یہی کافی ہے کہ ان باتوں کی اصلیت سکھلا دی جاوے اور باقی وجوہات کی بابت وہ اوروں کی سند پر بھروسا کریں اور جبکہ وہ خود اس بات سے واقف ہیں کہ ہم ان تمام مشکلات کے رفع دفع کرنے کے واسطے کافی علم اور پوری لیاقت نہیں رکھتے ہیں تو اس بات کا یقین کر کر مطمئن ہو سکتے ہیں کہ جو مشکلات اور اعتراض برپا کئے گئے ہیں وہ لوگ ان سب کا جواب دے چکے ہیں یا آئندہ دیں گے جو بڑے بڑے عالم ہیں۔

 

اس تقریر کو تسلیم کرنے کے بعد بھی رائے کی آزادی اور مخالف رائے کی مزاحمت سے جو نقصان ہیں اس میں کچھ نقصان نہیں لازم آتا کیونکہ اس تقریر کے بموجب بھی یہ بات قرار پاتی ہے کہ آدمیوں کو اس بات کا معقول یقین ہونا چاہیئے کہ تمام اعتراضوں کا جواب حسبِ اطمینان دیا گیا ہے اور یہ یقین جب ہی ہو سکتا ہے جب کہ اس پر بحث و مباحثہ کرنے کی آزادی ہو اور مخالفوں کو اجازت ہو کہ تمام اپنی وجوہات کو جو اس کے مخالف رکھتے ہیں بیان کریں اور اس مسئلہ کو غلط ثابت کرنے میں کوئی کوشش باقی نہ چھوڑیں۔

 

اگر تقلید کی گرم بازاری کا جیسے کہ آج کل ہے اور آزادانہ مباحثہ کی مزاحمت و عدم موجودگی کا نقصان اور بد اثر درصورتیکہ تسلیم شدہ مسئلہ یا قراردادہ رائیں صحیح ہوں، اسی قدر ہوتا کہ اس مسئلہ یا ان رایوں کی وجوہات معلوم نہیں ہیں تو یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ گو وہ مزاحمت عقل و فہم کے حق میں مضر ہے مگر اخلاق کو تو اس سے کچھ مضرت نہیں پہنچتی اور نہ اس مسئلہ کی یا رایوں کی اس قدر و منزلت میں کہ ان سے نہایت عمدہ اثر لوگوں کی خصلتوں پر ہوتا ہے کچھ نقصان ہے۔ مگر یہ بات نہیں ہے بلکہ اس سے بڑھ کر نقصان ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مباحثہ اور آزادیِ رائے کی عدم موجودگی میں صرف مسئلہ یا رایوں کی وجوہات ہی کو لوگ نہیں بھول جاتے بلکہ اکثر اس مسئلہ یا رائے کے معنی اور مقصد کو بھی بھول جاتے ہیں۔ چنانچہ جن لفظوں میں وہ مسئلہ یا رائے بیان کی گئی ہے اس سے کسی رائے یا خیال کا قائم کرنا تک موقوف ہو جاتا ہے یا جو جو باتیں ان لفظوں سے ابتدا میں مراد رکھی گئی تھیں ان میں سے بہت تھوڑی ہی معلوم رہ جاتی اور بعوض اس کے کہ اس مسئلہ یا رائے کا اعتقاد ہر دم تر و تازہ اور زندہ یعنی موثر رہے اس کے صرف چند ادھورے کلمے حافظہ کی بدولت باقی رہ جاتے ہیں اور اس کی مراد اور معنی بھی کچھ باقی رہتے ہیں تو صرف ان کا پوست ہی پوست باقی رہتا ہے اور مغز و اصلیت نابود ہو جاتی ہے۔ اب ذرا انصاف سے مسلمانوں کو اپنا حال دیکھنا چاہئے کہ تمام علوم، معقول و منقول، میں اسی مزاحمتِ رائے یا تقلید کی بدولت ان کا درحقیقت ایسا ہی حال ہو گیا ہے یا نہیں۔

 

اس زمانہ تک جس قدر کہ انسان کو تمام مذہبی عقائد اور اخلاقی امور اور علمی مسائل میں تجربہ ہوا ہے اس سے امر مذکورہ بالا کی صحت ثابت ہوتی ہے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ کسی مذہب یا علم یا رائے کے موجد تھے ان کے زمانہ میں اور ان کے خاص مریدوں یا شاگردوں کے دلوں میں تو یہ عقائد یا مسائل طرح طرح کے معنیوں اور مرادوں اور خوبیوں سے بھر پور تھے اور اس کا سبب یہی تھا کہ ان میں اور ان کے مخالف رائے والوں میں اس غرض سے بحث و حجت رہتی تھی کہ ایک کو دوسرے کے عقیدہ اور مسئلہ پر غلبہ اور فوقیت حاصل ہو مگر جب اس کو کامیابی ہوئی اور بہت لوگوں نے اس کو مان لیا اور بحث اور حجت بند ہو گئی، اس کی ترقی بھی ٹھہر گئی اور وہ اثر جو دلوں میں تھا اس میں بھی جان یعنی حرکت اور جنبش نہیں رہی، ایسی حالت میں خود اس کے حامیوں کا یہ حال ہوتا ہے کہ مثل سابق کے اپنے مخالف کے مقابلہ پر آمادہ نہیں رہتے اور جیسے کہ اس عقیدہ یا مسئلہ کی پہلے حفاظت کرتے تھے ویسی اب نہیں کرتے بلکہ نہایت جھوٹے غرور اور بیجا استغناء سے سکون اختیار کرتے ہیں اور حتی الامکان اس عقیدہ اور مسئلہ کے بر خلاف کوئی دلیل نہیں سنتے اور اپنے گروہ کے لوگوں کو بھی کفر کے فتووں کے ڈراوے اور جہنم مین جانے کی جھوٹی دہشت دکھانے سے، سننے سے اور اس پر بحث کرنے سے جہاں تک ہو سکتا ہے باز رکھتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ کہیں علموں کی روشنی جو آفتاب کی روشنی کی طرح پھیلتی ہے اور اعتراضوں کی ہوا اگر وہ صحیح ہوں تو کیا ان کے روکے سے رک سکتی ہے اور جب یہ نوبت پہنچ جاتی ہے تو اس عقیدے یا مسئلہ کا جن کو ان کے پیشواؤں نے نہایت محنتوں سے قائم کیا تھا زوال شروع ہوتا ہے اس وقت تمام معلم اور مقدس لوگ جو اُس کمبخت زمانہ کے پیشوا گنے جاتے ہیں، اس بات کی شکایت کرتے ہیں کہ معتقدوں کے دلوں میں ان عقیدوں کا جن کو انہوں نے برائے نام قبول کیا ہے کچھ بھی اثر نہیں پاتے اور باوجودیکہ وہ ظاہر میں ان عقیدوں اور مسئلوں کو قبول کرتے ہیں مگر ان کا ایسا اثر کہ ان کے معتقدوں کا چال چلن اور اخلاق اور عادت و معاشرت بھی ان عقیدوں اور مسئلوں کے مطابق ہو مطلق نہیں پاتے مگر افسوس اور نہایت افسوس کہ وہ معلم اور مقدس لوگ اتنا خیال نہیں فرماتے کہ یہ حال جو ہوا ہے جس کی وہ شکایت کرتے ہیں انہی کی عنایت و مہربانی کا تو نتیجہ ہے۔ اب میں صاف کہتا ہوں اور نہایت بے دھڑک کہتا ہوں کہ یہ جو کچھ میں نے بیان کیا ہے اس زمانہ کے مسلمانوں کے حال کا ٹھیک ٹھیک آئینہ ہے۔

 

اب اس حالت کے برخلاف حالت کو خیال کرو یعنی جب کہ آزادی رائے کی قائم رہتی ہے جس کے ساتھ مباحثہ کا بھی قائم رہنا لازم و ملزوم ہوتا ہے اور ہر ایک حامی کسی عقیدہ یا علمی مسئلہ کی وجوہ کو قائم اور غالب رہنے پر بحث کرتا ہے تو اس وقت عام لوگ بھی اور سست عقیدہ رکھنے والے بھی اس بات کو خوب جانتے اور سمجھتے ہیں کہ ہم کس بات پر لڑ بھڑ رہے ہیں اور ہمارے عقیدہ اور مسئلہ میں اور دوسروں کے عقیدہ اور مسئلہ میں کیا تفاوت ہے اور ایسی حالت میں ہزاروں ایسے آدمی پائے جاویں گے جنہوں نے اس عقیدہ یا مسئلہ کے اصول کو بخوبی خیال کیا ہو گا اور ہر ڈھنگ و طریقہ سے اس کو خوب سمجھ لیا ہو گا اور اس کے عمدہ عمدہ پہلوؤں کو بخوبی جانچ اور تول لیا ہو گا اور ان کے اخلاق اور ان کی عادت اور خصلت پر اس کا ایسا پورا اثر ہو گا کہ جیسا کہ ایسے شخص کی طبیعت پر ہونا ممکن ہے جس میں وہ عقیدہ یا مسئلہ بخوبی رچ بس گیا ہو۔ مگر جبکہ وہ عقیدہ ایک موروثی اعتقاد ہو جاتا ہے اور لوگ باپ دادا یا استاد پیر کی رسم تبرک کے طور پر قبول کرتے ہیں تو وہ تصدیق قلبی نہیں ہوتی، طبیعت اس کو مردہ دلی سے قبول کرتی ہے اور اس لئے طبیعت کا میلان اس عقیدہ اور مسئلہ کے بھلا دینے پر ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ عقیدہ یا مسئلہ انسان کے باطن سے بے تعلق ہو جاتا ہے اور ایسے حالات پیش آتے ہیں کہ جیسے اس زمانہ میں اکثر پیش ہوتے رہتے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عقیدہ یا مسئلہ طبیعت کے باہر باہر رہتا ہے اور بجائے اس کے کہ وہ دل میں گھر کرے، باہر ہی باہر ایسے خراب اور کانٹے دار پوست کی مانند لپٹا ہوا ہے جس کے سبب وہ باتیں ظہور میں نہیں آتیں جو انسان کے عمدہ عمدہ اوصافِ دروانی سے تعلق رکھتی ہیں بلکہ اس سے اس قسم کی قوت ظاہر ہوتی ہے جیسے کانٹے دار ٹھور کے درخت کی باڑ سے ہوتی ہے کہ وہ نہ خود اس گھیری ہوئی زمین کو کچھ فائدہ دیتا ہے اور نہ اوروں کو گل پھول لے جا کر اس میں لگانے دیتا ہے اور بجز اس کے کہ دل میں زمین کو ہمیشہ خالی اور ویران اور بیکار پڑا رہنے دے اور کچھ نہیں کرتا۔

٭٭٭

 

 

 

سولزیشن یا تہذیب

 

 

ہم دریافت کیا چاہتے ہیں۔  کہ سولزیشن کیا چیز ہے۔  اور کن کن چیزوں سے علاقہ رکھتی ہے؟ کیا کوئی بنائی ہوئی چیز ہے یا قدرت نے انسان کی فطرت میں اس کو پیدا کیا ہے؟ اس کے معنی کیا ہیں؟ کیا یہ کوئی اصطلاح ہے؟ جس کو لوگوں نے یا فیلسوفوں نے مقرر کیا ہے۔  یا ایسی چیز ہے۔  کہ اس کا مفہوم اور جن جن چیزوں سے اس کا تعلق ہے وہ قانون قدرت میں پایا جاتا ہے۔  اس امر کے تصفیہ کے لئے ہم کو انسانی حالات پر نظر کرنی چاہیے۔  اگر تہذیب انسان میں ایک فطری چیز ہے۔  تو وحشیوں میں۔  شہریوں میں۔  سب میں اس کا نشان ملے گا۔  گو اس کی صورتیں مختلف دکھائی دیتی ہوں۔  الا سب کی جڑ ایک ہی ہو گی۔

 

انسان میں یہ ایک فطری بات ہے۔  کہ وہ اپنے خیال کے موافق کسی چیز کو پسند کرتا ہے اور کسی کو ناپسند۔  یا یوں کہو۔  کہ کسی چیز کو اچھا ٹھہراتا ہے اور کسی کو برا اور اس کی طبیعت اس طرف مائل ہے۔  کہ اس بری چیز کی حالت کو۔  ایسی حالت سے تبدیل کر لے۔  جس کو وہ اچھا سمجھتا ہے۔  یہ ہی چیز سولزیشن کی جڑ ہے۔  جو انسان کے ہر گروہ میں اور ہر ایک میں پائی جاتی ہے۔  اسی تبادلہ کا نام سولزیشن یا تہذیب ہے اور کچھ شبہ نہیں کہ۔  یہ میلان یا خواہش مبادلہ انسان میں قدرتی ہے۔

 

سولزیشن یا تہذیب کی طرف انسان کی طبیعت کے مائل ہونے کے دو اصول ٹھہرے۔  اچھا اور برا۔  اور برے کو اچھا کرنا سولزیشن یا تہذیب ٹھیری۔  مگر اچھا اور برا قرار دینے کے مختلف اسباب خِلقی اور خُلقی۔  ملکی اور تمدنی ایسے ہوئے ہیں۔  جن کے سبب اچھا اور برا ٹھیراتے ہیں۔  یا یوں کہو۔  کہ قوموں کی سولزیشن میں اختلاف پڑ جاتا ہے۔  ایک قوم جس بات کو اچھا سمجھتی ہے اور داخل تہذیب جانتی ہے۔  دوسری قوم اسی بات کو بہت برا اور وحشیانہ قرار دیتی ہے۔  یہ اختلاف سولزیشن کا قوموں کے باہم ہوتا ہے۔  اشخاص میں نہیں ہوتا یا بہت ہی کم ہوتا ہے۔

 

جب کہ ایک گروہ انسانوں کا کسی جگہ اکھٹا ہو کر بستا ہے۔  تو اکثر ان کی ضرورتیں اور ان کی حاجتیں۔  ان کی غذائیں اور ان کی پوشاکیں۔  ان کی معلومات اور ان کے خیالات۔  ان کی مسرت کی باتیں اور نفرت کی چیزیں سب یکساں ہوتی ہیں۔  اس لیے برائی اور اچھائی کے خیالات بھی سب میں یکساں پیدا ہوتے ہیں۔  اور اسی لیے برائی کو اچھائی سے تبدیل کرنے کی خواہش سب میں ایک سی ہوتی ہے اور یہی مجموعی خواہش تبادلہ یا مجموعی خواہش سے وہ تبادلہ اس قوم یا گروہ کی سولزیشن ہے۔  مگر جب کہ مختلف گروہ مختلف مقامات میں بستے ہیں۔  تو ان کی حاجتیں اور خواہشیں بھی مختلف ہوتی ہیں۔  اور اس سبب سے تہذیب کے خیالات بھی مختلف ہوتے ہیں۔  مگر ضرور کوئی ایسی چیز بھی ہو گی۔  کہ جو سولزیشن کی ان مختلف حالتوں کا تصفیہ کرسکے۔

 

ملکی حالتیں جہاں تک کہ وہ بود و باش سے تعلق رکھتی ہیں۔  نہ فکر و خیال و دماغ سے۔  ان کو تہذیب سے چنداں تعلق نہیں بلکہ صرف انسان کے خیال کو اس سے تعلق ہے۔  جس کے سبب وہ اچھا اور برا ٹھیراتا ہے۔  اور جس کے باعث سے خواہش تبادلہ تحریک میں آتی ہے۔  اور وہ تبادلہ واقعی ہوتا ہے۔  جو سولزیشن کہلاتا ہے۔  پس سولزیشن کی مختلف حالتوں کا فیصلہ وہ اسباب کرسکتے ہیں۔  جن کے سبب سے اچھے اور برے کا خیال دل میں بیٹھتا ہے۔

 

خیال کی درستی اور پسند کی صحت کثرت معلومات اور علم طبیعات سے بخوبی ماہر ہونے پر منحصر ہے۔  انسان کی معلومات کو روز بروز ترقی ہوتی جاتی ہے۔  اور اس کے ساتھ ساتھ سولزیشن بھی بڑھتی ہے۔  کیا عجب ہے؟ کہ آئندہ کوئی ایسا زمانہ آئے کہ انسان کی تہذیب میں ایسی ترقی ہے۔  کہ اس زمانہ کی تہذیب کو بھی۔  لوگ ایسے ٹھنڈے دل سے دیکھیں جیسے کہ ہم اپنے سے اگلوں کی تہذیب کو ایک ٹھنڈے مگر مودب دل سے دیکھتے ہیں۔

 

تہذیب۔ یا یوں کہو۔  کہ بری حالت اچھی حالت میں لا دینا۔  کی تمام چیزوں سے اخلاقی ہوں یا مادی یکساں تعلق رکھتا ہے۔  اور تمام انسانوں میں پایا جاتا ہے۔  تکلیف سے بچنے اور آسائش حاصل کرنے کا سب کو یکساں خیال ہے۔  ہنر اور اس کو ترقی دینا تمام دنیا کی قوموں میں موجود ہے۔  ایک تربیت یافتہ قوم زر و جواہر۔  یاقوت و الماس سے نہایت نفیس خوبصورت زیور بناتی ہے۔  نا تربیت یافتہ قوم بھی کوڑیوں اور پوتھوں سے اپنی آرائش کا سامان بہم پہنچاتی ہے۔  تربیت یافتہ قومیں اپنی آرائش میں سونے چاندی مونگے اور موتیوں کو کام میں لاتی ہیں۔  نا تربیت یافتہ قومیں جانوروں کے خوبصورت اور رنگین پروں کو تتلیوں پر سے چھلے ہوئے سنہری پوست اور زمرد کے سے رنگ کی باریک اور خوشنما گھاس میں گوندھ کر اپنے تئیں آراستہ کرتی ہیں۔  تربیت یافتہ قوموں کو بھی اپنے لباس کی درستی کا خیال ہے۔  نا تربیت یافتہ بھی اس کی درستی پر مصروف ہیں۔  شاہی مکانات نہایت عمدہ اور عالی شان بنتے ہیں اور نفیس چیزوں سے آراستہ ہوتے ہیں۔  نا تربیت یافتہ قوموں کے جھونپڑے اور انک ے رہنے کے گھونپے درختوں پر باندھے ہوئے ٹانڈ۔  زمین میں کھودی ہوئی کھوئیں بھی تہذیب سے خالی نہیں۔  معاشرت کی چیزیں تمدن کے قاعدے۔  عیش و عشرت کی مجلسیں۔  خاطر و مدارت کے کام اخلاق و محبت کی علامتیں دونوں میں پائی جاتی ہیں۔

 

علمی خیالات سے بھی نا تربیت یافتہ قومیں خالی نہیں۔  بلکہ بعض چیزیں اس میں زیادہ اصلی اور قدرتی طور سے دکھائی دیتی ہیں۔  مثلاً شاعری جو ایک نہایت عمدہ فن تربیت یافتہ قوموں میں ہے۔  نا تربیت یافتہ قوموں میں عجب عمدگی و خوبی سے پایا جاتا ہے۔  یہاں خیالی باتوں کو ادا کیا جاتا ہے۔  وہاں دلی جوشوں اور اندرونی جذبوں کا اظہار ہوتا ہے۔  موسیقی نے تربیت یافتہ قوموں میں نہایت ترقی پائی ہے۔  مگر نا تربیت یافتہ قوموں میں بھی عجب کیفیت دکھائی ہے۔  ان کی ادا اور آواز کی پھرت۔  اس کا گھٹاؤ اور کا بڑھاؤ۔  اس کا ٹھیراؤ اور کی اپج۔  ہاتھوں کا بھاؤ اور پاؤں کی دھمک زیادہ تر مصنوعی قواعد کی پابند ہے۔  مگر نا تربیت یافتہ قوموں میں یہ سب چیزیں دلی جوش کی موجیں ہیں۔  وہ لے اور تال اور راگ راگنی کو نہیں جانتے۔

 

مگر دل کی لہر ان کی لے۔  اور دل کی پھڑ ان کا تال ہے۔  ان کا غول باندھ کر کھڑا ہونا۔  طبعی حرکت کے ساتھ اچھلنا۔  دل کی بے تابی سے جھکنا اور پھر جوش میں آ کر سیدھا ہو جانا۔  گو نزاکت اور فن خنیا گری سے خالی ہو۔  مگر قدرتی جذبوں کی ضرور تصویر ہے۔  دلی جذبوں کا روکنا اور ان کو عمدہ حالت میں رکھنا تمام قوموں کے خیالات میں شامل ہے۔  پس جس طرح ہم تہذیب کا قدرتی لگاؤ تمام انسانوں میں پاتے ہیں۔  اسی طرح اس کا تعلق عقلی اور مادی سب چیزوں میں دیکھتے ہیں۔  جس چیز میں ترقی یعنی برائی سے اچھائی کی طرف رجوع یا ادنیٰ سے اعلی درجہ کی طرف تحریک ہوسکتی ہے اسی سے تہذیب بھی متعلق ہے۔

 

پس سولزیشن یا تہذیب کیا ہے؟ انسان کے افعال ارادی اور جذبات نفسانی کو اعتدال پر رکھنا۔  وقت کو عزیز سمجھنا۔  واقعات کے اسباب کو ڈھونڈنا۔  اور ان کو ایک سلسلہ میں لانا۔  اخلاق۔  معاملات۔  معاشرت۔  طریق تمدن اور علوم و فنون کو بقدر امکان قدرتی خوبی اور فطری عمدگی پر پہنچانا۔  اور ان سے کو خوش اسلوبی سے برتنا۔  اس کا نتیجہ کیا ہے؟ روحانی خوشی۔  جسمانی خوبی۔  اسلی تمکین۔  حقیقی وقار۔  اور خود اپنی عزت کی عزت۔  اور درحقیقت یہی پچھلی ایک بات ہے۔  جس سے وحشیانہ پن اور انسانیت میں تمیز ہوتی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

عزت

 

بہت کم ہیں۔  جو اس کی حقیقت جانتے ہوں۔  اور بہت کم ہیں۔  جو اس کے مشتقات کے معزز القابوں کے مستحق ہوں۔  جس کی لوگ بہت آؤ بھگت کرتے ہیں۔  اسی کو لوگ معزز سمجتھے ہیں۔  اور وہ اپنے آپ کو معزز جانتا ہے۔  اوصاف ظاہر بھی ایک ذریعہ معزز ہونے اور معزز بننے کا ہے۔  جو دولت۔  حکومت اور حشمت سے بھی زیادہ معزز بنا دیتا ہے۔  مگر یہ اعزاز اس سے زیادہ کچھ رتبہ نہیں رکھتا۔  جیسا کہ ایک تانبے کی مورت پر سونے کا ملمع کر دیا گیا ہو۔  جب تک وہ مورت ٹھوس سونے کی نہ ہو۔  اس وقت تک درحقیقت وہ کچھ قدر و قیمت کے لائق نہیں ہے۔  یہی حال انسان کا ہے۔  جب تک اس کی حالت بھی عزت کے قابل نہ ہو۔  وہ معزز نہیں ہوسکتا۔

 

لوگوں کو کسی انسان کی اندرونی حالت کا جاننا نہایت مشکل بلکہ قریب ناممکن کے ہے۔  پس ان کا کسی کو معزز سمجھنا درحقیقت اس کے معزز ہونے کی کافی دلیل نہیں ہے۔  ہاں وہ شخص بلاشبہ معزز ہے۔  جس کا دل اس کو معزز جانتا اور معزز سمجھتا ہو۔  جس کو انگریزی میں سیلف رسپیکٹ کہتے ہیں۔  کوئی شخص کسی سے جھوٹی بات کو سچی بنا کر کہتا ہے۔  تو خود اس کا دل اس کو ٹوکتا ہے۔  کہ یہ سچ نہیں ہے۔  گو سننے والا اس کو سچ سمجھتا ہے۔  مگر کہنے والے کا دل گواہی دیتا ہے۔  کہ وہ جھوٹوں میں کا ایک جھوٹا اور بے عزتوں میں ایک بے عزت ہے۔

 

اسی طرح تمام افعال انسان کے جو صرف ظاہری نمائش کے طور پر کئے جاتے ہیں۔  گو لوگ ان کی عزت کرتے ہوں۔  مگر درحقیقت وہ عزت کے مستحق نہیں ہیں۔  عزت کے لائق وہی کام ہیں۔  جن کو دل بھی قابل عزت سمجھے۔  اس لیے انسان کو انسان بننے کے لیے ضرور ہے کہ تمام اس کے کام سچائی اور دلی شہادت پر مبنی ہوں۔  ہم کوئی بات ایسی نہ کہیں جس کو ہمارا دل جھٹلاتا ہو۔  ہم کوئی کام ایسا نہ کریں۔  جس کی عزت ہمارا دل نہ کرتا ہو۔  کسی سے ہم اظہار دوستی اور محبت کا نہ کریں۔  اگر درحقیقت ہمارے دل میں اس سے ویسی ہی محبت اور دوستی نہ ہو۔  جیسی کہ اظہار کرتے ہیں۔  ہم کوئی کام ایسا نہ کریں جو کو ہمارا دل اچھا نہ سمجھتا ہو۔

 

“صلح کل ہونا” اگر اس کے معنی یہ ہوں کہ سب سے اس طرح ملیں کہ ہر شخص جانے ہمارے بڑے دوست ہیں تو یہ نفاق اکبر ہے۔  ایسا شخص نہ کسی کا دوست ہوتا ہے اور نہ کوئی اس کا دوست ہوتا ہے۔  اور اگر اس کے یہ معنی ہوں کہ کسی سے بغض۔  عداوت اور دشمنی اپنے دل میں نہ رکھے۔  کسی کا برا نہ چاہے۔  دشمن کی بھی برائی نہ چاہے۔  وہ بلاشبہ تعریب کے قابل ہے۔  دل انسان کا ایک ہے۔  اس میں دو چیزیں یعنی عداوت (کسی کے ساتھ کیوں نہ ہو) اور محبت سما نہیں سکتی۔  وہ ایسی کلھیا نہیں ہے۔  جس میں دو خانے ہوں۔  ایک محبت کا ایک عداوت کا اور اس لیے یہ دو چیزیں گو اشخاص متعدد اور حیثیات مختلفہ کے ساتھ کیوں نہ ہوں۔  دل میں سما نہیں سکتیں۔  اس لیے انسان کو لازم ہے۔  کہ محبت کے سوا کسی دوسری چیز کے لانے کا دل میں خیال ہی نہ کرے۔  اور ایسی زندگی انسان کے لیے عمدہ زندگی ہے۔

٭٭٭

کمپوزنگ: محمد وارث، (تقریباً مکمل)، مقدس حیات، فہیم اسلام (توزک اردو سے مضامین)

ماخذ:

http://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%B6%D8%A7%D9%85%DB%8C%D9%86%D9%90-%D8%B3%D8%B1-%D8%B3%DB%8C%D8%AF-%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%AE%D8%A7%D8%A8.10067/

اور توزک اردو

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید