FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فہرست مضامین

اصولِ فقہ

 

 

 

                   محمد علی

 

 

دیباچہ

 

 

 

اس کتاب کا مقصد اسلام کے  تشریعی فکر سے  امت کو آشنا کرنا ہے  تاکہ اس کا شریعتِ اسلامی کی گہرائی، جامعیت اور فعّالیت کے  باعثِ ادراک، اس پر اعتماد قائم ہو۔  دوسرے  لفظوں  میں  شریعتِ اسلامی کی عالمیت پر اعتماد تاکہ اس کی بدولت وہ زندگی کے  میدان میں  اسلامی نظام کو نافذ کرنے  کی جدوجہد میں  شریک ہو۔

 

چونکہ اس کتاب کا مقصد امت میں  اسلام کے  اہم تشریعی پیمانوں  کا بیج بونا ہے، اس لئے  اس میں، اختصار کے  ساتھ، ان موضوعات کی بحث پر اکتفاء کیا گیا ہے  جو اصولِ فقہ میں  اہم ترین ہیں۔  البتہ جن مسائل میں  اہلِ اصول کا اختلاف ہے  ان میں، مسلکی وابستگی سے  بالاتر ہو کر، قرآن وسنت کے  قوی ترین دلائل کا اعتبار کیا گیا ہے  اور اسی بنیاد پر صحیح آراء اختیار کی گئی ہیں۔  نیز طویل نظری مباحث سے  بھی گریز کیا گیا ہے  اور ہر مسئلہ اپنے  دلائل کے  ساتھ مذکور ہے  تاکہ قاری میں  ہر وقت وحیِ الٰہی) آیات و احادیث) کے  اس ربط کی بدولت اللہ تعالیٰ کے  ساتھ وابستگی و تعلق کا احساس غالب رہے۔  اسی لئے  کتاب میں  شرعی دلائل کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔  علاوہ ازیں  اس کتاب میں  دورِ حاضر کے  جدید مسائل کو اصولوں  سے  مربوط کیا گیا ہے  تاکہ امت کو اسلام کے  زندہ ہونے  کا احساس ہو سکے  یعنی اسلام کیسے  اپنے  اندر نئے  ابھرتے  ہوئے  مسائل کو حل کرنے  کی اہلیت رکھتا ہے۔  دوسرے  لفظوں  میں  اس کتاب کو متعلقہ بنانے  کی کوشش کی گئی ہے۔  اس کے  مقصد کے  پیشِ نظر، یہ کوشش بھی کی گئی ہے  کہ یہ فقط خواص کے  لئے  نہ ہو بلکہ عوام الناس بھی اس سے  بھر پور استفادہ کر سکیں۔

اس کتاب کا دار و مدار، علمِ اصولِ فقہ میں، دورِ حاضر کی بے  مثال کتاب ’’ الشخصیۃ الإسلامیۃ (الجزء  الثالث)‘‘ پر ہے  جس کے  مصنف علامہ تقی الدین النبھانی ؒ ہیں۔  علاوہ ازیں  علامہ عطاء ابو الرشتہ کی کتاب  ’’  تیسیر  الوصول إلی الأصول‘‘ سے  بھی مدد لی گئی ہے۔  کتاب میں  فقط اصطلاحی تعریفات مذکور ہیں  کیونکہ یہی موضوع کی تفہیم کے  لئے  اہم ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے  دعا ہے  کہ یہ کتاب امت کی نشاۃِ ثانیہ میں  معاون ثابت ہو۔

(آمین)

 

محمد علی

۱۹  محرم  ۱۴۲۸ھ

موافق  07.02.2007

 

E-mail: malimali0@gmail.com

 

 

 

 

 

 

 

مقدمہ

 

 

امتِ مسلمہ کی نشاۃِ ثانیہ بلا شبہ صرف اسلام کی بنیاد پر ممکن ہے، مگر یہ امر مسلمانوں  سے  اس بات کا تقاضا کرتا ہے  کہ وہ اسلام کو ایک مکمل ضابطہ حیات یعنی مبداء(ideology)  کی حیثیت سے  اختیار کریں۔  اس کی وجہ یہ ہے  کہ کسی بھی معاشرے  کے  مسائل کے  لیے، زندگی کے  ہر پہلو سے  متعلقہ معالجات (solutions) درکار ہوتے  ہیں  اور ان کی فعّالیت اس بات پر منحصر ہے  کہ آیا یہ اس عقیدے)(creed) سے  ہم آہنگ ہیں  جس پر لوگ اعتقاد رکھتے  ہیں  یا نہیں۔  چونکہ مسلمان اسلام کے  عقیدے  پر پہلے  سے  ایمان لاتے  ہیں، اس لیے  ان کے  مسائل کی طبعی اور صحیح نگہداشت تب ہی ممکن ہے  جب وہ ان نظاموں(systems) کو اختیار کریں، جو اس اسلامی عقیدے  سے  نکلتا ہے۔

 

افسوس کہ اس حقیقت کو نہ سمجھنے  کے  باعث، آج بھی کئی مسلمان اپنے  مسائل کے  حل مغرب میں  ڈھونڈتے  ہیں  اور اس غلط فہمی کا شکار ہیں  کہ مغربی نظریات و معالجات کو مسلمانوں  کے  معاشرے  پر نافذ کرنے  سے  ہمارے  مسائل حل ہو جائیں  گے۔  یہ اس کے  باوجود کہ گذشتہ صدی کے  بیشتر حصے  میں  ریاستی سطح پر صرف انہی مغربی نظاموں  کو ہمارے  اوپر نافذ کیا گیا ہے، مگر ہمارے  معاشرتی حالات مزید بد تر ہوتے  گئے  ہیں۔  بہر حال جن میدانوں(fields)  میں  مسلمان مغربی فکر سے  سب سے  زیادہ متاثر ہوئے  وہ تین ہیں :سیاست، معیشت اور تشریع۔  غالباً یہی معاشرتی زندگی کے  اہم ترین پہلو ہیں  اور یہی ہر معاشرے  پر سب سے  زیادہ اثر انداز ہوتے  ہیں۔  اس کی وجہ یہ ہے  کہ معاشرتی تعلقات کی تنظیم خاص طور پر انہی سے  وابستہ ہے۔  اس مغربی فکر کا مسلمانوں  کی ذہنیت پر اتنا اثر ہوا کہ یہ صرف دین کے  دنیا سے  جدا ہونے  کے  علمبرداروں(secularists) تک محدود نہ رہا، بلکہ جن لوگوں  نے  اسلام کی طرف بھی پکارا یعنی ’’ اسلامی متجددین(islamic modernists)،  انھوں  نے  بھی ان افکار کو اسلام کا لبادہ چڑھانے  کی سر توڑ کوششیں  کیں !یہ غلط تاویلیں  اس لیے  کی گئیں  تاکہ اسلام کو موجودہ حالات کے  مطابق ڈھالا جا سکے۔  دوسرے  لفظوں  میں  مغربی فکر کو اساس بنا کر اسلام سے  مطابقت پیدا کرنے  کا رجحان شروع ہوا اور یہ اب تک استعمار کی حمایت و راہنمائی میں، گذشتہ ۱۵۰ سال سے  جاری ہے۔  اس کا مقصد یہ ہے  کہ ایک     ایسا ’’ نیا اسلام‘‘ قائم ہو، جو استعمار کے  تسلط و مفاد کو برقرار رکھے  اور اصل اسلام سے  لوگوں  کو دور رکھا ر جائے  کیونکہ یہ ان کے  مسلمانوں  پر غلبے  کو قبول نہیں  کرتا اور امت سے  ان کے  اثر و رسوخ کو، خواہ وہ عسکری ہو یا سیاسی، فکری ہو یا اقتصادی، جڑ سے  اکھاڑنے  کا مطالبہ کرتا ہے۔  اسی لیے  آج بھی مسلمانوں  کے  حکمران، جو کہ مغربی استعمار کے  ایجنٹز ہیں، ’’جدید اسلام‘‘ کا نعرہ لگا رہے  ہیں اور عملی طور پر اس ’’جدیدیت‘‘(modernism) کی آڑ میں، تعلیمی نصاب کی ترامیم کے  ذریعے، لوگوں کو اسلام سے  مزید دور کرنے  کی کوشش میں  مبتلا ہیں۔

 

جہاں  تک اس اسلوب کا تعلق ہے  جو’’  متجددین  (“modernists”)اسلام کی غلط تاویل کے  لیے  استعمال کیا، وہ یوں  تھا کہ مغرب میں  جو بھی فکر پروان چڑھتا، تو یہ لوگ فوراً اسلامی نصوص کی طرف رجوع کرتے  اور ان سے  مغربی افکار کو ثابت کرنے  کی کوشش کرتے، پھر یہ دعویٰ کرتے  کہ اسلام میں  پہلے  سے  وہ فکر موجود ہے۔  مثلاً جمہوریت (democracy) کو’’ شوریٰ‘‘، آزادیِ رائے  کو’’ امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘‘ اور آزادیِ ملکیت کو اسلام میں  انفرادی ملکیت کے  حق کی آڑ میں  اختیار کیا گیا۔  یہ غلط تاویلیں  فروعات تک محدود نہ رہنے  دی گئیں  بلکہ وہ لوگ اصولوں  میں  بھی یہ زہر پھیلانے  میں  کامیاب ہوئے۔  انھوں  نے  John Stuart Mill اورJeremy Bentham کے  منفعت پرستی(utilitarianism)کے  فکر کو اسلام میں  داخل کرنے  کی کوشش کی۔  اس مغربی فکر کے  اسلامی فکر سے  کوسوں  دور ہونے  کے  باوجود، اسے  ’’مصلحت ‘‘ اور ’’مقاصدِ شریعت‘‘ کے  ذریعے، اسلام سے  ہم آہنگ بنانے  کی کوشش کی گئی۔  اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہر عمل کا پیمانہ’’ فائدہ و نقصان‘‘ مانا جانے  لگا اور اسلام کا’’ حلال و حرام ‘‘ کا پیمانہ، مسلمانوں  کی نظروں  سے  اوجھل ہونے  لگا، یا زیادہ سے  زیادہ ثانوی حیثیت کا بن کر رہ گیا۔  مغرب کے  نقشِ  قدم پر چلتے  ہوئے، اسلام کی قانون سازی میں  بھی انسانی عقل کو مرکزی کردار دینے  کا رجحان شروع ہوا اور اس کا جواز بھی اسلامی نصوص میں  ڈھونڈنے  کی جدوجہد کی گئی۔  انہوں  نے  یہاں  تک دعویٰ کیا کہ نصوص کی لفظی پابندی ضروری نہیں  بلکہ ان کی ’’روح (“spirit of the text”) کو دیکھنا چاہیے۔  نئے  قاعدے  بنائے  گئے  جیسے  ’’زمان و مکان کے  تغیّر سے  احکام بھی بدل جاتے  ہیں ‘‘، ’’جہاں  مصلحت ہے  وہاں  اسلام ہے ‘‘ اور ’’ اسلام لچکدار(“flexible”) ہے  وغیرہ۔  یوں  اسلام کو حالات کے  مطابق ڈھالا جانے  لگا اور اس واہی عمل کو ’’اجتہاد ‘‘ سے  تعبیر کیا گیا۔  اور مغربی فلسفے  سے  متاثر ہو کر اسلام کے  تشریعی فکر یعنی علمِ اصولِ فقہ کی بگاڑ کو، حکومتی سطح پر فروغ دیا جانے  لگااور ایسے  اقدامات کو آج بھی استعمار کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

 

اصولِ فقہ پر یہ حملہ اتفاقی نہ تھا بلکہ اسے  بڑے  منصوبے  کے  تحت بجا لایا گیا۔  یہ اس لیے  کیونکہ اصولِ فقہ وہ علم ہے  جس کے  ذریعے  مجتہد، قرآن و سنت)اسلامی نصوص) سے  زندگی کے) نئے) مسائل کے  معالجات یعنی احکام، مستنبط کرتا ہے، جن کے  مطابق مسلمان اپنی زندگی بسر کرتے  ہیں۔  لہذا اگر اسلام کی تشریعی اساس میں  ہی مغربی فلسفے  سے  ہم آہنگ اصول گھڑ کر، اس میں  بگاڑ پیدا کر دیا جائے، تو خود بخود تمام جزئیات پر اثر پڑے  گا۔  دوسرے  لفظوں  میں  اگر مغربی افکار کو اصولِ فقہ میں  ملا دیا جائے، تو مسائل کے  حل بھی عین مغربی فلسفے  کے  مطابق نکلیں  گے  اور یوں  ہر کفریہ فکر و قانون کو اسلام کا لبادہ پہنانا آسان ہو جائے  گا۔  نیز اس لیے  بھی تاکہ اس کے  نتیجے  میں  آئندہ نسلیں  مکمل مغربی ذہنیت کی پیدا ہوں۔  آج ہمارے  ممالک میں  یہی ہو رہا ہے۔  انہی غیر اسلامی اصولوں  کی بنیاد پر آج کئی علماء و مشائخ، ہمارے  حکمرانوں  کی مدد سے، اسلام کی غلط تاویلوں  اور فتووں  کے  ذریعے  مغربی استعمار کے  مفاد کے  لیے  کام کر رہے  ہیں۔  خواہ وہ ’’  دہشت گردی کے  خلاف جنگ(“war on terror”) کی آڑ میں  ہو، مسلمانوں  کے  خلاف کفار سے  اتحاد کے  جواز پیش کرنے  کی شکل میں  ہو، یا پھر ’’ملک کی معیشت کو پروان چڑھانے ‘‘ کی آڑ میں  اس آزاد تجارت) Free Trade) کو جائز قرار دینے  کی شکل میں  ہو، جس کے  ذریعے  استعماری قوتیں  ہمارے  ممالک کی معیشت اور سیاست کو کنٹرول کرتی ہیں، انتہا پسندی کے  خاتمے  یا پھر ملک کے  قومی مفاد(national interest) کی آڑ میں  امت سے  غداری کی شکل میں۔  چونکہ ان غیر اسلامی امور کو اسلامی اصولوں  اور اصطلاحات سے  تعبیر کرنے  کی پالیسی اختیار کی جاتی ہے، مثلاً’’ مصلحت‘‘ یا ’’حکمت ‘‘وغیرہ، اس لیے  بعض مسلمان اس کا نشانہ بن کر، ان کی حمایت پر اتر آتے  ہیں۔

 

امت تبھی ان چالوں  سے  محفوظ رہ سکتی جب وہ اسلامی اصولوں  اور کفریہ اصولوں  کے  مابین فرق کو گہرائی سے  سمجھے  تاکہ یہ مغربی فکر کے  اثر سے  بچ سکے  اور خالص وحیِ الٰہی کی بنیاد پر اپنی زندگی کے  تمام معاملات کو استوار کر سکے۔  یہ امر اس کا مقتضی ہے  کہ امت اسلام کی تشریعی اساس یعنی اصولِ فقہ سے  واقف ہو اور اس کے  اہم ترین قواعد کو اپنے  اندر راسخ کرے۔  نیز امت کو موجودہ غیر اسلامی معاشرے  سے  ایک اسلامی معاشرے  کی طرف منتقل کرنا، اس بات پر منحصر ہے  کہ زندگی کے  بارے  میں  اسلام کے  اہم ترین افکار و پیمانوں  کے  بیج کو، کس حد تک بونے  میں  کامیابی حاصل ہوتی ہے۔  یہ اس لیے  تاکہ دوبارہ سے  مسلمان زندگی کے  واقعات کو خالص اسلامی نقطۂ نظر سے  دیکھنے  لگیں  اور امت صحیح نشاۃِ ثانیہ کی راہ پر گامزن ہو۔

 

اسی لیے  اس اساس کو پیش کرنا ضروری ہے  جس کی بنیاد پر اسلامی معاشرہ قائم ہو گا، تاکہ یہ امت کے  لیے  وہ طریقۂ کار(mechanism) ہو، جو اس بات کی ضمانت دے گا کہ آئندہ اسلامی ریاست میں  معاشرتی تعلقات واقعی خالص وحیِ الٰہی پر قائم ہوں گے۔  نیز یہ اس لئے  بھی تاکہ اصولِ فقہ کی اہمیت کا ادراک ہو سکے  اور مسلمانوں  میں  دوبارہ اسلامی مآخذ کی طرف لوٹنے  کی رغبت پیدا ہو۔  چنانچہ اصولِ فقہ کا ایک نمونہ پیش کیا جا رہا ہے  تاکہ امت کو شریعتِ اسلام کی عالمیت کا ادراک ہو سکے، یعنی قطع نظر زمان و مکان، اسلام میں  ہر مسئلے  کا حل پیش کرنے  کی اہلیت۔  البتہ یہ جان لینا چاہیے  کہ اسلام کا اپنا ایک منفرد(unique) تشریعی فکر ہے، جو دنیا کے  دیگر فلسفوں  سے  بالکل مختلف ہے  اور نہ ہی اسے  ان سے  کوئی مشابہت ہے  کیونکہ اس کی بنیاد ہی ان سب سے  جدا ہے  یعنی  لا إلہ إلا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ۔

 

 

 

اصولِ فقہ

 

                   اصولِ فقہ کی تعریف

 

 

(معرفۃ القواعد التی یتوصل بھا إلی استنباط الأحکام الشرعیۃ من الأدلۃ التفصیلیۃ)

(ان قواعد کا علم جن کے  ذریعے  احکامِ شرعیہ کو تفصیلی دلائل سے  مستنبط کیا جائے)

 

اس تعریف سے  یہ واضح ہے  کہ اس فن میں  ساری بحث قواعد پر ہے  اور یوں  یہ فن علمِ فقہ سے  علیحدہ ایک علم ہے  کیونکہ فقہ کا دار و مدار اور اس کی بحث فروع پر ہے۔  یہ بات اس کی تعریف سے  واضح ہے :

فقہ کی تعریف:علم بالمسائل الشرعیۃ العملیۃ المستنبطۃ من أدلتھا التفصیلیۃ)شریعت کے  ان عملی مسائل کا علم جو کہ ان کے  تفصیلی دلائل سے  مستنبط کیے  گئے  ہوں)

 

لہذا یہ کہا جا سکتا ہے  کہ علمِ فقہ دراصل علمِ اصولِ فقہ کا نتیجہ ہے  اور اس لیے  یہ ایک منفرد علم ہے۔  اصولِ فقہ مجتہد کو نصوص سے  اللہ کا حکم مستنبط کرتے  وقت، ایک خاص طریقۂ کار(methodology) پر پابند رکھتا ہے  تاکہ اس کے  اجتہاد و استنباط میں  وضعداری(consistency) قائم رہے  اور وہ ذاتی تخیّل و رغبت سے  دور رہے  کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿ فلا تتبعوا الھوی ﴾)پس تم خواہش کی پیروی مت کرو)۔  اصولِ فقہ ان آلات(tools)  کی حیثیت رکھتے  ہیں  کہ جن کے  ذریعے  مجتہد شرعی نصوص سے  اللہ کا حکم مستنبط کرتا ہے۔  اس لئے  مجتہد کو چاہیے  کہ وہ پہلے  ان اصولوں  کا تعین و اظہار کرے، جن کی مدد سے  وہ حکمِ شرعی مستنبط کرے گا تاکہ ہمیشہ اس بنیاد پر،اس کے  اجتہاد و استنباط کو پرکھا جا سکے۔

 

چونکہ حکمِ شرعی کے  استنباط سے  مراد کسی بات کو اللہ تعالیٰ کا قصد قرار دینا ہے، اس لئے  یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے، جس میں  انتہائی احتیاط اور عمیق) گہری) فکر درکار ہے۔  چنانچہ فقط ایک آیت یا حدیث کو پڑھ کر، اس سے  اللہ کا حکم نہیں  سمجھا جا سکتا، خواہ بظاہر ایسا لگے۔

مثال :

﴿وأشہدوا ذوی عدل منکم ﴾

(اور اپنے  میں  سے  دو پرہیزگار مردوں  کو گواہ کر لو)۔

﴿اثنان ذوا عدل منکم أو  آخران من غیرکم ﴾

(وہ تم میں  سے  دو پرہیزگار ہوں  یا دوسروں) کافروں) میں  سے  دو)۔

﴿واستشہدوا شہیدین من رجالکم فإن لم یکونا رجلین فرجل و امرأتان ﴾

(اور اپنے  میں  سے  دو مردوں  کی گواہی کر لو اور اگر یہ نہ ہو سکے  تو ایک مرد اور دو عورتوں  کی)۔

﴿والذین یرمون المحصنات ثم لم یاتوا بأربعۃ شہدآء فاجلدوھم ثمانین جلدۃ و لا تقبلوا لھم شھادۃ ابدا و أولآئک ھم الفاسقون۔ إلا الذین تابوا من بعد ذالک و أصلحوا ﴾

(جو لوگ پاک دامن عورتوں  پر زنا کی تہمت لگائیں  پھر چار گواہ نہ پیش کر سکیں  تو انہیں  اسی کوڑے  لگاؤ اور کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو، یہ فاسق لوگ ہیں۔ سوائے  ان لوگوں  کے  جو اس کے  بعد توبہ اور اصلاح کر لیں)۔  ’’ أن النبی ﷺ قضی بالیمین مع شاھد الواحد ‘‘(نبی کریم ﷺ نے  ایک قسم (اور ایک گواہ)کی بنیاد) پر فیصلہ دیا)۔  جبکہ ایک دوسری حدیث میں، رضاعت کے  معاملے  میں، رسول اللہ ﷺ کا ایک عورت کی گواہی کو قبول کرنا بھی ثابت ہے۔

 

یہ تمام نصوص گواہی کے  ضمن میں  وارد ہوئے  ہیں، اب ان سب کو کیسے  سمجھا جائے  ؟  کبھی یہ کہا جا رہا ہے  کہ فقط مسلمان کی گواہی مقبول ہے  جبکہ کسی اور جگہ پر کافر کی گواہی کو بھی قبول کیا جا رہا ہے۔  ایک نص میں  دو مسلمان مردوں  کا مطالبہ کیا گیا ہے  جبکہ دوسری میں  ایک مرد کی گواہی پر اکتفاء کیا گیا ہے۔  کہیں  پر دو عورتوں  کا ذکر ہو رہا ہے  جبکہ کسی اور جگہ پر ایک عورت کی گواہی کی مقبولیت ثابت ہے۔  کیا اس کی توبہ کرنے  کے  بعد قاذف کی گواہی قبول کی جا سکتی ہے  یا یہ کبھی نہیں  ہو سکتا ؟  اگر نصوص میں  تعارض نظر آ رہا ہے  تو کس نص کو اختیار کیا جائے  اور کس کو رد ؟  اگر ایک نص کو دوسری کا ناسخ قرار دیا گیا ہے  تو وہ کس وجہ سے  ؟  اور اگر ان تمام نصوص کو جمع کرنا ممکن ہے، تو اس کی کیا کیفیت ہو گی یعنی ان میں  تطبیق کیسے  پیدا کی جائے گی ؟  وغیرہ۔

 

ان مسائل کو حل کرنے  کے  لئے  اجتہاد درکار ہے  جو مجتہد سے  اس بات کا تقاضا کرتا ہے  کہ وہ اپنے  اجتہاد میں  اصولوں  کو اختیار(adopt) کرے، اور جب اس نے  ایسا کیا تو وہ اپنے  دوسرے  اجتہادات میں  ان کو نظر انداز نہیں  کر سکتا۔  اسے  انہی اصولوں  پر پابند رہنا پڑے  گا ورنہ اس کا اجتہاد و استنباط باطل ہو گا کیونکہ  ﴿ فلا تتبعوا الھوی ﴾ (پس تم خواہش کی پیروی مت کرو)۔  پس اگر اس نے، مثال کے  طور پر، کسی مسئلے  میں اس اصول کو اختیار کیا ہے  کہ حدیثِ مرسل دلیل نہیں  ہے، تو یہ کسی اور مسئلے  میں  اسے  بطور حجت استعمال نہیں  کر سکتا۔  اسی طرح اگر اس نے  یہ اصول اپنایا ہے  کہ امر وجوب کے  لئے  ہوتا ہے، تو اسے  تمام مسائل میں  اس اصول پر قائم رہنا پڑے  گا۔        نیز اگر وہ اپنے  اصولوں  کو تبدیل کرتا ہے، تو اسے  ان کا بیان و اظہار کرنا چاہیے  تاکہ آئندہ ان نئے  اصولوں  کی بنیاد پر اس کا محاسبہ ہو سکے۔  اس مختصر بیان سے  اصولِ فقہ کی ضرورت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

اصولِ فقہ میں  حکمِ شرعی اور اس کی اقسام، دلائل و مآخذ، الفاظ و دلالات اور اجتہاد و تقلید  وغیرہ کی بحث شامل ہے۔

 

 

باب اوّل: حاکم

 

اسلام میں حکم دینے  یعنی تشریع کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔  اس لیے  وہی شارع ہے  اور اسی سے  حکم اختراع  (originate) ہوتا ہے۔  چنانچہ الحاکم ہونا اللہ تعالیٰ کی صفات میں  سے  ہے  جس میں  کوئی اور شریک نہیں  ہو سکتا۔  اس کی حاکمیت میں  شریک ہونے  کا دعویٰ، اس کی ربوبیت میں  شراکت کے  دعوے ٰ کے  مترادف ہے۔  اللہ تعالیٰ کے  فرمان ہیں:

﴿إن الحکم إلا للّٰہ ﴾6:57

(حکم تو صرف اللہ ہی کے  لیے  ہے)

 

﴿ألا لہ الخلق والأمر ﴾7:54

(یاد رکھو!اسی(اللہ) کے  لیے  ہے  خاص خالق ہونا اور حاکم ہونا)

 

مغربی قانونی فلسفہ، جو عقل کو قانون سازی کا منبع گردانتا ہے، اسلام کے  مذکورہ اصول کے  متضاد ہے۔  مغربی فلسفے  میں  عقل کو ہی یہ اختیار حاصل ہے  کہ وہ اچھے  اور برے  کا فیصلہ کرے  اور اس امر میں  کسی خارجی عنصر کی مداخلت، مثلاً وحی، ناقابلِ برداشت ہے۔  دوسرے  لفظوں  میں  عقل ہی حاکم ہے  اور یہی واقعات پر اپنا اٹل فیصلہ سناتی ہے۔  جبکہ اسلام میں  عقل کا کردار شرعی نصوص سے، بندے  کے  افعال سے  متعلق شارع کے  خطاب کو، سمجھنے  تک محدود ہے۔  عقل اس سمجھنے  کے  سلسلے  میں  اپنا کوئی خود مختار فیصلہ نہیں  دے  سکتی بلکہ یہ صرف نصوص میں  مقید ہے۔  پس جس  بات پر یہ دلالت کریں  یا جس طرف اشارہ، عقل اسی حد تک جائے گی اور اس سے  تجاوز نہیں  کر سکتی، یعنی یہ نصوص کی عقلی تاویل سے  باز رہے  گی!

 

انسان کے  افعال پر گہری نظر ڈالنے  سے  یہ ثابت ہوتا ہے  کہ عقل ان پر اٹل فیصلہ نہیں  دے  سکتی۔  اس کی پہلی وجہ یہ کہ عقل محدود ہے  کیونکہ ہر روز اس کی معلومات میں  اضافہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے  یہ نئے  نئے  انکشاف کرتی ہے۔  پھر جب کوئی حل دیتی ہے، تو وہ انہی معلومات کی بنیاد پر ہوتا ہے۔  پس جب اس کی فکری افق مزید وسیع ہوتی ہے، تو یہ اپنا فیصلہ بدل کر کوئی نیا فیصلہ سنا تی ہے  اور اس وقت پرانا حل غلط نظر آتا ہے۔  دوسرے  لفظوں  میں  انسان جب اپنی عقل سے  افعال پر فیصلہ صادر کرنے  کی کوشش کرتا ہے، تو وہ ہمیشہ عارضی ہوتا ہے  اور حالات بدلنے  سے  اس کا فیصلہ بھی بدل جاتا ہے۔  مغرب میں  قانون سازی پر ایک نظر ڈالنے  سے  اس امر کی تصدیق ہوتی ہے۔  وہاں  آئے  دن قوانین بدلتے  ہیں  جبکہ سابقہ حل غلط اور فضول نظر آتے  ہیں۔  یعنی انسان افعال پر یہ اٹل فیصلہ سنانے  سے  قاصر ہے  کہ کونسا فعل صحیح و اچھا ہے  اور کونسا فعل غلط اور برا۔  اسی سے  عقل کی قانون سازی میں  لا اہلیت واضح ہو جاتی ہے۔

 

علاوہ ازیں  جب انسان کی عقل کسی فعل کو اچھے  یا برے  ہونے  سے  تعبیر کرتی ہے، تو صورتِ حالات اس کی شرح پر اثر انداز ہوتے  ہیں۔  مثلاً جنگ کی حالت میں  یا کسی شخص سے  انتقام لینے  کی صورت میں، عقل قتل کو اچھا سمجھ سکتی ہے، جبکہ کئی دوسرے  مواقع پر یہ قتل کو برا سمجھتی ہے۔  چنانچہ کسی فعل سے، ذاتی طور پر، اس کی اچھائی یا برائی نہیں  سمجھی جا سکتی، بلکہ اس پر ہمیشہ خارجی عناصر اثر انداز ہوں گے۔  یہیں  سے  ثابت ہوا کہ عقلِ انسانی قانون سازی کے  لیے  عاجز ہے  اور ایک ایسی ہستی اس کام کے  لیے  درکار ہے، جو تمام موجودات کا احاطہ کرے  اور اپنی معلومات میں  کامل ہو!ظاہر ہے  کہ صرف تمام جہانوں  کا رب، اللہ ہی اس کی قابلیت رکھتا ہے، کیونکہ اسی نے  انسان کی تخلیق کی اور صرف یہ ہی بتا سکتا ہے  کہ اس کے  لیے  کیا اچھا اور کیا برا ہے۔  چنانچہ فقط وہی افعال پر اٹل فیصلہ سنا سکتا ہے  اور اسی لئے  وہی شارع ہے۔  پس جسے  شارع نے  اچھا قرار دیا ہے، وہ فعل انسان کے  لئے  اچھا ہے  اورجسے  شارع نے  برا قرار دیا ہے، وہ فعل انسان کے  لئے  برا!

 

                   محکوم فیہ

 

بندے  کے  اس فعل پر،  جس سے  شارع کا خطاب متعلق ہے، ’’محکوم فیہ‘‘ کا اطلاق ہوتا ہے۔  شرعی دلائل کے  استقراء سے  فعل کی تکلیفlegal responsibility of the act))صحیح ہونے  کی مندرجہ ذیل شرائط منظرِ عام پر آتی ہیں :

1) شارع نے  فعل کو بیان کیا ہو، ورنہ اس کا حساب نہیں  ہو گا۔

﴿و ما کنا معذبین حتی نبعث رسولا﴾17:15

(اور ہماری سنت نہیں کہ رسول بھیجنے  سے  پہلے  ہی عذاب کرنے  لگیں)

 

یہیں  سے  یہ قاعدہ اخذ کیا گیا ہے:لا حکم قبل ورود الشرع) شرع کے  وارد ہونے  سے  پہلے  کوئی حکم نہیں)

 

2) بندہ اس فعل کو سرانجام دینے  پر قادر ہو۔

﴿لا یکلف اللّٰہ نفسا إلا وسعھا﴾2:286

(اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے  زیادہ تکلیف نہیں  دیتا)

 

یہ فعل اللہ اور اس کے  رسول ﷺ کی تعمیل میں  کیا گیا ہو، ورنہ یہ قبول نہیں  کیا جائے گا۔

﴿فلا وربک لا یؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم ﴾4:65

(قسم ہے  تیرے  پروردگار کی!یہ مومن نہیں  ہو سکتے  جب تک کہ تمام آپس کے  اختلاف میں  آپ کو فیصلہ کرنے  والا نہ مان لیں)

 

4) وہ افعال جو حقوق اللہ کی ضمن میں  آتے  ہیں  اور ان پر سزائیں  مرتب ہوتی ہیں  جیسے  حدود، تو ان حقوق کو، بندے  کی معافی سے، ساقط نہیں  کیا جا سکتا۔

’’ أتشفع فی حد من حدود اللّٰہ ؟…..و ایم اللّٰہ لو أن فاطمۃ بنت محمد سرقت لقطعت یدہا‘‘ (متفق علیہ)

(کیا تم اللہ کی مقرر کردہ سزاؤں  کے  معاملے  میں  میرے  سامنے  سفارش لے  کر آئے  ہو؟….

پھر آپؐ نے  اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے  تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے  گا)

 

وہ افعال جو حقوق العباد میں  سے  ہوں  اور ان پر سزائیں  مرتب کی جائیں  جیسے  قصاص یا دیت، تو ان میں  بندے  کو،

احکامِ شریعہ کے  مطابق، معاف کرنے  کا اختیار حاصل ہے۔

﴿یا أیھا الذین آمنوا کتب علیکم القصاص فی القتلی الحر بالحر والعبد بالعبد والأنثیبالأنثی فمن عفی لہ من أخیہ شی ء فاتباع بالمعروف و أداء إلیہ بإحسان ﴾2:178

(اے  ایمان والو!تم پر مقتولوں  کا قصاص لینا فرض کیا گیا ہے،آزاد کے  بدلے  آزاد،غلام غلام کے  بدلے،عورت عورت کے  بدلے، ہاں  جس کسی کو اس کے  بھائی کی طرف سے  کچھ معافی دے  دی جائے  اسے  بھلائیکی اتباع کرنی چاہیے  اور آسانی کے  ساتھ دیت ادا کرنی چاہیے)

 

                   محکوم  علیہ

 

شارع کا خطاب جس بندے  سے  مخاطب ہے، اس پر’ ’محکوم علیہ ‘‘ کا اطلاق ہوتا ہے۔  شرعی دلائل کے استقراء سے، بندے  سے  متعلق مندرجہ ذیل شرائط ظاہر ہوتی ہیں :

1)   اسلام کے  بارے  میں  شارع کا خطاب، سب انسانوں  سے  مخاطب ہے، خواہ وہ مسلمان ہوں  یا کفار اور ان سب کا،  عقیدے  اور احکام کے  بارے  میں، حساب ہو گا۔  یعنی کفار بھی، ایمان لانے  اور احکامِ شرعیہ پر عمل کرنے، دونوں  کے  مکلف ہیں۔

﴿قل یا أیھا الناس انی رسول اللّٰہ إلیکم جمیعا﴾7:158

(آپ کہہ دیجئے  کہ اے  لوگو! میں  تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہوں)

 

یہ خطاب تمام انسانوں  کے  لئے  عام ہے، لہذا اس میں  مسلمان اور کافر دونوں  شامل ہیں۔  یہاں  یہ نہیں  کہا جائے   کہ چونکہ اس میں  رسالت کے  بارے  میں  خطاب ہے، اس لئے  یہ آیت، کفار سے، آپؐ پر ایمان لانے  کا مطالبہ کر رہی ہے، نہ کہ فروعی احکام کی تکلیف کا۔  یہ اس لئے  کیونکہ رسالت عام ہے، جو ایمان لانے  اور فروعی احکام پر عمل، دونوں  کو شامل ہے۔  دوسری صورت میں  اس خطاب کو ایمان کے  ساتھ خاص کیا گیا ہے  جبکہ تخصیص کی کوئی دلیل موجود نہیں  اور یہ سراسر غلط ہے۔  نیز اللہ تعالیٰ کے  صریح خطاب سے، کفار کا فروعی احکام کا مخاطب اور مکلف ہونا ثابت ہے :

﴿  یا أیھا الناس اعبدوا ربکم ﴾2:21

(اے  لوگو!اپنے  رب کی عبادت کرو)

 

﴿و للّٰہ علی الناس حج البیت ﴾3:97

(اللہ تعالیٰ نے  ان لوگوں  پر جو اس کی طرف راہ پا سکتے  ہوں  اس گھر کا حج فرض کر دیا ہے)

ان فروعی احکام کے  ترک پر سخت وعید و عذاب سے، ان کا حساب قرآن سے  ثابت ہے :

﴿  و ویل للمشرکین۔ الذین لا یؤتون الزکاۃ ﴾41:6-7

اور ان مشرکوں  کے  لئے)بڑی ہی) خرابی ہے  جو زکوٰۃ نہیں  دیتے)

 

﴿  ما سلککم فی سقر۔ قالوا ﴾ إلی قولہ ﴿  ولم نک نطعم المسکین ﴾74:42-44

(تمہیں  دوزخ میں  کس چیز نے  ڈالا، وہ جواب دیں  گے  …..اور نہ ہم مسکینوں  کو کھانا کھلاتے  تھے)

 

2)   کافر کے  ان افعال کو قبول نہیں  کیا جائے گا جن کی ادائیگی کی صحت کے  لئے  اسلام شرط ہے، مثلاً عبادات، حقوقِ مالیات میں  گواہی جیسے  قرض یا کافر کی مسلمانوں  پر حکومت وغیرہ۔  البتہ جن افعال کے  لئے  اسلام شرطِ صحت نہیں  ہے، تو انہیں  قبول کیا جائے گا جیسے  کسی کافر کا مسلمانوں  کے  ساتھ مل کر قتال کرنا یا سفر میں  وصیت پر گواہی۔

﴿یا أیھا الذین آمنوا شھادۃ بینکم إذا حضر أحدکم الموت حین الوصیہ اثنان ذوا عدل منکم أو آخران من غیرکم إن أنتم ضربتم فی الأرض فأصابتکم مصیبۃ الموت﴾5:106

)اے  ایمان والو! تمہارے  آپس میں  دو شخص کا گواہ ہونا مناسب ہے  جبکہ تم میں  سے  کسی کو موت آنے  لگے  اور وصیت کرنے  کا وقت ہو،و ہ دو شخص تم میں  سے  ایسے  ہوں  کہ دیندار ہوں  یا غیر لوگوں  میں  سے  دو شخص ہوں  اگر تم کہیں  سفر میں  گئے  ہو اور تمہیں  موت آ جائے)

(مسلمان اپنے  تمام افعال کو احکامِ شرعیہ کے  مطابق سر انجام دے گا۔

﴿یا أیھا الذین آمنوا أطیعوا اللّٰہ وأطیعوا الرسول وأولی الأمر منکمفإن تنازعتم فی شی ء فردوہ إلی اللّٰہ والرسول﴾4:59

(اے  ایمان والو!اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور تم میں  سے  صاحبِ حکومت کی پھر اگر کسی چیز میں  اختلاف کرو تو اسے  لوٹاؤ اللہ اور رسول کی جانب)

 

اسلامی ریاست میں  کفار پر، عقدِ ذمہ کے  باعث، احکامِ شرعیہ نافذ ہوں گے۔

﴿حتی یعطوا الجزیۃ عن ید وھم صاغرون﴾9:29

(یہاں  تک وہ ذلیل  و خوار ہو کر اپنے  ہاتھ سے  جزیہ ادا کریں)

 

یعنی یہ لوگ اسلامی احکام کے  سامنے  جھکیں۔  لہذا انہیں  اسلامی احکام کے  عمل پر مجبور کیا جائے  گا لیکن اسلامی عقیدے  پر ایمان لانے  پر نہیں  کیونکہ  :

﴿لا إکراہ فی الدین ﴾2:256

(دین(یعنی قبولِ اسلام)کے  بارے  میں  کوئی زبردستی نہیں)

اسی طرح عبادات، نکاح و طلاق اور لباس و کھانے  پینے  کے  مسائل میں  انہیں، شریعت کے  حدود اندر رہتے  ہوئے، اپنے  رسم و رواج پر چھوڑ دیا جائے گا۔  اس کے  دلائل سنت سے  ثابت ہیں۔

4)  بالغ ہونا،  لہذا بچہ مکلف نہیں  ہے۔

5)  عاقل ہونا، لہذا مجنون مکلف نہیں  ہے۔

6)  ہوشمند ہونا، لہذا سونے  والا مکلف نہیں  ہے۔

’’  رفع القلم ثلاث: الصبی حتی یبلغ و النائم حتی یستیقظ و المجنون حتی یفیق ‘‘(زید)

) تین لوگوں سے  قلم اٹھا لیا گیا ہے :بچہ جب تک وہ بالغ نہ ہو جائے، سونے  والاجب تک وہ بیدار نہ ہو جائے  اور پاگل جب تک وہ ہوش میں  نہ آ جائے)یہاں  رفع القلم سے  مراد تکلیف کا اٹھا دیا جانا ہے۔

مندرجہ ذیل عذرات پر مکلف کا مواخذہ نہیں  ہو گا:

1)   مجبور ی جس میں  جان کا خطرہ ہو یا وہ جو اس حکم میں  آئے۔

2)  بھول یہاں  تک کہ یاد آ جائے۔

(خطا، یعنی وہ فعل جو، بغیر اختیار کے، غیر عمداً ہو جائے۔)

’’ إن اللّٰہ وضع عن أمتی الخطأ و النسیان وما استکرھوا علیہ ‘‘(ابن ماجہ)

(میری امت سے  غلطی اور بھول اور جبر اٹھا لی گئی ہے)

یعنی مکلف سے  مواخذہ اٹھا دیا گیا ہے۔

 

                   اشیاء کا اصل حکم

 

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿ھو الذی خلق لکم ما فی الأرض جمیعا﴾2:29

(اللہ وہی ہے  جس نے  سب کچھ تمہارے  لئے  پیدا کیا ہے)

یہاں  اللہ تعالیٰ نے  ہمارے  لئے  تمام چیزوں  کو مباح کر دیا ہے  اور یہیں  سے  اشیاء کا مندرجہ ذیل قاعدہ اخذ کیا گیا ہے :

الأصل فی الأشیاء الإباحۃ ما لم یرد دلیل التحریم)تمام چیزیں  مباح ہیں  جب تک ان کے  حرام ہونے  کی کوئی دلیل نہ ہو)۔  یعنی اشیاء کی اباحت کا حکم عام ہے، پھر اس سے  استثناء)exception)کے  لئے  کوئیدلیل درکار ہے۔

مثال :

﴿إنما حرم علیکم المیتۃ﴾16:115

(تم پر مردار حرام کر دیا گیا ہے)

 

پس ہمارے  لئے  مردار حرام ٹھہرا۔  پھر اس حرام چیز سے  متعلقہ تمام افعال حرام ہوں گے  مثلاً اسے  کھانا یا بیچنا وغیرہ،ماسوا جب کوئی فعل جائز ہونے  کی دلیل ہو۔

اللہ تعالیٰ نے  اشیا ء کو بس حلال یا حرام سے  موصوف کیا ہے، نہ کہ مندوب، مکروہ یا فرض ہونے  کے  حکمسے۔

﴿ولا تقولوا لما تصف السٰنتکم الکذب ھذا حلال وھذا حرام﴾16:116

(کسی چیز کو اپنی زبان سے  جھوٹ موٹ نہ کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے  اور یہ حرام ہے)

﴿قل أرأیتم ما أنزل اللّٰہ لکم من رزق فجعلتم منہ حراما وحلالا﴾10:59

(آپ کہیے  کہ یہ تو بتاؤ کہ اللہ نے  تمہارے  لئے  جو کچھ رزق بھیجا تھا پھر تم نے  اس کا کچھ حصہ حرام اور کچھ حلال قرار دیا)

 

                   افعال کا اصل حکم

 

کسی چیز کے  جائز ہونے  کا مطلب ہرگز یہ نہیں  ہے  کہ اس سے  متعلقہ تمام افعال خود بخود جائز ہو جائیں گے، بلکہ ہر فعل کے  لئے  دلیل درکار ہے۔  اس کی وجہ یہ ہے  کہ حکمِ شرعی، بندوں  کے  افعال سے  متعلق شارع کا وہ خطاب ہے  جو ان کے  معالجات(مسائل کے  حل) کے  لئے  وارد ہوا ہے، نہ کہ اشیاء کے  لئے۔  اشیاء کا کام تو فقط افعال کے  دوران استعمال ہونا ہے، لہذ ا خطاب کا اصل افعال ہیں، جبکہ اشیاء بندوں  کے  افعال کے  تابع ہیں، خواہ یہ خطاب میں  مذکور ہوں  یہ نہیں۔  مثلاً کپڑا اشیا ء کے  عام حکم کے  مطابق مباح ہے، مگر اس بات سے  اس کی تجارت کا فعل،خود بخود جائز نہیں  ہو جائے گا، بلکہ پہلے  تجارت کے  فعل کا حکم معلوم کیا جائے گا :

﴿و أحل اللّٰہ البیع﴾2:275

(اللہ تعالیٰ نے  تجارت کو جائز قرار دیا ہے)

تجارت کے  فعل کا جواز ہمیں  اس آیت سے  ملتا ہے، لہذا چونکہ کپڑے  کی اباحت بھی ثابت ہے، اس لئے  کپڑے  کیخرید و فروخت مباح ٹھہری۔  یہ اس فعل کا حکم ہے۔

اسی طرح مثلاً پستول(pistol) ایک مباح چیز ہے  کیونکہ اس کی حرمت پر کوئی دلیل موجود نہیں  ہے۔  مگر کسی مسلمان کو اس سے  قتل کرنے  کا فعل حرام ہے۔

﴿ومن یقتل مؤمنا متعمدا فجزآؤہ جھنم ﴾4:93

(اور جو کوئی کسی مومن کو قصداً قتل کر ڈالے  تو اس کی سزا دوزخ ہے)

افعال کا قاعدہ:الأصل فی الأفعال التقید بالحکم الشرعی)افعال میں  حکمِ شرعی کی پابندی کی جائے گی)۔

لہذا انسان کے  لئے، نہ تو تمام افعال بنیادی طور پر جائز ہیں  اور نہ ہی حرام، بلکہ ہر فعل کی انجام دہی سے  پہلے  اس کا حکم تلاش کیا جائے گا اور اس کی پابندی لازم ہو گی۔  ہر حکم اپنی(شرعی) دلیل پر مبنی ہے۔  اس قاعدے  کے  دلائل مندرجہ ذیل ہیں :

﴿فوربک لنسألنھم أجمعین عما کانوا یعلمون﴾15:92-93

(قسم ہے  تیرے  رب کی!ہم ان سب سے  ضرور باز پرس کریں گے،ہر اس عمل کی جو وہ کرتے  تھے)یعنی اللہ تعالیٰ ہمارے  تمام افعال کا حساب لے گا۔

﴿یا أیھا الذین آمنوا أطیعوا اللّٰہ وأطیعوا الرسول﴾ إلی قولہ ﴿فإن تنازعتم فی شی ء فردوہ إلی اللّٰہ والرسول﴾4:59

(اے  ایمان والو!اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی ….

پھر اگر کسی چیز میں  اختلاف کرو تو اسے  اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ)

’’  من عمل عملا لیس علیہ امرنا فھو رد ‘‘(مسلم)

(جس نے  کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں  تو وہ عمل مسترد ہے)

یہاں  سے  ثابت ہے  کہ ہر فعل کی اصل آزادی)اباحت) نہیں  بلکہ حکمِ شرعی کی اطاعت اور اس کی موافقت ہے، ورنہ وہ عمل ہی مسترد ہے!کوئی بھی عمل خود بخود جائز نہیں  قرار پائے گا بلکہ شارع کے  خطاب سے  حکم معلوم کرنے  کے  بعد، اس کی پابندی کی جائے گی۔  یہیں  سے  آزادیِ فعل کے  قاعدے) Freedom of acts unless clear prohibitions are stated) کی تردید ثابت ہے۔  نیز صحابہ کرامؓ کا تعمل بھی الأصل فی الأفعال التقید بالحکم الشرعی)افعال میں  حکمِ شرعی کی پابندی کی جائے گی) کے  قاعدے  پر مبنی تھا۔  اس بات کی دلیل قرآن میں  کئی جگہ پر ان الفاظ میں  مذکور ہے  ﴿  یسئلونک ﴾(وہ آپؐ سے  پوچھتے  ہیں)۔  اگر افعال کی اصل آزادی ہوتیتو صحابہؓ کرام کا معمول پوچھنا نہ ہوتا۔

 

                   حکمِ شرعی

 

حکمِ شرعی کی تعریف

 

خطاب الشارع المتعلق بأفعال العباد بالإقتضاء أو بالتخییرأو بالوضع

(بندوں  کے  افعال سے  متعلق شارع کا وہ خطاب جو طلب یا اختیار دینے  یا وضع کے  ساتھ کیا گیا ہے)

اگرچہ شارع اللہ تعالیٰ ہے  مگر یہاں خطاب اللہ کے  بجائے  خطابِ شارع اس وجہ سے  کہا گیا ہے  کہ کہیں  یہ وہم نہ ہو کہ اس سے  مراد فقط قرآن ہے۔  سنت بھی چونکہ وحی ہے  اس لئے  وہ بھی خطابِ شارع میں  شامل ہے  اور اجماعِ صحابہؓ بھی کیونکہ اس سے  مراد سنت سے  کسی دلیل کا انکشاف ہے۔  مکلف کے  بجائے  بندہ اس وجہ سے  کہا گیا کیونکہ اس میں  بچے  اور پاگل سے  متعلقہ احکام بھی شامل ہیں۔  یہاں  یہ نہ کہا جائے  کہ جب بچے  اور پاگل پر زکوٰۃ، نفقہ وغیرہ واجب ہیں، تو وہ بھی بعض احکام کے  مکلف ٹھہرے۔  یہ اس لئے  کیونکہ یہ واجبات بچے  اور پاگل کے  افعال سے  متعلق نہیں  بلکہ ان کے  مال سے  ہیں۔  یعنی ان کا مال تکلیف کا محل(object)ہے۔  علاوہ ازیں  حدیث میں  جو کہا گیا کہ ان سے  تکلیف اٹھا لی گئی ہے : حتی یبلغ(جب تک بالغ نہ ہو جائے) اور حتی یفیق(ہوش میں  نہ آ جائے)، یہ دونوں  اقوال تعلیل کا فائدہ دے  رہے  ہیں، یعنی بچپن اور بے  عقلی نص کی علت ہے، اور اس امر کو ان کے  مال میں  کوئی دخل نہیں اور یہ اس سے  مستثنیٰ نہیں۔  اس بیان سے  تعریف کا جامع اور مانع ہونا ظاہر ہوا۔

بندوں  کے  افعال سے  متعلق شارع کا وہ خطاب جو طلب یا اختیار دینے  کے  بارے  میں  ہے، اسے  ’’خطابِ تکلیف‘‘ سے  موسوم کیا جاتا ہے  اور بندوں  کے  افعال سے  متعلق شارع کا وہ خطاب جو وضع کے  بارے  میں  ہے، اسے  ’’خطابِ وضع ‘‘ کہا جاتا ہے۔

 

خطابِ تکلیف

 

خطابِ  تکلیف)حکمِ تکلیفی)میں  یا تو کسی فعل کو کرنے  کی طلب ہو گی یا کسی فعل کو ترک کرنے  کی طلب یا پھر اس میں  کسی فعل کو کرنے  یا چھوڑنے  کا اختیار دیا جائے  گا۔  اس کے  نتیجے  میں  احکامِ شرعیہ کی یہ پانچ اقسام منظرِ عام پر آتی ہیں:فرض، مندوب، مباح، مکروہ اور حرام۔  زندگی کے  تمام افعال انہی میں  محدود ہیں۔  اس کی تفصیل یہ ہے :

فرض

 

شارع کا خطاب اگر کسی فعل کے  کرنے  سے  متعلق ہو اور یہ طلبِ جازم کے  ساتھ ہو، تو یہ فرض یا واجب  کہلائے  گا۔  فرض اور واجب کے  ایک ہی معنی ہیں  اور ان میں  کوئی فرق نہیں  کیونکہ یہ دو لفظ مترادف ہیں۔  یہ کہنا صحیح نہیں  کہ جو چیز قطعی دلیل)قرآن اور سنتِ متواترہ) سے  ثابت ہے  وہ فرض ہے  اور جو ظنی دلیل(خبر واحد اور قیاس) سے  ثابت ہے  وہ واجب ہے۔  یہ اس لئے  کیونکہ دونوں  ناموں)فرض یا واجب)کی ایک ہی حقیقت ہے  اور وہ یہ کہ شارع نے  کسی فعل کرنے  کی طلبِ جازم کی ہے۔  اس اعتبار سے  قطعی دلیل اور ظنی دلیل میں  کوئی فرق نہیں  ہے  کیونکہیہ مسئلہ خطاب کے  مدلول سے  متعلق ہے  نہ کہ اس کے  ثبوت سے۔  فرض وہ ہے  جس کے  کرنے  والے  کی تعریف کی جائے  اور نہ کرنے  والے  کی مذمت کی جائے  یا اس کو چھوڑنے  والا سزا کا مستحق ہو۔

فرض کو قائم کرنے  کی حیثیت سے، اس کی دو قسمیں  ہیں:فرضِ عین اور فرضِ کفایہ۔  ان کے  وجوب کے  اعتبار سے، ان میں  کوئی فرق نہیں  کیونکہ دونوں  طلبِ جازم کے  ساتھ ہیں۔  البتہ ان کو قائم کرنے  کی حیثیت سے  ان میں  یہ فرق ہے  کہ فرض عین میں  ہر فرد سے  ذاتی طور پر فعل سرانجام دینے  کا مطالبہ کیا گیا ہے، جبکہ فرضِ کفایہ میں  عمومی طور پر مسلمانوں  سے  فعل کا مطالبہ کیا گیا ہے، یعنی خطاب کا مقصد معین فعل کی انجام دہی ہے  نہ یہ کہ ہر فردِ واحد اسے  انجام دے۔  لہذا اگر اس فعل کو بعض مسلمانوں  نے  سر انجام دے  دیا) یعنی فعل کی ادائیگی قائم ہو چکی) تو باقیوں  سے  اس کا ذمہ ساقط ہو جائے گا۔  البتہ ثواب کے  مستحق وہی ہوں گے  جنہوں  نے  اس فعل کو کیا۔  اور اگر اس فعل کو کسی نے    انجام نہیں  دیا،  تو جب تک وہ قائم نہیں  ہو جاتا، سب گنہگار رہیں  گے، ما سوا وہ لوگ جو اس کی ادائیگی میں  مشغول ہیں۔

شارع کی طرف سے  کسی فعل کو کرنے  کی طلب صیغۂ امر)افعل) کے  ساتھ ہو گی یا جو کچھ اس معنی کے  قائم مقام ہو۔  پھر اگر کوئی ایسا قرینہ پایا جائے  جو فعل کو طلبِ جازم ہونے  کا فائدہ دے، تو اس صیغۂ  طلب اور قرینۂ  جازمہ کے  باعث، فعل واجب قرار پائے گا۔

مثال :

﴿وأقیموا الصلاۃ ﴾24:56

(اور نماز قائم کرو)

 

﴿إن الصلاۃ کانت علی المؤمنین کتابا موقوتا﴾4:103

(یقیناً نماز مومنوں  پر مقررہ وقتوں  پر فرض ہے)

پہلی آیت میں  ﴿ أقیموا﴾ صیغۂ  امر میں  ہے  اور دوسری میں  ﴿ کتابا موقوتا﴾صیغۂ  امر کا قائم مقام ہے  کیونکہ یہ امر کے  معنی میں  ہے۔  ان دونوں  آیات سے  نماز کی طلب ثابت ہے  مگر جس قرینہ نے  اس طلب کو جازم قرار دیا وہ یہ

آیت ہے :

﴿ما سلککم فی سقر۔ قالوا لم نک من المصلین﴾74:42-43

(تمہیں  دوزخ میں  کس چیز نے  ڈالا؟  وہ جواب دیں  گے  کہ ہم نمازی نہ تھے)

یوں اس طلبِ جازم سے  نماز کی فرضیت سمجھی گئی ہے۔

 

مندوب

 

شارع کا خطاب اگر کسی فعل کو کرنے  کے  بارے  میں  ہو لیکن طلبِ جازم کے  ساتھ نہ ہو، تو یہ مندوب کہلائے  گا۔  مندوب، سنت اور نفل کے  ایک ہی معنی ہیں، البتہ اسے  عبادات میں  سنت و نفل کہا جاتا ہے، جبکہ دوسرے  معاملات پر’’ مندوب‘‘ کا اطلاق ہوتا ہے۔  مندوب وہ ہے  جس کے  کرنے  والے  کی تعریف کی جائے  اور چھوڑنے  والے  کی مذمت نہ کی جائے، یعنی کرنے  والا ثواب کا مستحق ہو اور چھوڑنے  والا سزا کا مستحق نہ ہو۔

شارع کے  خطاب میں  کسی فعل کو کرنے  کی طلب پائی جائے، پھر اس میں  کوئی ایسا قرینہ پایا جائے  جو طلب  کو غیر جازم ہونے  کا فائدہ دے، تو اس کے  باعث فعل مندوب قرار پائے گا۔

مثال :

’’ صلاۃ الجماعۃ  تفضل علی صلاۃ الفرد بسبع وعشرین درجۃ ‘‘(متفق علیہ)

(جماعت میں  نماز پڑھنا، اکیلے  پڑھنے  سے  ستائیس مرتبہ بہتر ہے)

 

یہاں  رسول اللہ ﷺ نے  صیغۂ  امر کے  معنی میں  نمازِ جماعت کی طلب فرمائی، مگر اس مسئلے  میں  ایک ایسا قرینہ موجود ہے  جو اسے  طلبِ غیر جازم ہونے  کا فائدہ دے  رہا ہے، وہ انفرادی طور پر نماز پڑھنے  پر، آپؐ کے  سکوت کی دلیل  ہے  اور اس فعل میں  اللہ سے  قربت کا حصول، لہذا نمازِ جماعت مندوب(سنت) قرار پائی۔

 

حرام

 

شارع کا خطاب اگر کسی فعل کو ترک کرنے  کے  بارے  میں  ہو اور یہ طلبِ جازم کے  ساتھ ہو، تو یہ حرام یا محظور کہلائے  گا۔  ان دونوں  کا ایک ہی معنی ہے۔  حرام وہ ہے  جس کے  کرنے  والے  کی مذمت کی جائے  اور چھوڑنے  والے  کی تعریف کی جائے  یا کرنے  والا سزا کا مستحق ہو۔

شارع کے  خطاب میں  کسی فعل کو ترک کرنے  کی طلب صیغۂ  نہی)لا تفعل) میں  ہو گی یا جو کچھ اس معنی کا قائم مقام ہو۔  پھر اگر اس میں  کوئی ایسا قرینہ پایا جائے  جو فعل کے  ترک کو طلبِ جازم ہونے  کا فائدہ دے، تو اس کےباعث یہ فعل حرام قرار پائے گا۔

مثال :

﴿ولا تقربوا الزنا إنہ کان فاحشہ وساء سبیلا﴾17:32

)خبردار زنا کے  قریب بھی نہ پھٹکنا کیوں  کہ وہ بڑی بے  حیائی ہے  اور بہت ہی بری راہ ہے)

یہاں  صیغۂ  نہی ﴿ لا تقربوا ﴾سے  طلبِ ترک ثابت ہے، جبکہ ﴿ إنہ کان فاحشہ وساء سبیلا﴾ اس کےطلبِ جازم ہونے  کا قرینہ ہے۔  یوں  زنا کا حرام ہونا ثابت ہوا۔

 

مکروہ

 

شارع کا خطاب اگر کسی فعل کو ترک کرنے  کے  بارے  میں  ہو مگر طلبِ جازم کے  ساتھ نہ ہو، تو یہ مکروہ کہلائے  گا۔  مکروہ وہ ہے  جس کے  چھوڑنے  والے  کی تعریف کی جائے  اور کرنے  والے  کی مذمت نہ کی جائے، یا جس کا چھوڑنا کرنے  سے  بہتر ہو۔

شارع کے  خطاب میں  کسی فعل کو ترک کرنے  کی طلب پائی جائے، پھر اس میں  کوئی ایسا قرینہ پایا جائے  جو اس کو طلبِ غیر جازم ہونے  کا فائدہ دے، تو اس کے  باعث یہ فعل مکروہ قرار پائے گا۔

مثال :

’’ من کان موسرا ولم ینکح فلیس منا ‘‘(البیھقی)

(وہ جو مالدار ہو اور نکاح نہ کرے  تو وہ ہم میں  سے  نہیں)

یہاں  صیغۂ  نہی کے  معنی میں  رسول اللہ ﷺ نے  عدم نکاح کو منع کیا ہے، البتہ آپؐ نے  بعض مالداروں  کے  نکاح نہ کرنے  پر سکوت اختیار کیا، جو اس طلب کے  غیر جازم ہونے  کا قرینہ ہے۔  لہذا مالداروں  کے  لئے  عدم نکاح مکروہ قرار پایا۔

 

مباح

 

شارع کا خطاب جب کسی فعل کو کرنے  یا ترک کرنے  کے  بارے  میں  اختیار دے، تو وہ مباح کہلائے  گا۔ یعنی اس اختیار پر ا کوئی شرعی دلیل ہو۔  یہ اس لئے  کیونکہ مباح احکامِ شرعیہ میں  سے  ہے، یعنی یہ، حکمِ اباحت پر  شارع کا خطاب ہے  جو ہمیشہ دلیل سے  ثابت ہوتا ہے، کیونکہ قائدہ ہے  لا حکم قبل ورود الشرع)شرع کے  وارد ہونے  سے  پہلے  کوئی حکم نہیں)۔  لہذا یہ نہیں  کہا جا سکتا کہ ہر وہ فعل جس پر شرع خاموش ہے، یعنی جسے  نہ شرع نے  حرام قرار دیا ہو اور نہ حلال، تو وہ مباح ہے۔  جہاں  تک اس حدیث کا تعلق ہے  :

’’  الحلال ما أحل اللّٰہ فی کتابہ والحرام ما حرم اللّٰہفی کتابہ وما سکت عنہ فھو مما عفا عنہ ‘‘(الترمذی)

(حلال وہ ہے  جسے  اللہ تعالیٰ نے  اپنی کتاب میں  حلال قرار دیا ہے  اور حرام وہ ہےجسے  اللہ تعالیٰ نے  اپنی کتاب میں  حرام قرار دیا ہے  اور جس پر وہ خاموش ہے  وہ معاف ہے)

 

تو اس میں  اس بات کی دلیل نہیں  ہے  کہ جس چیز پر قرآن خاموش ہے  تو وہ مباح ہے، کیونکہ قرآن کی طرح حدیث میں  بھی حرام و حلال کے  احکام پائے  جاتے  ہیں  جیسا کہ آپؐ کا فرمان ہے :

’’  ألا انی أوتیت القرآن و مثلہ معہ ‘‘(أحمد)

(بے  شک میں  قرآن اور اس کی مثل(سنت) کے  ساتھ بھیجا گیا ہوں)

پس پہلی حدیث کا معنی یہ نہیں  ہے  کہ جس بات پر وحی خاموش ہے  تو وہ مباح ہے۔  یہ اس لئے  کیونکہ آپؐ کے  فرمان: الحلال ما أحل اللّٰہ میں  ہر وہ چیز شامل ہے  جو حرام نہ ہو، چنانچہ اس میں  فرض، مندوب، مباح اور مکروہ، سب شامل ہیں  کیونکہ یہ سب حلال ہیں، یعنی وحی نے  انھیں  حرام نہیں  قرار دیا۔  جہاں  تک حدیث کے  دوسرے  حصے  کا تعلق ہے :وما سکت عنہ فھو مما عفا عنہ تو اس کا مطلب یہ ہے  کہ جن چیزوں  پر سکوت ہے، وہ حلال ہیں  اور یہ اللہ کی طرف سے  معاف ہیں  اور یہ انسانوں  پر اس کی رحمت ہے  کہ اس نے، ان کے  لئے  انہیں  حرام نہیں  بلکہ حلال قرار دیا۔  اس کی دلیل یہ حدیث ہے :

’’ إن أعظم المسلمین فی المسلمین جرما من سأل عن شیءلم یحرم علی المسلمین فحرم علیھم من أجل مسألتہ ‘‘(مسلم)

(مسلمانوں  میں  سے  وہ جو مسلمانوں  کے  خلاف اپنے  جرم میں  سب سے  بڑا ہےوہ شخص ہے  جس نے  کسی ایسی چیز کے  بارے  میں  جو مسلمانوں  کے  لئے  حرام نہیں  تھیمگر اس کے  سوال کرنے  کی وجہ سے  وہ ان پر حرام کر دی گئی)

یعنی ایسی چیز کے  بارے  میں  پوچھ جس کی تحریم پر وحی خاموش ہے۔  لہذا ان احادیث میں  سکوت سے  مراد کسی چیز کی تحریم پر سکوت ہے، نہ کہ حکم شرعی کے  بیان پر سکوت۔ یہ اس لئے  کیونکہ ایسا کوئی فعل یا چیز ہے  ہی نہیں  جسے  شارع نے  بیان نہ کیا ہو، بلکہ وحی میں  ہر مسئلے  کا حل ہے  کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿ونزلنا علیک الکتاب تبیانا لکل شیئ﴾16:89

(ہم نے  ایسی کتاب نازل کی ہے  جو ہر چیز کو کھول کھول کر بیا ن کرتی ہے)

یہ آیت اس بات کی قطعی دلیل ہے  کہ شرع زندگی کے  کسی مسئلے  میں  خاموش نہیں، بلکہ اس میں  زندگی کے  تمام افعال اور اشیاء پر حکم موجود ہے  اور اس بات پر اعتقاد ایمان کا تقاضا ہے۔  پس دوسری احکامِ شرعیہ کی اقسام کی طرح مباح بھی اپنی دلیل سے  ثابت ہوتا ہے۔

مثال :

﴿وإذا حللتم فاصطادوا﴾5:2

(جب تم احرام اتار ڈالو تو شکار کھیلو)

یہاں  احرام کھولنے  کے  بعد شکار کا حکم دیا جا رہا ہے  مگر ایک دوسرے  قرینہ کی وجہ سے  شکار کھیلنا فرض یا مندوب نہیں،بلکہ مباح ہے۔  وہ قرینہ یہ ہے:

﴿غیر محلی الصید و أنتم حرم﴾5:1

(حالتِ احرام میں  شکار کو حلال جاننے  والے  نہ بننا)

شکار کا حکم، خلالِ احرام کی نہی کے  بعد آیا ہے، پس احرام کھولنے  کے  بعد شکار مباح ٹھہرا کیونکہ یہ اپنی اصلی حالت کی طرف واپس لوٹے  گا، یعنی احرام سے  پہلے  والی حالت جس میں  شکار مباح ہے۔

نیز یہ بھی نہیں  کہا جا سکتا کہ اگر کسی فعل کے  بارے  میں  کوئی حرج نہ پایا جائے  تو وہ فعل خودبخود مباح ٹھہرے  گا۔  یا اگر کسی فعل سے  حرج اٹھا لیا گیا ہو تو اس کا معنی اجازت ہے۔  یہ اس لئے  کیونکہ کسی چیز کی حرمت سے  اس کی ضد کا حکم ثابت نہیں  ہوتا اور نہ ہی کسی چیز کے  حکم سے  اس کی ضد پر تحریم ثابت ہوتی ہے۔  بلکہ رفع الحرج(حرج کا اٹھنا) کسی فرض سے  منسلک ہو سکتا ہے  جیسے  :

﴿فلا جناح علیہ أن یطوف بھما﴾2:158

(پس بیت اللہ کا حج و عمرہ کرنے  والے  پر ان کے  طواف کر لینے  میں  بھی کوئی گناہ نہیں)

اس آیت میں، رفع الحرج کے  باوجود، حج و عمرہ کے  دوران طواف کرنا فرض ہے  مباح نہیں۔  اسی طرح رفع الحرج کسی رخصت کے  ساتھ بھی منسلک ہو سکتا ہے  جیسے :

﴿وإذا ضربتم فی الأرض فلیس علیکم جناح أن تقصروا من الصلٰوۃ﴾4:101

(جب تم سفر میں  جا رہے  ہو تو تم پر نمازوں  کے  قصر کرنے  میں  کوئی گناہ نہیں)

یہاں  رفع الحرج کا مطلب اباحت نہیں، بلکہ ایک حالت)سفر) میں  قصرِ نماز کی رخصت دی گئی ہے۔  لہذا مباح وہ نہیں  ہے  جس میں  حرج نہ پایا جائے  یا جس سے  حرج اٹھا لیا جائے، بلکہ مباح و ہ ہے  جس کے  چھوڑنے  یا کرنے  کے   اختیار(اجازت) کے  بارے  میں  شارع کے  خطاب پر کوئی سمعی دلیل پائی جائے۔

مثال :

﴿نسآؤکم حرث لکم فأتوا حرثکم أنی شئتم﴾ 2:223

(تمہاری بیویاں  تمہاری کھیتیاں  ہیں  اپنی کھیتیوں  میں  جس طرح چا ہو آؤ)

علاوہ ازیں  یہ کہنا بھی غلط ہے  کہ دورِ جاہلیت کے  کئی معاملات اسلام کی بعثت کے  بعد بھی جاری رہے  اور اسلام نے  ان پر خاموشی اختیار کی اور وہ مباح مانے  گئے، جبکہ جن چیزوں  سے  رسول اللہ ﷺ نے  منع فرمایا، صرف وہی ناجائز ٹھہرے۔  لہذا اصل یہ ہے  کہ جب تک شرع کسی بات پر خاموش ہے  اور اسے  حرام نہیں  قرار دیتی، تو وہ جائز ہو گی۔  یہ کہنا اس وجہ سے  غلط ہے  کیونکہ کسی بات پر رسول اللہ ﷺ کی خاموشی کا مطلب یہ نہیں  ہے  کہ شرع خاموش ہے۔  بلکہ، اس کے  برعکس، شرع نے  تو حکم کو بیان کر دیا ہے، جو اس صورت میں  مباح ہے۔  یہ اس لئے  کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی خاموشی، آپ ؐ کے  افعال و اقوال کی طرح، بذاتِ خود دلیل ہے  اور سنت کا ایک جز، اور سنت قرآن کی طرح ایک شرعی ماخذ ہے۔  لہذا آج جب ہم کوئی ایسا فعل انجام دیتے  ہیں  جو دورِ جاہلیت میں  بھی ہوا کرتا تھا، تو ہم اسے  اس حیثیت سے  اختیار کرتے  ہیں  کہ یہ حکم شرعی ہے  اور اس کی کوئی دلیل موجود ہے، نہ اس حیثیت سے  کہ یہ دورِ جاہلیت کی کوئی رسم یا معاملہ ہے۔

 

قرینہ

 

قرینہ کا معنی خطاب کی مراد متعین کرنے  والی لفظی یا احوالی علامت ہے۔  حکم شرعی کی قسم کو نصوص کے  قرائن سے  سمجھا جاتا ہے۔  یعنی انہی قرائن سے  کسی فعل کا فرض، مندوب، مباح، مکروہ یا حرام ہونا ظاہر ہوتا ہے۔  قرینہ کی تین اقسام ہیں:

1)  وہ جو طلبِ جازم ہونے  کا فائدہ دے۔  اس سے  فعل کے  فرض یا حرام ہونے  کا تعین ہوتا ہے۔

2)  وہ جو طلبِ غیر جازم ہونے  کا فائدہ دے۔  اس سے  فعل کے  مندوب یا مکروہ ہونے  کا تعین ہوتا ہے۔

(وہ جو اختیار دینے  کا فائدہ دے۔  اس سے  فعل کے  مباح ہونے  کا تعین ہوتا ہے۔

 

طلبِ جازم کے  قرائن

 

1)  دنیا یا آخرت میں  سزا۔

﴿والسارق و السارقۃ فاقطعوا أیدیھما جزاء بما کسبا نکالا من اللّٰہ﴾5:38

(چوری کرنے  والے  مرد اور عورت کے  ہاتھ کاٹ دیا کرو،یہ بدلہ ہے  اس کا جو انہوں  نے  کیا عذاب اللہ کی طرف سے)

﴿إن الذین یأکلون أموال الیتامی ظلما إنما یأکلون فی بطونھم نارا وسیصلون سعیرا﴾4:10

(جو لوگ نا حق ظلم سے  یتیموں  کا مال کھا جاتے  ہیں،وہ اپنے  پیٹمیں  آگ ہی بھر رہے  ہیں اور عنقریب وہ دوزخ میں  جائیں  گے)

 

2)  جب کسی فعل کو تسلسل سے  کرنے  کے  ساتھ کسی عذر پر کوئی رخصت یا قضا یا معافی کا بیان ہو۔

﴿یا أیھا الذین آمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقونأیاما معدودات فمن کان منکم مریضا أو علی سفر فعدۃ من أیام أخر﴾2:183-184

(اے  ایمان والو! تم پر روزے  رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے  پہلے  لوگوں  پر فرض کیے  گئے  تھے  تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو، گنتی کے  چند ہی دن ہیں  لیکن تم میں  سے  جو شخص بیمار ہو یا سفر میں  ہو تو وہ اور دنوں  میں  گنتی کو پورا کر لے)

﴿یا أیھا الذین آمنوا إذا قمتم إلی الصلاۃ فاغسلوا وجوھکم وأیدیکم إلی المرافقوامسحوا برؤوسکم وأرجلکم إلی الکعبین ﴾إلی قولہ﴿فلم تجدوا ماء فتیمموا﴾5:6

(اے  ایمان والو!جب تم نماز کے  لئے  اٹھو تو اپنے  منہ کو اور اپنے  ہاتھوں  کو کہنیوں  سمیت دھولو،اپنے  سروں  کا مسح کرو اور اپنے  پاؤں  کو ٹخنوں  سمیت دھو لو…..تمہیں  پانی نہ ملے  تو پاک مٹی سے  تیمم کر لو)

’’من نام عن صلاۃ أو نسیھا فلیصلھا إذا ذکرھا ‘‘(متفق علیہ)

(جس کسی نے  نیند یا بھول کی وجہ سے  نماز نہ پڑھی ہو تو یاد آتے  ہی اسے  پڑھ لے)

3) جب کوئی قول یا فعل کسی التزام کی ضرورت کو بیان کرے  باوجودیکہ اس میں  مشقت و دشواری پائی جائے  اور اس کا کوئی بدل نہ ہو۔

﴿کتب علیکم القتال وھو کرہ لکم﴾2:216

(تم پر جہاد فرض کیا گیا ہے  گو کہ وہ تمہیں  نا گوار معلوم ہو)

اسلامی ریاست کو رسول اللہ ﷺ نے  ایک معین طریقے  سے  قائم کیا، جس میں  طاقتور قبائل سے  نصرت طلب کرنا بھی شامل تھا۔  ان سرگرمیوں  میں  آپؐ لہو لہان بھی کر دیے  گئے  مگر آپ ؐ نے  یہ کام جاری رکھا اور قبائل کے  سامنے  اپنے  آپ کو پیش کرتے  رہے، یعنی شدید تکلیف اور موت کے  خطرے  کے  باوجود، آپؐ طلبِ نصرت کے  عمل کو مستقل طور پر سرانجام دیتے  رہے۔

’’  لو لا أن أشق علی أمتی لأمرتھم بالسواک عند کل صلاۃ ‘‘(متفق علیہ)

(اگر مجھے  اس میں  میری امت کے  لئے  دشواری نہ نظر آتی تو میں  اسے  ہر نماز کے  ساتھ مسواک کرنے  کا حکم دیتا)

آپ ؐ نے  امت کو ہر نماز کے  ساتھ مسواک کرنے  کا حکم اس لئے  نہیں  کیا کہ اس میں  اس کے  لئے  دشواری تھی۔  اس کا مطلب یہ ہے  کہ آپ ؐ کے  کسی حکم پر، اگر کسی فعل کی ادائیگی میں  دشواری ظاہر ہو، تو وہ امر فرض ہو گا۔

 

4)  اگر کوئی فعل کسی واجب کا بیان ہو یا اس کا موضوع فرض ہو یا اسلام کی حفاظت پر دلالت کرے۔

’’  خذوا عنی مناسککم ‘‘(مسلم)

(اپنی حج کے  مناسک مجھ سے  لو)

﴿ولتکن منکم أمۃ یدعون الی الخیر ویأمرون بالمعروف وینھون عن المنکر ﴾3:104

(تم میں  سے  ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے  جو اسلام کی طرف بلائے،اچھائی کا حکم دے  اور برائی سے  منع کرے)

’’ مروا أبناء کم بالصلاۃ لسبع واضربوھم علیھا لعشر وفرقوا بینھم فی المضاجع ‘‘(أبو داود)

(اپنے  بچوں  کو نماز پڑھنے  کا حکم دو جبکہ وہ سات برس کے  ہو جائیں  اور دسسال کی عمر میں  انھیں  مارو(اگر وہ نہ پڑھیں)(اور ان کے  بستر علیحدہ کر دو)

 

5)  جب کسی حکم کی بجا آوری کو متعدد صورتوں  میں  محدود کر دیا جائے  اور ان میں  اختیار دیا جائے۔

﴿و إذا حییتم بتحیۃ فحیوا بأحسن منھا أوردوھا﴾4:86

(اور جب تمہیں  سلام کیا جائے  تو تم اس سے  اچھا جواب دو یا انہی الفاظ کو لوٹا  دو)

 

6)  نص میں  ایسے  الفاظ کا ذکر جو بذاتِ خود وجوب و فرضیت یا حرمت پر دلالت کریں۔

﴿یوصیکم اللّٰہ فی أولادکم للذکر مثل حظ الأنثیین﴾الی قولہ ﴿ فریضۃ من اللّٰہ﴾4:11

(اللہ تمہیں  تمہاری اولاد کے  بارے  میں  حکم کرتا ہے  کہ ایک لڑکے  کا حصہدو لڑکیوں  کے  برابر ہے ……یہ حصے  تم پر اللہ کی طرف سے  فرض کر دیے  گئے  ہیں)

﴿إنما حرم علیکم المیتۃ ﴾2:173

(تم پر مردار حرام کر دیا گیا ہے)

’’  لا یحل لامراۃ  تؤمن باللّٰہ والیوم الآخر أن تسافرمسیرۃ یوم ولیلۃ إلا ومعھا محرم ‘‘(متفق علیہ)

(جو عورت اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لائے  تو اس کے  لئے  جائز نہیں  کہ وہاپنے  محرم کے  بغیر ایک دن اور ایک رات سے  زیادہ سفر کرے)

 

7)  جب کسی عمل کو ایسے  وصف سے  موصوف کیا جائے  جس سے  نہیِ جازم سمجھی جائے، مثلاً اللہ کی ناراضی یا غضب، مذمت یا کوئی قابلِ نفرت وصف جیسے  بے  حیائی یا شیطانی عمل، ایمان یا اسلام کی نفی وغیرہ۔

﴿ولکن من شرح بالکفر صدرا فعلیھم غضب من اللّٰہ﴾16:106

(مگر جو لوگ کھلے  دل سے  کفر کریں  تو ان پر اللہ کا غضب ہے)

﴿إنہ کان فاحشۃ ومقتا وساء سبیلا ﴾4:22

(اپنی سوتیلی ماؤں  سے  نکاح کرنا۔یہ بے  حیائی کا کام ہے  اور بغض کا سبب ہے  اور بڑی بری راہ ہے)

﴿لا یتخذ المؤمنون الکافرین أولیاء من دون المؤمنینومن یفعل ذلک فلیس من اللّٰہ فی شیئ﴾3:28

(مومنوں  کو چاہیے  کہ وہ ایمان والوں  کو چھوڑ کر کافروں  کو اپنا دوست نہ بنائیں  اور جو ایسا کرے  گا وہ اللہ تعالیٰ کی کسی حمایت میں  نہیں)

 

8)  جب طلب ایمان کے  ساتھ مقرون ہو یا جو کچھ اس کے  قائم مقام ہے۔

﴿لقد کان لکم فی رسول اللّٰہ أسوۃ حسنۃ لمن کان یرجوا اللّٰہ والیوم الآخر﴾33:21

(یقیناً تمہارے  لئے  رسول اللہ میں  بہترین نمونہ موجود ہے  ہر اس شخصکے  لئے  جو اللہ تعالیٰ کی اور روزِ قیامت کے  دن کی توقع رکھتا ہے)

9)  جب طلب منعِ مباح کے  ساتھ مقرون ہو۔

﴿یا أیھا الذین آمنوا إذا نودی للصلاۃ من یوم الجمعۃفاسعوا إلی ذکراللّٰہ وذروا البیع ذلکم خیر لکم إن کنتم تعلمون﴾62:9

(اے  ایمان والو! جب جمعے  کے  دن نماز کی اذان دی جائے  تو تم اللہ کے  ذکر کی طرف دوڑ پڑو  اور خرید و فروخت چھوڑ دو،یہ تمہارے  حق میں  بہت ہی بہتر ہے  اگر تم جانتے  ہو)

 

10)  اگر ما لا یتم الواجب إلا بہ فھو واجب کے  قاعدے  میں  شامل ہو۔  یعنی ہر وہ عمل جو کسی واجب کی کفایت کرے  اور اسے  نفع پہنچائے۔

 

مثال کے  طور پر نماز کے  لئے  اس کے  ارکان(رکوع، سجدہ وغیرہ)، کیونکہ ان کے  بغیر نماز پوری نہیں  ہوتی۔  لیکن اگر کوئی چیز اس عمل میں  شامل نہیں  بلکہ اس سے  خارج ہے، تو اس صورت میں  وہ کسی دوسری دلیل کی محتاج ہے۔  مثلاً وضو، کیونکہ یہ نماز کا حصہ نہیں  بلکہ اس کی شرط ہے۔

اسی طرح اس قاعدے  کے  مطابق اسلامی ریا ست کے  قیام کے  لئے  جو بھی اعمال درکار ہیں، وہ بھی لازم ٹھہرے۔  یعنی ایک منظم جماعت کا ہونا، جو اسلامی مبداء(ضابطہ حیات) پر قائم ہو، اس کی طرف پکارے  اور اس مبداء کو زندگی میں  نافذ کرنے  کے  لئے  فکری اور سیاسی جدوجہد کرے۔

 

11)  اگر کسی کام میں  کوئی فعل اصولی طور پر ممنوع ہو، مگر رسول اللہ ﷺ نے  اس کے  باوجود، ایک خاص موقع پر، اسے  سرانجام دیا ہو۔

 

مثال کے  طور پر نماز کی ایک رکعت میں  ایک سے  زیادہ رکوع کرنا ممنوع ہے  کیونکہ اس سے  نماز باطل ہو جاتی ہے۔  مگر نمازِ خسوف میں  رسول اللہ ﷺ کے  فعل سے  یہ ثابت ہے  کہ آپؐ نے  دو رکوع فرمائے  جو اس فعل کے  واجب ہونے  کا قرینہ ٹھہرا۔  لہذا یہ دو رکوع نمازِ خسوف کے  رکن قرار پائے۔

 

                    طلبِ غیر جازم کے  قرائن

 

1)  جب کسی فعل میں  ترجیح اور مدح پائی جائے۔

’’   تبسمک فی وجہ أخیک صدقۃ ‘‘(الترمذی)

(اپنے  بھائی کے  سامنے  چہرے  پر مسکراہٹ لانا صدقہ ہے)

 

2)  جب کسی فعل کی نہی اس پر سکوت کے  ساتھ ہو، تو یہ فعل مکروہ ہو گا۔

’’  إن ذلک لیس بشفاء ولکنہ داء ‘‘(ابن ماجہ)

(یہ(حرام چیز)شفاء نہیں  بلکہ بیماری ہے)

’’  فأمرھم النبیﷺ أن یلحقوا براعیہ۔ یعنی الإبل فیشربوا من ألبانھا وأبواھا ‘‘(البخاری)

(پھر رسول اللہ ﷺ نے  انہیں  اپنے  چراوے  کے  پیچھے  چلنے  کا حکم دیا۔یعنی اونٹوں  کے، تاکہ وہ ان کا دودھ اور پیشاب پیئیں)

پہلی حدیث میں  حرام چیز کو دوا کے  طور پر استعمال کرنے  سے  منع کیا گیا ہے  اور دوسری حدیث میں  حرام چیز کے  دوا کے  طور پر استعمال کا اقرار کیا گیا ہے، نہی اور سکوت نے  مل کر کراہت کا فائدہ دیا۔

(3جب کسی فعل میں  اللہ کی قربت پائی جائے۔

’’  إن الدعاء  ھو العبادۃ ‘‘(ابن ماجہ)

(بے  شک دعا عبادت ہے)

 

                    تخییر کے  قرائن

 

1)  جب رسول اللہ ﷺ سے  کسی فعل کا کبھی کرنا اور کبھی ترک کرنا ثابت ہو۔

میت کا جنازہ گزرتے  وقت آپؐ کا کھڑا ہو جانا اور بیٹھا رہنا، دونوں  ثابت ہیں، لہذا اس میں  اختیار دیا گیا ہے  اور یہ مباح ٹھہرا۔

 

2)  جب کسی فعل پر، بغیر کسی عذر کے، شرع نے  عام طور پر معافی دی ہو۔

’’  الحلال ما أحل اللّٰہ فی کتابہ والحرام ما حرم اللّٰہفی کتابہ وما سکت عنہ فھو مما عفا عنہ ‘‘)ترمذی)

(حلال وہ ہے  جسے  اللہ نے  اپنی کتاب میں  حلال قرار دیا ہے  اور حرام وہ ہے  جسے  اللہ نے  اپنی کتاب میں  حرام قرار دیا ہے  اور جس پر وہ خاموش ہے  وہ معاف ہے)

 

(افعالِ جبلی جو خصائصِ جسم کے  ساتھ مربوط اور انسان کے  لئے  اللہ کی تخلیق میں  سے  ہیں  اور جن کی تخصیص و تقید نہ کی گئی ہو۔

﴿کلوا واشربوا من رزق اللّٰہ ﴾2:60

(اللہ کے  دیے  ہوئے  رزق میں  سے  کھاؤ اور پیو)

﴿أو لم ینظروا فی ملکوت السموات والأرض﴾7:185

(اور کیا ان لوگوں  نے  دیکھا نہیں  آسمانوں  اور زمین کے  عالم میں)

﴿فامشوا فی مناکبھا﴾67:15

(تاکہ تم اس کی را ہوں  میں  چلتے  پھرتے  رہو)

 

4)  جب کوئی فعل کسی سبب کی وجہ سے  حرام ہو، تو سبب ختم ہوتے  ہی یہ دوبارہ جائز ہو جائے گا۔  مثلاً نمازِ جمعہ کے  بعد تجارت فوراً جائز ہو جائے گی کیونکہ جمعے  کی نماز کا سبب زائل ہو گیا ہے۔  اسی طرح اگر کوئی فعل کسی مانع کی وجہ سے  حرام ہو، تو مانع زائل ہوتے  ہی وہ فعل جائز ہو جائے گا۔  مثلاً ناپاکی مصحف(قرآنِ پاک) کو چھونے  کا مانع ہے، پس جب طہر(پاکی) حاصل ہو گئی تو قرآن کو چھونا مباح ہو جائے گا۔

 

                   خطابِ  وضع

 

جن امور پر کسی حکم کا ثابت ہونا یا اس کا پورا ہونا موقوف ہو، تو شارع کے  اس خطاب کو خطابِ وضع(حکمِ وضعی)کہا جاتا ہے۔  دوسرے  لفظوں  میں  یہ احکام کے  بارے  میں  احکام(معین اوصاف) ہیں  کیونکہ یہ انسان کے  افعال سے  متعلق شارع کے  خطاب کو بیان کرتے  ہیں  اور اسی تعلق کی وجہ سے  یہ احکام شرعیہ میں  سے  ہیں۔  خطابِ  وضع کی پانچ اقسام ہیں:

1)  سبب

2)  شرط

3)  مانع

4)  صحت و بطلان و فساد

5)  عزیمت و رخصت

 

سبب

 

سبب کی تعریف:  کل وصف ظاہر منضبط دل الدلیل السمعی علی کونہ معرفا لوجود الحکم لا لتشریع الحکم)ہر وہ وصفِ ظاہر منضبط جس پر کوئی سمعی دلیل یہ دلالت کرے  کہ وہ اس حکم کے  وجود کا  معرف ہے، نہ حکم کی تشریع کا)۔

﴿أقم الصلاۃ لدلوک الشمس ﴾17:78

(نماز کو قائم کرو آفتاب کے  ڈھلنے  سے)

یہاں  سورج کے  ڈھلنے  کو وجودِ نماز کی علامت بتایا گیا ہے، یعنی جب یہ وقت آ جائے  یعنی اس علامت کی معرفت حاصل ہو جائے، تو اپنی دیگر شرائط کے  ساتھ، نماز ادا کرنے  کی اجازت ہے۔  لیکن یہ(زوالِ آفتاب) وجوبِ نماز کی علامت نہیں  ہے، اس کے  اپنے  دوسرے  دلائل ہیں جو طلبِ جازم کے  ساتھ وارد ہوئے  ہیں۔

﴿فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ ﴾2:185

(تم میں  سے  جو اس مہینہ کو پائے  اسے  روزہ رکھنا چاہیے)

’’ صوموا لرؤیتہ‘‘(مسلم)

(چاند نظر آنے  پر روزہ رکھو)

اسی طرح یہاں  چاند کا طلوع ہونا اور اس کا نظر آنا، ماہِ رمضان میں  روزے  کے  وجود کی علامت ہے، نہ کہ روزے  فرض ہونے  کی، اس کے  دوسرے  دلائل ہیں  جو خطابِ تکلیف سے  ثابت ہیں۔  اسی طرح نصاب وجودِ زکوٰۃ کا سبب ہے  اور شرعی عقود ملکیت سے  نفع اٹھانے  یا اس کے  تصرف کی اباحت کے  اسباب ہیں۔

پس سبب حکم کے  لئے  موجب نہیں  ہے، وہ بس اس کے  وجود کے  لئے  معرف ہے  جس پر کوئی شرعی دلیل ہے۔  نیز سبب کا وجود اس حکم کو مرتب کرتا ہے  اور اس کی عدم موجودگی حکم کی عدم موجودگی کو، یعنی جب سبب ہو گا تو حکم بھی ہو گا اور اگر سبب نہیں  ہو گا تب حکم بھی نہیں  ہو گا۔

 

شرط

 

شرط کی تعریف:  ھو ما کان وصفا مکملا لمشروطہ فیما اقتضاہ الحکم فی ذلک المشروط أو فیما اقتضاہ المشروط نفسہ) مشروط کے  لئے  وہ وصفِ کامل جو اس مشروط کا حکم تقاضا کرے  یا جس کا بذاتِ خود مشروط تقاضا کرے)۔

 

1)  مشروط کے  حکم کا تقاضا:  اس کی شرط خطابِ تکلیف کی طرف لوٹتی ہے۔  مثلاً نماز(خطابِتکلیف) مشروط ہے  اور اس کی شرط)وصفِ کامل) وضو ہے۔

﴿إذا قمتم إلی الصلاۃ فاغسلوا وجوھکم  وأیدیکم إلی المرافق وامسحوا برؤوسکم وأرجلکم إلی الکعبین﴾5:6

(جب تم نماز کے  لئے  اٹھو تو اپنے  منہ کو اور اپنے  ہاتھوں  کو کہنیوں  سمیت دھو لواور اپنے  سروں  کا مسح کرو اور اپنے  پاؤں  کو ٹخنوں  سمیت دھو لو)

یہ بذاتِ خود نماز کی شرط نہیں  ہے  یعنی اس کی کیفیت کی، بلکہ اس کے  حکم کے  لئے  شرط ہے  یعنی اس کے  وجوبِ ادائیگی کی۔  اسی طرح نماز میں  ستر کا ڈھانپنا اور رمضان میں  روزے  کی نیت کرنا ہے  وغیرہ، یہ سب حکم کی شرائط ہیں۔

 

2)  بذاتِ خود مشروط کا تقاضا:  اس کی شرط خطابِ وضع کی طرف لوٹتی ہے۔  مثلاً زکوٰۃ کا نصاب(خطابِ وضع) مشروط ہے  اور اس کی شرط ایک سال کا گزرنا ہے۔  لہذا یہاں  شرط براہِ راست حکم(خطابِ تکلیف) سے  منسلک نہیں  ہے  یعنی اس کی ادائیگی سے، بلکہ زکوٰۃ کے  سبب(نصاب) سے  منسلک ہے  یعنی یہ زکوٰۃ کے  نصاب(خطابِ وضع) کے  لئے  شرط ہے۔  اسی طرح چور کا ہاتھ کاٹنے  کی شرط محفوظ مقام)حرز) ہے  کیونکہ ہاتھ کاٹنے  کا سبب  چوری ہے  اور اس وجہ سے  یہ خطابِ وضع ہے، پھر اس کی شرط محفوظ مقام ہے، لہذا یہ سبب کی شرط ہے۔

’’ ما أخذ من عطنہ ففیہ القطع إذا بلغ ما یؤخذ من ذلک ثمن المجن‘‘

(وہ جو کچھ اپنی جگہ سے  اٹھایا جائے  تو(اس صورت میں)ہاتھ کاٹا جائے  اگر چرائی ہوئی چیز ڈھال کی قیمت تک پہنچ جائے)

 

’’  ماکان فی الخزائن ففیہ القطع إذا بلغ ثمن المجن‘‘

(جو کچھ اسٹوروں  میں  تھا تو اس کے  لئے  ہاتھ کاٹنا ہے  اگر اس چیز کی قیمت ڈھال کی قیمت تک پہنچ جائے)

خواہ شرط خطابِ تکلیف کی طرف لوٹے  یا خطابِ وضع کی طرف، دونوں  صورتوں  میں، ذاتی طور پر، اس کی دلیل کا نصِ شرعی سے  ثابت ہونا لازمی ہے۔  البتہ شرعی عقود جیسے  خرید و فروخت، شرکت اور وقف وغیرہ، کی شرائط اس سے  مستثناء ہیں، ان میں  ہر قسم کی شرائط لگائی جا سکتی ہیں  خواہ وہ کسی نص میں  وارد ہوئی ہوں  یا نہ ہوں، بشرطیکہ یہ کسی شرعی نص کے  خلاف نہ ہوں۔

’’ ما بال  رجال یشترطون شروطا لیست فی کتاب اللّٰہ، ماکان من شرط لیسفی کتاب اللّٰہ فھو باطل و إن کان مائۃ شرط، قضاء اللّٰہ أحق وشرط اللّٰہ أوثق‘‘(البخاری)

(بعض)  لوگوں  کو کیا ہو گیا ہے  کہ وہ ایسی شرائط عائد کرتے  ہیں  جو اللہ کی کتاب میں  نہیں  ہیں، ہر وہ شرط جو اللہ کی کتاب میں  نہیں  ہے  تو وہ باطل ہے  خواہ وہ سو ہی کیوں  نہ ہوں، اللہ کیشرائط زیادہ حق والی ہیں  اور زیادہ مضبوط بھی)

یہاں  شروطا لیست فی کتاب اللّٰہ سے  مراد یہ نہیں  ہے  کہ شرائط کتا ب اللہ میں  وارد ہوں، بلکہ اس سے  مراد شرع کے  مخالف نہ ہونا ہے۔  یہ اس لئے  کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے  لوگوں  کی اپنی شرائط لگانے  کو مطلقاً قبول فرمایا ہے۔

’’  اشتریھا فأعتقیھا ولیشترطوا ما شاء وا ‘‘(البخاری)

(اسے  خرید کر آزاد کر دو اور انھیں  وہ شرائط عائد کرنے  دوجو وہ چاہتے  ہیں)

یہاں    ولیشرطوا ما شاء وا اس کی اباحت پر صریح نص ہے  کہ انسان جو چاہے  شرائط عائد کر سکتا ہے۔

’’  المسلمون عند شروطھم ‘‘(الحاکم)

(مسلمان اپنی(آپس کی) شرائط پر پورا اترتے  ہیں)

یعنی اپنی عائد کردہ شرائط جو(اضافی طور پر)  رکھی گئی ہیں۔  البتہ، جیسے  پہلے  بھی بتایا گیا ہے،  ان شرائط کا شرع کے  خلاف ہونا ناجائز ہے۔  مثال کے  طور پر، ایک عقدِ بیع میں  دو مختلف مدّات کی شرائط عائد کرنا۔  مثلاً اگر کوئی یہ کہے  کہ’ ’میں  اس شرط پر تمہیں  یہ چیز بیچوں  گا اگر تم اپنی بیٹی مجھ سے  بیاہ دو ‘‘، تو یہ شرط باطل ہو گی اور اس لئے  یہ عقد بھی باطل

ٹھہرے  گا۔

’’  لا یحل سلف وبیع ولا شرطان فی بیع ‘‘(أبو داود)

(ایک بیعانہ اور ایک بیع(ایک ہی وقت پر) جائز نہیں  اور نہ ہی ایک بیع میں  دو شرطیں)

 

اسی طرح اگر بائع اپنا سامان کسی خریدار کو فروخت کرتے  ہوئے  اس سے  یہ مطالبہ کرے  کہ وہ اس سامان کو آگے  نہ بیچے، تو یہ شرط باطل ہو گی۔  اس کی وجہ یہ ہے  کہ یہ شرط مقتضیِ عقد کے  منافی ہے  کیونکہ جب کوئی شخص کسی چیز کو خرید لیتا ہے  تو وہ اس کی ملکیت بن جاتی ہے  اور اس کے  نتیجہ میں  وہ اس کے  تصرف کا پورا حقدار ہوتا ہے۔  اس لئے  یہ شرط عائد کر دینا کہ تم اسے  نقل کر کے  آگے  نہیں  فروخت کرو گے، حکمِ شرعی کے  خلاف ہے۔  آج کل سرمایہ دارانہ نظام کی بدولت، اسلامی ممالک میں  یہ عمل عام ہو رہا ہے  اور وہ intellectual property rights  کے  نام پر۔  استعماری قوتیں  ایسے  قوانین کے  ذریعے  دوسری قوموں  کو ترقی سے  روکتی ہیں  اور ان کی محتاجی کو برقرار رکھنا چاہتی ہیں، خاص طور پر امتِ مسلمہ کو۔  اس کے  باوجود مسلمانوں  کی حکومتیں  ایسے  قوانین کو، خوبصورت بنا کر، امت کے  سامنے  پیش کر رہی ہیں  حالانکہ یہ عمل حرام ہے۔

اسی طرح کوئی ایسی شرط لگانا جو حلال کو حرام بنائے  یا حرام کو حلال، بھی ناجائز ہے۔

’’  المسلمون علی شروطھم إلا شرطا حرم حلالا أو أحل حراما ‘‘(الترمذی)

(مسلمان اپنی( آپس کی) شرائط پر پورا اترتے  ہیں  ماسوا کوئیایسی شرط جو حرام کو حلال قرار دے  یا حلال کو حرام)

 

خلاصہ یہ ہے  کہ خطابِ تکلیف اور خطابِ وضع کی شرائط نصوص سے  ثابت ہونا لازمی ہے، جبکہ شرعی عقود میں  ایسا ضروری نہیں، عاقدین جو چاہیں  شرائط لگا سکتے  ہیں، فقط یہ کسی شرعی نص کے  خلاف نہ ہو۔

 

 مانع

 

مانع کی تعریف:  ھو کل وصف منضبط دل الدلیل السمعی علی أن وجودہ یقتضی علۃ تنافی علۃ الشیء الذی معنہ و بعبارۃ أخری ھو کل ما یقتضی علۃ تنافی علۃ ما منع) وہ ہر منضبط وصف جس پر کوئی سمعی دلیل یہ دلالت کرے  کہ اس کا وجود ایک ایسی علت کا تقاضا کرے  جس سے  منع کی گئی چیز کی علتکی نفی ہو، دوسرے  لفظوں  میں  وہ سب کچھ جو ایک ایسی علت کا تقاضا کرے  جس سے  مانع کی علت کی نفی ہو) مانع حکم کے  لئے  ہو سکتا ہے  اور سبب کے  لئے  بھی۔

 

حکم کے  لئے  مانع کی مثال:رشتہ داری وراثت کا سبب ہے  اور عمداً قتل وراثت یعنی حکم کے  لئے  مانع ہے، لہذا یہاں  مانع حکم کو ختم کر رہا ہے  یعنی وراثت کو اور نہ کہ رشتہ داری کو جو سبب ہے۔

 

سبب کے  لئے  مانع کی مثال:  ایک سال گزرنا نصاب پورا ہونے  کی شرط ہے  اور نصاب زکوٰۃ کی ادائیگی کا سبب ہے، جبکہ دین)قرض) زکوٰۃ کے  لئے  مانع ہے، لہذا یہاں  مانع سبب یعنی نصاب کو ختم کر رہا ہے، نہ کہ زکوٰۃ کو جو حکم ہے۔

 

طلب اور ادائیگی کی حیثیت سے  مانع کی دو قسمیں  ہیں :

1)  وہ مانع جو طلب اور ادائیگی، دونوں  اعتبارات سے  منع ہو۔  مثلاً نیند یا جنون عقل کو زائل کرتے  ہیں، جو نماز، روزے  اور بیع وغیرہ کی طلب کے  لئے  مانع ہے۔  پس یہ طلب کی اصل کے  لئے  مانع ہے  کیونکہ مکلف کے  افعال سے  متعلق خطاب کے  لئے  عقل شرط ہے۔  اسی طرح حیض اور نفاس بھی نماز، روزے  اور مسجد میں  داخل ہونے  کی طلب کی اصل کے  لئے  مانع ہیں  اور ان کی ادائیگی کے  لئے  بھی، کیونکہ ان کاموں  کے  لئے  پاک ہونا شرط ہے۔

 

2)  وہ مانع جو طلب کے  اعتبار سے  منع ہو اور ادائیگی کے  اعتبار سے  منع نہ ہو۔  مثلاً عورت کے  لئے  نمازِ جمعہ کی طلب مانع ہے  کیونکہ اس کے  لئے  یہ واجب نہیں  ہے۔  اسی طرح بچے  کے  لئے  روزے  کی طلب مانع ہے  کیونکہ روزہ اس پر فرض نہیں  ہے۔  البتہ اگر عورت جمعے  کی نماز پڑھتی ہے  اور بچہ روزہ رکھتا ہے  تو یہ کام صحیح ہوں گے  کیونکہ یہ ادائیگی کے  اعتبار سے  منع نہیں  ہیں۔  اسی طرح سفر میں  روزے  کی اور پوری نماز کی طلب مانع ہے، لیکن اگر سفر میں  روزہ رکھ لیا جائے  اور نماز قصر نہ کی جائے  بلکہ پوری پڑھی جائے، تو یہ جائز ہو گا کیونکہ یہ طلب کے  لئے  مانع تو ہے  مگر ادائیگی کے  لئے  مانع نہیں۔

 

صحت، بطلان اور فساد

 

صحت کی تعریف:  ھی موافقۃ أمر الشارع و یطلق و یراد بھا ترتب آثار العمل فی الدنیا کما تطلق و یراد بھا ترتب آثار العمل فی الآخرۃ(وہ جو شارع کے  حکم کے  موافق ہو اور اس کا اطلاق ہوتا ہے  جس سے  مراد اس دنیا میں  عمل کے  آثار مرتب ہونا ہے، اسی طرح اس کا اطلاق ہوتا ہے  جس سے  مراد آخرت میںعمل کے  آثار کا مرتب ہونا ہے)

 

مثال کے  طور پر  نماز کی تکمیل اس کے  ارکان اور شرائط کو پورا کرنے  سے  صحیح ہو گی یعنی اس کی سزا اور اس کے  ذمہ سے  بری ہوا جائے گا اور اس کی قضا ساقط ہو جائے گی۔  اسی طرح بیع اپنے  تمام ارکان اور شرائط سے  پورا کرنے  سے  صحیح ہو گا، یعنی شرعی طور پر اسے  ملکیت حاصل ہو گی اور اس کے  لئے  اس سے  نفع اٹھانا اور اس کا تصرف مباح ہو جائے گا۔  آخرت میں  آثار مرتب ہونے  سے  مراد یہ ہے  کہ اسے  اس عمل کا آخرت میں  ثواب ملے  گا۔

 

بطلان کی تعریف:  ھو عدم موافقۃ أمر الشارع و یراد بھا عدم ترتب آثار العمل فی الدنیا و العقاب علیہ فی الآخرۃ بمعنی أن یکون العمل غیر مجز و لا مبریء(وہ جو شارع کے  حکم کے  موافق نہ ہو جس سے  مراد اس دنیا میں  عمل کے  آثار مرتب نہ ہونا ہے  اور آخرت میں  اس پر سزا ہے  یعنی عمل پورا نہیں  ہوا اور نہ ہی اس سے  بری ہوا گیا ہے)

مثال کے  طور پر اگر نماز کو اس کے  ارکان اور شرائط کے  ساتھ ادا نہیں  کیا گیا، تو یہ نماز باطل ہو گی اور اس وقت تک اس کا ذمہ باقی رہے  گا، جب تک اس کی صحیح ادائیگی نہیں  ہوتی۔  اسی طرح اگر بیع کو اس کے  ارکان کے  ساتھ ادا نہیں  کیا گیا تو یہ بیع باطل ہو گا، نتیجتاً اس چیز کا مالک نہیں  بنا گیا اور اس لئے  اس سے  نفع اٹھانا اور اس کا تصرف حرام ہو گا اور آخرت میں  وہ سزا کا مستحق ہو گا۔  مثلاً بیع الملاقیح((بلا اطلاع) حاملہ جانور کی فروخت) اپنی اساس میں  ہی باطل ہے  کیونکہ یہ اپنی اصل میں  ممنوع ہے۔  پس یہ بیع معقود علیہ کی اصل میں  مجھول ہے  یعنی یہ بیعِ غر ر ہے۔

 

فساد کی تعریف:  ھو یختلف عن البطلان لأن البطلان عدم موافقۃ أمر الشرع من حیث أصلہ أی أن الخلل فی أرکانہ أو ما ھو حکمھا أو أن الشرط الذی لم یستوفہ مخل بأصل الفعل، بخلاف الفساد فإنہ فی أصلہ موافق لأمر الشرع و لکن وصفہ غیر المخل بالأصل ھو المخالف لأمر الشارع و لذلک یزول الفساد بإزالۃ سببہ( وہ جو بطلان سے  مختلف ہے  کیونکہ بطلان اپنی اصل کے  اعتبار سے  شرع کے  حکم کے  موافق نہیں  ہے  یعنی اس کے  ارکان میں  خلل ہے  یا اس میں  جو اس کے  حکم میں ہے، یا وہ شرط جس کے  بغیر فعل پورا نہیں  ہوتا تو اس سے(بھی) عمل کی اصل میں  خرابی آتی ہے، برعکس فساد کے، کیونکہ اس کی اصل حکمِ شرع کے  موافق ہے  لیکن اس کی کوئی ایسی وصف جو اصل کے  لئے  نہیں  ہے، شارع کے  حکم کے  خلاف ہے  اور اس لئے  اس کے  سبب کو زائل کرنے  سے  فساد بھی زائل ہو جا تا ہے)

عبادات میں  فساد کا تصور نہیں  ہے  کیونکہ ان میں  سارے  ارکان اور شرائط اصل سے  متعلق ہیں  اور اگر ان میں  کوئی بھی رہ جائے، تو عبادت باطل ہو گی۔  اس کے  برعکس عقود میں  فساد پایا جاتا ہے۔  مثلاً ایک بیع جس میں  سامان کی قیمت کے  بارے  میں  لاعلمی ہو، تو چونکہ یہ لاعلمی اس کی اصل کے  بارے  میں نہیں  ہے، اس لئے  یہ بیع فاسد ہو گا نہ کہ باطل۔  پس اگر سامان کی قیمت کی لاعلمی دور ہو جائے  یعنی قیمت معلوم ہو جائے، تو یہ عقد صحیح ہو جائے  گا۔  البتہ  شرکۃ المساہمۃ(joint-stock company)اپنی اساس سے  باطل ہے  کیونکہ یہ کسی شریکِ بدن سے  خالی ہے  جو اس کی اصل کے  متعلق ایک شرط ہے۔  اس کے  برعکس اگر شرکت میں  مال مجہول ہو تو یہ عقد فاسد ہو گا اور اگر یہ جہالت(لاعلمی) دور ہو جائے(غر ر فی الوصف) یعنی مال معروف ہو جائے، تو یہ عقدِ شرکت صحیح ہو جائے  گا۔

 

                   عزیمت اور رخصت

 

عزیمت کی تعریف:  ما شرع من الأحکام تشریعا عاما و ألزم بالعمل بہ)احکامِ شرعیہ میں  سے  جس کی تشریع عام ہے  اور جس پر عمل کرنا لازم ہے)

رخصت کی تعریف:  ما شرع من الأحکام تخفیفا للعزیمۃ لعذر مع بقاء حکم العزیمۃ و لکن بغیر إلزام للعباد بالعمل بہ(احکامِ شرعیہ میں  سے  جس کی تشریع میں  کسی عذر کی وجہ سے  عزیمت میں  تخفیفپائی جائے، بغیر بندے  کے  لئے  ا س پر عمل کے  لازم ہونے  کے، عزیمت کا حکم باقی رہے)

 

رخصت چونکہ خطابِ وضع میں  سے  ہے  جو بندے  کے  افعال سے  متعلق شارع کا خطاب ہے، اس لئے  اس کی کوئی شرعی دلیل ہونا لازمی ہے۔  دوسرے  لفظوں  میں  اس عذر کا ذکر شرعی نصوص میں  ہونا ضروری ہے۔

مثال :

﴿لیس علی الأعمی حرج ولا علی الأعرج حرج ولا علی المریض حرج ﴾

(نابینا،لنگڑے  اور مریض کا جہاد سے  گھر رہنے  پر کوئی حرج نہیں)

 

آیت میں  اندھا پن، اپاہجی اور مرض کو جہاد میں  جانے  کے  لئے  عذر قرار دیا گیا ہے۔  لہذا یہاں  جہاد کی عزیمت یعنی عام حکم کی رخصت کو بیان کیا گیا ہے۔  اسی طرح روزہ رکھنا عزیمت ہے  اور سفر میں  روزہ نہ رکھنا رخصت ہے، وضو میں  خاص اعضاء کو دھونا عزیمت ہے  جبکہ زخم پر مسح کرنا رخصت ہے  اور نمازوں  کو اپنے  اپنے  اوقات میں  ادا کرنا عزیمت ہے  جبکہ سفر یا بارش میں  انہیں(ظہر و عصر کو اور مغرب و عشاء کو) جمع کرنا رخصت ہے۔  البتہ ان تمام عذرات کے  باوجود عزیمت کا حکم برقرار رہے  گا اور اسی پر عمل کرنا افضل ہو گا، جب تک اس کے  برعکس کوئی دلیل نہ ہو۔  یہ اس لئے  کیونکہ رخصت مباح ہوا کرتی ہے، نہ کہ مندوب یا فرض۔  یہاں  یہ نہ کہا جائے  کہ اگر ہلاک ہونے  کا خوف ہو تو سور کا گوشت کھا نا فرض ہو جائے گا کیونکہ اپنے  آپ کو ہلاک کرنا حرام ہے، لہذا اس صورت میں  رخصت فرض ٹھہری۔  یہ اس لئے  نہ کہا جائے  کیونکہ ہلاکت کے  خوف سے  سور کا گوشت حرام ہی رہے  گا، ہاں  اگر اسے  نہ کھانے  سے  اس کی ہلاکت کا یقین ہو جائے، تب اس پر حرام یہ ہو گا کہ وہ اپنے  آپ کو اسے  کھانے  سے  باز رکھے  اور اس پر یہ کھانا واجب ہو جائے گا۔  اس صورت میں  اس نے  رخصت پر نہیں  بلکہ حقیقت میں  عزیمت پر عمل کیا، کیونکہ اگر کوئی مباح عمل حرام کا وسیلہ بنے  تو وہ بھی حرام ہے، شرعی قائدہ ہے:الوسیلۃ إلی الحرام حرام(حرام کا وسیلہ بھی حرام ہے)۔  یہ قائدہ تمام مباحات پر لاگو ہوتا ہے  صرف رخصت پر ہی نہیں۔  پس رخصت مباح ہے، لیکن اگر اس کا ترک اور عزیمت پر عمل، حتمی طور پر حرام تک پہنچائے، تو مباح پر عمل حرام ہو گا۔

عزیمت کا حکم عام ہے  اس لئے  عام طور پر اسی پر عمل واجب ہو گا۔  صرف اس صورت میں  جب کوئی شرعی عذر واقع ہو، تو اس میں  رخصت معتبر ہو گی اور اس پر عمل جائز ہو گا۔  البتہ جونہی یہ عذر زائل ہو جائے  تو یہ معاملہ عزیمت کی طرف لوٹ آئے گا اور دوبارہ اس(عزیمت) پر عمل کرنا لازم ہو گا۔  چونکہ یہ معین اعذار معین احکام کے  لئے، اپنے  شرعی دلائل کے  ساتھ وارد ہوئے  ہیں  اور ان میں  کوئی شرعی علت نہیں  پائی گئی، اس لئے  انہیں  دوسرے  مسائل پر قیاس نہیں  کیا جائے گا۔  لہذا یہ نہ کہا جائے  کہ سفر میں  قصرِ نماز کی علت مشقت ہے  اور پھر اس کے  نتیجہ میں  جس موقع پر مشقت پائی جائے  تو نماز کی تقصیر جائز ہو جائے گی۔  یہ اس لئے  کیونکہ اس معاملے  میں  ’’مشقت‘‘ نہیں  بلکہ’’ سفر‘‘ علت ہے  کیونکہ شارع نے  نصوص میں  اسے  علت بیان کیا ہے  ﴿من کان﴾إلی قولہ﴿ علی سفر فعدۃ من أیام أخر﴾(تم میں  سے  جو شخص ….. مسافر ہو،اسے  دوسرے  دنوں  میں  یہ گنتی پوری کرنی چاہیے)۔  ’’مشقت‘‘ علتِ قاصرہ ہے  کیونکہ یہ ممکن ہے  کہ کوئی شخص گاڑی میں  سفر کرے  جس کی وجہ سے  اس میں  کوئی مشقت نہ پائی جائے، مگر اس کے  لئے  نماز کی قصر مباح ہو گی کیونکہ علت پائی گئی ہے  جو کہ’’ سفر‘‘ ہے۔  اسی طرح اگر کوئی شخص صحرا میں  مقیم ہو اور وہاں  شدید گرمی پڑے، تو مشقت کے  باوجود وہ نماز کی قصر نہیں  کر سکتا، اس کے  لئے  پوری نماز پڑھنا واجب ہو گا۔  ہاں  اگر وہ شدید گرمی میں  صحرا میں  مسافر ہے  تو اس کی قصر جائز ہو گی، مگر مشقت کی وجہ سے  نہیں  بلکہ سفر کیوجہ سے۔

لہذا رخصت اپنے  مخصوص حکم تک محدود رہے  گی اور اس کا، کسی صورت میں، دوسرے  احکام میں  اعتبار نہیں  کیا جائے گا۔  مثلاً پہلی آیت میں ’’ اندھے  پن‘‘ کے  عذر کو جہاد کے  ترک کی رخصت بیان کیا گیا ہے، لیکن  یہ نماز کے  ترک کا عذر نہیں  ہے  اور اسی طرح تمام رخصت کو دیکھا جائے گا۔

 

                   قاعدہ  کلیہ

 

قاعدہ کلیہ کی تعریف:  ھی الحکم الکلی المنطبق علی)جمیع) جزئیاتہ(وہ کلی حکم جو اپنی(تمام) جزئیات سے  مطابقت رکھے)

حکمِ شرعی اگر کسی خاص لفظ کی طرف منسوب ہو تو وہ حکم خاص ہو گا، اگر یہ کسی عام لفظ کی طرف منسوب ہو تو وہ حکم عام ہو گا اور اگر حکمِ شرعی کی نسبت کسی کلی لفظ کی طرف ہو تو وہ حکم کلی(قاعدہ کلیہ) ہو گا۔  چونکہ قاعدہ کلیہ حکم شرعی ہے، اس لئے  یہ ظنی نص(یا نصوص) سے  بھی اخذ کیا جا سکتا ہے  جیسے  دیگر احکام۔  شرعی تعریفات بھی اسی زمرے  میںداخل ہیں۔

لفظِ خاص کی تعریف:  ھو کل لفظ مفرد أو مرکب لا یندرج تحتہ سواہ(ہر وہ مفرد یا مرکب لفظ جس میں  اس کے  سوا کوئی شامل نہ ہو)

مثال کے  طور پر ’ ’زید‘ ‘ایک خاص مرد کا اسمِ علم ہے، ’’ زیتونۃ ‘‘ خاص قسم کے  درخت یعنی زیتون کے  درخت کا اسمِ علم ہے  وغیرہ۔

 

لفظِ عام کی تعریف:  ہو کل لفظ مفرد یندرج تحتہ أفراد(ہر وہ مفرد لفظ جس میں  افراد شامل ہوں)

مثال کے  طور پر  السارق، المیتۃ، الربا، الرجال و المسلمون۔ یہ سارے  الفاظ عام ہیں  اور اپنے  افراد کو شامل ہیں۔  مثلاً اللہ تعالیٰ کے  اس فرمان ﴿ حرمت علیکم المیتۃ ﴾میں  لفظ  المیتۃ  میں  ہر قسم کا مردار شامل ہے  خواہ وہ چوٹ سے  مرا ہو یا اس کا گلا گھونٹنے  سے  یا گولی سے، خواہ وہ مردار کھایا جاتا ہو جیسے  بکرہ، یا نہ کھایا جاتا ہو جیسے  شیر وغیرہ۔  چونکہ یہ تمام اس لفظِ عام میں  شامل ہیں  اس لئے  یہ حرمت کے  حکمِ عام میں  داخل ہیں۔  اسی طرح اللہ تعالیٰ کے  اس فرمان ﴿وحرم الربا ﴾ سے  ہر قسم کے  سود کا حرام ہونا ثابت ہے۔

 

لفظِ کلی کی تعریف:ھو کل لفظ مرکب یندرج تحتہ جزئیات(ہر وہ مرکب لفظ جس میںجزئیات شامل ہوں)

قاعدہ کلیہ کی پہلی مثال:الوسیلۃ إلی الحرام حرام(حرام کا وسیلہ بھی حرام ہے)۔  یہ قاعدہ اسآیت سے  مستنبط کیا گیا ہے :

﴿ولا تسبوا الذین یدعون من دون اللّٰہ فیسبوا اللّٰہ عدوا بغیر علم ﴾6:108

(اور گالی مت دو ان کو جن کی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑکر عبادتکرتے  ہیں  کیونکہ پھر وہ براہ جہل حد سے  گزر کر اللہ تعالیٰ کو گالی دیں  گے)

 

یہاں  اللہ تعالیٰ نے  کفر کے  بتوں  کو گالی دینے  سے  منع کیا ہے  ﴿ولا تسبوا﴾ اور آیت میں  نہی جازم کا قرینہ یہ سبب   بتایا گیا ہے ﴿  فیسبوا اللّٰہ ﴾ یعنی کافروں  کا اللہ تعالیٰ کو گالی دینا جو کہ حرام ہے۔  یہاں  ’’فاء‘‘ سببیت کے  لئے  ہے   یعنی یہ تحریم کی علت ہے  اور اس سے  مراد یہ ہے  کہ ان کے  بتوں  کو گالی دینا اگر اللہ تعالیٰ کو گالی دینے  تک پہنچائے(سبب)، تو ان کے  بتوں  کو گالی دینا حرام ہو گا، اگرچہ اصولی طور پر یہ مباح ہے۔  یعنی ان کے  بتوں  کو گالی دینے  سے  منع کرنے  کی وجہ، اللہ تعالی کو گالی دینا ہے۔  چنانچہ یہیں  سے  یہ قاعدہ کلیہ الوسیلۃ إلی الحرام حرام  سمجھا گیا  ہے، کہ اگر کوئی فعل اصلاً مباح ہو مگر اس کا کرنا، غالب گمان(غلبۃ الظن) سے، کسی حرام تک پہنچائے  یعنی اس کا وسیلہ بنے، تو وہ فعل بھی حرام ہو جائے گا۔

 

مثال:اسلامی ریاست میں  خلیفہ ہی کو قاضی المظالم کو مقرر کرنے  اور اسے  معزول کرنے  کا اختیار حاصل ہے۔  التبہ جب، کسی شرعی شرط پر پورا نہ اترنے  کی وجہ سے، خلیفہ کی معزولی پر قاضی المظالم غور و فکر کر رہا ہو، تو اگر ایسی صورت میں  اسے  معزول کرنے  کا اختیار خلیفہ کے  پاس باقی رہے، تو غالب گمان یہ ہو گا کہ اس کی معزولی سے  پہلے  ہی خلیفہ اس قاضی کو اپنے  منصب سے  ہٹا دے  گا اور یہ حکمِ شرعی کو زائل کرنا ہے۔  چنانچہ اس صورت پر قاعدہِ  الوسیلۃ إلی الحرام حرام کا اطلاق ہو گا اور اس لئے  یہ اختیار محکمۂ  مظالم کو دے  دیا جائے گا۔

 

قاعدہ کلیہ کی دوسری مثال:ما لا یتم الواجب إلا بہ فھو واجب(جس عمل کے  بغیر کوئی فرض پورانہیں  ہوتا تو وہ بھی فرض ہے)۔  یہ قاعدہ اس آیت سے  سمجھا گیا ہے :

﴿فاغسلوا وجوھکم و أیدیکم إلی المرافق ﴾5:6

(اپنے  منہ کو اور اپنے  ہاتھوں  کو کہنیوں  تک دھو لو)

 

یہاں  ﴿إلی المرافق﴾ میں  کہنیوں  تک دھونے  کا حکم ہے، البتہ یہ تب تک ممکن نہیں  جب تک کہنی کا ایک جز نہ دھو لیا جائے  تاکہ کہنی تک دھونے  کا حکم ثابت ہو جائے۔  یہ اس لئے  کیونکہ اگر کہنی کا کوئی جز نہیں  دھویا گیا تو یہ حکم پورا نہیں  ہوا، لہذا غایت کو حاصل کرنے  کے  لئے  یہ ضروری ٹھہرا کہ کہنی کا ایک جز بھی دھویا جائے۔  یہیں  سے  یہ قاعدہ سمجھا گیا ہے  کہ اگر کوئی فعل، بنیادی طور پر مباح ہو، لیکن کوئی فرض اس پر منحصر ہو یعنی اس فعل کے  بغیر یہ فرض پورا نہ ہوتا ہو، تو اس صورت میں  وہ بھی فرض ہو جائے گا۔

مثال:حدود کا نفاذ فرض ہے، البتہ یہ امام(خلیفہ) کی موجودگی پر منحصر ہے، لہذا امام کا تقرر بھی فرض ٹھہرا یعنی خلافت کا قیام فرض ہے۔

 

 

 

 

 

باب دوم: شرعی دلائل

 

 

                   دلیل کی تعریف

 

ھو الذی یمکن بہ  یتوصل  الی العلم بمطلوب خبری و بعبارۃ أخری ھو الذی یتخذ حجۃ علی أن المبحوث عنہ حکم شرعی

(وہ جس سے  مطلوب خبر کے  بارے  میں  علم تکپہنچنا ممکن ہو، دوسرے  لفظوں  میں  وہ جس سے  مبحوث کے  بارے  میں  یہ حجت لی جائے  کہ وہ حکمِ شرعی ہے)

 

دلیل کی چار اقسام ہیں :

1)وہ جو ثبوت اور دلالت، دونوں  میں  قطعی ہو۔  یہ دلیل قطعی ہے۔

2 )وہ جو ثبوت کے  اعتبار سے  قطعی ہو مگر دلالت میں  ظنی۔  یہ دلیل ظنی ہے۔

3) وہ جو ثبوت کے  اعتبار سے  ظنی ہو مگر دلالت میں  قطعی۔  یہ دلیل ظنی ہے۔

4) وہ جو ثبوت اور دلالت، دونوں  میں  ظنی ہو۔  یہ دلیل ظنی ہے۔

 

 

اصول میں  قطعی دلائل کا وجوب

 

شرعی دلائل احکامِ شرعیہ کے  اصول ہیں، اس لئے، اصولِ دین(عقیدہ) کی طرح، ان کا بھی قطعی ہونا واجب ہے۔  یہ اس لئے  کیونکہ شریعت کے  اصول، خواہ وہ اصولِ دین میں  سے  ہوں  یا اصولِ احکام میں  سے، ان میں  ظن ناجائز ہے۔  چنانچہ اس میں  کسی ظنی دلیل کا اعتبار ہرگز نہیں  کیا جا سکتا، بلکہ ان کی دلیل صرف قطعی ہو سکتی ہے۔  یہ اس لئے  تاکہ اس بات کا یقین ہو کہ جن مآخذ کے  ذریعے  ہم نے  اللہ کی عبادت کرنی ہے، وہ قطعی طور پر اللہ کی جانب سے  ہیں  یعنی وحی۔  اگر اصول میں  ظن کی اجازت ہو، تو اس کی بدولت اصولِ دین میں  ہی اختلاف کا احتمال ہو گا اور یہ باطل ہے۔   اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ولا تقف ما لیس لک بہ علم ﴾17:36

(اس بات کی پیروی مت کرو جس کا تمہیں  علم نہیں)

﴿وما یتبع أکثرھم إلا ظنا إن الظن لا یغنی من الحق شیئا ﴾10:36

(ان میں  سے  اکثر ظن کی پیروی کرتے  ہیں  بے  شک ظن حق کے  سامنے  کچھ مددگار نہیں)

 

پس شرعی دلائل یعنی شرعی مآخذ فقط چار ہیں  کیونکہ صرف ان کے  دلائل قطعی ہیں، یعنی یہی قطعی طور پر وحی ہیں  اور وہترتیب کے  لحاظ سے  یہ ہیں:قرآن، سنت، اجماعِ صحابہ اور قیاس۔

 

                   قرآن

 

قرآن کی تعریف

 

ھو کلام اللّٰہ المنزل علی رسولہ محمد ﷺ بواسطۃ الوحی جبریلؑ، لفظا و معنی، المعجز، المتعبد بتلاوتہ و المنقول لنا نقلا متواترا

(وہ کلام اللہ، جو الفاظ اور معنی میں، اس نے  اپنے  رسول محمد ﷺ پر، جبریل ؑ کے  ذریعے  نازل کیا، جو معجزہ ہے  اور جس کی تلاوت کے  ذریعے  عبادت ہوتیہے  اور(یہ) ہم تک تواتر سے  منقول ہے)

 

قرآنِ پاک کا کلام اللہ ہونا عقل سے  ثابت ہے  کیونکہ اس میں  اللہ تعالیٰ نے  سب انسانوں  کو تحدّی کی ہے  کہ وہ اس جیسی ایک سورت پیش کر دیں، مگر انسان اس سے  قاصر رہا ہے۔  اگرچہ یہ تحدّی قیامت تک باقی رہے  گی، مگر جو لوگ لغت کے  مہرین تھے  یعنی اس دور کے  عرب قبائل، بالخصوص قریش، وہ اس جیسے  بلند معیار کا کلام نہیں  لا سکے  تو یہ محال ہے  کہ ان کے  بعد کسی کے  لئے  یہ ممکن ہو۔  یہ تحدّی قرآن کی فصاحت و بلاغت اور اسلوب و نظم کے  اعتبار سے  کیگئی ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿و إن کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فأتوا بسورۃ مثلہوأدعوا من استطعتم من دون اللّٰہ إن کنتم صادقین ﴾2:23

(اگر تمہیں  اس میں  شک ہے  جو ہم نے  اپنے  بندے  پر نازل کیا ہے  تو اس جیسی ایک سورت تو لے  آؤ اور بلا لو

اپنی مدد کے  لئے  سب کو سوائے  اللہ کے، اگر تم سچے  ہو)

قریش سر توڑ کوشش کے  باوجود، اس معیار کا کلام پیش کرنے  سے  عاجز رہے  جو کہ تواتر سے  ثابت ہے۔  علاوہ ازیں  اس کے  بعد بھی اس تحدّی کا معارضہ پیش کرنے  کی کوششیں  جاری رہیں، مگر سب ناکام۔  نیز رسول اللہ ﷺ جب کسی آیت یا سورت کی تلاوت فرماتے  تو فوراً حدیث بھی کہتے۔  جب ہم قرآن اور حدیث(متواتر) کا موازنہ کرتے  ہیں  تو ان میں  کوئی مشابہت نہیں  پاتے۔  انسان اپنے  اسلوب کو جتنا چاہے  بدلنے  کی کوشش کرے  مگر تھوڑی بہت مشابہت ہمیشہ رہے  گی، جبکہ قرآن اور حدیث میں  ایسی کوئی مشابہت نہیں  پائی جاتی۔  یہ تمام باتیں  قرآن کے  معجزہ ہونے  کے  عقلی دلائل ہیں  اور اس بات کے  کہ یہ کلام قطعی طور پر اللہ تعالیٰ کا ہے  یعنی قرآن اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب ہے۔  چونکہ یہ کتاب، پوری انسانیت کے  لئے، رسول اللہ ﷺ لے  کر آئے  ہیں  اس لئے  یہ آپؐ کا معجزہ ہے  اور آپؐ کی رسالت کی قطعی دلیل بھی۔

 

اس کے  علاوہ بذاتِ خود قرآن سے  یہ ثابت ہے  کہ یہ، رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیجی گئی وحی ہے  :

﴿و إنک لتلقی القرآن من لدن حکیم علیم ﴾27:6

(بے  شک آپ کو اللہ حکیم و علیم کی طرف سے  قرآن سکھا یا جا رہا ہے)

 

﴿إنا نحن نزلنا علیک القرآن تنزیلا ﴾76:23

(بے  شک ہم نے  آپ پر بتدریج قرآن نازل کیا ہے)

 

﴿إنا انزلنہ قرآنا عربیا لعلکم تعقلون ﴾12:2

(یقیناً ہم نے  اس کو قرآنِ عربی نازل فرمایا ہے  تاکہ تم سمجھ سکو)

 

یہ آیات اس بات کے  قطعی سمعی دلائل ہیں  کہ قرآن کو اللہ تعالیٰ نے  وحی کے  ذریعے  نازل کیا ہے، چنانچہ قرآن ایکشرعی ماخذ ہے۔

 

                   سنت

 

سنت کی تعریف

 

ما ورد عن رسول اللّٰہ ﷺ من قول أو فعل أو تقریر

(قول یا  فعل یا اقرار میں  سے  جو کچھ رسول اللہ ﷺ کے  بارے  میں  وارد ہوا ہو)

سنت اور حدیث کے  ایک ہی معنی ہیں۔  سنت قرآن کی طرح ایک شرعی دلیل ہے  اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کیطرف سے  وحی ہے۔  اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿قل إنما أنذرکم بالوحی ﴾21:45

(کہہ دیجئے ! میں  تو تمہیں  صرف اللہ کی وحی کے  ذریعے  آگاہ کر رہا ہوں)

 

﴿إن یوحی إلی إلا أنما أنا نذیر مبین ﴾38:70

(میری طرف فقط یہی وحی کی جاتی ہے  کہ میں  صاف صاف آگاہ کر دینے  والا ہوں)

 

﴿إن أتبع إلا ما یوحی إلی ﴾46:9

(میں  تو صرف اسی کی پیروی کرتا ہوں  جو میری طرف وحی بھیجی گئی ہے)

 

﴿قل إنما أتبع ما یوحی إلی من ربی ﴾7:203

(آپ کہہ دیجئے  کہ میں  اس کا اتباع کرتا ہوں  جو میرے  رب کی طرف سے  وحی بھیجی گئی ہے)

 

﴿وما ینطق عن الھوی إن ھو إلا وحی یوحی ﴾53:3-4

(اور نہ وہ اپنی خواہش سے  کوئی بات کہتے  ہیں،وہ تو صرف وحی ہے  جو اتاری جاتی ہے)

 

ان تمام قطعی آیات سے  یہ ثابت ہے  کہ رسول اللہ ﷺ صرف وحی سے  ہی خبردار کرتے  ہیں  اور جو کچھ بھی کہتے  ہیں  وہ خالص وحی ہے، یعنی آپؐ کی زبانِ مبارک سے  وحی کے  سوا اور کچھ نہیں  نکلتا۔  اس لئے  صرف قرآن کو لے  لینا اور سنت کو ترک کرنا صریح کفر ہے  جو اسلام سے  خارج کر دیتا ہے۔  جہاں  تک اس بات کا تعلق ہے  کہ سنت کا اتباعقرآن کی طرح لازم ہے، تو اس کے  کتاب اللہ میں  بے  شمار صریح دلائل ہیں:

﴿وما آتاکم الرسول فخذوہ وما نہاکم عنہ فأنتھوا ﴾59:7

(اور تمہیں  جو کچھ رسول دیں  لے  لو اور جس سے  روکیں  رک جاؤ)

 

﴿من یطع الرسول فقد أطاع اللّٰہ ﴾4:80

(جس نے  رسول کی اطاعت کی اس نے  اللہ کی اطاعت کی)

 

﴿فلیحذر الذین یخالفون عن أمرہ أن تصیبھم فتنۃ أو یصیبھم عذاب ألیم ﴾24:63

(سنو جو لوگ حکمِ رسول کی مخالفت کرتے  ہیں  انہیں  ڈرتے  رہنا چاہیے  کہ کہیں  ان پر کوئی زبردست آفت نہ آ پڑے  یا انہیں  دردناک عذاب نہ پہنچے)

 

﴿وما کان لمؤمن ولا مؤمنۃ إذا قضی اللّٰہ ورسولہ أمرا أن یکون لھمالخیرۃ من أمرھم و من یعص اللّٰہ ورسولہ فقد ضل ضلالا مبینا ﴾33:36

(اور(دیکھو) کسی مومن مر رد یا عورت کو اللہ اور اس کے  رسول کے  فیصلے  کے  بعد اپنے  کسی امر کا کوئیاختیار باقی نہیں  رہتا،(یاد رکھو) اللہ تعالیٰ اور اس کے  رسول کی جو بھی نافرمانی کرے گا وہ صریح گمراہی میں  پڑے گا)

 

﴿فلا و ربک لا یؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم ثم لا یجدوافی أنفسھم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما ﴾4:65

(سو قسم ہے  تیرے  پروردگار کی! یہ مومن نہیں  ہو سکتے  جب تک کہ تمامآپس کے  اختلاف میں  آپ کو فیصلہ کرنے  والانہ مان لیں،پھر جو فیصلے  آپ ان میں  کر دیں  ان سے  اپنے  دل میں  کسی طرح کی تنگی اورنا خوشی نہ پائیں  اور فرمانبرداری کے  ساتھ قبول کر لیں)

 

﴿أطیعوا اللّٰہ و أطیعوا الرسول ﴾4:59

(اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی)

 

﴿قل إن کنتم تحبون اللّٰہ فأتبعونی یحببکم اللّٰہ و یغفرلکم ذنوبکم﴾3:31

(کہہ دیجئے ! اگر تم اللہ تعالیٰ سے  محبت رکھتے  ہو تو میری تابعداری کرو،خود اللہ تعالیٰ تم سے  محبت کرے گا اور تمہارے  گناہ معاف فرما دے گا)

 

لہذا یہ جائز نہیں  کہ کوئی صرف قرآن کو اپنا ماخذ بنائے  اور سنت کے  اتباع سے  انکار کر دے، بلکہ سنت بھی قرآن کی طرح ایک شرعی ماخذ ہے۔  نیز یہ قرآن کے  مجمل کی تفصیل کو بیان، اس کے  مطلق کو مقیّد اور عام کو خاص، اور اس کی عزیمت کی رخصت کو ظاہر بھی کرتی ہے  وغیرہ۔  یعنی اس میں  بے  شمار احکام ہیں  جو قرآن میں  موجود نہیں، چنانچہ اس کے  بغیر اسلام کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ممکن نہیں  ہے۔

 

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿وأنزلنا إلیک الذکر لتبین للناس مانزل إلیھم و لعلھم یتفکرون ﴾16:44

(یہ ذکر)کتاب) ہم نے  آپ کی طرف اتارا ہے  کہ لوگوں  کی جانب جو نازل فرمایا گیا ہےآپ اسے  کھول کھول کر بیان کر دیں، شاید کہ وہ غور و فکر کریں)

 

چنانچہ سنت ایک منفرد شرعی ماخذ ہونے  کے  علاوہ، قرآن کے  مجمل کو بیان کرتی ہے۔  مثلاً نماز، روزہ، حج، خریدو فروخت، میراث، نکاح و طلاق، بیت المال، عقوبات، دعوت و جہاد، عدالت، امارت و حکومت وغیرہ کے   مسائل قرآنِ پاک میں  عام اور مجمل طور پر وارد ہیں  جبکہ سنت نے  ان کی تفصیل کو بیان کیا ہے۔  قرآن کی نسبت سنت کا کردار ملاحظہ ہو:

 

قاعدہ یہ ہے  کہ اگر کوئی مبیّن فرض ہے، تو اس کا بیان بھی فرض ہو گا، اگر مندوب تو اس کا بیان بھی مندوب اور اگر مبیّن مباح ہے، تب اس کا بیا ن بھی مباح ہو گا۔  یعنی بیان، اپنی حکمِ شرعی کی قسم کے  اعتبار سے، مبیّن کے  تابع ہو گا۔

 

۰  مبیّن کا بیان۔

﴿  والسارق والسارقۃ   فأقطعوآ ایدیھما ﴾ 5:38

(اور جو چو ری کرے،مرد ہو یا عورت، ان کے  ہاتھ کاٹ ڈالو)

 

اس مبیّن آیتِ مبارکہ کے  بیان میں  رسول اللہ ﷺ نے  چور کا ہاتھ کلائی سے  کاٹا۔  چونکہ( اسلامی ریاست کے  لیے) چور کا ہاتھ کاٹنا فرض ہے، اس لیے  اس کے  ہاتھ کو کلائی سے  کاٹنا بھی فرض ٹھہرا۔

 

۰  مجمل کی تفصیل۔

نماز پڑھنا فرض ہے  جو کہ قرآن سے  ثابت ہے  اور اس کی تفصیل سنت میں  ہے  :

’’ صلوا کما رأیتمونی أصلی ‘‘(البخاری)

(اس طرح نماز پڑھو جیسا کہ تم مجھے  دیکھو)

 

۰  عام کی تخصیص۔

﴿والذین یتوفون منکم ویذرون أزواجا یتربصن بأنفسھن أربعۃ أشہر وعشرا ﴾2:234

(تم میں  سے  جو لوگ فوت ہو جائیں  اور بیویاں  چھوڑ جائیں  وہ عورتیں  اپنے  آپ کو چار مہینے  اور دس دن عدت میں  رکھیں)

 

البتہ حدیث میں  وارد ہے  کہ ایک عورت نے  شوہر کی وفات کے  بعد بچے  کو جنم دیا اور پندرہ روز بعد شادی کر لی، رسول اللہ ﷺ نے  اس عمل کو جائز قرار دیا، لہذا آیت غیر حاملہ کے  بارے  میں  خاص ہے۔

 

۰  مطلق کا تقیّد۔

﴿ولا تحلقوا رؤوسکم حتی یبلغ الھدی محلہ فمن کان منکم مریضاأو بہ أذی من رأسہ ففدیۃ من صیام أو صدقۃ أو نسک ﴾2:196

(اور جب تک قربانی اپنے  مقام تک نہ پہنچ جائے  سر نہ منڈاؤ اور اگر تم میں  کوئی بیمار ہو یا اس کے  سر میں  کسی طرح کی تکلیف ہو تو اگر وہ سر منڈا لےتو اس کے  بدلے  روزے  رکھے  یا صدقہ دے  یا قربانی کرے)

 

’’  فاحلق رأسک وأطعم فرقا بین ستۃ مساکین والفرقثلاثۃ آصع أو صم ثلاثۃ أیام أو انسک نسیکۃ ‘‘(مسلم)

(تو اپنا سر منڈاؤ اور چھ مساکین میں  ایک فرق کھلاؤ اور فرقتین پیالے  ہیں  یا تین دن کے  روزے  یا ایک قربانی)

 

۰  محتمل کا تعین۔

﴿وأحل لکم ما وراء  ذالکم ﴾4:24

(اور جو ان(عورتوں) کے  علاوہ ہیں  وہ تمہارے  لئے  جائز ہیں)

 

’’  لا تنکح المرأۃ علی عمتھا ولا علی خالتھا ‘‘(أحمد)

(کسی عورت کو اس کی خالہ یا چچی کے  ساتھ نکاح میں  رکھنا جائز نہیں)

 

۰  قرآن کے  اصل کے  ساتھ فرع کا الحاق۔

﴿وأمھاتکم اللاتی أرضعنکم وأخواتکم من الرضاعۃ ﴾4:23

(اور تمہاری وہ مائیں  جنہوں  نے  تمہیں  دودھ پلایا اور تمہاری دودھ شریک بہنیں)

 

’’ یحرم من الرضاع ما یحرم من النسب ‘‘(البخاری)

(جو نسب سے  حرام کیا گیا ہے  وہ رضاعت سے  بھی حرام ہے)

 

یہ تمام مثالیں  ان احکام کی ہیں  جن کی اصل قرآن میں  مذکور ہے  اور سنت ان کو بیان کرتی ہے، اور یہی اکثر ہے۔  البتہ سنت میں  ایسے  احکام بھی وارد ہیں  جن کی اصل قرآن میں  موجود نہیں، اسی لئے  کہا گیا ہے  کہ سنت ایک منفرد شرعی ماخذ ہے۔  مثلاً یہ حدیث اصلِ قرآن سے  غیر ملحق ہے، مگر اس سے  حکمِ شرعی ثابت ہوتا ہے :

’’  لا یدخل الجنۃ صاحب مکس ‘‘(أحمد)

(کسٹم لینے  والا جنت میں  داخل نہیں  ہو گا)

 

مگر جہاں  براہِ راست قرآن کے  قطعی معنی اور حدیث(احد) میں  تعارض و تضاد ہو، تو اس صورت میں  حدیث کو رد کیا جائے گا کیونکہ قطعی دلیل اور ظنی دلیل کاسامنا ہے، اس لئے  پہلی کو اختیار کیا جائے گا اور دوسری کو رد۔  مثلاً ایک حدیث میں  فاطمہ بنت قیس سے  مروی ہے  :

’’ طلقنیٖ زوجی ثلاثا علی عھد رسول اللّٰہﷺ فأتیتالنبی ﷺ فلم یجعل لی سکنا ولا نفقہ‘‘(مسلم)

(نبی کریم ﷺ کے  زمانے  میں  میرے  شوہر نے  مجھے  تین مرتبہ طلاق دی تو میںآپ ؐ کے  پاس آئی مگر آپ ؐ نے(میرے  حق میں) نہ گھر کیا اور نہ ہی نفقہ)

﴿أسکنوھن من حیث سکنتم من وجدکم ﴾65:6

(مطلقہ عورتوں  کو ایامِ عدت میں) اپنے  مقدور کے  مطابق وہیں  رکھو جہاں  خود رہتے  ہو)

 

یہاں  اس آیت کو قبول کیا جائے گا اور حدیث کو ترک۔

 

جب حدیث احد کسی قرآن کی آیت، یا حدیث متواتر، یا حدیث مشہور، یا ان تینوں  میں  مذکور صریح علت کے  متعارض ہو، تو اس صورت میں  حدیث واحد کو قبول نہیں  کیا جائے گا۔  اس کے  علاوہ اگر حدیثِ احد اور قیاس میں  تعارض  واقع ہو، تو حدیث مقبول ہو گی اور قیاس کو رد کیا جائے گا۔

 

یہ تمام باتیں  اس صورت میں  ہیں  جب واقعی نصوص کے  مابین تضاد ہو، ورنہ قاعدہ یہ ہے  کہ شرع میں  کوئی تضاد نہیں، اس لئے  نصوص کو جمع کیا جائے گا تاکہ تمام نصوص پر عمل ہو سکے۔

اپنی سند کے  اعتبار سے  حدیث کی تین اقسام ہیں :متواتر، مشہور اور احد۔

 

حدیث متواتر کی تعریف

 

ہی التی یرویھا جمع من تابعی التابعین عن جمع من التابعین عن جمع من الصحابۃ عن النبی ﷺ بشرط أن یکون کل جمع یتکون من عدد کاف بحیث یؤمن تواطؤھم علی الکذب فی جمیع طبقات الروایۃ

(وہ جس کو تابعی تابعین کی ایک جماعت نے  تابعین کی ایک جماعت سے  اور اس نے  صحابہ کرام ؓ کی ایک جماعت سے  اس شرط پر روایت کیا ہو کہ ہر جماعت کی تعداد اس قد ر ہو کہ یہ ہر طبقے  میں، ان کے  آپس میں  جھوٹ پر اتفاق سے  محفوظ رہے)

 

حدیث مشہور کی تعریف

 

ھو ما زاد نقلتہ عن ثلاثۃ فی جمیع طبقاتہ و لم یصل حد التواتر

(وہ جس کے  ہر طبقے  میں  تین سے  زائد راوی ہوں  اور جو تواتر کی حد تک نہ پہنچے)

 

حدیث احد کی تعریف

 

ھو ما رواہ عدد لا یبلغ حد التواتر فی العصور الثلاثۃ

(وہ جس کے  راویوں  کی تعداد، تینوں  ادوار میں، تواتر کی حد تک نہ پہنچے)

 

حدیث مشہور بھی حدیث احد(خبر واحد) کے  حکم میں  شامل ہے  کیونکہ یہ نبی کریم ﷺ سے  احد کے  طریق سے  ثابت ہے، البتہ یہ تابعین یا تابعی تابعین کے  زمانے  میں  مشہور ہوئی۔  چنانچہ یہ متواتر میں  شامل نہیں  کیونکہ یہ متواتر کی شرائط پر پوری نہیں  اترتی۔  اس لئے  یہ خبر واحد کی طرح، ظن کو فائدہ دیتی ہے  یقین کو نہیں۔  اس کے  برعکس حدیثِ متواتر علم و یقین کو فائدہ پہنچاتی ہے۔

 

قبولیت یا مردودیت کے  اعتبار سے  حدیث احد کی تین اقسام ہیں :صحیح، حسن اور ضعیف۔

 

حدیث صحیح کی تعریف

 

ھو الحدیث المسند الذی یتصل إسنادہ بنقل العدل الضابط عن العدل الضابط إلی منتھاہ ولا یکون شاذا ولا معللا

(وہ مسند حدیث جس کو عادل اور ضابط راوی دوسرے  عادل اور ضابط راوی سے  روایت کرے  یہاں  تک کہ یہ(سلسلہ) اپنی انتہا تک پہنچے  اور وہ شاذ) وہ جس میں  ایک ثقہ راوی، اس سے  زیادہ ثقہ لوگوں  کی مخالفت کرے) اور معلل)وہ جس میں  کسی ایسی علت(وجہ) کا پتہ چلے  جس سے  حدیث میں  قدح وارد ہو جاتی ہو، اگرچہ بظاہر وہ حدیث علل سے  سالم نظر آتی ہو( بھی نہ ہو)

 

حدیث حسن کی تعریف

 

ہو ما عرف مخرجہ و اشتھر رجالہ و علیہ مدار أکثر الحدیث و ھو الذی یقبلہ أکثر العلماء و یستعملہ عامۃ الفقھاء

(وہ جس کا صاحبِ تخریج معروف ہو اور جس کے  راوی مشہور ہوں  اور یہ زیادہ تر موضوعِ بحث ہو اور وہ جس کو اکثر علماء قبول کریں  اور اس کا استعمال فقہاء میں  عام ہو)

حدیث ضعیف کی تعریف

 

ہو کل حدیث لم تجتمع فیہ صفات الحدیث الصحیح ولا  صفات الحدیث الحسن

(ہر وہ حدیث جس میں  حدیث صحیح و حسن کی صفات نہ پائی جاتی ہوں)

حدیثِ احد(خبر واحد) احکامِ شرعیہ میں  حجت ہے  اور اس پر عمل واجب ہے  بشرطیکہ غالب گمان ہو کہ یہ رسول اللہ ﷺ سے  ہی منقول ہے  یا آپؐ نے  ہی کسی فعل کو سرانجام دیا ہے  یا آپؐ کا کسی فعل یا قول پر سکوت، آپؐ ہی کا سکوت ہے۔  دوسرے  لفظوں  میں  جب یہ حدیث صحیح یا حسن ہو، تو خواہ اس کا تعلق عبادات سے  ہویا معاملات سے  یا پھر عقوبات سے، یہ واجب العمل ہو گی۔  اس کی دلیل یہ ہے  کہ شرع نے  دعویٰ کے  اثبات کے  لئے، خبرِ واحد کی گواہی کو قبول کیا ہے، جیسا کہ قرآنی نصوص سے  ثابت ہے۔  مالی مسائل میں  دو مردوں  کی یا ایک مرد اور دو عورتوں  کی گواہی مقبول ہے، زنا میں  چار مردوں  کی گواہی اور قصاص میں  دو کی۔  نیز رسول اللہ ﷺ کا ایک شخص کی گواہی اور صاحبِ حق کی قسم کھانے  پر فیصلہ کرنا ثابت ہے  اور آپؐ نے  رضاعت میں  ایک عورت کی گواہی کو قبول فرمایا۔  یہ تمام اخبار آحاد ہیں، لہذا شرع نے  انہیں  شہادت میں قبول کیا ہے۔  شہادت میں  خبر واحد کی قبولیت کو حدیثِ احد کی روایت کی قبولیت پر قیاس کیا جائے گا کیونکہ دونوں، گواہ یا راوی، کسی واقع کی خبر دے  رہے  ہیں۔  چنانچہ حدیثِ احد مقبول ہے  بشرطیکہ راوی مسلمان، بالغ، عاقل، عادل، صادق اور ضابط ہو جس وقت اس نے  حدیث کی ادائیگی کی۔  جب تک راویوں  کی طرف سے  کوئی جھوٹ ثابت نہیں  ہوتا تو ان کے  صدق کی ترجیح لازم ہو گی۔  نیز رسول اللہﷺ کا فرمان ہے  :

’’ نضر اللّٰہ عبدا سمع مقالتی فوعاھا عنی وأداھا فرب حاملفقہ غیر فقیہ ورب حامل فقہ إلی من ھو أفقہ منہ ‘‘(ابن ماجہ)

(اللہ اس بندے  کا چہرا روشن کرے  جس نے  میرا قول سنا اور اسے  سمجھا اور اسے  آگے  پہنچایا،اکثر یہ ہوتا ہے  کہ کوئی فقہ کا حامل ہوتا ہے  مگر فقیہ نہیں  ہوتا اور یہ بھی کہ کوئی فقہ کا حامل اسے  جس کیطرف آگے  پہنچاتا ہے  وہ اس سے  بھی زیادہ فقہ کا حامل ہوتا ہے)

 

رسول اللہ ﷺ نے  یہاں   نضر اللّٰہ عبدا کہا ہے  نہ کہ عبیدا یعنی صیغۂ  واحد کا استعمال فرمایا نہ کہ صیغۂ  جمع کا۔  یہاں  ایک شخص کا حدیث آگے  بیان کرنے  پر مدح پائی گئی ہے  جس سے  خبر واحد کی تصدیق ہوتی ہے۔  علاوہ ازیں  رسول اللہ ﷺ کا آپؐ کی احادیث کو نقل کرنے  کا حکم اس بات کا بھی حکم ہے  کہ اسے  قبول کیا جائے، ورنہ وہ بے  اثر ہو گی۔  نیز رسول اللہ ﷺ نے  بارہ بادشاہوں  کو اسلام کی دعوت کے  لئے، ایک ایک سفیر بھیجا۔  اگر بادشاہوں  پر اسلام کی دعوت قبول کرنا فرض نہ ہوتا تو آپؐ خبرِ واحد پر اکتفاء نہ فرماتے۔  اسی طرح آپؐ اپنے  قاضیوں  اور والیوں  کی طرف ایک ایک پیامبر بھجتے  اور یہ آپؐ کا حکم بجا لاتے، اگر خبر واحد پر عمل لازم نہ ہوتا تو وہ ایسا نہ کرتے۔  اس بات پر صحابہ کرامؓ کا بھی اجماع ہے  اور انہوں  نے  کبھی کسی حدیث کو اس وجہ سے  رد نہیں  کیا کیونکہ وہ خبرِ واحد تھی، بلکہ صرف اس وجہ سے  کہ وہ قابلِ اعتماد نہ ہوتی۔  ان تمام دلائل سے  یہ ثابت ہے  کہ احکامِ شرعیہ میں  خبرِ واحد پر عمل واجب ہے  اور اس کو ترک کرنا گناہ ہے۔

 

رسول اللہ ﷺ کے  افعال کی تین اقسام ہیں :

افعالِ خاص۔  یہ وہ افعال ہیں  جو رسول اللہ ﷺ کے  لیے  خاص ہیں۔  مثلاً ایک وقت میں  چار سے  زیادہ عورتوں  کے  ساتھ نکاح۔  ان افعال میں  رسول اللہ ﷺ کی پیروی ناجائز ہے۔

 

افعالِ جبلّی۔  یہ وہ افعال ہیں  جو رسول اللہ ﷺ فطری طور پر کیا کرتے  تھے( جیسا کہ انسان کا چلنے، بیٹھنے، بولنے  وغیرہ کا انداز)۔  مثلاً جب آپؐ پیچھے  مڑ کر دیکھتے  تو اپنے  دھڑ سمیت گھوما کرتے۔  ان افعال میں  رسول اللہ ﷺ کی پیروی بنیادی طور پر مباح ہے۔

 

افعالِ عام۔  ان میں مسلمان پر رسول اللہ ﷺ کی پیروی لازم ہے۔  اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿لقد کان لکم فی رسول اللّٰہ أسوۃ حسنۃ لمن کانیرجوا اللّٰہ والیوم الآخر وذکراللّٰہ کثیرا﴾33:21

(یقیناً تمہارے  لیے  اللہ کے  رسول ﷺ میں  بہترین نمونہ ہے  اس شخص کے  لیےجو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے  روزسے  امید رکھتا ہے  اور کثرت سے  اللہ کا ذکر کرتا ہے)

 

آیتِ کریمہ میں یرجوا اللّٰہ والیوم الآخر(اللہ تعالیٰ اور قیامت کے  روز سے  امید رکھنا)  رسول اللہ ﷺ کی پیروی کی فرضیت کا قرینہ ہے۔  اس کا مطلب یہ نہیں  ہے  کہ ہم پر رسول اللہ ﷺ کے  ہر فعل کو فرض کی حیثیت سے  ادا کرنا لازم ہے، بلکہ یہ کہ اس پیروی میں  افعال کو اسی درجہ پر سرانجام دینا ضروری ہے، جس درجہ پر حضور ﷺ نے  خود انھیں  سرانجام دیا۔  یعنی اگر آپؐ نے  کسی فعل کو بطور فرض ادا کیا تو ہم پر بھی اس کی ادائیگی بطور فرض لازم ہو گی۔  اور اگر آپؐ نے  کسی فعل کو بطور مندوب یا مباح سرانجام دیا تو اس کی بجا آوری بھی اسی درجہ کی ہو گی اور اس میں ردو بدل ناجائز ہو گا، مثلاً کسی مباح کو بطور فرض ادا کیا جائے  یا کسی فرض کو مندوب یا مباح کے  درجہ پر۔

 

                   اجماعِ صحابہؓ

 

اجماع کی تعریف

 

ھو الاتفاق علی حکم واقعۃ من الوقائع بأنہ حکم شرعی

(کسی واقع کے  حکم کے  بارے  میں  یہ اتفاق کہ وہ حکمِ شرعی ہے)

اجماع سے  مقصود حکمِ شرعی کو ظاہر کرنا ہے  اور اس کا ظہور ہمیشہ دلیلِ شرعی سے  ہوتا ہے۔  جیسا کہ بتایا جا چکا ہے  کہ شرعی دلیل یا تو قرآن ہے  یا سنت اور صرف یہی وحی ہے، ان کے  علاوہ اور کچھ بھی وحی نہیں۔  چونکہ شرعی دلیل فقط وحی ہو سکتی ہے، اس لئے  وہی اجماع معتبر ہو سکتا ہے  جس سے  کسی شرعی دلیل کا انکشاف ہو یعنی وحی کا انکشاف۔  البتہ چونکہ پورا قرآن وحی متلو محفوظ ہے، اس لئے  یہ گنجائش فقط سنت میں  باقی رہ جاتی ہے۔  لہذا اجماع سے  مراد رسول اللہ ﷺ کے  اقوال، افعال اور اقرار یعنی سنت سے  کسی ایسی شرعی دلیل کا انکشاف ہے، جو حدیث کی شکل میں  ہم تک نہیں  پہنچی مگر اجماع کی شکل میں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے  کن لوگوں  کے  اجماع سے  یہ امر ممکن ہے۔  جواب یہ ہے  کہ یہ امر فقط صحابہؓ کے  لئے  ممکن ہے  کہ انھوں  نے  رسول اللہ ﷺ کے  بارے  میں  کچھ دیکھا یا سنا ہو اور اس شرعی دلیل کو اپنے  اجماع کی شکل میں  نقل کیا ہو۔  اس کی وجہ یہ ہے  کہ صرف صحابہ کرامؓ ہی کو رسول اللہ ﷺ کی صحبت کا شرف حاصل ہوا ہے، ان کے  بعد کی نسلوں  کو یہ مسرت نصیب نہیں  ہوئی۔  اس لئے  ان کے  لئے  رسول اللہ ﷺ سے  کسی شرعی دلیل کو نقل کرنا محال ہے  اور ان کا اجماع کوئی شرعی دلیل منکشف نہیں  کرتا، لہذا اس کا اعتبار نہیں  کیا جا سکتا۔  چنانچہ فقط صحابہ ؓ کا اجماع شرعی دلیل یعنی شرعی ماخذ ہونے  کی حیثیت رکھتا ہے۔  یاد رہے  کہ یہاں  اجماع سے  مراد شرعی دلیل کا صحابہؓ کو معلوم ہونا ہے، نہ کہ اس کا لفظاً روایت کرنا۔  یعنی ان سب کو یہ معلوم ہونا کہ یہ دلیل سنت میں  سے  ہے۔  حاصل یہ ہے  کہ اجماع کی مذکورہ تعریف یہ تقاضا کرتی ہے  کہ یہ اجماعِ صحابہؓ تک ہی محدود ہو۔  جہاں  تک اجماعِ صحابہ کے  دلائل کا تعلق ہے، تو وہ یہ ہیں:

﴿والسابقون الأولون من المھاجرین والأنصار والذین اتبعوھمبإحسان رضی اللّٰہ عنھم ورضوا عنہ وأعد لھم جنات تجریتحتھا الأنھار خالدین فیھا أبدا ذلک الفوز العظیم ﴾9:100

(اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں  اور جتنے  لوگ اخلاص کے  ساتھ ان کے  پیرو ہیں  اللہ ان سب سے  راضی ہوا اور وہ سب اس سے  راضی ہوئے  اور اللہ نے  ان کے  لئے  ایسےباغ مہیا کر رکھے  ہیں  جن کے  نیچے  نہریں  جاری ہوں گی جن میں  ہمیشہ رہیں  گے  یہ بڑی کامیابی ہے)

 

اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے  صحابہؓ کے  گروہ کی مدح فرمائی ہے  اور یہ مدح بغیر کسی قید و تخصیص کے  ہے  جو کہ ان کی صداقت کی قطعی دلیل ہے۔  یہاں  یہ نہ کہا جائے  کہ آیت میں  تابعین کی بھی مدح ہے، لہذا ان کا اجماع بھی حجت ٹھہرا۔  یہ اس لئے  کیونکہ ان کی مدح مطلق نہیں  بلکہ صحابہؓ کے  اتباع سے  مقید ہے، مطلق مدح فقط صحابہ کرام کے  لئے  ہے، چنانچہ یہ اصل ٹھہری۔  یہاں  یہ بھی نہیں  جا سکتا کہ جب سب صحابہ کی تعریف کی گئی ہے، تو انفرادی طور پر ہر صحابی ؓ بھی اس کے  لائق ٹھہرے  یعنی ایک صحابیؓ کا قول بھی شرعی دلیل ہے۔  یہ اس لئے  کیونکہ یہاں  صحابہؓ کی ایک گروہ کی حیثیت سے  مدح پائی گئی ہے  نہ کہ انفرادی حیثیت سے  کیونکہ ﴿ اتبعوھم﴾ صیغۂ  جمع کی ضمیر کے  ساتھ وارد ہوا ہے  نہ کہ واحد کی ضمیر کے  ساتھ۔

﴿إنا نحن نزلنا الذکر وإنا لہ لحافظون ﴾15:9

(ہم نے  یہ قرآن نازل کیا اور ہم ہی اس کے  محافظ ہیں)

 

یہ آیت بھی صحابہؓ کے  اجماع کی صداقت پر دلالت کر رہی ہے  کیونکہ عملی طور پر انہی کی جمع، نقل اور حفاظت سے  قرآن ہم تک قطعی طریق سے  پہنچا ہے۔  نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے  :

﴿لا یاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ ﴾41:42

(باطل اس کو نہ آگے  سے  چھو سکتا ہے  نہ پیچھے  سے)

 

یہ آیت اس بات کی قطعی دلیل ہے  کہ صحابہؓ کسی غلطی پر جمع نہیں  ہو سکتے  اور یہ امر ان کے  اجماع کی قطعی شرعی دلیل ہے۔  اگر ان کے  خطا پر اکٹھے  ہونے  کو مان لیا جائے  تو پورے  دین میں  غلطی کے  امکان کو ماننا لازم آئے گا، اور یہ امر ناممکن ہے  بدلیل مذکورہ۔  انہی سے  ہم نے  اپنا دین لیا ہے  اور اسی کی بنیاد پر یومِ قیامت میں  سب کا حساب ہو گا۔  یاد رہے  کہ اجماع سے  مراد ان کی ذاتی رائے  پر اتفاق نہیں  ہے، بلکہ یہ ایسی شرعی دلیل)سنت) کو منکشف کرنا ہے  جس کا حکم ان سے  بلا دلیل مروی ہو۔

 

اجماع صحابہؓ کی تعریف

 

ھو الإجماع علی حکم من الأحکام بأنہ حکم شرعی

((صحابہ کرام ؓ کا) کسی حکم کے  بارے  میں  یہ اجماع کہ وہ حکمِ شرعی ہے)

 

اجماعِ سکوتی بھی ایک دلیل ہے  اور اس سے  مراد یہ ہے  کہ جب بعض صحابہؓ سے  ایک حکمِ شرعی مذکور ہو، تو باقی اس پر سکوت اختیار کریں کیونکہ کسی خطا پر ان کا اجماع ناممکن ہے  بدلیل مذکورہ۔   اجماع سکوتی تب معتبر ہو گا جب یہ تین شرائط پوری ہوں  :

1)  حکمِ شرعی وہ ہے  جس کا عادۃً انکار کیا جائے  اور صحابہ کرام ؓ نے  اس پر سکوت نہ اختیار کیا ہو۔

2)  صحابہؓ تک کسی واقع کی اطلاع پہنچے  اور انہوں  نے  اسے  سنا اور اس پر سکوت اختیار کیا۔  اگر انہوں  نے  نہیں  سنا تو یہ معتبر نہیں  ہو گا۔

3)یہ سکوت خلیفہ کے  اس تصرف کے  بارے  میں  نہ ہو جو وہ اپنی رائے  و اجتہاد کے  مطابق کرتا ہے۔  مثلاً ریاستی ملکیت کے  اموال کا تصرف۔  اس صورت میں  صحابہؓ کے  سکوت کو اجماع نہیں  بلکہ خلیفہ کی اطاعت سمجھا جائے  گا۔

 

اجماعِ صحابہؓ کی مثالیں

رسول اللہ ﷺ کی وفات کے  بعد کبار صحابہؓ سقیفہ بنی ساعدہ کی طرف تشریف لے  گئے  اور خلیفہ کے  تقرر میں  تین دن مصروف رہے، باوجود کہ میت کی تدفین واجب ہے۔  چونکہ تمام صحابہؓ کا کسی ناجائز فعل پر جمع ہونا ناممکن ہے، اس لئے  آپ ؐ کی تدفین سے  قبل خلیفہ کا تقرر، ان کے  اجماع پر دلالت کر رہا ہے۔

اسی طرح حضرت عمر ؓ نے  خلافت کے  لئے  چھ ایسے  صحابہؓ کو نامزد کیا جو عشرہ مبشرہ میں  سے  تھے۔  انہیں  یہ حکم دیا کہ تین دن کے  اندر جب یہ لوگ کسی ایک شخص کی بیعت پر متفق ہو جائیں، پھر اگر ان میں  سے  کوئی صحابیؓ اس سے  تنازع کرے، تو اس کی گردن اڑا دو اور آپؐ کی اس بات پر تمام صحابہؓ نے  سکوت اختیار کیا۔  کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنا حرام ہے، البتہ ان کا مرتبہ عام مسلمانوں  سے  بلند ہونے  کے  باوجود صحابہ کرامؓ اس قتل کے  حکم پر خاموش رہے، یہ واقع ان کے  اجماع سکوتی کی دلیل ہے۔  لہذ ا ان دونوں  واقعات سے  تین دن کے  اندر خلیفہ کے  تقرر کا وجوب اجماع صحابہؓ سے  ثابت ہوا۔

نیز اجماعِ صحابہ ؓ سے  یہ قاعدہ لیا گیا ہے  : أمر الإمام یرفع الخلاف (امام کا حکم اختلاف کو ختم کرتا ہے)۔  یعنی صرف خلیفہ ہی احکام و قوانین کی تبنی کا اختیار رکھتا ہے، نہ کوئی اور مثلاً مجلسِ امت) مجلسِ شوریٰ)۔

                   قیاس

 

قیاس کی تعریف

 

ھو إلحاق أمر بآخر فی الحکم الشرعی لإتحاد بینھما فی العلۃ

(علت  کے  اتحاد کی وجہ سے، حکمِ شرعی میں، ایک امر کو دوسرے  سے  ملحق کرنا)۔   دوسرے  لفظوں  میں  حکم شرعی کے  باعثمیں  اتحاد کی وجہ سے  ان دونوں  مسائل کو آپس میں  ملحق کرنا۔

 

جہاں  تک قیاس کی دلیل کا تعلق ہے  تو جیسا کہ تعریف سے  ظاہر ہے، قیاس تب ممکن ہے  جب حکمِ شرعی کی علت نص میں موجود ہو۔  چنانچہ قیاس بذاتِ خود نص کی طرف واپس لوٹتا ہے۔  اس لئے  اگر شارع نے  نص میں  علت رکھی ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے  کہ شارع نے  قیاس کو دلیل قرار دیا ہے  بشرطیکہ اس کے  دلائل قطعی ہوں۔  چونکہ علت قرآن، سنت اور اجماعِ صحابہؓ میں  وارد ہوئی ہے  اور یہ تمام دلائل قطعی ہیں، اس لئے  قیاس بذاتِ خود ایک قطعی دلیل ہے۔  جب شارع نے  حکم بتانے  پر اکتفاء نہیں  کیا مگر اس حکم کے  باعث کو نص میں  ظاہر کیا ہے، تو شارع کا قصد اس باعث کو پورا کرنا ہے  نہ فقط حکم کو بجا لانا، یعنی مقصود باعث کا لحاظ رکھنا ہے  کیونکہ معلول علت کے  گرد گھومتا ہے۔  دوسرے  لفظوں  میں  قرآن، سنت اور اجماع صحابہؓ کے)کئی) نصوص بذاتِ خود حکم کے  باعث پر دلالت کر رہے  ہیں  اور چونکہ یہ سب قطعی ہیں  اس لئے  قیاس بھی ایک قطعی شرعی دلیل و ماخذ ٹھہرا۔

رسول اللہ ﷺ کالوگوں  کو قیاس کا استعمال سکھانا ثابت ہے، مثلاً ایک عورت نے  آپؐ سے  پوچھا :

’’ان امی ماتت و علیھا صوم نذر أفأصوم عنھا ؟ قال : أراأیت لو کان علی أمک دین فقضیتیہ أکان یؤدی ذلک عنھا ؟ قالت: نعم، قال: فصومی عن أمک ‘‘(مسلم)

(میری ماں  فوت ہو گئی ہے  اور اس نے  روزہ رکھنے  کی منت مانگی تھی، کیا میں  اس کی طرف سے  روزہ رکھ سکتی ہوں؟

آپؐ نے  فرمایا:  کیا تم دیکھتی نہیں  کہ اگر تمہاری ماں  نے  کوئی قرض لیا ہوتا تو کیا اس کی طرفسے  تم اسے  نہ لوٹاتی ؟  اس نے  کہا: جی ہاں، آپؐ نے  فرمایا:  تو اپنی ماں  کی طرف سے  روزہ رکھ لو)

 

اسی طرح قیاس کا استعمال اجماعِ صحابہؓ سے  بھی ثابت ہے۔

 

یاد رہے  کہ صرف شرعی قیاس کا اعتبار کیا جائے گا، دوسرے  لفظوں  میں  یہ لازمی ہے  کہ علت کسی معین شرعی نص میں  وارد ہو یعنی یہ شرعی علت ہو، صرف اسی صورت میں  قیاس معتبر ہو گا کیونکہ یہی قیاسِ شرعی ہے۔  جہاں  تک عقلی قیاس کا تعلق ہے  یعنی عقل نے، بغیر معین شرعی نص کے، مجموعی طور پر شرع کی کوئی علت ڈھونڈی ہو یا بغیر حکم کے  باعث(علت) میں  اشتراک کے، فقط مسائل کی مماثلت اور مشابہت کی وجہ سے، ان پر ایک ہی حکم صادر کیا ہو، تو اس کی شرع میں  کوئی اہمیت نہیں  ہے۔  دوسرے  لفظوں  میں  عقلی علت کا استعمال جائز نہیں۔  اس کی وجہ یہ ہے  کہ عقل ملتے  جلتے  مسائل پر ایک ہی حکم کا فیصلہ دیتی ہے  اور مختلف مسائل پر مختلف حکموں  کا، جبکہ اس کے  برعکس شرع اکثر مختلف مسائل پر ایک ہی حکم لگاتی ہے  اور مماثلت ومشابہت کے  مسائل پر مختلف احکام کا۔  مثلاً شرع سفر پر چار رکعات والی نمازوں  میں  تقصیر کی رخصت دیتی ہے  جبکہ دو یا تین رکعات والی نمازوں  کے  لئے  نہیں۔  یہ منی کو طاہر قرار دیتی ہے  مگر مذی کو ناپاک جبکہ دونوں  کا انزال ایک ہی جگہ سے  ہوتا ہے۔  لیکن یہ منی کے  نکلنے  پر غسل کو واجب قرار دیتی ہے  ناکہ مذی کے  نکلنے  پر۔   کپڑے  پربچی کاپیشاب لگنے  پر اسے  دھونے  کو لازم قرار دیتی ہے  جبکہ بچے  کے  پیشاب لگنے  پر اس پر پانی چھڑکنے  کو کافی گردانتی ہے۔  یہ مطلقہ کی عدت تین قرو اور بیوہ کی چار ماہ اور دس دن بتاتی ہے، چور کے  ہاتھ کاٹنے  کا حکم دیتی ہے  جبکہ غاصب کے  لئے  یہ سزا نہیں  رکھتی وغیرہ۔  ان تمام مسائل میں  مشابہت پائی جاتی ہے، اس کے  باوجود ان کے  احکام مختلف ہیں  جو اس بات کی دلیل ہے  کہ فقط مماثلت و مشابہت قیاس کے  لئے  کافی نہیں  ہے، بلکہ شرعی علت کا منصوص ہونا لازمی ہے۔   مختلفات کی مثالیں  یہ ہیں  کہ شرع پانی اور مٹی دونوں  کو طہارت کا جواز بناتی ہے  جبکہ پانی صاف کرتا ہے  اور مٹی گندہ کرتی ہے۔  اسی طرح اس نے  مرتد اور زانی محصن، دونوں کے  لئے  قتل کی سزا رکھی ہے  جبکہ ان دونوں  عملوں  کی کیفیت مختلف ہے۔  شرع نے  احرام کی حالت میں  شکار میں  کسی حیوان یا پرندے  کے  قتل پر، محرم پر اس کی ضمان کو واجب قرار دیا ہے، خواہ یہ قتل عمداً ہوا ہو یا خطا سے  وغیرہ۔  ان مسائل کی حقیقت مختلف ہونے  کے  باوجود، ان پر شرع ایک ہی حکم لگا رہی ہے  جو کہ دوبارہ اس امر پر دلالت کرتا ہے  کہ شرع میں  عقلی قیاس کی کوئی اہمیت نہیں  ہے، بلکہ اس کا استعمال ناجائز ہے  اور صرف شرعی قیاس ایک دلیل و ماخذ ہے۔  اسی لئے  حضرت علیؓ کا فرمان ہے  کہ ’’ اگر دین رائے  پر موقوف ہوتا تو موزوں  پر مسح اوپر کے  بجائے  نچلے  حصے  پر کیا جاتا ‘‘۔

 

مثال کے  طور پر یہ کہا گیا ہے  کہ اجرت پر وکالت(عقدِ جائزہ) کو اجارۃ(عقدِ لازمہ) پر قیاس کیا گیا ہے  کیونکہ دونوں  میں  ملازمت پر رکھنے  کی مماثلت و مشابہت موجود ہے، اس لئے  اجرت پر وکالت کا معاملہ بھی عقدِ لازمہ ٹھہرا۔  یہ کہنا غلط ہو گا کیونکہ یہاں  ان دونوں  عقود میں  مشابہت کی وجہ سے  قیاس نہیں  کیا گیا بلکہ ان دونوں  کے  مابین حکم کے  باعث کے  اشتراک کی وجہ سے۔  یہ علت اجرت ہے  جو دونوں  عقود میں  مشترک ہے  اور اسی وکالت کو اجارۃ) کرایہ داری) پر قیاس کیا گیا ہے۔  چنانچہ جب اجیر کی طرف سے  کوئی کام انجام پایا اور اس کے  عوض میں  مستاجر نے  اسے  متعین اجرت دینے  کا التزام اپنے  سر لیا، تو یہ عقدِ لازمہ قرار پایا۔  لہذا یہ اجرت وہ حکم کا باعث ہے  جو دونوں  عقود میں  موجود ہے، اسی لئے  یہ شرعی قیاس ہے  نہ کہ عقلی قیاس۔  البتہ اگر وکالت بغیر اجرت کے  کی گئی، تو اسے  اجارۃ پر قیاس نہیں  کیا جائے گا کیونکہ ان دونوں  میں  مشترک باعث یعنی علت نہیں  پائی گئی اور اس صورت میں  یہ عقدِ جائزہ قرار پائے گا نہ عقدِ لازمہ۔

 

اسی طرح کسی حکمِ شرعی کی عام عبارت کے  کسی مسئلے  پر تطبیق کو قیاس نہیں  کہا جائے گا، بلکہ اس صورت میں  یہ عام نص اپنے  تمام ان افراد کو شامل کرے گی جو اس کے  مفہوم میں  داخل ہیں۔  مثلاً یہ نہ کہا جائے  کہ خمر کے  حکمِ حرمت کو دوسری نشہ آور اشیاء پر قیاس کیا جائے گا، تو وہ بھی حرام ٹھہریں۔  یہ اس لئے  کیونکہ قیاس سے  مراد جمعِ علت کی وجہ سے  کسی ایک مسئلے  کے  حکم کو دوسرے  مسئلے  تک منتقل کرنا ہے، لیکن یہاں  ایسی بات نہیں  پائی گئی کیونکہ حکم کو کسی دوسرے  مسئلے  تک منتقل ہی نہیں  کیا گیا بلکہ یہاں  تو بذاتِ خود مسئلے  کے  حکم کو اس کے  اپنے  موضوع پر منطبق کیا گیا ہے  کیونکہ لفظِ عام ’’ خمر‘‘ بذاتِ خود نشا آور شے  کو شامل ہے۔  ا س سلسلے  میں  جب کسی نئے  مسئلے  کی حقیقت کو جاننے  کی تحقیق کی جائے  تو اسے  اصطلاح میں  ’’تحقیقِ مناط‘‘ کہا جاتا ہے  نہ کہ قیاس۔  مناط کا مقصد اس حقیقت کو جاننا ہے  جس کے  بارے  میں  شارع نے  کوئی حکم وارد کیا ہے۔  اسی لئے  مناط کو صحیح سمجھنا اتنا ہی ضروری ہے  جتنا حکم کو، تاکہ اس کا انطباق صحیح ہو۔  ورنہ یہ اندیشہ رہے  گا کہ کسی اور حقیقت کا حکم اس پر منطبق ہوا ہے، لہذا ان دونوں  کو صحیح طور پر مربوط کرنا انتہائی اہم ہے۔  مثلاً خمر کی مثال میں  عقل افیون کی حقیقت کی تحقیق کرے گی اور اگر اس میں  نشہ آور ہونے  کا وصف موجود ہو، تو اس صورت میں  حرمتِ خمر کا حکم اس نئے  مسئلے  یعنی افیون پر لاگو ہو گا اور یہ حرام قرار پائے گی۔  یہی تحقیقِ مناط ہے  اور اس میں  عقل خود مختار ی سے  واقع کو سمجھتی ہے  جبکہ حکم کی تلاش کے  لئے  شرعی نصوص کی طرف رجوع کرتی ہے۔

 

قیاس کے  یہ چار ارکان ہیں :اصل، فرع، حکمِ شرعی اور علت۔

مثلاً جمعے  کی اذان کے  وقت خرید و فروخت کی تحریم پر اجارۃ کی تحریم کا قیاس کیونکہ دونوں  صورتوں  میں  ’’ نمازِ جمعہ کے  وقت مشغولیت ‘‘ کی علت موجود ہے۔

﴿یاأیھا الذین آمنوا إذا نودی للصلاۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا إلی ذکر اللّٰہوذروا البیع﴾الی قولہ ﴿فإذا قضیت الصلاۃ فانتشروا فی الارض وابتغوا من فضل اللّٰہ ﴾62:9

(اے  ایمان والو! جمعے  کے  دن نماز کی اذان دی جائے  تو تم اللہ کے  ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو ……پھر جب نماز ہو چکے  تو زمین میں  پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو)

اصل : خریدو فروخت

فرع: اجارۃ

حکمِ شرعی:     نمازِ جمعہ کی اذان پر خرید و و فروخت کی تحریم

علت:  نمازِ جمعہ کے  وقت میں  مشغولیت

 

 علت کی شرائط

 

1)  علت منصوص ہو۔  یعنی شرعی ہو نہ عقلی علت۔

 

2)  یہ حکم کا باعث ہو اور حکم کی علامت نہیں۔  مثلاً رمضان کا چاند دیکھنا روزہ رکھنے  کی علامت(سبب) ہے  نہ اس کی وجہ(باعث)۔

 

3) یہ وصفِ مفہم ہو۔  یعنی یہ ظاہر، منضبط اور مناسب ہو۔

اس کے  ظاہر ہونے  کی شرط اس لئے  ہے  تاکہ اسے  نئے  واقعات پر منطبق کیا جا سکے، چنانچہ اگر یہ خفی ہو گی تو یہ امر محال  ہے۔  منضبط سے  مراد اس کا مستقل ہونا ہے  تاکہ اسے، بغیر کسی استثناء کے، تمام متعلقہ حالات پر منطبق کیا جا سکے۔   مثلاً نمازِ قصر کی علت’’ مشقت ‘‘نہیں  قرار پائی کیونکہ ہر شخص سفر میں  مشقت محسوس نہیں  کرتا یعنی یہ غیر منضبط ہے، اسی  لئے  یہاں  ’’سفر ‘‘ کو علت قرار دیا گیا ہے۔  مناسب سے  مراد یہ ہے  کہ علت اور حکم کے  مابین عقلی رابطہ موجود ہو۔  مثلاً  غصے  کی حالت میں  فیصلہ نہ دینے  کا حکم۔  یہاں  علت اور حکم میں  ایک عقلی رابطہ موجود ہے۔

 

4)  یہ مؤثر ہو۔

اس سے  یہ مراد ہے  کہ علت کے  ثابت ہونے  سے)ہمیشہ)حکم کا حصول ہو۔  اگر یہ وصف حکم پر مؤثر نہیں  تو اسے  علت  قرار نہیں  دیا جا سکتا۔  جب قطعِ نظر وصف کے، حکم جاری رہے  تو یہاں  تعلیل واقع نہیں  ہوئی۔  مثلاً حج کے  سلسلے  میں   اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے  ﴿ لیشھدوا منافع لھم ﴾)تاکہ تم اس(حج) میں  اپنے  فائدے  کے  کام دیکھ سکو)۔  یہاں   خواہ کوئی فائدہ ہو یا نہ ہو، حج کا حکم باقی رہے  گا۔  یعنی یہ حکم پر مؤثر نہیں  ہو رہا۔

 

5)  یہ مطردۃ ہو۔

اس سے  مراد یہ ہے  کہ وصف اور حکم کے  مابین وجہ و نتیجہ)cause-effect) کا تعلق ہو۔  یعنی علت ہو گی تو حکم  ہو گا۔  اگر ایسا نہیں  ہے  تو اسے  اصطلاح میں ’’نقض‘‘ سے  موسوم کیا جاتا ہے۔  جس طرح وجہ و نتیجہ میں  ہمیشہ نتیجہ وجہ پر  انحصار کرتا ہے، اسی طرح حکم اپنی علت پر منحصر ہوتا ہے۔  مثلاً اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿  یاأیھا النبی  قل لأزواجک وبناتک ونساء المؤمنین یدنینعلیھن من جلابیبھن ذلک أدنی أن یعرفن فلا یؤذین ﴾33:59

(اے  نبی! اپنی بیویوں  سے  اور اپنی صاحبزادیوں  سے  اور مسلمانوں  کی عورتوں  سے  کہہ دو کہ وہاپنے  اوپر اپنے  جلباب لٹکا لیں  اس سے  بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر یہ نہ ستائی جائیں  گی)

چونکہ ستائے  جانے  اور جلباب پہننے  کے  حکم میں  کوئی وجہ و نتیجہ کا تعلق نہیں  پایا جاتا، اس لئے  ’’ یؤذین‘‘(ستائے  جانے) کو حکم کی علت نہیں  قرار دیا جا سکتا۔

 

6)  یہ متعددیہ ہو۔  یعنی اسے  دوسری(نئی) فروعات پر منطبق کیا جا سکے  ورنہ قیاس کرنا محال ہے۔

مثلاً چوری چور کے  ہاتھ کاٹنے  کی وجہ ہے  مگر چونکہ اسے  دوسرے  واقعات پر لاگو نہیں  جا سکتا، اس لئے  یہ علت قاصرہ ٹھہری اور اس لئے  اسے  علت نہیں  گردانا گیا، بلکہ حکم کی علامت یعنی سبب ٹھہرایا گیا ہے۔

 

7)  علت کسی اصل کے  حکم کا محل نہ ہو۔

 

8)  یہ قرآن، سنت اور اجماعِ صحابہؓ کی کسی نص کے  خلاف نہ ہو۔

 

علت کی اقسام

 

علت کی یہ چار اقسام ہیں :صراحتاً، دلالتاً، استنباطاً اور قیاساً۔

صراحتاً:یہ وہ علت ہے  جو نص کے  منطوق)explicit meaning) سے  صریح طور پر، بغیر نظر و استدلال کے، اس کے  الفاظ و کلمات سے  سمجھی جائے۔  مثلاً لفظ’’ من أجل‘‘) کی وجہ سے) عربی میں  صریح علت کا مفہوم اد ا کرتا ہے  :

’’  إنما جعل الاستئذان من أجل البصر ‘‘(البخاری)

(بے  شک اجازت لینا، نظر پڑنے  کی وجہ سے  فرض کیا گیا ہے)

 

یہاں  شرع نے  کسی غیر کے  گھر داخل ہونے  کے  لئے  اجازت لینے  کو لازم قرار دیا ہے، تاکہ کہیں  ایسی چیز پر نظر نہ پڑے  جس کو دیکھنا حرام ہے، مثلاً بے  پردگی کی حالت میں  اجنبی عورت کا ستر۔  یہاں   من أجل صریح تعلیل پر دلالت کر رہا ہے۔

اسی طرح خاص حروف جیسے   لِ، کی، اِنّ، بِ بھی علت کی نشاندہی کرتے  ہیں  بشرطیکہ اس کی شرائطموجود ہوں۔  مثلاً اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿کی لا یکون دولۃ بین الأغنیاء منکم ﴾59:7

(تاکہ تمہارے  دولت مندوں  کے  ہاتھ میں  ہی یہ مال گردش کرتا نہ رہ جائے)

 

شرع نے  یہاں  مال کو مہاجرین میں  تقسیم کرنے  کے  حکم کی علت یہ بیان کی ہے  کہ اس مال کی گردش فقط دولت مندوں  میں  محدود ہو کر نہ رہ جائے، بلکہ اس کا دوسروں  میں  منتقل ہونا بھی ضروری ہے۔  یہاں  حرفِ کی تعلیل پر دلالت کر رہاہے۔

دلالتاً:نص کے  الفاظ، یا اس کی ترکیب یا ترتیب جس مفہوم پر دلالت کریں، یعنی لفظ کے  منطوق سے  نہیں  بلکہ اس کے  مفہوم سے  یہ علت سمجھی جائے۔  اسے ’’ دلالتِ تنبیہ و ایماء‘‘(the indication of notification)بھیکہا جاتا ہے۔  اس میں  دلالت ایک علت کی تنبیہ کر تی ہے۔  یہ دو طرح سے  ہوتا ہے :

1)  جب حکم کو وصفِ مفہم سے  جوڑا جائے، اور اس طور پر یہ مفہومِ موافقہ)congruent meaning) ہو یا مفہومِ مخالفہ) opposite meaning)اور اس حال میں  علت کی وصف معتبر ہو۔  دوسرے  لفظوں  میں  جب نص کوئی ایسا وصف بتائے  جس کا اس کے  حکم سے  عقلی رابطہ ہو۔  یہ رابطہ نص میں  صریح طور پر موجود نہ ہو بلکہ اس کے  مفہوم سے  سمجھا جائے۔

پہلی مثال  :

’’  فی الغنم السائمہ زکاۃ ‘‘(أبو داود)

(گھاس چرنے  والی بھیڑوں  پر زکوٰۃ ہے)

 

یہاں  پر وہ وصف جو حکم کو وجود میں  لاتا ہے  ’’چرنا‘‘ ہے۔  چرنے  کے  مفہوم پر غور کرنے  سے  یہ سمجھا گیا ہے  کہ اس سے  مراد کھلے  چراگاہ سے  چرنا ہے  جو کہ عام ملکیت میں  سے  ہے۔  اس لئے  عوام کے  وسائل کے  استعمال کو زکوٰۃ کی شکل میں  لوگوں  کو لوٹایا جائے۔  چنانچہ اگر کسی چھوٹے  باڑے  میں  بھیڑوں  کو چروایا گیا ہو تو ان پر زکوٰۃ نہیں  ہو گی۔  لہذا یہاں علت ’’ عام ملکیت سے  چروانا ‘‘ہے، اس لئے  اگر اونٹوں  نے  یہاں  سے  چرا ہو تو ان پر بھی زکوٰۃ عائد ہو گی۔   نص میں  وصف اور حکم کے  مابین تعلیل صریح طور پر مذکور نہیں  ہے  اس لئے  یہ صریح علت نہیں  ہے، البتہ چونکہ اسے  لفظِالسائمہ(چرنے  والی) اور اس کے  حکم کے  رابطہ سے  سمجھا گیا ہے (وصفِ مفہم)، اس لئے  یہ علت دلالتاً ہے  یعنی   علت تنبیہاً نص کے  مفہوم سے  سمجھی گئی ہے، نہ اس کے  منطوق سے۔

 

دوسری مثال :

﴿  وأعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ ومن رباط الخیل ترھبون بہ عدواللّٰہ وعدوکم ﴾8:60

(اور تم(ان کے  خلاف) مقدور بھر تیاری کرو  قوت اور پلے  ہوئےگھوڑے  تاکہ تم اس سے  اللہ کے  دشمن اور اپنے  دشمن پر دھاک بٹھا سکو)

یہاں ’’ دشمن پر دھاک بٹھانا‘‘ دشمنی کے  لئے  وصفِ مفہم مناسب ہے۔  یعنی علت ’’ ترھبون بہ عدواللّٰہ وعدوکم ‘‘(دشمن پر دھاک بٹھانا) ہے  اور اس کا مطلب یہ ہے  کہ آج مسلمانوں  پر لازم ہے  کہ وہ ایسے  ہتھیار کا بندوبست کریں  جس سے  استعماری قو توں  میں، جو اسلام کی بڑی دشمن ہیں، مسلمانوں  سے  خوف پیدا ہو۔  اس لئے  آج مسلمانوں  پر فرض ہے  کہ وہ جدید ترین ٹیکنولوجی، جس میں  ٹینکس و مزائلز اور جنگی طیارے  وغیرہ بھی شامل ہیں، کی تیاری کریں(حکم) تاکہ دشمنانِ اسلام میں  خوف) علت) کا حصول ہو سکے۔

 

2)  علتِ دلالتاً کادوسرے  زمر ہ ان الفاظ کا استعمال ہے  جو اصلاً لغت میں  تعلیل کا معنی نہیں  ادا کرتے  مگر یہ ان کے  مفہوم سے  سمجھا جاتا ہے  یعنی ان کے  مدلولِ لفظ سے۔  اس کی پانچ اقسام ہیں۔  البتہ یہاں  ایک مثال پر اکتفاء کیاجا رہا ہے  :

’’  من أحیا أرضا میتۃ فھی لہ ‘‘(البخاری)

(جس کسی نے  بنجر زمین کی احیاء کی وہ اسی کی ہو گئی)

 

یہاں  حرف ’’فاء‘‘ تعقیب(نتیجہ) کے  لئے  ہے، اس لئے  بوجہ ترتیب یہ تسبیب(کسی تک پہنچنے  کا ذریعہ بننا) کا معنی ادا کر رہا ہے  اور’’ زمین کی احیاء‘‘ کو اس کی ملکیت کی علت قرار دے  رہا ہے۔  یعنی ترتیب میں  پہلے  زمین کی احیاء ہے  اور اس کے  نتیجہ میں  زمین کی ملکیت۔   چنانچہ زمین کی کاشت یا اس پر عمارت بنانے  سے  کوئی شخص زمین کا مالک بن جاتا ہے۔  حرفِ’’ فائ‘‘ اصل میں تعلیل کا فائدہ نہیں  دیتا مگر یہاں  اس کے  سیاق سے، اس کے  علت ہونے  کا مفہوم سمجھا گیا ہے، اسی لئے  یہ علت دلالتاً ہے  نہ صراحتاً۔

 

استنباطاً:یہ علت نہ صراحتاً اور نہ دلالتاً الفاظ و کلمات میں  مذکور ہوتی ہے  بلکہ اسے  ایک یا متعدد معین نصوص کی ترکیبسے  مستنبط کیا جاتا ہے۔

 

مثال :

’’  المسلمون شرکاء فی ثلاثۃ: الماء والکلاء والنار ‘‘(أبو داود)

(مسلمان تین چیزوں  میں  شرکاء ہیں:پانی، گھاس اور آگ)

 

نص، بغیر کسی وجہ کے، صرف مذکورہ تین اشیاء میں  مسلمانوں  کی شراکت بتا رہی ہے۔  البتہ رسول اللہ ﷺ کا طائف اور مدینہ میں  پانی کو انفرادی ملکیت بننے  کی اجازت دینا بھی ثابت ہے۔  چنانچہ اس میں  اس طرف اشارہ ہے  کہ پانی میں  کوئی ایسا وصف ہے  جو اسے  ایک حالت میں  انفرادی ملکیت بننے  کی اجازت دیتا ہے  اور کسی دوسری حالت میں  اس سے  روکتا ہے۔  وہ پانی جو آپ ؐ نے  بعض لوگوں  کی ملکیت میں  دیا، اس لئے  تھا کہ یہ لوگ اپنے  باغات کو پانی دے  سکیں یعنی محدود مقدارجس پر معاشرہ منحصر نہیں  تھا، جبکہ دوسری حدیث میں  آپؐ نے  پانی کو انفرادی ملکیت بننے  سے  منع فرمایا اور سب کو اس کے  استعمال میں  شریک ٹھہرایا ہے۔  ان نصوص سے  یہ سمجھا گیا ہے  کہ جو بات پانی کو انفرادی ملکیت بننے  سے  روکتی ہے  وہ معاشرے  کو اس کی ضرورت ہے، چنانچہ ’’ معاشرے  کی ضرورت ‘‘ کو علت کی حیثیت سے  مستنبط کیا گیا ہے  اور یہی علتِ استنباطاً ہے۔  یہ اس حدیث میں  وارد تین اشیاء تک محدود نہیں  بلکہ تمام اشیاء جن میں  یہ علت پائی جائے، وہ ملکیت عامہ ٹھہریں  گی  اور اس کی انفرادی ملکیت ناجائز ہو گی۔  البتہ اگر علت نہ پائی جائے  تو یہ جائز ہو گا۔  اس علت کی وجہ سے  عام ملکیت میں  تیل، گیس، بجلی وغیرہ بھی شامل ہیں  اور ان کی عوام تک رسائی اسلامی ریاست یعنی خلافت کی ذمہ داری ہے۔  اس سے  یہ بھی معلوم ہوا کہ آج سرمایہ دارانہ نظام کی وجہ سے  جو بڑی بڑی کمپنیاں  عوام کے  ذخائر پر قابو پا لیتی ہیں  اور اس وجہ سے  ان کی رسائی کی عوام سے  منہ مانگی قیمت لیتی ہیں، جومہنگائی کا باعث بنتا ہے، یہ سب اسلام میں  ناجائز ہے  کیونکہ یہ ملکیتِ عامہ ہے۔

 

قیاساً:جب نص میں  علتِ دلالتاً ہو اور اس کے  اور حکمِ اصل کے  مابین کوئی مؤثرہ تعلق(وصفِ مفہم) موجود ہو، تب اس مؤثر تعلق کی وجہ سے، علتِ دلالتاً پر کسی نئی علت کا قیاس کیا جائے، جو ان دونوں  میں  مشترکہ ہے، تو اس نئی علت کو ’’قیاسی ‘‘ کہا جاتا ہے۔  مثلاً یہ حفاظتی ہدایت:’’تھکاوٹ کی حالت میں  گاڑی مت چلائیں  ‘‘۔  یہاں  تھکاوٹ اور حکم کے  مابین مؤثر تعلق یہ ہے  کہ تھکاوٹ میں  گاڑی چلانا کسی سانحہ کا سبب بن سکتا ہے۔  چونکہ یہاں  اصل وصف اور حکم کے  مابین مؤثر تعلق پایا گیا ہے، اس لئے  موجودہ وصف اور کسی ایسے  نئے  وصف کے  مابین قیاس کرنا ممکن ہے  جس میں  یہ مشترکہ مؤثر تعلق پایا جائے۔  چنانچہ کھچاؤ(stress)کو تھکاوٹ پر قیاس کیا جائے گا کیونکہ ان دونوں  میں  مؤثرہ تعلق مشترکہ ہے  یعنی کھچاؤ بھی کسی سانحہ کا سبب بن سکتا ہے، اس لئے  یہ نئی علت جو قیاس سے  ثابت کی گئی ہے، علتِ قیاساً کہلاتی ہے۔

مثال  :

’’  لا یقضی القاضی و ھو غضبان ‘‘(متفق علیہ)

(قاضی غصہ کی حالت میں  فیصلہ نہ دے)

 

یہاں ’’ غصہ‘‘ وصفِ مفہم ہے  اور حکمِ اصل فیصلہ دینے  کی نہی ہے۔  اس نہی کی علتِ دلالتاً’’غضبان ‘‘(غصہ) ہے  کیونکہ یہ فیصلے  کو متاثر کرتا ہے، اس لئے  غصے  کے  وصف اور حکم کے  مابین مؤثرہ تعلق ’’فکر کی تشویش‘‘ ہے۔  اس مؤثرہ تعلق کی وجہ سے  موجودہ وصف یعنی غصے  اور نئے  اوصاف میں  قیاس کیا جا سکتا ہے  بشرطیکہ ان میں، مؤثرہ تعلق میں، اشتراک پایا جائے، تو اس صورت میں  نئی علت نکالنا ممکن ہو گا۔  مثال کے  طور پر ’’بھوک‘‘ کو ’’غصے ‘‘ پر قیاس کیا جائے گا کیونکہ ان دونوں  میں  مؤثرہ تعلق کا اشتراک واقع ہے  جو ’’ فکر کی تشویش‘‘ ہے۔  لہذا قیاس کے  ذریعے  ’’ بھوک ‘‘(نئی  وصفِ مفہم) کی نئی علت نکالی گئی ہے  اور اس لئے  بھوک کی حالت میں  فیصلہ دینا بھی ناجائز ٹھہرا۔

انطباقِ حکم کے  اعتبار سے  علتِ دلالتاً اور علتِ قیاساً میں  یہ فرق ہے :علتِ دلالتاً میں  نئے  مسئلے  پر حکم کا انطباق اس صورت میں  ہوتا ہے  جب اس نئے  مسئلے  میں  اصل وصفِ مفہم کا اشتراک واقع ہو یعنی نیا مسئلہ اسی وصف کے  اندر آتا ہے  اور نئے  احکام اسی کی بنیاد پر اخذ کئے  جاتے  ہیں، جبکہ علتِ قیاساً میں  نیا مسئلہ اصل وصفِ مفہم کے  زیرِ سایہ نہیں  آتا بلکہ حکم کا انطباق نئی علت کی بنیاد پر ہوتا ہے۔  دوسرے  لفظوں  میں  نئے  احکام کو ایسے  نئے  اوصاف کی بنیاد پر اخذ کیا جاتا ہے  جن میں  مؤثرہ تعلق کا اشتراک ہو۔  مثلاً چرنے  والے  اونٹوں  پر زکوٰۃ اس لئے  ہے  کیونکہ اس میں  چرنے  کا اصل وصف موجود ہے  یعنی وصف کا اشتراک۔  اس کے  برعکس’’ بھوک‘‘ کا وصف’’ غصے ‘‘ کے  وصف سے  مختلف ہے، البتہ یہاں  پرانے  وصف کے  مؤثرہ تعلق میں  اشتراک واقع ہوا ہے  نہ بذاتِ خود وصف میں۔

 

علت اور حکمت میں  فرق

 

سابقہ ذکر سے  یہ ظاہر ہے  کہ علت حکم کی تشریع کے  باعث کو کہتے  ہیں  یعنی حکم اس کی وجہ سے  ہے، جبکہ  حکمت حکم کی غایت و نتیجے  کو کہا جاتا ہے۔  علت اپنے  وجود اور عدم میں  ہمیشہ معلول کے  موافق ہوتی ہے  کیونکہ یہ حکم کا باعث ہے، جبکہ حکمت کا حقیقت میں  ظاہر ہونا لازمی نہیں  ہے  یعنی یہ بعض حالات میں  ظاہر ہو سکتی ہے  اور دوسرے  حالات میں  نہیں  بھی۔  علت چونکہ حکم کا باعث ہے  اس لئے  یہ حکم سے  قبل موجود ہوتی ہے  جبکہ حکمت چونکہ حکم کا نتیجہ ہے  اس لئے  یہ حکم کے  بعد وجود میں  آتی ہے  یعنی حکم کے  نفاذ کے  نتیجے  میں۔  علت ہو یا حکمت، بہرحال لازمی ہے  کہ یہ نصوص میں  وارد ہوں  ورنہ ہماری عقل ان کے  ادراک سے  قاصر ہے۔

شرعی نصوص سے  مجموعی طور پر پوری شریعت کا حکمت ہونا ثابت ہے  اور بعض احکام کا عینی طور پر بھی۔  مثلاً:

﴿  وما أرسلناک إلا رحمۃ للعالمین ﴾21:108

(ہم نے  آپ کو سارے  جہانوں کے  لئے  رحمت بنا کر بھیجا ہے)

 

یہاں  پر شریعت کا رحمت سے  موصوف ہونا اس کے  نتیجے  کی حیثیت سے  ہے، نہ اس کے  تشریع کا باعث ہونے  کی حیثیت سے۔  یعنی شریعت کا سب انسانوں  کے  لئے  رحمت ہونا اس کی حکمت ہے  نہ کہ علت، کیونکہ آیت میں  تعلیلکا صیغہ نہیں  پایا گیا۔

 

حکمت کی دیگر مثالیں :

﴿  لیشھدوا منافع لھم ﴾22:28

(تاکہ تم(حج میں) نفع دیکھ سکو)

 

’’ لا تنکح المرأۃ علی عمتھا ولا علی خالتھا ولا علی ابنۃ أخیھاولا علی ابنۃ أختھا فإنکم إن فعلتم ذلک قطعتم أرحامکم ‘‘(متفق علیہ)

(ایک عورت کو اس کی چچی اور خالہ کے  ساتھ نہ بیا ہو اور نہ ہی اس کےبھائی اور بہن کی بیٹیوں  کے  ساتھ ورنہ تم اپنا رشتہ توڑ ڈالو گے)

آیت میں  حج کے  دوران نفع پانا حکم کی حکمت ہے  نہ کہ علت۔  یہ اس لئے  کیونکہ ممکن ہے  کہ حج کرنے  میں  کوئی نفع نہیں    بلکہ نقصان ہو، مثلاً جسم کے  کسی عضو یا جان کا، جیسا کہ بعض اوقات واقعتاً ہوتا ہے۔  نیز اسے  علت قرار دینے  کا مطلب یہ ہو گا کہ اگر نفع نہیں  پایا جائے  تو حکم ساقط ہو جائے گا کیونکہ حکم کا باعث موجود نہیں، جبکہ حج کی فرضیت کا حکم اس آیت سے  ثابت ہے :

﴿و للّٰہ علی الناس حج البیت من استطاع إلیہ سبیلاومن کفر فإن اللّٰہ غنی عن العالمین ﴾3:97

(اللہ تعالیٰ نے  ان لوگوں  پر جو اس کی طرف راہ پا سکتے  ہوں  اس گھر کا حج فرض کر دیا ہے  اور جو کوئی کفر کرے  تو اللہ تعالیٰ تمام دنیا سے  بے  پرواہ ہے)

 

جب حج کے  فریضے  کو کسی علت سے  مربوط نہیں  کیا گیا تو یہ کیسے  کہا جا سکتا ہے  کہ حج اس وجہ) باعث) سے  فرض کی گئی ہے   کہ اس میں  ہمارے  لئے  فائدہ ہے ؟  البتہ یہ حکمِ حج کی حکمت ضرور ہے۔

 

حدیث شریف میں  مذکورہ عورتوں  سے  شادی نہ کرنے  کی وجہ قطعہ رحمی بتائی گئی ہے، یہ حکم کی علت نہیں  بلکہ اس کی حکمت ہے۔  علت ہونے  کی صورت میں  اگر قطعہ رحمی نہیں  پائی گئی تو ان سے  نکاح جائز ہو جائے گا کیونکہ حکم کا باعث غیر موجود ہے  اور یہ سراسر غلط ہو گا۔  چنانچہ یہ حکم کی  حکمت ہے۔

 

اسی طرح ’’ مقاصدِ شریعت‘‘ یا ’’ جلبِ مصلحت و دفعِ مفاسد‘‘ نہ مجموعی طور پر شریعت کی علل ہیں  اور نہ ہی ہر حکم کی عینی طور پر، نیز یہ احکام کے  دلائل بھی نہیں  ہیں۔  البتہ یہ شریعت کی غایت و مقصد یعنی حکمت ضرور ہیں۔  چنانچہ مثال کے  طور پر یہ کہنا بالکل غلط ہو گا کہ چور کے  ہاتھ کاٹنے  کی علت انفرادی ملکیت کا تحفظ ہے۔  یہ اس لئے  کیونکہ چور کے  ہاتھ کاٹنے  کی دلیل یہ آیت ہے  :

﴿  والسارق والسارقۃ فاقطعوا أیدیھما ﴾5:38

(اور چور، مرد ہو یا عورت، ان کے  ہاتھ کاٹ دو)

یہاں  سزا کی ایک معین علت ہے  نہ کہ انفرادی ملکیت کے  تحفظ کی مطلق علت، اسی لئے  یہ ایک خاص حکم کی خاص علت ہے، نہ انفرادی ملکیت کے  تحفظ کی سزا کے  لئے  عام علت کیونکہ نص میں  اس کا کوئی ذکر ہی نہیں  ہے۔  یہاں  السارق) چور)  وصفِ مفہم ہے  اور یہ قطع(کاٹنا) کے  لئے  مناسب ہے، چنانچہ قطع  کی وجہ السرقۃ (چوری) ہے  یعنی ہاتھ کاٹنے  کی علت چوری ہے، جو نص سے  ظاہر ہے۔  انفرادی ملکیت کے  تحفظ کو علت قرار دینے  سے  یہ لازم آئے گا کہ ہر اس صورت میں  ہاتھ کاٹا جائے  جب بھی کوئی کسی کی ملکیت پر قابو پالے۔  یہ غلط ہو گا کیونکہ مثلاً غصب کے  معاملے  میں  غاصب کا ہاتھ نہیں  کاٹا جائے گا، کیونکہ شریعت نے  اس کی یہ سزا نہیں  ٹھہرائی۔

 

لہذا واضح ہو جانا چاہیے  کہ علت اور حکمت میں  بہت بڑا فرق ہے۔  نیز احکام کے  استنباط کے  لئے  اس کے  دلائل کی طرف رجوع کیا جائے گا، نہ شریعت کے  مقاصد و نتائج کی طرف۔  یہ اس لئے  کیونکہ حکم اپنی دلیل سے  ثابت ہوتا ہے  نہ اپنی حکمت سے۔  اسی لئے  فقہ کی یہ تعریف بتائی گئے  ہے  : علم بالمسائل الشرعیۃ العملیۃ المستنبطۃ من أدلتھا التفصیلیۃ)شریعت کے  ان عملی مسائل کا علم جو کہ ان کے  تفصیلی دلائل سے  مستنبط کیے  گئے  ہوں)۔

 

آج انہی اسلامی اصطلاحات ’’ مقاصدِ شریعت ‘‘،’’ مصلحت ‘‘ اور ’’ حکمت ‘‘ کی آڑ میں، صریح احکام و نصوص کے  خلاف باتیں  بنائی جا رہی ہیں  اور سرکاری سطح پر بھی ایسے  فتاویٰ جاری کئے  جا رہے  ہیں جو اسلام کے  خلاف ہیں۔  یہ سب کچھ، استعماری قو وتوں  کی خاطر، کفر کو اسلامی لبادہ چڑھانے  کی کوششیں  ہیں تاکہ مغربی افکار و نظریات یعنی مغربی تہذیب، مسلمانوں  کے  معاشرے  میں  پروان چڑھے  اور اس سے  ان کے  مفادات کو تحفظ مل سکے۔  اس کی ایک مثال اسلامی ممالک کے  تعلیمی نصاب میں  وہ تبدیلیاں  ہیں  جو امریکہ کی امداد سے  کی جا رہی ہیں  تاکہ مسلمانوں  کی مستقبل کی نسلیں  مغرب وفادار پیدا ہوں۔  استعماری قو وتوں  کی اس سازش کو مسلمانوں  کے  حکمران، بڑی بے  قراری سے  عملی جامہ پہنا رہے  ہیں۔  چنانچہ امت کے  لئے  اسلام میں  ان افکار کی حقیقت کو جان لینا انتہائی اہم ہے  تاکہ یہ دشمنانِ اسلام کی اس چال سے  خبردار رہے  اور ان کے  خلاف فکری و سیاسی تحریک چلا سکے۔

 

وہ جو دلیل نہیں  ہے

 

یہ بتایا جا چکا ہے  کہ اصولِ احکام اصولِ دین کے  موافق ہیں  اس لئے  ان میں  ظن کی کوئی گنجائش نہیں، چنانچہ صرف جو دلائل قطعی ہیں  ان کا اعتبار ہے  اور وہ فقط یہ چار ہیں :قرآن، سنت، اجماعِ صحابہؓ اور شرعی علت والا قیاس۔  بعض مجتہدین نے  ان کے  علاوہ دلائل سے  بھی استنباط کیا ہے  مگر چونکہ یہ یا تو ظنی ہیں  یا بلا دلیل یا پھر موضوع کے  لئے  استدلال کا محل نہیں، اس لئے  حقیقت میں  یہ دلائل کی حیثیت نہیں  رکھتے۔  وہ یہ ہیں:اجماعِ امت/ اجماعِ  علماء، اجماعِ اہلِ بیت، شرائع ما قبل، قولِ صحابی، استحسان اور مصلحہ مرسلہ۔  ان کی تردید ملاحظہ ہو:

 

                   اجماعِ امت / اجماعِ علماء

 

ان دونوں  اجماع کی قسموں  کو ایک ہی عنوان میں  اس لئے  جمع کیا گیا ہے  کیونکہ ان کے  مشترکہ دلائل پیش کئے  جاتے  ہیں۔  وہ اکثر یہ ہیں  :

﴿  ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین لہ الھدی ویتبع غیر سبیلالمؤمنین نولہ ما تولی ونصلہ جھنم وسآء ت مصیرا ﴾4:115

(جو شخص باوجود راہِ ہدایت کے  واضح ہو جانے  کے  بھی رسول کا خلاف کرے  اور تمام مومنوں  کی راہ چھوڑکر چلے،ہم اسے  ادھر ہی متوجہ کر دیں  گے  جدھر وہ خود متوجہ ہو اور دوزخ میں  ڈال دیں  گے،وہ پہنچنے  کی بہت ہی بری جگہ ہے)

 

’’  أمتی لا تجتمع علی الخطأ ‘‘(ابن ماجہ)

(میری امت غلطی پر جمع نہیں  ہو گی)

 

’’ أمتی لا تجتمع علی ضلالۃ ‘‘(ابن ماجہ)

(میری امت گمراہی پر اکٹھی نہیں  ہو گی)

 

’’ من فارق الجماعۃ شبرا فمات إلا مات میتۃ جاہلیۃ ‘‘(البخاری)

(جو جماعت سے  بال برابر بھی علیحدہ ہوا وہ جاہلیت کی موت مرا)

 

آیت کے  بارے  میں  ان کا کہنا ہے  کہ یہاں  ان لوگوں  کے  لئے  اللہ تعالیٰ کی وعید ہے  جو مومنوں  کی راہ کو چھوڑکر کسی دوسری راہ کا اتباع کرتے  ہیں۔  اگر یہ حرام نہ ہوتا تو اس پر وعید نہ ہوتی، اور چونکہ یہ حرام ہے  لہذا مومنوں  کی راہ اختیار کرنا واجب ٹھہرا اور یہاں  سے  امت کا اجماع بحیثیت دلیل ثابت ہوا۔

اس کا جواب یہ ہے  کہ اگرچہ یہ نص اپنے  ثبوت میں  قطعی ہے  مگر اپنی دلالت میں  ظنی ہے  اور اس لئے  یہ ظنی ہے، چنانچہ یہ اصول میں  دلیل کی حیثیت نہیں  رکھتی کیونکہ اصول کی دلیل کا قطعی ہونا لازم ہے۔  اس کے  علاوہ آیت میں  الھدی سے  مراد اللہ تعالیٰ کی واحدانیت اور محمد ﷺ کی نبوت ہے  یعنی توحید نہ کہ حکمِ شرعی، کیونکہ اصولِ دین میں  الھدی(ہدایت)  الضلال(گمراہی) کی ضد ہے۔  البتہ فروعات میں  اس کا اتباع نہ کرنا فسق ہے  نہ کہ گمراہی یعنی اس پر ہدایت کا اطلاق نہیں  ہو گا۔  یہاں  مومنوں  کی راہ سے  مراد توحید ہے  جسے  اختیار کرنا لازم ہے  جبکہ مباحات میں  یہ لازم نہیں  آتا۔  نیز آیت کا سببِ نزول اس بات کو واضح کر دیتا ہے  کیونکہ یہ آیت ایک شخص کے  ارتداد کے  سلسلے  میں  نازل ہوئی تھی، جس سے  اس بات کی تائید ہوتی ہے۔  اگر یہ کہا جائے  کہ قاعدہ ہے :العبرہ بعموم اللفظ لا بخصوص السبب(لفظ کے  عموم کا اعتبار ہو گا نہ اس کے  خاص سببِ نزول کا)  تو اس کا جواب یہ دیا جائے گا کہ یہ قاعدہ سر آنکھوں  پر مگر یہ اپنے  موضوع تک ہی محدود رہتا ہے، اس کا اطلاق دوسرے  موضوعات پر نہیں  کیا جا سکتا۔  یہاں  آیت کا سببِ نزول اس کے  موضوع کو تعین کر رہا ہے  یعنی ارتداد، دوسرے  لفظوں  میں  یہاں  ایمان و کفر کی بات ہو رہی ہے۔  پس چونکہ آیت کا موضوع ارتداد کے  لئے  خاص ہے، اس لئے  یہ مومنوں  کی راہ میں  ہر چیز کے  بارے  میں  عام نہیں  ہے۔  نیز کسی بات کی نہی اس کی ضد پر امر مراد نہیں  ہوتا۔  یعنی کسی بات کی تحریم یہ ثابت نہیں  کرتی کہ اس کی ضد کا قیام واجب ہے، کیونکہ امر و نہی پر دلالت، لغوی دلالت ہوا کرتی ہے  نہ عقلی و منطقی۔  پس جیسے  کسی بات کی نہی اس کی ضد کو واجب قرار نہیں  دیتی، اسی طرح کسی بات کے  امر سے  اس کی ضد پر نہی لازم نہیں  آتی۔  چنانچہ یہاں  مومنوں  کی راہ کے  علاوہ اتباع کی نہی سے، مومنوں  کی راہ کے  اتباع کا امر(حکم) ثابت نہیں  ہو رہا، بلکہ اس اتباع کے  واجب ہونے  کے  لئے  کوئی ایسی نص درکار ہے، جو امر پر دلالت کرے۔

 

جہاں  تک احادیث کا تعلق ہے  تو یہ ساری آحاد ہیں  یعنی ظنی اور اس لئے  اس موضوع میں  ان کا استعمال صحیح نہ ہو گا۔  یہ کہنا صحیح نہیں  کہ اس موضوع پر کثیر احادیث موجود ہیں  لہذا یہ اپنے  موضوع کے  اعتبار سے  متواتر ہیں، کیونکہ اخبارِ آحاد کی جمع کسی حدیث کو متواتر کے  درجے  تک نہیں  پہنچاتی۔  علاوہ ازیں  پہلی حدیث اپنی سند میں  ضعیف ہے۔  دوسری حدیث میں  ضلالۃ سے  مراد گمراہی ہے  یعنی کفر۔  دوسرے  لفظوں  میں  ان نصوص سے  مراد یہ ہے  کہ پوری امت مجموعی طور پر اسلام کو ترک نہیں  کرے گی، یعنی مجموعی ارتداد سے  اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کرے گا، یہ اجماعِ امت کے  لئے  کوئی دلیل نہیں  ہے۔  یہ نصوص ہرگز امت کی عصمت پر دلالت نہیں  کر رہے، یعنی اس بات پر کہ امت کسی غلطی پر اکٹھی نہیں  ہو سکتی بلکہ ان کی ثنا و مدح کر رہے  ہیں۔  البتہ ایسے  نصوص بھی ہیں  جو ان سے  معارض ہیں  اور جو امت کی مذمت کرتے  ہیں، مثلاً :

’’  ثم یفشو الکذب حتی یحلف الرجل ولایستحلف ویشھد الشاھد ولا یستشھد ‘‘(الترمذی)

(پھر جھوٹ غالب ہو جائے گا اور لوگ حلف اٹھائیں  گے  اگرچہ ان سےیہ طلب نہ کیا گیا ہو اور گواہی دیں گے  اگرچہ ان سے  نہ پوچھا گیا ہو)

 

اس کی روشنی میں  امت کی عصمت کا کیسے  دعویٰ کیا جا سکتا ہے  ؟  تیسری حدیث مسلمانوں  کی جماعت سے  علیحدہ ہونے  کو منع کر رہی ہے، یہ موضوع وہی ہے  جسے  اللہ تعالیٰ نے  یوں  فرمایا : ﴿ ولا تفرقوا ﴾)اور تفرقہ مت کرو)۔  اس موضوع کا اجماعِ امت سے  کوئی تعلق نہیں، یہ نصوص مسلمانوں  کو امت سے  علیحدہ ہونے  سے  روک رہے  ہیں، چنانچہ یہ موضوع کے  لئے  استدلال کا محل نہیں۔  خلاصہ یہ ہے  کہ امت کا ایک حرام عمل پر یا فرض کی کوتاہی پر اکٹھا ہونا ممکن ہے۔  حقیقت سے  یہ بات ظاہر کیونکہ امت نے  1924 ءسے  لے  کر اب تک قیامِ خلافت کی فرضیت سے  کوتاہی کی ہے، نیز یہ کئی دہائیوں  سے  اپنے  اوپر کفریہ نظاموں  کو قبول کر رہی ہے۔  لہذا اجماعِ امت دلیل کی حیثیت نہیں  رکھتا۔

 

                   اجماع اہلِ بیت

 

ان کا کہنا ہے  کہ اہلِ بیت سے  مراد حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ اور ان کی اولاد ہے، اور یہ کہ انہی کا اجماع دلیل کی حیثیت رکھتا ہے۔  اس کے  یہ دلائل اکثر پیش کئے  جاتے  ہیں :

﴿إنما یرید اللّٰہ لیذھب عنکم الرجس أھل البیت ویطھرکم تطھیرا ﴾33:33

(اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے  کہ تم سے  وہ ہر قسم کی گندگی کو دور کر دے  اور تمہیں  خوب پاک کر دے)

 

’’  اللھم ھؤلاء أھل بیتی ‘‘(الترمذی)

(اے  اللہ یہ(آلِ علی و فاطمہؓ) میرے  اہلِ خانہ ہیں)

 

’’ إنی قد ترکت فیکم ما إن أخذتم بہ لن تضلوا کتاب اللّٰہ وعترتی أھل البیتی ‘‘(الترمذی)

(بے  شک میں  نے  اپنے  پیچھے  جو چھوڑا ہے  اگر تم اسے  تھام لو گے  توکبھی گمراہ نہ ہو گے، اللہ کی کتاب اور میرا خاندان، میرے  اہلِ خانہ)

 

ان کا کہنا ہے  کہ آیت میں  اللہ تعالیٰ نے  اہلِ بیت سے   الرجس)گندگی) کی نفی کی ہے  اور چونکہ خطا  الرجس ہے، اس لئے  یہاں  غلطی کی نفی مراد ہے  یعنی عصمت لازم آتی ہے، لہذا اہلِ بیت کا اجماع حجت ہے۔  نیز یہاں   إنما حصر کے  لئے  ہے  جو اس بات کی دلیل ہے  کہ فقط اہلِ بیت کا اجماع ہی مقبول ہے۔

اس کا جواب یہ ہے  کہ پہلی نص اپنی دلالت میں  ظنی ہے، اسی لئے  اس کی تفسیرات میں  اختلاف ہے  جبکہ احادیث خبرِ آحاد ہونے  کی وجہ سے  اپنے  ثبوت میں  ظنی ہیں، اس لئے  یہ دلائل اصول میں  حجت نہیں  ہو سکتے۔  علاوہ ازیں  یہاں  الرجس سے  مراد گندگی ہے  اور یہ گندگی معنوی اعتبار سے  ہے  یعنی ریبت اور تہمت۔  آیت سے  مراد یہ ہے  کہ اہلِ بیت سے  ریبت اور تہمت دور کر دی گئی ہے۔  اس لفظ کا یہی مطلب کئی آیات سے  ثابت ہے، مثلاً:

﴿  فاجتنبوا الرجس من الأوثان ﴾22:30

(پس بتوں  کی گندگی سے  بچو)

 

﴿إنما الخمر والمیسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشیطان ﴾5:90

(شراب اور جوا اور بت اور پانسے(یہ سب) گندے  کام اعمالِ شیطان سے  ہیں)

 

لہذا الرجس کا دور ہونے  کا مطلب غلطی کا دور ہونا ہرگز نہیں  ہے  کیونکہ غلطی الرجس میں  شامل ہی نہیں۔  اس کیوجہ یہ ہے  کہ اجتہاد میں  غلطی باعثِ ثواب ہے، تو یہ گندگی کیسے  ہو سکتی ہے  ؟  رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :

’’ إذا حکم الحاکم فاجتھد ثم أصاب فلہ أجرانو إذا حکم فاجتھد ثم أخطأ فلہ أجر ‘‘(متفق علیہ)

(جب قاضی کا اجتہاد اسے  صحیح نتیجے  تک پہنچائے  تو اس کے  دو ثواب ہوں گے  اور جب اس کا اجتہاد اسے  غلط نتیجے  تک پہنچائے  تو اس کا ایک ثواب ہو گا)

 

یہ اس بات کی دلیل ہے  کہ یہاں  اہلِ بیت کے  الرجس  کی نفی سے  غلطی کی نفی مراد نہیں  ہے۔  نیز﴿إنما یرید اللّٰہ﴾ میں    إنما حصر کے  لئے  نہیں  ہے، یعنی اس کا مطلب یہ نہیں  لیا جائے  گا کہ اہلِ بیت کے  علاوہ کسی اور کے  لئے   الرجسکی نفی نہیں  ہو سکتی۔  یہ اس لئے  کیونکہ لفظ  إنما اگرچہ حصر اور تاکید، دونوں  کے  لئے  استعمال ہوتا ہے  لیکن اس کا مفہومِ مخالفہ نہیں  لیا جاتا۔  علاوہ ازیں  یہ آیت ازواجِ مطہرات کے  لئے  نازل ہوئی تھی جو اس کے  سیاق سے  ظاہر ہے  :

﴿  یٰنسآء النبی لستن کأحد من النسآء إن اتقیتن فلا تخضعن بالقول فیطمع الذی فی قلبہ مرض وقلن قولا معروفا، وقرن فی بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاھلیۃ الأولی وأقمن الصلاۃ و أتین  الزکاۃ وأطعن اللّٰہ ورسولہ إنما یریداللّٰہ لیذھب عنکم الرجس أھل البیت ویطھرکم تطھیرا واذکرن ما یتلی فی بیوتکن من آیات اللّٰہ والحکمۃ إن اللّٰہ کان لطیفا خبیرا ﴾32:32-34

(اے  نبی کی بیویو!تم عام عورتوں  کی طرح نہیں  ہو، اگر تم پرہیز گاری اختیار کرو تو نرم لہجے  سے  بات نہ کرو کہ جس کے  دل میں  روگ ہو وہ کوئی برا خیال کرے  اور ہاں  قاعدے  کے  مطابق کلام کرو، اور اپنے  گھروں  میں  قرار سے  رہو اور قدیم جاہلیت کے  زمانے  کی طرح اپنے  بناؤ کا اظہار نہ کرو اور نماز ادا کرتی رہو اور زکوٰۃ دیتی رہو اور اللہ اور اس کے  رسول کی اطاعت گزاری کرو، اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے  کہ اے  نبی کی گھر والیو! تم سے  وہ ہر قسم کی گندگی کو دور کر دے  اور تمہیں  خوب پاک کر دے،اور تمہارے  گھروں  میں  جو اللہ کی آیتیں  اور رسول کی جو احادیث پڑھی جاتی ہیں  ان کا ذکرکرتی رہو، یقیناً اللہ تعالیٰ لطف کرنے  والا خبردار ہے)

 

یہاں   یٰنسآء النبی سے  یہ بات واضح ہو جاتی ہے  کہ یہاں  ازواجِ مطہرات کو ’’ اہلِ بیت ‘‘سے  موسوم کیا گیا ہے۔

 

جہاں  تک پہلی حدیث کا تعلق ہے  تو اس سے  ازواجِ مطہرات کا اہلِ بیت ہونے  کی نفی نہیں  ثابت ہوتی کیونکہ آیت میں  أھلکا کلمہ عام ہے، اسے  حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ اور ان کی اولاد سے  خاص نہیں  کیا جا سکتا۔  نیز حدیث میں  ہے  :

’’  ومن أھل بیتہ یا زید؟ الیس نساؤہ من أھل بیتہ؟ قال نساؤہمن أھل بیتہ ولکن أھل بیتہ من حرم الصدقۃ بعدہ قال ومن ھم ؟قال: ھم آل علی و آل عقیل و آل جعفر و آل عباسقال: کل ھؤلاء حرم الصدقۃ ؟ قال: نعم ‘‘(مسلم)

(اور آپؐ کے  اہلِ خانہ کون ہیں  اے  زید ؟ کیا آپؐ کی عورتیں  آپؐ کے  اہلِ خانہ میں  سے  نہیں  ؟  انھوں  نے  جواب دیا :آپؐ کی عورتیں  آپؐ کے  اہلِ خانہ میں  سے  ہیں  مگر یہ کہ آپؐ کے  بعد ان کے  لئے  صدقہ حرام ہے، انھوں  نے  پوچھا : وہ کون ہیں  ؟  انھوں  نے  جواب دیا : یہ آلِ علی ؓ ہیں  اور آلِعقیلؓ ہیں  اور آلِ جعفر ؓہیں  اور آلِ عباسؓ ہیں، انھوں  نے  پوچھا : کیا ان سب کے  لئے  صدقہحرام ہے  ؟  انھوں  نے  جواب دیا:ہاں)

جہاں  تک تیسری حدیث کا تعلق ہے  تو فقط اس سے  اہلِ بیت کا اجماع ثابت نہیں  ہوتا کیونکہ فقط کسی کی ثنا ومدح سے  یا کسی کی اقتداء کی تاکید سے  اس کا شرعی دلیل ہونا لازم نہیں  آتا۔  مثلاً:

’’  اقتدوا بالذین من بعدی ابی بکر و عمر ‘‘(الترمذی)

(میرے  بعد جو ہیں  ان کی پیروی کرو، ابو بکر ؓ اور عمر ؓ)

 

’’ فعلیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین عضوا علیھا بالنواجذ ‘‘(الدارمی)

(میری سنت کو(مضبوطی) سے  تھامو اور خلفائے  راشدین مھدیین کی سنت کو، اسے  اپنے  دانتوں  سے  پکڑو)

 

اس بات سے  ان کا اجماع ثابت نہیں  ہوتا، یعنی یہ شرعی دلیل قرار دینے  کے  لئے  کافی نہیں  ہے۔  مثال کے  طور پر خلیفہ عمر ابن عبد العزیزؓ بھی خلفاء راشدین میں  سے  ہیں  لیکن کیا اس ثنا و تاکید کی وجہ سے  وہ شرعی دلیل ہونے  کی حیثیتاختیار کر لیں  گے  ؟  یہ غلط ہے!چنانچہ اجماعِ اہلِ بیت شرعی دلیل کی حیثیت نہیں  رکھتا۔

 

                    قولِ صحابی

 

ان کا کہنا ہے  کہ جب آیت میں  سب صحابہؓ کو مجموعی طور پر سراہا گیا ہے  تو فرداً فرداً ہر صحابی کے  لئے  بھی یہموجب ٹھہرا۔  نیز حدیث میں  ہے  :

’’  اصحابی کالنجوم بأیھم اقتدیتم اھتدیتم ‘‘(رزین)

(میرے  صحابہ ستاروں  کی طرح ہیں  جس کسی کی بھی اقتدا کرو گے  تو ہدایت پکڑو گے)

 

یہ کہنا غلط ہے  کہ جب سب صحابہؓ کی مجموعی طور پر مدح کی گئی تو یہ ہر صحابی کے  لئے  انفرادی طور پر بھی لازم ہوئی۔  یہ اس لئے  کیونکہ آیت میں  صحابہؓ کو ایک گروہ کی حیثیت سے  سراہا گیا ہے  نہ انفرادی حیثیت سے، کیونکہ آیت میں  صیغۂ  جمع کا استعمال ہوا ہے  : ﴿اتبعوھم﴾9:100۔  علاوہ ازیں  یہ پہلے  بھی بتایا جا چکا ہے  کہ فقط مدح سے  کسی کو ایک شرعی  دلیل ہونے  کا رتبہ حاصل نہیں  ہوتا۔  جہاں  تک اجماعِ صحابہؓ کی بات ہے  تو یہ اس آیت میں  مطلقاً مدح اور ان کے  قرآن پر اجماع، دونوں  سے  ثابت ہے۔  قرآن ہم تک اجماع صحابہؓ کی بدولت تواتر کے  ساتھ پہنچاہے  نہ کہ ایک صحابی کے  قول کی روایت کے  ذریعے، جو خبرِ و احد ہے۔  علاوہ ازیں  صحابہ کرامؓ کا بے  شمار مسائل میں  آپس میں  اختلاف رہا ہے، ان میں  سے  ہر ایک اپنے  اجتہاد کی پیروی کرتے  تھے، جو دوسرے  صحابیؓ کے  اجتہاد کے  متضاد ہوتا۔  اگر مذہبِ صحابی کو ایک شرعی ماخذ مان لیا جائے  تو اللہ تعالیٰ کے  دلائل میں  تضاد لازم آئے  گا اور یہ امر محال ہے، اس لئے  قولِ صحابی شرعی دلیل نہیں  ہو سکتا۔

 

                   شرائع ما قبل

 

شرائع ما قبل کے  قائلین یہ دلائل پیش کرتے  ہیں  :

﴿إنا أوحینا إلیک کما أو حینا إلی نوح والنبیین من بعدہ ﴾4:163

(یقیناً ہم نے  آپ کی طرف اسی طرح وحی کی ہے  جیسے  کہ نوحؑ اور ان کے  بعد والے  نبیوں  کی طرف کی)

 

﴿شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحا ﴾42:13

(اللہ تعالیٰ نے  تمہارے  لیے  وہی دین مقرر کر دیا جس کے  قائم کرنے  کا اس نے  نوحؑ کو حکم دیا تھا)

 

﴿ثم أوحینا إلیک أن اتبع ملۃ إبراہیم حنیفا ﴾16:123

(پھر ہم نے  آپ کی جانب وحی بھیجی کہ آپ ملتِ ابراہیم حنیف کی پیروی کریں)

 

ان دلائل کی بنیاد پر ان کا دعویٰ ہے  کہ یہ آیات مسلمانوں  سے  مخاطب ہیں  کہ وہ شرائع ما قبل کی پیروی کریں۔  ان کا کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے  ہمیں  حکم دیا ہے  کہ رسول اللہ ﷺ نے  جو ہم تک پہنچایا ہے، ہم اسے  اختیار کریں، سوائے  اس کے  جو آپؐ کے  لئے  خاص ہے  یا منسوخ ہو چکا ہے۔  اس بنیاد پر یہ کہتے  ہیں  کہ مسلمان شرائع ما قبل سے  مخاطب  ہیں کیونکہ اس کے  بارے  میں  قرآنی آیات میں  نہ کوئی تخصیص ہے  اور نہ ہی نسخ۔

آیات سے  یہ نتیجہ نکالنا غلط ہے  کیونکہ پہلی آیت سے  بس یہ مراد ہے  کہ اللہ تعالیٰ نے  محمد ﷺ پر اسی طرح وحی اتاری جیسے  اس نے  نوحؑ پر اتاری تھی۔  دوسری آیت کا مطلب یہ ہے  کہ محمد ﷺ کو وہی عقیدۂ  توحید نازل کیا گیا ہے  جو نوحؑ کو کیا گیا تھا اور تیسری آیت میں  محمدﷺ کو توحید کی پیروی کرنے  کا حکم دیا گیا ہے  کیونکہ لفظ ﴿  ملۃ ﴾ سے  توحید مراد ہے۔  یعنی وہ توحید جو دین کی بنیاد ہے  اور جس میں  تمام رسل و ابنیا ء مشترک تھے۔  اس سے  شریعت مراد نہیں  ہے  جو ہر پیغام کے  ساتھ(نئی) آئی ہے۔  مندرجہ ذیل آیت اس بات کی قطعی دلیل ہے  کہ ہر قوم کو اللہ تعالیٰ نے  مختلف شرائع بھیجی ہیں  :

﴿لکل جعلنا منکم شرعۃ و منھاجا ﴾5:48

(تم میں  سے  ہر ایک کو ہم نے  ایک شریعت نازل کی اور ایک راہ)

 

اس کے  علاوہ ہمیں  شرائع ما قبل کی پیروی سے  منع کیا گیا ہے  جس کے  کئی دلائل ہیں :

﴿ومن یبتغ غیر الإسلام دینا فلن یقبل منہ وھو فی الآخرۃ من الخاسرین ﴾3:85

(جو شخص اسلام کے  سوا اور دین تلاش کرے  اس کا دین قبول نہ کیا جائے گااور وہ آخرت میں  نقصان پانے  والوں  میں  ہو گا)

 

﴿  إن الدین عنداللّٰہ الإسلام ﴾3:19

(ے  شک اللہ تعالیٰ کے  نزدیک دین اسلام ہی ہے)

 

ان آیتوں  میں  اللہ نے  یہ صراحتاً یہ بیان کر دیا ہے  کہ وہ صرف اسلام کو بطورِ دین قبول کرے گا اور اسلام اس پیغام کا نام ہے  جو محمد ﷺ، اللہ کی طرف سے، لے  کر آئے۔  تو اللہ تعالیٰ بھلا کیسے  مسلمانوں  کو ان ادیان و شرائع کی پیروی کرنے  کا حکم دے  سکتا ہے  ؟  اس کے  علاوہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے  :

﴿وأنزلنا إلیک الکتاب بالحق مصدقا لما بین یدیہ من الکتاب ومھیمنا علیہ ﴾5:48

(اور ہم نے  آپ کی طرف حق کے  ساتھ یہ کتاب نازل فرمائی ہے  جو اپنے  سے  اگلی کتابوں  کی تصدیق کرنے  والی ہے  اور ان پر حاوی ہے)

 

یہاں  مھیمنا علیہ سے  مراد ان کی تصدیق نہیں  ہو سکتا کیونکہ یہ پہلے  سے  آ چکا ہے( مصدقا)۔  اس کا مطلب ہے  کہ قرآن نے  سابقہ کتابوں  کو منسوخ کر دیا ہے۔  اس امر پر اجماعِ صحابہؓ بھی ہے  کہ اسلامی احکام سابقہ احکام(شرائع ما قبل) کے  ناسخ ہیں۔  نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے  :

﴿أم کنتم شھدآء إذ حضر یعقوب الموت إذ قال لبنیہ ما تعبدون من بعدی قالوا نعبد

إلھک وإلہ آبآئک إبراہیم وإسماعیل وإسحاق إلھا واحدا ونحن لہ مسلمون۔ تلک أمۃ قد خلت لھا ما کسبت ولکم ما کسبتم ولا تسألون عما کانوا یعملون ﴾2:133-134

(کیا یعقوب ؑ کے  انتقال کے  وقت تم موجود تھے  ؟ جب انھوں  نے  اپنی اولاد کو کہا کہ میرے  بعد تمکس کی عبادت کرو گے ؟ تو سب نے  جواب دیا کہ آپ کے  معبود کی اور آپ کے  آبا و اجداد ابراہیم ؑ اوراسماعیل ؑ اور اسحاقؑ کے  معبود کی جو معبود ایک ہی ہے  اور ہم اسی کے  فرمانبردار رہیں  گے، یہ جماعت تو گزر چکی،جو انہوں  نے  کیا وہ ان کے  لئے  ہے  اور جو تم کرو گے  وہ تمہارے  لئے  ہے  ان کے  اعمال کے  بارے  میں  تم نہیں  پوچھے  جاؤ گے)

 

یہاں  اللہ تعالیٰ بتا رہا ہے  کہ مسلمانوں  سے  سابقہ انبیاء ؑ کے  اعمال کے  بارے  میں  پوچھ نہیں  ہو گی، اس کے  باوجود کہ ابنیاءؑ کا کام یہ ہوتا ہے  کہ وہ اپنے  پیغام کی تبلیغ کریں  اور اس پر عمل بھی کیا جائے۔  چنانچہ مسلمان ان کے  خطاب یعنی شرائع سے  مخاطب ہی نہیں  اور اس کے  نتیجے  میں  نہ ان کی پیروی کے۔  البتہ ان پر ایمان لانا لازم ہے  یعنی ان کی نبوت و رسالت اور ان کی کتابوں  تصدیق کرنا، کیونکہ قرآن میں  ان کا ذکر ہے۔  مگر اس کا مطلب ان کی تابعداری نہیں  ہے  کیونکہ سابقہ انبیاء ؑ مسلمانوں  کے  لئے  نہیں  بھیجے  گئے، بلکہ اپنی اپنی قوموں  کے  لئے  :

﴿وإلی ثمود أخاھم صالحا ﴾11:61

(اور قومِ ثمود کی طرف ان کے  بھائی صالح کو بھیجا)

 

﴿وإلی عاد أخاھم ھودا ﴾7:65

(اور ہم نے  قومِ عاد کی طرف ان کے  بھائی ہودؑ کو بھیجا)

 

﴿وإلی مدین أخاھم شعیبا ﴾7:85

(ور ہم نے  مدین کی طرف ان کی بھائی شعیبؑ کو بھیجا)

 

یہ آیات اس بات کو ثابت کرنے  کے  لئے  کافی ہیں  کہ شرائع ما قبل ہمارے  لئے  شرعی ماخذ نہیں  ہے۔  جہاں  تک اس بات کا تعلق ہے  کہ محمد ﷺ نے  سابقہ قوموں  اور انبیاء کے  قصے  امت کو بتائے، تو یہ فقط ان سے  اخلاقی سبق حاصل کرنے  کے  لئے  ہے، نہ ان کے  احکام کی پیروی کے  لئے۔  اس کے  علاوہ سابقہ شرائع کے  کئی احکام ہماری شریعت سے  تضاد رکھتے  ہیں، اگر یہ خطاب مسلمانوں  کے  لئے  تصور کیا جائے، تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ دو مختلف شرائع سے  مخاطب کیے  گئے  ہیں  اور یہ امر محال ہے۔  مثلاً:

﴿وکتبنا علیھم فیھا أن النفس بالنفس والعین بالعینوالأنف بالأنف والأذن بالأذن والسن بالسن ﴾5:45

(اور ہم نے  یہودیوں  کے  ذمہ تورات میں  یہ بات مقرر کر دی تھی کہ جان کے  بدلے  جاناور آنکھ کے  بدلے  آنکھ اور ناک کے  بدلے  ناک اور کان کے  بدلے  کان اور دانت کے  بدلے  دانت)

 

اسلام میں  ایسا نہیں  ہے  بلکہ قساس و دیت کے  مخصوص احکام ہیں۔  چونکہ سابقہ احکام اسلامی احکام سے  متضاد ہیں، اس لئے  ان کا مسلمانوں  سے  مخاطب ہونا محال ہے۔

یہ نہ کہا جائے  کہ وہ احکام جو اسلامی احکام کے  متضاد ہیں، ان کو اسلامی احکام نے  منسوخ کر دیا ہے  جبکہ باقی سابقہ احکام کی پیروی ہم پر لازم ہے۔  اس کی وجہ یہ ہے  کہ اسلامی احکام، سابقہ احکام کے  ایک ایک کی منسوخی کے  لئے  نہیں  آئے  بلکہ یہ پوری انسانیت کے  لئے  ایک مکمل شریعت کی حیثیت سے  آئے  ہیں، یہ شریعت تمام سابقہ شرائع کو مجموعی طور پر منسوخ کرتی ہے۔  اس کا سابقہ شرائع سے  کوئی تعلق نہیں  ہے۔

علاوہ ازیں  نسخ کا معنی ایک موجودہ منصوص حکم کو ایک نئے  نص سے  زائل کرنا ہے  کیونکہ نسخ کی تعریف یہ کی گئی ہے :خطاب الشارع المانع من استمرار ما ثبت من حکم خطاب شرعی سابق( شارع کا وہ خطاب جو سابقہ خطاب سے  ثابت شدہ حکم کے  استمرار کے  لئے  مانع ہو)۔  چنانچہ نسخ میں  یہ ضروری ہے  کہ منسوخ حکم نئے  حکم سے  پہلے  نازل ہوا ہو اور نئی نص میں  اس بات کی کوئی دلیل موجود ہو، جو یہ بتائے  کہ اس حکم نے  پرانے  حکم کو زائل کر دیا ہے۔  یہ دلیل لفظِ نسخ، ناسخ یا منسوخ کا استعمال ہو سکتا ہے، یا تاریخ ہو سکتی ہے  یا پھر بذاتِ خود نص میں  کوئی دلیل۔  اگر یہ دونوں  شرائط پوری نہیں  ہوتیں  تو نسخ کا کوئی وجود نہیں ہے۔  نصوص میں  فقط اختلاف و تضاد سے  نسخثابت نہیں  ہوتا۔

مثال :

﴿یاأیھا النبی حرض المؤمنین علی القتال إن یکن منکم عشرون صابرون یغلبوا مأتین ﴾8:65

(اے  بنی! ایمان والوں  کو جہاد کا شوق دلاؤ، اگر تم میں  سے  بیس بھی صبر کرنے  والے  ہوں گے  تو دو سو پر غالب رہیں  گے)

 

﴿الآن خفف اللّٰہ عنکم وعلم أن فیکم ضعفا فإن یکن منکم مئۃ صابرۃ یغلبوا مأتین ﴾8:66

(اچھا اب اللہ تمہارا بوجھ ہلکا کرتا ہے  وہ خوب جانتا ہے  تم میں  ناتوانی ہےپس اگر تم میں  سے  ایک سو صبر کرنے  والے  ہوں گے  تو دو سو پر غالب رہیں  گے)

 

یہاں دوسری آیت کا حکم پہلی آیت کے  حکم کو منسوخ کر رہا ہے  اور اس کی دلیل دوسری آیت کا یہ حصہ ہے  ﴿ الآن خفف اللّٰہ عنکم ﴾(اچھا اب اللہ تمہارا بوجھ ہلکا کرتا ہے)۔  یہ اس بات کی دلیل ہے  کہ اس سے  پہلے  کوئی دوسرا حکم تھا جو اس سے  قبل نازل ہوا، البتہ اب یہ نیا حکم سابقہ کو منسوخ کر رہا ہے۔

اس مختصر بیان سے  یہ واضح ہو جاتا ہے  کہ سابقہ احکام کا فقط اسلامی احکام سے  مختلف یا متضاد ہونا نسخ قرار دینے  کے  لئے  کافی نہیں  ہے، جب تک ایسی کوئی دلیل موجود نہ ہو۔  چنانچہ شریعتِ اسلامی نے  سابقہ احکام کو ایک ایک کر کے  نہیں، بلکہ مجموعی طور پر منسوخ کیا ہے  بدلیل مذکورہ۔

 

البتہ اگر کسی نص میں  سابقہ شرائع میں  سے  کسی حکم کا ذکر ہو، مگر اس میں  مسلمانوں  سے  مخاطب ہونے  کا کوئی اشارہ یعنی کوئی قرینہ پایا جائے  تو یہ حکم شریعتِ اسلامی کا حکم قرار پائے گا اور اسلامی شریعت کا ایک حکم ہونے  کی حیثیت سے  اس کا اتباع ہو گا، نہ اس حیثیت سے  کہ یہ سابقہ شرائع کا حکم ہے۔

پہلی مثال :

﴿یاأیھا الذین آمنوا إن کثیرا من الأحبار والرھبان لیاکلون اموالالناس بالباطل ویصدون عن سبیل اللّٰہ والذین یکنزون الذھبوالفضۃ ولا ینفقونھا فی سبیل اللّٰہ فبشرھم بعذاب ألیم ﴾9:34

(اے  ایمان والو! اکثر علماءِ یہود و نصاریٰ لوگوں  کا مال کھا جاتے  ہیں  اور اللہ کی راہ سے  روک دیتے  ہیں  اور جو لوگ سونے  چاندی کا خزانہ رکھتے  ہیں  اور اللہ کی راہ میں  خرچ نہیں  کرتے  انہیں  دردناک عذاب کی خبر پہنچا دیجئے)

 

اس کے  باوجود کہ یہ آیت علمائے یہود و نصاریٰ کے  اعمال کا تذکرہ کر رہی ہے، اس میں  جو حکم مذکور ہے، یعنی مال کا خزانہ کرنے  کی تحریم، وہ شریعتِ اسلامی میں  سے  ہے  کیونکہ تعالیٰ نے  آغاز ﴿یاأیھا الذین آمنوا﴾سے  کیا ہے۔

 

دوسری مثال :

﴿ومن لم یحکم بما أنزل اللّٰہ فأولئک ھم الکفرون ﴾5:44

(جس کسی نے  اللہ تعالیٰ کے  نازل کردہ احکام کے  مطابق فیصلہ نہیں  کیا تو یہی لوگ کافر ہیں)

 

اگرچہ اس آیت کا سیاق یہودیوں  کے  بارے  میں  ہے، مگر اس میں  مذکور حکم شریعتِ اسلامی میں  سے  ہے  کیونکہ آیت میں  حرفِ عام ﴿من﴾(جو کوئی)موجود ہے  جو مسلمانوں  کو بھی شامل ہے۔  چنانچہ اللہ تعالیٰ کے  احکام و قوانین کے  علاوہ کسی اور چیز کے  مطابق حکومت یا فیصلہ کرنا حرام ہے۔  لہذا شرائع ما قبل ہمارے  لئے  شرعی دلیل و ماخذ نہیں  ہے۔

 

                   استحسان

 

استحسان کی تعریفیں  یہ بتائی گئی ہیں:ایک ایسی دلیل جو یکدم مجتہد کے  ذہن میں  داخل ہو مگر وہ اسے  بیان کرنے  سے  قاصر ہو۔  اجتہاد میں  ایک زیادہ قوی دلیل یا ضرورت کی وجہ سے  قیاسِ جلی سے  قیاسِ خفی کی طرف منتقلہونا۔

پہلی مثال :

﴿والوالدات یرضعن أولادھن حولین کاملین لمن أراد أن یتم الرضاعۃ ﴾2:233

(مائیں  اپنی اولاد کو دو سال کامل دودھ پلائیں  جن کا ارادہ دودھ پلانے  کی مدت بالکل پوری کرنے  کا ہو)

 

دوسری مثال:  ایک شخص نے  دو بندوں  سے  ایک گاڑی خریدی جس کے  وہ دونوں  مالک تھے۔  ان کا معاہدہ اس بات پر ہوتا ہے  کہ وہ اس قیمت کی ادائیگی بعد میں  کرے گا۔  کچھ عرصے  بعد خریدار ان میں  سے  ایک کوہی پوری قیمت ادا کر دیتا ہے، مگر ان پیسوں  کا قبضے  میں  آنے  کے  بعد اور دوسرے  کو اس کاحصہ ملنے  سے  قبل، نقصان ہو جاتا ہے۔  استحسان کی رو سے  اس نقصان کی تلافی صرف وہ شخص کرے گا جس نے  قیمت وصول کی کیونکہ اگر وہ چاہتا تو خریدار سے  کہہ سکتا تھا کہ وہ خود دوسرے  کو اس کا حصہ دیدے، مگر اس نے  ایسا نہیں  کیا۔

 

تیسری مثال:کوئی شخص ایک دکاندار درزی کو کپڑا دیتا ہے  تاکہ وہ اس کے  لئے  ایک قمیص سیئے۔  بعد میں  اس  کپڑے  کو، بغیر درزی کی کوتاہی کے، کوئی نقصان پہنچتا ہے۔  استحسان کی رو سے  اس کی تلافی درزی کو کرنا ہو گی کیونکہ اسے  چاہیے  کہ وہ گاہکوں سے  اتنا ہی کپڑا لے، جتنا وہ محفوظ رکھ سکے  ورنہ وہ خواہ مخواہ لوگوں  کی ملکیت کو برباد کرنے  کا باعث بنے  گا۔

اس صریح آیت کے  باوجود بعض نے  بلند مرتبے  کی عورتوں  کے  لئے  سرے  سے  دودھ نہ پلانے  کی چھوٹ دی ہے، اور یہ استحسان کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔  یہ تخصیص بلا دلیل ہے  چنانچہ حکم کے  عموم پر عمل لازم ہے، یعنی دو سال دودھ پلانے  کا حکم سب ما ؤوں  کے  لئے  ہے  قطع نظر رتبے  کے  کیونکہ : ﴿ حولین کاملین﴾(دو سال کامل)۔

 

دوسری مثال میں  گاڑی دونوں  کی ملکیت ہے  جسے  وہ بیچنا چاہتے  ہیں، چنانچہ یہ ایک شراکت) company) ہے۔  اس لئے  جو رقم ان میں  سے  ایک نے  خریدار سے  وصول کی، وہ اس نے  انفرادی حیثیت سے  حاصل نہیں  کی بلکہ ایک شراکت میں  شریک کی حیثیت سے۔  یعنی یہ وصولی کمپنی نے  کی ہے  نہ ایک فردِ واحد نے  اور اسی لئے، شرع کے  مطابق، نقصان بھی کمپنی ہی کو اٹھانا پڑے  گا۔  دوسرے  لفظوں  میں  جس نے  وصولی نہیں  کی اسے  برابر کا نقصان اٹھانا پڑے  گا۔

 

تیسری مثال میں  درزی پر کپڑوں  کی ذمہ داری ڈال دینا، اس حدیث کے  خلاف ہے  جس میں  صراحتاً اسبات کی نہی ہے :

’’  لا ضمان علی  مؤتمن ‘‘(الدارقطنی)

(جس کے  ذمہ کچھ سپرد کیا گیا تو وہ اس کا ضامن نہیں)

 

مذکورہ مثالوں  سے  یہ ظاہر ہے  کہ استحسان عقلی تاویلوں  کے  سوا اور کچھ نہیں  ہے  اور جس کے  شرع میں  قطعی دلائل تو کیا ظنی دلائل بھی نہیں  ملتے!!یاد رہے  کہ لفظِ استحسان ’’حسن‘‘(اچھا) سے  مشتق ہے  جو شرعی نصوص میں  اپنے  لغوی معنی میں  مذکور ہے  نہ اصطلاحی۔  استحسان میں  عقل کو شرع پر ترجیح دی گئی ہے، اس لئے  اس کی کوئی حیثیت نہیں  ہے  کیونکہ اس میں  عقل مصلحت کا تعین کرتی ہے  نہ کہ شرع۔  اسی طرح استحسان کی(اصطلاحی) تعریفیں  بھی باطل ہیں  کیونکہ یہ کہنا کہ مجتہد کے  ذہن میں  کوئی دلیل داخل ہو مگر وہ اسے  لفظوں  میں  بیان نہیں  کر سکتا، یہ ایک ایسا شرعی ماخذ کیسا ہو سکتا ہے  جس کی بنیاد پر مسلمان اپنی زندگی بسر کرے!یہ تو کوئی خیال ہی ہو سکتا ہے  کوئی دلیل ہرگز نہیں !!اس کے  علاوہ قیاسِ جلی کو چھوڑ کر ایسے  قیاسِ خفی کو اختیار کرنا جو ایک زیادہ قوی دلیل پر مبنی ہو، اس کا کیا مطلب ہے  ؟  اگر تو اس سے  مراد قیاس کو چھوڑ کر قرآن و سنت کی کسی نص کا اعتبار کرنا ہے، توا سے  استحسان نہیں  کہا جائے گا بلکہ یہ تو قرآن و سنت کے  دلائل ہوں گے !!اور اگر اس سے  یہ مراد ہے  کہ کسی شرعی علت والے  قیاس کو ترک کر کے  کسی عقلی علت پر مبنی قیاس کی طرف رجوع کیا جائے، تو یہ مسترد ہے !!کیونکہ جیسے  پہلے  بھی بتایا گیا ہے  کہ شرع میں  فقط وہی قیاس معتبر ہے  جس کی کوئی شرعی علت موجود ہو، ورنہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔  چنانچہ ا ستحسان کی تردید، اس کے  بلا دلیل ہونے  کی وجہ سے  ثابت ہے۔

 

                   مصلحہ مرسلہ

 

اس کی تعریف کچھ یوں  کی گئی ہے :وہ جو بغیر دلیل کے  ہو مگر مقاصدِ شریعت کو فائدہ پہنچائے  یا حرج کو دفع کرے، یعنی جلبِ مصلحت اور دفعِ مضرت۔  بعض نے  مصلحت کو ان تین زمروں  میں  تقسیم کیا ہے  :

1)  معتبرہ

2)  ملغاء

3)مرسلہ۔

پہلی قسم وہ ہے  جو نصوص سے  ثابت ہے، مثلاً علم حاصل کرنا۔  دوسری جو نصوص کے  خلاف ہے، مثلاً جہاد کی نفی، چنانچہ یہ مسترد ہے۔  مرسلہ وہ ہے  جس کی نفی یا اثبات پر کوئی دلیل و نص موجود نہ ہو یعنی وہ تمام افعال جن پر شرع خاموش ہے، اگر یہ مقاصدِ شریعت کو فائدہ پہنچائے  تو یہ مقبول ہے، مثلاً ٹریفک کا قانون بنانا وغیرہ۔

 

پہلی قسم حقیقت میں  شرعی نصوص ہیں  اس لئے  وہ بذاتِ خود دلائل ہیں  نہ مصلحت، یعنی چونکہ یہ احکام ان کے  شرعی دلائل سے  ثابت ہیں، مثلاً علم حاصل کرنا :

’’ طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم‘‘(ابن ماجہ)

(علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے)

اس لئے  انہیں  مصلحت سے  موسوم نہیں  کیا جائے گا۔  دوسری قسم کا استرداد ظاہر ہے  جبکہ تیسری قسم یعنی مصلحہ مرسلہ)بلا دلیل مصلحت) پر روشنی ڈالنا ضروری ہے۔

یہ دعویٰ کرنا کہ شرع کئی امور پر خاموش ہے  صریح نصوص کے  خلاف ہے  :

﴿ونزلنا علیک الکتاب تبیانا لکل شیء ﴾16:89

(اور ہم نے  آپ پر ایسی کتاب نازل کی جو ہر چیز کو کھول کھول کر بیان کرتی ہے)

 

﴿الیوم أکملت لکم دینکم و أتممت علیکم نعمتی ﴾5:3

(آج ہم نے  تمہارے  لئے  تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت مکمل کر دی)

 

﴿وما اختلفتم فیہ من شیء فحکمہ إلی اللّٰہ ﴾42:10

(اور جس جس چیز میں  تمہارا اختلاف ہو اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے)

 

﴿  أیحسب الإنسان أن یترک سدی ﴾75:36

(کیا انسان یہ سمجھتا ہے  کہ اسے  بیکار چھوڑ دیا جائے گا)

 

یہ تمام آیات قطعی طور پر اس امر پر دلالت کر رہی ہیں  کہ ایسا کوئی مسئلہ موجود ہی نہیں  جس کا جواب شرع نے  نہ دیا ہو۔  شریعتِ اسلامی زندگی کے  تمام مسائل کو حل کرتی ہے  خواہ وہ کتنا ہی باریک کیوں  نہ ہو۔  کتبِ فقہ پر ایک سرسری نظر اس بات کی تصدیق کرتی ہے، جہاں  باریک سے  باریک مسائل اسلام کے  نصوص سے  سمجھے  گئے  ہیں  اور قیامت تک اخذ کئے  جائیں  گے۔  جہاں  تک انتظامی، صنعتی و سائنسی امور کا تعلق ہے، تو ایسی بات نہیں  ہے  کہ شرع ان پر خاموش ہے  بلکہ اس نے  ان امور کو انسان پر چھوڑ دیا ہے  بشرطیکہ یہ خلافِ شرع نہ ہوں۔  شرع کا ان امور کو انسان پر چھوڑ دینے  کا ہرگز یہ مطلب نہیں  کہ وہ ان مسائل پر خاموش ہے، کیونکہ اس امر کے  دلائل شرع میں  موجود ہیں، مثلاً :

’’  أنتم أدری بشؤون دنیاکم ‘‘(مسلم)

(تم اپنے  دنیوی امور سے  زیادہ واقف ہو)

اسی لئے  حضرت عمر ؓ نے  اپنی خلافت میں  دیوانی نظام اہلِ فارس سے  لیا، اس کے  باوجود کہ کفار اس کے  بانی تھے۔  یہ انتظامی امور میں  سے  تھا اور آج بھی ایسے  تمام امور مثلاً ٹریفک کے  قوانین، اسی طرح صنعت و سائنس اور انجینرنگ وغیرہ کا بھی یہی حکم ہے  کہ ان تمام علوم کو دوسری قوموں  سے  لیا جا سکتا ہے  کیونکہ یہ عالمی ہیں، بشرطیکہ یہ اسلام کے  خلاف نہ ہوں۔  لہذا شرع کسی بات پر خاموش نہیں  ہے!!

 

علاوہ ازیں  عقل اس قابل نہیں  کہ وہ مصلحت کو تعین کر سکے  کیونکہ کئی مرتبہ عقل کسی بات پر مصلحت ہونے  کا فیصلہ صادر کرتی ہے  مگر بعد میں  وہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے  اور اسی طرح بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے  کہ عقل کسی بات کو ضر ررساں  سمجھتی ہے  مگر وہ مفید ثابت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ کیا خوب فرماتا ہے :

﴿وعسی أن تکرھوا شیئا وھو خیر لکم وعسی أنتحبوا شیئا وھو شرلکم واللّٰہ یعلم وانتم لا تعلمون ﴾2:216

)ممکن ہے  تم کسی چیز کو بری جانو اور دراصل وہی تمہارے  لئے  بھلی ہو اور یہ بھی ممکن ہے  کہ تمکسی چیز کو اچھی سمجھو حالانکہ وہ تمہارے  لئے  بری ہو،حقیقی علم اللہ ہی کو ہے  اور تم محض بے  خبر ہو)

 

لہذا عقل مصلحت کو تعین کرنے  میں  ناکام ہے، یہ کام صرف شرع کر سکتی ہے  یعنی شارع یہ فیصلہ کر سکتا ہے  کہ حقیقی مصلحت کس فعل میں  ہے  اور کونسا فعل نقصان دہ ہے۔  چنانچہ مسلمان کا نظریہ ہے  کہ جہاں  شریعت ہے  وہاں  مصلحت ہے  یعنی جس چیز کو شرع نے  حلال و جائز قرار دیا ہے، وہ اس کے  لئے  بھلی ہے  اور جس چیز کو شرع نے  حرام قرار دیا ہے  وہ اس کے  لئے  بری۔  عقل کو کسی فعل پر اچھے  یا برے  کا فیصلہ دینے  کا کوئی اختیار حاصل نہیں  ورنہ انسان کے  لئے  وحی نازل کرنے  کا مقصد ہی ساقط ہو جاتا ہے۔  یعنی اگر انسان کی عقل اچھے  و برے  کا فیصلہ کرنے  کے  قابل ہوتی تو اللہ تعالیٰ کا وحی کے  ذریعے  ہدایت بھیجنا بے  مقصد نظر آتا ہے۔  چنانچہ مصلحہ مرسلہ یعنی بلا دلیل مصلحت کی شرع میں  کوئی اہمیت نہیں  ہے  اور اسی لئے  یہ مسترد ہے۔

 

اگرچہ یہ تمام دلائل، جنہیں  رد کیا گیا ہے، حقیقت میں  دلائل کی حیثیت نہیں  رکھتے، تاہم وہ احکام جو ان دلائل سے  بعض علماء نے  اخذ کیے  ہیں، یہ احکام شرعیہ ہی ہیں  کیونکہ ان دلائل پر دلیل کی شبہات پڑتی ہے  جسے  اصطلاح میں   شبہۃ دلیل کہا جاتا ہے۔  اس لئے  وہ لوگ جو ان مجتہدین کی تقلید کرتے  ہیں، ان مقلدین کے  لئے   یہ شرع کے  احکام ہی ہیں۔

 

 

باب سوم: فہمِ دلیل

 

جب مجتہد نے  یہ تعین کر لیا کہ وہ مسائل کے  حل کونسے  مآخذ سے  لے  گا، تو اگلا قدم دلیل سمجھنے  کا ہو گا تاکہ وہ اس دلیل سے  احکام مستبنط کر سکے۔  اس اعتبار سے  اصولِ فقہ میں  اجناسِ کلام، الفاظ کی اقسام اور ان کی دلالات کے  حوالے  سے  مفصل بحث کی جاتی ہے۔  اختصار کی وجہ سے  نیچے  فقط دلالاتِ الفاظ پر روشنی ڈالی جا رہی ہے۔

 

                   منطوق

 

منطوق کی تعریف

 

ھو ما فھم من دلالۃ اللفظ قطعا فی محل النطق

(وہ جو الفاظ  کلام کی دلالت سے  قطعی طور پر سمجھا جائے)

یعنی منطوق وہ ہے  جو صراحتاً کسی بات پر لغوی طور پر دلالت کرے  اور یہ اس کے  صیغہ و الفاظ کی ترکیبی صورت سے  سمجھا گیا ہو، بغیر ذہن میں  کوئی اور معنی داخل ہوئے۔  دوسرے  لفظوں  جو کلام سنتے  ہی سمجھاجائے۔

مثال:

﴿وأحل اللّٰہ  البیع وحرم الربٰوا ﴾2:275

(اللہ تعالیٰ نے  تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام)

 

                   مفہوم

 

مفہوم کی تعریف

 

ما فھم من اللفظ فی غیر محل النطق

(وہ جو الفاظِ کلام کے  علاوہ سمجھا جائے)

 

پھر مفہوم کی پانچ اقسام ہیں :دلالتِ اقتضاء، دلالتِ تنبیہ و ایماء، دلالتِ اشارہ، مفہومِ موافقہ اور مفہومِ مخالفہ۔  ان تمام اقسام کو ’’ دلالتِ التزام ‘‘ سے  موسوم کیا جاتا ہے  کیونکہ یہ تمام دلالات الفاظ و کلام سے  لازماً سمجھی جاتی ہیں۔

 

دلالتِ اقتضاء

 

       دلالتِ اقتضاء کی تعریف

ھی ما کان المدلول فیہ مضمرا أی غیر منطوق بہ بل ھو لازم لمعانی الألفاظ، إما لضرورۃ صدق المتکلم و إما لصحۃ وقوع الملفوظ بہ)عقلا أو لغۃ أو شرعا

(وہ جس میں  مدلول مضمر(مخفی) ہے  یعنی غیر منطوق مگر یہ الفاظ کے  معانی کے  لئے  لازم ہو، یہ خواہ کلامِ متکلم کی ضروری صداقت کی وجہ سے  ہو یا)عقلاً یا لغتاً یا شرعاً) ادائیگیِ الفاظ کے  وقوع کی صحت کے  لئے

پہلی مثال :

’’إن اللّٰہ وضع عن أمتی الخطأ والنسیان وما استکرھوا علیہ ‘‘(ابن ماجہ)

(میری امت سے  غلطی، بھول اور جبر ہٹا دی گئی ہے)

 

لیکن حقیقت میں  انسان سے  غلطی صادر ہوتی ہے، لہذا صدقِ کلام کا تقاضا یہ ہے  کہ یہاں  لفظ’’ مواخذہ و سزا‘‘ کا  اضافہ کیا جائے، یعنی ’’ میری امت سے  غلطی، بھول اور جبر سے  مواخذہ و سزا کو ہٹا دیا گیا ہے ‘‘۔

 

دوسری مثال:

﴿ولن یجعل اللّٰہ للکافرین علی المؤمنین سبیلا ﴾4:141

(اور اللہ نے  کافروں  کے  لئے  مومنوں  پر غالب آنے  کا ہر گز کوئی راستہ نہیں  رکھا)

 

البتہ حقیقت میں  ہم دیکھ رہے  ہیں  کہ کفار کا ہر طرح سے  مسلمانوں  پر غلبہ ہے، لہذا اس خبر(الفاظ) کے  صحیح ہونے  کا عقلاً تقاضا یہ ہے  کہ متکلم)شارع) نے  اس بات سے  منع کیا ہے  کہ کافروں  کا مسلمانوں  پر غلبہ ہو، یعنی اللہ تعالیٰ نے  ہرگز اس بات کی اجازت نہیں  دی کہ کافروں  کا مسلمانوں  پر کسی قسم کا غلبہ ہو۔  چنانچہ آج جو کافروں  کا مسلمانوں  پر سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور عسکری غلبہ ہے، اس کے  خاتمے  کا اللہ تعالیٰ نے  اس آیتِ مبارکہ میں  حکم دیا ہے( جس کا دائمی ذریعہ صرف اسلامی ریاست یعنی خلافت ہے)۔

 

                   دلالتِ تنبیہ و ایماء

 

دلالتِ تنبیہ و ایماء کی تعریف

 

فھم التعلیل من إضافۃ الحکم إلی وصف مناسب

(اضافتِ حکم سے  تعلیل کی وہ سمجھ جو ایک وصفِ مناسب تک ہو)

 

مثال :

﴿وإن أحد من المشرکین استجارک فأجرہ حتی یسمع کلام اللّٰہ ثم أبلغہ مأمنہ ﴾9:6

(اگر مشرکوں  میں  سے  کوئی تجھ سے  پناہ طلب کرے  تو تو اسے  پناہ دے  دے  یہاں  تک کہ وہ کلام اللہ سن لے  پھر اسے  اپنی جائے  امن تک پہنچا دے)

 

اس آیت میں  اللہ تعالیٰ ہمیں  متنبہ کر رہا ہے  کہ کافر کو کلام اللہ سنانا ضروری ہے، تاکہ یہ ممکن ہو سکے  کہ وہ اسلام میں  داخل ہو۔  یعنی یہاں  پراسلام کی آگاہی دینا حتی کہ تبلیغ ممکن ہو سکے   علتِ دلالتاً ہے  کیونکہ یہاں  پر حتی یسمع کلام اللّٰہ میں  حتی کا استعمال بمعنی تعلیل(اس کی وجہ سے) ہوا ہے۔  چنانچہ اسلامی ریاست پر مسلمانوں  کی اسلامی تدریس و تثقیف  کے  لئے  مدارس و مراکز وغیرہ کا اہتمام کرنا واجب ہے۔

 

                   دلالتِ اشارہ

 

دلالتِ اشارہ کی تعریف

 

ھو ما یؤخذ من إشارۃ اللفظ

(وہ جو لفظ کے  اشارے  سے  لیاجائے)

 

پہلی مثال :

﴿والوالدات یرضعن أولادھن حولین کاملین لمن أراد أن یتمالرضاعۃ وعلی المولود لہ رزقھن و کسوتھن بالمعروف﴾2:233

(مائیں  اپنی اولاد کو دو سال کامل دودھ پلائیں  جن کا ارادہ دودھ پلانے  کی مدت بالکلپوری کرنے  کا ہو اور جن کے  بچے  ہیں  ان کے  ذمہ ان کا روٹی کپڑا ہے  جو مطابق دستور کے  ہے)

یہاں  پر المولود لہ کے  ذریعے  دلالتِ اشارہ سے  یہ حکم سمجھا گیا ہے  کہ بچے  کی نسب باپ کی طرف لوٹتی ہے۔

 

دوسری مثال:

﴿لا یسخر قوم من قوم عسی أن یکونوا خیرا منھم ولا نساء من نساء عسی أن یکن خیرا منھن ﴾49:11

(مرد دوسرے  مردوں  کا مذاق نہ اڑائیں  ممکن ہے  کہ یہ ان سے  اور نہ عورتیں  عورتوں  کا مذاق اڑائیں  ممکن ہے  کہ یہ ان سے  بہتر ہوں)

 

یہاں اشارے  میں  یہ سمجھا گیا ہے  کہ مردوں  کا اجتماع عورتوں  کے  اجتماع سے  علیحدہ ہوتا ہے۔  یہ اس لئے  کیونکہ ایک دوسرے  کا مذاق اڑانا عادۃً آمنے  سامنے  ہوا کرتا ہے  جبکہ یہاں  پر اللہ تعالیٰ نے  ان کا علیحدہ علیحدہ گروہ ہونے  کی حیثیت سے  تذکرہ کیا ہے۔  چنانچہ یہیں  سے  مردوں  اور عورتوں  کی علیحدگی کا حکمِ فرضیت دلالتِ اشارہ سے  مستنبط کیا گیا ہے۔

 

تیسری مثال :

’’  ومن مات ولیس فی عنقہ بیعۃ مات میتہ جاہلیۃ ‘‘(مسلم)

(و کوئی اس حال میں  مرا کہ اس کی گردن پر)خلیفہ کی)بیعت کا طوق نہ ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرا)

 

اس حدیث سے  خلیفہ کے  وجود کی فرضیت ثابت ہے  یعنی اس کا ہونا اور دلالتِ اشارہ سے  امت پر اس کا تقرر بھی۔

 

                   مفہومِ موافقہ

 

مفہومِ موافقہ کی تعریف

 

ھو ما یکون مدلول اللفظ فی محل السکوت موافقا لمدلولہ فیمحل النطق

محلِ سکوت میں  وہ مدلولِ لفظ جو تلفظ میں  اپنے  مدلول کے  موافق ہو)

مفہومِ موافقہ میں  ادنیٰ سے  اعلیٰ یا اعلیٰ سے  ادنیٰ کی طرف(من باب أولی) سے   خطاب کو سمجھا جا تا ہے، اس صورت میں  اسے  ’’ فحویِٰ خطاب ‘‘ کہا جاتا ہے  اور اگر یہ برابر کی حیثیت رکھتا ہو تو اسے  ’’ لحنِ خطاب ‘‘ سے  موسوم کیا جاتا ہے۔

پہلی مثال :

﴿فلا تقل لھما أف﴾17:23

(ان کے  آگے  اف تک نہ کہنا)

 

یہاں  پر فحویِٰ خطاب سے  یہ حکم سمجھا گیا ہے  کہ والدین کو مارنا حرام ہے  اور یہ ادنیٰ سے  اعلیٰ کی مثال ہے۔

 

دوسری مثال:

﴿واحذرھم أن یفتنوک عن بعض ما أنزل اللّٰہ إلیک﴾5:49

(اور ان سے  ہوشیار رہیے  کہ کہیں  یہ آپ کو اللہ کے  اتارے  ہوئے  کسی حکم سے  ادھر ادھر نہ کر دیں)

 

آیت میں  فحویِٰ خطاب سے  تمام اللہ تعالیٰ کے  نازل کردہ احکام سے  ہٹا دینے  پر ہوشیاری کا حکم ثابت ہوا ہے۔  آج ہمارے  اسلامی ممالک میں  فقط بعض احکام اللہ سے  منہ نہیں  پھیرا جا رہا بلکہ پوری شریعتِ اسلامی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

 

اعلیٰ سے  ادنیٰ کی مثال :

’’  کونوا کأصحاب عیسی نشروا بالمناشیر وحملوا علی الخشب ‘‘(المعجم الکبیر)

(ہو جاؤ تم لوگ عیسیٰ ؑ کے  حواریوں  جیسے، انہیں  آری سے  کاٹاجاتا تھا مگر وہ اس کے  باوجود اس سختی کو برداشت کرتے)

 

فحویِٰ خطاب سے  داعیانِ اسلام کو جیل میں  قید ہونے  پر صبر کرنے  کا حکم سمجھا گیا ہے۔

 

لحنِ خطاب کی مثال :

﴿إن الذین یأکلون أموال الیتامی ظلما إنما یأکلون فی بطونھم نارا﴾4:10

(و لوگ ناحق ظلم سے  یتیموں  کا مال کھا جاتے  ہیں  وہ اپنے  پیٹ میں  آگ ہی بھر رہے  ہیں)

 

لحنِ خطاب سے  یتیموں  کا مال برباد کرنے  کا حکمِ تحریم مستنبط کیا گیا ہے  کیونکہ یہ ان کا مال کھا جانے  کے  مساوی ہے۔

 

                   مفہومِ مخالفہ

 

مفہومِ مخالفہ کی تعریف

 

ھو ما یکون مدلول اللفظ فی محل السکوت مخالفا لمدلولہ فی محل النطق

(محلِ سکوت میں  وہ مدلولِ لفظ جو تلفظ میں  اپنے  مدلول کے  مخالف ہو)۔  اسے  ’’ دلیلِ خطاب ‘‘ سے  بھی موسوم کیا جاتا ہے۔

مفہومِ مخالفہ پر عمل تب لازمی ہے  جب خطاب میں  ان چار امور میں  سے  ایک موجود ہونے  کی کوئی دلیل ہو:  صفت، عدد، غایت یا شرط۔  اگر ان میں  سے  کوئی نہ پایا گیا ہو تو مفہومِ مخالفہ پر عمل صحیح نہ ہو گا، مثلاً اسم، خواہ وہ اسمِ جنس ہو یا اسمِ علم یا جو کچھ اس کا ہم معنی ہے  جیسے  لقب یا کنیت، یا پھر وہ اسمِ جامد ہو یا مشتقِ غیر وصف، ان تمام صورتوں میں  مفہومِ مخالفہ نہیں  لیا جائے  گا۔

1)  صفت:یہاں  صفت سے  مراد’’ وصفِ مفہم مناسب‘‘ ہے  جس کا ذکر علت کے  باب میں  گزرا ہے۔  یہ اس لئے  کیونکہ حکم(معلول) اپنی علت کے  گرد گھومتا ہے  یعنی اپنے  عدم اور وجود میں۔  چنانچہ وصفِ مفہم مناسب کا تعلیل کے  لئے  استعمال مفہومِ مخالفہ کے  عمل پر دلالت کرتا ہے۔

مثال:

﴿  إن جاء کم فاسق بنبأ فتبینوا ﴾49:6

(اگر تمہیں  کوئی فاسق خبر دے  تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو)

 

یہاں  فاسق حکم کے  لئے  وصفِ مفہم مناسب ہے، چنانچہ مفہومِ مخالفہ سے  یہ سمجھا گیا ہے  کہ کسی ’’ عادل‘‘ کی خبر کی تحقیق واجب نہیں  ہے۔  پس جب کوئی عادل شخص کوئی خبر لائے  تو اسے  قبول کیا جائے گا۔

 

2)  عدد:

﴿الزانیۃ والزانی  فاجلدوا کل واحد منھما مئۃ جلدۃ ﴾24:2

(زناکار عورت و مرد میں  سے  ہر ایک کو سو کوڑے  لگاؤ)

 

مفہومِ مخالفہ سے  یہ سمجھا گیا ہے  کہ پھر سو کے  عدد سے  کم یا زیادہ کوڑے  لگانا درست نہیں  ہے۔

 

غایت

 

حرفِ حتی اور حرفِ  إلی غایت کی انتہا تک کے  لئے  وارد ہوتے  ہیں  مگر یہ دونوں  اپنے  ما قبل میں  اپنے  ما بعد کے  مخالف) برعکس) ہوتے  ہیں، کیونکہ یہ ما بعد میں  داخل نہیں  ہوتے۔

مثال:

﴿ولا تقربوھن حتی یطھرن ﴾2:222

(اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں  تو ان کے  قریب نہ جاؤ)

 

مفہومِ مخالفہ سے  یہ حکم سمجھا گیا ہے  کہ جب(جائز) عورتیں  پاک ہو جائیں، تب ان سے  مباشرت مباح ہے۔

 

﴿ثم أتموا الصیام إلی اللیل ﴾2:187

(پھر رات تک روزے  کو پورا کرو)

 

یہاں  مفہومِ مخالفہ سے  یہ سمجھا گیا ہے  کہ جب رات ہو جائے  تو کھایا پیا جا سکتا ہے۔

 

4)  شرط:شرط کے  لئے  اکثر حرفِ ’’ إن‘‘ کا استعمال ہوتا ہے۔

مثال :

﴿  و إن کن أولات حمل فأنفقوا علیھن ﴾65:6

(ور اگر وہ حمل سے  ہوں  تو انہیں  خرچ دیتے  رہا کرو)

 

یہاں  مفہومِ مخالفہ سے  یہ سمجھا گیا ہے  کہ اگر مطلقہ حاملہ نہیں، تو اس کا نان و نفقہ مرد پر فرض نہیں  ہے۔

 

پھر مفہومِ مخالفہ پر عمل کی شرطیں  یہ ہیں  کہ وہ کسی صریح نص کے  خلاف نہ ہو یا نزولِ اسلام کے  دور میں  آیت یا حدیث  میں  مذکور واقع بطورِ رواج عام نہ ہو( مخرج الأعم الأغلب)۔

مثال:

﴿ولا تأکلوا الربا أضعافا مضاعفۃ ﴾3:130

(بڑھا چڑھا کر سود نہ کھاؤ)

 

یہاں  پر مذکور مثال  أضعافا مضاعفۃ)بڑھا چڑھا کر) واقعے  کی رعایت کے  طور پر ہے  یعنی سود کی اس وقت جو صورتِ حال تھی، اس کا بیان و اظہار ہے۔  چنانچہ اس کا مطلب یہ نہیں  ہے  کہ اگر بڑھا چڑھا کر سود نہ لیا جائے  تو یہ جائز ہو گا۔  نیز یہ مطلب اس صریح نص کے  بھی خلاف ہے  جس میں  سود کو مطلقاً حرام قرار دیا گیا ہے  :

﴿و أحل اللّٰہ البیع وحرم الربا ﴾2:275

(اور اللہ تعالیٰ نے  تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام)

 

یعنی اس معاملے  میں  مفہومِ مخالفہ کا کوئی جواز نہیں  ہے۔  اس کے  باوجود آج سرمایہ دارانہ نظام کے  مسلمانوں  پر نفاذ    اور اس کے  غلبے  و دباؤ کی وجہ سے، بعض مفتیوں  نے  یہ فتویٰ جاری کیا ہے  کہ دورِ حاضر میں  تھوڑے  سود لینے  دینے  میں  کوئی مضائقہ نہیں  ہے  جبکہ اللہ تعالیٰ نے  اسے  صراحتاً ممنوع قرار دیا ہے۔(معاذ اللہ)

 

 

 

باب چہارم: اجتہاد

 

اجتہاد کی تعریف

 

استفراغ الوسع فی طلب الظن بشیء من الأحکام الشرعیہ علی وجہ یحس من نفسہ العجز عن المزید فیہ

(احکامِ شرعیہ سے  ظن کی تلاش میں) پوری) طاقت ایسے  صرف کر دینا کہ اس میں  مزید تلاش کے  لئے  اپنے  میں  عاجزی محسوس ہو)۔

 

اس جامع اور مانع تعریف سے  یہ نقات ثابت ہوتے  ہیں   :

1)  ’’پوری طاقت صرف کرنا یہاں  تک کہ اپنے  میں  عاجزی محسوس ہو ‘‘کے  ذکر سے  سطحی نظر خارج ہوئی۔

2)  ’’ظن ‘‘کے  ذکر سے  قطعی احکام خارج ہوئے  یعنی اجتہاد فقط ظنی دلائل میں  ہوا کرتا ہے۔  نیز اس سے  عقیدہ بھی          خارج ہوا کیونکہ اس میں  ظن کو کوئی دخل نہیں  اور اس کی دلیل فقط قطعی ہی ہو سکتی ہے۔

 

( ’’احکامِ شرعیہ‘‘ کے  ذکر سے  کسی مفکر یا عالم کی ذاتی رائے  یا قول اس معاملے  سے  خارج ہوا۔  دوسرے  لفظوں  میں  بغیر شرعی دلیل کے، کسی کی بھی رائے، اجتہاد میں  کوئی حیثیت نہیں  رکھتی۔

 

اجتہاد کے  دلائل

 

اجتہاد فرضِ کفایہ ہے  کیونکہ اس کے  بغیر زندگی کے  معاملات کے  بارے  میں  اللہ کا حکم معلوم نہیں  ہو سکتا اور یہ جانے  بغیر اس پر عمل محال ہے۔  چنانچہ یہ امر ناجائز ہے  کہ کسی واقع کا صدور ہو اور اس کا حکمِ شرعی نہ معلوم ہونے  کی وجہ سے  اس پر عمل نہ ہو سکے، کیونکہ مسلمان پر لازم ہے  کہ وہ اپنی زندگی کے  تمام افعال شرع کے  مطابق انجا م دے۔  لہذا زندگی میں  جدید مسائل کے  شرعی احکام کے  استنباط کے  لئے  ہر دور میں  مجتہدین کا ہونا ضروری ہے۔

 

’’  قولہ ﷺ لمعاذ حینما بعثہ قاضیا إلی الیمن : بم تحکم ؟ قال: بکتاب اللّٰہ۔ قال: فإن لم تجد؟ قال: بسنۃ رسول اللّٰہ۔ قال: فإن لم تجد؟ قال: أجتھد رأیی ولا آلو۔ فقال ﷺ: الحمد للّٰہ الذی وفق رسول رسول اللّٰہ لما یرضی اللّٰہ ورسولہ ‘‘(أبو داود)

(رسول اللہ ﷺ نے  حضرت معاذؓ کو جب یمن میں  قاضی بنا کر بھیجا تو پوچھا:کس چیز کے  طابق لوگوں  کے  مابین فیصلہ کرو گے   ؟  حضرت معاذؓ نے  فرمایا:  اللہ کی کتاب کے  مطابق۔

آپؐ نے  پوچھا:اگر اس میں  نہ ملے  تو ؟  فرمایا:رسول اللہ کی سنت کے  مطابق۔  آپ ؐ نے  پوچھا:اگر اس میں  نہ ملے  تو ؟  فرمایا:تو میں  اپنے  اجتہاد کے  مطابق فیصلہ کروں گا آپؐ نے  فرمایا: تعریف اس اللہ کی جس نے  اللہ کے  رسول کے  پیامبر کو ایسی ہدایت دی جسسے  اللہ اور اس کا رسول راضی ہوا)

 

’’  إذا اجتھد الحاکم فأخطأ فلہ أجر و إن أصاب فلہ أجران ‘‘(متفق علیہ)

(ب حاکم کے  اجتہاد میں  غلطی ہو تو اسے  ایک ثواب ملے  گا اور اگر اس کا اجتہاد صحیح ہو تو اسے  دو ثواب ملیں  گے)

 

علاوہ ازیں  اجتہاد پر صحابہ کرام ؓ کا بھی اجماع ہے  کیونکہ وہ خود کثرت سے  اجتہاد کیا کرتے  تھے۔

یاد رہے  کہ اجتہاد سے  مراد ظنی شرعی دلائل سے  استنباط ہے  نہ کہ کسی حکم کی ایسے  نئے  مسئلہ پر تطبیق جو اس کے  دائرے  میں  آتے  ہیں۔  مثلاً عورت کا مجلسِ امت کی رکن بننے  کا جواز حکمِ وکالت کی اس مسئلہ پر تطبیق سے  ثابت ہے۔  یہ اس لئے  کیونکہ وکالت سے  مراد کسی کی کسی معاملے  میں  نمائندگی کرنا ہے  اور مجلسِ امت کی رکنیت کی حقیقت بھی عوام کی نمائندگی کرنا ہے۔  چنانچہ عورت جیسے  کسی اور کو اپنا وکیل بنا سکتی ہے  بالکل ویسے  ہی وہ کسی اور کی وکیل بھی بن سکتی ہے، اور یہیں  سے  اس کا مجلسِ امت کی رکن بننے  کی اباحت ثابت ہے۔  اس سلسلے  کو اجتہاد نہیں  کہا جاتا بلکہ یہ ’’ قضا‘‘ ہے  یعنی ایک ایسا مسئلہ جس پر موجودہ حکم کی تطبیق کی گئی ہے۔

 

اجتہاد کی شرائط

 

1)  عربی لغت کی معرفت۔  شرعی نصوص چونکہ عربی زبان میں  وارد ہوئے  ہیں  اور حکم کو انہی سے  مستنبط کیا جاتا ہے، اس لئے  یہ ظاہر بات ہے  کہ عربی کی اس حد تک مہارت حاصل ہونی چاہیے  کہ خطاب کو اچھی طرح اور ہر پہلو سے  سمجھا جا سکے۔  یعنی خطاب میں  الفاظ کے  لغوی معانی، اسالیبِ کلام، صرف و نحو کے  قواعد، خاص و عام، مطلق و مقید، بیان و مبین، مجمل و مفصل، حقیقت و مجاز، امر و نہی، ناسخ و منسوخ، حروف و الفاظ کی اقسام، اجناسِ کلام، دلالاتِ الفاظ وغیرہ۔

 

2)  شرعی علوم کی معرفت۔  یعنی دلائل، حکمِ شرعی اور اس کی اقسام، قیاس و علت، جمع و ترجیح کے  قواعد، علمِ

جرح و تعدیل، اسبابِ نزول، سنت اور اس کے  انواع کی معرفت وغیرہ۔

 

مجتہد کی اقسام

 

مجتہد کی تین اقسام ہیں :مجتہد مسئلہ، مجتہد مذہب اور مجتہد مطلق۔

1)  مجتہد مسئلہ:

یہ وہ ہے  جس نے  چند ایک مسائل میں  اجتہاد کیا ہو۔  اس کے  لئے  فقط مسئلہ)واقع) اور اس سے  متعلقہ لغوی اور شرعی معلومات کی معرفت ضروری ہے۔  مثلاً اگر اس نے  کلوننگ(cloning) کے  موضوع پر اجتہاد کرنا ہے  تو اسے  پہلے  اس کی حقیقت کو گہرائی سے  سمجھنا پڑے  گا اور پھر ان نصوص کی طرف رجوع کرنا ہو گا جو اس مسئلے  سے  تعلق رکھتے  ہیں۔  اسے  ان نصوص کو گہرائی سے  سمجھنا پڑے  گا تاکہ وہ کلوننگ کے  حکم کا استنباط کر سکے۔  وہ معلومات جو اس موضوع سے  غیر متعلقہ ہیں  اس کے  لئے  اہم نہیں  ہیں۔  اسی لئے  ہر شخص محنت، پختہ ارادے  اور نظم و ضبط کے  ساتھ اس درجے  تک پہنچسکتا ہے۔

 

2)  مجتہد مذہب:

یہ وہ ہے  جو طریقۂ  اجتہاد(اصول) میں  اپنے  امام کی پیروی کرتا ہے  لیکن فروعات میں  ان اصولوں  کا پابند رہتے  ہوئے  خود بھی احکام مستنبط کرتا ہے۔  نیز اسے  اپنے  مذہب کے  تمام احکام، ان کے  دلائل اوران سے  استنباط کی کیفیت کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔

 

3)مجتہد مطلق:

یہ وہ ہے  جو اجمالی طور پر شریعتِ اسلامی میں  متعدد مسائل میں  اجتہاد پر قادر ہوتا ہے  اور اس نے  اپنا اصول خود متعین کیا ہوتا ہے۔  مذکورہ بالا اجتہاد کی شرائط مجتہد مطلق کے  لئے  ہیں  مگر اس کا مطلب یہ نہیں  ہے  کہ اسے  یہ تمام علوم و موضوعات زبانی یاد ہوں  اور نہ ہی یہ کہ وہ تمام احکام کا احاطہ کرے  کیونکہ یہ بشری قوت سے  باہر ہے۔  دوسرے  لفظوں  میں  یہ ضروری نہیں  ہے  کہ وہ ان تمام علوم و موضوعات کا عالم ہو بلکہ اس سے  فقط یہ مراد ہے  کہ وہ ان سب کی رسائی کے  حصول پر قادر ہو۔  چنانچہ اس درجے  تک پہنچنا مشکل ضرور ہے  لیکن ناممکن نہیں۔

یہاں  یہ نہ کہا جائے  کہ اجتہاد کی ایسی تبعیض)divisibility)کیسے  کی جا سکتی ہے  کیونکہ یا تو بندے  میں  اجتہاد کی اہلیت ہو یا نہ ہو۔  یہ اس لئے  کیونکہ یہ تبعیض ابوابِ فقہ کے  اعتبار سے  نہیں  بلکہ استنباط کی قدرت کے  اعتبار سے  ہے۔  یہ اس لئے  کیونکہ مجتہد کے  لئے  بعض دلائل کو سمجھنا آسان ہو سکتا ہے  جس کی وجہ سے  وہ اجتہاد کر پایا ہو جبکہ دوسرے  دلائل میں  پیچیدگی اور عدم وضاحت کی وجہ سے  ان کو سمجھنا دشوار ہو سکتا ہے  اور اجتہاد محال۔  البتہ اس وجہ سے  اس کے  دوسرے  اجتہادات کی نفی نہیں  کی جا سکتی۔

مجتہد مطلق کے  لئے  لازم نہیں  ہے  کہ وہ ہر مسئلے  میں  اجتہاد کرے  بلکہ یہ جائز ہے  کہ وہ کسی اور مجتہد کی تقلید کرے، یہ امر صحابہ کرام ؓ کے  اجماع سے  ثابت ہے  سکہ ان میں  سے  بعض، چند مسائل میں، دوسروں  کی تقلید کیا کرتے  تھے، اس کے  باوجود کہ یہ تمام اپنے  اندر اجتہاد کی صلاحیت رکھتے  تھے۔  البتہ اگر مجتہد نے  اجتہاد کیا یعنی حکم مستنبط کر لیا، تو اس صورت میں  اس پر اپنے  اجتہاد کی پیروی لازم ہو گی اور اس کا ترک جائز نہ ہو گا سوائے  ان چار صورتوں  کے  :

 

1)  جب امام)(خلیفہ) احکام کی تبنی کرے، تو اس صورت میں  مجتہد کے  لئے  اپنے  اجتہاد کو چھوڑ کر امام کے  حکم پر عملکرنا واجب ہو گا کیونکہ شرعی قاعدہ ہے:أمر الإمام  یرفع الخلاف(امام کا حکم اختلاف کو ختم کرتا ہے)

 

2)  جب مجتہد کے  لئے  یہ بات ظاہر ہو جائے  کہ اس کی دلیل ضعیف ہے  اور دوسرے  مجتہد کی دلیل قوی ہے، تو اس صورت میں  اس کے  لئے  اپنے  اجتہاد کو ترک کرنا واجب ہو گا۔

 

3)اگر اسے  یہ گمان ہو کہ دوسرا مجتہد معلومات کو مربوط کرنے  میں، یا واقع یا دلیل کو سمجھنے  پر زیادہ عبور رکھتا ہے  یعنی اس کے  اجتہاد پر اسے  زیادہ اعتماد ہے، تو اس صور ت میں  اس کے  لئے  اپنے  اجتہاد کو ترک کرنا جائز ہو گا۔

 

4)  جب اپنے  اجتہاد کو چھوڑنے  سے  مسلمانوں  کی وحدت محفوظ رہ سکے۔  جیسا کہ حضرت عثمان ؓ نے  خلافت کے  منصب پر فائز ہوتے  وقت، اپنے  اجتہاد کو چھوڑنے  اور حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت عمرؓ کے  اجتہادات پر عمل کرنے  پر بیعت لی، تاکہ امت کی وحدت برقرار رہے۔

 

                   تقلید

 

تقلید کی تعریف

 

ھو العمل بقول الغیر من غیر حجۃ ملزمۃ

(بغیر کسی لازمی حجت کے   دوسرے  کے  قول پر عمل کرنا)۔

 

تقلید کے  دلائل

 

عقیدے  میں  تقلید ناجائز ہے  جیسا کہ کئی آیات میں  مذکور ہے، البتہ احکامِ شرعیہ میں  اس کا جواز مندرجہ ذیل نصوص سے  ثابت ہے  :

﴿فاسألوا أھل الذکر إن کنتم لا تعلمون ﴾21:7

(پس تم اہلِ ذکر سے  پوچھ لو اگر تمہیں  خود علم نہ ہو)

یہاں  یہ سوال اٹھ سکتا ہے  کہ آیت سے  مراد اہلِ کتاب ہیں، تو اس کا اطلاق مسلمانوں  پر کیسے  ہو سکتا ہے  ؟  اس کا جواب یہ ہے  کہ صحیح ہے  کہ یہ آیت اہلِ کتاب کے  بارے  میں  نازل ہوئی مگر قاعدہ ہے :العبرۃ    بعموم اللفظ لا بخصوص السبب) لفظ کے  عموم کا اعتبار ہو گا نہ شانِ نزول کی خصوصیت کا)۔  یہاں  أھل الذکر کے  عموم میں  مسلمان بھی شامل ہیں  کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے  :

﴿وأنزلنا إلیک الذکر لتبین للناس ما نزل إلیھم ﴾16:44

(یہ ذکر(قرآن) ہم نے  آپ کی طرف اتارا ہے  کہ لوگوں  کی جانبجو نازل فرمایا گیا ہے  آپ اسے  کھول کھول کر بیان کر دیں)

 

یہاں  اللہ تعالیٰ نے  قرآن کو’’ ذکر‘‘ سے  موسوم کیا ہے  چنانچہ یہاں  سے  مسلمانوں  کا ’’ اہلِ ذکر ‘‘ میں  سے  ہونا ثابت ہے۔  یہاں  یہ نہ کہا جائے  کہ آیت ایمان کے  بارے  وارد ہوئی ہے، تو اسے  احکام کے  موضوع میں  کیسے  استعمال کیا جا سکتا ہے  ؟  یہ اس لئے  کیونکہ آیت کا موضوع ایمان نہیں  بلکہ معرفت ہے  یعنی آیت میں  لاعلموں  کو اہلِ علم سے  پوچھنے  کو کہا گیا ہے  کیونکہ کلمہ فاسألوا)پوچھو) عام ہے  اور اس میں  احکام شرعیہ بھی شامل ہیں۔

 

نیز حضرت جابر ؓ سے  یہ روایت ہے  کہ ایک شخص جنابت کی حالت میں  تھا اور اس کے  سر پر چوٹ تھی، غسل کے  وقت اس نے  بعض صحابہ کرام ؓ سے  پوچھا کہ کیا اس پر کوئی رخصت ہے  جس پر انھوں  نے  انکار کیا( یعنی اسے  پورا غسل کرنا پڑے  گا)۔  اس غسل کے  بعد وہ ہلاک ہو گیا۔  اس پر رسول اللہ ﷺ نے  فرمایا:

’’  إنما کان یکفیہ أن یتیمم ویعصب علی رأسہ خرقۃ فیمسح علیھا ویغسلسائر جسدہ، ألا سألوا إذا لم یعلموا ؟ إنما شفاء العی السؤال ‘‘(أبو داود)

(ے  شک یہ کافی تھا کہ وہ تیمم کر لیتا اور سر پر ایک کپڑا باندھ کر اس پر مسح کر لیتااور باقی جسم کو دھو لیتا، انھوں  نے  پوچھا کیوں  نہیں  اگر(یہ) معلوم نہ تھا، بے  شک بیماری کا علاج پوچھنا ہے)

 

ان نصوص سے  مقلد کے  لئے  مجتہد کی تقلید کا جواز ثابت ہے۔  چونکہ وہ خود نصوص سے  حکم اخذ کرنے  سے  قاصر ہے، اس لئے  اس پر واجب ہے  کہ وہ کسی مجتہد کی تقلید کرے۔  یاد رہے  کہ تقلید سے  مراد کسی شخص کی ذاتی تقلید نہیں  بلکہ یہ حکم اللہ کی معرفت حاصل کرنے  کے  لئے  ہے، تاکہ وہ اس اخذ شدہ حکمِ شرعی پر عمل کر سکے۔  اگر کسی شخص کی ذاتی طور پر تقلید کی گئی تو یہ حرام ہے  کیونکہ مسلمان صرف اللہ کے  حکم کی پیروی کرتا ہے  نہ کسی انسان کی۔

تقلید اصل نہیں

 

مکلف کے  لئے  اصل یہ ہے  کہ وہ خود اللہ کے  حکم کو نصوص سے  مستنبط کرے  کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے  خطاب میں  ایک خاص گروہ یعنی فقط مجتہدین و علماء سے  مخاطب نہیں  بلکہ یہ خطاب ساری انسانیت کو ہے۔  چنانچہ مکلف کے لئے  تقلید اصل نہیں  کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿ولا تقف ما لیس لک بہ علم إن السمع والبصروالفؤاد کل أولئک کان عنہ مسؤولا﴾17:36

(جس بات کا تجھے  علم نہ ہو اس کی پیروی مت کر کیونکہ کان اور آنکھاور دل،ان میں  سے  ہر ایک سے  پوچھ گچھ کی جانے  والی ہے)

 

تقلید چونکہ بلا دلیل کے  ہوا کرتی ہے  اس لئے  اس سے  علم و یقین کا درجہ حاصل نہیں  ہو سکتا، یہ فقط دلیل سے  ممکن ہے۔  البتہ یہ دلیل مقلد کے  لئے  ملزمۃ)لازمی) نہیں  ہوتی، جیساکہ اجتہاد کے  ذریعے  مجتہد کے  لئے  ہوا کرتی ہے۔  پس جس نے  خطاب اللہ سنا اس پر لازم ہو گیا کہ وہ اس پر ایمان لائے  اور جو اس پر ایمان لایا اس پر احکام شرعیہ پر عمل کرنے  کے  لئے  ان کو نصوص سے  خود سمجھنا واجب ہو گیا۔  البتہ چونکہ اس خطاب کو صحیح سمجھنا ہر ایک کے  لئے  ممکن نہیں  ہے  اس لئے  تقلید فقط عاجزی و مجبوری کی وجہ سے  ناگزیر ہے۔

 

ایک مسئلے  میں  ایک ہی مجتہد کی تقلید

 

یاد رہے  کہ مقلد کے  لئے  یہ لازم ہے  کہ وہ ایک مسئلے  میں  ایک ہی مجتہد کی تقلید کرے  جب کہ اس کے  لئے  دوسرے  مسائل میں  کسی دوسرے  مجتہد کی تقلید جائز ہے۔  اس پر اجماعِ صحا بہؓ کی دلیل ہے۔  چنانچہ یہ لازمی نہیں  کہ تمام مسائل میں  ایک ہی مجتہد کی تقلید کی جائے، البتہ یہ ضروری ہے  کہ ایک مسئلہ میں  ایک ہی مجتہد کی تقلید ہو، ورنہ یہ گمان غالب رہے  گا کہ وہ اپنی خواہشات کی پیروی کرے  یعنی جو حکم اسے  آسان لگے  وہ اس کو اختیار کرے  اور یہ حرام ہے  کیونکہ اس صورت میں  اس نے  اللہ کے  حکم کی پیروی نہیں  کی بلکہ اپنی خواہش کی، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے  :

﴿فلا تتبعوا الھوی ﴾4:135

(پس اپنی خواہشات کی پیروی مت کرو)

 

مسئلہ کی تعریف

 

ھو کل فعل أو مجموعۃ أفعال لا یتوقف غیرھا فی صحتہ علیھا

(وہ ہر فعل یا افعال کا مجموعہ جس پر کسی اور(امر) کی صحت موقوف نہ ہو)۔

 

مثلاً وضو پر کسی اور امر کی صحت موقوف ہے  یعنی نماز کیونکہ یہ اس کا جز(شرط) ہے، اس لئے  یہ مسئلے  کی تعریف سے  خارج ہے، مگر چونکہ نماز پر کسی اور امر کی صحت موقوف نہیں  ہے، اس لئے  یہ ایک مسئلہ قرار پایا۔

 

مقلد کی اقسام

 

مقلد کی دو قسمیں  ہیں :عامی اور متبع۔

1)  عامی:  یہ وہ ہے  جو بغیر معتبر تشریعی علوم کی معرفت حاصل کیے  مجتہد کی بلا دلیل تقلید کرتا ہے، یعنی فقط فتو وں  پر اکتفاء اور عمل کرتا ہے۔  یہ صرف کسی مجتہد کے  عدل اور علم پر اعتماد کی بنیاد پر اس کی تقلید کرتا ہے۔

 

2)  متبع:یہ وہ ہے  جسے  بعض معتبر تشریعی علوم کی معرفت حاصل ہوتی ہے  لیکن اجتہاد کے  لئے  کافی نہیں  اور یہ مجتہد کی تقلید دلیل کی بنیاد پر کرتا ہے  یعنی جو کچھ دلیل سے  اس کے  سامنے  ظاہر ہوتا ہے۔  یہ دلیل پر اپنے  اعتماد کی بنیاد پر کسی مجتہد کی تقلید کرتا ہے۔

 

یہ بات ظاہر ہے  کہ متبع کو عامی پر فضیلت حاصل ہے  کیونکہ اتباع درجۂ  اجتہاد تک پہنچاتا ہے۔  اتباع میں  دلائل سے  گہری واقفیت ہونا ایمان کی پختگی کا باعث بنتا ہے  اور امت کی نشاۃِ ثانیہ کا وسیلہ بھی کیونکہ آگاہی و شعور کی بنیاد پر زندگی کے  تمام مسائل کو مبداء کی طرف واپس بھیجنے  اور اس پر عمل کرنے  ہی کا نام نشاۃِ ثانیہ ہے۔

 

 

 

ما حصل

 

اصولِ فقہ کی اس بحث کے  بعد، اجتہاد کی کیفیت و طریقۂ  کار(methodology) اور شریعتِ اسلامی کی عالمیت کا ادراک کیا جا سکتا ہے  اور اصولِ فقہ کی اہمیت کا بھی۔  عالمیت سے  یہ مراد ہے  کہ کس طرح شرعی نصوص خالص تشریعی نصوص ہیں، یعنی یہ مفصل ہونے  کے  باوجود اپنی نو ویت میں  عام ہیں  جس کی وجہ سے  ان سے، روزِ قیامت تک، بے  شمار اصول، قواعد، تعریفات، عام اور جزوی احکام اخذ کیے  جا سکتے  ہیں، جو انسان کی زندگی کے  تمام موجودہ اور آئندہ مسائل کا احاطہ کریں۔  شرعی نصوص کی یہی وسعت اور ان کی بے  شمار مسائل پر منطبق ہونے  کی اہلیت ہی شریعتِ اسلامی کی عالمیت کی سب سے  بڑی دلیل ہے۔  یہ نصوص فکر کے  لئے  انمول ہیں  اور ایک ایسی زرخیز زمین کی طرح ہیں، جو مجتہد کی فکری کاشت کے  لئے  بہترین ہیں۔  نیز فقط یہی شریعت انسان کے  مسائل کا صحیح حل پیش کرتی ہے  اور انشا اللہ تعالیٰ عنقریب خلافت کے  ذریعے  اس کا نفاذ اس امر پر گواہی دے گا۔

٭٭٭

تشکر: اردو ہوم ڈاٹ کام

پروف ریڈنگ اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید