FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

اسلام میں کھیل کود کی اہمیت

 

 

               ترجمہ: مبصرالرحمن قاسمی

 

 

 

 

               جائزو نا جائز کھیل کود

 

اسلام میں پاک اور با مقصد ورزش اور کھیل کود کو جائز قرار دیا گیا ہے ، بلکہ ایسی ورزش اور کھیلوں کی ترغیب دی گئی ہے ، نیز جسمانی اور غیرجسمانی قوت کے حصول کی دعوت بھی دی گئی ہے ، ارشاد باری تعالی ہے : تم ان کے مقابلے کے لئے اپنی طاقت بھر قوت کی تیاری کرو (سورہ انفال: 60)

اللہ تعالی نے اپنے نیک بندے طالوت کو بنی اسرائیل میں بادشاہ بنا کر مبعوث فرمایا تو انھیں علم کے ساتھ جسمانی قوت بھی عطا فرمائی، ارشاد ہے : اللہ تعالیٰ نے اسی کو تم پر برگزیدہ کیا ہے اور اسے علمی اور جسمانی برتری بھی عطا فرمائی ہے ۔ (سور ہ بقرہ: 247)

نبی کریمﷺ نے توانا وتندرست مومن کی تعریف فرمائی ہے : آپﷺ کا ارشاد گرامی ہے : کمزور مومن کے مقابلے طاقتور و توانا مومن بہترین ہے اور اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے ۔ (مسلم) حدیث میں ”قوت” سے جسمانی قوت کے ساتھ ساتھ ہمت، حوصلہ، شخصیت اور ارادہ بھی مراد ہے ۔ ۔ تاکہ اس کے ذریعے بندہ عبادات اور جہاد کے تقاضوں کو پورا کرسکے ۔

نبی کریمﷺ بذات خود بھی توانا اور قومی جسم کے مالک تھے ، کتب احادیث میں وارد ہے کہ آپﷺ نہ زیادہ لانبے تھے اور نہ زیادہ پست قد تھے ، ہتھیلیاں اور دونوں پاوں پر گوشت تھے ، اعضاء کے جوڑ کی ہڈیاں بھی بڑی تھیں، اسی طرح آپ کے دونوں مونڈھوں کے درمیان کی جگہ بھی موٹی اور پر گوشت تھی اور آپ کے ہاتھ اور قدم مبارک پر گوشت تھے ۔ (شمائل ترمذی)

دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا میں منعقد ہونے والے مردوں کے حسن و صحت کے مقابلوں میں جسم کے اجزاء میں مذکورہ خصوصیات ہی صحت مند و بہادر فرد کے انتخاب کا پیمائش شمار کی جاتی ہیں۔

اگر ہم اسلامی عبادات پر غور کریں تو اکثر عبادات جسمانی ورزش کی قسموں میں شمار ہوتی ہیں، نماز کے حرکات وسکنات ایک ایسی ورزش ہے ، جس سے جسم کے تمام اعضاء میں حرکت پیدا ہوتی ہے ، جس سے مفاصل کھلتے ہیں اور طبیعت میں نشاط پیدا ہوتا ہے ۔ روزہ بھی حفظان صحت اور جسمانی ورزش میں اہم رول ادا کرتا ہے ، اسی طرح حج عظیم عبادت کے ساتھ ساتھ ایک منظم ورزش کا سالانہ کیمپ ہے ، کعبۃ اللہ کا طواف، صفاء مروہ کی سعی، وقوف عرفہ اور پھر مزدلفہ اور وہاں سے منی کی طرف کوچ کرنا یہ سب ورزشی سرگرمیاں ہیں، جو جسم کو تقویت پہنچاتی ہے اور طبیعت میں نشاط پیدا کرتی ہیں، جسمانی ورزش کے ساتھ ساتھ یہ سب اعمال رب تعالیٰ کی قربت کا ذریعہ بھی ہے ۔ ابن قیم رحمہ اللہ نے ان اعمال میں مزید اضافہ کیا اور فرمایا کہ دوسروں کی حاجت روائی، بھائیوں سے ملاقات، بیماروں کی عیادت، جنازوں کے ساتھ جانا اور جمعہ ومسجد میں جماعت سے نماز ادا کرنے وغیرہ کے لیے چل کر جانا بھی عبادت کے ساتھ ساتھ جسمانی ورزش میں شامل ہے ۔

 

               تیر اندازی

 

نبی کریمﷺ اپنے صحابہ کو مختلف ورزشی سرگرمیوں میں شرکت کرنے کی ترغیب دیتے تھے ، آپ فرماتے تھے : “تیر اندازی کرو میں تمہارے ساتھ ہوں “(بخاری) اور ایک جگہ ارشاد ہے : “سنو! طاقت تیر اندازی ہے ، سنو! طاقت تیر اندازی ہے ، سنو! طاقت تیر اندازی ہے ۔ (رواہ مسلم) آپﷺ نے گھڑ سواری کی بھی ترغیب دی، صحیحین میں وارد ہے کہ آپﷺ نے گھوڑوں کے درمیان مقابلہ کروایا اور جیتنے والے کو انعام سے نوازا۔

 

               تیراکی

 

مکہ و مدینہ اور اس کے مضافات میں سمندر اور نہر نہ ہونے کے باوجود آپﷺ نے اپنے صحابہ کو تیراکی کی ترغیب دی۔ تیراکی ایک ایسا واحد کھیل ہے جو جسم کی ورزش کے لیے کھیلوں میں سب سے زیادہ مفید ہے ۔ تیراکی سے جسم کے تمام اعضاء کو تقویت حاصل ہوتی ہے ، اور اعصاب میں بالیدگی ہوتی ہے ، نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے : رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : اللہ تعالیٰ کی یاد سے تعلق نہ رکھنے والی ہر چیز لہو و لعب ہے ، سوائے چار چیزوں کے : (۱) آدمی کا اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا (۲) اپنے گھوڑے سدھانا (۳) دو نشانوں کے درمیان پیدل دوڑنا (۴) اور تیراکی سیکھنا سکھانا۔ (کنزالعمال ۱۵/۲۱۱، الجامع الصغیر۵/۲۳)

 

               نیزہ بازی

 

نیزہ زنی اور بھالا چلانا ایک مستحسن کھیل ہے ۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ میرے حجرے کے دروازہ پر کھڑے ہو گئے ۔ جب کہ کچھ حبشی نیزوں کے ساتھ مسجد کے باہر صحن میں نیزوں سے کھیل رہے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی چادر سے چھپا رہے تھے اور میں آپ کے کان اور کندھوں کے درمیان حبشیوں کو کھیلتے دیکھ رہی تھی۔ (صحیح بخاری مع الفتح)

 

               چہل قدمی

 

نبیﷺ ورزش کے طور پر چہل قدمی بھی کیا کرتے تھے ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آپﷺ کی چہل قدمی کے وصف کو بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ سے زیادہ تیز چہل قدمی کرتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا، ایسا لگتا تھا کہ زمین آپ کے لیے سمیٹ دی گئی ہو، اور جب ہم آپﷺ کے ہمراہ چلتے تو خوب مشقت اٹھانی پڑتی تھی، جبکہ آپﷺ پر چلنے میں مشقت کے اثرات دکھائی نہیں دیتے تھے ، آپﷺ نے مکہ سے طائف کا تقریباً 110 کلو میٹر کا فاصلہ پیدل طے کیا تھا۔

آپﷺ نے خود بھی صحابہ کے ساتھ کھیلوں اور ورزشی سرگرمیوں میں حصہ لیا، یہی وجہ ہے کہ اس زمانے میں تیر اندازی میں کئی صحابہ کو شہرت حاصل ہوئی، جن میں عم رسول اللہﷺ حضرت حمزہ اور حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہم کے نام سرفہرست ہیں۔

 

               دوڑ اور ریس

 

صحابہٴ کرامؓ عام طور پر دوڑ لگایا کرتے تھے اور ان میں آپس میں دوڑ کا مقابلہ بھی ہوا کرتا تھا۔ بلال بن سعدکہتے ہیں کہ میں نے صحابہ کرام کو دیکھا ہے کہ وہ نشانوں کے درمیان دوڑتے تھے اور بعض بعض سے دل لگی کرتے تھے ، ہنستے تھے ، ہاں ! جب رات آتی، تو عبادت میں مشغول ہو جاتے تھے ۔ (مشکوٰۃ ۴۰۷)

پیدل دوڑ میں مثالی شہرت رکھنے والے صحابی حضرت سلمہ بن الاکوعؓ کہتے ہیں : کہ ہم ایک سفر میں چلے جا رہے تھے ، ہمارے ساتھ ایک انصاری نوجوان بھی تھا، جو پیدل دوڑ میں کبھی کسی سے مات نہ کھاتا تھا، وہ راستہ میں کہنے لگا، ہے کوئی؟ جو مدینہ تک مجھ سے دوڑ میں مقابلہ کرے ، ہے کوئی دوڑ لگانے والا؟ سب نے اس سے کہا: تم نہ کسی شریف کی عزت کرتے ہو اور نہ کسی شریف آدمی سے ڈرتے ہو۔ وہ پلٹ کر کہنے لگا ہاں ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ مجھے کسی کی پرواہ نہیں۔ میں نے یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رکھتے ہوئے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے اجازت دیجیے کہ میں ان سے دوڑ لگاؤں۔ آپ نے فرمایا ٹھیک ہے ، اگر تم چاہو، چنانچہ میں نے ان سے مدینہ تک دوڑ لگائی اور جیت گیا۔ (صحیح مسلم)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا بیان ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ اور زبیر بن العوامؓ میں دوڑ کا مقابلہ ہوا۔ حضرت زبیر آگے نکل گئے ، تو فرمایا: رب کعبہ کی قسم میں جیت گیا۔ پھر کچھ عرصہ بعد دوبارہ دوڑ کا مقابلہ ہوا، تو حضرت فاروقؓ آگے نکل گئے ، تو انھوں نے وہی جملہ دہرایا: ربِ کعبہ کی قسم میں جیت گیا۔ (کنزالعمال ۱۵/۲۲۴)

 

               کُشتی اور کبڈی

 

اس کھیل میں ورزش کا بھرپور سامان ہے ۔ اگر ستر کی رعایت اور انہماک کے بغیر کھیلا جائے ، تو جائز ہو گا، بلکہ نیک مقصد کے لیے مستحسن قرار دیا جائے گا۔ عرب کا ایک مشہور پہلوان رُکانہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کشتی ٹھیرائی، تو آپ نے اس کو کشتی میں پچھاڑ دیا۔ (ابوداؤد فی المراسیل) مذکورہ تمام کھیل چوں کہ احادیث و آثار سے ثابت ہیں ، اس لیے ان کے جواز، بلکہ استحباب میں کوئی کلام نہیں ہوسکتا، اور کبڈی کا حکم بھی کشتی کی طرح ہے ۔

الغرض دین اسلام میں اسپورٹس اور ورزش کو بے پناہ اہمیت حاصل ہے اور اس کے ذریعے طاقت و قوت کے حصول پر زور دیا گیا ہے ، آپﷺ نے افراد امت میں صحت وجسمانی قوت کے حصول کے لیے مذکورہ کھیلوں کو ایک ذریعہ سمجھا، تاکہ امت، صحت اور جسمانی قوت کے ذریعے اپنا دفاع کرسکے اور اپنے آپ کی حفاظت کرسکے ۔

 

               موجودہ کھیلوں کی شرعی حیثیت

 

مستحب کھیل

 

تیر اندازی، تیراکی، گھڑ سواری اور دوڑ یہ سب کھیل مستحب کھیلوں میں شامل ہیں۔ اور یہ کھیل جہاد میں کارگر ثابت ہوتے ہیں۔

 

مکروہ کھیل

 

پرندوں سے کھیلنا مکروہ کھیل ہے ، اس طرح کے کھیل شریف النفس انسان کے لیے زیبا نہیں دیتے ، بسااوقات اس طرح کے کھیل حرام کے درجے تک پہنچ جاتے ہیں، امام احمد اور ابو داؤد نے نقل کیا ہے کہ آپﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو ایک کبوتر کا پیچھا کر رہا تھا، تو آپﷺ نے فرمایا: ایک شیطان ہے جو شیطان کا پیچھا کر رہا ہے ۔

اسی طرح ہر وہ بے فائدہ کھیل مکروہات میں شامل ہے ، جس میں وقت کا ضیاع ہے اور جس کی وجہ سے نماز اور عبادات میں غفلت پیدا ہوتی ہو۔

 

حرام کھیل

 

ہر وہ کھیل جس میں بازی لگائی گئی ہو کہ جیتنے والا ہارنے والے سے فلاں چیز لے گا۔ جسے ہم جوا اور سٹہ کہتے ہیں۔ آزادانہ کشتی، مکہ بازی (باکسنگ) مرغ کو آپس میں مقابلہ بازی پر آمادہ کرنا اور جانوروں کو ٹکر بازی پر اکسانا وغیرہ کھیل بھی حرام کھیلوں میں شامل ہے ، کیونکہ ان کھیلوں میں انسان اور حیوان کو نقصان پہنچتا ہے ۔ اگر باکسنگ اور کشتی میں جانبین کو کسی نقصان کا خدشہ نہ ہو تو پھر یہ دونوں کھیل مباح کھیلوں میں شامل ہے ۔ نبی کریمﷺ نے زمانے جاہلیت کے مشہور پہلوان رکانہ کے ساتھ کشتی لڑی اور آپﷺ اس پر غالب آئے ۔

بعض کھیل جائز ہیں لیکن کبھی جائز کھیل بھی کراہت اور حرمت کے درجے تک پہنچ جاتے ہیں، مثال کے طور پر شکار، کسی ضرورت اور مقصد کے تحت شکار کرنا جائز ہے ، لیکن اگر شکار کا مقصد صرف لہو و لعب ہو تو اس صورت میں شکار بھی مکروہات میں شامل ہے ، اور اگر شکار کے ذریعے لوگوں پر ظلم ہو رہا ہو، ان کے مال اور زراعت کو نقصان پہنچ رہا ہو تو پھر ایسا شکار حرام ہے ۔ نبیﷺ نے بے مقصد شکار سے خبردار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : کوئی شخص اگر کسی چڑیا یا اس سے ادنی چیز کو اس کے حق کے بغیر قتل کرے ، اللہ تعالی اس کے بارے میں سوال کریں گے ، دریافت کیا گیا اے اللہ کے رسول! اس کا حق کیا ہے ؟ فرمایا: اس کا حق یہ ہے کہ اسے ذبح کر کے کھایا جائے اور اس کے سر کو کانٹ کر پھینکا نہ جائے ۔ (رواہ النسائی، والحاکم وقال صحیح الاسناد ووافقہ الذہبی) ایک جگہ ارشاد ہے : جس نے کسی چڑیا کو بے فائدہ قتل کیا، وہ چڑیا کل قیامت کے روز اللہ تعالی سے مخاطب ہو کر کہے گی، اے میرے پروردگار!م فلاں نے مجھے بے مقصد قتل کیا اور مجھے قتل کر کے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔ (رواہ النسائی، و ابن حبان فی صحیحہ)

 

پیشہ ورانہ کھیل

 

یعنی ہر وہ کھیل جسے کوئی شخص کسب معاش اور روزی روٹی کے حصول کے لیے مستقل طور پر اور منظم انداز میں کھیلتا ہے ، اور کھیلنے پر ہی اس کی کمائی منحصر ہوتی ہے ۔ معاصر علماء کے اس سلسلے میں تین مختلف قول ہیں : اس طرح کے کھیل مطلق حرام ہے ، جائز لیکن مکروہ ہے اور تیسرا قول ہے چند شرائط و اصول کی بنیاد پر جائز ہے ۔

ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ہر وہ کھیل جو ظاہری و باطنی واجبات سے غافل کرے ، تو تمام علماء کے نزدیک ایسا کھیل حرام میں شامل ہے ، اسی طرح نماز کے علاوہ کسی واجب، جیسے اہل خانہ کی ضروریات، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، والدین کی اطاعت وحسن سلوک یا ولایت و امامت کی ذمہ داریوں سے غافل کرے ، یا اس کھیل سے کوئی حرام چیز متعلق ہو، ایسے تمام کھیل متفقہ طور پر حرام ہیں۔ (الذرائع: 1/85)

ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اگر کھیل اطاعت باری تعالی میں رکاوٹ کا سبب بنے ، نہ صرف کھیل بلکہ نوافل، تلاوت، ذکر اور قرآن کے معانی میں غور و تدبر کا عمل بھی فرائض کو عمداً ترک کرنے پر آمادہ کرے تو اس صورت میں یہ نیک اعمال بھی حرام کے دائرے میں شامل ہیں۔

 

               کھیل اور ورزش میں ذیل کے اصولوں کا خیال رکھا جائے

 

نیت

 

کھیل اور ورزش نیک نیتوں کی بنیاد پر ہوں، کیونکہ تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ۔ اگر بندہ مومن اچھی نیت سے ورزش اور کھیل کود کا عمل کرے تو ایسا عمل بھی باعث ثواب ہے ۔ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : مباح عمل میں بھی اگر اللہ کی رضا شامل ہو تو ایسا عمل اطاعت میں شامل ہو جاتا ہے ، اور اس پر صاحب عمل کو اجر و ثواب ملتا ہے ، نبی کریمﷺ نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: یہاں تک کہ تمہارا اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ رکھنا بھی صدقہ ہے ۔ (بخاری)

 

2- ستر

 

مرد اور عورت کے لیے شریعت کے متعین کردہ جسم کے مخصوص حصوں کو ایک دوسرے سے چھپانا ضروری ہے ، اسی طرح عورت کا مردوں سے پردہ کرنا ضروری ہے ، اللہ تعالی بھی پردے کو پسند فرماتے ہیں، لہذا عورت کو چاہیے کہ کھیل کے میدان یا ورزشی کے کلب میں بھی پردے کا اہتمام کرے ، اور اپنی خواہش کو رب تعالی کے حکم پر ترجیح نہ دے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : (مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں، اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں، سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں۔ اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیدہ زینت معلوم ہو جائے ، اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ )

 

3-دوستی و دشمنی کا معیار

 

کھیل کے مقابلوں اور کھلاڑیوں کی بنیاد پر دوستی و دشمنی کا معیار قائم نہ کیا جائے ، دوستی و دشمنی صرف اللہ کے لیے ہو، ارشاد باری تعالی ہے : مومن مرد و عورت آپس میں ایک دوسرے کے (مددگار و معاون اور) دوست ہیں۔ (توبہ: 71)

 

4-کھیل یا ورزش سے کوئی خطرہ لاحق نہ ہو

 

اگر کھیل سے کھیلنے والے کو یا کسی دیگر شخص کو کوئی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو تو ایسا کھیل ممنوع ہے ، کیونکہ کھیل کا مقصد بغیر ایذارسانی اور نقصان کے جسمانی ورزش کرنا ہے ، ارشاد باری تعالی ہے : اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔ (بقرہ: 195) اور آپﷺ کا ارشاد ہے : نہ کسی کو نقصان دو اور نہ ہی خود نقصان اٹھاؤ ۔ ( سنن ابن ماجہ، مستدرک حاکم)

 

5۔ کھیل میں مرد و زن کے اختلاط سے اجتناب

 

نبیﷺ کا ارشاد گرامی ہے : میرے بعد مردوں کے لیے سب سے خطرناک فتنہ عورتیں ہیں۔

 

6۔ حرام کمائی سے اجتناب

 

موجودہ دور کے اکثر کھیلوں میں جوا اور سٹہ عام ہے ، لہذا جس کھیل میں سٹہ بازی کی گئی ہو وہ کھیل، اس کے کھیلنے والے ، اور ناظرین سب حرام کام میں شریک ہوں گے ۔

 

7۔ انسان اور حیوانات کو تکلیف میں نہ ڈالنا

 

مثال کے طور پر نشانہ بازی، نیزہ بازی اور تیز اندازی کے دوران پرندوں کو مشق کے طور پر نشانہ بنانا، اسی طرح کھیل کے طور پر پرندوں یا جانوروں کو باہم ٹکر بازی کے لیے آمادہ کرنا، جیسے بیلوں کی کشتی کا کھیل وغیرہ۔

 

8۔ کھیل سے امت مسلمہ کا فائدہ مقصود ہو

 

کھیل سے امت کا مفاد وابستہ ہو، ورنہ ہر وہ کھیل جس سے امت کا کوئی مفاد وابستہ نہ ہو فائدے سے خالی ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : کیا تم یہ گمان کئے ہوئے ہو کہ ہم نے تمہیں یوں ہی بیکار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے ہی نہ جاؤ گے ۔ (مومنون: 115)

اور ارشاد باری تعالی ہے : ہم نے زمین اور آسمانوں اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ (دخان: 38)

 

9۔ لباس و پوشاک

 

لباس اور پوشاک کے سلسلے میں یہ ضروری ہے کہ کھلاڑی کھیل کے درمیان ایسا لباس پہنے ، جو ساتر ہو یعنی جسم کا وہ حصہ چھپ جائے ، جن کا چھپانا واجب ہے ، یعنی مرد کے لیے ناف سے لے کر گھٹنے تک اور عورت کے لیے ہتھیلی اور چہرہ کو چھوڑ کر پورا جسم ستر میں داخل ہے ، ان کا ڈھکا ہوا ہونا واجب ہے ۔ لباس اتنا باریک اور چست بھی نہ ہو کہ جسم کے اعضا نمایاں ہوں۔ اسی طرح اس لباس میں کفّار کے ساتھ ایسی مشابہت نہ ہو کہ اس لباس کو دیکھنے سے کوئی خاص قوم سمجھ میں آتی ہو۔ اور نہ اس لباس کا تعلق غیر اسلامی شعار سے ہو۔ مردوں کے لیے یہ بھی لازم ہے کہ وہ لباس ٹخنوں سے نیچے نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : جو شخص بھی ٹخنوں سے نیچے پاجامہ پہنے گا، اسے جہنم کی آگ میں جلنا پڑے گا۔ (بخاری: 5450)۔ ایک دوسری روایت میں ہے : کہ عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ کہتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو زعفرانی رنگ کا کپڑا پہنے دیکھا، تو آپ نے فرمایا : یہ کفار کا لباس ہے اس لیے اسے مت پہنو۔ (مسلم، مشکوٰۃ ۳۷۴) حضرت عبداللہ بن عمر بن خطابؓ سے منقول ہے :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کی اس کا تعلق اسی قوم کے ساتھ سمجھا جائے گا۔ (احمد، ابوداؤد، مشکوٰۃ ۳۷۴)

٭٭٭

ماخذ:

(الوعی الاسلامی کویت شمارہ: نومبر 2010)

http://www.wathakker.info/ur/articles/view.php?id=839

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید