FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

     اسلام اور اہلحدیث

 

شیخ الاسلام حضرت مولانا

                ثنا اللہ امرتسری

(رحمہ اللہ علیہ)

 

 

   اسلام کی مختصر تاریخ​

 

پہلے اس سے کہ ہم یہ بتا دیں کہ فرقہ بندی کس طرف سے ہے اسلام کی مختصرسی تاریخ بیان کر دینا مفید ہوگا۔

کچھ شک نہیں کہ اسلام کی تاریخ دنیا میں روشن ہے ، اس کے ابتدائی ، درمیانی اور آخری واقعات سب روشن ہیں ، اس کا سنہ ہجری ؁ ۱۳۳۵[1]ہجری ہے، مگر ابتداء کو ۱۳۴۸ سال ہوئے ہیں جب کہ مکہ معظمہ میں اس کی تعلیم بزبان ترجمان الہام حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاری ہوئی تھی تیرا سال قبلِ ہجرت کہ معظمہ میں گزارے، دس سال بعد ہجرت مدینہ میں رہے کل ۲۳ سال آپ کی نبوت کا آفتاب دنیا میں ظہور پذیر رہا اب سوال یہ ہے کہ اتنی مدت میں جو تعلیم آپﷺ نے دی اس کا کیا اثر ہوا؟ جواب صرف یہ ہے کہ جس پر کُل دنیا کی تاریخ متفق ہے کہ عرب تمام صاف ہو گیا جو مشرک ، کافر، ملحد اور زندیق تھے وہ سب خدا کے پرستاربن گئے، جو لٹیرے اور ڈاکو تھے، وہ مدبران سلطنت ہو کر تمدنی تعلیم میں دنیا کے استاد مانے گئے۔

اس پر دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نبی علیہ السلام نے اُن کو مذہبی احکام کا دستور العمل کوئی دیا تھا یا نہیں؟ اس کا جواب بھی بالکل صاف اور صحیح یہ ہے اور صرف یہی ہے کہ دیا تھا اور نہ دیا ہوتا تو وہ لوگ باوجود ضروریات کثیرہ کے تعمیل کیونکر کرتے؟

اب ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان میں دستور العمل کیا تھا؟

یعنی وہ احکام شرعیہ کہاں سے اخذ کرتے تھے؟ اس کا جواب بھی ایک اور صرف یہ ہے کہ احکام شرعیہ اخذ کرنے کا طریقہ ان میں یہ تھا کہ پہلے قرآن مجید کو دیکھتے، ساتھ ہی اس کے اگر کوئی روایت انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوتی یا کوئی فیصلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دیکھا یا سنا ہوتا تو اس کو بھی ملحوظ رکھ کر بطور سندِ شرعی کے پیش کرتے، چنانچہ سب سے پہلا اختلاف جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں پیدا ہوا وہ انتخاب خلیفہ پر تھا، انصارِ مدینہ یہ کہتے تھے کہ خلیفہ ہم میں سے ہوگا اس اختلاف کا فیصلہ یوں ہوا کہ مہاجرین کی طرف سے ایک حدیث پیش کی گئی جس کے الفاظ یہ تھے:

اَلاَئِمَّۃُ مِنَ القُرَیشِ​

خلیفہ قریش سے ہوں گے۔​

یہ حدیث پیش ہوتے ہی فیصلہ مہاجرین کے حق میں ہو گیا۔

دوسرا اختلاف وراثتِ نبی (علیہ السلام) کے متعلق ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں نے خلیفہ کے پاس دعویٰ پیش کیا کہ ہم کو آنحضرتﷺ کے ترکہ میں سے حصہ ملنا چاہیے جیسے دوسرے مسلمانوں کے وارث حصہ پاتے ہیں۔ خلیفہ کی طرف سے اس کا جواب نفی میں ملا تو اختلاف پیدا ہوا۔ آخر جب حدیث ِ نبویﷺ پیش ہوئی کہ خود آنحضرت ﷺ فرما گئے ہیں کہ:

“ہمارا مال ورثہ نہیں ہوگا بلکہ فی سبیل اللہ صدقہ ہوگا۔”​

تو نزاع ختم ہو گئی۔

تاریخ اسلام کا کسی اور واقعہ پر اتفاق ہو یا نہ مگر اس امر کا پورا اتفاق ہے کہ زمانہ رسالت میں صحابہ رضی اللہ عنہم کو جو بات پیش آتی اس کا فیصلہ آنحضرت ﷺ سے کرا لیتے اور بعد میں زمانہ نبوت زمانہ خلافت میں جو پیش آتی اس کے لیے احکام کی تلاش قرآن و حدیث میں کرتے یہ طریقہ مسلمانوں میں بہت عرصہ تک جاری رہا مگر ہم آسانی کے لیے فرض کر لیتے ہیں کہ تیس (۳۰) سال تک ایسا ہوتا رہا جو زمانہ خلافتِ راشدہ کا ہے۔

اب ایک سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی جملہ آبادی مین یعنی ابتدا سے آج تک جتنے طبقے بھی ہوئے ہیں ان میں بحیثیت دین اور بحیثیت دنیا اور بحیثیت اعلیٰ اخلاق اور بحیثیت جاہ و حشمت اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بحیثیت منظوری اور مقبولیتِ خدا کے کون طبقہ ممتاز رہا ہے؟

اس کا جواب بھی ایک اور صرف ایک ہی ہے کہ طبقہ سب سے اعلیٰ اور افضل تھا جو نبوت کی گود میں تربیت پاکر دوسروں کا رہنما بنا رضی اللہ عنہم پس اب مطلع بالکل صاف ہے، کہ جو طریقہ اور برتاؤ ان لوگوں کا تھا بس وہی دینِ الٰہی اور منظور ِ مصطفائی تھا۔ دگر ہیچ ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[1]: اس سنہ میں حضرت مرحوم نے یہ مقالہ لکھا تھا۔

 

 

 

   طبقہ اُولیٰ میں فرقہ بندی نہیں تھی​

 

اب سوال یہ ہے کہ اس طبقہ میں فرقہ بندیاں تھیں؟ کیا کوئی شیعہ تھا؟ کوئی حنفی تھا؟ شافعی کہلاتا تھا؟ مالکی تھا؟ یا حنبلی تھا؟ اس کا جواب ان بزرگوں کی تاریخِ ولادت سے مل سکتا ہے جن کی طرف یہ فرقے منسوب ہیں سب سے بڑی عمر کے امام ان میں ابو حنیفہ صاحب(رحمہ اللہ علیہ) ہیں جو ؁ ۸۰ ھ میں پیدا ہوئے اور ان کے پندرہ سال بعد امام مالکؒ پیدا ہوئے ان کے بعد امام احمدؒ اور امام شافعیؒ پیدا ہوئے ۔ گو امام ابو حنیفہؒ اور امام مالکؒ کی پیدائش پہلی صدی ہجری میں ہے، مگر بہ حیثیت ایک عالم، مفتی اور مجتہد کے وہ دوسری صدی میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ طبقہ اولیٰ (زمانہ صحابہؓ) میں ان چاروں فرقوں کا نام نہ تھا، کیوں کہ جن اماموں کی طرف ان فرقوں کی نسبت ہے وہی نہ تھے تو فرقہ کہاں؟ پس ان فرقوں کی بابت اس سوال کا جواب اسلامی تاریخ یہی دیتی ہے کہ طبقہ اولیٰ میں صرف سیدھے سادھے مسلمان تھے جن کا دستور العمل قرآن اور اقوال نبی علیہ السلام تھا اور بس اس کے سوا اور کوئی فرقہ نہ تھا نہ فرقہ بندی۔

اب ہم آج کل کی فرقہ بندیوں کی ذرا کیفیت سنا کر فیصلہ ناظرین کی رائے پر چھوڑتے ہیں سب سے بڑا شگاف جو اسلام کے قلعے میں سب سے پہلے آیا وہ شیعہ سُنّی کا اختلاف تھا اس شگاف کی بنا صرف یہ ہے کہ شیعہ کہتے ہیں کہ:

“خلافتِ اول حضرت علیؓ کا حق تھا اور وراثت حضرت فاطمہؓ کا۔”

سُنّی اس سے منکر ہیں۔

چونکہ ہمارے مضمون کا روئے سخن تاریخ پہلو سے ہے، اس لئے ہم اس میں مذہبی دلائل سے بحث کرنا نہیں چاہتے صرف تاریخی پہلو سے اتنا پوچھتے ہیں کہ طبقہ اولیٰ میں جو اسلام اور اہلِ اسلام کا اعلیٰ نمونہ تھا یہ اختلاف تھا؟ یا اس اختلاف کا کوئی اثر تھا؟ تاریخ جواب دیتی ہے کہ کوئی نہیں حضرت ابوبکر صدیق ؓ خلیفہ ہوئے، سب نے اطاعت کی حضرت عمر ؓ خلیفہ ہوئے سب نے اطاعت کی حضرت عثمانؓ خلیفہ ہوئے، سب نے اطاعت کی ، حضرت علیؓ خلیفہ ہوئے تو وہ بھی خلیفہ برحق مانے گئے۔

بہر حال اس اختلاف کا اثر ہم اس زمانہ میں کچھ نہیں دیکھتے گو پہلے حضرت علیؓ خلیفہ نہ تھے تاہم خلافت کے کاموں میں برابر دخیل تھے باب عالی کے رکن تھے ، عہدہ وار تھے، مشیرِ کار تھے خلافت سے جو خدمت سپرد ہوتی تھی بجا لاتے تھے غرض جہاں تک ظاہری علامات رہنما ہوسکتی ہیں ہمیں ان کے اعمال و اطوار میں کسی قسم کا شبہ نہیں ہوسکتا۔

علی ہذا القیاس تقسیمِ وراثت کا مسئلہ بھی اس طبے میں ہم کو کسی طرح باعِث تفریق معلوم نہیں ہوتا یہاں تک کہ کوئی اس کا تذکرہ بھی نہیں کرتا تھا جب اس پاک زمانہ میں اس کا کوئی اثر نہ تھا تو اب اس کو ایسا بنا کر تفریق کرنے والا فرقہ بندی کے الزام سے کیوں ملزم نہ ہوگا۔

 

   فرقہ بندیوں نے اسلام کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا​

 

اس فیصلہ کے بعد اب ہم دیگر فرقہ بندیوں پر توجہ کرتے ہیں جس نے اسلام کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔

اسلامی تاریخ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسامی فرقوں کی بڑی لائنیں دو ہیں جن کو شیعہ سُنّی کے اختلاف نے پیدا کیا ہے پھر ان لائنوں میں برانچ لائنیں بھی ہیں۔ ان پر غور کرنے سے جو فریق سوردِ الزام ہوگا ہمیں اس کے ملزم بنانے میں تامل نہ ہونا چاہیے ان فرقوں سے مراد حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی مذہب ہیں جن کو رجسٹرڈ بتانے کے لیے یہ کہا جاتا ہے کہ مکہ معظمہ میں کعبہ شریف کے ارد گرد بھی چار[1] مصلے ہیں اس لئے اس اختلاف میں فیصلہ کرنے کے لیے ان مذاہب کی تعریف اور وجہ تفریق بیان کرنا ضروری ہے۔

اس میں شک نہیں کہ ان مذاہب کے اصل الاصول وہی ہیں جو زمانہ صحابہؓ میں تھے ۔ یعنی یہ چاروں مذاہب قرآن و حدیث کو دستور العمل جانتے ہیں بحمد للہ اس میں کوئی اختلاف نہیں مگر اک بات ایسی پیدا ہو گئی ہے جس سے یہ سارا اختلاف پیدا ہو گیا ، وہ یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک نے یہ اصول مقرر کر رکھا ہے کہ جو کچھ ہمارے امام نے جس کے ہم مقلّد ہیں سمجھا اور کسی مسئلہ کے متعلق حکم دیا ، بس ہمارے لیے وہی کافی ہے، نہ ہم اپنی سمجھ کو دخل دیں اور نہ کسی دوسرے امام کی سنیں ۔ دوسرا بھی یہی کہتا ہے اور تیسرا بھی یہی علی ہذا القیاس چوتھا بھی یہی۔

اختلاف کو بھی ہم مذہبی دلائل سے چھونا نہیں چاہتے ، کیونکہ مذہبی دلائل میں طول ہو جاتا ہے ، بلکہ تاریخی شہادت سے صرف اتنا پوچھتے ہیں کہ طبقہ اولیٰ میں یہ طریق تھا؟ کسی خاص شخص کو یہ منصب تھا کہ باقی اس کے فہم اور رائے کے آگے سرجھکائیں جہاں تک اسلامی تاریخ شہادت دیتی ہے اس کا جواب نفی میں ملتا ہے اگر یہ منصب کسی کو ہوتا تو خلیفہ وقت کو ہوتا حالانکہ اس کو بھی نہ تھا بعض وقت ایک بڑھیا عورت بھی خلیفہ کے حکم کو رد کر دیتی تھی، جس کے جواب میں خلیفہ کو ماننا پڑتا تھا کہ یہ عورت سچ کہتی ہے مولانا حالی مرحوم نے اسی حکم کی طرف اشارہ کیا ہے۔

غلاموں سے ہو جاتے تھے بند آقا

خلیفوں سے لڑتی تھی اک ایک بڑھیا​

جب اس زمانہ میں یہ بندش نہ ہوئی کہ کسی ایک رائے اور فہم کے باقی لوگ پابند ہو جائیں تو پیچھے کیوں ایسا کیا جائے جس سے تفرقہ پیدا ہو ہاں اختلافِ فہم چونکہ قدرتی ہے، اس لیے عالم کو کسی امام سے اتفاق رائے ہو جائے تو بیشک وہاس سے اتفاق رائے کا اظہار کرے مگر ایسے طور سے کہ فرقہ ندی تک نوبت نہ پہنچے۔

ہماری اس تقریر سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں جو فرقہ بندیاں ہو رہی ہیں طبقہ اولیٰ یعنی سلف صالحین کی روش چھوڑنے سے ہوئی ہیں ورنہ اگر مسلمان اب بھی اس بات پر متفق ہو جائیں کہ طبقہ اُولیٰ کی طرح اپنا دستور العمل قرآن و حدیث کو بنا لیں، نہ کوئی نئی روش نکالیں نہ کسی کی طرف اپنی نسبت جدید پیدا کریں تو فرقہ بندیاں دور ہو سکتی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[1]: زمانہ نبوت کے آٹھ سو برس بعد جب چاروں مذاہب والوں میں امامت اور اقتدار کے بارے میں زیادہ اختلاف اور جھگڑے واقع ہونے لگے ، تو رفع فساد کے لیے حاکمِ وقت نے نویں صدی ہجری میں الگ الگ چار مصلے بنا دیے، پس ان مصلوں کی حقیقت یہ ہے۔

 

 

 

   قابل ِ غور بات​

 

فرقہ بندی کسی اصولی اختلاف سے ہوتی ہے اگر اصول ایک ہے اور باوجود وحدتِ اصولی کی صرف فہم کا اختلاف ہے تو فرقہ بندی نہیں ہے، ورنہ اس طرح تو ہر ایک مذہب کے علماء میں اختلاف رائے موجود ہے مثلاً علمائے حنفیہ موجودہ اور سابقہ متقدمین اور متاخرین بلکہ معاصرین وغیرہ سب میں اختلاف نظر آتا ہے تو کیا یہ مختلف فرقے ہیں؟ کیا کوئی کہے گا کہ امام ابو حنیفہ حنفیہ میں علماء دیوبند کا مذہب اور ہے اور علمائے بریلی ، بدایوں وغیرہ کا اور ؟ نہیں بلکہ سب کے سب حنفی ہیں حالانکہ اختلاف موجود ہے۔

پس کسی جماعت کو دوسری جماعت سے فرقہ کی حیثیت سے الگ سمجھنا اس بات پر موقف ہے کہ ان میں اصولی اختلاف ہوں پس جس فرقہ کے اصول طبقہ اُولیٰ کے اصول مذہبی سے جُلتے بلکہ وہی ہوں گے تو وہ فرقہ جدید اور فرقہ بند نہ کہا جائے گا اور جس فرقہ کے اصول جدید ہوں گے وہی فرقہ جدید اور فرقہ بندی کے الزام سے ملزم ہوگا۔

اب ہمارے سامنے چاروں مذاہب حنفی، شافعی، حنبلی، اور مالکی موجود ہیں ان سب کا اصول ہے کہ قرآن و حدیث بغیر توسط ِ امام مجتہد کے عمل کرنا جائز نہیں اس لیے یہ فرقے اپنے اپنے اماموں کے مقلّد کہلاتے ہیں برخلاف اس کے اہلِ حدیث اس بات کے قائل نہیں وہ کہتے ہیں یہ شرط طبقہ اُولیٰ میں نہ تھی ہم طبقہ اُولیٰ کی روش سے ایک انچ بھی اِدھر اُدھر نہ ہٹیں گے۔

جملہ عالم اک طرف آں شوخِ رعنا اک طرف​

 

 

 

 

   ایک اعتراض کا دفعیّہ​

 

اب ایک سوال یہ ہے کہ دوسرے فرقوں کی طرح اہلحدیث بھی تو ایک فرقہ ہے، اس سے بھی تو فرقہ بندی پیدا ہوتی ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اہلِ حدیث بحیثیت نام کے ایک فرقہ کہا جائے تو اور بات ہے مگر اصول اور عمل کی حیثیت سے یہ کوئی فرقہ بندی نہیں بلکہ وہی ایک گروہ ہے جو تعلیمِ نبوت سے پیدا ہوا تھا جس کی روش ہم بتلا آئے ہیں کہ قرآن و حدیث پر عمل کرنے کی تھی، نہ اس فرقے نے اپنے دستور العمل میں کوئی اضافہ کیا نہ سلف صالحین کی روش سے علیحدگی کی بلکہ بعینہ اسی طرح قرآن و حدیث یا یوں کہیے کہ قرآن اور طریقہ نبی علیہ السلام کو صحابہؓ کی روش پر محفوظ رکھا۔

رہا نام کا سوال کہ اہل حدیث نام کیوں رکھا گیا جب کہ طبقہ اولیٰ نے یہ نام اپنا نہ رکھا۔

تو اس کا جواب بہت آسان ہے کہ اہل حدیث کی اصلیت بتلانے کو عملی طریق کا یہ نام ہے، دوسرے فرقوں نے اپنی نسبت اپنے اماموں کی طرف کر کے حنفی اور شافعی وغیرہ القاب اختیار کیے چونکہ اس فرقہ کی نسبت کسی غیر کی طرف نہ تھی بلکہ طبقہ اُولیٰ کی طرح صرف نبی (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی طرف تھی اس لیے اس نے اپنے طریق عمل کے مطابق اپنا لقب اہلحدیث رکھا جو اس کے طریق عمل کے لحاظ سے بہت موزوں ہے ورنہ اس کا اصول دین جو بنیاد مذہب ہے وہی ہے جو طبقہ اولیٰ کے مسلمانوں کا تھا ۔ یعنی قرآن و حدیث بطریق سلف صالحین۔

اہل حدیث لقب کے یہ معنی ہیں کہ:

“احادیثِ رسولﷺ پر عمل کرنے والے۔”​

یہی معنی ہیں۔۔۔۔۔۔ ع

“کسی کا ہو رہے کوئی نبی کے ہو رہے ہیں ہم”​

٭٭٭

کمپوزنگ: ابوبکر السلفی

ماخذ: اردو مجلس فورم

http://www.urdumajlis.net/threads/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%DA%BE%D9%84-%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AB%D8%8C-%D8%A7%D8%B2-%D8%B4%DB%8C%D8%AE-%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA-%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7-%D8%AB%D9%86%D8%A7-%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%D8%A7%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%B3%D8%B1%DB%8C-%D8%B1%D8%AD%D9%85%DB%81-%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81.18657/

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید