FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

 

 

فہرست مضامین

اُجالوں کا سفر

 

 

               ذوالفقار نقویؔ

 

 

 

 

 

 

اُجالوں کی سودا گری کا چلن ہے

اندھیروں کو اپنے کہاں بیچ  آئیں

 

اُجالے پھر اڑانیں بھر رہے ہیں

کوئی خورشید ٹوٹا ہے کہیں پر

 

 

 

شاعر:  سید ذوالفقار علی شاہ

قلمی نام:  ذوالفقار نقویؔ

آبائی گاؤں:  گورسائی، تحصیل :  مینڈر

سکونت:  نزد عسکری امام بارگاہ،  مینڈر۔ ضلع :  پونچھ، ریاست جموں و کشمیر، ہند

پیشہ:لیکچرار شعبۂ  انگریزی۔ محکمہ تعلیم، جموں و کشمیر

فون:09419250361 & 09797580748

ای میل:            zulfiqar.naqvi72@gmail.com

 

 

 

 

انتساب

 

میرے بچوں …………….

سیدمنا ن حیدر

فرح نقوی

اور

خرم عباس

 

کے نام

 

 

 

 

 

 

 تشکیک سے یقین کا سفر

 

 

ذوالفقار نقوی کا دوسرا مجموعۂ  کلام ’’اُجالوں کا سفر‘‘ یقیناً اُجالوں کا سفر ہے کیونکہ اِس میں شامل شاعری ہمیں تشکیک کے بجائے یقین کی جانب لے جاتی ہے۔ اور یہی سبب ہے کہ ملک میں شائع ہونے والے بے شمار مجموعہ ہائے کلام کی بھیڑ میں یہ مجموعۂ کلام نمایاں حیثیت کا حاملِ ہے۔

گذشتہ چند برسوں سے ذوالفقار نقوی کا کلام ملک کے معیاری رسائل و جرائد میں اہتمام کے ساتھ شائع ہو رہا ہے اور وہ نئی نسل کے ممتاز شاعر کی حیثیت سے اُبھر کر سامنے آئے ہیں۔ سادگی اور معصومیت ان کی شخصیت کی خاص خوبی ہے جس کا عکس ان کی شاعری پر نمایاں ہے۔ وہ ایک قادر الکلام شاعر ہیں، اس لئے وہ کسی کاوش کے بغیر اچھا شعر بنانے میں قدرت رکھتے ہیں اور جب چاہتے ہیں بہ آسانی قرآنی آیات اور اقوال کو نظم کر دیتے ہیں۔ ایک اچھے سیدھے سادے انسان اور سچے مسلمان کی طرح وہ تشکیک کے بجائے یقین کے ذریعہ اپنی شاعری کا تانا بانا بنتے ہیں اور اسی کو سرمایۂ حیات بھی سمجھتے ہیں۔ ذوالفقار نقوی محض برائے شعر گفتن شاعری نہیں کرتے بلکہ ان کے اکثر اشعار میں اخلاقیات کا درس اور کوئی نہ کوئی پیغام ضرور ہوتا ہے۔

 

رُک ذرا پڑھ کلمۂ لا تقنطوا

خود بہ خود روزن کھلیں گے درمیاں

 

کھوجتا ہے اَن گنت مسجود میں

قل ھو اللہ اَحد کا سائباں

 

حوصلوں کے پھر سے پر اُگ آئیں گے

عزم محکم کو بنا لے سائباں

 

ذوالفقار نقوی نے اپنی شاعری میں سیاسی موضوعات کو برتنے اور حالاتِ حاضرہ پر شعر کہنے سے گریز کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے باوجود عمومی سیاسی صورت حال اور اس صورت حال میں قومی رہنماؤں کے کردار پر طنز و طعن کی جو روایت ہماری شاعری میں رہی ہے، اُس روایت پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے بڑے سلیقے سے اور بہت ہی لطیف انداز میں طنز کے نشتر لگائے ہیں۔

 

جس کے ہاتھوں میں کشتی کی پتوار ہے

اُس کے خود ڈوبنے کی ہیں تیاریاں

۔۔۔

بانٹ کر میرا لہو اپنی اَنا کی خاطر

شام اک، نام کی میری بھی منا لی اس نے

۔۔۔

ہم  تھے  خوشبو  کے   خریدار،  مگر  کیا  معلوم

سرخ  پھولوں نے یہاں سانپ بھی پالے ہوں گے

۔۔۔

رہنمائے  قوم  تھا  تُو  پیٹ پر پتھر لئے

مفلس و نادار کا اب خون بھی کھانے لگا

۔۔۔

جس کے ہر پودے کو سینچا خون سے اجداد نے

اُس  چمن  کی  آج تُو ہر شاخ کٹوانے لگا

 

ذو الفقار نقوی کی شاعری کی لفظیات اور اس کا Frame work کچھ اس طرح کا ہے کہ ہمارا ذہن کلاسیکیت کی طرف لے جاتا ہے مگر اپنی بنت اور موضوعات کے سبب یہ شاعری اپنے عصری تقاضوں کو بھی پورا کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ان کے اپنے کچھ درد ہیں اور کچھ ایسی اقدار ہیں جن کے پامال ہونے کا انہیں خوف ہے۔

پرانے رنگ میں اشک غم تازہ ملاتا ہوں

در و دیوار پر کچھ عکس نادیدہ سجاتا ہوں

 

اصولوں کا کسی ظالم سے یوں سودا نہ ہو جائے

ہمارے ہاتھ سے انسانیت رسوا نہ ہو جائے

 

پرانی روایتوں کے امین اور بڑا خاندانی پس منظر رکھنے والوں کے اپنے مسائل ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی اپنے عصر میں کوئی جگہ نہیں ہوتی،سو وہ اپنے ماضی میں جینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ ان کا یہ عمل ایک سعیٔ لاحاصل کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ ماضی میں رہ کر مستقبل کے خواب دیکھنے کی یہ بیماری ذو الفقار نقوی کو بھی ہے۔ جس کا پر تو کارِ بے کاری کی صورت میں ان کی شاعری پر صاف دکھائی دیتا ہے۔

 

ریگ زاروں میں گھر بناتا ہوں

بس یہی کاروبار ہے اپنا

۔۔

عمر بھر تعمیر میں کرتا رہا

بن نہ پائے ریت کے دیوار  و  در

۔۔

رات دن بنتا ہوں ایسے خواب  میں

زلزلے تعبیر جن کی،اَلحذر

 

ذوالفقار نقوی خوب سے خوب تر کی راہ پر گامزن ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ ’’ اُجالوں کے سفر‘‘ کا اگلا پڑاؤ مزید پختگی کا نمونہ ثابت ہو گا۔

ڈاکٹر مہتاب حیدر نقوی

شعبۂ اردو

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،علی گڑھ۔

 

 

 

 

اُجالوں کا سفر   :   ایک تأثراتی جائزہ

 

ذوالفقار نقویؔ موضع گورسائی، تحصیل مینڈر، ضلع پونچھ کے سادات خانوادے کے چشم و چراغ ہیں۔ آزادی کے بعد پروان چڑھنے والی ساداتِ گورسائی کی نئی نسل علمی، ادبی اور دینی اعتبار سے انفرادیت کی حامل ہے۔ دینی گھرانے میں آنکھ کھولنے کی وجہ سے قرآن، فقہِ اسلامی اور تاریخِ اسلام کے صحیح تناظر میں مطالعے نے جواں سال ذوالفقار نقویؔ کو فکرِ  فلک رس اور ذہنِ  رسا بخشا۔شاعری سے نقویؔ صاحب کا شغف بھی ایک خاص پسِ منظر کا حامل ہے۔ مسلکی اعتبار سے نقوی مولائی ہیں اور اہلِ  بیتِ  اطہار سے مودت کو حرزِ جاں بنائے ہوئے ہیں۔ضلع پونچھ میں بالعموم اور گورسائی مینڈر میں بالخصوص نئی نسل دینی اور مسلکی مجالس کو اپنی تربیت گاہ کے طور سنجیدگی سے لیتی رہی ہے۔ اِن مجالس میں علمائے دین اور شعرائے اہل بیت تشریف لاتے رہے اور اپنے موعظات کے علاوہ معیاری شاعری میں آئمہ معصومین ؑ اور شہدائے کربلا کو خراج  پیش کرتے رہے۔ یہ کہنا بجا ہو گا کہ نقوی صاحب نے اِن شعراء کے کلام سے تحریک پائی اور یوں اِن کا شعری سفر شروع ہوا۔ چونکہ نقوی صاحب پیدائشی طور پر ایک ذہین اور فطین شخص ہیں۔ اِس لئے انہوں نے جلد اپنی شاعرانہ عظمت منوا لی۔

ان کا پہلا مجموعہ ’’زادِ  سفر ‘‘کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ اور اب یہ دوسرا مجموعۂ  کلام موسوم  ’’اُجالوں کا سفر‘‘ حاضر ہے۔ پہلے اور دوسرے مجموعے میں مقصدیت کی مماثلت عیاں ہے۔ زادِ  سفر اُجالوں سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے اور وہ بھی تب جب فرد سے سماج تک سبھی اندھیروں کے مسافر بنے ہوئے ہوں۔ اُجالوں کے سفر کی جانب مراجعت اور رغبت گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نجات کا موجب بن سکتی ہے۔ اس لئے نقوی  صاحب بجا فرماتے ہیں کہ

 

اُجالوں کی سودا گری کا چلن ہے

اندھیروں کو اپنے کہاں بیچ آئیں

اور پھر۔۔۔۔

اُجالے پھر اڑانیں بھر رہے ہیں

کوئی خورشید ٹوٹا ہے کہیں پر

 

نقوی صاحب کا کلام سوزِ  جگر کا واضع  پہلو لئے ہوئے  ہے۔ وہ دعائیہ کلمات میں ہی اپنی  مرادوں کی منزل کی نشاندہی کر جاتے ہیں

کر عطا پاک سخن، پاک نظر، دل طاہر

میرے احساس کی دنیا کو مدینہ دے دے

 

غزل کا کینواس اب اتنا وسیع ہے کہ اس کی تنگنائی کے شکوے کے دن لد گئے ہیں۔ اب شاعر کوٹھے سے اترتا اور مے کے مٹکے سے نکلتا، بلکہ وہ محبت کے فطری جذبے سے بھی یہ کہہ کر بغاوت کرتا ہے کہ۔۔۔

اور  بھی  غم  ہیں  زمانے  میں  محبت  کے سوا

اور یوں وہ کوئے یارسے سوئے دار چل نکلتا ہے۔ لیکن اِس کے باوجود غزل میں نقویؔ صاحب کی یہ منظر کشی دل موہ لیتی ہے۔

دھنک کے ساتھ اک کالی گھٹا ہے

حنائی  ہاتھ  زلفِ   عنبریں  پر

یا جیسے یہی بات بقولِ  کسے

ترے  دو  شوخ  اور  گستاخ گیسو

رخِ  روشن کے بوسے لے رہے ہیں

۔۔۔

حنائی  ہاتھ  آنچل  سے  نکل کر

انہیں آدابِ  محفل دے رہے ہیں

لیکن نقویؔ صاحب کا شعر اپنے شعری اسلوب کے اعتبار سے زیادہ دلنشیں ہے۔

غزل کو نقویؔ کس پیرائے، کس رنگ، کس آہنگ اور جذبوں کے کس اخلاص کا جامہ پہناتے ہیں، ملاحظہ ہو۔

زیرِ بامِ  گنبدِ خضرا اَذاں

وہ بلالی صوت وہ سامع کہاں

 

بت  تراشی  چار  سو ہے جلوہ گر

دے گئی سب کی جبینوں کو نشاں

اِس طرح ’’ اُجالوں کے سفر ‘‘ کا ایک ایک شعر استعاراتی اور تشبیہاتی اصلاحوں میں معنوں کا  دفتر لئے ہوئے ہے۔

ذوالفقار نقویؔ حسنِ  دلربا اور حسنِ  توبہ شکن کو مہمان بنانے سے لاحول پڑھتے ہیں۔

کیسا ہے ترا حسنِ  پشیماں، لا حول

پھر کفر ہوا آج ہے مہماں، لا حول

 

تو محوِ طرب، رقص کناں، میں فریاد

سب حلقۂ احباب پریشاں، لاحول

پھر زندگی کو پھولوں کی سیج نہیں، کانٹوں کا تاج مان کر بھی جئے جانے کی ہمت و حوصلہ، اللہ رے یہ استقلال و استقامت کہ۔۔

زندگی میں حزن و غم کے آئے کتنے کوہسار

عزم و استقلال میرے نے مگر مانی نہ ہار

امتدادِ  زمانہ، پر آشوب دور کے صدمات کا اظہار کچھ یوں کرتے ہیں۔

جبر  و  استبداد  کی  پوچھو  نہ  مجھ  سے   داستاں

پا بہ  جولاں ہوں، مرے ہاتھوں میں کڑیاں بے شمار

دور ِ  حاضر کے واعظ، مفتی و مُلّا کو حق بات کہہ کر یوں آئینہ دکھاتے ہیں۔

تقریر  میں  ماہر  ہے  تو  اے  حضرت ِ  واعظ

جذبات   پر   ایمان   کا   قبضہ   نہیں   ہوتا

مُلاّ  ہیں  تری  جیب  میں   اے  حاکمِ  دوراں

اِس   دور   میں   فتویٰ  کوئی  مہنگا  نہیں ہوتا

شاعر اپنے ماحول کا ترجمان ہے۔اپنے گردو پیش پر حکیمانہ نگاہ رکھتا ہے۔ حادثات سے اثر لیتا ہے۔ اور پھر وہی تجربہ اپنے اشعار کے ذریعہ لوٹاتا ہے۔ ذوالفقار نقوی کی حساس طبیعت اور غائر نظر اپنے دور کی ترجمانی کرتے ہوئے آپ بیتی اور جگ بیتی دونوں کا حق ادا کرتی ہے۔

نقوی صاحب اپنی خود داری پر کوئی سمجھوتا کرنے کے حق میں نہیں اور اس سودے میں سود و زیاں سے یہ کہہ کر دامن جھاڑ لیتے ہیں کہ   ؎

 

آتا  ہو  جس  سے  حرف  تری  آن  بان  پر

بہتر  ہے   خاک  ڈالئے  ایسی    اڑان    پر

نقوی صاحب نے غزل کو نئی جہت بخشی ہے۔ جس کی اثر آفرینی، جس کی کسک، دل میں اُترنے والے اور رگ و پے کو چھونے والے اثرات کا کام کر جاتی ہے۔

کو  بہ  کو  صحرا  بہ  صحرا  ہم  سفر تھا اضطراب

اک  نیا  محشر،  نیا  اک  حادثہ  ہونا  ہی  تھا

شاعر ی کے لئے علمِ  عروض کی بحروں کی غلامی لازمی ہے اور نقادانِ  فن اِس میں کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں۔لیکن اگر شاعری الہام ہے اور اگر شاعری جذبوں کے اخلاص اور غنائیت کے آہنگ کا نام ہے اور اگر شاعری آمد ہے۔ تو پھر نقوی صاحب نے اِس مجموعے کی ساری غزلیں کسی جذبے کے تحت کہی ہیں۔ اس لئے ان کے اشعار دل سے نکلے ہوئے اور دل میں اُترتے ہوئے لگتے ہیں۔

اخلاص ہو جس میں جذبوں کا۔ آہنگ ہو جس میں نغموں کا

لفظوں سے  بنی وہ من موہت تصویریں زندہ رہتی ہیں

 

اقبال کی دلکش نظمیں ہوں یا  نثر غبارِ  خاطر کی

پس خونِ جگر سے لکھی یہ تحریریں زندہ رہتی ہیں

اِس کسوٹی پر نقویؔ صاحب کا یہ شعری مجموعہ زندۂ   جاوید ہے،جاندار ہے اور ان کی غزلیں بے پر ہو کر بھی طاقتِ  پرواز رکھتی ہیں۔

دل  سے   جو   بات   نکلتی   ہے   اثر   رکھتی  ہے

پر    نہیں،    طاقتِ   پرواز  مگر     رکھتی     ہے

میرا ماننا ہے کہ نقوی صاحب کے نئے شعری مجموعے کو پذیرائی ملے گی اور اصلاحی تنقید کو بہر حال قبول کرنا بھی نقوی صاحب کے لئے باعثِ سعادت ہونا چاہیے۔ ہاں تنقید اور نقطہ چینی میں فرق لازمی ہے۔ اس کا خیال رکھ کر تنقید کے اصلاحی اور اصولی نکات بر سرِ چشم تسلیم کرنا صاحبِ  تخلیق کے لئے اس کی شخصی اور فنی انفرادیت کی حامل ہوتی ہے۔

نذیر قریشی

(گورسائی،مینڈر)

 

 

 

 

 ذوالفقار نقویؔ اور  ’’اُجالوں کا سفر‘‘

 

 

ماحول کی عطائیں، معاشرتی اُلجھنیں، معاشی ناہمواریاں، اقتدار کے کھیل، انانیت، محبت، نفرت، وقار اور بے توقیری۔۔۔۔۔۔ جب کسی حساس دل پر وارد ہوتی ہیں تو انسان اندر ہی اندر جھلسنے لگتا ہے۔۔۔ کہیں بہت گہرائی میں ٹوٹ پھوٹ وقوع پذیر ہونے لگتی ہے۔۔ بے بسی اور دکھ کے بوجھ تلے دبی بے چین روح کلبلانے لگتی ہے۔۔ ایسے میں موزونیت طبع اپنا رنگ دکھاتی ہے اور شعر کی صورت ایک چھوٹا سا ریلیز والو(valve) اس پریشر کوکر میں کھلتا ہے، جو اندرونی تپش اور تڑپ کو بڑے سلیقے، بڑے اہتمام سے ضمیر آدمیت پر منکشف کرتا ہے۔۔۔۔۔ شاعر کہتا چلا جاتا ہے، اپنا بوجھ ہلکا کرتا ہے اور سسکتی ہوئی بے یقین انسانیت کو زندگی سے عہدہ برآ ہونے پر آمادہ کرتے ہوئے اسے اعتماد اور محبت کی غیر مرئی قوتوں سے لیس کرتا ہے۔

ایک اچھا شاعر اپنے قبیلے کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے حالات کے عطا کردہ قطرۂ نیساں کو اپنے وجود کی گہرائیوں میں پالتا ہے اور پھر اشعار کے موتیوں سے اپنے ا رد گرد پھیلی بے انت جذبوں میں گندھی دنیا کے اندھیروں کو جگمگانے کی کوشش کرتا ہے۔

ذوالفقار نقوی کو میں بس اُن کے شعر، اُن کے فن کے حوالے سے جانتا ہوں۔۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ وہ محض قلم چلانے کے قائل نہیں ہیں، بلکہ اپنے اندر موجود جذبوں کی درد انگیز اور محبت خیز توانائی کے ذخیرے کو لفظوں میں منتقل کرنے کی مہارت بھی رکھتے ہیں۔

ہماری زندگی میں بیشتر مسائل کی بنیادی وجہ خواہشات کی زیادتی ہے۔ اس حقیقت کو  نقوی نے بڑی خوبصورتی سے شعر میں ڈھالا ہے۔

تمناؤں  کا  نقویؔ سر کچل  دو

جو پالو گے تو  برسیں گی تمہیں پر

کتنی آسانی سے کتنی بڑی بات کہہ دی انہوں نے۔ یہ جانتے ہوئے کہ یہی تو سب سے دشوار مرحلہ ہے، یہی تو ہو نہیں پاتا۔ اور جو کر گذرتے ہیں وہی زندگی کرتے ہیں ، مکمل اعتماد اور وقار کے ساتھ۔

ذوالفقار نقویؔ کے ہاں بیشتر اشعار کچھ اس طرح اور ایسے انداز سے وارد ہوئے ہیں کہ وہ اُن کی اندرونی خلفشار اور جذباتی ٹوٹ پھوٹ کا اظہار زبانِ بے زبانی سے کرتے نظر آتے ہیں۔۔شعر دیکھیں۔

آئینہ  در  آئینہ  روندا  گیا  تنویر  سے

عکس اک الجھا ہوا تھا خواب کی تعبیر  سے

حالات کے بے رحم تھپیڑوں میں الجھے انسان کی بے بسی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

خوف ہے  اِس قدر تمازت کا

ماں نے بچے چھپا لئے سارے

اپنی نا رسائی کا احساس نقویؔ کے لفظوں میں ڈھلتا ہے تو قاری کو اپنے ساتھ اپنی تمام کیفیات سے آگہی دیتا چلا جاتا ہے۔

کیا میں نے تعاقب عمر ساری بس سرابوں کا

اب اپنے  دست  و  پا پر بھی مرا قبضہ نہیں لگتا

اضمحلال کی یہ کیفیت لفظ کا وجود اُس وقت تک نہیں پا سکتی جب تک شاعر خود ایسی واردات کا تجربہ نہیں رکھتا۔۔ذوالفقار نقویؔ معنویت کے قائل ہیں۔۔ گویا وہ شعر برائے شعر کے بجائے شعر برائے ابلاغ پر زور دیتے ہیں۔

کر سکے  جو نہ عطا حسنِ معانی کچھ بھی

ایسے خاموش دبستاں سے مجھے کیا لینا

اِن کی شاعری میں سنگلاخ حقیقتوں کے ساتھ ساتھ رومانویت کی نرم رَو لہریں بھی محسوس کی جا سکتی ہیں۔ لیکن اِن کی رومانویت بھی در اصل حقائق کی کوکھ سے جنم لینے والے نوحوں پر مشتمل دکھائی دیتی ہے۔۔۔ انہوں نے دیگر شعراء کی زمینوں میں بھی بہت عمدہ اشعار نکالے ہیں۔

میرے ہاتھوں کی لکیروں میں بھنور لکھا ہے

ورنہ ممکن تھا مرے قدموں میں ساحل ہوتا

کسی زوال پذیر معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہوتا ہے کہ لوگ کسی کے لئے کچھ کریں تو جتلائے بغیر نہیں رہتے،ایسے میں جس کی مدد کی گئی ہوتی ہے وہ ناقابلِ بیان اذیت میں مبتلاء دکھائی دیتا ہے۔ ایسے ہی کرم فرماؤں کے اِس منفی رویے سے تنگ آ کر نقوی کہتے ہیں۔

ہم  گرے اور گر کے اٹھ بھی گئے

تجھ سے کس نے کہا سنبھال ہمیں

کسی تخلیق پر بہت کچھ کہا جا سکتا ہے، مختلف زاویوں سے بحث کی جا سکتی ہے، تخلیق کو مدِ نظر رکھ کر تخلیق کار کی فکر اور زندگی کے بارے میں اُس کے رویے کو سمجھنے کی کوشش کی جا سکتی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ حق اِس تخلیق کے اصل قاری کا ہے، سو میں مزید کچھ نہیں کہوں گا۔۔۔۔ ذوالفقار نقوی کا فن ’’ اُجالوں کا سفر ‘‘ کی صورت آپ کے ہاتھوں میں ہے اور قاری کا اندازِ فکر اور تجزیہ ہی کسی تخلیق کا درجہ متعین کرنے میں اہم ترین کردار ادا کرتا ہے۔۔۔

منیر انور، لیاقت پور، پاکستان ۔

092333747191

 

 

 

 

’’ لا سیف الا ذوالفقار‘‘ کی جستجو میں سرگرداں: ذوالفقار نقوی

 

 

ذوالفقار نقوی کی فکری و شعری اڑان نے اپنے پہلے شعری مجموعے ’’زاد سفر‘‘کے بعد دوسرے مجموعے ’’اجالوں کا سفر‘‘ بھی طے کر لیا ہے۔ وہ کشمیر کے ادبی افق پر ایک عرصے سے اپنے وجود کا اعلان کر رہے ہیں، غزل کے شاعر ہیں۔ان کی غزلیں اردو کے مقتدر رسالوں میں شائع ہوتی رہی ہیں عالمی اردو ادب کے لئے ان کا نام نامانوس نہیں ہے۔ان کا اسلوب روایتی ضرور ہے مگر بیشتر غزلوں میں انہوں نے جدید لب و لہجہ اپنانے کی کوشش کی ہے۔وہ شعریت میں فنی التزامات کا احترام کرتے ہیں،تجربے نہیں کرتے۔تشبیہات و استعارات کا استعمال بڑی چابکدستی سے کرتے ہیں۔ان کا لفظیاتی نظام سنجیدگی سے افہام و تفہیم کا سلسلہ طے کرتا ہے مگر چونکاتا نہیں۔موضوعاتی تنوع کی کمی محسوس ہوتی ہے انہوں نے حقیقی عرفان کی راہوں میں قدم ضرور رکھا ہے مگر انہیں داخلیت،فکر،احساس اور وجدان کی اس مشترکہ اساس کی جستجو کرنا ہے جو ابھی تک نا رسائی کے حصار میں ہے۔تشخیص ذات کا بحران، اجتماعی آہنگ اور حسیت، لفظ و معنی کے شکستہ رشتوں اور ترسیل کی ناکامی کا المیہ ایسے شعری مسائل ہیں جس کے پل صراط سے ذوالفقار نقوی کو ابھی گزرنا ہے۔ان کی فکری کائنات بہت وسیع ہے اور ان کی افتاد طبع نئے سیاروں اور کہکشاؤں کو دریافت کرنے کی دھن میں لامتناہی خلاؤں کے کبھی نہ ختم ہونے والے سفر پر آمادہ ہے۔ہمیں ’’اجالوں کا سفر‘‘ کا پر جوش خیر مقدم کرنا چاہئیے کہ یہی مجموعہ ان کے آئندہ شعری مجموعوں کی بشارت ہے۔

 

ضمیر کاظمی

(مدیر اعلیٰ ’’تریاق‘‘ ممبئی)

 

 

 

 

 

اپنی بات

 

 

خدا کا شکر ہے کہ میں اپنا دوسرا مجموعۂ  کلام ’’ اُجالوں کا سفر‘‘ آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔  2011 ؁ء کے اواخر میں عباس بُک ایجنسی لکھنؤ نے میرا پہلا شعری مجموعہ ’’زاد ِ  سفر‘‘ شائع کیا، جس کا تخلیقی سفر تقریباً دس سالوں پر محیط تھا۔

اگر چہ میرا شعری سفر غزل سے شروع ہوا لیکن میں اِس صنف کو مطلوبہ سنجیدگی سے نہ لے سکا۔ 2008-09میں جب ہمیں برقی ذریعۂ  ابلاغ و ترسیل کی رسائی میسر آئی تو مجھے فیس بُک پر متعدد ممتاز اور جیّد شعراء اور اُدباء کو پڑھنے کا موقع ملا۔مختلف ادبی انجمنوں اور حلقوں میں رُکنیت حاصل ہوئی جن پر مسلسل ہفتہ وار ’’ آن لائن‘‘ طرحی نشستوں کا انعقاد ہوتا چلا آ رہا ہے۔ اِن مشاعروں نے مجھے غزل کی طرف راغب کیا اور اِس طرح میں نے غزل کو اظہارِ  خیال کا ذریعہ بنا لیا۔اساتذہ کی زمینوں میں طبع آزمائی نے مجھے اپنی زمینیں دریافت کرنے کی صلاحیت بخشی۔

اِس قلیل سے وقت میں جو کچھ بھی قلمی واردات کی شکل میں زیب ِ  قرطاس ہوا وہ ’’اُجالوں کے سفر‘‘ کی صورت میں آپ کے سامنے ہے۔ میں اپنی بات کہنے میں کس قدر کامیاب ہوا یہ صرف قارئین کرام ہی بتا سکتے ہیں جس کا مجھے شدت سے انتظار رہے گا۔

مولانا مختار حسین جعفری صاحب کی علمی اور ادبی فضیلت اور لیاقت سے انکار اپنے آپ سے دھوکا کے مترادف ہے، اُنہوں نے اِس مجموعہ میں شامل غزلیات پر اصلاحی اور نہائی نگاہ فرمائی اور بعض اہم ادبی نکات کی طرف میری توجہ مبذول کرائی۔   میں اُن کا شکریہ ادا کر کے، اپنے تئیں  اُن کی شفیقانہ حِس کو ٹھیس  پہنچانا نہیں چاہتا۔

اِسی طرح ایک اور شفیق اور نیک دل انسان، ایک نامور ادیب اور شاعر میرے اِس سفر میں میرے معاون ثابت ہوئے جنہیں میں ملا تو نہیں لیکن فیس بُک کے توسط سے اُن کی علمی انفرادیت کا قائل ہوں۔محترم منیر انور صاحب، لیاقت پور، پاکستان سے ہیں جنہوں نے شعریات کے حوالے سے مجھے اہم مشوروں سے نوازا، نیز غزلیات میں اشعار کا انتخاب اور کئی مقامات پر الفاظ کی نشست و برخاست تک میری بھر پور رہنمائی فرمائی۔

محترم رفیق رازؔ صاحب ’’شب خون‘‘ کے اُس کارواں کا حصہ رہے ہیں جس نے عالمی سطح پر غزل کو ایک نئی جہت بخشی۔یہ فقط رازؔ صاحب کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کا نتیجہ ہے کہ میرا یہ مجموعہ عوام تک پہنچنے کے قابل ہو ا ہے۔ اُن کے اِس احسان کا صلہ لفظوں میں ممکن نہیں۔خداوندِ  قدوس اُنہیں عمرِ  دراز اور صحتِ  کاملہ عطا فرمائے۔

’’شب خون‘‘ کے اِسی کارواں میں شامل ایک اور ممتاز شخصیت، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی شعبہ اردو کے نامور اُستاد، شاعر،ادیب اور ایک نہایت ہی مخلص انسان محترم مہتاب حیدر نقوی صاحب، نے مجھے ’’اردو شاعر‘‘ کی سند عطا کی ہے۔اُن کے خلوص اور پیار کے سامنے لفظ۔۔۔۔شکریہ ،  بہت چھوٹا سا نظر آتا ہے۔

محترم نذیر قریشی صاحب ریاست بھر میں ایک منفرد لب  ولہجہ کے نثر نگار اور نقادتسلیم کئے جاتے ہیں اور عرصہ دراز سے علاقہ میں تشنگان ِ  ادب کو سیراب کرتے چلے آ رہے ہیں، موصوف میرے والد ِ  محترم کے اُستاد ہیں، اُنہوں نے ہمیشہ میری ادبی کاوشوں کو سراہا ہے اور میری بھر پور رہنمائی کی ہے۔خدا اُنہیں ماجور و مثّاب فرمائے۔

میری تمام تر ادبی کاوشوں کا اصل سہرا میری والدہ محترمہ کے سر جاتا ہے کہ جن کی پرورش نے مجھے اِ س قابل بنایا اور مجھے نطق و بیاں سے نوازا۔خداوندِ  کریم اُن کا سایہ میرے سر پر قائم و دائم رکھے۔

میرے شب و روز کے اِس شغل میں اگر میری شریکِ  حیات اور میرے بچے میرا ساتھ نہ دیتے تو یقیناً میں تھک کر بیٹھ گیا ہوتا۔  خداوندِ کریم اِنہیں کامیابیوں سے ہمکنار کرے۔

محترم المقام ضمیر کاظمی صاحب کی ہمہ گیر شخصیت اور اُن کی شعرو ادب پر مکمل دسترس عالمی سطح پر تمام ادبی حلقوں میں معروف و مشہور ہے۔ انہوں نے میری بیاضِ ریاض میں سے صرف ستر (70) غزلوں کا انتخاب کر کے اور بعض غزلیات میں اشعار کا انتخاب کر کے آپ تک پہنچانے میں جس طرح میری معاونت فرمائی ہے یقیناً اس کا صلہ الفاظ میں ممکن نہیں۔ بہرحال میں رسمی طور اُن کا نہایت ہی ممنون و شکر گزار ہوں۔ اللہ انہیں صحت و تندرستی عطا فرمائے۔

علاوہ ازیں اُن تمام احباب و اقرباء کا نہایت شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی فرمائی ہے۔

ذوالفقار نقوی

۴ِ  جون  ۲۰۱۳ ؁ء

 

 

 

۱

 

یا الٰہی تو محبت کا قرینہ دے دے

کھل اٹھے سارا چمن ایسا پسینہ دے دے

 

قافلے ساتھ چلیں شوق سے پیہم میرے

جس کو منزل کا پتہ ہو وہ سفینہ دے دے

 

لذتِ  شوق میں ہوں اشکِ  ندامت پنہاں

پہلوئے وصل میں جذبوں کا خزینہ دے دے

 

کر عطا پاک نظر،  پاک سخن،  دل طاہر

میرے احساس کی دنیا کو مدینہ دے دے

 

میرے الفاظ سے اسرا ر کے چشمے پھوٹیں

تو تکلم کو مرے ایسا نگینہ دے دے

 

 

 

۲

 

نقش اُبھرے اَن گنت تحریر پر

آنکھ ٹھہری بس تری تصویر پر

 

چاک پر ذرے تلاطم خیز تھے

کوزہ گر نازاں تھا اس تعمیر پر

 

مرتعش ہیں بام و در زندان کے

کون نغمہ سنج ہے زنجیر پر؟

 

پا بہ جولاں حرف تھے، نادِم دعا

نقطہ نقطہ ہنس پڑا تدبیر پر

 

بانٹتا ہے کور چشموں میں چراغ

کر کرم اب کے کسی شب گیر پر

 

 

 

 

 

۳

 

بسی ہے فکر یوں عرشِ بریں پر

میں  اُڑتا  ہوں،  مگر  رکھتا  نہیں  پر

 

اُجالے پھر اُڑانیں بھر رہے ہیں

کوئی  خورشید ٹوٹا ہے کہیں  پر

 

فلک اپنی بلندی پر ہے نادِم

گھٹن ہے اس کے سائے میں زمیں پر

 

کسی غنچے کے پر اُگنے لگے ہیں

کہ شبنم ہے فضائے آتشیں پر

 

در و دیوار وزنی ہو گئے ہیں

گریں گے اب کے یہ آ کر مکیں پر

 

دھنک کے ساتھ اک کالی گھٹا ہے

حنائی ہاتھ زلفِ عنبریں پر

 

تمناؤں کا نقویؔ سر کچل دو

جو پالو گے تو برسیں گی تمہیں پر

 

 

 

 

۴

 

 

آئینہ در آئینہ روندا گیا تنویر سے

عکس اک الجھا ہوا تھا خواب کی تعبیر سے

 

خود بہ خود اک دن پسِ آئینہ مل جائے گا وہ

مات کھا کر آئے گی تقدیر جب تدبیر سے

 

لے کے آئے گا مسیحا جب دوائے  دردِ   دل

جوڑتا رہ جائے گا تصویر کو تصویر سے

 

یہ علاجِ  دردِ  دل ہے یا کوئی تجدیدِ غم

پھر سے ناطہ جوڑ آئے ہو اُسی زنجیر سے

 

راکبِ عزم سفر ہو جا، ترا منصب ہے یہ

تو کلیمِ طور ہے، مل کاتبِ تقدیرسے

 

 

 

 

 

 

۵

 

اک سیہ شام چلی جشن منانے اب کے

پھر اُجالوں کی طرف ہاتھ بڑھانے اب کے

 

قلب پر مہرِ سیہ، کارِ سیہ، جو آیا

خون آلود لئے ہاتھ دکھانے اب کے

 

مضمحل کون ہوا، تیر کہاں سے آیا؟

کون مامور تھا  انصاف دلانے اب کے

 

سایۂ ابرِ سیہ، موجِ وغا لفظوں میں

ہر کوئی بیٹھ گیا وعظ سنانے اب کے

 

نغمۂ لا سے کھلا رازِ مذلت ہم پر

پھر لگا غیر تنِ خاک بنانے اب کے

 

 

 

 

۶

 

زیرِ بامِ گنبدِ خضرا اذاں؟

وہ بلالی صوت، وہ سامع کہاں

 

کھوجتا ہے اَن گنت مسجود میں

قل ہو اللہ احد  کا سائباں

 

بت تراشی چار سو ہے جلوہ گر

دے گئی سب کی جبینوں کو نشاں

 

یاسیت نے کرب  کے در  وا  کئے

خشک امیدوں کا گلشن ہے یہاں

 

تو  رہینِ خانہ  ہائے  اضطراب

اٹھ رہا ہے تیرے چلمن سے دھواں

 

ظلمتیں سایہ فگن  ہیں  ہر طرف

بام و  در  پر  رقص  میں  نو میدیاں

 

رُک ذرا  پڑھ  کلمۂ    لا  تقنطو

خود بخود روزن  کھلیں  گے  درمیاں

 

حوصلوں کے پھر سے پر اُگ آئیں گے

عزمِ محکم کو بنا لے سائباں

 

 

 

 

۷

 

 

خاک سے کیا نور کا سودا ہوا

فخر سے انساں کا سر اونچا ہوا

 

رفعتوں نے لی ہیں پھر انگڑائیاں

بابِ سرِ حق کوئی پھر وا ہوا

 

لے گئیں کس کو ہوائیں دوش پر

پھر کوئی الماس ہے پیدا ہوا

 

اب کے زخم کس کے ہاتھوں لگ گیا

تار ہے ہر ساز کا ٹوٹا ہوا

 

اک تحیر رقص میں ہے چار سو

کیوں تفاہم پر مرے حملہ ہوا؟

 

رکھ دیا سجدے میں تو نے سر مگر

دل صنم خانے میں ہے الجھا ہوا

 

ریشہ ریشہ ہے تخلف کا شکار

کس طرح شیرازہ ہے بکھرا ہوا

 

 

 

 

 

۸

 

تیری  پرکار، دائرے سارے

پیچ و خم دار زاویے سارے

 

پاؤں رکھنے کی سوچ آتے ہی

پھوٹ پڑتے ہیں آبلے سارے

 

خوف ہے اِس قدر تمازت کا

ماں نے بچے چھپا لئے سارے

 

تیری یادوں کا تھا کوئی نشتر

زخم جس نے جگا دیے سارے

 

تیرگی جشن ہی منا لیتی

گر نہ جلتے یہ قمقمے سارے

 

پھول کو خار سے ڈراؤ مت

اس نے دیکھے ہیں مرحلے سارے

 

صورتیں عکس کے منافی ہیں

بے خبر کیوں ہیں آئینے سارے؟

 

چاک ہے پیرہن  گلِ تر کا

ہو گئے ختم فاصلے سارے

 

 

 

 

 

۹

 

لفظ شعلہ بدن حرف چنگاریاں

کیوں لگی ہیں تکلم کو بیماریاں

 

جس کے ہاتھوں میں کشتی کی پتوار ہے

اُس کے خود ڈوبنے کی ہیں تیاریاں

 

دور تک ریگزاروں کا دریا رواں

کیا ہوئے کار ہائے شجر کاریاں

 

وہ جو خود ساز تھا، سب کا معمار تھا

راس آئیں نہ اس کو ادا کاریاں

 

خود وہ دامن بچا کر نکل جائے گا

دے کے تجھ کو جہاں کی جفا کاریاں

 

وہ شکارِ طلسماتِ محرومیت

کام آئیں نہ جس کو عزا داریاں

 

تیرا ملبوسِ تن اور کچھ بھی نہیں

سرکشی، خودکشی اور لا چاریاں

 

 

 

 

 

۱۰

 

 

تو خود سے خود رہا ہو جا

نوائے بے نوا ہو جا

 

جہانِ آرزو مندی

لٹا دے اور فنا ہو جا

 

کسی کی ہو جا تو منزل

کسی کا راستہ ہو جا

 

چمن میں آگ ہے لپکی

تو ساون کی گھٹا ہو جا

 

ہوائیں ہیں بہت خودسر

متاعِ لافتیٰ ہو جا

در و دیوار، دن، راتیں

نئے ہیں، تو نیا ہو جا

 

گلی میں بانٹ آ خوشیاں

غموں کی انتہا  ہو جا

 

پتہ رکھ لامکانی کا

کہیں پھر لا پتہ ہو جا

 

 

 

 

 

۱۱

 

میں پھر کوئی غزل لکھوں مجھے اچھا نہیں لگتا

ہ لفظوں کا تماشہ ہے جو اب سچا نہیں لگتا

 

کیا میں نے تعاقب عمر ساری بس سرابوں کا

اب اپنے دست و پا پر بھی مرا قبضہ نہیں لگتا

 

یہ جس  میزان پر تلنے کو  سودا  میرا  رکھا ہے

منافع کا کوئی امکاں نظر آتا نہیں لگتا

 

اَنا کا اُن کی سر اونچا،کہ یہ ہے کج روی میری

کسی دن اِ س معمہ کا بھی حل ہو گا،نہیں لگتا

 

عنادل اپنے ارمانوں میں بھر لیں عزم کا سودا

تو  کوئی  گل، کوئی  بوٹا، کبھی اونچا نہیں لگتا

 

سرِ بازار اب انسانیت کا قتل ہوتا ہے

ہمارے شہر میں اس موت پر فتویٰ نہیں لگتا

 

مُصِر ہے اب بھی تو اپنی روش پر حیف اے نقویؔ

زبوں حالی میں تیری کیا ترا حصہ نہیں لگتا؟

 

 

 

 

 

۱۲

 

معین میں حدِ پرواز اپنی کر نہیں سکتا

کہ اس بادِ  مخالف سے کبھی میں ڈر نہیں سکتا

 

عجب انداز سے کی ہے مرے محسن نے گل باری

لگا ہے دل پہ کاری زخم جو، وہ بھر نہیں سکتا

 

شرر ہے خون میں میرے ثباتِ عزم کا ایسا

جبینِ ناز کو چوکھٹ پہ تیری دھر نہیں سکتا

 

ہزاروں آندھیاں اٹھیں کہ سر پہ بجلیاں چمکیں

اجل سے  پیشتر خوفِ  اجل سے مر نہیں سکتا

 

اسیرِ آشیاں رہتا نہیں شاہین اے نقویؔ

خلافِ اوج و رفعت کام کوئی کر نہیں سکتا

 

 

 

 

 

 

 

۱۳

 

میری متاعِ فکر جو پر تولنے لگی

افلاک پر نجوم سے سر جوڑنے لگی

 

حقانیت کے در پہ ہوئی سجدہ ریز جب

اسرارِ آگہی کے یہ در کھولنے لگی

 

خاموش زمزمے جو تھے سارے جہان کے

میری زبان دار پر بھی بولنے لگی

 

یکسر زمامِ زندگی ہاتھوں سے چھٹ گئی

دوشِ ہوا پہ آرزو جب دوڑنے لگی

 

فکرِ شعور ہالہ ظلمت کو توڑ کر

سنگِ شعاعِ حسن سے سر پھوڑنے لگی

 

 

 

 

 

 

۱۴

 

مجھے فرسودہ ذہنی کا کوئی الزام مت دینا

تمہارا ہم سفر ہو جاؤں یہ پیغام مت دینا

 

مرا سوزِ  دروں ملتا نہیں ہے ساز سے تیرے

یہ نغمہ گا نہ پاؤں گا، مجھے یہ کام مت دینا

 

مرا ایمان کی بستی میں جی لگتا ہے، رہنے دو

کواکب اپنی دنیا کے مجھے انعام مت دینا

 

زمانے کی فسوں کاری نہ سکھلا مجھ کو تو واعظ

مری دنیا طرب آمیز ہے آلام مت دینا

 

ریا کاری و نخوت اور نفرت ہے زمانے میں

تم ایسے دور کو تہذیب کا کچھ نام مت دینا

 

مری دنیا الگ ہے اور ترا قصہ جداگانہ

مرے روشن سویروں کو تم اپنی شام مت دینا

 

نہیں ہے بوئے حقانی ترے  اِن مے کے پیالوں میں

کہ اِس زہرِ  ہلاہل کا مجھے تو جام مت دینا

 

خداوندا، ترے نقویؔ  کی بس اتنی تمنا ہے

نہیں جو عینِ  دینِ  حق،اِسے وہ کام مت دینا

 

 

 

۱۵

 

 

درمیانِ پاسبانِ شش جہات

تشنہ لب ہوں بر لبِ نہرِ فرات

 

یہ جہانِ رنگ و بو، یہ قیل و قال

آج تک ادراک میں آئی نہ بات

 

کر رہی ہے ساری دنیا انحراف

از حدیثِ زندگی، علمِ حیات

 

تو سگِ دنیا ہے، محوِ خورد و نوش

رہ گئی تیری سمٹ کر کائنات

 

ہو گئے زیبِ گلو دو ایک پھول

دل پہ کانٹوں کے گراں گزری یہ بات

 

کینہ و بغض و عداوت، اِتہام

کر حذر اِن سے کہ مل جائے نجات

 

زورِ حیدرؑ اور ہو عزمِ حسینؑ

پھر دکھا سکتا ہے انساں معجزات

 

منتظر پھر سے سحر ہے ایک بار

کالی زلفیں کب سمیٹے گی یہ رات

 

 

 

۱۶

 

تھاپ ہے، آواز ہے، جھنکار ہے

زندگی سازِ بتاں کا تار ہے

 

رکھ کے اپنے ہاتھ میں میری عناں

کہہ دیا مجھ سے کہ تو مختار ہے

 

روزِ محشر اس سے مت کرنا سوال

بڑھ کے کہہ دوں گا ترا شہکار ہے

 

اِس کو گستاخی سے مت تعبیر کر

بندہ پرور جرأتِ اظہار ہے

 

پا بہ جولاں ہے مری تدبیر یوں

قربِ منزل سے اسے انکار ہے

 

دشت، صحرا اور سوزِ اندروں

مجھ سے ہر اک برسرِپیکار ہے

 

ایک بھی میرا چلن بھاتا نہیں

زندگی مجھ سے بہت بیزار ہے

 

 

 

 

۱۷

 

 

میرے اشکوں کی روانی میں نہاتا جائے

روز افزوں وہ مرا درد بڑھاتا جائے

 

بیچ کر نفس کو اِس طرح سے راضی کر لوں

خود ہی بڑھ کر وہ مرے  ناز اُٹھاتا جائے

 

کرب سے میرے شناسا ہو یہ گلشن سارا

داستاں میری ہر اک پھول سناتا جائے

 

ہر طرف شامِ سیہ دام لگائے بیٹھی

کوئی تو ہو کہ تجلی سے ملاتا جائے

 

اک ستا رے نے سرِ عرش پکارا مجھ کو

مجھ سے اے کاش کوئی شمع جلاتا جائے

 

کثرتِ یاس و الم، بادِ جفا ہے ہر سو

اے  خدا، بھیج  اُسے جو یہ چراتا جائے

 

 

 

 

 

۱۸

 

خوف آتا ہے اپنے خیالات سے

کچھ سوالوں سے، اُن کے جوابات سے

 

بن  بلائے چلی  آئی   ہیں  آفتیں

ہوں پریشاں بہت، اِن رسومات سے

 

بجلیاں، سیلِ غم، اشک، محرومیاں

میں شناسا ہوں ایسی کرامات سے

 

دشت ہے، دھوپ ہے، زندگی داؤ  پر

لوگ آتے ہیں پھر بھی مضافات سے

 

 

 

 

 

۱۹

 

شام ہوتے ہی آگیا مہماں

رات کٹنے کا اب نہیں امکاں

 

کوئی احساس کا تھا انگارہ

جاتے جاتے جلا گیا داماں

 

تن پہ ملبوس ریشمی، پھر بھی

تیری بستی کے لوگ ہیں عریاں

 

اَن سنی آ رہی ہیں آوازیں

اب تلک کون ہے پسِ فاراں

 

رات بھر جاگتی رہی آنکھیں

اب سحر تھی کہ لٹ گیا ساماں

 

کس کو لے کر چلا گیا کوئی

دیر تک آج روئی ہیں گلیاں

 

پھول ہیں شعلگی پہ آمادہ

زخم ہیں اور  یہ  تنِ آساں

 

 

 

 

۲۰

 

درد اک دل میں مرے اُمڈا ہوا

نورِ چشمِ یار میں ڈوبا ہوا

 

جاں بلب، تشنہ دہن بہترہوں میں

یادِ جانِ جاں سے بس لپٹا ہوا

 

رکھ پرے یہ بادہ و ساغر ابھی

میں ہوں حسنِ یار میں اُلجھا ہوا

 

کیا کوئی یوسف ہے پھر بازار میں

چاند کا چہرا ہے کیوں اُترا ہوا؟

 

آ گئی ہے راس اب دیوانگی

کیا خرد سے خوب یہ سودا ہوا

 

 

 

۲۱

 

 

پرانے رنگ میں اشکِ غمِ تازہ  ملاتا  ہوں

در و دیوار پر کچھ عکسِ نادیدہ سجاتا ہوں

 

مرے اِس شوق سے دریا،کنارے، سب شناسا ہیں

جہاں طوفاں ہو موجوں کا، وہاں لنگر اُٹھاتا ہوں

 

مجھے صحرا نوردی راس آتی جا رہی ہے اب

خراباتِ چمن میں لالہ و سوسن اُگاتا ہوں

 

تری نغمہ سرائی کی دکاں پر جو نہیں ملتا

وہی اک نغمہِ پر سوز میں سب کو سناتا ہوں

 

نہ جانے کس نگر آباد ہو جاتی ہیں وہ جا کر

میں اکثر شام کو چھت سے پتنگیں جو اُڑاتا ہوں

 

پڑے ہیں آبلے لیکن قدم پھر بھی ہیں برجستہ

میں کب سے لاش اپنی، اپنے کاندھوں پر اُٹھاتا ہوں

 

 

 

 

۲۲

 

اپنی نگارشات میں کچھ اور لے کے آ

ہے وقت کی پکار کہ فی الفور لے کے آ

 

رہنے دے زلفِ  عنبریں، لیلیٰ بھی رکھ پرے

جو فکر کو جگا سکے وہ غور لے کے آ

 

جا کر امیرِ شہر کے ہاتھوں سے لے عناں

جو ظلم کو مٹا سکے وہ دور لے کے آ

 

عزمِ حسینؑ،  بازوئے  حیدر ؑ کی بات کر

ہنگامہ جو بپا کرے وہ زور لے کے آ

 

کتنے حَسیں ہیں دیکھ یہ بکھرے ہوئے گہر

جس میں پروئے جا سکیں وہ ڈور لے کے آ

 

بے نغمگی کا رقص ہے ہر تان میں تری

لائے شرر جو خون میں وہ شور لے کے آ

 

جو یاس و مفلسی کو، عداوت کو لے اڑے

نقویؔ  کہیں سے ایسا کوئی چور لے کے آ

 

 

 

 

۲۳

 

 

رہروِ راہِ خراباتِ چمن

آ کہ پھر اک بار ہو جا کوہ کن

 

تیشہِ عزمِ جواں دامن میں رکھ

تو سوارِ شوقِ سلطانی، میں فن

 

کوئی سایہ زندگی کا گر ملے

چاک گل ہو کر پہن لینا کفن

 

دیدنی ہے اُس کے ہاتھوں کی عناں

شہر میں بانٹے ہے جو مغرب کا دھن

 

آ، اُٹھا پھر ساغر و مینا چلیں

پھر سے ہو جائے وہ پہلا سا سخن

 

جس میں ہو تہہ داریِ منصوریت

اور اَنا الحق کا ہو جس میں بانکپن

 

 

 

 

۲۴

 

 

دیارِ زندگی میں اک چمن ایسا سجاتے ہیں

کہ جس کے سائے میں اُجڑے پرندے گھر بساتے ہیں

 

پیامِ زندگی کیا خاک لائے گی صبا ایسی

کہ جس کے شبنمی قطرے گلوں کا خوں بہاتے ہیں

 

تحیر ہے، خمیرِ حرزِ سلمانی ہوا غائب

گلوں کی تازگی خود باغباں بڑھ کر چراتے ہیں

 

تحیر ہے کہ شبنم آتشیں شعلے اُگلتی ہے

مگر پھر بھی یہ غنچے امن کا مژدہ سناتے ہیں

 

وہی ہے پیرہن گل کا، وہی خوشبو، وہی رنگت

مگر یہ سارے منظر خون کے آنسو رلاتے ہیں

 

جنازہ جا رہا ہے خوشبوؤں کا دوشِ رنگت پر

کسی دن تو بھی دے کاندھا، تجھے گل غنچیں بلاتے ہیں

 

 

 

 

۲۵

 

نہ یوں زورِ بازو مرا آزمائیں

حوادث بھی لیتے ہیں اِس کی بلائیں

 

ہمیں راس آئی ہے صحرا نوردی

گلی میں تری کیوں گھروندے بنائیں

 

فلک سنگ باری پہ مائل ہوا ہے

چلو غم کی چادر میں سر کو چھپائیں

 

اُجالوں کی سودا گری کا چلن ہے

اندھیروں کو اپنے کہاں بیچ آئیں

 

مذلت رساں ہے تری نغمہ سنجی

کسی سازِ دیگر پہ آ گنگنائیں

 

پتہ مسکراہٹ کا لا دیجیے گا

سبھی یاسیت کی ہیں اوڑھے ردائیں

 

 

 

 

۲۶

 

 

مسلسل ٹوٹتا ہی جا رہا ہوں

میں خود میں ڈوبتا ہی جا رہا ہوں

 

نئی کچھ تلخیاں در پر کھڑی ہیں

پرانی بھولتا ہی جا رہا ہوں

 

عناں کو کھینچ کر رکھا ہے اُس نے

مگر میں دوڑتا ہی جا رہا ہوں

 

بصد ذلت نکالا جس کو گھر سے

اُسے پھر پوجتا ہی جا رہا ہوں

 

لگا ہے نطق پر پہرہ مکمل

میں پھر بھی بولتا ہی جا رہا ہوں

 

نہیں ہے بارشوں پر کچھ بھروسہ

زمینیں کھودتا ہی جا رہا ہوں

 

 

 

 

۲۷

 

میرے ہونے سے نہ ہونے کی خبر آتی ہے

ہر نوا لَوٹ کے با دیدۂ تر آتی ہے

 

شعلگی، دستِ  کرم اب کے گلوں کا ٹھہری

ہر کلی قصۂ بے داد نظر آتی ہے

 

خاک میں خاک یہاں رختِ  سفر باندھوں گا

ریگِ  صحرا ہے اُڑی، اور اِدھر آتی ہے

 

گھٹنیوں چلتی ہوئی ایک خوشی ہے رقصاں

مجھ کو بھاتی تو نہیں، آئے اگر آتی ہے

 

قمقمے دیکھ کے اوہام کے ہرسو روشن

تیرگی دوڑ کے ادراک میں در آتی ہے

 

ثبت ہے لب پہ ترے، مہرِ  خموشی اب تک

خامشی کی بھی زباں ہم کو مگر آتی ہے

 

 

 

 

۲۸

 

وقت کے پاس کہاں سارے حوالے ہوں گے

زیبِ قرطاس فقط یاس کے ہالے ہوں گے

 

کھوجتا کیوں ہے اندھیروں میں تفاہم کے دیے

آ، چراغوں میں لہو ڈال، اُجالے ہوں گے

 

دشت میں جا کے ذرا دیکھ تو آئے کوئی

ذرے ذرے نے مرے اشک سنبھالے ہوں گے

 

یوں تو مقدور نہیں تجھ کو تری قسمت پر

ہاں مگر، تو نے کئی سِکّے اُچھالے ہوں گے

 

ہم تھے خوشبو کے خریدار، مگر کیا معلوم

سرخ پھولوں نے یہاں سانپ بھی پالے ہوں گے

 

 

 

 

۲۹

 

 

آئینوں کو غلام رکھا ہے

اِن پہ پہرہ مدام رکھا ہے

 

صورتیں عکس کے منافی ہوں

بس یہی اہتمام رکھا ہے

 

اپنے سائے پہ گر گئی دیوار

دشت میں اب قیام رکھا ہے

 

اے کلیسا کے واعظ بے خود

تو نے پھیلا کے دام رکھا ہے

 

ایک ریلا ہے بد شگونی کا

جو نگاہوں نے تھام رکھا ہے

 

 

 

 

۳۰

 

 

مرا دل جب مجھے اپنا لگا ہے

کسی طوفان کا حصہ لگا ہے

 

یہ کس امکان کی ہے راہ داری

مجھے صحرا بھی اک دریا لگا ہے

 

بڑھاپے کی طرف میں بڑھ رہاہوں

مرے پیچھے بھی اک بچہ لگا ہے

 

تصرف کی کہانی مت سناؤ

مری سانسوں پہ بھی پہرا لگا ہے

 

نظر نظارگی کے نام کر دی

ہمیں یہ سانحہ اچھا لگا ہے

 

 

 

 

 

 

۳۱

 

ہے رت نئی نئی سی، موسم نیا نیا سا

اک نام لکھ رہی ہے بادِ صبا نیا سا

 

کلیوں کی مسکراہٹ، تتلی کے لب پہ نغمہ

کہتے ہیں یہ مناظر، کچھ تو ہوا نیا سا

 

دیتا ہے کوئی دستک، دن رات میرے دل پر

ہونے کو پھر ہے شاید، اک حادثہ نیا سا

 

کلیاں ہیں تجھ سے خائف، اے بادِ  نو بہاراں

اُبھرا ہے اِن کے دل میں کیوں واہمہ نیا سا

 

پھینکا ہے کس نے کنکر، اِس قلزمِ  سکوں میں

سطحِ یقیں پہ اُبھرا، اک دائرہ نیا سا

 

ہر عکسِ نا ہویدا،  صورت سے منحرف ہے

یا دَسترس میں تیری ہے آئینہ نیا سا

 

شعلے اُگل رہے ہیں، ہر سمت اژدھے پھر

جاؤ کہیں سے لاؤ، کوئی  ’’عصا ‘‘ نیا سا

 

 

 

 

 

۳۲

 

صدیاں سمیٹتا رہا، لمحے بکھر گئے

اک موجۂ سراب میرے نام کر گئے

 

اے بادِ نو بہار، نہ آنا تو اِس طرف

رستہ جو تک رہے تھے، وہ بھنور گزر گئے

 

محشر اُٹھائے رکھا تھا، آنکھوں نے مستقل

شامِ وصال سارے ہی نشّے اُتر گئے

 

جن موسموں میں قربتوں کا تھا ہمیں یقیں

اُن موسموں میں اپنے ہی سائے مُکر گئے

 

فرہاد ہے نہ اب کوئی آزر جہان میں

اُن خود سروں کے ساتھ ہی سارے ہُنر گئے

 

 

 

۳۳

 

 

نغمۂ خارِ مغیلاں سے مجھے کیا لینا

بے ثمر شاخِ گلستاں سے مجھے کیا  لینا

 

تیرگی، بغض، عداوت ہے دلوں کے اندر

ایسے پُر ہول بیاباں سے مجھے کیا لینا

 

کر  سکے  جو نہ عطا حسنِ  معانی کچھ بھی

ایسے  خاموش دبستاں سے مجھے کیا  لینا

 

اب کوئی جام و سبو ہے نہ کوئی پیمانہ

بادۂ شوق گریزاں سے مجھے کیا لینا

 

تتلیاں خوفِ تمازت سے جھلس جاتی ہیں

بے خبر بادِ بہاراں سے مجھے کیا لینا

 

 

 

 

۳۴

 

نرغۂ غیر میں تلوار اُٹھا لی اُس نے

میرا سر مانگ لیا بن کے سوالی اُس نے

 

آخرش ترکِ تعلق کا بھرم رکھنے کو

ایک دیوار پسِ دار بنا لی اُس نے

 

عازمِ راہِ محبت کی تواضع کرنے

ساغرِ جور کی پندار اُٹھا لی اُس نے

 

بانٹ کر میرا لہو اپنی اَنا کی خاطر

شام اک، نام کی میرے بھی منا لی اُس نے

 

آ گئی راس اِسے صحرا نوردی دیکھو

ڈور جب سے ہے مرے دل کی سنبھالی اُس نے

 

ہر کلی شعلہ بدن، اور دھواں اُٹھتا ہے

اپنی دنیا، کیا یہاں آ کے بسا لی اُس نے؟

 

 

 

 

 

۳۵

 

اُن کے ہوئے تو رنج و محن سے نکل گئے

قیدِ مکان و قیدِ زمن سے نکل گئے

 

اِس شوق میں کہ ایسے ہی ہو گا وصالِ یار

چپ  چاپ ہم بھی اپنے بدن سے نکل گئے

 

روشن تھے جن کے حسن سے یہ بام و در مرے

تارے سبھی وہ چرخِ کہن سے نکل گئے

 

اُن کو نہ راس آیا گلوں سے یہ اتصال

’’ہم ایک خار تھے، جو چمن سے نکل گئے‘‘

 

نقویؔ  نہ  تابِ جلوۂ جاناں اُٹھا سکے

دیکھا، مثالِ برق کرن سے نکل گئے

 

 

 

 

۳۶

 

کار گاہِ زندگانی کو زیاں سمجھا تھا میں

آفرینش کو بھی اپنی رائیگاں سمجھا تھا میں

 

اُسجدو کے حکم نے یہ منکشف مجھ پر کیا

احسنِ تقویم ہوں میں، یہ کہاں سمجھا تھا میں

 

ہے کرم شاخِ تمنا پر یہ برگِ لالہ زار

آرزوئے فصلِ گل کو خونچکاں سمجھا تھا میں

 

ہفت عالم زیرِ پائے چشمِ بینا آ گئے

’’اس زمین و آسماں کو بیکراں سمجھا تھا میں‘‘

 

ہو گئی وقفِ تماشہ چار دن کی زندگی

جس کو اے نقویؔ حیاتِ  جاوداں سمجھا تھا میں

 

 

 

 

۳۷

 

میرا  ہر حرف ترا  ذوقِ نظر ہو تو کہوں

آرزو میری، مرا خونِ جگر ہو تو کہوں

 

منفعت کیا ہے، زیاں کیا ہے، خبر تجھ کو نہیں

گر رگِ جاں میں  تری  ویسا شرر ہو  تو  کہوں

 

مجھ سے مت پوچھ مسافت کی صعوبت کا نسب

خار زاروں میں تو ہم راہِ سفر ہو تو کہوں

 

تیرے ہاں جشنِ طرب، رقصِ بہاراں کا نزول

گر تجھے میرے خرابوں کی خبر ہو تو کہوں

 

منتظر رہتا ہے ہر آن کر م تیرا مگر

میری بے ساز دعاؤں میں اثر ہو تو کہوں

 

منزلیں تکتی ہیں رستہ مرے قدموں کا مدام

”گرمیِ ذوقِ عمل کیا ہے، سفر ہو تو کہوں‘‘

 

 

 

 

۳۸

 

درد اب منت کشِ حرفِ دعا ہوتا نہیں

کوئی خوشہ  میرے  خرمن  کا  ہرا  ہوتا  نہیں

 

عشق بھی ہے اک تخلف اور اک قصہ، اگر

بود  و  باشِ زندگی سے  ماورا  ہوتا  نہیں

 

جب نگاہِ   ناز  خود  ہی  لطف  برسانے  لگے

درمیاں پائے  سخن  کا  فاصلہ  ہوتا  نہیں

 

درک کر  پائے گا کیونکر  نغمۂ احرار کو

اِس نوائے  بے نوا کی  جو  نوا  ہوتا  نہیں

 

شوقِ  گل بوسی میں ہم نے زخم کھائے ہیں بہت

سوئے گلشن پھر  چلیں، اب حوصلہ  ہوتا  نہیں

 

 

 

۳۹

 

صدیوں کے بعد ہوش میں جو آ رہا ہوں میں

لگتا ہے پہلے جرم کو دہرا رہا ہوں میں

 

پر ہول وادیوں کا سفرہے بہت کٹھن

’’لے جا رہا ہے شوق چلا جا رہا ہوں میں‘‘

 

خالی ہیں دونوں ہاتھ اور دامن بھی تار تار

کیوں ایک مشتِ خاک پہ اِترا رہا ہوں میں

 

شوقِ وصالِ یار میں اک عمر کاٹ دی

اب بام  و در سجے ہیں تو گھبرا رہا ہوں میں

 

شاید  ورق ہے پڑھ لیا کوئی حیات کا

بن کر فقیہِ  شہر  جو سمجھا رہا ہوں میں

 

ساحل پہ بیٹھا دیکھ کے موجوں کا اضطراب

اُلجھی  ہوئی سب گتھیاں سلجھا رہا ہوں میں

 

 

 

۴۰

 

تصنع، تلون، قباحت کی خُو نے

تجھے تجھ سے چھینا ترے رنگ و بو نے

 

تظاہر، تطاول، تعصب روا ہے

مذلت ہے بخشی ہر اک کاخ و کو نے

 

جمی اس قدر تھیں غلاظت کی پرتیں

کیا پاک دامن نہ آبِ وضو نے

 

ہوا منکشف چار ہونے پہ آنکھیں

بڑھایا مری تشنگی کو سبو نے

 

ہزاروں تمنائیں دل میں تھیں لیکن

’’ہمیں جی سے مارا تری آرزو نے‘‘

 

سنانا یہ پیغام نقویؔ گلوں کو

تمہیں پھر پکارا ہے میرے لہو نے

 

 

 

 

 

۴۱

 

مجھ کو نگاہِ ناز سے جو آشنا کرے

ایسا عطا ہو حسن کہ ہر سو ضیا کرے

 

رہتا ہے روز و شب کسی اُجڑے دیار میں

اے کاش میرے پاس میرا دل رہا کرے

 

کہتے ہیں چاند دیتا ہے ہر گھر کو روشنی

میں کیا کروں جو مجھ سے نہ وعدہ وفا کرے

 

تشنہ لبی پہ میری وہ خاموش ہو گیا

دیکھا، عدو کو مینا و ساغر عطا کرے

 

بس یاس و حسرتیں ہی ہیں اب دل میں موجزن

’’مرنے کے حال سے کوئی کب تک جیا کرے‘‘

 

اک نہجِ ناروا پہ تو خود ہی ہے چل پڑا

نقویؔ بتا کہ تیرا وہ کیسے بھلا کرے

 

 

 

۴۲

 

 

ہم نے خونِ جگر نثار کیا

جان و دل فدیۂ بہار کیا

 

شاخ ہے وہ کسی کے آنگن میں

ہم نے جس کو تھا سایہ دار کیا

 

اتنے کھائے ہیں زخم پھولوں سے

اب کے کانٹوں پہ اعتبار کیا

 

دار پر گھر بسا لیا ہم نے

’’مذہبِ عشق اختیار کیا‘‘

 

نام تیرا جو آ گیا لب پر

پتھروں نے مرا حصار کیا

 

کس قدر ہم تھے نا سمجھ نقویؔ

اُن کو اپنوں میں جو شمار کیا

 

 

 

۴۳

 

 

ایسا کوئی ہم سے کبھی سودا نہیں ہوتا

انسان کا جس میں کوئی گھاٹا نہیں ہوتا

 

مسجد میں کبھی اس لئے دیتا نہیں چندہ

کیوں بر سرِ منبر مرا چرچا نہیں ہوتا

 

کچھ زادِ حیا  چاہیے اے مردکِ ناداں

جو جسم کو ڈھانپے وہی پردہ نہیں ہوتا

 

تقریر میں ماہر ہے تو،اے حضرتِ واعظ

جذبات پہ ایمان کا قبضہ نہیں ہوتا

 

ملُا ہیں تری جیب میں اے حاکمِ دوراں

اس دور میں فتویٰ کوئی مہنگا نہیں ہوتا

 

احباب کے گھر جاؤ گے کیا لے کے اے نقویؔ

پیسے کے بنا کوئی بھی رشتہ نہیں ہوتا

 

 

 

 

۴۴

 

 

کچھ بھی تو مرے نام وہ کرنے نہیں دیتا

ٹوٹا ہوں کئی بار بکھرنے نہیں دیتا

 

ہے فکر پہ انسان کی اوہام کا پہرا

ادراک کے سورج کو اُبھرنے نہیں دیتا

 

ہے پیشِ نظر آپ کا کچھ اس طرح چہرا

’’ آنکھوں میں کوئی خواب اُترنے نہیں دیتا‘‘

 

اک لمحہ تغافل کا مجھے راس نہ آیا

جبرانِ زیاں وقت بھی کرنے نہیں دیتا

 

سو بار صلیبوں سے گزر اپنا ہوا ہے

اک نور ہے ایسا کہ جو مرنے نہیں دیتا

 

کیسا ہے ترے حسن کے پرتو کا تقاضہ

جو شاخِ ثمر دار نکھرنے نہیں دیتا

 

 

 

۴۵

 

 

کیسا ہے ترا حسنِ پشیماں، لاحول

پھر کفر ہوا آج ہے مہماں، لاحول

 

تو محوِ طرب، رقص کناں، میں فریاد

سب حلقۂ احباب پریشاں،  لاحول

 

اُفتاد پہ پھر ایک نئی ہے اُفتاد

احساس سے عاری ہے مسلماں، لاحول

 

افلاس،  صدا یاس،  فقط ہیں ظلمات

ہے آج ترے پاس یہ ساماں، لاحول

 

سوکھے میں لگی آگ پہ ڈالا تیزاب

یہ بھی ہے کوئی درد کا درماں، لاحول

 

 

 

۴۶

 

آرزو میری، مرے کرب کا حاصل ہوتا

’’ایک دل ہوتا مگر درد کے قابل ہوتا‘‘

 

گر پسِ پردہ ترا ہاتھ نہ شامل ہوتا

اِس جہاں میں نہ مرا کوئی بھی قاتل ہوتا

 

میرے ہاتھوں کی لکیروں میں بھنور لکھا ہے

ورنہ ممکن تھا مرے قدموں میں ساحل ہوتا

 

کاٹتا میں نہ کبھی فصلِ فغاں قسمت کی

یوں جو دستورِ عمل میں تو نہ شامل ہوتا

 

کاش پڑھ لیتا مرے جذبِ دروں کو وہ بھی

سامنے آتا کبھی، یوں نہ مقابل ہوتا

 

حزن و غم، یاس، رہا ہوتا نہ کچھ بھی باقی

گر ترے نام کی تسبیح کا عامل ہوتا

 

یہ تراشیدہ خد و خال ترے، کیا کہنا

کیسا ہوتا، جو تو انسان شمائل ہوتا

 

 

 

۴۷

 

 

کیسے اچھی لگے یہ چال ہمیں

رفعتیں اُن کو اور زوال ہمیں

 

اُن سے کہہ دو کہ یہ کمال نہیں

وہ جو کہتے ہیں بے کمال ہمیں

 

ہم گرے اور گر کے اُٹھ بھی گئے

تجھ سے کس نے کہا سنبھال ہمیں

 

حسن کو بھا گئے ہوں عشق و وفا

کوئی ایسی بھی دو مثال ہمیں

 

تیری محفل میں پھر نہ آئیں گے

اپنے دل سے نہ  تُو نکال ہمیں

 

اُن سے اک دن بچھڑ ہی جانا تھا

کیوں نہ آیا کبھی خیال ہمیں

 

ہم سے ہم کو چرا لیا نقویؔ

’’یوں نہ کرنا تھا پائمال ہمیں‘‘

 

 

 

 

۴۸

 

 

ترے چمن کی ہوا بے رخی سے گزری ہے

ہر ایک پھول سے، یہ ہر کلی سے گزری ہے

 

کمی نہیں تھی ترے حسن کے خزانوں میں

شبِ وصال مگر بے بسی سے گزری ہے

 

دیارِ زیست میں چلنا محال تھا لیکن

گزر گئی جو، فقط دل لگی سے گزری ہے

 

جنہیں سکوں ہو میسر، کہوں میں اُن سے کیوں

’’غموں کی رات بڑی بے کلی سے گزری ہے‘‘

 

ہماری آنکھ کے موتی بکھر گئے سارے

کبھی یہ لاش جو اُن کی گلی سے گزری ہے

 

لٹائے جام ہیں غیروں نے بھی ترے در سے

ہماری شام بہت تشنگی سے گزری ہے

 

 

 

 

۴۹

 

لے لے سکون قلب بھی، جو چاہے دے سزا

لیکن فصیلِ شہر سے اپنی نہ کر جدا مجھے

 

بجلی کی زد میں آشیاں، نوکِ سناں پہ ہے جگر

اب اور منتظر نہ رکھ، منزل مری دکھا مجھے

 

دستک تھا دے رہا کوئی، دہلیز پر امنگ کی

میں ہی اسیرِ ذات تھا، خود ہی نہ در کھلا مجھے

 

میں محوِ دیدِ یار تھا، کچھ کہہ کے وہ گزر گیا

’’کیسا عجیب لفظ تھا، جو یاد نہ رہا مجھے‘‘

 

میری نظر کے تیر سے، کانٹوں کے دل کو پھول کر

دے دے یہ کیمیا گری، یہ حسن کر عطا مجھے

 

 

 

 

۵۰

 

 

زندگی میں حزن و غم کے آئے کتنے کوہسار

عزم و استقلال نے میرے مگر مانی نہ ہار

 

جبر و استبداد کی پوچھو نہ مجھ سے داستاں

پا بہ جولاں ہوں، مرے ہاتھوں میں کڑیاں بے شمار

 

یہ مری ارضِ وطن، کوہ و دمن، شام و سحر

تھے کبھی قبضہ میں میرے، ان کا تھا میں ورثہ دار

 

تتلیاں اپنے چمن کی مالک و مختار تھیں

قریہ قریہ اِس کا تھا بس رحمتوں کا اک مزار

 

وہ ترے فنکار، موسیقار، اب جگ میں نہیں

’’خطۂ کشمیر، اے شعر و لطافت کے دیار‘‘

 

اب کہاں رعنائیاں،  ہر اک کلی مرجھا گئی

خشک شاخوں پر عنادل رو رہے ہیں زار  زار

 

قصۂ الفت تو نقویؔ کس طرح دہرائے گا

اب یہاں لاشوں کا خالص چل رہا ہے کاروبار

 

 

 

 

۵۱

 

چاروں طرف تھا حشر بپا کچھ نہیں کیا

ہر غم خوشی سے میں نے سہا کچھ نہیں کیا

 

وعدے عجیب اُن کے ہر اک بات میں فریب

میں نے کبھی کسی سے گلہ کچھ نہیں کیا

 

دستک طلب نے دی تو درِ فیض کھل گیا

’’کیسے کہیں کہ اُس نے عطا کچھ نہیں کیا‘‘

 

اپنے ہی ہاتھوں توڑ دیا میں نے آئینہ

پوچھا جو اُس نے، میں نے کہا کچھ نہیں کیا

 

نقویؔ  خبر لے اب تو کسی اور شہر کی

قاتل یہ کہہ رہا ہے کھڑا،کچھ نہیں کیا

 

 

 

۵۲

 

ایک لمحہ تھا بس رفاقت کا

دے گیا درد جو قیامت کا

 

ہو گیا ہوں بلاؤں سے خوگر

’’اب زمانہ نہیں ہے وحشت کا‘‘

 

کوئی روزن کھلا ہوا ہے کیا؟

رنگ پھیکا ہے آج ظلمت کا

 

ذرے ذرے میں زندگی رقصاں

دائروں میں سماں قیامت کا

 

اب تو پتھر بھی پھول لگتے ہیں

یہ کرشمہ ہے ان سے نسبت کا

 

شوق سے چڑھ گیا میں سولی پر

فیصلہ تھا تری عدالت کا

 

 

 

 

۵۳

 

 

چل نہ پائے رہگذر کے ساتھ ساتھ

منزلوں کے رہبروں کے ساتھ ساتھ

 

وہ کسی اُجڑے چمن کی یاد تھی

پتے پتے اور شجر کے ساتھ ساتھ

 

لحظہ لحظہ میں اُسی آنگن میں تھا

قریہ قریہ اس نظر کے ساتھ ساتھ

 

پوچھتے ہو کیا مری تقدیر سے

کون ہے آشفتہ سر کے ساتھ ساتھ؟

 

کیا خبر انجام کیسا اب کے ہو

ہے گھٹا کالی سحر کے ساتھ ساتھ

 

پتھروں کا چل رہا ہے کاروبار

ناتواں اک شیشہ گر کے ساتھ ساتھ

 

سوچ کر نقویؔ گزرنا اِس طرف

خون لگتا ہے ہنر کے ساتھ ساتھ

 

 

 

۵۴

 

 

آتی ہیں یہ صدائیں جو اُجڑے مکان سے

نکلا ہے کوئی آج خیال و گمان سے

 

میں بھی اسیرِ جلوہِ  جاناں ہوں دوستو

مجھ کو لگا ہے روگ بڑی آن بان سے

 

صدیوں رہا ہے عشق کی یہ سرد آنچ پر

اِس دل کو مت ڈراؤ غموں کی مچان سے

 

موجوں کے اضطراب کو سینے پہ تھام لو

امیدِ یاوری کو نکالو گمان سے

 

دشت و دمن کی ریگ سے مانوس ہو چلو

’’سائے کی التجا نہ کرو سائبان سے‘‘

 

میرے ہی ہم نشیں تھے، مرے ہم سفربھی تھے

جلنے لگے ہیں آج جو میری اڑان سے

 

آیا مجھے بلانے کئی بار وہ مگر

فرصت مجھے نہ مل سکی اپنی دکان سے

 

 

 

۵۵

 

آرزوئیں ہیں مری دہلیز پر

تیغ ہاتھوں میں لئے، سینہ سپر

 

رات دن بنتا ہوں ایسے خواب میں

زلزلے تعبیر جن کی، اَلحذر

 

نیند سے آنکھیں کھلیں تو یوں لگا

زندگی تھی ایک لمحے کا گزر

 

عمر بھر تعمیر میں کرتا رہا

بن نہ پائے ریت سے دیوار و در

 

وقت کا ہر دائرہ بڑھتا گیا

مختصر ہوتا گیا لیکن سفر

 

خود بخود ہر اک تماشہ ہو گیا

’’آدمی کا بس نہیں تقدیر پر‘‘

 

جب تخیل نے ذرا انگڑائی لی

لفظ خود بنتے گئے رختِ سفر

 

 

 

 

۵۶

 

 

اِنکار  جب سے لکھا ہے اس نے جواب میں

رہتا ہے روز و شب مرا دل اضطراب میں

 

تتلی تھی ایک آس کی، سو وہ بھی نہ رہی

کس کو بساؤں اب دلِ خانہ خراب میں

 

کہہ دو یہ پربتوں سے کہ آئیں نہ راہ میں

ڈالے ہیں مری فکر نے پاؤں رکاب میں

 

وہ پیکرِ خلوص، وہ رشکِ ملائکہ

گم ہے رذالتوں میں، تو الجھا سراب میں

 

ہجر و غمِ فراق میں روتا ہے کس لئے

کچھ اور امتحاں بھی ہیں شامل نصاب میں

 

 

 

 

 

۵۷

 

آتا ہو جس سے حرف اگر آن بان پر

بہتر ہے خاک ڈالئے ایسی اڑان پر

 

صحرا میں جا کے بس،کسی جنگل کی راہ لے

رقصاں ہے نفرتوں کا چلن ہر مکان پر

 

جن قمریوں کے بال و پر میں نے سجائے تھے

کیوںہنس رہی ہیں آج  وہ میری اڑان پر؟

 

امواجِ اضطراب اور بادِ مخالفت

میری نظر ہے دوستو، بس بادبان پر

 

مُلّا بنے  ہیں آلتِ دستِ امیرِ شہر

کیونکر اٹھے گا اب کوئی اِن کی اذان پر

 

گھر ہیں اماں سے دور، محلوں میں خوف ہے

بن آئی مسجدوں میں بھی، ہر اک کی جان پر

 

نقویؔ مقام اپنا بنا لے، جہان میں

یوں راگ مت الاپ تو غیروں کی تان پر

 

 

 

 

۵۸

 

 

اصولوں کا کسی ظالم سے یوں سودا نہ ہو جائے

ہمارے ہاتھ سے انسانیت رسوا نہ ہو جائے

 

تلاطم خیز موجیں خود پتہ دے دیں کناروں کا

جو میرا ناخدا طوفان کا حصہ نہ ہو جائے

 

بتانِ آرزو، مسجود ہیں، معبود ہیں ہر جا

کہیں میری عبادت کا یہی قصہ نہ ہو جائے

 

یہ بد اعمالیاں، جور و جفا، فتنے شواہد ہیں

قیامت وقت سے پہلے کہیں برپا نہ ہو جائے

 

الٰہی پھونک دے اک بار پھر سے روح تو اپنی

کہیں شہکار تیرا خاک کا پتلا نہ ہو جائے

 

یہی تشکیک باعث ہے مری ایماں سے دوری کا

’’کہیں ایسا نہ ہو جائے، کہیں ویسا نہ ہو جائے‘‘

 

 

 

 

۵۹

 

 

اب مرا کوئی مدعا ہی نہیں

’’دل لگایا تھا، دل لگا ہی نہیں‘‘

 

میرے کاندھوں پہ بار ہے اس کا

جو جنازہ ابھی اٹھا ہی نہیں

 

شاخ و گل نذر کر دیے اس کی

اب چمن میں تو کچھ رہا ہی نہیں

 

اِس مکیں کو ہے عمر بھر پوجا

دل میں رہ کر بھی جو ملا ہی نہیں

 

گو کہ مدت ہوئی نہ آئے وہ

وقفِ غم، پر جنوں ہوا ہی نہیں

 

زندگی خاک ہم جیے نقویؔ

کام کرنا تھا جو کیا ہی نہیں

 

 

 

 

۶۰

 

یوں زندگی کا ساتھ نبھانا پڑا مجھے

اُس کے لئے سب ہار ہی جانا پڑا مجھے

 

دردِ غمِ رقیب کو پالا تھا اِس طرح

دار و رسن سے ہاتھ ملانا پڑا مجھے

 

یوں ماند پڑ گیا تھا ترے سامنے کہ پھر

’’جلتا ہوا چراغ بجھانا پڑا مجھے‘‘

 

تیغِ جفا کا وار لئے قلبِ زار پر

میزانِ عشق کیا ہے، بتانا پڑا مجھے

 

قطرہ لہو کا تھا جو دلِ داغ دار میں

مژگانِ چشمِ تر پہ سجانا پڑا مجھے

 

اپنوں سے دور تیرے جنوں نے جو کر دیا

غیروں کی سمت ہاتھ بڑھانا پڑا مجھے

 

دنیائے التفات میں نقویؔ نہ پوچھیے

دھوکا ہر اک مقام پہ کھانا پڑا مجھے

 

 

 

 

۶۱

 

 

سُونا  سُونا  دیار  ہے  اپنا

کون یاں غم گسار ہے اپنا

 

پھول تو دسترس میں ہیں لیکن

خوشبوؤں کا وقار ہے اپنا

 

میرے حصے کی آگ ٹھنڈی ہے

گر چہ آتش حصار ہے اپنا

 

ریگ زاروں میں گھر بناتا ہوں

بس یہی کاروبار ہے اپنا

 

کب تلک اِس کو ڈھوئے جاؤں گا

دوش پر جو یہ بار ہے اپنا

 

کج فراست نصیب میں تیرے

آگہی بس شعار ہے اپنا

 

اب نہ  میراؔ   نہ  میرؔ   ملتے ہیں

شاعروں میں شمار ہے اپنا

 

اُن کی گلیوں سے کیا ہوا آئی

غنچہ غنچہ بہار ہے اپنا

 

 

 

۶۲

 

 

یوں مکین و مکاں کو تکتا ہوں

’’ہر گھڑی آسماں کو تکتا ہوں‘‘

 

دشت میں گھر بنا رہا ہوں میں

دھوپ میں سائباں کو تکتا ہوں

 

مجھ سے روٹھا ہے ناخدا میرا

اب کسی بادباں کو تکتا ہوں

 

کیا تجسس کے پھول کھلتے ہیں

چار سو گلستاں کو تکتا ہوں

 

وہ جو کہتے تھے ہم نہیں روتے

اُن کے لب پہ فغاں کو تکتا ہوں

 

سب کے اُترے ہوئے ہیں چہرے کیوں؟

سیلِ اشکِ رواں کو تکتا ہوں

 

حکم آئے گا کب، کوئی، کیسا

نغمۂ کُن فکاں کو تکتا ہوں

 

اَوٹ میں منہ چھپائے بیٹھے ہیں

جلوۂ زاہداں کو تکتا ہوں

 

دل میں طوفانِ غم مچلتا ہے

لحظۂ شادماں کو تکتا ہوں

 

 

 

۶۳

 

 

اِذنِ گفتار گر دیا جائے

عشق کا باب پھر پڑھا جائے

 

فرقتیں، یاس اور اَلم ہیں بس

زندگی خاک یوں جیا جائے

 

دل کے ریشے اگر میسر ہوں

چاک دامان کو سیا جائے

 

اُن سے ملنا اگر کسی کا ہو

نام میرا بھی لے لیا جائے

 

وہ جو آنے کی بات کرتے ہیں

اُن سے عہدِ وفا لیا جائے

 

دل سے آتی ہیں یہ صدائیں جو

کان اِن پر نہ اب دھرا جائے

 

میرا قصہ تمام ہونے دو

مجھ سے کچھ بھی نہ اب کہا جائے

 

 

 

 

۶۴

 

 

سلسلہ در سلسلہ جزوِ ادا ہونا ہی تھا

آخرش تیری نظر کا مدعا ہونا ہی تھا

 

کو بہ کو، صحرا بہ صحرا، ہم سفر تھا اضطراب

اک نیا محشر، نیا اک حادثہ ہونا ہی تھا

 

ڈس رہا تھا تیری یادوں کا مسلسل اژدہا

لحظہ لحظہ فکر میں اک سانحہ ہونا ہی تھا

 

ہاتھ اُٹھے، چشم تر تھی،دل بھی تھا محوِ  فغاں

حاشیہ در حاشیہ حرفِ دعا ہونا ہی تھا

 

کھینچ لی تھی اک لکیرِ نارسا خود درمیاں

فاصلہ در فاصلہ در فاصلہ ہونا ہی تھا

 

 

 

 

 

۶۵

 

 

ہر ایک نفَس نوحہ کناں یاد رہے گا

الفاظ سے اُٹھتا وہ دھواں یاد رہے گا

 

صحرا کے سلگتے ہوئے ذروں کی تپش سے

دم توڑتا ہر عزمِ جواں یاد رہے گا

 

دریا کے کناروں سے وہ موجوں کا اُلجھنا

کشتی کے اُلٹنے کا سماں یاد رہے گا

 

امید کی کرنوں میں نہا کر تھا درخشاں

ذروں میں وہ سورج سا نشاں یاد رہے گا

 

ایسا تھا تعلق در و دیوار سے اپنا

تا عمر ہمیں ایک مکاں یاد رہے گا

 

 

 

۶۶

 

راہبر کو تلاش کرتی ہے

بس، ہنر کو تلاش کرتی ہے

 

چاک پر خاک خود بخود آ کر

کوزہ گر کو تلاش کرتی ہے

 

مدتوں بعد پھر یہ ویرانی

بام و در کو تلاش کرتی ہے

 

دشت و صحرا میں طائروں کی تھکن

بال و پر کو تلاش کرتی ہے

 

راہ پر گامزن ہے خود منزل

ہم سفر کو تلاش کرتی ہے

 

کج کلاہی کی راہ پر دنیا

دیدہ ور کو تلاش کرتی ہے

 

ہے ہواؤں کے دوش پر خوشبو

نامہ بر کو تلاش کرتی ہے

 

تیغ کس کی ہے کس کے کہنے پر

کس کے سر کو  تلاش کرتی ہے

 

 

 

۶۷

 

ہر عیاں ہو نہاں تو کیا ہو گا

دل ہو صَرفِ بیاں تو کیا ہو گا

 

دل کی برگشتگی اسے کر دے

واہموں کا مکاں تو کیا ہو گا

 

طاق سے روشنی جو دیتا ہے

وہ دیا دے دھواں تو کیا ہو گا

 

ظلمتیں سر اُٹھائے پھرتی ہیں

نور ہو بے زباں تو کیا ہو گا

 

دشت میں وحشتیں نہیں ہیں اب

دل نے کھولی دکاں تو کیا ہو گا

 

اسپِ خود سر پہ میں نیا سا ہوں

ٹوٹ جائے عناں تو کیا ہو گا

 

 

 

 

۶۸

 

 

کوئی تھا چاند، یا پھر چاندنی بردار دیکھا ہے

نظر کو سامنے جس کے بہت لاچار دیکھا ہے

 

کبھی جو سیر کی،  اپنے ہی اندر ڈوب کر میں نے

تھکن سے چور اک سایہ پسِ دیوار دیکھا ہے

 

مسلسل جوجھتا  رہتا ہوں میں امواجِ دریا سے

ہمیشہ خود کو اِس جانب اُسے اُس پار دیکھا ہے

 

نمو جس درد نے پائی، پلا جو میرے آنگن میں

اُسی کا میرے سر نے آہنی ہر وار دیکھا ہے

 

کسی دن قتل ہو جائے گا یہ معصوم سا بچہ

ہمیشہ اُس گلی میں سایۂ تلوار دیکھا ہے

 

دگر گوں ہے مرے اندر کی حالت اے مرے ہمدم

در و دیوار کو گرتے ہزاروں بار دیکھا ہے

 

 

 

۶۹

 

بے چینی کے لمحے، سانسیں پتھر کی

صدیوں جیسے دن ہیں، راتیں پتھر کی

 

پتھرائی سی آنکھیں، چہرے پتھر کے

ہم نے دیکھیں کتنی شکلیں پتھر کی

 

گورے ہوں یا کالے، سر پر برسے ہیں

پرکھی ہم نے ساری ذاتیں پتھر کی

 

نیلامی کے در پر بے بس، شرمندہ

خاموشی میں لپٹی آنکھیں پتھر کی

 

دل کی دھڑکن بڑھتی جائے، سن سن کر

شیشہ گر کے لب پر باتیں پتھر کی

 

اندر کی آرائش نازک، کیا  ہو گا

باہر وزنی ہیں دیواریں پتھر کی

 

آؤ مل کر ان میں ڈھونڈیں، آدم زاد

چلتی پھرتی جو ہیں لاشیں پتھر کی

 

 

 

 

۷۰

 

 

دور تک اک سراب دیکھا ہے

وحشتوں کا شباب دیکھا ہے

 

ضو فشاں کیوں ہیں دشت کے ذرے

کیا کوئی ماہتاب دیکھا ہے

 

بام و در پر ہے شعلگی رقصاں

حُسن کو بے نقاب دیکھا ہے

 

نامہ بر اُن سے بس یہی کہنا

نیم جاں اک گلاب دیکھا ہے

 

اب زمیں پر قدم نہیں ٹکتے

آسماں پر عقاب دیکھا ہے

 

میری نظروں میں بانکپن کیسا

جاگتا ہوں کہ خواب دیکھا ہے

 

 

 

 

جشن  آزادی

 

 

 

جشن آزادی میں تو ہے ناچنے گانے لگا

کیوں حقیقت کا ہے اپنی راز کھلوانے لگا

 

تو سمجھتا ہے شہیدوں کو ہے یہ شردھانجلی

میں یہ  کہتا ہوں، تو ان کی روح تڑپانے لگا

 

جس کے ہر پودے کو سینچا خون سے اجداد نے

اُس چمن کی آج تو ہر شاخ کٹوانے لگا

 

کو بہ کو، صحرا بہ صحرا، فتح کی نہ بات کر

کون کہتا ہے یہ سہرا تیرے سر جانے لگا

 

رشک کرتے تھے تری رفعت پہ کل حور و ملک

ہر بلندی کا مکاں اب تجھ سے شرمانے لگا

 

تو تھا مسجودِ ملائک، تو قلندر بے نیاز

تیری ٹھوکر میں جہاں تھا، آج خود کھانے لگا

 

رہنمائے قوم تھا تو، پیٹ پر پتھر لئے

مفلس و نادار کا اب خون بھی کھانے لگا

 

کل تلک گاندھی تھا تو، تو ہی بھگت، آزاد تھا

آج غدارِ وطن ہے، چور کہلانے لگا

 

کل بسائی دار پہ دنیا تھی تو نے ناز سے

آج سچی بات بھی کہنے سے گھبرانے لگا

 

کیا کبھی افکار میں تیرے یہ اٹھا ہے سوال

آدمی کیوں آدمی کا خون برسانے لگا

 

میں تھا گم اس سوچ میں تاریکی شب ہے گواہ

ناگہاں اک مرد کامل مجھ کو بتلانے لگا

 

ہے سبب ذلت کا تیری نفسِ امارہ ترا

بن کے بربادی کا بادل سر پہ منڈلانے لگا

 

دل خراشی کا یہ نغمہ بند کر، نقویؔ کہ اب

تیری محفل چھوڑ کے ہر شخص ہے جانے لگا

 

 

 

 

غریب امیر سے

 

 

 

میرا مسکن راہ گذر ہے

تیری اونچی اونچی نظر ہے

 

جھک کر نیچے دیکھ اسے بھی

تیرے جیسا ایک بشر ہے

 

میرے بچے بھوک سے بلکیں

رنگیں تیری شام و سحر ہے

 

مخمل کا ہے تیرا بچھونا

میرا بستر برگ و حجر ہے

 

خنداں لب ساحل پہ کھڑا تو

میری کشتی بیچ  بھنور ہے

 

پیسہ، بس پیسہ ہی پیسہ

کتنا بے حس تیرا نگر ہے

 

اُجڑی اُجڑی نیند ہے تیری

لحظہ لحظہ خوف و خطر ہے

 

مدہوشی کے جام لٹا کر

کرتا مفلس رات بسر ہے

 

پھل لگنے، پر غور سے دیکھو

جھک جاتا ہر ایک شجر ہے

 

 

 

 

 

رہبرِ  تعلیم

 

تجھے یہ حوصلہ بخشے خدا، اے رہبرِ تعلیم

کرے اپنا فریضہ تو ادا،  اے رہبرِ تعلیم

 

بزرگوں نے جسے پیغمبری پیشہ بتایا ہے

مقدر سے تجھے وہ ہے ملا، اے رہبرِ تعلیم

 

دکھانا بن کے رہبر ہے تجھے سارے زمانے کو

کرے تجھ سے نہ کوئی بھی گلہ ، اے رہبرِ تعلیم

 

ترے علم و فضیلت کا ہر اک بستی پہ مینہ برسے

ہر اک گلشن تجھی سے ہو کھلا، اے رہبرِ تعلیم

 

ہر اک طفل و جواں، خورد و کلاں، مانوس ہو تجھ سے

وفا کی، پیار کی گنگا بہا، اے رہبرِ تعلیم

 

اندھیروں کو دیے علم و بصیرت کے دکھاتا جا

شرابِ  زندگی سب کو پلا، اے رہبرِ تعلیم

 

پڑا ہے حاکمِ بے داد کے کانوں پہ اک پردہ

سنے گا کون تیرا ماجرا، اے رہبرِ تعلیم

 

نہ لانا فرض کی تو راہ میں، اُجرت کو اے بھائی

خدا دے گا تجھے اس کا صلہ، اے رہبرِ تعلیم

 

کبھی مغلوب نہ ہونا، زمانے کی روش سے تو

سبھی کو ساتھ اپنے تو چلا، اے رہبرِ تعلیم

 

تیرے ارمان ہوں پورے، تری مشکل کشائی ہو

ترے حق میں ہے نقویؔ کی دعا، اے رہبرِ تعلیم

 

 

 

 

 

اُستاد

 

 

نام ہے اُستاد تیرا، علم و فن کر دے عطا

بن مسافر، کتب خانہ اپنے کاندھوں پر اُٹھا

 

بانٹنے انمول موتی، ہر گلی کوچے میں جا

بن کے اک اُستادِ کامل پیار کے ساغر لٹا

 

گر تجارت مشن ہے تیرا، تو پھر صد حیف ہے

طفل ہائے قوم سے کیوں کر رہا ہے تو دغا؟

 

تیرے قلبِ شوق پر کیوں ثبت ہے مہر  سیاہ

چشمِ بینا سے تو اپنی، آز کا پردہ ہٹا

 

نقل تھا تیرا سہارا، علم سے کوسوں تھا دور

ہائے یہ کیسا غضب، اُستاد اب تو بن گیا

 

اے مریضِ شوقِ تحصیلِ ہنر، علم و ادب

چھوڑ دے رعنائیاں، گوشے میں جا کر بیٹھ جا

 

شوق ہے گر تجھ کو نقویؔ، دیدِ شہرِ علم کا

بابِ  شہرِ علم کے در  پہ  تو اپنا سر جھکا

 

 

 

 

 

ایک دوست کی سبکدوشی پر

 

 

 

مسافر پتھروں کے شہر کے اب لوٹ آئے ہیں

بڑی پُر خار وادی تھی مگر وہ پھول لائے ہیں

 

کوئی تو زیرِ سایۂ گلِ تر بھی رہا ناقص

کسی نے پھول، بڑھ کر ریگ زاروں میں کھلائے ہیں

 

روا جس شہر میں ہے لوٹ لینا ہر بھرے گھر کو

وہیں اُجڑے ہوئے لاکھوں کسی نے گھر بسائے ہیں

 

کما لائے ہیں جس دفتر سے سیم و زر جہاں والے

کسی نے پیار کے، الفت کے  واں دریا بہائے ہیں

 

دھڑکتا اِن کے سینے میں دلِ پر سوز ہے ایسا

عوام الناس کے جس نے ہزاروں غم اُٹھائے ہیں

 

رہیں وہ بزمِ یاراں میں، یا ہو اغیار کی دنیا

خلوص و پیار کی گنگا میں اِن کی سب نہائے ہیں

 

گلی کوچوں میں کیچڑ ہو، رہے بے داغ یہ دامن

بتا دیجے ہنر یہ آپ کو کس نے سکھائے ہیں

 

 

 

 

ضلع پونچھ

 

 

یہ سر سبز و شاداب و رنگین وادی

درختوں کے آنچل میں سبزے کی نرمی

 

ہر اک سو مہکتی، چٹختی ہیں کلیاں

دلوں کو لبھاتی یہ پھولوں کی لڑیاں

 

پرندہ کوئی دور نغمہ سرا ہے

سماعت میں میری جو رس گھولتا ہے

 

اندھیرے میں جگنو چمکتے ہیں ایسے

کہ انجم ہوں چرخِ کہن پر وہ جیسے

 

میں جا کے قریں ایک جھرنے کے بیٹھا

لگا، بنسری ہیں بجاتے کنہیا

 

وہیں ایک سادھو تھا محوِ سماعت

لگا کہنے مجھ سے سنو رب کی مدحت

 

ثنائے خدا آب و گل کر رہے ہیں

اطاعت میں برگ و شجر ہل رہے ہیں

 

یہ وادی جسے پونچھ کہتے ہیں سارے

محبت ہے جس کی دلوں میں ہمارے

 

ہمالہ کی برفیلی چوٹی سے لے کر

یہ گرجن کو سبزے کی پوشاک دے کر

 

بنا کر پہاڑوں کو دریا کا مخزن

چلی سوئے سورن یہ پھیلائے دامن

 

وہ بل کھاتا، گاتا، پہاڑوں سے نکلا

کہ پانی ہے شیریں و شفاف جس کا

 

سیالاں و ڈگراں کا پیغام لے کر

چندی مڑھ کی مٹی کا ابہام لے کر

 

ادائیں ہیں اس میں مغل رانیوں کی

ہیں رنگینیاں بفلیازی گھروں کی

 

سکوں پا رہا ہے درابہ میں آ کر

محبت کے میٹھے یہ نغمے سنا کر

 

یہاں سے فصاحت کے ذرے اٹھا کر

بناتا ہے سورن کو زرخیز آ کر

 

کناروں پہ گلشن ہیں اِس نے کھلائے

ہیں منہاس و گوجر و سید بسائے

 

ذرا سر اٹھا کر جو  اس پار دیکھو

امینِ ولایت کا دیدار کر لو

 

غلامِ حبیبِ خدا کا ہے مسکن

تھا سرِ الہی سے دل جس کا روشن

 

وفاؤں کا پیغام سب کو سنایا

غریبوں، یتیموں کے سر کا تھا سایہ

 

تجلیِ ساداتِ پمروٹ پا کر

خرد مندیِ سانگلہ میں نہا کر

 

یہ دریا سنئی کی جانب رواں ہے

لسانہ و دھندک کی بھی یہ زباں ہے

 

کلائی میں دریائے منڈی سے مل کر

چلا اک جواں سال دو شیزہ بن کر

 

ہے چنڈک سے اوپر کی جانب یہ منڈی

ہر اک شے جہاں کی ہے شیریں و ٹھنڈی

 

پہاڑوں کے اندر یہ چھوٹا سا قصبہ

جہاں علم و حکمت کا اب بھی ہے قبضہ

 

مرے ایک محسن کا گھر تھا یہ قریہ

بہائے ہیں جس نے اخوت کے دریا

 

عقیدت سے ہر کوئی سرشار ہو کر

چلا آ رہا ہے کدورت کو دھو کر

 

جو دربارِ سید پہ ہے گڑگڑاتا

مرادیں دلوں کی وہ لے کر ہے جاتا

 

ہے دل کش بہت راج پورہ کا منظر

امر ناتھ بیٹھے ہیں دھونی رما کر

 

لگایا ہے بھگتوں نے یاں آ کے ڈیرا

شبِ غم کا ان کی ہے ہوتا سویرا

 

یہ محسوس لورن میں جا کر ہوا ہے

سکوں بخش راتیں، سحر جانفزا ہے

 

کروں سیرِ گل مرگ جی چاہتا ہے

مگر راہ میں ایک پربت کھڑا ہے

 

نہ گھوڑا، نہ گاڑی، نہ مانوس راہیں

چلو شہر اپنے کو ہم لوٹ جائیں

 

یہ شہرِ تمنا جو میرا وطن ہے

کہ مشہور اس کے ادیبوں کا فن ہے

 

کرشنا ہے بیٹا، چراغ اس کی حسرت

عطا کی ہے دونوں نے اردو کو رفعت

 

لیاقت، ذہانت، متانت، فصاحت

شرافت، سیاست، صحافت، شجاعت

 

ہمارے جوانوں کی ہیں دسترس میں

ہر ایک فن میں ماہر، ہر اک چیز بس میں

 

تخیل کسی کا فلک آشنا ہے

کوئی پونچھ کا آج کلہن بنا ہے

 

جنم بھومی بے شک ہے دانشوروں کی

کوئی اس میں بانڈے، کوئی میر پونچھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

نوٹ:  نظم میں ضلع پونچھ کے جن دیہات اور قصبوں کا ذکر ہے، اُن کے نام درج ذیل ہیں:  گرجن، سیالاں، ڈگراں، چندی مڑھ، بفلیاز، درابہ، سورن کوٹ، سانگلہ، پمروٹ، سنئی،لسانہ، دھندک،  چنڈک، منڈی، راجپورہ،لورن، گل مرگ (کشمیر)، پونچھ وغیرہ۔

میرا محسن:        بشیر حسین بٹ                 پونچھ کا کلہن:    کے، ڈی، مینی

فلک آشنا تخیل:   محمود الحسن محمود و دیگر نامور شعراء

٭٭٭

شاعر کے تشکر کے ساتھ کہ اس کی فائل فراہم کی

ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید