FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

اتحادِ اُمتِ مسلمہ:وقت کی ضرورت

 

 

 

                ڈاکٹر مقبول حسن

 

اسسٹنٹ پروفیسر و صدر شعبہ اسلامیات

 بحریہ کالج کارساز، کراچی، پاکستان

 

 

 

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 

کسی بھی قوم کی کامیابی و کامرانی اس کے افراد کے باہمی اتحاد میں مضمر ہے۔ جس طرح پانی کا قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے اسی طرح انسانوں کے متحد اور مجتمع ہونے سے ایسی اجتماعیت تشکیل پاتی ہے کہ جس پر نگاہ ڈالتے ہی دشمن وحشت زدہ ہو جاتا ہے اور کبھی بھی اس کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ قرآنِ مجید نے ہمیں اپنے زمانہ نزول سے ہی یہ راز سکھا دیا تھا کہ:

تُرہِبُونَ بِہِ عَدُوَّ اللہ وَعَدُوَّکُم۔ [1]

ترجمہ: ’’تم اس ( طاقت وصف بندی )کے ذریعہ اپنے اور خدا کے دشمنوں کو خوف زدہ کرو۔ ‘‘

قرآن مجید کی دیگر متعدد آیات میں مسلمانوں کو متحد رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

وَاعتَصِمُوابِحَبلِ اللہِ جَمِیعاًوَلَا تَفَرَّقُوا۔

’اور تم سب ملکر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو – ‘‘ [2]

آیتِ مبارکہ میں فرد واحد کے بجائے پوری امت سے خطاب ہے۔ اعتصام بحبل اللہ یعنی اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لینا ہرمسلمان کا فریضہ ہے۔ قران نے صرف خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کے حکم پر اکتفا نہیں کیا ہے بل کہ کہا ہے ’ ’ جَمِیعًا ‘‘ کہ سب مل کر خدا کی رسی کو تھامیں۔ مسلمانوں کو ساتھ ساتھ مل کر اجتماعی شکل میں اعتصام بحبل اللہ کرنا ہو گا اور ایک دوسرے کے ساتھ متحد ہونا ہو گا۔ بالفاظِ دیگر اس آیت کریمہ میں اتحادِ اُمت کا حکم دیا گیا ہے اور تفرقہ سے بالکل منع کیا گیا ہے۔ مفسرینِ کرام کے نزدیک ’’حبل اللہ‘‘ سے مراد کتاب و سُنت ہیں۔ لہٰذا اُمت مسلمہ کے درمیان کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی شکل میں اتحاد و اتفاق کی دو مضبوط بنیادیں موجود ہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے :

’’میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں : ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری سنت۔ جب تک تم ان دونوں کو مضبوطی سے تھامے رہو گے گمراہ نہ ہو گے۔ ‘‘ [3][4]

اللہ تعالیٰ کا پیغام اور اس کی تعلیم و ہدایت قرآن کریم کی شکل میں موجود ہے۔ اس میں انسانوں کے لیے زندگی گذارنے کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔ جس کی عملی شکل حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ گرامی کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہئے کہ کتاب و سنت کی بنیاد پر متحد و متفق ہوں۔

اتحاد کے یہ معنی ہرگز نہیں ہیں کہ تمام مسلمان اپنی انفرادی رائے، اعتقادات و مسلک حیات سے دستبر دار ہو جائیں، بل کہ اتحاد سے مراد و مقصود یہ ہے کہ ہر شخص اپنے اعتقادات پر قائم رہتے ہوئے ان پر عمل کرے دوسروں کی رائے و دلیل کے حوالے سے احترام، وسعت قلبی اور رواداری کا اظہار کرے اور تعصب سے پرہیز کرے کیونکہ تعصب تنازعہ و تصادم کو جنم دیتا ہے۔ جس طرح اصحابِ رسول اور قرونِ اولیٰ کے مسلمان باوجود اختلافِ رائے احترامِ باہمی کا خیال رکھتے ہوئے اخوت و محبت سے زندگی بسر کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے اختلاف اور باہمی انتشار و بد امنی کی مذمّت بیان کرتے ہوئے اسے بدترین عذاب قرار دیا ہے :

– قُل ھُوَ القَادِرُ عَلَی اَن یَبعَثَ عَلَیکُم عَذَابًا مِن فَوقِکُم و مِن تَح ِ اَرجُلِکمُا و یَلبِسَکُم شِیَعًا وَیُذِیقَ بَعضَکُم بِبَعضٍ۔ [5]

ترجمہ: ’’اے رسول!تم کہہ دو کہ وہی اس پر قابو رکھتا ہے کہ (اگر چاہے تو)تم پر عذاب تمہارے سر کے اوپر سے نازل کرے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے (اٹھا کر کھڑا کر دے )یا ایک گروہ کو دوسرے سے لڑا دے اور تم میں سے کچھ لوگوں کو بعض آدمیوں کی لڑائی کا مزا  چکھا دے۔ ذرا غور تو کرو ہم کس کس طرح اپنی آیتوں کو الٹ پلٹ کے بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھیں۔ ‘‘

ابن اثیر نے کہا ہے :

”شیعاً”سے مراد وہی امتِ اسلام کے درمیان تفرقہ بازی پھیلانا ہے [6]۔

اللہ تعالیٰ نے پیغمبر ﷺ کو ایسے لوگوں سے لا تعلقی کا حکم فرمایا جو آپس میں اختلاف ایجاد کرتے اور پھر اس پر اصرار کرتے ہیں :

اِنَّ الَّذِینَ فَرَّقُوا دِینَہُم وَکَانُوا شِیَعًا لَستَ مِنہُم فِی شَیء ٍ انَّمَا اَمرُہُم لَی ثُمَّ یُنَبِّئُہُم بِمَا کَا نُوا یَفعَلُونَ۔ [7]

ترجمہ: ’’جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا اور ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے ان سے آپ (ﷺ )کا کوئی تعلق نہیں ہے ان کا معاملہ خدا کے حوالے ہے پھر وہ انہیں ان کے اعمال سے باخبر کرے گا۔ ‘‘

ربِ کائنات نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ مشرکوں کی طرح آپس میں اختلاف اور اس پر فخر و  غرور نہ کیا کریں :

ولاتَکُونُوا مِن المُشرِکِینَ مِن الَّذِینَ فَرَّقُوا دِینَہُم وَکَانُوا شِیَعًا کُلُّ حِزبٍ بِمَا لَدَیہِم فَرِحُونَ۔ [8]

ترجمہ: ’’اور خبردار مشرکین میں سے نہ ہو جانا جنھوں نے دین میں تفرقہ پیدا کیا ہے اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں پھر ہر گز وہ جو کچھ اس کے پاس ہے اسی پر مست و مگن ہیں۔ ‘‘

ولا تنازعوا فتفشلوا و تذھب ریحکم و اصبروا ان اللہ مع الصابرین۔ [9]

’’اور آپس میں اختلاف نہ کرو کہ کمزور پڑ جاؤ اور تمہاری ہوا اُکھڑ جائے گی اور صبر کرو اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ ‘‘

ولا تکونوا کا لذین تفرقوا و اختلفوا من بعد ما جا ء ھم البینات واُولٰئک لھم عذاب عظیم۔

’’اور خبردار ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے تفرقہ پیدا کیا اور واضح نشانیوں کے آ جانے کے بعد بھی اختلاف کیا ان کے لیے عذاب عظیم ہے ‘‘ [10]

۔ ۔ ۔ ان اقیموا الدین ولا تتفرقوا فیہ کبرعلی المشرکین ما تدعوھم الیہ۔ ۔ ۔

’’۔ ۔ ۔ کہ دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقہ نہ پیدا ہونے پائے مشرکین کو وہ بات سخت گراں گزرتی ہے جس کی تم انھیں دعوت دے رہے ہو۔ ..‘‘[ 11]

پیغمبرِ آخرالزماں ﷺ کی طرف سے اہلِ ایمان کے درمیان اتحاد و اتفاق کے سلسلے کئی فرامین وارد ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں چند ایک کچھ یوں ہیں :

آپ ﷺ نے فرمایا:

الناسُ کلُّہم سواء کاسنان المشط۔ [12]

’’سارے انسان کنگھی کے دانت کی طرح مساوی و برابر ہیں۔ ‘‘

آپ ﷺ نے تاکید فرمائی:

ان اموالکم و اعراضکم و دمائکم۔ ۔ ۔ حرام علیکم کحرمۃ یومکم ھذا فی شہرکم ھذا فی بلدکم ھذا۔

’’اے لوگو!تمہارے اموال، تمہاری ناموسیں، تمہارا خون۔ ۔ ۔ سب تم پر حرام ہیں ویسے ہی جیساکہ آج یہ مہینے (ذیقعدہ، ذی الحجۃ، محرم الحرام وغیرہ)اور یہ شہر قابل احترام ہیں۔ ‘‘[13]

آپ ﷺ نے فرمایا :

– لیس منا من دعا عصبیۃ و لیس منا من قاتل علی عصبیۃ و لیس منا من مات علی عصبیۃ۔

’’وہ ہم میں سے نہیں ہے جو تعصب رکھتا ہو اور وہ بھی ہم میں سے نہیں ہے جو تعصب کی بنا پر لڑائی جھگڑا کرے اور وہ بھی ہم میں سے نہیں ہے جو تعصب رکھنے کی حالت میں ہی اس دنیا سے چلا جائے ‘‘[14]

آپ ﷺ نے فرمایا :

-المؤمنون بعضھم لبعض نصحۃ وادّون وان افترقت منازلھم و ابدانھم والفجرۃ بعضھم لبعض غششۃ یتخاذلون وان اجتمعت منازلھم وابدانھم۔

’’ ایمان والے ایک دوسرے کی بھلائی اور خیرخواہی چاہتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مؤدت سے پیش آتے ہیں اگر چہ ان کے گھر اور جسم ایک دوسرے سے جدا ہی کیوں نہ ہوں لیکن بے ایمان افراد ایک دوسرے کا بُرا چاہتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کرنے سے دور رہتے ہیں اگر چہ ان کے گھر اور جسم ایک ہی ساتھ کیوں نہ ہوں۔ ، ، [15] ، [16]

امت مسلمہ کے درمیان ہر قسم کا اختلاف پیغمبر کے لیے پریشانی کا باعث تھا۔ محقق علماء کرام نے نقل کیا ہے کہ ’’شاس بن قیس‘‘ نامی شخص جو زمانہ جاہلیت کا پروردہ اور مسلمانوں کے بارے میں اس کے دل میں حسد و کینہ ٹھاٹھیں مارتا رہتا تھا اس نے ایک یہودی جوان کو تیار کیا تاکہ اسلام کے دو بڑے قبیلوں اوس و خزرج کے درمیان اختلاف ایجاد کرے۔ اس یہودی نے دونوں قبیلوں کے افراد کو زمانہ جاہلیت میں ان کے درمیان ہونے والی جنگوں کی یاد دہانی کروا کر ان کے درمیان آتش فتنہ روشن کر دی یہاں تک کہ دونوں قبیلے ننگی تلواریں لے کر ایک دوسرے کے سامنے آ کھڑے ہوئے پیغمبر اسلامﷺ کو اس واقعہ کی خبر ملی تو انصار و مہاجرین کے ایک گروہ کے ہمراہ لڑائی کے مقام پر پہنچے اور فرمایا:

یا معشرالمسلمین اللہ، اللہ، ابدعوی الجاھلیۃ وانا بین اظھر کم ؟بعد اذھداکم اللہ الی الاسلام واکر مکم بہ، وقطع بہ عنکم امر الجاھلیۃ، واستنقذکم بہ من الکفر، والف بہ بینکم، ترجعون  الی ما کنتم علیہ کفارا۔ فعرف القوم انہا نزعۃ من الشیطان وکید من عدوھم نھم فائقوا السلاح وبکواوعانق الرجال بعضھم بعضاثم انصرفوا مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سامعین مطیعین قداطفا اللہ عنھم کید عدواللہ شاس۔ [17] ، [18]

’’اے مسلمانو!کیا تم نے خدا کو فراموش کر ڈالا اور جاہلیت کے شعار بلند کرنے لگے ہو جبکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔ اللہ نے تمھیں نور اسلام کی طرف ہدایت کر کے مقام عطا کیا، جاہلیت کے فتنوں کو ختم کر کے تمھیں کفر سے نجات دی اور تمہارے درمیان الفت و برادری برقرار کی کیا تم دوبارہ کفر کی طرف پلٹنا چاہتے ہو؟پیغمبرﷺ کے اس خطاب سے وہ لوگ سمجھ گئے کہ یہ ایک شیطانی سازش ہے اپنے اس عمل پر پشیمان ہوئے، اسلحہ زمین پر رکھ دیا اور آنسو بہاتے ہوئے ایک دوسرے کو گلے لگا کر اظہار محبت کرنے لگے اور پھر پیغمبر اکرم ﷺ کی ہمراہی میں اپنے اپنے گھروں کی طرف واپس پلٹ گئے۔

مندرجہ بالا آیات روایات کے مخاطبین اگرچہ تمام بنی نوع انسان ہیں لیکن بطور خاص اس کے مخاطب مسلمان ہیں تا کہ اپنی روز مرہ زندگی میں اسے اپنا لائحہ عمل قرار دیں اور خواب غفلت سے بیدار ہوں اور اپنے دین، اپنی تہذیب، اپنے اخلاق، اپنے اصول معاشرت اور فی الجملہ اپنی انفرادیت (ملی وحدت)کو محفوظ رکھیں اور ہر طرح کی تفریقیں مٹا کر اپنے اندر ایک ملت ہونے کا احساس پیدا کر سکیں !کیونکہ آج دشمنان اسلام اپنے تمام تر وسائل و ذرائع کو بروئے کار لا کر ایسی تدبیریں ایجاد کر رہے ہیں تاکہ وہ ان کے قومی تشخص، تہذیب، تمدن و ثقافت، انفرادیت، بصیرت اور اُن کے شعور کو۔ ..چھین لیں۔ اور مسلمانوں کی پل بھر کی غفلت انھیں صفحہ ہستی سے مٹا سکتی ہے۔

 

 

 

مسالک اور اختلافِ اُمت

 

مشہور فقہائے اربعہ، امام مالک، امام ابوحنیفہ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ تعالیٰ کی وہ علمی آراء جو قرآن وسنت کے نصوص کی تفہیم اور احکام خداوندی کی تشریح میں منقول ہیں، انھی کو مسلک سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چوں کہ ان کی آراء میں باہم اختلاف ہے اور اسی وجہ سے ان کے متبعین میں بھی اختلاف رونما ہوتا ہے، جس کی وجہ سے امت مسلمہ کئی گروہوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ تا ہم آئمہ مجتہدین کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔ قصور، در اصل بعد میں ہونے والے اُن کے متبعین کا ہے۔ فقہائے کرام اور ائمہ مجتہدین نے قرآن و سنت پر غور خوض کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے مطلوب و منشا کو پانے کی بھرپور کوشش کی ہے اور اس پر وہ اَجر کے مستحق ہیں۔ مگر کسی امام کا یہ دعویٰ نہیں تھا کہ کہ حق اسی کے مسلک میں محصور ہے اور دوسرے ائمہ کا قول غلط ہے۔ لہٰذا میرے ہی مسلک کی ہر حال میں اتباع کو لازم سمجھا جائے اور دوسرے مسلک کی مخالفت کی جائے۔ مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ انھوں نے ایک امام کی تقلید کو ہر حال میں واجب قرار دے لیا ہے اور دوسرے مسلک کے قول کی مخالفت کو ضروری سمجھ لیا ہے۔ اس کی وجہ سے مسلکی عصبیت پیدا ہوئی اور ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی شروع کر دی گئی۔ مسلمانوں میں مسلکی عصبیت اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ اس سے کئی اسلامی تعلیمات مجروح ہونے لگی ہیں۔ قرآن میں سارے مومنوں کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا گیا ہے مگر مسلکی عصبیت نے لوگوں کو بتایا کہ یہ ساری تعلیمات اپنے ہم مسلکوں سے متعلق ہیں اور دوسرے مسلک والوں سے ویسا ہی معاملہ کرنا بجا ہے جیساغیرمسلموں اور ذمیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ حال آں کہ اسلام نے غیرمسلموں اور ذمیوں تک کے بھی حقوق بتائے ہیں مگر مسلکی عصبیت اس سے بھی آگے بڑھ گئی اور اَب دوسرے مسلک والے اس کے بھی مستحق نہ رہے کہ ان سے ذمیوں جیسے سلوک کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر جگہ لڑائی اور فساد کی کیفیت ہے اور اس کی وجہ سے بعض لوگ سرے سے مسلک کو ہی انتشارِ ملت کا سبب قرار دے رہے ہیں۔

اس وقت اتحاد، عالمِ اسلام اور مسلمانوں کا اہم ترین مسئلہ اور تمام ضرورتوں و ترجیحات پر برتری اور اہمیت رکھتا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ مسلمان اتحاد کی ضرورت کو نہیں سمجھتے۔ موجودہ دور میں مسلمانوں کا اتحاد ایک ناقابل ان کار ضرورت ہے۔ یہ ایک ایسی ضرورت ہے جو فرقہ وارانہ تنگ نظری، گروہی تعصب اور قومی و نسلی امتیازات کی بنا پر معرض وجود میں نہیں آ سکی جبکہ سامراجی ملکوں کی سازشیں بھی مسلمانوں کو متحد ہونے سے روکنے میں موثر رہی ہیں۔ بے شک حالیہ صدیوں میں مسلمانوں کی عدم پیش رَفت اور پسماندگی کا سبب اختلافات اور آپسی تفرقے ہیں۔ ان کے قومی اور مذہبی اختلافات نے انہیں مختلف قوموں سے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ جب دوسرا عیسوی ہزارہ شروع ہوا تھا تو مسلمان علمی اور سائنسی لحاظ سے سب سے پیش رفتہ تھے۔ ان کے شہر علم و سائنس و صنعت و تجارت کا مرکز سمجھے جاتے تھے۔ مسلمان علماء اور دانشوروں کو اس زمانے کا راہنما مفکر سمجھا جاتا تھا، عالم اسلام سیاسی، اقتصادی اور علمی و سائنسی سرگرمیوں کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ آج عالم اسلام کی اس شوکت و عظمت کو کیا ہوا؟ مسلمانوں کی وہ یکجہتی کہاں گئی؟ مسلمانوں کی عظمت، عزت و سربلندی سب کچھ اختلافات کی نذر ہو گا۔ اگر مسلمان تعلیماتِ وحی پر کاربند رہتے اور اپنے سیاسی اور سماجی اتحاد کی حفاظت کرتے تو ان کا آج یہ حشر نہ ہوتا۔ آج بھی اگر مسلمان ایک پرچم تلے آ جائیں اور اپنے اختلافات پر بے سود وقت ضایع کرنے کے بجائے تھوڑا سا وقت امت کی فلاح و بہبود کے لیے نکالیں تو آج بھی ایک عظیم طاقت کے طور پر نمایاں ہو سکتے ہیں۔ ہمارے علماء اور دانشوروں کا فریضہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو اتحاد و یکجہتی کی اہمیت سے آگاہ کریں۔

اتحاد و اتفاق کسی بھی قوم کی ترقی اور اعلیٰ اہداف کے حصول نیز سربلندی اور کامیابی میں معجزانہ کردار رکھتا ہے۔ آج اسلام کے دشمن متحد اور مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ہے۔ اسلام کے دشمنوں کا اتحاد اسی نکتے کی افادیت سے بخوبی آگاہی پر مبنی ہے اور انہوں نے اسلام کو مشترکہ دشمن قرار دے کر اسے اپنے سامراجی اہداف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھا ہے اور اسی بنا پر دشمنوں نے اپنے تمام نظری، نسلی، علاقائی اور سیاسی اختلافات بھلا کر ایک دوسرے سے نزدیک ہو کر اسلام کو مٹانے کی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر عیسائیوں اور یہودیوں نے اپنے تمام تر بڑے شدیدمسلکی اختلافات بھلا کر مسلمانوں کے خلاف متحد ہو کر کام کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ عیسائی جو یہودیوں کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب ہونے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں اب اس الزام کو بھلا بیٹھے ہیں اور آپس میں متحد ہو کر اسلام کے خلاف میدان میں کود پڑے ہیں۔

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ تمام اسلامی فرقوں کے درمیان بنیادی و اعتقادی قدریں مشترک ہیں۔ اسلامی عقائد کا سارا نظام انہی مشترک بنیادوں پراستوارہے۔ مسلمانوں میں سے کو ئی بھی نہ تو کسی اور نبی یا رسول کی شریعت کا ان کار کرتا ہے نا ہی اسلام کے سوا کسی اور دین کو مانتا ہے۔ سب مسلمان توحید و رسالت، وحی اور کتب سماوی کے نزول، آخرت کے انعقاد، ملائکہ کے وجود، حضور ﷺ کی خاتمیت، نماز، روزہ، حج، زکواۃ۔ ..کی فرضیت وغیرہ جیسے مسائل پر یکساں ایمان رکھتے ہیں اور اگر کہیں کو ئی اختلاف ہے تو صرف فروعی حد تک، اور وہ بھی ان کی علمی تفصیلات اور کلامی شروحات متعین کرنے میں ہے۔ کیونکہ اس سے عقائدِ اسلام کی بنیادوں پر کو ئی اثر نہیں پڑتا۔ جب کو ئی اثر نہیں پڑتا تو آخر کیا وجہ ہے کہ ایک خدا ایک نبی ایک کتاب، ایک دین، اور ایک کعبہ کے ماننے والوں کے درمیان دینِ الٰہیہ کی سر بُلندی کے لیے اتحاد و یگانگت کے لازوال رشتے قائم نہ کئے جا سکیں اور ’’ملت واحدہ‘‘ کا تصور ایک زندہ جاوید حقیقت نہ بن سکے ؟

قرآن مجید مسلسل لوگوں کی ضمیروں کو جھنجوڑ رہا ہے کہ تم ایک ملت اور ایک ہی دین کے لیے منتخب کئے گئے ہو۔

’’ شرع لکم من الدین ما وصیّٰ بہ نو حاً و الذی اوحینا الیک و ما وصّینا بہ ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ ان اقیموا الدین و لا تتفرقوا فیہ۔ ..‘‘) [19]

’’(خالقِ کائنات نے )تمہارے لیے وہی دین مقر ر کر دیا ہے جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح کو حکم دیا تھا اور (جو بذریعہ وحی ) ہم نے تمہاری طرف بھیج دی ہے، اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا تھا کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا۔ ‘‘

 

 

 

منافرت – یہودی ہتھکنڈہ

 

تاریخی حقائِق سے معلوم ہوتا ہے کہ آپس میں اختلاف پیدا کرنا یہود و نصاریٰ کا پرانا طریقہ ہے کہ یہودی جناب موسیٰؑ کے بعد فرقوں میں بٹ گئے اور عیسا ئی جناب عیسیٰؑ کے بعد فرقوں میں ! قیامت یہ ہے کہ مسلمان، اتنی ہدایتوں کے باوجود حصوں میں تقسیم ہو کر رہ گئے جس کا سبب یہی ہے کہ مسلمان تو ضرور ہیں لیکن صحیح معنوں میں اسلام و تسلیم کو سمجھے ہی نہیں، اگر سمجھ گئے ہوتے تو اس کے نافذ کردہ قوانین پر عمل پیرا ضرور ہوتے اور اس طرح فرقوں میں نہ بٹتے !اور اس کے قوانین سے ہرگز سرتابی نہ کرتے اس لیے کہ جب رہبر انسانیت، ہادی برحق سرکار دو عالم، منجی بشریت، محبوب خدا، حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے رشتۂ اخوتِ میں باندھ دیا تھا تو پھر اس سے فرار کیسا!قریش و انصار جو ایک دوسرے کہ جانی دشمن تھے جب ان میں حضور دو عالم ﷺ نے محبت و الفت پیدا کر دی تو پھر ہمارے درمیان افتراق کیسا ؟ہمارا تو کبھی دشمنی کا سابقہ ہی نہیں رہا!ہم تو شروع سے ہی ایک دوسرے کے معاون و مددگار رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہم اس حقیقت کو جانتے ہوئے کہ ’’ اتحاد‘‘ ایسی شئے ہے کہ نہ فقط عالم انسانیت سے بل کہ اگراسے پوری کائنات سے چھین لیا جائے تواس و سیع عالَم کا نظام منٹوں میں درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ آپس میں اختلاف پیدا کرنا گویا ایک شخص کا زہر کو کھا لینے کی مانند ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ زہر کشندہ ہے اور جسم کے اعضاء کو پارہ پارہ کر دیتا ہے۔ یادوسری مثال بجلی کی ہے ہر عاقل انسان اس سے واقف ہے کبھی غلطی سے بھی اسے ہاتھ نہیں لگاتا کہ ہاتھ لگاتے ہی یہ پٹخ دیتی ہے اس کے باوجود اگر کو ئی اسے چھوئے تو لامحالہ اسے اس کا خمیازہ بھگتنا ہی پڑے گا۔  اسی طرح مسلمان یا تو اسلام و اتحاد سے واقف نہیں یا پھر واقف ہونے کے باوجود کسی خاص غرض جیسے بغض و عناد، کفر و نفاق، جاہ و منصب طلبی کے پیشِ نظر اسلام دشمن عناصر کی دسیسہ کاریوں میں مبتلا ہو جا تے ہیں اور آیات و روایات کے پیغام سے سر تابی اور غفلت برتتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان انتشار و افتراق کو ہوا دینے لگتے ہیں۔ وہ قرآن کی تلاوت تو کرتے ہیں لیکن اس کی حقیقت ان کے دلوں میں رسوخ نہیں کرتی اوراس کی نورانیت ان کے قلوب کو جلا نہیں بخشتی۔ آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ قرآن مجید جو ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے انسان کو ہر بے راہ روی سے روکتا ہے، خوف خدا ایجاد کرتا ہے، انسان کے مادی و معنوی مسائل کو حل کرتا ہے، پر ایمان رکھنے کے باوجود کوئی اتحاد سے غافل رہے۔ واضح رہے کہ اسلام کی اصل عقلی اور فکری ہونے کے ساتھ ساتھ عملی بھی ہے۔ چنانچہ صرف وہی عقیدہ اسلامی اہداف کی تکمیل کرتا ہے جو عمل کے ہمراہ ہو ورنہ محض عقیدہ جو عمل سے عاری ہو، انسان کو ہدایت سے سر شار نہیں کر سکتا۔

تقویٰ و برادری (اخوت)دو ایسے اصول ہیں جن کی پیروی میں امت مسلمہ کی نجات مضمر ہے، ہر متقی انسان اتحاد پسند بھی ہو گا۔ کیونکہ تقویٰ و اتحاد دونوں حق کا لازمہ ہیں اور افتراق کا تعلق باطل سے ہے۔ ان دو چیزوں (تقویٰ و اخوت )سے انحراف کرنا گمراہی، ضلالت، ذلت، رسوائی، خونریزی، پراگندگی، تفرقہ بندی، ایک دوسرے پر تہمت و الزام تراشی وغیرہ میں مبتلا کر سکتا ہے۔ چنانچہ جب ایک منصف مزاج انسان فرقہ بندی کی تاریخ اٹھا کر دیکھتا ہے تو اس کے سامنے یہی دو چیزیں نمایاں ہو کر سامنے آتی ہیں۔ کیونکہ صدر اسلام میں آپسی، خاندانی، فکری اور ذہنی اختلافات کے باوجود سب کا مرکز اطاعت اور محور عقیدت ایک ہی ذات تھی جو صاحب قرآن محبوب خدا سرکار دوعالم حضرت محمد مصطفی ﷺ تھے۔ جس کی بنیاد پر جنگیں اس طرح سر کی گئیں کہ اس دور میں مٹھی بھر مسلمان ہزارہا دشمنانِ اسلام پر حاوی تھے، لیکن آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد اب تک جب شخصیات کے نام پر مختلف دبستانِ فکر معرض وجود میں آنے لگیں تو اطاعت و عقیدت کے یہ مرکز و محور بھی تبدیل ہو گئے اور یہیں سے امت مسلمہ کے افتراق کے المیے کا آغاز شروع ہوا‘‘۔

 

 

 

حصولِ اتحاد کے لیے تجاویز

 

مسلمانوں کے باہمی اتحاد کے حصول کے لیے ہماری طرف سے ذیل میں بعض تجاویز پیش کی جاتی ہیں۔

 

1-توحید پر استواری

 

ایک قوم کے مشترکہ عقائد اس قوم و ملت کے افراد کے درمیان اتحاد یکجہتی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں خاص کرجب یہ عقیدہ خدا کی وحدانیت جیسے ایک فطری امر پر مبنی ہو اور پوری قوم، اپنے تمام شعبہ ہائے زندگی کو اسی توحید پراستوار کرتی ہو۔ قرآن مجید توحید( بشمول تمام پہلوؤں کے ) کی بنیاد پرمسلمانوں کو وحدت اور اتحاد کی دعوت دیتا ہے۔ قرآن  کریم کی نگاہ میں بعثت انبیاء کا فلسفہ بھی خدا اور توحید کی بنیاد پر لوگوں کو دعوت دینا اور زمانے کی سامراجی اور استعماری طاقتوں سے مقابلہ کرنا رہا ہے جو ملتوں اور قوموں کے تفرقہ اور جدائی کا باعث بنتی ہیں۔ جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے :

ولقد بعثنا فی کل اُمت رسولا ان اعبدواللہ واجتنبوا الطاغوت۔ [20]

’’اور بے شک ہم نے ہر امت کے لیے ایک رسول بھیجا ہے تاکہ (ان کی راہنمائی میں لوگ) خدا کی عبادت کریں اور طاغوت سے دوری اختیار کریں۔ ‘‘

قران کریم اسی طرح سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دعوت کو توحید کی بنیاد پر پھیلانے کی جانب آپ ﷺ ہی کی زبانی اعلان کروا رہا ہے :

۔ ۔ ۔ اللہ ربنا و ربکم لنا اعمالنا و لکم اعمالکم۔ ۔ ۔ [21]

’’اللہ ہمارا اور تمہارا دونوں کا پروردگار ہے ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ہیں۔

قل یا اھل الکتاب تعالوا الی کلم سواء بینناوبینکم الا نعبدو الا اللہ وان لانشرک بہ شیاء ولایتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللہ فان تولوا فقولوا اشھدو بانا مسلموں۔ [22]

’’اے پیغمبر کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب آؤ ایک منصفانہ کلمہ پر اتفاق کر لیں کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں آپس میں ایک دوسرے کو خدا کا درجہ نہ دین اور اگر اس کے بعد بھی یہ لوگ منہ موڑ لیں تو کہہ دیجئے کہ تم لوگ گواہ رہنا کہ ہم ہی حقیقی مسلمان اور اطاعت گزار ہیں۔ ‘‘

مذکورہ آیہ کریمہ اہل کتاب سے اتحاد و اتفاق کے لیے توحید ہی کو بنیاد قرار دیتی ہے اور اس پر اتحاد و اتفاق نہ کرنے والوں سے صاف کہا جا رہا ہے کہ وہ مسلمانوں اور موَحدِین کی فہرست سے باہر ہیں۔ ایک اور جگہ ارشاد ہو رہا ہے۔

’’واذکرو نعمت اللہ علیکم اذکنتم اعداء فالف بین قلوبکم فاصبحتم بنعمتہ اخوانا‘‘[23]

’’اور اللہ کی نعمت کو یاد کرو جب تم آپس میں دشمن تھے اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کر دی تو تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی بن گئے۔ ‘‘

مفسرین حضرات اس بات کے قائل ہیں کہ اس آیتِ مبارکہ میں ’’نعمت‘‘ سے مراد توحید کی نعمت ہے مسلمانوں میں اتحاد، بھائی چارہ اور اخوّت صرف توحید کی بدولت قائم ہوئی ہے۔ سنت اور اسلامی روایات میں بھی توحید کو اسلامی اتحاد امت کے بنیادی رکن اور محور کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے۔ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنی تحریک اسلامی انقلاب کے آغاز پر لوگوں کی کامیابی کے راز کو کلمہ توحید ہی بتلاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ قولوا لا الہ الا اللہ تفلحوا۔ ’’کہو اللہ اکیلا ہی معبود ہے، کامیاب ہو جاؤ گے۔ ‘‘

اسی طرح توحید اور نبوت کی بنیاد پر اپنے رشتہ داروں کو ایک جگہ جمع کر کے نجات کے بارے میں فرماتے ہیں :

انا ادعوکم الی کلمتین خفیفتین علی اللسان ثقیلتین فی المیزان، تملکوں بھا العرب والعجم و تنقاد لکم بھما الامم وتدخلون الجن و تنجون بھما من النار شھادہ ان لا الہ الا اللہ و انی رسول اللہ [24]۔

’’میں تمہیں دو چیزوں کی دعوت دیتا ہوں جو زبان پرآسان تو ہیں لیکن ان پر عمل کرنا بہت ہی مشکل ہے ان دو چیزوں کی وجہ سے عرب اور عجم کی حاکمیت حاصل کر سکتے ہودوسری قوموں کو اپنا مطیع بناسکتے ہو جنت میں داخل ہو سکتے ہو اور  دوزخ سے نجات پا سکتے ہو:ایک یہ کہ خدا کے سواکویِ معبود نہیں ہے اور دورسرے یہ کہ میں خدا کارسول ہوں۔ ‘‘

آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اسلامی اتحاد کے مسوّدے میں توحید ہی کو سرفہرست قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں :

’’اے لوگو تمہارا پروردگار ایک ہے تمہارے ماں باپ ایک ہیں تم سب آدم و حوا کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنے ہیں تم میں سب سے زیادہ پرہیز کار خدا کے نزدیک سب سے زیادہ عزیز ہے اہل عرب کو عجم پرسوائے تقوے کے کو یِ برتری نہیں ہے۔ ‘‘[25]

پس اسلامی روایات میں بھی اسلامی اتحاد کی دعوت اسی توحید کے محور پر بیان ہو رہی ہے تقریباً مذکورہ روایات میں توحید کو پہلے رکن کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔ ان ہی آیات اور روایات کی روشنی میں عالم اسلام کے مفکر، اسلامی اتحاد کے داعی و رہبرِ انقلابِ اسلامی ایرا ن، امام خمینی (رحمہ اللہ)توحید کے محور پرمسلمانوں کواتحاد اور یکجہتی کی دعوت دیتے ہوئے فرماتے ہیں :

’’وحدت کلمہ توحید کے پرچم تلے ممکن ہے ‘‘[26]

 

2-تکفیر سے اجتناب

 

تکفیر( کسی کو کافر قرار دینا)  اور تکفیری رجحان اسلامی تعلیمات سے متضاد اور لا علاقہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حیات طیبہ میں کسی کی تکفیر نہیں کی گئی بل کہ آپ کے بعد یہ بغض و حسد اور تعصبات کی بنا پر اقتدار اور ذاتی مفادات حاصل کرنے کا ہتھکنڈا بن گئی۔ مسلمانوں کے درمیان زیادہ تر تصادم کی بنیاد اصولی نہیں ہے بل کہ سماجی اور مذہبی تعصبات کی بنا پر ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات بعض نام نہاد مسلمان دھڑوں کے افکار و نظریات کے برخلاف تصادم اور تکفیر کا سد باب کرتی ہیں اور مسلمانوں کو اختلافات حل کرنے، اتحاد اور پیار محبت اور رواداری کا سبق دیتی ہیں۔

اسلام میں خوارج وہ پہلا گروہ تھا جس نے مسلمانوں کی تکفیر کو رائج کیا[27]۔ ان کے بعد خوارج کی فکر کے پیروؤں نے مسلمانوں کے درمیان تکفیر کا بازار گرم کیا۔ تمام اسلامی مذاہب کے مطابق توحید اور اصول دین کا زبانی اعتراف کرنے والا ہر شخص مسلمان ہے اور

اس کی جان مال اور آبرو محترم ہے، غیر علمی اور ظاہری دلیلوں سے اسے مرتد یا کافر قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی اسے قتل کیا جا سکتا ہے۔

 

3۔ مشترکہ دشمن کی پہچان اور متحدہ محاذ کی تشکیل

 

تمام مسلمانوں، علماء و دانشوروں کو مشترکہ دشمن کی پہچان کرتے ہوئے اس کے خطروں سے آگاہ رہنا چاہیے۔ آج امت اسلامی کو مشترکہ دشمنوں کی جانب سے سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی لحاظ سے شدید خطرے لاحق ہیں۔ ثقافتی یلغار کے ذریعے دشمن مسلمانوں کی نو جوان نسل کے عقائد میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی بھر پور کوشش کر رہا ہے۔ آج کی دنیا میں اسلامی فکر و نظریے کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ یہ خطرے اب جغرافیائی سرحدوں سے ماورا ہو چکے ہیں اور ان سے اسلامی اُمہ کے تشخص کو جو دین داری اور دین کی اقدار کی پابندی سے عبارت ہے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بنابریں مسلمان علماء اور دانشوروں اور مفکرین پر واجب ہے کہ وہ دین اور ملت کی حفاظت کے لیے ملت کو مشترکہ دشمن اور اس کی چالوں سے آگاہ کریں اور مشترکہ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک واحد بل کہ متحدہ محاذ تشکیل دیں۔ دشمن کے مقابل متحدہ محاذ خود اتحاد و برادری کا مظہر ہو گا اور امت کے اتحاد کی سمت ایک مثبت قدم شمار کیا جائے گا۔

 

4۔ مشترکہ امور پر توجہ

 

ایک اہم مسئلہ جو مسلمانوں کے اتحاد پر منتج ہو سکتا ہے یہ ہے کہ تمام مسلم فرقوں کو اپنے اشتراکات پر توجہ کرنا چاہیے کیونکہ ان کے اشتراکات بہت زیادہ ہیں اور اختلافات و  افتراقات بہت کم ہیں۔ لیکن افسوس کہ مشترکہ عقائد اور اصولوں کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ توحید، نبوت۔ معاد، نماز، روزہ، زکٰوۃ، حج جہاد، قبلہ، قرآن اور بہت سے دیگر امور مسلمانوں میں مشترک ہیں جو ان کے اتحاد کا سبب بن سکتے ہیں لیکن مسلمان نے ان مشترکہ امور کو ایسا نظر انداز کیا ہے جیسے ہیں ہی نہیں۔

 

5۔ اخوتِ اسلامی پر تاکید

 

رسُول اللہ نے ارشاد فرمایا:

انما المؤمنون اخوۃ۔

’’مومن تو آپس میں بھا ئی بھا ئی ہیں۔ ‘‘[28]

عالم اسلام جغرافیائی اور سیاسی لحاظ سے کئی ملکوں پر مشتمل ہے۔ لیکن اسلام کی رُوسے ایک اکائی ہے لہٰذا امت کی تقدیر بدلنے کے لیے تمام مسلمانوں کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ ہر مسلمان دوسرے کا بھائی ہے، ہرمسلمان کو اپنے برادرِ دینی کی صورتحال سے آگاہ ہونا چاہیے اور خود کو اس کے درد و رنج میں شریک سمجھنا چاہیے۔ افراد امت میں ہمدردی کے جذبات کا پھیلاؤ اوراس رجحان کی ترویج کہ ہم ایک ہیں، امت کو متحد کرنے میں معاون و مددگار ہو گا کیونکہ یہ سارے عوامل مسلمانوں کو نزدیک لانے میں موثر کردار کے حامل ہیں۔

استعمارو سامراج، اُمت واحدہ کی بنیاد”اخوت” کو متزلزل کرنے اور مسلمانوں کے ایمان، روح اورمستقبل کی تخریب کے درپے ہیں۔ ہمارا فرض ہے کہ اخوت اسلامی کو اپنا نصب العین قرار دیتے ہوئے اس پر خاص توجہ دیں اور ہر طرح کے نسلی، قبائلی، قومی تعصبات و جہالت اور مذہبی تنگ نظری کو چھوڑ کر اسلامی اصولوں کی پابندی کے ساتھ ان مسائل کے حل کی تدبیریں نکالنے کی کوشش کریں اور دوسروں کو اسلام کے خلاف دشمنوں کی جال سازیوں سے آگاہ کریں کہ دشمن اپنی تمام تر قوتوں کے ساتھ اسلام کی بساط کو الٹنا چاہتا اور مسلمانوں کے اجتماعی معاملات میں رخنہ اندازی کر رہا ہے تا کہ مسلمان کسی بھی صورت میں ایک پلیٹ فارم پر یکجا نہ ہو پائیں لہذا اس نے اس۔ ۔ ۔ اخوت و برادری۔ ۔ ۔ کے اسلامی اصول اوراسلامی نظام حیات کے خلاف فرقہ واریت اور قومی عصبیت کو عام کر دیا ہے تا کہ مسلمان اخوت و یکجہتی کو بھول کر مذہبی تنگ نظری اور قومی عصبیت و جہالت کی بنا پر ایک دوسرے کے جانی دشمن ہو جائیں !

آج دنیا میں مسلمانوں کے درمیان جو مختلف بنیادوں پر عصبیت پا ئی جا رہی ہے وہ شیطانی سازش کے علاوہ کچھ نہیں۔ یہ دشمن کی جال سازی ہے، مسلمانوں میں انتشار و افتراق دشمنوں کا پہلا حربہ ہے جس میں کافی حد تک وہ کامیاب بھی ہیں۔ جہاں بھی مسلمان ہیں وہ آپس میں ہی لڑ مر رہے ہیں۔ لہذا ہمیں دشمنوں کے مقابلے میں اپنی تمام تر قوتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اسلامی اصولوں کو رائج کرنا ہو گا تا کہ مسلمان، اسلامی تعلیمات (قرآن و سنت ) کو بطور احسن سمجھ سکیں کیونکہ اسلام خداوند عالم کے احکام کو تسلیم کرنے کا نام ہے اور اللہ کی ہدایت کو تسلیم کئے بغیر نہ ہم اپنے مقصد تخلیق سے واقف ہو سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی زندگی کے لیے کو ئی اعلیٰ نصب العین معین کر سکتے ہیں۔ پیغمبر اسلام نے مسلمانوں سے ہجرت کے وقت یہ فرمایا تھا کہ:

’’اِن اللہ عزّو جل قدجعل لکم اخواناً وداراً تامنون بھا۔ ‘‘

اے مسلمانو! “بیشک خدا وند عالم (عز و جل)نے تمہیں اخوت و برادری کی  دعوت دی ہے اوراسے تمہارے لیے امن کا مسکن قرار دیا ہے۔ “[29]

ہمیں یہ اہم نکتہ ذہن نشین رہنا چاہیئے کہ آپس کا اتحاد و اخوت اسی وقت ممکن ہے کہ جب مسلمانوں کے پاس وسعتِ قلبی ہو کیونکہ ”وحدت و اخوت ” فراخی قلب و ذہن چاہتی ہے۔

یہ ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے کہ آج دنیا میں ڈیڑھ عرب سے زیادہ مسلمان صفحہ کائنات پر زندگی بسر کر رہے ہیں لیکن ان سے آج تک ایک بیت المقدس کا مسئلہ حل نہ ہو سکا !اور اگر مسلمانوں کے تفرقہ بندی کی یہی حالت رہی تو یقیناً صرف مسلمانوں کے ملک پر دشمنانِ اسلام حملہ آور ہی نہیں ہوں گے بل کہ ان کی مقدسات اور ناموس پربھی علی الاعلان حملہ ہو گا۔ یہ لمحہ فکریہ نہیں تو اور کیا ہے کہ دشمن مختلف ادیان باطلہ پر معتقد ہونے کے باوجود اسلام کی بیخ کنی کے لیے یکجا ہو گئے اور ایک ہم، جنھیں رسول اکرم ﷺ نے امتِ واحدہ کی سَنَد دی اور اپنی حیات میں عقدِ اخوت کے ذریعہ آپس میں باندھا، حق پر ہو تے ہوئے بھی منتشر ہیں !اور ایک دوسرے کے قتل کے درپے ہیں۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے ؟کیوں ہم قرآن و سنّت کے لائحہ عمل پر عمل پیرا نہیں ہیں !

 

 

 

 

 حکومتی ذمہ داریاں

 

عامۃ المسلمین کے درمیان اتحاد اور بھائی چارے کی برقراری کے لیے اسلامی حکومتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اور خاص طور پر مندرجہ ذیل اقدامات کا لازماً اہتمام کرنا چاہیے۔

 

1-ذرائع ابلاغ پر نظر

 

اسلامی حکومتوں کو اپنے ذرائع ابلاغ پر بھی کڑی نگرانی رکھنی چاہیے تاکہ ان سے ایسی بات نشر/ ضبطِ تحریر نہ ہو جس سے مختلف مذاہب کے درمیان منافرت پھیلے۔ بے لگام ذرائع ابلاغ بھی اتحادِ اسلامی کے لیے مختلف طرح سے نقصان کا باعث ہیں۔ اور یہ جو (بالکل )آزاد میڈیا کی باتیں عام ہیں اس کی کوئی اُصولی بنیاد بھی نہیں۔ ہر چیز اور کامcheck & balance کے دائرے کے اندر شامل ہے اور یہ انتہائی اہم معاملہ کیسے اس سے مستثناء

کرتے ہوئے مادر پدر آزاد رکھا جا سکتا ہے۔ آزادیِ اظہار کا مطلب بے لگام رائے زَنی ہر گز نہیں ہے۔ لہٰذا حکومت حالیہ مادر پدر آزاد میڈیا کے بظاہر خوشنما اور در اصل بھیانک و خوفناک فلسفے سے متأثر ہونے کے بجائے اس پر کنٹرول کرے۔

ہماری براہِ راست ذرائع ابلاغ کے متعلقین اور اربابِ بَست و کشاد سے بھی گزارش ہو گی کہ وہ بھی سنجیدگی سے Freedom of Mediaکی پالیسی کو حقیقی بنیادوں پر استوار کریں۔ جس کی بنیاد ہماری دینی، نظریاتی، اور مِلّی اغراض ہونی چاہیے۔ محض لکیر کا فقیر ہو کر مغرب سے اُٹھنے والی ہر آواز پر لبیک کہہ دینا اور بلا سوچے سمجھے اُسے اپنا لینا ہمارے لیے انتہائی نقصان کا باعث بن سکتا ہے اور بنے گا۔ یہ در اصل عالمی سیہونی منصوبے کا حصہ ہے جسے سمجھنے کے لیے بصیرت کی ضرورت ہے۔

 

2-دانشوران، مصنفین اور اہل قلم پر نظر

 

تیسرا قدم مصنفین اور اہل قلم پر بھی نظر رہے۔ اسلامی معاشرے کے دانشوروں، مصنفین اور اہل قلم حضرات کی ذمہ داری ہے کہ وہ امت کو دشمن کے تفرقہ انگیز اقدامات سے آگاہ کریں ایسا نہ ہو کہ وہ خود تفرقے اور اختلاف کا سبب بن جائیں۔ لہٰذا اہل قلم کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اپنے مقالوں، مضامین اور کتابوں میں ہر طرح کے تفرقہ انگیز مسائل سے پرہیز کرنا چاہیے۔ بل کہ اتحادِ اُمت و ملّت کے حق میں کام کرنا چاہیے۔ البتہ مذہبی مسائل پر تحقیق کرنا ایک الگ مسئلہ ہے جو محقق علماء اور اہل دانش کے حلقے تک ہی محدود رہنا چاہیے اور عوام النّاس کو دقیق علمی موشگافیوں سے دور ہی رکھا جانا چاہیے۔ بصورتِ دیگر وہ اپنی کم فہمی کی بنا پر خواہ مخواہ ا آپس میں افتراق و انتشار میں پڑ جایا کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں حکومت کو خاص طور پر منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔

 

3-منبر و محراب پر نظر

 

حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ مساجد کے آئمہ و خطباء پر بھی نظر رکھے۔ کیونکہ آئمہ و خطباء کا افرادِ معاشرہ سے براہ راست تعلق ہوتا ہے اور ان کی بات بے حد اثر انداز ہوتی ہے۔ مسلم معاشرے میں (بالاستثناء ) تفریق اور انتہا پسندی میں اس طبقہ(کے بعض کم فہم لوگوں [معذرت کے ساتھ] ) کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کو بڑے پیمانے پر آئمہ و خطباء سے مشاورت اور ان کی تربیت کا اہتمام بھی کرنا چاہیے۔

علمائے کرام اور آئمہ عظام مسلم عوام کے دینی رہ نما ہیں۔ انہیں ان کے درمیان عزت و احترام اور اعتبار حاصل ہے۔ اس لیے ان کی ذمہ داری ہے کہ جمعہ کے خطبوں اور دیگر مواقع پر اپنے خطبات کے ذریعے عوام کی دینی رہنمائی اور کردار سازی کا کام انجام دیں۔ بجائے اس کے عوام النّاس کو اختلافی موضوعات میں الجھایا جائے۔ فی الحقیقت تمام اختلافی معاملات کا تعلق ہے ہی محض راسخ العلم علماء سے، یہ عام آدمی کے ساتھ کرنے والی باتیں ہی نہیں ہوا کرتیں اس کا خاص فورم ہوا کرتا ہے۔ اور فی زمانہ مسجد و محراب ہر گز ایسے مسائل بیان کرنے کی جگہ نہیں ہے۔ یہاں صرف عمومی تعلیم و تربیت ہونی چاہیے۔ اسلام اللہ کا برحق دین ہے، جسے اس نے تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل کیا ہے۔ اسے اللہ کے بندوں تک پہچانا اور دیگر باطل افکار و نظریات کے مقابلے میں اس کی حقانیت کو ثابت کرنا امت مسلمہ اور خاص کر علمائے کرام کی ذمہ داری ہے۔

اسلام اور مسلمانوں کے دشمن مختلف بہانوں سے ان کے درمیان اختلاف و انتشار پیدا کرنا اور باقی رکھنا چاہتے ہیں اور مسلم عوام بہت آسانی سے ان کا شکار بن جاتے ہیں۔ علماء کی ذمہ داری ہے کہ ان سازشوں کو سمجھیں اور عوام کو بھی ان کا شکار ہونے سے بچائیں اور اپنی فراست اور حکمت سے ان سازشوں کو ناکام بنا دیں۔ اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ مختلف مدارس، مسالک اور جماعتوں سے تعلق رکھنے والے علماء کے درمیان اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ ہو، وہ وسیع النظری کا ثبوت دیں اور مسلکی اختلافات سے اوپر اٹھیں۔ انہیں چاہئے کہ عوام کو بتائیں کہ تمام فقہی مسالک برحق ہیں، اس لیے ان کی بنیاد پر اختلاف و تفرقہ کو ہوا دینا صحیح نہیں ہے۔ اور لوگوں کو مسلکی تعصبات سے بھی دور رکھا جائے۔

 

4-انتہا پسندی پر قابو

 

حکومت کے لیے ضروری ہے کہ انتہا پسند گروہوں پر نظر رکھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ گروہ اپنی غیر معقول کاروائیوں سے اسلامی معاشرے میں اختلافات کا سبب بنیں، انتہا پسند گروہوں پر کنٹرول رکھنے سے بہت سے مسائل حل ہو جاتے ہیں اور معاشرے میں منافرت کو کم کیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے ہر معاشرے میں ایسے افراد اور گروہ ہوتے ہیں جو اپنے اعتقادی مسائل کی بابت بڑے حساس ہوتے ہیں اور ان کی یہ حساسیت بیشتر اوقات عقل سے دور اور بصیرت سے عاری ہوتی ہے جس کے سبب معاشرے میں مختلف مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ اس لیے ایسے لوگوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

 

5-تعلیمی نصاب پر نظر

 

حکومت کی ذمہ داری ہے کہ نصابِ تعلیم پر بھی نظر رکھے۔ یہ شعبہ بڑی گہری بصیرت کا متقاضی ہے۔ ہمارا نصابِ تعلیم اس طرح ترتیب دیا جانا چاہیے کہ اس کے نتیجے میں نوجوان نسل کے ذہنوں میں انتہا پسندی کے بجائے اعتدال و میانہ روی اور اخوّت و اتحاد کے جذبات پروان چڑھ سکیں۔ سامراجی قوتیں غیر محسوس طریقے سے ہمارے تعلیمی نظام کو تباہ و برباد کرنے پر تیار بیٹھی ہیں۔ اس سازش کا ایک اہم پہلو ہمارے اساتذہ اور شاگردوں کے تعلق میں مختلف عنوانات سے بُعد و خلیج پیدا کرنے کی کوشش بھی ہے جو مستقبل میں خوفناک نتائج پر منتج ہو گی۔

 

 

 

 خلاصۂ کلام

 

بیشک اتحاد و اتفاق کسی بھی قوم کی ترقی اور اعلیٰ اہداف کے حاصل کرنے نیز سربلندی اور کامیابی کے حصول میں معجزانہ کردار رکھتا ہے۔ موجودہ دور میں مسلمانوں کا اتحاد ایک اہم ترین مسئلہ اور نا قابل ان کار ضرورت ہے۔ مسلمانوں میں مسلکی عصبیت اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ اس سے کئی اسلامی تعلیمات مجروح ہونے لگی ہیں۔ آج مسلمانانِ عالم طرح طرح کے مسائل میں مبتلا ہیں اور اس کی بنیادی وجہ نا اتفاقی، فرقہ وارانہ منافرت، مسلکی تعصبات، ح?بِّ جاہ و اقتدار، حسد، بغض اور دوسرے مادی مفادات، عدم برداشت اور عدم اتحاد ہے۔ مسلمانوں کی عظمت و عزت و سربلندی سب کچھ اختلافات کی نذر ہو گیا۔ اسلام کے دشمن متحد ہیں اور اُن کا اتحاد اسی نکتے کی افادیت سے بخوبی آگاہی کی بنا پر ہے۔ اور وہ مختلف سازشوں کے ذریعے مسلمانوں کو تقسیم کرنے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔ تاریخی حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں باہمی اختلاف پیدا کرنا یہود و نصاریٰ کا پرانا طریقہ ہے۔

قرآن کریم ہمیں یہود و نصاریٰ کی اس نفسیات سے آگاہی کے ساتھ ساتھ متعدد آیات میں مسلمانوں کو متحد و متفق رہنے کا حکم دیتا ہے، تفرقے و اختلافات سے دور رہنے، غور و فکر سے کام لینے اور صبر کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ آپس کا اتحاد، تقویٰ و اخوت کے اصولوں پر  چلنے سے حاصل ہو سکتا ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے کہ جب مسلمانوں کے پاس وسعتِ قلبی ہو کیونکہ ’’وحدت و اخوت‘‘ فراخی قلب و ذہن چاہتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام مسلم حکمرانوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں۔

٭٭٭

 

 

 

مراجع و حواشی

 

[1] سورہ انفال: ۶۰

[2]  سورہ آل عمران:۱۰۳

[3]  امام مسلم۔ صحیح مسلم، حدیث : ۲۱۳۷،

[4]   الحاکم، ابو عبداللہ نیشا پوری۔ المستدرک،ص ۳۱۸، دائرہ معارف نظامیہ، حیدر آباد،         س ن۔

[5]  سورہ انعام: ۶۵

[6 ] النہایۃ فی غریب الحدیث۲: ۵۲۰

[7] سورہ انعام: ۱۵۹

[8] سورہ روم: ۳۱ اور ۳۲

[9] سورہ انفال: ۴۶

[10] سورہ آل عمران:۱۰۵

[11] سورہ شوریٰ: ۱۳

[12] مشمولہ:محمود احمد غازی، ڈاکٹر۔ محاظراتِ فقہ،ص ۱۲۰، مطبوعہ، الفیصل ناشران و  تاجرانِ کتب، لاہور، ۲۰۱۰ء

[13] ابی داؤد، سلیمان بن اشعث۔ السنن، حدیث :۱۲۱۵، مکتبہ، المصطفیٰ البابی، قاہرہ،    مصر،س ن۔

[14] ابی داؤد، سلیمان بن اشعث۔ ایضاً

[15] سیوطی، علاء الدین عبدالرحمن، حافظ۔ جامع الاحادیث، حدیث ؛۲۳۶۱۶، ج۳ ، ص۴۵۳۔

[16] علی المتقی، علاؤ الدین۔ کنزالعمال، حدیث ۷۵۷، طبع، دائرۃ المعارف   النظامیہ، حیدر آباد، ۱۳۱۲ھ

[17] ابن ہمام، کمال الدین۔ فتح القدیرج۲، ص۳۶۸، مطبع دار احیاء التراث العربی      ، بیروت،س ن۔

[18] آلوسی، سید محمد۔ تفسیر روح المعانی، مطبع، مصطفائی، دیوبند۔ج ۴،ص ۱۴، ۔

[19]  سورہ شوریٰ: ۱۳

[20] سورہ نحل:۳۶

[21] سورہ شوریٰ: ۱۵

[22]  سورہ آل عمران:۶۴

[23] ایضاً:۱۰۳

[24] مفید، اکبری، بغدادی، محمد بن محمد(مترجم: حسن موسوی)۔ ارشاد مفید،ص ۲۱، مکتبہ

سرور، قم ایران، ۱۳۸۸ھ۔

[25] سیوطی، علاء الدین عبدالرحمن، حافظ۔ جامع الاحادیث، حدیث ۵۷۳۶،ج ۳،   ص ۱۱۰۔

[26] امام خمینی، امام۔ صحیفہ نور، وزارتِ فرہنگ و الارشاد، ایران۔س ن۔

[27] ابن جوزی، علامہ۔ تلبیس ابلیس(مولانا ابو محمد عبدالحق)، مکتبہ اسلامیہ، لاہور، جون  ۲۰۰۹ء، صفحہ۱۵۴۔ ۱۵۶۔

[28] الحجرات؛ آیت ۱۰

[29] ابنِ جوزی، جمیل الدین ابولفرج۔ تاریخ ابن ہشام، مکتبہ رحیمیہ، اردو بازار،  کراچی، ج۲ص۱۰۹،س ن۔

٭٭٭

تشکر: مصنف جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید